Sunday, 5 July 2026

مالک بن اشتر نخعی کون تھا ؟ اے سنی مسلمانو آنکھیں کھولو سنیوں میں چھپے روافض کے نظریات کی دلالی کرنے والوں کو پہچانو چاہے وہ کوٸی بھی ہوں

مالک بن اشتر نخعی کون تھا ؟ اے سنی مسلمانو آنکھیں کھولو سنیوں میں چھپے روافض کے نظریات کی دلالی کرنے والوں کو پہچانو چاہے وہ کوٸی بھی ہوں

محترم قارئینِ کرام : مالک اشتر اپنے حواریوں کو کہتا ہے : اشتر نخعی نے کہا واللہ حضرت زبیر اور طلحہ کے ارادے سے ہم خوب واقف ہیں لیکن آج تک علی کے ارادے سے واقف نہ ہو سکے ، اگر ان میں صلح ہو گئی تو یہ ہمارے خون پر ہو گا اس لیے کیوں نہ علی پر حملہ کر کے اسے بھی عثمان کے پاس پہنچا دیں اور اس سے جو فتنہ پیدا ہوگا وہ بالکل ہماری مرضی کے عین مطابق ہوگا اور ہم سکون سے زندگی گزار سکیں گے ۔ (تاریخ طبری جلد 3 صفحہ 511 ، 512 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)


ناظرین : اس حوالے کو بغور پڑھیں اور اشتر کے حواریوں کے بیانات بھی اس اسکین میں موجود ہیں ان کو بھی بغور پڑھیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مابین فتنہ ڈالنے میں اس گروہ کا کتنا ہاتھ تھا اس سے اندازہ لگائیں ان لوگوں نے مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے قتل تک منصوبہ بنایا اس سے ان کا مقصد کیا تھا اپنی عیش و عشرت اور امت میں فتنہ و فساد اللہ جل شانہ ہمیں حقائق کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین اگر اشتر اپنے اس مذموم منصوبے میں کامیاب ہو جاتا تو آج ابن ملجم کی جگہ وہ شخص لعن طعن کھا رہا ہوتا ۔ لیکن یہ بھیس بدل کر اپنا مفاد اٹھاتے رہے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے تو ان کو عداوت تھی ہی حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے ان کی محبت کا اندازہ اس ایک حوالے سے لگایا جا سکتا ہے ۔ محبین حیدر کرار کرم اللہ وجہہ الکریم کی محبت کا اندازہ اب ہو گا ۔


نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عَنْ زِرٍّ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : وَالَّذِيْ فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَأَ النَّسْمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صلي الله عليه وآله وسلم إِلَيَّ أَنْ لَا يُحِبَّنِيْ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَّ لَا يُبْغِضَنِيْ إِلَّا مُنَافِقٌ ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ ۔

ترجمہ : حضرت زر بن حبیش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا (اور اس سے اناج اور نباتات اگائے) اور جس نے جانداروں کو پیدا کیا ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مجھ سے عہد ہے کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور صرف منافق ہی مجھ سے بغض رکھے گا ۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح کتاب الإيمان باب الدليل علي أن حب الأنصار و علي من الإيمان ، 1 / 86، الحديث رقم : 78،ابن حبان في الصحيح، 15 / 367، الحديث رقم : 6924،چشتی،والنسائي في السنن الکبري، 5 / 47، الحديث رقم : 8153، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 365، الحديث رقم : 32064،چشتی،وأبويعلي في المسند، 1 / 250، الحديث رقم : 291، و البزار في المسند، 2 / 182، الحديث رقم : 560، و ابن ابي عاصم في السنة، 2 / 598، الحديث رقم : 1325)


عَنْ عَلِيٍّ : قَالَ لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صلي الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ لَا يُحِبُّکَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُکَ إِلاَّ مُنَافِقٌ ۔ قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَنَا مِنَ الْقَرْنِ الَّذِيْنَ دَعَالَهُمُ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم ۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ۔ وَقَالَ هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ ۔

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے عہد فرمایا کہ مومن ہی تجھ سے محبت کرے گا اور کوئی منافق ہی تجھ سے بغض رکھے گا ۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح ابواب المناقب باب مناقب علي بن أبي طالب جلد 5 صفحہ 643 الحديث رقم : 3736،چشتی)


مالک اشتر کی حقیقت حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فراست کی روشنی میں : ⏬


تاریخِ اسلام کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ روافض نے ہمیشہ ان شخصیات کو غیر معمولی تقدس عطا کرنے کی کوشش کی جن کا کردار امتِ مسلمہ کے اندر فتنہ و انتشار سے وابستہ رہا ، جبکہ اس کے برعکس اکابر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت و فضیلت کو مشتبہ بنانے کی ہر ممکن سعی کی گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی عبداللہ بن سبا جیسے یہودی منافق کو اسلام کی تاریخ کا مؤثر کردار بنا کر پیش کیا جاتا ہے کبھی مختار ثقفی جیسے کذاب کی مدح سرائی کی جاتی ہے کبھی ابو لؤلؤ فیروز جیسے قاتلِ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ہیرو بنا دیا جاتا ہے ، اور اسی سلسلے کی ایک کڑی مالک اشتر بھی ہے ، جسے غیر معمولی بہادری اور تقدس کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ تاریخی حقائق اس امر پر شاہد ہیں کہ مالک اشتر ان فتنہ پرداز عناصر میں شامل تھا جن کے اقدامات نے امتِ مسلمہ کو شدید آزمائشوں میں مبتلا کیا اس کا نام حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خلاف برپا ہونے والے فتنے اور بعد کے خونریز واقعات کے پس منظر میں بھی مذکور ملتا ہے ، جن کے نتیجے میں ہزاروں مسلمان جان سے گئے اور امت کا شیرازہ منتشر ہوا ۔


قابلِ غور بات یہ ہے کہ حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی فراست اور حق شناسی کی وجہ سے خصوصی مقام عطا فرمایا ، مالک اشتر کے بارے میں اس وقت اپنی تشویش کا اظہار فرمایا جب ابھی اس کے فتنے پوری طرح ظاہر بھی نہیں ہوئے تھے ۔ امام ابو بکر ابن خلال رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ قَالَ أَبِي فِي حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ نَبَّأَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عُمَرَ مَعَاشِرَ مَذْحِجٍ فَقَالَ أَمِنْكُمْ هَذَا؟ قُلْتُ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: مَا لَهُ؟ قَاتَلَهُ اللَّهُ، كَفَى اللَّهُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ شَرَّهُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ أَنَّ لِلنَّاسِ مِنْهُ يَوْمًا عَصِيبًا ۔

ترجمہ : عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم قبیلہ مذحج کے چند افراد کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ میں ان کے قریب بیٹھا تھا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بار بار اشتر کی طرف دیکھتے اور پھر نظر پھیر لیتے ۔ پھر فرمایا : کیا یہ شخص تم ہی میں سے ہے ؟ ۔ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، اے امیر المؤمنین ! آپ نے فرمایا : اسے کیا ہوا ! اللہ اسے ہلاک کرے ۔ اللہ امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے شر سے محفوظ رکھے ۔ اللہ کی قسم! میرا گمان ہے کہ ایک دن لوگوں کو اس کی وجہ سے نہایت سخت اور کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ (السنۃ ابن خلال جلد 3 صفحہ 516 ، 517 رقم : 836،چشتی)


عبداللہ بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : دخلنا على عمر معاشر وفد مذحج وكنت من أقربهم منه مجلسا فجعل عمر نظر إلى الأشتر ويصرف بصره فقال لي أمنكم هذا قلت نعم يا أمير المؤمنين قال ما له قاتله الله كفى الله أمة محمد شره والله أني لأحسب أن للمسلمين منه يوما عصيبا ۔

ترجمہ : ہم قبیلیہ مذحج کے کچھ لوگ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور میں عمر رضی اللہ عنہ کے سب سے قریب بیٹھ گیا تو عمر رضی اللہ عنہ مالک اشتر کو دیکھنے لگے اور پھر اس سے نظر ہٹانے لگے اور فرمایا : کیا یہ شخص تمہارے ساتھ آیا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں اے امیر المؤمین ! تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے کیا پرابلم ہے اللہ اسے ہلاک کرے ، اللہ امت محمدیہ کےلیے اس کے شر کے بالمقابل کافی ہو جائے ، اللہ کی قسم مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کو اس کی وجہ سے کسی دن بہت بڑا سانحہ دیکھنا پڑے گا ۔ (العلل ومعرفة الرجال لأحمد جلد 1 صفحہ 315 وإسناده حسن)


یہ روایت حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی غیر معمولی بصیرت اور فراست کی روشن دلیل ہے ۔ آپ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں ، جس کا فتنہ اس وقت پوری طرح ظاہر نہیں ہوا تھا ، امت کو پہلے ہی متنبہ فرما دیا کہ اس کا انجام امت کےلیے نہایت سنگین ہوگا بعد کے تاریخی واقعات نے ثابت کر دیا کہ مالک اشتر واقعی ان فتنہ انگیز عناصر میں شامل رہا جن کے سبب امت شدید داخلی انتشار کا شکار ہوئی ۔


الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں ہے : وذكره ابن سعد في الطّبقة الأولى من التّابعين بالكوفة، فقال: وكان ممن ألّب على عثمان، وشهد حصره ۔

ترجمہ : اور ابن سعد نے اس کا ذکر کوفہ کے پہلے طبقۂ تابعین میں کیا ہے ، اور کہا : وہ ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف لوگوں کو ابھارا ، اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے محاصرے میں بھی شریک رہا ۔ (الإصابة في تمييز الصحابة مالك بن الحارث جلد 6 صفحہ 212 مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت،چشتی)(تارخ مدینہ دمشق جلد 56 صفحہ 312 مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت)


سیر اعلام النبلاء میں ہے : وكان شهما ، مطاعا ، زعرا ألب على عثمان ، وقاتله ۔

ترجمہ : وہ بہادر ، اثر و رسوخ رکھنے والا ، اور برے اخلاق والا شخص تھا اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا اور آپ رضی اللہ عنہ سے جنگ بھی کی ۔ (سیر اعلام النبلاء الاشتر مالک بن حارث نخعی جلد 4 صفحہ 34 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ)


ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کا گستاخ مالک بن اشتر نخعی : ⏬


ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا نے ”مالک اشتر کوفی“ کو ”کلب“ (کتا) کہا ہے : عن كنانة قال : كنت أقود بصفية بنت حيي لترد عن عثمان رضي الله عنه ، فلقيها الأشتر فضرب وجه بغلتها حتى مالت، فقالت : ردوني لَا يَفْضَحُنِي هذا الكلب قال : فوضعت خشبا بين منزلها وبين منزل عثمان ، ينقل عليه الطعام والشراب ۔

ترجمہ : ام المؤمنیبن حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کے غلام کنانہ کہتے ہیں کہ : میں ام المؤمنیبن حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کی سواری لے کر نکلا تاکہ ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کھانا پہنچا سکیں تو مالک بن الاشتر سامنے آگیا اور اس نے ام المؤمنیبن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی سواری کے منہ پر ایسی ضرب لگائی کہ آپ گرتے گرتے بچیں پھر ام المؤمنیبن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مجھے واپس لے چلو کہیں یہ کتا (مالک اشتر) مجھے رسوا نہ کر دے ، کنانہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے ام المؤمنیبن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے بیچ لکڑی رکھی اور اس کے ذریعہ کھانا پانی بھیجا جانے لگا ۔ (مسند ابن الجعد صفحہ 390 وإسناده حسن)(تاريخ المدينة لابن شبة جلد 4 صفحہ 1311،چشتی)(تاريخ دمشق جلد 39 صفحہ 415)(التاريخ الكبير للبخاري مطبوعہ العثمانية جلد 7 صفحہ 237)


ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بدعا اشتر پر سلامتی نہ ہو وہ میرا بیٹا نہیں ہے : ⏬


اذْهَبْ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ وَقُلْ : يُقْرِئُكَ ابْنُكَ مَالِكٌ السَّلَامَ ، وَيَقُولُ : خُذِي هَذَا الْجَمَلَ فَتَبَلَّغِي عَلَيْهِ مَكَانَ جَمَلِكِ ، فَقَالَتْ: لَا سَلَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، إِنَّهُ لَيْسَ بِابْنِي ،قَالَ: وَأَبَتْ أَنْ تَقْبَلَهُ ۔

اشتر نے کہا : اسے (اونٹ کو) عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے جاؤ اور کہو : تمہارا بیٹا مالک تمہیں سلام کہتا ہے اور کہتا ہے کہ : یہ اونٹ لے لو اور اس پر سوار ہو کر اپنے اونٹ کی جگہ سفر کرو ۔ راوی کہتے ہیں : ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ اس پر سلامتی نازل نہ کرے ، وہ میرا بیٹا نہیں ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ : ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اسے لینے سے انکار کر دیا ۔ (مصنف ابن أبي شيبة جلد 21 صفحہ 474 رقم : 40559 ت الشثري وإسناده حسن)


قتل عثمان رضی اللہ عنہ کی بنا پر اشتر کےلیے اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صدیقہ کی بد دعا : ⏬


طَلِيقَ بْنَ خَشَّافٍ کہتے ہیں : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، فِيمَ قُتِلَ عُثْمَانُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ؟ قَالَتْ : قُتِلَ وَاللَّهِ مَظْلُومًا ، لَعَنَ اللَّهُ قَتَلَتَهُ ، أَقَادَ اللَّهُ ابْنَ أَبِي بَكْرٍ بِهِ ، وَسَاقَ اللَّهُ إِلَى أَعْيُنِ بَنِي تَمِيمٍ هَوَانًا فِي بَيْتِهِ ، وَأَهْرَاقَ اللَّهُ دِمَاءَ بَنِي بُدَيْلٍ عَلَى ضَلاَلَةٍ ، وَسَاقَ اللَّهُ إِلَى الأَشْتَرِ سَهْمًا مِنْ سِهَامِهِ ، فَوَاللَّهِ مَا مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ إِلاَّ أَصَابَتْهُ دَعْوَتُهَا ۔

