Saturday, 6 June 2026

طریقِ نبوت اور طریقِ ولایت میں سے افضل طریق کونسا ہے ؟

طریقِ نبوت اور طریقِ ولایت میں سے افضل طریق کونسا ہے ؟





محترم قارئینِ کرام : اہلسنت و جماعت کا سلفاً خلفاً عقیدہ رہا ہے کہ انبیاء اور رسل علیہم السلام کے بعد سب سے افضل شخص حضرت ابوبکر پھر عمر پھر عثمان اور پھر مولا علی رضی اللہ عنہم ہیں ۔ افضیلت چاہے ظاہری ہو یا باطنی کیونکہ شیخین رضی اللہ عنہما مقام نبوت سے فیض یافتہ ہیں جو کہ مقام ولایت سے اعلیٰ ہے ۔ اسی کو حضرت صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں بیان کرتے ہیں : بعد انبیا و مرسلین ، تمام مخلوقاتِ الٰہی انس و جن و مَلک سے افضل صدیق اکبر ہیں ، پھر عمر فاروقِ اعظم ، پھر عثمان غنی ، پھر مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۔ (بہار شریعت خلافت راشدہ کا بیان)

مزید فرماتے ہیں : تمام اولیائے محمدیّین میں سب سے زیادہ معرفت وقربِ الٰہی میں خلفائے اَربعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں اور اُن میں ترتیب وہی ترتیب افضلیت ہے ، سب سے زیادہ معرفت و قرب صدیقِ اکبر کو ہے ، پھر فاروقِ اعظم ، پھر ذو النورَین ، پھر مولیٰ مرتضیٰ کو رضی اللہ تعالیٰ عنم اجمعین ۔ ہاں مرتبہ تکمیل پر حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جانبِ کمالاتِ نبوت حضراتِ شیخین کو قائم فرمایا اور جانبِ کمالاتِ ولایت حضرت مولیٰ مشکل کشا کو ۔ تو جملہ اولیائے مابعد نے مولیٰ علی ہی کے گھر سے نعمت پائی اور انہیں کے دست نگر تھے ، اور ہیں ، اور رہیں گے ۔ (بہارِ شریعت ولایت کا بیان)


حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام اربابِ تسلیم کے امام اور اہلِ طریقت کے پیشوا ہیں : ⏬


حضرت سیّد علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سب کے سب تسلیم و رضا کے مسئلہ پر اپنا امام و پیشوا مانتے چلے آ رہے ہیں اور آپ تمام اربابِ تسلیم  کے امام اور اہلِ طریقت کے پیشوا ہیں ۔(کشف المحجوب مترجم صفحہ 175 مطبوعہ مکتبہ شمس و قمر بھاٹی گیٹ لاہور)


نوٹ : یاد رہے ہم اہلسنّت و جماعت کے نزدیک حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ تاجدار ولایت ہیں ہم ادنیٰ غلام ہیں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے اہلسنّت و جماعت حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو بھی اپنا امام و پیشوا مانتے ہیں اور حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی رافضی حُبِّ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی آڑ میں مقامِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا انکار و توہین کرتے ہیں اور ناصبی و خارجی حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے مقام کا انکار و توہین کرتے ہیں ہم اہلسنّت و جماعت ناصبیوں ، خارجیوں اور رافضیوں کے ںظریات سے بری الذمہ ہیں اور ان فتنوں سے اللہ عزّ و جل کی پناہ مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں رافضی ، خارجی اور ناصبی فتنے کے شر سے بچائے اور جملہ اہلسنّت کو اِن کے شر سے محفوظ رکھے آمین ۔


طریق نبوت اور طریق ولایت تصوف اور اسلامی روحانیت کے دو بنیادی راستے ہیں  ، جن میں فرق کا مدار دعوت ، توجہ اور مقامِ روحانی پر ہے ۔ نبوت براہِ راست اللہ کی طرف سے احکام کی تبلیغ اور مخلوق کی ہدایت کا نام ہے ، جبکہ ولایت میں بندہ خالق کی ذات میں فنا ہو کر روحانی کمال اور قربِ الہٰی حاصل کرتا ہے ۔ طریق نبوت (سلوکِ نبوی)طریق نبوت کا سب سے اعلیٰ کمال یہ ہے کہ نبی اللہ تعالیٰ کے ساتھ قرب (وصول) حاصل کرنے کے بعد مخلوق کی ہدایت کےلیے دوبارہ دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ اس راستے کا بنیادی مقصد شریعت کی تبلیغ ، بندوں کی اصلاح اور انہیں گناہوں سے نکال کر صراطِ مستقیم پر لانا ہے ۔ اس میں نبی کا باطن اللہ کی طرف اور ظاہر مخلوق کی طرف ہوتا ہے تاکہ لوگوں کی رہنمائی کی جا سکے ۔طریق ولایت (سلوکِ ولایتی) طریق ولایت روحانی ترقی اور قربِ الہیٰ کی وہ منزل ہے جو انبیاء کی پیروی (اتباعِ شریعت) سے عام مسلمانوں کو حاصل ہوتی ہے ۔ اس میں بندہ اپنی مرضی کو اللہ کی رضا میں فنا کر دیتا ہے اور دنیا و مافیہا سے کٹ کر صرف اور صرف اللہ کی محبت اور یاد میں مشغول رہتا ہے ۔ ولایت کا خاصہ استغراق (اللہ کی یاد میں ڈوبے رہنا) اور فنا فی اللہ ہے ۔ صوفیاء کرام علیہم الرحمہ کے نزدیک ولایت کے مدارج نبی کی کامل پیروی سے طے ہوتے ہیں ۔ بزرگانِ دین جیسے حضرت مجدد الف ثانی کے مطابق ، نبوت کا مقام ولایت سے بلند و بالا ہے کیونکہ ولایت ، نبوت کا ہی ایک باطنی حصہ (یا عکس) ہے ۔ ولی اپنے روحانی مقام میں استغراق اور فنا کی کیفیت میں رہتا ہے ، جبکہ انبیاء علیہم السلام مخلوق کی ہدایت کےلیے اپنی ظاہری اور باطنی ذمہ داریوں کو بیک وقت بطریق احسن ادا کرتے ہیں ۔


حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : معلوم ہو کہ نبوت سے مراد وہ قربِ الہیٰ ہے جس میں ظلیت کا کچھ بھی شائبہ نہیں ۔ اس قرب کا عروج حق جل و علا کی طرف رُخ رکھتا ہے ، اور اس کا نزول مخلوق کی طرف ۔ یہ قرب بالاصالت انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کے نصیبب ہے اور یہ منصب انہی بزرگوں علیہم الصلوات و البرکات کے ساتھ مخصوص ہے ۔ نیز یہ منصب حضرت سید البشر علیہ وعلی آلہ الصلوٰۃ والسلام پر ختم ہو چکا ہے ۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والتحیۃ بھی نزول کے بعد حضرت خاتم الرسل علیہ الصلوٰۃ والسلام کی متابعت کریں گے ۔


حاصلِ کلام یہ ہے کہ (جس طرح) متبعین اور خادموں کو اپنے مالکوں کی دولت اور ان کے پس خوردہ سے حصہ حاصل ہوتا ہے (اسی طرح) انبیاء علیہم الصلوات و التحیات کی دولتِ قرب سے ان کے کامل متبعین کو بھی حصہ حاصل ہوتا ہے ۔ نیز اس مقام کے علوم و معارف اور کمالات سے وراثت کے طریق پر کامل متبیعین کو بھی حصہ نصیب ہوتا ہے : ⏬


خاص کند بندۂ مصلحت عام را ۔

ترجمہ : عام کے فائدے کو خاص آیا ۔


پس آنحضرت خاتم الرسل علیہ وعلی آلہ وعلیٰ جمیع الانبیاء والرسل الصلوات والتحیات کی بعثت کے بعد آپ کے متبعین کو تبعیت و وراثت کے طریق پر کمالاتِ نبوت کا حاصل ہونا آپ علیہ و علی آلہ الصلوۃ والسلام کی خاتمیت کے منافی نہیں ۔ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ‌ ۔ (سورہ البقرہ آیت نمبر 147)

ترجمہ : پس آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ۔


اللّٰہ تعالیٰ آپ کو سعادت مند کرے ، آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کمالاتِ نبوت تک پہنچانے والے دو راستے ہیں : ایک وہ راستہ جو مقامِ ولایت کے مفصل کمالات طے کرنے پر موقوف ہے اور اُن تجلیاتِ ظلیہ اور معارفِ سکریہ کے حصول پر منحصر ہے جو مرتبۂ ولایت کے قرب کے مناسب ہیں۔ ان کمالات کے طے کرنے اور ان تجلیات کے حاصل ہونے کے بعد کمالاتِ نبوت میں قدم رکھا جاتا ہے ، اس مقام میں اصل تک وصول ہوتا ہے اور ظلیت کی طرف التفات کرنا گناہ ہے۔ دوسرا راستہ وہ ہے جس میں ولایت کے ان کمالات کے حصول کے بغیر ہی کمالاتِ نبوت تک وصول (پہنچنا) میسر ہو جاتا ہے ۔ یہ دوسرا راستہ شاہراہ ہے اور کمالاتِ نبوت تک پہنچنے کا قریب ترین راستہ ہے ۔ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور ان کے اصحابِ کرام میں سے جو بھی ان انبیائے کرام علیہم وعلیٰ اصحابہم الصلوۃ والسلام والتحیۃ کی تبعیت و وراثت کی طریق پر کمالاتِ نبوت تک پہنچے ہیں ، الا ما شاء اللّٰہ تعالیٰ ، وہ اسی راستے سے پہنچے ہیں ۔ اور پہلا راستہ بہت دور و دراز والا ہے اور اس کا حاصل ہونا دشوار اور اس کا وصول محال ہے ۔


اولیاء کی ایک جماعت جو ولایت کے مقام میں نزول کے شرف سے مشرف ہوئی ہے ، اس نے مقامِ نزول کے کمالات کو کمالاتِ نبوت خیال کر لیا ہے اور مخلوق کی طرف متوجہ ہونے کو جو مقامِ دعوت کے مناسب ہے ، مقامِ نبوت کی خصوصیت میں سے سمجھا ہے ، ایسا نہیں ہے ، بلکہ یہ نزول اس کے عروج کے رنگ میں دونوں ولایتوں سے متعلق ہے ۔ وہ عروج و نزول دوسری چیز ہے جو مقامِ ولایت سے اوپر ہے اور نبوت سے تعلق رکھتا ہے ، اور مخلوق کے ساتھ یہ توجہ مخلوق کی اس توجہ کے ما سوا ہے جو کہ نبوت کے مناسب ہے اور یہ دعوت اُس دعوت (خلق) کے بغیر ہے جس کو کمالاتِ نبوت سے شمار کیا گیا ہے ۔ یہ گمان کرنے والے کیا کریں کہ انہوں نے ولایت کے دائرہ سے باہر قدم ہی نہیں رکھا اور نبوت کے کمالات کی حقیقت کو بھی نہیں سمجھا بلکہ ولایت کے نصف حصہ کو جو اس کے عروج کی جانب ہے ، کامل ولایت گمان کر لیا ہے اور اس کے دوسرے نصف حصے کو جو نزول کی جانب ہے ، مقامِ نبوت تصور کر لیا ہے ۔


چو آں کرمے کہ در سنگے نہاں است

زمین و آسمانِ او ہماں است

ترجمہ : وہ کیڑا جو کہ پتھر میں نہاں ہے ۔ وہی اس کا زمین و آسماں ہے ۔


اور ممکن ہے کہ کوئی شخص پہلی راہ سے بھی وصول حاصل کر لے اور ولایت و نبوت کے مفصل کمالات کو جمع کر لے اور ان دونوں مقامات کے کمالات کے درمیان جیسا کہ ان کا حق ہے، تمیز حاصل کر لے اور ہر ایک کے عروج و نزول کو جدا کر لے اور اس بات کا حکم کرے کہ نبی کی نبوت اس کی ولایت سے بہتر ہے ۔


جاننا چاہیے کہ دوسری راہ سے وصول کے بعد اگرچہ مقامِ ولایت کے مفصل کمالات حاصل نہیں ہوتے لیکن ولایت کا خلاصہ اور نچوڑ بہت خوبی کے ساتھ میسر آجاتا ہے اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ اہلِ ولایت نے کمالاتِ ولایت کا پوست (چھلکا) حاصل کر لیا ہے اور اس واصل نے اس کے مغز کو حاصل کیا ہے ۔ ہاں ! بعض علومِ سُکریہ اور ظہوراتِ ظلّیہ کی وجہ سے جو اربابِ ولایت کو حاصل ہوتے ہیں، وہ واصل ان علوم و ظہورات سے کم بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ یہ معنی ان کےلیے برتری یا فضیلت کا باعث نہیں ، کیونکہ اس واصل کےلیے یہ علوم و ظہورات موجبِ ننگ و عار ہیں ، بلکہ مناسب ہے کہ وہ ان کو اپنے حق میں گناہ اور سوءِ ادب سمجھے ۔ ہاں! اصل کا واصل اس اصل کے ظلال سے بھاگتا اور پناہ مانگتا ہے ، ظل کے ساتھ گرفتاری اس ظل کے اصل تک نہ پہنچنے کے وقت تک ہے ۔ اصل کے ساتھ واصل ہونے کے بعد ظل بے حاصل ہوجاتا ہے اور ظل کی طرف توجہ کرنا بے ادبی ہے ۔


اے فرزند ! کمالاتِ نبوت کا حصول محض بخشش اور اس کے فضل و کرم پر موقوف ہے ، کسب و عمل کو اس دولتِ عظمیٰ کے حصول میں کچھ دخل نہیں۔ بھلا وہ کسب و عمل کون سا ہے جو اس دولتِ عظمیٰ کے حصول کا نتیجہ ہو اور وہ کون سی ریاضت و مجاہدہ ہے جو اس روشن ترین نعمت (کے حصول) کا ذریعہ ہو ۔ بخلاف کمالاتِ ولایت کے کہ جس کی ابتدا اور مقامات کسبی ہیں اور اس کا حصول ریاضت و مجاہدے پر منحصر ہے ۔ اگرچہ یہ بھی جائز ہے کہ بعض کو بغیر کسب و عمل کی محنت کے اس دولت سے نواز دیا جائے ، اور فنا و بقا کہ جس سے ولایت مراد ہے وہ بھی (حق تعالیٰ) کی بخشش ہے کہ مقدمات کے کسب کے بعد اپنے فضل و کرم سے جس کو چاہے عنایت کر دے اور فنا و بقا کی دولت سے مشرف کر دے ۔ اور آں سرور علیہ وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین وعلی الملائکۃ المقربین وعلی اہل طاعتہ اجمعین الصلوات والتسلیمات کی بعثت سے قبل اور بعثت کے بعد کے ریاضات و مجاہدات اس دولت کے حاصل کرنے کےلیے نہ تھے ، بلکہ ان سے دوسرے منافع اور فوائد منظور تھے ۔ مثلًا : حساب کی کمی ، بشری لغزشوں کی تلافی ، درجات کی بلندی اور مرسل فرشتوں کی صحبت کی رعایت جو کھانے پینے سے پاک ہیں ، اور خوارق کے ظہور کی کثرت ، جو مقامِ نبوت کے مناسب ہے اور اسی طرح کی اور مصلحتیں ۔


