حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے فرمایا : اگر میں بیماری سے معذور نا ہوتا تو تحفہ اثناء عشریہ سا اس کتاب تقویت الایمان کا بھی رد لکھتا ۔
ڈاکٹر فیض احمد چشتی
Tuesday, 19 May 2026
دیوبندیوں کے شرکیہ عقاٸد جملہ افعال خود کرتے ہیں اور شرک کے فتوے اہلسنت پر لگاتے ہیں
دیوبندیوں کے شرکیہ عقاٸد جملہ افعال خود کرتے ہیں اور شرک کے فتوے اہلسنت پر لگاتے ہیں
محترم قارئینِ کرام : دیوبندیوں کے نزدیک ایصال ثواب جائز ، دیوبندی پیروں کے وسیلہ سے دعا بحرمت کہہ کر کرنا جائز ، دیوبندی پیر دستگیر بھی ہیں اور مشکل کشاء بھی ۔ (فیوضات حسینی صفحہ نمبر 68 دیوبندی علماء)
دیوبندیوں کا اقرار ہم بزرگوں کی ارواح سے امداد کے منکر نہیں ہیں : ⏬
سوانح قاسمی میں ایک واقعہ بیان ہوا کہ بانی دیوبند قبر سے آ کر ایک مولوی صاحب کی مدد کرتے ہیں اس طرح دیوبندی علماء اپنے خود ساختہ شرک کے فتوؤں میں جب پھنس گئے تو اپنے بڑوں کو شرک سے بچانے کےلیے خود ہی اقرار کر لیا کہ ہم بزرگوں کی قبروں اور ان کی ارواح سے مدد کے منکر نہیں ہیں بلکہ یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور ہم اسے مانتے ہیں ہم پر انکار کا الزام لگانے والے جاہل ہیں پہلے یہ پڑھیے : ⏬
مولوی مناظر احسن گیلانی دیوبندی اپنے بڑوں کو شرک سے بچانے کےلیے لکھتے ہیں : مولوی قاسم نانوتوی نے قبر سے آکر مدد کی ۔ پس بزرگوں کی ارواح سے مدد لینے کے ہم منکر نہیں ہمارا بھی ارواح صالحین سے مدد کے متعلق وہی عقیدہ ہے جو اہلسنت و جماعت کا ہے اور یہ سب قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ (حاشیہ سوانح قاسمی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 332 قدیم ایڈیشن صفحہ نمبر 211 جدید ایڈیشن مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور)
وہابیت کی راہ پر چل کر مسلمانانِ اہلسنت پر یہی عقیدہ و نظریہ رکھنے کی وجہ سے شرک کے فتوے لگانے والے دیوبندی جواب دیں بانی دیوبند ، شیخ الہند دیوبند اور مناظر احسن گیلانی صاحبان مشرک ہوئے کہ نہیں ؟
اور وہ لکھ رہے ہیں ارواح صالحین سے مدد کے انکار کا ہم پر الزام لگانے والے جاہل ہیں اور بہتان لگانے والے ہیں اب بتایئے آپ لوگ بہتان تراش اور جاہل ہیں کہ نہیں جو ارواح صالحین علیہم الرّحمہ سے امداد کے منکر بن کر اسے دیوبند کی طرف منسوب کرتے ہیں ؟
دیوندیوں کے گنگوہی نے مردوں کو زندہ کیا زندوں کو مرنے نہ دیا : ⏬
دیوبندیوں کا عقیدہ ہے کہ مولوی رشید احمد گنگوہی حضرت عیسٰی روح اللہ علیہ الصّلوٰۃ والسّلام سے افضل ہیں کیونکہ انہوں نے تو صرف ُمردوں کو زندہ کیا مگر ہمارے گنگوہی جی نے ُمردوں کو زندہ کیا اور زندوں کو مرنے بھی نہ دیا ۔ چنانچہ مولوی محمود حسن شیخ الہند دیوبندی مذہب گنگوہی کے مرنے پر ان کی تعریف میں مرثیہ لکھتا ہے : ⏬
مُردوں کو زندہ کیا زندوں کو مرنے نہ دیا
اس مسیحائی کو دیکھیں ذری ابن مریم
(مرثیہ گنگوہی صفحہ نمبر 23 محمود الحسن شیخ الہند دیوبندی مذہب)
اس شعر میں حضرت عیسٰی علیہ السّلام سے گنگوہی کو افضل بھی بتایا اور توہین بھی کی ۔
اہلسنت کا عقیدہ : اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام مخلوقات میں سب سے افضل ہیں کوئی غیر نبی کسی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا جو ایسا اعتقاد رکھے کہ کوئی غیر نبی کسی نبی سے افضل ہے وہ کافر اور انبیائے کرام علیہم الصّلوٰۃ والسّلام کی ادنٰی توہین کرنے والا ہے مرتد ہے اس پر توبہ و تجدید ایمان فرض ہے ۔ (قرآن عظیم و احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم و شرح فقہ اکبر و عقائد نسفی و شرح عقائد نسفی و کتاب الشفاء شروح شفاء)
مُردوں کوزندہ کیازندوں کو مرنے نہ دیا
اس مسیحائی کو دیکھیں ذری ابن مریم
اہل زبان حضرات ذرا دیوبندیوں کی اُردوملاخطہ کریں ۔ حیرت ہوتی ہے کہ علمائے دیوبند کی زبان ذاتی کا یہ عالم ہے ۔ اور حوصلہ ہے سرکاردوجہاں عالمِ مایکون وماکان صلی اللہ علی و آلہ وسلّم کو اردو زبان سکھانے کا ۔ العیاذ باﷲ تعالی
تنبیہ : واقعی دیوبندیوں کے نزدیک مولوی رشید احمد صاحب کی مسیحائی حضرت عیسیٰ علیہ السّلام سے بہت بڑھ گئی کیوں کہ جو کام حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی نہ کرسکے وہ مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی نے کرکے دکھا دیا ۔ مردے جلانے میں توبرابر ہی تھے مگر زندوں کوموت سے بچالیا ۔ اس میں ضرورحضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بڑھ گئے جبھی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوان کی مسیحائی دکھائی جاتی ہے اگر مولوی ریشد احمد گنگوہی دیوبندی کی مسیحائی حضرت عیسیٰ علیہ السّلام سے بڑھی ہوئی نہ جانتے تویہ نہ کہتے کہ اس مسیحائی کودیکھیں ذری ابن مریم ۔
مسلمانو انصاف کرو کیا اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی توہین نہیں ہے ، ہے اور ضرور ہے ۔
دیوبندیوں کا سب سے بڑا مددگار غوث اعظم گنگوہی ہے ، بانی اسلام کا ثانی گنگوہی ہے ، اللہ کا فیض تقسیم کرنے والا ، ابر رحمت ، اللہ کا سایہ ، قطب ہے گنگوہی ۔ (مرثیہ گنگوہی صفحہ نمبر 4،چشتی)
اے مسلمانو دیوبندیوں نے اپنے گنگوہی کو پیغمبرِ اسلام رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا ثانی قرار دیا ہے سوال ہے آپ کی غیرتِ ایمانی سے کیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی شانِ اقدس میں گستاخی نہیں ہے فرقہ واریت سے ھٹ کر ایک مسلمان کی حیثیت سے جواب دیجیے ؟ اور یہ گنگوہی کو اللہ کا فیض تقسیم کرنے والا ، غوث اعظم ، اللہ کا سایہ اور اللہ کی رحمت کہیں تو کوئی شرک نہیں اور مسلمانانِ اہلسنت پر شرک کے فتوے کیوں جناب عالی ؟
دیوبندیوں کا حاجت روا مشکل کشاء : اب ہم اپنی دین و دنیا کی حاجتیں کہاں لے جائیں وہ ہمارا قبلہ حاجات روحانی و جسمانی گیا ۔ (مرثیہ گنگوہی صفحہ 7 شیخ الہند دیوبند محمود حسن)
دیوبندیوں کا سب سے بڑا فریاد رس غوثُ الاعظم رشید احمد گنگوہی ہے : ⏬
دیوبندیوں کا قطب العالم ، غوث زماں گنج عرفاں دستگیر بیکساں مولوی رشید احمد گنگوہی ہے ۔ (تذکرۃُ الرشید جلد دوم صفحہ 136۔چشتی)
ہم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو غوث اعظم کہیں تو شرک کے فتوے اور دیوبندی اپنے گنگوہی کو غوث الاعظم لکھیں تو جائز ۔ مولوی عاشق الٰہی دیوبندی لکھتا ہے : رشید احمد گنگوہی قُطبُ العالم اور غوثُ الاعظم ہیں ۔ (تذ کرۃُ الرّشید جلد اوّل قدیم ایڈیشن صفحہ نمبر 2)
کوئی دیوبندی قطب العالم اور غوثُ الاعظم کے معنیٰ بتائے گا ؟
دیوبندیوں کا مشکل کشاء حاجت روا رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں گنگوہی صاحب کا ایسا مرتبہ تھا کہ گنگوہی کے نام کے وسیلے سے حاجتیں پوری ہوتی تھیں ۔ (تذکرۃُ الرشید جلد دوم صفحہ297۔چشتی)
دیوبندیوں کا غوث (یعنی فریاد سننے والا) رشید احمد گنگوہی ہے جس کے وسیلے سے ہزاروں لوگوں کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں ۔ (تذکرۃُ الرّشید جلد دوم صفحہ نمبر 305)
مسلمانانِ اہلسنّت حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو غوثُ الاعظم کہیں تو شرک کے فتوے اور تم اپنے مولوی کو غوثُ الاعظم کہو لکھو تو عین توحید اور ایمان ہو جائے کیوں جناب من یہاں شرک کے فتویٰ کہاں گیا ؟
یا مان لو کہ مسلمانانِ اہلسنت کے عقائد و نظریات حق ہیں یا اپنے مولویوں پر فتویٰ لگاؤ شرک کا ؟
اپنے لیے شریعت اور دوسروں کےلیے اور یہ دہرا معیار چھوڑ کر فتنہ فساد اور تفرقہ پھیلانا چھوڑ دو ۔
دیوبندیوں کا مولوی مظہرِ نورِ ذاتِ خدا ، رنج و غم ٹالنے والا اور چارہ ساز بھی ہے جو اٹھ گیا اب کون رنج و غم مٹائے گا اور چارہ سازی کرے گا چارہ ساز جو اٹھ گیا ۔ (مرثیہ شیخ مدنی صفحہ 24 مطبوعہ راشد کمپنی دیوبند یوپی)
یہی الفاظ مسلمانانِ اہلسنّت کہیں تو شرک مگر یہاں جائز ؟
گنج بخش فیض عالم مظہرِ نورِ خدا پر شرک کے فتوے لگانے والے دیوبندی مفتیو اب لگاؤ نا یہاں شرک کے فتوے ؟
جس نے اللہ کا دیدار کرنا ہو وہ دیوبندیوں کے مولوی کی قبر کی زیارت کرے : ⏬
دیوبندیوں کے اعلیٰ حضرت اور دیوبندی مولوی کی قبر کو دیکھنا اللہ کو دیکھنا ہے ، انوار و برکات ہیں ، دیوبندی مولوی دیوبندیوں کا مولا ہے ، دیوبندی مردہ مولوی کی قبر کی زیارت سے اسرار عیاں ہوتے ہیں ۔ دیوبندی مولوی کی قبر کی زیارت سے دیدار رب العالمین ہوگا ، قبر کو اونچا کرنا چاہا تو قبر والے دیوبندی مولوی کو علم ہو گیا کہا نہ کرو خلافِ سنت ہے ۔ (تاریخ مشائخ چشت صفحہ 235 ، 236 علامہ محمد زکریا کاندھلوی دیوبندی سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند)
دیوبندیوں کا مولوی جانتا ہے کون حلال خرید کر لایا ہے اور کون حرام حلال کے پیسوں کے سیب الگ کر دیئے اور حرام کے پیسوں کے الگ کر دیئے ۔ (خوشبو والا عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم صفحہ نمبر 87 ، 88،چشتی) ۔ یہاں شرک نہیں ہوا جناب ؟
مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی مدد کےلیے پکارتے ہیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم میری مدد کیجیے : یارسول اللہ میری مدد کیجیے آپ کے سوا کہاں میری پناہ ، مشکل میں آپ ہی تو ہیں ، یارسول للہ مد کیجیے ۔ (نشر الطیب صفحہ نمبر 194 علامہ اشرف علی تھانوی مطبوعہ تاج کمپنی پاکستان)
حکیم الامت دیوبند نے پکارا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم آپ ہم سے دور نہیں : ⏬
مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی مدد کےلیے پکارتے ہیں : یا مصطفیٰ یا مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ ہمارے مددگار ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صدقے مشکلیں حل ہوتی ہیں اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم دور ہوں تو ہم مر جائیں ۔ (حیٰوۃُ المسلمین صفحہ نمبر 51 مطبوعہ المیزان اردو بازار لاہور،چشتی)
پکارو یارسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مدد حکیمُ الاُمتِ دیوبند کی زبانی
ضروری نوٹ : دیئے گئے اشعار مؤلف یعنی حکیمُ الاُمتِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب کے ہیں ۔ حکیمُ الاُمتِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں :
یا شفیع العباد خذبیدی
دستگیری کیجئے میری نبی
انت فی الضطرار معتمدی
کشمکش میں تم ہی ہو میرے ولی
لیس لی ملجاء سواک اغث
جز تمہارے ہے کہاں میری پناہ
مسنی الضر سیدی سندی
فوج کلفت مجھ پہ آ غالب ہوئی
غشنی الدھر ابن عبداللہ
ابن عبداللہ زمانہ ہے خلاف
کن مغیثا فانت لی مدری
اے مرے مولٰی خبر لیجئے مری
نام احمد چوں حصینے شد حصین
پس چہ باشد ذات آں روح الامین
کچھ عمل ہی اور نہ اطاعت میرے پاس
ہے مگر دل میں محبت آپ کی
میں ہوں بس اور آپ کا دریا یارسول
ابر غم گھیرے نہ پھر مجھ کو کبھی
خواب میں چہرہ دکھا دیجیے مجھے
اور میرے عیبوں کو کر دیجیے خفی
درگزر کرنا خطاو عیب سے
سب سے بڑھ کر ہے یہ خصلت آپ کی
سب خلائق کےلیے رحمت ہیں آپ
خاص کر جو ہیں گناہگار و غوی
کاش ہو جاتا مدینہ کی میں خاک
نعل بوسی ہوتی کافی آپ کی
آپ پر ہوں رحمتیں بے انتہا
حضرت حق کی طرف سے دائمی
جس قدر دنیا میں ہے ریت اور سانس
اور بھی ہے جس قدر روئیگی
