Sunday, 15 February 2026

آنکھ کے بدلے آنکھ ، قصاص میں قوموں اور لوگوں کی زندگی ہے

آنکھ کے بدلے آنکھ ، قصاص میں قوموں اور لوگوں کی زندگی ہے

محترم قارئینِ کرام اللہ عزوجل کا فرمان ہے : وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِۙ ۔ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّۙ ۔ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌؕ ۔ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗؕ ۔ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (سورة المائدة آیت نمبر 45)

ترجمہ : اور ہم نے توریت میں ان پر واجب کیا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے پھر جو دل کی خوشی سے بدلہ کراوے تو وہ اس کا گناہ اتار دے گا اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں ۔


اس آیتِ مبارکہ میں اگرچہ یہ بیان ہے کہ توریت میں یہودیوں پر قصاص کے یہ احکام تھے لیکن چونکہ ہمیں اُن کے ترک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا اس لیے ہم پر بھی یہ احکام لازم رہیں گے کیونکہ سابقہ شریعتوں کے جو احکام اللہ تعالیٰ ا و رسولِ کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان سے ہم تک پہنچے اور مَنسوخ نہ ہوئے ہوں وہ ہم پر لازم ہوا کرتے ہیں جیسا کہ اُوپر کی آیت سے ثابت ہوا ۔ آیت میں زخموں کے، اعضاء کے اور جان کے قصاص کا حکم بیان فرمایا گیا،اَعضاء اور زخموں کے قصاص میں کافی تفصیل ہے جس کےلیے فقہی کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے اور جان کے قصاص کا حکم یہ ہے کہ اگر کسی نے کسی کو قتل کیا تو اس کی جان مقتول کے بدلے میں لی جائے گی خواہ وہ مقتول مرد ہو یا عورت ، آزاد ہو یا غلام ، مسلم ہو یا ذمّی۔ حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ مرد کو عورت کے بدلے قتل نہ کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (تفسیر مدارک التنزیل صفحہ ۲۸۷)


امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : ابن جریج بیان کرتے ہیں جب بنو قریظہ نے یہ دیکھا کہ یہود اپنی کتاب میں رجم کو چھپاتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے درمیان رجم کا فیصلہ کردیا تو بنو قریظہ نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان اور ہمارے بھائی بنو نضیر کے درمیان فیصلہ کر دیجیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تشریف لانے سے پہلے بنو نضیر اپنے آپ کو بنو قریظہ سے افضل ‘ برتر اور عزت دار سمجھتے تھے ۔ اگر بنونضیر میں سے کوئی شخص قتل کردیتا ‘ تو اس سے پوری دیت لیتے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قریظی کا خون نضیری کے برابر ہے ۔ یہ سن کر بنو نضیر غضب ناک ہوگئے اور انہوں نے کہا ہم رجم کے معاملہ میں آپ کی اطاعت نہیں کریں گے اور ہم اپنی ہی حدود کو جاری کریں گے ‘ جن پر پہلے عمل کرتے تھے ۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کیا تم جاہلیت کے حکم کو طلب کررہے ہو ؟ ۔ (سورہ المائدہ آیت نمبر ٥٠) ۔ اور یہ آیت نازل ہوئی اور ہم نے ان پر تورات میں یہ فرض کیا تھا کہ جان کا بدلہ جان اور آنکھ کا بدلہ آنکھ ۔ (الایہ)


اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مطلقاً فرمایا ہے کہ جان کا بدلہ جان ہے اور اس میں مسلمان یا کافر کی قید نہیں لگائی ۔ اس لیے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی مسلمان نے ذمی کافر کو قتل کردیا ‘ تو اس کے بدلہ میں مسلمان کو قتل کر دیا جائے گا ‘ جیسا کہ اس آیت کے عموم اور اطلاق سے واضح ہوتا ہے اور امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ علیہم یہ فرماتے ہیں کہ ذمی کافر کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا ۔ اس کا استدلال اس حدیث سے ہے : امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ عنہ متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ کے پاس ایسی کوئی چیز ہے جو قرآن میں نہ ہو ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے دانے کو چیرا اور روح کو پیدا کیا ‘ ہمارے پاس قرآن کے سوال اور کوئی چیز نہیں ہے ۔ ماسوا اس فہم کے جو قرآن کو سمجھنے کےلیے دی گئی ہے ‘ اور ماسوا اس کے جو اس صحیفہ میں ہے ۔ میں نے پوچھا اس صحیفہ میں کیا ہے ؟ فرمایا : دیت اور قیدیوں کو چھڑانے کے احکام اور یہ حکم کہ مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا ۔ (صحیح البخاری جلد ١ رقم الحدیث : ١١١ جلد ٤ رقم الحدیث : ٣٠٤٧ جلد ٨ رقم الحدیث : ٦٩٠٣،چشتی)(سنن ترمذی جلد ٣ رقم الحدیث : ١٤١٧)(سنن نسائی رقم الحدیث : ٤٧٥٨)(سنن ابن ماجہ جلد ٢ رقم الحدیث : ٢٦٥٨)(مسند احمد جلد رقم الحدیث : ٩٩٣ ۔ ١٩٩١)


امام اعظم رضی اللہ عنہ اس حدیث کا یہ جواب دیتے ہیں کہ اس حدیث میں کافر سے مراد کافر حربی ہے ‘ یعنی کافر حربی کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا ‘ تاکہ قرآن مجید اور حدیث میں تعارض نہ ہو اور قرآن کے عموم کو مقیدم کرنے کے بجائے حدیث کو مقید کرکے قرآن مجید کے تابع کرنا اصول کے مطابق ہے ۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ کی تائید میں حسب ذیل احادیث ہیں : ⏬


امام علی بن عمر دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٣٨٥ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مسلمان کو ایک معاہد (جس کافر سے معاہدہ ہوا ہو) کے بدلہ میں قتل کردیا اور فرمایا جو لوگ اپنے معاہدہ کو پورا کرتے ہیں ‘ میں ان میں سب سے بڑھ کر کریم ہوں ۔ (سنن دارقطنی جلد ٣ رقم الحدیث : ٣٢٣٢‘چشتی)(سنن کبری للبیہقی جلد ٨ صفحہ ٣٠)


عبدالرحمن بن المبلیمانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسلمان سے قصاص لیا جس نے ایک یہودی کو قتل کردیا تھا ۔ رمادی نے کہا مسلمان سے ذمی کا قصاص لیا اور فرمایا : جو لوگ اپنے عہد کو پورا کریں ‘ میں ان میں سب سے زیادہ کریم ہوں ۔(سنن دارقطنی جلد ٣ رقم الحدیث : ٣٢٣٣)


عبدالرحمن بن المبلیمانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ذمی کے بدلہ میں اہل قبیلہ کے ایک شخص کو قتل کردیا اور فرمایا : جو لوگ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں میں ان میں سب سے زیادہ کریم ہوں ۔ (سنن دارقطنی جلد ٣ رقم الحدیث : ٣٢٣٤)


ہر چند کہ ان احادیث کی اسانید ضعیف ہیں ‘ لیکن تعدد اسانید کی وجہ سے یہ احادیث حسن لغیرہ ہیں اور لائق استدلال ہیں ‘ جبکہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا اصل استدلال قرآن مجید سے ہے ‘ اور یہ احادیث تائید کے مرتبہ میں ہیں ۔


قرآن مجید نے تورات کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ جان کا بدلہ جان ہے ۔ (الخ) یہ آیات اب بھی تورات میں موجود ہیں : اور جو کوئی کسی آدمی کو مار ڈالے وہ ضرور جان سے مارا جائے ‘ اور اگر کوئی شخص اپنے ہمسایہ کو عیب دار بنادے تو جیسا اس نے کیا ویسا ہی اس سے کیا جائے۔ یعنی عضو توڑنے کے بدلہ میں عضو توڑنا ہو اور آنکھ کے بدلہ میں آنکھ اور دانت کے بدلہ میں دانت ‘ جیسا عیب اس نے دوسرے آدمی میں پیدا کردیا ہے ‘ ویسا ہی اس میں بھی کردیا جائے ۔ (پرانا عہد نامہ ‘ باب : ٢٤ آیت ٢١۔ ٢٠۔ ١٨‘ کتاب مقدس صفحہ ١١٨ مطبوعہ لاہور)


سینکڑوں سال گزر گئے ‘ تورات میں بہت زیادہ تحریفات کی گئی ہیں ۔ اس کے باوجود قرآن مجید نے تورات کی جس آیت کا حوالہ دیا ہے ‘ وہ آج بھی تورات میں اسی طرح موجود ہے ‘ اور یہ قرآن مجید کے صادق اور برحق ہونے کی بہت قوی دلیل ہے ‘ حالانکہ یہودی اس آیت کو تورات سے نکال سکتے تھے اور پھر مسلمانوں سے کہتے کہ قرآن نے یہ کہا ہے کہ تورات میں یہ حکم ہے حالانکہ تورات میں یہ حکم نہیں ہے ‘ لیکن وہ ایسا نہ کرسکے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے مخالفین کے ہاتھوں سے اس آیت کی حفاظت کرائی جو قرآن مجید کی مصدق ہے ۔ 


امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : آنکھ کا بدلہ آنکھ ہے ‘ ہمارے نزدیک اس کا یہ معنی ہے کہ ایک آنکھ پر پٹی باندھ دی جائے اور شیشہ گرم کر کے دوسری آنکھ پر رکھ دیا جائے ‘ حتی کہ اس کی روشنی چلی جائے۔ کیونکہ جس شخص نے کسی کی آنکھ نکالی ہے ‘ اس کی آنکھ اور جس کی آنکھ نکالی گئی ہے ‘ اس کی آنکھ دونوں بالکل مساوی نہیں ہیں ‘ اس لیے اگر مجنی علیہ کی آنکھ کے بدلہ میں میں جانی کی آنکھ نکال دی جائے ‘ تو پورا بدلہ نہیں ہوگا ‘ اور قیاس کا تقاضا پورا نہیں ہوگا ۔ کیونکہ قصاص کا معنی ہے کسی شئے کی مثل لینا ۔ اسی طرح پوری ناک میں بھی قصاص متصور نہیں ہے ‘ کیونکہ ہڈی میں قصاص نہیں ہوتا۔ البتہ اگر ناک کا صرف نرم حصہ کاٹا ہے تو اس میں قصاص لیاجائے گا۔ امام ابو یوسف نے کہا ہے ‘ کہ اگر ناک جڑ سے کاٹ دی گئی ہے تو اس میں قصاص لیاجائے گا ۔ اسی طرح آلہ تناسل اور زبان میں بھی قصاص لیا جائے گا ‘ اور امام محمد نے کہا ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی کی ناک ‘ زبان یا آلہ کو جڑ سے کاٹ دیا ہے تو اس میں قصاص نہیں لیا جائے گا ۔ (کیونکہ یہ اعضاء دوسرے اعضاء کی مثل اور مساوی نہیں ہوتے) اگر کان کاٹ دیا جائے تو اس میں قصاص لیا جائے گا ۔ اسی طرح دانت میں بھی قصاص لیا جائے گا اور دانت کے علاوہ اور کسی ہڈی میں قصاص نہیں لیا جائے گا۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ‘ ٤٣٣ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ١٤٠٠ ھ،چشتی)


قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی شافعی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٦٨٥ ھ لکھتے ہیں : آنکھ کے بدلہ آنکھ ‘ ناک کے بدلہ ناک ‘ کان کے بدلہ کان اور دانت کے بدلہ دانت کو نکال دیا جائے گا۔ (انوار التنزیل مع الکازرونی ‘ ج ٢ ص ٣٢٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٦ ھ)


علامہ عبداللہ بن قدامہ مقدسی حنبلی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ عنہ کے نزدیک بھی ان اعضاء میں قصاص لیا جائے گا۔ (الکافی فی فقہ الامام احمد ‘ ج ٣‘ ص ٢٦١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)


علامہ قرطبی مالکی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٦٦٨ ھ نے لکھا ہے کہ ان اعضا کے قصاص میں ظاہر قرآن پر عمل کرنا اولی ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن ‘ جز خامس ‘ ص ١٣٩ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)


بدلہ نہ لینے کی فضلیت : ⏬


اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اگر جنایت (جرم) کرنے والے نے تائب ہو کر خود کو خوشی کے ساتھ حد کے لیے پیش کردیا تو اس کا یہ عمل اس کے گناہ کا کفارہ ہوجائے گا ۔ امام مسلم  رحمۃ اللہ علیہ حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے عہد لیا ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ‘ چوری نہ کریں ‘ زنا نہ کریں ‘ زنا نہ کریں ‘ اور کسی کو ناحق قتل نہ کریں ۔ جس نے یہ عہد پورا کیا ‘ اس کا اجر اللہ کے ذمہ (کرم) پر ہے اور جس نے ان میں سے کوئی کام کیا اور اس پر حد جاری ہوئی تو یہ اس کے گناہ کا کفارہ ہے ۔ (صحیح مسلم ‘ حدود ٤١‘ صحیح بخاری ‘ ٦٧٨٤) اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ اگر بدلہ لینے والے نے جنایت (جرم) کرنے والے کو معاف کر دیا اور اس سے بدلہ نہ لیا تو اس کا یہ عمل اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا ۔


قرآن مجید میں اس کی تائید میں یہ آیت ہے : فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ ۔ (الشوری آیت نمب ٤٠) 

ترجمہ : سو جس نے معاف کر دیا اور اصلاح کی اس کا اجر اللہ کے ذمہ (کرم) پر ہے ۔


اور اس کی تائید میں حسب ذیل احادیث ہیں : ⏬


امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : ابو السفر بیان کرتے ہیں کہ قریش کے ایک شخص نے انصار کے ایک شخص کا دانت توڑ دیا ‘ انصاری نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس مقدمہ پیش کیا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : ہم تمہیں راضی کریں گے۔ اس قریشی نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بہت منت سماجت کی کہ اس سے بدلہ نہ لیا جائے ‘ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس انصاری کو بہت سمجھایا ‘ لیکن اس کو بدلہ نہ لینے پر راضی نہ کر سکے ۔ پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا تم اس سے بدلہ لے لو ۔ اس مجلس میں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے ‘ جس کو میں نے اپنے کانوں سے خود سنا اور میرے دل نے یاد رکھا ۔ آپ نے فرمایا : جس شخص کو جسم میں کوئی تکلیف پہنچے اور وہ اس کو صدقہ کر دے تو اللہ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے ۔ انصاری نے پوچھا کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خود یہ حدیث سنی ہے ۔ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے اپنے کانوں سے خود سنا اور میرے دل نے یاد رکھا ۔ تب انصاری نے کہا : میں اس کا بدلہ چھوڑتا ہوں ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہم تمہیں کبھی محروم نہیں کریں گے ‘ پھر اس کو مال دینے کا حکم دیا ۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٩٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٩٣‘چشتی،مسند احمد ج ١٠‘ رقم الحدیث :‘ ٢٧٦٠٤‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨‘ ص ٥٥‘ جامع البیان ‘ جز ٦ ص ٣٥٣)


نیز امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کے جسم میں کوئی زخم لگے اور وہ اس کو صدقہ کردے تو اللہ تعالیٰ اس صدقہ کے برابر اس کے گناہ مٹا دے گا ۔ (علامہ احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ مسند احمد ‘ بتحقیق احمد شاکر ‘ رقم الحدیث : ٢٢٦٩١۔ ٢٢٦٠٠‘ مطبوعہ دارالحدیث : قاہرہ)


جو قاتل یا جرم کرنے والا اپنے جرم پر نادم ہو کر گناہ کے وبال سے بچنے کےلیے بخوشی اپنے اوپر حکم شرعی جاری کرائے تو قصاص اس کے جرم کا کفارہ ہو جائے گا اور آخرت میں اُس پر عذاب نہ ہوگا ۔ (تفسیر جمل مع جلالین جلد ۲ صفحہ ۲۲۸)


بعض مفسرین نے اس کے معنیٰ یہ بیان کیے ہیں کہ جو صاحبِ حق قصاص کو معاف کر دے تو یہ معافی اس کےلیے کفارہ ہے ۔ (تفسیر مدارک التنزیل صفحہ ۲۸۷)


دونوں تفسیروں کے اعتبار سے ترجمہ مختلف ہو جائے گا ۔ تفسیر احمدی میں ہے یہ تمام قصاص جب ہی واجب ہونگے جب کہ صاحبِ حق معاف نہ کرے اگروہ معاف کر دے تو قصاص ساقط ہو جائے گا ۔ (تفسیر احمدی صفحہ ۳۵۹)


قصاص میں قوموں اور لوگوں کی زندگی ہے : ⏬


ارشادِ باری تعالیٰ ہے : وَلَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ (سورہ آیت نمبر 179)

ترجمہ : اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقلمندو کہ تم کہیں بچو ۔


اس آیتِ مبارکہ میں قصاص میں قوموں اور لوگوں کی حیات بیان کی گئی ہے ۔ جس قوم میں ظالم کی پردہ پوشی اور حمایت کی جائے وہ تباہ و برباد ہو جاتی ہے اور جہاں ظالم اور مجرم کو سزا دی جائے وہاں جرائم خود بخود کم ہو جاتے ہیں ۔ ایک محلے سے لے کر عالمی سطح تک کے مجرموں میں یہی ایک فلسفہ کار فرما ہے ۔ آپ غور کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ جن ممالک میں جرائم پر سخت سزائیں نافذ ہیں وہاں کے جرائم کی تعداد اور جہاں مجرموں کو سزائیں نہیں دی جاتیں وہاں جرائم کی تعداد کتنی ہے ۔


وعن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من قتل متعمدا دفع إلى اولياء المقتول فإن شاؤوا قتلوا وإن شاؤوا اخذوا الدية: وهي ثلاثون حقة وثلاثون جذعة واربعون خلفة وما صالحوا عليه فهو لهم ۔

ترجمہ : عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جس شخص نے عمداً قتل کیا تو اسے مقتول کے ورثا کے حوالے کیا جائے گا ، اگر وہ چاہیں تو (اسے) قتل کر دیں اور اگر وہ چاہیں تو دیت لے لیں ۔ اور وہ تیس حِقّہ (اونٹنی کا وہ بچہ جو تین سال مکمل کرنے کے بعد عمر کے چوتھے سال میں داخل ہو) تیس جذعہ (وہ اونٹنی جو پانچویں سال میں داخل ہو) اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہے۔ اور وہ جس چیز پر مسالحت کر لیں تو وہ ان کےلیے ہے ۔ (مشكوة المصابيح كتاب القصاص حدیث نمبر 3474،چشتی)(جامع ترمذی حدیث نمبر 1387)


