Monday, 2 November 2026

مسئلہ باغ فدک اور حضرت ابوبکر صدیق و حضرت فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہما

مسئلہ باغ فدک اور حضرت ابوبکر صدیق و حضرت فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہما

محترم قارئینِ کرام : شیعہ حضرات کا مشہور محقق ملاّ باقر مجلسی انتہائی تعصب کے باوجود لکھتا ہے کہ : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بہت سے فضائل و مناقب جنابِ حضرت سیّدہ فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہا کے بیان کیے اور فرمایا : اموال و احوال خودرا از تو مضائقہ ندارم آنچہ خواہی بگیر ۔ تو سیدہ امت پدرخودی و شجرہ طیبہ از برائے فرزندان خود انکار فضل تو کسے نمے تو اندکرد و حکم تو نافذ است درمال من ۔ امادر گفتہ پدر تو نمے تو انم کرد ۔

ترجمہ : میں اپنا مال جائیداد دینے میں آپ رضی اللہ عنہا سے دریغ نہیں رکھتا ۔ جو کچھ مرضی چاہے لے لجیے ۔ آپ رضی اللہ عنہا اپنے باپ کی امت کی سیدہ ہیں اور اپنے فرزندوں کےلیے پاکیزہ اصل اور شجرہ طیبہ ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کے فضائل کا کوئی انکار نہیں کرتا آپ رضی اللہ عنہا کا حکم میرے ذات مرے مال میں چوں و چرا جاری و منظور ہے ۔ لیکن عام مسلمانوں کے مال میں آپ رضی اللہ عنہا کے والد بزرگوار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی مخالفت ہرگز نہیں کر سکتا ۔ (شیعہ مذہب کی مشہور کتاب حق الیقین مترجم جلد اوّل صفحہ نمبر 227 ، 228 مطبوعہ مجلسِ اسلامی پاکستان)


جناب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : باغِ فدک پر حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو معمولی سی غلط فہمی ہوئی (فہم میں غلطی ؟) اور فدک پر جو موقف ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں اختیار کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے قول و فعل سے اس کی تائید کی ۔ (سیرت الرسول جلد 6 صفحہ 603 مطبوعہ منہاج القرآن)


استاذی المکرم آلِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اولادِ علی رضی اللہ عنہ غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : باغ فدک کے معاملے میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اجتہاد سے بہتر تھا ۔ (مشکلات الحدیث مسلہ فَدَک صفحہ نمبر 207 مطبوعہ ورلڈ ویو پبلیشرز اردو بازار لاہور،چشتی)


اس سے واضح طور پر یہ سمجھ میں آیا کہ مسلہ فَدَک اجتہادی معاملہ تھا ۔ لہٰذا جو اس معاملے میں اجتہاد نہیں مانتے ان کی تردید غزالی زماں حضرت علامہ سیّد احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی زبانِ مبارک سے ہو گئی ۔ یاد رہے جب دو شخصیات کے درمیان اجتہاد ہوتا ہے تو اہل سنت کا نظریہ ہے کہ ایک شخص صواب پر ہوتا ہے اور ایک خطا (اجتہادی) پر ۔ دونوں کو صواب پر ماننا یہ معتزلہ کا نظریہ ہے ۔ لہٰذا مذکورہ حوالے سے اجتہاد ثابت ہوا اور جب اجتہاد ثابت ہو گیا تو ایک کا اجتہادی خطا پر ہونا لازم آئے گا ۔ اور اس اجتہادی خطا پر اجر ہے نہ کہ گناہ فافہم ۔ اور اس معاملے میں کون اجتہادی خطا پر ہے یہ مذکورہ عبارت کے اس جملے سے واضح ہے ، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد ، سیدہ طیّبہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے اجتہاد سے بہتر تھا ۔


تاجدار گولڑہ حضرت سیدنا پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : الحاصل آیتِ تطہیر کا مورد خواہ امہات المومنین ہوں فقط یا آل کساء ہوں یا صرف آلِ کساء ہوں ، ایسا ہی تطہیر در رنگ انزالِ شرعیہ ہو یا در صورت عفو و مغفرت ، بہر کیف خطاء کا صدور مطہرین سے ممکن ہے ۔ علاوہ خلفائے ثلاثہ کے اہلبیت پاک علیہم السلام نے باغِ فدک کے غیر مورث ہونے کو اپنی طرز سے ثابت کر دکھایا ۔ (فتاویٰ مہریہ صفحہ نمبر 217 مطبوعہ گولڑہ شریف)


تاجدار گولڑہ حضرت سیّدنا پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : خطا کا صدور بہر کیف مطہرین سے ممکن ہے ۔ البتہ حشر اُن کا آخرت میں مغفرت کاملہ کی صورت میں ہوگا ۔ (تصفیہ مابین سنی و شیعہ صفحہ نمبر 58 مطبوعہ گولڑہ شریف)


تاجدار گولڑہ حضرت حضرت سیّدنا پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت سیّدہ فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہا باغِ فدک کا مطالبہ کرتے ہوئے کسی ناجائز امر کی مرتکب نہیں ہو سکتیں ۔ اور آیت تطہیر کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ پاک گروہ معصوم ہیں اور اِن سے کسی قسم کی خطا سرزد ہونا نا ممکن ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بمقتضائے بشریت اُن سے کوئی خطا سرزد بھی ہو تو وہ عفو و تطہیر اِلہٰی میں داخل ہوگی ۔ (تصفیہ مابین سنی و شیعہ صفحہ نمبر 46 مطبوعہ گولڑہ شریف،چشتی)


باغ فدک کیا ہے ؟ فدک خیبر کا ایک قصبہ ہے (وہاں ایک باغ ہے جسے باغ فدک کہا جاتا ہے) اور یہ بھی کہا گیا کہ حجاز کا ایک کنارہ ہے جس میں چشمےاور کھجوروں کے درخت ہیں یہ اللہ سبحانہ وتعالی نےاپنے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو عطا کیا تھا ۔ (لسان العرب جلد 2 صفحہ 473)


حضرت سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جب حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کی حدیث سنائی کہ انبیاء علیہم السّلام کی وراثت مال نہیں علم ہے اور یہ بتایا کہ اس جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم اہلبیت کو دیا کرتے تھے وہ میں بھی جاری رکونگا تو حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا نے اپنے مطالبے سے رجوع کر لیا اور پھر ساری عمراس مسئلے پر کوئی بات نہیں کی بلکہ شیعوں کی اپنی کتاب میں ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ اس پر راضی ہو گئیں۔اس مسلے کو ہم کتب شیعہ سے لکھ رہے شاید کسی کو ہدایت نصیب ہوجائے اور وہ گستاخیاں چھوڑ دے یاد رہے اس مسلے کو بعض متعصب شیعہ علماء نے من گھڑت کہانیوں کے ذریعے اچھالا آیئے حقائق پڑھتے ہیں ۔


یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تمام کتب تواریخ اس پر شاہد ہیں کہ فدک زمانہ علوی میں بھی اسی طرح رہا جیسے صدیق و فاروق و عثمان رضی اللہ عنہما کے دور خلافت میں تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی فدک میں وہی طریقہ جاری رکھا جو صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے جاری رکھا تھا ۔ آئیے پہلے اس کے متعلق پڑھتے ہیں کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ بھی خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی طرح فدک کو استعمال میں لائے : شیعہ عالم الدکتور سعید السامرائی لکھتا ہے : جب امر خلافت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے سپرد ہوا تو علی علیہ السّلام سے فدک کو اہلبیت کی طرف لوٹانے کے بارے میں کہا گیا تو علی علیہ السّلام نے جواب میں فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے اس کام کو کرنے میں اللہ سے حیا آتی ہے جس کام کو ابوبکر عمر (رضی اللہ عنہما) نے نہی کیا ۔ (شیعہ کتاب : حجج النھج صفحہ نمبر 279 مطبوعہ موسسة الفجر بیروت ، لندن)


شیعہ عالم الدکتور سعید السامرائی لکھتا ہے : یہ سن کر حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ فدک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ھبہ کردیا تھا ۔ ابو بکر رضہ نے پوچھا کہ اس بات کا کوئی گواہ تو حضرت علی اور ام ایمن رضی اللہ عنہما بطور گواہ پیش ہوئے ۔ اور اس امر کی گواہی دی ۔ اتنے میں حضرت عمر اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما بھی آگئے ۔ ان دونوں نے یہ گواہی دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فدک کو تقسیم فرماتے تھے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے بنت پیغمبر تو نے بھی سچ کہا اے علی رضی اللہ عنہ تم بھی سچے ہو ۔ اس لیے کہ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا تیرے لیے وہی کچھ ہے ۔ جو آپ کے والد کا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فدک کی آمدنی سے تمہاری خوراک کا اہتمام فرماتے تھے ۔ اور باقی ماندہ کو تقسیم فرما دیتے اور اس میں سے فی سبیل اللہ سواری بھی لے دیتے ۔ تمہارے بارے میں اللہ سے معاہدہ کرتا ہوں کہ میں اسی طرح تم سے سلوک کروں گا جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلوک فرمایا کرتے تھے ۔ تو یہ سن کر سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے راضی ہو گئیں ۔ اور اسی بات پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے عہد لیا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ فدک کا غلہ وصول کرتے اور اھل بیت کو ان کی ضرورت کے مطابق دے دیتے ۔ ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی فدک کو اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ، اس کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ بھی فدک اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ، اس کے بعد علی رضی اللہ عنہ بھی فدک کو اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ۔ (شیعہ کتاب : حجج النھج صفحہ 265 ، 266 مطبوعہ موسسة الفجر بیروت ، لندن)


