Tuesday, 16 June 2026

صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم کون ہے ؟ کہنے والوں کو یہ ارشاداتِ مبارکہ ٹھنڈے دل سے ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے

صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم کون ہے ؟ کہنے والوں کو یہ ارشاداتِ مبارکہ ٹھنڈے دل سے ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے اور پھر سوچنا چاہیے کہ مرشدِ گرامی علیہ الرحمہ روافض کے جن نظریات و عقاٸد کا ساری زندگی اور فورم پر رد فرماتے ریے آج انہیں کے مریدین روافض کے ان نظریات و عقاٸد کو کیوں پھیلا رہے ہیں ؟ ۔ گولڑہ شریف والوں کے پیر و مرشد حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی علیہ الرحمہ نے بار بار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اول ، صدیق اکبر سب سے افضل اور مرتبہ صدیقیتِ کبریٰ کے مالک فرمایا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فاروق و فاروقِ اعظم فرمایا ہے ۔ ⏬









Monday, 15 June 2026

داڑھی منڈے یا کُترے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا شرعی حکم

داڑھی منڈے یا کُترے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا شرعی حکم

محترم قارئین کرام : ایک مٹھی داڑھی رکھنا واجب ہے اور ایک مٹھی سے کم کرنا حرام ہے ، لہٰذا داڑھی منڈے یا خشخشی داڑھی رکھنے والے امام کے پیچھے کوئی بھی نماز ، چاہے فرض ہو یا تراویح ، پڑھنا جائز نہیں اور اسے امام بنانا بھی ناجائز و گناہ ہے اور اس کے پیچھے اگر نماز پڑھ لی ، تو وہ مکروہ تحریمی ، واجب الاعادہ یعنی دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔ لہٰذا وہ حافظ جس کے بارے میں  مشاہدہ یہی ہے کہ رمضان میں تروایح کےلیے کچھ ماہ تک داڑھی کٹوانا چھوڑ دیتا ہے اور تراویح سنانے کے بعد دوبارہ اسی حالت پر پھر جاتا ہے ، تو اس کو ہرگز امام نہ بنایا جائے ، جب تک رمضان کے بعد بھی ایک ،دو سال تک بہتری والی حالت واضح نہ ہوجائے ۔ حافظ کا یہ کہنا کہ میں نے توبہ کر لی ہے ۔ ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرمانے والا ہے ، لیکن ہم اس کو اس وقت تک امام نہیں بنائیں گے ، جب تک اس کی ظاہری حالت قابلِ اطمینان نہ ہو جائے ۔ داڑھی منڈے امام یا حافظ قرآن کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے ، یا واجب الاعادہ ہے ، یا ہوتی ہی نہیں اس مسئلہ کے بارے میں احادیثِ مبارکہ ، محدثین کرام ، فقہاءِ عظام اور علماءِ امت رحمہم اللہ علیہم اجمعین کے ارشادات قارئین کے پیش خدمت ہیں ۔ اللہ عزوجل اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل شریعتِ محمدیہ کی مکمل طور پر پیروی کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔


داڑھی سے متعلق  بخاری شریف میں ہے : عن ابن عمر رضی اللہ عنہما عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال خالفوا المشرکین وفروا اللحی وأحفوا الشوارب وکان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل أخذہ ۔

ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرکین کی مخالفت کرو ، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی مٹھی میں لیتے اور جومٹھی سے زائد ہوتی ، اسے کاٹ دیتے تھے ۔ (صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 398 مطبوعہ لاهور)


امام کمال الدین ابن ہمام علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : واما الاخذ منھا وھی دون ذلک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد ۔

ترجمہ : داڑھی ایک مٹھی سے کم کروانا جیسا کہ بعض مغربی لوگ اور زنانہ وضع کے مرد کرتے ہیں ، اسے کسی نے بھی مباح نہیں قرار دیا ۔ (فتح القدیر جلد 2 صفحہ 352 مطبوعہ کوئٹہ،چشتی)


داڑھی کترے پیروں ، خطیبوں اور ایسے سب لوگوں کےلیے لمحہ فکریہ کہ یہ لوگ کس کے راستے پر چل رہے ہیں پڑھیے اور فیصلہ کیجیے کہ کیا ایسے لوگ پیر و مرشد ہو سکتے ہیں ؟ : فتح القدیر ، غنیۃ ، بحرالرائق ، حاشیہ طحطاوی علی المراقی ، درمختار اور درر شرح غرر وغیرہ کتبِ فقہ میں ہے : والنظم للآخر ، وأما الأخذ من اللحیۃ وھی دون القبضۃ کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد وأخذ کلھا فعل مجوس الأعاجم والیھود والھنود وبعض أجناس الإفرنج ۔

ترجمہ : بعض مغربی اور ہیجڑے لوگوں کی طرح داڑھی کاٹ کر ایک مٹھی سے کم کر دینے کو کسی فقیہ نے بھی جائز نہیں کہا اور داڑھی مکمل کاٹ دینا عجمی مجوسیوں ، یہودیوں ، ہندؤوں اور بعض قسم کے  انگریزوں کا طریقہ ہے ۔ (درر شرح غرر کتاب الصیام فصل حامل او مرضع خافت جلد 1 صفحہ 208 مطبوعہ میر محمد کتب خانہ آرام باغ کراچی)


امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں : داڑھی کتروا کر ایک مشت سے کم رکھنا حرام ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 98 رضا فاؤنڈیشن لاهور)


ایک مٹھی سے کم داڑھی والے کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ، واجب الاعادہ ہے ۔ امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں : داڑھی ترشوانے والے کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ۔ (فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 603 رضا فاؤنڈیشن لاهور)


داڑھی ترشوا کر ایک مٹھی سے کم کرنے والے کو امام بنانابھی گناہ ہے ۔ جیسا کہ امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں : وہ فاسق معلن ہے اور اسے امام کرنا گناہ اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی مکروہ تحریمی ۔ غنیہ میں ہے : لوقدموا فاسقا یاثمون “ اگر لوگوں نے فاسق کو مقدم کیا تو وہ لوگ گنہگار ہوں گے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 544 رضا فاؤنڈیشن لاھور)


 فاسق کی توبہ کے قبول کرنے اور اسے امام بنانے کے بارے میں سوال کے جواب میں امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : اللہ عزوجل اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہ بخشتا ہے ۔ (و ھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ ویعفو عن السیئات) ۔ (اور وہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہ معاف کرتا ہے)جو لوگ توبہ نہیں مانتے ، گنہگار ہیں ، ہاں اگر اس کی حالت تجربہ سے قابل اطمینان نہ ہو اور یہ کہیں کہ تونے توبہ کی اللہ توبہ قبول کرے ۔ ہم تجھے امام اس وقت بنائیں گے ، جب تیری صلاح حال ظاہر ہو ، تو یہ بجا ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ605 رضا فاؤنڈیشن لاھور )


فسق علانیہ کا مرتکب شخص اگر اپنے گناہ سے توبہ کرلے اور توبہ کے بعد اس کی ظاہری حالت قابل اطمینان ہوجائے ، تواس کو امام بنانے میں حرج نہیں ۔ جیسا کہ امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ سے فاسقِ معلن جس نے اپنے گناہوں سے توبہ کر لی تھی ، اس کی امامت کے بارے میں سوال ہوا ، تو امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ نے جواب میں فرمایا : جب بعد توبہ صلاح حال ظاہر ہو ، اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں ، اگر کوئی مانع شرعی نہ ہو ۔ (فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 605 رضا فاؤنڈیشن لاھور )


داڑھی مندا معلن فاسق ہوتا ہے اور معلن فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوتی ہے ۔ امام احمد رضا خان قادری علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں : پنجگانہ میں ہر شخص صحیح الایمان صحیح القرأۃ ، صحیح الطہارۃ ، مرد عاقل بالغ غیر معذور امامت کر سکتا ہے یعنی اس کے پیچھے نماز ہو جائے گی اگرچہ بوجہ فسق وغیرہ مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہو ۔ (فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 515 رضا فاؤنڈیشن لاهور)


یعنی داڑھی منڈے یا خشخشی داڑھی رکھنے والے امام کے پیچھے کوئی بھی نماز چاہے فرض ہو یا تراویح  پڑھنا جائز نہیں اور اسے امام بنانا بھی ناجائز وگناہ ہے اور اس کے پیچھے اگر نماز پڑھ لی تو وہ مکروہ تحریمی  واجب الاعادہ یعنی دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔


مفتی اعظم پاکستان مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ سے جب پوچھا گیا کہ بعض حفاظ کرام رمضان المبارک میں تراویح پڑھانے کےلیے داڑھی منڈوانا چھوڑ دیتے ہیں تا کہ تراویح پڑھا سکیں ، کیا ان کا یہ عمل درست ہے ؟


تو مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ نے جواباً ارشاد فرمایا : مذہب صحیح پر ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے ۔ منڈوانے والا یا کاٹ کر حد شرعی سے کم کرنے والا فاسق ہے ۔ فاسق کی امامت مکروہ اور اس کو امام بنانا گناہ ہے ۔ اس کے پیچھے جو نمازیں پڑھی جائیں گی ، ان کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔ فرض اور تراویح سب کا حکم ایک ہی ہے ۔ جو حفاظ ایسا کرتے ہیں کہ رمضان میں داڑھی رکھتے ہیں اور رمضان کے بعد کٹوا دیتے ہیں ، وہ عوام اور شریعت کو دھوکہ دیتے ہیں اور شریعت کو دنیا کمانے کےلیے استعمال کرتے ہیں ، ان لوگوں کے قول وفعل کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ۔ (وقار الفتاوی جلد 2 صفحہ 223 مطبوعہ بزم وقارالدین کراچی)


محمد قال اخبرنا ابو حنیفۃ عن الہیثم عن ابن عمرانہ کان یقبض علی اللحیۃ ثم یقص ما تحت القبضۃ قال محمد وبہ ناخذ و ھو قول ابی حنیفۃ ۔

ترجمہ : امام محمد ، امام اعظم علیہ الرحمہ سے ، وہ جناب ہیثم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما داڑھی کو مٹھی میں پکڑ کر مٹھی سے زائد حصہ کاٹ دیا کرتے تھے ۔ امام محمد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ہمارا عمل اسی حکم پر ہے اور حضرت امام ابو حنیفہص کا بھی یہی ارشاد ہے ۔ (کتاب الآثار باب صفتہ الشعر من الوجہ صفحہ۱۵۱ مطبوعہ انوارِ محمدی پریس لکھنؤ (بھارت) از امام محمد علیہ الرحمہ)


اس عبارت سے واضح ہو گیا کہ احناف کے نزدیک قبضہ (مُٹھی) برابر داڑھی رکھنے پر فتویٰ ہے لہٰذا یہ حکم لازمی ہے ۔


و اما الاخذ منھا وہمی دون ذالک کما یفعلہ بعض المغاربۃ و مخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد و اخذ کلھا فعل الیھود الھنود و مجوس الاعاجم ۔

ترجمہ : اور قبضہ سے کم داڑھی کے کترنے کو کسی ایک نے بھی جائز نہیں لکھا جیسے بعض مغربی اور ہیجڑے کرتے ہیں اور ساری داڑھی کا مونڈنا تو یہودیوں، ہندوؤں اور عجمی مجوسیوں کا کام ہے ۔ (درمختار کتاب الصوم باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ صفحہ۱۰۱مطبوعہ کلکتہ،چشتی)


طحطاوی میں ہے : ’’ والتشبہ بھم حرام‘‘ یعنی ا ور ان یہودیوں ، ہندوؤں اور عجمی مجوسیوں وغیرہ کے ساتھ مشابہت اختیار کرنی مسلمانوں کیلئے حرام ہے ۔

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ’’اشعہ اللمعات شرح مشکوٰۃ شریف‘‘ میں فرماتے ہیں : حلق کردن لحیہ حرام است و گذاشتن آں بقدر قبضہ واجب است ۔

ترجمہ: داڑھی کا مونڈنا حرام ہے اور داڑھی کا بقدر قبضہ (مُٹھی بھر) رکھنا واجب ہے ۔


حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ارشادات کے مطابق ’’ایک قبضہ کے برابر داڑھی رکھنا‘‘ واجب ہے بلکہ بعض علماءِ کرام کے نزدیک تو فرض ہے جیسا کہ مولانا مولوی شمس الدین ساکن درویش ہری پور ہزارہ ’’داڑھی کی اسلامی حیثیت ‘‘ صفحہ ٤٦ پر تحریر فرماتے ہیں : کہ کم از کم ایک قبضہ داڑھی رکھنی فرض ہے ۔ انبیاء علیہم السلام کا اسلام دین ، ملت اور سنتِ قدیمہ اور فطرتِ صحیحہ ہے جس کا حکم خود اللہ عزوجل نے دیا ہے اور از آدم تا ایں دم تمام رسولوں ، نبیوں علیہم السلام ، صحابیوں ، تابعیوں رضی اللہ عنہم ، ولیوں ، بزرگوں ، عالموں اور نیک لوگوں نے از اعلیٰ تا ادنیٰ ایک قبضہ داڑھی رکھی اور اسی کو فرض واجب جانا اور اس کے منڈانے کترانے کو باجماع و اتفاق حرام و معصیت و گناہ سمجھا ۔


لہٰذا اس قسم کے واجب ضروری کو ترک کرنا فاسق معلن بننا ہے ۔ فقہاءِ کرام رحمہم اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں کہ : گناہِ صغیرہ پر ہمیشگی کرنا فاسق ہونے کا ثبوت ہے ۔ صاحب ’’بحرالرائق‘‘ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’ان الادمان علی الصغیرۃ مفسق‘‘ یعنی یقیناً گناہِ صغیرہ پر مداومت کرنا آدمی کو فاسق بنا دیتا ہے ۔ طحطاوی فی بیان الاحق بالامۃ صفحہ ۱۸۱ مطبوعہ مصر میں فاسق کی تعریف لکھتے ہیں : وشرعا خروج عن طاعۃ اللہ بارتکاب کبیرة ۔

ترجمہ : شریعت میں فاسق وہ ہے جو گناہِ کبیرہ کے ارتکاب کے ساتھ اللہ عزوجل کی نافرمانی کرتا ہے ۔


اور قہستانی سے صاحب طحطاوی نقل کرتے ہیں : ای او اصرار علٰی صغیرۃ ۔

ترجمہ : فسق یاگناہِ صغیرہ پر اصرار کرنا ہے ۔


چونکہ داڑھی منڈانا گناہِ کبیرہ ہے اس لیے ایسا شخص جو ارتکابِ کبیرہ کرتا ہے اور اس پرطرہ یہ کہ اصرار بھی کرتا ہے تو یہ فاسقِ معلن ہے اور فاسقِ معلن کو امام کیسے بنایا جا سکتا ہے ۔ نیز بقول قہستانی تو صغیرہ پر اصرار ہی اس کے فاسق ہونے کےلیے کافی ہے چہ جائے کہ ترکِ واجب کرنا اور پھر حرام پر اصرار کرنا ۔


علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ ’’تنقیح الحامدیہ‘‘ صفحہ ۳۵۱ جلد اول مطبوعہ مصر میں ایک سوال کے جواب میں کہ : داڑھی منڈے شخص کی شہادت قبول کی جائے یا نہ ‘‘ فرماتے ہیں جب کوئی عورت سر کے بال منڈائے یا کتروائے تو وہ گناہ گار اور لعنتی ہو گئی اگر چہ یہ سر منڈانا یا کٹوانا خاوند کی اجازت یا حکم سے ہی کیوں نہ ہو کیونکہ مخلوق کی اطاعت خدا کی نافرمانی کرنے میں جائز نہیں ۔ ولذ ایحرم للرجل قطع لحیۃ ‘‘ اور اسی لئے مرد کو بھی داڑھی کٹانا حرام ہے ۔


تنقیح الحامدیہ میں ہے : فحیث ادمن علٰی فعل ہذا المحرم یفسق ۔

ترجمہ : پس جبکہ ایسے صریح حرام پر جو آدمی ہمیشگی کرے وہ فاسق ہو جاتا ہے ۔


لہٰذا فقہائے کرام رحمہم اللہ علیہم اجمعین کے ارشاد کے مطابق داڑھی منڈانے والا اور پھر اس پر مداومت کرنے والا فاسقِ معلن ہے یعنی اعلانیہ فاسق ہے اور ایسے امام یا حافظِ قرآن کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیے ، ایسا شخص امام نہیں بن سکتا بلکہ ایسا شخص قابل توہین ہے چہ جائے کہ اس کی تعظیم کی جائے اور اس کو عبادتِ الٰہی میں یہ عزت کا مقام دیا جائے ۔


فتاویٰ شامی جلد اول بحث امامتہ میں ہے : اما الفاسق فقد عللوا کراہۃ تقدیمہ بانہ لایھتم لامردینہ و بان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ و قد وجب علیہم اہانتہ شرعا ولا یخفی انہ اذا کان اعلم من غیرہ لا تزول العلۃ ۔

ترجمہ : فاسق کی امامت مکروہ ہونے کی علت ایک تو یہ ہے کہ وہ اپنے دینی امور میں لاپرواہی کرتا ہے اہتمام نہیں کرتا ہے ۔ دوسرے اسے امام بنانے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ وہ فاسق ہونے کی وجہ سے مستحقِ توہین ہے اگر چہ وہ فاسق دوسرے مقتدیوں سے زیادہ صاحبِ علم ہی کیوں نہ ہو اس لیے کہ علت کراہت تو ذائل نہیں ہوئی ۔ صرف یہی نہیں کہ فاسق عالم کی امامت ناجائز ہے بلکہ اس کو امام بنانے والے گنہگار ہوں گے ۔


کبیری شرح منیہ بحث امامت میں ہے : لو قدموا فاسقا یا ثمون بناء علٰی ان کراہۃ تقدیمہ کراہۃ تحریمہ ۔

ترجمہ : اگر مقتدیوں نے فاسق عالم کو امام بنایا تو وہ گناہ گار ہوں گے ۔ اس لیے کہ فاسق کو امام بنانا مکروہِ تحریمہ ہے ۔


ایک بات یہاں پر بہت ہی ضروری یاد رکھنی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ اگر فاسق عالم امام کے پیچھے کسی مجبوری سے نماز پڑھنی ہی پڑ جائے تو اس نماز کو اپنے وقت میں ہی دوبارہ پڑھے اس لیے کہ وہ مکروہ تحریمہ تھی ۔ صاحبِ در مختار بحث قضاء فوائت میں فرماتے ہیں : کل صلٰوۃ ادیت مح کراہۃ التحریم تعاد ۔

ترجمہ : جو نماز کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے اس کا دوبارہ پڑھنا لازمی ہے ۔


غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار جلد اول صفحہ ۳۳۳ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ (بھارت) از مولوی خرم علی میں کافی بحث کے بعد تحریر ہے : جو نماز کراہتِ تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے اس کا اعادہ لازم ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعادہ خواہ وقت کے اندر ہو یا بعد دونوں صورتوں میں واجب ہے اور یہی قول راحج ہے ۔


مستخلص الحقائق شرح کنزالدقائق جلداول صفحہ ۲۰۱ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ (بھارت) حاشیہ ۴ کراہت امامت کے ضمن میں تحریر ہے : وکرہ آہ الکراہۃ فی الفاسق تحریمۃ ۔

ترجمہ : فاسق کو امام کرنا کراہتِ تحریم ہے ۔


یعنی اگر فاسق امام کے پیچھے نماز ادا کی گئی تو وہ نماز مکروہِ تحریمہ ہے اور مکروہِ تحریمہ نماز واجب الاعادہ ہے ۔


فتاویٰ درِ مختار صفحہ ۷۴ مطبوعہ کلکتہ میں ہے : وفاسق الاعمٰی و نحوہ الاعمش نھر الا ان یکون ای غیر الفاسق اعلم القوم فھواولٰی ۔

ترجمہ : فاسق ، اندھا اور اس شخص کی جو دن اور رات میں کم سوجھتا ہے امامت مکروہ ہے مگر مندرجہ افراد میں سے جو بھی قوم میں زیادہ صاحبِ علم ہو امامت کےلیے بہتر ہے سوائے فاسق کے اگر وہ قوم میں صاحب علم ہی کیوں نہ ہو ۔


غایۃ الاوطار ترجمہ درالمختار صفحہ ۲۶۱ مطبوعہ نو لکشور لکھنو (بھارت) میں ہے : فاسق کا استثناء اس لیے کیا کہ باوجود عالم ہونے کے بھی اس کی امامت خالی کراہت سے نہیں کیونکہ امامت میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعاً مقتدیوں پر اس کی اہانت واجب ہے ۔ مفتی ابوالسعود نے کہا کہ اس تعلیل کا مفاد یہ ہے کہ امامت فاسق کی مکروہِ تحریمی ہے ۔


محدثّین اور فقہاء رحمہم اللہ علیہم اجمعین کی عبارتوں سے یہ مسئلہ واضح ہو گیا کہ جو شخص مقدار شرع سے کم داڑھی رکھتا ہے یا ہمیشہ ترشواتا ہے ، وہ فاسقِ معلن ہے ، ایسے شخص کو امام بنانا مقتدیوں کے گنہگار ہونے کا سبب ہے اور نماز کے مکروہِ تحریمہ ہونے کا باعث جو کہ واجب الاعادہ ہے ۔


فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ ۲۱۹ ، ۲۲۰ پر امام احمد رِضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ ایک استفتاء کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں : مسئلہ : جو شخص داڑھی اپنی مقدار شرع سے کم رکھتا ہے اور ہمیشہ تر شواتا ہے اس کا امام کرنا نماز میں شرعاً کیا حکم رکھتا ہے ؟

الجواب :بوہ فاسق معلن ہے اور اسے امام کرنا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی مکروہِ تحریمی ۔ غنیہ میں ہے لو قدموا فاسقا یا ثمون الخ ۔


اور اسی فتاویٰ رضویہ جلد سوم کے صفحہ ۲۵۵ ، ۲۵۴ پر تحریر فرماتے ہیں جبکہ آپ سے پوچھا گیا : قاری مکہ معظمہ کا قرأت سیکھا ہو اور وہاں چند سال رہ کر معلمی کیا ہو لیکن داڑھی تر شواتا ہے ، آیا اس کے پیچھے نماز پنج گانہ اور جمعہ جائز ہے یا نہ ۔ بینوا توجروا ۔

الجواب : داڑھی تر شوانے والے کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیر نی واجب ۔ مکہ معظمہ میں رہ کر قرأت سیکھنا فاسق کو غیر فاسق نہ کردے گا ، واللہ تعالٰی اعلم ۔


نیز اسی فتاویٰ رضویہ جلد سوم کے صفحہ ۲۷۰ پر ایک استفتاء کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں : داڑھی منڈانا فسق ہے اور فسق سے متلبس ہو کر بلا توبہ نماز پڑھنا باعث کراہت نماز ہے جیسے ریشمی کپڑے پہن کر یا صرف پائجامہ پہن کر ۔ اور داڑھی منڈانے والا فاسق معلن ہے ۔ نماز ہو جانا بایں معنی ہے کہ فرض ساقط ہو جائے گا ورنہ گنہگار ہوگا، اسے امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ۔ باقی اگر وہ صف اول میں آئے تو اسے ہٹانے کا حکم نہیں ۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔


مفتی اعظم اہل سنت جناب ابوالبرکات سید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ صدر مدرس دارالعلوم حزب الاحناف لاہور سے مندرجہ ذیل استفتاء کیا گیا جس کا جواب آپ رحمۃ اللہ علیہ نے یوں تحریر فرمایا : ⏬


استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایک مسجد کا متقی غیر حافظ امام موجود ہے ۔ رمضان شریف میں تراویح میں قرآن پاک سننے کےلیے ایک حافظ مہیا کیا گیا جس کی داڑھی کتری ہوئی ہے ، ایسے حافظ کے پیچھے تراویح پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ ۔

الجواب : بلاشبہ داڑھی کترے حافظ فاسق فاجر ہیں ۔ ان کے پیچھے نماز خواہ فرض ہو یا سنت تراویح مکروہِ تحریمی ہے ۔ اگربامرمجبوری ان کے پیچھے پڑھ لی یا پڑھنے کے بعد حال کھلا تو نماز پھیر لے ، اگر چہ وقت جاتا رہا ہو اور مدت گذر چکی ہو ۔ کذافی الشامی داڑھی کترے آدمی ، سید ، قاری ، حافظ ، عالم فاضل ہونے سے مستحقِ امامت نہیں ہو سکتے ۔ اگر کسی مسجد میں داڑھی کترا ہے تو وہ مسجد چھوڑ کر دوسری مسجد میں چلا جائے ۔ انتہی مختصراً ۔


اسی استفتاء کا جواب مفتی اعظم مولانا مولوی مظہر اللہ رحمۃ اللہ علیہ خطیب و امام جامع مسجدفتح پوری دہلی (بھارت) تحریر فرماتے ہیں : بیشک یہ شخص اس فعل کی وجہ سے فاسق ہو گیا ہے اور حسب فتویٰ کبیری و شامی ایسے شخص کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اگر توبہ نہ کرے ۔


اسی استفتاء پر علماء دیوبند کے اکابرین میں سے مفتی ہند مولانا مولوی کفایت اللہ صاحب دہلوی صدر مدرس مدرسہ امینیہ دہلی (بھارت) جواب تحریر کرتے ہیں : نماز تراویح میں کل قرآن شریف سنانا سنت ہے اور ایک قبضہ سے کتر کرداڑھی کا کم کرنا حرام ہے جس کی وجہ سے وہ داڑھی کترا حافظ فاسق ہو گیا ۔ پس اس کی امامت مکروہِ تحریمی ہے ۔ ایسی صورت میں تراویح متقی امام مسجد کے پیچھے الم ترکیف سے پڑھ لے ، فاسق کے پیچھے نہ پڑھے ۔ اسی استفتاء پر مولوی محمد عبدالحفیظ صاحب مدرس مدرسہ نعمانیہ دہلی (بھارت) جواب تحریر کرتے ہیں : بیشک یہ شخص جب تک توبہ نہ کرے فاسق ہے اور اس کے پیچھے تراویح مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے ۔


اسی استفتاء پرعلماء دیوبند کے اکابر علماء میں سے مشہور مفسر قرآن مولانا مولوی احمد علی صاحب لاہوری تحریر کرتے ہیں : اہلِ محلہ کے ذمہ لازم ہے کہ داڑھی کترے حافظ کو فوراً الگ کر دیں اور متشرع حافظ قرآن امام کے پیچھے تراویح پڑھیں ۔ (یہ سب فتاویٰ داڑھی کی اسلامی حیثیت صفحہ ۸۰ ، ۸۱ سے لیے گئے ہیں ۔ یہ مولوی شمس الدین صاحب ہزاروی کی تالیف ہے) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر مفتی فیض احمد چشتی)

حضرت سیدنا امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کا لقب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ۔ تو کیا اب یہ کہنا شروع کر دیں : اے عمِ مصطفی سید الشہداء کون ہے ؟

حضرت سیدنا امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کا لقب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ۔ تو کیا اب یہ کہنا شروع کر دیں : اے عمِ مصطفی سید الشہداء کون ہے ؟ : ⏬







ایک سوال گردش کر رہا ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر کا لقب امت نے دیا ، جبکہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کو یہ لقب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ۔ (ثابت ہے یا نہیں ، یہ الگ بحث ہے) ۔ اس لیے صدیق اکبر حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں ، حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نہیں ۔ (ویسے اتنے ادب سے یہ سوال کر تے نہیں ، بس ہم سے ان کی طرح روکھا سوکھا لکھا نہیں جاتا)
اس سوال کے جواب میں حدیث شریف سے ایک مثال ملاحظہ فرمائیں اور ان کے استدلال کی کمزوری دیکھیں : حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، شہداء کے سردار حمزہ بن عبدالمطلب ہیں ۔ (المستدرک علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابۃ جلد 3 صفحہ 215 رقم الحدیث 4884 دار الکتب العلمیۃ بیروتی)(سیر السلف الصالحین جلد 2 صفحہ 360 دار الرایۃ للنشر والتوزیع الریاض،چشتی)(سیر السلف الصالحین صفحہ 360 دار الکتب العلمیۃ بیروت)(الترغیب والترہیب کتاب الحدود جلد 3 صفحہ 158 دار الکتب العلمیۃ بیروت)

یہ روایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے ۔ (الامالی المطلقة صفحہ 197 المکتب الاسلامی بیروت) ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ علیہ  المتوفی : 852 ھ لکھتے ہیں : ثَبَتَ فِي حَدِيثٍ مَرْفُوْعٍ اَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيْقِ الْاَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، ایک مرفوع حدیث میں ثابت ہے جسے طبرانی نے اصبغ بن نباتہ کی سند سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : شہداء کے سردار حمزہ بن عبدالمطلب ہیں ۔ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری جلد 7 صفحہ 425 طبع امیر سلطان) ۔ امام حاکم رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اس حدیث کو  صحیح کہا ہے ۔

اب سوال یہ ہے : حضرت سیدنا امامِ عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کا لقب امت نے دیا اور اس لقب کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوٸٸی فرمان آپ کے متعلق نہیں ہے ۔ پھر بھی پوری امت آپ رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کے لقب سے یاد کرتی ہے ۔ کسی کو بھی اعتراض نہ تھا ، نہ ہے اور نہ ہی ان شاء اللہ ہوگا ۔ اور حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کا لقب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ۔ تو کیا اب یہ کہنا شروع کر دیں : اے عمِ مصطفی سید الشہداء کون ہے ؟ ۔ بالکل بھی نہیں ۔ جس طرح یہ کہنا درست نہیں ، اسی طرح صدیق اکبر والا استدلال بھی درست نہیں ۔ اہل سنت و جماعت کے جو نظریات متفقہ طور پر صدیوں سے علامت و شعار چلے آ رہے ہیں انہیں چھیڑ کر خواہ مخواہ امت میں فتنہ و فساد کی فضا نہیں بنانی چاہیے اور اسلاف کے طریقہ پر ہی چلنے میں عافیت ہے ۔ بشکریہ علامہ ابو ذہیب محمد ظفر علی سیالوی صاحب ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

