حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر شراب پینے کے الزام کا مدلل جواب
محترم قارئینِ کرام : رافضیوں اور اور تفضیلی رافضیوں کی طرف سے اعتراض کیا جاتا ہے کہ : معاویه شرابی تھا اور صحابہ کو بھی اپنے ساتھ پلانا چاہتا تھا احمد نے اپنی مسند میں با سند صحیح روایت کیا ہے ۔ (ﻣﺴﻨﺪ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﺎﻗﻲ ﻣﺴﻨﺪ ﺍﻷﻧﺼﺎﺭ ﺣﺪﻳﺚ ﺑﺮﻳﺪﺓ ﺍﻷﺳﻠﻤﻲ 22432 ﺣﺪﺛﻨﺎ : ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺒﺎﺏ ، ﺣﺪﺛﻨﻲ : ﺣﺴﻴﻦ ، ﺣﺪﺛﻨﺎ : ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺑﺮﻳﺪﺓ ﻗﺎﻝ : ﺩﺧﻠﺖ ﺃﻧﺎ ﻭﺃﺑﻲ ﻋﻠﻰ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﻓﺄﺟﻠﺴﻨﺎ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﻔﺮﺵ ﺛﻢ ﺃﺗﻴﻨﺎ ﺑﺎﻟﻄﻌﺎﻡ ﻓﺄﻛﻠﻨﺎ ، ﺛﻢ ﺃﺗﻴﻨﺎ ﺑﺎﻟﺸﺮﺍﺏ ﻓﺸﺮﺏ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ، ﺛﻢ ﻧﺎﻭﻝ ﺃﺑﻲ ، ﺛﻢ ﻗﺎﻝ : ﻣﺎ ﺷﺮﺑﺘﻪ ﻣﻨﺬ ﺣﺮﻣﻪ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) ، ﻗﺎﻝ : ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﻛﻨﺖ ﺃﺟﻤﻞ ﺷﺒﺎﺏ ﻗﺮﻳﺶ ﻭﺃﺟﻮﺩﻩ ﺛﻐﺮﺍً ﻭﻣﺎ ﺷﻲﺀ ﻛﻨﺖ ﺃﺟﺪ ﻟﻪ ﻟﺬﺓ ﻛﻤﺎ ﻛﻨﺖ ﺃﺟﺪﻩ ﻭﺃﻧﺎ ﺷﺎﺏ ﻏﻴﺮ ﺍﻟﻠﺒﻦ ﺃﻭﺇﻧﺴﺎﻥ ﺣﺴﻦ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﻳﺤﺪﺛﻨﻲ .
اس اعتراض کا جواب : سب سے پہلے یہ روایت مع تخریج ملاحظہ ہو : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَجْلَسَنَا عَلَى الْفُرُشِ، ثُمَّ أُتِينَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ " أُتِينَا بِالشَّرَابِ فَشَرِبَ مُعَاوِيَةُ، ثُمَّ نَاوَلَ أَبِي، ثُمَّ قَالَ: مَا شَرِبْتُهُ مُنْذُ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ثُمَّ قَالَ مُعَاوِيَةُ: كُنْتُ أَجْمَلَ شَبَابِ قُرَيْشٍ وَأَجْوَدَهُ ثَغْرًا، وَمَا شَيْءٌ كُنْتُ أَجِدُ لَهُ لَذَّةً كَمَا كُنْتُ أَجِدُهُ وَأَنَا شَابٌّ غَيْرُ اللَّبَنِ، أَوْ إِنْسَانٍ حَسَنِ الْحَدِيثِ يُحَدِّثُنِي ۔ (مسند أحمد ط الرسالة 38/ 26 واخرجہ ایضا أبو زرعة الدمشقي في تاريخه١/ ١٠٢، وعنہ ابن عساكر٢٧/١٢٧من طريق احمدبہ)
ترجمہ : صحابی رسول عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اورمیرے والد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمیں بسترپربٹھایا ، پھر ہمارے سامنے کھانا حاضر کیا جسے ہم نے کھایا ، پھرمشروب لائے جسے معاویہ رضی اللہ عنہ نے پیا اورپھر میرے والد کو پیش کیا ، اوراس کے بعد کہا : میں نے آج تک اسے نہیں پیا جب سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قراردیا ، اس کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں قریش کے نوجوانوں میں سب سے خوبصورت تھا اورسب سے عمدہ دانتوں والا تھا ، جوانی میں مجھے دودھ یا اچھی باتیں کرنے والے انسان کے علاوہ اس سے بڑھ کر کسی اور چیز میں لذت نہیں محسوس ہوتی تھی ۔
مذکورہ روایت ان الفاظ کے ساتھ منکر و ضعیف ہے کیونکہ اس کے راوی زیدبن حباب صدوق و حسن الحدیث ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب اوہام واخطاء تھے جیسا کہ متعدد محدثین نے صراحت کی ہے ، مثلا امام احمد رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : كَانَ رجل صَالح مَا نفذ فِي الحَدِيث إِلَّا بالصلاح لِأَنَّهُ كَانَ كثير الْخَطَأ قلت لَهُ من هُوَ قَالَ زيد بن الْحباب[العلل ومعرفة الرجال لأحمد رواية ابنه عبد الله 2/ 96]
امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى275) نقل کرتے ہیں : سمعت أحمد قال زيد بن الحباب كان صدوقا وكان يضبط الألفاظ عن معاوية بن صالح ولكن كان كثير الخطأ ۔ [سؤالات أبي داود لأحمد ص: 319،چشتی]
معلوم ہوا کہ زید بن حباب کے صدوق و حسن الحدیث ہونے کے باوجود بھی ان سے اوہام و اخطاء کا صدور ہوتا تھا ، لہذا عام حالات میں ان کی مرویات حسن ہوں گی لیکن اگرکسی خاص روایت کے بارے میں محدثین کی صراحت یا قرائن وشواہد مل جائیں کہ یہاں موصوف سے چوک ہوئی ہے تو وہ خاص روایت ضعیف ہوگی ۔ اور مذکورہ روایت کا بھی یہی حال ہے کیونکہ زید بن حباب نے ابن ابی شیبہ سے اسی روایت کو اس طرح بیان کیا ہے : امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى 235) نے کہا : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَأَجْلَسَ أَبِي عَلَى السَّرِيرِ وَأَتَى بِالطَّعَامِ فَأَطْعَمَنَا، وَأَتَى بِشَرَابٍ فَشَرِبَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: «مَا شَيْءٌ كُنْتُ أَسْتَلِذُّهُ وَأَنَا شَابٌّ فَآخُذُهُ الْيَوْمَ إِلَّا اللَّبَنَ، فَإِنِّي آخُذُهُ كَمَا كُنْتُ آخُذُهُ قَبْلَ الْيَوْمِ وَالْحَدِيثُ الْحَسَنُ ۔ [مصنف ابن أبي شيبة: 6/ 188،چشتی]