جاننا چاہیے کہ اس بخشش کا حصول انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کے حق میں بلا واسطہ ہے اور انبیاء علیہم الصلوات والتحیات کے اصحاب کے حق میں جو تبعیت و وراثت کے طور پر اس دولت سے مشرف ہوئے ہیں، وہ بھی ان انبیاء علیہم الصلوات والبرکات کے توسط سے ہیں ۔ انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات اور ان کے اصحاب کے بعد بہت کم حضرات اس دولت سے مشرف ہوئے ہیں ۔ اگرچہ جائز ہے کہ کسی دوسرے کو بھی تبعیت و وراثت کے طور پر اس دولت سے سر فراز کیا جائے ۔


فیض روح القدس ار باز مدد فرماید

دیگراں ہم بکنند آنچہ مسیحا می کرد

ترجمہ : وحی کا فیض اگر پھر سے میسر آجائے ۔ دوسرے بھی وہ کریں جو کہ مسیحا نے کیا ۔


میں خیال کرتا ہوں کہ اس دولت نے کبارِ تابعین پر بھی اپنا پَرتَو ڈالا ہے اور اکابر تبع تابعین پر بھی سایہ فگن ہوئی ہے ۔ بعد ازاں یہ دولت پوشیدہ ہوگئی حتی کہ آں سرور علیہ و علی آلہ الصلوات والتسلیمات کی بعثت سے الفِ ثانی (دوسرے ہزار سال) کی باری آگئی اور اس وقت پھر وہ دولت تبعیت و وراثت کے طور پر منصۂ شہود میں آگئی اور آخر (زمانے) کو اول (زمانے) کے مشابہ بنا دیا ہے ۔


اگر پادشہ بر درِ پیر زن

بیاید تو اے خواجہ سبلت مکن

ترجمہ : اگر بادشہ آئے بڑھیا کے گھر ۔ تو اے خواجہ ! ہر گز تعجب نہ کر ۔


وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی وَالْتَزَمَ مُتَابَعَۃَ الْمُصْطَفٰی عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہِ الصَّلَوَاتُ وَالتَّسْلِیْمَاتُ أَتَمُّھَا وَأَکْمَلُھَا ، اور سلام ہو اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی متابعت کو اپنے اوپر لازم کیا ۔ (مکتوبات امام ربانی دفتر 1 مکتوب نمبر 301)


حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بعض مشائخ نے سکر کی حالت میں کہا ہے کہ : ولایت نبوت سے افضل ہے ۔ اور بعض دوسرے مشائخ نے اس ولایت سے نبی کی ولایت مراد لی ہے تاکہ نبی پر ولی کے افضل ہونے کا وہم دُور ہو جائے ۔ لیکن حقیقت میں معاملہ اس کے بر عکس ہے کیونکہ نبی کی نبوت اس کی ولایت سے افضل ہوتی ہے ، (مقامِ) ولایت میں (ولی) سینے کی تنگی کی وجہ سے مخلوق کی طرف توجہ نہیں کر سکتا ، (لیکن مقامِ) نبوت میں کمال درجہ شرح صدر ہونے کی وجہ سے نہ تو حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا مخلوق کی طرف متوجہ ہونے کا مانع ہے اور نا ہی مخلوق کی طرف متوجہ ہونا حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کا مانع ہے ۔ نبوت میں صرف مخلوق ہی کی طرف توجہ نہیں ہوتی کہ جس کی وجہ سے ولایت کو، کہ جس کی توجہ صرف حق پر ہوتی ہے ، نبوت پر ترجیح دیں ، عِیَاذًا بِاللہِ سُبْحَانَہٗ (اللہ سبحانہٗ کی پناہ) ۔


صرف مخلوق کی طرف توجہ کا ہونا عوام کالانعام (نا سمجھ لوگوں) کا درجہ ہے ، نبوت کی شان اس سے بلند و برتر ہے ۔ اس حقیقت کا سمجھنا ارباب سُکر کےلیے دشوار ہے لیکن اکابر مستقیم الاحوال اس معرفت سے ممتاز ہیں ۔ ھَنِیْئًا لِّأَرْبَابِ النَّعِیْمِ نَعِیْمُھَا ۔

ترجمہ : مبارک نعمتیں جنت کی ہوں اربابِ نعمت کو ۔ (مکتوبات امام ربانی دفتر 1 مکتوب نمبر 108)


قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ ۔ (سورہ طہ آیت نمبر 85)

حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں : یہیں سے بعض اہل تصوف نے کہا ہے کہ ولایت نبوت سے افضل ہے اس قول کی تشریح بعض اہل باطن نے اس طرح کی ہے کہ انبیاء کی ولایت ان کی نبوت سے افضل ہے کیونکہ ولایت کا تقاضا ہے استغراق اور فنا فی اللہ اور ہر طرف سے توجہ کو ہٹا کر اللہ ہی کی طرف اپنا رخ کر کے ڈوب جانا اور نبوت کا تقاضا ہے (تبلیغ و ہدایت کے لئے) مخلوق کی طرف رخ کرنا (اور ظاہر ہے کہ خالق کی طرف کامل توجہ مخلوق کی طرف رخ کرنے سے افضل ہے) تحقیق وہ ہے جو حضرت مجدد الف ثانی نے فرمایا کہ نبوت بہرحال ولایت سے افضل ہے ۔ ولایت کسی نبی کی ہو یا غیر نبی کی بہرصورت اس کا مرتبہ نبوت سے نچلا ہے کیونکہ ولایت نام ہے تجلیات صفاتی کا اور نبوت عکس ہے تجلیات ذاتیہ کا ۔ حضرت مجدد نے فرمایا نبوت ہو یا ولایت ہر ایک کے دو رخ ہیں عروج و نزول بالائی رخ کی طرف اٹھنا اور زیریں رخ کی طرف اترنا۔ نبی ہو یا ولی مرتبۂ عروج میں اس کی توجہ خالص اللہ کی طرف ہوتی ہے تاکہ خود اس کو کمال ذاتی اور ترقی مرتبہ حاصل ہو اور مرتبۂ نزول میں دونوں کی توجہ مخلوق کی طرف ہوتی ہے تاکہ دوسروں کو کامل بنا سکیں اور دوسروں کو ان سے نورچینی کا موقع مل سکے نبی اور ولی کے درمیان مرتبۂ عروج میں یہ فرق ہوتا ہے کہ ولی کا عروج صفات کی جانب ہوتا ہے ذات کی جانب نہیں (یعنی سیر صفاتی اس کے پیش نظر ہوتی ہے سیر ذات تک اس کی رسائی نہیں ہوتی) اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نزول کی حالت میں بھی مبدء فیض کی طرف اس کی کسی قدر توجہ رہتی ہے کامل طور پر وہ مخلوق کی طرف متوجہ نہیں ہو جاتا لیکن نبی مرتبۂ نزول میں آکر پورے طور پر مخلوق کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور بظاہر نظر وہ اپنے آپ کو منقطع عن اللہ خیال کرتا ہے اور یہ کیفیت و حالت اس کے لئے بڑی شاق اور دشوار ہوتی ہے مگر حقیقت میں وہ اللہ سے اس حالت میں بھی منقطع نہیں ہوتا بلکہ اس کا رخ ذات کی طرف بھی ہوتا ہے اور اس کے سینے میں دونوں جانب متوجہ ہونے کی سمائی ہوتی ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے تب بھی غلط نہ ہوگا کہ حقیقت میں مخلوق کی طرف توجہ کرنے کی حالت میں بھی وہ اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوتا ہے کیونکہ اللہ کے حکم اذن اور مرضی سے ہی وہ خلق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اسی لیے اس سیر نزولی کو سیر مِنْ اللّٰہ باللّٰہِ (اللہ کی طرف سے اللہ کی مرضی اور حکم کے ساتھ سیر) کہتے ہیں ۔ ہم نے اس مسئلے کی تنقیح پورے طور پر سورة الم نشرح کی آیت فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا کی تفسیر کے ذیل میں کی ہے ۔ (تفسیر مظہری تحت سورہ طہ آیت نمبر 85)


عارف باللہ شیخ طریقت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ(المتوفی 638ھ) اپنی معروف کتاب فتوحات مکیہ میں مقام خلفاء راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ان اولیاء میں سے وہ لوگ بھی ہیں جن کےلیے ایک ظاہری حکم ہوتا ہے اور ان کےلیے جیسے خلافت ظاہرہ ہوتی ہے اسی طرح خلافت باطنہ بھی ہوتی ہے جیسے ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، حسن ، معاویہ بن یزید ، عمر بن عبدالعزیز اور متوکل اور ان میں سے وہ لوگ بھی ہیں جنکے لیے صرف خلافت باطنہ ہوتی ہے جیسے احمد بن ہارون الرشید السبتی اور ابو یزید بسطامی ۔ (الفتوحات المکیہ باب 73 صفحہ 297)


شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سمیت بقیہ تینوں خلفاء جیسے ظاہری خلافت سے متصف تھے اسی طرح باطنی خلافت سے بھی متصف تھے اور جو عروج و کمال خلافت ظاہرہ میں حاصل تھا ایسا ہی کمال خلافت باطنہ میں حاصل تھا اس سے ان لوگوں سبق حاصل کرنا چاہیے جو دن رات ظاہری باطنی کا راگ الاپتے ہیں وہ خود تو باطنی فیوض سے کورے ہیں ہی صحابہ جیسے جلیل القدر ہستیوں کو بھی اپنی کور باطنی کے سبب خلافت باطنہ سے محروم رکھنے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں ایسے لوگوں کو اللہ ہدایت عطا فرمائے آمین ۔


یہی عقیدہ جناب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے بڑی طویل وضاحت کے ساتھ اپنی کتاب سلوک و تصوف کا علمی دستور میں اور اس کے ساتھ ساتھ شاہ ولی اللہ اور فلسفہ خودی کے صفحہ نمبر 30 پر نقل کرتے ہوۓ لکھتے ہیں : ⬇


طریقِ نبوت


طریقِ ولایت


ہر دو طریق میں واضح فرق کرتے ہوئے شاہ صاحب فرماتے ہیں طریق نبوت کلی فضیلت کا حامل ہے اور طریق ولایت جزوی فضیلت کا ۔طریقِ نبوت کا منتہیٰ اور نقطہ عروج مفہمیت اورمجددیت کے مقامات ہیں مجددیت اور مفہمیت کا مقام ولایت کے ہر مقام سے اس لیے بلند ہےکہ مجدد نہ صرف ہمہ وقت خالق کی طرف متوجہ رہتا ہے بلکہ اس تعلق کو بکمال وبتمام قائم رکھتے ہوئے خالق کا فیضان سنت مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی پیروی میںخلق خدا تک پہنچاتا رہتا ہے۔اس لئے وہ مرد حق اپنے کمال کی منزل طریق نبوت سے پاتا ہے ۔ اس کامقام کہیں بلند ہےاس شخص سے جو کمال کو طریق ولایت سے حاصل کرتا ہے ۔ اس دوران شاہ صاحب نے فضیلتِ شیخین رضی اللہ عنہما کے عجیب علمی مسئلے کو بھی حل فرمادیا ۔ فرماتے ہیں تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر کیوں فضیلت حاصل ہے باوجودیکہ حضرت علی اس امت میں سب سے پہلے صوفی ، مجذوب اور عارف ہیں اور یہ کمالات دیگر صحابہ میں نہیں ہیں مگر صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے طفیل میں قلت اور کمی کے ساتھ موجود ہیں غرضیکہ یہ مسئلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے حضور میں عرض کیا تو یہ چیز مجھ پر ظاہر ہوئی کہ فضل کلی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے نزدیک وہ ہے جو تمام امرِ نبوت کی طرف راجع ہو ، جیسا کہ اشاعت علم اور دین کے لیے لوگوں کی تسخیر اور جو چیزیں اس کے مناسب ہوں اور رہا وہ فضل جو ولایت کی طرف راجع ہو جیسا کہ جذب اور فناء تو یہ ایک فضل جزئی ہے اور اس میں ایک وجہ سے ضعف ہے ۔ اور شیخین رضی اللہ عنہما اول قسم کے ساتھ مخصوص تھے حتیٰ کہ میں انہیں فوارہ کے طریق پر دیکھتا ہوں کہ اس میں سے پانی پھوٹ رہا ہے تو جو عنایات نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر ہوئیں وہی بعینہ حضرت شیخین رضی اللہ عنہما پر ظاہر ہوئیں تو آپ دونوں حضرات کمالات کے اعتبار سے ایسے عرض کے مرتبہ میں ہیں جو جوہر کے ساتھ قائم ہے اور اس کے تحقق کو پورا کرنے والا ہے لہٰذا حضرت علی کرم اللہ وجہہ اگرچہ آپ کے بہت قریب ہیں نسب و حیات اور فطرت محبوبہ میں حضرات شیخین سے اور جذب میں بہت قوی اور معرفت میں بہت زائد ہیں مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم باعتبار کمال نبوت حضرات شیخین سے کی طرف زیادہ مائل ہیں اور اسی بنا پر جو علماء معارف نبوت سے باخبر ہیں شیخین کو فضیلت دیتے ہیں اور جو علماء معارف ولایت سے آگاہ ہیں وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو فضیلت دیتے ہیں اور اسی بنا پر حضرت شیخین کا مدفن بعینہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مدفن تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے باوجود انوار ولایت کے بھی حامل ہونے کے دین کی اشاعت کا کام زیادہ لیا گیا ہے اور سیدنا علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ سے باوجود انوار نبوت کے بھی حامل ہونے کے امت میں ولایت و روحانیت کے فروغ کا کام زیادہ لیا گیا ہے چنانچہ بیشتر سلاسل طریقت آپ ہی سے شروع ہوتے ہیں ۔ (سلوک و تصوف کا علمی دستور کے صفحہ نمبر 137 ، 138،چشتی)


