سورہ نوح آیت نمبر 28 کی تفسیر ، جس نے کلمہ پڑھا وہ گھر والوں میں سے ہو گیا جہلائے زمانہ کو مدلل جواب
محترم قارئینِ کرام اللہ عزوجل کا فرمان ہے : رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ ۔ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ ۔ (سورہ نوح آیت نمبر 28)
ترجمہ : اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں ہے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کو اور کافروں کو نہ بڑھا مگر تباہی ۔
کفار کے خلاف دعا کرنے کے بعد حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے لیے ، اپنے والدین اور مومن مَردوں اور عورتوں کےلیے دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی : اے میرے رب عزوجل مجھے اور میرے ماں باپ کو اور میرے گھر میں ایمان کی حالت میں داخل ہونے والے کو اور قیامت تک آنے والے سب مسلمان مَردوں اور سب مسلمان عورتوں کو بخش دے اور کافروں کی تباہی میں اضافہ فرما دے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اوران کی قوم کے تمام کفار کو عذاب سے ہلاک کر دیا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا قبول فرما لی لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ انہوں نے جو دعا مسلمانوں کے بارے میں فرمائی اسے اللہ تعالیٰ قبول نہ فرمائے ۔ (تفسیر خازن جلد ۴ صحہ ۳۱۴ - ۳۱۵)(تفسیر مدارک صفحہ ۱۲۸۶)
اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے والدین مومن تھے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انتقال کر جانے والے مسلمانوں کےلیے مغفرت کی دعا کرنی چاہیے کہ اس سے انہیں فائدہ ہو تا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میت قبر میں ڈوبتے ہوئے فریادی کی طرح ہی ہوتی ہے کہ ماں ، باپ ، بھائی یا دوست کی دعائے خیر پہنچنے کی منتظر رہتی ہے ، پھر جب اسے دعا پہنچ جاتی ہے تو اسے یہ دعا دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے زیادہ پیاری ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ زمین والوں کی دعا سے قبر والوں کو پہاڑوں کی مانند ثواب دیتا ہے اور یقیناً زندہ کا مُردوں کےلیے تحفہ ان کےلیے دعائے مغفرت ہے ۔ (شعب الایمان الرابع والستون من شعب الایمان ۔۔۔ الخ، فصل فی زیارۃ القبور جلد ۷ صفحہ ۱۶ حدیث نمبر ۹۲۹۵)
سورہ نوح آیت نمبر 28 کی تفسیر کرتے ہوئے اس عاجز کے دوست حضرت علامہ پیر سید زین العابدین شاہ کرمانی صاحب نے مفہوماً کہا کہ جو کلمہ پڑھ کر میرے گھر کا فرد بن گیا ۔ اس سے مراد ان کی یہی کہ یہاں بیتی کنایہ ہے اصل مراد دین ہے ۔ یعنی بیت بمعنی دین ہے ۔ جیسے گھر والے قریبی نسبی اعتبار سے کہلاتے ہین ویسے تمام اہل ایمان امتی گھر والے ایمان کی اعتبار سے فرد بن جاتے ہیں ۔ اس پر کچھ جہلا نے اودھم مچا رکھا ہے ۔ اس کا جواب پیشِ خدمت ہے : ⏬
