Friday, 30 September 2016

نبی کا معنیٰ و مفہوم اور شانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

نبی کا معنیٰ و مفہوم اور شانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
محترم قارئین کرام : لفظ نبی کا معنیٰ ہے جسے مغیبات کا علم اور مغیبات کی خبریں دی جاتی ہیں ۔

چھٹی صدی ہجری کی مشہور اور علمی شخصیّت قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ لفظ نبی کا معنی و مفہوم یوں بیان فرماتے ہیں : والمعنیٰ ان ﷲ تعالیٰ اطلعہ علیٰ غیبہ۔
ترجمہ : اس کا معنی یہ ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے اسے غیب پر مطلع فرمایا ہے ۔ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الجزء الاول صفحہ ١٥٧ القاضی ابی الفضل عیاض مالکی الیحصُبی اندلسی ثم مراکشی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٥٤٤ھ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)(النسختہ الثانیہ صفحہ ١٦٩ مطبوعہ دارالحدیث القاہرہ (مصر)(کتاب الشفاء (اردو) جلد اول صفحہ 388 مطبوعہ مکتبہ نبویہ لاہور (پاکستان۔چشتی)۔(دوسرا نسخہ حصہ اول صفحہ 178 مطبوعہ شبیر برادرز لاہور (پاکستان)

شفاء شریف کی اس عبارت کی شرح کرتے ہوئے علامہ شہاب الدین خفاجی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : (والمعنیٰ) ای معنیٰ النبی المفھوم من الکلام علیٰ ھذا القول (ان ﷲ اطلعہ علیٰ غیبہ) ای اعلمہ واخبرہ بمغیباتہ ۔
ترجمہ : علامہ خفاجی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے لفظ نبی کا جو معنی بتایا ہے کہ : اللہ نے اسے غیب پر مطلع کیا ہے ۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جسے مغیبات کا علم اور مغیبات کی خبریں دی جاتی ہیں ۔(نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض الجزء الثالث صفحہ ٣٤١ شہاب الدین احمد بن محمد بن عمر الخفاجی المصری متوفی ١٠٦٩ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

معلوم ہوا کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے جو لفظ نبی کا ترجمہ : غیب کی خبریں بتانے والا ۔ کیا ہے یہ ترجمہ اکابرین و سلف صالحین کی تعلیمات اور ان کے عقائد کے عین مطابق ہے ۔

نبی کا لغوی معنیٰ ہی غیب کی خبریں دینے والا ہے توپھر نبی کے علم غیب سے کیسے انکارکیاجا سکتاہے نبی کے علم غیب کا انکار کرنا نبوت کی بنیاد سے انکار کرنا ہے جب کہ اس موضوع پر بکثرت احادیث موجود ہیں جو نبی کے عالم غیب ہونے پر دلالت کرتی ہیں ملاحظہ کریں : ⏬

صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک شخص کی تعریف کی کہ جہاد میں ایسی قوت رکھتاہے اورعبادت میں ایسی کوشش کرتا ہے ، اتنے میں وہ سامنے سے گزرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اس کے چہرے پرشیطان کا داغ پاتاہوں اس نے پاس آکر سلام کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے دل کی بات بتائی کہ کیوں تونے اپنے دل میں کہا کہ اس قوم میں تجھ سے بہتر کوئی نہیں ۔ کہا ہاں ۔ پھر چلا گیا اور ایک مسجد مقرر کرکے نماز پڑھنے کھڑا ہوا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کون ایسا ہے جو اٹھ کر جائے اور اسے قتل کر دے ؟ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ گئے دیکھا وہ نماز پڑھتا ہے واپس آئے اورعرض کیا کہ میں نے اسے نماز میں دیکھا مجھے قتل کرتے خوف آیا حضور نے پھر فرمایا تم میں کون ایسا ہے کہ اٹھ کرجائے اور اسے قتل کردے ؟ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ گےٗ اور نماز پڑھتا دیکھ کر چھوڑ آے اوروہی عذر کیا حضور نے پھر فرمایا تم میں کون ایسا ہے جو اٹھ کر جاے اور اسے قتل کردے ؟ مولیٰ علی کرم اللہ وجہ نے عرض کی میں حضور نے فرمایا ہاں تم اگر اسے پاٶ یہ گیے وہ جاچکا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ میری امت سے پہلا سینگ نکلا تھا اگر یہ قتل ہو جاتا تو مستقبل میں امت میں کچھ اختلاف نہ پڑتا ۔ (دلائل النبوت للبہیقی باب ماروی فی اخبارہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الیٰ آخرہٖ دارالکتب العلمیہ بیروت جلد 6 صفحہ نمبر 287 و288۔چشتی)

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا آپ نے فرمایا اس کو قتل کر دو عرض کی گٸی کہ اس نے چوری ہی تو کی ہے فرمایا اس کا ہاتھ کاٹ دو پھر اسے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس اس حال میں لایا گیاکہ اس کے تمام ہاتھ پاوٗں کاٹے جا چکے تھے ۔تو آپ نے فرمایا میں اس کے بغیر تیرا علاج نہیں جانتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرے بارے میں فیصلہ فرمایا تھا کہ اس کو قتل کر دو وہ تیرا حال خوب جانتے تھے ۔چنانچہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل کا حکم دیا ۔(کنزالعمال جلد 5 صفحہ 538۔چشتی)

صحیح بخاری و مسلم میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بار ہم میں کھڑے ہوکرابتداے آفرینش سے قیامت تک جوکچھ ہونے والا تھا سب بیان فرما دیا ، کوٸی چیز نہ چھوڑی ، جسے یاد رہا یاد رہا اور جو بھول گیا بھول گیا ۔ (مشکوٰۃ المصابیح کتاب الفتن الفصل الاول صفحہ 461 مطبع مجتبای دہلی)

دس صحابہ رضی اللہ عنہم سے یہ حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایامیں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا اس نے اپنا دست قدرت میری پشت پر رکھا کہ میرے سینے میں اس کی ٹھنڈک محسوس ہویٗ اسی وقت ہرچیز مجھ پر روشن ہو گٸی اور میں نے سب کچھ پہچان لیا ۔ (سنن ترنذی کتاب التفسیر حدیث نمبر 3246 دارالفکربیروت)

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب میرے علم میں آ گیا ۔ (سنن ترمذی کتاب التفسیر حدیث نمبر 3244 دارالفکر بیروت۔چشتی)

حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں بیشک میرے سامنے اللہ عزوجل نے دنیا اٹھا لی ہے اور میں اسے اور جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے سب کچھ ایسا دیکھ رہاہوں جیسے اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں اس روشنی کے سبب جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کےلیے روشن فرمایا جیسے محمد سے پہلے انبیاء علیہم السلام کےلیے روشن کی تھی ۔ (حلیۃ الاولیاء جلد 6 صفحہ 101 دارالکتاب العربی بیروت)

جو ہو چکا ہے جو ہو رہا ہے اور جو ہوگا ہمارے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم جانتے ہیں : ⏬

مخالفین اہلسنت کے اس عقیدے کو جو کہ قران و حدیث سے ماخوذ ہے مشرکانہ عقیدہ بتاتے ہیں حالانکہ ایسا کہنا ازلی شقاوت کے اظہار کے علاوہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا جب کہ اس کے برعکس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے علم ماکان ومایکون کا عقیدہ دراصل اکابرین و سلف صالحین کا عقیدہ ہے ۔

ﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : خلق الانسان علمہ البیان ، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا ۔ (ترجمہ جونا گڑھی غیر مقلد وہابی)

مذکورہ آیت کی تفسیر میں مفسرین نے بہت کچھ لکھا ہے ان میں سے چند اکابرین مفسرین علیہم الرّحمہ کی تفاسیر پیش خدمت ہیں : ⏬

مشہور مفسّر امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:خلق الانسان یعنی محمداً صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علمہ البیان یعنی بیان ماکان ومایکون ۔
ترجمہ : یعنی اس آیت میں انسان سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور بیان سے مراد ماکان ومایکون کا بیان ہے ۔ (تفسیر البغوی (معالم التنزیل) صفحہ ١٢٥٧) ابی محمد حسین بن مسعود البغوی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ٥١٦ھ)

اسی طرح قدیم مفسّر امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ یوں فرماتے ہیں : الانسان ھاھنا یراد بہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والبیان وقیل ماکان و مایکون ۔
ترجمہ : یعنی اس آیت میں انسان سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور بیان سے مراد (بعض کہتے ہیں) ماکان ومایکون کا بیان ہے ۔ (الجامع الاحکام القرآن والمبین لما تضمنہ من السنتہ وآی الفرقان الجزءالعشرون صفحہ١١٣) ابی عبدﷲ محمد بن احمد بن ابی بکر القرطبی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ٦٧١ھ)

ایک اور مفسّر امام ابن عادل حنبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : المراد بالانسان ھنا محمد علیہ السلام علمہ البیان وقیل ماکان ومایکون ۔
ترجمہ : یعنی اس آیت میں انسان سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور بیان سے مراد (بعض کہتے ہیں) ماکان ومایکون کا بیان ہے ۔ (اللباب فی علوم الکتاب المشہور تفسیر ابن عادل الجزء الثامن عشر صفحہ نمبر ٢٩٣-٢٩٤)ابی حفص عمر بن علی ابن عادل الدمشقی الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ٨٨٠ھ)

