Saturday, 13 June 2026

روایت وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ، لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ پر ایک تحقیقی نظر

روایت وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ، لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ پر ایک تحقیقی نظر

محترم قارئینِ کرام : یہ عاجز موضوع پر لکھنا نہیں چاہ رہا تھا مگر روافضی اور اُن کے آلہ کار تقیہ (یعنی جھوٹ) کی آڑ میں چھپے رافضی بار بار اس روایت کو کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں صدیق اکبر ہوں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان بنا کر پیش کر رہے ہیں اور یہ جھوٹ دھڑلے سے بولا جا رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر کہا ہے ۔ تو گذارش ہے کہ یہ ان کا اپنا قول ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان نہیں ہے ۔ اس جھوٹ کی سزا کیا ہے وہ احادیثِ مبارکہ میں موجود ہے ۔ انہوں نے اپنے بعد کا کہا ہے ، پہلے کی بات نہیں کی ۔ انہیں بھی پتہ تھا کہ مجھ سے پہلے بھی صدیق ہے ۔ اس لیے آپ کا یہ قول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد کا تھا ، نہ کہ ان کی صدیقیت کی نفی تھی ۔ اس سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صداقت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ کیونکہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود صدیق کا لقب عطا فرمایا ہے ۔ یاد رہے سارے صحابہ بشمول حضرت مولا علی رضی اللہ عنہم صدیق یعنی سچے ہیں اور صدیق اکبر امتِ مسلمہ کے نزدیک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ روافضی اور اُن کے آلہ کار ایک منکر اور باطل روایت پیش کرتے ہیں روایت یہ ہے : روایت سند و متن کے ساتھ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الرَّازِيُّ قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى قَالَ: أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ، لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ ، صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ لِسَبْعِ سِنِينَ ۔ (سنن ابن ماجہ فضل علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ جلد ۱ صفحہ ۸۷ رقم : ۱۲۰ مطبوعہ موسسة الرسالہ)


مندرجہ بالا روایت اور اس کے بعض راویوں پر ناقدین نے کلام کیا ہے ، پہلے ناقدین کے اقوال کی تفصیل درج کی جاتی ہے ، اس کے بعد ، ان ناقدین کے اقوال کی روشنی میں ، فیصلہ کیا جائے گا کہ حدیث کس نوعیت کی ہے  ، ملاحظہ کریں : ⏬


حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ۔ انا الصدیق الاکبر والی روایت امام جوزقانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں باطل ہے ۔ سند و متن کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں : امام جوزقانی نے معاذہ عدویہ کی اس روایت کو اپنی کتاب ’الأباطیل و المناکیر‘ میں باطل قرار دیا ہے، ساتھ ہی اس کی سند میں ایک راوی ابو الخطاب ہیں، انہیں مجہول و مضطرب الحدیث گردانا ہے ۔ الأباطیل و المناکیر میں ہے : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمُ بْنُ عِصَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمُ بْنُ عِصَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو فَاطِمَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، وَهُوَ يَقُولُ : أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ ۔ هَذَا حَدِيثٌ بَاطِلٌ ، وَأَبُو الْخَطَّابِ هَذَا مَجْهُولٌ مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ ۔ (الأباطيل و المناكير و الصحاح و المشاهير امام جوزقانی صفحہ ۲۹۳ ، ۲۹۴ مطبوعہ دار الصمیعی السعودیہ العربیہ)


حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ کی روایت : یہ روایت ، امیر المؤمین حضرت مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ سے موقوفا مروی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبد اللہ اسدی کوفی ہیں ۔ ان کے بارے میں امام ابن جوزی لکھتے ہیں : انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کچھ احادیث روایت کی ہیں ، جن پر ان کی متابعت نہیں کی جاتی ، امام ابن مدینی نے فرمایا : ضعیف الحدیث ہیں ۔ عباد بن عبد الله الْأَسدي روى عَن عَليّ أَحَادِيث لَا يُتَابع عَلَيْهَا قَالَ ابْن الْمَدِينِيّ ضَعِيف الحَدِيث ۔ (الضعفاء و المتروکین امام ابن جوزی جلد ۲ صفحہ ۷۵ ، رقم : ۱۷۸۰ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

مزید امام ابن جوزی نے فرمایا : امام احمد بن حنبل نے ان کی حدیث عن علی أنا الصدیق الأکبرکو رد کردیا اور فرمایا کہ وہ منکر ہیں اور ابن حزم نے کہا : مجہول ہیں ۔ قال ابن الجوزي ضرب ابن حنبل على حديثه عن علي أنا الصديق الأكبر وقال هو منكر وقال ابن حزم وهو مجهول ۔ (تہٍذیب التہذیب اما ابن حجر عسقلانی جلد ۵ صفحہ ۹۸ ، رقم : ۱۶۵ مطبوعہ دائرۃ المعارف النظامیۃ الھند،چشتی)


ان کے بارے میں امام بخاری نے سخت جرح کرتے ہوئے فرمایا : فیه نظر ۔ قال الْبُخَارِی : فِيهِ نظر ۔ (تہذیب الکمال فی أسماء الرجال امام مزی جلد ۱۴ صفحہ ۱۳۸ ، رقم : ۳۰۸۷ مطبوعی مؤسسۃ الرسالۃ)


امام ابن عدی نے انہیں الضعفاء میں ذکر کے ، امام بخاری کا قول فیه نظر درج کیا ہے ۔ يعد في الكوفيين سمع عليا سمع منه المنهال بن عَمْرو، فيه نظر ۔ سمعتُ ابنَ حماد يذكره عن البخاري ۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال امام ابن عدی جلد ۵ صفحہ ۵۵۳ ، رقم : ۱۱۷۴ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)


البتہ امام ابن حبان نے ان کو اپنی کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے ۔ و ذكره ابنُ حِبَّان في كتاب : الثقات ۔ (تہذیب الکمال فی أسماء الرجال امام مزی جلد ۱۴ صفحہ ۱۳۸ ، رقم : ۳۰۸۷ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ)


اور امام ابن حجر عسقلانی نے ان کے بارے قول فیصل یہ بیان فرمایا کہ یہ ضعیف ہیں ۔ عباد بن عبد الله الأسدي الكوفي ضعيف ۔ (التقریب امام ابن حجر عسقلانی صفحہ ۲۹۰ رقم : ۳۱۳۶ مطبوعہ دار الرشید، سوریا)


امام عقیلی نے اس روایت کو الضعفاء الکبیر میں ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اس روایت میں لین ہے ۔ الرِّوَايَةُ فِي هَذَا فِيهَا لِينٌ ۔ (الضعفاء الکبیر امام عقیلی جلد ۳ صفحہ ۱۳۷ مطبوعی رقم : ۱۱۲۰ مطبوہ دار المکتبۃ العلمیۃ بیروت)


امام ابن جوزی نے ان کی اس روایت کو موضوع قرار دینے کے بعد ، اس حدیث کو روایت کرنے میں عباد بن عبد اللہ کو ہی متہم قرار دیا ہے ، نیز امام ازدی علیہ الرحمۃ کا قول نقل کیا ہے کہ اسدی نے کچھ احادیث روایت کی ہیں ، جن پر ان کی متابعت موجود نہیں ۔ وَهَذَا مَوْضُوع وَالْمُتَّهَم بِهِ عباد بن عبد اللہ …… وَقَالَ الْأَزْدِيّ : روى أَحَادِيث لَا يُتَابع عَلَيْهَا ۔ (الموضوعات امام ابن جوزی جلد ۱ صفحہ ۳۴۱ مطبوعہ المکتبۃ السلفیۃ المدینۃ المنورۃ)


ان کی یہ روایت الکشف الحثیث عمن رمی بوضع الحدیث میں بھی مذکور ہے ۔ (الکشف الحثیث سبط ابن العجمی صفحہ ۱۴۴ رقم : ۳۶۳ مطبوع عالم الکتب بیروت)


اس سند کا حکم : اگرچہ امام ابن حبان نے عباد بن عبد اللہ کو اپنی کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے ، مگر عام طور سے ناقدین و محققین نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے بلکہ بعض محدثین نے ان کی سخت جرح کی ہے ، اس لیے ان کے بارے میں امام ابن حبان کی رائے مرجوح ، اور دیگر ناقدین کی رائے ، راجح قرار پائےگی ، اس لحاظ ان کی یہ سند شدید ضعیف نہ سہی ، ضعیف ضرور ہے ۔


اس روایت کے متعلق امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا یہ منکر ہے ، قال عليُّ بنُ أبي طالبٍ : أنا عبدُ اللهِ وأخو رسولِه ، وأنا الصِّدِّيقُ الأكبرُ ، لا يقولُها بعدي إلَّا كاذبٌ ، صلَّيت قبل النَّاسِ سبعَ سنين ۔ الراوي : عباد بن عبدالله الأسدي | المحدث : ابن الجوزي | المصدر : موضوعات ابن الجوزي ۔ (الصفحة أو الرقم: 2/98 | خلاصة حكم المحدث : موضوع)


عن عَلِيٍّ يقولُ أنا عَبدُ اللَّهِ وأَخو رَسولِهِ وأَنا الصِّدِّيقُ الأكْبَرُ لا يقولُها بعْدِي إلا كاذِبٌ مُفتِرٍ صَلَّيتُ قبلَ النَّاسِ بسبعِ سنينَ ۔ الراوي : عباد بن عبدالله الأسدي | المحدث : ابن كثير | المصدر : البداية والنهاية الصفحة أو الرقم: 3/25 | خلاصة حكم المحدث : منكر)


اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ : ⏬


(1) یہ باطل قول ہے اس میں عباد بن عبد اللہ کذاب راوی ہے ۔

(2) یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے حدیث رسول نہیں ہے اور ان کا اپنا قول بھ باطل اور منکر ہے ۔

افسوس کہ رافضی شیعہ اور تقیہ (یعنی جھوٹ) کی آڑ میں چھپے رافضیوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر ثابت کرنے کی کوشش ہے لیکن وہ بھی ان کے ایک باطل اور منکر غیر ثابت قول کے ساتھ ۔ اندازہ لگایا آپ نے کہ کس طرح غلط کو صحیح کہ رہے ہیں یہ رافضی شیعہ اور تقیہ (یعنی جھوٹ) کی آڑ میں چھپے رافضی حضرات ۔


بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ مولائے کائنات سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم صدیق اکبر ہیں ، اور بزعم خویش یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ آقائے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو ، صدیق اکبر ، اور فاروق اعظم ، کا لقب اپنی زبان رسالت سے عطا کیا ہے ۔ اور علمائے اہل سنت پہ یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے مولائے کائنات کی شان میں وارد اس فرمان کو ۔ کہ صدیق اکبر مولا علی ہیں ۔ چھپایا اور اپنی کتابوں میں جگہ نہ دی ۔


ان کا مذکورہ دعویٰ ہی کئی جہتوں سے قابل گرفت ہے لیکن ہم اس سے صرف نظر کرتے ہیں اور جس حدیث کے ذریعے یہ ثابت کیا گیا ہے اس کی اسنادی حیثیت کا جائزہ لیتے ہیں ۔

چوں کہ اس بات کی ضرورت اس لیے پڑی کہ اس کے ذریعے افضلیت عمرین کو ختم کرکے مولائے کائنات کو سب سے افضل قرار دینا ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم افضلیت پر ہونے والے حملے کا دفاع کریں ۔


وہ حدیث یہ ہے : عن أبي ذر الغفاري : سمعتُ النَّبيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم يقولُ لعليِّ بنِ أبي طالبٍ: أنت أوَّلُ من آمن بي، وأنت أوَّلُ من يصافحُني يومَ القيامةِ، وأنت الصِّدِّيقُ الأكبرُ، وأنت الفاروقُ، وتُفرِّقُ بين الحقِّ والباطلِ ، وأنت يعسوبُ المؤمنين، والمالُ يعسوبُ الكافرين ۔

مذکورہ بالا حدیث پر گفتگو کرتے ہوئے ایک تفضیلیت زدہ شخص نے اس کی کل ٦/ اسناد ذکر کی ہیں ۔ ١۔ حضرت ابوذر غفاری ٢۔ حضرت سلمان فارسی ٣۔ابو لیلیٰ غفاری ٤۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ٥۔ مولائے کائنات حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ ۔ ان کے الفاظ یہ ہیں : بعض سندیں خاص اہل بیت علیہم السلام کی سندیں ہیں اور وہ مولائے کائنات سے خود اس فرمان کو روایت کرتے ہیں اور مولا علی ان روایات کو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں ۔ ٦۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہم ۔

مذکورہ حدیث ان چھ راویوں سے مروی ہے ، ہر ایک کی روایت پر محدثین و ائمۂ جرح و تعدیل نے کہا فرمایا ہے ، ملاحظہ فرمائیں : ⏬


*١۔ عن ابی ذر الغفاری رضی اللہ عنہ*

ابن جوزی : "موضوع" (موضوعات ابن جوزی ١٠٢/٢)

امام ذہبی : "فیہ محمد بن عبید واہ، و علی بن ھاشم شیعی و عباد رافضی" (ترتیب الموضوعات ص١٠٠)

*١/٢۔ عن ابی ذر الغفاری و سلیمان الفارسی*

علامہ ابن کثیر : " منکرا جدا" ( جامع المسانید و السنن ٤٣٨٦)

امام ہیثمی : " فیہ عمرو بن سعید المصری و ھو ضعیف" (مجمع الزوائد ١٠٥/٩)

امام ابن حجر عسقلانی :" اسنادہ واھی ، و محمد متھم، و عباد من کبار الروافض، و ان کان صدوقا فی الحدیث" ( مختصر البزار ٣٠١/٣)