Sunday, 14 June 2026

بارہ امام رضی اللہ عنہم اور شیعہ عقیدہ چودہ معصومین پر تحقیقی نظر

بارہ امام رضی اللہ عنہم اور شیعہ عقیدہ چودہ معصومین پر تحقیقی نظر

محترم قارئینِ کرام : اللہ تعالیٰ کے انبیاء کرام علیہم السلام اور ملائکہ کے علاوہ کوئی بھی معصوم نہیں اور نہ ہی معصوم عن الخطاء ۔ اس لیے چودہ معصومین والا معاملہ یہاں ختم ہو گیا ۔ اگر ہم مسلمان اپنے موجودہ عقائد کے تناظر میں بات کریں تو رسول اللہ صلی ﷲ تعالی علیہ و آلہ وسلّم کے بعد کوئی بھی معصوم نہیں ۔ اس لیے یہ عقیدہ رکھنا کہ فلاں امام یا شخصیت معصوم ہے ، یہ غلط ہے ۔ انبیاء اور ملائکہ علیہم السّلام کے علاوہ کوئی بھی معصوم نہیں ۔ اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کےبارہ امام ، جن کے نام لوگوں میں مشہور ہیں ، ان سے متعلق اہلسنت و جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ ائمہ اہل بیت  رضی اللہ عنہم ہیں ، یہ نہایت متقی پارسا اور اعلی درجہ کی بزرگی ، ولایت اور مقام  و مرتبہ کے حامل ہوئے اور  مقام غوثیت  پربھی فائز ہوئے ۔ ان میں سے ایک امام مہدی رضی اللہ عنہ ہیں ، جو ابھی آئیں گے ، جن کے پاس خلافت عامہ ہوگی ۔ ان بارہ اماموں میں سے خلافت عامہ صرف  حضرت مولا علی اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہما کوملی اور ایک حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ  کو ابھی ملے گی ۔ وبس ۔ اس کے ساتھ ساتھ درج ذیل گذارشات ذہن نشین رہیں : ⏬


(1) تمام انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام ان بارہ اماموں سے افضل ہیں ، ان بارہ اماموں رضی اللہ عنہم میں سے کوئی بھی کسی نبی کے برابر یا اس سے افضل نہیں ہے کیونکہ ان میں سے کوئی امام رضی اللہ عنہ بھی نبی نہیں ہے اور جو نبی نہ ہو ، وہ کسی نبی علیہ السلام کے برابر یا اس سے افضل نہیں ہو سکتا ۔ جو ان میں سےکسی کو کسی نبی علیہ السلام کے برابر یا افضل جانے وہ کافر ہے ۔


ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری میں ہے : النبي أفضل من الولي وهو أمر مقطوع به ، والقائل بخلافه كافر لأنه معلوم من الشرع بالضرورة ۔

ترجمہ : نبی ، ولی سے افضل ہے اور یہ قطعی امر ہے ، اور جو اس کے خلاف کا قائل ہو وہ کافر ہے کیونکہ نبی کا ولی سے افضل ہونا شریعت سے بدیہی طور پر معلوم ہے ۔ (ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری کتاب العلم جلد 1 صفحہ 321 دارالکتب العلمیہ بیروت،چشتی)(ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری کتاب العلم جلد 2 صفحہ 191 مطبوعہ دار ابن حزم)


المعقتد المنتقد میں ہے : ان نبیا واحداً أفضل عند اللہ من جمیع الأولیاء ، ومن فضل ولیاً علی نبي یخشی علیہ الکفر بل ھو کافر ۔

ترجمہ : بیشک ایک نبی اللہ تعالی کے نزدیک تمام اولیاء سے افضل ہے اور کو کسی ولی کو کسی نبی پر فضیلت دے تو اس پر کفر کا خوف ہے بلکہ وہ کافر ہے ۔ (المعقتد المنتقد باب النبوات صفحہ 125)


(2) ان بارہ اماموں میں سےکوئی بھی امام معصوم نہیں ہےکہ معصوم صرف اورصرف انبیاء و ملائکہ علیہم الصلاۃ والسلام ہیں ۔ جو انبیا اور ملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام کے علاوہ کسی اور کے معصوم ہونے کا عقیدہ رکھے وہ اہلسنت سے خارج ہے ۔ بہار شریعت میں ہے : عصمت نبی اور مَلَک کا خاصہ ہے ، کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں ۔ (بہار شریعت جلد 1 حصہ 1 صفحہ 38 مکتبۃ المدینۃ)


فتاوی رضویہ میں ہے : اجماعِ اہلسنت ہے کہ بشر میں انبیا ء علیہم الصلاۃ والسلام کے سوا کوئی معصوم نہیں ، جو دوسرےکو معصوم مانے اہلسنت سے خارج ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 14 صفحہ 186 رضا فاؤنڈیشن لاہور)


علامہ سعدالدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ان الانبیاء علیھم السلام معصومون ۔ یعنی تمام انبیاء معصوم ہیں ۔ (شرح العقائد النسفیہ صفحہ نمبر 306)


جامع المعقول والمنقول علامہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : الملائکة عباد اللہ تعالی العاملون بامرہ ۔ یرید انھم معصومون ۔

ترجمہ : ملائکہ بھی اللہ کے بندے ہیں اور اس کے حکم کے مطابق تمام امور سرانجام دیتے ہیں اور اس سے مراد یہ ہے کہ وہ معصوم ہیں ۔ (شرح العقائد کی شرح النبراس صفحہ نمبر 287)


امام ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : الانبیاء علیہم السلام کلھم منزھون ۔ ای معصومون ۔ یعنی تمام انبیاء علیہم السلام معصوم ہیں ۔ (منح الروض الازھر صفحہ نمبر 56،چشتی)


امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری ماتریدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بشر میں انبیاء علیہم السلام کے سوا کوئی معصوم نہیں ۔ (فتاوی رضویہ جلد نمبر 14 صفحہ نمبر 187)


صدرالافاضل استاذ العلماء حضرت مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : انبیاء اور فرشتوں علیہم السّلام کے سوا معصوم کوئی بھی نہیں ہوتا ، اولیاء (کو اللہ تَعَالٰی اپنے کرم سے گناہوں سے بچاتا ہے مگر معصوم صرف انبیاء اور فرشتے علیہم السّلام ہی ہیں ۔ (کتاب العقائد صفحہ نمبر 21،چشتی)


عصمت انبیاء و ملائکہ علیہم السّلام کا معنی یہ ہے کہ ان کے لیے حفظ الہی کا وعدہ ہو چکا ہے جس کے سبب ان سے صدور گناہ محال ہے ۔ انبیاء و ملائکہ علیہم السّلام کی طرح کسی دوسرے کو معصوم سمجھنا گمراہی و بد دینی ہے ۔ اور رہی بات بچوں کو معصوم کہنے والی تو اس کا جواب یہ ہے کہ بچوں کو معصوم کہنا اس معنی میں نہیں ہوتا جس معنی میں شرعی اصطلاح ہے اس لیئے بچوں کو معصوم کہنے والے پر کوئی حکم نہیں ۔ عرفِ حادِث میں بچوں کو بھی ”معصوم“ کہہ دیا جاتا ہے لیکن شرعی اصطلاحی معنیٰ جو اوپر بیان کئے گئے اس سے وہ مراد نہیں ہوتے بلکہ لغوی معنیٰ یعنی بھولا ، سادہ دل ، سیدھا سادھا ، چھوٹا بچہ ، نا سمجھ بچہ ، کم سن ، والے معنیٰ میں کہا جاتا ہے ۔ اس لئے اس معنیٰ میں بچوں کو معصوم کہنے پر کوئی گرفت نہیں اسے ناجائز بھی نہیں کہہ سکتے ۔


جہاں تک ائمہ کی بات ہے تو فقہ میں چار ائمہ ہیں، ان کے اسمائے گرامی ذیل میں ہیں : ⏬


امام اعظم سیدنا امام   ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ


سیدنا امام مالک رضی اللہ عنہ


سیدنا امام شافعی رضی اللہ عنہ


سیدنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ


ان کے علاوہ کچھ لوگ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو بھی فقہ میں امام مانتے ہیں۔ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ آلِ رسول اور امت کے عظیم امام ہیں ۔ ہمارے لئیے لائقِ احترام اور حصول فیض و برکت کا ذریعہ ہیں ۔


بارہ امام


ان کا ذکر احادیث میں ہے ؟


یہ مجتہد تھے یا مقلد ؟


کتب صحاح میں ان کے روایات ہیں ؟

ان کی امامت کون سی ہے ؟


ان کی طرف منسوب اقوال کہاں تک درست ہے ؟


کتب صحاح میں ان سے کم روایات لینے کی وجہ ؟


بارہ امام والے معاملے پر ہم امام اہل سنت مجدد دین و دملت سیدنا الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ کا قول نقل کر دیتے ہیں کیونکہ آپ کی تحقیق حق ہے ۔ چنانچہ امام اہل سنت مجدد دین و دملت سیدنا الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ اس سے متعلقہ ایک سوال کے جواب میں رقم طراز ہیں : امامت اگر بمعنی مقتدٰی فی الدین ہونے کے ہے توبلاشبہہ ان کے غلام اور غلاموں کے غلام مقتدٰی فی الدین ہیں ، اوراگر اصطلاح مقامات ولایت مقصود ہے کہ ہر غو ث کے دو وزیر ہوتے ہیں عبدالملک و عبدالرب ، انہیں امامین کہتے ہیں ، تو بلاشبہہ یہ سب حضرات خود غوث ہوئے ۔ اوراگرامامت بمعنی خلافت عامہ مراد ہے تووہ ان میں صرف امیرالمومنین مولٰی علٰی و سیدنا امام حسن مجتبٰی کو ملی اور اب سیدنا امام مہدی کوملے گی وبس رضی ﷲ تعالٰی عنہم اجمعین ، باقی جو منصب امامت ولایت سے بڑھ کرہے وہ خاصہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہے جس کوفرمایا انّی جاعلک للناس اماما (میں تمہیں لوگوں کاپیشوا بنانے والاہوں ۔ت) وہ امامت کسی غیرنبی کے لئے نہیں مانی جاسکتی ، اطیعوﷲ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم (حکم مانو ﷲ کا اور حکم مانو رسول ﷲ کا اور ان کا جوتم میں حکومت والے ہیں۔ت) ہر غیر نبی کی امامت اولی الامرمنکم تک ہے جسے فرمایا : وجعلنٰھم ائمۃ یھدون بامرنا (اور ہم نے انہیں امام کیاکہ ہمارے حکم سے بلاتے ہیں۔ت) مگر اطیعوا الرسول کے مرتبے تک نہیں ہو سکتی اس حد پر ماننا جیسے روافض مانتے ہیں صریح ضلالت وبے دینی ہے ۔ امام جعفر صادق رضی ﷲ تعالٰی عنہ تک تو بلاشبہہ یہ حضرات مجتہدین وائمہ مجتہدین تھے ، اور باقی حضرات بھی غالباً مجتہد ہوں گے ۔ وﷲ تعالٰی اعلم ۔ (فتاوٰی رضویہ جلد 26 کتاب الفرائض صفحہ 428،چشتی)


امام اہل سنت مجدد دین و دملت سیدنا الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ : بارہ امام جن کے نام عوام میں مشہور ہیں ان میں باستثنائے جناب امام علی مرتضی کرم ﷲ وجہہ حضرت امام حسن و حضرت امام حسین و حضرت امام مہدی کے کسی اور امام کی نسبت صحیح حدیثوں میں اشارۃ یاصراحۃ کوئی خبر آئی ہے ؟ امامت ان کی ولایت کے درجے پر ماننا چاہئے ان کے عقائد و احکام و اعمال وغیرہ ائمہ مجتہدین میں سے کسی ایک کے مشابہ تھے یاسب سے الگ ؟ یہ خود مجتہد تھے یا مقلد؟ بعض اعمال و جفر وغیرہ کی کتابوں میں ان کے اقوال ملتے ہیں یہ کہاں تک صحیح ہیں ؟ بعض کا یہ اعتراض ہے کہ صحاح کی کتابوں میں ان کی روایتیں بہت کم لی گئی ہیں حالانکہ ان کا خاندانی علم تھا ان سے زیادہ دوسرے کو کہاں تک واقفیت ہوسکتی ہے اہلسنت کی کتابوں میں ان کے حالات کم لکھنے کی کیا وجہ ہے ؟

الجواب : کتب احادیث میں ان کا ذکر امام باقر رضی ﷲ تعالی عنہ کی بشارت بتصریح نام گرامی صحیح حدیث میں ہے جابر بن عبدﷲ انصاری رضی ﷲ تعالی عنہما سے ہے حضور اقدس صلی ﷲ تعالی علیہ و آلہ وسلّم نے ان کا ذکر فرمایا : کہ ان سے ہمارا سلام کہنا ۔ سیدنا امام محمد باقر رضی ﷲ تعالی عنہ طلب علم کےلیے سیدناجابر رضی ﷲ تعالی عنہ کے پاس آئے انہوں نے ان کی غایت تکریم کی اور کہا : رسول ﷲ صلی ﷲ تعالی علیہ و آلہ وسلّم یسلم علیك ۔ (تاریخ دمشق الکبیر ترجہ ۶۹۰۱ محمدبن علی بن حسین داراحیاء التراث العربی بیروت ۵۷/ ۲۱۵،۲۱۶،چشتی) ۔ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالی علیہ و آلہ وسلّم آپ کوسلام فرماتے ہیں ، اور ۔ اخرج منکما الکثیر الطیب ۔ (تنزیہ الشریعۃ باب فی مناقب السبطین وامہما وآل البیت دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۴۱۱)) (ﷲ تعالی تم دونوں کو کثیر پاکیزہ اولاد عطافرمائے) میں ان سب حضرات کی بشارت ہے ۔


ان کی امامت کون سی ہے ؟


امامت اگر بمعنی "مقتدی فی الدین" ہونے کے ہے تو بلاشبہہ ان کے غلام اور غلاموں کے غلام مقتدی فی الدین ہیں ، اور اگر اصطلاح مقامات ولایت مقصود ہے کہ ہر غو ث کے دو وزیر ہوتے ہیں عبدالملک و عبدالرب ، انہیں امامین کہتے ہیں ، تو بلاشبہہ یہ سب حضرات خود غوث ہوئے ۔ اور اگر امامت بمعنی خلافت عامہ مراد ہے تو وہ ان میں صرف امیرالمومنین مولی علی و سیدنا امام حسن مجتبی کو ملی اور اب سیدنا امام مہدی کو ملے گی و بس رضی ﷲ تعالی عنہم اجمعین ، باقی جو منصب امامت ولایت سے بڑھ کر ہے وہ خاصہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ہے جس کو فرمایا : انی جاعلك للناس اماما (القرآن الکریم ۲/ ۱۲۴) (میں تمہیں لوگوں کاپیشوا بنانے والاہوں۔ت) وہ امامت کسی غیر نبی کے لئے نہیں مانی جاسکتی ، اطیعوا ﷲ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم (القرآن الکریم ۴/ ۵۹) (حکم مانو ﷲ کا اورحکم مانو رسول ﷲ کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں۔ت) ہر غیر نبی کی امامت اولی الامر منکم تک ہے جسے فرمایا: و جعلنھم ائمة یھدون بامرنا ۔ (القرآن الکریم ۲۱/ ۷۳)

