Thursday, 15 October 2026

آیتِ تطہیر میں ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن شامل ہیں

آیتِ تطہیر میں ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن شامل ہیں









اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ ۔ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ ۔ (سورہ الاحزاب آیت نمبر 33)

ترجمہ : اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والوکہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دےاور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے ۔


یہ آیت کریمہ اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے جمیع فضائل ، رفعتوں ، عظمتوں اور قدرو منزلت کے بیان کا منبع و مصدر اور سب سے اہم علمی اور قرآنی سرچشمہ ہے ۔ یہ آیت کلمہ حصر ’’اِنَّمَا‘‘ سے شروع ہوتی ہے ۔ ’’حصر‘‘ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ بات کی اہمیت اور تاکید کو بیان کرتا ہے ۔ اس سے مقصود سننے اور پڑھنے والوں کو بھر پور طریقے سے متوجہ کرنا ہوتا ہے تاکہ جو بات بیان کی جارہی ہے ، لوگ توجہ سے اسے سنیں ، سمجھیں اور اپنے فکر و عقیدہ میں اس کو جگہ دیں ۔


اے میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والو ! اللہ تعالیٰ تو یہی چاہتا ہے کہ گناہوں کی نجاست سے تم آلودہ نہ ہو ۔ (تفسیر مدارک الاحزاب الآیۃ: ۳۳، صفحہ ۹۴۰)


اس آیت میں اہل بیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں : ⏬


جہلاء و چبل زمانوں کے تمام دلائل اور اچھل کود کا جواب امام بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک جملے میں دے دیا کہ الحديث يقتضي أنهم من أهل البيت لا أنه ليس غيرهم ، وہ جو حدیث پاک میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو چادر میں لیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان پانچ رضی اللہ عنہم کے علاوہ کوئی اہلبیت نہیں ۔ (تفسیر بیضاوی جلد 4 صفحہ 231 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت،چشتی)


(1) حضرت ابو سعید خدری ، حضرت انس بن مالک ، حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ اس سے مراد حضرت علی ، حضرت فاطمہ ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم ہیں ۔

(2) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ہیں ۔ (3) صحاک رحمۃ اللہ علیہ نے کہا اس سے مراد آپ کے اہل اور آپ کی ازواج ہیں ۔ اور فرمایا تم سے ہر قسم کی نجاست دور فرمادے ، یعنی گناہوں اور برائیوں کی الودگی سے حفاظت فرمائے گا ، اور فرمایا تم کو خوب ستھرا اور پاکیزہ کر دے ، یعنی بری خواہشات ، دنیا کے میل کچیل اور دنیا کی طرف رغبت سے تم کو دور رکھے گا اور تمہارے دلوں میں بخل اور طمع نہ آنے دے گا اور تم کو سخاوت اور ایثار کے ذریعہ پاک اور صاف رکھے گا ۔ (النکت والعیون جلد 4 صفحہ 400 ۔ 401 دارالکتب العلمیہ بیروت،چشتی)


آیت تطھیر سے ازواج مطہرات کا مراد ہونا : ⏬


اس سے پہلی آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج سے خطاب ہے : ینسآء النبی لستن کآحد منالنسآء ۔ (سورہ الاحزاب آیت نمبر 33) اور اس کے بعد والی آیت میں بھی ازواج مطہرات سے خطاب ہے : واذکرن مایتلیٰ فی بیو تکن ۔ (سورہ الاحزاب آیت نمبر 34) اس کا تقاضا ہے کہ اس : آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج سے خطاب ہو ۔ نیز قرآن مجید کا اسلوب ہے کہ بیت سے مراد بیت سکنی ہوتا ہے ، جیسا کہ اس آیت میں ہے : قالو آ اتعجبین من امر اللہ رحمت اللہ و برکتہ علیکم اھل البیت ۔ (سورہ ھود آیت نمبر 73) فرشتوں نے (سارہ سے) کہا ، کیا تم اللہ کے کاموں پر تعجب کرتی ہو ؟ اے اہل بیت ! تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ عزوجل نے مخلوق کی دو قسمیں کیں ، پس اللہ عزوجل نے مجھے ان میں سے بہترین قسم میں رکھا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا وصحب الیمین وصحب الشمال (دائیں ہاتھ والے اور بائیں ہاتھ والے) سو میں دائیں ہاتھ والوں سے ہوں او دائیں ہاتھ والوں میں سے سب سے بہتر ہوں ، پھر دو قسموں کی تین قسمیں کیں ، فرمایا فاصحب المیمنۃ ، والسابقون السابقون ، سو میں سابقین میں سے ہوں اور سابقین میں سب سے بہتر ہوں ، پھر اس تیسری قسم کے قبائل بنائے پس مجھے سب سے بہتر قبیلہ میں رکھا اور اس کا ذکر اس آیت میں ہے : وجعلنکم شعوباوقبآ ئل لتعارفوا ط ان اکرمکم عنداللہ اتقکم ۔ (سورہ الحجرات آیت نمبر 13) اور تم کو مختلف گروہوں اور قبائل میں رکھا تاکہ تمہاری پہچان ہو اور اللہ کے نزدیک تم میں سب سے مکرم وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو ۔ پھر ان قبائل کو گھروں میں تقسیم کیا اور مجھے سب بہتر گھر میں رکھا اس کا ذکر اس آیت میں ہے : انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھر کم تطھیرا ۔ (سورہ الاحزاب آیت نمبر 33) پس میں اور میرے اہل بیت گناہوں سے پاک ہیں ۔ (دلائل النبوۃ للبیھقی ج ١ ص ١٧١۔ ١٧٠‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ک ٢٦٧٤)


حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہ آیت (سورہ الاحزاب آیت نمبر 33) بالخصوص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کے متعلق نازل ہوئی ہے ، عکرمہ نے کہا جو شخص چاہے میں اس سے اس بات پر مباہلہ کر سکتا ہوں کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کے متعلق نازل ہوئی ہے ۔ (تاریخ دمشق الکبیر جلد 73 صفحہ 111 داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ)


اِس آیت میں اہلِ بیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ازواجِ مُطَہَّرات سب سے پہلے مراد ہیں کیونکہ آگے پیچھے سارا کلام ہی اُن کے متعلق ہو رہا ہے ۔ بقیہ نُفوسِ قُدسیہ یعنی خاتونِ جنت حضرت فاطمہ زہرا ، حضرت علی المرتضیٰ اور حسنین کریمَین رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ کا اہلِ بیت میں  داخل ہونابھی دلائل سے ثابت ہے ۔


تاجدار گولڑہ ولی کامل حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ : آیتہ تطہیر میں لفظ اہل بیت امہات المؤمنین آیتِ تطہیر ، اہلبیتِ اطہار اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن و آلِ عبا علیہم السلام دونوں کو شامل ہے سیاق آیۃ و احادیث کثیرہ اسی پر دال ہیں ۔ (مکتوبات طیّبات معرف بمہریہ چشتیہ صفحہ نمبر 150 مطبوعہ گولڑہ شریف،چشتی)


تاجدار گولڑہ ولی کامل حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : آیة تطہیر میں ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن و آلِ عبا علیہم السلام دونوں کو شامل ہے سیاق اور آگے فرماتے ہیں آیة تطہیر کا یہ مطلب نہیں کہ یہ پاک گروہ معصوم ہیں اور صدور خطا ان سے ناممکن ہے ۔ (تصفیہ مابین سنی و شیعہ صفحہ نمبر 54 مطبوعہ گولڑہ شریف)


حضرت صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’سوانح کربلا‘‘ میں  یہ آیت لکھ کر اہلِ بیت رَضِیَ اللہ عَنْہُمْ کے مِصداق کے بارے میں  مفسرین کے اَقوال اور اَحادیث نقل فرمائیں ۔ اس کے بعد فرماتے ہیں : خلاصہ یہ کہ دولت سرائے اقدس کے سکونت رکھنے والے اس آیت میں  داخل ہیں (یعنی ازواجِ مُطَہَّرات) کیونکہ وہی اس کے مُخاطَب ہیں  (اور) چونکہ اہلِ بیتِ نسب (نسبی تعلق والوں) کا مر اد ہونا مخفی تھا ، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے اس فعل مبارک (جس میں  پنجتن پاک کو چادر میں  لے کر ان کےلیے دعا فرمائی) سے بیان فرما دیا کہ مراد اہلِ بیت سے عام ہیں ۔ خواہ بیت ِمسکن کے اہل ہوں  جیسے کہ اَزواج یا بیتِ نسب کے اہل (جیسے کہ) بنی ہاشم و مُطّلب ۔ (سوانح کربلا اہل بیت نبوت صفحہ ۸۲)


آلِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اولادِ علی رضی اللہ عنہ غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اہل البیت سے مراد اصل میں سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن ہیں ۔ لفظ اہلِ بیت قرآن میں بیوی کےلیے آیا ہے ۔ (التبیان العظیم فی التفسیر سورة التحریم صفحہ 121 مطبوعہ کاظمی پبلیکیشنز ملتان)


حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے اہل بیت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے نسب و قرابت کے وہ لوگ ہیں جن پر صدقہ حرام ہے ۔ ایک جماعت نے اسی پر اعتماد کیا اور اسی کو ترجیح دی اور ابن کثیرنے بھی اسی کی تائید کی ہے ۔ (الصواعق المحرقۃ، الباب الحادی عشر،الفصل الاول فی الآیات الواردۃ فیہم  صفحہ نمبر ۱۴۳،چشتی)


اس سے پتا چلا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن جو مومنین کی مائیں ہیں ، وہ بھی اہل بیت رضی اللہ عنہم ہیں ، اگرچہ اس پر قرآن و حدیث گواہ ہیں ، مگر یہ بات تفضیلی پیر و مولوی صاحبان چھپاتے ہیں ، لوگوں کے سامنے بیان کرنے سے کتراتے ہیں ، کہ کہیں سُنّی عوام پوچھ ہی نہ لیں کہ جب یہ بھی اہل بیت ہیں ، تو پھر روافض کی جانب سے امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن خصوصاً امّا عائشہ صدیقہ پاک سلام اللہ علیہا کی توہین و گستاخیوں پر تم گونگے کیوں بن جاتے ہو ؟


کبھی ایسے گستاخ رافضی ذاکروں کے نام سوشل میڈیا پر لے کر ، ان پر بھی دو چار لعنتیں ڈال دیا کریں ؛ کبھی اپنے درباری مولویوں کے ذریعے سے ان کا رد بھی کروا دیا کریں ؛ کبھی اپنے چاپلوس نعت خوانوں اور نقیبوں سے دو اشعار ایسوں کی مذمت میں بھی لکھوا دیا کریں ؛ کبھی اِن اہل بیت کی ناموس کی خاطر بھی خود تھانے جاکر گستاخ روافض کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دیا کریں ؛ اور کبھی کبھی اپنے مریدین و متعلقین کی تربیت ایسی بھی کر دیا کریں ، کہ اُن سے جب پوچھا جائے ، کہ اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم کون ہیں ؟ تو وہ نام لیتے وقت امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کو بھی یاد رکھیں ۔


احادیث پر جب نظر کی جاتی ہے تو مفسرین کی دونوں جماعتوں کو ان سے تائید پہنچتی ہے ۔ امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ یہ آیت پنجتن پاک کی شان میں نازل ہوئی ۔ پنجتن سے مراد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور حضرت علی و حضرت فاطمہ و حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین ہیں ۔ (صلوات اللہ تعالیٰ علی حبیبہ و علیہم وسلم)


خلاصہ یہ کہ دولت سرائے اقدس کے سکونت رکھنے والے اس آیت میں داخل ہیں (یعنی ازواجِ مُطَہَّرات) کیونکہ وہی اس کے مُخاطَب ہیں (اور) چونکہ اہلِ بیتِ نسب (نسبی تعلق والوں) کا مر اد ہونا مخفی تھا ، اس لئے آں سَرور ِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے اس فعل مبارک (جس میں پنجتن پاک کو چادر میں لے کر ان کے لئے دعا فرمائی) سے بیان فرمادیا کہ مراد اہلِ بیت سے عام ہیں ۔ خواہ بیت ِمسکن کے اہل ہوں جیسے کہ اَزواج یا بیت ِنسب کے اہل (جیسے کہ) بنی ہاشم و مُطّلب ۔ (سوانح کربلا باب اہل بیت نبوت ، چشتی)


اہل بیت کون ہیں ؟


بیت عربی زبان میں گھر کو کہتے ہیں۔ گھر تین قسم کا ہوتا ہے


(1) بیت نسب


(2) بیت مسکن یا بیت سکنٰی


(3) بیت ولادت


اسی اعتبار سے گھر والوں کے بھی تین طبقے ہیں


(1) اہل بیت نسب


(2) اہل بیت سکنٰی


(4) اہل بیت ولادت


اہل بیت نسب سے مراد انسان کے وہ رشتہ دار ہیں جو نسب میں آتے ہیں یعنی وہ رشتہ دار جو باپ اور دادا کی وجہ سے ہوتے ہیں مثلاً چچا، تایا، پھوپھی وغیرہ نسب کے رشتے ہیں ۔


اہل بیت مسکن سے مراد وہ رشتہ دار ہیں جو گھر کے اندر آباد ہوتے ہیں یعنی شوہر کی بیوی ۔


اہل بیت ولادت سے مراد وہ نسل ہے جو گھر میں پید اہوئی ہے۔ اس میں بیٹے، بیٹیاں اور آگے ان کی اولاد شامل ہے۔ جب مطلق اہل بیت کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد مذکورہ تینوں طبقات ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ اہل ایمان ہوں ۔ ان میں سے کسی ایک طبقے کو خارج کردینے سے اہل بیت کا مفہوم پورا نہیں ہوتا ۔


جب انسان متعصب ہو جاتا ہے تو پھر اسے اپنے مطلب کی چیز کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ جب دین تعصب کی نظر ہوجاتا ہے تو ہر کوئی اپنے مطلب کی بات نکالنے لگتا ہے ۔ وہ دو طبقے جو حب صحابہ اور حب اہل بیت رضی اللہ عنھم کے نام پر افراط و تفریط کا شکار ہوئے ان میں سے ایک طبقے نے مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے اس میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو نکال دیا ۔ گویا انہوں نے اہل بیت میں سے اہل بیت مسکن کو نکال دیا ۔ جب اہل بیت میں سے بیویاں ہی نکل جائیں تو پھر اولاد کا گھر سے کیا تعلق رہا ؟


بہر حال انہوں نے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو نکال کر کہا کہ اہل بیت سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ شیر خدا ، حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ہیں ۔


بے شک مذکورہ چاروں ہستیاں اہل بیت میں شامل ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے انہیں چادر تطہیر میں چھپایا اور ان کے اہل بیت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ہونے کا انکار فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا انکار ہے مگر سمجھانا یہ مقصود ہے کہ ایک طبقے نے کچھ اہل بیت مراد لیے اور باقی چھوڑ دیے ۔ اس کے رد عمل کے طور پر دوسرے طبقے نے کہا کہ اہل بیت سے مراد صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ ، سیدہ دوعالم حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا اور حسنین کریمین رضی اللہ عنھما اہل بیت میں شامل ہی نہیں ۔ دونوں طبقوں نے قرآن پاک کو گویا سکول کا رجسٹر داخل خارج سمجھ لیا ہے کہ جسے چاہا داخل کر دیا اور جسے چاہا خارج کر دیا ۔ من مانی تاویلیں کر کے امت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور نہ صرف امت بلکہ نسبت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو بھی متنازعہ بنا دیا ۔


