Wednesday, 18 March 2026

جمعہ اور عید دن جمع ہوجائیں تو شرعی حکم

جمعہ اور عید دن جمع ہوجائیں تو شرعی حکم

محترم قارئینِ کرام : اگر عید جمعہ کے دن آ جائے تو دونوں نمازیں اپنے اپنے مقررہ اوقات پر حسبِ معمول ادا کی جائیں گی ۔ رحمتیں اور برکتیں دوگنا ہو جائیں گی ۔ جمعہ اور عید کا جمع ہونا بھاری یا منحوس نہیں ، بلکہ باعثِ خیر و برکت ہے کہ ایک دن میں دو عیدیں اور دو عبادتیں نصیب ہوئیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم اور صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہم کے ادوارِ مبارک میں بھی کئی بار ایسا ہوا کہ جمعہ و عید ایک دن میں اکٹھے ہوئے ، مگر اسے بھاری یا منحوس سمجھنا کسی سے منقول نہیں ، بلکہ حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ دونوں کا جمع ہونا خیر و برکت ہی کا ذریعہ ہے اور دونوں کے جمع ہونے کو بھاری یا منحوس سمجھنا بدشگونی لیناہے ، جو  جائز نہیں ۔ حدیثِ مبارکہ میں جمعہ کے دن عید ہونے کو مسلمانوں کے واسطے خیر قرار دیا گیا ، مُصَنَّف عبدُالرّزاق میں ہے : ذَکوان سے مروی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانۂ مبارَک میں عیدُالفطر یا عیدُالاضحیٰ جمعہ کے دن ہوئی ، کہتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : بے شک تم نے ذِکر اور بھلائی کو پایا ہے ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 3 صفحہ 176 حدیث نمبر 5745)


ابو صالح الزیات سے مروی ہے : إِنَّ النَّبِی صلی الله عليه وآله وسلم اجْتَمَعَ فِی زَمَانَه يَوْمٍ جُمْعَةِ وَ يَوْمَ فطر، فَقَالَ :  إِنَّ هَذَا الْيَوْمَ يُوْم، قد اجْتَمَعَ فِيْه عَيْدَانِ، فَمَنْ أَحَبَّ فَلْيَنْقَلِبْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْتَظِرَ فَلْيَنْتَظِرْ ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 3 صفحہ 304 رقم :  5729)

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں جمعہ اور عید الفطر ایک دن میں جمع ہوگئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا :  آج ایک دن میں دو عیدیں جمع ہوگئیں، جو گھر واپس جانا چاہے چلا جائے اور جو نماز جمعہ کا انتظار کرنا چاہے، وہ انتظار کرے ۔


حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا عید الفطر اور جمعہ کا دن جمع ہوگئے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے نماز عید کے بعد لوگوں کو خطبہ دیا اور پھر فرمایا :  یہ دو عیدیں ایک دن میں جمع ہو گئی ہیں ۔ فمن کان من أهل العوالی فأحب أن يمکث حتی يشهد الجمعة فليفعل، ومن أحب أن ينصرف فقد أذنا له ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 3 صفحہ 305 رقم :  5732،چشتی)

ترجمہ : پس جو مضافات کا باشندہ ہے اور نماز جمعہ میں شامل ہونا چاہتا ہے تو شامل ہو جائے اور جو گھر کو لوٹنا چاہے تو اسے بھی اجازت دے دی گئی ہے ۔


حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : کان رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم يقرأ فی الجمعة والعيد بِه :  ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی﴾ وَ ﴿هَلْ أَتَاکَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ﴾ فَإِذَا اجْتَمَع الجمعة وَ العيدان فی يوم قرأ بهما ۔ (سنن الکبری نسائی جلد 1 صفحہ 547 رقم :  1775)

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جمعہ و نماز عید میں سَبِّح اسْمَ رَبِّکَ الاعْلٰی  (سورۃ الاعلی) اور هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ۔ (سورۃ الغاشیہ) پڑھا کرتے تھے ۔ جب ایک دن میں جمعہ و عیدین جمع ہو جائے تو (بھی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہی دو سورتیں پڑھتے تھے ۔


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا : أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عِيْدَيْنِ؟ قَالَ :  نَعَمْ، صَلَّی الْعِيْدَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ثُمَّ رَخَّصَ فِی الْجُمعَة ۔ (سنن نسائی کتاب صلاة العيدين باب الرخصة في التخلف عن الجمعة لمن شهد العيد جلد 3 صفحہ  194 رقم :  1591،چشتی)

ترجمہ : کیا آپ نے دو عیدیں (یعنی جمعہ اور عید اکٹھی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھی ہیں؟ انہوں نے کہا :  جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دن چڑھے نمازِ عید پڑھائی پھر نماز جمعہ میں رخصت عطا فرما دی ۔


امام محمد نے الجامع الصغیر میں ایک ہی دن میں دو عیدوں کے جمع ہونے کے متعلق فرمایا : يشهدهما جميعًا ولا يترک واحدا منهما ، والأولي منهما سنة والأخری فريضة ۔ (ابن نجيم، البحرالرائق جلد 2 صفحہ 70)

ترجمہ : دونوں میں حاضری ہوگی اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا ، کیونکہ پہلی سنت (واجب) ہے دوسری فرض ۔


امام ابن عابدین شامی فرماتے ہیں : عيدان اجتمعا فی يوم واحد، فالاول سنة والثاني فريضة، ولا يترک واحد منهما ۔ (ابن عابدين، رد المحتار جلد 2 صفحہ 166،چشتی)

ترجمہ : جب ایک دن میں دو عیدیں (عید اور جمعہ) جمع ہو جائیں تو پہلی سنت (واجب) اور دوسری فرض ہے ۔ کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا ۔


امام ابو بکر بن مسعود کاسانی فرماتے ہیں : تجب صلاة العيدين علی أهل الاحصار کما تجب الجمعة ، دونوں عیدوں کی نماز شہریوں پر ایسی ہی واجب ہے جیسے نماز جمعہ واجب ہے ۔ امام کاسانی البدائع الصنائع میں امام محمد کی رائے سے متعلق لکھتے ہیں : فإنه قال فی العيدين اجتمعا فی يوم واحد، فا لأول سنة . . . فی الجامع الصغير أنها واجبة بالسنة . . . والصحيح أنها واجبة ۔ (کاسانی بدائع الصنائع جلد 1 صفحہ 275)

ترجمہ : امام محمد نے کہا جمعہ اور عید ایک دن میں جمعہ ہو جائیں تو پہلی (نماز عید) سنت ہے ۔ ۔ ۔ جامع صغیر میں ہے کہ نماز عید سنت کی رو سے واجب ہے ۔ ۔ ۔ صحیح یہ ہے کہ نماز عید واجب ہے ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن نماز عید و جمعہ دونوں پڑھائیں ۔ ہمارے لیے یہ دلیل کافی ہے ۔ ہم جو کچھ سمجھے ہیں وہ یہ ہے کہ نماز عید پڑھا کر مضافات مدینہ سے آنے والے لوگوں کو آپ نے رخصت دے دی کہ جو چاہے مدینہ منورہ میں رہے اور نماز جمعہ بھی ادا کرے اور جن کے گھر شہر سے اتنے دور ہیں کہ وہاں نماز جمعہ و عیدین ادا نہیں کر سکتے وہ چاہیں تو نماز جمعہ ادا کرنے سے پہلے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں ۔ پس جو شہر میں رہ جائیں گے ان پر نماز جمعہ فرض ہوگی اور جو جمعہ کے وقت سے پہلے ہی گاؤں چلے گئے ان پر نماز جمعہ فرض ہی نہ ہوئی کہ اس کےلیے شہر ہونا شرط ہے ۔ اگر عید جمعہ کے دن آجائے ، تو حسبِ شرائط جمعہ کی نماز پڑھنا فرض ہے ، عید کی وجہ سے جمعہ کے بجائے گھر میں ظہر کی نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے ، اگر کوئی شخص اس دن گھر میں ظہر پڑھنے کو مسنون کہتا ہے ، تو اس سے دلیل کا مطالبہ کیا جائے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Saturday, 14 March 2026

دینی طلبہ پر خرچ کرنے کا اجر قرآن و حدیث کی روشنی میں

دینی طلبہ پر خرچ کرنے کا اجر قرآن و حدیث کی روشنی میں

محترم قارئینِ کرام : اصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم وہ صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں صرف دِین سیکھنے کےلیے حاضر رہا کرتے تھے ۔ اِنہیں اصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں ۔ ان کی شان تو بے مثل و بے مثال ہے ۔ اصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم مَسْجِدِنبوی شریف میں ایک چبوتراتھا ، جہاں (مختلف اَوقات میں) تقریباً 400 یا 500 فُقَرَائے مُہاجِرِین رضی اللہ عنہمم بیٹھا کرتے تھے ، انہیں اَصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں ۔ اِن کے پاس گھر تھا نہ دُنْیَوی سازو سامان اور نہ ہی کوئی کاروبار ، غربت کا عالم یہ تھا کہ اِن میں سے70 کے پاس سَتْر پو شی کےلیے پورا کپڑا بھی نہ تھا ۔ اِن کی تعداد میں کمی بیشی ہوتی رہتی تھی ۔ مدینۂ منورہ میں آنے والے کا شہر میں کوئی جان پہچان والا نہ ہوتا تو وہ بھی اہلِ صُفّہ رضی اللہ عنہم میں شامل ہو جایا کرتا ۔ ‫(تفسیر نعیمی جلد ۳ صفحہ ۱۳۲)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دینی طلبہ پر خرچ کرنا : ⏬

اصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم علمِ دین سیکھتے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی ان پر خرچ فرماتے اور دوسروں کو ترغیب بھی ارشاد فرماتے ۔ اور ایسا نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف اصحابِ صُفّہ رضی اللہ عنہم پر ہی خرچ فرماتے ۔ آپ کا مال تو دین کیلئے وقف تھا ۔ جتنا بھی مال آپ کے پاس آتا ، آپ راہِ خدا میں خرچ فرمادیتے تھے ۔ حضرت ابُوذَر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک روز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا ، جب آپ نے اُحد پہاڑ کو دیکھا تو فرمایا : اگر یہ پہاڑ میرے لیے سو نا بن جائے تو میں پسند نہیں کروں گا کہ اس میں سے ایک دِیناربھی میرے پاس تین (3) دن سے زِیادہ رہ جائے ، سِوائے اُس دِینار کے جسے میں اَدائے قرض کے لئے رکھ چھوڑوں ۔ (صحیح بخاری کتاب فی الاستقراض … الخ باب اداء الدیون جلد ۲ صفحہ  ۱۰۵ حدیث نمبر ۲۳۸۸)

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے : وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْؕ ۔ (سورہ الضحی آیت نمبر ۱۰)
ترجمہ : اور منگتا کو نہ جھڑکو ۔

یعنی اے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آپ کے درِ دولت پر کوئی سوالی آ کر کچھ مانگے تو اسے کسی بھی صورت جھڑکنا نہیں بلکہ اسے کچھ دے دیں یا حسنِ اَخلاق اور نرمی کے ساتھ اس کے سامنے نہ دینے کاعذر بیان کردیں ۔ (تفسیر خازن جلد ۴ صفحہ ۳۸۸،چشتی)(تفسیر مدارک صفحہ ۱۳۵۷)

امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ⏬

مومن ہوں  مومنوں  پہ رؤفٌ رحیم ہو
سائل ہوں سائلوں کو خوشی لانہر کی ہے

مانگیں  گے مانگے جائیں  گے منھ مانگی پائیں  گے
سرکار میں  نہ ’’لا‘‘ ہے نہ حاجت ’’اگر‘‘ کی ہے
(حدائق بخشش صفحہ ۲۱۲ ، ۲۲۵)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدالانبیاء ہیں ، نبیوں کے سردار ہیں کونین کے والی ہیں ، وجہِ تخلیقِ کائنات ہیں ، لیکن اِ س کے با وجود آپ کا اندازمبارک یہ تھا  کہ آپ اپنے پاس مالِ دنیا کو نہیں رہنے دیتے تھے خود بھوکے رہ کر اوروں کو کھلانا آپ کا طریقہ رہا ہے ، اپنا مال ہو یا آپ کو تحفے میں دیا گیا مال ہوبلکہ اگر یوں  کہا جائے  کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا  سارا مال دین کےلیے وقف تھا  تو یہ غلط نہ ہو گا  کیونکہ انبیاءِ کرام علیہم السلام نے کسی کو دینارو درہم کا وارث نہیں  بنایا جیسا کہ مفسرِ قرآن ، مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ ایک حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بعض انبیاء کرام علیہم السلام تارِكُ الدُّنْیا تھے ، جنہوں نے کچھ جمع نہ کیا جیسے حضرت یحییٰ و عیسیٰ علیہما السلام اور بعض نے بہت مال رکھا۔ جیسے حضرت سلیمان و داؤد علیہما السلام لیکن کسی نبی کی مالی میراث نہ بٹی ، ان کا چھوڑا ہوا مال دین کے لیےوقف ہوتا ہے۔ (مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۱۹۹)

