ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب
محترم قارئینِ کرام : شیعہ مفسر قمی لکھتا ہے : کہا کہ یہ آیت ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچا سے کہہ رہے تھے : اے چچا لا الہ الا اللہ پڑھ لو میں اس کے طفیل آپ کو قیامت کے دن نفع پہنچاوں گا ۔ تو انہوں نے کہا میں اپنے نفس کو جانتا ہوں ۔ جب ابو طالب فوت ہوئے تو حضرت عباس بن عبدالمطلب نے فرمایا ۔ کیا موت کے وقت انہوں نے کلمہ پڑھا تھا ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا : میں نے تو ان سے کچھ بھی نہیں سنا تھا ، اور نہ ہی میں قیامت کے دن اسے نفع پہنچاوں گا ۔ (شیعہ کتاب : تفسير القمی جلد 2 صفحہ 142،چشتی)
ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کا ابا شیعہ مفسر ھاشم بحرانی لکھتا ہے : کہا کہ یہ آیت ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچا سے کہہ رہے تھے : اے چچا لا الہ الا اللہ پڑھ لو میں اس کے طفیل آپ کو قیامت کے دن نفع پہنچاوں گا ۔ تو انہوں نے کہا میں اپنے نفس کو جانتا ہوں ۔ جب ابو طالب فوت ہوئے تو حضرت عباس بن عبدالمطلب نے فرمایا ۔ کیا موت کے وقت انہوں نے کلمہ پڑھا تھا ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا : میں نے تو ان سے کچھ بھی نہیں سنا تھا ، اور نہ ہی میں قیامت کے دن اسے نفع پہنچاوں گا ۔ (شیعہ کتاب : تفسیر البرهان جلد 3 صفحہ 230،چشتی)
شیعہ مفسر ملا باقر مجلسی لکھتا ہے : اور یہ بھی روایت کی کہ : إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ ، اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم جس کو دوست رکھتے ہو اُسے ہدایت نہیں کر سکتے ۔ (سورۃ القصص آیت نمبر 56) ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ بھی روایت کی کہ علی علیہ لسلام اپنے والد کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا : آپ کے چچا گمراہی کی حالت میں اس دنیا سے چلے گئے تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہو ؟ اور نہ ہی کسی نے اسے کبھی نماز پڑھتے دیکھا کیونکہ نماز مسلمان اور کافر کے درمیان فرق کرتی ہے ، اور جو وہ مرنے کے بعد چھوڑ گئے تھے اس میں سے علی اور جعفر نے کچھ بھی نہ لیا ۔ اور یہ بھی روایت کی ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ میرے چچا کو ہلکا عذاب دیا جائے گا جو انہوں نے میرے حق میں کیا تھا وہ ٹخنوں تک آگ میں ہو گا ۔ اور ایک روایت یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عبداللہ ، آمنہ اور ابو طالب جہنم کے حجروں میں سے ایک حجرے میں ہونگے ۔ (شیعہ کتاب : بحارالانوار جلد 35 ، 36 صفحہ 97 مطبوعہ موسسة الاعلمی بیروت لبنان،چشتی)
شیعیوں کے بہت بڑے محقق شیخ صدوق قمی کی کمال الدین و اتمام النعمہ سے جنابِ ابوطالب کے متعلق دو باتوں میں سے ایک بات ثابت ہے کہ یا تو وہ لوگوں کی بے عزتی کے خوف سے اسلام قبول نہیں کر رہے تھے ، یا پھر وہ شرک کا اظہار اور ایمان کا اخفاء کرتے تھے ۔ دونوں صورتوں میں انہوں نے ساری عمر ایمان کو چھپایا اور شرک کا اظہار کیا ، آج شیعوں اور ان کے فضلہ خوروں کو کہاں سے وحی نازل ہوگئی کہ وہ مومن تھے ؟ ۔ (شیعہ کتاب : کمال الدین و اتمام النعمہ جلد اول صفحہ 207 مطبوعہ الکساء پبلیشر کراچی)
تعجب کی بات ہے کہ ایمان ابو طالب پر شیعہ کتب میں ایک ضعیف ترین روایت بھی موجود نہیں ہے ۔ تاریخ اسلام ، اہلسنت کتب حتی کہ شیعہ کتب کی کسی بھی روایت میں وہ اہم واقعہ بیان ہی نہیں ہوا کہ
