Wednesday, 16 January 2019

کنزالایمان ترجمہ قرآن و دیگر تراجمِ قرآن پر ایک تحقیقی و تقابلی نظر

کنزالایمان ترجمہ قرآن و دیگر تراجمِ قرآن پر ایک تحقیقی و تقابلی نظر


















محترم قارئینِ کرم : نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے بیت اللہ کی چابیاں لینے دینے کے دوران فرما یا کے یہ چابیاں تیری اولاد میں تب تک رہیں گی کے جب تک ایک ظا لم جا بر حا کم اپنے ظلم کے سبب تیری ا ولا د سے نہ چھین لے تو کبھی یمن و شام کےلیے دعا فرما کر اور نجد کےلیے باوجود صحابہ رضی اللہ عنہ کے اصرار پر دعا نہ فرما کر ہمیں نجد یوں کے فتنو ں سے آگاہ فرمایا اور فرمایا کہ نجد سے شیطان کے سینگ نکلیں گے اور فتنہ انگیز نجدیوں کی علامت یہ بیان کی کہ وہ کفار کو چھو ڑیں گے اور مسلمانوں کو قتل کریں گے (انگریز سے مخبری کر کے1857ء میں لاکھوں مسلمانوں کو پھانسی دلوائی 1947ء میں ہندوؤں کا ساتھ دیا مسلمانوں سے غداری کی اور یہی حال ان نجدیوں کا دنیا بھر میں ہے ۔

نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات کے عین مطا بق عرب پر نجدیوں کے قبضے کے بعد لا کھوں عوام و علماءِ اہل سنت کو قتل (شھید) کرنا اور نہرو کو دعوت دے کر بلا نا ، پھر امن کا پیغمبر و رسول السلام کا لقب دینا ، یہودی بنکوں میں سنکھوں روپیہ جمع کر کے مسلمانوں کے دشمن یہودیوں کی مدد کرنا نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات کی تصد یق کرتا ہے ۔

نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان خداد پیش گوئیوں کے انتقام میں نجدیوں نے نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادوں ، صاحبزادیوں ، ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم جن پر ہمارے ماں باپ قربان اور تمام جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم کے مزارات کو مسمار کیا (تمام دنیائے اسلام کے احتجاج پر کسی کسی قبر کا نشان بنادیا ، باقی قبور کو سڑکوں وغیرہ میں تبدیل کیا پاکستان میں دیوبندی بھی ایسا ہی چاہتے ہیں ) اور انہی نجدیوں نے تاج کمپنی سے نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نناوے اسماء قرآن شریف کے آخر میں شائع ہونے بند کرائے ۔ گستاخ رسول وہابیوں نے امام اہلسنت کے ترجمہ القرآن پر پابندی لگا کر (کہ جہاں ملے اُسے پھاڑ دو یا جلادو کا حکم صادر کر کے) اپنی آتش حسد سرد کرنے اور مسلمانوں کے دلوں میں آگ بھڑکانے کی کوشش کی اور جو ان گستاخوں کے دلوں میں ہے وہ اس سے بھی کہیں زیادہ جن نجدیوں کو مسجد نبوی سے متصل نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روضہ گوارا نہ ہو اور آئے دن اس کو منتقل کرنے کے منصوبے بناتے ہیں ۔ پھر اہلسنت کا ترجمہ ان کی آنکھوں میں کیوں نہ خار کی طرح کھٹکے ؟ اُن کو وہی علماء پسند ہیں جو بتوں کی آیات انبیاء علیہم السلام اور اولیاءاللہ علیہم الرحمہ پر چسپاں کریں اور وہی تراجم ان کو پسند ہیں جن میں خیانت کر کے نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت مجروح کی گئی ہو ۔

محترم قارٸینِ کرام فیصلہ آپ کریں : اس مضمون میں آپ اسی طرح کے تراجم قرآن اور اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ کے چند آیات کے ترجمہ کا مختصر تقابلی مطالعہ فرما کر فیصلہ کریں کہ کس کا ترجمہ ناقص اور کس کا درست ہے ۔

اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ کے ترجمہ قرآن کنزالایمان اور دیگر اردو تراجم قرآن کا تقابلی مطالعہ : ⏬

یوں تو اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ کے علمی کارناموں کی تفصیل بڑی طویل ہے لیکن ان سب سے بڑا علمی کارنامہ ترجمہ قرآن مجید ہے ۔ ترجمہ کیا ہے قرآن حکیم کی اردو میں ترجمانی ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ آپ کا یہ ترجمہ الہامی ترجمہ ہے ، توکچھ غلط نہ ہو گا ۔

ترجمہ میں فصاحت، بلاغت، انداز خطاب اور سیاق و سباق کا خیال : ⏬

ایک زبان سے دوسری زبان میں لفظی ترجمہ کچھ مشکل نہیں بلکہ بہت ہی معمولی اور آسان کام ہے کسی بھی درخواست کا لفظی ترجمہ تو عرائض نویس بھی فورًا کر دیتے ہیں ۔ مگر کسی زبان کی فصاحت و بلاغت ، سلاست و معنویت ، اس کے محاورات اور اندازِ خطاب کو سمجھنا ۔ سیاق و سباق کو دیکھ کر کلمہ اور جملہ کی تر جمانی کرنا انتہا ئی دقت طلب کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کی تشریح نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی ۔ اس کی تفسیر آپ کے صحابہ نے بیان کی ۔

ترجمہ میں مناسب معنی کا انتخاب : ⏬

قرآن کریم کے دوسری زبانوں میں تراجم کے مطالعہ سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ کسی لفظ کا ترجمہ عموماً اس کے مشہور معنی کے مطابق کر دیا جاتا ہے ۔ حالانکہ ہر زبان میں کسی بھی لفظ کے بہت سے معنی ہوتے ہیں ۔ ان مختلف معانی سے کسی ایک مناسب معنی کا انتخاب مترجم کی ذمہ داری ہے۔ ورنہ لفظ کا ظاہری ترجمہ تو ایک مبتدی بھی کر سکتا ہے ۔

بے احتیاطی کے نتائج : ⏬

اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ کا ترجمہ قرآن مجید دیکھنے کے بعد جب ہم دنیا بھر کے تراجم قرآن پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت منکشف ہو کر سامنے آتی ہے کہ اکثر مترجمین قرآن کی نظر الفاظ قرآنی کی روح تک نہیں پہنچ سکی اور ان کے ترجمہ سے قرآن کریم کا مفہوم ہی بدل گیا ہے بلکہ بعض مقامات پر تو سہواً یا قصداً ترجمے میں ان سے تحریف بھی ہو گئی ہے ۔ یا لفظ بلفظ ترجمہ کرنے کے سبب حرمت قرآن ، عصمت انبیاء علیہم لسلام اور وقار انسانیت کو بھی ٹھیس پہنچی ہے اور اس سے بھی آگے بڑھ کر اللہ تعالٰی نے جن چیزوں کو حلال ٹھرایا ہے ان تراجم کی بدولت وہ حرام قرار پا گئی ہیں اور انہیں تراجم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ معاذ اللہ بعض امور کا علم اللہ رب العزت کو بھی نہیں ہوتا ۔ اس قسم کا ترجمہ کر کے وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور مسلما نوں کیلئے بھی گمراہی کا راستہ کھول دیا اور یہودیوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کے ہاتھوں میں (اس طرح کا ترجمہ کر کے) اسلام کے خلاف اسلحہ دے دیا گیا۔ چنانچہ ستیارتھ پرکاش نامی کتاب اسلام پر طنز سے بھری ہوئی ہے کہ جو خدا اپنے بندوں کے مکر، فریب، دغا میں آ جائے اور خود بھی مکر ، فریب ، دغا کرتا ہو ، ایسے خدا کو دور سے سلام وغیرہ وغیرہ ۔

اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ نے جملہ مستند و مروج تفاسیر کی روشنی میں قرآن حکیم کی ترجمانی فرمائی ۔ جس آیت کی وضاحت مفسرین کرام علیہم الرحمہ کئی کئی صفحات میں فرمائیں مگر اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ کو اللہ تعالٰی نے یہ خوبی عنایت فرمائی کہ وہی مفہوم ترجمہ کے ایک جملہ یا ایک لفظ میں ادا فرمایا ۔ قلیل جملہ کثیر مطالب اسی کو کہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ کے ترجمہ سے ہر پڑھنے والے کی نگاہ میں قرآن کریم کا احترام ، انبیاء کی عظمت اور انسانیت کا وقار بلند ہوتا ہے ۔

ہم اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ کے ترجمہ قرآن کریم اور دیگر تراجم قرآن کا ایک تقابلی مطالعہ پیش کر رہے ہیں مکمل پڑھنے کے فیصلہ آپ خود کیجیے : ⏬

ولما یعلم اللہ الذین جاھدوامنکم ۔ (پارہ 4 سورۃ آل عمران آیت نمبر 142)
ترجمہ : اور ابھی معلوم نہیں کیے اللہ نے جو لڑنے والے ہیں تم میں ۔ (شاہ عبدالقادر مرشد دیوبند)
ترجمہ : حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ (مولوی فتح محمد جالندھری دیوبندی)

ترجمہ : وہ ہنوز تمیز نساختہ است خُدا آں را کہ جہاد کردہ انداز شما ۔ (شاہ ولی اللہ)

ترجمہ : حالانکہ ابھی اللہ نے ان لوگوں کو تم میں سے جانا ہی نہیں جنہوں نے جہاد کیا ۔(مولوی عبدالماجد دریابادی دیوبندی)

ترجمہ : اور ابھی تک اللہ نے نہ تو اُن لوگوں کو جانچا جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں ۔ (مولوی ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی)

ترجمہ : حالانکہ ہنوزاللہ تعالٰی نے اُن لوگوں کو تو دیکھا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ہو ۔ (مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی)

ترجمہ : اور ابھی تک معلوم نہیں کیا اللہ نے جو لڑنے والے ہیں تم میں ۔ (مولوی محمود حسن دیوبندی)

اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا ۔ (کنزالایمان ترجمہ قرآن اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ،چشتی)

کیا اللہ تعالٰی علیم و خبیر نہیں ؟ : ⏬

اللہ تعالٰی جو علیم و خبیر ہے ، عالم الغیب و الشہادۃ ہے ، علیم بزات الصدور ہے ۔ ان مترجمین کے نزدیک اردو میں بے علم و بے خبر ہے آپ خود فصلہ کریں ترجمہ پڑھنے کے بعد علم الٰہی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ ایک طرف تو اللہ تعالٰی کی صفات کمالیہ ، دوسری طرف اس قدر بے خبری کہ مومنین میں سے کون لوگ جذبہ جہاد سے سرشار ہیں ؟ اللہ کو اس کا علم نہیں۔ ابھی اس نے جانا ہی نہیں ۔ گویا شان رسول کی تنقیص سے فارغ ہوئے تو شان الو ہیّت پر حرف گیری شروع کر دی ۔ اللہ نے نہیں جانا ، شاہ رفیع الدّ ین صاحب کا خیال ہے ۔ ابھی معلوم نہیں کیا اللہ نے ، شاہ عبدالقادر صاحب کی ایجاد ہے ، ابھی تک معلوم نہیں کیا اللہ نے ، محمود حسن دیوبندی ۔

بروز حشر خدا و رسول کی گرفت سے نہ بچ سکیں گے : ⏬

ترجمہ لکھتے وقت کس قدر غیر حاضر تھے یہ مترجمین ، کہ تفسیر کے مطالعہ کی زحمت ہی نہیں کی اور کس سادگی سے قلم چلا دیا ۔ آج بھی ان حضرات کے معتقدین ، مریدین ، متبعین موجود ہیں ۔ اگر ان تراجم پر ان کے پیرو کار مطمئن و خوش عقیدہ ہیں تو بروز حشر خدا اور رسول کی گرفت کےلیے تیار رہیں ۔ ورنہ تفاسیر قرآن و ترجمہ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ کے مطابق آئندہ تمام ایڈیشن قرآن کریم کے درست کرا دیں ، ورنہ ترجمہ پڑھنے والی نسل کی گمراہی کی ذمہ دار آپ ہوں گے ۔

ویمکرون ویمکراللہ واللہ خیرالمٰاکرین ۔ (پارہ 9 سورۃ الانفال آیت نمبر 30)
ترجمہ ::‌اور وہ بھی فریب کرتے تھے اور اللہ بھی فریب کرتا تھا اور اللہ کا فریب سب سے بہتر ہے ۔ (شاہ عبدالقادر)

ترجمہ : اور مکر کرتے تھے وہ اور مکر کرتا تھا اللہ تعالٰی اور اللہ تعالٰی نیک مکر کرنے والوں کا ہے ۔ (شاہ رفیع الدین)

ترجمہ : وایشاں بد سگالی می کردند و خدا بد سگالی می کرد (یعنی بایشاں) و خدا بہترین بد سگالی کنندگان است ۔ (شاہ ولی اللہ)

ترجمہ : اور وہ بھی داؤ کرتے تھے اور اللہ بھی داؤ کرتا تھا اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے ۔(مولوی محمود حسن دیوبندی)

ترجمہ : اور حال یہ کہ کافر اپنا داؤ کر رہے تھے اور اللہ اپنا داؤ کررہا تھا اور اللہ سب داؤ کرنے والوں سے بہتر داؤ کرنے والا ہے ۔ (مولوی ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی)

ترجمہ : اور وہ تو اپنی تدبیر کر رہے تھے اور اللہ میاں اپنی تدبیر کر رہے تھے اور سب سے زیادہ مستحکم تدبیر والا اللہ ہے ۔ (مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی)

ترجمہ : اور وہ اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفتہ تدبیر فرماتا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر ۔ (کنزالایمان ترجمہ قرآن اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ،چشتی)

اردو ترجمہ میں جو الفاظ استعمال ہوئے وہ شانِ الُوہیّت کے کسی طرح لائق نہیں ۔ اللہ تعالٰی کی طرف مکر ، فریب ، بدسگالی کی نسبت اس کی شان میں حرف گیری کے مترادف ہے ، یہ بنیادی غلطی صرف اس وجہ سے ہے کہ اللہ اور رسول کے افعال مقدسہ کو اپنے افعال پر قیاس کیا ، اسی وجہ سے مترجمین نے ہنسی ، مزاق ٹھٹھا ،مکر،فریب ، علم سے بےخبر ، بدسگالی کو اس کی صفت ٹھہرایا ہے ۔