ترجمہ : صحابی رسول عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اورمیرے والد امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمیں چارپائی پربٹھایا ، پھرہمارے سامنے کھانا لائے جسے ہم نے کھایا ، پھرمشروب لائے جسے معاویہ رضی اللہ عنہ نے پیا ، اس کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جوانی میں مجھے دودھ یا اچھی باتوں کے علاوہ اس سے بڑھ کر کسی اور چیز میں لذت نہیں محسوس ہوتی تھی،اورآج بھی میرا یہی حال ہے ۔
غورکریں یہ روایت بھی ’’زید بن حباب ‘‘ ہی کی بیان کردہ ہے لیکن اس میں وہ منکرجملہ قطعا نہیں ہے جو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں ہے ، معلوم ہوا کہ زیدبن حباب نے کبھی اس روایت کو صحیح طورسے بیان کیا ہے جیسا کہ ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے ، اورکبھی ان سے چوک ہوگئی ہے جیساکہ مسند احمد کی روایت میں ہے ۔ اورچونکہ مسنداحمد کی روایت میں ایک بے جوڑ اوربے موقع ومحل جملہ ہے اس لئے یہی روایت منکرقرار پائے گی ۔
چنانچہ امام ہیثمی رحمہ اللہ نے بھی جب اس روایت کومجمع الزوائدمیں درج کیا تو منکرجملہ کو چھوڑدیا، امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807) نے لکھا:عن عبد الله بن بريدة قال: دخلت مع أبي على معاوية فأجلسنا على الفراش ثم أتينا بالطعام فأكلنا ثم أتينا بالشراب فشرب معاوية ثم ناول أبي ثم قال معاوية: كنت أجمل شباب قريش وأجوده ثغراً وما من شيء أجد له لذة كما كنت أجده وأنا شاب غير اللبن وإنسان حسن الحديث يحدثني.رواه أحمد ورجاله رجال الصحيح وفي كلام معاوية شيء تركته، [مجمع الزوائد للهيثمي: 5/ 55]۔
فائدہ : اس روایت کی تخریج کرنے والے امام احمدرحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو منکرقراردیاہے،چنانچہ:امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:حسين بن واقد , له أشياء مناكير. [سؤالات المیمونی:444،چشتی]۔
ایک اورموقع پرکہا : ما أنكر حديث حسين بن واقد وأبي المنيب عن بن بريدة [العلل ومعرفة الرجال 1/ 301]۔
نیز فرمایا:عبد الله بن بريدة الذي روى عنه حسين بن واقد ما أنكرها وأبو المنيب أيضا يقولون كأنها من قبل هؤلاء [العلل ومعرفة الرجال 2/ 22]۔
عرض ہے کہ حسین بن واقد ثقہ راوی ہیں اوران کی مذکورہ روایت ابن ابی شیبہ کے یہاں جن الفاظ میں ہے اس میں کوئی نکارت نہیں ہے لہٰذا وہ روایت صحیح ہے جب کہ مسند احمد کی زیربحث روایت ضعیف ہے کیونکہ اسے امام احمدنے روایت کیا ہے اورآپ نے حسین بن واقد کی مرویات کو منکرقراردیاہے ۔
ہمارے نزدیک راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ زیربحث روایت میں نکارت کا ذمہ دار حسین بن واقد نہیں بلکہ زید بن الحباب ہے کما مضٰی ۔
متن روایت کا مفہوم : ⏬
اس حدیث کے منکر و ضعیف ہونے کے باوجود بھی گرچہ اس میں ایک بے جوڑ اور بے موقع و محل جملہ ہے، پھربھی اس جملہ سے امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کا شراب پینا قطعا ثابت نہیں ہوتا ۔ واضح رہے کہ معترضین نے زیربحث روایت کا جو ترجمہ پیش کرتے ہیں وہ قطعا درست نہیں ، اس میں درج ذیل غلطیاں ہیں : ⏬
پہلی غلطی : متن حدیث میں مذکور ’’شراب‘‘ کا ترجمہ اردو والے شراب سے کرنا غلط ہے کیونکہ اردو میں جسے شراب کہتے ہیں اس کے لئے عربی میں ’’خمر‘‘ کالفظ استعمال ہوتا ہے۔صحیح بات یہ ہے کہ ’’شراب‘‘ کا ترجمہ ’’مشروب‘‘ سے کیا جائے یعنی پینے کی کوئی چیز ۔
دوسری غلطی : متن کا یہ جملہ ’’جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے، میں نے اسے نہیں پیا‘‘ صحابی رسول بریدہ رضی اللہ عنہ کا مقولہ نہیں ہے جیساکہ سائل کے پیش کردہ ترجمہ میں ہے بلکہ یہ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کا مقولہ ہے جیساکہ سیاق سے صاف ظاہر ہے ۔