اسی طرح امام ثعلبی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر میں موجود ہے : خلق الانسان یعنی محمداً صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علمہ البیان یعنی بیان ماکان ومایکون ۔
ترجمہ : یعنی اس آیت میں انسان سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور بیان سے مراد ماکان ومایکون کا بیان ہے ۔ (الکشف و البیان فی تفسیر القران المشہور تفسیر الثعلبی الجزء السادس صفحہ نمبر ٤٨) العلامہ ابی اسحٰق احمد بن محمد بن ابراھیم الثعلبی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ٤٢٧ھ)

الحمد للہ اہلسنت و جماعت کا عقیدہ علم غیب متقدمین مفسرین اکابرین علیہم الرّحمہ کی تفاسیر اور عقائد و نظریات کے مطابق ہے ۔

عقیدۂ علم غیب اور امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ : ⏬

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : عَالِمُ الغَیبِ فَلَا یُظہِرُ عَلیٰ غَیبِہ اَحَداً اِلَّا مَنِ الرتَضیٰ مِن الرَسُول ۔ (سورہ جنّ آیت ٢٦ ٢٧)
ترجمہ : وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوائے اس پیغمبر کے جسے وہ پسند کر لے ۔ (مولوی محمد جوناگڑھی وھابی)

اس آیت کی تفسیر میں معروف مفسّر امام قُرطبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : کان فیہ دلیل علیٰ انّہ لا یعلم الغیب احد سواہ , ثم استثنیٰ من ارتضاہ من الرسل ۔
ترجمہ : اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا پھر ان رسولوں کو اس سے مستثنیٰ کردیا جن پر وہ راضی ہے ۔ (الجامع الاحکام القران صفحہ ٣٠٨الجزء الحادی والعشرون مؤلف ابی عبدﷲ محمد بن احمد بن ابی بکر القرطبی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٦٧١ مطبوعہ بیروت لبنان)( تفسیر قرطبی مترجم اردو جلد دہم صفحہ ٣٩ مطبوعہ ضیاء القران لاہور)

معلوم ہوا کہ اللہ پاک اپنے پسندیدہ رسولوں کو علمِ غیب عطا فرماتا ہے اور بحمد اللہ قران کی مذکورہ آیت اور اس کی تفسیر اسی بات پر دلالت کرتی ہے!یہ امر بھی واضح ہوگیا کہ اہلسنت و جماعت نے قران کو اسی طرح سمجھا ہے جیسے اکابرین و سلف صالحین (علیہم الرحمہ) نے سمجھا تھا ۔

قرآن اور لفظ نبی کا تذکرہ : ⏬

قرآن مجید میں اللہ تعاليٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جابجا ’’النبی‘‘ کے لقب سے یاد فرمایا۔ ارشاد فرمایا : يٰـاَيّهَا النَّبِيّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاهِدًا.(الاحزاب:45)
’’اے نبِيّ (مکرّم!) بے شک ہم نے آپ کو (حق اور خَلق کا) مشاہدہ کرنے والا بناکر بھیجا‘‘۔
دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا : اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَ الْاُمِّيَ.(الاعراف:157)
(یہ وہ لوگ ہیں) جو اس رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی پیروی کرتے ہیں جو امی (لقب) نبی ہیں (یعنی دنیا میں کسی شخص سے پڑھے بغیر منجانب اللہ لوگوں کو اخبارِ غیب اورمعاش و معاد کے علوم و معارف بتاتے ہیں) ۔
اگر لفظ ’’نبی‘‘ اور نبوت کے معنی اور مفہوم کی روشنی میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان نبوت کو سمجھنے کی کوشش کریں تو لفظِ ’’نبی‘‘ کے اندر بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہت سی شانوں کا تذکرہ موجود ہے ۔

لفظ نبی کا ایک معنیٰ ہے غیب کی خبریں دینے والا : ⏬

اگر لفظ نبی کو نَبَاءَ سے مشتق سمجھیں تو نبی کا معنی ہے غیب کی خبر دینے والا۔ اگر لفظ نبی بروزنِ فَعِيْلٌ بمعنی فاعل ہو تو اس کا معنی ہوگا کہ : يَکُوْنَ مُخْبِرًا اَمَّا اَطْلَعَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ . ترجمہ : اللہ تعاليٰ نے اپنے جس غیب پر انہیں مطلع کیا ہے، اس غیب کی خبریں لوگوں کو دینے والا۔

اسی لیے قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ : وَمَا هُوَ عَلَی الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍ. (التکوير:24)
ترجمہ : اور وہ (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) غیب (کے بتانے) پر بالکل بخیل نہیں ہیں (مالکِ عرش نے ان کےلیے کوئی کمی نہیں چھوڑی) ۔

’’اَلنَّبُوّات‘‘ میں علامہ ابن تیمیہ نے اس معنی کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔اگر لفظِ ’’نبی‘‘ بروزن فَعِيْلٌ بمعنی مَفْعُوْلٌ ہو تو نبی کا مطلب ہے : اَنَّ اللّٰه تَعَالٰی اَطْلَعَهُ غَيْبِهِ فَيَکُوْنُ النَبِيّ ۔
ترجمہ : اللہ تعاليٰ نے جس ذات کو اپنے غیب پر مطلع کیا ہو، اپنے غیب کی اطلاع دی ہو اس کو نبی کہتے ہیں ۔

نبی کا ایک معنیٰ ہے گمراہی سے نکالنے والا : ⏬

تہذیب اللغہ اور تحریر المطالب (شرح عقیدہ ابن حاجب) میں لفظِ ’’نبی‘‘ کے مادہ اشتقاق ’’نَبَاءَ‘‘ کے حوالے سے ’’خروج‘‘ کا معنی بھی آیا ہے۔ صاحب تحریر المطالب شرح عقیدہ ابن حاجب پر خروج کے اعتبار سے اس کا معنی لکھتے ہیں کہ : خَرَجَ مِنْ بَلَدٍ اِلٰی بَلَدٍ اُخْرٰی خَرَجَ مِنْ اَرْضِ اِلٰی اَرْضِ اُخْرٰی ۔
ترجمہ : ایک جگہ سے کوئی نکل کر دوسری جگہ چلا جائے، ایک حال سے نکل کر دوسرے حال میں چلا جائے ۔

اس معنی کے لحاظ سے نبی کا معنی ہوگا : اَلَّذِيْ اَخْرَجَ النَّاسَ مِنَ الضَّلَالَةِ اِلٰی الْهُدی ۔
ترجمہ : وہ ذات جس نے لوگوں کو گمراہی سے نکال کر ہدایت میں پہنچادیا۔ وہ ذات جس نے لوگوں کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال دیا، ان کو خروج کردیا اور ہدایت کی روشنی میں لے گئے، اس کو نبی کہتے ہیں ۔

نبی کا ایک معنیٰ ہے تمام مخلوق سے اعلیٰ : ⏬

لفظِ ’’نبی‘‘ کے دوسرے مادہِ اشتقاق ’’نَبَا، اَلنَّبْوةُ‘‘، کے اعتبار سے بھی لفظِ نبی کے مختلف معانی ہیں۔ اَلنَّبْوةُ کا معنی ہے: اَلْاِرْتِفَاع جس کو بلندی ملی‘‘۔ اسی سے اَلنَّبَاوَة ہے یعنی جومقام بلند ہو۔ زمین سے بلند ٹیلہ، بلند مینار یا بلند جگہ جو دور سے نظر آئے، جس کو دیکھ کر لوگ ہدایت پائیں، بھولے ہوئے راستہ پائیں۔ اس شے کی بلندی کی وجہ سے اس کو نَبْوٰی کہتے ہیں۔ ائمہ لغت کا کہنا یہ ہے کہ اس وجہ سے اس سے النَّبُوَّة اخذ کیا ہے۔ اس سے لفظ نبی نکلا ہے۔ نبی کو اس معنی کے لحاظ سے اس لیے نبی کہتے ہیں کہ : اِنَّهُ شُرِّفَ عَلٰی سَائِرِالْخَلْقِ ، اُسے ساری مخلوق میں سب سے بلند بنایا جاتا ہے ۔

نبی کو وہ شان ، عظمت ، بلندی ، شرف اور رفعت دی جاتی ہے کہ ان کا مقام کل کائنات انسانی اور خلق میں سب سے بلند ہوتا ہے ۔ اس کی ذات کی بلندی کو دیکھ کر لوگ اسے آئیڈیل بناتے ہیں اور اس سے راستہ پاتے ہیں ۔

ابن الاعرابی نے اَلنَّبْوةُ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ اَلْمُرْتَفِعُ مِنَ الْاَرْضِ زمین پست ہوتی ہے ، ایک ہی لیول میں ہوتی ہے اور وہ چیز، پہاڑ، ٹیلہ ، مینار یا عمارت جو زمین کی پستی کو چھوڑ کر بلند ہوجائے، اس کو ’’نَبْوَة‘‘ کہتے ہیں ۔ اس معنی کی رُو سے ۔ اَلنَّبِيّ هُوَا الْعَلَمُ مِنْ اَعْلَامِ الْاَرْضِ الَّتِيْ يُهْتَدٰی بِهٰا ۔ نبی اس ذات کو کہتے ہیں جس کا مقام و مرتبہ سب سے اونچا ہو اور لوگ اسے دیکھ کر رہنمائی پائیں ۔