امام المتکلمین شارح و مفسر امام ابو منصور ماتریدی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 333هـ) نے مذکورہ ایت کے تعلق سے بیتی کے معنی مین متعدد معنی و اختلاف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ﺛﻢ ﻗﻮﻟﻪ : (ﺑﻴﺘﻲ) ﻗﺎﻝ ﺑﻌﻀﻬﻢ: ﺃﻱ : ﻓﻲ ﺳﻔﻴﻨﺘﻲ ۔ ﻭﻗﺎﻝ ﺑﻌﻀﻬﻢ : (ﻓﻲ ﺑﻴﺘﻲ) ﺃﻱ : ﻓﻲ ﺩﻳﻨﻲ ، ﻓﻴﻜﻮﻥ اﻟﺒﻴﺖ ﻛﻨﺎﻳﺔ ﻋﻦ اﻟﺪﻳﻦ ۔ ﻭﻗﺎﻝ ﺑﻌﻀﻬﻢ: ﺇﻧﻤﺎ ﻫﻮ ﺑﻴﺘﻪ اﻟﺬﻱ ﻳﺴﻜﻦ ﻓﻴﻪ؛ ﻟﻤﺎ ﺃﻃﻠﻌﻪ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﺃﻥ ﻣﻦ ﺩﺧﻞ ﺑﻴﺘﻪ ﻣﺆﻣﻨﺎ ﻻ ﻳﻌﻮﺩ ﺇﻟﻰ اﻟﻜﻔﺮ ۔ پھر اس فرمان (بَيْتِي) (میرے گھر) کے بارے میں : بعض مفسرین نے کہا : اس سے مراد میری کشتی ہے ۔ بعض نے کہا : (في بيتي) سے مراد میرے دین میں ہے ، لہٰذا یہاں گھر کو دین کےلیے بطور کنایہ استعمال کیا گیا ہے ۔ (یعنی جیسے گھر والے نسبی قرابت دار و آل ہوتے ہیں ویسے امتی دینی قرابت دار و آل ہوتے ہیں) ۔اور بعض نے کہا : اس سے مراد واقعی وہی گھر ہے جس میں وہ سکونت پذیر تھے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ بتلا دیا تھا کہ جو بھی ان کے گھر میں ایمان کے ساتھ داخل ہوگا وہ کبھی کفر کی طرف واپس نہیں لوٹے گا ۔ (تفسیر الماتریدی الجزء العاشر صفحہ 236 ، 237 مطبوعہ دارالکتب العلیہ بیروت لبنان،چشتی)
امام المتکلمین و مفسر امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اختلاف نہ صرف بیتی سے مراد دین لیا بلکہ اس پر اعتراض کا جواب دے کر اس موقف کا دفاع بھی کیا آپ لکھتے ہیں : ثم ﻗﺎﻝ ﺗﻌﺎﻟﻰ : ﻭﻟﻤﻦ ﺩﺧﻞ ﺑﻴﺘﻲ ﻣﺆﻣﻨﺎ ﻗﻴﻞ : ﻣﺴﺠﺪﻱ ، ﻭﻗﻴﻞ : ﺳﻔﻴﻨﺘﻲ ، ﻭﻗﻴﻞ : ﻟﻤﻦ ﺩﺧﻞ ﻓﻲ ﺩﻳﻨﻲ ، ﻓﺈﻥ ﻗﻴﻞ : ﻓﻌﻠﻰ ﻫﺬا اﻟﺘﻔﺴﻴﺮ ﻳﺼﻴﺮ ﻗﻮﻟﻪ : ﻣﺆﻣﻨﺎ ﻣﻜﺮﺭا ، ﻗﻠﻨﺎ : ﺇﻥ ﻣﻦ ﺩﺧﻞ ﻓﻲ ﺩﻳﻨﻪ ﻇﺎﻫﺮا ﻗﺪ ﻳﻜﻮﻥ ﻣﺆﻣﻨﺎ ﺑﻘﻠﺒﻪ ﻭﻗﺪ ﻻ ﻳﻜﻮﻥ، ﻭاﻟﻤﻌﻨﻰ ﻭﻟﻤﻦ ﺩﺧﻞ ﻓﻲ ﺩﻳﻨﻲ ﺩﺧﻮﻻ ﻣﻊ ﺗﺼﺪﻳﻖ اﻟﻘﻠﺐ ۔
ترجمہ : پھر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِي مُؤْمِنًا ، اور جو میرے گھر میں ایمان کے ساتھ داخل ہوا ۔ اس کے بارے میں مختلف آراء ہیں : کسی نے کہا : اس سے مراد میری مسجد ہے ۔ کسی نے کہا : مراد میری کشتی ہے ۔ اور کسی نے کہا : مراد جو میرے دین میں داخل ہوا ہے ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ : اس آخری تفسیر (دین میں داخل ہونے) کی رو سے تو لفظ ، مؤمنًا ، (مومن ہو کر) کا ذکر تکرار بن جاتا ہے ؟ تو ہم اس کا جواب یہ دیں گے کہ : جو شخص ظاہری طور پر دین میں داخل ہوتا ہے ، وہ بسا اوقات دل سے (حقیقتاً) مومن ہوتا ہے اور بعض اوقات دل سے مومن نہیں بھی ہوتا (یعنی منافق ہو سکتا ہے) ۔ لہٰذا یہاں معنی یہ ہے : اور جو میرے دین میں دل کی تصدیق کے ساتھ داخل ہوا ہو ۔ (تفسیر الکبیر الجزء الثلاثون صفحہ 147 مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان،چشتی)
امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی بیتی سے مراد دین کی تفسیر نہ صرف نقل کر رہے ہیں بلکہ وارد اعتراض کا جواب بھی دیا ۔ اور مفسرین کا یہ کہنا کہ بیتی کنایہ کے طور پر ہے یہی اس بات کی دلیل ہے کہ جیسے گھر والے قرابت دار ہوتے ہیں نسبی ویسے امتی دینی قرابت دار ہوتے ہیں ۔
امام ابو حیان اندلسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ﻭﻟﻤﻦ ﺩﺧﻞ ﺑﻴﺘﻲ ، ﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻭاﻟﺠﻤﻬﻮﺭ : ﻣﺴﺠﺪﻱ ﻭﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺃﻳﻀﺎً : ﺷﺮﻳﻌﺘﻲ ، اﺳﺘﻌﺎﺭ ﻟﻬﺎ ﺑﻴﺘﺎ ، ﻛﻤﺎ ﻗﺎﻟﻮا : ﻗﺒﺔ اﻹﺳﻼﻡ ﻭﻓﺴﻄﺎﻃﻪ ۔ ﻭﻗﻴﻞ : ﺳﻔﻴﻨﺘﻪ ۔ ﻭﻗﻴﻞ : ﺩاﺭﻩ ۔