اور تمہاری آل پر اصحاب پر
تابقائے عمر دار اخروی
(نشر الطیب صفحہ نمبر 194 ، 195 ۔ حکیمُ الاُمتِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی مطبوعہ تاج کمپنی پاکستان،چشتی)
فیس بک کے مفتیانِ دیوبند سے سادہ سا سوال اس طرح پکار کر حکیم الامتِ دیوبند مشرک ہوئے کہ نہیں ؟
اگر نہیں تو کیوں ؟
اگر مشرک ہوئے تو آج تک کتنے دیوبندی علماء نے تھانوی صاحب اور ان کی اس کتاب پر شرک کے فتوے لگائے ہیں ؟
کوئی ایک فتویٰ بطور ثبوت دیجیے ؟
اِدھر اُدھر کی باتیں جواب تصور نہیں کی جائیں گی صرف اتنا جواب دیا جائے اس طرح پکارنا جائز ہے یا شرک ؟
مرشد اکابرین دیوبند جناب حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : الصّلوٰۃ والسّلام علیک یارسول اللہ پڑھنے کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے کیونکہ عالم امر مقید نہیں ہے دور و نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ (امداد المشتاق صفحہ نمبر 60 ، دوسرا مطبوعہ صفحہ نمبر 62)
اور مسلک حق کا فیصلہ کیجییے ساتھ ہی کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی زندہ عملی مثال تھانوی صاحب کا حاشیہ پڑھیے کہتے ہیں پڑھنے والے کو اگر کشفی کیفیت حاصل ہو تو پڑھ سکتا ہے ورنہ اجازت نہیں دی جائے گی مگر تھانوی صاحب اسے ناجائز نہیں لکھ سکے اگر وہ یا کوئی دیوبندی اسے ناجائز ، یا شرک کہتا ہے تو مرشد اکابرین دیوبند کو ناجائز کام کا مرتکب اور مشرک قرار دینا پڑے گا اس لیے کہ ناجائز شرک ہر ایک کےلیے ناجائز و شرک ہوگا ۔
کیا حاجی صاحب کے اس فرمان پر تھانوی صاحب سمیت کسی بھی دیوبندی عالم نے شرک و گمراہی کا فتویٰ لگایا اگر لگایا ہے تو ہمارے علم میں اضافہ کےلیے بتایا جائے ؟
اگر نہیں لگا تو مسلمانان اہلسنت کیا کیا قصور ہے کہ وہ یہ درود پڑھیں تو دیوبند کی شرک و گمراہی کی توپیں کھل جاتی ہیں اور امت مسلمہ پر فتوے لگا کر انتشار و فساد پھیلایا جاتا ہے آخر یہ دوغلہ پن و دہرا معیار فتویٰ کیوں ؟
یاد رہے اس جملہ پر بھی غور کیا جائے کہ : عالمِ امر مقید نہیں ہے دور و نزدیک کوئی حیثیت نہیں ۔ جب دور و نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا تو دور و نزدیک بحث عبث یعنی بے کار ہے ۔
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ہادی عالم اور مشکل کشاء ہیں اکابرین دیوبند : ⏬
اکابرین کے پیر و مرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکّی رحمۃ اللہ علیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے علاوہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی مشکل کشاء کہا ہے ۔
دور کر دل سے حجاب جہل و غفلت میرے رب
کھول دے دل میں در علم حقیقت میرے رب
ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے
(کلیاتِ امدادیہ صفحہ نمبر 103 مطبوعہ دار الاشاعت کراچی)
ظاہر ہے کہ جب خود مشکل کشاء کی اصطلاح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کےلیے استعمال کرتے رہے ہیں تو ان کے خلفاء و مریدین کو اس میں کیا عذر لاحق ہو سکتا ہے ۔
دیوبندیوں مشکل کشاء ، پیر دستگیر : ⏬
دیوبندیوں کے امام جناب محمد سرفراز خان صفدر کے چھوٹے بھائی جناب صوفی عبدالحمید خان سواتی صاحب نے تو فوائد عثمانی کا حوالہ صحیح سمجھ کر نقل کیا ہے جس سے ایک صوفی بزرگ مولانا عثمان کو مشکل کشاء اور پیر دستگیر کہا گیا ہے ۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ اس صوفی بزرگ کےلیے حسب ذیل القابات میں نہ صرف مشکل کشاء بلکہ دستگیر کی اصطلاح بھی استعمال کی گئی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں : الہی بحرمت حضرت خواجہ مشکل کشاء ، سید الاولیاء ، سندالاتقیاء ، زبدۃالفقہاء، راس العلماء ، رئیس الفضلاء ، شیخ المحدثین ، قبلۃ السالکین ، امام العارفین ، برہان المعرفہ ، شمس الحقیۃ ، فرید العصر ، وحیدالزمان ، حاجی الحرمین الشریفین ، مظہر فیض الرحمن پیر دستگیر حضرت مولانا محمد عثمان رضی اللہ عنہ ۔ (فیوضات حسینی صفحہ 68 مطبوعہ مدرسہ نصرۃ العلوم گجرانوالہ1387ھ)
شیخ الاسلام دیوبند پکارتے ہیں یا اللہ ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے : ⏬
شیخ الاسلام دیوبند جناب حسین احمد مدنی فرماتے ہیں کہ : کیونکہ دعوات میں توسل کرنا خواہ اعمال صالحہ سے ہو یا عابدین صالحین سے ، اولیاء اللہ سے ہو یا انبیاء اللہ سے ، ملائکہ مقربین سے ہو یا اسماء و صفات و افعال الٰہیہ سے ایجابت دعاء میں بہت زیادہ مفید اور موثر اور سلف صالحین کا محمول بہ امر ہے ۔ اس لیے ان شجروں کو اسی طریق توسل پر ترتیب دیا گیا ہے ، مناسب یہ ہے کہ احباب روزانہ کم از کم ایک مرتبہ جونسا بھی شجرہ پسند خاطر ہو پڑھ لیا کریں اپنے لیے اور اس ناکارہ ننگ خاندان کےلیے بھی دعا کریں ۔ امید قوی ہے کہ اس طریقہ پر دعاء قبول ہوگی ۔ (سلاسل طیبہ صفحہ نمبر 5 مطبوعہ کتبخانہ اعزازیہ دیوبند،چشتی)
شیخ الاسلام دیوبند جناب حسین احمد مدنی فرماتے ہیں کی طرف سے آگے تمام شجروں میں مختلف الفاظ سے اور ایک شجرہ میں واضح طور پر یہ لکھا گیا ہے کہ : ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے ۔ یا اللہ ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے ، اور صالحین علیہم الرّحمہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے وسیلہ و واسطے سے کرم فرما ۔ (سلاسلِ طیّبہ صفحہ 13 مطبوعہ کتبخانہ اعزازیہ دیوبند)
اگر یہی الفاظ مسلمانانِ اہلسنت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور اولیاء کرام علیہم الرّحمہ کےلیے استعمال کرتے ہیں تو شرک کے فتوے مگر اہنے مردہ مٹی میں مل جانے اور گل سڑ جانے والے مولوی کےلیے یہ سب کچھ جائز ہے آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے ؟ اور اب تک کسی دیوبندی عالم اور پر جوش موحد نے اس کتاب پر اور لکھنے والے پر نہ کوئی فتویٰ لگایا اور نہ ہی رد لکھا آخر یہ دہرا معیار کیوں جناب اور امت مسلمہ پر فتوے لگا کر وہی افعال خود اپنا کر منافقت دیکھا کر تفرقہ و انتشار کیوں پھیلایا جاتا ہے آخر کیوں ؟ اصل اسکن پیش خدمت ہیں فیصلہ اہل ایمان خود کریں مسلمانان اہلسنت یہ نظریات رکھیں اور کہیں تو شرک کے فتوے اور دیوبندی خود سب کچھ کریں تو جائز آخر یہ دہرا معیار و منافقت اپنا کر امت مسلمہ میں تفرقہ و انتشار کیوں پھیلایاجاتا ہے ؟
Thursday, 5 December 2019
قبر پرست اور مولوی پرست دیوبندی فرقہ
قبر پرست اور مولوی پرست دیوبندی فرقہ
محترم قارئینِ کرام : حکیمِ بیمارانِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں : جب اثر مزار شریف کا بیان آیا آپ (یعنی حاجی امداد ﷲ) نے فرمایا کہ میرے حضرت کا ایک جولاہا مرید تھا ۔ بعد انتقال حضرت کے مزار شریف پر عرض کیا کہ حضرت میں بہت پریشان اور روٹیوں کا محتاج ہوںکچھ دستگیری فرمائیے ۔ حکم ہوا کہ تم کو ہمارے مزار سے دو آنے یا آدھ آنہ روز ملا کرے گا ۔ ایک مرتبہ میں زیارت مزارکو گیا وہ شخص بھی حاضر تھااس نے کل کیفیت بیان کر کے کہا کہ مجھے ہر روز وظیفہ مقررہ یہیں قبر سے ملا کرتا ہے ۔ (حاشیہ) قولہ وظیفہ مقررہ ۔ اقوال یہ منجملہ کرامات کے ہے ۔ (امداد المشتاق صفحہ نمبر 114 ، 115 مطبوعہ مکتبہ امداد اللہ مہاجر مکی محلہ خانقاہ دیوند)
تھانوی صاحب کی اس روایت اور بیان سے معلوم ہوا کہ ان حضرات کے نزدیک صاحب مزارسے اگر مشکل اور پریشانی عرض کر کے دستگیری کی درخواست کی جائے تو وہ دستگیری اور مددکرتے ہیں ۔ عام طور پر دیوبندیوں کے اہلسنت کے خلاف ایسے واقعات پر شرک کے فتوے ہیں مگر چونکہ بیان کرنے والے اپنے بزرگ ہیں ، جن کے مزار سے یہ دستگیری ہوئی وہ بزرگوں کے بھی حضرت ہیں اس لیئے یہاں پر یہ بات کرامت ہے ۔
یہ حق ، سچ ، ایمان ہے یا کفر ، شرک ، بدعت ہے اور سوال یہ ہے کہ قبر والے سے یہ کہنا کہ : بہت پریشان ہوں اور روٹیوں کو محتاج ہوں کچھ دستگیری فرمائیے
یہ ما تحت الاسباب ہے یا مافوق الاسباب اگر ما تحت الاسباب ہے تو کوئی اور بھی مانگ سکتا ہے یا صرف دیوبندیوں کو اس کی اجازت ہے اور اگر مافوق الاسباب ہے تو شرک ہوا یا نہیں ؟
قبر و مزار پرستی کی تعلیماتِ دیوبند : ⏬
اکابرینِ دیوبند کے پیرو مرشد حاجی امداد ﷲ مہاجر مکی صاحب لکھتے ہیں : اولیاء اور مشائخ کی قبروں کی زیارت سے مشرف ہوا کرے اور فرصت کے وقت ان کی قبروں پر آ کر روحانیت سے ان کی طرف متوجہ ہو اور ان کی حقیقت کو مرشد کی صورت میں خیال کرکے فیض حاصل کر لے اور کبھی کبھی عام مسلمانوں کی قبروں پر جا کر اپنی موت یاد کیا کرے اور ان پر ایصالِ ثواب کرے اور مرشد کے حکم اور ادب کو خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے حکم اور ادب کی جگہ سمجھے کیونکہ مرشدین خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نائب ہیں ۔ (کلیاتِ امدادیہ : صفحہ نمبر 72)
حاجی امداد ﷲ مہاجر مکی صاحب کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ : ⏬
(1) اپنے پیر و مرشد کے حکم اور ادب کو ﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے حکم اور ادب کی جگہ ہی سمجھنا چاہیے ۔
(2) عام مسلمانوں کی قبروں کا حکم تو یہ ہے کہ ان پر کبھی کبھی جا کر ایصالِ ثواب کیا جائے اور ان زیارتِ قبور سے موت کو یاد کیا جائے ۔
(3) مگر اولیاء و مشائخ علیہم الرّحمہ کی قبروں کی زیارت جب فرصت ملے کرنی چاہیئے اور ان کی قبروں پر آ کر عام مسلمانوں کی قبروں سا سلوک نہیں ہونا چاہیے کہ ایصال ثواب کیا جائے یا موت کو یاد کیا جائے بلکہ بزرگوں کی قبروں پر آنے کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ روحانی طور پر ان کی طرف توجہ کی جائے اور ان سے فیض حاصل کیا جائے ۔ اس چیز سے ان بزرگوںکی قبروں سے وہی فائدہ حاصل ہو گا جو ان کی زندگی میں ہوتا تھا ۔ اگر یقین نہ ہو تو ملاحظہ فرمائیے :
حاجی امداد ﷲ مہاجر مکی صاحب اپنے پیر و مرشد میانجی نور محمد صاحب کے آخری وقت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : حضرت نے تشفی دی اور فرمایا کہ فقیر مرتا نہیں ہے ۔ صرف ایک مکان سے دوسرے مکان میں انتقال کرتا ہے فقیر کی قبر سے وہی فائدہ حاصل ہو گا جوزندگی ظاہری میں میری ذات سے ہوتا تھا ۔ (امداد المشتاق:ص۱۱۸ ، تذکرہ مشائخ چشت: ص۲۳۴،چشتی)
اشرف علی تھانوی صاحب اس روایت کوحاجی صاحب سے بیان کرنے کے بعدان کا تجربہ یوں نقل کرتے ہیں : فرمایا حضرت (یعنی حاجی امداد ﷲ) صاحب نے کہ مَیں نے حضرت کی قبر مقدس سے وہی فائدہ اٹھایا ، جو حالت حیات میں اٹھایا تھا ۔ (امداد المشتاق سفحہ نمبر ۱۱۸)
ان دیوبندی اکابرین کے بیانات سے معلوم ہوا کہ ان حضرات کے نزدیک :
(1) کسی بزرگ کی وفات کے بعداس کی قبر سے وہی فائدہ حاصل ہوتا ہے جو اس کی زندگی میں اس کی ذات سے ہوتا تھا ۔
(2) حاجی امداد ﷲ مہاجر مکی صاحب نے اپنے پیر و مرشد کی قبر سے اسی طرح فائدے حاصل کیئے جس طرح ان کی ذات سے زندگی میں حاصل تھے ۔
ایک دیوبندی خان صاحب بیان کرتے ہیں : شاہ ولی اﷲ صاحب بطن مادر میں تھے تو ان کے والد ماجد شاہ عبد الرحیم صاحب ایک دن (خواجہ) قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضر ہوئے اور مراقب ہوئے اور ادراک بہت تیز تھا۔خواجہ صاحب نے فرمایاکہ تمھاری زوجہ حاملہ ہے اس کے پیٹ میں قطب الاقطاب ہے ۔ اس کا نام قطب الدین احمد رکھنا ۔ اقرار و تسلیم فرمایا اور آ کر بھول گئے ۔ ایک روز شاہ صاحب کی زوجہ نماز میں مصروف تھیں ۔ جب انہوں نے دعا مانگی تو ان کے ہاتھ میں دو چھوٹے چھوٹے ہاتھ نمودار ہو گئے ۔ وہ ڈر گئیں اور گھبرا کر شاہ صاحب سے فرمایا کہ یہ کیا بات ہے ۔ فرمایا ڈرو نہیں تمھارے پیٹ میں ولی ﷲ ہے ۔ (ارواحِ ثلاثہ صفحہ نمبر ۲۱)
