حرمتِ مصاہرت کے اہم مسائل مستند دلائل کی روشنی میں
محترم قارئینِ کرام اللہ عزوجل کا فرمان ہے : حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآىٕكُمْ وَ رَبَآىٕبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ٘ ۔ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ٘ ۔ وَ حَلَآىٕلُ اَبْنَآىٕكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْۙ ۔ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ ۔ (سورہ النساء آیت نمبر 23)
ترجمہ : حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں میں حرج نہیں اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں اور دو بہنیں اکٹھی کرنا مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
حرمتِ مصاہرت ایک اصطلاحی لفظ ہے جس کا معنی ہے سسرالی رشتہ کا حرام ہونا ۔ اس کی متعدد ارو مختلف شکلیں ہوتی ہیں ، مثلاً اگر کسی شخص نے رات کے اندھیرے میں اپنی بیوی سمجھ کر اپنی مشتہاة لڑکی کو کھلے جسم شہوت سے ہاتھ لگایا ، تو اس کی وجہ سے اس کی بیوی اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجائے گی ، یا مثال کے طور پر باپ نے اپنے بیٹے کی بیوی کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگایا یا اس کے ساتھ زنا کیا اور بیٹا اس کی تصدیق کرے تو بیٹے کی بیوی ہمیشہ کےلیے بیٹے پر حرام ہو جائے گی ، اسی کو حرمت مصاہرت کہتے ہیں ۔ مذکورہ آیتِ مبارکہ میں محرمات (جن سے نکاح حرام ہے) کی تین اقسام بیان کی گئی ہیں : ⏬
محرماتِ نسبیہ : وہ عورتیں جو جو نسب کی وجہ سے قابلِ احترام ہیں اور ان سے نکاح قائم کرنا حرام ہے ، جیسے : ماں ، بہن ، بیٹی ، خالہ ، پھوپھی وغیرہ ۔
محرماتِ رضاعیہ : وہ عورتیں جنہوں نے کسی بچے کو اس کے بچپن میں دودھ پلایا ہو وہ دودھ کے رشتے (رضاعت) کی وجہ سے حرام ہو جاتی ہیں ، جیسے : دودھ پلانے والی عورت ، دودھ پلانے والی عورت کی بیٹی وغیرہ ۔ حرمتِ رضاعت میں وہ تمام رشتے بھی شامل ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔
محرماتِ مصاہرت : وہ عورتیں جو سسرالی رشتوں کی وجہ سے حرام ہوجاتی ہیں ۔ یہ چار طرح کی عورتیں ہیں : بیوی کی ماں رشتہ ازدواج کے بعد بیوی کی ماں ہمیشہ کےلیے حرام ہو جاتی ہے ۔ اس حکم میں بیوی کے مؤنث اصول یعنی ماں ، دادی نانی وغیرہ شامل ہیں ۔
بیوی کی بیٹی : جس بیوی سے مباشرت ہو چکی ہو اس کی بیٹی ہمیشہ کےلیے حرام ہو جاتی ہے ۔ یہ حرمت مباشرت سے مشروط ہے ، صرف نکاح سے یہ حرمت ثابت نہیں ہو گی ۔ حقیقی بیٹے کی بیوی : حقیقی یعنی صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی باپ پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوتی ہیں ۔ بیوی کی بہن : ایک عورت کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بہن سے نکاح حرام ہے ، یعنی ایک وقت میں دو بہنوں کو جمع نہیں کیا جا سکتا ۔ اسی طرح اس کی خالہ ، بھانجی ، پھوپھی اور بھتیجی کو بھی ایک ہی وقت میں جمع نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ حرمت عارضی ہے ، یعنی بیوی کی وفات یا طلاق کی صورت میں اس کی بہن ، خالہ ، بھانجی ، پھوپھی یا بھتیجی سے نکاح جائز ہو جاتا ہے ۔
نکاح سے حرمتِ مصاہرت (سسرالی رشتوں کی حرمت) ثابت ہونے میں چاروں آئمہِ اہلِ سنت علیہم الرحمہ کا اتفاق ہے ، لیکن زناء کرنے ، شہوت سے عورت کو چھونے اور شہوت سے فرج (شرمگاہ) کو دیکھنے سے حرمتِ مصاہرت کے ثبوت میں آئمہ علیہم الرحمہ کا اختلاف ہے ۔ احناف کے نزدیک کسی عورت کو شہوت سے چھونے اور اس کی شرمگاہ کو دیکھنے سے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے ۔
ابن عربی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : وقد اختلف الناس فی ذلک هل يتعلق باللمس من التحريم ما يتعلق بالوط ء علی قولين فعندنا وعند أبی حنيفه هو مثله ۔
ترجمہ : لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ کیا چھونے سے بھی وہی حرمت ثابت ہو جاتی ہے جو قربت سے ہوتی ہے؟ اس میں دو قول ہیں۔ ہمارے (مالکیہ) اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک شہوت سے چھونا قربت کے برابر ہے ۔ (ابو بکر محمد بن عبد اللہ ابن العربی، احکام القرآن جلد 1 صفحہ 477 دار الفکر للطباعۃ والنشر لبنان،چشتی)
فقہائے کرام علیہم الرحمہ مزید لکھتے ہیں : ومن مسته امرأة بشهوة حرمت عليه أمها وبنتها.
