Sunday, 11 October 2026

مالک بن نویرہ مرتد ہو گیا تھا سنیوں کے لبادے میں چھپے روافض کی ہفوات کا مدلل جواب

مالک بن نویرہ مرتد ہو گیا تھا سنیوں کے لبادے میں چھپے روافض کی ہفوات کا مدلل جواب

محترم قارئینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ يَّرۡتَدَّ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِهٖ فَسَوۡفَ يَاۡتِى اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ يُجَاهِدُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوۡنَ لَوۡمَةَ لَاۤئِمٍ‌ ؕ ذٰ لِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ۔ (سورہ المائدہ آیت نمبر 54)

ترجمہ : اے ایمان والو ! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے مرتد ہوجائے گا ‘ تو عنقریب اللہ ایسی قوم کو لے آئے گا جس سے اللہ محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کرے گی ‘ وہ مومنوں پر نرم ہوں گے اور کافروں پر سخت ہوں گے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا بہت حلم والا ہے ۔


اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا جو کافروں کے ساتھ دوستی رکھے گا ، اس کا ان ہی میں شمار ہوگا اور اس آیت میں صراحتا فرما دیا ، جو شخص دین اسلام سے مرتد ہوجائے گا ، اس سے اللہ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں بھی کچھ لوگ مرتد ہوئے اور کچھ آپ کے بعد مرتد ہوئے ۔


علامہ جار اللہ محمود بن عمر زمحشری متوفی ٥٢٨ ھ لکھتے ہیں : مرتدین کے گیارہ فرقے تھے ، تین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں تھے ۔ ایک فرقہ بنو مدلج تھا ‘ ان کا رئیس ذوالحمار تھا اور یہی اسود عنسی تھا۔ یہ شخص کاہن تھا ‘ اس نے یمن میں نبوت کا دعوی کیا اور ان شہروں پر غلبہ پالیا ‘ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض عاملوں کو نکال دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور یمن کے سرداروں کے نام خط لکھا ۔ اللہ تعالیٰ نے فیروز دیلمی کے ہاتھوں میں اس کو ہلاک کرا دیا ‘ انہوں نے اس کو قتل کر دیا ۔ جس رات وہ قتل ہوا ‘ اسی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے قتل کی خبر مسلمانوں کو دے دی تھی ‘ جس سے مسلمان خوش ہوئے ‘ پھر اس کے دوسرے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رفیق اعلی سے واصل ہوگئے ‘ اور وہاں سے اس کی خبر ربیع الاول کے آخر میں پہنچی تھی ۔ 


دوسرا فرقہ بنوحنیفہ ہے ۔ یہ مسیلمہ کی قوم تھی ‘ اس نے نبوت کا دعوی کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف مکتوب لکھا ‘ ” از مسیلمہ رسول اللہ برائے محمد رسول اللہ ‘ بعد ازیں یہ کہنا ہے کہ یہ زمین آدھی آپ کی ہے اور آدھی میری ہے “۔ رسول اللہ نے اس کا جواب دیا ‘ از محمد رسول اللہ برائے مسیلمہ کذاب ‘ بعد ازیں یہ کہنا ہے کہ تمام زمین اللہ کی ملکیت ہے ‘ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ‘ اس کا وارث بناتا ہے ‘ اور نیک انجام متقین کے لیے ہے “۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ اس سے جنگ کی اور یہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں قتل ہوا ۔ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کہتے تھے میں نے اپنی جاہلیت کے زمانہ میں سب سے نیک شخص کو قتل کیا اور اپنے اسلام کے زمانہ میں سب سے بدتر شخص کو قتل کیا ۔ 


تیسرا فرقہ بنو اسد تھا ‘ یہ علیحہ بن خویلد کی قوم تھی ‘ اس شخص نے بھی نبوت کا دعوی کیا تھا ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے جنگ کے لیے حضرت خالد بن ولید کو بھیجا ‘ یہ شکست کھانے کے بعد شام بھاگ گیا ‘ پھر مسلمان ہوگیا اور اس نے نیک عمل کیے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں مرتدین کے سات فرقے تھے ۔ (1) عینہ بن حصن کی قوم فزارہ ۔ (2) قرہ بن قشیری کی قوم غطفان ۔ (3) فجاء ۃ بن عہد یالیل کی قوم بنو سلیم ۔ (4) مالک بن نویرہ کی قوم بنویربوع ۔ (5) سجاح بنت المنذر۔ یہ وہ عورت تھی جس نے نبوت کا دعوی کیا اور مسیلمہ کذاب سے نکاح کیا اور اس کی قوم تمیم کے بعض لوگ ۔ (6) اشعث بن قیس کی قوم کندہ ۔ (7) حطیم بن زید کی قوم بنوبکربن وائل ‘ یہ بحرین میں تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ان ساتوں مرتد فرقوں کا مکمل استیصال کرا دیا ۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ایک شخص مرتد ہوا تھا ‘ یہ غسان کی قوم کا جبلہ بن ایہم تھا ‘ اس کو ایک تھپڑنے نصرانی بنادیا اور یہ اسلام سے مرتد ہو کو روم کے شہروں کی طرف نکل گیا ‘ جبلہ کی چادر پر ایک شخص کا پیر پڑگیا ‘ اس نے اس کے تھپڑ مارا ‘ اس شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے شکایت کی ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اب یہ تمہارے تھپڑ مارے گا ‘ اس نے تھپڑ کے بدلہ میں دس ہزار درہم کی پیشکش کی ‘ مگر وہ شخص نہ مانا ۔ جبلہ نے مہلت طلب کی اور روم جا کر مرتد ہو گیا ۔ (تفسیر الکشاف جلد ١ صفحہ ٦٤٦۔ ٦٤٤ مطبوعہ نشر البلاغہ ایران ١٤١٣ ھ،چشتی)


مالک بن نویرہ بنو تمیم کی شاخ بنو یربوع  کا سردار تھا ۔ کنیت ابوحنظلہ تھی ۔ عرب کے مشہور شعرا اور شہسواروں میں اس کا شمار ہوتا تھا ۔ یہ مسلمان کب ہوا اس کی صحیح تاریخ دستیاب نہیں ۔ غالباً 8 یا 9 ھجری میں ہوا ہوگا ۔ حیرت کی بات ہے روافض کے ساتھ ساتھ اُن کے فضلہ خور تفضیلی رافضی ہر اُس شخص کو اپنا ہیرو بنا لیتے ہیں جو منکر ارکانِ اسلام اور منکرِ ختمِ نبوت ہو جیسے مختار ثقفی مدعی نبوت بالکل اسی طرح مالک بن نویرہ جو کہ منکرِ زکواة اور منکرِ ختمِ نبوت تھا کو اپنا ہیرو بنا لیا ۔ پھر یہ لوگ ایسے مرتدین کو صحابی ثابت کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف زہریلا گھٹیا پرپیگنڈا کرتے ہیں کہ صحابی کو قتل کر دیا ۔ نعوذ بااللہ ۔ اس فقیر کو حضرت علامہ پیرزادہ محمد اویس قادری صاحب نے حکم فرمایا کہ اس کا جواب دیں ۔ وقت کی قلت کے پیشِ نظر مختصر جواب لکھا ہے ۔ اہلِ علم توجہ بھی فرماٸیں اور اگر کہیں غلطی پاٸیں تو اس فقیر کی اصلاح فرماٸیں ۔


أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِی مَنِیعٍ حَدَّثَنَا جَدِّی عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : لَمَّا اسْتَخْلَفَ اللَّہُ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ عَنِ الإِسْلاَمِ خَرَجَ أَبُو بَکْرٍ غَازِیًا حَتَّی إِذَا بَلَغَ نَقْعًا مِنْ نَحْوِ النَّقِیعِ خَافَ عَلَی الْمَدِینَۃِ فَرَجَعَ وَأَمَّرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ سَیْفَ اللَّہِ وَنَدَبَ مَعَہُ النَّاسَ وَأَمَرَہُ أَنْ یَسِیرَ فِی ضَاحِیَۃِ مُضَرَ فَیُقَاتِلَ مَنِ ارْتَدَّ مِنْہُمْ عَنِ الإِسْلاَمِ ثُمَّ یَسِیرَ إِلَی الْیَمَامَۃِ فَیُقَاتِلَ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابَ فَسَارَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَقَاتَلَ طُلَیْحَۃَ الْکَذَّابَ الأَسَدِیَّ فَہَزَمَہُ اللَّہُ وَکَانَ قَدِ اتَّبَعَہُ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَیْفَۃَ یَعْنِی الْفَزَارِیَّ فَلَمَّا رَأَی طُلَیْحَۃُ کَثْرَۃَ انْہِزَامِ أَصْحَابِہِ قَالَ وَیْلَکُمْ مَا یَہْزِمُکُمْ قَالَ رَجُلٌ مِنْہُمْ أَنَا أُحَدِّثُکَ مَا یَہْزِمُنَا إِنَّہُ لَیْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلاَّ وَہُوَ یُحِبُّ أَنْ یَمُوتَ صَاحِبُہُ قَبْلَہُ وَإِنَّا لَنَلْقَی قَوْمًا کُلُّہُمْ یُحِبُّ أَنْ یَمُوتَ قَبْلَ صَاحِبِہِ وَکَانَ طُلَیْحَۃُ شَدِیدَ الْبَأْسِ فِی الْقِتَالِ فَقَتَلَ طُلَیْحَۃُ یَوْمَئِذٍ عُکَّاشَۃَ بْنَ مِحْصَنٍ وَابْنَ أَقْرَمَ فَلَمَّا غَلَبَ الْحَقُّ طُلَیْحَۃَ تَرَجَّلَ ثُمَّ أَسْلَمَ وَأَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ فَرَکِبَ یَسِیرُ فِی النَّاسِ آمِنًا حَتَّی مَرَّ بِأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْمَدِینَۃِ ثُمَّ نَفَذَ إِلَی مَکَّۃَ فَقَضَی عُمْرَتَہُ وَمَضَی خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ قِبَلَ الْیَمَامَۃِ حَتَّی دَنَا مِنْ حِیٍّ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ فِیہِمْ مَالِکُ بْنُ نُوَیْرَۃَ وَکَانَ قَدْ صَدَّقَ قَوْمَہُ فَلَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَمْسَکَ الصَّدَقَۃَ فَبَعَثَ إِلَیْہِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَرِیَّۃً فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی قَتْلِ مَالِکِ بْنِ نُوَیْرَۃَ قَالَ وَمَضَی خَالِدٌ قِبَلَ الْیَمَامَۃِ حَتَّی قَاتَلَ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابَ وَمَنْ مَعَہُ مِنْ بَنِی حَنِیفَۃَ فَاسْتَشْہَدَ اللَّہُ مِنْ أَصْحَابِ خَالِدٍ أُنَاسًا کَثِیرًا مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ وَہَزَمَ اللَّہُ مُسَیْلِمَۃَ وَمَنْ مَعَہُ وَقَتَلَ مُسَیْلِمَۃَ یَوْمَئِذٍ مَوْلًی مِنْ مَوَالِی قُرَیْشٍ یُقَالَ لَہُ وَحْشِیٌّ ۔ (حدیث حسن)


ترجمہ : زہری کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر خلیفہ بنے اور عرب مرتد ہونے لگے تو حضرت ابوبکر نے ان کے خلاف جہاد شروع کیا ۔ جب ان کی گردن تک پہنچے تو مدینہ کی طرف سے خوف ہوا واپس آئے اور خالد بن ولید کو امیر بنایا اور انھیں لوگوں کی ایک فوج دی اور حکم دیا کہ مضر کی طرف جاؤ اور وہاں جو مرتدین ہیں ان سے قتال کرو۔ پھر یمامہ کی طرف مسیلمہ کذاب سے قتال کریں اور پھر خالد بن ولید طلیحہ اسدی کذاب سے لڑے اور اسے اللہ کے حکم سے شکست دی۔ جب طلیحہ نے دیکھا کہ اس کے ساتھ کثرت سے قتل ہو رہے ہیں تو کہنے لگا : تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ کیوں شکست کھا رہے ہو ؟ تو ان میں سے ایک شخص کہنے لگا : میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ میں بچ جاؤں، دوسرا مارا جائے اور ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ پہلے میں شہید ہو جاؤں۔ طلیحہ کو اس جنگ میں بہت مصیبت اٹھانی پڑی اور اس نے اس دن عکاشہ بن محصن اور ابن اقرم کو شہید کیا۔ جب حق غالب آگیا تو طلیحہ پیدل بھاگ گیا ، پھر مسلمان ہوگیا اور عمرہ کے لیے مدینہ میں تلبیہ کہا حضرت ابوبکر کے پاس سے گزرا اور مکہ پہنچ کر اپنا عمرہ ادا کیا اور خالد بن ولید یمامہ سے لوٹے اور قبیلہ بنو تمیم کے پاس پہنچے۔ ان میں مالک بن نویرہ بھی تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد اس نے صدقہ دینا بند کر دیا تھا تو حضرت خالد نے ان کی طرف ایک سریہ بھیجا ۔ الحدیث ۔ مالک بن نویرہ اس میں قتل ہوگیا اور خالد نے یمامہ میں مسیلمہ سے لڑائی کی اور اسے شکست دی اور مسیلمہ ایک قریشی شخص کے ایک غلام کے ہاتھوں مارا گیا جس کا نام وحشی تھا ۔ (سنن الکبریٰ بیہقی حدیث نمبر ١٦٧٢٨،چشتی)