دیوبندی حضرات کے روایت کردہ اس واقعہ سے معلوم ہوا :
(1) مزاروں پر جا کر مراقبہ کرنے سے جو فیوض و برکات حاصل ہوتی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ صاحبِ قبرسے ، بیٹا ہو گا کہ بیٹی ، نیک ہو گا کہ بد ، جیسی اہم معلومات حاصل ہو سکتی ہیں ۔
(2) اتنی اہم معلومات حاصل ہونے کا فائدہ یہ بھی ہو گا کہ اگر کسی عورت کے پیٹ میں کوئی ﷲ کا ولی پرورش پا رہا ہو تو جب اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ اپنی ولایت کے اظہار کے لیئے اپنی ماں کے ہاتھوں میں نمودار ہوں گے تو خوف محسوس نہیں ہو گا ۔
قبروں اور مزاروں سے فیض اور دستگیری
دیوبندیوں کے فخر المحدثین خلیل احمد سہارنپوری لکھتے ہیں : اب رہا مشائخ کی روحانیت سے استفادہ اور ان کے سینوں اورقبروں سے باطنی فیوض پہنچنا،سو بے شک صحیح ہے ۔ (المھند علی المفند صفحہ نمبر ۳۶)
سوال : بعض بعض صوفی قبور اولیاء پر چشم بند کر کے بیٹھتے ہیں اور سورۃ الم نشرح پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا سینہ کھلتا ہے اور ہم کو بزرگوں سے فیض ہوتا ہے اس بات کی کچھ اصل بھی ہے یا نہیں ۔
دیوبندیوں کے امام ربانی رشید احمد گنگوہی صاحب اس کے جواب میں فرماتے ہیں : اس کی بھی اصل ہے اس میں کچھ حرج نہیں اگر بہ نیت خیر ہے ۔ (تالیفاتِ رشیدیہ مع فتاویٰ رشیدیہ صفحہ نمبر ۱۹۶)
اس سے معلوم ہوا کہ دیوبندیوں کے نزدیک اولیاء اور بزرگوں کی قبروں سے فیض و برکات کا حصول ہوتا ہے ۔ آئیے اب اس دیوبندی عقیدے کی عملی شکل دیکھتے ہیں تا کہ کوئی ابہام باقی نہ رہے ۔
حکیمِ بیمارانِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں : مولوی معین الدین صاحب حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے وہ حضرت مولانا کی ایک کرامت(جو بعد وفات واقع ہوئی) بیان فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ ہمارے نانوتہ میں جاڑہ بخار کی بہت کثرت ہوئی ۔ سو جو شخص مولانا (محمدیعقوب) کی قبر سے مٹی لے جا کر باندھ لیتا اسے ہی آرام ہوجاتا ۔ بس اس کثرت سے مٹی لے گئے کہ جب ڈلوائوں تب ہی ختم ۔ کئی مرتبہ ڈال چکا ۔ پریشان ہو کر ایک دفعہ مولانا کی قبر پر جا کر کہا ۔ یہ صاحبزادے بہت تیز مزاج تھے۔ آپ کی تو کرامت ہو گئی اور ہماری مصیبت ہو گئی ۔ یاد رکھو کہ اگر اب کے کوئی اچھا ہوا توہم مٹی نہ ڈالیں گے ایسے ہی پڑے رہیو ۔ لوگ جوتہ پہنے تمھارے اوپرایسے ہی چلیں گے ۔ بس اس دن سے پھر کسی کو آرام نہ ہوا ۔ جیسے شہرت آرام کی ہوئی تھی ویسے ہی یہ شہرت ہوگئی کہ اب آرام نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں نے مٹی لے جانا بند کر دیا ۔ (ارواحِ ثلاثہ صفحہ نمبر ۲۵۷،چشتی)
دیکھا آپ نے دیوبندیوں کے نزدیک بزرگوں کی قبروں سے کیسے کیسے فیوض و برکات حاصل ہوتے ہیں ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دیوبندیوں کے مولوی بعد از وفات بھی لوگوں کو اپنی قبروں سے نفع پہنچاتے ہیں اوراس پر ان کا اختیار بھی ہے کیونکہ شکایت ہونے پر نفع رسانی بند بھی کی جا سکتی ہے ۔
پیر کی قبرکی زیارت گویا دیدارِ خدا ہے (نعوذ باللہ)
حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے اپنے پیر و مرشد میانجی نور محمد کی قبر کے سرہانے چند اشعار کا ایک کتبہ نصب کروایا ۔ مشہور تبلیغی دیوبندی شیخ الحدیث محمد زکریا کاندھلوی ان اشعار کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں :
’’جس کو ہوئے شوق دیدارِ خدا
ان کے مرقد کی زیارت کو وہ جا
یعنی پیر و مرشد مولا مرے حضرت نو ر محمد نیک پے ۔
(تاریخ مشائخ چشت صفحہ نمبر ۲۳۵)
گویا ان حضرات کے نزدیک اگر کسی کو خدا کی زیارت کا شوق ہو تو چاہیئے کہ حاجی امدادا للہ مہاجر مکی کے پیر و مرشد میانجی نور محمدکی قبر کی زیارت کر لے ۔
خواجہ عزیز الحسن اپنے حکیم الامت اشرف علی تھانوی صاحب کے پردادا کا واقعہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں : پردادا صاحب تو کیرانہ اور شاملی کے درمیان جہاں پختہ سڑک ہے شہید ہوئے ۔۔۔۔ کسی بارات میں تشریف لے جا رہے تھے کہ ڈاکوئوں نے آ کر بارات پر حملہ کر دیا ۔۔۔۔یہ مقابلہ میں شہید ہو گئے ۔۔۔۔ شہادت کے بعد ایک عجیب واقعہ ہوا ۔ شب کے وقت اپنے گھر مثل زندہ کے تشریف لائے اور اپنے گھر والوں کو مٹھائی لا کر دی اور فرمایا کہ اگر تم کسی پر ظاہر نہ کرو گی تو روز اسی طرح آیا کریں گے لیکن ان کے گھر کے لوگوں کو اندیشہ ہوا کہ گھر والے جب بچوں کو مٹھائی کھاتا دیکھیں گے تو معلوم نہیں کیا شبہ کریں اس لیے ظاہر کر دیا اور پھر آپ تشریف نہیں لائے ۔یہ واقعہ خاندان میں مشہور ہے ۔ (اشرف السوانح : جلد نمبر ۱ صفحہ نمبر ۳۹۔۴۰)
دیوبندی تبلیغی جماعت کے شیخ الحدیث زکریا کاندھلوی صاحب لکھتے ہیں : فرمایا کہ ایک صاحب کشف حضرت حافظ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر فاتحہ پڑھنے گئے ۔ بعد فاتحہ کہنے لگے بھائی یہ کون بزرگ ہیں بڑے دل لگی باز ہیں ۔جب میں فاتحہ پڑھنے لگا تو مجھ سے فرمانے لگے کہ جائو کسی مردہ پر پڑھو، یہاں زندوں پر فاتحہ پڑھنے آئے ہو یہ کیا بات ہے؟ تب لوگوں نے بتایا یہ شہید ہیں ۔(امداد السلوک (مقدمہ) : صفحہ نمبر ۲۷)
زکریا کاندھلوی دیوبندی لکھتے ہیں : حضرت ابو سعید خزازؒ فرماتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ میں تھا ۔۔۔۔ کہ میں نے ایک نوجوان کی نعش رکھی ہوئی دیکھی جو نہایت حسین چہرہ والا تھا میں نے جو اسکے چہرہ کو غور سے دیکھا تو وہ تبسم کرتے ہوئے کہنے لگا ابو سعید تمھیں معلوم نہیں کہ عشاق مرتے نہیں بلکہ وہ زندہ ہی رہتے ہیں اگر چہ ظاہر میں مر جائیں انکی موت ایک عالم سے دوسرے عالم میں انتقال ہوتا ہے ۔ (فضائل حج صفحہ نمبر ۲۵۶،چشتی)
زکریا کاندھلوی صاحب مزید روایت کرتے ہیں : شیخ ابو یعقوب سنوسیؒ فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک مرید مکہ مکرمہ میںآیا اور کہنے لگاکہ اے استاد میں کل ظہر کے وقت مر جائوں گا۔۔۔۔جب دوسرے دن ظہر کا وقت آیا وہ مسجد حرام میں آیا اور طواف کیا اور تھوڑی دور جا کر مر گیا ۔۔۔۔ جب اس کو قبر میں رکھا تو اس نے آنکھیں کھولدیں میں نے کہا کیا مرنے کے بعد بھی زندگی ہے؟ کہنے لگا ہاں میں زندہ ہوں ، اور اللہ جل شانہ کا ہر عاشق زندہ ہوتاہے (روض) ۔ (فضائل حج صفحہ نمبر ۲۵۶)
بعد از وفات دیوبندی اکابرین کا تصرف و امداد : ⏬
دیوبندی تبلیغی جماعت کے شیخ الحدیث محمد زکریا کاندھلوی اپنے شیخ المشائخ شاہ عبد القدوس گنگوہی کے متعلق لکھتے ہیں : حضرت نے اپنی کتاب انوار العیون میں تحریر فرمایا ہے کہ حضرت احمد عبد الحق کے منجملہ اور تصرفات کے ایک یہ بھی ہے کہ اپنے وصال سے پچاس سال بعد اس ناچیز کی اپنے روحانی فیض سے تربیت فرمائی ۔ (تاریخ مشائخ چشت صفحہ نمبر ۱۹۳)
اپنے شیخ المشائخ شاہ عبد القدوس گنگوہی کی اس کتاب انوار العیون کے بارے میں زکریا کاندھلوی صاحب لکھتے ہیں : آپ کی مئولفات میں ایک کتاب انوار العیون ہے جس کے سات فن ہیں جن میں حقائق و وقائق تصوف کو جمع فرمایا ہے ۔ (تاریخ مشائخ چشت صفحہ نمبر ۲۰۴)
معلوم ہوا کہ دیوبندی علماء کے نزدیک یہ بات حقیقت ہے کہ ان کے بزرگ و اکابرین فوت شدہ لوگوں سے فیض اور امداد حاصل کرتے رہے ہیں ۔ فوت شدہ لوگوں کا زندوں کی تربیت کرنا دیوبندی بزرگوں کا محض ایک تصرف ہے ورنہ منجملہ اس کے اور بھی کافی تصرفات پر وہ قادر ہیں ۔
مولوی حبیب الرحمٰن دیوبندی مدرسہ دیوبند کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : مولوی احمد حسن صاحب امروہوی اور مولوی فخر الحسن صاحب گنگوہی میں باہم معاصرانہ چشمک تھی اور اس نے بعض حالات کی بنا پر ایک مخاصمہ اور متنازعہ کی صورت اختیار کر لی اور مولانا محمود حسن صاحب گو اصل جھگڑے میں شریک نہ تھے نہ انہیں اس قسم کے امور سے دلچسپی تھی۔مگر صورت حالات ایسی پیش آئی کہ مولانا بھی بجائے غیر جانبدار رہنے کے کسی ایک جانب جھک گئے اور یہ واقعہ کچھ طول پکڑ گیا اور اسی دوران میں ایک دن علی الصباح بعد نماز فجر مولانا رفیع الدین صاحب نے مولانا محمود حسن صاحب کو اپنے حجرے میں بلایا(جو دارالعلوم دیوبند میں ہے) مولانا حاضر ہوئے اور بند حجرے کے کواڑ کھول کر اندر داخل ہوئے موسم سخت سردی کا تھا۔ مولانا رفیع الدین صاحب نے فرمایا کہ پہلے میرا یہ روئی کا لبادہ دیکھ لو ۔ مولانا نے لبادہ دیکھا تو تر تھا اور خوب بھیگ رہا تھا فرمایا کہ واقعہ یہ ہے کہ ابھی ابھی مولانا نانوتوی جسد عنصری کے ساتھ میرے پاس تشریف لائے تھے۔ جس سے میں ایک دم پسینے پسینے ہوگیا اور میرا لبادہ تر بتر ہو گیا اور فرمایاکہ محمود حسن کو کہہ دو کہ وہ اس جھگڑے میں نہ پڑے پس میں نے یہ کہنے کے لیئے بلایا ہے مولانا محمود حسن صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میں آپ کے ہاتھ پر توبہ کرتا ہوں کہ اس کے بعد اس قصہ میں کچھ نہ بولوں گا ۔ (ارواحِ ثلاثہ صفحہ نمبر ۱۹۹)
بانی دیوبند قاسم نانوتوی صاحب کے اس طرح بعد از وفات دیوبند تشریف لانے پر اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں : یہ واقعہ روح کا تمثل تھا اور اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ایک یہ کہ جسد مثالی تھا ۔مگر مشابہ جسد عنصری کے، دوسری صورت یہ کہ روح نے خود عناصر میں تصرف کر کے جسد عنصری تیار کر لیا ہو ۔ (ارواحِ ثلاثہ صفحہ نمبر ۲۰۰،چشتی)
معلوم ہوا کہ دیوبندی علماء و اکابرین کے نزدیک دیوبندی مولویوں کو مرنے کے بعد بھی دنیا کے حالات کی خبر رہتی ہے اورمرنے کے بعد روح کو یہ قدرت بھی حاصل ہوتی ہے کہ وہ چاہے تو خود تصرف کر کے ایک جسم تیار کرے اور حالات کے پیشِ نظر دنیا میں تشریف لا کر مشاورت و امداد کے فرائض انجام دے ۔ یاد رہے کہ بعد وفات تصرف کایہ مظاہرہ ایک بار ہی نہیں ہوا بلکہ متعدد مواقع پراس کا ثبوت دیا گیا ۔ چنانچہ ایک اور دیوبندی عالم مناظر احسن گیلانی لکھتے ہیں : ایسی صورت میں کیوں اصرار کیا جاتا ہے اس کی’’ موت ‘ ‘ کے بعد ہم اس کو مُردوں میں شمار کریں ، یاد ہو گا کہ ایک دفعہ نہیں ، متعدد مواقع پر مشاہدہ کرنے والوں نے بعد وفات دیکھا کہ ’’مولٰنا نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ جسد عنصری کے ساتھ میرے پاس تشریف لائے تھے ‘‘۔‘‘ (سوانح قاسمی،حصہ سوم:ص ۱۴۹۔۱۵۰)
اسی طرح کا ایک اور لمبا واقعہ’’ سوانح قاسمی‘‘ میں موجود ہے جس میں دارالعلوم دیوبند کے انتہائی مشکل میں پھنسے ایک طالبعلم کی مدد اچانک نمودار ہونے والی ایک شخصیت نے کی جو بعد میں اچانک ہی غائب بھی ہو گئی ۔ اس طالبعلم نے اس واقعہ کو اپنے استادشیخ الہند محمود حسن دیوبندی سے بیان کیا ۔ سوانح قاسمی کے مصنف مناظر احسن گیلانی دیوبندی اس پر لکھتے ہیں : حضرت شیخ الہند فرماتے تھے ، میں نے ان مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ اچانک نمودار ہو کر غائب ہو جانے والی شخصیت کا حلیہ کیا تھا،حلیہ جو بیان کیا فرماتے تھے کہ سنتا جاتا تھا اور حضرت الاستاذ کا ایک ایک خال و خط نظر کے سامنے آتا چلا جا رہا تھا۔، جب وہ بیان ختم کر چکے تو میں نے ان سے کہا یہ تو حضرت الاستاذ (قاسم نانوتوی) رحمتہ اللہ علیہ تھے ۔ جو تمھاری امداد کے لیئے حق تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوئے ۔ (سوانح قاسمی ،حصہ اول:ص ۳۳۲)