ترجمہ : جس شخص کو کسی عورت نے شہوت کے ساتھ چھوا، اس شخص پر اس عورت کی ماں اور بیٹی حرام ہو گئی ۔ (المرغینانی، الہدایۃ شرح البدایۃ جلد 1 صفحہ 192 المکتبۃ الاسلامیۃ،چشتی)(کمال الدین شرح فتح القدیر جلد 3 صفحہ 221 دار الفکر بیروت)(حصفکی الدر المختار مع شرح رد المختار شامی جلد 3 صفحہ 32 کراچی)
هذه الحرمة بالوط ء تثبت بالمس والتقبيل والنظر الی الفرج ۔
ترجمہ : یہ حرمت جیسے وطی سے ثابت ہوتی ہے چھونے ، بوسہ دینے اور شہوت سے شرم گاہ کو دیکھنے سے بھی ثابت ہو جاتی ہے ۔ (شیخ نظام وجماعۃ من علماء الھند الفتاوی الھندیۃ جلد 1 صفحہ 274 دار الفکر)
لہٰذا احناف کے نزدیک آپ کا نکاح اس عورت کی بیٹی کے ساتھ جائز نہیں ہے جس کے جسم کے ساتھ آپ شہوت سے چھوئے ہیں ۔ شوافع اور مالکیہ کے نزدیک صرف نکاح سے اور حنابلہ کے نزدیک نکاح اور زنا دونوں سے حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے لیکن شہوت سے چھونے یا بوس وکنار سے نہیں ہوتی ۔
نسب کی وجہ سے سات عورتیں حرام ہیں وہ یہ ہیں : (1) ماں ، اسی طرح وہ عورت جس کی طرف باپ یا ماں کے ذریعے سے نسب بنتا ہو یعنی دادیاں ونانیاں خواہ قریب کی ہوں یا دور کی سب مائیں ہیں اور اپنی والدہ کے حکم میں داخل ہیں ۔ سوتیلی ماؤں کی حرمت کا ذکر پہلے ہو چکا ۔ (2) بیٹی ، پوتیاں اور نواسیاں کسی درجہ کی ہوں بیٹیوں میں داخل ہیں ۔ (3) بہن (4) پھوپھی (5) خالہ (6) بھتیجی (7) بھانجی ، اس میں بھانجیاں ، بھتیجیاں اور ان کی اولاد بھی داخل ہے خلاصہ یہ ہے کہ اپنی اولاد اور اپنے اصول حرام ہیں۔ اس کی تصریح خود اسی آیت میں آگے آرہی ہے ۔
رضاعی رشتے دودھ کے رشتوں کو کہتے ہیں ۔ رضاعی ماؤں اور رضاعی بہن بھائیوں سے بھی نکاح حرام ہے بلکہ رضاعی بھتیجے، بھانجے، خالہ، ماموں وغیرہ سب سے نکاح حرام ہے ۔ حدیثِ مبارک میں فرمایا گیا کہ جو رشتہ نسب سے حرام ہوتا ہے وہ رضاعت سے بھی حرام ہوتا ہے۔ (صحیح بخاری کتاب الشہادات باب الشہادۃ علی الانساب ۔۔۔ الخ جلد ۲ صفحہ ۱۹۱ الحدیث : ۲۶۴۵،چشتی)
چار طرح کی عورتیں مُصاہَرت کی وجہ سے حرام ہیں اور وہ یہ ہیں : (1) وہ بیوی جس سے صحبت کی گئی ہو ا س کی لڑکیاں ۔ (2) بیوی کی ماں ، دادیاں ، نانیاں ۔ (3) باپ داد ا وغیرہ اصول کی بیویاں ۔ (4) بیٹے پوتے وغیرہ فروع کی بیویاں ۔ مصاہرت : (۱) زوجۂ موطؤہ ۔ (2) کی لڑکیاں ۔ (۲) زوجہ کی ماں ، دادیاں ، نانیاں ۔ (۳) باپ ، دادا وغیرہما اصول کی بیبیاں ۔ (۴) بیٹے پوتے وغیرہما فروع کی بیبیاں ۔
حُرمتِ مصاہرت کے لغوی معنیٰ داماد بننا ، سُسر بننا کے ہیں ۔ شرعی معنیٰ یہ ہیں کہ شریعتِ مطہرہ میں اُن عورتوں کو کہتے ہیں جن کے اُصو ل یافروغ سے صحبت کرنے ، بوسہ لینے وغیرہ کی وجہ سے وہ ہمیشہ کےلیے حرام ہو جاتی ہوں ۔ حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ نسب سے سات رشتے حرام ہوتے ہیں اور مصاہرت سے بھی ۔ جس عورت سے صحبت ہوئی یا شہوت کے ساتھ بوسہ وغیرہ لیا گیا تواس عورت کی ماں ، بیٹی ، خالہ ، پھوپھی ، بہن ، بھانجی ، بھتیجی سب حرام ہو گئیں مگر اُن میں سے دو ماں بیٹی ہمیشہ کےلیے حرام ہو گئیں ان میں سے دو مرد عورت ضرب دینے سے چار ہو جاتے ہیں ۔ گویا دورشتے مرد کےلیے اوردو عورت کےلیے حرام ہو گئے اس طرح کل چار رشتے مصاہرت سے حرام ہوتے ہیں : (1) عورت کی ماں اُوپر تک ۔ (2) عورت کی بیٹی نیچے تک ۔ (3) باپ دادا کی بیوی اُوپر تک ۔ (4) بیٹے ، پوتے کی بیو ی نیچے تک ۔