قانونِ قصاص ایک حکیمانہ قانون ہے جو کسی اور کا نہیں بلکہ خالق فطرت کا بنایا ہوا ہے ۔ قصاص اسلام کے احکام سزا میں سے ہے جس کو قرآن مجید نے سماج کےلیے حیات جانا ہے ۔ قصاص کے حکم کی قانون سازی ، بے مقصد اور بے انصاف انتقاموں کو روکنے کےلیے نیز مجرموں کو عام شہریوں کے قتل کی جرات کرنے یا انہیں مجروح کرنے سے روکنے کےلیے کی گئی ہے جوسالم اور صحت مند سماج کی حیات ، حفاظت اور عمومی راحت و آرام ، ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری اور متقابل ذمہ داریوں پر مشتمل ہے ۔ نیز یہ بات سماجی حیات کے ارکان اور اصول کی حفاظت سے وابستہ ہے ۔ قصاص کا حکم مجرموں کے مقابلے میں سماج کے اہم رکن یعنی افراد کی جان کی حفاظت کےلیے وضع کیا ہے ۔


اللہ تعالی کے قانون میں انسانی جان کو بے پناہ حرمت دی گئی ہے ۔ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے آخری خطبے میں جو تعلیمات ارشاد فرمائیں اس میں انسانی جان ، مال اور آبرو کی حرمت کو بیت اللہ کی حرمت کے برابر قرار دیا ۔


قتل دو طرح کا ہوا کرتا ہے : ⏬


1 : قتل عمد ۔


2 : قتل خطا ۔


قتلِ عمد جس میں قاتل پورے ارادے اور منصوبے سے قتل کرتا ہے جبکہ قتل خطا میں غلطی سے بغیر ارادے کے کوئی شخص ہلاک ہو جائے ۔ پہلی صورت میں قانون یہ ہے کہ ایسا کرنے والے قاتل کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے جو اس نے مقتول کے ساتھ کیا ۔ انسانوں کی غالب اکثریت نے اس معاملے میں اسی قانون پر عمل کیا ۔ تاریخ عالم گواہ ہے کہ جس معاشرے میں اس قانون پر عمل کیا گیا ، وہاں انسانی جان کی حرمت برقرار رہی ۔ جس معاشرے نے بھی اس قانون سے منہ موڑا ، اس کے نتیجے میں اس معاشرے میں انسانی خون پانی سے بھی سستا ہوا جس کے نتیجے میں پورا معاشرہ انتشار کا شکار ہو گیا ۔ اسی انتشار سے بچنے کےلیے قتل کے قصاص کو اللہ کی طرف سے بطور قانون حیات نازل کیا گیا جواسلام کے احکام سزا میں سے ایک حکم ہے ۔


لغت میں قصاص کے معنی کسی چیز کے اثر کے تلاش کرنے کے ہیں اور اصطلاح میں جرم کے اثر کو ایسے تلاش کرنا کہ قصاص لینے والا ویسی ہی سزا مجرم کو دے جس طرح مجرم نے جرم انجام دیا ہے ۔


قصاص ایک قدیم انسانی قانون ہے جو اس کے زمان ابلاغ سے لیکر ہمارے زمانے تک موجود ہے ۔ جاہل عربوں کی رسم یہ تھی کہ اگر ان کے قبیلے کا کوئی فرد مارا جاتا تھا تو وہ یہ فیصلہ کرتے تھے کہ جہاں تک ہو سکے وہ قاتل کے قبیلے کے افراد کو مارڈالیں اور یہ فکر اتنی وسعت پاچکی تھی کہ وہ ایک فرد کے مرنے کے ساتھ قاتل کے پورے قبیلے کو ختم کر دیتے تھے ، تب یہ آیہ شریفہ نازل ہوئی جس کے ذریعے قصاص کا باانصاف حکم بیان ہوا ہے کیونکہ یہ حالت وسیع طور پر انتقامی کیفیت اور طولانی لڑائیوں کا سبب بنتی تھی ۔


لیکن اسلام نے قانون قصاص کو انتقامی قتل کا جانشین بنایا ۔ اسلام ایک طرف اسے گلی کوچوں کی انتقامی کاروائیوں سے نکال کر عدالت اور قاضی کے دائرہ میں لایا اور اس طرح قصاص کو ایک غیر قانونی کام سے ایک ایسے عمل میں تبدیل کیا کہ جرم کی پہچان ، مجرم اور جرم کے حدود کیلئے ایک عدالت قائم ہوجائے تاکہ ہر طرح کی سزا اسی کی نظارت میں عدل و انصاف کے ساتھ دی جائے ۔ اسے انتقامی صورت حال سے نکال کر قصاص کا نام دیا، اوراس زمانے میں جن غلط قوانین نے سماج کو گھیررکھا تھا انہیں ختم کر دیا ۔ ایک شخص کے مقابلے میں کئی لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنا انتقام لینا تھا اور ایسا اندھا انتقام کہ جو مجرم اور قاتل کے گھرانے تک ہی محدود نہیں رہتا تھا ، جبکہ قرآن مجید بیان کرتا ہے : وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِۙ-وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّۙ-وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌؕ-فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗؕ-وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (سورہ المائدہ آیت نمبر 45)

ترجمہ : اور ہم نے توریت میں ان پر واجب کیا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے پھر جو دل کی خوشی سے بدلہ کراوے تو وہ اس کا گناہ اتار دے گا اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں ۔


اس آیتِ مبارکہ میں اگرچہ یہ بیان ہے کہ توریت میں یہودیوں پر قصاص کے یہ احکام تھے لیکن چونکہ ہمیں اُن کے ترک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا اس لیے ہم پر بھی یہ احکام لازم رہیں گے کیونکہ سابقہ شریعتوں کے جو احکام اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیان سے ہم تک پہنچے اور مَنسوخ نہ ہوئے ہوں وہ ہم پر لازم ہوا کرتے ہیں جیسا کہ اُوپر کی آیت سے ثابت ہوا ۔ آیت میں زخموں کے ، اعضاء کے اور جان کے قصاص کا حکم بیان فرمایا گیا ، اَعضاء اور زخموں کے قصاص میں کافی تفصیل ہے جس کےلیے فقہی کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے اور جان کے قصاص کا حکم یہ ہے کہ اگر کسی نے کسی کو قتل کیا تو اس کی جان مقتول کے بدلے میں لی جائے گی خواہ وہ مقتول مرد ہو یا عورت ، آزاد ہو یا غلام، مسلم ہو یا ذمّی ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ مرد کو عورت کے بدلے قتل نہ کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (تفسیر مدارک التنزیل صفحہ ۲۸۷،چشتی)


جو قاتل یا جرم کرنے والا اپنے جرم پر نادم ہو کر گناہ کے وبال سے بچنے کےلیے بخوشی اپنے اوپر حکم شرعی جاری کرائے تو قصاص اس کے جرم کا کفارہ ہو جائے گا اور آخرت میں اُس پر عذاب نہ ہوگا ۔ (تفسیر جمل مع جلالین جلد ۲ صفحہ ۲۲۸)


بعض مفسرین نے اس کے معنیٰ یہ بیان کیے ہیں کہ جو صاحبِ حق قصاص کو معاف کر دے تو یہ معافی اس کےلیے کفارہ ہے ۔ (تفسیر مدارک التنزیل صفحہ ۲۸۷)


دونوں تفسیروں کے اعتبار سے ترجمہ مختلف ہو جائے گا ۔ تفسیر احمدی میں ہے یہ تمام قصاص جب ہی واجب ہونگے جب کہ صاحبِ حق معاف نہ کرے اگر وہ معاف کر دے تو قصاص ساقط ہو جائے گا ۔ (تفسیر احمدی صفحہ ۳۵۹،چشتی)


اگر تمہارا ایک شخص مار ڈالا گیا ، تو تمہیں بھی اس کے مقابلے میں ایک ہی آدمی سے جو مجرم اور قصور وار ہے قصاص لینا چاہیے ۔ آج تک قصاص کے اس حکم کے بدلے کوئی بہتر حکم نہیں ہے کہ جس میں مقتولین کے پسماندگان راضی نظر آتے ہوں اور مجرم بھی مساوی طور پر ویسی ہی سزا دیکھے تاکہ دوسروں کےلیے عبرت کا سبق بن جائے اور لوگ آسانی سے قتل اور خون نہ بہائیں ، یا دوسرے لوگوں کو مارنے کے بعد چند سال جیل کاٹ کر اور دوبارہ آزاد ہو کر لوگوں کو خطرے میں نہ ڈالیں ۔


اسلام ہر موضوع میں مسائل کو حقیقت کے ساتھ دیکھتا ہے اور اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں کو جانچ لیتا ہے ۔ بے گناہوں کے خون کے مسئلے میں بھی لواحقین کے حق کو بغیر کسی شدت یا سہل انگاری کے بیان کرتا ہے ۔


قصاص کے قانون کی سب سے اہم دلیل جس کے ذریعے سماج کی حفاظت کو جانا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں قصاص کے فلسفے کے بارے میں فرمایا ہے : اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقلمندو کہ تم کہیں بچو ۔ (سورہ البقرة آیت نمبر 179)


یعنی قصاص کا مقصد موت کے گھاٹ اتارنا نہیں ہے بلکہ مقصد حیات ہے ، اس کا مقصد صرف امور کی ترمیم اور فرد یا سماج کو اپنی پہلی حالت پر لوٹا دینا ہے ۔ اگر کوئی بغیر دلیل کے سماج کے قانونی ارکان کے بغیر قتل کا اقدام کرے تو سماجی حیات خطرے میں پڑتی ہے جبکہ قصاص سماج اور فرد کی حیات کی ضمانت ہے ۔


بعض افراد حکم قصاص پر اعتراض کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ قصاص اس بات کا سبب بنتا ہے کہ ایک اور آدمی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ، جبکہ انسانی رحمت اور رافت اس بات کی متقاضی ہے کہ کسی جان کا نقصان نہ ہو ۔ اس کے جواب میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہاں ، لیکن ہر طرح کی رافت اور رحمت پسندیدہ اور با مصلحت نہیں ہے اور ہر طرح کا رحم کرنا بھی فضیلت نہیں جانا جائے گا ، کیونکہ کسی مجرم اور سخت دل انسان (جس کےلیے لوگوں کو قتل کر دینا آسان کام ہے) پر رحم کرنا اور ایسے فرد پر جو نافرمان ہے اور جو دوسروں کے جان ، مال اور عزت پر حملہ کرتا ہے ، اس پر رحم کرنا نیک ، شریف اورصالح افراد پر ستم کرنے کے برابر ہے ۔ اگر ہم مطلق طور پر اور بغیر کسی قید و شرط کے رحم پر عمل کریں تو نظام میں فساد پیدا ہوگا اور انسانیت ہلاکت میں پڑ جائے گی اور انسانی فضائل تباہ ہو جائیں گے ۔


اس طرح کے مارنے کو مارنا،مرنا اور مار ڈالنا نہ کہیں بلکہ اس کو حیات اور زندگی سمجھیں ، نہ صرف اس فرد کی حیات بلکہ سماج کی حیات ، یعنی ایک مجرم کے قصاص سے ، آپ نے سماج کے افراد کی حیات کو محفوظ کر دیا ، اگر آپ قاتل کو نہیں روکیں گے تو کل وہ ایک اور آدمی کو مار ڈالے گا ، کل ایسے کئی آدمی نکلیں گے جو متعدد آدمیوں کو مار ڈالیں گے ، اس کو آپ سماج کے افراد کا کم ہونا مت جانیں ، یعنی قصاص کے معنی انسان کے ساتھ دشمنی کا نہیں ہے بلکہ یہ انسان کے ساتھ دوستی کرنے کا نام ہے ۔


پس اگر انسان اخلاقی کمال کو پہنچ جائے تو وہ سمجھ جائے گا کہ قصاص انفرادی اور اجتماعی حیات کی فراہمی ہے اور دوسرے اعتبار سے بھی ایک انسان کا کم ہونا کئی انسانوں کے کم ہونے پر ترجیح رکھتا ہے ، کیونکہ مقصد موت کے گھات اتارنا نہیں ہے بلکہ مقصد حیات ہے اور خداوند تعالیٰ اپنے سارے بندوں کی نسبت زیادہ رحم کرنے والا ہے ، اسی لیے آیۃ کریمہ متفکر افراد اور انسانوں کے ذہنوں کو خطاب کرتی ہے نہ کہ احساسات اور عواطف کے ساتھ ارشاد فرمایا : قصاص تمہارے لیے حیات اور زندگی ہے اے صاحبان عقل ۔


پاکیزہ اور صحت مند و سالم سماجی حیات عمومی آرام، محفوظ حقوق اور ذمہ داریوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور عمومی آرام اور حفاظت ، سماجی حیات کے اصول اور بنیاری ارکان کی حفاظت سے جڑے ہوئے ہیں ۔ سماجی حیات دین ، جان ، مال ، احترام ، انسانی عزت اور انسانی عقل پر مشتمل ہے ، یہ اصول جو امام غزالی علیہ الرحمہ کے بعد ہمارے علماء اور فقہاء کی توجہ کا مرکز بنے ، واقعی طور پر ایک صحت مند سماج کی بنیادوں کو تشکیل دیتے ہیں اور جو اجزاء اور مجموعے اس کے ذیل میں موجود ہیں وہ سماج کی سبھی معتبر اور اہم مصلحتوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں ۔


مندرجہ بالا مطالب کو مد نظر رکھ کر یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اسلام کے احکامِ سزا کا مقصد یا اس کا اہم ترین ہدف دینی اور سماجی نظام کی حفاظت ہے اور یہ بلند مقصد صرف اس وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان اصلاح اور تربیت کے ذریعے یا سزاؤں کے ڈر سے ایسے اعمال کا مرتکب نہ ہو جن سے اجتماعی نظام کو نقصان پہنچتا ہے ۔


قصاص کے قانون کی گہری حکمت اور اس کے دور رس مقاصد : ⏬


ضرور انتقام ہی لیاجائے بلکہ یہ اس سے کہیں بلندو برتر مقاصد کا حامل ہے ۔ یہ زندگی کےلیے ، زندگی کے قیام کی راہ میں انسان کا قتل ہے ، بلکہ قیام قصاص بذات خود زندگی ہے ۔ یہ اس لیے ہے کہ اس فریضہ حقیقت کو سمجھا جائے ۔ اس کی حکمت میں غور و تدبر کیا جائے ۔ دل زندہ ہوں اور ان میں خدا خوفی موجزن ہو۔


ایک مجرم جرم کی ابتدا کرتا ہے اسے سوچنا چاہیے کہ یہ بات معمولی نہیں بلکہ ایسی ہے کہ مجھے تو اس کے بدلے میں اپنی جان کی قیمت دینی پڑے گی ۔ یوں نظام قصاص سے دوزندگیاں بچ جاتی ہیں ۔


ارتکاب قتل کی صورت میں قاتل کو سزا ہو جاتی ہے ۔ وہ قصاص میں مارا جاتا ہے ۔ مقتول کے ورثاء مطمئن ہوجاتے ہیں ان کے دلوں سے کینہ دور ہو جاتا ہے اور انتقام کے جذبات سرد پڑ جاتے ہیں اور پھر وہ انتقام جو عرب قبائل میں تو کسی حد پر ، کسی مقام پر رکتا ہی نہ تھا ۔ چالیس چالیس سال تک قتل کے بدلے میں قتل کا سلسلہ چلتا رہتا تھا ۔ مثلاً حرب البسوس میں یہی ہوا ۔ عرب کیا آج بھی اس گواہ ہیں ، جہاں زندگی خاندانی دشمنیوں اور کینوں کی بھینٹ چڑھتی رہتی ہے اور نسلاً بعد نسل یہ معاملہ چلتا ہی رہتا ہے اور یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا ۔


قصاص میں زندگی ہے ۔ اپنے عمومی مفہوم میں ۔ ایک فرد کی زندگی پر حملہ دراصل جنس زندگی پر حملہ ہے ۔ پوری زندگی پر حملہ ہے ہر انسان پر حملہ ہے ۔ ہر اس انسان پر حملہ جو مقتول کی طرح زندہ ہے ۔ اگر قانون قصاص کی وجہ سے ایک مجرم ، صرف ایک زندگی کو ختم کرنے سے رک جائے تو اس نے پوری انسانیت کو بچالیا ۔ یوں اس ارتکاب جرم سے رک جانا عین حیات ہے اور یہ عام زندگی ، کسی ایک فرد کی زندگی نہیں ہے ، کسی خاندان کی نہیں ، کسی جماعت کی نہیں بلکہ مطلقاً زندگی ہے ۔


اب آخر میں قانون الٰہی کی حکمت میں غور وفکر کے شعور کے موجزن کیا جاتا ہے اور خدا خوفی کی تلقین کی جاتی ہے ۔ (یہی وہ اہم فیکٹر اور موثر ذریعہ ہے جس کی وجہ سے انسانی زندگی قائم رہ سکتی ہے ) تَتّقُونَ ” امید ہے کہ تم قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے ۔


یہ ہے وہ اصل بندھن ، جو انسان کو ظلم و زیادتی سے باز رکھتا ہے ، ابتداء میں قتل ناحق کی زیادتی سے روکتا ہے ، اور آخر میں انتقام کی زیادتی سے ۔ یہ کیا ہے ؟ خدا خوفی ، تقویٰ ، دل میں خدا خوفی کا شعور اور شدید احساس ۔ اللہ کے قہر وغضب سے ڈرنے کا احساس اور اس کی رضاجوئی کی کشش ۔


اس پابندی کے بغیر کوئی قانون کامیاب نہیں ہو سکتا ، کوئی شریعت کامیاب نہیں ہوتی ۔ کوئی شخص ارتکاب جرم سے باز نہیں رہتا ۔ انسانی طاقت سے اعلیٰ اور برتر طاقت کے تصور کے بغیر اخروی خوف اور طمع کے روحانی احساس کے بغیر کوئی ظاہری شیرازہ بندی اور قانونی انتقام کامیاب نہیں ہو سکتا ۔


نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ظاہری زمانہ مبارک اور خلافت کے زمانہ میں جرائم کا وقوع شاذ و نادر ہی رہا ہے ۔ جو جرائم وقوع پذیر ہوئے بھی تو مجرم نے خود اعتراف کیا ۔ اس کا راز یہی ہے کہ وہاں تقویٰ کا زور تھا ۔ لوگوں کے دل و دماغ میں ، ایک زندہ ضمیر کی صورت میں تقویٰ ، چوکیدار کی طرح بیٹھا ہوا تھا ۔ جو ہر وقت بیدار رہتا تھا ۔ وہ انہیں حدود جرم سے بھی دور رکھتا ۔ ساتھ ساتھ انسانی فطرت اور انسانی جذبات و میلانات و انصرام تھا ۔ دوسری طرف اسلامی عبادات کے نتیجے میں تقویٰ اور خدا خوفی کا سیل رواں تھا ۔ دونوں کے باہم تعاون اور ہم آہنگی کے نتیجے میں ہم آہنگ اور پاک وصاف قانون اور شریعت موجود تھی ۔ ایک طرف شریعت و قانون اور ظاہری انتقام میں ایک پاک صالح تصور زندگی اور نظام زندگی نے جنم لیا ، جس میں لوگوں کا طرز عمل پاک طرز فکر صالح تھی ۔ کیوں ؟ اس لیے کہ اس نظم نے ملک سے پہلے ہر شخص کے دل میں ایک منصف بٹھادیا تھا اور ایک عدالت قائم کردی تھی ۔ حالت یہ تھی کہ اگر کسی وقت کسی پر حیوانیت غالب ہی آگئی اور غلطی کا صدور ہو گیا اور یہ شخص قانون کی گرفت سے بچ بھی گیا تو بھی اس کا ایمان اس کےلیے نفسِ لوامہ بن گیا ۔ اس نے اپنے ضمیر میں خلش اور چبھن محسوس کی ۔ دل میں ہر وقت خوفاک خیالات کا ہجوم برپا ہو گیا ۔ اور گناہ کرنے والے کو تب آرام نصیب ہوا کہ جب اس نے قانون کے سامنے رضاکارانہ اعتراف جرم کر لیا اور اپنے آپ کو سخت سزا کےلیے پیش کر دیا اور خوشی اور اطمینان کے ساتھ اس سزا کو برداشت کیا ، محض اللہ کے غضب سے بچنے کی خاطر ۔ یہ ہے تقویٰ ، یہ ہے خدا خوفی ۔


یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰىؕ-اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰىؕ-فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍؕ-ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌؕ-فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۔ (سورہ البقرہ آیت نمب 178)

ترجمہ : اے ایمان والو! تم پر فرض ہے کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی تو بھلائی سے تقاضا ہو اور اچھی طرح ادا یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت تو اس کے بعد جو زیادتی کرے اس کے لئے دردناک عذاب ہے ۔


یہ آیت اَوس اور خَزرج کے بارے میں نازل ہوئی ،ان میں سے ایک قبیلہ دوسرے سے قوت، تعداد، مال و شرف میں زیادہ تھا ۔ اُس نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنے غلام کے بدلے دوسرے قبیلہ کے آزاد کو اور عورت کے بدلے مرد کو اور ایک کے بدلے دو کو قتل کرے گا، زمانہ جاہلیت میں لوگ اس قسم کی زیادتیوں کے عادی تھے ۔ عہد اسلام میں یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی اور عدل و مساوات کا حکم دیا گیا ۔ ا س پر وہ لوگ راضی ہوئے ۔ (تفسیر جمل جلد ۱ صفحہ ۲۱۳)


قرآن کریم میں قصاص کا مسئلہ کئی آیتوں میں بیان ہوا ہے ، اس آیت میں قصاص اور معافی دونوں مسئلے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا بیان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو قصاص اورمعافی میں اختیار دیا ہے ۔ اس آیتِ مبارکہ اور اس کے شانِ نزول سے اسلام کی نظر میں خونِ انسان کی حرمت کا بھی علم ہوتا ہے ۔


قتلِ عمد کی صورت میں قاتل پر قصاص واجب ہے خواہ اس نے آزاد کو قتل کیا ہو یا غلام کو، مرد کو قتل کیا ہو یا عورت کو کیونکہ آیت میں ’’قَتْلٰى‘‘ کا لفظ جو قتیل کی جمع ہے وہ سب کو شامل ہے ۔ البتہ کچھ افراد اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جن کی تفصیل فقہی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ نیز اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا کہ جو قتل کرے گا وہی قتل کیا جائے گاخواہ آزاد ہو یا غلام ، مرد ہو یا عورت اور زمانۂ جاہلیت کی طرح نہیں کیا جائے گا ، ان میں رائج تھا کہ آزادوں میں لڑائی ہوتی تو وہ ایک کے بدلے دو کو قتل کرتے ، غلاموں میں ہوتی تو بجائے غلام کے آزاد کو مارتے ، عورتوں میں ہوتی تو عورت کے بدلے مرد کو قتل کرتے اور محض قاتل کے قتل پر اکتفا نہ کرتے بلکہ بعض اوقات بہت بڑی تعداد میں قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری رکھتے ۔ ان سب چیزوں سے منع کردیا گیا ۔


فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ جس قاتل کو مقتول کے اولیاء کچھ معاف کریں جیسے مال کے بدلے معاف کرنے کا کہیں تو یہاں قاتل اور اولیاءِ مقتول دونوں کو اچھا طریقہ اختیار کرنے کا فرمایا گیا ہے ۔ مقتول کے اولیاء سے فرمایا کہ اچھے انداز میں مطالبہ کریں ، شدت و سختی نہ کریں اور قاتل سے فرمایا کہ وہ خون بہاکی ادائیگی میں اچھا طریقہ اختیار کرے ۔ آیت میں قاتل اور مقتول کے وارث کو بھائی کہا گیا اس سے معلوم ہوا کہ قتل اگرچہ بڑا گناہ ہے مگر اس سے ایمانی بھائی چارہ ختم نہیں ہو جاتا ۔ اس میں خارجیوں کے مذہب کی تردید ہے جو کبیرہ گناہ کے مرتکب کو کافر کہتے ہیں ۔ اہلسنّت کا عقیدہ یہ ہے کہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب فاسق ہوتا ہے کافر نہیں ۔


مقتول کے ولی کو اختیار ہے کہ خواہ قاتل کو بغیر عوض معاف کردے یامال پر صلح کرے اوراگر وہ اس پر راضی نہ ہو اور قصاص چاہے تو قصاص ہی فرض رہے گا ۔ (تفسیر جمل جلد ۱ صفحہ ۲۱۳)


اگر مال پر صلح کریں تو قصاص ساقط ہو جاتا ہے اور مال واجب ہوتا ہے ۔(تفسیرات احمدیہ صفحہ۵۲)


دستورِ جاہلیت کے مطابق غیرِ قاتل کو قتل کرے یادِیَت قبول کرنے اور معاف کرنے کے بعد قتل کرے تو اس کےلیے دردناک عذاب ہے ۔ (تفسیر مدارک صفحہ ۹۵) ۔


علماء کا اس پر اجماع ہے کہ سلطان اگر اپنی رعیت میں سے کسی شخص پر زیادتی کرے تو وہ خود اپنی ذات سے قصاص لے گا ‘ کیونکہ سلطان اللہ تعالیٰ کے احکام سے مستثنی نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے مقتول کے سبب سے تمام مسلمانوں پر قصاص کو فرض کیا ہے اگر سلطان کسی شخص کو بےقصور قتل کردیتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ خود کو قصاص کے لیے پیش کرے ‘ امام نسائی روایت کرتے ہیں : حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی چیز تقسیم کررہے تھے ‘ ایک شخص آپ پر جھک گیا ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ایک چھڑی چبھوئی ‘ اس نے ایک چیخ ماری ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آؤ بدلہ لے لو ‘ اس شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! میں نے معاف کر دیا ۔ (سنن نسائی ج ٢ ص ٢٤٤۔ ٢٤٣ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی،چشتی)


امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے کہ اس کے چہرہ پر زخم لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آؤ مجھ سے بدلہ لے لو ‘ اس نے کہا : میں نے معاف کر دیا ۔ (سنن نسائی ج ٢ ص ٢٦٨ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)


امام نسائی روایت کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آپ کو قصاص کےلیے پیش کیا ہے ۔ (سنن نسائی ج ٢ ص ٢٤٤ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)۔اس حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ١ ص ‘ ٤١ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)


امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں : ابوفراس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : میں عاملوں کو اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ لوگوں کے جسموں پر ضرب لگائیں اور نہ اس لیے کہ وہ ان کا مال لیں ‘ جس شخص کے ساتھ کسی حاکم نے ایسا کیا وہ مجھ سے شکایت کرے ‘ میں اس سے قصاص لوں گا ‘ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر کوئی شخص اپنی رعیت کو تادیبا مارے آپ پھر بھی اس سے قصاص لیں گے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہاں خدا کی قسم ! جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے میں اس سے قصاص لوں گا ‘ اور بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے ‘ آپ نے اپنے نفس کو قصاص کے لیے پیش کیا تھا ۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ‘ ٢٦٨ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ،چشتی)۔اس حدیث کو امام بیہقی نے بھی روایت کیا ہے۔(سنن کبری ج ٨ ص ٤٨‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان)


امام بیہقی روایت کرتے ہیں : ابونصر وغیرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص نے (سرخ رنگ کی) خوشبولگائی ہوئی تھی ‘ آپ نے وہ تیر اس کو چبھوکر فرمایا : کیا میں نے تم کو اس سے منع نہیں کیا تھا ؟ اس شخص نے کہا : رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ‘ اور بیشک آپ نے مجھے زخمی کردیا ہے ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیر اس کے آگے ڈال دیا اور فرمایا : تم اپنا بدلہ لے لو ‘ اس شخص نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آپ نے مجھے تیر چبھویا تھا تو میرے بدن پر کپڑا نہیں تھا اور آپ نے قمیص پہنی ہوئی ہے ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا ‘ اس شخص نے جھک کر آپ کے بدن مبارک کا بوسہ لے لیا ۔ 

حضرت سواد بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس وقت میں نے سرخ رنگ کی خوشبو لیپی ہوئی تھی ‘ جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا : اے سواد بن عمرو ! تم نے درس (ایک خوشبودار گھاس جس سے سرخ رنگ ہوجاتا ہے) کا لیپ کیا ہوا ہے ‘ کیا میں نے تم کو اس خوشبو سے منع نہیں کیا تھا ؟ آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی ‘ آپ نے مجھے وہ چبھوئی جس سے مجھے درد ہوا ‘ میں نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے بدلہ دیں ‘ آپ نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا اور میں آپ کے پیٹ کو بوسہ دینے لگا ۔ 

ابویعلی بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسید بن حضیر بہت ہنسانے والے تھے ‘ ایک دن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے باتیں کررہے تھے اور ان کو ہنسا رہے تھے ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے انگلی اس کی کو کھ میں چبھوئی ‘ انہوں نے کہا : آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے ‘ آپ نے فرمایا : بدلہ لے لو ‘ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے قمیص پہنی ہوئی ہے اور میں نے قمیص نہیں پہنچی ہوئی ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قمیص اٹھا دی وہ آپ کے بدن سے لپٹ گئے اور آپ کے پہلو کا بوسہ لے لیا اور کہنے لگے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ پر میرے ماں اور باپ فدا ہوں ‘ میرا یہی ارادہ تھا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک حبشی شخص کو لشکر میں بھیجا ‘ اس نے واپس آکر کہا کہ لشکر کے امیر نے بغیر کسی قصور کے میرا ہاتھ کاٹ دیا ‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم سچے ہو تو میں اس سے ضرور تمہارا بدلہ لوں گا ۔ الحدیث ملخصا۔

جریر بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت ابوموسی کے ساتھ مل کر دشمن پر غلبہ پایا اور مال غنیمت حاصل کیا ‘ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے اس کو اس کا حصہ دیا اور تمام مال غنیمت نہیں دیا ‘ اس نے منع کیا اور کہا : وہ تمام مال غنیمت لے گا ‘ حضرت ابوموسی نے اس کو بیس کوڑے مارے اور اس کا سرمونڈ دیا ‘ اس نے وہ تمام بال جمع کیے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کی شکایت کی اور وہ بال نکال کر دکھائے ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے کے نام خط لکھا ‘: سلام کے بعد واضح ہو کہ فلاں شخص نے مجھ سے تمہاری شکایت کی ہے اور میں نے یہ قسم کھائی ہے کہ اگر واقعی تم نے اس شخص کے یہ زیادتی لوگوں کے مجمع میں کی ہے تو میں لوگوں کے مجمع میں تم سے اس شخص کا قصاص لوں گا اور اگر تم نے تنہائی میں اس شخص کے ساتھ یہ زیادتی کی ہے تو میں تنہائی میں تم سے اس شخص کا قصاص لوں گا ‘ لوگوں نے سفارش کی اور کہا : ابوموسی کو معاف کردیجیے ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ! خدا کی قسم ! میں کسی شخص کے ساتھ رعایت نہیں کروں گا ‘ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو وہ خط دیا اور قصاص لینے کے لیے تیار ہوگئے تو اس شخص نے آسمان کی طرف سراٹھا کر کہا : میں نے ان کو اللہ کے لیے معاف کردیا ۔ (سنن کبری ج ٨ ص ٥٠ ‘۔ ٤٨ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان،چشتی)


تمام علماء کا اس پر اجماع ہے کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ از خود قصاص لے ‘ قصاص لینے کے لیے ضروری ہے کہ حاکم کے پاس مرافعہ کیا جائے ‘ پھر حاکم خود قصاص لے گا یا کسی شخص کو قصاص لینے کے لیے مقرر کرے گا ‘ قانون پر عمل کرنے کا منصب صرف حکومت کا ہے ‘ ہر شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے ‘ اسی طرح جادوگر اور مرتد کو قتل کرنا اور حدود اور تعزیرات کو جاری کرنا حکومت کا منصب ہے ۔ 


امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد کا راجح مذہب یہ ہے کہ جس طرح اور جس کیفیت سے قاتل نے مقتول کو قتل کیا ہے اسی طرح اور اسی کیفیت سے قاتل کو قتل کیا جائے اور یہی قصاص کا تقاضا ہے کیونکہ قصاص کا معنی ہے : بدلہ ‘ اور بدلہ اسی صورت میں ہوگا ‘ نیز حدیث میں ہے کہ ایک یہودی نے پتھر مار کر ایک باندی کو قتل کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس یہودی کا پتھر سے سرپھاڑ کر اس کا بدلہ لیا ‘ امام بخاری روایت کرتے ہیں : حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے دو پتھروں کے درمیان ایک باندی کا سرپھاڑ دیا ‘ اس باندی سے پوچھا گیا : کس نے تمہارا سرپھاڑا ہے ‘ کیا فلاں نے ‘ یافلاں نے حتی کہ اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس باندی نے سرہلایا ‘ اس یہودی کو بلایا گیا ‘ اس نے قتل کرنے کا اقرار کرلیا تو اس کا سر بھی پتھر سے پھاڑ دیا گیا ۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ١٠١٦۔ ١٠١٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ،چشتی)


امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ اور ایک قول کے مطابق امام احمد کے نزدیک قصاص صرف تلوار سے لیا جائے گا اور اس حدیث میں مثلہ کرنے کی ممانعت سے پہلے کے واقعہ کا بیان ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مثلہ کرنے سے منع فرمادیا تو پھر اس کیفیت سے قصاص لینا منسوخ ہوگیا ‘ امام ابوحنیفہ اور امام احمد کی دلیل یہ حدیث ہے ‘ امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں : حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تلوار کے سوا کسی چیز سے قصاص لینا (جائز) نہیں ہے ۔ (سنن ابن ماجہ ص ‘ ١٩١ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)


امام ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں : حسن بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تلوار کے بغیر کسی چیز سے قصاص لینا جائز نہیں ہے۔ ابراہیم نے کہا : جس شخص کو پتھروں سے قتل کیا جائے یا اس کا مثلہ کیا جائے اس کا قصاص صرف تلوار سے لیا جائے گا ‘ اس کو مثلہ کرنا جائز نہیں ہے ۔ شعبی نے کہا : تلوار کے سوا کسی چیز سے قصاص لینا جائز نہیں ہے ۔ قتادہ نے کہا : تلوار کے سوا کسی چیز سے قصاص لینا جائز نہیں ہے ۔ (المصنف ج ٩ ص ٣٥٥۔ ٣٥٤‘ مطبوعہ ادراۃ القران ‘ کراچی) 

علامہ ابن رشد مالکی لکھتے ہیں : جس کیفیت سے قاتل نے قتل کیا ہے اسی کیفیت سے اس کو قتل کیا جائے گا اگر اس نے غرق کیا ہے تو اس کو غرق کیا جائے گا اور اگر اس نے پتھر سے قتل کیا ہے تو اس کو پتھر سے قتل کیا جائے گا ‘ امام مالک اور امام شافعی کا یہی قول ہے ‘ البتہ اگر اس کیفیت سے زیادہ عذاب ہو تو پھر اس کو تلوار سے قتل کیا جائے گا اور اجس نے آگ سے جلا کر قتل کیا اس کے متعلق امام مالک کے مختلف قول ہیں۔ (ہدایۃ المجتہدج ٢ ص ٣٠٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت،چشتی)


علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں : جو شخص کسی کو عمدا قتل کرے گا تو جس کیفیت سے اس نے قتل کیا ہے اسی کیفیت سے اس سے قصاص لیا جائے گا ‘ اگر کسی نے تلوار سے قتل کیا ہے تو اس کو تلوار سے قتل کیا جائے گا اور اگر اس نے پتھر یا لکڑی سے قتل کیا ہے تو اس کو پتھر یا لکڑی سے قتل کیا جائے گا ۔ (شرح مسلم ج ٢ ص ‘ ٥٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)


علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں : اگر کسی شخص نے دوسرے شخص پر متعدد وار کرکے زخمی کردیا ‘ پھر زخم مندمل ہونے سے پہلے اس کو قتل کردیا تو اس کی گردن پر تلوار مار کر اس کو صرف قتل کیا جائے گا کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے۔ بغیر تلوار کے قصاص لینا جائز نہیں ہے۔ عطاء ثوری ‘ امام ابویوسف اور امام محمد کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام احمد کا دوسرا قول یہ ہے کہ جس صفت سے قاتل نے قتل کیا ہے اسی صفت سے اس کو قتل کیا جائے گا حتی کہ اگر اس نے آگ میں جلایا جائے گا ‘ اور اگر اس نے دریا میں غرق کیا ہے تو اس کو غرق کیا جائے گا کیونکہ قرآن مجید میں ہے :  وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم بہ ۔ (النحل : ٢٦ ا) 