نے پڑھ لیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مال دین کےلیے وقف تھا  ، بالخصوص دینی طالب علموں پر خرچ کرنا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت ِکریمہ تھی اور اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کےلیے بھی  یہی پسند فرماتے تھے کہ وہ بھی اپنا مال راہ ِ دین میں خرچ  کریں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر سے واپسی پر خاتونِ جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھرتشریف لائے لیکن گھر کے دروازے پر ایک پردہ اور اپنی لخْتِ جگر کے ہاتھوں میں چاندی کے دو کنگن ملاحظہ فرما کر واپس تشریف لے گئے ۔ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ رورہی تھیں ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے لوٹ جانے کی خبردی تو حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہو کر واپسی کا سبب پوچھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : دروازے پر موجود پردے اور چاندی کے کنگنوں کے سبب میں واپس آگیا ۔ (سنن ابو داود کتاب الترجل باب ما جاء فی الانتفاع بالعاج جلد ۴ صفحہ  ۱۱۸ حدیث  نمبر ۴۲۱۳)

  حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کواس بات کی خبر دی تو انہوں نے پردہ پھاڑ دیا اور کنگن حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھیج دیئے اور عرض کی : میں یہ کنگن صَدَقہ کرتی ہوں ، آپ انہیں جہاں مناسب سمجھیں خرچ فرما دیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : انہیں بیچ کر اہْلِ صُفّہ رضی اللہ عنہم (جو دین کے طلبا تھے) پر خرچ کردو ۔ چنانچہ انہوں نے وہ دونوں کنگن ڈھائی درہم میں بیچ کر اصحابِ صفہ رضی اللہ عنہم پر صدقہ کر دیئے ۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی لخْتِ جگر کے گھر تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : تم پر میرے ماں باپ فدا (میں فدا میرے ماں باپ فدا انتہائی محبت وعظمت ظاہر کرنے کےلیے کہے جاتے ہیں) تم نے بہت اچھا کیا ۔ (سنن النسائی کتاب الزینة باب الکراھیة للنساء فی اظہار الحلی  والذھب صفحہ ۸۲۰ حدیث نمبر ۵۱۵۰) 

مفسرِ قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں تشریف لے جاتے تو پہلے سارے گھر والوں سے رخصت ہوتے سب سے آخر میں حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا سے رخصت ہوتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لاتے پھر دوسرے اہلِ بیت کے پاس ۔ غرضکہ جانا بھی اس گھر سے ہوتا اور آنا بھی اسی گھر میں اس گھر کی عزت پر لاکھوں سلام ۔ دروازے پر لٹکے ہوئے پردے اور کنگن کے بارے میں فرماتے ہیں : دروازہ کا یہ پردہ غالبًا تصاویر والا تھا اور چاندی کے کنگن لڑکوں (یعنی امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما) کےلیے تھے ،  مردوں کےلیے کنگن اور تصاویر والا پردہ یہ دونوں حرام ہیں ۔ جناب فاطمہ رضی اللہ عنہ کو ان کی حُرمت کی ابھی تک خبر نہ تھی ۔ اسی لیے آپ رضی اللہ عنہا نے یہ دونوں کام کیے ہوئے تھے ورنہ اہلِ بیتِ نبوت دانستہ طور پر ناجائز کام نہیں کر سکتے ۔ آپ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صرف ناراضگی ملاحظہ فرما کر یہ دونوں چیزیں ختم کر دیں ۔ اور کنگن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں صدقہ کرنے کےلیے بھیج دئیے ۔ تاکہ اس عمل کو دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں تشریف لے آئیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تھے کہ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا بھی ان کنگنوں کو نہ پہنیں کہ اگرچہ ان کےلیے ان کا پہننا جائز ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ میرے اہل بیت جائز آرائش ٹیپ ٹاپ بھی نہ کریں تاکہ ان کے دل دنیا میں نہ لگیں اور آخرت میں ان کے درجات اور بلند ہوں وہ دنیا میں فقر وریاضت کی زندگی گزاریں ۔ (مرآۃ المناجیح جلد ۶ صفحہ ۱۷۷چشتی)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (ظاہری زمانہ مبارک) زمانے میں دوبھائی تھے ، ان میں ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں رہتا تھا اور دوسرا محنت و مزدوری کرتا تھا ، محنت و مزدوری کرنے والے نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ ، شاید تجھے اسی کی وجہ سے روزی ملتی ہو ۔ (سنن ترمذی حدیث نمبر 2345)

حضرت سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کا دین کےلیے خرچ کرنا : ⏬

       نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا مال دین کےلیے خرچ فرماتے تھے ۔ اگر ہم صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ وہ بھی اپنا مال دین کےلیے قربان کرنے کو ہروقت تیار رہتے تھے ۔ اس بارے میں اَمِیْرُالمؤمنین حَضرتِ سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ تاجر تھے ، کپڑے کے وسیع کاروبار کے مالک تھے ، جس دن اسلام لائے آپ کے پاس چالیس ہزار درہم یا دینار (یعنی 40 ہزارچاندی یا سونے کے سِکّے) تھے ، اسلام لانے کے بعد وہ سارے کے سارے راہِ خدا میں خرچ کر دیئے ۔ (تاریخ مدینۃ دمشق جلد ۳۰ صفحہ ۶۶)

غزوۂ تبوک کے موقع پر اپنے گھر کا سارا مال اسلام اور مسلمانوں پر نچھاور کرنے کا واقعہ بھی آپ ہی کا ہے ۔ اسی طرح جب بھی ضرورت پیش آئی تو دین کےلیے اپنا مال خرچ کرنے میں آپ ذرا بھی نہ ہچکچائے ۔ کئی غلاموں کو اپنا ذاتی مال دے کر آزاد کروانے کاشرف بھی آپ کو حاصل ہے ۔ حضرت عُروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایسے 7 غلام خرید کر آزاد کیے جنہیں راہِ خدا میں بہت تکالیف دی جاتی تھیں ۔ ان میں حضرت بلال حبشی اور عامربن فہیرہ رضی اللہ عنہما بھی ہیں ۔ (مجمع الزوائد ، کتاب المناقب باب جامع من فضلہ جلد ۹ صفحہ ۳۵ حدیث  نمبر ۱۴۳۴۰)

منقول ہے کہ حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو اسلام لانے کے بعدبہت اذیتیں دی جاتی تھیں ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو پانچ اوقیہ (تقریباً 32 تولے) سونا ادا کر کے خریدا تو فروخت کرنے والوں نے کہا : ابوبکر ! اگر تم صرف ایک اوقیہ سونے پر اَڑ جاتے تو ہم اتنی قیمت میں ہی اسے فروخت کر دیتے ۔ آپ نے فرمایا : اگر تم سو (100) اوقیہ سونا مانگتے تو میں وہ بھی دے دیتا اور بلال کو ضرور خریدتا ۔ (الریاض النضرۃ جلد ۱ صفحہ ۱۳۳)

حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے معمولات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اسلام کی مدد و نصرت کےلیے آپ نے کھُلے دل سے اپنا ذاتی مال و اسباب خرچ کیا ۔ اپنے مال سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایسی خدمت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا : مجھے کسی کے مال نے اتنا فائدہ نہ دیا جتنا ابوبکر صدیق کے مال نے دیا ۔ (سنن ابن ماجۃ کتاب السنۃ باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ جلد ۱ صفحہ ۷۲  حدیث نمبر ۹۴) ۔
ہمارے ہاں لوگ بے شمار جگہوں پر خرچ کرتے ہیں ، کبھی تقریبات پر ، کبھی زیب و زینت پر ، اور کبھی نمود و نمائش پر ، لیکن جب بات دین کےلیے وقف طلباء و علماء کی ضروریات کی آتی ہے ، تو دل و جیب دونوں بند ہو جاتے ہیں ، حالانکہ یہ وہی نفوسِ قدسیہ ہیں جو شب و روز علمِ دین کے حصول اور اس کی خدمت میں مشغول رہتے ہیں ۔ ان کی معاشی کفالت امت کی اجتماعی ذمے داری ہے ، یہ سب سے افضل مصرف ہے کہ ایسے اہلِ علم کی معاونت کی جائے جو خود کو دین کےلیے وقف کر چکے ہیں ، اگر ہر فرد اپنے حصے کا بوجھ اٹھا لے ، تو ان شاءاللہ یہ علماء و طلباء فکری و مالی پریشانیوں سے آزاد ہو کر دین کے مزید عظیم کام انجام دے سکیں گے ۔ آئیے اس بابرکت میدان میں قدم رکھیں ، ان چراغوں کو بجھنے نہ دیں ، بلکہ ان کی روشنی کو بڑھائیں ، تاکہ معاشرہ علم ، اخلاص اور دین داری سے منور ہو ۔

مدرسے یا دینی تعلیم کے ادارے کی تعمیر پر خرچ کرنا انتہائی فضیلت والا عمل ہے ۔ اگرچہ قرآن و حدیث میں براہِ راست مدرسے کا لفظ نہیں آیا ، مگر علمِ دین کی اشاعت ، طلبہ کی تعلیم، اور دین کی بنیاد رکھنے پر بے شمار احادیث و آثار موجود ہیں ، جن سے مدرسہ سازی کی عظمت و ثواب واضح ہوتا ہے ۔ جن کا ذکر ہم حصہ اول میں کر چکے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : من دلّ على خير فله مثل أجر فاعله ۔ (صحیح مسلم)
ترجمہ : جو کسی کو بھلائی کی طرف رہنمائی کرے ، اسے بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والے کو ملتا ہے ۔

مدرسہ کی تعمیر ، ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے سینکڑوں طلبہ علم حاصل کرتے ہیں اور یہ سب اجر تعمیر کرانے والے کو بھی ملتا ہے ۔

دینی طالب علموں پر خرچ کرنے وجہ سے اسلام کی توفیق بخش دی : ⏬

حضرت محمد بن جَرِیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ہم چند دوست مِل کر عِلْمِ دِین سیکھنے کے لئے سَفَر پر روانہ ہوئے ۔ ایک شہر میں پہنچے ، وہاں عِلْمِ دِین سیکھنے میں مَصْرُوف ہو گئے ۔ ایک عرصہ یہاں گزارا ، اس دوران ہمارے پاس اخراجات ختم ہو گئے ۔ ہم دوستوں نے ارادہ کیا کہ چلو ! واپس گھر چلتے ہیں (اخرجات لے کر واپس آئیں گے) ۔ ابھی ہم ارادہ بنا ہی رہے تھے کہ ایک غیر مُسْلِم  ہمارے پاس آیا ، اس نے ہم سب دوستوں کو 3 ، 3 دِرْہَم دئیے ! کچھ اخراجات آ گئے ۔ اس کے بعد اس نے 40 مرتبہ ہمیں یونہی دِرْہَم دئیے ! ہم نے اس سے پوچھا : تم تَو غیر مُسْلِم  ہو ، تم ہمیں یہ رقم کیوں دیتے ہو؟ وہ بولا : میں نے تورات شریف میں پڑھا ہے کہ سب سے اَفْضَل صدقہ وہ ہے جو طالِبِ عِلْمِ دِین کو دیا جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں (یعنی اَہْلِ تورات میں) تو کوئی بھی اس طرح عِلْمِ دِین سیکھنے میں مَصْرُوف نہیں ہے ، لہٰذا جب میں نے تمہیں عِلْمِ دِین سیکھنے میں مَصْرُوف دیکھا تو تم پر ہی خرچ کر دیا ۔ حضرت محمد بن جریر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ واقعہ گزر گیا ۔ اس کے بعد ایک مرتبہ ہم دوست حج کےلیے مکہ پاک حاضِر ہوئے ، دیکھا کہ وہی غیر مُسْلِم  کعبہ شریف کے گِرد طواف کر رہا ہے ۔ ہم نے حیرانی سے پوچھا : تم تو غیر مُسْلِم  تھے ، اسلام کیسے قبول کر لیا ؟ وہ بولا : میری قسمت جاگی ، خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : تم نے طالب علموں پر خرچ کیا ، اس کی برکت سے اللہ پاک  نے تمہیں اسلام کی توفیق بخش دی ہے ۔ پس یہیں سے میری قسمت جاگ گئی اور میں نے اُسی وقت (خواب ہی میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ مُبارَک  پر اسلام قبول کر لیا ۔ مزید کرم یہ ہوا کہ میرے گھر میں 17 افراد تھے ، اس رات سب کو خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی ، سب کے سب ہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے ۔ (حکایات و قصص صفحہ 201)