روافض کے ساتھ ساتھ اُن کے فضلہ خور تفضیلی رافضیوں کا یہ دعویٰ کہ مالک بن نویرہ جلیل القدر صحابی تھے جبکہ واقعات اور تاریخ اس بات کو ثابت نہیں کرتے ۔ مورخین نے یہ ثابت کیا ہے کہ مالک بن نویرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد مرتد ہو گیا تھا اور وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تھا اس نے اموال صدقات اپنی قوم میں تقسیم کر دیے تھے ۔ جب اسے لایا گیا تو وہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں جھگڑا کرنے لگا ۔ اس نے کہا : تمہارے ساتھی کا یہ خیال تھا ۔ اس جملہ میں دو باتیں اہم ہیں : ⏬


اوّل : وہ زکوٰۃ کی فرضیت کا منکر تھا ۔


دوم : اس نے صاحبکم کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ کیا اور ایسا کرنا مشرکین کا وطیرہ تھا جو کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا اقرار نہیں کرتے تھے ۔ اس کا صرف زکوٰۃ کا انکار کرنا ہی اس کے قتل کےلیے کافی تھا ۔ یہ روایت تمام مورخین نے ذکر کی ہے ، جیسا کہ اصفہانی نے الامانی میں ، اور ابن خلکان نے تاریخ میں بخلاف یعقوبی کے وہ جھوٹ بولنے میں مشہور تھا ۔ تو اس کے بعد یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ مالک بن نویرہ ایک جلیل القدر صحابی تھا ۔ بلکہ مورخین نے مالک کے مرتد مرنے پر ایک اور دلیل بھی ذکر کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ملاقات متمم بن نویرہ برادر حقیقی مالک بن نویرہ سے ہوئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے وہ شعر پڑھنے کو کہا جو اس نے اپنے بھائی کے مرثیہ میں لکھے تھے ۔ متمم نے وہ اشعار پڑھے جو اس نے اپنے بھائی کے مرثیہ میں لکھے تھے ۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار سنے تو فرمایا : میری بھی چاہت تھی کہ اگر مجھے سلیقہ سے شعر کہنے آتے تو میں اپنے بھائی زید پر بھی ایسا ہی مرثیہ کہتا جیسے تم نے اپنے بھائی پر کہا ہے ۔ تو متمم بولا : اگر میرا بھائی اس چیز پر مرتا جس پر آپ کا بھائی مرا ہے تو میں کبھی اس کا مرثیہ نہ کہتا ۔ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس بات پر بہت خوش ہوئے اور فرمایا : جیسے میرے بھائی پر تعزیت متمم نے کی ہے ایسے کسی اور نے مجھ سے تعزیت نہیں کی ۔ (الکامل لابن الاثیر جلد ۲ صفحہ ۲۱۸،چشتی)


ایک دوسری روایت میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ متمم نے کہا : آپ کا بھائی مومن مرا ہے اور میرا بھائی مرتد مرا ہے ۔ تو اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھ سے میرے بھائی پر کسی نے ایسی تعزیت نہیں کی جیسی تعزیت تم نے اس بارے میں کی ہے ۔ (الامانی لابی عبداللّٰہ صفحہ ۲۵)


زہری کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور عرب مرتد ہونے لگے تو حضرت ابوبکر نے ان کے خلاف لڑائی شروع کیا۔ جب ان کی گردن تک پہنچے تو مدینہ کی طرف سے خوف ہوا واپس آئے اور خالد بن ولید کو امیر بنایا اور انھیں لوگوں کی ایک فوج دی اور حکم دیا کہ مضر کی طرف جاؤ اور وہاں جو مرتدین ہیں ان سے قتال کرو۔ پھر یمامہ کی طرف مسیلمہ کذاب سے قتال کریں اور پھر خالد بن ولید طلیحہ اسدی کذاب سے لڑے اور اسے اللہ کے حکم سے شکست دی ۔ (سنن الکبری للبیھقی حدیث نمبر 1672)


جب طلیحہ نے دیکھا کہ اس کے ساتھ کثرت سے قتل ہو رہے ہیں تو کہنے لگا : تمہیں کیا ہو گیا ہے ؟ کیوں شکست کھا رہے ہو؟ تو ان میں سے ایک شخص کہنے لگا: میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ میں بچ جاؤں، دوسرا مارا جائے اور ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ پہلے میں شہید ہو جاؤں۔ طلیحہ کو اس جنگ میں بہت مصیبت اٹھانی پڑی اور اس نے اس دن عکاشہ بن محصن اور ابن اقرم کو شہید کیا۔ جب حق غالب آگیا تو طلیحہ پیدل بھاگ گیا، پھر مسلمان ہوگیا اور عمرہ کے لیے مدینہ میں تلبیہ کہا حضرت ابوبکر کے پاس سے گزرا اور مکہ پہنچ کر اپنا عمرہ ادا کیا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ یمامہ سے لوٹے اور قبیلہ بنو تمیم کے پاس پہنچے ۔ ان میں مالک بن نویرہ بھی تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد اس نے صدقہ دینا بند کردیا تھا تو حضرت خالد نے ان کی طرف ایک سریہ بھیجا ۔ الحدیث ۔ مالک بن نویرہ اس میں قتل ہوگیا اور خالد نے یمامہ میں مسیلمہ سے لڑائی کی اور اسے شکست دی اور مسیلمہ ایک قریشی شخص کے ایک غلام کے ہاتھوں مارا گیا جس کا نام وحشی تھا ۔


شیعوں چوٹی کا عالم شیخ مفید لکھتا ہے : ولو كانت الصحبة أيضا مانعة من الخطأ في الدين والآثام لكانت مانعة لمالك بن نويرة وهوصاحب رسول الله صلى الله عليه وآله على الصدقات ومن تبعه من وجوه الدسلمين من الردةعن الاسلام ، اگر صحبت دین  خطا اور گناہ سے روک سکتی ، تو یہ مالک بن نویرہ کو اسلام سے پھر  جانے سے روک لیتی جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے صدقات اکٹھا کرنے پر مامور تھے ، اور اس کی پیروی کرنے والے لوگوں کو بھی جو مسلمانوں میں سے تھے ۔ (الافصاح للمفید صفحہ 41)


صحاح ستہ کی کسی کتاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مالک بن نویرہ کے متعلق کوئی حدیث ہے تو وہ دکھا دیں ؟


تاریخ میں لکھی باتیں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بیوہ سے نکاح کیا ، عدت پوری ہوئی یا نہیں ، نبوت کی دعویدار سجاح بنت حارث اور مالک بن نویرہ کی ملاقات ، ابوقتادہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا اختلاف کے اذان ہوئی یا نماز پڑھی پر اختلاف کی روایات پر بحث ہی نہیں بنتی بلکہ وقت ضائع کرنا ہے کیونکہ روایات اکٹھی کر کے لکھ دی گئی ہیں مگر جب فیصلہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے حق میں ہے کہ خلیفہ وقت نے اسے کچھ نہیں کہا تو پھر ہمارا کہنا بنتا نہیں جیسے : عبداللہ ابن ابی سرح جو حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا رضاعی بھائی ، مسلمان ہوا ، کاتب وحی ہوا، دین سے پھر گیا اور فتح مکہ کے وقت سیدنا عثمان کے پاس آ کر چھپ گیا ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے باربار اس کی بخشش کی سفارش کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاف کر دیا ۔ (سنن ابو داود حدیث نمبر 4359،چشتی) ۔ اس لیے اگر کوئی اس کو صحابی نہ مانے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بخشس پر ایمان نہیں لایا۔


حضرت جسٹس پیر کرم شاہ الازھری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مالک بن نویرہ کو مرتد لکھ رہے ہیں کہ وہ مرتد ہو گیا تھا جسے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں منکرین زکواة مرتدین سے جنگ کے دوران قتل کر دیا اس پر روافض کے اور سنیوں میں چھپے روافض کے اعتراض کا رد فرما رہے ہیں روافض کے کے دلالوں کے مذکورہ اعتراضات کا جواب ان صفحات میں پڑھیں ۔ (مقالات ضیاء الامت جلد 2 صفحہ 240 تا 250 مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشز لاہور)


تو کیا مالک کے مرتد ہونے پر اس سے بڑی دلیل کوئی اور ہو سکتی ہے ؟


جہاں تک مالک کی بیوی سے شادی اور اسی رات اس کے ساتھ شب باشی کا تعلق ہے تو یہ حق کے خلاف ہے ۔ علامہ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مالک کی بیوی کو اپنے لیے چن لیا تھا اور جب اس کی عدت پوری ہو گئی تو تب اس کے پاس چلے گئے ۔ (البدایۃ و النہایۃ جلد ۶ صفحہ ۳۲۲)


طبری نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی اس شادی کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ام تمیم بنت منہال سے شادی کی اور اسے پاک ہونے کےلیے چھوڑ دیا ۔ (الطبری جلد ۲ صفحہ ۲۷۳)


الکامل میں ہے : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ام تمیم سے شادی کی جو کہ مالک کی بیوی تھی ۔ (الکامل جلد ۲ صفحہ ۳۵۸)


ابن خلکان جس کا کلام تنقید نگار نے بطور دلیل کے پیش کیا ہے وہ کہتا ہے : اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس کی بیوی کو اپنے قبضہ میں لے لیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ : اسے مال غنیمت میں سے خرید لیا تھا تاکہ اس کے ساتھ شادی کر سکیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب اس کی عدت تین ماہ پوری ہو گئی تو آپ نے اسے شادی کا پیغام بھیجا جو اس نے قبول کر لیا ۔ (وفیات الاعیان جلد ۶ صفحہ ۱۴،چشتی)


حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کی بیوی سے عدت گزرنے کے بعد نکاح و شادی کی تھی جس کی صراحت تمام کتبِ تاریخ نے کی ہے ، عدت کے اندر شادی کرنے کا قول محض من گھڑت اور رافضیوں اور اُن کے فضلہ خور نیم رافضیوں کا افتراء اور بغضِ صحابہ رضی اللہ عنہم پر مبنی ہے ۔ واصطفی خالد امرأة مالك بن نویرة ، وهی أم تمیم أبنة المنهال ، وکانت جمیلة ، فلما حلت بنی بها ۔ ((البدایة والنهایة جلد ۵ صفحہ ۲۷)


تاریخ کی اس متنازعہ شخصیت کے متعلق اہلِ تشیع پر یقین ہیں کہ : مالک بن نویرہ مرتد نہیں ہوا تھا ۔ مالک بن نویرہ نے زکوات ادا کرنے سے منع نہیں کیا تھا ۔ مالک بن نویرہ نے دعوی نبوت کرنے والی عورت سجاح بنت حارث کی حمایت بھی نہیں کی تھی ۔


تاریخ اسلام کی کتب میں مالک بن نویرہ کی شخصیت کو بعد از وصالِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اچھے الفاظ میں  بیان نہیں کیا گیا ۔ 


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے قبیلے بنو تمیم کی زکوات وصولی کےلیے مقرر کیا تھا ۔ جیسے ہی اسے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے تو اس نے اپنے قبیلے سے زکوات وصول کرنا بند کر دی ۔ اس کے علاوہ پہلے سے جمع شدہ رقم کو بھی واپس ان کے مالکان کو لوٹا دیا ۔ تاریخ کی کئی کتب میں نبوت کی دعویدار ”سجاح بنت حارث“ اور ”مالک بن نویرہ“ کی ملاقات اور اس کی تائید و حمایت کے قصے بیان کیے گئے ہیں ۔ 


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منکرین زکوات سے جنگ و جہاد کا اعلان کیا اور پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی گرفت میں مالک بن نویرہ بھی آگیا ، زکوات کا منکر اور مرتد ثابت ہونے ہر اسے قتل کر دیا گیا تاکہ عرب قبائل میں منکرین زکوات تک سخت پیغام پہنچ سکے ۔ (تاریخ ابن کثیر جلد ششم صفحہ425،چشتی)


مزید روایات میں مالک بن نویرہ اور اس کے قبیلے کے قتل کی تفصیلات مختلف بیان کی گئی ہیں ۔ تاریخ طبری مترجم اردو میں بھی کم و بیش یہی تفصیل موجود ہے ۔ (تاریخ طبری جلد دوم صفحہ 79 - 80)