گویا نبی کو نبی اس لیے کہتے ہیں اللہ تعاليٰ اسے ساری مخلوق پر بلندی ، عظمت اور رفعت عطا کرتا ہے۔ پس اسی عظمت اور علو مرتبت کی وجہ سے وہ نبی کہلاتا ہے ۔

قاضی عیاض کہتے ہیں:هُوَ مَرْتَفَعَ مِنَ الْاَرْضِ وَمَعْنَاهُ اَنَّ لَهُ رُتْبَةً شَرِيْفَةً وَمَکَانَةً نَبِيْهَا ۔
ترجمہ : وہ ذات جو ساری مخلوق ارضی اور ساری مخلوق سماوی سے بلند ہوتی ہے ۔ اسے اتنا بلند رتبہ ، بلند مقام اور وہ شرف و عظمت عطا کی جاتی ہے کہ ہر شے اس کی عظمت کے نیچے ہوجاتی ہے ۔

نبی کا ایک معنیٰ راستہ بھی ہے : ⏬

مادہ اشتقاق ’’نَبَا‘‘ کے اعتبار سے نبی کا ایک معنی ’’طریق‘‘ (راستہ) بھی ہے۔ تمام لغت کی کتب نے اسے بیان کیا ہے کہ : اَلنَّبِيّ هُوَ الطَّرِيْقُ وَالْاَنْبِيَاءُ طُرُقُ الْهُدٰی ۔
ترجمہ : نبی راستے کو کہتے ہیں، انبیاء وہ ذوات ہیں جو بھولے ہوؤں کو ہدایت کا راستہ دکھاتے ہیں ۔

نبی کی ذات ایک نئی راہ اور نئی طرز دیتی ہے۔ جب لوگ بھولے ہوئے ، بھٹکے ہوئے اور گمراہ ہوتے ہیں ، انہیں نہ اپنی پہچان ہوتی ہے اور نہ اپنے خالق کی پہچان ہوتی ہے ۔ نہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا ہے اور نہ دوسرے کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کی معرفت ہوتی ہے ۔ وہ محظ گمراہی ، لاعلمی ، بے خبری ، جہالت اور ضلالت میں ہوتے ہیں ۔ لغت کے اس معنی کے اعتبار سے ان حالات میں نبی کی ذات خود راستہ ہوتی ہے ۔ جب نبی مبعوث ہوتا ہے تو بھولے ہوئے انسانوں کو راستہ دکھا دیتا ہے ۔ اس نبی کی ذات ، سیرت ، وجود ، عمل ، طور طریقے اور اسوہ و شعار میں خود ایک راستہ ہوتا ہے جو بھولے ہوؤں کو حق کی طرف لے جاتا ہے ۔ وہ نبی ایسا راستہ دکھاتا ہے کہ بندے کو نہ صرف اپنی بلکہ اپنے خالق و مالک کی پہچان بھی ہوتی ہے ۔ اپنے اور دوسرے لوگوں کے درمیان رشتے کی نوعیت کی پہچان کے ساتھ ساتھ وہ اچھے برے کو بھی جان جاتا ہے۔ گویا ایک کامل ہدایت کا راستہ دے دینے والے اور انسانیت کےلیے خود راستہ بن جانے والے کو نبی کہتے ہیں ۔

ابومعاذ النحوی نے قدیم لغتِ عرب کا ایک قول نقل کیا ہے کہ مَنْ يَضُلُّنِيْ النَّبِی اَيْ اَلطَّرِيْق ، یعنی کسی نے پوچھنا ہو کہ میں بھولا ہوا ہوں، کوئی مجھے راستہ دکھا دے تو راستہ پوچھنے کےلیے کہتے : مَنْ يَضُلُّنِيْ عَلَی النَّبِی یعنی کوئی مجھے نبی دکھا دے ۔ نبی دکھانے کا مطلب یہ ہوتا کہ میں بھولا ہوا ہوں کوئی مجھے سیدے راستے پر چلادے۔ پس نبی کا وجود خود سیدھا راستہ ہوتا ہے ۔

اسی لیے قرآن مجید نے کہا : اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ۔ (سورة الفاتحہ)
ترجمہ اے اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلا ۔
الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ خود وجود مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہے اور ذات مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ہے ۔

نبی کی ذات ایک طرف تمام مخلوق میں سب سے بلند ہوتی ہے اور دوسری طرف نبی وہ ہے جس سے لوگ راستہ پائیں۔ اس کا معنی یہ بھی ہے کہ ایسا راستہ، طریقہ اور وسیلہ جو لوگوں کو اللہ تک لے جائے گویا لوگوں کو اللہ سے ملانے کے راستے اور واسطے کو بھی نبی کہتے ہیں ۔

نبی کا ایک معنیٰ جدا ( علیحدہ ) بھی ہے : ⏬

لفظ اَلنَّبْوةُ ، اَلنَّبَاوَة سے نبی کا ایک اور دلچسپ معنی بھی ہے ۔ وہ معنی ہے اَلْجَفْوَہ ، جدائی ، علیحدگی ۔ اس معنی کی رو سے نبی کا معنی ہے وہ ذات جو جدا اور علیحدہ ہو۔قرآن مجید میں ہے کہ : تَتَجَافٰی جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ۔ (سورة السجدة آیت نمبر 16)
ترجمہ : ان کے پہلو اُن کی خوابگاہوں سے جدا رہتے ہیں ۔

اس آیت مبارکہ میں بستر سے جدا کےلیے تَتَجَافٰی کا لفظ استعمال کیا جو اَلْجَفْوٰی سے ہے۔ نبوت کا ایک معنی یہی اَلْجفوٰی ہے۔ اس معنی کی رُو سے نبی وہ ہے جو علیحدہ ہو، جو دوسروں سے جدا ہو ۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبی کس طرح دوسروں سے جدا ہوتا ہے؟ اس معنی کی رو سے جدائی دو طرح کی ہے : ( 1 ) ذاتی طور پر دوسروں سے جدا ۔ ( 2 ) معاشرتی رسوم و رواج سے علیحدہ ۔

( 1 ) ذاتی طور پر دوسروں سے جدا : نبی کی اپنی ذات میں علیحدگی اور جدائی یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں پیکر بشریت ہوتا ہے مگر باقی بشروں سے جدا ہوتا ہے، عالم بشریت سے علیحدہ ہوتا ہے۔ نبی کے وجود انسانی اور پیکر بشریت میں خود ایک جدائی اور علیحدگی ہوتی ہے۔ یہ مقامِ نبوی جو انہیں دوسروں سے جدا کرتا ہے بایں طور ہے کہ بشری پیکر ہونے کے باوجود وہ بشریت کے وصف سے علیحدہ ہوتے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیکر بشری تھا مگر سایہ نہ تھا، ہر بشری اور انسانی وجود کا سایہ ہوتا ہے، سائے کے بغیر کوئی وجود نہیں۔ جب پیکر بشری ہو مگر سایہ نہ ہو تو بشری پیکر رکھنے کے باوجود بشریت سے جدا ہوگئے۔۔۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آتا تھا مگر پسینے میں بدبو نہ تھی بلکہ خوشبو تھی، لہذا اپنے پیکر بشری میں دوسروں سے جدا ہوگئے۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جسم رکھتے تھے مگر اس پر مکھی نہ بیٹھتی تھی۔۔۔ انسانی جسم تھا، جسم کی ضرورتیں ہوتی ہیں مگر مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلسل فاقوں سے ساری زندگی گزاری اور کبھی کمزوری نہ ہوئی۔۔۔ اس پیکر نبوت کی آنکھیں تھیں، آنکھیں صرف آگے دیکھنے کے لئے ہوتی ہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں جس طرح آگے دیکھتی تھیں اسی طرح پیچھے بھی دیکھتی تھیں۔۔۔ ہماری آنکھیں روشنی میں دیکھتی ہیں، اندھیرے میں نہیں دیکھ سکتیں مگر آقا علیہ السلام کا پیکر بشریت طیبہ ایسا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں اندھیرے میں اسی طرح دیکھتیں جس طرح اجالے میں دیکھتیں۔۔۔ تمام پیکران بشریت کے لعاب دہن سے امراض پیدا ہوتے ہیں، جراثیم پیدا ہوتے ہیں مگر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جسے اپنا لعاب دہن لگا دیتے تو اس کو شفا مل جاتی، اندھے کو بینائی مل جاتی، بیماروں کی امراض دور ہوجاتیں۔

گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم بشریت سے تھے مگر بشری خصائص سے جدا اور علیحدہ ہوگئے تھے۔ بشری پیکر رکھ کر اس طرح بشری خصائل سے الگ ہوئے کہ عالم نور کے ملائکہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تلوؤں کے برابر نہ رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرشی ہوکر عرشیوں سے بھی اونچی شان کے حامل ہوگئے۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی ذات کے اعتبار سے دوسروں سے علیحدگی اور جدائی کی شان ہے۔