ترجمہ : اور اگر تم انہیں سزا دو تو ایسی ہی سزا دو جس طرح تمہیں تکلیف پہنچائی گئی تھی ۔ 

فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم ۔ (البقرہ : ١٩٤) 

ترجمہ : جو شخص تم پر زیادتی کرے تو تم اس پر اسی طرح زیادتی کرو جس طرح اس نے تم پر زیادتی کی تھی ۔


امام احمد نے یہودی کا پتھر سے قصاص لینے پر بھی استدلال کیا ہے اور تلوار سے قصاص لینے والی حدیث کے متعلق کہا ہے : اس کی سند درست نہیں ہے ۔ (المغنی ج ٨ ص ٢٤٠‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ ١٤٠٥،چشتی)


علامہ المرغینانی الحنفی لکھتے ہیں : قصاص صرف تلوار سے لیا جائے گا کیونکہ حدیث میں ہے : تلوار کے بغیر قصاص لینا جائز نہیں ہے (ہدایہ اخیرین ص ٥٦٣‘ مطبوعہ مکتبہ علمیہ ‘ ملتان)


امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی دلیل یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی آدمی کو مثلہ کرکے قتل کیا یعنی اس کے جسم کے مختلف اعضاء کاٹ ڈالے اور اگر پھر قاتل سے اسی کیفیت سے قصاص لیا جائے تو لازم آئے گا کہ اس قاتل کو مثلہ کیا جائے حالانکہ احادیث صحیحہ میں مثلہ کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔


امام مسلم روایت کرتے ہیں : حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستہ میں جہاد کرو ‘ جو شخص اللہ کے ساتھ کفر کرے اس کے ساتھ قتال کرو خیانت نہ کرو ‘ عہد شکنی نہ کرو ‘ مثلہ نہ کرو (کسی شخص کے اعضاء کاٹ کر اس کے جسم کو نہ بگاڑو) ۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٨٢‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ،چشتی)۔اس حدیث کو امام ترمذی ‘ امام ابن ماجہ ‘ امام مالک ‘ امام دارمی اور امام احمد نے بھی روایت کیا ہے ۔


تاہم قرآن مجید کی یہ آیات اور سورة نمل اور سورة بقرہ کی آیتیں ائمہ ثلاثہ کے مؤقف کی تائید کرتی ہیں : ⏬

وجزؤا سیءۃ سیءۃ مثلھا “۔ (الشوری : ٤٠) 

ترجمہ : اور برائی کا بدلہ اسی کی مثل برائی ہے۔ 

من عمل سیءۃ فلایجزی الا مثلھا “۔ (المومن : ٤٠ )

ترجمہ : جس نے برائی کی تو اس سے اسی کی مثل بدلہ لیا جائے گا۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جس (قاتل) کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کردیا گیا تو (اس کا) دستور کے مطابق مطالبہ کیا جائے ‘ اور نیکی کے ساتھ اس کی ادائیگی کی جائے ‘ یہ (حکم) تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے ‘ پھر اس کے بعد جو حد سے تجاوز کرے اس کے لیے درد ناک عذاب ہے ۔ (البقرہ : ١٧٤) 


یعنی مقتول کے ولی نے قاتل کو معاف کر دیا ‘ قاتل کو مقتولل کے بھائی سے تعبیر فرمایا ہے تاکہ ولی کی مقتول کو معاف کرنے میں رغبت ہو اور وہ قصاص کا مطالبہ ترک کر دے اور دستور کے مطابق دیت کا مطالبہ کیا جائے یعنی شریعت میں جو دیت کی مقدارمقرر کی گئی ہے ولی مقتول اس سے زیادہ کا مطالبہ نہ کرے اور قاتل کے عصبات دیت کی ادائیگی کی مدت میں تاخیر اور مقدار میں کمی نہ کریں اور معاف کرنے اور دیت ادا کرنے کا حکم تمہارے رب کی طرف سے تخفیف ہے اور اس میں تم پر رحمت ہے کیون کی یہود کی شریعت میں صرف قصاص واجب تھا اور نصاری کی شریعت میں صرف دیت واجب تھی ‘ اور تمہارے لیے یہ آسانی ہے کہ مقتول کا ولی قاتل سے قصاص لے ‘ یا دیت لے یا بالکل معاف کردے۔ تمہیں ہر طرح اختیار کی وسعت دی گئی اور کوئی شق واجب نہیں کی گئی اور جس نے اس کے بعد حد سے تجاوز کیا یعنی اگر ولی مقتول نے معاف کرنے کے بعد قاتل کو قتل کیا تو اس کو دنیا اور آخرت میں عذاب ہوگا ‘ دنیا میں اس کو قتل کیا جائے گا اور آخرت کا عذاب الگ ہو گا ۔ 


دیت کی مقدار سو اونٹ یا ہزار دینار (٣٧٤ ء ٤ کلو سونا) یا دس ہزار درہم (٦١٨ ء ٣٠ کلو چاندی) ہے ۔ دیت کو تین سال میں قسط وار ادا کرنا قاتل کی عاقلہ پر لازم ہے ۔ عاقلہ سے مراد قاتل کے حمایتی اور مددگار ہیں ‘ یہ اس کے اہل قبیلہ ‘ اہل محلہ اور اہل صنعت وحرفت ہوسکتے ہیں ‘ جو شخص کسی مل یا کارخانہ میں ملازم ہو ‘ اس مل یا فیکٹری کے مالکان اور کارکنان کو بھی عاقلہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Saturday, 14 February 2026

ویلنٹائن ڈے منانا اور غیرشرعی محبت اور اس کا اظہار ناجائز و گناہ کبیرہ ہے

ویلنٹائن ڈے منانا اور غیرشرعی محبت اور اس کا اظہار ناجائز و گناہ کبیرہ ہے

محترم قارئینِ کرام : موجودہ دور میں ترقی اور روشن خیالی کے نام پر بے حیائی اور اخلاقی برائیوں کو خوب فروغ دیا جارہا ہے ۔ محبت کے عالمی دن کے نام پر ہر سال 14 فروری کو منایا جانے والا ویلنٹائن ڈے (Valentine Day) بھی اسی سلسلے کی ایک کَڑی ہے ، جو دَرحقیقت مَحبت کے نام پر بربادی کا دن ہے ۔ ویلنٹائن نامی غیر مسلم کی یاد میں منائے جانے والے اس دن کو غیر اَخلاقی حرکات اور اَحکامِ شریعت کی کھلم کھلاخلاف ورزی کا مجموعہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چند نافرمانیاں اور ان پر ملنے والے عذاب مُلاحظہ کیجیے اور اس دن کی نحوست سے خود کو دور رکھیے ۔ بے حیائی کا سیلاب اس دن بالخصوص مخلوط تعلیمی اداروں  میں بے پردگی و بے حیائی کے ساتھ اَجنبی مَردوں اور عورتوں کا میل مِلاپ ہوتا ہے ، ویلنٹائن ڈے کا تاریخی پس منظر ایک پادری جس کا نام ویلنٹائن تھا تیسری صدی عیسوی میں رومی بادشاہ کلاڈیس ثانی کے زیرِ حکومت رہتا تھا ، کسی نافرمانی کی بناء پر بادشاہ نے پادری کو جیل میں ڈال دیا، پادری اور جیلر کی لڑکی کے مابین عشق ہوگیا حتّٰی کہ لڑکی نے اس عشق میں اپنا مذہب چھوڑ کر پادری کا مذہب نصرانیت قبول کرلیا ، اب لڑکی روزانہ ایک سرخ گلاب لے کر پادری سے ملنے آتی تھی ، بادشاہ کو جب ان باتوں کا علم ہوا تو اس نے پادری کو پھانسی دینے کا حکم صادر کر دیا ، جب پادری کو اس بات کا علم ہوا کہ بادشاہ نے اس کی پھانسی کا حکم دیدیا ہے تو اس نے اپنے آخری لمحات اپنی معشوقہ کے ساتھ گزرنے کا ارادہ کیا اور اس کےلیے ایک کارڈ اس نے اپنی معشوقہ کے نام بھیجا جس پر یہ تحریر تھا ، مخلص ویلنٹائن کی طرف سے ، بالآخر 14 فروری کو اس پادری کو پھانسی دیدی گئی اس کے بعد سے ہر 14 فروری کو یہ محبت کا دن اس پادری کے نام ویلنٹائن ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے ۔


جبکہ اس تہوار کو منانے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے بے پردگی و بے حیائی کیساتھ میل ملاپ ، تحفے تحائف کے لین دین سے لیکر فحاشی و عریانی کی ہر قسم کا مظاہرہ کھلے عام یا چوری چھپے جس کا جتنا بس چلتا ہے عام دیکھا سنا جاتا ہے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فیملی پلاننگ کی ادویات عام دنوں کے مقابلے ویلنٹائن ڈے میں کئی گنا زیادہ بکتی ہیں اور خریدنے والوں میں اکثریت نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی ہوتی ہے ، گفٹ شاپس اور پھولوں کی دکان پر رش میں  اضافہ ہوجاتا ہے اور ان اشیاء کو خریدنے والے بھی نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں ۔


مشرقی اقدار کے حامل ممالک میں  کھلی چھوٹ نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان جوڑوں کو محفوظ مقام کی تلاش ہوتی ہے ۔ اسی مقصد کےلیے اس دن ہوٹلز کی بکنگ عام دنوں کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے اور بکنگ کرانے والے رنگ رلیاں منانے والے نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں ۔ شراب کا بے تحاشہ کاروبار ہوتا ہے ساحلِ سمندر پر بے پردگی اور بے حیائی کا ایک نیا سمندر دکھائی دیتا ہے ۔ مغربی ممالک میں جہاں غیر مسلم مادر پدر آزادی کے ساتھ رہتے ہیں  اور فحاشی و عریانی اور جنسی بے راہ روی کو وہاں ہر طرح کی قانونی چھوٹ حاصل ہے اس دن کی دَھما چوکڑی سے بعض اوقات وہ بھی پریشان ہوجاتے ہیں اور اس کے خلاف بعض اوقات کہیں کہیں سے دبی دبی صدائے احتجاج بلند ہوتی رہتی ہے جیسا کہ انگلینڈ میں اس کی مخالفت میں احتجاج کیا گیا اور احتجاج کی بنیا دی وجہ یہ بتائی گئی کہ اس دن کی بدولت انگلینڈ کے ایک پرائمری اسکول میں 10 سال کی 39 بچیاں حاملہ ہوئیں ۔ غور کیجیے یہ تو پرائمری اسکول کی دس سالہ بچیوں کے ساتھ سفاکیت کی خبر ہے وہاں کے نوجوانوں لڑکے لڑکیوں کے ناجائز تعلقات اور اس کے نتیجے میں  حمل ٹھہرنے اور اسقاطِ حمل کے واقعات کی تعداد پھر کتنی ہوگی اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔


انتہائی دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دن کو کافروں کی طرح بے حیائی کے ساتھ منانے والے بہت سے مسلمان بھی اللّٰہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطاء کیے ہوئے پاکیزہ احکامات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے کھلم کھلا گناہوں کا ارتکاب کرکے نہ صرف یہ کہ اپنے نامۂ اعمال کی سیاہی میں  اضافہ کرتے ہیں  بلکہ مسلم معاشرے کی پاکیزگی کو بھی ان بے ہودگیوں سے ناپاک  وآلودہ کرتے ہیں ۔


بد نگاہی ، بے پردگی ، فحاشی عریانی ، اجنبی لڑکے لڑکیوں کا میل ملاپ ، ہنسی مذاق ، اس ناجائز تعلق کو مضبوط رکھنے کےلیے تحائف کا تبادلہ اور آگے زنا اور دواعی زنا تک کی نوبتیں  یہ سب وہ باتیں ہیں جو اس روز ِعصیاں زور و شور سے جاری رہتی ہیں اور ان سب شیطانی کاموں کے ناجائز و حرام ہونے میں کسی مسلمان کو ذرہ بھر بھی شبہ نہیں ہو سکتا قرآن کریم کی آیاتِ بَیِّنات اور نبی ِکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واضح ارشادات سے ان اُمور کی حرمت و مذمت ثابت ہے ۔


ویلنٹائن والے دن اجنبی مرد و عورت کے مابین جو ناجائز محبت کا تعلق قائم ہوتا ہے اور آپس میں جو تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے فقہاءِکرام فرماتے ہیں کہ یہ رشوت کے حکم میں داخل ہے اس لیے ناجائز وحرام ہے ایسے گفٹ لینا اور دینا دونوں ہی ناجائز وحرام ہیں  اگر کسی نے یہ تحائف لیے ہیں تو اس پر توبہ کے ساتھ ساتھ یہ تحائف واپس کرنا بھی لازم ہے ۔


بحر الرائق میں ہے : ما یدفعہ المتعاشقان رشوۃ یجب ردّھا ولا تملک ۔

ترجمہ : عاشق ومعشوق (ناجائز محبت میں  گرفتار)  آپس میں  ایک دوسرے کو جو  (تحائف)  دیتے ہیں  وہ رشوت ہے ان کا واپس کرنا واجب ہے اور وہ ملکیت میں داخل نہیں ہوتے ۔ (بحر الرائق کتاب القضاء جلد ۶ صفحہ ۴۴۱)


قرآنِ پاک میں  اللّٰہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (سورہ المائدۃ آیت نمبر ۹۰)

ترجمہ : اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں  شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ ۔


صحیح مسلم میں  جابر رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :  ہر نشہ والی چیز حرام ہے بیشک اللّٰہ تعالٰی نے عہد کیا ہے کہ جو شخص نشہ پئے گا اُسے ’’طِیْنَۃُ الْخَبَال‘‘ سے پلائے گا لوگوں نے عرض کی ’’طِیْنَۃُ الْخَبَال‘‘ کیا چیز ہے فرمایا کہ جہنمیوں کا پسینہ یا اُن کا عصارہ  (نچوڑ) ۔ (صحیح مسلم کتاب الاشربۃ باب بیان انّ کلّ مسکر خمراً ۔۔۔ الخ ،  صفحہ ۱۱۰۹  حدیث نمبر ۷۲،چشتی)


عبداللّٰہ بن عمر اور نسائی و ابن ماجہ و دارمی نے عبداللّٰہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص شراب پئے گا اُس کی چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی پھر اگر توبہ کرے تو اللّٰہ عزوجل اُس کی توبہ قبول فرمائے گا پھر اگر پئے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اس کے بعد توبہ کرے تو قبول ہے پھر اگر پئے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اس کے بعد توبہ کرے تو اللّٰہ عزوجل قبول فرمائے گا پھر اگر چوتھی مرتبہ پئے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اب اگر توبہ کرے تو اللّٰہ عزوجل اُس کی توبہ قبول نہیں فرمائے گا اور نہر خبال سے اُسے پلائے گا ۔ (جامع ترمذی کتاب الاشربۃ باب ماجاء فی شارب الخمر جلد ۳ صفحہ ۳۴۲ حدیث نمبر ۱۸۶۹)


حدیثِ مبارکہ میں اس کی مَذمّت یوں بیان کی گئی ہے کہ کسی کے سَر میں  لوہے کی سُوئی گھونپ دی جائے یہ اجنبی عورت کو چھونے سے بہتر ہے ۔ (معجم کبیر جلد 20 صفحہ 211 حدیث نمبر 486)


ہاتھ اور پاؤں کا بَد کاری کرنا لڑکے لڑکیاں تحائف اور پھول خرید کر نامحرموں کو پیش کرتے ہیں اور اپنی ناجائز محبت کا اظہار کرتے ہیں ، حدیثِ مبارکہ میں ہے : ہاتھ اور پاؤں  بھی بَدکاری کرتے ہیں  اور ان کا بَدکاری (حَرام) پکڑنا اور (حَرام کی طرف) چل کرجانا ہے ۔ (صحیح مسلم صفحہ 1095 حدیث نمبر 6754)


شَراب نوشی کو فَروغ ملنا اس دن رَنگ رَلیاں مَنانے کےلیے شراب اور نَشہ آور چیزوں کا بے تَحاشہ (بہت زیادہ) اِستعمال کیا جاتا ہے ، جبکہ حدیث پاک میں ہے کہ جو شخص شَراب کا ایک گُھونٹ بھی پئے  گا ، اُسے اس کی مِثل جہنَّم کا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا ۔ (معجم ِکبیر جلد 8 صفحہ 197 حدیث نمبر 7803،چشتی)


گانے باجے کا اِہتمام اس دن کو مَنانے کےلیے جہاں چھوٹے پیمانے پر گانے باجے ، مُوسیقی بجائی جاتی ہے ، وہیں بڑے پیمانے پر میوزیکل پروگرامز اور فنکشنز (Functions)  کا بھی اِہتمام کیا جاتا ہے ، جبکہ روایت میں ہے کہ جو شخص کسی گانے والی کے پاس بیٹھ کر گانا سُنتا ہے قیامت کے دن اس کے کانوں میں پِگھلا ہوا سِیسہ اُنڈیلا جائے گا ۔ (جمع الجوامع جلد 7 صفحہ 254 حدیث نمبر 22843)


مُہلِک بیماری کا سبب : اس دن  بَدکاری کو فَروغ مِلتا ہے ، جس کی وجہ سے ایڈز (AIDS) نامی مُہلک مرض پھیلتا جارہا ہے ، ڈاکٹرز کے مُطابق ایڈز جیسی خطرناک بیماری اِسی بَدکاری کا نَتیجہ ہے ۔ قرآنِ پاک میں بَد کاری تو دُور ، اس فعلِ بَد کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا گیا ہے ۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے : وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ ۔ وَ سَآءَ سَبِیْلًا ۔

ترجمہ : اور بَد کاری کے پاس نہ جاؤ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ ۔ (سورہ بنی  اسرائیل آیت نمبر 32)


