Sunday, 4 October 2026

عقائد و نظریات حضرت غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ

عقائد و نظریات حضرت غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ

محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا عبدالقاد رجیلانی رحمۃ  اللہ علیہ کی مبارک زندگی کا اکثر حصہ درس و تدریس میں گزرا اور اسی منصب تدریس کی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے قطبیت کے اعلی منصب پر فائز ہوئے ۔ مدرسہ مخرمیہ کی تعمیر نو کے بعد جب بیانات کا سلسلہ شروع کیا تو سب سے بڑا معرکہ لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کا تھا چونکہ بغداد میں موجود باطل فرقوں اور بد مذہبیت نے اپنے پنجے کس دیئے تھے ، علمی بے راہ روی تھی ، بے جا قیل و قال کے محفلوں میں علمائے حق کو بدنام کیا جا رہا تھا ، مختلف عقائد و نظریات کے حامل طبقے لوگوں کو اپنا ہم خیال بنارہے تھے ، اہل سنت کے عقائد کو مسخ کیا جا رہا تھا ، ہر فرقہ اپنے باطل عقائد کے پرچار میں دوسرے کی دستار کو تار تار کر رہا تھا ان حالات میں جو سب سے بڑا بیڑا حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمۃ  اللہ علیہ نے اٹھایا وہ لوگوں کے عقائد واعمال کی اصلاح تھی ۔ آپ نے دین متین کی حقانیت کو لوگوں کے دلوں میں راسخ کیا ، بدعقیدگی کی سیاہ چادر کو لپیٹ کر قرآن و سنت کی بالادستی قائم کی ۔ باطل نظریات کی بیخ کنی کر کے اسلامی عقائد کو پروان چڑھایا ۔ فتوح الغیب کے خطابات اس بات پر شاہد ہیں کہ آپ نے علمائے سوء کو مخاطب کر کے ان کو راہ راست پر آنے کی دعوت دی ۔ تفسیر الجیلانی ، الفتح الربانی ، اصول الدین اور غنیۃ الطالبین کے صفحات اس بات کی گواہی دیں گے کہ آپ نے اپنے زمانے میں پائے جانے والے تمام گمراہ فرقوں کے نظریات کی خرافات کو بیان کر کے  حق و سچ کی طر ف لوگوں کی رہنمائی فرمائی ۔ اس موضوع پر مزید کام کرنے کا ارادہ ہے اگر صحت نے ساتھ دیا اور وقت ملا تو اس کام کرینگے ان شاء اللہ ۔ باقی اہلِ علم سے گذارش ہے اس موضوع پر توجہ دیں کہ اسلاف علیہم الرحمہ کے عقائد و نظریات بیان کریں ۔


پیرانِ پیر حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ایک سنی ہی اہلِ حق ہیں  یہی لوگ اہلسنت ہیں ، جن کے اقوال شریعت و طریقت کے طابق ہوں ۔ باقی سب اہلِ بدعت ہیں ۔ (سرالار و مظھر الانور صفحہ ۱۴۰ مطبوعہ دارالسنابل) ۔ معلوم ہوا اہلسنت ہی حق پر ہیں  یہ بھی وہ بھی سب صحیح کہنے والے سنیوں کے لبادے میں چھپے صلح کلی جھوٹے ہیں ۔ ہمت کرو یہ بیان کر کے سنی مسلمانوں کو صلح کلیوں کے فتنہ سے بچاو اگر جھوٹی شان و شوکت اور دوکانداری بند ہونے کا خطرہ نہ ہو تو بیان کرو ۔


حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں :  ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے بارے حسنِ ظن رکھتے ہیں وہ مومنوں کی مائیں ہیں ۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سب عورتوں سے افضل ہیں ۔ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا دنیا کی عورتوں سے افضل ہیں ان کی محبت واجب ہے ۔ (اصول الدین مترجم صفحہ نمبر 194 مطبوعہ پرگریسو بکس اردو بازار لاہور)


حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں :  حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت انصار و مہاجرین رضی اللہ عنہم کے متفقہ فیصلہ سے  کے ہوئی اولی بیعت کرنے والوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم دنیا سے اس حال میں تشریف نہ لے گئے جب تک مجھے وصیت نہ فرما دی کہ میرے بعد ابوبکر ، پھر عمر پھر عثمان رضی اللہ عنہم اور پھر میری خلافت ہو گی ۔ (اصول الدین مترجم صفحہ نمبر 178 تا 181 مطبوعہ پرگریسو بکس اردو بازار لاہور،چشتی)


حسنی حسینی سید پیرانِ پیر حضرت غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے افضل عشرہ مبشرہ ہیں پھر ان سے افضل خلفاءِ راشدین رضی اللہ عنہم ہیں ۔ خلفاءِ راشدین میں سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق ہیں پھر حضرت عمر پھر حضرت عثمان پھر حضرت علی ہیں خلفاءِ راشدین رضی اللہ عنہم ۔ (اصول الدین مترجم صفحہ 174 مطبوعہ پروگریسو بکس اردو بازار لاہور،چشتی) ۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے نام پر پیری مریدی کا دھندہ کرنے والو یہ بھی بیان کیا کرو ۔ جس سے معلوم ہوا اہلسنت درست ہے اور اس مکر نام نہاد سنی کہلانے والے در اصل اسلاف اہلسنت علیہم الرحمہ کے عقاٸد و نظریات کے مخالف ہیں پھر ان کے نام کی نسبت پہ قادری کہلانے کافریب و پیری مریدی کا دھندہ کیوں ؟ ۔ ہمت کرو یہ بیان کر کے سنی مسلمانوں کو روافض کے عقائد و نظریات سے بچاو اگر جھوٹی شان و شوکت اور دوکانداری بند ہونے کا خطرہ نہ ہو تو بیان کرو ۔


مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم اور پیرانِ پیر حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا فیصلہ : مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم پر اپنی زبانیں بند رکھو ، صحابہ رضی اللہ عنہم کی توہین نہ کرو ، تمام صحابہ بشمول امیر معاویہ و ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہم کا احترام کرو ۔ جس صحابی رضی اللہ عنہ کا جہاں وصال ہوگا وہ ان لوگوں کی شفاعت کرینگے ۔ ہمت کرو یہ بیان کر کے سنی مسلمانوں کو روافض کے عقائد و نظریات سے بچاو اگر جھوٹی شان و شوکت اور دوکانداری بند ہونے کا خطرہ نہ ہو تو بیان کرو ۔ (اصول الدین مترجم صفحہ 200 تا 203 مطبوعہ پروگریسو بکس اردو بازار لاہور)


حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں : حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے خلاف حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کی تو ان کی خلافت درست اور ان کی امامت واجب ہو گئی ۔ (اصول الدین مترجم صفحہ نمبر 191 مطبوعہ پرگریسو بکس اردو بازار لاہور،چشتی)


حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں : غیر نبی کو معصوم ماننا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم سے افضل ماننا شیعوں کا عقیدہ ۔ (اصول الدین مترجم صفحہ نمبر 238 مطبوعہ پرگریسو بکس اردو بازار لاہور،چشتی)


حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے نام پر پیری مریدی کا دھندہ کرنے والو یہ بھی بیان کیا کرو : حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں : شیعہ وہ ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ رضی اللہ عنہ پر فضیلت دے اور حضرت زید بن علی نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کو خلیفہ مانا اور ان کی امامت کے قائل ہوئے تو انہیں ان لوگوں نے چھوڑ دیا تو حضرت زید بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا انہیں رافضہ کہا گیا ۔ اور رافضی وہ ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر فضیلت دے ۔ (اصول دین مترجم صفحہ 234 مطبوعہ پروگریسو بکس اردو بازار لاہور)


پیرانِ پیر حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے نام پر پیری مریدی کا دھندہ کرنے اور گیارہویاں کھانے اور تجوریاں بھرنے والو ان کے عقائد و نظریات بھی بیان کیا کرو : حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے شیعہ روافض کے فرقوں کی اقسام اور ان کے عقائد و نظریات کو تفصیل سے بیان کیا ہے ہمت کرو یہ بیان کر کے سنی مسلمانوں کو روافض کے عقائد و نظریات سے بچاٶ اگر جھوٹی شان و شوکت اور دوکانداری بند ہونے کا خطرہ نہ ہو تو بیان کرو ۔ (اصول الدین مترجم صفحہ 237 تا 239 مطبوعہ پروگریسو بکس اردو بازار لاہور)


پیرانِ پیر حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : برباد ہے تیری ، افسوس ہے تجھ پر کہ تو اپنی گدی حجرے میں بیٹھا ہوتا ہے مگر تیرا دل لوگوں کے آنے (اپنی تعظیم ہونے ، بڑا ہونے ، مشہور ہونے ، ہاتھ چموانے کی خواھش رکھتا ہے) اور اپنے (ذاتی مفاد کےلیے) ان کے نذرانوں اور تحائف کا منتظر ہوتا ہے ۔ (الفتح الربانی صفحہ 97 مطبوعہ  دار الریان التراثہ) ۔ آج کل تو لوگوں نے اسے باقاعدہ وراثتی گدی نشینی اور کاروبار بنا لیا ہے ایسے لوگوں کےلیے فکر انگیز پیغام ہے ۔


حضرت سیّدنا غوثُ الاعظم سیّد شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں : جب ابوطالب پر موت کا وقت آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا ! اے میر چچا ! لا الٰہ الا اللہ پڑھیے میں اس کلمہ کی وجہ سے اللہ کے پاس آپ کی شفاعت کروں گا ‘ تو ابوطالب نے کہا مجھے علم ہے کہ آپ سچے ہیں لیکن میں اس کو ناپسند کرتا ہوں کہ یہ کہا جائے کہ ابوطالب موت سے گھبرا گیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابو طالب کی مغفرت طلب کرنے سے کرنے سے منع فرما دیا ۔ (تفسیر الجیلانی جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 457 مطبوعہ المکتبۃ المعروفیہ کانسی روڈ کوئٹہ پاکستان،چشتی)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے چچا  ابو طالب کی ہدایت کا سوال کیا تو ہدایت نہ دی گئی ، حضرت حمزہ کے قاتل وحشی (رضی اللہ عنہما) کو ہدایت عطاء کی گئی ۔ (الغنية لطالبي طريق الحق الجزء الثانی صفحہ ۴۹ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان،چشتی)(غُنیۃ الطالبین مترجم اردو ہزاروی صفحہ 263 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور پاکستان)(غُنیۃ الطالبین مترجم اردو بدایونی صفحہ 263)(غُنیۃ الطالبین مترجم اردو مبشر  صفحہ نمبر 415)


محترم قارئینِ کرام : آج کل بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ : سیدنا ابوطالب علیہ السلام پہلا مسلمان اور پہلا صحابی اور کفیل رسول اللہ ہے ہمارے لیے ایمان آزمانے کےلیے ایمان کی کسوٹی ہے ، جو ابوطالب کو "علیہ السلام" کہے گا وہ ہمارا ہے جو ان کے بارے میں گندی زبان ہلائے ، وہ ہمارا نہیں ہے ۔۔۔۔ اس سے دور رہنا چاہیے ۔۔۔۔ جو علی کے باپ کو کافر کہے وہ مومن نہیں ۔۔۔ کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔ وغیرہ ۔


ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ لوگ کہہ رہے ہیں ، تو پھر ائمہ محدثین مفسرین علیہم الرّحمہ سے اتنی بڑی بات کیسے چُھپی رہ گئی اور انہیں علم کیوں نہ ہو سکا ؟


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سوانح و تعارف پہ بڑی بڑی کتابیں محدثین علیہم الرّحمہ  نے لکھیں ہیں ، تو جنابِ ابوطالب کا نام کیوں چھوڑ گئے ؟