ان دونوں غلطیوں کی اصلاح کے بعد حدیث مذکور کا صحیح ترجمہ اس طرح ہوگا : صحابی رسول عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اورمیرے والد امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمیں بسترپربٹھایا ، پھرہمارے سامنے کھاناحاضرکیا جسے ہم نے کھایا ، پھرمشروب لائے جسے معاویہ رضی اللہ عنہ نے پیا اورپھر میرے والد کو پیش کیا ، اوراس کے بعد کہا : میں نے آج تک اسے نہیں پیا جب سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قراردیا ، اس کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں قریش کے نوجوانوں میں سب سے خوبصورت تھا اورسب سے عمدہ دانتوں والا تھا ، جوانی میں مجھے دودھ یا اچھی باتیں کرنے والے انسان کے علاوہ اس سے بڑھ کر کسی اور چیز میں لذت نہیں محسوس ہوتی تھی ۔
مشروب یعنی پینے والی چیز کیا تھی ؟ : ⏬
مذکورہ روایت میں ’’شراب‘‘ سے مراد کوئی حلال مشروب یعنی پینے والی چیز تھی اس سے اردو والا شراب یعنی ’’خمر‘‘ مراد لینا کسی بھی صورت میں درست نہیں ، نہ سیاق وسباق کے لحاظ سے اس کی گنجائش ہے اورنہ ہی امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سے اس کی امید ہے ۔
بلکہ اردو والا شراب یعنی ’’خمر‘‘ مراد لینے سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بریدہ رضی اللہ عنہ پربھی حرف آتا ہے کہ انہوں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہا تھوں ایسے مشروب کو کیوں لیا جو حرام تھا ، بلکہ ایسے دسترخوان پر بیٹھنا بھی کیونکرگوارا کیا جس پرشراب (خمر) کا دور چلتاہو، کیونکہ ایسے دسترخوان پربیٹھنا کسی عام مسلمان کے شایان شان نہیں چہ جائے کہ ایک صحابی اسے گوارکریں ۔
مزیدیہ کہ ایسے دسترخوان پربیٹھنے کی ممانعت بھی واردہوئی ہے اس سلسلے کی مرفوع حدیث (ترمذی2801 وغیرہ) گرچہ ضعیف ہے لیکن خلیفہ دوم عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے موقوفا یہ ممانعت بسندصحیح منقول ہے ، چنانچہ : امام عبد الرزاق رحمه الله (المتوفى211 ) نے کہا : أخبرنا معمر عن زيد بن رفيع عن حرام بن معاوية قال كتب إلينا عمر بن الخطاب لا يجاورنكم خنزير ولا يرفع فيكم صليب ولا تأكلوا على مائدة يشرب عليها الخمر وأدبوا الخيل وامشوا بين الغرضين ۔ [مصنف عبد الرزاق: 6/ 61 واسنادہ صحیح]
معلوم ہوا کہ مذکورہ روایت میں مشروب سے خمر مراد لینا کسی بھی صورت میں درست نہیں ۔ اسی طرح اس سے نبیذ مراد لینا بھی درست نہیں بہرحال ’’شراب‘‘ُ کاترجمہ نبیذ سے کرنا غلط ہے کیونکہ اول شراب کا معنی نبیذ نہیں ہوتا ، دوم روایت کے سیاق وسباق میں بھی ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ یہ پینے والی چیز نبیذ تھی ۔ بلکہ روایت کے اخیر میں دودھ کا ذکر ہے اورامیرمعایہ رضی اللہ عنہ نے دودھ اپنا پسندیدہ مشروب بتلایا ہے اس سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ نے دودھ ہی پیا تھا یعنی شراب سے مراد دودھ ہی ہے ۔ چنانچہ امام ہیثمی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو نقل کرکے اس پر یہ باب قائم کیا ہے : باب ما جاء في اللبن ۔ [مجمع الزوائد للهيثمي: 5/ 55،چشتی]
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مذکورہ وضاحت کیوں کی ؟ : ⏬
مذکورہ روایت کی بیچ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی جو یہ وضاحت ہے کی کہ : میں نے آج تک اسے نہیں پیا جب سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ۔
اس وضاحت میں جس چیز کے پینے کی بات ہورہی ہے وہ خمر یعنی شراب ہی ہوسکتی ہے کیونکہ اسے ہی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قراردیا ہے۔