محترم قارئینِ کرام : جو گھر والا ہے وہ تو ہر گھر والے کو پیارا ہے اور وہ ذات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ہے پھر جو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے نسبی تعلق والا ہے ، آپ کے گھر میں ہے یا آپ کی نسل پاک میں سے ہے اور اہل ایمان ہے ۔ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا اہل بیت اور ہر ایک کو پیارا ہونا چاہیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے نسبی تعلق ہونا ، آپ کے گھر میں ہونا یا آپ کی اولاد پاک میں سے ہونا تو ایک طرف حضرت سلیمان فارسی رضی اللہ عنہ جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے گھر صرف خدمت کرتے تھے اور سودا سلف لاکر دیتے تھے انہیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے اہل بیت میں شامل فرمایا ہے حالانکہ نہ تو ان کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے نسبی تعلق تھا نہ وہ اہل بیت مسکن میں سے تھے اور نہ ہی وہ آپ کی اولاد پاک میں سے تھے ، بیت کی تینوں نسبتیں مفقود تھیں لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے رحمت کے ہاتھ بڑھاتے ہوئے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو بھی اہل بیت میں شامل فرمالیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا سلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہے ۔ (مستدرک امام حاکم 3 : 691 رقم 6539،چشتی)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے جب اپنے اہل بیت میں سے کسی ایک طبقے کو خارج نہیں کیا تو ہم کسی ایک طبقے کو خارج کرکے کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے انصاف کر رہے ہیں ؟ یقیناً یہ انصاف نہیں بلکہ محض جہالت اور تعصب ہے ۔


حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کا ارشادِ مبارک : ⏬


راہ اعتدال کو چھوڑ کر افراط و تفریط کا راستہ اپنانے والوں کےلیے حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان مبارک ایک تازیانے کی حیثیت رکھتا ہے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے مجھ سے فرمایا کہ تمہیں حضرت عیسٰی علیہ السلام سے ایک مشابہت ہے ۔ ان سے یہود نے بغض کیا یہاں تک کہ ان کی والدہ ماجدہ پر زنا کی تہمت لگائی اور نصاریٰ ان کی محبت میں ایسے حد سے گزرے کہ ان کی خدائی کے معتقد ہو گئے ۔ ہوشیار ! میرے حق میں بھی دو گروہ ہلاک ہوں گے ۔ ایک زیادہ محبت کرنے والا جو مجھے میرے مرتبے سے بڑھائے گا اور حد سے تجاوز کرے گا ۔ دوسرا بغض رکھنے والا جو عداوت میں مجھ پر بہتان باندھے گا ۔ (مسند احمد بن حنبل جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 167 رقم 1376،چشتی)


شیعہ مذہب کے نزدیک معتبر کتاب ’’نہج البلاغہ،، میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد گرامی ہے : میرے معاملہ میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے ۔ ایک محبت کرنے والا ، حد سے بڑھانے والا ۔ وہ محبت اس کو غیر حق کی طرف لے جائے گی ۔ دوسرا بغض رکھنے والا حد سے کم کرنے والا ، وہ بغض اس کو خلاف حق کی طرف لے جائے گا اور سب سے بہتر حال میرے معاملہ میں میانہ رو جماعت کا ہے پس اس میانہ رو جماعت کو اپنے لئے ضروری سمجھو اور (بڑی جماعت) سواد اعظم کے ساتھ وابستہ رہو کیونکہ اللہ کا ہاتھ اسی جماعت پر ہے اور خبردار! اس جماعت سے الگ نہ ہونا کیونکہ جو شخص جماعت سے الگ ہوگا وہ اسی طرح شیطان کا شکار ہوگا جس طرح ریوڑ سے الگ ہونے والی بکری بھیڑیئے کا شکار ہوتی ہے ۔ (ترجمہ و شرح نہج البلاغہ جلد اول، 383)


ان آیات کا سیاق و سباق بتاتا ہے کہ أمہات المؤمنین رضی اللہ عنہن اس میں شامل ہیں ۔ کسی عامی آدمی کو بھی ان آیات کا ترجمہ پڑھنے کے لیے کہا جائے تو اس کو بھی سمجھ آ جائے گی کہ یہاں اہل بیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی بیویاں شامل ہیں ۔


اس پورے رکوع کو آپ اس آیت سے پہلے پڑھ لیں اس کے بعد پڑھ لیں سب کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن ہیں بلکہ یہی آیت اس کو شروع سے پڑھ لیں ۔ و قرن فی بیوتکن ۔ اس میں خطاب مؤنث کے صیغے کے ساتھ ہے ۔

اور پھر اس سے بعد والی آیت بھی واذکرن سے شروع ہورہی ہے جو خطاب جمع مؤنث کے لیے ہے ۔ جبکہ إنما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس أہل البیت و یطہرکم تطہیرا ۔ میں یہ نکتہ ہے ۔ واللہ أعلم ۔ تاکہ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے ساتھ دیگر اہل بیت رضی اللہ عنہم کی شمولیت کا بھی امکان باقی رہے ۔ یہی وجہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی تو حضرت علی و حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا اور امامِ حسن و امامِ حسین رضی اللہ عنہما کو بطور خاص اہل بیت میں شامل کیا تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ سیاق سباق تو امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے لیے ہے یہ چار ہستیاں اس میں کیسے شامل ہیں ۔


اور امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن چونکہ اس سے پہلے بنص قرآن اس میں شامل تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اس کی ضرورت نہ سمجھی کیونکہ یہ تو ایک قسم کا تحصیل حاصل تھا ۔ اور ویسے بھی معروف بات ہے کہ اہل بیت کے واقعے والی اس حدیث میں یہ تو ذکر ہے کہ چار ہستیاں اہل بیت میں سے ہیں لیکن باقیوں کی نفی کہیں بھی نہیں ۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے یہ تو کہا تھا کہ یہ چار میرے اہل بیت ہے لیکن یہ نہیں کہا تھا کہ ان کے علاوہ اور کوئی اہل بیت میں سے نہیں ہے ۔


حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سنواے لوگو ! میں صرف ایک بشر ہوں ‘ عنقریب میرے پاس اللہ کا سفیر آئے گا ‘ اور میں اس کی دعوت کو قبول کروں گا ‘ میں تم میں وہ بھاری چیزیں چھوڑنے والا ہوں ان میں سے ایک اللہ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے ‘ سو تم اللہ کی کتاب کو پکڑ لو اور اس کا دان تھام لو ‘ پھر آپ نے کتاب اللہ پر برانگخیتہ کیا اور اس کی طرف راغب کیا ‘ اور فرمایا دوسری بھاری چیز میرے اہل بیت ہیں ‘ میں تم کو اپنے اہل بیت کے متعلق اللہ کی یاد دلاتا ہوں ‘ حصین نے حضرت زید بن ارقم سے پوچھا ! اے زید ! آپ کے اہل بیت کے اہل بیت کو ہیں ؟ کیا آپ کی ازواج مطہرات آپ کی اہل بیت نہیں ہیں ؟ حضرت زید بن ارقم نے کہا آپ کی ازواج مطہرات بھی اہل بیت سے ہیں لیکن (اس ارشاد میں) آپ کے اہل بیت سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ کرنا حرام ہے ‘ اس نے پوچھا وہ کون ہیں ! انہوں نے کہا وہ آل علی ‘ آل عقیل ‘ آل جعفر اور آل عباس ہیں ‘ اس نے پوچھا ان سب پر صدقہ حرام ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٤٠٨‘ السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٨١٧٥)


حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کے حج کے موقع پر دیکھا آپ اپنی اونٹنی القصواء پر سوار خطبہ دے رہے تھے ‘ آپ فرما رہے تھے اے لوگو ! میں نے تم میں واپسی چیزیں چھوڑی ہیں کہ اگر تم نے ان کو پکڑ لیا تو تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے اللہ کی کتاب اور میری اولاد میرے اہل بیت ۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٧٨٦‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٢٦٨)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لے پالک حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت حضرت ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی : انما یریداللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرا ۔ (سورہ الاحزاب : ٣٣)


ترجمہ : اے رسول کے گھر والو ! اللہ صرف یہ ارادہ فرماتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی نجاست دور رکھے اور تم کو خوب ستھرا اور پاکیزہ رکھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ ‘ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلوایا اور ان سب کو ایک چادر میں ڈھانپ لیا ‘ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کی پشت کے پیچھے تھے پس آپ نے ان کو بھی اس چادر میں ڈھانپ لیا پھر کہا اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں ‘ تو ان سے (ہرقسم کی) نجاست کو دور رکھنا اور انکو خوب پاکیزہ رکھنا ‘ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ ! آیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں ؟ آپ نے فرمایا تم اپنے مقام پر ہو اور تم میری طرف منسوب ہو ‘ نیک ہو ‘ دوسری روایت میں ہے تم خیر پر ہو۔


(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٧٨٧‘ ٣٢٠٥،چشتی)


حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تم میں اسی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر تم نے ان کو تھام لیا تو تم میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے ! ان میں سے ایک دوسری سے زیادہ عظیم ہے ‘ ایک کتاب اللہ ہے یہ وہ رسی ہے جو آسمان سے زمین تک تانی ہوئی ہے اور دوسری میری اولاد ہے میرے اہل بیت ‘ وہ ہرگز ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوں گے حتی کہ وہ دونوں میرے پاس حوض پروارد ہوں گے ‘ پس غور کرو کہ تم میرے بعد ان سے کس طرح پیش آتے ہو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٧٨٨‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٠ ص ٥٠٦‘ مسند احمد ج ٣ ص ١٤۔ ١٧۔ ٢٦۔ ٥٩‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ١٠٢١۔ ١٠٢٧‘ الضعفاء للعقیلی ج ٢ ص ٢٥٠‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٢٦٧٨‘ المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٣٥٦٦‘ المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٣٦٣،چشتی)


حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ ‘ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو امام طبرانی کی دیرگ روایات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی ہے) کو ایک کپڑے میں داخل کیا (حدیث : ٢٦٦٧ میں سیاہ چادر کا ذکر ہے) پھر مرمایا : اے اللہ یہ مرے اہل بیت ہیں ! میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے بھی ان کے ساتھ داخل فرما لیں ! آپ نے فرمایا تم (بھی) میرے اہل سے ہو ۔ دیگر روایات میں الاحزاب : ٣٣ کی تلاوت کا بھی ذکر ہے ۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٢٦٧٣۔ ٢٦٧٢۔ ٢٦٧١۔ ٢٦٧٠۔ ٢٦٦٨۔ ٢٨٨٧٦۔ ٢٦٦٦۔ ٢٦٦٥۔ ٢٦٦٤۔ ٢٦٦٣ )


حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھر کم تطھیرا ‘ حضرت علی ‘ حضرت فاطمہ ‘ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کے متعلق نازل ہوئی ہے ۔ (مسند البز اررقم الحدیث : ٢٦١١‘ تاریخ دمشق الکبیر ج ٦٣‘ رقم الحدیث : ٢٦١١‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)


ابو الحمراء ہلال بن الحارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر روز حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے دروازے پر جا کر فرماتے الصلاۃ الصلاۃ (نماز کےلیے اٹھو) انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھر کم تطھیرا ۔ (تاریخ دمشق الکبیر ج ٤ ص ١٩٨‘ رقم الحدیث : ١٠٧٨‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ،چشتی)


اہل بیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات ‘ آپ کی اولاد اور آپ کے رشتہ دار سب داخل ہیں ‘ اولاد اور رشتہ دار داخل ہیں ۔


علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : کسی شخص کے اہل وہ لوگ ہیں جو اس کے نسب ‘ یا دین یا پیشہ یا گھر یا شہر میں شریک اور شامل ہوں ‘ لغت میں کسی شخص کے اہل وہ لوگ ہیں جو اس کے گھر میں رہتے ہوں ‘ پھر مجازاً جو لوگ اس کے نسب میں شریک ہوں ان کو بھی اس کے اہل کہا جاتا ہے ‘ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کے لوگوں کو بھی مطلقاً اہل بیت کہا جاتا ہے ‘ جیسا کہ قرآن مجید کی اس آیت میں ہے : انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت (الاحزاب : ٣٣) اے رسول کے گھر والو ! اللہ صرف یہ ارادہ فرماتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی نجاست کو دور رکھے ۔ کسی شخص کی بیوی کو اس کے اہل سے تعبیر کی جاتا ہے اور اہل اسلام ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو سب اسلام کے ماننے والے ہوں۔ اور چونکہ اسلام نے مسلم اور کافر کے دریمن نسب کا رشتہ منقطع کردیا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمایا : یانوح انہ لیس من اھلک ج انہ عمل غیر صالح ۔ (ھود : ٤٦) اے نوح ! بیشک وہ (آپ کا بیٹا) آپ کے اہل سے نہیں ہے ‘ اس کے عمل نیک نہیں ہیں ۔ (المفردات ج ١ ص ٣٧‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٨ ھ،چشتی)


علامہ محمد بن مکرمہ ابن منظور الافرفیقی المصری المتوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت آپ کی ازواج ‘ آپ کی بیٹیاں اور آپ کے داماد یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہم ہیں ۔ (لسان العرب ج ١١ ص ٢٩‘ نشرادب الحوزۃ ‘ ١٤٠٥ ھ)


علامہ محمد طاہر پیٹنی المتوفی ٩٨٢ ھ لکھتے ہیں : آپ کی ازواج آپ کے اہل بیت سے ہیں جن کو تعظیما ثقل کہا گیا ہے لیکن یہ وہ اہل بیت نہیں ہیں جن پر صدقہ حرام ہے ۔ (مجمع بخار الانوارج ١ ص ١٣٤‘ مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ‘ ١٤١٥ ھ،چشتی)


سید محمد مرتضیٰ حسینی زبیدی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں : کسی شخص کی بیوی کو اس کی اہل کہا جاتا ہے ‘ اور اہل میں اولاد بھی داخل ہے ‘ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل آپ کی ازواج ‘ آپ کی بیٹیاں اور آپ کے داماد حضرت علی رضی اللہ عنہم ہیں ۔ (تاج العروس شرح القاموس جلد ٧ صفحہ نمبر ٢١٧‘ داراحیاء التراث العربی بیروت،چشتی)


حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ حضرت سارہ کے متلعق قرآن مجید میں ارشاد ہے : قالوا آتعجبین من امر اللہ رحمت اللہ و برکتہ علیکم اھل البیت ۔ (ھود : ٧٣) ۔ تعجب کرتی ہو ! اے اہل بیت ! تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں ۔


حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بیوی کے متعلق ارشاد ہے : فقال لاھلہ امکثوآ انی انست نارا ۔ موسیٰ نے اپنی بیوی سے کہا تم ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے ۔ (سورہ طہ : ١٠)


عزیز مصر کی بیوی کے متعلق ارشاد ہے : قالت ما جزآء من اراد باحلک سوء الآ ان یسجن ۔ (سورہ یوسف : ٢٥) ۔ وہ کہنے لگی جو شخص تیری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی یہی سزا ہے کہ اس کو قید کردیا جائے ۔


بیوی اور بچوں کے متعلق ارشاد ہے : فاستجبنا لہ فکشفنا ما بہ من ضرو اتینہ اھلہ و مثلہم معھم ۔ (سورہ الانبیا : ٨٤) ۔ سو ہم نے ایوب کی دعا سن لی اور ان کو جو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ہم نے ان کو اہل و عیال عطا فرمائے اور ان کے ساتھ ان کی مثل بھی ۔


وکان یامر اھلہ بالصلوۃ ۔ (سورہ مریم : ٥٥) اور اسماعیل اپنے بیوی بچوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیتے تھے ۔