یہ مسئلہ ذہن نشین رہے کہ حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کےلیے اس لڑکے یا لڑکی کا حد شہوت کو پہنچنا ضروری ہے یعنی لڑکےکاکم ازکم بارہ سال اورلڑکی کاکم ازکم نوسال کا ہونا ضروری ہے، اس سے پہلے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی ۔ لہٰذا بالکل چھوٹے نومولود بچے یا بچی کو شہوت سے چھونے میں حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہو گی ، کیونکہ یہ حد شہوت کو پہنچے ہوئے نہیں ہیں ۔
حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے متعلق در مختار میں ہے : (هذا إذا كانت حية مشتهاة) ولو ماضيا (أما غيرها) يعني الميتة وصغيرة لم تشته (فلا)تثبت الحرمة بها أصلا...وكذا تشترط الشهوة في الذكر ، فلو جامع غير مراهق زوجة أبيه لم تحرم ۔
ترجمہ : حرمت مصاہرت اس وقت ثابت ہوگی جب عورت زندہ اور حد شہوت تک پہنچی ہو اگر چہ بوڑھی ہو اگر اس کے علاوہ ہو یعنی مُردہ عورت یا چھوٹی بچی جو حد شہوت تک نہ پہنچی ہو (نو برس سے کم عمر کی لڑکی ہو) تو اس سے بالکل حر مت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی ۔ اسی طرح لڑکےکا بھی حد شہوت کو پہنچنا شرط ہے لہٰذا اگر غیر مراہق لڑکے نے اپنے والد کی زوجہ سے جماع کیا تو حرمت ثابت نہیں ہو گی ۔ (در مختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد 3 صفحہ 34 الناشر دار الفكر بيروت،چشتی)
رد المحتار میں ہے : بل لا بد أن يكون مراهقا۔۔۔ أنه لا بد في كل منهما من سن المراهقة وأقله للأنثى تسع وللذكر اثنا عشر؛لأن ذلك أقل مدة يمكن فيها البلوغ كما صرحوا به في باب بلوغ الغلام ۔
ترجمہ : حرمتِ مصاہرت کےلیے لڑکے کا مراہق ہونا ضروری ہے ، حرمتِ مصاہرت کےلیے لڑکے و لڑکی دونوں کا مراہق کی عمر کا ہونا ضروری ہے ، اور وہ لڑکی کےلیے کم از کم نو سال ہے اور لڑکے کےلیے کم از کم بارہ سال ہے ۔ (رد المحتار علی الدر المختار جلد 3 صفحہ 35 دار الفکر،بیروت)
بہارِ شریعت میں ہے : حرمت مصاہرت کے ليے شرط یہ ہے کہ عورت مشتہاۃ ہو یعنی نو برس سے کم عمر کی نہ ہو ، نیز یہ کہ زندہ ہو تو اگر نو برس سے کم عمر کی لڑکی یا مردہ عورت کو بشہوت چھوا یا بوسہ لیا تو حرمت ثابت نہ ہوئی ۔ مراہق یعنی وہ لڑکا کہ ہنوز بالغ نہ ہوا مگر اس کے ہم عمر بالغ ہو گئے ہوں ، اس کی مقدار بارہ برس کی عمر ہے ، اس نے اگر وطی کی یا شہوت کے ساتھ چھوا یا بوسہ لیا تو مصاہرت ہو گئی ۔ (بہار شریعت جلد 2 حصہ 7 صفحہ 24 ، 25 مکتبۃ المدینہ کراچی)