( 2 ) معاشرتی رسوم و رواج سے علیحدہ : ایک علیحدگی اور جدائی کی شان حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایسی بھی ہے جس کا تعلق اس اجتماع اور معاشرت کے ساتھ تھا جس میں آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رہتے تھے۔ وہ جدائی یہ ہے کہ جس معاشرے میں آقا علیہ السلام کی بعثت ہوئی، اس معاشرے کا عالم یہ تھا کہ لوگ قتل و غارتگری کرتے تھے۔ چھوٹی چھوٹی بات پر نسلیں قتل ہوجاتی تھیں، پڑھنے لکھنے کا نام نہیں لیتے تھے۔ جہالت، ظلم، جبر، بربریت مسلط تھی۔ نفرتیں عام تھیں، انسانیت کی کوئی قدر اور عزت نہ تھی۔ خون خرابہ اور دشمنی و عداوت عام تھی۔ قبیلوں میں اگر لڑائی ہوجاتی تو دو دو سو سال جنگیں چلتی تھیں اور ہزارہا لوگ مارے جاتے اور انسانی لاشوں کے ڈھیر لگ جاتے تھے۔

ایسے معاشرے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ جدائی بایں طور سامنے آئی کہ آپ اس قتل و غارت کے معاشرے میں پیکر امن بن کر تشریف لائے۔ وہ معاشرہ جس میں انسان کی عزت و تکریم کا کوئی تصور نہ تھا، آقا علیہ السلام اس معاشرے میں رہے اور اس معاشرے کے برے رسم و رواج سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے انسان کی تکریم و عظمت کا سبق دیا۔۔۔ قتل و غارتگری سے منع کیا۔۔۔ ان پڑھوں کو پڑھنا لکھنا سکھایا۔۔۔ دشمنی کرنے والوں کو محبت کرنا سکھایا۔۔۔ خون خرابہ کرنے والوں کو خون کی حفاظت کرنا سکھایا۔۔۔ عزتیں لوٹنے والوں کو عزت بچانا سکھایا۔۔۔ پورے معاشرے میں جبر اور بربریت کرنے والوں کو رحمت کا طریقہ سکھایا۔ اس طرح معاشرے کی جو روش اور طریقہ تھا، آقا علیہ السلام اس طریقہ اور روش سے علیحدہ ہوتے ہوئے اس اجتماع اور معاشرے کی خصلتوں سے جدا ہوگئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی معاشرے میں پیدا ہوئے، اسی معاشرے میں بچپن، لڑکپن اور جوانی گزاری۔ اس معاشرے میں شب و روز گزارے جہاں طاقتور، کمزور کو غلام بنالیتے تھے، انہیں کوڑوں سے مارتے تھے، انہیں پتھروں کی سزا دیتے اور آگ میں جلادیتے، چھوٹی چھوٹی بات پر قتل کردیتے۔ پوری زندگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرب کے اس معاشرے میں گزاری۔ اس دور میں کوئی جدید تہذیب نہ تھی، کوئی ماڈرن کلچر نہ تھا، میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روم، مصر اور بابل نہیں گئے، وہ کتابوں اور انٹرنیٹ کا دور بھی نہ تھا۔ وہی معاشرہ ہی ہر ایک کا استاد تھا مگر اس معاشرے میں جنم لینے کے باوجود آقا علیہ السلام نے اس معاشرے کو اپنا استاد نہیں بنایا بلکہ خود اس معاشرے کے استاد بن گئے، اس معاشرے کے معلم، مرشد، ہادی اور رہبر بنے اور اس طرح معاشرے کی روش سے جدا ہوگئے۔ کردار، آئیڈیاز، فکر، سوچ، تعلیم اور عمل کی یہ جدائی اور علیحدگی بایں طور سامنے آئی کہ اس معاشرے کو امن اور رحمت کا مرکز بنا دیا ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

علم غیب کا معنی ، تعریف اور دلائل

غیب کی لغوی تعریف

غیب کام معنی چھپنا، پوشیدہ ہونا وغیرہ۔

المنجد، 892

امام راغب فرماتے ہیں غیب مصدر ہے۔ سورج آنکھوں سے اوجھل ہو جائے تو کہتے ہیں غابت الشمس سورج غائب ہو گیا۔

کل غائب عن الحاسه وعما یغیب عن علم الانسان بمعنی الغائب یقال للشئ غیب وغائب باعتباره بالناس لا باﷲ تعالی فانه لا یغیب عنه الشئ قوله عالم الغیب والشهادة أی ما یغیب عنکم وما تشهدونه والغیب في قوله ’’یومنون بالغیب‘‘ ما لا یقع تحت الحواس ولا تقتضیه بدایة العقول وانما یعلم بخبر الانبیاء علیهم السلام وبدفعه یقع علی الانسان اسم الالحاد

مفردات راغب : 367

’’جو چیز حاسہ سے غائب ہو اور جو کچھ انسانی علم سے چھپا ہو بمعنی غائب ہے۔ کسی چیز کو غیب یا غائب لوگوں کے اعتبار سے کہا جاتا ہے نہ کہ اﷲ کے اعتبار سے کہ اس سے تو کوئی چیز غائب نہیں اور فرمان باری تعالیٰ (عالم الغیب والشہادۃ) کا مطلب ہے جو تم سے غائب ہے اﷲ اسے بھی جاننے والا ہے اور جو تم دیکھ رہے ہو اسے بھی اور (یومنون بالغیب) میں غیب کا معنی ہے جو کچھ حواس سے بھی معلوم نہ ہو اور عقلوں میں بھی فوراً نہ آئے اسے صرف انبیاء کرام علیہم السلام کے بتانے سے جانا جا سکتا ہے جو اس کا انکار کرے اسے ملحد کہتے ہیں۔ ‘‘
شرح عقائد میں ہے :

وبالجمله العلم بالغیب امر تفرد به اﷲ تعالی لا سبیل للعباد الیه الا باعلام منه . . . .

شرح عقائد مع النبراس : 572

’’خلاصہ کلام یہ کہ علم غیب اﷲ تعالیٰ کی خاص صفت ہے۔ بندوں کے لئے اس طرف کوئی راستہ نہیں سوائے اس کے بتائے اور وہ وحی کے ذریعے بتاتا ہے جیسے نبی کا معجزہ یا الہام کے ذریعے جیسے ولی کی کرامت یا نشانات و علامات سے جیسے استدلالی علم۔ ‘‘

قاضی ناصر الدین بیضاوی (متوفی 791ھ) فرماتے ہیں :

المراد به الخفی الذی لا یدرکه الحس ولا یقتضیه بداهه العقل وهو قسمان لا دلیل علیه وهو المعنی بقوله تعالی ’’وعنده مفاتح الغیب‘‘ لا یعلمها الا هو. وقسم نصب علیه دلیل کالصانع وصفاته والیوم الاخر واحواله وهو المراد به فی هذه الایه (یومنون بالغیب)

تفسیر بیضاوی، 1 : 7

’’غیب سے مراد ہے وہ پوشیدہ چیز جسے حس معلوم نہ کر سکے اور نہ ہدایت عقل چاہے اس کی دو قسمیں ہیں پہلی جس پر کوئی دلیل قائم نہیں اور وہی مراد ہے اﷲ کے اس فرمان میں عندہ مفاتح الغیب الخ غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جنہیں صرف وہ جانتا ہے، دوسری جس پر دلیل قائم ہو جیسے صانع (خالق) اور اس کی صفات، یوم قیامت اور اس کے احوال اور یہی مراد اس آیہ کریمہ یومنون بالغیب میں ہے۔ ‘‘
امام رازی فرماتے ہیں :

ان الغیب هو الذی یکون غائباً عن الحاسه ثم هذا الغیب ینقسم الی ما علیه دلیل والی ما لیس علیه دلیل فالمراد من هذه الایه مدح المتقین بانهم یومنون بالغیب الذی دل علیه الدلیل بان یتفکروا ویستدلوا فیومنوا به وعلی هذه یدخل فیه العلم باﷲ تعالی وبصفاته والعلم بالاخر والعلم بالنبوه والعلم بالاحکام وبالشرائع فان فی تحصیل هذه العلوم بالاستدلال مشقه فیصلح ان یکون سببا لاستحقاق الثناء العظیم

تفسیر کبیر، 2 : 27

’’غائب وہ ہے جو حاسہ سے غائب ہو پھر یہ غیب دو قسم پر ہے ایک وہ جس پر دلیل قائم ہو دوسری وہ جس پر دلیل نہیں۔ اس آیہ کریمہ سے مراد متقیوں کی تعریف کرنا ہے کہ وہ اس غیب پر ایمان رکھتے ہیں جس پر دلیل قائم ہے کہ غور و فکر اور استدلال کرتے ہوئے اس پر ایمان لاتے ہیں۔ اس میں اﷲ تعالیٰ کی ذات و صفات کا علم، آخرت، نبوت اور احکام شرع کا علم شامل ہے کیونکہ ان علوم کو استدلال سے حاصل کرنے میں مشقت ہے لہٰذا بڑی مدح و ثنا کا مستحق ہے۔ ‘‘
ایک سوال کا جواب

امام رازی ایک سوال قائم کرتے ہیں :

فان قیل افتقولون العبد یعلم الغیب أم لا؟ قلنا قد بینا ان الغیب ینقسم الی ما علیه دلیل والی ما لا دلیل علیه أما الذی لا دلیل علیه فهو سبحانه وتعالی العالم به لا غیره وأما الذی علیه دلیل فلا یمتنع ان تقول نعلم من الغیب ما لنا علیه دلیل ویفید الکلام فلا یلتبس

تفسیر کبیر، 2 : 28

’’اگر کہا جائے کیا تم یہ کہتے ہو کہ بندہ غیب جانتا ہے یا نہیں؟ ہم کہتے ہیں کہ ہم بیان کر آئے ہیں کہ غیب کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جس پر دلیل ہے اور دوسرا وہ جس پر کوئی دلیل نہیں۔ وہ جس پر کوئی دلیل نہیں وہ اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کا علم ہے، کسی اور میں یہ صفت نہیں پائی جاتی مگر جس پر دلیل قائم ہے سو کچھ مانع نہیں کہ ہم کہیں کہ ہم وہ غیب جانتے ہیں جس پر دلیل ہے۔ یہ کلام مفید ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ ‘‘

امام ابو عبد اﷲ محمد بن احمد انصاری القرطبی (متوفی 671ھ) فرماتے ہیں :

(یومنون) یصدقون، والایمان فی اللغه التصدیق… الغیب کل ما اخبر به الرسول مما لا تهتدی الیه العقول من اشراط الساعة وعذاب القبر والحشر والنشر والصراط والمیزان والجنة والنارِ.

