Tuesday, 28 April 2026

اکابرینِ دیوبند کیسے تھے ؟ ۔ مع سگِ مدینہ یا سگِ غوث اعظم کہنے پر اعتراض کا جواب

اکابرینِ دیوبند کیسے تھے ؟ ۔ مع سگِ مدینہ یا سگِ غوث اعظم کہنے پر اعتراض کا جواب



































محترم قارئینِ کرام : اکابرینِ دیوبند کیسے تھے چند مثالیں دی جارہی ہے جس سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اکابرینِ دیوبند کیسے تھے ۔

نہ تم صدمے ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے
نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں

دیوبندی مولوی نے اپنے مجدد کے پیشاب کی کہانی خود کی زبانی لکھی لکھا ہے کہ : حکیم الامت دیوبند اشرف علی تھانوی نے فرمایا میں (یعنی حکیم الامت دیوبند اشرف علی تھانوی) ایک روز پیشاب کر رہا تھا بھائی صاحب آئے (حکیم الامت دیوبند اشرف علی تھانوی کے بھائی) آکر میرے سر پر پیشاب کرنا شروع کر دیا ایک روز ایسا ہوا کہ بھائی پیشاب کر رہے ہیں میں نے ان کے سر پر پیشاب کرنا شروع کر دیا ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ نمبر 262)

جی جناب کچھ سمجھ آیا کہ نہیں بات یہ ہوئی کہ دیوبندی مجدد کے سر پر دیوبندی مجدد کے بھائی نے پیشاب کیا اور غصہ میں آکر بدلہ لینے کےلیے دیوبندیوں کے مجدد و حکیم الامت نے اپنے بھائی کے سر پر بھی پیشاب کر دیا ۔

دیوبندیوں کا اقرار کہ وہ کتوں ، سوروں سے بد تر خنزیر ، دنیا دار کالے کتے ہیں : ⏬

آئینہ اُن کو دیکھایا تو بُرا مان گئے

دیوبندیوں کے امیر شریعت کہتے ہیں تم کلبِ حسین ہو تو میں خنزیر اللہ یعنی اللہ کا خنزیر ہوں اِس میں تعجب والی کون سی بات ہے ۔ (بخاری کی باتیں صفحہ نمبر 172 مطبوعہ ادارہ تالیفاتِ ختم نبوت غزنی اسٹریٹ زردو بازار لاہور پاکستان)

مزا تو مذی میں ہے فرمان حکیم الامت دیوبند : ⏬

حکیم الامتِ دیوبند ذکر الہٰی کی توہین کرتے ہوئے : ایک شخص کہتا ہے حضرت مجھے ذکر میں مزہ نہیں آتا جواب میں کہتے ہیں مزا تو مذی میں ہے جو بیوی سے ملاعبت کے وقت خارج ہوتی ہے ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر6 صفحہ نمبر 61)

حکیم الامتِ دیوبند تھانوی صاحب کی فحش تعلیمات : کہتے ہیں بات تو فحش ہے مگر کہتا ہوں مزہ تو مذی میں ہے بیوی کو گود میں لو خوب چومو چاٹو مذی نکلے گی خوب مزہ آے گا ۔ (ملفوظات کمالات اشرفیہ صفحہ407 ، 408 حکیم الامتِ دیوبند تھانوی صاحب)

تعلیمات دیوبند : جناب من ذرا سوچیں کس طرح حکیم الامتِ دیوبند دین کی آڑ میں فحش تعلیمات پھیلا رہے ہیں یہ وہی فحاشی ہے جس کا مشن سونپا گیا ہے اِن کو اِن کے آقاؤں کی طرف سے فیصلہ خود کیجیے : فرمایا کہ ایک صاحب مجھ سے کہنے لگے کہ ذکر میں مزہ نہیں آتا ۔ میں نے کہا کہ مزہ تو مذی میں ہے، یہاں کہاں مزا ڈھونڈتے پھرتے ہو ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد 1 صفحہ 86)

حکیمُ الاُمّتِ دیوبند کُتوں اور سوروں سے بھی بد تر ؟ : ⏬

حکیم الامتِ دیوبند جناب علامہ اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ  میں خود کو کتوں اور سوروں سے بھی بد تر سمجھتا ہوں اگر کسی کو  یقین نہ ہوتو اِس پر حلف اٹھا سکتا ہوں ۔  (اشرف السوانح جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 58 مطبوعہ ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ ملتان جدید ایڈیشن،چشتی) ، (اکابر کا مقامِ تواضع صفحہ نمبر 201 مطبوعہ ادارہ اسلامیات لاہور , کراچی)

جنابِ من اگر یہاں تواضع اور عاجزی ہے تو پھر سگِ مدینہ و سگِ غوث یا کسی بزرگ کے کے در کا سگ بطور عاجزی کہنے پر اعتراض کیوں ؟

اور مکتبہ فکر کے فیس بکی ڈھکنوں سے سوال آپ کے حکیم الامت فرما رہے ہیں میں خود کو کُتوں اور سوروں سے بھی بد تر سمجھتا ہوں اگر کسی کو  یقین نہ ہوتو اِس پر حلف اٹھا سکتا ہوں ۔ اب جو خود کو حلف اٹھا کر کُتوں اور سوروں سے بھی بد تر کہہ رہا ہو کیا اُسے سور اور کتا بلکہ اُن سے بد تر کہہ سکتے ہیں ؟ اور اُس کے ماننے والے لوگوں کو بھی سور اور کتے بلکہ اُن سے بد تر کہہ سکتے ہیں ؟

بانی دیوبندی کہتے ہیں : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کمینہ ہوں ، مدینہ کے کتوں کے ساتھ میرا نام لگے یہ اُن کےلیے عیب ہے ، جیوں تو مدینہ کے کتوں کے ساتھ اور میرا شمار مدینہ کے کتوں میں ہویہ سب سے بڑی امید ہے ۔ (قصیدہ بہاریہ صفحات 15 ،16 ، بانی دیوبند عامہ قاسم نانوتوی) ۔ (مکمل اشعار نیچے دیئے جا رہے ہیں پڑھیے)

لگے ہے سگ کو تیرے میرے نام سے گو عیب
پہ ترے نام کا لگنا مجھے ہے عز و وقار

امیدیں لاکھوں ہیں ، لیکن بڑی امید ہے یہ
کہ ہو سگانِ مدینہ میں میرا نام شمار

جیوں تو ساتھ سگانِ حرم کے تیرے پھروں
مروں تو کھائیں مدینہ کے مجھ کو مور و مار

جو یہ نصیب نہ ہو اور کہاں نصیب مِرے
کہ میں ہوں اور سگانِ حرم کے تِرے قطار

شیخ الاسلام دیوبند حسین احمد ٹانڈوی کہتے ہیں میں اتنا بڑا دنیا دار پیٹ کا کتا ہو ں کہ دینی خدمات کا بدلہ لیتا ہوں ۔ (آداب الاختلاف صفحہ نمبر 174 افادات مفتی اعظم دیوبند ھند)

دیوبندی مکتبہ فکر کے علماء و پیروں کےمرشد فرماتے ہیں میں کالا کُتّا اِس پاک دیس کو کیسے ناپاک کر وں ۔ (حیات حبیب صفحہ نمبر 219 پیر ذوالفقار نقشبندی دیوبندی)

دیوبندیوں کے شیخ المشائخ خواجہ محمد فضل قریشی کہتے ہیں میں کالا کُتّا اِس دیس کو کیسے ناپاک کروں ۔ (اکابر کا مقام تواضع صفحہ نمبر 192)

گدھوں سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں : ⏬

دیوبندیوں کے فقیہُ العصر جناب مفتی رشید احمد صاحب کہتے ہیں یہ گدھے ہمیں بتا رہے ہیں کہ تم بھی ہماری طرح گدھے ہو ۔ کیونکہ گدھا اس وقت رینکتا ہے جب اسے دوسرا گدھا نظر آتا ہے ۔ (خطبات رشید جلد 1 صفحہ 310 مطبوعہ کتاب گھر ناظم آباد نمبر 4 کراچی،چشتی)

اب آپ سب دوستوں کو سمجھ میں آجائے گا کہ موضوع کیا ہوتا ہے ، پوسٹ کس موضوع پر ہوتی ہے اور دیوبندی مکتبہ فکر کے لوگ کیا ہانک رہے ہوتے ہیں ۔ یہ بات فقیہُ العصر دیوبند نے بتا دی کہ دیوبندی گدھوں کی طرح ہیں کیونکہ گدھا اس وقت رینکتا ہے جب اسے دوسرا گدھا نظر آتا ہے ۔ بالکل سچ کہا فقیہُ العصر دیوبند نے کیونکہ دیوبندی حضرات فیس بک پہ بالکل اسی طرح کرتے ہیں جیسے ہی ایک دیوبندی نے ھینک ماری یعنی رینکا تو بالکل اسی طرح سب رینکا شروع کر دیتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ موضوع کیا ہے اور اُن کی ھینکیں اور ریکنا کیا ہے بس انہوں نے تو ریکنا ہے کیونکہ گدھوں کی طرح جو ہوئے بقول فقیہُ العصر دیوبند ۔

سگِ مدینہ یا سگِ غوث اعظم کہنے پر اعتراض کرنے والو سوچو ؟

مکتبہ فکر دیوبند کے لوگ بطور عاجزی سگِ مدینہ یا سگِ غوث اعظم کہنے پر اعتراض کرتے ہیں اور بریلوی کتے کتے اور بریلوی کتا مذھب کے جملے کستے اور پوسٹیں بناتے ہیں کیا خیال ہے ان لوگوں کا اب یہ کہنا درست ہوگا کہ دیوبندیوں کے شیخ المشائخ کالے کتے ہیں اور دیوبندی کالے کتے اور دیوبندی مذھب کالے کتوں کا مذھب ہے ؟

یقیناً جواب ہوگا کہ یہ عاجزی کے طور پر کہا گیا ہے جب آپ کے الفاظ عاجزی کے طور پر ہیں تو پھر اہلسنت پر گھٹیا جملے بازی پوسٹر بازی کیوں جناب ؟ جواب کا منتظر : ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

اکابرین دیوبند میں اسمٰعیل دہلوی کو بہت بڑا مقام حاصل ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اسمٰعیل دہلوی کی کتاب تقویة الایمان ان دیوبندیوں کے نزدیک عین اسلام ہے ۔ ( نعوذ باللہ) ملاحظہ ہو) (فتاویٰ رشدیہ صفحہ نمبر 219, ایمان اور کفر کےمسائل کا بیان, ناشر دارالاشاعت کراچی)

جبکہ اس کتاب تقویة الایمان نے ہند کی سرزمین سے امن وشانتی کو تار تار کردیا اور گھر گھر میں اس کتاب نے وہ فساد افتراق انتشار پیدا کردیا جسکی تاریخ ہند میں نہیں ملتی اور اسمٰعیل دہلوی نے اس بات کا اعتراف بھی کیا تھا کہ اس کتاب یعنی تقویة الایمان کی اشاعت سے شورش ہوگی ۔ (ارواح ثلاثہ صفحہ نمبر 68حکایت نمبر 42 کتب خانہ نعیمیہ دیوبند)

خیر حضرات اب ملاحظہ کریں دیوبندی اکابر اسمٰعیل دہلوی کیسے تھے ؟ تو آپ کو بتا دوں کہ اسمٰعیل دہلوی ہر قسم کے کھیل کھیلتے تھے یہاں تک کہ پتنگ بھی اڑاتے تھے حد تو یہ ہے کہ شطرنج بھی کھیلتے تھے دلیل دیوبندی کتاب سے ملاحظہ کریں دیوبندی مولوی نے اپنے اکابر کے کھیل کی کہانی لکھی خود کی زبانی چنانچہ لکھا اسمٰعیل دہلوی کے بارے میں کہ : اور کھیل بھی ہر قسم کے کھیلتے تھے پتنگ بھی اڑاتے تھے شطرنج بھی کھیلتے تھے ۔ (ارواح ثلٰثہ صفحہ نمبر 77حکایت نمبر 52کتب خانہ نعیمیہ دیوبند)

اسی طرح اسمٰعیل دہلوی دوسرے کو چھیڑا بھی کرتے تھے چنانچہ دیوبندی مولوی نے اپنے اکابر کے چھیڑا چھیڑی کی کہانی لکھی اپنی زبانی لکھا اسمٰعیل دہلوی کے تعلق سے کہ : مولوی وجیہ الدین صاحب بھی مولانا اسماعیل صاحب کے ساتھ جہاز میں تھے اور دونوں مل کر حاجیوں کیلئے آٹا پیسا کرتے تھے آٹا پیستے ہوئے مولانا ان کو چھیڑا کرتے تھے کبھی آٹا ان کے منھ پر مل دیتے تھے کبھی پیٹ پر کبھی کوئی اور مزاق کرتے رہتے تھے ۔ (ارواح ثلٰثہ صفحہ نمبر 65حکایت نمبر 49کتب خانہ نعیمیہ دیوبند،چشتی)

ان سب حرکتوں کا نتیجہ تھا کہ دیوبندیوں وہابیوں کے امام اسمٰعلیل دہلوی ایک حدیث کا معنی تک نہیں سمجھ پاتا تھا چنانچہ ثبوت کیلئے دیوبندی مولوی کی عبارت ملاحظہ ہو ارواح ثلٰثہ کتاب سے لکھا کہ : شاہ عبد القادر صاحب نے فرمایا بابا ہم تو سمجھتے تھے کہ اسماعیل عالم ہوگیا مگر وہ تو ایک حدیث کے معنی بھی نہ سمجھا ۔ (ارواح ثلٰثہ صفحہ نمبر 81حکایت نمبر 56کتب خانہ نعیمیہ دیوبند)

