حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والوں کےلیے لمحہ فکریہ
محترم قارئینِ کرام : حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو ، اللہ سے ڈرتے رہو ، میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بناؤ ، پس جس کسی نے ان سے محبت کی توبالیقین اس نے میری محبت کی خاطر ان سے محبت کی ہے اور جس کسی نے ان سے بغض رکھا تواس نے مجھ سے بغض کی بناء پر ان سے بغض رکھاہے اور جس کسی نے ان کو اذیت پہونچائی یقیناً اس نے مجھ کو اذیت دی ہے اور جس نے مجھ کو اذیت دی یقینا اس نے اللہ کو اذیت دی ہے اور جس نے اللہ کو اذیت دی قریب ہے کہ اللہ اس کی گرفت فرمائے ۔ (جامع ترمذی ابواب المناقب جلد 4 صفحہ 557 حدیث نمبر 4219 مطبوعہ دارالتراصیل،چشتی)
جو معاویہ رضی اللہ عنہ کے درپے ہوتا ہے تو وہ جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم کے درپے ہوتا ہے : ⏬
محترم قارئینِ کرام : رافضی اور اُن کے دلاّل نیم رافضی بغضِ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ انہیں دن میں سورج نظر نہیں آرہا ایک پوسٹ رافضی اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کی دیکھنے میں آئی حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب میں یہ رافضی اور اُن کے دلاّل نیم رافضی حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ دے رہا ہے جبکہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا زمانہ اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں کم و بیش ایک ہزار سال کا فرق ہے حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 215 ہجری میں اور وفات 303 ہجری میں ہوئی اور حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1159 ہجری اور وفات 1239 ہجری میں ہوئی نہ جانے رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کو امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب سے شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ کیسے مل گیا کہنا پڑے گا یہ بھی رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کی مکاریاں ہیں جو عوامِ اہل سنت کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں جب حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی بات آ ہی گئی ہے تو حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے تعلق سے عقیدہ بھی ملاحظہ کر لیجیے حضرت امام المزی رحمۃ اللہ علیہ حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل فرماتے ہیں : سئل أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ النَّسَائي عَنْ معاوية بْن أَبي سفيان صاحب رَسُول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَ : إنما الإسلام كدار لها باب ، فباب الإسلام الصحابة ، فمن آذى الصحابة إنما أراد الإسلام، كمن نقر الباب إنما يريد دخول الدار ، قال : فمن أراد معاوية فإنما أراد الصحابة ۔
ترجمہ : حضرت ابوعبدالرحمن المعروف امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ سے سیدنا معاویہ بن سفیان صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم (رضی اللہ عنہما) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اسلام گویا ایک گھر ہے جس کے دروازے ہیں اسلام کے دروازے صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں پس جس نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اذیت دی گویا اس نے اسلام کو اذیت دینے کا ارادہ کیا کیونکہ جو دروازہ توڑنا چاہتا ہے وہ گھر میں داخل ہونا چاہتا ہے پس جو معاویہ رضی اللہ عنہ کے درپے ہوتا ہے تو وہ جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم کے درپے ہوتا ہے ۔ (تہذیب الکمال جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 339 ، 340 مؤسسۃ الرسالہ،چشتی)
حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کے منہ پر جوتا لگایا ہے لہٰذا رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کو اب امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے غلط بیانی کرنے سے باز آجانا چاہیے اور کسی گندی نالی میں ڈوب کر مرجانا چاہیے ۔ معلوم ہوا صحابی رسول حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے سوء اعتقاد رکھنے والا صرف حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کی تنقیص پر نہیں رکتا ہے بلکہ وہ جمیع اصحاب نبوی رضی اللہ عنہم پر تبراء سے بھی پھر باز نہیں آتا ہے جس کا بالکل آج کل مشاہدہ ہو رہا ہے ۔ یہ بھی معلوم ہوا امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے عقیدت رکھتے تھے امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے واقعہ سے غلط مفھوم گھڑ کر جو حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرتے ہیں وہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کو آنکھیں کھول کر پڑھیں شائد اگر ضمیر زندہ ہو تو توبہ رجوع کی توفیق مل جائے اللہ تعالی ہم سب کو آل و اصحاب کا ادب نصیب فرمائے آمین ۔
حضرت ربیع ابن نافع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت امر معاویہ رضی اللہ عنہ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان پردہ ہیں ، جو یہ پردہ چاک کرے گا ، وہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہ ، پر لعن طعن کی جرات کر سکے گا ۔ (مختصرتاریخ دمشق جلد 25 صفحہ 74 مطبوعہ دارالفکر)
سیّدُ السادات حضرت سیّد ابوالحُسین احمد نوری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : اہلسنت و جماعت لوگ رافضیوں کے پاس آنے جانے بیٹھنے کی وجہ سے حضرت امیر معاویہ و دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کرنے لگے ہیں اور حضرت امیر معاویہ و دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کُھلا ہوا رِفض ہے ۔ (سراج العوارف فی الوصایا والمعار پچیسواں نور صفحہ 61)
گمراہی کی سیڑھی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اہلِ سنت سے نکل کر تفضیلی ہو جاتا ہے تو اس کےلیے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالیاں دینا کوئی بڑی بات نہیں رہتا ۔ علماء نے فرمایا ہے کہ امیر معاویہ شرم و حیاء کا پہلا پردہ ہیں ۔ جس نے اس پردے کو پھاڑ ڈالا اس کےلیے باقی صحابہ پر زبان درازی کرنا آسان ہو گیا اور واضح رافضی ہو گیا ۔ (البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 139 مطبوعہ مکتبة المعارف بیروت،چشتی)(البدایہ والنہایہ مترجم اردو جلد 8 صفحہ 182 مطبوعہ نفیس اکیڈمی کراچی)
اول تو تفضیلیوں کے دلائل سے رافضیت لازم آتی ہے ، پھر آج جو لوگ خود تفضیلی ہیں یا ان میں تفضیل کے جراثیم پائے جاتے ہیں کل اگر وہ خود نہیں تو ان کی اولادیں ضرور رافضی ہو جائیں گی ۔
ایسے لوگ رافضیوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں ۔ ان کی محافل میں جاتے ہیں وہاں جا کر تقریریں کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے ورنہ ان شاء اللہ ان کا جنازہ رافضی ہی پڑھائیں گے اور ان کی موت کے بعد رافضیوںں کی طرف سے بیانات شائع ہوں گے کہ الحمد للہ فلاں صاحب اثنا عشری ہو کر مرے اور ان کا خاتمہ ایمان پر ہوا ۔ اس جملے میں ہم نے اپنے وسیع تاریخی تجربے کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ خرد باید ۔ کوفہ میں حضرت سیدنا امام ِحسین رضی اللہ عنہ کو دعوت دینے والے یہی غالی قسم کے عاشق تھے جو آپ رضی اللہ عنہ کو حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف بھی دعوت دے چکے تھے ۔ یہی لوگ بعد میں ترقی فرما کر ماتمی بنے اور تبرا کا تحفہ پہلے سے ہی ابنِ سبا نے تیار کر رکھا تھا جسے انہوں نے آسانی سے قبول کر لیا ۔
حضرت سید میر حامد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت عامر شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اَلرِّفْضُ سُلَّمُ الزَّنْدَقَۃِ فَمَا رَأَیْتُ رَافِضِیًّا اِلَّا وَرَأَیْتُہٗ زِنْدِیْقاً ۔
ترجمہ : رفض زندقہ کی سیڑھی ہے ۔ میں نے جس رافضی کو بھی دیکھا ہے وہ زندیق نکلا (سبع سنابل مترجم اردو صفحہ 87 ، 88 مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)
یہی وجہ ہے کہ عصرِ حاضر میں ہر حکیم و دانا عالم پر اس فتنے کا سنجیدگی سے نوٹس لینا لازم ہے ورنہ محافلِ نعت میں دھمال مار مار کر ، قلندری اور حب ِعلی (رضی اللہ عنہ) کا نام استعمال کر کر کے اور ہاضمے کے نام پر زہر کی گولیاں کھلا کھلا کر عوام کو زندقہ کی راہ پر ڈال دیا جائے گا ۔ حضرت سیدنا قطب الاقطاب غوث الاعظم حسنی حسینی سید شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : یہ لوگ شعروں کو طریقت کا قرآن قرار دیتے ہیں ۔ خود کو قلندری اور حیدری کہتے ہیں اور اہلِ سنت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ یہ اہلِ سنت نہیں ہیں ۔ وَیَقُوْلُوْنَ : اَلْقُرْآنَ حِجَابٌ ، وَالْاَشْعَارُ قُرْآنُ الطَّرِیْقَۃِ ۔۔۔ ثُمَّ انْتَسَبَ بَعْضُہُمْ اِلیٰ قَلَنْدَرَ وَ بَعْضُہُمْ اِلیٰ حَیْدَر الخ ۔ (سرالاسرار عربی صفحہ 141 ، 142 مطبوعہ دارالسنابل،چشتی)
اَبدال ، اولیاء اللہ کی وہ قسم ہے جس کی برکت سے بارش برستی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے ۔ ثقہ محدث امام محمد بن عبد الملک رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے زمانے کے ابدال تھے ، آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زیارت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خلفائے اربعہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنھم بھی تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس راشد کندی نامی ایک شخص آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ہماری تنقیص کرتا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے جھڑکا تو وہ کہنے لگا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اِن کی نہیں ، صرف معاویہ کی تنقیص کرتا ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس کے منہ سے یہ الفاظ سن کر) تین مرتبہ فرمایا : ویلک اولیس من اصحابی ۔ تیرا ناس ہوجائے ، کیا معاویہ میرے صحابی نہیں ؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاویہ کو نیزہ دے کر فرمایا : یہ اس کے سینے میں مارو ! آپ رضی اللہ عنہ نے اسے نیزہ دے مارا ۔ حضرت محمد بن عبدالملک رحمۃ اللہ علیہ صبح راشد کندی کے گھر پہنچے تو معلوم ہوا وہ مرگیا ہے ، اسے رات کو کسی نے ذبح کر دیا تھا ۔ (تاریخ دمشق معاویۃ بن صخر ابی سفیان جلد نمبر 59 صفحہ نمبر 212 دارالفکر بیروت)(البدایۃ والنھایۃ ترجمۃ معاویۃ وذکر شئ من ایامہ ۔ جلد 8 صفحہ 140 مکتبة المعارف بیروت 1408ھ،چشتی)(مختصر تاریخ دمشق معاویۃ بن صخر ابی سفیان جلد 25 صفحہ 76 ، 77 دارالفکر)
حضرت قطب ربانی امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جس نے اللہ عزوجل کے ولی کی توہین کی اس کے دل میں زہر آلود تیر پیوست کر دیا جاتا ہے ، اور وہ نہیں مرتا ، حتی کہ اس کا عقیدہ فساد کی نذر ہو جاتا ہے ، اور اس پر برے خاتمے کا خوف ہوتا ہے ۔ (الیواقیت الجواہر مترجم صفحہ نمبر 67)
جب اولیاء اللہ کی توہین کا یہ عالم ہے تو تمام ولیوں سے افضل ہستیوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخوں اور بے ادبوں کا کیا انجام ہوگا یہ خود ہی اندازہ کرلیں ۔ جنابِ من حاجی ہو محدث ہو حافظ ہو مقرب ہو عالم ہو قاری ہو شیخ ہو مفکر ہو مصنف ہو یا ولی اللہ ہو ایک بھی صحابی کا ہلکا سا بغض دل میں لیے مر گئے تو جہنم تمہاری منزل ہوگی ۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : معلوم ہونا چاہیے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں اور فضیلت جلیلہ کے حامل اصحاب میں شامل ہیں ، خبردار ! معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں بدگمانی نہ کرنا اور سب و طعن میں پڑ کر حرام فعل کا ارتکاب نہ کرنا ۔ (ازالۃ الخفا عربی جز اول صفحہ 562 مطبوعہ دارالقلم دمشق،چشتی)(ازالۃ الخفا مترجم جلد اول صفحہ 571 مطبوعہ قدیمی کتبخانہ کراچی)
جو حضرت امیر معاویہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتّوں سے ایک کُتا ہے : ⏬
امام شہاب الدین خفاجی رحمۃ اللہ علیہ نے نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ میں فرمایا : ومن یکون یطعن فی معاویۃ ۔ فذالک کلب میں کلاب الہاویۃ ۔
ترجمہ : جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں سے ایک کتا ہے ۔ (نسیم الریاض جز رابع صفحہ 525 مطبوعہ دارالکتب علمیہ بیروت لبنان)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے وہ جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 264 مطبوعہ لاہور)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرنے والا جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے اور بد تر خبیث تبرائی رافضی ہے ایسے شخص کو امام بنانا جائز نہیں ہے ۔ (احکام شریعت صفحہ نمبر 120 ، 121 )
امام المفسرین علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ جائز نہیں کہ کسی بھی صحابی کی طرف قطعی اور یقینی طور پر غلطی منسوب کی جائے اس لیے کہ ان سب حضرات نے اپنے اپنے طرز عمل میں اجتہاد سے کام لیا تھا اور ان سب کا مقصد اللہ کی خوشنودی تھی یہ سب حضرات ہمارے پیشوا ہیں اور ہمیں حکم ہے ان کے باہمی اختلافات میں کف لسان کریں اورہمیشہ ان کا ذکر بہتر طریقہ پر کریں ، کیونکہ صحابیت بڑی حرمت (وعظمت) کی چیز ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ نے انہیں معاف کر رکھا ہے اور ان سے راضی ہے ۔ (تفسیر قرطبی جلد نمبر ۱۶، ص:۳۲۲)
مقامِ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سچے سُنی سادات کی نظر میں : ⏬
علامہ سید احمد حبیب شاہ کاظمی شاہ صاحب علیہ الرحمہ جو غزالی زماں حضرت سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے بھتیجے ہیں ، ان سے ایک مرتبہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ سرزد ہو گئے ، تو آپ نے توجہ دلاے جانے پر تحریری طور پر نہ صرف توبہ و رجوع کیا میرا مقصد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین و تنقیص اور اُن پر طعن و تشنیع ہرگز نہیں ۔ مسلمان کسی صحابی کے حق میں ایسی جرات مسلمان نہیں کر سکتا ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہوئے کچھ یوں عرض گزار ہوۓے کہ : اے اللہ عزوجل حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی روح مبارک کو مجھ سے راضی کر دے تاکہ آخرت میں تیرا یہ بندہ عاصی تیری رحمتوں سے محروم نہ ہو ۔ (مقالات کاظمی جلد 4 صفحہ 367 ، 368،چشتی)
فقیر دونوں صفحات کے اسکینز پیش کر رہا ہے جنہیں آپ خود پڑھ سکتے ہیں ، اس توبہ نامے کی تائید و تعریف غزالی زماں حضرت سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے بھی فرمائی ، اور اپنے بھتیجے سے یہ نہ فرمایا ، کہ ہم تو سادات ہیں آلِ رسول ہیں مولائی ہیں ،،نو ڈیمانڈ معاویہ کا نعرہ لگاؤ،، اور لوگوں کا منہ بند کرنے کےلیے بس ظاہری توبہ و رجوع کرلو ، یہ روح کو راضی کرنا کون سا ضروری ہے ۔ مگر یہ سادات کرام جانتے تھے ، کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ، اور ان کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی بھی رب تعالیٰ کی رحمتوں سے محرومی کا سبب بن سکتی ہے ، اس لیے انہوں نے نہ صرف توبہ کی بلکہ حضرت معاویہ کی روح مبارک کو بھی راضی کرنے کی سعی فرمائی ۔ علامہ سید احمد حبیب شاہ کاظمی شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے اس مبارک عمل سے آج کے اُن سادات کرام کو سبق حاصل کرنا چاہیے ، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں زبانِ طعن دراز کرتے ہوٸے ذرا برابر بھی شرم و حیا محسوس نہیں کرتے ، کہ جنہیں ہم لعن و طعن کا نشانہ بنا رہے ہیں ، وہ کوئی عام شخص نہیں ، بلکہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس امت کا سب افضل و اعلیٰ لوگوں کا طبقہ ہے ۔ اللہ عزوجل ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گستاخ جہنمی کتا ہے ، اگر کوئی چورہ شریف سے تعلق رکھ کر حضرت امیر معاویہ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہم گدی نشین ہونے کی حیثیت سے اسے تنبیہ کرتے ہیں انسان بن جاؤ ۔ (الدرّۃ الحیدریہ علیٰ کلب الھاویہ عدوّ معاویہ صفحہ نمبر 8 مطبوعہ کرمانوالہ بک شاپ لاہور،چشتی)
پاکستان کے نقشبندی مجددی آستانوں کے مرکزی آستانہ عالیہ چورہ شریف کا واضح حکم آ جانے کے بعد بھی اگر چورہ شریف کا کوئی مرید حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی گستاخی کے گھناؤنے فعل میں ملوث ہے تو وہ باز آ جائے اور آئندہ کے لیے توبہ کرے ۔ اور یہ بات کبھی نہ بھولے کہ ایک صحیح العقیدہ آستانے کے مرید نہ تو خارجیوں کے عقیدہ کے داعی ہیں اور نہ ہی رافضیوں کے عقیدہ کے داعی ۔
اللہ تعالٰی ہم سب کو امت کے بہترین طبقہ صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم اجمعین کا کما حقہ احترام اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)




























