حضرت سیّدنا غوثُ الاعظم شیخ سیّد عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ جو امام الاولیاء ہیں ، جن کے نام پر آپ کے آستانے چل رہے ہیں ، کیا وہ بھی اس حقیقت سے ناآشنا رہے ؟ ، آخر وہ کون سی وجوہات تھیں ، کہ سلف صالحین علیہم الرّحمہ جناب ابوطالب کے نام کی کانفرنسیں منعقد کرنے کی سعادت سے محروم رہے ؟ ، آخر وہ کیا وجہ تھی کہ اسلاف علیہم الرّحہ آپ کے خود ساختہ معیار پر "علیہ السلام" لکھ کر پورا نہ اتر سکے ؟ ، اس وقت جتنے لوگ ایمان ابی طالب کے مسئلہ کو لے کر انتشار پھیلا رہے ہیں ، ان سب سے گزارش ہے کہ آخر آج وہ کون سی آفت آن پڑی ہے کہ اہل سنت کو روافض کی جھولیوں میں ڈالنے کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں ، اور ایمان ابی طالب کے مسئلہ پر خاموشی توڑ کر اسے عوام میں یوں بیان کیا جارہا ہے ، جسے سُن کر بڑے بڑے اکابرینِ اہلسنّت پر لوگ انگلیاں اٹھانے لگ پڑے ہیں ؟ ، کیا آپ لوگ خود کو حضرت سیّدنا غوثُ الاعظم شیخ سیّد عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی بڑے سید اور محب اہل بیت سجھتے ؟ اگر سجھتے تو بھی بتادیں اور اگر نہیں سمجھتے تو پھر کم از کم یہ سمجھنے کی کوشش کریں ، کہ انہوں نے جناب ابوطالب کے بارے میں آپ جیسا عقیدہ و نظریہ کیوں نہ رکھا ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
























Saturday, 3 October 2026

خارجی اور ناصبی

خارجی اور ناصبی وہ لوگ تھے جو حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے مرید و معتقد تھے جب حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی تو یہ لوگ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی صفوں سے نکل کر دونوں اطراف پر حملہ کرنے لگے اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ پر کفر کے فتوے لگانے لگے ۔ (شیعہ کتاب : تہذیب المتین فی تاریخ امیرالمونین جلد 2 صفحہ 281 ، 282 مطبوعہ 48 . D نیو مسلم ٹاون وحدت روڈ لاہور،چشتی) ۔ ناصبیوں اور خارجیوں کی نسل جنہیں یہ صلح ہضم نہیں ہو رہی وہ آج کل اپنی اصلیت چھپانے کےلیے اہلسنت کو ناصبی کہہ رہی ہے پہچانیے ان ناصبیوں اور خارجیوں کو ۔ ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔


Wednesday, 30 September 2026

جس نے کلمہ پڑھا وہ گھر والوں میں سے ہو گیا جہلائے زمانہ کو مدلل جواب

سورہ نوح آیت نمبر 28 کی تفسیر ، جس نے کلمہ پڑھا وہ گھر والوں میں سے ہو گیا جہلائے زمانہ کو مدلل جواب









محترم قارئینِ کرام اللہ عزوجل کا فرمان ہے : رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ ۔ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ ۔ (سورہ نوح آیت نمبر 28)

ترجمہ : اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں ہے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کو اور کافروں کو نہ بڑھا مگر تباہی ۔


کفار کے خلاف دعا کرنے کے بعد حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے لیے ، اپنے والدین اور مومن مَردوں اور عورتوں  کےلیے دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  عرض کی : اے میرے رب عزوجل مجھے اور میرے ماں باپ کو اور میرے گھر میں ایمان کی حالت میں داخل ہونے والے کو اور قیامت تک آنے والے سب مسلمان مَردوں اور سب مسلمان عورتوں کو بخش دے اور کافروں کی تباہی میں اضافہ فرما دے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اوران کی قوم کے تمام کفار کو عذاب سے ہلاک کر دیا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعا قبول فرما لی لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ انہوں  نے جو دعا مسلمانوں کے بارے میں  فرمائی اسے اللہ تعالیٰ قبول نہ فرمائے ۔ (تفسیر خازن جلد ۴ صحہ ۳۱۴ - ۳۱۵)(تفسیر مدارک صفحہ ۱۲۸۶)


اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے والدین مومن تھے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انتقال کر جانے والے مسلمانوں کےلیے مغفرت کی دعا کرنی چاہیے کہ اس سے انہیں فائدہ ہو تا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میت قبر میں  ڈوبتے ہوئے فریادی کی طرح ہی ہوتی ہے کہ ماں ، باپ ، بھائی یا دوست کی دعائے خیر پہنچنے کی منتظر رہتی ہے ، پھر جب اسے دعا پہنچ جاتی ہے تو اسے یہ دعا دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے زیادہ پیاری ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ زمین والوں کی دعا سے قبر والوں  کو پہاڑوں کی مانند ثواب دیتا ہے اور یقیناً زندہ کا مُردوں کےلیے تحفہ ان کےلیے دعائے مغفرت ہے ۔ (شعب الایمان الرابع والستون من شعب الایمان ۔۔۔ الخ، فصل فی زیارۃ القبور جلد ۷ صفحہ ۱۶ حدیث نمبر ۹۲۹۵)


سورہ نوح آیت نمبر 28 کی تفسیر کرتے ہوئے اس عاجز کے دوست حضرت علامہ پیر سید زین العابدین شاہ کرمانی صاحب نے مفہوماً کہا کہ جو کلمہ پڑھ کر میرے گھر کا فرد بن گیا ۔ اس سے مراد ان کی یہی کہ یہاں بیتی کنایہ ہے اصل مراد دین ہے ۔ یعنی بیت بمعنی دین ہے ۔ جیسے گھر والے قریبی نسبی اعتبار سے کہلاتے ہین ویسے تمام اہل ایمان  امتی گھر والے ایمان کی اعتبار سے فرد بن جاتے ہیں ۔ اس پر کچھ جہلا نے اودھم مچا رکھا ہے ۔ اس کا جواب پیشِ خدمت ہے : ⏬


امام المتکلمین شارح و مفسر امام ابو منصور  ماتریدی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 333هـ) نے مذکورہ ایت کے تعلق سے بیتی کے معنی مین متعدد معنی و اختلاف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ﺛﻢ ﻗﻮﻟﻪ : (ﺑﻴﺘﻲ) ﻗﺎﻝ ﺑﻌﻀﻬﻢ: ﺃﻱ : ﻓﻲ ﺳﻔﻴﻨﺘﻲ ۔ ﻭﻗﺎﻝ ﺑﻌﻀﻬﻢ : (ﻓﻲ ﺑﻴﺘﻲ) ﺃﻱ : ﻓﻲ ﺩﻳﻨﻲ ، ﻓﻴﻜﻮﻥ اﻟﺒﻴﺖ ﻛﻨﺎﻳﺔ ﻋﻦ اﻟﺪﻳﻦ ۔ ﻭﻗﺎﻝ ﺑﻌﻀﻬﻢ: ﺇﻧﻤﺎ ﻫﻮ ﺑﻴﺘﻪ اﻟﺬﻱ ﻳﺴﻜﻦ ﻓﻴﻪ؛ ﻟﻤﺎ ﺃﻃﻠﻌﻪ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﺃﻥ ﻣﻦ ﺩﺧﻞ ﺑﻴﺘﻪ ﻣﺆﻣﻨﺎ ﻻ ﻳﻌﻮﺩ ﺇﻟﻰ اﻟﻜﻔﺮ ۔ پھر اس فرمان (بَيْتِي) (میرے گھر) کے بارے میں : بعض مفسرین نے کہا : اس سے مراد میری کشتی ہے ۔ بعض نے کہا : (في بيتي) سے مراد میرے دین میں ہے ، لہٰذا یہاں گھر کو دین کےلیے بطور کنایہ استعمال کیا گیا ہے ۔ (یعنی جیسے گھر والے نسبی قرابت دار و آل ہوتے ہیں ویسے امتی دینی قرابت دار و آل ہوتے ہیں) ۔اور بعض نے کہا : اس سے مراد واقعی وہی گھر ہے جس میں وہ سکونت پذیر تھے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ بتلا دیا تھا کہ جو بھی ان کے گھر میں ایمان کے ساتھ داخل ہوگا وہ کبھی کفر کی طرف واپس نہیں لوٹے گا ۔ (تفسیر الماتریدی الجزء العاشر صفحہ 236 ، 237 مطبوعہ دارالکتب العلیہ بیروت لبنان،چشتی)


امام المتکلمین و مفسر امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اختلاف نہ صرف بیتی سے مراد دین لیا بلکہ اس پر اعتراض کا جواب دے کر اس موقف کا دفاع بھی کیا آپ لکھتے ہیں : ثم ﻗﺎﻝ ﺗﻌﺎﻟﻰ : ﻭﻟﻤﻦ ﺩﺧﻞ ﺑﻴﺘﻲ ﻣﺆﻣﻨﺎ ﻗﻴﻞ : ﻣﺴﺠﺪﻱ ، ﻭﻗﻴﻞ : ﺳﻔﻴﻨﺘﻲ ، ﻭﻗﻴﻞ : ﻟﻤﻦ ﺩﺧﻞ ﻓﻲ ﺩﻳﻨﻲ ، ﻓﺈﻥ ﻗﻴﻞ : ﻓﻌﻠﻰ ﻫﺬا اﻟﺘﻔﺴﻴﺮ ﻳﺼﻴﺮ ﻗﻮﻟﻪ : ﻣﺆﻣﻨﺎ ﻣﻜﺮﺭا ، ﻗﻠﻨﺎ : ﺇﻥ ﻣﻦ ﺩﺧﻞ ﻓﻲ ﺩﻳﻨﻪ ﻇﺎﻫﺮا ﻗﺪ ﻳﻜﻮﻥ ﻣﺆﻣﻨﺎ ﺑﻘﻠﺒﻪ ﻭﻗﺪ ﻻ ﻳﻜﻮﻥ، ﻭاﻟﻤﻌﻨﻰ ﻭﻟﻤﻦ ﺩﺧﻞ ﻓﻲ ﺩﻳﻨﻲ ﺩﺧﻮﻻ ﻣﻊ ﺗﺼﺪﻳﻖ اﻟﻘﻠﺐ ۔

ترجمہ : پھر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِي مُؤْمِنًا ، اور جو میرے گھر میں ایمان کے ساتھ داخل ہوا ۔ اس کے بارے میں مختلف آراء ہیں : کسی نے کہا : اس سے مراد میری مسجد ہے ۔ کسی نے کہا : مراد میری کشتی ہے ۔ اور کسی نے کہا : مراد  جو میرے دین میں داخل ہوا ہے ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ : اس آخری تفسیر (دین میں داخل ہونے) کی رو سے تو لفظ ، مؤمنًا ، (مومن ہو کر) کا ذکر تکرار بن جاتا ہے ؟ تو ہم اس کا جواب یہ دیں گے کہ : جو شخص ظاہری طور پر دین میں داخل ہوتا ہے ، وہ بسا اوقات دل سے (حقیقتاً) مومن ہوتا ہے اور بعض اوقات دل سے مومن نہیں بھی ہوتا (یعنی منافق ہو سکتا ہے) ۔ لہٰذا یہاں معنی یہ ہے : اور جو میرے دین میں دل کی تصدیق کے ساتھ داخل ہوا ہو ۔ (تفسیر الکبیر الجزء الثلاثون صفحہ 147 مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان،چشتی)


امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی بیتی سے مراد دین کی تفسیر نہ صرف نقل کر رہے ہیں بلکہ وارد اعتراض کا جواب بھی دیا ۔ اور مفسرین کا یہ کہنا کہ بیتی کنایہ کے طور پر ہے یہی اس بات کی دلیل ہے کہ جیسے گھر والے قرابت دار ہوتے ہیں نسبی ویسے امتی دینی قرابت دار ہوتے ہیں ۔ 


امام ابو حیان اندلسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ﻭﻟﻤﻦ ﺩﺧﻞ ﺑﻴﺘﻲ ، ﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻭاﻟﺠﻤﻬﻮﺭ : ﻣﺴﺠﺪﻱ ﻭﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺃﻳﻀﺎً : ﺷﺮﻳﻌﺘﻲ ، اﺳﺘﻌﺎﺭ ﻟﻬﺎ ﺑﻴﺘﺎ ، ﻛﻤﺎ ﻗﺎﻟﻮا : ﻗﺒﺔ اﻹﺳﻼﻡ ﻭﻓﺴﻄﺎﻃﻪ ۔ ﻭﻗﻴﻞ : ﺳﻔﻴﻨﺘﻪ ۔ ﻭﻗﻴﻞ : ﺩاﺭﻩ ۔

ترجمہ : اور (اللہ کا یہ فرمان) اور جو میرے گھر میں داخل ہوا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور جمہور (علماء) علیہم الرحمہ نے کہا : اس سے مراد ، میری مسجد ، ہے ۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی منقول ہے : میری شریعت ، (یعنی) انہوں نے شریعت کےلیے گھر کا لفظ بطور استعارہ استعمال کیا ، جیسا کہ لوگ کہتے ہیں : قبۃ الاسلام اور فسطاطہ (اسلام کا خیمہ و سایہ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس سے مراد ، ان کی کشتی ، ہے ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ان کا گھر (دار) ۔ (التفسير البحر المحيط جلد 8 صفحہ 337 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان،چشتی)


امام ابو حیان اندلسی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی بطور کنایہ و استعارہ دین کو گھر سے تعبیر کرنے کا قول بھی نقل کیا ہے ۔ اور وجہ استعارہ یہی ہے حضرت علامہ پیر سید زین العابدین شاہ کرمانی صاحب نے بیان کیا ہے ۔


امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس آیت کا بیتی سے مراد دین نقل کیا ہے : ﻭﻟﻤﻦ ﺩﺧﻞ ﺑﻴﺘﻲ ﻣﺆﻣﻨﺎ : ﻭﻫﺬا ﻗﻮﻝ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ : ﺑﻴﺘﻲ ﻣﺴﺠﺪﻱ ، ﺣﻜﺎﻩ اﻟﺜﻌﻠﺒﻲ ﻭﻗﺎﻟﻪ اﻟﻀﺤﺎﻙ ۔ ﻭﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺃﻳﻀﺎً : ﺃﻱ ﻭﻟﻤﻦ ﺩﺧﻞ ﺩﻳﻨﻲ ، ﻓﺎﻟﺒﻴﺖ ﺑﻤﻌﻨﻰ اﻟﺪﻳﻦ ، ﺣﻜﺎﻩ اﻟﻘﺸﻴﺮﻱ ﻭﻗﺎﻟﻪ ﺟﻮﻳﺒﺮ ۔ ﻭﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺃﻳﻀﺎً : ﻳﻌﻨﻲ ﺻﺪﻳﻘﻲ اﻟﺪاﺧﻞ ﺇﻟﻰ ﻣﻨﺰﻟﻲ ، ﺣﻜﺎﻩ اﻟﻤﺎﻭﺭﺩﻱ ۔

ترجمہ : اور جو میرے گھر میں ایمان کے ساتھ داخل ہوا ۔ اور یہ حضرت ابن عباس  رضی اللہ عنہما کا قول ہے : میرے گھر سے مراد میری مسجد ہے ، اسے ثعلبی نے بیان کیا ہے اور ضحاک علیہما الرحمہ نے بھی یہی کہا ہے ۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے یہ بھی منقول ہے : یعنی جو میرے دین میں داخل ہوا  ، تو یہاں ، بیت ، گھر دین کے معنی میں ہے ، اسے قشیری رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے اور جویبر نے بھی یہی کہا ہے ۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے یہ بھی منقول ہے : یعنی میرا وہ دوست جو میرے گھر میں داخل ہوا ، اسے ماوردی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے ۔ (الجامع الاحکام القرآ الجزء الحادی والعشرون صفحہ 270 ، 271 مطبوعہ موسسة الرسالة،چشتی)


اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر کے سلسلے میں تفاسیر میں یہ بھی موجود ہے کہ اس سے مراد وہ ہے کہ جو شریعت میں داخل ہو جائے یعنی لفظ گھر سے شریعت مراد ہے ، تو تفسیری طور جو شریعت میں داخل ہو جائے وہ نبی علیہ السلام کے گھرانے کا فرد ہے یعنی اہلبیت ہے ۔ اور جہلاءِ زمانہ نے جو اعتراض کیا ہے کہ اگر شریعت مراد ہے تو پھر آگے آیت میں ہے کہ مومنین اور مومنات کے لیے بھی بخشش ہو تو جب شریعت کا ذکر ہو گیا اس میں مومنین اور مومنات اگئے تو پھر دوبارہ مومنین مومنات لکھنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اس کا بھی جواب پڑھتے جائیے کہ بیت سے مراد سیدنا نوح علیہ السلام کی شریعت مراد ہے یعنی آیت کا یہ معنی بنے گا کہ سیدنا نوح علیہ السلام دعا فرما رہے ہیں کہ یا اللہ میرے والدین کی بخشش فرما اور جو میری امت میں داخل ہو کر میرا اہلبیت ہو جائے اسے بھی بخش دے ۔ اب آگے مومنین مومنات کا ذکر اس طرح ہے کہ میری امت کے مومنین کے علاوہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی جو امتیں مومنین ہیں ان کی بھی بخشش فرما ۔ لہٰذا جہلاءِ زمانہ کا اعتراض ختم ہو گیا کہ جہلاءِ زمانہ کہتے ہیں کہ اگر اہلبیت مراد لیا جائے تو مومنین مومنات کہنا بےمعنی کہلائے گا ، اعتراض اس طرح ختم ہوا کہ یہاں پر انتہائی جامع  آیت ہے کہ والدین کی بخشش فرما اور تمام اہلبیت امت کی بخشش فرما اور پھر دیگر امتوں کےلیے بھی دعا کی کہ ان امتوں کے مومنین مومنات کی بھی بخشش فرما ۔


امام واحدی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 468 ھجری حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے تفسیر لکھتے ہیں : روى عطاء عن ابن عباس : يريد من دخل بيتي ، أي في ديني مؤمنًا ۔ وقوله : وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ۔ عام في كل من آمن بالله وصدق الرسل ۔

ترجمہ : حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حضرت عطا رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے کہ ایت میں گھر سے مراد دین ہے یعنی جو میرے دین میں داخل ہو جائے ۔ اور اگے جو آیت ہے کہ مومنین اور مومنات کی بخشش فرما تو یہ عام ہے کہ تمام دیگر رسولوں پر جو ایمان لائے اس کی بھی بخشش فرما ۔ (التفسير البسيط الواحدی جلد 22 صفحہ 275 مطبوعہ دارالمصور العربی سکندریہ مصر)


امام ابی حفص رحمۃ اللہ علیہ متوفی 880 ھجری حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے تفسیر لکھتے ہیں : وقال ابن عباس : أي : دخل في ديني ۔ فإن قيل : فعلى هذا يصير قوله : مُؤمِنًا ، مكررًا ۔ فالجواب : إنَّ من دخل في دينه ظاهرًا قد يكون مُؤمنًا ، وقد لا يكون مؤمنًا ، فالمعنى : ولمن دخل دخولًا مع تصديق القلبِ ۔

ترجمہ : حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ بیت سے مراد گھر ہے یعنی جو میرے گھر میں داخل ہو جائے تو وہ میرے اہلبیت میں شمار ہے ، اس تفسیر کو مراد لیا جائے تو بظاہر لفظ مومنا سے تکرار لازم آ رہا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک دین میں دو قسم کے لوگ داخل ہوتے ہیں ایک وہ کہ جو ایمان والے ہو کر داخل ہوتے ہیں اور ایک وہ ہوتے ہیں کہ جو ایمان والے نہ ہو کر منافق ہو کر داخل ہوتے ہیں تو یہاں پر مومنا تکرار نہیں بلکہ وضاحت ہے کہ جو میرے گھر میں ایمان والا ہو گا اور داخل ہو جائے تو وہ میرے اہلبیت میں ہے ۔ (تفسیر اللباب في علوم الكتاب جلد 19 صفحہ 402 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)


امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر لکھتے ہیں : وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا: أَيْ وَلِمَنْ دَخَلَ دِينِي، فَالْبَيْتُ بِمَعْنَى الدِّينِ، حَكَاهُ الْقُشَيْرِيُّ وَقَالَهُ جُوَيْبِرٌ ۔

سیدنا ابن عباس سے بھی یہ تفسیر مروی ہے کہ جو میرے گھر میں داخل ہو سے مراد جو میرے دین میں داخل ہو ۔تو لفظ بیت یہاں دین کے معنی میں ہے اس کو امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے اور یہی بات امام جویبر نے بھی فرمائی ہے ۔ (تفسير القرطبي 18/314)


امام ابو منصور رحمۃ اللہ علیہ تفسیر لکھتے ہیں : وقَالَ بَعْضُهُمْ: (في بيتي) أي: في ديني؛ فيكون البيت كناية عن الدِّين ۔

امام ابو منصور رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض کے مطابق ایت میں بیت سے مراد دین ہے، (اور امام ابو منصور اس تفسیر کی تائید کرتے ہوئے دلیل دیتے ہیں کہ) بیت سے کنایتا دین مراد ہے(اور اس طرح کے کنائے قران و حدیث میں کئی جگہ پر موجود ہیں بلکہ یہ وہ جامع کنایہ ہے جو حقیقت کو بھی جامع ہے اور قران و حدیث کے جامع وسیع معنی مراد ہوتے ہیں جیسے کہ نیچے حوالہ جات لکھیں گے) ۔ (تفسير الماتريدي10/236)


امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 604 ھجری نے تو جہلاءِ زمانہ کے تمام اعتراضات کا جواب دے دیا لکھتے ہیں : وَقِيلَ : وَلِمَنْ دَخَلَ فِي دِينِي ، فَإِنْ قِيلَ : فَعَلَى هَذَا التَّفْسِيرِ يَصِيرُ قَوْلُهُ : مُؤْمِنًا مُكَرَّرًا ، قُلْنَا: إِنَّ مَنْ دَخَلَ فِي دِينِهِ ظَاهِرًا قَدْ يَكُونُ مُؤْمِنًا بِقَلْبِهِ وَقَدْ لَا يَكُونُ ، وَالْمَعْنَى وَلِمَنْ دَخَلَ فِي دِينِي دُخُولًا مَعَ تَصْدِيقِ الْقَلْبِ ۔ ثُمَّ قَالَ تَعَالَى : وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِناتِ إِنَّمَا خَصَّ نَفْسَهُ أَوَّلًا بِالدُّعَاءِ ثُمَّ الْمُتَّصِلِينَ بِهِ لِأَنَّهُمْ أَوْلَى وَأَحَقُّ بِدُعَائِهِ ثُمَّ عَمَّ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ۔

