یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ سارے مسلمان ایک اُمت و ملت ہیں
محترم قارئینِ کرام اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً ۔ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ ۔ (سورہ انبیاء آیت نمبر 92)
ترجمہ : بیشک یہ تمہاری ملت ہے جو درحقیقت ایک ہی ملت ہے اور میں (ہی) تمہارا رب ہوں سو تم میری (ہی) عبادت کرو ۔
اس آیتِ مبارکہ میں روئے زمین کے تمام لوگوں سے خطاب ہے ۔ امت اس قوم یا لوگوں کی اس جماعت کو کہتے ہیں جو دین واحد پر مجتمع ہو پھر اس کے مفہوم میں وسعت دے کر نفسِ دین پر بھی امت کا اطلاق کیا جاتا ہے اور یہاں مراد یہ ہے کہ روئے زمین کے تمام لوگوں کےلیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ملت اور ایک دین کی دعوت دی گئی ہے اور تمام انبیاء علیہم السلام نے اسی دین کی دعوت دی ہے اور سب کا دین اسلام ہے ۔ قرآن میں ہے : شرع لکم من الدین ماوصی بہ نوحاً والذی اوحینآ الیک وما وصینا بہ ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ ان اقیموا الدین ولاتنفرقوا فیہ ۔ (سورہ شوری آیت نمبر 13)
ترجمہ : اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی نوح کو وصیت کی تھی اور جس کی ہم نے آپ کی طرف وحی کی اور جس کی ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو وصیت کی تھی کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ کرو ۔
ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! بیشک یہ اسلام تمہارا دین ہے اور یہی تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام کا دین ہے ، اس کے سوا جتنے اَدیان ہیں وہ سب باطل ہیں اور سب کو اسی دینِ اسلام پر قائم رہنا لازم ہے اور میں تمہارا رب ہوں ، نہ میرے سوا کوئی دوسرا ربّ ہے نہ میرے دین کے سوا اور کوئی دین ہے تو تم صرف میری عبادت کرو ۔ (تفسیر مدارک التنزیل صفحہ ۷۲۶)(تفسیر خازن جلد ۳ صفحہ ۲۹۴)
جو اصول اور عقائد تمام انئیاء علیہم السلام میں مشترک ہیں ان کو دین کہتے ہیں اور تمام انبیاء علیہم نے یہ دعوت دی تھی کہ اللہ کو ایک مانو وہی سب کا خالق اور رازق ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ اللہ کے رسول اللہ کا پغیام پہنچانے والے اور اس کے سچے اور برگزیدہ بندے ہیں ، تمام فرشتے ، تمام آسمانی صحائف اور کتابیں برحق ہیں ۔ ہر اچھی چیز اور بری چیز اللہ کی تقدیر سے وابستہ ہے ۔ قتل ، زنا اور جھوٹ بولنا حرام ہے اور اللہ کے احکام کو ماننا اور اس کی عبادت کرنا اور اس کا شکر ادا کرنا فرض ہے ۔ قیامت قائم ہوگی اور مرنے کے بعد بندوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور حساب لیا جائے گا ، نیک لوگوں کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا اور بدکاروں اور کافروں کو دوزخ میں داخل کر دیا جائے گا جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ تمام انبیاء علیہم السلام نے ان ہی چیزوں کی دعوت دی ہے اور یہی سب کا واحد دین ہے ، اس میں اختلاف کرنا جائز نہیں ہے ۔ البتہ ہر نبی کی شریعت میں ہی چیزوں کی دعوت دی ہے اور یہی سب کا واحد دین ہے ، اس میں اختلاف کرنا جائز نہیں ہے ۔ البتہ ہر نبی کی شریعت میں عبادت کے طریقے الگ الگ ہیں جو انہوں نے اپنے اپنے زمانے کے حالات اور رسم و رواج کے اعتبار سے مقرر فرمائے ۔ قرآن مجید میں ہے : لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جاً (سورہ المائدہ آیت نمبر 48)
