Sunday, 29 March 2026

شوہر کا اپنی بیوی کو ماں ، بہن ، بیٹی کہنے کا شرعی حکم

شوہر کا اپنی بیوی کو ماں ، بہن ، بیٹی کہنے کا شرعی حکم

محترم قارئینِ کرام : شوہر کا اپنی بیوی کو قرآن پر ہاتھ رکھ کر بہن کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ، البتہ یہ سخت گناہ اور قسم کے حکم میں ہے ۔ اگر یہ جملہ طلاق کی نیت سے نہیں کہا تو نکاح برقرار رہے گا ، لیکن اگر قسم کے طور پر کہا ہے تو اسے توڑنے پر کفارہ 10 مسکینوں کو کھانا کھلانا یا 3 دن کے روزے) واجب ہوگا ۔ شوہر کا اپنی بیوی کو فقط ماں ، بہن ، بیٹی وغیرہ کہہ کر پکارنا یا یوں کہنا کہ تم میری ماں ، بہن ، باجی وغیرہ ہو ، ناجائز و گناہ ہے جس سے توبہ کرنا  اس پر لازم ہے البتہ اس سے نکاح پر کچھ اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی ظہار وغیرہ لازم ہوتا ہے ہاں اگر اس طرح کے الفاظ کہے تو میر ی بہن کی طرح ہے ، تو میری بیٹی کی مانند ہے ، تو میر ی ماں کی مثل ہے وغیرہ تو اس صورت میں ان کلمات سے جو نیت کرے گا اسی کا اعتبار ہوگا اگر اُس کے اِعزاز کےليے کہا تو کچھ لازم نہیں ، طلاق کی نیت ہے تو بائن طلاق واقع ہوگی ، ظہار کی نیت ہے تو ظہار ہے اور تحریم (حرام کرنے) کی نیت ہے تو ایلا ہے اور اگر کچھ بھی نیت نہیں تھی ایسے ہی کہہ دیا تو اگرچہ ایسا کہنا جائز نہیں البتہ اس سے کچھ لازم نہیں ہوگا ۔


اللہ تبارک وتعالی قرآن کریم  میں ارشاد فرماتاہے : مَا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ ؕاِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اﻼ وَلَدْنَهُمْ ؕوَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًاؕ ۔

ترجمہ : جورئیں (یعنی بیویاں) ان کی مائیں نہیں ، ان کی مائیں تو وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہیں اور وہ بےشک بُری اور نِری جھوٹ بات کہتے ہیں ۔ (سورہ المجادلہ آیت نمبر 2)


اللہ عوجل کا ارشاد ہے : مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖۚ ۔ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓـِٔیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْۚ ۔ (سورہ الاحزاب آیت نمبر 4)

 ترجمہ : الله  نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ بنائے اور اس نے تمہاری ان بیویوں  کو تمہاری حقیقی مائیں  نہیں  بنادیا جنہیں  تم ماں  جیسی کہہ دو ۔


زمانۂ جاہلیت میں  جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ظِہار کرتا تھا تو وہ لوگ اس ظہار کو طلاق کہتے اور اس عورت کو اس کی ماں  قرار دیتے تھے اور جب کوئی شخص کسی کو بیٹا کہہ دیتا تھاتو اس کو حقیقی بیٹا قرار دے کر میراث میں  شریک ٹھہراتے اور اس کی بیوی کو بیٹا کہنے والے کے لئے حقیقی بیٹے کی بیوی کی طرح حرام جانتے تھے۔ ان کے رد میں  یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ جن بیویوں  کو تم نے ”ماں  جیسی“ کہہ دیا ہے تو ا س سے وہ تمہاری حقیقی مائیں  نہیں  بن گئیں  اور جنہیں  تم نے اپنا بیٹا کہہ دیا ہے تو وہ تمہارے حقیقی بیٹے نہیں  بن گئے اگرچہ لوگ انہیں  تمہارا بیٹا کہتے ہوں ۔ بیو ی کو ماں  کے مثل کہنا اور لے پالک بچے کو بیٹا کہنا ایسی بات ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ، نہ بیو ی شوہر کی ماں  ہو سکتی ہے نہ دوسرے کافر زند اپنا بیٹا اور یاد رکھو کہ  الله  تعالیٰ حق بیان فرماتا ہے اور وہی حق کی سیدھی راہ دکھاتا ہے، لہٰذا نہ بیوی کو شوہر کی ماں  قرار دو اور نہ لے پالکوں  کو ان کے پالنے والوں  کا بیٹا ٹھہراؤ ۔ (تفسیر خازن جلد ۳ صفحہ ۴۸۲)(تفسیر مدارک التنزیل صفحہ ۹۳۱ - ۹۳۲)


ظہار کا معنی یہ ہے کہ شوہر کا اپنی بیوی یا اُس کے کسی جُزوِ شائع (جیسے نصف ، چوتھائی یا تیسرے حصے کو) یا ایسے جز کو جو کُل سے تعبیر کیا جاتا ہو ، ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو اس پر ہمیشہ کےلیے حرام ہو یا اس کے کسی ایسے عُضْوْ سے تشبیہ دینا جس کی طرف دیکھنا حرام ہو ، مثلاً یوں کہا : تو مجھ پر میری ماں  کی مثل ہے ، یا تیرا سر یا تیری گردن یا تیرا نصف میری ماں  کی پشت کی مثل ہے ۔ (درمختار و ردالمحتار کتاب الظہا جلد ۵ صفحہ ۱۲۵ - ۱۲۹،چشتی)(فتاویٰ عالمگیری کتاب الطلاق الباب التاسع فی الظہار جلد ۱ صفحہ ۵۰۵)


ظہار کا حکم یہ ہے کہ (اس سے نکاح باطل نہیں  ہوتا بلکہ عورت بدستور اس کی بیوی ہی ہوتی ہے البتہ) جب تک شوہر کفارہ نہ دیدے اُس وقت تک اُس عورت سے میاں بیوی والے تعلقات قائم کرنا حرام ہوجاتا ہے البتہ شہوت کے بغیر چھونے یا بوسہ لینے میں  حرج نہیں  مگر لب کا بوسہ شہوت کے بغیر بھی جائز نہیں ۔ اگر کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کر لیا تو توبہ کرے اور اُس کےلیے کوئی دوسرا کفارہ واجب نہ ہوا مگر خبر دار پھر ایسا نہ کرے اور عورت کو بھی یہ جائز نہیں کہ شوہر کو قُربت کرنے دے ۔ ( جوہرۃ النیرہ کتاب الظہار صفحہ ۸۲ الجزء الثانی)(درمختار وردالمحتار، کتاب الظہار جلد ۵ صفحہ ۱۳۰)


بیوی کو ماں ، بہن کہنے سے متعلق ایک اہم شرعی مسئلہ : ⏬


امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : زوجہ کو ماں  بہن کہنا (یعنی تشبیہ نہیں  دی ، بغیر تشبیہ کے ماں ، بہن کہا) ، خواہ یوں  کہ اسے ماں  بہن کہہ کر پکارے ، یا یوں  کہے : تومیری ماں  بہن ہے ، سخت گناہ و ناجائز ہے ۔ قَالَ  الله  تَعَالٰی : اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اﻼ وَلَدْنَهُمْؕ ۔ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًاؕ ۔ (سورہ المجادلہ آیت نمبر 2)

 ترجمہ : جورئیں (یعنی بیویاں) ان کی مائیں  نہیں ، ان کی مائیں  تو وہی ہیں  جنہوں  نے اُنہیں  جنا ہے اور وہ بے شک بری اور جھوٹی بات کہتے ہیں ۔

مگر اس سے نہ نکاح میں  خلل آئے ، نہ توبہ کے سوا کچھ اور لازم ہو ۔ (1)


 اس شرعی مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے ان لوگوں کواپنے طرزِ عمل پر غور کرنے کی ضرورت ہے جو تنگ آ کر یا مذاق مَسخری میں اپنی بیوی سے یوں کہہ دیتے ہیں : او میری ماں بس کر ۔جا بہن چلی جا وغیرہ ۔ انہیں  چاہئے کہ پہلے جتنی بار ایسا کہہ چکے اس سے توبہ کریں اور آئندہ خاص طور پر احتیاط سے کام لیں ۔


سنن ابوداؤد شریف میں ہے : ان رجلا   قال لامرتہ ، یا اخیۃ ، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : اختک ھی ، فکرہ ذلک و نھی عنہ ۔

ترجمہ : ایک شخص نے اپنی بیوی کو اے میری بہن ! کہہ کر  پکارا  تو رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وآل وسلم نےفرمایا کیا یہ تیر ی بہن ہے ؟ اسے ناپسند فرمایا اور اس سے منع کیا ۔ (سنن ابوداؤد کتاب الطلاق جلد 1 صفحہ 319 حدیث نمبر 2210 مطبوعہ لاہور،چشتی)


امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں : زوجہ کو ماں بہن کہنا خواہ یوں کہ اسے ماں بہن کہہ کر پکارے ، یا یوں کہے تو میری ماں میری بہن ہے سخت گناہ و ناجائز ہے ، مگر اس سے نہ نکاح میں کوئی خلل آئے نہ توبہ کے سوا کچھ اور لازم ہو ۔۔۔۔۔۔ ہاں اگر یوں کہا ہو کہ تو مثل یا مانند یا بجائے ماں بہن کے ہے تو اگر بہ نیت طلاق کہا تو ایک طلاق بائن ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی اور بہ نیت ظہار یا تحریم کہا یعنی یہ مراد ہے کہ مثل ماں بہن کے مجھ پر حرام ہے تو ظہار ہوگیا اب جب تک کفارہ نہ دے لے عورت سے جماع کرنا یا شہوت کے ساتھ اس کا بوسہ لینا یا بنظر شہوت اس کے کسی بدن کو چھونا یا بنگاہِ شہوت اس کی شرمگاہ دیکھنا سب حرام ہو گیا ، اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ جماع سے پہلے ایک غلام آزاد کرے ، اس کی طاقت نہ ہو تو لگاتار دو مہینہ کے روزے رکھے ، اس کی بھی قوت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کی طرح اناج یا کھانا دے ۔ ( فتاویٰ رضویہ جدید جلد 13 صفحہ 280 مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہو ر)


بہارِ شریعت میں ہے : عورت سے کہا تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے تو نیت دریافت کی جائے اگر اُس کے اِعزاز کےليے کہا تو کچھ نہیں اور طلاق کی نیت ہے تو بائن طلاق واقع ہوگی اور ظہار کی نیت ہے تو ظہار ہے اور تحریم کی نیت ہے تو ایلا ہے اور کچھ نیت نہ ہو تو کچھ نہیں ۔ (بہارشریعت حصہ 8 صفحہ 207 مکتبہ المدینہ)


علامہ نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اگر کسی شخص نے (اپنی بیوی کو) کہا : تو میری ماں ہے ، تو اس سے وہ مظاہر (یعنی ظِہار کرنے والا) نہیں ہو گا ، البتہ ایسا کہنا مکروہ ہے اور اسی کی مثل جب کوئی شخص (اپنی بیوی کو) یہ کہے : اے میری بیٹی یا اے میری بہن ،(فتاویٰ عالمگیری جلد 1 صفحہ 507)


البتہ اگر بیوی کے جسم کے کسی حصے کو ماں یا بہن کے جسم سے تشبیہ دی تو ظِہار ہوگا اور کفّارہ لازم ہوگا ، صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : عورت کو ماں یا بیٹی یا بہن کہا تو ظہار نہیں ، مگر ایسا کہنا مکروہ ہے ، عورت سے کہا : تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے ، تو نیت دریافت کی جائے اگر اُس کے اِعزاز کےلیے کہا تو کچھ نہیں اور طلاق کی نیت ہے ، تو بائن طلاق واقع ہوگی اور ظہار کی نیت ہے ، تو ظہار ہے اور تحریم (یعنی اسے اپنے اوپر حرام کرنے) کی نیت ہے تو ایلا ہے اور کچھ نیت نہ ہو تو کچھ نہیں ۔ (بہارِ شریعت جلد 2 صفحہ 207،چشتی)


اپنی منکوحہ سے چار مہینے تک مباشرت نہ کرنے کی قسم کھانا ایلا ہے ، علامہ برہان الدین علی بن ابو بکر فرغانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : جب کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے : اللہ کی قسم ! میں تم سے مقاربت نہیں کروں گا ، یا کہے : اللہ کی قسم ! میں تم سے چار مہینے تک مقاربت نہیں کروں گا ، تو وہ ایلا کرنے والا ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : جو لوگ اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرنے کی قسم کھالیتے ہیں ، اُن کےلیے چار مہینے کی مہلت ہے ، اگر اس نے چار مہینے کے اندر اپنی بیوی سے مباشرت کرلی ، تو اس کی قسم ٹوٹ جائے گی اور اس پر کفّارہ لازم ہوگا اور ایلا ساقط ہو جائے گا اور اگر اس نے چار مہینے اپنی بیوی سے مقاربت نہیں کی تو اس کی بیوی پر ازخود (ایک) طلاق بائن واقع ہوجائے گی ۔ (ہدایہ جلد 3 صفحہ 231)