ترجمہ : اے اُم المؤمنین ! امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کو کس وجہ سے قتل کیا گیا ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : واللہ ! وہ مظلوم قتل کیے گئے ۔ اللہ ان کے قاتلوں پر لعنت کرے ۔ اللہ ابن ابی بکر (محمد بن ابی بکر) سے ان کا بدلہ لے ۔ اللہ بنو تمیم کے لوگوں کی آنکھوں میں ان کے گھر میں ذلت ڈال دے ۔ اللہ بنو بدیل کے خون کو گمراہی پر بہائے ۔ اور اللہ اشتر کی طرف اپنے تیروں میں سے ایک تیر بھیج دے ۔ پھر فرمایا : واللہ ! ان لوگوں میں کوئی ایک شخص بھی نہیں جسے ان کی (عائشہ کی) بددعا نہ پہنچی ہو ۔ (المعجم الكبير للطبراني جلد 1 صفحہ 88 رقم : 133 وإسناده صحيح،چشتی)


حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کا ارادہ کہ مالک اشتر کو قتل کردیا جائے : ⏬


ثُمَّ قَالَ : الْمِذْحَجِيَّةُ تَوَقَّوْا فَارْكَبُوا ، فَرَكِبَ ، قَالَ : وَمَا أَرَاهُ يُرِيدُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : فَهَمَّ عَلِيٌّ أَنْ يَبْعَثَ خَيْلًا تُقَاتِلُهُ ۔

ترجمہ : پھر اشتر نے کہا : اے مدحجیو ! تیار ہو جاؤ ، سوار ہو جاؤ ۔ وہ سوار ہو گئے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نہیں سمجھتا کہ وہ اس دن معاویہ کے سوا کسی کا ارادہ رکھتا تھا ، پھر علی رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ ان کے پیچھے سوار بھیجیں جو اس سے قتال کریں ۔ (مصنف ابن أبي شيبة جلد 21 صفحہ 476 ، 477 رقم : 40559 ت الشثري وإسناده حسن)


حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ مالک اشتر سے بغض کرتے تھے اور اسے ٹھکانے لگانے کی ترکیب : ⏬


اباوعمر محمد بن یوسف کندی (المتوفی 353) نے کہا : حدثني علي بن الحسن بن قديد ، قال : حدثنا هارون بن سعيد بن الهيثم ، قال : حدثني خالد بن نزار ، عن سفيان بن عيينة ، عن مجالد ، عن الشعبي ، عن عبد الله بن جعفر ، قال : فقلت له : أسألك بحق جعفر ألا بعثت الأشتر إلى مصر ، فإن ظفرت فهو الذي تحب وإلا استرحت منه ۔ قال سفيان : وكان قد ثقل عليه وأبغضه وقلاه ۔ قال : فولاه وبعثه وبعث معه طيرين لي من العرب ، فلما قدم قلزم مصر لقي بها بما يلقى به العمال هنالك، فشرب شربة عسل ، فمات ، فلما قدم طيراي أخبرني ۔ فدخلت على علي ، فأخبرته ، فقال : لليدين وللفم ۔

عبد الله بن جعفر بن أبى طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میں چاہتا تھا کہ علی رضی اللہ عنہ میری کوئی بات نہ ٹالیں ، تو میں کہتا تھا : آپ (میرے والد) جعفر کی خاطر یہ بات مان لیں ! چنانچہ میں نے ان سے کہا : جعفر کی خاطر آپ سے مطالبہ ہے کہ آپ اشتر کو مصر کیوں نہیں بھیج دیتے ؟ اگر وہ کامیاب ہو گیا تو وہی ہوگا جو آپ پسند کرتے ہیں ، اور اگر کامیاب نہ ہوا تو آپ اس سے راحت پا جائیں گے ۔ سفیان کہتے ہیں : علی رضی اللہ عنہ اشتر سے تنگ آ چکے تھے ، اس سے بغض کرتے تھے اور اس سے بے رغبتی رکھتے تھے ۔ (عبداللہ بن جعفر) کہتے ہیں : پھر علی رضی اللہ عنہ نے اسے مصر کا گورنر مقرر کر کے روانہ کر دیا ، اور اس کے ساتھ عرب کے دو جاسوسوں کو بھی بھیجا جو میرے لیے خبر لانے والے تھے ۔ جب اشتر مصر کے علاقے قلزم پہنچا تو وہاں اس کا وہی استقبال کیا گیا جو اس زمانے میں حکام کے ساتھ کیا جاتا تھا ۔ اس نے شہد کا ایک گھونٹ پیا اور اسی سے اس کی موت واقع ہو گئی ۔ پھر جب میرے وہ دونوں جاسوس واپس آئے تو انہوں نے مجھے یہ خبر دی ۔ تب میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں یہ اطلاع دی ۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ چاروں شانے چت ہوا اور منہ کی کھائی ۔ (كتاب الولاة صفحہ 21 ، و رجاله ثقات)


حضرت امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد مهنى بن يحيى کہتے ہیں : سألت أحمد عن مالك ‌الأشتر ، يروى عنه الحديث ؟ قال : لا ۔

ترجمہ : میں نے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے مالک الاشتر کے بارے میں پوچھا کہ اس سے حدیث روایت کی جا سکتی ہے توفرمایا : نہیں ۔ (السنة لأبي بكر بن الخلال جلد 3 صفحہ 517 قال المحقق : إسناده صحيح و هوكذلك) ۔


اللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں اور فتنہ پروروں کے شر و فتنہ سے بچاۓ آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔






















Saturday, 27 June 2026

جواد نقوی رافضی کی ہفوات کا جواب : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی اور عظیم المرتبت صحابی ہیں

جواد نقوی رافضی کی ہفوات کا جواب : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی اور عظیم المرتبت صحابی ہیں


محترم قارئینِ کرام : چشتیوں کے بادشاہ حضور محبوبِ الہٰی خواجہ سید محمد نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ ہمیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کیسا اعتقاد رکھنا چاہیے ؟ ۔ آپ نے جواب عطاء فرمایا : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مسلمان تھے اور صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تھے ۔ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سالے تھے ۔ ان کی بہن حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا حرمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تھیں ۔ (فوائد الفواد صفحہ نمبر 357 مطبوعہ الفیصل ناشران و تاجران کتب اردو بازار لاہور)


پیر سیال لجپال حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ سوال ہوا بعض سادات حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق اچھا عقیدہ نہیں رکھتے تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا جب تک تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کے متعلق اعتقاد درست نہ ہو اس وقت تک ایمان کامل نہیں ہو سکتا ۔ (مراة العاشقین صفحہ نمبر 183)


تاجدار گولڑہ حضرت سیّدنا و مرشدنا پیر مہر علی شاہ صاحب رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امیر معاویہ رضی عنہ کاتب وحی تھے ۔ (تحقیقُ الحَق فی کَلمۃ الحق صفحہ 159)


اور مترجم نے حاشیہ نمبر 2 میں لکھا ہے کہ : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کےلیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دعائیں فرمائیں آپ کاتب وحی تھے اور مسلمانوں کے ماموں ہیں شیخ عبد الحق محدث دہلوی اور شیخ محی الدین ابن عربی علیہما لرّحمہ کے حوالے سے لکھا ہے ۔


گولڑہ شرہف کا نام لے کر گولڑہ شریف سے نسبت ظاہر کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے والو تاجدار گولڑہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا احترام فرماتے ہیں اور انہیں کاتب وحی قرار دیتے ہیں اور مترجم نے لکھا جن کا تعلق تاجدار گولڑہ رحمۃ اللہ علیہ سے ہے : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کےلیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دعائیں فرمائیں آپ کاتب وحی تھے اور مسلمانوں کے ماموں ہیں شیخ عبد الحق محدث دہلوی اور شیخ محی الدین ابن عربی علیہما الرّحمہ کے حوالے سے لکھا ہے ۔ کہیں شرم و حیاء باقی ہو تو صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی توہین کرنا چھوڑ دو تاجدار گولڑہ رحمۃ اللہ علیہ کے واقعی اگر مرید ہو تو تمہیں اور شرم کرنی چاہیے رافضیوں کو ساتھ ملا کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ وعنہ کی توہین کرتے ہو اس حوالے سے ثابت ہوا تمہارا گولڑہ شریف سے کوئی تعلق نہیں ہے تم جیسے لوگ گولڑہ شریف کو بد نام کر رہے ہیں اللہ تمہیں ہدایت عطاء فرمائے اور تم جیسے لوگوں کے شر سے بچائے آمین ۔


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی ، عظیم المرتب صحابی اور تمام اہل اسلام کے ماموں ہیں مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی مفتی منہاج القرآن کا فتویٰ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم المرتبت صحابی ہیں ، کاتب وحی ہیں ۔ ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں ۔ اس لحاظ سے تمام اہلِ اسلام کے قابل صد تکریم روحانی ماموں ہیں ۔ لہذا کوئی مسلمان ان کی شان میں گستاخی کا تصور بھی نہیں کرسکتا اور جو گستاخی کرے وہ مسلمان نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ مسلمانوں کی پہچان قرآن میں یہ بتلائی گئی ہے کہ وہ اہل ایمان کے لئے ہمیشہ دعائے مغفرت کرتے ہیں ۔ يَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۔ (سورہ مومن:7) ۔ (ماہنامہ منہاج القرآن صفحہ 20 جنوری 2013ء الفقہ آپ کے دینی مسائل ۔ فتاویٰ منہاج القرآن)


جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ اجتہاد پر تھا اور ان کی کی خطاء اجتہادی تھی اور صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہونے کے ناطے ان پر ملامت ، طعن یا تنقید  کرناحرام ہے اور ان کے معاملے میں خاموشی سکوت واجب ہے ۔ (اسلامن دین امن و رحمت صفحہ نمبر 430 ، 432)


جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف کفر منسوب کرنے والا ان کو گالی دینے والا اشارہ یا کنایہ سے تو ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ (فلسفہ شہادت صفحہ نمبر 270،چشتی)


جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ہوشیار میرے حق میں دو گروہ ہلاک ہونگے ایک محبت میں میرا مرتبہ بڑھانے والے دوسرے بغض رکھنے والے ۔ (فلسفہ شہادت صفحہ نمبر 262 ، شیخ الاسلام منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب)


جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : ہمارا مطالبہ ہے گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور گستاخِ صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کو پھانسی دی جائے ایسے شیطان کو جینے کا حق نہیں ہے ۔ (فلسفہ شہادت صفحہ نمبر 271 ، شیخ الاسلام منہاج القرآن )


جناب من جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کے بیان کی روشنی میں ہمارا بھی یہی مطالبہ ہے کہ صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخیاں کرنے والوں کو پھانسیاں دی جائیں کیا فرماتے ہیں بانی منہاج القرآن اور شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب اور اُن کے فلاورز اس سلسلہ میں ؟ یاد رہے آپ خود اور آپ کے ادارہ کے مفتی صاحب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جلیل القدر صحابی مانتے ہیں ؟


مقامِ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سچے سُنی سادات کی نظر میں : ⏬


الاستاذ المکرّم غزالی زماں شیخ الحدیث والتفسیر حضر علاّمہ سیّد احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : تمام جہانوں کے اغواث ‘ ابدال ‘ اقطاب ‘ صلحاء ‘ نقباء ‘ عرفا اور تمام عابدین ‘ عارفین ‘ متقین ‘ مومنین ‘ صالحین اور اولیاء کاملین جمع ہو جائیں اور ان میں سے کسی نے سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جمال پاک اپنی ظاہری آنکھوں سے اپنی حیاتِ ظاہری میں نہ دیکھا ہو مگر سینکڑوں برس انہوں نے اتقاء اختیار کیا ہو ‘ سینکڑوں برس انہوں نے شب بیداری سے کام لیا ہو ‘ راتوں کو جاگ کر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ہو اور ان میں روزے رکھے ہوں ‘ حج کیئے ہوں ‘ زکواۃ دی ہو اور کوئی نیکی بھی نہ چھوڑی ہو مگر خدا کی قسم ! اس کے باوجود یہ سب مل کر بھی ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے مقام کو نہیں پہنچ سکتے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے اپنے لیے سجدے کرنے کا وہ ثواب نہیں رکھا جو ایمان اور محبت کیساتھ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیکھنے کا ثواب رکھا ہے ۔ (مقالاتِ کاظمی جلد چہارم سے ماخوذ)


علامہ سید احمد حبیب شاہ کاظمی شاہ صاحب علیہ الرحمہ جو غزالی زماں حضرت سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے بھتیجے ہیں ، ان سے ایک مرتبہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ سرزد ہو گئے ، تو آپ نے توجہ دلاے جانے پر تحریری طور پر نہ صرف توبہ و رجوع کیا میرا مقصد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین و تنقیص اور اُن پر طعن و تشنیع ہرگز نہیں ۔ مسلمان کسی صحابی کے حق میں ایسی جرات مسلمان نہیں کر سکتا ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہوئے کچھ یوں عرض گزار ہوۓے کہ : اے اللہ عزوجل حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی روح مبارک کو مجھ سے راضی کر دے تاکہ آخرت میں تیرا یہ بندہ عاصی تیری رحمتوں سے محروم نہ ہو ۔ (مقالات کاظمی جلد 4 صفحہ 367 ، 368،چشتی)