ہمیں بھی چاہیے کہ دِین کےلیے اپنی مالی خِدْمات پیش کیا کریں ۔  یہ صِرْف ذِہن بنانے کی بات ہے ، ورنہ دِین کی راہ میں مال دینے سے بندہ غریب نہیں ہو جاتا بلکہ جو اللہ پاک کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے ، اللہ پاک اسے کئی گُنَا بڑھا کر عطا فرماتا ہے : مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةًؕ ۔ (سُوْرَۂ بَقَرَہ آیت نمبر 245)
ترجمہ : ہے کوئی جو اللہ کواچھا قرض دے تو اللہ اس کے لئے اس قرض کو بہت گنا بڑھا دے ۔

کتنی پیاری بات ہے ! مال دیا ہوا کس کا ہے ؟  اللہ پاک کا ۔ حضرت شیخ عبدالقار جیلانی رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : اَنْتُمْ وُکَلَاءُ عَلٰی ہٰذِہِ الْاَمْوَال ، تم اس مال کے وکیل ہو ۔ (جَلَاء الخَوَاطِرْ مجلس حقوق الفقراء صفحہ نمبر 110)

حَضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا دین کےلیے خرچ کرنا  بھی بہت مشہور ہے ۔ کئی بار آپ نے دین کےلیے خرچ کرنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنت کی خوشخبریاں پائی ہیں ۔ مدینہ شریف میں مہاجرین کی ضرورت پر آپ نے کنواں خرید کر دین کےلیے وقف فرمایا ۔ اسی طرح غزوۂ تبوک کے موقع پر آپ نے 950 اُونٹ ، 50 گھوڑے اور 1000 اَشْرَفیاں پیش کیں ، پھر بعد میں 10 ہزار اَشْرَفیاں اور پیش کیں ۔ (مرآۃ المناجیح جلد ۸ صفحہ ۳۹۵) ۔ جب بھی ضرورت ہوتی آپ دینِ اسلام کیلئے خرچ کرنے سے بالکل نہیں ہچکچاتے تھے ۔

اسی طرح دیگر صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بھی کئی واقعات ہیں کہ وہ دین کےلیے خرچ کرنے میں پیش پیش رہتے تھے ۔

اس سے ہمیں بھی درس ملتا ہے کہ دین کےلیے اپنا مال دینے ، خرچ کرنے میں پیش پیش رہنا چاہیے ۔ اگر ہم بزرگوں کے واقعات دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان کی بھی کوشش ہوتی تھی کہ دین کےلیے ایسی جگہ خرچ کیا جائے جس کے فوائد وقتی نہ ہوں بلکہ آنے والوں کو بھی اس سے فائدہ ہو ۔ اس سلسلے میں کروڑوں حنفیوں کے امام ، حضرت سیدنا امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا اپنے شاگرد حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کی کفالت کا واقعہ ہمارے لیے روشن مثال ہے ۔ : ⏬

حضرت امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے علم بھی عطا کیا اور مال بھی حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے حدیث  اور فقہ کے طالبِ علم کی حیثیت سے کُوفہ میں وقت گزارا ۔ شروع میں بہت تنگ دست اور غریب  گھرانے سے تعلق رکھتا تھا ، میرے  والد مجھے ایک دن حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں لے گئے ، میں وہاں پڑھنے لگا ، میرے والد نے گھر آکر مجھے کہا : بیٹا ! حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف پاؤں پھیلا کر نہ بیٹھا کرو ، یہ بے ادبی کا انداز ہے ۔ پھر میرے والد مجھے کہنے لگے :  اے میرے بیٹے ! ہم غریب لوگ ہیں ، جبکہ امیر لوگوں کی خوراک مُرَغّن  غذائیں ہوتی ہیں ، ہم سوکھی پھیکی  روٹی کھا کر گزارا  کرتے ہیں ، ہم بہت مفلس  ہیں ، یہ باتیں کہہ کر میرے والدِ محترم نے مجھے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مجالس میں جانے سے روک دیا ، ادھر امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے غیر حاضر پایا تو میرے جاننے والوں سے پوچھا کہ یعقوب کیوں نہیں آرہا ؟ انہوں نے بتایا کہ اسے تو اس کے والد نے روک رکھا ہے ۔ امام قاضی ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ادھر میر ی کیفیت یہ تھی کہ میں حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی مجالس میں حاضر ہونے کےلیے بیتاب رہتا ۔ آخر کار میں ایک دن آپ کی مجلس میں جا پہنچا ، آپ  نے بڑی شفقت سے غیر حاضری کی وجہ پوچھی تو میں نے اپنے غریب اور والد کے حکم پر نہ آنے کا بتایا ، اس دن تو میں آپ کی مجلس میں احادیث سنتا رہا لیکن جب میں گھر جانے لگا تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے بیٹھنے  کا اشارہ کیا ، جب تمام لوگ چلے گئے تو آپ نے مجھے ایک تھیلی دی جو درہموں سے بھری ہوئی تھی ، فرمایا :  اس سے گزارا کرو ، پھر اللہ مالک ہے ،  میں نے اسے کھولا تو ایک سو (100) درہم تھے ۔ آپ نے جاتے ہوئے حکم دیا کہ میرے حلقۂ درس میں آجایا کرو ، یہ درہم ختم ہو گئے تو پھر بندوبست کر دیں گے ، چنانچہ اس دن کے بعد میں باقاعدگی سے حلقۂ درس میں آنے لگا ۔ کچھ  دنوں بعد آپ نے مجھے ایک اور تھیلی دی ، اس طرح  آپ وقتا فوقتاً میری امداد فرماتے اور کسی کو علم نہ ہوتا ،  ایک خاص بات یہ کہ حضرت امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ رقم تو دیتے رہے مگر کبھی مجھ سے یہ نہ پوچھا کہ کس طرح اور کہاں خرچ کرتے ہو ؟ اور وہ خود ہی محسوس کر لیتے کہ روپے ختم ہونے والے ہیں ، اس کے ساتھ ہی وہ اور رقم دے دیتے ۔ میں پڑھتا بھی رہا اور میرا گھر بھی چلتا رہا۔ پھر ایک وقت آیا کہ میں مالی اعتبار سے خوشحال ہو گیا ۔ میں مسلسل حضرت امام ِاعظم رحمۃ اللہ علیہ کے درس میں آتا رہا ، علمی استفادہ کرتا رہا اور ایک وقت آیا کہ حضرت امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے ایک طرف دنیاوی مال سے خوشحال کر دیا اور دوسری طرف علم و فضل میں ممتاز بنا دیا ، مجھ پر علم کے دروازےکھل گئے ۔ (مناقب امام اعظم جز ثانی صفحہ ۲۱۱،چشتی)

محترم قارٸین : آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ کوئی دو چار ماہ تک حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے قاضی امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کی کفالت کی ہوگی ، ایسا نہیں ہے دو تین سال بھی نہیں بلکہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے دس (10) سال تک میرا اور میرے گھر والوں کا خرچ برداشت کیا ۔ (مناقب امام اعظم جز اول صفحہ ۲۵۹)

امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی عادت مبارکہ  بھی تھی کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ علم دین حاصل کرنے والے طالبعلموں پر خوب خرچ فرماتے اور خوش ہوتے ، اور آپ رحمۃ اللہ علیہ طلبہ پر بہت شفیق و کریم تھے ، خوشیوں کے موقعوں پر ، عید کے دنوں میں ان کےلیے نئے نئے کپڑے بنواتےاور طرح طرح کے کھانے بنوا کر کھلاتے ، عرب طلبہ کےلیے عربی کھانا ، روسی طلبہ کےلیے روسی کھانا ، بنگالی طلبہ کےلیے بنگالی کھاناالغرض جن طلبہ کو جو کھانا مرغوب (پسند ) ہوتا وہ پکوا کر اس کو کھلاتے اور خوش ہوتے ۔ (سوانح اعلی حضرت صفحہ ۱۴۶)

اس واقعے میں ہمارے لیے نصیحت کے کئی مدنی پھول بھی ہیں اور کتنے پیارے انداز سے ہماری رہنمائی بھی کی جارہی ہے کہ ہم اپنا مال اللہ پاک کی راہ میں کس اندازسے خرچ کریں  تاکہ ثواب بھی ملے اور اُمّتِ مُسلمہ کی خیرخواہی بھی ہو ۔

کسی کے عالمِ دِین بننے میں اگر ہمارا مالی حصّہ بھی شامل ہو جائے تواس کے فوائد کثیر بھی ہیں اور بہت دیر تک رہنے والے بھی ہیں ۔ بلکہ اگر اسے ثوابِِ جاریہ کہا جائے توبھی دُرست ہوگا ۔ غور کیجیے ! بالفرض ہمارے دیئے ہوئے مال سے ایک عالمِ دین بن گیا تو ان کے عالم بننے کا ثواب ہمیں ملےگا ، وہ تیار ہونے والے عالم جس جس کو علمِ دِین سکھائیں گے ، پڑھائیں گے ، اس کا ثواب بھی ہمیں ملے گا ، جو ان سے سُن کر عمل کرے گا ، اس کا ثواب بھی ہمیں ملے گا ۔ وہ آگے جس جس کو بتائے اس کا ثواب بھی ہمیں ملے گا ، اَلْغَرَض ! اللہ نے چاہا تو پھر ہمارے لیے ثواب کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگا ۔  معلوم ہوا کہ دین کےلیے علما پر خرچ کرنے کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے اور اس کے فوائد بھی زیادہ ہیں ۔ انہی فوائد کے پیشِ نظر بعض بزرگوں کے بارے میں آتا ہے کہ وہ کاروبار کرتے اور حاصل ہونے والے منافع میں سے کچھ رقم صرف علما پر خرچ فرماتے تھے کہ اس کے فوائد اور ثمرات عام لوگوں پر خرچ کرنے سے کئی گنا زیادہ ہیں ۔

امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا دین کےلیے خرچ کرنا : ⏬

خود حضرت سیدنا امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا یہی معمول تھا کہ اپنے مال سے کثیر حصہ علمائے کرام کی خدمت میں پیش فرماتے ۔ چنانچہ قیس بن ربیع کا بیان ہے کہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بغداد سے بہت سا مال خرید کر کُوفہ میں لایا کرتے اور اسے مارکیٹ میں بیچتے تھے ، اس سے جو منافع ہوتا تو آپ اپنے مشائخ کےلیے ضروریاتِ زندگی خرید کر ان کے ہاں پہنچاتے  پھر محدثین کےلیے ان کی ضروریاتِ زندگی خرید کر ان کے گھر پہنچاتے ، ان کےلیے کھانے پینے کی چیزیں ، لباس سلوا کر بھیجا کرتے اور جو رقم باقی بچ جاتی تو آپ علمائے کرام کو نقد دے دیا کرتے تا کہ وہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں ، ساتھ ہی یہ پیغام بھیجتے میں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں  بھیجا یہ سب اللہ پاک نے آپ کےلیے نفع عطا فرمایا ہے ، لہٰذا اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو ، میری تجارتی زندگی میں جس قدر منافع ہے ، اس میں آپ کا حصہ ہے ، مجھے تو صرفاللہ پاک نے آپ لوگوں کی خدمت کا سبب بنایا ہے ، اس کارزق میرے ہاتھوں آپ تک پہنچ رہا ہے ۔ (مناقب امام اعظم جز اول صفحہ ۲۶۲،چشتی)

