داڑھی کی مقدار و شرعی حیثیت اور جدت پسند مغرب کے پیروکار اسکالرز کے پیروکاروں کو دعوتِ فکر
محترم قارئینِ کرام : شرعاً ایک مشت تک داڑھی بڑھانا واجب ہے چونکہ اس کا وجوب سنت سے ہے اس لیے عام طور پر لوگ اسے سنت کہہ دیتے ہیں در مختار میں ہے یحرم علی الرجل قطع لحیتہ ۔ یعنی مرد کو داڑھی منڈانا حرام ہے اور صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : داڑھی بڑھانا سنن انبیائے سابقین علیہم السلام سے ہے منڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے ۔ (بہار شریعت جلد 3 حصہ شانزدہم صفحہ نمبر 585 مطبوعہ مکتبة المدینہ کراچی)
داڑھی منڈے شخص کی بیعت کرنا جائز نہیں اگر کسی نے کرلی ہو تو اس بیعت کو توڑدے ۔ ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے ۔ جیسا کہ بخاری ، مسلم ، ابوداؤد ، ترمذی ودیگر کتبِ احادیث میں ہے : ”والنظم للاول“ عن ابن عمرعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال خالفوا المشرکین وفروا اللحی وأحفوا الشوارب وکان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل أخذہ ۔
ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کی مخالفت کرو داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی مُٹھی میں لیتے اور جومٹھی سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے ۔ (صحیح بخاری صفحہ 1091 حدیث نمبر 5893 دار الکتب العلمیۃ بیروت)
اسلام میں ایک مٹھی داڑھی رکھنا واجب ہے ، اور بالکل کٹوانا یا ایک مٹھی سے کم کروانا، دونوں کام شرعاً ناجائز و گناہ ہیں ۔ اس کا ثبوت قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملتا ہے ، خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے داڑھی بڑھانے کا حکم فرمایا ، اور صحابہ کرام علیہم الرضوان نےاپنے عمل سے اس کی تفسیر ایک مٹھی تک کردی، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل مبارک سے بھی یہی تفسیر ہوتی ہے ، وہ یوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل مبارک ایک مٹھی داڑھی رکھنے کا تھا ، اور روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی مبارک کو چوڑائی اور لمبائی میں کاٹتے تھے ، تو اس سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مٹھی سے زائد ہی کاٹتے تھے ، کبھی مٹھی سے کم نہیں فرمایا ۔ اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں فرمایا ہے کہ ان کا حکم مانا جائے اور ان کی اطاعت کی جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے داڑھی شریف رکھنے کا حکم فرمایا ہے ۔ چنانچہ اللہ عزوجل کا ارشاد مبارک ہے : وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۚ ۔ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ ۔
ترجمہ : ر جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔ (سورۃ الحشر آیت نمبر 7)
اور ایک مقام پر اللہ عزوجل کا ارشاد مبارک ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۔
ترجمہ : اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں ۔ (سورۃ النساء آیت نمبر 59)
اللہ عزوجل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور طریقہ کو اپنانے کا حکم فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہمیشہ داڑھی شریف رکھنا ہے ۔ اللہ عزوجل کا ارشاد مبارک ہے : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًا ۔
ترجمہ : بیشک تمہیں رسولُ الله کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ الله اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور الله کو بہت یاد کرے ۔ (سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 21)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ داڑھی شریف رکھی ۔ صحیح مسلم میں ہے : عن سماك أنه سمع جابر بن سمرة يقول : كان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم .... كثير شعر اللحية ۔