(اور ہم نے انہیں امام کیا کہ ہمارے حکم سے بلاتے ہیں۔ت) مگر "اطیعوا الرسول" کے مرتبے تک نہیں ہوسکتی اس حد پر ماننا جیسے روافض مانتے ہیں صریح ضلالت وبے دینی ہے ۔ امام جعفر صادق رضی ﷲ تعالی عنہ تک تو بلاشبہہ یہ حضرات مجتہدین و ائمہ مجتہدین تھے ، اور باقی حضرات بھی غالبا مجتہد ہوں گے ۔ وﷲ تعالی اعلم ۔


باطنی طور پر ان کا مقام


یہ نظر بظاہر ہے ورنہ باطنی طور پر کوئی شک کا مقام نہیں کہ یہ سب حضرات عین الشریعۃ الکبری تک واصل تھے ۔


ان کی طرف منسوب اقوال کہاں تک درست ہے ؟


جو بسند صحیح ثابت یا کسی فقہ معتمد کی نقل ہے اس کاثبوت مانا جائے گا ورنہ مجاہیل یا عوام یا ایسی کتاب کی نقل جو رطب و یابس سب کی جامع ہوتی ہے کوئی ثبوت نہیں ۔ 


صحاح میں روایت کم ہونے کی وجہ


صحاح میں صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی ﷲ تعالی عنہما کی روایات بھی بہت کم ہیں ، رحمت الہی نے حصے تقسیم فرمادیے ہیں کسی کوخدمت الفاظ ، کسی کو خدمت معانی ، کسی کو تحصیل مقاصد ، کسی کوایصال الی المطلوب ، نہ ظاہری روایت کی کثرت وجہ افضلیت ہے نہ اس کی قلت وجہ مفضولیت ۔ صحیحین میں امام احمد سے صدہا احادیث ہیں اور امام اعظم و امام شافعی سے ایک بھی نہیں ، اور باقی صحاح میں اگر ان سے ہیں بھی تو بہت شاذ و نادر ، حالانکہ امام احمد امام شافعی کے شاگرد ہیں ، اور امام شافعی امام اعظم کے شاگردوں کے شاگرد رضی ﷲ تعالی عنہم اجمعین ، بلکہ امام احمد کا منصب بھی بہت ارفع و اعلی ہے مصطفی صلی ﷲ تعالی علیہ و آلہ وسلّم نے انہیں ربع اسلام کہا ہے۔ *ہزاروں محدثین جو فقیہ تک نہ تھے ان سے جتنی روایات صحاح میں ملیں گے صدیق و فاروق بلکہ خلفائے اربعہ سے اس کا دسواں حصہ بھی نہ ملے گا رضی ﷲ تعالی عنہم اجمعین ۔


کیا ان کے احوال اہلسنت کی کتابوں میں کم ہیں ؟


یہ محض غلط و افتراء ہے کہ ان کے احوال اہلسنت کی کتابوں میں کم ہیں ، اہلسنت کی جتنی کتابیں بیان حالات اکابر میں ہیں سب ان پاک مبارک محبوبان خدا کے ذکر سے گونج رہی ہیں اور خود ان کے ذکر میں مستقل کتابیں ہیں ۔ وﷲ تعالی اعلم ۔ (فتاوٰی رضویہ جلد 26 کتاب الفرائض صفحہ 428 تا 432،چشتی)


بارہ اماموں پر یقین یا ایمان رکھنے والوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ امام مہدی رضی اللہ عنہ کی ولادت ہو چکی ہے اور وہ قرآن لے کر چھپ گئے تھے اب قربِ قیامت میں ان کا ظہور ہو گا، یہی وجہ ہے کہ   اہل ِ تشیع حضرات اپنی دعاؤں میں ایک دعا یہ بھی کرتے ہیں کہ اے اللہ امامِ زمانہ امام مہدی کا جلدی ظہور فرما۔ ایسے عقائد رکھنے والوں کو “شیعہ اثنا عشری” کہا جاتا ہے۔   یہ عقائد اہل سنت کے نزدیک باطل و گمراہ کن ہیں اور امام مہدی رضی اللہ عنہ کی ولادت ابھی نہیں ہوئی ۔


اہلِ تشیع حضرات اپنا یہ مؤقف درست ثابت کرنے کے لئیے   بخاری و مسلم کی یہ روایت پیش کرتے ہیں :حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کو فرماتے سنا کہ اسلام بارہ خلیفوں تک غالب رہے گا جو سارے کے سارے قریش کے ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ لوگوں کا دین جاری رہے گا جب تک ان میں بارہ شخص والی ہوں جو سب قریش سے ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ دین قائم رہے گا حتی کہ قیامت قائم ہو جاوے یا ان پر بارہ خلیفہ ہوں جو سارے قریش سے ہوں ۔


اس حدیث کی شرح میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : یہاں خلافت سے مراد خلافت نبوت نہیں یعنی خلافت راشدہ کیونکہ اس کی مدت صرف تیس سال ہے جو امام حسن پر ختم ہوتی ہے بلکہ خلافت امارت مراد ہے ، خلیفہ بمعنی امیر ہے ۔ اہل سنت کے نزدیک اس فرمان عالی کے چند معنی کیے گئے ہیں : ایک یہ کہ یہ واقعہ امام مہدی کے بعد سے قیامت تک ہوگا ڈیڑھ سو سال میں یہ بارہ خلفاء ہوں گے ، پہلے پانچ خلیفہ سبط اکبر یعنی امام حسن کی اولاد ہیں ، پھر پانچ خلیفہ سبط اصغر یعنی امام حسین کی اولاد میں ، پھر ایک خلیفہ امام حسین کی اولاد میں جیسا کہ بعض احادیث میں ہے ۔ دوسرے یہ کہ حضور انور صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کے بعد سے لے کر قیامت تک یہ خلفاء مختلف وقتوں میں ہوں گے۔تیسرے یہ کہ حضور انور صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کے بعد سے مسلسل بارہ امیروں کے زمانہ تک دین غالب رہے گا کفار کا غلبہ نہ ہوسکے گا اگرچہ ان میں سے بعض فاسق ظالم ہوں گے جیسے یزید ابن معاویہ وغیرہ ۔ چوتھے یہ کہ آخری زمانہ میں بیک وقت بارہ بادشاہ مختلف ممالک میں ایسے ہوں گے جن کے سبب اسلام غالب ہوگا ۔ والله اعلم ! (اشعۃ اللمعات) ۔ اس حدیث سے شیعہ اپنے بارہ امام ثابت کرتے ہیں جو حسب ذیل ہیں : علی ، حسن ، حسین ، امام زین العابدین ، محمد باقر ، جعفر صادق ، موسیٰ کاظم ، علی رضا ، محمد تقی ، علی تقی ، حسن عسکری ، آخری میں امام مہدی (رضی اللہ عنہم) کہ یہ حضرات خلفاء برحق ہیں یعنی مستحق خلافت اگرچہ ان میں سے اکثر بظاہر خلیفہ نہ ہوئے ۔(مرقات) مگر یہ قول صراحۃً باطل ہے کہ شیعہ کے نزدیک ان کا زمانہ تاقیامت ہے ان کے زمانوں میں دین کہاں غالب رہا دین مغلوب ہوگیا حتی کہ امام مہدی کو غار میں چھپ جانا پڑا اب وہ قریب قیامت ہی آئیں گے ۔ اہل سنت کی مذکورہ چار شرحوں میں تیسری شرح قوی معلوم ہوتی ہے ، ان میں بارہ بادشاہوں میں آخری بادشاہ ولید ابن یزید ابن عبدالملک ابن مروان ہے ، اس بادشاہ کے قتل ہونے پر مسلمانوں میں بڑا اختلاف پیدا ہوگیا ، دیکھو اشعۃ اللمعات یہ ہی مقام ۔ خلافت راشدہ اور غیر راشدہ اور امارت و سلطنت کا فرق ملحوظ رہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد نمبر 8 صفحہ نمبر 228،چشتی)


خلاصہ کلام یہ کہ بارہ امام نہ ہی ہمارے عقائد کا حصّہ ہیں اور نہ ہی ان پر ایمان لانا ضروری ، نبی کریم صلی ﷲ تعالی علیہ و آلہ وسلّم کے تمام صحابہ کرام ، آلِ نبی و ائمہ اہل بیت اور تمام بزرگان دین رضوان اللہ علیہم اجمعین ہمارے لیے لائقِ احترام ، قابلِ تعظیم اور ذریعہ بخشش و نجات ہیں لیکن انبیاء کرام اور ملائکہ مقربین علیہم السّلام کے بعد امت میں کوئی بھی معصوم نہیں ۔


بارہ خلفا یا بارہ امام رضی اللہ عنہم


محترم قارئینِ کرام : کسی حدیث شریف میں بارہ اماموں کی صراحت نہیں ہے ، البتہ بارہ خلفاء کا تذکرہ ضرور موجود ہے : وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ۔ وَفِي رِوَايَةٍ : لَا يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا مَا وَلِيَهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ۔ وَفِي رِوَايَةٍ:«لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَة أَويَكُونُ عَلَيْهِمُ اثْنَاعَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْش ۔

ترجمہ : روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کو فرماتے سنا کہ اسلام بارہ خلیفوں تک غالب رہے گا (1) جو سارے کے سارے قریش کے ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ لوگوں کا دین جاری رہے گا جب تک ان میں بارہ شخص والی ہوں جو سب قریش سے ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ دین قائم رہے گا حتی کہ قیامت قائم ہو جاوے یا ان پر بارہ خلیفہ ہوں جو سارے قریش سے ہوں (2) (مشکواة المصابیح حدیث نمبر 5983 مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)۔(صحیح بخاری رقم/7222))(صحیح مسلم واللفظ له (رقم/1821)


حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمة اللہ علیہ اس حدیثِ مبارکہ کی شرح فرماتے ہوۓ لکھتے ہیں : ⏬


(1) : یہاں خلافت سے مراد خلافت نبوت نہیں یعنی خلافت راشدہ کیونکہ اس کی مدت صرف تیس سال ہے جو امام حسن پر ختم ہوتی ہے بلکہ خلافت امارت مراد ہے،خلیفہ بمعنی امیر ہے ۔ اہل سنت کے نزدیک اس فرمان عالی کے چند معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ یہ واقعہ امام مہدی کے بعد سے قیامت تک ہوگا ڈیڑھ سو سال میں یہ بارہ خلفاء ہوں گے ، پہلے پانچ خلیفہ سبط اکبر یعنی امام حسن کی اولاد ہیں،پھر پانچ خلیفہ سبط اصغر یعنی امام حسین کی اولاد میں ، پھر ایک خلیفہ امام حسین کی اولاد میں جیساکہ بعض احادیث میں ہے ۔ دوسرے یہ کہ حضور انور صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کے بعد سے لے کر قیامت تک یہ خلفاء مختلف وقتوں میں ہوں گے۔تیسرے یہ کہ حضور انور کے بعد سے مسلسل بارہ امیروں کے زمانہ تک دین غالب رہے گا کفار کا غلبہ نہ ہوسکے گا اگرچہ ان میں سے بعض فاسق ظالم ہوں گے جیسے یزید ابن معاویہ وغیرہ۔چوتھے یہ کہ آخری زمانہ میں بیک وقت بارہ بادشاہ مختلف ممالک میں ایسے ہوں گے جن کے سبب اسلام غالب ہوگا۔والله اعلم! (اشعۃ اللمعات) اس حدیث سے شیعہ اپنے بارہ امام ثابت کرتے ہیں جو حسب ذیل ہیں: علی،حسن،حسین،امام زین العابدین،محمد باقر،جعفر صادق،موسیٰ کاظم،علی رضا،محمدتقی،علی تقی،حسن عسکری ، آخری میں امام مہدی (رضی اللہ عنہم) کہ یہ حضرات خلفاء برحق ہیں یعنی مستحق خلافت اگرچہ ان میں سے اکثر بظاہر خلیفہ نہ ہوئے ۔ (مرقات) مگر یہ قول صراحۃً باطل ہے کہ شیعہ کے نزدیک ان کا زمانہ تاقیامت ہے ان کے زمانوں میں دین کہاں غالب رہا دین مغلوب ہوگیا حتی کہ امام مہدی کو غار میں چھپ جانا پڑا اب وہ قریب قیامت ہی آئیں گے۔ اہل سنت کی مذکورہ چار شرحوں میں تیسری شرح قوی معلوم ہوتی ہے،ان میں بارہ بادشاہوں میں آخری بادشاہ ولید ابن یزید ابن عبدالملک ابن مروان ہے، اس بادشاہ کے قتل ہونے پر مسلمانوں میں بڑا اختلاف پیدا ہوگیا ،دیکھو اشعۃ اللمعات یہ ہی مقام۔خلافت راشدہ اور غیر راشدہ اور امارت و سلطنت کا فرق ملحوظ رہے ۔


(2) : ان دونوں روایتوں کے الفاظ مختلف ہیں مطلب دونوں کا ایک ہی ہے ۔ (مراة شرح مشکواة جلد نمبر 8)


امام نووی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : ويحتمل أن يكون المراد مستحقي الخلافة العادلين ، وقد مضى منهم من عُلم ، ولا بد مِن تمام هذا العدد قبل قيام الساعة " انتهى ۔

ترجمہ : ممکن ہے اس حدیث سے مراد خلافت کے ایسے حقدار ہوں ، جو عادل و انصاف پسند ہونگے ، جن میں سے کچھ معلوم ہیں اور باقی قیامت تک مکمل ہونگے ۔ (صحیح شرح مسلم 12/202)


امام قرطبی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : هم خلفاء العَدْلِ ؛ كالخلفاء الأربعة ، وعمر بن عبد العزيز ، ولا بُدَّ من ظهور من يَتَنَزَّلُ مَنْزِلَتهم في إظهار الحق والعدل ، حتى يَكْمُل ذلك العدد ، وهو أولى الأقوال عندي " انتهى ۔ (المفهم شرح صحیح مسلم (4/8)

ترجمہ : اس سے عادل خلفاء مراد ہیں ، جیسے خلفاء اربعہ ، اور عمر بن عبد العزیز ، اور ہر وہ خلیفہ جو اظہار حق اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے والا ہو گا وہ اس حدیث کا مصداق بنے گا ، حتی کہ یہ تعداد پوری ہو جائے ۔


