دینی طلبہ پر خرچ کرنے کا اجر قرآن و حدیث کی روشنی میں
محترم قارئینِ کرام : اصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم وہ صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں صرف دِین سیکھنے کےلیے حاضر رہا کرتے تھے ۔ اِنہیں اصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں ۔ ان کی شان تو بے مثل و بے مثال ہے ۔ اصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم مَسْجِدِنبوی شریف میں ایک چبوتراتھا ، جہاں (مختلف اَوقات میں) تقریباً 400 یا 500 فُقَرَائے مُہاجِرِین رضی اللہ عنہمم بیٹھا کرتے تھے ، انہیں اَصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں ۔ اِن کے پاس گھر تھا نہ دُنْیَوی سازو سامان اور نہ ہی کوئی کاروبار ، غربت کا عالم یہ تھا کہ اِن میں سے70 کے پاس سَتْر پو شی کےلیے پورا کپڑا بھی نہ تھا ۔ اِن کی تعداد میں کمی بیشی ہوتی رہتی تھی ۔ مدینۂ منورہ میں آنے والے کا شہر میں کوئی جان پہچان والا نہ ہوتا تو وہ بھی اہلِ صُفّہ رضی اللہ عنہم میں شامل ہو جایا کرتا ۔ (تفسیر نعیمی جلد ۳ صفحہ ۱۳۲)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دینی طلبہ پر خرچ کرنا : ⏬
اصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم علمِ دین سیکھتے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی ان پر خرچ فرماتے اور دوسروں کو ترغیب بھی ارشاد فرماتے ۔ اور ایسا نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف اصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم پر ہی خرچ فرماتے ۔ آپ کا مال تو دین کیلئے وقف تھا ۔ جتنا بھی مال آپ کے پاس آتا ، آپ راہِ خدا میں خرچ فرمادیتے تھے ۔ حضرت ابُوذَر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک روز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا ، جب آپ نے اُحد پہاڑ کو دیکھا تو فرمایا : اگر یہ پہاڑ میرے لیے سو نا بن جائے تو میں پسند نہیں کروں گا کہ اس میں سے ایک دِیناربھی میرے پاس تین (3) دن سے زِیادہ رہ جائے ، سِوائے اُس دِینار کے جسے میں اَدائے قرض کے لئے رکھ چھوڑوں ۔ (صحیح بخاری کتاب فی الاستقراض … الخ باب اداء الدیون جلد ۲ صفحہ ۱۰۵ حدیث نمبر ۲۳۸۸)
اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے : وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْؕ ۔ (سورہ الضحی آیت نمبر ۱۰)
ترجمہ : اور منگتا کو نہ جھڑکو ۔
یعنی اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آپ کے درِ دولت پر کوئی سوالی آ کر کچھ مانگے تو اسے کسی بھی صورت جھڑکنا نہیں بلکہ اسے کچھ دے دیں یا حسنِ اَخلاق اور نرمی کے ساتھ اس کے سامنے نہ دینے کاعذر بیان کردیں ۔ (تفسیر خازن جلد ۴ صفحہ ۳۸۸،چشتی)(تفسیر مدارک صفحہ ۱۳۵۷)
امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ⏬
مومن ہوں مومنوں پہ رؤفٌ رحیم ہو
سائل ہوں سائلوں کو خوشی لانہر کی ہے
مانگیں گے مانگے جائیں گے منھ مانگی پائیں گے
سرکار میں نہ ’’لا‘‘ ہے نہ حاجت ’’اگر‘‘ کی ہے
