عقائد و نظریات حضرت غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ
محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا عبدالقاد رجیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی مبارک زندگی کا اکثر حصہ درس و تدریس میں گزرا اور اسی منصب تدریس کی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے قطبیت کے اعلی منصب پر فائز ہوئے ۔ مدرسہ مخرمیہ کی تعمیر نو کے بعد جب بیانات کا سلسلہ شروع کیا تو سب سے بڑا معرکہ لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کا تھا چونکہ بغداد میں موجود باطل فرقوں اور بد مذہبیت نے اپنے پنجے کس دیئے تھے ، علمی بے راہ روی تھی ، بے جا قیل و قال کے محفلوں میں علمائے حق کو بدنام کیا جا رہا تھا ، مختلف عقائد و نظریات کے حامل طبقے لوگوں کو اپنا ہم خیال بنارہے تھے ، اہل سنت کے عقائد کو مسخ کیا جا رہا تھا ، ہر فرقہ اپنے باطل عقائد کے پرچار میں دوسرے کی دستار کو تار تار کر رہا تھا ان حالات میں جو سب سے بڑا بیڑا حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اٹھایا وہ لوگوں کے عقائد واعمال کی اصلاح تھی ۔ آپ نے دین متین کی حقانیت کو لوگوں کے دلوں میں راسخ کیا ، بدعقیدگی کی سیاہ چادر کو لپیٹ کر قرآن و سنت کی بالادستی قائم کی ۔ باطل نظریات کی بیخ کنی کر کے اسلامی عقائد کو پروان چڑھایا ۔ فتوح الغیب کے خطابات اس بات پر شاہد ہیں کہ آپ نے علمائے سوء کو مخاطب کر کے ان کو راہ راست پر آنے کی دعوت دی ۔ تفسیر الجیلانی ، الفتح الربانی ، اصول الدین اور غنیۃ الطالبین کے صفحات اس بات کی گواہی دیں گے کہ آپ نے اپنے زمانے میں پائے جانے والے تمام گمراہ فرقوں کے نظریات کی خرافات کو بیان کر کے حق و سچ کی طر ف لوگوں کی رہنمائی فرمائی ۔ اس موضوع پر مزید کام کرنے کا ارادہ ہے اگر صحت نے ساتھ دیا اور وقت ملا تو اس کام کرینگے ان شاء اللہ ۔ باقی اہلِ علم سے گذارش ہے اس موضوع پر توجہ دیں کہ اسلاف علیہم الرحمہ کے عقائد و نظریات بیان کریں ۔
پیرانِ پیر حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ایک سنی ہی اہلِ حق ہیں یہی لوگ اہلسنت ہیں ، جن کے اقوال شریعت و طریقت کے طابق ہوں ۔ باقی سب اہلِ بدعت ہیں ۔ (سرالار و مظھر الانور صفحہ ۱۴۰ مطبوعہ دارالسنابل) ۔ معلوم ہوا اہلسنت ہی حق پر ہیں یہ بھی وہ بھی سب صحیح کہنے والے سنیوں کے لبادے میں چھپے صلح کلی جھوٹے ہیں ۔ ہمت کرو یہ بیان کر کے سنی مسلمانوں کو صلح کلیوں کے فتنہ سے بچاو اگر جھوٹی شان و شوکت اور دوکانداری بند ہونے کا خطرہ نہ ہو تو بیان کرو ۔
حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے بارے حسنِ ظن رکھتے ہیں وہ مومنوں کی مائیں ہیں ۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سب عورتوں سے افضل ہیں ۔ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا دنیا کی عورتوں سے افضل ہیں ان کی محبت واجب ہے ۔ (اصول الدین مترجم صفحہ نمبر 194 مطبوعہ پرگریسو بکس اردو بازار لاہور)
حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت انصار و مہاجرین رضی اللہ عنہم کے متفقہ فیصلہ سے کے ہوئی اولی بیعت کرنے والوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم دنیا سے اس حال میں تشریف نہ لے گئے جب تک مجھے وصیت نہ فرما دی کہ میرے بعد ابوبکر ، پھر عمر پھر عثمان رضی اللہ عنہم اور پھر میری خلافت ہو گی ۔ (اصول الدین مترجم صفحہ نمبر 178 تا 181 مطبوعہ پرگریسو بکس اردو بازار لاہور،چشتی)
حسنی حسینی سید پیرانِ پیر حضرت غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے افضل عشرہ مبشرہ ہیں پھر ان سے افضل خلفاءِ راشدین رضی اللہ عنہم ہیں ۔ خلفاءِ راشدین میں سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق ہیں پھر حضرت عمر پھر حضرت عثمان پھر حضرت علی ہیں خلفاءِ راشدین رضی اللہ عنہم ۔ (اصول الدین مترجم صفحہ 174 مطبوعہ پروگریسو بکس اردو بازار لاہور،چشتی) ۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے نام پر پیری مریدی کا دھندہ کرنے والو یہ بھی بیان کیا کرو ۔ جس سے معلوم ہوا اہلسنت درست ہے اور اس مکر نام نہاد سنی کہلانے والے در اصل اسلاف اہلسنت علیہم الرحمہ کے عقاٸد و نظریات کے مخالف ہیں پھر ان کے نام کی نسبت پہ قادری کہلانے کافریب و پیری مریدی کا دھندہ کیوں ؟ ۔ ہمت کرو یہ بیان کر کے سنی مسلمانوں کو روافض کے عقائد و نظریات سے بچاو اگر جھوٹی شان و شوکت اور دوکانداری بند ہونے کا خطرہ نہ ہو تو بیان کرو ۔
مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم اور پیرانِ پیر حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا فیصلہ : مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم پر اپنی زبانیں بند رکھو ، صحابہ رضی اللہ عنہم کی توہین نہ کرو ، تمام صحابہ بشمول امیر معاویہ و ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہم کا احترام کرو ۔ جس صحابی رضی اللہ عنہ کا جہاں وصال ہوگا وہ ان لوگوں کی شفاعت کرینگے ۔ ہمت کرو یہ بیان کر کے سنی مسلمانوں کو روافض کے عقائد و نظریات سے بچاو اگر جھوٹی شان و شوکت اور دوکانداری بند ہونے کا خطرہ نہ ہو تو بیان کرو ۔ (اصول الدین مترجم صفحہ 200 تا 203 مطبوعہ پروگریسو بکس اردو بازار لاہور)
حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے خلاف حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کی تو ان کی خلافت درست اور ان کی امامت واجب ہو گئی ۔ (اصول الدین مترجم صفحہ نمبر 191 مطبوعہ پرگریسو بکس اردو بازار لاہور،چشتی)
حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : غیر نبی کو معصوم ماننا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم سے افضل ماننا شیعوں کا عقیدہ ۔ (اصول الدین مترجم صفحہ نمبر 238 مطبوعہ پرگریسو بکس اردو بازار لاہور،چشتی)
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے نام پر پیری مریدی کا دھندہ کرنے والو یہ بھی بیان کیا کرو : حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : شیعہ وہ ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ رضی اللہ عنہ پر فضیلت دے اور حضرت زید بن علی نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کو خلیفہ مانا اور ان کی امامت کے قائل ہوئے تو انہیں ان لوگوں نے چھوڑ دیا تو حضرت زید بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا انہیں رافضہ کہا گیا ۔ اور رافضی وہ ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر فضیلت دے ۔ (اصول دین مترجم صفحہ 234 مطبوعہ پروگریسو بکس اردو بازار لاہور)
پیرانِ پیر حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے نام پر پیری مریدی کا دھندہ کرنے اور گیارہویاں کھانے اور تجوریاں بھرنے والو ان کے عقائد و نظریات بھی بیان کیا کرو : حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے شیعہ روافض کے فرقوں کی اقسام اور ان کے عقائد و نظریات کو تفصیل سے بیان کیا ہے ہمت کرو یہ بیان کر کے سنی مسلمانوں کو روافض کے عقائد و نظریات سے بچاٶ اگر جھوٹی شان و شوکت اور دوکانداری بند ہونے کا خطرہ نہ ہو تو بیان کرو ۔ (اصول الدین مترجم صفحہ 237 تا 239 مطبوعہ پروگریسو بکس اردو بازار لاہور)
پیرانِ پیر حضرت سیدنا غوث الاعظم سید شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : برباد ہے تیری ، افسوس ہے تجھ پر کہ تو اپنی گدی حجرے میں بیٹھا ہوتا ہے مگر تیرا دل لوگوں کے آنے (اپنی تعظیم ہونے ، بڑا ہونے ، مشہور ہونے ، ہاتھ چموانے کی خواھش رکھتا ہے) اور اپنے (ذاتی مفاد کےلیے) ان کے نذرانوں اور تحائف کا منتظر ہوتا ہے ۔ (الفتح الربانی صفحہ 97 مطبوعہ دار الریان التراثہ) ۔ آج کل تو لوگوں نے اسے باقاعدہ وراثتی گدی نشینی اور کاروبار بنا لیا ہے ایسے لوگوں کےلیے فکر انگیز پیغام ہے ۔
حضرت سیّدنا غوثُ الاعظم سیّد شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جب ابوطالب پر موت کا وقت آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا ! اے میر چچا ! لا الٰہ الا اللہ پڑھیے میں اس کلمہ کی وجہ سے اللہ کے پاس آپ کی شفاعت کروں گا ‘ تو ابوطالب نے کہا مجھے علم ہے کہ آپ سچے ہیں لیکن میں اس کو ناپسند کرتا ہوں کہ یہ کہا جائے کہ ابوطالب موت سے گھبرا گیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابو طالب کی مغفرت طلب کرنے سے کرنے سے منع فرما دیا ۔ (تفسیر الجیلانی جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 457 مطبوعہ المکتبۃ المعروفیہ کانسی روڈ کوئٹہ پاکستان،چشتی)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے چچا ابو طالب کی ہدایت کا سوال کیا تو ہدایت نہ دی گئی ، حضرت حمزہ کے قاتل وحشی (رضی اللہ عنہما) کو ہدایت عطاء کی گئی ۔ (الغنية لطالبي طريق الحق الجزء الثانی صفحہ ۴۹ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان،چشتی)(غُنیۃ الطالبین مترجم اردو ہزاروی صفحہ 263 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور پاکستان)(غُنیۃ الطالبین مترجم اردو بدایونی صفحہ 263)(غُنیۃ الطالبین مترجم اردو مبشر صفحہ نمبر 415)
محترم قارئینِ کرام : آج کل بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ : سیدنا ابوطالب علیہ السلام پہلا مسلمان اور پہلا صحابی اور کفیل رسول اللہ ہے ہمارے لیے ایمان آزمانے کےلیے ایمان کی کسوٹی ہے ، جو ابوطالب کو "علیہ السلام" کہے گا وہ ہمارا ہے جو ان کے بارے میں گندی زبان ہلائے ، وہ ہمارا نہیں ہے ۔۔۔۔ اس سے دور رہنا چاہیے ۔۔۔۔ جو علی کے باپ کو کافر کہے وہ مومن نہیں ۔۔۔ کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔ وغیرہ ۔
ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ لوگ کہہ رہے ہیں ، تو پھر ائمہ محدثین مفسرین علیہم الرّحمہ سے اتنی بڑی بات کیسے چُھپی رہ گئی اور انہیں علم کیوں نہ ہو سکا ؟
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سوانح و تعارف پہ بڑی بڑی کتابیں محدثین علیہم الرّحمہ نے لکھیں ہیں ، تو جنابِ ابوطالب کا نام کیوں چھوڑ گئے ؟
حضرت سیّدنا غوثُ الاعظم شیخ سیّد عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ جو امام الاولیاء ہیں ، جن کے نام پر آپ کے آستانے چل رہے ہیں ، کیا وہ بھی اس حقیقت سے ناآشنا رہے ؟ ، آخر وہ کون سی وجوہات تھیں ، کہ سلف صالحین علیہم الرّحمہ جناب ابوطالب کے نام کی کانفرنسیں منعقد کرنے کی سعادت سے محروم رہے ؟ ، آخر وہ کیا وجہ تھی کہ اسلاف علیہم الرّحہ آپ کے خود ساختہ معیار پر "علیہ السلام" لکھ کر پورا نہ اتر سکے ؟ ، اس وقت جتنے لوگ ایمان ابی طالب کے مسئلہ کو لے کر انتشار پھیلا رہے ہیں ، ان سب سے گزارش ہے کہ آخر آج وہ کون سی آفت آن پڑی ہے کہ اہل سنت کو روافض کی جھولیوں میں ڈالنے کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں ، اور ایمان ابی طالب کے مسئلہ پر خاموشی توڑ کر اسے عوام میں یوں بیان کیا جارہا ہے ، جسے سُن کر بڑے بڑے اکابرینِ اہلسنّت پر لوگ انگلیاں اٹھانے لگ پڑے ہیں ؟ ، کیا آپ لوگ خود کو حضرت سیّدنا غوثُ الاعظم شیخ سیّد عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی بڑے سید اور محب اہل بیت سجھتے ؟ اگر سجھتے تو بھی بتادیں اور اگر نہیں سمجھتے تو پھر کم از کم یہ سمجھنے کی کوشش کریں ، کہ انہوں نے جناب ابوطالب کے بارے میں آپ جیسا عقیدہ و نظریہ کیوں نہ رکھا ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)



























