اللہ تعالٰی ، میاں ، کی صفت سے پاک : ⏬

اللہ پاک کی عزت افزائی کےلیے مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی نے میاں استعمال کیا ہے ۔ ان تمام الفاظ کو سامنے رکھ کر الوہیت کا آپ تصور کریں تو رب تبارک و تعالٰی انسانوں سے عظیم تر انسان ابھر کر آپ کے سامنے ہو گا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی رسول کریم کی شان کے لائق کوئی تعریف کی جاتی ہے تو یہ چیخ اٹھتے ہیں کہ تم نے رسول کو اللہ سے ملا دیا اور خود موحّدوں کے امام نے میاں اللہ تعالٰی کو کہہ کر عام انسان کے برابر لا کھڑا کیا تو پھر بھی وہابی دیوبندی توحید میں بال برابر فرق نہیں آیا ۔ مذکورہ آیت میں مکر کا ترجمہ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ نے تفاسیر کی روشنی میں کیا ہے ، خفیہ تدبیر ، اور لفظ مکر کو پہلے مقام پر ترجمہ میں کافروں کی طرف منسوب کر دیا ۔ فافھم ۔

ووجدک ضالا فھدیٰ ۔ (پ 30 سورۃ والضحٰی آیت نمبر 7)

ترجمہ‌ : اور پایا تجھ کو بھٹکتا پھر راہ دی ۔ (شاہ عبدالقادر)

ترجمہ : اور پایا تجھ کو راہ بھولا ہوا پس راہ دکھائی ۔ (شاہ رفیع الدین‌)

ترجمہ : دیافت تراراہ گم کردہ یعنی شریعت نمی دانستی پس راہ نمود ۔ ( شاہ ولی اللہ‌)

ترجمہ : اور آپ کو بے خبر پایا سو رستہ بتایا ۔ (مولوی عبدالماجد دریا بادی دیوبندی‌)

ترجمہ : اور تم کو دیکھا کہ راہ حق کی تلاش میں بھٹکے بھٹکے پھر رہے ہو تو تم کو دین اسلام کا سیدھا راستہ دکھا دیا ۔ (مولوی دیوبندی ڈپٹی نزیر احمددیوبندی)

ترجمہ : اور اللہ تعالٰی نے آپ کو ( شریعت سے) بے خبر پایا سو آپ کو شریعت کا راستہ بتلا دیا ۔ (مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی)

ترجمہ : اور تم کو بھٹکا ہوا پایا اور منزل مقصود تک پہنچایا ۔ (مقبول شیعہ ترجمہ)

ترجمہ : اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی ۔ (کنزالایمان ترجمہ قرآن اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ،چشتی)

آیتِ مذکورہ میں لفط ضا لاً استعمال ہوا ہے ۔ اس کے مشہور معنی گمراہی اور بھٹکنا ہیں ۔ چنانچہ بعض اہلِ قلم نے مخاطب پر نوکِ قلم کے بجائے خنجر پیوست کر دیا ۔ یہ نہ دیکھا کہ ترجمہ میں کس کو راہ گرم کردہ ، بھٹکتا ، بےخبر ، راہ بھولا کہا جا رہا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عصمت باقی رہتی ہے یا نہیں ، اس کی کوئی پرواہ نہیں ۔ کاش یہ مفسرین تفا سیر کا مطالعہ کرنے کے بعد ترجمہ کرتے یا کم از کم اس آیت کا سیاق و سباق ( اوّل و آخر‌) بغور دیکھ لیتے۔ انداز خطاب باری تعالٰی پر نظر ڈال لیتے ۔ ایک طرف ما ودعک ربک وما قلٰی وللاٰ خرۃ خیر لک من الا ولٰی تمہیں تمہارے ربّ نے نہ چھوڑ اور نہ مکروہ جانا اور بے شک پچھلی تمہارے لیے پہلی سے بہتر ہے ۔ الخ ۔ اس کے بعد ہی رسولِ ذیشان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گمراہی کا ذکر کیسے آ گیا ۔ آپ خود غور کریں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر کسی لحظہ گمراہ ہوتے تو راہ پر کون ہوتا یا یوں کہئے کہ جو خود گمراہ ہو ، بھٹکتا پھرا ہو ، راہ بھولا ہو ، وہ ہادی کیسے ہو سکتا ہے ؟ ۔ اور خود قرآن مجید میں نفی ضلالت کی صراحت موجود ہے۔ ماضل صاحبکم وما غوٰی (پ 28 سورۃ نجم آیت نمبر 2) ، آپ کے صاحب (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ گمراہ ہوئے اور نہ بے راہ چلے ۔ جب ایک مقام پر ربِّ کریم گمراہی اور بے رہی کی نفی فرما رہا ہے تو دوسرے مقام پر خود ہی کیسے گمراہ ارشاد فرمائے گا ؟

انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر ۔ (پ 26 سورہ فتح آیت نمبر 1)
ترجمہ : ہم نے فیصلہ کر دیا تیرے واسطے صریح فیصلہ تاکہ معاف کرے تجھ کو اللہ جو آگے ہوئے تیرے گناہ اور جو پیچھے رہے ۔ (شاہ عبد القادر)

ترجمہ : تحقیق فتح دی ہم نے تجھ کو فتح ظاہر تو کہ بخشے واسطے تیرے خدا جو کچھ ہوا تھا پہلے گناہوں سے تیرے اور جو کچھ پیچھے ہوا ۔ (شاہ رفیع الدین)

ترجمہ : ہر آئینہ ما حکم کر دیم برائے توبفتح ظاہر عاقبت فتح آنست کہ بیا مرز ترا خدا آنچہ کہ سابق گزشت از گناہ تو و آنچہ پس ماند - (شاہ ولی اللہ)

ترجمہ : بے شک ہم نے آپ کو ایک کھلا فتح دی تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دے ۔ (مولوی عبد الماجد دریا بادی دیوبندی)

ترجمہ : اے پیغمبر یہ حدیبیہ کی صلح کیا ہوئی در حقیقت ہم نے تمہاری کھلم کھلا فتح کرا دی تا کہ تم اس فتح کے شکریہ میں دین حق کی ترقی کےلیے اور زیادہ کوشش کرو اور خدا اس کے صلے میں تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دے ۔ (مولوی ڈپٹی نزیر احمد دیوبندی)

ترجمہ : بے شک ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی تا کہ اللہ تعالٰی آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف فرما دے ۔ (مولوی ارشفعکی تھانوی دیوبندی)

ترجمہ : اے محمد ہم نے تم کو فتح دی ۔ فتح بھی صریح و صاف تا کہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے ۔ (مولوی فتح محمد جالندھری دیوبندی یہی ترجمہ مولوی محمود حسن دیوبندی کا ہے‌)

ترجمہ : بے شک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح دی تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلے کے اور تمہارے پچھلوں کے ۔ (کنزالایمان ترجمہ قرآن اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ،چشتی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معصوموں کے سردار ؟ یا گنہگار ؟ ۔ : ⏬

