مروجہ قوالی مع مزامیر ، طبلے باجے گانے بجانے والے آلات کا شرعی حکم
محترم قارئینِ کرام : الحمد للہ فقیر چشتی ہے اور محفلِ سماع جو شرعی حدود کے اندر مکمل شرائطِ سماع کے ساتھ ہو اسے جائز سمجھتا ہے ۔ یعنی کہ محفل میں مزامیر ، طبلے باجے گانے بجانے والے آلات نہ ہوں ، افراد با وضو ہوں ، توحید و رسالت اور دین کے بارے میں اشعار ہوں ، خواتین اور مرد آپس میں خلط ملط نہ ہوں یعنی کہ ملے ہوئے نہ ہوں ، توجہ الفاظ اور اشعار پر ہو ۔ اگر خلاف شرع کوئی کام نہ ہو تو جائز ہے ۔ مگر آج کل بزگانِ دین کے مزار ات پر ان کے عرس کا نام لے کر خوب موج مستیاں ہو رہی ہیں ۔ بد معاش ، بد کردار لوگ اپنی رنگیلیوں ، باجوں تماشوں ، عورتوں کی چھیڑ چھاڑ کے مزے اٹھانے کےلیے اللہ والوں کے مزاروں کو استعمال کر رہے ہیں ۔ کاش !یہ لوگ موج مستیاں ، ڈھول باجے ، مزامیر کے ساتھ قوالیاں مزارات سے الگ کرتے اور عرس کا نام نہ لیتے تو کم از کم اسلام اور اسلام کے بزرگانِ دین بدنام نہ ہوتے ۔ آج کفار مشرکین یہ کہنے لگے ہیں کہ اسلام بھی دوسرے مذاہب کی طرح ناچ گانوں ، تماشوں ، باجوں اور بے پردہ عورتوں کو اسٹیجوں پر لا کر بے حیائی کا مظاہرہ کرنے والا مذہب ہے ۔ افسوس انہوں نے غلط سمجھا ۔ اسلام ہرگز ہرگز ایسا دین نہیں ہے اسلام کا حکم تو یہ ہے کہ ڈھول ، باجے ، سارنگی ، مزامیر وغیرہ آلاتِ موسیقی ، تالیاں ، رقص ، سب حرام ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں : قوالی مع مزامیر چشتیہ سلسلے میں رائج اور جائز ہے ۔ یہ بزرگانِ چشتیہ علیہم الرّحمہ پر ان کا صریح بہتان ہے بلکہ ان لوگوں نے بھی مزامیر کے ساتھ قوالی سننے کو حرام فرمایا ہے ۔ حضرت خواجہ محبوب الٰہی نظام الدین اولیاء دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے خاص خلیفہ حضرتِ فخر الدین زرّادی رحمۃ اللہ علیہ سے مسئلہ سماع کے متعلق ایک رسالہ لکھوایا جس کا نام ہے : کشف القناع عن اصول السماع ۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ ہمار بزرگوں کا سماع مزامیر کے بہتان سے بری ہیں ۔ (ان کا سماع تو یہ ہے کہ) صرف قوال کی آواز ان اشعار کے ساتھ ہو جو کمال صنعت الہٰی کی خبر دیتے ہیں قطب الاقتاب حضرت بابا فرید الدین شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور حضرتِ خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ حضرتِ محمد بن مبارک علوی کرمانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب سیر الاولیاء میں تحریر فرماتے ہیں حضرت خواجہ محبوب الٰہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نےچند شرائط کے ساتھ سماع جائز فرمایا : (1) سنانے والا مرد کامل ہو چھوٹا لڑکا یا عورت نہ ہو ۔ (2) سننے والا یاد خدا سے غافل نہ ہو ۔ (3) جو کلام پڑھا جائے ، فحش ، بے حیا اور مزاحیہ نہ ہو ۔ (4) آلہ سماع یعنی سارنگی ، مزامیر و رباب سے پاک ہو ، ان باتوں کے ہوتے ہوئے کوئی کہہ سکتا ہے کہ خاندانِ چشتیہ میں مزامیر کے ساتھ قوالی جائز ہے ۔ ہاں یہ بات وہی لوگ کہیں گے جو نہ چشتی ہیں ، نہ قادری انہیں تو مزے داریا ں اور لطف اندوزیاں چاہئیں ۔ اور اب جب کہ سارے کے سارے قوال بے نمازی اور فاسق و فاجر ہوتے ہیں ، یہاں تک کہ بعض شرابی تک سننے میں آئے ہیں نیز عورتیں اور امرد لڑکے بھی چل پڑے ہیں ایسے ماحول میں ان قوالیوں کو صرف وہی جائز کہے گا جس کو اسلام و قرآن ، دین و ایمان سے کوئی محبت نہیں ۔ بے حیائی اس کے رگ و پے میں سرایت کر گئ ہے اور قرآن و حدیث کے فرامین کی اسے کوئی پرواہ نہیں ہے کیا اسی کا نام اسلام پسندی ہےکہ مسلمان عورتوں کو لاکھوں کے مجمع میں لا کر ان سے ڈانس کروائے جائیں ، پھر ان تماشوں کا نام عرس رکھا جائے یہ صرف اور صرف کافروں کے سامنے مسلمانوں اور مذہب کو ذلیل و بدنام کرنے کی سازش ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قوالی اہل کےلیے جائز ہے اور نا اہل کےلیے نا جائز ہے ۔ ایسا کہنے والوں سے فقیر چشتی پوچھتا ہے کہ آج کل قوالیوں کے سینکڑوں ، ہزاروں کے مجمع میں کیا سب کے سب اہل اللہ اور اصحابِ استغراق ہیں ، جنہیں دنیا اور متاعِ دنیا کا قطعا ہوش نہیں ؟ جنہیں یادِ الہٰی اور ذکر الہٰی سے ایک لمحے کی بھی فرصت نہیں ؟ خزانے کی نیندوں اور گپوں میں نمازوں کو گنوا دینے والے ، رات دن ننگی فلموں ، گندے گانوں میں مست رہنے والے ، ماں باپ کی نافرمانی کرنے اور ان کو ستانے والے ، چور چکور ، جھوٹے ، فریبی ، گرہ کاٹ وغیرہ ؛ کیا یہ سب کے سب تھوڑی دیر کےلیے قوالیوں کی مجلس میں شریک ہو کر اللہ والے ہو جاتے ہیں یا پیر صاحب نے اہل کا بہانہ تلاش کر کے اپنی موج مستیوں کا سامان کر رکھا ہے ؟ کہ پیری بھی ہاتھ سے نہ جائے اور دنیا کی موج مستیوں میں بھی کوئی کمی نہ آئے ۔