گویا قاسم نونوتوی صاحب نے اپنی وفات کے بعدمشکل میں پھنسے اس دیوبندی طالبعلم کی امداد کی ۔ اس واقعہ کی توجیہ میں مناظر احسن گیلانی دیوبندی اس دیوبندی عقیدہ کی وضاحت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : بس بزرگوں کی ارواح سے مدد لینے کے ہم منکر نہیں ہیں ۔ (سوانح قاسمی ،حصہ اول:ص ۳۳۲)
مناظر احسن گیلانی دیوبندی ایک اور جگہ اپنے الامام الکبیر قاسم نانوتوی کے متعلق فرماتے ہیں : لیکن قلبی اور باطنی طریقہ پر قلب اس درجہ اولاد پر شفقت سے بھرپور رہتا تھا کہ زندگی ہی کی حد تک نہیں بعد وفات بھی اولاد پر آپ کی وہی نگاہ شفقت قائم رہی ۔ (سوانح قاسمی ،حصہ اول :ص ۵۶۰)
دیوبندی ملاّں قبر سے اٹھ کر مدد کرنے آگیا آخر یہ شرک کیوں نہیں ہے ؟
قاری طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیو بند بیان کرتے ہیں کہ جس زمانے میں مولوی رفیع الدین صاحب مدرسہ کے مہتمم تھے ، دارالعلوم کے صدر مدردین کے درمیان آپس میں کچھ نزاع چھڑ گئی آگے چل کر مدرسہ کے صدر مدرس مولوی محمود الحسن صاحب بھی اس ہنگامے میں شریک ہو گئے اور جھگڑا طول پکڑ گیا . اب اس کے بعد کا واقعہ قاری طیب صاحب ہی کی زبانی سنیے. لکھتے ہیں : اسی دوران میں ایک دن علی الصبح بعد نماز فجر مولانا رفیع الدین صاحب نےمولا نا محمد الحسن صاحب کو اپنے حجرہ میں بلایا (جو دارالعلوم دیو بند میں ہے) مولانا حاضر ہوئے اور حجرہ کے کواڑ کھول کر اندر داخل ہوئے . مولانا رفیع الدین صاحب نے فرمایا کہ پہلے میرا یہ روئی کا لبادہ دیکھ لو . مولانا نے لبادہ دیکھا تو تر تھا اور خوب بھیگ رہا تھا فرمایا کہ واقعہ یہ ہے کہ ابھی ابھی مولانا ناتوتوی جسد عنصری (جسم ظاہری) کے ساتھ میرے پاس تشریف لائے تھے جس سے میں ایک دم پسینہ پسینہ ہو گیا اور میرا لبادہ تر بتر ہو گیا اور یہ فرمایا کہ محمود الحسن کو کہہ دو کہ وہ اس جھگڑے میں نہ پڑے بس میں نے یہ کہنے کے لیے بلایا ہے . مولانا محمودالحسن صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میں آپ کے ہاتھ پر توبہ کرتا ہوں کی اس کے بعد میں اس قصے میں کچھ نہ بولوں گا ۔ ( (ارواحِ ثلاثہ صفحات 193 ، 194 حکایت نمبر 246)
ایک دیوبندی مولوی صاحب کا مناظرہ تھا گھبرائے تو پہلو میں ایک اجنبی آکر بیٹھ گیا اور کہا گفتگو کرو جب گفتگو شروع کی تو جیت گیا حلیہ بتانے پر معلوم ہوا وہ بانی دیوبند نانوتوی صاحب تھے جو قبر سے آکر مدد کررہے تھے اور حاشیہ میں لکھا ارواح اولیاء سے مدد کے ہم دیوبندی بھی اہلسنت کی طرح قائل ہیں یہ مسلہ قرآن و حدیث سے ثابت کیا ہے۔ ارواح اولیاء کا مدد کرنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ (سوانح قاسمی حصّہ اوّل صفحات 331 ،332،چشتی)
دیوبندی عالم جناب مناظر احسن گیلانی اپنے بڑوں کو شرک سے بچانے کےلیئے لکھتے ہیں مجبورا : پس بزرگوں کی ارواح سے مدد لینے کے ہم منکر نہیں ہمارا بھی ارواح صالحین سے مدد کے متعلق وہی عقیدہ ہے جو اہلسنت و جماعت کا ہے اور یہ سب قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ (حاشیہ سوانح قاسمی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 332 قدیم ایڈیشن و صفحہ نمبر 211 جدید ایڈیشن مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور)۔(مزید آپ خود اصل اسکینز میں پڑھیں)
مولوی نانوتوی صاحب کا خدائی تصرف (استغفراللہ)
اب ایک نیا تماشہ اور ملاحظہ فرمائیے قاری صاحب کی اس روایت پر دیوبندی مذہب کے پیشوا حکیم الامت دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب نے اپنا ایک نیا حاشیہ چڑھایا یے جس میں بیان کردہ واقعہ کی توثیق کرتے ہوئے موصوف نے تحریر کیا ہے : یہ واقعہ روح کا تمثل تھا اور اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ایک یہ کہ جسد مثالی تھا مگر مشابہ جسد عنصری کے. دوسری صورت یہ کہ روح نے خود عناصر میں تصرف کر کے جسد عنصری تیار کر لیا ہو ۔ (ارواحِ ثلاثہ صفحات 193 ، 194 حکایت نمبر 246،چشتی)
محترم قارئین کرام دیکھ رہے ہیں آپ ؟ اس واقعہ کے ساتھ کتنے مشرکانہ عقیدے لپٹے ہوئے ہیں . پہلا عقیدہ تو مولوی قاسم صاحب کے حق میں علم غیب کا ہے کیونکہ ان حضرات کے تئییں اگر انہیں علم غیب نہیں تھا تو عالم برزخ میں انہیں کیونکر خبر ہو گئی کی مدرسہ دیوبند میں مدرسین کے درمیان سخت ہنگامہ ہو گیا ہے یہاں تک کہ مدرسہ کےصدر مدرس مولوی محمودالحسن صاحب بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں چل کر انہیں منع کر دیا جائے ۔
اور پھر ان کی روح کی قوت تصرف کا کیا کہنا کہ تھانوی صاحب کے ارشاد کے مطابق اس جہان خاکی میں دوبارہ آنے کےلیے اس نے خود ہی آگ ، پانی اور ہوا ، مٹی کا ایک انسانی جسم تیار کیا اور خود ہی اس میں داخل ہو کر زندگی کے آثار اور نقل و حرکت کی قوت ارادی سے مسلح ہوئی اور لحد سے نقل کر سیدھے دیوبند کے مدرسہ میں چلی آئی ۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ مولوی قاسم صاحب نانوتوی کی روح کے لیے یہ خدائی اختیارات کو بلا چون و چرا مولوی رفیع الدین صاحب نے بھی تسلیم کر لیا مولوی محمودالحسن صاحب بھی اس پر آنکھ بند کر کے ایمان لے آئے اور تھانوی صاحب کا کیا کہنا کہ انھوں نے تو جسم انسانی کا خالق ہی اسے ٹھہرا دیا اور اب قاری طیب صاحب اس کی تشہیر فرما رہے ہیں ۔
ان حالات میں ایک صحیح الدماغ آدمی یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ روح کے تصرفات و اختیارات اور غیبی علم و ادراک کی جو قوتیں سرور کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلّم اور ان کے مقربینرضی اللہ عنہم کے حق میں تسلیم کرنا یہ حضرات کفر و شرک سمجھتے ہیں وہی "اپنے مولانا" کے حق میں کیونکر اسلام و ایمان بن گیا ہے اور توحیدِ خالص بن گیا ؟ کیا یہ صورتحال اس حقیقت کو واضح نہیں کرتی کہ ان حضرات کے یہاں کفر و شرک کی یہ تمام بحثیں صرف اس لیے ہیں کہ انبیاء علیہم السّلام و اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ کی حرمتوں کے خلاف جنگ کرنے کےلیے انہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے ورنہ خالص عقیدہ توحید کا جذبہ اس کے پس منظر میں کار فرما ہوتا تو شرک کے سوال پر اپنے اور بیگانے کے درمیان قطعاً کوئی تفریق روا نہ رکھی جاتی ۔ امید ہے کہ دیوبندی حضرات بھی گالم گلوچ کی بجائے اس پر غور فرمائیں گے اور مہذب انداز میں علمی جواب دینگے ، اللہ پاک ہم سب کو اصل اور نقل کی پہچان فرمائے آمین ۔
ہمارا سوال صرف اتنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نہیں جانتے کون کس حال میں ہے آکر مدد نہیں کر سکتے اور اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ قبر سے مدد نہیں کر سکتے یہ کہتے ہیں دیوبندی مگر جب اپنے مردہ مولویوں کی باری آتی ہے تو سب کچھ جائز بلکہ اسے قرآن و حدیث سے ثابت بھی کرتے ہیں آخر یہ دہرا معیار و منافقت کیوں ؟
کیوں امت مسلمہ میں یہ دہرا معیار اہنا کر فتوے بازی کے بازار گرم کر کے تفرقہ و انتشار کیوں پھیلایا جاتا ہے ؟
اہلسنت و جماعت کے قرآن و حدیث سے ثابت شدہ عقائد و نظریات کو متانزعہ کیوں بنایا جاتا ہے اور جب اپنی باری آتی ہے تو سب کچھ جائز کیوں ہو جاتا ہے ؟
ہم منتظر رہیں گے بحوالہ مہذب علمی جواب کے اوٹ پٹانگ اور جاہلانہ کمنٹ کرنے والے جہلاء ہماری پوسٹ سے دور رہیں ۔
یہ ہیں دیوبندی مولوی جو مرنے کے بعد بھی پچھلوں کو اپنی نگاہِ شفقت میں رکھتے ہیں ۔ ان کے حالات کی خبر رکھتے ہیں اور مشکل میں پھنسے حضرات کی مدد کو پہنچتے ہیں مگر شرک نہیں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
Saturday, 16 May 2026
اعلیٰحضرت پر اعتراض حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کی ہے کا جواب
اعلیٰحضرت پر اعتراض حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کی ہے کا جواب
محترم قارئینِ کرام : اعلیٰ حضرت امامِ عشق و محبت امامِ احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ پہ دیابنہ اور وہابیہ وغیرہ جاہل نما عالم،اعتراض کرتے ہیں کہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شان میں گستاخی کی ہے ۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے حدائق بخشش حصہ سوم میں کچھ اشعار لکھیں ہیں جو گستاخی پہ مبنی ہیں ۔ آیئے پہلے وہ اشعار پڑھتے ہیں پھر اس جاہلانہ اعتراض کا منہ توڑ جواب دیتے ہیں ۔ حدائق بخشش حصہ سوم صفحہ نمبر 37 پہ یہ اشعار درج ہو کر چھپے تھے : ⏬
تنگ و چست انکا لباس اور وہ جوبن کا ابھار
مسکی جاتی ہے قبا سے کمر تک لیکن
یہ پھٹا پڑتا ہے جوبن میرے دل کی صورت
کہ ہوئے جاتے ہیں جامہ سے بروں سینہ و بر
محترم قارئین : اس پہ ایک لطیفہ یاد آیا ، ایک شخص پہ شاعری کا بھوت سوار تھا تو اس نے یہ لاجواب شعر کہا : ⏬
چہ خوش گفت سعدی در زلیخا
کہ عشق نمود اول ولے افتاد شکلہا
اسے یہ فکر نہیں تھی کہ دونوں مصرعوں کا وزن بھی صحیح ہوا ہے یا نہیں ، اور اسے یہ تو خبر ہی نہیں تھی کہ زلیخا مولانا جامی کی تصنیف ہے اور دوسرا مصرعہ حافظ شیرازی کا ہے ۔ اس نے یہ دونوں چیزیں شیخ سعدی کے کھاتے میں ڈال دیں اور اس پر خوش کہ شاندار شعر بن گیا ۔ بس یہی حاصل معترضین کا ہے انہیں یہ علم ہی نہیں کہ حدائق بخشش حصہ سوم امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف و ترتیب نہیں اور نہیں ان کی زندگی میں شائع ہوا ۔ یہ حصہ (حدائق بخشش سوم) مولانا محبوب علی خان رحمۃ اللہ علیہ نے ترتیب دیا اور امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے دو سال بعد شائع ہوا ۔ مولانا محبوب علی خاں رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائیہ کی صفحہ نمبر 10 پر ۲۹ ذی الحجہ ۱۳۴۲ھ کی تاریخ درج کی ہے ، جب کہ اعلی حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی تاریخ وصال ۱۳۴۰ھ ماہ صفر میں ہو چکا تھا ، مولانا محبوب علی خاں سے تیسرے حصہ کی ترتیب و اشاعت میں واضح طور پر چند فروگزاشتیں ہوئیں ۔ انہوں نے اس حصہ کا نام حدائق بخشش حصہ سوم رکھا ، صرف یہی نہیں بلکہ ٹائیٹل پر ۱۳۲۵ھ کا سن بھی درج کر دیا حالانکہ حدائق بخشش صرف پہلے اصل دو حصوں کا تاریخی نام تھا جو ۱۳۲۵ھ میں شائع ہوئے اور تیسرا حصہ ۱۳۴۲ھ میں شائع ہوا یعنی تقریباً ۱۶ یا ۱۷ سال بعد شائع ہوا ۔ (چشتی)
انہوں نے مسودہ نابھ سسٹیم پریس نابھہ کے سپرد کر دیا ، پریس والوں نے خود ہی کتابت کروائی اور خود ہی چھاپ دیا ، مولانا نے اس کے پروف بھی نہیں پڑھے کاتب نے دانستہ یا نادانستہ چند اشعار جو بلکل تھے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شان میں کہے گئے اشعار کے ساتھ ملا کر لکھ دیے ، ان غلطیوں کا خمیازہ انہیں یوں بھگتنا پڑا کہ علامہ مشتاق احمد نظامی رحمۃ اللہ علیہ نے ممبئی کے ایک ہفتہ روزہ میں ایک مراسلہ شائع کروا دیا اور مولانا محبوب علی رحمۃ اللہ علیہ کو اس غلطی کی طرف متوجہ کیا ، مولانا محبوب علی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی اس غلطی سے توبہ کی جو رسالہ سنی لکھنؤ اور روزنامہ انقلاب میں شائع ہوا اور باربار زبانی توبہ کی ۔