ترجمہ : ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ جو میرے دین میں داخل ہو جائے تو وہ میرے اہلبیت میں شمار ہے ، اگر اعتراض کیا جائے کہ اگر یہ تفسیر درست ہے تو پھر لفظ مومن سے تکرار لازم ائے گا تو امام رازی اس کا جواب دیتے ہیں کہ دین میں کوئی داخل ایمان کے ساتھ ہوتا ہے اور کوئی ایمان کے بغیر منافقتا داخل ہوتا ہے تو یہاں لفظ مومن نے وضاحت کر دی کہ میرے اہلبیت میں وہ شمار ہوگا کہ جو میری شریعت میں داخل ہوگا ایمان والا ہو کر ۔ پھر اگے مومنین مومنات کا پھر تذکرہ ہے تو یہ بھی تکرار نہیں کیونکہ حضرت سیدنا نوح علیہ السلام نے سب سے پہلے اپنے لیے دعا کی پھر اپنے متصل کےلیے دعا کی کیونکہ وہ اولی ہیں احق ہیں پھر (جب حضرت سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنے لیے دعا کی پھر والدین کےلیے دعا کی پھر اپنی شریعت کے مومنین کےلیے دعا کی تو پھر) اس کے بعد دیگر تمام مومنین مومنات یعنی دیگر امتوں کے مومنین مومنات سب کے لیے دعا کر دی لہذا کوئی تکرار نہیں

(تفسير الرازی جلد 30 صفحہ 147 مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان)


امام سید محمود آلوسی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : وفي رواية عن الحبر أنه أراد شريعته استعار لها اسم

 البيت ۔

ترجمہ : امام سید محمود آلوسی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حبر الامہ یعنی حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہاں بیت سے مراد شریعت ہے اور شریعت کے لیے لفظ بیت استعارہ استعمال ہوا ہے(یہ وہ جامع استعارہ ہے جو حقیقت کو بھی جامع ہے اور قران و حدیث کے جامع وسیع معنی مراد ہوتے ہیں جیسے کہ نیچے حوالہ جات لکھیں گے) ۔ (تفسير روح المعانی جلد 15 صفحہ 89)


امام ماوردی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک تفسیر یہ بھی کی کہ : الثالث : من دخل في ديني ، تیسری تفسیر یہ ہے کہ بیت سے مراد دین ہے ۔ (تفسير الماوردی النكت والعيون جلد 6 صفحہ 106)


تفسیر سمرقندی میں ہے : ثم قال عز وجل : رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا يعني : سفينتي و ديني ، آیت میں جو ہے کہ جو میرے گھر میں داخل ہو ایمان کی حالت میں ۔ تو گھر سے کشتی اور دین مراد ہے ۔ (تفسير السمرقندي بحر العلوم جلد 2 صفحہ 502،چشتی)


تفسیر التیسیر میں ہے : وقال الكلبيُّ: أي: أمَّة محمَّد ﷺ ، اس ایت میں جو اگے ہے کہ امت نوح کی بخشش فرما اور پھر فرمایا کہ مومنین مومنات کی بخشش فرما تو ان مومنین مومنات سے مراد امت محمدیہ ہے ۔ (التيسير في التفسير - أبو حفص النسفي جلد 15 صفحہ 35)


تفسیر سمعانی میں ہے : وَلِلْمُؤْمنِينَ ، أَي : لكل الْمُؤمنِينَ وَالْمُؤْمِنَات إِلَى يَوْم الْقِيَامَة ۔ آیت میں جو امت نوح کی بخشش کے بعد مومنین مومنات لفظ ہے اس سے مراد تمام مومنین مومنات ہیں جو قیامت تک ائیں گے ۔ (تفسير السمعاني أبو المظفر السمعاني جلد 6 صفحہ 61)


تفسیر الحداد میں ہے : وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِناتِ ، عامّ في كلّ من آمن وصدّق الرّسل ۔ آیت میں جو امت نوح کی بخشش کے بعد مومنین مومنات کا لفظ ہے یہ عام ہے ہر اس شخص کے بارے میں جو رسولوں پر ایمان لے ائے ۔ (تفسير الحداد المطبوع خطأ باسم التفسير الكبير للطبراني ، أبو بكر الحداد جلد 6 صفحہ 359،چشتی)


تفسیر مدارک میں ہے : أولًا من يتصل به لأنهم أولى وأحق بدعائه ثم عم المؤمنين والمؤمنات ، سیدنا نوح علیہ السلام نے دعا فرمائی پہلے ان کے متعلق کہ جو ان کے متصل ہیں یعنی اہل بیت کہ وہ اولی اور احق ہیں پھر سیدنا نوح علیہ السلام نے عمومی طور پر دیگر تمام مومنین مومنات کے لیے دعا فرمائی ۔ (تفسير النسفي مدارك التنزيل وحقائق التأويل جلد 3 صفحہ 547)


تفسیر واحدی میں ہے : وللمؤمنين والمؤمنات عام في كل من آمن بالله تعالى، وصدق بالرسل ، سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی امت کے بارے میں دعا کرنے کے بعد جو مومنین مومنات فرمایا اس سے مراد ہر وہ مومن ہے کہ جو رسولوں پر ایمان لے آئے ۔ (التفسير الوسيط للواحدی الواحدی جلد 4 صفحہ 360)


تفسیر بغوی میں ہے : وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ هَذَا عَامٌّ فِي كُلِّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَصَدَّقَ الرُّسُلَ ، سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی امت پر دعا کے بعد جو دعا فرمائی اس میں مومنین مومنات سے مراد عام ہے کہ جو بھی تمام رسولوں پر ایمان لائے اور اللہ پر ایمان لائے ۔ (تفسير البغوی جلد 8 صفحہ 234)


ثابت ہوا کہ گھر یعنی بیت کو بمعنی دین کرنا درست ہے اور یہی حضرت علامہ پیر سید زین العابدین شاہ کرمانی صاحب کی مراد تھی جس نے کلمہ پڑھا وہ گھر والوں میں سے ہو گیا یعنی جیسے گھر والے نسبی قرابت دار ہیں ویسے امتی ایمانی طور پر قرابت دار ہیں ۔ اس لیے ائمہ علیہم الرحمہ نے بیتی کو بطور استعارہ دین بتایا ۔ اس میں کوئی ایسا اعتراض نہیں بنتا تھا جس پر جہلا شور مچا رہے ہیں اللہ عزوجل بغض و ادھے تعصب سے بچاۓ آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

Sunday, 13 September 2026

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب





محترم قارئینِ کرام : شیعہ مفسر قمی لکھتا ہے : کہا کہ یہ آیت ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچا سے کہہ رہے تھے : اے چچا لا الہ الا اللہ پڑھ لو میں اس کے طفیل آپ کو قیامت کے دن نفع پہنچاوں گا ۔ تو انہوں نے کہا میں اپنے نفس کو جانتا ہوں ۔ جب ابو طالب فوت ہوئے تو حضرت عباس بن عبدالمطلب نے فرمایا ۔ کیا موت کے وقت انہوں نے کلمہ پڑھا تھا ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا : میں نے تو ان سے کچھ بھی نہیں سنا تھا ، اور نہ ہی میں قیامت کے دن اسے نفع پہنچاوں گا ۔ (شیعہ کتاب : تفسير القمی جلد 2 صفحہ 142،چشتی)


ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کا ابا شیعہ مفسر ھاشم بحرانی لکھتا ہے : کہا کہ یہ آیت ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچا سے کہہ رہے تھے : اے چچا لا الہ الا اللہ پڑھ لو میں اس کے طفیل آپ کو قیامت کے دن نفع پہنچاوں گا ۔ تو انہوں نے کہا میں اپنے نفس کو جانتا ہوں ۔ جب ابو طالب فوت ہوئے تو حضرت عباس بن عبدالمطلب نے فرمایا ۔ کیا موت کے وقت انہوں نے کلمہ پڑھا تھا ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا : میں نے تو ان سے کچھ بھی نہیں سنا تھا ، اور نہ ہی میں قیامت کے دن اسے نفع پہنچاوں گا ۔ (شیعہ کتاب : تفسیر البرهان جلد 3 صفحہ 230،چشتی)


شیعہ مفسر ملا باقر مجلسی لکھتا ہے : اور یہ بھی روایت کی کہ : إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ ، اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم جس کو دوست رکھتے ہو اُسے ہدایت نہیں کر سکتے ۔ (سورۃ القصص آیت نمبر 56) ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ بھی روایت کی کہ علی علیہ لسلام اپنے والد کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا : آپ کے چچا گمراہی کی حالت میں اس دنیا سے چلے گئے تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہو ؟ اور نہ ہی کسی نے اسے کبھی نماز پڑھتے دیکھا کیونکہ نماز مسلمان اور کافر کے درمیان فرق کرتی ہے ، اور جو وہ مرنے کے بعد چھوڑ گئے تھے اس میں سے علی اور جعفر نے کچھ بھی نہ لیا ۔ اور یہ بھی روایت کی ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ میرے چچا کو ہلکا عذاب دیا جائے گا جو انہوں نے میرے حق میں کیا تھا وہ ٹخنوں تک آگ میں ہو گا ۔ اور ایک روایت یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عبداللہ ، آمنہ اور ابو طالب جہنم کے حجروں میں سے ایک حجرے میں ہونگے ۔ (شیعہ کتاب : بحارالانوار جلد 35 ، 36 صفحہ 97 مطبوعہ موسسة الاعلمی بیروت لبنان،چشتی)


شیعیوں کے بہت بڑے محقق شیخ صدوق قمی کی کمال الدین و اتمام النعمہ سے جنابِ ابوطالب کے متعلق دو باتوں میں سے ایک بات ثابت ہے کہ یا تو وہ لوگوں کی بے عزتی کے خوف سے اسلام قبول نہیں کر رہے تھے ، یا پھر وہ شرک کا اظہار اور ایمان کا اخفاء کرتے تھے ۔ دونوں صورتوں میں انہوں نے ساری عمر ایمان کو چھپایا اور شرک کا اظہار کیا ، آج شیعوں اور ان کے فضلہ خوروں کو کہاں سے وحی نازل ہوگئی کہ وہ مومن تھے ؟ ۔ (شیعہ کتاب : کمال الدین و اتمام النعمہ جلد اول صفحہ 207 مطبوعہ الکساء پبلیشر کراچی)


تعجب کی بات ہے کہ ایمان ابو طالب پر شیعہ کتب میں ایک ضعیف ترین روایت بھی موجود نہیں ہے ۔ تاریخ اسلام ، اہلسنت کتب حتی کہ شیعہ کتب کی کسی بھی روایت میں وہ اہم واقعہ بیان ہی نہیں ہوا کہ 

حضرت ابوطالب نے فلاں موقعہ پر توحید و رسالت کی گواہی دی ۔ حضرت ابوطالب دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ۔ حضرت ابوطالب نے اسلامی شریعت پر عمل کیا ۔ حضرت ابوطالب نے اپنے ایمان کا اعلان کیا ۔ جن آیات قرآنی سے شیعہ استدلال کرتے ہیں ان سے حضرت ابو طالب کا ایمان ثابت ہی نہیں ہوتا اور کچھ احکامات تو حضرت ابوطالب کی وفات کے بعد نازل ہوئے ۔ شیعوں کے ہاں کھینچ کھانچ کے اقوال معصومین پر ایمان ابوطالب تسلیم کیا جاتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شیعہ کی اصول اربعہ کی اول نمبر کتاب اصول کافی میں ایک صحیح السند قول حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا موجود ہے جو ان تمام اقوال معصومین کی نفی بیان کرتا ہے ، جو شیعہ حضرت ابوطالب کے ایمان کی تائید میں پیش کرتے ہیں ۔ شیخ یعقوب الکینی نے اپنی کتاب الکافی میں ایک روایت نقل کی ہے جو اس طرح ہے : علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن ابن أبي عمير، عن هشام بن سالم، عن ابي عبدالله (عليه السلام) قال: إن مثل أبي طالب مثل أصحاب الكهف أسروا الايمان وأظهروا الشرك فآتاهم الله أجرهم مرتين ۔