اور’’ما شربته ‘‘ میں جو ضمیر ہے اس کا مرجع محذوف ہے اور وہ خمر ہے ، اہل عرب کبھی کبھی ضمیر کے مرجع کو حذف کردیتے ہیں ، بلاغت کی اصطلاح میں اسے ’’ الإِضمار في مقام الإِظهار ‘‘ کہتے ہیں یعنی جس ضمیرکا مرجع معلوم ہو اس مرجع کو بعض مقاصد کے تحت حذف کردینا ، اورمعاویہ رضی اللہ عنہ نے یہاں ضمیرکے مرجع خمرکو حذف کیا ہے ، اورمقصد خمر کی قباحت و شناعت کا بیان ہے یعنی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خمر سے اتنی نفرت تھی کہ آپ نے اس کانام تک نہیں لیا ۔ اس سے معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اورشراب سے ان کی نفرت ظاہر ہوتی ہے ۔ اورشراب سے نفرت کا اظہار کرکے معاویہ رضی اللہ عنہ نے دودھ کواپنا پسندیدہ مشروب قرار دیا،اس سے بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے ۔ بلکہ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ بھی وضاحت کہ قبل ازاسلام بھی ان کے نزدیک دودھ ہی سب سے پسندیدہ مشروب تھا ، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے شراب کو ہاتھ نہیں لگایا ، بلکہ اس کے بجائے وہ دودھ ہی نوش فرماتے تھے ۔
یاد رہے کہ شبِ معراج میں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو شراب اور دودھ پیش کیا گیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کو منتخب کیا ، بخاری کے الفاظ ہیں : ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ: فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَفِي الآخَرِ خَمْرٌ، فَقَالَ: اشْرَبْ أَيَّهُمَا شِئْتَ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ، فَقِيلَ: أَخَذْتَ الفِطْرَةَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ ۔ [بخاری رقم 3394]
معلوم ہوا کہ دودھ کو پسند کرنے میں معاویہ رضی اللہ عنہ فطرت پر تھے یہ چیز بھی ان کے فضائل میں سے ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مذکورہ وضاحت کیوں کی ؟ تو عرض ہے کہ مذکورہ روایت میں اس کا کوئی اشارہ موجود نہیں ہے اسی لئے ہم نے شروع میں کہا کہ یہ وضاحت محمود ہونے کے باوجود بھی بے موقع و محل ہے ۔
عربی متن میں یہ بات موجود نہیں ہے کہ سیدنا بریدہ نے یہ کہا تھا : ’’جب سے اس مشروب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، تب سے میں نے کبھی اسے نوش نہیں کیا ۔‘‘ عربی متن میں صرف یہ موجود ہے کہ ’’اُس‘‘ نے یہ کہا اور یہ ’’اُس‘‘ سے مراد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ تو حدیث کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مشروب پینے کے بعد برتن سیدنا بریدہ کو پکڑاتے ہوئے کہا کہ ’’جب سے اُس مشروب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے ، تب سے میں نے کبھی اُسے نوش نہیں کیا ۔‘‘ اور یہاں ’’اس‘‘ سے مراد ’’اُس‘‘ ہے ۔
اب اس حدیث کو سمجھیں کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر جس برتن سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پیا تھا ، اس میں شراب ہوتی تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کبھی یہ نہ کہتے کہ ’’جب سے اُس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حرام کیا‘‘ کیونکہ شراب کو قرآن مجید نے حرام کیا ہے ، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے کھجور کے شربت کی بعض صورتوں سے منع کیا تھا کہ جسے ’’نبیذ‘‘ کہتے ہیں۔ تو اس حدیث میں مشروب سے مراد ’’نبیذ‘‘ یعنی کھجور کا مشروب ہے کہ جس میں کچھ خمار آ چکا ہو ۔ تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر ان کے مخالفین نے الزام لگایا تھا ، شراب نوشی کا نہیں ، اتنی جرات نہیں تھی کسی میں ، بلکہ نبیذ پینے کا الزام تھا ۔ اور نبیذ اصلا جائز تھی جیسا کہ آگے روایت آ رہی ہے کہ عرب پانی میں کھجور یا انگور ڈال کر رکھ لیتے تھے تا کہ میٹھا شربت بن جائے لیکن بعض اوقات ایک خاص وقت کے بعد اس مشروب میں سکر یعنی مدہوشی آ جاتی تو اسے پینے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا تھا ۔
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جس مشروب کو پیا ، وہ دودھ تھا جیسا کہ اسی روایت کے آخر میں دودھ کا لفظوں میں ذکر موجود ہے ۔ اور اسی دودھ کے برتن کو سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھاتے ہوئے یہ بات کہی کہ ’’جب سے اس مشروب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حرام قرار دیا ہے ، تب سے میں نے کبھی اسے نوش نہیں کیا۔‘‘ یعنی اے بریدہ، یہ دیکھ لیں کہ میرے گھر میں میرے دستر خوان پر وہ چیز نہیں پی جاتی کہ جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے منع کیا ہے اور میرے بارے یہ باتیں درست نہیں ہیں جو بعض لوگ پھیلا رہے ہیں کہ میں مدہوش کر دینے والی نبیذ پیتا ہوں۔ تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ جملہ اپنی صفائی میں کہا ہے ۔ یہ جملہ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کا نہیں ہے ۔ اسے بلاغت میں اصطلاحا استطراد کہتے ہیں ۔
