Thursday, 30 April 2026

حسام الحرمین کی حقانیت تاریخ و حقائق اورکتب اہل سنت کے اجالے میں

حسام الحرمین کی حقانیت تاریخ و حقائق اورکتب اہل سنت کے اجالے میں

محترم قارئینِ کرام : ہندوستان میں وہابیوں  نے جب انگریزوں کی مدد سے پیر جمانا شروع کیا تو سب سے پہلے ان وہابی دیوبندیوں نے ذات مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نشانہ بنایا لہٰذا ہندوستان میں وہابیت کا بانی اسماعیل دہلوی قتیل رذیل نے تقویت الایمان نامی کتاب لکھ کر اس کی ابتداء کی اس کے بعد اس کا کو بڑھانے کےلیے دوگروہ وجود میں ائے ایک تقلید کا منکر ہوا اور دوسرا تقلید کا دعویدار ان جھوٹے دعویداروں نے اپنا مرکز دیوبند کو بنایا جسے انگریزوں کی پوری طرح سے حمایت حاصل رہی آل دیوبند نے اپنے مرے ہوئے آقا اسمعیل دہلوی قتیل رذیل کے مشن کو آگے بڑھانا تھا اور اپنے انگریزی آقاؤں کا حق نمک بھی ادا کرنا تھا تو ان لوگوں میں سے ایک مولوی قاسم نانوتوی نے تحذیر الناس نامی کتاب لکھ کر ختم نبوت کا انکار کردیا اور دوسری طرف رشید احمد گنگوہی اور خلیل احمد انبھیٹوی  نے فتوی رشیدیہ و براھین قاطعہ میں اپنی رسول دشمنی کا ثبوت دے دیا ان سب میں مولوی اشرف علی تھانوی بھی ایک کتاب بنام حفظ الایمان سے لکھ کر علم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حقیر ثابت کرنے کی کوشش کی ان سب کا ایک ہی مقصد تھا کہ اہل سنت کے بنیادی عقائد و نظریات پر ڈاکہ ڈالا جائے اور ایک طرف ان انگریز وفاداروں کی یہ سب چالیں چلی جارہی تھیں تو دوسری طرف اہل سنت جید علمائے کرام ان گستاخوں کا بھر پور رد بلیغ فرما رہے تھے ۔ ان سب میں سر فہرست جو زات گرامی ان تمام گستاخوں کے خلاف کھڑی تھی اس ذات کا نام  امام اہل فخر اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ والرضوان کی ذات تھی ۔ امام اہل سنت احمد رضا خاں رحمتہ اللہ علیہ نے وہابی دیوبندیوں کے باطل عقائد و نظریات زبردست گرفت فرمائی اور علمائے حرمین شریفین نے بھی دیوبندی وہابیوں کی لکھی عباروتوں کو گستاخانہ قرار دیتے ہوئے ان عبارات کے لکھنے والوں کو کافر قرار دے دیا جو آج بھی حسام الحرمین کے نام سے مشہور ہے اور اہل سنت اور دیوبندیت کے بیچ خط امیاز ہے اور اہل حق کی نمائندگی آج بھی یہ کتاب کررہی ہے ۔ جب وہابی دیوبندیوں سے اس کا کوئی معقول جواب نہ بن پڑا تو انہوں نے کچھ مسلکی طوائفوں کو خرید لیا تاکہ وہ حسام الحرمین کی حقانیت کو مجروح کر سکیں یہ و مسلکی طوائف ہیں کو خود کو اہل سنت کہہ کر پیش کرتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کے خون میں کہیں نہ کہیں میر جعفر میر صادق اور عبد اللہ بن سبا کا خون ملا ہوا ہے  ان غداروں کو اس کام پر لگا دیا گیا ہے کہ کسی نہ کسی طرح حسام الحرمین کی حقانیت کو مجروح کیا جائے وہ اعتراضات جو آل دیوبند کرتے تھے وہی اعتراضات یہ مسلکی طوائف کر رہے ہیں مگر وہ اس میں نہ کل کامیاب ہوئے تھے آج کامیاب ہوں گے ۔ ہم حسام الحرمین شریف کی حقانیت پر لکھی گئی کتب اہل سنت آپ کے لئے پیش کر رہے ہیں بس آپ ہر لنک پر ایک کلیک کریں کتاب مفت میں ڈانلوڈ ہوجائے گی : ⏬

1⃣حسام الحرمین : ⏬

https://archive.org/details/tamheed-hussam-ul-harmain-maktaba-ala-hazrat-hqf

2⃣حسام الحرمین کی حقانیت اور صداقت : ⏬

https://ia601508.us.archive.org/.../2%20Hussam%20ul...

3⃣حسام الحرمین علی منحرالکفر والمین میں احکام و تصدیقات اعلام : ⏬

https://ia601508.us.archive.org/.../3%20Hussamul...

4⃣حسام الحرمین کے سو سال : ⏬

https://ia601508.us.archive.org/.../4%20Hussam%20ul...

5⃣حسام الحرمین اور مخالفین : ⏬

https://ia601508.us.archive.org/.../5%20Husam%20ul...

6⃣اہل سنت کی حقانیت کا ثبوت : ⏬

https://ia601508.us.archive.org/.../6%20Ahlesunnat%20ki...

7⃣رد المہند : ⏬

https://ia601508.us.archive.org/.../7%20Raad%20Al...

8⃣رد شہاب ثاقب : ⏬

https://ia601508.us.archive.org/.../8%20Radde%20Shahabe...

اسماعیل دہلوی اور سیّد احمد رائے بریلوی کے جہاد کی حقیقت پردہ اٹھتا ہے ۔ مکمل مضمون اس لنک میں پڑھیں : ⏬ https://faizahmadchishti.blogspot.com/2019/08/blog-post_8.html?spref=tw





























Wednesday, 29 April 2026

حضرت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ پر ساجد نقلبندی کے الزام کا جواب

حضرت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ پر ساجد نقلبندی کے الزام کا جواب












 محترم قارئینِ کرام : کاذب خائن کی مغلظات کے جواب میں عرض ہے کہ اولاً امام اہلسنت علیہ الرحمہ کی تکفیر تم کرو گے تو ہم ان کا ایمان علمائے دیوبند کی کتب سے ثابت کریں گے اور یہ مسلمہ اصول ہے کہ جو کافر کو کافر نا کہے وہ بھی کافر لہٰذا تمہیں اپنے ان تمام اکابرین پر کفر کا فتاوی لگانا ہوگا جنہوں نے امام اہلسنت علیہ الرحمہ کی تکفیر نہیں کی اور ساتھ ساتھ ان پر بھی جنہوں نے ان اکابرین کو مسلمان مانا ان دیوبندیوں کو بھی ۔ دوم علمائے دیوبند کی تکفیر حسام الحرمین سے قبل بھی ہو چکی تھی لہٰذا تمہارا حسام الحرمین یا امام اہلسنت علیہ الرحمہ کے خلاف واویلا کرنا بلکل بے وجہ ہے ۔ سوم

تم نے اپنے جن اکابرین کا نام لیا ان سے اپنا یہ دعوی من و عن ثابت کر اور بعد میں علمائے دیوبند کا خصیہ خاص ہونے کا دعوی کر ۔ چہارم اس دیوث نے اپنی ویڈیو میں ایک مقام پر امام اہلسنت علیہ الرحمہ کے ایمان پر بات کرتے ہوئے ان کے ختنے چیک کرنے کی بات کی (اور ویڈیو میں وہ مقام میوٹ کروا دیا) تو ہم کہتے ہیں کہ عطاء اللہ شاہ بُخاری نے جیل میں اپنا نام پنڈت کرپا رام برہمچاری رکھا تھا تو اس کے ختنے چیک کرنے منظور نعمانی کی ہمشیرہ گئی تھی یا چاند پوری کی بیٹی ؟ ۔ ہے گنبد کی صدا جیسی کہے ویسی سنے ۔ محترم وقار صاحب کی وال سے ۔


