کیا خطاءِ اجتہادی گناہ و گستاخی ہے ؟ خطاءِ اجتہادی کو گناہ و گستاخی بنانے والوں کے نام
محترم قارئینِ کرام : شرعی حکم کو پہچاننے کےلیے اپنی پوری طاقت صرف کرنا ، اجتہادکہلاتا ہے ۔ اور اپنی پوری طاقت صرف کرنے کے باوجوداصل شرعی حکم تک پہنچنے میں مجتہدسے خطا ہو جائے تویہ خطا ، خطائے اجتہادی کہلاتی ہے ۔ لیکن یہ یاد رہے کہ مجتہد سے پوری طاقت صرف کرنے کے بعد خطا ہو جائے تواس کوشش پربھی اس کو ایک اجر ملتا ہے اور اگر وہ درست حکم تک پہنچ جائے تو اسے دو اجر ملتے ہیں ، ایک کوشش کرنے کا اور دوسرا درست حکم تک پہنچنے کا ۔
اجتہاد کے لغوی معنیٰ ہیں کسی کام کی انجام دہی میں تکلیف و مشقت اٹھاتے ہوئے اپنی پوری کوشش صرف کرنا ۔ (القاموس الفقهی صفحہ 71)
علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ اجتہاد کی لغوی تعریف کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں : الاجتهاد وهو في اللغة تحمل الجهد اي المشقة ۔
ترجمہ : اجتہاد کا لغوی معنی کوشش کرنا یعنی مشقت اٹھانا ہے ۔ (شرح التلویح علی التوضیح جلد 2 صفحہ 234 مكتبة صبيح بمصر)
علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ شرح صحیح البخاری میں اجتہاد کی اصطلاحی تعریف تحریر فرماتے ہیں کہ : اصطلاحا بذل الوسع للتوصل الى معرفة الحكم الشرعي ۔
ترجمہ : اصطلاح میں اجتہاد حکم شرعی کی معرفت کے حصول کےلیے طاقت کو استعمال کرنے کا نام ہے ۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری جلد 13 صفحہ 299 دار المعرفۃ بیروت)
تو گویا اجتہاد اس کوشش کو کہتے ہیں جو کسی کام کی تکمیل میں مشقت برداشت کرتے ہوئے کی جائے اگر بغیر دقت اور تکلیف کے کوشش ہو گی تو اسے اجتہاد نہیں کہیں گے مثلاً عرب یوں تو کہتے ہیں : فلاں نے بھاری پتھر اٹھانے کی کوشش کی لیکن یہ نہیں کہتے کہ ’’اجتہد فلان فی حمل خردلۃ‘‘ فلاں نے رائی کا دانہ اٹھانے کی کوشش کی ۔
اصطلاحِ شریعت میں قرآن و سنت اور اجماع کی روشنی میں مقررہ شرائط کے مطابق بطریقِ استنباط و استخراج ، شرعی احکام اور قوانین کی تشکیل ، تجدید ، تفصیل ، توسیع اور تنفیذ کےلیے ماہرانہ علمی کاوش کا نام اجتہاد ہے ۔
نور الانوار میں ہے : أنه اتي بما كلف به في ترتيب المقدمات و بذل جهده فيها فكان مصيبا فيه وان أخطأ في آخر الأمر وعاقبة الحال فكان معذورا بل ماجورا لأن المخطى له أجر و المصيب له اجران ۔
ترجمہ : خطا کرنے والے مجتہد نے بھی ، جس کا وہ مکلف تھا ترتیب مقدمات میں اس نے کیا اور اپنی ساری کوشش صرف کی اور اس میں حق بجانب رہا ، اب اگر آخری مرحلے و نتیجہ ظاہر کرنے میں اس سے خطا ہوئی تو وہ معذور بلکہ ماجور ہوگا کیونکہ مجتہد مخطی کو ایک ثواب اور مصیب (درستی کو پہنچنے والے) کو دو ثواب ملتے ہیں ۔ (نور الانوار مبحث الاجتھاد صفحہ 431 مطبوعہ دارالفروق الاردن)
اسلامی قانون سازی کے عمل میں اجتہاد کی کیا اہمیت : ⏬
اسلامی قانون سازی کے عمل میں اجتہاد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجتہاد کرنے کا حکم فرمایا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے فرمایا : أقْضِ بالکتابِ والسُنَّةِ، إذا وجدتَهما ، فَإِذَا لم تجد الحکم فيهما ، اجتهد رأيکَ ۔