حضرت ابوطالب نے فلاں موقعہ پر توحید و رسالت کی گواہی دی ۔ حضرت ابوطالب دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ۔ حضرت ابوطالب نے اسلامی شریعت پر عمل کیا ۔ حضرت ابوطالب نے اپنے ایمان کا اعلان کیا ۔ جن آیات قرآنی سے شیعہ استدلال کرتے ہیں ان سے حضرت ابو طالب کا ایمان ثابت ہی نہیں ہوتا اور کچھ احکامات تو حضرت ابوطالب کی وفات کے بعد نازل ہوئے ۔ شیعوں کے ہاں کھینچ کھانچ کے اقوال معصومین پر ایمان ابوطالب تسلیم کیا جاتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شیعہ کی اصول اربعہ کی اول نمبر کتاب اصول کافی میں ایک صحیح السند قول حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا موجود ہے جو ان تمام اقوال معصومین کی نفی بیان کرتا ہے ، جو شیعہ حضرت ابوطالب کے ایمان کی تائید میں پیش کرتے ہیں ۔ شیخ یعقوب الکینی نے اپنی کتاب الکافی میں ایک روایت نقل کی ہے جو اس طرح ہے : علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن ابن أبي عمير، عن هشام بن سالم، عن ابي عبدالله (عليه السلام) قال: إن مثل أبي طالب مثل أصحاب الكهف أسروا الايمان وأظهروا الشرك فآتاهم الله أجرهم مرتين ۔
ترجمہ : حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ ابو طالب علیہ السلام کی مثال اصحاب کہف کی سی ہے، انہوں نے ایمان کو چھپایا اور شرک کو ظاہر کیا پس خدا نے انکو دو اجر دیے ۔ (الاصول الكافي: شیخ یعقوب الکینی جلد 1 ، 2 کتاب الحجت : باب : مولد النبي (صلى الله عليه وآله وسلم) و وفاته صفحہ 341 رقم 28 مطبوعہ دارالمرتضیٰ بیروت،چشتی)
تحقیق السند : 1 : علي بن إبراهيم
1 : علي بن إبراہيم
یہ بالاتفاق ثقہ ہے
شیخ نجاشی نے فرمایا : علي بن إبراهيم بن هاشم أبو الحسن القمي، ثقة ۔
2 : ابراہيم بن ہاشم
سيد الخوئی انکے بارے میں کہتے ہے : إبراهيم بن هاشم أبو إسحاق القمّى، أصله كوفي انتقل إلى قم، قال أبو عمرو الكشّى: تلميذ يونس بن عبدالرحمان، من أصحاب الرضا عليه السلام، وهذا قول الكشّى، وفيه نظر تنظّر النجاشي في محلّه، بل لايبعد دعوى الجزم بعدم صحّة ماذكره الكشّي والشيخ. والوجه في ذلك إن إبراهيم بن هاشم مع كثرة رواياته،أقول: لاينبغي الشكّ في وثاقة إبراهيم بن هاشم، ويدلّ على ذلك عدّة أمور: : أنّ السيّد ابن طاووس إدّعى الاتفاق على وثاقته، حيث قال عند ذكره رواية عن أمالي الصدوق في سندها إبراهيم بن هاشم: (ورواة الحديث ثقات بالاتفاق)
3 : ابن أبي عمیر
یہ بھی ثقہ الامامی ہے،انکی توثیق اس لنک پر پڑھیں
4 : ہشام بن سالم
یہ بھی ثقہ الامامی ہی ہے ۔
لہٰذا یہ روایت بلکل صحیح ہے اس میں کسی باشعور اہل علم شخص کو شک نہیں ہونا چاہیے ۔
اس روایت کو ان علماء نے بھی صحیح یا حسن قرار دیا ہے ۔
الشيخ هادي النجفي نے اپنی کتاب موسوعته جلد 5 صفحہ 321 میں اس کے بارے میں فرمایا : الرواية صحيحة الإسناد ۔ اس روایت کی سند صحیح ہے ۔
السيد محمد علي الابطحي نے تهذيب المقال جلد 5 صفحہ 452 میں کہا : صحيح ۔
العلامة المجلسي نے الکافی کی شرح مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول، جلد 5 صفحہ: 253 میں اس روایت کے بارے میں فرمایا : الحديث حسن ، یہ حسن حدیث ہے ۔
کم و بیش یہی روایت کئی اور شیعہ کتب میں بھی موجود ہے ۔ مثال کے طور پر : ⏬
1 : البرهان في تفسير القرآن الجزء الثاني (تأليف السيد هاشم بن سليمان البحراني)
2 : وسائل الشیعہ جلد 16 صفحہ نمبر 225 ۔
طرز استدلال : حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے منسوب یہ روایت اہل تشیع کے اصولوں کے مطابق ایک صحیح السند روایت ہے ۔ اس روایت میں دو نکات غور طلب ہیں : ⏬
1 : حضرت ابوطالب کی مثال اصحاب کہف جیسی ہے ۔
2 : حضرت ابوطالب نے ایمان کو چھپایا اور شرک کو ظاہر کیا ۔