روایت کا آخری حصہ بتلاتا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ میں تو دور جاہلیت میں بھی دودھ کا شوقین تھا تو اے بریدہ ، اسلام لانے کے بعد نبیذ میرا پسندیدہ مشروب کیسے ہو سکتا ہے ؟ اسی طرح مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے : فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: «مَا شَيْءٌ كُنْتُ أَسْتَلِذُّهُ وَأَنَا شَابٌّ فَآخُذُهُ الْيَوْمَ إِلَّا اللَّبَنَ، فَإِنِّي آخُذُهُ كَمَا كُنْتُ آخُذُهُ قَبْلَ الْيَوْمِ» [مصنف ابن أبي شيبة (6/ 188)،چشتی]
ترجمہ : امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے جوانی میں بھی دودھ سے زیادہ کچھ پسند نہ تھا اور آج بھی میں، دودھ ہی لے رہا ہوں جیسا کہ آج سے پہلے بھی میں دودھ ہی لیتا تھا ۔ تو مصنف ابن ابی شیبہ کی اس روایت میں اس مشروب کے لیے ’’دودھ‘‘ کے الفاظ واضح طور موجود ہیں۔ تو اتنے واضح الفاظ کے بعد کہ میں آج کے دن دودھ پی رہا ہوں، صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسا طعن کہ وہ شراب پیتے تھے، معاذ اللہ، ثم معاذ اللہ، اور دلیل کیا ہے کہ اس روایت میں ’’شراب‘‘ کا لفظ ہے ۔
اور عربی زبان میں شراب کےلیے ’’خمر‘‘ کا لفظ آتا ہے نہ کہ ’’شراب‘‘ کا ۔ اردو میں شراب کے لیے ’’شراب‘‘ کا لفظ ہے۔ عربی میں شراب کسے کہتے ہیں؟ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ: الْعَسَلَ وَالنَّبِيذَ، وَالْمَاءَ وَاللَّبَنَ"۔ [صحيح مسلم (3/ 1591)]
ترجمہ : میں نے اپنے اس برتن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کی شراب یعنی مشروب پلایا ہے ، شہد بھی ، نبیذ بھی ، پانی بھی اور دودھ بھی ۔ یہ تو اس روایت کا صحیح مفہوم ہوا ۔ اور جہاں تک اس کی سند کی بات ہے تو اس کی صحت میں بھی اختلاف ہے جیسا کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو ’’منکر‘‘ کہا ہے ۔
رافضیوں اور اور تفضیلی رافضیوں کی طرف سے حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر شراب پینے کی تہمت لگائی جاتی ۔ اور مسند احمد کی ایک روایت میں منکر زیادت سے استدلال کرگئے اور ایک بالکل ستھری روایت جو مصنف ابن ابی شیبہ میں تھی اس کو نظر انداز کرگئے ۔
اس سلسلے میں روافض اور سبائی جتنی بھی روایت پیش کرتے ہیں وہ سب کی سب جھوٹی اور من گھڑت ہیں اب جب سبائیوں نے یہ دیکھا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے شراب پینے سے متعلق ساری روایات موضوع اور من گھرت ہیں تو انہوں نے سوچا کہ صحیح روایات سے بھی زبردستی یہی مفہوم کشید کر لیا جائے چناچہ اس مقصد کے تحت انہوں نے مسند احمد کہ محولہ حدیث پیش کا انتخاب کیا اور اس کی سند ظاہری حسن دیکھ کر یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ روایت صحیح ہے حالانکہ اس سیاق کے ساتھ نہ تو یہ روایت صحیح ہے اور نہ ہی اس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ شراب پیتے تھے تفصیل ملاحضہ ہو :
اولا مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت ملاحظہ فرمائیں : حدثنا زيد بن الحباب ، عن حسين بن واقد ، قال: حدثنا عبد الله بن بريدة، قال : دخلت أنا وأبي على معاوية فأجلس أبي على السرير، وأتي بالطعام فطعمنا، وأتى بشراب فشرب، فقال معاوية: ما شيء كنت أستلذه وأنا شاب فآخذه اليوم إلا اللبن، فإني آخذه كما كنت آخذه قبل اليوم، والحديث الحسن ۔
ترجمہ : زید بن حباب، حسین بن واقد سے اور وہ عبد اللہ بن بریدہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : میں اور میرے والد (حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے ، حضرت معاویہ نے میرے والد کو اپنی چارپائی پر ساتھ بٹھایا ، کھانا لایا گیا ہم نے کھانا کھایا ، پھر اس کے بعد پینے کےلیے (دودھ) لایا گیا ، حضرت معاویہ نے اسے پیا اور فرمایا ، میں جوانی سے ہمیشہ جس چیز سے لذت حاصل کرتا رہا ہوں ، اوراس سے آج بھی لذت حاصل کرتا ہوں وہ دودھ ہی ہے ، میں اسے ایسے ہی استعمال کرتا ہوں جیسے پہلے استعمال کرتا تھا ، اور اچھی گفتگو (سے لطف اندوز ہوتا ہوں) ۔ (المصنف لابن أبي شيبة ج ١٦ ص ٧٩ رقم ٣١٢٠١،چشتی)