اعلان توبہ : ⏬
حدائق بخشش حصہ سوم صفحہ نمبر ۳۷ ، ۳۸ میں بےترتیبی سے اشعار شائع ہو گئے تھے اس غلطی سے بارہا یہ فقیر توبہ کر چکا ہے ، اللہ و رسول کریم میری توبہ قبول فرمائے آمین ثم آمین، اور سنی مسلمان خدا و رسول کے لئے معاف فرما دیں ۔ (فیصلہ شرعیہ قرآنیہ صفحہ ۳۱ ، ۳۲)
اس تفصیل سے حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ پہ گستاخی کا الزام درست نہیں ہے بلکہ یہ سراسر بہتان ہے ۔
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ اور اکابر دیوبند : ⏬
علامہ اشرف علی تھانوی کہتے ہیں : مولانا احمد رضا عاشق رسول ہیں وہ ہمیں کافر کہتے ہیں اور وہ ہمیں کافت نہ کہتے تو خود کافر ہو جاتے ۔ (ملفوظات حکیم الامت)
مولانا ابوالکلام آزاد کہتے ہیں : امام احمد رضا ایک عاشق رسول ہیں میں سوچ بھی نھیں سکتا کے ان سے توہین نبوت ہو ۔ (تحقیقات صفحہ نمبر ۱۲۵)
خلاصہ یہ ہے کہ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے وہ کتاب ہی نہیں لکھی بلکہ الگ الگ اشعار لکھے ہوئے تھے، مولانا محبوب علی نے ان اشعار کو جمع کیا اور پریس میں دے دیا ، اور جو اشعار مشرکین عورتوں کی مذمت کے بارے میں لکھے تھے ، اسے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں لکھے گئے اشعار کے ساتھ ملا دیا اور یہ غلطی پریس والوں کی تھی نہ کہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے ۔ نہ تو امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے وہ کتاب لکھی نہ چھپائی اور نہ ہی دیکھی پھر الزام کیسا ؟ ۔ اللہ ہدایت دے ایسے جاہل نما متعصب علماء کہلانے والوں کو جو بہتان لگاتے ہیں اور فضول اعتراض کرتے ہیں آمین ۔ نوٹ: تفصیل کے لئے فیصلہ مقدسہ شرعیہ قرآنیہ کا مطالعہ فرمائیں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
انتہائی متعصب غیر مقلاد وہابی عالم احسان الٰہی ظہیر لکھتا ہے : بریلوی نے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں ایسے کلمات کہے کہ انہیں سنی کبھی زبان پر نہیں لا سکتا ۔ (ظہیر: البریلویۃ صفحہ ۲۱) اللھم سبحٰنک ھٰذا بھتان عظیم ۔
جواب نمبر 2 : حدائق بخشش حصہ سوم : امام احمد رضا بریلوی کا نعتیہ دیوان دو حصے پر مشتمل ہے ۔ یہ ۱۳۲۵ھ/۱۹۰۷ء میں مرتب اور شائع ہوا۔ ماہِ صفر ۱۳۴۰ھ/۹۱۲۱ء کو آپ کا وصال ہوا۔ وصال کے دو سال بعد ذوالحجہ ۱۳۴۲ھ/۱۹۲۳ء میں مولانا محمد محبوب علی قادری لکھنوی نے آپ کا کلام متفرق مقامات سے حاصل کر کے حدائق بخشش حصہ سوم کے نام سے شائع کر دیا۔ انہوں نے مسو وہ نابھہ سٹیم پریس ، نابھہ (پٹیالہ ، مشرقی پنجاب بھارت)کے سپرد کر دیا، پریس والوں نے کتابت کروائی اور کتاب چھاپ دی ۔ کاتب بد مذہب تھا ، اس نے دانستہ یا نادانستہ چند ایسے اشعار ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مدح کے قصیدے میں شامل کر دیے جو ام زرع وغیرہ مشرکہ عورتوں کے بارے میں تھے ، ان عورتوں کا ذکر حدیث کی کتابوں مسلم شریف ، ترمذی شریف اور نسائی شریف وغیر میں موجود ہے ۔
مولانا محمد محبوب علی خاں سے چند ایک تسامح ہوئے : ⏬
(1) چھپائی سے پہلے انہوں نے اپنی مصروفیات اور پریس والوں پر اعتماد کر کے چھپنے سے پہلے کتابت کو چیک نہ کیا ۔
(2) کتاب کا نام حدائق بخشش حصہ سوم رکھ دیا ، حالانکہ انہیں چاہیے تھا کہ ‘‘ باقیاتِ رضا یا اسی قسم کا کوئی دوسرا نام رکھتے ۔
(3) ٹائیٹل پیج پر کتاب کے نام کے ساتھ ۱۳۲۵ھ بھی لکھ دیا، حالانکہ یہ سن پہلے دو حصوں کی ترتیب کا تھا جو مصنف کے سامنے ہی چھپ چکے تھے ۔ تیسرا حصہ تو ۱۳۴۲ھ میں مرتب ہو کر شائع ہوا۔ (محمد محبوب علی خاں مولانا حدائق بخشش نابھہ سٹیم پریس نابھہ صفحہ ۱۰) ۔ اسی لیے ٹائیٹل پیج پر امام احمد رضا بریلوی کے نام کے ساتھ رضی اللہ تعالیٰ عنہ و رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھا ہوا ہے ۔ اگر ان کی زندگی اور ۱۳۲۵ھ میں یہ کتاب چھپتی ، تو ایسے دعائیہ کلمات ہر گز نہ درج ہوتے ۔
(4) یہ مجموعہ مرتب کر کے امام احمد رضا بریلوی کے صاحبزادے مولانا مصطفےٰ رضا خاں یا بھتیجے مولانا حسنین رضا خاں کو دکھائے اور منظوری حاصل کیے بغیر چھاپ دیا ۔
(5) کتاب چھپنے کے بعد جیسے ہی صورتِ حال سامنے آئی تھی، اس غلطی کی تصحیح کا اعلان کر دیتے تو صورتِ حال اتنی سنگین نہ ہوتی، لیکن یہ سوچ کر خاموش رہے کہ اہلِ علم خود ہی سمجھ جائیں گے کہ یہ اشعار غلط جگہ چھپ گئے ہیں اور آئندہ ایڈیشن میں تصحیح کر دی جائے گی ۔
محمد ثِ اعظم ہند سید محمد محدث کچھو چھوی رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے حضرت علامہ سید محمد مدنی میاں فرماتے ہیں : مجھے محبوب الملت (مولانا محمد محبوب علی خاں) کے خلوص سے انکار نہیں اور نہ ہی یہ ماننے کےلیے تیار ہوں کہ انہوں نے امام احمد رضا کی کسی قدیم رنجش کی بناء پر ایسا کیا ، لیکن میں اس حقیقت کے اظہار سے بھی اپنے کو روک نہیں پا رہا ہوں کہ محبوب الملت نے کسی سے مشورہ کیے بغیر حدائق بخشش میں تیسری جلد کا اضافہ کر کے اپنی زندگی کا سب سے بڑ ا تسامح کیا ہے ۔ ایک ایساتسامح جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ایک ایسی فاش غلطی جس کی تنہا ذمہ داری محبوب الملت پر عائد ہوتے ہوئے بھی امام احمد رضا کو مخالفین کے اتہام کی زد سے بچا نہ سکی۔ سوچ کر بتائے کہ اس میں امام احمد رضا کی کیا غلطی ؟ غیر شعوری ہی کیوں نہ ہو، آنے والا مؤ رخ اس طرح کی خوش عقیدگی کو ظلم ہی سے معنون کرے گا ۔ (شرکتِ حنفیہ لا ہور انوارِ رضا صفحہ ۲۱)
ایک عرصہ بعد دیوبندی مکتبِ فکر کی طرف سے پورے شدومد سے یہ پروپگنڈہ کیا گیا کہ مولانا محمد محبوب علی خاں نے حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بارگاہ میں گستاخی کی ہے ، لہٰذا انہیں بمبئی کی سنی جامع مسجد سے نکال دیا جائے ۔ مولانا محمد محبوب علی خاں نے اسے اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنایا اور وہ کچھ کیا جو ایک سچے مسلمان کا کام ہے ۔ انہوں نے مختلف جرائد اور اخبارات میں اپنا توبہ نامہ شائع کرایا۔ علامہ مشتاق احمد نظامی (مصنف خون کے آنسو) نے ایک ہفت روزہ کے ذریعے انہیں غلطی کی طرف متوجہ کیا تھا اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ⏬
آج ۹ ذیقعد ہ ۱۳۷۴ ھ کو بمبئی کے ہفتہ وار اخبار میں آپ کی تحریر ’’حدائق بخشش‘‘ حصہ سوم کے متعلق دیکھی ، ’’جواباً پہلے فقیر حقیر اپنی غلطی اور تساہل کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور اس خطا اور غلطی کی معافی چاہتا ہے اور استغفار کرتا ہے ، خدا تعالیٰ معافی بخشے ، آمین ۔ (ماہنامہ سنی دنیا شمارہ ذوالحجہ ۱۳۷۴ھ صفحہ ۱۷)(محمد مظہر اللہ دہلوی مفتی : فتاویٰ مظہری مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی جلد ۲ صفحہ ۳۹۳)
اس کے باوجود مخالفین نے اطمینان کا سانس نہ لیا ، بلکہ پروپیگنڈہ کیا کہ یہ توبہ قابل قبول نہیں ہے ۔ اس پرعلمائے اہل سنت سے فتوے حاصل کے گئے کہ ان کی توبہ یقیناً مقبول ہے ، کیونکہ انہوں نے یہ اشعار نہ تو ام المومنین کے بارے میں کہے اور نہ لکھے ہیں ، ان کی غلطی صرف اتنی تھی کہ کتابت کی دیکھ بھال نہ کر سکے ۔ اس کی انہوں نے علی الاعلان اور بار بار توبہ کی ہے اور درِ توبہ کھلا ہوا ہے ۔ پھر کسی کے یہ کہنے کا کیا جواز ہے کہ توبہ قبول نہیں ۔ یہ فتاویٰ فیصلہ مقدسہ کے نام سے ۱۳۷۵ھ میں چھپ گئے اور تمام شورِ اور شر ختم ہو گیا، اس میں ایک سو انیس علماء کے فتوے اور تصدیقی دستخط ہیں ۔ الحمد للہ! کہ فیصلہ مقدسہ ، مرکزی مجلس رضا لاہور نے دوبار چھاپ دیا ہے ۔ تفصیلات اس میں دیکھی جا سکتی ہیں ۔
مقامِ غور ہے کہ جو کتاب امام احمد رضا بریلوی کے وصال کے بعد مرتب ہو کر چھپی ہو ، اس میں پائی جانے والی غلطی کی ذمہ دار ی ان پر کیسے ڈالی جا سکتی ہے ؟ ۱۳۷۴ھ/۱۹۵۵ء میں بھی جب یہ ہنگامہ کھڑ ا کیا گیا تو تمام تر ذمہ داری مولانا محمد محبوب علی خاں مرتب کتاب پر ڈال دی گئی تھی ۔ کسی نے بھی یہ نہ کہا کہ امام احمد رضا بریلوی نے حضرت امام المومنین کی شان میں گستاخی کی ہے ۔ لیکن آج حقائق سے منہ موڑ کر گستاخی کا الزام انہیں دیا جا رہا ہے ۔
آج تک امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے ہم مسلک علماء پر یہی الزام عائد کیا جاتا تھا کہ یہ لوگ انبیاء علیہم السّلام و اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ کی محبت و تعظیم میں غلو سے کام لیتے ہیں ۔ پھر یکا یک یہ کایا پلٹ کیسے ہو گئی کہ انہیں گستاخی کا مرتکب قرار دیا جا رہا ہے ؟ دراصل امام احمد رضا بریلوی نے بارگاہِ خداوندی اور حضرات انبیاء واولیاء کی شان میں گستاخی کرنے والوں کا سخت علمی و قلمی محاسبہ کیا تھا ، جس کا نہ تو جواب دیا جا سکا اور نہ ہی توبہ کی توفیق ہوئی، الٹا انہیں بے بنیاد الزام دیا جانے لگا کہ یہ گستاخی کے مرتکب ہیں ۔
مولوی محمد اسماعیل دہلوی اپنے پیر و مرشد سید احمد (رائے بریلی) کے بار ے میں کہتے ہیں کہ کمالات طریقِ نبوت اجمالاً تو ان کی فطرت میں موجود تھے ۔ پھر ایک وقت آیا کہ یہ کمالات راہِ نبوت تفصیلاً کمال کو پہنچ گئے اور کمالاتِ طریقِ ولایت بطریقِ احسن جلوہ گر ہو گئے ۔ ان کمالات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : جناب علی مرتضیٰ نے حضرت کو اپنے دستِ مبارک سے غسل دیا اور ان کے بدن کو خوب دھویا ، جیسے باپ اپنے بچوں کو مل مل کر غسل دیتے ہیں اور حضرت فاطمہ زہرا نے بیش قیمت لباس اپنے ہاتھ سے انہیں پہنایا ۔ پھر اسی واقعہ کے سبب کمالاتِ طریقِ نبوت انتہائی جلوہ گر ہو گئے ۔ (صراط مستقیم)
یہ اگرچہ خواب کا واقعہ بتا یا جا رہا ہے ۔ لیکن ہمیں یہ پوچھنے کا حق ہے کہ ایسے واقعات کا کتابوں میں درج کرنا اور پھر فارسی اور اُردو میں انہیں بار بار شائع کرنا حضرت خاتونِ جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شان میں سو ادبی نہیں ہے ؟ پھر کیا وجہ ہے کہ علمائے اہل سنت کے توجہ دلانے کے باوجود علماء دیوبند و اہل حدیث نے اس کا تدارک نہ کیا اور نہ ہی توبہ کی ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی) ۔ مکمل فتویٰ فیصلہ مقدسک شرعیہ قرآنیہ اس لنک میں پڑھیں : ⏬
https://archive.org/details/FaislaMuqadasa
Monday, 11 May 2026
امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور اصلاح مساجد
امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور اصلاح مساجد
محترم قارئینِ کرام : امام عشق و محبت مجدد دین و ملت ، اعلیٰ حضرت الحاج الشاہ امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی آج دنیائے اسلام کےلیے محتاج تعارف نہیں ۔ آپ ایسے عالم ربانی تھے جو بہ یک وقت محدث و مفسر ، فقیہ اور محتاط عالم ہونے کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کے عظیم مصلح اور داعی بھی تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کی پوری زندگی سنت و شریعت کی آئینہ دار اور عشق رسول کی جیتی جاگتی تصویر تھی ۔ آپ نے خلق خدا کی رشد و ہدایت کےلیے سو سے زائد علوم و فنون پر گیارہ سو سے زائد کتابیں تحریر فرمائیں اور دو سو سے زائد کتابوں کے شروح و حواشی تحریر کیے ۔ جن سے آج ایک جہاں فیض یاب ہورہا ہے ۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء بہ ایں وجہ اکابر و معاصرین نے آپ کی خدمات جلیلیہ کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ آیۃ من آیات اللہ اور چودھویں صدی ہجری کا مجدد تسلیم کیا ۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
