Wednesday, 11 March 2026

گاؤں میں جمعہ اور عید کی نماز باجماعت کا حکم

گاؤں میں جمعہ اور عید کی نماز باجماعت کا حکم

محترم قارئینِ کرام : گاؤں کے وہ سب لوگ جن پر شرائط جمعہ (مسلمان مرد ، مقیم ، تندرست ، عاقل ، بالغ) پائے جانےکی صورت میں شرعاً جمعہ فرض ہو جاتا ہے ، گاؤں کی سب سے بڑی مسجد میں نماز پڑھیں اوراس میں پورے نہ آ سکیں ، بلکہ اس کی توسیع کرنا پڑے ، تو ایک روایت کے مطابق ایسے گاؤں میں جمعہ درست ہےاور فی زمانہ مفتیان کرام نے اسی روایت پرفتوی دیا ہے اور ایسے گاؤں میں نمازِ جمعہ ادا کرنے سے ظہر ساقط ہو جائے گی اور اگر گاؤں میں اتنے افراد نہ ہوں ، تواس میں نمازِ جمعہ شروع کرنا ، ناجائز و گناہ ہے اور وہاں کے بالغ افراد پر ظہر فرض ہو گی ۔ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کےلیے احناف کے نزدیک سات شرائط ہیں ، جن میں سے ایک شہر ہونا ضروری ہے ۔ جمعہ کے صحیح ہونے کےلیے شہر یا فناء شہر شرط ہے دیہات میں جمعہ جائز نہیں ہوتا ۔ لیکن اگر عوام پڑھے تو انہیں منع نہ کیا جائے کہ وہ جس طرح بھی اللہ و رسول کا نام لیں غنیمت ہے ۔ لیکن مسئلہ شرعیہ سے ضرور آگاہ کیا جائے کہ دیہات جہاں تھوڑے سے احباب ہوں وہاں جمعہ نہیں ہوتا ۔ بلکہ ظہر پڑھنا ضروری ہوگا ۔ البتہ ایک نادر روایت میں جمعہ جائز ہونے کا بیان ہے کہ اتنے افراد ہوں کہ گاؤں کی بڑی مسجد ان سے بڑھ جائے تو وہاں جمعہ جائز ہے ۔


فقہ حنفی کی مشہور کتاب الھدایہمیں یے : لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع ، أو في مصلى المصر، ولا تجوز في القرى  لقوله عليه الصلاة والسلام “ لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع ۔

ترجمہ : جمعہ شہر کی جامع مسجد یا شہر کی وہ جگہ جو نماز کےلیے خاص ہے اس میں ہی صحیح ہوتی ہے اور دیہات میں جائز نہیں ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے ” نہ ہی جمعہ اور نہ ہی (تکبیر) تشریق  اور نہ ہی (نماز عيد) الفطر اور نہ (نماز عيد)الاضحی جائز ہے مگر شہر کی جامع مسجد میں ۔ (الهدايه باب اصلاة الجمعة جلد 1 صفحہ 82 دار احياءالتراث العربى بيروت )


ابو عبدالرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : شہر اور بڑے قصبےکے سوا جمعہ ہے ، نہ تشریق نہ عیدالفطر نہ عید الاضحی ۔ (المصنف ابن ابی شیبہ جلد 2 صفحہ 101)


حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دیہات والوں پر جمعہ نہیں ، جمعہ صرف شہر والوں پر ہے ۔ (المصنف ابن ابی شیبہ جلد 2 صفحہ 168)


علامہ علاء الدین ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : تحفہ میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقول ہے : شہر اس بڑی جگہ کو کہتے ہیں، جہاں گلیاں اور بازار ہوں ،مضافاتی علاقہ ہو اور اس میں ایک ایسا حاکم ہو جو اپنے اقتدار کے دبدبے (اور طاقت سے) اور اپنے (ذاتی) علم یا دوسرے کے علم سے (یعنی گواہی کے ذریعے) مظلوم کو ظالم سے انصاف دلا سکے ، لوگ اپنے پیش آمدہ معاملات میں اس کی طرف رجوع کریں ، یہی صحیح تعریف ہے ۔ (بدائع الصنائع جلد 1 صفحہ 385،چشتی)


مذکورہ تعریف کے لحاظ سے شہر کے ثبوت کےلیے مندرجہ ذیل امور ضروری ہیں : اشیائے ضرورت کےلیے بازار اور دکانیں ۔ قوتِ حاکمہ اورعالمِ دین ۔


نمازِ جمعہ قائم کرنا ایسا نہیں ہے کہ جو چاہے ، جب چاہے قائم کر لے ، شرائط کا پایا جانا لازم ہے ۔ صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ایک بہت ضروری امر جس کی طرف عوام کو بالکل توجہ نہیں ، یہ ہے کہ جمعہ کو اور نمازوں کی طرح سمجھ رکھا ہے کہ جس نے چاہا نیا جمعہ قائم کر لیا اور جس نے چاہا پڑھا دیا ، یہ ناجائز ہے ، اس لیے کہ جمعہ قائم کرنا بادشاہِ اسلام یا اس کے نائب کا کام ہے اور جہاں سلطنتِ اسلامی نہ ہو ، وہاں جو سب سے بڑا فقیہ سُنّی صحیح العقیدہ ہو ، اَحکامِ شرعیہ جاری کرنے میں سلطان اسلام کے قائم مقام ہے ، لہٰذا وہی جمعہ قائم کرے ، ا س کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا اوریہ بھی نہ ہوتو عام لوگ جسے امام بنائیں ، عالم کے ہوتے ہوئے عوام بطور خود کسی کو امام نہیں بنا سکتے ، نہ یہ ہو سکتا ہے کہ دوچار شخص کسی کو امام مقرر کرلیں ، ایسا جمعہ کہیں سے ثابت نہیں ۔ (بہارِ شریعت جلداول صفحہ 764)


خلاصہ کلام یہ ہے کہ گاؤں ، دیہات میں جمعہ قائم کرنے کےلیے مذکورہ شرائط کا پایا جانا ضروری ہے ، دیہات ، گاؤں میں جمعہ قائم نہیں کیاجائے گا ، اِن شرائط کے مفقود ہونے کی صورت میں کسی بھی دیہات میں جمعہ قائم نہیں کیا جائے گا ، البتہ اگر کہیں پہلے سے جمعہ جاری ہو تو اُسے بند نہیں کیا جائے گا ۔ تاہم جمعہ پڑھنے کے بعد چار رکعات ظہر احتیاطی اداکی جائے گی ۔


    امام اکمل الدین بابرتی رحمۃ اللہ علیہ عنایہ میں لکھتے ہیں : وعنہ أی أبی یوسف (أنھم اذااجتمعوا)أی اجتمع من تجب علیہ الجمعة لاکل من یسکن فی ذلک الموضع من الصبیان والنساء والعبید لأن من تجب علیھم مجتمعون فیہ عادة۔قال ابن شجاع ، أحسن ماقیل فیہ اذاکان أھلھابحیث لواجتمعوافی أکبرمساجد ھم لم یسعھم ذلک حتی احتاجواالی بناء مسجد آخر للجمعة ۔

ترجمہ : یعنی امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ جن پر جمعہ لازم ہے نہ کہ وہ تمام لوگ جو وہاں سکونت پذیر ہیں مثلاً بچے ، خواتین اور غلام ۔ ابن شجاع نے کہا کہ اس بارے میں سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جب جمعہ کے اہل لوگ وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو سما نہ سکیں حتی کہ وہ جمعہ کےلیے ایک اور مسجد بنانے پر مجبور ہوں ۔ (عنایہ شرح ھدایہ کتاب الصلاۃ جلد 2 صفحہ 52 مطبوعہ بیروت،چشتی)


    علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : المصر وھو مالا یسع اکبر مساجدہ  اھلہ المکلفین بھا وعلیہ فتویٰ اکثرالفقھاء ۔

ترجمہ : شہر وہ ہے کہ اس کی مساجد میں سے بڑی مسجد میں وہاں کے وہ باشندے نہ سما سکیں جن پر جمعہ فرض ہے اور اسی پر اکثر فقہاء کرام کا فتویٰ ہے ۔ (ردالمحتار معہ در مختار کتاب الصلاۃ جلد 3 صفحہ 06 مطبو عہ کوئٹہ)


    علامہ ابن نجیم مصری حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : وعن ابی یوسف انہ مااذااجتمعوافی اکبرمساجدھم للصلوات الخمس لم یسعھم و علیہ  فتویٰ اکثرالفقھاء وقال ابو شجاع : ھذا احسن ماقیل  فیہ۔وفی الولوالجیة:وھو الصحیح ۔

ترجمہ : امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ شہر وہ ہے کہ جب وہاں کے باشندے اپنی مساجد میں سے بڑی مسجد میں نمازِ پنجگانہ کےلیے جمع ہوں تو وہ انہیں کم پڑ جائے اور اسی پر اکثر فقہاء کرام کا فتویٰ ہے ۔ ابو شجاع علیہ الرحمۃ نے فرمایا : یہ بہترین تعریف ہے جو شہر کی کی گئی ہے اور ولوالجیہ میں ہے کہ یہی تعریف صحیح ہے ۔ (البحرالرائق،کتاب الصلاۃ جلد 2 صفحہ 247 مطبوعہ کوئٹہ)


    اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ہاں ایک روایت نادرہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے یہ آئی ہے کہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد ، عاقل ، بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہو سکے آباد ہوں کہ اگر وہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سما سکیں یہاں تک کہ انہیں جمعہ کےلیے مسجد جامع بنانی پڑے ، وہ صحت جمعہ کےلیے شہر سمجھی جائے گی ۔۔۔ جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے اس میں اس روایت نوادر کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگرچہ اصل مذہب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایک جماعت متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہرگز جمعہ خواہ عید مذہب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 347 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور،چشتی)


اور ایسی جگہ جہاں جمعہ پڑھنا جائز نہیں ، وہاں ظہر کی نماز کے بارے میں خاتم المحققین علامہ محمد امین بن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں : لو صلوا فی القری لزمھم أداء الظھر ۔

ترجمہ : اگر لوگ (ایسے) گاؤں میں (جہاں جمعہ جائز نہیں) جمعہ ادا کریں تو ان پر ظہر کی نماز ادا کرنا ہی ضروری ہے ۔ (رد المحتار معہ درمختار جلد 3 صفحہ 8 مطبوعہ کوئٹہ)


فتاوی شامی میں ہے : لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر ۔

ترجمہ : اگر دیہات میں لوگوں نے جمعہ پڑھ لیا تو ظہر کی نماز ادا کرنا ان پر لازم ہے ۔ (فتاوی شامی باب الجمعۃ  جلد 2 صفحہ 138 دارالفکر بیروت)


فتاوی رضویہ میں ہے : جمعہ و عیدین دیہات میں ناجائز ہیں اور ان کا پڑھنا گناہ ، مگر جاہل عوام اگر پڑھتے ہوں تو ان کو منع کرنے کی ضرورت نہیں کہ عوام جس طرح اللہ و رسول کا نام لے لیں غنیمت ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 8  صفحہ 387 رضافاؤنڈیشن لاہور)


البتہ ایک نادر روایت میں جمعہ جائز ہونے کا بیان ہے کہ اتنے افراد ہوں کہ گاؤں کی بڑی مسجد ان سے بھر جائے تو وہاں جمعہ جائز ہے ۔


فتاوی رضویہ : میں اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : ہاں ایک روایت نادرہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے یہ آئی ہےکہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد عاقل بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہوسکے آباد ہوں کہ اگر وہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سما سکیں یہاں تک کہ انہیں جمعہ کےلیے مسجد جامع بنانی پڑے وہ صحتِ جمعہ کےلیے شہر سمجھی جائے گی ، امام اکمل الدین بابرتی رحمۃ اللہ علیہ عنایہ شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں : (وعنہ) ای عن ابی یوسف ( انھم اذا اجتمعوا) ای اجتمع من تجب علیھم الجمعۃ لاکل من یسکن فی ذلك الموضع من الصبیان والنساء والعید لان من تجب علیھم مجتمعون فیہ عادۃ قال ابن شجاع احسن ماقیل فیہ اذاکان اھلھا، بحیث لو اجتمعوا (فی اکبر مساجد لم یسعھم ذلك) حتی احتاجوا الی بناء مسجد آخر للجمعۃ ۔