حاصل شدہ نکات : حضرت ابوبکر و عمر طریق نبوت سے فیض یافتہ ہے اور حضرت علی طریق ولایت سے ۔ طریق نبوت طریق ولایت سے افضل ، اعلیٰ اور اکمل ہے ۔ طریق نبوت کو ہر لحاظ سے فضیلت حاصل ہے اور طریق ولایت کو بعض لحاظ سے بلکہ اس میں ایک وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے ۔ پکڑ لیتے ہیں ۔ یہی عقیدہِ اہل سنت ہے ۔


مولا علی مشکل کشا کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولایت باطنی اور اس کی رفعتوں میں کوئی شک نہیں مگر خلفاۓ ثلاثہ میں ولایت باطنی مولا علی کی نسبت رفیع تر ہے اور اس میں ان کی یکتائی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے ۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے فرمایا لو کنت متخذا خلیلا الحدیث یعنی اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا ہے اس میں صدیق اکبر ہی یکتا ہیں اور صدیق کی یکتائی آپ کو نظر کیوں نہیں آئی ؟


صدیق اکبر کا لقب آسمانوں سے عطا کیے جانے میں صدیق ہی یکتا ہیں اور صدیقیت ولایت باطنی کا اعلی ترین رتبہ ہے صدیق کی یکتائی آپ کو نظر کیوں نہیں آئی ؟


قرآن فرماتا ہے : ثانی اثنین اذ ھما فی الغار اس میں صدیق اکبر ہی یکتا ہیں جب قرآن نے ہی صدیق کو نبی کا ثانی کہہ دیا تو صدیق کی یکتائی آپ کو نظر کیوں نہیں آئی ؟


اذ يقول لصاحبه میں بھی صدیق اکبر ہی یکتا ہیں اور یہ لقب قرآن نے کسی دوسرے صحابی کو نہیں دیا صدیق کی یہ یکتائی آپ کو نظر کیوں نہیں آئی ؟


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے فرمایا کے ابوبکر سے بہتر شخص سورج نے نہیں دیکھا اس میں صدیق اکبر ہی یکتا ہیں اور صدیق کی یہ یکتائی آپ کو نظر کیوں نہیں آئی ؟


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے انہیں خود مصلّی امامت پر کھڑا کیا اور اگر کسی دوسرے کی تجویز دی گئی تو آپ نے لا ، لا ، لا ، فرما کر انکار کر دیا ۔ (سنن ابی داود رقم الحدیث4661)


اور یابی اللہ والمومنون الا ابابكر کی تصریح فرما دی یعنی ابوبکر کے سوا کسی کو امام ماننے سے اللہ اور اس کے فرشتے انکار کر رہے ہیں ۔ (مسلم رقم الحدیث6181)


اس میں صدیق اکبر ہی یکتا ہیں صدیق کی یہ یکتائی آپ کو نظر کیوں نہیں آئی ؟


ارحم امتی بامتی ابوبکر یعنی میری امت میں میری امت پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا ابوبکر ہے اس میں محبوب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی رحمۃ اللعالمینی کا عکس اپنے مکمل آب و تاب کے ساتھ جلوہ فگن ہے اس میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہی یکتا ہیں صدیق کی یہ یکتائی آپ کو نظر کیوں نہیں آئی ؟


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے فرمایا کہ مجھ پر تمام لوگوں سے زیادہ احسانات ابوبکر کے ہیں وہی ہیں امن الناس بر مولائے ما اس میں وہی یکتا ہیں صدیق کی یہ یکتائی آپ کو نظر کیوں نہیں آئی ؟ ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 4 June 2026

حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 12 ذی الحجہ ہے یا 18 ذی الحجہ

حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 12 ذی الحجہ ہے یا 18 ذی الحجہ


















محترم قارئینِ کرام : اٹھارہ (18) ذوالحج کو شیعہ لوگ عید غدیر مناتے ہیں کہتے ہیں کہ اس روز حجۃ الوداع سے واپسی پر غدیر خم مقام پے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : میں جس کا مولا علی اس کا مولی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے شیعہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس فرمان کے ذریعے اپنا خلیفہ بلافصل بنایا ۔ اٹھارہ 18 ذی الحج جو کہ خلیفہ راشد دُہرے دامادِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا یومِ شہادت ہے عین اُس دن رافضی شیعہ اور اب اُن کے نقشِ قدم پر چلنے والے سنیوں کے لبادے میں چھپے نیم رافضی جشنِ غدیر منا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ؟


حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 35 ہجری 18 ذی الحجہ بروز جمعہ کو ہوئی ۔ صحیح ترین کتابی و عقلی دلاٸل سے ان کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ ہی ثابت ہے ۔ سب سے پہلے میں کچھ چیزیں بیان کر دیتا ہوں جن پر سب کا اتفاق ہے ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ 35 ہجری کو شہید ہوئے ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن شہید ہوئے ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہادت کے وقت روزے سے تھے ۔ لوگوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنا 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع کر دیا ۔ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت تمام لوگوں نے 25 ذی الحجہ بروز جمعہ تک مکمل کر لی تھی ۔ ان تمام چیزوں کو ذہن نشین کر لیں کیونکہ اس سے پوسٹ کو سمجھنے میں آسانی ہو گی ۔ کچھ لوگ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 12 ذی الحجہ بروز جمعہ بتاتے ہیں ۔ ان کی دلیل ابو عثمان النہدی علیہ الرحمہ کا قول ہے کہ ایام تشریق (11 ، 12 ، 13 ذی الحجہ) کے درمیان میں (یعنی 12 کو) شہید ہوئے ۔ یہ قول مردود ہے ۔ ابو عثمان نہدی علیہ الرحمہ کا صحیح و صریح قول 18 ذی الحجہ کا ہی ہے ۔ جو کہ ہم آگے بیان کریں گے ۔


اب ہم مفصل دلائل سے حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ ثابت کریں گے ۔


حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا شہادت کے وقت روزے سے ہونا : ⏬


حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا شہادت کے وقت روزے سے ہونا ہی ایامِ تشریق میں شہادت نا ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سال میں پانچ دنوں کے بارے میں فرمایا یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔ عید الفطر کا دن ، عید الاضحٰی کا دن ، اور ایام تشریق کے تین دن (11 ، 12 ، 13) ۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 2677،چشتی)


اور اعلیٰ حضرت علیہ الحمہ سے بھی پوچھا گیا کہ ان پانچ دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیوں کیا گیا ؟

تو آپ نے فرمایا : یہ دن اللہ کی طرف سے بندوں کی دعوت کے دن ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 10 صفحہ 355)


اب ہم آتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہادت کے دن روزے سے تھے : ⏬


طبری نے اپنی صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اس دن انہوں نے خواب دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو فرما رہے ہیں کہ آج آپ افطار ہمارے ساتھ کریں گے ۔ (تاریخ طبری صحیح باب ذکر الخیر عن قتل عثمان رضی اللہ عنہ صفحہ 343)


اس کے علاوہ بھی کئی دلائل ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہادت کے وقت روزے سے تھے ۔


اب ہم آتے ہیں کہ شہادت حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کب شروع ہوئی اور کب ختم ہوئی ۔


حافظ ابنِ کثیر اور طبری نے نقل کیا ہے کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع ہوئی ۔ (تاریخ ابنِ کثیر جلد 7 صفحہ 299)


اب یہاں پر یہ چیز ذہن نشین کر لیں کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت لوگوں نے 19 ذی الحجہ کو شروع کی اور وہ ہفتے کا دن تھا ۔


اب ہم آتے ہیں کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کس دن مکمل ہوئی ۔


امام طبری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت جمعہ کے دن کی گئی اس وقت ماہِ ذی الحجہ ختم ہونے میں پانچ روز باقی تھے ۔ (یعنی 25 تاریخ کو کی گئی) ۔ (تاریخ طبری جلد 3 حصہ دوم صفحہ 28،چشتی)


اور ابنِ کثیر نے بھی نقل کیا ہے کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ مکمل ہوئی ۔ (تاریخ ابنِ کثیر جلد 7 صفحہ 300)


اس سے ثابت ہوا کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ مکمل ہوئی ۔


اب ہم آتے ہیں حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کس تاریخ کو ہوئی ۔


امام ابنِ خلدون رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہوئی ۔ (تاریخ ابنِ خلدون جلد 2 صفحہ 364)


اور حافظ ابنِ کثیر نے بھی یہی لکھا ہے کہ مشہور قول کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ 18 ذی الحجہ بروز جمعہ کو شہید ہوئے اور آپ کی تدفین سے پہلے لوگوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع کر دی تھی ۔ (تاریخ ابنِ کثیر: جلد 7 صفحہ 299)


یہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تدفین سے پہلے ہی حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع ہو گئی تھی اور صحیح ترین اقوال سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو تین دن تک دفن نہیں کیا گیا تھا ۔ اور حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 19 تاریخ کو شروع ہوئی ۔ تو واضح معلوم ہو رہا ہے کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 18 تاریخ ہی ہے ۔


امام طبری صحیح سند کے ساتھ قول نقل کیا ہے کہ ابو عثمان النہدی اور دوسرے راویوں علیہم الرحمہ کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو 18 ذی الحجہ بروز جمعہ شہید کیا گیا ۔ (تاریخ طبری الجزالرابع باب 35 ہجری کے واقعات صفحہ ۴۱۷ ، ۴۱۸ )(تاریخ طبری مترجم اردو جلد 3 حصہ اول صفحہ 476،چشتی)


نوٹ : جیسا کہ آپ کو معلوم ہے طبری کے اردو ترجمے میں اسناد بیان نہیں کی گئیں اس لیے اردو ترجمے میں یہ لکھا گیا ہے کہ سیف کی مشہور سلسلہ روایت کے مطابق حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ ہے ۔ تو جب آپ عربی نسخہ دیکھیں گے تب آپ کو معلوم ہو گا کہ یہاں ابو عثمان نہدی علیہ الرحمہ کا قول نقل کیا گیا ہے ۔


صحیح ترین اقوال سے ثابت ہوا کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 18 ذی الحجہ ہے اور ابو عثمان نہدی علیہ الرحمہ کا بھی یہی قول ہے جو کہ حادثے کے معاصر ہیں ۔


تو اب ہم زرا عقلی دلائل کی طرف آتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ہی ہے ۔


1 : اب آپ کو وہ تمام چیزیں دوبارہ ذہن میں لانی ہوں گیں جن کے بارے میں نے کہا تھا کہ ان کو یاد کر لیں ۔


2 : حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن شہید ہوئے ۔


4: لوگوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنا 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع کر دیا ۔


5 : حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت تمام لوگوں نے 25 ذی الحجہ بروز جمعہ تک مکمل کر لی تھی ۔


اب ہم تاریخ اور دن کے حساب سے یہ فیصلہ کریں گے کہ صحیح قول کون سا ہے ۔


اب وقتی طور پر ہم یہ مان لیتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 12 ذی الحجہ بروز جمعہ کو ہوئی اور اس دن سے لے کر 25 ذی الحجہ تک چلتے ہیں کہ کیا روایات کے مطابق اس لحاظ سے 25 تاریخ کو جمعہ کا دن بنتا ہے یا نہیں ؟


12 : جمعہ


13 : ہفتہ


14 : اتوار


15 : سوموار


16 : منگل


17 : بدھ


18 : جمعرات


19 : جمعہ (یہاں ہی تاریخ غلط ہو گئی ہے کیونکہ روایات کے مطابق 19 کو حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع ہوئی اور تب ہفتے کا دن تھا ۔ خیر ہم آگے چلتے ہیں ۔


20 : ہفتہ


21 : اتوار


22 : سوموار


23 : منگل


24 : بدھ


25 : جمعرات (یہاں پھر سے غلطی آگئی ہے کیونکہ روایات کے مطابق حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ کو مکمل ہو گئی اور اس حساب سے یہاں جمعرات بنتا ہے جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ 12 ذی الحجہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن نہیں ۔


اب ہم راجح قول کے مطابق حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ مانتے ہیں اور یہی حساب دوبارہ کرتے ہیں ۔


18 : جمعہ 


19 : ہفتہ (یہ حساب یہاں ہی درست ثابت ہو گیا کیونکہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بیعت 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ شروع ہوئی ، آگے چلتے ہیں ۔


20 : اتوار


21 : سوموار


22 : منگل


23 : بدھ


24 : جمعرات (یہاں بھی درست ہو گیا کیونکہ 24 ذی الحجہ بروز جمعرات کو کوفیوں میں سب سے پہلے اشتر نخعی نے آپ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی)


25 : جمعہ (بیعت مکمل ہونے کا دن جمعہ)


تو تمام روایات کے مطابق 18 ذی الحجہ ہی حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن ہے کیونکہ باقی تمام روایات و شواہد پر یہی تاریخ پوری اترتی ہے ۔


اہلِ تشیع ویب سائیٹ ویکی شیعہ پر بھی حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہی لکھی ہوئی ہے ۔ (ویکی شیعہ ، حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا بیان : باب معاصرہ اور قتل)


ہم نے الحمد للہ کتابی و عقلی دلائل سے یہ ثابت کیا کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 35 ہجری 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہے ۔ اور تمام عقلی دلائل سے بھی یہی تاریخ ثابت ہے ۔ اور اس کے علاوہ کے اقوال کوئی حقیقت نہیں رکھتے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Monday, 1 June 2026

آیت اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى سے مُردوں کے نہ سننے پر اِستدلال کرنے والوں کو جواب

آیت اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى سے مُردوں کے نہ سننے پر اِستدلال کرنے والوں کو جواب

محترم قارٸینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ۔ (سورۃ نمل آیت نمبر 80)
ترجمہ : بیشک تمہارے سُنائے نہیں سنتے مُردے اور نہ تمہارے سنائے بہرے پکار سُنیں جب پھریں  پیٹھ دے کر ۔
مختصر تفسیر : اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى : بیشک تم مُردوں  کو نہیں  سنا سکتے ۔ علامہ علی بن محمد خازن رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں  فرماتے ہیں : یعنی جن لوگوں  کے دل مردہ ہیں آپ انہیں  نہیں  سنا سکتے اور وہ لوگ کفار ہیں ۔ (تفسیر خازن سورہ النمل آیت نمبر ۸۰ جلد ۴ صفحہ ۵۴٦ مطبوعہ بیروت)

امام ابو البرکات عبد الله بن احمد نسفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس آیت میں کفار کو زندہ ہونے اور حواس درست ہونے کے باوجود مُردوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ۔ (تفسیر مدارک جز ثانی صفحہ ٦۲۱ مطبوعہ دارالکلم الطیب بیروت)(تفسیر مدارک سنی مترجم اردو جلد دوم صفحہ 873 ، 874 مطبوعہ فرید بک سٹال لاہور)(تفسیر مدارک دیوبندی مترجم اردو جلد دوم صفحہ 938 ، 874 مطبوعہ مکتبة العلم لاہور)