صحیح بخاری شریف میں ہے : سمع النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول : لیکونن من أمتی أقوام یستحلون الحر والحریر والخمر والمعازف ۔ ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا : ضرور میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے ، جو آزاد شخص (کی خرید و فروخت) کو ، ریشم کو ، شراب کو اور گانے بجانے کے آلات کوحلال سمجھیں گے ۔ (صحیح البخاری جلد 7 صفحہ 106دارطوق النجاۃ)
و عن نافع قال : سمع ابن عمر مزمارا قال : فوضع أصبعيه في أذنيه وناء عن الطريق وقال لي : يا نافع هل تسمع شيئا؟ فقلت : لا ، قال:فرفع أصبعيه عن أذنيه و قال : كنت مع النبی صلى الله عليه وسلم فسمع مثل ھذا فصنع مثل ھذا ۔
ترجمہ : حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ راستے سے گزرے تو آلات موسیقی کی آواز آپ کے کانوں میں پڑی ، آپ رضی اللہ عنہ نے کانوں میں انگلیاں ڈال دیں اور اس راستے سے ہٹ گئے پھر مجھ سےکہا : اے نافع! کیا تمہیں آواز آرہی ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ، تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں سے ہٹائیں اور کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح کی آواز سنی تو اسی طرح کا عمل کیا ۔ (سنن ابی داؤد جلد 4 صفحہ 281 مطبوعہ بیروت)
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ان فی امتی خسفاً و مسخاً و قذفاً۔ قالوا: یا رسول اللہ وھم یشھدون أن لا الہ الا اللہ ؟ فقال : نعم ، اذا ظھرت المعازف والخمور ولبس الحریر ۔
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت میں خسف (زمین میں دھنسا دینا) مسخ (شکلیں بگڑجانا) اور قذف (پتھروں کی بارش) (بھی) ہوگا ۔ صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کی یا رسول اللہ درآنحالیکہ وہ اس کی گواہی دیتے ہوں گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ؟ تو فرمایا : ہاں ، جب ان میں آلاتِ موسیقی ، شراب نوشی اور ریشم کا استعمال عام ہو جائے گا ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ جلد 7 صفحہ 501 مطبوعہ ریاض)
مروجہ قوالی جو مزامیر (آلاتِ موسیقی) کے ساتھ ہوتی ہے ، اس کا پڑھنا سننا ، ناجائز و حرام ہے ۔ لہٰذا ایسی قوالی کو گھروں اور مزارات وغیرہ سے مکمل طور پر ختم کرنا واجب ہے ۔ توایسی قوالی کا گھر یا باہر کہیں بھی اہتمام کرنا، جائز نہیں ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے : وعن ابی عامر أو ابی مالک الأشعری قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : لیکونن من أمتی أقوام یستحلون الخزوالحریر والخمر والمعازف ، حضرت ابو عامر سے یا ابو مالک اشعری سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت میں وہ قومیں ہوں گی جو موٹے پتلے ریشم اور شراب ، باجوں کو حلال سمجھ لیں گی ۔ (صحیح بخاری کتاب الأشربۃ حدیث نمبر 5590 صفحہ 1024 مکتبہ العصریہ بیروت،چشتی)
اس حدیث پاک کے تحت مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں : یعنی میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو ان محرمات کو حلال ہی جان لیں گے ، یا حلال کی طرح بے دھڑک استعمال کریں گے ، یا ان چیزوں کی حلت کےلیے تاویلیں کریں گے مثلًا کہیں گے کہ ریشم اگر جسم سے متصل ہو تو حرام ہے ورنہ نہیں ، ہم نے کرتا سوتی پہنا ہے اوپر سے اچکن ریشمی ہے ، یا کہیں گے کہ باجے وغیرہ قوالی میں حلال ہیں مجازی عشق کےلیے باجے حرام ہیں ہم تو اللہ رسول کے عشق کےلیے سنتے ہیں وغیرہ ۔ (مرآۃ المناجیح جلد 7 صفحہ 123 مطبوعہ قادری پبلشرز لاہور)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا : ظهرت القينات والمعازف ، یعنی قیامت کے قریب ناچنے گانے والیوں اور باجے تاشوں کی کثرت ہو جائےگی ۔ (جامع ترمذی ، مشکوٰۃ باب اشراط الساعۃ صفحہ 470)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے : السماع والقول والرقص الذى يفعله التصوفة فى زماننا حرام لا يجوز القصد اليه والجلوس عليه ۔
ترجمہ : سماع ، قوّالی ، رقص ( ناچ) جو آجکل کے نام نہاد صوفیوں میں رائج ہے یہ حرام ہے ـ اس میں شرکت جائز نہیں ـ (فتاویٰ عالمگیری جلد 5 کتاب الکراہیۃ صفحہ 325)
آلات موسیقی کے ساتھ سماع میں فقہاء احناف کا نظریہ : ⏬