اس حدیث سے شیعہ اپنے عقیدے کے مطابق جو یہ استدلال کرتے ہیں کہ اس سے مراد بارہ امام ہیں ، باطل و فاسد ہے ۔ جو تعصب و جہالت اور خواہشات نفس پر مبنی ہے ۔ کیونکہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے (اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً) فرمایا ہے (اثْنَا عَشَرَ اماما ) نہیں فرمایا ، نیز شیعہ کے بارہ اماموں میں سے متعدد کا خلافت کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہ تھا ۔


اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس سے مراد وہ خُلفاء ہیں کہ والیانِ اُمّت ہوں اور عدل و شریعت کےمطابق حکم کریں، ان کا متصل مسلسل ہونا ضرور نہیں۔ نہ حدیث میں کوئی لفظ اس پر دال ہے ، اُن میں سے خلفائے اربعہ وامام حسن مجتبٰے و امیر معاویہ و حضرت عبداللہ بن زبیر و حضرت عمر بن عبدالعزیز معلوم ہیں اور آخر زمانہ میں حضرت سیدنا امام مہدی ہوں گے ۔ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ۔ یہ نو ہوئے باقی تین کی تعین پر کوئی یقین نہیں ۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔ (فتاوی رضویہ جلد نمبر 27،چشتی)


محترم قارٸینِ کرام : مذکورہ حدیث مبارکہ مختلف الفاظ کے ساتھ کتب احادیث میں موجود ہے :


بخاری شریف میں ہے کہ "بارہ امیر ہوں گے اور وہ سب قریش سے ہونگے (صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 1073 کتاب الاحکام باستخلاف،چشتی)


مسلم شریف میں ہے : یہ معاملہ قیامت تک اسی طرح جاری رہے گا یہاں تک کہ اس امت میں بارہ خلفا آجائیں وہ سب قریش سے ہون گے ۔ (صحیح مسلم شریف جلد 2 صفحہ 119 کتاب الامارۃ مطبع نور محمد کراچی)


سنن ابی داؤد میں ہے : تم پر بارہ خلیفہ ہوں گے ان تمام پر امت کا اجماع ہوگا وہ تمام قریش سے ہوں گے ۔ (سنن ابی داؤد جلد 2 صفحہ 232 کتاب المہدی ایچ ایم سعید)


کتب شیعہ مین حدیث مذکورہ کے الفاظ


خصال شیخ صدوق میں ہے : یہ امت اس وقت تک بہتر رہے گی اور اس کا اپنے دشمنوں پر قبضہ رہے گا جب تک بارہ بادشاہ نہیں آتے ۔ (خصال شیخ صدوق جلد 2 صفحہ 239،ایران)


الخصال شیخ صدوق میں ہے : بارہ امیر ہوں گے سب کے سب قریشی ہوں گے ۔ (الخصال جلد 2 صفحہ 242،چشتی)


مندرجہ بالا کتب کے حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ ان بارہ اشخاص کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے تین ناموں سے ذکر فرمایا :


(1) خلیفہ (2) امیر (3) ملک


لہٰذا اس حدیث مبارکہ کا مصداق وہ اشخاص ہوں گے جو خلیفہ بادشاہ یا امیر گذرے ہوں گے اس کے علاوہ کوئی اور اس کا مصداق نہیں ہوسکتا ۔


کتب شیعہ سے خلیفہ اور امیر کی شرائط


(1) ۔ اسلامی ملک کی سرحدوں کی ذمہ داری خلیفہ و امام پر عائد ہوتی ہے ۔ (اصول کافی جلد1 صفحہ 200)


(2) ۔ حدود کا قیام (یعنی زانی شرابی قازف ڈاکو پر حدود جاری کرنا جو اللہ تعالی نے مقرر فرمائی ہیں زکوۃ و عشر جزیہ کی وصولی اور نظام اسلام کا قیام امام کی ذمہ داری ہے ۔ (کشف الغمہ فی معرفۃ الائمہ جلد 1 صفحہ 56 فی عدد الائمہ،چشتی)


(3) ۔ دنیا سے شر فساد اور ظلم و ستم مٹانا بھی خلیفہ اور امیر کی ذمہ داری ہے ۔ (حدیقۃ اشیعۃ صفحہ 473 مقدس اردبیلی مطبوعہ تہران)


(4) ۔ خمس وصول کرنا خلیفہ وقت کی ذمہ داری ہے ۔ (اصل الشیعۃ صفحہ 185)


(5) ۔ امام و خلیفہ کا بہادر ہونا ضروری ہے تاکہ فریضہ جہاد بھی ادا کرسکے ۔ (عیون الحیوۃ ملا باقر مجلسی صفحہ 84،تنویر ششم تہران)


ان شرائط امامت و خلافت کو پڑھ لینے کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح واض ہو ہوجاتی ہے کہ مذکورہ بالا حدیث مبارکہ کے مصداق وہ اشخاص نہیں جن کو شیعہ منصوص بارہ امام سمجھتے ہیں کیونکہ ایک تو حدیث میں الفاظ خلیفہ امیر اور ملک کے آئے اور دوسرے یہ خلافت کی شرائط آئمہ میں نہیں پائی جاتی لہٰذا اس حدیثِ مبارکہ کے مصداق خلفا میں سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ سرِ فہرست ہیں ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ان بارہ خلفا میں سے شروع والوں کی تعین نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خود فرمادی ہے ۔ جس کے بعد کسی کو اپنے عقلی گھوڑے دوڑانے کی اجازت نہیں ۔


امام ابو القاسم سلیمان ابن احمد طبرانی علیہ الرحمۃ سند صحیح کے ساتھ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : یکون بعدی اثنا عشر خلیفۃ ابو بکر صدیق لا یلبث بعدی الا قلیلا ۔

ترجمہ : میرے بعد بارہ خلفا ہوں گے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھوڑے دن ہی رہں گے پھر عمر فاروق اور عثمان غنی رضی اللہ عنہما کا ذکر فرمایا ۔ (المعجم الکبیر لطبرانی جلد 1 صفحہ 21 دار الکتب العلمیہ بیروت)(طبرانی اوسط جلد 8 صفحہ 319 مجمع الزوائد جلد 5 صفحہ 178)


مذکورہ بالا دلائل سے معلوم ہوا کہ بارہ خلفا سے مراد وہ خلفا ہیں جو والیانِ امت ہوں اور عدل و شریعت کے مطابق حکم کریں ۔ ان کا متصل ہونا ضروری نہیں اور نہ حدیث میں کوئی لفظ اس میں دلالت کرتا ہے کہ وہ متصل ہوں گے ۔ باقی اہل سنت و جماعت کو ان بارہ اماموں رضی اللہ عنہم کی ولایت میں ذرہ برابربھی شک نہیں وہ مرتبہ غوثیت کے حامل افراد ہیں اور حقیقت میں اہل سنت و جماعت کے امام ہیں لیکن اس حدیث مبارکہ کا مصداق نہیں ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)














Saturday, 13 June 2026

روایت وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ، لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ پر ایک تحقیقی نظر

روایت وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ، لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ پر ایک تحقیقی نظر

محترم قارئینِ کرام : یہ عاجز موضوع پر لکھنا نہیں چاہ رہا تھا مگر روافضی اور اُن کے آلہ کار تقیہ (یعنی جھوٹ) کی آڑ میں چھپے رافضی بار بار اس روایت کو کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں صدیق اکبر ہوں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان بنا کر پیش کر رہے ہیں اور یہ جھوٹ دھڑلے سے بولا جا رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر کہا ہے ۔ تو گذارش ہے کہ یہ ان کا اپنا قول ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان نہیں ہے ۔ اس جھوٹ کی سزا کیا ہے وہ احادیثِ مبارکہ میں موجود ہے ۔ انہوں نے اپنے بعد کا کہا ہے ، پہلے کی بات نہیں کی ۔ انہیں بھی پتہ تھا کہ مجھ سے پہلے بھی صدیق ہے ۔ اس لیے آپ کا یہ قول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد کا تھا ، نہ کہ ان کی صدیقیت کی نفی تھی ۔ اس سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صداقت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ کیونکہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود صدیق کا لقب عطا فرمایا ہے ۔ یاد رہے سارے صحابہ بشمول حضرت مولا علی رضی اللہ عنہم صدیق یعنی سچے ہیں اور صدیق اکبر امتِ مسلمہ کے نزدیک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ روافضی اور اُن کے آلہ کار ایک منکر اور باطل روایت پیش کرتے ہیں روایت یہ ہے : روایت سند و متن کے ساتھ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الرَّازِيُّ قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى قَالَ: أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ، لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ ، صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ لِسَبْعِ سِنِينَ ۔ (سنن ابن ماجہ فضل علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ جلد ۱ صفحہ ۸۷ رقم : ۱۲۰ مطبوعہ موسسة الرسالہ)


مندرجہ بالا روایت اور اس کے بعض راویوں پر ناقدین نے کلام کیا ہے ، پہلے ناقدین کے اقوال کی تفصیل درج کی جاتی ہے ، اس کے بعد ، ان ناقدین کے اقوال کی روشنی میں ، فیصلہ کیا جائے گا کہ حدیث کس نوعیت کی ہے  ، ملاحظہ کریں : ⏬


حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ۔ انا الصدیق الاکبر والی روایت امام جوزقانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں باطل ہے ۔ سند و متن کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں : امام جوزقانی نے معاذہ عدویہ کی اس روایت کو اپنی کتاب ’الأباطیل و المناکیر‘ میں باطل قرار دیا ہے، ساتھ ہی اس کی سند میں ایک راوی ابو الخطاب ہیں، انہیں مجہول و مضطرب الحدیث گردانا ہے ۔ الأباطیل و المناکیر میں ہے : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمُ بْنُ عِصَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمُ بْنُ عِصَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو فَاطِمَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، وَهُوَ يَقُولُ : أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ ۔ هَذَا حَدِيثٌ بَاطِلٌ ، وَأَبُو الْخَطَّابِ هَذَا مَجْهُولٌ مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ ۔ (الأباطيل و المناكير و الصحاح و المشاهير امام جوزقانی صفحہ ۲۹۳ ، ۲۹۴ مطبوعہ دار الصمیعی السعودیہ العربیہ)


حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ کی روایت : یہ روایت ، امیر المؤمین حضرت مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ سے موقوفا مروی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبد اللہ اسدی کوفی ہیں ۔ ان کے بارے میں امام ابن جوزی لکھتے ہیں : انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کچھ احادیث روایت کی ہیں ، جن پر ان کی متابعت نہیں کی جاتی ، امام ابن مدینی نے فرمایا : ضعیف الحدیث ہیں ۔ عباد بن عبد الله الْأَسدي روى عَن عَليّ أَحَادِيث لَا يُتَابع عَلَيْهَا قَالَ ابْن الْمَدِينِيّ ضَعِيف الحَدِيث ۔ (الضعفاء و المتروکین امام ابن جوزی جلد ۲ صفحہ ۷۵ ، رقم : ۱۷۸۰ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

مزید امام ابن جوزی نے فرمایا : امام احمد بن حنبل نے ان کی حدیث عن علی أنا الصدیق الأکبرکو رد کردیا اور فرمایا کہ وہ منکر ہیں اور ابن حزم نے کہا : مجہول ہیں ۔ قال ابن الجوزي ضرب ابن حنبل على حديثه عن علي أنا الصديق الأكبر وقال هو منكر وقال ابن حزم وهو مجهول ۔ (تہٍذیب التہذیب اما ابن حجر عسقلانی جلد ۵ صفحہ ۹۸ ، رقم : ۱۶۵ مطبوعہ دائرۃ المعارف النظامیۃ الھند،چشتی)


ان کے بارے میں امام بخاری نے سخت جرح کرتے ہوئے فرمایا : فیه نظر ۔ قال الْبُخَارِی : فِيهِ نظر ۔ (تہذیب الکمال فی أسماء الرجال امام مزی جلد ۱۴ صفحہ ۱۳۸ ، رقم : ۳۰۸۷ مطبوعی مؤسسۃ الرسالۃ)


امام ابن عدی نے انہیں الضعفاء میں ذکر کے ، امام بخاری کا قول فیه نظر درج کیا ہے ۔ يعد في الكوفيين سمع عليا سمع منه المنهال بن عَمْرو، فيه نظر ۔ سمعتُ ابنَ حماد يذكره عن البخاري ۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال امام ابن عدی جلد ۵ صفحہ ۵۵۳ ، رقم : ۱۱۷۴ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)


البتہ امام ابن حبان نے ان کو اپنی کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے ۔ و ذكره ابنُ حِبَّان في كتاب : الثقات ۔ (تہذیب الکمال فی أسماء الرجال امام مزی جلد ۱۴ صفحہ ۱۳۸ ، رقم : ۳۰۸۷ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ)


اور امام ابن حجر عسقلانی نے ان کے بارے قول فیصل یہ بیان فرمایا کہ یہ ضعیف ہیں ۔ عباد بن عبد الله الأسدي الكوفي ضعيف ۔ (التقریب امام ابن حجر عسقلانی صفحہ ۲۹۰ رقم : ۳۱۳۶ مطبوعہ دار الرشید، سوریا)


امام عقیلی نے اس روایت کو الضعفاء الکبیر میں ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اس روایت میں لین ہے ۔ الرِّوَايَةُ فِي هَذَا فِيهَا لِينٌ ۔ (الضعفاء الکبیر امام عقیلی جلد ۳ صفحہ ۱۳۷ مطبوعی رقم : ۱۱۲۰ مطبوہ دار المکتبۃ العلمیۃ بیروت)


امام ابن جوزی نے ان کی اس روایت کو موضوع قرار دینے کے بعد ، اس حدیث کو روایت کرنے میں عباد بن عبد اللہ کو ہی متہم قرار دیا ہے ، نیز امام ازدی علیہ الرحمۃ کا قول نقل کیا ہے کہ اسدی نے کچھ احادیث روایت کی ہیں ، جن پر ان کی متابعت موجود نہیں ۔ وَهَذَا مَوْضُوع وَالْمُتَّهَم بِهِ عباد بن عبد اللہ …… وَقَالَ الْأَزْدِيّ : روى أَحَادِيث لَا يُتَابع عَلَيْهَا ۔ (الموضوعات امام ابن جوزی جلد ۱ صفحہ ۳۴۱ مطبوعہ المکتبۃ السلفیۃ المدینۃ المنورۃ)


ان کی یہ روایت الکشف الحثیث عمن رمی بوضع الحدیث میں بھی مذکور ہے ۔ (الکشف الحثیث سبط ابن العجمی صفحہ ۱۴۴ رقم : ۳۶۳ مطبوع عالم الکتب بیروت)


اس سند کا حکم : اگرچہ امام ابن حبان نے عباد بن عبد اللہ کو اپنی کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے ، مگر عام طور سے ناقدین و محققین نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے بلکہ بعض محدثین نے ان کی سخت جرح کی ہے ، اس لیے ان کے بارے میں امام ابن حبان کی رائے مرجوح ، اور دیگر ناقدین کی رائے ، راجح قرار پائےگی ، اس لحاظ ان کی یہ سند شدید ضعیف نہ سہی ، ضعیف ضرور ہے ۔