ترجمہ : جب تم قرآن و سنت میں کوئی حکم پاؤ تو اس کے مطابق فیصلہ کرو ، لیکن اگر تم ان میں حکم نہ پا سکو تو اپنی رائے سے اجتہاد کرو ۔ ( آمدی الاحکام جلد 4 صفحہ 43)
اسی طرح جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا گیا تو ان سے پوچھا : اے معاذ ! تم مسائل و مقدمات میں کس طرح فیصلہ کرو گے ؟ انہوں نے عرض کیا : میں اللہ عزوجل کی کتاب سے فیصلہ کروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : اگر تم اللہ کی کتاب میں نہ پا سکے تو ؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں سنت رسول سے فیصلہ کروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تم کتاب و سنت دونوں میں حل نہ پاؤ تو ؟ انہوں نے عرض کیا : أجْتَهِدُ بِرَأيِی وَلَا آلُوْ الخ ۔
ترجمہ : میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور حقیقت تک پہنچنے میں کوئی کوتاہی نہیں کروں گا ۔
یہ جواب سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا سینہ تھپکا اور فرمایا : اَلْحَمْدُِﷲِ الَّذِی وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللہ لِمَا يُرْضِی رَسُوْلَ اللہ ۔
ترجمہ : اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ کے بھیجے ہوئے نمائندہ کو اس بات کی توفیق بخشی جو اللہ کے رسول کو خوش کرے ۔ (سنن ابوداؤد کتاب الأقضية باب اجتهاد الراي فی القضاء جلد 3 صفحہ 295 رقم : 3592)
یہ احادیثِ مبارکہ واضح کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسائل و معاملات میں اجتہاد پسند فرمایا اور اس کا حکم دیا ۔ اسی لیے اجتہاد فقہ اسلامی کا ناگزیر حصہ شمار ہوتا ہے اور ائمہ و فقہاء نے نئے پیش آنے والے مسائل اور ضروریات دین کو اجتہاد ہی کے ذریعے پورا کیا ۔
اسلام ہر شخص کو اجتہاد کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ اگر ہر شخص کو اجتہاد کی اجازت مل جائے اور وہ اپنے مزاج و منشاء کے مطابق شرعی احکام کے بارے میں فتویٰ صادر کرنے لگے تو شریعت بچوں کا کھیل بن کر رہ جائے گی ۔ اس لیے ائمہ و فقہاء نے اجتہاد کی شرائط مقرر کی ہیں اور مجتہد کےلیے مخصوص صلاحیتوں کا حامل ہونا ضروری قرار دیا ہے ۔ امام شاطبی نے مجتہد کی بڑی جامع اور مختصر تعریف بیان کی ہے ۔ اجتہاد اسلامی فقہ کی ایک اصطلاح کا نام ہے ۔ جس کا مطلب انسان میں ایسی صلاحیت کا ہونا ہے جس کے ذریعے وہ اسلامی احکام کو اس کے مآخذ سے اخذ کر سکے ۔ اس قابلیت کو اجتہاد کہا جاتا ہے اور جس شخص کے اندر یہ صلاحیت ہو اسے مجتہد یا فقیہ کہا جاتا ہے ۔ اجتہاد کے بعد اگر مجتہد درستی تک پہنچ گیا تو اس کےلیے دو اجر ہیں : ایک اجتہاد کا اور دوسرا درستی کا اور اگر غلطی ہو گئی تو پھر بھی ایک اجتہاد کرنے پر ایک اجر ہے ۔ غلطی پر کوئی پکڑ نہیں ۔ اجتہاد کا درجہ اس شخص کو حاصل ہوتا ہے جو ان دو اوصاف کا حامل ہو ، پہلا یہ کہ وہ شریعت کے مقاصد کو مکمل طور پر سمجھتا ہو ، دوسرا یہ کہ وہ ماخذ شریعت سے احکام استنباط کرنے کی مکمل استطاعت رکھتا ہو ۔ نیز ایک مجتہد کےلیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ معاشرے کے رسوم و رواج کو بھی حالات زمانہ اور ضروریات معاشرہ وغیرہ کو بھی جانتا ہو ۔ اجتہاد اسلامی فقہ کی ایک اصطلاح کا نام ہے ۔ جس کا مطلب انسان میں ایسی صلاحیت کا ہونا ہے جس کے ذریعے وہ اسلامی احکام کو اس کے مآخذ سے اخذ کر سکے ۔ اس قابلیت کو اجتہاد کہا جاتا ہے اور جس شخص کے اندر یہ صلاحیت ہو اسے مجتہد یا فقیہ کہا جاتا ہے ۔ اجتہاد کے بعد اگر مجتہد درستی تک پہنچ گیا تو اس کےلیے دو اجر ہیں ۔ ایک اجتہاد کا اور دوسرا درستی کا اور اگر غلطی ہو گئی تو پھر بھی ایک اجتہاد کرنے پر ایک اجر ہے ۔ غلطی پر کوئی پکڑ نہیں ۔ ہر مجتہد پر غلطی ظاہر ہونے سے پہلے اپنے اجتہاد پر عمل کرنے کا حکم ہے ۔ اجتہادی غلطی عیب نہیں ہے ، بلکہ بشری تقاضوں میں سے ہے ۔
مذکورہ تعریف کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مجتہد کےلیے ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی نصوص کا عالم ہو ، ان مسائل سے واقف ہو جن پر اجماع ہو چکا ہے ، عربی لغت کا ماہر ہو ، صرف و نحو اور بیان و معانی پر قدرت رکھتا ہو اور آیات و احادیث کے ناسخ و منسوخ سے آگاہ ہو لہٰذا جب ان تمام شرائط کو پورا کرتے ہوئے اجتہاد کیا جائے گا تو بارگاہِ الٰہی سے تائید و نصرت اور اجر ملے گا ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجتہاد کرنے والے کے متعلق فرمایا : إِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ اَصَابَ ، فَلَه أَجْرَانِ ، وَإِذَا حَکَمَ فَاجْتَهَدُ ثُمَّ أَخْطَاءَ فَلَهُ أَجْرٌ ۔
ترجمہ : جب کوئی فیصلہ کرنے والا فیصلہ دینے میں صحیح اجتہاد کرے تو اس کےلیے دو اجر ہیں ، اور اگر اس نے اجتہاد میں غلطی کی تو اس کےلیے ایک اجر ہے ۔ (صحیح بخاری كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ بَابُ أَجْرِ الحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ حدیث 7352،چشتی)(صحيح مسلم کتاب الأقضية باب بيان اجر الحاکم إذا اجتهد فأصاب أو أخطا صفحہ 713 حدیث نمبر 1716)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ الْمَكِّيُّ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَالَ هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ۔ (صحیح بخاری كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ بَابُ أَجْرِ الحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ حدیث 7352)
ترجمہ : کتاب اللہ اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ، باب حاکم کا ثواب ، جب کہ وہ اجتہاد کرے اور صحت پر ہو یا غلطی کر جائے ۔ ہم سے عبد اللہ بن یزید مقری مکی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا ، انہوں نے مجھ سے یزید بن عبد اللہ بن الہاد نے بیان کیا ، ان سے محمد بن ابراہیم بن الحارث نے ، ان سے بسر بن سعید نے ، ان سے عمر بن العاص کے مولیٰ ابو قیس نے ، ان سے عمر بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا ، آپ نے فرمایا کہ جب حاکم کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہوتو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور جب کسی فیصلہ میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے اکہرا ثواب ملتا ہے ( اجتہاد کا ) بیان کیا کہ پھر میں نے یہ حدیث ابو بکر بن عمر وبن حزم سے بیان کی تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے اسی طرح بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ عنہ نے بیان کیا ۔ اور عبد العزیز بن المطلب نے بیان کیا ، ان سے عبد اللہ بن ابی ابکر نے بیان کیا ، ان سے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح بیان فرمایا ۔