(حدائق بخشش صفحہ ۲۱۲ ، ۲۲۵)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدالانبیاء ہیں ، نبیوں کے سردار ہیں کونین کے والی ہیں ، وجہِ تخلیقِ کائنات ہیں ، لیکن اِ س کے با وجود آپ کا اندازمبارک یہ تھا کہ آپ اپنے پاس مالِ دنیا کو نہیں رہنے دیتے تھے خود بھوکے رہ کر اوروں کو کھلانا آپ کا طریقہ رہا ہے ، اپنا مال ہو یا آپ کو تحفے میں دیا گیا مال ہوبلکہ اگر یوں کہا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سارا مال دین کےلیے وقف تھا تو یہ غلط نہ ہو گا کیونکہ انبیاءِ کرام علیہم السلام نے کسی کو دینارو درہم کا وارث نہیں بنایا جیسا کہ مفسرِ قرآن ، مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ ایک حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بعض انبیاء کرام علیہم السلام تارِكُ الدُّنْیا تھے ، جنہوں نے کچھ جمع نہ کیا جیسے حضرت یحییٰ و عیسیٰ علیہما السلام اور بعض نے بہت مال رکھا۔ جیسے حضرت سلیمان و داؤد علیہما السلام لیکن کسی نبی کی مالی میراث نہ بٹی ، ان کا چھوڑا ہوا مال دین کے لیےوقف ہوتا ہے۔ (مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۱۹۹)
نے پڑھ لیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مال دین کےلیے وقف تھا ، بالخصوص دینی طالب علموں پر خرچ کرنا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت ِکریمہ تھی اور اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کےلیے بھی یہی پسند فرماتے تھے کہ وہ بھی اپنا مال راہ ِ دین میں خرچ کریں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر سے واپسی پر خاتونِ جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھرتشریف لائے لیکن گھر کے دروازے پر ایک پردہ اور اپنی لخْتِ جگر کے ہاتھوں میں چاندی کے دو کنگن ملاحظہ فرما کر واپس تشریف لے گئے ۔ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ رورہی تھیں ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے لوٹ جانے کی خبردی تو حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہو کر واپسی کا سبب پوچھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : دروازے پر موجود پردے اور چاندی کے کنگنوں کے سبب میں واپس آگیا ۔ (سنن ابو داود کتاب الترجل باب ما جاء فی الانتفاع بالعاج جلد ۴ صفحہ ۱۱۸ حدیث نمبر ۴۲۱۳)
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کواس بات کی خبر دی تو انہوں نے پردہ پھاڑ دیا اور کنگن حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھیج دیئے اور عرض کی : میں یہ کنگن صَدَقہ کرتی ہوں ، آپ انہیں جہاں مناسب سمجھیں خرچ فرما دیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : انہیں بیچ کر اہْلِ صُفّہ رضی اللہ عنہم (جو دین کے طلبا تھے) پر خرچ کردو ۔ چنانچہ انہوں نے وہ دونوں کنگن ڈھائی درہم میں بیچ کر اصحابِ صفہ رضی اللہ عنہم پر صدقہ کر دیئے ۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی لخْتِ جگر کے گھر تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : تم پر میرے ماں باپ فدا (میں فدا میرے ماں باپ فدا انتہائی محبت وعظمت ظاہر کرنے کےلیے کہے جاتے ہیں) تم نے بہت اچھا کیا ۔ (سنن النسائی کتاب الزینة باب الکراھیة للنساء فی اظہار الحلی والذھب صفحہ ۸۲۰ حدیث نمبر ۵۱۵۰)