فقیر دونوں صفحات کے اسکینز پیش کر رہا ہے جنہیں آپ خود پڑھ سکتے ہیں ، اس توبہ نامے کی تائید و تعریف غزالی زماں حضرت سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے بھی فرمائی ، اور اپنے بھتیجے سے یہ نہ فرمایا ، کہ ہم تو سادات ہیں آلِ رسول ہیں مولائی ہیں ،،نو ڈیمانڈ معاویہ کا نعرہ لگاؤ ، اور لوگوں کا منہ بند کرنے کےلیے بس ظاہری توبہ و رجوع کرلو ، یہ روح کو راضی کرنا کون سا ضروری ہے ۔ مگر یہ سادات کرام جانتے تھے ، کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ، اور ان کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی بھی رب تعالیٰ کی رحمتوں سے محرومی کا سبب بن سکتی ہے ، اس لیے انہوں نے نہ صرف توبہ کی بلکہ حضرت معاویہ کی روح مبارک کو بھی راضی کرنے کی سعی فرمائی ۔ علامہ سید احمد حبیب شاہ کاظمی شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے اس مبارک عمل سے آج کے اُن سادات کرام کو سبق حاصل کرنا چاہیے ، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں زبانِ طعن دراز کرتے ہوٸے ذرا برابر بھی شرم و حیا محسوس نہیں کرتے ، کہ جنہیں ہم لعن و طعن کا نشانہ بنا رہے ہیں ، وہ کوئی عام شخص نہیں ، بلکہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس امت کا سب افضل و اعلیٰ لوگوں کا طبقہ ہے ۔ اللہ عزوجل ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہما کے بھائی ہیں لہٰذا مومنو کی ماں کے بھائی مومنو کے ماموں ہوئے اور کئی معتبر علمائے کرام نے یہ بات صرف لکھی ہی نہیں ہے بلکہ اس پر اعتراض کرنے والوں کو منہ توڑ جواب بھی دیا ہے ۔ پڑھیے حوالہ جات حاضر ہیں : (السنۃ، ذکر ابی عبدالرحمن معاویہ، جلد2، صفحہ نمبر434، رقم659-ایضاً، رقم658- ایضاً، صفحہ نمبر 433، رقم657- اسنادہ صحیح)(اسکات الکلاب العاویۃ بفضائک خال المؤمنین معاویہ، الفصل الرابع فی اقوال الصحابۃ رضی اللہ عنہم والتابعین ومن بعدھم فی فصل معاویۃ رضی اللہ عنہ، صفحہ نمبر75 و معاویہ بن ابی سفیان شخصیتہ وعصرہ الدولۃ السفیانۃ، ثالثا، ثناء العلماء علی معاویہ، صفحہ نمبر214،چشتی)(الشریعہ، باب ذکر مصاھرۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم...... جلد5، صفحہ نمبر2448، رقم1930)(تفسیر ابن عباس، تحت تفسیر سورہ ممتحنہ، آیت نمبر7)(الثقات للعجلی، باب الحاء، صفحہ نمبر127، 128، رقم218)(البدء والتاریخ، ام حبیبۃ بنت ابی سفیان بن حرب، جلد5، صفحہ نمبر13-ایضاً، صفحہ نمبر149،چشی)(الشریعہ، باب ذکر مصاھرۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم..... جلد5، صفحہ نمبر2431، 2448، رقم1930)(الاعتقاد، اعتقاد فی الصحابۃ، صفحہ نمبر43)(الحجۃ فی بیان المحجۃ وشرح عقیدۃ اہل السنۃ، امھات المؤمنین الطاہرات وان معاویۃ بن ابی سفیان کاتب وحی اللہ....... ،جلد1، صفحہ نمبر248،چشتی)(الاباطیل والمناکیر والصحاح والمشاھیر، باب فی فضائل طلحۃ والزبیر ومعاویۃ، صفحہ نمبر116، رقم191)(کتاب الاربعین فی ارشاد السائرین الی منازل المتقین او الاربعین الطائیۃ، الحدیث التاسع والعشرون...... ، صفحہ نمبر174)(تاریخ دمشق، ذکر من اسمہ معاویۃ، جلد59، صفحہ نمبر55، رقم7510)(مثنوی مولوی معنوی، دفتر دوم، بیدار کردن ابلیس معاویہ راکہ بر خیز کہ وقت نماز بیگاہ شد، صفحہ نمبر63)(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، باب ذکر اللہ عزوجل والتقرب الیہ، الفصل الثالث، جلد4، صفحہ نمبر1557)(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، باب ذکر اللہ، جلد3، صفحہ نمبر320)(امیر معاویہ کے حالات، پہلا باب، صفحہ نمبر40)(لعمۃ الاعتقاد، صفحہ نمبر40)(مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد2، صفحہ نمبر284)(البدایہ والنھایہ، جلد4، صفحہ نمبر163-ایضاً، جلد8، صفحہ نمبر125)(اتعاظ الحنفاء باخبار الائمۃ الخ، جلد1، صفحہ نمبر131)(الصواعق المحرقہ، صفحہ نمبر355)(مرقاۃ للقاری، جلد8، صفحہ نمبر3258، رقم5203-غذاء الالباب، جلد2، صفحہ نمبر457)(تحقیق الحق از پیر مہر علی، صفحہ نمبر159)


صدرُ الشریعہ علامہ امجد علی قادری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کسی صحابی کے ساتھ سوءِ عقیدت بدمذہبی وگمراہی اور استحقاقِ جہنم ہے کہ وہ حضور اکے ساتھ بغض ہے۔ ایسا شخص رافضی ہے اگرچہ چاروں خلفاء کو مانے اور اپنے آپ کو سنی کہے۔ مثلاً حضرت امیر معاویہ اور ان کے والد ماجد حضرت ابوسفیان اور والدہ ماجدہ حضرت ہند۔ اسی طرح حضرت سیدنا عمرو بن عاص و حضرت مغیرہ بن شعبہ و حضرت ابوموسیٰ اشعری ث حتیٰ کہ حضرت وحشی صجنہوںنے قبل اسلام حضرت سید الشہداء حمزہص کو شہید کیا اور بعد اسلام اخبثُ الناس خبیث مسیلمہ کذاب ملعون کو واصلِ جہنم کیا۔ ان میں سے کسی کی شان میں گستاخی تبرا ہے اور اس کا قائل رافضی۔یہ اگرچہ حضرات شیخین کی توہین کی مثل نہیں ہو سکتی کہ ان کی توہین بلکہ ان کی خلافت سے انکار ہی فقہائے کرام علیہم الرّحمہ کے نزدیک کفر ہے ۔ (بہارِ شریعت حصہ اوّل صفحہ نمبر 77)


امام ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جو شخص اصحاب رسول پر غضبناک ہوا وہ کافر ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ان پر کافر غضبناک ہوتے ہیں ۔ (شرح شفاء للعلی قاری جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 98)


صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آسمان ہدایت کے ستارے ہیں ، ان حضرات کا ایک ایک عمل احد پہاڑ کے برابر ثواب رکھتا ہے ، انبیاء کرام علیھم الصلوٰۃ والسلام کے بعد سب سے اعلی وارفع مقام انہی حضرات قدسی صفات کا ہے ، چنانچہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم وتکریم امت پر فرض اور ان کی شان میں بدگوئی کرنا حرام ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے جاں نثار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق نامناسب کلمات کہنے سے منع فرمایاہے اور بدکلامی کرنے والوں کو تنبیہ فرمائی کہ وہ اللہ سے ڈریں ، اللہ تعالی ان کی سخت گرفت فرمائے گا چنانچہ جامع ترمذی میں حدیث پاک ہے : عن عبداللہ بن مغفل قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی لاتتخذوہم غرضا بعدی فمن احبہم فبحبی احبہم ومن ابغضہم فببغضی ابغضہم ومن اٰذاہم فقد اٰذانی ومن اٰذنی فقداٰذی اللہ ومن اٰذی اللہ یوشک ان یأخذہ ۔

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّمم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو ، اللہ سے ڈرتے رہو ، میرے بعد انہیں بدگوئی کا نشانہ مت بناؤ ،پس جس کسی نے ان سے محبت کی توبالیقین اس نے میری محبت کی خاطر ان سے محبت کی ہے اور جس کسی نے ان سے بغض رکھا تواس نے مجھ سے بغض کے باعث ان سے بغض رکھاہے اور جس کسی نے ان کو اذیت پہنچائی یقینااس نے مجھ کو اذیت دی ہے اور جس نے مجھ کو اذیت دی یقیناً اس نے اللہ کو اذیت دی ہے اور جس نے اللہ کو اذیت دی قریب ہے کہ اللہ اس کی گرفت فرمائے ۔ (جامع ترمذی ابواب المناقب حدیث نمبر:3797،چشتی)


صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں بے ادبی اور ان کے حق میں بدکلامی موجب لعنت ہے جیسا کہ امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ کی معجم کبیر میں حدیث پاک ہے : عن ابن عباس: قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: من سب أصحابی فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس أجمعین ۔

ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : جو میرے صحابہ کے بارے میں بدگوئی کرے اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی باب العین حدیث نمبر:12709،چشتی)


صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں بے ادبی کرنے والا‘بد گوئی کرنے والا بروز محشر بھی ملعون ہوگا ، کنز العمال میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : کل الناس یرجو النجاۃ یوم القیامۃ إلا من سب أصحابی فإن أہل الموقف یلعنونہم .

ترجمہ : سارے لوگ قیامت کے دن نجات کی امید رکھینگے لیکن وہ بدگو شخص نہیں ، جس نے میرے صحابہ کو برا کہا ، اہل محشر اس پر لعنت بھیجیں گے ۔ (کنز العمال ، الفصل الاول فی فضائل الصحابۃ حدیث نمبر:32539)


اور مصنف ابن ابی شیبہ میں حدیث پاک ہے : عن ابن عمر یقول:لا تسبوا أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلمقام أحدہم ساعۃ خیر من عمل أحدہم عمرہ ۔

ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ، حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو برا نہ کہو ، ان میں سے کسی کے ایک گھڑی کا قیام لوگوں میں سے کسی کے زندگی بھر عمل سے بہتر ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ،کتاب الفضائل ، حدیث نمبر:32415)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق امت کو خیر خواہی ، دعائے خیر اور ان کا اچھا ذکر کرنے کی نصیحت فرمائی ۔ فرمایا : الله الله فی اصحابی ، الله الله فی اصحابی ، لا تتخذوهم غرضا من بعدی فمن احبهم فبحبی احبهم ومن ابغضهم فببغضی ابغضهم ومن اذا هم فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی الله ومن اذی الله فيوشک ان ياخذه ۔ (ترمذی، بحواله مشکوٰة، 554،چشتی)

ترجمہ : میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ سے ڈرو ۔ میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ بعد انہیں (طعن و تشنیع کا) نشانہ نہ بنانا۔ سو جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا ، اس نے میرے ساتھ بغض رکھنے کی بنا پر ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو تکلیف دی اس نے یقینا مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے یقینا اللہ کو تکلیف دی اور جس نے اللہ کو تکلیف دی تو عنقریب اسے اللہ پکڑے گا ۔


اسی طرح ارشاد فرمایا : اصحابی کالنجوم فبايهم اقتديتم اهتديتم . (مشکوٰة، 554)

ترجمہ : میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں جس کی پیروی کرو گے راہ پاؤ گے ۔


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اللہ راضی ہوچکا اور وہ حضرات اپنے رب سے راضی ہوچکے ۔ قرآن کریم میں ہے : رَّضِیَ اﷲُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ.(التوبة:100)

ترجمہ : اللہ ان (سب) سے راضی ہوگیا اور وہ (سب) اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لیے جنتیں تیار فرما رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی زبردست کامیابی ہے ۔


پس ہر شخص کو آگاہ ہونا چاہئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھنا ، ان کے راستے پر چلنا ، ان کے باہمی تنازعات میں پڑے بغیر ان کے لئے دعائے خیر کرنا ، امت پر فرض ہے۔ ان سے بغض رکھنا ، ان کی بے ادبی کرنا ، ان کی شان و شوکت سے جلنا طریقِ کفار و منافقین ہے ۔


اما م اہلسنت ابو الحسن الاشعری رحمۃ اللہ علیہ (324ھجری) فرماتے ہیں : جو جنگ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت زبیرو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما کے مابین ہوئی یہ تاویل اور اجتہاد کی بنیاد پر تھی ، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ہی امام تھے اور یہ تمام کے تمام مجتہدین تھے اور ان کے لیئے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلّم نے جنت کی گواہی دی ہے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلّم کی گواہی اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ تمام اپنے اجتہاد میں حق پر تھے ، اسی طرح جو جنگ حضرت سیدنا علی اور حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہما کے مابین ہوئی اس کا بھی یہی حال ہے ، یہ بھی تاویل واجتہاد کی بنیاد پر ہوئی ، اور تمام صحابہ پیشوا ہیں ، مامون ہیں ، دین میں ان پر کوئی تہمت نہیں ہے ، اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام کی تعریف کی ہے ، ہم پر لازم ہے کہ ہم ان تمام کی تعظیم و توقیر کریں ، ان سے محبت کریں اور جو ان کی شان میں کمی لائے اس سے براءت اختیار کریں ۔ (الابانہ عن اصول الدیانہ صفحہ 624۔625۔626،چشتی)


