Thursday, 30 July 2020

رافضیوں کا غلیظ ترین عقیدہ ابوبکر و عمر کو قبر سے نکال کر جلائیں گے

رافضیوں کا غلیظ ترین عقیدہ ابوبکر و عمر کو قبر سے نکال کر جلائیں گے

محترم قارئینِ کرام : خدا را ایک بار اس مختصر مضمون کو غور سے ضرور پڑھیے گا ۔ نقلِ کفر کفر نہ باشد ۔ فقیر کا مقصد صرف اُن مردہ ضمیروں کو جگانا ہے جو ایسے غیلظ عقائد و نظریات رکھنے والے رافضیوں کی چاپلوسی کرتے ہیں ۔ انہیں اپنے اسٹیجوں پر بلاتے ہیں اُن کے گیت گاتے ہیں اور اُن مجالس و محافل میں جاتے ہیں ۔ اور اِن غلیظ عقائد و نظریات کے پھیلانے کا سبب بنتے اور خاموش رہتے ہیں ۔ خدا را اے مسلمانو جاگو اِس نسلِ ابن سباء یہودی اور اِن کے غلیظ عقائد و نظریات سے خود بھی بچو اور اپنی نسلوں کو بھی بچاؤ آیئے دل پر ہاتھ کر پڑھیں : ⏬

امام مہدی (رضی اللہ عنہ) مدینے میں آتے ہی پہلا کام حضرت مہدی (رضی اللہ عنہ) کا یہ ہے کہ ان ہر دو (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کو قبر سے باہر نکالیں گے وہ اپنی اسی صورت پر تروتازہ بدن کے ساتھ باہر نکالے جائیں گے پھر فرمائیں گے کہ : ان کا کفن اتارو ، ان کا کفن حلق سے اتارا جائے گا ، ان کو اللہ کی قدرت سے زندہ کریں گے اور تمام مخلوق کو جمع ہونے کا حکم دیں گے پھر ابتداء عالم سے لے کر اخیر عالم تک جتنے ظلم اور کفر ہوئے ہیں ان سب کا گناہ ابوبکر و عمر پر لازم کر دیں گے ، اور وہ اس کا اعتراف کریں گے کہ اگر وہ پہلے دن خلیفہ برحق کا حق غصب نہ کرتے تو یہ گناہ نہ ہوتے ، پھر ان کو درخت پر چڑھانے کا حکم دیں گے اور آگ کو حکم دیں گے کہ زمین سے باہر آئے اور ان کو درخت کے ساتھ جلادے ، اور ہوا کو حکم دیں گے کہ ان کی راکھ کو اڑا کر دریاؤں میں گرادے ۔ امام ، خدا کے اذن سے انہیں زندہ کریں گے اور ان پر لعنت کریں گے اور وہ اپنے کئے ہوئے گناہوں کا اعتراف کریں گے ، اگر کوئی ایک دانہ کے برابر بھی ان سے محبت کرتا ہو گا وہ وہاں ظاہر ہو جائے گی ، پھر امام علیہ السلام اجازت فرمائیں گے اور جتنے لوگ وہاں موجود ہونگے وہ قصاص لیں گے . پھر امام حکم دیں گے اور زمین سے آگ نکلے گی یہ آگ وہی آگ ہو گی جو حضرت زہراء (سلام اللہ علیہا) کے گھر پر جلائی گئی تھی وہ لکڑیاں اور آگ ان کو جلائے گی یہاں تک کہ یہ راکھ میں بدل جائیں گے پھر ہوا کو حکم ہو گا کہ انہیں جدا جدا دریا میں ڈال دو ۔ (حق الیقین جلد دوم صفحہ 34 ، 35 مترجم اردو مطبوعہ مجلس اسلامی پاکستان)(حق الیقین ملّا باقر مجلسی صفحہ نمبر ۳۶۱ ۔ ۳۶۲ مطبوعہ کتاب فروشي اسلامیہ تہران ایران ۱۳۵۷ھ۔)(احتجاج 449 اِعلام الوری 436)(عیون جلد 1 صفحہ 58)(کمال الدین 253 ـ 377)(الهدایة الکبری صفحہ 163،چشتی)(مثالب النواصب صفحہ 113)،(ارشاد القلوب جلد 2 صفحہ 285)(الایقاظ صفحہ 287)(بحار صفحہ 252 ـ 386 ، بحار جلد 3 صفحہ 277 ـ 276 جلد 36 صفحہ 245 جلد 52 صفحہ 379 و 283، ج 53، ص 12ـ4)

کیوں جناب پیرانِ عظام ، سجادہ نسینان ، ذیشان خطیب حضرات ، مفتیانِ کرام و نقیب حضرات یہ کفر نہیں ہے ؟ یہ گستاخی نہیں ہے ؟

یہاں آپ کے قلم ، لب ، فتوے ، تقوے ، گھن گرج غریتِ ایمانی سب خاموش کیوں ؟

اس طرح کے عقائد رکھنے والوں کے خلاف آج تک کتنے مفتیوں نے ویڈیو بنا کر اپلوڈ کی ہیں اور کتنے مفتیوں کے فتوے جاری ہوئے ہیں ؟

اور کتنے پیروں کو اس پر درد ہوا تکلیف ہوئی اور انہوں نے ان گستاخیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور احتجاجی جلسے جلوس کیئے ؟

آخر ان مفتیوں اور پیروں اس طرح کے شیعوں کے غلیظ عقائد پر سانپ کیوں سونگھ جاتا ہے کہاں ہیں مفتیانِ کرام ؟

کہاں ہیں پیرانِ عظام ؟

کہاں ہیں نقیبانِ محافل ؟

کہاں ہیں ذیشان خطیب حضرات ؟

یہاں آپ کی غیرتِ ایمانی کہاں دفن ہو گئی ؟

امید ہے آپ سب کی غیرتِ ایمانی جاگے گی اور اپنے مریدوں کی بھی جناب غیرت جگاٸیں اور سب کا ایمان بچاٸیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں گستاخوں اور ان کے گستاخانہ فتنوں و مجالس سے بچاۓ آآمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

اگر کوئی قانون ہاتھ میں لے کر گستاخ رسول کو قتل کردے تو کیا حکم ہے ؟

اگر کوئی قانون ہاتھ میں لے کر گستاخ رسول کو قتل کردے تو کیا حکم ہے ؟
محترم قارئینِ کرام : اگر کسی نے انفرادی طور پر اُٹھ کر ایسے گستاخ کو قتل کردیا تو اس کا کیا حکم ہے ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ نبوی زندگی میں اس کی کوئی مثال اگر ہےتو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ایسے گستاخ کے قاتل کے ساتھ کیا رویہ اپنایا ہے ۔ ہمارا اعلی تعلیم یافتہ اور پڑھا لکھا سیکولر طبقہ ایسے ہر موقع پر جب توہین رسالت کے کسی مجرم اور گستاخ رسول کو کوئی سچا پکا مسلمان اور اپنے نبی کا دیوانہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کیفر کردار کو پہنچا دیتا ہے تو شور مچا دیتا ہے کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔ بجا فرمایا قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے لیکن یہ طبقہ ذرا یہ تو بتائے کہ یہ عدالتیں ان ملعنوں کے کیسز کو تمام ثبوت اور شواہد ہونے کے باوجود کئی کئی سال لمبی لمبی تاریخیں دے کر کیا قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے لیتی ہیں بلکہ ہاتھ میں کیا یہ تو ایسے کیسز کو جیب میں ڈال لیتے ہیں ۔ مزید ستم یہ کہ ایسے گستاخوں کو خصوصی پروٹوکول دے کر بیرون ملک فرار کروا دیا جاتا ہے کیا یہ قانون کو ہاتھ میں لینا نہیں ہے ؟؟؟؟ اور پھر بیروں ملک ان کو وی آئی پی کا سٹیٹس دے کر ہمارے سینوں پر مونگ دلی جاتی ہے ہمیں بے بسی کا احساس دلایا جاتا ہے ہمیں یہ باور کروایا جاتا ہے کہ تمہیں اپنے آزاد اسلامی ملک میں اگر اپنے نبی کی حرمت کا احساس نہیں ہے تمہاری حکومتیں اگر اپنے نبی کی حرمت سے زیادہ ہماری خوشنودی کی طلبگار ہیں تو تم بھگتو ہمیں تو اپنے عیسائی اپنے قادیانی کی حرمت کا پورا احساس ہے ہم تو ان کا تحفظ ان کو وی آئی پی کا سٹیٹس دے کر کریں گے ۔ ہمیں ان کے رویوں میں یہ منافقت نظر آتی ہے کہ وہ سیکولر ضرور ہیں لیکن اپنے کسی ہم مذہب کو جیل جاتا پھانسی چڑھتا نہیں دیکھ سکتے لیکن ہمارے لبرل اور سیکولر انسانیت کا رونا روتے رہتے ہیں اور قانون قانون کی رٹ لگا کر ہمیں جاہل پاگل اور ذہنی مریض ثابت کیا جاتا ہے. کیا قائد اعظم جب غازی علم الدین شہید کا مقدمہ لڑ رہے تھے تو کیا وہ ذہنی مریض تھے ؟؟ جب علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ ترکھانوں کا لڑکا بازی لے گیا اور ہم دیکھتے رہ گئیے تو کیا وہ ذہنی مریض تھے ۔