جب منافقین نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر غزوہ بنو المصطلق میں بدکاری کی تہمت لگائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس تہمت سے برأت بیان کرتے ہوئے فرمایا : یامعشر المسلمین من یعذرنی من رجل قد بلغنی عنہ اذاہ فی اھلی واللہ ماعلمت علی اھلی الاخیر ا ۔ اے مسلمانو ! اس شخص کے معاملہ میں میری مدد کون کرے گا جس کی اذیت اب میری بیوی کے متعلق پہنچ چکی ہے ‘ اللہ کی قسم مجھے اپنی بیوی کے متلعق سوا خیر کے اور کسی چیز کا علم نہیں ہے۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤١٤١‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٧٠‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢١٣٨‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٣٤٧۔ ١٩٧٠،چشتی)


حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی اہل (بیوی) سے عمل زوجیت کرتے وقت یہ دعا کرے بسم اللہ اے اللہ شیطان کو ہم سے دور رکھ اور ہم کو جو (بچہ) دے اس کو بھی شیطان سے دور رکھ ‘ پھر ان کے لیے جو بچہ مقدر کیا جائے اس کو شیطان ضرر نہیں پہنچائے گا۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤١‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٣٤‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢١٦١‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٠٩٢‘ السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٩٠٣٠‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٩١٩،چشتی)


اسی طرح صحیح مسلم (رقم الحدیث : ٢٤٠٨) کے حوالہ سے یہ حدیث گذر چکی ہے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ازواج مطہرات بھی اہل بیت سے ہیں لیکن ان اہل بیت میں سے نہیں ہیں جن پر صدقہ حرام ہے ‘ اور جن پر صدقہ کرنا حرام ہے وہ اہل بیت آل علی ‘ آل عقیل ‘ آل جعفر اور آل عباس رضی اللہ عنہم ہیں ۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ٧ ص ٤٢٠‘ ١ لمفہم ج ٦ ص ٣٠٥‘ صحیح مسلم بشرح النوادی ج ١٠ ص ٦٣٠٥،چشتی)


اور اس وضاحت سے ان احادیث میں تطبیق ہو جاتی ہے جن میں سے بعض میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم اپنی جگہ خیر پر یعنی اہل بیت میں سے نہیں ہو ‘ اور بعض احادیث میں ہے کہ تم اہل بیت میں ہو ‘ یعنی ان اہل بیت میں سے نہیں ہو جن پر صدقہ حرام ہے اور مطلقاً اہل بیت میں سے ہو ‘ روایات کی تفصیل یہ ہے۔


حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ یہ آیت انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا ۔ (الاحزاب : ٣٣) ۔ میرے گھر میں نازل ہوئی ‘ میں اس وقت دروازہ پر بیٹھی ہوئی تھی ‘ آپ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھم اپنے خاوند اور اپنے دونوں بیٹوں کو بلاٶ ‘ پھر آپ نے ان سب کو چادر میں داخل کرکے فرمایا : اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں ‘ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا میں نے چادر اٹھائی تاکہ میں بھی ان میں داخل ہوں تو آپ نے میرا ہاتھ کھینچ کر فرمایا (بعض روایات میں ہے تم الگ رہو) تم تو خیر پر ہو ہی ۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٢٦٦٢۔ ٢٦٦٤۔ ٢٦٦٦۔ ٢٦٦٨،چشتی)


اس روایت کا محمل یہ ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ان اہل بیت میں سے نہیں ہیں جن پر صدقہ حرام ہے ‘ اور دوسری روایات وہ ہیں جن میں آپ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم اہل بیت سے ہو ۔


حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ ‘ (دوسری روایات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر ہے) اور حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو ایک کپڑے میں داخل کرکے فرمایا : اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں ‘ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بھی ان کے ساتھ داخل فرمالیں ‘ آپ نے فرمایا تم بھی میرے اہل سے ہو ‘ اور بعض روایات میں ہے تم بھی ہو۔ امام بغوی کی روایت میں ہے : حضرت ام سلمہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی اہل بیت میں سے ہوں آپ نے فرمایا کیوں نہیں ! ان شاء اللہ ۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٢٦٦٣‘ ٢٦٦٥۔ ٢٦٦٧۔ ٢٦٦٩۔ ٢٦٧٠ معالم النزیل ج ٣ ص ٦٣٧‘ شرح السنہ رقم الحدیث ٣٨٠٥)


امام فخرالدین رازی لکھتے ہیں :


اہل بیت کی تعین میں مختلف اقوال ہیں اولیٰ یہ ہے یہ کہا جائے کہ آپ کے اہل بیت ‘ آپ کی اولاد اور آپ کی ازواج ہیں ‘ اور حضرت حسن اور حضرت حسین اور حضرت علی رضی اللہ عنہم بھی ان میں سے ہیں ‘ کیونکہ آپ کی بیٹی کی واسطے سے وہ بھی آپ کیا ہل بیت سے ہیں ۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ١٦٨‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)


علامہ ابو حیان محمد بن یوسف اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ لکھتے ہیں :


ازواج مطہرات اہل بیت سے خارج نہیں ہیں ‘ بلکہ زیادہ ظاہر یہ ہے کہ وہ اہل بیت کے عنوان کی زیادہ مستحق ہیں کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیت (گھر) میں آپ کے ساتھ لازم رہتی تھیں ‘ علامہ ابن عطیہ نے کہا کہ آپ کی ازواج اہل بیت سے خارج نہیں ہیں ‘ پس اہل بیت آپ کی ازواج ہیں ‘ آپ کی بیٹی (حضرت فاطمہ) ان کے بیٹے اور ان کے شوہر ہیں ‘ علامہ زمخشری نے کہا اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج اہل بیت سے ہیں ‘ اور آپ کی ازواج کے گھر وحی نازل ہونے کی جگہیں ہیں ۔ (البحر المحیط جلد ٨ صفحہ ٤٧٩‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٤ ھ،چشتی)


علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی ١١٣٧ ھ لکھتے ہیں : اس آیت میں اس پر قوی دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج آپ کے اہل بیت سے ہیں اور اس میں شیعہ کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ اہل بیت حضرت فاطمہ ‘ حضرت علی ‘ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کے ساتھ مخصوص ہیں کیونکہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیاہ چادر لے کر آئے پھر حضرت فاطمہ ‘ حضرت علی ‘ حضرت حسن اور حضرت حسین کو اس چادر میں داخل کرکے یہ آیت پڑھی : انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھر کم تطھیرا ‘ یہ روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ حضرات اہل بیت سے ہیں ‘ اس پر دلالت نہیں کرتی کہ ان کے علاوہ دیگر حضرات اہل بیت سے نہیں اور اگر بالفرض اس کی یہ دلالت ہو بھی تو قرآن مجید کی اس نص صریح کے مقابلہ میں اس روایت کا اعتبار نہیں ہوگا کیونکہ یہ آیت ازواج مطہرات کے متعلق نازل ہوئی ہے ۔ (تفسیر روح البیان ج ٧ ص ٢٩٧‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ،چشتی)


قاضی ابو السعود محمد بن محد العماری الحنفی المتوفی ٩٨٢ ھ اور قاضی عبداللہ بن عمر البیضادی الشافعی متوفی ٦٨٥ ھ نے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی تقریر کی ہے ۔ (تفسیر ابی السعود ج ٥ ص ٢٢٥‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٩ ھ ‘ تفسیر بیضاوی مع حاثیۃ الشہباب ج ٧ ص ٤٨٧‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)


علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : امام ابن جریر ‘ امام ابن ابی حاتم اور امام طبرانی نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ آیت انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھر کم تطھیرا ‘ میرے متعلق ‘ علی کے متعلق ‘ فاطمہ ‘ حسن اور حسین کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ اس روایت میں حضر کا لفظ نہیں ہے اور عدد میں مفہوم مخالف معتبر نہیں ہوتا ‘ اور شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پانچ کا خصوصیت سے اس لیے ذکر فرمایا کہ یہ افضل اہل بیت ہیں اور یہ تقریر اس مفروضہ کی بناء پر ہے کہ یہ حدیث صحیح ہو اور مجے ظن غالب یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے ۔ (روح المعانی جز ٢٢ ص ٤ ہ ‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)


مشکوۃ المصابیح : ٦١٨٦ میں صحیح مسلم کے حوالے سے یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک صبح سیاہ چادر اوڑھی ہوئی تھی ‘ آپ کے پاس حضرت حسن بن علی آئے تو آپ نے ان کو اس چادر میں داخل کرلیا ‘ پھر حضرت حسین آئے تو وہ بھی اس چادر میں داخل ہوگئے ‘ پھر حضرت فاطمہ آئیں تو آپ نے ان کو اس سیاہ چادر میں داخل کرلیا ‘ پھر حضرت علی آئے تو ان کو بھی اس چادر میں داخل کرلیا (رضی اللہ عنہم) پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھر کم تطھیرا ۔ (الاحزاب : ٣٣)


اس کی تشریح میں امام ملا علی قاری متوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں : اس حدیث میں دلیل ہے کہ ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں داخل ہیں کیونکہ اس آیت سے پہلے بھی ازواج مطہرات سے خطاب سے ینسآ النبی لسنتن کا حد من النسآء ۔ (الاحزاب : ٣٢) ۔ اور اس آیت کے بعد بھی ازواج مطہرات سے خطاب ہے واذکرن مایتلی فی بیوتکن من آیت اللہ والحکمۃ ۔ (الاحزاب : ٣٤) ۔ (مرقات ج ١٠ ص ٥٠٨‘ مکتبہ خقانیہ پشاور)


الحمد للہ فقیر چشتی نے کتب لغت ‘ قرآن مجید کی آیات ‘ احادیث اور فقہاء اسلام کی عبارات سے واضح کر دیا ہے کہ اہل بیت میں ازواج مطہراتِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عترت اور آپ کے داماد حضرت علی رضی اللہ عنہم سب داخل ہیں اس لیے شیعہ حضرات کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اہل بیت کا لفظ صرف ان پانچ نفوس قدسیہ کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اب ہم شیعہ علماء کی عبارت پیش کررہے ہیں ۔ ⬇


شیعہ علماء کے اس اعتراض کا جواب کہ اہل بیت کے ساتھ مذکر کی عبارت ضمائر کیوں لائی گئیں 


شیخ الطائفہ ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی المتوفی ٤٦٠ ھ اور شیخ طبرسی لکھتے ہیں :


حضرت ابو سعید الخدری ‘ حضرت انس بن مالک ‘ حضرت عائشہ ‘ حضرت ام سلمہ اور حضرت واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت (انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھر کم تطھیرا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘ حضرت علی ‘ حضرت فاطمہ ‘ حضرت حسن اور حضرت حسین کے متعلق نازل ہوئی ہے ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ‘ حضرت حسن اور حضرت حسین کو بلا کر اپنی سیاہ چادر میں داخل فرمالیا اور فرمایا اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں تو ان سے نجاست کو دور کر دے اور ان کو خوب پاک کردے ‘(الی قولہ) عکرمہ نے کہا یہ آیت خصوصیت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کے متعلق ہے اور یہ غلط ہے ‘ کیونکہ اگر یہ آیت ازواج کے متعلق ہوتی تو اس میں مؤنث کے صیغے ہوتے جیسے اس سے پہلے وقرن فی بیوتکن اور ولا تبرجن اور اطعن اللہ اور اقمن وغیر ھا میں ہیں ۔ (التبیان فی تفسیر القرآن ج ٨ ص ٣٤٠‘ ملخصا داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ مجمع البیان جلد ٨ صفحہ ٥٥٩‘ دارالمعرفہ بیروت،چشتی)


شیخ الشیعہ کے اس عتراض کا جواب یہ ہے کہ اہل بیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی داخل ہیں اور جب کسی جملہ میں مذکر اور مؤنٹ دونوں ہوں تو مذکر صیغے لائے جاتے ہیں مؤنث نہیں لائے جاتے اس لیے لیذھب عنکم الرجس فرمایا اور لیذھب عنکن الرجس نہیں فرمایا ‘ اور اس اعتراض کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اہل بیت الفظاً مذکر ہے اور معنی مونث ہے اور ضمیروں کے لانے میں لفظ کی رعاییت ہوتی ہے معنی کی نہیں ہوتی ۔


شیعہ علماء کا اہل بیت کی عصمت کو ثابت کرنا اور اس کا جواب 


شیخ الطائفہ ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی المتوفی ٤٦٠ ھ لکھتے ہیں : ہمارے اصحاب نے اس آیت (الاحزاب : ٣٣) سے یہ استدلال کیا ہے کہ اہل بیت کی جماعت میں ایسے معصوم ہیں جن سے کوئی غلطی نہیں ہو سکتی اور ان کا جماع ہمیشہ صحیح ہوتا ہے ‘ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ نے اہل بیت سے نجاست کو دور کرنے کا اور ان کو پاک کرنے کا ارادہ فرمایا ہے اور اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں سے مجتنب رکھنے اور ان سے اطاعت اور عبادت کرانے کا ارادہ فرمایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ تو تمام مکلفین سے فرمایا ہے اور اس ارادہ کی اہل بیت کے ساتھ کوئی خصوصیت نہیں ہے ‘ بلکہ اہل بیت کی خصوصیت تب ہوگی جب اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ایسے لطف کا ارادہ کرے جس کی بناء پر ان سے معصیت کا صدور ممتنع اور محال ہوجائے اور اسی وجہ سے اس آیت کو اہل بیت کی مدح میں پیش کرنا درست ہوگا اور اس سے واضح ہوگیا کہ اس آیت میں اہل بیت کی عصمت کا ثبوت ہے ۔ (التبیان فی تفسیر القرآن ج ٨ ص ٤٣٠‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت)


شیخ ابو علی الفضل بن السحن الطبرسی نے بھی اہل بیت کی عصمت کے ثبوت میں یہی تقریر کی ہے ۔ (مجمع البیان ج ٨ ص ٥٦٠‘ بیروت ‘ ١٤٠٦ ھ)


شیعہ مفسرین کی یہ دلیل حسب ذیل وجوہ سے مردود ہے : ⬇


(1) اس آیت میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہے جس کا یہ تقاضا ہو کہ نجاست کو دور کرنا اور گناہوں سے پاک کرنا آل رسول کی خصوصیت ہے اور کسی اور کسی اور کو یہ وصف نہیں دیا گیا اور اس آیت کا سیاق وسباق ازواج مطہرات کی مدح کا تقاضا کرتا ہے نہ کہ آل رسول کی ‘ اس لیے اگر اس وصف کی خصوصیت ہوگی بھی تو وہ ازواج مطہرات کے ساتھ ہوگی نہ کی آل رسول کے ساتھ ۔


(2) عصمت کا یہ معنی نہیں ہے کہ معصوم سے گناہ کا صدور ممتنع اور محال ہو ورنہ اس کو گناہوں کے ترک کرنے کا مکلف کرنا یا اطاعت کرنے کا مکلف کرنا صحیح نہیں ہوگا کیونکہ مکلف اس کام کا کیا جاتا ہے ہے جس کے کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہو ‘ جیسے پتھروں اور درختوں کو عبادت کرنے اور گناہوں کو ترک کرنے کا مکلف نہیں کیا گیا ‘ اور جب اہل بیت اس معنی میں معصوم ہیں کہ ان کے لیے نیکی کو تر کرنا اور برائی کا ارتکاب کرنا ممکن نہیں ہے تو ان کا عبادت کرنا اور گناہوں سے بازرہنا تعریف اور تحسین کا موجب بھی نہیں ہوگا جیسے دیواروں کی اس بات پر تعریف نہیں کی جاتی کہ وہ شراب نہیں پیتیں اور زنا نہیں کرتیں ۔