یہ استنادی حیثیت تھی پہلے اور دوسرے طریق کی ۔ اب تیسرے طریق کو ملاحظہ کیجیے ۔

*٣۔ أبو لیلیٰ الغفاری رضی اللہ عنہ*

ابن عبد البر :" فیہ اسحاق بن بشر ممن لایحتج بنقلہ اذا انفرد لضعفہ و نکارۃ حدیثہ" ( الستیعاب ٣٠٧/٤)

*٤۔ عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما*

عقیلی : " فیہ داھر بن یحییٰ الرازی کان ممن یغلو فی الروافض لایتابع علیہ حدیثہ" ( الضعفاء الکبیر ٢/ ٤٧)

ابن عدی : " فیہ عبد اللہ بن یحییٰ بن داھر عامۃ ما یرویہ فی فضائل علی و ھو متھم" ( ٥/ ٣٧٩)

ابن جوزی : " موضوع" (موضوعات ابن جوزی ٢/ ١٠٣)

امام ذہبی : " فیہ عبد اللہ بن داھر من غلاۃ القوم و ضعفائھم "( ترتیب الموضوعات ١٠٠)

ایضا قال : قد اغنی اللہ علیاََ أن تقرر مناقبہ بالأکاذیب و الاباطیل" ( میزان الإعتدال ٢/ ٤١٦)

" باطل" ( میزان الإعتدال ٢/ ٣،چشتی)

*٥۔ عن علی کرم اللہ وجہہ الکریم*

الجورقانی :" حبۃ لایساوی حبۃ کان غالباََ فی التشیع واھیا فی الحدیث" (الأباطیل و المناکیر ١/٢٩٤)

قال ایضاََ : " باطل " ( الأباطیل و المناکیر ٢٩٣)

ابن عساکر :" لا یتابع علیہ و لا یعرف سماع سلیمان بن معاذۃ" ( تاریخ دمشق ٤٢/ ٣٣)

ابن جوزی : " لا یصح" (العلل المتناھیۃ ٢/٩٤٤)

قال ایضاََ :" موضوع " (موضوعات ابن جوزی ٩٩/٢)

امام ذہبی : " کذب علیٰ علیٍ"( میزان الإعتدال ٢/ ٣٦٨)

*٦۔ عن ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ*

مذکورہ حدیث آپ سے مروی تلاش بسیار کے بعد بھی نہ ملی ۔


حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے میں، راوی عباد بن عبد اللہ کی ایک متابع موجود ہے اور وہ معاذہ عدویہ کی روایت ہے، مگر ان سے روایت کرنے والے راوی سلیمان بن عبد اللہ کا سماع، معاذہ عدویہ سے ثابت نہیں اور نہ ہی کسی نے یہ حدیث، معاذہ عدویہ سے روایت کرنے میں ان کی متابعت کی ہے۔

امام بخاری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: معاذہ عدویہ سے اس حدیث کو رویت کرنے میں سلیمان بن عبد اللہ کی متابعت نہیں کی جاتی اور معاذہ عدویہ سے سلیمان بن عبد اللہ کا سماع بھی نہیں جانا جاتا۔

التاريخ الكبير میں ہے : سُلَيْمَان بْن عَبْد اللَّه عَنْ معَاذة العدوية سَمِعت عليا أخا الصديق الأكبر، قَالَه بشر بْن يوسف عَنْ نوح بْن قيس سَمِعَ سُلَيْمَان، وَقَالَ لنا مُوسَى نا نوح نا سُلَيْمَان أَبُو فاطمة عَنْ معَاذة – بمثله، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّه: لا يتابع عليه ولا يعرف سماغ سُلَيْمَان من معَاذة‘‘۔ (التاریخ الکبیر، امام بخاری، ج۴ص۲۳، رقم: ۱۸۳۵، ط: دائرۃ المعارف العثمانیۃ، حیدر آباد)

امام عقیلی نے امام بخاری علیہ الرحمۃ کے اس قول کو اپنی کتاب ’الضعفاء الکبیر‘ میں نقل کیا ہے۔

الضعفاء الکبیر میں ہے : سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ. حَدَّثَنِي آدَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ الْبُخَارِيَّ قَالَ: سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ: ((أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ)) قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ، وَلَا يُعْرَفُ سَمَاعُ سُلَيْمَانَ مِنْ مُعَاذَةَ۔ وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي فَاطِمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ: ((أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ))‘‘۔ (الضعفاء الکبیر، امام عقیلی، ج۳ص۱۳۰، ط: رقم: ۶۱۶، ط: دار المکتبۃ العلمیۃ، بیروت)

امام ابن عدی نے بھی امام بخاری کے مندرجہ بالا قول کو اپنی ’الکامل فی ضعفاء الرجال‘ میں جگہ دی ہے، مزید فرمایا کہ راوی سلیمان، اسی حدیث سے مشہور ہیں، مجھے اس کے علاوہ ان کی کوئی حدیث معلوم نہیں اور ان کی اس روایت پر متابعت موجود نہیں جیسا کہ اما بخاری علیہ الرحمۃ نے فرمایا۔

الکامل فی ضعفاء الرجال میں ہے:سمعتُ ابْن حَمَّاد يَقُولُ: قال البُخارِيّ سليمان بْن عَبد الله عن معاذة العدوية سمعت علي قال أنا الصديق الأكبر، لاَ يُتَابَعُ عَليه، ولاَ يعرف سماع سليمان من معاذة۔

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ منصور القراطيسي، حَدَّثَنا عُبَيد اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الجسري، وَمُحمد بْن يَحْيى القطعي وزياد بْن يَحْيى الحساني قالوا، حَدَّثَنا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ عَن سليمان أبي فاطمة عن معاذة بنت عَبد اللَّه العدوية قالت سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يخطب على منبر البصرة، وَهو يقول أنا الصديق الأكبر آمنت قبل أن يؤمن أبو بكر وأسلمت قبل أن يسلم. قال ابنُ عَدِي وسليمان يعرف بهذا الحديث، ولاَ أعرف له غيره ولم يتابع على هذه الرواية كما قاله البخاري‘‘۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال، امام ابن عدی، ج۴ص۲۶۸، رقم: ۷۴۶، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

امام ابن عساکر نے بھی اپنی کتاب ’تاریخ دمشق‘ میں امام بخاری علیہ الرحمۃ کی رائے کو نقل کیا ہے کہ معاذہ سے اس حدیث کو روایت کرنے میں سلمان کی متابعت موجود نہیں اور معاذہ سے سلیمان کا سماع بھی معلوم نہیں۔

تاریخ دمشق میں ہے:أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل وأبو محمد السيدي وأبو القاسم زاهر بن طاهر قالوا أنا أبو سعد محمد بن عبد الرحمن الجنزرودي أنا عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب نا يوسف بن عاصم الرازي نا سويد بن سعيد نا نوح بن قيس عن سليمان بن عبد الله عن معاذة العدوية قالت سمعت عليا على منبر البصرة يخطب يقول أنا الصديق الاكبر آمنت قبل أن يؤمن أبو بكر وأسلمت قبل أن يسلم۔ أخبرنا أبو القاسم بن السمرقندي أنا أبو القاسم بن مسعدة أنا حمزة بن يوسف أنا أبو أحمد قال سمعت ابن حماد يقول: قال البخاري: سليمان بن عبد الله عن معاذة العدوية سمعت عليا قال أنا الصديق الأكبر، لا يتابع عليه ولا يعرف سماع سليمان من معاذة‘‘۔ (تاریخ دمشق، امام ابن عساکر، ج۴۲ص۳۲، ط: دار الفکر، بیروت)

امام ابن قیسرانی نے بھی امام بخاری اور امام ابن عدی کے کلام کو اپنی کتاب ’ذخیرۃ الحفاظ‘ میں ذکر کیا ہے۔

ذخیرۃ الحفاظ میں ہے:حَدِيث:أَنا الصّديق الْأَكْبَر، آمَنت قبل أَن يومن أَبُو بكر، وَأسْلمت قبل أَن يسلم. رَوَاهُ سُلَيْمَان بن عبد الله أَبُو فَاطِمَة: عَن معَاذَة بنت عبد الله العدوية قَالَت: سَمِعت عليا يخْطب على منبرالبصرة. وَسليمَان هَذَا لايعرف إِلَّا بِهَذَا الحَدِيث، وَلَا أعرف لَهُ غَيره، لم يُتَابع عَلَيْهِ، قَالَه البُخَارِيّ‘‘۔ (امام ابن القیسرانی، ج۱ص۴۹۹، رقم: ۷۵۱، ط: دار السلف، الریاض)

امام مزی علیہ الرحمۃ نے بھی اپنی کتاب ’تہذیب الکمال‘ میں راوی سلیمان بن عبد اللہ کے بارے میں امام بخاری علیہ الرحمۃ کی تنقید کو نقل کیا ہے۔

تہذیب الکمال میں ہے:سُلَيْمان بن عَبد اللَّهِ، أَبُو فاطمة. رَوَى عَن: معاذة العدوية (عس) قالت: سمعت علي بْن أَبي طالب يقول على منبر البصرة: أنا الصديق الأكبر، آمنت قبل أن يؤمن أَبُو بَكْر، وأسلمت قبل أن يسلم! رَوَى عَنه: نوح بْن قيس الحداني (عس) قال البخاري: لا يتابع عليه ولا يعرف إلا به، ولا يعرف سماع سُلَيْمان من معاذة۔ روى له النَّسَائي فِي ’مسند علي‘ هَذَا الْحَدِيث الواحد‘‘۔ (تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، امام مزی، ج۱۲ص۱۸، رقم: ۲۵۳۷، ط: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

بعض الفاظ میں تھوڑا اختلاف کے ساتھ، مندرجہ بالا تنقید، مندرجہ ذیل کتابوں میں بھی مذکور ہے : ⏬

المغنی فی الضعفاء میں ہے:عس سُلَيْمَان بن عبد الله عَن معَاذَة عَن عَليّ أَنا الصّديق الْأَكْبَر فِي الضُّعَفَاء للعقيلي وَقَالَ خَ لَا يُتَابع عَلَيْه‘‘ِ۔ (المغنی فی الضعفاء، امام ذہبی، ص۲۸۱، رقم: ۲۶۰۱، ط: ندارد)

میزان الاعتدال میں ہے:سليمان بن عبد الله. روى عن معاذة عن علي: أنا الصديق الاكبر. مذكور في كتاب العقيلي من رواية نوح بن قيس عن أبي فاطمة: سليمان بن عبد الله. قال البخاري: لا يتابع عليه. وذكره ابن عدي في الضعفاء‘‘۔ (میزان الاعتدال، امام ذہبی، ج۲ص۲۱۲، رقم: ۳۴۸۴، ط: دار المعرفۃ، بیروت)

تہذیب التہذیب میں ہے:سليمان بن عبد الله أبو فاطمة روى عن معاذ العدوية عن علي قال على منبر البصرة أنا الصديق الأكبر وعنه نوح بن قيس الحداني۔ قال البخاري: لا يتابع عليه ولا يعرف إلا به ولا يعرف له سماع من معاذة۔ قلت: وقال ابن عدي: لا أعرف له غيره ولا يتابع عليه كما قال البخاري‘‘۔(تہذیب التہذیب، امام ابن حجر عسقلانی، ج۴ص۲۰۴، رقم: ۳۴۸، ط: دائرۃ المعارف النظامیۃ، الھند)

العلل المتناھیۃ میں ہے:أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْحَافِظُ قَالَ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ قَالَ أَنَا الْعُتَيْقِيُّ قَالَ نا يُوسُفُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ نا الْعَقِيلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ قَالَ نا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ أَبِي فَاطِمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ قَالَتْ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ أَنَا الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ۔

قال الْمُؤَلِّفُ: “وَهَذَا لا يَصِحُّ قَالَ الْبُخَارِيّ لا يتابع سُلَيْمَان عليه ولا يعرف سماعه من معاذة‘‘۔ (العلل المتناھیۃ، امام ابن الجوزی، کتاب المتشبع من الروایات الوھیۃ عن الصحابۃ، ج۲ص۴۶۱، رقم: ۱۵۶۹، ط: إدارۃ الأثریۃ، فیصل آباد، پاکستان)

علامہ ابن کثیر، اس روایت کے متعلق، عدم صحت کے قول کی نسبت، امام بخاری کی طرف کرنے کےبعد، اس روایت کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تواترا ثابت ہے کہ آپ نے کوفہ کے منبر پر فرمایا: اے لوگو! بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد، اس امت میں سب سے بہتر، حضرت ابو بکر، پھر حضرت عمر ہیں اور اگر تیسرے فرد کا نام ذکر کرنا چاہتا؛ تو میں ان کا نام ذکر کردیتا۔

البدایۃ و النھایۃ میں ہے:وَقَالَ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ بن سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ قَالَتْ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ يَقُولُ: أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ ۔ وَهَذَا لَا يَصِحُّ قَالَهُ الْبُخَارِيُّ، وَقَدْ ثَبَتَ عَنْهُ بِالتَّوَاتُرِ أَنَّهُ قَالَ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ : أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ، ولو شئت أن أسمي الثالث لسميت ۔ (البدایۃ و النہایۃ، امام ابن کثیر، ج۷ص۳۷۰، ط: إحیاء التراث العربی)