قاضی ابو بکر الباقلانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 304ھجری) فرماتے ہیں : واجب ہے کہ ہم جان لیں : جو امور حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے مابین واقع ہوئے اس سے ہم کف لسان کرے ، اور ان تمام کے لیئے رحمت کی دعا کریں ، تمام کی تعریف کریں ، اور اللہ تعالی سے ان کے لیئے رضا ، امان، کامیابی اور جنتوں کی دعا کرتے ہیں ، اور اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ان امور میں اصابت پر تھے ، اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے لیئے ان معاملات میں دو اجر ہیں ، اور صحابہ کرام علیہم الرضوان سے جو صادر ہوا وہ ان کے اجتہاد کی بنیاد پر تھا ان کے لیئے ایک اجر ہے ، نہ ان کو فاسق قرار دیا جائے گا اور نہ ہی بدعتی ۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ ان کے لیئے اللہ تعالی نے فرمایا : اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ۔ اور یہ ارشاد فرمایا : بے شک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے تو اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں ہے تو ان پر اطمینان اتارا اور انھیں جلد آنیوالی فتح کا انعام دیا ‘ اور حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہے جب حاکم اجتہاد کرے اور اس میں اصابت پر ہو تو اس کےلیے دو اجر ہیں ، اور جو اجتہاد کرے اور اس میں خطا کرے ، تو اس کےلیے اجر ہے ۔ جب ہمارے وقت میں حاکم کےلیے اس کے اجتہاد پر دو اجر ہیں تو پھر ان کے اجتہاد پر تمہارا کیا گمان ہے جن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا : رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ ۔ (الانصاف فی ما یجب اعتقاده صفحہ 64،چشتی)


غنیۃ الطالبین میں ہے : اہل سنت صحابہ علیہم الرضوان کے آپس کے معاملات میں کف لسان ، ان کی خطاؤں کے بیان سے رکنے اور ان کے فضائل ومحاسن کا اظہار کرنے پر اور جو معاملہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرات طلحہ وعائشہ ومعاویہ رضی اللہ تعالی عنہم کے مابین اختلاف ہوا اس کو اللہ تعالی کے سپرد کرنے پر متفق ہیں جیسا کہ ہم ماقبل میں بیان کرچکے ہیں اور ان میں ہر فضل والے کو اس کا فضل دینے پر متفق ہیں ۔ (الغنية لطالبي طريق الحق عز وجل صفحہ 163،چشتی)


امام شہاب الدین خفاجی رحمۃُ اللہ علیہ رحمہ ﷲ تعالٰی علیہ نے نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ میں فرمایا : ومن یکون یطعن فی معٰویۃ فذالک کلب میں کلاب الہاویۃ ۔

ترجمہ جو امیر معاویہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں سے ایک کتا ہے ۔ (نسیم الریاض جز رابع صفحہ 525 مطبوعہ دارالکتب علمیہ بیروت لبنان)


امام اہلسنت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے وہ جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد29 صفحہ 264 ۔ امام اہلسنت اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ علیہ)


امام اہلسنت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرنے والا جہنّمی کتوں میں سے ایک کتا ہے اور بد تر خبیث تبرائی رافضی ہے ایسے شخص کو امام بنانا جائز نہیں ہے ۔ (احکام شریعت صفحہ نمبر 120 ، 121 )


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گستاخ جہنمی کتا ہے ، اگر کوئی چورہ شریف سے تعلق رکھ کر حضرت امیر معاویہ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہم گدی نشین ہونے کی حیثیت سے اسے تنبیہ کرتے ہیں انسان بن جاؤ ۔ (الدرّۃ الحیدریہ علیٰ کلب الھاویہ عدوّ معاویہ صفحہ نمبر 8 مطبوعہ کرمانوالہ بک شاپ لاہور،چشتی)


پاکستان کے نقشبندی مجددی آستانوں کے مرکزی آستانہ عالیہ چورہ شریف کا واضح حکم آ جانے کے بعد بھی اگر چورہ شریف کا کوئی مرید حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی گستاخی کے گھناؤنے فعل میں ملوث ہے تو وہ باز آ جائے اور آئندہ کے لیے توبہ کرے ۔ اور یہ بات کبھی نہ بھولے کہ ایک صحیح العقیدہ آستانے کے مرید نہ تو خارجیوں کے عقیدہ کے داعی ہیں اور نہ ہی رافضیوں کے عقیدہ کے داعی ۔


حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان صرف دو مرتبہ جنگ ہوئی ۔ (1) جنگ صفین ۔ (2) جنگ جمل


ان جنگوں کا سبب جیسا کہ معلوم ہے بنیادی طور پر خلیفہ راشد، امیرالمومنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت تھی جس کے پس پردہ وہی یہودی و مجوسی سازش کارفرما تھی جو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کی ذمہ دار تھی۔ صحیح صورتحال اور معلومات کا ایک جگہ سے دوسری جگہ تک بروقت پہنچ جانا اس زمانہ میں ممکن نہ تھا جبکہ اسلام دشمن عناصر گمراہ کن افواہیں تسلسل سے پھیلانے میں مصروف تھے۔ ان حالات میں مسلم عوام و خواص میں غلط فہمیوں کا پیدا ہوجانا باعث تعجب نہیں۔ غلط فہمیاں پھیلیں اور اس کے نتیجہ میں :


(1) باہمی جنگیں ہوئیں جس میں مسلمانوں کا ناقابل بیان جانی و مالی نقصان ہوا ۔


(2) ملی وحدت ٹکڑے ٹکڑے ہوئی ۔


(3) وہ فاتحانہ قدم جو بڑی تیزی کے ساتھ یورپ، افریقہ اور ایشیاء کی طرف بڑھتے چلے جارہے تھے ، یکدم رک گئے ۔


تاہم یہ قضا و قدر کے وہ قطعی فیصلے تھے جن کی نبئِ غیب داں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ان واقعات کے رونما ہونے سے بہت پہلے دے دی تھی ۔ دونوں طرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہ تھے ۔ کسی ایک کو مورد الزام ٹھہرانا نہ صحیح ہے نہ انصاف ۔ اس مسئلہ میں ناصبی ، خارجی بھی غلط ہیں جو حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شانِ اقدس میں زبان طعن دراز کرتے ہیں اور رافضی شیعہ اور اُن کے ہمنوا بھی غلط ہیں جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یا دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان عظمت میں گستاخی کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ گستاخی کی لعنت سے ہر مسلمان کو محفوظ فرمائے ۔ صحیح صورت حال وہی ہے جس کی نشاندہی فقیر نے کر دی ہے اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ، صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم ائمہ و اولیاء علیہم الرّحمہ و علماء کا ادب و احترام و احترام کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)






















Saturday, 20 June 2026

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ماتم کیا کا جواب مع اسلام اور جاہلیت والے کام

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ماتم کیا کا جواب مع اسلام اور جاہلیت والے کام

محترم قارئینِ کرام : شیعہ حضرات جب بھی دلیل دیتے ہیں تو صرف اپنے مطلب کی بات کرتے ہیں اور پوری بات نہیں کرتے ۔ جس طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ماتم ثابت کرنا چاہ رہے ہیں لیکن مکمل روایت نقل نہیں کی ہم مکمل روایت پیش کر رہے ہیں اور فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں : حدثنا يعقوب قال حدثنا أبي عن ابن إسحاق قال حدثنی يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أبيه عباد قال سمعت عاشة تقول مات رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بين سحری و نحری وفی دولتی لم أظلم فيه أحدا فمن سفهی وحداثة سنی أن رسول الله قبض وهو في حجري ثم وضعت رأسه على وسادة وقمت ألتدم مع النسا وأضرب وجهی ۔

ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال میری گردن اور سینہ کے درمیان اور میری باری کے دن میں ہوا تھا ، اس میں میں نے کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا ، لیکن یہ میری بیوقوفی اور نوعمری تھی کہ میری گود میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا اور پھر میں نے ان کا سر اٹھا کر تکیہ پر رکھ دیا اور خود عورتوں کے ساتھ مل کر رونے اور اپنے چہرے پر ہاتھ مارنے لگی ۔ (مسند احمد جلد نہم حدیث نمبر 6258،چشتی)


اس میں ماتم کا جواز نہیں ملتا بلکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرما رہی ہیں کہ : یہ میری بیوقوفی اور نوعمری تھی ۔ یہ کسی عام بندے کی وفات کی بات نہیں تھی بلکہ افضل البشر ، رحمۃ اللعالمین حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کی تھی اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے یہ عمل ہو بھی گیا ہے تو اس کو ماتم کرنے کی دلیل نہیں لی جا سکتی ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو معصوم عن الخطاء نہیں سمجھتے اور شیعہ جنہیں امام معصوم سمجھتے ہیں ان سے بھی کافی غلطیاں ہوئیں تھی ۔ جیسا کہ شیعہ کتاب ملاذ الاخیار میں لکھا ہے علی علیہ السلام نے غلطی سے ایک شخص کے چوری کے الزام میں ہاتھ کٹوا دیے لیکن اصل چور کوئی اور تھا ۔ (ملاذ الاخیار جلد 10 صفحہ 126،چشتی)


اگر حضرت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک بار ماتم ثابت ہے اور جس میں وہ خود اپنی غلطی کا ازھار بھی کر رہی ہے تو کیا اسے جس طرح شیعہ ماتم کرتے ہیں اس کی دلیل لی جا سکتی ہے ؟ کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہر سال ماتم کیا ؟


اگر شیعہ سمجھتے ہیں کی ماتم کرنا محبت کی نشانی ہے تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک پر حضرت علی ، فاطمہ ، حسن و حسین رضی اللہ عنہم اجمعین نے ماتم کیوں نہ کیا ؟ کیوں سینہ نہیں پیٹا ؟ کیوں تلوار سے ماتم نہیں کیا ؟ کیوں قمی زنی نہیں کی؟ کیا ان حضرات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں تھی ؟


کیا شیعہ حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر ہر سال ماتم کرتے ہیں ؟ کیونکہ ماتم تو شیعہ کے نزدیک عبادت ہے ، اور بعض کے نزدیک تو اصل نماز ہی ماتم ہے ۔


شیعہ حضرات اہل سنت پر ماتم کے جواز کو ثابت کرنے کےلیے اس کو بڑے فخر و غرور سے یہ مزکورہ روایت پیش کرتے ہیں اس لیے اس کی اہمیت کے پیش نظر  پہلے اس وایت کے راویوں پر فن اسماء الرجال کے تحت کچھ گفتگو ہو جائے تاکہ راویت کا درجہ معلوم ہو سکے اور یہ معلوم ہو سکے کہ کیا یہ حدیث قابل استدلال اور قابل قبول ہے بھی یا نہیں ۔


تاریخ طبری کے مصنف نے یہ روایت جس راوی سے نقل کی ہے اس کا نام محمد بن حمید ہے اس راوی کے متعلق علامہ ابن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب نامی کتاب میں یوں لکھا ہے ۔


نوٹ : یہ اسماءالرجال میں بہت اہم اور سب سے بڑی کتاب ہے ۔


  راوی ابن حمید


یعقوب بن شبہ کہتے ہیں کہ محمد بن حمید منکر حدیثیں زیادہ روایت کرتا ہے امام بخاری کہتے ہیں اس کی روایت کردہ حدیث میں نظر ہے یعنی بے سوچے سمجھے قبول نہ ہوگی امام نسائی فرماتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے اور جوز جانی کہتے ہیں یہ ردی المذہب اور غیر ثقہ ہے اور فضلک رازی نے کہا میرے پاس ابن حمید کی روایت کردہ پچاس ہزار احادیث ہیں لیکن میں ان میں سے ایک حرف بھی روایت نہیں کرتا ۔


صالح بن محمد اسدی کہتے ہیں کہ ابن حمید جو حدیث ہمیں سناتا ہم اس کو متہم کرتے ایک اور جگہ فرمایا یہ کثیر الاحادیث ہے اور اللہ تعالی کے معاملہ اس سے بڑا بے باک میں نے کوئی دوسرا نہ دیکھا لوگوں سے حدیث لیتا اور ایک دوسری میں غلط ملط کر دیتا اور ابوالعباس بن سعید نے کہا ابن خراش سے میں نے سنا کہ ابن حمید ہمیں حدیثیں سناتا اور اللہ کی قسم وہ جھوٹ بولتا ۔


جس سند میں ایک راوی ایسا ہو جو فن اسماءالرجال میں کذاب ، غیر ثقہ ، ردی المذہب اور خاص کر اللہ تعالی پر غلط باتوں کی نسبت کرنے کی جرات میں لاثانی ہو اس روایت کا کیا مقام ہو گا ایسی حدیث سے شیعہ کا استدلال کرنا کہ ماتم جائز ہے لوگوں کو کھلا دھوکا دینا ہے یا پھر اپنی کم علمی بے بسی کا رونا ہے ورنہ ایسی حدیث جس کے راوی پر اس قدر جرح ہو وہ قابل نہیں رہتی اس بات سے فن اسماءالرجال کا ادنی طالب علم بھی آگاہ ہے ۔


 سلمہ بن فضل راوی محمد حمید کے استاد ہیں ان سے ابن حمید نے روایت کی ہے ان کا پورا نام سلمہ بن فضل الابرش الانصاری ہے ۔


سلمہ بن فضل


امام بخاری نے فرمایا سلمہ بن فضل کے پاس زیادہ احادیث منکر تھیں جن کو علی نے کمزور کہا علی نے کہا ہم نے رے نامی شہر سے باہر نکلتے وقت اس کی حدثیں وہیں چھوڑ دی تھی برزعی کہتا ہے کہ ابوذرعہ نے کہا کہ اہل رائے سلمہ بن فضل کی طرف رغبت نہ کرتے تھے کیونکہ یہ شخص بری رائے اور ظلم سے موصوف تھا ابراہیم بن موسی نے کہا کہ میں نے اس سلمہ بن فضل کے بارے میں ابوذرعہ کو بار ہار اپنی زبان پکڑتے دیکھا جس سے وہ اس کا جھوٹا ہونا اشارةً بیان کرتے تھے امام نسائی نے اسے ضعیف کہا اور یہ بھی کہا کہ اس میں شیعت تھی ۔