مالک بن نویرہ کا ذکر اوپر آچکا ہے کہ اُس نے وفات نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خبر سن کر اظہار مسرت کیا تھا ، پھر سجاح کے ساتھ بھی اُس نے مصالحت کی تھی،مگر بعد میں اُس کے لشکر سے جدا ہوکر چلاگیا تھا، اب جب کہ مالک بن نویرہ گرفتار ہوکر آیا اور حضرت خالد بن ولیدؓ کے سامنے پیش کیا گیا تو بعض مسلمانوں نے کہا کہ مالک بن نویرہ کی بستی سے اذان کی آواز جوابا ً آئی تھی،اس لئے اس کو قتل نہیں کرنا چاہئے بعض نے کہا کہ انہوں نے جواباً اذان نہیں کہی، یہ خلیفہ رسول اللہ کے حکم کے موافق واجب القتل ہے، حضرت خالد بن ولیدؓ نے جہاں تک تحقیق و تفتیش کیا یقینی اور قطعی شہادت اس معاملہ میں دستیاب نہ ہوئی، اس پر طُرہ یہ ہوا کہ مالک بن نویرہ نے جب حضرت خالد بن ولیدؓ سے گفتگو کی تو اس کی زبان سے اثناء گفتگو میں کئی بار یہ نکلا کہ تمہارے صاحب نے ایسا فرمایا، تمہارے صاحب کا ایسا حکم ہے وغیرہ اس تمہارے صاحب سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے،حضرت خالد بن ولیدؓ نے یہ لفظ سن کر غصہ سے فرمایا : کہ کیا وہ تیرے صاحب نہ تھے،اس پر اُ س نے کوئی جواب مناسب نہیں دیا،طبری کی روایت کے موافق حضرت ضرار بن الازورؓ اُس وقت شمشیر بدست کھڑے تھے،انہوں نے حضرت خالدؓ کا اشارہ پاتے ہی اُس کا سر اُڑادیا،یہ میدان جنگ کا ایک نہایت معمولی سا واقعہ تھا؛ لیکن مؤرخین کو اس کا خاص طورپر اس لئے ذکر کرنا پڑا کہ ابو قتادہ بھی حضرت خالد بن ولیدؓ کی فوج میں شامل تھے اور وہ انہیں لوگوں میں تھے جو یہ کہتے تھے کہ مالک بن نویرہ کی بستی سے اذان کی آواز آ ئی تھی، لہذا مالک بن نویرہ کو قتل نہیں کرنا چاہئے، بعض مؤرخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ مالک بن نویرہ کو حضرت خالد بن ولیدؓ نے قتل نہیں کرایا؛بلکہ انہوں نے مزید تحقیق حال کے لئے مالک بن نویرہ کو ضراراؓ بن ازورؓ کی حراست میں دےدیا تھا اور اتفاقاً رات کے وقت دھوکے سےمالک بن نویرہ ضرار بن ازور کے ہاتھ سے قتل ہوا ،بہرحال حضرت ابو قتادہؓ بہت ناراض ہوئے اور انہوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار اس طرح کیا کہ وہ خالد بن ولیدؓ سے بلا اجازت لئے خفا ہوکر مدینے میں چلے آئے اوریہاں آکر شکایت کی کہ خالد بن ولیدؓ مسلمانوں کو قتل کرتا ہے،حضرت عمرفاروقؓ اوردوسرے مسلمانوں نے مدینے میں جب یہ بات سُنی تو خالد بن ولیدؓ کے متعلق حضرت ابوبکر صدیقؓ سے شکایت کی اورکہا کہ خالد کو معزل کرکے اس سے قصاص لینا چاہئے،مدینہ منورہ میں خالد بن ولیدؓ کے متعلق عام ناراضی اس لئے بھی پھیل گئی اور قتل مسلم کا الزام اس لئے اور بھی اُن پر تُھپ گیا کہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے بعد میں مالک بن نویرہ کی بیوی سے نکاح کرلیا تھا،حضرت ابوبکر صدیقؓ نے یہ سب کچھ سن کر حضرت ابوقتادہؓ کو مجرم قرار دیا کہ خالدؓ کی بلا اجازت کیوں لشکر سے جُدا ہوکر چلے آئے،اُن کو حکم دیا گیا واپس جائیں اور خالد کے لشکر میں شامل ہوکر اُن کے ہر ایک حکم کو بجالائیں؛چنانچہ اُن کو واپس جانا پڑا،حضرت عمر فاروقؓ اور دوسرے صحابہ کو سمجھایا کہ خالد پر زیادہ سے زیادہ ایک اجتہادی غلطی کا الزام عائد ہوسکتا ہے ،فوجی نظام اور آئین جنگ کو مد نظر رکھتے ہوئے خالد کو سیفٌ من سیوف اللہ میں نہ زیر قصاص لایا جاسکتا ہے نہ معزول کیا جاسکتا ہے،صدیق اکبرؓ نے مالک بن نویرہ کا خوں بہا بیت المال سے ادا کردیا، ایک اسی واقعہ سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ صحابہ کرام کو اپنے دشمنوں کے قتل کرنے میں کس قدر احتیاط مد نظر رہتی تھی اور وہ کسی معمولی شخص کے لئے ایک قیمتی سپہ سالار کو بھی حق وانصاف کی عزت قائم رکھنے کے واسطے قتل کرنا اور زیر قصاص لانا ضروری سمجھتے تھے ۔


اس میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ تھا۔ اس میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو قتل نہ کیا جائے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ آپ کو قتل کیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بڑے عالم نہیں تھے۔ اہل سنت اور شیعہ دونوں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں ۔اس وجہ سے ابو بکر رضی اللہ عنہ پر واجب نہیں تھا کہ وہ اپنی رائے چھوڑ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی اتباع کریں ۔ اور کسی شرعی دلیل کی روشنی میں یہ ظاہر نہیں ہورہا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے راجح ہے۔تو اب کسی کے لیے کیسے جائز ہوسکتاہے کہ وہ اس معاملہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شان میں عیب شمار کر ے؟ ایسا وہی شخص کرسکتا ہے جو لوگوں میں سے سب سے کم علم و دین رکھتا ہو ۔


ہمارے ہاں کسی طرح بھی یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ معاملہ کی صورتحال ایسی تھی جس کی وجہ سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو قتل کرنا واجب ہورہا ہوتا ۔


رافضی مصنف کا یہ کہنا کہ : انہوں نے مالک بن نویرہ کے قتل کی رات ہی اس کی بیوی سے شادی کرلی ۔


اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔بالفرض اگر اسے ثابت مان بھی لیا جائے تو تاویل اس بنا پر رجم کرنے میں مانع ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ : فقہاء کرام رحمہم اللہ کا اختلاف ہے کہ فوتگی[بیوگی] کی عدت کیا ہے؟ اورکیا یہ عدت کافر کے لیے بھی ہے ؟ اس میں دو قول ہیں ۔ ایسے ہی ذمی عورت کی عدت وفات کے بارے میں اختلاف ہے۔اس میں بھی مسلمانوں کے ہاں دو قول مشہور ہیں ۔ بخلاف طلاق کی عدت کے ۔ اگر طلاق میں وطی کا سبب موجود ہو تو برأت رحم تک انتظار واجب ہے۔ جبکہ وفات کی عدت صرف عقد نکاح کرلینے سے واجب ہوجاتی ہے۔لیکن پھر اگر دخول سے پہلے شوہر مر جائے تو کیا کافر کی عدت بھی ہوگی یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے۔ اور ایسے ہی اگر کافر نے دخول بھی کیا اور دخول کے بعد ایک حیض آگیا ہو (تو کیا اس پر عدت ہوگی یا نہیں ؟) ۔


یہ مسائل اس وقت ہیں جب کافر اصلی کافر ہو (یعنی مرتدنہ ہو) ۔ جب کہ مرتد اگر قتل کردیا جائے؛ یا اپنے ارتداد پر ہی مر جائے ؛ تواس صورت میں امام شافعی؛ امام احمد ؛ ابو یوسف؛ اورمحمد رحمہم اللہ کے ہاں اس پر کوئی عدت وفات نہیں ۔ بلکہ وہ اسے فُرقہء بائنہ شمار کرتے ہیں ۔ اس لیے کہ شوہر کے مرتد ہونے سے نکاح باطل ہوگیا تھا۔ یہ جدائی امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کے ہاں طلاق نہیں ہے ۔ جب کہ امام ابو حنیفہ اورامام مالک رحمہم اللہ کے ہاں طلاق ہے۔اسی وجہ سے اس پر عدت وفات کو واجب نہیں سمجھتے ۔ بلکہ اس پر دائمی جدائی کی عدت شمار کرتے ہیں ۔اور اگر اس مرتد نے عورت کے ساتھ دخول نہیں کیا تھا تو پھر اس پر کوئی عدت نہیں ہے۔ جیسا کہ اگر وہ دخول سے پہلے طلاق دے دیتا تواس پر کوئی عدت نہ ہوتی۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کو مرتد سمجھ کر قتل کیا تھا۔ اگر مالک بن نویرہ نے اپنی بیوی سے اس سے پہلے دخول نہیں کیا تھا تو پھر تمام علماء کے نزدیک اس پر کوئی عدت نہیں تھی۔اوراگر اس کے ساتھ دخول کیا تھا تو پھر بھی بعض علماء کرام کے نزدیک اس پر ایک حیض کی عدت تھی؛ اس لیے کہ استبراء رحم واجب ہے۔ تو ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اسے اس سے پہلے حیض آچکا ہو۔ اور بعض فقہاء کہتے ہیں کہ کچھ دن کا حیض آجانا بھی کافی ہے ۔ اس لحاظ سے اگر وہ حیض کے آخری ایام میں بھی تھی تو تب بھی برأت رحم ہوچکی تھی ۔ خلاصہ کلام ! ہم اس معاملہ کی گہرائیوں سے واقف نہیں ۔ کیا یہ ایسا معاملہ تھا کہ اس میں اجتہاد جائز ہے یا نہیں ؟ ایسی باتوں میں طعن کرنا بغیر علم کے بات کہنا ہے ۔ اور بغیر علم کے بات کہنے کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قراردیا ہے ۔ (منہاج السنہ النبویہ جلد 5 ، 6 صفحہ 382)


خلاہ کلام : اول حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے حکم پر مالک بن نویرہ کو قتل نہیں کیا گیا ۔ آپ کے سپاہی نے اسے قتل کیا اور وہ بھی اپنی ایماء پر اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر بدیر ملی ۔ مالک بن نویرہ پر سجاع بن حارث کی حمایت کا الزام تھا ۔ مالک بن نویر پر زکوۃ کا مال واپس کرنے کا بھی الزام تھا ۔ یہ تاریخی واقعات ہیں جو مختلف کتب میں آپس میں متصادم ہو سکتے ہیں مگر ان کی وجہ سے جید اور قابل احترام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باکردار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کیچڑ اچھالنا ایک بدترین عمل اور پرلے درجے کی جہالت ہے ۔ اللہ عزوجل ایسے فتنہ باز بغضیوں اور شر پھیانے والوں کو ہدایت عطاء فرماۓ آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

افضلیت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور منکرین کی سزا حضرت مولیٰ علی و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی زبانی

افضلیت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور منکرین کی سزا حضرت مولیٰ علی و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی زبانی

محترم قارئینِ کرام : صحیح بخاری شریف میں امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ امیر المؤمنین مولٰی علی رضی اللہ عنہما سے ہے : قال قلت لابی ای الناس خیر بعد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ابوبکر قال قلت ثم من، قال ثم عمرثم خشیت ان اقول ثم من فیقول عثمان فقلت ثم انت یا ابت، فقال ما انا الاّرجل من المسلمین ، رواہ ایضا ابن ابی عاصم و خشیش وابو نعیم فی الحلیۃ الاولیاء ۔

ترجمہ : میں نے اپنے والد ماجد مولٰی علی رضی اللہ عنہ سے عرض کی نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہے ؟ فرمایا : ابوبکر رضی اللہ عنہ ۔ میں نے کہا پھر کون؟ فرمایا : پھر عمر ۔ پھر مجھے خوف ہوا کہ کہیں میں کہوں پھر کون تو فرمادیں عثمان رضی اللہ عنہ ، اس لیے میں نے سبقت کر کے کہا اے باپ میرے ! پھر آپ ؟ فرمایا : میں تو نہیں مگر ایک مرد مسلمانوں میں سے ۔ اسے ابن ابی عاصم اور خشیش اور ابو نعیم نے بھی حلیۃ الاولیاء میں بیان کیا ہے ۔ (صحیح بخاری، کتاب المناقب،فضائل ابی بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ، قدیمی کتب خانہ کراچی،۱/ ۵۱۸)(جامع الاحادیث بحوالہ خ و د وابن ابی عاصم و خشیش وغیرہ، حدیث ۷۷۱۴ دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۱۷)(کنزالعمال ، بحوالہ خ و د وابن ابی عاصم و خشیش وغیرہ، ۳۶۰۹۴ موسسۃ الرسالہ،بیروت،۱۳/ ۷)


حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کا فرمان : جو مجھے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دیتا ہے میں اسے مفتری کی سزا دونگا : ⏬


افضلیتِ شیخین اور حدِ مفتری : ​حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ عنہ کا ایک انتہائی مشہور اور متواتر فرمان کتبِ احادیث میں موجود ہے ، جس میں آپ نے خود کو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما پر فضیلت دینے والوں کےلیے سخت سزا کا اعلان فرمایا ۔ ​حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کا فرمانِ عالی شان ہے : ​لَا اَجِدُ اَحَدًا فَضَّلَنِيْ عَلٰی اَبِيْ بَكْرٍ وَ عُمَرَ اِلَّا جَلَّدْتُهٗ حَدَّ الْمُفْتَرِيْ ۔

ترجمہ : میں جسے بھی پاؤں گا کہ وہ مجھے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دیتا ہے ، میں اسے الزام تراشی (بہتان) کی سزا کے طور پر 80 کوڑے ماروں گا ۔ (​فضائل الصحابة للامام احمد بن حنبل حدیث نمبر 49 ، 387 عن حکم بن حجل)(​السنة لعبد اللہ ابن احمد حدیث نمبر 49 ، 387 عن علقمہ)(​السنة لابن ابی عاصم حدیث نمبر 1027 ، 1254)(​شرح اصول اعتقاد اهل السنة للالكائي جلد 2 صفحہ 107،چشتی)(​الاعتقاد للبیہقی صفحہ 504 عن حکم بن حجل آپ نے فرمایا : حضرت علی نے ہمیں بصرہ میں خطبہ دیا)(​تاریخ الخلفاء للسیوطی عربی صفحہ 122 ، مترجم اردو صفحہ 167)(الصواعق المحرقة لابن حجر الہیتمی عربی صفحہ 187)(​کنز العمال حدیث نمبر 36157)


​راویوں کا مقام اور سند کی تحقیق : ⏬


​اس حدیث کے راویوں میں حضرت محمد بن حنفیہ ، حضرت علقمہ ، حضرت عبد خیر ، حضرت جابر بن حمید ، اور حضرت حکم بن حجل عن ابیہ (رضی اللہ عنہم و علیہم الرحمہ) شامل ہیں ، جو براہِ راست مولا علی سے روایت کر رہے ہیں ۔


​ملاقات کا ثبوت : حضرت حکم بن حجل صراحت سے فرماتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا اور حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ عنہ نے ہمیں بصرہ میں خطاب فرمایا ۔ کتبِ رجال میں حکم بن حجل کو ثقہ لکھا گیا ہے ، اس لیے ان کی حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات میں کوئی شک نہیں ۔


​علماء کا فیصلہ : محدثین اور جلیل القدر علماء علیہم الرحمہ نے اس حدیث کو بالکل صحیح قرار دیا ہے ۔

​شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے اسے صحیح لکھا ۔ (فتاویٰ عزیزی صفحہ 383)

​امام ابنِ حجر عسقلانی اور امام ذہبی علیہما الرحمہ کے حوالے سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قدری علیہ الرحمہ نے لکھا : قَالَ سُلْطَانُ الشَّانِ اَبُوْ عَبْدِ اللہِ الذَّھَبِیُّ حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ ۔ (یہ حدیث صحیح ہے) ۔ (الزلال الانقیٰ صفحہ 95)

​

منبرِ کوفہ پر حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی : ⏬


​حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ (تابعی الکبیر) نے منبر پر ہاتھ مار کر حضرت سیدنا مولی علی رضی اللہ عنہ کا یہ تفصیلی خطبہ بیان فرمایا : ہمیں حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ نے اس منبر پر بیٹھ کر خطاب فرمایا اور فرمایا : خبردار! مجھے اطلاع ملی ہے کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر اور عمر پر فضیلت دیتے ہیں ، اگر میں نے اس کے بارے میں پہلے سزا کا اعلان کر دیا ہوتا تو میں ان لوگوں کو سزا دیتا ۔ آئندہ جس نے ایسا کہا وہ بہتان باندھنے والا ہوگا اور اسے مفتری کی سزا (80 کوڑے) ملے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمام لوگوں میں سب سے افضل ابوبکر ہیں، پھر عمر ۔ (السنۃ لعبد اللہ بن احمد : 1322)(السنۃ لابن ابی عاصم : 702 ، اسنادہ صحیح)


​یہی حدیث سیدنا سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔ یہ تمام احادیث اس متواتر عقیدے کا حصہ ہیں جسے تقریباً 80 راویوں نے نقل کیا ہے کہ : خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ۔


​حضرت امام اعظم ابو حنیفہ تابعی رضی اللہ عنہ کی روایت اور سزا کا فلسفہ : ​⏬


حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ سے کہا : میں نے آپ سے بہتر کوئی نہیں دیکھا ۔ آپ نے پوچھا : کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا ابوبکر و عمر کو دیکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں ۔ آپ نے فرمایا : اگر تم کہتے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے تو میں تمہیں (توہینِ رسالت پر) قتل کر دیتا ، اور اگر تم کہتے کہ میں نے ابوبکر اور عمر کو دیکھا ہے تو میں تمہیں (توہینِ صحابہ اور جھوٹ پر) سخت سزا دیتا ۔ (کتاب الآثار لابی یوسف : 922،چشتی)


​یہ فیصلہ حضرت سیدنا امام حسین بن حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے عین مطابق ہے کہ : نبی کے گستاخ کی سزا قتل ہے اور صحابی کے گستاخ کی سزا کوڑے ہے ۔ (کتاب الشفاء جلد 2 صفحہ 194)

​

اہم نکتہ : یہی وجہ تھی کہ جب عبداللہ بن سبا اور اس کے مفسد گروہ نے غلو کی تمام حدیں پار کیں اور حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کی شان میں حدِ مفتری سے بھی بڑا جرم کیا ، تو آپ نے انہیں سخت ترین عبرتناک سزا دی اور زندہ جلا دیا تھا ۔ (صحیح بخاری حدیث : 37)(مستدرک حاکم حدیث : 6405)


​حاصلِ کلام : حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کا اپنا عقیدہ اور فیصلہ بالکل واضح ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما ہی امت میں سب سے افضل ہیں، اور اس عقیدے کے خلاف غلو کرنے والا حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک مجرم ہے ۔ اللہ عزوجل ہمیں جملہ گستاخوں اور فتنہ پروروں کے شر سے بچاۓ آمین ۔

 

طبرا نی معجم اوسط میں صلہ بن زفر سے راوی ، جب امیر المؤمنین مولٰی علی رضی اللہ عنہ کے سامنے لوگ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ، امیر المؤمنین فرماتے : السباق یذکرون السابق یذکرون والذی نفسی بیدہ ما استبقنا الٰی خیر قط الاسبقنا الیہ ابوبکر ۔

ترجمہ : ابوبکر کا بڑی سبقت والے ذکر کر رہے ہیں کمال پیشی لے جانے والے کا تذکرہ کرتے ہیں قسم اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب ہم نے کسی خیر میں پیشی چاہی ہے ابوبکر ہم سب پر سبقت لے گئے ہیں ۔ (المعجم الاوسط، حدیث ۷۱۶۴،مکتبۃ المعارف الریاض، ۸/ ۸۲،چشتی)(جامع الاحادیث بحوالہ طس،حدیث ۷۶۸۸، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۰۹)


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی رائے : ابو القاسم طلحی وابن ابی عاصم وابن شاہین واللالکائی سب اپنی اپنی کتاب السنہ میں اور عشاری فضائل صدیق اور اصبہانی کتاب الحجہ اور ابن عساکر تاریخ دمشق میں راوی ، امیر المؤمنین کو خبر پہنچی کچھ لوگ انہیں ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے افضل بتاتے ہیں منبر شریف پر تشریف لے گئے حمد و ثنائے الٰہی کے بعد فرمایا : ایھا الناس بلغنی ان اقواما یفضلو نی علی ابی بکر و عمر ولو کنت تقدمت فیہ لعاقبت فیہ، فمن سمعتہ بعد ھذا الیوم یقول ھذا فھو مفتر، علیہ حد المفتری خیرالناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابو بکر ثم عمر (زاد غیر الطلحی) ثم احدثنا بعضھم احدا ثا یقضی اﷲ فیھا ما یشاء ۔

ترجمہ : اے لوگو ! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابو بکر و عمر پر فضیلت دیتے ہیں اگر میں پہلے متنبہ کر چکا ہوتا تو اب سزا دیتا ، آج کے بعد جسے ایسا کہتا سنوں گا وہ مفتری ہے ، اس پر مفتری کی حد آئے گی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر ابوبکر ہیں،پھر عمر، پھر ان کے بعد ہم سے کچھ نئے امور واقع ہوئے کہ خدا ان میں جو چاہے گا حکم فرمائے گا ۔ (کنزالعمال بحوالہ ابن ابی عاصم و ابن شاہین واللالکائی والعشاری، حدیث ۳۶۱۴۳،موسسۃ الرسالۃ،بیروت، ۱۳/ ۲۱)(جامع الاحادیث ابن ابی عاصم و ابن شاہین واللالکائی والعشاری، حدیث ۷۷۳۵ ، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۲)


امام ابو عمران عبدالبر علیہ الرحمہ استیعاب میں حکم بن حجل سے اور امام ابو الحسن دارقطنی علیہ الرحمہ سنن میں روایت کرتے ہیں امیر المؤمنین مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لا اجد احدا فضلنی علی ابی بکر و عمر الاجلد تہ حد المفتری ۔

ترجمہ : میں جسے پاؤں گا کہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر مجھے تفضیل دیتا ہے اسے مفتری کی حد اسّی کوڑے لگاؤں گا ۔ (جامع الاحادیث عن الحکم بن حجل عن علی، حدیث ۷۷۴۷، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۵)(مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر، ترجمہ ۲۲، عبداللہ ابن ابی قحافہ ، دارالفکر بیروت، ۱۳/ ۱۱۰)


ابن عساکر بطریق الزہری عن عبداللہ بن کثیر راوی ، امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لا یفضلنی احد علی ابی بکر و عمر الاجلد تہ جلداوجیعا ۔

ترجمہ : جو مجھے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہ سے افضل کہے گا اسے درد ناک کوڑے لگاؤں گا ۔ (جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن علی، حدیث ۷۷۲۳، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۱۹،چشتی)(کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن علی، حدیث ۳۶۱۰۳، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، ۱۳/ ۹)


امام احمد مسند اور عدنی مائتین اور ابو عبید کتاب الغریب اور نعیم بن حماد فتن اور خثیمہ بن سلیمان طرابلسی فضائل الصحابہ اور حاکم مستدرک اور خطیب تلخیص المتشابہ میں راوی ، امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سبق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصلی ابوبکر وثلث عمر ثم خطبتنا فتنۃ و یعفواللہ عمن یشاء ۔ وللخطیب وغیرہ فھو ما شاء اﷲ زاد ھو فمن فضلنی علی ابی بکر و عمر رضی اللہ عنہما فعلیہ حد المفتری من الجلد و اسقاط الشہادۃ ۔

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سبقت لے گئے اور ان کے دوسرے ابوبکر اور تیسرے عمر ہوئے ، پھر ہمیں فتنے نے مضطرب کیا اور خدا جسے چاہے معاف فرمائے گا یا فرمایا جو خدا نے چاہا وہ ہوا تو جو مجھے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دے اس پر مفتری کی حد واجب ہے اسّی کوڑے لگائے جائیں اور گواہی کبھی نہ سنی جائے ۔ (المستدرک علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم، مناقب ابی بکر، دارالفکر بیروت، ۳/ ۶۸۔۶۷)(کنزالعمال بحوالہ خط فی تلخیص المتشابہ، حدیث ۳۶۱۰۲، موسسۃ الرسالہ،بیروت، ۱۳/ ۹)(جامع الاحادیث خط فی تلخیص المتشابہ، حدیث ۷۷۲۲، دارالفکر بیروت،۱۶/ ۲۱۹)


ابو طالب عشاری بطریق الحسن بن کثیر عن ابیہ راوی ، ایک شخص نے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی : آپ خیر الناس ہیں ۔ فرمایا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے ؟ کہا نہ ۔ فرمایا : ابو بکر کو دیکھا ؟ کہا : نہ فرمایا : عمر کو دیکھا ؟ کہا : نہ ، فرمایا : اما انک لو قلت انک رأیت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لقتلتک ولو قلت رأیت ابا بکر و عمر لجلد تک ۔