ترجمہ : حضرت سماک سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی کے بال بہت زیادہ تھے ۔ (صحیح مسلم صفحہ نمبر 916 حدیث نمبر 2344 دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
داڑھی کم از کم ایک مٹھی رکھنا واجب ہے اور کتروا کر ایک مٹھی سے کم کرنا ناجائز گناہ ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مطلقا داڑھی پڑھانے کا حکم ارشاد فرمایا ہے ، صحیح بخاری میں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انهكوا الشوارب ، وأعفوا اللحى ۔
ترجمہ : مونچھوں کو خوب پست کرو اور داڑھیوں کو بڑھاؤ ۔ (صحیح بخاری صفحہ 1091 حدیث نمبر 5893 دار الکتب العلمیۃ بیروت)
دو جلیل القدیر صحابہ کرام ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مٹھی سے زائد داڑھی کاٹ کر اس مجمل کی تفسیر کر دی کہ احادیث میں جو داڑھی بڑھانے کا امر فرمایا گیا ، وہ کم از کم ایک مٹھی تک ہے ۔ سنن ابو داؤد میں مروان بن سالم سے مروی ہے ، فرماتے ہیں : رأيت ابن عمر يقبض على لحيته ، فيقطع ما زاد على الكف ۔
ترجمہ : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے ، پھر جو بال مٹھی سے زائد ہوتے انہیں کاٹ دیتے ۔ (سنن ابی داؤد حدیث نمبر 2357 صفحہ 441 مطبوعہ بیروت)
یہ حدیث پاک صحیح بخاری میں ان الفاظ کے ساتھ ہے : عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : خالفوا المشركين : وفروا اللحى وأحفوا الشوارب ، وكان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض على لحيته ، فما فضل أخذه ۔
ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرکین کی مخالفت کرو ، داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں خوب پست کرو ۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے ، پھر جو بال مٹھی سے زائد ہوتے انہیں کاٹ دیتے ۔ (صحیح بخاری صفحہ 1091 رقم الحدیث : 5892 دار الکتب العلمیۃ بيروت)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے : كان ابو هريرة يقبض على لحيته، ثم يأخذ ما فضل عن القبضة ۔
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے ، پھر جو بال مٹھی سے زائد ہوتے انہیں کاٹ دیتے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد 13 صفحہ 112 حدیث نمبر 25992 مطبوعہ شرکہ دار القبلہ)
یہ بات ذہن نشین رہے کہ مقدار کا بیان غیر قیاسی ہے ، یعنی قیاس و عقل سے بیان نہیں ہو سکتا ، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایسا قول یا فعل جو غیر قیاسی ہو ، حدیث مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے ، گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ داڑھی کو بڑھاؤ اور دوسرے مقام پر اس کی تفسیر کر دی کہ یہ بڑھانے کا حکم ایک مٹھی تک ہے ، بلکہ یہ ایک مٹھی سے زائد کو کم کرنا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے ، سنن ترمذى ميں ہے : أن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كان يأخذ من لحيته من عرضها وطولها ۔
ترجمہ : بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی مبارک کی چوڑائی اور لمبائی سے کچھ بال تراش لیا کرتے تھے ۔ (سنن ترمذى صفحہ 769 حدیث نمبر 2762 دار الکتب العلمیۃ بیروت،چشتی)
ہدایہ وفتح القدیرمیں ہے : (وھو) ای القدرالمسنون فی اللحیۃ (القبضۃ) ۔۔ قال فی النھایۃ : وماوراء ذلک یجب قطعہ ھکذا عن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہ کان یاخذ من اللحیۃ من طولھا و عرضھا ۔
ترجمہ : داڑھی میں سنت مقدار ایک مٹھی ہے ۔ نہایہ میں فرمایا : اور جو اس سے زائد ہو ، اس کا کاٹنا واجب ہے ، اسی طرح اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داڑھی مبارک کو لمبائی اور چوڑائی سے کچھ کاٹ لیاکرتے تھے ۔ (فتح القدیر کتاب الصوم جلد 2 صفحہ 351 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان،چشتی)