قرآن کریم میں اصحاب کہف کا قصہ سورت الکھف میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے : نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّؕ-اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ (13)وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا(14)هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةًؕ-لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍؕ-فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ۔ (سورة الكهف آیت نمبر 13 ، 14 ، 15)
ترجمہ : ہم ان کا ٹھیک ٹھیک حال تمہیں سنائیں وہ کچھ جوان تھے کہ اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ہدایت بڑھائی۔اور ہم نے ان کے دلوں کی ڈھارس بندھائی جب کھڑے ہوکر بولے کہ ہمارا رب وہ ہے جو آسمان اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی معبود کو نہ پوجیں گے ایسا ہو تو ہم نے ضرور حد سے گزری ہوئی بات کہی۔یہ جو ہماری قوم ہے اس نے اللہ کے سوا خدا بنا رکھے ہیں کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی روشن سند تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے ۔
ان آیات کے مطابق اصحاب کہف رضی اللہ عنہم نے اپنے ایمان کو ہرگز نہیں چھپایا تھا بلکہ اللہ عزوجل پر ایمان کا برملا اظہار کرتے ہوئے بتوں سے بیزاری ظاہر کی تھی ۔ اسی لیے تو بادشاہ دقیانوس کے خوف سے غار میں چھپ گئے تھے ۔ اگر اصحاب کہف رضی اللہ عنہم اپنا ایمان ظاہر نہ کرتے تو پھر انہیں غار میں چھپنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ؟
حضرت ابوطالب نے بھی اگر اصحاب کہف رضی اللہ عنہم کی طرح ایمان کا اظہار کیا ہوتا اور بتوں سے بیزاری ظاہر کی ہوتی تو اس روایت میں ان کے ایمان کو ظاہر کرنا ضرور بیان کیا گیا ہوتا ، لیکن اس کے بجائے روایت میں واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابوطالب نے ایمان کو چھپایا اور شرک کو ظاہر کیا ۔ یعنی روایت کے دونوں حصے نہ صرف ایک دوسرے سے متعارض ہیں بلکہ شیعہ کے عقیدے ایمان ابو طالب کو بھی جڑ سے اکھاڑ دیتے ہیں ۔
اہلسنت و جماعت کے نزدیک یہ جھوٹی روایت ہے اور اس سے شان حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ بھی بری طرح مجروح ہوتی ہے ۔ کیا حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو اتنا علم بھی نہ تھا کہ اصحاب کہف نے اپنا ایمان ظاہر کیا تھا اور اسی وجہ سے غار میں چھپ گئے تھے، اور یہ مثال حضرت ابو طالب کی زندگی سے مطابقت نہیں رکھتی ۔
روایت کے دوسرے حصے کے مطابق اہل تشیع کے ہاں حضرت ابو طالب پوری زندگی شرک کرتے رہے یعنی بت پرستی کرتے رہے جبکہ اہلسنت و جماعت کے ہاں حضرت ابو طالب کو مشرک نہیں بیان کیا گیا بلکہ ان کا آخری گھڑی تک دین ابراہیمی پر قائم رہنا بیان ہوا ہے ۔
ایک طرف شیعہ اہلسنت پر حضرت ابو طالب کی توہین کا الزام لگاتے ہیں تو دوسری طرف خود ان کی اوّل درجہ کی کتاب میں امام کے نام سے ایسی روایت موجود ہے جو حضرت ابوطالب کو پوری زندگی شرک اور بت پرستی کرتے رہنا بیان کر رہی ہے ۔
حد تو یہ بھی ہے کہ شیعہ جید علماء حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب اس جھوٹی روایت کو صحیح تسلیم کرتے ہیں اور اس کی توثیق کر کے نہ صرف حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ بلکہ حضرت ابو طالب کی بھی توہین کرتے آ رہے ہیں ۔
آخری اہم بات : اہل تشیع کی صحیح السند روایت سے اہل سنت کا مؤقف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابو طالب کا اسلام قبول کرنا ، اعلان کرنا ، اسلامی شریعت پر عمل کرنا وغیرہ کسی صحیح السند روایت سے ثابت نہیں ہے ۔
مذکورہ روایت میں اصحاب کہف رضی اللہ عنہ کی مثال غلط دی گئی ہے، کیونکہ قرآن سے متعارض ہے ۔
اب اہل تشیع اور ان کے فضلہ خوروں کے پاس دو راستے ہیں : ⏬
1 : اصحاب کہف رضی اللہ عنہم کی طرح حضرت ابوطالب کا ایمان قبول کرنا اور بتوں سے بیزاری ظاہر کرنا ثابت کریں ۔
2 : یا روایت کے دوسرے حصہ کو تسلیم کریں کہ حضرت ابوطالب نے پوری زندگی اسلام قبول نہیں کیا تھا جوکہ اہلسنت کا مؤقف ہے ۔
ایمانِ ابو طالب کے متعلق ایک حدیث کی تحقیق : ⏬
جنابِ ابو طالب کے ایمان لانے کے متعلق اکثر ایک روایت پیش کی جاتی ہے آٸیے اس کا تحقیقی جاٸزہ لیتے ہیں :
روایت یہ ہے : حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فلما رأی حرص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علیه قال :یا ابن أخي! والله، لو لا مخافة السبة علیك وعلی بني أبیک من بعدي ، وأن تظن قریش أني إنما قلتھا جزعا من الموت لقلتھا، لا أقولھا إلا لإسرک بھا ، قال: فلما تقارب من أبي طالب الموت قال: نظر العباس إلیه یحرک شفتیه ، قال : فأصغی إلیه بأذنه، قال : فقال : یا ابن أخي ! واللہ، لقد قال أخي الکلمة التي أمرته أن یقولھا، قال: فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : لم أسمع ۔
ترجمہ : جب ابو طالب نے اپنے (ایمان کے) بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حرص دیکھی تو کہا : اے بھتیجے ! اللہ کی قسم ، اگر مجھے اپنے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھائیوں پر طعن و تشنیع کا خطرہ نہ ہوتا ، نیز قریش یہ نہ سمجھتے کہ میں نے موت کے ڈر سے یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں کلمہ پڑھ لیتا ۔ میں صرف آپ کو خوش کرنے کیلئے ایسا کروں گا ۔ پھر جب ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو عباس نے ان کو ہونٹ ہلاتے ہوئے دیکھا ۔ انہوں نے اپنا کان لگایا اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ) کہا : اےبھتیجے ! یقیناً میرے بھائی نے وہ بات کہہ دی ہے جس کے کہنے کا آپ نے اُنہیں حکم دیا تھا ۔ (السیرۃ لابن ھشام: ۴۱۷/۱، ۴۱۸،چشتی)(المغازي لیونس بن بکیر: ص ۲۳۸)(دلائل النبوۃ للبیھقي: ۳۴۶/۲)
یہ روایت ضعیف ہے
امام ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اس حدیث کی سند کا ایک راوی نا معلوم ہے ۔ اس کے برعکس صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو طالب کفر کی حالت میں فوت ہوئے ۔ (تاریخ ابن عساکر: ۳۳/۶۶)
امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ھٰذا إسنادمنقطع ۔۔۔۔"الخ ، یہ سند منقطع ہے ۔۔۔۔۔ (تاریخ الاسلام: ۱۵۱/۲)
علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : إن في السند مبھما لا یعرف حاله ، وھو قول عن بعض أھله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد........ و الخبر عندي ما صح لضعف في سندہ" ۔
ترجمہ : اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے ، جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے ، نیز یہ اُس کے بعض اہل کی بات ہے جو کہ نام اور حالات دونوں میں ابہام ہے ۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا ہے ۔۔۔ میرے نزدیک یہ روایت سند کے ضعیف ہونے کی بنا پر صحیح نہیں ۔ (البدایة و النھایة لابن کثیر: ۱۲۳/۳ ۔ ۱۲۵،چشتی)
امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : بسند فیه لم یسم ...... و ھذا الحدیث لو کان طریقه صحیحا لعارضه ھذا الحدیث الذی ھو أصح منه فضلا عن أنه لا یصح ۔
ترجمہ : یہ روایت ایسی سند کے ساتھ مروی ہے جس میں ایک راوی کا نام ہی بیان نہیں کیا گیا .... اس حدیث کی سند اگر صحیح بھی ہو تو یہ اپنے سے زیادہ صحیح حدیث کے معارض ہے ۔ اس کا صحیح نہ ہونا مستزاد ہے ۔ (فتح الباری لابن حجر: ۱۸۴/۷)
امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : في سند ھذا الحدیث مبھم لا یعرف حاله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد ۔
ترجمہ : اس حدیث کی سند میں ایک مبہم راوی ہے جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے ۔ نام اور حالات دونوں مجہول ہیں ۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا ہے ۔ (شرح ابي داؤد للعیني الحنفي: ۱۷۲/۶)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے : مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ ۔
ترجمہ : نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں ۔ (سورہ التوبہ : ١١٣)
جنابِ ابوطالب کا مرتے وقت کلمہ نہ پڑھنا اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے زندہ کافروں اور منافقوں سے ترک تعلق اور محبت نہ رکھنے کا حکم دیا تھا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مردہ کافروں سے بھی اظہار برأت کرنے کا حکم دیا ہے ، اس آیت کے شان نزول میں اختلاف ہے ، صحیح یہ ہے کہ یہ آیت ابوطالب کے متعلق نازل ہوئی ہے جیسا کہ اس صحیح حدیث سے واضح ہوتا ہے : سعید بن مسیب اپنے والد مسیب بن حزن سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابوطالب پر موت کا وقت آیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس تشریف لے گئے ۔ اس وقت اس کے پاس ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بھی تھے ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے چچا لا الہ الا اللہ کہیے ، میں اس کلمہ کی وجہ سے اللہ کے پاس آپ کی سفارش کروں گا ، تو ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ نے کہا اے ابو طالب ! کیا تم عبد المطلب کی ملت سے اعراض کرتے ہو ؟ پس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک مجھے منع نہ کیا جائے میں تمہارے لیے استغفار کرتا رہوں گا ، تب یہ آیت نازل ہوئی ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفر و اللمشرکین ۔ الایہ ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٦٠)(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٤،چشتی)(سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٠٣٥) (مسند احمد ج ٥ ص ٤٣٣)(اسباب النزول للواحدی رقم الحدیث : ٥٣٠)(سیرت ابن اسحاق ج ١ ص ٢٣٨۔ ٢٣٧)
اس حدیث پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ ابو طالب کی موت ہجرت سے تین سال پہلے ہوئی ہے اور سورة التوبہ ان سورتوں میں سے ہے جو مدینہ میں آخر میں نازل ہوئیں ، امام واحدی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت سے استغفار کرتے رہے ہوں حتیٰ کہ مدینہ میں اس سورت کے نازل ہونے تک استغفار کرتے رہے ہوں اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے استغفار ترک کردیا ۔ اس جواب کو اکثر اجلہ علماء نے پسند کیا ہے امام رازی اور علامہ آلوسی اور علامہ ابو حفص دمشقی علیہم الرّحمہ وغیرہم ان میں شامل ہیں ۔ علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اور جواب یہ ذکر کیا ہے کہ سورة توبہ کے مدنی ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس کی اکثر اور غالب آیات مدنی ہیں ، اس لیے اگر یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی ہو تو وہ سورة توبہ کے مدنی ہونے کے منافی نہیں ہے ۔ اس حدیث میں تصریح ہے کہ ابوطالب نے تادم مرگ کلمہ نہیں پڑھا اور اسلام کو قبول نہیں کیا ۔
ابوطالب کے ایمان کے متعلق ایک روایت (جس کے متعلق ہم نے اوپر عرض کر دیا ہے) کا جواب امام ابن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ حسب ذیل روایت بیان کی ہے ، اس سے شیعہ ابوطالب کا ایمان ثابت کرتے ہیں : از عباس بن عبد اللہ بن معبد از بعض اہل خود از ابن اسحق ، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوطالب کی بیماری کے ایام میں اس کے پاس گئے تو آپ نے فرمایا : اے چچا ! لا الہ الا اللہ پڑھئے ، میں اس کی وجہ سے قیامت کے دن آپ کی شفاعت کروں گا۔ ابوطالب نے کہا اے بھتیجے ! اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ میرے بعد تمہیں اور تمہارے اہل بیت کو یہ طعنہ دیا جائے گا کہ میں نے موت کی تکلیف سے گھبرا کر یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں یہ کلمہ پڑھا لیتا اور میں صرف تمہاری خوشنودی کے لیے یہ کلمہ پڑھتا ، جب ابوطالب کی طبیعت زیادہ بگڑی تو اس کے ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھے گئے ، عباس نے ان کا کلام سننے کے لیے اپنے کان ان کے ہونٹوں سے لگائے ، پھر عباس نے اپنا سر اوپر اٹھا کر کہا یا رسول اللہ ! بیشک اللہ کی قسم ! اس نے وہ کلمہ وہ پڑھ لیا ہے جس کا آپ نے ان سے سوال کیا تھا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے نہیں سنا ۔ (سیرت ابن اسحاق ج ١ ص ٢٣٨، مطبوعہ دارالفکر) یہ روایت صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور دیگر احادیث صحیحہ کے خلاف ہے ، نیز یہ اس لیے صحیح نہیں ہے کہ امام ابن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ایک مجہول شخص سے روایت کیا ہے ، ثانیاً جس وقت کی یہ روایت ہے اس وقت حضرت عباس اسلام نہیں لائے تھے ، پھر ان کا یا رسول کہنا کس طرح تسلیم کیا جاسکتا ہے ؟ ثالثاً یہ کہ اس روایت میں خود تصریح ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے نہیں سنا ، رابعاً یہ روایت حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی صحیح روایت کے خلاف ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : اس روایت کی سند منقطع ہے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ جو اس حدیث کے راوی ہیں اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے اور مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ابوطالب کی عاقبت کے متعلق سوال کیا کہ آپ نے ابوطالب کو کیا نفع پہنچایا ، وہ آپ کی موافقت کرتا تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! وہ ٹخنوں تک آگ میں ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے آخری طبقہ میں ہوتا ، اس حدیث کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٨٨٣، ٦٢٠٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٩،چشتی) اور یہ ضعیف روایت اس صحیح حدیث سے تصادم کی قوت نہیں رکھتی ۔ (دلائل النبوۃ ج ٢ ص ٣٤٦)
کچھ لوگ کہتےہیں کہ ابو طالب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح پڑھایا تھا لہذا وہ مسلمان تھا ۔ یہ بات کسی مستند روایت سے ثابت نہیں اور اگر ثابت بھی ہے تو یہ اسلام سے پہلے کا نکاح تھا ، اور اس وقت کے رائج طریقے سے پڑھا گیا اس سے جنابِ ابو طالب کے مسلمان ہونے یا نا ہونے کا کوئی تعلق ہی نہیں بنتا ، کیونکہ جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت پر کلمہ ہی نہیں پڑھا تو ان کے مسلمان ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اللہ عزوجل اہلِ اسلام کو کسی بھی لباس میں چھپے فتنوں اور فتنہ پروروں کے شر سے بچاۓ آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔





No comments:
Post a Comment