(1) حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ اناعْمَى كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ فَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَيَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ قَالَ فَلَمَّا كَانَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَشْتُمُهُ فَأَخَذَ الْمِغْوَلَ فَوَضَعَهُ فِي بَطْنِهَا وَاتَّكَأَ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا فَوَقَعَ بَيْنَ رِجْلَيْهَا طِفْلٌ فَلَطَّخَتْ مَا هُنَاكَ بِالدَّمِ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا فَعَلَ مَا فَعَلَ لِي عَلَيْهِ حَقٌّ إِلَّا قَامَ فَقَامَ الْأَعْمَى يَتَخَطَّى النَّاسَ وَهُوَ يَتَزَلْزَلُ حَتَّى قَعَدَ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا صَاحِبُهَا كَانَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَأَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ وَلِي مِنْهَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ وَكَانَتْ بِي رَفِيقَةً فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةَ جَعَلَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ فَأَخَذْتُ الْمِغْوَلَ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا وَاتَّكَأْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ ۔ (ابوداؤد، باب الحکم فی من سب،چشتی)
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک نابینا کی ام ولد باندی تھی جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو گالیاں دیتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان میں گستاخیاں کرتی تھی ، یہ نابینا اس کو روکتا تھا مگر وہ نہ رکتی تھی ۔ یہ اسے ڈانٹتا تھا مگر وہ نہیں مانتی تھی ۔ راوی کہتا ہے کہ جب ایک رات پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان میں گستاخیاں کرنی اور گالیں دینی شروع کیں تو اس نابینا نے ہتھیار(خنجر) لیا اور اس کے پیٹ پر رکھا اور اس پر اپنا وزن ڈال کر دبا دیا اور مار ڈالا ، عورت کی ٹانگوں کے درمیان بچہ نکل پڑا ، جو کچھ وہاں تھا خون الود ہوا ۔ جب صبح ہوئی تو یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ہاں ذکر ہوا۔آپ نے لوگوں کو جمع کیا ، پھر فرمایا کہ اس آدمی کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے کیا جو کچھ میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہوجائے ، تو نابینا کھڑا ہوا ، لوگوں کو پھلانگتا ہوا اس حالت میں آگے بڑا کہ وہ کانپ رہا تھا ، حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سامنے بیٹھ گیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں ہوں اسے مارنے والا ، یہ آپ کو گالیاں دیتی تھی اور گستاخیاں کرتی تھی میں اسے روکتا تھا وہ نہ رکتی تھی ، میں دھمکاتا تھا وہ باز نہیں آتی تھی اور اس سے میرے دو بچے ہیں جو موتیوں کی طرح ہیں اور وہ مجھ پر مہربان بھی تھی ، لیکن آج رات جب اس نے آپ کو گالیاں دینی اور برا بھلا کہنا شروع کیا تو میں نے خنجر لیا اور اسکی پیٹ پر رکھا اور زور لگا کر اسے مار ڈالا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ لوگوں گواہ رہو اسکا خون بے بدلہ (بے سزا) ہے ۔

(2) عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ فَأَبْطَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا ۔ (ابوداؤد، باب الحکم فی من سب)
ترجمہ : حضرت علی سے روایت ہے کہ ایک یہودیہ عورت نبی صل اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی تھی اور برا کہتی تھی تو ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئی ،تو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے اسکے خون کو ناقابل سزا قرار دے دیا ۔

پہلی حدیث تو ایک مملوکہ باندی کا تھا اور دوسری حدیث غیر مملوکہ غیر مسلم کے متعلق ہے، مگرغیرت ایمانی نے کسی قسم کا خیال کئے بغیر جوش ایمانی میں جو کرنا تھا کردیا اور حضور صل اللہ علیہ وسلم نے بھی اسکا بدلہ باطل قرار دیا ۔ دونوں واقعات سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو گالیاں دینے والے مباح الدم بن جاتا ہے اور اگر کوئی اس گستاخ کو انفرادی طور پر قتل کرے تو قاتل کیلئے کوئی سزا نہیں ہے۔ بلکہ اس گستاخ کا قاتل ہر قسم کے جرم و سزا سے آزاد ہوگا۔نیز حق کا علمبردار بن کر ثواب عظیم کا مستحق بن جاتا ہے ۔ گستاخ رسول کا قتل حکومت کا ذمہ ہے ۔ اور عام آدمی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لے ، لیکن اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لے کر اس گستاخ کو قتل کیا تو اس قاتل پر کوئی قصاص یا تاوان نہیں ہوگا کیونکہ مرتد مباح الدم ہوتا ہے اور جائز القتل ہوتا ہے ۔ عام آدمی اگر اس کو قتل کردے تو یہ آدمی مجرم نہیں ہوگا ۔

محترم قارئینِ کرام : اگر کسی کی ماں بہن یا بیوی کو کوئی بدبخت سرعام اور بیچ چوراہے کے چھیڑے اور اس کی عزت و حرمت کو نیلام کرنے کی کوشش کرے تو کتنے ایسے ہیں جو وہاں پر اپنی ماں یا بہن کو اس بات کی تلقین کریں گے کہ نہیں مسئلہ قانونی ہے ؟ ہمیں قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے ؟ کتنے ایسے ہیں جو ایسے فعل بد کے خلاف تحریک چلائیں گے اور حکومت جو تحفظ نہیں دے سکتی اسے ہٹا کر دوسری حکومت بنائیں گے جو تحفظ دے گی ؟ کتنے ایسے جو طاقت کے باوجود رواداری کا درس دینا شروع کردیں گے ؟ کتنے ایسے ہیں جنہیں ایسے مواقع پر "سافٹ امیج" عزیز ہو گا ؟ یقینا ہر شخص کے دماغ کی پھرکی گھومے گی اور ایسے بدبخت کو سبق سکھانے کے لیے تمام دلائل کو پس پشت ڈال کر جان تک قربان کرنے لیے تیار ہو جائے گا ۔

مگر ذرا سوچیے : یہی معاملہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حرمت کے ساتھ ہوتا ہے ۔ حکومتوں سے لے کر عدالتوں تک ہر ایک ٹال مٹول سے کام لیتا ہے ۔۔۔۔ اور کوئی غازی اٹھ کر "غیرت" کا مظاہرہ کرتا ہے تو ہمیں رواداری کی ساری آیات و احادیث یاد آجاتی ہیں ۔۔۔۔۔ سافٹ امیج کا خیال آ جاتا ہے ۔۔۔۔ دلائل کے انبار لگا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ ڈاکٹروں ، سکالروں اور انجینئروں کے دروس بطور دلیل نقل کرنا شروع ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔ ایسے لوگوں سے میرا سوال ہے ؛ کہ آج تک کتنے گستاخوں کو سزا دی گئی ؟ اور آپ نے سزا نہ دینے پر کتنا احتجاج کیا ؟ قانون کی عملداری کی باتیں کرنا آسان ہے ۔۔۔۔ مگر اس پر عمل درآمد کے لیے آپ نے کتنی کوششیں کی ہیں ؟ کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔۔۔ تو پھر ایسے غازیوں کی مذمت کر کے لبرلز کے ہاتھ مضبوط ۔۔۔۔ اور غازیان اسلام کے حوصلے پست مت کریں ۔۔۔۔۔۔ جس دن اس ملک میں قانون پر عمل در آمد ہونا شروع ہو گیا ۔۔۔۔ایسے واقعات رو نما ہونا بند ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔ مزید ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ " اس طرح حرمت رسول کے قانون کو لوگ اپنی مرضی سے استعمال کریں گے " اور جھوٹ بول کر جسے چاہیں گے گستاخ قرار دے کر قتل کردیں گے ۔۔۔۔۔ میرا سوال ہے کہ آج تک کتنی مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ لوگوں نے اس قانون کو اپنی مرضی و منشاء کے مطابق غلط استعمال کیا ہو ؟ ۔۔۔۔۔ خدا را بزدلی چھوڑیئے ۔۔۔۔اگر کچھ کر نہیں سکتے تو خاموش رہیے ۔

حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : کعب کو کون قتل کرے گا یہ اللہ و رسول کو ایذا دیتا ہے تو صحابہ نے اسے قتل کردیا ۔ (صحیح بخاری,حدیث نمبر3031)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے انصار کی ایک جماعت کو بجھیجا کہ ابورافع کو قتل کرے تو عبد اللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ نے اسے سوتے ھوئے قتل کیا ۔ (صحیح بخاری,حدیث نمبر3022،چشتی)

فتح مکہ کے دن ایک صحابی نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو بتایا کہ ابنِ خطل کعبہ کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور چھپا ہوا ہے تو حکم ارشاد فرمایا
اسے قتل کر دو ۔ (صحیح بخاری,حدیث نمبر3044)

ایک ملعون نے حنبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو گالیاں بکتا تھا تو آپ علیہ الصلوۃوالسلام نے پوچھا کون اسے قتل کرے گا ؟ حضرت خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ ذمہ داری قبول کی اور اسے قتل کردیا ۔ (الشفاء,جلدنمبر1,صفحہ نمبر62)

ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بےادبی کیا کرتی تھی تو ایک صحابی نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے مار دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس عورت کا خون رائیگاں جانے دیا اور قاتل کو سزا نہیں دی ۔ (سنن ابو داؤد,حدیث نمبر4362)

ایک صحابی نے عرض کی کہ میرا باپ آپ کی شان میں گستاخی کرتا تھا تو میں نے اسے مار دیا تو حضور پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کو اس کے قتل کا کوئی دکھ نہ ہوا ۔ (الشفاء,جلدنمبر2,صفحہ نمبر195،چشتی)

ایک نابینا صحابی کی ایک لونڈی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان میں گستاخی کرتی تھی تو ان نابینا صحابی نے اسے قتل کردیا اورآ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس کا خون رائیگاں جانا اور کوئی سزا نہیں دی ۔ (سنن ابو داؤد,حدیث نمبر4341)

خلافتِ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ میں ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی گستاخی میں گانا گایا تو مہاجر بن امیہ نے اس کے دونوں ہاتھ اور زبان کاٹ دی ۔ جب اس کی خبر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ہوئی تو آپ نے فرمایا اگر تم نے یہ نہ کیا ہوتا تو میں اسے قتل کروا دیتا کہ انبیاء کی گستاخ کی سزا عام سزاؤں کی طرح نہیں ہوتی ۔ (الشفاء,جلدنمبر2, صفحہ نمبر196)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اہانت کا مرتکب واجب القتل ہے اور اس کی توبہ مطلقًا کسی صورت میں قبول نہیں کی جائے گی خواہ وہ قبل الأخذ یعنی مقدمے کے اندراج یا گرفتاری سے پہلے توبہ کرے یا بعد الأخذ مقدمے کے اندراج یا گرفتاری کے بعد تائب ہو، ہر صورت برابر ہے۔ کسی صور ت میں بھی قطعاً قبولیت توبہ کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ اس موقف پر دلائل درج ذیل ہیں۔ قرآن مجید میں ہے : وَلَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ ط قُلْ اَبِا ﷲِ وَاٰيٰـتِهِ وَرَسُوْلِهِ کُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُوْنَ o لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِکُمْ ۔
ترجمہ : اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو، بہانے نہ بناؤ تم کافر ہو چکے مسلمان ہو کر اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کریں تو اوروں کو عذاب دیں گے اس لیے کہ وہ مجرم تھے ۔ (سورۃُ التوبة، 9 : 65، 66)

مفسرین کرام اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : قَدْ کَفَرْتُمْ ، قد أظهرتم الکفر بإيذاء الرسول والطعن فيه.
’’تم کافر ہو چکے ہو یعنی تمہارا کفر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت وتکلیف دینے ، آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں طعن وتشنیع کرنے کی وجہ سے ظاہر ہوچکا ہے ۔
عظیم مفسر علامہ عبد ﷲ بن عمر بيضاوی رحمۃ اللہ علیہ ، أنوار التنزيل وأسرار التأويل، 3: 155، بيروت، لبنان: دارالفکر ۔
أبو السعود محمد بن محمد رحمۃ اللہ علیہ، تفسير أبو السعود، 4: 80، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي ۔
علامہ محمود آلوسي رحمۃ اللہ علیہ، روح المعاني، 10: 131، بيروت، لبنان: دارا حياء التراث العربي ۔(چشتی)
دیگر مفسرین کرام کی اکثریت نے بھی یہی موقف اپنایا ہے۔ سورہ احزاب کی آیت مباکہ میں ہے : اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ ﷲَ وَرَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ ﷲُ فِی الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا ۔
ترجمہ : بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ (سورۃُ الاحزاب، 33 ۔ 57)

اس آیت کریمہ سے علامہ ابن تیمیہ استدلال کرتے ہوے لکھتے ہیں : ان المسلم يقتل اذا سب من غير استتابة وان اظهر التوبة بعد اخذه کما هو مذهب الجمهور.
ترجمہ : کوئی بھی مسلمان (جو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی وگستاخی کرے گا) اسے توبہ کا موقع دیئے بغیر قتل کر دیا جائے ۔ اگر چہ وہ گرفتاری کے بعد توبہ کرلے یہی مذہب جمہور ہے ۔ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول، 3: 635، بيروت، لبنان: دار ابن حزم)
علامہ ابن تیمیہ مزید بیان کرتے ہیں، نسبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ ثابت ہے، شان رسالتمآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی و بے ادبی کا ارتکاب کرنے والے کی سزا تو بہ کا موقع دیئے بغیر اسے قتل کرنا ہے ۔ حدیث رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی بات سامنے آتی ہے : فانه امر بقتل الذي کذب عليه من غير استتابه.
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس شخص کے بارے میں بغیر توبہ کا موقع دیئے قتل کا حکم صادر فرمایا جس نے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کیا ۔ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول، 3: 638،چشتی)
فتنہ اہانت رسول میں مسلم وغیر مسلم کا امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا ۔ دونوں پر حد کا اجراء ہوگا، کوئی بھی اس سے مستثنیٰ و مبراء نہ ہوگا ۔ امام مالک رحمہ ﷲ نے اسی چیز کو واضح کرتے ہوئے فرمایا : من سب رسول ﷲ أو شتمه أو عابه أو قتل مسلما کان أو کافراً ولا يستتاب.
ترجمہ : جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو گالی دی یا عیب لگایا یا آپ کی تنقیص کی تو وہ قتل کیا جائے گا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی ۔ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول، 3: 572)

امام احمد بن حنبل رحمہ ﷲ نے فرمایا ہروہ شخص جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو گالی دی یا تنقیص واہانت کا مرتکب ہوا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اس جسارت پر سزائے قتل اس پر لازم ہوجائے گی ۔ مزید برآں فرماتے ہیں : اری ان يقتل ولا يستتاب ۔
ترجمہ : کہ میری رائے یہ ہے کہ اسے توبہ کا موقع دیئے بغیر قتل کر دیا جائے ۔

امام احمد بن حنبل رحمہ ﷲ کے صاحبزادے فرماتے ہیں ایک روز میں نے والد گرامی سے پوچھا جو شخص حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی وگستاخی کرے آپ کی شان اقدس میں دشنام طرازی کا ارتکاب کرے تو ایسے شخص کی توبہ قبول کی جائے گی ؟ اس پر آپ نے ارشاد فرمایا : قد وجب عليه القتل ولايستتاب ۔ ترجمہ : سزائے قتل اس پر واجب ہو چکی ہے اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی ۔ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول، 3: 551،چشتی)

جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بے ادبی وگستاخی کا مرتکب ہو کیا اس کی توبہ قبول کی جائے گی ؟ اس کے بارے میں امام زین الدین ابن نجیم حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ قلبی طور پر بغض وعداوت رکھتا ہے وہ مرتد ہے جبکہ کھلم کھلا آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے والا بطریق اولیٰ کافرومرتد ہے : يقتل عندنا حدا فلا تقبل توبته في إسقاطه القتل ۔
ترجمہ : ہمارے نزدیک (یعنی مذہب احناف کے مطابق) اسے حداً قتل کردیا جائے گا اور حد قتل کو ساقط کرنے کے حوالے سے اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی ۔ )البحر الرائق، 5: 136، بيروت، لبنان: دارالمعرفة)

امام ابن عابدین شامی حنفی رحمہ ﷲ شان رسالت مآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اہانت وگستاخی کے مرتکب کی سزا کے متعلق فرماتے ہیں : فإنه يقتل حداً ولا تقبل توبته لأن الحد لايسقط بالتوبة، وأفاد أنه حکم الدنيا وأما عند ﷲ تعالیٰ فھي مقبولة ۔
ترجمہ : اسے حداً قتل کر دیا جائے گا ۔ اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اس لئے کہ حد توبہ سے ساقط ومعاف نہیں ہوتی، یہ حکم اس دنیا سے متعلق ہے جبکہ آخرت میں ﷲ رب العزت کے ہاں اس کی توبہ مقبول ہوگی ۔ (رد المحتار ، 4: 230، 231، بيروت، لبنان: دارالفکر،چشتی)

محمد بن علی بن محمد علاؤ الدین دمشقی المعروف حصکفی حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : الکافر بسب نبي من الأنبياء فإنه يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقا ولو سب ﷲ تعالیٰ قبلت لأنه حق ﷲ تعالیٰ والأول حق عبد لا يزول بالتوبة ومن شک في عذابه وکفره کفر ۔
ترجمہ : انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کی توہین کرکے جو شخص کا فر ہو اسے حداً قتل کردیا جائے گا اور اس کی توبہ کسی صورت میں قبول نہیں ہوگی ۔ اگر اس نے شان الوہیت میں گستاخی کی (پھر توبہ کی) تو اس کی توبہ قبول ہو جائے گی ۔ اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے (جو توبہ سے معاف ہوجاتا ہے) جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شان میں گستاخی یہ حق عبد ہے جو توبہ سے زائل نہیں ہوتا اور جو شخص اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے تو وہ کافر ہو جاتا ہے ۔ (الدر المختار، 4: 231، 232، بيروت، لبنان: دارالفکر)

نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ادنیٰ سی گستاخی و بےادبی ، توہین و تنقیص ، تحقیر و استخفاف ، صریح ہو یا بانداز اشارہ و کنایہ، ارادی ہو یا بغیر ارادی بنیت تحقیر ہو یا بغیر نیت تحقیر ، گستاخی کی نیت سے ہو یا بغیر اس کے حتیٰ کہ وہ محض گستاخی پر دلالت کرے تو اس کا مرتکب کافر و مرتد اور واجب القتل ہے ۔ اللہ تعالیٰ جملہ فتنوں سے بچائے آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Wednesday, 29 July 2020

آیتِ مباہلہ اور شیعہ رافضیوں کے جھوٹ اور فریب کا انہیں کے گھر سے جواب

آیتِ مباہلہ اور شیعہ رافضیوں کے جھوٹ اور فریب کا انہیں کے گھر سے جواب

فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنَآءَکُمْ وَ نِسَآءَ نَا وَ نِسَآءَکُمْ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَکُمْ۟ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ ۔ ﴿سورہ النساء آیت نمبر 61﴾
ترجمہ : پھر اے محبوب جو تم سے عیسٰی کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرما دو آؤ ہم تم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں ۔

محترم قارئینِ کرام : سورہ آل عمران کی یہ آیت جو کہ آیت مباہلہ کے نام سے مشہور ہے اس آیت کو پیش کر کے شیعہ حضرات یہاں یہ بات ثابت کرنے کی بے جا کوشش کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صرف ایک صاحبزادی سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا ہی تھیں اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اور صاحبزادیاں ہوتیں تو وہ سب بھی اس روز مباہلہ میں شرکت کرتیں ۔ تو جناب گذارش یہ ہے کہ شیعہ حضرات کی تاریخ کی تمام معتبر کتابوں (ناسخ التوریخ اور کافی وغیرہ) میں موجود ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چار صاحبزادیاں تھیں اس دن خاتون جنت سلام اللہ علیہا کا تنہا تشریف لانا اس لئیے تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی باقی صاحبزادیاں انتقال فرما چکی تھیں ۔ یہ واقعہ 10ہجری کا ہے جبکہ حضرت رقیہ 2 ہجری میں ، حضرت زینب 8 ہجری میں اور حضرت ام کلثوم نے 9 ہجری میں انتقال فرمایا ۔

محترم قارئینِ کرام : ہم اہل تشیع اور روافض کی کتابوں سے حوالہ پیش کررہے ہیں جس سے روافض کی غلط بیانی کی نشاندہی ہو جائیگی کہ خود ان کے گھر کی معتبر کتابیں اس بات کی شہادت دیتیں ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی کل چار بیٹیاں تھیں ۔

شیعہ مذہب کی بنیادی کتابیں چار ہیں ۔ جنہیں ”صحاح اربعہ “ کہا جاتا ہے ۔ (1) اصول کافی ۔ (2) من لا یحضر الفقیة۔ (3) تهذيب الاحکام ۔ (4) الاستبصار ۔

ان چار میں سے سب سے زیادہ اہمیت ”اصول کافی“ کو دیجاتی ہے اس کتاب کو لکھنے والے معروف شیعہ عالم“ابوجعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق کلینی” ہیں ۔ کلینی 329ھ میں فوت ہوا ۔ محمد بن یعقوب کلینی نے اس کتاب کی " کتاب الحجہ باب مولد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم " میں ذکر کیا ہے کہ : وتزوج الخديجة وهو ابن بضع وعشرین سنة فولدہ منهاقبل مبعثه القاسم ورقیة وزینب وام کلثوم وولدلہ بعد المبعث الطیب والطاهر وفاطمةعليها السلام ۔ (اصول کافی ص439 طبع بازار سلطانی تہران۔ایران،چشتی)
ترجمہ : یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خدیجہ کے ساتھ نکاح کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عمر بیس سال سے زیادہ تھی پھر خدیجہ سے جناب کی اولاد بعثت سے پہلے جو پیدا ہوئی وہ يہ ہے قاسم، رقیہ ، زینب اور ام کلثوم اور بعثت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اولاد طیب ، طاہر اور فاطمہ پیدا ہوئیں ۔

محترم قارئینِ کرام : اصول کا فی جو اصول اربعہ کی نمبر1 کتاب ہے اس نے مسئلہ بالکل واضح کر دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چار صاحبزادیاں ہیں اور چاروں صاحبزادیاں حضرت خدیجہ الکبری سے متولد ہیں اور پھر اصول کافی کے تمام تر شارحین نے اس کی تشریح اور توضیح عمدہ طریقے پر کر دی ہے مثلاً مرآة العقول شرح اصول جو باقر مجلسی نے لکھی ہے اور ” الصافی شرح کافی “ ملا خلیل قزوینی نے لکھی ہے انہوں نے اس روایت کو بالکل درست کہا ہے ۔ آج چودہویں صدی کے شیعہ علماءاپنی عوام کو ”بدھو بنانے کے غرض سے يہ کہہ کرجان چھڑا لیتےہیں کہ يہ روایت ضعیف ہے مگر آج تک شیعہ برادری ضعيف روایت کی معقول وجہ پیش نہیں کر سکی اور نہ قیامت تک کر سکتی ہے ۔

اب شیعہ مذہب کی دوسری کتاب كا حوالہ ملاحظہ ہو ۔ مشہور شیعہ عالم ابو العباس عبداﷲ بن جعفری الحمیری اپنی کتاب " قرب الاسناد" لکھتے ہیں قال: وحدثني مسعدة بن صدقة قال: حدثني جعفر بن محمد، عن أبيه قال ولد لرسول الله صلى الله عليه وآله من خديجة: القاسم، والطاهر، وأم كلثوم، ورقية، وفاطمة، وزينب. فتزوج علي عليه السلام فاطمة عليها السلام، وتزوج أبو العاص بن ربيعة – وهو من بني أمية – زينب، وتزوج عثمان بن عفان أم كلثوم ولم يدخل بها حتى هلكت، وزوجه رسول الله صلى الله عليه وآله مكانها رقية. ثم ولد لرسول الله صلى الله عليه وآله – من أم إبراهيم – إبراهيم، وهي مارية القبطية، أهداها إليه صاحب الإسكندرية مع البغلة الشهباء وأشياء معها ۔ (کتاب قرب الاسناد الحميري القمي الصفحة ٩،چشتی)
ترجمہ : رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے جن کی پیدائش وہ قاسم، طاہر، ام کلثوم، رقیہ، فاطمہ اور زینب ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی ، ابو العاص ابن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ نے جو بنو میہ میں سے تھا حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کی، عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے شادی کی مگر وہ رخصتی سے پہلے انتقال کر گئیں تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے رقیہ رضی اللہ عنہا سے ان کی شادی کی ۔

اس روایت نے مسئلہ ہذا کو مزید واضح کر دیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حقیقی بیٹیاں چار ہی تھیں اور چاروں خدیجة الکبری کے بطن سے پیدا ہوئیں اور يہ اس کتاب کا حوالہ ہے جس کے مصنف کا دعوی ہے کہ میں جواب طلب مسئلہ ايک چٹھی پر لکھ کر درخت کی کھوہ میں رکھ دیتا تھا دو دن کے بعد جب جا کر ديکھتا تو اس پر امام غائب (شیعوں کے امام مہدی) کی مہر لگی ہوتی تھی چنانچہ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کتاب کا اصل نام ”قرب الاسناد الی صاحب الامر“ ہے ۔ (تحفہ اثناعشریہ ص245)

ليجئے اب تو اس مسئلہ پر امام مہدی (جو شیعہ عقائد کے مطابق” روپوش“ ہیں اور قرب قیامت میں ظاہر ہونگے) اس کی مہر لگ گئی ہے نیز اسی کتاب کی اس روایت کو شیعہ مجتہدین نے اپنی اپنی تصا نیف میں بطور تائید نقل کیا ہے مثلاً باقر مجلسی نے حیات القلوب جلد نمبر2 ص718 میں اور عباس القمی نے ”منتھی الآمال جلد نمبر1 ص108 میں اور عبداﷲ مامقانی نے ” تنقیح المقال“ کے آخر میں تائیداً ذکر کیا ہے ۔ اب شیعہ حضرات خود فیصلہ صادر فرمائیں کہ ان کے سابق اکابر حضرات حق پر تھے یا يہ آج کل کے مجلس خوان ذاکر ؟

شیعہ مذہب کی نہایت قابل اعتماد عالم شیخ صدوق ابن بابويہ القمی نے اپنی مايہ ناز کتاب ”کتاب الخصال“ کےا ندر متعدد بار اس مسئلہ کو اٹھایا ہے چنانچہ ايک مقام پر قول نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : رسول خدا کی سات اولاد تھیں

شیعہ مذہب کا نہایت قابل اعتماد عالم شیخ صدوق ابن بابويہ القمی لکھتا ہے :

حدثنا أبي ، ومحمد بن الحسن رضي الله عنهما قالا: حدثنا سعد بن – عبد الله، عن أحمد بن أبي عبد الله البرقي، عن أبيه، عن ابن أبي عمير، عن علي بن – أبي حمزة، عن أبي بصير، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: ولد لرسول الله صلى الله عليه وآله من خديجة القاسم والطاهر وهو عبد الله، وأم كلثوم، ورقية، وزينب، وفاطمة. وتزوج علي ابن أبي طالب عليه السلام فاطمة عليها السلام، وتزوج أبو العاص بن الربيع وهو رجل من بني أمية زينب، وتزوج عثمان بن عفان أم كلثوم فماتت ولم يدخل بها، فلما ساروا إلى بدر زوجه رسول الله صلى الله عليه وآله رقية. وولد لرسول الله صلى الله عليه وآله إبراهيم من مارية القبطية وهي أم إبراهيم أم ولد ۔ (کتاب الخصال الشيخ الصدوق عربی جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 404،چشتی)(مترجم اردو کا صفحہ نمبر 223)

ترجمہ : امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چھ اولاد تھیں قاسم ، طاہر کہ ان کا نام عبدالله تھا ، ام کلثوم ، رقیہ ، زینب اور فاطمہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی ، ابو العاص ابن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ نے جو بنو میہ میں سے تھا حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کی ، عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے شادی کی مگر وہ رخصتی سے پہلے انتقال کر گئیں لہٰذا جب مسلمانوں نے بدر کی جانب رخ کیا تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے رقیہ رضی اللہ عنہا سے اس کی شادی کی ۔