اس روایت کے متعلق امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا یہ منکر ہے ، قال عليُّ بنُ أبي طالبٍ : أنا عبدُ اللهِ وأخو رسولِه ، وأنا الصِّدِّيقُ الأكبرُ ، لا يقولُها بعدي إلَّا كاذبٌ ، صلَّيت قبل النَّاسِ سبعَ سنين ۔ الراوي : عباد بن عبدالله الأسدي | المحدث : ابن الجوزي | المصدر : موضوعات ابن الجوزي ۔ (الصفحة أو الرقم: 2/98 | خلاصة حكم المحدث : موضوع)


عن عَلِيٍّ يقولُ أنا عَبدُ اللَّهِ وأَخو رَسولِهِ وأَنا الصِّدِّيقُ الأكْبَرُ لا يقولُها بعْدِي إلا كاذِبٌ مُفتِرٍ صَلَّيتُ قبلَ النَّاسِ بسبعِ سنينَ ۔ الراوي : عباد بن عبدالله الأسدي | المحدث : ابن كثير | المصدر : البداية والنهاية الصفحة أو الرقم: 3/25 | خلاصة حكم المحدث : منكر)


اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ : ⏬


(1) یہ باطل قول ہے اس میں عباد بن عبد اللہ کذاب راوی ہے ۔

(2) یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے حدیث رسول نہیں ہے اور ان کا اپنا قول بھ باطل اور منکر ہے ۔

افسوس کہ رافضی شیعہ اور تقیہ (یعنی جھوٹ) کی آڑ میں چھپے رافضیوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر ثابت کرنے کی کوشش ہے لیکن وہ بھی ان کے ایک باطل اور منکر غیر ثابت قول کے ساتھ ۔ اندازہ لگایا آپ نے کہ کس طرح غلط کو صحیح کہ رہے ہیں یہ رافضی شیعہ اور تقیہ (یعنی جھوٹ) کی آڑ میں چھپے رافضی حضرات ۔


بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ مولائے کائنات سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم صدیق اکبر ہیں ، اور بزعم خویش یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ آقائے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو ، صدیق اکبر ، اور فاروق اعظم ، کا لقب اپنی زبان رسالت سے عطا کیا ہے ۔ اور علمائے اہل سنت پہ یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے مولائے کائنات کی شان میں وارد اس فرمان کو ۔ کہ صدیق اکبر مولا علی ہیں ۔ چھپایا اور اپنی کتابوں میں جگہ نہ دی ۔


ان کا مذکورہ دعویٰ ہی کئی جہتوں سے قابل گرفت ہے لیکن ہم اس سے صرف نظر کرتے ہیں اور جس حدیث کے ذریعے یہ ثابت کیا گیا ہے اس کی اسنادی حیثیت کا جائزہ لیتے ہیں ۔

چوں کہ اس بات کی ضرورت اس لیے پڑی کہ اس کے ذریعے افضلیت عمرین کو ختم کرکے مولائے کائنات کو سب سے افضل قرار دینا ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم افضلیت پر ہونے والے حملے کا دفاع کریں ۔


وہ حدیث یہ ہے : عن أبي ذر الغفاري : سمعتُ النَّبيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم يقولُ لعليِّ بنِ أبي طالبٍ: أنت أوَّلُ من آمن بي، وأنت أوَّلُ من يصافحُني يومَ القيامةِ، وأنت الصِّدِّيقُ الأكبرُ، وأنت الفاروقُ، وتُفرِّقُ بين الحقِّ والباطلِ ، وأنت يعسوبُ المؤمنين، والمالُ يعسوبُ الكافرين ۔

مذکورہ بالا حدیث پر گفتگو کرتے ہوئے ایک تفضیلیت زدہ شخص نے اس کی کل ٦/ اسناد ذکر کی ہیں ۔ ١۔ حضرت ابوذر غفاری ٢۔ حضرت سلمان فارسی ٣۔ابو لیلیٰ غفاری ٤۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ٥۔ مولائے کائنات حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ ۔ ان کے الفاظ یہ ہیں : بعض سندیں خاص اہل بیت علیہم السلام کی سندیں ہیں اور وہ مولائے کائنات سے خود اس فرمان کو روایت کرتے ہیں اور مولا علی ان روایات کو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں ۔ ٦۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہم ۔

مذکورہ حدیث ان چھ راویوں سے مروی ہے ، ہر ایک کی روایت پر محدثین و ائمۂ جرح و تعدیل نے کہا فرمایا ہے ، ملاحظہ فرمائیں : ⏬


*١۔ عن ابی ذر الغفاری رضی اللہ عنہ*

ابن جوزی : "موضوع" (موضوعات ابن جوزی ١٠٢/٢)

امام ذہبی : "فیہ محمد بن عبید واہ، و علی بن ھاشم شیعی و عباد رافضی" (ترتیب الموضوعات ص١٠٠)

*١/٢۔ عن ابی ذر الغفاری و سلیمان الفارسی*

علامہ ابن کثیر : " منکرا جدا" ( جامع المسانید و السنن ٤٣٨٦)

امام ہیثمی : " فیہ عمرو بن سعید المصری و ھو ضعیف" (مجمع الزوائد ١٠٥/٩)

امام ابن حجر عسقلانی :" اسنادہ واھی ، و محمد متھم، و عباد من کبار الروافض، و ان کان صدوقا فی الحدیث" ( مختصر البزار ٣٠١/٣)

یہ استنادی حیثیت تھی پہلے اور دوسرے طریق کی ۔ اب تیسرے طریق کو ملاحظہ کیجیے ۔

*٣۔ أبو لیلیٰ الغفاری رضی اللہ عنہ*

ابن عبد البر :" فیہ اسحاق بن بشر ممن لایحتج بنقلہ اذا انفرد لضعفہ و نکارۃ حدیثہ" ( الستیعاب ٣٠٧/٤)

*٤۔ عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما*

عقیلی : " فیہ داھر بن یحییٰ الرازی کان ممن یغلو فی الروافض لایتابع علیہ حدیثہ" ( الضعفاء الکبیر ٢/ ٤٧)

ابن عدی : " فیہ عبد اللہ بن یحییٰ بن داھر عامۃ ما یرویہ فی فضائل علی و ھو متھم" ( ٥/ ٣٧٩)

ابن جوزی : " موضوع" (موضوعات ابن جوزی ٢/ ١٠٣)

امام ذہبی : " فیہ عبد اللہ بن داھر من غلاۃ القوم و ضعفائھم "( ترتیب الموضوعات ١٠٠)

ایضا قال : قد اغنی اللہ علیاََ أن تقرر مناقبہ بالأکاذیب و الاباطیل" ( میزان الإعتدال ٢/ ٤١٦)

" باطل" ( میزان الإعتدال ٢/ ٣،چشتی)

*٥۔ عن علی کرم اللہ وجہہ الکریم*

الجورقانی :" حبۃ لایساوی حبۃ کان غالباََ فی التشیع واھیا فی الحدیث" (الأباطیل و المناکیر ١/٢٩٤)

قال ایضاََ : " باطل " ( الأباطیل و المناکیر ٢٩٣)

ابن عساکر :" لا یتابع علیہ و لا یعرف سماع سلیمان بن معاذۃ" ( تاریخ دمشق ٤٢/ ٣٣)

ابن جوزی : " لا یصح" (العلل المتناھیۃ ٢/٩٤٤)

قال ایضاََ :" موضوع " (موضوعات ابن جوزی ٩٩/٢)

امام ذہبی : " کذب علیٰ علیٍ"( میزان الإعتدال ٢/ ٣٦٨)

*٦۔ عن ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ*

مذکورہ حدیث آپ سے مروی تلاش بسیار کے بعد بھی نہ ملی ۔


حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے میں، راوی عباد بن عبد اللہ کی ایک متابع موجود ہے اور وہ معاذہ عدویہ کی روایت ہے، مگر ان سے روایت کرنے والے راوی سلیمان بن عبد اللہ کا سماع، معاذہ عدویہ سے ثابت نہیں اور نہ ہی کسی نے یہ حدیث، معاذہ عدویہ سے روایت کرنے میں ان کی متابعت کی ہے۔

امام بخاری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: معاذہ عدویہ سے اس حدیث کو رویت کرنے میں سلیمان بن عبد اللہ کی متابعت نہیں کی جاتی اور معاذہ عدویہ سے سلیمان بن عبد اللہ کا سماع بھی نہیں جانا جاتا۔

التاريخ الكبير میں ہے : سُلَيْمَان بْن عَبْد اللَّه عَنْ معَاذة العدوية سَمِعت عليا أخا الصديق الأكبر، قَالَه بشر بْن يوسف عَنْ نوح بْن قيس سَمِعَ سُلَيْمَان، وَقَالَ لنا مُوسَى نا نوح نا سُلَيْمَان أَبُو فاطمة عَنْ معَاذة – بمثله، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّه: لا يتابع عليه ولا يعرف سماغ سُلَيْمَان من معَاذة‘‘۔ (التاریخ الکبیر، امام بخاری، ج۴ص۲۳، رقم: ۱۸۳۵، ط: دائرۃ المعارف العثمانیۃ، حیدر آباد)

امام عقیلی نے امام بخاری علیہ الرحمۃ کے اس قول کو اپنی کتاب ’الضعفاء الکبیر‘ میں نقل کیا ہے۔

الضعفاء الکبیر میں ہے : سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ. حَدَّثَنِي آدَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ الْبُخَارِيَّ قَالَ: سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ: ((أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ)) قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ، وَلَا يُعْرَفُ سَمَاعُ سُلَيْمَانَ مِنْ مُعَاذَةَ۔ وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي فَاطِمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ: ((أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ))‘‘۔ (الضعفاء الکبیر، امام عقیلی، ج۳ص۱۳۰، ط: رقم: ۶۱۶، ط: دار المکتبۃ العلمیۃ، بیروت)

امام ابن عدی نے بھی امام بخاری کے مندرجہ بالا قول کو اپنی ’الکامل فی ضعفاء الرجال‘ میں جگہ دی ہے، مزید فرمایا کہ راوی سلیمان، اسی حدیث سے مشہور ہیں، مجھے اس کے علاوہ ان کی کوئی حدیث معلوم نہیں اور ان کی اس روایت پر متابعت موجود نہیں جیسا کہ اما بخاری علیہ الرحمۃ نے فرمایا۔

الکامل فی ضعفاء الرجال میں ہے:سمعتُ ابْن حَمَّاد يَقُولُ: قال البُخارِيّ سليمان بْن عَبد الله عن معاذة العدوية سمعت علي قال أنا الصديق الأكبر، لاَ يُتَابَعُ عَليه، ولاَ يعرف سماع سليمان من معاذة۔

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ منصور القراطيسي، حَدَّثَنا عُبَيد اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الجسري، وَمُحمد بْن يَحْيى القطعي وزياد بْن يَحْيى الحساني قالوا، حَدَّثَنا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ عَن سليمان أبي فاطمة عن معاذة بنت عَبد اللَّه العدوية قالت سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يخطب على منبر البصرة، وَهو يقول أنا الصديق الأكبر آمنت قبل أن يؤمن أبو بكر وأسلمت قبل أن يسلم. قال ابنُ عَدِي وسليمان يعرف بهذا الحديث، ولاَ أعرف له غيره ولم يتابع على هذه الرواية كما قاله البخاري‘‘۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال، امام ابن عدی، ج۴ص۲۶۸، رقم: ۷۴۶، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

امام ابن عساکر نے بھی اپنی کتاب ’تاریخ دمشق‘ میں امام بخاری علیہ الرحمۃ کی رائے کو نقل کیا ہے کہ معاذہ سے اس حدیث کو روایت کرنے میں سلمان کی متابعت موجود نہیں اور معاذہ سے سلیمان کا سماع بھی معلوم نہیں۔

تاریخ دمشق میں ہے:أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل وأبو محمد السيدي وأبو القاسم زاهر بن طاهر قالوا أنا أبو سعد محمد بن عبد الرحمن الجنزرودي أنا عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب نا يوسف بن عاصم الرازي نا سويد بن سعيد نا نوح بن قيس عن سليمان بن عبد الله عن معاذة العدوية قالت سمعت عليا على منبر البصرة يخطب يقول أنا الصديق الاكبر آمنت قبل أن يؤمن أبو بكر وأسلمت قبل أن يسلم۔ أخبرنا أبو القاسم بن السمرقندي أنا أبو القاسم بن مسعدة أنا حمزة بن يوسف أنا أبو أحمد قال سمعت ابن حماد يقول: قال البخاري: سليمان بن عبد الله عن معاذة العدوية سمعت عليا قال أنا الصديق الأكبر، لا يتابع عليه ولا يعرف سماع سليمان من معاذة‘‘۔ (تاریخ دمشق، امام ابن عساکر، ج۴۲ص۳۲، ط: دار الفکر، بیروت)

امام ابن قیسرانی نے بھی امام بخاری اور امام ابن عدی کے کلام کو اپنی کتاب ’ذخیرۃ الحفاظ‘ میں ذکر کیا ہے۔

ذخیرۃ الحفاظ میں ہے:حَدِيث:أَنا الصّديق الْأَكْبَر، آمَنت قبل أَن يومن أَبُو بكر، وَأسْلمت قبل أَن يسلم. رَوَاهُ سُلَيْمَان بن عبد الله أَبُو فَاطِمَة: عَن معَاذَة بنت عبد الله العدوية قَالَت: سَمِعت عليا يخْطب على منبرالبصرة. وَسليمَان هَذَا لايعرف إِلَّا بِهَذَا الحَدِيث، وَلَا أعرف لَهُ غَيره، لم يُتَابع عَلَيْهِ، قَالَه البُخَارِيّ‘‘۔ (امام ابن القیسرانی، ج۱ص۴۹۹، رقم: ۷۵۱، ط: دار السلف، الریاض)

امام مزی علیہ الرحمۃ نے بھی اپنی کتاب ’تہذیب الکمال‘ میں راوی سلیمان بن عبد اللہ کے بارے میں امام بخاری علیہ الرحمۃ کی تنقید کو نقل کیا ہے۔

تہذیب الکمال میں ہے:سُلَيْمان بن عَبد اللَّهِ، أَبُو فاطمة. رَوَى عَن: معاذة العدوية (عس) قالت: سمعت علي بْن أَبي طالب يقول على منبر البصرة: أنا الصديق الأكبر، آمنت قبل أن يؤمن أَبُو بَكْر، وأسلمت قبل أن يسلم! رَوَى عَنه: نوح بْن قيس الحداني (عس) قال البخاري: لا يتابع عليه ولا يعرف إلا به، ولا يعرف سماع سُلَيْمان من معاذة۔ روى له النَّسَائي فِي ’مسند علي‘ هَذَا الْحَدِيث الواحد‘‘۔ (تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، امام مزی، ج۱۲ص۱۸، رقم: ۲۵۳۷، ط: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

بعض الفاظ میں تھوڑا اختلاف کے ساتھ، مندرجہ بالا تنقید، مندرجہ ذیل کتابوں میں بھی مذکور ہے : ⏬