آپ نے جہاں اپنے زمانے میں پنپنے والی تمام عملی و نظریاتی خرابیوں کے سدباب کی کوشش فرمائی وہیں مساجد کی اصلاح پر بھی خاصا زور دیا جس پر آپ کی تحریریں اور فتاویٰ شاہد عدل ہیں ۔ مگر افسوس آج مسلمان ان سے یکسر غافل ہیں ۔ اس لیے ذیل میں ہم مختلف عنوانات کے تحت اصلاح مساجد کے تعلق سے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریریں درج کر رہے ہیں تاکہ منتظمین ، ائمہ نیز دیگر وابستگان مساجد اکتساب فیض کے ساتھ ساتھ اپنے احوال کی اصلاح کر سکیں ۔
مسجد بہ ہر صورت بانی کے نام رہے گی : ⏬
ہمارے علم میں شہر کلکتہ میں بہت سی ایسی مسجدیں ہیں جن کے نام تعمیر جدید کے بعد لوگوں نے بانیان مساجد کا نام بدل کر دوسرا کردیا ہے۔ حالانکہ یہ جائز نہیں ۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مسجد قیامت تک اصل بانی کے نام سے رہے گی اگرچہ اس کی شکست و ریخت یا شہید ہوجانے کے بعد دوبارہ تعمیر اور لوگ کریں ثواب ان کے لئے بھی ہے مگر بنا بانی وقف کے واسطے خاص ہے ۔ فان اصل المسجد الارض والعمارۃ وصف ولایکون من اعاد الوصف کمن احدث الاصل ، کیونکہ اصل مسجد تو زمین ہے اور عمارت وصف ہے ۔ چنانچہ جس نے وصف کا اعادہ کیا وہ موجد اصل کی مانند نہیں ہوسکتا ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 257،چشتی)
مسجد میں کارخیر کیلئے چندہ کرنا اور عالم کا وعظ کہنا جائز ہے : ⏬
کچھ لوگوں کے ذہن میں یہ غلط نظریہ راسخ ہوچکا ہے کہ چونکہ مسجد میں کسی غریب کا سوال کرنا جائز نہیں ، اس لیے مدرسہ کےلیے چندہ کرنا یا اس کےلیے اعلان کرنا بھی درست نہیں ۔ اسی طرح امام کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے عالم کا وعظ کہنا درست نہیں ۔ اگرچہ امام تقریر کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو ۔ جبکہ یہ صحیح نہیں ہے ۔ دیکھیے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کیا فرماتے ہیں : مسجد میں کارخیر کےلیے چندہ کرنا جائز ہے جبکہ شور و چپقلش نہ ہو خود احادیثِ صحیحہ سے اس کا جواز ثابت ہے ۔ مسجد میں وعظ کی بھی اجازت ہے جبکہ واعظ عالم دین سنی صحیح العقیدہ ہو اور نماز کا وقت نہ ہو ، اور ان دونوں باتوں کو کہ منکرات سے خالی ہوں متولی یا کوئی منع نہیں کرسکتا ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 361،چشتی)
متولی مسجد کا دیانت دار ہونا ضروری ہے : ⏬
قرآن پاک ہمیں یہ نظریہ دیتا ہے کہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں مکرم و افضل وہ ہے جو متقی و پرہیز گار ہو لیکن ہم مسلمانوں کی حرماں نصیبی کہیے کہ ہم نے تقویٰ و پرہیزگاری کو چھوڑ کر محض مال و دولت کو وجہ شرف سمجھ لیا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیاوی معاملات کی طرح فی زمانہ مساجد و مدارس میں بھی ایسے ہی لوگ متولی و منتظم مقرر کیے جاتے ہیں جو خوب مال دار و دولت مند ہوں ۔ اگرچہ نماز نہ پڑھتے ہوں اور نجی معاملات میں دغا و دھوکہ کے مرتکب ہوں ۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں : اس (متولی) کےلیے دیانت دار کار گزار ہونا شرط ہے ۔ مال دار ہونا ضروری نہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 258)
خائن کا متولی ہونا درست نہیں : ⏬
خائن جس کی خیانت ظاہر ہو، اسے متولی و منتظم بنے رہنے کا کوئی حق نہیں ۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : درمختار میں ہے ۔ وینزع وجوبا ولو الواقف فغیرہ اولیٰ لو غیر مامومن ، خائن متولی کو ولایت وقف سے وجوباً نکال دیا جائے گا (بزازیہ) اگرچہ وہ خود وقف کرنے والا ہو، تو غیر واقف کو بہ صورت خیانت بدرجہ اولیٰ نکال دینا واجب ہوگا ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 598)
بلا ضرورت مسجد کی نئی تعمیر جائز نہیں : ⏬
شہروں میں بڑی تیزی کے ساتھ لوگوں کا یہ مزاج بن رہا ہے کہ پڑوسی محلے کی مسجد نئی بن رہی ہے تو ہماری مسجد بھی نئی بننی چاہیے ۔ اگر وہ تین منزلہ ہے تو ہماری چار منزلہ ہونی چاہیے ۔ اگرچہ پرانی عمارت مضبوط و مستحکم ہی کیوں نہ ہو اور نمازیوں کےلیے کافی کچھ اس میں گنجائش ہی کیوں نہ ہو ۔ جبکہ یہ سراسر غلط اور ناجائز ہے ۔ دیکھیے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کیا فرماتے ہیں : اور اگر (مسجد) اس لیے شہید کی یہیں از سرِ نو اس کی تعمیر کرائے تو اگر یہ امر بے ۔ حاجت و بِلا وجہ صحیح شرعی ہے تو لغو عبث و بے حرمتی مسجد و تضیع مال ہے اور یہ سب ناجائز ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 354،چشتی)
مسجد میں معتکف کے علاوہ کسی کا سونا جائز نہیں : ⏬
روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ بہت سے لوگ روزانہ دوپہر کے وقت یا ویسے ہی مسجد میں سو جایا کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے تعلق سے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : صحیح راجح یہ ہے کہ معتکف کے سوا کسی کو مسجد میں سونے کی اجازت نہیں ۔ در مختار وغیرہ میں ہے : کرہ النوم فیہ الاالمعتکف ۔ مسجد میں غیر معتکف کے لئے سونا جائز نہیں (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 434)
مسجد میں ناسمجھ بچوں کا جانا اور معلم کا اجرت لے کر پڑھانا جائز نہیں : ⏬
کسی نے سوال کیا ناسمجھ بچوں کا مسجد میں جانا اور اجرت لے کر معلم کا انہیں پڑھانا جائز ہے یا نہیں ؟ اس مسئلہ کا جواب آپ رحمۃ اللہ علیہ یوں دیتے ہیں : مسجد میں نا سمجھ بچوں کےلیے جانے کی ممانعت ہے ۔ حدیث میں ہے۔جنبوا مساجد کم صبیانکم و مجانیئکم ۔ (سنن ابن ماجہ) ، اپنی مساجد کو ناسمجھ بچوں اور پاگلوں سے محفوظ رکھو ۔ خصوصاً اگر پڑھانے والا اجرت لے کر پڑھاتا ہو تو اور بھی زیادہ ناجائز ہے کہ اب کار دنیا ہوگیا اور دنیا کی بات کےلیے مسجد میں جانا حرام ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 434چشتی)
مسجد میں سوال کرنا جائز نہیں : ⏬
عموماً غربا و مساکین فرض نمازوں کے بعد اپنی بے بسی و بے چارگی کا ذکر کرکے لوگوں سے امداد طلب کرتے ہیں جبکہ مسجد کے اندر کسی سے سوال کرنا جائز نہیں ہے ۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مسجد میں اپنے لیے مانگنا جائز نہیں اور اسے دینے سے بھی علماء نے منع فرمایا ہے ۔ یہاں تک کہ امام اسمٰعیل زاہد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : جو مسجد کے سائل کو ایک پیسہ دے اسے چاہئے کہ ستر پیسے اللہ تعالیٰ کے نام پر اور دے کہ اس پیسہ کا کفارہ ہوں اور کسی دوسرے کےلیے مانگا یا مسجد خواہ کسی اور ضرورت دینی کےلیے چندہ کرنا جائز اور سنت سے ثابت ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 418)
امام مسجد کے ضروری اوصاف : ⏬
امام صرف پنج گانہ نمازوں کا امین ہی نہیں بلکہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں قوم کا ترجمان ہوتا ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ عالم ، فاضل ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے عادات و خصائل کا پیکر ہو ۔ اس مسئلہ میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : امام مسجد صحیح العقیدہ صحیح الطہارۃ ، صحیح القرأت ، غیر فاسق معلن ، عالم احکام نماز و طہارت ہونا چاہیے جس میں ایسی کوئی بات نہ ہو جس سے جماعت کی قلت و نفرت پیدا ہو ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 418)
فاسق کی امامت درست نہیں : ⏬
فی زمانہ بہت سے ایسے لوگ امامت سے وابستہ ہیں جن کی داڑھی ایک مشت سے کم یا وہ کسی ایسے کام کے مرتکب ہیں جن کو شریعت نے فسق قرار دیا ہے لہٰذا وہ ضرور فاسق ہیں اور ان کی امامت کسی طرح درست نہیں ۔ مگر وہ جوڑ توڑ کے ذریعہ زبردستی منصب امامت سے جڑے رہنا چاہتے ہیں ۔ ایسوں کے تعلق سے اعلیٰ حضرت کا نظریہ ملاحظہ فرمائیں ۔ فرماتے ہیںِ : فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنا منع اور پڑھ لی تو پھیرنا واجب ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 431،چشتی)
تمامیت مسجد کے بعد اس میں دکان یا امام کےلیے حجرہ بنانا جائز نہیں : ⏬
اخراجات مسجد پورا کرنے کےلیے بعض مساجد کے ذمہ دار حضرات مسجد کی نئی عمارت کی تعمیر کے وقت اس کے نیچے تہہ خانہ بنا کر اسے کرایہ پہ لگا رہے ہیں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ مسجد سے کچھ جگہ نکال کر دکانیں بنائی جارہی ہیں ۔ جبکہ یہ کسی بھی طرح صحیح نہیں ۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : متولی کو مسجد کی حد یا مسجد کے فنا میں دکانیں بنانے کا اختیار نہیں کیونکہ مسجد کو جب دکان یا رہائش گاہ بنا لیا جائے تو اس کا احترام ساقط ہو جاتا ہے جو کہ ناجائز ہے اور فنائے مسجد چوں کہ مسجد کے تابع ہے لہٰذا اس کا حکم بھی وہی ہوگا جو مسجد کا ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 352،چشتی)
اسی مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں : ہاں وقت بنائے مسجد قبل تمام مسجدیت نیچے مسجد کےلیے دکانیں اور اوپر امام کےلیے بالاخانہ بنائے اور اس کے بعد اسے مسجد کرے تو جائز ہے اور اگر مسجد بناکر بنانا چاہے اگرچہ مسجد کی دیوار کا صرف اسارہ اس میں لے اور کہے میری پہلے سے یہ نیت تھی ہرگز قبول نہ کریں گے اور اس عمارت کو ڈھادیں گے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 432)
بلا ضرورت نچلے منزلے کو چھوڑ کر مسجد کے اوپری منزلے پر نماز پڑھنا درست نہیں گرمی کے زمانے میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بجلی نہ رہنے کی صورت میں نماز مسجد کی چھت پر ادا کی جاتی ہے جوکہ صحیح نہیں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مسجد کی چھت پر بلا ضرورت جانا منع ہے اگر تنگی کے سبب نیچے کا درجہ بھر گیا اوپر نماز پڑھیں جائز ہے اور بلا ضرورت مثلا گرمی کی وجہ سے پڑھنے کی اجازت نہیں ۔ کما نص علیہ فی الفتاویٰ عالمگیریہ ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 439،چشتی)
امامت میں وراثت نہیں، جو نماز کا پابند نہیں امام نہیں ہو سکتا : ⏬
ناخواندگی اور علم دین سے دوری کے سبب کچھ لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ امامت میں بھی میراث جاری ہوتی ہے لہٰذا امام کے انتقال کے بعد ان کے بیٹوں میں سے کسی کو امام بنانا چاہیے ، اس کی داڑھی مکمل ہو یا نہ ہو ، چاہے قرآن صحیح نہ پڑھتا ہو اور احکام شرع سے مطلق واقفیت نہ رکھتا ہو بہ ہر صورت وہی امام بنے گا جبکہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : امامت میں میراث جاری نہیں ۔ پھر ایک سطر کے بعد لکھتے ہیں : جو نماز کا پابند نہ ہو لائق امامت نہیں اسے معزول کرنا واجب ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 477)
تعلیم یافتہ کی موجودگی میں غیر پڑھے لکھے کو امام مقرر کرنا : ⏬