عَن عَبدِ اللّٰہِ بنِ عَمرٍو وَاَبِی ہُرَیرَۃَ رضی اللہ عنہم قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم : اِذَا حَکَمَ الحَاکِمُ فَاجتَہَدَ وَاَصَابَ فَلَہٗ اَجرَانِ ۔ وَاِذَا حَکَمَ فَا جتَہَدَ وَاَخطَأَ فَلَہٗ اَجرٌ وَاحِدٌ ۔ (صحیح البخاری جلد 2 صفحہ 1092)(صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 76،چشتی)(مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 324)
ترجمہ : جب حاکم فیصلہ کرے اور وہ (حکم شرع کے بارے میں) اجتہاد کرے اور درستی کو پہنچ جائے تو اس کےلیے دواجر ہیں اور جب فیصلہ کرے اور اجتہاد کرتے ہوئے خطا کر جائے تو اس کےلیے ایک اجر ہے ۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں : یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے مجتہد کبھی خطا کرتا ہے اور کبھی صواب کو پہنچتا ہے ۔ ہر صورت اسے ثواب ملتا ہے ۔ (اشعة المعات مترجم جلد 4 صفحہ 483 ، 484 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)
مکورہ احادیثِ مبارکہ سے واضح ہو کہ اجتہادی غلطی پر بھی مجتہد گناہ گار نہیں ہوتا بلکہ ماجور ٹھہرتا ہے ۔ یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اس حدیث میں اجتہاد کرنے پر جو اجر ملنے کی نوید بیان ہوئی ہے وہ ایسے شخص کےلیے ہے جو شرعاً اجتہاد کرنے کی اہلیت رکھتا ہے ۔ لیکن اگر وہ اجتہاد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا مگر کسی شرعی مسئلے میں اجتہاد کرتا ہے تو وہ گناہ گار ہے ۔ حتیٰ کہ اہلِ علم نے صراحت کی ہے جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے ، کہ اگر وہ درست مسئلہ بھی بیان کرے تب بھی اسے اجر نہیں ملتا ، کیونکہ اس نے کسی شرعی اساس کے بغیر دین حق میں رائے دی ہے اور یہ بلا شبہہ جرم ہے ۔ اسی سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ جو شخص علم شرعی نہیں سیکھتا مگر وہ کسی مسئلے میں اجتہاد کرتا ہے اور غلطی کرتا ہے تو اسے اجر نہیں بلکہ گناہ ملتا ہے ۔ کیونکہ ایسا شخص تو امور شرعیہ میں بیان بازی کا مجاز نہیں ہے چہ جائیکہ وہ اجتہاد کرنے لگے اور اپنی رائے دینے لگے ۔ اس بات کی وضاحت کے لیے یہ حدیث دیکھیے کہ “ جو شخص طب کا علم اور اس میں مہارت نہیں رکھتا لیکن وہ لوگوں کا علاج کرنے لگتا ہے تو کسی کا نقصان کرنے پر وہ ذمے دار ہو گا ۔ (سنن ابو داود حدیث نمبر 4586)
جبکہ ایک ماہر طبیب سے دوران علاج کسی کا نقصان ہو جائے تو شرعا وہ ذمے دار نہیں اور نہ اس پر کوئی جرمانہ عائد ہوتا ہے ۔ یہی حال ایک عالمِ دین اور غیر عالم کا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اجتہاد کی اہلیت اور صلاحیت کا کیا مفہوم ہے ؟ ۔ واضح رہے کہ شرعی طور پر اجتہاد کرنے کا اہل وہ شخص ہے جو علوم شرعیہ اور عربی زبان میں بنیادی مہارت رکھتا ہو ۔ یہ تفصیل تمام علمائے اصول نے اپنی کتابوں میں صراحت سے لکھی ہے ۔