ترجمہ : سن لے اگر تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیکھنے کے بعد خیرالناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اقرار کرتا اور پھر مجھے خیرالناس کہتا تو میں تجھے قتل کرتا اور اگر تو ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم کو دیکھے ہوتا اور مجھے افضل بتاتا تو تجھے حد لگاتا ۔ (جامع الاحادیث بحوالہ العشاری، حدیث ۷۷۴۳، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۵)(کنزالعمال بحوالہ العشاری، حدیث ۳۶۱۵۳،موسسۃ الرسالہ بیروت، ۱۳/ ۲۶)


ابن عسا کر سیدنا عمار بن یا سر رضی اللہ عنہما سے راوی ، امیر المؤمنین مولٰی علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لایفضلنی احد علی ابی بکر و عمر الاوقد انکر حقی وحق اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

ترجمہ : جو مجھے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم پر تفضیل دے گا وہ میر ے اور تمام اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق کا منکر ہو گا ۔ (جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر، حدیث ۷۷۳۳، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۔۲۲۱)

حضرات شیخین اوّلین جنتی ہیں:


ابو طالب عشاری اور اصبہانی کتاب الحجہ میں عبد خیر سے راوی ، میں نے امیر المؤمنین مولٰی علی رضی اللہ عنہ سے عرض کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے پہلے جنت میں کون جائے گا ؟ فرمایا : ابوبکر و عمر ۔ میں نے عرض کی : یا امیر المؤمنین ! کیا وہ دونوں آپ سے پہلے جنت میں جائیں گے ؟ فرمایا : ای والذی فلق الحبۃ وبرأالنسمۃ انھما لیاکلان من ثمارھا و یرویان من مائھا ویتکئان علٰی فرشہا وانا موقوف بالحساب ۔

ترجمہ : ہاں قسم اس کی جس نے بیج کو چیر کر پیڑا گایا اور آدمی کو اپنی قدرت سے تصویر فرمایا بیشک وہ دونوں جنت کے پھل کھائیں گے ، اس کے پانی سے سیراب ہوں گے ، اس کی مسندوں پر آرام کریں گے اور میں ابھی حساب میں کھڑا ہوں گا ۔ (جامع الاحادیث بحوالہ ابو طالب العشاری والا صفہانی الخ حدیث ۷۷۲۰، دارالفکر بیروت،۱۶/ ۲۱۹)


ابو ذر ہروی و دارقطنی وغیرہما حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے راوی میں نے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کی : یا خیرالناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقال مھلا یا ابا جحیفۃ الا اخبرک بخیر الناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابو بکر و عمر ۔ یا خیر الناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا ٹھہرو اے ابو جحیفہ ! کیا میں تمہیں نہ بتادوں کہ کون ہے ؟ فرمایا اے ابوجحیفہ ! خیر الناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں ۔ (جامع الاحادیث بحوالہ الصابونی فی المائتین، حدیث ۷۷۳۴، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۲،چشتی)(کنزالعمال بحوالہ الصابونی فی المائتین، وطس وکر حدیث ۳۶۱۴۱،موسسۃ الرسالہ، بیروت، ۱۳/ ۲۱)


ابو نعیم حلیہ اور ابن شاہین کتاب السنہ اور ابن عساکر تاریخ میں عمرو بن حریث سے راوی میں نے امیر المؤمنین مولٰی علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر فرماتے سنا : ان افضل الناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم وفی لفظ ثم عمر ثم عثمان ۔

ترجمہ : بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے افضل ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم ہیں ، اور بالفاظ دیگر پھر عمر پھر عثمان ۔ (کنز العمال، بحوالہ ابن عسا کر وحل ابن شاہین فی السنہ، حدیث ۸۰۰۶،دارالفکربیروت، ۱۶/ ۲۹۰،چشتی)


حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے والد حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنی انہوں نے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ سے انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو فرماتے سنا ابوبکر سے بہتر کسی شخص پر نہ سورج طلوع ہوا ہے نہ غروب ۔ اس کے بعد حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے روایت میں غلط بیانی کی ہو تو مجھے شفاعت نصیب نہ ہو اور میں تو قیامت کے دین صدیق کی شفاعت کا طلب گار رہونگا ۔ اسی کے ساتھ دوسری روایت ہے کہ ساری امت سے افضل ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (الرّیاض النضرہ مترجم اردو جلد اوّل صفحہ نمبر 267 ، 268 مطبوعہ مکتبہ نورِ حسینیہ لاہور،چشتی)


حضرت ابو الدرداء رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : انبیاء کرام علیہم السّلام کے بعد ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) سے افضل کسی شخص پر نہ سورج طلوع ہوا ہے نہ غروب ۔ ایک روایت میں ہے کہ انبیاء و رسل علیہم السّلام کے بعد ابوبکر اور عمر سے زیادہ افضل کسی شخص پر سورج طلوع نہیں ہوا ہے ۔ حضرت جابر رضی ﷲ عنہ کی حدیث میں بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے انہیں فرمایا ﷲ کی قسم آپ سے افضل کسی شخص پر سورج طلوع نہیں ہوا ہے ۔ (مسند عبد بن حمید حدیث 212، ص 101 ابو نعیم طبرانی)


حضرت عمرو رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو منبر پر فرماتے سنا کہ رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے وصال باکمال کے بعد افضل ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اﷲ عنہم اجمعین ہیں ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث 178 جلد اول، ص107،چشتی)


ابوالبختری طائی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا ، میرے ساتھ ہجرت کون کرے گا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر اور وہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے وصال کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اُمّت کے والی یعنی خلیفہ ہوں گے اور وہی اُمّت میں سب سے افضل اور سب سے بڑھ کر نرم دل ہیں ۔ (ابن عساکر، تاریخ دمشق، جلد 30، ص 73)


حضرت محمد بن حنفیہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے (فرماتے ہیں) کہ میں نے اپنے باپ حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے عرض کی کہ رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ حضرت ابوبکر ، میں نے عرض کی ، پھر کون ؟ فرمایا حضرت عمر رضی ﷲ عنہم ۔ (بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی،حدیث 3671، جلد 2، ص 522)


حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ۔ میری امت میں میرے بعد سب سے بہتر شخص ابوبکر ہیں ، پھر عمر ۔ (ابن عساکر)


حضرت ابو حجیفہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے گھر میں داخل ہوا ۔ میں نے عرض کی اے رسول ﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد لوگوں میں سب سے افضل شخص ! تو آپ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا اے ابو حجیفہ ! کیا تجھے بتاؤں کہ رسول ﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد سب سے افضل کون ہے ؟ وہ حضرت ابوبکر ہیں ، پھر حضرت عمر ، اے ابو حجیفہ ! تجھ پر افسوس ہے ، میری محبت اور ابوبکر کی دشمنی کسی مومن کے دل میں جمع نہیں ہوسکتی اور نہ میری دشمنی اور ابوبکر و عمر کی محبت کسی مومن کے دل میں جمع ہوسکتی ہے ۔ (المعجم الاوسط للطبرانی من اسمہ علی، حدیث 3920، جلد 3، ص 79)


حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول ﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ پھر عرض کی کہ اے ﷲ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ! ہم پر کسی کو خلیفہ مقرر فرمایئے ۔ ارشاد فرمایا کہ نہیں ! ﷲ تعالیٰ اسے تم پر خلیفہ مقرر فرمادے گا جو تم میں سب سے بہتر ہوگا پھر ﷲ تعالیٰ نے ہم میں سے سب سے بہتر ابوبکر رضی ﷲ عنہ کو جانا ، جنہیں ہم پر خلیفہ مقرر فرمایا ۔ (دارقطنی، تاریخ دمشق، جلد 30، ص 290-289)


ہمدانی سے باکمال روایت ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنے وصال کے وقت مجھے سرگوشی کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے بعد ابوبکر ، ان کے بعد عمر ، ان کے بعد عثمان خلیفہ ہے۔ بعض روایات میں یہ لفظ ہے کہ پھر انہیں خلافت ملے گی ۔ (ابن شاہین، فضائل الصدیق لملا علی قاری، ابن عساکر، تاریخ دمشق، جلد 5، ص189،چشتی)


حکم بن حجل سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ۔ جو بھی مجھے حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما پر فضیلت دے اس پر جھوٹ بولنے کی حد جاری کروں گا ۔ (الصارم المسلول، ص 405)


اصبغ بن نباتہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ۔ جو مجھے حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ پر فضیلت دے گا، اسے بہتان کی سزا میں درے لگاؤں گا اور اس کی گواہی ساکت ہوجائے گی یعنی قبول نہیں ہوگی ۔ (کنزالعمال، کتاب الفضائل، حدیث 36097، جلد 13،ص 6/7)


حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے معلوم ہوا کہ کچھ لوگ مجھے حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما سے افضل بتاتے ہیں۔ آئندہ جو مجھے ان سے افضل بتائے گا وہ بہتان باز ہے ۔ اسے وہی سزا ملے گی جو بہتان لگانے والوں کی ہے ۔ (تاریخ دمشق، جلد 30، ص 382)


حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کو گالیاں دینے والا مولا علی رضی ﷲ عنہ کی نظر میں : ⬇


سالم بن ابی الجعد سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ۔ جو شخص حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کو گالیاں دے گا تو میرے نزدیک اس کی توبہ کبھی بھی قبول نہیں ہوگی ۔ (ابن عساکر، فضائل الصحابۃ للدار قطنی)


ابن شہاب عبد ﷲ بن کثیر سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو ہم سے محبت اور ہماری جماعت سے ہونے کا دعویٰ کریں گے ، مگر وہ ﷲ تعالیٰ کے بندوں میں سب سے شریر ہوں گے جوکہ حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کو گالیاں دیں گے ۔ (ابن عساکر، کنزالعمال، کتاب الفضائل، حدیث 36098)


حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت بر سر ممبر بیان فرمائی : ⬇


حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس امت میں نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد سب سے افضل ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہیں ۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ بات حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تواتر کے سات ثابت ہے ۔ تاریخ الاسلام باب عہد الخلفاء جلد نمبر صفحہ نمبر 115 امام ذھبی رحمۃ اللہ علیہ،چشتی)


حضرت عمرو رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو منبر پر فرماتے سنا کہ رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے وصال باکمال کے بعد افضل ابوبکر، عمر اور عثمان رضی ﷲ عنہم اجمعین ہیں ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث 178 جلد اول، ص107)


حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس امت میں سب سے بہتر ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں پھر عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (فضائل صحابہ صفحہ 33 امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اسناد صحیح ہیں)


جو مجھے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فوقیت دے گا میں اسے مفتری کی حد کوڑے لگاؤں گا اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد افضل ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں۔فرمان حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (فضائل صحابہ رضی اللہ عنہم صفحہ 34 امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ)


حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس امت میں سب سے افضل ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں ۔ (فضائل صحابہ صفحہ 37 اس روایت کےرجال ثقہ ہیں)


حضرت ابراہیم نخعی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ مولیٰ علی رضی ﷲ عنہ کو خبر پہنچی کہ عبد ﷲ بن اسود حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کی توہین کرتا ہے تو آپ نے اسے بلوایا ، تلوار منگوائی اور اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا پھر اس کے بارے میں سفارش کی گئی تو آپ نے اسے تنبیہ کی کہ جس شہر میں رہوں ، آئندہ تو وہاں نہیں رہے گا ، پھر اسے ملک شام کی طرف جلا وطن کردیا ۔ (کنزالعمال، کتاب الفضائل، حدیث 36151)


افضلیت ابوبکر صدیق پر مولا علی رضی ﷲ عنہما کے اقوال کتب شیعہ سے : ⬇


حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ۔ ابوبکر کو سب لوگوں سے زیادہ حقدار سمجھتے ہیں کہ وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے نماز کے ساتھی اور ثانی اثنین ہیں اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنی حیات ظاہری میں ان کو نماز پڑھانے کا حکم فرمایا ۔ (شرح نہج البلاغہ ابن ابی حدید شیعی، جلد اول، ص 332)


حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا : ان خیر ہذہ الامۃ بعد نبیہا ابوبکر و عمر ۔

ترجمہ : اس امت میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد سب سے بہتر حضرت ابوبکر و عمر ہیں ۔ (کتاب الشافی، جلد دوم، ص 428،چشتی)


حضرت علی علیہ السلام نے ابوبکر و عمر کے بارے میں فرمایا : انہما اماما الہدی و شیخا الاسلام والمقتدی بہما بعد رسول اللہ ومن اقتدی بہما عصم ۔

ترجمہ : یہ حضرت ابوبکر و عمر دونوں ہدایت کے امام اور شیخ الاسلام اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد مقتدیٰ ہیں اور جس نے ان کی پیروی کی، وہ برائی سے بچ گیا ۔ (تلخیص الشافی للطوسی، جلد 2،ص 428)


حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول ﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ان ابابکر منی بمنزلۃ السمع وان عمر منی بمنزلۃ البصر ۔

