Wednesday, 20 May 2026

بھینس اور کٹے کی قربانی کا جواز غیرمقلد وہابیوں اور دیگر مستند دلائل کی روشنی میں

بھینس اور کٹے  کی قربانی کا جواز غیرمقلد وہابیوں اور دیگر مستند دلائل کی روشنی میں


محترم قارئین کرام : قرآنِ کریم نے قربانی کےلیے بَھِیمَۃ الْـأَنْعَام کا انتخاب فرمایا ہے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ِگرامی ہے : وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِۚ ۔ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآىٕسَ الْفَقِیْرَ ۔ (سورہ الحج 22 : 28)

ترجمہ :  اور اللہ کا نام لیں جانے ہوئے دنوں میں اس پر کہ انہیں روزی دی بے زبان چوپائے تو ان میں سے خود کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو کھلاؤ ۔


خود قرآنِ کریم نے الْـأَنْعَام کی توضیح کرتے ہوئے ضَاْن (بھیڑ) ، مَعْز(بکری) ، اِبِل(اونٹ) اور بَقَر(گائے) ، چار جانوروں کا تذکرہ فرمایا ۔ اور ان کے مذکر و مؤنث کو ملا کر انہیں ثَمَانِیَۃ أَزْوَاج (جوڑوں کے لحاظ سے آٹھ)کہا ۔ (سورہ الأنعام 6:144-142)


جانوروں کی نسل کا اعتبار ہو گا ، علاقائی ناموں کا نہیں انہی چار جانوروں کی قربانی پوری امت ِمسلمہ کے نزدیک اجماعی و اتفاقی طور پر مشروع ہے ۔ ان جانوروں کی خواہ کوئی بھی نسل ہو اور اسے لوگ خواہ کوئی بھی نام دیتے ہوں ، اس کی قربانی جائز ہے ۔ مثلاً بھیڑ کی نسل میں سے دنبہ ہے ۔ اس کی شکل اور نام اگرچہ بھیڑسے کچھ مختلف بھی ہے ، لیکن چونکہ وہ بھیڑ کی نسل اور قسم میں شامل ہے ، لہٰذا اس کی قربانی مشروع ہے ۔ اسی طرح مختلف ملکوں اور علاقوں میں بھیڑ کی اور بھی بہت سی قسمیں اور نسلیں ہیں جو دوسرے علاقوں والوں کےلیے اجنبی ہیں اور وہ انہیں مختلف نام بھی دیتے ہیں ۔ اس کے باوجود ان سب کی قربانی بھیڑ کی نسل و قسم ہونے کی بنا پر جائز اور مشروع ہے ۔ اسی طرح اونٹوں وغیرہ کا معاملہ ہے ۔ قربانی کے جانوروں میں سے ایک ''بقر'' (گائے) بھی ہے ۔ اس کی قربانی کےلیے کوئی نسل قرآن و سنت نے خاص نہیں فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السّلام کی زبانی ان کی قوم کو ''بقر'' ذبح کرنے کا حکم دیا ، لیکن قومِ موسیٰ نے اس کی ہیئت و کیفیت کے بارے میں سوال پر سوال شروع کر دیے جس کی بنا پر انہیں سختی کا سامنا کرنا پڑا ۔سورہ بقرہ کی کئی آیات اس کی تفصیل بیان کرتی ہیں ۔


انہی آیات کی تفسیر میں امام المفسرین،علامہ ابوجعفر، محمد بن جریر بن یزید بن غالب، طبری (310-224ھ)صحابہ و تابعین اور اہل علم کا قول نقل فرماتے ہوئے لکھتے ہیں : إِنَّھُمْ کَانُوا فِي مَسْأَلَتِھِمْ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، مُوسٰی ، ذٰلِکَ مُخْطِئِینَ، وَأَنَّھُمْ لَو کَانُوا اسْتَعْرَضُوا أَدْنٰی بَقَرَۃٍ مِّنَ الْبَقَرِ، إِذْ أُمِرُوا بِذَبْحِھَا، ۔۔۔۔۔، فَذَبَحُوھَا، کَانُوا لِلْوَاجِبِ عَلَیْھِمْ، مِنْ أَمْرِ اللّٰہِ فِي ذٰلِکَ، مُؤَدِّینَ، وَلِلْحَقِّ مُطِیعِینَ، إِذْ لَمْ یَکُنِ الْقَوْمُ حُصِرُوا عَلٰی نَوْعٍ مِّنَ الْبَقَرِ دُونَ نَوْعٍ، وَسِنٍّ دُونَ سِنٍّ، ۔۔۔۔۔، وَأَنَّ اللَّازِمَ کَانَ لَھُمْ، فِي الْحَالَۃِ الْـأُولٰی، اسْتِعْمَالُ ظَاھِرِ الْـأَمْرِ، وَذَبْحُ أَيِّ بَھِیمَۃٍ شَاءُ وا، مِمَّا وَقَعَ عَلَیْھَا اسْمُ بَقَرَۃٍ .''قومِ موسیٰ،گائے کے بارے میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے سوالات کرنے میں غلطی پر تھی۔جب انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیاتھا،اس وقت وہ گائے کی کوئی ادنیٰ قسم بھی ذبح کر دیتے تو حکم الٰہی کی تعمیل ہو جاتی اور ان کا فرض ادا ہو جاتا،کیونکہ ان کے لیے گائے کی کسی خاص قسم یا کسی خاص عمرکا تعین نہیں کیا گیا تھا ۔۔۔ ان کےلیے ضروری تھا کہ پہلی ہی دفعہ ظاہری حکم پر عمل کرتے ہوئے کوئی بھی ایسا جانور ذبح کر دیتے ،جس پر 'بقر' کا لفظ بولا جاتا تھا ۔ (جامع البیان عن تأویل آي القرآن)(تفسیر الطبری 100/2،چشتی)


معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ گائے ذبح کرنے کا حکم فرمائے تو گائے کی کوئی بھی قسم یا نسل ذبح کرنے سے حکم الٰہی پر عمل ہو جاتا ہے اور یہ بات لغت ِعرب میں اور اہل علم کے ہاں طَے ہے کہ جس طرح بختی،اِبِل (اونٹ) کی ایک نسل ہے ، اسی طرح بھینس، بقر (گائے)کی ایک نسل و قسم ہے ۔ حضرت مولائے کائنات علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ   فرماتے ہیں : الجاموس تجزی عن سبعة فی الأضحيۃ ۔

ترجمہ : بھینس قربانی میں سات افراد کی طرف سے کافی ہے ۔ (الفردوس بماثور الخطاب کتاب الاضحیۃ جلد 2 صفحہ نمبر 124 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)(فردوس الاخبار جلد 2 صفحہ نمبر 202 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)


مصنّف ابنِ ابی شیبہ میں  ہے : عن الحسن انّہ  کان یقول : الجوامیس بمنزلۃ البقر ۔

ترجمہ : حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ بھینس گائے کی طرح ہی ہے (یعنی تمام احکام میں گائے کی طرح ہے) ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد 4 صفحہ357 رقم : 10839 مطبوعہ مکتبۃ الرشد)


بھینس گائے کی ایک قسم ہے ، اس پر ائمہ اسلام کا اجماع ہے : ⏬


امام ابن المنذر فرماتے ہیں : واجمعوا علی ان حکم الجوامیس حکم البقر ۔

ترجمہ : اور اس بات پر اجماع ہےکہ بھینسوں کا وہی حکم ہے جو گائیوں کا ہے ۔ (الاجماع کتاب الزکاۃ صفحہ ۴۳)


ابنِ قدامہ لکھتے ہیں : لا خلاف فی ھذا نعلمہ ۔

ترجمہ : اس مسئلے میں ہمارے علم کے مطابق کوئی اختلاف نہیں ۔ (المغنی جلد ۲ صفحہ ۲۴۰)


لیث بن ابوسلیم تابعی رضی اللہ عنہ (متوفی 138/148ھ) کا قول ہے : اَلْجَامُوسُ وَالْبُخْتِيُّ مِنَ الْـأَزْوَاجِ الثَّمَانِیَۃِ ۔

ترجمہ : بھینس (گائے کی ایک قسم) اور بختی (اونٹ کی ایک قسم) ان آٹھ جوڑوں میں سے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے ۔ (تفسیر ابن أبي حاتم جلد 5 صفحہ 1403)


لغت و ادب ِعربی کے امام ابومنصور محمد بن احمد ازہری ہروی (370-282ھ) فرماتے ہیں : وَأَجْنَاسُ الْبَقَرِ ، مِنْھَا الْجَوَامِیسُ ، وَاحِدُھَا جَامُوسٌ، وَھِيَ مِنْ أَنْبَلِھَا ، وَأَکْرَمِھَا ، وَأَکْثَرِھَا أَلْبَانًا ، وَأَعْظَمِھَا أَجْسَامًا ۔

ترجمہ : گائے کی نسلوں میں سے جوامیس (بھینسیں) ہیں ۔ اس کی واحد جاموس ہے ۔ یہ گائے کی بہترین اورعمدہ ترین قسم ہے ۔ یہ گائے کی سب اقسام میں سے زیادہ دودھ دینے والی اور جسمانی اعتبار سے بڑی ہوتی ہے ۔(الزاھر في غریب ألفاظ الشافعي صفحہ 101،چشتی)


امامِ لغت علامہ ابوالحسن علی بن اسماعیل،المعروف بہ ابن سیدہٖ (458-398ھ) لکھتے ہیں : وَالْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ ۔

ترجمہ : بھینس ، گائے کی ایک نسل ہے ۔ (المحکم والمحیط الأعظم جلد 7 صفہ 283)


عربی زبان کے ادیب اور لغوی ابوالفتح ناصربن عبد السید معتزلی مطرزی (610-538ھ)لکھتے ہیں : وَالْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ ۔

ترجمہ : بھینس ، گائے ہی کی نسل سے ہے ۔ (المغرب في ترتیب المعرب صفحہ 89)


مشہور فقیہ و محدث علامہ عبد اللہ بن احمد بن محمد المعروف بہ ابن قدامہ مقدسی (620-541ھ) فرماتے ہیں : وَالْجَوَامِیسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ، وَالْبَخَاتِي نَوْعٌ مِّنَ الْإِبِلِ ۔

ترجمہ : بھینسیں ، گائے کی نوع (نسل) سے ہیں اور بختی ، اونٹوں کی نوع (نسل)سے ۔ (الکافي في فقہ الإمام أحمد جلد 1 صفحہ 390)


محدث و مفسر ابوالبرکات عبد السلام بن عبد اللہ حرانی (652-590ھ) فرماتے ہیں : وَالْجَوَامِسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ ۔

ترجمہ : بھینسیں ، گائے کی ایک نوع (نسل) ہیں ۔ (المحرّر في الفقہ علٰی مذہب الإمام احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 215،چشتی)


شارحِ صحیح مسلم معروف لغوی حافظ ابوزکریا یحییٰ بن شرف نووی (676-631ھ) ابواسحاق شیرازی(474-393ھ) کی کتاب التنبیہ في الفقہ الشافعي کی تشریح و تعلیق میں فرماتے ہیں : وَیُنْکَرُ عَلَی الْمُصَنِّفِ کَوْنُہ ، قَالَ : وَالْجَوَامِسُ وَالْبَقَرُ، فَجَعَلَہُمَا نَوْعَیْنِ لِلبَقَرِ ، وَکَیْفَ یَکُونُ الْبَقَرُ أَحَدَ نَوْعَيِ الْبَقَرِ ۔ وَیُنْکَرُ عَلَی الْمُصَنِّفِ کَوْنُہ ، قَالَ : وَالْجَوَامِسُ وَالْبَقَرُ ، فَجَعَلَہُمَا نَوْعَیْنِ لِلبَقَرِ ، وَکَیْفَ یَکُونُ الْبَقَرُ أَحَدَ نَوْعَيِ الْبَقَرِ ، قَالَ الْـأَزْھَرِيُّ : أَنْوَاعُ الْبَقَر ، مِنْھَا الجَوَامِیسُ ، وَھِيَ أَنْبَلُ الْبَقَرِ ۔