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے بھی لوگ تھے جو شرارتی تھے اور کمر بند دوسرے کا کھولنے میں ماہر تھے حوالہ نوٹ کریں کتاب کا نام ملفوظات حکیم الامت جلد 11 صفحہ 70 میں دیوبندی نے اپنے اکابرین کی ایک دلچسپی سے بھرپور کہانی خود کی زبانی لکھی ہے ملاحظہ کریں لکھا ہے : مولانا یعقوب صاحب کے صاحبزادے کے کمر بند کو مولانا قاسم نانوتوی کھول دیتے تھے ۔ اس لیے میں کہتا ہوں بانی کا جب یہ عالم ہے پیروکاروں کا عالم کیا ہوگا ۔

اچھا سوال پیدا ہوتا ہے بانی دیوبند قاسم نانوتوی کمر بند کیوں کھولتا تھا ؟

کیا کرنے کےلیے ؟

کیا دیکھنے کےلیے ؟

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے لوگ بھی تھے جو کھانے کےلیے چھپٹا چھپٹی بھی کرتے تھے ۔ (حوالہ ملفوظات حکیم الامت صفحہ 70 جلد 11)

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے لوگ بھی تھے جو جوتیاں چوری کرلیا کرتے تھے اور جوتی چوری کر کے چھوپا دیا کرتے تھے ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد 11 صفحہ 73)

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے لوگ بھی تھے جو چپل چور بھی تھے اکابرین دیوبند میں ایسے بھی لوگ تھے جو اپنے ماما کی رکابی میں کتے کا پلہ ڈال دیا کرتے تھے اکابرین دیوبند میں ایسے بھی لوگ تھے کہ اپنے ہی بھائی کے سر پر پیشاب کرتے تھے اکابرین دیوبند میں ایسے بھی لوگ تھے جوپہلے علم حاصل کرتے تھے پھر بھول جایا کرتے تھے ۔ (حوالہ نوٹ کریں ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ 261 ) ۔ دیوبندی مولوی نے خود لکھا اپنے اکابر کی چوری کی کہانی خود کی زبانی فرمایا : ایک مرتبہ میرٹھ میں میاں الٰہی بخش صاحب مرحوم کی کوٹھی میں جو مسجد تھی سب نمازیوں کے جوتے جمع کر کے اس کے شامیانہ پر پھینک دیئے نمازیوں میں غل مچا کہ جوتے کیا ہوئے ؟

آپ حضرات نے اوپر پڑھا کہ اکابرین دیوبند جوتے چوری کرکے چھپا دیا کرتے تھے اب یہ دوسرا جوتا چور ہے دیوبندیوں کا ۔

دیوبندی مولوی نے خود کی زبانی اپنے اکابر کے کہانی ۔ لکھا ہے کہ : ہماری سوتیلی والدہ کے بھائی بہت ہی نیک اور سادہ آدمی تھے والد صاحب نے ان کو ٹھیکہ کے کام پر رکھ چھوڑا تھا ایک مرتبہ کمریٹ سے گرمی میں بھوکے پیاسے پریشان گھر آئے اور کھانا نکال کر کھانے ۔  میں مشغول ہو گئے گھر کے سامنے بازار ہے میں نے (یعنی دیوبندیوں کے حکیم الامت) سڑک پر سے ایک کتا کا پلہ چھوٹا سا پکڑ کر گھر آکر ان کی دال کی رکابی میں رکھ دیا بچارے روٹی چھوڑ کر کھڑے ہو گئے ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ یہی 261،چشتی)

اب کیا کہا جائے دیوبندی کے حکیم الامت نے اپنے ماما کے دال کی رکابی میں کتا کا پلہ ہی ڈال دیا تو بچارے کھاتے کیسے ؟ اور قارئین آپ کو پتہ ہے یہ صرف دیوبندیوں کے اکابر نہیں مجدد بھی ہیں ۔

دیوبندی مولوی نے اپنے مجدد کے پیشاب کی کہانی خود کی زبانی لکھی لکھا ہے کہ : فرمایا میں (یعنی دیوبندی حکیم الامت) ایک روز پیشاب کر رہا تھا بھائی صاحب آئے (دیوبندی حکیم الامت کے بھائی) آکر میرے سر پر پیشاب کرنا شروع کر دیا ایک روز ایسا ہوا کہ بھائی پیشاب کر رہے ہیں میں نے ان کے سر پر پیشاب کرنا شروع کر دیا ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ نمبر 262)

جی جناب کچھ سمجھ آیا کہ نہیں بات یہ ہوئی کہ دیوبندی مجدد کے سر پر دیوبندی مجدد کے بھائی نے پیشاب کی اور غصہ میں آکر بدلہ لینے کیلئے دیوبندی مجدد دیوبندی حکیم الامت نے اپنے بھائی کے سر پر بھی پیشاب کر دیا ۔

دیوبندی کے حکیم الامت جو ہے جن کو دیوبندی مجدد کہتے ہیں وہ تو بقول دیوبندیوں کے عالم تھے مگر بعد میں جاہل ہو گے تھے سب بھول گے تھے ؟

دیوبندی مولوی نے اپنے حکیم الامت کی جہالت کی کہانی لکھی خود کے قلم سے لکھا کہ : اس واقعہ کو ختم کر کے پھر فرمایا خدا کا فضل و کرم ہے کہ یہ درس و تدریس کا کام اور جگہ اچھا ہو رہا ہے اب ہر شخص ایک ہی کام میں لگ جائے اس کی کون ضرورت ہے اور میں تو اب اس کام کا رہا ہی نہیں سب بھول بھال گیا جو کچھ لکھا پڑھا تھا ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد چہارم صفحہ ہے 306)

یعنی دیوبندی مجدد بعد میں جاہل ہو گئے تھے کچھ یاد نہیں رہا یاد بھی کیسے رہے بھائی کے سر پر پیشاب جو کیا ماما کی دال کی رکابی پر کتا کا پلہ جو ڈالا نمازیوں کے چپل جو چوری کی ۔

اسی طرح اکابرینِ دیوبند میں ایسے بھی تھے جن کو ننگاہ ہو کر گھومنے کا بڑا شوق تھا اکابرین دیوبند میں ایسے بھی تھے جن کو اپنا عضو تناسل پکڑوانے میں بڑا لطف ملتا تھا اکابرین دیوبند میں ایسے بھی تھے جو اپنے پیچھے کے مقام یعنی دُبر میں اُنگلی ڈلوانے کے بڑے شوقین تھے اکابرین دیوبند میں ایسے بھی تھے جو خود کو بھڑوا کہلاتے اور اور ساتھ میں اپنے بھڑوا ہونے کا پرچار بھی کروانے کے شوقین تھے حوالہ نوٹ کریں ملفوظات حکیم الامت جلد 9 صفحہ 212 دیوبندی مولوی نے خود اپنے نوکے قلم سے اپنے اکابر کی لطف اندوز کھانی جو حقیقت پر مبنی ہے بیان کی ہے ( واقعہ تو طویل ہے بس مفہوم نقل کرتا ہوں کہ : اشرف علی تھانوی (یعنی دیوبندی فرقہ کے حکیم الامت) کے ماموں صاحب کانپور آئے عبد الرحمٰن صاحب اشرف علی تھانوی کے ماموں سے ملنے آئے مل کر بڑے خوش ہوئے پھر عبدالرحمٰن صاحب نے اشرف علی تھانوی کے ماموں سے واعظ کرنے کی فرمائش کی پہلے پہل تو اشرف علی تھانوی کے ماموں نے انکار کیا جب عبد الرحمٰن نے بار بار اصرار کیا تو اشرف علی تھانوی کے ماموں نے کہا واعظ کرونگا مگر اس کی ایک شرط ہے عبدالرحمٰن صاحب نے کہا شرط کیا ہے کہا شرط یہ ہے کہ میں میں بالکل ننگاہ ہوکر بازار میں سے نکلوں اس طرح کہ ایک شخص تو آگے سے میرے عضو تناسل کو پکڑ کر کھینچے اور دوسرا پیچھے سے اُنگلی کرے اور ساتھ میں لڑکوں کی فوج ہو اور وہ یہ شور مچاتے جائیں بھڑوا ہے رے بھڑوا بھڑوا ہے رے بھڑوا ۔اس وقت میں حقائق و معارف بیان کرونگا ۔

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے بھی تھے جو انسان نہیں بلکہ فرشتہ تھے محترم قارئین آپ کو سن کر حیرانی ہوئی ہوگی لیکن میں آپ حضرات کو اور حیران کن بات بتانے جا رہا ہوں کہ اکابرین دیوبند صرف فرشتہ ہی نہیں بلکہ اکابرین دیوبند میں تو ایسے تھے جو فرشتہ مقرب تھے حوالہ نوٹ کریں ارواح ثلاثہ حکایت نمبر 241 صفحہ نمبر 192 لکھا قاسم نانوتوی دیوبندی کے تعلق سے کہ : انسانیت سے بالا درجہ ان کا دیکھا وہ شخص ایک فرشتہ مقرب تھا جو انسانوں میں ظاہر ہوا تھا ۔

جنابِ من یہ وہی قاسم نانوتوی ہے جو شرافت کی حد پار کر کے دوسرے کا کمر بند کھولتے ہیں اور یہاں دیکھا آپ حضرات نے وہی کمر بند کھولنے والا فرشتہ مقرب ہے ۔

اسی طرح اکابرینِ دیوبند میں ایسے بھی تھے جو گنوارتھے ( یعنی جاہل) اور اکابرین دیوبند میں ایسے بھی تھے جو بالکل کالے موٹے (یعنی بھینس) تھے آپ سوچ رہے ہونگے کہ میں کیسی کیسی باتیں کر رہا ہوں اکابرین دیوبند اور جاہل گنوار اکابرین دیوبند اور بھینس جبکہ قارئین آپ نے بہت سے دیوبندی کو دوسرے کے اکابر کو جاہل کہتے سنا ہوگا یہاں تک کہ دیوبندی تو آج کل کالا حضرت کہتے نہیں تھکتے تو حضرات قارئین یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہ رہا کہ دیوبندی اکابر جاہل گنوار تھے بلکہ یہ بات تو دیوبندی نے خود کہا ہے اور دیوبندی اکابر بالکل کالے کلوٹے موٹے بھینس تھے اور یہ بات بھی میں خود نہیں کہ رہا بلکہ یہ بات بھی دیوبندی نے خود کہا ہے حوالہ نوٹ کریں ارواح ثلاثہ حکایت نمبر 242 صفحہ نمبر 192 دیوبندی مولوی نے خود کے قلم سے اپنے اکابرین کی خوبی بیان کی لکھا ہے کہ : نانوتوی اور فیض الحسن یہ دونوں ہمعصر تھے اور بہت ہی بے تکلف تھے ایک دفعہ انہوں نے (یعنی فیض الحسن نے) غایت بے تکلفی میں ہمعصرانہ طریق پر نانوتوی کو فرمایا بے جا گنوار کے لونڈے تجھے ان چیزوں یعنی علوم سے کیا واسطہ تو جاکر ہل جوت کھیتی کر اس کے جواب میں نانوتوی نے ہنس کر فیض الحسن سے کہا ایک بھینسا تو موجود ہے (یعنی فیض الحسن بھینسا) دوسرا ہو جائے گا تو ہل جڑے گا)

جی جناب کچھ بات سمجھ آئی کہ نہیں ؟ ۔ دیوبندی اکابر جاہل ہے گنوار ہے اور یہ فضول میں دوسرے کو جاہل کہتے ہیں دوسری بات دیوبندی کے اکابر کالے کلوٹے ہیں بھینس ہیں اس بنا پر دیوبندی اپنے اکابر فیض الحسن کو کالا حضرت بول کر پکارتے ہیں یا پھر دیوبندی آپنے اس کالا حضرت فیض الحسن کو چھپانا چاہتے ہیں کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ۔

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے بھی اکابر تھے جو جاہل تھے اور صرف جاہل ہی نہیں بلکہ اکابرین دیوبند تو اجہل تھے حوالہ نوٹ کریں کتاب کا نام اکابر دیوبند کیا تھے تقی عثمانی دیوبندی کی کتاب صفحہ نمبر 33 دیوبندی کے حکیم الامت اشرف علی تھانوی کا واقعہ لکھا ہے اور اشرف علی تھانوی خود اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ : رہا جاہل ہونا اس کا البتہ میں اقرار کرتا ہوں کہ میں جاہل بلکہ اجہل ہوں ۔

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے بھی تھے جن کے اندر ساری گندگی بھری ہوئی تھی قارئین حضرات آپ پریشان ہونگے کہ اکابرین دیوبند اور ان کے اندر ساری گندگی بھری ہوئی تھی یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ اورساری گندگی بھری ہوئی تھی اس کا صاف مطلب ہے کہ اکابر دیوبند میں ایسے بھی تھے جو گندگی کے بھنڈار تھے ؟ جی بالکل ایسا ہی ہے حوالہ نوٹ کریں کتاب کا نام ہے اکابر کا مقام تواضع صفحہ نمبر 76 ادارہ اسلامیات لاہور کراچی سے کتاب چھپی ہے دیوبندی نے خود اپنے قلم سے لکھا ہے کہ : ان کے اکابر کہا کرتے تھے کہ میں کیا ہوں میرے اندر ساری گندگی بھر ہوئی ہے ۔

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے بھی تھے جو پاخانہ کے اندر حقّہ نوشی کرتے تھے اور رات میں اٹھ اٹھ کر حقہ پیتے رہتے تھے حوالہ نوٹ کریں نقش حیات مکمل خود نوشت و سوانح حیات حسین احمد مدنی حصہ اول صفحہ نمبر 103 حسین احمد ٹانڈوی نے خود اپنے قلم سے اپنے والد صاحب کے بارے میں لکھا کہ : والد صاحب مرحوم کو حقّہ کی اس قدر عادت تھی کہ پاخانہ میں بھی حقّہ لے کر جاتے تھے اور رات میں اٹھ اٹھ کر پیا کرتے تھے ۔