ترجمہ : حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ ابو طالب علیہ السلام کی مثال اصحاب کہف کی سی ہے، انہوں نے ایمان کو چھپایا اور شرک کو ظاہر کیا پس خدا نے انکو دو اجر دیے ۔ (الاصول الكافي: شیخ یعقوب الکینی جلد 1 ، 2 کتاب الحجت : باب :  مولد النبي (صلى الله عليه وآله وسلم) و وفاته صفحہ 341 رقم 28 مطبوعہ دارالمرتضیٰ بیروت،چشتی)


تحقیق السند : 1 :  علي بن إبراهيم 

1 : علي بن إبراہيم 

یہ بالاتفاق ثقہ ہے

شیخ نجاشی نے فرمایا : علي بن إبراهيم بن هاشم أبو الحسن القمي، ثقة ۔


2 : ابراہيم بن ہاشم 


سيد الخوئی انکے بارے میں کہتے ہے : إبراهيم بن هاشم أبو إسحاق القمّى، أصله كوفي انتقل إلى قم، قال أبو عمرو الكشّى: تلميذ يونس بن عبدالرحمان، من أصحاب الرضا عليه السلام، وهذا قول الكشّى، وفيه نظر تنظّر النجاشي في محلّه، بل لايبعد دعوى الجزم بعدم صحّة ماذكره الكشّي والشيخ. والوجه في ذلك إن إبراهيم بن هاشم مع كثرة رواياته،أقول: لاينبغي الشكّ في وثاقة إبراهيم بن هاشم، ويدلّ على ذلك عدّة أمور: : أنّ السيّد ابن طاووس إدّعى الاتفاق على وثاقته، حيث قال عند ذكره رواية عن أمالي الصدوق في سندها إبراهيم بن هاشم: (ورواة الحديث ثقات بالاتفاق)


3 : ابن أبي عمیر 

یہ بھی ثقہ الامامی ہے،انکی توثیق اس لنک پر پڑھیں


4 :  ہشام بن سالم 

یہ بھی ثقہ الامامی ہی ہے ۔


لہٰذا یہ روایت بلکل صحیح ہے اس میں کسی باشعور اہل علم شخص کو شک نہیں ہونا چاہیے ۔


 اس روایت کو ان علماء نے بھی صحیح یا حسن قرار دیا ہے ۔


الشيخ هادي النجفي نے اپنی کتاب موسوعته جلد 5 صفحہ 321 میں اس کے بارے میں فرمایا : الرواية صحيحة الإسناد ۔ اس روایت کی سند صحیح ہے ۔


السيد محمد علي الابطحي نے تهذيب المقال جلد 5 صفحہ 452 میں کہا : صحيح ۔


العلامة المجلسي نے الکافی کی شرح مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول، جلد 5 صفحہ: 253 میں اس روایت کے بارے میں فرمایا : الحديث حسن ، یہ حسن حدیث ہے ۔


کم و بیش یہی روایت کئی اور شیعہ کتب میں بھی موجود ہے ۔ مثال کے طور پر : ⏬


1 : البرهان في تفسير القرآن الجزء الثاني (تأليف السيد هاشم بن سليمان البحراني)


2 : وسائل الشیعہ جلد 16 صفحہ نمبر 225 ۔


طرز استدلال : حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے منسوب یہ روایت اہل تشیع کے اصولوں کے مطابق ایک صحیح السند روایت ہے ۔ اس روایت میں دو نکات غور طلب ہیں : ⏬

1 : حضرت ابوطالب کی مثال اصحاب کہف جیسی ہے ۔

2 : حضرت ابوطالب نے ایمان کو چھپایا اور شرک کو ظاہر کیا ۔


قرآن کریم میں اصحاب کہف کا قصہ سورت الکھف میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے : نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّؕ-اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ (13)وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا(14)هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةًؕ-لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍؕ-فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ۔ (سورة الكهف آیت نمبر 13 ، 14 ، 15)

ترجمہ : ہم ان کا ٹھیک ٹھیک حال تمہیں سنائیں وہ کچھ جوان تھے کہ اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ہدایت بڑھائی۔اور ہم نے ان کے دلوں کی ڈھارس بندھائی جب کھڑے ہوکر بولے کہ ہمارا رب وہ ہے جو آسمان اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی معبود کو نہ پوجیں گے ایسا ہو تو ہم نے ضرور حد سے گزری ہوئی بات کہی۔یہ جو ہماری قوم ہے اس نے اللہ کے سوا خدا بنا رکھے ہیں کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی روشن سند تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے ۔


ان آیات کے مطابق اصحاب کہف رضی اللہ عنہم نے اپنے ایمان کو ہرگز نہیں چھپایا تھا بلکہ اللہ عزوجل پر ایمان کا برملا اظہار کرتے ہوئے بتوں سے بیزاری ظاہر کی تھی ۔ اسی لیے تو بادشاہ دقیانوس کے خوف سے غار میں چھپ گئے تھے ۔ اگر اصحاب کہف رضی اللہ عنہم اپنا ایمان ظاہر نہ کرتے تو پھر انہیں غار میں چھپنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ؟


حضرت ابوطالب نے بھی اگر اصحاب کہف رضی اللہ عنہم کی طرح ایمان کا اظہار کیا ہوتا اور بتوں سے بیزاری ظاہر کی ہوتی تو اس روایت میں ان کے ایمان کو ظاہر کرنا ضرور بیان کیا گیا ہوتا ، لیکن اس کے بجائے روایت میں واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابوطالب نے ایمان کو چھپایا اور شرک کو ظاہر کیا ۔ یعنی روایت کے دونوں حصے نہ صرف ایک دوسرے سے متعارض ہیں بلکہ شیعہ کے عقیدے ایمان ابو طالب کو بھی جڑ سے اکھاڑ دیتے ہیں ۔


اہلسنت و جماعت کے نزدیک یہ جھوٹی روایت ہے اور اس سے شان حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ بھی بری طرح مجروح ہوتی ہے ۔ کیا حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو اتنا علم بھی نہ تھا کہ اصحاب کہف نے اپنا ایمان ظاہر کیا تھا اور اسی وجہ سے غار میں چھپ گئے تھے، اور یہ مثال حضرت ابو طالب کی زندگی سے مطابقت نہیں رکھتی ۔


روایت کے دوسرے حصے کے مطابق اہل تشیع کے ہاں حضرت ابو طالب پوری زندگی شرک کرتے رہے یعنی بت پرستی کرتے رہے جبکہ اہلسنت و جماعت کے ہاں حضرت ابو طالب کو مشرک نہیں بیان کیا گیا بلکہ ان کا آخری گھڑی تک دین ابراہیمی پر قائم رہنا بیان ہوا ہے ۔


ایک طرف شیعہ اہلسنت پر حضرت ابو طالب کی توہین کا الزام لگاتے ہیں تو دوسری طرف خود ان کی اوّل درجہ کی کتاب میں امام کے نام سے ایسی روایت موجود ہے جو حضرت ابوطالب کو پوری زندگی شرک اور بت پرستی کرتے رہنا بیان کر رہی ہے ۔


حد تو یہ بھی ہے کہ شیعہ جید علماء حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب اس جھوٹی روایت کو صحیح تسلیم کرتے ہیں اور اس کی توثیق کر کے نہ صرف حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ بلکہ حضرت ابو طالب کی بھی توہین کرتے آ رہے ہیں ۔


آخری اہم بات : اہل تشیع کی صحیح السند روایت سے اہل سنت کا مؤقف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابو طالب کا اسلام قبول کرنا ، اعلان کرنا ، اسلامی شریعت پر عمل کرنا وغیرہ کسی صحیح السند روایت سے ثابت نہیں ہے ۔


مذکورہ روایت میں اصحاب کہف رضی اللہ عنہ کی مثال غلط دی گئی ہے، کیونکہ قرآن سے متعارض ہے ۔


اب اہل تشیع اور ان کے فضلہ خوروں کے پاس دو راستے ہیں : ⏬


1 : اصحاب کہف رضی اللہ عنہم کی طرح حضرت ابوطالب کا ایمان قبول کرنا اور بتوں سے بیزاری ظاہر کرنا ثابت کریں ۔


2 : یا روایت کے دوسرے حصہ کو تسلیم کریں کہ حضرت ابوطالب نے پوری زندگی اسلام قبول نہیں کیا تھا جوکہ اہلسنت کا مؤقف ہے ۔


ایمانِ ابو طالب کے متعلق ایک حدیث کی تحقیق : ⏬


جنابِ ابو طالب کے ایمان لانے کے متعلق اکثر ایک روایت پیش کی جاتی ہے آٸیے اس کا تحقیقی جاٸزہ لیتے ہیں : 


روایت یہ ہے : حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فلما رأی حرص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علیه قال :یا ابن أخي! والله، لو لا مخافة السبة علیك وعلی بني أبیک من بعدي ، وأن تظن قریش أني إنما قلتھا جزعا من الموت لقلتھا، لا أقولھا إلا لإسرک بھا ، قال: فلما تقارب من أبي طالب الموت قال: نظر العباس إلیه یحرک شفتیه ، قال : فأصغی إلیه بأذنه، قال : فقال : یا ابن أخي ! واللہ، لقد قال أخي الکلمة التي أمرته أن یقولھا، قال: فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : لم أسمع ۔

ترجمہ : جب ابو طالب نے اپنے (ایمان کے) بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حرص دیکھی تو کہا : اے بھتیجے ! اللہ کی قسم ، اگر مجھے اپنے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھائیوں پر طعن و تشنیع کا خطرہ نہ ہوتا ، نیز قریش یہ نہ سمجھتے کہ میں نے موت کے ڈر سے یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں کلمہ پڑھ لیتا ۔ میں صرف آپ کو خوش کرنے کیلئے ایسا کروں گا ۔ پھر جب ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو عباس نے ان کو ہونٹ ہلاتے ہوئے دیکھا ۔ انہوں نے اپنا کان لگایا اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ) کہا : اےبھتیجے ! یقیناً میرے بھائی نے وہ بات کہہ دی ہے جس کے کہنے کا آپ نے اُنہیں حکم دیا تھا ۔ (السیرۃ لابن ھشام: ۴۱۷/۱، ۴۱۸،چشتی)(المغازي لیونس بن بکیر: ص ۲۳۸)(دلائل النبوۃ للبیھقي: ۳۴۶/۲)


یہ روایت ضعیف ہے


امام ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اس حدیث کی سند کا ایک راوی نا معلوم ہے ۔ اس کے برعکس صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو طالب کفر کی حالت میں فوت ہوئے ۔ (تاریخ ابن عساکر: ۳۳/۶۶)


امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ھٰذا إسنادمنقطع ۔۔۔۔"الخ ، یہ سند منقطع ہے ۔۔۔۔۔ (تاریخ الاسلام: ۱۵۱/۲)


علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : إن في السند مبھما لا یعرف حاله ، وھو قول عن بعض أھله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد........ و الخبر عندي ما صح لضعف في سندہ" ۔

ترجمہ : اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے ، جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے ، نیز یہ اُس کے بعض اہل کی بات ہے جو کہ نام اور حالات دونوں میں ابہام ہے ۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا ہے ۔۔۔ میرے نزدیک یہ روایت سند کے ضعیف ہونے کی بنا پر صحیح نہیں ۔ (البدایة و النھایة لابن کثیر: ۱۲۳/۳ ۔ ۱۲۵،چشتی)


امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : بسند فیه لم یسم ...... و ھذا الحدیث لو کان طریقه صحیحا لعارضه ھذا الحدیث الذی ھو أصح منه فضلا عن أنه لا یصح ۔