صحیح البخاری حدیث نمبر ٥٥٩٠ کی شرح میں علامہ بدرالدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : امام سعید بن منصور رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آخر زمانہ میں میری امت کو مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنادیا جائے گا ‘ مسلمانوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ گواہی دیتے ہوں گے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اور وہ نماز پڑھتے ہوں گے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اور وہ نماز پڑھتے ہوں گے ‘ روزے رکھتے ہوں گے اور حج کرتے ہوں گے۔ مسمانوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس کا کیا سبب ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : وہ آلات موسیقی اور گانے بجانے والیوں میں مشغول ہوں گے ‘ اور وہ ان شرابوں کو پئیں گے وہ اس لھو میں اور شراب نوشی میں رات گزاریں گے اور جب وہ صبح اٹھیں گے تو مسخ ہو کر بندر اور خنزیر ہوچکے ہوں گے۔ امام ترمذی نے اس مضمون کی حدیث روایت کی ہے ( سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢١٢) اور حکیم ترمذی نے نو اور الاصول میں روایت کیا ہے حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں گھبراہٹ ہوگی لوگ اپنے علماء کی طرف جائیں گے تو وہ بندر اور خنزیر ہوچکے ہوں گے۔ (عمدۃ القاری ج ٢١ ص ٢٦٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)
امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ صحیح البخاری : ٩٤٩ کی شرح میں لکھتے ہیں : الغنا ( گانے بجانے) کی تحریم میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ یہ اس لہو و لعب سے ہے جو بالاتفاق مذموم ہے ‘ اور رہا وہ غنا جو محرمات سے الی ہو تو اس کی قلیل مقدار ‘ عید ‘ شادی اور خوشی تقاریب میں جائز ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ حرام ہے ‘ اور اہل عراق کا بھی یہی قول ہے ‘ امام شافعی کے مذہب میں یہ مکروہ ہے ‘ امام مالک کا مشہور مذہب بھی یہی ہے ‘ صوفیاء کی ایک جماعت نے عید کے دن لڑکیوں کے دف بجانے کی حدیث سے غنا کے مباح ہونے پر استدلال کیا ہے خواہ وہ آلات موسیقی کے ساتھ ہو یا اس کے بغیر ہو ‘ اور ان یہ استدلال مردود ہے کیونکہ ان لڑکیوں کا یہ غنا صرف جنگ اور بہادری کی نظم سے متعلق تھا ‘ اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی اجازت دی ‘ لیکن جو غنا معروف اور مشہور ہے وہ بےریش لڑکوں اور عورتوں کے محاسن پر مشتمل ہوتا ہے اور دیگر حرام چیزوں کا بیان ہوتا ہے ‘ جو پر سکون آدمی کے دل میں شہوت کا جوش اور ہیجان پیدا کردیتا ہے اس کے حرام ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے ‘ اور صوفیاء نے اس کی جو بدعت نکالی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور جب تم ان کے اقوال اور افعال کو دیکھو گے تو اس میں زندیقی کے آثار پائو گے اور اللہ تعالیٰ سے ہی مدد طلب کی گئی ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٦ ص ٣٩٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ،چشتی)
آلات موسیقی کے ساتھ سماع میں فقہاء شافعیہ کا نظریہ : ⏬
امام یحییٰ بن شرف نواوی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٧٦ ھ صحیح مسلم : ٨٩٢ کی شرح میں لکھتے ہیں : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ لڑکیاں پیشہ ور گانے والیاں نہیں تھیں ‘ یعنی گانا بجانا ان کی عادت نہیں تھی اور نہ وہ اس میں مشہور تھیں ‘ اور غنا میں علماء کا اختلاف ہے ‘ اہل حجاز کی ایک جماعت نے اس کو مباح کہا ہے اور یہ امام مالک سے ایک روایت ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ اور اہل عراق نے اس کو حرام کہا ہے ‘ امام شافعی کا مذہب اس کی کراہت ہے ‘ امام مالک کا مشہور مذہب بھی یہی ہے ۔ پیشہ ور گانے والیاں وہ ہوتی ہیں جو اپنے گانے سے عورتوں کا شوق اور ان کی محبت پیدا کرتی ہیں اور بےحیائی کی طرف اپنے کلام میں تعریض اور اشارے کرتی ہیں اور پرسکون دلوں میں حسین عورتوں کی طلب کے جذبات کی آگ بھڑکاتی ہیں اسی لیے کہا گیا ہے کہ غنا میں زنا ہے ۔ (صحیح مسلم بشرح النواوی ج ٤ ص ٥٠٦‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ)
حافظ شہاب الدین علی بن حجر عسقلانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں : آلات موسیقی کے متعلق ایک قوم نے لکھا ہے کہ ان کی تحریم پر اجماع ہے اور بعض علماء نے اس کے برعکس لکھا ہے ‘ ہم کتاب الاشربہ میں حدیث معازف کی تشریح میں اس پر مفصل لکھیں گے ‘ اور فریقین کے شبہات کا ذکر کریں گے۔ (فتح الباری ج ٣ ص ١١٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ) ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الاشربہ میں حدیث معازف کی شرح میں آلات موسیقی کی تحریم کی جس بحث کا وعدہ کیا ہے اس کا ذکر کرنا وہ بھول گئے ۔