اور امام جوزقانی نے معاذہ عدویہ کی اس روایت کو اپنی کتاب ’الأباطیل و المناکیر‘ میں باطل قرار دیا ہے، ساتھ ہی اس کی سند میں ایک راوی ابو الخطاب ہیں، انھیں مجہول و مضطرب الحدیث گردانا ہے۔الأباطیل و المناکیر میں ہے:أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمُ بْنُ عِصَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمُ بْنُ عِصَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو فَاطِمَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، وَهُوَ يَقُولُ: ((أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ)) هَذَا حَدِيثٌ بَاطِلٌ، وَأَبُو الْخَطَّابِ هَذَا مَجْهُولٌ مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ‘‘۔ (الأباطيل و المناكير و الصحاح و المشاهير، امام جوزقانی، ج۱ص۲۹۳، رقم: ۱۴۴، ط: دار الصمیعی،چشتی)

البتہ امام ابن حبان نے معاذہ عدویہ سے روایت کرنے والے راوی، سلیمان بن عبد اللہ کو اپنی کتاب ’الثقات‘ میں جگہ دی ہے۔

’’وذكره ابن حبان في الثقات‘‘۔(تہذیب التہذیب، امام ابن حجر عسقلانی، ج۴ص۲۰۴، رقم: ۳۴۸، ط: دائرۃ المعارف النظامیۃ، الھند)

اس سند کا حکم: یہ سند باطل و موضوع نہ سہی مگر ضعیف ضرور ہے۔


حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت کرنے میں عباد بن عبد اللہ کی ایک متابع، مزید موجود ہے اور وہ حبہ عرنی ہیں، مگر وہ غالی متشیع ہونے کے ساتھ، ضعیف بھی ہیں۔

امام جوزقانی، حبہ عرنی راوی کے بارے میں لکھتے ہیں: حبہ راوی، ایک حبہ کے بھی برابر نہیں، یہ تشیع میں غالی اور حدیث میں واہی ہیں۔

الأباطیل و المناکیر میں ہے:قَدْ رَوَى عَنْ: نُوحِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حِبَّةَ الْعَرَنِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: ((أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ أَبُو بَكْرٍ)) وَحِبَّةُ لَا يُسَاوِي حَبَّهً، كَانَ غَالِيًا فِي التَّشَيُّعِ، وَاهِيًا فِي الْحَدِيثِ‘‘۔(الأباطيل و المناكير و الصحاح و المشاهير، امام جوزقانی، ج۱ص۲۹۳، رقم: ۱۴۴، ط: دار الصمیعی)

نیز اسی روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن سلمہ ہیں، ان کے بارے میں امام ابن عدی فرماتے ہیں: محمد بن سلمہ، واھی الحدیث اور کوفہ کے متشیع میں شمار ہوتے ہیں۔ امام یحی نے فرمایا: حبہ کچھ نہیں اور امام ابن حبان نے فرمایا: یہ تشیع میں غالی تھے۔

العلل المتناھیۃ میں ہے:قال المؤلف:وقد رواه نوح عن مُحَمَّد بْن سلمة بْن كهيل عن أبيه عن حبة العرني۔ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: ’’مُحَمَّدُ بْنُ سلمة واهي الحديث ويعد من متشيعي الكوفة قال يَحْيَى: حبة ليس بشيء۔ قال ابن حبان: كان غاليًا فِي التشيع‘‘۔ (العلل المتناھیۃ، امام ابن الجوزی، کتاب المتشبع من الروایات الوھیۃ عن الصحابۃ، ج۲ص۴۶۱، رقم: ۱۵۶۹، ط: إدارۃ الأثریۃ، فیصل آباد، پاکستان،چشتی) ۔ اس سند کا حکم: یہ سند بھی ضعیف ہے۔


حضرت سلمان اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہما کی مرفوعا بھی روایت موجود ہے، مگر دونوں حضرات سے روایت کرنے والے راوی ابو سخیلہ ہیں اور یہ ضعیف ہیں۔

تاریخ دمشق میں ہے:أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسين أنا أبو الحسين بن المهتدي أنا علي بن عمر بن محمد الحربي نا أبو حبيب العباس بن محمد بن أحمد بن محمد البري نا ابن بنت السدي يعني إسماعيل بن موسى أنا عمرو بن سعيد البصري عن فضيل بن مروزق عن أبي سخيلة عن سلمان و أبي ذر، قالا: أخذ رسول الله (صلى الله عليه وسلم) بيد علي فقال ألا إن هذا أول من ٰامن بي وهذا أول من يصافحني يوم القيامة وهذا الصديق الأكبر وهذا فاروق هذه الأمة يفرق بين الحق والباطل وهذا يعسوب المؤمنين والمال يعسوب الظالمين۔ (تاریخ دمشق، امام ابن عساکر، ج۴۱ص۴۱، ط: دار الفکر، بیروت،چشتی)

مندرجہ بالا دونوں حضرات کی روایت میں ایک راوی ابو سخیلہ ہیں، یہ مجہول ہیں ۔ (تقریب التہذیب، امام ابن حجر عسقلانی، ص۶۴۳، رقم: ۸۱۱۵، ط: دار الرشید، سوریا)

اس سند کا حکم: یہ سند بھی راوی ابو سخیلہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔


حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ کی راویت کی مزید چار سندیں ہیں، مگر ہر ایک سند میں محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع ہیں، جو لیس بشیء ہونے کے ساتھ متہم بھی ہیں۔ (اللآلی المصنوعۃ فی الأحادیث الموضوعۃ، امام سیوطی، کتاب المناقب، ج۱ص۹۷، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت) اور امام ذہبی نے محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع کی سند کو واہی بھی قرار دیا ہے۔

تاریخ دمشق میں ہے:أخبرنا أبو القاسم بن المسرقندي أنا أبو الحسين عاصم بن الحسن أنا أبو عمر بن مهدي أنا أبو العباس بن عقدة نا محمد بن أحمد بن الحسن القطواني نا مخلد بن شداد نا محمد بن عبيد الله عن أبي سخيلة قال حججت أنا وسلمان فنزلنا بأبي ذر فكنا عنده ما شاء الله فلما حان منا حفوف قلت: يا أبا ذر إني أرى أمورا قد حدثت وإني خائف أن يكون في الناس اختلاف فإن كان ذلك فما تأمرني قال الزم كتاب الله عز وجل وعلي بن أبي طالب فأشهد أني سمعت رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يقول علي أول من امن بي وأول من يصافحني يوم القيامة وهو الصديق الأكبر وهو الفاروق يفرق بين الحق والباطل۔ اخر الجزء الثامن والثمانين بعد الأربعمائة من الفرع۔

نیز تاریخ دمشق ہی میں ہے:أخبرنا خالي القاضي أبو المعالي محمد بن يحيى القرشي أنا أبو الحسن علي بن الحسن بن الحسين أنا أبو العباس أحمد بن الحسين بن جعفر العطار قراءة عليه وأنا أسمع في سنة إحدى عشرة وأربعمائة نا أبو محمد الحسن بن رشيق العسكري نا أبو عبد الله محمد بن رزين بن جامع المديني سنة تسع وتسعين ومائتين نا أبو الحسين سفيان بن بشر الأسدي الكوفي نا علي بن هاشم بن البريد عن محمد بن عبيد الله بن أبي رافع عن أبيه عن علي بن أبي رافع عن أبي ذر أنه سمع رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يقول لعلي بن أبي طالب أنت أول من ٰامن بي وأنت أول من يصافحني يوم القيامة وأنت الصديق الأكبر وأنت الفاروق الذي يفرق بين الحق والباطل وأنت يعسوب المؤمنين والمال يعسوب الكفار۔ (تاریخ دمشق، امام ابن عساکر، ج۴۱ص۴۱، ط: دار الفکر، بیروت،چشتی)

تاریخ ابن ابی خیثمہ میں ہے:حَدَّثَنا عَبْد السَّلامِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ مُحَمَّد بْنِ عَبْد الله بن عُبَيْد الله بن أَبِي رَافِعٍ – مَوْلَى النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ: “أَنْتَ أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي وَأَنْتَ الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ‘‘۔ (تاریخ ابن ابی خیثمہ، ج۱ص۱۶۵، رقم: ۳۸۴، ط: الفاروق الحدیثۃ، قاہرہ)

سیر أعلام النبلاء میں ہے:أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بنُ أَحْمَدَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بنُ يَعْقُوْبَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بنُ أَحْمَدَ البُنْدَارُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بنُ أَبِي مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الصُّوْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بنُ عَمْرٍو البَزَّارُ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بنُ يَعْقُوْبَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ هَاشِمِ بنِ البَرِيْدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ عُبَيْدِ اللهِ بنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُوْلُ لِعَلِيٍّ: “أَنْتَ أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِي، وَأَنْتَ أَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُنِي يَوْمَ القِيَامَةِ، وَأَنْتَ الصِّدِّيْقُ الأَكْبَرُ، وَأَنْتَ الفَارُوْقُ يَفْرُقُ بَيْنَ الحَقِّ وَالبَاطِلِ، وَأَنْتَ يَعسُوبُ المُؤْمِنِيْنَ، وَالمَالُ يَعْسُوبُ الكَافِرِيْنَ” … إِسْنَادُهُ واهٍ‘‘۔ (سیر أعلام النبلاء، امام ذہبی، ج۱۶ص۳۲۶، ط: دار الحدیث، قاہرہ)

ان اسانید کا حکم: ضعیف بلکہ شدید ضعیف ہیں ۔


حضرت سلمان و ابوذر رضی اللہ تعالی عنہما کی روایت کے لیے، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی شاہد بھی موجود ہے، مگر اس کی سند میں ایک راوی عبد اللہ بن داہر رازی ہیں، وہ سخت مجروح ہیں، یہاں تک کہ ناقدین نےحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل میں حدیث گڑھ کر پیش کرنے میں انھیں کو متہم قرار دیا ہے، یہ بھی فرمایا کہ اس حدیث کو اس سند کے ساتھ، روایت کرنے میں ان کی متابعت نہیں کی جاتی بلکہ اس کو باطل بھی قرار دیا ہے اور امام ابن عدی نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اس بات سے بے نیاز کردیا ہے کہ ان کے مناقب کو اکاذیب و اباطیل سے ثابت کیا جائے۔

تاریخ دمشق میں ہے : أخبرنا أبو القاسم بن السمرقندي أنا أبو القاسم بن مسعدة أنا عبد الرحمن بن عمرو الفارسي أنا أبو أحمد بن عدي ناعلي بن سعيد بن بشير نا عبد الله بن داهر الرازي نا أبي عن الأعمش عن عباية عن ابن عباس قال ستكون فتنة فمن أدركها منكم فعليه بخصلتين كتاب الله وعلي بن أبي طالب فإني سمعت رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يقول وهو اخذ بيد علي هذا أول من امن بي وأول من يصافحني وهو فاروق هذه الأمة يفرق بين الحق والباطل وهو يعسوب المؤمنين والمال يعسوب الظلمة وهو الصديق الأكبر وهو بابي الذي أوتى منه وهو خليفتي من بعدي۔ قال ابن عدي عامة ما يرويه ابن داهر في فضائل علي هو فيه متهم۔

أخبرنا أبو البركات عبد الوهاب بن المبارك الأنماطي أنا أبو بكر محمد بن المظفر بن بكران الشامي نا أبو الحسن أحمد بن محمد العتيقي أنا أبو يعقوب محمد بن يوسف بن أحمد بن الدجيل نا أبو جعفر محمد بن عمرو العقيلي حدثني علي بن سعيد نا عبد الله بن داهر بن يحيى الرازي حدثني أبي عن الأعمش عن عبابة الأسدي عن ابن عباس عن النبي (صلى الله عليه وسلم) قال لأم سلمة يا أم سلمة إن عليا لحمه من لحمي ودمه من دمي وهو مني بمنزلة هارون من موسى غير أنه لا نبي بعدي وبإسناده عن ابن عباس قال ستكون فتنة فإن أدركها أحد منكم فعليه بخصلتين كتاب الله وعلي بن أبي طالب فإني سمعت رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يقول وهو اخذ بيد علي هذا أول من امن بي وأول من يصافحني يوم القيامة وهو فاروق هذه الأمة يفرق بين الحق والباطل وهو يعسوب المؤمنين والمال يعسوب الظالمين وهو الصديق الأكبر وهو بابي الذي أوتى منه وهو خليفتي من بعدي۔ قال أبو جعفر داهر بن يحيى الرازي كان يغلو في الرفض ولا يتابع على حديثه ۔ (تاریخ دمشق، امام ابن عساکر، ج۴۱ص۴۱‒۴۳، ط: دار الفکر، بیروت،چشتی)

میزان الاعتدال میں ہے:ذكر العقيلي من حديث عبد الله بن داهر، عن أبيه، عن الأعمش، عن عباية الأسدي، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: يا أم سلمة، إن عليا لحمه من لحمى، وهو بمنزلة هارون من موسى منى، غير أنه لا نبي بعدى ۔

قال ابن عباس : ستكون فتنة، فمن أدركها فعليه بخصلتين: كتاب الله، وعلي بن أبي طالب، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول – وهو آخذ بيد علي: هذا أول من آمن بى، وأول من يصافحني يوم القيامة، وهو فاروق هذه الأمة، يفرق بين الحق والباطل، وهو يعسوب المؤمنين، والمال يعسوب الظلمة، وهو الصديق الاكبر، وهو خليفتي من بعدى. فهذا باطل، ولم أر أحدا ذكر داهرا حتى ولا ابن أبي حاتم بلديه‘‘۔ (میزان الاعتدال، امام ذہبی، ج۲ص۳، رقم: ۲۵۸۷، ط: دار المعرفۃ، بیروت)

میزان الاعتدال میں ہے:عبد الله بن داهر بن يحيى بن داهر الرازي، أبو سليمان المعروف بالاحمرى. عن أبيه. وعنه أحمد بن أبي خيثمة. قال أحمد ويحيى: ليس بشئ. قال: وما يكتب حديثه إنسان فيه خير. وقال العقيلي: رافضي خبيث. وقيل: اسمه عبد الله بن محمد.