ترجمہ : اور (اللہ کا یہ فرمان) اور جو میرے گھر میں داخل ہوا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور جمہور (علماء) علیہم الرحمہ نے کہا : اس سے مراد ، میری مسجد ، ہے ۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی منقول ہے : میری شریعت ، (یعنی) انہوں نے شریعت کےلیے گھر کا لفظ بطور استعارہ استعمال کیا ، جیسا کہ لوگ کہتے ہیں : قبۃ الاسلام اور فسطاطہ (اسلام کا خیمہ و سایہ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس سے مراد ، ان کی کشتی ، ہے ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ان کا گھر (دار) ۔ (التفسير البحر المحيط جلد 8 صفحہ 337 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان،چشتی)
امام ابو حیان اندلسی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی بطور کنایہ و استعارہ دین کو گھر سے تعبیر کرنے کا قول بھی نقل کیا ہے ۔ اور وجہ استعارہ یہی ہے حضرت علامہ پیر سید زین العابدین شاہ کرمانی صاحب نے بیان کیا ہے ۔
امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس آیت کا بیتی سے مراد دین نقل کیا ہے : ﻭﻟﻤﻦ ﺩﺧﻞ ﺑﻴﺘﻲ ﻣﺆﻣﻨﺎ : ﻭﻫﺬا ﻗﻮﻝ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ : ﺑﻴﺘﻲ ﻣﺴﺠﺪﻱ ، ﺣﻜﺎﻩ اﻟﺜﻌﻠﺒﻲ ﻭﻗﺎﻟﻪ اﻟﻀﺤﺎﻙ ۔ ﻭﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺃﻳﻀﺎً : ﺃﻱ ﻭﻟﻤﻦ ﺩﺧﻞ ﺩﻳﻨﻲ ، ﻓﺎﻟﺒﻴﺖ ﺑﻤﻌﻨﻰ اﻟﺪﻳﻦ ، ﺣﻜﺎﻩ اﻟﻘﺸﻴﺮﻱ ﻭﻗﺎﻟﻪ ﺟﻮﻳﺒﺮ ۔ ﻭﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺃﻳﻀﺎً : ﻳﻌﻨﻲ ﺻﺪﻳﻘﻲ اﻟﺪاﺧﻞ ﺇﻟﻰ ﻣﻨﺰﻟﻲ ، ﺣﻜﺎﻩ اﻟﻤﺎﻭﺭﺩﻱ ۔
ترجمہ : اور جو میرے گھر میں ایمان کے ساتھ داخل ہوا ۔ اور یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے : میرے گھر سے مراد میری مسجد ہے ، اسے ثعلبی نے بیان کیا ہے اور ضحاک علیہما الرحمہ نے بھی یہی کہا ہے ۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے یہ بھی منقول ہے : یعنی جو میرے دین میں داخل ہوا ، تو یہاں ، بیت ، گھر دین کے معنی میں ہے ، اسے قشیری رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے اور جویبر نے بھی یہی کہا ہے ۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے یہ بھی منقول ہے : یعنی میرا وہ دوست جو میرے گھر میں داخل ہوا ، اسے ماوردی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے ۔ (الجامع الاحکام القرآ الجزء الحادی والعشرون صفحہ 270 ، 271 مطبوعہ موسسة الرسالة،چشتی)
اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر کے سلسلے میں تفاسیر میں یہ بھی موجود ہے کہ اس سے مراد وہ ہے کہ جو شریعت میں داخل ہو جائے یعنی لفظ گھر سے شریعت مراد ہے ، تو تفسیری طور جو شریعت میں داخل ہو جائے وہ نبی علیہ السلام کے گھرانے کا فرد ہے یعنی اہلبیت ہے ۔ اور جہلاءِ زمانہ نے جو اعتراض کیا ہے کہ اگر شریعت مراد ہے تو پھر آگے آیت میں ہے کہ مومنین اور مومنات کے لیے بھی بخشش ہو تو جب شریعت کا ذکر ہو گیا اس میں مومنین اور مومنات اگئے تو پھر دوبارہ مومنین مومنات لکھنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اس کا بھی جواب پڑھتے جائیے کہ بیت سے مراد سیدنا نوح علیہ السلام کی شریعت مراد ہے یعنی آیت کا یہ معنی بنے گا کہ سیدنا نوح علیہ السلام دعا فرما رہے ہیں کہ یا اللہ میرے والدین کی بخشش فرما اور جو میری امت میں داخل ہو کر میرا اہلبیت ہو جائے اسے بھی بخش دے ۔ اب آگے مومنین مومنات کا ذکر اس طرح ہے کہ میری امت کے مومنین کے علاوہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی جو امتیں مومنین ہیں ان کی بھی بخشش فرما ۔ لہٰذا جہلاءِ زمانہ کا اعتراض ختم ہو گیا کہ جہلاءِ زمانہ کہتے ہیں کہ اگر اہلبیت مراد لیا جائے تو مومنین مومنات کہنا بےمعنی کہلائے گا ، اعتراض اس طرح ختم ہوا کہ یہاں پر انتہائی جامع آیت ہے کہ والدین کی بخشش فرما اور تمام اہلبیت امت کی بخشش فرما اور پھر دیگر امتوں کےلیے بھی دعا کی کہ ان امتوں کے مومنین مومنات کی بھی بخشش فرما ۔
امام واحدی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 468 ھجری حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے تفسیر لکھتے ہیں : روى عطاء عن ابن عباس : يريد من دخل بيتي ، أي في ديني مؤمنًا ۔ وقوله : وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ۔ عام في كل من آمن بالله وصدق الرسل ۔
ترجمہ : حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حضرت عطا رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے کہ ایت میں گھر سے مراد دین ہے یعنی جو میرے دین میں داخل ہو جائے ۔ اور اگے جو آیت ہے کہ مومنین اور مومنات کی بخشش فرما تو یہ عام ہے کہ تمام دیگر رسولوں پر جو ایمان لائے اس کی بھی بخشش فرما ۔ (التفسير البسيط الواحدی جلد 22 صفحہ 275 مطبوعہ دارالمصور العربی سکندریہ مصر)
امام ابی حفص رحمۃ اللہ علیہ متوفی 880 ھجری حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے تفسیر لکھتے ہیں : وقال ابن عباس : أي : دخل في ديني ۔ فإن قيل : فعلى هذا يصير قوله : مُؤمِنًا ، مكررًا ۔ فالجواب : إنَّ من دخل في دينه ظاهرًا قد يكون مُؤمنًا ، وقد لا يكون مؤمنًا ، فالمعنى : ولمن دخل دخولًا مع تصديق القلبِ ۔
ترجمہ : حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ بیت سے مراد گھر ہے یعنی جو میرے گھر میں داخل ہو جائے تو وہ میرے اہلبیت میں شمار ہے ، اس تفسیر کو مراد لیا جائے تو بظاہر لفظ مومنا سے تکرار لازم آ رہا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک دین میں دو قسم کے لوگ داخل ہوتے ہیں ایک وہ کہ جو ایمان والے ہو کر داخل ہوتے ہیں اور ایک وہ ہوتے ہیں کہ جو ایمان والے نہ ہو کر منافق ہو کر داخل ہوتے ہیں تو یہاں پر مومنا تکرار نہیں بلکہ وضاحت ہے کہ جو میرے گھر میں ایمان والا ہو گا اور داخل ہو جائے تو وہ میرے اہلبیت میں ہے ۔ (تفسیر اللباب في علوم الكتاب جلد 19 صفحہ 402 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر لکھتے ہیں : وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا: أَيْ وَلِمَنْ دَخَلَ دِينِي، فَالْبَيْتُ بِمَعْنَى الدِّينِ، حَكَاهُ الْقُشَيْرِيُّ وَقَالَهُ جُوَيْبِرٌ ۔
سیدنا ابن عباس سے بھی یہ تفسیر مروی ہے کہ جو میرے گھر میں داخل ہو سے مراد جو میرے دین میں داخل ہو ۔تو لفظ بیت یہاں دین کے معنی میں ہے اس کو امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے اور یہی بات امام جویبر نے بھی فرمائی ہے ۔ (تفسير القرطبي 18/314)
امام ابو منصور رحمۃ اللہ علیہ تفسیر لکھتے ہیں : وقَالَ بَعْضُهُمْ: (في بيتي) أي: في ديني؛ فيكون البيت كناية عن الدِّين ۔
امام ابو منصور رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض کے مطابق ایت میں بیت سے مراد دین ہے، (اور امام ابو منصور اس تفسیر کی تائید کرتے ہوئے دلیل دیتے ہیں کہ) بیت سے کنایتا دین مراد ہے(اور اس طرح کے کنائے قران و حدیث میں کئی جگہ پر موجود ہیں بلکہ یہ وہ جامع کنایہ ہے جو حقیقت کو بھی جامع ہے اور قران و حدیث کے جامع وسیع معنی مراد ہوتے ہیں جیسے کہ نیچے حوالہ جات لکھیں گے) ۔ (تفسير الماتريدي10/236)
امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 604 ھجری نے تو جہلاءِ زمانہ کے تمام اعتراضات کا جواب دے دیا لکھتے ہیں : وَقِيلَ : وَلِمَنْ دَخَلَ فِي دِينِي ، فَإِنْ قِيلَ : فَعَلَى هَذَا التَّفْسِيرِ يَصِيرُ قَوْلُهُ : مُؤْمِنًا مُكَرَّرًا ، قُلْنَا: إِنَّ مَنْ دَخَلَ فِي دِينِهِ ظَاهِرًا قَدْ يَكُونُ مُؤْمِنًا بِقَلْبِهِ وَقَدْ لَا يَكُونُ ، وَالْمَعْنَى وَلِمَنْ دَخَلَ فِي دِينِي دُخُولًا مَعَ تَصْدِيقِ الْقَلْبِ ۔ ثُمَّ قَالَ تَعَالَى : وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِناتِ إِنَّمَا خَصَّ نَفْسَهُ أَوَّلًا بِالدُّعَاءِ ثُمَّ الْمُتَّصِلِينَ بِهِ لِأَنَّهُمْ أَوْلَى وَأَحَقُّ بِدُعَائِهِ ثُمَّ عَمَّ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ۔
ترجمہ : ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ جو میرے دین میں داخل ہو جائے تو وہ میرے اہلبیت میں شمار ہے ، اگر اعتراض کیا جائے کہ اگر یہ تفسیر درست ہے تو پھر لفظ مومن سے تکرار لازم ائے گا تو امام رازی اس کا جواب دیتے ہیں کہ دین میں کوئی داخل ایمان کے ساتھ ہوتا ہے اور کوئی ایمان کے بغیر منافقتا داخل ہوتا ہے تو یہاں لفظ مومن نے وضاحت کر دی کہ میرے اہلبیت میں وہ شمار ہوگا کہ جو میری شریعت میں داخل ہوگا ایمان والا ہو کر ۔ پھر اگے مومنین مومنات کا پھر تذکرہ ہے تو یہ بھی تکرار نہیں کیونکہ حضرت سیدنا نوح علیہ السلام نے سب سے پہلے اپنے لیے دعا کی پھر اپنے متصل کےلیے دعا کی کیونکہ وہ اولی ہیں احق ہیں پھر (جب حضرت سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنے لیے دعا کی پھر والدین کےلیے دعا کی پھر اپنی شریعت کے مومنین کےلیے دعا کی تو پھر) اس کے بعد دیگر تمام مومنین مومنات یعنی دیگر امتوں کے مومنین مومنات سب کے لیے دعا کر دی لہذا کوئی تکرار نہیں
(تفسير الرازی جلد 30 صفحہ 147 مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان)
امام سید محمود آلوسی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : وفي رواية عن الحبر أنه أراد شريعته استعار لها اسم
البيت ۔
ترجمہ : امام سید محمود آلوسی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حبر الامہ یعنی حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہاں بیت سے مراد شریعت ہے اور شریعت کے لیے لفظ بیت استعارہ استعمال ہوا ہے(یہ وہ جامع استعارہ ہے جو حقیقت کو بھی جامع ہے اور قران و حدیث کے جامع وسیع معنی مراد ہوتے ہیں جیسے کہ نیچے حوالہ جات لکھیں گے) ۔ (تفسير روح المعانی جلد 15 صفحہ 89)
امام ماوردی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک تفسیر یہ بھی کی کہ : الثالث : من دخل في ديني ، تیسری تفسیر یہ ہے کہ بیت سے مراد دین ہے ۔ (تفسير الماوردی النكت والعيون جلد 6 صفحہ 106)
تفسیر سمرقندی میں ہے : ثم قال عز وجل : رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا يعني : سفينتي و ديني ، آیت میں جو ہے کہ جو میرے گھر میں داخل ہو ایمان کی حالت میں ۔ تو گھر سے کشتی اور دین مراد ہے ۔ (تفسير السمرقندي بحر العلوم جلد 2 صفحہ 502،چشتی)
تفسیر التیسیر میں ہے : وقال الكلبيُّ: أي: أمَّة محمَّد ﷺ ، اس ایت میں جو اگے ہے کہ امت نوح کی بخشش فرما اور پھر فرمایا کہ مومنین مومنات کی بخشش فرما تو ان مومنین مومنات سے مراد امت محمدیہ ہے ۔ (التيسير في التفسير - أبو حفص النسفي جلد 15 صفحہ 35)
تفسیر سمعانی میں ہے : وَلِلْمُؤْمنِينَ ، أَي : لكل الْمُؤمنِينَ وَالْمُؤْمِنَات إِلَى يَوْم الْقِيَامَة ۔ آیت میں جو امت نوح کی بخشش کے بعد مومنین مومنات لفظ ہے اس سے مراد تمام مومنین مومنات ہیں جو قیامت تک ائیں گے ۔ (تفسير السمعاني أبو المظفر السمعاني جلد 6 صفحہ 61)
تفسیر الحداد میں ہے : وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِناتِ ، عامّ في كلّ من آمن وصدّق الرّسل ۔ آیت میں جو امت نوح کی بخشش کے بعد مومنین مومنات کا لفظ ہے یہ عام ہے ہر اس شخص کے بارے میں جو رسولوں پر ایمان لے ائے ۔ (تفسير الحداد المطبوع خطأ باسم التفسير الكبير للطبراني ، أبو بكر الحداد جلد 6 صفحہ 359،چشتی)
تفسیر مدارک میں ہے : أولًا من يتصل به لأنهم أولى وأحق بدعائه ثم عم المؤمنين والمؤمنات ، سیدنا نوح علیہ السلام نے دعا فرمائی پہلے ان کے متعلق کہ جو ان کے متصل ہیں یعنی اہل بیت کہ وہ اولی اور احق ہیں پھر سیدنا نوح علیہ السلام نے عمومی طور پر دیگر تمام مومنین مومنات کے لیے دعا فرمائی ۔ (تفسير النسفي مدارك التنزيل وحقائق التأويل جلد 3 صفحہ 547)
تفسیر واحدی میں ہے : وللمؤمنين والمؤمنات عام في كل من آمن بالله تعالى، وصدق بالرسل ، سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی امت کے بارے میں دعا کرنے کے بعد جو مومنین مومنات فرمایا اس سے مراد ہر وہ مومن ہے کہ جو رسولوں پر ایمان لے آئے ۔ (التفسير الوسيط للواحدی الواحدی جلد 4 صفحہ 360)
تفسیر بغوی میں ہے : وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ هَذَا عَامٌّ فِي كُلِّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَصَدَّقَ الرُّسُلَ ، سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی امت پر دعا کے بعد جو دعا فرمائی اس میں مومنین مومنات سے مراد عام ہے کہ جو بھی تمام رسولوں پر ایمان لائے اور اللہ پر ایمان لائے ۔ (تفسير البغوی جلد 8 صفحہ 234)
ثابت ہوا کہ گھر یعنی بیت کو بمعنی دین کرنا درست ہے اور یہی حضرت علامہ پیر سید زین العابدین شاہ کرمانی صاحب کی مراد تھی جس نے کلمہ پڑھا وہ گھر والوں میں سے ہو گیا یعنی جیسے گھر والے نسبی قرابت دار ہیں ویسے امتی ایمانی طور پر قرابت دار ہیں ۔ اس لیے ائمہ علیہم الرحمہ نے بیتی کو بطور استعارہ دین بتایا ۔ اس میں کوئی ایسا اعتراض نہیں بنتا تھا جس پر جہلا شور مچا رہے ہیں اللہ عزوجل بغض و ادھے تعصب سے بچاۓ آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔









No comments:
Post a Comment