خلاصۂ کلام یہ کہ صورتِ مسئولہ میں آپ کا نکاح بدستور قائم ہے ، آئندہ اس طرح کے جملوں سے اجتناب برتیں اور یہ حساس معاملات ہوتے ہیں ، ان کے بارے میں ہمیشہ محتاط رہنا چاہیے ، ازدواجی رشتے کے بارے میں بننے والی فلموں اور ڈراموں نے نوجوانوں کے ذہنوں سے اس حساسیت کو مٹا دیا ہے اور اسی سبب ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح بھی ماضی کے ادوار کی بہ نسبت بڑھ گئی ہے ، دعا ہے : اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے خاندانوں کو اس شکست و ریخت سے بچائے  آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 26 March 2026

اسلام کا معنی و مفہوم قرآن و حدیث کی روشنی میں

اسلام کا معنی و مفہوم قرآن و حدیث کی روشنی میں

محترم قارئینِ کرام : اسلام دین امن و سلامتی ہے ۔ اسلام خود بھی امن و سلامتی کا دین ہے اور دوسروں کو بھی امن و عافیت کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتا ہے ۔ اسلام کے دینِ امن و سلامتی ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بھیجے ہوئے دین کےلیے نام ہی ’’اسلام‘‘ پسند کیا ہے ۔ لفظ اسلام سَلَمَ یا سَلِمَ سے ماخوذ ہے ، جس کے معنی امن و سلامتی اور خیر و عافیت کے ہیں ۔ اسلام اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے سراسر امن ہے ۔ گویا امن و سلامتی کا معنی لفظ اسلام کے اندر ہی موجود ہے ۔ لہٰذا اپنے معنی کے اعتبار سے ہی اسلام ایک ایسا دین ہے جو خود بھی سراپا سلامتی ہے اور دوسروں کو بھی امن و سلامتی، محبت و رواداری ، اعتدال و توازن اور صبر و تحمل کی تعلیم دیتا ہے ۔ قرآن و حدیث میں اگر مسلم اور مومن کی تعریف تلاش کی جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک مسلمان صرف وہ شخص ہے جو تمام انسانیت کےلیے پیکر امن و سلامتی ہو اور مومن بھی وہی شخص ہے جو امن و آشتی ، تحمل و برداشت ، بقاء باہمی اور احترام آدمیت جیسے اوصاف سے متصف ہو ۔ یعنی اجتماعی سطح سے لے کر انفرادی سطح تک ہر کوئی اس سے محفوظ و مامون ہو ۔


اسلام کا لفظ ، س ، ل ، م ، سَلَمَ سے نکلا ہے ۔ اس کے لغوی معانی بچنے ، محفوظ رہنے ، مصالحت اور امن و سلامتی پانے اور فراہم کرنے کے ہیں ۔ حدیث نبوی میں اس لغوی معنی کے لحاظ سے ارشاد ہے : الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ منْ لِّسَانِه وَيَدِه ۔

ترجمہ : بہتر مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ (صحیح بخاری کتاب الايمان باب المسلم من سلم المسلمون من لسانه و يده جلد 1 صفحہ 13 رقم : 10)(صحیح مسلم کتاب الايمان باب تفاضل الاسلام و ای اموره أفصل جلد 1 صفحہ 65 رقم : 40)


اسی مادہ کے باب اِفعال سے لفظ اسلام بنا ہے ۔ لغت کی رو سے لفظ اسلام چار معانی پر دلالت کرتا ہے ۔


اسلام کا لغوی معنی خود امن و سکون پانا ، دوسرے افراد کو امن و سلامتی دینا اور کسی چیز کی حفاظت کرنا ہے ۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (سورہ المائدة آیت نمبر 16)

ترجمہ : اللہ اس سے ہدایت دیتا ہے اسے جو اللہ کی مرضی پر چلا سلامتی کے راستے اور انہیں اندھیریوں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے اپنے حکم سے اور انہیں سیدھی راہ دکھاتا ہے ۔


یہاں قرآن کی شان کا بیان ہے کہ اللہ عزوجل قرآن کے ذریعے اسے ہدایت عطا فرماتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع ہوجاتا ہے اور جو اپنے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی میں  لگا دیتا ہے تواللہ تعالیٰ اسے کفر و شرک اور مَعاصی کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور اعمالِ صالحہ کے نور میں داخل فرما دیتا ہے ۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ ’’بِهٖ‘‘ کی ضمیر سے سرکارِ کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی مراد ہیں ۔ اس اعتبار سے معنیٰ بنے گا کہ اللہ  تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ہدایت عطا فرماتا ہے ۔ مَعنَوِی اعتبار سے یہ بات قطعاً درست ہے ۔


اسلام کا دوسرا مفہوم ماننا ، تسلیم کرنا ، جھکنا اور خود سپردگی و اطاعت اختیار کرنا ہے ۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْۙ ۔ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (سورہ البقرة آیت نمبر 131)

ترجمہ : جب کہ اس سے اس کے رب نے فرمایا گردن رکھ عرض کی میں نے گردن رکھی اس کےلیے جو رب ہے سارے جہان کا ۔


اس سے معلوم ہوا کہ والدین کوصرف مال کے متعلق ہی وصیت نہیں کرنی چاہیے بلکہ اولاد کو عقائدِ صحیحہ ، اعمالِ صالحہ ، دین کی عظمت ، دین پر استقامت ، نیکیوں پر مداومت اور گناہوں سے دور رہنے کی وصیت بھی کرنی چاہیے ۔ اولاد کو دین سکھانا اور ان کی صحیح تربیت کرتے رہنا والدین کی ذمہ داری ہے ۔ جیساکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرو اور انہیں اچھے ادب سکھانے کی کوشش کرو ۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الادب باب بر الوالد والاحسان الی البنات جلد ۴ صفحہ ۱۸۹ - ۱۹۰ الحدیث : ۳۶۷۱)


اسلام میں تیسرا مفہوم صلح و آشتی کا پایا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایا : يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّةً ۔ (سورہ البقرة آیت نمبر 208)

ترجمہ : اے ایمان والو اسلام میں پورے داخل ہو ۔


اہل کتاب میں سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد شریعت مُوسَوی کے بعض احکام پر قائم رہے ، ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتے ، اس روز شکار سے لازماً اِجتناب جانتے اور اونٹ کے دودھ اور گوشت سے بھی پرہیز کرتے اور یہ خیال کرتے کہ یہ چیزیں اسلام میں صرف مُباح یعنی جائز ہیں ، ان کا کرنا ضروری تو نہیں جبکہ توریت میں ان سے اجتناب لازم کیا گیا ہے تو ان کے ترک کرنے میں اسلام کی مخالفت بھی نہیں ہے اور شریعت مُوسَوی پر عمل بھی ہو جاتا ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیاکہ اسلام کے احکام کا پورا اتباع کرو یعنی توریت کے احکام منسوخ ہو گئے اب ان کی طرف توجہ نہ دو ۔ (تفسیر خازن جلد ۱ صفحہ ۱۴۷)


اسی طرح ایک بلند و بالا درخت کو بھی عربی لغت میں السّلم کہا جاتا ہے ۔


مندرجہ بالا معانی کے لحاظ سے لغوی طور پر اسلام سے مراد امن پانا ، سر تسلیم خم کرنا ، صلح و آشتی اور بلندی کے ہیں ۔


دینِ اسلام سے مراد اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات پر مبنی وہ نظام حیات ہے جو ہر اعتبار سے کامل اور مکمل ہو اور وہ انسانی زندگی کے ہر شعبے کی ضروریات کو پوری کرتا ہو ۔ اس میں انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی اور بین الاقوامی سطح تک کی زندگی کے ہر گوشے کے بارے میں رہنمائی کا سامان موجود ہے ۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے : إِنَّ الدِّينَ عِندَاللهِ الْإِسْلاَمُ ۔ (سورہ آل عمران آیت نمبر 19)

ترجمہ : بیشک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے ۔


ہر نبی کا دین اسلام ہی تھا لہٰذا اسلام کے سوا کوئی اور دین بارگاہِ الٰہی عزوجل میں مقبول نہیں لیکن اب اسلام سے مراد وہ دین ہے جو حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لائے ، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ  تعالیٰ نے تمام لوگوں کےلیے رسول بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی بنایا ، تو اب اگر کوئی کسی دوسرے آسمانی دین کی پیروی کرتا بھی ہو لیکن چونکہ وہ اللہ عزوجل کے اِس قطعی اور حَتمی دین اور نبی کو مکمل طور پر نہیں مان رہا لہٰذا اس کا آسمانی دین پر عمل بھی مردود ہے ۔ یہود و نصاریٰ وغیرہ کفار جو اپنے دین کو افضل و مقبول کہتے ہیں اس آیت میں ان کے دعویٰ کو باطل فرمایا گیا ہے ۔


ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلاَمَ دِينًا ۔ (سورہ المائدة آیت نمبر 3)

ترجمہ : آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا ۔


اس آیت کے متعلق بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا ، اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ ، آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے ، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نازل ہونے کے دن عید مناتے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : کون سی آیت ؟ اس یہودی نے یہی آیت ’’اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ‘‘ پڑھی ۔ آپ  رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس دن کو جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی تھی اور اس کے نازل ہونے کے مقام کو بھی پہچانتا ہوں ، وہ مقامِ عرفات کا تھا اور دن جمعہ کا ۔ (صحیح بخاری کتاب الایمان باب زیادۃ الایمان ونقصانہ جلد ۱ صفحہ ۲۸ الحدیث : ۴۵،چشتی)(صحیح مسلم کتاب التفسیر صفحہ ۱۶۰۹ الحدیث : ۵ (۳۰۱۷))


آپ رضی اللہ عنہ کی مراد اس سے یہ تھی کہ ہمارے لیے وہ دن عید ہے ۔ نیز ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے آپ رضی اللہ عنہ سے بھی ایک یہودی نے ایسا ہی کہا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں ، جمعہ اور عرفہ ۔ (سنن ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ المائدۃ جلد ۵ صفحہ ۳۳ الحدیث : ۳۰۵۵)


اس سے معلوم ہوا کہ کسی دینی کامیابی کے دن کو خوشی کا دن منانا جائز اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے ورنہ حضرت عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم صاف فرما دیتے کہ جس دن کوئی خوشی کا واقعہ ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور اس روز کو عید منانا ہم بدعت جانتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ عید میلاد منانا جائز ہے کیونکہ وہ اللہ عزوجل کی سب سے عظیم نعمت کی یادگار و شکر گزاری ہے ۔


مذکورہ آیت سے سے معلوم ہوا : ⏬


پہلا یہ کہ صرف اسلام اللہ عوجل کو پسند ہے یعنی جو اَب دین محمدی کی صورت میں ہے ، باقی سب دین اب ناقابلِ قبول ہیں ۔


دوسرا یہ کہ اس آیت کے نزول کے بعد قیامت تک اسلام کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہو سکتا ۔


تیسرا یہ کہ اصولِ دین میں زیادتی کمی نہیں ہو سکتی ۔ اجتہادی فروعی مسئلے ہمیشہ نکلتے رہیں گے ۔


چوتھا یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا کیونکہ دین کامل ہو چکا ، سورج نکل آنے پر چراغ کی ضرورت نہیں ، لہٰذا قادیانی جھوٹے ، بے دین اور خدا عزوجل کے کلام اور دین کو ناقص سمجھنے والے ہیں ۔


پانچواں یہ کہ اسلام کو چھوڑ کر کوئی لاکھوں نیکیاں کرے اللہ عزوجل کو پیارا نہیں کیونکہ اسلام جڑ ہے اور اعمال شاخیں اور پتے اور جڑ کٹ جانے کے بعد شاخوں اور پتوں کو پانی دینا بے کار ہے ۔


ان آیات سے اسلام کے ایک کامل اور مکمل دین ہونے کا تصور ابھرتا ہے ۔


ایمان اسے کہتے ہیں کہ سچے دل سے اُن سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریاتِ دین ہیں اور کسی ایک ضرورتِ دینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں ، اگرچہ باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتا ہو ۔ ضروریاتِ دین وہ مسائلِ دین ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں ، جیسے اللہ عزوجل کی وحدانیت ، انبیا کی نبوت ، جنت و نار ، حشر و نشر وغیرہا ، مثلاً یہ اعتقاد کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں ، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا ۔

عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو طبقہ علما میں نہ شمار کیے جاتے ہوں ، مگر علما کی صحبت سے شرفیاب ہوں اور مسائلِ علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں ، نہ وہ کہ کوردہ (کم آباد اور چھوٹا گاؤں ، جسے کوئی نہ جانتا ہو اور نہ ہی وہاں تعلیم کا کوئی سلسلہ ہو) اور جنگل اور پہاڑوں کے رہنے والے ہوں جو کلمہ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے ، کہ ایسے لوگوں کا ضروریاتِ دین سے ناواقف ہونا اُس ضروری کو غیر ضروری نہ کر دے گا ، البتہ ان کے مسلمان ہونے کےلیے یہ بات ضروری ہے کہ ضروریاتِ دین کے منکر نہ ہوں اور یہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ اسلام میں جو کچھ ہے حق ہے ، ان سب پر اِجمالاً ایما ن لائے ہوں ۔ (بہار شریعت جلد 1 حصہ 1 صفحہ 172 ، 173 مکتبۃ المدینہ) ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Tuesday, 24 March 2026

