Monday, 30 November 2015

حضورصلی اللہ علیہ وسلّم کے والدین رضی اللہ عنہما کو مشرک کہنے والوں کو جواب

حضورصلی اللہ علیہ وسلّم کے والدین رضی اللہ عنہما کو مشرک کہنے والوں کو جواب

حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم اپنے جن جن آباؤ اجداد کی پشتوں سے منتقل ہوکر دنیا میں تشریف لائے وہ سب کے سب سجدہ کرنے والے مومن اورتوحید پرست تھے اُن میں سے کوئی کافر ومُشرک نہ تھا۔ القرآن:… الَّذِیْ یَرَاکَ حِیْنَ تَقُوْمُo وَتَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیْنَo اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ o ترجمہ: جو آپ کو دیکھتا رہتا ہے جب آپ کھڑے ہوتے ہیں اورہم تمہارا نور پاک سجدہ کرنے والوں میں دیکھ رہے ہیں بیشک وہی سب کچھ سُننے والا جاننے والا ہے ۔ (سورئہ شعراء ،آیت 218تا220، پارہ19)

فائدہ : ابو نعیم نے حضرت ابن عباس ص سے ان آیات کا مفہوم اس طرح نقل کیا ہے کہ ’’تقلب‘‘ سے مُراد ’’تنقل فی الاصلاب‘‘ یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کا نور یکے بعد دیگرے آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے آباؤ اجداد کی پشتوں سے منتقل ہوتاہوا حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے پاکیزہ بطنِ مبارک اورحضرت عبداللہ ص کی نورانی پیشانی میں چمکا۔ لہٰذا اس آیت سے ثابت ہوا کہ سرکارِ اعظم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم جن جن آباؤ اجداد کی پشتوں سے منتقل ہوکر دنیا میں تشریف لائے وہ سب کے سب (اللہ تعالیٰ) کو سجدہ کرنے والے مومن اور توحید پر ست تھے اُن میں سے کوئی بھی کافر ومشرک نہ تھا۔ الحدیث:… مسلم ، ترمذی اورمشکوٰۃ میں ہے کہ حضرت وائلہ بن الاسقعص فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ اعظم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم سے سُنا آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم فرماتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل ں کی اولاد سے کنانہ کو برگذیدہ (منتخب ) فرمایا اورکنانہ میں قریش کو اور قریش میں سے بنی ھاشم اوراس میں سے مجھ کو برگزیدہ فرمایا۔ (دلائل النبوت، بیہقی جلد اوّل صفحہ65، سیرت حلبیہ ، جلد اوّل صفحہ43)

فائدہ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت اسماعیل ں سے لے کر سیّدہ آمنہ رضی اللہ عنہا اورحضرت عبداللہ ص تک سرکارِ اعظم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم جن جن آباؤ اجداد سے منتقل ہوکر دنیا میں تشریف لائے وہ تمام برگذیدہ اور صاحبِ ایمان تھے ۔ دلیل:… حضرت ابراہیم ں کی دعا قرآن میں یوں نقل ہے ۔ القرآن:… رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ ط (سورئہ بقرہ ، پارہ 1آیت129) ترجمہ: اے ہمارے رب اُمّت مسلمہ میں سے آخری رسول بھیج کہ ان پر تیری آیت تلاوت فرمائے اورانہیں کتاب اور پختہ علم سکھائے اوراُنہیں خوب صاف ستھرا فرمادے

فائدہ : معلوم ہوا کہ سرکارِ اعظم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے لئے حضرت ابراہیم ں نے دعا فرمائی کہ اُمّتِ مسلمہ میں رسول بھیج جو گمراہ لوگوں کو خوب صاف ستھرا کر دے جونبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم لوگوں کو پاک صاف کردیں کیا وہ خود (معاذ اللہ) کسی مشرک کے بطن میں رہ سکتے ہیں لہٰذا معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم اُمِّت مسلمہ میں سے تشریف لائے ۔ سرکارِ اعظم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے والدین کریمین کے مومن ہونے پر علمائے اُمَّت کا اتفاق: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ اپنی کتاب شمول الاسلام میں ان علمائے اُمَّت کے نام تحریر فرمائے ہیں جنہوں نے سرکارِ اعظم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے والدین کریمین کے مومن ہونے پر تحریریں لکھی ہیں۔
1 : امام ابو حفصل عمر ابن احمد بن شاہین بغدادی علیہ الرحمہ (المتوفی 358ھ)
2 : شیخ احمد بن علی بن ثابت بن احمد بن مہدی خطیب علی البغدادی علیہ الرحمہ (المتوفی 463ھ)
3 : حافظ الشان محدث امام ابو القاسم علی بن حسن عساکر علیہ الرحمہ (المتوفی 571ھ)
4 : امام اجل ابو القاسم عبدالرحمن بن عبدلالہ بن احمد سہیلی علیہ الرحمہ (المتوفی 581ھ)
5 : علامہ امام صالح الدین صفوی علیہ الرحمہ (المتوفی 764ھ)
6 : امام علامہ شر ف الدین مناوی علیہ الرحمہ (المتوفی 757ھ)
7 : امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ (مصنّف تفسیرِ کبیر) (المتوفی 606ھ)
8 : اما م جلا ل الدین سیوطی الشافعی علیہ الرحمہ (المتوفی 911ھ)
9 : امام عبدالوہاب شعرانی علیہ الرحمہ (المتوفی 1122ھ)
10 : شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ (المتوفی 1052ھ)

ان تمام علمائے اُمّت کا ایمان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے والدین کریمین رضی اللہ عنہما مومن ، موحد اورجنتی ہیں۔

اعتراض: مسلم شریف کی روایت کے الفاظ ’’ان ابی واباک فی النار‘‘ یعنی میرا اور تمہارا باپ دونوں جہنم میں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے؟
جواب: اس کا جواب حضرت امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے اپنے مقبول زمانہ رسالے ’’نشر العلمین المنیفین فی احیاء الابوین الشریفین‘‘ میں دیاہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہاں باپ سے مراد ابو طالب ہیں، کیونکہ اہل عرب چچا کو (ابا یعنی باپ) كهتے تھے اور یہ تمام عرب ممالک میں معمول تھا۔ قرآن مجید میں ہے: قَالُوا نَعْبُدُ إِلَـٰهَكَ وَإِلَـٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَـٰهًا وَاحِدًا (سورۂ بقرہ، آیت 133، پارہ 1) ترجمہ: وہ بولے ہم پوجیں گے اسے جو خدا ہے آپ کا اور آپ کے آباء ابراہیم و اسمعیل و اسحاق کا ایک خدا۔ اس آیت میں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو حضرت یعقوب علیہ السلام کے والد میں ذکر کیا گیا ہے یعنی ’’آباء‘‘ کہا گیا حالانکہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام، حضرت یعقوب علیہ السلام کے چچا تھے۔ امام رازی علیہ الرحمہ تفسیر کبیر جلد سوم صفحہ نمبر 37 پر فرماتے ہیں۔ آج کل بھی بعض قوموں میں چچا کو بڑے ابا کہا جاتا ہے حالانکہ وہ والد نہیں، چچا ہوتے ہیں۔ (طالب دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Sunday, 29 November 2015

اعتراض : کیا نبی علیہ السلام کا مقام ولادت مقدس جگہ ہے ؟ کیا اس کی تعظیم هم پر لازم هے ؟

اعتراض : کیا نبی علیہ السلام کا مقام ولادت مقدس جگہ ہے ؟ کیا اس کی تعظیم هم پر لازم هے ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جواب : انبیاء کرام کا مقام ولادت بابرکت اور مقدس جگہ ہے اور ہم سب مسلمانوں پر لازم ہے کہ ہم ایسی متبرک جگہ کا احترام کریں۔ مقام ولادت عیسٰی علیہ السلام کی اہمیت و فضیلت: حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاکﷺ نے اپنا سفر معراج بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے بیت اللحم کے مقام پر مجھ سے کہا : آپ براق سے اتریئے اور نماز پڑھیئے، میں نے اتر کر نماز ادا کی، پس اس نے کہا: ’’اتدری این صلیت؟ صلیت بیت لحم حیث ولد عیسٰی‘‘ پس اس نے کہا، کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز اد اکی ہے؟ آپ نے بیت اللحم میں نماز ادا کی ہے جہاں عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی (سنن نسائی شریف، کتاب الصلوٰۃ، باب فرض الصلوٰۃ، جلد اوّل ، ص 222، حدیث 480) اس حدیث سے نبی کی جائے ولادت کی اہمیت اور فضیلت ثابت ہوتی ہے، جب حضرت عیسٰی علیہ السلام کے مقام ولادت کا یہ عالم ہے تو محبوب خداﷺ کی جس جگہ ولادت باسعادت ہوئی، اس مکان کی برکتوں کا کون اندازہ لگا سکتا ہے۔ اس لئے عاشقان رسول عرصۂ دراز سے مکۃ المکرمہ میں واقع ولادت گاہ مصطفیﷺ پر ادب و احترام کے ساتھ درود وسلام کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔

اعتراض : ۔ دن مقرر کرکے میلاد کیوں مناتے ہو؟ دن مقرر کرکے عبادت کرنا ناجائز ہے

اعتراض : ۔ دن مقرر کرکے میلاد کیوں مناتے ہو؟ دن مقرر کرکے عبادت کرنا ناجائز ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جواب : ۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ جس کی یاد منانی ہو تو اسی دن منائی جائے جس دن کو، جس تاریخ کو اس شخصیت سے نسبت ہو۔ اعمال صالح کے لئے دن مقرر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ٭ سید عالمﷺ نے شہدائے احد کی زیارت کے لئے سرسال کا وقت مقرر فرمایا تھا (صحیح مسلم، باب فضل مسجد قباء، جلد اول،  448، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ، کراچی) ٭ حضور اکرمﷺ کا سنیچر (ہفتہ) کے دن مسجد قباء میں تشریف لانا (بخاری شریف، مسلم شریف) ٭ حضور اکرمﷺ کا ہر پیر کو اپنی ولادت کا روزہ رکھنا (مسلم، باب استحباب صیام ثلاثہ ایام، جلد اول، ص 368، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ، کراچی) ٭ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے دینی مشاورت کے لئے وقت صبح و شام کا تعین (بخاری، باب ہجرۃ النبی و اصحابہ الی المدینہ جلد اول، ص 552، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ، کراچی) ٭ سفر جہاد شروع کرنے کے لئے پنج شنبہ (جمعرات) کا تعین (بخاری، باب ہجرۃ النبی و اصحابہ الی المدینہ، جلد اول، ص 414، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ) ٭ طلب علم کے لئے دو شنبہ (پیر) کا تعین (الفردوس بماء ثور الخطاب، جلد اول، ص 78، حدیث 237، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) ٭ حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ نے وعظ و تذکیر کے لئے پنج شنبہ (جمعرات) کا دن مقرر کیا (بخاری، باب من جعل لاہل ایاما معلومۃ، جلد اول، ص 16، قدیمی کتب خانہ، کراچی) ٭ علماء نے سبق شروع کرنے کے لئے بدھ کا دن رکھا (تعلیم المتعلم، فصل فی بدایۃ السبق، ص 93، مطبوعہ مطیع علیمی دہلی)

اعتراض : ۔ کیا جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا فرض یا واجب ہے، جس کے منانے پر اتنا زور دیتے ہو اور نہ منانے والوں کو برا بھلا کہتے ہو

اعتراض : ۔ کیا جشن عید میلاد النبی ﷺ منانا فرض یا واجب ہے، جس کے منانے پر اتنا زور دیتے ہو اور نہ منانے والوں کو برا بھلا کہتے ہو
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جواب : ۔ ہمارے علماء نے جشن عید میلاد النبیﷺ منانے کو اپنی کسی بھی کتاب اور بیان میں فرض یا واجب قرار نہیں دیا بلکہ ایک مستحب عمل قرار دیا ہے۔ مطلب یہ کہ اگر كسي مسلمان نے اپنی پوری زندگی میں کبھی جشن عید میلاد النبیﷺ نہیں منایا، نہ اپنے گھروں پر جھنڈے لگائے، نہ چراغاں کیا، نہ جلوس میں شرکت کی، نہ شب میلاد شب بیداری کی ، مگر میلاد منانے کو ناجائز اور بدعت قرار نہیں دیتا اور نہ ہی بدعت سمجھتا ہے، تو ایسا شخص ہرگز ہرگز گناہ گار نہیں ہوگا ۔ اس لئے جشن ولادت منانا ایسا عمل ہے جو اس کا انعقاد کرے وہ ثواب پاتا ہے اور جو نہیں مناتا، اس پر کوئی گناہ نہیں۔ ہاں البتہ اگر کوئی جشن ولادت منانے کو بدعت، ناجائز کہے یا سمجھے ایسا شخص ضرور گناہ گار ہوگا ، اس کو توبہ کرنی ہوگی کیونکہ اس نے ایک مستحب عمل کو بدعت و ناجائز کہا۔ لہذا جشن ولادت کے متعلق اپنی زبانوں کو غلط استعمال کرنے والے ہوش کے ناخن لیں۔ ہم اہلسنت جشن عید میلاد النبی ﷺ نہ منانے والوں کو برا بھلا نہیں کہتے بلکہ جو اس مستحب عمل کو بدعت و ناجائز کہتے ہیں ، ان کے اعتراضات کے جوابات دیتے ہیں ۔

اعتراض ؛ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان نے آمد رسولﷺ کا جلوس نکالا تھا

اعتراض ؛ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان نے آمد رسولﷺ کا جلوس نکالا تھا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جواب : ۔ جشن آمد رسولﷺ کا جلوس نکالنا اب تقریبات میلاد کا ضروری حصہ بن چکا ہے اور سرکار کریمﷺ کی محبت میں مسلمانان عالم جشن عید میلاد النبیﷺ کا جلوس نکالتے ہیں۔ مسلمانان عالم کا یہ عمل یعنی جلوس نکالناصحابہ کرام علیہم الرضوان کی سنت ہے۔ حدیث شریف: فی ابلک فقدمنا المدینۃ لیلا فتنازعوا ایہم ینزل علیہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم فقال انزل علی بنی النجار اخوال عبدالمطلب اکرمہم بذلک فصعد الرجال والنساء فوق البیوت و تفرق الغلمان والخدم فی الطرق ینادون یا محمد یا رسول ﷲ یا محمد یا رسول ﷲ (ﷺ) (مسلم شریف، کتاب الزہد والرقائق، باب فی حدیث الہجرۃ ویقال لہ حدیث الرحل باالحاء، حدیث7480، جلد سوم، ص 744، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور) ترجمہ: (حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں) پھر ہم رات کے وقت مدینہ منورہ پہنچے تو ان کے درمیان یہ اختلاف ہوگیا کہ نبی کریمﷺ کس کے ہاں قیام کریں گے تو نبی پاکﷺ نے فرمایا: میں (اپنے دادا) عبدالمطلب کی ننھیال ’’بنو نجار‘‘ کے ہاں قیام کرکے ان کی عزت افزائی کروں گا (مدینہ میں ہمارے داخل کے وقت) عورتیں چھتوں پر چڑھی ہوئی تھیں، لڑکے اور خادم گلیوں میں تھے اور وہ سب یہ نعرہ لگا رہے تھے یا محمد(ﷺ) یا رسول اﷲ (ﷺ)! یا محمد (ﷺ)! یا رسول اﷲ (ﷺ) ٭ امام رویانی علیہ الرحمہ کے مطابق اہالیان مدینہ جلوس کی شکل میں یہ نعرہ لگا رہے تھے ’’جاء محمد رسول اﷲﷺ‘‘ یعنی اﷲ تعالیٰ کے رسول حضرت محمد مصطفیﷺ تشریف لے آئے ہیں (مسند الصحابہ جلد اول، ص 138) حدیث شریف: کان النبی ﷺ اذا قدم من سفر استقبل بنا فاینا استقبل اولا جعلہ امامہ فاستقبل بی فعملنی امامہ ثم استقبل بحسن او حسین فجعلہ خلفہ فدخلنا المدینۃ وانا لکذلک (ابو دائود، کتاب الجہاد، حدیث 794، ص 300، مطبوعہ فرید بک لاہور) ترجمہ: جب نبی کریمﷺ سفر سے تشریف لاتے تو ہ لوگ آپ کے استقبال کے لئے جاتے، ایک بار میں اور حسن اور حسین رضی اﷲ عنہما آپﷺ کے استقبال کے لئے چلے۔ آپﷺ نے ہم میں سے ایک کو آگے بٹھایا اور ایک کو پیچھے، حتی کہ ہم مدینہ پہنچے۔ فائدہ: جب تاجدار مدینہﷺ کی مکہ سے مدینہ آمد ہو، غزوہ یا سفر سے آمد ہو یا فتح مکہ کے موقع پر مکۃ المکرمہ میں آمد ہو تو جلوس نکالا جائے، نعرۂ رسالت یارسول اﷲﷺ لگائے جائیں تو اس پر سرکارﷺ منع بھی نہ فرمائیں۔ ثابت ہوا کہ آمد رسولﷺ کی خوشی میں جلوس نکالنا جائز ہے۔ جلوس میلاد پر اعتراضات کرنے والے چاروں خلفائے راشدین کے ایام میں جلوس نکالتے ہیں، تحفظ ناموس رسالت، تحفظ حرمین، تحفظ پاکستان، یوم کشمیر، ملین مارچ اور یوم تکبیر پر جلوس نکالتے ہیں۔

ميلاد النبيﷺ كے جلوس كو بدعت كهنے والے سعودي عرب كي حمايت ميں جلوس نكال رهے هيں آخر کیوں ؟

اس جلوس ميں ملك پاكستان كے سارے وهابي، ديوبندي قائدين اور تمام تنظيميں شامل هيںِ كيا كبھي دورِ رسالت اور دور صحابه ميں كبھي كسي نے تحفظ حرمين ريلي نكالي ؟