اسی طرح اکابرین دیوبند میں ایسے بھی تھے جو گالیاں اور بدعاء دیا کرتے تھے چنانچہ رشید احمد گنگوہی کے استاذ محمد بخش جب حج کرکے واپس ہوئے تو لوگوں نے پوچھا کہ حضرت ہمارے لیے بھی دعا کی کہ نہیں تو رشید احمد گنگوہی کے استاذ محمد بخش نے جواب دیا لوگوں کو : ہاں گالیاں بھی دی تھیں اور بدعا بھی کی تھی ۔ (تذکرة الرشید جلد دوم صفحہ نمبر 349 مصنف عاشق الٰھی بلند شہری کتب خانہ اشاعت العلوم،چشتی)

اب نتیجہ آپ حضرات خود نکالیں کہ دیوبندی کے اکابرین کی حالت یہ ہے تو اصاغرین کی حالت کیا ہوگی جب دیوبندی کے اکابرین اپنے لوگوں کو گالیاں اور بدعاء دیا کرتے ہیں تو غیروں پر کیا ستم ڈھاتے ہونگے ۔ یاد رہے ہم نے یہ کچھ نمونے بطور الزام پیش کر دیے ورنہ ہمیں ضرورت نہیں تھی کیونکہ آجکل دیوبندی صحابہ رضون اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بارے بولتا نظر آتا ہے کہ وہ تو ایسے تھے تو کوئی دیوبندی مثلا ابو عیوب دیوبندی (ہم اہل سنت وجماعت سنی حنفیوں) کے اکابرین پر جملے کستا ہوا نظر آتا ہے کہ وہ ایسے تھے تو ویسے تھے توہم نے بس آئینہ دکھایا ورنہ مکمل کتاب لکھی جا سکتی ہے دیوبندیوں ہوش کے ناخن لو ورنہ اسی طرح تمہاری حقیقت سب کے سامنے آتی رہے گی اور تم سب دیوبندی وہابی کہیں منہ دکھانے لائق نہیں رہو گے ۔

دیوبندی تعلیم : بے وضو نماز پڑھ لیا کرو : ⏬

حکیمُ الاُمّت بیمارانِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں : ایسے ہی ایک مرتبہ گڑھی پختہ تشریف لے گئے ۔ ایک خاں صاحب سے نماز کے لئے کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے داڑھی چڑھانے کی عادت ہے اور وضو سے یہ اتر جاتی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ بے وضو پڑھ لیا کرو خاں صاحب نے کچھ روز بغیر وضو نماز پڑھی ۔ پھر خیال آیا کہ ایک مولوی کے کہنے سے تونے بغیر وضو نما زپڑھنی شروع کردی اور اللہ و رسول کے حکم سے باوضو نماز نہیں پڑھی جاتی ۔ اس کے بعد ہمیشہ باوضو نماز پڑھنے لگے ۔ (ارواح ثلاثہ ، حکایت نمبر 191 صفحہ نمبر 158 ، 159 مطبوعہ مکتبہ عمر فاروق کراچی،چشتی)

محترم قارئین اندازہ کریں ایک جاہل شخص کو بے وضو نماز پڑھتے ہوئے شرم آگئی لیکن اکابرینِ دیوبند کو یہ فتویٰ دیتے ہوئے شرم نہیں آئی ۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔ اس حکایت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اکابرینِ دیوبند اللہ عزّ و جل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے احکامات کی کھلی مخالفت کرتے ہیں اور احکامِ اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں جسے ایک عامی شخص نے بھی محسوس کر لیا ۔ اس پر ہمارا مکتبہ فکر دیوبند کے لوگوں سے صرف اتنا سوال ہے کہ اکابرینِ دیوبند کے پاس ایسا کون سا شرعی اختیار تھا جس کی وجہ سے بغیر وضو نماز پڑھنے کی اجازت دے دیتے تھے ؟

دیوبندی تعلیم : بے وضو ہی نماز پڑھ لیا کرو اور شراب بھی پی لیا کرو : ⏬

حکیمُ الاُمّت بیمارانِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں : ایک مرتبہ آپ کا جلال آباد یا شاملی گزر ہوا ۔ ایک مسجد ویران پڑی تھی ۔ وہاں نماز کے لئے تشریف لا کرپانی کھینچا وضو کیا مسجد میں جھاڑو دی اس کے بعد ایک شخص سے پوچھا کہ یہاں کوئی نمازی نہیں ؟ اس نے کہا کہ جی سامنے خاں صاحب کا مکان ہے جو شرابی اور رنڈی باز ہیں ۔ اگر وہ نماز پڑھنے لگیں تو یہاں اور بھی دو چار نمازی جمع ہو جائیں آپ ان خاں صاحب کے پاس تشریف لے گئے تو رنڈی پاس بیٹھی تھی ۔ اور نشہ میں مست تھے ۔ آپ نے خاں صاحب سے فرمایا کہ بھائی خاں صاحب اگر تم نماز پڑھ لیا کروتو دو چار آدمی اور جمع ہو جایا کریں ۔ اور مسجد آباد ہو جائے گی ۔ خاں صاحب نے کہا کہ میرے سے وضو نہیں ہوتی اور نہ یہ دو بری عادتیں چھٹتی ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ بے وضو ہی پڑھ لیا کرو ۔ اور شراب بھی پی لیا کرو ۔ اسپر اس نے عہد کیا کہ میں بغیر وضو ہی پڑھ لیا کروں گا ۔ (ارواح ثلاثہ صفحہ نمبر 158 مطبوعہ مکتبہ عمر فاروق کراچی)

انا اللہ وانا علیہ راجعون : نجانے یہ کون سی شریعت ہے جس میں بے وضو نماز پڑھنے اور شراب پینے کی اجازت ہے ؟ ۔ یہ اسلام تو ہرگز نہیں ہوسکتا لیکن دیوبند کی تعلیم میں ضرور شراب حلال ہے ۔ کیونکہ دیوبندی حضرات نے نشے کی شرط کے بغیر مطلقاً شراب پینے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے ۔ کوئی دیوبندی جواب دے گا کہ دیوبندیوں کے پاس کون سے اختیارات تھے جنہیں استعمال کر کے یہ اجازت نامہ جاری کیا گیا ؟ ۔

الیاس گھمن دیوبندی سوتیلی بیٹی کے ساتھ زنا اور مالی خورد برد کرنے والا ہے : ⏬

محترم قارئینِ کرام : دیوبندیوں کے موجودہ متکلم الاسلام مولوی الیاس گھمن دیوبندی کے اپنی سوتیلی بیٹی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے مولوی الیاس گھمن دیوبندی کے اکابرین میں سے دیوبندیوں کے شیخ الکل سلیم اللہ خان دیوبندی کی گواہی پیشِ خدمت ہے انہوں دارالعلوم دیوبند کو خط لکھا جب دارالعلوم دیوبند نے مولوی الیاس گھمن دیوبندی کی تعریف کی تو دیوبندیوں کے شیخ الکل سلیم اللہ خان دیوبندی نے لکھا : آپ ایسے شخص کی کیسے تعریف کر سکتے ہیں جو اپنی سوتیلی بیٹیوں کے ساتھ بد فعلی کے جرم میں پکڑا گیا ، جو مالی خورد بُرد میں پکڑا گیا ، جس نے سعودی عرب میں غیر قانونی چندے کیئے جن سے الیاس گھمن کی شخصیت مجروح ہو رہی تھی ۔ اس کے جواب میں دارالعلوم دیوبند نے اپنی سابقہ تحریر جو تعریف میں لکھی گئی تھی سے رجوع کر لیا یہ کہہ کر کہ وہ تحریر عجلت (یعنی جلدی میں لکھی گئی تھی) ۔ (تذکرہ شیخ الکل صفحہ نمبر 302 مطبوعہ ادارۃ الرشید کراچی)

مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری

دیوبندیوں کے متکلم الاسلام الیاس گھمن بیٹیوں کے ساتھ بدکاریوں میں ملوث ،  مالی خورد بُرد کرنے والا ، سعودی عرب میں غیر قانونی چندے کرنے والا یہ تو ان کا متکلم اسلام ہے جس کے یہ کرتوت ہیں تو ان کے چھوٹے اللہ بچائے ایسے شخصیت پرست اندھوں سے جو پھر بھی ان جیسے لوگوں کو عالم اور اپنا قئد و پیشوا سمجھتے اور مانتے ہیں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Sunday, 26 April 2026

حفظ الایمان کی گستاخانہ عبارت کی تاویلاتِ دیابنہ کا تحقیقی جواب

حفظ الایمان کی گستاخانہ عبارت کی تاویلاتِ دیابنہ کا تحقیقی جواب






محترم قارٸینِ کرام : دیابنہ کا حکیم اشر فعلی تھانوی دیوبندی اپنے رسالہ حفظ الایمان میں لکھتا ہے : پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ۔ اگر بعض علومِ غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی ہی کیا تخصیص ہے ۔ ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کےلیے بھی حاصل ہے ۔ (حفظ الایمان صفحہ نمبر 15 دارالکتاب دیوبند  اور مطبوعہ قدیمی کتبخانہ کا صفحہ نمبر 13)

ہم نے اصل عبارت میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی مگر ہو سکتا ہے بوجوہ چند مشکل الفاظ کے عوام الناس کو اس عبارت کے معانی و مفہوم کے سمجھنے میں کچھ مشکل پیش آئے ۔ اس لیے ہم ایسے الفاظ کی وضاحت معتبر کتب لغات سے ذیل میں پیش کرتے ہیں : ⏬

صبی : چھوکرا ، دووھ چھٹا بچہ ۔ (فرہنگ عامرہ صفحہ 305)

مجنون : پاگل دیوانہ ۔ (فرہنگ عامرہ صفحہ 424)

حیوانات : حیوان کی جمع ، جانور ۔ (فرہنگ عامرہ صفحہ 193)

بہائم : بہیمہ کی جمع بہیمہ بے عقل و تمیز جانور ۔ (فرہنگ عامرہ صفحہ 104 ، 105)

لغات کی روشنی میں پتہ چلا کہ صبی بچہ کو کہتے ہیں مجنوں پاگل دیوانہ اور حیوانات عام ہے انسان اور جانوروں کےلیے اور بہائم خاص چوپایوں جانوروں کےلیے ۔

نقل کفر کفر نباشد کے تحت ایک دفعہ معانی کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ عبارت پھر پڑھیں : پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب۔ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی ہی کیا تخصیص ہے۔ ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لیے بھی حاصل ہے۔ (حفظ الایمان صفحہ نمبر 15 دارالکتاب دیوبند  اور مطبوعہ قدیمی کتبخانہ کا صفحہ نمبر 13،چشتی)

اے اہلِ ایمان : خالی الذہن ہو کر بار بار تھانوی کی عبارت پڑھیں اور اندازہ کریں کہ بعض اور کل علوم کی بحث کی آڑ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کیسی صریح توہین کی گئی ہے ؟

سوال نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب کے تعلق سے تھا جانوروں پاگلوں بچوں عام انسانوں کے علم سے متعلق نہیں اور پھر اگر ان کے علم کے تعلق سے بھی سوال ہوتا تو اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم سے مخلوقات میں کسی کے علم کا کیا تعلق ؟

کہاں ہمارے پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علمِ پاک اور کہاں عام انسانوں بچوں پاگلوں جانوروں کا علم ۔ معاذاللہ ۔

چہ نسبت خاک را با علم پاک

اگر کوئی ایسی ہی عبارت تھانوی دیوبندی کے علم کے متعلق تحریر کر دے کہ : اشرف علی تھانوی کے متعلق علم شریعت کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس سے بعض مسائل شریعت مراد ہیں یا کل اگر بعض علم مراد ہے تو اس میں اشرف علی تھانوی کی کیا تخصیص ایسا علم تو زید و عمر و بلکہ ہر صبی  و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کو حاصل ہے ۔

تو کیا اشرف علی تھانوی کی اذناب و ذریات اور ان کے پیروکار حضرات اسے تھانوی کی توہین پر محمول نہ کریں گے ؟

ضرور کریں گے لیکن آج تقریبا سوا سو سال ہونے کو آئے دیوبندی حضرات اس عبارت کی متضاد تاویلات بے جا تشریحات و توضیحات کرتے جا رہے ہیں۔ یہ کیسی علمی دیانت ہے ۔

بلکہ اس سے بڑھ کر دیوبندی حضرات کےلیے لمحہ فکریہ ہے کہ ان کی وفاداریاں کس کے ساتھ ہیں ؟

کیا ان کے نزدیک ان کے پیشوا کی عزت نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ناموس سے بڑھ کر ہے ؟

یہ کیسا انصاف ہے کہ جو عبارت ان کے اشرف علی تھانوی سیدُالانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے کہیں تو گستاخی نہ ہو بلکہ تاویلات تلاش کی جائیں اور ہٹ دھرمی برتی جائے اور جب اسی عبارت کو تھانوی کےلیے کہا جائے تو گستاخی قرار دی جائے ۔