مفسرِ قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں تشریف لے جاتے تو پہلے سارے گھر والوں سے رخصت ہوتے سب سے آخر میں حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا سے رخصت ہوتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لاتے پھر دوسرے اہلِ بیت کے پاس ۔ غرضکہ جانا بھی اس گھر سے ہوتا اور آنا بھی اسی گھر میں اس گھر کی عزت پر لاکھوں سلام ۔ دروازے پر لٹکے ہوئے پردے اور کنگن کے بارے میں فرماتے ہیں : دروازہ کا یہ پردہ غالبًا تصاویر والا تھا اور چاندی کے کنگن لڑکوں (یعنی امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما) کےلیے تھے ، مردوں کےلیے کنگن اور تصاویر والا پردہ یہ دونوں حرام ہیں ۔ جناب فاطمہ رضی اللہ عنہ کو ان کی حُرمت کی ابھی تک خبر نہ تھی ۔ اسی لیے آپ رضی اللہ عنہا نے یہ دونوں کام کیے ہوئے تھے ورنہ اہلِ بیتِ نبوت دانستہ طور پر ناجائز کام نہیں کر سکتے ۔ آپ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صرف ناراضگی ملاحظہ فرما کر یہ دونوں چیزیں ختم کر دیں ۔ اور کنگن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں صدقہ کرنے کےلیے بھیج دئیے ۔ تاکہ اس عمل کو دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں تشریف لے آئیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تھے کہ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا بھی ان کنگنوں کو نہ پہنیں کہ اگرچہ ان کےلیے ان کا پہننا جائز ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ میرے اہل بیت جائز آرائش ٹیپ ٹاپ بھی نہ کریں تاکہ ان کے دل دنیا میں نہ لگیں اور آخرت میں ان کے درجات اور بلند ہوں وہ دنیا میں فقر وریاضت کی زندگی گزاریں ۔ (مرآۃ المناجیح جلد ۶ صفحہ ۱۷۷چشتی)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (ظاہری زمانہ مبارک) زمانے میں دوبھائی تھے ، ان میں ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں رہتا تھا اور دوسرا محنت و مزدوری کرتا تھا ، محنت و مزدوری کرنے والے نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ ، شاید تجھے اسی کی وجہ سے روزی ملتی ہو ۔ (سنن ترمذی حدیث نمبر 2345)
حضرت سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کا دین کےلیے خرچ کرنا : ⏬
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا مال دین کےلیے خرچ فرماتے تھے ۔ اگر ہم صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ وہ بھی اپنا مال دین کےلیے قربان کرنے کو ہروقت تیار رہتے تھے ۔ اس بارے میں اَمِیْرُالمؤمنین حَضرتِ سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ تاجر تھے ، کپڑے کے وسیع کاروبار کے مالک تھے ، جس دن اسلام لائے آپ کے پاس چالیس ہزار درہم یا دینار (یعنی 40 ہزارچاندی یا سونے کے سِکّے) تھے ، اسلام لانے کے بعد وہ سارے کے سارے راہِ خدا میں خرچ کر دیئے ۔ (تاریخ مدینۃ دمشق جلد ۳۰ صفحہ ۶۶)