یہی شیخ صدوق ابن بابويہ القمی لکھتا ہے : ان خدیجة رحمها ﷲ و لدت منی طاهر وهو عبد ﷲ هو المطهر و ولدت منی القاسم وفاطمة ورقیة وام کلثوم وزینب ۔
ترجمہ : (رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا) ﷲ تعالی خدیجہ پر رحم فرمائے کہ اس کے بطن سے میری اولاد ہوئی طاہر جس کو عبد ﷲ کہتے ہیں اور وہی مطہر ہے اور خدیجہ سے ميرے ہاں قاسم ، فاطمہ، رقیہ، ام کلثوم او زینب پیدا ہوئيں ۔ (کتاب الخصال للصدوق عربی جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 405،چشتی)،(کتاب الخصال للصدوق مترجم اردو صفحہ نمبر 223)

گیارہویں صدی ہجری کے شیعوں کے جلیل القدر محدث سید نعمت ﷲ الجزائری اپنی معر ف کتاب ” انوار النعمانیة“ میں ذکر کرتے ہیں کہ : انما ولدت له ابنان واربع بنات زینب ورقیة وام کلثوم وفاطمة ۔
ترجمہ : حضرت خدیجہ الکبری رضی ﷲ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ہاں دو صاحبزداے اور چار صاحبزدایاں پیدا ہوئیں ايک زینب دوسری رقیہ تیسری ام کلثوم اور چوتھے نمبر پر فاطمہ رضی اﷲ تعالی عنھن ۔

يہ نعمت اﷲ الجزائری صاحب وہ ہیں جنہوں نے ”متعے“ کی فضلیت پر بھی بہت کچھ لکھا ہے اس لئے کم ازکم شیعوں کو ” ان صاحب“ کی بات تو ضرور مان لینی چاہيے کیوں کہ انہوں نے ملت شیعہ پر احسان عظیم کیا ہے کہ" متعہ جیسی لذیذ" عبادت پر قلم چلایا ہے ۔

چودہویں صدی کا شیعوں کا مجتہد و محققِ اعظم شیخ عباس قمی لکھتا ہے : ورد في (قرب الاسناد) عن الامام الصادق (علیه السلام) انه ولد لرسول الله صلى الله عليه وآله من خديجة: القاسم، والطاهر، وأم كلثوم ، ورقية ، وفاطمة ، وزينب . فتزوج علي عليه السلام فاطمة عليها السلام ، وتزوج أبو العاص بن ربيعة ، وهو من بني أمية ۔ زينب ، وتزوج عثمان بن عفان أم كلثوم ولم يدخل بها حتى هلكت ، وزوجه رسول الله صلى الله عليه وآله مكانها رقية ۔ (منتهى الامال في تواريخ النبي والال عليهم السلام الشيخ ، عباس القمي جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 151،چشتی)
ترجمہ : حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے جن کی پیدائش وہ قاسم ، طاہر ، ام کلثوم ، رقیہ ، فاطمہ اور زینب ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی ، ابو العاص ابن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ نے جو بنو میہ میں سے تھا حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کی، عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے شادی کی مگر وہ رخصتی سے پہلے انتقال کر گئیں تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے رقیہ رضی اللہ عنہا سے ان کی شادی کی ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہیں اور آج تک علی التواتر شیعہ مذہب کی ”امہات الکتب“ میں ان چاروں کے وجود کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ شیعہ مذہب کے ايک اور متبحر عالم اور مجتہد ملا باقر مجلسی اصفہانی اپنی کتاب حیات القلوب میں لکھتے ہیں : پس اول فرزند کہ از برائے او بہم رسید عبد ﷲ بود کہ اور بعبد ﷲ وطیب طاہر ملقب ساختند و بغد از قاسم متولد شدو بعضے گفتہ کہ قاسم ازعبد ﷲ بزرگ توبود چہار دختراز وبرائے حضرت آورد زینب و زقیہ ان کلثوم وفاطمہ ۔ (حیات القلوب ج2ص728طبع لکھنو،چشتی)
ترجمہ : یعنی حضرت خدیجہ رضی ﷲ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ہاں پہلے فرزند عبد ﷲ پیدا ہوئے جس کو طیب اور طاہر کے ساتھ بھی ملقب کیا جاتا ہے اور اس کے بعد قاسم متولد ہوئے اوربعض علماء کہتے ہیں قاسم عبد ﷲ سے بڑے تھے اور چار صاحبزادیاں پیدا ہوئیں زینب رقیہ ام کلثوم اور فاطمہ رضی اﷲتعالی عنہن ۔

واضح ہو گیا کہ ملا باقر مجلسی نے بھی اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے صاف اقرار کیا کہ صاحبزادیاں چار ہی تھیں اور يہ باقرمجلسی وہ ہیں جن کے متعلق خود خمینی نے لکھا کہ ۔ کتاب ہائی فارسی راکہ مرحوم مجلسی برائی مردم پارسی زبان نوشتہ نجوائید ۔ (کشف الاسرار)
ترجمہ : وہ فارسی کتب جو مرحوم باقر مجلسی نے اہل فارس کےلئے لکھی ہیں انہیں پڑھو ۔

شیعہ مذہب کے قدیم مورخ عتمد مؤرخ احمد بن یعقوب بن جعفر جو تیسری صدی ہجری میں گذرا ہے وہ ”تاریخ یعقوبی“ میں لکھتا ہے : ولدت له قبل ان يبعث : القاسم , ورقية , وزينب ,وام كلثوم , وبعد ما بعث : عبد اللّه وهو الطيب والطاهر , لانه ولد في الاسلام وفاطمة ۔
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے بعثت سے پہلے قاسم رقیہ زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئیں اور بعثت کے بعد عبد اللہ جو طیب اور طاہر بھی کہلاتے تھے اور فاطمہ پیدا ہوئیں ۔ (تأريخ اليعقوبي عربی أحمد بن يعقوب بن وهب جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 340،چشتی)(تأريخ اليعقوبي مترجم اردو أحمد بن يعقوب بن وهب جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 37 مطبوعہ نفیس اکیڈمی کراچی)

ديگر کتابوں کی طرح اس تاریخ یعقوبی کو بھی شیعہ مذہب میں کافی اہمیت حاصل ہے اب ان تمام متعبر کتابوں کے حوالہ جات کے بعد آپ اس نتیجہ پر ضرور پہنچیں گے کہ تمام صاحبزادیوں کا حضرت خدیجہ الکبری رضی ﷲ عنہا سے متولدہونا شیعہ و سنی سب کے نزدیک مسلمہ امر ہے مگر آج کے شیعہ اپنی سابقہ کتب کی تکذیب پر ڈٹے ہوئے ہیں اگر شیعہ حضرات سنجیدگی کے ساتھ غور کریں تو کم ازکم اس اس مسئلہ پر تو اختلاف ختم ہو سکتا ہے مگر ان کی ہٹ دھرمی ديکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شیعہ قوم کبھی بھی اس کےلئے تیار نہیں ہوگی ۔ وﷲ یھدی من یشاءالی صراط مستقیم ۔

شیعہ مذہب کے نزدیک حضرت علی المرتضی رضی ﷲ عنہ کے کلام کا مشہور ومستند مجموعہ کتاب ”نہج البلاغہ“ ہے حضرات علماء شیعہ کے نزدیک يہ کتاب انتہائی معتبر ہے اس کتاب میں حضرت علی المرتضی رضی ﷲ عنہ حضرت عثمان بن عفان رضی ﷲ عنہ کو خطاب کر کے فرماتے ہیں کہ اے عثمان رضی ﷲ عنہ آپ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے طرف حضرات ابو بکر و عمر رضی ﷲ عنہما سے قرابت اور رشتہ داری میں زیادہ قریب ہیں اور آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ دامادی کا شرف پایا ہے جس ابو بکرو عمر رضی ﷲ عنہما نہیں پاسکے ۔ ’’نہج البلاغہ“ کی عبارت ملاحظہ ہو ۔" وانت اقرب الی رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم شیجته رحم منهما وقدنلت من صهره مالم ینا لا الخ " ۔ (نہج البلاغہ ص303جلد1مطبوعہ تہران،چشتی)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت علی کرم ﷲ وجہہ بھی حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا حقیقی داماد قرار ديتے تھے وہ دامادی مشہورو معروف ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی دو صاحبزادیاں يکے بعد دیگرے آپ رضی ﷲ عنہ کے نکاح میں آئیں ۔ ان واضح تائیدات کے باوجود بھی اگر شیعہ تین صاحبزادیو ں کا انکا رکریں تو يہ صرف اور صرف دروغ گوئی اورحضرت علی رضی ﷲ عنہ کے فرمان کی کھلی تکذیب ہے ۔

مشہور شیعہ عالم علی بن عیسیٰ ”ازبلی“ نے ساتوں ہجری میں ايک کتاب لکھی جس کو شیعہ مذيب میں بڑی مقبولیت ملی اس کا نام ”کشف الغمہ فی معرفتہ الائمہ“ اس میں لکھا ہے کہ : وکانت اول امراة تزوجها رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم و اولاد كلهم منها الاابراهيم فانه من مارية القبطية ۔ (کشف الغمہ)
ترجمہ : یعنی خدیجہ الکبری رضی ﷲ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سب سے پہلی زوجہ تھیں جن کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے شادی کی اور آنجناب کی تمام اولاد (صاحبزادے ، صاحبزادیاں) خدیجہ الکبری رضی ﷲ عنہا ہی سے متولد ہوئیں مگر ابراہیم ماریہ قبطیہ رضی ﷲ عنہا سے متولد ہوئے ۔