اس کفریہ عبارت پر ہم آپ کے سامنے تھانوی کے اپنے وکلاء کی تضاد بیانی بیان کر کے اور ان ہی سے فتوی کفر کی تائید کروا دیتے ہیں  ملاحظہ ہو : دیوبندی علماء نے تھانوی کی کفریہ عبارت کو خالص ایمانی بنانے کےلیے جو کوششیں کی ہیں اور جس انداز میں غلط و فاسد تاویلات کا سہارا لیا اس کی تفصیل بخوف طوالت ہم چھوڑ رہے ہیں ۔ صرف دو علماء کی تاویلات کو نقل کریں گے لیکن اس سے پہلے ہم تھانوی کی عبارت میں لفظ ایسا جو عبارت میں اصل کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی لفظ کو لے کر بحث و مباحثہ ہوتے رہے ہیں اور علماء دیوبند نے تھانوی کی عبارت میں تاویل کرتے ہوئے خاص کر لفظ ایسا کو ہی اپنی تحریر کا محور بنایا ہے ۔ لہٰذا یہاں اسی لفظ کی وضاحت ہم مشہور اردو لغات کی روشنی میں پیش کر رہے ہیں ۔

ایسا کا لغوی مفہوم : ⏬

فرہنگ آصفیہ میں ایسا کی تشریح : ایسا : صفت مانند ہم شکل ، مماثل ، مساوی ، متوازی ، اس قسم کا ، اس طرح کا ، اس بھانت کا ، بحالت تابع فعل اس قدر ، اتنا فقرہ ایسا کھانا کھایا کہ بد ہضمی ہو گئی ۔ (فرہنگ آصفیہ جلد 1 صفحہ 240)

فیروز اللغات اردومیں ہے : ایسا : اس قسم کا ، اس شکل کا ، مماثل ، مانند ، اس نمونے کا ، اس طرح، یوں ۔ (فیروز اللغات جلد 1 صفحہ 153)

امیر اللغات میں ہے : ایسا : اس قسم کا، اس شکل کا ، اس قدر ، اتنا ، مماثل ، مانند ، اس طرح ، یوں ۔ (حصہ دوم صفحہ 302 مؤلفہ منشی امیر احمد امیر مینائی لکھنوی)

نوراللغات میں ہے : ایسا : اس قسم کا، اس شکل کا، اس قدر، اتنا، مانند مثل ۔ (جلد 1 صفحہ 409)

الحاصل : لغوی حیثیت سے لفظ ایسا تشبیہ یا مقدار کے معنی میں مستعمل ہے ۔

اب رہا تھانوی کی عبارت میں لفظ ایسا کسی معنی میں ہے تو آئیے ہم صرف دو دیوبندی مشہور علماء کی کتب کے حوالے سے ثابت کرتے ہیں کہ انہوں نے لفظ ایسا کس معنی میں لیا ہے ۔

لفظ ایسا بمعنی اتنا : ⏬

مولوی مرتضیٰ حسن دربھنگی چاند پوری دیوبندی اشرف علی تھانوی کی عبارت متنازعہ فیھا میں لفظ ایسا کی تاویل کرتے ہوئے لکھتا ہے : واضح ہو کہ (ایسا) کا لفظ فقط مانند ، اور مثل ہی کے معنی میں مستعمل نہیں ہوتا بلکہ اس کے معنی ، اس قدر ، اور ، اتنے ، کے بھی آتے ہیں جو اس جگہ متعین ہیں ۔ (توضیح البیان فی حفظ الایمان مطبوعہ قاسمی دیوبند صفحہ 17)

دوسرے مقام پر لکھتا ہے : عبارت متنازعہ فیھا میں لفظ (ایسا) بمعنی اس قدر اور اتنا ہے پھر تشبیہ کیسی ۔ (توضیح البیان فی حفظ الایمان مطبوعہ قاسمی دیوبند صفحہ 8)

مولوی مرتضیٰ حسن دیوبندی کی مندرجہ بالا عبارت سے تھانوی کی عبارت کفریہ میں لفظ ایسا اس قدر اور اتنا کے معنی میں ہے ۔

مولوی حسین احمد ٹانڈوی صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند لفظ ایسا کو اتنا کے معنی میں مان لینے سے متعلق لکھتا ہے : حضرت مولانا عبارت میں (ایسا) فرما رہے ہیں لفظ اتنا تو نہیں فرما رہے ہیں اگر لفظ اتنا ہوتا تو اس وقت البتہ یہ احتمال ہوتا کہ معاذاللہ حضور علیہ السلام کے علم کو اور چیزوں کے علم کے برابر کردیا ۔ (الشہاب الثاقب مطبع قاسمی دیوبند صفحہ 111)

الحاصل مرتضیٰ حسن دیوبندی نے تھانوی کی عبارت میں لفظ ایسا بمعنی اتنا مانا ہے اور مولوی حسین احمد کے نزدیک اگر عبارت میں لفظ ایسا اتنا کے معنی میں مان لیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ معاذاللہ تھانوی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم اور چیزوں (زید بکر صبی مجنون جمیع حیوانات و بہائم) کے علم کے برابر کردیا ہے اور نبی پاک کے علم کو عام انسانوں کےبرابر کردینا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین نہیں ؟
کیا اس عبارت میں صاف صاف کفر نظر نہیں آرہا ہے ؟ ۔ قارئینِ کرام فیصلہ کریں ۔

لفظ ایسا تشبیہ کےلیے : ⏬

الشہاب الثاقب میں لفظ ایسا بمعنی تشبیہ ۔ مولوی حسین احمد لکھتے ہیں : لفظ  ایسا  تو تشبیہ کا ہے اور ظاہر ہے کہ اگر کسی کو کسی سے تشبیہ دیا کرتے ہیں تو سب چیزوں میں مراد نہیں ہوا کرتی ۔ (الشہاب الثاقب)
اور لکھتے ہیں : ادھر لفظ اتنا تو نہیں کہا بلکہ تشبیہ فقط بعضیت میں دے رہے ہیں ۔
(الشہاب الثاقب مطبع قاسمی دیوبند صفحہ 112)

مولوی حسین احمد کے نزدیک تھانوی کی عبارت میں لفظ ایسا (تشبیہ) کےلیے ہے تشبیہ کے معنی میں لینے سے کوئی حکم عائد نہیں ہوگا لیکن انہیں کے ایک مولوی مرتضیٰ حسن تشبیہ کا معنی مراد لینے کو کفر قرار دے رہے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں : ⏬

اگر وجہ تکفیر کی تشبیہ علم نبوی بعلم زید و عمرو ہے تو یہ اس پر موقوف ہے کہ لفظ ایسا تشبیہ کےلیے ہو ۔ (توضیح البیان صفحہ 13،چشتی)

مذکورہ بالا بحث کا خلاصہ یہ نکلا کہ بعض دیوبندی علماء کے نزدیک تھانوی کی عبارت میں لفظ ایسا اتنا کے معنی میں آتا ہے اور بعض کے نزدیک تشبیہ کےلیے ۔ جنہوں نے تشبیہ کےلیے مانا ان کے نزدیک اتنا ماننے کی صورت میں کفر ہے اور جنہوں نے اتنا مانا تو انہوں نے تشبیہ کے معنی ماننے کو سبب کفر قرار دیا ۔ لہٰذا عبارت بالا کی روشنی میں خود دیوبندی علماء کے نزدیک اشرف علی تھانوی کی عبارت کا کفریہ ہونا ثابت ہوگیا ۔ یہ بحث تو تھانوی کے اذناب و ذریات کی جانب سے تھی خود تھانوی نے لفظ ایسا کس معنی میں لیا ہے وہ بھی ملاحظہ فرمائیں : ⏬

اشرف علی تھانوی دیوبندی کے نزدیک لفظ ایسا ، بیان کےلیے ہے ۔ اشرف علی نے یہ جان لیا تھا کہ اگر لفظ (ایسا) تشبیہ کے معنی میں لیا جائے تو بھی کفر ہے اور (اتنا) کے معنی میں تب بھی کفر ہے ۔ لہٰذا تھانوی نے ایک اور مفہوم ایجاد کیا اور لفظ ایسا کو (بیان) کےلیے مان کر الزامِ کفر سے خود کو بچانے کی ناکام کوشش کی تغییرالعنوان میں لکھتا ہے : لفظ ایسا بقرینہ مقام مطلق بیان کےلیے آتا ہے ۔ (حفظ الایمان مع تغییرالعنوان صفحہ 121 ناشر انجمن ارشاد المسلین لاہور)

تھانوی کی تاویل بے جا کے جواب میں مظہرِ اعلی حضرت شیر بیشہ اہل سنت فاتح عالم دیوبند علامہ حشمت علی علیہ الرحمہ کی طرف سے تحریر فرمودہ جواب نقل کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے : ⏬

آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : تھانوی جی بھلا حکیم الامت کہلا کر اردو ادب کے مسائل سے بھی آپ کیا جاہل ہوں گے ضرور ہے کہ دانستہ سب کچھ دیکھ بھال کر مسلمانوں پر اندھیری ڈالنا چاہتے ہیں ۔ ہاں تھانوی جی ہم سے سنیے ایسا کا لفظ مطلق (بیان) کےلیے وہاں آتا ہے جہاں مشبہ بہ مذکور نہ ہو نہ صراحتاً نہ حکماً اور جہاں مشبہ اور مشبہ بہ دونوں موجود ہوں وہاں قطعاً یقیناً ایسا کا لفظ تشبیہ ہی  کےلیے آتا ہے ۔ آپ کی عبارت میں مشبہ اور مشبہ بہ دونوں موجود ہیں اور یہاں لفظ ایسا یقیناً تشبیہ کےلیے ہے مطلق بیان کےلیے ہرگز نہیں ہو سکتا ۔ (قہر واجدان بر ہمشیر بسط البنان صفحہ 13،چشتی)

محترم قارئینِ کرام دیکھا آپ نے کہ کفریہ عبارت کا دفاع کرتے کرتے اشرف علی تھانوی دیوبندی کو خود دیوبندی علماء نے کفر کی دلدل میں دھنسا دیا ۔

اشرف علی تھانوی دیوبندی کی کتاب حفظ الایمان کی عبارت "ایسا علم غیب تو زید و عمر بلکہ ہر صبی (بچہ) و مجنوں (پاگل) بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کو حاصل ہے “ پر علمائے حق نے اشرف علی کی تکفیر کلامی کی کہ اس نے اپنی مذکورہ بالا عبارت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کو جانوروں اور پاگلوں کے علم سے تشبیہ دے کر توہین نبوی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ثابت شدہ صفت علم غیب عطائی کی تکذیب کی اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں جس کی صراحت فقہ و کلام کی کتابوں میں موجود ہے ۔ اس تکفیر کی تردید میں اذناب و حاملین اشرف على تهانوی کہتے ہیں کہ اس تشبیہ کی بنیاد پر اگر توہین نبوی ہو گئی جس کی بنا پر اشرف علی کو کافر کلامی قرار دیا گیا ۔ تو ایسی تشبیہ تو امام جلال الدین سیوطی اور قاضی بیضاوی علیہما الرحمہ کی عبارت میں بھی ہے جو انہوں نے قول باری ” كان ياكلان الطعام “ کے تحت اپنے کلام میں حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت مریم علیہاالسلام کے کھانے کو جانوروں کے کھانے سے تشبیہ دی ہے امام جلال الدین کی عبارت ہے” كغيرھا من الحیوانات“ اور قاضی بیضاوی کی عبارت ہے” یفتقران اليه افتقارالحيوانات“ پس اگر افضل کو مفضول کے ساتھ تشبیہ دینا افضل کی توہین کرنا ہے کہ جیسا کہ علمائے اہل سنت نے اشرف علی کی عبارت کے حوالے سے کہا کہ اس نے تشبیہ دے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی ہے تو یہی چیز تو امام جلال الدین اور قاضی بیضاوی کی عبارت میں ہے کہ انھوں نے افضل حضرت عیسٰی علیہ السلام کو مفضول حیوانات سے تشبیہ دی ہے لہذا جو حکم اشرف علی پر صادر ہوا وہی حکم (العیاذ بالله) ان دونوں بزرگوں پر لگنا چاہیے اور اگر ان پر نہیں لگاتے تو اشرف علی پر بھی نہ لگاؤ اس لیے کہ دونوں مقام میں افضل کو مفضول سے تشبیہ دی گئی ہے لہٰذا کفر ہے تو دونوں جگہ ہو اور نہیں ہے تو دونوں جگہ نہیں ہونا چاہیے اور یہ بات آپ اہل سنت کے یہاں مسلم ہے کہ وہ دونوں حضرات بزرگ ہیں اہل حق ہیں تو اب آپ کے نزدیک اشرف علی بھی حق پر ہونا چاہیے ۔

مذکورہ اعتراض کے جواب سے پہلے آپ اتنا جان لیں کہ بعض تشبیہ تنقیص ہوتی ہیں اور بعض تنقیص نہیں ہوتی : ⏬

1 : افضل کو مفضول کے ساتھ ایسے وصف میں تشبیہ دینا جو وصف افضل کے مفضول سے افضل ہونے کا سبب ہے جیسے کہ انسان کو وصف عقل رکھنے میں گدھے کے ساتھ تشبیہ دے کر کہا جائے کہ انسان عقل رکھنے میں گدھے کی طرح ہے ۔ یہ تشبیہ تنقیص ہے ۔

2 : افضل کو مفضول کے ساتھ وصف عامہ مشترکہ میں اس جہت سے تشبیہ دینا جس جہت سے وہ وصف دونوں کے درمیان مشترک ہے جیسا کہ احتیاج طعام کی جہت سے انسان کو حیوان کے ساتھ وصف اکل طعام میں تشبیہ دے کر کہنا کہ جیسے انسان کھاتا ہے ایسے ہی حیوان کھاتا ہے یعنی جس طرح سے انسان کو کھانے کی ضرورت ہے ایسے ہی حیوان کو بھی کھانے کی ضرورت ہے __یہ تشبیہ تنقیص نہیں ہے ۔

