Saturday, 30 May 2026

حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 12 ذی الحجہ ہے یا 18 ذی الحجہ

حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 12 ذی الحجہ ہے یا 18 ذی الحجہ











محترم قارئینِ کرام : اٹھارہ (18) ذوالحج کو شیعہ لوگ عید غدیر مناتے ہیں کہتے ہیں کہ اس روز حجۃ الوداع سے واپسی پر غدیر خم مقام پے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : میں جس کا مولا علی اس کا مولی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے شیعہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس فرمان کے ذریعے اپنا خلیفہ بلافصل بنایا ۔ اٹھارہ 18 ذی الحج جو کہ خلیفہ راشد دُہرے دامادِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا یومِ شہادت ہے عین اُس دن رافضی شیعہ اور اب اُن کے نقشِ قدم پر چلنے والے سنیوں کے لبادے میں چھپے نیم رافضی جشنِ غدیر منا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ؟


حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 35 ہجری 18 ذی الحجہ بروز جمعہ کو ہوئی ۔ صحیح ترین کتابی و عقلی دلاٸل سے ان کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ ہی ثابت ہے ۔ سب سے پہلے میں کچھ چیزیں بیان کر دیتا ہوں جن پر سب کا اتفاق ہے ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ 35 ہجری کو شہید ہوئے ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن شہید ہوئے ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہادت کے وقت روزے سے تھے ۔ لوگوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنا 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع کر دیا ۔ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت تمام لوگوں نے 25 ذی الحجہ بروز جمعہ تک مکمل کر لی تھی ۔ ان تمام چیزوں کو ذہن نشین کر لیں کیونکہ اس سے پوسٹ کو سمجھنے میں آسانی ہو گی ۔ کچھ لوگ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 12 ذی الحجہ بروز جمعہ بتاتے ہیں ۔ ان کی دلیل ابو عثمان النہدی علیہ الرحمہ کا قول ہے کہ ایام تشریق (11 ، 12 ، 13 ذی الحجہ) کے درمیان میں (یعنی 12 کو) شہید ہوئے ۔ یہ قول مردود ہے ۔ ابو عثمان نہدی علیہ الرحمہ کا صحیح و صریح قول 18 ذی الحجہ کا ہی ہے ۔ جو کہ ہم آگے بیان کریں گے ۔


اب ہم مفصل دلائل سے حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ ثابت کریں گے ۔


حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا شہادت کے وقت روزے سے ہونا : ⏬


حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا شہادت کے وقت روزے سے ہونا ہی ایامِ تشریق میں شہادت نا ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سال میں پانچ دنوں کے بارے میں فرمایا یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔ عید الفطر کا دن ، عید الاضحٰی کا دن ، اور ایام تشریق کے تین دن (11 ، 12 ، 13) ۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 2677،چشتی)


اور اعلیٰ حضرت علیہ الحمہ سے بھی پوچھا گیا کہ ان پانچ دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیوں کیا گیا ؟

تو آپ نے فرمایا : یہ دن اللہ کی طرف سے بندوں کی دعوت کے دن ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 10 صفحہ 355)


اب ہم آتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہادت کے دن روزے سے تھے : ⏬


طبری نے اپنی صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اس دن انہوں نے خواب دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو فرما رہے ہیں کہ آج آپ افطار ہمارے ساتھ کریں گے ۔ (تاریخ طبری صحیح باب ذکر الخیر عن قتل عثمان رضی اللہ عنہ صفحہ 343)


اس کے علاوہ بھی کئی دلائل ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہادت کے وقت روزے سے تھے ۔


اب ہم آتے ہیں کہ شہادت حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کب شروع ہوئی اور کب ختم ہوئی ۔


حافظ ابنِ کثیر اور طبری نے نقل کیا ہے کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع ہوئی ۔ (تاریخ ابنِ کثیر جلد 7 صفحہ 299)


اب یہاں پر یہ چیز ذہن نشین کر لیں کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت لوگوں نے 19 ذی الحجہ کو شروع کی اور وہ ہفتے کا دن تھا ۔


اب ہم آتے ہیں کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کس دن مکمل ہوئی ۔


امام طبری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت جمعہ کے دن کی گئی اس وقت ماہِ ذی الحجہ ختم ہونے میں پانچ روز باقی تھے ۔ (یعنی 25 تاریخ کو کی گئی) ۔ (تاریخ طبری جلد 3 حصہ دوم صفحہ 28،چشتی)


اور ابنِ کثیر نے بھی نقل کیا ہے کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ مکمل ہوئی ۔ (تاریخ ابنِ کثیر جلد 7 صفحہ 300)


اس سے ثابت ہوا کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ مکمل ہوئی ۔


اب ہم آتے ہیں حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کس تاریخ کو ہوئی ۔


امام ابنِ خلدون رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہوئی ۔ (تاریخ ابنِ خلدون جلد 2 صفحہ 364)


اور حافظ ابنِ کثیر نے بھی یہی لکھا ہے کہ مشہور قول کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ 18 ذی الحجہ بروز جمعہ کو شہید ہوئے اور آپ کی تدفین سے پہلے لوگوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع کر دی تھی ۔ (تاریخ ابنِ کثیر: جلد 7 صفحہ 299)


یہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تدفین سے پہلے ہی حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع ہو گئی تھی اور صحیح ترین اقوال سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو تین دن تک دفن نہیں کیا گیا تھا ۔ اور حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 19 تاریخ کو شروع ہوئی ۔ تو واضح معلوم ہو رہا ہے کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 18 تاریخ ہی ہے ۔


امام طبری صحیح سند کے ساتھ قول نقل کیا ہے کہ ابو عثمان النہدی اور دوسرے راویوں علیہم الرحمہ کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو 18 ذی الحجہ بروز جمعہ شہید کیا گیا ۔ (تاریخ طبری الجزالرابع باب 35 ہجری کے واقعات صفحہ ۴۱۷ ، ۴۱۸ )(تاریخ طبری مترجم اردو جلد 3 حصہ اول صفحہ 476،چشتی)


نوٹ : جیسا کہ آپ کو معلوم ہے طبری کے اردو ترجمے میں اسناد بیان نہیں کی گئیں اس لیے اردو ترجمے میں یہ لکھا گیا ہے کہ سیف کی مشہور سلسلہ روایت کے مطابق حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ ہے ۔ تو جب آپ عربی نسخہ دیکھیں گے تب آپ کو معلوم ہو گا کہ یہاں ابو عثمان نہدی علیہ الرحمہ کا قول نقل کیا گیا ہے ۔


صحیح ترین اقوال سے ثابت ہوا کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 18 ذی الحجہ ہے اور ابو عثمان نہدی علیہ الرحمہ کا بھی یہی قول ہے جو کہ حادثے کے معاصر ہیں ۔


تو اب ہم زرا عقلی دلائل کی طرف آتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ہی ہے ۔


1 : اب آپ کو وہ تمام چیزیں دوبارہ ذہن میں لانی ہوں گیں جن کے بارے میں نے کہا تھا کہ ان کو یاد کر لیں ۔


2 : حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن شہید ہوئے ۔


4: لوگوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنا 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع کر دیا ۔


5 : حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت تمام لوگوں نے 25 ذی الحجہ بروز جمعہ تک مکمل کر لی تھی ۔


اب ہم تاریخ اور دن کے حساب سے یہ فیصلہ کریں گے کہ صحیح قول کون سا ہے ۔


اب وقتی طور پر ہم یہ مان لیتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 12 ذی الحجہ بروز جمعہ کو ہوئی اور اس دن سے لے کر 25 ذی الحجہ تک چلتے ہیں کہ کیا روایات کے مطابق اس لحاظ سے 25 تاریخ کو جمعہ کا دن بنتا ہے یا نہیں ؟


12 : جمعہ


13 : ہفتہ


14 : اتوار


15 : سوموار


16 : منگل


17 : بدھ


18 : جمعرات


19 : جمعہ (یہاں ہی تاریخ غلط ہو گئی ہے کیونکہ روایات کے مطابق 19 کو حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع ہوئی اور تب ہفتے کا دن تھا ۔ خیر ہم آگے چلتے ہیں ۔


20 : ہفتہ


21 : اتوار


22 : سوموار


23 : منگل


24 : بدھ


25 : جمعرات (یہاں پھر سے غلطی آگئی ہے کیونکہ روایات کے مطابق حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ کو مکمل ہو گئی اور اس حساب سے یہاں جمعرات بنتا ہے جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ 12 ذی الحجہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن نہیں ۔


اب ہم راجح قول کے مطابق حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ مانتے ہیں اور یہی حساب دوبارہ کرتے ہیں ۔


18 : جمعہ 


19 : ہفتہ (یہ حساب یہاں ہی درست ثابت ہو گیا کیونکہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بیعت 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ شروع ہوئی ، آگے چلتے ہیں ۔


20 : اتوار


21 : سوموار


22 : منگل


23 : بدھ


24 : جمعرات (یہاں بھی درست ہو گیا کیونکہ 24 ذی الحجہ بروز جمعرات کو کوفیوں میں سب سے پہلے اشتر نخعی نے آپ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی)


25 : جمعہ (بیعت مکمل ہونے کا دن جمعہ)


تو تمام روایات کے مطابق 18 ذی الحجہ ہی حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن ہے کیونکہ باقی تمام روایات و شواہد پر یہی تاریخ پوری اترتی ہے ۔


اہلِ تشیع ویب سائیٹ ویکی شیعہ پر بھی حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہی لکھی ہوئی ہے ۔ (ویکی شیعہ ، حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا بیان : باب معاصرہ اور قتل)


ہم نے الحمد للہ کتابی و عقلی دلائل سے یہ ثابت کیا کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 35 ہجری 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہے ۔ اور تمام عقلی دلائل سے بھی یہی تاریخ ثابت ہے ۔ اور اس کے علاوہ کے اقوال کوئی حقیقت نہیں رکھتے ۔


شہیدِ مظلوم حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ : ⏬


محترم قارئینِ کرام : سلطنت کسریٰ کی دورِ فاروقی میں دھجیاں اڑ گئیں‘ اس کا تو وجود ہی باقی نہیں رہا لہٰذا جہاں تک انتقامی جذبات کا معاملہ ہے تو وہ سب سے زیادہ شدید ایرانیوں کے اندر موجزن تھے ۔ اسی سے آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایرانیوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اتنا بغض کیوں ہے ؟ اسی کا مظہر ہے کہ ایران میں جیسے دوسرے اکابر اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے مقبروں کی شبیہیں اور تصویریں بطور تقدس چھپتی اور گھروں میں لگائی جاتی ہیں‘ اسی طرح اس بدبخت ابولولو فیروز مجوسی کی قبر کی شبیہیں اور تصویریں فروخت ہوتی ہیں جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی جلیل القدر شخصیت‘ خلیفہ ٔراشد اور امیر المؤمنین کا قاتل تھا‘ اور ستم بالائے ستم یہ کہ ان کے نیچے یہ عبارت لکھی ہوتی ہے : قبر مبارک حضرت ابولولوفیروز ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَـیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔ اس ناہنجار مجوسی کی قبر کی تقدیس اور اس کے نام کی توقیر صرف اس لیے کہ اس نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حیاتِ مبارکہ کا چراغ بجھایا تھا‘ جو ایران کے حقیقی فاتح تھے ۔ اب آپ غورکیجیے کہ اسلام کے خلاف دو طرفہ سازشیں شروع ہوئیں ۔ ایک جانب یہودیوں کی طرف سے جو مذہبی سیادت کے لحاظ سے زخم خوردہ تھے اور دوسری جانب ان مجوسیوں کی طرف سے جو چاہے بظاہر مسلمان ہو گئے ہوں ‘لیکن جو سلطنت کسریٰ کے پرخچے اڑ جانے کی وجہ سے شکست خوردہ تھے اور آتش انتقام میں جل رہے تھے ۔ نتیجتاً مذہبی اعتبار سے انتقام کے سب سے زیادہ شدید جذبات یہودیوں میں تھے اورسیاسی اعتبار سے سب سے زیادہ انتقام کے جذبات ایرانیوں میں تھے. یہ دونوں ہی چاہتے تھے کہ اللہ کے دین کے چراغ کو اپنی ریشہ دوانیوں‘ سازشوں اور افواہوں سے بجھا دیں ۔


اس انتقام کی پہلی کڑی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت تھی‘ اور اس کے ذریعے خلافت اسلامی کو سبوتاژ کرنا مقصود تھا‘ لیکن اسلام کے دشمنوں کو اپنے اس مقصد میں کامیابی حاصل نہ ہوئی ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تخت خلافت پر متمکن ہونے کے بعد حالات پر پوری طرح قابو پا لیا‘ بلکہ داخلی امن وامان اور استحکام کے ساتھ تمام شورشیں اور بغاوتیں نہ صرف فرو کر ڈالیں بلکہ فتوحات کا دائرہ وسیع تر ہونے لگا تو اب یہودی سازشی ذہن اور آگے بڑھا اور اُس نے اپنی وہ خفیہ کارروائیاں تیز کر دیں جن کی داغ بیل عبداللہ بن سبا یہودی ، دورِ صدیقی رضی اللہ عنہ میں ڈال چکا تھا ۔ اس سازشی کام کےلیے اس کو ایران کی زمین سب سے زیادہ سازگار نظرآئی ۔ یہاں وہ عنصر بھی اچھی خاصی تعدا د میں موجود تھا جو بظاہر مسلمان لیکن ذہناً مجوسی اور شاہ پرست تھا اور انتقام کی آگ میں جل رہا تھا‘ اور وہ سیدھے سادے عوام بھی موجود تھے جن کی گھٹی میں شخصیت پرستی اور ہیرو ورشپ (Heroworship) پڑی ہوئی تھی اور جو ہر بڑے اور ہر مقدس شخص کے گھر والوں کو بھی بڑا اور مقدس سمجھنے کے صدیوں سے خوگر تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ عبداللہ بن سبا کی سازش پال کی سازش سے کم نہیں تھی ۔

 

شہادت حضرت عثمان غنی رضی عنہ کی خبر


عَنْ قَتَادَةَ : أَنَّ أَنَسًا رضي الله عنه حَدَّثَهُمْ قَالَ : صَعِدَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم أُحُدًا، وَ مَعَهُ أَبُوْبَکْرٍ وَ عُمَرُ وَ عُثْمَانُ، فَرَجَفَ، وَ قَالَ اسْکُنْ أُحُدُ، أَظُنُّهُ ضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ. فَلَيْسَ عَلَيْکَ أَحَدٌ إِلَّا نَبِيٌّ وَ صِدِّيْقٌ وَ شَهِيْدَانِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ ۔

ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوہِ اُحد پر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنھم تھے، تو اسے وجد آگیا (وہ خوشی سے جھومنے لگا) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اُحد! ٹھہر جا۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قدم مبارک سے ٹھوکر بھی لگائی اور فرمایا کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب مناقب عثمان بن عفان، 3 / 1353، الحديث رقم : 3496،چشتی)(والترمذي في الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في مناقب عثمان بن عفانص، 5 / 624، الحديث رقم : 3697)(و أبوداؤد في السنن، کتاب السنة، باب في الخلفاء، 4 / 212، الحديث رقم : 4651)(و النسائي في السنن الکبري، 5 / 43، الحديث رقم : 8135)


عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ أنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم کَانَ عَلٰي حِرَاءَ هُوَ وَ أَبُوْبَکْرِ وَ عُمَرُ وَ عُثْمَانُ وَ عَلِيٌّ وَ طَلْحَةُ وَ الزُّبَيْرُ فَتَحَرَّکَتِ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم إِهْدَأْ، فَمَا عَلَيْکَ إلاَّ نَبِيٌّ أَوْصِدِّيْقٌ أَوْشَهِيْدٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَ التِّرْمِذِيُّ ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ ۔ وَ فِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ، وَسَعِيْدِ بْنِ زَيْدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالکٍ، وَبُرَيْدَةَ ۔

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرا پہاڑ پر تشریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنھم تھے اتنے میں پہاڑ لرزاں ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ٹھہر جا، کیونکہ تیرے اوپر نبی، صدیق اور شہید کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ اِس حدیث کو امام مسلم اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس باب میں اسی مضمون کی احادیث عثمان، سعید بن زید، ابن عباس، سہل بن سعد، انس بن مالک اور بریدہ اسلمیٰ سے مذکور ہیں ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل طلحة والزبير رضي الله عنه، 4 / 1880، الحديث رقم : 2417)(والترمذي فيالجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في مناقب عثمان بن عفان، 5 / 624، الحديث رقم : 3696،چشتی)(و ابن حبان في الصحيح، 15 / 441، الحديث رقم : 6983)(و النسائي في السنن الکبريٰ، 5 / 59، الحديث رقم : 8207)


عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : ذَکَرَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فِتْنَةً فَقَالَ : يُقْتَلُ هَذَا فِيْهَا مَظْلُومًا لِعُثْمَانَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.وَ قَالَ هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ ۔

ترجمہ : حضرت عبدﷲ ابن عمر رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنہ کا ذکر کیا اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا کہ اس میں یہ مظلوماً شہید ہو گا۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا : یہ حدیث حسن ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في مناقب عثمان، 5 / 630، الحديث رقم : 3708)


عَنْ أَبِيْ سَهْلَةَ قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ يَوْمَ الدَّارِ : إِنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ ابْنُ مَاجَةَ.وَ قاَلَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ۔

ترجمہ : حضرت ابو سہلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھ سے محاصرہ کے دن فرمایا: کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک وصیت فرمائی تھی اور میں اسی پر صابر ہوں۔ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اورامام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في مناقب عثمان، 5 / 631، الحديث رقم : 3711)(و ابن ماجه في السنن، 1 / 42، الحديث رقم : 113،چشتی)(و ابن حبان في الصحيح، 15 / 356، الحديث رقم : 6918)(و ابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 515، الحديث رقم : 37657)


عَنْ مُسْلِمٍ أَبِيْ سَعِيْدٍ مَوْلٰي عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : أَنَّ عُثْمَانَ أَعْتَقَ عِشْرِيْنَ مَمْلُوْکاً، وَدَعَا بِسَرَاوِيْلَ فَشَدَّهَا عَلَيْهِ، وَلَمْ يَلْبَسْهَا فِي جَاهِلِيَةٍ وَلاَ إِسْلاَمٍ، وَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم الْبَارِحَةَ فِي الْمَنَامِ وَرَأَيْتُ أَبَا بَکْرٍ وَ عُمَرَ، وَأَنَّهُمْ قَالَوْا لِي : اصْبِرْ، فَإِنَّکَ تُفْطِرُ عِنْدَنَا الْقَابِلَةَ فَدَعَا بِمُصْحَفٍ فَنَشَرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقُتِلَ وَهُوَ بَيْنَ يَدِيْهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ ۔

ترجمہ : حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خادم حضرت مسلم (ابو سعید) سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بیس غلاموں کو آزاد کیا اور ایک پاجامہ منگوایا اور اسے زیب تن کر لیا، اسے آپ نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں کبھی پہنا تھا اور نہ ہی زمانۂ اسلام میں، پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے گذشتہ رات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ابو بکر و عمر رضی ﷲ عنہما بھی ہیں، ان سب نے مجھے کہا ہے (اے عثمان) صبر کرو پس بے شک تم کل افطاری ہمارے پاس کرو گے پھرآپ رضی اللہ عنہ نے مصحف منگوایا اور اس کو اپنے سامنے کھول کر تلاوت فرمانے لگے اوراسی اثنا میں آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا اور وہ مصحف آپ کے سامنے ہی تھا۔ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 72، الحديث رقم : 526)(و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 96)(و المناوي في فيض القدير، 1 / 110)


عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَرْسَلَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إلَي عُثْمَانَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَکَانَ آخِرُ کَلَامٍ کَلَّمَهُ أَنْ ضَرَبَ مَنْکِبَهُ وَ قَالَ : يَا عُثْمَانُ إِنَّ ﷲَ عَسَي أَنْ يُلْبِسَکَ قَمِيْصًا فَإِنَ أَرَادَکَ الْمُنَافِقُوْنَ عَلَي خَلْعِهِ فَ. لَا تَخْلَعْهُ حَتَّي تَلْقَانِيْ فَذَکَرَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ ۔

ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنھا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی طرف بلا بھیجا جب وہ آئے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف بڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ جو آخری کلام فرمایا : وہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے کندھے پر (ہاتھ) مارا اور فرمایا : اے عثمان بے شک ﷲ تعالیٰ تمہیں (خلافت کی) قمیص پہنائے گا اگر منافقین اس کو اتارنے کا ارادہ کریں تو اس کو ہرگز نہ اتارنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو پس آپ نے تین مرتبہ ایسا فرمایا اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 86، الحديث رقم : 24610)(والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 90)(و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 500، الحديث رقم : 816)


عَنِ بْنِ حَوَالَةَ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ هُوَ جَالِسٌ فِي ظِلّ دَوْمَةَ وَ عِنْدَهُ کَاتِبٌ لَهُ يُمْلِيْ عَلَيْهِ فَقَالَ : أَلَا أَکْتُبُکَ يَا بْنَ حَوَالَةَ قُلْتُ : لَا أَدْرِي مَا خَارَ ﷲُ لِي وَ رَسُوْلُهُ فًأَعْرَضَ عَنِّي وَ قَالَ إِسْمَاعِيْلُ مَرَّةً فِي الأُوْلٰي نَکْتُبُکَ يَا بْنَ حَوَالَةَ قُلْتُ : لَا أَدْرِيْ فِيْمَ يَارَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَأَعْرَضَ عَنِّيْ فَأَکَبَّ عَلَي کَاتِبِهِ يُمْلِيْ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : أَنَکْتُبُکَ يَا بْنَ حَوَالَةَ قُلْتُ : لَا أَدْرِي مَا خَارَ ﷲُ وَ رَسُوْلُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّيْ فَأَکَبَّ عَلَي کَاتِبِهِ يُمْلِيْ عَلَيْهِ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِي الْکِتَابِ عُمَرُ فَقُلْتُ : إِنَّ عُمَرَ لَا يُکْتَبُ إِلَّا فِي خَيْرٍ ثُمَّ قَالَ : أَنَکْتُبُکَ يَا بْنَ حَوَالَةَ قُلْتُ : نَعَمْ فَقَالَ : يَا بْنَ حَوَالَةَ کَيْفَ تَفْعَلُ فِي فِتْنَةٍ تَخْرُجُ فِي أَطْرَافِ الأَرْضِ کَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ قُلْتُ لَا أَدْرِي مَا خَارَ ﷲُ لِي وََرسُوْلُهُ قَالَ : وَ کَيْفَ تَفْعَلُ فِي أُخْرٰي تَخْرُجُ بَعْدَهَا کَأَنَّ الأُوْلٰي فِيْهَا انْتَفَاحَةُ أَرْنَبٍ قُلْتُ : لَا أَدْرِي مَا خَارَ ﷲُ لِيْ وَ رَسُوْلُهُ قَالَ : اتَّبِعُوْا هَذَا قَالَ : وَ رَجُلٌ مُقَفٍّ حِيْنَئِذٍ قَالَ : فَانَطَلَقْتُ فَسَعَيْتُ وَ أَخَذْتُ بِمَنْکِبَيْهِ فَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَي رَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَقُلْتُ : هَذَا قَالَ نَعَمْ وَ إِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ص. رَوَاهُ أَحْمَدُ ۔

ترجمہ : حضرت ابن حوالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دومہ درخت کے سائے تلے بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کاتب بھی بیٹھا ہوا تھا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم املاء کروا رہے تھے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ کیا میں تمہیں لکھ نہ دوں؟ میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ ! معلوم نہیں کہ ﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لئے کیا اختیار کر رکھا ہے؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف سے چہرہ اقدس پھیر لیا اور اسماعیل کہتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی مرتبہ فرمایا اے ابن حوالہ کیا ہم تمہیں لکھ نہ دیں؟ راوی بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ ! مجھے نہیں معلوم کس معاملے میں؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے چہرہ اقدس پھیر لیا اور اپنے کاتب کو املاء کروانے میں مشغول ہوگئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ ہم تمہیں لکھ نہ دیں تو میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! میں نہیں جانتا کہ ﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لئے کیا اختیار کر رکھا ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے چہرہ اقدس پھیر لیا اور اپنے کاتب کو املا لکھوانے میں مشغول ہوگئے پھر میں نے اچانک دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نام لکھا ہوا ہے اس پر میں نے کہا عمر کا نام ہمیشہ بھلائی میں لکھا ہوگا پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ ہم تمہیں لکھ نہ دیں تو میں نے عرض کیا ہاں یا رسول ﷲ! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ تو اس فتنہ میں کیا کرے گا جو زمین کے چاروں اطراف سے نکلے گا گویا وہ گائے کے سینگ ہیں ۔ میں نے عرض کیا میں نہیں جانتا کہ ﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لئے کیا اختیار کر رکھا ہے۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اس دوسرے فتنے میں کیا کرو گے جو پہلے فتنے کے بعد ہوگا گویا پہلا فتنہ خرگوش کے نتھنے کے برابر ہوگا میں نے عرض کیا کہ میں نہیں جانتا کہ میرے لئے ﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا اختیار کر رکھا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اشارہ کر کے) فرمایا : اس شخص کی پیروی کرنا اور وہ شخص اس وقت پیٹھ پھیر کر جا چکا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں میں چلا اور تیزی سے دوڑا اور اس شخص کو کندھے سے پکڑ لیا اور اس کا چہرہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف موڑا اور میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا یہی وہ شخص ہے (جس کی پیروی کرنے کا آپ نے حکم فرمایا ہے) ؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں، جب میں نے دیکھا تو وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے ۔ اس حدیث کو احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 109)(و الهيثمي في مجمع الزوائد، 7 / 225،چشتی)(و المقدسي في الأحاديث المختارة، 9 / 284)


عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : ذَکَرَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا وَ عَظَّمَهَا قَالَ : ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ فِيْ مِلْحَفَةٍ فَقَالَ : هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَي الْحَقِّ فَانْطَلَقْتُ مُسْرِعًا اَوْ قَالَ مُحْضِرًا فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْهِ فَقُلْتُ : هَذَا يَا رَسُوْلَ ﷲِ، قَالَ : هَذَا فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ ۔

ترجمہ : حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنہ کا ذکر فرمایا اور اس کے قریب اور شدید ہونے کا بیان کیا۔ راوی کہتے ہیں پھر وہاں سے ایک آدمی گزرا جس نے چادر میں اپنے سر اور چہرے کو ڈھانپا ہوا تھا (اس کو دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس دن یہ شخص حق پر ہوگا پس میں تیزی سے (اس کی طرف) گیا اور میں نے اس کو اس کی کلائی کے درمیان سے پکڑ لیا پس میں نے عرض کیا یہ ہے وہ شخص یا رسول ﷲ ! (جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ زمانۂ فتنہ میں یہ حق پر ہو گا) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں. پس وہ عثمان بن عفان تھے ۔ اس حدیث کو احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 242)(و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابه، 1 / 450، الحديث رقم : 721)


عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ : کُنَّا نَحْنُ مُعَسْکِرِيْنَ مَعَ مُعَاوِيَةَ، بَعْدَ قَتْلِ عُثْمَانَ، فَقَامَ کَعْبُ بْنُ مُرَّةَ الْبَهْزِيُّ فَقَالَ : لَوْلَا شَيْئٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم مَا قُمْتُ هَذَا الْمَقَامَ. فَلَمَّا سَمِعَ بِذِکْرِ رَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم أَجْلَسَ النَّاسَ. فَقَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إِذْ مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ مُرَجِّلًا. قَالَ : فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : ’’لَتخْرُجَنَّ فِتْنَةٌ مِنْ تَحْتِ قَدَمَيَّ، أَوْ مِنْ بَيْنَ رِجْلَيَّ هَذَا، هَذَا يَوْمَئِذٍ وَمَنِ اتَّبَعَهُ عَلَي الْهُدٰي. فَقَامَ بْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ مِنْ عِنْدِ الْمِنْبَرِ فَقَالَ : إِنَّکَ لَصَاحِبُ هَذَا؟ فَقَالَ نَعَمْ!، قَالَ : وَﷲِ إِنِّي لَحَاضِرٌ ذَلِکَ الْمَجْلِسَ، وَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي فِي الْجَيْشِ مُصَدِّقًا لَکُنْتُ أَوَّلَ مَنْ تَکَلَّمَ بِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَ الْطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ ۔

ترجمہ : حضرت جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد امیر معاویہ کے لشکر میں تھے پس کعب بن مرہ بہزی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فلاں چیز نہ سنی ہوتی تو آج میں اس مقام پر کھڑا نہ ہوتا پس جب انہوں (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ) نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر سنا تو لوگوں کو بٹھا دیا اور کہا : ایک دن ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ وہاں سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پیدل گزرے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ضرور بالضرور اس جگہ سے جہاں میں کھڑا ہوں ایک فتنہ نکلے گا، یہ شخص اس دن (مسند خلافت پر) ہو گا جو اس کی اتباع کرے گا وہ ہدایت پر ہوگا پس عبدﷲ بن حوالہ ازدی منبر کے پاس سے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تو اس آدمی کا دوست ہے؟ انہوں نے کہا ہاں! ابن حوالہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم جس مجلس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا میں اس مجلس میں موجود تھا اور اگر میں جانتا ہوتا کہ اس لشکر میں میری تصدیق کرنے والا کوئی موجود ہے تو سب سے پہلے یہ بات میں ہی کر دیتا۔ اس حدیث کو امام احمد نے مسند میں اور امام طبرانی نے ’’المعجم الکبير‘‘ میں بیان کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 236)(و الطبراني في المعجم الکبير، 20 / 316، الحديث رقم : 753،چشتی)(و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 89)(و الشيباني في الأحاد و المثاني، 3 / 66، الحديث رقم : 1381)


عَنِ بْنِ عُمَرَ رضي ﷲ عنهما أَنَّ عُثْمَانَ أَصْبَحَ فَحَدَّثَ فَقَالَ : إِنِّيْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم فِي الْمَنَامِ اللَّيْلَةَ فَقَالَ : يَا عُثْمَانُ! أَفْطِرْ عِنْدَنَا فَأَصْبَحَ عُثْمَانُ صَائِمًا فَقُتِلَ مِنْ يَوْمَهِ ص. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَ قَالَ هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ ۔

ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ صبح کے وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے (ہمیں) فرمایا : بے شک میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گذشتہ رات خواب میں دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے : اے عثمان! آج ہمارے پاس روزہ افطار کرو۔ پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے روزہ کی حالت میں صبح کی اور اسی روز آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ۔ اس حدیث کو حاکم نے روایت کیا ہے اور انہوں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 110، الحديث رقم : 4554)


عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ رضي ﷲ عنهما قَالَ : کُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم إِذْ أَقْبَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ قَالَ : يَا عُثْمَانُ! تُقْتَلُ وَ أَنْتَ تَقْرَأُ سُوْرَةَ الْبَقْرَةِ فَتَقَعُ مِنْ دَمِکَ عَلَي (فَسَيَکْفِيْکَهُمُ ﷲُ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ) وَ تُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمِيْرًا عَلَي کُلِّ مَخْذُوْلٍ يَغْبِطُکَ أَهْلُ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرَبِ وَ تَشْفَعُ فِي عَدَدِ رَبِيْعَةَ وَ مُضَرٍ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ ۔

ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے۔ جب وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عثمان! تمہیں شہید کیا جائے گا درانحالیکہ تو سورۂ بقرہ کی تلاوت کر رہے ہو گے اور تمہارا خون اس آیت (فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيم) پر گرے گا اور قیامت کے روز تم ہر ستائے ہوئے پر حاکم بنا کر اٹھائے جاؤ گے اور تمہارے اس مقام و مرتبہ پر مشرق و مغرب والے رشک کریں گے اور تم ربیعہ اور مضر کے لوگوں کے برابر لوگوں کی شفاعت کرو گے ۔ اس حدیث کو حاکم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 110، الحديث رقم : 4555)


عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَادٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا يَوْمَ الْجَمَلِ يَقُوْلُ : أَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَبْرَأُ إِلَيْکَ مِنْ دَمِ عُثْمَانَ، وَ لَقَدْ طَاشَ عَقْلِي يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ، وَأَنْکَرْتُ نَفْسِي وَجَاؤُوْنِيْ لِلْبَيْعَةِ فَقُلْتُ : وَﷲِ إِنِّي لَأَسْتَحِي مِنَ ﷲِ أَنْ أُبَايِعَ قَوْمًا قَتَلُوْا رَجُلًا قَالَ لَهُ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَلاَ أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلاَئِکَةُ، وَ إِنِّيْ لَأَسْتَحْيِي مِنَ ﷲِ أَنْ أُبَايِعَ وَعُثْمَانُ قَتِيْلٌ عَلَي الْأَرْضِ لَمْ يُدْفَنْ بَعْدُ. فَانْصَرَفُوْا، فَلَمَّا دُفِنَ رَجَعَ النَّاسُ فَسَأَلُوْنِي الْبَيْعَةَ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ إِنِّي مُشْفِقٌ مِمَّا أَقْدِمُ عَلَيْهِ. ثُمَّ جَاءَ تْ عَزِيْمَةٌ فَبَايَعْتُ، فَلَقَدْ قَالُوْا : يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! فَکَأَنَّمَا صُدِعَ قَلْبِيْ رِجَاءَ وَ قُلْتُ اللَّهُمَّ خُذْ مِنِّيْ لِعُثْمَانَ حَتَّي تَرْضٰي. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.وَ قَالَ هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَي شَرْطِ الْشَّيْخَيْنِ ۔

ترجمہ : حضرت قیس بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جنگ جمل کے دن یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے ﷲ میں تیری بارگاہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل سے براءت کا اظہار کرتا ہوں اور تحقیق میری عقل اس دن طیش میں تھی جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا۔ میں نے خود بیعت لینے سے انکار کر دیا جب وہ لوگ میرے پاس بیعت کے لئے آئے، پس میں نے کہا خدا کی قسم مجھے ﷲ سے حیاء آتا ہے کہ میں ان لوگوں سے بیعت لوں جنہوں نے اس شخص کو قتل کیا ہے جس کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خبردار میں اس شخص سے حیاء کرتا ہوں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں سو میں بھی اللہ تعالیٰ سے حیاء کرتا ہوں کہ میں اس حال میں بیعت لوں کہ عثمان زمین پر مقتول پڑے ہوئے ہوں اور ابھی تک انہیں دفن بھی نہ کیا گیا ہو پس لوگ چلے گئے، پس جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دفن کر دیا گیا تو لوگ پھر مجھ سے بیعت کا سوال کرنے لگے پس میں نے کہا اے ﷲ جس چیز کا اقدام میں کرنے جارہا ہوں میں اس سے ڈرنے والا ہوں پھر عزیمت کے تحت مجھے ایسا کرنا پڑا، سو جب انہوں نے مجھے کہا اے امیر المومنین تو گویا میرا کلیجہ پھٹ گیا۔ میں نے کہا اے ﷲ تو مجھ سے عثمان کا بدلہ لینے کی ذمہ داری قبول فرما اور اس کی توفیق دے یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے۔ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک علي الصحيحين، 3 / 101، الحديث رقم : 4527، و أيضا في، 3 / 111، الحديث رقم : 4556)


عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عُمَرَ في رِوَايَةٍ طَوِيْلَةٍ وَ مِنْهَا عَنْهُ قَالَ : لَمَّا طُعِنً عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَ أَمَرَ بِالشُّوْرٰي دَخَلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ ابْنَتُهُ فَقَالَتْ : يَا أَبَةِ إِنَّ النَّاسَ يَقُوْلُوْنَ : إِنَّ هَؤُلاَءِ الْقَوْمَ الَّذِيْنَ جَعَلْتَهُمْ فِي الشُّوْرٰي لَيْسَ هُمْ بِرَضً فَقَالَ : أَسْنِدُوْنِي فَأَسْنَدُوْهُ وَ هُوَ لِمَا بِهِ فَقَالَ مَا عَسَي أَنْ يَقُوْلُوْا فِيْ عُثْمَانَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : يَوْمَ يَمُوْتُ عُثْمَانُ تُصَلِّي عَلِيْهِ مَلاَئِکَةُ السَّمَاءِ قُلْتُ : لِعُثْمَانَ خَاصَةً أَمْ لِلْنَّاسِ عَامَةً قَالَ بَلْ لِعُثْمَانَ خَاصَةً . رَوَاهُ الْطَّبْرَانِيُّ فِيْ الْمُعجَمِ الْأَوْسَطِ ۔

ترجمہ : حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما ایک طویل حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے شوریٰ کا حکم دیا تو آپ رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت حفصہ آپ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی آئیں اور کہا بے شک لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جن لوگوں کو آپ نے شوریٰ کے لیے منتخب کیا ہے یہ اس کے اہل نہیں ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے سہارا دو پس آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو سہارا دیا اور اس وقت آپ سخت تکلیف کی حالت میں تھے پس آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ممکن ہے یہ لوگ عثمان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کریں حالانکہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس دن عثمان کی شہادت واقع ہو گی آسمان کے فرشتے اس پر درود بھیجیں گے ۔ میں نے عرض کیا فقط یہ عثمان کے لیے ہے یا سب لوگوں کے لیے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ چیز صرف عثمان کے لیے خاص ہے۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے ۔ المعجم الاوسط ‘‘ میں روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الاوسط، 3 / 287، الحديث رقم : 3172،چشتی)(و عسقلاني في لسان الميزان، 5 / 226، الحديث رقم : 798)


عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ : قَالَ صلي الله عليه وآله وسلم يَوْمَ يَمُوْتُ عُثْمَانُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَلَائِکَةُ السَّمَاءِ. رَوَاهُ الْدَّيْلِمِيُّ ۔

ترجمہ : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ جس دن عثمان کی شہادت واقع ہو گی اس دن آسمان کے فرشتے اس پر درود بھیجیں گے ۔ اس حدیث کو دیلمی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 5 / 533، الحديث رقم : 8999)


جس وقت شورش پسندوں اور باغیوں نے حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھا، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آکر عرض کیا : امیر المؤمنین! انصار دروازے پر کھڑے اجازت کے منتظر ہیں‘‘۔ آپ نے فرمایا : اگر وہ جنگ کی اجازت چاہتے ہیں تو انھیں بالکل اجازت نہیں ہے ۔ (طبقات ابن سعد)


اسی دوران حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جنگ کی اجازت مانگی تو فرمایا : ’’کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ مجھ سمیت تمام دنیا کو قتل کردو؟‘‘۔ عرض کیا : ’’نہیں‘‘۔ امیر المؤمنین کے اس فرمان میں اس آیت کی طرف اشارہ تھا کہ ’’جس شخص نے بغیر قصاص کے یا فساد کے لئے کسی شخص کو قتل کیا، گویا اس نے تمام دنیا کے انسانوں کو قتل کردیا‘‘ ۔ (سورۃ المائدہ۔۳۲) اس آیت سے استدلال اس وجہ سے تھا کہ باغیوں نے ابھی تک نہ کسی شخص کو قتل کیا تھا اور نہ زمین میں کسی قسم کا فساد کیا تھا، صرف حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھا ۔ (طبقات ابن سعد)


حضرت مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مستقبل میں پیش آنے والے فتنوں کے متعلق بیان کر رہے تھے، اتنے میں ایک شخص کا گزر ہوا، جو کپڑا اوڑھے جا رہا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’فتنوں کے وقت یہ شخص ہدایت پر ہوگا‘‘۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو ’’وہ حضرت عثمان تھے‘‘ ۔ (طبقات ابن سعد)


حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتنوں کا بیان کرتے ہوئے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہ شخص ان فتنوں میں مظلوم شہید کیا جائے گا‘‘۔ (مشکوۃ صفحہ نمبر ۸۶۲)


حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق یہ یقین تھا کہ ان کی شہادت مقدر ہوچکی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ان فتنوں سے مطلع کیا تھا اور صبر و استقامت کی تاکید فرمائی تھی ۔ (ترمذی، صفحہ۵۳۳)


ان حالات میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ لمحہ بہ لمحہ اس وقت کے منتظر تھے، جو ان کے لئے مقدر ہوچکا تھا ۔


۱۷؍ ذی الحجہ سنہ ۳۵ھ بروز جمعہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما تشریف فرما ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں : ’’عثمان جلدی کرو، ہم تمہارے افطار کے منتظر ہیں‘‘۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عثمان! آج جمعہ میرے ساتھ پڑھنا‘‘۔ (طبقات ابن سعد)


اٹھارہ (18) ذوالحج بروز جمعہ تقریباً نماز عصر کے وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ۔ آپ نے کل 82 سال کی عمر پائی ۔


ریاض النضرہ میں حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے اور آپ کی زبان پر اللہ کے حضور یہ دعا جاری تھی ۔ اللھم اجمع امۃ محمد ۔ اے اللہ امت محمدیہ کو باہمی اتفاق نصیب فرما ۔ (رياض النضرة جلدنمبر 3 صفحہ نمبر 73)


شہادت کے بعد حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلَّی اللہُ علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کو خواب میں فرماتے ہوئے سنا : بیشک! عثمان (رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ)کو جنّت میں عالیشان دولہا بنایا گیا ہے ۔ (الریاض النضرۃ ،ج2،ص67)


حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور اپنی اہلیہ محترمہ سے فرمایا : ’’اب وقت قریب آپہنچا ہے‘‘۔ پھر آپ نے لباس تبدیل کیا اور تلاوتِ قرآن پاک میں مشغول ہو گئے۔ اس کے تھوڑی ہی دیر بعد باغیوں نے حملہ کردیا، جس کی مزاحمت کرتے ہوئے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ زخمی ہو گئے۔ باغیوں نے حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر کئی وار کئے، لیکن اسی دوران ایک ازلی شقی نے تلوار کا ایسا وار کیا کہ حضرت ذوالنورین کی شمع حیات بجھ گئی ۔ (اسد الغابہ)


اس جانکاہ حادثہ میں آپ کی اہلیہ محترمہ کی اُنگلیاں بھی کٹ گئی تھیں اور تین دن تک آپ کا جسد مبارک تدفین سے محروم رہا۔ قتل کرنے کے بعد ظالموں نے آپ کا گھر بھی لوٹ لیا۔ تاریخ عالم میں کہیں ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی حکمراں کے خلاف کچھ لوگ باغی ہو جائیں اور اس حکمراں کو اپنی ذات اور اپنی حکومت کے تحفظ کے متعدد وسائل حاصل ہوں، نہ صرف یہ بلکہ جاں نثار رفقاء، ارکانِ دولت اور تمام افواج سب اس کے حامی ہوں، باغیوں کا قلع قمع کرنے کے لئے بے تاب ہوں اور بار بار اس حکمراں سے باغیوں کی سرکوبی کا مطالبہ کر رہے ہوں، لیکن وہ حکمراں محض اس سبب سے ان لوگوں کو باغیوں سے جنگ کی اجازت نہیں دیتا کہ ’’کہیں ایک جان کی بقاء کے لئے سیکڑوں جانیں تلف نہ ہو جائیں‘‘۔ آخری وقت تک آپ کے رفقاء باغیوں سے مقابلہ اور ان کا محاصرہ توڑنے کی اجازت طلب کرتے رہے ، لیکن آپ کا صرف ایک ہی جواب تھا کہ ’’میں اپنی ذات یا اپنی خلافت کی خاطر مسلمانوں کی تلواریں باہم ٹکراتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 28 May 2026

یارسول اللہ انظر حالنا پڑھنا کیسا ؟ اور یارسول اللہ پکارنا شرک نہیں ہے

یارسول اللہ انظر حالنا پڑھنا کیسا ؟ اور یارسول اللہ پکارنا شرک نہیں ہے

محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں مسلمانوں کے سپہ سالار جلیل القدر صحابی حضرت خالد بن ولید اور دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو براہ راست مدد کےلیے پکارا ۔ چنانچہ منقول ہے : کان شعارھم یومئذٍ یا محمداہ ، یعنی اس دن مسلمانوں کا طریقہ اور شعار حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدد کےلیے پکارنا تھا ۔ (البدایہ والنہایہ مطبوعہ بیروت لبنان جلد ششم صفحہ نمبر 24)


یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اُنظُرْ حَالَنَا

یَاحَبِیْبَ اللّٰہِ اِسمَعْ قَالَنَا


اِنَّنِی فِی بَحرِْ ھَمِّ مُّغْرَقٌ

خذْیَدِیْ سَھِّلْ لَّنَا اَشْکَالَنَا


ترجمہ : اے اللہ کے رسول ، ہماری حالت پر توجہ فرمایۓ اے اللہ کے حبیب ، ہماری عرض سماعت فرمایۓ ، بیشک میں غموں (پریشانیوں کے) سمندر میں غرق ہوں ، میرا ہاتھ پکڑیں اور ہماری مشکلات کو (باذن خداوندی) آسان فرمادی ۔ (کلام غوث اعظم رضی اللہ عنہ)


جناب رشید احمد گنگوہی یوبندی سے کسی نے سوال کیا کہ ان اشعار کو بطور وظیفہ پڑھنا کیسا ہے ؟


یا رسول اللہ انظر حالنا

یا حبیب اللہ اسمع قالنا


اننی فی بحر ھم مغرق

خذ یدی سھل لنا اشکالنا


یا اکرم الخلق مالی من الوذ بہ

سواک عند حلول الحادث العمم


تو انہوں نے جواب دیا کہ ایسے کلمات کو نظم ہوں یا نثر ورد کرنا مکروہ تنزیہی ہے کفر و فسق نہیں ۔ (فتاوی رشیدیہ جلد ۳ صفحہ ۵)


رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں : یہ خود آپ کو معلوم ہے کہ نداء غیر اللہ تعالیٰ کو کرنا دور سے شرک حقیقی جب ہوتا ہے کہ ان کو عالم سامع مستقل اعتقاد کرے ورنہ شرک نہیں ، مثلاً یہ جانے کے حق تعالیٰ ان کو مطلع فرمادیوے گا ، یا باذنہ تعالیٰ انکشاف ان کو ہو جاوے گا یا باذنہ تعالیٰ ملائکہ پہنچا دیویں گے جیسا درود کی نسبت وارد ہے یا محض شوقیہ کہتا ہو محبت میں یا عرض حال محل تحسر و حرمان میں کہ ایسے مواقع میں اگرچہ کلمات خطاب بولتے ہیں لیکن ہرگز نہ مقصود اسماع ہوتا ہے نہ عقیدہ ، پس انہی اقسام سے کلمات مناجات واشعار بزرگان کے ہوتے ہیں کہ فی حد ذاتہ نہ شرک نہ معصیت ۔ (فتاوی رشیدیہ کامل مبوب صفحہ ٦٨ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز کراچی،چشتی)


جناب اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں : جو استعانت و استمداد باعتقاد علم و قدرت مستقل ہو (یعنی کسی نے اس کو نہ دیے اور نہ کسی کا محتاج ہے) وہ شرک ہے اور جو باعتقد علم و قدرت غیر مستقل ہو (یعنی اللہ نے انہیں دی اور اللہ ہی کے محتاج ہیں) اور وہ علم قدرت کسی دلیل سے ثابت ہو جائے تو جائز ہے خواہ مستمد منہ (جس سے مدد طلب کی جارہی ہے) حی ہو (زندہ) یا میت (مردہ) ۔ (امدادالفتاوی کتاب العقائد جلد ۴ صفحہ ۹۹)


حکیمُ الاُمتِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں : ⬇


یا شفیع العباد خذبیدی

دستگیری کیجئے میری نبی


انت فی الضطرار معتمدی

کشمکش میں تم ہی ہو میرے ولی


لیس لی ملجاء سواک اغث

جز تمہارے ہے کہاں میری پناہ


مسنی الضر سیدی سندی

فوج کلفت مجھ پہ آ غالب ہوئی


غشنی الدھر ابن عبداللہ

ابن عبداللہ زمانہ ہے خلاف


کن مغیثا فانت لی مدری

اے مرے مولٰی خبر لیجئے مری


نام احمد چوں حصینے شد حصین

پس چہ باشد ذات آں روح الامین


کچھ عمل ہی اور نہ اطاعت میرے پاس

ہے مگر دل میں محبت آپ کی


میں ہوں بس اور آپ کا دریا یارسول

ابر غم گھیرے نہ پھر مجھ کو کبھی


خواب میں چہرہ دکھا دیجئے مجھے

اور میرے عیبوں کو کر دیجئے خفی


درگزر کرنا خطاو عیب سے

سب سے بڑھ کر ہے یہ خصلت آپ کی


سب خلائق کیلئے رحمت ہیں آپ

خاص کر جو ہیں گناہگار و غوی


کاش ہو جاتا مدینہ کی میں خاک

نعل بوسی ہوتی کافی آپ کی


آپ پر ہوں رحمتیں بے انتہا

حضرت حق کی طرف سے دائمی


جس قدر دنیا میں ہے ریت اور سانس

اور بھی ہے جس قدر روئیگی


اور تمہاری آل پر اصحاب پر

تابقائے عمر دار اخروی


الصّلوٰۃ والسّلام علیک یارسول اللہ پڑھنے کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے کیونکہ عالمِ امر مقید نہیں ہے دور و نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا فرمان مرشد اکابرین دیوبند جناب حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ امداد المشتاق صفحہ نمبر 60 ۔ کیا حاجی صاحب کے اس فرمان پر تھانوی صاحب سمیت کسی بھی دیوبندی عالم نے شرک و گمراہی کا فتویٰ لگایا اگر لگایا ہے تو ہمارے علم میں اضافہ کےلیے بتایا جائے ؟


اگر نہیں لگا تو مسلمانان اہلسنت کیا کیا قصور ہے کہ وہ یہ درود پڑھیں تو دیوبند کی شرک و گمراہی کی توپیں کھل جاتی ہیں اور امت مسلمہ پر فتوے لگا کر انتشار و فساد پھیلایا جاتا ہے آخر یہ دوغلہ پن و دہرا معیار فتویٰ کیوں ؟


یاد رہے اس جملہ پر بھی غور کیا جائے کہ : عالم امر مقید نہیں ہے دور و نزدیک کوئی حیثیت نہیں ۔ جب دور و نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا تو دور و نزدیک بحث عبث یعنی بے کار ہے ۔


یا پھر مان لیجیے اپنے لیے فتوے اور ہیں اور مسلمانان اہلسنت کےلیے اور ہیں اور اس طرح کے دہرے معیار سے آپ لوگ امتِ مسلمہ پر شرک کے فتوے لگا کر فتنہ و انتشار پھیلاتے ہیں ۔


اعتراض : یارسول اللہ انظر حالنا پڑھنا یہ استغاثہ ہے اور دعا عبادت ہے اور عبادت صرف اللہ کی جاتی ہے دعا میں استغاثہ کی صورت میں غیر اللہ کی عبادت کا شبہ آتا ہے ۔


جواب : دعا کو اپنے گمان میں " ایاک نعبد " کی طرح پرستش سمجھ بیٹھنا

یعنی یہ اشعار پڑھنے والا : ⬇


یارسول اللہ انظر حالنا

یاحبیب اللہ اسمع قالنا

اننی فی بحر ھم مغرق

خذ یدی سہل لنااشکالنا


پڑھتا تو اس کا مطلب کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے  سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرستش کا شبہ آتا ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کا اصطلاحی معنی بیان کردیا جائے تاکہ وسوسہ شیطانی اور گمراہ فرقوں کے فریب کا ازالہ ہو جائے حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ : عبادت کا اصطلاحی معنی ، عبادت کا اصطلاحی معنی یہ ہیں کہ کسی کو خالق یا خالق کا حصہ دار مان کر اس کی اطاعت کرنا جب تک یہ نیت نہ ہو تب تک اسے عبادت نہیں کہا جائے گا ۔ اب بت پرست " بت " کے سامنے سجدہ کرتا ہے اور مسلمان کعبہ کے سامنے وہاں بھی پتھر ہی ہیں  لیکن وہ مشرک ہے اور ہم موحد کفار اپنے دیوتاؤں رام چندر وغیرہ کو مانتا ہے مسلمان نبیوں ولیوں کو پھر کیا وجہ کہ وہ مشرک ہو گیا اور یہ موحد رہا فرق یہی ہے کہ وہ انہیں "الوہیت" میں حصہ دار مانتا ہے ہم ان کو اللہ کا خاص بندہ مانتے ہیں بہر حال "عبادت" میں یہ قید ہے کہ جس کی اطاعت کرے اس کو اپنا خالق مانے ۔ (تفسیر نعیمی جلد اول صفحہ نمبر 73)


 رہا یہ سوال کہ : ⬇


یارسول اللہ انظر حالنا

یاحبیب اللہ اسمع قالنا

اننی فی بحر ھم مغرق

خذیدی سہل لنااشکالنا


کہنے سے غیر اللہ کی پرستش  کا شبہ اورشرک تو نہیں تو اس سلسلے میں حضرت حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ : انبیاء ٬ اولیاء سے امداد لینا حقیقت میں رب ہی سے امداد لینا ہے کیونکہ ؛ اس کی امداد " دو " طرح کی ہے ۔ 1 بالواسطہ ۔ 2 بِلاواسطہ ۔ اللہ کے بندوں کی مدد رب کے فیضانِ کا واسطہ ہے قرآن کریم نے غیر خدا سے امداد لینے کا خود حکم فرمایا ارشاد بار تعالیٰ ہے ،،استعینوا بالصبر والصلوہ،، مسلمانوں مدد لو ! صبر و نماز سے ٬ صبر و نماز بھی غیر خدا ہیں ۔ نیز فرماتا ہے  " ان تنصرواللہ ینصرکم " اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا ۔ رب تعالیٰ غنی ہوکر بندوں سے مدد طلب فرماتا ہے تو اگر ہم محتاج بندے کسی بندے سے مدد مانگیں تو کیا برائی ۔ نیز حضرت ذوالقرنین کا قول نقل فرماتا ہے " اعینونی بقوۃ " تم لوگ میری مدد کرو! اپنی قوت سے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا " من انصاری الی اللہ " میرا مددگار کون ہے اللہ کی طرف ۔ نیز قرآن کریم نے فرمایا " وتعاونوا علی البر والتقوی " یعنی ایک دوسرے کی مدد کرو ! بھلائی اور پرہیزگاری پر ۔ غرض کہ ؛ قرآن کریم نے جگہ جگہ غیر خدا سے مدد لینے کا حکم فرمایا ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کا نام ہے " انصار " جس کے معنیٰ ہیں " مددگار " اگر غیر خدا سے مدد لینا شرک ہو تو یہ نام ہی مشرکانہ ہو ۔ (تفسیر نعیمی جلد اول صفحہ نمبر 81/82،چشتی)


اس تفصیل سے بخوبی واضح ہوگیا کہ ان اشعار کا : ⬇


یارسول اللہ انظر حالنا

یاحبیب اللہ اسمع قالنا

اننی فی بحر ھم مغرق 

خذیدی سہل لنااشکالنا


کہنا ٬ پڑھنا جائز و درست ہے ۔ اس دعا سے غیر خدا کی عبادت کا شبہ آنا وسوسہ شیطانی اور گمراہ فرقوں کا فریب ہے ۔


 یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پکارنا شرک نہیں ہے : ⏬


محترم قارئینِ کرام : کچھ لوگ جوشِ توحید میں صیغۂ خطاب کے ساتھ آقائے دوجہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ و سلام کو استعانت بالغیر کہہ کر شرک قرار دیتے ہیں اوراسے ناجائز سمجھتے ہیں جو سراسر غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارنے سے منع نہیں کیا بلکہ پکارنے کے آداب سکھائے ہیں ، ارشادِ ربّانی ہے : لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۔

ترجمہ : (اے مسلمانو!) تم رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی مثل قرار نہ دو (جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلانا تمہارے باہمی بلاوے کی مثل نہیں تو خود رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی تمہاری مثل کیسے ہو سکتی ہے) ، بیشک اللہ ایسے لوگوں کو (خوب) جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ میں (دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) چپکے سے کھسک جاتے ہیں، پس وہ لوگ ڈریں جو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے امرِ (ادب) کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کہ (دنیا میں ہی) انہیں کوئی آفت آپہنچے گی یا (آخرت میں) ان پر دردناک عذاب آن پڑے گا ۔ (النور، 24 : 63)


اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں ائمہ تفسیر نے حضرت سیدنا عبد ﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارتے وقت ’’یا محمد‘‘ اور ’’یا ابا القاسم‘‘ کہا کرتے تھے ۔


امام محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : فنهاهم ﷲ تعالي عن ذالک بقوله سبحانه : لا تجعلوا. . . الآية إعظاما لنبيه صلي الله عليه وآله وسلم، فقالوا : يا نبي ﷲ يا رسول ﷲ ۔

ترجمہ : پس اللہ عزوجل نے انہیں اپنے اس فرمان ’’ لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ‘‘ کے ذریعہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم کی خاطر منع فرمایا۔ پس صحابہ نے بوقت نداء یا نبی ﷲ، یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کہنا شروع کر دیا۔‘‘(آلوسی، روح المعانی، 18 : 204،چشتی)


تمام علمائے امت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لاپرواہی اور بے توجہی و بے اعتنائی کے طور پر ذاتی نام سے پکارنا حرام ہے اور یہ حکم حیاتِ ظاہری کے ساتھ مختص نہیں بلکہ قیامت تک کے لئے ہے ۔ تمام اہلِ ایمان کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارنا جائز ہے خواہ قریب ہوں یا بعید اور خواہ حیاتِ ظاہری ہو یا بعد از وصال ۔ آیتِ مبارکہ میں وارد ہونے والی نہی کا محل دراصل وہ عامیانہ لہجہ اور طرزِ گفتگو ہے جو صحابہ اور اہلِ عرب ایک دوسرے سے بلا تکلف اختیار کرتے تھے ۔ اس حکمِ نہی میں مطلق ندا سے منع نہیں کیا گیا اس لیے تعظیم و تکریم پر مشتمل ندا جائز ہے ۔


دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ مدعائے کلام بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و توقیر کی تعلیم ہے لہٰذا اگر صیغہ خطاب کے ساتھ ادب و تعظیم کا تقاضا پورا نہ ہو اور عرفاً و معناً اس ندا سے گستاخی اور اہانتِ رسول کا پہلو نکلتا ہو تو وہ ندا ممنوع اور حرام ہوگی وگرنہ نہیں ۔ اہلِ ایمان حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیے بغیر، منصبِ نبوت و رسالت کے ساتھ پکارتے ہیں تو اس میں محبت، ادب، تعظیم اور توقیر مراد ہوتی ہے ۔


نداء کے جواز کا تیسرا سبب یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریب و بعید اور حیاتِ ظاہری اور بعد از وصال تمام اہلِ ایمان کو تشہد میں سلام پیش کرنے کا جو طریقہ تعلیم فرمایا اس میں دعا و پکار اور نداء بطریقِ خطاب ہی وارد ہے ۔ یہ تلفّظ محض حکایۃً نہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے شبِ معراج حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرمایا تھا بلکہ ضروری ہے کہ ہر نمازی اپنی طرف سے بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ ﷲِ وَ بَرَکَاتُه. (یا نبی! آپ پر خاص سلامتی ، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں) کے کلمات کے ساتھ سلام پیش کرے ۔ تمام اہلِ ایمان کو اپنی طرف سے بطور انشاء بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سلام بھیجنا لازم ہے۔ ذیل میں ہم اس سلسلے میں محدثین و محققین کی آراء پیش کرتے ہیں ۔


امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اجمع الأربعة علي أن المصلي يقول : أيُّهَا النَّبِيُّ. وأن هذا من خصوصياته عليه السلام، إذ لو خاطب مصلٍ أحدًا غيره و يقول السلام عليک بطلت صلاته ۔

ترجمہ : ائمہ اربعہ کا اس امر پر اجماع ہے کہ نمازی تشہد میں ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِيُّ‘‘ کہے اور یہ اندازِ سلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے ۔ اگر کوئی نمازی آپ کے علاوہ کسی ایک کو بھی خطاب کرے اور ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ‘‘ کہے تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی ۔ (ملا علی قاري، شرح الشفاء، 2 : 120)


امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے الخصائص الکبریٰ میں ایک مکمل باب قائم کیا ہے اور اس خصوصیت کو درج ذیل عنوان سے تعبیر کرتے ہوئے لکھا ہے : باب اختصاصه صلي الله عليه وآله وسلم بأن المصلي يخاطبه بقوله ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ‘‘ ولا يخاطب سائر الناس ۔

ترجمہ : یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس امر کے ساتھ مختص ہیں کہ نمازی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صیغہ خطاب کے ساتھ اس طرح سلام پیش کرتا ہے ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِيُّ‘‘ اور وہ تمام لوگوں کو مخاطب نہیں ہو سکتا ۔ (الخصائص الکبري، 2 : 253،چشتی)


امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ المواہب اللدنیہ میں اور امام زرقانی شرح المواہب میں اسی خصوصیت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ومنها أن المصلي يخاطبه بقوله : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ ﷲِ وَ بَرَکَاتُه کما في حديث التشهد والصلوٰة صحيحة. ولا يخاطب غيره من الخلق ملکا أو شيطانا أو جمادًا أو ميتاً ۔

ترجمہ : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ نمازی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ ﷲِ وَ بَرَکَاتُه‘‘ کے کلمات کے ساتھ خطاب کرتا ہے جیسا کہ حدیثِ تشہد میں ہے اور اس کے باوجود اس کی نماز صحیح رہتی ہے ۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ مخلوق میں سے کسی فرشتے یا شیطان اور جماد یا میت کو خطاب نہیں کر سکتا ۔ (زرقانی، شرح المواهب اللدنيه جلد 5 صفحہ 308)


امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے احیاء العلوم میں کیا ایمان افروز عبارت لکھی ہے فرماتے ہیں : واحضر فی قلبک النبي صلي الله عليه وآله وسلم وشخصه الکريم، وقُلْ : سَلَامٌ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ ﷲِ وَ بَرَکَاتُه. وليصدق أملک في أنه يبلغه و يرد عليک ما هو أوفٰي منه.

ترجمہ : (اے نمازی! پہلے) تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کریم شخصیت اور ذاتِ مقدسہ کو اپنے دل میں حاضر کر پھر کہہ : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ ﷲِ وَ بَرَکَاتُه . تیری امید اور آرزو اس معاملہ میں مبنی پر صدق و اخلاص ہونی چاہیے کہ تیرا سلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے کامل تر جواب سے تجھے نوازتے ہیں ۔ (إحياء علوم الدين جلد 1 صفحہ 151)


اس عبارت سے یہ امر واضح ہوا کہ اگر خطاب اپنے ظاہری معنی و مفہوم میں نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ کو مستحضر سمجھ کر سلام پیش کرنے کی تلقین نہ کی جاتی ۔


نماز میں صیغۂ خطاب سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب ہونے کی حکمت امام طیبی نے بھی بیان کی ہے جسے امام ابنِ حجر عسقلانی نے فتح الباری میں نقل کیا ہے : إن المصلين لما استفتحوا باب الملکوت بالتحيات أذن لهم بالدخول في حريم الحي الذي لا يموت، فَقَرَّت أعينهم بالمناجاة. فنبهوا أن ذلک بواسطة نبي الرحمة وبرکة متابعته. فالتفتوا فإذا الحبيب في حرم الحبيب حاضر فأقبلوا عليه قائلين : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَة ﷲِ وَ بَرَکَاتُه ۔

ترجمہ : بے شک نمازی جب التحیات سے ملکوتی دروازہ کھولتے ہیں تو انہیں ذاتِ باری تعالیٰ حَیٌّ لَا يَمُوْتُ کے حریمِ قدس میں داخل ہونے کی اجازت نصیب ہوتی ہے، پس مناجاتِ ربانی کے سبب ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک عطا ہوتی ہے۔ پھر انہیں متنبہ کیا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت اور آپ کی متابعت کی برکت سے حاصل ہوا ہے۔ پس وہ ادھر توجہ اور التفات کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کریم رب کے حضور میں موجود ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف یوں سلام پیش کرتے ہوئے متوجہ ہوتے ہیں : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ ﷲِ وَ بَرَکَاتُه ۔ (فتح الباري، 2 : 314)


شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ صیغہ خطاب کی وجہ پر محققانہ کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں : و بعضے از عرفاء گفتہ اند کہ ایں خطاب بجہت سریان حقیقۃ محمدیہ است در ذرائر موجودات وافراد ممکنات۔ پس آن حضرت در ذات مصلیان موجود و حاضر است۔ پس مصلی باید کہ ازیں معنی آگاہ باشد وازین شہود غافل نبود تا بانوار قرب و اسرار معرفت متنور و فائز گردد ۔

ترجمہ : بعض عرفاء نے کہا ہے کہ اس خطاب کی جہت حقیقتِ محمدیہ کی طرف ہے جو کہ تمام موجودات کے ذرہ ذرہ اور ممکنات کے ہر ہر فرد میں سرایت کیے ہوئے ہیں۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازیوں کی ذاتوں میں حاضر و موجود ہیں لہٰذا نمازی کو چاہئے وہ اس معنی سے آگاہ رہے اور اس شہود سے غافل نہ ہو یہاں تک کہ انوارِ قرب اور اسرارِ معرفت سے منور اور مستفید ہوجائے ۔ (اشعة اللمعات، 1 : 401،چشتی)


شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں : ذکر کن او را و درود بفرست بروے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و باش در حال ذکر گویا حاضر است پیش تو در حالتِ حیات، و می بینی تو او را امتادب با جلال و تعظیم و ہیبت وحیاء۔ بد آنکہ وے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم می بیند ترا و می شنید کلام ترا زیرا کہ وے متصف است بصفات ﷲ تعالیٰ ۔ ویکے از صفات الٰہی آنست کہ انا جلیس من ذکرنی و پیغمبر را نصیب وافر است ازیں صفت ۔

ترجمہ : (اے مخاطب!) تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کر اور ان پر درود بھیج اور حالتِ ذکر میں اس طرح سمجھ کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حیات ظاہری میں تیرے سامنے موجود ہیں، اور تو جلالت و عظمت کو ملحوظ رکھ کر اور ہیبت و حیاء کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہے۔ یقین جان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے دیکھتے ہیں اور تیرا کلام سنتے ہیں کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی صفات کے ساتھ موصوف و متصف ہیں۔ ان صفاتِ ربانی میں سے ایک صفت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أَنَا جَلِيْسُ مَنْ ذَکَرَنِيْ (میں اس کا ہم نشین ہوں جو مجھے یاد کرے) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس صفتِ الہٰیہ سے وافر حصہ حاصل ہے ۔ (اشعة اللمعات، 2 : 621)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دور نہیں ہیں یا مجتبیٰ پکارنا آپ مدد گار ہیں : ⏬


حکیمُ الاُمّتِ دیوبند جناب اشر فعلی تھانوی لکھتے ہیں : یا مرتضیٰ یا مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلّم آپ صلی اللہ علیہ وسلّم ہمارے دلوں کا حال بیان کرنے والے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلّم کو مرحبا آپ صلی اللہ علیہ وسلّم غائب ہوں  تو موت آجائے دنیا تاریک ہوجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلّم لوگوں کے مدد گار اور خیر خواہ  ہیں ۔ (حیات المسلمین صفحہ 51 حکیم الامت دیوبند جناب اشر فعلی تھانوی مطبوعہ مکتبہ امیزان اردو بازار لاہور) ۔ (حیات المسلمین صفحہ 9 ، 10 حکیم الامت دیوبند علامہ اشرف علی تھانوی مطبوعہ مکتبہ ختم نبوت بند روڈ کراچی) ۔ (حیات المسلمین صفحہ نمبر  9  ۔ حکیم الامت دیوبند علامہ اشرف علی تھانوی مکتبہ معارف القرآن کراچی،چشتی)


مفتیانِ دیوبند سے سوال حکیمِ دیوبند اس طرح پکار اور لکھ کر مشرک ہوئے کہ نہیں اگر ہوئے تو علمائے دیوبند کی طرف سے آج تک کوئی فتویٰ اس پر لگایا گیا ہو تو ثبوت دیں اگر مشرک نہیں ہوئے اور یہ شرک نہیں تو پھر مسلمانانِ اہلسنت پر شرک کے فتوے کیوں ؟


احبابِ دیوبند سے گذارش ہے آیئے حکیمِ دیوبند کے بیان کردہ عقیدہ کو ہی مان لیجیئے اختلاف ختم ہو سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ محبت و ادب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم عطاء فرمائے آمین ۔


دیوبندیوں کے امامُ الحدیث جناب علامہ محمد زکریا کاندہلوی لکھتے ہیں کہ : بعض عارفین کا قول ہے کہ تشہد میں ایھا النبی کا یہ خطاب ممکنات اور موجودات کی ذات میں حقیقت محمدیہ کے سرایت کرنے کے اعتبار سے ہے ، چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نماز پڑھنے والوں کی ذات میں موجود اور حاضر ہوتے ہیں اس لئے نماز پڑھنے والوں کو چائیے کہ اس بات کا خصوصیت کے ساتھ خیال رکھیں اور آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اس حاضری سے غافل نہ ہوں تاکہ قرب و معیت کے انوارات اور عرفت کے اسرار حاصل کرنے میں کامیاب رہیں ۔ (اؤجزُالمسالک  جز ثانی صفحہ نمبر  225  مطبوعہ دارالقلم دمشق)


نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم حاضر و ناظر ہیں وہابیوں کا اقرار


غیر مقلدوں کے امام نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہر حال اور ہر آن میں مومنین کے مرکز نگاہ اور عابدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں ، خصوصیات کی حالت میں انکشاف اور نورانیت ذیادہ قوی اور شدید ہوتی ہے ، بعض عارفین کا قول ہے کہ تشہد میں ایھا النبی کا یہ خطاب ممکنات اور موجودات کی ذات میں حقیقت محمدیہ کے سرایت کرنے کے اعتبار سے ہے ، چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نماز پڑھنے والوں کی ذات میں موجود اور حاضر ہوتے ہیں اس لئے نماز پڑھنے والوں کو چائیے کہ اس بات کا خصوصیت کے ساتھ خیال رکھیں اور آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اس حاضری سے غافل نہ ہوں تاکہ قرب و معیت کے انوارات اور عرفت کے اسرار حاصل کرنے میں کامیاب رہیں ۔ ( مسک الختام شرح بلوغ المرام جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 244،چشتی)


ایک شبہ اور اس کا ازالہ : بعض لوگوں کا کہنا یہ بھی ہے کہ صحابہ کرام بعد از وصالِ نبوی اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ کی بجائے اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ کہتے تھے لہٰذا اب سلام بصیغہ خطاب کہنا جائز نہیں ہے اس لئے شرک ہے۔ ذہن نشین رہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف اور صرف اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ ﷲِ وَ بَرَکَاتُه کے اندازِ نداء و خطاب میں ہی سلام پیش کرنے کا طریقہ سکھلایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قطعاً یہ نہیں فرمایا کہ میری ظاہری حیات میں تو مجھ پر سلام نداء و خطاب کے ساتھ پیش کریں اور بعد از وصال بدل دی ں۔ اگر بعد از وصال نداء و خطاب کے انداز میں سلام پیش کرنا جائز نہیں تھا تو گویا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشہد کے بارے میں تعلیم ادھوری اور ناقص رہ گئی؟ (معاذ ﷲ) کیا کوئی عام مسلمان بھی یہ تصور کر سکتا ہے ؟ ہر گز نہیں ۔


حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدِ خلافت میں منبر پر بیٹھ کر نداء و خطاب پر مشتمل تشہد و سلام کی تعلیم دی اور اکابر صحابہ کی موجودگی میں یہ تلقین فرمائی اور کسی صحابی نے اس کا انکار نہیں کیا۔ خطاب کے صیغہ کے ساتھ سلام پیش کرنے پر اجماعِ صحابہ ہے۔ خلفائے راشدین اور دیگر اکابر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ کے صیغہ خطاب کے ساتھ سلام پیش کیا ہے ۔ تاہم اتنا کہا جا سکتا ہے کہ نداء و خطاب کے صیغہ کے ساتھ سلام پیش کرنا واجب نہیں ہے لیکن وجوب کی نفی سے جواز بلکہ استحباب کی نفی بھی لازم نہیں آتی کیونکہ خلفائے راشدین اور اہلِ مدینہ کا اجماع اور جمہور امت کا اسی پر مداومت کے ساتھ عمل اس پر شاہدِ عادل اور دلیلِ صادق ہے۔ علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کا اس پر قول بطور دلیل ہم پچھلے صفحات میں نقل کر آئے ہیں کہ جمہور امت کے نزدیک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بصیغہ نداء و خطاب کے ساتھ سلام پیش کرنا بالکل جائز ہے ۔


حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کی ظاہری حیاتِ طیبہ اور بعد از وصال صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سلف صالحین نے قریب اور بعید کی مسافت کے فرق کے بغیر بصیغہ نداء و خطاب پکارا ۔ مستند کتبِ احادیث اور سیر میں درجنوں واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ اکابر اور سلف صالحین کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بصیغہ خطاب پکارنے میں کسی قسم کے الجھاؤ اور شک و شبہ میں مبتلا نہیں رہے ۔ انہوں نے اپنی اپنی کتب میں اس عقیدہ صحیحہ کو بڑی شرح و بسط کے ساتھ واضح کیا ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Sunday, 24 May 2026

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے نام بدل دیتے تھے اور پنجاب کے حکمران اچھے ناموں کو بُرے ناموں میں بدل رہے ہیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے نام بدل دیتے تھے اور پنجاب کے حکمران اچھے ناموں کو بُرے ناموں میں بدل رہے ہیں

محترم قارئینِ کرام : ایسا نام جو خاص کفار رکھتے ہوں یا ان کی علامت اور پہچان ہو ، مسلمان کو رکھنا جائز نہیں ، لہٰذا اسے تبدیل کرنا ضروری ہے ۔ مگر ہمارے پنجاب کے حکمران مختلف مقامات کے اسلامی نام بدل کر ہندوٶں اور انگریزوں والے نام رکھ اور بحال کر رہے ہیں جن مقامات کے ناموں کو اسلامی بنانے اور پاکستان حاصل کرنے کےلیے بیشمار قربانیاں دی گٸیں آج جس طرح ھندوستان میں مودی مقامات کے مسلم نام بدل رہا اسی کی پیروی کرتے ہوۓ پنجاب کے حکمران کر رہے ہیں ۔ امام ابو عمر یوسف بن عبد اللہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ الاستیعاب میں ، امام عزالدین ابن اثیر جزری رحمۃ اللہ علیہ اسد الغابہ میں اور امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ میں لکھتے ہیں : حضرت عبد العزیز بن بدر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم کے ساتھ حاضر ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ما اسمك ؟ قال : عبد ‌العزى ، فغير علیہ السلام اسمه، وسماه عبد العزیز ۔

ترجمہ : تمہارا نام کیا ہے ؟ عرض کی : عبدُ الْعُزّی(عزی کفار کے بت کانام کا بندہ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کا نام بدل کر عبدالعزیز (غالب و طاقتور کا بندہ) رکھ دیا ۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب جلد 3 صفحہ 1006 مطبوعہ دار الجيل، بيروت)


نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر میں چونکہ ناموں کی غیرمعمولی اہمیت تھی ، اس لیے آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا عام معمول یہ تھا کہ جب کوئی اسلام قبول کرتا ، اور اس کا نام قابلِ اصلاح ہوتا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہایت اہتمام سے اس کے نام کی اصلاح فرماتے تھے ، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں : أن النبي أن يغير الاسم القبيح ، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے ناموں کو اچھے ناموں سے بدلتے تھے ۔ (سنن الترمذی جلد ۵ صفحہ ۱۱۴ باب فی تغير الأسماء مطبوعہ دارالرسالۃ العالميۃ)


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بشار ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ، وَقَالَ: أَنْتِ جَمِيلَةُ ۔ قَالَ أَحْمَدُ مَكَانَ ، أَخْبَرَنِي عَنْ ۔

ترجمہ : احمد بن حنبل ، زہیر بن حرب ، محمد بن مثنیٰ ، عبیداللہ بن سعید اور محمد بن بشار نے (ان سب نے) کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاصیہ (نافرمانی کرنے والی) کا نام تبدیل کر دیا اور فرمایا : تم جمیلہ (خوبصورت) ہو ۔ احمد نے (مجھے خبر دی) کی جگہ (سے روایت ہے) کہا ہے ۔ (صحيح مسلم كتاب الآداب حدیث نمبر 5604)


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" مَا اسْمُكَ , قَالَ: حَزْنٌ , قَالَ: أَنْتَ سَهْلٌ , قَالَ: لَا، السَّهْلُ يُوطَأُ وَيُمْتَهَنُ" , قَالَ سَعِيدٌ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُصِيبُنَا بَعْدَهُ حُزُونَةٌ، قَالَ أبو داود: وَغَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الْعَاصِ، وَعَزِيزٍ، وَعَتَلَةَ، وَشَيْطَانٍ، وَالْحَكَمِ، وَغُرَابٍ، وَحُباب، وَشِهَابٍ، فَسَمَّاهُ: هِشَامًا، وَسَمَّى حَرْبًا: سَلْمًا، وَسَمَّى الْمُضْطَجِعَ: الْمُنْبَعِثَ، وَأَرْضًا تُسَمَّى عَفِرَةَ سَمَّاهَا: خَضِرَةَ، وَشَعْبَ الضَّلَالَةِ سَمَّاهُ: شَعْبَ الْهُدَى، وَبَنُو الزِّنْيَةِ سَمَّاهُمْ: بَنِي الرِّشْدَةِ، وَسَمَّى بَنِي مُغْوِيَةَ: بَنِي رِشْدَةَ , قَالَ أبو داود: تَرَكْتُ أَسَانِيدَهَا لِلِاخْتِصَارِ ۔

ترجمہ : حرت سعید بن مسیب کے دادا (حزن رضی اللہ عنہم) سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ کہا : حزن آپ نے فرمایا : تم سہل ہو ، انہوں نے کہا : نہیں ، سہل روندا جانا اور ذلیل کیا جانا ہے ، سعید کہتے ہیں : تو میں نے جانا کہ اس کے بعد ہم لوگوں کو دشواری پیش آئے گی (اس لیے کہ میرے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بتایا ہوا نام ناپسند کیا تھا) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاص (گنہگار) عزیز (اللہ کا نام ہے) ، عتلہ (سختی) شیطان ، حکم (اللہ کی صفت ہے) ، غراب (کوے کو کہتے ہیں اور اس کے معنی دوری اور غربت کے ہیں) ، حباب (شیطان کا نام) اور شہاب (شیطان کو بھگانے والا ایک شعلہ ہے) کے نام بدل دیے اور شہاب کا نام ہشام رکھ دیا ، اور حرب (جنگ) کے بدلے سلم (امن) رکھا ، مضطجع (لیٹنے والا) کے بدلے منبعث (اٹھنے والا) رکھا ، اور جس زمین کا نام عفرۃ (بنجر اور غیر آباد) تھا ، اس کا خضرہ (سرسبز و شاداب) رکھا ، شعب الضلالۃ (گمراہی کی گھاٹی) کا نام شعب الہدی (ہدایت کی گھاٹی) رکھا ، اور بنو زنیہ کا نام بنو رشدہ اور بنو مغویہ کا نام بنو رشدہ رکھ دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے اختصار کی غرض سے ان سب کی سندیں چھوڑ دی ہیں ۔ (سنن ابي داود كتاب الأدب حدیث نمبر 4956)(صحیح البخاری الأداب 107 حدیث نمبر 6190) ، 108 حدیث نمبر 6193)(تحفة الأشراف حدیث نمبر 3400))(مسند احمد جد 5 حدیث نمبر 433)


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَمِّهِ أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ : أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ : أَصْرَ مُكَانَ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ أَتَوْ الرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا اسْمُكَ , قال : أَنَا أَصْرَمُ , قَالَ : بَلْ أَنْتَ زُرْعَةُ ۔

ترجمہ : اسامہ بن اخدری تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ ایک آدمی جسے ، اصرم (بہت زیادہ کاٹنے والا) کہا جاتا تھا ، اس گروہ میں تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا : میں اصرم ہوں ، آپ نے فرمایا : نہیں تم اصرم نہیں بلکہ زرعہ (کھیتی لگانے والے) ہو ، (یعنی آج سے تمہارا نام زرعہ ہے ) ۔ (سنن ابي داود كتاب الأدب حدیث نمبر 4954)


حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ، فَقِيلَ: تُزَكِّي نَفْسَهَا، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ۔

ترجمہ : ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ، انہیں شعبہ نے ، انہیں عطاء بن ابی میمونہ نے ، انہیں ابورافع نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا ، کہا جانے لگا کہ وہ اپنی پاکی ظاہر کرتی ہیں ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھا ۔ (صحيح البخاری كتاب الأدب حدیث نمبر 6192)


امام طَحْطاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی : 1231ھ/1815ء) لکھتے ہیں : قسم یختص بالکفار … کجرجس وپطرس ویوحنا ، … فھذا لایجوز للمسلمین التسمی بہ لما فیہ من المشابھۃ ۔

ترجمہ : ناموں کی ایک قسم کفار کے ساتھ خاص ہے، جیسے جرجس ، پطرس اور یوحنا ، وغیرہ ، لہٰذا اس قسم کے نام مسلمانوں کےلیے رکھنا جائز نہیں ، کیونکہ اس میں کفار سے مشابہت پائی جاتی ہے ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار جلد 2 صفحہ 473 مطبوعہ کوئٹہ،چشتی)


امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں : دسوندی نام کفّار ہنود سے ماخوذ ہے اور مسلمان کو ممانعت ہے کہ کافروں کے نام رکھے ، کما صرحوا بہ فی التسمی بیوحنا ، وغیرہ ، (جیسا کہ یوحنا نام رکھنے کے متعلق فقہاء نے تصریح فرمائی ہے) ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 23 صفحہ 260 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)


ایک اَور مقام پر امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ سےسوال ہوا کہ : بکرنے اپنی اولاد کے نام تین زبانوں میں رکھ چھوڑے ہیں ، عربی انگریزی، ہندی ، ایک لڑکے کا مطیع الاسلام ہے ، دوسرے کا پالس ، لڑکی کا نام کنول دیوی ، جواس سے کہا جاتا ہے ، تو کہتا ہے کہ زبان کا فرق ہے ، مگر بُرے نہیں ، تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نےجواباً ارشاد فرمایا : یہ اس کافعل شیطانی شیطانی حرکت ہے ۔ قال ﷲ تعالیٰ : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ۔ (یعنی) اے ایمان والو!اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو ، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ (القرآن الکریم ، 2 / 208) ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 663 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور،چشتی)


شریعت کی نظر میں کونسا نام بُرا ہے ، اس حوالے سے اُصول بیان کرتے ہوئے علامہ ابوالمَعَالی بخاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 616ھ /1219ء) لکھتےہیں : التسميةباسم لم يذكره اللہ تعالى في كتابه ولا ذكره رسول اللہ عليه السلام ، ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه ، والأولى أن لا تفعل ۔

ترجمہ : ایسانام رکھنا جس کا ذکر نہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن کریم میں کیا ہو ، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (احادیث میں ) کیا ہو اور نہ ہی مسلمانوں میں ایسانام مستعمل ہو ، تواس میں علماء کا اختلاف ہے  اور بہتریہ ہے کہ نہ رکھے ۔ (المحیط البرھانی کتاب الاستحسان جلد 5 صفحہ 382 دارالکتب العلمیۃ بیروت) ، یونہی فتاوی عالمگیری ، فتاوی شامی اور بریقہ محمودیہ شرح طریقہ محمدیہ میں ہے  ۔ اسی طرح اوپر مراٰۃ المناجیح کے جزئیہ میں بیان ہوا  کہ جو نام بے معنی ہو ، جس میں فخر و تکبر پایا جاتا ہو اور جس کے معنی بُرے ہوں، وہ نام رکھنا بھی بُرا ہے ۔


وہ بعض نام جو نبی کریم صَلَّی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبدیل فرمائے ، صحیح مسلم ، سنن ترمذی اور دیگر کتب احادیث میں ہے : عن ‌ابن عمرأن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غیراسم عاصیۃ ، وقال أنت جميلة ۔

ترجمہ : حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاصیہ نام تبدیل کیا اور فرمایا :  تم (تمہارا نام) جمیلہ ہو ۔ (سنن الترمذی کتاب الادب جلد 2 صفحہ 572 مطبوعہ لاھور،چشتی)


اس حدیث پاک کے تحت امام علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1014ھ  /1605ء) لکھتے ہیں : قال النووي :  وفيه استحباب تغییر الاسم ‌القبيح ، كما يستحب تغيير الأسامي المكروهة إلى حسن ۔

ترجمہ : امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نےفرمایا : اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ برے نام کو بدلنا مستحب ہے ، جیساکہ ناپسندیدہ ناموں کو اچھے ناموں میں تبدیل کرنا مستحب ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح باب الاسامی جلد 79 صفحہ 16 مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)


سنن ابوداؤد میں ہے : قال أبو داود : وغيّر النبي صلى اللہ عليه وسلم اسم العاص ‌وعزيز وعتلة وشيطان والحكم وغرإب وحباب، وشهاب فسماه هشاما، وسمى حربا : سلما ، وسمى المضطجع المنبعث، وأرضا تسمى عفرة سماها خضرة وشعب الضلالة سماه شعب الهدى ، وبنو الزنية سماهم بني الرشدة ، وسمى بني مغوية بني رشدة ۔

ترجمہ : عظیم محدِّث امام ابوداود رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےعَاص (گنہگار) ، عَزِیْز (غالب ، طاقتور) ، عَتَلَۃ (شدت اور سختی) ، شیطان (ہلاک ہونے والا ، بھلائی سے دور) ، حَکَم (دائمی حکومت والا) ، غُرَاب (کوا ، دور نکل جانے والا) اور حُبَاب (شیطان کا نام ، سانپ کی ایک قسم) کے نام تبدیل فرما دئیے اور شِہَاب (آگ کا شعلہ) کا نام ھِشَام (سخاوت) ، حَرْب (جنگ) کا نام سَلْم (صلح) اور مُضْطَجِع (لیٹنے والا) کا نام مُنْبَعِث (اٹھنے والا)رکھا ۔ (سنن ابی داٶد کتاب الادب جلد 2 صفحہ 335 مطبوعہ لاھور)


اس کے تحت شیخِ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1052ھ) لکھتےہیں : فكره التسمية بهذه الأسماء ۔

ترجمہ : پس ان ناموں میں سے کوئی نام رکھنا مکروہ ہے ۔ (لمعات التنقیح باب الاسامی جلد 8 صفحہ 109 مطبوعہ دار النوادر دمشق)


ان سب جزئیات سے واضح ہوا کہ ایسا نام جس میں کفار سے مشابہت نہ بھی ہو ، مگر وہ اچھا نہ ہو ، تو اسے بھی بدل دینا چاہیے ، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبدیل کر دئیےتھے ، البتہ ایسا نام جو مسلمان اور غیر مسلموں میں مشترک ہو ، اسے تبدیل کرنا ضروری نہیں ہے ، جیسا کہ : یحیی ، عیسی ، سلیمان ، وغیرہا ، لہٰذا اگر کسی غیر مسلم کا ایسا نام ہو ، تو اسلام قبول کرنے کے بعد اسے تبدیل کرنا ضروری نہیں ، کیونکہ یہ دونوں کو رکھنا جائز ہے ، چنانچہ ناموں کے حوالے سے تقسیم کاری بیان کرتے ہوئے امام طَحْطاوی حنفی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِ لکھتے ہیں : قسم یختص بالمسلمین وقسم یختص بالکفار وقسم مشترک ۔ ۔ ۔  والثالث :  کیحیی و عیسی و ایوب و داود و سلیمان و زید و عمرو و عبد اللہ و عطیۃ و سلام ، ونحوھا ، فھذا لایمنع منہ المسلمون ولا اھل الذمۃ ۔

ترجمہ : ناموں کی ایک قسم مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے ، ایک قسم کفار کے ساتھ خاص ہے اور ایک قسم دونوں میں مشترک ہے ۔ ۔ ۔  یہ تیسری قسم کے نام ، مثلاً یحیی ، عیسی ، ایوب ، داود ، سلیمان ، زید ، عَمرو ، عبد اللہ ، عطیہ ، سلام اور ان جیسے دیگر نام ، تو (ان کا حکم یہ ہے کہ) یہ نام رکھنے سے نہ مسلمانوں کو روکا جائے گا اور نہ ہی غیر مسلموں کو ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار جلد 2 صفحہ 473 مطبوعہ کوئٹہ)


اسی مقام پر امام طَحْطاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا کہ وہ اسلامی نام جو مسلمانوں کے ساتھ خاص ہوں وہ غیر مسلم کو رکھنے کی اجازت نہیں ، جیسا کہ محمد ، احمد ، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نام ، مگر غیر مسلم نے رکھ لیا اور بعد میں اسلام قبول کر لیا ، تو اب وہ نام جو اسے پہلے رکھنے کی اجازت نہیں تھی ، اب رکھنے کی اجازت ہو گئی ، لہٰذا اسے بھی تبدیل کرنے کی حاجت نہیں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Saturday, 23 May 2026

آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں

آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں


محترم قارئینِ کرام : چار انبیاء علیہم السلام ابھی تک زندہ ہیں ۔ دو آسمان میں (1) حضرت ادریس علیہ السلام (2) حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۔ اوردو زمین پر ۔ (1) حضرت خضر علیہ السلام ۔ (2) حضرت الیاس علیہ السلام ۔ حضرت خضر علیہ السلام سمندر پر اور حضرت الیاس علیہ السلام خشکی پر مُنْتَظِم ہیں ۔ (تفسیر روح البیان سورة الصافات آیت نمبر ۱۲۳  جلد ۷ صفحہ ۴۸۱ ، ۴۸۳)


حظرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آج بھی چار نبی علیہم السلام (دنیاوی حیات کے ساتھ) زندہ ہیں دو زمین پر ہیں اور دو آسمان میں ، جو دو زمین پر ہیں وہ حضرت الیاس اور حضرت خضر ہیں اور جو دو آسمان پر ہیں وہ حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ ہیں علہیم السلام ۔ (تاریخ دمشق جلد ٩ صفحہ ١٥٥)(الدرالمثور جلد ٧ صفحہ ١٠٣ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ)


یاد رہے کہ چار انبیاء علیہم ُالصلوٰۃ والسلام وہ ہیں جن پر ابھی ایک آن کےلیے بھی موت طاری نہیں ہوئی ۔ دو آسمان پر حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ اور دو زمین پر حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہمُ الصلوٰۃ والسلام ۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت صفحہ 505)


نیز یہ بھی یاد رکھیں کہ نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے زمانہ میں اور آپ کے زمانہ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا ، اگر پہلے کے کوئی نبی زندہ ہوں تو مضائقہ نہیں ان کی زندگی حضور انور کے خاتم النبیین ہونے کے خلاف نہیں ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد 8 صفحہ 8)


بارگاہِ رسالت میں حاضری: حضرت الیاس علیہ السَّلام نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لشکر کو ایک غار میں یہ دعا کرتے ملے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنْ اُمَّۃِ اَحْمَدَ الْمَرْحُوْمَۃِ الْمُبَارَکَۃِ الْمُسْتَجَابِ لَھَا ، یعنی اے اﷲ ! مجھے احمد کی امت سے بنادے جس پر تیری رحمت و برکت نازل ہوتی ہے اور جس کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد 9 صفحہ 213)(فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 639،چشتی)


اور نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں سلام پہنچانے کا فرمایا کہ آپ کے بھائی الیاس آ پ کو سلام بھیجتے ہیں ، نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار میں تشریف لائے اور حضرت الیاس سے معانقہ فرمایا پھر دونوں مقدس حضرات نے وہیں بیٹھ کر آپس کی کچھ گفتگو بھی کی ۔ (فیض القدیر جلد 3 صفحہ 672 تحت الحدیث : 4133)


صلح حدیبیہ کے موقع پر جو بیعتُ الرضوان لی گئی اس میں حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہما السَّلام بھی شامل تھے ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد 8 صفحہ 274)


حضرت الیاس اور حضرت خضر علیہما السلام دونوں نبی رمضان کے مبارک مہینے میں بیتُ المقدس میں ہوتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، دونوں صاحبان حج کو ہرسال تشریف لاتے ہیں بعدِ حج آبِ زمزم شریف پیتے ہیں کہ وہی سال بھر تک ان کے کھانے پینے کو کفایت کرتا ہے ۔ (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی جلد 8 صفحہ 86 سورہ الصفت آیت ننبر 123،چشتی)(فتاویٰ رضویہ جلد 26 صفحہ 401)


ایک روایت کے مطابق ہر سال حج کے موسم میں مِنیٰ کے مقام پر ملاقات کرتے ، ایک دوسرے کا حلق فرماتے اور ان کلمات پر باہمی ملاقات ختم فرماتے ہیں : سُبْحٰنَ اللهِ مَا شَاءَ اللهُ لَا يَسُوقُ الْخَيْرَ اِلَّا اللَّهُ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا يُصْلِحُ السُّوْ ءَ اِلَّا اللَّهُ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللَّهِ یعنی اللہ پاک ہے ، جو اللہ چاہے، بھلائی صرف اللہ لاتا ہے ، جو اللہ چاہے ، بُرائی کو صرف اللہ ٹالتا ہے ، جواللہ چاہے ، نیکی کی طاقت صرف اللہ کی توفیق سے ہے ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد 9 صفحہ 211)


حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہُ عنہما فرماتے ہیں : جو ان کلمات کو صبح و شام تین بار پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے ڈوبنے، جل جانے اور  (اس کا مال) چوری ہونے سے محفوظ رکھے گا، شیطان، ظالم بادشاہ، سانپ اور بچھو سے بھی حفاظت کی جائے گی ۔ (سیرت حلبیہ جلد 3 صفحہ 212)


 وفات مبارکہ: سال کے باقی دنوں میں حضرت الیاس علیہ السَّلام تو جنگلوں اور میدانوں میں گشت فرماتے رہتے ہیں اور پہاڑوں اور بیابانوں میں اکیلے اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں جبکہ حضرت خضر علیہ السَّلام دریاؤں اور سمندروں کی سیر فرماتے اور اپنے رب کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں،یہ دونوں مقدس حضرات دین محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کے تابع ہیں اور آخری زمانے میں وفات پائیں گے ۔ (عجائب القرآن صفحہ 294)(مستدرک جلد 3 صفحہ 470 حدیث نمبر 4175،چشتی)(فیض القدیر جلد 4 صفحہ 572 تحت الحدیث : 5880)


امام ابن عسا کر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، ہم ایک جگہ ٹھہرے تو وہاں وادی میں ایک شخص یہ دعا کر رہا تھا : اے اللہ مجھے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے بنا دے جو مرحومہ اور مغفورہ ہے اور ثواب پانے والی ہے ، پس میں نے وادی میں جھانک کر دیکھا تو ایک آدمی کھڑا تھا جس کا قد تین سو ذراع (ساڑھے چار سوفٹ) تھا ، اس نے مجھ سے پوچھا تم کون ہو ؟ میں نے کہا میں انس بن مالک ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خادم ہوں ، اس نے پوچھا وہ کہاں ہیں ، میں نے کہا وہ یہیں ہیں اور تمہاری باتیں سن رہے ہیں ، اس نے کہا تم ان کے پاس جائو اور ان کو میرا سلم پہنچاٶ اور ان سے کہو کہ آپ کا بھائی آپ کو سلام کہہ رہا ہے ، پس میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی ، آپ آئے اور آپ نے ان سے ملاقات کی اور ان سے معانقہ کیا اور سلام کیا اور سلام کیا پھر دونوں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے ، انہوں نے کا یا رسول اللہ ! میں سال میں صرف ایک دن کھانا کھاتا ہوں اور آج میرے کھان کا دن ہے ، پس آپ اور میں دونوں کھاتے ہیں ، پھر آسمان سیایک دستر خوان نازل ہوا اس میں روٹیذ مچھلی اور اجوائن تھی ، ان دونوں نے وہ کھانا کھایا اور مجھے بھی کھلایا اور ہم نے عصر کی نماز پڑھی ، پھر آپ نے ان کو الوداع کیا وہ بادل میں بیٹھ کر آسمان کی طرف چلے گئے ، امام عسا کر کہتے ہیں کہ حافظ بیہقی نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے ۔ (تاریخ دمشق جلد ٩ صفحہ ١٥٩،چشتی)(المستدرک جلد ٢ صفحہ ٦١٧ طبع قدیم)(المستدرک رقم الحدیث : ٤٢٢١ طبع جدید)


امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں : میں کہتا ہوں کہ اس حدیث میں جو قصہ ذکر کیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے لحاظ سے ممکن ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو معجزات عطاء فرمائے ہیں یہ ان کے مشابہ ہے لیکن اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور آپ کے جو معجزات عطا فرمائے ہیں یہ ان کے مشابہ ہے لیکن اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور آپ کے جو معجزات احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں وہ کافی ہیں ۔ (دلائل النبوۃ جلد ٥ صفحہ ٤٢٢ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤٢٣ ھ)


حافظ ابن عساکر لکھتے ہیں : یہ قصہ حترت واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے وہ کہتے ہیں ہم غزوہ تبوک میں ایک جگہ پہنچے جس کا نام الحوزۃ تھا ، تہائی رات کے بعد ہمیں ایک غم ناک آواز سنائی دی : اے اللہ ! مجھے امت محمد سے بنادے جو مرحوم اور مغفور ہے اور جس کی دعا قبول ہوتی ہے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حذیفہ ! اور اے انس ! تم اس گھاٹی میں جاٶ اور دیکھو یہ کیسی آواز ہے ، اس کے بعد حضرت الیاس علیہ السلام کے قصہ کو حافظ ابن عسا کرنے زیادہ تفصیل سے لکھا ہے ، اور اس کے آخر میں لکھا ہے یہ حدیث منکر ہے اور اس کی سند قوی نہیں ہے ۔ (تاریخ دمشق جلد ٩ صفحہ ١٦٠ ۔ ١٥٩ رقم الحدیث : ٢٢٧٥ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ،چشتی)


مام حاکم نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد جو لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے (المستدرک جلد ٢ صفحہ ١١٦)


اس پر شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد الذھبی متوفی ٨٤٨ ھ نے تلخیص المستدرک میں یہ تبصرہ کیا ہے : بلکہ یہ حدیث موضوع ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو خراب کرے جس نے اس حدیث کو وضع کیا ہے ، مجھے یہ گمان نہ تھا کہ حاکم کا جہل اس حد تک پہنچے گا کہ وہ ایسی حدیث کو صحیح الاسناد کہیں گے ۔ (تلخیص المستدرک جلد ٢ صفحہ ٦١٧ دارالباز للنشر والتویع مکہ مکرمہ)


اور میران الاعتدال میں یہ تبصرہ کیا ہے : پس حاکم کو اس سے حیاء نہیں آئی کہ اس نے اس کو صحیح کہا ۔ (میزان الاعتدال جلد ٧ صفحہ ٢٦٤ دارالباز مکہ مکرمہ ١٤١٦ ھ)


حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر الدمشقی المتوفی ٧٧٤ ھ نے اس روایت پر یہ تبصرہ کیا ہے : حاکم نیشاپوری پر تعجب ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو اپنی مستدرک میں درج کیا ہے ، حالانکہ یہ حدیث موضوع ہے اور احادیث صحیحہ کے حسبِ ذیل وجوہ سے مخالف ہے : ⏬


(١) حدیث صحیح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے ، بیشک اللہ نے آدم کو پیدا کیا آسمان میں ان کے جسم کا طول ساٹھ ذراع (نوے فٹ) تھا ، (الی قولہ) پھر مخلوق کا قدکم ہوتے ہوتے اتنا رہ گیا جتنا اب ہے ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٢٦)(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٤١)(صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦١٦٢)(الاسماء والصفات صفحہ ٢٩٠ ۔ ٢٨٩)(شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٢٩٨)(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٣٦٨)(المستدرک جلد ١ صفحہ ٦٤،چشتی)(مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٩٤٣٥)(مسند احمد جلد ٢ صفحہ ٣١٥ رقم الحدیث : ٨١٧١ دارالفکر)(مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٦٥٨٠) ۔ اور اس روایت میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام کا قد تین سو ذراع (ساڑھے چار سو فٹ) تھا ۔


(٢) اس روایت میں یہ ذکر ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہیں گئے حتی کہ آپ خود ان کے پاس گئے اور یہ صحیح نہیں کیونکہ ان پر یہ حق تھا کہ وہ خود خاتم الانبیاء کی خدمت میں حاضر ہوتے ۔


(٣) اور اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ حضرت الیاس سال میں صرف ایک مرتبہ کھاتے تھے ، اور وہب بن منبہ سے یہ روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے کھانے اور پینے کی لذت سلب کرلی تھی اور بعض نے یہ کہا ہے کہ وہ سال میں صرف ایک بار زمزم کا پانی پیتے تھے اور یہ تمام اشیاء متعارض اور باطل ہیں ان میں سے کوئی چیز صحیح نہیں ہے ۔


(٤) حافظ ابن عسا کرنے اس حدیث کو واثلہ بن الاسقع سے بھی روایت کیا ہے اس میں یہ ذکر ہے کہ یہ غزوہ تبوک کا واقعہ ہے اور اس میں یہ ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پاس حضرت انس بن مالک اور حضرت حذیفہ بن یمان کو بھیجا تھا اور اس میں یہ ذکر ہے کہ ان کا قدان سے دو یا تین ذراع زیادہ تھا ، اور اس میں یہ ذکر ہے کہ جب وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جمع ہوئے تو انہوں نے جنت کا کھانا کھایا ، اور اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت الیاس نے کہا میں ہر چالیس دن کے بعد کھانا کھاتا ہوں ، اور اس میں یہ ہے کہ آسمان سے نازل ہونے والے دستر خوان میں روٹی ‘ انار ‘ انگور ‘ بادام ‘ تازہ کھجوریں اور سبزیاں تھیں ‘ اور اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے خضر کے متعلق سوال کیا تو حضرت الیاس نے کہا میں سال کی ابتداء میں ان سے ملاقات کروں گا اور آپ نے فرمایا کہ جب آپ کی ان سے ملاقات ہو تو آپ ان سے میرا سلام کہیں ‘ اگر اس روایت کو صحیح مان لیا جائے کہ حضرت خضر اور حضرت الیاس موجود ہیں تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ نو ہجری تک خضر اور حضرت الیاس کی ملاقات نہیں ہوئی تھی اور یہ وہ چیز ہے جو شرعاً جائز نہیں اور یہ بھی موضوع ہے ۔ (البدایہ والنہایہ جلد ١ صفحہ ٤٤٥ ۔ ٤٤٤ دارالفکر بیروت ١٤١٩ ھ)


حضرت الیاس (علیہ السلام) سمیت چار نبیوں کے ابھی تک زندہ ہونے پر حافظ ابن کثیر کا تبصرہ اور اس پر فقیر کا تبصرہ : کعب نے روایت کیا ہے کہ آج بھی چار نبی رندہ ہیں دوزمین پر ہیں اور دو آسمان میں ہیں ‘ جو دو زمین پر ہیں وہ حضرت الیاس اور حضرت خضر ہیں اور جو دو آسمان پر ہیں وہ حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ ہیں ۔ (تاریخ دمشق جلد ٩ صفحہ ١٥٥)


مذکورہ روایت کے متعلق حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں : ہم اس سے پہلے بعض لوگوں کا یہ قول ذکر کر چکے ہیں کہ حضرت الیاس اور حضرت خضر ہر سال ماہ رمضان میں بیت المقدس میں ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں اور وہ ہر سال حج کرتے ہیں اور ززم سے پانی پیتے ہیں جو ان کو اگلے سال تک کے لیے کافی ہوتا ہے ‘ اور ہم وہ دیث بیان کرچکے ہیں کہ وہ دونوں ہر سال میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں اور ہم یہ بھی بیان کرچکے ہیں کہ ان میں سے کوئی چیز بھی صحیح نہیں ہے ‘ اور جو چیز دلیل سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور اسی طرح حضرت الیاس بھی ‘ اور وہب بن منبہ نے جو یہ روایت کیا ہے کہ جب حضرت الیاس (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی تکذیب کی اور ان کو ایذاء پہنچائی تو حضرت الیاس نے اپنے رب سے دعا کی ‘ پھر آگ کے رنگ کا ایک جانور آیا ‘ حضرت الیاس اس پر سوار ہوگئے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو نور کا لباس پہنا دیا اور ان سے کھانے اور پینے کی لذت کو منقطع کردیا اور وہ فرشہ اور بشر کی صورت میں زمین آسمان پر گئے ‘ اور انہوں نے الیسع بن اخوطب کو وصیت کی ‘ سو اس روایت پر اعتراضات ہیں اور یہ اسرائیلیات میں سے ہے جس کی تصدیق واجب ہے نہ تکذیب ‘ بلکہ ظاہر یہ ہے کہ یہ روایت بہت بعید ہے۔ (البدایہ النہایہ ج ٠ ص ٤٤٤۔ ٤٤٣‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)


اس روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت الیاس اور خضر (علیہما السلام) پر ابھی تک طبعی موت نہیں آئی ‘ لیکن بہر حال قیامت سے پہلے ان پر موت آئے گی اور واضح رہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو موت کے بعد پھر حیات عطا کردی جاتی ہے اور انبیاء علیہم السلام پر صرف ایک آن کے لیے موت آتی ہے ‘ اسی طرح حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ابھی تک موت نہیں آئی لیکن قیامت سے پہلے ان پر بہر حال موت آئے گی ۔


حضرت الیاس کے لوگوں سے ملاقات کرنے کی روایت : ⏬


حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں : حافظ ابن عسا کرنے کئی سندوں سے یہ روایت ذکر کی ہیں کہ حضرت الیاس کی اللہ کے بندوں سے ملاقات ہوئی ‘ یہ تمام روایات ضعیف یا مجہول ہیں اور بہترین حدیث وہ ہے جس کو امام ابن ابی الدنیا نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے : ثابت بیان کرتے ہیں کہ ہم مصعب بن الزبیر کے ساتھ کوفہ کے مضافات میں تھے ‘ میں ایک باغ میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز پڑھی سو میں نے سورة المومن کی یہ تین آیتیں تلاوت کیں۔ حم۔ تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم۔ غافرالذنب و قابل التوب شدید العقاب ذی الطول اس وقت میرے پیچھے ایک شخص سرخ خچر پر سوار کھڑا تھا اور اس نے یمن کا لباس پہنا ہوا تھا ‘ اس نے کہا جب تم غافر الذنب پڑھو تو یہ دعا کر ویا غافر الذنب اغفرلی ذنبی ( اے گناہ بخشنے والے میرے گناہ بخش دے) اور جب تم پڑھو قابل التوب تو یہ دعا کرو یا قابل التوب تقبل توبتی (اے توبہ قبول کرنے والے میری توبہ قبول فرما) اور جب تم پڑھو شدید العقاب تو یہ دعا کرو یا شدید العقاب لا تعاقبنی (اے سخت سزا دینے والے مجھے سزانہ دینا) اور جب تم پڑھو ذی الطول تو یہ دعا کرنا یا ذالطول تطول علی برحمتی ( اے قدرت والے ! اپنی قدرت سے مجھ پر رحمت نازل فرما) میں نے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا ‘ میں باغ سے باہر نکل آیا اور لوگوں سے پوچھا کیا تم نے ایک شخص کو دیکھا ہے جو سرخ خچر پر سوار تھا اور اس نے یمنی لباس پہنا ہا تھا ‘ لوگوں نے کہا یہاں پر ایسا کوئی شخص نہیں تھا ‘ اور ان کا یہ گمان تھا کہ وہ شخص حضرت الیاس کے سوا اور کوئی نہیں تھا ۔ (البدایہ النہایہ جلد ١ صفحہ ٤٤٥ دارالفکر بیروت ١٤١٩ ھ،چشتی)


حافظ ابن کثیر نے اس روایت کو حسن کے بجائے احسن لکھا ہے اور اس سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں ۔


ان چار حضرات کو وعدہ الٰہیہ آیا ہی نہیں ۔ ان میں سے دو آسمان پر ہیں اور دو زمین پر ۔ حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہما السلام زمین پر ہیں اور حضرت عیسیٰ و حضرت ادریس علیہما السلام آسمان پر ۔ (ملفوظات اعلی حضرت صفحہ 484)


حضرت ادریس علیہ السلام کے آسمان پر جانے کا واقعہ : ⏬


قرآن مجید میں ارشاد ہے : ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھا لیا ۔ (سورہ مریم آیت نمبر 57)


 بعض روایات میں ہے کہ بعد موت آپ آسمان پر تشریف لے گئے ۔(تفسیر البغوی) ایک روایت میں یہ ہے کہ ایک بار آپ دوپہر، دھوپ کی شدت میں تشریف لے لیے جا رہے تھے ۔ آپ کو سخت تکلیف ہوئی ۔ خیال فرمایا کہ جو فرشتہ آفتاب پر مقرر ہے اسے کس قدر تکلیف ہوتی ہوگی ؟ عرض کی : یا اللّٰہ ! اس فرشتہ پر تخفیف فرما ۔ فورا دعا قبول ہوئی اور اس ہر تخفیف ہو گئی ۔ اس فرشتہ نے عرض کی : یا اللّٰہ ! مجھ پر تخفیف کس طرف سے آئی ؟ ارشاد ہوا : میرے بندے ادریس نے تری تخفیف کے واسطے دعا کی ، میں نے اس کی دعا قبول کی ، عرض کی : مجھے اجازت دے کہ میں ان کی خدمات میں حاضر ہوں ۔ اجازت ملنے پر حاضر ہوا ۔ تو تمام واقعہ بیان کیا اور عرض کیا کہ اگر کوئی بات ہو تو ارشاد فرمائیں ۔ فرمایا : مجھے ایک مرتبہ جنت میں لے چلو ۔ عرض کی : یہ تو میرے قبضے سے باہر ہے لیکن عزرائیل علیہ السلام سے میرا دوستانہ ہے ، ان کو لاتا ہوں شاید کوئی تدبیر چل جائے ۔ غرض عزرائیل علیہ السلام آئے ، آپ نے ان سے فرمایا : انہوں نے عرض کی : حضور ! بغیر موت کے تو جنت میں جانا نہیں ہو سکتا ۔ فرمایا : روح قبض کر لو ۔ انہوں نے بحکم خدا ایک لمحے کےلیے ان کی روح قبض کی اور فوراً جسم میں ڈال ڈی ۔ آپ نے فرمایا : مجھے جنت اور دوزخ کی سیر کراؤ ۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام حضرت ادریس علیہ السلام کو دوزخ پر لائے ، طبقات جہنم کھلوائے ، آپ دیکھتے ہی بے ہوش ہو گئے ۔ عزرائیل علیہ السلام وہاں سے لے کر آئے توان کے ہوش میں آنے کے بعد عرض کیا : یہ تکلیف آپ نے اپنے ہاتھوں سے اٹھائی ۔ پھر جنت میں لے گئے ، وہاں کی سیر کرنے کے بعد عزرائیل علیہ السلام نے چلنے کے واسطے عرض کیا ۔ آپ نے دو مرتبہ التفات نہ فرمایا ۔ تیسری بار فرمایا کہ اب چلنا کیسا ، جنت میں آکر بھی کوئی وآپس جاتا ہے ؟ اللّٰہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے واسطے بھیجا ۔ عزرائیل علیہ السلام سے بات کرنے کے بعد فرشتے نے حضرت ادریس علیہ السلام سے پوچھا : آپ واپس تشریف کیوں نہیں لے جاتے ؟ ارشاد فرمایا : اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے : ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ،(سورہ أل عمران آیت نمبر 185) ، اور میں موت کا مزہ چکھ چکا ہوں ۔ اور فرماتا ہے : تم میں سے ہر ایک جہنم کی سیر کرے گا ۔ (سورہ مریم آیت ننبر 171) ، اور میں جہنم کی سیر بھی کر آیا ہوں ، اور فرماتا ہے : اور وہ لوگ جنت سے کبھی نہ نکالے جائیں گے (الحجر آیت ننبر 48) ، اب میں جنت میں آگیا ، کیوں جاؤں ؟ اللّٰہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میرا بندہ ادریس علیہ السلام سچا ہے ، اس جو چھوڑ دو ۔ ملفوظات اعلی حضرت صفحہ 485)


فتویٰ دارالعلوم دیوبند : ⏬


چار انبیاء کا زندہ ہونا اور حضرت خضر و الیاس علیہم السلام کا مقام

سوال

محترم المقام السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ


لوگ کہتے ہیں کہ چار انبیاء علیہم السلام زندہ ہیں ؛ جن میں دو آسمانوں میں ہیں:حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام ، جب کہ دو اسی دنیا میں ہیں: حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام۔ کیا یہ بات صحیح ہے ؟ نیز، مہربانی فرماکرکیا اس کی وضاحت فرمائیں گے کہ حضرت خضر و حضرت الیاس علیہما السلام کہاں ہیں ؟ ۔ شکریہ ! والسلام ۔


جواب : بسم الله الرحمن الرحيم ۔ (فتوی: ۱۷۶/ب) ۔ تحقیق یہ ہے کہ صرف ایک نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور آسمان پر موجود ہیں ، حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں جس آیت سے آسمان پر اٹھائے جانے کا مفہوم نکلتا ہے اس سے مراد رفعت مکانی ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے مرتبہ کو بلند فرمایا ۔ حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں زندہ ہونے کی کوئی آیت یا حدیث ہماری نظر سے نہیں گذری۔ حضرت خضر علیہ السلام، صحیح قول کے مطابق وہ نبی نہ تھے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء ، دارالعلوم دیوبند ۔ اس فتوے کا لنک : ⏬

چار انبیاء کا زندہ ہونا اور حضرت خضر و الیاس علیہم السلام کا مقام https://www.darulifta.info/d/deoband/fatwa/vq/char-anbyaaa-ka-znd-ona-aor-hdrt-khdr-o-alyas-aalym-alslam-ka-mkam


حضرت ادریس علیہ السلام کو بلند مکان پر اٹھالینے کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے آپ علیہ السلام کے مرتبے کی بلندی مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے اور زیادہ صحیح یہی قول ہے کہ آپ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا گیا ہے ۔ (تفسیر خازن سورہ مریم آیت نمبر ۵۷ جلد ۳ صفحہ ۲۳۸) ۔ اور آپ علیہ السلام اب بھی حیاتِ ظاہری سے متصِف ہیں ۔


اللہ عزوجل کا حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے : اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ ۔ (سورہ آلعمران آیت نمبر ۵۵)

ترجمہ : یاد کرو جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تمہیں پوری عمر تک پہنچاؤں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا اور تجھے کافروں سے نجات عطاکروں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دوں گا پھر تم سب میری طرف پلٹ کر آؤ گے توجن باتوں میں تم جھگڑتے تھے ان باتوں کا میں تمہارے درمیان فیصلہ کردوں گا ۔


پہلی بات تَوَفّٰی ہے ۔ مرزائیوں نے آیتِ پاک کے ان الفاظ کو بنیاد بنا کر یہود و نصاریٰ کی پیروی میں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا دعویٰ کیا اور یہ سراسر غلط ہے کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ تَوَفّٰی کا حقیقی معنی ہے ، پورا کرنا ، جیسے قرآن پاک میں ہے : وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی ۔ (النجم آیت نمبر ۳۷)

ترجمہ : اور ابراہیم جو پورے احکام بجا لایا ۔


اور یہ موت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ، لیکن یہ ا س کا مجازی معنی ہے اور جب تک کوئی واضح قرینہ موجود نہ ہو اس وقت تک لفظ کا حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنی مراد نہیں لیا جا سکتا ، اور یہاں کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں کہ تَوَفّٰی کا معنی موت کیا جائے بلکہ اس کا حقیقی معنی مراد لینے پر واضح قرائن بھی موجود ہیں اور وہ قرائن احادیثِ مبارکہ ہیں جن میں یہ بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور قربِ قیامت میں واپس تشریف لائیں گے ۔ لہٰذا اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت نہیں ہوتی ۔ دوسرے نمبر پر بالفرض اگر تَوَفّٰی کا معنیٰ ،وفات دینا، ہی ہے تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں ۔ صرف یہ فرمایا ہے کہ ، اے عیسیٰ ! میں تجھے وفات دوں گا ۔ تو یہ بات تو ہم بھی مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی وفات پائیں گے ، یہ معنی نہیں ہے کہ ہم نے تجھے فوت کر دیا ۔ اب یہ بات کہ آیت میں تَوَفّٰی یعنی وفات دینے کا پہلے تذکرہ ہے اور اٹھائے جانے کا بعد میں اور چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے جا چکے ہیں لہٰذا ان کی وفات بھی پہلے ثابت ہو گئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ آیت میں ’’مُتَوَفِّیْكَ‘‘ اور ’’رَافِعُكَ‘‘ کے درمیان میں ’’واؤ‘‘ ہے اور عربی زبان میں ’’واؤ‘‘ ترتیب کےلیے نہیں آتی کہ جس کا مطلب یہ نکلے کہ وفات پہلے ہوئی اور اٹھایا جانا بعد میں ، جیسے قرآن پاک میں حضرت مریم رضی اللہ عنہا سے فرمایا گیا : وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ ۔ (سورہ آلِ عمران آیت نمبر ۴۳)

ترجمہ : اور سجدہ اور رکوع کر ۔

یہاں سجدے کا پہلے تذکرہ ہے اور رکوع کا بعد میں ، تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ حضرت مریم رضی اللہ عنہا رکوع بعد میں کرتی تھیں اور سجدہ پہلے ، ہر گز نہیں ۔ لہٰذا جیسے یہاں ’’واؤ‘‘ کا آنا ترتیب کےلیے نہیں ہے ایسے ہی مذکورہ بالا آیت میں ’’واؤ‘‘ ترتیب کےلیے نہیں ہے ۔

دوسری بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اٹھایا جانا ہے ۔ فرمایا گیا کہ ہم تمہیں  بغیر موت کے اٹھا کر آسمان پر عزت کی جگہ اور فرشتوں کی جائے قرار میں پہنچا دیں گے ۔ نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا : حضرت عیسیٰ علیہ السلام میری امت پر خلیفہ ہو کر نازل ہوں گے ، صلیب توڑیں گے ، خنزیروں کو قتل کریں گےط، چالیس سال رہیں گے ، نکاح فرمائیں گے ، اولاد ہوگی اور پھر آپ علیہ السلام کا وصال ہوگا ۔ وہ امت کیسے ہلاک ہو جس کا اوّل میں ہوں اور آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور وسط میں میرے اہلِ بیت میں سے حضرت مہدی رضی اللہ عنہُ ۔ (تفسیر مدارک سورہ اٰل عمران آیت نمبر ۵۵ صفحہ ۱۶۳،چشتی)(ابن عساکر ذکر من اسمہ عیسیٰ ، عیسی بن مریم جلد ۴۷ صفحہ ۵۲۲)


مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام منارۂ شرقی دمشق پر نازل ہوں گے ۔ (صحیح مسلم کتاب الفتن واشراط الساعۃ باب ذکر الدجال وصفتہ وما معہ صفحہ ۱۵۶۸ الحدیث : ۱۱۰ (۲۹۳۷))


یہ بھی حدیث میں ہے : نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے حجرہ میں مدفون ہوں گے ۔ (الوفاء باحوالِ المصطفٰی ابواب بعثہ وحشرہ وما یجری لہ صلی اللہ علیہ وسلم الباب الثانی فی حشر عیسی بن مریم مع نبینا صفحہ ۳۲۵ الجزء الثانی)


تیسری بات کہ کفار سے نجات دلاؤں گا ۔ اس طرح کہ کفار کے نرغے سے تمہیں بچا لوں گا اور وہ تمہیں سولی نہ دے سکیں گے ۔


چوتھی بات ماننے والوں کومنکروں پر غلبہ دینا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں سے مراد ہے ’’ان کو صحیح طور پر ماننے والے‘‘ اور صحیح ماننے والے یقیناً صرف مسلمان ہیں کیونکہ یہودی تو ویسے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن ہیں اور عیسائی انہیں خدا مانتے ہیں تو یہ ’’ماننا ‘‘ تو بدترین قسم کا ’’نہ ماننا‘‘ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں کہ اللہ عزوجل کے سوا کسی کو معبود نہ مانو اور یہ کہیں ، نہیں ، ہم توآپ کو بھی معبود مانیں گے ۔


اور دو نبی زمین پر تشریف فرما ہیں : ⏬


حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام آپ دونوں بھی حیات ہیں ۔


مرأة المناجیح میں ہے : آپ (خضر علیہ السلام) کا نام عباس یا بلیا ابن ملکان ہے ۔ آپ نوح علیہ السلام کی ساتویں پشت پر ہیں ۔ ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں موجود تھے ۔ آپ کا مقام سمندر ہے ۔ الیاس علیہ السلام کا مقام خشکی ہے ۔ قیامت تک زندہ رہیں گے ۔ بزرگوں سے ملاقات کرتے ہیں ۔ حضور غوث پاک نے آپ سے فرمایا تھا کہ اے اسراٸیلی ولی محمدی ولی کی بات سنتے جاٸیے ۔ آپ نبی ہیں ہر سال حج کے موقع پر آپ اور الیاس علیہما السلام جمع ہوتے ہیں ۔ (مرأة المناجیح شرح مشکٰوة المصابیح جلد ٧ صفحہ ٤٢٤)


اہلسنت کے نزدیک یہ چار انبیإ آج بھی ظاہری حیات میں موجود ہیں ، بایں کہ تمام انبیاء علیہم الصلٰوة والسلام اپنی قبروں میں حیات ہیں ۔ جب قیامت قریب آئے گی تو اس وقت وفات پائیں گے اور بعض بزرگوں کی ان سے ملاقات بھی ہوئی ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 12 ذی الحجہ ہے یا 18 ذی الحجہ

حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 12 ذی الحجہ ہے یا 18 ذی الحجہ محترم قارئینِ کرام : اٹھارہ (18) ذوالحج کو شیعہ لوگ عید غدیر...