آلات موسیقی کے ساتھ سماع میں فقہاء مالکیہ کا نظریہ : ⏬
علاوہ ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی المالکی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی ٦٥٦ ھ لکھتے ہیں : صوفیہ نے آلات موسیقی کے ساتھ سماع کی جو بدعت رائج کی ہوئی ہے ‘ اس کی تحریم میں اختلاف کی گنجائش نہیں ہے ‘ لیکن جو لوگ نیکی کی طرف منسوب ہیں ان میں سے اکثر کے اوپر نفوس شہوانیہ اور اغراض شیطانیہ غالب ہوچکی ہیں اور اس کا ذکر ان میں اس قدر مسہور ہوچکا ہے کہ وہ اس کی تحریم اور اس کے فحش سے اندھے ہوچکے ہیں اور ان میں سے بہت لوگوں سے بےحیائوں ‘ ہیجڑوں اور بچوں کی قبیح حرکات صادر ہوتی ہیں ‘ اور وہ موزون اور منضبط حرکات کے ساتھ رقص کرتے ہیں اور ناچتے ہیں جس طرح جاہل اور بےحیاء کرتے ہیں ‘ اور ان کی بےحیائی یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وہ کہتے ہیں یہ کام عبادات اور نیک اعمال سے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آلات موسیقی کے سماع سے دلوں کا زنگ دور ہوجاتا ہے ‘ اور تحقیق یہ ہے کہ یہ زندقی کے آثار ہیں اور اہل باطل کے اقوال ہیں ‘ ہم بدعتوں سے اور فتنوں سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں اور اللہ سے توبہ کا اور سنت پر عمل کرنے کا سوال کرتے ہیں۔ (المفھم ج ٢ ص ٥٣٤ مطبوعہ دارابن کثیر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)
آلات موسیقی کے ساتھ سماع میں فقہاء حنبلیہ کا نظریہ : ⏬
امام ابوالفرج عبدالرحمن بن الجوزی الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : ایک قوم کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ سماع اللہ عزوجل کی عبادت ہے ‘ جنید سے منقول ہے کہ ان صوفیاء پر تین وقتوں میں رحمت نازل ہوتی ہے کھانے کے وقت کیونکہ یہ فاقہ کے بعد کھاتے ہیں ‘ اور مذاکرہ کے وقت کیونکہ یہ صدیقین کے مقامات اور انبیاء کے احوال سے متجاوز ہوتے ہیں اور سماع کے وقت کیونکہ یہ وجد کے ساتھ سنتے ہیں اور حق کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔ امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر جنید سے یہ روایت صحیح ہے تو اس سماع سے ان اشعار کا سماع مراد ہے جو دلوں کو نرم کرتے ہیں اور آخرت کی یاد دلاتے ہیں ‘ ابن عقیل نے کہا ہم نے ان صوفیاء سے سنا ہے کہ جب کوئی سار بان اونٹ کو ہنکاتے وقت گانا گاتا ہے اس وقت دعا کی جائے تو مستجاب ہوتی ہے : کیونکہ ان کا اعتقاد ہے کہ گانے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوتا ہے ‘ ابن عقیل نے کہا یہ کفر ہے کیونکہ جو شخص حرام یا مکروہ کو عبادت اعتقاد کرے وہ اس اعتقاد سے کافر ہوجائے گا ۔ (تلسبیس ابلیس ص ٢٥٢ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)
امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : جب یہ صوفیا غناء کو سنتے ہیں تو وجد کرتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں اور چیختے ہیں اور کپڑے پھاڑ ڈالتے ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ کتنے ہی عابد جب قرآن مجید کو سنتے ہیں تو بعض مرجاتے ہیں ‘ بعض بےہوش ہوجاتے ہیں اور بعض چیختے اور چلاتے ہیں ‘ اور اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جھوٹ ہے ‘ حضرات صحابہ سے اس کی مثل نہیں سنی گئی ۔ سب سے صاف دل صحابہ کرام کے تھے اور جب ان کو وجد آتا تو وہ صرف روتے تھے اور خدا سے ڈرتے تھے ‘ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وعظ کیا تو ایک شخص بےہوش ہوگیا۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ہم پر دین میں کون تلبیس کررہا ہے اگر یہ سچا ہے تو یہ اپنی شہرت کررہا ہے اور اگر جھوٹا ہے تو اللہ اس کو مٹادے گا۔ (تلبیس ابلیس ص ٢٥٤۔ ٢٥٣ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ،چشتی)
نیز امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : جب صوفیاء پر رقص کے حال میں طرب طاری ہوتا ہے تو یہ ناچتے ناچتے کسی شخص کو مجلس سے اٹھا لیتے ہیں تاکہ وہ بھی کھڑا ہوجائے ‘ اور ان کے مذہب میں یہ جائز نہیں ہے کہ جو شخص جذب سے ناچ رہا ہو تو اہل مجلس بیٹھے رہیں جب وہ کھڑا ہو تو باقی لوگ بھی کھڑے ہوجاتے ہیں اور جب کوئی شخص سرننگا کرے تو باقی لوگ بھی سرننگا کرلیتے ہیں ‘ حالانکہ سرننگا کرنا قبیح ہے اور خلاف ادب ہے اور صرف حالت حرام میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اظہارِ ذلت کےلیے سر ننگا کرلیتے ہیں ‘ حالانکہ سرننگا کرنا قبیح ہے اور خلاف ادب ہے اور صرف حالت احرام میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اظہار ذلت کے لیے سرننگا کیا جاتا ہے۔ (تلبیس ابلیس ص ٢٦١‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)