اجتہاد میں غلطی پر بھی اجر ملتا ہے کے تناظر میں ائمہ دین علیہم الرحمہ کی بعض تشریحات درج کرتے ہے جن سے یہ بات مزید عیاں ہوتی ہے اور حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اصل مطلب بھی کھل کر سامنے آتا ہے : ⏬
امام خطابی رحمة اللہ علیہ ( متوفی 388ھ) نے معالم السنن میں لکھا ہے : یہ حدیث ایسے مجتہد کے متعلق ہے جو اجتہاد کی شروط کا حامل ہے ۔ مگر جو اجتہاد کی اہلیت نہیں رکھتا لیکن اجتہاد کرتا ہے اسے غلطی کرنے پر معذور نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اس پر بہت بڑے گناہ کا خطرہ ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو لا علمی کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے وہ جہنم میں ہے ۔ (معالم السنن جلد 4 صفحہ 160)
امام محی الدین نووی رحمة اللہ علیہ (متوفی 676ھ) لکھتے ہیں : اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ یہ حدیث ایسے فیصلہ کرنے والے کے متعلق ہے جو عالم ہے اور فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے ۔ لیکن جو فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اس کےلیے فیصلہ کرنا ہی جائز نہیں ہے ۔ اگر وہ فیصلہ کرے تو اسے کوئی اجر نہیں ملتا بلکہ وہ گناہ گار ہے خواہ وہ درست فیصلہ کرے یا غلط ، کیونکہ اگر وہ اپنی رائے میں درست موقف تک پہنچ بھی گیا تو یہ ایک اتفاق ہے ، کسی شرعی اساس پر وہ حق تک نہیں پہنچا ۔ اس لیے وہ اپنے تمام احکام میں گناہ گار ہے خواہ حق کے مطابق ہوں یا مخالف ، وہ سبھی قابل رد ہیں ، ان میں وہ معذور نہیں سمجھا جائے گا ۔ کیونکہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جو فیصلہ کرنے والا لا علمی کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے وہ جہنم میں ہے ۔ (شرح صحيح مسلم جلد 12 صفحک 14)
امام ابن حجر عسقلانی رحمة اللہ علیہ (متوفی 852ھ) امام بخاری رحمة اللہ علیہ کا موقف بیان کرتے ہوئے یہی بات ذکر کرتے ہیں کہ اگر کوئی علم نہیں رکھتا تو اسے اجتہاد کرنے پر گناہ ہوتا ہے جیسا کہ امام ابن منذر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : اجتہاد میں غلطی پر اجر اسے ملتا ہے جو عالم ہو کر اجتہاد کرے ، لیکن اگر وہ عالم نہیں ہے تو پھر وہ اس حدیث کا مصداق نہیں ہے ۔ (فتح الباری جلد 13 صفحہ 319،چشتی)
یہاں سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر کوئی قاضی اور جج دنیوی معاملات کا فیصلہ لا علمی کی بنیاد پر کرتا ہے ، خواہ وہ صحیح فیصلہ بھی کر دے تو جہنم میں ہے ، تو اگر کوئی شخص دین کے مسائل اور احکام شریعت میں ، جن کی اہمیت اور قدر و منزلت دنیوی معاملات سے کہیں زیادہ ہے ، علم شرعی حاصل کیے بغیر رائے زنی کرتا ہے ، کبھی تفسیر میں، کبھی عقیدہ میں ، کبھی فقہ و حدیث میں بیان بازی کرتا ہے اور فتوے دینا شروع کر دیتا ہے تو یہ شخص اس سے کہیں بڑا مجرم اور سخت وعید کا حق دار ٹھہرتا ہے ۔ اب ذرا اطمینان سے سوچیے اگر کوئی شخص تفسیر یا فقہ و حدیث جیسے اہم امور میں ضروری مہارت حاصل کیے بغیر بیان بازی کرے اور غلطی کرے ، پھر رجوع کر لے تو کیا اس کی تحسین کرنی چاہیے یا اسے اس کی بنیادی غلطی سمجھانا چاہیے اور آیندہ کےلیے اسے ایسے اقدام سے باز رہنے کی تلقین کرنی چاہیے تا وقتیکہ وہ اس علم میں بنیادی قابلیت پیدا نہیں کر لیتا ۔