ترجمہ : تم میں سے ہر ایک کےلیے ہم نے ایک صخاص) شریعت اور (مخصوص) راستہ معین کردیا ہے ۔
مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں مال غنیمت حرام تھا ، قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ اس کو آگ لے جاتی تھی۔ ہماری شریعت میں یہ چیزیں حلال ہیں ۔ پچھلی شریعتوں میں تیمیم کی سہولت نہ تھی ، مسجد کے سوا نماز پڑھنا جائز نہ تھا ، ہماری شریعت میں تیمیم کی سہولت اور ہر پاک زمین پر نماز پڑھنا جائز ہے ۔ پہلی شریعتوں میں غیر اللہ کےلیے سجدہ تعظیم جائز تھا ہماری شریعت میں اس کو حرام کر دیا گیا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : الانبیاء اخوۃ لعلات امھاتھم شتی ودینھم واحد ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : 3443،چشتی)
ترجمہ : تمام نبی باپ شریک بھائی ہیں ، ان کی مائیں مختل ہیں اور ان کا دین واحد ہے ۔
یعنی تمام انبیاء علیہم السلام کا دین واحد ہے اور ان کی شریعت مختلف ہیں ۔ سو امتوں کا دین میں اختلاف کرنا جائز نہیں ہے ۔
اور فرمایا اور انہوں نے یعنی بےدینوں نے اپنے اپنے دین میں اختلاف کیا اور مختلف فرقے بنا لیے ۔ اس آیت میں دین میں فرقے بنانے کی مذمت کی گئی ہے اور احادیث میں بھی دین میں فرقہ بنانے کی ممانعت کی گئی ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہود کے اکہتر یا بہتر فرقے تھے اور نصاریٰ کے بھی اتنے ہی فرقے تھے اور میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (سنن الترمذی رقم الحدیب : 2640)(سنن ابودائود رقم الحدیث : 4596)(سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3991،چشتی)(مسند احمد ج 5 صفحہ 332)(مسند ابویعلی رقم الحدیث : 5910)(صحیح ابن حبان رقم الحدیث : 6247)(المستدرک حاکم جلد ١ صفحہ 128)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت پر بھی برابر ، برابر وہی امور وارد ہوں گے جو بنی اسرائیل پر وارد ہوتے رہے تھے حتیٰ کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں کے ساتھ علانیہ بدکاری کی تھی تو میری امت کے لوگ بھی ایسا کریں گے ، اور بنی اسرائیل کے بہتر فرقے تھے اور میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے اور ایک ملت کے سوا باقی تمام فرقے دوزخ میں ہوں گے ۔ مسلمانوں نے پوچھایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کون سی ملت ہوگی ؟ فرمایا جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں ۔ (سنن ابن ماجہ میں ہے جس ملت پر جماعت (صحابہ) ہو)(سنن الترمذی رقم الحدیث : 2641،چشتی)(المستدرک جلد ١ صفحہ 129)(سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3992)
قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ المعروف بابن العربی المالکی المتوفی 543 ھ علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : ہمارے علماء نے ان فرقوں کی یہ تفصیل ذکر کی ہے روافض کے بیس فرقے ہیں ، خوارج کے بیس فرقے ہیں ، القدریہ المعتزلہ کے بیس فرقے ہیں ، سات فرقے الارجاء کے ہیں ۔ ان کے علاوہ الفراریہ ، الجھمیہ ، الکرامیہ ، النجاریہ ہیں اور ایک فرقہ جھمیہ اور مرحبہ کا جامع ہے یہ بہتر فرقے ہو گئے ۔ (یہ فرقے علامہ ابن العربی علیہ الرحمہ کے دور کے اعتبار سی ہیں ، ان میں سے کچھ فرقے اپنی موت مر گئے اور کچھ نئے فرقے وجود میں آگئے) ایک اور فرقہ ہے جو صرف ظاہر قرآن اور حدیث کو مانتا ہے اور قیاس اور استدلال کا انکار کرتا ہے ۔ یہ بھی قدریہ کی ایک قسم ہے ، ان کو ہمارے ملک اندلیس میں ایک شخص نے گمراہ کیا اس کا نام ابن حزم ہے ۔ اس نے اپنے آپ کو ظاہر کی طرف منسوب کیا اور داٶد کی پیروی کی ۔ (ہمارے دور میں غیر مقلدرین اس کے پیرو کار ہیں) (عارضتہ الاحوذی جلد 10 صفحہ 78 - 80 ملحضاً مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1418 ھ)
آئے دن ہمارے دانشور یہ نظریہ اور فکر و فلسفہ پیش کرتے رہتے ہیں کہ اُمتِ مسلمہ کا تصور ایک خواب ہے ، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ امت کا اتحاد مفروضہ ہے ، اور مسلم راہنما اپنے سادہ لوح عوام کو مفروضے پر جمع کرنے کی باتیں کرتے چلے آرہے ہیں ۔ یہاں چند اصولی باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ پہلی اصولی بات یہ ہے کہ اُمت کا تصور کسی فلسفی ، مفکر اور سیاستدان نے نہیں دیا ، بلکہ اس کا تصور خود ربِ کائنات نے قرآن میں اورآپ ﷺ نے احادیث میں دیا ہے ، چنانچہ قرآن کی سورت الانبیاء کی آیت نمبر 92 ہے : اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً ۔ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ ۔ (سورہ انبیاء آیت نمبر 92)
ترجمہ : بیشک یہ تمہاری ملت ہے جو درحقیقت ایک ہی ملت ہے اور میں (ہی) تمہارا رب ہوں سو تم میری (ہی) عبادت کرو ۔
مسلمان خواہ کسی ملک اور خطے کا ہو کسی بھی رنگ اور قبیلے کا ہو کوئی زبان بولتا ہو ان سب کو قرآن مجید نے ایک برادری قرار دیا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ ۔ (سورہ الحجرات آیت نمبر 10)
ترجمہ : مسلمان مسلمان بھائی ہیں ۔
مسلمان توآپس میں بھائی بھائی ہی ہیں کیونکہ یہ آپس میں دینی تعلق اورا سلامی محبت کے ساتھ مَربوط ہیں اوریہ رشتہ تمام دُنْیَوی رشتوں سے مضبوط تر ہے ، لہٰذاجب کبھی دو بھائیوں میں جھگڑا واقع ہو تو ان میں صلح کرا دو اور اللہ تعالیٰ سے ڈروتا کہ تم پر رحمت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور پرہیزگاری اختیار کرنا ایمان والوں کی باہمی محبت اور اُلفت کا سبب ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے ۔ (تفسیر خازن جلد ۴ صفحہ ۱۶۸)(تفسیر مدارک صفحہ ۱۱۵۳)
حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پرظلم کرے نہ اس کورُسوا کرے ، جوشخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں مشغول رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرتا ہے اورجوشخص کسی مسلمان سے مصیبت کو دورکرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مَصائب میں سے کوئی مصیبت دُور فرما دے گا اور جو شخص کسی مسلمان کا پردہ رکھتا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کا پردہ رکھے گا ۔ (صحیح بخاری کتاب المظالم والغصب، باب لا یظلم المسلم الخ جلد ۲ صفحہ ۱۲۶ الحدیث: ۲۴۴۲)
حضر ت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ سارے مسلمان ایک شخص کی طرح ہیں ، جب اس کی آنکھ میں تکلیف ہوگی تو سارے جسم میں تکلیف ہوگی اور اگر اس کے سرمیں درد ہو تو سارے جسم میں دردہوگا ۔ (صحیح مسلم کتاب البرّ والصّلۃ والآداب باب تراحم المؤمنین ۔ الخ صفحہ ۱۳۹۶ الحدیث : ۶۷ ، ۲۵۸۶)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کےلیے عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے ۔ (صحیح مسلم کتاب البرّ والصّلۃ والآداب باب تراحم المؤمنین ۔ الخ صفحہ ۱۳۹۶ الحدیث : ۶۵ ، ۲۵۸۵،چشتی)
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6011 ہے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسلمان آپس میں پیار و محبت ، رحم وشفقت اور مہربانی برتنے میں ایک جسم کی مثال رکھتے ہیں کہ جسم کا ایک عضو بیمار پڑ جائے تو سارا جسم اضطراب اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔
لہٰذا یہ کہہ دینا کہ مسلم اُمہ کا اتحاد اور اس کی تشکیل ایک خواب ہی رہی ہے ، اس کا وجود کہیں نظر نہیں آیا ۔ خلافِ حقیقت اور زمینی حقائق جھٹلانے والی بات ہے ۔ سلطنت عثمانیہ نے ایشیا ، افریقہ اور یورپ بیک وقت تین برِاعظموں پر 700سال تک حکومت کی ۔ کیا یہ اُمہ کے تصور کے بغیر ممکن ہو سکتا تھا ؟ اور یہ سوال کہ دنیا میں مذہب کے نام پر سب سے زیادہ جنگیں ہوئی ہیں ، تاریخ کو مسخ کرنے والی بات ہے ۔ پوری انسانی تاریخ میں جتنے لوگ جنگوں میں مرے ہیں اس کا 78 فیصد گزشتہ ساڑھے پانچ سو سالوں میں ہلاک ہوئے ہیں ، اور اکیسویں صدی میں انسانی تاریخ کی سب سے بڑی اور خوفناک جنگیں ہوئیں ۔ دنیا میں سب سے زیادہ خونریزی سیکولرازم ، کیپٹل ازم اور لبرل ازم نے کی ہے ۔ آج امریکا جس بنیاد پر کھڑا ہے اس میں 10 کروڑ لوگوں کا خون ہے ، جبکہ اسلامی تاریخ کے 15 سو سال کے اندر 10 لاکھ افراد بھی قتل نہیں ہوئے ۔ انقلابِ فرانس ، انقلابِ روس اور انقلابِ چین میں بھی 8 کروڑ سے زیادہ لوگ قتل کیے گئے ، یہ تینوں سیکولر انقلاب تھے ۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم میں مجموعی طور پر 11 کروڑ سے زائد لوگ قتل کیے گئے ۔ آج بھی جتنی قتل و غارت مذہب کے نام پر ہورہی ہے اسے کہیں زیادہ ہوسِ ملک گیری اور دنیا کے وسائل پر قبضے کی جنگوں میں مارے جارہے ہیں ۔ کیا یہ مذہب سکھاتا ہے کہ ایسا کرو ؟
اسلامی بلاک کا نظریہ کسی سیاستدان نے نہیں بلکہ خالقِ کائنات نے قرآن میں دیا ہے ۔ سورۃ التغابن کی دوسری آیت ہے : وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن ۔ اُمت کےلیے جغرافیائی حدبندیاں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں ۔ رنگ اور زبان ، نسب و خاندان ، وطن اور ملک میں سے کوئی چیز ایسی نہیں جو انسانی برادری کو مختلف گروہوں میں بانٹ دے ۔ ایک باپ کی اولاد اگر مختلف شہروں میں بسنے لگے یا مختلف زبانیں بولنے لگے یا ان کے رنگ میں تفاوت ہو تو وہ الگ الگ گروہ نہیں ہو جاتے ۔ اختلافِ رنگ و زبان اور وطن و ملک کے باوجود یہ سب آپس میں بھائی ہی ہوتے ہیں ۔ فقہائے اسلام اور علماء کا متفقہ فیصلہ ہے دنیا بھر کے مسلمان ایک ملت اور ایک قوم ہیں اور دنیا بھر کے کافر الگ ملت اور قوم ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملاً یہی تعلیم دی تھی ۔ قریش کے ابوجہل سے جنگ کی اور حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو سینے سے لگالیا ، جو افریقہ سے آئے تھے ۔ صہیبِ رومی روم اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہما ایران سے آئے تھے ان کو اپنے دامن محبت میں جگہ دی ۔
جب ہم وحدتِ امت کی بات کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ موجودہ تمام اسلامی ممالک اپنی اپنی جغرافیائی حدود ختم کر کے ایک نئی جغرافیائی وحدت میں تبدیل ہو جائیں ، بلکہ جس طرح آج دنیا کے مختلف خطوں میں علاقائی ، نسلی ، لسانی بنیاد پر ممالک کی تنظیمیں موجود ہیں ، اس طرح مسلمان ممالک کا بھی اپنا کوئی ایسا مشترکہ ادارہ موجود ہو جو دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی ترجمانی کر سکے ۔ اسلامی تاریخ میں الگ الگ خطوں میں الگ سلطنتوں کی مثالیں موجود رہی ہیں ۔ تصورِ ممالک اور تصورِ مسلم امہ دو الگ الگ چیزیں ہیں ۔
پاکستان اسلامی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا ۔ قائد اعظم محمد علی جناح علیہ الرحمہ نے کہا تھا پاکستان اس لیے بنا رہا ہوں تاکہ مراکش سے لے کر چین تک عظیم مسلم اتحاد قائم ہو ۔ یہ ایک نظریاتی ، مذہبی ، دینی ریاست ہوتی ہے جہاں برتر قانون قرآن و حدیث ہوتے ہیں ۔ اگر مشرقی پاکستان جدا ہوا ہے تو اس کا سبب وہ نہیں جو آج کے دانشور بیان کرتے ہیں ۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی اصل وجہ مذہب نہیں بلکہ مذہب سے انحراف ہی ہے ۔ یہ نسلی تعصب تھا جس نے ہمارے بنگالیوں بھاٸیوں کو جدا ہونے پر مجبور کیا ۔
مذہب کی بنیاد پر اتحاد صرف اسلام میں ہی نہیں ، بلکہ عیسائیت اور دیگر مذاہب میں بھی ملتا ہے ۔ دیکھیں ! ایک امریکہ پر حملہ ہوتا ہے تو 42 عیسائی ممالک جمع ہو جاتے ہیں ۔ توہینِ رسالت کے مرتکب چارلی ایبڈو پرحملہ ہو جاتا ہے تو اگلے ہی روز سارے پورپی ممالک ’’ہم چارلی ہیں‘‘ کا نعرہ بلند کر دیتے ہیں ۔ اب آپ ہی بتائیں کہ ان ممالک کے درمیان آخر کیا قدر مشترک کیا ہے ؟
دور نہ جائیں ! ابھی کچھ عرصہ قبل امریکہ میں جو الیکشن ہوئے ہیں ، اس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جو جیت ہوئی ہے ، اس میں اسلام اور مسلم دشمنی کا بھی شاید ایک فیکٹر تھا حالانکہ پوری دنیا یہ کہہ رہی تھی کہ ٹرمپ جیسا متعصب شخص سپرپاور امریکہ کا صدر نہیں بن سکتا ۔ علامہ ابن خلدون علیہ الرحمہ کا قول ہے کہ تعصبات ، نسلی امتیازات اور مذہب کا سیاست میں گہرا اثر ہوتا ہے ۔ بھارت میں مودی کا حکمران بننا اور امریکہ میں ٹرمپ کی جیت اس کی یہ تازہ مثالیں ہیں ۔ اس کی کچھ تفصیل ’’سیموئیل پی ہنٹنگٹن‘‘ کے مقالات میں بھی دیکھی جا سکتی ہے ۔