سرقہ باز ، محرف ، کذاب اور خائن ساجد خان نقلبندی دیوبندی  کےلیے دیوبندی عالم کی جانب سے استعمال کیے گئے القابات : ذباب القاذورات ، گند پہ بیٹھنے والی مکھی ۔ لفظ غبی کا فرد کامل ، شیطان کا خصوصی نوکر ، ابو المعتزلہ ، ساجد نجدی تیمی معتزلی ۔ ذباب القاذورات ، شیطان کا خصوصی نوکر ۔ (دیوبندی کتاب التحقیقات الجوھریہ فی اثبات بعض الکرامات الاختیاریہ صفحہ نمبر 25) ۔ بل سے باہر نکلو اور اپنے ہی اکابر پر فتویٰ لگاؤ ۔ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ تمہاری انتہا پسندی پوری دیوبندیت کو مشکل میں ڈال دے گی ، کیونکہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کا ایمان تمہارے ہی اکابرین کے اقوال سے ثابت ہے ۔ اگر تم واقعی اپنے دعوے میں سچے ہو تو پھر فتویٰ لگاؤ : اشرف علی تھانوی پر ، انور شاہ کشمیری پر ، خلیل احمد سہارنپوری پر اور تمام اُن علماء پر جنہوں نے اعلیٰ حضرت کو مسلمان ، عالم اور صاحبِ علم و شریعت تسلیم کیا ۔


مولوی احمد رضا خان بریلوی کے متعلقین کو کافر کہنا صحیح نہیں ، ان کے کلام میں تاویل ممکن ہے ۔ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد 2 صفحہ 138)


سوال ہوا : بریلی والوں کے پیچھے نماز ہو جائے گی ؟

جواب : ہاں ، ہم انہیں کافر نہیں کہتے ۔ اہلِ قبلہ کافر نہیں ہوتے ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد 29 صفحہ 225 ، 226)


تمام دیوبندی جماعت اور ان کے محدث انور کاشمیری دیوبندی بریلویوں کو مسلمان سمجھتے ہیں اس لیے ان کی تکفیر نہیں کرتے : ⏬


سابق ریاست بہاولپور (پاکستان) میں ایک مسلمان عورت کا شوہر مرزائی ہوگیا تھا ۔ اس پر عورت نے عدالت میں شوہر کے اتداد کی وجہ سے فسخ نکاح کی درخواست دی ۔ مقدمہ دائر ہوا اور اس میں حضرت مولانا انور شاہ صاحب سابق صدر مدرس و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند کی شہادت کے دوران مرزائی وکیل نے فتویٰ تکفیر کو بے اصل ثابت کرنے کےلیے کہا دیوبندی بریلویوں کو اور بریلوی دیوبندیوں کو کافر کہتے ہیں ۔ اس پر حضرت انور شاہ صاحب نے فورا عدالت کو مخاطب کرکے فرمایا ۔ میں بطور وکیل تمام جماعت دیوبند کی جانب سے گزارش کرتا ہوں کہ حضرات (علماء) دیوبند بریلوی حضرات کی تکفیر نہیں کرتے ۔ (کتاب حیات انور صفحہ 333 ،چشتی، روزنامہ نوائے وقت لاہور 8 جنوری 1976ء مضمون وقت کی پکار قسط نمبر 2 از مولوی بہاء الحق قاسمی دیوبندی امرتسری)

میں بطور  وکیل تمام جماعت دیوبند یہ کہتا ہوں علمائے دیوبند بریلویوں کی تکفیر نہیں کرتے یعنی کافر نہیں کہتے ۔ (ملفوظات محدث کشمیری صفحہ نمبر 61 ، 62،چشتی)


معلوم ہوا کہ تمام دیوبندی جماعت اور ان کے محدث انور کاشمیری بریلویوں کو مسلمان سمجھتے ہیں اس لیے ان کی تکفیر نہیں کرتے ۔ جب عام سنی بریلوی ان کے نزدیک مسلمان ہیں تو ان کے امام بدرجہ اتم مسلمان ہوئے ۔


محدث دیوبند انور شاہ کشمیری کہتے ہیں : میں بطور وکیل جماعتِ دیوبند عرض کرتا ہوں کہ حضرات دیوبند ان کی تکفیر نہیں کرتے ۔ (ملفوظات کشمیری صفحہ 61)


خلیل احمد انبیٹھوی دیوبندی کہتے ہیں : اہلِ قبلہ کو جب تک ضروریاتِ دین کا انکار نہ ہو کافر نہیں کہا جاتا ۔ (المہند علی المفند صفحہ 60)


دیوبندی مولوی عبدالرؤف جگن پوری کہتے ہیں : علمائے دیوبند بریلوی مبتدعین کی بھی تکفیر نہیں کرتے ۔ (براۃ الابرار صفحہ 301)


اشرف علی تھانوی دیوبندی کہتے ہیں : اگر مجھے احمد رضا خان کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقع ملتا تو پڑھ لیتا ۔ (انوار قاسمی صفحہ 550)


علمائے دیوبند اہلِ حدیث اور بریلوی عقائد والوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے ۔ (حیات الامداد صفحہ 38)


سوال : اگر حضرت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ مسلمان نہیں تھے تو پھر تمہارے اپنے اکابر کیوں ان کی تکفیر سے رکے رہے ؟ ۔ کیوں ان کے پیچھے نماز کو جائز کہا ؟ ۔ کیوں انہیں اہلِ قبلہ مانا ؟ ۔ کیوں ان کو رحمة اللہ علیہ کہا ؟


محترم قارئین کرام : آپ نے دیکھا ہوگا کہ آج کل کچھ دیوبندی حضرات اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ پر تبرا بازی کرتے نظر آتے ہیں اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو معاذاللہ کافر و گستاخ کہتے ہیں حالانکہ یہ نظریہ ان کے اکابر علماء کا نہیں ، جن میں مولوی اشرف علی تھانوی ، مولوی طیب قاسمی دیوبندی مہتمم دارالعلوم دیوبند ، مولوی انور شاہ کشمیری ، ضیاء الرحمن فاروقی سرپرست اعلیٰ سپاہ صحابہ ، مولوی ادریس ہوشیار پوری ، مولوی اسحق دیوبندی ، مولوی یوسف لدھیانوی علامہ بنوری ٹاٶن کراچی ، مفتی عبدالستار دیوبندی جامعہ خیرالمدارس ، مولوی محمد شفیع وغیرہم ہیں ، ان سب حضراتِ دیوبندکے نزدیک اعلیٰ حضرت علیہ رحمہ اور ان کے ماننے والے سنی ہیں ۔


محترم قارئین کرا م : آپ حیرت میں ہونگے کہ اتنے بڑے بڑے دیوبندی علماء اگر اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں اچھا نظریہ رکھتے ہیں تو پھر موجودہ شر پسند دیوبندی علماء اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ کو کافر و گستاخ کیوں کہتے ہیں ؟


تو اس کا جواب یہ ہے کہ انگریز کے پیسوں پر پلنے والے کچھ مولویوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کیں۔جن پر علماء اہل سنت و جماعت نے ان کا خوب رد کیا جن میں سر فہرست اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ کی شخصیت ہے ۔ اپنے اکابر سے اندھی عقیدت رکھنے والے ان دیوبندی حضرات سے اپنے علماء کی گستاخیوں کی صحیح تاویل تو نہ ہو سکی البتہ انہوں نے ’’ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘ کی مثل ہم اہل سنت و جماعت کو الٹا گستاخ کہنا شروع کر دیا ۔اس کارنامہ کو سرانجام دینے کےلیے ان حضرات نے علماء اہل سنت و جماعت اور بالخصوص اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتب میں درج عبارات کو کتروبرید کے ساتھ غلط رنگ دیتے ہوئے گستاخانہ و کفریہ قرار دیا ۔ان کی اس حرکت سے الحمد للہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر علماء اہل سنت و جماعت کی شان میں تو کچھ فرق نہ آیا البتہ لوگوں پر ان حضرات دیوبند کے مزید دجل و فریب آشکار ہو گئے ۔ علماء اہل سنت و جماعت نے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر علماء پر ہونے والے اعتراضات کے مدلل جوابات ارقام فرمائے جو کسی بھی حقیقت پسند شخص کےلیے اطمینان کا باعث ہوں گے ۔ لیکن میں نے دفاعِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کےلیے دوسرے طریقہ پر لکھنے کا سوچا کہ کیوںنہ دیوبندی مذہب کے جید اکابر علماء سے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی توثیق بیان کی جائے اور دیوبندی مذہب کے اکابرین (بڑوں) ہی کے قلم سے ان دیوبندی اصاغرین (چھوٹوں) کا رد کیا جائے جو معاذ اللہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو کافر و گستاخ کہتے وقت ذرا بھی خوف خدا محسوس نہیں کرتے ۔