شیعہ محقق مرتضی علی موسوی لکھتا ہے : جب امر خلافت علی علیہ السّلام کے سپرد ہوا تو علی علیہ السّلام شیرخدا سے فدک کو اہلبیت کی طرف لوٹانے کے بارے میں کہا گیا تو علی علیہ السّلام نے جواب میں فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے اس کام کو کرنے میں اللہ سے حیا آتی ہے جس کام کو ابوبکر عمر (رضی اللہ عنہما) نے نہیں کیا ۔ (شیعہ کتاب : الشافی فی الامامت صفحہ نمبر 76،چشتی)


شیعہ عالم الدکتور سعید السَّامرّائی لکھتا ہے : یہ سن کر سیدہ فاطمہ علیہا السّلام نے کہا کہ فدک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ھبہ کردیا تھا ۔ ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نے پوچھا کہ اس بات کا کوئی گواہ تو حضرت علی علیہ السّلام اور ام ایمن بطور گواہ پیش ہوئے ۔ اور اس امر کی گواہی دی ۔ اتنے میں حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) اور عبدالرحمن بن عوف (رضی اللہ عنہ) بھی آگئے ۔ ان دونوں نے یہ گواہی دی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فدک کو تقسیم فرماتے تھے ۔ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ اے بنت پیغمبر توں نے بھی سچ کہا اے علی علیہ السّلام تم بھی سچے ہو ۔ اس لیے کہ اے فاطمہ علیہا السّلام تیرے لیے وہی کچھ ہے ۔ جو آپ کے والد کا تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فدک کی آمدنی سے تمہاری خوراک کا اہتمام فرماتے تھے ۔ اور باقی ماندہ کو تقسیم فرمادیتے اور اس میں سے فی سبیل اللہ سواری بھی لے دیتے ۔ تمہارے بارے میں اللہ سے معاہدہ کرتا ہوں کہ میں اسی طرح تم سے سلوک کروں گا جس طرح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سلوک فرمایا کرتے تھے ۔ تو یہ سن کر سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے راضی ہوگئیں ۔ اور اسی بات پر ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) سے عہد لیا ۔ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) فدک کا غلہ وصول کرتے اور اہلبیت کو ان کی ضرورت کے مطابق دے دیتے ۔ ان کے بعد حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) بھی فدک کواسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ، اس کے بعد عثمان (رضی اللہ عنہ) بھی فدک اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ، اس کے بعد علی علیہ السّلام بھی فدک کو اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ۔ (شیعہ کتاب : حجج النھج صفحہ نمبر 266،چشتی)


شیعہ محقق لکھتا ہے : جب امر خلافت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوا تو علی شیرخدا رضی اللہ عنہ سے فدک کو اہلبیت رضی اللہ عنہم کی طرف لوٹانے کے بارے میں کہا گیا تو علی شیرخدا رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے اس کام کو کرنے میں اللہ سے حیا آتی ہے جس کام کو ابوبکر عمر رضی اللہ عنہما نے نہیں کیا ۔ (شیعہ کتاب : شرح نھج البلاغہ ابن حدید جلد ۱۶ صفحہ ۲۵۲)


اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے اپنے دور حکومت میں فدک غصب کرلیا تھا تو جناب حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کا فرض تھا کہ وہ فدک کو تقسیم کرتے اور اس وقت جو اس کے وارث موجود تھے ، ان کو دے دیتے اور جو ناجائز بات چلی آرہی تھی اور جو ظلم روا رکھا گیا تھا ، اس کو اپنے دور خلافت میں ختم کردیتے کیونکہ خود حضرت علی رضی ﷲ عنہ فرماتے میں کہ امام کے لئے پانچ امر ضروری ہیں : ⏬


(1) خوب وعظ کہنا ۔

(2) لوگوں کی خیر خواہی میں خوب قوت صرف کرنا ۔

(3) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سنت کو زندہ کرنا ۔

(4) سزاؤں کے حق داروں کو سزا دینا ۔

(5) حق داروں کو ان کے حقوق واپس لوٹا دینا ۔ (نہج البلاغہ مصری جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 202)

اسی طرح شیعہ مذھب کی مشہور کتاب رجال کشی میں حضرت علی رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد مذکور ہے : انی اذا بصرت شیئا منکراً او قدت نارا و دعوت قنبراً ۔ (رجال کشی صفحہ نمبر 199،چشتی)

ترجمہ : جب میں خلافِ شریعت کام دیکھتا ہوں تو آگ جلاتا ہوں اور قنبر کو بلاتا ہوں ۔


اسی بناء پر آپ نے ان لوگوں کو آگ میں جلا دیا تھا ۔ جو آپ کو خدا کہنے لگ گئے تھے پھر فرماتے ہیں : ولا المعطل للسنۃ فیہلک الامۃ ۔ (نہج البلاغہ صفحہ 398)

ترجمہ : امام ایسا نہیں ہونا چاہئے جو پیغمبرکے طریقے کو چھوڑ دے، ورنہ امت ہلاک ہوجائے گی ۔


لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جناب حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ نے فدک میں وہی طریقہ جاری رکھا جو حضرت سیدنا صدیق اکبر اور حضرت عمر رضی ﷲ عنہما کا تھا یہ اس امر کی بہت بڑی دلیل ہے کہ حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کے نزدیک باغِ فَدک میں صدیقی طرز عمل حق و صواب تھا اور حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ صدیقی طرز عمل کو بالکل شریعت اسلامیہ کے مطابق جانتے تھے ۔

حقیقت یہ ہے کہ شیعہ حضرات کا صدیقی خلافت میں غصبِ فَدک کا قول کرنا حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ کی امامت و خلافت پر شرمناک حملہ ہے ۔ کیونکہ اگر یہ مان لیا جائے کہ صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے باغِ فَدک غصب کرلیا تھا تو حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ پر بھی یہ الزام قائم ہوگا ۔ کہ انہوں نے فدک کو صدیقی خلافت کے دستو رپر جاری رکھ کر امت و خلافت کا حق ادا نہیں کیا ۔ حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ اگر غاصب فدک ثابت ہونگے تو حضرت مولا علی مرتضیٰ رضی ﷲ عنہ غصب کے برقرار رکھنے والے ثابت ہونگے ۔ سوچئے کہ غصب کرنے والا زیادہ مجرم ہے یا غصب کو برقرار رکھنے والا ۔ اور غاصبوں کے طرز عمل کی حکومت و سلطنت کے با وجود حمایت کرنے والا ۔ (معاذ ﷲ) ۔ غرضیکہ قضیہ فدک میں جناب حضرت مولا علی الممرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کا طرز عمل دنیائے شیعیت پر بہت بھاری حجت ہے ۔ اگر حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ کی خلافت پر اعتراض ہوگا تو حضرت سیدنا مولا علی رضی ﷲ عنہ کی خلافت پر بھی حرف آئے گا ۔ پس جناب حضرت مولا علی المرتضیٰ کا اراضی فدک کو اسی دستور پر رکھنا جس پر کہ جناب صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے رکھا تھا ، حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی حقانیت اور ان کے طرز عمل کی صحت پر دلیل قاہر ہے ۔


مشہور شیعہ مصنف اس کا نام کمال الدین میثم بن علی میثم البحرانی ہے۔ ساتویں صدی ہجری میں پیدا ہوا۔ ’’عالمِ ربانی، فلسفی، محقق، صاحبِ حکمت اور نہج البلاغۃ کی شرح کا مصنف ہے۔ محقق طوسی سے روایت کرتا ہے… کہا گیا ہے کہ خواجہ نصیر الدین طوسی نے فقہ کمال الدین میثم سے اور میثم نے حکمت خواجہ سے پڑھی تھی۔ ۶۷۹ھ میں وفات پائی اور ماحوذ کے قریب ایک بستی ہلتا میں دفن ہوا۔(الکنی والالقاب جلد ۱ ، صفحہ ۴۱۹)اسی نے کہا تھا ۔میں نے علوم و فنون اس لیے چاہے تھے کہ اس سے برتری حاصل کروں‘‘’’مجھے بس اسی قدر ملا کہ اسی تھوڑے سے میں بلند ہوگیا‘‘ ’’مجھے معلوم ہوگیا کہ سب کے سب محاسنفرع ہیں اور حقیقت میں مال ہی اصل ہے‘‘ ’’اس کی ایسی ایسی عجیب تصنیفات ہیں جن کے بارے میں زمانے میں سے کسی نے بھی نہیں سنا اور نہ ہی بڑے بڑوں میں سے کوئی اُسے پاسکا ہے ۔ (روضات الجنات ج ۲ ص ۲۱۸ اور مابعد)


شیعہ ابن میثم نہج البلاغہ کی شرح میں یہ روایت لکھتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا جو آپ کے والد محترم کا تھا وہ آپ کا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فدک میں سے آپ کیلئے کچھ رکھ لیا کرتے تھے باقی اللہ سبحانہ وتعالی کے راستے میں تقسیم کر دیا کرتے تھے اللہ کی قسم !میں آپ کے ساتھ ویسا ہی کروں گا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیا کرتے تھے یہ سُن کر فاطمہ رضی اللہ عنہا خوش ہو گئیں اور اس بات کا آپ سے عہدلے لیا۔(شرح نہج البلاغ،جلد 5،صفحہ 7،از ابن میثم البحرانی مطبوعہ تہران)


اسی جیسی ایک روایت شیعہ دنبلی نے اپنی شرح ’’الدرۃ النجفیہ صفحہ 331،332 مطبوعہ ایران‘‘ میں بیان کی ہے ۔ (شرح نہج البلاغۃ جلد5 ،صفحہ 331،332ایران)