جس عورت سے نکاح کیا اور وطی نہ کی تھی کہ جدائی ہوگئی اُس کی لڑکی اس پر حرام نہیں ، نیز حرمت اس صورت میں ہے کہ وہ عورت مشتہاۃ (قابل شہوت ہو یعنی نو برس سے کم عمر کی نہ ہو) ہو ، اس لڑکی کا اس کی پرورش میں ہونا ضروری نہیں اور خلوتِ صحیحہ (خلوت صحیحہ : یعنی میاں بیوی کا اس طرح تنہا ہونا کہ جماع سے کوئی مانع شرعی یاطبعی یا حسی نہ ہو ۔ مانع حسی سے مراد زوجین سے کوئی ایسی بیماری میں ہو کہ صحبت نہیں کر سکتا ہو ۔ مانع طبعی شوہر اور عورت کے درمیان کسی تیسرے کا ہونا ۔ اورمانع شرعی کی مثال عورت کا حیض یا نفاس کی حالت میں ہونا یا نماز فرض میں ہونا) بھی وطی ہی کے حکم میں ہے یعنی اگر خلوتِ صحیحہ عورت کے ساتھ ہوگئی، اس کی لڑکی حرام ہوگئی اگرچہ وطی نہ کی ہو ۔ (ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۰،چشتی)
نکاح فاسد سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی ، جب تک وطی نہ ہو لہٰذا اگر کسی عورت سے نکاح فاسد کیا تو عورت کی ماں اس پر حرام نہیں اور جب وطی ہوئی تو حرمت ثابت ہو گئی کہ وطی سے مطلقاً حرمت ثابت ہو جاتی ہے ۔ خواہ وطی حلال ہو یا شبہہ و زنا سے ، مثلاً بیع فاسد سے خریدی ہوئی کنیز سے یا کنیزِ مشترک (ایسی کنیز جس کے مالک دو یا زیادہ ہوں) ، یا مکاتبہ یا جس عورت سے ظہار کیا یا مجوسیہ باندی یا اپنی زوجہ سے ، حیض و نفاس میں یا احرام و روزہ میں غرض کسی طور پر وطی ہو ، حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی لہٰذا جس عورت سے زنا کیا ، اس کی ماں اور لڑکیاں اس پر حرام ہیں ۔ یوہیں وہ عورت زانیہ اس شخص کے باپ ، دادا اور بیٹوں پر حرام ہو جاتی ہے ۔ (الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح الباب الثالث في المحرمات القسم الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۷۴،چشتی)(ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۳)
حرمت مصاہرت جس طرح وطی سے ہوتی ہے ، یوہیں شہوت کے ساتھ چھونے اور بوسہ لینے اور عورت کی شرمگاہ کااندرونی حصہ کی طرف نظر کرنے اور گلے لگانے اور دانت سے کاٹنے اور مباشرت ، یہاں تک کہ سر پر جو بال ہوں اُنھیں چھونے سے بھی حرمت ہو جاتی ہے اگرچہ کوئی کپڑا بھی حائل ہو (درمیان میں آڑ ہو) مگر جب اتنا موٹا کپڑا حائل ہو کہ گرمی محسوس نہ ہو ۔ یوہیں بوسہ لینے میں بھی اگر باریک نقاب حائل ہو تو حرمت ثابت ہو جائے گی۔ خواہ یہ باتیں جائز طور پر ہوں ، مثلاً منکوحہ کنیز ہے یا ناجائز طور پر ۔ جو بال سر سے لٹک رہے ہوں انہیں بشہوت چھوا تو حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوئی ۔ (الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح الباب الثالث فی المحرمات القسم الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۷۴)(ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۴)
فرجِ داخل کی طرف نظر کرنے کی صورت میں اگر شیشہ درمیان میں ہو یا عورت پانی میں تھی اس کی نظر وہاں تک پہنچی جب بھی حرمت ثابت ہو گئی ، البتہ آئینہ یا پانی میں عکس دکھائی دیا تو حرمت مصاہرت نہیں ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۴،چشتی)(الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح الباب الثالث فی بیان المحرمات القسم الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۷۴)