اس میں واضح ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس جو پینے کی چیز لائی گئی وہ دودھ تھا ۔
محدثین نے مسند احمد کی حدیث سے کیا سمجھا یہ بھی آپ کو بتا دیں
حافظ نور الدین الہیثمی رحمہ اللہ تعالی نے’’غاية المقصد في زوائد المسند‘‘میں اس پر باب باندھا ہے’’باب مدح اللبن‘‘اسی طرح اپنی دوسری کتاب ’’مجمع الزوائد‘‘میں’’باب ما جاء في اللبن‘‘میں ہی اس حدیث کو ذکر کیا ہے ۔ (غاية المقصد ج ٤ ص ١١٥ رقم ٤٠٤٥)،(مجمع الزوائد ج ١١ص ٩٩ رقم ٨٠٩٢)
معاصر صہیب عبد الجبار فلسطینی نابلسی نے بھی ’’الجامع الصحيح للسنن والمسانيد‘‘ میں اس روایت کو کتاب الاطعمۃ میں دودھ کی فضیلت پر مشتمل روایات کے تحت ذکر کیا ہے ۔ (الجامع الصحيح للسنن والمسانيد ج ١٦ ص ٧٩ رقم ٣١٢٠١)
اور ساعاتی نے مسند احمد کی ترتیب الفتح الربانی میں ’’ باب ما جاء في بركة اللبن وشربه وحلبه‘‘ میں اس کو ذکر کیا ہے ۔ (الفتح الرباني لترتيب الإمام مسند أحمد ج ١٧ ص ١١٥)
یہاں مسند احمد میں درمیان میں ایک منکر جملہ زائد ہے جس سے رافضیوں اور اور تفضیلی رافضیوں کو موقع ملا اور اپنے فاسد عقیدے کی ترویج کے لیے اپنی عادت بد کے مطابق اس جملے سے بغیر سمجھے حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شان ذیشان میں گستاخی کرنے کی کوشش کی ، وہ جملہ یہ ہے ’’ثم ناولني أبي ثم قال : ما شربته منذ حرمه رسول الله صلى الله تعالى عليه وآله وسلم‘‘پھر اسے میرے والد نے لیا اور پھر حضرت معاویہ نے کہا : جب سے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اسے حرام فرمایا ہے میں نے اسے نہیں پیا ۔
اولا تو یہ جاننا ہوگا کہ اس جملے کا قائل کون ہیں ؟ حضرت بریدہ اسلمی یا حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہما۔اس کے قائل حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ۔
امام ہیثمی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں : وفي كلام معاوية شيء تركته حضرت معاویہ کی گفتگو میں جملہ تھا جسے میں نے ترک کردیا ہے ۔
جس جملے کو ترک کیا ہے وہ یہ ہے ۔ ثم قال : ما شربته منذ حرمه رسول الله صلى الله تعالى عليه وآله و سلم جب سے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اسے حرام فرمایا ہے میں نے اسے نہیں پیا ۔
رافضیوں اور اور تفضیلی رافضیوں نے مسند احمد سے یہیں تک عبارت نقل کرتے ہیں جبکہ مسند احمد میں اس کے بعد بھی کلام ہے ، جس سے اس جملے کا منکر ہونا بالکل واضح ہے ، لیکن رافضیوں اور اور تفضیلی رافضیوں حسب عادت اگلی عبارت کو چھوڑ جاتے ہیں تاکہ جواب ہی نہ دینا پڑے ۔ آگے کا کلام مسند امام احمد میں یہ ہے : قال معاوية : كنت أجمل شباب قريش وأجوده ثغرا، وما شيء كنت أجد له لذة كما كنت أجده وأنا شاب، غير اللبن أو إنسان حسن الحديث يحدثني ۔
ترجمہ : پھر حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا میں قریش کا جمیل ترین اور سخی ترین نوجوان تھا اور جوانی میں جن چیزوں سے میں لطف اندوزہوتا تھا اور اب بھی اس سے لطف اندوز ہوتا ہوں وہ صرف دودھ ہے یا یہ ہے کہ اچھی گفتگو کرنے والا شخص مجھ سے اچھی گفتگو کرے ۔
مسند احمد کے منکر جملے کو تسلیم کرنے کی صورت میں یہ عجب بات ہوئی کہ پی بھی رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جب سے حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے حرام فرمائی ہے میں نے پی ہی نہیں ۔ صحیح یہ ہے کہ یہ جملہ ہے ہی زیادت منکرہ سے ، وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کے راوی اگرچہ فی نفسہ ثقہ ہیں لیکن ان پر خود امام احمد حنبل رحمہ اللہ تعالی کا کلام موجود ہے ۔
امام ابو داؤد ، امام احمد رحمہما اللہ تعالی سے روایت کرتے ہیں : زيد بن الحُباب كان صدوقاً ، وكان يضبط الألفاظ عن معاوية بن صالح، ولكن كثير الخطأ زید بن الحباب صدوق ہیں اور معاویہ بن صالح سے الفاظ کا ضبط رکھتے ہیں ، لیکن کثیر الخطا ہیں ۔ (سؤالات أبي داود للإمام أحمد ص ٣١٩ رقم ٤٣٢،چشتی)،(تهذيب التهذيب ج ٣ ص ٢٢٠ رقم ٢١٩٥)