میری ان تمام دیوبندی حضرات سے گزارش ہے کہ وہ دیوبندیت کی عینک اتاڑ کر اگر میرے اس مضمون کو پڑھیں گے تو ان شاء اللہ ان کےلیے یہ مضمون ہدایت کا سامان ہوگا اور انہیں اپنے غلط نظریہ سے رجوع پر ہمت فراہم کرے گا اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی بے ادبی و گستاخی سے بچنے کی توفیق بھی ملے گی ۔


ملاحظہ ہو کتاب خطبات حکیم الاسلام جلد ۷ از مولوی ادریس ہوشیارپوری صدر مدرس مدرسہ تحفیظ القرآن الکریم اس کتاب میں دیوبندی بیمار امت کے حکیم مولوی طیب قاسمی کے خطبات ہیں ۔ اس کتاب کو کتب خانہ مجیدیہ ملتان نے شائع کیا ہے اور یہ دیوبندیوں کی مستند کتاب ہے اس پر کئی دیوبندی مولویوں کا تبصرہ (تائید) موجود ہے ۔


جس میں پہلی تقریظ مفتی عبدالستا ر دیوبندی رئیس دارالافتا جامعہ خیرالمدارس کی ہے ۔ ان صاحب نے اپنی تقریظ میں اس کتاب کی اور مولوی طیب قاسمی کی تعریف بھی کی ہے ، اور اس کتاب کو مرتب کرنے والے مولوی ادریس کو خوب سراہا ہے ، اسی طرح دوسری تقریظ مولوی یوسف لدھیانوی کی ہے اس نے بھی اس کتاب کو سراہا ہے ، اور دیگر دیوبندی مولویوں کی تائید بھی موجود ہے جن میں مولوی فتح محمد ،مولوی اسحق ، اور مولوی شفیع دیوبندی کا تصدیق نامہ صفحہ ۴۳) بھی ہے جس میں لکھا ہے کہ : الحمدللہ بندہ نے شروع سے آخر تک تمام مسودہ بنظر عمیق دیکھا اور متعدد مقامات پر برائے اصلاح نشاندہی کی ۔


اس عبارت سے پتہ چلا کے ان خطبات کو شائع کرنے میں بہت احتیاط برتی گئی اور اس کی اشاعت کےلیے بڑے بڑے دیوبندی مولویوں سے رابطہ کیا گیا ۔ اور خوب گہری نظر سے پڑھنے کے بعد جو کچھ غلط نظر آیا اس کی اصلاح کردی جو کچھ صحیح تھا اسے شائع کر دیا ۔ اب یہ تو تھا اس کتاب کا تعارف کے یہ ایک مستند کتاب ہے ۔ اس میں لکھا کیا ہے ؟ وہ آپ اب ملاحظہ فرمائیں : ⏬


اس کتاب میں تین جگہوں پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمہ کو رحمۃ اللہ علیہ کہا گیا ہے ۔ صفحہ ۲۵ فہرست میں عنوان نمبر ۱۱۹ میں لکھا ہے : مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ دیوبند کے فیض یافتہ ہیں ۔

نوٹ : اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو دیوبند کا فیض یافتہ کہنے کا دعوی بے بنیاد و بلا دلیل ہے جس کا تفصیلی جواب ہم لکھ کے ہیں الحَمْدُ ِلله ۔


یہی عبارت صفحہ ۴۴۸ پر بھی لکھی ہے اور اسی صفحہ پرعنوان ’’اپنے کام سے کام‘‘ کے تحت لکھا ہے : ہم تو یہ کہتے ہیں کہ (ہم جمع کےلیے آتا ہے مولوی طیب قاسمی صاحب بتانا چاہتے ہیں کہ یہ موقف میرا ہی نہیں بلکہ ہمارا اہل دیوبند کا یہ موقف ہے ۔ از ناقل) نہ ہم مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو کوئی برا بھلا کہنا جائز سمجھتے ہیں نہ کبھی کہا ۔


اب کیا فرماتے ہیں شر پسند دیوبندی اپنے اکابر علما ء کے بارے میں جو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو ناصرف مسلمان بلکہ رحمۃ اللہ علیہ جیسے دعائیہ کلمات سے یاد کر رہے ہیں اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی توہین کو نا جائز کہتے ہیں (تعجب ہے ان دیوبندیوں پر جو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی توہین کر کے بقول ان کے مفتی کے ناجائز کام کر رہے ہیں) ۔ دیوبندیو ! ابھی یہی نہیں مزید حوالہ دیکھو اور اپنے اس غلط موقف سے توبہ کرو ۔


اسی کتاب کے صفحہ ۴۴۷ پر عنوان ’’بریلوی عالم کی توہین بھی درست نہیں‘‘ کے تحت لکھا ہے : اب مولانا احمد رضا خان صاحب ہیں ۔۔۔۔۔۔ ایک دن حضرت تھانوی کی مجلس میں ۔۔۔۔۔ غالباََ خواجہ عزیزالحسن مجذوب صاحب نے یا کسی اور نے یہ لفظ کہا کہ : احمد رضا یوں کہتا ہے ۔

بس حضرت (یعنی اشرفعلی تھانوی) بگڑ گئے ، فرمایا : عالم تو ہیں ہمیں توہین کرنے کا کیا حق ہے ؟ کیوں نہیں تم نے مولانا کا لفظ کہا ؟

غر ض بہت ڈانٹا ڈپٹا ۔۔۔۔ بہرحال (اب مولوی طیب قاسمی صاحب اس واقعہ سے نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور کہتے ہیں) ہم تو اس طریق پر ہیں کہ قطعاََ ان (یعنی امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ) کی بے حرمتی جائز نہیں سمجھتے ، کافر و فاسق کہنا تو بڑی چیز ہے ۔


موجودہ دیوبندیوں کو خاص کر ان عام سادہ لوح دیوبندیوں کو جو موجودہ شر پسند دیوبندی مولویوں کی باتوں میں آکر امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو برا بھلا کہتے ہیں ۔ سمجھ جانا چاہئے کہ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ کو برا بھلا کہنا ان کو کافر کہنا صحیح نہیں۔ اور ان کو توبہ کرنی چاہیے اور اس مسئلہ میں اپنے اکابرین کا موقف اختیار کرنا چاہیے کہ مولوی اشرف علی تھانوی نے صرف امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے نام کے ساتھ مولانا نہ کہنے کی وجہ سے اپنے خلیفہ کو خوب ڈانٹا اگر کوئی اس کے سامنے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو کافر کہہ دیتا تو ؟


اور اب ایک اور حوالہ اسی کتاب سے ملاحظہ ہو صفحہ ۴۶۷ پر عنوان ’’ افراط و تفریط فرقہ واریت کی بنیاد ہے “ کہ تحت لکھا ہے کہ : مولانا احمد رضا خان اور بریلویت کے بارے میں جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو آج تک کہیں ان کی تکفیر نہیں کی گئی بہر حال وہ مسلمان ہیں ۔


اللہ اللہ ! دیوبندیوں کے حکیم الاسلام نے تو ڈگری جاری کردی کے بریلوی یعنی سنی بھی مسلمان اور امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ بھی مسلمان ، اسے کہتے ہیں ’’جادو وہ جو سر چڑھ کے بولے ‘‘ دیوبندیو ! توبہ کرو ان کے خلاف بھونکتے ہو جن کی توہین کرنا تمہارے اکابرین کے نزدیک جائز نہیں ۔ میں کہتا ہوں اے دیوبندی میری نہ مان اپنے بڑے کی تو مان ۔

مولوی طیب قاسمی کے بارے میں دیوبندی امیر شریعت مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری کہتا تھا

’’ مولانا طیب نہیں ان میں مولانا قاسم نانوتوئی کی روح بولتی ہے ‘‘ گویا یہ بات بھی دیوبندیوں کے نزدیک مولوی طیب قاسمی کی اپنی نہیں بلکہ مولوی قاسم کی روح نے کہی ہے اب تو دیوبندیوں کو اپنے بانی دیوبندیت مولوی قاسم کی بات مان لینی چاہیے اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو کافر و گستاخ کہنے سے توبہ کرنی چاہیے ۔


اسی طرح دیوبندیوں کے ماہنامہ الرشید جلد ۱۱ شمارہ نمبر ۶ اپریل ۱۹۸۳ صفحہ ۱۱ ملاحظہ ہو : کسی نے مولانا احمدرضاخاں مرحوم کے انتقال کی خبر مولانا تھانوی ۔ کو سنائی آپ نے انتقال کی خبر سن کر فرمایا ، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ مولانانے میرے اورمیرے بعض بزرگوں کے بارے میں کفر کا فتوی دیا لیکن میں الحمدللہ ان کے متعلق سوئے ظن نہیں رکھتا ان کو جن عبارات پر اعتراض تھا ان کو ان عبارات کا مطلب نیک نیتی سے قابل اعتراض نظر آیا اور ہم نیک نیتی کے ساتھ اس مفہوم کا انکار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ مولانا کی مغفرت فرمائیں ۔