امام قاضی بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر بیضاوی میں انما لاتسمع الموتی النمل آیت نمبر 80 کی تفسیر یوں کرتے ہیں : وإنما شبهوا بالموتى لعدم انتفاعهم باستماع ما يتلى عليهم كما شبهوا بالصم في قوله : وَلا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعاءَ إِذا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ فإن إسماعهم في هذه الحالة أبعد ۔ وقرأ ابن كثير وَلا يَسْمَعُ الصُّمُّ ۔
ترجمہ : ان زندہ کافروں کو مردوں سے اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کہ وہ اس چیز کو جو ان پر پڑھی جاتی سن کر نفع حاصل نہیں کرتے یں جیسا کہ ان کو : وَلا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعاءَ إِذا وَلَّوْا مُدبرین کے ارشاد میں بہروں سے تشبیہ دی گی ہے کیوں کہ اس حالت میں ان کا سننا بعید تر ہے ۔

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى : بیشک تم مُردوں  کو نہیں  سنا سکتے ۔ حافظ ابن محمد کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : یعنی جن لوگوں کے دل مردہ ہیں آپ انہیں نہیں سنا سکتے اور وہ لوگ کفار ہیں ۔ (تفسیر ابن کثیر سورہ النمل آیت نمبر ۸۰ جلد ۱۰ صفحہ ۴۲۹ عربی)(تفسیر ابن کثیر مترجم اردو سورہ النمل آیت نمبر ۸۰ جلد 4 صفحہ 87 مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاہور)(تفسیر ابن کثیر مترجم اردو سورہ النمل آیت نمبر ۸۰ جلد 3 صفحہ 631 مطبوعہ ضیاءالقرآن)

نوٹ : ان تمام تفاسیر سے معلوم ہوا جنہیں مردہ کہا گیا وہ زندہ کفار تھے اب یہ بعض دیابنہ اور وہابیہ کی بدقسمتی ہے کہ وہ خود کو اور اپنے سارے دیابنہ و وہابیہ کو کفار میں شامل کر بیٹھے ۔ نصیب اپنا اپنا ۔ سوچنے کی بات ہے بار بار سوچیے ۔

آیت اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى سے مُردوں  کے نہ سننے پر اِستدلال کرنے والوں  کا رد : ⏬

بعض حضرات اس آیت سے مُردوں  کے نہ سننے پر استدلال کرتے ہیں ، ان کا استدلال غلط ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں  کفار کو مُردہ فرمایا گیا اور اُن سے بھی مُطلَقاً ہر کلام سننے کی نفی مراد نہیں  ہے بلکہ وعظ و نصیحت اور کلامِ ہدایت قبول کرنے کےلیے سننے کی نفی ہے اور مراد یہ ہے کہ کافر مردہ دل ہیں کہ نصیحت سے کوئی فائدہ نہیں  اٹھاتے ۔ حضرت امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مردوں  سے مراد کفار ہیں  اور (یہاں ) مطلق سننے کی نفی نہیں  بلکہ معنی یہ ہے کہ ان کا سننا نفع بخش نہیں  ہوتا ۔ (مرقاۃ المفاتیح کتاب الجہاد باب حکم الاسراء الفصل الاول جلد ۷ صفحہ ۵۱۹ تحت الحدیث : ۳۹۶۷،چشتی)

امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں  سننے کی نفی نہیں  بلکہ سنانے کی نفی ہے اور اگر سننے کی نفی مان لی جائے تو یہاں  یقیناً سننا قبول کرنے کےلیے سننے اور نفع بخش سننے کے معنی میں ہے ۔ باپ اپنے عاقل بیٹے کو ہزار بار کہتا ہے : وہ میری نہیں  سنتا ۔ کسی عاقل کے نزدیک اس کے یہ معنی نہیں کہ حقیقۃً کان تک آواز نہیں جاتی ۔ بلکہ صاف یہی کہ سنتا توہے ، مانتا نہیں ، اور سننے سے اسے نفع نہیں ہوتا ، آیۂ کریمہ میں  اسی معنی کے ارادہ پر ’’ہدایت‘‘ شاہدکہ کفار سے نفع اٹھانے ہی کی نفی ہے نہ کہ اصل سننے کی نفی۔ خود اسی آیۂ کریمہ ’’اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى‘‘ کے تتمہ میں ارشاد فرماتا ہے : اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ ، تم نہیں سناتے مگر انہیں جو ہماری آیتوں پریقین رکھتے ہیں تو وہ فرمانبردار ہیں ۔ اور پُر ظاہر کہ وعظ و نصیحت سے نفع حاصل کرنے کا وقت یہی دنیا کی زندگی ہے ۔ مرنے کے بعد نہ کچھ ماننے سے فائدہ نہ سننے سے حاصل، قیامت کے دن سبھی کافر ایمان لے آئیں  گے، پھر اس سے کیا کام، توحاصل یہ ہوا کہ جس طرح مردوں  کو وعظ سے کوئی فائدہ نہیں ، یہی حال کافروں  کا ہے کہ لاکھ سمجھائیے نہیں  مانتے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد ۹ صفحہ ۷۰۱،چشتی)

مُردوں  کے سننے کا ثبوت : ⏬

کثیر اَحادیثِ مبارکہ سے مُردوں کا سننا ثابت ہے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب بندے کو اس کی قبر میں  رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ دفن کرکے پلٹتے ہیں تو بیشک وہ یقینا تمہارے جوتوں  کی آواز سنتا ہے ۔ (صحیح بخاری کتاب الجنائز باب المیت یسمع خفق النعال جلد ۱ صفحہ ۴۵۰ الحدیث : ۱۳۳۸)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں  کفارِ بدر کی قتل گاہیں دکھاتے تھے کہ یہاں فلاں کافر قتل ہوگا اوریہاں فلاں ، جہاں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا تھا وہیں وہیں ان کی لاشیں گریں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے ان کی لاشیں ایک کنویں میں بھردی گئیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لے گئے اور ان کفار کو ان کا اور ان کے باپ کا نام لے کر پکارا اور فرمایا : جو سچا وعدہ اللہ اور رسول نے تمہیں  دیا تھا وہ تم نے بھی پالیا ؟ کیونکہ جو حق وعدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا تھا ، میں  نے تو اسے پالیا۔ حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : یا رسولَ الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ ان جسموں  سے کیونکر کلام کرتے ہیں جن میں روحیں نہیں ۔ ارشادفرمایا : جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے کچھ زیادہ نہیں  سنتے لیکن انہیں یہ طاقت نہیں کہ مجھے لوٹ کر جواب دیں ۔ (مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلھا باب عرض مقعد المیت من الجنۃ او النار علیہ۔۔۔ الخ ، صفحہ نمبر ۱۵۳۶، الحدیث : ۷۶ ( ۲۸۷۳))

عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال : کان النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ یقول:اذا وضعت الجنازۃ فاحتملھا الرجال علی اعناقھم ، فان کانت صالحۃ ، قالت : قدمونی ، وان کانت غیر صالحۃ ، قالت لاھلھا : یا ویلھا ، این یذھبون بہ ، یسمع صوتھا کل شیی ء الاالانسان ولو سمع الانسان لصعق ۔
ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فر ماتے تھے کہ:جب جنازہ رکھا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنی گردنوں پر اٹھاتے ہیں ، اگر وہ مرنے والا نیک ہوتا ہے تو کہتا ہے : مجھے آگے بڑھائو ،اور اگر بُرا ہوتا ہے تو اپنے گھر والوں سے کہتا ہے: ہائے خرابی! کہاں لیے جاتے ہو ؟ انسان کے سوا ہر چیز اس کی آواز کو سنتی ہے اور اگر انسان سن لے تو بے ہوش ہوجائے ۔ (صحیح بخاری کتاب الجنائز باب قول المیت وھو علی الجنازۃ قدمونی حدیث : ۱۳۱۶،چشتی)

عن انس رضی اللہ عنہ عن النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ قال:العبد اذا وضع فی قبرہ وتولی وذھب اصحابہ ،حتی انہ لیسمع قرع نعالھم ،اتاہ ملکان فاقعداہ ، فیقولان لہ:ماکنت تقول فی ھذاالرجل محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ؟ فیقول :اشھد انہ عبد اللہ ورسولہ ،فیقال : انظر الی مقعد ک من النار ،ابدلک اللہ بہ مقعدا من الجنۃ ،قال النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ:فیراھما جمیعا ،واما الکافر او المنافق،فیقول:لاادری،کنت اقول ما یقول الناس ،فیقالان لادریت ولا تلیت ثم یضرب بمطرقۃ من حدید ضربۃ بین اذنیہ فیصیح صیحۃ یسمعھا من یلیہ الاالثقلین۔
تر جمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب مردے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے ، اور اس کے ساتھی واپس جانے لگتے ہیں تو بے شک وہ ان کی جوتیوں کی آواز کا سنتا ہے،اس کے پاس دو فر شتے آتے ہیں اور اس کو بیٹھاتے ہیں ،دونوں اس سے کہتے ہیں : تو اس شخص (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتا تھا ؟ تو وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ تو اسے کہا جاتا ہے جہنم میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھو ۔ اللہ تعالی نے اسے تیرے جنت کے ٹھکانے سے بدل دیا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا:تو اسے جنت وجہنم کے دونوں ٹھکانے دیکھایا جاتا ہے ۔ اور رہا کافر اور منافق تو وہ کہتا ہے:میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہا کرتے تھے ، دونوں فر شتے کہتے ہیں کہ:نہ تو نے سمجھا اور نہ ہی نیک لوگوں کی پیروی کی،پھر اسے لوہے کے ہتھوڑے سے اس کے کانوں کے درمیان مارتے ہیں ، تو وہ ایسے بھیانک انداز سے چیختا ہے کہ آس پاس کی ساری مخلوقات اس کی چیخ کو سنتی ہے سوائے انسان اور جنات کے ۔ (صحیح بخاری کتاب الجنائز باب المیت یسمع خفق النعال حدیث نمبر ۱۳۳۸)

عن ابی طلحۃ ان نبی اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ امر یوم بدر(فساق الحدیث الی ان قال)حتی قام علی شفۃ الرکی ،فجعل ینادیھم باسمائھم اسماء آباء ھم :یا فلان بن فلان ،ویا فلان بن فلان ،ایسر کم انکم اطعنتم اللہ ورسولہ ؟فانا قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا ،فھل وجدتم ما وعد ربکم حقا ، قال : فقال عمر : یا رسول اللہ !ما تکلم من اجساد لا ارواح لھا ،فقال رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ : والذی نفس محمد بیدہ،ما انتم باسمع لما اقول منھم ۔
ترجمہ : حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کے میدان میں قتل کیے گئے کافروں کے لاشوں کے پاس کھڑے ہوئے اور ان کو ان کے باپوں کے نام کے ساتھ پکارا ۔ اے فلاں بن فلاں ! اور ائے فلاں بن فلاں ! ہم نے تو اس کو پا لیا جس کا وعدہ ہم سے ہمارے رب نے کیا (یعنی فتح و نصرت) تو کیا تم لو گوں نے بھی اس کو پا لیا جس کا وعدہ تم سے تمہارے رب نے کیا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ بے جان جسموں سے بات کر تے ہیں ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ ء قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے ۔ میری باتوں کو تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو ۔ (صحیح بخاری کتاب المغازی باب قتل ابی جھل حدیث : ۳۹۷۶،چشتی)

عن ابن شماشۃ المھری قال: حضرنا عمرو بن العاص وھو فی سیاقۃ الموت (فساق الحدیث الی ان قال) اذا دفنتمونی فشنوا علی التراب شنا ثم اقیموا حول قبری قدر ما تنحر جزور و یقسم لحمھا حتی استانس بکم وانظر ماذا ارجع بہ رسل ربی ۔
تر جمہ : حضرت ابن شماشہ مہری سے روایت ہے کہ : حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے وقت نزاع اپنے صاحبزادے سے کہا : جب مجھے دفن کر چکو ، تو مجھ پر آہستہ آہستہ مٹی ڈالنا پھر میری قبر کے پاس اتنی دیر ٹہرے رہنا جتنی دیر میں ایک اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے ، تاکہ میں تم سے انس حاصل کروں اور جان لو کہ میں اپنے رب کے فر شتوں کو کیا جواب دیتا ہوں ۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان باب کون الاسلام مایھدم ماقبلہ وکذا الھجرۃ والحج ، حدیث : ۱۲۱)

ان عقبۃ بن عامر رضی اللہ عنہ قال : ما ابالی فی القبور قضیت حاجتیی او فی السوق والناس ینظرون ۔
تر جمہ : حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : انہوں نے کہا:میں برابر جانتاہوں کہ میں قبرستان میں قضائے حاجت کے لئے بیٹھوں یا بازار میں کہ لوگ دیکھتے رہے ۔ (یعنی مردے بھی دیکھتے ہیں جیسے زندہ دیکھتا ہے) ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ،جلد ۳ صفحہ ۳۳۹ حدیث : ۱۱۹۰۳)

عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال:أذی المومن فی موتہ کاذاہ فی حیاتہ۔(مصنف ابن ابی شیبۃ،جلد:۳؍ص:۳۶۷،حدیث: ۱۲۱۱۵)
تر جمہ : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : انہوں نے ارشاد فر مایا:مون کو مرنے کے بعد تکلیف دینا ایسے ہی جیسے اس کی زندگی میں تکلیف دینا ۔

عن ابی ایوب : ان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمع صوتا حین غربت الشمس فقال:ھذہ اصوات الیھودتعذب فی قبورھا ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ،جلد:۳؍ص:۳۷۵،حدیث: ۱۲۱۶۰)
ترجمہ : حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سورج کے ڈوبنے کے وقت ایک آواز سنی تو فر مایا:یہ یہودیوں کی آواز ہے جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جارہاہے ۔

عن عبد اللہ بن عمروبن العاص عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : ان الدنیا جنۃ الکافر وسجن المومن وانما مثل المومن حین تخرج نفسہ کمثل رجل کان فی سجن فاخرج منہ فجعل ینقلب فی الارض ویتفسح فیھا۔و لفظ ابی بکر ھکذا:الدنیا سجن المومن و جنۃ الکافر فاذا مات المومن یخلی سر بہ یسرح حیث یشائ ۔
تر جمہ : حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:بے شک دنیا کافر کی جنت ہے اور مسلمانوں کا قید خانہ،اور ایمان والوں کی جب جان نکلتی ہے تو اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی قید خانہ میں تھا اور اب اسے نکال دیا گیا کہ زمین میں گشت کرتا اور با فر اغت چلتا پھرتا ہے۔اور ابو بکر بن ابی شیبہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ : دنیا مسلمانوں کا قید خانہ ہے اور کافروں کی جنت ،جب مسلمان مرتا ہے تو اس کی راہ کھول دی جاتی ہے کہ جہاں چاہے سیر کرے ۔ (کتاب الزھد لابن المبارک،ص:۲۱۱، حدیث:۵۹۷ ، دارالکتب العلمیہ بیروت ، مصنف ابن ابی شیبۃ،کتاب الزھد،جلد:۱۳،ص :۳۵۵،حدیث:۳۵۸۶۷،چشتی)

عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : ان المیت یعرف من غسلہ ویحملہ ومن یکفنہ ومن ید لیہ فی حفرتہ۔(مسند احمد بن حنبل،مسند ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ،جلد:۳؍ ص: ۳،حدیث:۱۱۰۱۰)
ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فر مایا:بے شک مردہ اسے پہچانتا ہے جو اس کو غسل دے اور جو اٹھائے اور جو کفن پہنائے اور جو قبر میں اتارے۔

عن ام المومنین عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت : کنت ادخل بیتی الذی فیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وانی واضع ثوبی واقول انما ھو زوجی و ابی ، فلما دفن عمر ،فواللہ ما دخلتہ الا و انا مشدودۃ علی ثیابی حیاء من عمر ۔ (مشکوۃ المصابیح،باب زیارۃ القبور،ص:۱۵۴،چشتی)
تر جمہ : ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ :وہ فر ماتی ہیں :میں اس مکان جنت آستاں میں جہاں حضور سید کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مزار پُر انوار ہے یوں ہی بے لحاظ ستر و حجاب چلی جاتی ،اور جی میں کہتی وہاں کون ہے،یہی میرے شوہر یا میرے والد پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ دفن ہوئے تو قسم بخدا ،میں عمر سے حیاء کرتے ہوئے کبھی بغیر سراپا بدن چھپائے نہ گئی ۔ (امام حاکم نے بھی اس حدیث کو روایت کیا اور کہا کہ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے) ۔

برزخ کا مطلب ہے پردہ ، الحاجز والحد بين الشيئين یعنی دو چیزوں میں حد اور رکاوٹ ۔
البرزخ ما بين الموت الی القيامة. مرنے سے لے کر قیامت تک کا وقفہ ۔
(مفردات راغب صفحہ 43)(تفسیر روح المعانی جلد 27 صفحہ 106)

قرآنِ مجید میں اللہ تبارک تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ۔
ترجمہ : اور ان کے آگے اس دن تک ایک پردہ (حائل) ہے (جس دن) وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے ۔ (سورۃ الْمُؤْمِنُوْن آیت نمبر 100)

مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے یعنی قیام قیامت تک کا زمانہ عالم برزخ کہلاتا ہے ۔ زندگی تین ادوار پر منقسم ہے : (1) حیات دنیوی ۔ (2) حیات برزخی ۔ (3) حیات اخروی
سب سے پہلے دنیوی زندگی ہے اس کے اپنے لوازمات ہیں ، پھر حیات برزخی ہے اس کے اپنے لوازمات و احکام ہیں پھر حیات اخروی ہے اس کے اپنے لوازمات و احکام ہیں ۔ زندگی بمنزلہ جنس ہے اور یہ تینوں قسمیں بمنزلہ نوع ہے ، جہاں نوع ہو وہاں جنس ضرور ہوتی ہے‘ لہٰذا زندگی تینوں میں موجود ہے۔ ہاں ہر نوع دوسری نوع سے مختلف ہوتی ہے اسی لئے حیات دنیوی ، برزخی اور اخروی کی جنس ایک ہونے کے باوجود اختلاف انواع کی وجہ سے اکثر احکامات الگ الگ ہیں ۔ مثلاً احکام شرع کی پابندی حیات دنیا میں ہے ، برزخ و آخرت میں نہیں۔ حیات انسانی کی خصوصیات ہیں سمع ، بصر، ادراک وغیرہ یہ زندگی کی تینوں انواع میں موجود ہیں بلکہ دنیوی زندگی سے بڑھ کر اخروی زندگی میں ہیں ۔

قبر میں ہونے والے عذاب و ثواب کے بارے میں علمائے اسلام کی تین آراء ہیں : ⏬
(1) عذابِ قبر صرف روح کو ہوتا ہے ۔
(2) عذابِ قبر صرف جسم کو ہوتا ہے ۔
(3)عذابِ قبر جسم و روح دونوں کو ہوتا ہے ۔
تیسری رائے صحیح تر ہے کہ قبر کی زندگی میں عذاب یا نعمتیں جسم اور روح دونوں کو ملتی ہیں۔ چنانچہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : محله الروح والبدن جميعاً باتفاق اهل السنة.
ترجمہ : اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عذاب و ثوابِ قبر روح اور جسم ، دونوں کو ہوتا ہے ۔ (سيوطی شرح الصدور صفحہ 75،چشتی)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں کچھ احادیث کی تخریج ایسی فرمائی ہے جس سے غیرمقلین بھی کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں ۔ جیسا کہ معروف احادیث ہیں مردوں کی سماع جن سے ثابت ہوتی ہے ، پر یہ غیر مقلدین ، اہل راے ہونے کا پورا ثبوت دے کر ایسی صحیح احادیث کے مقابلے میں اپنا باطل قیاس کرتے ہیں ۔ اور آقا علیہ السلام کے نہایت ہی واضح فرمان کو بھی رد کرتے ہیں ، چنانچہ امام بخاری نے حدیث کی تخریج سے پہلے باب باندھے، جن سے آپ کے عقیدے کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ آپ بھی فوت شدگان کے سننے، دیکھنے، ارد گرد کے ماحول سے آگاہ ہونے سب کا عقیدہ رکھتے تھے ۔
کیا آج کا کوئی غیر مقلد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو معاذ الله بدعقیدہ ہونے کا فتویٰ دیگا ؟
(1) باب الميت يسمع خفق ألنعال ، ميت كا جوتوں کی آواز سننا ۔
(2) باب کلام المیت علی الجنازۃ ، یعنی جنازہ پر میت کے کلام کرنے کا بیان ۔
(3) دوسرے مقام پر یوں باب باندھا ہے ۔ باب قول المیت وھو علی الجنازۃ قدمونی یعنی میت کا یہ کہنا جب کہ وہ ابھی جنازہ پر ہوتا ہے مجھے جلدی لے چلو ۔

باب الميت يسمع خفق ألنعال، ميت كا جوتوں کی آواز سننا : ⏬

العَبْدُ إذَا وُضِعَ فِي قَبْرهِ وَتَولَّى وَذَهَبَ أَصْحَابُهُ، حَتَّى إنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَأَقْعَدَاهُ فَيَقُولاَنِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذا الرَّجُلِ محمَّدٍ صلَّى الله عليه وسلَّم ؟ فيقولُ: أَشْهدُ أنَّهُ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، فيُقَالُ: انْظُرْ إلَى مَقْعَدِكَ فِي النَّارِ أَبْدَلَكَ اللهُ بهِ مَقْعَداً مِنَ الْجَنَّةِ. قالَ النَّبيُّ صلى الله عليه وسلّم: فَيَراهُمَا جَمِيْعَاً، وَأمَّا الكَافِرُ أو الْمُنَافِقُ فَيَقولُ: لاَ أَدْرِي، كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ. فَيُقَالُ: لاَ دَرَيْتَ وَلاَ تَلَيْتَ، ثُمَّ يُضْرَبُ بِمْطَرَقَةٍ مِنْ حَديدٍ ضَربةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيْحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيَهُ إلاَّ الثَّقَلين ۔
ترجمہ : جب مردے کو قبر میں دفنایا جاتا ہے اور اُس کے اصحاب واپس پلٹتے ہیں تو وہ ان کے قدموں کی چاپ سنتا ہے۔ اور دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اسے بٹھا دیتے ہیں اور یہ سوال کرتے ہیں : تم اس آدمی (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کیا کہتے ہو؟" وہ کہتا ہے: "میں گواہی دیتا ہوں کو وہ اللہ کے عبد ہیں اور رسول ہیں۔" پھر اس سے کہا جاتا ہے: "دوزخ میں ذرا اپنی جگہ دیکھو، مگر اللہ نے اسکی بجائے تمہیں جنت دی ہے۔" پھر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: "مردہ اپنی دونوں جگہیں دیکھتا ہے، مگر کافر یا منافق فرشتوں سے کہتا ہے: "میں نہیں جانتا، مگر میں وہی کہا کرتا تھا جو کہ دوسرے لوگ کہتے تھے۔" اس پر اُس سے کہا جائے گا: "نہ تم نے یہ جانا اور نہ تم نے (قران) سے ہدایت حاصل کی۔" پھر اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے کی سلاخ سے چوٹ ماری جائے گی اور وہ چیخے گا۔ اور اِس کی یہ چیخ ہر مخلوق سنے گی سوائے جنات اور انسانوں کے ۔ (صحيح البخاري، كتاب الجنائز : رقم ١٣٣٨،چشتی)

باب الميت يسمع خفق ألنعال ، ميت كا جوتوں کی آواز سننا : ⏬

العَبْدُ إذَا وُضِعَ فِي قَبْرهِ وَتَولَّى وَذَهَبَ أَصْحَابُهُ، حَتَّى إنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَأَقْعَدَاهُ فَيَقُولاَنِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذا الرَّجُلِ محمَّدٍ صلَّى الله عليه وسلَّم ؟ فيقولُ: أَشْهدُ أنَّهُ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، فيُقَالُ: انْظُرْ إلَى مَقْعَدِكَ فِي النَّارِ أَبْدَلَكَ اللهُ بهِ مَقْعَداً مِنَ الْجَنَّةِ. قالَ النَّبيُّ صلى الله عليه وسلّم: فَيَراهُمَا جَمِيْعَاً، وَأمَّا الكَافِرُ أو الْمُنَافِقُ فَيَقولُ: لاَ أَدْرِي، كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ. فَيُقَالُ: لاَ دَرَيْتَ وَلاَ تَلَيْتَ، ثُمَّ يُضْرَبُ بِمْطَرَقَةٍ مِنْ حَديدٍ ضَربةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيْحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيَهُ إلاَّ الثَّقَلين ۔
ترجمہ : جب مردے کو قبر میں دفنایا جاتا ہے اور اُسکے اصحاب واپس پلٹتے ہیں تو وہ ان کے قدموں کی چاپ سنتا ہے۔ اور دو فرشتے اسکے پاس آتے ہیں اور اسے بٹھا دیتے ہیں اور یہ سوال کرتے ہیں : تم اس آدمی (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کیا کہتے ہو؟" وہ کہتا ہے: "میں گواہی دیتا ہوں کو وہ اللہ کے عبد ہیں اور رسول ہیں۔" پھر اس سے کہا جاتا ہے: "دوزخ میں ذرا اپنی جگہ دیکھو، مگر اللہ نے اسکی بجائے تمہیں جنت دی ہے۔" پھر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: "مردہ اپنی دونوں جگہیں دیکھتا ہے، مگر کافر یا منافق فرشتوں سے کہتا ہے: "میں نہیں جانتا، مگر میں وہی کہا کرتا تھا جو کہ دوسرے لوگ کہتے تھے۔" اس پر اُس سے کہا جائے گا: "نہ تم نے یہ جانا اور نہ تم نے (قران) سے ہدایت حاصل کی۔" پھر اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے کی سلاخ سے چوٹ ماری جائے گی اور وہ چیخے گا۔ اور اِس کی یہ چیخ ہر مخلوق سنے گی سوائے جنات اور انسانوں کے۔"صحيح البخاري، كتاب الجنائز : رقم ١٣٣٨۔چشتی)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّي عَنْهُ أَصْحَابُهُ وَ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَکَانِ فيُقْعِدَانِهِ، فَيَقُوْلاَنِ : مَا کُنْتَ تَقَوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ لِمُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله وسلم، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُوْلُ : أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُﷲِ وَرَسُوْلُهُ. فيُقَالُ لَهُ : أنْظُرْ إِلَي مَقْعَدِکَ مِنَ النَّارِ، قَدْ أَبْدَلَکَ اﷲُ بِهِ مَقْعَداً مِنَ الْجَنَّةِ، فَيَرَاهُمَا جَمِيْعا. قَالَ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْکَافِرُ فَيُقَالُ لَهُ : مَاکُنْتَ تَقُوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُوْلُ : لَا أَدْرِي! کُنْتُ أَقُوْلُ مَا يَقُوْلُ النَّاسُ! فَيُقَالُ : لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ، ويُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيْدٍ ضَرْبَةً، فَيَصِيْحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيْهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ ۔
ترجمہ : بندے کو جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے لواحقین واپس چلے جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر کہتے ہیں : تو اس شخص یعنی (سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا ؟ اگر مومن ہو تو کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس سے کہا جائے گا : (اگر تو ایمان نہ لاتا تو تیرا ٹھکانا جہنم میں ہوتا) جہنم میں اپنے اس ٹھکانے کی طرف دیکھ! اللہ تعالیٰ نے تجھے (نیک اعمال کے سبب) اس کے بدلے جنت میں ٹھکانا دے دیا ہے۔ پس وہ دونوں کو دیکھتا ہوگا، اور اگر منافق یا کافر ہو تو اس سے پوچھا جائے گا : تو اس شخص (یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا ؟ وہ کہتا ہے : مجھے تو معلوم نہیں ، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ اس سے کہا جائے گا : تو نے نہ جانا اور نہ پڑھا۔ اسے لوہے کے گُرز سے مارا جائے گا تو وہ (شدت تکلیف سے قبر میں) چیختا چلاتا ہے جسے سوائے جنات اور انسانوں کے سب قریب والے سنتے ہیں ۔ (بخاري الصحيح، کتاب الجنائز، باب ماجاء في عذاب القبر، 1 : 462، رقم : 1308،)(مسلم، الصحيح ، کتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها، باب التي يصرف بها في الدنيا أهل الجنة وأهل النار، 4 : 2200، رقم : 2870)(أبوداود، السنن، کتاب السنة، باب في المسألة في القبر وعذاب القبر، 4 : 238، رقم : 4752۔چشتی)