حسین بن واقد کے بارے میں فرماتے ہیں : حسين بن واقد له أشياء مناكير ان کی کئی منکر روایات ہیں ۔ (العلل ومعرفة الرجال رواية المروزي وغيره ص ١٨٧ رقم ٤٤٤)
حافظ عقیلی کہتے ہیں : ’’أنكر أحمد بن حنبل حديثه‘‘ امام احمد نے اس کی حدیث کو منکر قرار دیا ہے ۔ (تهذيب التهذيب ج ٢ ص ٣٤٠ رقم ١٤١٦)
وقال الأثرم : ’’قال أحمد: في أحاديثه زيادة ما أدري أي شئ هي ونفض يده‘‘ اثرم کہتے ہیں امام احمد بن حنبل نے فرمایا : اس کی احادیث میں ایسی زیادتی ہوتی ہے جسے میں نہیں جانتا ، اور اپنے ہاتھ جھاڑ لیے ۔ (تهذيب التهذيب ج ٢ ص ٣٤٠ رقم ١٤١٦)،(الضعفاء الكبير للعقيلي ج ٢ ص ٣٦ رقم ٣٠٣)
یہ جملہ حسین بن واقد کی زیادت منکرہ میں سے ہے ۔ کبھی یہ اس زیادت کو ذکر کرتے ہیں جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے روایت کیا اور خود ہی ان کے بارے میں فرمایا کہ منکر روایت لے کر آتے ہیں ، اسی وجہ سے امام ہیثمی نے اس جملے کو ذکر نہیں کیا ، اور کبھی حسین بن واقد اس زیادت منکرہ کو لے کر نہیں آتے اور اس کے بغیر ہی یہ روایت مصنف ابن ابی شیبہ میں موجود ہے ۔
امام ہیثمی رحمہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا معنی
رافضی اور اور تفضیلی رافضی کہتے ہیں : ’’یہ حافظ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ کی دیانت داری ہے کہ انہوں نے خود ہی بتا دیا کہ انہوں نے وہ جملہ حذف کردیا ہے جس سے معاویہ کی شراب نوشی ثابت ہوتی ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر انہوں نے ایسا کیوں کیا جبکہ ان کے نزدیک اس حدیث کی سند بھی صحیح ہے ؟ کیا کوئی صحابی کہا جانے والا شخص اگر بادشاہ بن جائے اور پھر وہ کسی کبیرہ گناہ کا مرتکب ہو تو اس پر پردہ ڈالنا اور اس کی خاطر احادیثِ صحیحہ سے جملے حذف کرنا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب : یہ تو تقریبا واضح ہوچکا ہے کہ رافضی اور اور تفضیلی رافضی پی کر ہی لکھتے ہیں ، یہ الگ بات ہے کہ بغضِ معاویہ کی شراب پی کر لکھتے ہیں اور خیانت کرتے ہیں یا واقعی حقیقی شراب پی کر لکھتے ہیں کہ آپ کو پتا ہی نہیں چلتا کہ کیا لکھ رہے ہیں ۔
اولا : ایسے موقع پر یہ کہنا ’’ احادیث صحیحہ سے جملے حذف کرنا ‘‘ واضح ایہام کرتا ہے کہ گویا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی حدیث میں سے جملہ حذف کیا ہو ۔ حالانکہ واضح لکھا ہے کہ یہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے کلام کا ایک جزء تھا جسے ذکر نہیں کیا ۔
ثانیا : ہم ابھی واضح کر آئے ہیں کہ پینے کی چیز سے مراد دودھ ہے ، مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت اس حوالے سے واضح ہے ، اور خود حافظ ہیثمی رحمہ اللہ تعالی نے اس پر باب مدح اللبن کا باندھا ہے ۔ پھر آپ یہ کہہ رہےہیں ’’ جس سے معاویہ کی شراب نوشی ثابت ہوتی ہے‘‘ لعنۃ اللہ علی شرکم ۔ ذرا بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے صحابی پر بلا دلیل شراب نوشی کا الزام لگانے کی وجہ سے خود آپ پر کیا حکم شرعی لگے گا ؟
ثالثا : آپ نے مکمل روایت کیوں ذکر نہیں کی ، جس سے خود اس کلام کا منکر ہونا واضح ہے ۔ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ تعالی نے تو واضح کردیا کہ یہ جملہ میں نے حذف کیا ہے اور اہل علم بخوبی جان سکیں گے کہ زیادت منکر ہے ۔ لیکن رافضی اور اور تفضیلی رافضی تو آگے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا کلام ذکر نہیں کرتے اور بتاتے بھی نہیں ۔ ذرا بتائیں رافضیوں اور اور تفضیلی رافضیوں پر اس خیانت کا کیا حکم لگے گا ؟
رابعا : حافظ ہیثمی رحمہ اللہ تعالی کے کلام سے بات تو واضح ہوچکی تھی کہ یہ جملہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا ہے ، پھر رافضیوں اور اور تفضیلی رافضیوں نے اس جملے کا قائل حضرت سیدنا بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ کو کیوں بنادیا ؟ رافضیوں اور اور تفضیلی رافضیوں پر کیا حکم لگے گا ؟ جہالت کا یا خیانت کا ؟