محترم قارئین کرام : آپ نے یہ حوالہ بھی ملاحظہ فرمایا اس میں بھی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کےلیے مغفرت کی دعا کرنا خود دیوبندیوں کے حکیم الامت ومجدد مولوی اشرفعلی تھانوی سے ثابت ہے ۔ اب اگر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ معاذ اللہ کافر یا گستاخ تھے تو کیا کافر و گستاخ کےلیے مغفرت کی دعا کی جاتی ہے ؟ کافر و گستاخ کےلیے مغفرت کی دعا کرنے والا کیا کافر نہیں ؟ کیا دیوبندی اب اپنے مجدد مولوی اشرفعلی تھانوی کو بھی کافر کہیں گے کہ اس نے بقول شر پسند دیوبندیوں کے ایک (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ) گستاخ کےلیے دعائے مغفرت کی ؟


مزید اس میں مولوی اشرفعلی تھانوی نے اپنے کفر کو چھپانے کی کوشش کی ہے ۔ حالانکہ اس کا کفر صریح ہے جس میں کسی قسم کی تاویل کی گنجائش نہیں علماءِ اہل سنت نے ان کا خوب تعاقب کیا اور کم و بیش ۲۵۰ علماء عرب شریف و برصغیر نے ان کے کفر کا فتوی دیا ۔لیکن مولوی صاحب کو توبہ کی توفیق نہ ہوئی ۔


اسی تھانوی سے کسی نے پوچھا کہ بریلی والوں کے پیچھے نماز ہو جائے گی تو تھانوی صاحب نے کہا کہ ہاں ہو جائے گی ہم انہیں کافر نہیں کہتے اصل عبارت ملاحظہ ہو : ایک شخص نے پوچھاکہ ہم بریلی والوں کے پیچھے نماز پڑھیں تو نماز ہو جائے گی یا نہیں ۔ فرمایا : ہاں ہم ان کو کافر نہیں کہتے اگرچہ وہ ہمیں کہتے ہیں ۔ (قصص الاکابر صفحہ۲۵۲ المکتبہ اشرفیہ جامعہ اشرفیہ فیروزپور روڈ لاہور)


اسی طرح مولوی سید احمد رضا بجنوری دیوبندی نے دیوبندیوں کے بہت بڑے علامہ مولوی انور شاہ کشمیری کے ملفوظات جمع کیے ہیں اس میں احمد رضا بجنوری صاحب مولوی انور شاہ کشمیری کا ایک جواب نقل کرتے ہیں جو اس نے ایک قادیانی کو دیا لکھتے ہیں کہ : مختار قادیانی نے اعتراض کیا کہ علماء بریلوی ، علماء دیوبندپر کفر کافتوی دیتے ہیں اور علماء دیوبند علماء بریلوی پر۔اس پر شاہ صاحب نے فرمایا : میں بطور وکیل تمام جماعت دیوبند کی جانب سے گذارش کرتا ہوںکہ حضرات دیوبندان کی تکفیر نہیں کرتے ۔ (ملفوظات محدث کشمیری صفحہ ۶۹ ادارہ تالیفات اشرفیہ بیرون بوہڑ گیٹ ملتان)


اب تو مزید دو اکابرِ دیوبند کی گواہی آگئی کہ علمائے دیوبند علماء بریلوی کو کافر نہیں کہتے ۔


مولوی ضیاء الرحمن فاروقی سابق سرپرست اعلیٰ سپاہ صحابہ اپنی کتاب تاریخی دستاویز‘‘ صفحہ ۶۰ پر یوں عنوان دیتے ہیں : شیعہ کے بارے میں پہلے اکابرین اسلام کے فتاویٰ جات ‘‘ اور پھر ان اکابرین اسلام کا تذکرہ کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان صاحب سے متعلق صفحہ ۶۵ یوں عنوان دیتے ہیں : فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خاںرحمۃ اللہ علیہ ‘‘ تو پتہ چلا کہ دیوبندیوں کے اس مستند عالم کے نزدیک بھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اکابر علماء اسلام میں سے ہیں ۔ لیکن کیا کریں چند شر پسند عناصر کے بہکانے کی وجہ سے آج کل کے بعض دیوبندی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو کافر و گستاخ سمجھتے ہیں معاذ اللہ ۔


محترم قارئینِ کرام یہ سب لکھنے کا مقصدان دیوبندی حضرات کے سامنے حقائق بیان کرنا ہے اور انہیں دعوت غور و فکر دینا ہے کہ ان کا نظریہ اعلیٰ حضرت مجددِ اعظم مولانا الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے متعلق صحیح نہیں ہے ۔ اور ان کو کافر کہنا تو اللہ رب العزت کے ایک بہت بڑے ولی کی گستاخی اور توہین ہے ۔ جیسا کہ مضمون میں دیوبندی حضرات ہی کی آٹھ مستند شہادتوں سے یہ بات ثابت کی گئی کے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی توہین بالکل بھی درست نہیں اور انہیں معاذ اللہ کافر کہنا تو خود پر کفرکو لازم کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ میری اس تحریر کو مسلمانوں کےلیے نفع بخش بنائے اور دیوبندی حضرات کو اپنے غلط موقف سے رجوع کی توفیق عطا فرمائیں آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

Tuesday, 28 April 2026

اکابرینِ دیوبند کیسے تھے ؟ ۔ مع سگِ مدینہ یا سگِ غوث اعظم کہنے پر اعتراض کا جواب

اکابرینِ دیوبند کیسے تھے ؟ ۔ مع سگِ مدینہ یا سگِ غوث اعظم کہنے پر اعتراض کا جواب



































محترم قارئینِ کرام : اکابرینِ دیوبند کیسے تھے چند مثالیں دی جارہی ہے جس سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اکابرینِ دیوبند کیسے تھے ۔

نہ تم صدمے ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے
نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں

دیوبندی مولوی نے اپنے مجدد کے پیشاب کی کہانی خود کی زبانی لکھی لکھا ہے کہ : حکیم الامت دیوبند اشرف علی تھانوی نے فرمایا میں (یعنی حکیم الامت دیوبند اشرف علی تھانوی) ایک روز پیشاب کر رہا تھا بھائی صاحب آئے (حکیم الامت دیوبند اشرف علی تھانوی کے بھائی) آکر میرے سر پر پیشاب کرنا شروع کر دیا ایک روز ایسا ہوا کہ بھائی پیشاب کر رہے ہیں میں نے ان کے سر پر پیشاب کرنا شروع کر دیا ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ نمبر 262)

جی جناب کچھ سمجھ آیا کہ نہیں بات یہ ہوئی کہ دیوبندی مجدد کے سر پر دیوبندی مجدد کے بھائی نے پیشاب کیا اور غصہ میں آکر بدلہ لینے کےلیے دیوبندیوں کے مجدد و حکیم الامت نے اپنے بھائی کے سر پر بھی پیشاب کر دیا ۔

دیوبندیوں کا اقرار کہ وہ کتوں ، سوروں سے بد تر خنزیر ، دنیا دار کالے کتے ہیں : ⏬

آئینہ اُن کو دیکھایا تو بُرا مان گئے

دیوبندیوں کے امیر شریعت کہتے ہیں تم کلبِ حسین ہو تو میں خنزیر اللہ یعنی اللہ کا خنزیر ہوں اِس میں تعجب والی کون سی بات ہے ۔ (بخاری کی باتیں صفحہ نمبر 172 مطبوعہ ادارہ تالیفاتِ ختم نبوت غزنی اسٹریٹ زردو بازار لاہور پاکستان)

مزا تو مذی میں ہے فرمان حکیم الامت دیوبند : ⏬

حکیم الامتِ دیوبند ذکر الہٰی کی توہین کرتے ہوئے : ایک شخص کہتا ہے حضرت مجھے ذکر میں مزہ نہیں آتا جواب میں کہتے ہیں مزا تو مذی میں ہے جو بیوی سے ملاعبت کے وقت خارج ہوتی ہے ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر6 صفحہ نمبر 61)