عام تراجم سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی معصوم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماضی میں بھی گنہگار تھا ۔ مستقبل میں بھی گناہ کرے گا ۔ مگر فتح مبین کے صدقے میں اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہو گئے اور آئندہ گناہ رسول معاف ہوتے رہیں گے ۔ کاش یہ فتح مبین آپ کو نہ دی گئی ہوتی تا کہ آپ کے گناہوں پر سّتاری کا پردہ پڑا رہتا ۔ اس معصوم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گنہگار ہونے کا صرف اللہ تعالٰی ہی جانتا ۔ کھلم کھلا فتح کیا ملی کہ رسول معصوم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام مخفی گناہ ترجمہ پڑھنے والوں کے سامنے آشکار ہو گئے اور معلوم ہوا کہ آئندہ بھی گناہ سرزد ہوتے رہیں گے ۔ یہ دوسری بات ہے کہ ان گناہوں کی معافی کی پیشگی ضمانت ہو گئی ہے ۔ ان مترجمین سے آپ دریافت کیجیے کہ اس آیت کی تفسیر میں جو تاویلات کی گئی ہے مفسرین نے جو معنی بیان کیے ہیں اس کے مطابق انہوں نے ترجمہ کیوں نہیں کیا ۔ ترجمہ پڑھنے والوں کی گمراہی کا کون ذمہ دار ہے ؟ جب نبی معصوم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گنہگار ہو تو لفظ عصمت کا اطلاق کس پر ہو گا ؟ عصمتِ انبیاء علیہم السلام کا تصّور اگر جزوِ ایمان ہے تو کیا گنہگار خطاکار نبی ہو سکتا ہے ؟ اقوال صحابہ مفسرین کی توجیہات سے ہٹ کر ترجمہ کرنے پر کس نے آپ کو مجبور کیا ۔ ایک عربی یہودی یا نصرانی یا ہمارے یہاں جنہوں نے عربی زبان پڑھی ہے وہ بھی اس قسم کا ترجمہ کر سکتے ہیں تو آپ جو کہ عالم دین کہلاتے ہیں تفاسیر اور حدیث وفقہ کی تعلیم سے آراستہ ہیں ۔ بغیر سوچے سمجھے لفظ بلفظ ترجمہ کردیں تو آپ میں اور ان میں کیا فرق ہو گا ؟ افسوس کہ لفظ ذنب کی تفسیر میں امام ابوالّیث یا سلمٰی علیہما الرحمہ کی توجیہہ پڑھ لیتے تو اتنی فاش غلطی مترجمین سے نہ ہوتی ۔ مگر یہ صاحبان جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نقص جوئی نہ کر لیں ان کو اپنے علم پر اعتماد نہیں ہوتا ۔ مولوی ڈپٹی نزیر احمد دیوبندی کا ترجمہ مطبوعہ تاج کمپنی نمبر پی 141 کے آخر میں مضامین قرآن مجید کی مکمل فہرست دی گئی ہے ۔ اس فہرست کے حصہ دوم باب 5 کا عنوان (سرخی) یہ ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو خدا کی طرف سے عتاب ہوا یا آپ کی کسی بات پر گرفت ہوئی ۔ حوالے کے طور پر 9 آیات پیش کی گئی ہیں ۔ اس سے آپ ان کی اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دلی عداوت و بغض کا اندازہ کر سکتے ہیں ۔

لک میں ل سبب کے معنی میں ہے : ظاہر ہے کہ اعلٰی حضرت کا جوش عقیدت جناب ختمی مرتبت کےلیے اپنے کمال پر ہے ، اُن کو بھی ترجمہ کے وقت یہ تشویش ہوئی ہوگی ، کہ عصمت رسول پر حرف نہ آئے ، اور قرآن کا ترجمہ بھی صحیح ہو جائے ، وہ عقیدت بھری نگاہ جو آستانہء رسول پر ہمہ وقت بچھی ہوئی ہے اس نے دیکھا کہ لک میں ل سبب کے معنٰی میں مستعمل ہوا ہے لہٰذا جب حضور کے سبب سے گناہ بخشے گئے تو وہ شخصیتیں اور ہوئیں جن کے گناہ بخشے گئے ، اہلِ بصیرت کےلیے اشارہ کافی ہے معنویت سے بھر پُور روشن فتح کے مطابق ترجمہ فرما دیا ۔

فان یشاء اللہ تختم علٰی قلبک ۔ (پ 25 سورۃ شورٰی آیت نمبر 24)

ترجمہ : پس اگر خواہد خدا مہر نہد بر دل تو ۔ (شاہ ولی اللہ)

ترجمہ : اگر خدا چاہے تو اے محمد تمہارے دل پر مہر لگا دے ۔ (مولوی فتح مھًد جالندھری دیوبندی)

ترجمہ : پس اگر چاہتا اللہ ، مہر رکھ دیتا اوپر دل تیرے کے ۔ (شاہ رفیع الدین)

ترجمہ : سو اگر اللہ چاہے مہر کر دے تیرے دل پر ۔ (شاہ عبدالقادر)

ترجمہ : تو اگر اللہ چاہے تو آپ کے قلب پر مہر لگا دے ۔ (مولوی عبدالماجد دریا بادی دیوبندی)

ترجمہ : سو خدا اگر چاہے تو آپ کے دل پر بند لگا دے ۔ (سابقہ ترجمہ) ، دل پر مہر لگا دے ۔ (مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی)

ترجمہ : اور اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر اپنی رحمت و حفاظت کی مہر لگا دے ۔ (کنزالایمان ترجمہ قرآن اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ،چشتی)

تمام تراجم سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ختم اللہ علٰٰی قلوبھم کے بعد مہر لگانے کی کوئی جگہ تھی تو یہی تھی ۔ صرف ڈرا دھمکا کر چھوڑ دیا کس قدر بھیانک تصور ہے وہ ذاتِ اطہر کہ جس کے سر مبارک پر اسرٰی کا تاج رکھا گیا ۔ آج اس سے فرمایا جا رہا ہے کہ ہم چاہیں تو تمہارے دل پر مہر لگا دیں ۔

مہر کی اقسام : ⏬

مہر دو قسم کی ہوتی ہے ۔ ایک تو وہ جو ختم اللہ علٰی قلوبھم میں استعمال ہوئی اور دوسری خاتم النبین کی ۔ کاش تمام مترجمین تفاسیر کی روشنی میں ترجمہ کرتے تو ان کی نوک قلم سے رحمت عالم کا قلب مبارک محفوظ رہتا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قلب مبارک کہ جس پر اللہ تعالٰی کی رحمت اور انوار کی بارش ہو رہی ہے جس دل کو ہر شے سے محفوظ کیا گیا ہے اس آیت مبارک میں اس کی مزید توثیق (وضاحت) کر دی گئی ۔

ولئن اتبعت اھوا ئھم من بعد ماجائک من العلم انک اذا لمن الظلمین ۔ (پ 2 سورۃ بقرہ آیت نمبر 145)
ترجمہ : اور کبھی چلا تو ان کی پسند پر بعد اس علم کے جو تجھ کو پہنچا تو تیرا کوئی نہیں اللہ کے ہاتھ سے حمایت کرنے والا نہ مدد گار ۔ (شاہ عبدالقادر‌)

ترجمہ : اور اگر پیروی کرے گا ۔ تو خواہشوں ان کی پیچھے اس چیز سے کہ آتی تیرے پاس علم سے نہیں واسطے تیرے اللہ سے کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار ۔ (شاہ رفیع الدین)

ترجمہ : اگر پیروی کر دی آرزو ہائے باطل ایشاں راپس آنچہ آمدہ است بتواز دانش نہ باشد ترا برائے خلاص از عزاب خدا ہیچ دوستی ونہ یارے ہند ۔ (شاہ ولی اللہ)