3 : افضل کو مفضول کے ساتھ تشبیہ دینا وصف عامہ مشترکہ میں جہت اشتراک کے علاوہ جہت سے جیسے کہ کہا جائے کہ انسان بیل کی طرح کھاتا ہے یعنی کھانے میں جو طریقہ بیل کا ہے وہی طریقہ انسان کا ہے ۔ اس میں تنقیص کا پہلو ہے ۔

اس تفصیل کے بعد اب آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اشرف علی تھانوی کی عبارت توہینِ رسالت میں مفسر ہے کہ اس میں تشبیہ کی قسم اول ہے جو کہ تنقیص ہے اس کے برخلاف امام جلال الدین اور قاضی بیضاوی علیہما الرحمہ کی عبارات میں تشبیہ کی دوسری قسم ہے جو توہین نہیں ہے نیز آیت کریمہ ”انما أنا بشر مثلكم“ بھی بنظر ظاهر اسی قبیل سے ہے ۔ پس اشرف علی تھانوی دیوبندی کی عبارت مشتمل توہینِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کی بنا پر کفریہ ہے اور اہل حق کا اس عبارت کی بنیاد پر اس کو کافر کلامی کہہ کر حکمِ شرع ظاہر کرنا مطابقِ شریعت ہے ۔


اس سے قبل کہ علماء دیوبند کی تاویلات باطلہ کے متعلق مزید کچھ عرض کریں ، حفظ الایمان کی گستاخانہ عبارت کا مختصر پس منظر پیش خدمت ہے ۔ علماۓ دیوبند کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غیب کا کچھ علم نہیں ۔ دیابنہ اور وہابیہ کا امام و مقتدا اسماعیل دہلوی لکھتا ہے : غیب کی بات اللہ ہی جانتا ہے رسول کو کیا خبر ۔ (تقویۃ الایمان صفحہ 84 مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی)

علماۓ دیوبند کے قطب الاقطاب مولوی رشید احمد گنگوہی صاحب نے اپنا عقیدہ یوں بیان کیا ہے : اس میں ہر چہار ائمہ مذاہب و جملہ علماء متفق ہیں کہ انبیاء علیہم السلام غیب پر مطلع نہیں ہیں اور اس مدعی کے اثبات پر ہزاروں احادیث و آیات شاہد ہیں ۔ (مسئلہ در علم غیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم از گنگوہی ملحقہ بجواهر التوحید از غلام اللہ خان صفحہ 357 کتب خانہ رشیدیہ راولپنڈی)(ملحقہ علم غیب صفحہ 154 قاری طیب مطبوعہ ادارہ اسلامیات لاہور)

جبکہ مطلقاً علم غیب یا اطلاع غیب کا انکار غیر اسلامی عقیدہ ہے مفتی شفیع لکھتے ہیں : جاہل عوام جو ان باتوں میں فرق نہیں کرتے جب ان کے سامنے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم الغیب نہیں وہ اس کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی غیب کی چیز کی خبر نہیں جس کا دنیا میں کوئی قاٸل نہیں اور نہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایسا ہونے سے تو خود نبوت و رسالت کی نفی ہو جاتی ہے جس کا کسی مؤمن سے امکان نہیں ۔ (تفسیر معارف القرآن جلد 8 صفحہ 583)

اس اثناء میں جب ان کے باطل عقیدہ کی تردید کی گئی تو ان حضرات کی جانب سے ایک فرضی زید کے نام سے عالم الغیب کے متعلق سوال کو گھڑ کے اس اطلاق کی نفی پر گفتگو کی ، مگر اطلاق کے ساتھ ساتھ حکم کی بھی نفی کر دی ۔ قارئین کی آسانی کےلیے عرض ہے کہ اطلاق سے مراد کسی چیز کےلیے کسی لفظ کا بولنا ہے جبکہ کسی چیز کےلیے کسی بات کے ثابت ہونے کو حکم سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔

مولوی منظور نعمانی دیوبندی لکھتے ہیں : کسی صفت کا واقع میں کسی ذات کےلیے ثابت ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ اس کا اطلاق بھی اس پر جائز ہو ۔ قرآن کریم میں حق تعالی کو ہر چیز کا خالق بتلایا گیا ہے اور تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ عالم کی ہر چیز صغیر ہو یا کبیر ، عظیم ہو یا حقیر سب اس کی مخلوق ہے لیکن با این ہمہ فقہاء کرام تصریح فرماتے ہیں کہ اس کو خالق القردة والخنازیر کہنا ناجائز ہے ۔ علی ھذا قرآن مجید میں حق تعالی نے زرع (کھیتی) کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے ۔ لیکن اس کی ذات پاک پر زارع کا اطلاق درست نہیں ۔ اسی طرح بادشاہ کی طرف سے لشکر کو جو عطایا اور وظائف دیے جاتے ہیں ، اہل عرب ان پر رزق کا اطلاق کرتے ہیں ۔ چنانچہ لغت کی عام کتابوں میں یہ محاورہ لکھا ہوا ہے کہ رزق الامیر الجند ، لیکن با ایں ہمہ بادشاہ کو رازق یا رزاق کہنا درست نہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل مبارکہ کے باب میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ خود ہی اپنی نعل مبارک کو ٹانک لیا کرتے تھے اور خود ہی اپنی بکری دوہ لیا کرتے ۔۔۔۔۔ الخ لیکن اس کے باوجود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاصف النعل (جفت دوز)  اور حالب الشاة (بکری دوہنے والا) نہیں کہا جا سکتا ۔ بہرحال  یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ بعض اوقات ایک صفت کسی ذات میں پائی جاتی ہے اور اس کا اطلاق درست نہیں ہوتا ۔ (فیصلہ کن مناظرہ صفحہ 152 ، 153،چشتی)

ساجد نقلبدی دیوبندی لکھتا ہے : کسی صفت کا واقع میں کسی ذات کے لئے ثابت ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ اس کا اطلاق بھی اس پر جائز ہو ۔ قرآن کریم میں حق تعالی کو ہر چیز کا خالق بتلایا گیا ہے اور تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ عالم کی ہر چیز صغیر ہو یا کبیر ، عظیم ہو یا حقیر سب اس کی مخلوق ہے ۔ لیکن اس کے باوجود فقہاء کرام تصریح فرماتے ہیں کہ اس کو خالق القردة والخنازیر کہنا ناجائز ہے ۔ اس طرح بادشاہ کی طرف سے لشکر کو جو عطایا اور وظائف دیے جاتے ہیں ، اہل عرب ان پر رزق کا اطلاق کرتے ہیں ۔ چنانچہ لغت کی عام کتابوں میں یہ محاورہ لکھا ہوا ہے کہ رزق الامیرالجند ، لیکن با ایں ہمہ بادشاہ کو رازق یا رزاق کہنا درست نہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل مبارکہ کے باب میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ خود ہی اپنی نعل مبارک کو ٹانک لیا کرتے تھے اور خود ہی اپنی بکری دوہ لیا کرتے ۔۔الخ لیکن اس کے باوجود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاصف النعل (جفت دوز) اور حالب الشاۃ (بکری دوہنے والا) نہیں کہا جا سکتا ۔ بہر حال یہ حقیقت ناقابل انکار ہے کہ بعض اوقات ایک صفت کسی ذات میں پائی جاتی ہے اور اس کا اطلاق درست نہیں ہوتا ۔ (دفاع اہل السنت جلد 1 صفحہ 611 ، 612 )

عبارات کی مماثلث کس بات کی چغلی کھا رہی ہے اس کا اندازہ ہمارے قارئین بخوبی کر سکتے ہیں ، خیر ان دونوں عبارات کا حاصل یہ ہے کہ علم اور اطلاق میں فرق ہوتا ہے بعض دفعہ صفت کے موجود ہونے کے باوجود موصوف پر اطلاق درست نہیں ہوتا ۔ اب تھانوی صاحب سے سائل نے کچھ یوں سوال کیا : اور کہتا ہے کہ علم غیب کی دو قسمیں ہیں ۔ بالذات ۔ اس معنی کو علم الغیب خدا تعالی کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اور بواسطہ ۔ اس معنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم الغیب تھے ۔ زید کا یہ استدلال اور عقیدہ و علم کیسا ہے ۔ (حفظ الایمان صفحہ 81 ستمبر 1980 انجمن ارشاد المسلمین ، لاہور پاکستان)

اس سوال میں سائل نے علم غیب کی دو قسمیں ذکر کی ہیں ، ایک ذاتی اور دوسرا عطائی ، اس میں کہیں بھی اطلاق کا لفظ موجود نہیں ۔ لہٰذا سائل کا سوال علم غیب کے متعلق تھا ، اب اس کا جواب دیتے ہوۓ اشرف علی تھانوی دیوبندی لکھتا ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ؟ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید ، و عمر بلکہ ہر صبی  و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ۔ (حفظ الایمان)

اس عبارت کے آغاز میں اشرفعلی تھانوی دیوبندی نے دو ٹوک لکھا ہے کہ : علم غیب کا حکم کیا جانا ، یعنی وہ ( تھانوی) ، عالم الغیب کے اطلاق پر نہیں بلکہ علم غیب کے حکم پر گفتگو کرتے ہوۓ اس کی ہی نفی کے در پے ہیں ، اور یہاں علم غیب کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی ہے ۔ اب تھانوی نے اس علم غیب کی دو قسمیں بیان کی ہیں ، ایک کل علم غیب ، جس کو عقلاً و نقلاً باطل قرار دیا ، اور دوسری بعض علم غیب جس کو تسلیم کرتے ہوئے یہ خبیث استدلال کیا کہ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید ، و عمر بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ، یعنی جو علم سرکارِ کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے ثابت مانا ، وہی علم جانوروں و پاگلوں کےلیے بھی تسلیم کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ہولناک گستاخی کا مرتکب ہوا ۔

اس عبارت کے متعلق ایک دیوبندی لکھتا ہے : حفظ الایمان حضرت تھانوی کی تصنیف ہے جس میں تین سولات کے جوابات ہیں ۔۔۔ اور سوال سوم عالم الغیب کے بارے میں تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب کہہ سکتے ہیں کہ نہیں ۔ تیسرے سوال کے جواب میں حضرت تھانوی بحث کرتے ہوۓ لکھتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ؟ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید ، و عمر بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ، کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے شخص سے مخفی ہے تو چاہئے کہ سب کو عالم الغیب کہا جاوے ۔ (حفظ الایمان صفحہ 8) ۔ یاد رہے یہ ہاٸیڈ کی ہوٸی عبارت کو آج تک کسی بریلوی نے نقل نہیں کیا ، اس لیے کہ یہ ٹکڑا خود عبارت کا جواب ہے ، اور جب جواب نقل کیا تو اعتراض معترض کے لئے باعث شرمندگی ہے ۔ معترضین کہتے ہیں کہ مذکورہ عبارت میں حضرت تھانوی نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کو بچوں ، پاگلوں ، حیوانات اور بہائم وغیرہ سے تشبیہ دی ہے ۔ حالانکہ یہ ان کی کج فہمی ہے ۔ (حق المبین پر ایک نظر صفحہ 102،چشتی)

محترم قارئین کرام : اس جگہ دیوبندی حضرت اس بات پہ برہم ہیں کہ علماء اہلسنت ہاٸیڈ کیا ہوا جملہ  نقل نہیں کرتے ، اور آگے چل کر بھی موصوف نے یہ راگ کچھ یوں الاپا ہے : بریلوی اپنی تین معتبر کتب سے حفظ الایمان کی عبارت کا یہ ٹکڑا ، کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے شخص سے مخفی ہے تو چاہیے کہ سب کو عالم الغیب کہا جاوے ، ثابت کرے کہ کسی بریلوی عالم نے حفظ الایمان کی عبارت کے ساتھ یہ عبارت نقل کیا ہے ۔ (الحق المبین پر ایک نظر صفحہ 108)

جواباً عرض ہے کہ مذکورہ بالا جملہ نقل نہ کرنا اس صورت میں قابلِ اعتراض ہے جب عبارت کا مطلب تبدیل ہو ، محض یہ فقرہ ہی نہیں پوری حفظ الایمان بھی نقل کر دی جائے تو یہ عبارت گستاخانہ ہی رہے گی ، پھر اس فقرہ کے متعلق تین کتب سے دکھانے کا مطالبہ جو دیوبندی حضرت نے کیا ہے ، ہم اسے پورا کیے دیتے ہیں ، ملاحظہ ہو ۔ (انوار احناف صفحہ 227 )(تحقیقات صفحہ 332،چشتی)(صاعقة الرضا صفحہ 325)(قہر و اجددیان صفحہ 10)

اس کے بعد ہمارا معاند حفظ الایمان کی عبارت کی تشریح کرتے ہوۓ لکھتا ہے : پھر یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا) یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عالم الغیب کا اطلاق کرنا ۔ (الحق المبین پر ایک نظر صفحہ 103)

مولوی منظور نعمانی دیوبندی لکھتا ہے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب کہنا اور آپ کی ذات قدسی پر لفظ عالم الغیب کا اطلاق کرنا ۔ (فیصلہ کن مناظرہ صفحہ 156)

ایک اصلی سارق و جعلی محقق ساجد نقلبندی دیوبندی لکھتا ہے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا ، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر عالم الغیب کا اطلاق کرنا ۔ (دفاع اہل السنۃ جلد 1 صفحہ 612)