قبر والا جوتوں کی آواز سنتا ہے سوالوں کے جواب دیتا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق سوال ہوگا جو پہچانے گا وہ نجات پائے گا ۔ (صحیح بخاری جلد دوم صفحہ 357 مترجم وہابی علماء)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِذَا قُبِرَ الْمَيِّتُ أَوْ قَالَ أَحَدُکُمْ، أَتَاهُ مَلَکَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ، يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا : الْمُنْکَرُ، وَ الآخَرُ : النَّکِيْرُ، فَيَقُوْلَانِ : مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُوْلُ : مَا کَانَ يَقُوْلُ : هُوَ عَبْدُ اللّٰهِ وَ رَسُوْلُهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ، فَيَقُوْلَانِ : قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ أَنَّکَ تَقُوْلُ هَذَا، ثُمَّ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فِي سَبْعِيْنَ ، ثُمَّ يُنَوَّرُ لَهُ فِيْهِ، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ : نَمْ، فَيَقُوْلُ : أَرْجِعُ إِلَی أَهْلِي فَأُخْبِرُهُمْ ؟ فَيَقُوْلَانِ : نَمْ کَنَوْمَةِ الْعَرُوْسِ الَّذِي لَا يُوْقِظُهُ إِلَّا أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ، حَتَّی يَبْعَثَهُ اللّٰهُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِکَ وَ إِنْ کَانَ مُنَافِقًا قَالَ : سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُوْلُوْنَ فَقُلْتُ مِثْلَهُ لَا أَدْرِي فَيَقُوْلَانِ : قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ أَنَّکَ تَقُوْلُ ذَلِکَ، فَيُقَالُ لِلْأَرْضِ الْتَئِمِي عَلَيْهِ فَتَلْتَئِمُ عَلَيْهِ فَتَخْتَلِفُ فِيْهَا أَضْلَاعُهُ فَلَا يَزَالُ فِيْهَا مُعَذَّبًا حَتَّی يَبْعَثَهُ ﷲُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِکَ ۔
ترجمہ : جب میت کو یا تم میں سے کسی ایک کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اس کے پاس سیاہ رنگ کے نیلگوں آنکھوں والے دو فرشتے آتے ہیں۔ ایک کا نام منکر اور دوسرے کا نام نکیر ہے۔ وہ دونوں اس میت سے پوچھتے ہیں۔ اس عظیم ہستی (رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں تو کیا کہتا تھا؟ وہ شخص وہی بات کہتا ہے جو دنیا میں کہا کرتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بیشک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے (خاص) بندے اور رسول ہیں ۔ فرشتے کہیں گے ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی کہے گا پھر اس کی قبر کو لمبائی و چوڑائی میں ستر ستر ہاتھ کشادہ کر دیا جاتا ہے اور نور سے بھر دیا جاتا ہے پھر اسے کہا جاتا ہے : (آرام سے) سو جا، وہ کہتا ہے میں واپس جاکر گھر والوں کو بتا آؤں ۔ وہ کہتے ہیں نہیں ، (اب تو نئی نویلی) دلہن کی طرح سو جاؤ، جسے گھر والوں میں سے اسے محبوب ترین شخص ہی اٹھاتا ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی (روزِ محشر) اُسے اس کی خواب گاہ سے اٹھائے گا اور اگر وہ شخص منافق ہو تو (سوالات کے نتیجے میں) کہے گا : میں نے ایسا ہی کہا جیسا میں نے لوگوں کو کہتے ہوئے سنا، میں نہیں جانتا (وہ صحیح تھا یا غلط) ۔ پس وہ دونوں فرشتے کہیں گے کہ ہم جانتے تھے کہ تم ایسا ہی کہو گے۔ پس زمین سے کہا جائے گا کہ اس پر تنگ ہو جا پس وہ اس پر اکٹھی ہو جائے گی یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں داخل ہو جائیں گی وہ مسلسل عذاب میں مبتلا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اس ٹھکانے سے اٹھائے گا ۔ (ترمذي ، السنن ، کتاب الجنائز، باب : ما جاء في عذاب القبر، 3 : 383، رقم : 1071،چشتی)(ابن حبان ، الصحيح، 7 : 386، رقم : 3117)

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت میں مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر کے سوالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : وَيَأتِيهِ مَلَکَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ : مَنْ رَبُّکَ ؟ فَيَقُولُ : رَبِّيَ ﷲُ. فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا دِينُکَ ؟ فَيَقُولُ : دِينِيَ الإِسْلَامُ. فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيکُمْ؟ قَالَ : فَيَقُولُ : هُوَ رَسُولُ ﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ۔ فَيَقُولَانِ : وَمَا يُدْرِيکَ؟ فَيَقُولُ : قَرَأتُ کِتَابَ ﷲِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ ۔
ترجمہ : اُس (میت) کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اُسے اُٹھا کر بٹھاتے ہیں اور اُس سے پوچھتے ہیں : تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے : ﷲ میرا رب ہے ۔ فرشتے اُس سے سوال کرتے ہیں : تیرا دین کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے : اسلام میرا دین ہے ۔ فرشتے اُس سے پوچھتے ہیں : یہ شخص (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) جو تمہارے درمیان مبعوث ہوئے کون ہیں ؟ وہ جواب دیتا ہے : وہ ﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ فرشتے اُس سے پوچھتے ہیں : تجھے یہ کیسے معلوم ہوا ؟ وہ جواب دیتا ہے : میں نے ﷲ تعالیٰ کی کتاب (قرآن مجید) پڑھی، لہٰذا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی ۔ (أبو داود، السنن، کتاب السنة، باب في المسألة في القبر وعذاب القبر، 4 : 239، رقم : 4753)

عن عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنهما أنّ رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ذکر فتاني القبر فقال عمر بن الخطاب : وأترد علينا عقولنا يا رسول ﷲ ؟ فقال : نعم کهيئتکم اليوم قال : فبفيه الحجر ۔
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر کے فرشتوں کا ذکر فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! کیا ہمیں ہماری یہ سمجھ بوجھ لوٹا دی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بالکل! آج جیسی ہی سوجھ بوجھ (قبر میں) دی جائے گی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : فرشتے کے منہ میں پتھر (یعنی میں اس کو خاموش کرا دوں گا) ۔
(ابن حبان، الصحيح، 7 : 384، رقم : 3115)(أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 172، رقم : 6603)(هيثمي، موارد الظمأن، 1 : 196، رقم : 778،چشتی)(هيثمي، مجمع الزوائد، 3 : 47)(منذري، الترغيب والترهيب، 4 : 193، رقم : 5391)

امام الوہابیہ علامہ ابنِ قیم کہتے ہیں کہ شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ سے قبر کی زندگی کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا : العذاب والنعيم علیٰ نفس و البدن جميعاً باتفاق اهل سنت ۔
ترجمہ : عذاب و ثواب روح و جسم دونوں کو ہوتا ہے ، اسی پر اہل سنت کا اتفاق ہے ۔ (کتاب الروح مترجم اردو صفحہ 87)

روح کے ساتھ جسم کو بھی عذاب و ثواب اس لیے ہوتا ہے کہ روح اور جسم کے درمیان ایک معنوی تعلق ہے ۔ اس تعلق کے سبب روح پر وارد ہونے والی کیفیات جسم بھی محسوس کرتا ہے۔ عذاب و ثوابِ قبر کےلیے بدن کا سلامت ہونا ضروری نہیں ہے۔ جسم گل سڑ جائے، آگ میں جلا دیا جائے، سمندر میں غرقاب ہو جائے، درندوں کے پیٹ میں چلا جائے‘ روح کا جسم کے ساتھ تعلق ہونے کے سبب ان تمام صورتوں میں بھی جسم پر اثرات مرتب ہوں گے ۔ اس کی وضاحت امام جلال الدین سیوطی نے ان الفاظ میں کی ہے کہ : عذاب قبر سے مراد عالمِ برزخ کی زندگی کا عذاب ہے ۔ اسے عذابِ قبر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ مردوں کو قبروں میں دفنایا جاتا ہے‘ ورنہ ہر میت قبر میں دفن ہو یا نہ ہو جب بھی اللہ اسے عذاب دینا چاہے گا ضرور پہنچائے گا ۔ (سيوطی ، شرح الصدور صفحہ نمبر 75)

قرآن مجید نے فرعونیوں کے عذابِ قبر، یعنی عالم برزخ کے عذاب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے : فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ. النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ. وَإِذْ يَتَحَاجُّونَ فِي النَّارِ فَيَقُولُ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا نَصِيبًا مِّنَ النَّارِ ۔
ترجمہ : پھر اللہ نے اُسے اُن لوگوں کی برائیوں سے بچا لیا جن کی وہ تدبیر کر رہے تھے اور آلِ فرعون کو بُرے عذاب نے گھیر لیا۔ آتشِ دوزخ کے سامنے یہ لوگ صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت بپا ہوگی (تو حکم ہوگا:) آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو ۔ اور جب وہ لوگ دوزخ میں باہم جھگڑیں گے تو کمزور لوگ ان سے کہیں گے جو (دنیا میں) بڑائی ظاہر کرتے تھے کہ ہم تو تمہارے پیروکار تھے سو کیا تم آتشِ دوزخ کا کچھ حصّہ (ہی) ہم سے دور کر سکتے ہو ؟ ۔ (الْمُؤْمِن، 40: 45-47)

اللہ تعالی نے اس آیت میں یہ بیان کیا ہے کہ آل فرعون صبح اور شام عذاب پر پیش کیے جاتے ہیں حالانکہ قیامت قائم نہیں ہوئی ۔ اسی آیت سے علماء کرام نے عذاب قبر کا ثبوت لیا ہے۔ فرعونیوں اور اُن جیسے کافروں کو قیامت سے پہلے بھی صبح و شام عذاب ہوتا ہے‘ یہی عذابِ قبر ہے یا برزخ کا عذاب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہی منافقینِ مدینہ کے بارے میں بتایا ہے ۔ ارشادِ ربانی ہے : وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى النِّفَاقِ لاَ تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ ۔
ترجمہ : اور (مسلمانو!) تمہارے گرد و نواح کے دیہاتی گنواروں میں بعض منافق ہیں اور بعض باشندگانِ مدینہ بھی، یہ لوگ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، آپ انہیں (اب تک) نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں۔ عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے پھر وہ (قیامت میں) بڑے عذاب کی طرف پلٹائے جائیں گے۔(سورۃ لتَّوْبَة ، 9: 101)
یعنی منافقین کےلیے ایک مرتبہ دنیا میں ذلت کا عذاب ، دوسری مرتبہ عالمِ برزخ کا عذاب اور اس کے بعد جہنم کا عذاب عظیم ہے ۔

احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ قبر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہچان کا لازمی سوال ہو گا اور اس میں کامیابی ہی نجات کا باعث ہو گی ۔ معلوم ہوا کہ عالم برزخ میں نجات کا واسطہ و وسیلہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک ہی ہیں پس جو شخص دنیا میں ذاتِ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنا تعلق مضبوط کرے گا اُسے عالم برزخ میں بھی اسی واسطہ کے باعث نعمتوں بھرا جنت کا ٹھکانا نصیب ہو گا ان شاء اللہ ۔


قبر میں روح کا واپس آنا حق ہے ، قبر والا سنتا اور سوالوں کے جواب دیتا ہے : ⏬

غیر مقلدین نام نہاد اہلحدیث حضرات کے شیخ الاسلام ثنا ء اللہ امرتسری صاحب اپنے شیخ الاکل جناب نذیر حسین دہلوی کے فتاویٰ نذیریہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ : قبر میں بندے کے مردہ جسم میں روح کا واپس آنا حق ہے ، عذاب قبر حق اور ایمانیات میں شامل ہے ، بندے کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے ، روح کا جسم کے ساتھ تعلق رہتا ہے ۔ (فتاویٰ ثنائیہ جلد اوّل صفحہ 315 شیخ الاسلام وہابی غیر مقلدین وہابی حضرات علاّمہ ثناء اللہ امرتسری و علامہ داؤد راز غیرمقلد بحوالہ فتاویٰ نذیریہ)

امام الوہابیہ علامہ ابنِ قیم کہتے ہیں کہ شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ سے قبر کی زندگی کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا : العذاب والنعيم علیٰ نفس و البدن جميعاً باتفاق اهل سنت ۔
ترجمہ : عذاب و ثواب روح و جسم دونوں کو ہوتا ہے، اسی پر اہل سنت کا اتفاق ہے ۔ (ابن قيم کتاب الروح صفحہ 72)

غیرمقلد نام نہاد علماءِ اہلحدیث کا فتویٰ  : قبر کا عذاب منکر نکیر کے سوال جواب حق ہیں ۔ اور روح کا جسم کے ساتھ ہر وقت اتصال رہتا ہے جس کی سے میت راحت رہتی ہے یا عذاب میں ۔ (فتاویٰ علماۓ حدیث جلد دہم صفحہ ۲۵۴ مطبوعہ مکتبہ اصحاب الحدیث اردو بازار لاہور)

صحیح مسلم کتاب الجنائز : و حدثنا ‏ ‏محمد بن منهال الضرير ‏ ‏حدثنا ‏ ‏يزيد بن زريع ‏ ‏حدثنا ‏ ‏سعيد بن أبي عروبة ‏ ‏عن ‏ ‏قتادة ‏ ‏عن ‏ ‏أنس بن مالك ‏ ‏قال ‏۔ قال رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏إن الميت إذا وضع في قبره إنه ليسمع ‏ ‏خفق ‏ ‏نعالهم إذا انصرفوا
ترجم : حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب مردہ جسم کو قبر میں دفنایا دیا جاتا ہے ، تو وہ ان لوگوں کے قدموں کی آہٹیں سنتا ہے (جو اسے دفنا کر واپس جا رہے ہوتے ہیں)

اور صحیح بخاری میں انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب مردے کو قبر میں دفنایا جاتا ہے اور اُس کے اصحاب واپس پلٹتے ہیں تو وہ ان کے قدموں کی چاپ سنتا ہے ۔ اور دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اسے بٹھا دیتے ہیں اور یہ سوال کرتے ہیں : تم اس آدمی (رسول ﷺ) کے متعلق کیا کہتے ہو؟" وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کو وہ اللہ کے عبد ہیں اور رسول ہیں ۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے : دوزخ میں ذرا اپنی جگہ دیکھو ، مگر اللہ نے اسکی بجائے تمہیں جنت دی ہے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا : مردہ اپنی دونوں جگہیں دیکھتا ہے ، مگر کافر یا منافق فرشتوں سے کہتا ہے : میں نہیں جانتا ، مگر میں وہی کہا کرتا تھا جو کہ دوسرے لوگ کہتے تھے ۔ اس پر اُس سے کہا جائے گا : نہ تم نے یہ جانا اور نہ تم نے (قران) سے ہدایت حاصل کی ۔ پھر اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے کی سلاخ سے چوٹ ماری جائے گی اور وہ چیخے گا ۔ اور اِس کی یہ چیخ ہر مخلوق سنے گی سوائے جنات اور انسانوں کے ۔ (صحیح بخاری کتاب الجنائز)