آج مسلم ممالک میں جو کچھ ہو رہا ہے ، فرقہ واریت ، ماردھاڑ اور خانہ جنگی ہے ، اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو اس قتل و غارت میں بھی یہی ’’کافر صنم‘‘ نظر آتا ہے ۔ یاد رکھیں اسلامی تعلیمات میں سب سے زیادہ زور اتفاق و اتحاد پر دیا گیا ہے ۔ آپس میں محبت ، بھائی چارہ ، ایمان ، اتحاد اور یقین مسلمانوں کا موٹو ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع میں حکم فرمایا تھا: ’’دیکھو! باہمی اختلافات میں نہ پڑ نا ۔ قرآن میں ہے : وَلَا تَفَرَّقُوْا ’’ اختلاف ہرگز نہ کرو ۔ آج اگر امتِ مسلمہ زوال وغیرہ کا شکار ہے تو اس اصل وجہ یہی اتفاق و اتحاد کا فقدان ہے ۔
اِسلام ایک عالمی دِین ہے اور اُس کے ماننے وَالے عرب ہوں یا عجم ، گورے ہوں یا کالے ، کسی قوم یا قبیلے سے تعلق رَکھتے ہوں ، مختلف زبانیں بولنے وَالے ہوں ، سب بھائی بھائی ہیں اور اُن کی اس اخوت کی بنیاد ہی اِیمانی رِشتہ ہے اور اس کے بالمقابل دُوسری جتنی اخوت کی بنیادیں ہیں ، سب کم زور ہیں اور اُن کا دَائرہ نہایت محدود ہے ۔ یہی وَجہ ہے کہ اِسلام کے اِبتدائی اور سنہری دور میں جب بھی ان بنیادوں کا آپس میں تقابل و تصادم ہوا تو اخوتِ اِسلامیہ کی بنیاد ہمیشہ غالب رہی ۔
کافر کوئی بھی عقیدہ رکھے ایک ہی ملت ہیں حدیث میں ارشاد ہے کہ اَلْکُفْر مِلَّۃ’‘ وَاحِدَہ ، کفر ایک ملت ہیں ۔ اس طرح قرآن و سنت نے دنیا کے تمام انسانوں کو دو الگ الگ ملتوں میں تقسیم کرکے فیصلہ کردیا کہ مسلمان ایک ملت اور کافر دوسری ملت ہیں اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کافروں کے ساتھ حسن سلوک ، انصاف ، خیرخواہی ، مدارات تو کرو لیکن محبت و دوستی کسی صورت میں تمہارے لیئے جائزہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو اپنا راز دار بناؤ اور نہ ہی ان کے طور طریقے اختیار کرو بلکہ جو کفار تم سے لڑے تمہارے دین کے درپے ہوں ان کے ساتھ جنگ کرو ۔
دنیا میں مدینۃُ المنوّرہ پہلی اسلامی ریاست تھی جو کہ اسی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی اس کے بعد مملکت خداداد پاکستان وہ ریاست ہے جو کہ اسی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوئی ۔ اس وقت دنیا میں جو ممالک موجود ہیں ان سب کی بنیاد جغرافیائی سرحدیں ہیں جو کہ دراصل مغرب کا نظریہ ہے اہل مغرب نے خاندانی ، نسلی اور قبائلی بنیادوں میں ذرا وسعت پیدا کرکے قومیت کی بنیادیں جغرافیائی حدود پر استوار کیں ۔ جبکہ پاکستان کی بنیاد نہ تو رنگ زبان و نسل ہے اور نہ ہی جغرافیائی حدود بلکہ اس کی بنیاد لاالہ الا اللہ ہے ۔ کہ ایک عقیدہ اور ایک کلمہ کی بنیاد پر جو قوم بنی ہے یعنی امت مسلمہ اور ملت اسلامیہ وہ سب اس مملکت کے باشندے ہیں ۔
قرآنِ کریم نے مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دِیا ہے اور اس اخوت اور محبت کو اللہ کی نعمت قرار دِیا ہے اور اس محبت اور اِتحاد پر اُن کی قوت اور طاقت کا مدار ہے ۔ اس اخوت کو قائم رَکھنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور اُن تمام صفات کو اَپنانا جن سے یہ اخوت کا رِشتہ مضبوط ہوتا ہے ، جیسے خیر خواہی ، محبت ، اِخلاص ، اِیثار ، ملنا ملانا ، صلح جوئی اور ایک دُوسرے کو سلام اور دُعا پیش کرنا وَغیرہ ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اپنے باہمی تعلقات سمجھنے اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)