علاقائی عصبیت یا ہم مشربیت کے سبب یا قرابت یا رشتہ داری یا کسی کی سفارش کی بنیاد پر تعلیم یافتہ کی موجودگی میں غیر تعلیم یافتہ کو امام مقرر کرنا کسی طرح درست نہیں ، لیکن بدقسمتی سے آج کل اس کا رواج بڑھتا جارہا ہے ۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر متولی دیدہ دانستہ افضل کے ہوتے ہوئے مفضول کو امام مقرر کرے تو وہ اس حدیث کا مورد ہے کہ من استعمل علی عشرۃ من فیہم ارضی منہ ﷲ تعالیٰ فقد خان اللہ رسولہ والمومنین ۔ (کنزالعمال) ، جس نے دس شخصوں پر کسی ایسے کو افسر کیا کہ نظر شرع میں اس سے بہتر ان میں موجود تھا تو اس نے اللہ و رسول اور مسلمان سبکی خیانت کی ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 567،چشتی)
مسجد میں کافر کا جانا جائز نہیں : ⏬
الیکشن کے زمانے میں ووٹ مانگنے کےلیے یاعام دنوں میں اظہار یکجہتی کےلیے سیاسی لیڈران سیاست سے جڑے مسلمانوں کی دعوت پر مسجد آیا کرتے ہیں ۔ حالانکہ انہیں مسجد بلانا اور مسجد میں ان کا بیان کرانا جائز نہیں ہے ۔ دیکھئے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اس مسئلہ میں کیا فرما رہے ہیں : کافر کا اس (مسجد) میں جانا بھی بے ادبی ہے : کما حققناہ فی فتاونا بتوفیقہ تعالیٰ ، (جیسا کہ الل تعالیٰ کی توفیق سے اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاویٰ میں کردی ہے) وہو تعالیٰ اعلم ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 347)
مسجد کو گندگی سے بچانا ضروری ہے : ⏬
مسجد کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر طرح کی گندگی اور خراب مہک سے صاف رکھنے کا حکم فرمایا ہے مگر منتظمین و مصلی حضرات فی زمانہ اس امر سے مجرمانہ حد تک غفلت کا شکار ہیں ۔ دیکھیے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اس سلسلے میں کیا تحریر فرما رہے ہیں : مسجد کو بو سے بچانا واجب ہے لہذا مسجد میں مٹی کا تیل جلانا حرام ، مسجد میں دیا سلائی سلگانا حرام ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 232،چشتی)
پھر چند سطور کے بعد یہ حدیث نقل فرماتے ہیں : من اکل من ہذہ الشجرۃ الخبیثۃ فلا بقربن مصلانا۔جو اس گندے پیڑ میں سے کھالے یعنی کچا پیاز یا کچا لہسن وہ ہماری مسجد کے پاس نہ آئے ۔ پھر یہ حدیث نقل فرمائی ۔ فان الملائکۃ تتاذی ممایتا ذی منہ بنو آدم ۔ یعنی یہ خیال نہ کرو کہ اگر مسجد خالی ہے تو اس میں کسی بو کا داخل کرنا اس وقت جائز ہو کہ کوئی آدمی نہیں جو اس سے ایذا پائے گا ۔ ایسا نہیں بلکہ ملائکہ بھی ایذا پاتے ہیں اس سے جس سے ایذا پاتا ہے انسان ۔ مسجد کو نجاست سے بچانا فرض ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 233)
مسجد کی فضا کو خوش گوار اور پاکیزہ رکھنے کے تعلق سے ایک اور مقام پر تحریر کرتے ہیں : بعض لوگوں کی ریح میں خلقی بوئے شدید ہوتی ہے بعض کو بہ وجہ سوئے ہضم وغیرہا عارضی طور پر یہ بات ہوجاتی ہے ۔ ایسے کو ایسے وقت میں مسجد میں بیٹھنا ہی جائز نہیں کہ بوئے بد سے مسجد کا بچانا واجب ہے ۔ وان الملائکۃ بتاذی منک بنو آدم ۔ (صحیح مسلم کتاب المساجد) ، یعنی جس بات سے آدمیوں کو اذیت پہنچتی ہے اس سے فرشتے بھی اذیت پاتے ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 288،چشتی)
مسجد میں دنیاوی باتوں کا حکم : ⏬
جہاں بہت ساری خرابیاں مسلم معاشرہ میں در آئی ہیں وہیں ایک بڑی آفت یہ ہے کہ مسجدوں میں لوگ باہم جمع ہوکر دنیاوی باتیں کرتے ہیں بلکہ چغلی ، غیبت اور گالی گلوچ سے بھی پرہیز نہیں کرتے ۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مسجد میں دنیا کی مباح باتیں کرنے کو بیٹھنا نیکیوں کو کھاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو ۔ فتح القدیر میں ہے : الکلام المباح فیہ مکروہ یاکل الحسنات ، مسجد میں کلام مباح بھی مکروہ ہے اور وہ نیکیوں کو کھا جاتا ہے ۔ پھر اشباہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : انہ یاکل الحسنات کماتا کل النار الحطب ، بے شک وہ نیکیوں کو کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کوکھا جاتی ہے ۔ غمزالعیون میں خزانۃ الفقہ سے ہے من تکلم فی المساجد بکلام الدنیا احبط اللہ تعالیٰ عنہ اربعین سنۃ جو مسجد میں دنیا کی بات کرے اللہ تعالیٰ اس کے چالیس برس کے عمل اکارت فرما دے ۔ پھر چند سطروں کے بعد تحریر فرماتے ہیں : سبحان اللہ ! جب مباح و جائز بات بلا ضرورت شریعہ کرنے کو مسجد میں بیٹھنے پر یہ آفتیں ہیں تو حرام و ناجائز کام کرنے کا کیا حال ہوگا ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 312)
ان مسائل کے علاوہ بھی آپ نے متعلقاتِ مساجد کی اصلاح کے تعلق سے بہت کچھ تحریر فرمایا ہے ۔ جنہیں تفصیل درکار ہو وہ فتاویٰ رضویہ مترجم جلد 24 کا مطالعہ ضرور کریں ۔(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
Saturday, 2 May 2026
رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا دنداں شکن جواب
رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا دنداں شکن جواب
محترم قارئینِ کرام : آج کل دیوبندیوں نے طوفانِ بدتمیزی مچایا ہوا ہے ۔ ان کی طرف سے مسلسل سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ کھڑا کیا جا رہا ہے کہ حسام الحرمین میں جو رشید احمد گنگوہی کی طرف وقوعِ کذب والا فتوی منسوب ہے ، اس کا آخر کیا ثبوت ہے ؟ یہ فتویٰ کہاں ہے ؟ ۔ اس سلسلے میں دیوبندیوں کے چند نمایاں اعتراضات درج ذیل ہیں : ⏬
یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کی کس کتاب میں ہے ؟
اگر واقعی یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کا ہوتا تو وہ فتاویٰ رشیدیہ میں ضرور ہوتا ۔ اس میں نہ ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ نے محض جھوٹ باندھا ہے ۔
فتاوی رشیدیہ میں اس کے برخلاف فتوی موجود ہے ۔ لہٰذا وہ ثبوت پیش کیا جائے جو یہ ثابت کرے کہ یہ فتوی واقعی رشید احمد گنگوہی ہی کا ہے ۔
اور اگر بالفرض تسلیم کر بھی لیا جائے کہ یہ فتوی کسی کاغذ پر لکھا ہوا ہے تو محض کسی تحریر یا خط کی مشابہت کو بنیاد بنا کر اسے قطعی فتوی کہنا سخت ناعاقبت اندیشی ہے ۔ چاند کی رویت جیسے مسئلہ میں بھی خط و کتابت کا اعتبار نہیں ہوتا ، کیونکہ الخط یشبه الخط تو کیا کفر و اسلام جیسے نازک اور حسّاس معاملے میں ایسی مشتبہ تحریر کو بنیاد بنا کر کسی کے کفر کا حکم لگا دینا انصاف کے دائرے میں آتا ہے ؟
اب ان اعتراضات کا مفصل بالترتیب جواب پیشِ خدمت ہے جس سے حق کے متلاشی راہیاب ہونگے اور دیابنہ ذلیل ہونگے ان شاء اللہ : ⏬
اعتراض نمبر 1 : یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کی کس کتاب میں ہے ؟
جواب : یہ اعتراض ہی کج فہمی اور عناد پر مبنی اور غلط ہے ، کیونکہ امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ نے حسام الحرمین میں رشید احمد گنگوہی کے فتویٰ کا حوالہ کسی مطبوعہ کتاب سے نہیں دیا بلکہ اس فتویٰ کی قلمی تحریر کی فوٹو کاپی کا مشاہدہ فرما کر اس کا ذکر فرمایا ۔ چنانچہ خود اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں : پھر تو ظلم گمراہی میں اس کا یہاں تک بڑھا کہ اپنے ایک فتوے میں جو اس کا مہری دستخط میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا ۔ جو ممبی وغیرہ میں بارہا مع رد کے چھپا صاف لکھ گیا کہ جو اللہ سبحانہ و تعالی کو بالفعل چھوٹا مانے اور تصریح کرے کہ (معاذ اللہ تعالی اللہ تعالی جھوٹ بولا اور یہ بڑا عیب اُس سے صادر ہو چکا تو اسے کفر بالائے طاق گمراہی در کنار فاسق بھی نہ کہو اس لیے کہ بہت سے امام ایسا ہی کہہ چکے ہیں جیسا اُس نے کہا اور بس نہایت کار یہ ہے کہ اُس نے تاویل میں خطا کی ۔ (حسام الحرمین مع تمہید ایمان صفحہ 15،چشتی)
پس یہ واضح ہوا کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے فتویٰ کی فوٹو کاپی کو بنیاد بنایا ، اور دیوبندی آج تک اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں ، صرف صَغریٰ کبریٰ کی شعبدہ بازیاں کر کے اصل بات سے فرار چاہتے ہیں ۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ تو فرماتے ہیں : میں نے اپنی آنکھ سے مہری دستخط والا فتویٰ دیکھا ۔ اب سوال یہ ہے کہ جب امام علیہ الرحمہ نے مشاہدہ کی بنیاد پر بات کی تو اعتراض کی گنجائش کہاں رہتی ہےکہ دکھاؤں کس کتاب میں ہے ؟ ۔ اور اس فتوی کا فوٹو ہندوستان میں پیلی بھیت شریف اور پاکستان میں دارالعلوم حزب الاحناف لاہور اور دیگر جگہ موجود ہے اور ہمارے اکابر تو صد سال سے للکار رہے ہیں کہ : آؤ ہم تمہیں وہی فتویٰ دکھاتے ہیں ۔ لیکن دیوبندی ہمیشہ کی طرح جان بچاؤ کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے فرار اختیار کر لیتے ہیں ۔
اب فقیر وہی قلمی فتویٰ (جس کا امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے حوالہ دیا ہے) مکمل نقل کر رہا ہے اور ساتھ اس کا عکس بھی پیش کر رہا ہوں ، تاکہ قارئین کےلیے حجت تمام ہو جائے ۔ دستخط و مہری فتویٰ یہ ہے : ⏬
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ما قولكم رحمكم الله ، دو شخص كذب باری میں گفتگو کرتے تھے ایک کی طرف داری کے واسطے تیسرے شخص نے کہا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان الله لا يغفران يشرك به ويغفر ما دون ذالك الخ لفظ ما عام ہے ، شامل ہے معصیت قتل مومن کو ، پس آیت مذکورہ سے معلوم ہوا کہ پروردگار مغفرت مومن قاتل بالعمد بھی فرما دے گا ۔ اور دوسری آیت میں ہے من قتل مومنا متعمدا فجزاءه جهنم خالدا ۔ الخ ، لفظ من عام ہے شامل ہے مومن قاتل بالعمد کو ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومن قاتل مومن بالعمد کی مغفرت نہ ہوگی ۔ اس قائل کے خصم نے کہا کہ ۔ آپ کے استدلال سے وقوع کذبِ باری ثابت ہوتا ہے کیونکر آیت میں ویغفر ہے نہ ویمکن ان یغفر یہ سنکر اس قائل نے جواب دیا میں نے کب کہا ہے کہ میں وقوع کا قائل نہیں ہوں ۔ اور دوسرا قول اسی قائل کا یہ ہے کہ کذب علی العموم قبیح معنی منافر لطبع نہیں ہے ۔ اللہ تعالی نے بعض مواضع میں جائز رکھا ہے اور توریہ و عین کذب معنی بعض مواضع میں دونوں اولیٰ ہیں ۔ نہ فقط تو ریہ ۔ آیا یہ قائل مسلمان ہے یا کافر ؟ اور مسلمان ہے تو بدعتی ضال یا اہلسنت و جماعت با وجود قبول کرنے کذبِ باری تعالیٰ کے ۔ بینوا وتوجروا ۔
الجواب : (رشید احمد گنگوھی صاحب لکھتے ہیں) اگر چہ شخص ثالث نے تاویل آیات میں خطا کی ، مگر تا ہم اس کو کافر کہنا یا بدعتی ضال کہنا نہیں چاہیے کیونکہ وقوع خلف و عید کو جماعت کثیرہ علماء سلف کی قبول کرتی ہے چنانچہ مولوی احمد حسن صاحب ، رسالہ تنزیہ الرحمن اپنے رسالہ میں تصریح کرتے ہیں ، بقولہ علاوہ اس کے مجوزین خلف وعید وقوع خلف کے بھی قائل ہیں چنانچہ ان کے دلائل سے ظاہر ہے حيث قالوا لانه ليس بنقص بل هو كمال الخ ۔ اس سے ظاہر ہوا کہ بعض علماء وقوع خلف وعید کے قائل ہیں ۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ خلف وعید خاص ہے اور کذب عام ہے کیونکہ کذب بولتے ہیں قول خلاف واقع کو ، سو وہ گاہ وعید ہوتا ہے گاہ وعدہ گاہ خبر ، اور سب کذب کے انواع ہیں اور وجود نوع کا وجو د جنس کو مستلزم ہے انسان اگر ہو گا تو حیوان بالضرور موجود ہوے گا لہٰذا وقوع کذب کے معنیٰ درست ہو گئے اگر چہ بضمن کسی فرد کے ہو ۔ پس بناء علیہ اس ثالث کو کوئی سخت کلمہ نہ کہنا چاہیے کہ اس میں تکفیر علماء سلف کی لازم آ تی ہے ۔ ہر چندیہ قول ضعیف ہے ، مگر تا ہم متقدمین کے مذاہب پر صاحب دلیل قوی کو تقلیل صاحب دلیل ضعیف کی درست نہیں ۔ دیکھو کہ حنفی، شافعی پر اور بعکس بوجہ قوت دلیل اپنی کے طعن و تضلیل نہیں کر سکتا ۔ انا مومن ان شاءاللہ کا مسئلہ کتب عقائد میں خود لکھتے ۔ لہٰذا اس ثالث کو تضلیل تفسیق سے مامون کرنا چاہیے البتہ بنرمی اگر فہمائش ہو بہتر ہے ۔ البتہ قدرة على الكذب مع امتناع الوقوع مسئلہ اتفاقیہ ہے کہ اس میں کسی کا خلاف نہیں ۔ اگر چہ اس زمانے میں لوگوں کو ابعاد بیجا ہو گیا ہے ۔ قال الله ولو شئنا لاتينا كل نفس هداها ولكن حق القول منى لا ملئن جهنم من الجنة والناس اجمعين الاية ۔ فقط والله تعالى اعلم كتبه الاحقر رشید احمد گنگوهی عفی عنه ۔ نشان مہر : رشید احمد ۔ (عکس فتوی گنگوھی)