ميلاد النبيﷺ كے جلوس كو كينسل كرنے كي بات كرنےوالے سعودي عرب كي حمايت ميں جلوس نكال رهے هيں ۔

اعتراض : ۔ عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر چراغاں کرنے کا کوئ ثبوت نہیں ہے

اعتراض : ۔ عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر چراغاں کرنے کا کوئ ثبوت نہیں ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جواب : ۔ خوشی کے مواقع پر خوشی کا اظہار چراغاں کے ذریعے کرنا جائز ہے، ہر دور میں اس دور کے مطابق موجود سامان مسرت کے ذریعے خوشی کا اظہار کیاجاتا تھا۔ کسی دور میں چراغ روشن ہوتے تھے، کسی دور میں فانوس روشن کئے جاتے تھے، کسی دور میں قندیلیں روشن کی جاتی تھیں، کسی دور میں مشعلیں روشن کی جاتی تھیں، کسی دور میں شمعیں روشن کی جاتی تھیں اور موجودہ دور میں بجلی موجود ہے لہذا ہر مقام پر چراغاں کے ذریعہ خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ لیلۃ القدر میں مساجد پر لائٹنگ کی جاتی ہے، ختم قرآن کی محافلوں میں بڑی بڑی لائٹیں لگائی جاتی ہیں، مذہبی، سیاسی اور سماجی اجتماعات کے مواقع پر لائٹیں لگائی جاتی ہیں، اولاد کی منگنی کے موقع پر گھر کو برقی قمقموں سے سجایا جاتا ہے، ختنہ اور عقیقہ کے مواقع پر خوب روشنی کی جاتی ہے۔ اولاد کی شادی کے موقع پر شادی ہال، شادی لانز اور گلیوں اور عمارتوں کو برقی قمقموں سے سجایا جاتا ہے اور یہ سب خوشی کے اظہار کے لئے کیاجاتا ہے۔ یاد رہے! یہ ساری خوشیاں جو اﷲ تعالیٰ کی نعمت ہیں اور اس نعمت کی آمد پر چراغاں کیاجاتا ہے تو پھر جو نعمت عظمیٰ و نعمت کبریٰ (سب سے بڑی نعمت) یعنی سرکار کائناتﷺ کی ذات ہیں، اس نعمت کبریٰ کی آمد کی خوشی اور یاد میں کس قدر چراغاں کرنا چاہئے۔ 1: حضور نبی اکرمﷺ کی ولادت باسعادت کے حوالہ سے حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اﷲ عنہ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت عبداﷲ ثقفیہ رضی اﷲ عنہا حضورﷺ کی ولادت کے وقت حضرت آمنہ رضی اﷲ عنہا کے پاس تھیں۔ آپ شب ولادت کی بابت فرماتی ہیں۔ فما ولدتہ خرج منہا نور اضاء لہ البیت الذی نحن فیہ والدار، فما شیٔ انظر الیہ الانور (المعجم الکبیر جلد 25، رقم 457-355 ص 186-147) ’’پس جب آپﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی تو سیدہ آمنہ کے جسم اطہر سے ایسا نور نکلا جس سے پورا گھر اور حویلی جگمگ کرنے لگی اور مجھے ہر ایک شے میں نور ہی نور نظر آیا‘‘ 2۔ حضرت آمنہ رضی اﷲ عنہا سے ایک روایت یوں مروی ہے: انی رأیت حین ولدتہ انہ خرج منی نور اضاء ت منہ قصور بصری من ارض الشام (المعجم الکبیر، جلد 24، رقم 545، ص 214) ’’جب میں نے آپﷺ کو جنم دیا تو میں نے دیکھا کہ بے شک مجھ سے ایسا نور نکلا جس کی ضیاء پاشیوں سے سرزمین شام میں بصرہ کے محلات روشن ہوگئے‘‘ اتر آئے ستارے قمقمے بن کر انسان جب جشن مناتے ہیں تو اپنی بساط کے مطابق روشنیوں کا اہتمام کرتے ہیں، قمقمے جلاتے ہیں، اپنے گھروں، محلوں اور بازاروں کو ان روشن قمقموں اور چراغوں سے مزین و منور کرتے ہیں، لیکن وہ خالق کائنات جس کی بساط میں شرق و غرب ہے، اس نے جب چاہا کہ اپنے حبیبﷺ کے میلاد پر چراغاں کروں تو نہ صرف شرق تا غرب زمین کو منور کردیا بلکہ آسمانی کائنات کو بھی اس خوشی میں شامل کرتے ہوئے ستاروں کو قمقمے بناکر زمین کے قریب کردیا۔ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اﷲ عنہ کی والدہ فاطمہ بنت عبداﷲ ثقیفہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں: حضرت ولادۃ رسول ﷲﷺ فرأیت البیت حین وضع قد امتلاً نوراً، ورأیت النجوم تدنو حتی ظننت انہا ستقع علی (الروض الانف فی تفسیر السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، جلد اول، ص 279-278) ’’جب آپﷺ کی ولادت ہوئی تو (میں خانہ کعبہ کے پاس تھی) میں نے دیکھا کہ خانہ کعبہ نور سے منور ہوگیا ہے اور ستارے زمین کے اتنے قریب آگئے کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ کہیں مجھ پر نہ گر پڑیں‘‘ جشن میلاد النبیﷺ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں چراغاں عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر اہل مکہ ہمیشہ جشن مناتے اور چراغاں کا خاص اہتمام کرتے۔ ائمہ نے اس کا تذکرہ اپنی کتب میں کیا ہے۔ نمونے کے طور پر چند روایات درج ذیل ہیں: حضرت امام محمد جار اﷲ بن ظہیرہ حنفی علیہ الرحمہ (متوفیٰ 986ھ) اہل مکہ کے جشن میلاد کے بارے میں لکھتے ہیں: وجرت العادۃ بمکۃ لیلۃ الشانی عشر من ربیع الاول فی کل عام ان قاضی مکۃ الشافعی یتھیا لزیارۃ ہذا المحل الشریف بعد صلاۃ المغرب فی جمع عظیم، منہم الثلاثۃ القضاۃ واکثر الاعیان من الفقہاء والفضلائ، وذوی البیوت بفوانیس کثیرۃ وشموع عظیمۃ وزحام عظیم، ویدعی فیہ للسلطان ولامیر مکۃ، وللقاضی الشافعی بعد تقدم خطبۃ مناسبۃ للمقام، ثم یعود منہ الی المسجد الحرام قبیل العشائ، ویجلس خلف مقام الخلیل علیہ السلام بازاء قبۃ الفراشین، ویدعو الداعی لمن ذکر آنفاً بحضور القضاۃ واکثر الفقہاء ثم یصلون العشاء وینصرفون، ولم اقف علی اول من سن ذالک، سألت مورخی العصر فلم اجد عندہم علماً بذلک (الجامع اللطیف فی فضل مکۃ واہلہا وبناء البیت الشریف، ص 202-201) ’’ہر سال مکہ مکرمہ میں بارہ ربیع الاول کی رات اہل مکہ کا یہ معمول ہے کہ قاضی مکہ۔ جوکہ شافعی ہیں۔ مغرب کی نماز کے بعد لوگوں کے ایک جم غفیر کے ساتھ مولود شریف کی زیارت کے لئے جاتے ہیں۔ ان لوگوں میں تینوں مذاہب فقہ کے قاضی، اکثر فقہاء، فضلاء اور اہل شہر ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں میں فانوس اور بڑی بڑی شمعیں ہوتی ہیں۔ وہاں جاکر مولد شریف کے موضوع پر خطبہ دینے کے بعد بادشاہ وقت، امیر مکہ اور شافعی قاضی کے لئے (منتظم ہونے کی وجہ سے) دعا کی جاتی ہے۔ پھر وہ وہاں سے عشاء سے تھوڑا پہلے مسجد حرام میں آجاتے ہیں اور صفائی کرنے والوں کے قبہ کے مقابل مقام ابراہیم کے پیچھے بیٹھتے ہیں۔ بعد ازاں دعا کرنے والا کثیر فقہاء اور قضاۃ کی موجودگی میں دعا کہنے والوں کے لئے خصوصی دعا کرتا ہے اور پھر عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد سارے الوداع ہوجاتے ہیں۔ (مصنف فرماتے ہیں کہ) مجھے علم نہیں کہ یہ سلسلہ کس نے شروع کیا تھا اور بہت سے اہم عصر مورخین سے پوچھنے کے باوجود اس کا پتہ نہیں چل سکا‘‘ حضرت علامہ قطب الدین حنفی علیہ الرحمہ (متوفیٰ 988ھ) نے کتاب الاعلام باعلام بیت اﷲ الحرام فی تاریخ مکۃ المشرفۃ میں اہل مکہ کی محافل میلاد کی بابت تفصیل سے لکھا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: يزار مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم المکاني في الليلة الثانية عشر من شهر ربيع الأول في کل عام، فيجتمع الفقهاء والأعيان علي نظام المسجد الحرام والقضاة الأربعة بمکة المشرفة بعد صلاة المغرب بالشموع الکثيرة والمفرغات والفوانيس والمشاغل وجميع المشائخ مع طوائفهم بالأعلام الکثيرة ويخرجون من المسجد إلي سوق الليل ويمشون فيه إلي محل المولد الشريف بازدحام ويخطب فيه شخص ويدعو للسلطنة الشريفة، ثم يعودون إلي المسجد الحرام ويجلسون صفوفا في وسط المسجد من جهة الباب الشريف خلف مقام الشافعية ويقف رئيس زمزم بين يدي ناظر الحرم الشريف والقضاة ويدعو للسلطان ويلبسه الناظر خلعة ويلبس شيخ الفراشين خلعة. ثم يؤذن للعشاء ويصلي الناس علي عادتهم، ثم يمشي الفقهاء مع ناظر الحرم إلي الباب الذي يخرج منه من المسجد، ثم يتفرقون. وهذه من أعظم مواکب ناظر الحرم الشريف بمکة المشرفة ويأتي الناس من البدو والحضر وأهل جدة، وسکان الأودية في تلک الليلة ويفرحون بها. )كتاب الاعلام باعلام بيت اﷲ الحرام في تاريخ مكة المشرفة ص 355) ’’ہر سال باقاعدگی سے بارہ ربیع الاول کی رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائے ولادت کی زیارت کی جاتی ہے۔ (تمام علاقوں سے) فقہاء، گورنر اور چاروں مذاہب کے قاضی مغرب کی نماز کے بعد مسجد حرام میں اکٹھے ہوتے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں کثیر تعداد میں شمعیں، فانوس اور مشعلیں ہوتیں ہیں۔ یہ (مشعل بردار) جلوس کی شکل میں مسجد سے نکل کر سوق اللیل سے گزرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائے ولادت کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ پھر ایک عالم دین وہاں خطاب کرتا ہے اور اس سلطنتِ شریفہ کے لیے دعا کرتا ہے۔ پھر تمام لوگ دوبارہ مسجد حرام میں آنے کے بعد باب شریف کی طرف رُخ کرکے مقامِ شافعیہ کے پیچھے مسجد کے وسط میں بیٹھ جاتے ہیں اور رئیسِ زَم زَم حرم شریف کے نگران کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ بعد ازاں قاضی بادشاہِ وقت کو بلاتے ہیں، حرم شریف کا نگران اس کی دستار بندی کرتا ہے اور صاحبانِ فراش کے شیخ کو بھی خلعت سے نوازتا ہے۔ پھر عشاء کی اذان ہوتی اور لوگ اپنے طریقہ کے مطابق نماز ادا کرتے ہیں۔ پھر حرم پاک کے نگران کی معیت میں مسجد سے باہر جانے والے دروازے کی طرف فقہاء آتے اور اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ یہ اتنا بڑا اجتماع ہوتا کہ دور دراز دیہاتوں، شہروں حتیٰ کہ جدہ کے لوگ بھی اس محفل میں شریک ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پر خوشی کا اِظہار کرتے تھے۔

اعتراض : آپ لوگ شب میلاد النبیﷺ کوشب قدر سے بھی افضل کہتے ہیں اور اس رات کو شب بیداری بھی کرتے ہیں اس کا کوئ ثبوت نہیں ہے ؟

شبِ میلادُالنَّبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شبِ قدر سے افضل ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : قرآنِ مجید کے نزول کے سبب ماہِ رمضان المبارک کی صرف ایک رات کو ہزار مہینوں سے بھی افضل قرار دیا گیا ۔ جس مبارک رات میں کلامِ الٰہی لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر اتارا گیا اللہ تعالیٰ نے اس رات کو قیامت تک کے انسانوں کےلیے ’’لیلۃ القدر‘‘ کی صورت میں بلندی درجات کا وسیلہ اور تمام راتوں کی پیشانی کا جھومر بنا دیا ۔ تو جس رات صاحبِ قرآن یعنی مقصودِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہور ہوا اور بزمِ عالم کے اس تاجدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین و مکاں کو ابدی رحمتوں اور لازوال سعادتوں سے منوّر فرمایا ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس رات کی قدر و منزلت کیا ہوگی ! اس کا اندازہ انسانی شعور کے لیے ناممکن ہے۔ لیلۃ القدر کی فضیلت اس لیے ہے کہ وہ نزولِ قرآن اور نزولِ ملائکہ کی رات ہے جب کہ نزولِ قرآن سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلبِ اَطہر پر ہوا ۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ ہوتے تو قرآن نازل ہوتا نہ شبِ قدر ہوتی اور نہ یہ کائنات تخلیق کی جاتی ۔ دَر حقیقت یہ ساری فضیلتیں میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صدقہ ہیں ۔ پس اگر کہا جائے کہ شبِ میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شبِ قدر سے بھی افضل ہے تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا ۔ باری تعالیٰ نے لیلۃ القدر کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دے کر اس کی فضیلت کی حد مقرر فرما دی جب کہ شبِ میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت حدِ اِدراک سے ماوراء ہے ۔ یہ اَمر بھی ذہن نشین رہے کہ اگرچہ شبِ میلاد کی فضیلت زیادہ ہے تاہم شبِ قدر میں کثرت کے ساتھ عبادات بجا لانی چاہییں کیوں کہ اِس رات بجا لائی جانے والی عبادات پر زیادہ اَجر و ثواب کی نوید ہے اور یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ ائمہ و محدثین علیہم الرحمہ نے راتوں کی فضیلت کو موضوعِ بحث بنایا ہے ۔ مثلاً شبِ نصف شعبان ، شبِ قدر ، شبِ یوم الفطر ، شبِ یوم العرفہ وغیرہ ۔ ان میں شبِ میلادُالنَّبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بھی آیا ہے ۔ بہت سے اَئمہ و محدثین اور اہلِ علم و محبت نے شبِ میلاد کو شبِ قدر سے افضل قرار دیا ہے ۔ امام قسطلانی (851۔ 923ھ)، شیخ عبد الحق محدث دہلوی (958۔ 1052ھ) ، امام زرقانی (1055۔ 1122ھ) اور امام نبہانی (م1350ھ) مولانا عبد الحی لکھنوی علیہم الرحمہ نے بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ سب راتیں فضیلت والی ہیں مگر شبِ میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے افضل ہے ۔

امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد ابن مرزوق تلمسانی متوفی 781 ھجری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ان لیلة المولد لیلة ظھورہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ولیلة القدر معطاة لہ ، وما شرف بظھور ذات المشرف من اجلہ اشرف مما شرف بسبب ما اعطیہ ، ولا نزاع فی ذلک ، فکانت لیلة المولد بھذا الاعتبار اشرف ۔ (جَنی الجنتین فی شرف اللیلتین الفصل الاول الادلة علی افضلیة لیلة المولد صفحہ ١٨٩)
ترجمہ : شبِ ولادت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس دنیا میں تشریف لانے کی رات ہے جبکہ شبِِ قدر آپ کو عطا کی گئی ہے اور جو رات ظہورِ ذاتِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سبب مشرف ہو وہ اُس رات سے زیادہ فضیلت والی ہے جو آپ کو عطا کردہ ہے اور اِس میں کوئی نزاع نہیں ہے لہٰذا اِس اعتبار سے شبِ ولادت شبِ قدر سے بھی افضل ہے ۔
مزید لکھتے ہیں : لیلة القدر وقع التفضل فیھا علی امة محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ولیلة المولد الشریف وقع التفضل فیھا علی سائر الموجودات ، فھو الذی بعثہ اللہ عزوجل رحمة للعالمین فقال تعالیٰ : وما ارسلنک الا رحمة للعالمین ۔ فعمت بہ النعمة علی جمیع الخلائق ، فکانت لیلة المولد اعم نفعًا بھذا الاعتبار، فکانت اشرف ۔ (جَنی الجنتین فی شرف اللیلتین،الفصل الاول:الادلة علی افضلیة لیلة المولد صفحہ 190 ۔ 191،چشتی)
ترجمہ : شبِ قدر کی فضیلت صرف امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہے جبکہ شبِ ولادت کی فضیلت تمام موجودات پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سارے جہاں والوں کےلیے رحمت بناکر مبعوث فرمایا ہے اس طرح آپ کی نعمت جمیع مخلوق پر عام ہے تو شبِ مولد باعتبارِ نفع زیادہ عام ہے لہٰذا یہ شبِ قدر سے بھی افضل ہے ۔