ترجمہ : یہ روایت ایسی سند کے ساتھ مروی ہے جس میں ایک راوی کا نام ہی بیان نہیں کیا گیا .... اس حدیث کی سند اگر صحیح بھی ہو تو یہ اپنے سے زیادہ صحیح حدیث کے معارض ہے ۔ اس کا صحیح نہ ہونا مستزاد ہے ۔ (فتح الباری لابن حجر: ۱۸۴/۷)


امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : في سند ھذا الحدیث مبھم لا یعرف حاله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد ۔

ترجمہ : اس حدیث کی سند میں ایک مبہم راوی ہے جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے ۔ نام اور حالات دونوں مجہول ہیں ۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا ہے ۔ (شرح ابي داؤد للعیني الحنفي: ۱۷۲/۶)


ارشادِ باری تعالیٰ ہے : مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ ۔

ترجمہ : نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں ۔ (سورہ التوبہ : ١١٣)


جنابِ ابوطالب کا مرتے وقت کلمہ نہ پڑھنا اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے زندہ کافروں اور منافقوں سے ترک تعلق اور محبت نہ رکھنے کا حکم دیا تھا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مردہ کافروں سے بھی اظہار برأت کرنے کا حکم دیا ہے ، اس آیت کے شان نزول میں اختلاف ہے ، صحیح یہ ہے کہ یہ آیت ابوطالب کے متعلق نازل ہوئی ہے جیسا کہ اس صحیح حدیث سے واضح ہوتا ہے : سعید بن مسیب اپنے والد مسیب بن حزن سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابوطالب پر موت کا وقت آیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس تشریف لے گئے ۔ اس وقت اس کے پاس ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بھی تھے ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے چچا لا الہ الا اللہ کہیے ، میں اس کلمہ کی وجہ سے اللہ کے پاس آپ کی سفارش کروں گا ، تو ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ نے کہا اے ابو طالب ! کیا تم عبد المطلب کی ملت سے اعراض کرتے ہو ؟ پس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک مجھے منع نہ کیا جائے میں تمہارے لیے استغفار کرتا رہوں گا ، تب یہ آیت نازل ہوئی ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفر و اللمشرکین ۔ الایہ ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٦٠)(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٤،چشتی)(سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٠٣٥) (مسند احمد ج ٥ ص ٤٣٣)(اسباب النزول للواحدی رقم الحدیث : ٥٣٠)(سیرت ابن اسحاق ج ١ ص ٢٣٨۔ ٢٣٧)


اس حدیث پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ ابو طالب کی موت ہجرت سے تین سال پہلے ہوئی ہے اور سورة التوبہ ان سورتوں میں سے ہے جو مدینہ میں آخر میں نازل ہوئیں ، امام واحدی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت سے استغفار کرتے رہے ہوں حتیٰ کہ مدینہ میں اس سورت کے نازل ہونے تک استغفار کرتے رہے ہوں اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے استغفار ترک کردیا ۔ اس جواب کو اکثر اجلہ علماء نے پسند کیا ہے امام رازی اور علامہ آلوسی اور علامہ ابو حفص دمشقی علیہم الرّحمہ وغیرہم ان میں شامل ہیں ۔ علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اور جواب یہ ذکر کیا ہے کہ سورة توبہ کے مدنی ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس کی اکثر اور غالب آیات مدنی ہیں ، اس لیے اگر یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی ہو تو وہ سورة توبہ کے مدنی ہونے کے منافی نہیں ہے ۔ اس حدیث میں تصریح ہے کہ ابوطالب نے تادم مرگ کلمہ نہیں پڑھا اور اسلام کو قبول نہیں کیا ۔


ابوطالب کے ایمان کے متعلق ایک روایت (جس کے متعلق ہم نے اوپر عرض کر دیا ہے) کا جواب امام ابن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ حسب ذیل روایت بیان کی ہے ، اس سے شیعہ ابوطالب کا ایمان ثابت کرتے ہیں : از عباس بن عبد اللہ بن معبد از بعض اہل خود از ابن اسحق ، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوطالب کی بیماری کے ایام میں اس کے پاس گئے تو آپ نے فرمایا : اے چچا ! لا الہ الا اللہ پڑھئے ، میں اس کی وجہ سے قیامت کے دن آپ کی شفاعت کروں گا۔ ابوطالب نے کہا اے بھتیجے ! اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ میرے بعد تمہیں اور تمہارے اہل بیت کو یہ طعنہ دیا جائے گا کہ میں نے موت کی تکلیف سے گھبرا کر یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں یہ کلمہ پڑھا لیتا اور میں صرف تمہاری خوشنودی کے لیے یہ کلمہ پڑھتا ، جب ابوطالب کی طبیعت زیادہ بگڑی تو اس کے ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھے گئے ، عباس نے ان کا کلام سننے کے لیے اپنے کان ان کے ہونٹوں سے لگائے ، پھر عباس نے اپنا سر اوپر اٹھا کر کہا یا رسول اللہ ! بیشک اللہ کی قسم ! اس نے وہ کلمہ وہ پڑھ لیا ہے جس کا آپ نے ان سے سوال کیا تھا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے نہیں سنا ۔ (سیرت ابن اسحاق ج ١ ص ٢٣٨، مطبوعہ دارالفکر) یہ روایت صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور دیگر احادیث صحیحہ کے خلاف ہے ، نیز یہ اس لیے صحیح نہیں ہے کہ امام ابن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ایک مجہول شخص سے روایت کیا ہے ، ثانیاً جس وقت کی یہ روایت ہے اس وقت حضرت عباس اسلام نہیں لائے تھے ، پھر ان کا یا رسول کہنا کس طرح تسلیم کیا جاسکتا ہے ؟ ثالثاً یہ کہ اس روایت میں خود تصریح ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے نہیں سنا ، رابعاً یہ روایت حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی صحیح روایت کے خلاف ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : اس روایت کی سند منقطع ہے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ جو اس حدیث کے راوی ہیں اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے اور مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ابوطالب کی عاقبت کے متعلق سوال کیا کہ آپ نے ابوطالب کو کیا نفع پہنچایا ، وہ آپ کی موافقت کرتا تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! وہ ٹخنوں تک آگ میں ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے آخری طبقہ میں ہوتا ، اس حدیث کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٨٨٣، ٦٢٠٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٩،چشتی) اور یہ ضعیف روایت اس صحیح حدیث سے تصادم کی قوت نہیں رکھتی ۔ (دلائل النبوۃ ج ٢ ص ٣٤٦)


کچھ لوگ کہتےہیں کہ ابو طالب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح پڑھایا تھا لہذا وہ مسلمان تھا ۔ یہ بات کسی مستند روایت سے ثابت نہیں اور اگر ثابت بھی ہے تو یہ اسلام سے پہلے کا نکاح تھا ، اور اس وقت کے رائج طریقے سے پڑھا گیا اس سے جنابِ ابو طالب کے مسلمان ہونے یا نا ہونے کا کوئی تعلق ہی نہیں بنتا ، کیونکہ جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت پر کلمہ ہی نہیں پڑھا تو ان کے مسلمان ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اللہ عزوجل اہلِ اسلام کو کسی بھی لباس میں چھپے فتنوں اور فتنہ پروروں کے شر سے بچاۓ آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

Wednesday, 9 September 2026

میوزک مطلقاً ناجائز و حرام ہے ، کوئی میوزک حلال نہیں جہلائے زمانہ نام نہاد محککین کو مدلل جواب

میوزک مطلقاً ناجائز و حرام ہے ، کوئی میوزک حلال نہیں جہلائے زمانہ نام نہاد محککین کو مدلل جواب

محترم قارئینِ کرام : گانے سننا حرام اور برا فعل ہے ، اور یہ دلوں کے مرض اور ان کی سختی اور اللہ کے ذکر اور نماز سے دور کرنے والے اسباب میں سے ایک سبب ہے، اور اکثر اہل علم نے اللہ تعالی کے اس فرمان: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ  (سورۃ لقمان:6)  ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻟﻐﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻛﻮ ﻣﻮﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔} کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد گانے باجے ہیں۔ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس بات پر قسم کھاتے تھے کہ لغو باتوں سے مراد گانا ہے۔ اور اگر گانے کے ساتھـ آلات لہو و لعب ہوں، جیسے: رباب، سارنگی، دو تارہ اور ڈھول تو اس کی حرمت اور زیادہ سخت ہوجائے گی۔ اور بعض علماء نے ذکر کیا ہے کہ گانا آلاتِ لہو و لعب (موسیقی) کے ساتھـ ہو تو وہ بالاتفاقِ علماء حرام ہے؛ لہذا اس سے بچنا چاہیے ۔


مسند بزار میں ہے : صوتان ملعونان في الدنيا والآخرة ،  مزمار عند نعمة ، ورنة عند مصيبة ۔

ترجمہ : دو آوازیں دنیا و آخرت میں ملعون ہیں : نعمت کے وقت باجے کی آواز اور مصیبت کے وقت رونے کی آواز ۔(مسند بزار، مسند ابی حمزہ انس بن مالک جلد 14 صفحہ 62 مطبوعہ مدینۃ المنورہ)


عن ابي امامة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله بعثني رحمة للعالمين وهدى للعالمين، وامرني ربي بمحق المعازف والمزامير والاوثان والصلب ۔

ترجمہ : حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک میرے رب نے مجھے دو نوں جہانوں کےلیے رحمت اور ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور میرے رب نے  مجھے بانسری اور گانے باجے کے آلات ،بت اور صلیب توڑنے کا حکم دیا ہے ۔ (مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابو امامہ باھلی جلد 36 صفحہ 640 مؤسسۃ الرسالہ،چشتی)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان اللہ حرم علیکم الخمر والمیسر والکوبۃ وقال کل مسکر حرام ۔

ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوا اور کوبہ (ڈھول)حرام کیا اور فرمایا : ہر نشہ والی چیز حرام ہے ۔ (سنن الکبری للبیھقی،کتاب الشھادات جلد 10 صفحہ 360 دار الکتب العلمیہ بیروت)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لیکونن فی امتی اقوام یستحلون الحر و الحریر و الخمر و المعازف ۔

ترجمہ : ضرور میری امت میں وہ لوگ ہونے والے ہیں جو عورتوں کی شرمگاہ (زنا )اور ریشمی کپڑوں اور شراب اور باجوں کو حلال ٹھہرائیں گے ۔ (صحیح بخاری کتاب الاشربۃ رقم الحدیث 5590 جلد 7 صفحہ 106 دار طوق النجاۃ،چشتی)


الہدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی  میں ہے : و دلت المسئلۃعلی أن الملاھی کلھا حرام حتی التغنی لضرب القضیب ۔

ترجمہ : یہ مسئلہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ گانے باجے کے آلات سب حرام ہیں ، یہاں تک کہ کسی چیز پر لکڑی کی ضرب لگاکر موسیقی پیدا کرنا بھی ۔ (الهدایۃ جلد 4 صفحہ 365 دار احیاء التراث العربی بیروت)


امام محمد امین ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ درمختار کی اس عبارت ، وکرہ کل لھو ، کے تحت فرماتے ہیں : والإطلاق شامل لنفس الفعل و  استماعہ کالرقص و السخریۃ والتصفیق و ضرب الأوتار من الطنبور و البربط و الرباب والقانون والمزمار و الصنج و البوق  فإنھا کلھا مکروھۃ لأنھا زی الکفار واستماع ضرب الدف والمزمار و غیر ذلک حرام ۔