اعتراض نمبر 2 : اگر واقعی یہ فتویٰ رشید احمد گنگوہی کا ہوتا تو وہ فتاویٰ رشیدیہ میں ضرور ہوتا ۔ اس میں نہ ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ نے محض جھوٹ باندھا ہے ۔
فتاوی رشیدیہ میں گنگوھی کا سب فتوی موجود نہیں کا جواب : ⏬
اس سوال کے جواب میں صرف اتنی گذارش ہے کہ کیا آج کے مطبوعہ فتاوی رشیدیہ میں وہ سب فتاوی موجود ہیں جو انہوں نے اپنی حیات میں لکھے تھے ۔ اگر اس کا جواب نفی میں ہے اور یقیناً نفی ہی ہے تو پھر مطبوعہ فتاوی رشیدیہ میں نہ ہونے سے کہاں لازم آتا ہے کہ یہ فتویٰ ان کا لکھا ہوا نہ ہو ۔ فتاوی رشیدیہ گنگوہی صاحب کی وفات کے برسوں بعد جمع کیا گیا ہے ۔ اس وقت تک اس فتوے کے زہر یلے اثرات ظاہر ہو چکے تھے ۔ تو کیا فتاوی رشیدیہ کے جامع اور شائع کنندہ اپنے مذہب اور اپنے مذہب کے بانی کے دشمن تھے کہ اسے چھاپ دیتے ۔
اور اگر آپ کہیں کہ نہیں ، گنگوہی صاحب نے اپنی حیات میں جتنے فتوے لکھے تھے سب اس میں چھپ چکے ہیں تو ہم آپ سے پوچھتے ہیں قادیانی پر کفر والا فتوی فتاویٰ رشیدیہ کے کس صفحہ پر ہے جس کا تذکرہ کرتے ہوئے خلیل احمد انبیٹھوی نے المہند علی المفند صفحہ 82 میں لکھا ہے : ہمارے مشائخ نے اس (مرزا غلام احمد قادیانی) کے کافر ہونے کا فتوی دیا قادیانی کے کافر ہونے کے بابت ہمارے حضرت مولانا رشید احمد گنگوھی کا فتوی طبع ہوکر شائع بھی ہو چکا ہے بکثرت لوگوں کے پاس موجود ہے ۔
اگر دیابنہ قادیانی پر کفر کا فتوٰی رشید احمد گنگوھی کے فتاوی رشیدیہ میں دیکھا دیتے ہیں تو ہم بھی فتاوی رشیدیہ میں اس فتوی کو دیکھا دینگے لیکن ہمیں معلوم ہے : ⏬
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار تم سے
یہ بازوں میرے آزمائے ہوۓ ہے
اعتراض نمبر 3 : فتاوی رشیدیہ میں یہ فتوی نہیں ہے بلکہ اس میں اس کے برخلاف فتوی موجود ہے ۔ لہٰذا وہ ثبوت پیش کیا جائے جو یہ ثابت کرے کہ یہ فتوی واقعی رشید احمد گنگوہی ہی کا ہے ۔
جواب : فتاوی رشیدیہ میں تحریف کی گئی ۔ یہ سوال اس وقت درست ہوتا جبکہ فتاوی رشیدیہ میں ردوبدل نہ کیا گیا ہوتا مگر بکثرت اس کے نظائر موجود ہے کہ اس میں ردوبدل اور تحریف کی گئی تو اس فتوی کے خلاف مطبوعہ فتاوی رشیدیہ میں ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ یہ فتوی ان کا ہو ، ہو سکتا ہے کسی دیوبندی نے ان کے نام سے فتوی گڑھ کر اس میں شامل کر دیا ہو جیسا کہ دیابنہ کی عادت ہے کہ وہ مکمل کتاب گڑھ کر کسی سنی عالم کی طرف منسوب کر دیتے ہے اس کے شواہد ردِ شہاب الثاقب میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اور یہ خود کفر کا اقرار ہے کیونکہ اگر کوئی کسی کو گالی دے پھر بعد میں اس کی تعریف کر دیں تو تو گالی دینے کی نحوست سے وہ پاک نہیں ہوگا ۔ مزید برآں فتاوی رشیدیہ میں چھپنے کے بعد بھی ردوبدل کیا گیا ہے بطور شہادت دو مثال حاضر ہے : ⏬
شہادت نمبر 1 : فتاوی رشیدیہ کے پرانے چھاپے مطبوعہ رحیمیہ ، دہلی میں یہ عبارت تھی : امکانِ کذب (جھوٹ) بایں معنیٰ کہ جو کچھ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے ، اس کے خلاف پر قادر ہے ، مگر خود اس کو نہ کرے گا یہ عقیدہ بندہ کا ہے ۔ (فتاوی رشیدیہ حصہ 1 صفحہ 46 سطر 19 مطبوعہ مکتبہ رحیمیہ دہلی،چشتی)
اسی فتاوی رشیدیہ کو دیوبندیوں کی مجلس عالمی مجلس تحفظ اسلام ، کراچی نے چھاپا تو اس میں سے یہ عبارت ہی غائب کر دی ۔ یہ ہے دیوبندیوں کی جدید تحریف ۔ جب یہ اس طرح ہیرا پھیری کر سکتے ہیں تو کچھ بعید نہیں کہ انہوں نے گنگوہی کے نام سے کفر والا فتویٰ فتاوی رشیدیہ میں ڈال دیا ہو۔ واللہ اعلم ۔
شہادت نمبر 2 : پھر فتاوی رشیدیہ کا وہ فتوی جس میں وقوعِ کذب کے قائل کو کافر کہا گیا تھا ، اس کے نیچے تاریخ دی گئی تھی1307 ھجری اور یہ تاریخ اس فتوی سے پہلے کی تھی جس میں گنگوہی صاحب نے قائلِ وقوعِ کذب کو کافر و گمراہ کہنے سے منع کیا تھا ۔ کیونکہ اس فتوی کے نیچے تاریخ 1308 ھجری تھی جو میرٹھ سے چھپی تھی ۔ جب فتاوی رشیدیہ عالمی مجلس تحفظ اسلام کراچی نے چھاپا تو انہوں نے فتویٰ کے نیچے سے تاریخ ہی اڑادی تا کہ اہل سنت جو دلیل بناتے ہیں کہ وقوع کذب کی تائید والافتوی بعد کا ہے اور وقوع کذب کو کافر کہنے والا فتویٰ پہلے کا ہے اس کا ثبوت ہی ختم ہو جائے ۔ جب فتاوی رشیدیہ میں دیوبندی چھپنے کے بعد ردوبدل کر سکتے ہیں تو کیا چھپنے سے پہلے اپنے اکابر کو کفر سے بچانے کےلیے یہ کام نہیں کیا ہوگا ؟
رشید احمد گنگوھی پندرہ سال تک اپنے کفر سے راضی رہا : ⏬
اور یہ سوال کہ ہم نہیں مانتے کہ یہ فتوی رشید احمد گنگوھی کا ہے ۔ ثابت کریں کہ یہ فتوی رشید احمد گنگوھی کا ہی ہے تو اس کے جواب علامہ اجمل شاہ سنبھلی قادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : اگر ان امور سے بھی قطع نظر کیجیے تو مصنف کو یا کسی دیو بندی کو گنگوہی جی کے اس فتوے سے انکار کرنے کا کوئی حق ہی حاصل نہیں کہ جن کو اس فتوی سے انکار کرنے کا حق تھا وہ صرف ایک گنگوہی صاحب تھے ۔ تو گنگوہی صاحب کی حیات ہی میں پہلے یہ فتوی ان کی قلمروا اور ان کے معتقدین کے شہر خاص میرٹھ میں چھپا اور 1308 ھجری ہی میں اس کا رد میں رسالہ صيانة الناس مطبع حديقة العلوم میرٹھ طبع ہو کر شائع ہوا ۔ گنگوہی جی نے نہ اس فتوی کا انکار کیا نہ اس رد کا جواب دیا ۔ لوگ ان کو اس فتوی کی بنا پر کافر کہتے اور اعلان کرتے رہے اور گنگوہی پندرہ سال تک اپنے آپ کو کا فر کہلواتے رہے ، بالکل خاموش اور ساکت رہے ، دم سادھے پڑے رہے ، اپنی طرف اس فتوی کی نسبت کراتے رہے ، اس کا رد کرنے والے رد کرتے رہے ، شائع کرنے والے اس رد کو شائع کرتے رہے ، اس پر ہر طرف سے ان کے پاس اعتراضات پہنچتے رہے ، علماء دین اس فتوے پر حکم کفر دیتے رہے ، دنیا بھر میں ان کو اس گستاخی کے شور مچتے رہے لیکن گنگوہی جی نہ کہہ سکے کہ یہ میرا فتوی نہیں ، میری طرف اس فتوی کی نسبت غلط اور جھوٹ ہے ۔ (رد الشهاب الثاقب صفحہ 254 ، 255 رضا اکیدمی ممبئی،چشتی)
دیوبندیو جب خود رشید احمد گنگوھی نے اس فتوی کی نسبت اپنی جانب ہونے سے انکار نہیں کیا اور السکوت کالرضا کا ثبوت دیتا رہا تو تمہارا انکار کیا فائدہ دے گا ؟ تمہارا انکار کیا اس کو کفر کے گھاٹ سے نکالنے میں معاون ہوگا ؟
اعتراض نمبر 4 : اور اگر بالفرض تسلیم کر بھی لیا جائے کہ یہ فتوی کسی کاغذ پر لکھا ہوا ہے تو محض کسی تحریر یا خط کی مشابہت کو بنیاد بناکراسے قطعی فتوی کہنا سخت ناعاقبت اندیشی ہے۔ چاند کی رویت جیسے مسئلہ میں بھی خط و کتابت کا اعتبار نہیں ہوتا ، کیوں کہ الخط یشبه الخط تو کیا کفر و اسلام جیسے نازک اور حسّاس معاملے میں ایسی مشتبہ تحریر کو بنیاد بنا کر کسی کے کفر کا حکم لگا دینا انصاف کے دائرے میں آتا ہے ؟
جواب : مفتی کا خط مع مہر حجت ہے ۔ اگر دیوبندیو کی یہ بات صحیح مان لی جائیں تو پھر دیوبندیوں کے دارالافتاء سے جاری کیے ہوئے سارے فتاوی غیر معتبر اور لغو اور خود گنگوہی صاحب کا مجموعہ فتاوی ردی کی ٹوکری ہے ۔ دیوبندیو تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ فقہا نے جن جن لوگوں کے خط کو معتبر مانا ہے ان میں امراء اکابراور مفتی بھی ہیں ۔ رد المختار جلد رابع صفحہ ۳۵ پر ہے : يفيد عدم الاقتصار على الصراف والسمسار والبياع بل مثله كل ما جرت العادة فيه في داخل فيه ما يكتبه الامراء و الاكابر ممن يتعذر الاشهاد فاذا كتب وصولا او مكا بدين عليه وختمه بخاتمه المعروف فانه في العادة يكون حجة عليه بحيث لا يمكن الانكار ولوانكر یعد بین الناس مکابرا ۔
ترجمہ : اس سے یہ افادہ ہوا کہ صرف صراف دلال بیاع ہی کا خط معتبر نہیں بلکہ جن جن لوگوں کے خط کے حجت ہونے کی عادت جاری ہے سب حجت ہیں ۔ اسی میں وہ بھی داخل ہے جو امرا او اور اکابر لکھتے ہیں جنھیں گواہ بنانا متعذر ہوا، اگر وصولیابی کی رسید یا قرض کا دستاویز لکھا اور اس پر اپنی مشہور و معروف مہر کر دی تو اس پر حجت ہے یہی عادت ہے ۔ اس سے انکار ممکن نہیں اور اگر انکار کرے گا تو لوگوں میں مکابرہ شمار کیا جاۓ گا ۔
نیز اسی میں صفحہ 306 پر ہے : ان القاضي اذا اشكل عليه الامريكتب الى فقها مصر آخربان المشاورة بالکتاب سنة قديمة في الحوادث ۔
ترجمہ : قاضی پر جب کوئی معاملہ مشکل ہو جاۓ تو دوسرے شہر کے فقہا کو لکھے ۔ اس لیے کہ حوادث میں بذریعہ خط باہمی مشورہ سنت قدیمہ ہے ۔
الخط یشبه الخط کامحل : اور یہ کہنا کہ خط خط کے مشابہ ہوتا ہے تو یہ حجت کیسے ہوگا ، تو جواباً عرض ہے دیوبندیو آپ کو کچھ خبر بھی ہے کہ فقہاء نے الخط یشبه الخط کہاں غیر معتبر مانا ہے ۔ آپ اسے بخوبی جانتے ہیں مگر حیلہ جوئی کےلیے کلمہ حق بول کر باطل مراد نہ لیتے تو کیا کرتے ۔ جناب ! یہ اس وقت ہے جبکہ جس کی طرف خط منسوب ہے وہ انکار کرے ۔ مثلاً زید نے عمر پر کوئی دعوی کیا ۔ عمرو و نے دعویٰ سے انکار کیا ۔ زید نے ثبوت میں عمر کی تحریر پیش کی عمر اس تحریری سے بھی انکار کیا ، تو وہ تحریر معتبر ہوگی یا نہیں ۔ اس موقع پر فرمایاگیا کہ الخط يشبه الخط ۔ یہاں پہلے تو یہ بات ثابت کیجئے کہ گنگوہی صاحب نے انکار کیا ہے ۔ ہم فقہاء کے ارشاد سے ثابت کر آئے کہ خط مفتی حجت ہے ۔ جب اس فتوی پرگنگوہی صاحب کے دستخط بھی ہیں مہر بھی ہے تو بلا کسی دغدغہ کے ثابت ہے کہ یہ انھیں کا فتوی ہے ۔ اور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا اس کی طرف نسبت کرنا اور علماۓ حرمین شریفین علیہم الرحمہ کا فتوی کفر دینا بالکل حق اور صداقت پر مبنی ہے اور دیوبندیو کا انکار مکابرہ ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
تحفہ اثناء عشریہ سا اس کتاب تقویت الایمان کا بھی رد لکھتا
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے فرمایا : اگر میں بیماری سے معذور نا ہوتا تو تحفہ اثناء عشریہ سا اس کتاب تقویت الایمان کا بھی رد...
-
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لینا اور مرد کو اپنا آلۂ مردمی اپنی بیوی کے منہ میں ڈالنا اور ہمبستری سے قبل شوہر اور...
-
درس قرآن موضوع آیت : قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَ...
-
حضرت سیّدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی تاریخِ ولادت ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ محترم قارئینِ کرام : خاتون جنت حضرت سیّدہ طیّب...








