حکیم الامتِ دیوبند تھانوی صاحب کی فحش تعلیمات : کہتے ہیں بات تو فحش ہے مگر کہتا ہوں مزہ تو مذی میں ہے بیوی کو گود میں لو خوب چومو چاٹو مذی نکلے گی خوب مزہ آے گا ۔ (ملفوظات کمالات اشرفیہ صفحہ407 ، 408 حکیم الامتِ دیوبند تھانوی صاحب)

تعلیمات دیوبند : جناب من ذرا سوچیں کس طرح حکیم الامتِ دیوبند دین کی آڑ میں فحش تعلیمات پھیلا رہے ہیں یہ وہی فحاشی ہے جس کا مشن سونپا گیا ہے اِن کو اِن کے آقاؤں کی طرف سے فیصلہ خود کیجیے : فرمایا کہ ایک صاحب مجھ سے کہنے لگے کہ ذکر میں مزہ نہیں آتا ۔ میں نے کہا کہ مزہ تو مذی میں ہے، یہاں کہاں مزا ڈھونڈتے پھرتے ہو ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد 1 صفحہ 86)

حکیمُ الاُمّتِ دیوبند کُتوں اور سوروں سے بھی بد تر ؟ : ⏬

حکیم الامتِ دیوبند جناب علامہ اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ  میں خود کو کتوں اور سوروں سے بھی بد تر سمجھتا ہوں اگر کسی کو  یقین نہ ہوتو اِس پر حلف اٹھا سکتا ہوں ۔  (اشرف السوانح جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 58 مطبوعہ ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ ملتان جدید ایڈیشن،چشتی) ، (اکابر کا مقامِ تواضع صفحہ نمبر 201 مطبوعہ ادارہ اسلامیات لاہور , کراچی)

جنابِ من اگر یہاں تواضع اور عاجزی ہے تو پھر سگِ مدینہ و سگِ غوث یا کسی بزرگ کے کے در کا سگ بطور عاجزی کہنے پر اعتراض کیوں ؟

اور مکتبہ فکر کے فیس بکی ڈھکنوں سے سوال آپ کے حکیم الامت فرما رہے ہیں میں خود کو کُتوں اور سوروں سے بھی بد تر سمجھتا ہوں اگر کسی کو  یقین نہ ہوتو اِس پر حلف اٹھا سکتا ہوں ۔ اب جو خود کو حلف اٹھا کر کُتوں اور سوروں سے بھی بد تر کہہ رہا ہو کیا اُسے سور اور کتا بلکہ اُن سے بد تر کہہ سکتے ہیں ؟ اور اُس کے ماننے والے لوگوں کو بھی سور اور کتے بلکہ اُن سے بد تر کہہ سکتے ہیں ؟

بانی دیوبندی کہتے ہیں : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کمینہ ہوں ، مدینہ کے کتوں کے ساتھ میرا نام لگے یہ اُن کےلیے عیب ہے ، جیوں تو مدینہ کے کتوں کے ساتھ اور میرا شمار مدینہ کے کتوں میں ہویہ سب سے بڑی امید ہے ۔ (قصیدہ بہاریہ صفحات 15 ،16 ، بانی دیوبند عامہ قاسم نانوتوی) ۔ (مکمل اشعار نیچے دیئے جا رہے ہیں پڑھیے)

لگے ہے سگ کو تیرے میرے نام سے گو عیب
پہ ترے نام کا لگنا مجھے ہے عز و وقار

امیدیں لاکھوں ہیں ، لیکن بڑی امید ہے یہ
کہ ہو سگانِ مدینہ میں میرا نام شمار

جیوں تو ساتھ سگانِ حرم کے تیرے پھروں
مروں تو کھائیں مدینہ کے مجھ کو مور و مار

جو یہ نصیب نہ ہو اور کہاں نصیب مِرے
کہ میں ہوں اور سگانِ حرم کے تِرے قطار

شیخ الاسلام دیوبند حسین احمد ٹانڈوی کہتے ہیں میں اتنا بڑا دنیا دار پیٹ کا کتا ہو ں کہ دینی خدمات کا بدلہ لیتا ہوں ۔ (آداب الاختلاف صفحہ نمبر 174 افادات مفتی اعظم دیوبند ھند)

دیوبندی مکتبہ فکر کے علماء و پیروں کےمرشد فرماتے ہیں میں کالا کُتّا اِس پاک دیس کو کیسے ناپاک کر وں ۔ (حیات حبیب صفحہ نمبر 219 پیر ذوالفقار نقشبندی دیوبندی)

دیوبندیوں کے شیخ المشائخ خواجہ محمد فضل قریشی کہتے ہیں میں کالا کُتّا اِس دیس کو کیسے ناپاک کروں ۔ (اکابر کا مقام تواضع صفحہ نمبر 192)

گدھوں سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں : ⏬

دیوبندیوں کے فقیہُ العصر جناب مفتی رشید احمد صاحب کہتے ہیں یہ گدھے ہمیں بتا رہے ہیں کہ تم بھی ہماری طرح گدھے ہو ۔ کیونکہ گدھا اس وقت رینکتا ہے جب اسے دوسرا گدھا نظر آتا ہے ۔ (خطبات رشید جلد 1 صفحہ 310 مطبوعہ کتاب گھر ناظم آباد نمبر 4 کراچی،چشتی)

اب آپ سب دوستوں کو سمجھ میں آجائے گا کہ موضوع کیا ہوتا ہے ، پوسٹ کس موضوع پر ہوتی ہے اور دیوبندی مکتبہ فکر کے لوگ کیا ہانک رہے ہوتے ہیں ۔ یہ بات فقیہُ العصر دیوبند نے بتا دی کہ دیوبندی گدھوں کی طرح ہیں کیونکہ گدھا اس وقت رینکتا ہے جب اسے دوسرا گدھا نظر آتا ہے ۔ بالکل سچ کہا فقیہُ العصر دیوبند نے کیونکہ دیوبندی حضرات فیس بک پہ بالکل اسی طرح کرتے ہیں جیسے ہی ایک دیوبندی نے ھینک ماری یعنی رینکا تو بالکل اسی طرح سب رینکا شروع کر دیتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ موضوع کیا ہے اور اُن کی ھینکیں اور ریکنا کیا ہے بس انہوں نے تو ریکنا ہے کیونکہ گدھوں کی طرح جو ہوئے بقول فقیہُ العصر دیوبند ۔

سگِ مدینہ یا سگِ غوث اعظم کہنے پر اعتراض کرنے والو سوچو ؟

مکتبہ فکر دیوبند کے لوگ بطور عاجزی سگِ مدینہ یا سگِ غوث اعظم کہنے پر اعتراض کرتے ہیں اور بریلوی کتے کتے اور بریلوی کتا مذھب کے جملے کستے اور پوسٹیں بناتے ہیں کیا خیال ہے ان لوگوں کا اب یہ کہنا درست ہوگا کہ دیوبندیوں کے شیخ المشائخ کالے کتے ہیں اور دیوبندی کالے کتے اور دیوبندی مذھب کالے کتوں کا مذھب ہے ؟

یقیناً جواب ہوگا کہ یہ عاجزی کے طور پر کہا گیا ہے جب آپ کے الفاظ عاجزی کے طور پر ہیں تو پھر اہلسنت پر گھٹیا جملے بازی پوسٹر بازی کیوں جناب ؟ جواب کا منتظر : ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

اکابرین دیوبند میں اسمٰعیل دہلوی کو بہت بڑا مقام حاصل ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اسمٰعیل دہلوی کی کتاب تقویة الایمان ان دیوبندیوں کے نزدیک عین اسلام ہے ۔ ( نعوذ باللہ) ملاحظہ ہو) (فتاویٰ رشدیہ صفحہ نمبر 219, ایمان اور کفر کےمسائل کا بیان, ناشر دارالاشاعت کراچی)

جبکہ اس کتاب تقویة الایمان نے ہند کی سرزمین سے امن وشانتی کو تار تار کردیا اور گھر گھر میں اس کتاب نے وہ فساد افتراق انتشار پیدا کردیا جسکی تاریخ ہند میں نہیں ملتی اور اسمٰعیل دہلوی نے اس بات کا اعتراف بھی کیا تھا کہ اس کتاب یعنی تقویة الایمان کی اشاعت سے شورش ہوگی ۔ (ارواح ثلاثہ صفحہ نمبر 68حکایت نمبر 42 کتب خانہ نعیمیہ دیوبند)