ترجمہ : اور اگر آپ بعد اس علم کے جو آپ کو پہینچ چکا ہے ان کی خواہشوں کی پیروی کرنے لگے تو آپ کےلیے اللہ کی گرفت کے مقابلے میں نہ کوئی یار ہو گا نہ مدد گار ۔ (مولوی عبدالماجد دریا بادی دیوبندی)

ترجمہ : اور اے پیغمبر اگر تم اس کے بعد کہ تمہارے پاس علم یعنی قرآن آ چکا ہے ان کی خواہشوں پر چلے تو پھر تم کو خدا کے غضب سے بچانے والا نہ کوئی دوست اور نہ مدد گار ۔ (مولوی ڈپٹی نزیر دیوبندی و مولوی فتح محمد جالندھری‌ دیوبندی)

ترجمہ : اور اگر آپ اتباع کرنے لگیں ان کے غلط خیالات کا علم قطعی ثابت بالوجی آ چکنے کے بعد تو آپ کا کوئی خدا سے بچانے والا نہ یار نکلے نہ مددگار ۔ (مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی)

ترجمہ : اور (اسے سننے والے کے باشد‌) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھ علم چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گار ہو گا ۔ (کنزالایمان ترجمہ قرآن اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ،چشتی)

ترجمہ تفسیر خازن کی روشنی میں : ⏬

نبی معصوم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن کی نسبت سے قرآنی صفحات بھرے ہیں ۔ جن کو ٰطٰہ ، ٰیس ، مزمل ، مدثر جیسے القاب و آداب دیئے گئے ، اچانک اس قدر زجر و توبیح کے کلمات سے اللہ تعالٰی ان کو مخاطب کرے ؟ سیاق و سباق سے بھی کسی تہدید کا پتہ نہیں چلتا ۔ لٰہذا مترجم کو چاہیے کہ کھوج لگائے نہ یہ کہ براہ راست کلمات کا ترجمہ کر دے جو بات ان کی عصمت کے خلاف ہے وہ کیسے امکانی طور پر ان کی طرف منسوب کی جا سکتی ہے ۔
لٰہذا اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ نے اس کی تحقیق فرمائی اور تفسیر خازن کی روشنی میں انہوں نے ترجمہ فرمایا کہ مخاطب ہر سامع ہے نہ کہ نبی معصوم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسی طرح کتب معانی و بیان میں بھی اس بات کی تصریح ہے ۔
تراجم مزکورہ میں بعض مترجمین نے خاصی حاشیہ آرائی کی ہے مگر کسی مترجم کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ غور کرے کہ ڈانٹ ڈپٹ کے الفاظ حضور کی شان میں کہے جا رہے ہیں۔ جب کوئی وجہ نہیں تو مخا طبیت اللہ کے محبوب سے خاص نہیں بلکہ ہر سننے والے سے خطاب ہے ۔

ما کنت تدری ما الکتب ولا الایمان ۔ (پارہ 25 سورۃ شورٰی آیت نمبر 52)

ترجمہ : تو نہ جانتا تھا کہ کیا ہے کتاب اور نہ ایمان ۔ (شاہ عبد القادر)

ترجمہ : تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان ۔ (فتح محمد جالندھری)

ترجمہ : نہ جانتا تھا تو کیا ہے کتاب اور نہ ایمان ۔ (شاہ رفیع الدین)

ترجمہ : نمی دانستی کہ چیست کتاب ونمی دانستی کہ چیست ایمان ۔ (شاہ ولی اللہ)

ترجمہ : تمہیں کچھ پتا نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے ۔ (مودودی جماعت اسلامی)

ترجمہ : آپ کو نہ یہ خبر تھی کتاب کیا چیز ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا چیز ہے ۔ (مولوی عبدالماجد دریابادی دیوبندی)

ترجمہ : تم نہیں جانتے تھے کہ کتاب اللہ کی کیا چیز ہے اور نہ یہ جانتے تھے کہ ایمان کس کو کہتے ہیں ۔ (مولوی ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی)

ترجمہ : آپ کو یہ نہ خبر تھی کہ کتاب ( اللہ ) کیا چیز ہے اور نہ یہ خبر تھی کہ ایمان کا (انتہائی کمال) کیا چیز ہے ۔ (مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی)

ترجمہ : اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے نہ احکام شرع کی تفصیل ۔ (کنزالایمان ترجمہ قرآن اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ،چشتی)

ظہورِ نبوت سے قبل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مومن ہونے کی نفی ؟ ۔ : ⏬

لوح و قلم کو علم ہی نہیں بلکہ جن کو عالم ماکان و مایکون کا علم ہے ، معاذ اللہ آیت مزکورہ کے نزول سے پہلے مومن بھی نہ تھے کیونکہ مترجمین کے تراجم کے مطابق ایمان سے بھی نا بلد (کورے) تھے ۔ تو غیر مسلم ہوئے ۔ موحد بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعث سے پہلے مومن ہوتا ہے (بعد میں رسالت پر ایمان لانا شرط ہے) تراجم مزکورہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی خبر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بعد میں ہوئی ۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ کے ترجمے سے اس قسم کے تمام اعتراضات ختم ہو گئے کہ آپ احکام شرع کی تفصیل نہ جانتے تھے ایمان اور احکام شرع کی تفصیل میں جو فرق ہے وہی اعلٰی حضرت اور دیگر مترجمین کے ترجمہ میں فرق ہے ۔

الرحمٰن ۔ علم القرآن ہ خلق الانسان ۔ علمہ البیان ۔ (پارہ 27 سورۃ الرحمٰن آیت نمبر 1 تا 4)

ترجمہ : رحمٰن نے سکھایا قرآن ، بنایا آدمی ، پھر سکھائی اس کو بات ۔ (شاہ عبد القادر)

ترجمہ : رحمٰن نے سکھایا قرآن ، پیدا کیا آدمی کو ، سکھایا اس کو بولنا ۔ (شاہ رفیع الدین)

ترجمہ : خدا آموخت قرآن را ، آفرید آدمی راوآمو ختش سخن گفتن ۔ (شاہ ولی اللہ)

ترجمہ :: خدائے رحمٰن ہی نے قرآن کی تعلیم دی ، اس نے انسان کو پیدا کیا ۔ اس کو گویائی سکھائی ۔ (مولوی عبد الماجد دریا بادی دیوبندی)

ترجمہ : جنوں اور آدمیوں پر خدائے رحمان کے جہاں اور بےشمار احسانات ہیں ازاں جملہ یہ کہ اسی نے قرآن پڑھایا اسی نے انسان کو پیدا کیا پھر اس کو بولنا سکھایا ۔ (مولوی ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی)

ترجمہ :‌ رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا ، انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا ، ماکان و مایکون کا بیان انہیں سکھایا ۔ (کنزالایمان ترجمہ قرآن اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ،چشتی)