غزوۂ تبوک کے موقع پر اپنے گھر کا سارا مال اسلام اور مسلمانوں پر نچھاور کرنے کا واقعہ بھی آپ ہی کا ہے ۔ اسی طرح جب بھی ضرورت پیش آئی تو دین کےلیے اپنا مال خرچ کرنے میں آپ ذرا بھی نہ ہچکچائے ۔ کئی غلاموں کو اپنا ذاتی مال دے کر آزاد کروانے کاشرف بھی آپ کو حاصل ہے ۔ حضرت عُروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایسے 7 غلام خرید کر آزاد کیے جنہیں راہِ خدا میں بہت تکالیف دی جاتی تھیں ۔ ان میں حضرت بلال حبشی اور عامربن فہیرہ رضی اللہ عنہما بھی ہیں ۔ (مجمع الزوائد ، کتاب المناقب باب جامع من فضلہ جلد ۹ صفحہ ۳۵ حدیث نمبر ۱۴۳۴۰)
منقول ہے کہ حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو اسلام لانے کے بعدبہت اذیتیں دی جاتی تھیں ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو پانچ اوقیہ (تقریباً 32 تولے) سونا ادا کر کے خریدا تو فروخت کرنے والوں نے کہا : ابوبکر ! اگر تم صرف ایک اوقیہ سونے پر اَڑ جاتے تو ہم اتنی قیمت میں ہی اسے فروخت کر دیتے ۔ آپ نے فرمایا : اگر تم سو (100) اوقیہ سونا مانگتے تو میں وہ بھی دے دیتا اور بلال کو ضرور خریدتا ۔ (الریاض النضرۃ جلد ۱ صفحہ ۱۳۳)
حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے معمولات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اسلام کی مدد و نصرت کےلیے آپ نے کھُلے دل سے اپنا ذاتی مال و اسباب خرچ کیا ۔ اپنے مال سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایسی خدمت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا : مجھے کسی کے مال نے اتنا فائدہ نہ دیا جتنا ابوبکر صدیق کے مال نے دیا ۔ (سنن ابن ماجۃ کتاب السنۃ باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ جلد ۱ صفحہ ۷۲ حدیث نمبر ۹۴) ۔
ہمارے ہاں لوگ بے شمار جگہوں پر خرچ کرتے ہیں ، کبھی تقریبات پر ، کبھی زیب و زینت پر ، اور کبھی نمود و نمائش پر ، لیکن جب بات دین کےلیے وقف طلباء و علماء کی ضروریات کی آتی ہے ، تو دل و جیب دونوں بند ہو جاتے ہیں ، حالانکہ یہ وہی نفوسِ قدسیہ ہیں جو شب و روز علمِ دین کے حصول اور اس کی خدمت میں مشغول رہتے ہیں ۔ ان کی معاشی کفالت امت کی اجتماعی ذمے داری ہے ، یہ سب سے افضل مصرف ہے کہ ایسے اہلِ علم کی معاونت کی جائے جو خود کو دین کےلیے وقف کر چکے ہیں ، اگر ہر فرد اپنے حصے کا بوجھ اٹھا لے ، تو ان شاءاللہ یہ علماء و طلباء فکری و مالی پریشانیوں سے آزاد ہو کر دین کے مزید عظیم کام انجام دے سکیں گے ۔ آئیے اس بابرکت میدان میں قدم رکھیں ، ان چراغوں کو بجھنے نہ دیں ، بلکہ ان کی روشنی کو بڑھائیں ، تاکہ معاشرہ علم ، اخلاص اور دین داری سے منور ہو ۔
مدرسے یا دینی تعلیم کے ادارے کی تعمیر پر خرچ کرنا انتہائی فضیلت والا عمل ہے ۔ اگرچہ قرآن و حدیث میں براہِ راست مدرسے کا لفظ نہیں آیا ، مگر علمِ دین کی اشاعت ، طلبہ کی تعلیم، اور دین کی بنیاد رکھنے پر بے شمار احادیث و آثار موجود ہیں ، جن سے مدرسہ سازی کی عظمت و ثواب واضح ہوتا ہے ۔ جن کا ذکر ہم حصہ اول میں کر چکے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : من دلّ على خير فله مثل أجر فاعله ۔ (صحیح مسلم)
ترجمہ : جو کسی کو بھلائی کی طرف رہنمائی کرے ، اسے بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والے کو ملتا ہے ۔
مدرسہ کی تعمیر ، ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے سینکڑوں طلبہ علم حاصل کرتے ہیں اور یہ سب اجر تعمیر کرانے والے کو بھی ملتا ہے ۔
دینی طالب علموں پر خرچ کرنے وجہ سے اسلام کی توفیق بخش دی : ⏬