خیر حضرات اب ملاحظہ کریں دیوبندی اکابر اسمٰعیل دہلوی کیسے تھے ؟ تو آپ کو بتا دوں کہ اسمٰعیل دہلوی ہر قسم کے کھیل کھیلتے تھے یہاں تک کہ پتنگ بھی اڑاتے تھے حد تو یہ ہے کہ شطرنج بھی کھیلتے تھے دلیل دیوبندی کتاب سے ملاحظہ کریں دیوبندی مولوی نے اپنے اکابر کے کھیل کی کہانی لکھی خود کی زبانی چنانچہ لکھا اسمٰعیل دہلوی کے بارے میں کہ : اور کھیل بھی ہر قسم کے کھیلتے تھے پتنگ بھی اڑاتے تھے شطرنج بھی کھیلتے تھے ۔ (ارواح ثلٰثہ صفحہ نمبر 77حکایت نمبر 52کتب خانہ نعیمیہ دیوبند)

اسی طرح اسمٰعیل دہلوی دوسرے کو چھیڑا بھی کرتے تھے چنانچہ دیوبندی مولوی نے اپنے اکابر کے چھیڑا چھیڑی کی کہانی لکھی اپنی زبانی لکھا اسمٰعیل دہلوی کے تعلق سے کہ : مولوی وجیہ الدین صاحب بھی مولانا اسماعیل صاحب کے ساتھ جہاز میں تھے اور دونوں مل کر حاجیوں کیلئے آٹا پیسا کرتے تھے آٹا پیستے ہوئے مولانا ان کو چھیڑا کرتے تھے کبھی آٹا ان کے منھ پر مل دیتے تھے کبھی پیٹ پر کبھی کوئی اور مزاق کرتے رہتے تھے ۔ (ارواح ثلٰثہ صفحہ نمبر 65حکایت نمبر 49کتب خانہ نعیمیہ دیوبند،چشتی)

ان سب حرکتوں کا نتیجہ تھا کہ دیوبندیوں وہابیوں کے امام اسمٰعلیل دہلوی ایک حدیث کا معنی تک نہیں سمجھ پاتا تھا چنانچہ ثبوت کیلئے دیوبندی مولوی کی عبارت ملاحظہ ہو ارواح ثلٰثہ کتاب سے لکھا کہ : شاہ عبد القادر صاحب نے فرمایا بابا ہم تو سمجھتے تھے کہ اسماعیل عالم ہوگیا مگر وہ تو ایک حدیث کے معنی بھی نہ سمجھا ۔ (ارواح ثلٰثہ صفحہ نمبر 81حکایت نمبر 56کتب خانہ نعیمیہ دیوبند)

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے بھی لوگ تھے جو شرارتی تھے اور کمر بند دوسرے کا کھولنے میں ماہر تھے حوالہ نوٹ کریں کتاب کا نام ملفوظات حکیم الامت جلد 11 صفحہ 70 میں دیوبندی نے اپنے اکابرین کی ایک دلچسپی سے بھرپور کہانی خود کی زبانی لکھی ہے ملاحظہ کریں لکھا ہے : مولانا یعقوب صاحب کے صاحبزادے کے کمر بند کو مولانا قاسم نانوتوی کھول دیتے تھے ۔ اس لیے میں کہتا ہوں بانی کا جب یہ عالم ہے پیروکاروں کا عالم کیا ہوگا ۔

اچھا سوال پیدا ہوتا ہے بانی دیوبند قاسم نانوتوی کمر بند کیوں کھولتا تھا ؟

کیا کرنے کےلیے ؟

کیا دیکھنے کےلیے ؟

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے لوگ بھی تھے جو کھانے کےلیے چھپٹا چھپٹی بھی کرتے تھے ۔ (حوالہ ملفوظات حکیم الامت صفحہ 70 جلد 11)

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے لوگ بھی تھے جو جوتیاں چوری کرلیا کرتے تھے اور جوتی چوری کر کے چھوپا دیا کرتے تھے ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد 11 صفحہ 73)

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے لوگ بھی تھے جو چپل چور بھی تھے اکابرین دیوبند میں ایسے بھی لوگ تھے جو اپنے ماما کی رکابی میں کتے کا پلہ ڈال دیا کرتے تھے اکابرین دیوبند میں ایسے بھی لوگ تھے کہ اپنے ہی بھائی کے سر پر پیشاب کرتے تھے اکابرین دیوبند میں ایسے بھی لوگ تھے جوپہلے علم حاصل کرتے تھے پھر بھول جایا کرتے تھے ۔ (حوالہ نوٹ کریں ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ 261 ) ۔ دیوبندی مولوی نے خود لکھا اپنے اکابر کی چوری کی کہانی خود کی زبانی فرمایا : ایک مرتبہ میرٹھ میں میاں الٰہی بخش صاحب مرحوم کی کوٹھی میں جو مسجد تھی سب نمازیوں کے جوتے جمع کر کے اس کے شامیانہ پر پھینک دیئے نمازیوں میں غل مچا کہ جوتے کیا ہوئے ؟

آپ حضرات نے اوپر پڑھا کہ اکابرین دیوبند جوتے چوری کرکے چھپا دیا کرتے تھے اب یہ دوسرا جوتا چور ہے دیوبندیوں کا ۔

دیوبندی مولوی نے خود کی زبانی اپنے اکابر کے کہانی ۔ لکھا ہے کہ : ہماری سوتیلی والدہ کے بھائی بہت ہی نیک اور سادہ آدمی تھے والد صاحب نے ان کو ٹھیکہ کے کام پر رکھ چھوڑا تھا ایک مرتبہ کمریٹ سے گرمی میں بھوکے پیاسے پریشان گھر آئے اور کھانا نکال کر کھانے ۔  میں مشغول ہو گئے گھر کے سامنے بازار ہے میں نے (یعنی دیوبندیوں کے حکیم الامت) سڑک پر سے ایک کتا کا پلہ چھوٹا سا پکڑ کر گھر آکر ان کی دال کی رکابی میں رکھ دیا بچارے روٹی چھوڑ کر کھڑے ہو گئے ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ یہی 261،چشتی)

اب کیا کہا جائے دیوبندی کے حکیم الامت نے اپنے ماما کے دال کی رکابی میں کتا کا پلہ ہی ڈال دیا تو بچارے کھاتے کیسے ؟ اور قارئین آپ کو پتہ ہے یہ صرف دیوبندیوں کے اکابر نہیں مجدد بھی ہیں ۔

دیوبندی مولوی نے اپنے مجدد کے پیشاب کی کہانی خود کی زبانی لکھی لکھا ہے کہ : فرمایا میں (یعنی دیوبندی حکیم الامت) ایک روز پیشاب کر رہا تھا بھائی صاحب آئے (دیوبندی حکیم الامت کے بھائی) آکر میرے سر پر پیشاب کرنا شروع کر دیا ایک روز ایسا ہوا کہ بھائی پیشاب کر رہے ہیں میں نے ان کے سر پر پیشاب کرنا شروع کر دیا ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ نمبر 262)

جی جناب کچھ سمجھ آیا کہ نہیں بات یہ ہوئی کہ دیوبندی مجدد کے سر پر دیوبندی مجدد کے بھائی نے پیشاب کی اور غصہ میں آکر بدلہ لینے کیلئے دیوبندی مجدد دیوبندی حکیم الامت نے اپنے بھائی کے سر پر بھی پیشاب کر دیا ۔

دیوبندی کے حکیم الامت جو ہے جن کو دیوبندی مجدد کہتے ہیں وہ تو بقول دیوبندیوں کے عالم تھے مگر بعد میں جاہل ہو گے تھے سب بھول گے تھے ؟

دیوبندی مولوی نے اپنے حکیم الامت کی جہالت کی کہانی لکھی خود کے قلم سے لکھا کہ : اس واقعہ کو ختم کر کے پھر فرمایا خدا کا فضل و کرم ہے کہ یہ درس و تدریس کا کام اور جگہ اچھا ہو رہا ہے اب ہر شخص ایک ہی کام میں لگ جائے اس کی کون ضرورت ہے اور میں تو اب اس کام کا رہا ہی نہیں سب بھول بھال گیا جو کچھ لکھا پڑھا تھا ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ ہے 306)

یعنی دیوبندی مجدد بعد میں جاہل ہو گئے تھے کچھ یاد نہیں رہا یاد بھی کیسے رہے بھائی کے سر پر پیشاب جو کیا ماما کی دال کی رکابی پر کتا کا پلہ جو ڈالا نمازیوں کے چپل جو چوری کی ۔