لاحکام القرآن للقرطبی، 1 : 114۔ 115

’’(ایمان لاتے ہیں یعنی) تصدیق کرتے ہیں۔ لغت میں ایمان کا مطلب ہے تصدیق… غیب ہر شے جس کی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی، جس کی طرف عقل رہنمائی نہ کر سکے مثلاً قیامت کی شرطیں، عذاب قبر، حشر و نشر، پل صراط، میزان، جنت و جہنم۔ ‘‘

امام قرطبی سورۃ الانعام کی آیت : 59 عندہ مفاتیح الغیب لا یعلمہا الا ہو کے تحت لکھتے ہیں :

فاﷲ تعالی عنده علم الغیب وبِیده الطرق الموصلة الیه، لا یملکها الا هو فمن شاء اطلاعه علیها اطلعه ومن شاء حجبه عنها ولا یکون ذلک من افاضته الا علی رسله بدلیل قوله تعالی وما کان اﷲ لیطلعکم علی الغیب ولکن اﷲ یجتبی من رسله من یشاء وقال عالم الغیب فلا یظهره علی غیبه احدا الا من ارتضی من رسول

الجامع لاحکام القرآن للقرطبی، 7 : 3

’’سو اﷲ کے پاس غیب کا علم ہے (یعنی جو مخلوق سے پوشیدہ ہے اسے اﷲ جانتا ہے) اور اسی کے ہاتھ میں غیب تک پہنچانے والے راستے ہیں۔ وہی ان کا مالک ہے سو جس کو ان پر اطلاع دینا چاہے اطلاع دیتا ہے اور جن سے پردے میں رکھنا چاہے پردے میں رکھتا ہے اور اس کی فیضان صرف رسول پر ہوتا ہے۔ ‘‘
منافقین کا علم

وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ

آل عمران، 3 : 179

’’اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ (اے عامۃ الناس!) تمہیں غیب پر مطلع فرما دے لیکن اللہ اپنے رسولوں سے جسے چاہے (غیب کے علم کے لیے) چن لیتا ہے۔ ‘‘

فان سنة اﷲ جاریة بانه لا یطلع عوام الناس علی غیبه بل لا سبیل لکم الی معرفة ذلک الامتیاز الا بالامتحانات مثل ما ذکرنا من وقوع المحن والافات حتی یتمیز عندها الموافق من المنافق فاما معرفته ذلک علی سبیل الاطلاع من الغیب فهو من خواص الانبیاء فلهذا قال ولکن اﷲ یجتبی من رسله من یشاء أی ولکن اﷲ یصطفی من رسله من یشاء فخصهم باعلامهم ان هذا مومن وهذا منافق… ویحتمل ولکن اﷲ یجتبی من یشاء فیمتحن خلقه بالشرائع علی ایدیهم حتی یتمیز الفریقان بالامتحان ویحتمل ایضا ان یکون المعنی وما کان اﷲ لیطلعکم لیجعلکم کلکم عالمین بالغیب من حیث یعلم الرسول حتی تصیروا مستغنین عن الرسول بل اﷲ یخص من یشاء من عباده بالرسالة ثم یکلف الباقین طاعة هولاءِ الرُسُل.

نفسیر کبیر، 9 : 111

’’اﷲ کی سنت جاری ہے کہ عوام کو اپنے غیب پر اطلاع نہیں دیتا بلکہ تمہارے لئے اس امتیاز ایمان و نفاق کے سلسلہ میں بجز اس کے کوئی رستہ نہیں کہ امتحانات ہوں جیسے ہم نے ذکر کیا کہ آفات و آلام نازل ہوں تاکہ اس وقت موافق و منافق میں تمیز ہو سکے۔ رہا اس پر خبردار ہونا علم غیب پر دسترس حاصل کر لے تو یہ نبیوں کا خاصہ ہے اسی لئے فرمایا لیکن اﷲ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے چن لیتا ہے پھر خصوصی طور پر ان کو باتا ہے کہ یہ مومن ہے اور یہ منافق… یہ احتمال بھی ہے کہ اﷲ اپنے رسولوں سے جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے پھر نبیوں کے ذریعے احکام شرع بھیج کر اپنی مخلوق کا امتحان لیتا ہے یہاں تک کہ اس جانچ سے دونوں جماعتیں ممتاز ہو جاتی ہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ معنی ہو کہ اﷲ تعالیٰ ایسا نہیں کہ تم سب کو غیب پر اطلاع کر دے جیسے رسول کو علم غیب دیتا ہے کہ تم رسولوں سے بے نیاز ہو جاؤ بلکہ اﷲ اپنے بندوں میں خاص کو رسالت سے سرفراز فرماتا ہے پھر باقیوں کو ان رسولوں کی اطاعت کا مکلف بناتا ہے۔ ‘‘

امام فخر الدین رازی سورۃ التوبہ کی آیت : 82 کے تحت لکھتے ہیں :

واﷲ تعالی کان یطلع الرسول علیه الصلوه والسلام علی تلک الاحوال حالا فحالا ویخبره عنها علی سبیل التفصیل وما کانوا یجدون فی کل ذلک الاالصدق فقیل لهم ان ذلک لو لم یحصل باخبار اﷲ تعالی والا لما اطرد الصدق فیه ولظهر فی قول محمد انواع الاختلاف والتفاوت فلما لم یظهر ذلک علمنا ان ذلک لیس الا باعلام اﷲ تعالی.

تفسیر کبیر، 10 : 196

’’اﷲ تعالیٰ منافقین کے تمام احوال پر نبی ں کو اطلاع دیتا رہا اور تفصیل بتاتا رہا اور وہ ان خبروں کو ہمیشہ سچ ہی پاتے۔ سو ان سے کہا گیا کہ اگر یہ خبریں اﷲ کے بتانے سے نہ ہوتیں تو اس میں سچائی کس طرح جمع ہو جاتی۔ محمد کی اپنی بات ہوتی تو اس میں اختلاف وتفاوت واضح ہوتا ہے۔ جب ایسا کبھی ظاہر نہیں ہوا تو ہمیں معلوم ہو گیا کہ یہ سب کچھ محض اﷲ کے بتانے سے ہے۔ ‘‘

فاغرض عنھم

والمعنی لا تهتک سترهم ولا تفضحهم ولا تذکرهم باسماء هم وَ لمّا امر اﷲ بستر امر المنافقین الی ان یستقیم امر الاسلام.

تفسیر کبیر، 10 195

’’اس کا مطلب ہے کہ ان منافقین کی پردہ داری فرمائیں اور ان کے نام سرعام لے کر ان کو رسوا نہ کریں۔ اﷲ نے منافقین کے معاملات کو چھانے کا حکم دیا، یہاں تک کہ اسلام کا معاملہ درست اور مضبو ہو جائے۔ ‘‘

امام رازیؒ آیہ کریمہ

ولا یحیطون بشئٍی من علمه الا بما شآء.

’’اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے۔ ‘‘

کے تحت لکھتے ہیں :

لا یعلمون الغیب الا عند اطلاع اﷲ بعض انبیاء هم علی بعض الغیب کما قال عالم الغیب فلا یظهر علی غیبه احد الا من ارتضی من رسول

تفسیرکبیر، 7 : 11

’’یعنی لوگوں کو غیب کا علم نہیں مگر ہاں جب کسی نبی کو اس نے کسی غیب کی اطلاع کر دی تو اس کو علم غیب حاصل ہو جاتا ہے جیسے فرمایا : وہ عالم غیب ہے اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا مگر جس نبی کو اس کے لئے چن لے۔ ‘‘
تتقیح مسئلہ علم غیب

احتج اهل الاسلام بهذه الایة علی انه لا سبیل الی معرفة المغیبات الا بتعلیم اﷲ تعالی وانه لا یمکن التوصل الیها بِعِلم النجوم والکهانه والعرافة وَنظیرُه قوله تعالی و عنده مفاتح الغیب لا یعلمها الا هو و قوله عالم الغیب فلا یظهر علی غیبه احد الا من ارتضی من رسول.