مندرجہ بالا تراجم کو غور سے پڑھیے ، پھر اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ کے ترجمہ کا بغور مطالعہ فرمائیں ۔ آیت نمبر 2 میں لفظ علم آیا ۔ جو متعدی بدومفعول ہے ۔ تمام تراجم میں رحمٰن نے سکھایا قرآن ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس کو قرآن سکھایا ۔ اس سے کس کو انکار ہو سکتا ہے ۔ خود قرآن شاہد ہے علمک مالم تکن تعلم اللہ نے آپ کو ہر چیز کا علم دیا جو آپ نے جانتے تھے ۔ آیت نمبر 3 کا ترجمہ ہے آدمی کو پیدا کیا وہ کون انسان ہے ؟ مترجمین نے لفظ بلفظ ترجمہ کر دیا ۔ بعض تراجم میں اپنی طرف سے بھی الفاظ استعمال کیے گئے پھر بھی لفظ انسان کی ترجمانی نہیں ہو سکی ۔ اب آپ اس ذات گرامی کا تصور کریں جو اصل الاصول ہیں جن کی حقیقت ام الحقائق ہے ۔ جن پر تخلیق کی اساس رکھی گئی ۔ جو مبد خلق ہیں ، روح کائنات، جان انسانیت ہیں ۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں انسانیت کی جان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدا کیا ۔ الانسان سے جب حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت کا تعین ہو گیا تو ان کی شان کے لائق اللہ تعالٰی کی طرف سے تعلیم بھی ہونی چاہیے ۔ چنانچہ عام مترجمین کی روش سے ہٹ کر اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ، ماکان ومایکون کا بیان انہیں سکھایا ۔
سوال : اس جگہ گستاخ رسول ذہنوں میں ضرور سوال ابھرتا ہے کہ یہاں ، ماکان و ما یکون کا بیان سکھانا ، کہاں سے آ گیا ۔ یہاں تو مراد ، بولنا سکھانا ہے ۔ یا یہ کہیے کہ قرآن کا علم دوسری آیت ظاہر کر رہی ہے تو اس چوتھی آیت مین اس کا ‘ل، بیان سکھابا ، مراد ہے ۔
جواب : تو جواب اس کا یہ ہے کہ ماکان و مایکون (جو کچھ ہوا اور جو کچھ قیامت تک ہو گا‌) کا علم لوح محفوظ میں اور لوح محفوظ قرآن شریف کے ایک جز میں اور قرآن کا بیان (جس میں ماکان وما یکون کا بیان بھی شامل ہے‌) سکھایا ۔ یہ تفسیری ترجمہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی شاعر نے کہا کہ : ⏬

مگس کا باغ میں جانے نہ دینا
کہ ناحق خون پروانوں کا ہو گا

مکھی کو باغ میں نہ جانے دو کہ یہ پھولوں کا رس چوس کر شہد و موم کا سبب بنے اور موم سے موم بتی اور موم بتی جب جلے گی تو پروانے جل کر قربان ہوں گے ۔ اب بتائیے اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ نے ترجمہ (ماکان وما یکون کا بیان سکھایا) کیسا کیا‌ ؟
فقیر پورے وثوق سے کہتا ہے کہ مذکورہ چار آیات کا ترجمہ متعدد بار پڑھیں ۔ یقینًا آپ کے ایمان میں بے پناہ نکھار پیدا ہو گا اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ پر یقینًا ایک وجدانی کیفیت طاری ہو گی ۔ اس پر یہ فقیر چشتی بعنوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم ماکان ومایکون تفصیل سے مکمل حوالہجات کے ساتھ لکھ چکا ہے ۔

لا اقسم بھذا البلد ۔ (پ 30 سورۃ بلد آیت نمبر 1)

ترجمہ : قسم کھاتا ہوں اس شہر کی اور تجھ کو قید نہ رہے اس شہر میں ۔ (شاہ عبدالقادر)

ترجمہ : قسم کھاتا ہوں میں اس شہر کی اور تو داخل ہونے والا ہے بیچ اس شہر کے ۔ (شاہ رفیع الدین)

ترجمہ : قسم می خورم بایں شہر ۔ (مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی)

ترجمہ : میں قسم کھاتا ہوں اس شہر مکہ کی۔ (مولوی عبدالماجد دریا بادی دیوبندی)

ترجمہ : میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی ۔ (مولوی محمود حسن دیوبندی)

ترجمہ : ہم اس شہر مکہ کی قسم کھاتے ہیں ۔ (مولوی ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی)

ترجمہ : قسم کھاتا ہوں اس شہر کی ۔ (مودودی جماعتیہ وہابی)

ترجمہ : مجھے اس شہر کی قسم کہ اے محبوب تم اس شہر میں تشریف فرما ہو ۔ (کنزالایمان ترجمہ قرآن اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ،چشتی)

اللہ تعالٰی کھانے پینے سے پاک ہے : ⏬

انسان قسم کھاتا ہے ۔ اردو اور فارسی میں قسم کھائی جاتی ہے ۔ اللہ تعالٰی کھانے پینے سے بے نیاز ہے مترجمین کرام نے اپنے محاورہ کا اللہ کو کیوں پابند کیا ۔ کیا اس لیے کہ اس بےنیاز نے کچھ کھایا نہیں تو کم سے کم ہی کھائے ۔ ایسی بھی کیا بے نیازی کہ کچھ نہیں کھایا ، یا اس باریک مسئلہ کی طرف عام مترجمین کی توجہ نہیں ۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ نے کس خوش اسلوبی سے ترجمہ فرما دیا ۔ مجھے اس شہر کی قسم ۔

ایاک نعبد و ایا ک نستعین ۔ (پ 1 سورۃ فاتحہ آیت نمبر 4)

ترجمہ : ترامی پر ستم واز تومدمی طلہم (شاہ ولی اللہ )
ترجمہ : ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں ۔ (مولوی فتح محمد جالندھری دیوبندی)

ترجمہ : تجھ ہی کو عبادت کرتے ہیں ہم اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ہم ۔ (شاہ رفیع الدین ، مولوی محمود حسن دیوبندی)

ترجمہ : ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے درخواست اعانت کرتے ہیں ۔ (مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی)

ترجمہ : ہم تجھی کو پوجیں اور تجھی سے مدد چاہیں ۔ (کنزالایمان ترجمہ قرآن اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ،چشتی)

سورہ فاتحہ ، سورۃ الدعا ہے ۔ دعا کے دوران دعائیہ کلمات کہے جاتے ہیں ۔ خبر نہیں دی جاتی ۔ جب کہ تمام تراجم میں خبر کا مفہوم ہے دعا کا نہیں اور ظاہر ہے عبادت کرتے ہیں ۔ مدد چاہتے ہیں ۔ دعائیہ کلمات نہیں ہیں یہ کلمات خبر کے ہیں جب کہ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ نے دعائیہ کلمات سے ترجمہ کیا ہے ۔

یا ایھا النبی ۔ (پارہ 10 سورہ انفال آیت نمبر 64)

ترجمہ : اے نبی ۔ (شاہ عبدالقادر)

ترجمہ : اے نبی ۔ (مولوی عبد الماجد دریا بادی دیوبندی)

ترجمہ : اے پیغامبر  (شاہ ولی اللہ)

ترجمہ : اے پیغمبر ۔ (مولوی ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی)

ترجمہ : اے نبی ۔ (شاہ رفیع الدین)

ترجمہ : اے نبی ۔ (مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی)

ترجمہ : اے غیب کی خبریں بتانے والے ۔ (کنزالایمان ترجمہ قرآن اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ،چشتی)

قرآن کریم میں لفظ رسول اور نبی متعدد مقامات پر آیا ہے ، مترجم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا ترجمہ کرے ، رسول کا ترجمہ پیغمبر تو ظاہر ہے مگر نبی کا ترجمہ پیغمبر نامکمل ہے ، اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ لفظ نبی کا ترجمہ اس اسلوب سے کیا ہے کہ لفظ کی معنویت اور حقیقت آشکار ہوکے سامنے آگئی ، مگر افسوس بعض لوگوں کو اس ترجمہ بہت صدمہ ہوا ہے کہ ان کی تنگ نظری اور بد عقیدگی کا جواب ترجمہ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ سے ظاہر ہو گیا ۔ مفردات امام راغب میں ہے : والنبوۃ سفارۃ بین اللہ و بین ذوی العقول من عبادہ لا زاحۃ علتھم فی امر معادھم و معاشھم والنبی لکونہ منبا بما تسکن الیہ العقول الزکیۃ و ھو یصح ان یکون فعیلا، بمعنی فاعل لقو لہ بناء عبادی ۔ الخ ۔
ترجمہ : نبوت اللہ تعالٰی اور اس کے ذوی العقول بندوں کے درمیان سفارت کو کہتے ہیں تاکہ ان کی تمام آخرت اور دنیا کی معاشی بیماریوں کو دور کیا جائے اور نبی خبر دیا ہوا ہوتا ہے ایسی باتوں کا جن پر صرف عقل سلیم اطمینان کرتی ہے اور یہ لفظ اسم فاعل بھی صحیح ہے اس لیے کہ بناء کا حکم آیا ہے ۔ اس پر بعنوان لفظ نبی کا ترجمہ فقیر چشتی مفصل حوالہ جات کے ساتھ لکھ چکا ہے ۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ۔ (شاہ عبد القادر)

ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں‌ساتھ نام اللہ بخشش کرنے والے مہربان کے ۔ (شاہ رفیع الدین)

ترجمہ :‌ شروع اللہ نہایت رحم کرنے والے کے نام سے ۔ (مولوی عبد الماجد دریا بادی دیوبندی)

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑے مہربان نہایت رحم والے ہیں ۔ (مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی)

ترجمہ : اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا ۔ (کنزالایمان ترجمہ قرآن اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ،چشتی)

تمام اردو تراجم ملاحظہ کیجیے سب نے اسی طرح ترجمہ کیا ہے شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے یا شروع ساتھ نام اللہ کے ۔ چنانچہ ہر مترجم کا قول خود اپنی زبان سے غلط ہو گیا ، کیونکہ شروع کرتا ہوں سے ترجمہ شروع کیا ہے ۔ اللہ کے نام سے شروع نہیں کیا ، اس پر طرّہ یہ کہ مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی نے آخر میں ہیں بڑھا دیا ان کے تلامذہ یا معتقدین بتائیں کہ ہیں کس لفظ کا ترجمہ ہے ۔ فافھم ۔

وما اھل بہ لغیر اللہ ۔ (پ 2 سورہ بقرہ آیت نمبر 173)

ترجمہ : اور جس پر نام پکارا اللہ کے سوا کا ۔ (شاہ عبد القادر)

ترجمہ : اور جس جانور پر نام پکارہ جائے اللہ کے سوا کسی اور کا ۔ (مولوی محمود حسن دیوبندی)

ترجمہ : اور جو کچھ پکارا جاوے اوپر اس کے واسطے غیر اللہ کے ۔ (شاہ رفیع الدین)

ترجمہ : وا آنچہ نام غیر خدا بوقت ذبح او یادکردہ شود ۔ (شاہ ولی اللہ)

ترجمہ : اور جو جانور غیر اللہ کےلیے نا مزد کر دیا گیا ھو ۔ (مولوی عبد الماجد دریا بادی دیو بندی)

ترجمہ : اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کر دیا یے ۔ (مولوی اشرف علی تھانوی دیو بندی)

ترجمہ : اور وہ جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا ہو ۔ (کنزالایمان ترجمہ قرآن اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ)

کسی پر غیر خدا کا نام حرام نہیں ورنہ ہر چیز حرام ہو گی : ⏬

جانور کبھی شادی کےلیے نا مزد ہوتا ہے کبھی عقیقہ ، ولیمہ ، قربانی ، اور ایصال ثواب کےلیے مثلاً گیارھویں شریف ، با رھویں شریف تو گویا ہر جانور جو ان مذکورہ ناموں پر نا مزد کیا گیا ہے وہ مترجمین کے نزدیک حرام ہے ۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ نے حدیث و فقہ و تفسیر کے مطا بق ترجمہ کیا ، جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا ہو ، اس ترجمہ سے وما اھل بہ لغیر اللہ کا مسئلہ واضح ہو گیا ۔

قران کریم کا تفسیری ترجمہ نہ کہ لفظی ترجمہ : ⏬

اگر قران کریم کا لفظی ترجمہ کر دیا جائے تو اس سے بے شمار خرابیاں پیدا ہوں گی ۔ کہیں شان الوہیت میں بے ادبی ہو گی تو کہیں شان انبیاء میں اور کہیں اسلام کا بنیادی عقیدہ مجروح ہوگا ۔ چنانچہ آپ مندرجہ بالا تراجم پر غور کریں تو تمام مترجمین نے قرآنی لفظ کے اعتبار سے براہ راست اردو میں ترجمہ کیا ہے مگر اس کے با وجود تراجم کانوں پر گراں ہیں اور اسلامی عقیدے کی رو سے مذ ہبی عقیدت کو سخت صدمہ پہنچ رہا ہے ۔

کیا آپ پسند کریں گے ؟ : ⏬

کہ کوئی کہے اللہ عزوجل ان سے ٹھٹھا کرتا ہے ، اللہ ان سے ہنسی کرتا ہے ، اللہ ان سے دل لگی کرتا ہے ، اللہ انھیں بنا رہا ہے ، اللہ ان کی ہنسی اڑاتا ہے ۔ آیت کر یمہ اللہ یستھزئ بھم ۔ (پ 1 سورہ بقرہ آیت نمبر 15) کا اکثر مترجمین نے یہی ترجمہ کیا ہے ۔ ان میں مشہور مولوی ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی ، مولوی محمود حسن دیوبندی ، مولوی فتح محمد جا لندھری ، مولوی عبدالماجد دیوبندی دریا بادی ، مرزا حیرت دہلوی (غیر مقلد) و نواب و حیدالزمان ، سر سید احمد صاحب علی گڑھی ، نیچری) ، شاہ رفیع الدین وغیرہ ہیں ۔

اسی طرح ایک مشہور آیت ہے ، ثم استوی علی العرش پ 8 سورہ الاعراف آیت نمبر 54 ۔ لفظ استوٰی قرآن کریم میں متعدد مقامات پرآیا ہے ۔ اکثر مترجمین نے اس کا ترجمہ کیا ہے ، پھر قائم ہوا تخت پر ، (مولوی عاشق الٰہی دیوبندی) ۔ پھر قرار پکڑا اوپر عرش کے ۔ (شاہ رفیع الدین) ۔ پھر اللہ عرش بریں پر جا برا جا ۔ (مولوی ڈپٹی نذیر احمد دیو) ۔ پھر بیٹھا تخت پر ۔ (شاہ عبدالقادر) ۔ پھر تخت پر چڑھا ۔ (مولوی وحید الزمان غیرمقلد وہابی) ۔ پھر عرش پر دراز ہو گیا ۔ (مولوی واجدی و محمد یوسف کا کوری)