حضرت محمد بن جَرِیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ہم چند دوست مِل کر عِلْمِ دِین سیکھنے کے لئے سَفَر پر روانہ ہوئے ۔ ایک شہر میں پہنچے ، وہاں عِلْمِ دِین سیکھنے میں مَصْرُوف ہو گئے ۔ ایک عرصہ یہاں گزارا ، اس دوران ہمارے پاس اخراجات ختم ہو گئے ۔ ہم دوستوں نے ارادہ کیا کہ چلو ! واپس گھر چلتے ہیں (اخرجات لے کر واپس آئیں گے) ۔ ابھی ہم ارادہ بنا ہی رہے تھے کہ ایک غیر مُسْلِم ہمارے پاس آیا ، اس نے ہم سب دوستوں کو 3 ، 3 دِرْہَم دئیے ! کچھ اخراجات آ گئے ۔ اس کے بعد اس نے 40 مرتبہ ہمیں یونہی دِرْہَم دئیے ! ہم نے اس سے پوچھا : تم تَو غیر مُسْلِم ہو ، تم ہمیں یہ رقم کیوں دیتے ہو؟ وہ بولا : میں نے تورات شریف میں پڑھا ہے کہ سب سے اَفْضَل صدقہ وہ ہے جو طالِبِ عِلْمِ دِین کو دیا جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں (یعنی اَہْلِ تورات میں) تو کوئی بھی اس طرح عِلْمِ دِین سیکھنے میں مَصْرُوف نہیں ہے ، لہٰذا جب میں نے تمہیں عِلْمِ دِین سیکھنے میں مَصْرُوف دیکھا تو تم پر ہی خرچ کر دیا ۔ حضرت محمد بن جریر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ واقعہ گزر گیا ۔ اس کے بعد ایک مرتبہ ہم دوست حج کےلیے مکہ پاک حاضِر ہوئے ، دیکھا کہ وہی غیر مُسْلِم کعبہ شریف کے گِرد طواف کر رہا ہے ۔ ہم نے حیرانی سے پوچھا : تم تو غیر مُسْلِم تھے ، اسلام کیسے قبول کر لیا ؟ وہ بولا : میری قسمت جاگی ، خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : تم نے طالب علموں پر خرچ کیا ، اس کی برکت سے اللہ پاک نے تمہیں اسلام کی توفیق بخش دی ہے ۔ پس یہیں سے میری قسمت جاگ گئی اور میں نے اُسی وقت (خواب ہی میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ مُبارَک پر اسلام قبول کر لیا ۔ مزید کرم یہ ہوا کہ میرے گھر میں 17 افراد تھے ، اس رات سب کو خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی ، سب کے سب ہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے ۔ (حکایات و قصص صفحہ 201)
ہمیں بھی چاہیے کہ دِین کےلیے اپنی مالی خِدْمات پیش کیا کریں ۔ یہ صِرْف ذِہن بنانے کی بات ہے ، ورنہ دِین کی راہ میں مال دینے سے بندہ غریب نہیں ہو جاتا بلکہ جو اللہ پاک کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے ، اللہ پاک اسے کئی گُنَا بڑھا کر عطا فرماتا ہے : مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةًؕ ۔ (سُوْرَۂ بَقَرَہ آیت نمبر 245)
ترجمہ : ہے کوئی جو اللہ کواچھا قرض دے تو اللہ اس کے لئے اس قرض کو بہت گنا بڑھا دے ۔
کتنی پیاری بات ہے ! مال دیا ہوا کس کا ہے ؟ اللہ پاک کا ۔ حضرت شیخ عبدالقار جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اَنْتُمْ وُکَلَاءُ عَلٰی ہٰذِہِ الْاَمْوَال ، تم اس مال کے وکیل ہو ۔ (جَلَاء الخَوَاطِرْ مجلس حقوق الفقراء صفحہ نمبر 110)
حَضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا دین کےلیے خرچ کرنا بھی بہت مشہور ہے ۔ کئی بار آپ نے دین کےلیے خرچ کرنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنت کی خوشخبریاں پائی ہیں ۔ مدینہ شریف میں مہاجرین کی ضرورت پر آپ نے کنواں خرید کر دین کےلیے وقف فرمایا ۔ اسی طرح غزوۂ تبوک کے موقع پر آپ نے 950 اُونٹ ، 50 گھوڑے اور 1000 اَشْرَفیاں پیش کیں ، پھر بعد میں 10 ہزار اَشْرَفیاں اور پیش کیں ۔ (مرآۃ المناجیح جلد ۸ صفحہ ۳۹۵) ۔ جب بھی ضرورت ہوتی آپ دینِ اسلام کیلئے خرچ کرنے سے بالکل نہیں ہچکچاتے تھے ۔
اسی طرح دیگر صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بھی کئی واقعات ہیں کہ وہ دین کےلیے خرچ کرنے میں پیش پیش رہتے تھے ۔
اس سے ہمیں بھی درس ملتا ہے کہ دین کےلیے اپنا مال دینے ، خرچ کرنے میں پیش پیش رہنا چاہیے ۔ اگر ہم بزرگوں کے واقعات دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان کی بھی کوشش ہوتی تھی کہ دین کےلیے ایسی جگہ خرچ کیا جائے جس کے فوائد وقتی نہ ہوں بلکہ آنے والوں کو بھی اس سے فائدہ ہو ۔ اس سلسلے میں کروڑوں حنفیوں کے امام ، حضرت سیدنا امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا اپنے شاگرد حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کی کفالت کا واقعہ ہمارے لیے روشن مثال ہے ۔ : ⏬
حضرت امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے علم بھی عطا کیا اور مال بھی حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے حدیث اور فقہ کے طالبِ علم کی حیثیت سے کُوفہ میں وقت گزارا ۔ شروع میں بہت تنگ دست اور غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا ، میرے والد مجھے ایک دن حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں لے گئے ، میں وہاں پڑھنے لگا ، میرے والد نے گھر آکر مجھے کہا : بیٹا ! حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف پاؤں پھیلا کر نہ بیٹھا کرو ، یہ بے ادبی کا انداز ہے ۔ پھر میرے والد مجھے کہنے لگے : اے میرے بیٹے ! ہم غریب لوگ ہیں ، جبکہ امیر لوگوں کی خوراک مُرَغّن غذائیں ہوتی ہیں ، ہم سوکھی پھیکی روٹی کھا کر گزارا کرتے ہیں ، ہم بہت مفلس ہیں ، یہ باتیں کہہ کر میرے والدِ محترم نے مجھے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مجالس میں جانے سے روک دیا ، ادھر امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے غیر حاضر پایا تو میرے جاننے والوں سے پوچھا کہ یعقوب کیوں نہیں آرہا ؟ انہوں نے بتایا کہ اسے تو اس کے والد نے روک رکھا ہے ۔ امام قاضی ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ادھر میر ی کیفیت یہ تھی کہ میں حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی مجالس میں حاضر ہونے کےلیے بیتاب رہتا ۔ آخر کار میں ایک دن آپ کی مجلس میں جا پہنچا ، آپ نے بڑی شفقت سے غیر حاضری کی وجہ پوچھی تو میں نے اپنے غریب اور والد کے حکم پر نہ آنے کا بتایا ، اس دن تو میں آپ کی مجلس میں احادیث سنتا رہا لیکن جب میں گھر جانے لگا تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا ، جب تمام لوگ چلے گئے تو آپ نے مجھے ایک تھیلی دی جو درہموں سے بھری ہوئی تھی ، فرمایا : اس سے گزارا کرو ، پھر اللہ مالک ہے ، میں نے اسے کھولا تو ایک سو (100) درہم تھے ۔ آپ نے جاتے ہوئے حکم دیا کہ میرے حلقۂ درس میں آجایا کرو ، یہ درہم ختم ہو گئے تو پھر بندوبست کر دیں گے ، چنانچہ اس دن کے بعد میں باقاعدگی سے حلقۂ درس میں آنے لگا ۔ کچھ دنوں بعد آپ نے مجھے ایک اور تھیلی دی ، اس طرح آپ وقتا فوقتاً میری امداد فرماتے اور کسی کو علم نہ ہوتا ، ایک خاص بات یہ کہ حضرت امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ رقم تو دیتے رہے مگر کبھی مجھ سے یہ نہ پوچھا کہ کس طرح اور کہاں خرچ کرتے ہو ؟ اور وہ خود ہی محسوس کر لیتے کہ روپے ختم ہونے والے ہیں ، اس کے ساتھ ہی وہ اور رقم دے دیتے ۔ میں پڑھتا بھی رہا اور میرا گھر بھی چلتا رہا۔ پھر ایک وقت آیا کہ میں مالی اعتبار سے خوشحال ہو گیا ۔ میں مسلسل حضرت امام ِاعظم رحمۃ اللہ علیہ کے درس میں آتا رہا ، علمی استفادہ کرتا رہا اور ایک وقت آیا کہ حضرت امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے ایک طرف دنیاوی مال سے خوشحال کر دیا اور دوسری طرف علم و فضل میں ممتاز بنا دیا ، مجھ پر علم کے دروازےکھل گئے ۔ (مناقب امام اعظم جز ثانی صفحہ ۲۱۱،چشتی)
محترم قارٸین : آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ کوئی دو چار ماہ تک حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے قاضی امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کی کفالت کی ہوگی ، ایسا نہیں ہے دو تین سال بھی نہیں بلکہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے دس (10) سال تک میرا اور میرے گھر والوں کا خرچ برداشت کیا ۔ (مناقب امام اعظم جز اول صفحہ ۲۵۹)
امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی عادت مبارکہ بھی تھی کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ علم دین حاصل کرنے والے طالبعلموں پر خوب خرچ فرماتے اور خوش ہوتے ، اور آپ رحمۃ اللہ علیہ طلبہ پر بہت شفیق و کریم تھے ، خوشیوں کے موقعوں پر ، عید کے دنوں میں ان کےلیے نئے نئے کپڑے بنواتےاور طرح طرح کے کھانے بنوا کر کھلاتے ، عرب طلبہ کےلیے عربی کھانا ، روسی طلبہ کےلیے روسی کھانا ، بنگالی طلبہ کےلیے بنگالی کھاناالغرض جن طلبہ کو جو کھانا مرغوب (پسند ) ہوتا وہ پکوا کر اس کو کھلاتے اور خوش ہوتے ۔ (سوانح اعلی حضرت صفحہ ۱۴۶)
اس واقعے میں ہمارے لیے نصیحت کے کئی مدنی پھول بھی ہیں اور کتنے پیارے انداز سے ہماری رہنمائی بھی کی جارہی ہے کہ ہم اپنا مال اللہ پاک کی راہ میں کس اندازسے خرچ کریں تاکہ ثواب بھی ملے اور اُمّتِ مُسلمہ کی خیرخواہی بھی ہو ۔
کسی کے عالمِ دِین بننے میں اگر ہمارا مالی حصّہ بھی شامل ہو جائے تواس کے فوائد کثیر بھی ہیں اور بہت دیر تک رہنے والے بھی ہیں ۔ بلکہ اگر اسے ثوابِِ جاریہ کہا جائے توبھی دُرست ہوگا ۔ غور کیجیے ! بالفرض ہمارے دیئے ہوئے مال سے ایک عالمِ دین بن گیا تو ان کے عالم بننے کا ثواب ہمیں ملےگا ، وہ تیار ہونے والے عالم جس جس کو علمِ دِین سکھائیں گے ، پڑھائیں گے ، اس کا ثواب بھی ہمیں ملے گا ، جو ان سے سُن کر عمل کرے گا ، اس کا ثواب بھی ہمیں ملے گا ۔ وہ آگے جس جس کو بتائے اس کا ثواب بھی ہمیں ملے گا ، اَلْغَرَض ! اللہ نے چاہا تو پھر ہمارے لیے ثواب کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگا ۔ معلوم ہوا کہ دین کےلیے علما پر خرچ کرنے کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے اور اس کے فوائد بھی زیادہ ہیں ۔ انہی فوائد کے پیشِ نظر بعض بزرگوں کے بارے میں آتا ہے کہ وہ کاروبار کرتے اور حاصل ہونے والے منافع میں سے کچھ رقم صرف علما پر خرچ فرماتے تھے کہ اس کے فوائد اور ثمرات عام لوگوں پر خرچ کرنے سے کئی گنا زیادہ ہیں ۔
امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا دین کےلیے خرچ کرنا : ⏬
خود حضرت سیدنا امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا یہی معمول تھا کہ اپنے مال سے کثیر حصہ علمائے کرام کی خدمت میں پیش فرماتے ۔ چنانچہ قیس بن ربیع کا بیان ہے کہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بغداد سے بہت سا مال خرید کر کُوفہ میں لایا کرتے اور اسے مارکیٹ میں بیچتے تھے ، اس سے جو منافع ہوتا تو آپ اپنے مشائخ کےلیے ضروریاتِ زندگی خرید کر ان کے ہاں پہنچاتے پھر محدثین کےلیے ان کی ضروریاتِ زندگی خرید کر ان کے گھر پہنچاتے ، ان کےلیے کھانے پینے کی چیزیں ، لباس سلوا کر بھیجا کرتے اور جو رقم باقی بچ جاتی تو آپ علمائے کرام کو نقد دے دیا کرتے تا کہ وہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں ، ساتھ ہی یہ پیغام بھیجتے میں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں بھیجا یہ سب اللہ پاک نے آپ کےلیے نفع عطا فرمایا ہے ، لہٰذا اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو ، میری تجارتی زندگی میں جس قدر منافع ہے ، اس میں آپ کا حصہ ہے ، مجھے تو صرفاللہ پاک نے آپ لوگوں کی خدمت کا سبب بنایا ہے ، اس کارزق میرے ہاتھوں آپ تک پہنچ رہا ہے ۔ (مناقب امام اعظم جز اول صفحہ ۲۶۲،چشتی)
ایک اور روایت میں آتا ہے کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ جب بھی اپنے لیے یا اپنے گھر والوں کےلیے کپڑا یا کوئی کھانے کی چیز خریدتے تواسی مقدار میں وہ چیز علماء و مشائخ کےلیے بھی خریدتے ۔ (مناقب امام اعظم جز اول صفحہ ۲۶۱)
عالم نہیں بن سکے تو دوسروں کو بنائیں : ⏬
یاد رکھیے : اس میں کوئی شک نہیں کہ عالم بننے کے بڑے فضائل ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں کہ حافظ بننے کے بڑے فضائل ہیں ، یقیناً یہاں ہم میں سے کئی ایسے ہوں گے جن کے دل میں یہ خواہش ہوگی کہ کاش ہم عالم بنتے ، کئی ایسے ہوں گے جو حافظ بننا چاہتے ہوں گے ۔ ہم اگر عالِم نہ بھی بن پائے تو اب یہ سعادت ہمیں مل سکتی ہے کہ ہم اپنے مال سے مدد کر کے کسی کو عالم بنوا دیں ۔ ہمت کیجیے اور ادارہ پیغامُ القرآن پاکستان کے زیرِ انتظام دین کی نشر و اشاعت ، دینی تعلیم عام کرنے خصوصاً دور دراز دیہاتوں کے غریب بچوں کو مفت دینی و عصری تعلیم دینے ، ادارہ کےلیے جگہ کی خریداری و تعمیر ۔ دین کی نشر و اشاعت ، دینی کتب تفاسیر قرآن ، کتبِ احادیث عربی اردو کی شروحات ، دیگر اسلامی کتب ، کی خریداری کے سلسلہ میں تعاون فرمائیں جزاکم اللہ خیراً کثیرا آمین ۔ ہمارے اکاؤنٹ نمبرز یہ ہیں : صاحبزادہ حافظ محمد جواد چشتی اکاؤنٹ نمبر : 02520107640866 میزان بینک لاہور پاکستان ۔
موبی کیش اکاؤنٹ نمبر : 03009576666
ایزی پیسہ اکاؤنٹ : 03469576666
موبی کیش و ایزی پیسہ اکاؤنٹ : 03215555970 ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی خطیب لاہور پاکستان ۔