المغنی فی الضعفاء میں ہے:عس سُلَيْمَان بن عبد الله عَن معَاذَة عَن عَليّ أَنا الصّديق الْأَكْبَر فِي الضُّعَفَاء للعقيلي وَقَالَ خَ لَا يُتَابع عَلَيْه‘‘ِ۔ (المغنی فی الضعفاء، امام ذہبی، ص۲۸۱، رقم: ۲۶۰۱، ط: ندارد)

میزان الاعتدال میں ہے:سليمان بن عبد الله. روى عن معاذة عن علي: أنا الصديق الاكبر. مذكور في كتاب العقيلي من رواية نوح بن قيس عن أبي فاطمة: سليمان بن عبد الله. قال البخاري: لا يتابع عليه. وذكره ابن عدي في الضعفاء‘‘۔ (میزان الاعتدال، امام ذہبی، ج۲ص۲۱۲، رقم: ۳۴۸۴، ط: دار المعرفۃ، بیروت)

تہذیب التہذیب میں ہے:سليمان بن عبد الله أبو فاطمة روى عن معاذ العدوية عن علي قال على منبر البصرة أنا الصديق الأكبر وعنه نوح بن قيس الحداني۔ قال البخاري: لا يتابع عليه ولا يعرف إلا به ولا يعرف له سماع من معاذة۔ قلت: وقال ابن عدي: لا أعرف له غيره ولا يتابع عليه كما قال البخاري‘‘۔(تہذیب التہذیب، امام ابن حجر عسقلانی، ج۴ص۲۰۴، رقم: ۳۴۸، ط: دائرۃ المعارف النظامیۃ، الھند)

العلل المتناھیۃ میں ہے:أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْحَافِظُ قَالَ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ قَالَ أَنَا الْعُتَيْقِيُّ قَالَ نا يُوسُفُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ نا الْعَقِيلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ قَالَ نا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ أَبِي فَاطِمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ قَالَتْ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ أَنَا الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ۔

قال الْمُؤَلِّفُ: “وَهَذَا لا يَصِحُّ قَالَ الْبُخَارِيّ لا يتابع سُلَيْمَان عليه ولا يعرف سماعه من معاذة‘‘۔ (العلل المتناھیۃ، امام ابن الجوزی، کتاب المتشبع من الروایات الوھیۃ عن الصحابۃ، ج۲ص۴۶۱، رقم: ۱۵۶۹، ط: إدارۃ الأثریۃ، فیصل آباد، پاکستان)

علامہ ابن کثیر، اس روایت کے متعلق، عدم صحت کے قول کی نسبت، امام بخاری کی طرف کرنے کےبعد، اس روایت کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تواترا ثابت ہے کہ آپ نے کوفہ کے منبر پر فرمایا: اے لوگو! بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد، اس امت میں سب سے بہتر، حضرت ابو بکر، پھر حضرت عمر ہیں اور اگر تیسرے فرد کا نام ذکر کرنا چاہتا؛ تو میں ان کا نام ذکر کردیتا۔

البدایۃ و النھایۃ میں ہے:وَقَالَ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ بن سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ قَالَتْ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ يَقُولُ: أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ ۔ وَهَذَا لَا يَصِحُّ قَالَهُ الْبُخَارِيُّ، وَقَدْ ثَبَتَ عَنْهُ بِالتَّوَاتُرِ أَنَّهُ قَالَ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ : أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ، ولو شئت أن أسمي الثالث لسميت ۔ (البدایۃ و النہایۃ، امام ابن کثیر، ج۷ص۳۷۰، ط: إحیاء التراث العربی)


اور امام جوزقانی نے معاذہ عدویہ کی اس روایت کو اپنی کتاب ’الأباطیل و المناکیر‘ میں باطل قرار دیا ہے، ساتھ ہی اس کی سند میں ایک راوی ابو الخطاب ہیں، انھیں مجہول و مضطرب الحدیث گردانا ہے۔الأباطیل و المناکیر میں ہے:أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمُ بْنُ عِصَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمُ بْنُ عِصَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو فَاطِمَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، وَهُوَ يَقُولُ: ((أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ)) هَذَا حَدِيثٌ بَاطِلٌ، وَأَبُو الْخَطَّابِ هَذَا مَجْهُولٌ مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ‘‘۔ (الأباطيل و المناكير و الصحاح و المشاهير، امام جوزقانی، ج۱ص۲۹۳، رقم: ۱۴۴، ط: دار الصمیعی،چشتی)

البتہ امام ابن حبان نے معاذہ عدویہ سے روایت کرنے والے راوی، سلیمان بن عبد اللہ کو اپنی کتاب ’الثقات‘ میں جگہ دی ہے۔

’’وذكره ابن حبان في الثقات‘‘۔(تہذیب التہذیب، امام ابن حجر عسقلانی، ج۴ص۲۰۴، رقم: ۳۴۸، ط: دائرۃ المعارف النظامیۃ، الھند)

اس سند کا حکم: یہ سند باطل و موضوع نہ سہی مگر ضعیف ضرور ہے۔


حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت کرنے میں عباد بن عبد اللہ کی ایک متابع، مزید موجود ہے اور وہ حبہ عرنی ہیں، مگر وہ غالی متشیع ہونے کے ساتھ، ضعیف بھی ہیں۔

امام جوزقانی، حبہ عرنی راوی کے بارے میں لکھتے ہیں: حبہ راوی، ایک حبہ کے بھی برابر نہیں، یہ تشیع میں غالی اور حدیث میں واہی ہیں۔

الأباطیل و المناکیر میں ہے:قَدْ رَوَى عَنْ: نُوحِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حِبَّةَ الْعَرَنِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: ((أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ أَبُو بَكْرٍ)) وَحِبَّةُ لَا يُسَاوِي حَبَّهً، كَانَ غَالِيًا فِي التَّشَيُّعِ، وَاهِيًا فِي الْحَدِيثِ‘‘۔(الأباطيل و المناكير و الصحاح و المشاهير، امام جوزقانی، ج۱ص۲۹۳، رقم: ۱۴۴، ط: دار الصمیعی)

نیز اسی روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن سلمہ ہیں، ان کے بارے میں امام ابن عدی فرماتے ہیں: محمد بن سلمہ، واھی الحدیث اور کوفہ کے متشیع میں شمار ہوتے ہیں۔ امام یحی نے فرمایا: حبہ کچھ نہیں اور امام ابن حبان نے فرمایا: یہ تشیع میں غالی تھے۔

العلل المتناھیۃ میں ہے:قال المؤلف:وقد رواه نوح عن مُحَمَّد بْن سلمة بْن كهيل عن أبيه عن حبة العرني۔ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: ’’مُحَمَّدُ بْنُ سلمة واهي الحديث ويعد من متشيعي الكوفة قال يَحْيَى: حبة ليس بشيء۔ قال ابن حبان: كان غاليًا فِي التشيع‘‘۔ (العلل المتناھیۃ، امام ابن الجوزی، کتاب المتشبع من الروایات الوھیۃ عن الصحابۃ، ج۲ص۴۶۱، رقم: ۱۵۶۹، ط: إدارۃ الأثریۃ، فیصل آباد، پاکستان،چشتی) ۔ اس سند کا حکم: یہ سند بھی ضعیف ہے۔


حضرت سلمان اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہما کی مرفوعا بھی روایت موجود ہے، مگر دونوں حضرات سے روایت کرنے والے راوی ابو سخیلہ ہیں اور یہ ضعیف ہیں۔

تاریخ دمشق میں ہے:أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسين أنا أبو الحسين بن المهتدي أنا علي بن عمر بن محمد الحربي نا أبو حبيب العباس بن محمد بن أحمد بن محمد البري نا ابن بنت السدي يعني إسماعيل بن موسى أنا عمرو بن سعيد البصري عن فضيل بن مروزق عن أبي سخيلة عن سلمان و أبي ذر، قالا: أخذ رسول الله (صلى الله عليه وسلم) بيد علي فقال ألا إن هذا أول من ٰامن بي وهذا أول من يصافحني يوم القيامة وهذا الصديق الأكبر وهذا فاروق هذه الأمة يفرق بين الحق والباطل وهذا يعسوب المؤمنين والمال يعسوب الظالمين۔ (تاریخ دمشق، امام ابن عساکر، ج۴۱ص۴۱، ط: دار الفکر، بیروت،چشتی)

مندرجہ بالا دونوں حضرات کی روایت میں ایک راوی ابو سخیلہ ہیں، یہ مجہول ہیں ۔ (تقریب التہذیب، امام ابن حجر عسقلانی، ص۶۴۳، رقم: ۸۱۱۵، ط: دار الرشید، سوریا)

اس سند کا حکم: یہ سند بھی راوی ابو سخیلہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔


حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ کی راویت کی مزید چار سندیں ہیں، مگر ہر ایک سند میں محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع ہیں، جو لیس بشیء ہونے کے ساتھ متہم بھی ہیں۔ (اللآلی المصنوعۃ فی الأحادیث الموضوعۃ، امام سیوطی، کتاب المناقب، ج۱ص۹۷، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت) اور امام ذہبی نے محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع کی سند کو واہی بھی قرار دیا ہے۔

تاریخ دمشق میں ہے:أخبرنا أبو القاسم بن المسرقندي أنا أبو الحسين عاصم بن الحسن أنا أبو عمر بن مهدي أنا أبو العباس بن عقدة نا محمد بن أحمد بن الحسن القطواني نا مخلد بن شداد نا محمد بن عبيد الله عن أبي سخيلة قال حججت أنا وسلمان فنزلنا بأبي ذر فكنا عنده ما شاء الله فلما حان منا حفوف قلت: يا أبا ذر إني أرى أمورا قد حدثت وإني خائف أن يكون في الناس اختلاف فإن كان ذلك فما تأمرني قال الزم كتاب الله عز وجل وعلي بن أبي طالب فأشهد أني سمعت رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يقول علي أول من امن بي وأول من يصافحني يوم القيامة وهو الصديق الأكبر وهو الفاروق يفرق بين الحق والباطل۔ اخر الجزء الثامن والثمانين بعد الأربعمائة من الفرع۔

نیز تاریخ دمشق ہی میں ہے:أخبرنا خالي القاضي أبو المعالي محمد بن يحيى القرشي أنا أبو الحسن علي بن الحسن بن الحسين أنا أبو العباس أحمد بن الحسين بن جعفر العطار قراءة عليه وأنا أسمع في سنة إحدى عشرة وأربعمائة نا أبو محمد الحسن بن رشيق العسكري نا أبو عبد الله محمد بن رزين بن جامع المديني سنة تسع وتسعين ومائتين نا أبو الحسين سفيان بن بشر الأسدي الكوفي نا علي بن هاشم بن البريد عن محمد بن عبيد الله بن أبي رافع عن أبيه عن علي بن أبي رافع عن أبي ذر أنه سمع رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يقول لعلي بن أبي طالب أنت أول من ٰامن بي وأنت أول من يصافحني يوم القيامة وأنت الصديق الأكبر وأنت الفاروق الذي يفرق بين الحق والباطل وأنت يعسوب المؤمنين والمال يعسوب الكفار۔ (تاریخ دمشق، امام ابن عساکر، ج۴۱ص۴۱، ط: دار الفکر، بیروت،چشتی)

تاریخ ابن ابی خیثمہ میں ہے:حَدَّثَنا عَبْد السَّلامِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ مُحَمَّد بْنِ عَبْد الله بن عُبَيْد الله بن أَبِي رَافِعٍ – مَوْلَى النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ: “أَنْتَ أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي وَأَنْتَ الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ‘‘۔ (تاریخ ابن ابی خیثمہ، ج۱ص۱۶۵، رقم: ۳۸۴، ط: الفاروق الحدیثۃ، قاہرہ)

سیر أعلام النبلاء میں ہے:أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بنُ أَحْمَدَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بنُ يَعْقُوْبَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بنُ أَحْمَدَ البُنْدَارُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بنُ أَبِي مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الصُّوْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بنُ عَمْرٍو البَزَّارُ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بنُ يَعْقُوْبَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ هَاشِمِ بنِ البَرِيْدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ عُبَيْدِ اللهِ بنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُوْلُ لِعَلِيٍّ: “أَنْتَ أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِي، وَأَنْتَ أَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُنِي يَوْمَ القِيَامَةِ، وَأَنْتَ الصِّدِّيْقُ الأَكْبَرُ، وَأَنْتَ الفَارُوْقُ يَفْرُقُ بَيْنَ الحَقِّ وَالبَاطِلِ، وَأَنْتَ يَعسُوبُ المُؤْمِنِيْنَ، وَالمَالُ يَعْسُوبُ الكَافِرِيْنَ” … إِسْنَادُهُ واهٍ‘‘۔ (سیر أعلام النبلاء، امام ذہبی، ج۱۶ص۳۲۶، ط: دار الحدیث، قاہرہ)

ان اسانید کا حکم: ضعیف بلکہ شدید ضعیف ہیں ۔


حضرت سلمان و ابوذر رضی اللہ تعالی عنہما کی روایت کے لیے، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی شاہد بھی موجود ہے، مگر اس کی سند میں ایک راوی عبد اللہ بن داہر رازی ہیں، وہ سخت مجروح ہیں، یہاں تک کہ ناقدین نےحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل میں حدیث گڑھ کر پیش کرنے میں انھیں کو متہم قرار دیا ہے، یہ بھی فرمایا کہ اس حدیث کو اس سند کے ساتھ، روایت کرنے میں ان کی متابعت نہیں کی جاتی بلکہ اس کو باطل بھی قرار دیا ہے اور امام ابن عدی نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اس بات سے بے نیاز کردیا ہے کہ ان کے مناقب کو اکاذیب و اباطیل سے ثابت کیا جائے۔

تاریخ دمشق میں ہے : أخبرنا أبو القاسم بن السمرقندي أنا أبو القاسم بن مسعدة أنا عبد الرحمن بن عمرو الفارسي أنا أبو أحمد بن عدي ناعلي بن سعيد بن بشير نا عبد الله بن داهر الرازي نا أبي عن الأعمش عن عباية عن ابن عباس قال ستكون فتنة فمن أدركها منكم فعليه بخصلتين كتاب الله وعلي بن أبي طالب فإني سمعت رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يقول وهو اخذ بيد علي هذا أول من امن بي وأول من يصافحني وهو فاروق هذه الأمة يفرق بين الحق والباطل وهو يعسوب المؤمنين والمال يعسوب الظلمة وهو الصديق الأكبر وهو بابي الذي أوتى منه وهو خليفتي من بعدي۔ قال ابن عدي عامة ما يرويه ابن داهر في فضائل علي هو فيه متهم۔