محترم قارئینِ کرام : فن اسماء الرجال سے ہم نے سلمہ بن فضل کے بارے میں ناقدین کی تنقید بمع وجوہات ذکر کی امام بخاری کے نزیک یہ منکراحادیث کا جامع ہے اور ابوذرعہ اس کے بارے میں یہاں تک کہتے ہیں کہ خود اس کے ہم شہر لوگ اس کی بات کی کوئی اہمیت نہ دیتے کیونکہ ظم اور بری رائے اس میں مشہور تھی بلکہ ابوذرعہ نے تو کذاب بھی کہا امام نسائی نے کذاب مائل شیعیت کہا اور کوئی جرع کی وجہ نہ ہوتی صرف شیعت ہی اس مقام پر کافی تھی کیونکہ شیعوں نے اس حدیث کو سنیوں کی حدیث کے طور پر بیان کیا اور بطور حجت اہلسنت کی حدیث پیش کر کے مروجہ ماتم کو اہلسنت عبارات سے ثابت کرنے کی ذمہ داری اٹھائی تھی آپ غور فرمائیں جس حدیث کا راوی ایک شیعہ ہو وہ سنیوں کی روایت کیسے ہوئی گویا شیعوں نے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی کہ دیکھو اہلسنت کی کتابوں میں ثابت ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انتقال پر مروجہ ماتم کیا ۔


محمد بن اسحاق راوی سملہ بن فضل کے استاد ہیں ان کا پورا نام محمد بن اسحاق ہے ان کا حال بھی ملاخط کر لیں تاکہ راویان حدیث میں ان کے مقام کو سمجھا جا سکے ۔


محمد بن اسحاق


امام مالک نے فرمایا محمد بن اسحاق دجالوں میں سے ایک دجال ہے جوزجانی نے کہا ہے اس پر مختلف بدعات ایجاد کرنے کا الزام لگایا گیا موسی بن ہارون نے کہا میں نے محمد بن عبد اللہ نمیر سے سنا کہ محمد بن اسحاق قدریہ تھا میمونی نے ابن معین سے نقل کیا یہ ضعیف تھا اور امام نسائی نے اسے لیس بقوی کہا ۔


ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہوا کہ حدیث میں جب ایسے راوی ہوں جن کو ائمہ حدیث قابل حجت شمار نہ فرمائیں تو وہ حدیث اہلسنّت کے ہاں کیسے قابل قبول ہو سکتی ہے اس قسم کے غیر معتبر راویوں کی حدیث بیان کر کے خود شیعوں نے مروجہ ماتم جائز ثابت کرنے کی کوشش کی تو اس سے معلوم ہوا کہ ان کے پاس لے دے کے کچھ ایسی ہی ناقابل حجت احادیث ہیں جب خود حدیث غیر مقبول ہوئی تو اس سے استدلال اور حجت کو کون قوی اور قابلِ عمل کہے ۔


دوسری بات ائمہ محدثین کے ہاں ایک قانوں یہ بھی ہے کہ جب حدیث کا کوئی راوی خود اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف عمل کرے یا اس میں تنقید یا عذر پیش کرے تو وہ حدیث بھی قابل عمل نہیں رہتی شیعوں نے اس حدیث سے استدلال کیا لیکن ام المومنین سیدہ عائشہ صدیق رضی اللہ عنہا کا عذر اور تنقید نظر نہ آئی وہ یہ کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرا ایسا کرنا یعنی چہرہ پر ہاتھ مارنا اور پیٹنا بوجہ بے عقلی اور کم سنی کے تھا یعنی اگر میر عمر حد بلوغ تک پہنچ چکی ہوتی اور اس کے ساتھ میری عقل بھی کامل ہو چکی ہوتی تو پھر یہ کام مجھ سے متوقع نہ تھا ۔


اب آپ حضرات خود سوچیں کہ اہل تشیع جن کو اپنے مسلک کے ثبوت پر بطور دلیل و حجت پیش کرتے ہیں یہ وہی شخصیت ہیں جس کے بارے میں شیعوں کی کتاب فروع الکافی موجود ہے کہ ہر فرضی نماز کے بعد ان پر شیعوں کو لعنت کرنی چاہیے ادھر اس قدر نفرت اور ادھر ان کے فعل کو اپنے مسلک کی دلیل بنانا کس قدر منافقت ہے پھر جب قاعدہ مذکورہ کے تحت راوی حدیث خود اپنی روایت کردہ بات کو ناپسند کرے اور اس میں عذر پیش کرے ایسے میں دوسرے کے لیے اس سے ثبوت مہیا کرنا کس طرح روا ہے ۔


ہم شیعہ حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ اللہ عزوجل سے ڈریں اور جب بھی بات کریں تو مکمل کیا کریں صرف اپنے مطلب کی بات کاٹ کر لوگوں کو گمراہ نہ کریں ۔


ارشادِ باری تعالیٰ ہے :  وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ (۱۵۵)  الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ (۱۵۶) ۔


 ترجمہ : اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو ۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں ۔ ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ (سورۃ البقرۃ ۔ آیت 155-156)


قرآنِ کریم میں مصیبتوں پر صبر کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی گئی اور یہ بتایا گیا کہ صبر کرنے والے وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ تعالیٰ ہی کے مملوک اور اسی کے بندے ہیں وہ ہمارے ساتھ جو چاہے کرے اور آخرت میں ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ (تفسیر جلالین سورہ البقرۃ : ۱۵۶، صفحہ ۲۲،چشتی)


آزمائش سے فرمانبردار اور نافرمان کے حال کا ظاہر کرنا مراد ہے ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول خوف سے اللہ تعالیٰ کا ڈر ، بھوک سے رمضان کے روزے، مالوں کی کمی سے زکوٰۃ و صدقات دینا ، جانوں کی کمی سے امراض کے ذریعہ اموات ہونا، پھلوں کی کمی سے اولاد کی موت مراد ہے کیونکہ اولاد دل کا پھل ہوتی ہے ، جیساکہ حدیث شریف میں ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : جب کسی بندے کا بچہ مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے : تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کی ۔وہ عرض کرتے ہیں کہ ’’ہاں ، یارب پھر فرماتا ہے :’ تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا ۔ وہ عرض کرتے ہیں : ہاں ، یارب ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اس پر میرے بندے نے کیا کہا ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : اس نے تیری حمد کی اور ’’اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ پڑھا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اس کےلیے جنت میں مکان بناؤ اور اس کا نام بیتُ الحمد رکھو ۔(ترمذی، کتاب الجنائز، باب فضل المصیبۃ اذا احتسب، ۲ / ۳۱۳،  الحدیث: ۱۰۲۳،چشتی)


یاد رہے کہ زندگی میں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی مرض سے، کبھی جان و مال کی کمی سے، کبھی دشمن کے ڈر خوف سے، کبھی کسی نقصان سے، کبھی آفات و بَلِیّات سے اور کبھی نت نئے فتنوں سے آزماتا ہے اور راہِ دین اور تبلیغِ دین تو خصوصاً وہ راستہ ہے جس میں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں ، اسی سے فرمانبردار و نافرمان، محبت میں سچے اور محبت کے صرف دعوے کرنے والوں کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر اکثرقوم کا ایمان نہ لانا، حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کا آگ میں ڈالا جانا، فرزند کو قربان کرنا، حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بیماری میں مبتلا کیا جانا ،ان کی اولاد اور اموال کو ختم کر دیا جانا، حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کا مصرسے مدین جانا، مصر سے ہجرت کرنا، حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کا ستایا جانا اور انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کا شہید کیا جانا یہ سب آزمائشوں اور صبر ہی کی مثالیں ہیں اور ان مقدس ہستیوں کی آزمائشیں اور صبر ہر مسلمان کے لئے ایک نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں لہٰذا ہر مسلمان کوچاہئے کہ اسے جب بھی کوئی مصیبت آئے اوروہ کسی تکلیف یا اَذِیَّت میں مبتلا ہو تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے اور بے صبری کا مظاہرہ نہ کرے ۔


صدر الشریعہ حضرت  مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بہت موٹی سی بات ہے جو ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی کتنا ہی غافل ہو مگر جب ( اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا وہ کسی مصیبت اور) مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو کس قدر خداکو یاد کرتا اور توبہ و استغفار کرتا ہے اور یہ تو بڑے رتبہ والوں کی شان ہے کہ (وہ) تکلیف کا بھی اسی طرح استقبال کرتے ہیں جیسے راحت کا (استقبال کرتے ہیں) مگر ہم جیسے کم سے کم اتنا تو کریں کہ (جب کوئی مصیبت یا تکلیف آئے تو) صبر و استقلال سے کام لیں اور جَزع و فَزع (یعنی رونا پیٹنا) کرکے آتے ہوئے ثواب کو ہاتھ سے نہ (جانے) دیں اور اتنا تو ہر شخص جانتا ہے کہ بے صبری سے آئی ہو ئی مصیبت جاتی نہ رہے گی پھر اس بڑے ثواب (جو احادیث میں بیان کیاگیا ہے) سے محرومی دوہری مصیبت ہے ۔ (بہار شریعت، کتاب الجنائز، بیماری کا بیان، ۱ / ۷۹۹)


اللہ عزوجل نے ہمیں اشرف المخلوقات میں سے پیدا کیا اگر وہ چاہتا تو ہمیں جانوروں میں سے بھی پیدا کر سکتا تھا اس وجہ سے اللہ کا شکر ادا کریں اللہ سبحان وتعالی نے ہمیں صحت جیسی نعمت دی ، ہمیں دماغ دیا سوچنے کےلیے اس وجہ سے اللہ کی دی ہوئی نعمت کا کفر نہ کریں اپنا خون بہا کر ۔ اللہ ہم سب کو حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان صبر کرنے والوں میں سے کردے جنہیں اللہ نے قرآن میں بشارت دی ہے ۔ آمین ۔ 


اسلام میں جاہلیت والے کام پیٹنا کپڑے پھاڑنا ، زخمی کرنا اور نوحہ و ماتم کا حکم : ⏬


عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ ، وَلَا مَنْ سَلَقَ ، وَلَا مَنْ خَرَقَ ، وَلَا مَنْ دَعَا بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ ” . قَالَ زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ : السَّلْقُ الصِّيَاحُ وَالْخَرْقُ ، خَرْقُ الْجَيْبِ ، وَالْحَلْقُ حَلْقُ الشَّعْرِ ۔


ترجمہ : حضرت علی رضی الله عنہ نے فرمایا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : وہ ہم میں سے نہیں جس نے (سوگ میں) بال منڈاۓ ، چیخ و پکار کی ، گریبان پھاڑا اور ہلاکت و موت کو پکارا. امام (اہل بیت) زید بن علی رحمة الله عليه نے فرمایا : “سلق” کا معنی چیخ و پکار، “خرق” کا معنی گریبان پھاڑنا ، اور “حلق” کا معنی بال مونڈنا ہے ۔ (مسند زيد (سنة الوفاة:122) » كِتَابُ الْجَنَائِزِ » بَابُ الصِّيَاحِ وَالنَّوْحِ … رقم الحديث: 187)


عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسَلّمَ : ” نَهَى عَنِ النَّوْحِ ۔


ترجمہ : حضرت علی رضی الله عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ہمیں روکا ہے نوحہ کرنے سے ۔ (مسند زيد سنة الوفاة:122 كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ الصِّيَاحِ وَالنَّوْحِ رقم الحديث: 188۔چشتی)


ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ : نبی کریم ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ‏( ﻏﻤﯽ ﻭ ﻣﺎﺗﻢ ﻣﯿﮟ ‏) ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺧﺴﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﯿﭩﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﯾﺒﺎﻥ ﭘﮭﺎﮌﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ (ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ : ﺟﻠﺪ ﺩﻭﻡ : ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 738)

ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻋَﺒْﺪُ ﺑْﻦُ ﺣُﻤَﻴْﺪٍ ﻭَﺇِﺳْﺤَﻖُ ﺑْﻦُ ﻣَﻨْﺼُﻮﺭٍ ﻗَﺎﻟَﺎ ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﺟَﻌْﻔَﺮُ ﺑْﻦُ ﻋَﻮْﻥٍ ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﺃَﺑُﻮ ﻋُﻤَﻴْﺲٍ ﻗَﺎﻝَ ﺳَﻤِﻌْﺖُ ﺃَﺑَﺎ ﺻَﺨْﺮَﺓَ ﻳَﺬْﮐُﺮُ ﻋَﻦْ ﻋَﺒْﺪِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِ ﺑْﻦِ ﻳَﺰِﻳﺪَ ﻭَﺃَﺑِﻲ ﺑُﺮْﺩَﺓَ ﺑْﻦِ ﺃَﺑِﻲ ﻣُﻮﺳَﯽ ﻗَﺎﻟَﺎ ﺃُﻏْﻤِﻲَ ﻋَﻠَﯽ ﺃَﺑِﻲ ﻣُﻮﺳَﯽ ﻭَﺃَﻗْﺒَﻠَﺖْ ﺍﻣْﺮَﺃَﺗُﻪُ ﺃُﻡُّ ﻋَﺒْﺪِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺗَﺼِﻴﺢُ ﺑِﺮَﻧَّﺔٍ ﻗَﺎﻟَﺎ ﺛُﻢَّ ﺃَﻓَﺎﻕَ ﻗَﺎﻝَ ﺃَﻟَﻢْ ﺗَﻌْﻠَﻤِﻲ ﻭَﮐَﺎﻥَ ﻳُﺤَﺪِّﺛُﻬَﺎ ﺃَﻥَّ ﺭَﺳُﻮﻝَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻗَﺎﻝَ ﺃَﻧَﺎ ﺑَﺮِﻳﺊٌ ﻣِﻤَّﻦْ ﺣَﻠَﻖَ ﻭَﺳَﻠَﻖَ ﻭَﺧَﺮَﻕَ ۔