محترم قارئینِ کرام : یہاں ان حضرات کے قلم سے امانت و دیانت کا خون ملاحظہ ہوں ، کہ کس قدر خدا خوفی سے بے نیاز ہو کر یہ حضرات عوام کی آنکھ میں دھول جھونکنے پہ آمادہ ہیں ۔ ایک طرف ان حضرات کو یہ اقرار ہے کہ حکم اور اطلاق میں فرق ہے ، مگر دوسری طرف اس فرق کو ختم کرتے ہوئے اشرفعلی تھانوی دیوبندی کی عبارت میں موجود لفظ حکم کو اطلاق سے تبدیل کر دیا ۔ یعنی اشرفعلی تھانوی دیوبندی نے لکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا ۔ الخ  ۔ اس جگہ واضح طور پر حکم کے الفاظ موجود ہیں ، اور کوئی بھی شخص ملاحظہ کر سکتا ہے کہ اشرفعلی تھانوی دیوبندی کا کلام علم غیب کے متعلق ہے اور آگے چل کر اسی کی نفی پہ آمادہ ہیں جبکہ دیوبندی حضرات تشریح کرتے ہوۓ اس حکم کو اطلاق سے تبدیل کیے دیتے ہیں جبکہ ان دونوں میں فرق فریق مخالف کو مسلم ہے ، لہٰذا دیوبندی حضرات کا یہاں اطلاق کو حکم سے تبدیل کرنا انتہاٸی مذموم عمل ہے ۔ ان حضرات نے اس جگہ یہ پاپڑ اس لیے بیلا ہے کہ حسام الحرمین پہ اعتراض کیا جا سکے اور اشرفعلی تھانوی دیوبندی کے گلے سے گستاخی کے اس بوجھ کو کم کیا جا سکے ، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کے متعلق کلام اسی جگہ کر دیا جاۓ ۔

مولوی منظور نعمانی دیوبندی  حسام الحرمین پہ اعتراض کرتے ہوۓ لکھتا ہے : حفظ الایمان میں مذکورہ بالا عبارت کے بعد الزامی نتیجہ طور پر یہ فقرہ تھا ۔ تو چاہیے کہ سب کو عالم الغیب کہا جاوے ، خان صاحب نے اس کو بھی صاف اڑا دیا ، کیونکہ اس فقرے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مصنف حفظ الایمان حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کی مقدار میں کلام نہیں فرما رہے ، بلکہ ان کی بحث صرف عالم الغیب کے اطلاق میں ہے ۔ (فیصلہ کن مناظرہ صفحہ 158،چشتی)

سارق و جعلی محقق ساجد نقلبندی دیوبندی لکھتا ہے : حفظ الایمان میں مذکورہ بالا عبارت کے بعد الزامی نتیجہ طور پر یہ فقرہ تھا ۔ تو چاہے کہ سب کو عالم الغیب کہا جاوے ۔ خان صاحب نے اس کو بھی بالکل اڑا دیا ، کیونکہ اس فقرے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مصنف حفظ الایمان حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم مبارک کی مقدار میں کلام نہیں فرما رہے ، بلکہ ان کی بحث صرف عالم الغیب کے اطلاق میں ہے ۔ (دفاع اہل السنۃ جلد 1 صفحہ 615)

عبارت کی مماثلث کس طرح اس سارق و جعلی محقق ساجد نقلبندی دیوبندی کی تحقیق کا بھرم توڑتے ہوۓ ان کے سرقہ کو آشکار کر رہی ہے ، اس سے قارئین بخوبی واقف ہو جائیں گے ، ہم ان کی توجہ ان حضرات کی اس تاویل کی کمزوری کی طرف منعطف کیے دیتے ہیں ، اس لیے کہ یہ عبارت اس وقت اشرفعلی تھانوی دیوبندی کو فائدہ دیتی جب بحث عالم الغیب کے اطلاق کے متعلق ہوتی جبکہ ہم ثابت کر چکے کہ بحث علم غیب کے متعلق ہے اور اشرفعلی تھانوی دیوبندی کی عبارت میں ، علم غیب کا حکم کیا جانا ۔ الخ منقول ہے ۔ پھر سائل کا سوال بھی ہم نقل کر چکے ، اس میں بھی عالم الغیب کے اطلاق کی نہیں بلکہ علم غیب کے ہی متعلق گفتگو ہے ، اس لیے ان حضرات کا یہ اعتراض درست نہیں ۔ یہ سارے پاپڑ محض اس لیے بیلے جارے ہیں کہ جب یہ بات ثابت ہو جاۓ کہ اس عبارت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کی بابت گفتگو نہیں تو اسے تشبیہ دینے کا سوال خود بخود تم ہو جائے گا ، جبکہ اشرفعلی تھانوی دیوبندی کی عبارت چیخ چیخ کر یہ اعلان کر رہی ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پہ علم غیب کے حکم کے متعلق گفتگو ہے اور اس کی دو قسمیں بیان کر کے ایک کو باطل کہا اور دوسری کو تسلیم تو کیا مگر تخصیص کی نفی کرتے ہوئے اسے بہائم وغیرہ میں تسلیم کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شدید گستاخی ہے ۔ خیر اس کے بعد یہ حضرات عبارت کی تشریح کرتے ہوۓ لکھتے ہیں : ⏬

قولہ : اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ ، یعنی اگر بقول زید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب کہنا درست ہے تو پھر زید بتا دے کہ ، قولہ : اس غیب سے مراد بعض ہے یا کل ، یعنی زید جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب کہہ رہا ہے حضرت تھانوی فرماتے ہیں کہ اس غیب سے تمہارا مراد بعض علم غیب ہے یا کل علم غیب ۔
قولہ : اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں ، یعنی زید کل علم غیب نہیں مانتا بلکہ انہوں نے کہا کہ میں بعض علم غیب کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب مانتا ہوں ۔ تو اس پر حضرت تھانوی فرماتے ہیں : قولہ : اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا تخصیص ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کےلیے حاصل ہے کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے سے مخفی ہے ، یعنی پھر اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا خاصیت ہے ایسی بعض باتیں تو ہر ایک کو معلوم ہوتا ہے جو دوسرے سے مخفی ہے ۔ پھر اس میں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کیا فرق اور اس کی اور ان کے درمیان کیا خاصیت باقی رہتی ہیں ۔ (الحق المبین پر ایک نظر صفحہ 103)

اس ساری تشریح کا خلاصہ یہ ہے کہ اس جگہ ایسا علم غیب سے مراد بعض مطلق علم غیب ہے اور یہی تاویل اشرفعلی تھانوی دیوبندی سے لے کر آج تک تمام کذاب دیوبندیوں نے کی ہے ۔

مولوی منظور نعمانی دیوبندی لکھتا ہے : اور حفظ الایمان کی عبارت میں ایسا کا لفظ آیا تھا اور اس سے مطلق بعض غیوب کا علم مراد تھا نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم اقدس ، مگر خاں صاحب نے اس سے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم شریف مراد لے لیا ۔ (فیصلہ کن مناظرہ صفحہ 157)

سارق ساج نقلبندی دیوبندی لکھتا ہے : حفظ الایمان کی عبارت میں ایسا کا لفظ آیا تھا اس سے مطلق بعض غیوب کا علم تھا نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم اقدس ، مگر خان صاحب نے اس سے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم شریف مراد لیا ۔ (دفاع اہلسنت جلد 1 صفحہ 614)

مولوی سرفراز خان صفدر دیوبندی  لکھتا ہ : مولانا مرحوم کی مراد یہ ہے کہ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی کی کیا تخصیص ہے ایسا یعنی اس قدر اور اتنا علم غیب کہ جس کے اعتبار سے تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب کہتے ہو اور اطلاق لفظ عالم الغیب کےلیے جتنے اور جس قدر کی ضرورت سمجھتے ہو یعنی مطلق بعض مغیبات کا علم تو یہ زید و عمر بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات اور بہائم کو بھی حاصل ہے ۔ (عبارات اکابر صفحہ 187 فروری 2010 مکتبہ صفدریہ نزد مدرسه نصرۃ العلوم گھنٹہ گھر گوجرانوالہ،چشتی)

اشرفعلی تھانوی دیوبندی لکھتا ہے : بلکہ مراد اس لفظ ایسا سے وہی ہے جو اوپر مذکور ہے یعنی مطلق بعض علم ۔ (بسط البنان بحوالہ عبارات اکابر صفحہ 190)

یہی تھانوی دیوبندی لکھتا ہے : معترضین کے شبہہ کا منشاء دو امر کا مجموعہ ہے ایک یہ کہ عبارت ایسا علم میں ایسا کو تشبیہ کےلیے سمجھ گئے اور علم سے مراد علم نبوی سمجھ گئے حالانکہ یہ منشاء ہی غلط ہے لفظ بقرینہ مقام مطلق بیان کےلیے بھی آتا ہے ۔ اسی طرح علم سے مراد علم نبوی نہیں بلکہ مطلق بعض علوم غیبیہ مراد ہیں ۔ (امداد الفتاوی جلد 6 صفحہ 101،چشتی)(حضرات مشائخ دیوبند پر اتہامات کی حقیقت صفحہ 5)

مزید اشرفعلی تھانوی دیوبندی لکھتا ہے : لفظ ایسا میں مطلق بعض غیوب کا علم مراد ہے نہ کہ علم نبوی ۔ (افاضات الیومیہ جلد 8 صفحہ 176)

مقامع الحدید میں ہے : اور واقعہ یہ ہے اس سے حضور  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم مراد نہیں ۔ بلکہ مطلق بعض علم غیب مراد ہے ۔ (مقامع الحدید صفحہ 69)

مولوی خالد محمود دیوبندی لکھتا ہے : اس عبارت میں ایسا علم غیب سے مراد مطلق بعض علم غیب تھا ۔ (مطالعه بریلویت جلد 1 صفحہ 361)

اسی طرح اوصاف رومی دیوبندی لکھتا ہے : حفظ الایمان میں جو بات بعض علم غیب کے لئے کہی گئی تھی ۔ (دیوبند سے بریلی صفحہ 83)

دیوبند شیخ الحدیث حضرات کی ٹیم لکھتی ہے : مولانا تھانوی اس بات پر بحث فرما رہے تھے کہ عالم الغیب کا اطلاق اللہ تعالی کے ماسوا پر جائز نہیں ۔ اس سے مراد کل غیب ہیں ۔ یا بعض ۔ اگر کل غیب مراد ہوں تو کل غیب غیر اللہ کے لئے ہرگز ثابت نہیں ۔ اور اگر بعض غیب مراد ہوں تو ایسا بعض (مراد مطلق بعض) ہر صبی ، مجنون وغیرہ کو بھی حاصل ہو سکتا ہے ۔ لفظ ایسا مولانا تھانوی نے تشبیہ کےلیے نہیں بولا تھا ۔ بریلوی اعلی حضرت نے اسے جبراً تشبیہ کےلیے بنا کر یہ مفہوم نکالا ۔ (انصاف صفحہ 68 ، 69،چشتی)

مولوی حسین احمد ٹانڈوی دیوبندی لکھتا ہے : ایسا سے اشارہ بعض مذکور کی طرف ہوا ہے وہ بعض ہرگز مراد نہیں جو رسول مقبول علیہ السلام کو حاصل ہے کہ اس کا تو ذکر بھی نہیں ۔ (الشہاب الثاقب صفحہ 251)

محترم قارٸین کرام : آپ ملاحظہ کر چکے کہ اشرفعلی تھانوی دیوندی سے لے کر آج تک تمام دیوبندی حضرات یہی تاویل کرتے ہیں کہ ایسا علم غیب سے مراد مطلق بعض علم غیب ہے ، جبکہ یہ تاویل نہیں بلکہ تحریف ہے ۔

مولانا محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : پوری عبارت یہ شہادت دے رہی ہے کہ ایسا علم غیب سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کا علم غیب ہے اس لئے کہ شروع میں ہے پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پہ علم غیب کا حکم کیا جانا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر علم غیب کا حکم کرنے میں کلام ہے تو علم غیب بھی حضور ہی کا مراد ہوا تھانوی صاحب نے زید سے دریافت کیا تو کس کے علم غیب کو ، حضور ہی کے اور کہا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب اس عبارت میں تھانوی صاحب نے کس کا علم پوچھا ہے ؟ ظاہر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم غیب دریافت کیا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے علم غیب میں دو قسمیں کیں بعض غیب یا کل غیب  تو بعد میں خود ہی نقلاً و عقلاً باطل کر دیا تو کل غیب کس کےلیے باطل کیا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کےلیے ۔ اب رہ گیا ۔ بعض علم غیب تو بعض کس کا علم رہا حضور ہی کا رہا اس کے متعلق تھانوی صاحب نے کہا اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی ہی کیا تخصیص ہے اس عبارت میں کس کی تخصیص کی نفی کی حضور ہی کی ۔ جب تخصیص نہ رہی تو مشارکت و مشابہت لازم آگئی ۔ اس لئے کہا کہ ایسا علم غیب جیسا کہ حضور کو ہے تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ۔ لہذا اب ایسا علم غیب سے مراد کسی اور کا علم غیب ہرگز نہیں ہو سکتا ۔ حضور ہی کا علم غیب مراد ہوا اور اسی کو بچوں ، پاگلوں اور جانوروں سے تشبیہ دیا تو یہ توجہ بھی غلط ثابت ہوئی کہ ایسا علم غیب سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم غیب نہیں بلکہ بعض مطلق علم غیب ہے ۔ (تعارف علماء دیوبند صفحہ 54،چشتی)

مولانا محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ کے بیان سے یہ بات واضح ہو گئی کہ حفظ الایمان میں گفتگو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب کی ہے ، اس میں مطلق علم غیب کا تذکرہ نہیں ۔ کیونکہ اس عبارت میں اس غیب سے مراد ۔۔ الخ کے الفاظ میں لفظ اس کا اشارہ اس علم غیب کی طرف ہے جو اس سے قبل مذکور ہے اور وہ علم غیب حضور ہی کا ہے جیسا کہ تھانوی نے لکھا کہ آپ کی ذات مقدسہ پہ علم غیب کا حکم کیا جانا ۔الخ کیونکہ اس عبارت میں زیر بحث حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہی علم ہے لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم ہی کو جانوروں و پاگلوں کے علم سے تشبیہ دی گئی ہے ۔