ویلنٹائن ڈے کا تہوار منانے میں بت پرست رومیوں اور پھر اہل کتاب عیسائیوں کے ساتھ مشابہت ہے کیونکہ انہوں نے اس میں رومیوں کی تقلید اور پیروی کی ہے اور یہ دن عیسائیوں کے دین میں نہیں ہے ، اور جب دین اسلام میں عیسائیوں سے کسی ایسی چیز میں مشابہت سے ممانعت ہے جو ہمارے دین میں نہیں ہے ، بلکہ ان عیسائیوں کے حقیقی دین میں نہیں ہے ، تو پھر ایسی چیز جو انہوں نے تقلیداً ایجاد کر لی تو بطریق اولیٰ ممنوع ہے ۔ ہمیں ایسے تمام تہواروں سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے جس کا تعلق کسی مشرکانہ یا کافرانہ رسم سے ہو ، ہر قوم کا ایک الگ خوشی کا تہوار ہوتا ہے ، اور اسلام میں مسلم قوم کے لئے واضح طور پر خوشی پر مبنی تہوار عیدین ہیں ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عیدالفطر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ : یَا أبابَکر ان لکل قوم عیدا و ھذا عیدنا ۔ (صحیح بخاری رقم : ۹۰۴)

ترجمہ : اے ابوبکر ہر قوم کی اپنی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے ۔


ویلنٹائن ڈے منانے کا مطلب مشرک رومی اور عیسائیوں کی مشابہت اختیار کرنا ہے ۔ اور کسی قوم کی مشابہت اختیار کرنا اسی قوم میں سے ہونے کے مترادف اور برابر ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : من تشبه بقوم فھو منھم ۔ (سنن ابی داؤد رقم : ۳۵۱۲)

ترجمہ : جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہے ۔


ایک روایت ہے جس کے اندر بتایا گیا ہے کہ مسلم قوم یہود و نصاریٰ کی مکمل پیروی کریں گے ، اور ہر کام میں ان کی نقل کریں گے، اور آج مسلم قوم غیروں کی نقل کر رہی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو چھوڑ رہی ہے ۔ اس لیے اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں سے بچنے کا حکم دیا : عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا شِبْرًا ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْيَهُودُ ، وَالنَّصَارَى ، قَالَ : فَمَنْ ۔ (صحیح بخاری رقم : ۶۸۰۲،چشتی)

ترجمہ : حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی بالشت بر بالشت اور ہاتھ بر ہاتھ پیروی کرو گے ، حتی کہ اگر وہ گوہ کے بل میں داخل ہوئے تو تم بھی ان کی پیروی میں اس میں داخل ہو گے ، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا یہودیوں اور عیسائیوں کی ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور کون ؟

دور حاضر میں ایمان اور کفر کی تمیز کیے بغیر تمام لوگ ویلنٹائن ڈے جو مناتے ہیں اس کا مقصد بھی بغیر تفریق کے تمام لوگوں کے درمیان محبت قائم کرنا ہے اور اس میں شک نہیں کہ کفار سے دلی محبت قائم کرنا ممنوع اور غلط ہے ۔ جیسا کہ سورۃ المجادلۃ کی آیت نمبر ۲۲ میں ہے کہ : لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ ۔ اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ ۔ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ ۔ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ ۔ اُولٰٓىٕكَ حِزْبُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ ۔

ترجمہ : تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ اُن کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے اُن کی مدد کی اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں اُن میں ہمیشہ رہیں اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی یہ اللہ کی جماعت ہے سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے ۔


اس موقع پر نکاح کے بندھن سے ہٹ کر ایک آزاد اور رومانوی قسم کی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے جس میں لڑکے لڑکیوں کا آزادانہ ملاپ ، تحفوں اور تمام چیزوں کا لین دین اور غیراخلاقی حرکات کا نتیجہ زنا اور بداخلاقی کی صورت میں نکلتا ہے جو اس بات کا اظہار ہے کہ: ہمیں مرد اور عورت کے درمیان آزادانہ تعلق پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ اگر اہل مغرب کی طرح ہمیں اپنی بیٹیوں سے عفت مطلوب نہیں ۔ اور اپنے نوجوانوں سے پاک دامنی درکار نہیں ۔ تو قرآن کریم کی سورۃ النور کی آیت نمبر ۱۹ میں ایسے لوگوں کے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب کی وعید وارد ہوئی ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ ۔

ترجمہ : وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُرا چرچا پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ تم پر نہایت مہربان مہروالا ہے توتم اس کامزہ چکھتے ۔


اس آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو یہ ارادہ کرتے اور چاہتے ہیں کہ مسلمانوں  میں بے حیائی کی بات پھیلے ان کےلیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ دنیا کے عذاب سے مراد حد قائم کرنا ہے، چنانچہ عبد اللہ بن اُبی، حضرت حَسّان اور حضرت مِسْطَحْ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا کو حدلگائی گئی اور آخرت کے عذاب سے مراد یہ ہے کہ اگر توبہ کئے بغیر مر گئے تو آخرت میں  دوزخ ہے۔ مزید فرمایا کہ  اللہ تعالیٰ دلوں  کے راز اور باطن کے احوال جانتا ہے اور تم نہیں  جانتے ۔(تفسیر مدارک صفحہ ۷۷۴)


 اشاعت سے مراد تشہیر کرنا اور ظاہر کرنا ہے جبکہ فاحشہ سے وہ تمام اَقوال اور اَفعال مراد ہیں  جن کی قباحت بہت زیادہ ہے اور یہاں  آیت میں  اصل مراد زِنا ہے ۔ (تفسیر روح البیان النور جلد ۶ صفحہ ۱۳۰،چشتی) ۔ البتہ یہ یاد رہے کہ اشاعتِ فاحشہ کے اصل معنیٰ میں بہت وسعت ہے چنانچہ اشاعتِ فاحشہ میں  جو چیزیں  داخل ہیں  ان میں  سے بعض یہ ہیں : ⏬


(1) کسی پر لگائے گئے بہتان کی اشاعت کرنا ۔


(2) کسی کے خفیہ عیب پر مطلع ہونے کے بعد اسے پھیلانا ۔


(3) علمائے اہلسنّت سے بتقدیر ِالٰہی کوئی لغزش فاحش واقع ہو تو ا س کی اشاعت کرنا ۔


(4) حرام کاموں  کی ترغیب دینا ۔


(5) ایسی کتابیں  لکھنا، شائع کرنا اور تقسیم کرنا جن میں  موجود کلام سے لوگ کفر اور گمراہی میں  مبتلا ہوں ۔


(6) ایسی کتابیں ، اخبارات ، ناول ، رسائل اور ڈائجسٹ وغیرہ لکھنا اور شائع کرنا جن سے شہوانی جذبات متحرک ہوں ۔


(7) فحش تصاویر اور وڈیوز بنانا ، بیچنا اور انہیں  دیکھنے کے ذرائع مہیا کرنا ۔


(8) ایسے اشتہارات اور سائن بورڈ وغیرہ بنانا اور بنوا کر لگانا ، لگوانا جن میں  جاذِبیت اور کشش پیدا کرنے کےلیے جنسی عُریانِیَّت کا سہارا لیا گیا ہو ۔


(9) حیا سوز مناظر پر مشتمل فلمیں اور ڈرامے بنانا،ان کی تشہیر کرنا اور انہیں  دیکھنے کی ترغیب دینا ۔


(10) فیشن شو کے نام پر عورت اور حیا سے عاری لباسوں  کی نمائش کرکے بے حیائی پھیلانا ۔


(11) زنا کاری کے اڈّے چلانا وغیرہ ۔


مذکورہ تمام کاموں  میں  مبتلا حضرات کو چاہیے کہ خدارا ! اپنے طرزِ عمل پر غور فرمائیں  بلکہ بطورِ خاص ان حضرات اور حکمرنوں کو زیادہ غورکرنا چاہیے جو فحاشی وعریانی اور اسلامی روایات سے جدا کلچر کو عام کر کے مسلمانوں کے اخلاق اور کردار میں بگاڑ پیدا کر رہے ہیں  اور بے حیائی ، فحاشی و عریانی کے خلاف اسلام نے نفرت کی جو دیوار قائم کی ہے اسے گرانے کی کوششوں  میں  مصروف ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں  ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے اور درج ذیل تین احادیث پر بھی غورو فکر کرنے اور ان سے عبرت حاصل کر نے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔


حضرت جریر رَضِیَ اللہ عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے اسلام میں  اچھا طریقہ رائج کیا ، اس کےلیے اسے رائج کرنے اور اپنے بعد اس پر عمل کرنے والوں  کا ثواب ہے ، اور ان عمل کرنے والوں  کے ثواب میں  سے بھی کچھ کم نہ ہوگا اور جس نے اسلام میں  بُرا طریقہ رائج کیا ، اس پر اس طریقے کو رائج کرنے اور اس پر عمل کرنے والوں  کا گناہ ہے اور ان عمل کرنے والوں  کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی ۔ (صحیح مسلم کتاب الزکاۃ باب الحث علی الصدقۃ ولو بشقّ تمرۃ۔۔۔ الخ، ص۵۰۸، الحدیث: ۶۹،چشتی)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روم کے شہنشاہ ہرقل کو جو مکتوب بھجوایا ا س میں  تحریر تھا کہ (اے ہرقل!) میں  تمہیں  اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں ،تم اسلام قبول کر لو تو سلامت رہو گے اور  اللہ تعالیٰ تمہیں  دُگنا اجر عطا فرمائے گا اور اگر تم (اسلام قبول کرنے سے) پیٹھ پھیرو گے تو رِعایا کا گناہ بھی تم پر ہوگا ۔ (صحیح بخاری کتاب بدء الوحی، ۶باب، ۱ / ۱۰، الحدیث: ۷)


حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ  اللہ عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ظلماً قتل کیا جاتا ہے تو اس کے ناحق خون میں  حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پہلے بیٹے (قابیل) کا حصہ ضرور ہوتا ہے کیونکہ اسی نے پہلے ظلماً قتل کرناایجاد کیا ۔ (صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب خلق آدم صلوات  اللہ علیہ وذرّیتہ ۲ / ۴۱۳ الحدیث : ۳۳۳۵)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو معاشرہ قائم فرمایا تھا اس کی بنیاد حیا پر رکھی جس میں زنا کرنا یہ نہیں بلکہ اس کے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم ہے مگر اب لگتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی حیا کے اس بھاری بوجھ کو زیادہ دیرتک اٹھانے کے لئے تیار نہیں بلکہ اب وہ حیا کے بجائے وہی کریں گے جو ان کا دل چاہے گا جو یقیناً مذموم ہے ۔ ایسے حالات میں ہمیں عفت و پاکدامنی کو ہاتھ سے چھوٹنے نہ دینا چاہیے اور اپنی تہذیب و تمدن ، ثقافت و روایات کو اپنانا چاہیے ۔ غیروں کی اندھی تقلید سے باز رہنا چاہیے تا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں اور جان لینا چاہیے کہ یوم تجدید محبت منانے کے نام پر کھلم کھلا بے راہ روی کی ترغیب دی جا رہی ہے اور اسلامی معاشرے میں ان غیرمسلموں کے تہواروں کو جان بوجھ کر ہوا دی جا رہی ہے تا کہ مسلمان اپنے مبارک اور پاک تہوار چھوڑ کر غیراسلامی تہوار منا کر اسلام سے دور ہو جائیں ۔ ویلنٹائن ڈے منانا اور غیرشرعی محبت اور اس کا اظہار ناجائز و گناہ کبیرہ ہے ۔ افسوس ویلنٹائن ڈے کے موقع پر لوگ اللہ عزوجل اور اس کے رَسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کے کاموں پر خوشی کا اِظہار کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں غیر مُسلموں کے ہر انداز و طریقۂ کار کو چھوڑ کر ، اِسلامی شِعار (طریقہ) و عادات کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Tuesday, 10 February 2026

تہجد اور تراویح الگ الگ نمازیں ہیں غیرمقلدین کے فریب کا جواب

تہجد اور تراویح الگ الگ نمازیں ہیں غیرمقلدین کے فریب کا جواب

محترم قارئینِ کرام : آج کل ایک چھوٹا سا طبقہ قرآن و حدیث کے نام پر لوگوں کو ائمہ اور ان کی فقہ (دینی سمجھ و تفسیر) کے خلاف گمراہ کرتے ، تہجد اور تراویح نماز کا ایک ہونا ثابت کرنے کی بھونڈی و ناکام کوشش کرتے اس حدیث کو ٨ رکعت تراویح کےلیے پیش کرتے ہیں : ⬇


عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ : مَا كَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُصَلِّي أَرْبَعًا ، فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا ، فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ، قَالَ : يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي ۔ (صحيح بخاری رقم الحديث 1883)(صحيح مسلم رقم الحديث ١٢٢٥)

ترجمہ : حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک میں کتنی رکعت نماز پڑھتے تھے ؟ ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان اور غیر (رمضان) میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہ پڑھتے تھے آپ چار رکعت پڑھتے تھے اس کی خوبی اور درازی کی کیفیت نہ پوچھو پھر چار رکعت نماز پڑھتے تھے تم ان کی خوبی اور درازی کی کیفیت نہ پوچھو اس کے بعد تین رکعت پڑھتے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر پڑھنے سے پہلے آرام فرماتے ہیں ۔ فرمایا میری آنکھ سو جاتی ہے لیکن میرا دل بیدار رہتا ہے ۔


یہ استدلال کسی طرح صحیح نہیں ؛ اس لیے کہ (١) حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی اس روایت میں رمضان (اور غیر رمضان) میں گیارہ رکعات اس ترتیب سے پڑھنے کا ذکر ہے چار، چار اور تین ۔ [بخاري : 1883 ؛ مسلم : 1225] ۔ اور دوسری صحیح حدیث میں دس اور ایک رکعات پڑھنے کا ذکر ہے،[مسلم : 1228،چشتی] اور ایک صحیح حدیث میں آٹھ رکعات اور پانچ رکعات ایک سلام کے ساتھ جملہ تیرہ (۱۳) رکعات پڑھنے کا ذکر ہے[مسلم : 1223] اور ایک صحیح حدیث میں نو (۹) رکعات ایک سلام کے ساتھ پڑھنے کا ذکر ہے۔[مسلم : 1226] حضرت عائشہ کی روایت کردہ یہ تمام حدیثیں ایک دوسرے سے رکعات اور ترتیب میں معارض (باہم ٹکراتی) ہیں۔ ایک روایت پرعمل کرنے سے دوسری حدیثوں کا ترک لازم آئے گا؛ لہٰذا ان حدیثوں کی توجیہ و تاویل کرنی ضروری ہوگی ۔ علاوہ دوسرے صحابہ کرام رضی الله عنہم سے مروی روایات بھی حضرت عائشہ کی اس روایت سے ترتیب اور رکعات میں مختلف ہیں، جیسا کہ حضرت عبدالله ابن عباس کی صحیح روایت میں دو رکعات چھ مرتبہ جملہ بارہ (۱۲) رکعات پھر وتر پڑھنے کا ذکرہے۔ اورایک مرسل حدیث میں سترہ (۱۷) رکعات پڑھنا مذکور ہے۔(مصنف عبدالرزاق: ۴۷۱۰) لہٰذا حضرت عائشہ کی صرف ایک ہی روایت سے تراویح کی گیارہ رکعات پر اصرار کرنا اور باقی حدیثوں کا ترک کرنا صحیح نہ ہوگا۔ (۲) حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی اس روایت میں "أتنام قبل أن توتر" کے الفاظ ہیں ۔ جس سے معلوم ہوا کہ آپ صلى الله عليه و آلہ وسلم سو کراٹھنے کے بعد نماز ادا فرماتے تھے ، اور دوسری حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول الله صلى الله عليه و آلہ وسلم رمضان کی راتوں میں سوتے نہیں تھے ، جیسا کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ : إذا دَخَلَ رمضانَ شَدَّ مِئْزَوَہ ثم لم یَأتِ فِراشَہ حتی یَنْسَلِخَ (یعنی پورا رمضان بستر کے قریب نہیں آتے تھے) ۔ [صحيح ابن خزيمة : 2070] ۔ نیز حضرت ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث میں پوری رات تراویح پڑھانا ثابت ہے ؛ لہٰذااس حدیث کو تراویح پر محمول کرنا صحیح نہیں ہے ۔ (۳) حضرت عائشہ کی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے کمرہ میں نماز ادا فرما کر آرام فرمایا، جب کہ تراویح کی احادیث میں اکثر مسجد میں (جماعت) سے نماز پڑھنے کا ذکر ملتا ہے؛ لہٰذا گیارہ (۱۱) رکعات کی اس حدیث کو تراویح سے جوڑنا، اور بیس (۲۰) رکعات کی نفی میں اس حدیث کو پیش کرنا کسی طرح صحیح نہیں ہے ۔ (۴) حدیث کے مطابق اس نماز کے بعد وتر بھی اسی کی طرح اکیلے ہی پڑھتے ، جبکہ یہ لوگ اسی حدیث کے خلاف خود وتر بھی جماعت سے پڑھتے ہیں، کیوں ؟؟؟ (٥) حضرت عائشہ کی گیارہ (۱۱) رکعات کی روایت کے اخیر میں أتَنَامُ قَبْلَ أن تُوتِرَ (کیا وتر پڑھے بغیر آپ سو گئے تھے ؟) کے الفاظ قابلِ غور ہیں، ہوسکتا ہے کہ یہ نماز وتر ہو ؛ اس لیے کہ حضرت عائشہ کی دوسری حدیث ۔ (صحیح مسلم۱۷۷۳) میں نو (۹) رکعات وتر پڑھ کر دو رکعات جملہ گیارہ پڑھنے کا ذکر ہے۔ (٦) اس حدیث میں (فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ) کے الفاظ یعنی رمضان اور غیر (رمضان) میں سے واضح ہوتا ہے کہ یہ نماز تہجد ہے، چونکہ یہ آپ رمضان میں بھی پڑھتے تھے، اسی لئے اس حدیث کو امام بخاری رحمة اللہ علیہ (كتاب التهجد) میں بھی لائیں ہیں اور (كِتَاب : صَلَاةِ التَّرَاوِيحِ) میں بھی لائیں ہیں ، کیونکہ آپ بھی ان دونوں کو الگ الگ نماز سمجھتے جو آپ کے عمل سے بھی واضح ہوتا ہے ۔