ایک اور روایت میں آتا ہے کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ جب بھی اپنے لیے یا اپنے گھر والوں کےلیے کپڑا یا کوئی کھانے کی چیز خریدتے تواسی مقدار میں وہ چیز علماء و مشائخ کےلیے بھی خریدتے ۔ (مناقب امام اعظم جز اول صفحہ ۲۶۱)

عالم نہیں بن سکے تو دوسروں کو بنائیں : ⏬

یاد رکھیے : اس میں کوئی شک نہیں کہ عالم بننے کے بڑے فضائل ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں کہ حافظ بننے کے بڑے فضائل ہیں ، یقیناً یہاں ہم میں سے کئی ایسے ہوں گے جن کے دل میں یہ خواہش ہوگی کہ کاش ہم عالم بنتے ، کئی ایسے ہوں گے جو حافظ بننا چاہتے ہوں گے ۔ ہم اگر عالِم نہ بھی بن پائے تو اب یہ سعادت ہمیں مل سکتی ہے کہ ہم اپنے مال سے مدد کر کے کسی کو عالم بنوا دیں ۔ ہمت کیجیے اور ادارہ پیغامُ القرآن پاکستان کے زیرِ انتظام دین کی نشر و اشاعت ، دینی تعلیم عام کرنے خصوصاً دور دراز دیہاتوں کے غریب بچوں کو مفت دینی و عصری تعلیم دینے ، ادارہ کےلیے جگہ کی خریداری و تعمیر ۔ دین کی نشر و اشاعت ، دینی کتب تفاسیر قرآن ، کتبِ احادیث عربی اردو کی شروحات ، دیگر اسلامی کتب ،  کی خریداری کے سلسلہ میں تعاون فرمائیں جزاکم اللہ خیراً کثیرا آمین ۔ ہمارے اکاؤنٹ نمبرز یہ ہیں : صاحبزادہ حافظ محمد جواد چشتی اکاؤنٹ نمبر : 02520107640866 میزان بینک لاہور پاکستان ۔
موبی کیش اکاؤنٹ نمبر : 03009576666
ایزی  پیسہ اکاؤنٹ : 03469576666
موبی کیش و ایزی  پیسہ اکاؤنٹ : 03215555970 ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی خطیب لاہور پاکستان ۔

Wednesday, 11 March 2026

گاؤں میں جمعہ اور عید کی نماز باجماعت کا حکم

گاؤں میں جمعہ اور عید کی نماز باجماعت کا حکم

محترم قارئینِ کرام : گاؤں کے وہ سب لوگ جن پر شرائط جمعہ (مسلمان مرد ، مقیم ، تندرست ، عاقل ، بالغ) پائے جانےکی صورت میں شرعاً جمعہ فرض ہو جاتا ہے ، گاؤں کی سب سے بڑی مسجد میں نماز پڑھیں اوراس میں پورے نہ آ سکیں ، بلکہ اس کی توسیع کرنا پڑے ، تو ایک روایت کے مطابق ایسے گاؤں میں جمعہ درست ہےاور فی زمانہ مفتیان کرام نے اسی روایت پرفتوی دیا ہے اور ایسے گاؤں میں نمازِ جمعہ ادا کرنے سے ظہر ساقط ہو جائے گی اور اگر گاؤں میں اتنے افراد نہ ہوں ، تواس میں نمازِ جمعہ شروع کرنا ، ناجائز و گناہ ہے اور وہاں کے بالغ افراد پر ظہر فرض ہو گی ۔ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کےلیے احناف کے نزدیک سات شرائط ہیں ، جن میں سے ایک شہر ہونا ضروری ہے ۔ جمعہ کے صحیح ہونے کےلیے شہر یا فناء شہر شرط ہے دیہات میں جمعہ جائز نہیں ہوتا ۔ لیکن اگر عوام پڑھے تو انہیں منع نہ کیا جائے کہ وہ جس طرح بھی اللہ و رسول کا نام لیں غنیمت ہے ۔ لیکن مسئلہ شرعیہ سے ضرور آگاہ کیا جائے کہ دیہات جہاں تھوڑے سے احباب ہوں وہاں جمعہ نہیں ہوتا ۔ بلکہ ظہر پڑھنا ضروری ہوگا ۔ البتہ ایک نادر روایت میں جمعہ جائز ہونے کا بیان ہے کہ اتنے افراد ہوں کہ گاؤں کی بڑی مسجد ان سے بڑھ جائے تو وہاں جمعہ جائز ہے ۔


فقہ حنفی کی مشہور کتاب الھدایہمیں یے : لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع ، أو في مصلى المصر، ولا تجوز في القرى  لقوله عليه الصلاة والسلام “ لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع ۔

ترجمہ : جمعہ شہر کی جامع مسجد یا شہر کی وہ جگہ جو نماز کےلیے خاص ہے اس میں ہی صحیح ہوتی ہے اور دیہات میں جائز نہیں ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے ” نہ ہی جمعہ اور نہ ہی (تکبیر) تشریق  اور نہ ہی (نماز عيد) الفطر اور نہ (نماز عيد)الاضحی جائز ہے مگر شہر کی جامع مسجد میں ۔ (الهدايه باب اصلاة الجمعة جلد 1 صفحہ 82 دار احياءالتراث العربى بيروت )


ابو عبدالرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : شہر اور بڑے قصبےکے سوا جمعہ ہے ، نہ تشریق نہ عیدالفطر نہ عید الاضحی ۔ (المصنف ابن ابی شیبہ جلد 2 صفحہ 101)


حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دیہات والوں پر جمعہ نہیں ، جمعہ صرف شہر والوں پر ہے ۔ (المصنف ابن ابی شیبہ جلد 2 صفحہ 168)


علامہ علاء الدین ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : تحفہ میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقول ہے : شہر اس بڑی جگہ کو کہتے ہیں، جہاں گلیاں اور بازار ہوں ،مضافاتی علاقہ ہو اور اس میں ایک ایسا حاکم ہو جو اپنے اقتدار کے دبدبے (اور طاقت سے) اور اپنے (ذاتی) علم یا دوسرے کے علم سے (یعنی گواہی کے ذریعے) مظلوم کو ظالم سے انصاف دلا سکے ، لوگ اپنے پیش آمدہ معاملات میں اس کی طرف رجوع کریں ، یہی صحیح تعریف ہے ۔ (بدائع الصنائع جلد 1 صفحہ 385،چشتی)


مذکورہ تعریف کے لحاظ سے شہر کے ثبوت کےلیے مندرجہ ذیل امور ضروری ہیں : اشیائے ضرورت کےلیے بازار اور دکانیں ۔ قوتِ حاکمہ اورعالمِ دین ۔


نمازِ جمعہ قائم کرنا ایسا نہیں ہے کہ جو چاہے ، جب چاہے قائم کر لے ، شرائط کا پایا جانا لازم ہے ۔ صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ایک بہت ضروری امر جس کی طرف عوام کو بالکل توجہ نہیں ، یہ ہے کہ جمعہ کو اور نمازوں کی طرح سمجھ رکھا ہے کہ جس نے چاہا نیا جمعہ قائم کر لیا اور جس نے چاہا پڑھا دیا ، یہ ناجائز ہے ، اس لیے کہ جمعہ قائم کرنا بادشاہِ اسلام یا اس کے نائب کا کام ہے اور جہاں سلطنتِ اسلامی نہ ہو ، وہاں جو سب سے بڑا فقیہ سُنّی صحیح العقیدہ ہو ، اَحکامِ شرعیہ جاری کرنے میں سلطان اسلام کے قائم مقام ہے ، لہٰذا وہی جمعہ قائم کرے ، ا س کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا اوریہ بھی نہ ہوتو عام لوگ جسے امام بنائیں ، عالم کے ہوتے ہوئے عوام بطور خود کسی کو امام نہیں بنا سکتے ، نہ یہ ہو سکتا ہے کہ دوچار شخص کسی کو امام مقرر کرلیں ، ایسا جمعہ کہیں سے ثابت نہیں ۔ (بہارِ شریعت جلداول صفحہ 764)


خلاصہ کلام یہ ہے کہ گاؤں ، دیہات میں جمعہ قائم کرنے کےلیے مذکورہ شرائط کا پایا جانا ضروری ہے ، دیہات ، گاؤں میں جمعہ قائم نہیں کیاجائے گا ، اِن شرائط کے مفقود ہونے کی صورت میں کسی بھی دیہات میں جمعہ قائم نہیں کیا جائے گا ، البتہ اگر کہیں پہلے سے جمعہ جاری ہو تو اُسے بند نہیں کیا جائے گا ۔ تاہم جمعہ پڑھنے کے بعد چار رکعات ظہر احتیاطی اداکی جائے گی ۔


    امام اکمل الدین بابرتی رحمۃ اللہ علیہ عنایہ میں لکھتے ہیں : وعنہ أی أبی یوسف (أنھم اذااجتمعوا)أی اجتمع من تجب علیہ الجمعة لاکل من یسکن فی ذلک الموضع من الصبیان والنساء والعبید لأن من تجب علیھم مجتمعون فیہ عادة۔قال ابن شجاع ، أحسن ماقیل فیہ اذاکان أھلھابحیث لواجتمعوافی أکبرمساجد ھم لم یسعھم ذلک حتی احتاجواالی بناء مسجد آخر للجمعة ۔

ترجمہ : یعنی امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ جن پر جمعہ لازم ہے نہ کہ وہ تمام لوگ جو وہاں سکونت پذیر ہیں مثلاً بچے ، خواتین اور غلام ۔ ابن شجاع نے کہا کہ اس بارے میں سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جب جمعہ کے اہل لوگ وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو سما نہ سکیں حتی کہ وہ جمعہ کےلیے ایک اور مسجد بنانے پر مجبور ہوں ۔ (عنایہ شرح ھدایہ کتاب الصلاۃ جلد 2 صفحہ 52 مطبوعہ بیروت،چشتی)


    علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : المصر وھو مالا یسع اکبر مساجدہ  اھلہ المکلفین بھا وعلیہ فتویٰ اکثرالفقھاء ۔

ترجمہ : شہر وہ ہے کہ اس کی مساجد میں سے بڑی مسجد میں وہاں کے وہ باشندے نہ سما سکیں جن پر جمعہ فرض ہے اور اسی پر اکثر فقہاء کرام کا فتویٰ ہے ۔ (ردالمحتار معہ در مختار کتاب الصلاۃ جلد 3 صفحہ 06 مطبو عہ کوئٹہ)


    علامہ ابن نجیم مصری حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : وعن ابی یوسف انہ مااذااجتمعوافی اکبرمساجدھم للصلوات الخمس لم یسعھم و علیہ  فتویٰ اکثرالفقھاء وقال ابو شجاع : ھذا احسن ماقیل  فیہ۔وفی الولوالجیة:وھو الصحیح ۔

ترجمہ : امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ شہر وہ ہے کہ جب وہاں کے باشندے اپنی مساجد میں سے بڑی مسجد میں نمازِ پنجگانہ کےلیے جمع ہوں تو وہ انہیں کم پڑ جائے اور اسی پر اکثر فقہاء کرام کا فتویٰ ہے ۔ ابو شجاع علیہ الرحمۃ نے فرمایا : یہ بہترین تعریف ہے جو شہر کی کی گئی ہے اور ولوالجیہ میں ہے کہ یہی تعریف صحیح ہے ۔ (البحرالرائق،کتاب الصلاۃ جلد 2 صفحہ 247 مطبوعہ کوئٹہ)


    اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ہاں ایک روایت نادرہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے یہ آئی ہے کہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد ، عاقل ، بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہو سکے آباد ہوں کہ اگر وہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سما سکیں یہاں تک کہ انہیں جمعہ کےلیے مسجد جامع بنانی پڑے ، وہ صحت جمعہ کےلیے شہر سمجھی جائے گی ۔۔۔ جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے اس میں اس روایت نوادر کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگرچہ اصل مذہب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایک جماعت متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہرگز جمعہ خواہ عید مذہب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 347 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور،چشتی)