أخبرنا أبو البركات عبد الوهاب بن المبارك الأنماطي أنا أبو بكر محمد بن المظفر بن بكران الشامي نا أبو الحسن أحمد بن محمد العتيقي أنا أبو يعقوب محمد بن يوسف بن أحمد بن الدجيل نا أبو جعفر محمد بن عمرو العقيلي حدثني علي بن سعيد نا عبد الله بن داهر بن يحيى الرازي حدثني أبي عن الأعمش عن عبابة الأسدي عن ابن عباس عن النبي (صلى الله عليه وسلم) قال لأم سلمة يا أم سلمة إن عليا لحمه من لحمي ودمه من دمي وهو مني بمنزلة هارون من موسى غير أنه لا نبي بعدي وبإسناده عن ابن عباس قال ستكون فتنة فإن أدركها أحد منكم فعليه بخصلتين كتاب الله وعلي بن أبي طالب فإني سمعت رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يقول وهو اخذ بيد علي هذا أول من امن بي وأول من يصافحني يوم القيامة وهو فاروق هذه الأمة يفرق بين الحق والباطل وهو يعسوب المؤمنين والمال يعسوب الظالمين وهو الصديق الأكبر وهو بابي الذي أوتى منه وهو خليفتي من بعدي۔ قال أبو جعفر داهر بن يحيى الرازي كان يغلو في الرفض ولا يتابع على حديثه ۔ (تاریخ دمشق، امام ابن عساکر، ج۴۱ص۴۱‒۴۳، ط: دار الفکر، بیروت،چشتی)

میزان الاعتدال میں ہے:ذكر العقيلي من حديث عبد الله بن داهر، عن أبيه، عن الأعمش، عن عباية الأسدي، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: يا أم سلمة، إن عليا لحمه من لحمى، وهو بمنزلة هارون من موسى منى، غير أنه لا نبي بعدى ۔

قال ابن عباس : ستكون فتنة، فمن أدركها فعليه بخصلتين: كتاب الله، وعلي بن أبي طالب، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول – وهو آخذ بيد علي: هذا أول من آمن بى، وأول من يصافحني يوم القيامة، وهو فاروق هذه الأمة، يفرق بين الحق والباطل، وهو يعسوب المؤمنين، والمال يعسوب الظلمة، وهو الصديق الاكبر، وهو خليفتي من بعدى. فهذا باطل، ولم أر أحدا ذكر داهرا حتى ولا ابن أبي حاتم بلديه‘‘۔ (میزان الاعتدال، امام ذہبی، ج۲ص۳، رقم: ۲۵۸۷، ط: دار المعرفۃ، بیروت)

میزان الاعتدال میں ہے:عبد الله بن داهر بن يحيى بن داهر الرازي، أبو سليمان المعروف بالاحمرى. عن أبيه. وعنه أحمد بن أبي خيثمة. قال أحمد ويحيى: ليس بشئ. قال: وما يكتب حديثه إنسان فيه خير. وقال العقيلي: رافضي خبيث. وقيل: اسمه عبد الله بن محمد.

وقال ابن عدي: حدثنا على ابن سعيد [بن بشير]، حدثنا ابن داهر، حدثنا أبي، عن ابن أبي ليلى، عن الحكم، عن إبراهيم، عن علقمة والأسود، عن ابن مسعود، قال: بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم أقبل نفر من بنى هاشم أو فتية، فلما رآهم تغير، فقلت: ما نزال نرى في وجهك ما نكره! فقال: إنا أهل بيت اختار الله لنا الآخرة على الدنيا، وأهل بيتى هؤلاء سيلقون بعدى بلاء، حتى يجئ قوم من ها هنا من قبل المشرق أصحاب رايات سود، يسألون الحق فلا يعطونه.قال: فيقاتلون فينصرون فيعطون ما سألوا فلا يقبلون، ثم يعطون ما سألوا فلا يقبلونه، حتى يدفعونها إلى رجل من أهل بيتى يملؤها قسطا كما ملئت [جوراو] ظلما، فمن أدرك منكم ذلك الزمان فليجئهم ولو حبوا على الثلج.

وبه: حدثنا أبي، عن الأعمش، عن عباية الأسدي، عن ابن عباس – مرفوعاً: يا أم سلمة، إن عليا لحمه من لحمى، ودمه من دمى..الحديث. وبه: عن ابن عباس: ستكون فتنة، فمن أدركها فعليه بالقرآن وعلي بن أبي طالب، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو آخذ بيد علي يقول: هذا أول من آمن بى وأول من يصافحني، وهو فاروق الأمة، وهو يعسوب المؤمنين، والمال يعسوب الظلمة، وهو الصديق الاكبر، وهو خليفتي من بعدى. قال ابن عدي: عامة ما يرويه في فضائل علي، وهو متهم في ذلك. قلت: قد أغنى الله عليا عن أن تقرر مناقبه بالاكاذيب والاباطيل۔ (میزان الاعتدال، امام ذہبی، ج۲ص۴۱۷، رقم: ۴۲۹۶، ط: دار المعرفۃ، بیروت)

اس سند کا حکم: شدید ضعیف بلکہ باطل ہے ۔


ایک شاہد مزید موجود ہے، جو حضرت ابو لیلی غفاری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، مگر ان کی روایت میں بھی ایک راوی اسحاق بن بشر ہیں، جو ضعیف ہونے کی وجہ سے قابل احتجاج نہیں۔

الاستیعاب میں ہے:أَبُو ليلى الغفاري، لا يوقف له عَلَى اسم. من حديثه مَا رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْغِفَارِيِّ، قَالَ:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: سَتَكُونُ بَعْدِي فِتْنَةٌ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَالْزَمُوا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَنْ يَرَانِي، وَأَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، هُوَ الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ، وَهُوَ فَارُوقُ هَذِهِ الأُمَّةِ، يُفَرِّقُ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، وَهُوَ يَعْسُوبُ الْمُؤْمِنِينَ، وَالْمَالُ يَعْسُوبُ الْمُنَافِقِينَ. وَإِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ مِمَّنْ لا يُحْتَجُّ بِنَقْلِهِ إِذَا انْفَرَدَ لِضَعْفِهِ وَنَكَارَةِ حديثه‘‘۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، امام ابن عبد البر، ج۴ص۱۷۴۴، رقم: ۳۱۵۷، ط: دار الجیل، بیروت)

اسد الغابۃ میں ہے:أبو ليلى الغفاري، لا يوقف له على اسم. وحديثه: ما رواه إسحاق بن بشر، عن خالد بن الحارث، عن عوف، عن الحسن، عن أبي ليلى الغفاري قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ستكون بعدي فتنة، فإذا كان ذلك فالزموا علي بن أبي طالب، فإنه أول من يراني، وأول من يصافحني يوم القيامة، وهو الصديق الأكبر، وهو فاروق هذه الأمة، يفرق بين الحق والباطل، وهو يعسوب المؤمنين. أخرجه الثلاثة، وقال أبو عمر: إسحاق بن بشر ممن لا يحتج بحديثه إذا انفرد، لضعفه ونكارة حديثه ۔ (اسد الغابۃ، امام ابن اثیر، ج۵ص۲۷۰، رقم: ۶۲۰۷، ط: دار الفکر، بیروت)


مندرجہ بالا تفصیلی بیان سے واضح ہو گیا ، سنن ابن ماجہ کی مذکورہ بالا حدیث ضعیف ہے اور اس حدیث کے جتنی متابعات و شواہد ہیں، سب ضعیف یا شدید ضعیف یا پھر باطل ہیں ۔ باطل سے احتجاج ممکن نہیں ، ہاں جمہور محدثین علیہم الرحمہ کے نزدیک ، ضعیف سے احتجاج ممکن ہے ، کیوں کہ اس مسئلہ کا تعلق ، فضائل سے ہے۔ نیز وہ متابعات، جو ضعیف کی حد تک ہیں ، ان کی بنیاد پر زیر بحث حدیث کو حسن لغیرہ بھی کہا جا سکتا ہے ، اور اس صورت میں اس حدیث سے بالاتفاق، احتجاج جائز و درست ہوگا۔ شاید انہیں دونوں وجوہات کی بنیاد پر ، بعض محدثین نے زیر بحث روایت کی توجیہ کی ہے تاکہ کسی طرح کا کوئی تعارض و تدافع نہ رہ جائے ۔ وہ توجیہات ذیل میں ملاحظہ کریں : ⏬


حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے اس جملے کی ایک توجیہ، امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے یہ فرمائی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مندرجہ بالا قول سے مستثنی ہیں ۔

شرح سنن ابن ماجہ میں ہے : قَوْله: لَا يَقُولهَا أَي جملَة انا الصّديق الْأَكْبَر بعدي إلا كَذَّاب۔ الظَّاهِر وَالله أعْلَم أَنه اسْتثْنى بقوله: بعدي، أَبَا بكر الصّديق رَضِي الله عنه، لَا إلى صديقيه الْكُبْرَى حصلت لَهما؛ لِأَنَّهُمَا رَضِي اللہ عنهما آمنا برَسُول اله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمُجَرَّد نزُول الْوَحْي لَكِن الصّديق كَانَ عَاقِلا بالغا وَعلي كَانَ صبيان ۔ (شرح سنن ابن ماجہ، امام سیوطی، باب اتباع السنۃ، ص۱۲، ط: قدیمی کتب خانہ، کراچی،چشتی) ، یعنی حضرت مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے قول: ’’بعدی‘‘ یعنی میرے بعد سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا استثنا کیا ہے؛ لہذا آپ کے اس جملہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ شامل نہیں؛ کیوں کہ آپ کو پہلے ہی سے صدیق اکبر کا رتبہ حاصل ہوچکا تھا اور حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ نے جس صدیق اکبر کے مدعی کی تکذیب فرمائی ہے، وہ اپنے بعد والوں کے لیے فرمائی ہے؛ تو آپ سے پہلے جو حاصل کرچکے، آپ کا یہ جملہ، انھیں شامل نہیں، ہاں بعد والوں کو شامل ہے؛ لہذا آپ کے بعد والوں میں سے اب کوئی نہیں بول سکتا، اگر بولےگا؛ تو وہ مجرم ہوگا اور اس کی تکذیب ہوگی، نہ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی جو پہلے ہی صدیق اکبر کا تمغا حاصل کرچکے ہیں؛ کیوں کہ اگر حضرت علی مشکل کشا رضی اللہ تعالی عنہ کا مطلقا استثنا کرنا مقصود ہوتا؛ تو آپ ’’بعدی‘‘ نہ بولتے بلکہ ’’دونی‘‘ یا ’’سوای‘‘ یا ’’غیری‘‘ وغیرہ کوئی ایسا لفظ بولتے، جو آپ سے قبل اور بعد، سب لوگوں کو شامل ہوتا؛ لہذا ’’بعدی‘‘ بولنا، اس بات پر واضح طور پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کے اس جملے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ شامل نہیں بلکہ وہ مستثنی ہیں ۔

البتہ اس جملے میں اس صدیقیت کبری کا استثنا نہیں ہے ، جو دونوں کو حاصل ہے؛ کیوں کہ دونوں حضرات، نزول وحی کے فورا بعد، ایمان لے آئے اور تصدیق کرنے میں ذرا دیر، توقف نہیں کیا اور صدیق یہ مبالغہ کا صیغہ ہے؛ تو مطلب یہ ہوا کہ زیادہ تصدیق کرنے والا، اور زیادہ تصدیق جب ہی ہوگی کہ توقف نہ کیا جائے بلکہ فورا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کرے اور یہ دونوں حضرات کو حاصل ہے، بس فرق اتنا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اس وقت بڑے اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بچے تھے۔

دوسری توجیہ، شیخ علامہ نور الدین سندی علیہ الرحمۃ نے کی ہے، وہ یہ ہے کہ اگرچہ صدیق اکبر کا استعمال، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کےلیے غالب ہے ، مگر اس کا مفہوم ، آپ ہی کی ذات میں منحصر نہیں بلکہ دوسرے کے لیے بھی حاصل ہے، جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں فرمایا کہ : یہ صدیق اکبر ہیں ۔ حاشیۃ السندی علی سنن ابن ماجہ میں ہے :  وَاسْمُ الصِّدِّيقِ وَإِنْ غَلَبَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ ۔ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ۔ لَكِنَّ مَفْهُومَهُ غَيْرُ مُنْحَصِرٍ فِيهِ وَقَدْ سَبَقَ مَا جَاءَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ مَرْفُوعًا أَيْضًا فِيمَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ كَمَا رَوَاهُ الْعُقَيْلِيُّ فِي الضُّعَفَاءِ وَابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ فِي مَنَاقِبِ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ـ قَالَ : هَذَا أَوَّلُ مَنْ آمَنَ وَأَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهَذَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ۔ (حاشیۃ السندی، نور الدین سندی، باب فضائل العشرۃ رضی اللہ عنہم، ج۱ص۶۲، ط: دار الجیل، بیروت)

یعنی صدیق کا نام ، اگرچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے بولا جانا غالب ہے، لیکن اس کا مفہوم ، آپ ہی کی ذات میں منحصر نہیں ، کیوں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: میں صدیق اکبر ہوں، نیز مرفوعا بھی یہ حدیث مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ صدیق اکبر ہیں ۔

تلاش و جستجو کے باوجود بھی ، حاشیۃ السندی میں موجود ، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ، اس عاجز کو امام طبرانی کی کتاب المعجم الصغیر ، المعجم الأوسط اور المعجم الکبیر میں نہیں مل سکی ۔


اس پوری تفصیل کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ مذکورہ حدیث اس قابل نہیں کہ اس کو بیان کیا جائے اور یہی وجہ بنی کہ علمائے اہل سنت نے اس کو اپنی کتابوں میں جگہ نہیں دی بلکہ مولائے کائنات کی شان میں وارد صحیح اور قابل بیان احادیث خوب نقل کیں جن کو پڑھ کر مولائے کائنات کی فضیلت و عظمت اور رفعت شان کا اعتراف ہر صاحب فہم کرے گا ۔ اور کئی علما نے لکھا کہ اس حدیث کا ایک راوی غالی رافضی ہے اور یہ بات بھی علما نے لکھی ہے کہ رافضیوں نے مولائے کائنات اور اہل بیت نبوت کی شان میں تین لاکھ حدیثیں گڑھی ہیں (معاذ اللہ) ۔ کیا بعید کہ ان تین لاکھ میں سے یہ بھی ایک ہو ۔ اور اس کو ایسے ہی لوگ بیان کرتے ہیں جن کی نگاہ میں سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کی افضلیت کھٹکتی ہے ۔ اور اس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں کہ ہمارے علما نے مولائے کائنات کی شان بیان کرنے میں کوتاہی کی ہے (معاذ اللہ رب العالمین) اور پھر لوگ علمائے اہل سنت سے دور ہوں گے اور رافضیت کے قریب ہوں گے ۔ اللہ کی پناہ اللہ ایسے لوگوں سے سنی مسلمانوں کی حفاظت فرما ۔ آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔
















صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم کون ہے ؟ کہنے والوں کو یہ ارشاداتِ مبارکہ ٹھنڈے دل سے ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے

صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم کون ہے ؟ کہنے والوں کو یہ ارشاداتِ مبارکہ ٹھنڈے دل سے ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے اور پھر سوچنا چاہیے کہ مرشدِ گرامی ع...