Sunday, 2 August 2026

کیا خطاءِ اجتہادی گناہ و گستاخی ہے ؟ خطاءِ اجتہادی کو گناہ و گستاخی بنانے والوں کے نام

کیا خطاءِ اجتہادی گناہ و گستاخی ہے ؟ خطاءِ اجتہادی کو گناہ و گستاخی بنانے والوں کے نام

محترم قارئینِ کرام : شرعی حکم کو پہچاننے کےلیے اپنی پوری طاقت صرف کرنا ، اجتہادکہلاتا ہے ۔ اور اپنی پوری طاقت صرف کرنے کے باوجوداصل شرعی حکم تک پہنچنے میں مجتہدسے خطا ہو جائے تویہ خطا ، خطائے اجتہادی کہلاتی ہے ۔ لیکن یہ یاد رہے کہ مجتہد سے پوری طاقت صرف کرنے کے بعد خطا ہو جائے تواس کوشش پربھی اس کو ایک اجر ملتا ہے اور اگر وہ درست حکم تک پہنچ جائے تو اسے دو اجر ملتے ہیں ، ایک کوشش کرنے کا اور دوسرا درست حکم تک پہنچنے کا ۔


اجتہاد کے لغوی معنیٰ ہیں کسی کام کی انجام دہی میں تکلیف و مشقت اٹھاتے ہوئے اپنی پوری کوشش صرف کرنا ۔ (القاموس الفقهی صفحہ 71)


علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ اجتہاد کی لغوی تعریف کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں : الاجتهاد وهو في اللغة تحمل الجهد اي المشقة ۔

ترجمہ : اجتہاد کا لغوی معنی کوشش کرنا یعنی مشقت اٹھانا ہے ۔ (شرح التلویح علی التوضیح جلد 2 صفحہ 234 مكتبة صبيح بمصر)


علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ شرح صحیح البخاری میں اجتہاد کی اصطلاحی تعریف تحریر فرماتے ہیں کہ : اصطلاحا بذل الوسع للتوصل الى معرفة الحكم الشرعي ۔

ترجمہ : اصطلاح میں اجتہاد حکم شرعی کی معرفت کے حصول کےلیے طاقت کو استعمال کرنے کا نام ہے ۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری جلد 13 صفحہ 299 دار المعرفۃ بیروت)


تو گویا اجتہاد اس کوشش کو کہتے ہیں جو کسی کام کی تکمیل میں مشقت برداشت کرتے ہوئے کی جائے اگر بغیر دقت اور تکلیف کے کوشش ہو گی تو اسے اجتہاد نہیں کہیں گے مثلاً عرب یوں تو کہتے ہیں : فلاں نے بھاری پتھر اٹھانے کی کوشش کی لیکن یہ نہیں کہتے کہ ’’اجتہد فلان فی حمل خردلۃ‘‘ فلاں نے رائی کا دانہ اٹھانے کی کوشش کی ۔


اصطلاحِ شریعت میں  قرآن و سنت اور اجماع کی روشنی میں مقررہ شرائط کے مطابق بطریقِ استنباط و استخراج ، شرعی احکام اور قوانین کی تشکیل ، تجدید ، تفصیل ، توسیع اور تنفیذ کےلیے ماہرانہ علمی کاوش کا نام اجتہاد ہے ۔


نور الانوار میں ہے : أنه اتي بما كلف به في ترتيب المقدمات و بذل جهده فيها فكان مصيبا فيه وان أخطأ في آخر الأمر وعاقبة الحال فكان معذورا بل ماجورا لأن المخطى له أجر و المصيب له اجران ۔

ترجمہ : خطا کرنے والے مجتہد نے بھی ، جس کا وہ مکلف تھا  ترتیب مقدمات میں اس نے کیا اور اپنی ساری کوشش صرف کی اور اس میں حق بجانب رہا ، اب اگر آخری مرحلے و نتیجہ ظاہر کرنے میں اس سے  خطا ہوئی  تو وہ معذور بلکہ ماجور ہوگا کیونکہ مجتہد  مخطی کو ایک ثواب اور مصیب (درستی کو پہنچنے والے) کو دو ثواب ملتے ہیں ۔ (نور الانوار مبحث الاجتھاد صفحہ 431 مطبوعہ دارالفروق الاردن)


اسلامی قانون سازی کے عمل میں اجتہاد کی کیا اہمیت : ⏬


اسلامی قانون سازی کے عمل میں اجتہاد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجتہاد کرنے کا حکم فرمایا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے فرمایا : أقْضِ بالکتابِ والسُنَّةِ، إذا وجدتَهما ، فَإِذَا لم تجد الحکم فيهما ، اجتهد رأيکَ ۔

ترجمہ : جب تم قرآن و سنت میں کوئی حکم پاؤ تو اس کے مطابق فیصلہ کرو ، لیکن اگر تم ان میں حکم نہ پا سکو تو اپنی رائے سے اجتہاد کرو ۔ ( آمدی الاحکام جلد 4 صفحہ 43)


اسی طرح جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا گیا تو ان سے پوچھا : اے معاذ ! تم مسائل و مقدمات میں کس طرح فیصلہ کرو گے ؟ انہوں نے عرض کیا : میں اللہ عزوجل کی کتاب سے فیصلہ کروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : اگر تم اللہ کی کتاب میں نہ پا سکے تو ؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں سنت رسول سے فیصلہ کروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تم کتاب و سنت دونوں میں حل نہ پاؤ تو ؟ انہوں نے عرض کیا : أجْتَهِدُ بِرَأيِی وَلَا آلُوْ الخ ۔

ترجمہ : میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور حقیقت تک پہنچنے میں کوئی کوتاہی نہیں کروں گا ۔

یہ جواب سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا سینہ تھپکا اور فرمایا : اَلْحَمْدُِﷲِ الَّذِی وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللہ لِمَا يُرْضِی رَسُوْلَ اللہ ۔

ترجمہ : اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ کے بھیجے ہوئے نمائندہ کو اس بات کی توفیق بخشی جو اللہ کے رسول کو خوش کرے ۔ (سنن ابوداؤد کتاب الأقضية باب اجتهاد الراي فی القضاء جلد 3 صفحہ 295 رقم : 3592)


یہ احادیثِ مبارکہ واضح کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسائل و معاملات میں اجتہاد پسند فرمایا اور اس کا حکم دیا ۔ اسی لیے اجتہاد فقہ اسلامی کا ناگزیر حصہ شمار ہوتا ہے اور ائمہ و فقہاء نے نئے پیش آنے والے مسائل اور ضروریات دین کو اجتہاد ہی کے ذریعے پورا کیا ۔


اسلام ہر شخص کو اجتہاد کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ اگر ہر شخص کو اجتہاد کی اجازت مل جائے اور وہ اپنے مزاج و منشاء کے مطابق شرعی احکام کے بارے میں فتویٰ صادر کرنے لگے تو شریعت بچوں کا کھیل بن کر رہ جائے گی ۔ اس لیے ائمہ و فقہاء نے اجتہاد کی شرائط مقرر کی ہیں اور مجتہد کےلیے مخصوص صلاحیتوں کا حامل ہونا ضروری قرار دیا ہے ۔ امام شاطبی نے مجتہد کی بڑی جامع اور مختصر تعریف بیان کی ہے ۔ اجتہاد اسلامی فقہ کی ایک اصطلاح کا نام ہے ۔ جس کا مطلب انسان میں ایسی صلاحیت کا ہونا ہے جس کے ذریعے وہ اسلامی احکام کو اس کے مآخذ سے اخذ کر سکے ۔ اس قابلیت کو اجتہاد کہا جاتا ہے اور جس شخص کے اندر یہ صلاحیت ہو اسے مجتہد یا فقیہ کہا جاتا ہے ۔ اجتہاد کے بعد اگر مجتہد درستی تک پہنچ گیا تو اس کےلیے دو اجر ہیں : ایک اجتہاد کا اور دوسرا درستی کا اور اگر غلطی ہو گئی تو پھر بھی ایک اجتہاد کرنے پر ایک اجر ہے ۔ غلطی پر کوئی پکڑ نہیں ۔ اجتہاد کا درجہ اس شخص کو حاصل ہوتا ہے جو ان دو اوصاف کا حامل ہو ، پہلا یہ کہ وہ شریعت کے مقاصد کو مکمل طور پر سمجھتا ہو ، دوسرا یہ کہ وہ ماخذ شریعت سے احکام استنباط کرنے کی مکمل استطاعت رکھتا ہو ۔ نیز ایک مجتہد کےلیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ معاشرے کے رسوم و رواج کو بھی حالات زمانہ اور ضروریات معاشرہ وغیرہ کو بھی جانتا ہو ۔ اجتہاد اسلامی فقہ کی ایک اصطلاح کا نام ہے ۔ جس کا مطلب انسان میں ایسی صلاحیت کا ہونا ہے جس کے ذریعے وہ اسلامی احکام کو اس کے مآخذ سے اخذ کر سکے ۔ اس قابلیت کو اجتہاد کہا جاتا ہے اور جس شخص کے اندر یہ صلاحیت ہو اسے مجتہد یا فقیہ کہا جاتا ہے ۔ اجتہاد کے بعد اگر مجتہد درستی تک پہنچ گیا تو اس کےلیے دو اجر ہیں ۔ ایک اجتہاد کا اور دوسرا درستی کا اور اگر غلطی ہو گئی تو پھر بھی ایک اجتہاد کرنے پر ایک اجر ہے ۔ غلطی پر کوئی پکڑ نہیں ۔ ہر مجتہد پر غلطی ظاہر ہونے سے پہلے اپنے اجتہاد پر عمل کرنے کا حکم ہے ۔ اجتہادی غلطی عیب نہیں ہے ، بلکہ بشری تقاضوں میں سے ہے ۔


مذکورہ تعریف کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مجتہد کےلیے ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی نصوص کا عالم ہو ، ان مسائل سے واقف ہو جن پر اجماع ہو چکا ہے ، عربی لغت کا ماہر ہو ، صرف و نحو اور بیان و معانی پر قدرت رکھتا ہو اور آیات و احادیث کے ناسخ و منسوخ سے آگاہ ہو لہٰذا جب ان تمام شرائط کو پورا کرتے ہوئے اجتہاد کیا جائے گا تو بارگاہِ الٰہی سے تائید و نصرت اور اجر ملے گا ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجتہاد کرنے والے کے متعلق فرمایا : إِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ اَصَابَ ، فَلَه أَجْرَانِ ، وَإِذَا حَکَمَ فَاجْتَهَدُ ثُمَّ أَخْطَاءَ فَلَهُ أَجْرٌ ۔

ترجمہ : جب کوئی فیصلہ کرنے والا فیصلہ دینے میں صحیح اجتہاد کرے تو اس کےلیے دو اجر ہیں ، اور اگر اس نے اجتہاد میں غلطی کی تو اس کےلیے ایک اجر ہے ۔ (صحیح بخاری كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ بَابُ أَجْرِ الحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ حدیث 7352،چشتی)(صحيح مسلم کتاب الأقضية باب بيان اجر الحاکم إذا اجتهد فأصاب أو أخطا صفحہ 713 حدیث نمبر 1716)


 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ الْمَكِّيُّ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَالَ هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ۔ (صحیح بخاری كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ بَابُ أَجْرِ الحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ حدیث 7352)

 ترجمہ : کتاب اللہ اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ، باب حاکم کا ثواب ، جب کہ وہ اجتہاد کرے اور صحت پر ہو یا غلطی کر جائے ۔ ہم سے عبد اللہ بن یزید مقری مکی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا ، انہوں نے مجھ سے یزید بن عبد اللہ بن الہاد نے بیان کیا ، ان سے محمد بن ابراہیم بن الحارث نے ، ان سے بسر بن سعید نے ، ان سے عمر بن العاص کے مولیٰ ابو قیس نے ، ان سے عمر بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا ، آپ نے فرمایا کہ جب حاکم کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہوتو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور جب کسی فیصلہ میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے اکہرا ثواب ملتا ہے ( اجتہاد کا ) بیان کیا کہ پھر میں نے یہ حدیث ابو بکر بن عمر وبن حزم سے بیان کی تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے اسی طرح بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ عنہ نے بیان کیا ۔ اور عبد العزیز بن المطلب نے بیان کیا ، ان سے عبد اللہ بن ابی ابکر نے بیان کیا ، ان سے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح بیان فرمایا ۔