(3) اگر اہل بیت معصوم ہیں اور ان کا گناہ رکنا ممکن نہیں ہے تو پھر اس آیت کا نازل کرنا عبث اور بےفائدہ ہوگا کیونکہ جب وہ گناہوں سے معصوم ہیں اور ان سے گناہ ہو ہی نہیں سکتے تو پھر اس کہنے کا کیا فائدہ ہے کہ اللہ اہل بیت کو گناہوں سے مجتنب کرنے اور پاک کرنے کا ارادہ فرماتا ہے۔


(٤) اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ فرماتا ہے اس کا ہونا لازم اور ضروری ہوگا یا نہیں ہوگا اگر اس کا ہونا لازم اور ضروری نہیں ہے تو پھر اہل بیت کا گناہوں سے پاک ہونا بھی لازم اور ضروری نہیں ہوگا اور اس سے اہل بیت کا معصوم ہونا ثابت نہیں ہوگا ‘ اور اگر اس کا پورا ہونا لازم اور ضروری ہو تو پھر لازم آئے گا کہ تمام مسلمانوں کو معصوم مانا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وضو ‘ غسل اور تیمم کی مشروعیت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے : مایرید اللہ لیجعل علیکم من حرج و لکن یرید لیطھرکم ولیتم نعمتہ علیکم ۔ (سورہ المائدہ : ٦) ۔ اللہ تم کو کسی قسم کی تنگی میں ڈالنا نہیں چاہتا لیکن وہ تم کو پاک کرنے اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کرنے کا ارادہ فرماتا ہے ۔


بلکہ اس آیت سے اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تطہیر کی بہ نسبت عام مسلمانوں کی عصمت زیادہ مٶکد طریقہ سے ثابت ہوگی کیونکہ اس میں مسلمانوں کو صرف گناہوں سے پاک کرنے کا ذکر نہیں ہے بلکہ ان پر اپنی نعمت کو مکمل کرنے کا بھی ذکر ہے کیونکہ آیت تیمم غزوۃ المریسیع ٦ ھ میں نازل ہوئی ہے ۔ (الاسذکار جلد ٣ صفحہ ١٤١) اور غزوہ بدر ٢ ھ میں ہوا ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Wednesday, 14 October 2026

حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا جس سے ناراض ہو جائیں وہ صحابی نہیں غلام نبی نجفی کو مدلل جواب

حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا جس سے ناراض ہو جائیں وہ صحابی نہیں غلام نبی نجفی کو مدلل جواب






محترم قارئینِ کرام : حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا جس سے ناراض ہو جائیں وہ صحابی نہیں ۔ اگر اس میں میں اشارہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طرف ہے ⁦ تو ایسے جہلا کو یہ بھی بتا دو کہ حضرت سیدہ خاتون جنت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا تو حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ناراض ہو کے گھر تشریف لے گئی تھیں ؟ ۔ ان جہلا کی جہالت سے نہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ بچتے ہیں نہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ۔ شیعوں اور ان کے فضلہ خوروں کا کہنا ہے کہ حضرت سیدہ خاتون جنت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا جس سے ناراض ہو جائیں وہ صحابی نہیں ہے ۔ اگر واقعی ان جہلا کا یہی قانون اور قاعدہ ہے تو پھر ہم ان جہلا سے ہی کہتے ہیں کہ حضرت سیدہ خاتون جنت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حضرت سیدنا مولا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے بھی کئی بار ناراض ہوئیں ہیں ان دونوں کی آپس کی ناراضگی کے بارے میں یہ جہلا کیا کہیں گے ؟ ۔ ان کے بقول سوال تو بنتا ہے کہ پھر حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ صحابی و سر کا تاج رہے کہ نہ رہے ؟ ۔ أَسْتَغْفِرُ اللّٰه ۔

شیعہ محقق نعمة اللہ جزائری لکھتا ہے : حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کو شاہ حبشہ نے ایک لونڈی ہبہ کی انہوں نے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہبہ کر دی ۔ ایک دن حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا سر مبارک اس لونڈی کی گود میں تھا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اے ابو الحسن آپ نے اس سے جماع کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا خدا کی قسم اے بنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے اس سے کچھ نہیں کیا ۔ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراضگی کے عالم میں کہا کہ آپ مجھے رخصت دے دیں کہ میں اپنے والد گرامی کے گھر چلی جاوں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اس کی اجازت دے دی ۔ (شیعہ کتاب : انوار نعمانیہ جلد 1 صفحہ 62 ، 63،چشتی)(انوار نعمانیہ جلد 1 صفحہ 85 مطبوعہ بیروت لبنان)

شیعہ محقق نعمة اللہ جزائری لکھتا ہے : حدیث میں وارد ہوا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا کہ وہ باغ جس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لگایا تھا ۔ بازار جا کر تجار حضرات کے پاس فروخت کردو ۔ چنانچہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بارہ ہزار درہم پر اسے فروخت کر دیا ۔ اور یہ رقم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیش کر دی ۔ وہاں ایک اعرابی تھا اس نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے اس رقم میں سے چار ہزار چالیس درہم اس کو عطا کیے ۔ تو یہ خبر مدینہ شریف میں پھیل گئی ۔ لہٰذا تمام لوگ جمع ہو گئے ۔ اور ایک آدمی انصار میں سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور اس نے آپ کو مذکورہ واقعہ کی خبر دی ۔ تو آپ نے اسے دعا دی ۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وہاں بیٹھے ہوئے بقایا تمام رقم لوگوں میں تقسیم کر دی ۔ یہاں تک کہ ایک درہم بھی باقی نہ رکھا ۔ اس کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے میرے باپ کے باغ کو فروخت کر دیا ہے ؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہاں میں نے فروخت کر دیا ہے ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا کہ رقم کہاں ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ک میں نے اللہ کے راستہ میں تقسیم کر دی ہے ۔ اس کے جواب میں پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں بھوکی ہوں ہمارے بیٹے بھوکے ہیں اور آپ بھی ہماری طرح بھوکے ہیں اور ہمارے پاس ایک درہم بھی نہی ہے ۔ اور یہ کہہ کر حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دامن پکڑا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے فاطمہ مجھے چھوڑ دے ۔ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ہرگز نہی چھوڑوں گی ۔ یہاں تک کہ میرے اور آپ کے درمیان میر ے ابا جان فیصلہ فرمائیں ۔ پس حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو اور علی کو اللہ تعالی سلام فرماتا ہے ۔ اور آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فرما دیجیے کہ تیرے لیے یہ جائز نہی کہ تو علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر مارے اور اس کے دامن کو نہ چھوڑے ۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے گھر آئے ۔ تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کادامن پکڑا ہوا تھا ۔ تو آپ نے فرمایا کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دامن کو کیوں پکڑ ا ہوا ہے ۔ پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مذکورہ واقعہ سنایا تو اس پر آپ نے فرمایا کہ اے بیٹی میرے پاس جبرائیل تشریف لائے تھے اور مجھے اور علی رضی اللہ عنہ کو اللہ کا سلام پہنچایا اور فرمایا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فرما دیجیے کہ تیرے لیے جائز نہیں ہے کہ تو حضرت علی کے ہاتھوں پر مارے لہٰذا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا اور معافی مانگی ۔ (شیعہ کتاب : انوارنعمانیہ جلد 1 صفحہ 48 مطبوعہ دارالکوفہ،چشتی)(انوار نعمانیہ جلد 1 صفحہ 66 مطبوعہ بیروت لبنان)

حضرت سیدہ فاطمہ حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہما) سے ناراض تھیں کا جواب : ⏬

محترم قارئینِ کرام : شیعہ رافضی اور نیم رافضی تفضیلی حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنه پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو باغ فدک نہیں دیا جس کی وجہ سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اپنی وفات تک حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اپنی وفات تک ناراض رہیں ان سے بات نہیں کی ۔ یہ شیعہ رافضی اور نیم رافضی تفضیلی کے جھوٹ میں سے ایک بہت بڑا جھوٹ ہے جبکہ ان کی خود کی کتب میں اس بات کی تردید موجود ہے ۔ رافضیوں کے رد میں لکھی گئی لاجواب کتاب تحفہ اثنا عشریہ میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : اہل سنت کی روایات تو وہ بھی مدارج النبوت کتاب الوفاق ۔ بیہقی اور مشکوۃ شریف میں موجود ہیں بلکہ شرح مشکوۃ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه اس قضیہ کے بعد حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنه کے گھر تشریف لے گئے اور دھوپ میں دروازہ پر کھڑے ہوئے اور عذر چاہا اور حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنه ان سے راضی ہوئیں ۔
ریاض النضرہ میں بھی یہ قصہ تفصیل سے مذکور ہے اور فصل الخطاب میں بروایت بیہقی شعبی سے یہ قصہ منقول ہے اور ابن الدمام کتاب الموافقہ میں اوزاعی سے روایت ہے کہ گرمی کے دن حضرت سیدنا صدیق اکبر حضرت فاطمہ رضی الله عنه کے دروازہ پر تشریف لائے اور فرمایا اے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی میں اس جگہ سے نہیں ہٹوں گا جب تک آپ راضی نہ ہوجائیں تو حضرت علی رضی اللہ عنه حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنه کے پاس گئے اور ان کو قسم دی کہ وہ راضی ہوجائیں پس حضرت فاطمہ راضی ہوئیں ۔
اور شیعہ میں زیدیہ تو نعیمیہ اہل سنت کی روایت کے موافق روایت کرتے ہیں اور امامیہ میں سے صاحب محجاج السالکین اور دوسرے یو روایت کرتے ہیں : ⬇

ان ابابكر لماراى ان فاطمة انقبضهت عنه وحجرته ولم تتكلم بعد ذلك فى امر فدك كبر ذلك عنده فاراد استرمناء ها فقال لها صدقت يا ابنة رسول الله فيما ادعيت ولكنى رايت رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم يقسمهما فيعطى الفقراء والمساكين وابن السبيل بعد ان يوتى منها قوتكم والصانعين بها فقالت افعل فيها كما كان ابى رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم یفعل فیھا فقال ذلك الله على ان افعل فيها ماكان يفعل ابوك فقالت والله لتفعلن فقال والله لا فعلن فقالت اللهم اشهد فرضيت بذلك واخذت العهد عليه وكان ابوبكر يعطيهم منها قوتهم ويقسم الباقى فيعطىالفقراء والمساكين وابن السبيل ۔
ترجمہ : (حضرت) ابوبکر نے دیکھا کہ حضرت فاطمہ مجھ سے کبیدہ خاطر ہوئیں اور مجھ سے تعلقات توڑ لئے اور اس کے بعد گسل کے معاملہ مین کوئی بات نہیں اٹھائی تو یہ بات ان پر بہت شاق گذری چاہا کہ ان کو اپنے سے راضی کریں پس آئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس اور کہا ان سے اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی تم اپنے دعوے میں سچی تھیں لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دیکھا کہ اس کو تقسیم کیا کرتے تھے فقیروں مسکینوں اور مسافروں کودیا کرتے جب تم کو تمہارے گذارے کے موافق اور اس میں کام کرنے والوں کو دے چکتے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو کرو اس میں جیسا میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کیا کرتے تھے پھر کہا حضرت ابوبکر نے قسم ہے خدا کی تمہارے واسطے کرونگا وہ کام جو کچھ تمہارے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کیا کرتے تھے تو آپ بولیں قسم خدا کی آپ ایسا ہی کرو گے حضرت ابوبکر نے فرمایا قسم بخدا میں ضرور کرونگا تو اسپر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنه نے ارشاد فرمایا اے اللہ تو گواہ رہنا پس راضی ہوئی حضرت فاطمہ حضرت ابوبکر سے اور اسپر عہد لیا پھر حضرت ابوبکر (باغ فدخل سے) دیا کرتے تھے انکا گذار اس سے اور باقی فقیروں مسکینوں اور مسافروں پر تقسیم کرتے ۔ (یہ عبارت شعیہ کتاب محجاج السالکین اور دوسری معتبر کتابوں کی عبارت ہے)

اس عبارت سے صاف پتہ چلا کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ نے حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ کے دعوے کی تصدیق فرمائی لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا اس میں تاحین حیات تصرف کرنا اور اس پر قبضہ نہ کرنا اس کو انہوں نے ملک کے مخالف جانا جیسا کہ تمام امت کے نزدیک یہ طے شدہ بات ہے اب حضرت ابوبکرصدیق نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے دعوے کی تصدیق فرمائی تو پھر ام ایمن اور حضرت علی رضی للہ عنہ کے گواہ بنانے کی ضرورت کیا رہ گئی ۔

خدا کا شکر ہے خود روایات شیعہ (امامیہ) کی رو سے حق منکشف ہوگیا اور تہمت جو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ پر لگائ تھی کہ آپ نے شہادت کو رد کیا اور دعوے کو کیا سراسر جھوٹ ثابت ہوئی ۔
والله يحق الحق ويبطل الباطل ۔
ترجمہ : اور اللہ حق کوثابت کرتا ہے اور باطل کو باطل ۔
حافظ ابن کثیر ( متوفی 774ھ) تصریح فرماتے ہیں : فلما مرضت جاءها الصدیق فدخل علیها فجعل یترضاها فرضِیت ۔
ترجمہ : جب فاطمہ رضی اللہ عنہس بیمار پڑگئیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کےپاس تشریف لائے اور ان کو راضی کرنے لگے حتیٰ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ان سے راضی ہوگئیں۔ (البدایۃ والنھایۃ: 6؍33… نیز دیکھئے العواصم من القواصم: ص38،چشتی)

امام محمد بن سعد (متوفی 230، 235ھ) کی تصریح : أخبرنا عبد الله بن عمر حدثنا إسماعیل عن عامر الشعبی قال جاء أبوبکر إلىٰ فاطمة حین مرضت فاستأذن. فقال علي: هٰذا أبوبکر على الباب فإن شئتِ أن تأذن له. قالت وذلك أحب إلیك، قال نعم فدخل علیها واعتذر إلیها وکلّمها فرضیتْ عنه ۔
ترجمہ : حضرت عامر شعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا بیمار پڑگئیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہوکر اندر داخل ہونے کی اجازت طلب فرمائیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اے فاطمہ ! ابوبکر اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں (اگر اجازت ہو) تو حضرت فاطمہ نے فرمایا : اگر آپ کو ان کے اندر آنے پراعتراض نہ ہو تو تشریف لے آئیں ۔ حضرت علی نے فرمایا : مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔ تب ابوبکر صدیق اندر آگئے اور معذرت کرتے ہوئے ان کو راضی کرنے لگے ۔ حضرت فاطمہ نے ان کی معذرت کو پذیرائی بخشتے ہوئے صلح کرلی اور ان سے راضی ہوگئیں ۔ (طبقات ابن سعد: 8؍17، تذکرہ فاطمہ؛ورحمآء بینهم : 1؍147،چشی)(ریاض النضرہ فی مناقب العشرة:1 ؍115)