اکثر تمام دیوبندی اپنے حکیم الامت اشرفعلی تھانوی کی حفظ الایمان والی گستاخانہ عبارت کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوۓ نظر آتے ہیں اور اس گستاخانہ عبارت کو صحیح ثابت کرنے کے لیے عوام اہلسنت کے آنکھوں میں اکثر دھول جھونکنے کی ناکام کوشش بھی بے چارے کرتے نظر آتے ہیں ۔ آج ہم عوام اہلسنت کے سامنے حفظ الایمان والی گستاخانہ عبارت کو خود دیوبندیوں کے گھر سے گستاخانہ ثابت کر کے دیں گے ۔ محمد عبدالمجید صدیقی دیوبندی نے تھانوی کی اس گستاخانہ عبارت کے بارے میں لکھا ہے کہ : قیام پاکستان سے پہلے حکیم الامت ، مجدد و ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنے ایک رسالے حفظ الایمان کے اندر علم غیب کی بابت ، ایک ایسا جملہ لکھ دیا تھا جس پر ہر صحیح الفکر مسلمان نے اعتراض کیا تھا ، پس مجروح قلوب پر مرہم کی خاطر مولانا تھانوی نے 1329 ھ میں رسالہ بسط البنان تحریر فرمایا مگر اس کا خاطر خواہ اثر نہ ہوا ۔ کچھ عرصے بعد حضرت تھانوی حیدرآباد دکن تشریف لے گئے ، جہاں اس زمانے میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کے خلف الرشید حضرت مولانا حافظ محمد احمد چیف جسٹس تھے ۔ حافظ صاحب کے مکان پر علماء کا اجتماع تھا اور حضرت تھانوی بھی موجود تھے اور پیر صاحب حضرت سید محمد بغدادی حیدرآبادی بھی مدعو تھے ۔ ان کی خدمت میں رسالہ حفظ الایمان پیش کیا گیا جس میں اس جملے کو پڑھ کر آپ نے فرمایا کہ اس عبارت سے تو بوۓ کفر آتی ہے اور (اس عبارت کے) خلاف فتوی دیا ۔ چند روز بعد حضرت بغدادی نے حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ کے حفظ الایمان کی وہ عبارت رد کرنے اور اس کو قبیح کہنے پر اظہار خوشی فرما رہے ہیں اور فرمایا : ہم تم سے خوش ہوۓ ، تم کیا چاہتے ہو ؟ آپ نے عرض کیا کہ میری تمنا ہے کہ اپنی باقی عمر مدینہ منورہ میں بسر کروں اور وہاں کی مٹی میں دفن ہوں ۔ آپ کی درخواست منظور ہو گئی ۔ اس کے بعد آپ مدینہ منورہ ہجرت کر گئے اور دس سال وہاں مقیم رہ کر 1354ھ میں وہیں وصال فرمایا ۔ (سیرت النبی بعد از وصال النبی ﷺ حصہ ششم صفحہ  169 ، 170،چشتی)

عبدالمجید صدیقی دیوبندی نے اسی صفحہ پر لکھا کہ : یہ مضمون کتاب مقامات خیر از  مولانا حضرت شاہ زید ابوالحسن فاروقی مجددی ۔ حضرت شاہ ابوالخیر اکاڈمی دہلی نمبر 6 بھارت طبع اول 1392 ھجری کے صفحات 252 ، 253  اور صفحہ 616 پر تحریر شدہ عبارت سے تیار کیا گیا ہے ۔

اشرف علی تھانوی  نے اپنے ایک رسالے حفظ الایمان کے اندر علم غیب کی بابت ایک ایسا جملہ لکھ دیا تھا جس پر ہر صحیح الفکر مسلمان نے اعتراض کیا تھا ۔ (سیرت النبی بعد از وصال النبی ﷺ جلد 1 صفحہ 169)

میرٹھ میں پیر سید گلاب شاہ نے شاہ ابوالخیر اور مولوی احمد بن قاسم نانوتوی کی موجودگی میں دیوبندی امام اشرفعلی تھانوی کا رد کیا اور اس کی بسط البنان کی وضاحت کو ٹھکرا دیا اور حفظ الایمان پر فتوی لگایا ۔ چنانچہ مولانا شاہ زید ابوالحسن فاروقی صاحب لکھتے ہیں کہ : پیر سید گلاب شاہ نے پھر سب کو اپنی طرف متوجہ کر لیا اور مختصر رسالہ میں سے مولوی اشرف علی صاحب کی کتاب حفظ الایمان کے صفحہ سات کا حوالہ دیتے ہوئے سنایا ، دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ہے اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ، ایسا علم تو زید و عمر بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کےلیے بھی حاصل ہے ، یہ سن کر آپ نے مولوی اشرف علی صاحب سے کہا : کیا یہی دین کی خدمت ہے ۔ تمہارے بڑے تو ہمارے طریقہ پر تھے ۔ تم نے اس کے خلاف کیوں کہا ۔ مولوی اشرفعلی تھانوی صاحب نے کہا میں نے اس عبارت کی توضیح اپنے دوسرے رسالہ میں کر دی ہے آپ نے بجواب ارشاد کیا تمہارے اس رسالہ حفظ الایمان کو پڑھ کر کتنے لوگ گمراہ ہوۓ ہم دوسرے رسالہ کو لے کر کیا کریں ۔ (بزم خیر از زید در جواب بزم جمشید صفحہ 20)

محترم قارٸین کرام : آپ نے دیکھ لیا کہ خود عبدالمجید صدیقی  دیوبندی نے حفظ الایمان کی عبارت کو گستاخانہ قرار دیا ، اب دیوبندیوں کو چاہیے کہ اشرفعلی تھانوی کو لات مار کر دیوبندیت سے خارج کر کے ان سے برأت کا اعلان کریں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 23 April 2026

بریلوی بریلوی کا شور کرنے والے مکاروں کو جواب

بریلوی بریلوی کا شور کرنے والے مکاروں کو جواب



محترم قارئینِ کرام : جب فریقِ مخالف کے پاس جواب نہیں ہوتا تو کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی طرح اندھے مسلکی تعصب میں مبتلا ہو کر رضا خانی بریلوی بریلوی کا  شور کرتے ہیں اگر کبھی آپ کو  کوئی  رضا خانی یا بریلوی  کہہ کر طعنہ دے تو ان کو یہ مضمون بھیجیں اور کسی مناظرہ میں ان کا منہ بند کرنے کےلیے اپنے پاس محفوظ بھی رکھیں دیوبندی اور غیرمقلد وہابیوں اکابرین کے یہ اعترافات اِن کےلیے کافی ہیں ۔ ملاحظہ ہو اصاغرینِ دیوبند اور تمام جماعت دیوبند و وہابی وغیرھم کیا کہتے ہیں ۔


انہی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں زباں میری ہے بات ان کی


تمام جماعت دیوبند اور مولوی انور کاشمیری دیوبندی : ⏬


سابق ریاست بہاولپور (پاکستان) میں ایک مسلمان عورت کا شوہر مرزائی ہوگیا تھا ۔ اس پر عورت نے عدالت میں شوہر کے اتداد کی وجہ سے فسخ نکاح کی درخواست دی ۔ مقدمہ دائر ہوا اور اس میں حضرت مولانا انور شاہ صاحب سابق صدر مدرس و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند کی شہادت کے دوران مرزائی وکیل نے فتویٰ تکفیر کو بے اصل ثابت کرنے کےلیے کہا دیوبندی بریلویوں کو اور بریلوی دیوبندیوں کو کافر کہتے ہیں ۔ اس پر حضرت انور شاہ صاحب نے فورا عدالت کو مخاطب کرکے فرمایا ۔ میں بطور وکیل تمام جماعت دیوبند کی جانب سے گزارش کرتا ہوں کہ حضرات (علماء) دیوبند بریلوی حضرات کی تکفیر نہیں کرتے ۔ (کتاب حیات انور صفحہ 333 ،چشتی، روزنامہ نوائے وقت لاہور 8 جنوری 1976ء مضمون وقت کی پکار قسط نمبر 2 از مولوی بہاء الحق قاسمی دیوبندی امرتسری)

میں بطور  وکیل تمام جماعت دیوبند یہ کہتا ہوں علمائے دیوبند بریلویوں کی تکفیر نہیں کرتے یعنی کافر نہیں کہتے ۔ (ملفوظات محدث کشمیری صفحہ نمبر 61 ، 62)


معلوم ہوا کہ تمام دیوبندی جماعت اور ان کے محدث انور کاشمیری بریلویوں کو مسلمان سمجھتے ہیں اس لیے ان کی تکفیر نہیں کرتے ۔ جب عام سنی بریلوی ان کے نزدیک مسلمان ہیں تو انکے امام بدرجہ اتم مسلمان ہوئے ۔


مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی : ⏬


حضرت والا (اشرف علی تھانوی) کا مذاج باوجود احتیاط فی المسلک کے اس قدر وسیع اور حسن ظن لئے ہوئے ہے کہ مولوی احمد رضا خان بریلوی کے بھی برا بھلا کہنے والوں کے جواب میں دیر دیر تک حمایت فرمایا کرتے ہیں اور شدومد کے ساتھ رد فرمایا کرتے ہیں کہ ممکن ہے کہ ان کی مخالفت کا سبب واقعی حب رسول ہی ہو اور وہ غلط فہمی سے ہم لوگوں کونعوذ باﷲ گستاخ سمجھتے ہوں ۔ (اشرف السوانح جلد اول صفحہ 129)


مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی کی تمنائے اقتداء : ⏬


مولوی بہاء الحق قاسمی دیوبندی امرتسری لکھتے ہیں حضرت (مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی) فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھ کو مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقع ملتا تو میں پڑھ لیتا ۔ (اسوۂ اکابر صفحہ 15)(چٹان لاہور 11 جنوری1962۔چشتی)


عشق رسولِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے باعث احترام : ⏬


ان (مولوی اشرف علی) کے اخلاق کی عظمت و شرافت کی گہرائی کا یہ عالم تھا کہ مولانا احمد رضا بریلوی زندگی بھر انہیں کافر کہتے رہے۔ مولانا تھانوی نے فرمایا میرے دل میں احمد رضا کے لئے بے حد احترام ہے ، وہ ہمیں کافر کہتے ہے لیکن عشق رسول کی بناء پر کہتا ہے کسی اور غرض سے تو نہیں کہتا ۔ (دیوبندی ہفت روزہ چٹان لاہور 23 اپریل 1963)


جواز نماز : ⏬


ایک شخص نے (اشرف علی تھانوی) سے پوچھا ہم بریلی والوں کے پیچھے نماز پڑھیں تو نماز ہوجائے گی یا نہیں؟ فرمایا ہاں (ہوجائے گی) ہم ان کو کافر نہیں کہتے ۔ اگرچہ وہ ہمیں کافر کہتے ہیں ۔ (قصص الاکابر ملفوظات مولوی اشرف علی تھانوی صفحہ 99 مجالس الحکمۃ معروف بہ اربعین مصطفائی مجلس پنجاہ و دوم صفحہ 150،چشتی)


ایک سلسلہ گفتگو میں (اشرف علی تھانوی) نے فرمایا کہ دیوبند کا بڑا جلسہ ہوا تھا ۔ اس میں ایک رئیس صاحب نے کوشش کی تھی کہ دیوبندیوں میں اور بریلویوں میں صلح ہو جائے ، میں نے کہا وہ نماز پڑھاتے ہیں ہم پڑھ لیتے ہیں ۔ ہم پڑھاتے ہیں وہ نہیں پڑھتے تو ان کو آمادہ کرو (الاضافات الیومیہ جلد 5 صفحہ 220)


دعائے مغفرت : ⏬


حکیم الامت شاہ اشرف علی تھانوی صاحب کا قول ہے کہ کسی بریلوی کو کافر نہ کہو اور نہ آپ نے کسی بریلوی کو کافر کہا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ وہ حکیم الامت تھانوی ایک بڑے جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ ابھی آپ نے تقریر شروع کی تھی کہ خبر ملی کہ مولوی احمد رضا بریلوی انتقال کر گئے تو اسی وقت آپ نے تقریر کو ختم کر دیا اور غمزدہ ہو کر ارشاد فرمایا کہ مولوی احمد رضا خان صاحب سے ہمارا زندگی میں اختلاف رہا لیکن ہم ان کےلیے دعائے مغفرت کرتے ہیں ۔ اسی وقت حکیم الامت تھانوی صاحب نے خود اور اہل جلسہ نے آپ کے ساتھ مولوی احمد رضا کےلیے دعائے مغفرت فرمائی ۔ (دیوبندی ہفت روزہ چٹان لاہور صفحہ 15)


دیوبندیوں کے زبردست عالم و فقیہہ ترجمان ندوہ کا اعتراف : ⏬


ندوی مکتب فکر کے ترجمان ماہنامہ معارف اعظم گڑھ نے لکھا ہے : مولانا شاہ احمد رضا خان صاحب مرحوم اپنے وقت کے زبردست عالم ، مصنف اور فقیہہ تھے ۔ انہوں نے چھوٹے بڑے سینکڑوں فقہی مسائل سے متعلق رسالے لکھے ہیں ۔ قرآن کا سلیس ترجمہ بھی کیا ہے ۔ ان علمی کارناموں کے ساتھ ہزار فتوٶں کے جواب بھی انہوں نے دیے ہیں ۔ ان کے بعض فتوے تو کئی کئی صفحات کے ہیں ۔ فقہ اور حدیث پر ان کی نظر بڑی وسیع ہے ۔ فتاویٰ رضویہ کی دو جلدیں اس سے پہلے شائع ہو چکی ہیں ۔ اب تیسری جلد سنی دارالاشاعت مبارکپور اعظم گڑھ نے شائع کی ہے ۔ (ماہنامہ معارف اعظم فروری 1962)