عَن عَبدِ اللّٰہِ بنِ عَمرٍو وَاَبِی ہُرَیرَۃَ رضی اللہ عنہم قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم : اِذَا حَکَمَ الحَاکِمُ فَاجتَہَدَ وَاَصَابَ فَلَہٗ اَجرَانِ ۔ وَاِذَا حَکَمَ فَا جتَہَدَ وَاَخطَأَ فَلَہٗ اَجرٌ وَاحِدٌ ۔ (صحیح البخاری جلد 2 صفحہ 1092)(صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 76،چشتی)(مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 324)

ترجمہ : جب حاکم فیصلہ کرے اور وہ (حکم شرع کے بارے میں) اجتہاد کرے اور درستی کو پہنچ جائے تو اس کےلیے دواجر ہیں اور جب فیصلہ کرے اور اجتہاد کرتے ہوئے خطا کر جائے تو اس کےلیے ایک اجر ہے ۔


شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں : یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے مجتہد کبھی خطا کرتا ہے اور کبھی صواب کو پہنچتا ہے ۔ ہر صورت اسے ثواب ملتا ہے ۔ (اشعة المعات مترجم جلد 4 صفحہ 483 ، 484 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)


مکورہ احادیثِ مبارکہ سے واضح ہو کہ اجتہادی غلطی پر بھی مجتہد گناہ گار نہیں ہوتا بلکہ ماجور ٹھہرتا ہے ۔ یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اس حدیث میں اجتہاد کرنے پر جو اجر ملنے کی نوید بیان ہوئی ہے وہ ایسے شخص کےلیے ہے جو شرعاً اجتہاد کرنے کی اہلیت رکھتا ہے ۔ لیکن اگر وہ اجتہاد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا مگر کسی شرعی مسئلے میں اجتہاد کرتا ہے تو وہ گناہ گار ہے ۔ حتیٰ کہ اہلِ علم نے صراحت کی ہے جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے ، کہ اگر وہ درست مسئلہ بھی بیان کرے تب بھی اسے اجر نہیں ملتا ، کیونکہ اس نے کسی شرعی اساس کے بغیر دین حق میں رائے دی ہے اور یہ بلا شبہہ جرم ہے ۔ اسی سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ جو شخص علم شرعی نہیں سیکھتا مگر وہ کسی مسئلے میں اجتہاد کرتا ہے اور غلطی کرتا ہے تو اسے اجر نہیں بلکہ گناہ ملتا ہے ۔ کیونکہ ایسا شخص تو امور شرعیہ میں بیان بازی کا مجاز نہیں ہے چہ جائیکہ وہ اجتہاد کرنے لگے اور اپنی رائے دینے لگے ۔ اس بات کی وضاحت کے لیے یہ حدیث دیکھیے کہ “ جو شخص طب کا علم اور اس میں مہارت نہیں رکھتا لیکن وہ لوگوں کا علاج کرنے لگتا ہے تو کسی کا نقصان کرنے پر وہ ذمے دار ہو گا ۔ (سنن ابو داود حدیث نمبر 4586)


جبکہ ایک ماہر طبیب سے دوران علاج کسی کا نقصان ہو جائے تو شرعا وہ ذمے دار نہیں اور نہ اس پر کوئی جرمانہ عائد ہوتا ہے ۔ یہی حال ایک عالمِ دین اور غیر عالم کا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اجتہاد کی اہلیت اور صلاحیت کا کیا مفہوم ہے ؟ ۔ واضح رہے کہ شرعی طور پر اجتہاد کرنے کا اہل وہ شخص ہے جو علوم شرعیہ اور عربی زبان میں بنیادی مہارت رکھتا ہو ۔ یہ تفصیل تمام علمائے اصول نے اپنی کتابوں میں صراحت سے لکھی ہے ۔


اجتہاد میں غلطی پر بھی اجر ملتا ہے کے تناظر میں ائمہ دین علیہم الرحمہ کی بعض تشریحات درج کرتے ہے جن سے یہ بات مزید عیاں ہوتی ہے اور حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اصل مطلب بھی کھل کر سامنے آتا ہے : ⏬


امام خطابی رحمة اللہ علیہ ( متوفی 388ھ) نے معالم السنن میں لکھا ہے : یہ حدیث ایسے مجتہد کے متعلق ہے جو اجتہاد کی شروط کا حامل ہے ۔ مگر جو اجتہاد کی اہلیت نہیں رکھتا لیکن اجتہاد کرتا ہے اسے غلطی کرنے پر معذور نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اس پر بہت بڑے گناہ کا خطرہ ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو لا علمی کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے وہ جہنم میں ہے ۔ (معالم السنن جلد 4 صفحہ 160)


امام محی الدین نووی رحمة اللہ علیہ (متوفی 676ھ) لکھتے ہیں : اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ یہ حدیث ایسے فیصلہ کرنے والے کے متعلق ہے جو عالم ہے اور فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے ۔ لیکن جو فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اس کےلیے فیصلہ کرنا ہی جائز نہیں ہے ۔ اگر وہ فیصلہ کرے تو اسے کوئی اجر نہیں ملتا بلکہ وہ گناہ گار ہے خواہ وہ درست فیصلہ کرے یا غلط ، کیونکہ اگر وہ اپنی رائے میں درست موقف تک پہنچ بھی گیا تو یہ ایک اتفاق ہے ، کسی شرعی اساس پر وہ حق تک نہیں پہنچا ۔ اس لیے وہ اپنے تمام احکام میں گناہ گار ہے خواہ حق کے مطابق ہوں یا مخالف ، وہ سبھی قابل رد ہیں ، ان میں وہ معذور نہیں سمجھا جائے گا ۔ کیونکہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جو فیصلہ کرنے والا لا علمی کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے وہ جہنم میں ہے ۔ (شرح صحيح مسلم جلد 12 صفحک 14)


امام ابن حجر عسقلانی رحمة اللہ علیہ (متوفی 852ھ) امام بخاری رحمة اللہ علیہ کا موقف بیان کرتے ہوئے یہی بات ذکر کرتے ہیں کہ اگر کوئی علم نہیں رکھتا تو اسے اجتہاد کرنے پر گناہ ہوتا ہے جیسا کہ امام ابن منذر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : اجتہاد میں غلطی پر اجر اسے ملتا ہے جو عالم ہو کر اجتہاد کرے ، لیکن اگر وہ عالم نہیں ہے تو پھر وہ اس حدیث کا مصداق نہیں ہے ۔ (فتح الباری جلد 13 صفحہ 319،چشتی)


یہاں سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر کوئی قاضی اور جج دنیوی معاملات کا فیصلہ لا علمی کی بنیاد پر کرتا ہے ، خواہ وہ صحیح فیصلہ بھی کر دے تو جہنم میں ہے ، تو اگر کوئی شخص دین کے مسائل اور احکام شریعت میں ، جن کی اہمیت اور قدر و منزلت دنیوی معاملات سے کہیں زیادہ ہے ، علم شرعی حاصل کیے بغیر رائے زنی کرتا ہے ، کبھی تفسیر میں، کبھی عقیدہ میں ، کبھی فقہ و حدیث میں بیان بازی کرتا ہے اور فتوے دینا شروع کر دیتا ہے تو یہ شخص اس سے کہیں بڑا مجرم اور سخت وعید کا حق دار ٹھہرتا ہے ۔ اب ذرا اطمینان سے سوچیے اگر کوئی شخص تفسیر یا فقہ و حدیث جیسے اہم امور میں ضروری مہارت حاصل کیے بغیر بیان بازی کرے اور غلطی کرے ، پھر رجوع کر لے تو کیا اس کی تحسین کرنی چاہیے یا اسے اس کی بنیادی غلطی سمجھانا چاہیے اور آیندہ کےلیے اسے ایسے اقدام سے باز رہنے کی تلقین کرنی چاہیے تا وقتیکہ وہ اس علم میں بنیادی قابلیت پیدا نہیں کر لیتا ۔


حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ مکورہ حدیثِ مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں : ⏬


(1) کہ اس کا فیصلہ اللہ عزوجل اور رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان عالی کے مطابق ہو جائے ، یہ بھی رب تعالٰی کا کرم ہی ہے کہ انسان کا فیصلہ اس کے منشاء کے مطابق ہو جائے ۔


(2) ایک ثواب تو اجتہاد و کوشش کرنے کا اور دوسرا ثواب درست فیصلہ کرنے کا کہ درستی بھی بڑا عمل ہے ، قاضی عالم بلکہ درجہ اجتہاد والا چاہیے ، اگر خود عالم و فقیہ نہ ہو تو فقہاء کے علم سے فائدہ اٹھائے ان کا مقلد اور متبع ہو ۔


(3) یہ حدیث تمام مجتہدین کو شامل ہے کہ مجتہد سے اگر غلطی بھی ہوجائے تب بھی اجتہاد کی محنت کا ثواب ہے لہذا چاروں مذہب یعنی حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی برحق ہیں کہ اگرچہ ان میں سے درست و صحیح تو ایک ہی ہے مگر گناہ کسی میں نہیں بلکہ جن آئمہ مجتہدین سے خطا ہوئی ایک ثواب انہیں بھی ہے ، نیز حضرت علی و معاویہ میں گنہگار کوئی نہیں ، حق پر حضرت علی ہیں اور جناب معاویہ سے غلطی ہوئی گنہگار وہ بھی نہیں ۔ ایک موقعہ پر حضرت داؤد علیہ السلام سے خطا ہوگئی اور جناب سلیمان علیہ السلام نے درست فیصلہ فرمایا تو ان دونوں بزرگوں میں گنہگار کوئی نہیں ہوا ۔ رب تعالٰی فرماتاہے : "فَفَہَّمْنٰہَا سُلَیۡمٰنَ" ۔ وہ حدیث کریمہ اس آیت کی تائید کرتی ہے مگر یہ حکم مجتہد عالم کے لیے ہے غیر مجتہد یا غیر عالم اگر غلط مسئلہ بتائے گا تو گنہگار ہوگا بلکہ غیر عالم کو فتویٰ دینا ہی جائز نہیں اور مسئلہ بھی فروعی اجتہادی ہو اصول شریعت میں غلطی معاف نہیں ہوتی ۔ اس کی تحقیق کتب اصول اور مرقات میں ملاحظہ کیجئے ۔ اجتہادی خطا کی مثال یوں سمجھئے کہ مسافر جنگل میں نماز پڑھے اسے سمت قبلہ کا پتہ نہ چلے تو اپنی رائے سے کام لے،اگر چار رکعت میں چار طرف اس کی رائے ہوئی اور اس نے ہر رکعت ایک طرف پڑھی تو اگرچہ قبلہ ایک ہی طرف تھا مگر چاروں رکعتیں درست ہوگئیں اور اس کو نماز کا ثواب یقینًا مل گیا۔اس کی نفیس بحث ہماری کتاب جاءالحق حصہ اول میں دیکھیے ۔


(4) یہ حدیث احمد ، سنن ابوداؤد ، سنن ابن ماجہ اور سنن نسائی نے بروایت حضرت عمرو ابن عاص رضی اللہ عنہ نقل فرمائی ، احمد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی نقل کی ۔ (مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ الفصل الاول پہلی فصل باب العمل فی القضاء و الخوف منہ باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 476 ، 477 مطبوعہ نعیمی کتب خانہ گجرات،چشتی)


نوٹ : حضرت داؤد علیہ السلام سے خطاء ہو گئی اس جملہ کے متعلق اہلِ علم کیا فرماتے ہیں یہ کون سی خطاء تھی ؟ اور جب پیغمبر معصوم عنِ الخطاء ہیں تو اُن کی طرف کس خطاء کی نسبت کی جا سکتی ہے ؟ اور انبیاء و ملائکہ علیہم السّلام کے علاوہ کوئی بھی معصوم عنِ الخطاء نہیں ہاں محفوظ عنِ الخطاء ہیں (یہ اہلسنّت کا متفقہ عقیدہ ہے) اگر کسی پیغمبر علیہ السّلام کی طرف خطاء (اس خطاء کی تعریف اہلِ علم فرمائیں) کی نسبت جائز ہے تو غیر پیغمبر کی طرف اگر خطائے اجتہادی کی نسبت کی جائے تو اِس کا شرعی حکم کیا ہوگا ؟ جہلاء جواب دینے کی زحمت نہ کریں شکریہ ۔


جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : یہ صرف مجتہد کی شان کہ اجتہاد صحیح تھا مگر نتیجہ غلط نکلا تو اس کےلیے بھی اجر ہے ۔ مزید لکھتے ہیں : مجتہد اگر غلطی کر بیٹھے تو اس کےلیے اجر ہے چونکہ مومنِ مجتہد کا ہر فیصلہ ہر صورت باعث اجر ہے ۔ (اقسام بدعت احادیث و اقوال ائمہ کی روشنی میں صفحہ 93 ، 94 مطبوعہ منہاج القرآن پبلیکیشنز لاہور)


گزشتہ تمام تر تفصیلات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اجتہادی غلطی کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی مجتہد حق کی تلاش کےلیے اپنی تمام تر صلاحیت استعمال کر کے کسی حکم کو اخذ کرتا ہے تو حقیقت میں تو وہ اسے حق سمجھ رہا ہوتا ہے ، لیکن درحقیقت حق بات تک پہنچنے تک اس کے اجتہاد میں غلطی ہوتی ہے ۔ گویا آسان الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ اجتہاد کے بعد حق بات تک نہ پہنچنے کا نام نام اجتہادی خطا ہے ۔ انسان تو خطا کا پتلا ہے ، کسی انسان سے ایسی غلطی کا ہونا عیب کی بات نہیں ۔حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی حق نہ پانے کو اجتہادی خطا کہا گیا ہے ۔ نورالانوار میں ہے : ان المجتہد یخطئ ویصیب ، والحق فی موضع الخلاف واحد ولکن لا یعلم ذلک الواحد بالیقین ۔ فلہذا قلنا بحقیۃ المذاہب الاربعۃ ۔ (نورالانوار جلد دوم صفحہ301 دار الکتب العلمیہ بیروت)


باغِ فدک پر حضرت سیّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد بہتر تھا : ⏬


مجتہد کو اس کی اجتہادی خطا پر اجر و ثواب ملتا ہے ۔ جنابِ من جب جب یہ مسلمہ اصول ہے کہ مجتہد کی غلطی پر اجر و ثواب ملتا ہے تو یہ اجتہادی خطا گستاخی کب سے ہو گئی ؟ ۔ پھر اس اجتہادی خطا پر گستاخی کے فتوے کیوں ؟ ۔ (غزالی زماں کا طرزِ استدلا صفحہ 330 مطبوعہ ادارہ احمد سعید کنزالعلوم پاکستان)


مسئلہ باغِ فَدک استاذی المکرم غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں آپ فرماتے ہیں : باغ فدک کے معاملے میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اجتہاد سے بہتر تھا ۔ مکمل تفصیل ساتھ دیے گئے اسکینز میں پڑھیں ۔ (مشکلات الحدیث مسئلہ فَدَک صفحہ نمبر 205 تا 208 مطبوعہ ورلڈ ویو پبلیشرز اردو بازار لاہور،چشتی)


اس سے واضح طور پر یہ سمجھ میں آیا کہ مسئلہ فَدَک اجتہادی معاملہ تھا ۔ لہٰذا جو اس معاملے میں اجتہاد نہیں مانتے ان کی تردید غزالی زماں حضرت علامہ سیّد احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی زبانِ مبارک سے ہو گئی ۔ یاد رہے جب دو شخصیات کے درمیان اجتہاد ہوتا ہے تو اہل سنت کا نظریہ ہے کہ ایک شخص صواب پر ہوتا ہے اور ایک خطا (اجتہادی) پر ۔ دونوں کو صواب پر ماننا یہ معتزلہ کا نظریہ ہے ۔ لہٰذا مذکورہ حوالے سے اجتہاد ثابت ہوا اور جب اجتہاد ثابت ہو گیا تو ایک کا اجتہادی خطا پر ہونا لازم آئے گا ۔ اور اس اجتہادی خطا پر اجر ہے نہ کہ گناہ ۔ فافہم ۔ اور اس معاملے میں کون اجتہادی خطا پر ہے یہ مذکورہ عبارت کے اس جملے سے واضح ہے ، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد ، سیدہ طیّبہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے اجتہاد سے بہتر تھا ۔ خود کو غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کا مرید اور وفادار کہلانے ان کی تعلیمات پر پہرہ بھی دیں ، خود عمل کریں اور دوسروں کو بھی عمل کی تلقین کریں ۔ ہاں جو بعض لوگ خود سعیدی کہلا کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شانِ اقدس میں گستاخیاں کرتے ہیں خانوادہ غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کو علی الاعلان ایسے گستاخوں سے لاتعلقی کا اعلان کرنا چاہیے اور ان کا منہ بند کرنا چاہیے اور ایسے لوگوں سے دور رہنا چاہیے جو غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات ، عقاٸد و نظریات کے باغی ہیں ۔ غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ سے تعلقِ عقیدت رکھنے والے علماء و مفتیان کرام سے گذارش ہے غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کو عام کریں اور اس پہ پہرہ دیں شکریہ و جزاكم اللهُ خیرا ۔ اللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں اور فتنہ بازوں کے شر و فتنہ سے بچاۓ آمین ۔


درج ذیل سوالات کا علمی اور بحوالہ جواب درکار ہے : ⏬


سوال نمبر 1 : کیا صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کو معصوم عنِ الخطا ہیں ؟ اگر معصوم عنِ الخطا ہیں تو دلائل سے واضح کریں ۔


سوال نمبر 2 : کیا خطائے اجتہادی صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم سے ممکن نہیں ؟ عدمِ امکان پر دلائل پیش کریں ۔


سوال نمبر 3 : جو خطائے اجتہادی کی نسبت صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم طرف کرے ، ان پر کیا حکم لگتا ہے ؟ ۔ دلیل سے واضح کریں ۔


سوال نمبر 4 : اگر آیتِ تطہیر سے عصمت ثابت ہے تو کیا خطائے اجتہادی ، عصمت کے متضاد ہے ؟ ۔ اگر متضاد ہے تو جن محدثین و مفسرین علیہم الرحمہ نے انبیائے کرام علیہم السّلام کی طرف یہ نسبت کی ان پر کیا حکم لگتا ہے ؟ ۔ جو کہ بالاتفاق معصوم ہیں ۔


سوال نمبر 5 : محفوظ عن الخطا کا یہ مطلب کہ ان سے خطا ہو ہی نہیں سکتی ۔ یہ دلائل سے ثابت کریں ؟


سوال نمبر 6 : کیا آج تک کس محدث و فقیہہ نے فتوی لگایا ؟ کہ اگر کسی نے صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم میں کسی کی طرف کسی نے خطاءِ اجتہادی کا وقوع کہا تو وہ گستاخ یا بے ادب ہو گیا ؟


سوال نمبر 7 : اگر لفظ خطا استعمال کیا گیا بے ادبی ، گستاخی وغیرہ ہے تو کیا یہ حکم صرف ایک مخصوص فرد کےلیے ہے یا جس جس نے بھی استعمال کیا ان سب کےلیے ہے ؟


سوال نمبر 8 : آج تک جس جس نے بھی لفظ خطائے اجتہادی کتب میں یا تقریر میں استعمال کیا ان پر علمائے اہلسنت نے کہاں اور کیا فتوی لگایا ہے اس فتویٰ کو عوام کے سامنے لایا جائے ؟ ۔ تا کہ عوام کو مسٸلہ کی حقیقت معلوم ہو ۔


ان سوالوں کا جواب دیں اگر دلائل سے ثابت نہ کر سکیں یہ باتیں تو ہم سمجھیں گے کہ آپ واقعی یتیم العلم اور حسد و بغض میں مبتلا ہیں اور آپ کا مقصد صرف و صرف افتراق و انتشار و تعصب اور فسادفی الارض ہے اور شیعیت کے تلوے چاٹنے کے علاوہ کچھ نہیں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)















Tuesday, 28 July 2026

ایمانِ ابو طالب کتبِ شعیہ و اہلسنت اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے ارشادت کی روشنی میں

ایمانِ ابو طالب کتبِ شعیہ و اہلسنت اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے ارشادت کی روشنی میں

محترم قارئینِ کرام : مسئلہ ایمانِ ابو طالب اور اس جیسے دیگر مسائل پر خاموش رہنے میں ہی سلامتی ہے ۔ یہ عاجز اس طرح کے طرح کے مسائل پر بار بار نہیں لکھنا چاہتا مگر بعض شدت پسند و شرپسند عناصر نے اسے ایمان و کفر کا مسئلہ بنا لیا ہے اور عدمِ ایمان کے قائلین جمہور امت ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سب پر کفر کے فتوے لگانا شروع کر دیے ہیں جیسا کہ آج کل جو کہ اہلسنت کے لبادے میں چھپے بعض شرپسند لوگ روافض سے بڑھ کر اس مسئلہ پر شدت دیکھا رہے ہیں اور کہتے ہیں جو ایمان کا قائل نہیں وہ کافر ہے ۔ أَسْتَغْفِرُ اللّٰه ۔ مسئلہ ایمانِ جنابِ ابو طالب پر نا چاہتے ہوۓ بھی ہمیں لکھنا پڑا وجہ جہلا پیر ، اجہل نقیب ، جاہل شعرا و نوٹ خوان اور کیسٹی مختی خطیب ہیں جو بنا تحقیق کیے عدمِ ایمان کے قاٸلین کے خلاف اس قسم کی غلیظ و جاہلانہ زبان استعمال کر رہے ہیں کہ بازاری رنڈیاں بھی شرما جاٸیں اور اِن جہلا کو اتنا بھی احساس نہیں کہ اِن کی جہالت و غلاظت کی زَد میں کون کون آ رہا ہے ۔ ہم اخلاق و تہذیب کا دامن تھامے ہم اکابرینِ امت علیہم الرحمہ کے فرامین اور فرامینِ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ پیش کر رہے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ احباب اس پر غور فرمائیں گے کہ اکابرینِ امت علیہم الرحمہ اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی عالم و محقق ہو سکتا اگر بزعم خویش کوٸی ہے تو اسے مبارک ہو ۔ آئیے اِن فرامین کو پڑھتے ہیں اور فیصلہ آپ کے ایمان و ضمیر پہ چھوڑتے ہیں : ⏬


حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لَمَّا تُوُفِّيَ أَبِي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : إِنَّ عَمَّكَ قَدْ تُوُفِّيَ قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ ، قُلْتُ : إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا ، قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ وَلَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي ، فَفَعَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ ۔

ترجمہ : جب میرے والد فوت ہوئے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خد مت میں حا ضر ہوا اور عرض کی : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا فوت ہو گئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جا کر انہیں دفنا دیں ۔ میں نے عرض کی : یقیناً وہ تو مشرک ہونے کی حالت میں فوت ہوئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جائیں اور انہیں دفنا دیں ، لیکن جب تک میرے پاس واپس نہ آئیں کوئی نیا کام نہ کریں ۔ میں نے ایسا ہی کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم فرمایا ۔ (مسند الطيالسی صفحہ نمبر 19 حدیث نمبر 122 ، وسنده ، حسن متصل،چشتی)


حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان پڑھتے ہیں : حضرت سیّدنا علی بن طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لَمَّا تُوُفِّيَ أَبِي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : إِنَّ عَمَّكَ قَدْ تُوُفِّيَ قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ ، قُلْتُ : إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا ، قَالَ : اذْهَبْ فَوَارِهِ وَلَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي ، فَفَعَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ ۔

ترجمہ : حضرت سیدنا مولا علی بن طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب میرے والد فوت ہوئے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمہ کی خد مت میں حا ضر ہوا اور عرض کی : آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چچا فوت ہو گئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جا کر انہیں دفنا دیں ۔ میں نے عرض کی : یقیناً وہ تو مشرک ہونے کی حالت میں فوت ہوئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جائیں اور انہیں دفنا دیں ، لیکن جب تک میرے پاس واپس نہ آئیں کوئی نیا کام نہ کریں ۔ میں نے ایسا ہی کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم فرمایا ۔ (مسند الطيالسي صفحہ نمبر 19 حدیث نمبر 120 ، وسنده ‘ حسن متصل،چشتی)

ایک روایت کے الفاظ ہیں : إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ : ‏‏‏‏ اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَجِئْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَنِي ، ‏‏‏‏‏‏فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي ۔

ترجمہ : حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گمراہ چچا فوت ہو گئے ہیں ان کو کون دفنائے گا ؟ ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جائیں اور اپنے والد کو دفنا دیں ۔ (مسند الامام احمد جلد 1 صفحہ 97)(سنن ابي داؤد : 3214) (سنن النسائي : 190 ، 2008 ، واللفظ لهٗ ، وسندهٗ حسن) ۔ اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ نے الاصابته في تميز الصحابته لابن حجر جلد 7 صفحہ 114 اور امام ابنِ جارود رحمۃ اللہ علیہ 550ھ نے ”صحیح“ قرار دیا ہے ۔


حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت سیدنا مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی : ابوطالب فوت ہوگئے ہیں ، فرمایا : جاؤ انہیں زمین میں چُھپا دو ۔ عرض کی : وہ مشرک کی حیثیت سے مرے ہیں ، فرمایا : جاؤ انہیں چُھپا دو ، جب میں نے انہیں زمین میں چُھپا کر آیا تو مجھے فرمایا : غسل کرو ۔ (سنن نسائی صفحہ 30 حدیث 190 مطبوعہ دارطریق لنشروالتوزیع)(سنن نسائی مترجم جلد 1 صفحہ 102 حدیث 190 مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاہور)


اس روایت سے پتا چلا کہ خود مولا علی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنے والد ابوطالب کو مشرک کہہ رہے ہیں ۔ یعنی آپ کے نزدیک ابوطالب کا ایمان لانا ثابت نہیں تھا ۔

اب پہلے تو اس شدت پسند ٹولے کو چاہیے کہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ پر بھی ویسے ہی لعن طعن کریں ، جیسا کہ اس زمانے کے عدم ایمان کے قائلین سُنّیوں پر کرتے ہیں ۔ کہ امام نسائی نے نہ صرف تائیداً ایسی روایت نقل کی بلکہ یہاں جو باب قائم کیا اس کا نام رکھا ۔

” الغسل من مواراة المشرک “ مشرک کو زمین میں چھپانے کے بعد غسل کرنا ۔

تو بتاؤ : کیا امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ ایسا عقیدہ رکھنے کے بعد بھی محب اہل بیت ہی کہلائیں گے ؟


اگر کہلائیں گے تو فی زمانہ ایسا عقیدہ رکھنے والے اہل سنت سے کیوں تکلیف ؟


اس روایت سے صاف پتا چلا کہ آج جمہور امت کا عدم ایمان کا جو عقیدہ و موقف ہے وہی حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کا تھا ۔ لہذا جمہور امت تو اپنے آقا و مولا سیدنا حضرت مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہے ، تم کس کے ساتھ ہو ؟


نوٹ : تفضیلی ٹولے اور روافض کی طرف سے پھیلائی گئی گمراہانہ باتوں اور جارہانہ رویے نے مجبور کیا کہ اس موضوع پہ لکھوں ، ورنہ اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لیے یہ موضوع خوش کن نہیں ہے ۔


مسئلہ ایمانِ ابوطالب کے بارے میں بعض لوگ قدر غلو سے کام لے رہے ہیں کہ اللہ کی پناہ ۔ سنی کہلانے والے بڑے بڑے پیر بھی اس مسئلے میں متبع روافض نظر آرہے ہیں ۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی وجہ سے ابو طالب کے متعلق خاموشی کو احوط سمجھتے ہیں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اجلہ صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم اور ائمہ و فقہا علیہم الرّحمہ کے خلافِ عمل ، ابوطالب کے قصیدے پڑھے جائیں اور ابوطالب کو مسلمان نہ سمجھنے والوں کے متعلق گندی زبان استعمال کی جائے ۔ قائلین ایمانِ ابوطالب ہوش کے ناخن لیں ، شاید انہیں معلوم نہیں کہ صحیح حدیث کے مطابق حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ فداہ ابی وامی بھی ابوطالب کو ” ضال “ سمجھتے تھے ۔ تو کیا ان رافضی ذہنیت والے پیرانِ فرتوت کی زد میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ بھی نہیں آجاتے ۔ ان باطنی رافضیوں اور ظاہری خارجیوں کی زد میں صرف حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ہی نہیں دیگر اہل بیت واصحاب رسول رضی اللہ عنہم بھی آجاتے ہیں جو ایمانِ ابوطالب کے قائل نہیں تھے ۔


حضرت سیدنا غوث الاعظم شیخ سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جب ابوطالب پر موت کا وقت آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا ! اے میر چچا ! لا الٰہ الا اللہ پڑھیے میں اس کلمہ کی وجہ سے اللہ کے پاس آپ کی شفاعت کروں گا ، تو ابوطالب نے کہا مجھے علم ہے کہ آپ سچے ہیں لیکن میں اس کو ناپسند کرتا ہوں کہ یہ کہا جائے کہ ابوطالب موت سے گھبرا گیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابو طالب کی مغفرت طلب کرنے سے کرنے سے منع فرما دیا ۔ (تفسیر الجیلانی جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 457 مطبوعہ المکتبۃ المعروفیہ کانسی روڈ کوئٹہ پاکستان،چشتی)


حضرت سیدنا غوث الاعظم شیخ سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ابو طالب کی ہدایت کی دعا کی مگر اللہ نے اس دعا کو قبول نہ فرمایا اور ابو طالب کو ہدایت نہ کی ۔ حضرت حمزہ کے قاتل وحشی (رضی اللہ عنہما) کو ہدایت عطاء کی گئی ۔ (الغنیۃ لطالبی طریق الحق صفحہ 287 ، 288 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت لبنان)(غنیۃ الطالبین مترجم اردو صفحہ 495 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)


محترم قارئینِ کرام : آج کل بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ : سیدنا ابوطالب علیہ السلام پہلا مسلمان اور پہلا صحابی اور کفیل رسول اللہ ہے ہمارے لیے ایمان آزمانے کےلیے ایمان کی کسوٹی ہے ، جو ابوطالب کو "علیہ السلام" کہے گا وہ ہمارا ہے جو ان کے بارے میں گندی زبان ہلائے ، وہ ہمارا نہیں ہے ۔ اس سے دور رہنا چاہیے ۔ جو علی کے باپ کو کافر کہے وہ مومن نہیں ۔۔۔ کبھی بھی نہیں ۔ وغیرہ ۔


ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ لو کہہ رہے ہیں ، تو پھر ائمہ محدثین مفسرین علیہم الرّحمہ سے اتنی بڑی بات کیسے چُھپی رہ گئی اور انہیں علم کیوں نہ ہوسکا ؟


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سوانح و تعارف پہ بڑی بڑی کتابیں محدثین علیہم الرّحمہ نے لکھیں ہیں ، تو جنابِ ابوطالب کا نام کیوں چھوڑ گئے ؟


حضرت سیدنا غوث الاعظم شیخ سیّد عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ جو امام الاولیاء ہیں ، جن کے نام پر آپ کے آستانے چل رہے ہیں ، کیا وہ بھی اس حقیقت سے ناآشنا رہے ؟ ، آخر وہ کون سی وجوہات تھیں ، کہ سلف صالحین علیہم الرّحمہ جناب ابوطالب کے نام کی کانفرنسیں منعقد کرنے کی سعادت سے محروم رہے ؟ ، آخر وہ کیا وجہ تھی کہ اسلاف علیہم الرّحہ آپ کے خود ساختہ معیار پر "علیہ السلام" لکھ کر پورا نہ اتر سکے ؟ ، اس وقت جتنے لوگ ایمان ابی طالب کے مسئلہ کو لے کر انتشار پھیلا رہے ہیں ، ان سب سے گزارش ہے کہ آخر آج وہ کون سی آفت آن پڑی ہے کہ اہل سنت کو روافض کی جھولیوں میں ڈالنے کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں ، اور ایمان ابی طالب کے مسئلہ پر خاموشی توڑ کر اسے عوام میں یوں بیان کیا جارہا ہے ، جسے سُن کر بڑے بڑے اکابرینِ اہلسنّت پر لوگ انگلیاں اٹھانے لگ پڑے ہیں ؟ ، کیا آپ لوگ خود کو حضرت سیّدنا غوثُ الاعظم شیخ سیّد عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی بڑے سید اور محب اہل بیت سجھتے ؟ اگر سجھتے تو بھی بتادیں اور اگر نہیں سمجھتے تو پھر کم از کم یہ سمجھنے کی کوشش کریں ، کہ انہوں نے جناب ابوطالب کے بارے میں آپ جیسا عقیدہ و نظریہ کیوں نہ رکھا ۔


شیعہ کتب کی روشنی میں : ⏬


محترم قارئینِ کرام : تعجب کی بات ہے کہ ایمان ابو طالب پر شیعہ کتب میں ایک ضعیف ترین روایت بھی موجود نہیں ہے ۔ تاریخ اسلام ، اہلسنت کتب حتی کہ شیعہ کتب کی کسی بھی روایت میں وہ اہم واقعہ بیان ہی نہیں ہوا کہ : جنابِ ابوطالب نے فلاں موقعہ پر توحید و رسالت کی گواہی دی ۔ جنابِ ابوطالب دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ۔ جنابِ ابوطالب نے اسلامی شریعت پر عمل کیا ۔ جنابِ ابوطالب نے اپنے ایمان کا اعلان کیا ۔


جن آیات قرآنی سے شیعہ استدلال کرتے ہیں ان سے جنابِ ابو طالب کا ایمان ثابت ہی نہیں ہوتا اور کچھ احکامات تو جنابِ ابوطالب کی وفات کے بعد نازل ہوئے ۔


شیعوں کے ہاں کھینچ کھانچ کے اقوال معصومین پر ایمان ابوطالب تسلیم کیا جاتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شیعہ کی اصول اربعہ کی اوّل نمبر کتاب اصول کافی میں ایک صحیح السند قول حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا موجود ہے جو ان تمام اقوال معصومین کی نفی بیان کرتا ہے ، جو شیعہ حضرت ابوطالب کے ایمان کی تائید میں پیش کرتے ہیں :


شیعہ امام محمد بن یعقوب الکلینی نے اپنی کتاب الکافی میں ایک روایت نقل کی ہے جو اس طرح ہے : علي بن إبراهيم ، عن أبيه، عن ابن أبي عمير ، عن هشام بن سالم ، عن ابي عبدالله (عليه السلام) قال : إن مثل أبي طالب مثل أصحاب الكهف أسروا الايمان وأظهروا الشرك فآتاهم الله أجرهم مرتين ۔

ترجمہ : حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ ابو طالب علیہ السلام کی مثال اصحاب کہف کی سی ہے ، انہوں نے ایمان کو چھپایا اور شرک کو ظاھر کیا ، پس خدا نے ان کو دو اجر دیے ۔ (الاصول الكافی شیخ یعقوب الکینی اردو ترجمہ جلد ٣ کتاب الحجت باب مولد النبی صلى الله عليه وآله وسلم ووفاته صفحہ ٢٢ رقم ٢٨ طبع الھند،چشتی)


تحقیق السند : علي بن إبراهيم : یہ بالاتفاق ثقہ ہے ۔ شیخ نجاشی نے فرمایا : ” علي بن إبراهيم بن هاشم أبو الحسن القمي، ثقة ۔


ابراهيم بن هاشم : سيد الخوئی انکے بارے میں کہتے ہے : إبراهيم بن هاشم أبو إسحاق القمّى، أصله كوفي انتقل إلى قم، قال أبو عمرو الكشّى: تلميذ يونس بن عبدالرحمان، من أصحاب الرضا عليه السلام، وهذا قول الكشّى، وفيه نظر، …۔۔ تنظّر النجاشي في محلّه، بل لايبعد دعوى الجزم بعدم صحّة ماذكره الكشّي والشيخ۔ والوجه في ذلك إن إبراهيم بن هاشم مع كثرة رواياته،أقول: لاينبغي الشكّ في وثاقة إبراهيم بن هاشم، ويدلّ على ذلك عدّة أمور: : أنّ السيّد ابن طاووس إدّعى الاتفاق على وثاقته، حيث قال عند ذكره رواية عن أمالي الصدوق في سندها إبراهيم بن هاشم: (ورواة الحديث ثقات بالاتفاق)


ابن أبي عمیر : یہ بھی ثقہ الامامی ہے ۔


هشام بن سالم : یہ بھی ثقہ الامامی ہی ہے ۔


لہذا یہ روایت بلکل صحیح ہے ، اس میں کسی باشعور اہل علم شخص کو شک نہیں ہونا چاھیے ۔ اس روایت کو ان علماء نے بھی صحیح یا حسن قرار دیا ہے : الشيخ هادي النجفي نے اپنی کتاب موسوعته ج٥ ص٣٢١ میں اس کے بارے میں فرمایا : الرواية صحيحة الإسناد ۔ (اس روایت کی سند صحیح ہے )


السيد محمد علي الابطحي نے تهذيب المقال ج٥- ص٤٥٢ میں کہا : صحيح ۔


العلامة المجلسي نے الکافی کی شرح مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول، جلد 5، ص: 253 میں اس روایت کے بارے میں فرمایا : الحديث حسن ۔ ( یہ حسن حدیث ہے )


کم و بیش یہی روایت کئی اور شیعہ کتب میں بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر ۔ (البرهان في تفسير القرآن الجزء الثاني تأليف السيد هاشم بن سليمان البحراني)(وسائل الشیعہ جلد 16 صفحہ نمبر 225)


حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے منسوب یہ روایت اہل تشیع کے اصولوں کے مطابق ایک صحیح السند روایت ہے ۔ اس روایت میں دو نکات غور طلب ہیں ۔ جنابِ ابوطالب کی مثال اصحاب کہف جیسی ہے۔

جنابِ ابوطالب نے ایمان کو چھپایا اور شرک کو ظاہر کیا ۔


قرآن کریم میں اصحاب کہف کا قصہ سورت الکھف میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے : نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَیۡکَ نَبَاَہُمۡ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّہُمۡ فِتۡیَۃٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّہِمۡ وَ زِدۡنٰہُمۡ ہُدًی (13) وَّ رَبَطۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَنۡ نَّدۡعُوَا۠ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلٰـہًا لَّقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذًا شَطَطًا (14) ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمُنَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً ؕ لَوۡ لَا یَاۡتُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ بِسُلۡطٰنٍۭ بَیِّنٍ ؕ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ؕ(15) ۔

ترجمہ : ہم اُن کے حالات تم سے صحیح صحیح بیان کرتے ہیں ۔ وہ کئی جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو اور زیادہ ہدایت دی تھی ۔ (13) ۔ اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا۔ جب وہ (اُٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی ۔ (14) ۔ ان ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں ۔ بھلا یہ ان (کے خدا ہونے) پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے ۔ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے ۔


ان آیات کے مطابق اصحاب کہف نے اپنے ایمان کو ہرگز نہیں چھپایا تھا بلکہ اللہ عزوجل پر ایمان کا برملا اظہار کرتے ہوئے بتوں سے بیزاری ظاہر کی تھی ۔ اسی لیے تو بادشاہ دقیانوس کے خوف سے غار میں چھپ گئے تھے ۔ اگر اصحاب کھف اپنا ایمان ظاہر نہ کرتے تو پھر انہیں غار میں چھپنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ؟


جنابِ ابوطالب نے بھی اگر اصحاب کہف کی طرح ایمان کا اظہار کیا ہوتا اور بتوں سے بیزاری ظاہر کی ہوتی تو اس روایت میں ان کے ایمان کو ظاہر کرنا ضرور بیان کیا گیا ہوتا ، لیکن اس کے بجائے روایت میں واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ جنابِ ابوطالب نے ایمان کو چھپایا اور شرک کو ظاہر کیا ۔


یعنی روایت کے دونوں حصے نہ صرف ایک دوسرے سے متعارض ہیں بلکہ شیعہ کے عقیدے ایمان ابو طالب کو بھی جڑ سے اکھاڑ دیتے ہیں ۔ اہلسنت کے نزدیک یہ جھوٹی روایت ہے اور اس سے شان حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ بھی بری طرح مجروح ہوتی ہے۔کیا حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو اتنا علم بھی نہ تھا کہ اصحاب کہف نے اپنا ایمان ظاہر کیا تھا اور اسی وجہ سے غار میں چھپ گئے تھے ، اور یہ مثال جنابِ ابو طالب کی زندگی سے مطابقت نہیں رکھتی ۔


روایت کے دوسرے حصے کے مطابق اہل تشیع کے ہاں جنابِ ابو طالب پوری زندگی شرک کرتے رہے یعنی بت پرستی کرتے رہے جبکہ اہلسنت کے ہاں جنابِ ابو طالب کو مشرک نہیں بیان کیا گیا بلکہ ان کا آخری گھڑی تک دین ابراہیمی پر قائم رہنا بیان ہوا ہے ۔


ایک طرف شیعہ اہلسنت پر جنابِ ابو طالب کی توہین کا الزام لگاتے ہیں تو دوسری طرف خود ان کی اوّل درجہ کی کتاب میں امام کے نام سے ایسی روایت موجود ہے جو جنابِ ابوطالب کو پوری زندگی شرک اور بت پرستی کرتے رہنا بیان کر رہی ہے ۔ حد تو یہ بھی ہے کہ شیعہ جیّد علماء امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب اس جھوٹی روایت کو صحیح تسلیم کرتے ہیں اور اس کی توثیق کر کے نہ صرف حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ بلکہ حضرت ابو طالب کی بھی توہین کرتے آ رہے ہیں ۔


آخری اہم بات : اہل تشیع کی صحیح السند روایت سے اہل سنت کا مؤقف ثابت ہوتا ہے کہ

جنابِ ابو طالب کا اسلام قبول کرنا ، اعلان کرنا ، اسلامی شریعت پر عمل کرنا وغیرہ کسی صحیح السند روایت سے ثابت نہیں ہے ۔ اس روایت میں اصحاب کہف کی مثال غلط دی گئی ہے ، کیونکہ قرآن سے متعارض ہے ۔


اب اہل تشیع کے پاس دو راستے ہیں ۔ اصحاب کہف کی طرح جنابِ ابوطالب کا ایمان قبول کرنا اور بتوں سے بیزاری ظاہر کرنا ثابت کریں ۔

یا روایت کے دوسرے حصہ کو تسلیم کریں کہ جنابِ ابوطالب نے پوری زندگی اسلام قبول نہیں کیا تھا جوکہ اہلسنت کا مؤقف ہے ۔


شیعہ عالم ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی متوفی ٠٦٤ ھ القصص : ٦٥ کی تفسیر میں لکھتے ہیں : حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہما) ‘ مجاہد ‘ حسن اور قتادہ وغیر ہم سے مروی ہے کہ یہ آیت ( القصص : ٦٥) ابو طالب کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ اور ابو عبداللہ اور ابو جعفر سے مروی ہے کہ ابو طالب مسلمان تھے اور اسی پر امامیہ کا اجماع ہے اور ان کا اس میں اختلاف نہیں ہے اور ان کے اس پر دلائل قاطعہ ہیں ‘ یہاں ان کو ذکر کا موقی نہیں ہے ۔ (البتیان ج ٨ ص ٤٦١‘ داراحیاء التراث العربی بیروت،چشتی)


شیعہ عالم ابو علی الفضل بن الحسن الطبرسی (من علماء القرن السادس) الانعم : ٦٢ کی تفسیر ہیں لکھتے ہیں : ابو طالب کے ایمان پر اہل بیت کا اجماع ہے اور ان کا اجماع حجت ہے کیونکہ وہ اس ثقلین میں سے ایک ہیں جن کے ساتھ تمسک کرنے کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے ‘ آپ نے فرمایا اگر تم ان کے ساتھ تمسک کرو گے تو گمراہ نہیں ہو گے ‘ اور اس پر یہ بھی دلیل ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) فتح مکہ کے دن اپنے والد ابو قحافہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر گئے ‘ وہ اسلام لے آئے ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اس بوڑھے کو کیوں لے کر آئے ‘ وہ نابینا تھے ‘ میں خود ان کے پاس آجاتا ‘ حضرت ابوبکر نے کہا میرا ارادہ تھا اللہ تعالیٰ ان کو اجر عطا فرمائے گا ‘ اور اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے مجھے اپنے باپ کے اسلام لانے سے زیادہ خوشی ابوطالب کے اسلام لانے سے ہوئی تھی جس کے اسلام لانے سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئی تھیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے سچ کہا۔ ابوطالب کے وہ اقوال اور اشعار جن سے ان کے اسلام کا پتا چلتا ہے بہت زیادہ ہیں ‘ بعض اشعار یہ ہیں : ⏬


الم تعلموا اناوجد نا محمدا نبیا کموسی خط فی اول الکتب ۔

کیا تم کو معلوم نہیں کہ ہم نے محمد کو موسیٰ کی طرح نبی پایا ان کا ذکر پہلی کتابوں میں لکھا ہوا ہے ۔

الاان احمد قد جاء ھم بحق ولم یاتھم بالکذب ۔

سنو بیشک احمد ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں اور وہ جھوٹ نہیں لائے ۔ (مجمع البیان جز ٤ ص ٥٤٤۔ ٤٤٤‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت)


شیعہ عالم محمد حسین الطباطبائی القصص : ٦٥ کی تفسیر میں لکھتے ہیں : ابوطالب کے ایمان کے متعلق ائمہ اہل بیت کی روایات مشہور ہیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق اور آپ کے دین کے برحق ہونے کے متعلق ان کے اشعار بہت زیادہ ہیں ‘ اور جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کمسن تھے توا نہوں نے ہی آپ کو پناہ دی تھی ‘ اور بعثت کے بعد ہجرت سے پہلے انہوں نے ہی آپ کی حفاظت کی تھی اور مہاجرین اور انصار نے ہجرت کے بعد دس سال تک جو آپ کی نصرت اور حفاظت کی ہے اس کے برابر ہجرت سے پہلے دس سال تک ابوطالب نے آپ کی حفاظت کی ۔ (المیزان ج ٦١ ص ٧٥‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ ا ایران ‘ ٢٦٣١ ھ،چشتی)


شیخ طبرسی نے جو روایت پیش کی ہے اس کا کوئی حوالہ ذکر نہیں کیا ‘ اور نہ ان اشعار کی کوئی سند ہے ۔


ایمانِ ابو طالب کے متعلق ایک حدیث کی تحقیق : ⏬


حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فلما رأی حرص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علیه قال :یا ابن أخي! والله، لو لا مخافة السبة علیك وعلی بني أبیک من بعدي، وأن تظن قریش أني إنما قلتھا جزعا من الموت لقلتھا، لا أقولھا إلا لإسرک بھا ، قال: فلما تقارب من أبي طالب الموت قال: نظر العباس إلیه یحرک شفتیه، قال: فأصغی إلیه بأذنه، قال: فقال: یا ابن أخي ! واللہ، لقد قال أخي الکلمة التي أمرته أن یقولھا، قال: فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : لم أسمع ۔

ترجمہ : جب ابو طالب نے اپنے (ایمان کے) بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حرص دیکھی تو کہا : اے بھتیجے ! اللہ کی قسم ، اگر مجھے اپنے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھائیوں پر طعن و تشنیع کا خطرہ نہ ہوتا ، نیز قریش یہ نہ سمجھتے کہ میں نے موت کے ڈر سے یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں کلمہ پڑھ لیتا ۔ میں صرف آپ کو خوش کرنے کیلئے ایسا کروں گا ۔ پھر جب ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو عباس نے ان کو ہونٹ ہلاتے ہوئے دیکھا ۔ انہوں نے اپنا کان لگایا اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ) کہا : اےبھتیجے ! یقیناً میرے بھائی نے وہ بات کہہ دی ہے جس کے کہنے کا آپ نے اُنہیں حکم دیا تھا ۔ (السیرۃ لابن ھشام: ۴۱۷/۱، ۴۱۸،چشتی)(المغازي لیونس بن بکیر: ص ۲۳۸)(دلائل النبوۃ للبیھقي: ۳۴۶/۲)


یہ روایت ضعیف ہے : ⏬


امام ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اس حدیث کی سند کا ایک راوی نا معلوم ہے ۔ اس کے برعکس صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو طالب کفر کی حالت میں فوت ہوئے ۔ (تاریخ ابن عساکر: ۳۳/۶۶)


امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ھٰذا إسنادمنقطع ۔۔۔۔"الخ ، یہ سند منقطع ہے ۔۔۔۔۔ (تاریخ الاسلام: ۱۵۱/۲)


علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : إن في السند مبھما لا یعرف حاله ، وھو قول عن بعض أھله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد........ و الخبر عندي ما صح لضعف في سندہ" ۔

ترجمہ : اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے ، جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے ، نیز یہ اُس کے بعض اہل کی بات ہے جو کہ نام اور حالات دونوں میں ابہام ہے ۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا ہے ۔۔۔ میرے نزدیک یہ روایت سند کے ضعیف ہونے کی بنا پر صحیح نہیں ۔ (البدایة و النھایة لابن کثیر: ۱۲۳/۳ ۔ ۱۲۵)


امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : بسند فیه لم یسم ...... و ھذا الحدیث لو کان طریقه صحیحا لعارضه ھذا الحدیث الذی ھو أصح منه فضلا عن أنه لا یصح ۔

ترجمہ : یہ روایت ایسی سند کے ساتھ مروی ہے جس میں ایک راوی کا نام ہی بیان نہیں کیا گیا .... اس حدیث کی سند اگر صحیح بھی ہو تو یہ اپنے سے زیادہ صحیح حدیث کے معارض ہے ۔ اس کا صحیح نہ ہونا مستزاد ہے ۔ (فتح الباری لابن حجر: ۱۸۴/۷)


امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : في سند ھذا الحدیث مبھم لا یعرف حاله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد ۔

ترجمہ : اس حدیث کی سند میں ایک مبہم راوی ہے جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے۔ نام اور حالات دونوں مجہول ہیں۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا ہے ۔ (شرح ابي داؤد للعیني الحنفي: ۱۷۲/۶)


امام سید زینی دحلان مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلہ پر دو ٹوک موقف لکھا ہے آپ جناب ابوطالب کے اشعار نقل کرنے اور اس سے اسلام ثابت ہوتا ہے یا نہیں ، اس پر روشنی ڈالنے کے بعد لکھتے ہیں : خلاصہ یہ ہے کہ اہلسنت کے مذاہب اربعہ کا نقطہ نظر یہ ہے ، کہ جناب ابوطالب ایمان نہیں لائے تھے ، قرآن پاک کی آیات طیبہ اور احادیث اسی امر پر دلالت کرتی ہیں ، اگرچہ انہیں حضور علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق قلبی حاصل تھی ، مگر انقیاد ظاہری کے بغیر وہ سود مند نہیں ۔ (لاسیرة النبویہ مترجم صفحہ 111 مطبوعہ ضیاء القرآن)


ایمانِ ابو طالب حضرت سیّد داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں : ⏬


حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : استدلال میں سے ابو طالب سے بڑھ کر کوئی نہ تھا اور حقانیت کی دلیل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بزرگ تر کچھ نہیں ہو سکتی تھی ، ابو طالب کےلیے چونکہ بد بختی کا حکم جاری ہو چکا تھا ۔ (توفیق الٰہی اُن کے مقدر میں نہ تھی) ۔ لا محالہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس بھی اُسے فائدہ نہ پہنچا سکی ۔ (توفیق الٰہی اُن کے مقدر میں نہ تھی) ۔ (یعنی ابو طالب ایمان کی دولت سے محروم رہے) ۔ (کشف المحجوب فارسی صفحہ نمبر 390 مطبوعہ ثمن پبلیکیشنز لاہور،چشتی)(کشف المحجوب مترجم قدیم صفحہ نمبر 432 مطبوعہ ناشرانِ قرآن لمیٹڈ اردو بازار لاہور)


دلائل لانے والوں میں سے ابو طالب سے بڑھ کر کوئی نہ تھا اور حقانیت کی دلیل حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بزرگ تر کچھ نہیں ہو سکتی تھی مگر جبکہ جریانِ حکمِ شقاوت ابو طالب پر ہو چکا تھا ۔ لا محالہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس بھی اُسے فائدہ نہ پہنچا سکی ۔ (یعنی ابو طالب ایمان کی دولت سے محروم رہے) ۔ (کشف المحجوب مترجم صفحہ نمبر 448 مطبوعہ مکتبہ شمس و قمر جامعہ حنفیہ غوثیہ بھاٹی چوک لاہور،چشتی)


ایمانِ ابو طالب حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں : ⏬


تاجدار گولڑہ حضرت سیّد پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچے اور پھوپھیاں حارث ، قثم ، حمزہ ، عباس ، ابوطالب ، عبدالکعبہ ، جحل ، ضرّار ، غیداق ، ابولہب ، صفیہ ، عاتکہ ، اروی ، اُمّ حکیم ، بّرہ ، امیمہ اس جماعت میں سے حضرت حمزہ و عباس و حضرت صفیہ رضوان اللہ علیہم اجمعین وعلیہن ایمان لائے ۔ اور حاشیہ میں لکھا ہے کہ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں تین حضرات کے مشرف با اسلام ہونے کو جمہور علماء کا مذہب قرار دیا ہے ۔ (تحقیق الحق فی کلمة الحق صفحہ نمبر 153 مطبوعہ گولڑہ شریف)


محترم قارئینِ کرام : ان تمام دلائل کے باوجود بعض ناہنجاروں کی طرف سے صرف اکابرین اہلسنت میں سے بعض کو تنقید کا نشانہ بنانا ، سوقیانہ جملے کسنا اُن کے بغض باطن کی دلیل نہیں تو کیا ہے ؟ کبھی ان لوگوں نے سوچا کہ اِن کی نفرت و غلاظت کی زد میں کون کون آرہا ہے ؟ اللہ تعالیٰ جملہ اہلسنّت کو اِن فتنہ پروروں اور فتنوں سے محفوظ فرمائے آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)












Sunday, 26 July 2026

مسئلہ باغ فدک اور حضرت ابوبکر صدیق و حضرت فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہما

مسئلہ باغ فدک اور حضرت ابوبکر صدیق و حضرت فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہما

محترم قارئینِ کرام : شیعہ حضرات کا مشہور محقق ملاّ باقر مجلسی انتہائی تعصب کے باوجود لکھتا ہے کہ : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بہت سے فضائل و مناقب جنابِ حضرت سیّدہ فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہا کے بیان کیے اور فرمایا : اموال و احوال خودرا از تو مضائقہ ندارم آنچہ خواہی بگیر ۔ تو سیدہ امت پدرخودی و شجرہ طیبہ از برائے فرزندان خود انکار فضل تو کسے نمے تو اندکرد و حکم تو نافذ است درمال من ۔ امادر گفتہ پدر تو نمے تو انم کرد ۔

ترجمہ : میں اپنا مال جائیداد دینے میں آپ رضی اللہ عنہا سے دریغ نہیں رکھتا ۔ جو کچھ مرضی چاہے لے لجیے ۔ آپ رضی اللہ عنہا اپنے باپ کی امت کی سیدہ ہیں اور اپنے فرزندوں کےلیے پاکیزہ اصل اور شجرہ طیبہ ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کے فضائل کا کوئی انکار نہیں کرتا آپ رضی اللہ عنہا کا حکم میرے ذات مرے مال میں چوں و چرا جاری و منظور ہے ۔ لیکن عام مسلمانوں کے مال میں آپ رضی اللہ عنہا کے والد بزرگوار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی مخالفت ہرگز نہیں کر سکتا ۔ (شیعہ مذہب کی مشہور کتاب حق الیقین مترجم جلد اوّل صفحہ نمبر 227 ، 228 مطبوعہ مجلسِ اسلامی پاکستان)


جناب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : باغِ فدک پر حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو معمولی سی غلط فہمی ہوئی (فہم میں غلطی ؟) اور فدک پر جو موقف ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں اختیار کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے قول و فعل سے اس کی تائید کی ۔ (سیرت الرسول جلد 6 صفحہ 603 مطبوعہ منہاج القرآن)


استاذی المکرم آلِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اولادِ علی رضی اللہ عنہ غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : باغ فدک کے معاملے میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اجتہاد سے بہتر تھا ۔ (مشکلات الحدیث مسلہ فَدَک صفحہ نمبر 207 مطبوعہ ورلڈ ویو پبلیشرز اردو بازار لاہور،چشتی)


اس سے واضح طور پر یہ سمجھ میں آیا کہ مسلہ فَدَک اجتہادی معاملہ تھا ۔ لہٰذا جو اس معاملے میں اجتہاد نہیں مانتے ان کی تردید غزالی زماں حضرت علامہ سیّد احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی زبانِ مبارک سے ہو گئی ۔ یاد رہے جب دو شخصیات کے درمیان اجتہاد ہوتا ہے تو اہل سنت کا نظریہ ہے کہ ایک شخص صواب پر ہوتا ہے اور ایک خطا (اجتہادی) پر ۔ دونوں کو صواب پر ماننا یہ معتزلہ کا نظریہ ہے ۔ لہٰذا مذکورہ حوالے سے اجتہاد ثابت ہوا اور جب اجتہاد ثابت ہو گیا تو ایک کا اجتہادی خطا پر ہونا لازم آئے گا ۔ اور اس اجتہادی خطا پر اجر ہے نہ کہ گناہ فافہم ۔ اور اس معاملے میں کون اجتہادی خطا پر ہے یہ مذکورہ عبارت کے اس جملے سے واضح ہے ، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد ، سیدہ طیّبہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے اجتہاد سے بہتر تھا ۔


تاجدار گولڑہ حضرت سیدنا پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : الحاصل آیتِ تطہیر کا مورد خواہ امہات المومنین ہوں فقط یا آل کساء ہوں یا صرف آلِ کساء ہوں ، ایسا ہی تطہیر در رنگ انزالِ شرعیہ ہو یا در صورت عفو و مغفرت ، بہر کیف خطاء کا صدور مطہرین سے ممکن ہے ۔ علاوہ خلفائے ثلاثہ کے اہلبیت پاک علیہم السلام نے باغِ فدک کے غیر مورث ہونے کو اپنی طرز سے ثابت کر دکھایا ۔ (فتاویٰ مہریہ صفحہ نمبر 217 مطبوعہ گولڑہ شریف)


تاجدار گولڑہ حضرت سیّدنا پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : خطا کا صدور بہر کیف مطہرین سے ممکن ہے ۔ البتہ حشر اُن کا آخرت میں مغفرت کاملہ کی صورت میں ہوگا ۔ (تصفیہ مابین سنی و شیعہ صفحہ نمبر 58 مطبوعہ گولڑہ شریف)


تاجدار گولڑہ حضرت حضرت سیّدنا پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت سیّدہ فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہا باغِ فدک کا مطالبہ کرتے ہوئے کسی ناجائز امر کی مرتکب نہیں ہو سکتیں ۔ اور آیت تطہیر کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ پاک گروہ معصوم ہیں اور اِن سے کسی قسم کی خطا سرزد ہونا نا ممکن ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بمقتضائے بشریت اُن سے کوئی خطا سرزد بھی ہو تو وہ عفو و تطہیر اِلہٰی میں داخل ہوگی ۔ (تصفیہ مابین سنی و شیعہ صفحہ نمبر 46 مطبوعہ گولڑہ شریف،چشتی)


باغ فدک کیا ہے ؟ فدک خیبر کا ایک قصبہ ہے (وہاں ایک باغ ہے جسے باغ فدک کہا جاتا ہے) اور یہ بھی کہا گیا کہ حجاز کا ایک کنارہ ہے جس میں چشمےاور کھجوروں کے درخت ہیں یہ اللہ سبحانہ وتعالی نےاپنے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو عطا کیا تھا ۔ (لسان العرب جلد 2 صفحہ 473)


حضرت سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جب حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کی حدیث سنائی کہ انبیاء علیہم السّلام کی وراثت مال نہیں علم ہے اور یہ بتایا کہ اس جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم اہلبیت کو دیا کرتے تھے وہ میں بھی جاری رکونگا تو حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا نے اپنے مطالبے سے رجوع کر لیا اور پھر ساری عمراس مسئلے پر کوئی بات نہیں کی بلکہ شیعوں کی اپنی کتاب میں ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ اس پر راضی ہو گئیں۔اس مسلے کو ہم کتب شیعہ سے لکھ رہے شاید کسی کو ہدایت نصیب ہوجائے اور وہ گستاخیاں چھوڑ دے یاد رہے اس مسلے کو بعض متعصب شیعہ علماء نے من گھڑت کہانیوں کے ذریعے اچھالا آیئے حقائق پڑھتے ہیں ۔


یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تمام کتب تواریخ اس پر شاہد ہیں کہ فدک زمانہ علوی میں بھی اسی طرح رہا جیسے صدیق و فاروق و عثمان رضی اللہ عنہما کے دور خلافت میں تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی فدک میں وہی طریقہ جاری رکھا جو صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے جاری رکھا تھا ۔ آئیے پہلے اس کے متعلق پڑھتے ہیں کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ بھی خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی طرح فدک کو استعمال میں لائے : شیعہ عالم الدکتور سعید السامرائی لکھتا ہے : جب امر خلافت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے سپرد ہوا تو علی علیہ السّلام سے فدک کو اہلبیت کی طرف لوٹانے کے بارے میں کہا گیا تو علی علیہ السّلام نے جواب میں فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے اس کام کو کرنے میں اللہ سے حیا آتی ہے جس کام کو ابوبکر عمر (رضی اللہ عنہما) نے نہی کیا ۔ (شیعہ کتاب : حجج النھج صفحہ نمبر 279 مطبوعہ موسسة الفجر بیروت ، لندن)


شیعہ عالم الدکتور سعید السامرائی لکھتا ہے : یہ سن کر حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ فدک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ھبہ کردیا تھا ۔ ابو بکر رضہ نے پوچھا کہ اس بات کا کوئی گواہ تو حضرت علی اور ام ایمن رضی اللہ عنہما بطور گواہ پیش ہوئے ۔ اور اس امر کی گواہی دی ۔ اتنے میں حضرت عمر اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما بھی آگئے ۔ ان دونوں نے یہ گواہی دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فدک کو تقسیم فرماتے تھے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے بنت پیغمبر تو نے بھی سچ کہا اے علی رضی اللہ عنہ تم بھی سچے ہو ۔ اس لیے کہ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا تیرے لیے وہی کچھ ہے ۔ جو آپ کے والد کا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فدک کی آمدنی سے تمہاری خوراک کا اہتمام فرماتے تھے ۔ اور باقی ماندہ کو تقسیم فرما دیتے اور اس میں سے فی سبیل اللہ سواری بھی لے دیتے ۔ تمہارے بارے میں اللہ سے معاہدہ کرتا ہوں کہ میں اسی طرح تم سے سلوک کروں گا جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلوک فرمایا کرتے تھے ۔ تو یہ سن کر سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے راضی ہو گئیں ۔ اور اسی بات پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے عہد لیا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ فدک کا غلہ وصول کرتے اور اھل بیت کو ان کی ضرورت کے مطابق دے دیتے ۔ ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی فدک کو اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ، اس کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ بھی فدک اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ، اس کے بعد علی رضی اللہ عنہ بھی فدک کو اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ۔ (شیعہ کتاب : حجج النھج صفحہ 265 ، 266 مطبوعہ موسسة الفجر بیروت ، لندن)


شیعہ محقق مرتضی علی موسوی لکھتا ہے : جب امر خلافت علی علیہ السّلام کے سپرد ہوا تو علی علیہ السّلام شیرخدا سے فدک کو اہلبیت کی طرف لوٹانے کے بارے میں کہا گیا تو علی علیہ السّلام نے جواب میں فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے اس کام کو کرنے میں اللہ سے حیا آتی ہے جس کام کو ابوبکر عمر (رضی اللہ عنہما) نے نہیں کیا ۔ (شیعہ کتاب : الشافی فی الامامت صفحہ نمبر 76،چشتی)


شیعہ عالم الدکتور سعید السَّامرّائی لکھتا ہے : یہ سن کر سیدہ فاطمہ علیہا السّلام نے کہا کہ فدک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ھبہ کردیا تھا ۔ ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نے پوچھا کہ اس بات کا کوئی گواہ تو حضرت علی علیہ السّلام اور ام ایمن بطور گواہ پیش ہوئے ۔ اور اس امر کی گواہی دی ۔ اتنے میں حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) اور عبدالرحمن بن عوف (رضی اللہ عنہ) بھی آگئے ۔ ان دونوں نے یہ گواہی دی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فدک کو تقسیم فرماتے تھے ۔ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ اے بنت پیغمبر توں نے بھی سچ کہا اے علی علیہ السّلام تم بھی سچے ہو ۔ اس لیے کہ اے فاطمہ علیہا السّلام تیرے لیے وہی کچھ ہے ۔ جو آپ کے والد کا تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فدک کی آمدنی سے تمہاری خوراک کا اہتمام فرماتے تھے ۔ اور باقی ماندہ کو تقسیم فرمادیتے اور اس میں سے فی سبیل اللہ سواری بھی لے دیتے ۔ تمہارے بارے میں اللہ سے معاہدہ کرتا ہوں کہ میں اسی طرح تم سے سلوک کروں گا جس طرح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سلوک فرمایا کرتے تھے ۔ تو یہ سن کر سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے راضی ہوگئیں ۔ اور اسی بات پر ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) سے عہد لیا ۔ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) فدک کا غلہ وصول کرتے اور اہلبیت کو ان کی ضرورت کے مطابق دے دیتے ۔ ان کے بعد حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) بھی فدک کواسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ، اس کے بعد عثمان (رضی اللہ عنہ) بھی فدک اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ، اس کے بعد علی علیہ السّلام بھی فدک کو اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ۔ (شیعہ کتاب : حجج النھج صفحہ نمبر 266،چشتی)


شیعہ محقق لکھتا ہے : جب امر خلافت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوا تو علی شیرخدا رضی اللہ عنہ سے فدک کو اہلبیت رضی اللہ عنہم کی طرف لوٹانے کے بارے میں کہا گیا تو علی شیرخدا رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے اس کام کو کرنے میں اللہ سے حیا آتی ہے جس کام کو ابوبکر عمر رضی اللہ عنہما نے نہیں کیا ۔ (شیعہ کتاب : شرح نھج البلاغہ ابن حدید جلد ۱۶ صفحہ ۲۵۲)


اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے اپنے دور حکومت میں فدک غصب کرلیا تھا تو جناب حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کا فرض تھا کہ وہ فدک کو تقسیم کرتے اور اس وقت جو اس کے وارث موجود تھے ، ان کو دے دیتے اور جو ناجائز بات چلی آرہی تھی اور جو ظلم روا رکھا گیا تھا ، اس کو اپنے دور خلافت میں ختم کردیتے کیونکہ خود حضرت علی رضی ﷲ عنہ فرماتے میں کہ امام کے لئے پانچ امر ضروری ہیں : ⏬


(1) خوب وعظ کہنا ۔

(2) لوگوں کی خیر خواہی میں خوب قوت صرف کرنا ۔

(3) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سنت کو زندہ کرنا ۔

(4) سزاؤں کے حق داروں کو سزا دینا ۔

(5) حق داروں کو ان کے حقوق واپس لوٹا دینا ۔ (نہج البلاغہ مصری جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 202)

اسی طرح شیعہ مذھب کی مشہور کتاب رجال کشی میں حضرت علی رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد مذکور ہے : انی اذا بصرت شیئا منکراً او قدت نارا و دعوت قنبراً ۔ (رجال کشی صفحہ نمبر 199،چشتی)

ترجمہ : جب میں خلافِ شریعت کام دیکھتا ہوں تو آگ جلاتا ہوں اور قنبر کو بلاتا ہوں ۔


اسی بناء پر آپ نے ان لوگوں کو آگ میں جلا دیا تھا ۔ جو آپ کو خدا کہنے لگ گئے تھے پھر فرماتے ہیں : ولا المعطل للسنۃ فیہلک الامۃ ۔ (نہج البلاغہ صفحہ 398)

ترجمہ : امام ایسا نہیں ہونا چاہئے جو پیغمبرکے طریقے کو چھوڑ دے، ورنہ امت ہلاک ہوجائے گی ۔


لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جناب حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ نے فدک میں وہی طریقہ جاری رکھا جو حضرت سیدنا صدیق اکبر اور حضرت عمر رضی ﷲ عنہما کا تھا یہ اس امر کی بہت بڑی دلیل ہے کہ حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کے نزدیک باغِ فَدک میں صدیقی طرز عمل حق و صواب تھا اور حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ صدیقی طرز عمل کو بالکل شریعت اسلامیہ کے مطابق جانتے تھے ۔

حقیقت یہ ہے کہ شیعہ حضرات کا صدیقی خلافت میں غصبِ فَدک کا قول کرنا حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ کی امامت و خلافت پر شرمناک حملہ ہے ۔ کیونکہ اگر یہ مان لیا جائے کہ صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے باغِ فَدک غصب کرلیا تھا تو حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ پر بھی یہ الزام قائم ہوگا ۔ کہ انہوں نے فدک کو صدیقی خلافت کے دستو رپر جاری رکھ کر امت و خلافت کا حق ادا نہیں کیا ۔ حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ اگر غاصب فدک ثابت ہونگے تو حضرت مولا علی مرتضیٰ رضی ﷲ عنہ غصب کے برقرار رکھنے والے ثابت ہونگے ۔ سوچئے کہ غصب کرنے والا زیادہ مجرم ہے یا غصب کو برقرار رکھنے والا ۔ اور غاصبوں کے طرز عمل کی حکومت و سلطنت کے با وجود حمایت کرنے والا ۔ (معاذ ﷲ) ۔ غرضیکہ قضیہ فدک میں جناب حضرت مولا علی الممرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کا طرز عمل دنیائے شیعیت پر بہت بھاری حجت ہے ۔ اگر حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ کی خلافت پر اعتراض ہوگا تو حضرت سیدنا مولا علی رضی ﷲ عنہ کی خلافت پر بھی حرف آئے گا ۔ پس جناب حضرت مولا علی المرتضیٰ کا اراضی فدک کو اسی دستور پر رکھنا جس پر کہ جناب صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے رکھا تھا ، حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی حقانیت اور ان کے طرز عمل کی صحت پر دلیل قاہر ہے ۔


مشہور شیعہ مصنف اس کا نام کمال الدین میثم بن علی میثم البحرانی ہے۔ ساتویں صدی ہجری میں پیدا ہوا۔ ’’عالمِ ربانی، فلسفی، محقق، صاحبِ حکمت اور نہج البلاغۃ کی شرح کا مصنف ہے۔ محقق طوسی سے روایت کرتا ہے… کہا گیا ہے کہ خواجہ نصیر الدین طوسی نے فقہ کمال الدین میثم سے اور میثم نے حکمت خواجہ سے پڑھی تھی۔ ۶۷۹ھ میں وفات پائی اور ماحوذ کے قریب ایک بستی ہلتا میں دفن ہوا۔(الکنی والالقاب جلد ۱ ، صفحہ ۴۱۹)اسی نے کہا تھا ۔میں نے علوم و فنون اس لیے چاہے تھے کہ اس سے برتری حاصل کروں‘‘’’مجھے بس اسی قدر ملا کہ اسی تھوڑے سے میں بلند ہوگیا‘‘ ’’مجھے معلوم ہوگیا کہ سب کے سب محاسنفرع ہیں اور حقیقت میں مال ہی اصل ہے‘‘ ’’اس کی ایسی ایسی عجیب تصنیفات ہیں جن کے بارے میں زمانے میں سے کسی نے بھی نہیں سنا اور نہ ہی بڑے بڑوں میں سے کوئی اُسے پاسکا ہے ۔ (روضات الجنات ج ۲ ص ۲۱۸ اور مابعد)


شیعہ ابن میثم نہج البلاغہ کی شرح میں یہ روایت لکھتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا جو آپ کے والد محترم کا تھا وہ آپ کا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فدک میں سے آپ کیلئے کچھ رکھ لیا کرتے تھے باقی اللہ سبحانہ وتعالی کے راستے میں تقسیم کر دیا کرتے تھے اللہ کی قسم !میں آپ کے ساتھ ویسا ہی کروں گا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیا کرتے تھے یہ سُن کر فاطمہ رضی اللہ عنہا خوش ہو گئیں اور اس بات کا آپ سے عہدلے لیا۔(شرح نہج البلاغ،جلد 5،صفحہ 7،از ابن میثم البحرانی مطبوعہ تہران)


اسی جیسی ایک روایت شیعہ دنبلی نے اپنی شرح ’’الدرۃ النجفیہ صفحہ 331،332 مطبوعہ ایران‘‘ میں بیان کی ہے ۔ (شرح نہج البلاغۃ جلد5 ،صفحہ 331،332ایران)


شیعہ ابن میثم،دنبلی،ابنِ ابی الحدید، اور معاصر شیعہ مصنف فیض الاسلام علی نقی نے یہ روایت نقل کی ہے:’’ابوبکر رضی اللہ عنہ باغِ فدک کے غلہ میں سے اتنا حصہ اہلِ بیت کو دے دیا کرتے تھے جو ان کی ضروریات کے لیئے کافی ہوتا۔ باقی سب تقسیم کردیا کرتے، آپ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کرتے، عثمان رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے اور ان کے بعد علی رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔‘‘(شرح نہج البلاغۃ، لابنِ ابی الحدید جلد 4، صفحہ44، شرح نہج البلاغۃ،لابنِ میثم البحرانی جلد 5، صفحہ 107،الدرۃ النجفیۃ‘‘ صفحہ 332،شرح النہج البلاغہ،جلد 5،صفحہ 960، فارسی لعلی نقی ،مطبوعہ تہران،چشتی)


شیعہ کتب گواہ ہں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی ویسا ہی کیا جیسا خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنھم نے کیا تو یہ شیعہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پر کیا فتوی لگائیں گے ؟


نبی کریم اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم انبیاء علیہم السّلام کی وراثت مال نہیں ہے اس روایت کو متعصب شیعہ جھٹلاتے ہیں جبکہ یہ روایت خود شیعوں کی اپنی کتب میں موجود ہے، ان کی اپنی کتاب (کافی) میں جسےشیعہ سب سے صحیح کتاب کہتے ہیں اسی کتاب (کافی) میں شیعہ کلینی نےحماد بن عیسی سےاور حماد بن عیسی نےقداح سےجعفر ابو عبداللہ کی روایت نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ’’جو علم کو تلاش کرتے ہوئے علم کے راستے پر چلے، اللہ اسے جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے ، اور عالم کی فضیلت عبادت گزار پر ایسی ہے، جیسے چودھویں کا چاند سارے ستاروں سے افضل ہے۔ علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں جو دینار و درہم وراثت میں نہیں چھوڑتے لیکن علم کی میراث چھوڑتے ہیں، جو اس میں سے کچھ حاصل کرلے اس نے بہت کچھ حاصل کرلیا ۔ (الاصول من الکافی کتاب فضل العلم، باب ثواب العالم والمتعلم جلد 1،صفحہ 34)