تفسیر کبیر، 2 : 209

’’تمام اہل اسلام نے اس آیت سے دلیل پکڑی ہے کہ غیبی امور کی معرفت اﷲ کے بتائے بغیر کسی طرح حاصل نہیں ہو سکتی، اسے علم نجوم، کہانت اور ماہرانہ نظر سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی مثال اﷲ کا فرمان ہے اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور فرمان باری تعالیٰ ہے وہ غیب جاننے والا ہے۔ سو اپنے غیب پر بجز اپنے پسندیدہ رسولوں کے کسی کو مسلط نہیں کرتا۔ ‘‘

وَعَلَّمَ اَدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّها

(البقره).

کے تحت لکھتے ہیں :

ان المراد اسماء کل ما خلق اﷲ من اجناس المحدثات من جمع اللغات المختلفه التی یتکلم بها ولد ادم الیوم من العربیة والفارسیة والرومیة وغیرها وکان ولد ادم علیه السلام یتکلمون بهذه اللغات فلما مات ادم تفرق ولده فی نواحی العالم تکلم کل واحد منهم بلغة معینة من تلک اللغات فغلب علیه ذلک اللسان فلما طالت المدة و مات منهم قرن بعد قرن نسوا سائر اللغات فهذا هو السبب فی تغیر الالسنه فی ولد ادم علیه السلام.

تفسیر کبیر، 2 : 176

’’مشہور بات یہی ہے کہ اسماء سے مراد تمام مخلوق کی اجناس و اقسام کے نام ہیں ان مختلف زبانوں میں جن کو اولاد آدم آج تک استعمال کر رہی ہے مثلاً عربی، فارسی، رومی وغیرہ۔ اولاد آدم ان زبانوں میں گفتگو کرتی تھی جب آدم علیہ السلام کی وفات ہوئی اور آپ کی اولاد دنیا کے کونے کونے ان زبانوں میں سے کسی ایک زبان میں بات کرنی شروع کر دی اور ان لوگوں پر وہی زبان غالب آگئی جب مدت لمبی ہو گئی اور یکے بعد دیگرے قومیں رخصت ہوتی گئیں تو لوگ باقی زبانیں بھول گئے۔ یہی سبب ہے اولاد آدم میں مختلف زبانوں کے اختلاف۔ ‘‘

قال علما ونا وقد انقلبت الاحوال فی هذه الازمان باتیان المنجمین والکهان لاسیما بالدیار المصریة فقد شاع فی روسائهم واتباعهم و امرائهم اتخاذ المنجمین بلٌ لقد انخدع کثیر من المنتسبین الفقه والدین فجاؤَا الی هولاء الکهنه و العرافین فبهر جوا علیهم بالمحال و استخرجوا منهم الاموال فحصلوا من اقوالهم علی السراب والال ومن ادیانهم علی الفساد والضلال وکل ذلک من الکبائر لقوله علیه السلام ’’لم تقبل له صلاة اربعین لیله فکیف بمن اتخذهم وانفق علیهم معتمدا علی اقوالهم‘‘ روی المسلم رحمه اﷲ عن عائشة رضی اﷲ عنها قالت سَألَ رسولَ اﷲ صلی الله علیه وآله وسلم اناسٌ عن الکهان فقال انهم لیسوا بشئی فقالوا یا رسول اﷲ صلی الله علیه وآله وسلم انهم یحدثون احیانا بشئی فیکون حقا فقال رسول اﷲ صلی الله علیه وآله وسلم تلک الکلمة من الحق یخطفها الجنی فیقرها فی اذن ولیه قر الدجاجه فیخلطون معها مائه کذبه‘‘ واخرج البخاری ایضا من حدیث ابی لاسود محمد بن عبدالرحمن عن عروه عن عائشه رضی اﷲ عنها سمعت رسول اﷲ صلی الله علیه وآله وسلم یقول ان الملائکة تنزل فی العنان و هو السحاب فتذکر الامر قضی فی السماء فتسترق الشیاطین السمع فتسمعه فتوحیه الی الکهان فیکذبون معها مائة کذبة من عند انفسهم.

تفسیر قرطبی، 7 : 4

’’ہمارے علماء نے فرمایا اس زمانے میں حالات میں انقلاب آگیا ہے۔ لوگ نجومیوں اور کاہنوں کے پاس آتے ہیں خصوصاً مصر میں کہ ان کے رئیسوں، ان کے پیروکاروں اور ان کے امراء میں نجومیوں کی خدمات حاصل کرنا بہت عام ہے بلکہ بہت سے دین و فقہ کی طرف منسوب ہونے والے (علمائ) بھی دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ وہ ان کاہنوں (غیب کے دعویداروں) او رماہروں، قیانہ شناسوں کے پاس آتے ہیں۔ پھر یہ لوگ بڑے ناز و انداز سے ان کو محال باتوں کے ہونے کا اطمینان دلاتے اور ان سب سے مال نکالتے ہیں۔ سو ان باتوں سے وہ سراب (دوپہر کو پانی کی طرح نظر آنے والی ریت) اور آل (دوپہر کو فضا میں چمکتے پانی کے قطرے) ہی حاصل کر سکتے ہیں یعنی صفر، ان کے مسلک سے فساد و گمراہی ہی مل سکتی ہے۔ بہر حال یہ سب بڑے گناہ ہیں کیونکہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان کیپاس آنے والے کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔ تو کیا حال ہو گا ان لوگوں کا جو ان کے دامن سے وابستہ ان پر اپنے مال خرچ کر تے اور ان کی باتوں پر اعتماد کرتے ہیں۔ امام مسلم ؒ نے (ام المؤمنین حضرت) عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لوگوں نے کاہنوں (بزعم خود غیب دان) کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کاہن کچھ نہیں۔ صحابہ ث نے عرض کیا کیارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی باتیں بسا اوقات سچی نکل آتی ہیں تو حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’کلمہ حق کوئی جن کہیں سے لے آتا ہے اور اسے اپنے دوست کاہن کے کان میں ڈال دیتا ہے تو پھر یہ لوگ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا دیتے ہیں اور امام بخاریؒ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ فرشتے بادل میں اتر کر کسی ایسی بات کا ذکر کرتے ہیں جس کا آسمانوں پر فیصلہ ہوا ہو۔ شیطان چوری سے انہیں سن لیتے اور کاہنوں کو بتا دیتے ہیں جس میں وہ اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا لیتے ہیں۔ ‘‘

امام رازی لکھتے ہیں :

قال الفراء یاتیه غیب السماء وهو شیئی نفیس فلا یبخل به علیکم وقال ابو علی الفارسی المعنی انه یخبر بالغیب فیبینه ولا یکتمه کما یکتم الکاهن ذلک ویمتنع من اعلامه حتی یا خذ علیه حلوانا.

تفسیر، کبیر، 31 : 74

’’فراء نے کہا حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آسمانی غیب آتا ہے جو نفیس چیز ہے۔ پھر آپ اس کے عطا فرمانے میں تم سے بخل نہیں کرتے۔ ابو علی فارسی نے کہا مطلب یہ کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غیب واضح طور پر بتا دیتے ہیں اور کاہن کی طرح چھپاتے نہیں جو مٹھائی لے کر بتاتا ہے۔ (وہ بھی غلط)۔ ‘‘

قُلْ لاَّ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِی خَزَائِنَ اﷲِ

کے تحت لکھتے ہیں :
غلم غیب کا مفہوم

المراد منه ان یظهر الرسول من نفسه التواضع ﷲ والخضوع له والاعتراف بعبودیته حتی لا یعتقد فیه مثل اعتقاد النصاری فی المسیح

’’مراد یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اﷲ کے سامنے اپنی عاجزی ظاہر فرمائیں اور اپنی بندگی کا اعتراف فرمائیں تاکہ آپ کے بارے میں ایسے عقیدے نہ رکھے جائیں جیسے عیسائیوں نے مسیح ں کے متعلق گھڑے ہیں۔ ‘‘
القول الثانی

هذه الامور التی طلبتموها فلا یُمْکِمن تحصیلها الا بقدرة اﷲ فکان المقصود من هذا الکلام اظهار العز والضعف وانه لا یستقل بتحصیل هذه المعجزات التی طلبتوها منه.

’’یہ ہے کہ جو مطالبے تم مجھ سے کر رہے ہو ان کو تو صرف اﷲ کی قدرت سے حاصل کیا جاسکتا ہے پس اس کلام کا مقصد یہ ہے کہ عاجزی و کمزوری کا اظہار کرنا اور یہ بتانا ہے کہ جن معجزات کا مطالبہ تم سرکار سے کرتے آئے ہو، وہ ان کو پورا کرنے میں مستقل قدرت نہیں رکھتے۔ ‘‘
القول الثالث

معناه انی لا ادعی کونی موصوفا بالقدره الائقه باﷲ تعالی وقوله (ولا اعلم الغیب) أی ولا ادعی کوئی موصوفا بعلم اﷲ تعالی وبجموع هذین الکلامین حصل انه لا یدعی الالهیه.