اسی طرح آیت فاینما تو لوا فثم وجہ اللہ ۔ پ 1 سورہ بقرہ آیت نمبر 115 میں وجہ اللہ کا ترجمہ اکثر مترجمین نے کیا ہے ۔ اللہ کا منہ ، اللہ کا رخ ، چنانچہ شاہ رفیع الدین نے ترجمہ فرمایا ہے ، پس جدھر کو منہ کرو پس وہیں ہے منہ اللہ کا ۔ اللہ کا چہرہ ہے ۔ (نواب و حید الزمان غیر مقلد و محمد یوسف صاحب) ۔ ادھر اللہ ہی کا رخ ہے ۔ (مولوی محمود الحسن و عاشق الٰہی دیوبندی ، مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی) ۔ ادھر اللہ کا سامنا ہے ۔ (مولوی ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی و مرزا حیرت غیرمقلّد دہلوی و سید عرفان علی شیعہ) ۔ مذکورہ بالا تمام تراجم پڑھنے کے بعد اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ کا ترجمہ دیکھیے کہ ہر سہ آیات میں سے کسی آیت کا انہوں نے اردو میں ترجمہ نہیں کیا ۔ اس لیے کہ قرآنی الفاظ ، استوٰی ، استھزا ، وجہ اللہ ۔ کا ترجمہ کرنے کےلیے اردو میں ایسا کوئی لفظ نہیں کہ لفظی ترجمہ کر کے مترجم شرعی گرفت سے اپنے کو محفوظ کر سکے ۔ لہٰذا اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ نے بلفظہ ترجمہ فرمایا ہے : اللہ ان سے استہزا فرماتا ہے ، (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) ۔ 2 : پھر عرش پر استوار فرمایا ، (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) ۔ 3 : تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ ہے ، (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ ہے)  اس سے یہ معلوم ہوا کہ قرآن کریم کا لفظی ترجمہ کرنا ہر موقع پر تقریباً نا ممکن ہے ۔ ان مواقع پر ترجمہ کا حل یہ ہے کہ تفسیری ترجمہ کیا جائے تا کہ مطلب بھی ادا ہو جائے اور ترجمہ میں کسی قسم کا سقم باقی نہ رہے ۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ کے ایمان افروز ترجمہ کہ خوبیوں کو دیکھ کر یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ تمام تراجم قرآن میں ایک معیاری ترجمہ ہے جو ترجمہ کی غلطیوں سے مبرّا ہے۔  دیگر مترجمین نے خالق کو مخلوق کے درجے میں لا کھڑا کیا ۔

دغا با زی ، فریب ، دھوکہ ، اللہ کی شان کے لائق نہیں : ⏬

انٌ للمنافقین یخا دعون اللہ وھو خا دعھم ۔ (پ 5 سورہ نسآء آیت نمبر 142)

منافقیں دغا بازی کرتے ہیں اللہ سے اور اللہ بھی ان کو دغا دے گا ۔ (ترجمہ عاشق الٰہی میر ٹھی دیوبندی ، شاہ عبد القادر ، مولوی محمود حسن دیوبندی)

اور اللہ فریب دینے والا ہے ان کو ۔ (شاہ رفیع الدین)

خدا ان ہی کو دھوکہ دے رہا ہے ۔ (مولوی ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی)

اللہ انہیں کو دھوکہ میں ڈالنے والا ہے ۔ (مولوی فتح محمد جا لندھری دیوبندی)

وہ (یعنی اللہ عزوجل) ان کو فریب دے رہا ہے ۔ (مولوی وحید الزّمان غیرمقلد وہابی ، مرزا حیرت غیرمقلد وہابی دہلوی و سید عرفان علی شیعہ)

دغا بازی ، فریب ، دھوکہ ، کسی طرح اللہ عزوجل کی شان نہیں ہے ۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ نے تفسیری ترجمہ فرمایا : بے شک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی ان کو غافل کرکے مارے گا ۔

تفا سیر قرآن کے مطالعے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اس ترجمہ میں آیت کا مکمل مفہوم نہایت محتاط طریقہ پر بیان کیا گیا ہے ۔ یہ لفظی ترجمہ نہیں بلکہ تفسیری ترجمہ ہے ۔

قل اللہ اسرع مکرًا ۔ (پارہ 11 سورہ یونس آیت نمبر 21)

ترجمہ : کہہ دو اللہ سب سے جلد بنا سکتا ہے حیلہ ۔ (شاہ عبدالقادر ، مولوی فتح محمد جالندھری دیوبندی ، مولوی محمود حسن دیوبندی ، مولوی عاشق الٰہی دیوبندی میرٹھی)

ترجمہ : کہہ دو اللہ بہت جلد کرنے والا ہے مکر ۔ (شاہ رفیع الدین)

اللہ چالوں میں ان سے بھی بڑا ہوا ہے ۔ (مولوی عبدالماجد دریا بادی دیوبندی)

کہہ دے اللہ کی چال بہت تیز ہے ۔ (مولوی وحید الزّمان غیرمقلد وہابی)

صفت مکر ، اردو میں ، اللہ تعالٰی کی شان کے لائق نہیں ۔ ان آیات کے ترجمہ میں اللہ تعالٰی کےلیے مکر کرنے والا ، چال چلنے والا ، حیلہ کرنے والا کہا گیا ہے ، حالانکہ یہ کلمات کسی طرح اللہ عزوجل کی شان کے لائق نہیں ، اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ نے لفظی ترجمہ فرمایا ہے ۔ پھر بھی کس قدر پاکیزہ زبان استعمال کی ہے ۔ فرماتے ہیں : تم فرما دو اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے جلد ہوتی ہے ۔

نسوا اللہ فنسیھم ۔ (پ 10 سورہ توبہ آیت نمبر 67)

ترجمہ : یہ لوگ اللہ کو بھول گئے اور اللہ نے ان کو بھلا دیا ۔ (مولوی فتح محمد جالندھری و مولوی ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی)

ترجمہ : وہ اللہ کو بھول گئے اللہ ان کو بھول گیا ۔ (شاہ عبد القادر ، شاہ رفیع الدین ، مولوی محمود حسن دیوبندی)

اللہ تعالٰی کےلیے بھلا دینا ، بھول جانے کے لفظ کا استعمال اپنے مفہوم اور معنٰی کے اعتبار سے کسی طرح درست نہیں ہے ، کیونکہ بھول سے علم کی نفی ہوتی ہے اور اللہ تعالٰی ہمیشہ عالم الغیب و الشہادۃ ہے ۔ مترجمین کرام نے اس آیت کا لفظی ترجمہ کیا ہے جس کا نتیجہ ہر پڑھنے والے پر ظاہر ہے ۔ اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ نے تفسیری ترجمہ فرمایا ہے ۔ فرماتے ہیں : وہ اللہ کو چھوڑ بیٹھے تو اللہ نے انہیں چھوڑ دیا ۔

اس موضوع پر اکابرینِ اہلسنت کی تفصیلی کتب موجود ہیں مزید تفصیل کےلیے انہیں دیکھا جا سکتا ہے ۔ دعا ہے اللہ عزوجل جملہ فتنوں اور فتنہ پردازوں کے شر و فتنہ سے ہمیں محفوظ فرماۓ آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

No comments:

Post a Comment

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ماتم کیا کا جواب مع اسلام اور جاہلیت والے کام

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ماتم کیا کا جواب مع اسلام اور جاہلیت والے کام محترم قارئینِ کرام : شیعہ حضرات جب بھی دلیل دیتے ہیں تو صرف ...