امام بخاری رحمة الله علیہ بھی تراویح کے بعد تہجد پڑھتے : چناچہ امام ابن حجر العسقلاني (773 هـ - 852 هـ) رحمة اللہ علیہ (هدی الساری مقدمة فتح الباري شرح بخاری صفحہ ٥٠٥) میں لکھتے ہیں : اور جسے غیرمقلد (اہل حدیث) علامہ وحید الزمان بھی اپنی کتاب (تیسیر الباری شرح بخاری جلد ١ صفحہ ٤٩) نقل کرتے ہیں کہ : امام حاکم ابو عبدالله نے بسند روایت کیا ہے مقسم بن سعید سے کہ محمّد بن اسماعیل بخاری جب رمضان کی پہلی رات ہوتی تو لوگ ان کے پاس جمع ہوتے، وہ نماز_تراویح پڑھاتے اور ہر رکعت میں بیس (٢٠) آیات یہاں تک کے کہ قرآن ختم کرتے پھر سحر کو (نمازِ تہجد میں) نصف سے لیکر تہائی قرآن تک پڑھتے اور تین راتوں میں قرآن ختم کرتےاور دن کو ایک قرآن ختم کرتے اور وہ افطار کے وقت ختم ہوتا تھا ۔ (هدی الساری مقدمة فتح الباری شرح بخاری صفحہ ٥٠٥ ذکر و سيرته و شمائله و زهده و فضائله)


ویسے تو یہ بخاری بخاری چلاتے ہیں ، لیکن اپنا مسلک ثابت کرنے کےلیے بخاری کو چھوڑ کر (مسلم) کی طرف چلے، مسلم کی اس حدیث میں سرے سے تراویح کا ذکر ہی نہیں ، تہجد کا ذکر ہے جس کا کون منکر ہے ؟ لہٰذا موضوع سے ہی خارج ہے ۔ اور اس حدیث پر خود ان کا بھی عمل نہیں اس لیے کہ خود ترجمہ یہ کیا ہے کہ "فجر کی اذان تک" یہ نماز جس کو خود تراویح کہہ رہے ہیں کہ آپ صلى الله عليه و آلہ وسلم پڑھتے تھے ، جبکہ آج خود عشاء کی نماز کے فوراً بعد آٹھ (٨) رکعت پڑھ کر نیند کے مزے لیتے ہیں ۔ صحیح حدیث پر تو ان کا بھی عمل نہیں ہم سے گلا کس بات کا ؟


تہجد کو محدثین نے کتب حدیث میں (قیام الیل) یعنی رات کی نماز، اور تراویح کو (قیام الیل فی رمضان) یعنی رمضان میں رات کی نماز ، کے الگ الگ ابواب سے ذکر کیا ہے ، اور یہ دونو جدا جدا نمازیں ہیں ۔ چناچہ مشھور غیرمقلد اہلحدیث علامہ وحید الزمان لکھتے ہیں : "وأما قيام اليل فهو غير قيام رمضان" يعنی : قیام الیل، قیام رمضان کے علاوہ ہے ۔ (نزل الأبرار صفحہ ٣٠٩)


تراویح اور تہجد کا وقت بھی جدا جدا ہے ، چناچہ فتاویٰ علماۓ حدیث (٦:٢٥١) میں ہے کہ: تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد "اول" شب کا ہے اور تہجد کا "آخر" شب کا ہے ۔


غیرمقلد عالم ثناء الله امرتسری لکھتے ہیں : تہجد کا وقت صبح سے پہلے کا ہے ، اول وقت میں تہجد نہیں ہوتی ۔ (فتاویٰ ثناءیہ: ١/٤٣١)


محدثین کی طرح فقہاء کرام بھی تراویح اور تہجد کو علیحدہ علیحدہ نماز سمجھتے اور کتبِ حدیث کی طرح کتبِ فقہ میں بھی الگ الگ ابواب میں ذکر کرتے ہیں ۔


تہجد اور تراویح میں فرق کا ثبوت : تراویح سنّت ہے اور تہجد نفل نماز ہے ۔


تہجد کی مشروعیت قرآن سے "نفل" ثابت ہے : "اور کچھ رات جاگتا رہ قرآن کے ساتھ یہ نفل (زیادتی/اضافی) ہے تیرے لیے " (١٧:٧٩) جبکہ نمازِ تراویح کی : مشروعیت "سنّت" ہونا حدیث سے ثابت ہے ، حدیث : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ ، وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ ، فَمَنْ صَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ؛ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ۔ [امام بخاری کے استادکی کتاب ، مصنف ابن ابی شیبہ جلد 2 صفحہ 287 مکتبہ امدایہ]

ترجمہ : رسول ﷲ صلى الله عليه و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے تم پر رمضان کے روزوں کو فرض کیا ہىں اور میں نے تمہارے لیے اس کے قیام کو (تراویح) سنت قرار دیا ہے پس جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور قیام کرے (تراویح پڑھے) ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے تو اس کے پچھلے گناہ بخشش دئىے جائىں گئے ۔


فائدہ : یہ سنّت نماز (تراویح) بھی روزہ کی طرح رمضان کی خاص عبادات میں سے ہے ۔


قرآن : یعنی اور جو دے تم کو رسول سو لے لو اور جس سے منع کرے سو چھوڑ دو ۔ (٥٩/٧)


حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ سَمَّاهُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِؓ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ کعبؓ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَمِلْتُ اللَّيْلَةَ عَمَلًا ، قَالَ : " مَا هُوَ ؟ " ، قَالَ : نِسْوَةٌ مَعِي فِي الدَّارِ قُلْنَ لِي : إِنَّكَ تَقْرَأُ وَلَا نَقْرَأُ ، فَصَلِّ بِنَا ، فَصَلَّيْتُ ثَمَانِيًا وَالْوَتْرَ ، قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فَرَأَيْنَا أَنَّ سُكُوتَهُ رِضًا بِمَا كَانَ ۔ (مسند أحمد بن حنبل رقم الحديث : 20626)

ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ سے بحوالہ ابی بن کعب مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلى الله عليه و آلہ وسلم آج رات میں نے ایک کام کیا ہے ، نبی کریم صلى الله عليه و آلہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ؟ اس نے کہا میرے ساتھ گھر میں جو خواتین تھیں وہ کہنے لگیں کہ آپ قرآن پڑھنا جانتے ہو ہم نہیں جانتیں لہٰذا آپ میں نماز پڑھاؤ چنانچہ میں نے انہیں آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھا دیے اس پر نبی کریم صلى الله عليه و آلہ وسلم خاموش رہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه و آلہ وسلم کی خاموشی مذکورہ واقعے پر رضا مندی کی دلیل تھی ۔


حقیقت : "قیام الیل" کی سند میں مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ ، قمي اور عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ضعیف ہیں ؛ اور "مسند احمد" مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ تو نہیں رَجُلٌ سَمَّاهُ ہے یعنی مبہم (نہ معلوم) راوی ہے اور باقی وہی دونوں قمي اور عِيسَى یھاں بھی ہیں، پس اصولِ حدیث کے اعتبار سے یہ حدیث نہایت ضعیف ہے، اور ہیثمی کا اسے حسن کہنا خلافِ دلیل ہے ۔


یہ روایت تین کتابوں میں ہے : "مسند احمد" میں تو سرے سے رمضان کا ذکر ہی نہیں، "ابو یعلیٰ" کی روایت میں (یعنی رمضان) کا لفظ ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہ فہمِ راوی ہے نہ کہ روایتِ راوی ، "قیام اللیل" میں فی رمضان کا لفظ ہے جو کسی راوی تحتانی کا ادراج ہے، جب اس حدیث میں فی رمضان کا لفظ ہی مُدرج ہے تو اس کو تراویح سے کیا تعلق رہا ۔


"ابو یعلیٰ" اور "قیام اللیل" سے ظاہر ہے کہ یہ واقعہ خود حضرت ابی بن کعب کا ہے ، مگر "مسند احمد" سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کسی اور شخص کا ہے اس سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ راوی اس واقعہ کو کماحقہ ضبط نہیں کر سکے ۔ (یعنی ضبط راوی میں بھی ضعف ثابت ہوا)


پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ آٹھ رکعت پڑھنے والا (قيام الليل کی روایت میں) کہتا ہے کہ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ اور (مسند احمد کی روایت میں کہتا ہے کہ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَمِلْتُ اللَّيْلَةَ عَمَلًا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسی ایک رات اس نے آٹھ پڑھی تھیں پہلے کبھی یہ عادت نہ تھی اسی لیے وہ کہتا ہے کہ یہ انوکھا کام میں نے آج رات ہی کیا ہے ورنہ آٹھ میری عادت نہیں اور نہ میں اسے سنّت سمجھتا ہوں. حضور صلى الله عليه و آلہ وسلم خاموش رہے ورنہ آٹھ رکعت سنّت ہوتی تو آپ صلى الله عليه و آلہ وسلم خاموش کیوں رہتے ، فرماتے تم گھبرا کیوں رہے ہو یہ تو سنّت ہے ۔ معلوم ہوا کہ عہدِ نبوی صلى الله عليه و آلہ وسلم میں کوئی شخص بھی آٹھ رکعت تراویح کو سنّت نہیں سمجھتا تھا ، آپ صلى الله عليه و آلہ وسلم نے خاموش رہ کر آٹھ کے سنّت نہ ہونے کی تقریر فرمادی جس سے کسی خاص حالت میں نفس جواز (اس کا صرف جائز ہونا) معلوم ہوا وہ بھی بعد میں اجماعِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے خلاف ہونے کی وجہ سے ختم (منسوخ) ہوگیا ۔


نوٹ : ہم اس آٹھ (٨) رکعت والی حدیث جابر سے زیادہ بہتر اور مضبوط سند بیس (٢٠) رکعت تراویح کے ثبوت میں حضرت جابر سے ہی دوسری حدیث نبوی بیان کر چکے ہیں، لہذا جب صحیح سند اس کے خلاف وہ بھی ان ہی صحابی سے مروی حدیث ثابت ہے تو آٹھ (٨) رکعت کو سنّت اور بیس (٢٠) رکعت کو بدعت کہنا بلا دلیل ہی نہیں بلکہ خلاف (صحیح) دلیل ہے ۔


بیس (20) رکعت تراویح کا ثبوت کتب شیعہ سے : حضرت سیدنا علی المرتضى، حضرت سیدنا عثمان غنی ذو النورین کے دور خلافت میں گھر سے نکلے مسجد میں لوگوں کو جمع ہوکر نماز تراویح پڑھتے ہوۓ دیکھ کر ارشاد فرمایا : اے الله حضرت عمر کی قبر انور کو منور فرما جس نے ہماری مسجدوں کو منور کردیا ۔ [شرح نہج البلاغہ ابن ابی حدید: ٣/٩٨،چشتی]


حضرت سیدنا امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه و آلہ وسلم رمضان مبارک کے مہینہ میں اپنی نماز کو بڑھا دیتے تھے ۔ عشاء کی (فرض) نماز کے بعد نماز کےلیے کھڑے ہوتے، لوگ پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھتے ، اس طرح کے کچھ وقفہ کیا جاتا ۔ پھر اس طرح حضور سید عالم صلى الله عليه و آلہ وسلم نماز پڑھاتے ۔ [فروع کافی : ١/٣٩٤ - طبع نولکشور، ٤/١٥٤ - طبع ایران]


شیعہ کی کتاب من لایحضر الفقیہ میں بھی بیس (٢٠) رکعت تراویح کا ذکر ہے ۔ [من لایحضر الفقیہ : ٢/٨٨]


حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ بھی رمضان مبارک کے مہینہ میں اپنی نماز میں اضافہ کردیتے تھے، اور روزانہ معمول کے علاوہ بیس رکعت نماز نوافل (مزید) ادا فرماتے تھے ۔ [الاستبصار ١/٢٣١-طبع نولکشور، ١/٤٦٢-طبع ایران]


اسی لیے امام قرطبی علیہ الرحمہ (المتوفى : 463هـ) (اس حدیث کا حکم) فرماتے ہیں : قال القرطبي : أشكلت روايات عائشة على كثير من العلماء حتى نسب بعضهم حديثها إلى الاضطراب ، وهذا إنما يتم لو كان الراوي عنها واحداً أو أخبرت عن وقت واحد ۔ [فتح الباری شرح صحیح البخاری ، لامام ابن حجر : ٣/١٧، عمدة القاري شرح صحيح البخاري، علامہ عینی : 11/294 ، شرح الزرقاني على موطأ الإمام مالك: ، شرح الزرقاني علي المواهب اللدنيه : 1/549]

ترجمہ : مشتبہ ہوئیں حضرت عائشہ کی روایات بہت ہی زیادہ علماء پر حتاکہ منسوب کیا ان میں سے بعض نے اس حدیث کو اضطراب کی طرف (یعنی مضطرب حدیث کہا)

مضطرب حدیث : جو ثقہ (قابل اعتماد) راویوں کی صحیح سند (راویوں کے سلسلہ) سے مذکور تو ہو ، لیکن اس کی سند (راویوں کے سلسلہ) یا متن (الفاظ حدیث) میں ایسا اختلاف ہو کہ اس میں کسی کو ترجیح یا تطبیق (جوڑ) نہ دی جا سکے ۔


اگر نمازِ تہجد اور نمازِ تراویح ایک ہی نماز ہے اور تراویح کے آٹھ رکعات ہونے کی یہی حدیث دلیل ہے تو چاہیے کہ اس حدیث کے تمام اجزا پر عمل کیا جائے اور اس میں بیان کردہ پوری کیفیت کے ساتھ نماز تراویح ادا کی جائے یا کم از کم اس کے مسنون ہونے کو بیان کیا جائے ۔ مگر اس حدیث سے صرف آٹھ کا لفظ تو لے لیا مگر آٹھ رکعات نماز کی کیفیت کو چھوڑ دیا ، کیوں کہ اس میں لمبی لمبی چار چار رکعات پڑھنے کاذکر ہے اور تین رکعات وتر کا ذکر ہے ، نیز وتر کےلیے تین کے لفظ کو چھوڑ کر صرف ایک ہی رکعت وتر کو اپنی سہولت کےلیے اختیار کر لیا ۔ اس حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم آٹھ رکعات پڑھنے کے بعد سوجاتے ، پھر وتر پڑھتے تھے ، حالانکہ ماہِ رمضان میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت سے سارے حضرات نماز عشاء کے ساتھ تراویح پڑھنے کے فوراً بعد وتر جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ بخاری کی اس حدیث کے صرف آٹھ کے لفظ کو لے کر باقی تمام امور چھوڑ نا یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پر عمل کرنا نہیں ہوا ، حالانکہ بخاری میں ہی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی دوسری حدیث ہے : کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی الله علیہ و آلہ وسلم یُصَلِّی بِالَّیْلِ ثَلَاثَ عَشَرَةَ رَکْعَةً ، ثُمَّ یُصَلِّیْ اِذَا سَمِعَ النِّدَاء بِالصُّبْحِ رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ ۔ (باب ما یقرأ فی رکعتی الفجر) ۔ یعنی اللہ کے رسول صلی الله علیہ و آلہ وسلم تہجد کی نماز تیرہ رکعات پڑھتے تھے اور جب فجر کی اذان سنتے تو دو ہلکی رکعات ادا کرتے (یعنی فجر کی سنت) ۔


غور فرمائیں کہ گیارہ رکعات والی حدیث بھی بخاری میں ہے اور تیرہ رکعات والی حدیث بھی بخاری میں اور دونوں حدیثیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہیں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ گیارہ رکعات والی حدیث میں سے لفظ آٹھ کو تو لے لیا اور تیرہ رکعات والی حدیث کو بالکل ہی چھوڑ دیا ، حالاں کہ تیرہ رکعات والی حدیث میں کان کالفظ استعمال کیا گیا ہے ، جو عربی زبان میں ماضی استمراری کےلیے ہے یعنی آپ صلی الله علیہ و آلہ وسلم کا تیرہ رکعات پڑھنے کا معمول تھا ۔ نمازِ تہجد اور نماز تراویح کو ایک کہنے والے حضرات قرآن وحدیث کی روشنی میں دونوں احادیث میں تطبیق دینے سے قاصر ہیں ۔ جب پوچھا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی آٹھ رکعات والی حدیث میں تو چار چار رکعات پڑھنے کا تذکرہ ہے ، لیکن عمل دو دو رکعات پڑھنے کا ہے تو جواب میں دوسری حدیث کا حوالہ دیا جاتا ہے، جس میں نماز تہجد کو دو دو رکعات پڑھنے کا تذکرہ ہے اور وہ حضرت عبد اللہ بن عباس کی حدیث ہے جو بخاری ہی (کتاب الوتر) میں ہے : ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ اَوْتَرَ ۔ نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے وضو وغیرہ سے فارغ ہو کر نماز تہجد پہلے دو رکعات ادا کی ، پھر دو رکعات ادا کی ، پھر دورکعات ادا کی،پھر دورکعات ادا کی،پھر دورکعات ادا کی ، پھر دورکعات ادا کی ، پھر وتر پڑھے ۔ بخاری کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم نمازِ وتر کے علاوہ دو دو رکعات کرکے تہجد کی کل بارہ رکعتیں ادا فرماتے ۔ آٹھ رکعات تراویح کا موقف رکھنے والے حضرات کے نزدیک تراویح اور تہجد ایک ہی نماز ہے تو ان احادیث میں تطبیق کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔ غرضیکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پہلی حدیث سے آٹھ کا لفظ لیا اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث سے دو دو رکعات پڑھنے کو لیا تو نہ تو حضرت عائشہ کی حدیث پر عمل ہوا اور نہ حضرت عبداللہ بن عباس کی حدیث پرعمل ہوا ، بلکہ اپنے اسلاف کی تقلید ہوئی ، حالانکہ یہ تینوں احادیث صحیح بخاری کی ہی ہیں۔ معلوم ہوا کہ نمازِ تراویح اور نمازِ تہجد کو ایک قرار دینا ہی غلط ہے ، کیوں کہ اس کا ثبوت دلائل شرعیہ سے نہیں دیا جا سکتا ہے ۔ چاروں آئمہ میں سے کوئی بھی دونوں نمازوں کو ایک قرار دینے کا قائل نہیں ہے ۔ امام بخاری تو تراویح کے بعد تہجد بھی پڑھا کرتے تھے ، امام بخاری تراویح باجماعت پڑھا کرتے تھے اور ہر رکعت میں بیس آیتیں پڑھا کرتے تھے اور پورے رمضان میں تراویح میں صرف ایک ختم کرتے تھے ، جب کہ تہجد کی نماز امام بخاری تنہا پڑھا کرتے تھے اور تہجد میں ہر تین رات میں ایک قرآن کریم ختم کیا کرتے تھے ۔ (امام بخاری کے اس عمل کی تفصیلات پڑھنے کےلیے صحیح بخاری کی سب سے مشہور و معروف شرح ”فتح الباری“ کے مقدمہ کا مطالعہ فرمائیں)