بتائیے کہ اگر آپ کو زندہ قبر میں اتار دیا جائے تو کیا آپ بھی قدموں کی چاپ سنیں گے ؟

اور دوسرا غور کریں کہ جب یہ مردہ چیخ مارتا ہے تو تمام مخلوقات اس چیخ کو سن سکتے ہیں سوائے جنات اور انسانوں کے۔ (اگلی حدیث میں آپ کو واضح ہو گا کہ انسان یہ چیخ کیوں نہیں سن سکتا)۔
مردہ لوگوں کو شعور ہوتا ہے اور وہ زندہ لوگوں کو دیکھتے ہیں جو انہیں قبرستان لیجا رہے ہوتے ہیں اور ان کو پکارتے ہیں ۔

صحیح بخاری، کتاب الجنائز:حدثنا ‏ ‏قتيبة ‏ ‏حدثنا ‏ ‏الليث ‏ ‏عن ‏ ‏سعيد بن أبي سعيد ‏ ‏عن ‏ ‏أبيه ‏ ‏أنه سمع ‏ ‏أبا سعيد الخدري ‏ ‏رضي الله عنه ‏ ‏يقول ‏قال رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏إذا وضعت الجنازة فاحتملها الرجال على أعناقهم فإن كانت صالحة قالت قدموني قدموني وإن كانت غير صالحة قالت يا ويلها أين يذهبون بها يسمع صوتها كل شيء إلا الإنسان ولو سمعها الإنسان ‏ ‏لصعق ‏۔
ترجمہ : حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب جنازہ تیار ہو جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر بلند کرتے ہیں، تو اگر مرنے والا نیک شخص ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: "مجھے آگے لے کر چلو"۔ اور اگر مرنے والا نیک شخص نہیں ہوتا تو وہ کہتا ہے: "وائے ہو تم پر، کہ تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟" اور اس کی یہ آواز ہر مخلوق سنتی ہے سوائے انسانوں کے۔ اور اگر انسانوں کو ان کی یہ آواز سنا دی جائے تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑیں ۔

غور فرمائیں : ⏬

(1) مردوں کو یہ شعور ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔

(2) وہ زندوں کی آوازیں سن رہے ہیں اور ان کے حرکات سے آگاہی رکھتے ۔ ہیں ۔

کیا اب بھی کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ مردے نہیں سنتے ؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ تمام احادیث جن میں آپ نے فرمایا ہے کہ مردوں کو کیسے مخاطب کر کے سلام کرنا ہے جب مسلمانوں کا گذر قبرستان سے ہو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت سی احادیث مروی ہیں کہ جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ جب ان کا گذر قبرستان سے ہو تو وہ "االسلام علیکم یا اھل القبور" کہہ کر مردوں کو سلام کیا کریں۔ ذیل میں چند احادیث درج ہیں : ⏬

سنن الترمذي، کتاب الجنائز ، باب ما یقول الرجل اذا دخل المقابر:حدثنا ‏ ‏أبو كريب ‏ ‏حدثنا ‏ ‏محمد بن الصلت ‏ ‏عن ‏ ‏أبي كدينة ‏ ‏عن ‏ ‏قابوس بن أبي ظبيان ‏ ‏عن ‏ ‏أبيه ‏ ‏عن ‏ ‏ابن عباس ‏ ‏قال ‏مر رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏بقبور ‏ ‏المدينة ‏ ‏فأقبل عليهم بوجهه فقال ‏ ‏السلام عليكم يا أهل القبور يغفر الله لنا ولكم أنتم ‏ ‏سلفنا ‏ ‏ونحن ‏ ‏بالأثر ۔

صحیح مسلم ، کتاب الجنائز : حدثنا ‏ ‏يحيى بن يحيى التميمي ‏ ‏ويحيى بن أيوب ‏ ‏وقتيبة بن سعيد ‏ ‏قال ‏ ‏يحيى بن يحيى ‏ ‏أخبرنا ‏ ‏و قال ‏ ‏الآخران ‏ ‏حدثنا ‏ ‏إسمعيل بن جعفر ‏ ‏عن ‏ ‏شريك وهو ابن أبي نمر ‏ ‏عن ‏ ‏عطاء بن يسار ‏ ‏عن ‏ ‏عائشة ‏ ‏أنها قالت ‏كان رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏كلما كان ليلتها من رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏يخرج من آخر الليل إلى ‏ ‏البقيع ‏ ‏فيقول ‏ ‏السلام عليكم دار قوم مؤمنين وأتاكم ما توعدون غدا مؤجلون وإنا إن شاء الله بكم لاحقون اللهم اغفر لأهل ‏ ‏بقيع الغرقد ‏ولم يقم ‏ ‏قتيبة ‏ ‏قوله وأتاكم ‏۔

مسلم بشرح النووی:یقوله صلى الله عليه وسلم : ( السلام عليكم دار قوم مؤمنين )دار منصوب على النداء , أي يا أهل دار فحذف المضاف وأقام المضاف إليه مقامه , وقيل : منصوب على الاختصاص , قال صاحب المطالع : ويجوز جره على البدل من الضمير في عليكم . قال الخطابي : وفيه أن اسم الدار يقع على المقابر قال : وهو صحيح فإن الدار في اللغة يقع على الربع المسكون وعلى الخراب غير المأهول , وأنشد فيه .

مسند احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرہ، باقی مسند المکثرین:حدثنا ‏ ‏محمد بن جعفر ‏ ‏حدثنا ‏ ‏شعبة ‏ ‏قال سمعت ‏ ‏العلاء بن عبد الرحمن ‏ ‏يحدث عن ‏ ‏أبيه ‏ ‏عن ‏ ‏أبي هريرة ‏رضی اللہ عنہ عن النبي ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏أنه أتى إلى المقبرة فسلم على أهل المقبرة فقال ‏‏ سلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون ثم قال وددت أنا قد رأينا إخواننا قال فقالوا يا رسول الله ألسنا بإخوانك قال بل أنتم أصحابي وإخواني الذين لم يأتوا بعد وأنا ‏ ‏فرطهم ‏ ‏على الحوض فقالوا يا رسول الله كيف تعرف من لم يأت من أمتك بعد قال أرأيت لو أن رجلا كان له خيل ‏ ‏غر ‏ ‏محجلة ‏ ‏بين ظهراني خيل بهم ‏ ‏دهم ‏ ‏ألم يكن يعرفها قالوا بلى قال فإنهم يأتون يوم القيامة ‏ ‏غرا ‏ ‏محجلين ‏ ‏من أثر الوضوء وأنا ‏ ‏فرطهم ‏ ‏على الحوض ثم قال ألا ‏ ‏ليذادن ‏ ‏رجال منكم عن حوضي كما ‏ ‏يذاد ‏ ‏البعير الضال ‏ ‏أناديهم ألا هلم فيقال إنهم بدلوا بعدك فأقول ‏ ‏سحقا ‏ ‏سحقا ۔

اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت سی دعائیں منقول ہیں کہ قبرستان میں مردوں کو کیسے سلام کرنا ہے اور کیسے انہیں مخاطب کر کے دعا کرنی ہے ۔ مثلاً : ⏬

صحیح مسلم کتاب الطہارہ میں ابو ہریرہ سے یہ دعا مروی ہے : اے قبر کے باسیو! تم پر سلام ہو۔ اور اللہ نے چاہا تو ہم جلد تم سے ملنے والے ہیں ۔"

صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ میں حضرت زہیر سے یہ الفاظ مروی ہیں : سلام ہو تم پر اس شہر (قبرستان) کے رہنے والو جو کہ مومنوں اور مسلمانوں میں سے ہیں۔ اور اللہ نے چاہا تو ہم جلد تم سے ملنے والے ہیں ۔ اور ہم اللہ سے تمہارے لیے دعا کرتے ہیں ۔

صحیح مسلم کتاب الصلاۃ میں حضرت عائشہ سے یہ الفاظ مروی ہیں : سلام ہو تم پر اے قبر کے باسیو، جو تم میں ایمان والے ہیں۔ جو تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ تمہیں کل تک مل جائے گا اور اس میں تھوڑا وقت لگے گا۔ اور اللہ نے چاہا تو ہم جلد تم سے ملنے والے ہیں ۔

غور فرمائیں کہ نہ صرف قبر کے مردوں کو خطاب کر کے "یا اہل قبور" کہا جا رہا ہے ، بلکہ ان سے پورا خطاب ہے کہ تمہیں وہ کچھ مل رہا ہے جس کا اللہ نے وعدہ کیا تھا اور انشاء اللہ ہم جلد تم سے ملنے والے ہیں۔۔۔۔

یہ وہ عمل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پوری زندگی کیا اور وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر جنت البقیع تشریف لیجایا کرتے تھے۔ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمام صحابہ رضی اللہ عنہم مردوں سے خطاب کرتے رہے ۔ اور پھر تمام آئمہ ، فقہا حتیٰ کہ ہر ہر مسلمان نے مردوں سے یہ خطاب کیا اور آج کے دن تک کرتے آ رہے ہیں ۔

تو کیا یہ عقیدہ رکھا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پوری زندگی ایک مشرکانہ اور بیکار عمل کرتے ہوئے گذار دی اس صورت میں کہ آپ مردوں سے مخاطب ہوتے رہے؟ اور کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوری امت کو بھی اس مشرکانہ فعل میں قیامت کے دن تک مبتلا کر دیا ؟ (معاذ اللہ) ۔

دوسرا یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنتِ البقیع میں داخل ہو کر صرف ایک مرتبہ سلام کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی یہ نہیں کیا کہ ہر ہر قبر کے پاس جا کر ہر ہر مردے کو قبر سے نکالا ہو اور پھر سلام کیا ہو تا کہ یہ یقین ہو سکے کہ ہر مردے نے اِن کا سلام سن لیا ہے۔ اور جب ہم بھی قبرستان جاتے ہیں تو تمام مردوں کو ایک مرتبہ ہی سلام کرتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ سب نے ہمارا سلام سنا ہے ۔

اس سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اللہ نے ارواح کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ قریب یا دور کی پکار کو سن سکیں جبکہ یہ طاقت زندہ انسانوں کو نہیں دی گئی ہے۔

اور جو لوگ آجکل "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" کو شرک سمجھتے ہیں، وہ جان لیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی تمام زندگی مردوں کو "یا اہل القبور" کہہ کر مخاطب فرماتے رہے ہیں۔
صحابی رضی اللہ عنہ کا لوگوں کو وصیت کرنا کہ دفنانے کے بعد وہاں کچھ دیر ٹہریں تاکہ وہ ان کی صحبت سے نفع اٹھا سکیں ۔

صحیح مسلم ، کتاب الایمان میں عمرو بن العاص کے متعلق ہے : عبدالرحمن بن شماسہ المہری کہتے ہیں کہ ہم عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور وہ اس وقت قریب المرگ تھے ۔ (عمرو بن العاص اپنے ساتھیوں کو کہتا ہےکہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد میں) چند ایسے کاموں کا ذمہ دار ہوں کہ جن کی وجہ سے میں نہیں جانتا کہ میرا کیا حال ہو گا۔ تو جب میں مر جاؤں تو میرے جنازے کیساتھ کوئی رونے چلانے والی نہ ہو اور نہ آگ ہو اور جب مجھے دفن کرنا تو مجھ پر اچھی طرح مٹی ڈال دینا اور میری قبر کے ارد گرد اتنی دیر تک کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ کاٹا جاتا ہے اور اس کا گوشت بانٹا جاتا ہے تاکہ تم سے میرا دل بہلے(اور میں تنہائی میں گھبرا نہ جاؤں) اور دیکھ لوں کہ میں پروردگار کے وکیلوں (فرشتوں ) کو کیا جواب دیتا ہوں ۔

روح کے ساتھ جسم کو بھی عذاب و ثواب اس لیے ہوتا ہے کہ روح اور جسم کے درمیان ایک معنوی تعلق ہے۔ اس تعلق کے سبب روح پر وارد ہونے والی کیفیات جسم بھی محسوس کرتا ہے ۔ عذاب و ثوابِ قبر کےلیے بدن کا سلامت ہونا ضروری نہیں ہے ۔ جسم گل سڑ جائے، آگ میں جلا دیا جائے ، سمندر میں غرقاب ہو جائے ، درندوں کے پیٹ میں چلا جائے ، روح کا جسم کے ساتھ تعلق ہونے کے سبب ان تمام صورتوں میں بھی جسم پر اثرات مرتب ہوں گے ۔ اس کی وضاحت امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے ان الفاظ میں کی ہے کہ : عذاب قبر سے مراد عالمِ برزخ کی زندگی کا عذاب ہے ۔ اسے عذابِ قبر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ مردوں کو قبروں میں دفنایا جاتا ہے ، ورنہ ہر میت قبر میں دفن ہو یا نہ ہو جب بھی اللہ اسے عذاب دینا چاہے گا ضرور پہنچائے گا ۔ (سيوطی شرح الصدور صفحہ 75،چشتی)

قرآن مجید نے فرعونیوں کے عذابِ قبر، یعنی عالم برزخ کے عذاب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے : فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ. النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ. وَإِذْ يَتَحَاجُّونَ فِي النَّارِ فَيَقُولُ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا نَصِيبًا مِّنَ النَّارِ ۔
ترجمہ : پھر اللہ نے اُسے اُن لوگوں کی برائیوں سے بچا لیا جن کی وہ تدبیر کر رہے تھے اور آلِ فرعون کو بُرے عذاب نے گھیر لیا۔ آتشِ دوزخ کے سامنے یہ لوگ صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت بپا ہوگی (تو حکم ہوگا:) آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو۔ اور جب وہ لوگ دوزخ میں باہم جھگڑیں گے تو کمزور لوگ ان سے کہیں گے جو (دنیا میں) بڑائی ظاہر کرتے تھے کہ ہم تو تمہارے پیروکار تھے سو کیا تم آتشِ دوزخ کا کچھ حصّہ (ہی) ہم سے دور کر سکتے ہو؟ ۔ (الْمُؤْمِن، 40: 45-47)

اللہ تعالی نے اس آیت میں یہ بیان کیا ہے کہ آل فرعون صبح اور شام عذاب پر پیش کیے جاتے ہیں حالانکہ قیامت قائم نہیں ہوئی۔ اسی آیت سے علماء کرام نے عذاب قبر کا ثبوت لیا ہے۔ فرعونیوں اور اُن جیسے کافروں کو قیامت سے پہلے بھی صبح و شام عذاب ہوتا ہے‘ یہی عذابِ قبر ہے یا برزخ کا عذاب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہی منافقینِ مدینہ کے بارے میں بتایا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے : وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى النِّفَاقِ لاَ تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ.
ترجمہ : اور (مسلمانو!) تمہارے گرد و نواح کے دیہاتی گنواروں میں بعض منافق ہیں اور بعض باشندگانِ مدینہ بھی، یہ لوگ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں ، آپ انہیں (اب تک) نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں۔ عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے پھر وہ (قیامت میں) بڑے عذاب کی طرف پلٹائے جائیں گے ۔ (اسورۃ لتَّوْبَة، 9: 101)