تفسیر کبیر، 12 : 231

’’اس کی وضاحت میں یہ ہے کہ میں اس قدرت کے ساتھ موصوف ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا جو صرف اﷲ تعالیٰ کے لائق ہے۔ (لا اعلم الغیب) کا مطلب یہ ہے کہ اس صفت علم سے موصوف ہونے کا دعویدار ہی نہیں جو اﷲ کی صفت خاصہ ہے دونوں باتوں کے مجموعے سے یہ مفہوم نکلا کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا ہونے کا دعوی نہیں فرما رہے۔ ‘‘

لا رطبٍ ولا یابس الا فی کتاب مبین لوح محفوظ میں ہر چیز لکھنے کے تین فائدے ہیں :

انه تعالی انما کتب هذه الاحوال فی اللوح المحفوظ لتفف الملائکه علی نفاذ علم اﷲ تعالی فی المعلومات وانه لا یغیب عنه مما فی السموات والارض شئی فیکون فی ذالک عبرة تامه کامله للملائکه الموکلین باللوح المحفوظ لانهم یقابلون به ما یحدث فی صحیفه هذا العالم فیجدونه موافقا له وثانیها یجوز ان یقال انه تعالی ذکر ما ذکر من الورقه والحبه تنبیها للمکلفین علی أمر الحساب واعلاما بانه لا یفوته من کل ما یصنعون فی الدنیا شئی لأنه اذا کان لا یهمل الاحوال التی لیس فیها ثواب ولا عقاب ولا تکلیف فبان لا یهمل الاحوال المشتمله علی الثواب والعقاب اولی وثالثها انه تعالی علم احوال جمیع الموجودات فیمتنع تغییرها عن مقتضی ذالک العلم والالزام الجهل.

تفسیر کبیر، 13 : 11

’’اﷲ تعالیٰ نے یہ تمام حالات لوح محفوظ میں اس لئے لکھے ہیں کہ فرشتے اسے دیکھ کر معلوم کر لیں کہ مخلوق میں اﷲکے علم کے مطابق کیا کچھ کرنا ہے۔ اﷲ سے تو زمین و آسمان کی کوئی شئے غائب نہیں۔ اس میں کامل و تام عبرت ہے۔ ان فرشتوں کے لئے جو لوح محفوظ پر مقرر ہیں کہ وہ صحیفہ کائنات میں ہونے والے امور کا لوح محفوظ میں لکھے گئے امور سے مقابلہ کرتے اور اس کے موافق پاتے ہیں۔ دوم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ہر پتے اور دانے کا لوح محفوظ میں ذکر کر کے مکلفین کو حساب و کتاب پر تنبیہ کی ہے اور ان کو بتا دیا کہ وہ دنیا میں جو کچھ کر رہے ہیں وہ اﷲ سے ذرہ بھر چھپا نہیں اس لہے کہ جب وہان امور میں سستی نہیں کرتا جن کا ثواب و عذاب اور تکلیف سے کوئی تعلق نہیں تور ان امور کے لکھنے میں بطریق اولیٰ سستی نہیں کرتا جن کا تعلق ثواب و عذاب سے ہے۔ سوم اﷲ تعالیٰ تمام موجودات کے حالات کو جانتا ہے تو اس کے علم کے خلاف ہونا محال ہے ورنہ اس کی جہالت لازم آئے گی تو جب اس نے تمام موجودات کے حالات پوری تفصیل سے لکھ دے۔ اب بھی ان میں تبدیلی نہیں ہو سکتی ورنہ جہالت لازم آئے گی۔ ‘‘
دور و نزدیک

يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ قَالُوا بَلَى وَلَكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّى جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُo

الحدید، 57 : 14

’’وہ (منافق) اُن (مومنوں) کو پکار کر کہیں گے : کیا ہم (دنیا میں) تمہاری سنگت میں نہ تھے؟ وہ کہیں گے : کیوں نہیں لیکن تم نے اپنے آپ کو (منافقت کے) فتنہ میں مبتلا کر دیا تھا اور تم (ہمارے لیے برائی اور نقصان کے) منتظر رہتے تھے اور تم (نبوّتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دینِ اسلام میں) شک کرتے تھے اور باطل امیدوں نے تمہیں دھوکے میں ڈال دیا، یہاں تک کہ اللہ کاامرِ (موت) آپہنچا اور تمہیں اللہ کے بارے میں دغا باز (شیطان) دھوکہ دیتا رہا۔ ‘‘

جنت آسمانوں سے بلند تر اور جہنم اسفل السافلین یعنی تمام مخلوق سے نیچ ترین جگہ ہے تب ان میں یہ مکالمہ کیسے ہو گا؟

امام رازی ؒ فرماتے ہیں :

اذا یَدُلُّ علی ان البعد الشدید لا یمنع من الادراک

تفسیر کبیر، 29 : 226

’’اس آیت کا مضمون اس بات پر دلیل ہے کہ بہت زیادہ دوری علم کے لئے مانع نہیں۔ ‘‘

ان اکثر ارباب الملل و النحل یسلمون وجود ابلیس ویسلمون انه هو الذی یتولی القاء الوسوسه فی قلوب بنی آدم ویسلمون انه یمکنه الانتقال من المشرق الی المغرب لَـاَجل القاء الوساوس فی قلوب بنی آدم فلما سلموا جواز مثل هذا الحرکه السریعه فی حق ابلیس فلان یسلموا جواز مثلها فی حق اکابر الانبیاء کان اولی

تفسیر کبیر، 20 : 149

’’اکثر اہل مذاہب ابلیس کا وجود مانتے ہیں اور یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اولاد آدم کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے اور یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اولادِ آدم کے دلوں میں وسوسہ اندازی کے لئے اس کا مشرق سے مغرب تک منتقل ہونا ممکن ہے سو جب اس قسم کی تیز حرکت ابلیس کے لئے جائز مانتے ہیں تو اکابر انبیاء کے لئے بطریق اولیٰ جائز ماننا چاہیے۔ ‘‘

فان کان القول لمعراج محمد صلی الله علیه وآله وسلم فی الیله الواحده ممتنعا فی العقول کان القول بنزول جبریل علیه السلام من العرش الی مکة فی اللحظه الواحده ممتنعا ولو حکمنا بهذا الامتناع کان ذلک طعنا فی نبوه جمیع الانبیاء علیهم السلام.

تفسیر کبیر، 20 : 148

ایک رات میں معراج محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عقلاً محال ہے تو جبرائیل علیہ السلام کا عرش سے مکہ تک ایک آن میں اترنا بھی محال ہو گا۔ اگر ہم اس محال کا فیصلہ کرلیں تو تمام انبیاء علیہم السلام کی نبوت پر طعن ہو گا۔ ‘‘

تفسیر کی امہات کتب سے واضح ہوتا ہے کہ علم غیب کاعقیدہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں عقلی و نقلی دلائل سے ثابت ہے۔ جو کہ اہل سنت و جماعت اور تمام اسلام کا عقیدہ رہا ہے اور آج ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے۔
علم رسول کی وسعت ما کان وما یکون کو شامل ہے

علم ما کان وما یکون قرآن سے

اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو ہوا اور ہو گا سب کا علم عطا فرمایا قرآن کریم میں ہے :

وَأَنزَلَ اللّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًاo

النساء، 4 : 113

’’اوراللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی ہے اور اس نے آپ کو وہ سب علم عطا کر دیا ہے جو آپ نہیں جانتے تھے، اور آپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔ ‘‘

اعتراض کرنے والوں سے پوچھیں حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کیا نہیں جانتے تھے؟ جب فہرست بنا کر دیں تو یہ آیہ کریمہ پڑھ کر سنا دیں۔ کہ جو جو کچھ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ جانتے تھے وہ سب کچھ اﷲ نے آپ کو بتا دیا اور سکھا دیا ہے۔ اس جاننے اور سیھکنے کے بعد بھی آپ پر غیب، غیب ہی رہا؟ پھر اس پڑھانے سکھانے کا کیا فائدہ اور اس اعلان خداوندی کا کیا مطلب؟ کیا معاذ اﷲ، اﷲ کے اعلان ایسے ہوتے ہیں جیسے انسانوں کے؟

دوسری جگہ قرآن میں فرمایا :

مَا كَانَ اللّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ فَآمِنُواْ بِاللّهِ وَرُسُلِهِ وَإِن تُؤْمِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌo

آل عمران، 3 : 179

’’اور اللہ مسلمانوں کو ہرگز اس حال پر نہیں چھوڑے گا جس پر تم (اس وقت) ہو جب تک وہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کر دے، اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ (اے عامۃ الناس!) تمہیں غیب پر مطلع فرما دے لیکن اللہ اپنے رسولوں سے جسے چاہے (غیب کے علم کے لیے) چن لیتا ہے، سو تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائو اور اگر تم ایمان لے آئو، اور تقویٰ اختیار کرو تو تمہارے لیے بڑا ثواب ہے۔ ‘‘