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ سارے مسلمان ایک اُمت و ملت ہیں

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ سارے مسلمان ایک اُمت  و ملت ہیں

محترم قارئینِ کرام اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً ۔ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ ۔ (سورہ انبیاء آیت نمبر 92)

ترجمہ : بیشک یہ تمہاری ملت ہے جو درحقیقت ایک ہی ملت ہے اور میں (ہی) تمہارا رب ہوں سو تم میری (ہی) عبادت کرو ۔


اس آیتِ مبارکہ میں روئے زمین کے تمام لوگوں سے خطاب ہے ۔ امت اس قوم یا لوگوں کی اس جماعت کو کہتے ہیں جو دین واحد پر مجتمع ہو پھر اس کے مفہوم میں وسعت دے کر نفسِ دین پر بھی امت کا اطلاق کیا جاتا ہے اور یہاں مراد یہ ہے کہ روئے زمین کے تمام لوگوں کےلیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ملت اور ایک دین کی دعوت دی گئی ہے اور تمام انبیاء علیہم السلام نے اسی دین کی دعوت دی ہے اور سب کا دین اسلام ہے ۔ قرآن میں ہے : شرع لکم من الدین ماوصی بہ نوحاً والذی اوحینآ الیک وما وصینا بہ ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ ان اقیموا الدین ولاتنفرقوا فیہ ۔ (سورہ شوری آیت نمبر 13)

ترجمہ : اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی نوح کو وصیت کی تھی اور جس کی ہم نے آپ کی طرف وحی کی اور جس کی ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو وصیت کی تھی کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ کرو ۔


ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! بیشک یہ اسلام تمہارا دین ہے اور یہی تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام کا دین ہے ، اس کے سوا جتنے اَدیان ہیں  وہ سب باطل ہیں  اور سب کو اسی دینِ اسلام پر قائم رہنا لازم ہے اور میں  تمہارا رب ہوں ، نہ میرے سوا کوئی دوسرا ربّ ہے نہ میرے دین کے سوا اور کوئی دین ہے تو تم صرف میری عبادت کرو ۔ (تفسیر مدارک التنزیل صفحہ ۷۲۶)(تفسیر خازن جلد ۳ صفحہ ۲۹۴)


جو اصول اور عقائد تمام انئیاء علیہم السلام میں مشترک ہیں ان کو دین کہتے ہیں اور تمام انبیاء علیہم نے یہ دعوت دی تھی کہ اللہ کو ایک مانو وہی سب کا خالق اور رازق ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ اللہ کے رسول اللہ کا پغیام پہنچانے والے اور اس کے سچے اور برگزیدہ بندے ہیں ، تمام فرشتے ، تمام آسمانی صحائف اور کتابیں برحق ہیں ۔ ہر اچھی چیز اور بری چیز اللہ کی تقدیر سے وابستہ ہے ۔ قتل ، زنا اور جھوٹ بولنا حرام ہے اور اللہ کے احکام کو ماننا اور اس کی عبادت کرنا اور اس کا شکر ادا کرنا فرض ہے ۔ قیامت قائم ہوگی اور مرنے کے بعد بندوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور حساب لیا جائے گا ، نیک لوگوں کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا اور بدکاروں اور کافروں کو دوزخ میں داخل کر دیا جائے گا جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ تمام انبیاء علیہم السلام نے ان ہی چیزوں کی دعوت دی ہے اور یہی سب کا واحد دین ہے ، اس میں اختلاف کرنا جائز نہیں ہے ۔ البتہ ہر نبی کی شریعت میں ہی چیزوں کی دعوت دی ہے اور یہی سب کا واحد دین ہے ، اس میں اختلاف کرنا جائز نہیں ہے ۔ البتہ ہر نبی کی شریعت میں عبادت کے طریقے الگ الگ ہیں جو انہوں نے اپنے اپنے زمانے کے حالات اور رسم و رواج کے اعتبار سے مقرر فرمائے ۔ قرآن مجید میں ہے : لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جاً (سورہ المائدہ آیت نمبر 48)

ترجمہ : تم میں سے ہر ایک کےلیے ہم نے ایک صخاص) شریعت اور (مخصوص) راستہ معین کردیا ہے ۔


مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں مال غنیمت حرام تھا ، قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ اس کو آگ لے جاتی تھی۔ ہماری شریعت میں یہ چیزیں حلال ہیں ۔ پچھلی شریعتوں میں تیمیم کی سہولت نہ تھی ، مسجد کے سوا نماز پڑھنا جائز نہ تھا ، ہماری شریعت میں تیمیم کی سہولت اور ہر پاک زمین پر نماز پڑھنا جائز ہے ۔ پہلی شریعتوں میں غیر اللہ کےلیے سجدہ تعظیم جائز تھا ہماری شریعت میں اس کو حرام کر دیا گیا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : الانبیاء اخوۃ لعلات امھاتھم شتی ودینھم واحد ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : 3443،چشتی)

ترجمہ : تمام نبی باپ شریک بھائی ہیں ، ان کی مائیں مختل ہیں اور ان کا دین واحد ہے ۔

یعنی تمام انبیاء علیہم السلام کا دین واحد ہے اور ان کی شریعت مختلف ہیں ۔ سو امتوں کا دین میں اختلاف کرنا جائز نہیں ہے ۔

 

اور فرمایا اور انہوں نے یعنی بےدینوں نے اپنے اپنے دین میں اختلاف کیا اور مختلف فرقے بنا لیے ۔ اس آیت میں دین میں فرقے بنانے کی مذمت کی گئی ہے اور احادیث میں بھی دین میں فرقہ بنانے کی ممانعت کی گئی ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہود کے اکہتر یا بہتر فرقے تھے اور نصاریٰ کے بھی اتنے ہی فرقے تھے اور میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (سنن الترمذی رقم الحدیب : 2640)(سنن ابودائود رقم الحدیث : 4596)(سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3991،چشتی)(مسند احمد ج 5 صفحہ 332)(مسند ابویعلی رقم الحدیث : 5910)(صحیح ابن حبان رقم الحدیث : 6247)(المستدرک حاکم جلد ١ صفحہ 128)


حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت پر بھی برابر ، برابر وہی امور وارد ہوں گے جو بنی اسرائیل پر وارد ہوتے رہے تھے حتیٰ کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں کے ساتھ علانیہ بدکاری کی تھی تو میری امت کے لوگ بھی ایسا کریں گے ، اور بنی اسرائیل کے بہتر فرقے تھے اور میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے اور ایک ملت کے سوا باقی تمام فرقے دوزخ میں ہوں گے ۔ مسلمانوں نے پوچھایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کون سی ملت ہوگی ؟ فرمایا جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں ۔ (سنن ابن ماجہ میں ہے جس ملت پر جماعت (صحابہ) ہو)(سنن الترمذی رقم الحدیث : 2641،چشتی)(المستدرک جلد ١ صفحہ 129)(سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3992)


قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ المعروف بابن العربی المالکی المتوفی 543 ھ علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : ہمارے علماء نے ان فرقوں کی یہ تفصیل ذکر کی ہے روافض کے بیس فرقے ہیں ، خوارج کے بیس فرقے ہیں ، القدریہ المعتزلہ کے بیس فرقے ہیں ، سات فرقے الارجاء کے ہیں ۔ ان کے علاوہ الفراریہ ، الجھمیہ ، الکرامیہ ، النجاریہ ہیں اور ایک فرقہ جھمیہ اور مرحبہ کا جامع ہے یہ بہتر فرقے ہو گئے ۔ (یہ فرقے علامہ ابن العربی علیہ الرحمہ کے دور کے اعتبار سی ہیں ، ان میں سے کچھ فرقے اپنی موت مر گئے اور کچھ نئے فرقے وجود میں آگئے) ایک اور فرقہ ہے جو صرف ظاہر قرآن اور حدیث کو مانتا ہے اور قیاس اور استدلال کا انکار کرتا ہے ۔ یہ بھی قدریہ کی ایک قسم ہے ، ان کو ہمارے ملک اندلیس میں ایک شخص نے گمراہ کیا اس کا نام ابن حزم ہے ۔ اس نے اپنے آپ کو ظاہر کی طرف منسوب کیا اور داٶد کی پیروی کی ۔ (ہمارے دور میں غیر مقلدرین اس کے پیرو کار ہیں) (عارضتہ الاحوذی جلد 10 صفحہ 78 - 80 ملحضاً مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1418 ھ)


آئے دن ہمارے دانشور یہ نظریہ اور فکر و فلسفہ پیش کرتے رہتے ہیں کہ اُمتِ مسلمہ کا تصور ایک خواب ہے ، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ امت کا اتحاد مفروضہ ہے ، اور مسلم راہنما اپنے سادہ لوح عوام کو مفروضے پر جمع کرنے کی باتیں کرتے چلے آرہے ہیں ۔ یہاں چند اصولی باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ پہلی اصولی بات یہ ہے کہ اُمت کا تصور کسی فلسفی ، مفکر اور سیاستدان نے نہیں دیا ، بلکہ اس کا تصور خود ربِ کائنات نے قرآن میں اورآپ ﷺ نے احادیث میں دیا ہے ، چنانچہ قرآن کی سورت الانبیاء کی آیت نمبر 92 ہے : اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً ۔ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ ۔ (سورہ انبیاء آیت نمبر 92)

ترجمہ : بیشک یہ تمہاری ملت ہے جو درحقیقت ایک ہی ملت ہے اور میں (ہی) تمہارا رب ہوں سو تم میری (ہی) عبادت کرو ۔


مسلمان خواہ کسی ملک اور خطے کا ہو کسی بھی رنگ اور قبیلے کا ہو کوئی زبان بولتا ہو ان سب کو قرآن مجید نے ایک برادری قرار دیا ۔ ارشاد باری تعالیٰ  ہے : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ ۔ (سورہ الحجرات آیت نمبر 10)

ترجمہ : مسلمان مسلمان بھائی ہیں ۔


مسلمان توآپس میں بھائی بھائی ہی ہیں  کیونکہ یہ آپس میں  دینی تعلق اورا سلامی محبت کے ساتھ مَربوط ہیں  اوریہ رشتہ تمام دُنْیَوی رشتوں  سے مضبوط تر ہے ، لہٰذاجب کبھی دو بھائیوں  میں  جھگڑا واقع ہو تو ان میں  صلح کرا دو اور اللہ تعالیٰ سے ڈروتا کہ تم پر رحمت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور پرہیزگاری اختیار کرنا ایمان والوں  کی باہمی محبت اور اُلفت کا سبب ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے ۔ (تفسیر خازن جلد ۴ صفحہ ۱۶۸)(تفسیر مدارک صفحہ ۱۱۵۳)


حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پرظلم کرے نہ اس کورُسوا کرے ، جوشخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں  مشغول رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرتا ہے اورجوشخص کسی مسلمان سے مصیبت کو دورکرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مَصائب میں  سے کوئی مصیبت دُور فرما دے گا اور جو شخص کسی مسلمان کا پردہ رکھتا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کا پردہ رکھے گا ۔ (صحیح بخاری کتاب المظالم والغصب، باب لا یظلم المسلم  الخ جلد ۲ صفحہ ۱۲۶ الحدیث: ۲۴۴۲)


حضر ت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ سارے مسلمان ایک شخص کی طرح ہیں ، جب اس کی آنکھ میں  تکلیف ہوگی تو سارے جسم میں تکلیف ہوگی اور اگر اس کے سرمیں درد ہو تو سارے جسم میں دردہوگا ۔ (صحیح مسلم کتاب البرّ والصّلۃ والآداب باب تراحم المؤمنین ۔ الخ صفحہ ۱۳۹۶ الحدیث : ۶۷ ، ۲۵۸۶)


حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کےلیے عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے ۔ (صحیح مسلم کتاب البرّ والصّلۃ والآداب باب تراحم المؤمنین ۔ الخ صفحہ ۱۳۹۶ الحدیث : ۶۵ ، ۲۵۸۵،چشتی)


صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6011 ہے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسلمان آپس میں پیار و محبت ، رحم وشفقت اور مہربانی برتنے میں ایک جسم کی مثال رکھتے ہیں کہ جسم کا ایک عضو بیمار پڑ جائے تو سارا جسم اضطراب اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔


لہٰذا یہ کہہ دینا کہ مسلم اُمہ کا اتحاد اور اس کی تشکیل ایک خواب ہی رہی ہے ، اس کا وجود کہیں نظر نہیں آیا ۔ خلافِ حقیقت اور زمینی حقائق جھٹلانے والی بات ہے ۔ سلطنت عثمانیہ نے ایشیا ، افریقہ اور یورپ بیک وقت تین برِاعظموں پر 700سال تک حکومت کی ۔ کیا یہ اُمہ کے تصور کے بغیر ممکن ہو سکتا تھا ؟ اور یہ سوال کہ دنیا میں مذہب کے نام پر سب سے زیادہ جنگیں ہوئی ہیں ، تاریخ کو مسخ کرنے والی بات ہے ۔ پوری انسانی تاریخ میں جتنے لوگ جنگوں میں مرے ہیں اس کا 78 فیصد گزشتہ ساڑھے پانچ سو سالوں میں ہلاک ہوئے ہیں ، اور اکیسویں صدی میں انسانی تاریخ کی سب سے بڑی اور خوفناک جنگیں ہوئیں ۔ دنیا میں سب سے زیادہ خونریزی سیکولرازم ، کیپٹل ازم اور لبرل ازم نے کی ہے ۔ آج امریکا جس بنیاد پر کھڑا ہے اس میں 10 کروڑ لوگوں کا خون ہے ، جبکہ اسلامی تاریخ کے 15 سو سال کے اندر 10 لاکھ افراد بھی قتل نہیں ہوئے ۔ انقلابِ فرانس ، انقلابِ روس اور انقلابِ چین میں بھی 8 کروڑ سے زیادہ لوگ قتل کیے گئے ، یہ تینوں سیکولر انقلاب تھے ۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم میں مجموعی طور پر 11 کروڑ سے زائد لوگ قتل کیے گئے ۔ آج بھی جتنی قتل و غارت مذہب کے نام پر ہورہی ہے اسے کہیں زیادہ ہوسِ ملک گیری اور دنیا کے وسائل پر قبضے کی جنگوں میں مارے جارہے ہیں ۔ کیا یہ مذہب سکھاتا ہے کہ ایسا کرو ؟


اسلامی بلاک کا نظریہ کسی سیاستدان نے نہیں بلکہ خالقِ کائنات نے قرآن میں دیا ہے ۔ سورۃ التغابن کی دوسری آیت ہے : وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن ۔ اُمت کےلیے جغرافیائی حدبندیاں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں ۔ رنگ اور زبان ، نسب و خاندان ، وطن اور ملک میں سے کوئی چیز ایسی نہیں جو انسانی برادری کو مختلف گروہوں میں بانٹ دے ۔ ایک باپ کی اولاد اگر مختلف شہروں میں بسنے لگے یا مختلف زبانیں بولنے لگے یا ان کے رنگ میں تفاوت ہو تو وہ الگ الگ گروہ نہیں ہو جاتے ۔ اختلافِ رنگ و زبان اور وطن و ملک کے باوجود یہ سب آپس میں بھائی ہی ہوتے ہیں ۔ فقہائے اسلام اور علماء کا متفقہ فیصلہ ہے دنیا بھر کے مسلمان ایک ملت اور ایک قوم ہیں اور دنیا بھر کے کافر الگ ملت اور قوم ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملاً یہی تعلیم دی تھی ۔ قریش کے ابوجہل سے جنگ کی اور حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو سینے سے لگالیا ، جو افریقہ سے آئے تھے ۔ صہیبِ رومی روم اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہما ایران سے آئے تھے ان کو اپنے دامن محبت میں جگہ دی ۔


جب ہم وحدتِ امت کی بات کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ موجودہ تمام اسلامی ممالک اپنی اپنی جغرافیائی حدود ختم کر کے ایک نئی جغرافیائی وحدت میں تبدیل ہو جائیں ، بلکہ جس طرح آج دنیا کے مختلف خطوں میں علاقائی ، نسلی ، لسانی بنیاد پر ممالک کی تنظیمیں موجود ہیں ، اس طرح مسلمان ممالک کا بھی اپنا کوئی ایسا مشترکہ ادارہ موجود ہو جو دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی ترجمانی کر سکے ۔ اسلامی تاریخ میں الگ الگ خطوں میں الگ سلطنتوں کی مثالیں موجود رہی ہیں ۔ تصورِ ممالک اور تصورِ مسلم امہ دو الگ الگ چیزیں ہیں ۔


پاکستان اسلامی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا ۔ قائد اعظم محمد علی جناح علیہ الرحمہ نے کہا تھا پاکستان اس لیے بنا رہا ہوں تاکہ مراکش سے لے کر چین تک عظیم مسلم اتحاد قائم ہو ۔ یہ ایک نظریاتی ، مذہبی ، دینی ریاست ہوتی ہے جہاں برتر قانون قرآن و حدیث ہوتے ہیں ۔ اگر مشرقی پاکستان جدا ہوا ہے تو اس کا سبب وہ نہیں جو آج کے دانشور بیان کرتے ہیں ۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی اصل وجہ مذہب نہیں بلکہ مذہب سے انحراف ہی ہے ۔ یہ نسلی تعصب تھا جس نے ہمارے بنگالیوں بھاٸیوں کو جدا ہونے پر مجبور کیا ۔


مذہب کی بنیاد پر اتحاد صرف اسلام میں ہی نہیں ، بلکہ عیسائیت اور دیگر مذاہب میں بھی ملتا ہے ۔ دیکھیں ! ایک امریکہ پر حملہ ہوتا ہے تو 42 عیسائی ممالک جمع ہو جاتے ہیں ۔ توہینِ رسالت کے مرتکب چارلی ایبڈو پرحملہ ہو جاتا ہے تو اگلے ہی روز سارے پورپی ممالک ’’ہم چارلی ہیں‘‘ کا نعرہ بلند کر دیتے ہیں ۔ اب آپ ہی بتائیں کہ ان ممالک کے درمیان آخر کیا قدر مشترک کیا ہے ؟


دور نہ جائیں ! ابھی کچھ عرصہ قبل امریکہ میں جو الیکشن ہوئے ہیں ، اس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جو جیت ہوئی ہے ، اس میں اسلام اور مسلم دشمنی کا بھی شاید ایک فیکٹر تھا حالانکہ پوری دنیا یہ کہہ رہی تھی کہ ٹرمپ جیسا متعصب شخص سپرپاور امریکہ کا صدر نہیں بن سکتا ۔ علامہ ابن خلدون علیہ الرحمہ کا قول ہے کہ تعصبات ، نسلی امتیازات اور مذہب کا سیاست میں گہرا اثر ہوتا ہے ۔ بھارت میں مودی کا حکمران بننا اور امریکہ میں ٹرمپ کی جیت اس کی یہ تازہ مثالیں ہیں ۔ اس کی کچھ تفصیل ’’سیموئیل پی ہنٹنگٹن‘‘ کے مقالات میں بھی دیکھی جا سکتی ہے ۔


آج مسلم ممالک میں جو کچھ ہو رہا ہے ، فرقہ واریت ، ماردھاڑ اور خانہ جنگی ہے ، اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو اس قتل و غارت میں بھی یہی ’’کافر صنم‘‘ نظر آتا ہے ۔ یاد رکھیں اسلامی تعلیمات میں سب سے زیادہ زور اتفاق و اتحاد پر دیا گیا ہے ۔ آپس میں محبت ، بھائی چارہ ، ایمان ، اتحاد اور یقین مسلمانوں کا موٹو ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع میں حکم فرمایا تھا: ’’دیکھو! باہمی اختلافات میں نہ پڑ نا ۔ قرآن میں ہے : وَلَا تَفَرَّقُوْا ’’ اختلاف ہرگز نہ کرو ۔ آج اگر امتِ مسلمہ زوال وغیرہ کا شکار ہے تو اس اصل وجہ یہی اتفاق و اتحاد کا فقدان ہے ۔


اِسلام ایک عالمی دِین ہے اور اُس کے ماننے وَالے عرب ہوں یا عجم ، گورے ہوں یا کالے ، کسی قوم یا قبیلے سے تعلق رَکھتے ہوں ، مختلف زبانیں بولنے وَالے ہوں ، سب بھائی بھائی ہیں اور اُن کی اس اخوت کی بنیاد ہی اِیمانی رِشتہ ہے اور اس کے بالمقابل دُوسری جتنی اخوت کی بنیادیں ہیں ، سب کم زور ہیں اور اُن کا دَائرہ نہایت محدود ہے ۔ یہی وَجہ ہے کہ اِسلام کے اِبتدائی اور سنہری دور میں جب بھی ان بنیادوں کا آپس میں تقابل و تصادم ہوا تو اخوتِ اِسلامیہ کی بنیاد ہمیشہ غالب رہی ۔


کافر کوئی بھی عقیدہ رکھے ایک ہی ملت ہیں حدیث میں ارشاد ہے کہ اَلْکُفْر مِلَّۃ’‘ وَاحِدَہ ، کفر ایک ملت ہیں ۔ اس طرح قرآن و سنت نے دنیا کے تمام انسانوں کو دو الگ الگ ملتوں میں تقسیم کرکے فیصلہ کردیا کہ مسلمان ایک ملت اور کافر دوسری ملت ہیں اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کافروں کے ساتھ حسن سلوک ، انصاف ، خیرخواہی ، مدارات تو کرو لیکن محبت و دوستی کسی صورت میں تمہارے لیئے جائزہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو اپنا راز دار بناؤ اور نہ ہی ان کے طور طریقے اختیار کرو بلکہ جو کفار تم سے لڑے تمہارے دین کے درپے ہوں ان کے ساتھ جنگ کرو ۔


دنیا میں مدینۃُ المنوّرہ پہلی اسلامی ریاست تھی جو کہ اسی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی اس کے بعد مملکت خداداد پاکستان وہ ریاست ہے جو کہ اسی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوئی ۔ اس وقت دنیا میں جو ممالک موجود ہیں ان سب کی بنیاد جغرافیائی سرحدیں ہیں جو کہ دراصل مغرب کا نظریہ ہے اہل مغرب نے خاندانی ، نسلی اور قبائلی بنیادوں میں ذرا وسعت پیدا کرکے قومیت کی بنیادیں جغرافیائی حدود پر استوار کیں ۔ جبکہ پاکستان کی بنیاد نہ تو رنگ زبان و نسل ہے اور نہ ہی جغرافیائی حدود بلکہ اس کی بنیاد لاالہ الا اللہ ہے ۔ کہ ایک عقیدہ اور ایک کلمہ کی بنیاد پر جو قوم بنی ہے یعنی امت مسلمہ اور ملت اسلامیہ وہ سب اس مملکت کے باشندے ہیں ۔


قرآنِ کریم نے مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دِیا ہے اور اس اخوت اور محبت کو اللہ کی نعمت قرار دِیا ہے اور اس محبت اور اِتحاد پر اُن کی قوت اور طاقت کا مدار ہے ۔ اس اخوت کو قائم رَکھنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور اُن تمام صفات کو اَپنانا جن سے یہ اخوت کا رِشتہ مضبوط ہوتا ہے ، جیسے خیر خواہی ، محبت ، اِخلاص ، اِیثار ، ملنا ملانا ، صلح جوئی اور ایک دُوسرے کو سلام اور دُعا پیش کرنا وَغیرہ ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کو اپنے باہمی تعلقات سمجھنے اور اس کے تقاضوں  کے مطابق عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Wednesday, 18 March 2026

جمعہ اور عید دن جمع ہوجائیں تو شرعی حکم

جمعہ اور عید دن جمع ہوجائیں تو شرعی حکم

محترم قارئینِ کرام : اگر عید جمعہ کے دن آ جائے تو دونوں نمازیں اپنے اپنے مقررہ اوقات پر حسبِ معمول ادا کی جائیں گی ۔ رحمتیں اور برکتیں دوگنا ہو جائیں گی ۔ جمعہ اور عید کا جمع ہونا بھاری یا منحوس نہیں ، بلکہ باعثِ خیر و برکت ہے کہ ایک دن میں دو عیدیں اور دو عبادتیں نصیب ہوئیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم اور صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہم کے ادوارِ مبارک میں بھی کئی بار ایسا ہوا کہ جمعہ و عید ایک دن میں اکٹھے ہوئے ، مگر اسے بھاری یا منحوس سمجھنا کسی سے منقول نہیں ، بلکہ حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ دونوں کا جمع ہونا خیر و برکت ہی کا ذریعہ ہے اور دونوں کے جمع ہونے کو بھاری یا منحوس سمجھنا بدشگونی لیناہے ، جو  جائز نہیں ۔ حدیثِ مبارکہ میں جمعہ کے دن عید ہونے کو مسلمانوں کے واسطے خیر قرار دیا گیا ، مُصَنَّف عبدُالرّزاق میں ہے : ذَکوان سے مروی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانۂ مبارَک میں عیدُالفطر یا عیدُالاضحیٰ جمعہ کے دن ہوئی ، کہتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : بے شک تم نے ذِکر اور بھلائی کو پایا ہے ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 3 صفحہ 176 حدیث نمبر 5745)


ابو صالح الزیات سے مروی ہے : إِنَّ النَّبِی صلی الله عليه وآله وسلم اجْتَمَعَ فِی زَمَانَه يَوْمٍ جُمْعَةِ وَ يَوْمَ فطر، فَقَالَ :  إِنَّ هَذَا الْيَوْمَ يُوْم، قد اجْتَمَعَ فِيْه عَيْدَانِ، فَمَنْ أَحَبَّ فَلْيَنْقَلِبْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْتَظِرَ فَلْيَنْتَظِرْ ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 3 صفحہ 304 رقم :  5729)

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں جمعہ اور عید الفطر ایک دن میں جمع ہوگئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا :  آج ایک دن میں دو عیدیں جمع ہوگئیں، جو گھر واپس جانا چاہے چلا جائے اور جو نماز جمعہ کا انتظار کرنا چاہے، وہ انتظار کرے ۔


حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا عید الفطر اور جمعہ کا دن جمع ہوگئے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے نماز عید کے بعد لوگوں کو خطبہ دیا اور پھر فرمایا :  یہ دو عیدیں ایک دن میں جمع ہو گئی ہیں ۔ فمن کان من أهل العوالی فأحب أن يمکث حتی يشهد الجمعة فليفعل، ومن أحب أن ينصرف فقد أذنا له ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 3 صفحہ 305 رقم :  5732،چشتی)

ترجمہ : پس جو مضافات کا باشندہ ہے اور نماز جمعہ میں شامل ہونا چاہتا ہے تو شامل ہو جائے اور جو گھر کو لوٹنا چاہے تو اسے بھی اجازت دے دی گئی ہے ۔


حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : کان رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم يقرأ فی الجمعة والعيد بِه :  ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی﴾ وَ ﴿هَلْ أَتَاکَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ﴾ فَإِذَا اجْتَمَع الجمعة وَ العيدان فی يوم قرأ بهما ۔ (سنن الکبری نسائی جلد 1 صفحہ 547 رقم :  1775)

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جمعہ و نماز عید میں سَبِّح اسْمَ رَبِّکَ الاعْلٰی  (سورۃ الاعلی) اور هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ۔ (سورۃ الغاشیہ) پڑھا کرتے تھے ۔ جب ایک دن میں جمعہ و عیدین جمع ہو جائے تو (بھی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہی دو سورتیں پڑھتے تھے ۔


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا : أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عِيْدَيْنِ؟ قَالَ :  نَعَمْ، صَلَّی الْعِيْدَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ثُمَّ رَخَّصَ فِی الْجُمعَة ۔ (سنن نسائی کتاب صلاة العيدين باب الرخصة في التخلف عن الجمعة لمن شهد العيد جلد 3 صفحہ  194 رقم :  1591،چشتی)

ترجمہ : کیا آپ نے دو عیدیں (یعنی جمعہ اور عید اکٹھی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھی ہیں؟ انہوں نے کہا :  جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دن چڑھے نمازِ عید پڑھائی پھر نماز جمعہ میں رخصت عطا فرما دی ۔


امام محمد نے الجامع الصغیر میں ایک ہی دن میں دو عیدوں کے جمع ہونے کے متعلق فرمایا : يشهدهما جميعًا ولا يترک واحدا منهما ، والأولي منهما سنة والأخری فريضة ۔ (ابن نجيم، البحرالرائق جلد 2 صفحہ 70)

ترجمہ : دونوں میں حاضری ہوگی اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا ، کیونکہ پہلی سنت (واجب) ہے دوسری فرض ۔


امام ابن عابدین شامی فرماتے ہیں : عيدان اجتمعا فی يوم واحد، فالاول سنة والثاني فريضة، ولا يترک واحد منهما ۔ (ابن عابدين، رد المحتار جلد 2 صفحہ 166،چشتی)

ترجمہ : جب ایک دن میں دو عیدیں (عید اور جمعہ) جمع ہو جائیں تو پہلی سنت (واجب) اور دوسری فرض ہے ۔ کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا ۔


امام ابو بکر بن مسعود کاسانی فرماتے ہیں : تجب صلاة العيدين علی أهل الاحصار کما تجب الجمعة ، دونوں عیدوں کی نماز شہریوں پر ایسی ہی واجب ہے جیسے نماز جمعہ واجب ہے ۔ امام کاسانی البدائع الصنائع میں امام محمد کی رائے سے متعلق لکھتے ہیں : فإنه قال فی العيدين اجتمعا فی يوم واحد، فا لأول سنة . . . فی الجامع الصغير أنها واجبة بالسنة . . . والصحيح أنها واجبة ۔ (کاسانی بدائع الصنائع جلد 1 صفحہ 275)

ترجمہ : امام محمد نے کہا جمعہ اور عید ایک دن میں جمعہ ہو جائیں تو پہلی (نماز عید) سنت ہے ۔ ۔ ۔ جامع صغیر میں ہے کہ نماز عید سنت کی رو سے واجب ہے ۔ ۔ ۔ صحیح یہ ہے کہ نماز عید واجب ہے ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن نماز عید و جمعہ دونوں پڑھائیں ۔ ہمارے لیے یہ دلیل کافی ہے ۔ ہم جو کچھ سمجھے ہیں وہ یہ ہے کہ نماز عید پڑھا کر مضافات مدینہ سے آنے والے لوگوں کو آپ نے رخصت دے دی کہ جو چاہے مدینہ منورہ میں رہے اور نماز جمعہ بھی ادا کرے اور جن کے گھر شہر سے اتنے دور ہیں کہ وہاں نماز جمعہ و عیدین ادا نہیں کر سکتے وہ چاہیں تو نماز جمعہ ادا کرنے سے پہلے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں ۔ پس جو شہر میں رہ جائیں گے ان پر نماز جمعہ فرض ہوگی اور جو جمعہ کے وقت سے پہلے ہی گاؤں چلے گئے ان پر نماز جمعہ فرض ہی نہ ہوئی کہ اس کےلیے شہر ہونا شرط ہے ۔ اگر عید جمعہ کے دن آجائے ، تو حسبِ شرائط جمعہ کی نماز پڑھنا فرض ہے ، عید کی وجہ سے جمعہ کے بجائے گھر میں ظہر کی نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے ، اگر کوئی شخص اس دن گھر میں ظہر پڑھنے کو مسنون کہتا ہے ، تو اس سے دلیل کا مطالبہ کیا جائے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Saturday, 14 March 2026

دینی طلبہ پر خرچ کرنے کا اجر قرآن و حدیث کی روشنی میں

دینی طلبہ پر خرچ کرنے کا اجر قرآن و حدیث کی روشنی میں

محترم قارئینِ کرام : اصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم وہ صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں صرف دِین سیکھنے کےلیے حاضر رہا کرتے تھے ۔ اِنہیں اصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں ۔ ان کی شان تو بے مثل و بے مثال ہے ۔ اصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم مَسْجِدِنبوی شریف میں ایک چبوتراتھا ، جہاں (مختلف اَوقات میں) تقریباً 400 یا 500 فُقَرَائے مُہاجِرِین رضی اللہ عنہمم بیٹھا کرتے تھے ، انہیں اَصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں ۔ اِن کے پاس گھر تھا نہ دُنْیَوی سازو سامان اور نہ ہی کوئی کاروبار ، غربت کا عالم یہ تھا کہ اِن میں سے70 کے پاس سَتْر پو شی کےلیے پورا کپڑا بھی نہ تھا ۔ اِن کی تعداد میں کمی بیشی ہوتی رہتی تھی ۔ مدینۂ منورہ میں آنے والے کا شہر میں کوئی جان پہچان والا نہ ہوتا تو وہ بھی اہلِ صُفّہ رضی اللہ عنہم میں شامل ہو جایا کرتا ۔ ‫(تفسیر نعیمی جلد ۳ صفحہ ۱۳۲)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دینی طلبہ پر خرچ کرنا : ⏬

اصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم علمِ دین سیکھتے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی ان پر خرچ فرماتے اور دوسروں کو ترغیب بھی ارشاد فرماتے ۔ اور ایسا نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف اصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم پر ہی خرچ فرماتے ۔ آپ کا مال تو دین کیلئے وقف تھا ۔ جتنا بھی مال آپ کے پاس آتا ، آپ راہِ خدا میں خرچ فرمادیتے تھے ۔ حضرت ابُوذَر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک روز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا ، جب آپ نے اُحد پہاڑ کو دیکھا تو فرمایا : اگر یہ پہاڑ میرے لیے سو نا بن جائے تو میں پسند نہیں کروں گا کہ اس میں سے ایک دِیناربھی میرے پاس تین (3) دن سے زِیادہ رہ جائے ، سِوائے اُس دِینار کے جسے میں اَدائے قرض کے لئے رکھ چھوڑوں ۔ (صحیح بخاری کتاب فی الاستقراض … الخ باب اداء الدیون جلد ۲ صفحہ  ۱۰۵ حدیث نمبر ۲۳۸۸)

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے : وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْؕ ۔ (سورہ الضحی آیت نمبر ۱۰)
ترجمہ : اور منگتا کو نہ جھڑکو ۔

یعنی اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آپ کے درِ دولت پر کوئی سوالی آ کر کچھ مانگے تو اسے کسی بھی صورت جھڑکنا نہیں بلکہ اسے کچھ دے دیں یا حسنِ اَخلاق اور نرمی کے ساتھ اس کے سامنے نہ دینے کاعذر بیان کردیں ۔ (تفسیر خازن جلد ۴ صفحہ ۳۸۸،چشتی)(تفسیر مدارک صفحہ ۱۳۵۷)

امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ⏬

مومن ہوں  مومنوں  پہ رؤفٌ رحیم ہو
سائل ہوں سائلوں کو خوشی لانہر کی ہے

مانگیں  گے مانگے جائیں  گے منھ مانگی پائیں  گے
سرکار میں  نہ ’’لا‘‘ ہے نہ حاجت ’’اگر‘‘ کی ہے
(حدائق بخشش صفحہ ۲۱۲ ، ۲۲۵)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدالانبیاء ہیں ، نبیوں کے سردار ہیں کونین کے والی ہیں ، وجہِ تخلیقِ کائنات ہیں ، لیکن اِ س کے با وجود آپ کا اندازمبارک یہ تھا  کہ آپ اپنے پاس مالِ دنیا کو نہیں رہنے دیتے تھے خود بھوکے رہ کر اوروں کو کھلانا آپ کا طریقہ رہا ہے ، اپنا مال ہو یا آپ کو تحفے میں دیا گیا مال ہوبلکہ اگر یوں  کہا جائے  کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا  سارا مال دین کےلیے وقف تھا  تو یہ غلط نہ ہو گا  کیونکہ انبیاءِ کرام علیہم السلام نے کسی کو دینارو درہم کا وارث نہیں  بنایا جیسا کہ مفسرِ قرآن ، مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ ایک حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بعض انبیاء کرام علیہم السلام تارِكُ الدُّنْیا تھے ، جنہوں نے کچھ جمع نہ کیا جیسے حضرت یحییٰ و عیسیٰ علیہما السلام اور بعض نے بہت مال رکھا۔ جیسے حضرت سلیمان و داؤد علیہما السلام لیکن کسی نبی کی مالی میراث نہ بٹی ، ان کا چھوڑا ہوا مال دین کے لیےوقف ہوتا ہے۔ (مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۱۹۹)

نے پڑھ لیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مال دین کےلیے وقف تھا  ، بالخصوص دینی طالب علموں پر خرچ کرنا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت ِکریمہ تھی اور اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کےلیے بھی  یہی پسند فرماتے تھے کہ وہ بھی اپنا مال راہ ِ دین میں خرچ  کریں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر سے واپسی پر خاتونِ جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھرتشریف لائے لیکن گھر کے دروازے پر ایک پردہ اور اپنی لخْتِ جگر کے ہاتھوں میں چاندی کے دو کنگن ملاحظہ فرما کر واپس تشریف لے گئے ۔ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ رورہی تھیں ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے لوٹ جانے کی خبردی تو حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہو کر واپسی کا سبب پوچھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : دروازے پر موجود پردے اور چاندی کے کنگنوں کے سبب میں واپس آگیا ۔ (سنن ابو داود کتاب الترجل باب ما جاء فی الانتفاع بالعاج جلد ۴ صفحہ  ۱۱۸ حدیث  نمبر ۴۲۱۳)

  حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کواس بات کی خبر دی تو انہوں نے پردہ پھاڑ دیا اور کنگن حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھیج دیئے اور عرض کی : میں یہ کنگن صَدَقہ کرتی ہوں ، آپ انہیں جہاں مناسب سمجھیں خرچ فرما دیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : انہیں بیچ کر اہْلِ صُفّہ رضی اللہ عنہم (جو دین کے طلبا تھے) پر خرچ کردو ۔ چنانچہ انہوں نے وہ دونوں کنگن ڈھائی درہم میں بیچ کر اصحابِ صفہ رضی اللہ عنہم پر صدقہ کر دیئے ۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی لخْتِ جگر کے گھر تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : تم پر میرے ماں باپ فدا (میں فدا میرے ماں باپ فدا انتہائی محبت وعظمت ظاہر کرنے کےلیے کہے جاتے ہیں) تم نے بہت اچھا کیا ۔ (سنن النسائی کتاب الزینة باب الکراھیة للنساء فی اظہار الحلی  والذھب صفحہ ۸۲۰ حدیث نمبر ۵۱۵۰) 