امام موفق الدین عبد اللہ بن احمد بن قدامہ جنبلی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : آلات موسیقی تین قسم کے ہیں : ستار ‘ بانسری اور منہ سے بجائے جانے والے تمام قسم کے باجے ‘ سارنگی ‘ طنبور اور ہاتھ سے بجائے جانے والے تمام قسم کے باجے ‘ ان کا بجانا حرام ہے اور جو شخص عادتاً ان باجوں کو سنے اس کی شہادت مردود ہے ‘ اور دوسری قسم دف ہے ‘ خوشی کے مواقع پر عورتوں کا دف بجانا جائز ہے۔ اور مردوں کے لیے دف بجانا ہرحال میں مکروہ ہے۔ کیونکہ عورتیں اور مخنث دف جاتے ہیں اور مردوں کے دف بجانے میں عورتوں کی مشابہت ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کی مثابہت کرتے ہیں ‘ تیسری قسم چھڑی بجانا ہے یہ اس وقت مکروہ ہے جب اس کے ساتھ کوئی حرام یا مکروہ چیز ہو جیسے تالی بجانا ‘ گانا یا ناچنا۔ (المغنی ج ١٠ ص ١٧٤۔ ١٧٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٦ ھ)
اس کے علاوہ لہو ولعب کے طور پر ایسے گانے بجانے جس میں بیہودہ باتیں ، خلاف شریعت الفاظ اورشہوت انگیز جملے ہوں اس کے ناجائز ہونے میں کوئی شک ہی نہیں۔مسلمانوں کو اپنے رب سے ڈرنا چاہیے اور ان تمام تر خرافات سے انتہائی دور رہنا چاہیے۔آج کل کچھ لوگ نہایت شوق سے موسیقی کے ساتھ قوالی سنتے ہیں اور اسے سلسلہ چشتیہ کے بزرگوں کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ یہ نفس کا دھوکا ہے۔دف کے علاوہ ہاتھ اور منہ سے بجائے جانے والے آلات کی حرمت پر سب کا اتفاق ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر شدید عذاب کی وعید سنائی جیسا کہ اوپر مکمل حوالہ کے ساتھ گزرا۔اور بزرگوں کی طرف اسے منسوب کرنا صاف جھوٹ اور ان پر غلط الزام ہے۔ان بزرگوں کی کتابوں میں صاف صاف اسے حرام وناجائز بتایا گیاہے ۔تفصیل کےلیے بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے مرید خاص اور محبوب الہی سیدنا نظام الدین علیہ الرحمہ کے خلیفہ محمد بن مبارک بن محمد علوی کرمانی کی کتاب مستطاب’ سیر الاولیاء ‘ باب نہم در بیان وجد وسماع کا مطا لعہ کرے ۔ ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ ان سب خرافات سے الگ ہو کر اللہ عزوجل کی شان میں حمد کے کلمات اور نبی دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت مبارکہ اور بزرگان دین کی شان میں منقبت کے اشعار اس کے علاوہ درست اورموافق شریعت اشعار ترنم کے ساتھ پڑھنا اور سننا بلا شبہ جائز ہے ۔
ضروری نوٹ : آج کل نعت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گانوں کی طرز پر اور آلات موسیقی پر پڑھا جا رہا ہے جو کہ توہین نعت بھی ہے اور توہین فرامین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی جس بات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مٹانے آئے تھے اسی کو آج کل کے پیشہ ور لوگ نعت کے نام پر آگے بڑھا رھے ہیں اہل اسلام اس کا مکمل بائیکاٹ کریں اور علماء اسلام اس کے خلاف بھر پور آواز اٹھائیں اور حکم شرعی واضح طور پر لکھیں اللہ تعالیٰ ان ناچ گانے کی طرز پر نعتِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرنے والوں سے ہمیں بچائے آمین ۔
قطب الاقطاب سیدنا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور سیدنا محبوبِ الٰہی نظام الدین اولیاء دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ سیدنا محمد بن مبارک علوی کرمانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور زمانہ کتاب سیر الاولیاء میں فرماتے ہیں : حضرت سلطان المشائخ قدس سرّہ فرمود کہ چندیں چیز می باید کہ سماع مباح شود مسمع مستمع ، مسموع وآلہ سماع مسمع یعنی گویندہ مرد تمام باشد کودک نہ باشد وعورت نہ باشد و مستمع آنکہ می شنود واز یاد حق خالی نہ باشد ۔ ومسموع آنکہ گویند فحش ومسخرگی نباشد ۔ وآلہ سماع مزامیر است چوں چنگ ورباب ومثلِ آں می باید کہ درمیان نہ باشد ایں چنیں سماع حلال است ، یعنی محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ چند شرائط کے ساتھ سماع حلال ہے : (1) سنانے والا مرد کامل ہو چھوٹا لڑکا نہ ہو اور عورت نہ ہو ۔ (2) سننے والا یاد خدا سے غافل نہ ہو ۔ (3) جو کلام پڑھا جائے فحش، بے حیائی اور مسخرگی نہ ہو ۔ (4) آلۂ سماع یعنی سارنگی مزامیر ورباب سے پاک ہو ۔ (سیر الاولیاء باب 9 در سماع ووجد و رقص صفحہ 501،چشتی)