ترجمہ : امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے ہے (جب وہ جمع ہوں) یعنی وہ لوگ جن پر جمعہ لازم ہے نہ کہ تمام وہ لوگ جو وہاں سکونت پذیر ہیں مثلًا بچے ، خواتین اور غلام ، ابنِ شجاع نے کہا کہ اس بارے میں سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جب جمعہ کے اہل وہاں جمع ہوں (سب سے بڑی مسجد میں ، اور اس میں ان کی گنجائش نہ ہو) حتی کہ وہ جمعہ کےلیے ایک اور مسجد بنانے پر مجبور ہوں ۔ جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے اس میں اس روایت نوادر کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگر چہ اصل مذہب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایک جماعتِ متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہر گز جمعہ خواہ عید مذہب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے ۔ (فتاوی رضویہ باب الجمعہ جلد 8 صفحہ 347 مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور)


جب جمعہ دیہات میں ہوتا ہی نہیں بلکہ ظہر ذمہ پر باقی رہتی ہے تو ظہر بدستور اذان و اقامت سے جماعت کے ساتھ ہی ادا کی جائے گی ۔


فتاوی عالمگیری میں ہے : ومن لا تجب عليهم الجمعة من أهل القرى والبوادي لهم أن يصلوا الظهر بجماعة يوم الجمعة بأذان وإقامة ۔

ترجمہ : اور جس پر جمعہ فرض نہیں ہے یعنی گاؤں ٬ دیہات والے ان کےلیے ضروری ہے کہ وہ جمعہ کے دن اذان واقامت سےظہر کی نماز باجماعت ادا کریں ۔ ( الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاة الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ جلد 1 صفحہ 145 مطبوعہ دارالفکر)


 فتاوی فیض الرسول میں ہے : جس طرح اور دنوں میں ظہر کی نماز باجماعت پڑھنا واجب ہے ایسے ہی دیہاتوں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز باجماعت پڑھنا ضروری ہے ۔ (فتاوی فیض الرسول باب صلوۃ الجمعۃ جلد 1 صفحہ 421 ٬ 422 مطبوعہ شبیر برادر لاہو)


بہار شریعت میں ہے : گاؤں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز اذان و اقامت کے ساتھ باجماعت پڑھیں ۔ (بہارشریعت جمعہ کا بیان حصہ 4 صفحہ 779 مکتبۃ المدینہ)


جب دیہات میں جمعہ جائز نہیں تو قبل الجمۃ اور بعد الجمعۃ کی سنتیں پڑھنا بھی درست نہیں بلکہ سنت ظہر ہی ادا کی جائے گی ۔


فتاوی فیض الرسول میں ہے : تو جب دیہات میں جمعہ کی نماز جائز نہیں تو قبل الجمعہ اور بعد الجمعہ کی نیت سے سنتیں پڑھنا بھی صحیح نہیں کہ شریعت کی حانب سے قبل الجمعہ اور بعد الجمعہ کی سنتوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جب ظہر کی نماز ساقط نہیں ہوتی تو اس کی سنتوں کا پڑھنا لازمی ہے کہ جمعہ کے دن بھی ظہر کی سنتوں کا مطالبہ بدستور باقی ہے ۔ (فتاوی فیض الرسول باب صلوۃ الجمعۃ جلد 1 صفحہ 407 مطبوعہ شبیر برادر لاہور) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 5 March 2026

میرے بے حس معاشرے کی دینی طلبا و غریبوں کے ساتھ ستم ظریفی



سامری حرامی ، بچھڑا اور موجودہ اسرائیلی یہودی اسی کی نسل ہیں

سامری حرامی ، بچھڑا اور موجودہ اسرائیلی یہودی اسی کی نسل ہیں

محترم قارئینِ کرام : موجودہ دور میں جب کوئی ریاکاری ، منافقت اور ہر قسم کے ہتکھنڈے استعمال کر کے جیسا کہ امریکی اسرائیلی یہودی مل کر کرتے ہیں ، کچھ نامعلوم مقاصد و اہداف کے حصول کےلیے ان سب کا استعمال کرتے ہیں تو لوگ انہیں سامری کا خطاب دیتے ہیں ۔ یاد رہے سامری حرامی تھا اور موجودہ امریکی و اسرائیلی یہودی اسی کی نسل سے ہیں اور بچھڑے کے پوجاری ہیں ۔ سامری کا اصل نام موسیٰ بن ظفر تھا یہ سامرہ قبیلے سے تھا ، جس کی وجہ سے اسے سامری کہا جاتا تھا ، اور یہ انسان ہی تھا ، جب بنی اسرائیل کے ساتھ اس نے دریا عبور کیا تو اس کے بعد یہ منافق ہو گیا اور اس نے حضرت موسی علیہ السلام کے کوہ طور پر جانے کے بعد زیورات سے بچھڑا بنایا اور اسے لوگوں کا معبود قرار دے کر لوگوں کو اس کی پوجا پر لگا دیا ، اس وجہ سے حضرت  موسیٰ علیہ السلام نے اس سے فرمایا : جا ! اب پوری زندگی تو یہ کہتا رہے گا کہ مجھ سے نہ چھو جانا ۔ اس کے بعد وہ لوگوں سے  چیخ چیخ کر کہتا پھرتا تھا کہ : مجھ سے کوئی نہ چھو جائے ۔ اور اگر وہ کسی کو چھو جاتا تھا یا کوئی اس سے چھو جاتا تھا تو دونوں کو سخت بخار ہو جاتا تھا ، اس وجہ سے وہ لوگوں سے بچ کر رہتا تھا اور لوگ اس سے بچ کر رہتے تھے ، اس کے ساتھ بات چیت ، ملاقات ، لین دین وغیرہ سارے معاملات دشوار ہو گئے تھے ، لہٰذا اس کےلیے آبادی میں رہنا دو بھر ہو گیا تھا ، پس وہ جنگل کی طرف نکل گیا ، اور جنگل میں تن تنہا وحشی جانوروں اور درندوں کے ساتھ سرگرداں رہنے لگا اور اسی حالت میں مر گیا ۔


تفسیر طبری میں ہے : كان اسم السامري موسى بن ظفر ۔

ترجمہ : سامری کا نام موسی بن ظفر تھا ۔ (تفسیر الطبری جلد 2 صفحہ 67 مؤسسة الرسالة)


تفسیر القرآن العزیز لابن ابی زمنین رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 399 ھ) میں ہے : قال قتادة و كان السامري من عظماء بني إسرائيل ، من قبيلة يقال لها : سامرة ، و لكن نافق بعدما قطع البحر مع بني إسرائيل ۔

ترجمہ : حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : سامری بنی اسرائیل کے معظم لوگوں میں سے تھا، "سامرہ" نامی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا، لیکن جب اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ دریا عبور کیا تو اس کے بعد یہ منافق ہو گیا ۔ (تفسیر القرآن العزیز جلد 3 صفحہ 125 مطبوعہ مصر)


اللہ عزوجل کا فرمان ہے : قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ (95) قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ (96) ۔ (سورہ طہ آیت نمبر 95 ، 96)

ترجمہ : موسیٰ نے کہا اب تیرا کیا حال ہے اے سامری ۔ بولا میں نے وہ دیکھا جو لوگوں نے نہ دیکھا تو ایک مٹھی بھر لی فرشتے کے نشان سے پھر اسے ڈال دیا اور میرے جی کو یہی بھلا لگا ۔


مذکورہ آیتِ مبارکہ اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کا جواب سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے سامری ! تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس کی وجہ بتا ۔ سامری نے کہا : میں نے وہ دیکھا جو بنی اسرائیل کے لوگوں نے نہ دیکھا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تو نے کیا دیکھا ؟ اس نے کہا : میں  نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا اور انہیں پہچان لیا ، وہ زندگی کے گھوڑے پر سوار تھے ، اس وقت میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں ان کے گھوڑے کے نشانِ قدم کی خاک لے لوں  تو میں نے وہاں سے ایک مٹھی بھر لی پھر اِسے اُس بچھڑے میں ڈال دیا جو میں نے بنایا تھا اور میرے نفس نے مجھے یہی اچھا کر کے دکھایا اور یہ فعل میں نے اپنی ہی نفسانی خواہش کی وجہ سے کیا کوئی دوسرا اس کا باعث و مُحرِّک نہ تھا ۔ (تفسیر مدارک صفحہ ۷۰۱،چشتی)(تفسیر خازن جلد ۳ صفحہ ۲۶۲)

 

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ کاملہ سے فارغ ہو گئے اور بنو اسرئایل کو سرزنش نہ کرنے کے متعلق ان کا عذر قبول کر لیا تو اب سامری کی طرف متوجہ ہوئے ۔ یہ ہوسکتا ہے کہ سامری اس وقت وہیں موجود ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کہیں اور ہوا اور اس کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بلایا ہو ، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے پاس حضرت موسیٰ خود گئے ہوں تاکہ اس سے خطاب کریں۔ بہرحال حضرت موسیٰ نے اس سے پوچھا تیرا کیا معاملہ ہے یعنی تو نے اس بچھڑے کو معبود کیوں بنایا تھا ؟ سامری نے کہا میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسروں نے نہیں دیکھی تو میں نے اللہ کے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لی پھر اس مٹھی بھر خاک کو بچھڑنے کے مجسمہ میں ڈال دیا ، میرے دل نے یہی بات بنائی تھی ۔ جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں رسول سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام ہیں اور اثر سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام کی سواری کے پاٶں کے نیچے کی مٹی ہے ۔ پھر اس میں اختلا ہے کہ سامری نے حضرت جبریل کو کب دیکھا تھا اکثر نے یہ کہا ہے کہ جس دن سمندر کو چیرا گیا تھا اس دن سامری نے حضرت جبریل کو دیکھا تھا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت جبریل علیہ السلام نازل ہوئے تاکہ حضرت موسیٰ کو طور پر لے جائیں تو سامری نے حضرت جبریل علیہ السلام کو لوگوں کے درمیان دیکھ لیا تھا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ اس نے حضرت جبریل کو اس لیے پہچان لیا تھا کہ سامری نے حضرت جبریل کو بچپن میں دیکھا تھا کیونکہ جب فرعون نے بنی اسرائیل کی اولاد کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا اس سال سامری پیدا ہوا اس کی ماں سامری کو ایک غار میں ڈال آئی تھی وہاں حضرت جبریل علیہ السلام آتے اور اپنا ہاتھ سامری کے منہ میں ڈالتے وہ اس کو چوستا تو اس کو غذا حاصل ہو جاتی ۔ اس وقت سے سامری کے ذہن میں حضرت جبریل علیہ السلام کی صورت نقش تھی اب اس نے ان کو دیکھا تو پہچان لیا ۔ اس نے ان کی سواری کے پاٶں کے نیچے سے مٹھی اٹھا لی اور اپنے پاس محفوظ رکھ لی اور اس نے جب بچھڑے کو بنایا تو اس کے اندر وہ مٹی ڈال دی جس کے اثر سے اس میں حیات آگئی اور وہ بیل کی سی آواز نکالنے لگا ۔


بنی اسرائیل میں ایک حرامی شخص تھا جس کا نام سامری تھا جو طبعی طور پر نہایت گمراہ اور گمراہ کن آدمی تھا ۔ اس کی ماں نے برادری میں رسوائی و بدنامی کے ڈر سے اس کو پیدا ہوتے ہی پہاڑ کے ایک غار میں چھوڑ دیا تھا اور حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اس کو اپنی انگلی سے دودھ پلا پلا کر پالا تھا ۔ اس لیے یہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو پہچانتا تھا ۔ اس کا پورا نام موسیٰ سامری ہے ۔ جن دنوں حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر معتکف تھے ۔ سامری نے آپ کی غیر موجودگی کو غنیمت جانا اور یہ فتنہ برپا کر دیا کہ اس نے بنی اسرائیل کے سونے چاندی کے زیورات کو مانگ کر پگھلایا اور اس سے ایک بچھڑا بنایا ۔ اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کے قدموں کی خاک جو اس کے پاس محفوظ تھی اس نے وہ خاک بچھڑے کے منہ میں ڈال دی تو وہ بچھڑا بولنے لگا ۔ پھر سامری نے بنی اسرائیل سے یہ کہا کہ اے میری قوم ! حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر خدا عزوجل کے دیدار کےلیے تشریف لے گئے ہیں ۔ حالانکہ تمہارا خدا تو یہی بچھڑا ہے ۔ لہٰذا تم لوگ اسی کی عبادت کرو ۔ سامری کی اس تقریر سے بنی اسرائیل گمراہ ہو گئے اور بارہ ہزار آدمیوں کے سوا ساری قوم نے چاندی سونے کے بچھڑے کو بولتا دیکھ کر اس کو خدا مان لیا ۔ اس وجہ سے حضرت موسی علیہ السلام نے اس پر ناراضی کا اظہار فرمایا ۔ (عجائب القرآن صفحہ 113،چشتی)


امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 606 ھ نے لکھا ہے کہ ابو مسلم اصفہانی رحمة اللہ علیہ نے یہ کہا ہے کہ قرآن مجید میں یہ تصریح نہیں ہے کہ طہ : 96 میں رسول سے مراد جبریل ہیں یہ صرف مفسرین کا قول ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں رسول سے مراد حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوں اور ان کے اثر سیمراد ان کی سنت اور ان کا وہ طریقہ ہو جس کا انہوں نے حکم دیا تھا اور مفہوم یہ ہو کہ جب حضرت موسیٰ نے سامری کو بچھڑے کی عبادت پر ملامت کی تو اس نے یوں کہا مجھے اس چیز کی بصیرت حاصل ہوئی جس کی اور لوگوں کو بصیرت حاصل نہیں ہوئی ۔ یعنی میں نے جان لیا آپ لوگ حق پر نہیں ہیں اور اے رسول میں نے آپ کی سنت اور آپ کے دین کا کچھ حصہ حاصل کیا تھا پھر میں نے اس کو پھینک دیا اور ترک کردیا، اور اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو خبر دی کہ اس کو دنیا اور آخرت کا عذاب ہوگا ۔


ابو مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی یہ تقریر ہرچند کہ عام مفسرین کی تفسیر کے خلاف ہے لیکن یہ تقریر حسب ذیل وجوہ سے راجح ہے اور تحقیق کے قریب ہے : ⏬


(١) حضرت جبریل کےلیے رسول کا لفظ مشہور نہیں ہے اور نہ طہ : 96 سے پہلی آیتوں میں حضرت جبریل کا ذکر ہے حتیٰ کہ یہ کہا جائے کہ الرسول میں لام عہد ہے اور اس سے مراد حضرت جبریل ہیں ۔


(٢) مفسرین کی تفسیر میں قبضۃ من اثر الرسول میں دو لفظ محذوف ماننے ہوں گے اور عبارت یوں بنے گی قبضۃ من الرحافر فرس الرسول میں نے رسول یعنی جبریل کی گھوڑی کے پیر کی خاک سے ایک مٹھی بھر لی اور حذف خلاف اصل ہے ۔


(٣) اس کی وجہ بتانی پڑے گی کہ تمام لوگوں میں سے صرف سامری نے کیسے جبریل کو دیکھا اور پہچان لیا اور یہ کیسے جان لیا کہ ان کی گھوڑی کے پائوں کی خاک میں یہ اثر ہے کہ اس سے بےجان چیز زندہ ہوجائے گی ۔ اور مفسرین نے جو یہ بیان کیا ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلم نے سامری کی اس کے بچپن میں تربیت اور پرورش کی تھی اول تو یہ بہت بعید ہے ، ثانیاً سامری نے جوان ہونے اور عقل و شعور کے کامل ہونے کے بعد جبریل کو دیکھ کر یہ کیسے پہچان لیا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے میری پیدائش کے بعد میری پرورش کی تھی ۔


(٤) اگر اس تفسیر کو مان لیا جائے تو پھر کوئی شخص یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ سامری کافر تھا اور جب اس کو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ ایک خاک کی چٹکی بےجان چیز کو زندہ کر سکتی ہے اور سامری کے ایک عمل سے بےجان مجسمہ بیل کی سی آواز نکال سکتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس طرح کی کسی چیز کا علم ہو گیا ہو جس کی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ معجزات دکھائے ہوں اور پھر معجزات کے ثبوت کا دروازہ بند ہوجائے گا ۔ (تفسیر کبیر جلد ٨ صفحہ 92 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت 1415 ھ)


سامری کی سزا و انجام : ⏬


اس کے حشر کے متعلق قرآن پاک میں ہے : قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ ۪۔ (سورہ طہ آیت نمبر 97)

ترجمہ : کہا تو چلتا بن کہ دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہ ہے کہ تو کہے چھو نہ جا ۔


سامری کی بات سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سے فرمایا : تو یہاں  سے چلتا بن اور دور ہو جا ، پس بیشک زندگی میں  تیرے لئے یہ سزا ہے کہ جب تجھ سے کوئی ایسا شخص ملنا چاہے جو تیرے حال سے واقف نہ ہو ، تو تُو اس سے کہے گا ، کوئی مجھے نہ چھوئے اور نہ میں  کسی سے چھوؤں ۔ چنانچہ لوگوں  کو مکمل طور پر سے ملنا منع کر دیا گیا اور ہر ایک پر اس کے ساتھ ملاقات ، بات چیت ، خرید و فروخت حرام کر دی گئی اور اگر اتفاقاً کوئی اس سے چھو جاتا تو وہ اور چھونے والا دونوں شدید بخار میں مبتلا ہوتے ، وہ جنگل میں یہی شور مچاتا پھرتا تھا کہ کوئی مجھے نہ چھوئے اور وہ وحشیوں  اور درندوں میں زندگی کے دن انتہائی تلخی اور وحشت میں گزارتا تھا ۔ (تفسیر مدارک صفحہ ۷۰۱،چشتی)(تفسیر خازن جلد ۳ صفحہ ۲۶۲)


حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مزید فرمایا کہ اے سامری ! تیرے شرک اور فساد انگیزی پر دنیا کے اس عذاب کے بعد تیرے لیے آخرت میں  بھی عذاب کا وعدہ ہے جس کی تجھ سے خلاف ورزی نہ کی جائے گی اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو سارا دن ڈٹ کر بیٹھا رہا اور اس کی عبادت پر قائم رہا ،قسم ہے : ہم ضرور اسے آگ سے جلائیں  گے پھر ریزہ ریزہ کرکے دریا میں  بہا دیں  گے ، چنانچہ حضرت موسیٰ صفحہ نے اس بچھڑے کے ساتھ ایسا ہی کیا ۔(تفسیر مدارک صفحہ ۷۰۱)(تفسیر خازن جلد ۳ صفحہ ۲۶۲ - ۲۶۳)


تفسیر خزائن العرفان میں ہے : یعنی سب سے علیٰحدہ رہنا نہ تجھ سے کوئی چھوئے نہ تو کسی سے چھوئے ، لوگوں سے ملنا اس کےلیے کلّی طورپر ممنوع قرار دیا گیا اور ملاقات ، مکالمت ، خرید و فروخت ہر ایک کے ساتھ حرام کر دی گئی اور اگر اتفاقاً کوئی اس سے چھو جاتا تو وہ اور چھونے والا دونوں شدید بخار میں مبتلا ہوتے ، وہ جنگل میں یہی شور مچاتا پھرتا تھا کہ کوئی چھو نہ جانا اور وحشیوں اور درندوں میں زندگی کے دن نہایت تلخی و وحشت میں گزارتا تھا ۔


سورہ طہ : 97 میں ہے موسیٰ نے کہا اب تو یہاں سے چلا جا اب تو زندگی بھر یہی کہے گا ” مجھے مت چھونا “ اور تجھ سے آخرت میں سزا کا وعدہ ہے جس سے تو ہرگز نہیں بچ سکے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو فرمایا تھا کہ اب تو زندگی بھر یہی کہے گا ” مجھے مت چھونا “ ان کی حسب ذیل تفسیریں ہیں : ⏬


(١) جب کوئی شخص اس کو چھوتا تو اس کو اور چھونے والے کو دونوں کو بخار چڑھ جاتا اس لیے جب کوئی شخص اس کو چھونے کا ارادہ کرتا تو وہ خوف سے چلاتا مجھے مت چھونا ۔


(٢) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو محلہ سے نکال دیا تھا اور اس کو کسی آبادی میں رہنے سے منع کردیا تھا اور تمام لوگوں کو اس سے ملنے جلنے سے منع کردیا تھا وہ جنگلوں اور پہاڑوں میں پڑا رہتا تھا اور افسوس سے یہ کہتا رہتا تھا مجھ سے کوئی ملتا جلتا نہیں ہے اور یہی لامساس کا معنی ہے یعنی مجھے کوئی مس نہیں کرتا کوئی چھوتا نہیں ہے ۔


(٣) لامساس کا معنی یہ ہے کہ اس کو عورتوں کے مس سے محروم کردیا گیا تھا اور اس کی نسل منقطع کردی گئی اور جسمانیفطرت کے تقاضوں کی لذت اس سے سلب کرلی گئی تھی ۔


جس بچھڑے کو اس نے معبود بنایا تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کا انجام بیان کرتے ہوئے فرمایا : اور تو اپنے اس (خود ساختہ) معبود کو دیکھ جس کی عبادت پر تو جما بیٹھا تھا ہم اس کو ضرور جلا دیں گے پھر اس کی راکھ کو اڑا کر سمندر میں پھینک دیں گے ۔ (طہ :97) 

سامری کے اس بچھڑے کے متعلق فقیر نے دو قول ذکر کیے تھے ایک یہ کہ وہ سونے کا مجسمہ تھا اور جب اس میں حضرت جبریل کی سواری کے پاٶں کے نیچے کی خاک ڈالی تو وہ اس خاک کی برکت سے بیل کی سی آواز نکالنے لگا، اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ گوشت پوست اور خون کے ساتھ زندہ ہو یا تھا ، اس آیت میں ان مفسرین کی تائید ہے جو یہ کہتے ہیں کہ وہ سونے کا مجسمہ اس خاک کی برکت سے گوشت پوست کے ساتھ زندہ ہوگیا تھا، کیونکہ اس آیت میں فرمایا ہے حضرت موسیٰ نے اس کو جلا کر راکھ دیا اور سونا جل کر راکھ نہیں ہوتا ، اس کا معنی یہ ہے کہ وہ مجسمہ گوشت ، پوست اور خون کے ساتھ زندہ ہو گیا تھا ، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو ذبح کیا اور جلا کر رکھ دیا اور جو مفسرین یہ کہتے ہیں کہ وہ سونے کا مجسمہ ہی تھا اور خاک ڈالنے کی برکت کی وجہ سے صرف بیل کی سی آواز نکالنے لگا تھا وہ اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ بیشک سونا جل کر راکھ نہیں ہوتا ، لیکن یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ تھا کہ وہ جل کر راکھ ہو گیا ۔


سامری کو ملامت کرنے اور اس کو سزا دینے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دین حق کا بیان فرمایا : تمہارا معبود تو صرف اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ، اس کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کرلیا ہے ۔ (سورہ طہ :98) ، یعنی وہ جانتا ہے کہ کون اس کی عبادت کرے گا اور کون اس کی عبادت نہیں کرے گا ۔


اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ ۔

ترجمہ : کہا تو چلتا بن کہ دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہ ہے کہ  تو کہے چھو نہ جا ۔ (سورہ طہ آیت نمبر 97)


تفسیر جلالین میں ہے : و إذا مس أحدا أو مسه أحد حما جميعا ۔

ترجمہ : سامری جب کسی کو چھوتا یا کوئی اسے چھوتا تو دونوں بخار میں مبتلا ہو جاتے ۔ (تفسیر جلالین صفحہ 415 دار الحديث القاهرة)


تفسیر روح البیان میں ہے : روى انه كان إذا ماس أحدا ذكرا او أنثى حم الماس و الممسوس جميعا حمى شديدة فتحامى الناس و تحاموه و كان يصيح بأقصى صوته لا مساس و حرم عليهم ملاقاته و مواجهته و مكالمته و مبايعته و غيرها مما يعتاد جريانه فيما بين الناس من المعاملات فصار وحيدا طريدا يهيم فى البرية مع الوحش و السباع ۔

ترجمہ : مروی ہے کہ سامری جب کسی بھی مرد یا عورت کو چھوتا تو چھونے والے اور جسے چھوا گیا ، دونوں کو شدید بخار ہو جاتا ، پس وہ لوگوں سے بچ کر رہتا اور لوگ اس سے بچ کر رہتے اور وہ اونچی آواز میں چیخ چیخ کر کہتا تھا کہ مجھ سے چھو نہ جانا ، اور لوگ اس سے ملاقات  کرنے ، اس کا سامنا کرنے ، بات چیت  کرنے ، خرید و فروخت کرنے اور دیگر وہ تمام  معاملات کرنے سے محروم ہو گئے جو عام طور پر لوگوں میں ہوتے ہیں ، پس وہ  دھتکارا ہوا ، تنہا رہ گیا اور جنگل میں وحشی جانوروں اور درندوں کے ساتھ  سرگرداں رہنے لگا ۔ (تفسیر روح البیان جلد 5 صفحہ 421 ، 422 دار الفكر بيروت،چشتی)


تفسیر مظہری میں ہے : قال له موسى فاذهب  فإن لك في الحياة الدنيا مادمت حيا عقوبة من الله على ما فعلت أن تقول لكل من رايته لا مساس  يعنى لا تمسنى و لا تقربنى ۔ قلت لعل ذلك لاجل وحشة القى الله تعالى في قلبه فكان لا يستانس من أحد و قيل كان إذا مس أحدا او مسه أحد حما جميعا و لذلك كان يقول ذلك ۔ فكان في البرية طريدا وحيدا كالوحشى النافر حتى مات ۔

ترجمہ : حضرت موسی علیہ السلام نے سامری سے فرمایا : جو تو نے کیا اس پر اللہ تعالی کی طرف سے سزا یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں جب تک تو زندہ ہے ، جسے بھی تو دیکھے گا ، اس سے کہے گا چھو نہ جا ، یعنی مجھ سے نہ چھونا نہ میرے قریب آنا ۔ میں کہتا ہوں کہ اس کی وجہ  شاید وہ وحشت ہے جو اللہ عزوجل نے اس کے دل میں ڈال دی تھی تو وہ کسی سے مانوس نہیں ہوتا تھا ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب وہ کسی کو چھوتا یا کوئی اسے چھوتا تو دونوں کو بخار ہو جاتا ، اسی لیے وہ یوں کہا کرتا تھا ، پس وہ جنگل میں بھاگنے والے وحشی جانور کی طرح  دھتکارا ہوا اکیلا رہ گیا حتی کہ مر گیا ۔ (تفسیر مظہری جلد 6 صفحہ 160 مطبوعہ لاہور) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Sunday, 1 March 2026

مسلمانوں کا آپس میں لڑنا اور خوارج کی نشانیاں و پہچان

مسلمانوں کا آپس میں لڑنا اور خوارج کی نشانیاں و پہچان

محترم قارئینِ کرام : کسی بھی مسلمان شخص کو کسی دوسرے مسلمان ملک کے خلاف جنگ میں غیر مسلم کے حق میں لڑنے کی اجازت نہیں ہے ۔ اگر وہ جنگ کرتے ہوئے قتل ہو جائے تو وہ شہید نہیں ہو گا ۔ دوسرا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے کہ وہ کتنا مجبور تھا جس کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف لڑنا پڑا ۔


حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب دو مسلمان تلوار کھینچ کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں جاتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک تو قاتل تھا لیکن مقتول کو سزا کیوں ملے گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے قاتل کے قتل پر آمادہ تھا ۔ (صحیح بخاری نمبر 6875)(صحیح مسلم نمبر 2888)


عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا ، کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو (ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو) ۔ (سنن نسائی نمبر 4130) 


أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ۔

ترجمہ : عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے ۔ (سنن نسائی كتاب تحريم الدم حدیث نمبر 4116)(صحیح بخاری نمبر 6044)


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ "، قَالَ زُبَيْدٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ يَرْوِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، قَوْلُ زُبَيْدٍ لِأَبِي وَائِلٍ ۔

ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے ۔ زبید نے کہا : میں نے ابووائل سے پوچھا : کیا آپ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے خود سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ شعبہ کی روایت میں زبید کے ابووائل سے پوچھنے کا ذکر نہیں ہے ۔ (صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ حدیث نمبر 221)


فسق کا مطلب ہے : اللہ تعالی کی نافرمانی ۔ تومسلمان کو گالی دینا فسق ہے کا مطلب ہے کہ : مسلمان کوگالی دیناگناہ وحرام ہے ۔


اور کفر کے یہاں مختلف معانی ہو سکتے ہیں : (1) نعمت کی ناشکری جوکہ حقیقی کفر کا سبب بن سکتی ہے ۔ (2) کافروں کا سا کام ۔ (3) حقیقی کفر ، اور یہ تب ہے جبکہ مسلمان کے ساتھ ناحق قتال کو حلال سمجھ کر کرے یا اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ قتال کرے ۔ (4) اور یا پھر وعید کی شدت بیان کرنے کےلیے کفر کا اطلاق کیا گیا ۔


قتال کا مطلب ہے : لڑائی جھگڑا ، مارپیٹ ، جنگ ، قتل ۔


مذکورہ حدیثِ مبارکہ کامطلب یہ بنے گا کہ : مسلمان کو ناحق گالی دینا گناہ و حرام ہے اور مسلمان سے ناحق قتال ناشکری ہے یا کافروں کا سا کام ہے یا اسےحلال سمجھ کر کرنا کفر ہے یا مسلمان سے ناحق قتال کی بہت ہی سخت سزاہے ۔


مرقاۃ المفاتیح میں ہے : أي: شتمه۔۔۔ لأن شتمه بغير حق حرام۔ قال الأكمل: الفسوق۔۔۔شرعا هو الخروج عن الطاعة (وقتاله) أي: محاربته لأجل الإسلام (كفر) . كذا قاله شارح، لكن بُعده لا يخفى؛ لأن هذا من معلوم الدين بالضرورة فلا يحتاج إلى بيانه، بل المعنى: مجادلته ومحاربته بالباطل كفر بمعنى: كفران النعمة والإحسان في أخوة الإسلام، وأنه ربما يئول إلى الكفر، أو أنه فعل الكفرة، أو أراد به التغليظ والتهديد والتشديد في الوعيد، كما في قوله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : من ترك صلاة متعمدا فقد كفر » نعم قتاله مع استحلال قتله كفر صريح ۔

ترجمہ : (سباب سے مراد) گالی دینا ہے ، کیونکہ مسلمان کو ناحق گالی دینا حرام ہے ۔ اور اکمل نے کہا کہ فسوق کا شرعی معنی ہے اللہ پاک کی اطاعت سے نکلنا ۔ اور قتال یعنی مسلمان سے اسلام کی وجہ سے لڑنا کفر ہے ۔ اسی طرح شارح نے کہا لیکن اس کا بعید ہونا مخفی نہیں کیونکہ یہ ضروریاتِ دین سے معلوم ہے اور اس کو بیان کرنے کی کوئی حاجت نہیں بلکہ معنی یہ ہے کہ مسلمان سے نا حق لڑنا جھگڑنا کفر ہے ، ان معنی میں کہ یہ نعمت اور اسلام میں بھائی چارے کی نیکی کا انکار ہے یا پھر یہ کہ یہ کفر کی طرف لے جاتا ہے یا یہ کفار کا کام ہے یا اس سے جرم کی بڑائی ، اس سے ڈرانا اور وعید میں شدت مراد ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان میں ہے کہ : جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی تو تحقیق اس نے کفر کیا ۔ اور ہاں مسلمان کے ناحق قتل کو حلال جان کر اس سے قتال کرنا تو بلا شبہ صریح کفر ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح کتاب الآداب باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم جلد 9 صفحہ 54 مطبوعہ کوئٹہ)


مراٰۃ المناجیح میں ہے : کفر یا بمعنی کفران نعمت یعنی ناشکری ہے ، ایمان کا مقابل یعنی بلا قصور مسلمان کو برا کہنا اور بلا قصور اس سے لڑنا بھڑنا ناشکری ہے یا کفا ر کا سا کام ہے یا اسے مسلمان ہونے کی وجہ سے مارنا پیٹنا یا ناجائز جنگ کو حلال سمجھ کر کرنا کفر و بے ایمانی ہے ۔ (مراۃ المناجیح جلد 6 صفحہ 448 نعیمی کتب خانہ گجرات)


احادیث مبارکہ کی روشنی میں خوارج کی نشانیاں : ⏬


خارجیت دراصل منتشرُالخیالی اور منتشرُالعملی کا ابلیسی فتنہ ہے جس کی کوکھ سے جہالت ، درندگی ، وحشت و دہشتگردی جنم لیتی ہے ۔ یہ تاریخ اسلام میں یہ فتنہ ابتدائی زمانے میں ہی پیدا ہوگیا تھا جس نے پہلا منظم حملہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم کی مقدس جماعت پر کیا اور (نعوذباللہ) امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو کافر و مشرک قرار دیتے ہوئے ان کے قتل کا فتویٰ جاری کر دیا ۔ یہ ایک انتہا تھی ۔ قانونِ فطرت کے تحت اس کا رد عمل دوسرے بڑے فتنہ روافض کی صورت میں سامنے آیا جو کہ ایک دوسری انتہا تھی ۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اعتقادی ، فکری ، کلامی فسادات رونما ہونے میں یہی دو فتنے (خوارج و روافض) کار فرما رہے ۔ البتہ فتنہ خوارج سے آگہی و پہچان قرآن و سنت میں واضح کروا دی گئی ہے ۔ آئمہ تاریخ کی تحقیقات کے مطابق خوارج کے تقریباً بیس مختلف فرقے ہیں لیکن احادیث مبارکہ کی روشنی میں ان کے دو گروہ نمایاں ہیں ۔ پہلا نجدیہ دوسرا حروریہ ۔ البتہ تاریخ اسلام میں اہل حق طبقہ ہمیشہ اعتدال ، سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ، صبر ، قربانی ، باہمی رواداری اور جمعیت کا دامن تھامے نظر آتا ہے ۔ جسے عام اصطلاح یں ’’اہلسنت و جماعت‘‘ کہا جاتا ہے ۔


خوارج کون ہیں اور ان کے عقائد کیا ہیں ؟ اس کے بارے میں امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ‫: نافع بن الازرق خارجی اور اس کے ساتھی یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ جب تک ہم شرک کے ملک میں ہیں تب تک مشرک ہیں اور جب ملک شرک سے نکل جائیں گے تو مومن ہوں گے ان کا کہنا تھا کہ جس کسی سے گناہ کبیرہ سرزد ہوا وہ مشرک ہے اور جو ہمارے اس عقیدے کا مخالف ہوا وہ بھی مشرک ہے جو لڑائی میں ہمارے ساتھ نہ ہو وہ کافر ہے ‫۔ ابراہیم الخارجی کا عقیدہ تھا کہ دیگر تمام مسلمان قوم کفار ہیں اور ہم کو اُن کے ساتھ سلام و دُعا کرنا اور نکاح ورشتہ داری جائز نہیں اور نہ ہی میراث میں اُن کا حصہ بانٹ کر دینا درست ہے ۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کے بچے اور عورتوں کا قتل بھی جائز تھا کیونکہ اللہ تعالٰی نے یتیم کا مال کھانے پر آتش جہنم کی وعید سنائی ہے لیکن اگر کوئی شخص یتیم کو قتل کر دے یا اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے یا اس کا پیٹ پھاڑ ڈالے تو جہنم واجب نہیں ۔ (تلبس ابلیس علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ صفحہ 126 ، 127،چشتی)


(1) أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ ’، وہ کم سن لڑکے ہوں گے ۔ (بخاری، الصحيح، کتاب ، 6 : 2539، رقم : 6531۔۔مسلم، الصحيح، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066)


(2)  سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ ، دماغی طور پر ناپختہ ہوں گے ۔ (3) کَثُّ اللِّحْيَةِ ، گھنی ڈاڑھی رکھیں گے ۔ (4) مُشَمَّرُ الْإِزَارِ ،بہت اونچا تہ بند باندھنے والے ہوں گے ۔ (5) يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، یہ خارجی لوگ (حرمین شریفین سے) مشرق کی جانب سے نکلیں گے ۔ (6) لَا يَزَالُوْنَ يَخْرُجُوْنَ حَتّٰی يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ ، یہ ہمیشہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا ۔ (7) لَا يُجَاوِزُ إِيْمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ ، ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ (8) يَتَعَمَّقُوْنَ وَيَتَشَدَّدُوْنَ فِی الْعِبَادَةِ ، وہ عبادت اور دین میں بہت متشدد اور انتہاء پسند ہوں گے ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 10 صفحہ 155 رقم : 18673،چشتی)


(9) يَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ ۔ (بخاری) ، تم میں سے ہر ایک ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانے گا اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزوں کو حقیر جانے گا ۔


(10) لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ ، نماز ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی ۔ (مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066)


(11) يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَيْسَ قِرائَتُکُمْ إِلَی قِرَاءَ تِهِمْ بِشَيءٍ . وہ قرآن مجید کی ایسے تلاوت کریں گے کہ ان کی تلاوتِ قرآن کے سامنے تمہیں اپنی تلاوت کی کوئی حیثیت دکھائی نہ دے گی ۔


(12)  يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوْقَهُمْ. ’’ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی ۔


(13) يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُوْنَ أَنَّهُ لَهُمْ، وَهُوَ عَلَيْهِمْ. ’’وہ یہ سمجھ کر قرآن پڑھیں گے کہ اس کے احکام ان کے حق میں ہیں لیکن درحقیقت وہ قرآن ان کے خلاف حجت ہوگا ۔


(14) يَدْعُونَ إِلَی کِتَابِ ﷲِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْئٍ. (ابوداود باب فی قتل الخوارج) وہ لوگوں کو کتاب ﷲ کی طرف بلائیں گے لیکن قرآن کے ساتھ ان کا تعلق کوئی نہیں ہوگا ۔


(15) يَقُوْلُوْنَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ. ’’وہ (بظاہر) بڑی اچھی باتیں کریں گے ۔ (بخاری)


(16) يَقُوْلُوْنَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَوْلًا. ’’ان کے نعرے (slogans) اور ظاہری باتیں دوسرے لوگوں سے اچھی ہوں گی اور متاثر کرنے والی ہوں گی ۔ (طبرانی)


(17) يُسِيْئُوْنَ الْفِعْلَ. ’’مگر وہ کردار کے لحاظ سے بڑے ظالم، خونخوار اور گھناؤنے لوگ ہوں گے۔‘‘ (أبوداود، السنن، کتاب السنة، باب في قتال الخوارج، 4 : 243، رقم : 4765،چشتی)


(18) هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيْقَةِ. ’’وہ تمام مخلوق سے بدترین لوگ ہوں گے ۔ (مسلم)


(19) يَطْعَنُوْنَ عَلٰی أُمَرَائِهِمْ وَيَشْهَدُوْنَ عَلَيْهِمْ بِالضَّلَالَةِ. ’’وہ حکومت وقت یا حکمرانوں کے خلاف خوب طعنہ زنی کریں گے اور ان پر گمراہی و ضلالت کا فتويٰ لگائیں گے ۔

هيثمي، مجمع الزوائد، 6 : 228، وقال : رجاله رجال الصحيح.


(20) يَخْرُجُوْنَ عَلٰی حِيْنِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ . وہ اس وقت منظرِ عام پر آئیں گے جب لوگوں میں تفرقہ اور اختلاف پیدا ہو جائے گا ۔ (متفق علیہ)


(21) يَقْتُلُوْنَ أَهْلَ الإِسْلَامِ وَيَدْعُوْنَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ . وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے ۔ (متفق علیہ)


(22) يَسْفِکُوْنَ الدَّمَ الْحَرَامَ. ’’وہ ناحق خون بہائیں گے ۔ (مسلم)


(23) يَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ وَيَسْفِکُوْنَ الدِّمَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ مِنَ ﷲِ وَيَسْتَحِلُّوْنَ أَهْلَ الذِّمَّةِ . (من کلام عائشة رضي ﷲ عنها) ۔ وہ راہزن ہوں گے، ناحق خون بہائیں گے جس کا ﷲ تعاليٰ نے حکم نہیں دیا اور غیر مسلم اقلیتوں کے قتل کو حلال سمجھیں گے ۔ (یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے۔) (حاکم، المستدرک، 2 : 166، رقم : 2657)


(24) يُؤْمِنُونَ بِمُحْکَمِهِ وَيَهْلِکُونَ عِنْد مُتَشَابِهه. (قول ابن عباس رضی الله عنه) . وہ قرآن کی محکم آیات پر ایمان لائیں گے جبکہ اس کی متشابہات کے سبب سے ہلاک ہوں گے ۔ (قولِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما) (امام طبری۔عسقلانی)


(25) يَقُوْلُوْنَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يُجَاوِزُ حُلُوْقَهُمْ. (قول علي رضی الله عنه) ’’وہ زبانی کلامی حق بات کہیں گے، مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی ۔ (قولِ علی رضی اللہ عنہ) (مسلم)


(26) ينْطَلِقُوْنَ إِلَی آيَاتٍ نَزَلَتْ فِي الْکُفَّارِ فَيَجْعَلُوْهَا عَلَی الْمُؤْمِنِيْنَ . (من قول ابن عمر رضی الله عنهما) (بخاری) ۔ وہ کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق مسلمانوں پر کریں گے ۔ اس طرح وہ دوسرے مسلمانوں کو گمراہ، کافر اور مشرک قرار دیں گے تاکہ ان کا ناجائز قتل کر سکیں ۔ (قولِ ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے مستفاد)


(27) يَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّيْنِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ . وہ دین سے یوں خارج ہو چکے ہوں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے ۔


(28) اَلْأَجْرُ الْعَظِيْمُ لِمَنْ قَتَلَهُمْ. ’’ان کے قتل کرنے والے کو اجرِ عظیم ملے گا ۔ مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066،چشتی)


(29) وہ شخص بہترین مقتول (شہید) ہوگا جسے وہ قتل کر دیں گے ۔ (ترمذی)


(30) کلاب النار ۔۔ خوارج جہنم کے کتے ہیں ۔ (السنن ابن ماجہ۔ باب فی الذکر الخوارج ۔ ۱: ۶۲، رقم۔۱۷۶


متعدد احادیث مبارکہ میں فرامین رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں کہ خوارج دہشت گردوں کے گروہ امت مسلمہ کے اندر یکے بعد دیگرے نکلتے رہیں گے۔ حتی کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ جا کر ملے گا ۔


حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یخرج قوم من قبل المشر یقروون القرآن ، لایجاوز تراقیم کلما قطع قرن نشا قرن، حتی یخرج فی بقیتھم الدجال ۔

ترجمہ : مشرق کی طرف سے کئی لوگ نکلیں گے ۔ وہ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا ، جب ایک شیطانی سینگ یعنی دہشت گرد گروہ کو کاٹ دیا جائے گا تو دوسرا نکلے گا ، یعنی گروہ در گروہ پیدا ہوتے رہیں گے ۔ حتی کہ ان کے آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا ۔ (احمد بن حنبل المسند۔ ۲، ۲۰۹، رقم ۶۹۵۲)(طبرانی المعجم الاوسط۔ ۷: ۴۱، رقم ۶۷۹۱)(امام حاکم المستدرک ۔ ۴: ۵۵۶، رقم ۸۵۵۸)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Saturday, 28 February 2026

نہ مایوس ہونگے اور نہ امید کا دامن چھوڑیں گے

اللہ عزوجل جزائے خیر عطاء فرمائے اُن دوستوں کو جو اِس پُرفِتن دور میں صرف ہماری گذارش پر ادارہ پیغامُ القرآن پاکستان کے زیرِ انتظام دین کی نشر و اشاعت کرنے ، دینی تعلیم عام کرنے خصوصاً مختلف علاقوں کے دور دراز دیہاتوں کے غریب بچوں کو مفت دینی و عصری تعلیم دینے کے سلسلہ میں اور دینی کتب تفاسیر قرآن ، کتبِ احادیث عربی اردو کی شروحات ، دیگر اسلامی کتب کی خریداری کےلیے ہم پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے تعاون فرما رہے ہیں ۔ آپ بھی اس نیک کام میں شامل ہو سکتے ہیں جزاکم اللہ خیراً کثیرا آمین ۔

ایک گذارش : ہم در در پہ نہیں جاتے ، نہ جگہ جگہ چندے کے بکس رکھتے ہیں اور نہ ہی ہمارے کوئی سفیر یا اجیر مقرر ہیں ۔ بس آپ جیسے مخلص مسلمان بھائیوں ، بیٹوں ، بہنوں اور بیٹیوں پر مکمل اعتماد ہے کہ اللہ عزوجل کی رضا کےلیے آپ ہر طرح کے حالات میں اس نیک مشن میں حسبِ  توفیق تعاون فرماتے رہیں گے اور ہم کسی بھی طرح کے حالات میں نہ مایوس ہونگے اور نہ امید کا دامن چھوڑیں گے ۔ ہمارا کام ہے صدا دینا سُو یہ صدا ہم دیتے رہیں گے ان شاء اللہ ۔

ہمارے اکاؤنٹ نمبرز یہ ہیں : میزان بینک اکاؤنٹ نمبر : 02520107640866 لاہور پاکستان ۔ موبی کیش اکاؤنٹ نمبر : 03009576666 ۔ ایزی  پیسہ اکاؤنٹ نمبر : 03469576666 ۔ موبی کیش و ایزی  پیسہ اکاؤنٹ نمبر : 03215555970 ۔ (دعا گو ڈاکٹر مفتی فیض احمد چشتی)



Wednesday, 25 February 2026

روزہ کے وقتِ افطار پر اہلِ تشیع اور اُن کے فضلہ خوروں کے دجل و فریب کا جواب

روزہ کے وقتِ افطار پر اہلِ تشیع اور اُن کے فضلہ خوروں کے دجل و فریب کا جواب

محترم قارئینِ کرام قرآنِ مجید میں اللہ عزوجل کا ارشادِ مبارک ہے : ثمَّثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيۡلِ‌ۚ ۔ (سورہ بقرہ آیت نمبر 187)

ترجمہ : پھر رات آنے تک روزے پورے کرو ۔


اہلِ تشیع اور اُن کے فضلہ خور اس آیت کو لے کر کہتے کہ اہلِ سنت وقت سے پہلے روزہ افطار کرتے ہیں حالانکہ اللہ عزوجل نے رات تک روزہ رکھنے کا ارشاد فرمایا ہے ناکہ غروبِ آفتاب تک سب سے پہلی بات کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ثم اتموا الصیام الی اللیل فی اللیل نہیں فرمایا یعنی روزے کو رات میں بالکل داخل نہ کرو رات آتے ہی روزہ ختم کر دو مطلب رات تک جہاں سے رات شروع ہوتی ہے ناکہ فی الیل رات میں خود شیعہ تفاسیر اور معتبر کتب میں اس آیت کی تفسیر غروبِ آفتاب ہے یہاں ہم لغت گرائمر حدیث اور تفاسیر سے اس آیت کا صحیح مفہوم سمجھیں گے سب سے آخر پر اس روایت کا جائزہ لیں گے جو اہلِ سنت کی کتاب میں ہے اور شیعہ اسے بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں اور شیعہ کتب کے حوالے سکین کی صورت میں لگا دئیے جائیں گے ۔ قرآن و حدیث  کے دلائل کی روشنی میں یہ بات ثابت ہے کہ افطار کا وقت غروبِ آفتاب ہے اور اس پر اکابر علمائے کرام نے اہل علم کا اجماع نقل فرمایا ہے ، لہٰذا جب غروبِ آفتاب کا ظن غالب ہو جائے ، تو اُس کے فوراً بعد افطار ی کرنا بالکل جائز و درست ہے ، بلکہ غروب کا ظن غالب ہو جائے ، تو  بلاوجہ افطار میں تاخیر کرنا خلافِ مسنون ہے ، لہٰذا جو اسے غلط کہتا ہے ، وہ قرآن و حدیث کے دلائل سے بے علم یا غلط فہمی کا شکار ہے ، اُس پر لازم ہے کہ عوام میں ایسی غلط فہمیاں پھیلانے سے احتراز کرے ۔


معتبر تفاسیرِ قرآن پاک میں اِلَى الَّیْلِ کی تفسیر کرتے ہوئے اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ یہاں لیل ، رات سے مراد غروبِ آفتاب ہے ۔


 تفسیر ماوردی میں ہے : يعني به غروب الشمس ۔

ترجمہ : لیل سے مراد غروبِ شمس ہے ۔ (تفسیر ماوردی جلد 1 صفحہ 247 دار الکتب العلمیۃ بیروت)


تفسیر ابن کثیر میں ہے : یقتضی الافطار عند غروب الشمس حکما شرعیا ۔

ترجمہ : لیل، رات کے الفاظ کا تقاضا یہ ہے کہ غروبِ شمس کے وقت افطار کرنا حکمِ شرعی ہے ۔ (تفسیر ابن کثیر جلد 1 صفحہ 317 دار طیبہ بیروت،چشتی)


تفسیر روح البیان میں ہے : ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ ، اى اديموا الإمساك عن المباشرة والاكل والشرب في جميع اجزاء النهار إِلى غاية اللیل وهو دخول الليل وذاك بغروب الشمس ۔

ترجمہ : روزہ مکمل کرو یعنی رات تک دن کے تمام اجزاء میں مباشرت ، کھانے اور پینے سے بچے رہو اور رات کا داخل ہونا غروبِ شمس کے ساتھ ہوتا ہے ۔ (تفسیر روح البیان جلد 1 صفحہ 300 دار الفکر بیروت)


جلالین مع حاشیہ الصاوی میں ہے : ثم اتمواالصیام من الفجر "الی اللیل" ای الی دخولہ بغروب الشمس ۔

ترجمہ : پھر تم روزوں کو رات کے داخلہ تک غروبِ آفتاب کے وقت تک پورا کرو ۔ (تفسیر جلالین صفحہ 86)


الی غایہ اللیل وھو دخول اللیل و ذاک بغروب الشمس ۔

ترجمہ : الیل کی حد رات تک ہے اور وہ رات کا داخلہ ہے جو غروبِ آفتاب کے ساتھ ہے ۔ (تفسیر روح البیان جلد 2 صفحہ 300)


واللیل الذی یتم بہ الصیام مغیب قرص الشمس ۔

ترجمہ : اور رات جس کے ساتھ روزے پورے ہوتے ہیں سورج کی ٹکیہ کا غائب ہونا ہے ۔ (تفسیر الثعالبی جلد 1 صفحہ 149،چشتی)


پس اس آیت سے روزہ کی حقیقت واضح ہوئی کہ وہ ارادہ صبح صادق سے لے کر سورج غروب ہونے تک مفطرات ثلٰثہ (کھانے پینے اور جماع) سے رکے رہنا ہے ۔ (تفسیر المظہری جلد 1 صفحہ 206)


لیل عرف عرب میں غروب آفتاب سے گنی جاتی ہے اور نیزاحادیث صحیحہ میں بھی غروب کے متصلا آنحضرت علیہ السلام کا افطار کرنا ثابت ہو گیا ہے تو پھر دیر کرنا تکلیف بے فائدہ ہے ۔ (تفسیر حقانی جلد 3 صفحہ 33)


باتفاق مفسرین رات کی ابتداء غروبِ آفتاب سے ہو جاتی ہے سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کر لیا جائے ۔


الیل (رات) کی وضاحت ازروئے لغت : ⏬


امام محمد بن مکرم ابنِ منظور علیہ الرحمہ اپنی عربی لغت کی مشہور اور متداول کتاب میں لکھتے ہیں : اللیل : عقیب النہار و مبدوہ من غروب الشمس ۔

ترجمہ : رات دن کے بعد آتی ہے اور اس کی ابتداء غروب آفتاب سے ہوتی ہے ۔ (لسان العرب جلد 11 صفحہ 611)


اللیل عقیب النھار و مبدؤہ من غروب الشمس ۔

ترجمہ : رات دن کے فوراً بعد شروع ہوجاتی ہے اور اس کی ابتداء غروبِ شمس سے ہوتی ہے ۔ (لسان العرب جلد 11 صفحہ 607 دار صادر بیروت)


تاج العروس میں ہے : الليل : ضد النهار معروف ۔۔۔۔ وحده من مغرب الشمس إلى طلوع الفجر الصادق ۔

ترجمہ : رات دن کی ضد مشہور ہے ۔۔۔۔ اور اس کی حد سورج غروب ہونے کے وقت دے لے کر طلوعِ صبح صادق تک ہے ۔ (تاج العروس جلد 30 صفحہ 374 مطبوعہ دار الھدایۃ)


المحیط فی اللغۃ  میں ہے : وا لنھار ضیاءمابین طلوع الفجر الی وقت غروب الشمس ۔

ترجمہ : طلوعِ فجر سے لے کر غروبِ شمس تک کی روشنی / اجالے کو دن کہتے ہیں ۔ (المحیط فی اللغۃ جلد 3 صفحہ 476 عالم الکتب بیروت)


صاحب المنجد الابجدی بیان کرتے ہیں : اللیل : من مغرب الشمس الی طلوع الفجر او الی طلوع الشمس ۔

ترجمہ : رات سورج غروب ہونے سے لے کر طلوعِ فجر یا طلوعِ آفتاب تک ہے ۔ (المنجد الابجدی صفحہ 885)


صاحب المعجم العربی الحدیث لکھتے ہیں : اللیل : وھو من مغرب الشمس الی طلوعھا وفی الشرع من مغرب الشمس الی بزوع الفجر ۔

ترجمہ : رات سورج کے غروب ہونے سے اس کے طلوع ہونے تک اور شریعت میں سورج غروب ہونے سے فجر کے پھیلنے تک ہے۔ (المعجم العربی الحدیث لاروس صفحہ 1049)


حسن عمید لکھتے ہیں : شب از غروب تا طلوع آفتاب ۔

ترجمہ : رات غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک ہے۔ (فرہنگ عمید طبع شدہ ایران تہران جلد دوم صفحہ 1529)


مندرجہ بالا لغات کے حوالوں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بالاتفاق اہلِ لغت سورج غروب ہوتے ہی رات کی ابتداء ہو جاتی ہے ۔


عربی گرائمر سے الی اللیل (رات تک) کی وضاحت : ⏬


شرح مأۃ عامل میں "اِلٰی" کی بحث کے تحت شیخ عبد القاہر جرجانی لکھتے ہیں : وقد لا یکون ما بعدھا داخلا فی حکم ما قبلھا ان لم یکن بعدھا جنس ما قبلھا نحو قولہ تعالیٰ ثم اتموا الصیام الی اللیل ۔

ترجمہ : کبھی "الی" کے بعد والا "الی" کے پہلے والے حکم میں داخل نہیں ہوتا اگر "الی" کا بعد والا "الی" سے پہلے والے کی جنس سے نہ ہو تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے پھر روزوں کو رات تک پورا کرو شیخ موصوف یہ قاعدہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ یہاں "الی" ابتدائی حد کےلیے ہے چونکہ رات کی ابتداء سورج غروب ہونے سے ہو جاتی ہے اس لیے سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کر لیا جائے روزہ کے پورا کرنے کا تعلق دن سے ہے نہ کہ رات سے چونکہ دن اور رات دونوں کی جنس مختلف ہے اس لیے یہاں الی کے بعد لیل ’"الی" سے پہلے فجر کے حکم میں داخل نہیں ہے ۔


احادیثِ مبارکہ سے افطار کے وقت کی وضاحت : ⏬


متعدد احادیثِ مبارکہ سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ افطار کا وقت غروبِ آفتاب ہے : حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : إذا اقبل الليل من هاهنا وادبر النهار من هاهنا و غربت الشمس فقد افطر الصائم ۔

ترجمہ : جب یہاں سے رات آئے اور یہاں سے دن جائے اور سورج غروب ہو جائے ، تو روزہ دار روزہ افطار کرے ۔ (صحیح بخاری جلد 3 صفحہ 36 رقم الحدیث : 1954 دارطوق النجاۃ بیروت)


علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : أي أقبل ظلمة الليل من جانب المشرق و أدبر ضوء النهار من جانب المغرب ۔

ترجمہ : یعنی جب مشرق کی جانب سے رات کی تاریکی آ جائے اور مغرب کی جانب سے دن کی روشنی چلی جائے ، تو افطار کر لو ۔ (شرح المشکوٰۃ للطیبی جلد 5 صفحہ 1585 مكتبة نزار مصطفى الباز الریاض)


عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ۔ (صحيح البخاری جلد 3 صفحہ 46)

ترجم : سیدنا عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب ادھر سے رات نمودار ہونے لگے اور ادھر سے دن جانے لگے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار نے روزہ افطار کر لیا ۔


یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ دار کےلیے سورج غروب ہونے کو ہی افطاری کا وقت قرار دیا ہے ۔


عَنْ سَہلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ : لَاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ ۔ (صحيح البخاری جلد 3 صفحہ 47)

ترجم : سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگ ہمیشہ بھلائی کے ساتھ رہیں گے جب تک روزہ جلدی افطار کرتے رہیں گے ۔


عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِىِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ : لاَ يَزَالُ الدِّيْنُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَلأَنَّ الْيَهُوْدَ وَ النَّصَارٰى يُؤَخِّرُوْنَ ۔ (سنن أبی داؤد محقق و بتعليق الألبانی جلد 2 صفحہ 277)

ترجمہ : سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دین ہمیشہ غالب رہے گا جب تک لوگ روزہ جلدی افطار کرتے رہیں گے کیونکہ یہودی اور عیسائی دیر کرتے ہیں ۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عجلوا بالافطار واخروالسحور ۔ (رواہ الطبرانی فی الکبیر)

ترجمہ : افطاری میں جلدی کرو اور سحری میں دیر کرو ۔


سیدنا ابو عطیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور سیدنا مسروق رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے پھر ہم نے کہا کہ اے مومنوں کی ماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں دو شخص ہیں ایک ان میں جلدی افطاری کرتا ہے اور جلدی نماز پڑھتا ہے اور دوسرا دیر سے افطاری کرتا ہے اور دیر سے نماز پڑھتا ہے انہوں (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ) نے پوچھا کہ ان دونوں میں کون جلدی افطار کرتا ہے اور جلدی نماز پڑھتا ہے ہم نے کہا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح کرتے تھے اور دوسرے ابو موسیٰ ہیں یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے عمل کو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار دیا ۔ (سنن الترمذي جلد 3 صفحہ 83)


نماز مغرب کے بعد افطار کرنا : ⏬


یہ روایت موطا مالک اس سند سے مروی ہے : مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَانَا يُصَلِّيَانِ الْمَغْرِبَ حِينَيَنْظُرَانِ إِلَى اللَّيْلِ الْأَسْوَدِ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَا ثُمَّ يُفْطِرَانِبَعْدَ الصَّلاَةِ وَذلِكَ فِي رَمَضَانَ ۔ (موطا مالک صفحہ 1013)


اس کی سند منطقع ہونے کی بناء پر یہ ضعیف ہے حمید بن عبد الرحمن اور سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ کے مابین انقطاع ہے لہٰذا یہ روایت پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لا تزال امتی بخیر ما عجلوا الافطار ۔

ترجمہ : میری امت ہمیشہ خیر پہ رہے گی ، جب تک افطار میں جلدی کرے گی ۔ (مسند احمد جلد 35 صفحہ 241 رقم الحدیث 21312 مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)


یہ حدیث مبارک بھی دلیل ہے کہ جب غروبِ آفتاب کا تحقق ہو جائے ، تو بلاوجہ تاخیر نہ کی جائے اور جو گروہ اس کے خلاف رائے رکھتا ہے ، اس حدیث میں ان کا رد ہے ۔ چنانچہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : واتفق العلماء ان محل ذلک اذا تحقق غروب الشمس بالرؤیۃ او باخبار عدلین و کذا عدل واحد فی الارجح قال ابن دقیق العید فی ھذا الحدیث رد علی الشیعۃ فی تاخیرھم الفطر الی ظھور النجوم ۔

ترجمہ : علماء کا اتفاق ہے کہ اس کا محل یہ ہے کہ جب آنکھوں سے دیکھنے یا دو عادل افراد کی خبر دینے اور اسی طرح ارجح قول کے مطابق ایک عادل کی خبر دینے کے ساتھ غروبِ آفتاب ثابت ہو جائے (اب بلاوجہ تاخیر نہ کی جائے) ، علامہ ابن دقیق العید نے فرمایا : شیعہ ستارے ظاہر ہونے تک افطار میں تاخیر کرتے ہیں ، اس حدیث میں ان کا رد ہے ۔ (فتح الباری جلد 4 صفحہ 199 دار المعرفۃ بیروت،چشتی)


حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : كان النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يفطر قبل أن يصلي على رطبات فإن لم تكن رطبات فتميرات فإن لم تكن تميرات حسا حسوات من ماء ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ مغرب سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے اور اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں ، تو خشک چھواروں سے روزہ افطار فرماتے اور اگر چھوارے بھی نہ ہوتے ، تو پانی کے چند گھونٹ نوش فرمالیتے ۔ (جامع ترمذی جلد 2 صفحہ 71 رقم الحدیث : 696 دار الغرب الاسلامی بیروت)


حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں : ما رأيت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قط صلى صلاة المغرب حتى يفطر ولو على شربة من ماء ۔

ترجمہ : میں نے کبھی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز ِ مغرب ادا فرماتے ہوئے نہ دیکھا، مگر یہ کہ آپ اس سے پہلے ہی افطار فرما چکے ہوتے ، اگرچہ پانی کے ایک گھونٹ کے ساتھ افطار فرماتے ۔ (صحیح ابن حبان جلد 8 صفحہ 274 مؤسسۃ الرسالہ بیروت،چشتی)


ان دونوں روایات کا مستفاد بھی یہی ہے کہ غروبِ آفتاب افطاری کا وقت ہے ، اگرچہ ابھی اندھیرا نہیں چھایا ہو ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ نمازِ مغرب میں تعجیل فرماتے حتیٰ کہ نمازِ مغرب ادا کرنے کے بعد بھی کچھ اجالا باقی ہوتا تھا ، تو بدیہی سی بات ہے کہ افطار بدرجہ اولیٰ اجالے میں ہوتا تھا ۔


حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : كنا نصلي مع رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم المغرب ثم ننصرف إلى السوق ولو رمي بنبل أبصرت مواقعها ۔

ترجمہ : ہم رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے ، پھر ہم بازار جاتے اور کوئی تیر پھینکتا ، تو اس کے تیر گرنے کی جگہ دکھائی دیتی ۔ (سنن ابن ماجہ جلد 1 صفحہ 224 رقم الحدیث : 687 دار احیاء الکتب العربیۃ بیروت)


حضرت جبریل امین علیہ السلام کے ذریعےامتِ مسلمہ کو تمام نمازوں کے اوقات بیان کیے گئے ، احادیث کی کتب میں اس حوالے سے تفصیلی روایات موجود ہیں ، ان میں یہ صراحت موجود ہے کہ نمازِ مغرب کا وقت وہ ہے کہ جب روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے یعنی افطار اور نمازِ مغرب کا ایک ہی وقت ہے اور اس پہ اتفاق ہے کہ غروبِ آفتاب ہوتے ہی مغرب کا وقت شروع ہو جاتا ہے، جس کا نتیجہ نکلتا ہے کہ غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی افطار کا وقت بھی شروع ہو جائے گا ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : و صلی بی یعنی المغرب حین افطر الصائم ۔

ترجمہ : حضرت جبریل علیہ السلام نے مجھے نمازِ مغرب اس وقت پڑھائی کہ جب روزہ دار اپنا روزہ افطار کرتا ہے ۔ (سنن ابی داؤد جلد 1 صفحہ 107 رقم الحدیث : 393 المکتبۃ العصریۃ بیروت)


علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یعنی حین غابت الشمس والاجماع علی ان وقت المغرب غروب الشمس ۔

ترجمہ : یعنی جب سورج غائب (غروب) ہو جائے ، (تو مغرب کا وقت ہو جاتا ہے) اور اس پر اجماع ہے کہ مغرب کا وقت غروبِ شمس ہے ۔ (شرح سنن ابی داؤد للعینی جلد 2 صفحہ 240 مطبوعہ الریاض،چشتی)


محدث کبیر حضرت امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ای دخل وقت افطارہ بان غابت الشمس و دخل اللیل ۔

ترجمہ : یعنی جب روزہ دار کے افطار کا وقت داخل ہو جاتا ہے ، اس طور پر کہ سورج غائب  (غروب) ہو جائے اور رات آجائے (تو مغرب کا وقت بھی شروع ہوجاتا ہے) ۔ (مرقاۃ المفاتیح جلد 2 صفحہ 520 دار الفکر بیروت)


صحابہ کرم رضی اللہ عنہ اور وقتِ افطار : ⏬


متعدد صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت ہے کہ وہ مغرب سے پہلے افطار کیا کرتے تھے ، جو واضح ثبوت ہے کہ غروب کے بعد نمازِ مغرب سے پہلے افطار کرنا بالکل درست ہے اور در اصل غروبِ آفتاب ہی وقتِ افطار ہے ۔ مشہور تابعی حضرت ابورجاء حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے متعلق فرماتے ہیں : كان ابن عباس يبعث مرتقبا يرقب الشمس، فإذا غابت أفطر، وكان يفطر قبل الصلاة ۔

ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک شخص کو اس بات پر مقرر فرماتے کہ وہ سورج کے غروب ہونے کا انتظار کرے ، پس جیسے ہی سورج غروب ہوتا (اور وہ شخص خبر دیتا) ، تو حضرت ابن عباس رضی عنہما فوراً افطار فرمالیتے ، آپ رضی اللہ عنہ نمازِ مغرب سے پہلے افطار فرمالیتے تھے ۔ (الصیام للفریابی صفحہ 57 مطبوعہ ھند)


حضرت حمید حضرت انس رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت کرتے ہیں : لم يكن ينتظر المؤذن في الإفطار وكان يعجل الفطر ۔

ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ روزہ افطار کرنے کےلیے مؤذن کا انتظار نہیں فرماتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ (سورج غروب ہونے کے بعداذان سے پہلے) جلدی روزہ افطار فرما لیتے تھے۔(الصیام للفریابی صفحہ 57 مطبوعہ ھند)


اجماعِ علمائے امت اور وقتِ افطار : ⏬


علماء کااس پر اجماع و اتفاق ہے کہ غروبِ آفتاب ہی افطار کا وقت ہے۔ جیسا کہ شارح بخاری امام ابن بطال رحمۃ اللہ علیہ صحیح بخاری کی متذکرہ بالا روایت کے تحت ارشاد فرماتے ہیں : أجمع العلماء أنه إذا غربت الشمس فقد حل فطر الصائم وذلك آخر النهار وأول أوقات الليل ۔

ترجمہ : علماء کا اس پر اجماع ہے کہ جب سورج غروب ہو جائے ، تو روزہ دار کو افطار کرنا حلال ہو جاتا ہے اور یہ دن کا آخری حصہ اور رات کا ابتدائی حصہ ہوتا ہے ۔ (شرح صحیح البخاری لابن البطال جلد 4 صفحہ 102 مکتبۃا لرشد الریاض،چشتی)


محدث کبیر امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ان الصوم ینقضی و یتم بتمام الغروب ھومما اجمعوا علیہ ۔

ترجمہ : روزہ غروبِ آفتاب کے ساتھ ختم اور مکمل ہو جاتا ہے ، اسی پر علمائے امت کا اجماع ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 4 صفحہ 1382 دار الفکر بیروت)


اہلِ تشیع اور اُن کے فضلہ خوروں کا یہ دعویٰ کرنا کہ غروب کے ساتھ رات شروع نہیں ہوتی ، بنیادی طور پر یہ دعوی ہی درست نہیں ، نہ اس پر کوئی شرعی دلیل قائم ہے ، اگر اِن کے پاس اس بات پر کوئی واضح صریح غیر مؤول دلیل موجود ہو ، تو پیش کریں ، بچہ بچہ جانتا ہے اور لغت کی کتابوں میں بھی واضح لکھا ہے کہ سورج ڈوبنے پر رات ہوتی ہے اور یہی تعریف و حکم تفسیر ، شرحِ حدیث ، فقہ اور لغت کی کتابوں میں موجود ہے کہ فقہی و شرعی طور پر غروب کے ساتھ ہی رات شروع ہو جاتی ہے نیز لغت کی کتب بھی اسی بات کی تائید کرتی ہیں ۔


حاشیہ طحطاوی علی المراقی میں ہے : النهار عبارة عن زمان ممتد من طلوع الفجر الصادق إلى غروب الشمس وهو قول أصحاب الفقه واللغة قوله: ”إلى الغروب“ هو أول زمان بعد غيبوبة تمام جرم الشمس بحيث تظهر الظلمة في جهة المشرق وفي البخاري عنه ﷺ : إذا أقبل الليل من ههنا فقد أفطر الصائم “ أي إذا وجدت الظلمة حسا في جهة المشرق فقد دخل وقت الفطر أو صار مفطرا في الحكم لأن الليل ليس ظرفا للصوم ۔

ترجمہ : طلوعِ صبحِ صادق سے غروب شمس تک پھیلے زمانے کودن کہتے ہیں اور یہ اصحابِ فقہ و لغت کا قول ہے ۔ ماتن کا قول ”الی الغروب یعنی غروب تک“ یہ سورج کا مکمل جِرم غائب ہونے کا ابتدائی وقت ہوتا ہے، اس حیثیت سے کہ مشرق کی جانب اندھیرا ظاہر ہو جاتا ہے (اگرچہ ابھی پورے آسمان پہ اندھیرا نہیں ہوتا) اور بخاری شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے ” جب یہاں سے رات آجائے ، تو روزہ دار روزہ افطار کرلے ۔ “ یعنی جب تم مشرق کی سمت حسی طور پر اندھیرا پا لو ، تو افطار کا وقت داخل ہو گیا یا تم حکمی طور پر مُفطر / روزہ افطار کرنے والے ہو جاؤ گے ، کیونکہ رات روزے کےلیے ظرف نہیں ہے ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی صفحہ 731 دار الکتب العلمیۃ بیروت،چشتی)


قرآن کریم کے احکام کی تشریح و تعیین کےلیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے اقوال و افعال سے رہنمائی لینا ضروری ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حکم ثابت ہو جائے ، تو اُس کے برخلاف کسی فرد کی کوئی تشریح و توضیح قبول نہیں کی جا سکتی ، جبکہ وقتِ افطار کے متعلق احادیثِ مبارکہ سے واضح طور پر بیان کیا جا چکا کہ غروبِ آفتاب کے ساتھ روزہ مکمل ہو جاتا ہے اور اب روزے دار کو افطار کا حکم ہے ، لہٰذا اس کے برخلاف کسی فرد کافرد یا گروہ کا قول تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔


شرعی طور پر رات ہونے کےلیے اندھیرا ہونے کو ضروری قرار دینا ، اسی طرح روزہ افطار کرنے کےلیے اندھیرے کو شرط قرار دینا ، یہ بھی غلط و باطل ہے ، اس لیے کہ شرعی طور پر غروبِ شمس سے رات کی ابتداء ہو جاتی ہے ، اگرچہ ابھی مکمل طور پر اندھیرا نہ چھایا ہو ۔ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ ایک مقام پہ فرماتے ہیں : ثم لما بحثنا عن حقيقة الليل في قوله: ﴿ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ ﴾وجدناها عبارة عن زمان غيبة الشمس بدليل أن الله تعالى سمى ما بعد المغرب ليلاً مع بقاء الضوء فيه فثبت أن يكون الأمر في الطرف الأول من النهار كذلك۔۔۔۔ اختلفوا فی ان اللیل ماھو ؟ فمن الناس من قال آخر النھار علی اولہ فاعتبروا فی حصول اللیل زوال آثار الشمس کما حصل اعتبار زوال اللیل عند ظھور آثار الشمس ثم ھؤلاء منھم من اکتفیٰ بزوال الحمرۃ و منھم من اعتبر ظھور الظلام التام وظھور الکواکب الا ان الحدیث الذی رواہ عمر یبطل ذلک و علیہ عمل الفقھاء ۔

ترجمہ : پھر جب ہم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ”ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ“ میں موجود لفظ لیل / رات کی حقیقت کے متعلق بحث کی ، تو ہم نے اسے سورج غائب ہونے سے عبارت پایا ، اس دلیل کی وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے روشنی باقی ہونے کے باوجود مغرب کے بعد کو رات قرار دیا ، تو ثابت ہوا کہ معاملہ دن کے پہلے حصے میں بھی ایسا ہی ہے ۔۔۔۔ پھر اس میں اختلاف ہے کہ رات کیا ہے ؟ بعض نے کہا کہ دن کے اول کے بعد اس کا آخر رات ہے ، تو انہوں نے رات آنے میں سورج کے آثار کے ختم ہونے کا اعتبار کیا ہے جیسا کہ سورج کے آثار ظاہر ہونے کے وقت رات کے ختم ہونے کا اعتبار کیا ہے ، پھر ان میں سے بعض نے سرخی کے زائل ہونے کا کافی سمجھا اور بعض نے مکمل طور پر اندھیرا چھا جانے اور ستارے ظاہر ہونے کا اعتبار کیا ہے ، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جس حدیث کو روایت کیا ، وہ اس رائے کو باطل قرار دیتی ہے (کیونکہ اس میں وقتِ افطار سورج غروب ہونے کو بیان کیا گیا ہے) اور فقہائے کرام کا عمل اسی کے مطابق ہے ۔ (تفسیر کبیر جلد 5 صفحہ 273 / 275 دار احیاء التراث العربی بیروت )


پھر ایک حدیثِ مبارک سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ اگرغروب آفتاب ہو گیا ، تو افطار کر سکتے ہیں ، اگرچہ ابھی آسمان پہ مکمل طور پر اندھیرا نہ چھایا ہو ۔ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر وهو صائم فلما غربت الشمس قال لبعض القوم يا فلان قم فاجدح لنا فقال يا رسول الله لو امسيت قال انزل فاجدح لنا قال يا رسول الله فلو امسيت قال انزل فاجدح لنا قال إن عليك نهارا قال انزل فاجدح لنا فنزل فجدح لهم فشرب النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال إذا رايتم الليل قد اقبل من ها هنا فقد افطر الصائم ۔

ترجمہ : ہم رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا روزہ تھا، جب سورج غروب ہو گیا ، تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ایک صحابی سے فرمایا کہ اے فلاں ! میرے لیے اٹھ کے ستو گھولو ۔ انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! تھوڑی دیر ٹھہر جاتے / ابھی دن باقی ہے ۔ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا : اتر کر ہمارے لیے ستو گھولو ۔ اس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! تھوڑی دیر ٹھہر جاتے / ابھی دن باقی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر وہی حکم دیا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھولو ۔ انہوں نے عرض کی کہ ابھی دن باقی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مرتبہ پھر فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھولو ۔ چنانچہ وہ اترے اور ستو گھولا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ستو نوش فرمایا ۔ پھرارشاد فرمایا : جب تم دیکھ لو کہ رات اس (مشرق) کی طرف سے آ گئی ، تو روزہ دار کو چاہیے کہ افطار کر لے ۔ (صحیح بخاری جلد 3 صفحہ 36 رقم الحدیث : 1955 دارطوق النجاۃ بیروت،چشتی)


صحابی کے الفاظ ”إن عليك نهارا “ یعنی ابھی دن باقی ہے ۔ اس کے تحت امام شرف الدین نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : لتوھمہ ان ذلک الضوء من النھار الذی یجب صومہ ۔

ترجمہ : صحابی کو یہ وہم ہوا کہ اس وقت جو روشنی دکھائی دے رہی ہے ، یہ دن کی روشنی ہے ، جس میں روزہ رکھنا / مفسداتِ صوم سے بچے رہنا واجب ہوتا ہے (جبکہ وہ غروب کے بعد دکھائی دینے والی روشنی تھی) ۔ (شرح صحیح المسلم للنووی جلد 1 صفحہ 211 دار احیاء التراث العربی بیروت)


حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم اور حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہما غروب آفتاب کے بعد نمازِ مغرب ادا کر کے افطار فرمایا کرتے تھے ۔ اس روایت سے اہلِ تشیع اور اُن کے فضلہ خوروں کا مدعا ہرگز ثابت نہیں ہو تا ، کیونکہ ان کے نزدیک غروب آفتاب کے وقت افطار کرنا درست نہیں ، جبکہ اس روایت میں ایسے کوئی الفاظ نہیں ، جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ غروب آفتاب کے وقت افطار کرنا درست نہیں ، اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہو سکتا ہے کہ غروب کے فوراً بعد افطار کرنا لازم و واجب نہیں ہے ، اگر کوئی مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد افطار کرے ، تو بھی جائز ہے ہمارے دعوے کی دلیل یہ ہے کہ ان حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عام معمول یہی تھا کہ مغرب سے پہلے افطار کر لیتے تھے ، لیکن کبھی کبھار مغرب کے بعد بھی افطار فرما لیتے تاکہ لوگ مغرب سے پہلے افطار کو لازم و واجب نہ سمجھ لیں ۔


مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے : أن عمر وعثمان كانا يصليان المغرب إذا رأيا الليل كانا يفطران قبل أن يصليا ۔

ترجمہ : حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما جب رات کی تاریکی دیکھتے ، تو نما ز مغرب ادا فرماتے اور نماز سے قبل ہی روزہ افطار کرتے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد 2 صفحہ 348 مکتبۃ الرشد الریاض)


محدث کبیر امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یفطران بعد الصلاۃ فھو لبیان جواز التاخیر لئلا یظن وجوب التعجیل ۔

ترجمہ : حضرت سیدنا عمر اور حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نمازِ مغرب کے بعد افطار فرماتے ، تو یہ عمل تاخیر سے افطار کرنے کے جواز کو بیان کرنے کےلیے تھا تاکہ جلدی افطار کو واجب گمان نہ کیا جانے لگے ۔ (مرقاۃ المفاتیح جلد 4 صفحہ 1385 دار الفکر بیروت) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Tuesday, 24 February 2026

پالتو گدھے کے گوشت کی حرمت پر اجماع ہے

پالتو گدھے کے گوشت کی حرمت پر اجماع ہے

محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر پالتو گدھے کے گوشت کو حرام قرار دیا تھا ۔ آئمہ سلف و خلف اور جملہ علماء کا پالتو گدھے کے گوشت کی حرمت پر اجماع ہے ۔ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے : أنَّ أبَا ثَعْلَبَةَ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللہ صلی الله عليه وآله وسلم لُحُومَ الْحُمُرِ الْأهْلِيَّةِ ۔

ترجمہ : حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت حرام فرمایا ہے ۔ (صحيح بخاری جلد 5 صفحہ 2102 رقم : 5206 دار ابن کثير اليمامة بيروت)(صحيح مسلم جلد 3 صفحہ 1538 رقم 1936 دار احياء التراث العربی)


عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہ رضي اللہ عنهما قَالَ نَهَی رَسُولُ اللہ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأهْلِيَةِ ۔

ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے روز پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۔ (صحيح بخاری جلد 4 صفحہ 1544 رقم : 3982،چشتی)(صحيح مسلم جلد 3 صفحہ 1541 رقم : 1941)


عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ أنَّ رَسُولَ اللہ صلی الله عليه وآله وسلم نَهَی عَنْ أکْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ وَالْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ ۔

ترجمہ : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑے ، خچر اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ (سنن ابو داؤد جلد 3 صفحہ 352 رقم : 3790 دار الفکر)(سنن نسائی السنن الکبری جلد 3 صفحہ 159 رقم : 4844)


پالتو گدھے کے گوشت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا اور غزوہ خیبر کے موقع پر باقاعدہ اعلان کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گدھے کے گوشت سے منع فرمایا ہے ، بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ہنڈیا میں یہ گوشت پکایا جارہا تھا ، اس اعلان کے بعد انہوں نے ہنڈیا میں چڑھے ہوئے گوشت کو پھینک دیا ، جس طرح شراب کی حرمت سے قبل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس شراب موجود تھی ، لیکن اعلان ہونے کے بعد شراب بہا دی گئی تھی ، اسی طرح گدھے کے گوشت کو بھی گرادیا گیا تھا ۔


ممانعت کی روایت کئی کتابوں میں موجود ہے ، مسند احمد میں ہے : حدثنا سفيان عن الزهري عن الحسن وعبد الله ابني محمد بن علي عن أبيهما، وكان حسنٌ أرضاهما في أنفسنا، أن علياً قال لابن عباس: إن رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نهى عن نكاح المتعة وعن لحوم الحمر الأهلية زمن خيبر ۔ (مسند أحمد، مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه جلد ۱ صفحہ ۵۲۰ مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ) ۔ اس کے علاوہ  ’’سنن ابی داود‘‘ ، ’’سنن ابن ماجہ‘‘، ’’المعجم الاوسط‘‘ اور دیگر کئی کتب میں بھی یہ ممانعت منقول ہے ۔


امام طبرانی علیہ الرحمہ نے اس کے ساتھ علت بھی ذکر کی ہے کہ یہ ’’رجس‘‘  ہے ،  فرماتے ہیں : حدثنا أحمد بن يحيى بن خالد بن حيان قال: نا محمد بن يحيى بن إسماعيل الصدفي قال: نا عبد الله بن وهب قال: نا جرير بن حازم قال: نا أيوب السختياني، وعبد الله بن عون، وهشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن أنس بن مالك قال: أتى رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خيبر، فقيل: يا رسول الله، أفنيت الحمر، فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أبا طلحة، فنادى: «إن الله ورسوله ينهيانكم عن لحوم الحمر الأهلية، فإنها رجس»". (المعجم الأوسط للطبراني، من اسمه أحمد جلد ۱ صفحہ ۴۳ رقم الحدیث : ۱۱۷ مطبوعہ دارالحرمین قاہرہ،چشتی) 


امام طبرانی علیہ الرحمہ نے ایک روایت میں یہ بھی نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہانڈی میں بنے ہوئے گوشت کو گرانے کا حکم دیا ۔ ملاحظہ فرمائیں : حدثنا أحمد بن رشدين قال: نا سعيد بن أبي مريم قال: نا إبراهيم بن سويد المدني قال: حدثني يزيد بن أبي عبيد، مولى سلمة قال: أخبرني سلمة بن الأكوع، أنهم يوم افتتحوا خيبر، رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم نيراناً تتوقد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما هذه النيران؟» قالوا: على لحوم الحمر الأنسية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أهريقوا ما فيها»، وكسروها، يعني: القدور، فقال رجل من القوم: أو نغسلها يا رسول الله. فقال: «أو ذاك» ۔ (المعجم الأوسط من اسمه أحمد جلد ۱ صفحہ ۷۸ رقم الحدیث : ۲۲۳ مطبوعہ دارالحرمین قاہرہ) ۔ ہانڈی کے گوشت پھینکنے سے متعلق روایت ’’مسند ابی عوانہ‘‘  میں بھی مذکور ہے ۔


غرض یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے پالتو گدھے کے گوشت کی صراحتاً ممانعت آئی ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ناپاک قرار دیا ، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس سے حرمت ہی مراد لی ہے ، اسی لیے انہوں نے وہ گوشت بھی پھینک دیا جو پکنے کے لیے ہانڈی میں موجود تھا ۔ لہٰذا گھریلو یا پالتو گدھے کی حرمت نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سے ثابت ہے ۔


گدھا حرام جانوروں میں داخل ہے ، گدھے کا گوشت کھانا حرام ہے : وأما الحمار الأهلي فلحمه حرام، وكذلك لبنه وشحمه، واختلف المشايخ في شحمه من غير وجه الأكل فحرمه بعضهم قياسا على الأكل وأباحه بعضهم وهو الصحيح ، كذا في الذخيرة ۔ (فتاوی ہندیہ کتاب الذبائح الباب الثانی فی بیان ما یؤکل من الحیوان جلد 5 صفحہ 290 دارالفکر بیروت)


حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : وحشی گدھا یعنی نیل گائے بالاتفاق حلال ہے ، پالتو گدھے کی حرمت میں گفتگو ہے ۔ جمہور علماء کے نزدیک گدھا حرام ہے ۔ (مرأة المناجیح جلد 5 صفحہ 991) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

گاؤں میں جمعہ اور عید کی نماز باجماعت کا حکم

گاؤں میں جمعہ اور عید کی نماز باجماعت کا حکم محترم قارئینِ کرام : گاؤں کے وہ سب لوگ جن پر شرائط جمعہ (مسلمان مرد ، مقیم ، تندرست ، عاقل ، با...