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ مکورہ حدیثِ مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں : ⏬
(1) کہ اس کا فیصلہ اللہ عزوجل اور رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان عالی کے مطابق ہو جائے ، یہ بھی رب تعالٰی کا کرم ہی ہے کہ انسان کا فیصلہ اس کے منشاء کے مطابق ہو جائے ۔
(2) ایک ثواب تو اجتہاد و کوشش کرنے کا اور دوسرا ثواب درست فیصلہ کرنے کا کہ درستی بھی بڑا عمل ہے ، قاضی عالم بلکہ درجہ اجتہاد والا چاہیے ، اگر خود عالم و فقیہ نہ ہو تو فقہاء کے علم سے فائدہ اٹھائے ان کا مقلد اور متبع ہو ۔
(3) یہ حدیث تمام مجتہدین کو شامل ہے کہ مجتہد سے اگر غلطی بھی ہوجائے تب بھی اجتہاد کی محنت کا ثواب ہے لہذا چاروں مذہب یعنی حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی برحق ہیں کہ اگرچہ ان میں سے درست و صحیح تو ایک ہی ہے مگر گناہ کسی میں نہیں بلکہ جن آئمہ مجتہدین سے خطا ہوئی ایک ثواب انہیں بھی ہے ، نیز حضرت علی و معاویہ میں گنہگار کوئی نہیں ، حق پر حضرت علی ہیں اور جناب معاویہ سے غلطی ہوئی گنہگار وہ بھی نہیں ۔ ایک موقعہ پر حضرت داؤد علیہ السلام سے خطا ہوگئی اور جناب سلیمان علیہ السلام نے درست فیصلہ فرمایا تو ان دونوں بزرگوں میں گنہگار کوئی نہیں ہوا ۔ رب تعالٰی فرماتاہے : "فَفَہَّمْنٰہَا سُلَیۡمٰنَ" ۔ وہ حدیث کریمہ اس آیت کی تائید کرتی ہے مگر یہ حکم مجتہد عالم کے لیے ہے غیر مجتہد یا غیر عالم اگر غلط مسئلہ بتائے گا تو گنہگار ہوگا بلکہ غیر عالم کو فتویٰ دینا ہی جائز نہیں اور مسئلہ بھی فروعی اجتہادی ہو اصول شریعت میں غلطی معاف نہیں ہوتی ۔ اس کی تحقیق کتب اصول اور مرقات میں ملاحظہ کیجئے ۔ اجتہادی خطا کی مثال یوں سمجھئے کہ مسافر جنگل میں نماز پڑھے اسے سمت قبلہ کا پتہ نہ چلے تو اپنی رائے سے کام لے،اگر چار رکعت میں چار طرف اس کی رائے ہوئی اور اس نے ہر رکعت ایک طرف پڑھی تو اگرچہ قبلہ ایک ہی طرف تھا مگر چاروں رکعتیں درست ہوگئیں اور اس کو نماز کا ثواب یقینًا مل گیا۔اس کی نفیس بحث ہماری کتاب جاءالحق حصہ اول میں دیکھیے ۔
(4) یہ حدیث احمد ، سنن ابوداؤد ، سنن ابن ماجہ اور سنن نسائی نے بروایت حضرت عمرو ابن عاص رضی اللہ عنہ نقل فرمائی ، احمد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی نقل کی ۔ (مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ الفصل الاول پہلی فصل باب العمل فی القضاء و الخوف منہ باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 476 ، 477 مطبوعہ نعیمی کتب خانہ گجرات،چشتی)
نوٹ : حضرت داؤد علیہ السلام سے خطاء ہو گئی اس جملہ کے متعلق اہلِ علم کیا فرماتے ہیں یہ کون سی خطاء تھی ؟ اور جب پیغمبر معصوم عنِ الخطاء ہیں تو اُن کی طرف کس خطاء کی نسبت کی جا سکتی ہے ؟ اور انبیاء و ملائکہ علیہم السّلام کے علاوہ کوئی بھی معصوم عنِ الخطاء نہیں ہاں محفوظ عنِ الخطاء ہیں (یہ اہلسنّت کا متفقہ عقیدہ ہے) اگر کسی پیغمبر علیہ السّلام کی طرف خطاء (اس خطاء کی تعریف اہلِ علم فرمائیں) کی نسبت جائز ہے تو غیر پیغمبر کی طرف اگر خطائے اجتہادی کی نسبت کی جائے تو اِس کا شرعی حکم کیا ہوگا ؟ جہلاء جواب دینے کی زحمت نہ کریں شکریہ ۔
جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : یہ صرف مجتہد کی شان کہ اجتہاد صحیح تھا مگر نتیجہ غلط نکلا تو اس کےلیے بھی اجر ہے ۔ مزید لکھتے ہیں : مجتہد اگر غلطی کر بیٹھے تو اس کےلیے اجر ہے چونکہ مومنِ مجتہد کا ہر فیصلہ ہر صورت باعث اجر ہے ۔ (اقسام بدعت احادیث و اقوال ائمہ کی روشنی میں صفحہ 93 ، 94 مطبوعہ منہاج القرآن پبلیکیشنز لاہور)
گزشتہ تمام تر تفصیلات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اجتہادی غلطی کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی مجتہد حق کی تلاش کےلیے اپنی تمام تر صلاحیت استعمال کر کے کسی حکم کو اخذ کرتا ہے تو حقیقت میں تو وہ اسے حق سمجھ رہا ہوتا ہے ، لیکن درحقیقت حق بات تک پہنچنے تک اس کے اجتہاد میں غلطی ہوتی ہے ۔ گویا آسان الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ اجتہاد کے بعد حق بات تک نہ پہنچنے کا نام نام اجتہادی خطا ہے ۔ انسان تو خطا کا پتلا ہے ، کسی انسان سے ایسی غلطی کا ہونا عیب کی بات نہیں ۔حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی حق نہ پانے کو اجتہادی خطا کہا گیا ہے ۔ نورالانوار میں ہے : ان المجتہد یخطئ ویصیب ، والحق فی موضع الخلاف واحد ولکن لا یعلم ذلک الواحد بالیقین ۔ فلہذا قلنا بحقیۃ المذاہب الاربعۃ ۔ (نورالانوار جلد دوم صفحہ301 دار الکتب العلمیہ بیروت)
باغِ فدک پر حضرت سیّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد بہتر تھا : ⏬
مجتہد کو اس کی اجتہادی خطا پر اجر و ثواب ملتا ہے ۔ جنابِ من جب جب یہ مسلمہ اصول ہے کہ مجتہد کی غلطی پر اجر و ثواب ملتا ہے تو یہ اجتہادی خطا گستاخی کب سے ہو گئی ؟ ۔ پھر اس اجتہادی خطا پر گستاخی کے فتوے کیوں ؟ ۔ (غزالی زماں کا طرزِ استدلا صفحہ 330 مطبوعہ ادارہ احمد سعید کنزالعلوم پاکستان)
مسئلہ باغِ فَدک استاذی المکرم غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں آپ فرماتے ہیں : باغ فدک کے معاملے میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اجتہاد سے بہتر تھا ۔ مکمل تفصیل ساتھ دیے گئے اسکینز میں پڑھیں ۔ (مشکلات الحدیث مسئلہ فَدَک صفحہ نمبر 205 تا 208 مطبوعہ ورلڈ ویو پبلیشرز اردو بازار لاہور،چشتی)
اس سے واضح طور پر یہ سمجھ میں آیا کہ مسئلہ فَدَک اجتہادی معاملہ تھا ۔ لہٰذا جو اس معاملے میں اجتہاد نہیں مانتے ان کی تردید غزالی زماں حضرت علامہ سیّد احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی زبانِ مبارک سے ہو گئی ۔ یاد رہے جب دو شخصیات کے درمیان اجتہاد ہوتا ہے تو اہل سنت کا نظریہ ہے کہ ایک شخص صواب پر ہوتا ہے اور ایک خطا (اجتہادی) پر ۔ دونوں کو صواب پر ماننا یہ معتزلہ کا نظریہ ہے ۔ لہٰذا مذکورہ حوالے سے اجتہاد ثابت ہوا اور جب اجتہاد ثابت ہو گیا تو ایک کا اجتہادی خطا پر ہونا لازم آئے گا ۔ اور اس اجتہادی خطا پر اجر ہے نہ کہ گناہ ۔ فافہم ۔ اور اس معاملے میں کون اجتہادی خطا پر ہے یہ مذکورہ عبارت کے اس جملے سے واضح ہے ، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد ، سیدہ طیّبہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے اجتہاد سے بہتر تھا ۔ خود کو غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کا مرید اور وفادار کہلانے ان کی تعلیمات پر پہرہ بھی دیں ، خود عمل کریں اور دوسروں کو بھی عمل کی تلقین کریں ۔ ہاں جو بعض لوگ خود سعیدی کہلا کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شانِ اقدس میں گستاخیاں کرتے ہیں خانوادہ غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کو علی الاعلان ایسے گستاخوں سے لاتعلقی کا اعلان کرنا چاہیے اور ان کا منہ بند کرنا چاہیے اور ایسے لوگوں سے دور رہنا چاہیے جو غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات ، عقاٸد و نظریات کے باغی ہیں ۔ غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ سے تعلقِ عقیدت رکھنے والے علماء و مفتیان کرام سے گذارش ہے غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کو عام کریں اور اس پہ پہرہ دیں شکریہ و جزاكم اللهُ خیرا ۔ اللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں اور فتنہ بازوں کے شر و فتنہ سے بچاۓ آمین ۔
درج ذیل سوالات کا علمی اور بحوالہ جواب درکار ہے : ⏬
سوال نمبر 1 : کیا صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کو معصوم عنِ الخطا ہیں ؟ اگر معصوم عنِ الخطا ہیں تو دلائل سے واضح کریں ۔
سوال نمبر 2 : کیا خطائے اجتہادی صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم سے ممکن نہیں ؟ عدمِ امکان پر دلائل پیش کریں ۔
سوال نمبر 3 : جو خطائے اجتہادی کی نسبت صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم طرف کرے ، ان پر کیا حکم لگتا ہے ؟ ۔ دلیل سے واضح کریں ۔
سوال نمبر 4 : اگر آیتِ تطہیر سے عصمت ثابت ہے تو کیا خطائے اجتہادی ، عصمت کے متضاد ہے ؟ ۔ اگر متضاد ہے تو جن محدثین و مفسرین علیہم الرحمہ نے انبیائے کرام علیہم السّلام کی طرف یہ نسبت کی ان پر کیا حکم لگتا ہے ؟ ۔ جو کہ بالاتفاق معصوم ہیں ۔
سوال نمبر 5 : محفوظ عن الخطا کا یہ مطلب کہ ان سے خطا ہو ہی نہیں سکتی ۔ یہ دلائل سے ثابت کریں ؟
سوال نمبر 6 : کیا آج تک کس محدث و فقیہہ نے فتوی لگایا ؟ کہ اگر کسی نے صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم میں کسی کی طرف کسی نے خطاءِ اجتہادی کا وقوع کہا تو وہ گستاخ یا بے ادب ہو گیا ؟
سوال نمبر 7 : اگر لفظ خطا استعمال کیا گیا بے ادبی ، گستاخی وغیرہ ہے تو کیا یہ حکم صرف ایک مخصوص فرد کےلیے ہے یا جس جس نے بھی استعمال کیا ان سب کےلیے ہے ؟
سوال نمبر 8 : آج تک جس جس نے بھی لفظ خطائے اجتہادی کتب میں یا تقریر میں استعمال کیا ان پر علمائے اہلسنت نے کہاں اور کیا فتوی لگایا ہے اس فتویٰ کو عوام کے سامنے لایا جائے ؟ ۔ تا کہ عوام کو مسٸلہ کی حقیقت معلوم ہو ۔
ان سوالوں کا جواب دیں اگر دلائل سے ثابت نہ کر سکیں یہ باتیں تو ہم سمجھیں گے کہ آپ واقعی یتیم العلم اور حسد و بغض میں مبتلا ہیں اور آپ کا مقصد صرف و صرف افتراق و انتشار و تعصب اور فسادفی الارض ہے اور شیعیت کے تلوے چاٹنے کے علاوہ کچھ نہیں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)












