وقال ابن عدي: حدثنا على ابن سعيد [بن بشير]، حدثنا ابن داهر، حدثنا أبي، عن ابن أبي ليلى، عن الحكم، عن إبراهيم، عن علقمة والأسود، عن ابن مسعود، قال: بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم أقبل نفر من بنى هاشم أو فتية، فلما رآهم تغير، فقلت: ما نزال نرى في وجهك ما نكره! فقال: إنا أهل بيت اختار الله لنا الآخرة على الدنيا، وأهل بيتى هؤلاء سيلقون بعدى بلاء، حتى يجئ قوم من ها هنا من قبل المشرق أصحاب رايات سود، يسألون الحق فلا يعطونه.قال: فيقاتلون فينصرون فيعطون ما سألوا فلا يقبلون، ثم يعطون ما سألوا فلا يقبلونه، حتى يدفعونها إلى رجل من أهل بيتى يملؤها قسطا كما ملئت [جوراو] ظلما، فمن أدرك منكم ذلك الزمان فليجئهم ولو حبوا على الثلج.

وبه: حدثنا أبي، عن الأعمش، عن عباية الأسدي، عن ابن عباس – مرفوعاً: يا أم سلمة، إن عليا لحمه من لحمى، ودمه من دمى..الحديث. وبه: عن ابن عباس: ستكون فتنة، فمن أدركها فعليه بالقرآن وعلي بن أبي طالب، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو آخذ بيد علي يقول: هذا أول من آمن بى وأول من يصافحني، وهو فاروق الأمة، وهو يعسوب المؤمنين، والمال يعسوب الظلمة، وهو الصديق الاكبر، وهو خليفتي من بعدى. قال ابن عدي: عامة ما يرويه في فضائل علي، وهو متهم في ذلك. قلت: قد أغنى الله عليا عن أن تقرر مناقبه بالاكاذيب والاباطيل۔ (میزان الاعتدال، امام ذہبی، ج۲ص۴۱۷، رقم: ۴۲۹۶، ط: دار المعرفۃ، بیروت)

اس سند کا حکم: شدید ضعیف بلکہ باطل ہے ۔


ایک شاہد مزید موجود ہے، جو حضرت ابو لیلی غفاری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، مگر ان کی روایت میں بھی ایک راوی اسحاق بن بشر ہیں، جو ضعیف ہونے کی وجہ سے قابل احتجاج نہیں۔

الاستیعاب میں ہے:أَبُو ليلى الغفاري، لا يوقف له عَلَى اسم. من حديثه مَا رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْغِفَارِيِّ، قَالَ:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: سَتَكُونُ بَعْدِي فِتْنَةٌ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَالْزَمُوا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَنْ يَرَانِي، وَأَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، هُوَ الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ، وَهُوَ فَارُوقُ هَذِهِ الأُمَّةِ، يُفَرِّقُ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، وَهُوَ يَعْسُوبُ الْمُؤْمِنِينَ، وَالْمَالُ يَعْسُوبُ الْمُنَافِقِينَ. وَإِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ مِمَّنْ لا يُحْتَجُّ بِنَقْلِهِ إِذَا انْفَرَدَ لِضَعْفِهِ وَنَكَارَةِ حديثه‘‘۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، امام ابن عبد البر، ج۴ص۱۷۴۴، رقم: ۳۱۵۷، ط: دار الجیل، بیروت)

اسد الغابۃ میں ہے:أبو ليلى الغفاري، لا يوقف له على اسم. وحديثه: ما رواه إسحاق بن بشر، عن خالد بن الحارث، عن عوف، عن الحسن، عن أبي ليلى الغفاري قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ستكون بعدي فتنة، فإذا كان ذلك فالزموا علي بن أبي طالب، فإنه أول من يراني، وأول من يصافحني يوم القيامة، وهو الصديق الأكبر، وهو فاروق هذه الأمة، يفرق بين الحق والباطل، وهو يعسوب المؤمنين. أخرجه الثلاثة، وقال أبو عمر: إسحاق بن بشر ممن لا يحتج بحديثه إذا انفرد، لضعفه ونكارة حديثه ۔ (اسد الغابۃ، امام ابن اثیر، ج۵ص۲۷۰، رقم: ۶۲۰۷، ط: دار الفکر، بیروت)


مندرجہ بالا تفصیلی بیان سے واضح ہو گیا ، سنن ابن ماجہ کی مذکورہ بالا حدیث ضعیف ہے اور اس حدیث کے جتنی متابعات و شواہد ہیں، سب ضعیف یا شدید ضعیف یا پھر باطل ہیں ۔ باطل سے احتجاج ممکن نہیں ، ہاں جمہور محدثین علیہم الرحمہ کے نزدیک ، ضعیف سے احتجاج ممکن ہے ، کیوں کہ اس مسئلہ کا تعلق ، فضائل سے ہے۔ نیز وہ متابعات، جو ضعیف کی حد تک ہیں ، ان کی بنیاد پر زیر بحث حدیث کو حسن لغیرہ بھی کہا جا سکتا ہے ، اور اس صورت میں اس حدیث سے بالاتفاق، احتجاج جائز و درست ہوگا۔ شاید انہیں دونوں وجوہات کی بنیاد پر ، بعض محدثین نے زیر بحث روایت کی توجیہ کی ہے تاکہ کسی طرح کا کوئی تعارض و تدافع نہ رہ جائے ۔ وہ توجیہات ذیل میں ملاحظہ کریں : ⏬


حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے اس جملے کی ایک توجیہ، امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے یہ فرمائی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مندرجہ بالا قول سے مستثنی ہیں ۔

شرح سنن ابن ماجہ میں ہے : قَوْله: لَا يَقُولهَا أَي جملَة انا الصّديق الْأَكْبَر بعدي إلا كَذَّاب۔ الظَّاهِر وَالله أعْلَم أَنه اسْتثْنى بقوله: بعدي، أَبَا بكر الصّديق رَضِي الله عنه، لَا إلى صديقيه الْكُبْرَى حصلت لَهما؛ لِأَنَّهُمَا رَضِي اللہ عنهما آمنا برَسُول اله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمُجَرَّد نزُول الْوَحْي لَكِن الصّديق كَانَ عَاقِلا بالغا وَعلي كَانَ صبيان ۔ (شرح سنن ابن ماجہ، امام سیوطی، باب اتباع السنۃ، ص۱۲، ط: قدیمی کتب خانہ، کراچی،چشتی) ، یعنی حضرت مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے قول: ’’بعدی‘‘ یعنی میرے بعد سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا استثنا کیا ہے؛ لہذا آپ کے اس جملہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ شامل نہیں؛ کیوں کہ آپ کو پہلے ہی سے صدیق اکبر کا رتبہ حاصل ہوچکا تھا اور حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ نے جس صدیق اکبر کے مدعی کی تکذیب فرمائی ہے، وہ اپنے بعد والوں کے لیے فرمائی ہے؛ تو آپ سے پہلے جو حاصل کرچکے، آپ کا یہ جملہ، انھیں شامل نہیں، ہاں بعد والوں کو شامل ہے؛ لہذا آپ کے بعد والوں میں سے اب کوئی نہیں بول سکتا، اگر بولےگا؛ تو وہ مجرم ہوگا اور اس کی تکذیب ہوگی، نہ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی جو پہلے ہی صدیق اکبر کا تمغا حاصل کرچکے ہیں؛ کیوں کہ اگر حضرت علی مشکل کشا رضی اللہ تعالی عنہ کا مطلقا استثنا کرنا مقصود ہوتا؛ تو آپ ’’بعدی‘‘ نہ بولتے بلکہ ’’دونی‘‘ یا ’’سوای‘‘ یا ’’غیری‘‘ وغیرہ کوئی ایسا لفظ بولتے، جو آپ سے قبل اور بعد، سب لوگوں کو شامل ہوتا؛ لہذا ’’بعدی‘‘ بولنا، اس بات پر واضح طور پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کے اس جملے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ شامل نہیں بلکہ وہ مستثنی ہیں ۔

البتہ اس جملے میں اس صدیقیت کبری کا استثنا نہیں ہے ، جو دونوں کو حاصل ہے؛ کیوں کہ دونوں حضرات، نزول وحی کے فورا بعد، ایمان لے آئے اور تصدیق کرنے میں ذرا دیر، توقف نہیں کیا اور صدیق یہ مبالغہ کا صیغہ ہے؛ تو مطلب یہ ہوا کہ زیادہ تصدیق کرنے والا، اور زیادہ تصدیق جب ہی ہوگی کہ توقف نہ کیا جائے بلکہ فورا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کرے اور یہ دونوں حضرات کو حاصل ہے، بس فرق اتنا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اس وقت بڑے اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بچے تھے۔

دوسری توجیہ، شیخ علامہ نور الدین سندی علیہ الرحمۃ نے کی ہے، وہ یہ ہے کہ اگرچہ صدیق اکبر کا استعمال، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کےلیے غالب ہے ، مگر اس کا مفہوم ، آپ ہی کی ذات میں منحصر نہیں بلکہ دوسرے کے لیے بھی حاصل ہے، جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں فرمایا کہ : یہ صدیق اکبر ہیں ۔ حاشیۃ السندی علی سنن ابن ماجہ میں ہے :  وَاسْمُ الصِّدِّيقِ وَإِنْ غَلَبَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ ۔ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ۔ لَكِنَّ مَفْهُومَهُ غَيْرُ مُنْحَصِرٍ فِيهِ وَقَدْ سَبَقَ مَا جَاءَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ مَرْفُوعًا أَيْضًا فِيمَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ كَمَا رَوَاهُ الْعُقَيْلِيُّ فِي الضُّعَفَاءِ وَابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ فِي مَنَاقِبِ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ـ قَالَ : هَذَا أَوَّلُ مَنْ آمَنَ وَأَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهَذَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ۔ (حاشیۃ السندی، نور الدین سندی، باب فضائل العشرۃ رضی اللہ عنہم، ج۱ص۶۲، ط: دار الجیل، بیروت)

یعنی صدیق کا نام ، اگرچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے بولا جانا غالب ہے، لیکن اس کا مفہوم ، آپ ہی کی ذات میں منحصر نہیں ، کیوں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: میں صدیق اکبر ہوں، نیز مرفوعا بھی یہ حدیث مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ صدیق اکبر ہیں ۔

تلاش و جستجو کے باوجود بھی ، حاشیۃ السندی میں موجود ، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ، اس عاجز کو امام طبرانی کی کتاب المعجم الصغیر ، المعجم الأوسط اور المعجم الکبیر میں نہیں مل سکی ۔


اس پوری تفصیل کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ مذکورہ حدیث اس قابل نہیں کہ اس کو بیان کیا جائے اور یہی وجہ بنی کہ علمائے اہل سنت نے اس کو اپنی کتابوں میں جگہ نہیں دی بلکہ مولائے کائنات کی شان میں وارد صحیح اور قابل بیان احادیث خوب نقل کیں جن کو پڑھ کر مولائے کائنات کی فضیلت و عظمت اور رفعت شان کا اعتراف ہر صاحب فہم کرے گا ۔ اور کئی علما نے لکھا کہ اس حدیث کا ایک راوی غالی رافضی ہے اور یہ بات بھی علما نے لکھی ہے کہ رافضیوں نے مولائے کائنات اور اہل بیت نبوت کی شان میں تین لاکھ حدیثیں گڑھی ہیں (معاذ اللہ) ۔ کیا بعید کہ ان تین لاکھ میں سے یہ بھی ایک ہو ۔ اور اس کو ایسے ہی لوگ بیان کرتے ہیں جن کی نگاہ میں سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کی افضلیت کھٹکتی ہے ۔ اور اس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں کہ ہمارے علما نے مولائے کائنات کی شان بیان کرنے میں کوتاہی کی ہے (معاذ اللہ رب العالمین) اور پھر لوگ علمائے اہل سنت سے دور ہوں گے اور رافضیت کے قریب ہوں گے ۔ اللہ کی پناہ اللہ ایسے لوگوں سے سنی مسلمانوں کی حفاظت فرما ۔ آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔
















اہلسنت کو ناصبی کہنے والے رافضیوں کو پہچانیے

اہلسنت کو ناصبی کہنے والے رافضیوں کو پہچانیے







محترم قارئینِ کرام : آج کل کے روافض نے ایک پُر فریب طریقہ نکالا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ جو ان کے مکر و دجل کو بےنقاب کرتا ہے اسے یہ ناصبی کہہ دیتے ہیں روافض نے یہ ، ناصبی ناصبی ، کی گردان اتنے زور شور سے کی کہ اب یہ حال ہے کہ اگر کوئی سنی روافض کے مکر کا رد کرے تو اہل سنت عوام بھی اسے ناصبی کہنے لگ جاتے ہیں ۔ موجودہ پُرفتن دور میں ہر اس شخص کولوگ سنّی سمجھ بیٹھتے ہیں جو دوسروں پر ناصبیت کا فتویٰ جڑ دے ، یاد رہے کہ دوسروں پر ناصبیت کا فتویٰ لگانے والے اکثر یا تو کھلے رافضی ہوتے ہیں یا پھر سنیوں کے لبدے میں چھپے رافضی ہوتے ہیں ، اور ناصبیت کی اصطلاح رافضیوں ہی کی ایجاد کردہ ہے ، تیسری صدی ہجری تک کسی بھی سنی عالم نے کسی دوسرے سنی عالم کوناصبی نہیں کہا ہے ، بلکہ اس دور میں اگر کوئی شخص کسی کو ناصبی کہتا تھا تو یہ اس کے رافضی ہونے کی دلیل سمجھی جاتی تھی ۔ بھولے بھالے مسلمانانِ سنت یہ بھی نہیں جانتے کہ اسلافِ اُمّت علیہم الرّحمہ کے نزدیک جو ناصبی تھے ان کا اب کوئی وجود نہیں ، نہ ہی ان جیسا عقیدہ و عمل اس شخص کے جیسا ہے کہ جسے وہ ناصبی کہہ رہے ہیں ۔ اسلافِ اُمّت علیہم الرّحمہ نے ایک خاص دور کے خاص رجحان رکھنے والوں کو ناصبی کہا ہے ۔ یہ چوتھی صدی ہجری میں شام کی ایک اقلیت تھی جو بنو امیہ سے محبت اور روافض سے بغض رکھتی تھی ۔ جب روافض نے اس صدی میں پر پرزے نکالے اور دس محرم کو سرعام سوگ و ماتم منانا شروع کیا تو ان شامی نواصب نے اگلے سال سے دس محرم کو عید (خوشی) منانا شروع کر دی ، نئے کپڑے پہتے ، خوشبو لگاتے ، رقص محفل و میلوں کا اہتمام کرتے ۔ یہ سب وہ اپنی دانست میں روافض کے رد میں کرتے تھے ، بہرحال ۔ الحمد للہ اب اس باطل فرقے کا نام و نشاں بھی باقی نہیں ۔ لیکن روافض اور کےفضلہ خور تقیہ کی آڑ میں چھپے رافضی پھر کیوں ہر دوسرے بندے کو ناصبی کہتے رہتے ہیں ؟


امام علی بن مدینی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ۲۳۴ ھجری سے منقول ہے : ومن قال : فلان ناصبي علمنا أنه رافضي ۔

ترجمہ : جو کہتا تھا کہ فلاں ناصبی ہے تو ہم جان لیتے تھے کہ وہ رافضی ہے ۔ (شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ جلد ۱ صفحہ ۱۶۶)


امام ابو حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ شرح اصول اعتقاد أہل السنۃ متوفی ۲۷۷ اور امام أبو زرعہ الرازی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ۲۶۴ ھجری نے کہا : وعلامة الرافضة تسميتهم أهل السنة ناصبة ۔

ترجمہ : رافضیوں کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل سنت کو ناصبی کہتے ہیں .  (شرح اعتقاد اہل السنۃ للالکائی جلد ۱ صفحہ ۲۰۱ ، اسنادہ صحیح،چشتی)(اصل السنۃ و اعتقاد الدین للرازیین : (صفحہ 6 اسنادہ صحیح)(عقیدة الرازیین صفحہ 2)


امام ابو محمد الحسن بن علی بن خلف البربہاری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ۳۲۹ ھجری نے کہا : واذا سمعت الرجل يقول : فلان ناصبي فاعلم أنه رافضي ۔

ترجمہ : جب تم کسی شخص کو کہتے ہوئے سنو کہ : فلاں ناصبی ہے ، تو جان لو کہ وہ رافضی ہے ۔ (شرح السنہ للبربھاری صفحہ ۳۲)

لہٰذا کہیں بھی کسی کی زبان سے ناصبی کا لفظ سنائی دے تو اس کے بارے میں اچھی طرح تفتیش کرلینا چاہیے ۔


حضرت مجدد الف ثانی شیح احمد سر ہندی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : رافضی اس وقت اہل سنت سے خوش ہوں گے ، جبکہ اہل سنت بھی ان کی طرح دوسرے اصحاب کرام سے بیزاری دکھائیں ، اور ان دین کے بزرگواروں کے حق میں بد ظن ہو جائیں ، جس طرح خارجیوں کی خوشنودی اہل بیت کی عداوت اور آل نبی علیہم السّلام کے بغض پر وابستہ ہے ۔ (مکتوبات امام ربانی جلد دوم مکتوب نمبر 36 دفتر دوم صفحہ نمبر 1024 مطبوعہ مدینہ پبلیشنگ کمپنی کراچی،چشتی)(مکتوبات امام ربانی جلد دوم مکتوب نمبر 36 دفتر دوم صفحہ نمبر 97 مطبوعہ شبیر برادرز اردو بازار لاہور)


امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جب ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب بیان کرتے ہیں تو جاہلوں کے نزدیک ہمارا شمار روافض میں ہوتا ہے اور جب میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب بیان کرتا ہوں تو مجھے ناصبی ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے ،پس میں رافضی اور ناصبی رہونگا ان کی محبت کی وجہ سے یہاں تک کہ قبر میں دفن کیا جاؤں ۔ (دیوان الامام شافعی مترجم اردو صفحہ نمبر 203 مطبوعہ انڈیا)


در اصل بات یہ ہے کہ یہی ان کا مذھب کہ ہر غیر رافضی ناصبی ہے ، جی ہاں ، دراصل ناصبی فی زمانہ روافض کا بناوٹی اصطلاحی لفظ ہے کہ جو ان کے مذھب پر نہ ہو یا حضرت علی رضی اللہ عنہ پر خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم اور انبیاء کرام علیہم السّلام کو فضیلت دیتا ہو تو وہ ناصبی ہے ۔ یقیناً یہ بات بہت سوں کےلیے انجان ہوگی ، آپ سب کےلیے روافض شیعوں کے گھر کی گواہیاں پیش خدمت ہے : ⏬


(1) فضیل کہتا ہے میں نے امام جعفر سے پوچھا کہ کیا سنی مرد شیعہ عورت سے نکاح کر سکتا ھے ؟ فرمایا : نہیں ! خدا کی قسم شیعہ عورت ناصبی (سنی) کےلیے حلال نہیں ۔ (فروع جلد ۵ صفحہ ۳۵۰)


(2) عبد اللہ بن کے والد نے جعفر سے سے روایت کی ، کہتا ہے کہ میں سن رہا تھا کہ کسی نے پوچھا کہ یہودی اور نصرانی عورت سے نکاح کیسا ہے ؟

فرمایا : مجھے ناصبی (سنی) عورت کے مقابلہ میں یہود یاعیسائی عورت سے نکاح زیادہ محبوب ہے ۔ (فروع جلد ۵ صفحہ ۳۵۱)


(3) کسی مسلمان (شیعہ) مرد کےلیے جائز نہیں کہ وہ ناصبی (سنی) سے نکاح کرے اور شیعہ مرد اپنی اپنی بیٹی کسی سنی مرد کو دے ۔ (من لایحضرہ الفقیہ باب النکاح جلد ۳ صفحہ ۳۸۵)


(4) شیخ نے فرمایا کسی شیعہ مرد کا نکاح ناصبی (سنی) عورت سے جائزنہیں ۔ (تہذیب الاحکام جلد ۷ صفحہ ۳۰۲)


(5) فضیل کہتا ہے کہ میں نے امام باقر سے پوچھا کیا میں سنی سے شیعہ عورت کا نکاح پڑھا سکتا ہوں ؟ فرمایا : بالکل نہیں کیونکہ ناصبی کافر ہے ۔ (تہذیب جلد ۷ صفحہ ۳۰۳)


(7) امام باقر کے سامنےناصبی (سنی) کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا : ان سے نکاح نہ کرو، نہ انکا ذبیحہ کھاؤ ، نہ ان کے ساتھ رہائش اختیار کرو ۔ (تہذیب جلد ۷ صفحہ ۳۰۳)


(8) ابن ادریس نے کتاب سرائر میں کتاب مسائل محمد عیسیٰ سے روایت کی ہے کہ لوگوں نے حضرت علی نقی کی خدمت میں عریضہ لکھا کہ ہم ناصبی کے جاننے اور پہچاننے کے اس سے زیادہ محتاج ہیں کہ حضرت امیرالمومنین پر ابوبکر و عمر اور عثمان کو مقدم جانے اور ان تینوں کی امامت کا اعتقاد رکھے ۔ حضرت نے جواب میں فرمایا : سو جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے وہ ناصبی ہے ۔ (حق الیقین ازملا باقر مجلسی صفحہ ۶۸۸،چشتی)


(9) ناصبی وہ ہے جو غیر امیرالمومنین کو اس جناب پرفضیلت دے اور وہ ہے جو جبت و طاغوت صنمی قریش (حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم) کو امام و پیشوا جانے ۔ (اصلاح الرسوم صفحہ ۹۸)


(10) اصل نام فرقہ متخلفین کا ناصبی ہے دواعتبار پر ، اول یہ کہ ناصب عداوت اہل بیت ہیں ، وسرے ناصب خلیفہ بہ ناحق اور فرقہ نواصب جن کالقب اہل سنت و جماعت ہے ۔ (شمس الضحیٰ بجواب اظہار الہدیٰ صفحہ ۱۸۱)


محترم قارئینِ کرام : رافضی شیعوں کے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں مزید حوالے موجود ہیں مگر میرے خیال میں یہ دس حوالے ہی کافی ہیں ، یہ ثابت کرنے کے لئے کہ رافضیوں کی نظر میں تمام اہل سنت و جماعت ہی نواصب ہیں ۔ کیونکہ اہل سنت و جماعت کا اجماعی و متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان جنابِ على رضی اللہ عنہم سے افضل ہیں : علمائے اہلسنت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سب سے افضل و برتر ہیں ، ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ اور اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ، ان کے بعد عشرہ مبشرہ کے دیگر حضرات رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ، پھر اصحابِ بدر رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ، پھر باقی اصحابِ اُحد رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ان کے بعد بیعتِ رضوان والے اصحاب رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین اور ان کے بعد دیگر اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام لوگوں سے افضل ہیں ۔ (تاریخ الخلفاء مترجم اردو صفحہ نمبر 45 مطبوعہ نفیس اکیڈمی لاہور امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ)(تاریخ الخلفاء مترجم اردو صفحہ نمبر 45 مطبوعہ ممتاز اکیڈمی لاہور)


کسی کو ناصبی و رافضی کہنے سے پہلے ضرور سوچیں ۔ صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم سے محبت کرنے والے ، ان کا ادب و احترام کرنے والے ، ان کی شان میں قصیدے پڑھنے والے اہل سنت ، نہ تو رافضیوں کو قبول ہیں اور نہ ہی خارجیوں و ناصبیوں کو ، اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی یک طرفہ محبت سے دور رکھے جو کسی دوسرے پر تبرے کے باعث بنے آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Wednesday, 10 June 2026

پیر جامی گولڑوی صاحب اور صدیق اکبر و فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہما کے القاب

پیر جامی گولڑوی صاحب اور صدیق اکبر و فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہما کے القاب

محترم قارئینِ کرام : ہمارا یہ مضمون لکھنے کا مقصد صرف نظریاتِ اہلسنت و جماعت کا تحفظ ہے امید ہے احباب اسی نظر سے پڑھیںٰ گے ۔ پیر جامی گولڑوی صاحب نے اپنے اشعار میں صدیق اکبر کا لقب سیدنا مولی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کیا ہے ۔ اس پر اعتراض ہونے کے بعد وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اس کی حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ علیہ نے بھی اپنے اشعار میں حضرت غوث اعظم رحمہ اللہ علیہ کواپنے وقت کا صدیق اکبر فرمایا ہے ۔ لہٰذا اب غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کےلیے یہ لفظ استعمال کرنا جائز ہے ، تو حضرت سیدنا مولی علی رضی اللہ عنہ کےلیے یہ لقب استعمال کرنے میں کیا قباحت ہے ؟

جواباً عرض ہے کہ : صدیق اکبر کا لقب حضرت سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ (1) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جس بے مثال تصدیق کا شرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا ، وہ کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہوا ۔ (2) جب یہ لقب مطلقاً بولا جائے تو ذہن بلا تردد حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی کی طرف منتقل ہوتا ہے ۔ (3) ائمہ واکابر اہل سنت شروع سے اس لقب کو آپ رضی اللہ عنہ کےلیے ہی استعمال کرتے آئے ہیں ۔ پیر جامی صاحب نے اپنے ان اشعار میں واضح طور پر رافضی طرز بیان اختیار کیا ہے ، کیونکہ جس طرح روافض حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مخصوص القابات کی نفی کر کے ان کو حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ کےلیے ثابت کرتے ہیں اسی طرح کا انداز ان اشعار میں بھی پایا جاتا ہے ۔ رہا اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار سے استدلال ، تو وہ درست نہیں ، کیونکہ اعلی حضرت نے حضرت غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کو وصفی معنی کے اعتبار سے ، اپنے وقت کا صدیق اکبر ، کہا ہے ، یعنی آپ اپنے زمانے میں وصف صدق کے اعتبار سے اولیاء کے صدیق اکبر ہیں ۔ اس میں ، اپنے وقت ، کی قید موجود ہے ۔ اس کے بر خلاف پیر جامی صاحب نے ، صدیق اکبر ، کو مطلقاً حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بطور لقب خاص کیا ، بلکہ ، صدیق اکبر کون ہے ؟ ۔ جیسا اسلوب اختیار کر کے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس لقب کی نفی کا تاثر دیا ہے ، جو کہ اہل سنت کے مسلمہ منبج کے خلاف اور حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے افضل ثابت کرنے کی کوشش ہے ۔ مزید یہ کہ اب تک گولڑہ شریف والوں کی جانب سے یہ واضح وضاحت سامنے نہ آنا کہ ، صدیق اکبر ، حضرت سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی کا مخصوص لقب ہے ، ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ یہ طرز عمل اس شبے کو تقویت دیتا ہے کہ وہ اس معاملے میں رافضی اسلوب سے براءت ظاہر کرنے کے بجائے اسی طرز پر قائم ہیں ۔

صدیق اکبر کون ؟ ۔ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : اہلِ محشر جنت کے آٹھوں دروازوں سے یہ آواز سنیں گے : أَدْخُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ۔ (نور الابصار للشبلنجی صفحہ نمبر 23)
ترجمہ : صدیق اکبر ! جنت کے جس دروازے سے جی چاہے تشریف لائیں ۔

امام بدر الدین زرکشی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 794 ھجری لکھتے ہیں : بے شک حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ صدیق اکبر ہیں ۔ (البرھان فی علوم القرآن صفحہ ۱۵٦ مطبوعہ مکتبہ دارالتراث قاہرہ)(البرھان فی علوم القرآن جز اول صفحہ ۲۴۵ مطبوعہ مکتبہ دارالمعرفہ بیروت لبنان)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ صدیقِ اکبر ہیں اور سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ صدیقِ اصغر ، صدیق اکبر کا مقام اعلی صدیقیت سے بلند و بالا ہے ۔ نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض میں ہے : سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تخصیص اس لیے کہ وہ صدیق اکبر ہیں جو تمام لوگوں میں آگے ہیں کیونکہ انہوں نے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی وہ کسی کو حاصل نہیں اور یونہی سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا نام صدیق اصغر ہے جو ہرگز کفر سے ملتبس نہ ہوئے اور نہ ہی انہوں نے غیر اللہ کو سجدہ کیا باوجود یکہ وہ نابالغ تھے ۔ (نسیم الریاض فی شرح الشفا القسم الاول فی ثناء اللہ ۔ الخ ، الفصل الاول جلد ۱ صفحہ ۲۳۴،چشتی)(فتاوی رضویہ، جلد ۱۵ صفحہ ۶۸۰)

شیخ اکبرحضرت سیدنا محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موطن میں تشریف نہ رکھتے ہوں اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ  عنہ حاضر ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام پر صدیق قیام کریں گے کہ وہاں صدیق سے اعلی کوئی نہیں جو انہیں اس سے روکے ۔ وہ اس وقت کے صادق و حکیم ہیں ، اور جو ان کے سوا ہیں سب ان کے زیر حکم ۔ (الفتوحات المکیۃ الباب الثالث والسبعون جلد ۳ صفحہ ۴۴،چشتی)(فتاوی رضویہ جلد ۱۵ صفحہ ۶۸۰)

فتاوی رضویہ میں ہے : علماء فرماتے ہیں ، ابو بکر صدیق صدیق اکبر ہیں اور علی مرتضی صدیق اصغر ، صدیق اکبر کا مقام اعلی صدیقیت سے بلند و بالا ہے ۔ (آگے نسیم الریاض کے حوالہ سے ہے لیکن ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تخصیص اس لیے کہ وہ صدیق اکبر ہیں جو تمام لوگوں میں آگے ہیں کیونکہ انہوں نے جو حضور علیہ الصلواۃ والسلام کی تصدیق کی وہ کسی کو حاصل نہیں ۔ (فتاوی رضویہ رسالہ جزاء الله عد وہ بابائہ ختم النبوة جلد 15 صفحہ 681 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)

سخن رضا مطلب ھائے حدائق بخشش میں ہے : یا غوث اعظم آپ اپنے زمانہ میں با اعتبار اوصاف کے صدق میں صدیق اکبر ہیں اور سخاوت میں عثمان غنی اور عدل میں عدل فاروقی کے حامل اور علم و شجاعت میں شان حیدری کے درخشندہ نشان ہیں ۔ سخن رضا مطلب ھائے حدائق بخشش صفحہ 417 مطبوعہ مکتبہ دانیال)

صدیق اکبر و فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہما کون ؟ : ⏬

محترم قارئینِ کرام : صدیقِ اکبر حضرت سدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا بہت مشہور لقب ہے : صدیقِ اکبر ۔ یہ لقب آپ کو کہاں سے مِلا ؟ کس نے دیا ؟ حضرت ابوبکر صِدِّیق رضی اللہ عنہ کو یہ لقب اللہ پاک نے دیا ، حضرت جبریلِ امین علیہ السلام  نے آپ کو صِدِّیقِ اکبر کہہ کر پُکارا ، سرکارِ عالی وقار ، مکی مدنی تاجدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی آپ کو صِدِّیقِ اکبر کے مبارک لقب سے نوازا ۔ اب غور یہ کرنا ہے کہ صِدِّیْقِ اَکْبَر  کا معنیٰ کیا ہے ؟ ویسے صِدِّیق  کا معنیٰ ہوتا ہے : بہت سچا ۔ یقیناً حضرت صِدِّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ بہت سچّے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ صِدِّیق کا ایک معنیٰ ہے : تَصْدِیْق کرنے والا ۔ تَصْدِیق  کسے کہتے ہیں ؟ پختہ تَرِیْن یقین اور اعتقاد کو تَصْدِیق کہتے ہیں اور یہ تَصْدِیق کیا ہے ؟ تَصْدِیق ایمان ہے ۔ اِیْمَان کی تعریف ہے : ہُوَ التَّصْدِیْقُ بِمَا جَاءَ بِہٖ مُحَمَّد یعنی مُحَمَّدِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلیہ وَآلہٖ و َسَلّم ۔
ترجمہ : جو دِین لائے ، اس دِین کی تَصْدِیق کرنے کو ایمان کہتے ہیں ۔ (شرح العقائد النسفیہ صفحہ نمبر 273)

ایمان تَصْدِیق کا نام ہے اور صِدِّیق کا معنیٰ ہے : تَصْدِیق کرنے والا ۔ یعنی صِدِّیقِ اکبر  کا معنی ہو گا : اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ، آپ کے لائے ہوئے دِین پر سب سے بڑھ کر ایسا ایمان لانے والا ، جیسا ایمان کوئی نہ لایا ۔

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ ۔ ( سورہ زُمر آیت نمبر 33)
ترجمہ : اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی یہی ڈر والے ہیں ۔

حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ اور مفسرین کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ سچ لے کر تشریف لانے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور ا س کی تصدیق کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ سچ لے کر تشریف لانے والے سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور تصدیق کرنے والے سے تمام مومنین مراد ہیں ۔ سچ لے کر تشریف لانے والے اور تصدیق کرنے والے سے ایک پوری جماعت مراد ہے ، تشریف لانے والے انبیاءِ کرام علیہم السلام ہیں اور تصدیق کرنے والے سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی ۔ (تفسیر خازن جلد ۴ صفحہ ۵۵ - ۵۶،چشتی)(تفسیر کبیر جلد ۲٦ صفحہ ۲۷۹)(تفسیر مدارک جلد ۳ صفحہ ۱۸۰)

امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : أن المراد شخص واحد فالذی جاء بالصدق محمد ، والذی صدق بہ ہو أبو بکر ، وہذا القول مروی عن علی بن أبی طالب علیہ السلام وجماعۃ من المفسرین رضی اللہ عنہم ۔
ترجمہ : اس سے مراد ایک ہی ہستی ہیں ، تو جو سچی بات لے کر آئے وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور جس نے آپ کی تصدیق کی وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اور یہ روایت حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ اور مفسرین کرام رحمہم اللہ کی ایک بڑی جماعت سے منقول ہے ۔ (تفسیرِ کبیر سورہ زُمر آیت نمبر 33 جلد ۲٦ صفحہ ۲۷۹)(الدر المنثور ، روح البیان ، سورۃالزمر۔ 33)

شارح مسلم امام نووی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 676 ھ نے فرماتے ہیں : وأجمعت الأئمة على تسميته صديقًا. قال على بن أبى طالب ، رضى الله عنه : إن الله تعالى هو الذى سمى أبا بكر على لسان رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صديقًا، وسبب تسميته أنه بادر إلى تصديق رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ولازم الصدق ، فلم يقع منهم هناة ولا وقفة فى حال من الأحوال ۔ (تهذيب الأسماء و اللغات للنووی جز ثانی قسم اول صفحہ ۱۸۱ مطبوعہ دار الکتب العلمیة)
ترجمہ : امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لقب صدیق تھا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ابوبکر ہی وہ شخصیت ہیں ، جنہیں اللہ تعالی نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی صدیق کا لقب عطاء فرمایا ۔

حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ اس کی ایک وجہ یوں بیان کرتے ہیں : وسمی الصدہلیق لبداره إلي تصديق رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم في كل ماجاء به صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ آپ نے ہر معاملے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کر نے میں پہل کی اس لیے آ پ کا لقب صدیق رکھا گیا ۔ (الاستیعاب جلد 4 صفحہ 206،چشتی)

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ برسرِ منبر فرماتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام صدیق رکھا ۔ آپ حلفاً فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ آسمان سے ابوبکر کا نام صدیق نازل فرمایا ۔ (تاریخ الخلفا مترجم اردو صفحہ 145 مطبوعہ پروگریسو بکس  اردو بازار لاہور)

ایک دوسری وجہ یہ ذکر کی گئی ہے ۔ ام المومین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ شب معراج کے اگلے دن مشرکین مکہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور کہا : اپنے صاحب کی اب بھی تصدیق کرو گے ؟ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ راتوں رات بیت المقدس کی سیر کر آ ۓ ہیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق نے کہا :  بے شک آ پ نے سچ فرمایا ہے ۔ میں تو صبح و شام اس سے بھی اہم اور مشکل امور کی تصدیق کرتا ہوں ۔ اس واقعہ سے آ پ کا لقب صدیق مشہور ہو گیا ۔ (تاریخ الخلفا مترجم اردو صفحہ 144 مطبوعہ پروگریسو بکس  اردو بازار لاہور)

ابن سعد حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ کے غلام ابو وہب کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر معراج سے واپسی پر وادی طوی پہنچے ، تو آپ نے جبرئیل امین سے فرمایا : میری قوم اس واقعہ کی تصدیق نہیں کر ے گی ۔ جبرئیل امین نے کہا : يصدقك ابوبکر وھو الصدیق ۔ ابو بکر آپ کی تصدیق کریں گے ، اور وہ صدیق ہیں ۔ (الطبقات الکبریٰ جلد ۱  صفحہ ۱۸۳،چشتی)

عن عائشة رضي اللہ عنها قالت : لمّا اسري بالنّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم إلي المسجد الأ قصٰي أصبح يتحدّث النّاس بذالک فارتدّ ناس ممّن کان اٰمنوا به وصدّقوه وسعوا بذالک إلٰي أبي بکر رضي الله عنه فقالوا : هل لک إلٰي صاحبک يزعم أنّه أسري به اللّيلة إلٰي بيت المقدس؟ قال : أو قال ذٰلک؟ قالوا : نعم، قال : ’’لئن کان قال ذٰلک لقد صدق.‘‘ قالوا : أو تصدّق أنّه ذهب اللّيلة إلٰي بيت المقدس وجاء قبل أن يّصبح؟ قال : نعم، ’’إنّي لأصدّقه فيما هو أبعد من ذٰلک أصدّقه بخبر السّمآء في غدوة أو روحة‘‘ فلذٰلک سمّي أبو بکر’’الصّدّيق ۔
ترجمہ : امّ المؤمنین عائشہ صدِّیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ رضی اللہ عنہانے فرمایا : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد اقصیٰ کی طرف سیر کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح لوگوں کو اس کے بارے بیان فرمایا توکچھ ایسے لوگ بھی اس کے منکر ہو گئے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کر چکے تھے۔ وہ دوڑتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے : کیا آپ اپنے صاحب کی تصدیق کرتے ہیں جو یہ گمان کرتے ہیں کہ انہیں آج رات بیت المقدس تک سیر کرائی گئی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے ؟ انہوں نے کہا، ہاں ! تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، کیا آپ اُن کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ آج رات بیت المقدس تک گئے بھی ہیں اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہاں ! میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق اُس خبر کے بارے میں بھی کرتا ہوں جو اس سے بہت زیادہ بعید از قیاس ہے، میں تو صبح و شام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آسمانی خبروں کی بھی تصدیق کرتا ہوں ۔ پس اس تصدیق کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ الصدیق کے نام سے موسوم ہوئے ۔ (المستدرک جلد 3 صفحہ 65 رقم : 4407 يہ حديث صحيح الاسناد ہے)(عبدالرزاق، المصنف، 5 : 328،چشتی)(الجامع لاحکام القرآن، 1 : 283)(جامع البيان، 15 : 6)(تفسير القرآن العظيم، 3 : 12)(فضائل بيت المقدس، 1 : 83، رقم : 53)

عن أبي هريرة قال قال رسول اللہ صلي الله عليه وآله وسلم لجبريل ليلة أسري به إنّ قومي لا يصدّقونني فقال له جبريل يصدّقک أبوبکر وهو الصّدّيق ۔
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرئیل امین سے ارشاد فرمایا : اے جبرئیل! میری قوم (واقعہ معراج میں) میری تصدیق نہیں کرے گی ۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کی تصدیق کریں گے اور وہ صدیق ہیں ۔ (المعجم الاوسط، 7 : 166، رقم : 7173)(مجمع الزوائد، 9 : 41)(فضائل الصحابه، 1 : 140، رقم : 116،چشتی)(فضائل الصحابه، 1 : 367، رقم : 540)(الطبقات الکبريٰ، 1 : 215)(الطبقات الکبريٰ، 3 : 170)(الرياض النضرة، 1 : 405)