چھونے اور نظر کے وقت شہوت نہ تھی بعد کو پیدا ہوئی یعنی جب ہاتھ لگایا اُس وقت نہ تھی، ہاتھ جدا کرنے کے بعد ہوئی تو اس سے حرمت نہیں ثابت ہوتی ۔ اس مقام پر شہوت کے معنی یہ ہیں کہ اس کی وجہ سے انتشار آلہ ہو جائے اور اگر پہلے سے انتشار موجود تھا تو اب زیادہ ہو جائے یہ جوان کےلیے ہے ۔ بوڑھے او رعورت کےلیے شہوت کی حد یہ ہے کہ دل میں حرکت پیدا ہو اور پہلے سے ہو تو زیادہ ہو جائے ، محض میلان نفس کا نام شہوت نہیں ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح، فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۵)
نظر اور چھونے میں حرمت جب ثابت ہوگی کہ انزال ( یعنی منی کا نکلنا) نہ ہو اور انزال ہوگیا تو حرمت مصاہرت نہ ہو گی ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۵)
عورت نے شہوت کے ساتھ مرد کو چھوا یا بوسہ لیا یا اس کے آلہ کی طرف نظر کی تو اس سے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہو گئی ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۴،چشتی)(الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح الباب الثالث فی بیان المحرمات القسم الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۷۴)
حرمت مصاہرت کے لیے شرط یہ ہے کہ عورت مشتہاۃ ہو یعنی نو برس سے کم عمر کی نہ ہو، نیز یہ کہ زندہ ہو تو اگر نو برس سے کم عمر کی لڑکی یا مردہ عورت کو بشہوت چھوا یا بوسہ لیا تو حرمت ثابت نہ ہوئی ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۷)
عورت سے جماع کیا مگر دخول نہ ہوا تو حرمت ثابت نہ ہوئی ، ہاں اگر اس کو حمل رہ جائے تو حرمت مصاہرت ہو گئی ۔ (الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح الباب الثالث فی بیان المحرمات القسم الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۷۴)
بوڑھیا عورت کے ساتھ یہ افعال واقع ہوئے یا اس نے کیے تو مصاہرت ہوگئی، اس کی لڑکی اس شخص پر حرام ہوگئی نیز وہ اس کے باپ، دادا پر ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۷،چشتی)
وطی سے مصاہرت میں یہ شرط ہے کہ آگے کے مقام میں ہو، اگر پیچھے میں ہوئی مصاہرت نہ ہوگی ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۷)
اغلام (پیچھے کے مقام میں وطی کرنا) سے مصاہرت نہیں ثابت ہوتی ۔ (ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۷)
مراہق یعنی وہ لڑکا کہ ابھی تک بالغ نہ ہوا مگر اس کے ہم عمر بالغ ہوگئے ہوں ، اس کی مقدار بارہ برس کی عمر ہے ، اس نے اگر وطی کی یا شہوت کے ساتھ چھوا یا بوسہ لیا تو مصاہرت ہو گئی ۔ (ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۸)
یہ افعال جان بوجھ کر ہوں یا بھول کر یا غلطی سے یا مجبوراً بہرحال مصاہرت ثابت ہو جائے گی ، مثلاً اندھیری رات میں مرد نے اپنی عورت کو جماع کےلیے اٹھانا چاہا ، غلطی سے شہوت کے ساتھ قابلِ شہوت لڑکی یعنی جس کی عمر نو ۹ سال سے کم نہ ہو پر ہاتھ پڑ گیا ، اس کی ماں ہمیشہ کےلیے اُس پر حرام ہو گئی ۔ یوہیں اگر عورت نے شوہر کو اٹھانا چاہا اور شہوت کے ساتھ ہاتھ لڑکے پر پڑ گیا ، جو مراہق تھا ہمیشہ کو اپنے اس شوہر پر حرام ہو گئی ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۸)