ترجمہ : مصنف کا (وَالْجَوَامِیسُ وَالْبَقَرُ) کہنا قابل اعتراض ہے ، انہوں نے گائے اور بھینس کو گائے کی نسلیں قرار دیا ہے ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ گائے ہی گائے کی دو نسلوں (بھینس اور گائے میں سے) ایک نسل ہو ؟ ۔ ازہری کہتے ہیں کہ بھینس ، گائے کی ایک نوع ہے اور یہ گائے کی تمام نسلوں سے عمدہ ترین نسل ہے ۔ (تحریر الفاظ التنبیہ صفحہ 106)


لغتِ عرب میں امام و حجت کا درجہ رکھنے والے علامہ ابوالفضل محمد بن مکرم انصاری المعروف بہ ابن منظور افریقی (711-630ھ)فرماتے ہیں : وَالْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ ۔

ترجمہ : بھینس ، گائے کی ایک نسل ہے ۔ (لسان العرب جلد 6 صفحہ 43)


معروف لغوی علامہ ابوالعباس احمدبن محمدبن علی حموی (م:770ھ) لکھتے ہیں : وَالْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ ۔

ترجمہ : بھینس ، گائے کی ایک نسل ہے ۔ (المصباح المنیر في غریب الشرح الکبیر جلد 1 صفحہ 108،چشتی)


لغت ِعرب کی معروف و مشہور کتاب ”تاج العروس” میں مرقوم ہے : اَلْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ ۔

ترجمہ : بھینس ،گائے کی نسل سے ہے ۔ (تاج العروس من جواھر القاموس لأبي الفیض الزبیدي جلد 15 صفحہ 513،چشتی)


لغتِ عرب کی معروف کتاب ”المعجم الوسیط” میں ہے : اَلْجَامُوسُ حَیَوَانٌ أَھْلِيٌّ، مِنْ جِنْسِ الْبَقَرِ ۔

ترجمہ : بھینس ، گائے کی نسل سے ایک گھریلو جانور ہے ۔ (المعجم الوسیط جلد 1 صفحہ 134)

نیز اسی کتاب میں لکھا ہے : اَلْبَقَرُ : جِنْسٌ مِّنْ فَصِیلَۃِ الْبَقَرِیَّاتِ، یَشْمَلُ الثَّوْرَ وَالْجَامُوسَ ۔

ترجمہ : بَقَر ، گائے کے خاندان سے ایک جنس ہے جو کہ بَیل (گائے) اور بھینس پر مشتمل ہے ۔ (المعجم الوسیط جلد 1 صفحہ 65)


اس سے معلوم ہوا کہ چودھویں صدی کے بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ ' بھینس کا گائے کی نسل سے ہونا اہل علم سے واضح طور پر ثابت نہیں ، بلکہ بھینس بعض احکام میں گائے کی طرح تھی اور اس کےلیے لفظ کَالْبَقَرِ/بِمَنْزِلَۃِ الْبَقَرِ (گائے جیسی) مستعمل تھا ۔ اور کسی لغوی کو غلطی لگنے کی وجہ سے اس نے کَالْبَقَرِ/بِمَنْزِلَۃِ الْبَقَرِ (گائے جیسی) کے بجائے نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَر (گائے کی نسل) لکھ دیا ۔ قطعاً درست نہیں ، کیونکہ غلطی کسی ایک اہل علم یا لغوی کو لگنی تھی یا سارے اہل علم اور لغویوں کو ؟ بہت سے معروف لغویوں اور اہل علم نے اپنی مشہور زمانہ کتب میں بھینس کے گائے کی نسل ہونے کی تصریح کی اور فقیر چشتی کے علم کے مطابق تیرہویں صدی ہجری تک کسی ایک بھی لغوی نے اس کی تردید یا انکار نہیں کیا ۔ اگر یہ بات غلط ہوتی تو ماہرین لغت ِعرب ضرور اس کی وضاحت کرتے ۔ کیا اہل لغت کا کوئی اعتبار ہے ؟ بعض لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ کیا شریعت میں لغت ِعرب دلیل بن سکتی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآنِ کریم اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا سارا ذخیرہ عربی زبان میں ہے ۔قرآن و سنت پر عمل تب ہی ہو گا،جب اس کا معنیٰ و مفہوم سمجھا جائے گا اور قرآن و سنت کا معنیٰ و مفہوم تب ہی سمجھا جا سکتا ہے ، جب لغت ِعرب کو سمجھا جائے گا ۔ کوئی شخص اگر قرآن کی کسی آیت یا کسی حدیث کا ترجمہ کرتا ہے تو وہ لغتِ عرب کو پڑھ اور سمجھ کر ہی اپنی کاوش میں کامیاب ہو سکتا ہے اور اس کے ترجمے کو صحیح یا غلط ثابت کرنے کےلیے لغت ِعرب ہی راہنمائی کرے گی ۔ جو لوگ لغت ِعرب کا اعتبار نہیں کرتے ، ان سے سوال ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ ''بقر'' کا معنیٰ ''گائے'' کیوں ہے ؟ بھینس کا نام ہی گائے ہے بعض لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ گائے اور بھینس کے نام ہی میں فرق ہے ۔ اگر بھینس ، گائے کی نسل سے ہوتی تو اس کا نام گائے ہوتا ، نہ کہ کچھ اور ۔ جب عرف میں اسے کوئی گائے کہتا اور سمجھتا ہی نہیں تو یہ گائے ہے ہی نہیں ۔ ان کےلیے عرض ہے کہ بھینس کےلیے عربی میں لفظ ''جاموس'' استعمال ہوتا ہے جو کہ فارسی سے منتقل ہو کر عربی میں گیا ہے ۔ فارسی میں یہ نام ''گاؤمیش'' تھا ۔ عربی زبان کی اپنی خاص ہیئت کی بنا پر اس کا تلفظ تھوڑا سا بدل گیا اور یہ ''جاموس'' ہو گیا ۔ اس بات کی صراحت لغت ِعرب کی قریباً تمام امہات الکتب میں لفظ ''جاموس'' کے تحت موجود ہے ۔ اس فارسی نام میں واضح طور پر لفظ ''گاؤ'' (گائے) موجود ہے ۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بھینس اصل میں گائے ہی کی ایک نسل ہے ۔ چونکہ گائے کی یہ نسل (بھینس) عربی علاقوں میں موجود نہیں تھی ، بلکہ عجمی علاقوں میں ہوتی تھی ، عربوں کے ہاں معروف نہ تھی ، اسی لیے اس کا نام فارسی سے عربی میں لانا پڑا ۔


بعض لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ گائے اور بھینس کے نام ہی میں فرق ہے ۔ اگر بھینس ، گائے کی نسل سے ہوتی تو اس کا نام گائے ہوتا ، نہ کہ کچھ اور ۔ جب عرف میں اسے کوئی گائے کہتا اور سمجھتا ہی نہیں تو یہ گائے ہے ہی نہیں ۔ ان کےلیے عرض ہے کہ بھینس کےلیے عربی میں لفظ ”جاموس” استعمال ہوتا ہے جو کہ فارسی سے منتقل ہو کر عربی میں گیا ہے ۔ فارسی میں یہ نام ”گاؤمیش” تھا ۔ عربی زبان کی اپنی خاص ہیئت کی بنا پر اس کا تلفظ تھوڑا سا بدل گیا اور یہ ”جاموس” ہو گیا ۔ اس بات کی صراحت لغتِ عرب کی قریباً تمام امہات الکتب میں لفظ ”جاموس” کے تحت موجود ہے ۔ اس فارسی نام میں واضح طور پر لفظ ”گاؤ” (گائے) موجود ہے ۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بھینس اصل میں گائے ہی کی ایک نسل ہے ۔چونکہ گائے کی یہ نسل (بھینس) عربی علاقوں میں موجود نہیں تھی ، بلکہ عجمی علاقوں میں ہوتی تھی ، عربوں کے ہاں معروف نہ تھی ، اسی لیے اس کا نام فارسی سے عربی میں لانا پڑا ۔ اس کی وضاحت کےلیے وہابیوں کے معروف عالم شیخ محمد بن صالح عثیمین (1421-1347ھ) کا قول نقل کرتے ہیں ۔ ان سے بھینس کی قربانی کے بارے میں سوال ہوا اور پوچھا گیا کہ جب بھیڑ اور بکری دونوں کا ذکر قرآنِ کریم نے کیا ہے (حالانکہ یہ ایک ہی نسل [غنم] سے ہیں) تو بھینس اور گائے دونوں کا ذکر کیوں نہیں کیا (اگر یہ بھی ایک ہی نسل ہیں) ؟ 

اس کے جواب میں لکھا : اَلْجَامُوسُ نَوْعٌ مِّنَ الْبَقَرِ، وَاللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ذَکَرَ، فِي الْقُرْآنِ، الْمَعْرُوفَ عِنْدَ الْعَرَبِ الَّذِینَ یُحَرِّمُونَ مَا یُرِیدُونَ، وَیُبِیحُونَ مَا یُرِیدُونَ، وَالْجَامُوسُ لَیْسَ مَعْرُوفًا عِنْدَ الْعَرَبِ ۔

ترجمہ : بھینس ، گائے ہی کی نسل ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں صرف ان جانوروں کا ذکر کیا ہے ، جو عربوں کے ہاں معروف تھے ۔ (دورِ جاہلیت میں) عرب اپنے پسندیدہ جانوروں کو حلال اور اپنے ناپسندیدہ جانوروں کو حرام قرار دیتے تھے ۔ بھینس تو عربوں کے ہاں معروف ہی نہ تھی (اور مقصد حلت و حرمت بتانا تھا ، نہ کہ نسلیں) ۔ (مجموع فتاوی ورسائل فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین)


غیرمقلد وہابیوں کے فتوے اور تحقیق ملاحظہ ہو قربانی کے جانور : ⏬


قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ: ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ مِّنَ الضَّأْنِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِاثْنَیْنِ ۔۔۔ الایۃ ۔ وَمِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ ۔ الایۃ ۔ (سورۃ الانعام:143)

ترجمہ : آٹھ نر مادہ ہیں دو بھیڑوں میں سے ، دوبکریوں میں سے ، دو اونٹوں میں سے اوردو گایوں میں سے ۔

نوٹ : بھینس گائے کے حکم میں ہے اور بھینس کی قربانی جائز ہے ۔

بھینس کی قربانی جائز ہے : وَاجْمَعُوْا عَلٰی اَنَّ حُکْمَ الْجَوَامِیْسَ حُکْمُ الْبَقَرَۃِ ۔

(کتاب الاجماع امام ابن منذر صفحہ 37)

ترجمہ : أئمہ حضرات کا اس بات پر اجماع ہے کہ بھینس کا حکم گائے والا ہے ۔ (یعنی دونوں کا حکم ایک ہے) ۔


قاضی محمد عبداللہ ایم اے ایل ایل بی (خانپوری غیرمقلد وہابی) کا فتویٰ : تمام علماء کا اس مسئلہ میں اجماع ہے کہ سب بہیمۃ الانعام (چرنے چگنے والے چوپایوں) کی قربانی جائز ہے کم از کم بھینس کی قربانی میں کوئی شک نہیں ہے ۔ (ہفت روزہ الاعتصام لاہور جلد 20 شمارہ 42 ، 43 صفحہ 9)


مولوی ثناء اللہ امرتسری غیرمقلد وہابی کا فتویٰ : جہاں حرام چیزوں کی فہرست دی ہے وہاں یہ الفاظ مرقوم ہیں : قُلْ لَّا اَجِدُ فِیْمَا اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا ۔ (سورۃ الانعام:145) ۔ ان چیزوں کے سواء جس چیز کی حرمت ثابت نہ ہو وہ حلال ہے بھینس ان میں نہیں اس کے علاوہ عرب لوگ بھینس کو بقرہ (گائے) میں داخل سمجھتے ہیں ۔ تشریح : ہاں ! اگر اس (بھینس) کو جنس بقر (گائے کی جنس) سے مانا جائے یا عموم بہیمۃ الانعام پر نظر ڈالی جائے تو حکمِ جواز قربانی کےلیے یہ علت کافی ہے ۔ (فتاویٰ ثنائیہ جلد 1 صفحہ 810،چشتی)(اخبار اہل حدیث صفحہ 11 دہلی)


حافظ محمد گوندلوی غیرمقلد وہابی کا فتوی : بھینس بھی بقر میں شامل ہے اس کی قربانی جائز ہے ۔ (ہفت روزہ الاعتصام جلد 20 شمارہ 9،10 صفحہ 29)


عبدالقادر حصاروی غیرمقلد وہابی ساہیوال کا فتویٰ : خلاصہ بحث یہ ہے کہ بکری گائے کی (قربانی) مسنون ہے اور بھینس بھینسا کی قربانی جائز اور مشروع ہے اور ناجائز لکھنے والے کا مسلک واضح نہیں ہے ۔ (اخبار الاعتصام جلد 26 شمارہ 150 بحوالہ فتوی علمائے حدیث جلد 13 صفحہ 71)


ابوعمر عبدالعزیز نورستانی غیرمقلد وہابی کافتویٰ : مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر میری ناقص رائے میں ان علماء کا مؤقف درست اور صحیح ہے جو (بھینس کی قربانی کے) قائل ہیں ۔ (بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ از حافظ نعیم الحق ملتانی صفحہ 154)


حافظ عبدالقہار نائب مفتی جماعت غرباء اہلحدیث کراچی غیرمقلد وہابی کا فتویٰ : واضح ہو کہ شرعاً بھینس چوپایہ جانوروں میں سے ہے اور اس کی قربانی کرنا درست ہے ۔ کیونکہ گائے کی جنس سے ہے گائے کی قربانی جائز ہے اس لیے بھینس کی قربانی جائز و درست ہے اس دلیل کو اگر نہ مانا جائے تو گائے کے ہم جنس   بھینس کے دودھ اور اس کے گوشت کے حلال ہونے کی بھی دلیل مشکوک ہو جائے گی ۔ (بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ صفحہ 156،چشتی)


حافظ احمداللہ فیصل آبادی غیرمقلد وہابی کا فتویٰ : میری کئی سالوں کی تحقیق ہے کہ بھینسے کی قربانی جائز ہے لہٰذا میں آپ کے ساتھ بھینسے کی قربانی کرنے میں متفق ہوں ۔ (بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ صفحہ 159)


پروفیسر سعد مجتبیٰ السعیدی غیرمقلد وہابی تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : آخر میں لکھتے ہیں کہ لہٰذا گائے کی مانند بھینس کی قربانی بلا تردد جائز ہے ۔ (بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ صفحہ 18)


مولوی محمد رفیق الاثری غیرمقلد وہابی پیش لفظ میں لکھتے ہیں : یہ مسئلہ کہ قربانی میں بھینس ذبح کی جا سکتی ہے یا نہیں ۔ سلف صالحین میں متنازعہ مسائل میں شمار نہیں ہوا چند سال سے یہ مسئلہ اہلحدیث عوام میں قابلِ بحث بنا ہوا ہے ۔ جبکہ ایسے مسئلہ میں شدت پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ (بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ پیش لفظ)


غیرمقلد وہابی حضرات کے شیخ الکل میاں نذیر حسین دہلوی اپنے فتوے میں لکھتے ہیں : اور سن بکری کا ایک سال یعنی ایک سال پورا اور دوسرا شروع ، اور گائے اور بھینس کا دو سال یعنی دو سال پورے اور تیسرا شروع الخ ۔ آگے لکھتے ہیں : ویدخل في البقر الجاموس لانہ من جنسہ انتہی ما في الہدایة ۔

ترجمہ : گائے میں بھینس داخل ہے ، اس لیے کہ بھینس گائے ہی کی ایک جنس ہے ۔ (فتاوی نذیریہ جلد ۳ صفحہ ۲۵۷ ، ۲۵۸ اہل حدیث اکادمی کشمیری بازار لاہور)


  (۲) مفتی عبد الستار صاحب ایک سوال کے جوب میں لکھتے ہیں :

 سوال : کیا بھینس کی قربانی جائز ہے ؟

جواب : جائز ہے ، کیوں کہ بھینس اور گائے کا ایک حکم ہے ۔ ( فتاوی ستاریہ ۳ / ۲)


فتاوی علماء اہل حدیث کے مؤلف غیرمقلد وہابی مولوی ابوالحسنات علی محمد سعیدی سے بھینس کی قربانی کے جواز کے سلسلے میں سوال کیا گیا ، تو انہوں نے جواب دیا : جائز ہے ، چوں کہ گائے اور بھینس کا ایک ہی حکم ہے ۔ بعینہ یہی جواب مفتی عبد الستار صاحب نے بھی دیا ہے ۔ (فتاوی علماء اہل حدیث جلد ۱۳ صفحہ ۴٦،چشتی)


مولوی عبد القادر حصاروی غیرمقلد وہابی لکھتے ہیں : خلاصہ بحث یہ ہے کہ بکری ، گائے کی قربانی مسنون ہے ، تاہم بھینس بھینسا کی قربانی بھی جائز اور مشروع ہے اور ناجائز کہنے والے کا مسلک درست نہیں ہے ۔ (فتاوی حصاریہ و مقالات علمیہ جلد ۵ صفحہ ۴۴۶)


حافظ زبیر علیزئی غیرمقلد وہابی کا فتوی : اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری کی قربانی کتاب و سنت سے ثابت ہے اور یہ بات بالکل صحیح ہے کہ بھینس گائے کی ایک قسم ہے ، اس پر ائمہ اسلام کا اجماع ہے  ۔ (فتاوی علمیہ جلد ۲ صفحہ ۱۸۱)


محدث العصر حافظ گولندوی کا فتوی : بھینس بھی بقر میں شامل ہے ، اس کی قربانی جائز ہے ۔ (ہفت روزہ الاعتصام لاہور جلد ۲۰ شمارہ نمبر ۹ صفحہ ۲۹)


مولوی امین اللہ پشاوری غیرمقلد وہابی ایک مفصل فتوے میں جواز کے دلائل پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں : جب یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ لغت میں لفظ البقر ، الجاموس ، کو بھی شامل ہے ، تو شرعا بھی اس کا یہی حکم ہو گا ، لہٰذا اس کی قربانی کا ثبوت قرآن مجید اور سنت صحیحہ سے مل گیا ، اب اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ یہ قیاسی مسئلہ ہے ، یا وضاحت کے ساتھ ثابت نہیں، جیسا کہ اس طرح کی باتیں کچھ جاہل قسم کے لوگ سے سنی جا رہی ہیں ، جو قرآن و سنت سے استدلال کے طریقوں سے نابلد ، ان کی معرفت سے نا آشناء اور ان کے قواعد سے ناواقف ہیں ۔ عقل و بصیرت رکھنے والوں کےلیے یہ ایک دلیل کافی ہے ، جاہل اور بیکار لوگوں کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ (فتاوی الدین الخالص جلد ۶ صفحہ ۳۹۵،چشتی)


جماعت غرباء اہل حدیث کے نائب مفتی مولانا عبد القہار صاحب کا فتوی : صورت مسئولہ میں واضح ہو کہ شرعاً بھینس چوپایہ جانورں میں سے ہے اور اس کی قربانی درست ہے؛ کیوں کہ گائے کی جنس سے ہے ، اس لیے بھینس کی قربانی جائز اور درست ہے۔اس دلیل کو اگر نہ مانا جائے، تو گائے کے ہم جنس بھینس کے دودھ اور اس کے گوشت کے حلال ہونے کی دلیل بھی مشکوک ہو جائے گی ۔ (بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ صفحہ ۲۳۷ مطبوعہ اسلامک سینٹر ملتان)


غیر مقلد عالم مولوی نعیم الحق ملتانی نے اس موضوع پر ایک مفصل کتاب لکھی ہے : بھینس کی قربانی کا تحقیقی جائزہ ، اس میں اس طرح کے اور بہت سے علماء غیر مقلدین کے اقوال ذکر کیے ہیں ، جنھوں نے بھینس کی قربانی کو جائز کہا ہے ، تفصیل کےلیے اس کا مطالعہ فرمائیں ۔


تنبیہ : بعض لوگوں کا یہ کہنا درست نہیں کہ چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھینس کی قربانی نہیں کی ، لہٰذا اس کی قربانی سے احتراز بہتر ہے اور یہ احوط واولیٰ ہے ۔ ہمارا ان اہل علم سے مؤدبانہ سوال ہے کہ ان کی یہ احتیاط صرف گائے کی ایک نسل ''بھینس'' ہی کے بارے میں کیوں ہے ؟ ان کو چاہیے کہ گائے کی جو جو نسلیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم نے قربانی میں ذبح کیں ، صرف انہی کی اجازت دیں ۔ کیا بھینس کے علاوہ موجودہ دور میں پائے جانے والی گائے کی تمام نسلیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قربانی میں ذبح کی تھیں ؟ اس طرح تو دیسی ، ولائتی ، فارسی ، افریقی ، تمام قسم کی گائے کی قربانی سے احتراز کرنا ہو گا اور اسی طرح بھیڑ و بکری اور اونٹ کا بھی معاملہ ہو گا ۔ پھر ہر شخص قربانی کےلیے عربی گائے ، عربی اونٹ ، عربی بھیڑ اور عربی بکرا کہاں سے لائے گا ؟ اگر کوئی عربی نسل سے کوئی جانور تلاش بھی کر لے تو اسے تحقیق کرنا پڑے گی کہ یہ بعینہٖ اسی نسل سے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قربانی کی تھی یا بعد میں پیدا ہونے والی کوئی نسل ہے!!!پھر یہ احتیاط والی بات اس لیے بھی عجیب سی ہے کہ اگر بھینس ، گائے نہیں تو اس کی قربانی سرے سے جائز ہی نہیں اور اگر یہ گائے ہے تو اس کی قربانی بالکل جائز ہے ۔ اس میں کوئی درمیانی راستہ تو ہے ہی نہیں ۔


الحاصل : بھینس ، گائے کی ایک نسل ہے ۔ اس کی قربانی بالکل جائز ہے ۔ اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ۔


قُلۡ اِنَّ صَلَاتِىۡ وَنُسُكِىۡ وَ مَحۡيَاىَ وَمَمَاتِىۡ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۔ (سورہ الأنعام آیت نمبر 162)

ترجمہ : آپ کہیے کہ بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اللہ ہی کےلیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔


صلوۃ سے مراد یا تو تہجد کی نماز ہے یا نماز عید ہے اور نسک نسی کہ کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے ذبیحہ اور اس کا معنی ہے حج اور عمرہ میں مینڈھا ذبح کرنا اور نماز اور ذبیحہ کو اس آیت میں اس طرح جمع کیا ہے جیسے (آیت) ” فصل لربک وانحر “۔ (الکوثر : ٢) میں جمع کیا ہے۔ حسن بصری نے کہا نس کی سے مراد ہے میرا دین۔ زجاج نے کہا اس سے مراد ہے میری عبادت۔ ایک قوم نے کہا اس آیت میں نسک سے مراد تمام نیک کام اور عبادات ہیں ۔


منسک کے معنی کی تحقیق : ⏬


منسلک کے معنی میں کئی اقوال ہیں (١) حضرت ابن عباس نے کہا اس سے مراد عید کا دن ہے جس میں وہ جانور ذبح کرتے ہیں (٢) مجاہد نے کہا منسک کا لفظ قربانی کے جانوروں کےلیے مخصوص ہے۔ (٣) کسی عبادت کی ادائیگی کے لئے عرف میں ہیں جو جگہ یا جو وقت معین ہو اس کو منسلک کہتے ہیں ۔ (٤) قفال کا مختاریہ ہے کہ منسک کا معنی ہے شریعت اور عبادت کرنے کا مخصوص طریقہ ، اور یہ معنی اس آیت کے قریب ہے : لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جا ۔ (سورہ المائدۃ : ٤٨) ۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے عبادت کا ایک مخصوص منشور اور دستور مقرر کردیا ہے ۔


اور منسک کا لفظ نسک سے بنا ہے جس کا معنی عبادت ہے اور جب منسک کا لفظ ہر عبادت پر بولا جاتا ہے تو اس کو کسی ایک طریقہ عبادت کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ تم نے منسلک کے لفظ کو ذبح پر محمول کیوں نہیں کیا کیونکہ عرف میں نسک کے لفظ سے قربانی کا ہی معنی سمجھا جاتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ درستن ہیں ہے کہ عرف میں نسک کے لفظ سے قربانی کا ہی معنی سمجھا جاتا ہے کیونکہ عرق میں تمام افعال حج کو مناسک کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خذاواعنی منا سکم ۔ (سنن بیہقی ج ٥ ص ١٢٥) ۔ مجھ سے اپنے حج کے ارکان اور افعال کا علم حاصل کرو ۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کی عبادت کرنے کےلیے جو طریقہ بھی مقرر کریں اس پر کسی کو اعتراض اور بحث نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ہر نبی علیہ السلام نے اپنے زمانہ کے مخصوص حالات ، رسم و رواج اور تہذیب و ثقافت کے اعتبار سے خصوص عبادت کے طریقے مقرر کیے ہیں اور ہر زمانہ کے تقاضے الگ الگ ہوتے ہیں ۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے یہ اعتراض کیا کہ جو جانور طبعی موت مر جائے تم اس کو نہیں کھاتے اور جس کو تم ذبح کرتے ہو اس کو کھا لیتے ہو ، گویا اللہ کا مارا ہوا نہیں کھاتے اور اپنا مارا ہوا کھا لیتے ہو ، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی عبادت کرنے کا جو طریقہ چاہیں مقرر کریں کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے اور اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی عبادت کرنے کا جو طریقہ چاہیں مقرر کریں کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے طریقہ پر قائم رہیں اور لوگوں کی عبادت کرنے کا جو طریقہ چاہیں مقرر کریں کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے طریقہ پر قائم رہیں اور لوگوں کو اللہ کی توحید اس کے دین اور اس پر ایمان لانے کی دعوت دیتے رہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدھی راہ پر ہیں اس میں کوئی کجی نہیں ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)






















Tuesday, 19 May 2026

تحفہ اثناء عشریہ سا اس کتاب تقویت الایمان کا بھی رد لکھتا

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے فرمایا : اگر میں بیماری سے معذور نا ہوتا تو تحفہ اثناء عشریہ سا اس کتاب تقویت الایمان کا بھی رد لکھتا ۔

دیوبندیوں کے شرکیہ عقاٸد جملہ افعال خود کرتے ہیں اور شرک کے فتوے اہلسنت پر لگاتے ہیں

دیوبندیوں کے شرکیہ عقاٸد جملہ افعال خود کرتے ہیں اور شرک کے فتوے اہلسنت پر لگاتے ہیں



































محترم قارئینِ کرام : دیوبندیوں کے نزدیک ایصال ثواب جائز ، دیوبندی پیروں کے وسیلہ سے دعا بحرمت کہہ کر کرنا جائز ، دیوبندی پیر دستگیر بھی ہیں اور مشکل کشاء بھی ۔ (فیوضات حسینی صفحہ نمبر 68 دیوبندی علماء)


دیوبندیوں کا اقرار ہم بزرگوں کی ارواح سے امداد کے منکر نہیں ہیں : ⏬


سوانح قاسمی میں ایک واقعہ بیان ہوا کہ بانی دیوبند قبر سے آ کر ایک مولوی صاحب کی مدد کرتے ہیں اس طرح دیوبندی علماء اپنے خود ساختہ شرک کے فتوؤں میں جب پھنس گئے تو اپنے بڑوں کو شرک سے بچانے کےلیے خود ہی اقرار کر لیا کہ ہم بزرگوں کی قبروں اور ان کی ارواح سے مدد کے منکر نہیں ہیں بلکہ یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور ہم اسے مانتے ہیں ہم پر انکار کا الزام لگانے والے جاہل ہیں پہلے یہ پڑھیے : ⏬


مولوی مناظر احسن گیلانی دیوبندی اپنے بڑوں کو شرک سے بچانے کےلیے لکھتے ہیں : مولوی قاسم نانوتوی نے قبر سے آکر مدد کی ۔ پس بزرگوں کی ارواح سے مدد لینے کے ہم منکر نہیں ہمارا بھی ارواح صالحین سے مدد کے متعلق وہی عقیدہ ہے جو اہلسنت و جماعت کا ہے اور یہ سب قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ (حاشیہ سوانح قاسمی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 332 قدیم ایڈیشن صفحہ نمبر 211 جدید ایڈیشن مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور)


وہابیت کی راہ پر چل کر مسلمانانِ اہلسنت پر یہی عقیدہ و نظریہ رکھنے کی وجہ سے شرک کے فتوے لگانے والے دیوبندی جواب دیں بانی دیوبند ، شیخ الہند دیوبند اور مناظر احسن گیلانی صاحبان مشرک ہوئے کہ نہیں ؟


اور وہ لکھ رہے ہیں ارواح صالحین سے مدد کے انکار کا ہم پر الزام لگانے والے جاہل ہیں اور بہتان لگانے والے ہیں اب بتایئے آپ لوگ بہتان تراش اور جاہل ہیں کہ نہیں جو ارواح صالحین علیہم الرّحمہ سے امداد کے منکر بن کر اسے دیوبند کی طرف منسوب کرتے ہیں ؟


دیوندیوں کے گنگوہی نے مردوں کو زندہ کیا زندوں کو مرنے نہ دیا : ⏬


دیوبندیوں کا عقیدہ ہے کہ مولوی رشید احمد گنگوہی حضرت عیسٰی روح اللہ علیہ الصّلوٰۃ والسّلام سے افضل ہیں کیونکہ انہوں نے تو صرف ُمردوں کو زندہ کیا مگر ہمارے گنگوہی جی نے ُمردوں کو زندہ کیا اور زندوں کو مرنے بھی نہ دیا ۔ چنانچہ مولوی محمود حسن شیخ الہند دیوبندی مذہب گنگوہی کے مرنے پر ان کی تعریف میں مرثیہ لکھتا ہے : ⏬


مُردوں کو زندہ کیا زندوں کو مرنے نہ دیا

اس مسیحائی کو دیکھیں ذری ابن مریم


(مرثیہ گنگوہی صفحہ نمبر 23 محمود الحسن شیخ الہند دیوبندی مذہب)


اس شعر میں حضرت عیسٰی علیہ السّلام سے گنگوہی کو افضل بھی بتایا اور توہین بھی کی ۔


اہلسنت کا عقیدہ : اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام مخلوقات میں سب سے افضل ہیں کوئی غیر نبی کسی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا جو ایسا اعتقاد رکھے کہ کوئی غیر نبی کسی نبی سے افضل ہے وہ کافر اور انبیائے کرام علیہم الصّلوٰۃ والسّلام کی ادنٰی توہین کرنے والا ہے مرتد ہے اس پر توبہ و تجدید ایمان فرض ہے ۔ (قرآن عظیم و احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم و شرح فقہ اکبر و عقائد نسفی و شرح عقائد نسفی و کتاب الشفاء شروح شفاء)


مُردوں کوزندہ کیازندوں کو مرنے نہ دیا

اس مسیحائی کو دیکھیں ذری ابن مریم


اہل زبان حضرات ذرا دیوبندیوں کی اُردوملاخطہ کریں ۔ حیرت ہوتی ہے کہ علمائے دیوبند کی زبان ذاتی کا یہ عالم ہے ۔ اور حوصلہ ہے سرکاردوجہاں عالمِ مایکون وماکان صلی اللہ علی و آلہ وسلّم کو اردو زبان سکھانے کا ۔ العیاذ باﷲ تعالی


تنبیہ : واقعی دیوبندیوں کے نزدیک مولوی رشید احمد صاحب کی مسیحائی حضرت عیسیٰ علیہ السّلام سے بہت بڑھ گئی کیوں کہ جو کام حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی نہ کرسکے وہ مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی نے کرکے دکھا دیا ۔ مردے جلانے میں توبرابر ہی تھے مگر زندوں کوموت سے بچالیا ۔ اس میں ضرورحضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بڑھ گئے جبھی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوان کی مسیحائی دکھائی جاتی ہے اگر مولوی ریشد احمد گنگوہی دیوبندی کی مسیحائی حضرت عیسیٰ علیہ السّلام سے بڑھی ہوئی نہ جانتے تویہ نہ کہتے کہ اس مسیحائی کودیکھیں ذری ابن مریم ۔


مسلمانو انصاف کرو کیا اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی توہین نہیں ہے ، ہے اور ضرور ہے ۔


دیوبندیوں کا سب سے بڑا مددگار غوث اعظم گنگوہی ہے ، بانی اسلام کا ثانی گنگوہی ہے ، اللہ کا فیض تقسیم کرنے والا ، ابر رحمت ، اللہ کا سایہ ، قطب ہے گنگوہی ۔ (مرثیہ گنگوہی صفحہ نمبر 4،چشتی)


اے مسلمانو دیوبندیوں نے اپنے گنگوہی کو پیغمبرِ اسلام رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا ثانی قرار دیا ہے سوال ہے آپ کی غیرتِ ایمانی سے کیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی شانِ اقدس میں گستاخی نہیں ہے فرقہ واریت سے ھٹ کر ایک مسلمان کی حیثیت سے جواب دیجیے ؟ اور یہ گنگوہی کو اللہ کا فیض تقسیم کرنے والا ، غوث اعظم ، اللہ کا سایہ اور اللہ کی رحمت کہیں تو کوئی شرک نہیں اور مسلمانانِ اہلسنت پر شرک کے فتوے کیوں جناب عالی ؟


دیوبندیوں کا حاجت روا مشکل کشاء : اب ہم اپنی دین و دنیا کی حاجتیں کہاں لے جائیں وہ ہمارا قبلہ حاجات روحانی و جسمانی گیا ۔ (مرثیہ گنگوہی صفحہ 7 شیخ الہند دیوبند محمود حسن)


دیوبندیوں کا سب سے بڑا فریاد رس غوثُ الاعظم رشید احمد گنگوہی ہے : ⏬


دیوبندیوں کا قطب العالم ، غوث زماں گنج عرفاں دستگیر بیکساں مولوی رشید احمد گنگوہی ہے ۔ (تذکرۃُ الرشید جلد دوم صفحہ 136۔چشتی)


ہم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو غوث اعظم کہیں تو شرک کے فتوے اور دیوبندی اپنے گنگوہی کو غوث الاعظم لکھیں تو جائز ۔ مولوی عاشق الٰہی دیوبندی لکھتا ہے : رشید احمد گنگوہی قُطبُ العالم اور غوثُ الاعظم ہیں ۔ (تذ کرۃُ الرّشید جلد اوّل قدیم ایڈیشن صفحہ نمبر 2)


کوئی دیوبندی قطب العالم اور غوثُ الاعظم کے معنیٰ بتائے گا ؟


دیوبندیوں کا مشکل کشاء حاجت روا رشید احمد گنگوہی دیوبندی لکھتے ہیں گنگوہی صاحب کا ایسا مرتبہ تھا کہ گنگوہی کے نام کے وسیلے سے حاجتیں پوری ہوتی تھیں ۔ (تذکرۃُ الرشید جلد دوم صفحہ297۔چشتی)


دیوبندیوں کا غوث (یعنی فریاد سننے والا) رشید احمد گنگوہی ہے جس کے وسیلے سے ہزاروں لوگوں کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں ۔ (تذکرۃُ الرّشید جلد دوم صفحہ نمبر 305)


مسلمانانِ اہلسنّت حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو غوثُ الاعظم کہیں تو شرک کے فتوے اور تم اپنے مولوی کو غوثُ الاعظم کہو لکھو تو عین توحید اور ایمان ہو جائے کیوں جناب من یہاں شرک کے فتویٰ کہاں گیا ؟


یا مان لو کہ مسلمانانِ اہلسنت کے عقائد و نظریات حق ہیں یا اپنے مولویوں پر فتویٰ لگاؤ شرک کا ؟


اپنے لیے شریعت اور دوسروں کےلیے اور یہ دہرا معیار چھوڑ کر فتنہ فساد اور تفرقہ پھیلانا چھوڑ دو ۔


دیوبندیوں کا مولوی مظہرِ نورِ ذاتِ خدا ، رنج و غم ٹالنے والا اور چارہ ساز بھی ہے جو اٹھ گیا اب کون رنج و غم مٹائے گا اور چارہ سازی کرے گا چارہ ساز جو اٹھ گیا ۔ (مرثیہ شیخ مدنی صفحہ 24 مطبوعہ راشد کمپنی دیوبند یوپی)


یہی الفاظ مسلمانانِ اہلسنّت کہیں تو شرک مگر یہاں جائز ؟


گنج بخش فیض عالم مظہرِ نورِ خدا پر شرک کے فتوے لگانے والے دیوبندی مفتیو اب لگاؤ نا یہاں شرک کے فتوے ؟


جس نے اللہ کا دیدار کرنا ہو وہ دیوبندیوں کے مولوی کی قبر کی زیارت کرے : ⏬


دیوبندیوں کے اعلیٰ حضرت اور دیوبندی مولوی کی قبر کو دیکھنا اللہ کو دیکھنا ہے ، انوار و برکات ہیں ، دیوبندی مولوی دیوبندیوں کا مولا ہے ، دیوبندی مردہ مولوی کی قبر کی زیارت سے اسرار عیاں ہوتے ہیں ۔ دیوبندی مولوی کی قبر کی زیارت سے دیدار رب العالمین ہوگا ، قبر کو اونچا کرنا چاہا تو قبر والے دیوبندی مولوی کو علم ہو گیا کہا نہ کرو خلافِ سنت ہے ۔ (تاریخ مشائخ چشت صفحہ 235 ، 236 علامہ محمد زکریا کاندھلوی دیوبندی سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند)


دیوبندیوں کا مولوی جانتا ہے کون حلال خرید کر لایا ہے اور کون حرام حلال کے پیسوں کے سیب الگ کر دیئے اور حرام کے پیسوں کے الگ کر دیئے ۔ (خوشبو والا عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم صفحہ نمبر 87 ، 88،چشتی) ۔ یہاں شرک نہیں ہوا جناب ؟


مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی مدد کےلیے پکارتے ہیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم میری مدد کیجیے : یارسول اللہ میری مدد کیجیے آپ کے سوا کہاں میری پناہ ، مشکل میں آپ ہی تو ہیں ، یارسول للہ مد کیجیے ۔ (نشر الطیب صفحہ نمبر 194 علامہ اشرف علی تھانوی مطبوعہ تاج کمپنی پاکستان)


حکیم الامت دیوبند نے پکارا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم آپ ہم سے دور نہیں : ⏬


مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی مدد کےلیے پکارتے ہیں : یا مصطفیٰ یا مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ ہمارے مددگار ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صدقے مشکلیں حل ہوتی ہیں اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم دور ہوں تو ہم مر جائیں ۔ (حیٰوۃُ المسلمین صفحہ نمبر 51 مطبوعہ المیزان اردو بازار لاہور،چشتی)


پکارو یارسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مدد حکیمُ الاُمتِ دیوبند کی زبانی


ضروری نوٹ : دیئے گئے اشعار مؤلف یعنی حکیمُ الاُمتِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب کے ہیں ۔ حکیمُ الاُمتِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں :


یا شفیع العباد خذبیدی

دستگیری کیجئے میری نبی


انت فی الضطرار معتمدی

کشمکش میں تم ہی ہو میرے ولی


لیس لی ملجاء سواک اغث

جز تمہارے ہے کہاں میری پناہ


مسنی الضر سیدی سندی

فوج کلفت مجھ پہ آ غالب ہوئی


غشنی الدھر ابن عبداللہ

ابن عبداللہ زمانہ ہے خلاف


کن مغیثا فانت لی مدری

اے مرے مولٰی خبر لیجئے مری


نام احمد چوں حصینے شد حصین

پس چہ باشد ذات آں روح الامین


کچھ عمل ہی اور نہ اطاعت میرے پاس

ہے مگر دل میں محبت آپ کی


میں ہوں بس اور آپ کا دریا یارسول

ابر غم گھیرے نہ پھر مجھ کو کبھی


خواب میں چہرہ دکھا دیجیے مجھے

اور میرے عیبوں کو کر دیجیے خفی


درگزر کرنا خطاو عیب سے

سب سے بڑھ کر ہے یہ خصلت آپ کی


سب خلائق کےلیے رحمت ہیں آپ

خاص کر جو ہیں گناہگار و غوی


کاش ہو جاتا مدینہ کی میں خاک

نعل بوسی ہوتی کافی آپ کی


آپ پر ہوں رحمتیں بے انتہا

حضرت حق کی طرف سے دائمی


جس قدر دنیا میں ہے ریت اور سانس

اور بھی ہے جس قدر روئیگی


اور تمہاری آل پر اصحاب پر

تابقائے عمر دار اخروی

(نشر الطیب صفحہ نمبر 194 ، 195 ۔ حکیمُ الاُمتِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی مطبوعہ تاج کمپنی پاکستان،چشتی)


فیس بک کے مفتیانِ دیوبند سے سادہ سا سوال اس طرح پکار کر حکیم الامتِ دیوبند مشرک ہوئے کہ نہیں ؟


اگر نہیں تو کیوں ؟


اگر مشرک ہوئے تو آج تک کتنے دیوبندی علماء نے تھانوی صاحب اور ان کی اس کتاب پر شرک کے فتوے لگائے ہیں ؟


کوئی ایک فتویٰ بطور ثبوت دیجیے ؟


اِدھر اُدھر کی باتیں جواب تصور نہیں کی جائیں گی صرف اتنا جواب دیا جائے اس طرح پکارنا جائز ہے یا شرک ؟


مرشد اکابرین دیوبند جناب حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : الصّلوٰۃ والسّلام علیک یارسول اللہ پڑھنے کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے کیونکہ عالم امر مقید نہیں ہے دور و نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ (امداد المشتاق صفحہ نمبر 60 ، دوسرا مطبوعہ صفحہ نمبر 62)


اور مسلک حق کا فیصلہ کیجییے ساتھ ہی کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی زندہ عملی مثال تھانوی صاحب کا حاشیہ پڑھیے کہتے ہیں پڑھنے والے کو اگر کشفی کیفیت حاصل ہو تو پڑھ سکتا ہے ورنہ اجازت نہیں دی جائے گی مگر تھانوی صاحب اسے ناجائز نہیں لکھ سکے اگر وہ یا کوئی دیوبندی اسے ناجائز ، یا شرک کہتا ہے تو مرشد اکابرین دیوبند کو ناجائز کام کا مرتکب اور مشرک قرار دینا پڑے گا اس لیے کہ ناجائز شرک ہر ایک کےلیے ناجائز و شرک ہوگا ۔


کیا حاجی صاحب کے اس فرمان پر تھانوی صاحب سمیت کسی بھی دیوبندی عالم نے شرک و گمراہی کا فتویٰ لگایا اگر لگایا ہے تو ہمارے علم میں اضافہ کےلیے بتایا جائے ؟


اگر نہیں لگا تو مسلمانان اہلسنت کیا کیا قصور ہے کہ وہ یہ درود پڑھیں تو دیوبند کی شرک و گمراہی کی توپیں کھل جاتی ہیں اور امت مسلمہ پر فتوے لگا کر انتشار و فساد پھیلایا جاتا ہے آخر یہ دوغلہ پن و دہرا معیار فتویٰ کیوں ؟


یاد رہے اس جملہ پر بھی غور کیا جائے کہ : عالمِ امر مقید نہیں ہے دور و نزدیک کوئی حیثیت نہیں ۔ جب دور و نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا تو دور و نزدیک بحث عبث یعنی بے کار ہے ۔


حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ہادی عالم اور مشکل کشاء ہیں اکابرین دیوبند : ⏬


اکابرین کے پیر و مرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکّی رحمۃ اللہ علیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے علاوہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی مشکل کشاء کہا ہے ۔


دور کر دل سے حجاب جہل و غفلت میرے رب

کھول دے دل میں در علم حقیقت میرے رب

ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے

(کلیاتِ امدادیہ صفحہ نمبر 103 مطبوعہ دار الاشاعت کراچی)


ظاہر ہے کہ جب خود مشکل کشاء کی اصطلاح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کےلیے استعمال کرتے رہے ہیں تو ان کے خلفاء و مریدین کو اس میں کیا عذر لاحق ہو سکتا ہے ۔


دیوبندیوں مشکل کشاء ، پیر دستگیر : ⏬


دیوبندیوں کے امام جناب محمد سرفراز خان صفدر کے چھوٹے بھائی جناب صوفی عبدالحمید خان سواتی صاحب نے تو فوائد عثمانی کا حوالہ صحیح سمجھ کر نقل کیا ہے جس سے ایک صوفی بزرگ مولانا عثمان کو مشکل کشاء اور پیر دستگیر کہا گیا ہے ۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ اس صوفی بزرگ کےلیے حسب ذیل القابات میں نہ صرف مشکل کشاء بلکہ دستگیر کی اصطلاح بھی استعمال کی گئی ہے ۔


ملاحظہ فرمائیں : الہی بحرمت حضرت خواجہ مشکل کشاء ، سید الاولیاء ، سندالاتقیاء ، زبدۃالفقہاء، راس العلماء ، رئیس الفضلاء ، شیخ المحدثین ، قبلۃ السالکین ، امام العارفین ، برہان المعرفہ ، شمس الحقیۃ ، فرید العصر ، وحیدالزمان ، حاجی الحرمین الشریفین ، مظہر فیض الرحمن پیر دستگیر حضرت مولانا محمد عثمان رضی اللہ عنہ ۔ (فیوضات حسینی صفحہ 68 مطبوعہ مدرسہ نصرۃ العلوم گجرانوالہ1387ھ)


شیخ الاسلام دیوبند پکارتے ہیں یا اللہ ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے : ⏬


شیخ الاسلام دیوبند جناب حسین احمد مدنی فرماتے ہیں کہ : کیونکہ دعوات میں توسل کرنا خواہ اعمال صالحہ سے ہو یا عابدین صالحین سے ، اولیاء اللہ سے ہو یا انبیاء اللہ سے ، ملائکہ مقربین سے ہو یا اسماء و صفات و افعال الٰہیہ سے ایجابت دعاء میں بہت زیادہ مفید اور موثر اور سلف صالحین کا محمول بہ امر ہے ۔ اس لیے ان شجروں کو اسی طریق توسل پر ترتیب دیا گیا ہے ، مناسب یہ ہے کہ احباب روزانہ کم از کم ایک مرتبہ جونسا بھی شجرہ پسند خاطر ہو پڑھ لیا کریں اپنے لیے اور اس ناکارہ ننگ خاندان کےلیے بھی دعا کریں ۔ امید قوی ہے کہ اس طریقہ پر دعاء قبول ہوگی ۔ (سلاسل طیبہ صفحہ نمبر 5 مطبوعہ کتبخانہ اعزازیہ دیوبند،چشتی)


شیخ الاسلام دیوبند جناب حسین احمد مدنی فرماتے ہیں کی طرف سے آگے تمام شجروں میں مختلف الفاظ سے اور ایک شجرہ میں واضح طور پر یہ لکھا گیا ہے کہ : ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے ۔ یا اللہ ہادی عالم علی مشکل کشاء کے واسطے ، اور صالحین علیہم الرّحمہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے وسیلہ و واسطے سے کرم فرما ۔ (سلاسلِ طیّبہ صفحہ 13 مطبوعہ کتبخانہ اعزازیہ دیوبند)


اگر یہی الفاظ مسلمانانِ اہلسنت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور اولیاء کرام علیہم الرّحمہ کےلیے استعمال کرتے ہیں تو شرک کے فتوے مگر اہنے مردہ مٹی میں مل جانے اور گل سڑ جانے والے مولوی کےلیے یہ سب کچھ جائز ہے آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے ؟ اور اب تک کسی دیوبندی عالم اور پر جوش موحد نے اس کتاب پر اور لکھنے والے پر نہ کوئی فتویٰ لگایا اور نہ ہی رد لکھا آخر یہ دہرا معیار کیوں جناب اور امت مسلمہ پر فتوے لگا کر وہی افعال خود اپنا کر منافقت دیکھا کر تفرقہ و انتشار کیوں پھیلایا جاتا ہے آخر کیوں ؟ اصل اسکن پیش خدمت ہیں فیصلہ اہل ایمان خود کریں مسلمانان اہلسنت یہ نظریات رکھیں اور کہیں تو شرک کے فتوے اور دیوبندی خود سب کچھ کریں تو جائز آخر یہ دہرا معیار و منافقت اپنا کر امت مسلمہ میں تفرقہ و انتشار کیوں پھیلایاجاتا ہے ؟


Thursday, 5 December 2019

قبر پرست اور مولوی پرست دیوبندی فرقہ

قبر پرست اور مولوی پرست دیوبندی فرقہ


محترم قارئینِ کرام : حکیمِ بیمارانِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں : جب اثر مزار شریف کا بیان آیا آپ (یعنی حاجی امداد ﷲ) نے فرمایا کہ میرے حضرت کا ایک جولاہا مرید تھا ۔ بعد انتقال حضرت کے مزار شریف پر عرض کیا کہ حضرت میں بہت پریشان اور روٹیوں کا محتاج ہوںکچھ دستگیری فرمائیے ۔ حکم ہوا کہ تم کو ہمارے مزار سے دو آنے یا آدھ آنہ روز ملا کرے گا ۔ ایک مرتبہ میں زیارت مزارکو گیا وہ شخص بھی حاضر تھااس نے کل کیفیت بیان کر کے کہا کہ مجھے ہر روز وظیفہ مقررہ یہیں قبر سے ملا کرتا ہے ۔ (حاشیہ) قولہ وظیفہ مقررہ ۔ اقوال یہ منجملہ کرامات کے ہے ۔ (امداد المشتاق صفحہ نمبر 114 ، 115 مطبوعہ مکتبہ امداد اللہ مہاجر مکی محلہ خانقاہ دیوند)


تھانوی صاحب کی اس روایت اور بیان سے معلوم ہوا کہ ان حضرات کے نزدیک صاحب مزارسے اگر مشکل اور پریشانی عرض کر کے دستگیری کی درخواست کی جائے تو وہ دستگیری اور مددکرتے ہیں ۔ عام طور پر دیوبندیوں کے اہلسنت کے خلاف ایسے واقعات پر شرک کے فتوے ہیں مگر چونکہ بیان کرنے والے اپنے بزرگ ہیں ، جن کے مزار سے یہ دستگیری ہوئی وہ بزرگوں کے بھی حضرت ہیں اس لیئے یہاں پر یہ بات کرامت ہے ۔


یہ حق ، سچ ، ایمان ہے یا کفر ، شرک ، بدعت ہے اور سوال یہ ہے کہ قبر والے سے یہ کہنا کہ : بہت پریشان ہوں اور روٹیوں کو محتاج ہوں کچھ دستگیری فرمائیے

یہ ما تحت الاسباب ہے یا مافوق الاسباب اگر ما تحت الاسباب ہے تو کوئی اور بھی مانگ سکتا ہے یا صرف دیوبندیوں کو اس کی اجازت ہے اور اگر مافوق الاسباب ہے تو شرک ہوا یا نہیں ؟


قبر و مزار پرستی کی تعلیماتِ دیوبند : ⏬


اکابرینِ دیوبند کے پیرو مرشد حاجی امداد ﷲ مہاجر مکی صاحب لکھتے ہیں : اولیاء اور مشائخ کی قبروں کی زیارت سے مشرف ہوا کرے اور فرصت کے وقت ان کی قبروں پر آ کر روحانیت سے ان کی طرف متوجہ ہو اور ان کی حقیقت کو مرشد کی صورت میں خیال کرکے فیض حاصل کر لے اور کبھی کبھی عام مسلمانوں کی قبروں پر جا کر اپنی موت یاد کیا کرے اور ان پر ایصالِ ثواب کرے اور مرشد کے حکم اور ادب کو خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے حکم اور ادب کی جگہ سمجھے کیونکہ مرشدین خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نائب ہیں ۔ (کلیاتِ امدادیہ : صفحہ نمبر 72)


حاجی امداد ﷲ مہاجر مکی صاحب کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ : ⏬


(1) اپنے پیر و مرشد کے حکم اور ادب کو ﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے حکم اور ادب کی جگہ ہی سمجھنا چاہیے ۔


(2) عام مسلمانوں کی قبروں کا حکم تو یہ ہے کہ ان پر کبھی کبھی جا کر ایصالِ ثواب کیا جائے اور ان زیارتِ قبور سے موت کو یاد کیا جائے ۔


(3) مگر اولیاء و مشائخ علیہم الرّحمہ کی قبروں کی زیارت جب فرصت ملے کرنی چاہیئے اور ان کی قبروں پر آ کر عام مسلمانوں کی قبروں سا سلوک نہیں ہونا چاہیے کہ ایصال ثواب کیا جائے یا موت کو یاد کیا جائے بلکہ بزرگوں کی قبروں پر آنے کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ روحانی طور پر ان کی طرف توجہ کی جائے اور ان سے فیض حاصل کیا جائے ۔ اس چیز سے ان بزرگوںکی قبروں سے وہی فائدہ حاصل ہو گا جو ان کی زندگی میں ہوتا تھا ۔ اگر یقین نہ ہو تو ملاحظہ فرمائیے :


حاجی امداد ﷲ مہاجر مکی صاحب اپنے پیر و مرشد میانجی نور محمد صاحب کے آخری وقت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : حضرت نے تشفی دی اور فرمایا کہ فقیر مرتا نہیں ہے ۔ صرف ایک مکان سے دوسرے مکان میں انتقال کرتا ہے فقیر کی قبر سے وہی فائدہ حاصل ہو گا جوزندگی ظاہری میں میری ذات سے ہوتا تھا ۔ (امداد المشتاق:ص۱۱۸ ، تذکرہ مشائخ چشت: ص۲۳۴،چشتی)


اشرف علی تھانوی صاحب اس روایت کوحاجی صاحب سے بیان کرنے کے بعدان کا تجربہ یوں نقل کرتے ہیں : فرمایا حضرت (یعنی حاجی امداد ﷲ) صاحب نے کہ مَیں نے حضرت کی قبر مقدس سے وہی فائدہ اٹھایا ، جو حالت حیات میں اٹھایا تھا ۔ (امداد المشتاق سفحہ نمبر ۱۱۸)


ان دیوبندی اکابرین کے بیانات سے معلوم ہوا کہ ان حضرات کے نزدیک :


(1) کسی بزرگ کی وفات کے بعداس کی قبر سے وہی فائدہ حاصل ہوتا ہے جو اس کی زندگی میں اس کی ذات سے ہوتا تھا ۔


(2) حاجی امداد ﷲ مہاجر مکی صاحب نے اپنے پیر و مرشد کی قبر سے اسی طرح فائدے حاصل کیئے جس طرح ان کی ذات سے زندگی میں حاصل تھے ۔


ایک دیوبندی خان صاحب بیان کرتے ہیں : شاہ ولی اﷲ صاحب بطن مادر میں تھے تو ان کے والد ماجد شاہ عبد الرحیم صاحب ایک دن (خواجہ) قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضر ہوئے اور مراقب ہوئے اور ادراک بہت تیز تھا۔خواجہ صاحب نے فرمایاکہ تمھاری زوجہ حاملہ ہے اس کے پیٹ میں قطب الاقطاب ہے ۔ اس کا نام قطب الدین احمد رکھنا ۔ اقرار و تسلیم فرمایا اور آ کر بھول گئے ۔ ایک روز شاہ صاحب کی زوجہ نماز میں مصروف تھیں ۔ جب انہوں نے دعا مانگی تو ان کے ہاتھ میں دو چھوٹے چھوٹے ہاتھ نمودار ہو گئے ۔ وہ ڈر گئیں اور گھبرا کر شاہ صاحب سے فرمایا کہ یہ کیا بات ہے ۔ فرمایا ڈرو نہیں تمھارے پیٹ میں ولی ﷲ ہے ۔ (ارواحِ ثلاثہ صفحہ نمبر ۲۱)


دیوبندی حضرات کے روایت کردہ اس واقعہ سے معلوم ہوا :


(1) مزاروں پر جا کر مراقبہ کرنے سے جو فیوض و برکات حاصل ہوتی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ صاحبِ قبرسے ، بیٹا ہو گا کہ بیٹی ، نیک ہو گا کہ بد ، جیسی اہم معلومات حاصل ہو سکتی ہیں ۔


(2) اتنی اہم معلومات حاصل ہونے کا فائدہ یہ بھی ہو گا کہ اگر کسی عورت کے پیٹ میں کوئی ﷲ کا ولی پرورش پا رہا ہو تو جب اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ اپنی ولایت کے اظہار کے لیئے اپنی ماں کے ہاتھوں میں نمودار ہوں گے تو خوف محسوس نہیں ہو گا ۔


قبروں اور مزاروں سے فیض اور دستگیری​


دیوبندیوں کے فخر المحدثین خلیل احمد سہارنپوری لکھتے ہیں : اب رہا مشائخ کی روحانیت سے استفادہ اور ان کے سینوں اورقبروں سے باطنی فیوض پہنچنا،سو بے شک صحیح ہے ۔ (المھند علی المفند صفحہ نمبر ۳۶)


سوال : بعض بعض صوفی قبور اولیاء پر چشم بند کر کے بیٹھتے ہیں اور سورۃ الم نشرح پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا سینہ کھلتا ہے اور ہم کو بزرگوں سے فیض ہوتا ہے اس بات کی کچھ اصل بھی ہے یا نہیں ۔

دیوبندیوں کے امام ربانی رشید احمد گنگوہی صاحب اس کے جواب میں فرماتے ہیں : اس کی بھی اصل ہے اس میں کچھ حرج نہیں اگر بہ نیت خیر ہے ۔ (تالیفاتِ رشیدیہ مع فتاویٰ رشیدیہ صفحہ نمبر ۱۹۶)


اس سے معلوم ہوا کہ دیوبندیوں کے نزدیک اولیاء اور بزرگوں کی قبروں سے فیض و برکات کا حصول ہوتا ہے ۔ آئیے اب اس دیوبندی عقیدے کی عملی شکل دیکھتے ہیں تا کہ کوئی ابہام باقی نہ رہے ۔


حکیمِ بیمارانِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں : مولوی معین الدین صاحب حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے وہ حضرت مولانا کی ایک کرامت(جو بعد وفات واقع ہوئی) بیان فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ ہمارے نانوتہ میں جاڑہ بخار کی بہت کثرت ہوئی ۔ سو جو شخص مولانا (محمدیعقوب) کی قبر سے مٹی لے جا کر باندھ لیتا اسے ہی آرام ہوجاتا ۔ بس اس کثرت سے مٹی لے گئے کہ جب ڈلوائوں تب ہی ختم ۔ کئی مرتبہ ڈال چکا ۔ پریشان ہو کر ایک دفعہ مولانا کی قبر پر جا کر کہا ۔ یہ صاحبزادے بہت تیز مزاج تھے۔ آپ کی تو کرامت ہو گئی اور ہماری مصیبت ہو گئی ۔ یاد رکھو کہ اگر اب کے کوئی اچھا ہوا توہم مٹی نہ ڈالیں گے ایسے ہی پڑے رہیو ۔ لوگ جوتہ پہنے تمھارے اوپرایسے ہی چلیں گے ۔ بس اس دن سے پھر کسی کو آرام نہ ہوا ۔ جیسے شہرت آرام کی ہوئی تھی ویسے ہی یہ شہرت ہوگئی کہ اب آرام نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں نے مٹی لے جانا بند کر دیا ۔ (ارواحِ ثلاثہ صفحہ نمبر ۲۵۷،چشتی)


دیکھا آپ نے دیوبندیوں کے نزدیک بزرگوں کی قبروں سے کیسے کیسے فیوض و برکات حاصل ہوتے ہیں ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دیوبندیوں کے مولوی بعد از وفات بھی لوگوں کو اپنی قبروں سے نفع پہنچاتے ہیں اوراس پر ان کا اختیار بھی ہے کیونکہ شکایت ہونے پر نفع رسانی بند بھی کی جا سکتی ہے ۔


پیر کی قبرکی زیارت گویا دیدارِ خدا ہے (نعوذ باللہ)​


حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے اپنے پیر و مرشد میانجی نور محمد کی قبر کے سرہانے چند اشعار کا ایک کتبہ نصب کروایا ۔ مشہور تبلیغی دیوبندی شیخ الحدیث محمد زکریا کاندھلوی ان اشعار کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں :


’’جس کو ہوئے شوق دیدارِ خدا

ان کے مرقد کی زیارت کو وہ جا


یعنی پیر و مرشد مولا مرے حضرت نو ر محمد نیک پے ۔

(تاریخ مشائخ چشت صفحہ نمبر ۲۳۵)


گویا ان حضرات کے نزدیک اگر کسی کو خدا کی زیارت کا شوق ہو تو چاہیئے کہ حاجی امدادا للہ مہاجر مکی کے پیر و مرشد میانجی نور محمدکی قبر کی زیارت کر لے ۔


خواجہ عزیز الحسن اپنے حکیم الامت اشرف علی تھانوی صاحب کے پردادا کا واقعہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں : پردادا صاحب تو کیرانہ اور شاملی کے درمیان جہاں پختہ سڑک ہے شہید ہوئے ۔۔۔۔ کسی بارات میں تشریف لے جا رہے تھے کہ ڈاکوئوں نے آ کر بارات پر حملہ کر دیا ۔۔۔۔یہ مقابلہ میں شہید ہو گئے ۔۔۔۔ شہادت کے بعد ایک عجیب واقعہ ہوا ۔ شب کے وقت اپنے گھر مثل زندہ کے تشریف لائے اور اپنے گھر والوں کو مٹھائی لا کر دی اور فرمایا کہ اگر تم کسی پر ظاہر نہ کرو گی تو روز اسی طرح آیا کریں گے لیکن ان کے گھر کے لوگوں کو اندیشہ ہوا کہ گھر والے جب بچوں کو مٹھائی کھاتا دیکھیں گے تو معلوم نہیں کیا شبہ کریں اس لیے ظاہر کر دیا اور پھر آپ تشریف نہیں لائے ۔یہ واقعہ خاندان میں مشہور ہے ۔ (اشرف السوانح : جلد نمبر ۱ صفحہ نمبر ۳۹۔۴۰)


دیوبندی تبلیغی جماعت کے شیخ الحدیث زکریا کاندھلوی صاحب لکھتے ہیں : فرمایا کہ ایک صاحب کشف حضرت حافظ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر فاتحہ پڑھنے گئے ۔ بعد فاتحہ کہنے لگے بھائی یہ کون بزرگ ہیں بڑے دل لگی باز ہیں ۔جب میں فاتحہ پڑھنے لگا تو مجھ سے فرمانے لگے کہ جائو کسی مردہ پر پڑھو، یہاں زندوں پر فاتحہ پڑھنے آئے ہو یہ کیا بات ہے؟ تب لوگوں نے بتایا یہ شہید ہیں ۔(امداد السلوک (مقدمہ) : صفحہ نمبر ۲۷)


زکریا کاندھلوی دیوبندی لکھتے ہیں : حضرت ابو سعید خزازؒ فرماتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ میں تھا ۔۔۔۔ کہ میں نے ایک نوجوان کی نعش رکھی ہوئی دیکھی جو نہایت حسین چہرہ والا تھا میں نے جو اسکے چہرہ کو غور سے دیکھا تو وہ تبسم کرتے ہوئے کہنے لگا ابو سعید تمھیں معلوم نہیں کہ عشاق مرتے نہیں بلکہ وہ زندہ ہی رہتے ہیں اگر چہ ظاہر میں مر جائیں انکی موت ایک عالم سے دوسرے عالم میں انتقال ہوتا ہے ۔ (فضائل حج صفحہ نمبر ۲۵۶،چشتی)


زکریا کاندھلوی صاحب مزید روایت کرتے ہیں : شیخ ابو یعقوب سنوسیؒ فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک مرید مکہ مکرمہ میںآیا اور کہنے لگاکہ اے استاد میں کل ظہر کے وقت مر جائوں گا۔۔۔۔جب دوسرے دن ظہر کا وقت آیا وہ مسجد حرام میں آیا اور طواف کیا اور تھوڑی دور جا کر مر گیا ۔۔۔۔ جب اس کو قبر میں رکھا تو اس نے آنکھیں کھولدیں میں نے کہا کیا مرنے کے بعد بھی زندگی ہے؟ کہنے لگا ہاں میں زندہ ہوں ، اور اللہ جل شانہ کا ہر عاشق زندہ ہوتاہے (روض) ۔ (فضائل حج صفحہ نمبر ۲۵۶​)


بعد از وفات دیوبندی اکابرین کا تصرف و امداد​ : ⏬


دیوبندی تبلیغی جماعت کے شیخ الحدیث محمد زکریا کاندھلوی اپنے شیخ المشائخ شاہ عبد القدوس گنگوہی کے متعلق لکھتے ہیں : حضرت نے اپنی کتاب انوار العیون میں تحریر فرمایا ہے کہ حضرت احمد عبد الحق کے منجملہ اور تصرفات کے ایک یہ بھی ہے کہ اپنے وصال سے پچاس سال بعد اس ناچیز کی اپنے روحانی فیض سے تربیت فرمائی ۔ (تاریخ مشائخ چشت صفحہ نمبر ۱۹۳)


اپنے شیخ المشائخ شاہ عبد القدوس گنگوہی کی اس کتاب انوار العیون کے بارے میں زکریا کاندھلوی صاحب لکھتے ہیں : آپ کی مئولفات میں ایک کتاب انوار العیون ہے جس کے سات فن ہیں جن میں حقائق و وقائق تصوف کو جمع فرمایا ہے ۔ (تاریخ مشائخ چشت صفحہ نمبر ۲۰۴)


معلوم ہوا کہ دیوبندی علماء کے نزدیک یہ بات حقیقت ہے کہ ان کے بزرگ و اکابرین فوت شدہ لوگوں سے فیض اور امداد حاصل کرتے رہے ہیں ۔ فوت شدہ لوگوں کا زندوں کی تربیت کرنا دیوبندی بزرگوں کا محض ایک تصرف ہے ورنہ منجملہ اس کے اور بھی کافی تصرفات پر وہ قادر ہیں ۔


مولوی حبیب الرحمٰن دیوبندی مدرسہ دیوبند کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : مولوی احمد حسن صاحب امروہوی اور مولوی فخر الحسن صاحب گنگوہی میں باہم معاصرانہ چشمک تھی اور اس نے بعض حالات کی بنا پر ایک مخاصمہ اور متنازعہ کی صورت اختیار کر لی اور مولانا محمود حسن صاحب گو اصل جھگڑے میں شریک نہ تھے نہ انہیں اس قسم کے امور سے دلچسپی تھی۔مگر صورت حالات ایسی پیش آئی کہ مولانا بھی بجائے غیر جانبدار رہنے کے کسی ایک جانب جھک گئے اور یہ واقعہ کچھ طول پکڑ گیا اور اسی دوران میں ایک دن علی الصباح بعد نماز فجر مولانا رفیع الدین صاحب نے مولانا محمود حسن صاحب کو اپنے حجرے میں بلایا(جو دارالعلوم دیوبند میں ہے) مولانا حاضر ہوئے اور بند حجرے کے کواڑ کھول کر اندر داخل ہوئے موسم سخت سردی کا تھا۔ مولانا رفیع الدین صاحب نے فرمایا کہ پہلے میرا یہ روئی کا لبادہ دیکھ لو ۔ مولانا نے لبادہ دیکھا تو تر تھا اور خوب بھیگ رہا تھا فرمایا کہ واقعہ یہ ہے کہ ابھی ابھی مولانا نانوتوی جسد عنصری کے ساتھ میرے پاس تشریف لائے تھے۔ جس سے میں ایک دم پسینے پسینے ہوگیا اور میرا لبادہ تر بتر ہو گیا اور فرمایاکہ محمود حسن کو کہہ دو کہ وہ اس جھگڑے میں نہ پڑے پس میں نے یہ کہنے کے لیئے بلایا ہے مولانا محمود حسن صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میں آپ کے ہاتھ پر توبہ کرتا ہوں کہ اس کے بعد اس قصہ میں کچھ نہ بولوں گا ۔ (ارواحِ ثلاثہ صفحہ نمبر ۱۹۹)


بانی دیوبند قاسم نانوتوی صاحب کے اس طرح بعد از وفات دیوبند تشریف لانے پر اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں : یہ واقعہ روح کا تمثل تھا اور اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ایک یہ کہ جسد مثالی تھا ۔مگر مشابہ جسد عنصری کے، دوسری صورت یہ کہ روح نے خود عناصر میں تصرف کر کے جسد عنصری تیار کر لیا ہو ۔ (ارواحِ ثلاثہ صفحہ نمبر ۲۰۰،چشتی)


معلوم ہوا کہ دیوبندی علماء و اکابرین کے نزدیک دیوبندی مولویوں کو مرنے کے بعد بھی دنیا کے حالات کی خبر رہتی ہے اورمرنے کے بعد روح کو یہ قدرت بھی حاصل ہوتی ہے کہ وہ چاہے تو خود تصرف کر کے ایک جسم تیار کرے اور حالات کے پیشِ نظر دنیا میں تشریف لا کر مشاورت و امداد کے فرائض انجام دے ۔ یاد رہے کہ بعد وفات تصرف کایہ مظاہرہ ایک بار ہی نہیں ہوا بلکہ متعدد مواقع پراس کا ثبوت دیا گیا ۔ چنانچہ ایک اور دیوبندی عالم مناظر احسن گیلانی لکھتے ہیں : ایسی صورت میں کیوں اصرار کیا جاتا ہے اس کی’’ موت ‘ ‘ کے بعد ہم اس کو مُردوں میں شمار کریں ، یاد ہو گا کہ ایک دفعہ نہیں ، متعدد مواقع پر مشاہدہ کرنے والوں نے بعد وفات دیکھا کہ ’’مولٰنا نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ جسد عنصری کے ساتھ میرے پاس تشریف لائے تھے ‘‘۔‘‘ (سوانح قاسمی،حصہ سوم:ص ۱۴۹۔۱۵۰)


اسی طرح کا ایک اور لمبا واقعہ’’ سوانح قاسمی‘‘ میں موجود ہے جس میں دارالعلوم دیوبند کے انتہائی مشکل میں پھنسے ایک طالبعلم کی مدد اچانک نمودار ہونے والی ایک شخصیت نے کی جو بعد میں اچانک ہی غائب بھی ہو گئی ۔ اس طالبعلم نے اس واقعہ کو اپنے استادشیخ الہند محمود حسن دیوبندی سے بیان کیا ۔ سوانح قاسمی کے مصنف مناظر احسن گیلانی دیوبندی اس پر لکھتے ہیں : حضرت شیخ الہند فرماتے تھے ، میں نے ان مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ اچانک نمودار ہو کر غائب ہو جانے والی شخصیت کا حلیہ کیا تھا،حلیہ جو بیان کیا فرماتے تھے کہ سنتا جاتا تھا اور حضرت الاستاذ کا ایک ایک خال و خط نظر کے سامنے آتا چلا جا رہا تھا۔، جب وہ بیان ختم کر چکے تو میں نے ان سے کہا یہ تو حضرت الاستاذ (قاسم نانوتوی) رحمتہ اللہ علیہ تھے ۔ جو تمھاری امداد کے لیئے حق تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوئے ۔ (سوانح قاسمی ،حصہ اول:ص ۳۳۲)


گویا قاسم نونوتوی صاحب نے اپنی وفات کے بعدمشکل میں پھنسے اس دیوبندی طالبعلم کی امداد کی ۔ اس واقعہ کی توجیہ میں مناظر احسن گیلانی دیوبندی اس دیوبندی عقیدہ کی وضاحت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : بس بزرگوں کی ارواح سے مدد لینے کے ہم منکر نہیں ہیں ۔ (سوانح قاسمی ،حصہ اول:ص ۳۳۲)


مناظر احسن گیلانی دیوبندی ایک اور جگہ اپنے الامام الکبیر قاسم نانوتوی کے متعلق فرماتے ہیں : لیکن قلبی اور باطنی طریقہ پر قلب اس درجہ اولاد پر شفقت سے بھرپور رہتا تھا کہ زندگی ہی کی حد تک نہیں بعد وفات بھی اولاد پر آپ کی وہی نگاہ شفقت قائم رہی ۔ (سوانح قاسمی ،حصہ اول :ص ۵۶۰)


دیوبندی ملاّں قبر سے اٹھ کر مدد کرنے آگیا آخر یہ شرک کیوں نہیں ہے ؟


قاری طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیو بند بیان کرتے ہیں کہ جس زمانے میں مولوی رفیع الدین صاحب مدرسہ کے مہتمم تھے ، دارالعلوم کے صدر مدردین کے درمیان آپس میں کچھ نزاع چھڑ گئی آگے چل کر مدرسہ کے صدر مدرس مولوی محمود الحسن صاحب بھی اس ہنگامے میں شریک ہو گئے اور جھگڑا طول پکڑ گیا . اب اس کے بعد کا واقعہ قاری طیب صاحب ہی کی زبانی سنیے. لکھتے ہیں : اسی دوران میں ایک دن علی الصبح بعد نماز فجر مولانا رفیع الدین صاحب نےمولا نا محمد الحسن صاحب کو اپنے حجرہ میں بلایا (جو دارالعلوم دیو بند میں ہے) مولانا حاضر ہوئے اور حجرہ کے کواڑ کھول کر اندر داخل ہوئے . مولانا رفیع الدین صاحب نے فرمایا کہ پہلے میرا یہ روئی کا لبادہ دیکھ لو . مولانا نے لبادہ دیکھا تو تر تھا اور خوب بھیگ رہا تھا فرمایا کہ واقعہ یہ ہے کہ ابھی ابھی مولانا ناتوتوی جسد عنصری (جسم ظاہری) کے ساتھ میرے پاس تشریف لائے تھے جس سے میں ایک دم پسینہ پسینہ ہو گیا اور میرا لبادہ تر بتر ہو گیا اور یہ فرمایا کہ محمود الحسن کو کہہ دو کہ وہ اس جھگڑے میں نہ پڑے بس میں نے یہ کہنے کے لیے بلایا ہے . مولانا محمودالحسن صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میں آپ کے ہاتھ پر توبہ کرتا ہوں کی اس کے بعد میں اس قصے میں کچھ نہ بولوں گا ۔ ( (ارواحِ ثلاثہ صفحات 193 ، 194 حکایت نمبر 246)


ایک دیوبندی مولوی صاحب کا مناظرہ تھا گھبرائے تو پہلو میں ایک اجنبی آکر بیٹھ گیا اور کہا گفتگو کرو جب گفتگو شروع کی تو جیت گیا حلیہ بتانے پر معلوم ہوا وہ بانی دیوبند نانوتوی صاحب تھے جو قبر سے آکر مدد کررہے تھے اور حاشیہ میں لکھا ارواح اولیاء سے مدد کے ہم دیوبندی بھی اہلسنت کی طرح قائل ہیں یہ مسلہ قرآن و حدیث سے ثابت کیا ہے۔ ارواح اولیاء کا مدد کرنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ (سوانح قاسمی حصّہ اوّل صفحات 331 ،332،چشتی)


دیوبندی عالم جناب مناظر احسن گیلانی اپنے بڑوں کو شرک سے بچانے کےلیئے لکھتے ہیں مجبورا : پس بزرگوں کی ارواح سے مدد لینے کے ہم منکر نہیں ہمارا بھی ارواح صالحین سے مدد کے متعلق وہی عقیدہ ہے جو اہلسنت و جماعت کا ہے اور یہ سب قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ (حاشیہ سوانح قاسمی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 332 قدیم ایڈیشن و صفحہ نمبر 211 جدید ایڈیشن مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور)۔(مزید آپ خود اصل اسکینز میں پڑھیں)


مولوی نانوتوی صاحب کا خدائی تصرف (استغفراللہ)


اب ایک نیا تماشہ اور ملاحظہ فرمائیے قاری صاحب کی اس روایت پر دیوبندی مذہب کے پیشوا حکیم الامت دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب نے اپنا ایک نیا حاشیہ چڑھایا یے جس میں بیان کردہ واقعہ کی توثیق کرتے ہوئے موصوف نے تحریر کیا ہے : یہ واقعہ روح کا تمثل تھا اور اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ایک یہ کہ جسد مثالی تھا مگر مشابہ جسد عنصری کے. دوسری صورت یہ کہ روح نے خود عناصر میں تصرف کر کے جسد عنصری تیار کر لیا ہو ۔ (ارواحِ ثلاثہ صفحات 193 ، 194 حکایت نمبر 246،چشتی)


محترم قارئین کرام دیکھ رہے ہیں آپ ؟ اس واقعہ کے ساتھ کتنے مشرکانہ عقیدے لپٹے ہوئے ہیں . پہلا عقیدہ تو مولوی قاسم صاحب کے حق میں علم غیب کا ہے کیونکہ ان حضرات کے تئییں اگر انہیں علم غیب نہیں تھا تو عالم برزخ میں انہیں کیونکر خبر ہو گئی کی مدرسہ دیوبند میں مدرسین کے درمیان سخت ہنگامہ ہو گیا ہے یہاں تک کہ مدرسہ کےصدر مدرس مولوی محمودالحسن صاحب بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں چل کر انہیں منع کر دیا جائے ۔


اور پھر ان کی روح کی قوت تصرف کا کیا کہنا کہ تھانوی صاحب کے ارشاد کے مطابق اس جہان خاکی میں دوبارہ آنے کےلیے اس نے خود ہی آگ ، پانی اور ہوا ، مٹی کا ایک انسانی جسم تیار کیا اور خود ہی اس میں داخل ہو کر زندگی کے آثار اور نقل و حرکت کی قوت ارادی سے مسلح ہوئی اور لحد سے نقل کر سیدھے دیوبند کے مدرسہ میں چلی آئی ۔


سوچنے کی بات یہ ہے کہ مولوی قاسم صاحب نانوتوی کی روح کے لیے یہ خدائی اختیارات کو بلا چون و چرا مولوی رفیع الدین صاحب نے بھی تسلیم کر لیا مولوی محمودالحسن صاحب بھی اس پر آنکھ بند کر کے ایمان لے آئے اور تھانوی صاحب کا کیا کہنا کہ انھوں نے تو جسم انسانی کا خالق ہی اسے ٹھہرا دیا اور اب قاری طیب صاحب اس کی تشہیر فرما رہے ہیں ۔


ان حالات میں ایک صحیح الدماغ آدمی یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ روح کے تصرفات و اختیارات اور غیبی علم و ادراک کی جو قوتیں سرور کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلّم اور ان کے مقربینرضی اللہ عنہم کے حق میں تسلیم کرنا یہ حضرات کفر و شرک سمجھتے ہیں وہی "اپنے مولانا" کے حق میں کیونکر اسلام و ایمان بن گیا ہے اور توحیدِ خالص بن گیا ؟ کیا یہ صورتحال اس حقیقت کو واضح نہیں کرتی کہ ان حضرات کے یہاں کفر و شرک کی یہ تمام بحثیں صرف اس لیے ہیں کہ انبیاء علیہم السّلام و اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ کی حرمتوں کے خلاف جنگ کرنے کےلیے انہیں ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے ورنہ خالص عقیدہ توحید کا جذبہ اس کے پس منظر میں کار فرما ہوتا تو شرک کے سوال پر اپنے اور بیگانے کے درمیان قطعاً کوئی تفریق روا نہ رکھی جاتی ۔ امید ہے کہ دیوبندی حضرات بھی گالم گلوچ کی بجائے اس پر غور فرمائیں گے اور مہذب انداز میں علمی جواب دینگے ، اللہ پاک ہم سب کو اصل اور نقل کی پہچان فرمائے آمین ۔


ہمارا سوال صرف اتنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نہیں جانتے کون کس حال میں ہے آکر مدد نہیں کر سکتے اور اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ قبر سے مدد نہیں کر سکتے یہ کہتے ہیں دیوبندی مگر جب اپنے مردہ مولویوں کی باری آتی ہے تو سب کچھ جائز بلکہ اسے قرآن و حدیث سے ثابت بھی کرتے ہیں آخر یہ دہرا معیار و منافقت کیوں ؟


کیوں امت مسلمہ میں یہ دہرا معیار اہنا کر فتوے بازی کے بازار گرم کر کے تفرقہ و انتشار کیوں پھیلایا جاتا ہے ؟


اہلسنت و جماعت کے قرآن و حدیث سے ثابت شدہ عقائد و نظریات کو متانزعہ کیوں بنایا جاتا ہے اور جب اپنی باری آتی ہے تو سب کچھ جائز کیوں ہو جاتا ہے ؟


ہم منتظر رہیں گے بحوالہ مہذب علمی جواب کے اوٹ پٹانگ اور جاہلانہ کمنٹ کرنے والے جہلاء ہماری پوسٹ سے دور رہیں ۔


یہ ہیں دیوبندی مولوی جو مرنے کے بعد بھی پچھلوں کو اپنی نگاہِ شفقت میں رکھتے ہیں ۔ ان کے حالات کی خبر رکھتے ہیں اور مشکل میں پھنسے حضرات کی مدد کو پہنچتے ہیں مگر شرک نہیں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

بھینس اور کٹے کی قربانی کا جواز غیرمقلد وہابیوں اور دیگر مستند دلائل کی روشنی میں

بھینس اور کٹے  کی قربانی کا جواز غیرمقلد وہابیوں اور دیگر مستند دلائل کی روشنی میں محترم قارئین کرام : قرآنِ کریم نے قربانی کےلیے بَھِیمَۃ ا...