اور ایسی جگہ جہاں جمعہ پڑھنا جائز نہیں ، وہاں ظہر کی نماز کے بارے میں خاتم المحققین علامہ محمد امین بن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں : لو صلوا فی القری لزمھم أداء الظھر ۔

ترجمہ : اگر لوگ (ایسے) گاؤں میں (جہاں جمعہ جائز نہیں) جمعہ ادا کریں تو ان پر ظہر کی نماز ادا کرنا ہی ضروری ہے ۔ (رد المحتار معہ درمختار جلد 3 صفحہ 8 مطبوعہ کوئٹہ)


فتاوی شامی میں ہے : لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر ۔

ترجمہ : اگر دیہات میں لوگوں نے جمعہ پڑھ لیا تو ظہر کی نماز ادا کرنا ان پر لازم ہے ۔ (فتاوی شامی باب الجمعۃ  جلد 2 صفحہ 138 دارالفکر بیروت)


فتاوی رضویہ میں ہے : جمعہ و عیدین دیہات میں ناجائز ہیں اور ان کا پڑھنا گناہ ، مگر جاہل عوام اگر پڑھتے ہوں تو ان کو منع کرنے کی ضرورت نہیں کہ عوام جس طرح اللہ و رسول کا نام لے لیں غنیمت ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 8  صفحہ 387 رضافاؤنڈیشن لاہور)


البتہ ایک نادر روایت میں جمعہ جائز ہونے کا بیان ہے کہ اتنے افراد ہوں کہ گاؤں کی بڑی مسجد ان سے بھر جائے تو وہاں جمعہ جائز ہے ۔


فتاوی رضویہ : میں اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : ہاں ایک روایت نادرہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے یہ آئی ہےکہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد عاقل بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہوسکے آباد ہوں کہ اگر وہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سما سکیں یہاں تک کہ انہیں جمعہ کےلیے مسجد جامع بنانی پڑے وہ صحتِ جمعہ کےلیے شہر سمجھی جائے گی ، امام اکمل الدین بابرتی رحمۃ اللہ علیہ عنایہ شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں : (وعنہ) ای عن ابی یوسف ( انھم اذا اجتمعوا) ای اجتمع من تجب علیھم الجمعۃ لاکل من یسکن فی ذلك الموضع من الصبیان والنساء والعید لان من تجب علیھم مجتمعون فیہ عادۃ قال ابن شجاع احسن ماقیل فیہ اذاکان اھلھا، بحیث لو اجتمعوا (فی اکبر مساجد لم یسعھم ذلك) حتی احتاجوا الی بناء مسجد آخر للجمعۃ ۔

ترجمہ : امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے ہے (جب وہ جمع ہوں) یعنی وہ لوگ جن پر جمعہ لازم ہے نہ کہ تمام وہ لوگ جو وہاں سکونت پذیر ہیں مثلًا بچے ، خواتین اور غلام ، ابنِ شجاع نے کہا کہ اس بارے میں سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جب جمعہ کے اہل وہاں جمع ہوں (سب سے بڑی مسجد میں ، اور اس میں ان کی گنجائش نہ ہو) حتی کہ وہ جمعہ کےلیے ایک اور مسجد بنانے پر مجبور ہوں ۔ جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے اس میں اس روایت نوادر کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگر چہ اصل مذہب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایک جماعتِ متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہر گز جمعہ خواہ عید مذہب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے ۔ (فتاوی رضویہ باب الجمعہ جلد 8 صفحہ 347 مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور)


جب جمعہ دیہات میں ہوتا ہی نہیں بلکہ ظہر ذمہ پر باقی رہتی ہے تو ظہر بدستور اذان و اقامت سے جماعت کے ساتھ ہی ادا کی جائے گی ۔


فتاوی عالمگیری میں ہے : ومن لا تجب عليهم الجمعة من أهل القرى والبوادي لهم أن يصلوا الظهر بجماعة يوم الجمعة بأذان وإقامة ۔

ترجمہ : اور جس پر جمعہ فرض نہیں ہے یعنی گاؤں ٬ دیہات والے ان کےلیے ضروری ہے کہ وہ جمعہ کے دن اذان واقامت سےظہر کی نماز باجماعت ادا کریں ۔ ( الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاة الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ جلد 1 صفحہ 145 مطبوعہ دارالفکر)


 فتاوی فیض الرسول میں ہے : جس طرح اور دنوں میں ظہر کی نماز باجماعت پڑھنا واجب ہے ایسے ہی دیہاتوں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز باجماعت پڑھنا ضروری ہے ۔ (فتاوی فیض الرسول باب صلوۃ الجمعۃ جلد 1 صفحہ 421 ٬ 422 مطبوعہ شبیر برادر لاہو)


بہار شریعت میں ہے : گاؤں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز اذان و اقامت کے ساتھ باجماعت پڑھیں ۔ (بہارشریعت جمعہ کا بیان حصہ 4 صفحہ 779 مکتبۃ المدینہ)


جب دیہات میں جمعہ جائز نہیں تو قبل الجمۃ اور بعد الجمعۃ کی سنتیں پڑھنا بھی درست نہیں بلکہ سنت ظہر ہی ادا کی جائے گی ۔


فتاوی فیض الرسول میں ہے : تو جب دیہات میں جمعہ کی نماز جائز نہیں تو قبل الجمعہ اور بعد الجمعہ کی نیت سے سنتیں پڑھنا بھی صحیح نہیں کہ شریعت کی حانب سے قبل الجمعہ اور بعد الجمعہ کی سنتوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جب ظہر کی نماز ساقط نہیں ہوتی تو اس کی سنتوں کا پڑھنا لازمی ہے کہ جمعہ کے دن بھی ظہر کی سنتوں کا مطالبہ بدستور باقی ہے ۔ (فتاوی فیض الرسول باب صلوۃ الجمعۃ جلد 1 صفحہ 407 مطبوعہ شبیر برادر لاہور) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 5 March 2026

میرے بے حس معاشرے کی دینی طلبا و غریبوں کے ساتھ ستم ظریفی



سامری حرامی ، بچھڑا اور موجودہ اسرائیلی یہودی اسی کی نسل ہیں

سامری حرامی ، بچھڑا اور موجودہ اسرائیلی یہودی اسی کی نسل ہیں

محترم قارئینِ کرام : موجودہ دور میں جب کوئی ریاکاری ، منافقت اور ہر قسم کے ہتکھنڈے استعمال کر کے جیسا کہ امریکی اسرائیلی یہودی مل کر کرتے ہیں ، کچھ نامعلوم مقاصد و اہداف کے حصول کےلیے ان سب کا استعمال کرتے ہیں تو لوگ انہیں سامری کا خطاب دیتے ہیں ۔ یاد رہے سامری حرامی تھا اور موجودہ امریکی و اسرائیلی یہودی اسی کی نسل سے ہیں اور بچھڑے کے پوجاری ہیں ۔ سامری کا اصل نام موسیٰ بن ظفر تھا یہ سامرہ قبیلے سے تھا ، جس کی وجہ سے اسے سامری کہا جاتا تھا ، اور یہ انسان ہی تھا ، جب بنی اسرائیل کے ساتھ اس نے دریا عبور کیا تو اس کے بعد یہ منافق ہو گیا اور اس نے حضرت موسی علیہ السلام کے کوہ طور پر جانے کے بعد زیورات سے بچھڑا بنایا اور اسے لوگوں کا معبود قرار دے کر لوگوں کو اس کی پوجا پر لگا دیا ، اس وجہ سے حضرت  موسیٰ علیہ السلام نے اس سے فرمایا : جا ! اب پوری زندگی تو یہ کہتا رہے گا کہ مجھ سے نہ چھو جانا ۔ اس کے بعد وہ لوگوں سے  چیخ چیخ کر کہتا پھرتا تھا کہ : مجھ سے کوئی نہ چھو جائے ۔ اور اگر وہ کسی کو چھو جاتا تھا یا کوئی اس سے چھو جاتا تھا تو دونوں کو سخت بخار ہو جاتا تھا ، اس وجہ سے وہ لوگوں سے بچ کر رہتا تھا اور لوگ اس سے بچ کر رہتے تھے ، اس کے ساتھ بات چیت ، ملاقات ، لین دین وغیرہ سارے معاملات دشوار ہو گئے تھے ، لہٰذا اس کےلیے آبادی میں رہنا دو بھر ہو گیا تھا ، پس وہ جنگل کی طرف نکل گیا ، اور جنگل میں تن تنہا وحشی جانوروں اور درندوں کے ساتھ سرگرداں رہنے لگا اور اسی حالت میں مر گیا ۔


تفسیر طبری میں ہے : كان اسم السامري موسى بن ظفر ۔

ترجمہ : سامری کا نام موسی بن ظفر تھا ۔ (تفسیر الطبری جلد 2 صفحہ 67 مؤسسة الرسالة)


تفسیر القرآن العزیز لابن ابی زمنین رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 399 ھ) میں ہے : قال قتادة و كان السامري من عظماء بني إسرائيل ، من قبيلة يقال لها : سامرة ، و لكن نافق بعدما قطع البحر مع بني إسرائيل ۔

ترجمہ : حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : سامری بنی اسرائیل کے معظم لوگوں میں سے تھا، "سامرہ" نامی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا، لیکن جب اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ دریا عبور کیا تو اس کے بعد یہ منافق ہو گیا ۔ (تفسیر القرآن العزیز جلد 3 صفحہ 125 مطبوعہ مصر)


اللہ عزوجل کا فرمان ہے : قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ (95) قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ (96) ۔ (سورہ طہ آیت نمبر 95 ، 96)

ترجمہ : موسیٰ نے کہا اب تیرا کیا حال ہے اے سامری ۔ بولا میں نے وہ دیکھا جو لوگوں نے نہ دیکھا تو ایک مٹھی بھر لی فرشتے کے نشان سے پھر اسے ڈال دیا اور میرے جی کو یہی بھلا لگا ۔


مذکورہ آیتِ مبارکہ اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کا جواب سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے سامری ! تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس کی وجہ بتا ۔ سامری نے کہا : میں نے وہ دیکھا جو بنی اسرائیل کے لوگوں نے نہ دیکھا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تو نے کیا دیکھا ؟ اس نے کہا : میں  نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا اور انہیں پہچان لیا ، وہ زندگی کے گھوڑے پر سوار تھے ، اس وقت میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں ان کے گھوڑے کے نشانِ قدم کی خاک لے لوں  تو میں نے وہاں سے ایک مٹھی بھر لی پھر اِسے اُس بچھڑے میں ڈال دیا جو میں نے بنایا تھا اور میرے نفس نے مجھے یہی اچھا کر کے دکھایا اور یہ فعل میں نے اپنی ہی نفسانی خواہش کی وجہ سے کیا کوئی دوسرا اس کا باعث و مُحرِّک نہ تھا ۔ (تفسیر مدارک صفحہ ۷۰۱،چشتی)(تفسیر خازن جلد ۳ صفحہ ۲۶۲)

 

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ کاملہ سے فارغ ہو گئے اور بنو اسرئایل کو سرزنش نہ کرنے کے متعلق ان کا عذر قبول کر لیا تو اب سامری کی طرف متوجہ ہوئے ۔ یہ ہوسکتا ہے کہ سامری اس وقت وہیں موجود ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کہیں اور ہوا اور اس کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بلایا ہو ، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے پاس حضرت موسیٰ خود گئے ہوں تاکہ اس سے خطاب کریں۔ بہرحال حضرت موسیٰ نے اس سے پوچھا تیرا کیا معاملہ ہے یعنی تو نے اس بچھڑے کو معبود کیوں بنایا تھا ؟ سامری نے کہا میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسروں نے نہیں دیکھی تو میں نے اللہ کے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لی پھر اس مٹھی بھر خاک کو بچھڑنے کے مجسمہ میں ڈال دیا ، میرے دل نے یہی بات بنائی تھی ۔ جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں رسول سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام ہیں اور اثر سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام کی سواری کے پاٶں کے نیچے کی مٹی ہے ۔ پھر اس میں اختلا ہے کہ سامری نے حضرت جبریل کو کب دیکھا تھا اکثر نے یہ کہا ہے کہ جس دن سمندر کو چیرا گیا تھا اس دن سامری نے حضرت جبریل کو دیکھا تھا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت جبریل علیہ السلام نازل ہوئے تاکہ حضرت موسیٰ کو طور پر لے جائیں تو سامری نے حضرت جبریل علیہ السلام کو لوگوں کے درمیان دیکھ لیا تھا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ اس نے حضرت جبریل کو اس لیے پہچان لیا تھا کہ سامری نے حضرت جبریل کو بچپن میں دیکھا تھا کیونکہ جب فرعون نے بنی اسرائیل کی اولاد کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا اس سال سامری پیدا ہوا اس کی ماں سامری کو ایک غار میں ڈال آئی تھی وہاں حضرت جبریل علیہ السلام آتے اور اپنا ہاتھ سامری کے منہ میں ڈالتے وہ اس کو چوستا تو اس کو غذا حاصل ہو جاتی ۔ اس وقت سے سامری کے ذہن میں حضرت جبریل علیہ السلام کی صورت نقش تھی اب اس نے ان کو دیکھا تو پہچان لیا ۔ اس نے ان کی سواری کے پاٶں کے نیچے سے مٹھی اٹھا لی اور اپنے پاس محفوظ رکھ لی اور اس نے جب بچھڑے کو بنایا تو اس کے اندر وہ مٹی ڈال دی جس کے اثر سے اس میں حیات آگئی اور وہ بیل کی سی آواز نکالنے لگا ۔