ترجمہ : بے شک ابوبکر مجھ سے ایسے ہیں جیسے میرے کان اور عمر مجھ سے ایسے ہیں جیسے میری آنکھ ۔ (عیون اخبار الرضا لابن بابویہ قمی، جلد اول، ص 313، معانی الاخبار قمی، ص 110، تفسیر حسن عسکری،چشتی)


حضرت علی علیہ السلام نے کوفہ کے منبر پر ارشاد فرمایا : لئن اوتیت برجل یفضلنی علی ابی بکر و عمر الا جلدتہ حد المفتری ۔

ترجمہ : اگر ایسا شخص میرے پاس لایا گیاتو جو مجھے حضرت ابوبکر و عمر پر فضیلت دیتا ہوگا تو میں اس پر مفتری کی حد جاری کروں گا ۔ (رجال کشی ترجمہ رقم (257) معجم الخونی (جلد ص 153)


مولا علی رضی ﷲ عنہ کو صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ پر فضیلت دینے والوں کو تنبیہ شیعہ حضرات کی کتب سے شیعہ حضرات کی اسماء الرجال کی کتاب رجال کشی میں مولا علی رضی ﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ سے ان کو افضل کہنے والوں کےلیے درّوں کی سزا اور حد کا حکم فرمایا ہے ۔ فرمان مولا علی رضی ﷲ عنہ : جو مجھے ابوبکر اور عمر پر فضیلت دیتا ہو تو میں اس کو ضرور درّے لگاؤں گا جوکہ مفتری کی حد ہے ۔ حضرت ابو بکر عمر رضی اللہ عنہما کی محبت ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ۔ شیعہ حضرات کی اسماء الرجال کی کتاب رجال کشی میں مولا علی رضی ﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہما سے ان کو افضل کہنے والوں کے لئے درّوں کی سزا اور حد کا حکم فرمایا ہے اور حضرت ابو بکر عمر رضی اللہ عنہما کی محبت ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ۔ شیعوں کا محققِ اعظم لکھتا ہے : انہ رای علیا (علیہ السلام) علی منبر بالکوفۃ وہو یقول لئن اوتیت برجل یفضلنی علی ابی بکر و عمر لا جلدنہ حد المفتری ،،،، وحب ابی بکر و عمر ایمان و بغضہما کفر ۔

ترجمہ : انہوں نے حضرت علی کو کوفہ کے منبر پر بیٹھے ہوئے دیکھا اور وہ فرما رہے تھے اگر میرے پاس کوئی ایسا آدمی آئے جو مجھے ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) پر فضیلت دیتا ہو تو میں اس کو ضرور درّے لگاؤں گا جوکہ مفتری کی حد ہے ،،،،،،، حضرت ابو بکر عمر (رضی اللہ عنہما) کی محبت ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ۔ (رجال کشی صفحہ نمبر 283 مطبوعہ بیروت لبنان)،(رجال کشی صفحہ 338 ، سطر 4 تا 6، مطبوعہ کربلا)


اے محبتِ حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ کا دعویٰ کرنے والو اب جواب دو تم لوگ حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ کی بات مانو گے یا سڑک چھاپ جاہل ذاکروں ، جاہل پیروں اور جاہل خطیبوں کی ؟ ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)































Tuesday, 6 October 2026

داڑھی کی مقدار و شرعی حیثیت اور جدت پسند مغرب کے پیروکار اسکالرز کے پیروکاروں کو دعوتِ فکر

داڑھی کی مقدار و شرعی حیثیت اور جدت پسند مغرب کے پیروکار اسکالرز کے پیروکاروں کو دعوتِ فکر

محترم قارئینِ کرام : شرعاً ایک مشت تک داڑھی بڑھانا واجب ہے چونکہ اس کا وجوب سنت سے ہے اس لیے عام طور پر لوگ اسے سنت کہہ دیتے ہیں در مختار میں ہے یحرم علی الرجل قطع لحیتہ ۔ یعنی مرد کو داڑھی منڈانا حرام ہے اور صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : داڑھی بڑھانا سنن انبیائے سابقین علیہم السلام سے ہے منڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے ۔ (بہار شریعت جلد 3 حصہ شانزدہم صفحہ نمبر  585 مطبوعہ مکتبة المدینہ کراچی)


داڑھی منڈے شخص کی بیعت کرنا جائز نہیں اگر کسی نے کرلی ہو تو اس بیعت کو توڑدے ۔ ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے ۔ جیسا کہ بخاری ، مسلم ، ابوداؤد ، ترمذی ودیگر کتبِ احادیث میں ہے : ”والنظم للاول“ عن ابن عمرعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال خالفوا المشرکین وفروا اللحی وأحفوا الشوارب وکان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل أخذہ ۔

ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا مشرکین کی مخالفت کرو داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی مُٹھی میں لیتے اور جومٹھی سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے ۔ (صحیح بخاری صفحہ 1091 حدیث نمبر 5893 دار الکتب العلمیۃ بیروت)


اسلام میں ایک مٹھی داڑھی رکھنا واجب ہے ، اور بالکل کٹوانا یا ایک مٹھی سے کم کروانا، دونوں کام شرعاً ناجائز و گناہ ہیں ۔ اس کا ثبوت قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملتا ہے ، خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے داڑھی بڑھانے کا حکم فرمایا ، اور صحابہ کرام علیہم الرضوان نےاپنے عمل سے اس کی تفسیر ایک مٹھی تک کردی، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل مبارک سے بھی یہی تفسیر ہوتی ہے ، وہ یوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل مبارک ایک مٹھی داڑھی رکھنے کا تھا ، اور روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی مبارک کو چوڑائی اور لمبائی میں کاٹتے تھے ، تو اس سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مٹھی سے زائد ہی کاٹتے تھے ، کبھی مٹھی سے کم نہیں فرمایا ۔ اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں فرمایا ہے کہ ان کا حکم مانا جائے اور ان کی اطاعت کی جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے داڑھی شریف رکھنے کا حکم فرمایا ہے ۔ چنانچہ اللہ عزوجل کا ارشاد مبارک ہے : وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۚ ۔ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ ۔

ترجمہ : ر جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔ (سورۃ الحشر آیت نمبر 7)


اور ایک مقام پر اللہ عزوجل کا ارشاد مبارک ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۔

ترجمہ : اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں ۔ (سورۃ النساء آیت نمبر 59)


اللہ عزوجل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور طریقہ کو اپنانے کا حکم فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہمیشہ داڑھی شریف رکھنا ہے ۔ اللہ عزوجل کا ارشاد مبارک ہے : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًا ۔

ترجمہ : بیشک تمہیں رسولُ الله کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ الله اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور الله کو بہت یاد کرے ۔ (سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 21)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ داڑھی شریف رکھی ۔ صحیح مسلم میں ہے : عن سماك أنه سمع جابر بن سمرة يقول : كان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم .... كثير شعر اللحية ۔

ترجمہ : حضرت سماک سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی کے بال بہت زیادہ تھے ۔ (صحیح مسلم صفحہ نمبر 916 حدیث نمبر 2344 دار الکتب العلمیۃ، بیروت)


داڑھی کم از کم ایک مٹھی رکھنا واجب ہے اور کتروا کر ایک مٹھی سے کم کرنا ناجائز گناہ ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مطلقا داڑھی پڑھانے کا حکم ارشاد فرمایا ہے ، صحیح بخاری میں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انهكوا الشوارب ، وأعفوا اللحى ۔

ترجمہ : مونچھوں کو خوب پست کرو اور داڑھیوں کو بڑھاؤ ۔ (صحیح بخاری صفحہ 1091 حدیث نمبر 5893 دار الکتب العلمیۃ بیروت)


دو جلیل القدیر صحابہ کرام ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مٹھی سے زائد داڑھی کاٹ کر اس مجمل کی تفسیر کر دی کہ احادیث میں جو داڑھی بڑھانے کا امر فرمایا گیا ، وہ کم از کم ایک مٹھی تک ہے ۔ سنن ابو داؤد میں مروان بن سالم سے مروی ہے ، فرماتے ہیں : رأيت ابن عمر يقبض على لحيته ، فيقطع ما زاد على الكف ۔

ترجمہ : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے ، پھر جو بال مٹھی سے زائد ہوتے انہیں کاٹ دیتے ۔ (سنن ابی داؤد حدیث نمبر 2357 صفحہ 441 مطبوعہ بیروت)


یہ حدیث پاک صحیح بخاری میں ان الفاظ کے ساتھ ہے : عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : خالفوا المشركين : وفروا اللحى وأحفوا الشوارب ، وكان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض على لحيته ، فما فضل أخذه ۔

ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرکین کی مخالفت کرو ، داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں خوب پست کرو ۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے ، پھر جو بال مٹھی سے زائد ہوتے انہیں کاٹ دیتے ۔ (صحیح بخاری صفحہ 1091 رقم الحدیث : 5892 دار الکتب العلمیۃ بيروت)


مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے : كان ابو هريرة يقبض على لحيته، ثم يأخذ ما فضل عن القبضة ۔

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے ، پھر جو بال مٹھی سے زائد ہوتے انہیں کاٹ دیتے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد 13 صفحہ 112 حدیث نمبر 25992 مطبوعہ شرکہ دار القبلہ)


یہ بات ذہن نشین رہے کہ مقدار کا بیان غیر قیاسی ہے ، یعنی قیاس و عقل سے بیان نہیں ہو سکتا ، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایسا قول یا فعل جو غیر قیاسی ہو ، حدیث مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے ، گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ داڑھی کو بڑھاؤ اور دوسرے مقام پر اس کی تفسیر کر دی کہ یہ بڑھانے کا حکم ایک مٹھی تک ہے ، بلکہ یہ ایک مٹھی سے زائد کو کم کرنا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے ، سنن ترمذى ميں ہے : أن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كان يأخذ من لحيته من عرضها وطولها ۔

ترجمہ : بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی مبارک کی چوڑائی اور لمبائی سے کچھ بال تراش لیا کرتے تھے ۔ (سنن ترمذى صفحہ 769 حدیث نمبر 2762 دار الکتب العلمیۃ بیروت،چشتی)


ہدایہ وفتح القدیرمیں ہے : (وھو) ای القدرالمسنون فی اللحیۃ (القبضۃ) ۔۔ قال فی النھایۃ : وماوراء ذلک یجب قطعہ ھکذا عن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہ کان یاخذ من اللحیۃ من طولھا و عرضھا ۔

ترجمہ : داڑھی میں سنت مقدار ایک مٹھی ہے ۔ نہایہ میں فرمایا : اور جو اس سے زائد ہو ، اس کا کاٹنا واجب ہے ، اسی طرح اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داڑھی مبارک کو لمبائی اور چوڑائی سے کچھ کاٹ لیاکرتے تھے ۔ (فتح القدیر کتاب الصوم جلد 2 صفحہ 351 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان،چشتی)


حاصل یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گویا کہ ایک مٹھی داڑھی رکھنے کا امر ارشاد فرمایا اور ، الامر للوجوب ، یعنی امر وجوب کےلیے آتا ہے ۔ فتح القدیر میں ہے : وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد ۔

ترجمہ : اور رہی داڑھی کو ایک مٹھی سے کم کرنا ، جیسا کہ بعض مغربی علاقوں کے لوگ اور مخنث مرد ایسا کرتے ہیں ، تو اسے کسی نے بھی جائز قرار نہیں دیا ۔ (فتح القدیر جلد 2 صفحہ 352 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)


فتح القدیر ، غنیۃ ، بحرالرائق ، حاشیہ طحطاوی علی المراقی ، درمختار اور درر شرح غرر وغیرہ کتبِ فقہ میں ہے : ”والنظم للآخر“وأما الأخذ من اللحیۃ وھی دون القبضۃ کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد وأخذ کلھا فعل مجوس الأعاجم والیھود والھنود وبعض أجناس الإفرنج ۔

ترجمہ : بعض مغربی اور ہیجڑے لوگوں کی طرح داڑھی کاٹ کر ایک مٹھی سے کم کردینے کو کسی فقیہ نے بھی جائز نہیں کہا اور داڑھی مکمل کاٹ دینا عجمی مجوسیوں ، یہودیوں ،ہندؤوں اور بعض قسم کے  انگریزوں کا طریقہ ہے ۔ (درر شرح غرر کتاب الصیام فصل حامل او مرضع خافت جلد 1 صفحہ 208 داراحیاء الکتب العربیہ بیروت،چشتی)


اور طحطاوی صفحہ نمبر ٤١۱ میں ہے : واللفظ للطحاوی الاخذ من اللحیت و ھو دون ذلک (ای القدر المسنون و ھو القبضہ) کما یفعلہ بعض المغاربت و مخنثت الرجال لم یجہ احد اخذ کلھا فعل یھود الھند و مجوس الاعاجم ۔