ترجمہ : ﺍﺑﻮﻣﻮﺳﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻣﻮﺳﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﭘﺮ ﻣﺮﺽ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻏﺸﯽ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﮨﻠﯿﮧ ﺍﻡ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﭼﻼّ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻣﻮﺳﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺍﻓﺎﻗﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺮﯼ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺑﻄﻮﺭ ﻣﺎﺗﻢ ﺑﺎﻝ ﻣﻨﮉﻭﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻼّ ﮐﺮ ﺭﻭﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮭﺎﮌﮮ ۔ (ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ : ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ : ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 288،چشتی)


ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺃَﺑُﻮ ﺑَﮑْﺮِ ﺑْﻦُ ﺃَﺑِﻲ ﺷَﻴْﺒَﺔَ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺃَﺑُﻮ ﻣُﻌَﺎﻭِﻳَﺔَ ﺡ ﻭ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺍﺑْﻦُ ﻧُﻤَﻴْﺮٍ ﻭَﺍﻟﻠَّﻔْﻆُ ﻟَﻪُ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺃَﺑِﻲ ﻭَﻣُﺤَﻤَّﺪُ ﺑْﻦُ ﻋُﺒَﻴْﺪٍ ﮐُﻠُّﻬُﻢْ ﻋَﻦْ ﺍﻟْﺄَﻋْﻤَﺶِ ﻋَﻦْ ﺃَﺑِﻲ ﺻَﺎﻟِﺢٍ ﻋَﻦْ ﺃَﺑِﻲ ﻫُﺮَﻳْﺮَﺓَ ﻗَﺎﻝَ ﻗَﺎﻝَ ﺭَﺳُﻮﻝُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﺍﺛْﻨَﺘَﺎﻥِ ﻓِﻲ ﺍﻟﻨَّﺎﺱِ ﻫُﻤَﺎ ﺑِﻬِﻢْ ﮐُﻔْﺮٌ ﺍﻟﻄَّﻌْﻦُ ﻓِﻲ ﺍﻟﻨَّﺴَﺐِ ﻭَﺍﻟﻨِّﻴَﺎﺣَﺔُ ﻋَﻠَﯽ ﺍﻟْﻤَﻴِّﺖِ


ترجمہ : ﺍﺑﻮﮨﺮﯾﺮﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﮐﻔﺮ ﮨﯿﮟ ﻧﺴﺐ ﻣﯿﮟ ﻃﻌﻦ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺖ ﭘﺮ ﻧﻮﺣﮧ ﮐﺮﻧﺎ ۔ (ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ : ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ : ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 229)


ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺃَﺑُﻮ ﺑَﮑْﺮِ ﺑْﻦُ ﺃَﺑِﻲ ﺷَﻴْﺒَﺔَ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻋَﻔَّﺎﻥُ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺃَﺑَﺎﻥُ ﺑْﻦُ ﻳَﺰِﻳﺪَ ﺡ ﻭ ﺣَﺪَّﺛَﻨِﻲ ﺇِﺳْﺤَﻖُ ﺑْﻦُ ﻣَﻨْﺼُﻮﺭٍ ﻭَﺍﻟﻠَّﻔْﻆُ ﻟَﻪُ ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﺣَﺒَّﺎﻥُ ﺑْﻦُ ﻫِﻠَﺎﻝٍ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺃَﺑَﺎﻥُ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻳَﺤْﻴَﯽ ﺃَﻥَّ ﺯَﻳْﺪًﺍ ﺣَﺪَّﺛَﻪُ ﺃَﻥَّ ﺃَﺑَﺎ ﺳَﻠَّﺎﻡٍ ﺣَﺪَّﺛَﻪُ ﺃَﻥَّ ﺃَﺑَﺎ ﻣَﺎﻟِﮏٍ ﺍﻟْﺄَﺷْﻌَﺮِﻱَّ ﺣَﺪَّﺛَﻪُ ﺃَﻥَّ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲَّ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻗَﺎﻝَ ﺃَﺭْﺑَﻊٌ ﻓِﻲ ﺃُﻣَّﺘِﻲ ﻣِﻦْ ﺃَﻣْﺮِ ﺍﻟْﺠَﺎﻫِﻠِﻴَّﺔِ ﻟَﺎ ﻳَﺘْﺮُﮐُﻮﻧَﻬُﻦَّ ﺍﻟْﻔَﺨْﺮُ ﻓِﻲ ﺍﻟْﺄَﺣْﺴَﺎﺏِ ﻭَﺍﻟﻄَّﻌْﻦُ ﻓِﻲ ﺍﻟْﺄَﻧْﺴَﺎﺏِ ﻭَﺍﻟْﺎﺳْﺘِﺴْﻘَﺎﺉُ ﺑِﺎﻟﻨُّﺠُﻮﻡِ ﻭَﺍﻟﻨِّﻴَﺎﺣَﺔُ ﻭَﻗَﺎﻝَ ﺍﻟﻨَّﺎﺋِﺤَﺔُ ﺇِﺫَﺍ ﻟَﻢْ ﺗَﺘُﺐْ ﻗَﺒْﻞَ ﻣَﻮْﺗِﻬَﺎ ﺗُﻘَﺎﻡُ ﻳَﻮْﻡَ ﺍﻟْﻘِﻴَﺎﻣَﺔِ ﻭَﻋَﻠَﻴْﻬَﺎ ﺳِﺮْﺑَﺎﻝٌ ﻣِﻦْ ﻗَﻄِﺮَﺍﻥٍ ﻭَﺩِﺭْﻉٌ ﻣِﻦْ ﺟَﺮَﺏٍ ۔


ترجمہ : ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻣﺎﻟﮏ ﺍﺷﻌﺮﯼ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﭼﺎﺭ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﮐﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺴﺐ ﭘﺮ ﻓﺨﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﺴﺐ ﭘﺮ ﻃﻌﻦ ﮐﺮﻧﺎ، ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﻧﺎ، ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺣﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻧﻮﺣﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮭﮯ ﮔﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮔﻨﺪﮬﮏ ﮐﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﮓ ﮐﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﮨﻮ ﮔﯽ ۔ (ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ : ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ : ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 2154)


ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﺇِﺳْﺤَﻖُ ﻗَﺎﻝَ ﺃَﻧْﺒَﺄَﻧَﺎ ﻋَﺒْﺪُ ﺍﻟﺮَّﺯَّﺍﻕِ ﻗَﺎﻝَ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻣَﻌْﻤَﺮٌ ﻋَﻦْ ﺛَﺎﺑِﺖٍ ﻋَﻦْ ﺃَﻧَﺲٍ ﺃَﻥَّ ﺭَﺳُﻮﻝَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﺃَﺧَﺬَ ﻋَﻠَﯽ ﺍﻟﻨِّﺴَﺎﺉِ ﺣِﻴﻦَ ﺑَﺎﻳَﻌَﻬُﻦَّ ﺃَﻥْ ﻟَﺎ ﻳَﻨُﺤْﻦَ ﻓَﻘُﻠْﻦَ ﻳَﺎ ﺭَﺳُﻮﻝَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺇِﻥَّ ﻧِﺴَﺎﺉً ﺃَﺳْﻌَﺪْﻧَﻨَﺎ ﻓِﻲ ﺍﻟْﺠَﺎﻫِﻠِﻴَّﺔِ ﺃَﻓَﻨُﺴْﻌِﺪُﻫُﻦَّ ﻓَﻘَﺎﻝَ ﺭَﺳُﻮﻝُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻟَﺎ ﺇِﺳْﻌَﺎﺩَ ﻓِﻲ ﺍﻟْﺈِﺳْﻠَﺎﻡِ


ترجمہ : ﺍﻧﺲ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺳﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﻟﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺳﮯ ﻧﻮﺣﮧ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ! ﺑﻌﺾ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻧﮯ ﺩﻭﺭ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﻣﺪﺍﺩ ‏( ﻧﻮﺣﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ‏) ﮐﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﻣﺪﺍﺩ ﮐﺮﯾﮟ؟ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔(ﺳﻨﻦ ﻧﺴﺎﺋﯽ : ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ : ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 1855،چشتی)


ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﻋَﻠِﻲُّ ﺑْﻦُ ﺧَﺸْﺮَﻡٍ ﻗَﺎﻝَ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻋِﻴﺴَﯽ ﻋَﻦْ ﺍﻟْﺄَﻋْﻤَﺶِ ﺡ ﺃَﻧْﺒَﺄَﻧَﺎ ﺍﻟْﺤَﺴَﻦُ ﺑْﻦُ ﺇِﺳْﻤَﻌِﻴﻞَ ﻗَﺎﻝَ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺍﺑْﻦُ ﺇِﺩْﺭِﻳﺲَ ﻋَﻦْ ﺍﻟْﺄَﻋْﻤَﺶِ ﻋَﻦْ ﻋَﺒْﺪِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺑْﻦِ ﻣُﺮَّﺓَ ﻋَﻦْ ﻣَﺴْﺮُﻭﻕٍ ﻋَﻦْ ﻋَﺒْﺪِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻗَﺎﻝَ ﻗَﺎﻝَ ﺭَﺳُﻮﻝُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻟَﻴْﺲَ ﻣِﻨَّﺎ ﻣَﻦْ ﺿَﺮَﺏَ ﺍﻟْﺨُﺪُﻭﺩَ ﻭَﺷَﻖَّ ﺍﻟْﺠُﻴُﻮﺏَ ﻭَﺩَﻋَﺎ ﺑِﺪُﻋَﺎﺉِ ﺍﻟْﺠَﺎﻫِﻠِﻴَّﺔِ ﻭَﺍﻟﻠَّﻔْﻆُ ﻟِﻌَﻠِﻲٍّ ﻭَﻗَﺎﻝَ ﺍﻟْﺤَﺴَﻦُ ﺑِﺪَﻋْﻮَﯼ ۔


ترجمہ : ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺭﺧﺴﺎﺭ ﭘﯿﭩﮯ ‏( ﯾﻌﻨﯽ ﮔﺎﻝ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺎﺭ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﻭﺋﮯ ‏) ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﮔﺎﻝ ﭘﯿﭩﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﯾﺒﺎﻥ ﭼﺎﮎ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮑﺎﺭﮮ ‏( ﯾﻌﻨﯽ ﻣﺎﺗﻢ ﮐﺮﮮ ‏) ۔ (ﺳﻨﻦ ﻧﺴﺎﺋﯽ : ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ : ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 1863۔چشتی)


ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪُ ﺑْﻦُ ﺑَﺸَّﺎﺭٍ ﻗَﺎﻝَ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻋَﺒْﺪُ ﺍﻟْﻮَﻫَّﺎﺏِ ﻗَﺎﻝَ ﺳَﻤِﻌْﺖُ ﻳَﺤْﻴَﯽ ﺑْﻦَ ﺳَﻌِﻴﺪٍ ﻳَﻘُﻮﻝُ ﺳَﻤِﻌْﺖُ ﻧَﺎﻓِﻌًﺎ ﻳَﻘُﻮﻝُ ﻋَﻦْ ﺻَﻔِﻴَّﺔَ ﺑِﻨْﺖِ ﺃَﺑِﻲ ﻋُﺒَﻴْﺪٍ ﺃَﻧَّﻬَﺎ ﺳَﻤِﻌَﺖْ ﺣَﻔْﺼَﺔَ ﺑِﻨْﺖَ ﻋُﻤَﺮَ ﺯَﻭْﺝَ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲِّ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻋَﻦْ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲِّ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻗَﺎﻝَ ﻟَﺎ ﻳَﺤِﻞُّ ﻟِﺎﻣْﺮَﺃَﺓٍ ﺗُﺆْﻣِﻦُ ﺑِﺎﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺍﻟْﻴَﻮْﻡِ ﺍﻟْﺂﺧِﺮِ ﺗَﺤِﺪُّ ﻋَﻠَﯽ ﻣَﻴِّﺖٍ ﻓَﻮْﻕَ ﺛَﻠَﺎﺙٍ ﺇِﻟَّﺎ ﻋَﻠَﯽ ﺯَﻭْﺝٍ ﻓَﺈِﻧَّﻬَﺎ ﺗَﺤِﺪُّ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﺃَﺭْﺑَﻌَﺔَ ﺃَﺷْﻬُﺮٍ ﻭَﻋَﺸْﺮًﺍ ۔


ترجمہ : ﺣﻀﺮﺕ ﺣﻔﺼﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻓﺮﻣﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﻗﺪﻭﺱ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﺮﺩﮦ ﭘﺮ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺎﺗﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ﻟﯿﮑﻦ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭼﺎﺭ ﻣﺎﮦ ﺩﺱ ﺭﻭﺯ ﺗﮏ ﻋﺪﺕ ﮔﺰﺍﺭﻧﺎ ﻻﺯﻡ ﮨﮯ ۔ (ﺳﻨﻦ ﻧﺴﺎﺋﯽ : ﺟﻠﺪ ﺩﻭﻡ : ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 1443)


ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺇِﺑْﺮَﺍﻫِﻴﻢُ ﺑْﻦُ ﻣُﻮﺳَﯽ ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪُ ﺑْﻦُ ﺭَﺑِﻴﻌَﺔَ ﻋَﻦْ ﻣُﺤَﻤَّﺪِ ﺑْﻦِ ﺍﻟْﺤَﺴَﻦِ ﺑْﻦِ ﻋَﻄِﻴَّﺔَ ﻋَﻦْ ﺃَﺑِﻴﻪِ ﻋَﻦْ ﺟَﺪِّﻩِ ﻋَﻦْ ﺃَﺑِﻲ ﺳَﻌِﻴﺪٍ ﺍﻟْﺨُﺪْﺭِﻱِّ ﻗَﺎﻝَ ﻟَﻌَﻦَ ﺭَﺳُﻮﻝُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﺍﻟﻨَّﺎﺋِﺤَﺔَ ﻭَﺍﻟْﻤُﺴْﺘَﻤِﻌَﺔَ ۔ (ﺳﻨﻦ ﺍﺑﻮﺩﺍﺅﺩ : ﺟﻠﺪ ﺩﻭﻡ : ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 1351)


ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺳﻌﯿﺪ ﺧﺪﺭﯼ رضی اللہ عنہ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻧﻮﺣﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺣﮧ ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﭘﺮ ﻟﻌﻨﺖ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﮯ ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 18 June 2026

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس کس صحابی کو مولا اور بھائی کہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس کس صحابی کو مولا اور بھائی کہا

محترم قارئینِ کرام : الحمد لله اہلسنت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ تمام صحابہ عشرہ مبشرہ ، شہدا بدر احد و تمام مومنین کے مولا ہیں ۔ مولا کا معنی دوست پیارا اور محبوب کے ہیں ۔ اس میں شک کرنے والا ناصبی اور خارجی ہی ہو سکتا ہے ۔ لیکن اس حدیث سے شیعوں اور نیم شیعوں تفضلیوں کا یہ کہنا کہ اس کا معنی آقا ہے اور اس سے پتہ چلا کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور انبیاءِ  کرام علیہم السلام کے بھی آقا ہیں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے افضل ہیں اسی طرح شیعوں کا یہ کہنا کہ آپ سارے نبیوں کے آقا و اُن سے افضل ہیں باطل اور غلط ہے ۔ قرآن نے حضرت ابو بکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو بھی مولا کہا ہے ۔ اکثر رافضی اور کے ہمنوا تفضیلی حضرات اس بات پر بڑا زور دیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولا کہا اور پھر اس فرمان سے یہ باطل نتیجہ اخذ کرتے ہوۓ مولا علی رضی اللہ عنہ کو شیخین کریمین پر مقدم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر اسی اصول کو لیا جائے تو پھر شیخین (حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) کو تو خود قرآن مولا کہہ رہا ہے آئیں ملاحظہ فرمائیں : حدثنا أحمد قثنا علي بن الجعد قال سمعت مقاتلا يقول في قول الله عز وجل :  اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ ۔ وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ ۔ (سورہ التحريم آیت نمبر 4) قال أبو بكر وعمر وعلي ۔

ترجمہ : امام علی بن جعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام مقاتل رحمہ اللہ نے فرمایا الله عز وجل کے (فإن الله هو مولاه وجبريل وصالح المؤمنين) اس فرماں کا مقصود یہ ہے کے حضرت ابو بکر و عمر و علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی حضور علیہ السلام کے مولا ہیں ۔ (فضائل صحابہ الامام احمد بن حنبل الجز الاول صفحہ ۴۱٦ حدیث ٦۴۸ مطبوعہ احیاء التراث مکة المکرمہ ، اسنادہ صحیح)


قرآن کريم ميں بھی مولیٰ کا لفظ مختلف معانی ميں استعمال ہوا ہے ۔ صرف مولیٰ کا لفظ تنہا بھی استعمال ہوا اور متعدد ضميروں کے ساتھ بھی يہ لفظ استعمال ہوا ہے ۔ سورة الحج ، آيت 78  ميں 2 جگہ مولیٰ کا لفظ استعمال ہوا ہے ، ايک جگہ ”کُم“ ضمير کے ساتھ جبکہ دوسری مرتبہ بغير ضمير کے اور دونوں جگہوں پر اللہ کی ذات مراد ہے ۔ قرآن کريم ميں مولیٰ کا لفظ دوسرے معانی ميں بھی استعمال ہوا ہے۔ سورة الدخان آيت 41 میں ہے : جس دن کوئی حمايتی کسی حمايتی کے ذرا بھی کام نہيں آئے گا اور ان ميں سے کسی کی کوئی مدد نہيں کی جائے گی ۔ اس ميں مولیٰ ، اللہ ، کےلیے نہيں بلکہ دوست کے معنیٰ ميں يعنی انسان کےلیے استعمال ہوا ہے ۔ اسی طرح سورة الحديد آيت نمبر 15 میں ہے : چنانچہ آج نہ تم سے کوئی فديہ قبول کيا جائے گا اور نہ اُن لوگوں سے جنہوں نے کفر اختيار کيا تھا ، تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے ، وہی تمہاری رکھوالی ہے اور يہ بہت برا انجام ہے ۔ اس ميں لفظ مولیٰ ، کُم ، ضمير کے ساتھ جگہ يا ٹھکانے کےلیے استعمال ہوا ہے ۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کريم ميں يہ واضح کرديا کہ مولیٰ کے متعدد معانی ہيں ۔ قرآن کريم ميں لفظ مولیٰ ، نا ، ضمير کے ساتھ 2 جگہ سورة البقرة آيت نمبر 286 اور سورہ التوبہ آيت نمبر 51 میں استعمال ہوا ہے اور دونوں جگہ پر اللہ کی ذات مراد ہے يعنی ليکن اس کا مطلب ہرگز يہ نہيں کہ مولانا ايک لفظ ہے اور وہ صرف اللہ کے ساتھ خاص ہے ۔ مولیٰ ايک مستقل لفظ ہے اور اس کے ساتھ مختلف ضميريں استعمال کی جاسکتی ہيں : مولائی ، مولانا ، مولاکم ، مولاہ وغيرہ ۔


لفظ  مولا یا لفظ مولانا کا اطلاق جس طرح باری تعالی پر ہوا ہے ، اسی طرح اس لفظ کا استعمال قرآن واحادیث میں دیگر مختلف معانی کےلیے بھی ہوا ہے ۔ چنانچہ درج ذیل سطور میں اس لفظ کی صحیح تحقیق اوراس کا استعمال کس انداز اور کس کس معنی میں ہوا ہے پیش کیا جا رہا ہے ۔


مولا کا اطلاق اللہ تعالی پرقرآن کریم میں : ⏬


(1) فانصرناأنت مولانا ۔ (البقرہ:۲۸۶)

(2) بل اللہ مولاکم ۔ (آل عمران ۱۵۰)

(3) فاعلموا أن اللہ مولاکم ۔ (انفال:۴۰)

(4) واعتصموا باللہ ھومولاکم فنعم المولی ونعم النصیر ۔ (الحج:۷۸)

(5) ذلک نأن اللہ مولی الذین اٰمنوا   (محمد:۱۱)

(6) واللہ مولاکم ۔ (تحریم:۲)

(7) الاماکتب اللہ لنا ھومولانا ۔ (توبہ:۵)

(8) فان اللہ ھومولاہ وجبرئیل وصالح المؤمنین ۔ (تحریم:۴)

(9) ثم ردواالی اللہ مولھم الحق ۔ (انعام:۶۲)

(10) وردواالی اللہ مولھم الحق ۔ (یونس:۳۰)


مولا کا اطلاق اللہ تعالی پر احادیث میں : ⏬


نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : قولوا اللہ مولانا ولا مولالکم ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر ۴۰۴۳)

ترجمہ : لوگو تم کہوکہ اللہ ہمارا مولی اور کارساز ہے نہ کہ تمہارا ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ولیقل .... سیدی ومولای ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر ۲۵۵۲)(صحیح مسلم حدیث نمبر ۲۲۴۹)

ترجمہ : اسے چاہیے کہ وہ اللہ کے بارے میں میرا آقا اور میرا مولی کہے ۔


مولا کا اطلاق اللہ تعالی کے علاوہ پر قرآن کریم میں : ⏬


لبئس المولی ۔ (حج:۱۳) ۔ امام مجاھد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : اس آیت میں مولی بت کے معنی میں ہے ۔ (تفسیرابن کثیر جلد ۳ صفحہ ۷۸۰،چشتی)


یوم یغنی مولی عن مولی شیئا ۔ (دخان:۴۱) ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : أی لا ینفع قریب قریبا ۔ (تفسیرابن کثیر جلد ۴ صفحہ ۱۸۳) ، کہ کوئی رشتہ دار کسی بھی رشتہ دار کونفع نہیں پہنچائے گا اس جگہ رشتہ دار پرمولی کا اطلاق ہواہے ۔


مأوٰکم النارھی مولاکم ۔ (تحدید : ۱۵) ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : ھی مولاکم : ھی أولی بکم من کل منزل علی کفرکم وارتیابکم ۔ (تفسیرابن کثیر جلد ۴ صفحہ ۳۹۵) ، کہ مولاکم سے مراد تمہارے لیے ہرمنزل پر تمہارے کفر اور شک کی بناء پر جہنم بہتر ہے ۔ اس جگہ مولی کا استعمال جہنم کےلیے ہوا ہے ۔


وکل علی مولاہ ۔ (نحل :ب۷۶) امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ای غلیظ وثقیل علی مولاہ‘ ۔ (التفسیر الکبیرجلد ۲۰ صفحہ ۸۸) ، وہ اپنے آقا پر بھاری اور بوجھ ہے ۔ اس جگہ مولی کا اطلاق مالک اور آقا پر ہوا ہے ۔


ولکل جعلنا موالی مماترک ۔ (نساء) ۔ اس آیت میں لفظ موالی کا اطلاق وارث پر ہوا ہے ۔ (تفسیرابن کثیر جلد ۱ صفحہ ۶۳۸)


انی خفت الموالی ۔ (مریم : ۵) ۔ امام مجاھد رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : اراد بالمولی العصبۃ ۔ (تفسیرابن کثیر جلد ۳ صفحہ ۱۵۰) ، یہاں پرمولی کااطلاق ان رشتہ داروں پر ہوا ہے جن کو اصطلاح شرح میں عصبہ کہا جاتا ہے جنہیں میت کے ترکہ میں سے ذوی الفروض کو ان کا حصہ دینے کے بعد بچا ہوا مال دیا جاتا ہے ۔


فاخوانکم فی الدین وموالیکم ۔ (احزاب : ۵) ای ’’أنا من اخوانکم فی الدین ‘‘ کہ میں تمہارا دینی بھائی ہوں ۔ اس آیت میں موالی بھائی کے میں استعمال ہوا ہے ۔


احادیث میں مولانا  کا اطلاق اللہ تعالی کے علاوہ پر : ⏬


وَقَالَ الْبَرَاءُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا ۔

ترجمہ : اور حضرت براء رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا ، تم ہمارے بھائی اور ہمارے مولا ہو ۔ (صحيح بخاری كتاب فضائل الصحابة باب مناقب زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ حدیث نمبر 3730)


حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، وَهُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ ابْنَةَ حَمْزَةَ تَبِعَتْهُمْ تُنَادِي: يَا عَمُّ، يَا عَمُّ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَقَالَ لِفَاطِمَةَ: دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ فَحَوِّلِيهَا، فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ، وَزَيْدٌ، وَجَعْفَرٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي، وَقَالَ جَعْفَرٌ: ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي، وَقَالَ زَيْدٌ: ابْنَةُ أَخِي، فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا، وَقَالَ:" الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ"، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ :" أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ"، وَقَالَ لِجَعْفَرٍ:" أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي"، وَقَالَ لِزَيْدٍ:" أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا"، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَزَوَّجُ ابْنَةَ حَمْزَةَ؟ فَقَالَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ۔

رجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مکہ مکرمہ سے نکلنے لگے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا جان! چچا جان! پکارتی ہوئی ہمارے پیچھے لگ گئی، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا، اور ان سے کہا کہ اپنی چچا زاد بہن کو سنبھالو، (جب ہم مدینہ منورہ پہنچے) تو اس بچی کی پرورش کے سلسلے میں میرا، سیدنا جعفر اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کا جھگڑا ہو گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا تھا کہ اسے میں لے کر آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ یعنی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا میرے نکاح میں ہیں، لہٰذا اس کی پرورش میرا حق ہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ میری بھتیجی ہے ۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا : جعفر ! آپ تو صورت اور سیرت میں میرے مشابہہ ہیں ، علی! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں ، اور زید ! آپ ہمارے بھائی اور ہمارے مولیٰ ہیں ، بچی اپنی خالہ کے پاس رہے گی کیونکہ خالہ بھی ماں کے مرتبہ میں ہوتی ہے ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ اس سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے ؟ فرمایا : اس لیے کہ یہ میری رضاعی بھتیجی ہے ۔ (مسند احمد مسند الخلفاء الراشدين الجزء الثانی حدیث نمبر 931 مطبوعہ موسسة الرسالہ بیروت ، حکم إسناده حسن)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنا بھائی اور صاحب فرمایا : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ وَلَكِنْ أَخِي وَصَاحِبِي ۔

ترجمہ : ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر میں اپنی امت کے کسی فرد کو اپنا جانی دوست بنا سکتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن وہ میرے دینی بھائی اور میرے ساتھی ہیں ۔ (صحيح بخاری كتاب فضائل الصحابة حدیث نمبر 3656)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا بھائی فرمایا : قال : استاذنت النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم في العمرة ، فاذن لي ، وقال : لا تنسنا يا اخي من دعائك ، فقال كلمة ما يسرني ان لي بها الدنيا، قال شعبة : ثم لقيت عاصما بعد بالمدينة فحدثنيه ، وقال : اشركنا يا اخي في دعائك ۔

ترجمہ : عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا : میرے بھائی ! مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا ، آپ نے ( یہ) ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی ۔ (راوی حدیث) شعبہ کہتے ہیں : پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا ۔ انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقت ، لا تنسنا يا أخى من دعائك ۔ کے بجائے ، أشركنا يا أخى في دعائك ، کے الفاظ کہے اے میرے(دینی) بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا ۔ (سنن ابوداود حدیث نمبر 1498،چشتی)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا دینی بھائی فرمایا : ابن عمر ، قال : آخى رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بين اصحابه فجاء علي تدمع عيناه، فقال : يا رسول الله آخيت بين اصحابك ولم تؤاخ بيني وبين احد ، فقال له رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : انت اخي في الدنيا والآخرة ۔ قال ابو عيسى : هذا حسن غريب ، وفي الباب عن زيد بن ابي اوفى ۔

ترجمہ : عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان باہمی بھائی چارا کرایا تو علی رضی الله عنہ روتے ہوئے آئے اور کہا : اللہ کے رسول ! آپ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارا کرایا ہے اور میری بھائی چارگی کسی سے نہیں کرائی ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم میرے بھائی ہو دنیا اور آخرت دونوں میں ۔ (سنن ترمذی حدیث نمبر 3720)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھائی فرمایا : وَقَالَ لِزَيْدٍ : أَنْتَ أَخُونَا ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا زید کےلیے فرمایا تم ہمارے بھائی ہو ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 4251)


اگر بقول روافض وتفضلیہ مولا کا معنیٰ خلیفہ بِلا فصل ہے تو پھر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھی خلیفہ بِلا فصل ہونا چاہیے تھا نا ؟

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا انت اخونا یعنی تم ہمارے بھائی ہو کیا اب حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھائی کہہ کر پکارا جانا چاہیے ؟


عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ حَلَالًا وَبَنَى بِهَا حَلَالًا وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا

ترجمہ : مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور جب ان کی رخصتی ہوئی تو آپ ان دونوں مواقع پر احرام کی حالت میں نہیں تھے ، میں ان دونوں ہستیوں کے درمیان قاصد تھا ۔ (الفتح الربانی حدیث نمبر 11455)(سنن ترمذی حدیث نمبر 841،چشتی)(مسند أحمد ترقيم الرسالة حدیث نمبر 27197 ترقیم بيت الأفكار الدولية حدیث نمبر 27739)


حافظ ابن حجرعسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : واما المولی فکثیرالتصرف فی الوجوہ المختلفۃ من ولی وناصر وغیرذلک ،ولکن لایقال السید ولا الموتی علی الاطلاق من غیراضافۃ الا فی صفۃ اللہ تعالی ۔۔۔ فکان اطلاق المولی أسھل وأقرب الی عدم الکراھۃ ۔ (فتح الباری جلد ۶ صفحہ ۹۸۶)

ترجمہ : لفظ مولی کا اطلاق بہت سے معانی پر ہوتا ہے ، مثلا ولی ، ناصر ، وغیرہ ، لیکن لفظ مولی اور سید مطلقا بغیرکسی اضافت کے اللہ تعالی کےلیے ہی استعمال ہوتا ہے ، اور لفظ مولی کا اطلاق اللہ کے علاوہ پر کرنے میں کوئی کراہت نہیں ہے ۔ (اس لیے کہ جب سید کا اطلاق اللہ کے علاوہ پر ہو سکتا ہے جب کہ اس میں ایک ہی معنی ، سردار ، پائے جاتے ہیں تو مولی میں چونکہ بہت سارے معنی پائے جاتے ہیں اس اعتبار سے اللہ کے علاوہ پراستعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے) ۔


ماکنت مولاہ فعلی مولاہ ۔ (سنن ترمذی : ۳۷۲۲) ، اس حدیث کامطلب یہ ہے کہ جس کا میں ذمہ دارہوں اس کا علی رضی اللہ عنہ بھی ذمہ دارہے یا جس سے میں محبت کرتا ہوں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اس سے محبت کرتے ہیں ۔


امام جزری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کہ حدیث پاک میں لفظ مولی کا تزکرہ بکثرت آیا ہے ، اور لفظ مولی ایک ایسا نام ہے جوبہت سے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جیسا کہ رب ، مالک ، آقا ، احسان کرنے والا ، آزاد کرنے والا ، مدد کرنے والا ، محبت کرنے والا ، الغرض ہر وہ شخص جوکسی معاملہ کا ذمہ دار ہو اس پر مولی اور ولی کا اطلاق ہوتا ہے ۔


حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ثلاثۃ علی کثبان المسک یوم القیامۃ ، عبدادی حق اللہ وحق مولاہ ۔ (سنن ترمذی:۱۹۸۶) کہ قیامت کے دن تین لوگ مشک کے ٹیلوں پرہوگے ، وہ غلام جس نے اللہ تعالی کا حق ادا کیا اور اپنے آقا کا حق ادا کیا ۔ اس حدیث میں بھی مولی آقا اور سردار کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔


امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ولابأس بقول العبد لسیدہ : مولای ، فان المولی وقع علی ستۃ عشر معنی ۔۔۔ منھاالناصروالمالک ۔ (شرح مسلم جلد ۵ صفحہ ۹۰۴،چشتی)

ترجمہ : غلام کےلیے اپنے آقا کو مولا کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے اس لیے کہ لفظ مولی سولہ معنی میں استعمال ہوتا اس میں سے مالک اور ناصر بھی ہے ۔


مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ لفظ مولی کا اطلاق اللہ عزوجل کے علاوہ دیگر معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔


قرآن نے حضرت ابو بکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو بھی مولا کہا ہے : ⏬


اکثر رافضی اور کے ہمنوا تفضیلی حضرات اس بات پر بڑا زور دیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولا کہا اور پھر اس فرمان سے یہ باطل نتیجہ اخذ کرتے ہوۓ مولا علی رضی اللہ عنہ کو شیخین کریمین پر مقدم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر اسی اصول کو لیا جائے تو پھر شیخین (حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) کو تو خود قرآن مولا کہہ رہا ہے آئیں ملاحظہ فرمائیں : حدثنا أحمد قثنا علي بن الجعد قال سمعت مقاتلا يقول في قول الله عز وجل :  اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ ۔ وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ ۔ (سورہ التحريم آیت نمبر 4) قال أبو بكر وعمر وعلي ۔

ترجمہ : امام علی بن جعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام مقاتل رحمہ اللہ نے فرمایا الله عز وجل کے (فإن الله هو مولاه وجبريل وصالح المؤمنين) اس فرماں کا مقصود یہ ہے کے حضرت ابو بکر و عمر و علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی حضور علیہ السلام کے مولا ہیں ۔ (فضائل صحابہ الامام احمد بن حنبل الجز الاول صفحہ ۴۱٦ حدیث ٦۴۸ مطبوعہ احیاء التراث مکة المکرمہ ، اسنادہ صحیح)


یہ دعویٰ کرنا کہ مولا کے الفاظ کسی دوسرے صحابی کےلیے استعمال نہیں ہوئے یہ درست نہیں ہے ۔ اس لیے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد شدہ غلام صحابی رسول حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : قال لزید انت اخونا و مولانا ۔

ترجمہ : آپ ہمارے بھائی ہیں اور ہمارے مولٰی ہیں ۔ (مشکوۃ شریف صفحہ نمبر ۲۹۳ بحوالہ بخاری ومسلم باب بلوغ صغیرالفصل الاول)


مذکورہ روایت میں لفظ مولا وارد ہے ۔


مفسّرِین کے نزدیک مولیٰ کے معنیٰ : ⏬


وہ تفاسیر جن میں مولا کے معنیٰ مددگار لکھے ہیں :  اِس آیتِ مبارکہ میں وارِد لفظ مولیٰ کے معنیٰ وَلی اور ناصِر ( یعنی مدد گار) لکھے ہیں ۔ (تفسیرطَبَری جلد 12 صفحہ 154)(تفسیر قُرطُبی جلد  18 صفحہ 143،چشتی)(تفسیرِ کبیر جلد 10 صفحہ 570)(تفسیرِ بَغْوی جلد 4 صفحہ 337)(تفسیرِ خازِن جلد 4 صفحہ 286)(تفسیرِ نَسفی صفحہ1257)


اُن چار کتابوں کے نام بھی حاضِر ہیں جن میں آیتِ مبارَکہ کے لفظ مولیٰ کے معنیٰ ناصر (یعنی مددگار) کیے گئے ہیں ۔ (تفسیرِ جلالین صفحہ 465)(تفسیرِ رُوحُ الْمَعانی جلد 28 صفحہ 481)(تفسیرِ بیضاوی جلد 5 صفحہ 356،چشتی)(تفسیر ابی سُعُود جلد 5 صفحہ 738)


 النہایہ میں لفظ مولا کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں : ⏬


(1) رب ۔ پرورش کرنیوالا ۔

(2) مالک ۔ سردار ۔

(3) انعام کرنے والا ۔

(4) آزاد کرنے والا ۔

(5) مدد گار ۔

(6) محبت کرنے والا ۔

(7) تابع ۔ پیروی کرنے والا ۔

(8) پڑوسی ۔

(9) ابن العم ۔ چچا زاد ۔

(10) حلیف ۔ دوستی کا معاہدہ کرنے والا ۔

(11) عقید ۔ معاہدہ کرنے والا ۔

(12) صھر ۔ داماد ، سسر ۔

(13) غلام ۔

(14) آزاد شدہ غلام ۔

(15) جس پر انعام ہوا ۔

(16) جو کسی چیز کا مختار ہو ۔ کسی کام کا ذمہ دار ہو ۔ اسے مولا اور ولی کہا جاتا ہے ۔

(17) جس کے ہاتھ پر کوئی اسلام قبول کرے وہ اس کا مولا ہے یعنی اس کا وارث ہوگا وغیرہ ۔ (ابن اثير النہايه جلد 5 صفحہ 228،چشتی)


حکیمُ الْاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے الفاظ جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اُس کے مولیٰ ہیں کے تحت فرماتے ہیں : مولیٰ کے بَہُت (سے) معنٰی ہیں : دوست ،  مددگار ،  آزاد شُدہ غلام ،  (غلام کو)  آزاد کرنے والا مولیٰ ۔ اِس  (حدیثِ پاک میں  مولیٰ)  کے معنٰی خلیفہ یا بادشاہ نہیں یہاں (مولیٰ) بمعنی دوست (اور) محبوب ہے یا بمعنی مددگار اور واقِعی حضرت علی رضی اللہ عنہ مسلمانوں  کے دوست بھی ہیں ،  مددگار بھی ،  اِس لیے آپ رضی اللہ عنہ کو مولیٰ علی کہتے ہیں ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد نمبر ۸ صفحہ نمبر ۴۲۵)


قرآنِ کریم میں اللہ عزوجل ، جبریلِ امین اور نیک مؤمنین کو مولیٰ کہا گیا ہے ۔ پارہ 28 سُوْرَۃُ التَّحْرِیْم آیت نمبر 4 میں اللہعزول فرماتا ہے : فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ ۔ ترجمہ : توبے شک اللہ اُن کا مدد گار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے ۔


مولا کے معنی کتاب وسنت اورلغت عرب میں متعدد پائے جاتے ہیں : ⏬


النہایہ لابن اثیرالجزری ۔ (جو لغت حدیث میں مشہور تصنیف ہے) میں مولا کہ سولہ عدد معانی ذکر کئے ہیں لیکن ان میں خلیفہ بلا فصل اور حاکم والا معنی کہیں نہیں ملتا یکسر مفقود ہے ۔ یعنی لغت حدیث والوں نے مولا کا یہ معنی کہیں نہیں بیان کیا۔ باقی معانی انہوں نے لکھے ہیں ۔ (النہایہ فی غریب الحدیث جلد ۴ صفحہ ۲۳۱،چشتی)


اسی طرح ؛ المنجد ؛ میں مولا کے اکیس معنی ذکر کئے گے ہیں وہاں بھی مولا کا معنی خلیفہ یا حاکم نہیں پایا گیا ۔ یہ تو کسی مسلمان کی تالیف نہیں ایک عسائی کی علمی کاوش ہے۔ سو یہ بات پختہ ہے کہ اس روایت میں مولا کا لفظ خلیفہ اور حاکم کے معنی میں ہر گز وارد نہیں۔ اس طرح کتاب اللہ اور دیگر احادیث صحیحہ میں مولا کا لفظ خلیفہ یا حاکم کے معنی میں کہیں مستعمل نہیں دیگر معانی میں وارد ہے ۔


اہل علم کےلیے یہ لمحہ فکریہ ہے خلافت بلا فصل ثابت کرنے کےلیے نص صریح درکار ہے ۔ لفظ ؛ مولا ؛ جیسے مجمل الفاظ جو متعدد معانی کے حامل ہوں اور مشترک طور پر مستعمل ہوتے ہیں سے یہ مدٰعی ہر گز ثابت نہیں ہو سکتا ۔


مختصر یہ کہ خلافت بلا فصل کا دعوٰی خاص ہے اور اس کے اثبات کے لئے جو دلیل پیش کی گئی ہے۔ اس میں لفظ مولا اگر بمعنی حاکم ہو تو بھی یہ لفظ عام ہے دلیل عام مدعٰی خاص کو ثابت نہیں کرتی ۔ اگر بالفرض تسلیم کر بھی لیا جائے کہ خلافت بلا فصل کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم کے موقعہ پر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں ارشاد فرمایا تھا اور جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ بلا فصل خلیفہ نامزد تھے تو درج ذیل چیزوں پر غور فرمائیں اصل مسئلہ کی حقیقت واضح ہو جائے گی ۔ (طالبِ و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)






مالک بن اشتر نخعی کون تھا ؟ اے سنی مسلمانو آنکھیں کھولو سنیوں میں چھپے روافض کے نظریات کی دلالی کرنے والوں کو پہچانو چاہے وہ کوٸی بھی ہوں

مالک بن اشتر نخعی کون تھا ؟ اے سنی مسلمانو آنکھیں کھولو سنیوں میں چھپے روافض کے نظریات کی دلالی کرنے والوں کو پہچانو چاہے وہ کوٸی بھی ہوں مح...