امام بیہقی کی تصریح : عن الشعبی قال لما مرضت فاطمة أتاها أبوبکر الصدیق فاستأذن علیها فقال علي: یا فاطمة! هٰذا أبوبکر یستأذن علیك فقالت أتحب أن أذن له قال نعم فأذنت له فدخل علیها یترضاها وقال والله ماترکت الدار والمال والأهل والعشیرة إلا ابتغاء مرضاة الله ومرضاة رسوله ومرضاتکم أهل البیت ثم ترضاها حتی رضیت ۔ هٰذا مرسل حسن بإسناد صحیح ۔
ترجمہ : جب حضرت فاطمۃ الزہراء بیمار ہوئیں تو حضرت ابوبکر صدیق ان کی تیمار داری کے لیے تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت طلب فرمائی۔ حضرت علی نے حضر ت فاطمہ سےکہا کہ ابوبکر صدیق اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں ۔ حضرت فاطمہ نے کہا کہ اگر ان کا آنا آپ کو پسند ہے تو ٹھیک، حضرت علیؓ نے فرمایا: ان کا اندر آنا مجھے گوارا ہے۔اجازت ہوئی، ابوبکر صدیق اندر تشریف لائے اور حضرت فاطمہ کی رضا مندی حاصل کرنے کی خاطر گفتگو شروع کرتے ہوئے حضرت ابوبکر نے فرمایا : اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی رضا مندی کی خاطر اور آپ (اہل بیت) کی خوشنودی کے لیے ہم نے گھر بار مال و دولت، خویش و اقربا کو چھوڑا۔ اس طرح کی گفتگو کاسلسلہ شروع رکھا حتیٰ کہ سیدہ فاطمہؓ ابوبکر صدیقؓ سے راضی ہوگئیں ۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی مع الجوہر النقی : 6؍301)(فتح الباری : 6 ؍151)

امام اوزاعی کی تصریح:عن الأوزاعی قال: فخرج أبوبکر حتی قام علىٰ بابها في یوم حار ثم قال لا أبرح مکاني حتی ترضی عني بنت رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فدخل علیها علي فأقسم علیها لترضی فرضیت۔
’’امام اوزاعی سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ایک گرم دن میں حضر ت فاطمہ کے دروازہ پر پہنچے او رفرمایا : جب تک رسول زادی مجھ سے راضی نہ ہوگی یہاں سے ہٹنے کا نہیں۔ حتیٰ کہ حضرت علی حضر ت فاطمہ کے پاس آئے اور ان کو قسم دی کہ آپ ابوبکر سے راضی ہوجائیں تو اس پر حضرت فاطمہ راضی ہوگئیں ۔ (أخرجه ابن السمان في الموافقه، ریاض النضرۃ فی مناقب العشر المبشرۃ : 1؍156 ،157 و تحفۃ اثنا عشریۃ جواب طعن سیزدہم)

حضرت سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے سخت ناراض ہوگئیں تھی شیعہ اعتراض : ⬇

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وصال کے بعد سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ سے باغ فدک کا مطالبہ کیا تو انہوں نے سیدہ کو باغ فدک دینے سے صاف انکار کردیا جس پر سیدہ ناراض ہوگئیں اور مرتے دم تک حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ سے نہ بولیں ۔ حتی کہ یہ وصیت کرگئیں کہ میرے جنازہ میں ابوبکر شریک نہ ہوں۔ چنانچہ بوقت وفات حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے ابوبکر کو اطلاع بھی نہ دی اور راتوں رات سیدہ کو دفن کردیا ۔ دیکھو ابوبکر نے جگرپارۂ رسول کو ناراض کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ہے فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی اذیت سے مجھے بھی اذیت ہوتی ہے تو ابوبکر نے فقط فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو غضب ناک نہیں کیا بلکہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو غضبناک کیا اور اغضاب النبی علی حد الشرک ۔ (خلاصہ از کتاب سواء السبیل ص159، مصنف محمد مہدی شیعہ عالم)

جواب : یہ تھی شیعہ مولوی کی تحریر جس میں شیعہ بدخت نے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ کو مشرک تک کہہ دیا (معاذ ﷲ) اس پوری تحریر میں صرف اتنی بات صحیح ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے اپنے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وصال کے بعد سیدنا صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ سے باغ فدک کا مطالبہ کیا تو سیدنا صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے جواب میں اپنے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حدیث شریف سیدہ کو سنائی ۔
حدیث شریف : حضرت عروہ بن زبیر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ کےلیے پیغام بھیجا ۔ ان سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی میراث کا مطالبہ کرتے ہوئے جو ﷲ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو مدینہ منورہ اور فدک میں عطا فرمایا تھا اور جو خیبر کے خمس سے باقی تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ارشاد ہے ۔ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ہم جو کچھ چھوڑیں ، وہ صدقہ ہے مال سے آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کھاتے ہیں اور خدا کی قسم میں رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صدقہ میں ذرا سی تبدیلی بھی نہیں کروں گا اور اسی حال میں رکھوں گا جس حال میں وہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے عہد مبارک میں تھا اور میں اس میں عمل نہیں کروں گا مگر اسی طرح جیسے رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کیا کرتے تھے۔ پس حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے اس میں سے حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو کچھ دینے سے انکار کردیا ۔ (سنن ابو داٶد جلد دوم، کتاب الخراج، حدیث 1194، ص 455، مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہور،چشتی)

یہ ناراضگی اور جنازہ میں عدمِ شرکت کا قصہ صرف اس لیے بنایا گیا ہے کہ شیعوں کے زعم باطل کے مطابق حضرت فاطمہ فدک کی وجہ سے آپ سے ناراض تھیں ، کیونکہ اگر یہ ثابت ہوجائے۔ سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر سے راضی تھیں تو شیعوں کےلیے طعن کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی ۔ اس لیے ہم فریقین کی کتب سے سیدہ فاطمہ کا حضرت ابوبکر سے راضی ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہیں : ⏬

شیعوں کی معتبر اور مشہور ترین کتاب شرح نہج البلاغہ ابن میسم بحرانی جز 35 ص 543 میں یہ روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے جب سیدہ کا کلام سنا تو حمد کی درود پڑھا اور پھر حضرت فاطمہ کو مخاطب کرکے کہا کہ اے افضل عورتوں میں اور بیٹی اس ذات مقدس کی جو سب سے افضل ہے۔ میں نے رسول کی رائے سے تجاوز نہیں کیا۔ اور نہیں عمل کیا میں نے ،مگر رسول کے حکم پر۔ بے شک تم نے گفتگو کی اور بات بڑھا دی اور سختی اور ناراضگی کی۔ اب ﷲ معاف کرے ہمارے لیے اور تمہارے لیے۔ اور میں نے رسول کے ہتھیار اور سواری کے جانور علی کو دے دیئے لیکن جو کچھ اس کے سوا ہے اس میں، میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : انا معاشر الانبیاء لا نورث ذہباً ولا فضۃ ولا ارضاً ولا عقاراً ولا داراً ولکنا نورث الایمان والحکمۃ والعلم والسنۃ وعملت بما امرنی ونصحت ۔
ترجمہ : ہم جماعت انبیاء نہ سونے کی میراث دیتے ہیں نہ چاندنی کی، نہ زمین کی، نہ کھیتی کی اور نہ مکان کی میراث دیتے ہیں لیکن ہم میراث دیتے ہیں ایمان اور حکمت اور علم اور سنت کی اور عمل کیا میں نے اس پر جو مجھے حکم کیا تھا (رسول نے) اور میں نے نیک نیتی کی ۔
اس کے بعد یہ ہے کہ حضرت فاطمہ نے یہ فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فدک کو ہبہ کردیا تھا جس پر انہوں نے علی اور ام ایمن کو گواہ پیش کیا۔ جنہوں نے گواہی دی پھر عمر آئے۔ انہوں نے اور عبدالرحمن بن عوف نے یہ گواہی دی کہ حضور فدک کی آمدنی تقسیم فرما دیتے تھے۔ اس پر حضرت صدیق اکبر نے فرمایا۔کان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یاخذ من فدک قوتکم ویقسم الباقی ویحمل فیہ فی سبیل ﷲ ولک علی اﷲ ان اصنع بہاکما کان یصنع فرضیت بذلک واخذت العہد علیہ بہ وکان یاخذ غلتھا فیدفع الیہم منھاما یکفیہمم ثم فعلت الخلفاء بعدہ ذلک ۔ (شرح میثم، مطبوعہ ایران، ج 35)

تم سب سچے ہو ۔ مگر اس کا تصفیہ یہ ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فدک کی آمدنی سے تمہارے گزارے کےلیے رکھ لیتے تھے، اور باقی جو بچتا تھا اس کو تقسیم فرما دیتے تھے اور ﷲ کی راہ میں اس میں سے اٹھا لیتے تھے اور میں تمہارے لیے ﷲ کی قسم کھاتا ہوں کہ فدک میں وہی کروں گا جو رسول کرتے تھے تو اس پر فاطمہ راضی ہوگئیں اور فدک میں اسی پر عمل کرنے کو ابوبکر سے عہد لے لیا اور ابوبکر فدک کی پیداوار کرلیتے تھے اور جتنا اہل بیت کا خرچ ہوتا تھا ان کے پاس بھیج دیتے تھے اور پھر ابوبکر کے بعد اور خلفاء نے بھی اسی طرح کیا ۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت سیدہ کی رضا مندی والی یہ روایت صرف ابن میثم ہی نے نہیں بلکہ متعدد علمائے شیعہ نے اپنی کتابوں میں ذکر کی ہے جن کے نام یہ ہیں ۔ (درنجیفہ شرح نہج البلاغہ مطبوعہ طہران ص 332)(حدیدی شرح نہج البلاغۃ جلد دوم، جز 16،ص 296،چشتی)(سید علی نقی فیض الاسلام کی تصنیف فارسی شرح نہج البلاغہ، جز 5،ص 960)

رضامندی کی اس روایت سے مندرجہ ذیل امور معلوم ہوئے : ⏬

اول : فدک کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے طرز عمل اور صدیق اکبر کے طرز عمل میں کوئی تفاوت نہیں تھا ۔
دوم : حضرت فاطمہ صدیق اکبر سے راضی تھیں اور صدیقی طرز عمل آپ کو پسند تھا ۔
قارئین کرام : للہ انصاف کیجئے ! اس روایت سے جو شیعوں کی معتبر مذہبی کتاب کی ہے بالکل واضح طور پر یہ ثابت ہوگیا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا قضیہ فدک میں حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے اور ان کے اس فیصلہ سے جو انہوں نے حدیث رسول کے ماتحت کیا راضی ہوگئیں اور سیدہ نے اس امر کا حضرت ابوبکر سے عہد بھی لے لیا کہ ابوبکر فدک کی آمدنی سے اہل بیت کے اخراجات پورے کریں گے ۔ ایسی صاف و صریح رضامندی کے بعد بھی شیعہ حضرات جناب صدیق اکبر پر زبانِ طعن دراز کریں تو اس کا علاج واقعی کچھ نہیں ہے ۔ مگر یہ ظاہر ہے کہ سیدہ کے راضی ہوجانے کے بعد کسی محب اہل بیت کےلیے تو یہ گنجائش باقی نہیں رہتی کہ وہ صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ پر طعن کر سکے ۔ البتہ نا انصافی سے کام لینا دوسری بات ہے ۔
سوم : اہل بیت کے اخراجات تمام عمر حضرت صدیق اکبر فدک کی آمدنی سے پورے کرتے رہے اور سیدہ اپنے اخراجات حضرت صدیق اکبر سے وصول کرتی رہیں اور صدیق اکبر کے طرز عمل کو سراہتی رہیں ۔
چہارم : نہ صرف صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ بلکہ تینوں خلفاء بھی ایسا ہی کرتے رہے اور انہوں نے فدک میں وہ طرز عمل اختیار کیا جو حضور علیہ السلام اور ان کے بعد صدیق کبر نے اختیار کیا ۔

حضرت عمر رضی ﷲ عنہ سے بھی سیدہ راضی تھیں : ⏬

شیعوں کی مشہور مذہبی کتاب حق الیقین مطبوعہ ایران کے صفحہ 71 پر ہے : کہ چوں علی وزبیر بیعت کرد ونداویںفتنہ فرد نشست، ابوبکر آمدہ شفاعت از برائے عمر ف فاطمہ از وراضی شد ۔
پھر جب حضرت علی و زبیر نے بیعت کرلی تو حضرت ابوبکر آئے اور حضرت عمر کے متعلق سفارش کی تو حضرت فاطمہ عمر سے بھی راضی ہوگئیں ۔
اسی طرح طبقات ابن سعد جلد 8 مطبوعہ ایران کے ص 17 پر ہے : جاء ابوبکر الی فاطمۃ حین مرضت فاستا دن فقال علی ہذا ابوبکر علی الباب فان شئت ان تاذنی لہ قالت وذلک احب الیک قال نعم فدخل علیہا واعتذر الیہا وکلمہا ورضیت عنہ ۔
حضرت ابوبکر فاطمہ کے پاس آئے جبکہ وہ بیمار تھیں ۔ انہوں نے اجازت چاہی تو حضرت علی نے کہا ابوبکر دروازہ پر ہیں اگر تم چاہو تو ان کی اجازت دے دو ۔ حضرت فاطمہ نے کہا کہ تم (علی) اس کو محبوب رکھتے ہو ۔ علی نے فرمایا۔ ہاں پس حضرت ابوبکر داخل ہوئے عذر کیا اور فاطمہ حضرت ابوبکر سے راضی ہوگئیں ۔
ایک منصف مزاج انسان کی یہ شان نہیں ہے کہ صرف ایک حدیث یا ایک روایت سے کوئی نتیجہ نکال کر خود فیصلہ کرلے ۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی واقعے کو جانچنے کےلیے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا  جائے ، تا کہ ہر راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی ہو سکے ۔
حدیثِ بخاری : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ،‏‏‏‏ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ “”لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ””، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الْأَشْهُرَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَكَ كَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ لَا وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ وَمَا عَسَيْتَهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا فَضْلَكَ وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَكُنَّا نَرَى لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبًا حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَبِي بَكْرٍ:‏‏‏‏ مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةَ لِلْبَيْعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الظُّهْرَ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ وَحَدَّثَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَىأَبِي بَكْرٍ وَلَا إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَكِنَّا نَرَى لَنَا فِي هَذَا الْأَمْرِ نَصِيبًا، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا:‏‏‏‏ أَصَبْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ ۔ (صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4240کتاب غزوات کے بیان میں ۔ باب : غزوہ خیبر کا بیان،چشتی)
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا اور ان سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اس مال سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ اور فدک میں عنایت فرمایا تھا اور خیبر کا جو پانچواں حصہ رہ گیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خود ہی ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ‘ البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اسی مال سے کھاتی رہے گی اور میں، اللہ کی قسم! جو صدقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم چھوڑ گئے ہیں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا۔ جس حال میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں  ( اس کی تقسیم وغیرہ )  میں میں بھی وہی طرز عمل اختیار کروں گا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا اپنی زندگی میں تھا۔ غرض ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ بھی دینا منظور نہ کیا۔ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خفا ہو گئیں اور ان سے ترک ملاقات کر لیا اور اس کے بعد وفات تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد چھ مہینے تک زندہ رہیں۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات میں دفن کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر نہیں دی اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھ لی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب تک زندہ رہیں علی رضی اللہ عنہ پر لوگ بہت توجہ رکھتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اب لوگوں کے منہ ان کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں۔ اس وقت انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کر لینا اور ان سے بیعت کر لینا چاہا۔ اس سے پہلے چھ ماہ تک انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت نہیں کی تھی پھر انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہلا بھیجا کہ آپ صرف تنہا آئیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لائیں ان کو یہ منظور نہ تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ آئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! آپ تنہا ان کے پاس نہ جائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں وہ میرے ساتھ کیا کریں گے میں تو اللہ کی قسم! ضرور ان کی پاس جاؤں گا۔ آخر آپ علی رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کو گواہ کیا ‘ اس کے بعد فرمایا ہمیں آپ کے فضل و کمال اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخشا ہے ‘ سب کا ہمیں اقرار ہے جو خیر و امتیاز آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ہم نے اس میں کوئی ریس بھی نہیں کی لیکن آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی  (کہ خلافت کے معاملہ میں ہم سے کوئی مشورہ نہیں لیا)  ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ اپنی قرابت کی وجہ سے اپنا حق سمجھتے تھے  ( کہ آپ ہم سے مشورہ کرتے )  ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ان باتوں سے گریہ طاری ہو گئی اور جب بات کرنے کے قابل ہوئے تو فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی قرابت کے ساتھ صلہ رحمی مجھے اپنی قرابت سے صلہ رحمی سے زیادہ عزیز ہے۔ لیکن میرے اور لوگوں کے درمیان ان اموال کے سلسلے میں جو اختلاف ہوا ہے تو میں اس میں حق اور خیر سے نہیں ہٹا ہوں اور اس سلسلہ میں جو راستہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا دیکھا خود میں نے بھی اسی کو اختیار کیا۔ علی رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ دوپہر کے بعد میں آپ سے بیعت کروں گا۔ چنانچہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر آئے اور خطبہ کے بعد علی رضی اللہ عنہ کے معاملے کا اور ان کے اب تک بیعت نہ کرنے کا ذکر کیا اور وہ عذر بھی بیان کیا جو علی رضی اللہ عنہ نے پیش کیا تھا پھر علی رضی اللہ عنہ نے استغفار اور شہادت کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حق اور ان کی بزرگی بیان کی اور فرمایا کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کا باعث ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حسد نہیں تھا اور نہ ان کے فضل و کمال کا انکار مقصود تھا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عنایت فرمایا یہ بات ضرور تھی کہ ہم اس معاملہ خلافت میں اپنا حق سمجھتے تھے  (کہ ہم سے مشورہ لیا جاتا)  ہمارے ساتھ یہی زیادتی ہوئی تھی جس سے ہمیں رنج پہنچا۔ مسلمان اس واقعہ پر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ آپ نے درست فرمایا۔ جب علی رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ میں یہ مناسب راستہ اختیار کر لیا تو مسلمان ان سے خوش ہو گئے اور علی رضی اللہ عنہ سے اور زیادہ محبت کرنے لگے جب دیکھا کہ انہوں نے اچھی بات اختیار کرلی ہے ۔