ترجمہ : لہو و لعب کا کرنااور اس کا سننا سب اس مکروہ ہونے میں داخل ہے ۔ جیسے رقص ،  مذاق مستی ، تالی اور سارنگی اور بغیر تاروں اور تاروں والا باجہ بجانا اور بانسری ، جھانجھ اور بگل بجانا ۔ پس یہ تمام میوزیکل آلات بجانا مکر ہے  کہ یہ کفار کی ہیئت ہے اور دف اور بانسری اور اس کے علاوہ اسی قبیل کی چیزوں کا سننا بھی حرام ہے ۔ (رد المحتار جلد 9 صفحہ 566 مطبوعہ کوئٹہ،چشتی)


سنن ابی داؤد میں ہے:”و عن نافع  قال:سمع ابن عمر مزمارا قال: فوضع أصبعيه في أذنيه وناء عن الطريق وقال لي: يا نافع هل تسمع شيئا؟ فقلت: لا، قال:فرفع أصبعيه عن أذنيه و قال: كنت مع النبی صلى الله عليه وسلم فسمع مثل ھذا فصنع مثل ھذا “ترجمہ:حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ راستے سے گزرے تو  آلات  موسیقی کی آواز آپ کے کانوں میں پڑی ، آپ رضی اللہ عنہ نے کانوں میں انگلیاں ڈال دیں  اور اس راستے سے ہٹ گئے پھر مجھ سےکہا:اے نافع! کیا تمہیں آواز آرہی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں سے ہٹائیں اور کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  اسی طرح کی آواز سنی تو اسی  طرح کا عمل کیا۔(سنن ابی داؤد،ج4،ص281، مطبوعہ بیروت)


مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :ان فی امتی خسفاً و مسخاً و قذفاً۔ قالوا: یا رسول اللہ وھم یشھدون أن لا الہ الا اللہ؟ فقال: نعم، اذا ظھرت المعازف والخمور ولبس الحریر“ ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں خسف (زمین میں دھنسا دینا) مسخ (شکلیں بگڑجانا) اور قذف (پتھروں کی بارش) (بھی) ہوگا۔ صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کی یا رسول اللہ درآنحالیکہ وہ اس کی گواہی دیتے ہوں گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟ تو فرمایا: ہاں، جب ان میں آلاتِ موسیقی‘ شراب نوشی اور ریشم کا استعمال عام ہوجائے گا۔(مصنف ابن ابی شیبۃ،جلد7،صفحہ501، طبع ریاض)


امام اہلسنت امام احمدر ضا خان قادری رحمۃ اللہ ارشاد فرماتے ہیں : مزامیر(یعنی گانے بجانے کے آلات) حرام ہیں ۔ صیح بخاری شریف کی حدیث صحیح میں حضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قوم کاذکرفرمایا:یستحلون الحر والحریر والمعازف" زنا اور ریشمی کپڑوں اور باجوں کو حلال سمجھیں گےاور فرمایا: وہ بندراور سورہوجائیں گے۔ ہدایہ وغیرہ کتب معتمدہ میں تصریح ہے کہ مزامیر حرام ہیں۔ حضرت سلطان الاولیاء محبوب الٰہی نظام الحق والدّین رضی اﷲ تعالی عنہ فوائد الفوادشریف میں فرماتے ہیں: مزامیر حرام است۔(یعنی گانے بجانے کے آلات حرام ہیں ۔ )"(فتاوی رضویہ ،جلد24، صفحہ138،رضافاؤنڈیشن،لاهور)


حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو، اور نہ انہیں (گانا) سکھاؤ، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں» (سورۃ لقمان:٦)۔[سنن سعيد بن منصور:1721،  سنن الترمذي:1282، تفسير ابن أبي حاتم:17523، سلسلة الأحاديث الصحيحة:‌‌2922]


اور رسول الله صلى الله عليه وسلم سے صحيح سند سے یہ ثابت ہے كہ آپ نے فرمایا: میری امت کے کچھـ اقوام زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال سمجھیں گے۔[ابوداؤد:4039]


حضرت ابو امامہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا رحمت اور ہدایت سارے جہاں والوں کےلیے ، مجھے بھیجا تاکہ میں بانسریاں باجے اور تمام آلات موسیقی اور جاہلیت کی باتوں کو اور بتوں کو مٹا ڈالوں،[أخرجه الطيالسى:1230 ، أحمد:22307 ، الطبرانى:7803، شعب الإيمان للبيهقي:6108 ، ذم الملاهي لابن أبي الدنيا:69، المنهيات، الحكيم الترمذي:ص91، الكبائر للذهبي:ص85]


بہت سے دلائل سے معلوم ہوتاا ہے کہ گانا سننا اور اس میں مشغول ہونا خاص طور پر جب تفریحی آلات کے ساتھـ ہو جیسے سارنگی اور موسیقی وغیرہ کے ساتھـ تو یہ شیطان کے بڑے فریبوں میں سے ہے، اور اس کے ان جالوں میں سے ہے جس سے وہ جاہلوں کے دلوں کو شکار کرتا ہے، اور اس کے ذریعے سے قرآن سننے سے روکتا ہے، اور ان کے لئے فسق اور نافرمانی میں مشغول رہنا محبوب کرتا ہے، نیز گانا شیطان کا قرآن، اور اس کی بانسری، اور زنا کی منتر، اور لواطت کی اور شر اور فساد کے مختلف قسموں کو دعوت دینے والا ہے، اور یقیناً ابو بکر طرطوشى اور دیگر اہل علم نے ائمہ اسلام سے حکایت کی ہے کہ انہوں نے گانے کی مذمت کی اور تفریحی آلات کی، اور اس سے پرہیز کیا، اور حافظ علامہ ابو عمرو بن صلاح رحمہ الله نے سارے علماء سے اس گانے کی حرمت نقل کی ہے، جو سارنگی وغیرہ جیسے تفریحی آلات میں سے کسی چیز پر مشتمل ہو، یہ اس لئے کیونکہ گانے اور ساز میں دل کی بیماریاں، اور اخلاق کا فساد، اور اللہ کی ذکر اور نماز سے رکاوٹ ہوتی ہے، اور یقینا گانا اس لغو میں شامل ہے جس کی اللہ نے مذمت اور عیب جوئی کی ہے، اور اس سے دل میں نفاق پیدا ہوتا ہے، جس طرح پانی سے دانہ اگتا ہے، خصوصی طور پر جب یہ ان گلوکار مرودوں اور عورتوں سے جو اس کےلیے مشہور ہوں، تو اس کا ضرر اور خطرناک اور دلوں کو فاسد کرنے میں زیادہ شدید ہوگا، اللہ تعالی فرماتا ہے: ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻟﻐﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻛﻮ ﻣﻮﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ ﺑﮯﻋﻠﻤﯽ ﻛﮯ ﺳﺎتھـ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﺍللہ ﻛﯽ ﺭﺍﮦ ﺳﮯ ﺑﮩﲀﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭﺍﺳﮯ ﮨﻨﺴﯽ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ، ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﺳﻮﺍ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻋﺬﺍﺏ ﮨﮯ۔(سورۃ لقمان:6) ﺟﺐ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﯾﺘﯿﮟ ﺗﻼﻭﺕ ﻛﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﻜﺒﺮ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﻮﯾﺎ ﻛﮧ ﺍﺱ ﻛﮯﺩﻭﻧﻮﮞ کاﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﭦ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺁﭖ ﺍﺳﮯ ﺩﺭﺩ ﻧﺎﻙ ﻋﺬﺍﺏ ﻛﯽ ﺧﺒﺮ ﺳﻨﺎ ﺩﯾﺠﺌﮯ ۔ ، واحدی اور دیگر اکثر مفسریں نے کہا ہے، ابن مسعود رضی الله عنہ جو بڑے صحابہ اور ان کے علماء میں سے تھے، وہ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس کی قسم کھا کر کہتے تھے کہ لغو بات سے مراد گانا ہے، اور آپ رضی اللہ عنہ فرماتے کہ: گانا دل میں ایسے ہی نفاق اگاتا ہے۔[سنن أبي داود: 4927][شعب الإيمان للبيهقي: 4746]۔[شعب الإيمان للبيهقي: 4746](صحيح عن ابن مسعود من قوله ، وقد روي عن ابن مسعود مرفوعا)[تحريم آلات الطرب، لالبانی:10، المغنی لابن قدامہ:14/ 161، غاثة اللهفان:1/ 372]


اور صحابہ اور تابعین میں اسلاف سے گانے اور تفریحی آلات کی مذمت، اور اس سے پرہیز کرنے کے بارے میں بہت سارے آثار وارد ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:میری امت سےاقوام ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال سمجھیں ۔ امام بخاری نے اسے روايت كيا ہے۔ اور الحر حرام شرمگاہ کو کہتے ہیں، اور اس سے مراد زنا ہے، اور ساز سے مراد ہر تفریحی آلہ ہے جیسے موسیقی، طبلہ، سارنگی، رباب، اور تانت وغیرہ، علامہ ابن قیم "كتاب الإغاثة" میں لکھا ہے کہ: المعازف کی تفیسر ہر تفریحی آلات سے کرنے میں اہلِ لغت کے درمیان اختلاف نہیں ہے۔ اور ترمذیؒ نے عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت کی ہے کہتے ہیں کہ: رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمايا: میری امت میں سنگ باری اور خسف ومسخ (زمین میں دھنسنے اور اشکال کی تبدیلی) کے واقعات ہوں گے، تو ایک مسلمان شخص نے کہا کہ : اے اللہ کے رسول ! یہ سب کب ہوگا ؟ تو آپ نے فرمایا: جب لونڈی بازی اور موسیقی عام ہو جائے، اور شراب نوشی کھلے عام ہونے لگے۔[ترمذی:2212]


اور احمد نے اپنی مسند میں جيد اسناد کے ساتھـ تخريج كی ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقیناً اللہ تعالی نے شراب، جوّا، طبلہ، اور ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے۔[ابوداود:3696] اور اس حدیث کے ایک راوی سفیان نے کہا کہ: الکوبہ سے مراد طبلہ ہے، اور گانے اور لغو باتوں کی مذمت میں بہت سارے آثار وارد ہیں جو اس مقالے میں بیان کرنا ممکن نہیں ہیں، اور جو ہم نے ذکر کیا ہے حق کے طلبگار کےلیے اس میں کفایت اور قناعت ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ریڈیو اسٹیشن کو گانے اور تفریحی آلات بہم پہنچانے کے دعویدارں کی عقل میں خلل پیدا ہوا ہے یہاں تک کہ قبیح کو اچھا اور اچھے کو قبیح محسوس کرنے لگے، اور اس کی طرف بلانے لگے جو ان کے لئے اور دوسروں کے لئے نقصاندہ ہے، اور وہ اس سے پیدا ہونے والے نقصانات اور شر اور فساد کی پرواہ نہیں کرتے، اور اللہ تعالی نے کیا ہی خوب فرمایا ہے:     ﻛﯿﺎ ﭘﺲ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﺲ کےلیے ﺍﺱ ﻛﮯ ﺑﺮﮮ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻣﺰﯾﻦ ﻛﺮﺩﯾﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ، ﭘﺲ ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ (ﻛﯿﺎ ﻭﮦ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺷﺨﺺ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ ؟ ) ، ( ﯾﻘﯿﻦ ﻣﺎﻧﻮ ) ﻛﮧ ﺍللہ ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺩﻛﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﭘﺲ ﺁﭖ ﻛﻮ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻏﻢ ﻛﮭﺎ ﻛﮭﺎ ﻛﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﮨﻼﻛﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﻨﯽ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ، ﯾﮧ ﺟﻮ ﻛﭽھ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﯾﻘﯿناً اللہ تعالیٰ ﺑﺨﻮﺑﯽ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﮯ۔[سورۃ الفاطر:8]


اور شاعر نے کیا ہی سچ کہا ہے : ⏬


آزمائش کے دنوں میں انسان پر گذرتی ہے

یہاں تک کی اس کو اچھا سمجھتا ہے جو اچھا نہیں ہوتا۔


بینڈ باجے اور موسیقی کی آواز : ⏬


حَدَّثَنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثنا أَبُو عَاصِم، حَدَّثنا شَبِيب بن بشر البجلي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُول اللهِ صَلَّى الله عَلَيه وَسَلَّم: صوتان ملعونان في الدنيا والآخرة: مزمار عند نعمة ورنة عند مصيبة.

[مسند البزار:14/62، مُسْنَدُ أَبِي حَمْزَةَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رقم الحدیث 7513]


حکم الحدیث: حسن۔[الأحاديث المختارة:2200+2201، صَحِيح الْجَامِع: 3801 , الصَّحِيحَة: 427]

المحدث : المنذري | المصدر : الترغيب والترهيب: 4/268 | خلاصة حكم المحدث : رواته ثقات

المحدث : ابن القيم | المصدر : مسألة السماع: 318 | خلاصة حكم المحدث : صحيح

المحدث : الهيثمي | المصدر : مجمع الزوائد: 16/3 | خلاصة حكم المحدث : رجاله ثقات

المحدث : الهيتمي المكي | المصدر : الزواجر: 1/159 | خلاصة حكم المحدث : رواته ثقات


وَيَأْذَنُ اللَّهُ تَعَالَى لِوَرَقِ الجنة فيقول انظروا عبادي الذين كانون يُنَزِّهُونَ أَنْفُسَهُمْ فِي الدُّنْيَا عَنِ الْبَرَابِطِ وَالْمَعَازِفِ فَنَغَمَتُهُنَّ ‌بِأَحْسَنِ ‌أَصْوَاتٍ مِنْ نَغَائِمِ الطَّيْرِ ۔ [تاريخ واسط ، بحشل (م٢٩٢ھ) : ص211]


موسیقی کے ساتھ نعت پڑھنا کیسا ہے ؟ : ⏬


  شریعتِ مطہرہ نے موسیقی سے منع فرمایاہے۔ چنانچہ اس کی ممانعت کس قدر سختی سے کی گئی اس کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی ہوسکتا ہے ،ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر   کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں طبل کی آواز آنا شروع ہوگئی آپ  نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں تاکہ یہ آوا ز غیر اختیاری طور پربھی آپ کے کانوں میں نہ پڑے، پھر آپ وہاں سے ہٹ گئے اور تین دفعہ ایسا ہی کیا پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسی طرح کیاتھا۔ کیا یہ واقعہ اس بات پر دلالت کرنے کیلئے کافی نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے صحابہ   کو موسیقی سے کس قدر نفرت تھی ۔


اس کے علاوہ ایک روایت میںفرمایاکہ جب میری امت پندرہ چیزوں میں مبتلا ہو جائے گی تو ان میں مصائب کا نزول شروع ہوجائے گا ان چیزوں میں سے ایک چیز آپ نے یہ بھی ذکر فرمائی کہ جب ان میں گانے والیاں اور آلات موسیقی عام ہوجائیں گے ۔

اب اس کے بعد ہر صاحب بصیرت شخص یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ جس چیز سے آپ کو اس قدر نفرت تھی کہ آپ اس کی آواز سننا پسند نہیں فرماتے تھے تو اب اگر اسی کے ساتھ آپ کا ذکرمبارک کیا جائے اور اسے ثواب بھی گردانا جائے تو اس سے بڑھ کر اور حماقت کیا ہوگی ۔ یہی وجہ ہے کہ ملا علی قاری  نے اپنی کتاب شرح فقہ اکبر میں احناف کی کتب کے حوالے سے یہ جزئیہ نقل کیا ہے : من قرأ القرآن علی ضرب الدف والقضیب یکفر  (شرح فقہ اکبر صفحہ ۱۶۷)

ترجمہ : جو شخص کلام مقدس کو دف یا بانسری پر پڑھے وہ کافر ہے ۔


اس کے بعد اپنا فتویٰ نقل کرتے ہوئے ملا علی قاری حنفی فرماتے ہیں : قلت !ویقرب منہ ضرب الدف والقضیب مع ذکر اللہ تعالی ونعت المصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، وکذا التصفیق علی الذکر ۔

ترجمہ : اسی ( کفر) کے قریب ہے دف اور بانسری بجانا اللہ کے ذکر اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت کے ساتھ ، اور یہی حکم ذکر کے ساتھ تالی بجانے کا ہے ۔ 


 یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں دف وغیرہ کا ذکر ہے جس کا بعض مواقع پر جواز بھی ثابت ہے،اور رہی آجکل کی موسیقی اس کے ناجائز ہونے میں تو کسی کا اختلاف بھی نہیں،اس کے بعد بھی اتنی جرأت ؟وہ  ذات رؤف وکریم ہے ورنہ ہمارے اس فعل پر نہ معلوم ہمارے اوپر کیا کچھ نازل ہوجاتااور ہم اسی کے مستحق تھے ،کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جب ہم نے سرعام مذاق اڑانا شروع کردیا آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ یہ مذاق ہے یا نہیں؟ کہ جس چیز سے آپ منع کریں ہم نہ صرف وہی کام کریں بلکہ اسے علی الاعلان کرتے ہوئے اس پر یہ بھی سمجھیں کہ ہمیں اس پر ثواب بھی مل رہا ہے،تعجب ہے مسلمانوں کی سوچ پر کہ نہ معلوم انہیں کیا ہوگیا ہے کہ العیاذ بااللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کو انہوں نے فرمانبرداری سمجھ کر اس پر فخر کرنا شروع کر دیا ۔اللہ تعالی ہمیں دین کی حقیقی سمجھ عطاء فرمائے آمین ۔


لما فی قولہ تعالی :وَمِنَ النَّاسِ مَن یَّشْتَرِیْ لَھْوَالْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ  عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّخِذَھَا ھُزُوًا اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ  o(لقمان:۶)

وفی جامع الترمذی (۴۴/۲): عن علی بن ابی طالب قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : اذا فعلت امتی خمس عشرۃ خصلۃ حل بھاالبلاء… واتخذت القیان والمعازف۔

وفی ابن ماجۃ (صـ۱۳۷):حدثنا محمد بن یحی …عن مجاھد قال کنت مع ابن عمر فسمع صوت طبل فادخل اصبعیہ فی اذنیہ ثم تنحی حتی فعل ذلک ثلاث مرات ثم قال ھکذا فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

وفی بدائع الصنائع (۵۱۳/۶):…دلت المسئلۃ علی ان مجرد الغناء معصیۃ وکذا الاستماع الیہ  وکذا ضرب القصب والاستماع الیہ  الا تری ان اباحنیفۃ رضی اللہ عنہ سماہ ابتلاء۔

وفی الدرالمختار (۳۴۸/۶): وفی السراج ودلت المسئلۃ ان الملاھی کلھا حرام ویدخل علیھم بلااذنھم لانکار المنکر قال ابن مسعود صوت اللھو والغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء النبات۔


واضح رہے کہ احادیث اور عبارات فقہ سے مزامیر اور ملاہی کی حرمت روز روشن کی طرح معلوم ہے۔ البتہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے کچھ شرائط سے جواز کی طرف میلان کیا ہے۔ اور وہ شرائط ان قوالوں میں معدوم اور مفقود ہیں۔ لہٰذا ان کو جائز سمجھنے والوں پر کفر کا شدید خطرہ موجود ہے۔ یہ لوگ اپنی بدمعاشیوں اور عیاشیوں پر ان بزرگوں کے کلام سے پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن فقہ حنفی نے ان (مستحلی الرقص والغناء) کو کافر کہا ہے ۔ قال ابن عابدین (قولہ ومن یستحل الرقص قالوا بکفرہ)المرادبہ التمائل والخفض والرفع بحرکات موزونۃ کما یفعلہ بعض من ینتسب الی التصوف وقد نقل فی البزازیہ عن القرطبی اجماع الائمۃ علی حرمۃ ھذاالغناء وضرب القضیب والرقص قال ورأیت فتویٰ شیخ الاسلام جلال الملۃ والدین الکر مانی ان مستحل ھذا الرقص کافر وتما مہ فی شرح الوھبانیۃ ونقل فی نور العین عن التمھید انہ فاسق لا کافر ثم قال التحقیق القاطع للنزاع فی امرالرقص والسماع یستدعی تفصیلا ذکرہ فی عوارف المعارف واحیاء العلوم وخلاصتہ ما اجاب بہ العلامۃ النحریر ابن کمال باشا الخ۔(ردالمحتار ہامش الدر المختار ص۳۳۷ جلد ۳ قبیل باب البغاۃ مطلب فی مستحل الرقص)


سماع اور غنیٰ میں فرق : ⏬


سماع کے معنیٰ سننے کے ہیں، عرف میں اس سے مراد گانا سننا ہوتا ہے، اور غناء کے معنیٰ گانے کے ہیں، پس سماع گانا "سننے" اور غناء گانا "گانے" کو کہتے ہیں ۔ قرآن، حدیث یا نعت سننے کو عرف میں سماع نہیں کہتے ۔


علاوہ ازیں موسیقی کی حرمت کے دلائل پر اگر غور کیا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جن وجوہ کی بنأ پر موسیقی سننا حرام ہے‘ وہ تمام کی تمام موسیقی کی کیسٹ میں بھی پائی جاتی ہیں‘ مثلاً: شہوت کا بیدار ہونا اور تلذذکا حاصل ہونا‘ یہ دونوں صورتوں میں پیدا ہوتے ہیں‘ یہ الگ بات ہے کہ اگرموسیقی گانے والوں سے براہ راست سنی جائے تو اس کا منفی اثر زیادہ ہوتا ہے۔ الغرض موسیقی خواہ براہ راست سنی جائے یا اس کی کیسٹ سنی جائے اس سے دل میں نفاق پیدا ہوتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے : الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء الزرع ۔ (شعب الإیمان للبیھقی ،الباب الرابع والثلاثون فی حفظ اللسان، فصل فی حفظ اللسان عن الغناء: ۴؍۲۷۹،رقم الحدیث(۵۱۰۰) ط:دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)


امام احمدرضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ ارشادفرماتے ہیں : مزامیرحرام ہیں ۔ صحیح بخاری شریف کی حدیث صحیح میں حضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قوم کاذکرفرمایا : یستحلون الحر والحریر والمعازف ، زنا اور ریشمی کپڑوں اور باجوں کو حلال سمجھیں گے اور فرمایا : وہ بندر اور سور ہو جائیں گے ۔ ہدایہ وغیرہ کتب معتمدہ میں تصریح ہے کہ مزامیر حرام ہیں ۔ حضرت سلطان الاولیاء محبوب الٰہی نظام الحق والدّین رضی اللہ عنہ فوائد الفواد شریف میں فرماتے ہیں : مزامیر حرام است ، یعنی گانے بجانے کے آلات حرام ہیں ۔ (فتاوی رضویہ جلد 24 ، صفحہ 138 رضافاؤنڈیشن لاهور)


بہار شریعت میں ہے : ناچنا ، تالی بجانا ، ستار ، ایک تارہ ، دو تارہ ، ہارمونیم ، چنگ ، طنبورہ بجانا ، اسی طرح دوسرے قسم کے باجے سب ناجائز ہیں ۔ (بہار شریعت حصہ 16 صفحہ 511 مکتبۃ المدینہ کراچی) ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔





















عقائد و نظریات حضرت غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ

عقائد و نظریات حضرت غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا عبدالقاد رجیلانی رحمۃ  اللہ علیہ کی ...