بنی اسرائیل میں ایک حرامی شخص تھا جس کا نام سامری تھا جو طبعی طور پر نہایت گمراہ اور گمراہ کن آدمی تھا ۔ اس کی ماں نے برادری میں رسوائی و بدنامی کے ڈر سے اس کو پیدا ہوتے ہی پہاڑ کے ایک غار میں چھوڑ دیا تھا اور حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اس کو اپنی انگلی سے دودھ پلا پلا کر پالا تھا ۔ اس لیے یہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو پہچانتا تھا ۔ اس کا پورا نام موسیٰ سامری ہے ۔ جن دنوں حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر معتکف تھے ۔ سامری نے آپ کی غیر موجودگی کو غنیمت جانا اور یہ فتنہ برپا کر دیا کہ اس نے بنی اسرائیل کے سونے چاندی کے زیورات کو مانگ کر پگھلایا اور اس سے ایک بچھڑا بنایا ۔ اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کے قدموں کی خاک جو اس کے پاس محفوظ تھی اس نے وہ خاک بچھڑے کے منہ میں ڈال دی تو وہ بچھڑا بولنے لگا ۔ پھر سامری نے بنی اسرائیل سے یہ کہا کہ اے میری قوم ! حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر خدا عزوجل کے دیدار کےلیے تشریف لے گئے ہیں ۔ حالانکہ تمہارا خدا تو یہی بچھڑا ہے ۔ لہٰذا تم لوگ اسی کی عبادت کرو ۔ سامری کی اس تقریر سے بنی اسرائیل گمراہ ہو گئے اور بارہ ہزار آدمیوں کے سوا ساری قوم نے چاندی سونے کے بچھڑے کو بولتا دیکھ کر اس کو خدا مان لیا ۔ اس وجہ سے حضرت موسی علیہ السلام نے اس پر ناراضی کا اظہار فرمایا ۔ (عجائب القرآن صفحہ 113،چشتی)


امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 606 ھ نے لکھا ہے کہ ابو مسلم اصفہانی رحمة اللہ علیہ نے یہ کہا ہے کہ قرآن مجید میں یہ تصریح نہیں ہے کہ طہ : 96 میں رسول سے مراد جبریل ہیں یہ صرف مفسرین کا قول ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں رسول سے مراد حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوں اور ان کے اثر سیمراد ان کی سنت اور ان کا وہ طریقہ ہو جس کا انہوں نے حکم دیا تھا اور مفہوم یہ ہو کہ جب حضرت موسیٰ نے سامری کو بچھڑے کی عبادت پر ملامت کی تو اس نے یوں کہا مجھے اس چیز کی بصیرت حاصل ہوئی جس کی اور لوگوں کو بصیرت حاصل نہیں ہوئی ۔ یعنی میں نے جان لیا آپ لوگ حق پر نہیں ہیں اور اے رسول میں نے آپ کی سنت اور آپ کے دین کا کچھ حصہ حاصل کیا تھا پھر میں نے اس کو پھینک دیا اور ترک کردیا، اور اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو خبر دی کہ اس کو دنیا اور آخرت کا عذاب ہوگا ۔


ابو مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی یہ تقریر ہرچند کہ عام مفسرین کی تفسیر کے خلاف ہے لیکن یہ تقریر حسب ذیل وجوہ سے راجح ہے اور تحقیق کے قریب ہے : ⏬


(١) حضرت جبریل کےلیے رسول کا لفظ مشہور نہیں ہے اور نہ طہ : 96 سے پہلی آیتوں میں حضرت جبریل کا ذکر ہے حتیٰ کہ یہ کہا جائے کہ الرسول میں لام عہد ہے اور اس سے مراد حضرت جبریل ہیں ۔


(٢) مفسرین کی تفسیر میں قبضۃ من اثر الرسول میں دو لفظ محذوف ماننے ہوں گے اور عبارت یوں بنے گی قبضۃ من الرحافر فرس الرسول میں نے رسول یعنی جبریل کی گھوڑی کے پیر کی خاک سے ایک مٹھی بھر لی اور حذف خلاف اصل ہے ۔


(٣) اس کی وجہ بتانی پڑے گی کہ تمام لوگوں میں سے صرف سامری نے کیسے جبریل کو دیکھا اور پہچان لیا اور یہ کیسے جان لیا کہ ان کی گھوڑی کے پائوں کی خاک میں یہ اثر ہے کہ اس سے بےجان چیز زندہ ہوجائے گی ۔ اور مفسرین نے جو یہ بیان کیا ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلم نے سامری کی اس کے بچپن میں تربیت اور پرورش کی تھی اول تو یہ بہت بعید ہے ، ثانیاً سامری نے جوان ہونے اور عقل و شعور کے کامل ہونے کے بعد جبریل کو دیکھ کر یہ کیسے پہچان لیا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے میری پیدائش کے بعد میری پرورش کی تھی ۔


(٤) اگر اس تفسیر کو مان لیا جائے تو پھر کوئی شخص یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ سامری کافر تھا اور جب اس کو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ ایک خاک کی چٹکی بےجان چیز کو زندہ کر سکتی ہے اور سامری کے ایک عمل سے بےجان مجسمہ بیل کی سی آواز نکال سکتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس طرح کی کسی چیز کا علم ہو گیا ہو جس کی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ معجزات دکھائے ہوں اور پھر معجزات کے ثبوت کا دروازہ بند ہوجائے گا ۔ (تفسیر کبیر جلد ٨ صفحہ 92 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت 1415 ھ)


سامری کی سزا و انجام : ⏬


اس کے حشر کے متعلق قرآن پاک میں ہے : قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ ۪۔ (سورہ طہ آیت نمبر 97)

ترجمہ : کہا تو چلتا بن کہ دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہ ہے کہ تو کہے چھو نہ جا ۔


سامری کی بات سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سے فرمایا : تو یہاں  سے چلتا بن اور دور ہو جا ، پس بیشک زندگی میں  تیرے لئے یہ سزا ہے کہ جب تجھ سے کوئی ایسا شخص ملنا چاہے جو تیرے حال سے واقف نہ ہو ، تو تُو اس سے کہے گا ، کوئی مجھے نہ چھوئے اور نہ میں  کسی سے چھوؤں ۔ چنانچہ لوگوں  کو مکمل طور پر سے ملنا منع کر دیا گیا اور ہر ایک پر اس کے ساتھ ملاقات ، بات چیت ، خرید و فروخت حرام کر دی گئی اور اگر اتفاقاً کوئی اس سے چھو جاتا تو وہ اور چھونے والا دونوں شدید بخار میں مبتلا ہوتے ، وہ جنگل میں یہی شور مچاتا پھرتا تھا کہ کوئی مجھے نہ چھوئے اور وہ وحشیوں  اور درندوں میں زندگی کے دن انتہائی تلخی اور وحشت میں گزارتا تھا ۔ (تفسیر مدارک صفحہ ۷۰۱،چشتی)(تفسیر خازن جلد ۳ صفحہ ۲۶۲)


حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مزید فرمایا کہ اے سامری ! تیرے شرک اور فساد انگیزی پر دنیا کے اس عذاب کے بعد تیرے لیے آخرت میں  بھی عذاب کا وعدہ ہے جس کی تجھ سے خلاف ورزی نہ کی جائے گی اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو سارا دن ڈٹ کر بیٹھا رہا اور اس کی عبادت پر قائم رہا ،قسم ہے : ہم ضرور اسے آگ سے جلائیں  گے پھر ریزہ ریزہ کرکے دریا میں  بہا دیں  گے ، چنانچہ حضرت موسیٰ صفحہ نے اس بچھڑے کے ساتھ ایسا ہی کیا ۔(تفسیر مدارک صفحہ ۷۰۱)(تفسیر خازن جلد ۳ صفحہ ۲۶۲ - ۲۶۳)


تفسیر خزائن العرفان میں ہے : یعنی سب سے علیٰحدہ رہنا نہ تجھ سے کوئی چھوئے نہ تو کسی سے چھوئے ، لوگوں سے ملنا اس کےلیے کلّی طورپر ممنوع قرار دیا گیا اور ملاقات ، مکالمت ، خرید و فروخت ہر ایک کے ساتھ حرام کر دی گئی اور اگر اتفاقاً کوئی اس سے چھو جاتا تو وہ اور چھونے والا دونوں شدید بخار میں مبتلا ہوتے ، وہ جنگل میں یہی شور مچاتا پھرتا تھا کہ کوئی چھو نہ جانا اور وحشیوں اور درندوں میں زندگی کے دن نہایت تلخی و وحشت میں گزارتا تھا ۔


سورہ طہ : 97 میں ہے موسیٰ نے کہا اب تو یہاں سے چلا جا اب تو زندگی بھر یہی کہے گا ” مجھے مت چھونا “ اور تجھ سے آخرت میں سزا کا وعدہ ہے جس سے تو ہرگز نہیں بچ سکے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو فرمایا تھا کہ اب تو زندگی بھر یہی کہے گا ” مجھے مت چھونا “ ان کی حسب ذیل تفسیریں ہیں : ⏬


(١) جب کوئی شخص اس کو چھوتا تو اس کو اور چھونے والے کو دونوں کو بخار چڑھ جاتا اس لیے جب کوئی شخص اس کو چھونے کا ارادہ کرتا تو وہ خوف سے چلاتا مجھے مت چھونا ۔


(٢) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو محلہ سے نکال دیا تھا اور اس کو کسی آبادی میں رہنے سے منع کردیا تھا اور تمام لوگوں کو اس سے ملنے جلنے سے منع کردیا تھا وہ جنگلوں اور پہاڑوں میں پڑا رہتا تھا اور افسوس سے یہ کہتا رہتا تھا مجھ سے کوئی ملتا جلتا نہیں ہے اور یہی لامساس کا معنی ہے یعنی مجھے کوئی مس نہیں کرتا کوئی چھوتا نہیں ہے ۔


(٣) لامساس کا معنی یہ ہے کہ اس کو عورتوں کے مس سے محروم کردیا گیا تھا اور اس کی نسل منقطع کردی گئی اور جسمانیفطرت کے تقاضوں کی لذت اس سے سلب کرلی گئی تھی ۔


جس بچھڑے کو اس نے معبود بنایا تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کا انجام بیان کرتے ہوئے فرمایا : اور تو اپنے اس (خود ساختہ) معبود کو دیکھ جس کی عبادت پر تو جما بیٹھا تھا ہم اس کو ضرور جلا دیں گے پھر اس کی راکھ کو اڑا کر سمندر میں پھینک دیں گے ۔ (طہ :97) 