اسی طرح اکابرینِ دیوبند میں ایسے بھی تھے جن کو ننگاہ ہو کر گھومنے کا بڑا شوق تھا اکابرین دیوبند میں ایسے بھی تھے جن کو اپنا عضو تناسل پکڑوانے میں بڑا لطف ملتا تھا اکابرین دیوبند میں ایسے بھی تھے جو اپنے پیچھے کے مقام یعنی دُبر میں اُنگلی ڈلوانے کے بڑے شوقین تھے اکابرین دیوبند میں ایسے بھی تھے جو خود کو بھڑوا کہلاتے اور اور ساتھ میں اپنے بھڑوا ہونے کا پرچار بھی کروانے کے شوقین تھے حوالہ نوٹ کریں ملفوظات حکیم الامت جلد 9 صفحہ 212 دیوبندی مولوی نے خود اپنے نوکے قلم سے اپنے اکابر کی لطف اندوز کھانی جو حقیقت پر مبنی ہے بیان کی ہے ( واقعہ تو طویل ہے بس مفہوم نقل کرتا ہوں کہ : اشرف علی تھانوی (یعنی دیوبندی فرقہ کے حکیم الامت) کے ماموں صاحب کانپور آئے عبد الرحمٰن صاحب اشرف علی تھانوی کے ماموں سے ملنے آئے مل کر بڑے خوش ہوئے پھر عبدالرحمٰن صاحب نے اشرف علی تھانوی کے ماموں سے واعظ کرنے کی فرمائش کی پہلے پہل تو اشرف علی تھانوی کے ماموں نے انکار کیا جب عبد الرحمٰن نے بار بار اصرار کیا تو اشرف علی تھانوی کے ماموں نے کہا واعظ کرونگا مگر اس کی ایک شرط ہے عبدالرحمٰن صاحب نے کہا شرط کیا ہے کہا شرط یہ ہے کہ میں میں بالکل ننگاہ ہوکر بازار میں سے نکلوں اس طرح کہ ایک شخص تو آگے سے میرے عضو تناسل کو پکڑ کر کھینچے اور دوسرا پیچھے سے اُنگلی کرے اور ساتھ میں لڑکوں کی فوج ہو اور وہ یہ شور مچاتے جائیں بھڑوا ہے رے بھڑوا بھڑوا ہے رے بھڑوا ۔اس وقت میں حقائق و معارف بیان کرونگا ۔

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے بھی تھے جو انسان نہیں بلکہ فرشتہ تھے محترم قارئین آپ کو سن کر حیرانی ہوئی ہوگی لیکن میں آپ حضرات کو اور حیران کن بات بتانے جا رہا ہوں کہ اکابرین دیوبند صرف فرشتہ ہی نہیں بلکہ اکابرین دیوبند میں تو ایسے تھے جو فرشتہ مقرب تھے حوالہ نوٹ کریں ارواح ثلاثہ حکایت نمبر 241 صفحہ نمبر 192 لکھا قاسم نانوتوی دیوبندی کے تعلق سے کہ : انسانیت سے بالا درجہ ان کا دیکھا وہ شخص ایک فرشتہ مقرب تھا جو انسانوں میں ظاہر ہوا تھا ۔

جنابِ من یہ وہی قاسم نانوتوی ہے جو شرافت کی حد پار کر کے دوسرے کا کمر بند کھولتے ہیں اور یہاں دیکھا آپ حضرات نے وہی کمر بند کھولنے والا فرشتہ مقرب ہے ۔

اسی طرح اکابرینِ دیوبند میں ایسے بھی تھے جو گنوارتھے ( یعنی جاہل) اور اکابرین دیوبند میں ایسے بھی تھے جو بالکل کالے موٹے (یعنی بھینس) تھے آپ سوچ رہے ہونگے کہ میں کیسی کیسی باتیں کر رہا ہوں اکابرین دیوبند اور جاہل گنوار اکابرین دیوبند اور بھینس جبکہ قارئین آپ نے بہت سے دیوبندی کو دوسرے کے اکابر کو جاہل کہتے سنا ہوگا یہاں تک کہ دیوبندی تو آج کل کالا حضرت کہتے نہیں تھکتے تو حضرات قارئین یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہ رہا کہ دیوبندی اکابر جاہل گنوار تھے بلکہ یہ بات تو دیوبندی نے خود کہا ہے اور دیوبندی اکابر بالکل کالے کلوٹے موٹے بھینس تھے اور یہ بات بھی میں خود نہیں کہ رہا بلکہ یہ بات بھی دیوبندی نے خود کہا ہے حوالہ نوٹ کریں ارواح ثلاثہ حکایت نمبر 242 صفحہ نمبر 192 دیوبندی مولوی نے خود کے قلم سے اپنے اکابرین کی خوبی بیان کی لکھا ہے کہ : نانوتوی اور فیض الحسن یہ دونوں ہمعصر تھے اور بہت ہی بے تکلف تھے ایک دفعہ انہوں نے (یعنی فیض الحسن نے) غایت بے تکلفی میں ہمعصرانہ طریق پر نانوتوی کو فرمایا بے جا گنوار کے لونڈے تجھے ان چیزوں یعنی علوم سے کیا واسطہ تو جاکر ہل جوت کھیتی کر اس کے جواب میں نانوتوی نے ہنس کر فیض الحسن سے کہا ایک بھینسا تو موجود ہے (یعنی فیض الحسن بھینسا) دوسرا ہو جائے گا تو ہل جڑے گا)

جی جناب کچھ بات سمجھ آئی کہ نہیں ؟ ۔ دیوبندی اکابر جاہل ہے گنوار ہے اور یہ فضول میں دوسرے کو جاہل کہتے ہیں دوسری بات دیوبندی کے اکابر کالے کلوٹے ہیں بھینس ہیں اس بنا پر دیوبندی اپنے اکابر فیض الحسن کو کالا حضرت بول کر پکارتے ہیں یا پھر دیوبندی آپنے اس کالا حضرت فیض الحسن کو چھپانا چاہتے ہیں کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ۔

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے بھی اکابر تھے جو جاہل تھے اور صرف جاہل ہی نہیں بلکہ اکابرین دیوبند تو اجہل تھے حوالہ نوٹ کریں کتاب کا نام اکابر دیوبند کیا تھے تقی عثمانی دیوبندی کی کتاب صفحہ نمبر 33 دیوبندی کے حکیم الامت اشرف علی تھانوی کا واقعہ لکھا ہے اور اشرف علی تھانوی خود اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ : رہا جاہل ہونا اس کا البتہ میں اقرار کرتا ہوں کہ میں جاہل بلکہ اجہل ہوں ۔

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے بھی تھے جن کے اندر ساری گندگی بھری ہوئی تھی قارئین حضرات آپ پریشان ہونگے کہ اکابرین دیوبند اور ان کے اندر ساری گندگی بھری ہوئی تھی یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ اورساری گندگی بھری ہوئی تھی اس کا صاف مطلب ہے کہ اکابر دیوبند میں ایسے بھی تھے جو گندگی کے بھنڈار تھے ؟ جی بالکل ایسا ہی ہے حوالہ نوٹ کریں کتاب کا نام ہے اکابر کا مقام تواضع صفحہ نمبر 76 ادارہ اسلامیات لاہور کراچی سے کتاب چھپی ہے دیوبندی نے خود اپنے قلم سے لکھا ہے کہ : ان کے اکابر کہا کرتے تھے کہ میں کیا ہوں میرے اندر ساری گندگی بھر ہوئی ہے ۔

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے بھی تھے جو پاخانہ کے اندر حقّہ نوشی کرتے تھے اور رات میں اٹھ اٹھ کر حقہ پیتے رہتے تھے حوالہ نوٹ کریں نقش حیات مکمل خود نوشت و سوانح حیات حسین احمد مدنی حصہ اول صفحہ نمبر 103 حسین احمد ٹانڈوی نے خود اپنے قلم سے اپنے والد صاحب کے بارے میں لکھا کہ : والد صاحب مرحوم کو حقّہ کی اس قدر عادت تھی کہ پاخانہ میں بھی حقّہ لے کر جاتے تھے اور رات میں اٹھ اٹھ کر پیا کرتے تھے ۔