سب جانتے ہیں کہ وجود، علم، حسن، قدرت، اختیار، اقتدار، بادشاہی، سننا دیکھنا، جزا و سزا دینا، رزق، صحت، بیماری دینا، کھلانا پلانا وغیرہ سب اﷲ تعالیٰ کی صفات ازلی ہیں۔ مخلوق کے پاس جو کچھ بھی ہے اﷲ کی دین ہے، اس کی عطا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے دیئے بغیر نہ کسی کا وجود اپنا ہے نہ کوئی صفت، نہ کوئی فعل نہ حکم وغیرہ، اﷲکے دیئے ہوئے سے ہے۔ جو بھی مخلوق کے پاس ہے یہی حقیقت کبریٰ ہے۔ یہی ایمان ہے اور یہی اسلام کی بنیاد ہے۔ دونوں باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔
اول

یہ کہ اﷲ تعالیٰ تمام کمالات کا مالک ہے۔ باقی سب اس کی عنایت و عطا ہے۔
دوم

یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے جس مخلوق کو جو جتنا کمال دیا ہے اس پر بھی ایمان اسی طرح لایا جائے جس طرح پہلی حقیقت پر، کسی ایک کا بھی انکار کفر ہے۔

چند مثالیں

اﷲ مالک ہے، بادشاہ ہے، قرآن میں فرمایا :

قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَـنْـزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌo

آل عمران، 3 : 26

’’(اے حبیب! یوں) عرض کیجیے : اے اﷲ! سلطنت کے مالک! تُو جسے چاہے سلطنت عطا فرما دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تُو جسے چاہے عزت عطا فرما دے اور جسے چاہے ذلّت دے، ساری بھلائی تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے، بے شک تُو ہر چیز پر بڑی قدرت والا ہے۔ ‘‘

دیکھ لیجئے مالک الملک کس طرح اپنا ملک دے بھی رہا ہے اور چھین بھی رہا ہے۔

اﷲ حلیم ہے، علیم ہے، رؤف ہے، رحیم ہے مثلاً

وَاﷲُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌo

البقرہ، 2 : 247

’’اور اﷲ بڑی وسعت والا خوب جاننے والا ہے۔ ‘‘

إِنَّ اللّهَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ

البقرہ، 2 : 143

’’بے شک اﷲ لوگوں پر بڑی شفقت فرمانے والا مہربان ہے۔ ‘‘

إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُo

الإسراء، 17 : 1

’’بے شک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔ ‘‘

اب ذرا غور سے دیکھیں یہی صفات اﷲ تعالیٰ نے اپنے مقبول بندوں کو عطا فرمائی ہیں :

فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ

الصافات، 37 : 101

’’پس ہم نے انہیں بڑے بُردبار بیٹے (اسماعیل علیہ السلام) کی بشارت دی۔ ‘‘

اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍo

الحجر، 15 : 53

’’ہم آپ کو ایک دانش مند لڑکے (کی پیدائش) کی خوش خبری سناتے ہیں۔ ‘‘

بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌo

التوبہ، 9 : 128

’’مومنوں کے لیے نہایت (ہی) شفیق بے حد رحم فرمانے والے ہیں۔ ‘‘

فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًاo

الدھر، 76 : 2

’’پس ہم نے اسے (ترتیب سے) سننے والا (پھر) دیکھنے والا بنایا ہے۔ ‘‘

یہ سب عام انسانوں کی صفات بتائی گئی ہیں۔ پس قرآن کریم سے بیسیوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں کہ ایک لفظ مخلوق کے لئے استعمال ہوا اور وہی لفظ کسی دوسری جگہ اﷲ کے لئے استعمال ہوا۔ یہ اشتراک لفظی تو ہے معنوی و حقیقی اشتراک ہرگز نہیں۔ پس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اﷲ کا دیا ہوا علم غیب ہے اور ساری کائنات سے زیادہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کچھ نہ جانتے تھے وہ سب کچھ اﷲ نے آپ کو بتا دیا جو پہلی آیت میں مذکور ہے۔

وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُo

النسائ، 4 : 113

’’اور اس نے آپ کو وہ سب علم عطا کر دیا ہے جو آپ نہیں جانتے تھے۔ ‘‘
احادیث سے ثبوت

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن صبح کی نماز کے لئے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ تاخیر سے تشریف لائے یوں لگتا تھا کہ سورج نکل آیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی سے تشریف لائے تکبیر ہوئی، مختصر نماز پڑھائی، سلام پھیر کر باآواز بلند فرمایا اپنی جگہ بیٹھے رہو پھر ہماری طرف رخ انور پھیر کر فرمایا۔ میں تمہیں تاخیر کی وجہ بتاتا ہوں، میں رات کو اٹھا، وضو کر کے جو مقدر میں تھی نماز پڑھی، مجھے نماز میں اونگھ آ گئی دیکھا تو سامنے بہترین شکل و صورت میں میرا پروردگار تھا۔

فقال یا محمد قلت لبیک رب قال فیما یختصم الملاء الاعلی قلت لا ادری قالها ثلث قال فوضح کفه بین کتفی حتی وجدت بردَ اَنامِلَه بین ثدبی قتجلی لی کل شئ وعرفت… الخ

1۔ ترمذی، کتاب التفسیر القرآن، باب سورۃ ص، الرقم : 3235

2۔ احمد، ترمذی، امام بخاری نے صحیح کہا، مشکوۃ : 72

’’فرمایا : اے محمد! میں نے عرض کی، پروردگار! حاضر ہوں۔ فرمایا : فرشتے کس بات میں بحث کر رہے ہی؟ میں نے عرض کی : مجھے معلوم نہیں۔ یہی بات تین بار فرمائی۔ فرمایا : میں نے دیکھا اس نے اپنا دست اقدس میرے دو شانوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی (انگلیوں سے مراد جو بھی ہے) پھر ہر چیز مجھ پر روشن ہو گئی اور میں نے پہچان لی… الخ۔ ‘‘

حضرت حذیفہ بن یمان ص فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے :

ما ترک شیئا یکون فی مقامه ذالک الی قیام الساعه الا حدث به حفظه من حفظه ونسیه من نسیه قد علمه اصحابی هولاء وانه لیکون منه الشئ قد نسیته فاراه فاذکره کما یذکر الرجل وجه الرجل واذا غاب عنه ثم اذا راه عرفه

بخاری، الصحیح، کتاب القدر، باب وکان امر اﷲ قدرا مقدورًا، 6 / 2435، الرقم : 6230

2۔ مسلم، مشکوۃ : 461

’’کوئی چیز نہ چھوڑی، قیامت تک ہونے والی ہر چیز بتا دی جس نے یاد رکھی، یاد رکھی اور جو بھول گیا سو بھول گیا۔ میرے ان ساتھیوں کو علم ہے، اس میں سے کوئی بات میں بھول جاتا ہوں پھر ہوتے دیکھتا ہوں تو یاد آ جاتی ہے جیسے کوئی شخص دوسرے کا چہرہ پہچانتا ہے پھر وہ اس سے غائب ہو جاتا ہے پھر جب اسے دیکھتا ہے تو پہچان لیتا ہے۔ ‘‘

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب میری امت میں تلوار چلے گی تو قیامت تک نہ اٹھے گی اور قیامت قائم نہ ہو گی جب تک میری امت کے کچھ قبائل مشرکین سے نہ مل جائیں یہاں تک کہ میری امت کے بعض گروہ بتوں کی عبادت کریں گے (جیسے گاندھی، نہرو، پٹیل کی یا آج امریکی سامراج کی) میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔

کلهم بزعم انه نبی اﷲ و انا خاتم النبیین لا نبی بعدی لا تزال ظائفه من امتی علی الحق ظاهرین لا یضرهم من خالفهم حتی تاتی امر اﷲ

1۔ ترمذی، السنن، کتاب الفتن، باب لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون، 4 / 432، الرقم : 2219

2۔ ابوداؤد، ترمذی، مشکوۃ : 465

’’ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا، مخالف ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا یہاں تک کہ اﷲ کا حکم آ جائے گا۔ ‘‘

حضرت ابو ہریرہ ص سے روایت ہے :

ان رسول اﷲ قال لا تقوم الساعة حتی تَقْتَتِل فئتان عظیمتان تکون بینهما مقتلة عظیمة دعواهما واحدة… الخ

بخاری، الصحیح، کتاب الفتن، باب خروج النار، 6 / 2605، الرقم : 6704

’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دو بڑی جماعتیں جنگ نہ کریں اور ان میں بہت بڑی خونریزی ہو گی، دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا (یعنی اسلام)… الخ۔ ‘‘

مومن تو ہوتا ہی وہ ہے جو یومنون بالغیب غیب پر ایمان لائے کہ اﷲ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو غیب کی باتیں بیان فرمائیں ان پر یقین کرے جو کہے کہ نبی کو غیب کا علم اﷲ نے دیا ہی نہیں ہے وہ فرشتوں، قبر، قیامت، ذات باری تعالیٰ، جنت، جہنم، منکر نکیر، حور و غلمان وغیرہ پر یقین کیسے کرے گا؟ یہ حقائق تو صرف نبی نے بتائے، ماننے والے مسلمان اور شک کرنے والے یا انکار کرنے والے غیر مسلم کہلائے۔ نبی کا مفہوم ہی غیب بتانے والا ہے۔ دیکھو عربی لغت کی کوئی کتاب قرآن و سنت میں یہ حقیقت واضح کر دی گئی۔ اﷲ سب کو ہدایت دے۔

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب محترم قارئینِ کرام : شیعہ مفسر قمی لک...