سامری کے اس بچھڑے کے متعلق فقیر نے دو قول ذکر کیے تھے ایک یہ کہ وہ سونے کا مجسمہ تھا اور جب اس میں حضرت جبریل کی سواری کے پاٶں کے نیچے کی خاک ڈالی تو وہ اس خاک کی برکت سے بیل کی سی آواز نکالنے لگا، اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ گوشت پوست اور خون کے ساتھ زندہ ہو یا تھا ، اس آیت میں ان مفسرین کی تائید ہے جو یہ کہتے ہیں کہ وہ سونے کا مجسمہ اس خاک کی برکت سے گوشت پوست کے ساتھ زندہ ہوگیا تھا، کیونکہ اس آیت میں فرمایا ہے حضرت موسیٰ نے اس کو جلا کر راکھ دیا اور سونا جل کر راکھ نہیں ہوتا ، اس کا معنی یہ ہے کہ وہ مجسمہ گوشت ، پوست اور خون کے ساتھ زندہ ہو گیا تھا ، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو ذبح کیا اور جلا کر رکھ دیا اور جو مفسرین یہ کہتے ہیں کہ وہ سونے کا مجسمہ ہی تھا اور خاک ڈالنے کی برکت کی وجہ سے صرف بیل کی سی آواز نکالنے لگا تھا وہ اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ بیشک سونا جل کر راکھ نہیں ہوتا ، لیکن یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ تھا کہ وہ جل کر راکھ ہو گیا ۔


سامری کو ملامت کرنے اور اس کو سزا دینے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دین حق کا بیان فرمایا : تمہارا معبود تو صرف اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ، اس کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کرلیا ہے ۔ (سورہ طہ :98) ، یعنی وہ جانتا ہے کہ کون اس کی عبادت کرے گا اور کون اس کی عبادت نہیں کرے گا ۔


اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ ۔

ترجمہ : کہا تو چلتا بن کہ دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہ ہے کہ  تو کہے چھو نہ جا ۔ (سورہ طہ آیت نمبر 97)


تفسیر جلالین میں ہے : و إذا مس أحدا أو مسه أحد حما جميعا ۔

ترجمہ : سامری جب کسی کو چھوتا یا کوئی اسے چھوتا تو دونوں بخار میں مبتلا ہو جاتے ۔ (تفسیر جلالین صفحہ 415 دار الحديث القاهرة)


تفسیر روح البیان میں ہے : روى انه كان إذا ماس أحدا ذكرا او أنثى حم الماس و الممسوس جميعا حمى شديدة فتحامى الناس و تحاموه و كان يصيح بأقصى صوته لا مساس و حرم عليهم ملاقاته و مواجهته و مكالمته و مبايعته و غيرها مما يعتاد جريانه فيما بين الناس من المعاملات فصار وحيدا طريدا يهيم فى البرية مع الوحش و السباع ۔

ترجمہ : مروی ہے کہ سامری جب کسی بھی مرد یا عورت کو چھوتا تو چھونے والے اور جسے چھوا گیا ، دونوں کو شدید بخار ہو جاتا ، پس وہ لوگوں سے بچ کر رہتا اور لوگ اس سے بچ کر رہتے اور وہ اونچی آواز میں چیخ چیخ کر کہتا تھا کہ مجھ سے چھو نہ جانا ، اور لوگ اس سے ملاقات  کرنے ، اس کا سامنا کرنے ، بات چیت  کرنے ، خرید و فروخت کرنے اور دیگر وہ تمام  معاملات کرنے سے محروم ہو گئے جو عام طور پر لوگوں میں ہوتے ہیں ، پس وہ  دھتکارا ہوا ، تنہا رہ گیا اور جنگل میں وحشی جانوروں اور درندوں کے ساتھ  سرگرداں رہنے لگا ۔ (تفسیر روح البیان جلد 5 صفحہ 421 ، 422 دار الفكر بيروت،چشتی)


تفسیر مظہری میں ہے : قال له موسى فاذهب  فإن لك في الحياة الدنيا مادمت حيا عقوبة من الله على ما فعلت أن تقول لكل من رايته لا مساس  يعنى لا تمسنى و لا تقربنى ۔ قلت لعل ذلك لاجل وحشة القى الله تعالى في قلبه فكان لا يستانس من أحد و قيل كان إذا مس أحدا او مسه أحد حما جميعا و لذلك كان يقول ذلك ۔ فكان في البرية طريدا وحيدا كالوحشى النافر حتى مات ۔

ترجمہ : حضرت موسی علیہ السلام نے سامری سے فرمایا : جو تو نے کیا اس پر اللہ تعالی کی طرف سے سزا یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں جب تک تو زندہ ہے ، جسے بھی تو دیکھے گا ، اس سے کہے گا چھو نہ جا ، یعنی مجھ سے نہ چھونا نہ میرے قریب آنا ۔ میں کہتا ہوں کہ اس کی وجہ  شاید وہ وحشت ہے جو اللہ عزوجل نے اس کے دل میں ڈال دی تھی تو وہ کسی سے مانوس نہیں ہوتا تھا ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب وہ کسی کو چھوتا یا کوئی اسے چھوتا تو دونوں کو بخار ہو جاتا ، اسی لیے وہ یوں کہا کرتا تھا ، پس وہ جنگل میں بھاگنے والے وحشی جانور کی طرح  دھتکارا ہوا اکیلا رہ گیا حتی کہ مر گیا ۔ (تفسیر مظہری جلد 6 صفحہ 160 مطبوعہ لاہور) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Sunday, 1 March 2026

مسلمانوں کا آپس میں لڑنا اور خوارج کی نشانیاں و پہچان

مسلمانوں کا آپس میں لڑنا اور خوارج کی نشانیاں و پہچان

محترم قارئینِ کرام : کسی بھی مسلمان شخص کو کسی دوسرے مسلمان ملک کے خلاف جنگ میں غیر مسلم کے حق میں لڑنے کی اجازت نہیں ہے ۔ اگر وہ جنگ کرتے ہوئے قتل ہو جائے تو وہ شہید نہیں ہو گا ۔ دوسرا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے کہ وہ کتنا مجبور تھا جس کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف لڑنا پڑا ۔


حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب دو مسلمان تلوار کھینچ کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں جاتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک تو قاتل تھا لیکن مقتول کو سزا کیوں ملے گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے قاتل کے قتل پر آمادہ تھا ۔ (صحیح بخاری نمبر 6875)(صحیح مسلم نمبر 2888)


عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا ، کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو (ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو) ۔ (سنن نسائی نمبر 4130) 


أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ۔

ترجمہ : عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر (کا کام) ہے ۔ (سنن نسائی كتاب تحريم الدم حدیث نمبر 4116)(صحیح بخاری نمبر 6044)


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ "، قَالَ زُبَيْدٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ يَرْوِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، قَوْلُ زُبَيْدٍ لِأَبِي وَائِلٍ ۔

ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے ۔ زبید نے کہا : میں نے ابووائل سے پوچھا : کیا آپ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے خود سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ شعبہ کی روایت میں زبید کے ابووائل سے پوچھنے کا ذکر نہیں ہے ۔ (صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ حدیث نمبر 221)


فسق کا مطلب ہے : اللہ تعالی کی نافرمانی ۔ تومسلمان کو گالی دینا فسق ہے کا مطلب ہے کہ : مسلمان کوگالی دیناگناہ وحرام ہے ۔


اور کفر کے یہاں مختلف معانی ہو سکتے ہیں : (1) نعمت کی ناشکری جوکہ حقیقی کفر کا سبب بن سکتی ہے ۔ (2) کافروں کا سا کام ۔ (3) حقیقی کفر ، اور یہ تب ہے جبکہ مسلمان کے ساتھ ناحق قتال کو حلال سمجھ کر کرے یا اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ قتال کرے ۔ (4) اور یا پھر وعید کی شدت بیان کرنے کےلیے کفر کا اطلاق کیا گیا ۔


قتال کا مطلب ہے : لڑائی جھگڑا ، مارپیٹ ، جنگ ، قتل ۔


مذکورہ حدیثِ مبارکہ کامطلب یہ بنے گا کہ : مسلمان کو ناحق گالی دینا گناہ و حرام ہے اور مسلمان سے ناحق قتال ناشکری ہے یا کافروں کا سا کام ہے یا اسےحلال سمجھ کر کرنا کفر ہے یا مسلمان سے ناحق قتال کی بہت ہی سخت سزاہے ۔


مرقاۃ المفاتیح میں ہے : أي: شتمه۔۔۔ لأن شتمه بغير حق حرام۔ قال الأكمل: الفسوق۔۔۔شرعا هو الخروج عن الطاعة (وقتاله) أي: محاربته لأجل الإسلام (كفر) . كذا قاله شارح، لكن بُعده لا يخفى؛ لأن هذا من معلوم الدين بالضرورة فلا يحتاج إلى بيانه، بل المعنى: مجادلته ومحاربته بالباطل كفر بمعنى: كفران النعمة والإحسان في أخوة الإسلام، وأنه ربما يئول إلى الكفر، أو أنه فعل الكفرة، أو أراد به التغليظ والتهديد والتشديد في الوعيد، كما في قوله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : من ترك صلاة متعمدا فقد كفر » نعم قتاله مع استحلال قتله كفر صريح ۔

ترجمہ : (سباب سے مراد) گالی دینا ہے ، کیونکہ مسلمان کو ناحق گالی دینا حرام ہے ۔ اور اکمل نے کہا کہ فسوق کا شرعی معنی ہے اللہ پاک کی اطاعت سے نکلنا ۔ اور قتال یعنی مسلمان سے اسلام کی وجہ سے لڑنا کفر ہے ۔ اسی طرح شارح نے کہا لیکن اس کا بعید ہونا مخفی نہیں کیونکہ یہ ضروریاتِ دین سے معلوم ہے اور اس کو بیان کرنے کی کوئی حاجت نہیں بلکہ معنی یہ ہے کہ مسلمان سے نا حق لڑنا جھگڑنا کفر ہے ، ان معنی میں کہ یہ نعمت اور اسلام میں بھائی چارے کی نیکی کا انکار ہے یا پھر یہ کہ یہ کفر کی طرف لے جاتا ہے یا یہ کفار کا کام ہے یا اس سے جرم کی بڑائی ، اس سے ڈرانا اور وعید میں شدت مراد ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان میں ہے کہ : جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی تو تحقیق اس نے کفر کیا ۔ اور ہاں مسلمان کے ناحق قتل کو حلال جان کر اس سے قتال کرنا تو بلا شبہ صریح کفر ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح کتاب الآداب باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم جلد 9 صفحہ 54 مطبوعہ کوئٹہ)


مراٰۃ المناجیح میں ہے : کفر یا بمعنی کفران نعمت یعنی ناشکری ہے ، ایمان کا مقابل یعنی بلا قصور مسلمان کو برا کہنا اور بلا قصور اس سے لڑنا بھڑنا ناشکری ہے یا کفا ر کا سا کام ہے یا اسے مسلمان ہونے کی وجہ سے مارنا پیٹنا یا ناجائز جنگ کو حلال سمجھ کر کرنا کفر و بے ایمانی ہے ۔ (مراۃ المناجیح جلد 6 صفحہ 448 نعیمی کتب خانہ گجرات)


احادیث مبارکہ کی روشنی میں خوارج کی نشانیاں : ⏬


خارجیت دراصل منتشرُالخیالی اور منتشرُالعملی کا ابلیسی فتنہ ہے جس کی کوکھ سے جہالت ، درندگی ، وحشت و دہشتگردی جنم لیتی ہے ۔ یہ تاریخ اسلام میں یہ فتنہ ابتدائی زمانے میں ہی پیدا ہوگیا تھا جس نے پہلا منظم حملہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم کی مقدس جماعت پر کیا اور (نعوذباللہ) امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو کافر و مشرک قرار دیتے ہوئے ان کے قتل کا فتویٰ جاری کر دیا ۔ یہ ایک انتہا تھی ۔ قانونِ فطرت کے تحت اس کا رد عمل دوسرے بڑے فتنہ روافض کی صورت میں سامنے آیا جو کہ ایک دوسری انتہا تھی ۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اعتقادی ، فکری ، کلامی فسادات رونما ہونے میں یہی دو فتنے (خوارج و روافض) کار فرما رہے ۔ البتہ فتنہ خوارج سے آگہی و پہچان قرآن و سنت میں واضح کروا دی گئی ہے ۔ آئمہ تاریخ کی تحقیقات کے مطابق خوارج کے تقریباً بیس مختلف فرقے ہیں لیکن احادیث مبارکہ کی روشنی میں ان کے دو گروہ نمایاں ہیں ۔ پہلا نجدیہ دوسرا حروریہ ۔ البتہ تاریخ اسلام میں اہل حق طبقہ ہمیشہ اعتدال ، سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ، صبر ، قربانی ، باہمی رواداری اور جمعیت کا دامن تھامے نظر آتا ہے ۔ جسے عام اصطلاح یں ’’اہلسنت و جماعت‘‘ کہا جاتا ہے ۔


خوارج کون ہیں اور ان کے عقائد کیا ہیں ؟ اس کے بارے میں امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ‫: نافع بن الازرق خارجی اور اس کے ساتھی یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ جب تک ہم شرک کے ملک میں ہیں تب تک مشرک ہیں اور جب ملک شرک سے نکل جائیں گے تو مومن ہوں گے ان کا کہنا تھا کہ جس کسی سے گناہ کبیرہ سرزد ہوا وہ مشرک ہے اور جو ہمارے اس عقیدے کا مخالف ہوا وہ بھی مشرک ہے جو لڑائی میں ہمارے ساتھ نہ ہو وہ کافر ہے ‫۔ ابراہیم الخارجی کا عقیدہ تھا کہ دیگر تمام مسلمان قوم کفار ہیں اور ہم کو اُن کے ساتھ سلام و دُعا کرنا اور نکاح ورشتہ داری جائز نہیں اور نہ ہی میراث میں اُن کا حصہ بانٹ کر دینا درست ہے ۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کے بچے اور عورتوں کا قتل بھی جائز تھا کیونکہ اللہ تعالٰی نے یتیم کا مال کھانے پر آتش جہنم کی وعید سنائی ہے لیکن اگر کوئی شخص یتیم کو قتل کر دے یا اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے یا اس کا پیٹ پھاڑ ڈالے تو جہنم واجب نہیں ۔ (تلبس ابلیس علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ صفحہ 126 ، 127،چشتی)


(1) أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ ’، وہ کم سن لڑکے ہوں گے ۔ (بخاری، الصحيح، کتاب ، 6 : 2539، رقم : 6531۔۔مسلم، الصحيح، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066)


(2)  سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ ، دماغی طور پر ناپختہ ہوں گے ۔ (3) کَثُّ اللِّحْيَةِ ، گھنی ڈاڑھی رکھیں گے ۔ (4) مُشَمَّرُ الْإِزَارِ ،بہت اونچا تہ بند باندھنے والے ہوں گے ۔ (5) يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، یہ خارجی لوگ (حرمین شریفین سے) مشرق کی جانب سے نکلیں گے ۔ (6) لَا يَزَالُوْنَ يَخْرُجُوْنَ حَتّٰی يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ ، یہ ہمیشہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا ۔ (7) لَا يُجَاوِزُ إِيْمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ ، ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ (8) يَتَعَمَّقُوْنَ وَيَتَشَدَّدُوْنَ فِی الْعِبَادَةِ ، وہ عبادت اور دین میں بہت متشدد اور انتہاء پسند ہوں گے ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 10 صفحہ 155 رقم : 18673،چشتی)


(9) يَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ ۔ (بخاری) ، تم میں سے ہر ایک ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانے گا اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزوں کو حقیر جانے گا ۔


(10) لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ ، نماز ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی ۔ (مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066)


(11) يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَيْسَ قِرائَتُکُمْ إِلَی قِرَاءَ تِهِمْ بِشَيءٍ . وہ قرآن مجید کی ایسے تلاوت کریں گے کہ ان کی تلاوتِ قرآن کے سامنے تمہیں اپنی تلاوت کی کوئی حیثیت دکھائی نہ دے گی ۔


(12)  يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوْقَهُمْ. ’’ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی ۔


(13) يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُوْنَ أَنَّهُ لَهُمْ، وَهُوَ عَلَيْهِمْ. ’’وہ یہ سمجھ کر قرآن پڑھیں گے کہ اس کے احکام ان کے حق میں ہیں لیکن درحقیقت وہ قرآن ان کے خلاف حجت ہوگا ۔


(14) يَدْعُونَ إِلَی کِتَابِ ﷲِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْئٍ. (ابوداود باب فی قتل الخوارج) وہ لوگوں کو کتاب ﷲ کی طرف بلائیں گے لیکن قرآن کے ساتھ ان کا تعلق کوئی نہیں ہوگا ۔


(15) يَقُوْلُوْنَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ. ’’وہ (بظاہر) بڑی اچھی باتیں کریں گے ۔ (بخاری)


(16) يَقُوْلُوْنَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَوْلًا. ’’ان کے نعرے (slogans) اور ظاہری باتیں دوسرے لوگوں سے اچھی ہوں گی اور متاثر کرنے والی ہوں گی ۔ (طبرانی)


(17) يُسِيْئُوْنَ الْفِعْلَ. ’’مگر وہ کردار کے لحاظ سے بڑے ظالم، خونخوار اور گھناؤنے لوگ ہوں گے۔‘‘ (أبوداود، السنن، کتاب السنة، باب في قتال الخوارج، 4 : 243، رقم : 4765،چشتی)


(18) هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيْقَةِ. ’’وہ تمام مخلوق سے بدترین لوگ ہوں گے ۔ (مسلم)


(19) يَطْعَنُوْنَ عَلٰی أُمَرَائِهِمْ وَيَشْهَدُوْنَ عَلَيْهِمْ بِالضَّلَالَةِ. ’’وہ حکومت وقت یا حکمرانوں کے خلاف خوب طعنہ زنی کریں گے اور ان پر گمراہی و ضلالت کا فتويٰ لگائیں گے ۔

هيثمي، مجمع الزوائد، 6 : 228، وقال : رجاله رجال الصحيح.


(20) يَخْرُجُوْنَ عَلٰی حِيْنِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ . وہ اس وقت منظرِ عام پر آئیں گے جب لوگوں میں تفرقہ اور اختلاف پیدا ہو جائے گا ۔ (متفق علیہ)


(21) يَقْتُلُوْنَ أَهْلَ الإِسْلَامِ وَيَدْعُوْنَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ . وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے ۔ (متفق علیہ)


(22) يَسْفِکُوْنَ الدَّمَ الْحَرَامَ. ’’وہ ناحق خون بہائیں گے ۔ (مسلم)


(23) يَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ وَيَسْفِکُوْنَ الدِّمَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ مِنَ ﷲِ وَيَسْتَحِلُّوْنَ أَهْلَ الذِّمَّةِ . (من کلام عائشة رضي ﷲ عنها) ۔ وہ راہزن ہوں گے، ناحق خون بہائیں گے جس کا ﷲ تعاليٰ نے حکم نہیں دیا اور غیر مسلم اقلیتوں کے قتل کو حلال سمجھیں گے ۔ (یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے۔) (حاکم، المستدرک، 2 : 166، رقم : 2657)


(24) يُؤْمِنُونَ بِمُحْکَمِهِ وَيَهْلِکُونَ عِنْد مُتَشَابِهه. (قول ابن عباس رضی الله عنه) . وہ قرآن کی محکم آیات پر ایمان لائیں گے جبکہ اس کی متشابہات کے سبب سے ہلاک ہوں گے ۔ (قولِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما) (امام طبری۔عسقلانی)


(25) يَقُوْلُوْنَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يُجَاوِزُ حُلُوْقَهُمْ. (قول علي رضی الله عنه) ’’وہ زبانی کلامی حق بات کہیں گے، مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی ۔ (قولِ علی رضی اللہ عنہ) (مسلم)


(26) ينْطَلِقُوْنَ إِلَی آيَاتٍ نَزَلَتْ فِي الْکُفَّارِ فَيَجْعَلُوْهَا عَلَی الْمُؤْمِنِيْنَ . (من قول ابن عمر رضی الله عنهما) (بخاری) ۔ وہ کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق مسلمانوں پر کریں گے ۔ اس طرح وہ دوسرے مسلمانوں کو گمراہ، کافر اور مشرک قرار دیں گے تاکہ ان کا ناجائز قتل کر سکیں ۔ (قولِ ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے مستفاد)


(27) يَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّيْنِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ . وہ دین سے یوں خارج ہو چکے ہوں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے ۔


(28) اَلْأَجْرُ الْعَظِيْمُ لِمَنْ قَتَلَهُمْ. ’’ان کے قتل کرنے والے کو اجرِ عظیم ملے گا ۔ مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066،چشتی)


(29) وہ شخص بہترین مقتول (شہید) ہوگا جسے وہ قتل کر دیں گے ۔ (ترمذی)


(30) کلاب النار ۔۔ خوارج جہنم کے کتے ہیں ۔ (السنن ابن ماجہ۔ باب فی الذکر الخوارج ۔ ۱: ۶۲، رقم۔۱۷۶


متعدد احادیث مبارکہ میں فرامین رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں کہ خوارج دہشت گردوں کے گروہ امت مسلمہ کے اندر یکے بعد دیگرے نکلتے رہیں گے۔ حتی کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ جا کر ملے گا ۔


حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یخرج قوم من قبل المشر یقروون القرآن ، لایجاوز تراقیم کلما قطع قرن نشا قرن، حتی یخرج فی بقیتھم الدجال ۔

ترجمہ : مشرق کی طرف سے کئی لوگ نکلیں گے ۔ وہ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا ، جب ایک شیطانی سینگ یعنی دہشت گرد گروہ کو کاٹ دیا جائے گا تو دوسرا نکلے گا ، یعنی گروہ در گروہ پیدا ہوتے رہیں گے ۔ حتی کہ ان کے آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا ۔ (احمد بن حنبل المسند۔ ۲، ۲۰۹، رقم ۶۹۵۲)(طبرانی المعجم الاوسط۔ ۷: ۴۱، رقم ۶۷۹۱)(امام حاکم المستدرک ۔ ۴: ۵۵۶، رقم ۸۵۵۸)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Saturday, 28 February 2026

نہ مایوس ہونگے اور نہ امید کا دامن چھوڑیں گے

اللہ عزوجل جزائے خیر عطاء فرمائے اُن دوستوں کو جو اِس پُرفِتن دور میں صرف ہماری گذارش پر ادارہ پیغامُ القرآن پاکستان کے زیرِ انتظام دین کی نشر و اشاعت کرنے ، دینی تعلیم عام کرنے خصوصاً مختلف علاقوں کے دور دراز دیہاتوں کے غریب بچوں کو مفت دینی و عصری تعلیم دینے کے سلسلہ میں اور دینی کتب تفاسیر قرآن ، کتبِ احادیث عربی اردو کی شروحات ، دیگر اسلامی کتب کی خریداری کےلیے ہم پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے تعاون فرما رہے ہیں ۔ آپ بھی اس نیک کام میں شامل ہو سکتے ہیں جزاکم اللہ خیراً کثیرا آمین ۔

ایک گذارش : ہم در در پہ نہیں جاتے ، نہ جگہ جگہ چندے کے بکس رکھتے ہیں اور نہ ہی ہمارے کوئی سفیر یا اجیر مقرر ہیں ۔ بس آپ جیسے مخلص مسلمان بھائیوں ، بیٹوں ، بہنوں اور بیٹیوں پر مکمل اعتماد ہے کہ اللہ عزوجل کی رضا کےلیے آپ ہر طرح کے حالات میں اس نیک مشن میں حسبِ  توفیق تعاون فرماتے رہیں گے اور ہم کسی بھی طرح کے حالات میں نہ مایوس ہونگے اور نہ امید کا دامن چھوڑیں گے ۔ ہمارا کام ہے صدا دینا سُو یہ صدا ہم دیتے رہیں گے ان شاء اللہ ۔

ہمارے اکاؤنٹ نمبرز یہ ہیں : میزان بینک اکاؤنٹ نمبر : 02520107640866 لاہور پاکستان ۔ موبی کیش اکاؤنٹ نمبر : 03009576666 ۔ ایزی  پیسہ اکاؤنٹ نمبر : 03469576666 ۔ موبی کیش و ایزی  پیسہ اکاؤنٹ نمبر : 03215555970 ۔ (دعا گو ڈاکٹر مفتی فیض احمد چشتی)



جمعہ اور عید دن جمع ہوجائیں تو شرعی حکم

جمعہ اور عید دن جمع ہوجائیں تو شرعی حکم محترم قارئینِ کرام : اگر عید جمعہ کے دن آ جائے تو دونوں نمازیں اپنے اپنے مقررہ اوقات پر حسبِ معمول ا...