ترجمہ : داڑھی جبکہ ایک مشت سے کم ہو تو اس کاٹنا جس طرح بعض مغربی اور زنانے زنخے کرتے ہیں کسی کے نزدیک حلال نہیں ۔ اور کل داڑھی کا صفایا کرنا یہ کام تو ہندوستان کے یہودیوں اور ایران کے مجوسیوں کا ہے ۔


مسلمان مردوں کےلیے داڑھی ایک مشت (مٹھی ، چارانگل) رکھنا واجب ہے ۔ معاذ اللہ ! پوری ہی  داڑھی منڈا دینا یا ایک مٹھی سے کم کروانا دونوں ہی کام  حرام و گناہ ہیں اور ایسا کرنے والا فاسق معلن ہے ۔ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق پیر بنانے کی شرائط میں سے ایک بنیادی شرط اس کا فاسقِ معلن نہ ہونا بھی ہے ، لہٰذا داڑھی منڈے شخص کی بیعت کرنا ، جائز نہیں اگر کسی نے کرلی ہو تو اس بیعت کو توڑدے ۔


ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے ۔ جیسا کہ بخاری ، مسلم ، ابوداؤد ، ترمذی و دیگر کتبِ احادیث میں ہے : والنظم للاول ، عن ابن عمرعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال خالفوا المشرکین وفروا اللحی وأحفوا الشوارب وکان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل أخذہ ۔

ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سےروایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا مشرکین کی مخالفت کرو داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی مُٹھی میں لیتے اور جومٹھی سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے ۔ (صحیح البخاری کتاب اللباس باب تقلیم الاظفار صفحہ 1486 حدیث نمبر 5892 مطبوعہ دارِ ابن کثیر دمشق ، بیروت)


حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ، أَحْفُوا الشَّوَارِبَ ، وَأَوْفُوا اللِّحَى ۔

ترجمہ : عمر بن محمد نے نافع علیہم الرحمہ کے حوالے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرکوں کی مخالفت کرو ، مونچھیں اچھی طرح تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ ۔ (صحيح مسلم كتاب الطهارة صفحہ 146 حدیث نمبر 259 مطبوعہ دارالفکر بیروت)(صحيح مسلم كتاب الطهارة صفحہ 129 حدیث نمبر 259 مطبوعہ بیت الافکار الدولیہ الریاض)


احادیثِ مذکورہ میں اعفوا ، ارخو ا ، اور اوفروا ، امر کا صیغہ ہے جس کا مقتضیٰ وجوب ہے اور یہاں وجوب سے پھیرنے والا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے ۔ لہٰذا داڑھی بڑھانا واجب ہے ۔ اگرچہ احادیث مذکورہ میں داڑھی بڑھانے کا حکم دیاگیا ہے لیکن داڑھی بڑھانے کی مقدار مجہول ہے ۔ ان احادیث میں اس طرح داڑھی بڑھانا مراد نہیں ہے کہ داڑھی کو بالکلیہ تراشا نہ جائے ۔ اس لیے کہ داڑھی بہت زیادہ دراز ہونے کے بعد بد نما ہو جاتی ہے اور اس سے چہرہ کا حسن ختم ہو جاتا ہے ۔ حالاں کہ داڑھی چہرہ کا جما ل ہے ۔


البحرالرائق میں ہے : لان اللحیۃ فی اوانھا جمال فیلزمہ منہ کما ل الدیۃ کما لو قطع الاذنین الشاخصین و الدلیل علیٰ انہ جمال قولہ علیہ الصلوٰۃ و السلام: ان للہ ملٰئکۃ تسبیحھم ”سبحٰن من زین الرجال باللحاء والنساء بالقدود و الذوائب ۔

ترجمہ : اس لیے کہ داڑھی اپنے وقت میں جما ل ہے ۔ پس اس کو کاٹنے سے پوری دیت لازم آئے گی جیسا کہ اگر دونوں کان کی لو کاٹ دی جائے ۔ داڑھی کے جمال ہونے پر دلیل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جن کی تسبیح یہ ہے ۔ اس ذات کےلیے پاکی ہے جس نے مردوں کو داڑھیوں سے اور عورتوں کو بال کی چوٹی اور گیسو سے مزین فرمایا ۔


اگر چہ مذکورہ احادیثِ مبارکہ میں داڑھی بڑھانے کی مقدار مجہول ہے لیکن اس کا بیان اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا فعل ہے ۔ کیوں کہ احادیثِ مبارکہ سے یہ بات ثابت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم داڑھی تراشتے تھے ۔ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کبھی بھی داڑھی تراش کر ایک مشت سے کم نہیں کیا ہے ۔ پس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ فعل احادیث مذکورہ میں داڑھی بڑھانے کی اجمالی مقدار کا بیان ہے ۔


مواھب الدنیہ میں مذکور ہے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی داڑھی مبارک سینہ انور تک دراز تھی ۔


شرعۃ الاسلام میں ہے : کان یاخذ لحیتہ طولا و عرضا علیٰ قدر القبضۃ ۔

ترجمہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم داڑھی مبارک کو طول اور عرض میں قبضہ کی مقدار تراشتے تھے ۔


مصنف ابن ابو شیبہ میں حضرت ابو زرعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : کان ابو ھریرۃ یقبض علیٰ لحیتہ ثم یاخذ ما فضل عن القبضۃ ۔

ترجمہ : حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے تھے اور مٹھی سے زائد داڑھی کا کاٹ دیتے تھے ۔


بخاری شریف میں ہے : کان ابن عمر اذا حج او اعتمر قبض علیٰ لحیتہ فما فضل اخذ منہ ۔

ترجمہ : حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو اپنی مٹھی میں پکڑتے اور مشت سے زائد داڑھی کو کاٹ دیتے تھے ۔


علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مذکورہ فعل کو داڑھی بڑھانے کے خلاف قرینہ قرار دیا ہے جو کہ اُن کا تساہل ہے ۔ اس لیے کہ ان کے قول سے لازم آتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم داڑھی نہیں بڑھایا کرتے تھے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے قول ”اعفوا اللحیۃ“ ”اوفروا اللحیۃ“ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو داڑھی بڑھانے کا حکم دیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود داڑھی نہیں بڑھاٸی اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے داڑھی بڑھاٸی ۔


علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ کا فقہائے کرام کے قول ”والسنۃ فیہ القبضۃ“ اور اس جیسی عبارت سے مشت بھر داڑھی رکھنے کو سنتِ غیر مؤکدہ ہونے پر استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔ اس لیے کہ اس عبارت کا تعلق ایک مشت سے زائد داڑھی کو کاٹنے کے مسنون ہونے سے ہے ۔ نہ کہ ایک مشت داڑھی رکھنے کے مسنون ہونے سے ہے جیسا کی اس پر فقہائے کرام کی عبارت دلالت کر رہی ہے : ⬇


در مختار میں ہے : ولا باس بنتف الشیب و اخذ اطراف اللحیۃ ،، یعنی سفید بال کو اکھاڑنے اور داڑھی کے اطراف کو تراشنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔


اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ داڑھی کے اطراف کو کتنی مقدار میں تراشنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اس کوصاحبِ درمختار نے اپنے قول ”والسنۃ فیہ القبضۃ“ سے واضح کیا ہے ۔


علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ ”و السنۃ فیہ القبضۃ“ کی تشریح میں لکھتے ہیں : و ھو ان یقبض الرجل لحیتۃ فما زاد علیٰ قبضۃ قطعہ کذ ا ذکرہ محمد فی الآثار عن الاما م وقال بہ ناخذ ۔

ترجمہ : و السنۃ فیہ القبضۃ یہ ہے کہ آدمی اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑے اور جو داڑھی مٹھی سے زائد ہے اس کو کاٹ دے ۔


اما م محمد رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الآثار میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے اسی طرح ذکر کیا ہے اور ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں ۔ علامہ طحطاوی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے کہ مسنون ہونے کا تعلق ایک مشت داڑھی کے رکھنے سے نہیں ہے بلکہ ایک مشت سے زائد داڑھی کو تراشنے سے ہے ۔


الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے : اما اللحیۃ قد ذکر محمد رحمہ اللہ تعالیٰ فی الآثار عن الامام ان السنۃ ان یقطع مازاد علی قبضۃ یدہ ۔

ترجمہ : رہی داڑھی تو امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الآثار میں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے ذکر کیا ہے کہ ایک مشت سے زائد داڑھی کو کاٹنا سنت ہے ۔ فتاویٰ عالمگیری کی عبارت سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے کہ مسنون ہونے کو تعلق ایک مشت سے زائد داڑھی کو کاٹنے سے ہے نہ کہ ایک مشت دارھی رکھنے سے ہے ۔


فتاویٰ عالمگیری میں ہے : والسنۃ فیہ القبضۃ وھو ان یقبض الرجل لحیتہ فان زاد منھا علیٰ قبضۃ قطعہ کذا ذکرہ محمد فی کتاب الآثار عن ابی حنیفۃ وقال بہ ناخذکذا فی محیط السرخسی ۔

ترجمہ : دارھی میں مسنون ایک مشت ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑے اور اس کے مشت جو داڑھی زائد ہے اس کو کاٹ دے ۔ اسی طرح امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الآثار میں ذکر کیا ہے ۔ اور کہا ہے کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں ۔ ایسا ہی محیط السرخسی میں ہے ۔


چوں کہ ایک مشت سے زائد بڑھی ہوئی داڑھی کو کاٹنے کے متعلق فقہائے کرام کا اختلاف ہے کہ بعض فقہائے کرام نے ایک مشت سے زائد بڑھی ہوئی داڑھی کے کاٹنے کو واجب قرار دیا ہے ، بعض نے مکروہ لکھاہے ، اور بعض نے حرام کہا ہے ۔ فقہائے احناف کے نزدیک مختار یہ ہے کہ ایک مشت سے زائد بڑھی ہوئی داڑھی کا کاٹنا مسنون ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک مشت سے زائد بڑھی ہوئی داڑھی کو کاٹا کرتے تھے ۔ اسی وجہ سے فقہائے کرام نے القدر المسنون فیہ القبضۃ لکھا ہے کہ داڑھی بڑھانے کی مقدار جو سنت سے ثابت ہے وہ ایک مشت ہے ۔


فقہائے کرام کی اس جیسی عبارت سے ایک مشت سے زائد داڑھی کو کاٹنے کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے نہ کہ ایک مشت داڑھی رکھنے کا سنت غیر مؤکدہ ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ یہی موقف شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے مشکوٰۃ شریف اشعۃ اللمعات میں لکھتے ہیں : وگذاشتن آں بقدر قبضہ واجب است وآنکہآنرا سنت گویند بمعنی سلوک در دین است یا بجہت آں کہ ثبوت آں بسنت است چنانکہ نماز عید را سنت گفتہ اند ۔

ترجمہ : ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے ۔ جو لوگ ایک مشت داڑھی رکھنے کو سنت کہتے ہیں وہ اس بنا پر کہ ایک مشت داڑھی رکھنا دین رائج ہے یا اس بنا پر کہ اس کا ثبوت سنت سے ہے ۔ جیسا کہ فقہائے کرام نماز عید کو سنت کہتے ہیں (حالانکہ عید کی نماز واجب ہے) ۔


الفقہ الاسلامی و ادلتہ جلد سوم میں ہے : والمسنون فی اللحیۃ القبضۃ اما الاخذ من دون ذالک او اخذھا کلھا فلا یجوز ۔

ترجمہ : داڑھی میں مسنون ایک مشت ہے ۔ رہا داڑھی کو تراش کر ایک مشت سے کم کرنا یا پوری داڑھی تراشنا تو یہ جائز نہیں ہے ۔


الفقہ الاسلامی و ادلتہ کی مذکورہ عبارت اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ ایک مشت داڑھی رکھنا سنت غیر مؤکدہ نہیں ہے بلکہ واجب ہے ۔ اس لیے کہ اگر ایک مشت داڑھی رکھنا سنتِٖٖ غیر مؤکدہ ہوتا اور داڑھی کو تراش کر ایک مشت سے کم رکھنا جائز ہوتا تو تو داڑھی تراش کر ایک مشت سے کم رکھنا جائز ہوتا ، اس لیے کہ سنتِ مؤکدہ کا ترک جائز ہے ۔


علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ کی غلطی یہ ہے کہ وہ مطلقاً داڑھی رکھنے کو واجب قرار دیتے ہیں اور ایک مشت داڑھی رکھنے کو سنتِ غیر مؤکدہ اور مستحب قرار دیتے ہیں ۔ وہ صحیح مسلم کی شرح میں لکھتے ہیں : چوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے داڑھی منڈانے پر انکار کیا ہے اور داڑھی منڈانے سے داڑھی بڑھانے کے حکم کی بالکلیہ مخالفت ہوتی ہے اس لیے ہمارے نزدیک داڑھی منڈانا مکروہ تحریمی یا حرام ظنی ہے اور مطلقاً داڑھی رکھنا واجب ہے ۔