یعنی منافقین کےلیے ایک مرتبہ دنیا میں ذلت کا عذاب‘ دوسری مرتبہ عالمِ برزخ کا عذاب اور اس کے بعد جہنم کا عذاب عظیم ہے ۔
امام بخاری رحمۃ الله علیہ نے اپنی صحیح میں کچھ احادیث کی تخریج ایسی فرمائی ہے جس سے غیرمقلین بھی کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں : جیسا کہ معروف احادیث ہیں مردوں کی سماع جن سے ثابت ہوتی ہے ، پر یہ غیر مقلدین ، اہل راے ہونے کا پورا ثبوت دے کر ایسی صحیح احادیث کے مقابلے میں اپنا باطل قیاس کرتے ہیں ۔ اور آقا علیہ السلام کے نہایت ہی واضح فرمان کو بھی رد کرتے ہیں ، چنانچہ امام بخاری نے حدیث کی تخریج سے پہلے باب باندھے ، جن سے آپ کے عقیدے کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ آپ بھی فوت شدگان کے سننے ، دیکھنے ، ارد گرد کے ماحول سے آگاہ ہونے سب کا عقیدہ رکھتے تھے ۔ کیا آج کا کوئی غیر مقلد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو معاذ الله بدعقیدہ ہونے کا فتویٰ دے گا ؟

(1) باب الميت يسمع خفق ألنعال، ميت كا جوتوں کی آواز سننا ۔

(2) باب کلام المیت علی الجنازۃ ۔ یعنی جنازہ پر میت کے کلام کرنے کا بیان ۔

(3) دوسرے مقام پر یوں باب باندھا ہے۔ باب قول المیت وھو علی الجنازۃ قدمونی یعنی میت کا یہ کہنا جب کہ وہ ابھی جنازہ پر ہوتا ہے مجھے جلدی لے چلو ۔

باب الميت يسمع خفق ألنعال ، ميت كا جوتوں کی آواز سننا : ⏬

العَبْدُ إذَا وُضِعَ فِي قَبْرهِ وَتَولَّى وَذَهَبَ أَصْحَابُهُ، حَتَّى إنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَأَقْعَدَاهُ فَيَقُولاَنِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذا الرَّجُلِ محمَّدٍ صلَّى الله عليه وسلَّم ؟ فيقولُ: أَشْهدُ أنَّهُ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، فيُقَالُ: انْظُرْ إلَى مَقْعَدِكَ فِي النَّارِ أَبْدَلَكَ اللهُ بهِ مَقْعَداً مِنَ الْجَنَّةِ. قالَ النَّبيُّ صلى الله عليه وسلّم: فَيَراهُمَا جَمِيْعَاً، وَأمَّا الكَافِرُ أو الْمُنَافِقُ فَيَقولُ: لاَ أَدْرِي، كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ. فَيُقَالُ: لاَ دَرَيْتَ وَلاَ تَلَيْتَ، ثُمَّ يُضْرَبُ بِمْطَرَقَةٍ مِنْ حَديدٍ ضَربةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيْحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيَهُ إلاَّ الثَّقَلين ۔
ترجمہ : جب مردے کو قبر میں دفنایا جاتا ہے اور اُس کے اصحاب واپس پلٹتے ہیں تو وہ ان کے قدموں کی چاپ سنتا ہے ۔ اور دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اسے بٹھا دیتے ہیں اور یہ سوال کرتے ہیں : تم اس آدمی (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق کیا کہتے ہو ؟ وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کو وہ اللہ کے عبد ہیں اور رسول ہیں ۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے : دوزخ میں ذرا اپنی جگہ دیکھو ، مگر اللہ نے اس کی بجائے تمہیں جنت دی ہے ۔ پھر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مزید فرمایا : مردہ اپنی دونوں جگہیں دیکھتا ہے ، مگر کافر یا منافق فرشتوں سے کہتا ہے : میں نہیں جانتا ، مگر میں وہی کہا کرتا تھا جو کہ دوسرے لوگ کہتے تھے ۔ اس پر اُس سے کہا جائے گا : نہ تم نے یہ جانا اور نہ تم نے (قرآن) سے ہدایت حاصل کی ۔ پھر اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے کی سلاخ سے چوٹ ماری جائے گی اور وہ چیخے گا ۔ اور اِس کی یہ چیخ ہر مخلوق سنے گی سوائے جنات اور انسانوں کے ۔ (صحيح البخاری كتاب الجنائز : رقم ١٣٣٨،چشتی)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّي عَنْهُ أَصْحَابُهُ وَ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَکَانِ فيُقْعِدَانِهِ، فَيَقُوْلاَنِ : مَا کُنْتَ تَقَوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ لِمُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله وسلم، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُوْلُ : أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ ﷲِ وَرَسُوْلُهُ. فيُقَالُ لَهُ : أنْظُرْ إِلَي مَقْعَدِکَ مِنَ النَّارِ، قَدْ أَبْدَلَکَ اﷲُ بِهِ مَقْعَداً مِنَ الْجَنَّةِ، فَيَرَاهُمَا جَمِيْعا. قَالَ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْکَافِرُ فَيُقَالُ لَهُ : مَاکُنْتَ تَقُوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُوْلُ : لَا أَدْرِي! کُنْتُ أَقُوْلُ مَا يَقُوْلُ النَّاسُ! فَيُقَالُ : لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ، ويُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيْدٍ ضَرْبَةً، فَيَصِيْحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيْهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ ۔
ترجمہ : بندے کو جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے لواحقین واپس چلے جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر کہتے ہیں : تو اس شخص یعنی (سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا؟ اگر مومن ہو تو کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس سے کہا جائے گا : (اگر تو ایمان نہ لاتا تو تیرا ٹھکانا جہنم میں ہوتا) جہنم میں اپنے اس ٹھکانے کی طرف دیکھ! اللہ تعالیٰ نے تجھے (نیک اعمال کے سبب) اس کے بدلے جنت میں ٹھکانا دے دیا ہے ۔ پس وہ دونوں کو دیکھتا ہوگا، اور اگر منافق یا کافر ہو تو اس سے پوچھا جائے گا : تو اس شخص (یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا ؟ وہ کہتا ہے : مجھے تو معلوم نہیں، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ اس سے کہا جائے گا : تو نے نہ جانا اور نہ پڑھا۔ اسے لوہے کے گُرز سے مارا جائے گا تو وہ (شدت تکلیف سے قبر میں) چیختا چلاتا ہے جسے سوائے جنات اور انسانوں کے سب قریب والے سنتے ہیں ۔ (بخاري، الصحيح، کتاب الجنائز، باب ماجاء في عذاب القبر، 1 : 462، رقم : 1308)(مسلم، الصحيح، کتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها، باب التي يصرف بها في الدنيا أهل الجنة وأهل النار، 4 : 2200، رقم : 2870،چشتی)(أبوداود، السنن، کتاب السنة، باب في المسألة في القبر وعذاب القبر، 4 : 238، رقم : 4752)

قبر والا جوتوں کی آواز سنتا ہے سوالوں کے جواب دیتا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے متعلق سوال ہوگا جو پہچانے گا وہ نجات پائے گا ۔ (صحیح بخاری جلد دوم صفحہ 357 مترجم وہابی علماء)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِذَا قُبِرَ الْمَيِّتُ أَوْ قَالَ أَحَدُکُمْ، أَتَاهُ مَلَکَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ، يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا : الْمُنْکَرُ، وَ الآخَرُ : النَّکِيْرُ، فَيَقُوْلَانِ : مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُوْلُ : مَا کَانَ يَقُوْلُ : هُوَ عَبْدُ اللّٰهِ وَ رَسُوْلُهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ، فَيَقُوْلَانِ : قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ أَنَّکَ تَقُوْلُ هَذَا، ثُمَّ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فِي سَبْعِيْنَ، ثُمَّ يُنَوَّرُ لَهُ فِيْهِ، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ : نَمْ، فَيَقُوْلُ : أَرْجِعُ إِلَی أَهْلِي فَأُخْبِرُهُمْ؟ فَيَقُوْلَانِ : نَمْ کَنَوْمَةِ الْعَرُوْسِ الَّذِي لَا يُوْقِظُهُ إِلَّا أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ، حَتَّی يَبْعَثَهُ اللّٰهُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِکَ وَ إِنْ کَانَ مُنَافِقًا قَالَ : سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُوْلُوْنَ فَقُلْتُ مِثْلَهُ لَا أَدْرِي فَيَقُوْلَانِ : قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ أَنَّکَ تَقُوْلُ ذَلِکَ، فَيُقَالُ لِلْأَرْضِ الْتَئِمِي عَلَيْهِ فَتَلْتَئِمُ عَلَيْهِ فَتَخْتَلِفُ فِيْهَا أَضْلَاعُهُ فَلَا يَزَالُ فِيْهَا مُعَذَّبًا حَتَّی يَبْعَثَهُ ﷲُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِکَ ۔
ترجمہ : جب میت کو یا تم میں سے کسی ایک کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اس کے پاس سیاہ رنگ کے نیلگوں آنکھوں والے دو فرشتے آتے ہیں ۔ ایک کا نام منکر اور دوسرے کا نام نکیر ہے۔ وہ دونوں اس میت سے پوچھتے ہیں۔ اس عظیم ہستی (رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں تو کیا کہتا تھا؟ وہ شخص وہی بات کہتا ہے جو دنیا میں کہا کرتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بیشک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے (خاص) بندے اور رسول ہیں۔ فرشتے کہیں گے ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی کہے گا پھر اس کی قبر کو لمبائی و چوڑائی میں ستر ستر ہاتھ کشادہ کر دیا جاتا ہے اور نور سے بھر دیا جاتا ہے پھر اسے کہا جاتا ہے : (آرام سے) سو جا، وہ کہتا ہے میں واپس جاکر گھر والوں کو بتا آؤں۔ وہ کہتے ہیں نہیں، (اب تو نئی نویلی) دلہن کی طرح سو جاؤ، جسے گھر والوں میں سے اسے محبوب ترین شخص ہی اٹھاتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی (روزِ محشر) اُسے اس کی خواب گاہ سے اٹھائے گا اور اگر وہ شخص منافق ہو تو (سوالات کے نتیجے میں) کہے گا : میں نے ایسا ہی کہا جیسا میں نے لوگوں کو کہتے ہوئے سنا، میں نہیں جانتا (وہ صحیح تھا یا غلط)۔ پس وہ دونوں فرشتے کہیں گے کہ ہم جانتے تھے کہ تم ایسا ہی کہو گے۔ پس زمین سے کہا جائے گا کہ اس پر تنگ ہو جا پس وہ اس پر اکٹھی ہو جائے گی یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں داخل ہو جائیں گی وہ مسلسل عذاب میں مبتلا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو اس ٹھکانے سے اٹھائے گا ۔ (ترمذي، السنن، کتاب الجنائز، باب : ما جاء في عذاب القبر، 3 : 383، رقم : 1071،چشتی)(ابن حبان، الصحيح، 7 : 386، رقم : 3117)

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت میں مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر کے سوالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : وَيَأتِيهِ مَلَکَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ : مَنْ رَبُّکَ؟ فَيَقُولُ : رَبِّيَ ﷲُ. فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا دِينُکَ؟ فَيَقُولُ : دِينِيَ الإِسْلَامُ. فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيکُمْ؟ قَالَ : فَيَقُولُ : هُوَ رَسُولُ ﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم . فَيَقُولَانِ : وَمَا يُدْرِيکَ ؟ فَيَقُولُ : قَرَأتُ کِتَابَ ﷲِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ ۔

ترجمہ : اُس (میت) کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اُسے اُٹھا کر بٹھاتے ہیں اور اُس سے پوچھتے ہیں : تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے : ﷲ میرا رب ہے۔ فرشتے اُس سے سوال کرتے ہیں : تیرا دین کیا ہے؟ وہ جواب دیتا ہے : اسلام میرا دین ہے۔ فرشتے اُس سے پوچھتے ہیں : یہ شخص (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) جو تمہارے درمیان مبعوث ہوئے کون ہیں ؟ وہ جواب دیتا ہے : وہ ﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ہیں ۔ فرشتے اُس سے پوچھتے ہیں : تجھے یہ کیسے معلوم ہوا؟ وہ جواب دیتا ہے : میں نے ﷲ تعالیٰ کی کتاب (قرآن مجید) پڑھی ، لہٰذا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم پر ایمان لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی تصدیق کی ۔ (أبو داود، السنن، کتاب السنة، باب في المسألة في القبر وعذاب القبر، 4 : 239، رقم : 4753)

عن عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنهما أنّ رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ذکر فتاني القبر فقال عمر بن الخطاب : وأترد علينا عقولنا يا رسول ﷲ ؟ فقال : نعم کهيئتکم اليوم قال : فبفيه الحجر ۔
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر کے فرشتوں کا ذکر فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہمیں ہماری یہ سمجھ بوجھ لوٹا دی جائے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بالکل ! آج جیسی ہی سوجھ بوجھ (قبر میں) دی جائے گی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : فرشتے کے منہ میں پتھر (یعنی میں اس کو خاموش کرا دوں گا) ۔ (ابن حبان، الصحيح، 7 : 384، رقم : 3115)(أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 172، رقم : 6603)(هيثمي، موارد الظمأن، 1 : 196، رقم : 778)(هيثمي، مجمع الزوائد، 3 : 47)(منذري، الترغيب والترهيب، 4 : 193، رقم : 5391)

احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ قبر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی پہچان کا لازمی سوال ہو گا اور اس میں کامیابی ہی نجات کا باعث ہو گی ۔ معلوم ہوا کہ عالم برزخ میں نجات کا واسطہ و وسیلہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ذات پاک ہی ہیں پس جو شخص دنیا میں ذات رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے اپنا تعلق مضبوط کرے گا اسے عالم برزخ میں بھی اسی واسطہ کے باعث نعمتوں بھرا جنت کا ٹھکانا نصیب ہو گا ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)



















طریقِ نبوت اور طریقِ ولایت میں سے افضل طریق کونسا ہے ؟

طریقِ نبوت اور طریقِ ولایت میں سے افضل طریق کونسا ہے ؟ محترم قارئینِ کرام : اہلسنت و جماعت کا سلفاً خلفاً عقیدہ رہا ہے کہ انبیاء اور رسل علی...