علماء شیعہ کے معروف عالم شیخ عبد ﷲ مامقانی اپنی مشہور تصنیف ”تنقیح المقال فی احوال الرجال“ رقمطراز ہیں : وولدت له اربع بنات كلهن ادرکن الاسلام وهاجرين وهن زینب وفاطمة ورقية وام کلثوم ۔ (تنقیح المقال ج3ص73طبع لنبان،چشتی)
ترجمہ:یعنی خدیجہ رضی ﷲ عنہا سے آنجناب کی چار صاحبزادیاں پیداہوئیں تمام نے دور اسلام پایا اور مدینہ کی طرف ہجرت بھی کی اور وہ زینب ، فاطمہ ، رقیہ اور ام کلثوم ہیں ۔

شیعوں کا شیخ الطائفہ ابی جعفر محمد بن حسن طوسی لکھتا ہے : زوج فاطمة عليها السلام عليا وهو أمير المؤمنين صلوات الله وسلامه عليه ، وأمها خديجة أم المؤمنين ، وزوج بنتيه رقية وأم كلثوم عثمان ، لما ماتت الثانية ، قال : لو كانت ثالثة لزوجناه إياها ، وتزوج الزبير أسماء بنت أبي بكر ، وهي أخت عايشة ، وتزوج طلحة أختها الأخرى ۔ (کتاب المبسوط الشيخ الطوسي جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 159،چشتی)
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت امیر المومنین علی رضی اللہ تعالی عنہ سے کی اور ان کی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں اور اپنی دونوں بیٹیوں حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے کی جب پہلی کا انتقال ہو گیا اور کہا کے اگر میری تیسری بیٹی بھی ہوتی تو تو میں اس کے نکاح میں دیتا حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور یہ بہن تھیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اور حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کی دوسری بہن سے شادی کی ۔

شیعہ مذھب کا شیخ الطائفہ ابی جعفر محمد بن حسن طوسی یہ دعاء امام موسی کاظم علیہ السّلام سے منسوب کر کے لکھتا ہے : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى الْقَاسِمِ وَ الطَّاهِرِ ابْنَيْ نَبِيِّكَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى رُقَيَّةَ بِنْتِ نَبِيِّكَ وَ الْعَنْ مَنْ آذَى نَبِيَّكَ فِيهَا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ نَبِيِّكَ وَ الْعَنْ مَنْ آذَى نَبِيَّكَ فِيهَا ۔
ترجمہ : اے الله جلّ جلالہ صلوات بھیج اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بیٹے قاسم اور طاہر پر ، اے الله جلّ جلالہ صلوات بھیج رقیہ پر جو تیرے نبی کی بیٹی ہے اور لعنت کر اس پر جس نے اس کے ذریعے تیرے نبی کو اذیت دی ، اے الله جلّ جلالہ صلوات بھیج ام کلثوم پر جو تیرے نبی کی بیٹی ہے اور لعنت کر اس پر جس نے اس کے ذریعے تیرے نبی کو اذیت دی ۔ (تهذيب الأحكام جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 120،چشتی)

شیخ طوسی اس کو اپنی کتاب تهذيب الأحكام میں لائے ہیں صحیح سند کے ساتھ ۔ تهذيب الأحكام ہماری کتب اربعہ میں سے ایک ہے ۔ اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی دو بیٹیوں کا ذکر ہو رہا ہے ، رقیہ اور ام کلثوم ، سلام اللہ علیہا ۔
اس کی سند : محمد بن يعقوب عن علي بن إبراهيم عن أبيه عن ابن محبوب عن علي بن رئاب عن عبد صالح عليه السلام قال، ادع بهذا الدعاء في شهر رمضان مستقبل دخول السنة ۔
ترجمہ : محمد بن یعقوب ، جنہوں نے روایت کی علی بن ابراہیم سے اور انہوں نے اپنے والد سے ، ان کے والد نے محبوب سے اور انہوں نے علی بن رئاب سے ، جنہوں نے عبد صالح (امام موسى الكاظم) عليه السلام سے روایت کی جنہوں نے فرمایا کہ اس دعاء سے الله جلّ جلالہ کو پکارو آئندہ جب بھی نیا سال آئے ۔۔۔ پھر دعاء تعلیم فرمائی جس کا کچھ حصہ اوپر نقل کیا ہے ۔ سند کے تمام راوی معتبر ہیں ، علامہ مجلسی نے اس کی سند کو حسن کہا ہے ۔
أحمد بن محمد عن ابن أبي عمير عن حماد عن الحلبي عن أبي عبد الله عليه السلام ان أباه حدثه ان امامة بنت أبي العاص بن الربيع وأمها زينب بنت رسول الله صلى الله عليه وآله فتزوجها بعد علي عليه السلام ۔
ترجمہ : احمد بن محمد، جنہوں نے روایت کی ابن ابی عامر سے اور انہوں نے حماد سے جنہوں نے حلبی سے اور انہوں نے امام الصادق ععلیہ السّلام سے جنہوں نے فرمایا کہ ان کے والد (امام الباقر علیہ السّلام) نے ان سے بیان کیا تھا امامہ بنت ابی عاص بن ربیع جن کی والدہ زینب بنت رسول الله جلّ جلالہ تھیں نے علی علیہ السّلام کے بعد شادی کی ۔۔۔ الخ ۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سیّدہ زینب سلام اللہ علیہا بھی رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بیٹی تھیں ۔ (تهذيب الأحكام جلد نمبر 8 صفحہ نمبر 258،چشتی)

شیعہ مذھب کا شیخ الطائفہ ابی جعفر محمد بن حسن طوسی یہ روایت بھی لکھتا ہے : وَ إِنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ النَّبِيِّ ص تُوُفِّيَتْ وَ إِنَّ فَاطِمَةَ ع خَرَجَتْ فِي نِسَائِهَا فَصَلَّتْ عَلَى أُخْتِهَا ۔
ترجمہ : زینب بنت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی وفات ہوئی تو فاطمہ علیہا السّلام اپنی عورتوں کے ساتھ نکلیں اور اپنی بہن پر نماز پڑھی ۔ اس کی بھی سند معتبر ہے۔ (تهذيب الأحكام جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 333)

شیعوں کا محققِ و مجتہدِ اعظم ملاّں باقر مجلسی لکھتا ہے : معتبر سند کے ساتھ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اولاد جو ہوئی اُن کے نام یہ ہیں ، طاہر و قاسم ، فاطمہ ، ام کلثوم ، رقیہ اور زینب رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں ۔ (حیات القلوب مترجم اردو جلد دوم صفحہ نمبر 869،چشتی) ، (حیات القلوب فارسی جلد دوم صفحہ 559 ملا باقر مجلسی)

شیعوں کا علاّمہ ملاّں باقر مجلسی لکھتا ہے : ولدت خدیجة له صلی اللہ علیه وسلم زینب و رقیة و ام کلثوم و فاطمة القاسم وبه کان یکنی والاطاھر والطیب ۔ (مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول العلامة المجلسي جلد نمبر5 صفحہ نمبر 181،چشتی)
ترجمہ : حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے بچوں میں زینب ، رقیہ ، ام کلثوم ، فاطمہ ، طاہر، اور قاسم (رضی اللہ عنہم) پیدا ہوئے ۔

مشہور شیعہ عالم و محقق محمد کاظم قزوینی لکھتا ہے : بنات اربع : زینب و ام کلثوم و رقیة و فاطمة الزھراء ۔ بنات اربع : زینب و ام کلثوم و رقیة و فاطمة الزھراء
وھناک اختلاف بین المورخین والمحدثین حول بنتین الاولین فقیل انھما لیستا من بنات النبي والصحیح انھما من بناته وصلبه وسیاتي الکلام حول ذالک في المستقبل بالمناسبة باذن اللہ ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چار بیٹیاں ہیں ، زینب ، ام کلثوم ، رقیہ و فاطمۃ الزہرا (رضی اللہ عنہن) ۔ (کتاب فاطمة الزهراء عليها السلام من المهد الى اللحد كاظم القزويني الصفحة ٣١،چشتی)

محترم قارئینِ کرام : یہ چند حوالہ جات ہم نے شیعہ کتب سے پیش کیئے ہیں جو دور حاضر کے روافض کی غلط بیانی کی پول کو کھولتے ہیں اورہدایت کے متلاشی کیلئے دلیلِ کافی ہیں ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)











Monday, 27 July 2020

اے نبی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی اَزواجِ مُطَہَّرات و صاحبزادیوں سے فرمادیں

اے نبی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی اَزواجِ مُطَہَّرات و صاحبزادیوں سے فرمادیں

ارشادِ باری تعالیٰ ہے : یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ ۔
ترجمہ : اے نبی (صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں (رضی اللہ عنہن) فرمادو ۔ (سورہ احزاب آیت نمبر 59)

محترم قارئینِ کرام : کسی بھی مترجم کا ترجمہ اور دیکھیں وہاں‌ یہی ملے گا “اے نبی اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں‌ سے فرمادیجیے” کسی بھی جگہ یہ نہیں ملے گا اے نبی اپنی بیویوں سے اور بیٹی سے فرمادیجیے ۔

اب خدا کا خوف کریں‌ وہ لوگ جو کہتے ہیں‌ کہ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ایک ہی بیٹی تھی ۔ کیا یہاں‌ جمع کا صیغہ بے معنیٰ استعمال ہوا ہے ؟

اس پر شیعہ حضرات اعتراضات شروع کر دیتے ہیں‌ اور کم علم مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں اور اس آیت پر کہتے ہیں :‌ یہاں جمع کا صیغہ ضرور ہے پر مراد صرف ایک ہی بیٹی ہے ۔

جواب‌ : قرآن کی تفسیر بیان کرنے کہ لیے یا تو قرآن ہی کی آیت پیش کرنی ہوگی یا جو تفسیر نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کی ہو یا پھر چلیں اپنی معتبر کتابوں سے کسی امام کا قول دکھا دیں ۔

جب نہ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ تفسیر کی نہ کسی امام کا قول ہے تو بتاؤ کے اگر ذرا سا ایمان بھی دل میں ہے تو کیا قرآن کے اس واضع حکم کو محض کسی ذاکر کے کہنے پر جھٹلا دوگے ؟

نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ایک بیٹی تھی یہ عقیدہ کہاں سے لیا آپ نے؟

شیعہ حضرات کی کسی معتبر کتاب میں ایسا نہیں تو پھر کیا ذاکروں‌ کے کہنے پر چل پڑے ؟

قرآن ایسے لوگوں سے فرماتا ہے کہ : أَمْ لَكُمْ سُلْطَانٌ مُبِينٌ ۔ (سورہ الصافات آیت نمبر 156) ۔ ترجمہ : یا تمہارے پاس اس کی کوئی صاف دلیل ہے ۔

سورہ الطور میں ہے : أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ ۖ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ (سورہ الطور آیت نمبر 38)
ترجمہ : یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے ، جس پر چڑہ کر یہ سنتے ہیں” (اگر ایسا ہے ( تو ان کا سننے والا کوئی روشن دلیل پیش کرے ۔

سورہ البقرہ میں ‌فرمایا : قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ۔ (سورہ البقرہ آیت نمبر 111)
ترجمہ : ان سے کہو اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل تو پیش کرو ۔

اگر نہیں پتا تو کہ ایسی کوئی تفسیر ہے تو کم از کم اپنی طرف سے تفسیر نہ کریں ۔

اس شخص سے بڑھ کر شقی اور بدبخت کون ہو سکتا ہے جو نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیاری بیٹیوں کو کسی کالے کافر کی اولاد قرار دے ، جو جہالت و ضلالت کا سوداگر بن کر یہ نعرہ بلند کرے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صرف ایک ہی بیٹی تھی ، جو اپنے غلیظ دامن میں یہ عقیدہ بھی رکھتا ہو کہ اہل بیت کی تحقیر و تصغیر فرض عین ہے ، جو بصیرت قلبی سے محروم ہو کر قرآنی و حدیثی اور اجماعی دلائل کو پس پشت ڈالتے ہوئے یہ کہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سیدہ زینب، سیدہ رقیہ اور سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہن کے بابا نہیں محض مربی تھے ؟(چشتی)

قیامت کے دن کا وہ منظر کتنا اندوہناک ہو گا جب ان ناانصافوں کے خلاف نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیاری بیٹیاں اللہ احکم الحاکمین کی عدالت میں مقدمہ دائر کریں گی کہ انہوں نے ہماری نسبت ہمارے پاک بابا سے توڑنے اور ایک ناپاک کافر سے جوڑنے کی کوشش کی تھی اور اللہ تعالیٰ ان ظالموں اور باغیوں کو گرفتار کر کے عبرت ناک عذاب سے دوچار کرے گا۔ وہ دن بہت جلد آنے والا ہے جس دن ان کے ناپاک ارادے خاک میں مل جائیں گے ۔

شیعہ مذہب کی معتبر کتابوں سے نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی چار صاحبزادوں کا ثبوت

شیعہ حضرات نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اولاد شریف کے حق میں افراط و تفریط کرتے ہوئے نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صرف ايک صاحبزادی حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اﷲ عنہا کو حقیقی دختر شمار کرتے ہیں اور باقی تین صاحبزدایوں کو نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اولاد سے خارج گردانتے ہیں لطف کی بات يہ ہے کہ شیعہ مذہب کی ابتدائی بنیادی کتابوں میں واضح طور پرلکھا ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی چار بیٹیاں ہیں لیکن ہم نہیں سمجھ سکے کہ شیعہ حضرات اپنے اکابر ومجتہدین سے ناراض کیوں ہیں ؟

شیعہ ملاّں نے امام جعفر باقر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا : ولد لرسول الله صلى الله عليه وسلم من خديجة : القاسم، والطاهر، وام كلثوم، ورقية، وفاطمة، وزينب ۔
ترجمہ : سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد یہ تھی : قاسم، طاہر، ام کلثوم، رقیہ، فاطمہ اور زینب رضی اللہ عنھن ۔ (قرب الإسناد للحميري : 9/3، بحار الأنوار للمجلسي : 151/22،چشتی) ، شیعہ کے اصولوں کے مطابق یہ قول بالکل صحیح اور ثابت ہے ۔

ایک اور شیعہ ملاّں امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے : ولد لرسول الله صلى الله عليه وسلم من خديجة : القاسم، والطاهر، وهو عبدالله، وام كلثوم، ورقية، وزينب، وفاطمة ۔
ترجمہ : رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن اطہر سے اولاد یہ تھی۔ قاسم، عبداللہ طاہر، ام کلثوم، رقیہ، زینب اور فاطمہ رضی اللہ عنھن ۔ (الخصال لابن بابويه القمي، ص : 404)

شیعہ مذھب کے ملاّں محمر باقر مجلس رافضی (م : 1111ھ) نے رمضان المبارک میں پڑھی جانے والی تسبیح یوں ذکر کی ہے : اللهم صل على أم كلثوم ابنة نبيك، والعن من أذى نبيك فيها، اللهم صل على رقية ابنة نبيك، والعن من أذى نبيك فيها ۔
ترجمہ : اے اللہ ! تو اپنے نبی کی بیٹی ام کلثوم پر رحمتیں نازل فرما اور اس شخص پر لعنت فرما جس نے تیرے نبی کو ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے حوالے سے تکلیف دی ۔ اے اللہ ! تو اپنے نبی کی بیٹی رقیہ پر رحمتیں نازل فرما اور اس شحص پر لعنت فرما جس نے تیرے نبی کو رقیہ کے حوالے سے تکلیف پہنچائی ۔ (بحار الأنوار : 110/95،چشتی)

ابن ابی الحدید رافضی شیعہ (م : 656ھ) نے لکھا ہے : ثم ولدت خديجة من رسول الله صلى الله عليه وسلم : القاسم، والطاهر، وزينب، ورقية، وأم كلثوم، وفاطمة ۔
ترجمہ : سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دو بیٹے، قاسم و طاہر رضی اللہ عنہما اور چار بیٹیاں، زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہن تھیں ۔ (شرح نهج البلاغة : 132/5)

قرآن واحادیث کی واضح سے نصوص او ر کتبِ سیرت وتاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے متعدد شادیاں کیں اور اللہ تعالی نے نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ام المومنین حضرت خدیجہ اور سید ہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالی عنہما سے اولاد جیسی نعمت سےنوازا ۔ مؤرخین اور محدثین کا اتفاق ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی چار صاحبزادیاں ہیں ، البتہ صاحبزادوں کی تعداد میں اختلاف ہے ۔ اختلاف کا سبب یہ ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بیٹے بچپن میں ہی وصال فرما گئے۔ اکثر مؤرخین نے بیٹوں کی تعداد تین بتائی ہیں جن کے نام ہیں حضرت قاسم ، حضرت عبد اللہ اور حضرت ابراہیم رضوان اللہ علیہم اجمعین ‘ جبکہ بعض نے کہا چوتھے صاحبزادے حضرت طیب اور پانچویں حضرت طاہر بتائے ہیں‘ اول الذکر اصحاب کی رائے کے مطابق طیب اور طاہر حضرت عبداللہ ہی کے القاب ہیں ۔ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ساری اولاد ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بطن سے پیدا ہوئی‘ سوائے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے جو ام المؤمنین سیدہ ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے ۔

ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی پہلی شادی ابو ہالہ ہند بن النباش بن زُرارہ التمیمی سے ہوئی جس سے دو بیٹے ہالہ اور ہند پیدا ہوئے۔ اس کے انتقال کے بعد آپ کی دوسری شادی عتیق بن عابد بن عبداللہ المخزومی سے ہوئی جس سے ایک بیٹا ہند بن عتیق پیدا ہوا۔ اس سے طلاق لینے (یا بعض روایات کے مطابق اس کی وفات) کے بعد آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا ۔ (سالم، محمد، الخضر، لسيرة العطرة لأم المؤمنين خديجة: 13، الکویت، مبرة الال و الاصحاب، 2009،چشتی)

نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تمام اولاد سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے ہوئی ۔ بجز حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جو سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پیدا ہوئے۔ فرزندوں میں حضرت قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسمائے گرامی مروی ہیں جب کہ دختران میں سیدہ زینب ، سیدہ رقیہ ، سیدہ ام کلثوم اور سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہن ہیں ۔ (السیرۃالنبویۃلابن ہشام،حدیث تزویج رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم خدیجۃ، اولادہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم من خدیجۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا،ص۷۷،چشتی)(اسدالغابۃ،کتاب النساء،خدیجۃ بنت خولید،ج۷،ص۹۱)

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی چار صاحبزادیاں اور دو صاحبزادے رضوان اللہ علیہم اجمعین پیدا ہوئے ۔ آپ کی صاحبزادیوں کے مختصر احوال درج ذیل ہیں :

حضرت سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنھا

ام المومنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن سے سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنہا سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں ۔ بعثت نبوی سے دس سال پہلے مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔ اعلان نبوت کے وقت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول فرمایا تو سیدہ زینب کی عمر دس سال تھی‘ اپنی والدہ کے ہمراہ مشرف بہ اسلام ہوئیں ۔ (البدایة وانهایة، ج: 3، ص: 113)

حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت ابوالعاص بن ربیع سے ہوا جو مکہ کے صا حب ثروت، شریف اور امانت دار شخص تھے۔ حضرت ابوالعاص سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے سگے بھانجے تھے ۔ اعلانِ نبوت کے بعد مشرکین مکہ نے حضرت ابوالعاص کو اکسایا کہ حضرت محمد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کوطلاق دے دو اور قبیلہ قریش کی جس عورت سے نکاح کرنا چاہو ہم پیش کر سکتے ہیں ۔ حضرت ابوالعاص نے سیدہ زینب کو طلاق دینے سے انکار کر دیا۔ شعب ابی طالب میں محصوری کے ایام میں بھی ابوالعاص نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور دوسرے محصورین کے لیے خوراک کی فراہمی کا بندوبست کرتے رہے‘ اس لیے حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ ابوالعاص نے ہماری دامادی کی بہترین رعایت کی اور اس کا حق ادا کر دیا‘ حالانکہ حضرت ابوالعاص نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا ۔ حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے چھٹے سال اسلام قبول کیا ۔

حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی اولاد میں ایک بیٹا علی بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ اور ایک صاحبزادی امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا تھیں ۔ جبکہ ایک صاحبزادہ صغر سنی میں ہی فوت ہوگیا ۔ فتح مکہ کے دن نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت علی بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا ‘ ان کی شہادت یرموک کے معرکہ میں ہوئی، بعض روایات کے مطابق قریب البلوغ ہو کر طبعی موت سے وصال ہوا ۔ (ابن حجر عسقلانی، الاصابه، ج: 2، ص: 503،چشتی)

مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوران حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ہبار بن اسود کے نیزہ سے زخمی ہوئی تھیں‘ یہی زخم آپ کی وفات کا سبب بنا ۔ اسی وجہ سے بعض اکابرین نے انہیں شہیدہ کے نام سے تعبیر کیا ہے ۔ ان کی تجہیز و تکفین کے بعد رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنا تہبند سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے کفن کے ساتھ رکھنے کے لیے دیا‘ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سیدہ کو خود قبر میں اتارا اور پھر فرمایا : قبر کی تنگی اور خوف ناکی میرے سامنے تھی اور زینب کی کمزوری اور ضعف بھی میرے سامنے تھا‘ اس بات نے مجھے رنجیدہ کیا ۔ پس میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ زینب کے لئے اس حالت کو آسان فرما دیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے منظور فرما لیا اور زینب کے لئے آسانی فرما دی ۔ (الهیثمی، مجمع الزوائد، ج: 3، ص: 47)

حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت سیّدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دوسری صاحبزادی ہیں جو حضرت سیّدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا تین سال چھوٹی ہیں ۔ حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئیں ۔ ان کی پیدائش کے وقت نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عمر مبارک تقریبا تینتیس برس تھی۔ اعلان نبوت کے بعد سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی والدہ اور بڑی بہن کے ہمراہ اسلام قبول کیا ۔

بعثت سے قبل حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ابولہب کے بیٹے عتبہ سے ہوا تھا مگر رخصتی ہونا باقی تھی ۔ اعلانِ نبوت کے بعد پیغمبر اسلام کے راستہ میں رکاوٹ ڈالنے اور پیغام حق کے مقابلہ میں کفر اور شرک کی اشاعت کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ابولہب اور اس کی بیوی کی مذمت فرمائی تو ابولہب نے اپنے بیٹے کو رقیہ بنتِ محمد سے علیحدگی اختیار کرنے پر زور دیا‘ اس پر عتبہ بن ابولہب نے سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی ۔ اس کے بعد مکہ مکرمہ میں ہی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کردیا گیا ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی ہے کہ میں اپنی بیٹی رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کردوں ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ ووآلہ وسلم نے آپ کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیا اور ساتھ ہی رخصتی بھی کردی ۔

نبوت کے پانچویں سال نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حکم سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور ان کے ساتھ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں ۔ راہ خدا میں ہجرت کرنے والوں کا یہ پہلا قافلہ تھا‘ اس موقعہ پر رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’یہ جوڑا کس قدر خوبصورت ہے ۔‘ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ہجرتِ مدینہ کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی زوجہ محترمہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سمیت مدینہ کی طرف دوسری ہجرت فرمائی ۔ حبشہ میں قیام کے دوران اس مبارک جوڑے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی جس کا نام عبداللہ رکھا گیا‘ جس کی وجہ سے حضرت عثمان کی کنیت ابو عبد اللہ مشہور ہوئی۔ حضرت عبداللہ کا وصال 6 سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں ہوا ۔ رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کی نماز جنازہ ادا فرمائی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قبر میں اتارا ۔

ہجرت کے دوسرے سال غزوہ بدر رونما ہوا‘ اسی دوران سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا خسرہ سے بیمار ہوئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہا کو سیدہ رقیہ کی تیمار داری کے لئے مدینہ میں ہی مقیم رہنے کا فرمایا۔ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے غزوہ بدر کے لیے روانہ ہونے کے بعد سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال پرملال ہوا ۔ جب جب زید بن حارثہ غزوہ بدر کی فتح کی بشارت لے کر مدینہ منورہ پہنچے تو اس وقت حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کو دفن کرنے کے بعد دفن کرنے والے اپنے ہاتھوں سے مٹی جھاڑ رہے تھے ۔ (ابن سعد، طبقات، ج: 8، ص: 25،چشتی)

چند ایام کے بعد نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مدینہ پہنچے تو جنت البقیع میں قبر رقیہ پر تشریف لے گئے اور حضرت رقیہ کے لئے حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دعا فرمائی ۔

حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تیسری بیٹی ہیں ۔ یہ سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے چھوٹی ہیں ۔ ان کی ولادت بھی سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئی ۔

اعلان نبوت سے پہلے نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح اپنے چچا ابولہب کے بیٹے عتیبہ کے ساتھ کر دیا تھا‘ رخصتی ہونا باقی تھی کہ ابو لہب کے کہنے پر عتیبہ نے آپ کو طلاق دے دی۔ ہجرتِ مدینہ کے وقت نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اہلِ خانہ میں سے ام المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، سیدہ ام کلثوم اور سیدہ فاطمۃ الزھرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا مکہ مکرمہ میں ہی رہ گئے ۔ بعد ازاں حضرت ابو رافع اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما ان کو لینے آئے اور بحفاظت مدینہ طیّبہ پہنچایا ۔ (ابن کثیر، البدایه و النهایه، 3: 202)

حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے وصال کے بعد نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت سیدہ ام کلثوم کا نکاح حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۔ روایات کے مطابق حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔ یہ چھ سال تک حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں رہیں اور شعبان 9 ہجری کو ان کا وصال ہوا ۔ (ابن سعد، طبقات، 8: 52)

حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں ۔ ان کی ولادت کے وقت نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عمر مبارک اکتالیس سال تھی اور اعلانِ نبوت ہو چکا تھا ۔ آپ کی پرورش اور تربیت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمائی۔ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ہجرتِ مدینہ کے بعد آپ رضی اللہ عنہا نے ام المؤمنن سیدہ سودہ بنتِ زمعہ اور بڑی بہن سیدہ ام کلثوم کے ساتھ حضرت زید بن حارثہ اور حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حفاظت میں ہجرت فرمائی ۔

ماہ رجب 2 ہجری میں حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا ، نکاح کے وقت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر اکیس یا چوبیس برس اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر پندرہ یا اٹھارہ برس تھی ۔ (تفسیر القرطبی، 41: 142،چشتی)

حضرت سید فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاں تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کی پیدائش ہوئی ، جن میں حضرت امامِ حسن، حضرت امام حسین، حضرت زینب کبریٰ، حضرت زینب کبریٰ (ام کلثوم) اور حضرت محسن رضی اللہ تعالیٰ عنہم شامل ہیں ۔ حضرت محسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ صغر سنی میں وصال فرما گئے۔ سیدہ زینب کبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا جبکہ حضرت زینبِ صغریٰ (ام کلثوم) رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح امیر المومین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے 17 ہجری کو ہوا ۔

نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصال کے بعد حضرت سیّدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نہایت مغموم رہتی تھیں ۔ یہی غم آپ کے لیے مرض الموت ثابت ہوا ۔ بیماری کے دوران خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تیمارداری اور خدمات سرانجام دیں ۔ نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصال کے چھ ماہ بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیمار ہوئیں اور چند روزہ بیماری کے بعد تین رمضان 11 ہجری‘ منگل کی شب اٹھائیس یا انتیس برس کی عمر مبارک میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوا ۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ کی امامت کی اور سیدنا علی المرتضیٰ اور حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما سمیت کثیر صحابہ کرام جنازہ میں شریک ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہا کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی ‘ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو قبر میں اتارا ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)








حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور میلادُالنَّبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور میلادُالنَّبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محترم قارٸینِ کرام : حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ ا...