شیعہ ابن میثم،دنبلی،ابنِ ابی الحدید، اور معاصر شیعہ مصنف فیض الاسلام علی نقی نے یہ روایت نقل کی ہے:’’ابوبکر رضی اللہ عنہ باغِ فدک کے غلہ میں سے اتنا حصہ اہلِ بیت کو دے دیا کرتے تھے جو ان کی ضروریات کے لیئے کافی ہوتا۔ باقی سب تقسیم کردیا کرتے، آپ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کرتے، عثمان رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے اور ان کے بعد علی رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔‘‘(شرح نہج البلاغۃ، لابنِ ابی الحدید جلد 4، صفحہ44، شرح نہج البلاغۃ،لابنِ میثم البحرانی جلد 5، صفحہ 107،الدرۃ النجفیۃ‘‘ صفحہ 332،شرح النہج البلاغہ،جلد 5،صفحہ 960، فارسی لعلی نقی ،مطبوعہ تہران،چشتی)


شیعہ کتب گواہ ہں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی ویسا ہی کیا جیسا خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنھم نے کیا تو یہ شیعہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پر کیا فتوی لگائیں گے ؟


نبی کریم اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم انبیاء علیہم السّلام کی وراثت مال نہیں ہے اس روایت کو متعصب شیعہ جھٹلاتے ہیں جبکہ یہ روایت خود شیعوں کی اپنی کتب میں موجود ہے، ان کی اپنی کتاب (کافی) میں جسےشیعہ سب سے صحیح کتاب کہتے ہیں اسی کتاب (کافی) میں شیعہ کلینی نےحماد بن عیسی سےاور حماد بن عیسی نےقداح سےجعفر ابو عبداللہ کی روایت نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ’’جو علم کو تلاش کرتے ہوئے علم کے راستے پر چلے، اللہ اسے جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے ، اور عالم کی فضیلت عبادت گزار پر ایسی ہے، جیسے چودھویں کا چاند سارے ستاروں سے افضل ہے۔ علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں جو دینار و درہم وراثت میں نہیں چھوڑتے لیکن علم کی میراث چھوڑتے ہیں، جو اس میں سے کچھ حاصل کرلے اس نے بہت کچھ حاصل کرلیا ۔ (الاصول من الکافی کتاب فضل العلم، باب ثواب العالم والمتعلم جلد 1،صفحہ 34)


جعفر ابوعبداللہ نےایسی ہی ایک اور روایت میں کہا ہے: علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں اور ان کا مالِ میراث درہم و دینار نہیں ہوتا، انہیں انبیاء علیہم السلام کی احادیث میراث میں ملتی ہیں ۔(الاصول من الکافی باب صفۃ العلم وفضلہ وفضل العلماء جلد 1، صفحہ 32،چشتی)


مزید دو روایتیں پیش خدمت ہیں جن سے اس روایت کی تائید ہوتی ہے، ان روایات کو بھی اس نے روایت کیا ہے جسے شیعہ قوم ’’صدوق‘‘ کے نام سے پکارتی ہے ۔


(1) براہیم بن علی رافعی نے اپنے باپ سے، اس نے اپنی دادی بنت ابی رافع سے روایت کیا ہے وہ کہتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ وفات میں فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں بیٹوں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دونوں آپ کے بیٹے ہیں، ان کو اپنی کچھ میراث دے دیجیے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ حسن رضی اللہ عنہ کے لیے میری ہیبت اور بزرگی ہے اور حسین رضی اللہ عنہ کے لیے میری جرأت اور میری سخاوت ۔(کتاب الخصال‘‘ از قمی صدوق، صفحہ 77)


(2) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کے دو بیٹے ہیں، انہیں کچھ عطا کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حسن رضی اللہ عنہ کو میں نے اپنا رعب اور بزرگی دی اور حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی سخاوت اور شجاعت۔(کتاب الخصال“ از قمی صفحہ 77)


بعض متعصب شیعہ حضرات یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں نے باغِ فدک آپ کو اس لیئے نہیں دیا تھا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کو مفلس و قلاش کردینا چاہتے تھے تاکہ لوگ مال و دولت کے لالچ میں ان کی طرف راغب نہ ہو جائیں ۔ ہمیں ان پر اور ان کی عقلوں پر افسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ علی رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کو اس آخری زمانے کے حکمرانوں جیسا سمجھتے ہیں جو دولت کے بل بوتے پر مال اور رشوت دے کر بڑے بڑے عہدے حاصل کرتے ہیں۔ اگر بالفرض یہ بات بھی تھی تو مال کی وافر مقدار ان کے پاس موجود تھی، دیکھئے شیعہ عالم کلینی اس کا ذکر کرتا ہے۔ دسویں امام ابو الحسن سے روایت ہے کہ سات باغات فاطمہ علیہا السلام کے لیے وقف تھے۔ وہ باغات یہ ہیں:(۱)دلال (۲) عوف(۳) حسنی (۴) صافیہ (۵) مالامِ ابراہیم (۶) مثیب (۷) برقہ ۔ (الفروع من الکافی کتاب الوصایا جلد ۷ صفحہ ۴۷ ، ۴۸،چشتی)


اب یہ بتا ئیں جو سات باغات کا مالک ہو اس کے پاس دولت کی کمی ہوگی ؟


محترم قارئینِ کرام قابلِ غوریہ بات ہے کہ : اگر باغ فدک اور اس کی زمین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تھی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اکیلی ہی اس کی وارث تو نہ تھیں، ابوبکر صدیق اور فاروق رضی اللہ عنہما کی بیٹیاں بھی اس کی وراثت میں شریک تھیں، اگر ابوبکر صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس وراثت سے محروم رکھا تو اپنی بیٹیوں کو بھی تو محروم رکھا۔ آخر اُن کی بات کوئی کیوں نہیں کرتا،ان کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ بھی زندہ تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ورثاء میں وہ بھی شامل تھے ۔


یاد رہے یہ اعتراض کرنے والے شیعہ حضرات اتنا بھی نہیں جانتے کہ ان کے مذہب میں عورت کو غیر منقولہ جائداد اور زمین کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں ملتا۔ ان کے محدثین نے اس مسئلہ کو مستقل ابواب و عنوانات کے تحت بیان کیا ہے۔ دیکھیے کلینی نے ایک مستقل باب اس عنوان سے لکھا ہے: ’’عورتوں کو غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملتا‘‘ اس عنوان کے تحت اس نے متعدد روایات بیان کی ہیں۔چوتھے امام ابو جعفر سے روایت ہے کہ : انہوں نے کہا: ’’عورتوں کو زمین اور غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا ۔ (الفروع من الکافی کتاب المواریث جلد 7 صفحہ 137،چشتی)


ابنِ بابویہ قمی صدوق نے اپنی صحیح ’’من لا یحضرہ الفقیہ‘‘ میں یہ روایت بیان کی ہے:ابو عبداللہ جعفر کی روایت ان کے پانچویں امام کی روایت میسر نے بیان کی ہے کہ


میں نے آپ سے (یعنی جعفر سے) عورتوں کی میراث کے بارے میں پوچھا؟ آپ نے کہا: جہاں تک زمین اور غیر منقولہ جائداد کا تعلق ہے، اس میں عورتوں کی میراث نہیں ۔ (من لا یحضرہ الفقیہ کتاب الفرائض والمیراث جلد ۴ صفحہ ۳۴۷)


اسی طرح اور بہت سی روایات بھی بیان کی گئی ہیں جن کی بناء پر اُن کے علماء نے اتفاق کیا ہے کہ زمین اور غیر منقولہ جائداد میں عورتوں کو میراث نہیں دی جاتی ۔


اگر عورتوں کو زمین اور باغات وغیرہ کی جائیداد نہیں دی جاتی تو فاطمہ رضی اللہ عنہ نے بقول ان کے کس طرح فدک کا مطالبہ کیا تھا۔ کوئی کوڑھ مغز بھی اس سے اختلاف نہیں کرسکتا کہ یقینا فدک غیر منقولہ جائداد تھی ۔


کیا حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس مسلہ پر ناراض تھیں کا جواب شیعوں کے سب سے بڑے متعصب عالم مجلسی کے قلم سے پڑھیئے ، باوجود شدید نفرت و کراہت کے یہ بات کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ:سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خفا ہوگئیں تو ان سے کہنے لگے: میں آپ کے فضل اور رسول اللہ علیہ السلام سے آپ کی قرابت کا منکر نہیں۔ میں نے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں فدک آپ کو نہیں دیا۔ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ علیہ السلام کو یہ کہتے سنا ہے: ہم انبیاء کا گروہ، مالِ وراثت نہیں چھوڑتے۔ ہمارا ترکہ کتاب و حکمت اور علم ہے۔ اس مسئلے میں میں تنہا نہیں، میں نے یہ کام مسلمانوں کے اتفاق سے کیا ہے۔ اگر آپ مال و دولت ہی چاہتی ہیں تو میرے مال سے جتنا چاہیں لے لیں، آپ اپنے والد کی طرف سے عورتوں کی سردار ہیں، اپنی اولاد کےلیے شجرۂ طیبہ ہیں، کوئی آدمی بھی آپ کے فضل کا انکار نہیں کرسکتا ۔ (حق الیقین صفحہ ۲۰۱ ، ۲۰۲ ،ترجمہ فارسی،چشتی)