جب علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان میں مذکورہ ”اعفوا اللحیۃ“ اوفروا اللحیۃ وغیرہ کے امر کے صیغہ کو وجوب کےلیے نہیں مانتے ہیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فعل یعنی ایک مشت داڑھی رکھنے کو ایک مشت داڑھی رکھنے کے واجب ہونے کی دلیل نہیں مانتے ہیں تو کیا ان پر مطلقاً داڑھی رکھنے کے واجب ہونے پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے ۔ اس لیے کہ اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان ”اعفوا اللحیۃ ٗ اوفروا اللحیۃ“وغیرہ سے اگر ایک مشت داڑھی رکھنے کا وجوب ثابت نہیں ہوتا ہے تو اس سے مطلقاً داڑھی رکھنے کا وجوب بھی ثابت نہیں ہوگا ۔


علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک غلطی یہ بھی ہے کہ وہ اتنی مقدار داڑھی رکھنے کو واجب قرار دیتے ہیں جسے عرفاً و عادتاً داڑھی رکھنا تسلیم کیا جاتا ہے ۔ ان کے نزدیک خشخشی یا فرنچ کٹ داڑھی رکھنا شرعی داڑھی رکھنا نہیں ہے ۔ کیا ان کے نزدیک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک مشت داڑھی رکھنا اور فقہائے کرام کا ایک مشت داڑھی رکھنے کو مسنون قرار دینا عرف و عادت کے خلاف ہے ۔ انہوں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معمولات سے قطع نظر کرتے ہوئے شریعتِ مطہرہ پر مکمل طور پر عمل نہ کرنے والے چند لوگوں کے عمل کو عرف و عادت کا معیار بنا لیا ۔


علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک غلطی یہ بھی ہے کہ انہوں نے نور الانوار کی عبارت ”ولا یثبت الوجوب الا من الامر دون الفعل“ سے یہ سمجھ لیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی فعل سے بھی کسی صورت میں وجوب ثابت نہیں ہو سکتا ہے ۔ حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ فعل موجب ہے جس پر آپ نے مداومت فرمائی ہے ۔ اور اس کے ترک سے انکار فرمایا ہے ۔


البحر الرائق جلد اول میں ہے : والذی ظھر للعبد الضعیف ان السنۃ ما واجب النبی صلی اللہ علیہ وسلم علیہ لٰکن ان کا ن لا مع الترک فھی دلیل السنۃ المؤکدۃ وان کانت مع الترک احیانا فھی دلیل غیر المؤکدۃ وان قرنت بالانکار علیٰ امر فعلہ فھی دلیل الوجوب فافھم ۔

ترجمہ : وہ چیز جو اس کمزور بندے کےلیے ظاہر ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ سنت وہ ہے جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیشگی فرمائی ہے ۔ لیکن اگر ترک نہ کرنے کے ساتھ ہے تو وہ سنتِ مؤکدہ ہونے کی دلیل ہے ۔ ا گر کبھی ترک کرنے کے ساتھ ہے تو وہ سنتِ غیر و مؤکدہ ہے ۔ اگر اس فعل کو ترک کرنے سے انکار کرنا شامل ہے تو یہ وجوب کی دلیل ہے۔ پس تم اچھی طرح سمجھ لو ۔


اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مشت داڑھی رکھنے پر مداومت فرمائی ہے اور اپنے فرما ن ”اوفروا اللحیۃ“ وغیرہ داڑھی رکھنے کو ترک کرنے سے انکار بھی فرمایا ہے ۔ داڑھی کاٹنے کا حکم دینا کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔ پس ایک مشت داڑھی رکھنے اور مشت بھر داڑھی رکھنے کے واجب ہونے کا انکار کرنا جس دلیل پر مبنی تھا اس کا باطل ہونا ظاہر ہو گیا ۔


علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ عبدالحق محدث دہلوی اور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی اور علمائے کرام علیہم الرحمہ کو اپنی رائے سے شریعت گڑھنے والا کنایۃً قرار دیا ہے جو ایک مشت داڑھی رکھنے کے وجوب کے قائل ہیں اور وجوب پر ان لوگوں نے بہت سی دلیلیں قائم کی ہیں ۔ علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب مسلم شریف کی شرح میں ایک مشت داڑھی رکھنے والوں کے قول کو رد اور باطل قرار دیتے ہوئے لکھا ہے ۔ یاد رکھیے ! ہم مبلغ ہیں شارع نہیں ہیں ۔ ہمارا کام احکامِ شریعت کو جوں کا توں پہنچانا ہے اور پس ہم اپنی طرف سے کسی حکم کو وضع کرنے کے مجاز نہیں ہیں ۔


فتح القدیر ، غنیۃ ، بحرالرائق ، حاشیہ طحطاوی علی المراقی ، درمختار اور درر شرح غرر وغیرہ کتبِ فقہ میں ہے : والنظم للآخر“وأما الأخذ من اللحیۃ وھی دون القبضۃ کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد وأخذ کلھا فعل مجوس الأعاجم والیھود والھنود وبعض أجناس الإفرنج ۔

ترجمہ : بعض مغربی اور ہیجڑے لوگوں کی طرح داڑھی کاٹ کر ایک مٹھی سے کم کردینے کو کسی فقیہ نے بھی جائز نہیں کہا اور داڑھی مکمل کاٹ دینا عجمی مجوسیوں ، یہودیوں ، ہندؤوں اور بعض قسم کے  انگریزوں کا طریقہ ہے ۔ (درر شرح غرر کتاب الصیام فصل حامل او مرضع خافت جلد 1 صفحہ 208 داراحیاء الکتب العربیہ بیروت،چشتی)


امام مالک و احمد و بخاری و مسلم و ابو داؤد و ترمذی و نسائی و طحاوی علیہم الرّحمہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : خالفو المشرکین احفوا الشوارب و اوفروا اللحیۃ ، مشرکوں کے خلاف کرو ، مونچھیں خوب پست کرو ، اور داڑھیاں بڑھاؤ ۔ (صحیح البخاری ، کتاب اللباس،۲/۸۷۵)(صحیح مسلم ،کتاب الطہارۃ،باب خصال الفطرۃ،۱/۱۲۹،،چشتی)(سنن الترمذی،۵/۹۵،)(سنن النسائی المجتبی،۱/۱۶)(سنن ابی داؤد،۴/۸۴)(مسند احمد،۲/۱۶)(شرح معانی الآثار،۴/۲۳۰)(مؤطا ،۲/۹۴۷)


داڑھی ایک مشت یعنی چار انگل تک رکھنا واجب ہے (بعض نے سنت مؤکدہ لکھا ہے) اور اس سے کم کرنا نا جائز ہے ۔


شیخ محقق شاہ عبد الحق محدث دھلوی (۱۰۵۲ھ) رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : گذاشتن آں بقدر قبضہ واجب است و آنکہ آنرا سنت گیند بمعنی طریقہ مسلو ک دین است یا بجہت آنکہ ثبوت آں بسنت است ، چنانکہ نماز عید را سنت گفتہ اند ۔

ترجمہ : داڑھی بمقدار ایک مشت رکھنا واجب ہے اور جو اسے سنت قرار دیتے ہیں وہ اس معنی میں ہے کہ یہ دین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا جاری کردہ طریقہ ہے یا اس وجہ سے کہ اس کا ثبوت سنت نبوی سے ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہا جاتا ہے ۔ (اشعۃ اللمعات،کتاب الطہارۃ ، باب السواک ،۱/۲۱۲،فتاوی رضویہ ، ۲۲ / ۵۸۱ مطبوعہ جدید)


اور حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے : ان النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کان یاخذ من لحیتہ من عرضھا و طولھا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اپنی ریش مبارک کے بال عرض و طول سے لیتے تھے ۔ (جامع الترمذی،ابواب الآداب ، باب ما جاء فی الاخذ من اللحیۃ،۲/ ۱۰۰،امین کمپنی دھلی)


اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ۱۳۴۰ ھجری لکھتے ہیں : علماء فرماتے ہیں یہ اس وقت ہوتا تھا جب ریش اقدس ایک مشت سے تجاوز فرماتی بلکہ بعض نے یہ قید نفس حدیث میں ذکر کی ۔ (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 590 مطبوعہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور،چشتی)


اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ متوفی 1340 ھجری لکھتے ہیں : داڑھی ایک مشت رکھنا واجب ہےجیسا کہ شرح مشکواة میں اور فتح القدیر میں ہے ایک مشت سے داڑھی کم کرنا ، تراشنا جیسے مغربی زدہ لوگ اور ہیجڑے کرتے ہیں ناجائز ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 581 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)


اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اس سے زائد اگر طول فاحش حد اعتدال سے خارج بے موقع بد نما ہو تو بلا شبہہ خلاف سنت و مکروہ کہ صورت بد نما بنانا ، اپنے منہ پر دروازہ طعن مسخریہ کھولنا ، مسلمانوں کو استہزاء و غیبت کی آفت میں ڈالنا ، ہرگز مرضی شرع مطہر نہیں ۔ (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 582 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)


اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : داڑھی منڈا نے یا ایک مٹھی سے گھٹانے والا  شخص  فاسقِ معلن ہے ۔ جیسا کہ فتاویٰ رضویہ میں ہے : داڑھی منڈانا اور کتَروا کر حدِ شرع سے کم کرانا دونوں حرام و فسق ہیں اور اس کا فسق باِلاِعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ جلد 6 صفحہ 505 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)


داڑھی منڈے کی بیعت جائز نہیں ۔ جیسا کہ اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ : جو اشخاص بوجہ لاعلمی کے خلاف شرع پیر مثل داڑھی منڈا اور کانوں میں مندرے پہنے ہوئے اور گیسو دراز کے مرید ہو چکے ہوں ان کی بیعت جائز ہوگی اور ان کو جائے دیگر بیعت ہونے کاحکم ہے یا نہیں ؟

تو  آپ رحمۃ اللہ علیہ اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : فاسق کے ہاتھ پر بیعت جائز نہیں ۔ اگر کرلی ہو فسخ کرکے کسی پیر متقی ، سنی ، صحیح العقیدہ ، عالم دین ، متصل السلسلۃ کے ہاتھ پر بیعت کرے ۔۔۔۔۔ ایسے شخص سے بیعت کاحکم ہے جو کم از کم یہ چاروں شرطیں رکھتا ہو : اول سنی صحیح العقیدہ ہو ۔ دوم علم دین رکھتا ہو ۔ سوم فاسق نہ ہو ۔ چہارم اس کا سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک متصل ہو ، اگر ان میں سے ایک بات بھی کم ہے تو اس کے ہاتھ پر بیعت کی اجازت نہیں ۔ (فتاوٰی رضویہ جلد 21 صفحہ 603 - 602 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)


اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ۱۳۴۰ ھجری لکھتے ہیں : حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت عبداللہ بن عمر و حضرت ابو ہریرہ وغیرہما صحابہ و تابعین رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کے افعال و اقوال ، اور ہمارے امام اعظم ابو حنیفہ و محرر امام محمد رضی اللہ تعالی عنہما و عامہ کتب فقہ و حدیث کی تصریح سے اس کی حد یکمشت ہے ، ابھی نصوص علماء سے گزرا کہ اس سے کم کرنا کسی نے حلال نہ جانا ۔ (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 655 رضا فاؤنڈیشن لاہور)


اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ۱۳۴۰ ھجری لکھتے ہیں : داڑھی کا طول ایک مشت یعنی ٹھوڑی سے نیچے چار انگل چاہیے اس سے کم کرنا حرام ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 606 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)


مذکورہ عبارات سے واضح ہوگیا کہ ایک مشت کی مقدار داڑھی رکھنا واجب ہے ، نیز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک ایک مشت تھی ،جب تجاوز کرجاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طول و عرض میں سے کم فرماتے ، لیکن ایک مشت ہمیشہ رہی ، نیز اس قدر لمبی رکھنا کہ بد نما صورت ہو جائے مکروہ ہے ۔


اب آپ کی مرضی ہے جدت پسند مغربی مفکرین خسروں کی نفسانی خواھشات کی پیروی کرو یا پھر جن کا کلمہ پڑھتے ہو اس شفیق و مہربان نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پیروی و اطاعت کرو فیصلہ خود کر لو مرنے کے بعد کیا منہ دیکھاٶ گے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ؟ کیا یہی کہو گے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم اپنے جدت پسند مغربی مفکرین خسرے قاٸدین کی پیروی کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنتِ مبارکہ اور حکم کی مخالفت کرتے اور مذاق اڑاتے رہے ۔ سوچو اس سے پہلے کہ موت آ جاۓ ۔ ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔


























مالک بن نویرہ مرتد ہو گیا تھا سنیوں کے لبادے میں چھپے روافض کی ہفوات کا مدلل جواب

مالک بن نویرہ مرتد ہو گیا تھا سنیوں کے لبادے میں چھپے روافض کی ہفوات کا مدلل جواب محترم قارئینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : يٰۤـاَيُّهَا ال...