بس بات صحیح یہی ہے کہ نماز تراویح اور نماز تہجد دو الگ الگ نمازیں ہیں ، تہجد کی نماز تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے متعین ہوئی ہے ، سورہٴ المزمل کی ابتدائی آیات (یَااَیَّہَا الْمُزَمِّلُ قُمِ اللَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلا ......) پڑھ لیں ۔ جب کہ تراویح کا عمل حضور اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے فرمان سے مشروع ہوا ہے ، جیساکہ آپ صلی الله علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے  : سَنَنْتُ لَہ قِیَامَہ ۔ (سنن نسائی ، سنن ابن ماجہ)


نوٹ : یاد رہے غیر مقلدین نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی پر ایک بھت بڑا الزام لگاتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے رمضان المبارک میں تہجد نہیں پڑھی حالانکہ تہجد نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم پر فرض تھی اور تراویح نفلی عبادت بھلا ان گستاخوں کو کون سمجھائے کہ اس طرح کے جاھلانہ فتوؤں سے تم نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو تارکِ فرض قرار دے رہے ہو اور یہ اتنی بڑی گستاخی ہے نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی کی کاش تمہارے ہی لوگوں کو سمجھ آجائے جو اندھے مقلد ہیں اپنی مساجد کے ملاّؤں کے اور خود کو غیر مقلد کہتے وہی تمہیں مساجد و بازاروں میں گھسیٹیں گے کہ نعوذ بااللہ تم نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو تارک فرض قرار دیتے ہو اور شرم پھر بھی نہیں آتی ؟


آخری میں ایک سوال اے گروہ آلِ نجد غیر مقلدین کیا نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم تہجد فرض چھوڑ دیتے تھے یا نفلی عبادت تراویح نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے نہیں پڑھی اس سوال کا جواب علمی دلائل سے دو ؟


اور ہاں تہجد اور تراویح نبی صلی الله علیہ و آلہ وسلم کےلیے کس حیثیت میں مانتے ہو ؟


بیس رکعت نمازِ تراویح کے منکرین سے کچھ سوالات


بر صغیر اور اس سے ملحقہ کچھ ممالک میں رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی کچھ شریر اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے امت کو تقسیم کرنے میں پورا زور لگاتے ہیں ، ایمان تازہ کرنے اور نیکیوں کے اس موسم میں نت نئی خرابیوں کے علاوہ ایک اہم مسئلہ نماز تراویح کی رکعات کا ہے ۔ شروع سے ہی امت میں متفقہ طور پر بیس رکعات تراویح ادا کی جاتی رہیں مگر ہندوستان کے کچھ لوگوں نے ماضی قریب میں اسے بھی متنازعہ بنا دیا ۔ حرمین شریفین ، بلاد عرب ، شرق و غرب اور کرہ ارض پر موجود امتِ مسلمہ کی اکثریت بیس رکعات ادا کرتی ہے اور یہ جمہور کا مذہب ہے ۔ عوام الناس کے ذہنوں میں موجود غلط فہمی اور ان لوگوں کی جہالت کو روکنے کی نیت سے پہلے کچھ روایات مستند کتبِ حدیث سے پیشِ خدمت ہیں جو کہ بیس ترایح پر دلیل و ثبوت ہیں : ⬇


امام ابو حنیفہ ، امام شافعی ، امام احمد بن حنبل ، امام سفیان ثوری ، ابن مبارک رضی اللہ عنہم وغیرہ بیس رکعت تراویح کے قائل ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں : و اکثر اهل العلم علی ماروی عن علی و عمر غيرهما من اصحاب النبی صلی الله عليه وآله وسلم عشرين رکعت و هو قول سفيان الثوری، و ابن المبارک و الشافعی و قال الشافعی هکذا ادرکت ببلد مکتة يصلون عشرين رکعت ۔ (جامع ترمذی، ابواب الصوم، باب ماجاء فی قيام شهر رمضان،چشتی)

ترجمہ : اکثر اہل علم کا عمل اس پر ہے جو حضرت علی و حضرت عمر و دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے ، بیس رکعت ۔ یہی حضرت سفیان ثوری ، ابن مبارک ، امام شافعی کا قول ہے ، امام شافعی علیہ الرحمہ نے فرمایا ، میں نے شہر مکہ میں یہی عمل پایا کہ لوگ بیس رکعت پڑھتے ہیں ۔


یہ روایت کس واضح اور روشن انداز میں بیان کر رہی ہے کہ امت کے جلیل القدر ائمہ کرام رضی اللہ عنہم متفقہ طور پر تراویح کی بیس رکعات کے قائل ہیں۔ اس روایت میں ائمہ اربعہ میں سے ایک امام سیدنا امام مالک رضی اللہ عنہ کا نام شامل نہیں لیکن انہوں نے الگ سے احادیث شریف پر عظیم کتاب "موطا امام مالک" میں حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل فرما کر اس فتنے کو لگام ڈال دی ۔


کنا نقوم فی عهد عمر بعشرين رکعت ۔ (مؤطا امام مالک)

ترجمہ : ہم لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بیس رکعت پڑھتے تھے ۔


مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبد الرزاق میں امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ حکم منقول ہے : یحی بن سعید کہتے ہیں کہ : ان عمر بن الخطاب امر رجلا ان يصلی بهم عشرين رکعة ۔ (مصنف ابن ابی شيبه، 1 : 393، مصنف عبد الرزاق، 1 : 262)

ترجمہ : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو بیس رکعت تراویح پڑھانے کا حکم دیا ۔


محترم قارئینِ کرام : توجہ فرمائیے وہ لوگ جو آٹھ تراویح کا شور کرتے ہیں ان کے پاس کوئی ایک ضعیف حدیث بھی نہیں ہے جس میں صراحت ہو کہ آٹھ رکعات تراویح پڑھو اور یہاں اللہ کے حبیب صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے خلیفہ جناب عمر رضی اللہ عنہ حکماً فرما رہے ہیں کہ بیس رکعات تراویح پڑھو ۔


اس کے علاوہ تراویح کی بیس رکعات پر علماء کرام کی تصانیف اور تحقیقات کا ایک ذخیرہ موجود ہے ۔ یہاں فقیر چند سوالات درج کر رہا ہے ، جو لوگ آپ کے آس پاس میں آٹھ رکعات پڑھنے کے قائل ہیں ان سے یہ سوالات کیجیے  ان شاء اللہ حق واضح ہو جائے گا ۔ ⬇


1 ۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ حرم مکہ اور حرم مدینہ میں کبھی آٹھ رکعات نماز تراویح با جماعت ادا کی گئی ہو ؟


2 ۔ شریعت اسلامیہ میں عمل کی ایک شرعی حیثیت ہوتی ہے ، عمل یا تو غلط ہوتا ہے یا درست ، اگر آپ کے نزدیک آٹھ تراویح درست ہیں تو حرمین شریفین میں آج بھی بیس رکعات با جماعت ادا کی جاتی ہیں ۔ آپ دونوں میں سے کون غلط ؟ حرمین شریفین والے یا آپ ؟


3 ۔ ملتِ اسلامیہ میں اس وقت تقریباً ستاون اسلامی ممالک ہیں ، کیا آپ بتا سکتے ہیں کسی ایک ملک میں سرکاری سطح پر آٹھ رکعات تروایح ادا کی جاتی ہیں ؟


4 ۔ تروایح کی رکعات میں ہند و پاک کے علماء پر ہی کیوں اعتراض ، آٹھ تراویح کی وکالت سعودی علماء کے سامنے کیوں نہیں کرتے ؟ اور سعودی عرب میں آٹھ تراویح پڑھانے کےلیے وہاں کے علماء پر کیوں زور نہیں دیتے ؟


5 ۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بیس تراویح کا حکم جاری فرمایا ، کیا آپ کوئی ایک ضعیف روایت بھی دکھا سکتے ہیں جس میں دورِ عمر رضی اللہ عنہ یا ان کے بعد کے ائمہ و مشائخ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک نے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس حکم سے ذرہ برابر اختلاف کیا ہو ؟


6 ۔ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے علماء و اسلاف اور قرنِ اولٰی کے ائمہ کو اختلاف نہیں تھا تو آپ کل کی پیداوار ہیں ، آپ کس بنیاد پر اختلاف کر رہے ہیں ؟


7 ۔ سعودی عرب میں حرمین شریفین اور تمام بڑی مساجد میں با جماعت بیس رکعات تروایح ادی کی جاتی ہیں ، ہندوستانی و پاکستانی غیر مقلد وہابی علماء وہاں موجود ہوتے ہیں ، جب آپ کے سامنے ایک غیر شرعی عمل ہو رہا ہوتا ہے تو آپ کلمہ حق کیوں بلند نہیں کرتے اور ان لوگوں کو بیس رکعات کی ادائیگی سے کیوں نہیں روکتے ؟


8 ۔ عالمِ اسلام کی عظیم درسگاہ جامعۃ الازہر کے مفتی ، علماء اور فضلاء بیس رکعات پڑھتے ہیں ، کیا آپ نے ہندوستان و پاکستان سے باہر نکل کر کبھی ان علماء کو بھی دعوتِ مناظرہ دی یا صرف ہند و پاک میں ہی فرقہ پرستی پھیلانا مقصود ہے ؟


9 ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں تراویح کا با جماعت عمل شروع کیا ، بیس رکعات بھی انہیں سے ثابت ، آپ رضی اللہ عنہ کے دور میں ہزاروں صحابہ کرام علیہم الرضوان حیات و موجود تھے ، کسی ایک صحابی نے بیس رکعات پر اعتراض نہیں کیا ، کسی ایک کتاب سے کوئی ایک اعتراض ثابت نہیں ۔۔۔ تو اب ہم اصحابِ رسول کے قول و فعل کا اعتبار کریں گے یا آپ کی تاویلات مبنی بر جہالت مانیں ؟


10 ۔ ہم سابقہ مضامین میں لکھ چکے اور مزید ثابت کرنے کو تیار ہیں کہ امام ابو حنیفہ ، امام شافعی ، امام احمد بن حنبل اور امام مالک رضوان اللہ علیہم اجمعین اور مستند احادیثِ مبارکہ سے بیس رکعات ثابت ہیں اور یہی چاروں امام امت اسلامیہ کےلیے رہنماء ہیں ، حرمین شریفین میں بھی امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید کی جاتی ہے تو اس قدری وزنی دلائل اور ائمہ امت کے اقوال کی موجود گی میں کیا یہ ضرورت باقی رہتی ہے کہ ہم ہندوستان میں پیدا ہونے والی کسی مولوی کی بات پر یقین کر کے تراویح کی رکعات آٹھ مان لیں ؟


سعودی عرب کے نامور عالم ، مسجد نبوی کے مشہور مدرس اور مدینہ منورہ کے (سابق) قاضی الشیخ عطیہ محمد سالم (متوفی ۱۹۹۹) نے نماز تراویح کی چودہ سو سالہ تاریخ پر عربی زبان میں ایک مستقل کتاب (التراویحُ أکْثَرُ مِنْ ألْفِ عَامٍ فِی الْمَسْجِدِ النبوی) لک ھی ہے ۔ کتاب کے مقدمہ میں تصنیف کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسجد نبوی میں نماز تراویح ہو رہی ہوتی ہے تو بعض لوگ آٹھ رکعت پڑھ کر ہی رک جاتے ہیں ، ان کا یہ گمان ہے کہ آٹھ رکعت تراویح پڑھنا بہتر ہے اور اس سے زیادہ جائز نہیں ہے ، اس طرح یہ لوگ مسجد نبوی میں بقیہ تراویح کے ثواب سے محروم رہتے ہیں ۔ ان کی اس محرومی کو دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے ، لہٰذا میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں ؛ تاکہ ان لوگوں کے شکوک وشبہات ختم ہوں اور ان کو بیس رکعت تراویح پڑھنے کی توفیق ہو جائے ۔ اس کتاب میں ۱۴۰۰ سالہ تاریخ پر مدلل بحث کرنے کے بعد شیخ عطیہ محمد سالم لکھتے ہیں : اس تفصیلی تجزیہ کے بعد ہم اپنے قراء سے اولاً تو یہ پوچھنا چاہیں گے کہ کیا ایک ہزار سال سے زائد اس طویل عرصہ میں کسی ایک موقع پر بھی یہ ثابت ہے کہ مسجد نبوی میں مستقل آٹھ تراویح پڑھی جاتی تھیں ؟ یا چلیں بیس سے کم تراویح پڑھنا ہی ثابت ہو ؟ بلکہ ثابت تو یہ ہے کہ پورے چودہ سو سالہ دور میں بیس یا اس سے زائد ہی پڑھی جاتی تھیں ۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی صحابی یا ماضی کے کسی ایک عالم نے بھی یہ فتویٰ دیا کہ ۸ سے زائد تراویح جائز نہیں ہیں اور اس نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کو اس فتوے کی بنیاد بنایا ہو ۔


11 ۔ سعودی عالمِ دین جو کہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے امام و شیخ تھے ، انہوں نے آٹھ تروایح کو غلط سمجھا اور اس پر مکمل کتاب لکھ ڈالی اور کتاب بھی چیلنج سے بھر پور ۔ آٹھ تراویح پڑھنے والوں نے آج تک اس کتاب کا جواب کیوں نہیں دیا ؟ آپ دونوں میں سے کون غلط ؟ امام مسجد نبوی یا آپ ؟


صبحِ قیامت تک ان سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں ہو گا ۔ فقیر کی گزارش ہے کہ تقسیم در تقسیم اس قوم پر رحم کیجیے اور امت کے متفقہ مسائل میں شرانگیزی نہ کیجیے ۔ اس قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے اس لیے اگر آپ عملِ خیر نہیں کر سکتے تو ماہِ مقدس میں اپنی شرارتوں سے دوسروں کو اذیت بھی نہ دیجیے ۔ تمام قارئینِ کرام سے گزارش ہے کہ تروایح کی بیس رکعات مکمل ادا کیجیے ۔ اس سے کم نوافل ہو سکتے ہیں تراویح نہیں ہو گی ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)


فضائل و مسائل اور دلائل بیس رکعات نمازِ تراویح مکمل مضمون یکجا اس لنک میں پڑھیں : ⏬

https://faizahmadchishti.blogspot.com/2024/03/blog-post_6.html

Tuesday, 3 February 2026

پندرہ شعبان المعظم کا روزہ رکھنے اور ممانعت کی تحقیق

پندرہ شعبان المعظم کا روزہ رکھنے اور ممانعت کی تحقیق

محترم قارئینِ کرام : فرائض و واجبات کی ادائیگی کے ساتھ نفلی عبادت کی کثرت بلاشبہ باعثِ حصولِ برکات اور رب عزوجل کے قرب کا بہترین ذریعہ ہے بالخصوص روزہ ، تو اس کی جزا رب عزوجل خود عطا فرمائے گا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بکثرت نفلی روزوں کا اہتمام فرمانا ثابت ہے ، خاص طور پر ماہِ شعبان میں اس قدر روزے رکھتے ، گویا پورا ماہ ہی روزے میں گزرتا ، حتی کہ رمضان آجاتا ، نیز رمضان کے بعد شعبان کے روزوں کو افضل قرار دیا گیا ہے ، لیکن  دوسری طرف ہمیں نفلی عبادات کے ساتھ دیگر حقوق کا خیال رکھنے کی بھی تلقین فرمائی گئی ہے اور وہ یوں کہ اگر نفلی روزے رکھنے کی وجہ سے حقوق واجبہ و مستحبہ (مثلاً : نماز ، فرض روزوں ، رزقِ حلال کا حصول ، والدین کی خدمت ، اولاد کی پرورش وغیرہ) میں کمی کی صورت نہ بنے ، تو نفلی روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں ، البتہ جو شخص کمزور ہو ، بکثرت روزے رکھنا اس کےلیے دیگر حقوق کی ادائیگی میں کمی کا باعث بنے ، تو اسے چاہیے کہ نفلی روزے رکھنے کی ایسی صورت اپنائے ، جس سے بقیہ حقوق میں کمی واقع نہ ہو ۔


حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب شعبان کی پندرھویں رات آجائے تو اس رات کو قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو کہ رب تعالیٰ غروبِ آفتاب سے آسمانِ دنیا پر خاص تجلی فرماتا ہے اور کہتا ہے ، ہے کوئی مغفرت کا طلب کرنے والا کہ اسے بخش دوں ! ہے کوئی روزی طلب کرنے والا کہ اسے روزی دوں ! ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اسے عافیت بخشوں ! ہے کوئی ایسا ! ہے کوئی ایسا ! اور یہ طلوعِ فجر تک فرماتا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ جلد 2 صفحہ 160 حدیث نمبر 1388)


ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ماہ رمضان کے علاوہ ماہ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا ۔ (بخاری مسلم ‘ مشکوۃ جلد 1 صفحہ 441،چشتی)


ایک اور روایت میں فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چند دن چھوڑ کر پورے ماہ شعبان کے روزے رکھتے تھے ۔ (بخاری مسلم ‘ مشکوۃ جلد 1 صفحہ 441)


آپ ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ188)


جس روایت میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا گیا ، یہ ممانعت مطلقاً ہرشخص کےلیے نہیں ، بلکہ اسی کےلیے ہے ، جو بکثرت روزے رکھنے سے کمزور ہو جائے اور یہ کمزوری رمضان کے فرض روزوں پر اثر انداز ہو ، ورنہ جو طاقت رکھتا ہے ، وہ نصف شعبان کے بعد بھی روزے رکھ سکتا ہے ، جیسا کہ ممانعت والی یہ حدیث بیان کرنے والے صحابی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ خود شعبان کے نصف ثانی میں روزے رکھا کرتے تھے ۔


نفلی عبادت کے متعلق بخاری شریف میں حدیث قدسی ہے ، اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : لا یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی احببتہ ۔

ترجمہ : میرا بندہ ہمیشہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے، حتی کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں ۔ (صحیح بخاری کتاب الرقاق باب التواضع جلد 2 صفحہ 963 مطبوعہ کراچی)


نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کل عمل ابن آدم بضاعف الحسنۃ عشر امثالھا الی سبعمائۃ ضعف، قال اللہ عزوجل : الا الصوم ، فانہ لی وانا اجزی بہ ، یدع شھوتہ وطعامہ من اجلی ، للصائم فرحتان: فرحۃ عند فطرۃ وفرحۃ عند لقاء ربہ ۔

ترجمہ : ابن آدم کے ہر عمل کا بدلہ دس سے سات سو گنا تک دیا جاتا ہے ، اللہ عزوجل نے فرمایا : سوائے روزے کے کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا میں دوں گا ، بندہ اپنی خواہش اور کھانا میرے لیے چھوڑ دیتا ہے ۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں : ایک افطار کے وقت اور ایک اپنے رب سے ملاقات کے وقت ۔ (صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل الصیام جلد 1 صفحہ 363 مطبوعہ کراچی)


جامع ترمذی میں ہے : سئل النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ای الصوم افضل بعد رمضان ؟ فقال : شعبان لتعظیم رمضان ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا رمضان کے بعد کون سے روزے افضل ہیں ؟ ارشاد فرمایا : شعبان ( کے روزے) رمضان کی تعظیم کےلیے ۔ (جامع ترمذی کتاب الزکوۃ باب ما جاء فی فضل الصدقہ جلد 2 صفحہ 45 مطبوعہ بیروت)


ماہِ شعبان میں حضور علیہ السلام سے بکثرت روزے رکھتے تھے ۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : لم يكن النبي صلى اللہ عليه وسلم يصوم شهرا اكثر من شعبان، فانه كان يصوم شعبان كله ۔

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان سے زیادہ اور کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے ، (گویا) پورے شعبان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے سے رہتے ۔ (صحیح بخاری کتاب الصوم باب صوم شعبان جلد 1، صفحہ 264 مطبوعہ کراچی)


سنن ابن ماجہ میں حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزوں کے متعلق سوال ہوا ، تو فرمایا : کان یصوم شعبان کلہ حتی یصلہ برمضان ۔

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (گویا) مکمل شعبان کے روزے رکھتے تھے حتی کہ رمضان سے ملا دیتے ۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الصیام باب ما جاء فی وصال شعبان برمضان صفحہ  119 مطبوعہ کراچی)


ممانعت والی حدیث کا عربی متن مع ترجمہ : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا : اذا انتصف شعبان، فلا تصوموا ۔

ترجمہ : جب شعبان آدھا ہو جائے ، تو روزے نہ رکھو ۔ (سنن ابی داؤد کتاب الصیام جلد 1 صفحہ 339 مطبوعہ  لاھور)


مسند امام احمد بن حنبل میں حدیث کے الفاظ یہ ہیں : اذا کان النصف من شعبان، فامسکوا عن الصوم حتی یکون رمضان ۔

ترجمہ : جب شعبان کا درمیان آ جائے ، تو روزہ رکھنے سے رُک جاؤ ، حتی کہ رمضان آ جائے ۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 15 صفحہ 441 مؤسسۃ الرسالہ بیروت)


ان احادیثِ مبارکہ کا محمل : ⏬


یہ ممانعت ان افراد کےلیے ہے ، جنہیں بکثرت روزہ رکھنے سے اندیشۂ ضعف ہو ، جو رمضان کے فرض روزوں میں رکاوٹ کا باعث بنے ۔


امام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ ممانعت والی روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں : ان النهي الذي كان من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم في حديث ابي هريرة رضي اللہ عنه ۔۔ لم يكن الا على الاشفاق منه على صوام رمضان ، لا لمعنى غير ذلك وكذلك نامر من كان الصوم بقرب رمضان يدخله به ضعف يمنعه من صوم رمضان ؛ ان لا يصوم حتى يصوم رمضان، لان صوم رمضان اولى به من صوم ما ليس عليه صومه ۔

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جس نہی کا ذکر ہے ، اس کا مقصد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کا روزہ رکھنے والوں پر (کمزوری کا) خوف محسوس کیا ، (لہٰذا یہ ممانعت) کسی اور وجہ سے نہیں اور اسی طرح ہم بھی اس شخص کو جو رمضان کے قریب روزہ رکھنے کی وجہ سے کمزور ہو جاتاہے، حکم دیتے ہیں کہ رمضان تک روزہ نہ رکھے، کیونکہ رمضان کا روزہ اُس روزے سے افضل ہے ، جو اس پر فرض نہیں ۔ (شرح معانی الآثار کتاب الصیام باب الصوم بعد النصف من شعبان الی رمضان جلد 1 صفحہ 341 مطبوعہ لاھور)


امام ملا علی القاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : والنهي للتنزيه ، رحمة على الامة ان يضعفوا عن حق القيام بصيام رمضان ۔۔۔ قال القاضي : المقصود استجمام من لا يقوى على تتابع الصيام فاستحب الافطار كما استحب افطاره عرفة، ليتقوى على الدعاء، فاما من قدر فلا نهي له ولذلك جمع النبي صلى اللہ عليه وسلم بين الشهرين في الصوم ۔

ترجمہ : یہ ممانعت نا پسندیدہ عمل سے بچنے کےلیے ہے ، (اس حکم میں) امت پر شفقت ہے کہ ان روزوں کی وجہ سے رمضان کے روزے رکھنے میں کمزوری محسوس ہوگی ، قاضی نے کہا : اس سے مقصود ایسے شخص کو آرام دینا ہے ، جو لگاتار روزے رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا ، پس اس کےلیے روزہ نہ رکھنا مستحب ہے ، جیسا کہ یومِ عرفہ میں افطار مستحب ہے تاکہ ذکر و دعا میں تقویت ملے ، بہر حال جو قدرت رکھتا ہے ، تو اس کےلیے ممانعت نہیں ہے اور اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھنے میں دو مہینوں کو جمع فرمایا ۔ (مرقاۃ المفاتیح کتاب الصوم جلد 4 صفحہ 409 مطبوعہ کوئٹہ)


نزہۃ القاری شرح بخاری میں ہے : شعبان میں جسے قوت ہو وہ زیادہ سے زیادہ روزہ رکھے ۔ البتہ جو کمزور ہو وہ روزہ نہ رکھے ، کیونکہ اس سے رمضان کے روزوں پر اثر پڑے گا ، یہی محمل ہے ان احادیث کا جن میں فرمایا گیا کہ نصف شعبان کے بعد روزہ نہ رکھو ۔ (نزھۃ القاری جلد 3 صفحہ 380 فرید بک اسٹال لاھور)


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا اپنا عمل بیان کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ان ابا هريرة كان يصوم في النصف الثاني من شعبان ۔

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ شعبان کے نصف ثانی میں روزے رکھا کرتے تھے ۔ (عمدۃ القاری کتاب الصوم جلد 11 صفحہ 85 مطبوعہ بیروت)


کوئی بات دوسروں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا ایک وسیع پلیٹ فارم ہے ، چونکہ اس ذریعہ سے بات عوام و خواص سبھی تک پہنچتی ہے ، تو اس پلیٹ فارم پر کام کرنے والوں کی ذمہ داری بھی اسی قدر بڑھ جاتی ہے ، بالخصوص دینی معاملات کی آگاہی فراہم کرنے کےلیے درست نیت کے ساتھ اس کے شرعی ، اخلاقی اور معاشرتی تقاضوں کو پورا کرنا نہایت ضروری ہے ، ورنہ کئی بار کما حقہ فوائد حاصل نہیں ہو سکتے ، الٹا غلط فہمی کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے ۔ اب سوال میں ذکر کردہ حدیث پاک میں روزوں کی ممانعت خاص شخص کےلیے تھی ، تو اگر اسی حدیث کے تحت کسی معتبر حوالہ سے کچھ تشریحی کلمات بھی نقل کر دئیے جاتے ، تو حدیث پاک بیان کرنے کے دنیاوی و اخروی فوائد کے ساتھ شریعت اسلامیہ کے سنہری اصول (میانہ روی) کا پرچار بھی ہو جاتا اور کسی کو غلط فہمی بھی نہ ہوتی ، لہٰذا دیگر شعبوں کی طرح سوشل میڈیا سے وابستہ افراد کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے امور ماہر و معتمد علماء و مفتیان کرام کی زیر نگرانی سر انجام دیں ، تاکہ اپنی ذمہ داری سے بخوبی سبکدوش ہو سکیں ۔


شب برات کی احادیث کو ضعیف کہنے والوں کو جواب : ⏬


محترم قارئینِ کرام : ایک غلط فہمی یہ بھی عام ہے کہ لوگ ضعیف حدیث کو من گھڑت کے معنی میں لیتے ہیں اور اسکو حقیر سمجھتے ہیں۔ یہ جملے بھی کانوں میں پڑتے رہتے ہیں کہ بھائی فلاں مسئلہ میں تمام احادیث ضعیف ہیں ا س لیے چھوڑو اس پر عمل کرنا، افسوس ہوتا ہے لوگ بغیر علم کے احادیث پر تبصرہ ایسے کرجاتے ہیں جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں کسی راہ چلتے کی بات ہے یا اخبار میں چھپی کسی کی بات ہے ۔


ضروری وضاحت ضعیف نا کہ من گھڑت : ⏬


پہلی بات یہ کہ ضعیف حدیث بھی حدیث رسول ہی ہوتی ہے یہ لازمی من گھڑت نہیں ہوتی بلکہ راوی میں کچھ کمیوں ، کمزوریوں کی وجہ سے اسکو ضعیف کہا جاتا ہے ، یہ بحرحال ممکن ہوتا ہے کہ اس کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف درست ہو اس لیے اسکو بالکل چھوڑا نہیں جاتا بلکہ فضائل کے باب میں اس کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ علماء نے اس لفظ 'ضعیف' کی مختلف تعریفیں بیان کی گئی ہیں مثلا یہ وہ حدیث کہلاتی ہے جومنکر اور باطل نہ ہو اور اس کےراوی متہم بالکذب نہ ہو، اس حدیث کے خلاف کوئی صحیح حدیث نہ ہو ۔ ایسی حدیث جس میں حدیث صحیح وحسن کی شرائط نہ پائی جائیں، اس میں ایسے اسباب ہوں جو کسی حدیث کوضعیف قرار دینے کے لیے کافی ہوتے ہیں، اس کے راوی غیرعادل یامتہم بالکذب، یامستورالحال ہوں ، یہ متعدد طرق سے مروی بھی نہ ہو ۔ (اعلاء السنن ، احکام القرآن للجصاص)


کیا اس حدیث کا ضعف ختم ہو سکتا ہے ؟


اگرحدیث ضعیف کئی سندوں سے مروی ہو اور ضعف کی بنیاد راوی کا فسق یا کذب نہ ہو تواس کی وجہ سے وہ ضعف سے نکل جاتی ہے اور اسے قوی ومعتبر اور لائق عمل قرار دیا جاتا ہے، محدثین کی اصطلاح میں اس کو "حسن لغیرہ" کہتے ہیں، حافظ بن حجر رحمہ اللہ کی تفصیل کے مطابق یہ حدیث مقبول ومعتبر کی چار اقسام میں سے ایک ہیں۔بعض حضرات کا کہنا ہے کہ حسن لغیرہ بھی اصل میں ضعیف ہی ہے؛ مگرکسی قوت پہنچانے والے امر کی وجہ سے اس میں حسن پیدا ہو جاتاہے ۔ (فتح المغیث:۳۵/۳۶)

اسی طرح اگر حدیث نص قرآنی ہویاقولِ صحابی ہو یاشریعت کےکسی قاعدہ وضابطہ کے مطابق ہو تو اسکا ضعف نکل جاتا ہے ۔ (نزھۃ النظر صفحہ نمبر ۲۹،چشتی)


ضعیف حدیث کی اقسام : ⏬


ضعیف روایات کی بہت سی اقسام ہیں اور ہر ایک کے ضعف میں راویوں کی کمزوری کی شدت یا کمی کے لحاظ سے فرق ہوتا ہے ۔ مشہور قسمیں ضعیف، متوسط ضعیف، شدید ضعیف اور موضوع ہیں۔ موضوع یعنی گھڑی ہوئی حدیث۔ یہ ضعیف حدیث کا کم ترین درجہ ہے ۔


ضعیف حدیث پر عمل : ⏬


حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے حدیثِ ضعیف پر عمل کرنے کی تین شرطیں بیان کی ہیں ۔ ایک یہ کہ حدیث شدید ضعیف نہ ہو مطلب اسکا راوی جھوٹا اور دروغ گوئی میں مشہور نہ ہو اور نہ فحش غلطیوں کا مرتکب ہو۔ دوسری اس پر عمل کرنا اسلام کے ثابت اور مقرر ومعروف قواعد کے خلاف نہ ہو ۔ تیسری یہ کہ عمل کرتے ہوئے اسے صحیح حدیث کی طرح قبول نہ کیا جائے بلکہ اس بناء پر عمل کیا جائے کہ ممکن ہے کہ حقیقت میں اس کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف درست ہو ۔ (اعلاء السنن:۱/۵۸)


جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ عقائد کے ثبوت کے لیے مشہور یامتواتر حدیث ضروری ہے ، حدیث ضعیف اور خبرواحد اثبات عقائد کےلیے کافی نہیں ہے ، ضعیف حدیث اور فضائل کے متعلق لکھتے ہوئے علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے متعدد مذاہب کو نقل کیا ہے، جن میں سے ایک امام مسلم اور دیگرمحدثین علیہم الرّحمہ اور ابنِ حزم کا ہے کہ ضعیف حدیث کسی بھی باب میں حجت نہیں بن سکتی ، چاہے وہ فضائل کا باب ہی کیوں نہ ہو ۔ (نووی علی مسلم :۱/۶۰،چشتی)


دوسرا مذہب جس کو علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے جمہور کا مذہب کہہ کر بیان کیاہے اور حافظ ابنِ حجر مکی اور ملا علی قاری نے بھی جسے جمہور کا اجماعی مسلک قرار دیا ہے کہ فضائل کے باب میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا جائز ہے ۔ (الفتاویٰ الحدیثیہ :۱۱۰)


آئمہ حدیث میں عبداللہ بن مبارک ، عبدالرحمن بن مہدی ، امام احمد وغیرہ سے بھی یہی نقل کیا گیا ہے ۔ (اصول امام احمد بن حنبل:۲۷۴)


شیخ تقی الدین تحریر فرماتے ہیں کہ یہ گنجائش اس لیے ہے کہ اگرایسی حدیث نفس الامر اور واقع میں صحیح ہے تواس پر عمل کرنا اس کا حق تھا اور اگرواقع میں صحیح نہ تھی توبھی فضائل کے باب میں اس پر عمل کرنے کی وجہ سے دین میں کوئی فساد لازم نہیں آئےگا، اس لیے کہ یہ صورت تحلیل وتحریم اور کسی کے حق سے متعلق نہیں ہے اور پھریہ جواز مطلق نہیں ہے؛ بلکہ ماقبل میں ذکرکردہ شرائط کے ساتھ ہے ۔ (شرح الکوکب المنیر:۲/۵۷۱)


ضعیف احادیث اور اقوال صحابہ رضی اللہ عنہم : ⏬


امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ و امام احمد رحمۃ اللہ علیہ ضعیف حدیث کے بالمقابل فتاویٰ اور اقوالِ صحابہ کو ترجیح دیتے تھے کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین درس رسالت کے چراغ ہیں ، ان کا ہرقول وعمل سنت کے مطابق ہوا کرتا تھا ، ان کے کلام سے کلام رسالت کی بومہکتی ہے اور انھوں نے دین کوپہلو رسالت میں رہ کر جتنا سمجھا اور سیکھا ہے دوسرا ان کی خاک تک بھی نہیں پہنچ سکتا، ان کے اقوال وافعال میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے اورحدیث ضعیف کی صحت وعدم صحت مشتبہ ہے ؛ لہٰذا صحابہ کرام کے فتاویٰ واقوال کو ضعیف حدیث پر ترجیح دی گئی ۔


شب برات کے متعلق ضعیف احادیث : ⏬


مشہور دیوبندی عالم جناب مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے شب برات کی احادیث کے متعلق لکھا کہ : " شب ِ برات کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی ، ان میں سے بعض احادیث سند کے اعتبار سے بیشک کچھ کمزور ہیں اور ان احادیث کے کمزور ہونے کی وجہ سے بعض علماء نے یہ کہہ دیا کہ اس رات کی فضیلت بے اصل ہے ، لیکن حضرات محدثین اور فقہاء کا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو لیکن اس کی تایید بہت سی احادیث سے ہو جائے تو اس کی کمزوری دور ہوجاتی ہے ، اور جیساکہ میں نے عرض کیا کہ دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کی فضیلت میں روایات موجود ہیں لہٰذا جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایات مروی ہوں اس کو بے بنیاد اور بے اصل کہنا بہت غلط ہے ۔ امت مسلمہ کے جو خیرالقرون ہیں یعنی صحابہ کرام کا دور ، تابعین کا دور ، تبع تابعین رضی اللہ عنہم کا دور ، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے ، لوگ اس رات میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے رہے ہیں ، لہٰذا اس کو بدعت کہنا، یا بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں ، صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے ، اس رات میں عبادت کرنا باعثِ اجر و ثواب ہے اور اس کی خصوصی اہمیت ہے ۔ اس پیرہ گراف سے تین باتیں واضح ہورہی ہیں ۔

1 : شب برات کے متعلق احادیث ضعیف لیکن کئی سندوں سے مروی ہیں ایسی حدیث کے متعلق اوپر بیان کیا جاچکا ۔

2 : یہ احادیث نا عقائد کے باب میں استعمال ہورہی ہیں اور نا شریعت کے کسی حکم کے خلاف ہیں ۔

3 : اس رات کی فضیلت کے متعلق نہ صرف اقوال صحابہ بلکہ اعمال صحابہ بھی موجود ہیں ۔ ایسی احادیث کا انکار کرنا یا ان سے ثابت فضیلت کا انکار کرنا دونوں باتیں زیادتی ہی ہے ۔ (رسالہ شبِ براء ت کی حقیقت از مفتی محمد تقی عثمانی دیوبندی) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

آنکھ کے بدلے آنکھ ، قصاص میں قوموں اور لوگوں کی زندگی ہے

آنکھ کے بدلے آنکھ ، قصاص میں قوموں اور لوگوں کی زندگی ہے محترم قارئینِ کرام اللہ عزوجل کا فرمان ہے : وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ ...