Monday, 1 June 2026

آیت اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى سے مُردوں کے نہ سننے پر اِستدلال کرنے والوں کو جواب

آیت اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى سے مُردوں کے نہ سننے پر اِستدلال کرنے والوں کو جواب

محترم قارٸینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ۔ (سورۃ نمل آیت نمبر 80)
ترجمہ : بیشک تمہارے سُنائے نہیں سنتے مُردے اور نہ تمہارے سنائے بہرے پکار سُنیں جب پھریں  پیٹھ دے کر ۔
مختصر تفسیر : اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى : بیشک تم مُردوں  کو نہیں  سنا سکتے ۔ علامہ علی بن محمد خازن رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں  فرماتے ہیں : یعنی جن لوگوں  کے دل مردہ ہیں آپ انہیں  نہیں  سنا سکتے اور وہ لوگ کفار ہیں ۔ (تفسیر خازن سورہ النمل آیت نمبر ۸۰ جلد ۴ صفحہ ۵۴٦ مطبوعہ بیروت)

امام ابو البرکات عبد الله بن احمد نسفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس آیت میں کفار کو زندہ ہونے اور حواس درست ہونے کے باوجود مُردوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ۔ (تفسیر مدارک جز ثانی صفحہ ٦۲۱ مطبوعہ دارالکلم الطیب بیروت)(تفسیر مدارک سنی مترجم اردو جلد دوم صفحہ 873 ، 874 مطبوعہ فرید بک سٹال لاہور)(تفسیر مدارک دیوبندی مترجم اردو جلد دوم صفحہ 938 ، 874 مطبوعہ مکتبة العلم لاہور)

امام قاضی بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر بیضاوی میں انما لاتسمع الموتی النمل آیت نمبر 80 کی تفسیر یوں کرتے ہیں : وإنما شبهوا بالموتى لعدم انتفاعهم باستماع ما يتلى عليهم كما شبهوا بالصم في قوله : وَلا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعاءَ إِذا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ فإن إسماعهم في هذه الحالة أبعد ۔ وقرأ ابن كثير وَلا يَسْمَعُ الصُّمُّ ۔
ترجمہ : ان زندہ کافروں کو مردوں سے اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کہ وہ اس چیز کو جو ان پر پڑھی جاتی سن کر نفع حاصل نہیں کرتے یں جیسا کہ ان کو : وَلا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعاءَ إِذا وَلَّوْا مُدبرین کے ارشاد میں بہروں سے تشبیہ دی گی ہے کیوں کہ اس حالت میں ان کا سننا بعید تر ہے ۔

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى : بیشک تم مُردوں  کو نہیں  سنا سکتے ۔ حافظ ابن محمد کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : یعنی جن لوگوں کے دل مردہ ہیں آپ انہیں نہیں سنا سکتے اور وہ لوگ کفار ہیں ۔ (تفسیر ابن کثیر سورہ النمل آیت نمبر ۸۰ جلد ۱۰ صفحہ ۴۲۹ عربی)(تفسیر ابن کثیر مترجم اردو سورہ النمل آیت نمبر ۸۰ جلد 4 صفحہ 87 مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاہور)(تفسیر ابن کثیر مترجم اردو سورہ النمل آیت نمبر ۸۰ جلد 3 صفحہ 631 مطبوعہ ضیاءالقرآن)

نوٹ : ان تمام تفاسیر سے معلوم ہوا جنہیں مردہ کہا گیا وہ زندہ کفار تھے اب یہ بعض دیابنہ اور وہابیہ کی بدقسمتی ہے کہ وہ خود کو اور اپنے سارے دیابنہ و وہابیہ کو کفار میں شامل کر بیٹھے ۔ نصیب اپنا اپنا ۔ سوچنے کی بات ہے بار بار سوچیے ۔

آیت اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى سے مُردوں  کے نہ سننے پر اِستدلال کرنے والوں  کا رد : ⏬

بعض حضرات اس آیت سے مُردوں  کے نہ سننے پر استدلال کرتے ہیں ، ان کا استدلال غلط ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں  کفار کو مُردہ فرمایا گیا اور اُن سے بھی مُطلَقاً ہر کلام سننے کی نفی مراد نہیں  ہے بلکہ وعظ و نصیحت اور کلامِ ہدایت قبول کرنے کےلیے سننے کی نفی ہے اور مراد یہ ہے کہ کافر مردہ دل ہیں کہ نصیحت سے کوئی فائدہ نہیں  اٹھاتے ۔ حضرت امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مردوں  سے مراد کفار ہیں  اور (یہاں ) مطلق سننے کی نفی نہیں  بلکہ معنی یہ ہے کہ ان کا سننا نفع بخش نہیں  ہوتا ۔ (مرقاۃ المفاتیح کتاب الجہاد باب حکم الاسراء الفصل الاول جلد ۷ صفحہ ۵۱۹ تحت الحدیث : ۳۹۶۷،چشتی)

امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں  سننے کی نفی نہیں  بلکہ سنانے کی نفی ہے اور اگر سننے کی نفی مان لی جائے تو یہاں  یقیناً سننا قبول کرنے کےلیے سننے اور نفع بخش سننے کے معنی میں ہے ۔ باپ اپنے عاقل بیٹے کو ہزار بار کہتا ہے : وہ میری نہیں  سنتا ۔ کسی عاقل کے نزدیک اس کے یہ معنی نہیں کہ حقیقۃً کان تک آواز نہیں جاتی ۔ بلکہ صاف یہی کہ سنتا توہے ، مانتا نہیں ، اور سننے سے اسے نفع نہیں ہوتا ، آیۂ کریمہ میں  اسی معنی کے ارادہ پر ’’ہدایت‘‘ شاہدکہ کفار سے نفع اٹھانے ہی کی نفی ہے نہ کہ اصل سننے کی نفی۔ خود اسی آیۂ کریمہ ’’اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى‘‘ کے تتمہ میں ارشاد فرماتا ہے : اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ ، تم نہیں سناتے مگر انہیں جو ہماری آیتوں پریقین رکھتے ہیں تو وہ فرمانبردار ہیں ۔ اور پُر ظاہر کہ وعظ و نصیحت سے نفع حاصل کرنے کا وقت یہی دنیا کی زندگی ہے ۔ مرنے کے بعد نہ کچھ ماننے سے فائدہ نہ سننے سے حاصل، قیامت کے دن سبھی کافر ایمان لے آئیں  گے، پھر اس سے کیا کام، توحاصل یہ ہوا کہ جس طرح مردوں  کو وعظ سے کوئی فائدہ نہیں ، یہی حال کافروں  کا ہے کہ لاکھ سمجھائیے نہیں  مانتے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد ۹ صفحہ ۷۰۱،چشتی)

مُردوں  کے سننے کا ثبوت : ⏬

کثیر اَحادیثِ مبارکہ سے مُردوں کا سننا ثابت ہے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب بندے کو اس کی قبر میں  رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ دفن کرکے پلٹتے ہیں تو بیشک وہ یقینا تمہارے جوتوں  کی آواز سنتا ہے ۔ (صحیح بخاری کتاب الجنائز باب المیت یسمع خفق النعال جلد ۱ صفحہ ۴۵۰ الحدیث : ۱۳۳۸)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں  کفارِ بدر کی قتل گاہیں دکھاتے تھے کہ یہاں فلاں کافر قتل ہوگا اوریہاں فلاں ، جہاں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا تھا وہیں وہیں ان کی لاشیں گریں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے ان کی لاشیں ایک کنویں میں بھردی گئیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لے گئے اور ان کفار کو ان کا اور ان کے باپ کا نام لے کر پکارا اور فرمایا : جو سچا وعدہ اللہ اور رسول نے تمہیں  دیا تھا وہ تم نے بھی پالیا ؟ کیونکہ جو حق وعدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا تھا ، میں  نے تو اسے پالیا۔ حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : یا رسولَ الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ ان جسموں  سے کیونکر کلام کرتے ہیں جن میں روحیں نہیں ۔ ارشادفرمایا : جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے کچھ زیادہ نہیں  سنتے لیکن انہیں یہ طاقت نہیں کہ مجھے لوٹ کر جواب دیں ۔ (مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلھا باب عرض مقعد المیت من الجنۃ او النار علیہ۔۔۔ الخ ، صفحہ نمبر ۱۵۳۶، الحدیث : ۷۶ ( ۲۸۷۳))

عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال : کان النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ یقول:اذا وضعت الجنازۃ فاحتملھا الرجال علی اعناقھم ، فان کانت صالحۃ ، قالت : قدمونی ، وان کانت غیر صالحۃ ، قالت لاھلھا : یا ویلھا ، این یذھبون بہ ، یسمع صوتھا کل شیی ء الاالانسان ولو سمع الانسان لصعق ۔
ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فر ماتے تھے کہ:جب جنازہ رکھا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنی گردنوں پر اٹھاتے ہیں ، اگر وہ مرنے والا نیک ہوتا ہے تو کہتا ہے : مجھے آگے بڑھائو ،اور اگر بُرا ہوتا ہے تو اپنے گھر والوں سے کہتا ہے: ہائے خرابی! کہاں لیے جاتے ہو ؟ انسان کے سوا ہر چیز اس کی آواز کو سنتی ہے اور اگر انسان سن لے تو بے ہوش ہوجائے ۔ (صحیح بخاری کتاب الجنائز باب قول المیت وھو علی الجنازۃ قدمونی حدیث : ۱۳۱۶،چشتی)

عن انس رضی اللہ عنہ عن النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ قال:العبد اذا وضع فی قبرہ وتولی وذھب اصحابہ ،حتی انہ لیسمع قرع نعالھم ،اتاہ ملکان فاقعداہ ، فیقولان لہ:ماکنت تقول فی ھذاالرجل محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ؟ فیقول :اشھد انہ عبد اللہ ورسولہ ،فیقال : انظر الی مقعد ک من النار ،ابدلک اللہ بہ مقعدا من الجنۃ ،قال النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ:فیراھما جمیعا ،واما الکافر او المنافق،فیقول:لاادری،کنت اقول ما یقول الناس ،فیقالان لادریت ولا تلیت ثم یضرب بمطرقۃ من حدید ضربۃ بین اذنیہ فیصیح صیحۃ یسمعھا من یلیہ الاالثقلین۔
تر جمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب مردے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے ، اور اس کے ساتھی واپس جانے لگتے ہیں تو بے شک وہ ان کی جوتیوں کی آواز کا سنتا ہے،اس کے پاس دو فر شتے آتے ہیں اور اس کو بیٹھاتے ہیں ،دونوں اس سے کہتے ہیں : تو اس شخص (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتا تھا ؟ تو وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ تو اسے کہا جاتا ہے جہنم میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھو ۔ اللہ تعالی نے اسے تیرے جنت کے ٹھکانے سے بدل دیا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا:تو اسے جنت وجہنم کے دونوں ٹھکانے دیکھایا جاتا ہے ۔ اور رہا کافر اور منافق تو وہ کہتا ہے:میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہا کرتے تھے ، دونوں فر شتے کہتے ہیں کہ:نہ تو نے سمجھا اور نہ ہی نیک لوگوں کی پیروی کی،پھر اسے لوہے کے ہتھوڑے سے اس کے کانوں کے درمیان مارتے ہیں ، تو وہ ایسے بھیانک انداز سے چیختا ہے کہ آس پاس کی ساری مخلوقات اس کی چیخ کو سنتی ہے سوائے انسان اور جنات کے ۔ (صحیح بخاری کتاب الجنائز باب المیت یسمع خفق النعال حدیث نمبر ۱۳۳۸)

عن ابی طلحۃ ان نبی اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ امر یوم بدر(فساق الحدیث الی ان قال)حتی قام علی شفۃ الرکی ،فجعل ینادیھم باسمائھم اسماء آباء ھم :یا فلان بن فلان ،ویا فلان بن فلان ،ایسر کم انکم اطعنتم اللہ ورسولہ ؟فانا قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا ،فھل وجدتم ما وعد ربکم حقا ، قال : فقال عمر : یا رسول اللہ !ما تکلم من اجساد لا ارواح لھا ،فقال رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ : والذی نفس محمد بیدہ،ما انتم باسمع لما اقول منھم ۔
ترجمہ : حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کے میدان میں قتل کیے گئے کافروں کے لاشوں کے پاس کھڑے ہوئے اور ان کو ان کے باپوں کے نام کے ساتھ پکارا ۔ اے فلاں بن فلاں ! اور ائے فلاں بن فلاں ! ہم نے تو اس کو پا لیا جس کا وعدہ ہم سے ہمارے رب نے کیا (یعنی فتح و نصرت) تو کیا تم لو گوں نے بھی اس کو پا لیا جس کا وعدہ تم سے تمہارے رب نے کیا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ بے جان جسموں سے بات کر تے ہیں ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ ء قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے ۔ میری باتوں کو تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو ۔ (صحیح بخاری کتاب المغازی باب قتل ابی جھل حدیث : ۳۹۷۶،چشتی)

عن ابن شماشۃ المھری قال: حضرنا عمرو بن العاص وھو فی سیاقۃ الموت (فساق الحدیث الی ان قال) اذا دفنتمونی فشنوا علی التراب شنا ثم اقیموا حول قبری قدر ما تنحر جزور و یقسم لحمھا حتی استانس بکم وانظر ماذا ارجع بہ رسل ربی ۔
تر جمہ : حضرت ابن شماشہ مہری سے روایت ہے کہ : حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے وقت نزاع اپنے صاحبزادے سے کہا : جب مجھے دفن کر چکو ، تو مجھ پر آہستہ آہستہ مٹی ڈالنا پھر میری قبر کے پاس اتنی دیر ٹہرے رہنا جتنی دیر میں ایک اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے ، تاکہ میں تم سے انس حاصل کروں اور جان لو کہ میں اپنے رب کے فر شتوں کو کیا جواب دیتا ہوں ۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان باب کون الاسلام مایھدم ماقبلہ وکذا الھجرۃ والحج ، حدیث : ۱۲۱)

ان عقبۃ بن عامر رضی اللہ عنہ قال : ما ابالی فی القبور قضیت حاجتیی او فی السوق والناس ینظرون ۔
تر جمہ : حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : انہوں نے کہا:میں برابر جانتاہوں کہ میں قبرستان میں قضائے حاجت کے لئے بیٹھوں یا بازار میں کہ لوگ دیکھتے رہے ۔ (یعنی مردے بھی دیکھتے ہیں جیسے زندہ دیکھتا ہے) ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ،جلد ۳ صفحہ ۳۳۹ حدیث : ۱۱۹۰۳)

عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال:أذی المومن فی موتہ کاذاہ فی حیاتہ۔(مصنف ابن ابی شیبۃ،جلد:۳؍ص:۳۶۷،حدیث: ۱۲۱۱۵)
تر جمہ : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : انہوں نے ارشاد فر مایا:مون کو مرنے کے بعد تکلیف دینا ایسے ہی جیسے اس کی زندگی میں تکلیف دینا ۔

عن ابی ایوب : ان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمع صوتا حین غربت الشمس فقال:ھذہ اصوات الیھودتعذب فی قبورھا ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ،جلد:۳؍ص:۳۷۵،حدیث: ۱۲۱۶۰)
ترجمہ : حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سورج کے ڈوبنے کے وقت ایک آواز سنی تو فر مایا:یہ یہودیوں کی آواز ہے جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جارہاہے ۔

عن عبد اللہ بن عمروبن العاص عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : ان الدنیا جنۃ الکافر وسجن المومن وانما مثل المومن حین تخرج نفسہ کمثل رجل کان فی سجن فاخرج منہ فجعل ینقلب فی الارض ویتفسح فیھا۔و لفظ ابی بکر ھکذا:الدنیا سجن المومن و جنۃ الکافر فاذا مات المومن یخلی سر بہ یسرح حیث یشائ ۔
تر جمہ : حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:بے شک دنیا کافر کی جنت ہے اور مسلمانوں کا قید خانہ،اور ایمان والوں کی جب جان نکلتی ہے تو اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی قید خانہ میں تھا اور اب اسے نکال دیا گیا کہ زمین میں گشت کرتا اور با فر اغت چلتا پھرتا ہے۔اور ابو بکر بن ابی شیبہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ : دنیا مسلمانوں کا قید خانہ ہے اور کافروں کی جنت ،جب مسلمان مرتا ہے تو اس کی راہ کھول دی جاتی ہے کہ جہاں چاہے سیر کرے ۔ (کتاب الزھد لابن المبارک،ص:۲۱۱، حدیث:۵۹۷ ، دارالکتب العلمیہ بیروت ، مصنف ابن ابی شیبۃ،کتاب الزھد،جلد:۱۳،ص :۳۵۵،حدیث:۳۵۸۶۷،چشتی)

عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : ان المیت یعرف من غسلہ ویحملہ ومن یکفنہ ومن ید لیہ فی حفرتہ۔(مسند احمد بن حنبل،مسند ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ،جلد:۳؍ ص: ۳،حدیث:۱۱۰۱۰)
ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فر مایا:بے شک مردہ اسے پہچانتا ہے جو اس کو غسل دے اور جو اٹھائے اور جو کفن پہنائے اور جو قبر میں اتارے۔

عن ام المومنین عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت : کنت ادخل بیتی الذی فیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وانی واضع ثوبی واقول انما ھو زوجی و ابی ، فلما دفن عمر ،فواللہ ما دخلتہ الا و انا مشدودۃ علی ثیابی حیاء من عمر ۔ (مشکوۃ المصابیح،باب زیارۃ القبور،ص:۱۵۴،چشتی)
تر جمہ : ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ :وہ فر ماتی ہیں :میں اس مکان جنت آستاں میں جہاں حضور سید کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مزار پُر انوار ہے یوں ہی بے لحاظ ستر و حجاب چلی جاتی ،اور جی میں کہتی وہاں کون ہے،یہی میرے شوہر یا میرے والد پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ دفن ہوئے تو قسم بخدا ،میں عمر سے حیاء کرتے ہوئے کبھی بغیر سراپا بدن چھپائے نہ گئی ۔ (امام حاکم نے بھی اس حدیث کو روایت کیا اور کہا کہ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے) ۔

برزخ کا مطلب ہے پردہ ، الحاجز والحد بين الشيئين یعنی دو چیزوں میں حد اور رکاوٹ ۔
البرزخ ما بين الموت الی القيامة. مرنے سے لے کر قیامت تک کا وقفہ ۔
(مفردات راغب صفحہ 43)(تفسیر روح المعانی جلد 27 صفحہ 106)

قرآنِ مجید میں اللہ تبارک تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۔
ترجمہ : اور ان کے آگے اس دن تک ایک پردہ (حائل) ہے (جس دن) وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے ۔ (سورۃ الْمُؤْمِنُوْن آیت نمبر 100)

مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے یعنی قیام قیامت تک کا زمانہ عالم برزخ کہلاتا ہے ۔ زندگی تین ادوار پر منقسم ہے : (1) حیات دنیوی ۔ (2) حیات برزخی ۔ (3) حیات اخروی
سب سے پہلے دنیوی زندگی ہے اس کے اپنے لوازمات ہیں ، پھر حیات برزخی ہے اس کے اپنے لوازمات و احکام ہیں پھر حیات اخروی ہے اس کے اپنے لوازمات و احکام ہیں ۔ زندگی بمنزلہ جنس ہے اور یہ تینوں قسمیں بمنزلہ نوع ہے ، جہاں نوع ہو وہاں جنس ضرور ہوتی ہے‘ لہٰذا زندگی تینوں میں موجود ہے۔ ہاں ہر نوع دوسری نوع سے مختلف ہوتی ہے اسی لئے حیات دنیوی ، برزخی اور اخروی کی جنس ایک ہونے کے باوجود اختلاف انواع کی وجہ سے اکثر احکامات الگ الگ ہیں ۔ مثلاً احکام شرع کی پابندی حیات دنیا میں ہے ، برزخ و آخرت میں نہیں۔ حیات انسانی کی خصوصیات ہیں سمع ، بصر، ادراک وغیرہ یہ زندگی کی تینوں انواع میں موجود ہیں بلکہ دنیوی زندگی سے بڑھ کر اخروی زندگی میں ہیں ۔

قبر میں ہونے والے عذاب و ثواب کے بارے میں علمائے اسلام کی تین آراء ہیں : ⏬
(1) عذابِ قبر صرف روح کو ہوتا ہے ۔
(2) عذابِ قبر صرف جسم کو ہوتا ہے ۔
(3)عذابِ قبر جسم و روح دونوں کو ہوتا ہے ۔
تیسری رائے صحیح تر ہے کہ قبر کی زندگی میں عذاب یا نعمتیں جسم اور روح دونوں کو ملتی ہیں۔ چنانچہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : محله الروح والبدن جميعاً باتفاق اهل السنة.
ترجمہ : اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عذاب و ثوابِ قبر روح اور جسم ، دونوں کو ہوتا ہے ۔ (سيوطی شرح الصدور صفحہ 75،چشتی)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں کچھ احادیث کی تخریج ایسی فرمائی ہے جس سے غیرمقلین بھی کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں ۔ جیسا کہ معروف احادیث ہیں مردوں کی سماع جن سے ثابت ہوتی ہے ، پر یہ غیر مقلدین ، اہل راے ہونے کا پورا ثبوت دے کر ایسی صحیح احادیث کے مقابلے میں اپنا باطل قیاس کرتے ہیں ۔ اور آقا علیہ السلام کے نہایت ہی واضح فرمان کو بھی رد کرتے ہیں ، چنانچہ امام بخاری نے حدیث کی تخریج سے پہلے باب باندھے، جن سے آپ کے عقیدے کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ آپ بھی فوت شدگان کے سننے، دیکھنے، ارد گرد کے ماحول سے آگاہ ہونے سب کا عقیدہ رکھتے تھے ۔
کیا آج کا کوئی غیر مقلد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو معاذ الله بدعقیدہ ہونے کا فتویٰ دیگا ؟
(1) باب الميت يسمع خفق ألنعال ، ميت كا جوتوں کی آواز سننا ۔
(2) باب کلام المیت علی الجنازۃ ، یعنی جنازہ پر میت کے کلام کرنے کا بیان ۔
(3) دوسرے مقام پر یوں باب باندھا ہے ۔ باب قول المیت وھو علی الجنازۃ قدمونی یعنی میت کا یہ کہنا جب کہ وہ ابھی جنازہ پر ہوتا ہے مجھے جلدی لے چلو ۔

باب الميت يسمع خفق ألنعال، ميت كا جوتوں کی آواز سننا : ⏬

العَبْدُ إذَا وُضِعَ فِي قَبْرهِ وَتَولَّى وَذَهَبَ أَصْحَابُهُ، حَتَّى إنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَأَقْعَدَاهُ فَيَقُولاَنِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذا الرَّجُلِ محمَّدٍ صلَّى الله عليه وسلَّم ؟ فيقولُ: أَشْهدُ أنَّهُ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، فيُقَالُ: انْظُرْ إلَى مَقْعَدِكَ فِي النَّارِ أَبْدَلَكَ اللهُ بهِ مَقْعَداً مِنَ الْجَنَّةِ. قالَ النَّبيُّ صلى الله عليه وسلّم: فَيَراهُمَا جَمِيْعَاً، وَأمَّا الكَافِرُ أو الْمُنَافِقُ فَيَقولُ: لاَ أَدْرِي، كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ. فَيُقَالُ: لاَ دَرَيْتَ وَلاَ تَلَيْتَ، ثُمَّ يُضْرَبُ بِمْطَرَقَةٍ مِنْ حَديدٍ ضَربةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيْحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيَهُ إلاَّ الثَّقَلين ۔
ترجمہ : جب مردے کو قبر میں دفنایا جاتا ہے اور اُس کے اصحاب واپس پلٹتے ہیں تو وہ ان کے قدموں کی چاپ سنتا ہے۔ اور دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اسے بٹھا دیتے ہیں اور یہ سوال کرتے ہیں : تم اس آدمی (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کیا کہتے ہو؟" وہ کہتا ہے: "میں گواہی دیتا ہوں کو وہ اللہ کے عبد ہیں اور رسول ہیں۔" پھر اس سے کہا جاتا ہے: "دوزخ میں ذرا اپنی جگہ دیکھو، مگر اللہ نے اسکی بجائے تمہیں جنت دی ہے۔" پھر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: "مردہ اپنی دونوں جگہیں دیکھتا ہے، مگر کافر یا منافق فرشتوں سے کہتا ہے: "میں نہیں جانتا، مگر میں وہی کہا کرتا تھا جو کہ دوسرے لوگ کہتے تھے۔" اس پر اُس سے کہا جائے گا: "نہ تم نے یہ جانا اور نہ تم نے (قران) سے ہدایت حاصل کی۔" پھر اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے کی سلاخ سے چوٹ ماری جائے گی اور وہ چیخے گا۔ اور اِس کی یہ چیخ ہر مخلوق سنے گی سوائے جنات اور انسانوں کے ۔ (صحيح البخاري، كتاب الجنائز : رقم ١٣٣٨،چشتی)

باب الميت يسمع خفق ألنعال ، ميت كا جوتوں کی آواز سننا : ⏬

العَبْدُ إذَا وُضِعَ فِي قَبْرهِ وَتَولَّى وَذَهَبَ أَصْحَابُهُ، حَتَّى إنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَأَقْعَدَاهُ فَيَقُولاَنِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذا الرَّجُلِ محمَّدٍ صلَّى الله عليه وسلَّم ؟ فيقولُ: أَشْهدُ أنَّهُ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، فيُقَالُ: انْظُرْ إلَى مَقْعَدِكَ فِي النَّارِ أَبْدَلَكَ اللهُ بهِ مَقْعَداً مِنَ الْجَنَّةِ. قالَ النَّبيُّ صلى الله عليه وسلّم: فَيَراهُمَا جَمِيْعَاً، وَأمَّا الكَافِرُ أو الْمُنَافِقُ فَيَقولُ: لاَ أَدْرِي، كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ. فَيُقَالُ: لاَ دَرَيْتَ وَلاَ تَلَيْتَ، ثُمَّ يُضْرَبُ بِمْطَرَقَةٍ مِنْ حَديدٍ ضَربةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيْحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيَهُ إلاَّ الثَّقَلين ۔
ترجمہ : جب مردے کو قبر میں دفنایا جاتا ہے اور اُسکے اصحاب واپس پلٹتے ہیں تو وہ ان کے قدموں کی چاپ سنتا ہے۔ اور دو فرشتے اسکے پاس آتے ہیں اور اسے بٹھا دیتے ہیں اور یہ سوال کرتے ہیں : تم اس آدمی (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کیا کہتے ہو؟" وہ کہتا ہے: "میں گواہی دیتا ہوں کو وہ اللہ کے عبد ہیں اور رسول ہیں۔" پھر اس سے کہا جاتا ہے: "دوزخ میں ذرا اپنی جگہ دیکھو، مگر اللہ نے اسکی بجائے تمہیں جنت دی ہے۔" پھر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: "مردہ اپنی دونوں جگہیں دیکھتا ہے، مگر کافر یا منافق فرشتوں سے کہتا ہے: "میں نہیں جانتا، مگر میں وہی کہا کرتا تھا جو کہ دوسرے لوگ کہتے تھے۔" اس پر اُس سے کہا جائے گا: "نہ تم نے یہ جانا اور نہ تم نے (قران) سے ہدایت حاصل کی۔" پھر اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے کی سلاخ سے چوٹ ماری جائے گی اور وہ چیخے گا۔ اور اِس کی یہ چیخ ہر مخلوق سنے گی سوائے جنات اور انسانوں کے۔"صحيح البخاري، كتاب الجنائز : رقم ١٣٣٨۔چشتی)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّي عَنْهُ أَصْحَابُهُ وَ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَکَانِ فيُقْعِدَانِهِ، فَيَقُوْلاَنِ : مَا کُنْتَ تَقَوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ لِمُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله وسلم، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُوْلُ : أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُﷲِ وَرَسُوْلُهُ. فيُقَالُ لَهُ : أنْظُرْ إِلَي مَقْعَدِکَ مِنَ النَّارِ، قَدْ أَبْدَلَکَ اﷲُ بِهِ مَقْعَداً مِنَ الْجَنَّةِ، فَيَرَاهُمَا جَمِيْعا. قَالَ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْکَافِرُ فَيُقَالُ لَهُ : مَاکُنْتَ تَقُوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُوْلُ : لَا أَدْرِي! کُنْتُ أَقُوْلُ مَا يَقُوْلُ النَّاسُ! فَيُقَالُ : لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ، ويُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيْدٍ ضَرْبَةً، فَيَصِيْحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيْهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ ۔
ترجمہ : بندے کو جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے لواحقین واپس چلے جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر کہتے ہیں : تو اس شخص یعنی (سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا ؟ اگر مومن ہو تو کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس سے کہا جائے گا : (اگر تو ایمان نہ لاتا تو تیرا ٹھکانا جہنم میں ہوتا) جہنم میں اپنے اس ٹھکانے کی طرف دیکھ! اللہ تعالیٰ نے تجھے (نیک اعمال کے سبب) اس کے بدلے جنت میں ٹھکانا دے دیا ہے۔ پس وہ دونوں کو دیکھتا ہوگا، اور اگر منافق یا کافر ہو تو اس سے پوچھا جائے گا : تو اس شخص (یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا ؟ وہ کہتا ہے : مجھے تو معلوم نہیں ، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ اس سے کہا جائے گا : تو نے نہ جانا اور نہ پڑھا۔ اسے لوہے کے گُرز سے مارا جائے گا تو وہ (شدت تکلیف سے قبر میں) چیختا چلاتا ہے جسے سوائے جنات اور انسانوں کے سب قریب والے سنتے ہیں ۔ (بخاري الصحيح، کتاب الجنائز، باب ماجاء في عذاب القبر، 1 : 462، رقم : 1308،)(مسلم، الصحيح ، کتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها، باب التي يصرف بها في الدنيا أهل الجنة وأهل النار، 4 : 2200، رقم : 2870)(أبوداود، السنن، کتاب السنة، باب في المسألة في القبر وعذاب القبر، 4 : 238، رقم : 4752۔چشتی)

قبر والا جوتوں کی آواز سنتا ہے سوالوں کے جواب دیتا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق سوال ہوگا جو پہچانے گا وہ نجات پائے گا ۔ (صحیح بخاری جلد دوم صفحہ 357 مترجم وہابی علماء)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِذَا قُبِرَ الْمَيِّتُ أَوْ قَالَ أَحَدُکُمْ، أَتَاهُ مَلَکَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ، يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا : الْمُنْکَرُ، وَ الآخَرُ : النَّکِيْرُ، فَيَقُوْلَانِ : مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُوْلُ : مَا کَانَ يَقُوْلُ : هُوَ عَبْدُ اللّٰهِ وَ رَسُوْلُهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ، فَيَقُوْلَانِ : قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ أَنَّکَ تَقُوْلُ هَذَا، ثُمَّ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فِي سَبْعِيْنَ ، ثُمَّ يُنَوَّرُ لَهُ فِيْهِ، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ : نَمْ، فَيَقُوْلُ : أَرْجِعُ إِلَی أَهْلِي فَأُخْبِرُهُمْ ؟ فَيَقُوْلَانِ : نَمْ کَنَوْمَةِ الْعَرُوْسِ الَّذِي لَا يُوْقِظُهُ إِلَّا أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ، حَتَّی يَبْعَثَهُ اللّٰهُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِکَ وَ إِنْ کَانَ مُنَافِقًا قَالَ : سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُوْلُوْنَ فَقُلْتُ مِثْلَهُ لَا أَدْرِي فَيَقُوْلَانِ : قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ أَنَّکَ تَقُوْلُ ذَلِکَ، فَيُقَالُ لِلْأَرْضِ الْتَئِمِي عَلَيْهِ فَتَلْتَئِمُ عَلَيْهِ فَتَخْتَلِفُ فِيْهَا أَضْلَاعُهُ فَلَا يَزَالُ فِيْهَا مُعَذَّبًا حَتَّی يَبْعَثَهُ ﷲُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِکَ ۔
ترجمہ : جب میت کو یا تم میں سے کسی ایک کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اس کے پاس سیاہ رنگ کے نیلگوں آنکھوں والے دو فرشتے آتے ہیں۔ ایک کا نام منکر اور دوسرے کا نام نکیر ہے۔ وہ دونوں اس میت سے پوچھتے ہیں۔ اس عظیم ہستی (رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں تو کیا کہتا تھا؟ وہ شخص وہی بات کہتا ہے جو دنیا میں کہا کرتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بیشک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے (خاص) بندے اور رسول ہیں ۔ فرشتے کہیں گے ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی کہے گا پھر اس کی قبر کو لمبائی و چوڑائی میں ستر ستر ہاتھ کشادہ کر دیا جاتا ہے اور نور سے بھر دیا جاتا ہے پھر اسے کہا جاتا ہے : (آرام سے) سو جا، وہ کہتا ہے میں واپس جاکر گھر والوں کو بتا آؤں ۔ وہ کہتے ہیں نہیں ، (اب تو نئی نویلی) دلہن کی طرح سو جاؤ، جسے گھر والوں میں سے اسے محبوب ترین شخص ہی اٹھاتا ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی (روزِ محشر) اُسے اس کی خواب گاہ سے اٹھائے گا اور اگر وہ شخص منافق ہو تو (سوالات کے نتیجے میں) کہے گا : میں نے ایسا ہی کہا جیسا میں نے لوگوں کو کہتے ہوئے سنا، میں نہیں جانتا (وہ صحیح تھا یا غلط) ۔ پس وہ دونوں فرشتے کہیں گے کہ ہم جانتے تھے کہ تم ایسا ہی کہو گے۔ پس زمین سے کہا جائے گا کہ اس پر تنگ ہو جا پس وہ اس پر اکٹھی ہو جائے گی یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں داخل ہو جائیں گی وہ مسلسل عذاب میں مبتلا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اس ٹھکانے سے اٹھائے گا ۔ (ترمذي ، السنن ، کتاب الجنائز، باب : ما جاء في عذاب القبر، 3 : 383، رقم : 1071،چشتی)(ابن حبان ، الصحيح، 7 : 386، رقم : 3117)

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت میں مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر کے سوالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : وَيَأتِيهِ مَلَکَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ : مَنْ رَبُّکَ ؟ فَيَقُولُ : رَبِّيَ ﷲُ. فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا دِينُکَ ؟ فَيَقُولُ : دِينِيَ الإِسْلَامُ. فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيکُمْ؟ قَالَ : فَيَقُولُ : هُوَ رَسُولُ ﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ۔ فَيَقُولَانِ : وَمَا يُدْرِيکَ؟ فَيَقُولُ : قَرَأتُ کِتَابَ ﷲِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ ۔
ترجمہ : اُس (میت) کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اُسے اُٹھا کر بٹھاتے ہیں اور اُس سے پوچھتے ہیں : تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے : ﷲ میرا رب ہے ۔ فرشتے اُس سے سوال کرتے ہیں : تیرا دین کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے : اسلام میرا دین ہے ۔ فرشتے اُس سے پوچھتے ہیں : یہ شخص (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) جو تمہارے درمیان مبعوث ہوئے کون ہیں ؟ وہ جواب دیتا ہے : وہ ﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ فرشتے اُس سے پوچھتے ہیں : تجھے یہ کیسے معلوم ہوا ؟ وہ جواب دیتا ہے : میں نے ﷲ تعالیٰ کی کتاب (قرآن مجید) پڑھی، لہٰذا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی ۔ (أبو داود، السنن، کتاب السنة، باب في المسألة في القبر وعذاب القبر، 4 : 239، رقم : 4753)

عن عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنهما أنّ رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ذکر فتاني القبر فقال عمر بن الخطاب : وأترد علينا عقولنا يا رسول ﷲ ؟ فقال : نعم کهيئتکم اليوم قال : فبفيه الحجر ۔
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر کے فرشتوں کا ذکر فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! کیا ہمیں ہماری یہ سمجھ بوجھ لوٹا دی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بالکل! آج جیسی ہی سوجھ بوجھ (قبر میں) دی جائے گی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : فرشتے کے منہ میں پتھر (یعنی میں اس کو خاموش کرا دوں گا) ۔
(ابن حبان، الصحيح، 7 : 384، رقم : 3115)(أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 172، رقم : 6603)(هيثمي، موارد الظمأن، 1 : 196، رقم : 778،چشتی)(هيثمي، مجمع الزوائد، 3 : 47)(منذري، الترغيب والترهيب، 4 : 193، رقم : 5391)

امام الوہابیہ علامہ ابنِ قیم کہتے ہیں کہ شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ سے قبر کی زندگی کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا : العذاب والنعيم علیٰ نفس و البدن جميعاً باتفاق اهل سنت ۔
ترجمہ : عذاب و ثواب روح و جسم دونوں کو ہوتا ہے ، اسی پر اہل سنت کا اتفاق ہے ۔ (کتاب الروح مترجم اردو صفحہ 87)

روح کے ساتھ جسم کو بھی عذاب و ثواب اس لیے ہوتا ہے کہ روح اور جسم کے درمیان ایک معنوی تعلق ہے ۔ اس تعلق کے سبب روح پر وارد ہونے والی کیفیات جسم بھی محسوس کرتا ہے۔ عذاب و ثوابِ قبر کےلیے بدن کا سلامت ہونا ضروری نہیں ہے۔ جسم گل سڑ جائے، آگ میں جلا دیا جائے، سمندر میں غرقاب ہو جائے، درندوں کے پیٹ میں چلا جائے‘ روح کا جسم کے ساتھ تعلق ہونے کے سبب ان تمام صورتوں میں بھی جسم پر اثرات مرتب ہوں گے ۔ اس کی وضاحت امام جلال الدین سیوطی نے ان الفاظ میں کی ہے کہ : عذاب قبر سے مراد عالمِ برزخ کی زندگی کا عذاب ہے ۔ اسے عذابِ قبر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ مردوں کو قبروں میں دفنایا جاتا ہے‘ ورنہ ہر میت قبر میں دفن ہو یا نہ ہو جب بھی اللہ اسے عذاب دینا چاہے گا ضرور پہنچائے گا ۔ (سيوطی ، شرح الصدور صفحہ نمبر 75)

قرآن مجید نے فرعونیوں کے عذابِ قبر، یعنی عالم برزخ کے عذاب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے : فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ. النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ. وَإِذْ يَتَحَاجُّونَ فِي النَّارِ فَيَقُولُ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا نَصِيبًا مِّنَ النَّارِ ۔
ترجمہ : پھر اللہ نے اُسے اُن لوگوں کی برائیوں سے بچا لیا جن کی وہ تدبیر کر رہے تھے اور آلِ فرعون کو بُرے عذاب نے گھیر لیا۔ آتشِ دوزخ کے سامنے یہ لوگ صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت بپا ہوگی (تو حکم ہوگا:) آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو ۔ اور جب وہ لوگ دوزخ میں باہم جھگڑیں گے تو کمزور لوگ ان سے کہیں گے جو (دنیا میں) بڑائی ظاہر کرتے تھے کہ ہم تو تمہارے پیروکار تھے سو کیا تم آتشِ دوزخ کا کچھ حصّہ (ہی) ہم سے دور کر سکتے ہو ؟ ۔ (الْمُؤْمِن، 40: 45-47)

اللہ تعالی نے اس آیت میں یہ بیان کیا ہے کہ آل فرعون صبح اور شام عذاب پر پیش کیے جاتے ہیں حالانکہ قیامت قائم نہیں ہوئی ۔ اسی آیت سے علماء کرام نے عذاب قبر کا ثبوت لیا ہے۔ فرعونیوں اور اُن جیسے کافروں کو قیامت سے پہلے بھی صبح و شام عذاب ہوتا ہے‘ یہی عذابِ قبر ہے یا برزخ کا عذاب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہی منافقینِ مدینہ کے بارے میں بتایا ہے ۔ ارشادِ ربانی ہے : وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى النِّفَاقِ لاَ تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ ۔
ترجمہ : اور (مسلمانو!) تمہارے گرد و نواح کے دیہاتی گنواروں میں بعض منافق ہیں اور بعض باشندگانِ مدینہ بھی، یہ لوگ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، آپ انہیں (اب تک) نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں۔ عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے پھر وہ (قیامت میں) بڑے عذاب کی طرف پلٹائے جائیں گے۔(سورۃ لتَّوْبَة ، 9: 101)
یعنی منافقین کےلیے ایک مرتبہ دنیا میں ذلت کا عذاب ، دوسری مرتبہ عالمِ برزخ کا عذاب اور اس کے بعد جہنم کا عذاب عظیم ہے ۔

احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ قبر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہچان کا لازمی سوال ہو گا اور اس میں کامیابی ہی نجات کا باعث ہو گی ۔ معلوم ہوا کہ عالم برزخ میں نجات کا واسطہ و وسیلہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک ہی ہیں پس جو شخص دنیا میں ذاتِ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنا تعلق مضبوط کرے گا اُسے عالم برزخ میں بھی اسی واسطہ کے باعث نعمتوں بھرا جنت کا ٹھکانا نصیب ہو گا ان شاء اللہ ۔


قبر میں روح کا واپس آنا حق ہے ، قبر والا سنتا اور سوالوں کے جواب دیتا ہے : ⏬

غیر مقلدین نام نہاد اہلحدیث حضرات کے شیخ الاسلام ثنا ء اللہ امرتسری صاحب اپنے شیخ الاکل جناب نذیر حسین دہلوی کے فتاویٰ نذیریہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ : قبر میں بندے کے مردہ جسم میں روح کا واپس آنا حق ہے ، عذاب قبر حق اور ایمانیات میں شامل ہے ، بندے کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے ، روح کا جسم کے ساتھ تعلق رہتا ہے ۔ (فتاویٰ ثنائیہ جلد اوّل صفحہ 315 شیخ الاسلام وہابی غیر مقلدین وہابی حضرات علاّمہ ثناء اللہ امرتسری و علامہ داؤد راز غیرمقلد بحوالہ فتاویٰ نذیریہ)

امام الوہابیہ علامہ ابنِ قیم کہتے ہیں کہ شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ سے قبر کی زندگی کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا : العذاب والنعيم علیٰ نفس و البدن جميعاً باتفاق اهل سنت ۔
ترجمہ : عذاب و ثواب روح و جسم دونوں کو ہوتا ہے، اسی پر اہل سنت کا اتفاق ہے ۔ (ابن قيم کتاب الروح صفحہ 72)

غیرمقلد نام نہاد علماءِ اہلحدیث کا فتویٰ  : قبر کا عذاب منکر نکیر کے سوال جواب حق ہیں ۔ اور روح کا جسم کے ساتھ ہر وقت اتصال رہتا ہے جس کی سے میت راحت رہتی ہے یا عذاب میں ۔ (فتاویٰ علماۓ حدیث جلد دہم صفحہ ۲۵۴ مطبوعہ مکتبہ اصحاب الحدیث اردو بازار لاہور)

صحیح مسلم کتاب الجنائز : و حدثنا ‏ ‏محمد بن منهال الضرير ‏ ‏حدثنا ‏ ‏يزيد بن زريع ‏ ‏حدثنا ‏ ‏سعيد بن أبي عروبة ‏ ‏عن ‏ ‏قتادة ‏ ‏عن ‏ ‏أنس بن مالك ‏ ‏قال ‏۔ قال رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏إن الميت إذا وضع في قبره إنه ليسمع ‏ ‏خفق ‏ ‏نعالهم إذا انصرفوا
ترجم : حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب مردہ جسم کو قبر میں دفنایا دیا جاتا ہے ، تو وہ ان لوگوں کے قدموں کی آہٹیں سنتا ہے (جو اسے دفنا کر واپس جا رہے ہوتے ہیں)

اور صحیح بخاری میں انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب مردے کو قبر میں دفنایا جاتا ہے اور اُس کے اصحاب واپس پلٹتے ہیں تو وہ ان کے قدموں کی چاپ سنتا ہے ۔ اور دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اسے بٹھا دیتے ہیں اور یہ سوال کرتے ہیں : تم اس آدمی (رسول ﷺ) کے متعلق کیا کہتے ہو؟" وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کو وہ اللہ کے عبد ہیں اور رسول ہیں ۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے : دوزخ میں ذرا اپنی جگہ دیکھو ، مگر اللہ نے اسکی بجائے تمہیں جنت دی ہے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا : مردہ اپنی دونوں جگہیں دیکھتا ہے ، مگر کافر یا منافق فرشتوں سے کہتا ہے : میں نہیں جانتا ، مگر میں وہی کہا کرتا تھا جو کہ دوسرے لوگ کہتے تھے ۔ اس پر اُس سے کہا جائے گا : نہ تم نے یہ جانا اور نہ تم نے (قران) سے ہدایت حاصل کی ۔ پھر اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے کی سلاخ سے چوٹ ماری جائے گی اور وہ چیخے گا ۔ اور اِس کی یہ چیخ ہر مخلوق سنے گی سوائے جنات اور انسانوں کے ۔ (صحیح بخاری کتاب الجنائز)

بتائیے کہ اگر آپ کو زندہ قبر میں اتار دیا جائے تو کیا آپ بھی قدموں کی چاپ سنیں گے ؟

اور دوسرا غور کریں کہ جب یہ مردہ چیخ مارتا ہے تو تمام مخلوقات اس چیخ کو سن سکتے ہیں سوائے جنات اور انسانوں کے۔ (اگلی حدیث میں آپ کو واضح ہو گا کہ انسان یہ چیخ کیوں نہیں سن سکتا)۔
مردہ لوگوں کو شعور ہوتا ہے اور وہ زندہ لوگوں کو دیکھتے ہیں جو انہیں قبرستان لیجا رہے ہوتے ہیں اور ان کو پکارتے ہیں ۔

صحیح بخاری، کتاب الجنائز:حدثنا ‏ ‏قتيبة ‏ ‏حدثنا ‏ ‏الليث ‏ ‏عن ‏ ‏سعيد بن أبي سعيد ‏ ‏عن ‏ ‏أبيه ‏ ‏أنه سمع ‏ ‏أبا سعيد الخدري ‏ ‏رضي الله عنه ‏ ‏يقول ‏قال رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏إذا وضعت الجنازة فاحتملها الرجال على أعناقهم فإن كانت صالحة قالت قدموني قدموني وإن كانت غير صالحة قالت يا ويلها أين يذهبون بها يسمع صوتها كل شيء إلا الإنسان ولو سمعها الإنسان ‏ ‏لصعق ‏۔
ترجمہ : حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب جنازہ تیار ہو جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر بلند کرتے ہیں، تو اگر مرنے والا نیک شخص ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: "مجھے آگے لے کر چلو"۔ اور اگر مرنے والا نیک شخص نہیں ہوتا تو وہ کہتا ہے: "وائے ہو تم پر، کہ تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟" اور اس کی یہ آواز ہر مخلوق سنتی ہے سوائے انسانوں کے۔ اور اگر انسانوں کو ان کی یہ آواز سنا دی جائے تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑیں ۔

غور فرمائیں : ⏬

(1) مردوں کو یہ شعور ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔

(2) وہ زندوں کی آوازیں سن رہے ہیں اور ان کے حرکات سے آگاہی رکھتے ۔ ہیں ۔

کیا اب بھی کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ مردے نہیں سنتے ؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ تمام احادیث جن میں آپ نے فرمایا ہے کہ مردوں کو کیسے مخاطب کر کے سلام کرنا ہے جب مسلمانوں کا گذر قبرستان سے ہو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت سی احادیث مروی ہیں کہ جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ جب ان کا گذر قبرستان سے ہو تو وہ "االسلام علیکم یا اھل القبور" کہہ کر مردوں کو سلام کیا کریں۔ ذیل میں چند احادیث درج ہیں : ⏬

سنن الترمذي، کتاب الجنائز ، باب ما یقول الرجل اذا دخل المقابر:حدثنا ‏ ‏أبو كريب ‏ ‏حدثنا ‏ ‏محمد بن الصلت ‏ ‏عن ‏ ‏أبي كدينة ‏ ‏عن ‏ ‏قابوس بن أبي ظبيان ‏ ‏عن ‏ ‏أبيه ‏ ‏عن ‏ ‏ابن عباس ‏ ‏قال ‏مر رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏بقبور ‏ ‏المدينة ‏ ‏فأقبل عليهم بوجهه فقال ‏ ‏السلام عليكم يا أهل القبور يغفر الله لنا ولكم أنتم ‏ ‏سلفنا ‏ ‏ونحن ‏ ‏بالأثر ۔

صحیح مسلم ، کتاب الجنائز : حدثنا ‏ ‏يحيى بن يحيى التميمي ‏ ‏ويحيى بن أيوب ‏ ‏وقتيبة بن سعيد ‏ ‏قال ‏ ‏يحيى بن يحيى ‏ ‏أخبرنا ‏ ‏و قال ‏ ‏الآخران ‏ ‏حدثنا ‏ ‏إسمعيل بن جعفر ‏ ‏عن ‏ ‏شريك وهو ابن أبي نمر ‏ ‏عن ‏ ‏عطاء بن يسار ‏ ‏عن ‏ ‏عائشة ‏ ‏أنها قالت ‏كان رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏كلما كان ليلتها من رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏يخرج من آخر الليل إلى ‏ ‏البقيع ‏ ‏فيقول ‏ ‏السلام عليكم دار قوم مؤمنين وأتاكم ما توعدون غدا مؤجلون وإنا إن شاء الله بكم لاحقون اللهم اغفر لأهل ‏ ‏بقيع الغرقد ‏ولم يقم ‏ ‏قتيبة ‏ ‏قوله وأتاكم ‏۔

مسلم بشرح النووی:یقوله صلى الله عليه وسلم : ( السلام عليكم دار قوم مؤمنين )دار منصوب على النداء , أي يا أهل دار فحذف المضاف وأقام المضاف إليه مقامه , وقيل : منصوب على الاختصاص , قال صاحب المطالع : ويجوز جره على البدل من الضمير في عليكم . قال الخطابي : وفيه أن اسم الدار يقع على المقابر قال : وهو صحيح فإن الدار في اللغة يقع على الربع المسكون وعلى الخراب غير المأهول , وأنشد فيه .

مسند احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرہ، باقی مسند المکثرین:حدثنا ‏ ‏محمد بن جعفر ‏ ‏حدثنا ‏ ‏شعبة ‏ ‏قال سمعت ‏ ‏العلاء بن عبد الرحمن ‏ ‏يحدث عن ‏ ‏أبيه ‏ ‏عن ‏ ‏أبي هريرة ‏رضی اللہ عنہ عن النبي ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏أنه أتى إلى المقبرة فسلم على أهل المقبرة فقال ‏‏ سلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون ثم قال وددت أنا قد رأينا إخواننا قال فقالوا يا رسول الله ألسنا بإخوانك قال بل أنتم أصحابي وإخواني الذين لم يأتوا بعد وأنا ‏ ‏فرطهم ‏ ‏على الحوض فقالوا يا رسول الله كيف تعرف من لم يأت من أمتك بعد قال أرأيت لو أن رجلا كان له خيل ‏ ‏غر ‏ ‏محجلة ‏ ‏بين ظهراني خيل بهم ‏ ‏دهم ‏ ‏ألم يكن يعرفها قالوا بلى قال فإنهم يأتون يوم القيامة ‏ ‏غرا ‏ ‏محجلين ‏ ‏من أثر الوضوء وأنا ‏ ‏فرطهم ‏ ‏على الحوض ثم قال ألا ‏ ‏ليذادن ‏ ‏رجال منكم عن حوضي كما ‏ ‏يذاد ‏ ‏البعير الضال ‏ ‏أناديهم ألا هلم فيقال إنهم بدلوا بعدك فأقول ‏ ‏سحقا ‏ ‏سحقا ۔

اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت سی دعائیں منقول ہیں کہ قبرستان میں مردوں کو کیسے سلام کرنا ہے اور کیسے انہیں مخاطب کر کے دعا کرنی ہے ۔ مثلاً : ⏬

صحیح مسلم کتاب الطہارہ میں ابو ہریرہ سے یہ دعا مروی ہے : اے قبر کے باسیو! تم پر سلام ہو۔ اور اللہ نے چاہا تو ہم جلد تم سے ملنے والے ہیں ۔"

صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ میں حضرت زہیر سے یہ الفاظ مروی ہیں : سلام ہو تم پر اس شہر (قبرستان) کے رہنے والو جو کہ مومنوں اور مسلمانوں میں سے ہیں۔ اور اللہ نے چاہا تو ہم جلد تم سے ملنے والے ہیں ۔ اور ہم اللہ سے تمہارے لیے دعا کرتے ہیں ۔

صحیح مسلم کتاب الصلاۃ میں حضرت عائشہ سے یہ الفاظ مروی ہیں : سلام ہو تم پر اے قبر کے باسیو، جو تم میں ایمان والے ہیں۔ جو تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ تمہیں کل تک مل جائے گا اور اس میں تھوڑا وقت لگے گا۔ اور اللہ نے چاہا تو ہم جلد تم سے ملنے والے ہیں ۔

غور فرمائیں کہ نہ صرف قبر کے مردوں کو خطاب کر کے "یا اہل قبور" کہا جا رہا ہے ، بلکہ ان سے پورا خطاب ہے کہ تمہیں وہ کچھ مل رہا ہے جس کا اللہ نے وعدہ کیا تھا اور انشاء اللہ ہم جلد تم سے ملنے والے ہیں۔۔۔۔

یہ وہ عمل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پوری زندگی کیا اور وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر جنت البقیع تشریف لیجایا کرتے تھے۔ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمام صحابہ رضی اللہ عنہم مردوں سے خطاب کرتے رہے ۔ اور پھر تمام آئمہ ، فقہا حتیٰ کہ ہر ہر مسلمان نے مردوں سے یہ خطاب کیا اور آج کے دن تک کرتے آ رہے ہیں ۔

تو کیا یہ عقیدہ رکھا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پوری زندگی ایک مشرکانہ اور بیکار عمل کرتے ہوئے گذار دی اس صورت میں کہ آپ مردوں سے مخاطب ہوتے رہے؟ اور کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوری امت کو بھی اس مشرکانہ فعل میں قیامت کے دن تک مبتلا کر دیا ؟ (معاذ اللہ) ۔

دوسرا یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنتِ البقیع میں داخل ہو کر صرف ایک مرتبہ سلام کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی یہ نہیں کیا کہ ہر ہر قبر کے پاس جا کر ہر ہر مردے کو قبر سے نکالا ہو اور پھر سلام کیا ہو تا کہ یہ یقین ہو سکے کہ ہر مردے نے اِن کا سلام سن لیا ہے۔ اور جب ہم بھی قبرستان جاتے ہیں تو تمام مردوں کو ایک مرتبہ ہی سلام کرتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ سب نے ہمارا سلام سنا ہے ۔

اس سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اللہ نے ارواح کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ قریب یا دور کی پکار کو سن سکیں جبکہ یہ طاقت زندہ انسانوں کو نہیں دی گئی ہے۔

اور جو لوگ آجکل "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" کو شرک سمجھتے ہیں، وہ جان لیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی تمام زندگی مردوں کو "یا اہل القبور" کہہ کر مخاطب فرماتے رہے ہیں۔
صحابی رضی اللہ عنہ کا لوگوں کو وصیت کرنا کہ دفنانے کے بعد وہاں کچھ دیر ٹہریں تاکہ وہ ان کی صحبت سے نفع اٹھا سکیں ۔

صحیح مسلم ، کتاب الایمان میں عمرو بن العاص کے متعلق ہے : عبدالرحمن بن شماسہ المہری کہتے ہیں کہ ہم عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور وہ اس وقت قریب المرگ تھے ۔ (عمرو بن العاص اپنے ساتھیوں کو کہتا ہےکہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد میں) چند ایسے کاموں کا ذمہ دار ہوں کہ جن کی وجہ سے میں نہیں جانتا کہ میرا کیا حال ہو گا۔ تو جب میں مر جاؤں تو میرے جنازے کیساتھ کوئی رونے چلانے والی نہ ہو اور نہ آگ ہو اور جب مجھے دفن کرنا تو مجھ پر اچھی طرح مٹی ڈال دینا اور میری قبر کے ارد گرد اتنی دیر تک کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ کاٹا جاتا ہے اور اس کا گوشت بانٹا جاتا ہے تاکہ تم سے میرا دل بہلے(اور میں تنہائی میں گھبرا نہ جاؤں) اور دیکھ لوں کہ میں پروردگار کے وکیلوں (فرشتوں ) کو کیا جواب دیتا ہوں ۔

روح کے ساتھ جسم کو بھی عذاب و ثواب اس لیے ہوتا ہے کہ روح اور جسم کے درمیان ایک معنوی تعلق ہے۔ اس تعلق کے سبب روح پر وارد ہونے والی کیفیات جسم بھی محسوس کرتا ہے ۔ عذاب و ثوابِ قبر کےلیے بدن کا سلامت ہونا ضروری نہیں ہے ۔ جسم گل سڑ جائے، آگ میں جلا دیا جائے ، سمندر میں غرقاب ہو جائے ، درندوں کے پیٹ میں چلا جائے ، روح کا جسم کے ساتھ تعلق ہونے کے سبب ان تمام صورتوں میں بھی جسم پر اثرات مرتب ہوں گے ۔ اس کی وضاحت امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے ان الفاظ میں کی ہے کہ : عذاب قبر سے مراد عالمِ برزخ کی زندگی کا عذاب ہے ۔ اسے عذابِ قبر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ مردوں کو قبروں میں دفنایا جاتا ہے ، ورنہ ہر میت قبر میں دفن ہو یا نہ ہو جب بھی اللہ اسے عذاب دینا چاہے گا ضرور پہنچائے گا ۔ (سيوطی شرح الصدور صفحہ 75،چشتی)

قرآن مجید نے فرعونیوں کے عذابِ قبر، یعنی عالم برزخ کے عذاب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے : فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ. النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ. وَإِذْ يَتَحَاجُّونَ فِي النَّارِ فَيَقُولُ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا نَصِيبًا مِّنَ النَّارِ ۔
ترجمہ : پھر اللہ نے اُسے اُن لوگوں کی برائیوں سے بچا لیا جن کی وہ تدبیر کر رہے تھے اور آلِ فرعون کو بُرے عذاب نے گھیر لیا۔ آتشِ دوزخ کے سامنے یہ لوگ صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت بپا ہوگی (تو حکم ہوگا:) آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو۔ اور جب وہ لوگ دوزخ میں باہم جھگڑیں گے تو کمزور لوگ ان سے کہیں گے جو (دنیا میں) بڑائی ظاہر کرتے تھے کہ ہم تو تمہارے پیروکار تھے سو کیا تم آتشِ دوزخ کا کچھ حصّہ (ہی) ہم سے دور کر سکتے ہو؟ ۔ (الْمُؤْمِن، 40: 45-47)

اللہ تعالی نے اس آیت میں یہ بیان کیا ہے کہ آل فرعون صبح اور شام عذاب پر پیش کیے جاتے ہیں حالانکہ قیامت قائم نہیں ہوئی۔ اسی آیت سے علماء کرام نے عذاب قبر کا ثبوت لیا ہے۔ فرعونیوں اور اُن جیسے کافروں کو قیامت سے پہلے بھی صبح و شام عذاب ہوتا ہے‘ یہی عذابِ قبر ہے یا برزخ کا عذاب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہی منافقینِ مدینہ کے بارے میں بتایا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے : وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى النِّفَاقِ لاَ تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ.
ترجمہ : اور (مسلمانو!) تمہارے گرد و نواح کے دیہاتی گنواروں میں بعض منافق ہیں اور بعض باشندگانِ مدینہ بھی، یہ لوگ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں ، آپ انہیں (اب تک) نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں۔ عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے پھر وہ (قیامت میں) بڑے عذاب کی طرف پلٹائے جائیں گے ۔ (اسورۃ لتَّوْبَة، 9: 101)

یعنی منافقین کےلیے ایک مرتبہ دنیا میں ذلت کا عذاب‘ دوسری مرتبہ عالمِ برزخ کا عذاب اور اس کے بعد جہنم کا عذاب عظیم ہے ۔
امام بخاری رحمۃ الله علیہ نے اپنی صحیح میں کچھ احادیث کی تخریج ایسی فرمائی ہے جس سے غیرمقلین بھی کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں : جیسا کہ معروف احادیث ہیں مردوں کی سماع جن سے ثابت ہوتی ہے ، پر یہ غیر مقلدین ، اہل راے ہونے کا پورا ثبوت دے کر ایسی صحیح احادیث کے مقابلے میں اپنا باطل قیاس کرتے ہیں ۔ اور آقا علیہ السلام کے نہایت ہی واضح فرمان کو بھی رد کرتے ہیں ، چنانچہ امام بخاری نے حدیث کی تخریج سے پہلے باب باندھے ، جن سے آپ کے عقیدے کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ آپ بھی فوت شدگان کے سننے ، دیکھنے ، ارد گرد کے ماحول سے آگاہ ہونے سب کا عقیدہ رکھتے تھے ۔ کیا آج کا کوئی غیر مقلد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو معاذ الله بدعقیدہ ہونے کا فتویٰ دے گا ؟

(1) باب الميت يسمع خفق ألنعال، ميت كا جوتوں کی آواز سننا ۔

(2) باب کلام المیت علی الجنازۃ ۔ یعنی جنازہ پر میت کے کلام کرنے کا بیان ۔

(3) دوسرے مقام پر یوں باب باندھا ہے۔ باب قول المیت وھو علی الجنازۃ قدمونی یعنی میت کا یہ کہنا جب کہ وہ ابھی جنازہ پر ہوتا ہے مجھے جلدی لے چلو ۔

باب الميت يسمع خفق ألنعال ، ميت كا جوتوں کی آواز سننا : ⏬

العَبْدُ إذَا وُضِعَ فِي قَبْرهِ وَتَولَّى وَذَهَبَ أَصْحَابُهُ، حَتَّى إنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَأَقْعَدَاهُ فَيَقُولاَنِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذا الرَّجُلِ محمَّدٍ صلَّى الله عليه وسلَّم ؟ فيقولُ: أَشْهدُ أنَّهُ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، فيُقَالُ: انْظُرْ إلَى مَقْعَدِكَ فِي النَّارِ أَبْدَلَكَ اللهُ بهِ مَقْعَداً مِنَ الْجَنَّةِ. قالَ النَّبيُّ صلى الله عليه وسلّم: فَيَراهُمَا جَمِيْعَاً، وَأمَّا الكَافِرُ أو الْمُنَافِقُ فَيَقولُ: لاَ أَدْرِي، كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ. فَيُقَالُ: لاَ دَرَيْتَ وَلاَ تَلَيْتَ، ثُمَّ يُضْرَبُ بِمْطَرَقَةٍ مِنْ حَديدٍ ضَربةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيْحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيَهُ إلاَّ الثَّقَلين ۔
ترجمہ : جب مردے کو قبر میں دفنایا جاتا ہے اور اُس کے اصحاب واپس پلٹتے ہیں تو وہ ان کے قدموں کی چاپ سنتا ہے ۔ اور دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اسے بٹھا دیتے ہیں اور یہ سوال کرتے ہیں : تم اس آدمی (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کیا کہتے ہو ؟ وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کو وہ اللہ کے عبد ہیں اور رسول ہیں ۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے : دوزخ میں ذرا اپنی جگہ دیکھو ، مگر اللہ نے اس کی بجائے تمہیں جنت دی ہے ۔ پھر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مزید فرمایا : مردہ اپنی دونوں جگہیں دیکھتا ہے ، مگر کافر یا منافق فرشتوں سے کہتا ہے : میں نہیں جانتا ، مگر میں وہی کہا کرتا تھا جو کہ دوسرے لوگ کہتے تھے ۔ اس پر اُس سے کہا جائے گا : نہ تم نے یہ جانا اور نہ تم نے (قرآن) سے ہدایت حاصل کی ۔ پھر اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے کی سلاخ سے چوٹ ماری جائے گی اور وہ چیخے گا ۔ اور اِس کی یہ چیخ ہر مخلوق سنے گی سوائے جنات اور انسانوں کے ۔ (صحيح البخاری كتاب الجنائز : رقم ١٣٣٨،چشتی)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّي عَنْهُ أَصْحَابُهُ وَ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَکَانِ فيُقْعِدَانِهِ، فَيَقُوْلاَنِ : مَا کُنْتَ تَقَوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ لِمُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله وسلم، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُوْلُ : أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ ﷲِ وَرَسُوْلُهُ. فيُقَالُ لَهُ : أنْظُرْ إِلَي مَقْعَدِکَ مِنَ النَّارِ، قَدْ أَبْدَلَکَ اﷲُ بِهِ مَقْعَداً مِنَ الْجَنَّةِ، فَيَرَاهُمَا جَمِيْعا. قَالَ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْکَافِرُ فَيُقَالُ لَهُ : مَاکُنْتَ تَقُوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُوْلُ : لَا أَدْرِي! کُنْتُ أَقُوْلُ مَا يَقُوْلُ النَّاسُ! فَيُقَالُ : لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ، ويُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيْدٍ ضَرْبَةً، فَيَصِيْحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيْهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ ۔
ترجمہ : بندے کو جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے لواحقین واپس چلے جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر کہتے ہیں : تو اس شخص یعنی (سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا؟ اگر مومن ہو تو کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس سے کہا جائے گا : (اگر تو ایمان نہ لاتا تو تیرا ٹھکانا جہنم میں ہوتا) جہنم میں اپنے اس ٹھکانے کی طرف دیکھ! اللہ تعالیٰ نے تجھے (نیک اعمال کے سبب) اس کے بدلے جنت میں ٹھکانا دے دیا ہے ۔ پس وہ دونوں کو دیکھتا ہوگا، اور اگر منافق یا کافر ہو تو اس سے پوچھا جائے گا : تو اس شخص (یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا ؟ وہ کہتا ہے : مجھے تو معلوم نہیں، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ اس سے کہا جائے گا : تو نے نہ جانا اور نہ پڑھا۔ اسے لوہے کے گُرز سے مارا جائے گا تو وہ (شدت تکلیف سے قبر میں) چیختا چلاتا ہے جسے سوائے جنات اور انسانوں کے سب قریب والے سنتے ہیں ۔ (بخاري، الصحيح، کتاب الجنائز، باب ماجاء في عذاب القبر، 1 : 462، رقم : 1308)(مسلم، الصحيح، کتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها، باب التي يصرف بها في الدنيا أهل الجنة وأهل النار، 4 : 2200، رقم : 2870،چشتی)(أبوداود، السنن، کتاب السنة، باب في المسألة في القبر وعذاب القبر، 4 : 238، رقم : 4752)

قبر والا جوتوں کی آواز سنتا ہے سوالوں کے جواب دیتا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے متعلق سوال ہوگا جو پہچانے گا وہ نجات پائے گا ۔ (صحیح بخاری جلد دوم صفحہ 357 مترجم وہابی علماء)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِذَا قُبِرَ الْمَيِّتُ أَوْ قَالَ أَحَدُکُمْ، أَتَاهُ مَلَکَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ، يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا : الْمُنْکَرُ، وَ الآخَرُ : النَّکِيْرُ، فَيَقُوْلَانِ : مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُوْلُ : مَا کَانَ يَقُوْلُ : هُوَ عَبْدُ اللّٰهِ وَ رَسُوْلُهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ، فَيَقُوْلَانِ : قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ أَنَّکَ تَقُوْلُ هَذَا، ثُمَّ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فِي سَبْعِيْنَ، ثُمَّ يُنَوَّرُ لَهُ فِيْهِ، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ : نَمْ، فَيَقُوْلُ : أَرْجِعُ إِلَی أَهْلِي فَأُخْبِرُهُمْ؟ فَيَقُوْلَانِ : نَمْ کَنَوْمَةِ الْعَرُوْسِ الَّذِي لَا يُوْقِظُهُ إِلَّا أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ، حَتَّی يَبْعَثَهُ اللّٰهُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِکَ وَ إِنْ کَانَ مُنَافِقًا قَالَ : سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُوْلُوْنَ فَقُلْتُ مِثْلَهُ لَا أَدْرِي فَيَقُوْلَانِ : قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ أَنَّکَ تَقُوْلُ ذَلِکَ، فَيُقَالُ لِلْأَرْضِ الْتَئِمِي عَلَيْهِ فَتَلْتَئِمُ عَلَيْهِ فَتَخْتَلِفُ فِيْهَا أَضْلَاعُهُ فَلَا يَزَالُ فِيْهَا مُعَذَّبًا حَتَّی يَبْعَثَهُ ﷲُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِکَ ۔
ترجمہ : جب میت کو یا تم میں سے کسی ایک کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اس کے پاس سیاہ رنگ کے نیلگوں آنکھوں والے دو فرشتے آتے ہیں ۔ ایک کا نام منکر اور دوسرے کا نام نکیر ہے۔ وہ دونوں اس میت سے پوچھتے ہیں۔ اس عظیم ہستی (رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں تو کیا کہتا تھا؟ وہ شخص وہی بات کہتا ہے جو دنیا میں کہا کرتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بیشک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے (خاص) بندے اور رسول ہیں۔ فرشتے کہیں گے ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی کہے گا پھر اس کی قبر کو لمبائی و چوڑائی میں ستر ستر ہاتھ کشادہ کر دیا جاتا ہے اور نور سے بھر دیا جاتا ہے پھر اسے کہا جاتا ہے : (آرام سے) سو جا، وہ کہتا ہے میں واپس جاکر گھر والوں کو بتا آؤں۔ وہ کہتے ہیں نہیں، (اب تو نئی نویلی) دلہن کی طرح سو جاؤ، جسے گھر والوں میں سے اسے محبوب ترین شخص ہی اٹھاتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی (روزِ محشر) اُسے اس کی خواب گاہ سے اٹھائے گا اور اگر وہ شخص منافق ہو تو (سوالات کے نتیجے میں) کہے گا : میں نے ایسا ہی کہا جیسا میں نے لوگوں کو کہتے ہوئے سنا، میں نہیں جانتا (وہ صحیح تھا یا غلط)۔ پس وہ دونوں فرشتے کہیں گے کہ ہم جانتے تھے کہ تم ایسا ہی کہو گے۔ پس زمین سے کہا جائے گا کہ اس پر تنگ ہو جا پس وہ اس پر اکٹھی ہو جائے گی یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں داخل ہو جائیں گی وہ مسلسل عذاب میں مبتلا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اس ٹھکانے سے اٹھائے گا ۔ (ترمذي، السنن، کتاب الجنائز، باب : ما جاء في عذاب القبر، 3 : 383، رقم : 1071،چشتی)(ابن حبان، الصحيح، 7 : 386، رقم : 3117)

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت میں مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر کے سوالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : وَيَأتِيهِ مَلَکَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ : مَنْ رَبُّکَ؟ فَيَقُولُ : رَبِّيَ ﷲُ. فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا دِينُکَ؟ فَيَقُولُ : دِينِيَ الإِسْلَامُ. فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيکُمْ؟ قَالَ : فَيَقُولُ : هُوَ رَسُولُ ﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم . فَيَقُولَانِ : وَمَا يُدْرِيکَ ؟ فَيَقُولُ : قَرَأتُ کِتَابَ ﷲِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ ۔

ترجمہ : اُس (میت) کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اُسے اُٹھا کر بٹھاتے ہیں اور اُس سے پوچھتے ہیں : تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے : ﷲ میرا رب ہے۔ فرشتے اُس سے سوال کرتے ہیں : تیرا دین کیا ہے؟ وہ جواب دیتا ہے : اسلام میرا دین ہے۔ فرشتے اُس سے پوچھتے ہیں : یہ شخص (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) جو تمہارے درمیان مبعوث ہوئے کون ہیں ؟ وہ جواب دیتا ہے : وہ ﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ہیں ۔ فرشتے اُس سے پوچھتے ہیں : تجھے یہ کیسے معلوم ہوا؟ وہ جواب دیتا ہے : میں نے ﷲ تعالیٰ کی کتاب (قرآن مجید) پڑھی ، لہٰذا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم پر ایمان لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی تصدیق کی ۔ (أبو داود، السنن، کتاب السنة، باب في المسألة في القبر وعذاب القبر، 4 : 239، رقم : 4753)

عن عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنهما أنّ رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ذکر فتاني القبر فقال عمر بن الخطاب : وأترد علينا عقولنا يا رسول ﷲ ؟ فقال : نعم کهيئتکم اليوم قال : فبفيه الحجر ۔
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر کے فرشتوں کا ذکر فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہمیں ہماری یہ سمجھ بوجھ لوٹا دی جائے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بالکل ! آج جیسی ہی سوجھ بوجھ (قبر میں) دی جائے گی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : فرشتے کے منہ میں پتھر (یعنی میں اس کو خاموش کرا دوں گا) ۔ (ابن حبان، الصحيح، 7 : 384، رقم : 3115)(أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 172، رقم : 6603)(هيثمي، موارد الظمأن، 1 : 196، رقم : 778)(هيثمي، مجمع الزوائد، 3 : 47)(منذري، الترغيب والترهيب، 4 : 193، رقم : 5391)

احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ قبر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی پہچان کا لازمی سوال ہو گا اور اس میں کامیابی ہی نجات کا باعث ہو گی ۔ معلوم ہوا کہ عالم برزخ میں نجات کا واسطہ و وسیلہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ذات پاک ہی ہیں پس جو شخص دنیا میں ذات رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے اپنا تعلق مضبوط کرے گا اسے عالم برزخ میں بھی اسی واسطہ کے باعث نعمتوں بھرا جنت کا ٹھکانا نصیب ہو گا ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)



















Sunday, 31 May 2026

امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے اسماعیل دہلوی پر کفر کا فتویٰ کیوں نہیں دیا ؟

امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے اسماعیل دہلوی پر کفر کا فتویٰ کیوں نہیں دیا ؟








































محترم قارٸینِ کرام : امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ نے ابو الوہابیہ مولوی اسماعیل دہلوی کی مختلف عبارات پر لزومِ کفر کا فتویٰ دیا مگر مولوی اسماعیل دہلوی کو کافر نہ کہا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ .... ”لزوم والتزام میں فرق ہے ، اقوال کا کلمہ کفر ہونا اور بات اور قائل کو کافر مان لینا اور بات ، ہم احتیاط برتیں گے، سکوت کریں گے جب تک ضعیف سا ضعیف احتمال ملے گا ،حکم کفر جاری کرتے ڈریں گے“.... (تمہید ایمان صفحہ 50)

یہ بات دیوبندی اور غیر مقلدین کو سمجھ نہ آئی اور وہ تحریر و تقریر میں امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف اس احتیاط کو الزام سمجھ کر پیش کرتے رہے ، بار ہا جواب پاکر بھی پروپیگنڈا سے باز نہ آئے ، اُن کے پروپیگنڈا سے متاثر ہو کر بعض بھولے بھالے اہل سنت بھی متاثر نظر آنے لگے ، ان حالات کی وجہ سے فقیر نے یہ مناسب سمجھا کہ اس موضوع کو کھول کر بیان کردیا جائے تاکہ اپنوں کو اطمینان مزید ملے اور مخالفین پر ایک بار پھر حجت تمام کردی جائے ۔ وما توفیقی الا با ﷲ ۔

لزوم و التزام کی تعریف : ⏬

لزومِ کفر کے معنی ہیں کسی بات پر کفر کا لازم آنا، اور التزامِ کفر کے معنی ہیں کسی شخص کا کفر کو اپنے اوپر لازم کرلینا ، اس کی وضاحت یوں سمجھئے کہ کسی مسلمان کی زبان سے کوئی ایسی بات نکل جاتی ہے جو ازروئے شرع کفر ہے ، تو یہ لزومِ کفر ہے، اب اس مسلمان کو بتایا جائے کہ تیری اس بات پر لزومِ کفر آتا ہے اور وہ شخص توبہ کرنے کی بجائے اپنی بات پر اَڑ جائے تو یہ التزامِ کفر ہوگا اور اب اُس شخص کو کافر ماننا پڑے گا۔ ہاں اگر وہ اَڑ جانے اور ضد کرنے کی بجائے توبہ کرلے تو وہ مسلمان ہوگا کیونکہ التزامِ کفر ثابت نہ ہوا ، حالتِ اکراہ، حالتِ سُکر، غلبہ حال ، نیند اور جنون بھی التزامِ کفر کے منافی ہیں ، یعنی ان حالتوں میں بھی لزومِ کفر والی بات منہ سے نکل جائے تو التزامِ کفر ثابت نہیں ہوتا ، اس لئے صاحبِ کلام کافر نہیں ہوتا ۔

اس بات کی مثالوں سے وضاحت : ⏬

(1) ۔ مشکوٰۃ شریف میں باب الاستغفار والتوبہ میں بحوالہ مسلم شریف حضرت انس رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو ﷲ تعالیٰ اس توبہ سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے ، اُس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا جس کا اونٹ جنگل میں اس سے بھاگ گیا اور اُس پر اُس کا کھانے پینے کا سامان بھی تھا، وہ شخص اپنے اونٹ سے مایوس ہوگیا، ایک درخت کے سائے میں آکر سستانے کے لئے لیٹا اور بے شک وہ اونٹ سے مایوس تھا کہ اچانک اُس کا اونٹ سازوسامان سمیت اُس کے سامنے تھا ، پھر اُس شخص نے اُونٹ کی مہار پکڑلی اور قال من شدۃ الفرح اللھم انت عبدی وانا ربک یعنی کہا اُس نے خوشی کے غلبہ سے مغلوب الحال ہوکر کہ ”اے ﷲ تو بندہ ہے میرا اور میں خدا ہوں تیرا“، اخطاءمن شدۃ الفرح یعنی اُس نے خطا کی بہ سبب غلبہ حال خوشی کے ۔

ملاحظہ کیجئے اس حدیث شریف میں یہ الفاظ (اے ﷲ تو بندہ ہے میرا اور میں خدا ہوں تیرا) کفر ہیں اور اس کلام پر کفر لازم آتا ہے ، مگر صاحبِ کلام اپنے غلبہ حال کے سبب اس لزومِ کفر سے بے خبر اور لاعلم ہے، اس لئے اُس کا التزامِ کفر ثابت نہ ہوا، لہذا وہ صرف خطاکار ٹھہرا ۔

(2) بعض مشرکین نے حضرت عمار بن یاسر رضی ﷲ عنہ کو پکڑا اور جناب نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم کو سبّ اور اپنے بتوں کی تعریف کے الفاظ جبراً کہلوائے ، حضرت عمار نے سارا واقعہ نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت اقدس میں عرض کیا ، نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم نے پوچھا تمہارا دل کس حال میں تھا ؟ عرض کی ایمان کے ساتھ کامل طور پر مطمئن ، تو نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم نے انہیں تسلّی دی ، سورۃ النحل کی آیت نمبر 106 کی ایک شان نزول یہ بھی ہے ، آیت ملاحظہ ہو من کفر با ﷲ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان .... الخ ، یعنی جو ایمان لا کر ﷲ کے ساتھ کفر کرے سوا اُس کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو ، ہاں وہ جو دل کھول کر کافر ہو ان پر ﷲ کا غضب ہے اور ان کو بڑا عذاب ہے ۔ (چشتی)

ملاحظہ کیا آپ نے ! مشرکوں نے جو کلمات کہلوائے ہوں گے وہ یقیناً لزومِ کفر کے کلمات تھے ، مگر حالتِ اکراہ کے سبب صحابی کا التزامِ کفر ثابت نہیں ہوتا ، اور اس بات کی تصدیق ﷲ جل جلالہ اور اس کے حبیب صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم نے فرما کر صحابی کو مطمئن کردیا ۔

(3) مثنوی مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ میں درج ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک چرواہے کو دیکھا جو محبت الٰہی کے غلبہ حال میں کہہ رہا تھا کہ خدا تو کہاں ہے میں تیرا خادم بننا چاہتا ہوں ، میں تیری جوتیاں سینا چاہتا ہوں ، تیرے سر میں کنگھا کرنا چاہتا ہوں ، میں چاہتا ہوں کہ تیرے کپڑے سی دوں ، تیری جوئیں ماروں ، تیرے لئے دودھ لاﺅں ، تو بیمار ہو تو تیمارداری کروں ، تیرے ہاتھ چوموں اور پاﺅں دباﺅں ، تیری خواب گاہ صاف کروں ، گھی اور شربت ، پنیر اور پراٹھے تجھے دوں ، میرا کام یہ چیزیں لانا ہو اور تیرا کام یہ چیزیں کھانا ہو ، الغرض وہ ایسی باتیں کررہا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اُسے ٹوکا اور پوچھا کس کو کہہ رہے ہو ؟ بولا اپنے خدا کو : ⏬

گفت موسیٰ ہائے خیرہ سرشدی
خود مسلماں ناشدہ کافر شدی
ترجمہ : موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہائے تو دیوانہ ہوگیا ، تو مسلمان نہ رہا کافر ہوگیا ۔

وہ شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرمان سننے کے بعد سخت پریشان ہوا ، اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور روتا ہوا جنگل کو نکل گیا، موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی آئی اور آپ کو اس مغلوب الحال پر حکم لگانے سے روکا گیا ، واضح ہوچکا ہے کہ اُس شخص کے کلمات پر لزومِ کفر آتا تھا مگر صاحبِ کلام کو اُس کے غلبہ حال اور لا علمی نے التزام کفر سے بچالیا ۔

ایک د یوبندی عالم کی گواہی : ⏬

علاّمہ حمد ﷲ الداجوی پشاوری دیوبندی فاضل سہارنپور لکھتے ہیں : فنقول انہ فرق بین لزوم الکفر والتزامہ فان التزام الکفر واما لزوم الکفر فلیس بکفر.... قال فی المواقف من یلزمہ الکفر فلا یعلم بہ فلیس بکافر ۔
ترجمہ : اور ہم کہتے ہیں کہ بے شک فرق ہے لزومِ کفر اور التزامِ کفر میں ، پس بے شک التزامِ کفر تو کفر ہے ، مگر لزومِ کفر کفر نہیں ہے ، مواقف میں ہے کہ جس پر کفر لازم آئے اور وہ بے خبر ہو تو کافر نہیں ہے ۔
وذکر المفسر الالوسی .... فلو قال شخصاومن برسالۃ ولا ادری البشرام جنی ولا ادری امن العرب او من العجم فلا شک فی کفرہ لتکذیبہ القرآن.... فلو کان غیبا لا یعرف ذلک وجب تعلیمہ ایاہ فان جحد بعد ذلک حکمناہ بکفرہ۔ انتھیٰ ، فانظر الی العلماء المحققین المحتاطین فی امرالتکفیر وکذا یعلم من الحدیث المعروف الذی فیہ( اللھم انت عبدی وانا ربک) فھذہ کلمۃ کفر لا التزام فیہ ۔ (البصائر لمنکر التوسل باھل المقابر، صفحہ 18،19، مطبوعہ استنبول، ترکی،چشتی)
ترجمہ : اور مفسر آلوسی رحمۃ ﷲ علیہ نے ذکر کیا کہ اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ میں آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کو رسول مانتا ہوں مگر نہیں جانتا کہ کہ آپ بشر ہیں یاجن ؟ عربی ہیں یا عجمی؟ تو اُس کے کفر میں شک نہیں ، قرآن جھٹلانے کے باعث اور اگر وہ غبی یہ بات نہیں جانتا تو اُس کو بتانا لازم ہے ، پھر بھی اگر وہ ضد کرے اور اڑا رہے تو ہم اس کے کفر کا حکم جاری کریں گے، بات ختم، پس امر تکفیر میں تو محقق ومحتاط علماءکا رویّہ دیکھ، اور یہی پتہ چلتا ہے اُس مشہور حدیث سے جس میں ”اے ﷲ تو بندہ ہے میرا اور میں خدا ہوں تیرا“ ، تو یہ کلام کفر ہے مگر التزامِ کفر یہاں ثابت نہیں ۔

احتمال کی قسمیں اور لزوم والتزامِ کفر : ⏬

احتمال کی تین قسمیں ممکن ہیں جو کہ درج ذیل ہیں : ⏬

(1) احتمال فی الکلام

یعنی کلام میں کوئی جائز توجیہ وتاویل ہوسکتی ہو، یہ احتمال لزومِ کفر کی نفی کرتا ہے ، یاد رہے کہ صریح بات میں تاویل نہیں سنی جاتی ورنہ کوئی بات بھی کفر نہ رہے ۔

)2) احتمال فی التکلّم

یعنی اس بات میں شُبہ آجائے کہ قائل نے وہ کفری کلمہ بولا یا نہیں ، یہ احتمال جب آئے گا تو قائل کا التزامِ کفر ثابت نہ ہوسکے گا ۔

(3) احتمال فی المتکلم

یعنی خود قائل کے متعلق شُبہ ہو کہ اُس نے بے خیالی وبے خبری میں یا حالتِ سُکر یا غلبہ حال میں یہ کلام کہا اور اس کی قباحت پر آگاہ نہ کیا گیا یا کوئی ضعیف قول اُس کی توبہ کا مل جائے تو بھی قائل کا التزامِ کفر ثابت نہ ہوگا ۔

احتمال کی قسمیں اور مولوی اسماعیل دہلوی

(1) احتمال فی الکلام

مولوی اسماعیل دہلوی کے کلمات پر لزومِ کفر آتا ہے ، اُن میں تاویل کی گنجائش نہیں ملتی ، وہ صریح کفر ہیں ۔

(2) احتمال فی التکلّم

بعض دیوبندی حضرات کا موقف یہ ہے کہ مولوی اسماعیل دہلوی نے تقویۃ الایمان نامی کتاب نہیں لکھی ، چنانچہ مولوی حسین احمد مدنی نے مکتوبات میں اور صاحب تفسیر الاقوام نے اپنی تفسیر میں یہی موقف اختیار کیا ہے ، اُن سے مولوی حق نواز جھنگوی نے مناظرہ جھنگ میں یہی موقف نقل کیا اور اسی موقف کو اختیار کیا ، مولوی احمد رضا بجنوری اپنی کتاب ”انوار الباری“ جلد11، صفحہ نمبر 107 پر مولوی حسین احمد مدنی کا موقف بیان کرتے ہیں اور اسی کی تائید کرتے ہیں ۔
مولانا حکیم عبدالشکور مرزا پوری کے حوالے سے حضرت محقق زید ابوالحسن فاروقی مجددی دہلوی علیہ الرحمہ، متوفی 1414ھ/ 1993ء (خانقاہ حضرت مرزا مظہر جان جاناں،دہلی) اپنی کتاب”مولانا اسماعیل اور تقویۃ الایمان“ میں لکھا ہے کہ صراط مستقیم، تنویر العین اور ایضاح الحق الصریح ، آپ کی تالیفات میں سے نہیں ہیں اور تقویۃ الایمان بھی محرف اور غیر معتبر ہے ۔ (مولانا اسماعیل اور تقویۃ الایمان ،مطبوعہ شاہ ابوالخیر اکاڈمی دھلی1984ئ، صفحہ نمبر47،چشتی)
مولوی سرفراز صفدر دیوبندی نے اپنی کتاب ”عباراتِ اکابر“ میں صراط مستقیم کی متنازعہ فیہ مشہور عبارت کو مولوی اسماعیل دہلوی کی ذاتی عبارت ماننے میں شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور اسی طرح بعض غیر مقلد بھی کررہے ہیں ، اگرچہ دلائل و شواہد کی روشنی میں یہ ایک ضعیف ترین قول ہے جو اکثر کے خلاف ہے اور بالکل شاذ قول ہے ، تاہم اس سے التزامِ کفر میں تو احتمال آگیا ، لہٰذا یہاں امام احمد رضا کے موقف کی تائید ان حضرات کی زبان سے ہی ہوگئی ہے ۔

(3) احتمال فی المتکلم

مولوی اسماعیل دہلوی کے بارے میں یہ احتمال دو طرح سے ممکن ہے ، اولاً احتمال ہے کہ اُسے اپنے کلمات کے کفریہ ہونے کا علم ہی نہ ہوا ہو ، اور اپنے خلاف لگائے گئے فتوائے کفر کا اُسے علم ہی نہ ہوا ہو ، ”تحقیق الفتویٰ“ اس کے سامنے پیش ہونا مجھے معلوم نہ ہوسکا ، مناظرہ دھلی میں مسائل زیرِ بحث لائے گئے تھے ، اُس کی کفریہ عبارات پر بحث نہیں ہوئی تھی ، لہٰذا یہ احتمال عقلاً ممکن ہے ، اور التزامِ کفر میں احتمال ہے ۔

ثانیاً ” افکار و سیاسیات علماء دیوبند“ صفحہ نمبر 38 پر مولانا محمد شریف نوری نے کتاب ”ہدایت الصالحین بر حاشیہ توقیر الحق“ مصنفہ نواب قطب الدین دہلوی ، صفحہ نمبر 87 کے حوالہ سے لکھا ہے کہ مناظرہ پشاور میں مولوی اسماعیل دہلوی کو ایسی عبرت ناک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا کہ توبہ کے سوا کوئی چارہ کار نظر نہ آیا تو مجبوراً اپنے عقائد سے توبہ کا اعلان کردیا ، چنانچہ مولوی رشید احمد گنگوہی کے زمانے میں اُن سے ایک سوال ہوا جس میں ذکر ہے کہ” ایک بات مشہور ہے کہ مولوی اسماعیل صاحب شہید نے اپنے انتقال کے وقت بہت سے آدمیوں کے روبرو بعض مسائل تقویۃ الایمان سے توبہ کی ہے “، مولوی گنگوہی صاحب نے جواب دیا کہ ” توبہ کرنا اُن کا بعض مسائل سے محض افتراء اہل بدعت کا ہے“۔ (فتاویٰ رشیدیہ، صفحہ 84، 85،چشتی)

ظاہر بات ہے کہ اہل بدعت کا لفظ یہ حضرات اہل سنت کے لئے استعمال کرتے ہیں ، تو اہل سنت میں یہ قول کہیں نہ کہیں مل جاتا تھا کہ اسماعیل دہلوی نے اپنے غلط مسائل سے توبہ کی تھی (یعنی توبہ کرنے کی بات مشہور تھی) ، یہاں اگرچہ کفریہ عبارات سے توبہ کی صراحت تو نہیں ہے مگر احتمال تو ہے اور وہی اُس کے التزامِ کفر میں احتمال ہے ۔

بعض شبہات کا ازالہ : ⏬

(1) مولانا فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ اور سترہ دیگر علماء علیہم الرّحمہ نے 1240ھ/ 1825ء میں تقویۃ الایمان کی ایک عبارت پر فتویٰ لگاتے ہوئے لکھا کہ : اس بیہودہ کلام کا قائل ازروئے شریعت کافر اور بے دین ہے اور ہرگز مسلمان نہیں ہے .... جو اس کے کفرمیں شک وتردد لائے .... کافر بے دین اور نا مسلمان ولعین ہے ۔ یہ فتویٰ مولانا احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف ہے کیونکہ اس میں لزوم والتزام کی تاویلات کا دروازہ بند کردیا گیا ہے ۔
جواباً عرض ہے کہ یہ فتویٰ مولانا احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ کے بالکل خلاف نہیں ہے ، بلکہ امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی فتویٰ ہے ، معترض کو یہ علم نہیں ہے کہ جس کا التزام کفر ثابت نہ ہو وہ حقیقتاً قائل قرار نہیں دیا جاتا اگرچہ بظاہر قائل وہی ہو ، اس کی مثالیں ہم پیش کرچکے ہیں ، اور التزامِ کفر سے بچنے کا دروازہ توبہ ہے جسے موت بند کرتی ہے، مفتی کا فتویٰ بند نہیں کرتا ۔

(2) 1240ھ میں مناظرہ دہلی میں اسماعیل دہلوی نے کفریہ عبارات سے توبہ نہیں کی ۔ جناب اس مناظرہ میں کفریہ عبارات کو زیر بحث ہی کب لایا گیا تھا ، وہاں تو چند دیگر اختلافی مسائل کو زیر بحث لایا گیا تھا ۔

(3) 1246ھ/ 1831ء میں مرتے وقت تک اسماعیل دہلوی نے گستاخانہ عبارات سے توبہ نہیں کی ، ورنہ بعد کے علماءاہل سنت مثلاً مولانا قاضی فضل احمد لدھیانوی وغیرہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر نہ کرتے ۔

جواباً عرض ہے کہ تحقیق الفتویٰ کے چھ سال بعد تک مولوی اسماعیل دہلوی زندہ رہا ، کیا ہمارے مہربانوں کو مولوی اسماعیل دہلوی کی اس عرصے کی وہ ڈائری مل گئی ہے جو کراماً کاتبین نے لکھی تھی اور اُس میں توبہ مذکور نہیں ہے ، کیونکہ نفی کے مدعی کو علم محیط درکار ہے ، اور واقعاتِ نادرہ میں اثباتِ واقعہ کا قول نفی پر مقدم ہوتا ہے ، ممکن ہے کہ مذکورہ علماءتک یہ قول نہ پہنچا ہو ، یہاں یہ احتمال بھی ہے کہ توبہ کا قول تو ان تک بھی پہنچا ہو مگر شرعی فقہی پیمانے پر پورا نہ اُترنے کی وجہ سے انہوں نے اس قول کو تسلیم نہ کیا ہو ، اور توبہ کا شبہ صرف احتیاط کی ترغیب دیتا ہے اور امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کسی کو احتیاط پر مجبور نہیں کرسکتے ۔

(4) اسماعیل دہلوی کے کفر کو یزید کے کفر سے تشبیہ دینا غلط ہے کیونکہ یزید کے ساتھ مناظرے نہیں ہوئے ۔
جواباً عرض ہے کہ تشبیہ کا من کل الوجوہ ہونا لازمی نہیں ، جس طرح یزید کو بعض مسلمان، بعض کافر کہتے ہیں، بعض توقف کرتے ہیں ، یہی حال اسماعیل دہلوی کا ہے ، من بعض الوجوہ تشبیہ یہاں ثابت ہے، اس سے انکار کرنا تاریخ سے آنکھیں چرانا ہے ۔ جبکہ فتاویٰ رشیدیہ میں گنگوہی صاحب نے اسماعیل کو یزید کے کفر سے تشبیہ دی ہے ۔

(5) لزوم والتزامِ کفر اور اسماعیل دہلوی کے سوال پر اہل سنت کا مناظر نہایت بے چارگی اور بے بسی محسوس کرتا ہے ۔
جواباً عرض ہے کہ اہل سنت کا مناظر یہاں قطعاً بے چارگی اور بے بسی محسوس نہیں کرتا ، وہ تو اس سوال کا منتظر بیٹھا ہوتا ہے ، جونہی سوال آتا ہے وہ پوری وضاحت کے ساتھ معترض کا منہ بند کر دیتا ہے ، راقم نے مناظرہ بریلی ، مناظرہ ادری ، مناظرہ جھنگ اور مناظرہ بنگال وغیرہ کی روئیداد پڑھی ہیں ، کئی مناظروں کی کیسٹس بھی سنی ہیں ، ہمیں تو اس مسئلے میں دیوبندی مناظر ہر جگہ دبکا ہوا نظر آیا ہے ، ان بے چاروں کو تو اس مسئلہ میں بات بھی کرنی نہیں آتی ، اور انہیں لزوم والتزامِ کفر کا فرق بھی معلوم نہیں ہوتا ، چنانچہ مناظرہ جھنگ میں دیوبندی مناظر حق نواز جھنگوی نے مولانا محمد اشرف سیالوی سے پوچھا تھا کہ ”باقی رہی ایک بات یہ کہ آپ نے فرمایا ہے کہ مولانا احمد رضا خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے لزوم والتزام کی وجہ سے کافر نہیں کہا ، آپ بتائیں کہ لزوم کے لفظ کون سے ہوتے ہیں اور التزام کے کون سے ہوتے ہیں ؟ “ ۔ (مناظرہ جھنگ، مطبوعہ مکتبہ فریدیہ، ساہیوال، صفحہ نمبر 107)
جو بے چارے اتنا بھی نہیں جانتے کہ لزوم والتزام میں لفظ ایک ہی ہوتے ہیں یا لفظوں میں فرق ہوتا ہے ، اُن مناظرین کا میدانِ مناظرہ میں ہونے والا حشر کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ، یہی وجہ ہے کہ دیوبندی مناظرین اپنے اکابر کی گستاخانہ عبارات پر مناظرہ سے ہر جگہ کنی کتراتے ہیں ، یقین نہ آئے تو چیلنج دے کر دیکھ لیجیے ۔

(6) مفتی خلیل خاں بجنوری (دیوبندی) نے اپنی کتاب”انکشافِ حق“ میں لزوم والتزام اور احتمال کے انہی لفظوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دیگر اکابرِ دیوبند کی کفریہ عبارات کی بنا پر انہیں کافر کہنے سے احتیاط اور کفِ لسان کا قول کیا ہے ۔
جواباً عرض ہے کہ مفتی مذکور کی کتاب ”انکشافِ حق“ میں نے پڑھی ہے ، جن اکابر ِ دیوبند کو وہ بچانا چاہتا ہے ، نہ اُن کی عبارات میں اسلامی احتمال دکھا کر انہیں لزوم کفر سے بچا سکا ہے اور نہ ہی اُن افراد کے التزامِ کفر کی نفی پر کوئی دلیل یا احتمال دکھا سکا ہے ، کتاب کو قواعد یا نظائر سے ضخیم بنانے کی کوشش کی گئی ہے ، مگر ہر جگہ قیاس مع الفارق سے کام لیا گیا ہے ، فی الحال اتنا اجمال کافی ہے ۔

(7) جب اسماعیل دہلوی کو مولانا احمد رضا خاں نے مسلمان کہا ہے تو اُس کی عبارات دیوبندیوں اور اہل حدیثوں کے خلاف کیوں پیش کرتے ہو ؟
جواباً عرض ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ کا موقف ، توقف کرنا ہے وہ نہ اُسے مسلمان کہتے ہیں اور نہ ہی احتیاطاً اسے کافر کہتے ہیں ، البتہ اس کی گستاخانہ عبارات کو دیوبندی وہابی اور غیر مقلد وہابی درست اور حق مانتے ہیں ، اس لئے اُس کی کفریہ عبارات کو درست اور اسلامی مان کر یہ التزامِ کفر کے مرتکب قرار پاتے ہیں ، چنانچہ دیوبندیوں کے قطب العالم جناب رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں : کتاب تقویۃ الایمان نہایت عمدہ کتاب ہے اور ردّ شرک وبدعت میں لاجواب ہے ، استدلال اس کے بالکل کتاب اور احادیث سے ہیں ، اُس کا رکھنا اور پڑھنا اور عمل کرنا عین اسلام ہے ۔ (فتاویٰ رشیدیہ، صفحہ 78) ، بندہ کے نزدیک سب مسائل اس کے صحیح ہیں ، (فتاویٰ رشیدیہ صفحہ 85)

لہٰذا مولوی رشید احمد گنگوہی اور ان کے پیرو کار تو تقویۃ الایمان کے کفریات کا التزام کر چکے ہیں ، رہ گئے غیر مقلد وہابی تو وہ تو تقویۃ الایمان اور اس کے مصنف پر فدا ہیں ، یقین نہ آئے تو مولوی ثناء ﷲ امرتسری کے یہ الفاظ ملاحظہ فرمالیجیے : تقویۃ الایمان اور اس کا مصنف عالی شان اسماعیل و ما ادرک ما اسماعیل ، آج کل بعض اخباروں میں مجاہد فی ﷲ شہید فی سبیل ﷲ مولانا اسماعیل رضی ﷲ عنہ کی تقویۃ الایمان پر ذکر اذکار ہورہا ہے .... مختصر یہ کہ شہید مرحوم نے جو کچھ لکھا ہے قرآن حدیث اور اقوال صوفیاء کے بالکل مطابق ہے ۔ (فتاویٰ ثنائیہ جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 101)

اندریں حالات مولوی اسماعیل دہلوی کا التزام کفر محتمل وظنی بھی ہوجائے تو بھی مذکورہ دیوبندی اور غیر مقلد حضرات کو تقویۃ الایمانی کفریات کا التزامِ کفر قطعی غیر محتمل اور صریح قرار پاتاہے ۔

شہرتِ کاذِبہ کے سبب سکوت کرناآج کا خود ساختہ موقف نہیں بلکہ اکابرین علمائے اہل سنت سے ثابت ہے۔ اسماعیل دہلوی کے متعلق ہمارے اکابرین نے سکوت کی ایک وجہ یہ بھی لکھی ہے۔ چند حوالہ جات پیش خدمت ہیں:

حضور قبلہ حافظ ِملت عبدالعزیز محدث مراد آبادی علیہ الرحمہ اپنی کتاب ”العذاب الشدید“ میں لکھتے ہیں:

”مولوی اسماعیل دہلوی کی تکفیر سے سکوت کی ایک وجہ تو اوپر گزری، دوسری وجہ یہ ہے کہ مولوی اسماعیل صاحب کے اقوالِ کفریہ خبیثہ سے ان کی توبہ مشہور ہے۔چنانچہ فتاویٰ رشیدیہ ُمبوَّب حصہ اول ص 121پر مولوی رشید احمد گنگوہی کا مستفتی لکھتا ہے:” ایک بات یہ مشہور ہے کہ مولوی اسماعیل صاحب شہید نے اپنے انتقال کے وقت بہت سے آدمیوں کے روبرو بعض مسائلِ تقویۃ الایمان سے توبہ کی ہے۔”

گنگوہی صاحب نے اس شہرتِ توبہ کا انکار نہیں کیا ،بلکہ شہرتِ توبہ کو شہرتِ کا ذِبہ ٹھہرایا،چنانچہ صفحہ123 پر لکھتے ہیں:”توبہ کرنا انکا بعض مسائل سے محض افتراء اہلِ بدعت کا ہے۔”

جب گنگوہی صاحب خود مانتے ہیں کہ بدعتیوں نے مولوی اسماعیل پر افتراء کرکے یہ شہرت دے دی ہے کہ انہوں نے اپنے کفریات سے توبہ کرلی تھی، توشہرت حاصل ہو گئی، اب اس شہرت توبہ کی موجودگی میں احتیاط یہی ہے کہ مولوی اسماعیل دہلوی کی تکفیر سے احتیاطاً کفِ لسان کیا جائے مگر ان کے اقوالِ کفریہ خبیثہ ملعونہ کو کفر و ضلال ہی کہا جائے گا، اعلیٰ حضرت و علمائے اہل سنت نے یہی کیا کہ ان اقوالِ کفریہ کو کفر و ضلال کہا اور شہرتِ توبہ کے شبہ کی بنا پر مولوی اسماعیل دہلوی کی تکفیر سے کفِ لسان فرمایا، یہ دوسری وجہ بھی تکفیر سے سکوت کے لیے کافی اور نہایت معقول ہے۔اس کو جاہلانہ تاویل بتانا دیوبندی رہبر کی سخت جہالت اور نری عداوت ہے۔“(العذاب الشدید المعروف الدیوبندیت ،ص240،مکتبہ فکر رضا،کھیوڑہ)

خلیفہ اعلیٰ حضرت صدر الافاضل نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمۃ اللہ الہادی اپنی کتاب ” اَطیبُ البیان “ میں تحریر فرماتے ہیں:

”تقویۃ الایمان کے کثیر کفریات مذکور ہوچکے ، حضراتِ انبیاء اور سید المرسلین علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام کی توہین و تنقیض کے کلمات اور بے ادبانہ بدگوئیوں اور گستاخیوں سے کتاب بھری ہوئی ہے، ایسے کلمات بے شک کفر ہیں۔ شفاء شریف جلد2 صفحہ 237 میں ہے:”اَن جمیع من سبّ النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم او عابہ او الحق بہ نقصافی نفسہ او دینہ او خصلۃ من خصالہ او عرض بہ اوشبہہ بشئی علی طریق السب لہ اوالاذراء علیہ اوالتصغیر لشانہ اوالنقص والعیب لہ فہو ساب لہ والحکم فیہ حکم السابّ”

لیکن چونکہ اسماعیل دہلوی کی نسبت یہ مشہور تھا کہ اس نے اپنے ان تمام اقوال سے توبہ کرلی تھی اس لیے علمائے محتاطین نے اس کوکافرکہنے سے احتیاطاًزبان روکی اوراقوال کوکفروضلال بتایا۔اس کا تو اللہ کو علم ہے کہ اس نے واقع میں توبہ کی تھی یا نہیں اگرچہ آجکل کے وہابیہ جو اس کے کفریات کی حمایت و ترویج کرتے ہیں وہ توبہ کے منکر ہیں۔۔۔لیکن جن علماء نے سنا کہ اس کی نسبت توبہ کی شہرت ہے انہوں نے احتیاط کی اور مفتی کو ایسا ہی چاہیے ۔“(اطیب البیان فی رد تقویۃ الایمان، صفحہ 339،340، جماعت رضائے مصطفے،نارووال)

شیر بیشۂ اہلسنت خلیفہ اعلیٰ حضرت مفتی حشمت علی خان لکھنوی علیہ الرحمۃ پردورانِ مناظرہ منظور سنبھلی نے یہ اعتراض کیا کہ:”مولوی صاحب نے تقویۃ الایمان کی عبارت پڑھ کر حضرت مولانا اسماعیل شہید کا کفر ثابت کیا ہے مگر آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے اعلیٰ حضرت تو ان کو مسلمان کہتے ہیں اب وہی منطق چلائیے اگر آپ سچے ہیں تو اعلیٰ حضرت کافر کو مسلمان کہہ کر کافر ہو گئے اور اگر اعلیٰ حضرت سچے ہیں تو آپ مسلمان کو کافر کہہ کر کافر ہوگئے۔”

اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مفتی حشمت علی خان لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

”یہ بھی بالکل جھوٹ ہے کہ حضور اعلیٰ حضرت قبلہ رضی اللہ عنہ نے اسماعیل کو مسلمان کہا ہے ہر گز نہیں بلکہ اس کو کافر کہنے سے زبان روکی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اسماعیل دہلوی کی توبہ مشہور ہے ، اگرچہ وہ شہرت فی نفسہا غلط ہو مگر اُس شہرت کاذِبہ سے بھی شبہ پیدا ہوگیا۔ اور تکفیر کے لیے ” قطع و یقین” درکار ہے۔ احتیاط کی وجہ سے بھی تکفیر سےکف لسان کرنے والا اگر آپ کے نزدیک کافر ہے تو یہ دیکھیے آپ کے پیشوا رشید احمد گنگوہی اپنے فتاوے رشیدیہ حصہ اول مطبوعہ ہندوستان پرنٹنگ ورکس وہلی کے صفحہ نمبر 38 پر لکھتے ہیں: بعض آئمہ نے جو یزید کی نسبت کفر سے کف لسان کیا ہے وہ احتیاط ہے۔ اب گنگوہی صاحب پر لگائیے کفر کا فتوی کے یزید کی تکفیر سے بوجہ احتیاط کف لسان کرتے ہیں۔“ (روئیداد مناظرہ ادری ص 198)

یہی احتمال حضور قبلہ سیدی محدث اعظم پاکستان مفتی سردار احمد صاحب علیہ الرحمہ نے بھی مناظرہ بریلی کے اندر بیان فرمایا ہے چنانچہ لکھتے ہیں:

”اعلی حضرت نے آپ کے اسماعیل دہلوی کے ستر کفریات ”الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات ابی الوہابیہ“ میں بیان کیے ،مگر مولوی اسماعیل دہلوی کی توبہ مشہور ہونے کی بنا پر کافر کہنے سے احتیاط برتی۔بے شک اعلی حضرت قبلہ نہایت احتیاط برتنے والے تھے اور متبع شریعت و عالم دین کی یہی شان ہونی چاہیے۔۔۔۔جس شخص سے کفریات صادر ہوں اور اس کی توبہ کی شہرت ہو اس کو کافر کہنے سے زبان روکنا احتیاط ہے۔“ (روئیدادمناظرہ بریلی ص،صفحہ287،288، مکتبہ سعیدیہ جامعہ قادریہ رضویہ)

باقی جو سوال میں مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت” اور اگر نری افواہ بے سروپا یا کن فیکون کے بعد ا سکے بعض ہوا خواہوں کا مکابرانا اِدِّعاہوتواس پر التفات نہ ہوگا۔فاحفظ)”پیش کی گئی ہے ۔ اس سے شہرت کاذبہ کے سبب کافر کہنے میں سکوت کی نفی نہیں ہورہی ہے بلکہ یہ صورت وہ ہے کہ جب اس کفربولنے والی کی توبہ کی شہرت نہ ہو بلکہ ایک دو افراد اس کی افواہ پھیلارہے ہوں۔جیساکہ آپکی عبارت ”ا سکے بعض ہوا خواہوں کا مکابرانا اِدِّعاہو“سے واضح ہے ۔

فتاوی مفتی اعظم میں مولانا مفتی حافظ عبدالحق رضوی مصباحی رحمۃ اللہ علیہ مفتی اعطم ہند کے فرمان کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”شبہ فی المتکلم: یہ ہے کہ کفری کلام بولنے والے نے توبہ کرلی ہے،مگر توبہ کا ثبوت شرعی نہ ہو۔ اگر یہ ثبوت قطعی ثابت ہو جائے تب ا س کی تکفیر ہرگز نہ ہوگی اور اگر ایسا ثبوت ہو جو متردد کردے جب بھی قائل کے بارے میں کف لسان واجب ہوگا۔اگرچہ قول کفر صریح ناقابل تاویل ہو۔ اور اگر محض افواہ ہوکہ اس کے بعض ہوا خواہوں نے اڑادی ہے تو اس پر التفات نہ ہوگا۔۔۔۔اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ والرضوان نے اسماعیل دہلوی کی صرف تکفیر لزومی فقہی فرمائی اور تکفیر التزامی کلامی سے کیوں احتراز اور کف لسان فرمایا۔ اس کی رقم الحروف کے نزدیک علمائے اہل سنت کی کتابوں سے مطالعہ سے صرف دو وجہ سمجھ آتی ہے،جس کو ہدیہ ناظرین کررہاہوں۔

پہلی وجہ: اسماعیل دہلوی کی عبارتیں معانی کفریہ میں تحذیر الناس ،براہین قاطعہ اور حفظ الایمان کی طرح متعین نہیں ہیں۔ اگرچہ معانی کفریہ میں متبین اور لزوم کفر میں ظاہر ہیں۔ اور تاویل بعید میں ممکن ہے۔

دوسری وجہ: اسماعیل دہلوی کی توبہ کی شہرت ہے۔ اگرچہ یہ شہرت ثبوت شرعی کو نہیں پہنچی لیکن پھر بھی شبہ فی المتکلم کی وجہ سے اجتناب کیا اور کف لسان ہی کو اپنا مسلک و مختار ٹھہرایا۔ لیکن اسکا یہ بھی مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس کو مسلمان بتایا،بلکہ مثل یزید اس کے کفر و اسلام سے سکوت ہی کو احوط قرار دیا۔“(فتاوی مفتی اعطم،جلد7،صفحہ23۔۔۔،شبیر برادرز،لاہور)

مفتی عبدالحق رضوی صاحب کی تشریح سے مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کا کلام بالکل واضح ہوگیا کہ آپ توبہ کی شہرت جو صادقہ نہیں بلکہ کاذبہ ہے یعنی ثابت نہیں ہے اس کو تیسرے درجے میں لارہے ہیں اور اس پر سکوت فرمارہے ہیں۔

اشکال: توبہ کی شہرت کاذبہ سے سکوت ثابت نہیں ہوتا بلکہ یہ کالعدم ہے۔ پرانے وہابیوں کے اعتقاد کے مطابق دہلوی کی توبہ کی شہرتِ شہرت صادقہ ہے۔اور وہابیوں دیوبندیوں کا اعتراض تھا کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز تنقیص نبوی کے باوجود دہلوی کو کافر نہیں مانتے ہیں۔پس پرانے وہابیہ کے اعتقاد کے مطابق دہلوی کی شہرت توبہ کو شہرت صادقہ فرض کر کے علمائے اہل سنت نے الزامی جواب دیا گیا کہ جب تمہارے بقول دہلوی نے توبہ کر لی تھی تو اس شہرت توبہ کے سبب اس کی تکفیر نہیں کی گئی۔لیکن الزامی جواب پرانے وہابیہ کے قول کے مطابق دیا گیا ہے۔ الزامی جواب خصم کے مسلمات کے مطابق دیا جاتا ہے۔دہلوی کی شہرت توبہ کے ذریعہ سب سے پہلے الزامی جواب حضور صدر الافاضل قدس سرہ العزیز نے اطیب البیان میں دیا ہے۔انہوں نے رقم فرمایا ہے کہ پرانے وہابی کہتے تھے کہ دہلوی نے تمام کفریات سے توبہ کر لیا تھا اور بعد کے وہابیہ اس توبہ کا انکار کرتے ہیں ۔

جواب:پہلی بات تو یہ ہے کہ وہابیوں کے پرانے علماء سے بھی توبہ کی شہرت صادقہ ثابت نہیں۔تفصیل اس میں یہ ہے کہ صدرالافاضل کے ارشاد سے یہ ثابت ہی نہیں ہورہا کہ انہوں نے پرانے وہابی مولویوں سے توبہ کی شہرت صادقہ کا لکھا ہے ہو۔ ان کا فرمان ملاحظہ ہو:

”اس کا تو اللہ کو علم ہے کہ اس نے واقع میں توبہ کی تھی یا نہیں اگرچہ آجکل کے وہابیہ جو اس کے کفریات کی حمایت و ترویج کرتے ہیں وہ توبہ کے منکر ہیں۔“

اس میں صدرالافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ واضح فرمارہے کہ یہ پتہ نہیں اس نے توبہ کی ہے یا نہیں اگرچہ موجودہ وہابی اسکے منکر ہیں۔ یعنی یہ تو آپ نے فرمایا ہی نہیں کہ پرانے وہابیوں سے شہرت صادقہ ثابت ہے بلکہ آپ نے لاعلمی ہی کا اظہار کیا ہے کہ توبہ مشہور ہے اللہ بہتر جانتا ہے کی ہے یا نہیں کی۔

نیز حضور قبلہ حافظ ِملت عبدالعزیز محدث مراد آبادی علیہ الرحمہ اپنی کتاب ”العذاب الشدید“ میں فرمارہے ہیں:

”جب گنگوہی صاحب خود مانتے ہیں کہ بدعتیوں نے مولوی اسماعیل پر افتراء کرکے یہ شہرت دے دی ہے کہ انہوں نے اپنے کفریات سے توبہ کرلی تھی، توشہرت حاصل ہو گئی، اب اس شہرت توبہ کی موجودگی میں احتیاط یہی ہے کہ مولوی اسماعیل دہلوی کی تکفیر سے احتیاطاً کفِ لسان کیا جائے ۔“(العذاب الشدید المعروف الدیوبندیت ،ص240،مکتبہ فکر رضا،کھیوڑہ)

یہاں بالکل واضح طور پر قبلہ حافظ ملت رحمۃ اللہ علیہ وہابیوں کی توبہ صادقہ کا نہیں بلکہ شہرت کاذبہ کا ہی ذکرکرکے اس پر سکوت فرمارہے ہیں۔

نیز شہرت صادقہ یہ نہیں ہوتی کہ وہابی کہہ رہے ہیں تو اس کو شہرت صادقہ کہہ دیا جائے ۔شہرت صادقہ یہ ہے کہ یقینی طور پر کئی عادل لوگوں کی نسبت مشہورہوکہ ان کے سامنے توبہ کی ہے اوران حضرات سے اس کی تائید ثابت ہو۔ ورنہ جن کی نسبت یہ مشہور ہے وہ فاسق ، بدمذہب یا کافرہوں اگرچہ کثیر ہوں اس کا اعتبار نہیں ہوتا۔فتاوی تتارخانیہ میں ہے

”ذمی مات فشہد عشرۃ من النصاریٰ انہ اسلم لایصلی علیہ بشھادتہم وکذا لو شہد فساق من المسلمین “

ترجمہ:ذمی مر ا اور دس عیسائیوں نے گواہی دی کے یہ مسلمان ہوگیا تھا تو ان عیسائیوں کی گواہی پر اس مرنے والے کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی ،اسی طرح مسلمانوں میں سے فساق کی گواہی پر بھی نہیں پڑھی جائے گی۔ (الفتاوٰی التتارخانیۃ،کتاب الشہادۃ،الفصل شہادۃ اہل الکفر،جلد12،صفحہ40،مکتبہ فاروقیہ،کوئٹہ)

المحیط البرہانی میں ہے

”رجل من أہل الذمۃ مات فشہد مسلم عدل أو مسلمۃ أنہ أسلم قبل موتہ وأنکر أولیاؤہ من أہل الذمۃ ذلک، فمیراثہ لأولیائہ من أہل الذمۃ بحالہ وإنہ ظاہر، قال: وینبغی للمسلمین أن یغسلوہ ویکفنوہ ویصلون علیہ۔۔۔وشہادۃ الفساق من المسلمین علی إسلامہ لا تقبل ولا یصلی علیہ بشہادتہم“

یعنی ذمی میں سے کوئی شخص مرگیا اور مسلمان عادل مردیا عادلہ مسلمان عورت نے گواہی دی کہ اس نے موت سے قبل اسلام قبول کرلیا تھا اور مرنے والے کے ذمی اولیاء نے اسلام قبول کرنے کا انکار کیا تووراثت اولیاء کے لئے ہوگااورمسلمانوں کے لئے واجب ہے کہ اسے غسل دیں اور کفن پہنا کر اس پر نماز پڑھیں۔ مسلمانوں میں فساق کی شہادت کافر کے اسلام پر قبول نہیں ہوگی اور اس شہادت کی وجہ سے کافر پر نماز نہیں پڑھی جائے گی۔(المحیط البرہانی ،کتاب الشہادات،الفصل الحادی عشر فی شہادۃ أہل الکفر والشہادۃ علیہم،جلد8،صفحہ412،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

نیز وہابیوں کوچپ کروانے کے لیے توبہ کی شہرت کا تو تب کہا جاتا کہ وہ مناظروں میں اس کا اقرار کررہے ہوتے کہ اسماعیل دہلوی نے توبہ کی ہے ۔وہ تو اس کا انکارکرتے ہیں اور اعتراض یہ کرتے ہیں کہ جب فضل حق خیر آبادی نے تکفیر کی ہے تو اعلی حضرت امام احمد رضانے کیوں سکوت کیا ہے؟اس کا جواب علماء نے یہ دیا ہے کہ کسی وجہ سے سکوت کرنے پر مفتی پر ہی کفر کا حکم نہیں آتا تمہارے مولویوں نے بھی سکوت کیا ہے جیسا کہ مفتی حشمت علی خان لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

” احتیاط کی وجہ سے بھی تکفیر سےکف لسان کرنے والا اگر آپ کے نزدیک کافر ہے تو یہ دیکھیے آپ کے پیشوا رشید احمد گنگوہی اپنے فتاوے رشیدیہ حصہ اول مطبوعہ ہندوستان پرنٹنگ ورکس وہلی کے صفحہ نمبر 38 پر لکھتے ہیں: بعض آئمہ نے جو یزید کی نسبت کفر سے کف لسان کیا ہے وہ احتیاط ہے۔ اب گنگوہی صاحب پر لگائیے کفر کا فتوی کے یزید کی تکفیر سے بوجہ احتیاط کف لسان کرتے ہیں۔“ (روئیداد مناظرہ ادری ص 198)

دوسری بات یہ ہے کہ علمائے اہل سنت نے فقط مناظروں میں ہی مخالف کو چپ کروانے کے لیے یہ الزامی جواب نہیں دیا بلکہ اس کے علاوہ بھی اپنی کتب و فتاوی میں یہ علت بیان کی ہے کہ اس کی توبہ مشہور ہوچکی تھی چنانچہ فقیہ ملت میں ہے:

”چونکہ علامہ فضل حق خیر آباد ی علیہ الرحمۃ والرضوان کا وصال 1278ھ میں ہوا اور اس وقت تک اسماعیل دہلوی کی توبہ مشہور نہیں ہوئی تھی،جس کی بنا پر آپ نے اس کی تکفیر فرمائی برخلاف اس کے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ربہ القوی کی ولاد ت 1272ھ میں ہوئی اور آپ کا وصال 1340ھ میں ہو ا اس وقت تک اسماعیل دہلوی کی توبہ مشہور ہوچکی تھی اس لیے آپ نے احتیاطا اس کی تکفیر سے کف لسان فرمایا۔“ (فتاوی فقیہ ملت،جلد1،صفحہ40،شبیر برادرز،لاہور )

فتاوی بریلی میں ہے:

” اسماعیل دہلوی کی گمراہی و بددینی تقویۃ الایمان سے واضح ہے بہت سے کفریات اس میں مذکور ہیں توہین انبیاء کرام و اولیاء عظام کا وہ مرتکب ہے مگر ان کی توبہ کی بھی خبر ہے لہذا ان کو کافر کہنے سے توقف کیا گیا ہے۔“ (فتاوی بریلی ،صفحہ 307،شبیر برادرز،لاہور)

فتاوی شارح بخاری میں مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”مجدد اعظم اعلی حضرت قدس سرہ کا اسماعیل دہلوی کے بارے میں جو ارشاد ہے اس میں اس کا بھی احتمال ہے کہ دہلوی کی توبہ مشہور ہونے کی وجہ سے کف لسان فرمایا اور یہ صحیح ہے کہ اعلی حضرت قدس سرہ کے عہد مبارک میں اسماعیل دہلوی کی توبہ مشہور ہوئی تھی جس کا ثبوت فتاوی رشیدیہ ص: 84/85 کا سوال و جواب ہے۔ اگرچہ گنگوہی صاحب نے اسے یہ کہہ کر اڑا دیا بدعتیوں کا ہے مگر سوال سے ظاہر ہے کہ اسماعیل کی توبہ مشہور تھی مقام احتیاط میں کافر کہنے سے کف میں عوامی شہرت کافی ہے۔واللہ تعالی اعلم۔“ (فتاوری شارح بخاری،جلد3،صفحہ319،برکات المدینہ ،کراچی) ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

آیت اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى سے مُردوں کے نہ سننے پر اِستدلال کرنے والوں کو جواب

آیت اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى سے مُردوں کے نہ سننے پر اِستدلال کرنے والوں کو جواب محترم قارٸینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : اِنَّكَ...