حاصل یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گویا کہ ایک مٹھی داڑھی رکھنے کا امر ارشاد فرمایا اور ، الامر للوجوب ، یعنی امر وجوب کےلیے آتا ہے ۔ فتح القدیر میں ہے : وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد ۔
ترجمہ : اور رہی داڑھی کو ایک مٹھی سے کم کرنا ، جیسا کہ بعض مغربی علاقوں کے لوگ اور مخنث مرد ایسا کرتے ہیں ، تو اسے کسی نے بھی جائز قرار نہیں دیا ۔ (فتح القدیر جلد 2 صفحہ 352 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
فتح القدیر ، غنیۃ ، بحرالرائق ، حاشیہ طحطاوی علی المراقی ، درمختار اور درر شرح غرر وغیرہ کتبِ فقہ میں ہے : ”والنظم للآخر“وأما الأخذ من اللحیۃ وھی دون القبضۃ کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد وأخذ کلھا فعل مجوس الأعاجم والیھود والھنود وبعض أجناس الإفرنج ۔
ترجمہ : بعض مغربی اور ہیجڑے لوگوں کی طرح داڑھی کاٹ کر ایک مٹھی سے کم کردینے کو کسی فقیہ نے بھی جائز نہیں کہا اور داڑھی مکمل کاٹ دینا عجمی مجوسیوں ، یہودیوں ،ہندؤوں اور بعض قسم کے انگریزوں کا طریقہ ہے ۔ (درر شرح غرر کتاب الصیام فصل حامل او مرضع خافت جلد 1 صفحہ 208 داراحیاء الکتب العربیہ بیروت،چشتی)
اور طحطاوی صفحہ نمبر ٤١۱ میں ہے : واللفظ للطحاوی الاخذ من اللحیت و ھو دون ذلک (ای القدر المسنون و ھو القبضہ) کما یفعلہ بعض المغاربت و مخنثت الرجال لم یجہ احد اخذ کلھا فعل یھود الھند و مجوس الاعاجم ۔
ترجمہ : داڑھی جبکہ ایک مشت سے کم ہو تو اس کاٹنا جس طرح بعض مغربی اور زنانے زنخے کرتے ہیں کسی کے نزدیک حلال نہیں ۔ اور کل داڑھی کا صفایا کرنا یہ کام تو ہندوستان کے یہودیوں اور ایران کے مجوسیوں کا ہے ۔
مسلمان مردوں کےلیے داڑھی ایک مشت (مٹھی ، چارانگل) رکھنا واجب ہے ۔ معاذ اللہ ! پوری ہی داڑھی منڈا دینا یا ایک مٹھی سے کم کروانا دونوں ہی کام حرام و گناہ ہیں اور ایسا کرنے والا فاسق معلن ہے ۔ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق پیر بنانے کی شرائط میں سے ایک بنیادی شرط اس کا فاسقِ معلن نہ ہونا بھی ہے ، لہٰذا داڑھی منڈے شخص کی بیعت کرنا ، جائز نہیں اگر کسی نے کرلی ہو تو اس بیعت کو توڑدے ۔
ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے ۔ جیسا کہ بخاری ، مسلم ، ابوداؤد ، ترمذی و دیگر کتبِ احادیث میں ہے : والنظم للاول ، عن ابن عمرعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال خالفوا المشرکین وفروا اللحی وأحفوا الشوارب وکان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل أخذہ ۔
ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سےروایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا مشرکین کی مخالفت کرو داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی مُٹھی میں لیتے اور جومٹھی سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے ۔ (صحیح البخاری کتاب اللباس باب تقلیم الاظفار صفحہ 1486 حدیث نمبر 5892 مطبوعہ دارِ ابن کثیر دمشق ، بیروت)
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ، أَحْفُوا الشَّوَارِبَ ، وَأَوْفُوا اللِّحَى ۔
ترجمہ : عمر بن محمد نے نافع علیہم الرحمہ کے حوالے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرکوں کی مخالفت کرو ، مونچھیں اچھی طرح تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ ۔ (صحيح مسلم كتاب الطهارة صفحہ 146 حدیث نمبر 259 مطبوعہ دارالفکر بیروت)(صحيح مسلم كتاب الطهارة صفحہ 129 حدیث نمبر 259 مطبوعہ بیت الافکار الدولیہ الریاض)
احادیثِ مذکورہ میں اعفوا ، ارخو ا ، اور اوفروا ، امر کا صیغہ ہے جس کا مقتضیٰ وجوب ہے اور یہاں وجوب سے پھیرنے والا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے ۔ لہٰذا داڑھی بڑھانا واجب ہے ۔ اگرچہ احادیث مذکورہ میں داڑھی بڑھانے کا حکم دیاگیا ہے لیکن داڑھی بڑھانے کی مقدار مجہول ہے ۔ ان احادیث میں اس طرح داڑھی بڑھانا مراد نہیں ہے کہ داڑھی کو بالکلیہ تراشا نہ جائے ۔ اس لیے کہ داڑھی بہت زیادہ دراز ہونے کے بعد بد نما ہو جاتی ہے اور اس سے چہرہ کا حسن ختم ہو جاتا ہے ۔ حالاں کہ داڑھی چہرہ کا جما ل ہے ۔
البحرالرائق میں ہے : لان اللحیۃ فی اوانھا جمال فیلزمہ منہ کما ل الدیۃ کما لو قطع الاذنین الشاخصین و الدلیل علیٰ انہ جمال قولہ علیہ الصلوٰۃ و السلام: ان للہ ملٰئکۃ تسبیحھم ”سبحٰن من زین الرجال باللحاء والنساء بالقدود و الذوائب ۔
ترجمہ : اس لیے کہ داڑھی اپنے وقت میں جما ل ہے ۔ پس اس کو کاٹنے سے پوری دیت لازم آئے گی جیسا کہ اگر دونوں کان کی لو کاٹ دی جائے ۔ داڑھی کے جمال ہونے پر دلیل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جن کی تسبیح یہ ہے ۔ اس ذات کےلیے پاکی ہے جس نے مردوں کو داڑھیوں سے اور عورتوں کو بال کی چوٹی اور گیسو سے مزین فرمایا ۔
اگر چہ مذکورہ احادیثِ مبارکہ میں داڑھی بڑھانے کی مقدار مجہول ہے لیکن اس کا بیان اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا فعل ہے ۔ کیوں کہ احادیثِ مبارکہ سے یہ بات ثابت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم داڑھی تراشتے تھے ۔ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کبھی بھی داڑھی تراش کر ایک مشت سے کم نہیں کیا ہے ۔ پس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ فعل احادیث مذکورہ میں داڑھی بڑھانے کی اجمالی مقدار کا بیان ہے ۔
مواھب الدنیہ میں مذکور ہے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی داڑھی مبارک سینہ انور تک دراز تھی ۔
شرعۃ الاسلام میں ہے : کان یاخذ لحیتہ طولا و عرضا علیٰ قدر القبضۃ ۔
ترجمہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم داڑھی مبارک کو طول اور عرض میں قبضہ کی مقدار تراشتے تھے ۔
مصنف ابن ابو شیبہ میں حضرت ابو زرعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : کان ابو ھریرۃ یقبض علیٰ لحیتہ ثم یاخذ ما فضل عن القبضۃ ۔
ترجمہ : حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے تھے اور مٹھی سے زائد داڑھی کا کاٹ دیتے تھے ۔
بخاری شریف میں ہے : کان ابن عمر اذا حج او اعتمر قبض علیٰ لحیتہ فما فضل اخذ منہ ۔
ترجمہ : حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو اپنی مٹھی میں پکڑتے اور مشت سے زائد داڑھی کو کاٹ دیتے تھے ۔
علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مذکورہ فعل کو داڑھی بڑھانے کے خلاف قرینہ قرار دیا ہے جو کہ اُن کا تساہل ہے ۔ اس لیے کہ ان کے قول سے لازم آتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم داڑھی نہیں بڑھایا کرتے تھے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے قول ”اعفوا اللحیۃ“ ”اوفروا اللحیۃ“ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو داڑھی بڑھانے کا حکم دیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود داڑھی نہیں بڑھاٸی اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے داڑھی بڑھاٸی ۔
علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ کا فقہائے کرام کے قول ”والسنۃ فیہ القبضۃ“ اور اس جیسی عبارت سے مشت بھر داڑھی رکھنے کو سنتِ غیر مؤکدہ ہونے پر استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔ اس لیے کہ اس عبارت کا تعلق ایک مشت سے زائد داڑھی کو کاٹنے کے مسنون ہونے سے ہے ۔ نہ کہ ایک مشت داڑھی رکھنے کے مسنون ہونے سے ہے جیسا کی اس پر فقہائے کرام کی عبارت دلالت کر رہی ہے : ⬇
در مختار میں ہے : ولا باس بنتف الشیب و اخذ اطراف اللحیۃ ،، یعنی سفید بال کو اکھاڑنے اور داڑھی کے اطراف کو تراشنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ داڑھی کے اطراف کو کتنی مقدار میں تراشنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اس کوصاحبِ درمختار نے اپنے قول ”والسنۃ فیہ القبضۃ“ سے واضح کیا ہے ۔
علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ ”و السنۃ فیہ القبضۃ“ کی تشریح میں لکھتے ہیں : و ھو ان یقبض الرجل لحیتۃ فما زاد علیٰ قبضۃ قطعہ کذ ا ذکرہ محمد فی الآثار عن الاما م وقال بہ ناخذ ۔
ترجمہ : و السنۃ فیہ القبضۃ یہ ہے کہ آدمی اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑے اور جو داڑھی مٹھی سے زائد ہے اس کو کاٹ دے ۔
اما م محمد رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الآثار میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے اسی طرح ذکر کیا ہے اور ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں ۔ علامہ طحطاوی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے کہ مسنون ہونے کا تعلق ایک مشت داڑھی کے رکھنے سے نہیں ہے بلکہ ایک مشت سے زائد داڑھی کو تراشنے سے ہے ۔
الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے : اما اللحیۃ قد ذکر محمد رحمہ اللہ تعالیٰ فی الآثار عن الامام ان السنۃ ان یقطع مازاد علی قبضۃ یدہ ۔
ترجمہ : رہی داڑھی تو امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الآثار میں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے ذکر کیا ہے کہ ایک مشت سے زائد داڑھی کو کاٹنا سنت ہے ۔ فتاویٰ عالمگیری کی عبارت سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے کہ مسنون ہونے کو تعلق ایک مشت سے زائد داڑھی کو کاٹنے سے ہے نہ کہ ایک مشت دارھی رکھنے سے ہے ۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے : والسنۃ فیہ القبضۃ وھو ان یقبض الرجل لحیتہ فان زاد منھا علیٰ قبضۃ قطعہ کذا ذکرہ محمد فی کتاب الآثار عن ابی حنیفۃ وقال بہ ناخذکذا فی محیط السرخسی ۔
ترجمہ : دارھی میں مسنون ایک مشت ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑے اور اس کے مشت جو داڑھی زائد ہے اس کو کاٹ دے ۔ اسی طرح امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الآثار میں ذکر کیا ہے ۔ اور کہا ہے کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں ۔ ایسا ہی محیط السرخسی میں ہے ۔
چوں کہ ایک مشت سے زائد بڑھی ہوئی داڑھی کو کاٹنے کے متعلق فقہائے کرام کا اختلاف ہے کہ بعض فقہائے کرام نے ایک مشت سے زائد بڑھی ہوئی داڑھی کے کاٹنے کو واجب قرار دیا ہے ، بعض نے مکروہ لکھاہے ، اور بعض نے حرام کہا ہے ۔ فقہائے احناف کے نزدیک مختار یہ ہے کہ ایک مشت سے زائد بڑھی ہوئی داڑھی کا کاٹنا مسنون ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک مشت سے زائد بڑھی ہوئی داڑھی کو کاٹا کرتے تھے ۔ اسی وجہ سے فقہائے کرام نے القدر المسنون فیہ القبضۃ لکھا ہے کہ داڑھی بڑھانے کی مقدار جو سنت سے ثابت ہے وہ ایک مشت ہے ۔
فقہائے کرام کی اس جیسی عبارت سے ایک مشت سے زائد داڑھی کو کاٹنے کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے نہ کہ ایک مشت داڑھی رکھنے کا سنت غیر مؤکدہ ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ یہی موقف شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے مشکوٰۃ شریف اشعۃ اللمعات میں لکھتے ہیں : وگذاشتن آں بقدر قبضہ واجب است وآنکہآنرا سنت گویند بمعنی سلوک در دین است یا بجہت آں کہ ثبوت آں بسنت است چنانکہ نماز عید را سنت گفتہ اند ۔
ترجمہ : ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے ۔ جو لوگ ایک مشت داڑھی رکھنے کو سنت کہتے ہیں وہ اس بنا پر کہ ایک مشت داڑھی رکھنا دین رائج ہے یا اس بنا پر کہ اس کا ثبوت سنت سے ہے ۔ جیسا کہ فقہائے کرام نماز عید کو سنت کہتے ہیں (حالانکہ عید کی نماز واجب ہے) ۔
الفقہ الاسلامی و ادلتہ جلد سوم میں ہے : والمسنون فی اللحیۃ القبضۃ اما الاخذ من دون ذالک او اخذھا کلھا فلا یجوز ۔
ترجمہ : داڑھی میں مسنون ایک مشت ہے ۔ رہا داڑھی کو تراش کر ایک مشت سے کم کرنا یا پوری داڑھی تراشنا تو یہ جائز نہیں ہے ۔
الفقہ الاسلامی و ادلتہ کی مذکورہ عبارت اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ ایک مشت داڑھی رکھنا سنت غیر مؤکدہ نہیں ہے بلکہ واجب ہے ۔ اس لیے کہ اگر ایک مشت داڑھی رکھنا سنتِٖٖ غیر مؤکدہ ہوتا اور داڑھی کو تراش کر ایک مشت سے کم رکھنا جائز ہوتا تو تو داڑھی تراش کر ایک مشت سے کم رکھنا جائز ہوتا ، اس لیے کہ سنتِ مؤکدہ کا ترک جائز ہے ۔
علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ کی غلطی یہ ہے کہ وہ مطلقاً داڑھی رکھنے کو واجب قرار دیتے ہیں اور ایک مشت داڑھی رکھنے کو سنتِ غیر مؤکدہ اور مستحب قرار دیتے ہیں ۔ وہ صحیح مسلم کی شرح میں لکھتے ہیں : چوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے داڑھی منڈانے پر انکار کیا ہے اور داڑھی منڈانے سے داڑھی بڑھانے کے حکم کی بالکلیہ مخالفت ہوتی ہے اس لیے ہمارے نزدیک داڑھی منڈانا مکروہ تحریمی یا حرام ظنی ہے اور مطلقاً داڑھی رکھنا واجب ہے ۔
جب علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان میں مذکورہ ”اعفوا اللحیۃ“ اوفروا اللحیۃ وغیرہ کے امر کے صیغہ کو وجوب کےلیے نہیں مانتے ہیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فعل یعنی ایک مشت داڑھی رکھنے کو ایک مشت داڑھی رکھنے کے واجب ہونے کی دلیل نہیں مانتے ہیں تو کیا ان پر مطلقاً داڑھی رکھنے کے واجب ہونے پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے ۔ اس لیے کہ اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان ”اعفوا اللحیۃ ٗ اوفروا اللحیۃ“وغیرہ سے اگر ایک مشت داڑھی رکھنے کا وجوب ثابت نہیں ہوتا ہے تو اس سے مطلقاً داڑھی رکھنے کا وجوب بھی ثابت نہیں ہوگا ۔
علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک غلطی یہ بھی ہے کہ وہ اتنی مقدار داڑھی رکھنے کو واجب قرار دیتے ہیں جسے عرفاً و عادتاً داڑھی رکھنا تسلیم کیا جاتا ہے ۔ ان کے نزدیک خشخشی یا فرنچ کٹ داڑھی رکھنا شرعی داڑھی رکھنا نہیں ہے ۔ کیا ان کے نزدیک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک مشت داڑھی رکھنا اور فقہائے کرام کا ایک مشت داڑھی رکھنے کو مسنون قرار دینا عرف و عادت کے خلاف ہے ۔ انہوں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معمولات سے قطع نظر کرتے ہوئے شریعتِ مطہرہ پر مکمل طور پر عمل نہ کرنے والے چند لوگوں کے عمل کو عرف و عادت کا معیار بنا لیا ۔
علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک غلطی یہ بھی ہے کہ انہوں نے نور الانوار کی عبارت ”ولا یثبت الوجوب الا من الامر دون الفعل“ سے یہ سمجھ لیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی فعل سے بھی کسی صورت میں وجوب ثابت نہیں ہو سکتا ہے ۔ حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ فعل موجب ہے جس پر آپ نے مداومت فرمائی ہے ۔ اور اس کے ترک سے انکار فرمایا ہے ۔
البحر الرائق جلد اول میں ہے : والذی ظھر للعبد الضعیف ان السنۃ ما واجب النبی صلی اللہ علیہ وسلم علیہ لٰکن ان کا ن لا مع الترک فھی دلیل السنۃ المؤکدۃ وان کانت مع الترک احیانا فھی دلیل غیر المؤکدۃ وان قرنت بالانکار علیٰ امر فعلہ فھی دلیل الوجوب فافھم ۔
ترجمہ : وہ چیز جو اس کمزور بندے کےلیے ظاہر ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ سنت وہ ہے جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیشگی فرمائی ہے ۔ لیکن اگر ترک نہ کرنے کے ساتھ ہے تو وہ سنتِ مؤکدہ ہونے کی دلیل ہے ۔ ا گر کبھی ترک کرنے کے ساتھ ہے تو وہ سنتِ غیر و مؤکدہ ہے ۔ اگر اس فعل کو ترک کرنے سے انکار کرنا شامل ہے تو یہ وجوب کی دلیل ہے۔ پس تم اچھی طرح سمجھ لو ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مشت داڑھی رکھنے پر مداومت فرمائی ہے اور اپنے فرما ن ”اوفروا اللحیۃ“ وغیرہ داڑھی رکھنے کو ترک کرنے سے انکار بھی فرمایا ہے ۔ داڑھی کاٹنے کا حکم دینا کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔ پس ایک مشت داڑھی رکھنے اور مشت بھر داڑھی رکھنے کے واجب ہونے کا انکار کرنا جس دلیل پر مبنی تھا اس کا باطل ہونا ظاہر ہو گیا ۔
علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ عبدالحق محدث دہلوی اور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی اور علمائے کرام علیہم الرحمہ کو اپنی رائے سے شریعت گڑھنے والا کنایۃً قرار دیا ہے جو ایک مشت داڑھی رکھنے کے وجوب کے قائل ہیں اور وجوب پر ان لوگوں نے بہت سی دلیلیں قائم کی ہیں ۔ علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب مسلم شریف کی شرح میں ایک مشت داڑھی رکھنے والوں کے قول کو رد اور باطل قرار دیتے ہوئے لکھا ہے ۔ یاد رکھیے ! ہم مبلغ ہیں شارع نہیں ہیں ۔ ہمارا کام احکامِ شریعت کو جوں کا توں پہنچانا ہے اور پس ہم اپنی طرف سے کسی حکم کو وضع کرنے کے مجاز نہیں ہیں ۔
فتح القدیر ، غنیۃ ، بحرالرائق ، حاشیہ طحطاوی علی المراقی ، درمختار اور درر شرح غرر وغیرہ کتبِ فقہ میں ہے : والنظم للآخر“وأما الأخذ من اللحیۃ وھی دون القبضۃ کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد وأخذ کلھا فعل مجوس الأعاجم والیھود والھنود وبعض أجناس الإفرنج ۔
ترجمہ : بعض مغربی اور ہیجڑے لوگوں کی طرح داڑھی کاٹ کر ایک مٹھی سے کم کردینے کو کسی فقیہ نے بھی جائز نہیں کہا اور داڑھی مکمل کاٹ دینا عجمی مجوسیوں ، یہودیوں ، ہندؤوں اور بعض قسم کے انگریزوں کا طریقہ ہے ۔ (درر شرح غرر کتاب الصیام فصل حامل او مرضع خافت جلد 1 صفحہ 208 داراحیاء الکتب العربیہ بیروت،چشتی)
امام مالک و احمد و بخاری و مسلم و ابو داؤد و ترمذی و نسائی و طحاوی علیہم الرّحمہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : خالفو المشرکین احفوا الشوارب و اوفروا اللحیۃ ، مشرکوں کے خلاف کرو ، مونچھیں خوب پست کرو ، اور داڑھیاں بڑھاؤ ۔ (صحیح البخاری ، کتاب اللباس،۲/۸۷۵)(صحیح مسلم ،کتاب الطہارۃ،باب خصال الفطرۃ،۱/۱۲۹،،چشتی)(سنن الترمذی،۵/۹۵،)(سنن النسائی المجتبی،۱/۱۶)(سنن ابی داؤد،۴/۸۴)(مسند احمد،۲/۱۶)(شرح معانی الآثار،۴/۲۳۰)(مؤطا ،۲/۹۴۷)
داڑھی ایک مشت یعنی چار انگل تک رکھنا واجب ہے (بعض نے سنت مؤکدہ لکھا ہے) اور اس سے کم کرنا نا جائز ہے ۔
شیخ محقق شاہ عبد الحق محدث دھلوی (۱۰۵۲ھ) رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : گذاشتن آں بقدر قبضہ واجب است و آنکہ آنرا سنت گیند بمعنی طریقہ مسلو ک دین است یا بجہت آنکہ ثبوت آں بسنت است ، چنانکہ نماز عید را سنت گفتہ اند ۔
ترجمہ : داڑھی بمقدار ایک مشت رکھنا واجب ہے اور جو اسے سنت قرار دیتے ہیں وہ اس معنی میں ہے کہ یہ دین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا جاری کردہ طریقہ ہے یا اس وجہ سے کہ اس کا ثبوت سنت نبوی سے ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہا جاتا ہے ۔ (اشعۃ اللمعات،کتاب الطہارۃ ، باب السواک ،۱/۲۱۲،فتاوی رضویہ ، ۲۲ / ۵۸۱ مطبوعہ جدید)
اور حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے : ان النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کان یاخذ من لحیتہ من عرضھا و طولھا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اپنی ریش مبارک کے بال عرض و طول سے لیتے تھے ۔ (جامع الترمذی،ابواب الآداب ، باب ما جاء فی الاخذ من اللحیۃ،۲/ ۱۰۰،امین کمپنی دھلی)
اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ۱۳۴۰ ھجری لکھتے ہیں : علماء فرماتے ہیں یہ اس وقت ہوتا تھا جب ریش اقدس ایک مشت سے تجاوز فرماتی بلکہ بعض نے یہ قید نفس حدیث میں ذکر کی ۔ (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 590 مطبوعہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور،چشتی)
اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ متوفی 1340 ھجری لکھتے ہیں : داڑھی ایک مشت رکھنا واجب ہےجیسا کہ شرح مشکواة میں اور فتح القدیر میں ہے ایک مشت سے داڑھی کم کرنا ، تراشنا جیسے مغربی زدہ لوگ اور ہیجڑے کرتے ہیں ناجائز ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 581 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اس سے زائد اگر طول فاحش حد اعتدال سے خارج بے موقع بد نما ہو تو بلا شبہہ خلاف سنت و مکروہ کہ صورت بد نما بنانا ، اپنے منہ پر دروازہ طعن مسخریہ کھولنا ، مسلمانوں کو استہزاء و غیبت کی آفت میں ڈالنا ، ہرگز مرضی شرع مطہر نہیں ۔ (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 582 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : داڑھی منڈا نے یا ایک مٹھی سے گھٹانے والا شخص فاسقِ معلن ہے ۔ جیسا کہ فتاویٰ رضویہ میں ہے : داڑھی منڈانا اور کتَروا کر حدِ شرع سے کم کرانا دونوں حرام و فسق ہیں اور اس کا فسق باِلاِعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ جلد 6 صفحہ 505 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
داڑھی منڈے کی بیعت جائز نہیں ۔ جیسا کہ اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ : جو اشخاص بوجہ لاعلمی کے خلاف شرع پیر مثل داڑھی منڈا اور کانوں میں مندرے پہنے ہوئے اور گیسو دراز کے مرید ہو چکے ہوں ان کی بیعت جائز ہوگی اور ان کو جائے دیگر بیعت ہونے کاحکم ہے یا نہیں ؟
تو آپ رحمۃ اللہ علیہ اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : فاسق کے ہاتھ پر بیعت جائز نہیں ۔ اگر کرلی ہو فسخ کرکے کسی پیر متقی ، سنی ، صحیح العقیدہ ، عالم دین ، متصل السلسلۃ کے ہاتھ پر بیعت کرے ۔۔۔۔۔ ایسے شخص سے بیعت کاحکم ہے جو کم از کم یہ چاروں شرطیں رکھتا ہو : اول سنی صحیح العقیدہ ہو ۔ دوم علم دین رکھتا ہو ۔ سوم فاسق نہ ہو ۔ چہارم اس کا سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک متصل ہو ، اگر ان میں سے ایک بات بھی کم ہے تو اس کے ہاتھ پر بیعت کی اجازت نہیں ۔ (فتاوٰی رضویہ جلد 21 صفحہ 603 - 602 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ۱۳۴۰ ھجری لکھتے ہیں : حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت عبداللہ بن عمر و حضرت ابو ہریرہ وغیرہما صحابہ و تابعین رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کے افعال و اقوال ، اور ہمارے امام اعظم ابو حنیفہ و محرر امام محمد رضی اللہ تعالی عنہما و عامہ کتب فقہ و حدیث کی تصریح سے اس کی حد یکمشت ہے ، ابھی نصوص علماء سے گزرا کہ اس سے کم کرنا کسی نے حلال نہ جانا ۔ (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 655 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ۱۳۴۰ ھجری لکھتے ہیں : داڑھی کا طول ایک مشت یعنی ٹھوڑی سے نیچے چار انگل چاہیے اس سے کم کرنا حرام ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 606 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مذکورہ عبارات سے واضح ہوگیا کہ ایک مشت کی مقدار داڑھی رکھنا واجب ہے ، نیز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک ایک مشت تھی ،جب تجاوز کرجاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طول و عرض میں سے کم فرماتے ، لیکن ایک مشت ہمیشہ رہی ، نیز اس قدر لمبی رکھنا کہ بد نما صورت ہو جائے مکروہ ہے ۔
اب آپ کی مرضی ہے جدت پسند مغربی مفکرین خسروں کی نفسانی خواھشات کی پیروی کرو یا پھر جن کا کلمہ پڑھتے ہو اس شفیق و مہربان نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پیروی و اطاعت کرو فیصلہ خود کر لو مرنے کے بعد کیا منہ دیکھاٶ گے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ؟ کیا یہی کہو گے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم اپنے جدت پسند مغربی مفکرین خسرے قاٸدین کی پیروی کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنتِ مبارکہ اور حکم کی مخالفت کرتے اور مذاق اڑاتے رہے ۔ سوچو اس سے پہلے کہ موت آ جاۓ ۔ ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

















