ایک شخص نے حضرت محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ ان ایام میں بعض آستانہ دار دُرویشوں نے ایسے مجمع میں جہاں چنگ و رباب و مزامیر تھا رقص کیا تو حضرت نے فرمایا کہ انہوں نے اچھا کام نہیں کیا جو چیز شرع میں ناجائز ہے وہ ناپسندیدہ ہے ، اس کے بعد کسی نے بتایا کہ جب یہ جماعت باہر آئی تو لوگوں نے ان سے پوچھا کہ تم نے یہ کیا کیا وہاں تو مزامیر تھے تم نے سماع کس طرح سنا اور رقص کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح سماع میں مستغرق تھے کہ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوا کہ یہاں مزامیر ہیں یا نہیں ۔ حضرت سلطان المشائخ نے فرمایا یہ کوئی جواب نہیں اس طرح تو ہر گناہ گار، حرام کار کہہ سکتا ہے ۔ (سیر الاولیاء بان 9 صفحہ 530)
حضرت سیدنا محبوبِ الٰہی نظام االدین علیہ الرحمۃ والرضوان کے ملفوظات پر مشتمل انہیں کے مرید وخلیفہ حضرت خواجہ امیر حسن علائی سنجری رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف فوائد الفوائد شریف میں ہے : دریں میاں شخصی بیامد وحکایت جماعتی تقریر کردہ کہ ہم اکنوں در فلاں موضع یارانِ شما جمعیتی کردند ومزامیر درمیاں بود خوجہ ذکراللہ بالخیر ایں معنیٰ ناپسندید فرمود کہ من منع کردہ ام کہ مزامیر ومحرمات درمیاں نہ باشد ہرچہ کردہ اند نیکو نہ کردہ اند دریں باب بسیار غلومی فرمود ۔
ترجمہ : حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں ایک شخص آیا اور بتایا کہ فلاں جگہ آپ کے مریدوں نے محفل کی ہے اور وہاں مزامیر بھی تھے حضرت محبوبِ الٰہی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کو پسند نہیں فرمایا ــ اور فرمایا میں نے منع کیا ہے کہ مزامیر ( باجے) حرام چیزیں وہاں نہیں ہونا چاہیئے ان لوگوں نے جو کچھ کیا اچھا نہیں کیا اس بارے میں کافی ذکر فرماتے رہے ــ اس کے بعد حضرت نے فرمایا کہ اگر کوئی کسی مقام سے گزرے تو شرع میں کرےگا اور اگر شرع سے گرا تو کہاں گرےگا ۔ (فوائد الفوائد، جلد 3 مجلس پنجم مطبوعہ اردو اکاڈمی دہلی صفحہ 512 ترجمہ خواجہ حسن نظامی،چشتی)
مسلمانو ! ذرا دل میں ہاتھ رکھ کر سوچو کہ ایک طرف تو حضرت خواجہ نظام الدین دہلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتویٰ ہے جو اوپر درج ہے اِن اقوال کے ہوتے ہوئے کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ خاندانِ چشتیہ میں مزامیر کے ساتھ قوالی جائز ہے ـ ہاں یہ بات وہی لوگ کہیں گے جو نہ چشتی ہیں نہ قادری انہیں تو مزےداریاں اور لطف اندوزیاں چاہیے ۔ اور اب جبکہ تقریبًا سارے قوال بے نمازی اور فاسق وفاجر ہیں ۔ یہاں تک کہ بعض شرابی تک سننے میں آئے ہیں ۔ یہاں تک کہ عورتیں اور اَمْرَدْ لڑکے بھی چل پڑے ہیں ایسے ماحول میں ان قوالیوں کو صرف وہی جائز کہے گا جس کو اسلام و قرآن ، دین وایمان سے کوئی محبت نہ ہو اور حرام کاری ، بے حیائی ، بدکاری اس کے رگ وپے میں سرایت کر گئی ہو ۔ اور قرآن وحدیث کے فرامین کی اسے کوئی پرواہ نہ ہو ۔ کیا اسی کا نام اسلام پسندی ہے کہ مسلمان عورتوں کو لاکھوں کے مجمع میں لاکر ان کے گانے بجانے کرائے جائیں پھر ان تماشوں کا نام عرسِ بزرگانِ دین رکھا جائے ۔ کافروں کے سامنے مسلمانوں اور مذہب اسلام کو بدنام کیا جائے ؟
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قوالی اہل کےلیے جائز اور نا اہل کےلیے ناجائز ہے ایسا کہنے والوں سے ہم پوچھتے ہیں کہ آج کل جو قوالیوں کی مجالس میں لاکھوں لاکھ کے مجمع ہوتے ہیں کیا یہ سب اہل اللہ اور اصحاب استغراق ہیں ؟ ۔ جنہیں متاعِ دنیا کا قطعًا ہوش نہیں ؟ ۔ جنہیں یادِ خدا ذکر الٰہی سے ایک آن فرصت نہیں ؟
خرّاٹے کی نیندوں اور گپّوں شپّوں میں نمازوں کو گنوا دینے والے ، رات دن ننگی فلموں ، گندے گانوں میں مست رہنے والے ، ماں باپ کی نافرمانی کرنے اور ان کو ستانے والے، چور ، ڈکیت ، جھوٹے فریبی ، گرہ کاٹ وغیرہ کیا سب کے سب تھوڑی دیر کےلیے قوالیوں کی مجلس میں شریک ہوکر اللہ والے ہو جاتے ہیں ؟ اور خدا کی یاد میں محو ہو جاتے ہیں ؟ ۔ یا پیر صاحب نے اہل کا بہانہ تلاش کر کے اپنی موج و مستیوں کا سامان کر رکھا ہے ؟ ۔ کہ پیری بھی ہاتھ سے نہ جائے اور دنیا کی موج مستیوں میں بھی کوئی کمی نہ آئے ۔ یاد رکھو قبر کی اندھیری کوٹھری میں کوئی حیلہ وبہانہ نہ چلےگا ۔
بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ مزامیر کے ساتھ قوالی ناجائز ہوتی تو درگاہوں اور خانقاہوں میں کیوں ہوتی ؟ ۔ کاش یہ لوگ جانتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث اور بزرگانِ دین کے مقابلے میں آجکل کے فُسّاق داڑھی منڈانے والے ، نمازوں کو قصدًا چھوڑنے والے ، بعض خانقاہیوں کا عمل پیش کرنا دین سے دوری اور سخت نادانی ہے جو احادیث ہم نے اوپر لکھیں اور بزرگانِ دین کے اقوال نقل کئے ان کے مقابل نہ کسی کا قول معتبر ہوگا نہ عمل ۔ آج کل خانقاہوں میں کسی کام کا ہونا اس کے جائز ہونے کی دلیل نہیں ۔
آخر میں ایک بات یہ بھی بتادینا ضروری ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ : جو کوئی خلافِ شرع کام کی بنیاد ڈالتا ہے تو اس پر اپنا اور سارے کرنے والوں کا گناہ ہوتا ہے ۔ لہٰذا جو مزامیر کے ساتھ قوالیاں کراتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کا موقع دیتے ہیں ان پر اپنا، قوالوں ، اور لاکھوں تماشئیوں کا گناہ ہے اور مرتے ہی انہیں اپنے انجام دیکھنے کو مل جائے گا ۔
سماع کی شرائط : ⏬
سیدی مولانا محمد بن مبارک بن محمد علوی کرمانی مرید حضور پرنورشیخ فرید الحق والدین گنج شکر و حضور سیدنا محبوب الٰہی رحمہم اللہ علیہم کتاب مستطاب سید الاولیاء میں فرماتے ہیں : حضرت سلطان المشائخ قدس اللہ تعالیٰ سرہ العزیز فرماتے تھے کہ چند شرائط ہوں تو سماع مباح ہو گا ، کچھ شرطیں سنانے والے میں کچھ سننے والے میں ، کچھ اس کلام میں جو سنائی جائے ، کچھ آلہ سماع میں یعنی : ⏬
(1) سنانے والا کامل مرد ہو
(2) چھوٹا لڑکا نہ ہو
(3) عورت نہ ہو
(4) سننے والا یاد خدا سے غافل نہ ہو
(5) جو کلام پڑھی جائے فحش نہ ہو
(6) تمسخرانہ انداز کی نہ ہو
(7) آلات سمع یعنی مز امیر جیسے سارنگی اور باب وغیرہ .... چاہیے کہ ان چیزوں سے کوئی موجود نہ اس طرح کا سماع حلال ہو گا ۔
مسلمانو ! یہ فتویٰ ہے مرور سردار سلسلہ عالیہ چشت حضرت سلطان اولیاء رحمة اللہ علیہ کا ، کیا اس کےبعد بھی مفتریوں کو منہ دکھانے کی گنجائش ہے ؟
اسی سید الاولیاء شریف میں ہے ۔ ترجمہ فارسی : ایک آدمی نے حضرت شیخ المشائخ کی خدمت میں عرض کی کہ ان ایام میں بعض آستانہ دار درویشوں نے ایسے مجمع میں جہاں چنگ و رباب اور دیگر مزامیر تھے ، رقص کیا ( دھمال ڈالا) فرمایا انہوں نےاچھا کام نہیں کیا جو چیز شرع میں ناجائز ہے ، ناپسندیدہ ہے ، اس کے بعد ایک نے کہا : جب یہ جماعت اس مقام سے باہر آئی ،لوگوں نے ان سے کہا کہ تم نے یہ کیا کیا وہاں تو مزامیر (آلات موسیقی) تھے ، تم نے سماع کس طرح سنا اوررقص کیا ( دھمال ڈالا) انہوں نے جواب دیا ہم اس طرح سماع میں مستغرق تھے کہ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوا کہ یہاں مزامیر ہیں یا نہیں ، سلطان المشائخ نےفرمایا : یہ جواب کچھ نہیں ، اس طرح تو تمام گناہوں کے متعلق کہہ سکتے ہیں ۔
مسلمانوں کیسا صاف ارشاد ہے کہ مزامیر (آلات موسیقی) ناجائز ہیں اور اس کاعذر کا کہ ہیمں استغراق کے باعث مزامیر کی خبر نہ ہوئی ، کیا مسکت جواب عطاء فرمایا کہ ایسا حیلہ ہرگناہ میں چل سکتا ہے شراب پینے اور کہ دے کہ شدت استغراق کے باعث ہمیں خبر نہ ہوئی کہ شراب ہے یاپانی ، زنا کرے اور کہ دے کہ غلبہ حال کے سبب ہمیں تمیز نہ ہوئی کہ جورو ہے یا بیگانہ ۔ اس میں ہے ۔
اسی سید الاولیاء شریف میں ہے ۔ ترجمہ فارسی : حضرت شیخ المشائخ نے فرمایا میں نے منع کر رکھا ہے کہ مزامیر اور دیگر محرمات درمیان میں نہ ہوں اور اس بات میں آپ نے بہت مبالغہ کیا ، یہاں تک فرمایا کہ اگر امام نماز میں بھول جائے مرد تو سبحان اللہ کہہ کر امام کو مطلع کرے اور عورت سبحان اللہ نہ کہے کیونکہ اس کو اپنی آواز سنانا نہ چاہیے پس ایک ہاتھ کی ہتھیلی دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر نہ مارے کہ اس طرح یہ کھیل ہو گا بلکہ ہاتھ کی پشت دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر مارے جب یہ یہاں تک لہو و لعب کی چیزوں اور ان جیسی چیزوں سے پرہیز آئی ہے تو سماع بطریق اولیٰ منع ہیں ۔ مسلمانو! جو ائمہ طریقت علیہم الرّحمہ اس درجہ احتیاط فرمائیں کہ تالی کی صورت کو ممنوع بتائیں وہ اور معاذاللہ مزامیر کی تہمت ، للہ انصاف ! کیسا ضبط بے ربط ہے ، اللہ تعالیٰ اتباع شیطان سے بچائے اور ان سچے محبوبان خدا کا سچا اتباع عطاء فرمائے آمین ۔ مروجہ قوالی مع مزامیر کے بارے میں امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ فرما تے ہیں : مزامیر جائز نہیں حضور سیدناسلطان المشائخ نظام الحق والدین سردار سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ فوائدالفوائد شریف میں ارشاد فرما تے ہیں ۔ مزامیر حرام است یعنی مزامیر حرام ہے ۔ ( فتاوی رضویہ جلد نمبر ۲۱ صفحہ نمبر ۱۱۶ مترجم جدید،چشتی)
امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ احکام شریعت صفحہ 176 میں ایک مسئلہ لکھا ہے جس کا عنوان ہے مزامیر کیساتھ قوالی ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : خالی قوالی جائز ہے اور مزامیر حرام زیادہ غلو اب منتسبان سلسلہ چشتیہ کو ہےحضرت سلطان المشائخ محبوب الہی رضی اللہ تعالی عنہ (مراد حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ ہیں) فوائد الفواد شریف میں فر ماتے ہیں مزامیر حرام است ( باجے ساز گانے کے آلات) حضرت یحیی منیری رحمۃ اللہ علیہ نے مزامیر کو زنا کیساتھ شمار کیا ہے ۔ (احکام شریعت کےصفحہ نمبر 81 پر کافی تفصیلی گفتگو کی ہے)