کسی بھی واقعے کو پرکھنے کےلیے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا جاتا ہے، تا کہ ہر راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی ہوسکے ۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مطالبہ فدک کی احادیث اور تاریخی روایات با سند کتب سے تقریباً 36 مقامات پر موجود ہے ۔ ان مقامات میں مذکورہ واقعہ بعض جگہ مفصل ہے اور بعض جگہ مختصر بیان ہوا ہے ۔ غور و فکر سے واضح ہوا ہے کہ تمام 36 مقامات میں سے گیارہ عدد روایات وہ روایات ہیں جن کی سند میں ابن شہاب زہری نہیں ہے ۔ صحابہ کرام مثلآ حضرت ابوھریرہ ، ابوالطفیل عامر بن واثلہ ام بانی رضی اللہ عنہم سے یہ روایات مروی ہیں ۔ یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے منقول نہیں ہیں ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں کسی ایک مقام پر رنجیدگی و کشیدگی کا نام و نشان نہیں ۔
پچیس مقامات جن کی سند میں ابن شہاب الزہری موجود ہے ، دو طرح کی روایات ہیں ۔
ایک صورت یہ ہے کہ سند میں زہری موجود ہونے کے باوجود مناقشہ نما الفاظ بالکل مفقود ہیں اور کشیدگی سیدہ فاطمہ کا کوئی تذکرہ نہیں ، ایسے مقامات تقریبآ نو عدد ہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ روایات میں وجدد و عدم تکلم وغیرہم منقول ہیں، ان مقامات کی ہر سند میں زہری موجود ہے۔ تقریبآ سولہ مقامات ہیں ۔ تحقیق کے مطابق تقریبآ16 مختلف مقامات پر اس اہم واقعے کو رنجیدگی سے بیان کیا گیا ہے ۔
جن روایات میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جواب سن لینے کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا غضبناک ہوجانا، ناراض ہوجانا، حضرت ابوبکر کو چھوڑ دینا، کلام نہ کرنا وغیرہ مذکور ہے ، ان تمام روایات میں “ابن شہاب الزہری” ہی اس واقعے کو آگے بیان کر رہا ہے ۔
کافی تحقیق کے بعد بھی کوئی ایک روایت ایسی نہیں مل سکی جہاں سیدہ فاطمہ کی ناراضگی و ہجران کا ذکر موجود ہو اور وہ روایت “ابن شہاب الزہری” کے بغیر کسی دوسرے راوی سے مروی ہو ۔ اس ایک راوی (زہری) نے جو عروہ سے اور وہ سیدہ عائشہ سے ناقل ہے ، اپنے زعم میں سیدہ فاطمہ کی خاموشی اختیار کرنے کو ناراضگی اور غضبناکی پر محمول کر کے یہ الفاظ ذکر کردیئے۔ حالانکہ کسی چیز کے متعلق سکوت و خاموشی اختیار کرلینا ہمیشہ رنجیدگی کی وجہ سے ہی نہیں ہوتا۔ خاموشی نیم رضامندی بھی ہوا کرتی ہے۔ (یہ ایک مشہور مقولہ بھی ہے) کسی بات کے متعلق اطمینان ہوجانے کی صورت میں انسان سکوت اختیار کرلیتا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر کے پاس پردہ میں گئیں تھیں یا بے پردہ ؟
ظاہر ہے سیدہ کے لئے بے پردہ جانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔
پھر  راوی نے سیدہ فاطمہ کی خاموشی سے یہ اندازہ کیسے لگا لیا کہ سیدہ فاطمہ ناراض ہوگئیں ہیں ؟؟
ظاہر ہے غصہ چہرے سے یا دوسری حرکات سے معلوم کیا جاتا ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اہل علم کی اصطلاح میں اس کو “ظن راوی” یعنی راوی کا گمان کہا جاتا ہے۔ اس روایت میں راوی کا اپنا ظن و گمان ہے، اور وہ راوی ابن شہاب زہری ہے ۔ اگر اس حدیث سے سیدہ فاطمہ کا ناراض ہوجانا ہی ثابت کرنا ہے تو مخالفین کو ان سوالوں کے جوابات دین نے ہوں گے ۔ ⬇

راوی کو آخر کس طرح سیدہ فاطمہ کے دل کی بات معلوم ہوگئی ؟
ظاہر ہے ، سیدہ فاطمہ تو پردے میں تھیں اور ناراضگی کے الفاظ ادا بھی نہیں فرمائے ۔
سیدہ فاطمہ کس پر ناراض ہوئیں ؟ حضرت ابوبکر صدیق پر یا اپنی ذات پر ۔ اگر حضرت ابوبکر صدیق پر ناراض ہوئیں تو نص حدیث سے سیدہ فاطمہ کی زبان مبارک سے ناراضگی کے الفاظ دکھانے پڑیں گے ۔
ہمارہ ایمان ہے کہ سیدہ فاطمہ کبھی بھی اپنے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا فرمان سن کر غصہ نہیں ہو سکتیں ، اور وہ بھی دنیا کی ایک ملکیت کے لئے۔۔۔ یہ ایک ناممکن بات ہے ۔
غور فرمائیں ۔۔اس حدیث میں “غضبت علی ابی بکر صدیق” یا اسی قسم کے الفاظ کہیں بھی مذکور نہیں ہیں۔
ناراضگی کے الفاظ راوی کے اپنے ہیں۔ سیدہ کی اپنی زبان سے ایسا کوئی لفظ ادا نہیں ہوا۔
اور یہ بھی غور طلب بات ہے  کہ ناراضگی کے الفاظ صرف ایک راوی “ابن شہاب الزہری” سے ہی مروی ہیں۔ جبکہ یہی واقعہ کئی کتب میں مختلف راویوں سے بھی مروی ہے، کسی دوسرے نے ناراضگی کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔
یہ روایت حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے ، ان سے حضرت عروہ نے لی ہے، حضرت عروہ 22/23 ھجری میں پیدا ہوئے تھے، یہ فدک کا واقعہ 11 ھجری کا ہے، یعنی حضرت عروہ بھی موقعے پر موجود نہ تھے۔۔ ابن شہاب الزہری نے یہ روایت کرتے وقت اپنا گمان بیان کیا ہے۔
سیدہ فاطمہ کی ناراضگی کا یقین صرف اس ایک راوی “ابن شہاب الزہری” کو کیسے ہوا؟؟ جبکہ وہ موقعے پر موجود بھی نہ تھا ۔

حدیث میں ترک کلام کا اصل مطلب : ⏬

ترک کلام فدک کے معاملے میں تھا ، سیدہ فاطمہ نے اس مطالبہ اور اس فیصلے کو قول نبوی کے بعد تسلیم کیا اور بعد میں راضی بھی ہوگئیں اس لیے فدک کے معاملے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کوئی بات نہیں کی ، جبکہ اہل سنت و شیعہ کتب کی کچھ روایات سے سیدہ فاطمہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کی فدک کے معاملے کے بعد بھی ملاقات ثابت ہے ۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ۔
روایات فریقین سے ظاہر ہے کہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا بوقتِ وفات حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے راضی تھیں اور کسی قسم کی کبیدگی ان کے درمیان نہ تھی ۔ اگر بالفرض حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا واقعی مطالبہ میراث پورا نہ ہونے پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوگئی تھیں تو ان مذکورہ روایات کے مطابق ان کا راضی ہوجانا بھی ثابت ہو رہا ہے ۔ اللہ عزوجل ہمیں ہر قسم کی جہالت ، تعصب اور بے ادبی سے بچاۓ آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Sunday, 11 October 2026

مالک بن نویرہ مرتد ہو گیا تھا سنیوں کے لبادے میں چھپے روافض کی ہفوات کا مدلل جواب

مالک بن نویرہ مرتد ہو گیا تھا سنیوں کے لبادے میں چھپے روافض کی ہفوات کا مدلل جواب

محترم قارئینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ يَّرۡتَدَّ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِهٖ فَسَوۡفَ يَاۡتِى اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ يُجَاهِدُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوۡنَ لَوۡمَةَ لَاۤئِمٍ‌ ؕ ذٰ لِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ۔ (سورہ المائدہ آیت نمبر 54)

ترجمہ : اے ایمان والو ! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے مرتد ہوجائے گا ‘ تو عنقریب اللہ ایسی قوم کو لے آئے گا جس سے اللہ محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کرے گی ‘ وہ مومنوں پر نرم ہوں گے اور کافروں پر سخت ہوں گے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا بہت حلم والا ہے ۔


اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا جو کافروں کے ساتھ دوستی رکھے گا ، اس کا ان ہی میں شمار ہوگا اور اس آیت میں صراحتا فرما دیا ، جو شخص دین اسلام سے مرتد ہوجائے گا ، اس سے اللہ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں بھی کچھ لوگ مرتد ہوئے اور کچھ آپ کے بعد مرتد ہوئے ۔


علامہ جار اللہ محمود بن عمر زمحشری متوفی ٥٢٨ ھ لکھتے ہیں : مرتدین کے گیارہ فرقے تھے ، تین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں تھے ۔ ایک فرقہ بنو مدلج تھا ‘ ان کا رئیس ذوالحمار تھا اور یہی اسود عنسی تھا۔ یہ شخص کاہن تھا ‘ اس نے یمن میں نبوت کا دعوی کیا اور ان شہروں پر غلبہ پالیا ‘ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض عاملوں کو نکال دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور یمن کے سرداروں کے نام خط لکھا ۔ اللہ تعالیٰ نے فیروز دیلمی کے ہاتھوں میں اس کو ہلاک کرا دیا ‘ انہوں نے اس کو قتل کر دیا ۔ جس رات وہ قتل ہوا ‘ اسی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے قتل کی خبر مسلمانوں کو دے دی تھی ‘ جس سے مسلمان خوش ہوئے ‘ پھر اس کے دوسرے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رفیق اعلی سے واصل ہوگئے ‘ اور وہاں سے اس کی خبر ربیع الاول کے آخر میں پہنچی تھی ۔ 


دوسرا فرقہ بنوحنیفہ ہے ۔ یہ مسیلمہ کی قوم تھی ‘ اس نے نبوت کا دعوی کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف مکتوب لکھا ‘ ” از مسیلمہ رسول اللہ برائے محمد رسول اللہ ‘ بعد ازیں یہ کہنا ہے کہ یہ زمین آدھی آپ کی ہے اور آدھی میری ہے “۔ رسول اللہ نے اس کا جواب دیا ‘ از محمد رسول اللہ برائے مسیلمہ کذاب ‘ بعد ازیں یہ کہنا ہے کہ تمام زمین اللہ کی ملکیت ہے ‘ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ‘ اس کا وارث بناتا ہے ‘ اور نیک انجام متقین کے لیے ہے “۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ اس سے جنگ کی اور یہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں قتل ہوا ۔ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کہتے تھے میں نے اپنی جاہلیت کے زمانہ میں سب سے نیک شخص کو قتل کیا اور اپنے اسلام کے زمانہ میں سب سے بدتر شخص کو قتل کیا ۔ 


تیسرا فرقہ بنو اسد تھا ‘ یہ علیحہ بن خویلد کی قوم تھی ‘ اس شخص نے بھی نبوت کا دعوی کیا تھا ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے جنگ کے لیے حضرت خالد بن ولید کو بھیجا ‘ یہ شکست کھانے کے بعد شام بھاگ گیا ‘ پھر مسلمان ہوگیا اور اس نے نیک عمل کیے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں مرتدین کے سات فرقے تھے ۔ (1) عینہ بن حصن کی قوم فزارہ ۔ (2) قرہ بن قشیری کی قوم غطفان ۔ (3) فجاء ۃ بن عہد یالیل کی قوم بنو سلیم ۔ (4) مالک بن نویرہ کی قوم بنویربوع ۔ (5) سجاح بنت المنذر۔ یہ وہ عورت تھی جس نے نبوت کا دعوی کیا اور مسیلمہ کذاب سے نکاح کیا اور اس کی قوم تمیم کے بعض لوگ ۔ (6) اشعث بن قیس کی قوم کندہ ۔ (7) حطیم بن زید کی قوم بنوبکربن وائل ‘ یہ بحرین میں تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ان ساتوں مرتد فرقوں کا مکمل استیصال کرا دیا ۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ایک شخص مرتد ہوا تھا ‘ یہ غسان کی قوم کا جبلہ بن ایہم تھا ‘ اس کو ایک تھپڑنے نصرانی بنادیا اور یہ اسلام سے مرتد ہو کو روم کے شہروں کی طرف نکل گیا ‘ جبلہ کی چادر پر ایک شخص کا پیر پڑگیا ‘ اس نے اس کے تھپڑ مارا ‘ اس شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے شکایت کی ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اب یہ تمہارے تھپڑ مارے گا ‘ اس نے تھپڑ کے بدلہ میں دس ہزار درہم کی پیشکش کی ‘ مگر وہ شخص نہ مانا ۔ جبلہ نے مہلت طلب کی اور روم جا کر مرتد ہو گیا ۔ (تفسیر الکشاف جلد ١ صفحہ ٦٤٦۔ ٦٤٤ مطبوعہ نشر البلاغہ ایران ١٤١٣ ھ،چشتی)