رافضی اور اور تفضیلی رافضی کہتے ہیں :’’قارئین کرام کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ جملہ مجمع الزوائد کے قدیم نسخہ سے تو محذوف ہے ، مگر دار الفکر اور دار الکتب العلمیہ بیروت کے محققین نے اس جملہ کو مسند احمد سے لے کر پھر مجمع الزوائد میں شامل کردیا ہے مگر قوسین کے اندر لیکن شیخ حسین سلیم اسد کی تحقیق سے جو مجمع الزوائد شائع ہوئی ہے اس میں شیخ موصوف نے اس جملہ کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے ، میں پوچھتا ہوں : امیر شام کے متعلق شیخ موصوف کتنے جملوں کو ناپسندیدہ قرار دیں گے ؟ ہم اگر شیخ حسین سلیم اسد الدارانی کی تحقیق سے شائع شدہ مسند ابی یعلی اور مجمع الزوائد سے ایسے جملوں کی نشاندہی کرنا شروع کریں تو شیخ موصوف سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے ۔
گوگلی ترجمہ
سبحان اللہ ! کیا قابلیت ہے رافضیوں اور اور تفضیلی رافضیوں کی ! حسین سلیم اسد الدارانی نے یہ بات اصطلاحی اعتبار سے کی تھی ، اور ساتھ لکھ بھی دیا ہے : ’’غير أن زيادات حديثه وصفها الإمام أحمد بقوله : في أحاديثه زيادة ما أدري أي شيء هي ونفض يده . وذلك مثل الزيادة التي تركها الهيثمي-رحمه الله تعالى- وهي : ثم قال: ما شربته منذ حرمه رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم ) وهذه زيادة منكرة جدا‘‘ یعنی اس اس سند کے رجال تو ثقہ ہیں مگر اس حدیث میں وہ زیادت ہے جسے امام احمد نے اپنے اس قول سے بیان کیا ہے : اس (حسین بن واقد) کی احادیث میں وہ زیادتی ہے جو میں نہیں جانتا کہ یہ کیا ہے ؟ اور اپنے ہاتھ جھاڑ لیے ۔ اور اسی زیادت کی مثل وہ جملہ ہے جسے امام ہیثمی رحمہ اللہ تعالی نے ترک کردیا اور وہ زیادتی یہ ہے:’’جب سے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اسے حرام فرمایا ہے میں نے اسے نہیں پیا۔‘‘ اور یہ زیادتی سخت منکر ہے ۔ (مجمع الزوائد ج ١١ ص ٩٩ رقم ٨٠٩٢ باب ما جاء في اللبن،چشتی)
یہ اصطلاحی بحث تھی اور رافضیوں اور اور تفضیلی رافضیوں نے اس کا ترجمہ لغوی کر دیا کہ یہ ناپسندیدہ زیادتی ہے اور ہم ایسے ناپسندیدہ جملوں کی نشاندہی کریں گے تو موصوف دارانی سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے ۔ صحیح کہہ رہے ہیں رافضی اور اور تفضیلی رافضی ، واقعی جب دارانی صاحب رافضیوں اور اور تفضیلی رافضیوں کی تحقیق پڑھیں گے تو سر پکڑ کر بیٹھ ہی جائیں گے ۔
ویسے رافضیوں اور اور تفضیلی رافضیوں نے بھی اس حوالے سے کمال کیا تھا ۔ ان سے بعض احبابِ اہلسنت کا ’’ لا یصح‘‘ کے معنی پرمباحثہ ہوا ، جس پر رافضیوں اور اور تفضیلی رافضیوں نے لا یصح کا معنی گوگل سے سرچ کرکے بتایا ’’خراب ، گلا ہوا، سڑا ہوا، باطل‘‘
سبحان اللہ ! اسی طرح رافضیوں اور اور تفضیلی رافضیوں نے تدلیس کا معنی ’’فریب کاری کرنے والا ‘‘ کیا ہے ۔ یہ تحقیات دیکھ کر دارانی صاحب تو سر پکڑنے کی بجائے سر دیوار میں مار ہی لیں گے ۔
حرمت شراب کی احادیث جو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہیں ۔
جامع ترمذی کی مشہور روایت ہے : نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فِى الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ» یعنی جو شراب پیے اسے کوڑے لگاؤ اگر وہ چوتھی بار بھی پیے تو اس کو قتل کردو ۔
امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : وإنما كان هذا في أول الأمر ثم نسخ بعد هكذا یعنی یہ حکم ابتداء میں تھا پھر اس طرح کا حکم منسوخ ہوگیا ۔ (جامع الترمذی ج ٣ ص ٤٦٦ رقم ١٤٤٤)
لیکن اگر اس حدیث کو تعزیر پر محمول کرلیا جائے تو جامع ترمذی کی دیگر احادیث کی طرح یہ حدیث بھی معمول بہ ہوجاتی ہے ۔ (تذكرة المحدثین ص ٢٣٣)
یہ حدیث مبارک روایت کرنے والے صحابی حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی ہیں ۔
ایک اور حدیث مبارک ملاحظہ فرمائیں : امام ابن ماجہ حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں : سمعت رسول الله - صلى الله تعالى عليه وآله وسلم - يقول: "كل مسكر حرام على كل مؤمن". میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ہر مؤمن پر ہر نشے والی چیز حرام ہے ۔ (سنن ابن ماجه ج ٤ ص ٦٨ رقم ٣٣٨٩)
اللہ تعالی کی بارگاہِ اقدس میں دعا ہے کہ وہ بغضِ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محفوظ رکھے آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)