مفسرِ قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں تشریف لے جاتے تو پہلے سارے گھر والوں سے رخصت ہوتے سب سے آخر میں حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا سے رخصت ہوتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لاتے پھر دوسرے اہلِ بیت کے پاس ۔ غرضکہ جانا بھی اس گھر سے ہوتا اور آنا بھی اسی گھر میں اس گھر کی عزت پر لاکھوں سلام ۔ دروازے پر لٹکے ہوئے پردے اور کنگن کے بارے میں فرماتے ہیں : دروازہ کا یہ پردہ غالبًا تصاویر والا تھا اور چاندی کے کنگن لڑکوں (یعنی امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما) کےلیے تھے ،  مردوں کےلیے کنگن اور تصاویر والا پردہ یہ دونوں حرام ہیں ۔ جناب فاطمہ رضی اللہ عنہ کو ان کی حُرمت کی ابھی تک خبر نہ تھی ۔ اسی لیے آپ رضی اللہ عنہا نے یہ دونوں کام کیے ہوئے تھے ورنہ اہلِ بیتِ نبوت دانستہ طور پر ناجائز کام نہیں کر سکتے ۔ آپ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صرف ناراضگی ملاحظہ فرما کر یہ دونوں چیزیں ختم کر دیں ۔ اور کنگن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں صدقہ کرنے کےلیے بھیج دئیے ۔ تاکہ اس عمل کو دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں تشریف لے آئیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تھے کہ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا بھی ان کنگنوں کو نہ پہنیں کہ اگرچہ ان کےلیے ان کا پہننا جائز ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ میرے اہل بیت جائز آرائش ٹیپ ٹاپ بھی نہ کریں تاکہ ان کے دل دنیا میں نہ لگیں اور آخرت میں ان کے درجات اور بلند ہوں وہ دنیا میں فقر وریاضت کی زندگی گزاریں ۔ (مرآۃ المناجیح جلد ۶ صفحہ ۱۷۷چشتی)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (ظاہری زمانہ مبارک) زمانے میں دوبھائی تھے ، ان میں ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں رہتا تھا اور دوسرا محنت و مزدوری کرتا تھا ، محنت و مزدوری کرنے والے نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ ، شاید تجھے اسی کی وجہ سے روزی ملتی ہو ۔ (سنن ترمذی حدیث نمبر 2345)

حضرت سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کا دین کےلیے خرچ کرنا : ⏬

       نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا مال دین کےلیے خرچ فرماتے تھے ۔ اگر ہم صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ وہ بھی اپنا مال دین کےلیے قربان کرنے کو ہروقت تیار رہتے تھے ۔ اس بارے میں اَمِیْرُالمؤمنین حَضرتِ سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ تاجر تھے ، کپڑے کے وسیع کاروبار کے مالک تھے ، جس دن اسلام لائے آپ کے پاس چالیس ہزار درہم یا دینار (یعنی 40 ہزارچاندی یا سونے کے سِکّے) تھے ، اسلام لانے کے بعد وہ سارے کے سارے راہِ خدا میں خرچ کر دیئے ۔ (تاریخ مدینۃ دمشق جلد ۳۰ صفحہ ۶۶)

غزوۂ تبوک کے موقع پر اپنے گھر کا سارا مال اسلام اور مسلمانوں پر نچھاور کرنے کا واقعہ بھی آپ ہی کا ہے ۔ اسی طرح جب بھی ضرورت پیش آئی تو دین کےلیے اپنا مال خرچ کرنے میں آپ ذرا بھی نہ ہچکچائے ۔ کئی غلاموں کو اپنا ذاتی مال دے کر آزاد کروانے کاشرف بھی آپ کو حاصل ہے ۔ حضرت عُروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایسے 7 غلام خرید کر آزاد کیے جنہیں راہِ خدا میں بہت تکالیف دی جاتی تھیں ۔ ان میں حضرت بلال حبشی اور عامربن فہیرہ رضی اللہ عنہما بھی ہیں ۔ (مجمع الزوائد ، کتاب المناقب باب جامع من فضلہ جلد ۹ صفحہ ۳۵ حدیث  نمبر ۱۴۳۴۰)

منقول ہے کہ حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو اسلام لانے کے بعدبہت اذیتیں دی جاتی تھیں ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو پانچ اوقیہ (تقریباً 32 تولے) سونا ادا کر کے خریدا تو فروخت کرنے والوں نے کہا : ابوبکر ! اگر تم صرف ایک اوقیہ سونے پر اَڑ جاتے تو ہم اتنی قیمت میں ہی اسے فروخت کر دیتے ۔ آپ نے فرمایا : اگر تم سو (100) اوقیہ سونا مانگتے تو میں وہ بھی دے دیتا اور بلال کو ضرور خریدتا ۔ (الریاض النضرۃ جلد ۱ صفحہ ۱۳۳)

حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے معمولات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اسلام کی مدد و نصرت کےلیے آپ نے کھُلے دل سے اپنا ذاتی مال و اسباب خرچ کیا ۔ اپنے مال سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایسی خدمت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا : مجھے کسی کے مال نے اتنا فائدہ نہ دیا جتنا ابوبکر صدیق کے مال نے دیا ۔ (سنن ابن ماجۃ کتاب السنۃ باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ جلد ۱ صفحہ ۷۲  حدیث نمبر ۹۴) ۔
ہمارے ہاں لوگ بے شمار جگہوں پر خرچ کرتے ہیں ، کبھی تقریبات پر ، کبھی زیب و زینت پر ، اور کبھی نمود و نمائش پر ، لیکن جب بات دین کےلیے وقف طلباء و علماء کی ضروریات کی آتی ہے ، تو دل و جیب دونوں بند ہو جاتے ہیں ، حالانکہ یہ وہی نفوسِ قدسیہ ہیں جو شب و روز علمِ دین کے حصول اور اس کی خدمت میں مشغول رہتے ہیں ۔ ان کی معاشی کفالت امت کی اجتماعی ذمے داری ہے ، یہ سب سے افضل مصرف ہے کہ ایسے اہلِ علم کی معاونت کی جائے جو خود کو دین کےلیے وقف کر چکے ہیں ، اگر ہر فرد اپنے حصے کا بوجھ اٹھا لے ، تو ان شاءاللہ یہ علماء و طلباء فکری و مالی پریشانیوں سے آزاد ہو کر دین کے مزید عظیم کام انجام دے سکیں گے ۔ آئیے اس بابرکت میدان میں قدم رکھیں ، ان چراغوں کو بجھنے نہ دیں ، بلکہ ان کی روشنی کو بڑھائیں ، تاکہ معاشرہ علم ، اخلاص اور دین داری سے منور ہو ۔

مدرسے یا دینی تعلیم کے ادارے کی تعمیر پر خرچ کرنا انتہائی فضیلت والا عمل ہے ۔ اگرچہ قرآن و حدیث میں براہِ راست مدرسے کا لفظ نہیں آیا ، مگر علمِ دین کی اشاعت ، طلبہ کی تعلیم، اور دین کی بنیاد رکھنے پر بے شمار احادیث و آثار موجود ہیں ، جن سے مدرسہ سازی کی عظمت و ثواب واضح ہوتا ہے ۔ جن کا ذکر ہم حصہ اول میں کر چکے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : من دلّ على خير فله مثل أجر فاعله ۔ (صحیح مسلم)
ترجمہ : جو کسی کو بھلائی کی طرف رہنمائی کرے ، اسے بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والے کو ملتا ہے ۔

مدرسہ کی تعمیر ، ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے سینکڑوں طلبہ علم حاصل کرتے ہیں اور یہ سب اجر تعمیر کرانے والے کو بھی ملتا ہے ۔

دینی طالب علموں پر خرچ کرنے وجہ سے اسلام کی توفیق بخش دی : ⏬

حضرت محمد بن جَرِیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ہم چند دوست مِل کر عِلْمِ دِین سیکھنے کے لئے سَفَر پر روانہ ہوئے ۔ ایک شہر میں پہنچے ، وہاں عِلْمِ دِین سیکھنے میں مَصْرُوف ہو گئے ۔ ایک عرصہ یہاں گزارا ، اس دوران ہمارے پاس اخراجات ختم ہو گئے ۔ ہم دوستوں نے ارادہ کیا کہ چلو ! واپس گھر چلتے ہیں (اخرجات لے کر واپس آئیں گے) ۔ ابھی ہم ارادہ بنا ہی رہے تھے کہ ایک غیر مُسْلِم  ہمارے پاس آیا ، اس نے ہم سب دوستوں کو 3 ، 3 دِرْہَم دئیے ! کچھ اخراجات آ گئے ۔ اس کے بعد اس نے 40 مرتبہ ہمیں یونہی دِرْہَم دئیے ! ہم نے اس سے پوچھا : تم تَو غیر مُسْلِم  ہو ، تم ہمیں یہ رقم کیوں دیتے ہو؟ وہ بولا : میں نے تورات شریف میں پڑھا ہے کہ سب سے اَفْضَل صدقہ وہ ہے جو طالِبِ عِلْمِ دِین کو دیا جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں (یعنی اَہْلِ تورات میں) تو کوئی بھی اس طرح عِلْمِ دِین سیکھنے میں مَصْرُوف نہیں ہے ، لہٰذا جب میں نے تمہیں عِلْمِ دِین سیکھنے میں مَصْرُوف دیکھا تو تم پر ہی خرچ کر دیا ۔ حضرت محمد بن جریر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ واقعہ گزر گیا ۔ اس کے بعد ایک مرتبہ ہم دوست حج کےلیے مکہ پاک حاضِر ہوئے ، دیکھا کہ وہی غیر مُسْلِم  کعبہ شریف کے گِرد طواف کر رہا ہے ۔ ہم نے حیرانی سے پوچھا : تم تو غیر مُسْلِم  تھے ، اسلام کیسے قبول کر لیا ؟ وہ بولا : میری قسمت جاگی ، خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : تم نے طالب علموں پر خرچ کیا ، اس کی برکت سے اللہ پاک  نے تمہیں اسلام کی توفیق بخش دی ہے ۔ پس یہیں سے میری قسمت جاگ گئی اور میں نے اُسی وقت (خواب ہی میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ مُبارَک  پر اسلام قبول کر لیا ۔ مزید کرم یہ ہوا کہ میرے گھر میں 17 افراد تھے ، اس رات سب کو خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی ، سب کے سب ہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے ۔ (حکایات و قصص صفحہ 201)

ہمیں بھی چاہیے کہ دِین کےلیے اپنی مالی خِدْمات پیش کیا کریں ۔  یہ صِرْف ذِہن بنانے کی بات ہے ، ورنہ دِین کی راہ میں مال دینے سے بندہ غریب نہیں ہو جاتا بلکہ جو اللہ پاک کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے ، اللہ پاک اسے کئی گُنَا بڑھا کر عطا فرماتا ہے : مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةًؕ ۔ (سُوْرَۂ بَقَرَہ آیت نمبر 245)
ترجمہ : ہے کوئی جو اللہ کواچھا قرض دے تو اللہ اس کے لئے اس قرض کو بہت گنا بڑھا دے ۔

کتنی پیاری بات ہے ! مال دیا ہوا کس کا ہے ؟  اللہ پاک کا ۔ حضرت شیخ عبدالقار جیلانی رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : اَنْتُمْ وُکَلَاءُ عَلٰی ہٰذِہِ الْاَمْوَال ، تم اس مال کے وکیل ہو ۔ (جَلَاء الخَوَاطِرْ مجلس حقوق الفقراء صفحہ نمبر 110)

حَضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا دین کےلیے خرچ کرنا  بھی بہت مشہور ہے ۔ کئی بار آپ نے دین کےلیے خرچ کرنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنت کی خوشخبریاں پائی ہیں ۔ مدینہ شریف میں مہاجرین کی ضرورت پر آپ نے کنواں خرید کر دین کےلیے وقف فرمایا ۔ اسی طرح غزوۂ تبوک کے موقع پر آپ نے 950 اُونٹ ، 50 گھوڑے اور 1000 اَشْرَفیاں پیش کیں ، پھر بعد میں 10 ہزار اَشْرَفیاں اور پیش کیں ۔ (مرآۃ المناجیح جلد ۸ صفحہ ۳۹۵) ۔ جب بھی ضرورت ہوتی آپ دینِ اسلام کیلئے خرچ کرنے سے بالکل نہیں ہچکچاتے تھے ۔

اسی طرح دیگر صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بھی کئی واقعات ہیں کہ وہ دین کےلیے خرچ کرنے میں پیش پیش رہتے تھے ۔

اس سے ہمیں بھی درس ملتا ہے کہ دین کےلیے اپنا مال دینے ، خرچ کرنے میں پیش پیش رہنا چاہیے ۔ اگر ہم بزرگوں کے واقعات دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان کی بھی کوشش ہوتی تھی کہ دین کےلیے ایسی جگہ خرچ کیا جائے جس کے فوائد وقتی نہ ہوں بلکہ آنے والوں کو بھی اس سے فائدہ ہو ۔ اس سلسلے میں کروڑوں حنفیوں کے امام ، حضرت سیدنا امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا اپنے شاگرد حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کی کفالت کا واقعہ ہمارے لیے روشن مثال ہے ۔ : ⏬