فتاویٰ دارالعلوم دیوبندی :


مولوی احمد رضا خان بریلوی اور مولوی حشمت علی وغیرہ کو کافر نہ کہا جائے ۔ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند امداد المفتین جلد 2 صفحہ 138)


مولوی شبیر احمد دیوبندی : ⏬


ہم ان بریلویوں کو کافر نہیں کہتے جو کو ہم کافر بتلاتے ہیں ۔ (الشہاب از مولوی شبیر احمد عثمانی دیوبندی صدر جمعیت العلماء اسلام کلکتہ۔چشتی)


دیوبندی احراری امیر شریعت : ⏬


مولوی عطاء ﷲ بخاری امیر مجلس احرار اسلام فقیر کے مکتوب کے جواب میں لکھتے ہیں۔ مولانا ابوالفضل محمد سردار احمد خان لائل پوری بریلوی ، مولانا ابوالبرکات سید احمد قادری بریلوی لاہوری اور مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری سنی صحیح العقیدہ مسلمان ہیں اور مولانا غلام ﷲ خان دیوبندی بھی اہل سنت و جماعت ہیں وہ ابن تیمیہ کے پیروکار ہیں ۔ (مکتوب بنام فقیر محمد حسن علی رضوی، 11 جنوری 1958)


مولوی فردوس علی قصوری دیوبندی : ⏬


یہ صاحب مولوی منظور سنبھلی مدیر الفرقان اور مولوی مرتضیٰ حسن دربھنگی چاند پوری وغیرہ دیوبندی مناظرین و مصنفین کی کتابوں کے حافظ ہیں اور خود بھی اعلیٰ حضرت امام اہل سنت اور سنیت اور بریلویت کے خلاف لکھنے کا ذوق رکھتے ہیں مگر یہ اعتراف کرنا پڑا ہے کہ : مولوی احمد رضا بریلوی اور مولوی حشمت علی وغیرہ (بریلوی علماء) کو کافر نہ کہا جائے ۔ (کتاب الصلوٰۃ والسلام صفحہ نمبر 6۔چشتی)


دیوبندی ہفت روزہ خدام الدین لاہور : ⏬


مولوی حسین احمد ٹانڈوی شیخ الحدیث دیوبند کے پاکستانی نائب مولوی احمد علی لاہوری کے جاری کردہ رسالہ ہفت روزہ خدام الدین لاہور میں مختلف کتابوں کے اعلان کے ساتھ لکھا ہے ۔ اشرفی بہشتی زیور مولانا اشرفعلی تھانوی 15 روپے ، فتاویٰ رضویہ مولانا امام احمد رضا خان بریلوی 17 روپے ۔ (خدام الدین لاہور 17اگست، 7 ستمبر 1962،چشتی)


مولوی محمد احسن نانوتوی : ⏬


مولوی محمد احسن نانوتوی دیوبندی کا شمار مدرسہ دیوبند کے بانیوں و اکابرین میں ہوتا ہے ۔ وہ بریلی شریف نو محلہ کی جامع مسجد میں بھی رہے ہیں۔ ان کی سوانح حیات میں لکھا ہے ۔ مولانا محمد احسن نے (سیدنا امام اعلیٰ حضرت احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے والد ماجد) مولوی نقی علی خان کو عیدگاہ (بریلوی) سے پیغام بھجوایا کہ میں نماز پڑھنے کو آیا ہوں ، پڑھانے نہیں آیا ۔ آپ آیئے جسے چاہے امام کرلیجیے ، میں اس کی اقتداء کرلوں گا ۔ (کتاب مولانا محمد احسن نانوتوی صفحہ نمبر 87)


مولوی رشید احمد گنگوہی : ⏬


اگر بدعتی امام کے پیچھے جمعہ پڑھا تو اس کا اعادہ کرے یا نہیں ؟

جواب : اگر بدعتی امام کے پیچھے جمعہ پڑھا ہو تو اعادہ نہ کرے ۔ (فتاویٰ رشیدیہ کامل صفحہ نمبر 65)


مولوی بہاء الحق قاسمی : ⏬


حضرت (اشرفعلی) تھانوی فرمایا کرتے تھے۔ اگر مجھ کو مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقع ملتا تو میں پڑھ لیتا ۔ (اسوۂ براکابر صفحہ نمبر 15،چشتی)


مولوی خیر محمد جالندھری و مدرسہ خیر المدارس ملتان پاکستان : ⏬


مولوی خیر محمد جالندھری دیوبندی مولوی یسٰین سرائے خام بریلی کے شاگرد اور مولوی اشرف علی تھانوی کے خلیفہ اعظم اور پاکستانی دیوبندیوں کے استاذ العلماء ہیں ۔ ان کا مدرسہ دیوبندثانی وہ اپنے نام ایک استفتاء کا جواب اپنے مدرسہ کے دارالافتاء کے مفتی سے یوں دلواتے ہیں ۔ ملاحظہ ہوں سوال و جواب : ⏬


بخدمت حضرت مولانا مولوی خیر محمدصاحب مہتمم مدرسہ خیر المدارس، ملتان


استفتاء : کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نماز جنازہ کی امامت مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی کا پیروکار بریلوی مولوی کروا رہا ہو تو اس صورت میں اس بریلوی مولوی کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں ؟ فقط المنتظر جواب محمد بشیر میلسی ۔


الجواب : ایسی صورت پیش آجائے تو نماز پڑھ لینا چاہیے ۔ فقط وﷲ اعلم بندہ عبدالستار نائب مفتی مدرسہ خیر المدارس ملتان ۔ الجواب صحیح ، عبداﷲ غفرلہ مفتی مدرسہ خیر المدارس ۔


مولوی فضل الرّحمٰن کے باپ مفتی محمود دیوبندی , یہ صاحب مولوی حسین احمد ٹانڈوی کے تلامذہ میں ان کے سیاسی مقلد اور جمعیۃ العلماء ہند کانگریسی ذہن رکھتے تھے ۔ پاکستان سیاسی کاروبار کرنے کے لئے مولوی شبیر احمد عثمانی جمعیۃ العلماء اسلام کانام سرقہ کرکے جمعیۃ العلماء اسلام کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے ۔ مدرسہ قاسم العلوم کے شیخ الحدیث بھی تھے ان کے شاگرد عمر قریشی کی زبانی سنیے : ⏬


لائق صد احترام اساتذہ میں سے کسی نے بھی دوران اسباق میں بریلوی مکتب فکر سے نفرت کا اظہار نہیں کیا ۔ قیام ملتان کے زمانہ میں جب طلباء مدرسہ قاسم العلوم بعد نماز عصر قلعہ پر چلے جاتے تھے ۔ نماز مغرب کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا کہ قلعہ کی جملہ مساجد کے ائمہ بدعتی (بریلوی) ہیں ، نماز باجماعت ترک کردی جائے ۔ معاملہ استاذی مفتی محمود صاحب کے پاس پہنچا ۔ آپ نے فرمایا باجماعت نماز ادا کرو ۔ اگرچہ امام بدعتی بھی ہو ۔ (سیف حقانی برد ارشد القادری ہندوستانی صفحہ 178 از مولوی محمد عمر قریشی دیوبندی ملتانی)


دیوبندی ترجمان ہفت روزہ پاکستانی : ⏬


ہفتہ روزہ پاکستانی لائل پور (فیصل آباد) سے شائع ہوتا تھا اور اس کو قاری طیب قاسمی سابق مہتمم مدرسہ دیوبند کی تائید و حمایت حاصل تھی ۔ سیدنا اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ اور نائب اعلیٰ حضرت مظہر اعلیٰ حضرت صدر الشریعہ سیدی و سندی محدث اعظم پاکستان علامہ ابوالفضل محمد سردار احمد خان قدس سرہ العزیز کے خلاف معاندانہ مضامین شائع کرنا اس کا خاص نصب العین تھا مگر یہ اعتراف کیے بغیر چارہ نہیں تھا کہ’’پاکستان‘‘ نے بریلوی جماعت کو مسلمان سمجھا اور اس کے بانی اور بزرگوں کا ادب سے نام لیتے ہوئے اس طرح لکھا مولانا احمد رضا خان صاحب مرحوم جناب الٰہی سے رحم کیے گئے ۔ (ہفت روزہ پاکستانی لائلپور 22 - 6 - 57 ، 10 - 1 - 58،چشتی)


مولوی غلام غوث ہزاروی دیوبندی : ⏬


اہل سنت و جماعت مسلمانوں کی تمام شاخیں حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی ، دیوبندی ، بریلوی ، اہل حدیث سب مسلمان ہیں ۔ (خدام الدین لاہور)


دیوبندی پیر حماد اللہ ہالیجوی : ⏬


کہتے تھے ان (بریلویوں) کی برائی میری مجلس میں ہرگز نہ کرو وہ حُبّ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ہی کی وجہ سے ہماری طرف سے غلط فہمیوں کا شکار ہیں ۔ (خدام الدین لاہور)


اخبار الاعتصام اہل حدیث : ⏬


بریلویوں کا ذبیحہ حلال ہے کیونکہ وہ اہل قبلہ مسلمان ہیں ۔ (اہلحدیث لائلپور 20-11-1959)


پیشوائے اعظم اہل حدیث : ⏬


مولوی ثناء ﷲ امرتسری لکھتے ہیں 80 سال قبل پہلے قریبا سب مسلمان اسی خیال کے تھے جن کو آج کل بریلوی حنفی کہا جاتا ہے ۔ (شمع توحید صفحہ 40 مطبوعہ سرگودھا)


فرضیت تکفیر پر مرتضیٰ حسن دربھنگی کا فراخدلانہ اعتراف : ⏬


اگر مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کے نزدیک بعض علماء دیوبند مولانا قاسم نانوتوی ، رشید احمد گنگوہی ، خلیل احمد انبیٹھوی ، اشرف علی تھانوی ایسے ہی تھے جیسا کہ انہوں نے انہیں سمجھا تو خان صاحب پران (علماء دیوبند) کی تکفیر فرض تھی ، وہ اگر ان کو کافر نہ کہتے تو خود کافر ہو جاتے ۔ جیسا کہ علمائے اسلام نے جب مرزا (غلام احمد) صاحب کے عقائد کفریہ معلوم کر لیے اور وہ قطعاً ثابت ہو گئے تو اب علمائے اسلام پر مرزا صاحب اور مرزائیوں کو کافر و مرتد کہنا فرض ہو گیا ۔ اگر وہ مرزا اور مرزائیوں کو کافر نہ کہیں ، چاہے وہ صاحب لاہوری ہوں یا قادیانی وغیرہ تو وہ خود کافر ہو جائیں گے کیونکہ جو کافر کو کافر نہ کہے وہ خود کافر ہے ۔ (اشد العذاب صفحہ 13 مرتضیٰ حسن دربھنگی دیوبندی)


مفتی اعظم مدرسہ دیوبند مفتی : ⏬


سوال ۱۸۷,

احمد رضا خان بریلوی کے معتقد سے کسی اہل سنت حنفی کو اپنی لڑکی کا نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب : نکاح تو ہو جائے گا کہ آخر وہ (سنی بریلوی امام احمد رضا کے معتقد) بھی مسلمان ہے اگرچہ مبتدی ہے ۔ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند مصدقہ قاری محمد طیب مہتمم مدرسہ دیوبندی و مفتی ظفیر الدین دیوبندی جلد ہفتم صفحہ 158)

مفتی اعظم دیوبند

سوال 1050

جوشخص علم غیب کا قائل ہو اور امام احمد رضا خان سے عقیدت رکھتا ہو ، یا مرید ہو ، اس کے پیچھے نماز جائز ہے ، یا نہیں ؟

الجواب : وہ شخص مبتدی ہے … اگر اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے فتنہ کا اندیشہ ہو یا جماعت فوت ہوتی ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھے جیسا کہ در مختار میں ہے …الخ ۔ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد ثالث صفحہ 280 ، حسب ہدایت وزیر نگرانی قاری محمد طیب مہتمم دیوبند صفحہ نمبر 280)


مذکورہ بالا ناقابلِ تردید دلائل ، حقائق و شواہد سے ثابت ہوا کہ سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اور تمام سنی بریلوی مسلمانوں کے عقائد ہرگز ہرگز کفر و شرک و ارتداد پر مبنی نہیں ہیں ۔ اگر آپ رحمۃ اللہ علیہ یا آپ رحمۃ اللہ علیہ کے عقیدت مند سنی بریلوی علماء کے عقائد خلاف اسلام معلوم ہوتے اور کفروشرک پر مبنی ہوتے تو مذکورہ بالا حضرات آپ کو ہرگز مسلمان نہ لکھتے اور نہ کہتے نیز آپ کی اقتداء میں نمازیں جائز قرار نہ دیتے ۔ ان حوالہ جات سےسیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کے ایمان و اسلام ، علم  و فضل ، ادب و عشق رسالت کی شہادت ملتی ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

اکابرینِ دیوبند کیسے تھے ؟ ۔ مع سگِ مدینہ یا سگِ غوث اعظم کہنے پر اعتراض کا جواب

اکابرینِ دیوبند کیسے تھے ؟ ۔ مع سگِ مدینہ یا سگِ غوث اعظم کہنے پر اعتراض کا جواب محترم قارئینِ کرام : اکابرینِ دیوبند کیسے تھے چند مثالیں د...