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے بھی تھے جو گالیاں اور بدعاء دیا کرتے تھے چنانچہ رشید احمد گنگوہی کے استاذ محمد بخش جب حج کرکے واپس ہوئے تو لوگوں نے پوچھا کہ حضرت ہمارے لیے بھی دعا کی کہ نہیں تو رشید احمد گنگوہی کے استاذ محمد بخش نے جواب دیا لوگوں کو : ہاں گالیاں بھی دی تھیں اور بدعا بھی کی تھی ۔ (تذکرة الرشید جلد دوم صفحہ نمبر 349 مصنف عاشق الٰھی بلند شہری کتب خانہ اشاعت العلوم،چشتی)

اب نتیجہ آپ حضرات خود نکالیں کہ دیوبندی کے اکابرین کی حالت یہ ہے تو اصاغرین کی حالت کیا ہوگی جب دیوبندی کے اکابرین اپنے لوگوں کو گالیاں اور بدعاء دیا کرتے ہیں تو غیروں پر کیا ستم ڈھاتے ہونگے ۔ یاد رہے ہم نے یہ کچھ نمونے بطور الزام پیش کر دیے ورنہ ہمیں ضرورت نہیں تھی کیونکہ آجکل دیوبندی صحابہ رضون اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بارے بولتا نظر آتا ہے کہ وہ تو ایسے تھے تو کوئی دیوبندی مثلا ابو عیوب دیوبندی (ہم اہل سنت وجماعت سنی حنفیوں) کے اکابرین پر جملے کستا ہوا نظر آتا ہے کہ وہ ایسے تھے تو ویسے تھے توہم نے بس آئینہ دکھایا ورنہ مکمل کتاب لکھی جا سکتی ہے دیوبندیوں ہوش کے ناخن لو ورنہ اسی طرح تمہاری حقیقت سب کے سامنے آتی رہے گی اور تم سب دیوبندی وہابی کہیں منہ دکھانے لائق نہیں رہو گے ۔

دیوبندی تعلیم : بے وضو نماز پڑھ لیا کرو : ⏬

حکیمُ الاُمّت بیمارانِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں : ایسے ہی ایک مرتبہ گڑھی پختہ تشریف لے گئے ۔ ایک خاں صاحب سے نماز کے لئے کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے داڑھی چڑھانے کی عادت ہے اور وضو سے یہ اتر جاتی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ بے وضو پڑھ لیا کرو خاں صاحب نے کچھ روز بغیر وضو نماز پڑھی ۔ پھر خیال آیا کہ ایک مولوی کے کہنے سے تونے بغیر وضو نما زپڑھنی شروع کردی اور اللہ و رسول کے حکم سے باوضو نماز نہیں پڑھی جاتی ۔ اس کے بعد ہمیشہ باوضو نماز پڑھنے لگے ۔ (ارواح ثلاثہ ، حکایت نمبر 191 صفحہ نمبر 158 ، 159 مطبوعہ مکتبہ عمر فاروق کراچی،چشتی)

محترم قارئین اندازہ کریں ایک جاہل شخص کو بے وضو نماز پڑھتے ہوئے شرم آگئی لیکن اکابرینِ دیوبند کو یہ فتویٰ دیتے ہوئے شرم نہیں آئی ۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔ اس حکایت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اکابرینِ دیوبند اللہ عزّ و جل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے احکامات کی کھلی مخالفت کرتے ہیں اور احکامِ اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں جسے ایک عامی شخص نے بھی محسوس کر لیا ۔ اس پر ہمارا مکتبہ فکر دیوبند کے لوگوں سے صرف اتنا سوال ہے کہ اکابرینِ دیوبند کے پاس ایسا کون سا شرعی اختیار تھا جس کی وجہ سے بغیر وضو نماز پڑھنے کی اجازت دے دیتے تھے ؟

دیوبندی تعلیم : بے وضو ہی نماز پڑھ لیا کرو اور شراب بھی پی لیا کرو : ⏬

حکیمُ الاُمّت بیمارانِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں : ایک مرتبہ آپ کا جلال آباد یا شاملی گزر ہوا ۔ ایک مسجد ویران پڑی تھی ۔ وہاں نماز کے لئے تشریف لا کرپانی کھینچا وضو کیا مسجد میں جھاڑو دی اس کے بعد ایک شخص سے پوچھا کہ یہاں کوئی نمازی نہیں ؟ اس نے کہا کہ جی سامنے خاں صاحب کا مکان ہے جو شرابی اور رنڈی باز ہیں ۔ اگر وہ نماز پڑھنے لگیں تو یہاں اور بھی دو چار نمازی جمع ہو جائیں آپ ان خاں صاحب کے پاس تشریف لے گئے تو رنڈی پاس بیٹھی تھی ۔ اور نشہ میں مست تھے ۔ آپ نے خاں صاحب سے فرمایا کہ بھائی خاں صاحب اگر تم نماز پڑھ لیا کروتو دو چار آدمی اور جمع ہو جایا کریں ۔ اور مسجد آباد ہو جائے گی ۔ خاں صاحب نے کہا کہ میرے سے وضو نہیں ہوتی اور نہ یہ دو بری عادتیں چھٹتی ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ بے وضو ہی پڑھ لیا کرو ۔ اور شراب بھی پی لیا کرو ۔ اسپر اس نے عہد کیا کہ میں بغیر وضو ہی پڑھ لیا کروں گا ۔ (ارواح ثلاثہ صفحہ نمبر 158 مطبوعہ مکتبہ عمر فاروق کراچی)

انا اللہ وانا علیہ راجعون : نجانے یہ کون سی شریعت ہے جس میں بے وضو نماز پڑھنے اور شراب پینے کی اجازت ہے ؟ ۔ یہ اسلام تو ہرگز نہیں ہوسکتا لیکن دیوبند کی تعلیم میں ضرور شراب حلال ہے ۔ کیونکہ دیوبندی حضرات نے نشے کی شرط کے بغیر مطلقاً شراب پینے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے ۔ کوئی دیوبندی جواب دے گا کہ دیوبندیوں کے پاس کون سے اختیارات تھے جنہیں استعمال کر کے یہ اجازت نامہ جاری کیا گیا ؟ ۔

الیاس گھمن دیوبندی سوتیلی بیٹی کے ساتھ زنا اور مالی خورد برد کرنے والا ہے : ⏬

محترم قارئینِ کرام : دیوبندیوں کے موجودہ متکلم الاسلام مولوی الیاس گھمن دیوبندی کے اپنی سوتیلی بیٹی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے مولوی الیاس گھمن دیوبندی کے اکابرین میں سے دیوبندیوں کے شیخ الکل سلیم اللہ خان دیوبندی کی گواہی پیشِ خدمت ہے انہوں دارالعلوم دیوبند کو خط لکھا جب دارالعلوم دیوبند نے مولوی الیاس گھمن دیوبندی کی تعریف کی تو دیوبندیوں کے شیخ الکل سلیم اللہ خان دیوبندی نے لکھا : آپ ایسے شخص کی کیسے تعریف کر سکتے ہیں جو اپنی سوتیلی بیٹیوں کے ساتھ بد فعلی کے جرم میں پکڑا گیا ، جو مالی خورد بُرد میں پکڑا گیا ، جس نے سعودی عرب میں غیر قانونی چندے کیئے جن سے الیاس گھمن کی شخصیت مجروح ہو رہی تھی ۔ اس کے جواب میں دارالعلوم دیوبند نے اپنی سابقہ تحریر جو تعریف میں لکھی گئی تھی سے رجوع کر لیا یہ کہہ کر کہ وہ تحریر عجلت (یعنی جلدی میں لکھی گئی تھی) ۔ (تذکرہ شیخ الکل صفحہ نمبر 302 مطبوعہ ادارۃ الرشید کراچی)

مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری

دیوبندیوں کے متکلم الاسلام الیاس گھمن بیٹیوں کے ساتھ بدکاریوں میں ملوث ،  مالی خورد بُرد کرنے والا ، سعودی عرب میں غیر قانونی چندے کرنے والا یہ تو ان کا متکلم اسلام ہے جس کے یہ کرتوت ہیں تو ان کے چھوٹے اللہ بچائے ایسے شخصیت پرست اندھوں سے جو پھر بھی ان جیسے لوگوں کو عالم اور اپنا قئد و پیشوا سمجھتے اور مانتے ہیں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

حسام الحرمین کی حقانیت تاریخ و حقائق اورکتب اہل سنت کے اجالے میں

حسام الحرمین کی حقانیت تاریخ و حقائق اورکتب اہل سنت کے اجالے میں محترم قارئینِ کرام : ہندوستان میں وہابیوں  نے جب انگریزوں کی مدد سے پیر جما...