وَقَدْ صَرَّحَ الإِمَامُ الطَّحَاوِيُّ وَالتِّلِمْسَانِيُّ وَالْقَسْطَلَانِيُّ والزُّرْقَانِيُّ وَالْحَلَبِيُّ وَعَبْدُ الْحَيِّ الْفَرَنْجِي الْمَحَلِّيُّ اللَّکْنَوِيُّ والنَّبْهَانِيُّ بِکُلِّ وُضُوْحٍ أَنَّ جَمِیْعَ هٰذِهِ اللَّیَالِي مُفَضَّلَۃٌ، وَأَفْضَلُهَا لَیْلَةُ مَوْلِدِ الْحَبِیْبِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ قَالَ الإِمَامُ الطَّحَاوِيُّ نَقْـلًا عَنْ بَعْضِ الشَّوَافِعِ مَا نَصُّہٗ: إِنَّ أَفْضَلَ اللَّیَالِيْ لَیْلَةُ مَوْلِدِهٖ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ثُمَّ لَیْلَةُ الْقَدْرِ، ثُمَّ لَیْلَةُ الْإِسْرَائِ وَالْـمِعْرَاجِ، ثُمَّ لَیْلَةُ عَرَفَةَ، ثُمَّ لَیْلَةُ الْـجُمُعَةِ، ثُمَّ لَیْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، ثُمَّ لَیْلَةُ الْعِیْدِ ۔
ترجمہ : امام طحاوی ، تلمسانی ، قسطلانی ، زرقانی ، حلبی ، عبد الحی فرنگی محلی اور نبہانی علیہم الرحمہ نے بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ سب راتیں فضیلت والی ہیں مگر شبِ میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے افضل ہے ۔ امام طحاوی علیہ الرحمہ بعض شوافع سے نقل کرتے ہیں : راتوں میں سے افضل ترین شبِ میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ، پھر شبِ قدر ، پھر شبِ اِسراء و معراج ، پھر شبِ عرفہ ، پھر شبِ جمعہ، پھر شعبان کی پندرہویں شب اور پھر شبِ عید ہے ۔ (رد المحتار علی در المختار علی تنویر الأبصار، 2: 511،چشتی)(الشرواني في حاشیۃ علی تحفۃ المحتاج بشرح المنہاج، 2: 405)(جواہر البحار في فضائل النبي المختار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، 3: 426)

قَالَ الإِمَامُ الْحَافِظُ الْفَقِیْهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَرْزُوْقٍ التِّلِمْسَانِيُّ: وَشَرَفُ لَیْلَةِ مَوْلِدِهٖ صَلَوَاتُ اللهِ وَسَلَامُہٗ عَلَیْهِ غَیْرُ خَفِيٍّ أَنَّهَا شَرُفَتْ بِوِلَادَةِ خَیْرِ الْخَلَائِقِ وَأَکْرَمِهَا، وَأَزْکَی الْبَرِیَّةِ وَأَشْرَفِهَا، وَخَاتَمِ الْأَنْبِیَاءِ وَیَدِ الرُّسُلِ وَسِرِّ الْوُجُوْدِ وَمَعْنَاهُ، وَوَسِیْلَةُ الْأَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَإِمَامُ الْمَلَائِکَةِ وَالنَّبِیِّیْنَ، وَرَحْمَةُ اللهِ لِلْعَالَمِیْنَ، وَأَفْضَلُ الْخَلاَئِقِ أَجْمَعِیْنَ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَیْهِ وَعَلٰی آلِهِ الْأَکْرَمِیْنَ، وَصَحْبِهِ الْمُنْتَخَبِیْنَ، وَسَلَّمَ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ ۔ (جنی الجنتین في شرف اللیلتین صفحہ 183)
ترجمہ : امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد ابن مرزوق تلمسانی متوفی 781 ھجری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :  : شبِ میلادِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت پوشیدہ نہیں ہے اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ رات تمام مخلوقات میں سے بہترین اور معزز ، اور تمام مخلوق سے زیادہ پاکیزہ اور شرف والے، انبیاء کے خاتم ، رسولوں کے سردار اور کائنات کے راز کی ولادت کی وجہ سے فضیلت والی ہوئی ۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء اور رسولوں کے وسیلہ ، ملائکہ اور انبیاء کے امام ، تمام جہانوں کےلیے رحمت اور تمام مخلوق سے افضل و اَعلی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ، آپ کی مکرّم آل پر اور آپ کے چیدہ صحابہ کرام رضوان الله علیهم اجمعین پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں ۔

وقَالَ أَیْضًا فِي الْأَدِلَّةِ عَلٰی أَفْضَلِیَّةِ لَیْلَةِ الْمَوْلِدِ : اَلدَّلِیْلُ عَلٰی مَا نَخْتَارُہٗ مِنْ أَثَرَةِ لَیْلَةِ الْمَوْلِدِ بِالْمَعْنَی الَّذِيْ قَدَّمْنَاهُ مِنْ وُجُوْہٍ : اَلْأَوَّلُ : إِنَّ الشَّرْفَ حَسْبَمَا قَدَّمْنَاهُ هُوَ الْعُلُوُّ وَالرِّفْعَةُ، وَهُمَا نِسْبَتَانِ إِضَافِیَّتَانِ، فَشَرَفُ کُلِّ لَیْلَةٍ بِحَسَبِ مَا شَرُفَتْ بِهٖ، وَلَیْلَةُ الْمَوْلِدِ شَرُفَتْ بِوِلَادَةِ خَیْرِ خَلْقِ اللهِ، فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَفْضَلِیَّتُهَا بِهٰذَا الْاِعْتِبَارِ ۔ اَلثَّانِي : إِنَّ لَیْلَةَ الْمَوْلِدِ لَیْلَةُ ظُهُوْرِهٖ ﷺ ، وَلَیْلَةُ الْقَدْرِ مُعْطَاۃٌ لَہٗ، وَمَا شَرُفَ بِظُهُوْرِ ذَاتِ الْمُشَرِّفِ مِنْ أَجْلِهٖ أَشْرَفُ مِمَّا شَرُفَ بِسَبِبِ مَا أُعْطِیَہٗ، وَلَا نِزَاعَ فِيْ ذٰلِکَ، فَکَانَتْ لَیْلَةُ الْمَوْلِدِ بِهٰذَا الْاِعْتِبَارِ أَشْرَفَ ۔ اَلثَّالِثُ : إِنَّ لَیْلَةَ الْقَدْرِ إِحْدٰی مَا مُنِحَہٗ. مَنْ شَرُفَتْ لَیْلَةُ الْمَوْلِدِ بِوُجُوْدِهٖ مِنَ الْمَوَاهِبِ وَالْمَزَایَا وَهِيَ لَا تُحْصٰی کَثْرَۃً، وَمَا شَرُفَ بِإِحْدٰی خَصَائِصَ مِنْ حَیْثُ لَهُ الشَّرَفُ الْمُطْلَقُ لَا یَتَنَزَّلُ مَنْزِلَةَ الْمُتَشَرَّفِ بِوُجُوْدِهٖ، فَظَهَرَ أَنَّ لَیْلَةَ الْمَوْلِدِ أَشْرَفُ بِهٰذَا الْاِعْتِبَارِ وَهُوَ الْمَطْلُوْبُ ۔ اَلرَّابِعُ: إِنَّ لَیْلَةَ الْقَدْرِ شَرُفَتْ بِاعْتِبَارِ مَا خُصَّتْ بِهٖ، وَهُوَ مُنْقَضٍ بِانْقِضَائِهَا إِلٰی مِثْلِهَا مِنَ السَّنَةِ الْمُقْبِلَةِ عَلَی الْأَرْجَحِ مِنَ الْقَوْلَیْنِ، وَلَیْلَةُ الْمَوْلِدِ شَرُفَتْ بِمَنْ ظَهَرَتْ آثَارُہٗ، وَبَهَرَتْ أَنْوَارُہٗ أَبَدًا فِي کُلِّ فَرَدٍ مِنْ أَفْرَادِ الزَّمَانِ إِلَی انْقِضَاءِ الدُّنْیَا ۔ اَلْخَامِسُ: إِنَّ لَیْلَةَ الْقَدْرِ شَرُفَتْ بِنُزُوْلِ الْمَلاَئِکَةِ فِیْهَا، وَلَیْلَةَ الْمَوْلِدِ شَرُفَتْ بِظُهُوْرِ النَّبِيِّ ﷺ فِیْهَا، وَمَنْ شَرُفَتْ بِهٖ لَیْلَةَ الْمَوْلِدِ أَفْضَلُ مِمَّنْ شَرُفَتْ بِهِمْ لَیْلَةَ الْقَدْرِ عَلَی الْأَصَحِّ الْمُرْتَضٰی، فَتَکُوْنُ لَیْلَةُ الْمَوْلِدِ أَفْضَلَ مِنْ هٰذَا الْوَجْهِ وَهُوَ الْمَطْلُوْبُ ۔ اَلسَّادِسُ: اَلْأَفْضَلِیَّةُ عِبَارَۃٌ عَنْ ظُهُوْرِ فَضْلٍ زَائِدٍ فِي الْأَفْضَلِ، وَاللَّیْلَتَانِ مَعًا اشْتَرَکَتَا فِي الْفَضْلِ بِتَنَزُّلِ الْمَلَائِکَةِ فِیْهِمَا مَعًا حَسْبَمَا سَبَقَ مَعَ زِیَادَةِ ظُهُوْرِ خَیْرِ الْخَلْقِ ﷺ فِي لَیْلَةِ الْمَوْلِدِ، فَفَضُلَتْ مِنْ هٰذَا الْوَجْهِ عَلَی الْقَوْلَیْنِ جَمِیْعًا فِي الْمُفَاضَلَةِ بَیْنَ الْمَلَائِکَةِ وَالْأَنْبِیَاءِ عَلَیْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ۔ اَلسَّابِعُ: إِنَّ لَیْلَةَ الْقَدْرِ شَرُفَتْ بِنُزُوْلِ الْمَلَائِکَةِ عَلَیْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَانْتِقَالُهُمْ مِنْ مَحَالِّهِمْ مِنَ الْأَعْلٰی إِلَی الْأَرْضِ، وَلَیْلَةُ الْمَوْلِدِ شَرُفَتْ بِوُجُوْدِهٖ ﷺ وَظُهُوْرِهٖ، وَمَا شَرُفَ بِالْوُجُوْدِ وَالظُّهُوْرِ أَشْرَفُ مِمَّا شَرُفَ بِالْاِنْتِقَالِ ۔ اَلثَّامِنُ: لَیْلَةُ الْقَدْرِ فَضُلَتْ بِاعْتِبَارِ عَمَلِ الْعَامِلِ فِیْهَا، فَأَنْتَ إِذَا قَدَّرْتَ أَهْلَ الْأَرْضِ کُلَّهُمْ عَامِلِیْنَ فِیْهَا فَـلَا یَلْحَقُوْنَ قَدْرَ مَنْ شَرُفَتْ بِهٖ لَیْلَةُ الْمَوْلِدِ، وَلَا یَلْحَقُوْنَ عَمَلَہٗ فِي لَحْظَةٍ وَإِنْ کَانَ فِي غَیْرِهَا. فَثَبَتَتْ أَفْضَلِیَّةُ لَیْلَةِ الْمَوْلِدِ بِهٰذَا الْاِعْتِبَارِ ۔ اَلتَّاسِعُ: شَرُفَتْ لَیْلَةُ الْقَدْرِ بِکَوْنِهَا مَوْهِبَۃً لِأُمَّةِ مُحَمَّدٍ عِنَایَۃً بِهٖ ﷺ، وَشَرُفَتْ لَیْلَةُ الْمَوْلِدِ بِوُجُوْدِ مَنْ وُهِبَتْ لَیْلَةُ الْقَدْرِ لِأُمَّتِهِ اعْتِنَائً بِهٖ ﷺ فَکَانَتْ أَفْضَلَ ۔ اَلْعَاشِرُ: لَیْلَةُ الْقَدْرِ وَقَعَ التَّفَضُّلُ فِیْهَا عَلٰی أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ﷺ، وَلَیْلَةُ الْمَوْلِدِ الشَّرِیْفِ وَقَعَ التَّفَضُّلُ فِیْهَا عَلٰی سَائِرِ الْمَوْجُوْدَاتِ، فَهُوَ الَّذِيْ بَعَثَهُ اللهُ ل رَحْمَۃً لِلْعَالَمِیْنَ فَقَالَ تَعَالٰی: {وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَo} [الأنبیاء، 21: 107]؛ فَعَمَّتْ بِهِ النِّعْمَةُ عَلَی الْخَلَائِقِ، فَکَانَتْ لَیْلَةُ الْمَوْلِدِ أَعَمَّ نَفْعًا بِهٰذَا الْاِعْتِبَارِ، فَکَانَتْ أَشْرَفَ وَهُوَ الْمَطْلُوْبُ ۔ اَلْحَادِي عَشَرَ: لَیْلَةُ الْمَوْلِدِ فَضُلَتْ غَیْرَهَا مِنْ لَیَالِيَ السَّنَةِ بِوِلَادَتِهٖ ﷺ فَإِنَّکَ تَقُوْلُ فِیْهَا: لَیْلَةُ مَوْلِدِ مُحَمَّدٍ ﷺ، وَتَقُوْلُ فِي لَیْلَةِ الْقَدْرِ هِيَ إِمَّا لَیْلَةُ الشَّرَفِ وَإِمَّا لَیْلَةُ التَّقْدِیْرِ، وَالإِضَافَةُ فِي لَیْلَةِ الْمَوْلِدِ إِضَافَةُ اخْتِصَاصٍ، وَهِيَ أَبْلَغُ مِنَ الإِضَافَةِ إِلٰی مُطْلَقِ الْمُشَرَّفِ، فَکَانَتْ أَفْضَلَ بِهٰذَا الْوَجْهِ وَهُوَ الْمَطْلُوْبُ ۔ اَلثَّانِي عَشَرَ: لَیْلَةُ الْقَدْرِ إِمَّا لَیْلَةُ الشَّرَفِ أَوْ لَیْلَةُ التَّقْدِیْرِ، فَهِي وَإِنْ کَانَ التَّقْدِیْرُ فِیْهَا مِنْ لَوَازِمِهٖ شَرَفُهَا بِاعْتِبَارِهٖ، وَلَیْلَةُ الْمَوْلِدِ لَیْلَةُ شَرَفٍ عَامٍّ لَا امْتِرَاءَ فِیْهِ، فَیَثْبُتُ فَضْلُ لَیْلَةِ الْمَوْلِدِ وَهُوَ الْمَطْلُوْبُ ۔ اَلثَّالِثُ عَشَرَ: لَیْلَةُ الْقَدْرِ إِنَّمَا یَحْظٰی بِهَا الْعَامِلُ فِیْهَا فَمَنْفَعَتُھَا قَاصِرَۃٌ، وَلَیْلَةُ الْمَوْلِدِ مُتَعَدِّیَۃٌ مَنْفَعَتُهَا، وَمَا کَانَتْ مَنْفَعَتُہٗ مُتْعَدِّیَۃً أَفْضَلُ مِنْ غَیْرِهٖ وَهُوَ الْمُدَّعٰی ۔ اَلرَّابِعُ عَشَرَ: اَلْمُدَّعٰی أَنَّ لَیْلَةَ الْمَوْلِدِ أَفْضَلُ، وَیَدُلُّ عَلَیْهِ بِأَنْ نَقُوْلَ: زَمَنٌ شَرُفَ بِوِلَادَتِهٖ ﷺ وَإِضَافَتِهٖ إِلَیْهِ وَاخْتُصَّ بِذٰلِکَ، فَلْیَکُنْ أَفْضَلَ الْأَزْمِنَةِ قِیَاسًا عَلٰی أَفْضَلِیَّةِ الْبُقْعَةِ الَّتِي اخْتُصَّتْ بِهٖ وَلَحْدِهٖ عَلَیْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بَیْنَ أَطْبَاقِهَا عَلٰی سَائِرِ الْأَمْکِنَةِ، وَقَدْ فَضُلَتْهَا إِجْمَاعًا فَلْیَکُنِ الزَّمَنُ الَّذِيْ اخْتُصَّ بِوِلَادَتِهٖ ﷺ أَفْضَلَ الْأَزْمَانِ بِهٰذَا الْاِعْتِبَارِ ۔ اَلْخَامِسُ عَشَرَ: لَیْلَةُ الْقَدْرِ فَرْعُ ظُهُوْرِهٖ ﷺ، وَلَیْلَةُ الْمَوْلِدِ أَصْلُ ظُهُوْرِهٖ ﷺ، وَالْفَرْعُ لَا یَقْوٰی قُوَّةَ الْأَصْلِ، فَفَضُلَتْ لَیْلَةُ الْمَوْلِدِ بِهٰذَا الْاِعْتِبَارِ وَهُوَ الْمَطْلُوْبُ ۔ اَلسَّادِسُ عَشَرَ: لَیْلَةُ الْمَوْلِدِ حَصُلَ فِیْهَا مِنَ الْفَیْضِ الإِلٰهِيِّ النُّوْرَانِيِّ مَا عَمَّ الْوُجُوْدَ، وَوُجُوْدُہٗ مُقَارِنٌ لِوُجُوْدِهٖ ﷺ، وَلَمْ یَقَعْ ذٰلِکَ إِلَّا فِیْهَا، فَوَجَبَ فَضْلُهَا عَلٰی غَیْرِهَا. وَهُوَ الْمُدَّعٰی ۔ اَلسَّابِعُ عَشَرَ: لَیْلَةُ الْمَوْلِدِ أَظْهَرَ اللهُ فِیْهَا سِرَّ وُجُوْدِهِ ﷺ الَّذِي ارْتَبَطَتْ بِهِ السَّعَادَاتُ الْأُخْرَوِیُّةُ عَلَی الإِطْلَاقِ، وَاتَّضَحَتِ الْحَقَائِقُ وَتَمَیَّزَ بِهِ الْحَقُّ مِنَ الْبَاطِلِ، وَظَهَرَ مَا أَظْهَرَهُ اللهُ تَعَالٰی فِي الْوُجُوْدِ مِنْ أَنْوَارِ السَّعَادَةِ وَسَبِیْلِ الْمَرَاشِدِ، وَافْتَرَقَ بِهٖ فَرِیْقُ الْجَنَّةِ مِنْ فَرِیْقِ السَّعِیْرِ، وَتَمَیَّزَ وَعَلَا بِهِ الدِّیْنُ، وَأَصْبَحَ الْکُفْرُ وَهُوَ الْحَقِیْرُ، إِلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ مِنْ أَسْرَارِ وُجُوْدِ اللهِ ل فِي مَخْلُوْقَاتِهٖ، وَمَا بَھَرَ الْوُجُوْدُ مِنْ آیَاتِهٖ وَلَمْ یَثْبُتْ ذٰلِکَ فِي لَیْلَةٍ مِنْ لَیَالِيَ الزَّمَانِ، فَوَجَبَ بِذٰلِکَ تَفْضِیْلُهَا بِهٰذَا الْاِعْتِبَارِ وَهُوَ الْمَطْلُوْبُ ۔ اَلثَّامِنُ عَشَرَ: وَهُوَ تَنْوِیْحٌ فِي الْاِسْتِدْلَالِ وَإِنْ کَانَ مَعْنٰی مَا تَقَدَّمَ وَهُوَ أَنَا أَقُوْلُ: لَوْ لَمْ تَکُنْ لَیْلَةُ الْمَوْلِدِ أَفْضَلَ مِنْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ لَلَزِمَ أَحَدُ أُمُوْرٍ ثَـلَاثَةٍ وَهِيَ : إِمَّا تَفْضِیْلُ الْمَلَائِکَةِ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ ۔ أَوِ الْعَمَلُ الْمُضَاعَفُ ۔ أَوِ التَّسْوِیَةُ ۔ وَکُلُّهَا مُمْتَنِعٌ، أَمَّا الْأَوَّلُ: فَعَلَی الصَّحِیْحِ الْمُرْتَضٰی، وَأَمَّا الثَّانِي وَالثَّالِثُ فَبِاتِّفَاقٍ، وَبَیَانُ الْمُلَازَمَةِ أَنَّ التَّفْضِیْلَ فِي الْأُوْلٰی حُصِلَ بِوِلَادَتِهٖ ﷺ ؛ وَفِي الثَّانِیَةِ: إِمَّا بِنُزُوْلِ الْمَلَائِکَةِ أَوِ الْعَمَلِ (التلمساني في جنی الجنتین في شرف اللیلتین صفہ 189-193،چشتی)
ترجمہ : امام تلمسانی علیہ الرحمہ (اپنی کتاب میں) شبِ میلاد کی افضلیت کے متعلق دلائل دیتے ہوئے لکھتے ہیں : وہ دلیل جسے ہم شب مولد رسول ﷺ کی فضیلت کےلیے اختیار کر رہے ہیں اس مفہوم میں جس کو ہم نے پہلے پیش کر دیا، وہ کئی اعتبارات سے ہے : ⬇
پہلی دلیل : بے شک (شبِ مولد الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مشرف ہونا جو ہم بیان کر چکے ہیں وہ علو و رفعت کے سبب ہے اور یہ دو اضافی نسبتیں ہیں ۔ ہر رات کا شرف اس وجہ سے ہے جس کے ذریعہ سے وہ شرف والی کہلاتی ہے، اور شبِ مولد الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق میں سے بہترین شخصیت کی اس میں ولادت باسعادت کی وجہ سے افضلیت ہے ۔ اِس اعتبار سے شبِ مولد الرسول کی افضلیت ثابت ہوئی ۔
دوسری دلیل : بے شک شبِ میلاد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کی رات ہے اور شبِ قدر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کی گئی ہے ۔ لہٰذا جس شے کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سبب شرف و منزلت عطا ہوئی ہو، وہ رات (یعنی لیلۃ المولد) جس کی وجہ سے شرف دینے والی ذات کا ظہور ہوا ، اور اس رات کو اس ظہور سے فضیلت ملی وہ اس رات سے زیادہ شرف والی ہے جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کیے جانے کے سبب شرف حاصل ہوا ۔ اِس اَمر میں کوئی اِختلاف نہیں ہے ۔ بنا بریں شبِ میلاد اِس اِعتبار سے (شبِ قدر سے) زیادہ افضل اور شرف والی ہے ۔
تیسری دلیل : بے شک شب قدر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کی جانے والی اشیاء میں سے ایک ہے ۔ جبکہ شبِ مولد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس میں پائے جانے والی ان گنت وہبی اشیاء اور خصوصیات کے وجود سے متشرف ہوئی ۔ جس رات کو صرف ایک ہی شرف حاصل ہو کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطاء ہوئی وہ اس رات کے بمنزل نہیں ہوسکتی جو آپ کے وجود مسعود سے متشرف ہوئی۔ لہٰذا واضح ہو گیا کہ شبِ مولد الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس اعتبار سے بہت اَعلی و اَرفع ہے اور یہی بات مطلوب ہے ۔
چوتھی دلیل : بے شک شب قدر جس چیز کے ساتھ خاص ہے اسی سے اس کو شرف حاصل ہوا ، اور وہ شرف آئندہ سال آنے والی ایسی ہی رات سے ختم ہو جاتا ہے ، دو قولوں میں سے راجح کی بنیاد پر ، جبکہ شبِ مولد کو شرف اس ذات سے حاصل ہوا جس کے آثار نمایاں ہیں ، اور جن کے انوار ہمیشہ ہمیشہ کےلیے تا اختتام دنیا زمانہ کے افراد میں سے ہر فرد میں جھلکیں گے ۔
پانچویں دلیل : بے شک لیلۃ القدر اپنے اندر نزولِ ملائکہ کے سبب فضیلت والی ہوئی اور شبِ مولد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس میں ظہور کے سبب فضیلت والی ہوئی ، صحیح ترین اور پسندیدہ ترین قول کے مطابق جس ذات سے شب مولد شرف والی ہوئی وہ ان سے افضل ہیں جن سے شب قدر نے شرف حاصل کیا۔ لہٰذا شبِ مولد الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس اعتبار سے زیادہ افضل واَعلی ہے اور یہی بات مطلوب ہے ۔
چھٹی دلیل : اَفضلیت عبارت ہے زائد فضل کے افضل میں ظہور سے ۔ دونوں راتوں میں ملائکہ کا نزول فضیلت کے اعتبار سے مشترک ہے جبکہ شبِ مولدِ الرسول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کے سبب زیادہ فضیلت والی ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔ اِسی وجہ سے یہ رات (یعنی شب مولد) دونوں اقوال میں ملائکہ اور اَنبیاء کے مابین مغاضلت (یعنی فضیلت کا باہمی مقابلہ) میں فضیلت والی ہے ۔
ساتویں دلیل : بے شک شبِ قدر کو نزولِ ملائکہ اور ان کے بلندی والے مقام کو چھوڑ کر زمین پر شرف حاصل ہوتا ہے، جب کہ شب میلاد کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجودِ مسعود اور ظہور سے شرف حاصل ہوا ہے۔ لہٰذا جو رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود و ظہور سے مشرف ہوئی ہو وہ اُس رات سے زیادہ شرف و منزلت والی ہے جو فرشتوں کے نزول سے مشرف ہوتی ہے ۔
آٹھویں دلیل : لیلۃ القدر عامل کے اس رات میں عمل کے سبب فضیلت والی ہے۔ جب تو تمام اہلِ زمین کو اس رات میں عمل کرنے والا فرض کرے تب بھی وہ اس ذات کی قدر و منزلت تو نہیں پاسکیں گے جن کے سبب شب مولد شرف والی ہوئی اور نہ ہی وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لمحہ بھر کے عمل کے رتبہ کو پاسکیں گے اگرچہ وہ کسی اور رات میں ہی کیوں نہ ہو۔ اِس اعتبار سے شبِ مولد الرسول کی افضلیت زیادہ ہے ۔
نویں دلیل : لیلۃ القدر اُمتِ محمدیہ کو عطا ہونے اور اللہ تعالیٰ کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خصوصی انعام کے سبب فضیلت وعظمت والی ہوئی جبکہ شبِ مولد اس ہستی کے وجود کے سبب شرف والی ہوئی جن کی خاطر ان کی اُمت کو شب قدر عطا کی گئی ہے ۔ اِس لیے یہ رات (شبِ قدر) سے زیادہ افضل ہے ۔
دسویں دلیل : لیلۃ القدرمیں اُمتِ محمدیہ پر فضیلت وعظمت واقع ہوئی اور شبِ مولد الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کائنات کی تمام موجودات پرفضیلت واقع ہوئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی وہ ذات ہیں جنہیں اللہ عزوجل نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کےلیے رحمت بنا کر ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سبب تمام مخلوق پر نعمتیں عام ہوئیں تو شبِ مولد الرسول اِس اعتبار سے نفع کے طور پر زیادہ عام ہے اور زیادہ فضلیت والی ہے ۔ یہی بات مطلوب ہے ۔
گیارہویں دلیل : شبِ مولد سال کی دوسری راتوں سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے سبب فضیلت والی ہے ۔ اِس کے متعلق آپ کہتے ہیں کہ یہ مولد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات ہے اور شب قدر کو آپ شب قدر کہتے اور یہ قدر یا تو شرف کےلیے ہے یا تقدیر کےلیے اور لیلۃ المولد میں اِضافت ، اِضافتِ اختصاص ہے اور یہ کسی چیز کے مطلقًا فضیلت والی ہونے سے زیادہ بلیغ نسبت ہے ۔ اِس نسبتکی وجہ سے یہ رات زیادہ فضیلت والی ہے اور یہی بات مطلوب ہے ۔
بارہویں دلیل : شبِ قدر یا تو شبِ شرف ہے یا شبِ عظمت و بزرگی ۔ اگر عظمت و بزرگی اِس رات کے لوازمات میں سے ہے تو یہ صرف اِسی اعتبار سے شرف و منزلت والی ہوئی (کہ یہ شبِ قدر ہے)؛ جب کہ شبِ میلاد عمومی شرف والی رات ہے ، اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے ۔ لہٰذا (میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باعث) شبِ مولد کی فضیلتِ حقہ ثابت ہو جاتی ہے اور یہی مطلوب ہے ۔
تیرہویں دلیل : لیلۃ القدر میں عمل کرنے والا اپنے عمل کا حصہ حاصل کرتا ہے، تو اس رات کی منفعت کم ہے ۔ جبکہ شبِ مولد کی منفعت متعدی ہے (مطلب اس کا حصہ ہر ایک کو ملا) اور جس کی منفعت متعدی ہو وہ دوسری راتوں سے افضل ہے ۔ یہی مدعاء کلام ہے ۔
چودہویں دلیل : بے شک دعوی یہ ہے کہ شبِ مولد زیادہ اَفضل ہے اور اِس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ہم یہ کہتے ہیں : پورا زمانہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت کے سبب عظمت والا ہوا اور اس زمانہ کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہے اور آپ ہی کے ساتھ خاص ہونے کی وجہ سے وہ تمام زمانوں سے افضل ٹھہرا اس ٹکڑے کی افضلیت پر قیاس کرتے ہوئے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسدِ اَقدس اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کے ساتھ خاص ہے وہ(حصہ کائنات کی)تمام جگہوں سے اَعلی واَفضل ہے ۔ اور اِس بات پر اجماع ہے کہ (وہ مقدس جگہ) فضیلت والی ہے تو وہ زمانہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے ساتھ خاص ہے وہ اِس اعتبار سے تمام زمانوں پر فضیلت والا ہے ۔
پندرہویں دلیل : لیلۃ القدر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کی ایک شاخ ہے اور شبِ مولد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کی اَصل ہے ۔ شاخ (اپنے)اَصل کی قوت سے زیادہ طاقتور نہیں ہو سکتی ۔ اِس اعتبار سے شبِ مولد (زیادہ) عظمت و فضیلت والی ہے اور یہی بات مطلوب ہے ۔
سولہویں دلیل : شبِ مولد میں فیضِ الٰہی کے نور کا حصول ممکن ہوا جو تمام کائنات کو عام ہو گیا اور نورِ الٰہی کا وجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجودِ اَقدس کے ساتھ ہے اور یہ اِسی رات ہی میں واقع ہوا ہے۔ اِس رات کی فضیلت وعظمت اِس کے غیر پر ضروری ہے اور یہی مقصود ہے ۔
سترہویں دلیل : اللہ تعالیٰ نے شبِ مولد الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود کے راز کو ظاہر کیا ہے ، جس کے ساتھ اُخروی سعادتیں مطلقًا مربوط ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سبب حقائق واضح ہو گئے اور حق باطل سے جدا ہو گیا اور کائنات میں اُس کا ظہور ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے سعادت کے انوار اور ہدایت کے راستوں سے کائنات میں ظاہر کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سبب جنتی گروہ جہنمی گروہ سے جدا ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہی سبب دین متین (دوسرے ادیان سے) جدا اور بلند ہو گیا اور کفر حقیر ہو گیا ۔ اس کے علاوہ وجودِ باری تعالیٰ کے اسرار کا اس کی مخلوقات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے ظہور ممکن ہوا ، اور اُس کی نشانیوں کے ساتھ کائنات منور ہوئی ۔ یہ سب کچھ زمانے کی راتوں میں سے کسی ایک رات (یعنی شبِ مولد)میں ہوا ۔ اِس وجہ سے اِس رات کی فضیلت واجب ہے اور یہی بات مطلوب ہے ۔
اَٹھارویں دلیل : یہ دلیل دینے میں آواز بلند کرنا ہے اگرچہ اِس کا معنٰی وہی ہے جو پہلے گزر چکا ہے اور وہ میں اس وجہ سے یہ بات کہتا ہوں کہ اگر شبِ مولدِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، شبِ قدر سے افضل نہ ہوتی تو تینوں اُمور میں سے ایک اَمر لازم آتا اور وہ تین اُمور یہ ہیں : 1۔ ملائکہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے افضل ہونا ۔ 2 ۔ یا عمل کا دوگنا ہونا ۔ 3 ۔ یا عمل (یا عظمت)کا برابر ہونا ۔ اور یہ تمام امور ممنوع ہیں ۔ بہرحال پہلا امر صحیح اور پسندیدہ ہے اور دوسرا اور تیسرا امر دونوں اتفاقِ رائے کے ساتھ ہیں ۔ لزومِ امر کے بیان سے مراد یہ ہے کہ پہلے امر میں فضیلت دینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے سبب حاصل ہوا ہے اور دوسرے میں ملائکہ کے نزول کے ساتھ ہے یا عمل کے ساتھ ہے ۔

اَلتَّاسِعُ عَشَرَ : بَعْضُ زَمَنِ لَیْلَةِ الْمَوْلِدِ الشَّرَیْفِ هُوَ زَمَنُ وِلَادَتِهٖ ﷺ، وَکُلُّ زَمَنِ وِلَادَتِهٖ ﷺ أَفْضَلُ الْأَزْمِنَةِ، فَبَعْضُ لَیْلَةِ الْمَوْلِدِ أَفْضَلُ الْأَزْمِنَةِ، وَإِذَا فَضُلَ بَعْضُهَا سَائِرَ الْأَزْمِنَةِ فَضُلَتْ لَیْلَةَ الْقَدْرِ بِهٰذَا الْاِعْتِبَارِ ۔ اَلْعِشْرُوْنَ : فَإِنْ قُلْتُ: لَیْلَةُ الْقَدْرِ اخْتُصَّتْ بِأَعْمَالٍ لَمْ تُوْجَدْ فِي لَیْلَةِ الْمَوْلِدِ، وَذٰلِکَ یَدُلُّ عَلٰی کَوْنِهَا أَفْضَلَ أَوْ أَشْرَفَ ۔ قُلْتُ : اَلْأَعْمَالُ الَّتِي اخْتُصَّتْ بِهَا لَیْلَةُ الْقَدْرِ، وَإِنْ کَانَتْ شَرِیْفَۃً مُشَرَّفَۃً إِلَّا أَنَّ مَا اخْتُصَّتْ بِهٖ لَیْلَةُ الْمَوْلِدِ الْمُشَرَّفِ أَعَمُّ نَفْعًا، فَإِنَّ ثَمْرَةَ الْعَمَلِ فِي لَیْلَةِ الْقَدْرِ إِنَّمَا یَعُوْدُ بِالنَّفْعِ عَلَی الْعَامِلِ فَقَطْ دُوْنَ غَیْرِهٖ، وَلَیْلَةُ الْمَوْلِدِ عَادَ نَفْعُهَا عَلٰی کُلِّ الْخَلَائِقِ کَمَا سَبَقَ ۔ (التلمساني في جنی الجنتین في شرف اللیلتین:196)
ترجمہ : اُنیسویں دلیل : شبِ میلاد کا ایک خاص حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقتِ ولادت سے متصف ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا وقت تمام زمانوں سے افضل ہے ۔ اِس بنا پر شبِ میلاد کا یہ حصہ تمام زمانوں سے افضل ہوگا۔ لہٰذا جب شبِ میلاد کا بعض حصہ سارے زمانوں سے افضل ہے تو شبِ میلاد اِس اعتبار سے شبِ قدر سے بھی افضل قرار پائے گی ۔
بیسویں دلیل : اگر میں کہوں کہ لیلۃ القدر ایسے اَعمال کے ساتھ خاص کی گئی ہے جو شبِ مولد میں نہیں پائے جاتے اور یہ بات شبِ قدر کے افضل و اعلیٰ ہونے پر دلالت کرتی ہے ۔
میں کہتا ہوں : اَعمال جن کو شب قدر کے ساتھ خاص کیا گیا ہے اگرچہ وہ اعلیٰ اور فضیلت والے ہیں ، مگریہ کہ جو شے شبِ مولد کے ساتھ خاص ہے وہ نفع کے اعتبار سے عام ہیں ۔ بے شک شبِ قدر میں عمل کا پھل صرف عمل کرنے والے ہی کو نفع دیتا ہے اور اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیتا۔ شبِ مولد کا نفع تمام مخلوق کو ہوا ۔ جیسا کہ یہ بات پہلے گزر چکی ہے ۔

قَدْ قِیْلَ : أَنَّ الْمُشْتَغِلُ فِي هٰذِهِ الَّلیْلَةِ بِالصَّلَاةِ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ وَالْقِیَامِ بِإِحْیَاءِ سُنَّتِهٖ وَمَعُوْنَةِ آلِهٖ، وَمُسَاهَمَتِهِمْ وَتَعْظِیْمِ حُرْمَتِهِمْ وَالْاِسْتِکْثَارِ مِنَ الصَّدَقَةِ وَأَعْمَالِ الْبِرِّ، وَإِغَاثَةِ الْمَلْهُوْفِ، وَفَکِّ الْعَانِي، وَنَصْرِ الْمَظْلُوْمِ هُوَ أَفْضَلُ مِمَّا سِوٰی ذٰلِکَ مِمَّا أَحْدَثَ، إِذْ لَا یَخْلُو مِنْ مُزَاحِمٍ فِي النِّیَّةِ، أَوْ مُفْسِدٍ لِلْعَمَلِ، أَوْ دُخُوْلِ الشُّهْرَةِ. وَطَرِیْقُ الْحَقِّ وَالسَّلَامَةِ مَعْرُوْفٌ، وَالْأَفْضَلَ فِي هٰذِهِ اللَّیْلَةِ مِمَّا ذَکَرْنَاهُ مِنْ أَعْمَالِ الْبِرِّ، وَالْاِسْتِکْثَارِ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ لَیَحَظَّی الْمُسْتَکْثِرُ مِنْهَا بِبَعْضِ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِهَا ۔ (جنی الجنتین في شرف اللیلتین: 211،چشتی)
ترجمہ : یہ کہا گیا ہے کہ اِس رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے ، آپ کی سنت کا احیاء کرنے ، آپ کی آل کی مدد کرنے ، ان کی حرمت کی تعظیم کرنے ، صدقہ اور نیک اعمال کی کثرت کرنے ، مفلوک الحال کی مدد کرنے اور قیدی کو آزاد کروانے اور مظلوم کی مدد کرنے میں مشغول ہونے والا ، ان لوگوں سے افضل ہے جنہوں نے اس رات میں بدعات کو فروغ دیا ہے ۔ کیونکہ کوئی شخص بھی نیت میں خلل ، یا عمل میں فساد ، اور شہرت کی چاہت سے خالی نہیں ہوتا اور حق اور سلامتی کا راستہ معروف ہے ۔ اِس رات میں نیک اَعمال کرنا ، کثرت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنا اور دیگر اعمال جن کا ہم نے ذکر کیا ہے وہی افضل ہیں تاکہ کثرت کے ساتھ عمل کرنے والے کو (اِس رات) کے متعلق جو فضیلتیں وارد ہوئی ہیں اُن میں سے حصہ مل سکے ۔

وَنَقَلَ الإِمَامُ أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی الْوَنْشَرِیْسِيُّ ھٰذِهِ الْأَدِلَّةَ فِي الْمِعْیَارِ المُعْرِبِ وَالْجَامِعِ الْمُغْرِبِ عَنْ فَتَاوٰی أَھْلِ إِفْرِیْقِیَّةِ وَالْأَنْدَلُسِ وَالْمَغْرِبِ، وَاسْتَشْهَدَ بِهَا ۔ (ذکرہ الونشریسي في المعیار المعرب والجامع المغرب عن فتاوی أھل إفریقیۃ والاندلس والمغرب، 11: 280-284،چشتی)
ترجمہ : امام تلمسانی علیہ الرحمہ کے ذکر کردہ یہ تمام دلائل امام ابو العباس احمد بن یحیی الونشریسی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب المعیار المعرب والجامع المغرب عن فتاوی أھل إفریقیۃ والاندلس والمغرب میں نقل کیے اور ان سے استشہاد کیا ہے ۔

امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ (851 ۔ 923ھجری) اس حوالہ سے لکھتے ہیں : إذا قلنا بأنه عليه الصلاة والسلام ولد ليلاً، فأيما أفضل : ليلة القدر أو ليلة مولده صلي الله عليه وآله وسلم ؟ أجيب : بأن ليلة مولده عليه الصلاة والسلام أفضل من ليلة القدر من وجوه ثلاثة : أحدها : أن ليلة المولد ليلة ظهوره صلي الله عليه وآله وسلم ، وليلة القدر معطاة له، وما شرف بظهور ذات المشرف من أجله أشرف مما شرف بسبب ما أعطيه، ولا نزاع في ذلک، فکانت ليلة المولد. بهذا الاعتبار. أفضل ۔ الثاني : أن ليلة القدر شرفت بنزول الملائکة فيها، و ليلة المولد شرفت بظهوره صلي الله عليه وآله وسلم فيها. وممن شرفت به ليلة المولد أفضل ممن شرفت به ليلة القدر، علي الأصح المرتضي (أي عند جمهور أهل السنة) فتکون ليلة المولد أفضل ۔ الثالث : ليلة القدر وقع التفضل فيها علي أمة محمد صلي الله عليه وآله وسلم ، وليلة المولد الشريف وقع التفضل فيها علي سائر الموجودات، فهو الذي بعثه اﷲ تعالٰي رحمة للعالمين، فعمّت به النعمة علي جميع الخلائق، فکانت ليلة المولد أعم نفعاً، فکانت أفضل من ليلة القدر بهذا الاعتبار ۔ (المواهب اللدنية بالمنح المحمدية صفحہ 77 مطوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)(المواهب اللدنيہ بالمنح المحمديہ مترجم جلد 1 صفحہ 91 مطوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)(ما ثَبَت مِن السُّنّة في أيّام السَّنَة صفحہ 105 ، 106 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان،چشتی)(زرقاني، شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1 : 255، 256)(نبهاني، جواهر البحار في فضائل النبي المختار صلي الله عليه وآله وسلم ، 3 : 424)
ترجمہ : جب ہم یہ کہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے وقت پیدا ہوئے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ شبِ میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افضل ہے یا لیلۃ القدر ؟ میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میلاد کی رات تین وجوہ کی بناء پر شبِ قدر سے اَفضل ہے : (1) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہور شبِ میلاد میں ہوا جب کہ لیلۃ القدر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کی گئی ، لہٰذا وہ رات جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کا شرف ملا اُس رات سے زیاد شرف والی ہوگی جسے اِس رات میں تشریف لانے والی ہستی کے سبب سے شرف ملا ، اور اِس میں کوئی نزاع نہیں ۔ لہٰذا اِس اِعتبار سے شبِ میلاد شبِ قدر سے افضل ہوئی ۔ (2) اگر لیلۃ القدر کی عظمت اِس بناء پر ہے کہ اِس میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے تو شبِ ولادت کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کائنات میں جلوہ فرما ہوئے ۔ جمہور اہلِ سنت کے قول کے مطابق شبِ میلاد کو جس ہستی (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے شرف بخشا وہ شبِ قدر کو شرف بخشنے والی ہستیوں (یعنی فرشتوں) سے کہیں زیادہ بلند و برتر اور عظمت والی ہے ۔ لہٰذا شبِ ولادت ہی افضل ہے ۔ (3) شبِ قدر کے باعث اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فضیلت بخشی گئی اور شبِ میلاد کے ذریعے جمیع موجودات کو فضیلت سے نوازا گیا۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رحمۃً للعالمین بنا کر بھیجا، اور اِس طرح نعمتِ رحمت جمیع کائنات کے لیے عام کر دی گئی۔ لہٰذا شبِ ولادت نفع رسانی میں کہیں زیادہ ہے، اور اِس اعتبار سے بھی یہ لیلۃ القدر سے افضل ٹھہری ۔

قَالَ الْقَسْطَلَانِيُّ مَا نَصُّہٗ : إِذَا قُلْنَا بِأَنَّہٗ عَلَیْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وُلِدَ لَیْلًا، فَأَیُّمَـا أَفْضَلُ: لَیْلَةُ الْقَدْرِ أَوْ لَیْلَةُ مَوْلِدِهٖ ﷺ ؟ أُجِیْبُ: بِأَنَّ لَیْلَةَ مَوْلِدِهٖ عَلَیْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَفْضَلُ مِنْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ مِنْ وُجُوْہٍ ثَـلَاثَةٍ : أَحَدُهَا : أَنَّ لَیْلَةَ الْـمَوْلِدِ لَیْلَةُ ظُهُوْرِهٖ ﷺ، وَلَیْلَةُ الْقَدْرِ مُعْطَاۃٌ لَّہٗ، وَمَا شَرُفَ بِظُهُوْرِ ذَاتِ الْـمُشْرِفِ مِنْ أَجْلِهٖ أَشْرَفُ مِـمَّـا شَرُفَ بِسَبَبِ مَا أُعْطِیَہٗ، وَلَا نِزَاعَ فِيْ ذٰلِکَ، فَکَانَتْ لَیْلَةُ الْـمَوْلِدِ - بِهٰذَا الْاِعْتِبَارِ - أَفْضَلَ ۔ اَلثَّانِي : أَنَّ لَیْلَةَ الْقَدْرِ شَرُفَتْ بِنُزُوْلِ الْـمَلَائِکَةِ فِیْهَا، وَلَیْلَةُ الْـمَوْلِدِ شَرُفَتْ بِظُهُوْرِهٖ ﷺ فِیْهَا. وَمِـمَّنْ شَرُفَتْ بِهٖ لَیْلَةُ الْـمَوْلِدِ أَفْضَلُ مِـمَّنْ شَرُفَتْ بِهٖ لَیْلَةُ الْقَدْرِ، عَلَی الْأَصَحِّ الْـمُرْتَضٰی (أَیْ عِنْدَ جُمْهُوْرِ أَهْلِ السُّنَّةِ) فَتَکُوْنُ لَیْلَةُ الْـمَوْلِدِ أَفْضَلَ ۔ اَلثَّالِثُ : لَیْلَةُ الْقَدْرِ وَقَعَ التَّفَضُّلُ فِیْهَا عَلٰی أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ﷺ، وَلَیْلَةُ الْـمَوْلِدِ الشَّرِیْفِ وَقَعَ التَّفَضُّلُ فِیْهَا عَلٰی سَائِرِ الْـمَوْجُوْدَاتِ، فَهُوَ الَّذِي بَعَثَهُ اللهُ تَعَالٰی رَحْمَۃً لِّلْعَالَـمِیْنَ، فَعَمَّتْ بِهِ النِّعْمَةُ عَلٰی جَمِیْعِ الْـخَلَائِقِ، فَکَانَتْ لَیْلَةُ الْـمَوْلِدِ أَعَمَّ نَفْعًا، فَکَانَتْ أَفْضَلَ مِنْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ بِهٰذَا الْاِعْتِبَارِ (المواہب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ، 1: 145)(ما ثَبَت مِن السُّنّۃ في أیّام السَّنَۃ: 59-60،چشتی)(زرقاني في شرح المواہب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ، 1: 255-256)(جواہر البحار في فضائل النبي المختار ﷺ، 3: 424)
ترجمہ : امام قسطلانی علیہ الرحمہ اس حوالہ سے لکھتے ہیں : جب ہم یہ کہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے وقت پیدا ہوئے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ شبِ میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افضل ہے یا لیلۃ القدر ؟ میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی رات تین وجوہ کی بناء پر شبِ قدر سے اَفضل ہے : (1) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہور شبِ میلاد میں ہوا جب کہ لیلۃ القدر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کی گئی ، لہٰذا وہ رات جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کا شرف ملا اُس رات سے زیاد شرف والی ہوگی جسے اِس رات میں تشریف لانے والی ہستی کے سبب سے شرف ملا ، اور اِس میں کوئی نزاع نہیں۔ لہٰذا اِس اِعتبار سے شبِ میلاد شبِ قدر سے افضل ہوئی ۔ (2) اگر لیلۃ القدر کی عظمت اِس بناء پر ہے کہ اِس میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے تو شبِ ولادت کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کائنات میں جلوہ فرما ہوئے ۔ جمہور اہلِ سنت کے قول کے مطابق شبِ میلاد کو جس ہستی (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شرف بخشا وہ شبِ قدر کو شرف بخشنے والی ہستیوں (یعنی فرشتوں) سے کہیں زیادہ بلند و برتر اور عظمت والی ہے ۔ لہٰذا شبِ ولادت ہی افضل ہے ۔ (3) شبِ قدر کے باعث اُمتِ محمدیہ کو فضیلت بخشی گئی ہے اور شبِ میلاد کے ذریعے جمیع موجودات کو فضیلت سے نوازا گیا ۔ لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رحمۃً للعالمین بنا کر بھیجا ، اور اِس طرح نعمتِ رحمت جمیع کائنات کےلیے عام کر دی گئی ہے ۔ لہٰذا شبِ ولادت نفع رسانی میں کہیں زیادہ ہے ، اور اِس اعتبار سے بھی یہ لیلۃ القدر سے افضل ٹھہری ۔

امام یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 1350 ھجری لکھتے ہیں : وَلَیْلَةُ مَوْلِدِهٖ ﷺ أَفْضَلُ مِنْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ ۔ (الأنوار المحمدیۃ من المواہب اللدنیۃ صفحہ 20 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)(الانوار المحمدیۃ من المواہب اللدنیۃ مترجم اردو صفحہ 43 مطبوعہ مکتبہ نبویہ گنج بخش روڈ لاہور)
ترجمہ : شبِ میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شبِ قدر سے افضل ہے ۔

قَالَ عَبْدُ الْحَيِّ الْفَرَنْجِي الْمَحَلِّيُّ اللَّکْنَوِيُّ مُجِیْبًا عَلٰی سُؤَالٍ یَقُوْلُ : أَیُّهُمَا أَفْضَلُ، لَیْلَةُ الْقَدْرِ أَمْ لَیْلَةُ الْمَوْلِدِ ؟ قَالَ : فَضْلُ لَیْلَةِ الْقَدْرِ عَلٰی سَائِرِ اللَّیَالِي مَنْصُوْصٌ وَثَابِتٌ عَلٰی أَوْجُہٍ عِدَّةٍ : (1) فِي لَیْلَةِ الْقَدْرِ تَتَنَزَّلُ الْمَلَائِکَةُ عَلَی الْأَرْضِ ۔ (2) اَلتَّجَلِّیَاتُ الإِلٰهِیَّةُ تَتَوَالٰی عَلٰی سَمَاءِ الدُّنْیَا مِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۔ (3) فِي لَیْلَةِ الْقَدْرِ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ مِنَ اللَّوْحِ الْمَحْفُوْظِ إِلٰی سَمَاءِ الدُّنْیَا ۔ بِنَاءً عَلٰی هٰذِهِ الْمِیْزَاتِ جُعِلَتِ الْعِبَادَةُ فِي هٰذِهِ اللَّیْلَةِ تَعْدِلُ عِبَادَةَ أَکْثَرَ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، وَذٰلِکَ تَفَضُّلًا مِنْهُ عَلَی الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِیَّةِ وَتَرْوِیْحًا لِأَنْفُسِهِمْ، قَالَ عَزَّ مِنْ قَائِلٍ : لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ ۔ (سورہ القدر ، 97 : 3) ۔ وَفِي الْحَدِیْثِ النَّبَوِيِّ الشَّرِیْفِ أَمَرَ بِإِحْیَاءِ لَیْلَةِ الْقَدْرِ، وَرَدَ عَنِ الْعَدِیْدِ مِنَ الْمُحَدِّثِیْنَ أَنَّ لَیْلَةَ الْمَوْلِدِ خَیْرٌ مِنْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ، لٰـکِنَّهُمْ لَمْ یَقْصِدُوْا بِذٰلِکَ أَنَّ الْعِبَادَةَ فِي لَیْلَةِ الْمَوْلِدِ تَعْدِلُ الْعِبَادَةَ فِي لَیْلَةِ الْقَدْرِ، لِأَنَّ الثَّوَابِ وَکَذٰلِکَ الْعِقَابَ یَحْتَاجُ إِلٰی نَصٍّ مَقْطُوْعٍ بِهٖ، فَمَا لَمْ یَتَوَافَرِ النَّصُّ لَا یُقْطَعُ بِالثَّوَابِ أَوِ الْعِقَابِ، وَلٰـکِنَّ لَیْلَةَ الْمَوْلِدِ تَفْضُلُ عِنْدَ اللهِ عَلٰی لَیْلَةِ الْقَدْرِ لِمَا لَهَا مِنْ مَفْخَرَةٍ ذَاتِیَّةٍ وَخَصَائِصَ ۔ (المجموعۃ الفتاوٰی الجز 1 الصفحہ 86-87،چشتی)(مجموعہ فتاوی مولانا عبدالحی لکھنوی کامل صفحہ 80 ، 81 مطبوعہ قرآن محل مقال مولوی مسافر خانہ کراچی)
ترجمہ : علامہ محمد عبد الحئ فرنگی محلی لکھنوی علیہ الرحمہ (1264۔ 1304ھ) شبِ قدر اور شبِ میلاد میں سے زیادہ فضیلت کی حامل رات کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں : تمام راتوں پر شبِ قدر کی بزرگی منصوص اور کئی طرح سے ثابت ہے : (1) اِس رات میں اَرواح اور ملائکہ کا نزول زمین پر ہوتا ہے ۔ (2) شام سے صبح تک آسمانِ دنیا پر تجلیات الٰہیہ کا نزول ہوتا رہتا ہے ۔ (3) لوحِ محفوظ سے آسمانِ اَوّل پر نزولِ قرآن اِسی رات میں ہوا ہے ۔ اِنہی امتیازی فضائل و خصائص کی وجہ سے اس ایک رات کی عبادت کا ثواب ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خصوصی فضل و انعام ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ ۔ شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ حدیثِ مبارک میں بھی اِس رات جاگنے کی تاکید آئی ہے اور بعض محدثین نے جو شبِ میلاد کو شبِ قدر پر فضیلت دی ہے تو اُن کا منشا یہ نہیں کہ شبِ میلاد کی عبادت ثواب میں شبِ قدر کی عبادت کے برابر ہے ، کیوں کہ ثواب اور عقاب کا حکم یہ ہے کہ جب تک نصِ قطعی موجود نہ ہو اُس وقت تک کسی کام پر ثواب یا عقاب کا قطعیت کے ساتھ تعین نہیں کیا جا سکتا ۔ مگر شبِ میلاد کو شبِ قدر پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جو فضیلت حاصل ہے اس کا سبب شبِ میلاد کی ذاتی عظمت اور خصوصیت ہے ۔

امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ (239۔ 321ھ) بعض شوافع سے نقل کرتے ہیں : أن أفضل الليالي ليلة مولده صلي الله عليه وآله وسلم ، ثم ليلة القدر، ثم ليلة الإسراء والمعراج، ثم ليلة عرفة، ثم ليلة الجمعة، ثم ليلة النصف من شعبان، ثم ليلة العيد ۔
ترجمہ : راتوں میں سے افضل ترین شبِ میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ، پھر شبِ قدر، پھر شبِ اِسراء و معراج ، پھر شبِ عرفہ ، پھر شبِ جمعہ ، پھر شعبان کی پندرہویں شب اور پھر شبِ عید ہے ۔ (ابن عابدين، رد المحتار علي در المختار علي تنوير الأبصار، 2 : 511)(شرواني، حاشية علي تحفة المحتاج بشرح المنهاج، 2 : 405،چشتی)(نبهاني، جواهر البحار في فضائل النبي المختار صلي الله عليه وآله وسلم ، 3 : 426)(حاشیہ الشیخ ابراھیم البیجوری جلد 1 صفحہ 404 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

شبِ قدر کو فضیلت اس لیے ملی کہ اِس میں قرآن حکیم نازل ہوا اور اِس میں فرشتے اترتے ہیں ؛ جب کہ ذاتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت کا یہ عالم ہے آپ پر قرآن نازل ہوا اور روزانہ ستر ہزار فرشتے صبح اور ستر ہزار فرشتے شام کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزارِ اَقدس کی زیارت اور طواف کرتے ہیں اور بارگاہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہدیۂ درود و سلام پیش کرتے ہیں ۔ یہ سلسلہ قیامت تک اسی طرح جاری رہے گا اور فرشتوں میں سے جو ایک بار روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری کا شرف پالیتا ہے دوبارہ قیامت تک اُس کی باری نہیں آئے گی ۔ (1) فرشتے تو دربارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم اور جاروب کش ہیں۔ وہ اُتریں تو شبِ قدر ہزار مہینوں سے افضل ہو جاتی ہے اور جس رات ساری کائنات کے سردار تشریف لائیں اس کی فضیلت کا اِحاطہ کرنا انسان کے علم و شعور کےلیے ناممکن ہے ۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی رات اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے مہینہ پر کروڑوں اربوں مہینوں کی فضیلتیں قربان! خاص بات یہ ہے کہ شبِ قدر کی فضیلت فقط اہلِ ایمان کے لیے ہے۔ باقی انسانیت اس سے محروم رہتی ہے مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد فقط اہلِ ایمان کے لیے ہی باعثِ فضل و رحمت نہیں بلکہ کل کائنات کےلیے ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ ساری کائنات میں جملہ مخلوق کے لیے اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے، اس پر خوشی کا اظہار کرنا باعثِ اَجر و ثواب ہے ۔ (ابن مبارک، الزهد : 558، رقم : 1600)(دارمي، السنن، 1 : 57، رقم : 94)(قرطبي، التذکرة في أمور أحوال الموتي وأمور الآخرة : 213، 214، (باب في بعث النبي صلي الله عليه وآله وسلم من قبره))(نجار، الرد علي من يقول القرآن مخلوق : 63، رقم : 89)(ابن حبان، العظمة، 3 : 1018، 1019، رقم : 537)(أزدي، فضل الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم : 92، رقم : 101)(بيهقي، شعب الإيمان، 3 : 492، 493، رقم : 4170(أبونعيم، حلية الأولياء و طبقات الأصفياء، 5 : 390)(ابن جوزي، الوفا بأحوال المصطفيٰ صلي الله عليه وآله وسلم : 833، رقم : 1578)(ابن قيم، جلاء الأفهام في الصلاة والسلام علي خير الأنام صلي الله عليه وآله وسلم : 68، رقم : 129)(سمهودي، وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفيٰ صلي الله عليه وآله وسلم ، 2 : 559)(قسطلاني، المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 4 : 625)(سيوطي، کفاية الطالب اللبيب في خصائص الحبيب، 2 : 376)(صالحي، سبل الهديٰ و الرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 12 : 452، 453)(زرقاني، شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 12 : 283، 284)

شبِ قدر کو فضیلت اِس لیے مِلی کہ اِس میں فرشتے اُترتے ہیں ۔ جب کہ ذاتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت کا یہ عالم ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن نازل ہُوا اور روزانہ ستّر ہزار فرشتے صبح اور ستّر ہزار فرشتے شام کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزارِ اقدس کی زیارت اور طواف کرتے ہیں اور بارگاہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہدیہ درود و سلام پیش کرتے ہیں ۔ یہ سِلسِلہ قیامت تک اِسی طرح جاری رہے گا اور فرشتوں میں سے جو ایک بار روضہء رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری کا شرف پا لیتا ہے دوبارہ قیامت تک اُس کی باری نہیں آئے گی ۔ (اِبنِ مبارک کتاب الزھد صفحہ 558 رقم : 1600)(سنن دارمی صفحہ 57 رقم : 94)

فرشتے تو دربارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم ہیں ۔ وہ اُتریں تو شبِ قدر ہزار مہینوں سے افضل ہو جاتی ہے اور جس رات ساری کائنات کے سردار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائیں اس کی فضیلت کا اِحاطہ کرنا اِنسان کے علم و شعور کےلیے ناممکن ہے ۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی رات اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے مہینہ پر کروڑوں اربوں مہینوں کی فضیلتیں قربان ! خاص بات یہ ہے کہ : شبِ قدر کی فضیلت فقط اہلِ ایمان کےلیے ہے باقی اِنسانیت اِس سے محروم رہتی ہے ۔ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد فقط اہلِ ایمان کےلیے ہی باعثِ فضل و رحمت نہیں بلکہ کُل عالمین کےلیے ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کُل عالمین میں جملہ مخلوق کےلیے افضل اور اس کی رحمت ہے ۔ اس پر خوشی کا اِظہار کرنا باعثِ اَجر و ثواب ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

اعتراض : ۔ کیا رحمت کائناتﷺ کی صورت میں اﷲ تعالیٰ نے ہمیں جو عظیم نعمت عطا فرمائی ہے اس نعمت پر اﷲ کی شکر گزاری کرنے کا طریقہ اس رسولﷺ کے اسوہ کو اور اس کی لائی ہوئی شریعت کو اختیار کرنا نہیں ہے ؟

اعتراض : ۔ کیا رحمت کائناتﷺ کی صورت میں اﷲ تعالیٰ نے ہمیں جو عظیم نعمت عطا فرمائی ہے اس نعمت پر اﷲ کی شکر گزاری کرنے کا طریقہ اس رسولﷺ کے اسوہ کو اور اس کی لائی ہوئی شریعت کو اختیار کرنا نہیں ہے ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جواب : ۔ میلاد منانا ہی اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے۔ عید میلاد النبیﷺ میں اﷲ تعالیٰ کی نعمت رسولﷺ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ ذکر رسولﷺ کرکے محفلیں منعقد کرکے اﷲ تعالیٰ کی نعمت کا چرچہ کرتے ہیں۔ رسول اﷲﷺ نعمت ہیں، اس نعمت کا ذکر کرتے ہیں، نئے کپڑے پہن کر، چراغاں کرکے صدقہ و خیرات کرکے اﷲ تعالیٰ کی نعمت پر خوشی

مناتے ہیں۔ اس کا حکم قرآن مجید میں خود اﷲ تعالیٰ دیتا ہے۔ ترجمہ: تم فرمائو اﷲ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں ۔ (سورہ یونس آیت 58 پارہ11)

اعتراض : ۔ جو نبیﷺ بہتے دریا سے وضو کرنے والوں کو بھی پانی کے اسراف سے بچنے کی تعلیم دے کر گئے ، آپﷺ کا نام ليکر وسائل کا اسراف (چراغاں) کہ اگر اس خرچ کو جمع کیا جائے تو ہزاروں، بیروزگاروں کوکاروبار کرایا جاسکتاہے، جائز ہے؟

اعتراض : ۔ جو نبیﷺ بہتے دریا سے وضو کرنے والوں کو بھی پانی کے اسراف سے بچنے کی تعلیم دے کر گئے ، آپﷺ کا نام ليکر وسائل کا اسراف (چراغاں) کہ اگر اس خرچ کو جمع کیا جائے تو ہزاروں، بیروزگاروں کوکاروبار کرایا جاسکتاہے، جائز ہے؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جواب : ۔ محسن انسانیتﷺ کی ذات اور آپﷺ کا مرتبہ و مقام اس قدر بلند ہے کہ جس قدر ان کی ولادت کی خوشی میں چراغاں کیا جائے، کم ہے جہاں تک اسراف (فضول خرچی) کا تعلق ہے تو یاد رکھئے جو کام کسی نیک مقصد کے لئے کیا جائے وہ اسراف (فضول خرچی) نہیں ہوتا۔ سال کے بارہ مہینوں میں صرف ایک ربیع الاول کے مہینے کے بارہ دن غریبوں کا خیال آنے والے مالداروں سے ہمارے سوالات: پوری دنیا کے یتیم، مسکین، بیوہ، نادار، بے روزگار اور غریبوں کا خیال صرف ربیع الاول میں ہی آتا ہے؟ ٭ اپنے بیٹے یا بیٹی کی منگنی میں لاکھوں روپے خرچ کرتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟ ٭ اپنے بیٹے یا بیٹی کی شادی کے موقع پر لاکھوں روپے خرچ کرتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟ ٭ روزانہ ہوٹلوںپر اور اپنے دفاتر میں ہزاروں روپے لنچ اور ڈنر پر خرچ کرتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟ ٭ اپنی اولاد کی سالگرہ کے موقع پر لاکھوں روپے خرچ کرتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟ ٭ اپنے محلات، بنگلوں، کوٹھیوں اور گھروں پر کروڑوں روپے خرچ کرتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟ اپنے گھر کے ہر فرد کے لئے علیحدہ علیحدہ گاڑیاں رکھتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟ ٭ اپنے گھروں میں پارٹیوں کے انعقاد پر لاکھوں روپے خرچ کرتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟ ٭ اپنے جلسوں پر لاکھوں روپے خرچ کرتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟ ٭ ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں بیرون ملک پکنک پر جانے کی غرض سے لاکھوں روپے خرچ کرتے وقت یہ خیال نہیں آتا؟ کیسے آئے گا؟ اور کیوں کر آئے گا؟ اس لئے کہ وہاں واہ واہ ہوتی ہے۔ نادانو! ذرا سوچو! جس محسن انسانیت کے صدقے تمہیں سب کچھ ملا، اس کی ولادت کی خوشی میں خرچ تمہیں اسراف نظر آتا ہے، یقینا یہ تمہاری بدبختی ہے۔

اعتراض : ۔ عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر آپ لوگ جو جھنڈے لگاتے ہیں اس کی کیا کوئ ثبوت نہیں ھے ؟

اعتراض : ۔ عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر آپ لوگ جو جھنڈے لگاتے ہیں اس کی کیا کوئ ثبوت نہیں ھے ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جواب: عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر جھنڈے لگانا ملائکہ (فرشتوں) کا طریقہ ہے۔ عید میلاد النبیﷺ پر جھنڈے لگانے کی اصل دلیل: سیدتنا آمنہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے تین جھنڈے بھی دیکھے، ایک مشرق میں گاڑا گیا تھا، دوسرا مغرب میں اور تیسرا جھنڈا خانہ کعبہ کی چھت پر لہرا رہا تھا (بحوالہ: سیرت حلبیہ جلد اول ص 109) دلیل: آپﷺ کی ولادت باسعادت کی خوشی میں جھنڈے لہرائے گئے۔ ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں اور تیسرا کعبتہ اﷲ کی چھت پر ۔
(بحوالہ: بیان المیلاد النبی، محدث ابن جوزی ص 51، خصائص الکبریٰ جلد اول ص 48، مولد العروس ص 71، معارج النبوت جلد دوم ص 16)

اعتراض : ۔ جس طرح عیسائی حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش کا دن مناتے ہیں، اسی طرح آپ لوگ بارہ ربیع الاول کے دن حضورﷺ کا یوم ولادت مناتے ہیں، لہذا یہ عیسائیوں کی رسم ہے؟

اعتراض : ۔ جس طرح عیسائی حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش کا دن مناتے ہیں، اسی طرح آپ لوگ بارہ ربیع الاول کے دن حضورﷺ کا یوم ولادت مناتے ہیں، لہذا یہ عیسائیوں کی رسم ہے؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جواب : ۔ مسلمانوں پر اتنا بڑا بہتان لگانے والوں کو شرم آنی چاہئے۔ چنانچہ مالکی فقہاء اور شافعی فقہاء مثلا زین العراقی، امام جلال الدین سیوطی، ابن حجر الہیتمی، علامہ سخاوی، ابن جوزی، حنبلیوں میں سے حضورﷺ کی ولادت کی تقریب منانے اور اس میں جمع ہونے کو بہتر عمل قرر دیتے ہیں لیکن جو لوگ اس میں غلو کرتے ہیں اور اس کو نصرانیوں کی طرح عیسٰی علیہ السلام کی ولادت کی تقریب سے مشابہہ قرار دیتے ہیں۔ وہ قیاس مع الفارق کرتے ہیں (اور غلط مثال دیتے ہیں) کیونکہ (عیسائی) حضرت عیسٰی علیہ السلام کا یوم (نعوذ باﷲ) ان کے خدا ہونے یا خدا کا بیٹا ہونے یا تیسرا خدا ہونے کے لحاظ سے مناتے ہیں جیسا کہ اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ’’بے شک کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ تین میں تیسرا ہے‘‘ اﷲ تعالیٰ وہ جو کچھ کہتے ہیں اس سے اعلیٰ و ارفع ہے۔ لیکن مسلمان اپنے آقا و مولیٰﷺ کی ولادت پر خوشی مناتے ہیں اور مسرت کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اﷲ تعالیٰ نے آپﷺ کو تمام انسانوں میں افضل بنایا اور آپﷺ کو وہ سب کچھ عطا فرمایا جو کسی اور کو نہیں عطا فرمایا۔ محترم حضرات! کتنا بڑا فرق ہے مسلمانوں کا اپنے مولیٰﷺ کا یوم ولادت منانے اور عیسائیوں کا حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش کا دن منانے میں۔ وہ خدا کا بیٹا مان کر مناتے ہیں اور ہم مسلمان اﷲ تعالیٰ کا بندہ، رسول اور محبوب مان کر مناتے ہیں۔

اعتراض : ۔ آپ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ محافل میلاد میں حضورﷺ کی آمد ہوتی ہے، اس لئے کھڑے ہوکر صلوٰۃ وسلام پڑھتے ہیں؟

اعتراض : ۔ آپ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ محافل میلاد میں حضورﷺ کی آمد ہوتی ہے، اس لئے کھڑے ہوکر صلوٰۃ وسلام پڑھتے ہیں؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جواب : ۔ ہم حضورﷺ کی آمد کے لئے نہیں بلکہ ذکر رسول ﷺ کے ادب کے لئے کھڑے ہوکر صلوٰۃ وسلام پڑھتے ہیں القرآن: والصفت صفاہ (سورۂ الصفت، آیت 1 پارہ 23) ترجمہ: قسم صف بستہ جماعتوں کی کہ صف باندھیں۔ تفسیر: اس آیت کے تحت مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ان فرشتوں کا ذکر ہے جو سرکار اعظمﷺ کی بارگاہ میں کھڑے ہوکر صلوٰۃ و سلام پیش کرتے ہیں۔ حدیث شریف: جب آپﷺ کا وصال ہوا تو آپﷺ کے جسم اطہر کو کفنا کر تخت پر لٹادیا گیا تو اس موقع پر حضرت جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام نے فرشتوں کے لشکروں کے ساتھ (کھڑے ہوکر) صلوٰۃ وسلام پیش کیا (بحوالہ، بیہقی، حاکم، طبرانی شریف) دلیل: ہر مسلمان مرد، عورت اور بچیوں نے باری باری کھڑے ہوکر صلوٰۃ و سلام پیش کیا (بحوالہ: مدارج النبوت جلد دوم ص 440) دلیل: حضرت امام تقی الدین سبکی علیہ الرحمہ کی محفل میں کسی نے یہ شعر پڑھا ’’بے شک عزت و شرف والے لوگ سرکار اعظمﷺ کا ذکر سن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت امام سبکی علیہ الرحمہ اور تمام علماء و مشائخ کھڑے ہوگئے۔ اس وقت بہت سرور اور سکون حاصل ہوا (بحوالہ: سیرت حلبیہ ، جلد اول ص 80) دلیل: برصغیر کے معروف محدث اور گیارہویں صدی کے مجدد شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میں محفل میلاد میں کھڑے ہوکر سلام پڑھتا ہوں۔ میرا یہ عمل شاندار ہے (بحوالہ: اخبار الاخیار ص 624) معلوم ہوا کہ کھڑے ہوکر صلوٰۃ و سلام پڑھنا حضورﷺ کی ذکر کی تعظیم و ادب ہے۔ اہل حق یعنی اہلسنت و جماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام آج بھی دنیاوی حیات کی طرح زندہ ہیں، ان کی دنیاوی اور موجودہ زندگی میں یہی فرق ہے کہ ذمہ داری کا دور ختم ہوگیا تو وہ اپنے پروردگار جل جلالہ کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے اور دنیا والوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔ مسلمانوں کا ہمیشہ سے یہی اجماعی عقیدہ رہا ہے۔ جس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ الحدیث: حضرت سلمیٰ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں، میں حضرت ام سلمیٰ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ رو رہی تھیں۔ میں نے پوچھا آپ کیوں رو رہی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ حضور اکرمﷺ کو خواب میں دیکھا۔آپﷺ کی داڑھی مبارک اور سرانور گرد آلود تھے۔ میں نے عرض کیا یارسول اﷲﷺ کیا بات ہے؟ آپﷺ نے فرمایا میں ابھی حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت میں شریک ہوا ہوں (بحوالہ: ترمذی ابواب المناقب، حدیث 1706، ص 731، مطبوعہ فرید بک لاہور) فائدہ: حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ جس نے خواب میں مجھے دیکھا بلاشبہ اس نے مجھے ہی دیکھا، شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا لہذا حضرت ام سلمیٰ رضی اﷲ عنہا نے یقینا حضورﷺ کو ہی دیکھا۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ حضورﷺ بعد از وصال بھی اپنے غلاموں پر ہونے والے ظلم سے آگاہ ہیں۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ حضورﷺ بعد از وصال بھی جسم و جسمانیت کے ساتھ حیات ہیں اور جب چاہیں، جہاں چاہیں اپنے رب جل جلالہ کی عطا کی ہوئی طاقت سے تشریف لے جاسکتے ہیں ورنہ مقتل حسین (کربلا) میں کیسے تشریف لاتے۔

اعتراض : ۔ اسلام میں یادگار منانے کی کوئی حیثیت نہیں لہذا یادگار منانا ناجائز ہے ؟

اعتراض : ۔ اسلام میں یادگار منانے کی کوئی حیثیت نہیں لہذا یادگار منانا ناجائز ہے ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جواب : ۔ یہ سوال سائل کی کم علمی کی دلیل ہے۔ اگر وہ قرآن و سنت کا مطالعہ کرتے تو کبھی ایسا سوال نہ کرتے۔ اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کی یاد منانا جائز بلکہ ثواب ہے۔ القرآن: وذکرہم بایم ﷲ ترجمہ: اور انہیں اﷲ کے دن یاد دلائو (سورۂ ابراہیم، آیت 5، پارہ 13) اﷲ تعالیٰ کے دن سے مراد وہ ایام ہیں جن ایام میں اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام و اکرام کیا، یعنی جس دن کو اہل اﷲ سے نسبت ہوجائے، وہ ’’ایام اﷲ‘‘ بن جاتے ہیں۔ ٭ سرور کونینﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یاد منانے کا حکم دیا: حدیث شریف: کان یوم عاشوراء تعدہ الیہود عیداً، قال النبیﷺ: فصوموہ انتم (بخاری، کتاب الصوم، حدیث 1901، جلد 2، ص 704) ترجمہ: یوم عاشورہ کو یہود یوم عید شمار کرتے تھے، حضور اکرمﷺ نے (مسلمانوں کو حکم دیتے ہوئے) فرمایا تم ضرور اس دن روزہ رکھا کرو۔ ٭ حضرت نوح علیہ السلام کی یاد: حضرت امام احمد ابن حنبل علیہ الرحمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے ایک حدیث روایت کی ہے جسے حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ نے فتح الباری میں نقل کیا ہے۔ اس میں یوم عاشورہ منانے کا یہ پہلو بھی بیان ہوا کہ عاشورہ حضرت نوح علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں پر اﷲ تعالیٰ کے فضل و انعام کا دن تھا۔ اس روز وہ بہ حفاظت جودی پہاڑ پر لنگر انداز ہوئے تھے۔ اس پر حضرت نوح علیہ السلام کی جماعت اس دن کو یوم تشکر کے طور پر منانے لگی، اور یہ دن بعد میں آنے والوں کے لئے باعث احترام بن گیا۔ ٭ غلاف کعبہ کا دن حضورﷺ نے منایا: حدیث شریف: کانوایصومون عاشوراء قبل ان یفرض رمضان، وکان یوما تسترفیہ الکعبۃ، فلما فرض ﷲ رمضان، قال رسول ﷲﷺ من شاء ان یصومہ فلیصمہہ، ومن شاء ان یترکہ فلیترکہ (بخاری، کتاب الحج، حدیث 1515، جلد 2، ص 578) ترجمہ: اہل عرب رمضان کے روزے فرض ہونے سے قبل یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور (اس کی وجہ یہ ہے کہ) اس دن کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا تھا۔ پھر جب اﷲ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کردیئے تو رسول اکرمﷺ نے فرمایا تم میں سے جو اس دن روزہ رکھنا چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو ترک کرنا چاہے، وہ ترک کردے۔ امام ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ درج بالا حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: فانہ یفید ان جاہلیۃ کانوا یعظمون الکعبۃ قدیما بالستورویقومون بہا (فتح الباری، جلد 3، ص 455) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت سے ہی وہ کعبہ پر غلاف چڑھا کر اس کی تعظیم کرتے تھے اور یہ معمول وہ قائم رکھے ہوئے تھے۔ ٭ جمعہ کا دن، ولادت آدم علیہ السلام کي یاد: حدیث شریف: حضرت اوس بن اوس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ سے فرمایا۔ ان من افضل ایامکم یوم الجمعۃ، فیہ خلق آدم، وفیہ قبض، وفیہ النفخۃ، وفیہ الصعقۃ فاکثروا علی من الصلاۃ فیہ، فان صلاتکم معروضۃ علی (ابو دائود، کتاب الصلاۃ، حدیث 1047، جلد اول، ص 275) ترجمہ: تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا ہے، اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی ولادت ہوئی (یعنی اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت ہوئی اور آپ کو لباس بشریت سے سرفراز کیا گیا) اس روز ان کی روح قبض کی گئی اور اسی روز صور پھونکا جائے گا۔ پس اس روز کثرت سے مجھ پر درود شریف بھیجا کرو، بے شک تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ ٭ ہر پیر کو روزہ رکھ کر رسول اﷲﷺ اپنی ولادت کی یاد مناتے تھے (مسلم شریف، جلد دوم، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلثۃ ایام من کل شہر، حدیث 2646، ص 88، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور) ٭ بکرے ذبح کرکے رسول پاکﷺ نے اپنا میلاد منایا (حسن المقصد فی عمل المولد ص 64) معلوم ہوا کہ یادگار منانا جائز بلکہ حضورﷺ کی سنت ہے۔

جشن عید میلاد النبی ﷺ آئمہ و محدثین کرام علیہم الرّحمہ کی نظر میں

جشن عید میلاد النبی ﷺ آئمہ و محدثین کرام علیہم الرّحمہ کی نظر میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس اُمّت کے بڑے بڑے مفتیان کرام، علمائے کرام، مفسرین، محدثین، شارحین اور فقہاء نے اپنی اپنی کتابوں میں جشن عید میلاد النبیﷺ منانے کو باعث اجر وثواب لکھا ہے چنانچہ اس ضمن میں علمائے اُمّت کے اقوال ملاحظہ ہوں: جشن عید میلاد النبیﷺ کے متعلق محدثین کے نظریات 1: حجۃ الدین امام محمد بن ظفر المکی علیہ الرحمہ کا نظریہ: حجۃ الدین امام ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ بن ظفر المکی علیہ الرحمہ (متوفیٰ 568ھ) کہتے ہیں کہ الدر المنتظم میں ہے: وقد عمل المحبون للنبیﷺ فرحاً بمولدہ الولائم، فمن ذلک ماعملہ بالقاہرۃ المعزیۃ من الولائم الکبار الشیخ ابو الحسن المعروف بابن قفل قدس اﷲ تعالیٰ سرہ، شیخ شیخنا ابی عبدﷲ محمد بن النعمان، وعمل ذلک قبل جمال الدین العجمی الھمذانی، وممن عمل ذلک علی قدر وسعہ یوسف الحجار بمصر، وقد رأی النبیﷺ وہو یحرض یوسف المذکور علی عمل ذلک (سبل الہدیٰ الرشاد فی سیرۃ خیر العباد جلد اول، ص 363) ’’اہل محبت حضورﷺ کے میلاد کی خوشی میں دعوت طعام منعقد کرتے آئے ہیں۔ قاہرہ کے جن اصحاب محبت نے بڑی بڑی ضیافتوں کا انعقاد کیا، ان میں شیخ ابوالحسن بھی ہیں جوکہ ابن قفل قدس اﷲ تعالیٰ سرہ کے نام سے مشہور ہیں اور ہمارے شیخ ابو عبداﷲ محمد بن نعمان کے شیخ ہیں۔ یہ عمل مبارک جمال الدین عجمی ہمذانی نے بھی کیا اور مصر میں سے یوسف حجار نے اسے بہ قدر وسعت منعقد کیا اور پھر انہوں نے حضور نبی اکرمﷺ کو (خواب میں) دیکھا کہ آپﷺ یوسف حجار کو عمل مذکور کی ترغیب دے رہے تھے‘‘ 2: شیخ معین الدین عمر بن محمد المَلاَّ علیہ الرحمہ (متوفیٰ 570ھ) کا نظریہ شیخ معین الدین ابو حفص عمر بن محمد بن خضر اربلی موصلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: وکان اول من فعل ذلک بالموصل الشیخ عمر بن محمد الملا احد الصالحین المشہورین و بہ اقتدی فی ذلک صاحب اربل وغیرہ رحمہم ﷲ تعالیٰ (ابو شامۃ، الباعت علی انکار البدع والحوادث، ص 24) ’’اور شہر موصل میں سب سے پہلے میلاد شریف کا اجتماع منعقد کرنے والے شیخ عمر بن محمد ملا تھے جن کا شمار مشہور صالحین میں ہوتا تھا اور شاہ اربل و دیگر لوگوں نے انہی کی اقتداء کی ہے۔ اﷲ ان پر رحم فرمائے۔ 3: علامہ ابن جوزی علیہ الرحمہ (متوفی 579ھ) کا نظریہ علامہ ابن جوزی بیان المیلاد النبویﷺ میں فرماتے ہیں: لازال اہل الحرمین الشریفین والمصر والیمن والشام وسائر بلاد العرب من المشرق والمغرب یحتفلون بمجلس مولد النبیﷺ، ویفرحون بقدوم ہلال شہر ربیع الاول ویہتمون اہتماماً بلیغاً علی السماع والقراۃ لمولد النبیﷺ، ویتالون بذالک اجراً جزیلاً وفوزاً عظیماً (بیان المیلاد النبی، ص 85) ’’مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ، مصر، شام، یمن الغرض شرق تا غرب تمام بلادِ عرب کے باشندے ہمیشہ سے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محفلیں منعقد کرتے آئے ہیں۔ وہ ربیع الاول کا چاند دیکھتے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہتی۔ چنانچہ ذکرِ میلاد پڑھنے اور سننے کا خصوصی اہتمام کرتے اور اس کے باعث بے پناہ اَجر و کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔‘‘ 4: امام کمال الدین الادفوی علیہ الرحمہ (متوفیٰ 748ھ) کا نظریہ اِمام کمال الدین ابو الفضل جعفر بن ثعلب بن جعفر الادفوی ’’الطالع السعید الجامع لاسماء نجباء الصعید‘‘ میں فرماتے ہیں : حکی لنا صاحبنا العدل ناصر الدین محمود بن العماد ان ابا الطیب محمد بن ابراہیم السبتی المالکی نزیل قوص، احد العلماء العاملین، کان یجوز بالمکتب فی الیوم الذی ولد فیہ النبیﷺ فیقول: یافقیہ! ہذا یوم سرور، اصرف الصبیان، فیصرفنا وہذا منہ دلیل علی تقریرہ وعدم انکارہ، وہذا الرجل کان فقیہاً مالکیاً متفنناً فی علوم، متورعاً، اخذ عنہ ابو حیان وغیرہ، مات سنۃ خمس وتسعین وستمائۃ (حسن المقصد فی عمل المولد، ص 67,66) ’’ہمارے ایک مہربان دوست ناصر الدین محمود بن عماد حکایت کرتے ہیں کہ بے شک ابو طیب محمد بن ابراہیم سبتی مالکی۔ جو قوص کے رہنے والے تھے اور صاحبِ عمل علماء میں سے تھے۔ اپنے دارا لعلوم میں حضور نبی اکرمﷺ کی ولادت کے دن محفل منعقد کرتے اور مدرسے میں چھٹی کرتے۔ وہ (اساتذہ سے) کہتے : اے فقیہ! آج خوشی و مسرت کا دن ہے، بچوں کو چھوڑ دو۔ پس ہمیں چھوڑ دیا جاتا۔ ’’ان کا یہ عمل ان کے نزدیک میلاد کے اِثبات و جواز اور اِس کے عدم کے اِنکار پر دلیل و تائید ہے۔ یہ شخص (محمد بن ابراہیم) مالکیوں کے بہت بڑے فقیہ اور ماہرِ فن ہو گزرے ہیں جو بڑے زْہد و ورع کے مالک تھے۔ علامہ ابوحیان اور دیگر علماء نے ان سے اِکتسابِ فیض کیا ہے اور انہوں نے 695ھ میں وفات پائی۔‘‘ 5: امام برہان الدین بن جماعہ علیہ الرحمہ (متوفی 790ھ) کا نظریہ اِمام برہان الدین ابو اِسحاق اِبراہیم بن عبد الرحیم بن اِبراہیم بن جماعہ الشافعی ایک نام وَر قاضی و مفسر تھے۔ آپ نے دس جلدوں پر مشتمل قرآن حکیم کی تفسیر لکھی۔ ملا علی قاری (م 1014ھ) ’’المورد الروی فی مولد النبوی ونسبہ الطاھر‘‘ میں آپ کے معمولاتِ میلاد شریف کی بابت لکھتے ہیں : فقد اتصل بنا ان الزاہد القدوۃ المعمر ابا اسحاق ابراہیم بن عبدالرحیم بن ابراہیم جماعۃ لماکان بالمدینۃ النبویۃ، علی ساکنہا افضل الصلاۃ واکمل التحیۃ، کان یعمل طعاماً فی المولد النبوی، ویطعم الناس، ویقول: لوتمکنت عملت بطول الشہر کل یوم مولداً (المورد الروی فی مولد النبیﷺ و نسبہ الطاہر، ص 17) ’’ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ زاہد و قدوہ معمر ابو اِسحاق بن اِبراہیم بن عبد الرحیم جب مدینۃ النبی۔ اْس کے ساکن پر افضل ترین درود اور کامل ترین سلام ہو۔ میں تھے تو میلاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر کھانا تیار کرکے لوگوں کو کھلاتے تھے، اور فرماتے تھے : اگر میرے بس میں ہوتا تو پورا مہینہ ہر روز محفلِ میلاد کا اہتمام کرتا۔‘‘ 6: حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ (متوفیٰ 1034ھ) گيارهويں صدي كے مجدد امام ربانی شیخ احمد سرہندی حضرت مجدد الف ثانی (1624-1564) اپنے ’’مکتوبات‘‘ میں فرماتے ہیں: نفس قرآں خواندن بصوت حسن و در قصائد نعمت و منقبت خواندن چہ مضائقہ است؟ ممنوع تحریف و تغیير حروف قرآن است، والتزام رعایۃ مقامات نغمہ و تردید صوت بآں، بہ طریق الحان با تصفیق مناسبآن کہ در شعر نیز غیر مباح است۔ اگر بہ نہجے خوانند کہ تحریف کلمات قرآنی نشود… چہ مانع است؟ (مکتوبات دفتر سوم، مکتوب نمبر 72) ’’اچھی آواز میں قرآن حکیم کی تلاوت کرنے، قصیدے اور منقبتیں پڑھنے میں کیا حرج ہے؟ ممنوع تو صرف یہ ہے کہ قرآن مجید کے حروف کو تبدیل و تحریف کیا جائے اور اِلحان کے طریق سے آواز پھیرنا اور اس کے مناسب تالیاں بجانا جو کہ شعر میں بھی ناجائز ہے۔ اگر ایسے طریقہ سے مولود پڑھیں کہ قرآنی کلمات میں تحریف واقع نہ ہو اور قصائد پڑھنے میں مذکورہ (ممنوعہ) اَوامر نہ پائے جائیں تو پھر کون سا اَمر مانع ہے؟‘‘ 7: شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ (متوفیٰ 1052ھ) کا نظریہ گیارہویں صدی کے مجدد شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے اپنی اپنی کتاب ما ثَبَت مِن السّْنّۃ فی ایّام السَّنَۃ میں ہر مہینہ اور اس میں خاص خاص شب و روز کے فضائل اور ان میں کیے جانے والے اَعمال مفصل بیان کیے ہیں۔ اْنہوں نے ماہِ ربیع الاول کے ذیل میں میلاد شریف منانے اور شبِ قدر پر شبِ ولادت کی فضیلت ثابت کی ہے۔ اور بارہ (12) ربیع الاول کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا جشن منانا بہ طورِ خاص ثابت کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں : وقد رؤي أبولهب بعد موته في النوم، فقيل له : ما حالک؟ قال : في النار، إلا أنه خُفّف کل ليلة اثنتين، وأمص من بين أصبعي هاتين ماء. وأشار إلي رأس إصبعيه. وإن ذلک بإعتاقي لثويبة عند ما بشرتني بولادة النبي صلي الله عليه وآله وسلم وبإرضاعها له. قال ابن الجوزي : فإذا کان أبولهب الکافر الذي نزل القران بذمّه جُوزيَ في النار بفرحه ليلة مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، فما حال المسلم من أمته يسر بمولده، ويبذل ما تَصل إليه قدرته في محبته صلي الله عليه وآله وسلم ؟ لعمري! إنما کان جزاؤه من ﷲ الکريم أن يدخله بفضله جنات النعيم. ولا يزال أهل الاسلام يحتفلون بشهر مولده صلي الله عليه وآله وسلم ويعملون الولايم ويتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات ويظهرون السرور ويزيدون في المبرّات ويعتنون بقراءة مولده الکريم ويظهر عليهم من مکانه کل فضل عميم. ومما جرّب من خواصه أنه أمان في ذلک العام وبشري عاجل بنيل البغية والمرام، فرحم ﷲ امرأ اتخذ ليالي شهر مولده المبارک أعياداً ليکون أشد غلبة علي من في قلبه مرض وعناد. (ماثبت من السنة في ايام السنة ص (60 ’’ابولہب کو مرنے کے بعد خواب میں دیکھا گیا تو اس سے پوچھا گیا : اب تیرا کیا حال ہے؟ کہنے لگا : آگ میں جل رہا ہوں، تاہم ہر پیر کے دن (میرے عذاب میں) تخفیف کر دی جاتی ہے اور. اُنگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ: میری ان دو انگلیوں کے درمیان سے پانی (کا چشمہ) نکلتا ہے (جسے میں پی لیتا ہوں) اور یہ (تخفیفِ عذاب میرے لیے) اس وجہ سے ہے کہ میں نے ثویبہ کو آزاد کیا تھا جب اس نے مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کی خوش خبری دی اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ بھی پلایا تھا۔ ’’ابن جوزی (متوفي 579ھ( کہتے ہیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر خوشی منانے کے اَجر میں ابولہب کے عذاب میں بھی تخفیف کر دی جاتی ہے جس کی مذمت (میں) قرآن حکیم میں (ایک مکمل) سورت نازل ہوئی ہے۔ تو اُمتِ محمدیہ کے اُس مسلمان کو ملنے والے اَجر و ثواب کا کیا عالم ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی مناتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و عشق میں حسبِ اِستطاعت خرچ کرتا ہے؟ خدا کی قسم! میرے نزدیک اﷲ تعالیٰ ایسے مسلمان کو (اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی منانے کے طفیل) اپنے فضل کے ساتھ اپنی نعمتوں بھری جنت عطا فرمائے گا۔ ’’اور ہمیشہ سے مسلمانوں کا یہ دستور رہا ہے کہ ربیع الاول کے مہینے میں میلاد کی محفلیں منعقد کرتے ہیں، دعوتیں کرتے ہیں، اس کی راتوں میں صدقات و خیرات اور خوشی کے اِظہار کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ نیک کام کریں۔ اس موقع پر وہ ولادت باسعادت کے واقعات بھی بیان کرتے ہیں۔ ’’میلاد شریف منانے کے خصوصی تجربات میں محفلِ میلاد منعقد کرنے والے سال بھر امن و عافیت میں رہتے ہیں اور یہ مبارک عمل ہر نیک مقصد میں جلد کامیابی کی بشارت کا سبب بنتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ اُس پر رحمتیں نازل فرماتا ہے جو میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شب بہ طور عید مناتا ہے، اور جس (بدبخت) کے دل میں عناد اور دشمنی کی بیماری ہے وہ اپنی دشمنی میں اور زیادہ سخت ہوجاتا ہے۔‘‘ :8امام محمد الزرقاني عليه الرحمه (متوفيٰ 1122ھ) كا نظريه بارهويں صدي كے مجدداِمام ابو عبد اللہ محمد بن عبد الباقی بن یوسف المالکی الزرقانی عليه الرحمه سیرتِ طیبہ کی معروف کتاب المواہب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ کی شرح میں فرماتے ہیں : استمرّ أهل الإسلام بعد القرون الثلاثة التي شهد المصطفي صلي الله عليه وآله وسلم بخيريتها، فهو بدعة. وفي أنها حسنة، قال السيوطي : وهو مقتضي کلام ابن الحاج في مدخله فإنه إنما ذم ما احتوي عليه من المحرمات مع تصريحه قبل بأنه ينبغي تخصيص هذا الشهر بزيادة فعل البرّ وکثرة الصدقات والخيرات وغير ذلک من وجوه القربات. وهذا هو عمل المولد مستحسن والحافظ أبي الخطاب بن دحية ألف في ذالک ’’التنوير في مولد البشير النذير‘‘ فأجازه الملک المظفر صاحب إربل بألف دينار، واختاره أبو الطيب السبتي نزيل قوص وهؤلاء من أجلّة المالکية أو مذمومة وعليه التاج الفاکهاني وتکفل السيوطي، لردّ ما استند إليه حرفاً حرفاً والأول أظهر، لما اشتمل عليه من الخير الکثير. يحتفلون : يهتمون بشهر مولده عليه الصلوة والسلام ويعملون الولائم ويتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات ويظهرون السرور به، ويزيدون في المبرات ويعتنون بقراء ة قصة مولده الکريم ويظهر عليهم من برکاته کل فضل عميم. )زرقاني شريف، شرح مواهب اللدنيه بالمنح المحمدية جلد اول، ص 262-261) ’’اہلِ اِسلام ان ابتدائی تین اَدوار (جنہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیرالقرون فرمایا ہے) کے بعد سے ہمیشہ ماہِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں محافل میلاد منعقد کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ عمل (اگرچہ) بدعت ہے مگر ’’بدعتِ حسنہ‘‘ ہے (جیسا کہ) امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے، اور ’’المدخل‘‘ میں ابن الحاج کے کلام سے بھی یہی مراد ہے اگرچہ انہوں نے ان محافل میں دَر آنے والی ممنوعات (محرمات) کی مذمت کی ہے، لیکن اس سے پہلے تصریح فرما دی ہے کہ اس ماہِ مبارک کو اَعمالِ صالحہ اور صدقہ و خیرات کی کثرت اور دیگر اچھے کاموں کے لیے خاص کر دینا چاہیے۔ میلاد منانے کا یہی طریقہ پسندیدہ ہے۔ حافظ ابو خطاب بن دحیہ کا بھی یہی مؤقف ہے جنہوں نے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب التنویر فی المولد البشیر والنذیر تالیف فرمائی جس پر مظفر شاہِ اِربل نے انہیں ایک ہزار دینار (بطور انعام) پیش کیے۔ اور یہی رائے ابوطیب سبتی کی ہے جو قوص کے رہنے والے تھے۔ یہ تمام علماء جلیل القدر مالکی ائمہ میں سے ہیں۔ یا پھر یہ (عمل مذکور) بدعتِ مذمومہ ہے جیسا کہ تاج فاکہانی کی رائے ہے۔ لیکن امام سیوطی نے ان کی طرف منسوب عبارات کا حرف بہ حرف رَدّ فرمایا ہے۔ (بہرحال) پہلا قول ہی زیادہ راجح اور واضح تر ہے۔ بایں وجہ یہ اپنے دامن میں خیر کثیر رکھتا ہے۔ ’’لوگ (آج بھی) ماہِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اجتماعات کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں اور اس کی راتوں میں طرح طرح کے صدقات و خیرات دیتے ہیں اور خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ کثرت کے ساتھ نیکیاں کرتے ہیں اور مولود شریف کے واقعات پڑھنے کا اِہتمام کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اس کی خصوصی برکات اور بے پناہ فضل و کرم اُن پر ظاہر ہوتا ہے۔‘‘ :9حضرت شاه عبدالرحيم محدث دهلوي عليه الرحمه (متوفيٰ 1131ھ) كا نظريه حضرت شاه ولي اﷲ محدث دهلوي عليه الرحمه كے والد گرامي شاه عبدالرحيم دهلوي عليه الرحمه فرماتے هيں: کنت أصنع في أيام المولد طعاماً صلة بالنبي صلي الله عليه وآله وسلم ، فلم يفتح لي سنة من السنين شيء أصنع به طعاماً، فلم أجد إلا حمصًا مقليا فقسمته بين الناس، فرأيته صلي الله عليه وآله وسلم وبين يديه هذا الحمص متبهجاً بشاشا. (الدرالثمين في مبشرات النبي الامين ص 40) ’’میں ہر سال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کے موقع پر کھانے کا اہتمام کرتا تھا، لیکن ایک سال (بوجہ عسرت شاندار) کھانے کا اہتمام نہ کر سکا، تومیں نے کچھ بھنے ہوئے چنے لے کر میلاد کی خوشی میں لوگوں میں تقسیم کر دیئے۔ رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے وہی چنے رکھے ہوئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش و خرم تشریف فرما ہیں۔‘‘ برصغیر میں ہر مسلک اور طبقہ فکر میں یکساں مقبول و مستند ہستی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا اپنے والد گرامی کا یہ عمل اور خواب بیان کرنا اِس کی صحت اور حسبِ اِستطاعت میلاد شریف منانے کا جواز ثابت کرتا ہے۔ :10مفسر قرآن شيخ اسماعيل حقّي عليه الرحمه (متوفيٰ 1137ھ( كا نظريه حضرت شيخ اسماعيل حقي عليه الرحمه ’’تفسير روح البيان‘‘ ميں لكھتے هيں: ومن تعظيمه عمل المولد إذا لم يکن فيه منکر. قال الإمام السيوطي قُدّس سره : يستحب لنا إظهار الشکر لمولده عليه السلام. (تفسير روح البيان جلد 9ص 56) ’’اور ميلاد شريف منانا آپﷺ كي تعظيم ميں سے هے جب كه وه منكرات سے پاك هو۔ امام سيوطي عليه الرحمه نے فرمايا هے۔ همارے لئے آپﷺ كي ولادت باسعادت پر اظهارِ تشكر كرنا مستحب هے۔ :11حضرت شاه ولي اﷲ محدث دهلوي عليه الرحمه (متوفيٰ 1174ھ( كا نظريه شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنے والد گرامی اور صلحاء و عاشقان کی راہ پر چلتے ہوئے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محافل میں شریک ہوتے تھے۔ آپ مکہ مکرمہ میں اپنے قیام کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : وکنت قبل ذلک بمکة المعظمة في مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم في يوم ولادته، والناس يصلون علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ويذکرون إرهاصاته التي ظهرت في ولادته ومشاهدة قبل بعثته، فرأيت أنواراً سطعت دفعة وحداة لا أقول إني أدرکتها ببصر الجسد، ولا أقول أدرکتها ببصر الروح فقط، وﷲ أعلم کيف کان الأمر بين هذا وذلک، فتأملت تلک الأنوار فوجدتها من قبل الملائکة المؤکلين بأمثال هذه المشاهد وبأمثال هذه المجالس، ورأيت يخالطه أنوار الملائکة أنوار الرحمة. (فيوض الحرمين، ص 81-80) ’’اس سے پہلے میں مکہ مکرمہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے دن ایک ایسی میلاد کی محفل میں شریک ہوا جس میں لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں ہدیۂ درود و سلام عرض کر رہے تھے اور وہ واقعات بیان کر رہے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے موقعہ پر ظاہر ہوئے اور جن کا مشاہدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہوا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ اس محفل پر اَنوار و تجلیات کی برسات شروع ہوگئی۔ میں نہیں کہتا کہ میں نے یہ منظر صرف جسم کی آنکھ سے دیکھا تھا، نہ یہ کہتا ہوں کہ فقط روحانی نظر سے دیکھا تھا، اﷲ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان دو میں سے کون سا معاملہ تھا۔ بہرحال میں نے ان اَنوار میں غور و خوض کیا تو مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ یہ اَنوار اُن ملائکہ کے ہیں جو ایسی مجالس اور مشاہد میں شرکت پر مامور و مقرر ہوتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اَنوارِ ملائکہ کے ساتھ ساتھ اَنوارِ رحمت کا نزول بھی ہو رہا تھا۔‘‘ :12حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی عليه الرحمه (متوفيٰ 1239ھ( كا نظريه تيرهويں صدي كے مجدّد شاہ عبد العزیز محدّث دہلوی عليه الرحمه اپنے فتاوٰی میں لکھتے ہیں : وبرکة ربيع الأول بمولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم فيه ابتداء وبنشر برکاته صلي الله عليه وآله وسلم علي الأمة حسب ما يبلغ عليه من هدايا الصلٰوة والإطعامات معا. (فتاوٰي عزيزي، 1 : 163) ’’اور ماہِ ربیع الاول کی برکت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میلاد شریف کی وجہ سے ہے۔ جتنا اُمت کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ہدیۂ درود و سلام اور طعاموں کا نذرانہ پیش کیا جائے اُتنا ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکتوں کا اُن پر نزول ہوتا ہے۔‘‘ ٭ میلاد کی خوشی منانے پر کافر کے عذاب میں تخفیف: ٭ حدیث شریف: فلما مات ابولہب اریہ اہلہ بشر حیبۃ، قال لہ ماذا القیت؟ قال ابو لہب لم الق بعدکم غیر انی سقیت فی ہذہ یعتاقتی ثویبۃ ترجمہ: جب ابولہب مرگیا تو اس کے اہل خانہ میں سے کسی کو اسے خواب میں دکھایا گیا۔ وہ برے حال میں تھا (دیکھنے والے نے) اس سے پوچھا ،کیسے ہو؟ ابولہب نے کہا میں بہت سخت عذاب میں ہوں۔ اس سے کبھی چھٹکارا نہیں ملتا۔ ہاں مجھے (اس عمل کی جزا کے طور پر) اس (انگلی) سے قدرے سیراب کردیا جاتا ہے جس سے میں نے (محمدﷺ کی ولادت کی خوشی میں) ثويبہ کو آزاد کیا تھا (بخاری، کتاب النکاح، باب وامہاتکم اللاتی ارضعنکم جلد 5، حدیث 4813، ص 1961) اس روایت کے تحت محدثین کے اقوال پیش کئے جارہے ہیں جنہوں نے اس روایت سے جشن میلاد النبیﷺ کو باعث اجروثواب لکھا ہے۔ 1: حضرت حافظ شمس الدین محمد بن عبداﷲ جزری علیہ الرحمہ (متوفیٰ 660ھ) اپنی تصنیف ’’عرف التعریف بالمولد الشریف‘‘ میں لکھتے ہیں: فاذا کان ابولہب الکافر الذی نزل القرآن بذمہ جوزی فی النار بفرحہ لیلۃ مولد النبیﷺ بہ، فما حال المسلم الموحد من امۃ النبیﷺ یسر بمولدہ، وبذل ماتصل الیہ قدرتہ فی محبتہﷺ؟ لعمری انما یکون جزاؤہ من ﷲ الکریم ان یدخلہ بفضلہ جنات النعیم ترجمہ: حضور اکرم نور مجسمﷺ کی ولادت باسعادت کے موقع پر خوشی منانے کے اجر میں اس ابولہب کے عذاب میں بھی تخفیف کردی جاتی ہے جس کی مذمت میں قرآن حکیم میں ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے تو اُمّت محمدیہ کے اس مسلمان کو ملنے والے اجروثواب کا کیا عالم ہوگا جو آپﷺ کے میلاد کی خوشی مناتا ہے اور آپﷺ کی محبت و عشق میں حسب استطاعت خرچ کرتا ہے؟ خدا کی قسم! میرے نزدیک اﷲ تعالیٰ ایسے مسلمان کو اپنے حبیب مکرمﷺ کی خوشی منانے کے طفیل اپنی نعمتوں بھری جنت عطا فرمائے گا۔ 2: حافظ شمس الدین محمد بن ناصر الدین دمشقی علیہ الرحمہ (متوفیٰ 842ھ) اپنی کتاب مورد الھادی فی مولد الھادی‘‘ میں فرماتے ہیں۔ قد صح ان ابالہب یخفف عنہ عذاب النار فی مثل یوم الاثنین لاعتاقۃ ثویبۃ بسروراً ابمیلاد النبیﷺ یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ میلاد النبیﷺ کی خوشی میں ثویبہ کو آزاد کرنے کے صلے میں ہر پیر کے روز ابولہب کے عذاب میں کمی کی جاتی ہے اذا کان ہذا کافر جاء ذمہ وتبت یداہ فی الجحیم مخلدا اتی انہ فی یوم الاثنین دائما یخفف عنہ للسرور باحمدا فما الظن بالعبد الذی طول عمرہ باحمد مسروراً و مات موحدا ’’جب ابولہب جیسے کافر کے لئے۔ جس کی مذمت قرآن حکیم میں کی گئی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں اس کے ہاتھ ٹوٹتے رہیں گے۔ حضور اکرمﷺ کے میلاد کی خوشی منانے کی وجہ سے ہر سوموار کو اس کے عذاب میں تخفیف کردی جاتی ہے۔ تو کتنا خوش نصیب ہوگا وہ مسلمان جس کی ساری زندگی عبادت الٰہی میں میلاد کی خوشیوں میں بسر ہوئی اور وہ حالت ایمان پر فوت ہوا (الحاوی للفتاویٰ، ص 206) 3: گیارہویں صدی کے مجدد شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ (متوفیٰ 1052ھ) ابولہب والی بخاری شریف کی روایت کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ در اینجاسند است مراہل موالبد راکہ در شب میلاد آنحضرتﷺ سرور کنند وبذل اموال نمایند یعنی ابولہب کہ کافر بود، و قرآن بمذمت ومے نازل شدہ، چوں بسرور میلاد آنحضرتﷺ جزادادہ شد تاحال مسلماں کہ مملوست بمحبت وسرور و بذل مال دروے چہ باشد۔ ولیکن بایدکہ ازبدعتہاکہ عوام احداث کردہ انداز تغنی وآلات محرمہ ومنکرات خالی باشد تاموجب حرمان از طریقہ اتباع نگردد (مدارج النبوت، جلد 2، ص 19) ترجمہ: یہ روایت موقع میلاد پر خوشی منانے اور مال صدقہ کرنے والوں کے لئے دلیل اور سند ہے۔ ابو لہب جس کی مذمت میں ایک مکمل سورت قرآنی نازل ہوئی جب وہ حضورﷺ کی ولادت کی خوشی میں لونڈی آزاد کرکے عذاب میں تخفیف حاصل کرلیتا ہے تو اس مسلمان کی خوش نصیبی کا کیا عالم ہوگا جو اپنے دل میں موجزن محبت رسولﷺ کی وجہ سے ولادت مصطفیﷺ کے دن مسرت اور عقیدت کا اظہار کرے۔ ہاں بدعات مثلا رقص اور غیر اسلامی اعمال وغیرہ سے اجتناب ضروری ہے کیونکہ انسان اس کے باعث میلاد کی برکات سے محروم ہوجاتا ہے۔

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور میلادُالنَّبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور میلادُالنَّبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محترم قارٸینِ کرام : حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ ا...