جعفر ابوعبداللہ نےایسی ہی ایک اور روایت میں کہا ہے: علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں اور ان کا مالِ میراث درہم و دینار نہیں ہوتا، انہیں انبیاء علیہم السلام کی احادیث میراث میں ملتی ہیں ۔(الاصول من الکافی باب صفۃ العلم وفضلہ وفضل العلماء جلد 1، صفحہ 32،چشتی)


مزید دو روایتیں پیش خدمت ہیں جن سے اس روایت کی تائید ہوتی ہے، ان روایات کو بھی اس نے روایت کیا ہے جسے شیعہ قوم ’’صدوق‘‘ کے نام سے پکارتی ہے ۔


(1) براہیم بن علی رافعی نے اپنے باپ سے، اس نے اپنی دادی بنت ابی رافع سے روایت کیا ہے وہ کہتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ وفات میں فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں بیٹوں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دونوں آپ کے بیٹے ہیں، ان کو اپنی کچھ میراث دے دیجیے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ حسن رضی اللہ عنہ کے لیے میری ہیبت اور بزرگی ہے اور حسین رضی اللہ عنہ کے لیے میری جرأت اور میری سخاوت ۔(کتاب الخصال‘‘ از قمی صدوق، صفحہ 77)


(2) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کے دو بیٹے ہیں، انہیں کچھ عطا کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حسن رضی اللہ عنہ کو میں نے اپنا رعب اور بزرگی دی اور حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی سخاوت اور شجاعت۔(کتاب الخصال“ از قمی صفحہ 77)


بعض متعصب شیعہ حضرات یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں نے باغِ فدک آپ کو اس لیئے نہیں دیا تھا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کو مفلس و قلاش کردینا چاہتے تھے تاکہ لوگ مال و دولت کے لالچ میں ان کی طرف راغب نہ ہو جائیں ۔ ہمیں ان پر اور ان کی عقلوں پر افسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ علی رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کو اس آخری زمانے کے حکمرانوں جیسا سمجھتے ہیں جو دولت کے بل بوتے پر مال اور رشوت دے کر بڑے بڑے عہدے حاصل کرتے ہیں۔ اگر بالفرض یہ بات بھی تھی تو مال کی وافر مقدار ان کے پاس موجود تھی، دیکھئے شیعہ عالم کلینی اس کا ذکر کرتا ہے۔ دسویں امام ابو الحسن سے روایت ہے کہ سات باغات فاطمہ علیہا السلام کے لیے وقف تھے۔ وہ باغات یہ ہیں:(۱)دلال (۲) عوف(۳) حسنی (۴) صافیہ (۵) مالامِ ابراہیم (۶) مثیب (۷) برقہ ۔ (الفروع من الکافی کتاب الوصایا جلد ۷ صفحہ ۴۷ ، ۴۸،چشتی)


اب یہ بتا ئیں جو سات باغات کا مالک ہو اس کے پاس دولت کی کمی ہوگی ؟


محترم قارئینِ کرام قابلِ غوریہ بات ہے کہ : اگر باغ فدک اور اس کی زمین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تھی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اکیلی ہی اس کی وارث تو نہ تھیں، ابوبکر صدیق اور فاروق رضی اللہ عنہما کی بیٹیاں بھی اس کی وراثت میں شریک تھیں، اگر ابوبکر صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس وراثت سے محروم رکھا تو اپنی بیٹیوں کو بھی تو محروم رکھا۔ آخر اُن کی بات کوئی کیوں نہیں کرتا،ان کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ بھی زندہ تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ورثاء میں وہ بھی شامل تھے ۔


یاد رہے یہ اعتراض کرنے والے شیعہ حضرات اتنا بھی نہیں جانتے کہ ان کے مذہب میں عورت کو غیر منقولہ جائداد اور زمین کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں ملتا۔ ان کے محدثین نے اس مسئلہ کو مستقل ابواب و عنوانات کے تحت بیان کیا ہے۔ دیکھیے کلینی نے ایک مستقل باب اس عنوان سے لکھا ہے: ’’عورتوں کو غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملتا‘‘ اس عنوان کے تحت اس نے متعدد روایات بیان کی ہیں۔چوتھے امام ابو جعفر سے روایت ہے کہ : انہوں نے کہا: ’’عورتوں کو زمین اور غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا ۔ (الفروع من الکافی کتاب المواریث جلد 7 صفحہ 137،چشتی)


ابنِ بابویہ قمی صدوق نے اپنی صحیح ’’من لا یحضرہ الفقیہ‘‘ میں یہ روایت بیان کی ہے:ابو عبداللہ جعفر کی روایت ان کے پانچویں امام کی روایت میسر نے بیان کی ہے کہ


میں نے آپ سے (یعنی جعفر سے) عورتوں کی میراث کے بارے میں پوچھا؟ آپ نے کہا: جہاں تک زمین اور غیر منقولہ جائداد کا تعلق ہے، اس میں عورتوں کی میراث نہیں ۔ (من لا یحضرہ الفقیہ کتاب الفرائض والمیراث جلد ۴ صفحہ ۳۴۷)


اسی طرح اور بہت سی روایات بھی بیان کی گئی ہیں جن کی بناء پر اُن کے علماء نے اتفاق کیا ہے کہ زمین اور غیر منقولہ جائداد میں عورتوں کو میراث نہیں دی جاتی ۔


اگر عورتوں کو زمین اور باغات وغیرہ کی جائیداد نہیں دی جاتی تو فاطمہ رضی اللہ عنہ نے بقول ان کے کس طرح فدک کا مطالبہ کیا تھا۔ کوئی کوڑھ مغز بھی اس سے اختلاف نہیں کرسکتا کہ یقینا فدک غیر منقولہ جائداد تھی ۔


کیا حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس مسلہ پر ناراض تھیں کا جواب شیعوں کے سب سے بڑے متعصب عالم مجلسی کے قلم سے پڑھیئے ، باوجود شدید نفرت و کراہت کے یہ بات کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ:سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خفا ہوگئیں تو ان سے کہنے لگے: میں آپ کے فضل اور رسول اللہ علیہ السلام سے آپ کی قرابت کا منکر نہیں۔ میں نے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں فدک آپ کو نہیں دیا۔ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ علیہ السلام کو یہ کہتے سنا ہے: ہم انبیاء کا گروہ، مالِ وراثت نہیں چھوڑتے۔ ہمارا ترکہ کتاب و حکمت اور علم ہے۔ اس مسئلے میں میں تنہا نہیں، میں نے یہ کام مسلمانوں کے اتفاق سے کیا ہے۔ اگر آپ مال و دولت ہی چاہتی ہیں تو میرے مال سے جتنا چاہیں لے لیں، آپ اپنے والد کی طرف سے عورتوں کی سردار ہیں، اپنی اولاد کےلیے شجرۂ طیبہ ہیں، کوئی آدمی بھی آپ کے فضل کا انکار نہیں کرسکتا ۔ (حق الیقین صفحہ ۲۰۱ ، ۲۰۲ ،ترجمہ فارسی،چشتی)


مولائے کائنات حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اقتدار پر فائز ہوتے ہی ابن سباء کی نسل کی اس سازش پر ضربِ کاری لگائی ۔ امامِ شیعہ، سید مرتضیٰ علم الہدیٰ لکھتا ہے:جب فدک کے انکار کا معاملہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تک پہنچا تو آپ نے کہا: مجھے شرم آتی ہے کہ میں اس چیز کو دے ڈالوں جس کو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روک لیا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی حال میں برقرار رکھا ۔ (الشافی‘‘ للمرتضیٰ صفحہ ۲۳۱)( شرح نہج البلاغۃ لابنِ ابی الحدید“، جلد ۴)


حضرت امام ابوجعفر محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے بارے میں کثیر النوال نے پوچھا: ’’میں آپ پر قربان جاؤں۔ کیا آپ کا خیال ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا حق روک کر آپ پر ظلم کیا ہے؟‘‘ یا ان الفاظ میں کہا کہ: ’’آپ کا کچھ حق تلف کیا ہے؟‘‘ آپ نے کہا: ’’ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس نے اپنے اس بندے پر قرآن نازل کیا جو سارے جہانوں کے لیے نذیر (ڈرانے والے) ہیں ، ہم پر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا گیا۔‘‘ میں نے کہا: ’’قربان جاؤں کیا میں بھی ان دونوں سے محبت رکھوں؟‘‘کہنے لگے: ’’ہاں تیرا ستیاناس! تو ان دونوں سے محبت رکھ، پھر اگر کوئی تکلیف تجھے پہنچے تو وہ میرے ذمے۔(شرح نہج البلاغۃ‘‘ لابنِ ابی الحدید، جلد ۴ ،صفحہ ۸۲،چشتی)


ہم نے شیعہ مذھب کی معتبر کتابوں شیعہ جنہیں اپنا امام مانتے ہیں (آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم) اور دیگر شیعہ نے صاف صاف یہ کہا کہ : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نےاُن پر کوئی ظلم نہیں کیا پھر یہ اجہل متعصب شیعہ کیوں ان مقدس ہستیوں پرتہمتیں لگاتے ہیں ۔؟ یا تو صآف لکھیں شیعہ مذھب کے تمام امام جھوٹے ہیں یا یہ شیعہ خود جھوٹے ہیں فیصلہ خود کیجیے ۔


امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت امام زید بن علی بن حسین رضی اللہ عنہم نے بھی فدک کے مسئلے میں وہی کچھ فرمایا جو آپ کے دادا مولا علی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا پڑھیئے شیعہ مذھب کی معتبر کتاب کے حوالے سے : بحتری بن حسان کے پوچھنے پر حضرت امام زید بن علی بن حسین رضی اللہ عنہم نے کہا: ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تحقیر و توہین کے طور پر میں نے زید بن علی علیہ السلام سے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فدک فاطمہ رضی اللہ عنہا سے چھین لیا، یہ سن کر آپ کہنے لگے: ابوبکر رضی اللہ عنہ مہربان آدمی تھے، وہ ناپسند کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کیے ہوئے کسی کام میں تغیر و تبدل کریں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فدک دیا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت ہے؟ آپ علی رضی اللہ عنہ کو لے آئیں ، انہوں نے اس بات کی گواہی دی۔ ان کے بعد ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں: کیا تم دونوں گواہی نہیں دیتے کہ میں اہلِ جنت میں سے ہوں، دونوں کہنے لگے کیوں نہیں، ابو زید نے کہا: یعنی انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، کہنے لگیں: میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدک ان (فاطمہ رضی اللہ عنہا) کو دیا تھا، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی اور آدمی یا عورت کو بھی اس جھگڑے میں فیصلہ کرنے کا حق دار سمجھتی ہیں، اس پر ابو زید کہنے لگے: اللہ کی قسم اگر فیصلہ میرے پاس آتا تو میں بھی وہی فیصلہ کرتا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا ہے ۔ (شرح نہج البلاغۃ‘‘ لابنِ ابی الحدید، جلد ۴ ،صفحہ ۸۲)


الحمد للہ فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی نے مسلہ باغ فدک کے متعلق شیعہ مذھب کی معتبر کتابوں سے اس مسلہ کو علمی اور مہذب انداز میں پیش کر دیا ہے جو کچھ آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم نے فرمایا اور جو کچھ شیعہ مذھب کے معتبر علماء نے لکھا یہی اہلسنت و جماعت کا مؤقف ہے مجھے حیرت ہوتی اجہل قسم کے شیعہ ذاکرین اور سننے پڑھنے والے شیعہ حضرات آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات و ارشادات کو کیوں فراموش کر دیتے ہیں اس کی وجہ صاف ہے کہ یہ جھوٹی محبت کے دعویدار ہیں صرف امت مسلمہ میں فتنہ و فساد پھیلانا ان کا کام ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کہ اہل اسلام کو ابن سباء یہودی کے پھیلائے ہوئے اس فتنہ و شر سے محفوظ فرمائے اور حق کو قبول کرنے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)















کیا خطاءِ اجتہادی گناہ و گستاخی ہے ؟ خطاءِ اجتہادی کو گناہ و گستاخی بنانے والوں کے نام

کیا خطاءِ اجتہادی گناہ و گستاخی ہے ؟ خطاءِ اجتہادی کو گناہ و گستاخی بنانے والوں کے نام محترم قارئینِ کرام : شرعی حکم کو پہچاننے کےلیے اپنی پ...