حضرت امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے علم بھی عطا کیا اور مال بھی حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے حدیث  اور فقہ کے طالبِ علم کی حیثیت سے کُوفہ میں وقت گزارا ۔ شروع میں بہت تنگ دست اور غریب  گھرانے سے تعلق رکھتا تھا ، میرے  والد مجھے ایک دن حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں لے گئے ، میں وہاں پڑھنے لگا ، میرے والد نے گھر آکر مجھے کہا : بیٹا ! حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف پاؤں پھیلا کر نہ بیٹھا کرو ، یہ بے ادبی کا انداز ہے ۔ پھر میرے والد مجھے کہنے لگے :  اے میرے بیٹے ! ہم غریب لوگ ہیں ، جبکہ امیر لوگوں کی خوراک مُرَغّن  غذائیں ہوتی ہیں ، ہم سوکھی پھیکی  روٹی کھا کر گزارا  کرتے ہیں ، ہم بہت مفلس  ہیں ، یہ باتیں کہہ کر میرے والدِ محترم نے مجھے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مجالس میں جانے سے روک دیا ، ادھر امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے غیر حاضر پایا تو میرے جاننے والوں سے پوچھا کہ یعقوب کیوں نہیں آرہا ؟ انہوں نے بتایا کہ اسے تو اس کے والد نے روک رکھا ہے ۔ امام قاضی ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ادھر میر ی کیفیت یہ تھی کہ میں حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی مجالس میں حاضر ہونے کےلیے بیتاب رہتا ۔ آخر کار میں ایک دن آپ کی مجلس میں جا پہنچا ، آپ  نے بڑی شفقت سے غیر حاضری کی وجہ پوچھی تو میں نے اپنے غریب اور والد کے حکم پر نہ آنے کا بتایا ، اس دن تو میں آپ کی مجلس میں احادیث سنتا رہا لیکن جب میں گھر جانے لگا تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے بیٹھنے  کا اشارہ کیا ، جب تمام لوگ چلے گئے تو آپ نے مجھے ایک تھیلی دی جو درہموں سے بھری ہوئی تھی ، فرمایا :  اس سے گزارا کرو ، پھر اللہ مالک ہے ،  میں نے اسے کھولا تو ایک سو (100) درہم تھے ۔ آپ نے جاتے ہوئے حکم دیا کہ میرے حلقۂ درس میں آجایا کرو ، یہ درہم ختم ہو گئے تو پھر بندوبست کر دیں گے ، چنانچہ اس دن کے بعد میں باقاعدگی سے حلقۂ درس میں آنے لگا ۔ کچھ  دنوں بعد آپ نے مجھے ایک اور تھیلی دی ، اس طرح  آپ وقتا فوقتاً میری امداد فرماتے اور کسی کو علم نہ ہوتا ،  ایک خاص بات یہ کہ حضرت امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ رقم تو دیتے رہے مگر کبھی مجھ سے یہ نہ پوچھا کہ کس طرح اور کہاں خرچ کرتے ہو ؟ اور وہ خود ہی محسوس کر لیتے کہ روپے ختم ہونے والے ہیں ، اس کے ساتھ ہی وہ اور رقم دے دیتے ۔ میں پڑھتا بھی رہا اور میرا گھر بھی چلتا رہا۔ پھر ایک وقت آیا کہ میں مالی اعتبار سے خوشحال ہو گیا ۔ میں مسلسل حضرت امام ِاعظم رحمۃ اللہ علیہ کے درس میں آتا رہا ، علمی استفادہ کرتا رہا اور ایک وقت آیا کہ حضرت امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے ایک طرف دنیاوی مال سے خوشحال کر دیا اور دوسری طرف علم و فضل میں ممتاز بنا دیا ، مجھ پر علم کے دروازےکھل گئے ۔ (مناقب امام اعظم جز ثانی صفحہ ۲۱۱،چشتی)

محترم قارٸین : آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ کوئی دو چار ماہ تک حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے قاضی امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کی کفالت کی ہوگی ، ایسا نہیں ہے دو تین سال بھی نہیں بلکہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے دس (10) سال تک میرا اور میرے گھر والوں کا خرچ برداشت کیا ۔ (مناقب امام اعظم جز اول صفحہ ۲۵۹)

امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی عادت مبارکہ  بھی تھی کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ علم دین حاصل کرنے والے طالبعلموں پر خوب خرچ فرماتے اور خوش ہوتے ، اور آپ رحمۃ اللہ علیہ طلبہ پر بہت شفیق و کریم تھے ، خوشیوں کے موقعوں پر ، عید کے دنوں میں ان کےلیے نئے نئے کپڑے بنواتےاور طرح طرح کے کھانے بنوا کر کھلاتے ، عرب طلبہ کےلیے عربی کھانا ، روسی طلبہ کےلیے روسی کھانا ، بنگالی طلبہ کےلیے بنگالی کھاناالغرض جن طلبہ کو جو کھانا مرغوب (پسند ) ہوتا وہ پکوا کر اس کو کھلاتے اور خوش ہوتے ۔ (سوانح اعلی حضرت صفحہ ۱۴۶)

اس واقعے میں ہمارے لیے نصیحت کے کئی مدنی پھول بھی ہیں اور کتنے پیارے انداز سے ہماری رہنمائی بھی کی جارہی ہے کہ ہم اپنا مال اللہ پاک کی راہ میں کس اندازسے خرچ کریں  تاکہ ثواب بھی ملے اور اُمّتِ مُسلمہ کی خیرخواہی بھی ہو ۔

کسی کے عالمِ دِین بننے میں اگر ہمارا مالی حصّہ بھی شامل ہو جائے تواس کے فوائد کثیر بھی ہیں اور بہت دیر تک رہنے والے بھی ہیں ۔ بلکہ اگر اسے ثوابِِ جاریہ کہا جائے توبھی دُرست ہوگا ۔ غور کیجیے ! بالفرض ہمارے دیئے ہوئے مال سے ایک عالمِ دین بن گیا تو ان کے عالم بننے کا ثواب ہمیں ملےگا ، وہ تیار ہونے والے عالم جس جس کو علمِ دِین سکھائیں گے ، پڑھائیں گے ، اس کا ثواب بھی ہمیں ملے گا ، جو ان سے سُن کر عمل کرے گا ، اس کا ثواب بھی ہمیں ملے گا ۔ وہ آگے جس جس کو بتائے اس کا ثواب بھی ہمیں ملے گا ، اَلْغَرَض ! اللہ نے چاہا تو پھر ہمارے لیے ثواب کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگا ۔  معلوم ہوا کہ دین کےلیے علما پر خرچ کرنے کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے اور اس کے فوائد بھی زیادہ ہیں ۔ انہی فوائد کے پیشِ نظر بعض بزرگوں کے بارے میں آتا ہے کہ وہ کاروبار کرتے اور حاصل ہونے والے منافع میں سے کچھ رقم صرف علما پر خرچ فرماتے تھے کہ اس کے فوائد اور ثمرات عام لوگوں پر خرچ کرنے سے کئی گنا زیادہ ہیں ۔

امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا دین کےلیے خرچ کرنا : ⏬

خود حضرت سیدنا امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا یہی معمول تھا کہ اپنے مال سے کثیر حصہ علمائے کرام کی خدمت میں پیش فرماتے ۔ چنانچہ قیس بن ربیع کا بیان ہے کہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بغداد سے بہت سا مال خرید کر کُوفہ میں لایا کرتے اور اسے مارکیٹ میں بیچتے تھے ، اس سے جو منافع ہوتا تو آپ اپنے مشائخ کےلیے ضروریاتِ زندگی خرید کر ان کے ہاں پہنچاتے  پھر محدثین کےلیے ان کی ضروریاتِ زندگی خرید کر ان کے گھر پہنچاتے ، ان کےلیے کھانے پینے کی چیزیں ، لباس سلوا کر بھیجا کرتے اور جو رقم باقی بچ جاتی تو آپ علمائے کرام کو نقد دے دیا کرتے تا کہ وہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں ، ساتھ ہی یہ پیغام بھیجتے میں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں  بھیجا یہ سب اللہ پاک نے آپ کےلیے نفع عطا فرمایا ہے ، لہٰذا اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو ، میری تجارتی زندگی میں جس قدر منافع ہے ، اس میں آپ کا حصہ ہے ، مجھے تو صرفاللہ پاک نے آپ لوگوں کی خدمت کا سبب بنایا ہے ، اس کارزق میرے ہاتھوں آپ تک پہنچ رہا ہے ۔ (مناقب امام اعظم جز اول صفحہ ۲۶۲،چشتی)

ایک اور روایت میں آتا ہے کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ جب بھی اپنے لیے یا اپنے گھر والوں کےلیے کپڑا یا کوئی کھانے کی چیز خریدتے تواسی مقدار میں وہ چیز علماء و مشائخ کےلیے بھی خریدتے ۔ (مناقب امام اعظم جز اول صفحہ ۲۶۱)

عالم نہیں بن سکے تو دوسروں کو بنائیں : ⏬

یاد رکھیے : اس میں کوئی شک نہیں کہ عالم بننے کے بڑے فضائل ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں کہ حافظ بننے کے بڑے فضائل ہیں ، یقیناً یہاں ہم میں سے کئی ایسے ہوں گے جن کے دل میں یہ خواہش ہوگی کہ کاش ہم عالم بنتے ، کئی ایسے ہوں گے جو حافظ بننا چاہتے ہوں گے ۔ ہم اگر عالِم نہ بھی بن پائے تو اب یہ سعادت ہمیں مل سکتی ہے کہ ہم اپنے مال سے مدد کر کے کسی کو عالم بنوا دیں ۔ ہمت کیجیے اور ادارہ پیغامُ القرآن پاکستان کے زیرِ انتظام دین کی نشر و اشاعت ، دینی تعلیم عام کرنے خصوصاً دور دراز دیہاتوں کے غریب بچوں کو مفت دینی و عصری تعلیم دینے ، ادارہ کےلیے جگہ کی خریداری و تعمیر ۔ دین کی نشر و اشاعت ، دینی کتب تفاسیر قرآن ، کتبِ احادیث عربی اردو کی شروحات ، دیگر اسلامی کتب ،  کی خریداری کے سلسلہ میں تعاون فرمائیں جزاکم اللہ خیراً کثیرا آمین ۔ ہمارے اکاؤنٹ نمبرز یہ ہیں : صاحبزادہ حافظ محمد جواد چشتی اکاؤنٹ نمبر : 02520107640866 میزان بینک لاہور پاکستان ۔
موبی کیش اکاؤنٹ نمبر : 03009576666
ایزی  پیسہ اکاؤنٹ : 03469576666
موبی کیش و ایزی  پیسہ اکاؤنٹ : 03215555970 ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی خطیب لاہور پاکستان ۔

Wednesday, 11 March 2026

گاؤں میں جمعہ اور عید کی نماز باجماعت کا حکم

گاؤں میں جمعہ اور عید کی نماز باجماعت کا حکم

محترم قارئینِ کرام : گاؤں کے وہ سب لوگ جن پر شرائط جمعہ (مسلمان مرد ، مقیم ، تندرست ، عاقل ، بالغ) پائے جانےکی صورت میں شرعاً جمعہ فرض ہو جاتا ہے ، گاؤں کی سب سے بڑی مسجد میں نماز پڑھیں اوراس میں پورے نہ آ سکیں ، بلکہ اس کی توسیع کرنا پڑے ، تو ایک روایت کے مطابق ایسے گاؤں میں جمعہ درست ہےاور فی زمانہ مفتیان کرام نے اسی روایت پرفتوی دیا ہے اور ایسے گاؤں میں نمازِ جمعہ ادا کرنے سے ظہر ساقط ہو جائے گی اور اگر گاؤں میں اتنے افراد نہ ہوں ، تواس میں نمازِ جمعہ شروع کرنا ، ناجائز و گناہ ہے اور وہاں کے بالغ افراد پر ظہر فرض ہو گی ۔ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کےلیے احناف کے نزدیک سات شرائط ہیں ، جن میں سے ایک شہر ہونا ضروری ہے ۔ جمعہ کے صحیح ہونے کےلیے شہر یا فناء شہر شرط ہے دیہات میں جمعہ جائز نہیں ہوتا ۔ لیکن اگر عوام پڑھے تو انہیں منع نہ کیا جائے کہ وہ جس طرح بھی اللہ و رسول کا نام لیں غنیمت ہے ۔ لیکن مسئلہ شرعیہ سے ضرور آگاہ کیا جائے کہ دیہات جہاں تھوڑے سے احباب ہوں وہاں جمعہ نہیں ہوتا ۔ بلکہ ظہر پڑھنا ضروری ہوگا ۔ البتہ ایک نادر روایت میں جمعہ جائز ہونے کا بیان ہے کہ اتنے افراد ہوں کہ گاؤں کی بڑی مسجد ان سے بڑھ جائے تو وہاں جمعہ جائز ہے ۔


فقہ حنفی کی مشہور کتاب الھدایہمیں یے : لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع ، أو في مصلى المصر، ولا تجوز في القرى  لقوله عليه الصلاة والسلام “ لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع ۔

ترجمہ : جمعہ شہر کی جامع مسجد یا شہر کی وہ جگہ جو نماز کےلیے خاص ہے اس میں ہی صحیح ہوتی ہے اور دیہات میں جائز نہیں ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے ” نہ ہی جمعہ اور نہ ہی (تکبیر) تشریق  اور نہ ہی (نماز عيد) الفطر اور نہ (نماز عيد)الاضحی جائز ہے مگر شہر کی جامع مسجد میں ۔ (الهدايه باب اصلاة الجمعة جلد 1 صفحہ 82 دار احياءالتراث العربى بيروت )