منہ یعنی لب کا بوسہ لیا تو مطلقاً حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی اگرچہ کہتا ہو کہ شہوت سے نہ تھا ۔ یوہیں اگر انتشار آلہ تھا تو مطلقاً کسی جگہ کا بوسہ لیا حرمت ہو جائے گی اور اگر انتشار نہ تھا اور رخسار یا ٹھوڑی یا پیشانی یا منہ یعنی لب کے علاوہ کسی اور جگہ کا بوسہ لیا اور کہتا ہے کہ شہوت نہ تھی تو اس کا قول مان لیا جائے گا ۔ یونہیں انتشار کی حالت میں گلے لگانا بھی حرمت ثابت کرتا ہے اگرچہ شہوت کا انکار کرے ۔ (ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۸،چشتی)
چٹکی لینے یعنی ہاتھ کے انگوٹھے اور اس کے برابرکی انگلی سے دبانا یا نوچ لینے ، دانت کاٹنے کا بھی یہی حکم ہے کہ شہوت سے ہوں تو حرمت ثابت ہو جائے گی ۔ عورت کی شرمگاہ کو چھوا یا پستان کو اور کہتا ہے کہ شہوت نہ تھی تو اس کا قول معتبر نہیں ۔ (الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح الباب الثالث فی بیان المحرمات القسم الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۷۶)(الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۹ ۔ ۱۲۱)
نظر سے حرمت ثابت ہونے کے لیے نظر کرنے والے میں شہوت پائی جانا ضرور ہے اور بوسہ لینے، گلے لگانے ، چھونے وغیرہ میں ان دونوں میں سے ایک کو شہوت ہو جانا کافی ہے اگرچہ دوسرے کو نہ ہو ۔ (الدرالمختار و ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۲۰)
مجنون اور نشہ والے سے یہ افعال ہوئے یا ان کے ساتھ کیے گئے ، جب بھی وہی حکم ہے کہ اور شرطیں پائی جائیں تو حرمت ہو جائے گی ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۲۰)
کسی سے پوچھا گیا تو نے اپنی ساس کے ساتھ کیا کیا ؟ اس نے کہا ، جماع کیا ۔ حرمت مصاہرت ثابت ہو گئی ، اب اگر کہے میں نے جھوٹ کہہ دیا تھا نہیں مانا جائے گا بلکہ اگرچہ مذاق میں کہہ دیا ہو جب بھی یہی حکم ہے ۔ (الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح الباب الثالث فی بیان المحرمات القسم الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۷۶)
حرمت مصاہرت مثلاً شہوت سے بوسہ لینے یا چھونے یا نظر کرنے کا اقرار کیا ، تو حرمت ثابت ہو گئی اور اگر یہ کہے کہ اس عورت کے ساتھ نکاح سے پہلے اس کی ماں سے جماع کیا تھا جب بھی یہی حکم رہے گا ۔ مگر عورت کا مہر اس سے باطل نہ ہوگا وہ بدستور واجب ۔ (ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۲۲)
کسی نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کے لڑکے نے عورت کی لڑکی سے کیا ، جو دوسرے شوہر سے ہے تو حرج نہیں ۔ یونہیں اگر لڑکے نے عورت کی ماں سے نکاح کیا جب بھی یہی حکم ہے ۔ (الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح الباب الثالث فی بیان المحرمات القسم الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۷۷)
عورت نے دعویٰ کیا کہ مرد نے اس کے اصول یا فروع کو بشہوت چھوا یا بوسہ لیا یا کوئی اور بات کی ہے ، جس سے حرمت ثابت ہوتی ہے اور مرد نے انکار کیا توقول مرد کا لیا جائے گا یعنی جبکہ عورت گواہ نہ پیش کر سکے ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۲۱) ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)