عن أمّ هاني قالت دخل عليّ رسول اللہ صلي الله عليه وآله وسلم بغلس و أنا علٰي فراشي فقال شعرت إنّي نمت اللّيلة في المسجد الحرام... و أبوبکر رضي الله عنه عنده يقول صدقت صدقت قالت نبعة، فسمعت رسول اللہ صلي الله عليه وآله وسلم يقول يومئذ : يا أبا بکر! إنّ اللہ قد سمّاک الصّدّيق ۔
ترجمہ : حضرت اُم ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح سویرے میرے گھر تشریف لائے جب کہ ابھی اندھیرا چھایا ہوا تھا اور میں اپنے بستر پر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات میں مسجد حرام میں سو رہا تھا (پھر آگے پورا واقعہ معراج بیان فرمایا) اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہنے لگے آپ نے سچ فرمایا! آپ نے سچ فرمایا! حضرت نبعہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دن ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’اے ابوبکر! بے شک اللہ رب العزت نے تیرا نام صدیق رکھا ہے ۔  (المعجم ابویعلیٰ ، 10 : 45، رقم : 9)(الفردوس بمأثور الخطاب، 5 : 307، رقم : 8271)(الاصابه، 8 : 137، رقم : 11800)(فضائل بيت المقدس مقدسی : 82، رقم : 52)

صدیق اکبر کون ؟ ۔ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : اہلِ محشر جنت کے آٹھوں دروازوں سے یہ آواز سنیں گے : أَدْخُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ۔ (نور الابصار للشبلنجی صفحہ نمبر 23)
ترجمہ : صدیق اکبر ! جنت کے جس دروازے سے جی چاہے تشریف لائیں ۔

شیخ اکبرحضرت سیدنا محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موطن میں تشریف نہ رکھتے ہوں اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ  عنہ حاضر ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام پر صدیق قیام کریں گے کہ وہاں صدیق سے اعلی کوئی نہیں جو انہیں اس سے روکے ۔ وہ اس وقت کے صادق و حکیم ہیں ، اور جو ان کے سوا ہیں سب ان کے زیر حکم ۔ (الفتوحات المکیۃ الباب الثالث والسبعون جلد ۳ صفحہ ۴۴،چشتی)(فتاوی رضویہ جلد ۱۵ صفحہ ۶۸۰)

امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ پرارشاد فرماتے ہیں : سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ صدیقِ اکبر ہیں اور سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ صدیقِ اصغر ، صدیق اکبر کا مقام اعلی صدیقیت سے بلند و بالا ہے ۔ نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض میں ہے : سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تخصیص اس لیے کہ وہ صدیق اکبر ہیں جو تمام لوگوں میں آگے ہیں کیونکہ انہوں نے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی وہ کسی کو حاصل نہیں اور یونہی سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا نام صدیق اصغر ہے جو ہرگز کفر سے ملتبس نہ ہوئے اور نہ ہی انہوں نے غیر اللہ کو سجدہ کیا باوجود یکہ وہ نابالغ تھے ۔ (نسیم الریاض فی شرح الشفا القسم الاول فی ثناء اللہ ۔ الخ ، الفصل الاول جلد ۱ صفحہ ۲۳۴،چشتی)(فتاوی رضویہ، جلد ۱۵ صفحہ ۶۸۰)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : صدیقیت ایک مرتبہ تلو نبوت ہے کہ اس کے اور نبوت کے بیچ میں کوئی مرتبہ نہیں مگر ایک مقام ادق واخفی کہ نصیبہ حضرت صدیق اکبر اکرم و اتقی رضی اللہ عنہ ہے تو اجناس و انواع واصناف فضائل وکمالات وبلندی درجات میں خصائص و ملزومات نبوت کے سوا صدیقین ہر عطیہ بہیہ کے لائق و اہل ہیں اگرچہ باہم ان میں تفاوت و تفاضل کثیرو وافر ہو ۔ (فتاوی رضویہ جلد ۱۵ صفحہ ۶۷۸،چشتی)

حضرت سیدنا امام باقر رضی اللہ عنہ جو حضرت ابوبکر کو صدیق نہ مانے وہ دنیا اور آخرت میں مردود القول ہے : ⏬

محترم قارئینِ کرام : شیعہ کے مجتہد عالم ابو الحسن علی بن عیسیٰ بن ابو الفتح الاربلی نے روایت کیا ہے کہ : عن عروة بن عبد الله قال : سألت ابا جعفر محمد بن علی علیهما السلام عن حلیة السیوف فقال : لا بأس به ، قد حلی ابوبکر الصدیق سیفه، قلت : فنقول: الصدیق؟ قال: فوثب و ثبة و استقبل القبلة و قال : نعم الصدیق ، نعم الصدیق ، نعم الصدیق فمن لم یقل له الصدیق فلا صدق الله له قولا فی الدنیا و لا فی الآخرة ۔
ترجمہ : عروہ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں حضرت سیدنا امام باقر ابوجعفر محمد بن علی بن حسین رضی اللہ عنہم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے استفسار کیا : مَا قَوْلُكَ فِيْ حُلْيَةِ السُّيُوْف ؟ یعنی تلوار کو آراستہ کرنے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ فرمایا : لَا بَأْسَ قَدْ حُلِىَ أَبُوْ بَكْر الصِّدِّيْقْ سَيْفَه ، یعنی اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ خود حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی تلوار کو آراستہ کیا ۔ میں نے کہا : آپ نے انہیں صدیق کہا ؟ یہ سننا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ جلال فرماتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور قبلے کی طرف منہ کر کے ارشاد فرمایا : ہاں ! وہ صدیق ہیں ، ہاں ! وہ صدیق ہیں ، ہاں ! وہ صدیق ہیں ۔ اور جو انہیں صدیق نہ کہے تو اللہ عزوجل اس کے قول کی تصدیق نہیں فرماتا نہ دنیا میں اور نہ ہی آخرت میں ۔ (فضائل الصحابۃ ومن فضائل عمر بن الخطاب من حديث أبي بكر بن مالك الرقم : ۶۵۵ جلد ۱ صفحہ ۴۱۹ ، ۴۲۰)(کشف الغمہ فی معرفۃ الائمہ جلد 2 صفحہ 360 شیعہ مذہب کی کتاب)(شیعہ کتاب احقاق الحق جلد ۱ صفحہ ۲۹ )

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے حضرت عبدالرحمان بن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کی ایک بیٹی تھی جس کا نام اسماء بنت عبدالرحمٰن بن حضرت ابوبکر صدیق تھا ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دوسرے بیٹے حضرت محمد بن ابوبکر صدیق تھے ان کا ایک بیٹا تھا قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق تھا ۔ یہ دونوں اسماء بنت عبدالرحمٰن اور قاسم بن محمد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پوتے اور پوتی کہلائے ۔ پھر ان دونوں پوتی اسماء بنت عبدالرحمٰن اور پوتے قاسم بن محمد کا آپس میں نکاح ہوا پھر اسماء بنت عبدالرحمٰن کے بطن سے قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق کی ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام ام فروہ رضی اللہ عنہا ہے ۔ اس ام فروہ کا نکاح سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے سیدنا حضرت امام محمد باقر بن امام زین العابدین رضی اللہ عنہما سے ہوا ۔ پھر اسی ام فروہ کے بطن سے سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام سیدنا حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ ہے ۔ یعنی سیدنا امام جعفر صادق کے نانا قاسم بن محمد بن ابوبکر اور نانی حضرت اسماء بنت عبدالرحمٰن دونوں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہم کے پوتے اور پوتی ہیں سیدنا امام جعفر صادق اسماء بنت عبدالحمٰن کی طرف سے حضرت ابوبکر صدیق کے پڑنواسے اور قاسم بن محمد بن ابوبکر کے طرف سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم کے پڑپوتے کہلاتے ہیں ۔ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے نانا اور نانی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پوتے اور پوتی ہیں ۔ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسبت دونوں کی طرف سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے ۔ یہی وجہ ہے جب کسی نے سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سنا ہے کہ آپ سیدنا صدیق اکبر کو برا بھلا کہتے ہیں ؟ آپ ارشاد فرمایا : ابوبکرن الصدیق جدی ھل یسب احد اباہ ۔ (احقاق الحق جلد 1 صفحہ 30،چشتی)
ترجمہ : حضرت ابوبکر میرے نانا ہیں کیا کوئی اپنے آباٶ اجداد کو گالی دینا پسند کرے گا ۔ اللہ مجھے کوئی مرتبہ اور عزت نہ بخشے اگر میں ابوبکر صدیق کو (عزت اور عظمت میں) مقدم نہ رکھوں ۔

قال ابو جعفر محمد الباقر لست بمنكر فضل ابي بكر ولست بمنكر فضل عمر ولكن ابابكر افضل من عمر ۔ (احتجاج طبرسي صفحہ 204)
ترجمہ : امام ابو جعفر صادق محمد باقر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ : میں ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت کا منکر نہیں اور نہ ہی عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت کا منکر ہوں ۔ ہاں لیکن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل ہیں ۔

سال رجل من المخالفين عن الامام الصادق عليه السلام وقال يا من رسول الله ما تقول في ابي بكر ومر فقال عليه السلام هما امامان عادلاان قاسطان كانا علي الحق وماتا عليه رحمهما الله يوم القيامة ) ( احقاق الحق صفحہ 1 مطبوعه 1203)
ترجمہ : مخالف گروہ کے ایک شخص نے امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے خلافت صدیق وعمر رضی اللہ عنھما کے متعلق سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ وہ دونوں امام عادل تھے ، مصنف تھے ، حق پر تھے اور حق پر انہوں نے وفات پائی ان دونوں پر قیامت تک اللہ کی رحمت نازل ہو ۔ (رضوان اللہ عنھم اجمعین)

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ابوبكر ن الصديق جدي هل يسب احد اباه لاقد مني الله ان لا اقدمه ۔
ترجمہ : حضرت ابو صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے پڑ نانا ہیں ۔ کیا کوئی شخص اپنے آباؤ اجداد کو سب وشتم کرنا پسند کرتا ہے ؟ اگر میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں گستاخی کروں توخدا مجھے کوئی شان اور عزت نہ دے ۔ (احقاق الحق صفحہ 7)

شیعہ کتب میں ہے کہ : امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ : ولدني الصديق مرتين ، میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اولاد میں دو طرح داخل ہوں ۔ (احقاق الحق صفحہ 7)(جلاء العیون صفحہ 248)(کشف الغمہ صفحہ 215 ، 222)(احتجاج طبرسی صفحہ 205)(کشف الغمہ جلد 2 صفحہ 374 شیعہ عالم)

صافی شرح اصول کافی صفحہ 214 پر امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا گیا ہےکہ : ومادرش ام فروہ اسماء دخت قاسم بن محمد بن ابی بکر بود ومادرام فروہ اسماء دختر عبدالرحمٰن بن ابی بکر بود ۔
ترجمہ : حضرت امام جعفر رضی اللہ عنہ کی والدہ ام فروہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پڑ پوتی (پوتے کی بیٹی) تھیں اور امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی نانی حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں جو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پوتی تھیں ۔

آپ کے القاب مبارکہ میں صدیق بہت مشہور ہے ، کیونکہ یہ مبارک لقب آپ کو کسی مخلوق نے نہیں دیا ، بلکہ خالق کائنات نے عطا فرمایا ، جیسا کہ سنن دیلمی میں حضرت ام ہانی رضی اللہ  عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یَا أَبَابَکْرٍ اِنَّ اللّٰہَ سَمَّاکَ الصَّدِّیقَ ۔
ترجمہ : اے ابوبکر! اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام صدیق رکھا ہے ۔ (کنز العمال حرف الفاء فضل ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ حدیث نمبر : 32615)

ابھی آپ نے امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان حق ترجمان سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صداقت کا تذکرہ سنا ، اب آئیے امام الاولیاء کی زبان فیض ترجمان سے سماعت فرمائیے ! حضرت مولائے کائنات سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے ارشاد فرمایا : لَاَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اسْمَ اَبِی بَکْرٍ مِنَ السَّمَاءِ الصِّدِّیقَ ۔
ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام صدیق آسمان سے نازل فرمایا ہے ۔ (مختصر تاریخ دمشق جلد 13 صفحہ 52)

آپ کو صدیق کے مبارک لقب سے اس لیے بھی یاد کیا جاتا ہے کیونکہ آپ نے بلا کسی تامل سب سے پہلے معجزۂ معراج کی برملا تصدیق کی ، جیسا کہ مستدرک علی الصحیحین اور تاریخ الخلفاء میں روایت ہے : عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت جاء المشرکون إلی أبی بکر فقالوا ہل لک إلی صاحبک یزعم أنہ أسری بہ اللیلۃ إلی بیت المقدس قال أو قال ذلک ؟ قالوا نعم فقال لقد صدق إنی لأصدقہ بأبعد من ذلک بخبر السماء غدوۃ وروحۃ فلذلک سمی الصدیق ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ شب معراج کے اگلے دن مشرکین مکہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور کہا ، اپنے صاحب کی اب بھی تصدیق کروگے ؟ ، انہوں نے دعوٰی کیا ہے "راتوں رات بیت المقدس کی سیر کرآئے ہیں ابوبکر صدیق نے کہا : بیشک آپ نے سچ فرمایا ہے ، میں تو صبح وشام اس سے بھی اہم امور کی تصدیق کرتا ہوں ۔ اس واقعہ سے آپ کا لقب صدیق مشہور ہوگیا ۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ 11،چشتی)

اسی طرح مختلف مواقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی فضیلت کا اظہار فرمایا ، اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اتھاہ وارفتگی اور اٹوٹ وابستگی کی بنیاد پر حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اپنے درمیان حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ہر اعتبار سے افضل و مقدم اور اولی و بہتر جانتے اور مانتے تھے ۔

فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کون ؟ : ⏬

محترم قارئینِ کرام : فاروق اسے کہتے ہیں جو حق و باطل کے درمیان فرق کر دے ۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الرؤف مناوی رحمة اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : قِیْلَ لِعُمَرَ فَارُوْقُ لِفُرْقَانِہٖ بَیْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ بِاِحْكَامٍ وَاِتْقَانٍ ، یعنی کہا گیا ہے کہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو فاروق اس لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے حق و باطل کے درمیان پختگی اور یقین کے ذریعے فرق فرمایا ۔ (فیض القدیر ،  جلد ۵ صفحہ ۵۸۸ شرح حدیث نمبر ۷۹۶۰)

حضرت نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز ہم نے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : اےامیر المومنین ہمیں حضر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے متعلق کچھ ارشاد فرمائیے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جنہیں اللہ نے فاروق لقب عطا فرمایا کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ نے حق کو باطل سے جدا کر دکھایا ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد نمبر ۴۴ صفحہ نمبر ۵۰،چشتی)

ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی گئی : حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو فاروق کا لقب کس نے دیا ؟ انہوں نے ارشاد فرمایا : نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیا ۔ (اسد الغابۃ جلد ۴ صفحہ ۱۶۲،چشتی)

حضرت جبریل امین علیہ السلام نے فرمایا : زمین میں ان کا نام عمر اور آسمانوں میں فاروق ہے (رضی اللہ عنہ) ۔ (ریاض النضرۃ جلد ۱ صفحہ ۲۷۳)

ایک روایت کے مطابق آپ جب اسلام لائے تو بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں عرض کی : اب ہم چھپ کرعبادت نہیں کریں گے اور پھر تمام مسلمانوں نے کعبۃ اللہ شریف میں جا کر نماز ادا کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو فاروق کا لقب عطا فرمایا ۔ (تاریخ الخلفا صفحہ ۹۰،چشتی)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو فاروق کیوں کہا جاتا ہے ؟ اِرشاد فرمایا :  حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ مجھ سے تین روز قبل اِسلام لائے ۔ اللہ نے میرا سینہ اِسلام کےلیے کھول دیا اور میں بے ساختہ پکار اُٹھا : اَللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ لَہُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کے ہیں سب اچھے نام ۔ اس وقت ساری روئے زمین پر نبی کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بڑھ کر کوئی شخصیت میرے لیے محبوب نہ تھی ۔ میں   نے پوچھا : اللہ تعالیٰ کے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کہاں تشریف فرماہیں ؟ میری ہمشیرہ نے کہا : دارِ اَرقم بن ابی اَرقم میں جو صفا پہاڑ ی کے نزدیک ہے ۔ حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گھر کے اندر صحن میں اور نبی کریم سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آگے کمرے میں تشریف فرما تھے ۔میں نے دروازہ پر دستک دی تو میری آمد پر سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوگئے ۔حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ بولے : کیا بات ہے ؟ وہ کہنے لگے : عمر آگیا ہے ۔ یہ سن کر خود نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  باہر تشریف لے آئےاور جیسے ہی میں اندر داخل ہوا میرا گریبان پکڑا اور زور سے جھنجھوڑ کر فرمایا : عمر ! تم باز نہیں آٶ گے تو میں بے ساختہ پکار اُٹھا : اَشْھَدُاَن لَّا اِلٰہَ اِلَّا  اللہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہ ، یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ یہ سن کر دارِ اَرقم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ اس کی آواز کعبۃ اللہ شریف میں   سنی گئی ۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا حیات اور موت دونوں صورتوں میں ہم حق پر نہیں ؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : کیوں نہیں ، اللہ کی قسم ! تم لوگ حق پر ہو ، زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی ۔ میں نے عرض کی : یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! پھر ہم چھپ چھپ کر کیوں   رہ رہے ہیں ؟ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہم ضرور باہر نکلیں گے ۔  چنانچہ ہم نبی کرہم سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو اس طرح باہر لے آئے کہ ہماری دو صفیں تھیں ، اگلی صف میں حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ اور پچھلی صف مِیں   مَیں تھا اور میری حالت یہ تھی کہ میرے اوپر آٹے جیسا غبار تھا ۔ ہم مسجدِ حرام میں داخل ہوئے تو کفار قریش نے ایک نظر مجھے اور دوسری نظر حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان پر ایسا خوف  طاری ہوا جو اس سے قبل کبھی نہ ہوا تھا ۔ اس دن نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے میرا نام فاروق رکھ دیا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے سبب سے حق و باطل میں امتیاز فرمادیا ۔ (حلیۃ الاولیاء ،  عمر بن الخطاب ،  ج۱ ،  ص۷۵ ،  الرقم:  ۹۳،چشتی)

حضرت ابو عمرو و ذکوان علیہما الرحمہ نے اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : مَنْ سَمَّی عُمَرَ الْفَارُوْقَ ؟ ، یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فاروق کا لقب کس نے دیا ؟ فرمایا : ،،اَلنَّبِیُّ،، یعنی غیب کی خبریں دینے والے (نبی ) نے ۔ (اسد الغابۃ ،  عمر بن الخطاب ،  ج۴ ،  ص۱۶۲)

حضرت امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک منافق اور ایک یہودی کے مابین جھگڑا ہوگیا ۔ یہودی نے کہا : فیصلے کےلیے تمہارے نبی محمد بن عبداللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس چلتے ہیں ۔ منافق بولا : نہیں بلکہ یہودیوں کے سردار کعب بن اشرف کے پاس جانا چاہیے ۔ یہود ی نے یہ بات نہ مانی اور نبی کریم ، صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس چلا آیا اور بارگاہِ رسالت میں پہنچ کر سارا ماجرا بیان کردیا ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہودی کے حق میں فیصلہ کردیا ۔ جب دونوں باہر آئے تو منافق کہنے لگا : عمر بن خطاب کے پاس چلتے ہیں ۔ دونوں حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچ گئے اور سارا ماجرا بیان کردیا اور یہودی نے یہ بھی وضاحت کردی کہ ہمارے اس جھگڑے کا فیصلہ آپ کے نبی محمد بن عبد اللہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے حق میں کر دیا ہے اور اس فیصلے کے بعد یہ شخص آپ کے پاس آنے پر اصرار کرنے لگا تو ہم یہاں آگئے ۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے جب یہ سارا معاملہ سنا تو ارشاد فرمایا : تم دونوں ذرا یہیں ٹھہرو ، میں ابھی آتا ہوں ۔ آپ اندرتشریف لے گئے اور تلوار نیام سے باہر نکالتے ہوئے واپس آئے اور فوراً اس منافق کا سر تن سے جدا کر دیا اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا : ھٰکَذَا اَقْضِیْ بَیْنَ مَنْ لَمْ یَرْضَ بِقَضَاءِ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ ، یعنی جو اللہ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فیصلے سے راضی نہیں میں اس کا فیصلہ یوں   کروں گا ۔ (انوار الحرمین علی تفسیر الجلالین ،  پ ۵ النساء :  ۵۹ ، ج۱ ص۱۴،چشتی)(تفسیر مدارک پ ۵ النساء :  ۵۹ ص۲۳۴)

حضرت عبد اللہ  بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا : میں مسجد میں   بیٹھا جبریل امین سے باتیں کرر ہا تھا کہ اچانک عمر بن خطاب آگئے ۔ جبریل امین نے کہا : یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا یہ آپ کے بھائی عمر تو نہیں ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ اور اے جبریل کیا زمین کی طرح آسمانوں میں بھی ان کا کوئی خاص نام ہے ؟ جبریل بولے : اِنَّ اِسْمَہُ فِی السَّمَاءِ اَشْھَرُ مِنْ اِسْمِہٖ فِی الْاَرْضِ اِسْمُہُ فِی السَّمَاءِ فَارُوْقٌ وَ فِی الْاَرْضِ عُمَرُ ، یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آسمانوں میں جو ان کا نام ہے وہ زمین کی نسبت زیادہ مشہور ہے ،  زمین میں ان کا نام عمر ہے اور آسمانوں میں   ان کا نام فاروق ہے ۔ (ریاض النضرۃ  جلد ۱  صفحہ ۲۷۳)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : فِی الْجَنَّۃِ  شَجَرَۃٌ مَا عَلَیْھَا وَرَقَۃٌ اِلَّا مَكْتُوْبٌ عَلَيْھَا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ اَبُوْ بَكْرِ نِ الصِّدِّیْقُ عُمَرُ الْفَارُوْقُ عُثْمَانُ ذُوْ النُّورَیْنِ ، یعنی جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر پتے پر یہ لکھا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ کے رسول ہیں ، ابوبکر صدیق ہیں ، عمر فاروق ہیں ، عثمان ذوالنورین ہیں ۔ (معجم کبیر مجاھد  عن ابن عباس رضی اللہ عنہما  جلد ۱۱ صفحہ ۶۳  حدیث : ۱۱۰۹۳)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قیامت کے دن اپنا اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مقام بیان فرمایا ۔ پھر ارشاد فرمایا : قیامت میں یوں ندا آئے گی عمر فاروق کہاں ہیں ؟ چنانچہ انہیں حاضر کیا جائے گا تو   اللہ ارشاد فرمائے گا : اے ابو حفص ! تمہیں   مبارک ہو ، یہ ہے تمہارا اعمال نامہ ، چاہو تو اسے پڑھ لو یا نہ پڑھو کیونکہ میں نے تمہاری مغفرت فرمادی ہے ۔ (ریاض النضرۃ جلد ۱ صفحہ ۲۷۳،چشتی)

فارق کا معنی ہے فرق کرنے والا قطع نظر اس کے کہ وہ حق و باطل دونوں میں فرق کرے یا کوئی سی بھی دو اشیاء میں فرق کرے ۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو بھی اس لیے فارق کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے جس طرح حق و باطل کے درمیان فرق فرمایا اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافتِ راشدہ میں ہر ہر شے کو اس کی متبادل اشیاء سے جدا کر کے بالکل واضح کردیا ۔

امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں  : ⏬

فارق حق وباطل امام الھدی
تیغ مسلول شدت پہ لاکھوں   سلام

شرح : حق کوباطل وگمراہی سے جدا کرنے اور ہدایت دینے والے امام برحق حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اس تلوار کی مثل ہیں   جو اسلام کی حمایت میں سختی سے بلند کی جاتی ہے آپ رضی اللہ عنہ پر لاکھوں سلام ہوں  ۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ جب اسلام لے آئے تو رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں  عرض کی کہ : یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اب ہم چھپ کر نماز وغیرہ ادا نہیں کریں گے ۔ لہٰذا تمام مسلمانوں نے کعبۃ اللہ شریف میں جا کر نماز ادا کی تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حق کو باطل سے جدا کرنے کے سبب آپ کو فاروق لقب عطا فرمایا ۔ (تاریخ الخلفاء  صفحہ ۹۰،چشتی)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ہدایت کا راستہ دکھایا اور کفر و شرک کی گمراہیوں   کے خلاف اور دین اسلام کی روشنیوں و رعنائیوں کی حمایت میں سختی سے تلوار بلند فرمائی جس سے چہار سو اسلام کا بول بالا ہوگیا ۔ اعلی حضرت رحمة اللہ علیہ  نے ان ہی تمام واقعات کی طرف اشارہ فرمایا ہے :

ترجمانِ نبی ہم زبانِ نبی
جانِ شانِ عدالت پہ لاکھوں سلام

شرح : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ہم زبان ہیں   کہ کئی بار آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے سنے بغیر کوئی بات کہی اور وہ بعینہ ویسی ہی نکلی جیسا نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا تھا ۔ اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ترجمان ہیں کہ کوئی مسئلہ بیان فرمایا اور بعد میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جب اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ کو نب کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بعینہ وہی حدیث مبارکہ ملی جیسا آپ رضی اللہ عنہ نے مسئلہ بیان فرمایا تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہ سے عدل و انصاف کی روح کو شان و شوکت حاصل ہوئی بلکہ اپنے خلافت میں ایسا عدل و انصاف قائم فرمایا جو قیامت تک آنے والے حکمرانوں کےلیے مشعل راہ ہے ، آپ رضی اللہ عنہ پر لاکھوں سلام ہوں  ۔

فاروقی کا مطلب ہے فاروق والا ۔ جس شخص کا سلسلۂ نسب امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہو اسے فاروقی کہتے ہیں جس طرح کسی کا سلسلۂ نسب امیر المؤمنین خلیفہ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہو تو اسے صدیقی کہتے ہیں ۔

فاروقِ اعظم : ⏬

نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہر صحابی رضی اللہ عنہ کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ حق و باطل کے درمیان فارق  یعنی فرق کرنے والا ہے ، لیکن امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو فاروقِ اعظم  اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  سے زیادہ اس فریضے کو سرانجام دیا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ رضی اللہ عنہ کی حق و باطل کے درمیان یہ فرق کرنے کی صلاحیت بارگاہِ رسالت سے خاص طور پر عطا ہوئی تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ جس دن اسلام لائے اسی دن آپ نے مسلمانوں کے ساتھ اعلانیہ کعبۃ اللہ شریف میں نماز ادا کی اور طواف بیت اللہ بھی کیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ : اس دن نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے خود میرا نام فاروق رکھ دیا ،  کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے سبب سے حق و باطل میں امتیاز فرمادیا ۔ (حلیۃ الاولیاء عمر بن الخطاب  جلد نمبر ۱ صفحہ نمبر ۷۵ الرقم :  ۹۳) ۔ اللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں اور فتنہ پروروں کے شر و فتنہ سے بچاۓ آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔












































روایت وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ، لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ پر ایک تحقیقی نظر

روایت وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ، لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ پر ایک تحقیقی نظر محترم قارئینِ کرام : یہ عاجز موضوع پر لکھنا...