فتاوی رضویہ میں امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا : زیدکہتا ہے کہ قوالی مع آلات مزامیر کے جائزہے ۔۔۔ اور کہتا ہے کہ مزامیر اُن باجوں کو کہتے ہیں ، جو منہ سے بجائے جاتے ہیں ۔ ڈھلک ، ستار ، طبلہ ، مجیرے ، ہارمونیم ، سارنگی مزامیر میں داخل نہیں بلکہ ان کا اوردف کاایک حکم ہے ۔ (اس کے جواب میں امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ نے فرمایا : زیدکاقول باطل و مردود ہے ، حدیث صحیح بخاری شریف میں مزامیر کا لفظ نہیں بلکہ معازف کہ سب باجوں کوشامل ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 140 رضافاؤنڈیشن لاهور،چشتی)
امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا : میلاد شریف میں قوالی کی طرح پڑھنا کیساہے ؟
اس کے جواب میں فرمایا : قوالی کی طرح پڑھنے سے اگر یہ مرا د کہ ڈھول ستار کے ساتھ ، جب تو حرام اور سخت حرام ہے اور اگر صرف خوش الحانی مراد ہے ، تو کوئی امر مورث فتنہ نہ ہو ، تو جائز بلکہ محمود ہے اور اگر بے مزامیر گانے کے طور پر راگنی کی رعایت سے ہو ، تو ناپسند ہے کہ یہ امر ذکر شریف کے مناسب نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ (فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 664 رضافاؤنڈیشن لاهور)
اپنی تقریبوں میں ڈھول جس طرح فساق میں رائج ہے بجوانا ، ناچ کرانا حرام ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 98 رضافاؤنڈیشن لاهور،چشتی)
متصوفہ زمانہ (بناوٹی صوفی ) کہ مزامیر کے ساتھ قوالی سنتے ہیں اور کبھی اوچھلتے کودتے اور ناچنے لگتے ہیں اس قسم کا گانا بجانا ، ناجائز ہے ، ایسی محفل میں جانا اور وہاں بیٹھنا ناجائز ہے ، مشایخ سے اس قسم کے گانے کا کوئی ثبوت نہیں ۔ جو چیز مشایخ سے ثابت ہے وہ فقط یہ ہے کہ اگر کبھی کسی نے ان کے سامنے کوئی ایسا شعر پڑھ دیا جو ان کے حال و کیف کے موافق ہے تو ان پر کیفیت و رقت طاری ہوگئی اور بے خود ہو کر کھڑے ہوگئے اور اس حال وارفتگی میں ان سے حرکات غیر اختیاریہ صادر ہوئے ، اس میں کوئی حرج نہیں ۔ مشایخ و بزرگانِ دین کے احوال اور ان متصوفہ کے حال و قال میں زمین آسمان کا فرق ہے ، یہاں مزامیر کے ساتھ محفلیں منعقد کی جاتی ہیں ، جن میں فساق و فجار کا اجتماع ہوتا ہے ، نااہلوں کا مجمع ہوتا ہے ، گانے والوں میں اکثر بے شرع ہوتےہیں ، تالیاں بجاتے اور مزامیر کے ساتھ گاتے ہیں اور خوب اچھلتے کودتے ناچتے تھرکتے ہیں اور اس کا نام حال رکھتے ہیں ان حرکات کو صوفیہ کرام کے احوال سے کیا نسبت ، یہاں سب چیزیں اختیار ی ہیں وہاں بے اختیاری تھیں ۔ (بہار شریعت جلد 3 حصہ 16 صفحہ 511 مکتبۃالمدینہ کراچی)
مروجہ قوالی جو مزامیر کے ساتھ ہوتی ہے نہ شریعت میں جائز ہے ، نہ مشائخِ چشت سے ثابت ہے ۔ (فتاوی بحر العلوم جلد 5 صفحہ 583 شبیر برادرز ،لاہور)
مروجہ ڈھول کو جائز کہنے والے شریعت پرجھوٹ باندھنے والے ہیں ، ان سے کہا جائے کہ اگرتم سچے ہو ، تو دکھاؤ شریعت میں اسے کہاں جائز بتایا گیاہے ؟ان سب پراس افتراء سے توبہ کرنافرض ہے ۔
ناک کان ہاتھوں پیروں میں کسی قسم کا زیور جائز نہیں ہے اگر چہ پلاسٹیک کا ہو کہ یہ عورتوں سے مشابہت ہے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا من تشبہ بقوم فھو منھم ۔
مرد کےلیے صرف چاندی کی ایک انگوٹھی ایک نگ والی وہ بھی ساڑھے چار ماشے کم ہو جائز ہے اس کے علاوہ کسی بھی دھات کی انگوٹھی یا زیور جائز نہیں ۔ (کتبِ فقہ)
مذکورہ بالا افعال کا حامل خص فاسق معلن ہے اس سے اذان پڑھوانا ، قوالی یعنی محفلِ سماع میں کلام پڑھوانا یا نعت وغیرہ سننا ناجائز ہے کہ فاسق کی تعظیم نا جائز ہے اور منبر پر بٹھانے نعت پڑھوانے پر اس کی تعظیم ہے ۔ توبہ کرکے پھر گناہ کرنا بہت برا ہے اور یہ اللہ کے ساتھ استہزا کرنا ہے اس لیے جب تک وہ امور قبیحہ و شنیعہ سے سچے دل سے توبہ نہ کرلے اور قبیحہ افعال سے باز نہ آجائے اس کا بائیکاٹ کر دیں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّکۡرٰی مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ۔ (سورہ انعام آیت نمبر ۶۸)
ترجمہ : اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ ۔
جب استغفار کرلے اور افعال قبیحہ سے باز آجائے تو اذان دینے اور میلاد وغیرہ میں بلانے میں کوئی حرج نہیں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