مولائے کائنات حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اقتدار پر فائز ہوتے ہی ابن سباء کی نسل کی اس سازش پر ضربِ کاری لگائی ۔ امامِ شیعہ، سید مرتضیٰ علم الہدیٰ لکھتا ہے:جب فدک کے انکار کا معاملہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تک پہنچا تو آپ نے کہا: مجھے شرم آتی ہے کہ میں اس چیز کو دے ڈالوں جس کو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روک لیا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی حال میں برقرار رکھا ۔ (الشافی‘‘ للمرتضیٰ صفحہ ۲۳۱)( شرح نہج البلاغۃ لابنِ ابی الحدید“، جلد ۴)


حضرت امام ابوجعفر محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے بارے میں کثیر النوال نے پوچھا: ’’میں آپ پر قربان جاؤں۔ کیا آپ کا خیال ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا حق روک کر آپ پر ظلم کیا ہے؟‘‘ یا ان الفاظ میں کہا کہ: ’’آپ کا کچھ حق تلف کیا ہے؟‘‘ آپ نے کہا: ’’ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس نے اپنے اس بندے پر قرآن نازل کیا جو سارے جہانوں کے لیے نذیر (ڈرانے والے) ہیں ، ہم پر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا گیا۔‘‘ میں نے کہا: ’’قربان جاؤں کیا میں بھی ان دونوں سے محبت رکھوں؟‘‘کہنے لگے: ’’ہاں تیرا ستیاناس! تو ان دونوں سے محبت رکھ، پھر اگر کوئی تکلیف تجھے پہنچے تو وہ میرے ذمے۔(شرح نہج البلاغۃ‘‘ لابنِ ابی الحدید، جلد ۴ ،صفحہ ۸۲،چشتی)


ہم نے شیعہ مذھب کی معتبر کتابوں شیعہ جنہیں اپنا امام مانتے ہیں (آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم) اور دیگر شیعہ نے صاف صاف یہ کہا کہ : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نےاُن پر کوئی ظلم نہیں کیا پھر یہ اجہل متعصب شیعہ کیوں ان مقدس ہستیوں پرتہمتیں لگاتے ہیں ۔؟ یا تو صآف لکھیں شیعہ مذھب کے تمام امام جھوٹے ہیں یا یہ شیعہ خود جھوٹے ہیں فیصلہ خود کیجیے ۔


امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت امام زید بن علی بن حسین رضی اللہ عنہم نے بھی فدک کے مسئلے میں وہی کچھ فرمایا جو آپ کے دادا مولا علی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا پڑھیئے شیعہ مذھب کی معتبر کتاب کے حوالے سے : بحتری بن حسان کے پوچھنے پر حضرت امام زید بن علی بن حسین رضی اللہ عنہم نے کہا: ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تحقیر و توہین کے طور پر میں نے زید بن علی علیہ السلام سے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فدک فاطمہ رضی اللہ عنہا سے چھین لیا، یہ سن کر آپ کہنے لگے: ابوبکر رضی اللہ عنہ مہربان آدمی تھے، وہ ناپسند کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کیے ہوئے کسی کام میں تغیر و تبدل کریں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فدک دیا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت ہے؟ آپ علی رضی اللہ عنہ کو لے آئیں ، انہوں نے اس بات کی گواہی دی۔ ان کے بعد ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں: کیا تم دونوں گواہی نہیں دیتے کہ میں اہلِ جنت میں سے ہوں، دونوں کہنے لگے کیوں نہیں، ابو زید نے کہا: یعنی انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، کہنے لگیں: میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدک ان (فاطمہ رضی اللہ عنہا) کو دیا تھا، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی اور آدمی یا عورت کو بھی اس جھگڑے میں فیصلہ کرنے کا حق دار سمجھتی ہیں، اس پر ابو زید کہنے لگے: اللہ کی قسم اگر فیصلہ میرے پاس آتا تو میں بھی وہی فیصلہ کرتا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا ہے ۔ (شرح نہج البلاغۃ‘‘ لابنِ ابی الحدید، جلد ۴ ،صفحہ ۸۲)


الحمد للہ فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی نے مسلہ باغ فدک کے متعلق شیعہ مذھب کی معتبر کتابوں سے اس مسلہ کو علمی اور مہذب انداز میں پیش کر دیا ہے جو کچھ آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم نے فرمایا اور جو کچھ شیعہ مذھب کے معتبر علماء نے لکھا یہی اہلسنت و جماعت کا مؤقف ہے مجھے حیرت ہوتی اجہل قسم کے شیعہ ذاکرین اور سننے پڑھنے والے شیعہ حضرات آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات و ارشادات کو کیوں فراموش کر دیتے ہیں اس کی وجہ صاف ہے کہ یہ جھوٹی محبت کے دعویدار ہیں صرف امت مسلمہ میں فتنہ و فساد پھیلانا ان کا کام ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کہ اہل اسلام کو ابن سباء یہودی کے پھیلائے ہوئے اس فتنہ و شر سے محفوظ فرمائے اور حق کو قبول کرنے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)













Sunday, 1 November 2026

انبیاء کرام علیہم السّلام کی مالی میراث نہیں ہوتی ثبوت شیعہ کتب سے ۔ تو فدک کے باغ کا شور کیوں ؟

انبیاء کرام علیہم السّلام کی مالی میراث نہیں ہوتی ثبوت شیعہ کتب سے ۔ تو فدک کے باغ کا شور کیوں ؟

محترم قارئینِ کرام : شیعہ مذھب کے اصول اربعہ کی اوّل کتاب اصول کافی میں موجود ہے : محمد بن يحيى ، عن أحمد بن محمد بن عيسى ، عن محمد بن خالد ، عن أبي البختري ، عن أبي عبد الله عليه السلام قال : إن العلماء ورثة الأنبياء وذاك أن الأنبياء لم يورثوا درهما ولا دينارا ، وإنما أورثوا أحاديث من أحاديثهم ، فمن أخذ بشئ منها فقد أخذ حظا وافرا ، فانظروا علمكم هذا عمن تأخذونه ؟ فإن فينا أهل البيت في كل خلف عدولا ينفون عنه تحريف الغالين ، وانتحال المبطلين، وتأويل الجاهلين ۔

ترجمہ : امام جعفر صادق (رضی الله عنہ) نے فرمایا کہ علماء وارث انبیاء ہیں ، اور یہ اس لیے کہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے درہم یا دینار کا ، وه صرف اپنی احادیث وراثت میں چھوڑتے ہیں ۔ پس جس نے ان (احادیث) سے کچھ لے لیا ، اس نے کافی حصہ پا لیا ۔ تم دیکھو کہ تم اس علم کو کس سے لیتے ہو ۔ ہم اہل بیت کےخلف میں ہمیشہ ایسے لوگ ہوں گے جو عادل ہوں گے اور رد کریں گے غالیوں کی تحریف اور اہل باطل کے تغیرات اورجابلوں کی تاویلوں کو ۔ (اصول الکافی شیخ کلینی جلد نمبر 1 ، 2 صفحہ نمبر 17 ، 18 ، 19 مطبوعہ منشورات الفجر)


شیعہ مذھب کا جید عالم شیخ مفید لکھتا ہے : وعنه، عن محمد بن الحسن بن أحمد، عن محمد بن الحسن الصفار، عن السندي بن محمد، عن أبي البختري، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن العلماء ورثة الأنبياء وذلك أن العلماء لم يورثوا درهما ” ولا دينارا ” وإنما ورثوا أحاديث من أحاديثهم فمن أخذ بشئ منها فقد أخذ حظا وافرا “، فانظروا علمكم هذا عمن تأخذونه فإن فينا أهل البيت في كل خلف عدولا ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلين ۔

ترجمہ : امام جعفر صادق رضی الله عنہ نے فرمایا کہ علماء وارث انبیاء بیں اور یہ اس لیے کہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے دربم یا دینار کا ، وه صرف اپنی احادیث وراثت میں چھوڑتے ہیں ۔ پس جس نے ان (احادیث) سے کچھ لے لیا ، اس نے کافی حصہ پا لیا ۔ تم دیکھو کہ تم اس علم کو کس سے لیتے ہو ۔ ہم اہل بیت کے خلف میں ہمیشہ ایسے لوگ ہوں گے جو عادل ہوں گے اور رد کریں گے غالیوں کی تحریف اور اہل باطل کے تغیرات اور جابلوں کی تاویلوں کو ۔ (كتاب الاختصاص الشيخ المفيد صفحہ 16 مطبوعہ موسسة الاعلمی للمطبوعات بیروت لبنان)


شیعہ مذھب کی کتاب اصول الکافی میں موجود ہے جس میں نبی کریم سے واضح الفاظ میں مروی ہے کہ انبیاء کرام درہم و دینار وراثت میں نہیں چھوڑتے : محمد بن الحسن وعلي بن محمد، عن سهل بن زياد، ومحمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد جميعا، عن جعفر بن محمد الأشعري، عن عبد الله بن ميمون القداح، وعلي بن إبراهيم، عن أبيه، عن حماد بن عيسى، عن القداح، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به (3) طريقا إلى الجنة وإن الملائكة لتضع أجنحتها لطالب العلم رضا به (4) وإنه يستغفر لطالب العلم من في السماء ومن في الأرض حتى الحوت في البحر، وفضل العالم على العابد كفضل القمر على سائر النجوم ليلة البدر، وإن العلماء ورثة الأنبياء إن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما ولكن ورثوا العلم فمن أخذ منه أخذ بحظ وافر ۔

ترجمہ : رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دین کے عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جس طرح ستاروں پر چاند کی فضیلت اور چاندنی رات پر فضیلت ہے اور علماء وارث انبیاء ہیں اور انبیاء نہیں چھوڑتے اپنی امت کےلیے درہم و دینار ، بلکہ وہ وراثت میں چھوڑتے ہیں علم دین کو ۔ پس جس نے اس کو حاصل کیا ، اس نے بڑا حصہ پا لیا ۔ (کتاب اصول الكافی الشيخ الكلينی جلد ۱ صفحہ ۱۹) ، اصول الکافی کی اس حدیث کو خمینی نے بھی صحیح تسلیم کیا ہے ۔


شیعہ مذھب کا فخر الامة ملا باقر مجلسی لکھتاہے : جعفر ، عن أبيه : أن رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لم يورث دينارا ولا درهما ، ولا عبدا ولا وليدة، ولا شاة ولا بعيرا، ولقد قبض رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وإن درعه مرهونة عند يهودي من يهود المدينة بعشرين صاعا من شعير ، استسلفها نفقة لأهله ۔

ترجمہ : حضرت ابو جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو درھم و دینار یا غلام یا باندی یا بکری یا اونٹ کا وارث نہیں بنایا ، بلاشبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح اس حال میں قبض ہوئی جب کہ آپ کی زرہ مدینہ کے ایک یہودی کے پاس صاع جو کے عیوض رہن تھی ، آپ نے اس سے اپنے گھر والوں کےلیے بطور نفقہ یہ جو لیے تھے ۔ (بحار الانور جلد 16 ب 8 صفحہ 219 مطبوعہ دار احیاء لتراث العربی بیروت لبنان)


شیعہ مذھب کی مشہور کتاب قرب الاسناد میں موجود ہے اور علامہ الحمیری القمی نے بحار الانوار کے حوالے سے بیان کی ہے : جعفر ، عن أبيه : أن رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لم يورث دينارا ولا درهما ، ولا عبدا ولا وليدة، ولا شاة ولا بعيرا، ولقد قبض رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وإن درعه مرهونة عند يهودي من يهود المدينة بعشرين صاعا من شعير ، استسلفها نفقة لأهله ۔

ترجمہ : حضرت ابو جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو درھم و دینار یا غلام یا باندی یا بکری یا اونٹ کا وارث نہیں بنایا ، بلاشبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح اس حال میں قبض ہوئی جب کہ آپ کی زرہ مدینہ کے ایک یہودی کے پاس صاع جو کے عیوض رہن تھی ، آپ نے اس سے اپنے گھر والوں کےلیے بطور نفقہ یہ جو لیے تھے ۔ (قرب الاسناد الحمیری القمی صفحہ 91 ، 92 مطبوعہ موسسة آل البیت،چشتی)


شیعہ مذھب کے ثقة الاسلام شیخ یقوب کلینی نے الکافی میں ایک مستقل باب اس عنوان سے لکھا ہے ۔ باب (ان النساء لا يرثن من العقار شيئا) علي بن إبراهيم ، عن محمد بن عيسى ، عن يونس ، عن محمد بن حمران ، عن زرارة عن محمد بن مسلم ، عن أبي جعفر عليه السلام قال : النساء لا يرثن من الأرض ولا من العقار شيئا ۔ عورتوں کو غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملتا ۔ اس عنوان کے تحت اس نے متعدد روایات بیان کی ہیں ، ان کے چوتھے امام ابو جعفر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : عورتوں کو زمین اور غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا ۔ (الکافی کتاب المواریث جلد 7 صفحہ 83 مطبوعہ منشورات الفجر بیروت لبنان)


يونس بن عبد الرحمان عن محمد بن حمران عن زرارة ومحمد بن مسلم عن أبي جعفر عليه السلام قال : النساء لا يرثن من الأرض ولا من العقار شيئا ۔

ترجمہ : حضرت امام باقر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا عورت زمین و جائیداد میں سے کسی کی وارث نہیں ۔ (کتاب تھذیب الاحکام الشیخ الطوسی جلد 9 صفحہ 254)


شیعہ حضرات جنہیں معصوم مانتے ہیں انہیں میں سے پانچویں امام (امامِ جعفر صادق رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ اور خود ان کی اپنی کتاب میں موجود ہے ، ہاں ہاں ! ان کی اپنی کتاب ’’الکافی‘‘ میں ، جسے وہ سب سے صحیح کتاب سمجھتے ہیں اور جس کے بارے میں کہتے ہیں ، شیعہ کےلیے یہ کتاب کافی ہے ۔ اسی کتاب میں کلینی نے روایت نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : جعفر ابوعبد اللہ (رضی اللہ عنہ) نے ایک اور روایت میں کہا ہے : علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں اور ان کا مالِ میراث درہم و دینار نہیں ہوتا ، انہیں انبیاء علیہم السلام کی احادیث میراث میں ملتی ہیں ۔ (الشافی ترجمہ اُصولِ کافی مترجم اردو باب صفۃ العلم و فضلہ وفضل العلماء جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 71)


اسی کتاب میں ہے : حماد بن عیسیٰ سے ، حماد بن عیسیٰ نے قداح سے ابوعبد اللہ (امامِ جعفر صادق رضی اللہ عنہ) کی روایت نقل کرتے ہوئے کہا ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو علم کو تلاش کرتے ہوئے علم کے راستے پر چلے ، اللہ اسے جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے … اور عالم کی فضیلت عبادت گزار پر ایسی ہے ، جیسے چودھویں کا چاند سارے ستاروں سے افضل ہے ۔ علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں جو دینار و درہم وراثت میں نہیں چھوڑتے لیکن علم کی میراث چھوڑتے ہیں ، جو اس میں سے کچھ حاصل کرلے اس نے بہت کچھ حاصل کرلیا ۔ (الشافی ترجمہ اُصولِ کافی مترجم اردو کتاب فضل العلم ، باب ثواب العالم والمتعلم جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 75 ، 76،چشتی)


شیعہ حضرات کا مستند عالم شیخ صدوق محمد بن علی بن حسین بابویہ قمی لکھتا ہے : امام جعفر صادق نے اپنے آبائے طاہرین علیہم السّلام سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک علماء انبیاء (علیہم السّلام) کے وارث ہیں ، بیشک انبیاء (علیہم السّلام) کی میراث نہ دینار تھی نہ درہم بلکہ اُن کی میراث علم تھی ۔ (ثواب الاعمال و عقاب الاعمال مترجم اردو صفحہ نمبر 145)


شیعہ مذھب کے اصول اربعہ کی اوّل کتاب اصول کافی میں موجود ہے : محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد بن عيسى، عن محمد بن خالد، عن أبي البختري، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن العلماء ورثة الأنبياء وذاك أن الأنبياء لم يورثوا درهما ولا دينارا، وإنما أورثوا أحاديث من أحاديثهم، فمن أخذ بشئ منها فقد أخذ حظا وافرا، فانظروا علمكم هذا عمن تأخذونه؟ فإن فينا أهل البيت في كل خلف عدولا ينفون عنه تحريف الغالين، وانتحال المبطلين، وتأويل الجاهلين ۔

ترجمہ : امام جعفر صادق (رضی الله تعالی عنہ) نے فرمایا کہ علماء وارث انبیاء ہیں ، اور یہ اس لیے کہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے درہم یا دینار کا ، وه صرف اپنی احادیث وراثت میں چھوڑتے ہیں ۔ پس جس نے ان (احادیث) سے کچھ لے لیا ، اس نے کافی حصہ پا لیا ۔ تم دیکھو کہ تم اس علم کو کس سے لیتے ہو ۔ ہم اہل بیت کےخلف میں ہمیشہ ایسے لوگ ہوں گے جو عادل ہوں گے اور رد کریں گے غالیوں کی تحریف اور اہل باطل کے تغیرات اور جابلوں کی تاویلوں کو ۔ (اصول الکافی الشیخ الکلینی جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 17،چشتی)


یہی روایت شیعہ کے جیّد عالم شیخ مفید نے اپنی کتاب “الخصاص” میں بھی بیان کی ہے : وعنه، عن محمد بن الحسن بن أحمد، عن محمد بن الحسن الصفار، عن السندي بن محمد، عن أبي البختري، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن العلماء ورثة الأنبياء وذلك أن العلماء لم يورثوا درهما ” ولا دينارا ” وإنما ورثوا أحاديث من أحاديثهم فمن أخذ بشئ منها فقد أخذ حظا وافرا “، فانظروا علمكم هذا عمن تأخذونه فإن فينا أهل البيت في كل خلف عدولا ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلين ۔

ترجمہ : امام جعفر صادق رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا کہ علماء وارث انبیاء بیں اور یہ اس لئے کہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بنانے دربم یا دینار کا، وه صرف اپنی احادیث وراثت میں چھوڑتے ہیں ۔ پس جس نے ان (احادیث) سے کچھ لے لیا ، اس نے کافی حصہ پا لیا ۔ تم دیکھو کہ تم اس علم کو کس سے لیتے ہو۔ ہم اہل بیت کے خلف میں ہمیشہ ایسے لوگ ہوں گے جو عادل ہوں گے اور رد کریں گے غالیوں کی تحریف اور اہل باطل کے تغیرات اور جابلوں کی تاویلوں کو ۔ (كتاب الاختصاص الشيخ المفيد الصفحة 16،چشتی)


شیعہ مذھب کی کتاب اصول الکافی میں موجود ہے جس میں نبی کریم سے واضح الفاظ میں مروی ہے کہ انبیاء کرام درہم و دینار وراثت میں نہیں چھوڑتے :محمد بن الحسن وعلي بن محمد، عن سهل بن زياد، ومحمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد جميعا، عن جعفر بن محمد الأشعري، عن عبد الله بن ميمون القداح، وعلي بن إبراهيم، عن أبيه، عن حماد بن عيسى، عن القداح، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله: من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به (3) طريقا إلى الجنة وإن الملائكة لتضع أجنحتها لطالب العلم رضا به (4) وإنه يستغفر لطالب العلم من في السماء ومن في الأرض حتى الحوت في البحر، وفضل العالم على العابد كفضل القمر على سائر النجوم ليلة البدر، وإن العلماء ورثة الأنبياء إن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما ولكن ورثوا العلم فمن أخذ منه أخذ بحظ وافر ۔

ترجمہ : رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا دین کے عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جس طرح ستاروں پر چاند کی فضیلت اور چاندنی رات پر فضیلت ہے اور علماء وارث انبیاء ہیں اور انبیاء نہیں چھوڑتے اپنی امت کے لئے درہم و دینار ، بلکہ وہ وراثت میں چھوڑتے ہیں علم دین کو۔ پس جس نے اس کو حاصل کیا ، اس نے بڑا حصہ پا لیا ۔ (کتاب اصول الكافي – الشيخ الكليني – ج ۱ – الصفحة ۱۹،چشتی) ۔ اصول الکافی کی اس حدیث کو خمینی نے بھی صحیح تسلیم کیا ہے ۔


شیعہ مذھب کی مشہور کتاب قرب الاسناد میں موجود ہے اور علامہ الحمیری القمی نے بحار الانوار کے حوالے سے بیان کی ہے : جعفر، عن أبيه: أن رسول الله صلى الله عليه وآله لم يورث دينارا ولا درهما، ولا عبدا ولا وليدة، ولا شاة ولا بعيرا، ولقد قبض رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وإن درعه مرهونة عند يهودي من يهود المدينة بعشرين صاعا من شعير، استسلفها نفقة لأهله ۔

ترجمہ : حضرت ابو جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو درھم و دینار یا غلام یا باندی یا بکری یا اونٹ کا وارث نہیں بنایا، بلاشبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح اس حال میں قبض ہوئی جب کہ آپ کی زرہ مدینہ کے ایک یہودی کے پاس صاع جو کے عیوض رہن تھی ، آپ نے اس سے اپنے گھر والوں کےلیے بطور نفقہ یہ جو لیے تھے ۔  (قرب الاسناد الحمیری القمی ص 91,92،چشتی)(بحوالہ المجلسي في البحار 16: 219 / 8)


شیعہ مذھب ثقة الاسلام شیخ یعقب کلینی نے الکافی میں ایک مستقل باب اس عنوان سے لکھا ہے ۔ باب (ان النساء لا يرثن من العقار شيئا) علي بن إبراهيم، عن محمد بن عيسى ، عن يونس، عن محمد بن حمران، عن زرارة عن محمد بن مسلم، عن أبي جعفر عليه السلام قال: النساء لا يرثن من الأرض ولا من العقار شيئا ۔ عورتوں کو غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملتا ۔ اس عنوان کے تحت اس نے متعدد روایات بیان کی ہیں ، ان کے چوتھے امام ابو جعفر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : عورتوں کو زمین اور غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا ۔ (الفروع من الکافی کتاب المواریث جلد 7 صفحہ 138،چشتی)


يونس بن عبد الرحمان عن محمد بن حمران عن زرارة ومحمد بن مسلم عن أبي جعفر عليه السلام قال: النساء لا يرثن من الأرض ولا من العقار شيئا ۔

ترجمہ : حضرت امام باقر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا عورت زمین و جائیداد میں سے کسی کی وارث نہیں ۔ (کتاب تھذیب الاحکام الشیخ الطوسی جلد 9 صفحہ 343 مطبوعہ مکبة الصدوق)


جہاں تک ان کے حقوق غصب کرنے کا سوال ہے ، اس بارے میں مجلسی باوجود شدید نفرت و کراہت کے یہ بات کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ : ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خفا ہو گئیں تو ان سے کہنے لگے : میں آپ کے فضل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ کی قرابت کا منکر نہیں ۔ میں نے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں فدک آپ کو نہیں دیا ۔ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے : ہم انبیاء کا گروہ، مالِ وراثت نہیں چھوڑتے ۔ ہمارا ترکہ کتاب و حکمت اور علم ہے ۔ اس مسئلے میں میں تنہا نہیں، میں نے یہ کام مسلمانوں کے اتفاق سے کیا ہے ۔ اگر آپ مال و دولت ہی چاہتی ہیں تو میرے مال سے جتنا چاہیں لے لیں ، آپ اپنے والد کی طرف سے عورتوں کی سردار ہیں ، اپنی اولاد کےلیے شجرۂ طیبہ ہیں ، کوئی آدمی بھی آپ کے فضل کا انکار نہیں کر سکتا ۔ (حق الیقین صفحہ 296 فارسی مطبوعہ انتشارات سرور)


ذرا سوچیے امیر المؤمنین حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اگر مال ملکیت کی لالچ ہوتی اور فدک اپنی ذات کےلیے حاصل کرنا مقصود ہوتا تو اپنی دولت سیدہ پاک رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کیوں پیش کرتے ؟ اتنی عاجزی سے سیدہ کی فضیلت کا اقرار کیوں کرتے ؟ کیا ظالم حکمراں اس طرح حقوق غصب کرتے ہیں ؟ ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)















Saturday, 31 October 2026

افضلیتِ ابوبکر بکر و عمر فاروق رضی اللہ عنہما کا منکر اہلسنت سے خارج اور بدعتی گمراہ ہے

افضلیتِ ابوبکر بکر و عمر فاروق رضی اللہ عنہما کا منکر اہلسنت سے خارج اور بدعتی گمراہ ہے

محترم قارئینِ کرام : مسلمانوں کا متفقہ اور اجماعی عقیدہ ہے کہ انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے بعد سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اور یہی عقیدۂ اجماعی صحابہ کرام تابعین عظام رضی اللہ عنہم اور امت کے اسلاف علیہم الرحمہ کا ہے ۔ تمام صحابہ کرام اور تابعین عظام رضی اللہ عنہم  اجمعین  کا اس بات پر اجماع  ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ  والسلام کے بعد تمام مخلوق میں افضل حضرت سیدنا ابوبکرصدیق  رضی اللہ عنہ ، پھرحضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں اور یہی عقیدہ مسلکِ حق اہلسنت و جماعت کا ہے اور اس عقیدے پر  بکثرت احادیث نبویہ ، آثارِ صحابہ و اقوال ائمہ ، بلکہ خود حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کا فرمان موجود ہے اور جمہور اہلسنت کے نزدیک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں ۔ جو شخص مولا علی رضی اللہ عنہ کو حضرات شیخین کریمین صدیق اکبر و عمر فاروق رضی اللہ عنہما پر فضیلت دے ، وہ شخص اہلسنت سے خارج ہے ۔


افضلیت ابوبکر صدیق کے متعلق آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم کا اجماعی فیصلہ : حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے والد حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنی انہوں نے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ سے انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ابوبکر سے بہتر کسی شخص پر نہ سورج طلوع ہوا ہے نہ غروب ۔ اس کے بعد حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے روایت میں غلط بیانی کی ہو تو مجھے شفاعت نصیب نہ ہو اور میں تو قیامت کے دین صدیق کی شفاعت کا طلب گار رہونگا ۔ اسی کے ساتھ دوسری روایت ہے کہ ساری امت سے افضل ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (الریاض النضرہ جلد اول صفحہ 136 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت،چشتی)(الریاض النضرہ مترجم اردو جلد اوّل صفحہ 267 ، 268 مطبوعہ مکتبہ نورِ حسینیہ لاہور)


امام ابومحمد عبد بن حمید رحمۃ اللہ علیہ متوفی 249 ھجری لکھتے ہیں : حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انبیاء کرام علیہم السّلام کے بعد ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) سے افضل کسی شخص پر نہ سورج طلوع ہوا ہے نہ غروب ۔ ایک روایت میں ہے کہ انبیاء و رسل علیہم السّلام کے بعد ابوبکر اور عمر سے زیادہ افضل کسی شخص پر سورج طلوع نہیں ہوا ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا اللہ کی قسم آپ سے افضل کسی شخص پر سورج طلوع نہیں ہوا ہے ۔ (مسند عبد بن حمید جلد 1 حدیث نمبر 212 صفحہ 332 مطبوعہ داراللو لوة مصر)


حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ما طلعت الشمس ولاغربت علی احد بعدالنبیین والمرسلین أفضل من أبی بکر ۔

ترجمہ : کسی بھی ایسے شخص پر آفتاب طلوع و غروب نہیں ہوا ، جو ابوبکر سے افضل ہو سوائے انبیاء و مرسلین کے ۔ (کنزالعمال رقم الحدیث 32620 تا 32623 جلد 11 صفحہ 556 ، 557 مطبوعہ موسسة الرسالة بیرت)


حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابوبکر خیرالناس الاان یکون نبی ۔

ترجمہ : ابوبکر رضی اللہ عنہ سب لوگوں سے افضل ہیں ، سوائے نبی علیہ السلام کے ۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی رقم الحدیث 1412 جلد 6 صفحہ 484 دارالکتب العلمیہ بیروت)


حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان روح القدس جبریل اخبرنی ان خیرأمتک بعدک أبوبکر ۔

ترجمہ : بیشک روح القدس جبریل امین علیہ السلام نے مجھے خبردی کہ آپ کے بعد آپ کی امت میں سب سے بہتر ابوبکر ہیں ۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث 6448 جلد 6 صفحہ 292 مطبوعہ دارالحرمین قاھرہ،چشتی)


انبیائے کرام علیہم الصلاة و والسلام کے بعد لوگوں میں حضرت ابوبکر ، پھر حضرت عمر پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے افضل ہونے کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : قال کنا نخیر بین الناس فی زمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، فنخیر ابا بکر ثم عمر بن الخطاب ثم عثمان بن عفان ۔

ترجمہ : ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں آپس میں فضیلت دیتے تھے ، تو ہم سب سے افضل ابو بکر صدیق ، پھر عمر بن خطاب ،پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کو فضیلت دیا کرتے تھے ۔ (صحیح البخاری باب فضل ابی بکر بعدالنبی ﷺ حدیث نمبر 3655 صفحہ 596 مطبوعہ دارالحضارہ للنشر والتوضیح)


حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ : کنا نقول و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حی افضل ھذہ الامة بعد نبیھا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ ابوبکر و عمر و عثمان و فیسمع ذلک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاینکرہ ۔

ترجمہ : ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ میں  کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعداس امت میں حضرت ابوبکر ، پھر حضرت عمر ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین افضل ہیں، پس یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سنتے اور آپ انکار نہ فرماتے ۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث 13132 جلد 10 صفحہ 3228 مطبوعہ موسسة الریان ناشرون،چشتی)


حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہما کا بیان ہے : قلت لابی ای الناس خیر بعدالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟ قال : ابوبکرقلت ثم من ؟ قال : عمر ۔

ترجمہ : میں نے اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمام لوگوں میں سب سے افضل کون ہے ؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں ۔ میں نے کہا پھر کون افضل ہیں ؟ تو آپ نے جواب دیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ افضل ہیں ۔ (صحیح البخاری باب فضل ابی بکر بعدالنبی ﷺ حدیث نمبر 3671 صفحہ 598 مطبوعہ دارالحضارہ للنشر والتوضیح)


عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كُنَّا نُخَيِّرُ بَيْنَ النَّاسِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُخَيِّرُ أَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ۔ (صحیح البخاری جلد 5 صفحہ 4 كِتَابٌ : فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ بَابُ فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)

ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : ہم گروہ صحابہ زمانۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ابوبکر ،پھر عمر ، پھر عثمان کے برابر کسی کو نہ گنتے ۔


حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ عزوجل کو نا پسند ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ زمین پر خطا کرے ۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كُنَّا مَعْشَرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ نَقُولُ : أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ عُثْمَانُ ثُمَّ نَسْكُتُ ۔ (زوائد مسندالحارث صفحہ 289 حدیث نمبر 960 ، 963 مطبوعہ دارالطلائع)

ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم اصحاب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر و بیشتر کہا کرتے : افضل امت بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابو بکر صدیق ہیں ، پھرعمر فاروق رضی اللہ عنہم ۔


السنۃ لابی بکر بن الخلال میں ہے : قَالَ : قُلْتُ لِمَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ : أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ عِنْدَكَ أَفْضَلُ أَوْ عَلِيٌّ ؟ قَالَ : فَارْتَعَدَ حَتَّى سَقَطَتْ عَصَاهُ مِنْ يَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: «مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَبْقَى إِلَى زَمَانٍ يَعْدِلُ بَيْنَهُمَا ، إِنَّهُمَا كَانَا رَأْسَ الْإِسْلَامِ ، وَرَأْسَ الْجَمَاعَةِ ۔ (السنۃ لابی بکر بن الخلال جلد 1 تا 3 صفحہ 379 رقم : 529 دارالریۃ ریاض)

ترجمہ : حضرت میمون بن مہران رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا : شیخین افضل یا علی رضی اللہ عنہم ؟ ، اس کلمہ کے سنتے ہی ان کے بدن پر لرزہ پڑا ، یہاں تک کہ عصا دست مبارک سے گر گیا ، اور فرمایا : مجھے گمان نہ تھا کہ اس زمانے تک زندہ رہوں گا ، جس میں لوگ لوگ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے برابر کسی کو بتائیں گے ۔


تمام صحابہ کرام اور تابعین عظام رضی اللہ عنہم  اجمعین  کا اس بات پر اجماع  ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ  والسلام کے بعد تمام مخلوق میں افضل حضرت سیدنا ابوبکرصدیق  رضی اللہ عنہ ، پھرحضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں اور یہی عقیدہ مسلکِ حق اہلسنت و جماعت کا ہے اور اس عقیدے پر  بکثرت احادیث نبویہ ، آثارِ صحابہ و اقوال ائمہ ، بلکہ خود حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کا فرمان موجود ہے ۔ (کتاب السنۃ امام احمد بن حنبل الشیبانی علیہ الرحمہ صفحات 638 تا 648)


ان احادیث و روایات سے ظاہر ہوا کہ : زمانہ صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم میں تفضیلِ شیخین رضی اللہ عنہما پر اجماع تھا ، اور اور اس کے خلاف سے ان کے کان بھی آشنا نہ تھے ۔


بلکہ امام شافعی علیہ الرحمہ اکابر ائمہ نے اس عقیدہ پرصحابہ کرام وتابعین عظام رضی اللہ عنہم کا اجماع نقل کیا ہے ۔


امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : ما اختلف أحد من الصحابة والتابعين في تفضيل أبي بكر وعمر و تقديمها على جميع الصحابة ۔ (مناقب الشافعی للبیہقی صفحہ 434 مطبوعہ دارالتراث القاھرہ) (الاعتقاد والھدایۃ الی سبیل الرشاد صفحہ 369 دارالافاق الجدیدۃ بیروت،چشتی)

ترجمہ : صحابہ کرام اور تابعین میں سے کسی نے بھی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہم کے افضل ہونے اور باقی تمام صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین سے مقدم ہونے کے لحاظ سے اختلاف نہیں کیا ۔


حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ تابعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : افضل النا س بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ثم عمر بن الخطاب ثم عثمان بن عفان  ثم علی  بن ابی طالب رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ۔

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد تمام لوگوں میں ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ، پھر عمر بن خطاب ، پھرعثمان بن  عفان، پھرعلی بن ابی طالب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین افضل ہیں ۔ (الفقہ الاکبر مترجم صفحہ نمبر 78 مطبوعہ پروگریسو بکس اردو بازار لاہور،چشتی)


امام احمد بن محمد خطیب قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں : الافضل بعدالانبیاء علیھم الصلوة والسلام ابوبکررضی اللہ تعالی عنہ وقداطبق السلف علی انہ افضل الامة ۔ حکی الشافعی وغیرہ اجماع الصحابة والتابعین علی ذلک ۔

ترجمہ : انبیائے کرام علیہم الصلوة والسلام کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ افضل ہیں اور سلف نے ان کے افضل الامت ہونے پر اتفاق کیا ۔ امام شافعی وغیرہ نے اس مسئلہ پر صحابہ اور تابعین رضی اللہ عنہ کا اجماع نقل کیا ۔ (ارشاد الساری باب فضل ابی بکر بعدالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلد 8 صفحہ 147 دارالکتب العلمیہ بیروت)


امام ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : وتفضیل أبی بکر و عمر رضی اللہ عنہما متفق علیہ بین اھل السنۃ ، وھذا الترتیب بین عثمان و علی رضی اللہ عنھما ھو ما علیہ أکثر أھل السنة .... والصحیح ما علیہ جمھور أھل السنة ۔ 

ترجمہ : امام ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا افضل ہونا اہلسنت کے درمیان متفق ہے اور یہی ترتیب (حضرت عثمان حضرت علی سے افضل ہیں) عثمان و علی رضی اللہ عنہما کے درمیان ہے ۔ اس مؤقف کے مطابق جس پر جمہور اہلسنت ہیں اور صحیح وہی ہے ، جس پر جمہور اہلسنت ہیں ۔ جان لو تمام روافض اور بعض معتزلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر فضیلت دیتے ہیں ۔ (شرح فقہ اکبر صفحہ 187 مطبوعہ دارالبشائر الاسلامیہ بیرت بنان)


امام ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر فضیلت دینے والے شخص کے بدعتی ہونے کے بارے میں خلاصۃ الفتاوی ، فتح القدیر ، بحرالرائق ، مجمع الانہر ، الاشباہ والنظائر ، ردالمحتار اور غنیۃ المستملی میں ہے : واللفظ لردالمحتار : ان الرافضی اذا کان یسب اشیخین و یلعنہما فھو کافر ، ان کان یفضل علی علیھما فھو مبتدع ، رافضی ، حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر لعن و سب کرتے ہیں پس وہ کافر ہیں ۔ اور اگر کوئی شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دے وہ بدعتی ہے ۔ (ردالمحتار مع درمختار جلد 6 صفحہ 377 مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض،چشتی)


عامہ کتب اصول میں اس مسئلہ پر صراحتاً اجماع  منقول ہے ، یا کم از کم  بلا ذکرِ خلاف اسے مذہب اہل سنت قرار دیا گیا ہے ۔


شارح مسلم امام نووی رحمۃ اللہ علیہ شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں : اتفق اهل السنة على أن افضلهم ابو بكر، ثم عمر ۔ (شرح صحیح مسلم للنووی جلد 15 صفحہ 148 کتاب فضائل الصحابہ مطبوعہ المطبعة المصریہ بالازھر)

ترجمہ : اہل سنت کا اتفاق ہے کہ افضل صحابہ ابوبکر ہیں پھر عمر رضی اللہ عنہم ۔


امام ابو منصور بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم میں سے افضل ہیں حضرت ابوبکر صدیق ، پھر حضرت عمر ، پھر عثمان ، پھر علی رضی اللہ عنہم ہیں ۔ (اصول الدین لابی منصور صفحہ 318 مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت لبنان)


امام ابو منصور بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : أصحابنا مجمعون على أن أفضلهم ، الخلفاء الاربعة على الترتيب المذكور ۔ (اصول الدین لابی منصور صفحہ 331 مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت لبنان،چشتی)

ترجمہ : ہمارے اصحاب اجماع کیے ہوئے ہیں کہ افضل صحابہ خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم ہیں ترتیبِ مذکور پر ۔


شارح مسلم امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : أجمع أهل السنة على أن أفضلهم على الاطلاق أبو بكر ، ثم عمر ۔ (تہذیب الاسماء واللغات للنووی جلد 1 صفحہ 81 فصل فی حقیقۃ الصحابی مطبوعہ دارلفیحاء دمشق)

ترجمہ : اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ مطلقاً سب صحابہ سے افضل ابوبکر ہیں ، پھر عمر رضی اللہ عنہم ۔


امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ثم ان أفضلهم علی الاطلاق عند أهل السنة إجماعا أبو بكر ، ثم عمر ۔ (المواہب اللدنیۃ جلد 2 صفحہ 545 الفصل الثالث ذکر محبۃ أصحابہ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

ترجمہ : اہل سنت کے نزدیک مطلقاً بالاجماع افضل الصحابہ ابو بکر ہیں ، پھر عمر رضی اللہ عنہم ۔


مفتی حرم امام شہاب الدین احمد بن حجر مکی ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : تمام امت کے نزدیک اس امت میں سب سے افضل ابوبکر صدیق اور ان کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہما ہیں رافضی شیعوں کا عقیدہ باطل ہے ۔ امام مالک علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے افضل کون ہیں ، تو آپ نے جواب دیا کہ ابوبکر صدیق اور ان کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہما ۔ پھر ارشاد فرمایا : کیا اس بارے میں کوئی شک ہے ؟ ۔ (الصواعق المحرقۃ صفحہ 179 مطبوعہ مکتبہ فیاض لتجارہ والتوزیع،چشتی)


امام سعد الدین مسعود بن عمر التفتازانی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 791 ھجری لکھتے ہیں : : أفضل البشر بعد نبينا ، أبو بكر الصديق ، ثم عمر الفاروق ۔ (شرح العقائد للنسفی صفحہ 137 مبحث أفضل البشر بعد نبینا ابو بکر مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت لبنان)

ترجمہ : ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کے بعد  افضل بشر حضرت ابوبکر صدیق ، پھر  عمر فاروق رضی اللہ عنہما ہیں ۔


حضرت شیخ محقق علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : افضلیت خلفاء اربعہ بترتیبِ خلافت ہے سب افضل ابوبکر ہیں ، پھر عمر ہیں ، پھر عثمان ہیں ، پھر علی رضی اللہ عنہم ۔ جمہور ائمہ علیہم الرحمہ اس باب (افضلیتِ صدیق رضی اللہ عنہ) میں اجماع نقل کرتے ہیں ۔ (تکمیل الایمان صفحہ 145 ، 148 باب فضل الصحابہ مطبوعہ الرحیم اکیڈمی لیاقت آباد کراچی)


امام احمد رضا خان قادری ماتریدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اہل سنت و جماعت نصرہم اللہ تعالی کا اجماع ہے کہ مرسلین ملائکۃ و رسل وانبیائے بشر صلوات اللہ تعالی و تسلیماتہ علیہم کے بعد حضرات خلفائے اربعہ رضوان اللہ تعالی علیہم تمام مخلوقِ الہٰی سے افضل ہیں ، تمام امم اولین و آخرین میں  کوئی شخص ان کی بزرگی و عظمت وعزت و وجاہت و قبول و کرامت و قرب و ولایت کو نہیں  پہنچتا ۔ (وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ ۔ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ) ، فضل اللہ تعالی کے ہاتھ میں  ہے جسے چاہے عطا فرمائے ، اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔ پھر ان میں  باہم ترتیب یوں ہے کہ سب سے افضل صدیق اکبر ، پھر فاروق اعظم ، پھر عثمان غنی ، پھر مولی علی صلی اللہ تعالی علی سیدھم ، و مولا ھم وآلہ و علیھم و بارک وسلم ۔ (فتاوی رضویہ جلد 28 صفحہ 478 رضا فاؤنڈیشن لاہور)


امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : (حضرت صدیق و عمر کی افضلیت پر) جب اجماعِ قطعی ہوا تو اس کے مفاد یعنی تفضیلِ شیخین کی قطعیت میں کیا کلام رہا ؟ ہمارا اور ہمارے مشائخِ طریقت و شریعت کا یہی مذہب ہے ۔ (مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین صفحہ 81)


مسئلہ افضلیت باب عقائد سے ہے : ⏬


 اعلیٰ حضرت  رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں : بالجملہ مسئلہ افضلیت ہرگز بابِ فضائل سے نہیں جس میں ضعاف (ضعیف حدیثیں) سُن سکیں بلکہ مواقف و شرح مواقف میں تو تصریح کی کہ بابِ عقائد سے ہے اور اس میں اٰحاد صحاح (صحیح لیکن خبرِ واحد روایتیں) بھی نامسموع ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 5 صفحہ 581 رضا فاؤنڈیشن لاہور)


حضرت صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : بعد انبیا و مرسلین ، تمام مخلوقاتِ الٰہی انس و جن و مَلک سے افضل صدیق اکبر ہیں  ، پھر عمر فاروقِ اعظم ، پھر  عثمان  غنی ، پھر مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۔ (بہار شریعت جلد 1 صفحہ 241 امامت کا بیان مکتبۃ المدینہ)


افضلیت حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ شیعہ کتب کی روشنی میں : ⏬


شیعہ حضرات کی کتب سے شیعہ حضرات کی اسماء الرجال کی کتاب رجال کشی میں مولا علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہما سے ان کو افضل کہنے والوں کے لئے درّوں کی سزا اور حد کا حکم فرمایا ہے اور حضرت ابو بکر عمر رضی اللہ عنہما کی محبت ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے فرمایا ۔ اصل عبارت درج کی جاتی ہے ۔ شیعوں کا محققِ اعظم لکھتا ہے : انہ رای علیا (علیہ السلام) علی منبر بالکوفۃ وہو یقول لئن اوتیت برجل یفضلنی علی ابی بکر و عمر لا جلدنہ حد المفتری ،،،، وحب ابی بکر و عمر ایمان و بغضہما کفر ۔ ترجمہ : انہوں نے حضرت علی کو کوفہ کے منبر پر بیٹھے ہوئے دیکھا اور وہ فرما رہے تھے اگر میرے پاس کوئی ایسا آدمی آئے جو مجھے ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) پر فضیلت دیتا ہو تو میں اس کو ضرور درّے لگاؤں گا جوکہ مفتری کی حد ہے ، حضرت ابو بکر عمر (رضی اللہ عنہما) کی محبت ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ۔ (رجال کشی صفحہ نمبر 283 مطبوعہ بیروت لبنان،چشتی)


حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ۔ ابوبکر کو سب لوگوں سے زیادہ حقدار سمجھتے ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز کے ساتھی اور ثانی اثنین ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات ظاہری میں ان کو نماز پڑھانے کا حکم فرمایا ۔ (شرح نہج البلاغہ ابن ابی حدید شیعی، جلد اول صفحہ 332)


حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ۔ ان خیر ہذہ الامۃ بعد نبیہا ابوبکر و عمر یعنی اس امت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے بہتر حضرت ابوبکر و عمر ہیں ۔ (کتاب الشافی جلد دوم صفحہ 428)


حضرت علی علیہ السلام نے ابوبکر و عمر کے بارے میں فرمایا ۔ انہما اماما الہدی و شیخا الاسلام والمقتدی بہما بعد رسول ﷲ ومن اقتدی بہما عصم یعنی یہ حضرت ابوبکر و عمر دونوں ہدایت کے امام اور شیخ الاسلام اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مقتدیٰ ہیں اور جس نے ان کی پیروی کی، وہ برائی سے بچ گیا ۔ (تلخیص الشافی للطوسی، جلد 2 صفحہ 428،چشتی)


حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ ان ابابکر منی بمنزلۃ السمع وان عمر منی بمنزلۃ البصر یعنی بے شک ابوبکر مجھ سے ایسے ہیں جیسے میرے کان اور عمر مجھ سے ایسے ہیں جیسے میری آنکھ ۔ (عیون اخبار الرضا لابن بابویہ قمی جلد اول صفحہ 313)(معانی الاخبار قمی صفحہ 110 ، تفسیر حسن عسکری)


حضرت علی علیہ السلام نے کوفہ کے منبر پر ارشاد فرمایا ۔ لئن اوتیت برجل یفضلنی علی ابی بکر و عمر الا جلدتہ حد المفتری یعنی اگر ایسا شخص میرے پاس لایا گیاتو جو مجھے حضرت ابوبکر و عمر پر فضیلت دیتا ہوگا تو میں اس پر مفتری کی حد جاری کروں گا ۔ (رجال کشی ترجمہ رقم 257)(معجم الخونی صفحہ 153)


ان تمام تصریحات سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی افضلیت پر صحابہ کرام ، تابعین عظام رضی اللہ عنہم اور اکابر علما علیہم الرحمہ کا اجماع ہے ۔ اب اس اجماعی عقیدہ کا جو انکار کرے وہ ضرور گمراہ و بد مذہب ہوگا ، بلکہ قریب ہے کہ اس کے ایمان میں خطرہ ہو ۔ شرح قصیدہ بدء الامالی میں ہے : من أنکر یوشک أن فی ایمانہ خطرا ۔ (شرح بدء الامالی تحت شعر : 34) ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
























































مسئلہ باغ فدک اور حضرت ابوبکر صدیق و حضرت فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہما

مسئلہ باغ فدک اور حضرت ابوبکر صدیق و حضرت فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہما محترم قارئینِ کرام : شیعہ حضرات کا مشہور محقق ملاّ باقر مجلسی انتہائی...