مالک بن نویرہ بنو تمیم کی شاخ بنو یربوع  کا سردار تھا ۔ کنیت ابوحنظلہ تھی ۔ عرب کے مشہور شعرا اور شہسواروں میں اس کا شمار ہوتا تھا ۔ یہ مسلمان کب ہوا اس کی صحیح تاریخ دستیاب نہیں ۔ غالباً 8 یا 9 ھجری میں ہوا ہوگا ۔ حیرت کی بات ہے روافض کے ساتھ ساتھ اُن کے فضلہ خور تفضیلی رافضی ہر اُس شخص کو اپنا ہیرو بنا لیتے ہیں جو منکر ارکانِ اسلام اور منکرِ ختمِ نبوت ہو جیسے مختار ثقفی مدعی نبوت بالکل اسی طرح مالک بن نویرہ جو کہ منکرِ زکواة اور منکرِ ختمِ نبوت تھا کو اپنا ہیرو بنا لیا ۔ پھر یہ لوگ ایسے مرتدین کو صحابی ثابت کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف زہریلا گھٹیا پرپیگنڈا کرتے ہیں کہ صحابی کو قتل کر دیا ۔ نعوذ بااللہ ۔ اس فقیر کو حضرت علامہ پیرزادہ محمد اویس قادری صاحب نے حکم فرمایا کہ اس کا جواب دیں ۔ وقت کی قلت کے پیشِ نظر مختصر جواب لکھا ہے ۔ اہلِ علم توجہ بھی فرماٸیں اور اگر کہیں غلطی پاٸیں تو اس فقیر کی اصلاح فرماٸیں ۔


أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِی مَنِیعٍ حَدَّثَنَا جَدِّی عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : لَمَّا اسْتَخْلَفَ اللَّہُ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ عَنِ الإِسْلاَمِ خَرَجَ أَبُو بَکْرٍ غَازِیًا حَتَّی إِذَا بَلَغَ نَقْعًا مِنْ نَحْوِ النَّقِیعِ خَافَ عَلَی الْمَدِینَۃِ فَرَجَعَ وَأَمَّرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ سَیْفَ اللَّہِ وَنَدَبَ مَعَہُ النَّاسَ وَأَمَرَہُ أَنْ یَسِیرَ فِی ضَاحِیَۃِ مُضَرَ فَیُقَاتِلَ مَنِ ارْتَدَّ مِنْہُمْ عَنِ الإِسْلاَمِ ثُمَّ یَسِیرَ إِلَی الْیَمَامَۃِ فَیُقَاتِلَ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابَ فَسَارَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَقَاتَلَ طُلَیْحَۃَ الْکَذَّابَ الأَسَدِیَّ فَہَزَمَہُ اللَّہُ وَکَانَ قَدِ اتَّبَعَہُ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَیْفَۃَ یَعْنِی الْفَزَارِیَّ فَلَمَّا رَأَی طُلَیْحَۃُ کَثْرَۃَ انْہِزَامِ أَصْحَابِہِ قَالَ وَیْلَکُمْ مَا یَہْزِمُکُمْ قَالَ رَجُلٌ مِنْہُمْ أَنَا أُحَدِّثُکَ مَا یَہْزِمُنَا إِنَّہُ لَیْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلاَّ وَہُوَ یُحِبُّ أَنْ یَمُوتَ صَاحِبُہُ قَبْلَہُ وَإِنَّا لَنَلْقَی قَوْمًا کُلُّہُمْ یُحِبُّ أَنْ یَمُوتَ قَبْلَ صَاحِبِہِ وَکَانَ طُلَیْحَۃُ شَدِیدَ الْبَأْسِ فِی الْقِتَالِ فَقَتَلَ طُلَیْحَۃُ یَوْمَئِذٍ عُکَّاشَۃَ بْنَ مِحْصَنٍ وَابْنَ أَقْرَمَ فَلَمَّا غَلَبَ الْحَقُّ طُلَیْحَۃَ تَرَجَّلَ ثُمَّ أَسْلَمَ وَأَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ فَرَکِبَ یَسِیرُ فِی النَّاسِ آمِنًا حَتَّی مَرَّ بِأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْمَدِینَۃِ ثُمَّ نَفَذَ إِلَی مَکَّۃَ فَقَضَی عُمْرَتَہُ وَمَضَی خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ قِبَلَ الْیَمَامَۃِ حَتَّی دَنَا مِنْ حِیٍّ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ فِیہِمْ مَالِکُ بْنُ نُوَیْرَۃَ وَکَانَ قَدْ صَدَّقَ قَوْمَہُ فَلَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَمْسَکَ الصَّدَقَۃَ فَبَعَثَ إِلَیْہِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَرِیَّۃً فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی قَتْلِ مَالِکِ بْنِ نُوَیْرَۃَ قَالَ وَمَضَی خَالِدٌ قِبَلَ الْیَمَامَۃِ حَتَّی قَاتَلَ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابَ وَمَنْ مَعَہُ مِنْ بَنِی حَنِیفَۃَ فَاسْتَشْہَدَ اللَّہُ مِنْ أَصْحَابِ خَالِدٍ أُنَاسًا کَثِیرًا مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ وَہَزَمَ اللَّہُ مُسَیْلِمَۃَ وَمَنْ مَعَہُ وَقَتَلَ مُسَیْلِمَۃَ یَوْمَئِذٍ مَوْلًی مِنْ مَوَالِی قُرَیْشٍ یُقَالَ لَہُ وَحْشِیٌّ ۔ (حدیث حسن)


ترجمہ : زہری کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر خلیفہ بنے اور عرب مرتد ہونے لگے تو حضرت ابوبکر نے ان کے خلاف جہاد شروع کیا ۔ جب ان کی گردن تک پہنچے تو مدینہ کی طرف سے خوف ہوا واپس آئے اور خالد بن ولید کو امیر بنایا اور انھیں لوگوں کی ایک فوج دی اور حکم دیا کہ مضر کی طرف جاؤ اور وہاں جو مرتدین ہیں ان سے قتال کرو۔ پھر یمامہ کی طرف مسیلمہ کذاب سے قتال کریں اور پھر خالد بن ولید طلیحہ اسدی کذاب سے لڑے اور اسے اللہ کے حکم سے شکست دی۔ جب طلیحہ نے دیکھا کہ اس کے ساتھ کثرت سے قتل ہو رہے ہیں تو کہنے لگا : تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ کیوں شکست کھا رہے ہو ؟ تو ان میں سے ایک شخص کہنے لگا : میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ میں بچ جاؤں، دوسرا مارا جائے اور ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ پہلے میں شہید ہو جاؤں۔ طلیحہ کو اس جنگ میں بہت مصیبت اٹھانی پڑی اور اس نے اس دن عکاشہ بن محصن اور ابن اقرم کو شہید کیا۔ جب حق غالب آگیا تو طلیحہ پیدل بھاگ گیا ، پھر مسلمان ہوگیا اور عمرہ کے لیے مدینہ میں تلبیہ کہا حضرت ابوبکر کے پاس سے گزرا اور مکہ پہنچ کر اپنا عمرہ ادا کیا اور خالد بن ولید یمامہ سے لوٹے اور قبیلہ بنو تمیم کے پاس پہنچے۔ ان میں مالک بن نویرہ بھی تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد اس نے صدقہ دینا بند کر دیا تھا تو حضرت خالد نے ان کی طرف ایک سریہ بھیجا ۔ الحدیث ۔ مالک بن نویرہ اس میں قتل ہوگیا اور خالد نے یمامہ میں مسیلمہ سے لڑائی کی اور اسے شکست دی اور مسیلمہ ایک قریشی شخص کے ایک غلام کے ہاتھوں مارا گیا جس کا نام وحشی تھا ۔ (سنن الکبریٰ بیہقی حدیث نمبر ١٦٧٢٨،چشتی)


روافض کے ساتھ ساتھ اُن کے فضلہ خور تفضیلی رافضیوں کا یہ دعویٰ کہ مالک بن نویرہ جلیل القدر صحابی تھے جبکہ واقعات اور تاریخ اس بات کو ثابت نہیں کرتے ۔ مورخین نے یہ ثابت کیا ہے کہ مالک بن نویرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد مرتد ہو گیا تھا اور وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تھا اس نے اموال صدقات اپنی قوم میں تقسیم کر دیے تھے ۔ جب اسے لایا گیا تو وہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں جھگڑا کرنے لگا ۔ اس نے کہا : تمہارے ساتھی کا یہ خیال تھا ۔ اس جملہ میں دو باتیں اہم ہیں : ⏬


اوّل : وہ زکوٰۃ کی فرضیت کا منکر تھا ۔


دوم : اس نے صاحبکم کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ کیا اور ایسا کرنا مشرکین کا وطیرہ تھا جو کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا اقرار نہیں کرتے تھے ۔ اس کا صرف زکوٰۃ کا انکار کرنا ہی اس کے قتل کےلیے کافی تھا ۔ یہ روایت تمام مورخین نے ذکر کی ہے ، جیسا کہ اصفہانی نے الامانی میں ، اور ابن خلکان نے تاریخ میں بخلاف یعقوبی کے وہ جھوٹ بولنے میں مشہور تھا ۔ تو اس کے بعد یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ مالک بن نویرہ ایک جلیل القدر صحابی تھا ۔ بلکہ مورخین نے مالک کے مرتد مرنے پر ایک اور دلیل بھی ذکر کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ملاقات متمم بن نویرہ برادر حقیقی مالک بن نویرہ سے ہوئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے وہ شعر پڑھنے کو کہا جو اس نے اپنے بھائی کے مرثیہ میں لکھے تھے ۔ متمم نے وہ اشعار پڑھے جو اس نے اپنے بھائی کے مرثیہ میں لکھے تھے ۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار سنے تو فرمایا : میری بھی چاہت تھی کہ اگر مجھے سلیقہ سے شعر کہنے آتے تو میں اپنے بھائی زید پر بھی ایسا ہی مرثیہ کہتا جیسے تم نے اپنے بھائی پر کہا ہے ۔ تو متمم بولا : اگر میرا بھائی اس چیز پر مرتا جس پر آپ کا بھائی مرا ہے تو میں کبھی اس کا مرثیہ نہ کہتا ۔ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس بات پر بہت خوش ہوئے اور فرمایا : جیسے میرے بھائی پر تعزیت متمم نے کی ہے ایسے کسی اور نے مجھ سے تعزیت نہیں کی ۔ (الکامل لابن الاثیر جلد ۲ صفحہ ۲۱۸،چشتی)


ایک دوسری روایت میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ متمم نے کہا : آپ کا بھائی مومن مرا ہے اور میرا بھائی مرتد مرا ہے ۔ تو اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھ سے میرے بھائی پر کسی نے ایسی تعزیت نہیں کی جیسی تعزیت تم نے اس بارے میں کی ہے ۔ (الامانی لابی عبداللّٰہ صفحہ ۲۵)


زہری کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور عرب مرتد ہونے لگے تو حضرت ابوبکر نے ان کے خلاف لڑائی شروع کیا۔ جب ان کی گردن تک پہنچے تو مدینہ کی طرف سے خوف ہوا واپس آئے اور خالد بن ولید کو امیر بنایا اور انھیں لوگوں کی ایک فوج دی اور حکم دیا کہ مضر کی طرف جاؤ اور وہاں جو مرتدین ہیں ان سے قتال کرو۔ پھر یمامہ کی طرف مسیلمہ کذاب سے قتال کریں اور پھر خالد بن ولید طلیحہ اسدی کذاب سے لڑے اور اسے اللہ کے حکم سے شکست دی ۔ (سنن الکبری للبیھقی حدیث نمبر 1672)


جب طلیحہ نے دیکھا کہ اس کے ساتھ کثرت سے قتل ہو رہے ہیں تو کہنے لگا : تمہیں کیا ہو گیا ہے ؟ کیوں شکست کھا رہے ہو؟ تو ان میں سے ایک شخص کہنے لگا: میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ میں بچ جاؤں، دوسرا مارا جائے اور ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ پہلے میں شہید ہو جاؤں۔ طلیحہ کو اس جنگ میں بہت مصیبت اٹھانی پڑی اور اس نے اس دن عکاشہ بن محصن اور ابن اقرم کو شہید کیا۔ جب حق غالب آگیا تو طلیحہ پیدل بھاگ گیا، پھر مسلمان ہوگیا اور عمرہ کے لیے مدینہ میں تلبیہ کہا حضرت ابوبکر کے پاس سے گزرا اور مکہ پہنچ کر اپنا عمرہ ادا کیا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ یمامہ سے لوٹے اور قبیلہ بنو تمیم کے پاس پہنچے ۔ ان میں مالک بن نویرہ بھی تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد اس نے صدقہ دینا بند کردیا تھا تو حضرت خالد نے ان کی طرف ایک سریہ بھیجا ۔ الحدیث ۔ مالک بن نویرہ اس میں قتل ہوگیا اور خالد نے یمامہ میں مسیلمہ سے لڑائی کی اور اسے شکست دی اور مسیلمہ ایک قریشی شخص کے ایک غلام کے ہاتھوں مارا گیا جس کا نام وحشی تھا ۔


شیعوں چوٹی کا عالم شیخ مفید لکھتا ہے : ولو كانت الصحبة أيضا مانعة من الخطأ في الدين والآثام لكانت مانعة لمالك بن نويرة وهوصاحب رسول الله صلى الله عليه وآله على الصدقات ومن تبعه من وجوه الدسلمين من الردةعن الاسلام ، اگر صحبت دین  خطا اور گناہ سے روک سکتی ، تو یہ مالک بن نویرہ کو اسلام سے پھر  جانے سے روک لیتی جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے صدقات اکٹھا کرنے پر مامور تھے ، اور اس کی پیروی کرنے والے لوگوں کو بھی جو مسلمانوں میں سے تھے ۔ (الافصاح للمفید صفحہ 41)


صحاح ستہ کی کسی کتاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مالک بن نویرہ کے متعلق کوئی حدیث ہے تو وہ دکھا دیں ؟


تاریخ میں لکھی باتیں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بیوہ سے نکاح کیا ، عدت پوری ہوئی یا نہیں ، نبوت کی دعویدار سجاح بنت حارث اور مالک بن نویرہ کی ملاقات ، ابوقتادہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا اختلاف کے اذان ہوئی یا نماز پڑھی پر اختلاف کی روایات پر بحث ہی نہیں بنتی بلکہ وقت ضائع کرنا ہے کیونکہ روایات اکٹھی کر کے لکھ دی گئی ہیں مگر جب فیصلہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے حق میں ہے کہ خلیفہ وقت نے اسے کچھ نہیں کہا تو پھر ہمارا کہنا بنتا نہیں جیسے : عبداللہ ابن ابی سرح جو حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا رضاعی بھائی ، مسلمان ہوا ، کاتب وحی ہوا، دین سے پھر گیا اور فتح مکہ کے وقت سیدنا عثمان کے پاس آ کر چھپ گیا ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے باربار اس کی بخشش کی سفارش کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاف کر دیا ۔ (سنن ابو داود حدیث نمبر 4359،چشتی) ۔ اس لیے اگر کوئی اس کو صحابی نہ مانے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بخشس پر ایمان نہیں لایا۔


حضرت جسٹس پیر کرم شاہ الازھری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مالک بن نویرہ کو مرتد لکھ رہے ہیں کہ وہ مرتد ہو گیا تھا جسے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں منکرین زکواة مرتدین سے جنگ کے دوران قتل کر دیا اس پر روافض کے اور سنیوں میں چھپے روافض کے اعتراض کا رد فرما رہے ہیں روافض کے کے دلالوں کے مذکورہ اعتراضات کا جواب ان صفحات میں پڑھیں ۔ (مقالات ضیاء الامت جلد 2 صفحہ 240 تا 250 مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشز لاہور)