ابو عبدالرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : شہر اور بڑے قصبےکے سوا جمعہ ہے ، نہ تشریق نہ عیدالفطر نہ عید الاضحی ۔ (المصنف ابن ابی شیبہ جلد 2 صفحہ 101)


حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دیہات والوں پر جمعہ نہیں ، جمعہ صرف شہر والوں پر ہے ۔ (المصنف ابن ابی شیبہ جلد 2 صفحہ 168)


علامہ علاء الدین ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : تحفہ میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقول ہے : شہر اس بڑی جگہ کو کہتے ہیں، جہاں گلیاں اور بازار ہوں ،مضافاتی علاقہ ہو اور اس میں ایک ایسا حاکم ہو جو اپنے اقتدار کے دبدبے (اور طاقت سے) اور اپنے (ذاتی) علم یا دوسرے کے علم سے (یعنی گواہی کے ذریعے) مظلوم کو ظالم سے انصاف دلا سکے ، لوگ اپنے پیش آمدہ معاملات میں اس کی طرف رجوع کریں ، یہی صحیح تعریف ہے ۔ (بدائع الصنائع جلد 1 صفحہ 385،چشتی)


مذکورہ تعریف کے لحاظ سے شہر کے ثبوت کےلیے مندرجہ ذیل امور ضروری ہیں : اشیائے ضرورت کےلیے بازار اور دکانیں ۔ قوتِ حاکمہ اورعالمِ دین ۔


نمازِ جمعہ قائم کرنا ایسا نہیں ہے کہ جو چاہے ، جب چاہے قائم کر لے ، شرائط کا پایا جانا لازم ہے ۔ صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ایک بہت ضروری امر جس کی طرف عوام کو بالکل توجہ نہیں ، یہ ہے کہ جمعہ کو اور نمازوں کی طرح سمجھ رکھا ہے کہ جس نے چاہا نیا جمعہ قائم کر لیا اور جس نے چاہا پڑھا دیا ، یہ ناجائز ہے ، اس لیے کہ جمعہ قائم کرنا بادشاہِ اسلام یا اس کے نائب کا کام ہے اور جہاں سلطنتِ اسلامی نہ ہو ، وہاں جو سب سے بڑا فقیہ سُنّی صحیح العقیدہ ہو ، اَحکامِ شرعیہ جاری کرنے میں سلطان اسلام کے قائم مقام ہے ، لہٰذا وہی جمعہ قائم کرے ، ا س کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا اوریہ بھی نہ ہوتو عام لوگ جسے امام بنائیں ، عالم کے ہوتے ہوئے عوام بطور خود کسی کو امام نہیں بنا سکتے ، نہ یہ ہو سکتا ہے کہ دوچار شخص کسی کو امام مقرر کرلیں ، ایسا جمعہ کہیں سے ثابت نہیں ۔ (بہارِ شریعت جلداول صفحہ 764)


خلاصہ کلام یہ ہے کہ گاؤں ، دیہات میں جمعہ قائم کرنے کےلیے مذکورہ شرائط کا پایا جانا ضروری ہے ، دیہات ، گاؤں میں جمعہ قائم نہیں کیاجائے گا ، اِن شرائط کے مفقود ہونے کی صورت میں کسی بھی دیہات میں جمعہ قائم نہیں کیا جائے گا ، البتہ اگر کہیں پہلے سے جمعہ جاری ہو تو اُسے بند نہیں کیا جائے گا ۔ تاہم جمعہ پڑھنے کے بعد چار رکعات ظہر احتیاطی اداکی جائے گی ۔


    امام اکمل الدین بابرتی رحمۃ اللہ علیہ عنایہ میں لکھتے ہیں : وعنہ أی أبی یوسف (أنھم اذااجتمعوا)أی اجتمع من تجب علیہ الجمعة لاکل من یسکن فی ذلک الموضع من الصبیان والنساء والعبید لأن من تجب علیھم مجتمعون فیہ عادة۔قال ابن شجاع ، أحسن ماقیل فیہ اذاکان أھلھابحیث لواجتمعوافی أکبرمساجد ھم لم یسعھم ذلک حتی احتاجواالی بناء مسجد آخر للجمعة ۔

ترجمہ : یعنی امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ جن پر جمعہ لازم ہے نہ کہ وہ تمام لوگ جو وہاں سکونت پذیر ہیں مثلاً بچے ، خواتین اور غلام ۔ ابن شجاع نے کہا کہ اس بارے میں سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جب جمعہ کے اہل لوگ وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو سما نہ سکیں حتی کہ وہ جمعہ کےلیے ایک اور مسجد بنانے پر مجبور ہوں ۔ (عنایہ شرح ھدایہ کتاب الصلاۃ جلد 2 صفحہ 52 مطبوعہ بیروت،چشتی)


    علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : المصر وھو مالا یسع اکبر مساجدہ  اھلہ المکلفین بھا وعلیہ فتویٰ اکثرالفقھاء ۔

ترجمہ : شہر وہ ہے کہ اس کی مساجد میں سے بڑی مسجد میں وہاں کے وہ باشندے نہ سما سکیں جن پر جمعہ فرض ہے اور اسی پر اکثر فقہاء کرام کا فتویٰ ہے ۔ (ردالمحتار معہ در مختار کتاب الصلاۃ جلد 3 صفحہ 06 مطبو عہ کوئٹہ)


    علامہ ابن نجیم مصری حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : وعن ابی یوسف انہ مااذااجتمعوافی اکبرمساجدھم للصلوات الخمس لم یسعھم و علیہ  فتویٰ اکثرالفقھاء وقال ابو شجاع : ھذا احسن ماقیل  فیہ۔وفی الولوالجیة:وھو الصحیح ۔

ترجمہ : امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ شہر وہ ہے کہ جب وہاں کے باشندے اپنی مساجد میں سے بڑی مسجد میں نمازِ پنجگانہ کےلیے جمع ہوں تو وہ انہیں کم پڑ جائے اور اسی پر اکثر فقہاء کرام کا فتویٰ ہے ۔ ابو شجاع علیہ الرحمۃ نے فرمایا : یہ بہترین تعریف ہے جو شہر کی کی گئی ہے اور ولوالجیہ میں ہے کہ یہی تعریف صحیح ہے ۔ (البحرالرائق،کتاب الصلاۃ جلد 2 صفحہ 247 مطبوعہ کوئٹہ)


    اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ہاں ایک روایت نادرہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے یہ آئی ہے کہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد ، عاقل ، بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہو سکے آباد ہوں کہ اگر وہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سما سکیں یہاں تک کہ انہیں جمعہ کےلیے مسجد جامع بنانی پڑے ، وہ صحت جمعہ کےلیے شہر سمجھی جائے گی ۔۔۔ جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے اس میں اس روایت نوادر کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگرچہ اصل مذہب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایک جماعت متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہرگز جمعہ خواہ عید مذہب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 347 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور،چشتی)


اور ایسی جگہ جہاں جمعہ پڑھنا جائز نہیں ، وہاں ظہر کی نماز کے بارے میں خاتم المحققین علامہ محمد امین بن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں : لو صلوا فی القری لزمھم أداء الظھر ۔

ترجمہ : اگر لوگ (ایسے) گاؤں میں (جہاں جمعہ جائز نہیں) جمعہ ادا کریں تو ان پر ظہر کی نماز ادا کرنا ہی ضروری ہے ۔ (رد المحتار معہ درمختار جلد 3 صفحہ 8 مطبوعہ کوئٹہ)


فتاوی شامی میں ہے : لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر ۔

ترجمہ : اگر دیہات میں لوگوں نے جمعہ پڑھ لیا تو ظہر کی نماز ادا کرنا ان پر لازم ہے ۔ (فتاوی شامی باب الجمعۃ  جلد 2 صفحہ 138 دارالفکر بیروت)


فتاوی رضویہ میں ہے : جمعہ و عیدین دیہات میں ناجائز ہیں اور ان کا پڑھنا گناہ ، مگر جاہل عوام اگر پڑھتے ہوں تو ان کو منع کرنے کی ضرورت نہیں کہ عوام جس طرح اللہ و رسول کا نام لے لیں غنیمت ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 8  صفحہ 387 رضافاؤنڈیشن لاہور)


البتہ ایک نادر روایت میں جمعہ جائز ہونے کا بیان ہے کہ اتنے افراد ہوں کہ گاؤں کی بڑی مسجد ان سے بھر جائے تو وہاں جمعہ جائز ہے ۔


فتاوی رضویہ : میں اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : ہاں ایک روایت نادرہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے یہ آئی ہےکہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد عاقل بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہوسکے آباد ہوں کہ اگر وہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سما سکیں یہاں تک کہ انہیں جمعہ کےلیے مسجد جامع بنانی پڑے وہ صحتِ جمعہ کےلیے شہر سمجھی جائے گی ، امام اکمل الدین بابرتی رحمۃ اللہ علیہ عنایہ شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں : (وعنہ) ای عن ابی یوسف ( انھم اذا اجتمعوا) ای اجتمع من تجب علیھم الجمعۃ لاکل من یسکن فی ذلك الموضع من الصبیان والنساء والعید لان من تجب علیھم مجتمعون فیہ عادۃ قال ابن شجاع احسن ماقیل فیہ اذاکان اھلھا، بحیث لو اجتمعوا (فی اکبر مساجد لم یسعھم ذلك) حتی احتاجوا الی بناء مسجد آخر للجمعۃ ۔

ترجمہ : امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے ہے (جب وہ جمع ہوں) یعنی وہ لوگ جن پر جمعہ لازم ہے نہ کہ تمام وہ لوگ جو وہاں سکونت پذیر ہیں مثلًا بچے ، خواتین اور غلام ، ابنِ شجاع نے کہا کہ اس بارے میں سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جب جمعہ کے اہل وہاں جمع ہوں (سب سے بڑی مسجد میں ، اور اس میں ان کی گنجائش نہ ہو) حتی کہ وہ جمعہ کےلیے ایک اور مسجد بنانے پر مجبور ہوں ۔ جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے اس میں اس روایت نوادر کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگر چہ اصل مذہب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایک جماعتِ متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہر گز جمعہ خواہ عید مذہب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے ۔ (فتاوی رضویہ باب الجمعہ جلد 8 صفحہ 347 مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور)


جب جمعہ دیہات میں ہوتا ہی نہیں بلکہ ظہر ذمہ پر باقی رہتی ہے تو ظہر بدستور اذان و اقامت سے جماعت کے ساتھ ہی ادا کی جائے گی ۔


فتاوی عالمگیری میں ہے : ومن لا تجب عليهم الجمعة من أهل القرى والبوادي لهم أن يصلوا الظهر بجماعة يوم الجمعة بأذان وإقامة ۔

ترجمہ : اور جس پر جمعہ فرض نہیں ہے یعنی گاؤں ٬ دیہات والے ان کےلیے ضروری ہے کہ وہ جمعہ کے دن اذان واقامت سےظہر کی نماز باجماعت ادا کریں ۔ ( الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاة الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ جلد 1 صفحہ 145 مطبوعہ دارالفکر)


 فتاوی فیض الرسول میں ہے : جس طرح اور دنوں میں ظہر کی نماز باجماعت پڑھنا واجب ہے ایسے ہی دیہاتوں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز باجماعت پڑھنا ضروری ہے ۔ (فتاوی فیض الرسول باب صلوۃ الجمعۃ جلد 1 صفحہ 421 ٬ 422 مطبوعہ شبیر برادر لاہو)


بہار شریعت میں ہے : گاؤں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز اذان و اقامت کے ساتھ باجماعت پڑھیں ۔ (بہارشریعت جمعہ کا بیان حصہ 4 صفحہ 779 مکتبۃ المدینہ)


جب دیہات میں جمعہ جائز نہیں تو قبل الجمۃ اور بعد الجمعۃ کی سنتیں پڑھنا بھی درست نہیں بلکہ سنت ظہر ہی ادا کی جائے گی ۔


فتاوی فیض الرسول میں ہے : تو جب دیہات میں جمعہ کی نماز جائز نہیں تو قبل الجمعہ اور بعد الجمعہ کی نیت سے سنتیں پڑھنا بھی صحیح نہیں کہ شریعت کی حانب سے قبل الجمعہ اور بعد الجمعہ کی سنتوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جب ظہر کی نماز ساقط نہیں ہوتی تو اس کی سنتوں کا پڑھنا لازمی ہے کہ جمعہ کے دن بھی ظہر کی سنتوں کا مطالبہ بدستور باقی ہے ۔ (فتاوی فیض الرسول باب صلوۃ الجمعۃ جلد 1 صفحہ 407 مطبوعہ شبیر برادر لاہور) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

شوہر کا اپنی بیوی کو ماں ، بہن ، بیٹی کہنے کا شرعی حکم

شوہر کا اپنی بیوی کو ماں ، بہن ، بیٹی کہنے کا شرعی حکم محترم قارئینِ کرام : شوہر کا اپنی بیوی کو قرآن پر ہاتھ رکھ کر بہن کہنے سے طلاق واقع ن...