تو کیا مالک کے مرتد ہونے پر اس سے بڑی دلیل کوئی اور ہو سکتی ہے ؟


جہاں تک مالک کی بیوی سے شادی اور اسی رات اس کے ساتھ شب باشی کا تعلق ہے تو یہ حق کے خلاف ہے ۔ علامہ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مالک کی بیوی کو اپنے لیے چن لیا تھا اور جب اس کی عدت پوری ہو گئی تو تب اس کے پاس چلے گئے ۔ (البدایۃ و النہایۃ جلد ۶ صفحہ ۳۲۲)


طبری نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی اس شادی کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ام تمیم بنت منہال سے شادی کی اور اسے پاک ہونے کےلیے چھوڑ دیا ۔ (الطبری جلد ۲ صفحہ ۲۷۳)


الکامل میں ہے : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ام تمیم سے شادی کی جو کہ مالک کی بیوی تھی ۔ (الکامل جلد ۲ صفحہ ۳۵۸)


ابن خلکان جس کا کلام تنقید نگار نے بطور دلیل کے پیش کیا ہے وہ کہتا ہے : اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس کی بیوی کو اپنے قبضہ میں لے لیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ : اسے مال غنیمت میں سے خرید لیا تھا تاکہ اس کے ساتھ شادی کر سکیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب اس کی عدت تین ماہ پوری ہو گئی تو آپ نے اسے شادی کا پیغام بھیجا جو اس نے قبول کر لیا ۔ (وفیات الاعیان جلد ۶ صفحہ ۱۴،چشتی)


حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کی بیوی سے عدت گزرنے کے بعد نکاح و شادی کی تھی جس کی صراحت تمام کتبِ تاریخ نے کی ہے ، عدت کے اندر شادی کرنے کا قول محض من گھڑت اور رافضیوں اور اُن کے فضلہ خور نیم رافضیوں کا افتراء اور بغضِ صحابہ رضی اللہ عنہم پر مبنی ہے ۔ واصطفی خالد امرأة مالك بن نویرة ، وهی أم تمیم أبنة المنهال ، وکانت جمیلة ، فلما حلت بنی بها ۔ ((البدایة والنهایة جلد ۵ صفحہ ۲۷)


تاریخ کی اس متنازعہ شخصیت کے متعلق اہلِ تشیع پر یقین ہیں کہ : مالک بن نویرہ مرتد نہیں ہوا تھا ۔ مالک بن نویرہ نے زکوات ادا کرنے سے منع نہیں کیا تھا ۔ مالک بن نویرہ نے دعوی نبوت کرنے والی عورت سجاح بنت حارث کی حمایت بھی نہیں کی تھی ۔


تاریخ اسلام کی کتب میں مالک بن نویرہ کی شخصیت کو بعد از وصالِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اچھے الفاظ میں  بیان نہیں کیا گیا ۔ 


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے قبیلے بنو تمیم کی زکوات وصولی کےلیے مقرر کیا تھا ۔ جیسے ہی اسے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے تو اس نے اپنے قبیلے سے زکوات وصول کرنا بند کر دی ۔ اس کے علاوہ پہلے سے جمع شدہ رقم کو بھی واپس ان کے مالکان کو لوٹا دیا ۔ تاریخ کی کئی کتب میں نبوت کی دعویدار ”سجاح بنت حارث“ اور ”مالک بن نویرہ“ کی ملاقات اور اس کی تائید و حمایت کے قصے بیان کیے گئے ہیں ۔ 


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منکرین زکوات سے جنگ و جہاد کا اعلان کیا اور پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی گرفت میں مالک بن نویرہ بھی آگیا ، زکوات کا منکر اور مرتد ثابت ہونے ہر اسے قتل کر دیا گیا تاکہ عرب قبائل میں منکرین زکوات تک سخت پیغام پہنچ سکے ۔ (تاریخ ابن کثیر جلد ششم صفحہ425،چشتی)


مزید روایات میں مالک بن نویرہ اور اس کے قبیلے کے قتل کی تفصیلات مختلف بیان کی گئی ہیں ۔ تاریخ طبری مترجم اردو میں بھی کم و بیش یہی تفصیل موجود ہے ۔ (تاریخ طبری جلد دوم صفحہ 79 - 80)


مالک بن نویرہ کا ذکر اوپر آچکا ہے کہ اُس نے وفات نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خبر سن کر اظہار مسرت کیا تھا ، پھر سجاح کے ساتھ بھی اُس نے مصالحت کی تھی،مگر بعد میں اُس کے لشکر سے جدا ہوکر چلاگیا تھا، اب جب کہ مالک بن نویرہ گرفتار ہوکر آیا اور حضرت خالد بن ولیدؓ کے سامنے پیش کیا گیا تو بعض مسلمانوں نے کہا کہ مالک بن نویرہ کی بستی سے اذان کی آواز جوابا ً آئی تھی،اس لئے اس کو قتل نہیں کرنا چاہئے بعض نے کہا کہ انہوں نے جواباً اذان نہیں کہی، یہ خلیفہ رسول اللہ کے حکم کے موافق واجب القتل ہے، حضرت خالد بن ولیدؓ نے جہاں تک تحقیق و تفتیش کیا یقینی اور قطعی شہادت اس معاملہ میں دستیاب نہ ہوئی، اس پر طُرہ یہ ہوا کہ مالک بن نویرہ نے جب حضرت خالد بن ولیدؓ سے گفتگو کی تو اس کی زبان سے اثناء گفتگو میں کئی بار یہ نکلا کہ تمہارے صاحب نے ایسا فرمایا، تمہارے صاحب کا ایسا حکم ہے وغیرہ اس تمہارے صاحب سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے،حضرت خالد بن ولیدؓ نے یہ لفظ سن کر غصہ سے فرمایا : کہ کیا وہ تیرے صاحب نہ تھے،اس پر اُ س نے کوئی جواب مناسب نہیں دیا،طبری کی روایت کے موافق حضرت ضرار بن الازورؓ اُس وقت شمشیر بدست کھڑے تھے،انہوں نے حضرت خالدؓ کا اشارہ پاتے ہی اُس کا سر اُڑادیا،یہ میدان جنگ کا ایک نہایت معمولی سا واقعہ تھا؛ لیکن مؤرخین کو اس کا خاص طورپر اس لئے ذکر کرنا پڑا کہ ابو قتادہ بھی حضرت خالد بن ولیدؓ کی فوج میں شامل تھے اور وہ انہیں لوگوں میں تھے جو یہ کہتے تھے کہ مالک بن نویرہ کی بستی سے اذان کی آواز آ ئی تھی، لہذا مالک بن نویرہ کو قتل نہیں کرنا چاہئے، بعض مؤرخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ مالک بن نویرہ کو حضرت خالد بن ولیدؓ نے قتل نہیں کرایا؛بلکہ انہوں نے مزید تحقیق حال کے لئے مالک بن نویرہ کو ضراراؓ بن ازورؓ کی حراست میں دےدیا تھا اور اتفاقاً رات کے وقت دھوکے سےمالک بن نویرہ ضرار بن ازور کے ہاتھ سے قتل ہوا ،بہرحال حضرت ابو قتادہؓ بہت ناراض ہوئے اور انہوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار اس طرح کیا کہ وہ خالد بن ولیدؓ سے بلا اجازت لئے خفا ہوکر مدینے میں چلے آئے اوریہاں آکر شکایت کی کہ خالد بن ولیدؓ مسلمانوں کو قتل کرتا ہے،حضرت عمرفاروقؓ اوردوسرے مسلمانوں نے مدینے میں جب یہ بات سُنی تو خالد بن ولیدؓ کے متعلق حضرت ابوبکر صدیقؓ سے شکایت کی اورکہا کہ خالد کو معزل کرکے اس سے قصاص لینا چاہئے،مدینہ منورہ میں خالد بن ولیدؓ کے متعلق عام ناراضی اس لئے بھی پھیل گئی اور قتل مسلم کا الزام اس لئے اور بھی اُن پر تُھپ گیا کہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے بعد میں مالک بن نویرہ کی بیوی سے نکاح کرلیا تھا،حضرت ابوبکر صدیقؓ نے یہ سب کچھ سن کر حضرت ابوقتادہؓ کو مجرم قرار دیا کہ خالدؓ کی بلا اجازت کیوں لشکر سے جُدا ہوکر چلے آئے،اُن کو حکم دیا گیا واپس جائیں اور خالد کے لشکر میں شامل ہوکر اُن کے ہر ایک حکم کو بجالائیں؛چنانچہ اُن کو واپس جانا پڑا،حضرت عمر فاروقؓ اور دوسرے صحابہ کو سمجھایا کہ خالد پر زیادہ سے زیادہ ایک اجتہادی غلطی کا الزام عائد ہوسکتا ہے ،فوجی نظام اور آئین جنگ کو مد نظر رکھتے ہوئے خالد کو سیفٌ من سیوف اللہ میں نہ زیر قصاص لایا جاسکتا ہے نہ معزول کیا جاسکتا ہے،صدیق اکبرؓ نے مالک بن نویرہ کا خوں بہا بیت المال سے ادا کردیا، ایک اسی واقعہ سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ صحابہ کرام کو اپنے دشمنوں کے قتل کرنے میں کس قدر احتیاط مد نظر رہتی تھی اور وہ کسی معمولی شخص کے لئے ایک قیمتی سپہ سالار کو بھی حق وانصاف کی عزت قائم رکھنے کے واسطے قتل کرنا اور زیر قصاص لانا ضروری سمجھتے تھے ۔


اس میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ تھا۔ اس میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو قتل نہ کیا جائے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ آپ کو قتل کیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بڑے عالم نہیں تھے۔ اہل سنت اور شیعہ دونوں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں ۔اس وجہ سے ابو بکر رضی اللہ عنہ پر واجب نہیں تھا کہ وہ اپنی رائے چھوڑ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی اتباع کریں ۔ اور کسی شرعی دلیل کی روشنی میں یہ ظاہر نہیں ہورہا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے راجح ہے۔تو اب کسی کے لیے کیسے جائز ہوسکتاہے کہ وہ اس معاملہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شان میں عیب شمار کر ے؟ ایسا وہی شخص کرسکتا ہے جو لوگوں میں سے سب سے کم علم و دین رکھتا ہو ۔


ہمارے ہاں کسی طرح بھی یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ معاملہ کی صورتحال ایسی تھی جس کی وجہ سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو قتل کرنا واجب ہورہا ہوتا ۔


رافضی مصنف کا یہ کہنا کہ : انہوں نے مالک بن نویرہ کے قتل کی رات ہی اس کی بیوی سے شادی کرلی ۔


اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔بالفرض اگر اسے ثابت مان بھی لیا جائے تو تاویل اس بنا پر رجم کرنے میں مانع ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ : فقہاء کرام رحمہم اللہ کا اختلاف ہے کہ فوتگی[بیوگی] کی عدت کیا ہے؟ اورکیا یہ عدت کافر کے لیے بھی ہے ؟ اس میں دو قول ہیں ۔ ایسے ہی ذمی عورت کی عدت وفات کے بارے میں اختلاف ہے۔اس میں بھی مسلمانوں کے ہاں دو قول مشہور ہیں ۔ بخلاف طلاق کی عدت کے ۔ اگر طلاق میں وطی کا سبب موجود ہو تو برأت رحم تک انتظار واجب ہے۔ جبکہ وفات کی عدت صرف عقد نکاح کرلینے سے واجب ہوجاتی ہے۔لیکن پھر اگر دخول سے پہلے شوہر مر جائے تو کیا کافر کی عدت بھی ہوگی یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے۔ اور ایسے ہی اگر کافر نے دخول بھی کیا اور دخول کے بعد ایک حیض آگیا ہو (تو کیا اس پر عدت ہوگی یا نہیں ؟) ۔


یہ مسائل اس وقت ہیں جب کافر اصلی کافر ہو (یعنی مرتدنہ ہو) ۔ جب کہ مرتد اگر قتل کردیا جائے؛ یا اپنے ارتداد پر ہی مر جائے ؛ تواس صورت میں امام شافعی؛ امام احمد ؛ ابو یوسف؛ اورمحمد رحمہم اللہ کے ہاں اس پر کوئی عدت وفات نہیں ۔ بلکہ وہ اسے فُرقہء بائنہ شمار کرتے ہیں ۔ اس لیے کہ شوہر کے مرتد ہونے سے نکاح باطل ہوگیا تھا۔ یہ جدائی امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کے ہاں طلاق نہیں ہے ۔ جب کہ امام ابو حنیفہ اورامام مالک رحمہم اللہ کے ہاں طلاق ہے۔اسی وجہ سے اس پر عدت وفات کو واجب نہیں سمجھتے ۔ بلکہ اس پر دائمی جدائی کی عدت شمار کرتے ہیں ۔اور اگر اس مرتد نے عورت کے ساتھ دخول نہیں کیا تھا تو پھر اس پر کوئی عدت نہیں ہے۔ جیسا کہ اگر وہ دخول سے پہلے طلاق دے دیتا تواس پر کوئی عدت نہ ہوتی۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کو مرتد سمجھ کر قتل کیا تھا۔ اگر مالک بن نویرہ نے اپنی بیوی سے اس سے پہلے دخول نہیں کیا تھا تو پھر تمام علماء کے نزدیک اس پر کوئی عدت نہیں تھی۔اوراگر اس کے ساتھ دخول کیا تھا تو پھر بھی بعض علماء کرام کے نزدیک اس پر ایک حیض کی عدت تھی؛ اس لیے کہ استبراء رحم واجب ہے۔ تو ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اسے اس سے پہلے حیض آچکا ہو۔ اور بعض فقہاء کہتے ہیں کہ کچھ دن کا حیض آجانا بھی کافی ہے ۔ اس لحاظ سے اگر وہ حیض کے آخری ایام میں بھی تھی تو تب بھی برأت رحم ہوچکی تھی ۔ خلاصہ کلام ! ہم اس معاملہ کی گہرائیوں سے واقف نہیں ۔ کیا یہ ایسا معاملہ تھا کہ اس میں اجتہاد جائز ہے یا نہیں ؟ ایسی باتوں میں طعن کرنا بغیر علم کے بات کہنا ہے ۔ اور بغیر علم کے بات کہنے کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قراردیا ہے ۔ (منہاج السنہ النبویہ جلد 5 ، 6 صفحہ 382)


خلاہ کلام : اول حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے حکم پر مالک بن نویرہ کو قتل نہیں کیا گیا ۔ آپ کے سپاہی نے اسے قتل کیا اور وہ بھی اپنی ایماء پر اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر بدیر ملی ۔ مالک بن نویرہ پر سجاع بن حارث کی حمایت کا الزام تھا ۔ مالک بن نویر پر زکوۃ کا مال واپس کرنے کا بھی الزام تھا ۔ یہ تاریخی واقعات ہیں جو مختلف کتب میں آپس میں متصادم ہو سکتے ہیں مگر ان کی وجہ سے جید اور قابل احترام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باکردار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کیچڑ اچھالنا ایک بدترین عمل اور پرلے درجے کی جہالت ہے ۔ اللہ عزوجل ایسے فتنہ باز بغضیوں اور شر پھیانے والوں کو ہدایت عطاء فرماۓ آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

آیتِ تطہیر میں ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن شامل ہیں

آیتِ تطہیر میں ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن شامل ہیں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّج...