Thursday, 28 May 2026

یارسول اللہ انظر حالنا پڑھنا کیسا ؟ اور یارسول اللہ پکارنا شرک نہیں ہے

یارسول اللہ انظر حالنا پڑھنا کیسا ؟ اور یارسول اللہ پکارنا شرک نہیں ہے

محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں مسلمانوں کے سپہ سالار جلیل القدر صحابی حضرت خالد بن ولید اور دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو براہ راست مدد کےلیے پکارا ۔ چنانچہ منقول ہے : کان شعارھم یومئذٍ یا محمداہ ، یعنی اس دن مسلمانوں کا طریقہ اور شعار حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدد کےلیے پکارنا تھا ۔ (البدایہ والنہایہ مطبوعہ بیروت لبنان جلد ششم صفحہ نمبر 24)


یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اُنظُرْ حَالَنَا

یَاحَبِیْبَ اللّٰہِ اِسمَعْ قَالَنَا


اِنَّنِی فِی بَحرِْ ھَمِّ مُّغْرَقٌ

خذْیَدِیْ سَھِّلْ لَّنَا اَشْکَالَنَا


ترجمہ : اے اللہ کے رسول ، ہماری حالت پر توجہ فرمایۓ اے اللہ کے حبیب ، ہماری عرض سماعت فرمایۓ ، بیشک میں غموں (پریشانیوں کے) سمندر میں غرق ہوں ، میرا ہاتھ پکڑیں اور ہماری مشکلات کو (باذن خداوندی) آسان فرمادی ۔ (کلام غوث اعظم رضی اللہ عنہ)


جناب رشید احمد گنگوہی یوبندی سے کسی نے سوال کیا کہ ان اشعار کو بطور وظیفہ پڑھنا کیسا ہے ؟


یا رسول اللہ انظر حالنا

یا حبیب اللہ اسمع قالنا


اننی فی بحر ھم مغرق

خذ یدی سھل لنا اشکالنا


یا اکرم الخلق مالی من الوذ بہ

سواک عند حلول الحادث العمم


تو انہوں نے جواب دیا کہ ایسے کلمات کو نظم ہوں یا نثر ورد کرنا مکروہ تنزیہی ہے کفر و فسق نہیں ۔ (فتاوی رشیدیہ جلد ۳ صفحہ ۵)


رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں : یہ خود آپ کو معلوم ہے کہ نداء غیر اللہ تعالیٰ کو کرنا دور سے شرک حقیقی جب ہوتا ہے کہ ان کو عالم سامع مستقل اعتقاد کرے ورنہ شرک نہیں ، مثلاً یہ جانے کے حق تعالیٰ ان کو مطلع فرمادیوے گا ، یا باذنہ تعالیٰ انکشاف ان کو ہو جاوے گا یا باذنہ تعالیٰ ملائکہ پہنچا دیویں گے جیسا درود کی نسبت وارد ہے یا محض شوقیہ کہتا ہو محبت میں یا عرض حال محل تحسر و حرمان میں کہ ایسے مواقع میں اگرچہ کلمات خطاب بولتے ہیں لیکن ہرگز نہ مقصود اسماع ہوتا ہے نہ عقیدہ ، پس انہی اقسام سے کلمات مناجات واشعار بزرگان کے ہوتے ہیں کہ فی حد ذاتہ نہ شرک نہ معصیت ۔ (فتاوی رشیدیہ کامل مبوب صفحہ ٦٨ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز کراچی،چشتی)


جناب اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں : جو استعانت و استمداد باعتقاد علم و قدرت مستقل ہو (یعنی کسی نے اس کو نہ دیے اور نہ کسی کا محتاج ہے) وہ شرک ہے اور جو باعتقد علم و قدرت غیر مستقل ہو (یعنی اللہ نے انہیں دی اور اللہ ہی کے محتاج ہیں) اور وہ علم قدرت کسی دلیل سے ثابت ہو جائے تو جائز ہے خواہ مستمد منہ (جس سے مدد طلب کی جارہی ہے) حی ہو (زندہ) یا میت (مردہ) ۔ (امدادالفتاوی کتاب العقائد جلد ۴ صفحہ ۹۹)


حکیمُ الاُمتِ دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں : ⬇


یا شفیع العباد خذبیدی

دستگیری کیجئے میری نبی


انت فی الضطرار معتمدی

کشمکش میں تم ہی ہو میرے ولی


لیس لی ملجاء سواک اغث

جز تمہارے ہے کہاں میری پناہ


مسنی الضر سیدی سندی

فوج کلفت مجھ پہ آ غالب ہوئی


غشنی الدھر ابن عبداللہ

ابن عبداللہ زمانہ ہے خلاف


کن مغیثا فانت لی مدری

اے مرے مولٰی خبر لیجئے مری


نام احمد چوں حصینے شد حصین

پس چہ باشد ذات آں روح الامین


کچھ عمل ہی اور نہ اطاعت میرے پاس

ہے مگر دل میں محبت آپ کی


میں ہوں بس اور آپ کا دریا یارسول

ابر غم گھیرے نہ پھر مجھ کو کبھی


خواب میں چہرہ دکھا دیجئے مجھے

اور میرے عیبوں کو کر دیجئے خفی


درگزر کرنا خطاو عیب سے

سب سے بڑھ کر ہے یہ خصلت آپ کی


سب خلائق کیلئے رحمت ہیں آپ

خاص کر جو ہیں گناہگار و غوی


کاش ہو جاتا مدینہ کی میں خاک

نعل بوسی ہوتی کافی آپ کی


آپ پر ہوں رحمتیں بے انتہا

حضرت حق کی طرف سے دائمی


جس قدر دنیا میں ہے ریت اور سانس

اور بھی ہے جس قدر روئیگی


اور تمہاری آل پر اصحاب پر

تابقائے عمر دار اخروی


الصّلوٰۃ والسّلام علیک یارسول اللہ پڑھنے کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے کیونکہ عالمِ امر مقید نہیں ہے دور و نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا فرمان مرشد اکابرین دیوبند جناب حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ امداد المشتاق صفحہ نمبر 60 ۔ کیا حاجی صاحب کے اس فرمان پر تھانوی صاحب سمیت کسی بھی دیوبندی عالم نے شرک و گمراہی کا فتویٰ لگایا اگر لگایا ہے تو ہمارے علم میں اضافہ کےلیے بتایا جائے ؟


اگر نہیں لگا تو مسلمانان اہلسنت کیا کیا قصور ہے کہ وہ یہ درود پڑھیں تو دیوبند کی شرک و گمراہی کی توپیں کھل جاتی ہیں اور امت مسلمہ پر فتوے لگا کر انتشار و فساد پھیلایا جاتا ہے آخر یہ دوغلہ پن و دہرا معیار فتویٰ کیوں ؟


یاد رہے اس جملہ پر بھی غور کیا جائے کہ : عالم امر مقید نہیں ہے دور و نزدیک کوئی حیثیت نہیں ۔ جب دور و نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا تو دور و نزدیک بحث عبث یعنی بے کار ہے ۔


یا پھر مان لیجیے اپنے لیے فتوے اور ہیں اور مسلمانان اہلسنت کےلیے اور ہیں اور اس طرح کے دہرے معیار سے آپ لوگ امتِ مسلمہ پر شرک کے فتوے لگا کر فتنہ و انتشار پھیلاتے ہیں ۔


اعتراض : یارسول اللہ انظر حالنا پڑھنا یہ استغاثہ ہے اور دعا عبادت ہے اور عبادت صرف اللہ کی جاتی ہے دعا میں استغاثہ کی صورت میں غیر اللہ کی عبادت کا شبہ آتا ہے ۔


جواب : دعا کو اپنے گمان میں " ایاک نعبد " کی طرح پرستش سمجھ بیٹھنا

یعنی یہ اشعار پڑھنے والا : ⬇


یارسول اللہ انظر حالنا

یاحبیب اللہ اسمع قالنا

اننی فی بحر ھم مغرق

خذ یدی سہل لنااشکالنا


پڑھتا تو اس کا مطلب کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے  سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرستش کا شبہ آتا ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کا اصطلاحی معنی بیان کردیا جائے تاکہ وسوسہ شیطانی اور گمراہ فرقوں کے فریب کا ازالہ ہو جائے حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ : عبادت کا اصطلاحی معنی ، عبادت کا اصطلاحی معنی یہ ہیں کہ کسی کو خالق یا خالق کا حصہ دار مان کر اس کی اطاعت کرنا جب تک یہ نیت نہ ہو تب تک اسے عبادت نہیں کہا جائے گا ۔ اب بت پرست " بت " کے سامنے سجدہ کرتا ہے اور مسلمان کعبہ کے سامنے وہاں بھی پتھر ہی ہیں  لیکن وہ مشرک ہے اور ہم موحد کفار اپنے دیوتاؤں رام چندر وغیرہ کو مانتا ہے مسلمان نبیوں ولیوں کو پھر کیا وجہ کہ وہ مشرک ہو گیا اور یہ موحد رہا فرق یہی ہے کہ وہ انہیں "الوہیت" میں حصہ دار مانتا ہے ہم ان کو اللہ کا خاص بندہ مانتے ہیں بہر حال "عبادت" میں یہ قید ہے کہ جس کی اطاعت کرے اس کو اپنا خالق مانے ۔ (تفسیر نعیمی جلد اول صفحہ نمبر 73)


 رہا یہ سوال کہ : ⬇


یارسول اللہ انظر حالنا

یاحبیب اللہ اسمع قالنا

اننی فی بحر ھم مغرق

خذیدی سہل لنااشکالنا


کہنے سے غیر اللہ کی پرستش  کا شبہ اورشرک تو نہیں تو اس سلسلے میں حضرت حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ : انبیاء ٬ اولیاء سے امداد لینا حقیقت میں رب ہی سے امداد لینا ہے کیونکہ ؛ اس کی امداد " دو " طرح کی ہے ۔ 1 بالواسطہ ۔ 2 بِلاواسطہ ۔ اللہ کے بندوں کی مدد رب کے فیضانِ کا واسطہ ہے قرآن کریم نے غیر خدا سے امداد لینے کا خود حکم فرمایا ارشاد بار تعالیٰ ہے ،،استعینوا بالصبر والصلوہ،، مسلمانوں مدد لو ! صبر و نماز سے ٬ صبر و نماز بھی غیر خدا ہیں ۔ نیز فرماتا ہے  " ان تنصرواللہ ینصرکم " اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا ۔ رب تعالیٰ غنی ہوکر بندوں سے مدد طلب فرماتا ہے تو اگر ہم محتاج بندے کسی بندے سے مدد مانگیں تو کیا برائی ۔ نیز حضرت ذوالقرنین کا قول نقل فرماتا ہے " اعینونی بقوۃ " تم لوگ میری مدد کرو! اپنی قوت سے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا " من انصاری الی اللہ " میرا مددگار کون ہے اللہ کی طرف ۔ نیز قرآن کریم نے فرمایا " وتعاونوا علی البر والتقوی " یعنی ایک دوسرے کی مدد کرو ! بھلائی اور پرہیزگاری پر ۔ غرض کہ ؛ قرآن کریم نے جگہ جگہ غیر خدا سے مدد لینے کا حکم فرمایا ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کا نام ہے " انصار " جس کے معنیٰ ہیں " مددگار " اگر غیر خدا سے مدد لینا شرک ہو تو یہ نام ہی مشرکانہ ہو ۔ (تفسیر نعیمی جلد اول صفحہ نمبر 81/82،چشتی)


اس تفصیل سے بخوبی واضح ہوگیا کہ ان اشعار کا : ⬇


یارسول اللہ انظر حالنا

یاحبیب اللہ اسمع قالنا

اننی فی بحر ھم مغرق 

خذیدی سہل لنااشکالنا


کہنا ٬ پڑھنا جائز و درست ہے ۔ اس دعا سے غیر خدا کی عبادت کا شبہ آنا وسوسہ شیطانی اور گمراہ فرقوں کا فریب ہے ۔


 یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پکارنا شرک نہیں ہے : ⏬


محترم قارئینِ کرام : کچھ لوگ جوشِ توحید میں صیغۂ خطاب کے ساتھ آقائے دوجہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ و سلام کو استعانت بالغیر کہہ کر شرک قرار دیتے ہیں اوراسے ناجائز سمجھتے ہیں جو سراسر غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارنے سے منع نہیں کیا بلکہ پکارنے کے آداب سکھائے ہیں ، ارشادِ ربّانی ہے : لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۔

ترجمہ : (اے مسلمانو!) تم رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی مثل قرار نہ دو (جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلانا تمہارے باہمی بلاوے کی مثل نہیں تو خود رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی تمہاری مثل کیسے ہو سکتی ہے) ، بیشک اللہ ایسے لوگوں کو (خوب) جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ میں (دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) چپکے سے کھسک جاتے ہیں، پس وہ لوگ ڈریں جو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے امرِ (ادب) کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کہ (دنیا میں ہی) انہیں کوئی آفت آپہنچے گی یا (آخرت میں) ان پر دردناک عذاب آن پڑے گا ۔ (النور، 24 : 63)


اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں ائمہ تفسیر نے حضرت سیدنا عبد ﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارتے وقت ’’یا محمد‘‘ اور ’’یا ابا القاسم‘‘ کہا کرتے تھے ۔


امام محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : فنهاهم ﷲ تعالي عن ذالک بقوله سبحانه : لا تجعلوا. . . الآية إعظاما لنبيه صلي الله عليه وآله وسلم، فقالوا : يا نبي ﷲ يا رسول ﷲ ۔

ترجمہ : پس اللہ عزوجل نے انہیں اپنے اس فرمان ’’ لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ‘‘ کے ذریعہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم کی خاطر منع فرمایا۔ پس صحابہ نے بوقت نداء یا نبی ﷲ، یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کہنا شروع کر دیا۔‘‘(آلوسی، روح المعانی، 18 : 204،چشتی)


تمام علمائے امت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لاپرواہی اور بے توجہی و بے اعتنائی کے طور پر ذاتی نام سے پکارنا حرام ہے اور یہ حکم حیاتِ ظاہری کے ساتھ مختص نہیں بلکہ قیامت تک کے لئے ہے ۔ تمام اہلِ ایمان کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارنا جائز ہے خواہ قریب ہوں یا بعید اور خواہ حیاتِ ظاہری ہو یا بعد از وصال ۔ آیتِ مبارکہ میں وارد ہونے والی نہی کا محل دراصل وہ عامیانہ لہجہ اور طرزِ گفتگو ہے جو صحابہ اور اہلِ عرب ایک دوسرے سے بلا تکلف اختیار کرتے تھے ۔ اس حکمِ نہی میں مطلق ندا سے منع نہیں کیا گیا اس لیے تعظیم و تکریم پر مشتمل ندا جائز ہے ۔


دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ مدعائے کلام بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و توقیر کی تعلیم ہے لہٰذا اگر صیغہ خطاب کے ساتھ ادب و تعظیم کا تقاضا پورا نہ ہو اور عرفاً و معناً اس ندا سے گستاخی اور اہانتِ رسول کا پہلو نکلتا ہو تو وہ ندا ممنوع اور حرام ہوگی وگرنہ نہیں ۔ اہلِ ایمان حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیے بغیر، منصبِ نبوت و رسالت کے ساتھ پکارتے ہیں تو اس میں محبت، ادب، تعظیم اور توقیر مراد ہوتی ہے ۔


نداء کے جواز کا تیسرا سبب یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریب و بعید اور حیاتِ ظاہری اور بعد از وصال تمام اہلِ ایمان کو تشہد میں سلام پیش کرنے کا جو طریقہ تعلیم فرمایا اس میں دعا و پکار اور نداء بطریقِ خطاب ہی وارد ہے ۔ یہ تلفّظ محض حکایۃً نہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے شبِ معراج حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرمایا تھا بلکہ ضروری ہے کہ ہر نمازی اپنی طرف سے بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ ﷲِ وَ بَرَکَاتُه. (یا نبی! آپ پر خاص سلامتی ، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں) کے کلمات کے ساتھ سلام پیش کرے ۔ تمام اہلِ ایمان کو اپنی طرف سے بطور انشاء بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سلام بھیجنا لازم ہے۔ ذیل میں ہم اس سلسلے میں محدثین و محققین کی آراء پیش کرتے ہیں ۔


امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اجمع الأربعة علي أن المصلي يقول : أيُّهَا النَّبِيُّ. وأن هذا من خصوصياته عليه السلام، إذ لو خاطب مصلٍ أحدًا غيره و يقول السلام عليک بطلت صلاته ۔

ترجمہ : ائمہ اربعہ کا اس امر پر اجماع ہے کہ نمازی تشہد میں ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِيُّ‘‘ کہے اور یہ اندازِ سلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے ۔ اگر کوئی نمازی آپ کے علاوہ کسی ایک کو بھی خطاب کرے اور ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ‘‘ کہے تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی ۔ (ملا علی قاري، شرح الشفاء، 2 : 120)


امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے الخصائص الکبریٰ میں ایک مکمل باب قائم کیا ہے اور اس خصوصیت کو درج ذیل عنوان سے تعبیر کرتے ہوئے لکھا ہے : باب اختصاصه صلي الله عليه وآله وسلم بأن المصلي يخاطبه بقوله ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ‘‘ ولا يخاطب سائر الناس ۔

ترجمہ : یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس امر کے ساتھ مختص ہیں کہ نمازی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صیغہ خطاب کے ساتھ اس طرح سلام پیش کرتا ہے ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِيُّ‘‘ اور وہ تمام لوگوں کو مخاطب نہیں ہو سکتا ۔ (الخصائص الکبري، 2 : 253،چشتی)


امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ المواہب اللدنیہ میں اور امام زرقانی شرح المواہب میں اسی خصوصیت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ومنها أن المصلي يخاطبه بقوله : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ ﷲِ وَ بَرَکَاتُه کما في حديث التشهد والصلوٰة صحيحة. ولا يخاطب غيره من الخلق ملکا أو شيطانا أو جمادًا أو ميتاً ۔

ترجمہ : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ نمازی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ ﷲِ وَ بَرَکَاتُه‘‘ کے کلمات کے ساتھ خطاب کرتا ہے جیسا کہ حدیثِ تشہد میں ہے اور اس کے باوجود اس کی نماز صحیح رہتی ہے ۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ مخلوق میں سے کسی فرشتے یا شیطان اور جماد یا میت کو خطاب نہیں کر سکتا ۔ (زرقانی، شرح المواهب اللدنيه جلد 5 صفحہ 308)


امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے احیاء العلوم میں کیا ایمان افروز عبارت لکھی ہے فرماتے ہیں : واحضر فی قلبک النبي صلي الله عليه وآله وسلم وشخصه الکريم، وقُلْ : سَلَامٌ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ ﷲِ وَ بَرَکَاتُه. وليصدق أملک في أنه يبلغه و يرد عليک ما هو أوفٰي منه.

ترجمہ : (اے نمازی! پہلے) تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کریم شخصیت اور ذاتِ مقدسہ کو اپنے دل میں حاضر کر پھر کہہ : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ ﷲِ وَ بَرَکَاتُه . تیری امید اور آرزو اس معاملہ میں مبنی پر صدق و اخلاص ہونی چاہیے کہ تیرا سلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے کامل تر جواب سے تجھے نوازتے ہیں ۔ (إحياء علوم الدين جلد 1 صفحہ 151)


اس عبارت سے یہ امر واضح ہوا کہ اگر خطاب اپنے ظاہری معنی و مفہوم میں نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ کو مستحضر سمجھ کر سلام پیش کرنے کی تلقین نہ کی جاتی ۔


نماز میں صیغۂ خطاب سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب ہونے کی حکمت امام طیبی نے بھی بیان کی ہے جسے امام ابنِ حجر عسقلانی نے فتح الباری میں نقل کیا ہے : إن المصلين لما استفتحوا باب الملکوت بالتحيات أذن لهم بالدخول في حريم الحي الذي لا يموت، فَقَرَّت أعينهم بالمناجاة. فنبهوا أن ذلک بواسطة نبي الرحمة وبرکة متابعته. فالتفتوا فإذا الحبيب في حرم الحبيب حاضر فأقبلوا عليه قائلين : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَة ﷲِ وَ بَرَکَاتُه ۔

ترجمہ : بے شک نمازی جب التحیات سے ملکوتی دروازہ کھولتے ہیں تو انہیں ذاتِ باری تعالیٰ حَیٌّ لَا يَمُوْتُ کے حریمِ قدس میں داخل ہونے کی اجازت نصیب ہوتی ہے، پس مناجاتِ ربانی کے سبب ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک عطا ہوتی ہے۔ پھر انہیں متنبہ کیا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت اور آپ کی متابعت کی برکت سے حاصل ہوا ہے۔ پس وہ ادھر توجہ اور التفات کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کریم رب کے حضور میں موجود ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف یوں سلام پیش کرتے ہوئے متوجہ ہوتے ہیں : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ ﷲِ وَ بَرَکَاتُه ۔ (فتح الباري، 2 : 314)


شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ صیغہ خطاب کی وجہ پر محققانہ کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں : و بعضے از عرفاء گفتہ اند کہ ایں خطاب بجہت سریان حقیقۃ محمدیہ است در ذرائر موجودات وافراد ممکنات۔ پس آن حضرت در ذات مصلیان موجود و حاضر است۔ پس مصلی باید کہ ازیں معنی آگاہ باشد وازین شہود غافل نبود تا بانوار قرب و اسرار معرفت متنور و فائز گردد ۔

ترجمہ : بعض عرفاء نے کہا ہے کہ اس خطاب کی جہت حقیقتِ محمدیہ کی طرف ہے جو کہ تمام موجودات کے ذرہ ذرہ اور ممکنات کے ہر ہر فرد میں سرایت کیے ہوئے ہیں۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازیوں کی ذاتوں میں حاضر و موجود ہیں لہٰذا نمازی کو چاہئے وہ اس معنی سے آگاہ رہے اور اس شہود سے غافل نہ ہو یہاں تک کہ انوارِ قرب اور اسرارِ معرفت سے منور اور مستفید ہوجائے ۔ (اشعة اللمعات، 1 : 401،چشتی)


شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں : ذکر کن او را و درود بفرست بروے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و باش در حال ذکر گویا حاضر است پیش تو در حالتِ حیات، و می بینی تو او را امتادب با جلال و تعظیم و ہیبت وحیاء۔ بد آنکہ وے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم می بیند ترا و می شنید کلام ترا زیرا کہ وے متصف است بصفات ﷲ تعالیٰ ۔ ویکے از صفات الٰہی آنست کہ انا جلیس من ذکرنی و پیغمبر را نصیب وافر است ازیں صفت ۔

ترجمہ : (اے مخاطب!) تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کر اور ان پر درود بھیج اور حالتِ ذکر میں اس طرح سمجھ کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حیات ظاہری میں تیرے سامنے موجود ہیں، اور تو جلالت و عظمت کو ملحوظ رکھ کر اور ہیبت و حیاء کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہے۔ یقین جان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے دیکھتے ہیں اور تیرا کلام سنتے ہیں کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی صفات کے ساتھ موصوف و متصف ہیں۔ ان صفاتِ ربانی میں سے ایک صفت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أَنَا جَلِيْسُ مَنْ ذَکَرَنِيْ (میں اس کا ہم نشین ہوں جو مجھے یاد کرے) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس صفتِ الہٰیہ سے وافر حصہ حاصل ہے ۔ (اشعة اللمعات، 2 : 621)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دور نہیں ہیں یا مجتبیٰ پکارنا آپ مدد گار ہیں : ⏬


حکیمُ الاُمّتِ دیوبند جناب اشر فعلی تھانوی لکھتے ہیں : یا مرتضیٰ یا مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلّم آپ صلی اللہ علیہ وسلّم ہمارے دلوں کا حال بیان کرنے والے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلّم کو مرحبا آپ صلی اللہ علیہ وسلّم غائب ہوں  تو موت آجائے دنیا تاریک ہوجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلّم لوگوں کے مدد گار اور خیر خواہ  ہیں ۔ (حیات المسلمین صفحہ 51 حکیم الامت دیوبند جناب اشر فعلی تھانوی مطبوعہ مکتبہ امیزان اردو بازار لاہور) ۔ (حیات المسلمین صفحہ 9 ، 10 حکیم الامت دیوبند علامہ اشرف علی تھانوی مطبوعہ مکتبہ ختم نبوت بند روڈ کراچی) ۔ (حیات المسلمین صفحہ نمبر  9  ۔ حکیم الامت دیوبند علامہ اشرف علی تھانوی مکتبہ معارف القرآن کراچی،چشتی)


مفتیانِ دیوبند سے سوال حکیمِ دیوبند اس طرح پکار اور لکھ کر مشرک ہوئے کہ نہیں اگر ہوئے تو علمائے دیوبند کی طرف سے آج تک کوئی فتویٰ اس پر لگایا گیا ہو تو ثبوت دیں اگر مشرک نہیں ہوئے اور یہ شرک نہیں تو پھر مسلمانانِ اہلسنت پر شرک کے فتوے کیوں ؟


احبابِ دیوبند سے گذارش ہے آیئے حکیمِ دیوبند کے بیان کردہ عقیدہ کو ہی مان لیجیئے اختلاف ختم ہو سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ محبت و ادب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم عطاء فرمائے آمین ۔


دیوبندیوں کے امامُ الحدیث جناب علامہ محمد زکریا کاندہلوی لکھتے ہیں کہ : بعض عارفین کا قول ہے کہ تشہد میں ایھا النبی کا یہ خطاب ممکنات اور موجودات کی ذات میں حقیقت محمدیہ کے سرایت کرنے کے اعتبار سے ہے ، چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نماز پڑھنے والوں کی ذات میں موجود اور حاضر ہوتے ہیں اس لئے نماز پڑھنے والوں کو چائیے کہ اس بات کا خصوصیت کے ساتھ خیال رکھیں اور آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اس حاضری سے غافل نہ ہوں تاکہ قرب و معیت کے انوارات اور عرفت کے اسرار حاصل کرنے میں کامیاب رہیں ۔ (اؤجزُالمسالک  جز ثانی صفحہ نمبر  225  مطبوعہ دارالقلم دمشق)


نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم حاضر و ناظر ہیں وہابیوں کا اقرار


غیر مقلدوں کے امام نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہر حال اور ہر آن میں مومنین کے مرکز نگاہ اور عابدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں ، خصوصیات کی حالت میں انکشاف اور نورانیت ذیادہ قوی اور شدید ہوتی ہے ، بعض عارفین کا قول ہے کہ تشہد میں ایھا النبی کا یہ خطاب ممکنات اور موجودات کی ذات میں حقیقت محمدیہ کے سرایت کرنے کے اعتبار سے ہے ، چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نماز پڑھنے والوں کی ذات میں موجود اور حاضر ہوتے ہیں اس لئے نماز پڑھنے والوں کو چائیے کہ اس بات کا خصوصیت کے ساتھ خیال رکھیں اور آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اس حاضری سے غافل نہ ہوں تاکہ قرب و معیت کے انوارات اور عرفت کے اسرار حاصل کرنے میں کامیاب رہیں ۔ ( مسک الختام شرح بلوغ المرام جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 244،چشتی)


ایک شبہ اور اس کا ازالہ : بعض لوگوں کا کہنا یہ بھی ہے کہ صحابہ کرام بعد از وصالِ نبوی اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ کی بجائے اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ کہتے تھے لہٰذا اب سلام بصیغہ خطاب کہنا جائز نہیں ہے اس لئے شرک ہے۔ ذہن نشین رہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف اور صرف اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ ﷲِ وَ بَرَکَاتُه کے اندازِ نداء و خطاب میں ہی سلام پیش کرنے کا طریقہ سکھلایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قطعاً یہ نہیں فرمایا کہ میری ظاہری حیات میں تو مجھ پر سلام نداء و خطاب کے ساتھ پیش کریں اور بعد از وصال بدل دی ں۔ اگر بعد از وصال نداء و خطاب کے انداز میں سلام پیش کرنا جائز نہیں تھا تو گویا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشہد کے بارے میں تعلیم ادھوری اور ناقص رہ گئی؟ (معاذ ﷲ) کیا کوئی عام مسلمان بھی یہ تصور کر سکتا ہے ؟ ہر گز نہیں ۔


حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدِ خلافت میں منبر پر بیٹھ کر نداء و خطاب پر مشتمل تشہد و سلام کی تعلیم دی اور اکابر صحابہ کی موجودگی میں یہ تلقین فرمائی اور کسی صحابی نے اس کا انکار نہیں کیا۔ خطاب کے صیغہ کے ساتھ سلام پیش کرنے پر اجماعِ صحابہ ہے۔ خلفائے راشدین اور دیگر اکابر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ کے صیغہ خطاب کے ساتھ سلام پیش کیا ہے ۔ تاہم اتنا کہا جا سکتا ہے کہ نداء و خطاب کے صیغہ کے ساتھ سلام پیش کرنا واجب نہیں ہے لیکن وجوب کی نفی سے جواز بلکہ استحباب کی نفی بھی لازم نہیں آتی کیونکہ خلفائے راشدین اور اہلِ مدینہ کا اجماع اور جمہور امت کا اسی پر مداومت کے ساتھ عمل اس پر شاہدِ عادل اور دلیلِ صادق ہے۔ علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کا اس پر قول بطور دلیل ہم پچھلے صفحات میں نقل کر آئے ہیں کہ جمہور امت کے نزدیک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بصیغہ نداء و خطاب کے ساتھ سلام پیش کرنا بالکل جائز ہے ۔


حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کی ظاہری حیاتِ طیبہ اور بعد از وصال صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سلف صالحین نے قریب اور بعید کی مسافت کے فرق کے بغیر بصیغہ نداء و خطاب پکارا ۔ مستند کتبِ احادیث اور سیر میں درجنوں واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ اکابر اور سلف صالحین کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بصیغہ خطاب پکارنے میں کسی قسم کے الجھاؤ اور شک و شبہ میں مبتلا نہیں رہے ۔ انہوں نے اپنی اپنی کتب میں اس عقیدہ صحیحہ کو بڑی شرح و بسط کے ساتھ واضح کیا ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Sunday, 24 May 2026

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے نام بدل دیتے تھے اور پنجاب کے حکمران اچھے ناموں کو بُرے ناموں میں بدل رہے ہیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے نام بدل دیتے تھے اور پنجاب کے حکمران اچھے ناموں کو بُرے ناموں میں بدل رہے ہیں

محترم قارئینِ کرام : ایسا نام جو خاص کفار رکھتے ہوں یا ان کی علامت اور پہچان ہو ، مسلمان کو رکھنا جائز نہیں ، لہٰذا اسے تبدیل کرنا ضروری ہے ۔ مگر ہمارے پنجاب کے حکمران مختلف مقامات کے اسلامی نام بدل کر ہندوٶں اور انگریزوں والے نام رکھ اور بحال کر رہے ہیں جن مقامات کے ناموں کو اسلامی بنانے اور پاکستان حاصل کرنے کےلیے بیشمار قربانیاں دی گٸیں آج جس طرح ھندوستان میں مودی مقامات کے مسلم نام بدل رہا اسی کی پیروی کرتے ہوۓ پنجاب کے حکمران کر رہے ہیں ۔ امام ابو عمر یوسف بن عبد اللہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ الاستیعاب میں ، امام عزالدین ابن اثیر جزری رحمۃ اللہ علیہ اسد الغابہ میں اور امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ میں لکھتے ہیں : حضرت عبد العزیز بن بدر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم کے ساتھ حاضر ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ما اسمك ؟ قال : عبد ‌العزى ، فغير علیہ السلام اسمه، وسماه عبد العزیز ۔

ترجمہ : تمہارا نام کیا ہے ؟ عرض کی : عبدُ الْعُزّی(عزی کفار کے بت کانام کا بندہ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کا نام بدل کر عبدالعزیز (غالب و طاقتور کا بندہ) رکھ دیا ۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب جلد 3 صفحہ 1006 مطبوعہ دار الجيل، بيروت)


نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر میں چونکہ ناموں کی غیرمعمولی اہمیت تھی ، اس لیے آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا عام معمول یہ تھا کہ جب کوئی اسلام قبول کرتا ، اور اس کا نام قابلِ اصلاح ہوتا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہایت اہتمام سے اس کے نام کی اصلاح فرماتے تھے ، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں : أن النبي أن يغير الاسم القبيح ، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے ناموں کو اچھے ناموں سے بدلتے تھے ۔ (سنن الترمذی جلد ۵ صفحہ ۱۱۴ باب فی تغير الأسماء مطبوعہ دارالرسالۃ العالميۃ)


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بشار ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ، وَقَالَ: أَنْتِ جَمِيلَةُ ۔ قَالَ أَحْمَدُ مَكَانَ ، أَخْبَرَنِي عَنْ ۔

ترجمہ : احمد بن حنبل ، زہیر بن حرب ، محمد بن مثنیٰ ، عبیداللہ بن سعید اور محمد بن بشار نے (ان سب نے) کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاصیہ (نافرمانی کرنے والی) کا نام تبدیل کر دیا اور فرمایا : تم جمیلہ (خوبصورت) ہو ۔ احمد نے (مجھے خبر دی) کی جگہ (سے روایت ہے) کہا ہے ۔ (صحيح مسلم كتاب الآداب حدیث نمبر 5604)


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" مَا اسْمُكَ , قَالَ: حَزْنٌ , قَالَ: أَنْتَ سَهْلٌ , قَالَ: لَا، السَّهْلُ يُوطَأُ وَيُمْتَهَنُ" , قَالَ سَعِيدٌ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُصِيبُنَا بَعْدَهُ حُزُونَةٌ، قَالَ أبو داود: وَغَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الْعَاصِ، وَعَزِيزٍ، وَعَتَلَةَ، وَشَيْطَانٍ، وَالْحَكَمِ، وَغُرَابٍ، وَحُباب، وَشِهَابٍ، فَسَمَّاهُ: هِشَامًا، وَسَمَّى حَرْبًا: سَلْمًا، وَسَمَّى الْمُضْطَجِعَ: الْمُنْبَعِثَ، وَأَرْضًا تُسَمَّى عَفِرَةَ سَمَّاهَا: خَضِرَةَ، وَشَعْبَ الضَّلَالَةِ سَمَّاهُ: شَعْبَ الْهُدَى، وَبَنُو الزِّنْيَةِ سَمَّاهُمْ: بَنِي الرِّشْدَةِ، وَسَمَّى بَنِي مُغْوِيَةَ: بَنِي رِشْدَةَ , قَالَ أبو داود: تَرَكْتُ أَسَانِيدَهَا لِلِاخْتِصَارِ ۔

ترجمہ : حرت سعید بن مسیب کے دادا (حزن رضی اللہ عنہم) سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ کہا : حزن آپ نے فرمایا : تم سہل ہو ، انہوں نے کہا : نہیں ، سہل روندا جانا اور ذلیل کیا جانا ہے ، سعید کہتے ہیں : تو میں نے جانا کہ اس کے بعد ہم لوگوں کو دشواری پیش آئے گی (اس لیے کہ میرے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بتایا ہوا نام ناپسند کیا تھا) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاص (گنہگار) عزیز (اللہ کا نام ہے) ، عتلہ (سختی) شیطان ، حکم (اللہ کی صفت ہے) ، غراب (کوے کو کہتے ہیں اور اس کے معنی دوری اور غربت کے ہیں) ، حباب (شیطان کا نام) اور شہاب (شیطان کو بھگانے والا ایک شعلہ ہے) کے نام بدل دیے اور شہاب کا نام ہشام رکھ دیا ، اور حرب (جنگ) کے بدلے سلم (امن) رکھا ، مضطجع (لیٹنے والا) کے بدلے منبعث (اٹھنے والا) رکھا ، اور جس زمین کا نام عفرۃ (بنجر اور غیر آباد) تھا ، اس کا خضرہ (سرسبز و شاداب) رکھا ، شعب الضلالۃ (گمراہی کی گھاٹی) کا نام شعب الہدی (ہدایت کی گھاٹی) رکھا ، اور بنو زنیہ کا نام بنو رشدہ اور بنو مغویہ کا نام بنو رشدہ رکھ دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے اختصار کی غرض سے ان سب کی سندیں چھوڑ دی ہیں ۔ (سنن ابي داود كتاب الأدب حدیث نمبر 4956)(صحیح البخاری الأداب 107 حدیث نمبر 6190) ، 108 حدیث نمبر 6193)(تحفة الأشراف حدیث نمبر 3400))(مسند احمد جد 5 حدیث نمبر 433)


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَمِّهِ أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ : أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ : أَصْرَ مُكَانَ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ أَتَوْ الرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا اسْمُكَ , قال : أَنَا أَصْرَمُ , قَالَ : بَلْ أَنْتَ زُرْعَةُ ۔

ترجمہ : اسامہ بن اخدری تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ ایک آدمی جسے ، اصرم (بہت زیادہ کاٹنے والا) کہا جاتا تھا ، اس گروہ میں تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا : میں اصرم ہوں ، آپ نے فرمایا : نہیں تم اصرم نہیں بلکہ زرعہ (کھیتی لگانے والے) ہو ، (یعنی آج سے تمہارا نام زرعہ ہے ) ۔ (سنن ابي داود كتاب الأدب حدیث نمبر 4954)


حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ، فَقِيلَ: تُزَكِّي نَفْسَهَا، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ۔

ترجمہ : ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ، انہیں شعبہ نے ، انہیں عطاء بن ابی میمونہ نے ، انہیں ابورافع نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا ، کہا جانے لگا کہ وہ اپنی پاکی ظاہر کرتی ہیں ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھا ۔ (صحيح البخاری كتاب الأدب حدیث نمبر 6192)


امام طَحْطاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی : 1231ھ/1815ء) لکھتے ہیں : قسم یختص بالکفار … کجرجس وپطرس ویوحنا ، … فھذا لایجوز للمسلمین التسمی بہ لما فیہ من المشابھۃ ۔

ترجمہ : ناموں کی ایک قسم کفار کے ساتھ خاص ہے، جیسے جرجس ، پطرس اور یوحنا ، وغیرہ ، لہٰذا اس قسم کے نام مسلمانوں کےلیے رکھنا جائز نہیں ، کیونکہ اس میں کفار سے مشابہت پائی جاتی ہے ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار جلد 2 صفحہ 473 مطبوعہ کوئٹہ،چشتی)


امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں : دسوندی نام کفّار ہنود سے ماخوذ ہے اور مسلمان کو ممانعت ہے کہ کافروں کے نام رکھے ، کما صرحوا بہ فی التسمی بیوحنا ، وغیرہ ، (جیسا کہ یوحنا نام رکھنے کے متعلق فقہاء نے تصریح فرمائی ہے) ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 23 صفحہ 260 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)


ایک اَور مقام پر امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ سےسوال ہوا کہ : بکرنے اپنی اولاد کے نام تین زبانوں میں رکھ چھوڑے ہیں ، عربی انگریزی، ہندی ، ایک لڑکے کا مطیع الاسلام ہے ، دوسرے کا پالس ، لڑکی کا نام کنول دیوی ، جواس سے کہا جاتا ہے ، تو کہتا ہے کہ زبان کا فرق ہے ، مگر بُرے نہیں ، تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نےجواباً ارشاد فرمایا : یہ اس کافعل شیطانی شیطانی حرکت ہے ۔ قال ﷲ تعالیٰ : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ۔ (یعنی) اے ایمان والو!اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو ، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ (القرآن الکریم ، 2 / 208) ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 663 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور،چشتی)


شریعت کی نظر میں کونسا نام بُرا ہے ، اس حوالے سے اُصول بیان کرتے ہوئے علامہ ابوالمَعَالی بخاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 616ھ /1219ء) لکھتےہیں : التسميةباسم لم يذكره اللہ تعالى في كتابه ولا ذكره رسول اللہ عليه السلام ، ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه ، والأولى أن لا تفعل ۔

ترجمہ : ایسانام رکھنا جس کا ذکر نہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن کریم میں کیا ہو ، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (احادیث میں ) کیا ہو اور نہ ہی مسلمانوں میں ایسانام مستعمل ہو ، تواس میں علماء کا اختلاف ہے  اور بہتریہ ہے کہ نہ رکھے ۔ (المحیط البرھانی کتاب الاستحسان جلد 5 صفحہ 382 دارالکتب العلمیۃ بیروت) ، یونہی فتاوی عالمگیری ، فتاوی شامی اور بریقہ محمودیہ شرح طریقہ محمدیہ میں ہے  ۔ اسی طرح اوپر مراٰۃ المناجیح کے جزئیہ میں بیان ہوا  کہ جو نام بے معنی ہو ، جس میں فخر و تکبر پایا جاتا ہو اور جس کے معنی بُرے ہوں، وہ نام رکھنا بھی بُرا ہے ۔


وہ بعض نام جو نبی کریم صَلَّی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبدیل فرمائے ، صحیح مسلم ، سنن ترمذی اور دیگر کتب احادیث میں ہے : عن ‌ابن عمرأن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غیراسم عاصیۃ ، وقال أنت جميلة ۔

ترجمہ : حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاصیہ نام تبدیل کیا اور فرمایا :  تم (تمہارا نام) جمیلہ ہو ۔ (سنن الترمذی کتاب الادب جلد 2 صفحہ 572 مطبوعہ لاھور،چشتی)


اس حدیث پاک کے تحت امام علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1014ھ  /1605ء) لکھتے ہیں : قال النووي :  وفيه استحباب تغییر الاسم ‌القبيح ، كما يستحب تغيير الأسامي المكروهة إلى حسن ۔

ترجمہ : امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نےفرمایا : اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ برے نام کو بدلنا مستحب ہے ، جیساکہ ناپسندیدہ ناموں کو اچھے ناموں میں تبدیل کرنا مستحب ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح باب الاسامی جلد 79 صفحہ 16 مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)


سنن ابوداؤد میں ہے : قال أبو داود : وغيّر النبي صلى اللہ عليه وسلم اسم العاص ‌وعزيز وعتلة وشيطان والحكم وغرإب وحباب، وشهاب فسماه هشاما، وسمى حربا : سلما ، وسمى المضطجع المنبعث، وأرضا تسمى عفرة سماها خضرة وشعب الضلالة سماه شعب الهدى ، وبنو الزنية سماهم بني الرشدة ، وسمى بني مغوية بني رشدة ۔

ترجمہ : عظیم محدِّث امام ابوداود رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےعَاص (گنہگار) ، عَزِیْز (غالب ، طاقتور) ، عَتَلَۃ (شدت اور سختی) ، شیطان (ہلاک ہونے والا ، بھلائی سے دور) ، حَکَم (دائمی حکومت والا) ، غُرَاب (کوا ، دور نکل جانے والا) اور حُبَاب (شیطان کا نام ، سانپ کی ایک قسم) کے نام تبدیل فرما دئیے اور شِہَاب (آگ کا شعلہ) کا نام ھِشَام (سخاوت) ، حَرْب (جنگ) کا نام سَلْم (صلح) اور مُضْطَجِع (لیٹنے والا) کا نام مُنْبَعِث (اٹھنے والا)رکھا ۔ (سنن ابی داٶد کتاب الادب جلد 2 صفحہ 335 مطبوعہ لاھور)


اس کے تحت شیخِ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1052ھ) لکھتےہیں : فكره التسمية بهذه الأسماء ۔

ترجمہ : پس ان ناموں میں سے کوئی نام رکھنا مکروہ ہے ۔ (لمعات التنقیح باب الاسامی جلد 8 صفحہ 109 مطبوعہ دار النوادر دمشق)


ان سب جزئیات سے واضح ہوا کہ ایسا نام جس میں کفار سے مشابہت نہ بھی ہو ، مگر وہ اچھا نہ ہو ، تو اسے بھی بدل دینا چاہیے ، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبدیل کر دئیےتھے ، البتہ ایسا نام جو مسلمان اور غیر مسلموں میں مشترک ہو ، اسے تبدیل کرنا ضروری نہیں ہے ، جیسا کہ : یحیی ، عیسی ، سلیمان ، وغیرہا ، لہٰذا اگر کسی غیر مسلم کا ایسا نام ہو ، تو اسلام قبول کرنے کے بعد اسے تبدیل کرنا ضروری نہیں ، کیونکہ یہ دونوں کو رکھنا جائز ہے ، چنانچہ ناموں کے حوالے سے تقسیم کاری بیان کرتے ہوئے امام طَحْطاوی حنفی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِ لکھتے ہیں : قسم یختص بالمسلمین وقسم یختص بالکفار وقسم مشترک ۔ ۔ ۔  والثالث :  کیحیی و عیسی و ایوب و داود و سلیمان و زید و عمرو و عبد اللہ و عطیۃ و سلام ، ونحوھا ، فھذا لایمنع منہ المسلمون ولا اھل الذمۃ ۔

ترجمہ : ناموں کی ایک قسم مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے ، ایک قسم کفار کے ساتھ خاص ہے اور ایک قسم دونوں میں مشترک ہے ۔ ۔ ۔  یہ تیسری قسم کے نام ، مثلاً یحیی ، عیسی ، ایوب ، داود ، سلیمان ، زید ، عَمرو ، عبد اللہ ، عطیہ ، سلام اور ان جیسے دیگر نام ، تو (ان کا حکم یہ ہے کہ) یہ نام رکھنے سے نہ مسلمانوں کو روکا جائے گا اور نہ ہی غیر مسلموں کو ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار جلد 2 صفحہ 473 مطبوعہ کوئٹہ)


اسی مقام پر امام طَحْطاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا کہ وہ اسلامی نام جو مسلمانوں کے ساتھ خاص ہوں وہ غیر مسلم کو رکھنے کی اجازت نہیں ، جیسا کہ محمد ، احمد ، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نام ، مگر غیر مسلم نے رکھ لیا اور بعد میں اسلام قبول کر لیا ، تو اب وہ نام جو اسے پہلے رکھنے کی اجازت نہیں تھی ، اب رکھنے کی اجازت ہو گئی ، لہٰذا اسے بھی تبدیل کرنے کی حاجت نہیں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Saturday, 23 May 2026

آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں

آج بھی چار نبی علیہم السلام دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں


محترم قارئینِ کرام : چار انبیاء علیہم السلام ابھی تک زندہ ہیں ۔ دو آسمان میں (1) حضرت ادریس علیہ السلام (2) حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۔ اوردو زمین پر ۔ (1) حضرت خضر علیہ السلام ۔ (2) حضرت الیاس علیہ السلام ۔ حضرت خضر علیہ السلام سمندر پر اور حضرت الیاس علیہ السلام خشکی پر مُنْتَظِم ہیں ۔ (تفسیر روح البیان سورة الصافات آیت نمبر ۱۲۳  جلد ۷ صفحہ ۴۸۱ ، ۴۸۳)


حظرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آج بھی چار نبی علیہم السلام (دنیاوی حیات کے ساتھ) زندہ ہیں دو زمین پر ہیں اور دو آسمان میں ، جو دو زمین پر ہیں وہ حضرت الیاس اور حضرت خضر ہیں اور جو دو آسمان پر ہیں وہ حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ ہیں علہیم السلام ۔ (تاریخ دمشق جلد ٩ صفحہ ١٥٥)(الدرالمثور جلد ٧ صفحہ ١٠٣ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ)


یاد رہے کہ چار انبیاء علیہم ُالصلوٰۃ والسلام وہ ہیں جن پر ابھی ایک آن کےلیے بھی موت طاری نہیں ہوئی ۔ دو آسمان پر حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ اور دو زمین پر حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہمُ الصلوٰۃ والسلام ۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت صفحہ 505)


نیز یہ بھی یاد رکھیں کہ نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے زمانہ میں اور آپ کے زمانہ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا ، اگر پہلے کے کوئی نبی زندہ ہوں تو مضائقہ نہیں ان کی زندگی حضور انور کے خاتم النبیین ہونے کے خلاف نہیں ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد 8 صفحہ 8)


بارگاہِ رسالت میں حاضری: حضرت الیاس علیہ السَّلام نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لشکر کو ایک غار میں یہ دعا کرتے ملے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنْ اُمَّۃِ اَحْمَدَ الْمَرْحُوْمَۃِ الْمُبَارَکَۃِ الْمُسْتَجَابِ لَھَا ، یعنی اے اﷲ ! مجھے احمد کی امت سے بنادے جس پر تیری رحمت و برکت نازل ہوتی ہے اور جس کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد 9 صفحہ 213)(فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 639،چشتی)


اور نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں سلام پہنچانے کا فرمایا کہ آپ کے بھائی الیاس آ پ کو سلام بھیجتے ہیں ، نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار میں تشریف لائے اور حضرت الیاس سے معانقہ فرمایا پھر دونوں مقدس حضرات نے وہیں بیٹھ کر آپس کی کچھ گفتگو بھی کی ۔ (فیض القدیر جلد 3 صفحہ 672 تحت الحدیث : 4133)


صلح حدیبیہ کے موقع پر جو بیعتُ الرضوان لی گئی اس میں حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہما السَّلام بھی شامل تھے ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد 8 صفحہ 274)


حضرت الیاس اور حضرت خضر علیہما السلام دونوں نبی رمضان کے مبارک مہینے میں بیتُ المقدس میں ہوتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، دونوں صاحبان حج کو ہرسال تشریف لاتے ہیں بعدِ حج آبِ زمزم شریف پیتے ہیں کہ وہی سال بھر تک ان کے کھانے پینے کو کفایت کرتا ہے ۔ (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی جلد 8 صفحہ 86 سورہ الصفت آیت ننبر 123،چشتی)(فتاویٰ رضویہ جلد 26 صفحہ 401)


ایک روایت کے مطابق ہر سال حج کے موسم میں مِنیٰ کے مقام پر ملاقات کرتے ، ایک دوسرے کا حلق فرماتے اور ان کلمات پر باہمی ملاقات ختم فرماتے ہیں : سُبْحٰنَ اللهِ مَا شَاءَ اللهُ لَا يَسُوقُ الْخَيْرَ اِلَّا اللَّهُ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا يُصْلِحُ السُّوْ ءَ اِلَّا اللَّهُ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللَّهِ یعنی اللہ پاک ہے ، جو اللہ چاہے، بھلائی صرف اللہ لاتا ہے ، جو اللہ چاہے ، بُرائی کو صرف اللہ ٹالتا ہے ، جواللہ چاہے ، نیکی کی طاقت صرف اللہ کی توفیق سے ہے ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد 9 صفحہ 211)


حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہُ عنہما فرماتے ہیں : جو ان کلمات کو صبح و شام تین بار پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے ڈوبنے، جل جانے اور  (اس کا مال) چوری ہونے سے محفوظ رکھے گا، شیطان، ظالم بادشاہ، سانپ اور بچھو سے بھی حفاظت کی جائے گی ۔ (سیرت حلبیہ جلد 3 صفحہ 212)


 وفات مبارکہ: سال کے باقی دنوں میں حضرت الیاس علیہ السَّلام تو جنگلوں اور میدانوں میں گشت فرماتے رہتے ہیں اور پہاڑوں اور بیابانوں میں اکیلے اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں جبکہ حضرت خضر علیہ السَّلام دریاؤں اور سمندروں کی سیر فرماتے اور اپنے رب کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں،یہ دونوں مقدس حضرات دین محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کے تابع ہیں اور آخری زمانے میں وفات پائیں گے ۔ (عجائب القرآن صفحہ 294)(مستدرک جلد 3 صفحہ 470 حدیث نمبر 4175،چشتی)(فیض القدیر جلد 4 صفحہ 572 تحت الحدیث : 5880)


امام ابن عسا کر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، ہم ایک جگہ ٹھہرے تو وہاں وادی میں ایک شخص یہ دعا کر رہا تھا : اے اللہ مجھے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے بنا دے جو مرحومہ اور مغفورہ ہے اور ثواب پانے والی ہے ، پس میں نے وادی میں جھانک کر دیکھا تو ایک آدمی کھڑا تھا جس کا قد تین سو ذراع (ساڑھے چار سوفٹ) تھا ، اس نے مجھ سے پوچھا تم کون ہو ؟ میں نے کہا میں انس بن مالک ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خادم ہوں ، اس نے پوچھا وہ کہاں ہیں ، میں نے کہا وہ یہیں ہیں اور تمہاری باتیں سن رہے ہیں ، اس نے کہا تم ان کے پاس جائو اور ان کو میرا سلم پہنچاٶ اور ان سے کہو کہ آپ کا بھائی آپ کو سلام کہہ رہا ہے ، پس میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی ، آپ آئے اور آپ نے ان سے ملاقات کی اور ان سے معانقہ کیا اور سلام کیا اور سلام کیا پھر دونوں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے ، انہوں نے کا یا رسول اللہ ! میں سال میں صرف ایک دن کھانا کھاتا ہوں اور آج میرے کھان کا دن ہے ، پس آپ اور میں دونوں کھاتے ہیں ، پھر آسمان سیایک دستر خوان نازل ہوا اس میں روٹیذ مچھلی اور اجوائن تھی ، ان دونوں نے وہ کھانا کھایا اور مجھے بھی کھلایا اور ہم نے عصر کی نماز پڑھی ، پھر آپ نے ان کو الوداع کیا وہ بادل میں بیٹھ کر آسمان کی طرف چلے گئے ، امام عسا کر کہتے ہیں کہ حافظ بیہقی نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے ۔ (تاریخ دمشق جلد ٩ صفحہ ١٥٩،چشتی)(المستدرک جلد ٢ صفحہ ٦١٧ طبع قدیم)(المستدرک رقم الحدیث : ٤٢٢١ طبع جدید)


امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں : میں کہتا ہوں کہ اس حدیث میں جو قصہ ذکر کیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے لحاظ سے ممکن ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو معجزات عطاء فرمائے ہیں یہ ان کے مشابہ ہے لیکن اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور آپ کے جو معجزات عطا فرمائے ہیں یہ ان کے مشابہ ہے لیکن اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور آپ کے جو معجزات احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں وہ کافی ہیں ۔ (دلائل النبوۃ جلد ٥ صفحہ ٤٢٢ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤٢٣ ھ)


حافظ ابن عساکر لکھتے ہیں : یہ قصہ حترت واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے وہ کہتے ہیں ہم غزوہ تبوک میں ایک جگہ پہنچے جس کا نام الحوزۃ تھا ، تہائی رات کے بعد ہمیں ایک غم ناک آواز سنائی دی : اے اللہ ! مجھے امت محمد سے بنادے جو مرحوم اور مغفور ہے اور جس کی دعا قبول ہوتی ہے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حذیفہ ! اور اے انس ! تم اس گھاٹی میں جاٶ اور دیکھو یہ کیسی آواز ہے ، اس کے بعد حضرت الیاس علیہ السلام کے قصہ کو حافظ ابن عسا کرنے زیادہ تفصیل سے لکھا ہے ، اور اس کے آخر میں لکھا ہے یہ حدیث منکر ہے اور اس کی سند قوی نہیں ہے ۔ (تاریخ دمشق جلد ٩ صفحہ ١٦٠ ۔ ١٥٩ رقم الحدیث : ٢٢٧٥ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ،چشتی)


مام حاکم نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد جو لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے (المستدرک جلد ٢ صفحہ ١١٦)


اس پر شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد الذھبی متوفی ٨٤٨ ھ نے تلخیص المستدرک میں یہ تبصرہ کیا ہے : بلکہ یہ حدیث موضوع ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو خراب کرے جس نے اس حدیث کو وضع کیا ہے ، مجھے یہ گمان نہ تھا کہ حاکم کا جہل اس حد تک پہنچے گا کہ وہ ایسی حدیث کو صحیح الاسناد کہیں گے ۔ (تلخیص المستدرک جلد ٢ صفحہ ٦١٧ دارالباز للنشر والتویع مکہ مکرمہ)


اور میران الاعتدال میں یہ تبصرہ کیا ہے : پس حاکم کو اس سے حیاء نہیں آئی کہ اس نے اس کو صحیح کہا ۔ (میزان الاعتدال جلد ٧ صفحہ ٢٦٤ دارالباز مکہ مکرمہ ١٤١٦ ھ)


حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر الدمشقی المتوفی ٧٧٤ ھ نے اس روایت پر یہ تبصرہ کیا ہے : حاکم نیشاپوری پر تعجب ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو اپنی مستدرک میں درج کیا ہے ، حالانکہ یہ حدیث موضوع ہے اور احادیث صحیحہ کے حسبِ ذیل وجوہ سے مخالف ہے : ⏬


(١) حدیث صحیح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے ، بیشک اللہ نے آدم کو پیدا کیا آسمان میں ان کے جسم کا طول ساٹھ ذراع (نوے فٹ) تھا ، (الی قولہ) پھر مخلوق کا قدکم ہوتے ہوتے اتنا رہ گیا جتنا اب ہے ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣٢٦)(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٤١)(صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦١٦٢)(الاسماء والصفات صفحہ ٢٩٠ ۔ ٢٨٩)(شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٢٩٨)(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٣٦٨)(المستدرک جلد ١ صفحہ ٦٤،چشتی)(مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٩٤٣٥)(مسند احمد جلد ٢ صفحہ ٣١٥ رقم الحدیث : ٨١٧١ دارالفکر)(مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٦٥٨٠) ۔ اور اس روایت میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام کا قد تین سو ذراع (ساڑھے چار سو فٹ) تھا ۔


(٢) اس روایت میں یہ ذکر ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہیں گئے حتی کہ آپ خود ان کے پاس گئے اور یہ صحیح نہیں کیونکہ ان پر یہ حق تھا کہ وہ خود خاتم الانبیاء کی خدمت میں حاضر ہوتے ۔


(٣) اور اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ حضرت الیاس سال میں صرف ایک مرتبہ کھاتے تھے ، اور وہب بن منبہ سے یہ روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے کھانے اور پینے کی لذت سلب کرلی تھی اور بعض نے یہ کہا ہے کہ وہ سال میں صرف ایک بار زمزم کا پانی پیتے تھے اور یہ تمام اشیاء متعارض اور باطل ہیں ان میں سے کوئی چیز صحیح نہیں ہے ۔


(٤) حافظ ابن عسا کرنے اس حدیث کو واثلہ بن الاسقع سے بھی روایت کیا ہے اس میں یہ ذکر ہے کہ یہ غزوہ تبوک کا واقعہ ہے اور اس میں یہ ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پاس حضرت انس بن مالک اور حضرت حذیفہ بن یمان کو بھیجا تھا اور اس میں یہ ذکر ہے کہ ان کا قدان سے دو یا تین ذراع زیادہ تھا ، اور اس میں یہ ذکر ہے کہ جب وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جمع ہوئے تو انہوں نے جنت کا کھانا کھایا ، اور اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت الیاس نے کہا میں ہر چالیس دن کے بعد کھانا کھاتا ہوں ، اور اس میں یہ ہے کہ آسمان سے نازل ہونے والے دستر خوان میں روٹی ‘ انار ‘ انگور ‘ بادام ‘ تازہ کھجوریں اور سبزیاں تھیں ‘ اور اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے خضر کے متعلق سوال کیا تو حضرت الیاس نے کہا میں سال کی ابتداء میں ان سے ملاقات کروں گا اور آپ نے فرمایا کہ جب آپ کی ان سے ملاقات ہو تو آپ ان سے میرا سلام کہیں ‘ اگر اس روایت کو صحیح مان لیا جائے کہ حضرت خضر اور حضرت الیاس موجود ہیں تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ نو ہجری تک خضر اور حضرت الیاس کی ملاقات نہیں ہوئی تھی اور یہ وہ چیز ہے جو شرعاً جائز نہیں اور یہ بھی موضوع ہے ۔ (البدایہ والنہایہ جلد ١ صفحہ ٤٤٥ ۔ ٤٤٤ دارالفکر بیروت ١٤١٩ ھ)


حضرت الیاس (علیہ السلام) سمیت چار نبیوں کے ابھی تک زندہ ہونے پر حافظ ابن کثیر کا تبصرہ اور اس پر فقیر کا تبصرہ : کعب نے روایت کیا ہے کہ آج بھی چار نبی رندہ ہیں دوزمین پر ہیں اور دو آسمان میں ہیں ‘ جو دو زمین پر ہیں وہ حضرت الیاس اور حضرت خضر ہیں اور جو دو آسمان پر ہیں وہ حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ ہیں ۔ (تاریخ دمشق جلد ٩ صفحہ ١٥٥)


مذکورہ روایت کے متعلق حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں : ہم اس سے پہلے بعض لوگوں کا یہ قول ذکر کر چکے ہیں کہ حضرت الیاس اور حضرت خضر ہر سال ماہ رمضان میں بیت المقدس میں ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں اور وہ ہر سال حج کرتے ہیں اور ززم سے پانی پیتے ہیں جو ان کو اگلے سال تک کے لیے کافی ہوتا ہے ‘ اور ہم وہ دیث بیان کرچکے ہیں کہ وہ دونوں ہر سال میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں اور ہم یہ بھی بیان کرچکے ہیں کہ ان میں سے کوئی چیز بھی صحیح نہیں ہے ‘ اور جو چیز دلیل سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور اسی طرح حضرت الیاس بھی ‘ اور وہب بن منبہ نے جو یہ روایت کیا ہے کہ جب حضرت الیاس (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی تکذیب کی اور ان کو ایذاء پہنچائی تو حضرت الیاس نے اپنے رب سے دعا کی ‘ پھر آگ کے رنگ کا ایک جانور آیا ‘ حضرت الیاس اس پر سوار ہوگئے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو نور کا لباس پہنا دیا اور ان سے کھانے اور پینے کی لذت کو منقطع کردیا اور وہ فرشہ اور بشر کی صورت میں زمین آسمان پر گئے ‘ اور انہوں نے الیسع بن اخوطب کو وصیت کی ‘ سو اس روایت پر اعتراضات ہیں اور یہ اسرائیلیات میں سے ہے جس کی تصدیق واجب ہے نہ تکذیب ‘ بلکہ ظاہر یہ ہے کہ یہ روایت بہت بعید ہے۔ (البدایہ النہایہ ج ٠ ص ٤٤٤۔ ٤٤٣‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)


اس روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت الیاس اور خضر (علیہما السلام) پر ابھی تک طبعی موت نہیں آئی ‘ لیکن بہر حال قیامت سے پہلے ان پر موت آئے گی اور واضح رہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو موت کے بعد پھر حیات عطا کردی جاتی ہے اور انبیاء علیہم السلام پر صرف ایک آن کے لیے موت آتی ہے ‘ اسی طرح حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ابھی تک موت نہیں آئی لیکن قیامت سے پہلے ان پر بہر حال موت آئے گی ۔


حضرت الیاس کے لوگوں سے ملاقات کرنے کی روایت : ⏬


حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں : حافظ ابن عسا کرنے کئی سندوں سے یہ روایت ذکر کی ہیں کہ حضرت الیاس کی اللہ کے بندوں سے ملاقات ہوئی ‘ یہ تمام روایات ضعیف یا مجہول ہیں اور بہترین حدیث وہ ہے جس کو امام ابن ابی الدنیا نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے : ثابت بیان کرتے ہیں کہ ہم مصعب بن الزبیر کے ساتھ کوفہ کے مضافات میں تھے ‘ میں ایک باغ میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز پڑھی سو میں نے سورة المومن کی یہ تین آیتیں تلاوت کیں۔ حم۔ تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم۔ غافرالذنب و قابل التوب شدید العقاب ذی الطول اس وقت میرے پیچھے ایک شخص سرخ خچر پر سوار کھڑا تھا اور اس نے یمن کا لباس پہنا ہوا تھا ‘ اس نے کہا جب تم غافر الذنب پڑھو تو یہ دعا کر ویا غافر الذنب اغفرلی ذنبی ( اے گناہ بخشنے والے میرے گناہ بخش دے) اور جب تم پڑھو قابل التوب تو یہ دعا کرو یا قابل التوب تقبل توبتی (اے توبہ قبول کرنے والے میری توبہ قبول فرما) اور جب تم پڑھو شدید العقاب تو یہ دعا کرو یا شدید العقاب لا تعاقبنی (اے سخت سزا دینے والے مجھے سزانہ دینا) اور جب تم پڑھو ذی الطول تو یہ دعا کرنا یا ذالطول تطول علی برحمتی ( اے قدرت والے ! اپنی قدرت سے مجھ پر رحمت نازل فرما) میں نے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا ‘ میں باغ سے باہر نکل آیا اور لوگوں سے پوچھا کیا تم نے ایک شخص کو دیکھا ہے جو سرخ خچر پر سوار تھا اور اس نے یمنی لباس پہنا ہا تھا ‘ لوگوں نے کہا یہاں پر ایسا کوئی شخص نہیں تھا ‘ اور ان کا یہ گمان تھا کہ وہ شخص حضرت الیاس کے سوا اور کوئی نہیں تھا ۔ (البدایہ النہایہ جلد ١ صفحہ ٤٤٥ دارالفکر بیروت ١٤١٩ ھ،چشتی)


حافظ ابن کثیر نے اس روایت کو حسن کے بجائے احسن لکھا ہے اور اس سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں ۔


ان چار حضرات کو وعدہ الٰہیہ آیا ہی نہیں ۔ ان میں سے دو آسمان پر ہیں اور دو زمین پر ۔ حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہما السلام زمین پر ہیں اور حضرت عیسیٰ و حضرت ادریس علیہما السلام آسمان پر ۔ (ملفوظات اعلی حضرت صفحہ 484)


حضرت ادریس علیہ السلام کے آسمان پر جانے کا واقعہ : ⏬


قرآن مجید میں ارشاد ہے : ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھا لیا ۔ (سورہ مریم آیت نمبر 57)


 بعض روایات میں ہے کہ بعد موت آپ آسمان پر تشریف لے گئے ۔(تفسیر البغوی) ایک روایت میں یہ ہے کہ ایک بار آپ دوپہر، دھوپ کی شدت میں تشریف لے لیے جا رہے تھے ۔ آپ کو سخت تکلیف ہوئی ۔ خیال فرمایا کہ جو فرشتہ آفتاب پر مقرر ہے اسے کس قدر تکلیف ہوتی ہوگی ؟ عرض کی : یا اللّٰہ ! اس فرشتہ پر تخفیف فرما ۔ فورا دعا قبول ہوئی اور اس ہر تخفیف ہو گئی ۔ اس فرشتہ نے عرض کی : یا اللّٰہ ! مجھ پر تخفیف کس طرف سے آئی ؟ ارشاد ہوا : میرے بندے ادریس نے تری تخفیف کے واسطے دعا کی ، میں نے اس کی دعا قبول کی ، عرض کی : مجھے اجازت دے کہ میں ان کی خدمات میں حاضر ہوں ۔ اجازت ملنے پر حاضر ہوا ۔ تو تمام واقعہ بیان کیا اور عرض کیا کہ اگر کوئی بات ہو تو ارشاد فرمائیں ۔ فرمایا : مجھے ایک مرتبہ جنت میں لے چلو ۔ عرض کی : یہ تو میرے قبضے سے باہر ہے لیکن عزرائیل علیہ السلام سے میرا دوستانہ ہے ، ان کو لاتا ہوں شاید کوئی تدبیر چل جائے ۔ غرض عزرائیل علیہ السلام آئے ، آپ نے ان سے فرمایا : انہوں نے عرض کی : حضور ! بغیر موت کے تو جنت میں جانا نہیں ہو سکتا ۔ فرمایا : روح قبض کر لو ۔ انہوں نے بحکم خدا ایک لمحے کےلیے ان کی روح قبض کی اور فوراً جسم میں ڈال ڈی ۔ آپ نے فرمایا : مجھے جنت اور دوزخ کی سیر کراؤ ۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام حضرت ادریس علیہ السلام کو دوزخ پر لائے ، طبقات جہنم کھلوائے ، آپ دیکھتے ہی بے ہوش ہو گئے ۔ عزرائیل علیہ السلام وہاں سے لے کر آئے توان کے ہوش میں آنے کے بعد عرض کیا : یہ تکلیف آپ نے اپنے ہاتھوں سے اٹھائی ۔ پھر جنت میں لے گئے ، وہاں کی سیر کرنے کے بعد عزرائیل علیہ السلام نے چلنے کے واسطے عرض کیا ۔ آپ نے دو مرتبہ التفات نہ فرمایا ۔ تیسری بار فرمایا کہ اب چلنا کیسا ، جنت میں آکر بھی کوئی وآپس جاتا ہے ؟ اللّٰہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے واسطے بھیجا ۔ عزرائیل علیہ السلام سے بات کرنے کے بعد فرشتے نے حضرت ادریس علیہ السلام سے پوچھا : آپ واپس تشریف کیوں نہیں لے جاتے ؟ ارشاد فرمایا : اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے : ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ،(سورہ أل عمران آیت نمبر 185) ، اور میں موت کا مزہ چکھ چکا ہوں ۔ اور فرماتا ہے : تم میں سے ہر ایک جہنم کی سیر کرے گا ۔ (سورہ مریم آیت ننبر 171) ، اور میں جہنم کی سیر بھی کر آیا ہوں ، اور فرماتا ہے : اور وہ لوگ جنت سے کبھی نہ نکالے جائیں گے (الحجر آیت ننبر 48) ، اب میں جنت میں آگیا ، کیوں جاؤں ؟ اللّٰہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میرا بندہ ادریس علیہ السلام سچا ہے ، اس جو چھوڑ دو ۔ ملفوظات اعلی حضرت صفحہ 485)


فتویٰ دارالعلوم دیوبند : ⏬


چار انبیاء کا زندہ ہونا اور حضرت خضر و الیاس علیہم السلام کا مقام

سوال

محترم المقام السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ


لوگ کہتے ہیں کہ چار انبیاء علیہم السلام زندہ ہیں ؛ جن میں دو آسمانوں میں ہیں:حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام ، جب کہ دو اسی دنیا میں ہیں: حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام۔ کیا یہ بات صحیح ہے ؟ نیز، مہربانی فرماکرکیا اس کی وضاحت فرمائیں گے کہ حضرت خضر و حضرت الیاس علیہما السلام کہاں ہیں ؟ ۔ شکریہ ! والسلام ۔


جواب : بسم الله الرحمن الرحيم ۔ (فتوی: ۱۷۶/ب) ۔ تحقیق یہ ہے کہ صرف ایک نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور آسمان پر موجود ہیں ، حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں جس آیت سے آسمان پر اٹھائے جانے کا مفہوم نکلتا ہے اس سے مراد رفعت مکانی ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے مرتبہ کو بلند فرمایا ۔ حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں زندہ ہونے کی کوئی آیت یا حدیث ہماری نظر سے نہیں گذری۔ حضرت خضر علیہ السلام، صحیح قول کے مطابق وہ نبی نہ تھے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء ، دارالعلوم دیوبند ۔ اس فتوے کا لنک : ⏬

چار انبیاء کا زندہ ہونا اور حضرت خضر و الیاس علیہم السلام کا مقام https://www.darulifta.info/d/deoband/fatwa/vq/char-anbyaaa-ka-znd-ona-aor-hdrt-khdr-o-alyas-aalym-alslam-ka-mkam


حضرت ادریس علیہ السلام کو بلند مکان پر اٹھالینے کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے آپ علیہ السلام کے مرتبے کی بلندی مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے اور زیادہ صحیح یہی قول ہے کہ آپ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا گیا ہے ۔ (تفسیر خازن سورہ مریم آیت نمبر ۵۷ جلد ۳ صفحہ ۲۳۸) ۔ اور آپ علیہ السلام اب بھی حیاتِ ظاہری سے متصِف ہیں ۔


اللہ عزوجل کا حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے : اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ ۔ (سورہ آلعمران آیت نمبر ۵۵)

ترجمہ : یاد کرو جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تمہیں پوری عمر تک پہنچاؤں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا اور تجھے کافروں سے نجات عطاکروں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دوں گا پھر تم سب میری طرف پلٹ کر آؤ گے توجن باتوں میں تم جھگڑتے تھے ان باتوں کا میں تمہارے درمیان فیصلہ کردوں گا ۔


پہلی بات تَوَفّٰی ہے ۔ مرزائیوں نے آیتِ پاک کے ان الفاظ کو بنیاد بنا کر یہود و نصاریٰ کی پیروی میں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا دعویٰ کیا اور یہ سراسر غلط ہے کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ تَوَفّٰی کا حقیقی معنی ہے ، پورا کرنا ، جیسے قرآن پاک میں ہے : وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی ۔ (النجم آیت نمبر ۳۷)

ترجمہ : اور ابراہیم جو پورے احکام بجا لایا ۔


اور یہ موت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ، لیکن یہ ا س کا مجازی معنی ہے اور جب تک کوئی واضح قرینہ موجود نہ ہو اس وقت تک لفظ کا حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنی مراد نہیں لیا جا سکتا ، اور یہاں کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں کہ تَوَفّٰی کا معنی موت کیا جائے بلکہ اس کا حقیقی معنی مراد لینے پر واضح قرائن بھی موجود ہیں اور وہ قرائن احادیثِ مبارکہ ہیں جن میں یہ بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور قربِ قیامت میں واپس تشریف لائیں گے ۔ لہٰذا اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت نہیں ہوتی ۔ دوسرے نمبر پر بالفرض اگر تَوَفّٰی کا معنیٰ ،وفات دینا، ہی ہے تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں ۔ صرف یہ فرمایا ہے کہ ، اے عیسیٰ ! میں تجھے وفات دوں گا ۔ تو یہ بات تو ہم بھی مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی وفات پائیں گے ، یہ معنی نہیں ہے کہ ہم نے تجھے فوت کر دیا ۔ اب یہ بات کہ آیت میں تَوَفّٰی یعنی وفات دینے کا پہلے تذکرہ ہے اور اٹھائے جانے کا بعد میں اور چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے جا چکے ہیں لہٰذا ان کی وفات بھی پہلے ثابت ہو گئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ آیت میں ’’مُتَوَفِّیْكَ‘‘ اور ’’رَافِعُكَ‘‘ کے درمیان میں ’’واؤ‘‘ ہے اور عربی زبان میں ’’واؤ‘‘ ترتیب کےلیے نہیں آتی کہ جس کا مطلب یہ نکلے کہ وفات پہلے ہوئی اور اٹھایا جانا بعد میں ، جیسے قرآن پاک میں حضرت مریم رضی اللہ عنہا سے فرمایا گیا : وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ ۔ (سورہ آلِ عمران آیت نمبر ۴۳)

ترجمہ : اور سجدہ اور رکوع کر ۔

یہاں سجدے کا پہلے تذکرہ ہے اور رکوع کا بعد میں ، تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ حضرت مریم رضی اللہ عنہا رکوع بعد میں کرتی تھیں اور سجدہ پہلے ، ہر گز نہیں ۔ لہٰذا جیسے یہاں ’’واؤ‘‘ کا آنا ترتیب کےلیے نہیں ہے ایسے ہی مذکورہ بالا آیت میں ’’واؤ‘‘ ترتیب کےلیے نہیں ہے ۔

دوسری بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اٹھایا جانا ہے ۔ فرمایا گیا کہ ہم تمہیں  بغیر موت کے اٹھا کر آسمان پر عزت کی جگہ اور فرشتوں کی جائے قرار میں پہنچا دیں گے ۔ نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا : حضرت عیسیٰ علیہ السلام میری امت پر خلیفہ ہو کر نازل ہوں گے ، صلیب توڑیں گے ، خنزیروں کو قتل کریں گےط، چالیس سال رہیں گے ، نکاح فرمائیں گے ، اولاد ہوگی اور پھر آپ علیہ السلام کا وصال ہوگا ۔ وہ امت کیسے ہلاک ہو جس کا اوّل میں ہوں اور آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور وسط میں میرے اہلِ بیت میں سے حضرت مہدی رضی اللہ عنہُ ۔ (تفسیر مدارک سورہ اٰل عمران آیت نمبر ۵۵ صفحہ ۱۶۳،چشتی)(ابن عساکر ذکر من اسمہ عیسیٰ ، عیسی بن مریم جلد ۴۷ صفحہ ۵۲۲)


مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام منارۂ شرقی دمشق پر نازل ہوں گے ۔ (صحیح مسلم کتاب الفتن واشراط الساعۃ باب ذکر الدجال وصفتہ وما معہ صفحہ ۱۵۶۸ الحدیث : ۱۱۰ (۲۹۳۷))


یہ بھی حدیث میں ہے : نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے حجرہ میں مدفون ہوں گے ۔ (الوفاء باحوالِ المصطفٰی ابواب بعثہ وحشرہ وما یجری لہ صلی اللہ علیہ وسلم الباب الثانی فی حشر عیسی بن مریم مع نبینا صفحہ ۳۲۵ الجزء الثانی)


تیسری بات کہ کفار سے نجات دلاؤں گا ۔ اس طرح کہ کفار کے نرغے سے تمہیں بچا لوں گا اور وہ تمہیں سولی نہ دے سکیں گے ۔


چوتھی بات ماننے والوں کومنکروں پر غلبہ دینا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں سے مراد ہے ’’ان کو صحیح طور پر ماننے والے‘‘ اور صحیح ماننے والے یقیناً صرف مسلمان ہیں کیونکہ یہودی تو ویسے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن ہیں اور عیسائی انہیں خدا مانتے ہیں تو یہ ’’ماننا ‘‘ تو بدترین قسم کا ’’نہ ماننا‘‘ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں کہ اللہ عزوجل کے سوا کسی کو معبود نہ مانو اور یہ کہیں ، نہیں ، ہم توآپ کو بھی معبود مانیں گے ۔


اور دو نبی زمین پر تشریف فرما ہیں : ⏬


حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام آپ دونوں بھی حیات ہیں ۔


مرأة المناجیح میں ہے : آپ (خضر علیہ السلام) کا نام عباس یا بلیا ابن ملکان ہے ۔ آپ نوح علیہ السلام کی ساتویں پشت پر ہیں ۔ ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں موجود تھے ۔ آپ کا مقام سمندر ہے ۔ الیاس علیہ السلام کا مقام خشکی ہے ۔ قیامت تک زندہ رہیں گے ۔ بزرگوں سے ملاقات کرتے ہیں ۔ حضور غوث پاک نے آپ سے فرمایا تھا کہ اے اسراٸیلی ولی محمدی ولی کی بات سنتے جاٸیے ۔ آپ نبی ہیں ہر سال حج کے موقع پر آپ اور الیاس علیہما السلام جمع ہوتے ہیں ۔ (مرأة المناجیح شرح مشکٰوة المصابیح جلد ٧ صفحہ ٤٢٤)


اہلسنت کے نزدیک یہ چار انبیإ آج بھی ظاہری حیات میں موجود ہیں ، بایں کہ تمام انبیاء علیہم الصلٰوة والسلام اپنی قبروں میں حیات ہیں ۔ جب قیامت قریب آئے گی تو اس وقت وفات پائیں گے اور بعض بزرگوں کی ان سے ملاقات بھی ہوئی ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Friday, 22 May 2026

منافق کسے کہتے ہیں ، منافقت کی علامات اور منافقین کی پہچان

منافق کسے کہتے ہیں ، منافقت کی علامات اور منافقین کی پہچان






محترم قارئینِ کرام : قرآن کریم کی معروف اصطلا حات میں سے ایک اصطلاح منافق بھی ہے ۔ اسلامی سو سائٹی میں جو عناصر بظاہر مسلمان نظر آتے ہیں لیکن باطن میں وہ اسلام کے سخت ترین دشمن ہیں ، ایسے افراد کو منافق کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے یعنی یہ ’’دوست نما دشمن‘‘ کا کردار کرتے ہیں ۔

سورۃ العنکبوت کے شروع ہی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَلَيَـعۡلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَيَـعۡلَمَنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ۔ (سورۃ العنكبوت آیت نمبر 11)

ترجمہ : اور ضرور الله ظاہر کردے گا ایمان والوں کو اور ضرور ظاہر کردے گا منافقوں کو ۔


"منافق" نفق سے ماخوذ ہے ۔ جس کا معنی سرنگ ہے اور بعض نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ لومڑی اپنے بل کے دو منہ رکھتی ہے ۔ ایک کا نام نافقاء اور دوسرے کا نام قاصعاء ہے ۔ ایک طرف سے وہ داخل ہوتی ہے اور جب کوئی شکاری اس کا تعاقب کرتا ہے تو وہ دوسری طرف سے نکل جاتی ہے اور اگر دوسری جانب سے کوئی اس کا تعاقب کرتا ہے تو وہ پہلے سوراخ سے نکل جاتی ہے ۔ اس کے بل کے ایک طرف کا نام نافقاء ہے ، اسی سے "منافق" ماخوذ ہے ۔ اس کے بھی دو پہلو ہیں ۔ ایک کفر ، جو اس کے دل میں ہے۔ دوسرا ایمان جو اس کی زبان پر ہے ۔ اگر کفر سے اسے کسی نقصان کا اندیشہ ہو تو وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے لگتا ہے اور اگر اسلام کے باعث اسے کوئی تکلیف پہنچ رہی ہو تو وہ فوراَ اپنے کافر ہونے کا اعلان کر دیتا ہے ۔ (لسان العرب)


مُنافقت کا معنیٰ ہے اپنے قول او رعمل سے وہ کچھ ظاھر کرنا جو دِل میں موجود عقائد و عزائم کے خِلاف ہو اور اِسلام میں منافقت کا مفہوم ، دِل میں کفر ، شرک اور گناہوں کا اقرار اور عمل کے وجود کے ساتھ ، اپنے آپ کو قولی اور عملی طور پر اِیمان والا ، اللہ کی توحید کو ماننے والا، اور گناہوں سے دُور رہنے و الا ظاہر کرنا ۔

اللہ تعالیٰ نے جہنم کا سب سے نچلا درجہ ، منافقین ، یعنی ، منافقت کرنے والوں کا ٹھکانہ مقرر فرما رکھا ہے : اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِى الدَّرۡكِ الۡاَسۡفَلِ مِنَ النَّارِ‌ ۚ وَلَنۡ تَجِدَ لَهُمۡ نَصِيۡرًا ۔ (سورۃ النساء آیت نمبر 145)

ترجمہ : بیشک منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے اور (اے مخاطب) تو ان کے لیے ہرگز کوئی مددگار نہیں پائے گا ۔


خواہ یہ مُنافق ، نفاق اکبر (بڑی مُنافقت) پر عمل کرنے والے ہوں ، یا نفاق اصغر (چھوٹی مُنافقت) پر ، اعتقادی نفاق والے ہوں یا عملی مُنافقت والے ، سب کا ٹھکانہ وہی ہے ۔


اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا منافق آگ کے سب سے نچلے درک میں ہوں گے ، ابوعبیدہ نے کہا ہے کہ درک کا معنی منزل ہے اور جہنم میں کئی منازل ہیں اور منافق سب سے نچلی منزل میں ہوں گے ، ابن الانباری نے کہا ہے کہ درک سیڑھی کے ڈنڈے کو کہتے ہیں ، ضحاک نے کہا جب منازل میں یہ لحاظ کیا جائے کہ بعض ، بعض سے اوپر ہیں تو ان کو درج (درجہ) کہتے ہیں اور جب یہ لحاظ کیا جائے کہ بعض بعض سے نیچے ہیں تو ان کو درک کہتے ہیں ۔ ابن فارس نے کہا جنت میں درجات ہیں اور دوزخ میں درکات ہیں ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت کی تفسیر میں فرمایا منافق لوہے کہ ایک ایسے تابوت میں ہوں گے جس کا کوئی دروازہ نہیں ہوگا ۔ (جامع البیان جز ٥ صفحہ ٤٥٤)


منافق کی مثال دو ریوڑوں کے درمیان سرگرداں پھرنے والی بکری کی مانند ہے : ⏬


أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً لَا تَدْرِي أَيَّهَا تَتْبَعُ ۔

ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں میں چل رہی ہو ، کبھی وہ ادھر جاتی ہے اور کبھی ادھر، وہ نہیں سمجھ پاتی کہ کس ریوڑ کے ساتھ چلے ۔ (سنن نسائی كتاب الإيمان وشرائعه حدیث: نمبر 5040)(صحیح مسلم المنافقین حدیث نمبر 2784)(تحفة الأشراف حدیث نمبر 8472)(مسند احمد (2 / 32 ، 47 ، 68 ، 82 ، 88 ، 102)(حکم الحدیث صحیح)


 نا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْفَارِسِيُّ، لَفْظًا مِنْ كِتَابِهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا مُوسَى بْنُ خَاقَانَ، نا إِسْحَاقُ يَعْنِي الْأَزْرَقَ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً، لَا تَدْرِي أَيُّهَمَا تَتْبَعُ ۔

ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : منافق کی مثال (دو ریوڑوں کے درمیان) سرگرداں پھرنے والی بکری کی مانند ہے جو کبھی ایک ریوڑ کی طرف (جفتی کے لیے بکرے کی تلاش میں) بھاگتی ہے اور کبھی دوسرے ریوڑ کی طرف (بھاگتی ہے) وہ نہیں جانتی کہ ان دونوں میں سے کس کے پیچھے جائے ۔ (مسند الشهاب حدیث نمبر 1374)(صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2784)(والنسائي: 5040)(وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4)(وأخرجه الحميدي فى «مسنده» برقم: 705)(وأخرجه الطبراني فى «الصغير» برقم: 585)(وأحمد فى «مسنده» برقم: 4966»


منافقین کےلیے اس سے زیادہ مناسب مثال ممکن نہیں اور اس میں ان کی انتہائی تو ہین ہے کہ ان کو مؤنث سے مشابہت دی گئی ہے ، گویا وہ مردانہ صفات سے عاری ہیں اور کمینوں کی طرح مال کی طلب میں کبھی مسلمانوں کی خوشامد کرتے ہیں کبھی کافروں کی لیکن تسلی پھر بھی نہیں ہوتی حیران و پریشان ہی رہتے ہیں ۔ (سنن نسائی حدیث نمبر 1317)


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً ۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر  7043)

ترجمہ؛ عبیداللہ نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان ممیاتی ہوئی بھاگی پھرتی ہے ، کبھی بھاگ کر اس ریوڑ میں جاتی ہے اور کبھی اس طرف جاتی ہے۔( کسی بھی ایک ریوڑ کا حصہ نہیں ہوتی)


أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَعِيرُ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً لَا تَدْرِي أَيَّهَا تَتْبَعُ ۔ (سنن النسائی حدیث نمبر 5040)

ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا : منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکرے کی طلب میں دو ریوڑوں کے درمیان رہتی ہے ۔ کبھی اس ریوڑ میں جاتی ہے ، کبھی اس ریوڑ میں ۔ اس کو تسلی نہیں ہوتی کہ کس ریوڑ کے ساتھ رہے ۔


عن ابن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مثل المنافق كالشاة العائرة بين الغنمين تعير الى هذه مرة وإلى هذه مرة ۔ (مشکوة المصابیح جلد اول حدیث نمبر 50) 

ترجمہ : حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  منافق اس بکری کی طرح ہے جو دو بکروں کے درمیان گھومے (چکر لگائے) کبھی اس بکرے کے پاس پہنچ جائے کبھی اس بکرے کے پاس ۔


امام صدرالدین محمد بن إبراهيم السلمي المناوي رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۸۰۳ھ) فرماتے ہیں : تعير إلى هذه مرة وإلى هذه مرة أي تتردد وتذهب بين الغنمين أي القطيعين من الغنم، ويقال: عارت الدابة إذا انقلبت وذهبت ۔

ترجمہ : وہ کبھی اِس کی طرف اور کبھی اُس کی طرف مائل ہوتی ہے، یعنی دو بکروں کے ریوڑوں کے درمیان آمد و رفت کرتی اور تردد میں رہتی ہے۔ اور کہا جاتا ہے : ،عَارَتِ الدَّابَّةُ، جب جانور پلٹ جائے اور اِدھر اُدھر چلا جائے ۔ (كشف المناهج والتناقيح في تخريج أحاديث المصابيح جلد  ١ صفحہ ٨٧)


امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی676ھ) فرماتے ہیں : قَوْلُهُ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تُعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً) الْعَائِرَةُ الْمُتَرَدِّدَةُ الْحَائِرَةُ لَا تَدْرِي لِأَيِّهِمَا تَتْبَعُ وَمَعْنَى تُعِيرُ أَيْ تُرَدَّدُ وَتَذْهَبُ وَقَوْلُهُ فِي الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ تَكِرُّ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً أَيْ تَعْطِفُ عَلَى هَذِهِ وَعَلَى هَذِهِ وَهُوَ نَحْوُ تُعِيرُ وَهُوَ بكسر الكاف ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان (منافق کی مثال اُس بکری کی مانند ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان حیران و سرگرداں پھرتی رہتی ہے، کبھی اِس طرف جاتی ہے اور کبھی اُس طرف) میں «العائرة» سے مراد وہ بکری ہے جو تردد، حیرانی اور اضطراب میں ہو ، اور اسے معلوم نہ ہو کہ وہ کس ریوڑ کے ساتھ چلے۔ اور «تُعِيرُ» کا معنی ہے : وہ بار بار اِدھر اُدھر پھرتی، تردد کرتی اور جاتی رہتی ہے۔“ اور دوسری روایت میں جو الفاظ ہیں : «تَكِرُّ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً» ، تو اس کا مطلب ہے : وہ کبھی اِس کی طرف جھکتی اور مائل ہوتی ہے اور کبھی اُس کی طرف ۔ یہ معنی بھی «تُعِيرُ» کے قریب ہے۔ اور لفظ «تَكِرُّ» میں کاف کے نیچے زیر ہے ۔ (شرح النووي على مسلم ١٧/‏١٢٨)


امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 1014ھ) فرماتے ہیں : فشبه تردده بين الطائفتين أي المسلمين والكافرين تبعاً لهواه ومراداته وقصداً إلى شهواته بتردد الشاة العائرة التي لا تستقر على حال ۔

ترجمہ : پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منافق کو تشبیہ دی  جو متردد رہتا ہے دو گروہوں کے درمیان یعنی مسلمانوں اور کافروں کے اپنی خواہشات، اغراض اور شہوات کی پیروی میں ڈگمگاتے پھرنے کو اُس آوارہ بکری کے تردد سے تشبیہ دی جو کسی ایک حال پر قائم اور ثابت نہیں رہتی۔ (مرقاة المفاتیح جلد 1 صفحہ 215 الحدیث 57)


مظاہر حق جدید شرح مشکوة شریف میں مذکورہ حدیث کے تحت تشریح میں لکھا ہے :  منافق کی مثال اس بکری سے دی گئی ہے جو اپنے نر کی تلاش میں ادھر ادھر ماری ماری پھرتی ہے اسی طرح منافق کی حالت ہوتی ہے کہ اس کے سامنے چونکہ صرف دنیا کا لالچ اور مال و جاں کی حفاظت کا مقصد ہوتا ہے اس لیے وہ مادہ صفت بن کر بھی تو مسلمانوں کی آغوش میں آکر پناہ لیتا ہے اور کبھی کافروں کے گروہ میں جاکر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے، نفاق سے نفرت پیدا کرنے کےلیے ظاہر ہے کہ یہ تشبیہ بہت موثر ہے ۔ (مظاہر حق جدید جلد 1 صفحہ 136 دارالاشاعت کراچی)


اس کتاب کو ترتیب جدید دینے والے دارالعلوم دیوبند کے فاضل مولوی عبداللہ جاوید غازی پوری دیوبندی ہیں،اسی طرح اس کتاب پر مقدمہ لکھنے والے دارالعلوم دیوبند انڈیا کے استاذ الحدیث مولوی سالم دیوبندی ہیں ۔


بہرکیف ! مذکورہ دلائل سے واضح ہوا کہ یہ حدیث پاک کتب احادیث میں موجود ہے ۔ اس کو جھوٹ کہنا ، بیہودگی کہنا سراسر جہالت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان عظیم کے خلاف بہت بڑی ناپاک جسارت ہے ۔ پھر اس حدیثِ مبارکہ میں منافق کو اُس بکری کے ساتھ تشبیہ دی گئی جو کبھی ایک بکرے کے پاس جاۓ تو کبھی دوسرے بکرے کے پاس جاۓ ۔ یہی حالت منافق کی ہے کہ منافق بھی اپنی خواہشات کےلیے کبھی مسلمانوں کے پاس جاتا ہے تو کبھی کفار کے پاس۔۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات میں منافقین کی حالت تھی۔ مزید ملا علی قاری علیہ الرحمہ نے واضح فرمادیا ۔ کتاب مظاہر حق جدید شرح مشکواة میں اس حدیث پاک کی تشریح میں منافق کے متعلق دی گئی تشبیہ کے حوالے سے واضح لکھا ہے کہ : نفاق سے نفرت پیدا کرنے کےلیے ظاہر ہے کہ یہ تشبیہ بہت موثر ہے ۔


علامہ سید محمود آلوسی حنفی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : دوزخ کے سات طبقات ہیں ، پہلا طبقہ جہنم ہے دوسرا لظی ہے ، تیسرا الحطمہ ہے چوتھا السعیر ہے ، پانچواں سقر ہے چھٹا جحیم ہے اور ساتواں ھاویہ ہے اور کبھی ان تمام طبقات پر جہنم کا اطلاق بھی کر دیا جاتا ہے ، ان طبقات کو درکات اس لیے کہتے ہیں کہ یہ تہ در تہ ہیں ، اور منافقوں کا آخری طبقہ میں ہونا ان کے شدت عذاب پر دلالت کرتا ہے ۔ (تفسیر روح المعانی جلد ٥ صفحہ ١٧٧ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت)


امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے جب وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو اس میں خیانت کرتا ہے ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٢٦٨٢‘ ٣٣،چشتی)(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٩)(سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٦)(مسند احمد جلد ٣ رقم الحدیث : ٩١٦٩)(سنن کبری للبیہقی جلد ٦ صفحہ ٢٨٨)


حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس شخص میں چار خصلتیں ہوں وہ خالص منافق ہوگا ، اور جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی خصلت ہوگی حتی کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے ، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے ، اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب عہد کرے تو اس کے خلاف کرے اور جب جھگڑا کرے تو بدکلامی کرے ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٢٦٨٢ ‘ ٣٣)(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٩،چشتی)(سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٦)(مسند احمد جلد ٣ رقم الحدیث : ٩١٦٩)(سنن کبری للبیہقی جلد ٦ صفحہ ٢٨٨)


حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس شخص میں چار خصلتیں ہوں وہ خالص منافق ہوگا ‘ اور جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی خصلت ہوگی حتی کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے ‘ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب عہد کرے تو اس کے خلاف کرے اور جب جھگڑا کرے تو بدکلامی کرے ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٢٤٥٩ ، ٣٤)(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٨)(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٦٤١)(سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٤٦٨٨)(سنن نسائی رقم الحدیث : ٥٠٣)(مسند احمد جلد ٢ رقم الحدیث : ٦٧٨٢)(سنن کبری جلد ٩ صفحہ ٢٣٠)


بظاہر اس حدیث میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے اس میں نفاق کی خصلت ہوگی ، محدثین کرام نے اس حدیث کے متعدد جوابات ذکر کیے ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں : ⏬


یہ علامتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک کے ساتھ مخصوص تھیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو وحی کے نور سے لوگوں کے دلوں میں کے حال پر مطلع تھے ، اور آپ جانتے تھے کہ کون منافق ہے اور کون منافق نہیں ہے اور چونکہ یہ غیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مخصوص تھا اس لیے آپ نے اپنے اصحاب کو یہ نشانیاں بتائیں تاکہ وہ ان علامتوں سے منافقوں کو پہچان لیں اور ان سے احتراز کریں اور آپ نے معین کر کے نہیں بتایا کہ فلاں فلاں منافق ہے تاکہ فتنہ پیدا نہ ہو اور یہ لوگ مرتد ہو کر مشرکین کے ساتھ نہ مل جائیں ۔


دوسرا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ جو شخص حلال اور جائز سمجھ کر یہ چار کام کرے وہ منافق کے حکم میں ہوگا ۔


جو شخص ان اوصاف کے ساتھ متصف ہو وہ منافقین کے مشابہ ہوگا ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر تغلیظا اور تہدیدا منافق کا اطلاق فرمایا ہے اور یہ اس شخص کے متعلق فرمایا ہے جو عادۃ یہ چار کام کرتا ہو اور اس کے متعلق نہیں فرمایا جس سے نادرا یہ کام سرزد ہوں ۔


عرف میں منافق اس شخص کو کہتے ہیں جس کا ظاہر باطن کے خلاف ہو سو ایسا شخص عرفا منافق ہے شرعا منافق نہیں لہٰذا ایسے شخص کا کافر نہیں قرار دیا جائے گا نہ وہ اس آیت کی وعید کا مصداق ہوگا ۔ 


دینی معاملات میں ایسے شخص کا حکم منافق کا ہوگا اور اس کی خبر معتبر نہیں ہوگی ۔


ایک حدیثِ مبارکہ میں تین کاموں کو منافق کی علامت فرمایا ہے اور دوسری میں چار کاموں کو منافق کی علامت قرار دیا ہے ، یہ اختلاف مقتضی حال اور مقام کے اعتبار سے ہے ۔ کبھی آپ کے سامنے ایسے منافق تھے جس میں چار خصلتیں تھیں اور کبھی ایسے تھے جن میں تین خصلتیں تھی اس وجہ سے کبھی آپ نے تین علامتیں بیان فرمائیں اور کبھی چار ۔


مذکورہ آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور (اے مخاطب) تو ان کےلیے کوئی مددگار نہیں پائے گا اس آیت میں منافقین کی نصرت کی نفی کی تخصیص کی ہے اور یہ تخصیص اس وقت صحیح ہوگی جب مخلص مسلمانوں کی نصرت اور ان کی شفاعت کی جاسکے ، اور تب ہی منافقین کی مدد کا نہ کیا جانا ان کےلیے باعث حسرت اور افسوس ہوگا اور اگر مخلص مسلمانوں کی بھی مدد نہ کی جائے تو منافقین کو کیوں ندامت اور حسرت ہوگی ۔


بد قسمتی سے ہمارے نام نہاد مسلم معاشرہ میں یہ رذائل بہت تیزی سے پروان چڑھ رہے ہیں اور اس پر مزید یہ کہ اس منا فقانہ طرز عمل کو چالاکی اور ہوشیاری سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں اپنا جائزہ لینے کی سخت ضرورت ہے ۔


اس حدیث مبارک میں منافق کی پہلی خصلت امانت میں خیانت بتا ئی گئی ہے ۔ امانت کی پاسداری دراصل مومن کی پہچان ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : مومن کے اندر ہر عادت ہو سکتی ہے جھوٹ اور خیانت کے سوا ۔ (رواہ احمد عن ابی امامہ ورواہ البزار)


امانت میں خیانت کی درج ذیل شکلیں ہمارے معاشرے میں رائج ہیں ، اس فہرست میں مزید اضافہ ممکن ہے : ⬇


۱۔ امانت میں خیانت یعنی کم مال واپس کرنا، اچھے مال سے خراب مال بدل لینا۔

۲ ۔ اللہ اور اس کے رسول کی نا فرمانی بھی امانت میں خیانت ہے۔

۳۔ ناپ تول میں کمی کرنا بھی امانت میں خیانت ہے۔

۴۔ راز بھی امانت ہے، اس کی حفاظت نہ کرنا خیانت ہے۔

۵۔ وقت کا ضیاع، کام چوری اور غیر متعلق امور سے دلچسپی بھی خیانت ہے۔

۶۔ رشوت لے کر کام کرنا اور ناحق فائدہ پہنچانا بھی خیانت ہے۔

کذب بیانی

منافق کی دوسری خصلت کذب بیانی کہی گئی ہے، اس کی درج ذیل مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں:

۱۔ اللہ کے معاملے میں جھوٹ بولنا یعنی حلال کو حرام اور حرام کو حلال بتا نا۔

۔ اللہ کے رسول کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنا،

۳۔ جھوٹی خبریں، اور جھوٹے واقعات بیان کرنا، سنسنی خیز صحافت بھی اسی زمرے میں شامل ہے۔

۴۔ جھوٹی قسمیں، جھوٹے وعدے، جھوٹے مقدمات قائم کرنا۔ جھوٹی گواہی دینے والے کے تعلق سے ارشاد خدا وندی ہے:’’ جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو حقیر قیمت کے عوض بیچ دیتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصّہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا‘‘۔( آل عمران: ۷۷)

اس معاملے کی سختی کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ نبیؐ نے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کی نا فرمانی کرنا، سنو! جھوٹ بولنا، جھوٹی گواہی دینا۔ آپ بار بار یہی دہراتے رہے یہاں تک کہ راوی نے اپنے دل میں کہا کہ کاش آپ خاموش ہو جاتے۔‘‘ (بخاری، مسلم، ترمذی)

جھوٹی قسم کھاکر تجارت کو فروغ دینا، غلط طریقے سے سامان بیچنا ،اور خریدار کو فریب دینا بھی جھوٹ کی ایک قسم ہے، اس ضمن میں نبیؐ کا ارشاد ہے:’’ تین ایسے آدمی ہیں جن کی طرف روز قیامت اللہ تعالی نہ دیکھے گا، نہ ان کا تزکیہ کرے گا، اس روز ان کو درد ناک عذاب ہوگا(۱) تہبند کو ٹخنے سے نیچے لٹکانے والا (متکبر)، (۲) احسان جتانے والا، (۳) جھوٹی قسم کھاکر اپنی تجارت کو فروغ دینے والا۔

۵۔ ایک اور انتہائی درجہ بد اخلاقی کی جیتی جاگتی تصویر جس میں نوجوان طبقہ خاص طور سے ملوث ہے، بھولی بھالی پاک دامن عورتوں پر بد چلنی کا الزام لگانا، حق تعالیٰ شانہٗ کا ارشاد ہے: ’’بے شک جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہوگی اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے‘‘۔ (النور: ۳۳)

اسلامی معاشرہ کی اصل روح تو یہ ہے کہ دوسروں کے واقعی عیبوں پر بھی پردہ ڈالا جائے اور کسی بھی مومن یا مومنہ کی سرِ بازار پگڑی نہ اچھالی جائے۔ ورنہ نفرت، بغض وکینہ وغیرہ سے معاشرہ کا پاک رہ جانا بڑا ہی مشکل ہو گا ۔ اگر اتفاقاً کسی کی کوئی غلط حرکت سامنے آبھی جائے تو خلوت میں حکمت کے ساتھ اسے سمجھانا ہی افضل ہے ۔


منافق کی تیسری خصلت بد عہدی یا معا ہدہ شکنی ہے ۔ سورۂ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’اور عہد کو پورا کر و کیونکہ عہد کی پرسش ہونی ہے‘‘۔ (سورہ بنی اسرائیل)

’’ اس عہد میں ہر قسم کا عہد شامل ہے خواہ وہ کسی معا ہدے کی صورت میں وجود میں آئے، لیکن عادتاً اور عرفاََاُن کو عہد ہی سمجھا اور مانا جاتا ہو، جس نوعیت کا بھی عہد ہو، اگر وہ خلاف شریعت نہیں ہے تو اس کو پورا کرنا ضروری ہے‘‘۔ عہد کی دو قسمیں ہیں:

الف) اللہ اور بندے کے درمیان یعنی ہر شخص کا اللہ سے یہ عہد کہ وہ سچا پکا مومن ہوگا اور جملہ معاملات میں شریعت الہی کی اتباع کرے گا۔ یہی بات سورۃ المائدۃ کی پہلی آیت میں بھی کہی گئی ہے، ارشاد ربانی ہے:’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بندشوں کی پوری پابندی کرو‘‘۔( سورۃ المائدۃ، آیت:۱)

’’ یعنی ان حدود اور قیود کی پابندی کرو جو اس سورہ میں تم پر عائد کی جارہی ہیں اور جو بالعموم خدا کی شریعت میں تم پر عائد کی گئی ہیں ‘‘

عہد کی دوسری قسم وہ ہے جو بندوں کے درمیان ہے، اس کی مثال ہے کام چوری کرنا، دھوکہ دینا، وعدہ پورا نہ کرنا، وغیرہ

بد زبانی و بد کلامی

منا فق کی چوتھی خصلت بد زبانی اور بد کلامی ہے، یعنی وہ مخاصمت کے وقت آپے سے باہر ہو جاتا ہے، نبیؐ نے ارشاد فرمایا: ’’لوگ جہنم میں اپنی بد زبانی کے سبب جائیں گے‘‘(ترمذی) جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ بھی ہے کہ وہاں اہل ایمان کوئی لا یعنی اور لغو یات نہیں سنیں گے، جیسا سورۃ الواقعۃ میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’وہاں وہ کوئی بے ہودہ کلام یا گناہ کی بات نہ سنیں گے جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی‘‘۔ (سورۃ الواقعۃ: ۲۵۔۲۶)

سطور بالاکی روشنی میں یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم غیر شعوری طور سے ہی سہی منافقت کے مہلک مرض میں مبتلا تو نہیں ہو رہے ہیں ؟


عزت تو اللّٰہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کےلیے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں : ⏬


محترم قارئینِ کرام اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : یَقُوْلُوْنَ لَىٕنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّؕ  وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ ۔ (سورہ منافقون آیت نمبر 8)

ترجمہ : کہتے ہیں ہم مدینہ پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اُسے جو نہایت ذلت والا ہے اور عزت تو اللّٰہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں ۔


یعنی منافق کہتے ہیں : اگر ہم اس غزوہ سے فارغ ہونے کے بعد مدینہ کی طرف لوٹ کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نہایت ذلت والے کو نکال دے گا ۔ منافقوں نے اپنے آپ کو عزت والا کہا اور مسلمانوں کو ذلت والا ، اللّٰہ تعالیٰ ان کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ عزت تو اللّٰہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہے مگر منافقوں کو معلوم نہیں ، اگر وہ یہ بات جانتے تو ایسا کبھی نہ کہتے ۔منقول ہے کہ یہ آیت نازل ہونے کے چند ہی روز بعد عبد اللّٰہ بن اُبی منافق اپنے نفاق کی حالت پر مر گیا ۔ (تفسیر خازن المنافقون : ۸، ۴/۲۷۴)


عبد اللّٰہ بن اُبی کے بیٹے کا نام بھی عبد اللّٰہ رضی اللہ عنہ تھا اور یہ بڑے پکے مسلمان اور سچے عاشقِ رسول تھے ، جنگ سے واپسی کے وقت مدینہ منورہ سے باہر تلوار کھینچ کر کھڑے ہوگئے اور باپ سے کہنے لگے اس وقت تک مدینہ میں داخل ہونے نہیں دوں گا جب تک تو اس کا اقرار نہ کرے کہ تو ذلیل ہے اور محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عزیز ہیں ۔ اس کو بڑا تعجب ہوا کیونکہ یہ ہمیشہ سے باپ کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرنے والے تھے مگر نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقابلے میں باپ کی کوئی عزت و محبت دل میں نہ رہی ۔ آخر اس نے مجبور ہوکر اقرار کیا کہ واللّٰہ میں ذلیل ہوں اور محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عزیز ہیں ، اس کے بعد مدینہ میں داخل ہوسکا۔( سیرت حلبیہ، باب ذکر مغازیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ،غزوۃ بنی المصطلق ،۲/۳۹۳،چشتی)(مدارج النبوۃ، قسم سوم، باب پنجم، ۲/۱۵۷)


ہر مومن عزت والا ہے کسی مسلم قوم کو ذلیل جاننا یا اسے کمین کہنا حرام ہے ۔ مومن کی عزت ایمان اور نیک اعمال سے ہے ، روپیہ پیسہ سے نہیں ۔ مومن کی عزت دائمی ہے فانی نہیں اسی لئے مومن کی لاش اور قبر کی بھی عزت کی جاتی ہے ۔ جو مومن کو ذلیل سمجھے وہ اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک ذلیل ہے ، غریب مسکین مومن عزت والا ہے جبکہ مالدار کافر بد تر ہے ۔


اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ ۔ (سورہ حضرات آیت نمبر 13)

ترجمہ : اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے ۔


آیت کے اس حصے میں وہ چیز بیان فرمائی جارہی ہے جو انسان کے لئے شرافت و فضیلت کا سبب ہے اور جس سے اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عزت حاصل ہوتی ہے ، چنانچہ ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم میں سے زیادہ عزت والا وہ شخص ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں جاننے والا اور تمہارے باطن سے خبردار ہے ۔


شانِ نزول : نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مدینہ منورہ کے بازار میں تشریف لے گئے ، وہاں ملاحظہ فرمایا کہ ایک حبشی غلام یہ کہہ رہا تھا : جو مجھے خریدے اس سے میری یہ شرط ہے کہ مجھے نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اِقتداء میں پانچوں نمازیں ادا کرنے سے منع نہ کرے ۔ اس غلام کو ایک شخص نے خرید لیا ، پھر وہ غلام بیمار ہوگیا تو نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کی عیادت کے لئے تشریف لائے ، پھر اس کی وفات ہوگئی اور رنبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کی تدفین میں تشریف لائے ، اس کے بارے میں لوگوں نے کچھ کہا تو اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی ۔ (تفسیر مدارک، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۱۱۵۶، جلالین، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۴۲۸،چشتی)


اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عزت و فضیلت کا مدار نسب نہیں بلکہ پرہیزگاری ہے لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ نسب پر فخر کرنے سے بچے اور تقویٰ و پرہیز گاری اختیار کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسے عزت و فضیلت نصیب ہو ۔


حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا فرماتے ہیں : فتحِ مکہ کے دن نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلِیَّت کا غرور اور ایک دوسرے پر خاندانی فخر دور کر دیا ہے اور اب صرف دو قسم کے لوگ ہیں (1) نیک اور متقی شخص جو کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معزز ہے ۔ (2) گناہگار اور بد بخت آدمی ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ذلیل و خوار ہے ۔ تمام لوگ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد ہیں اور حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا ہے ، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ‘‘ ۔

ترجمہ : اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایاتاکہ تم آپس میں پہچان رکھو ، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے ۔ (ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الحجرات، ۵/۱۷۹، الحدیث: ۳۲۸۱)


حضرت عداء بن خالد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں حجۃ الوداع کے دن نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کے منبر ِاقدس کے نیچے بیٹھا ہوا تھا ، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی ، پھر فرمایا ’’ بے شک اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى ۔

ترجمہ : اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ‘‘ ۔

ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایا تاکہ تم آپس میں پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے ۔

تو کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو عربی پر فضیلت حاصل ہے ،کسی کا لے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں اور نہ ہی کسی گورے کو کالے پر فضیلت حاصل ہے بلکہ فضیلت صرف تقویٰ و پرہیزگاری سے ہے (تو جو مُتَّقی اور پرہیز گار ہے وہ افضل ہے) ۔ (معجم الکبیر، عداء بن خالد بن ہوذہ العامری، ۱۸/۱۲، الحدیث: ۱۶،چشتی)


حضر ت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جب قیامت کا دن ہوگا تو بندوں کواللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اس حال میں کہ وہ غیرمختون ہوں گے اوران کی رنگت سیاہ ہوگی ، تواللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا : ’’اے میرے بندو ! میں نے تمہیں حکم دیا اور تم نے میرے حکم کو ضائع کردیا اورتم نے اپنے نسبوں کو بلند کیا اور انہی کے سبب ایک دوسرے پر فخر کرتے رہے ، آج کے دن میں تمہارے نسبوں کو حقیر و ذلیل قراردے رہاہوں ، میں ہی غالب حکمران ہوں ، کہاں ہیں مُتَّقی لوگ ؟ کہاں ہیں متقی لوگ ؟ بیشک اللہ تعالیٰ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے ۔ (تاریخ بغداد، ذکر من اسمہ علیّ، حرف الالف من آباء العلیین، ۶۱۷۲-علیّ بن ابراہیم العمری القزوینی، ۱۱/۳۳۷)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مومن کی حرمت کو کعبے کی حرمت سے زیادہ محترم قرار دیا ہے ۔ امام ابن ماجہ سے مروی حدیثِ مبارکہ ملاحظہ ہو : ⏬


عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ ﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَطُوفُ بِالْکَعْبَةِ ، وَيَقُولُ: مَا أَطْيَبَکِ وَأَطْيَبَ رِيحَکِ، مَا أَعْظَمَکِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَکِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُوْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اﷲِ حُرْمَةً مِنْکِ مَالِهِ وَدَمِهِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا ۔

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی ﷲ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا : (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے ، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت ﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے ۔ (ابن ماجه، السنن، کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، 2: 1297، رقم: 3932)(طبراني، مسند الشاميين، 2: 396، رقم: 1568،چشتی)(منذري، الترغيب والترهيب، 3: 201، رقم: 3679)


حضرت انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یصف اھل النار فیمُرُبِھِم ُ الرجل من اھل الجنۃ فیقول الرجل منھم یا فلان! اما تعرفنی اناالذی سقیتک شربَۃً و قال بعضھم اناالّذی وھبتُ لک وضوءً فیشفعہ لہ فید خلہ الجنۃ ۔ (ابن ماجہ:3685،مشکوٰۃ،494)

ترجمہ : گنہگار دوزخیوں کو دوزخ میں بھیجنے کیلئے علیحدہ کر دیا جائے گا وہ صفِ بستہ کھڑے ہوں گے کہ ایک جنتی بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ ان کے قریب سے گزرے گاتو دوزخی اپنے اس نیک صالح انسان کو پہچان لیں گے کوئی کہے گا آپ مجھے نہیں پہچانتے فلاں موقع پر میں نے آپ کو پانی پلایا تھا کوئی کہے گا میں نے آپ کو وضو کےلیے پانی لا کر دیا تھا اتنے سے تعارف اور معمولی سی خدمت پر ہی وہ نیک انسان ان کی شفاعت کرے گا جو قبول کی جائے گی اور وہ انہیں اپنے ساتھ جنت میں لے جائے گا ۔


امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی انگلیوں کی تعداد سے زیادہ مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمُنَافِقَ الْعَلِیمَ ، میں اس اُمت پر صاحبء علم منافقوں کے بارے میں بہت ڈرتا ہوں ۔ پوچھا گیا ، منافق صاحبء علم کیسے ہو سکتا ہے ؟ تو أمیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے اِرشاد فرمایا عَالِمُ اللِّسَانِ، جَاهِلُ الْقَلْبِ وَالْعَملِ ، زبان کا عِالم لیکن دِل اور عمل سے جاھل ۔ (الاحادیث المختارہ حدیث نمبر 236 روایۃ عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ ، ابو عثمان عبدالرحمٰن بن مل النھدی عن عمر رضی اللہ عنہ،چشتی)


صاحب کتاب امام محمد بن عبدالواحد المقدسی علیہ الرحمہ کا کہنا ہے کہ اسے مخلتف اسناد سے روایت کیا گیا ہے ، جن میں مرفوع بھی ہیں اور موقوف بھی ہیں اور زیادہ درست یہ ہے کہ یہ موقوف ہے ، یعنی عُمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے ۔


حذیفہ ابن الیمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ منافق کون ہے ؟ فرمایا الَّذِی یصِفُ الْإِسْلَامَ وَلَا یعْمَلُ بِهِ ، یعنی وہ جو اِسلام کا دعویٰ دار ہو لیکن اُس پر عمل نہ کرتا ہو ۔ عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ ہم حکمرانوں اور سرداروں کے پاس جاتے ہیں تو کچھ اور بات (یعنی ان کی تعریف ہی) کرتے ہیں اور جب وہاں سے نکلتے ہیں تو اس بات کے خلاف بات کرتے ہیں " تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا كُنَّا نَعُدُّهَا نِفَاقًا ہم اُسے مُنافقت میں گنا کرتے تھے ۔ (صحیح بخاری کتاب الاحکام باب 27) ۔ مختلف الفاظ میں یہ اثر بہت سی کتابوں میں صحیح اسناد کے ساتھ مروی ہے ، مثلاً سُنن ابن ماجہ حدیث 3975 کتاب الفتن باب 12 ، مسند احمد حدیث 5829)


منافقت ایسے طرز عمل کو کہتے ہیں جو قول و فعل کے تضاد سے عبارت ہو جس میں انسان کا ظاہر، باطن سے مختلف بلکہ برعکس ہو ۔ سورۃ البقرہ کی آیات 8 تا 20 میں مسلسل منافقین کی علامات بیان کی گئی ہیں ۔ یہ علامات منافقین پر قرآن حکیم کا واضح چارٹر ہے جو اس لیے دیا گیا ہے کہ ہر شخص اپنے احوال اور معاملات کا جائزہ لے سکے اور ان کی روشنی میں اپنی اصلاح کی کوشش کر سکے ۔ منافقت کی علامات درج ذیل ہیں : ⏬


 (1) دعویٰ ایمان صرف زبانی حد تک کرنا اور باطن کا اس کی تصدیق سے خالی ہونا۔

(2) محض توحید و آخرت پر ایمان کو کافی سمجھنا اور رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کو اس قدر ضروری نہ سمجھنا۔

(3) دھوکہ دہی اور مکر و فریب کی نفسیات کا پایا جانا۔

(4) یہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری حالتِ نفاق سے بے خبر ہیں۔

(5) یہ سمجھنا کہ ہم اپنی مکاریوں، حیلہ سازیوں اور چالاکیوں سے دوسروں کو فریب دینے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

(6) قلب و باطن کا بیمار ہونا۔

(7) جھوٹ بولنا۔

(8) نام نہاد اصلاح کے پردے میں مفسدانہ طرز عمل اپنانے کے باوجود خود کو صالح سمجھنا۔

(9) دوسروں کو بیوقوف اور صرف خود کو اہل عقل و دانش سمجھنا۔

(10) امت مسلمہ کی اکثریت کو گمراہ تصور کرنا۔

(11) اجماع امت یا سوادِ اعظم کی پیروی نہ کرنا۔

(12) کردار میں دوغلاپن اور ظاہر و باطن کا تضاد ہونا۔

(13) اہل حق کے خلاف خفیہ سازشیں اور تخریبی منصوبے تیار کرنا۔

(14) مسلمانوں پر طنز، طعنہ زنی اور حقیر سمجھتے ہوئے ان کا مذاق اڑانا۔

(15) باطل کو حق پر ترجیح دینا۔

(16) سچائی کی روشن دلیل دیکھتے ہوئے بھی اس کی طرف سے آنکھیں بند کر لینا۔

(17) تنگ نظری اور دشمنی میں اس حد تک چلے جانا کہ کان حق بات نہ سن سکیں، زبان حق بات نہ کہہ سکے اور آنکھیں حق نہ دیکھ سکیں۔

(18) اسلام کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات سے گھبرانا اور ان سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنا۔

(19) اہل حق کی کامیابیوں پر حیران رہ جانا اور ان پر حسد کرنا۔

(20) اپنے مفادات کے حصول کےلیے اہل حق کا ساتھ دینا اور خطرات و مصائب میں قربانی سے گریز کرتے ہوئے ان سے علیحدہ ہو جانا۔

(21) حق کے معاملے میں نیم دلی اور ہچکچاہٹ کی کیفیت میں مبتلا رہنا۔


گذارش : ہم سب ذرا اپنے بارے میں سوچیں تو کہ ہم کونسی سی نشانیاں پائی جاتی ہیں ؟ اور ہمارے اَرد گِرد کس کس میں کیا کیا نشانی پائی جاتی ہے ؟ اور اگر ہمارے اندر اِن میں سے کوئی نشانی ہے تو اُس سے نجات کی کوشش کریں ، اور اپنے جِس مُسلمان بھائی بہن میں اِن میں سے کوئی نشانی پائیں اُسے بھی حِکمت اور نرمی کے ساتھ آگاہ کرتے ہوئے اصلاح کی رغبت دلائیں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو مُنافقت اور مُنافقین سے محفوظ رکھے آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 21 May 2026

گائے ، بیل اور اونٹ کی قربانی میں کتنے حصے ہو سکتے ہیں ؟

گائے ، بیل اور اونٹ کی قربانی میں کتنے حصے ہو سکتے ہیں ؟




محترم قارئین کرام : بڑے جانور یعنی گائے ، بیل یا اونٹ کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات حصے ہو سکتے ہیں اوراس سے کم میں کوئی تعداد مقرر نہیں ، لہذا سات شرکاء سے کم جتنے بھی ہوں ، وہ اس میں شریک ہو سکتے ہیں ، کیونکہ ایسا جانور جس میں سات شرکاء کی شرعا اجازت ہے اس کا حکم یہ ہے کہ اس میں کسی بھی شریک کا حصہ ساتویں سے کم نہ ہو ۔ اگر بعض شریکوں کا حصہ ساتواں اور دوسرے بعض کا ساتویں سے زیادہ ہے ، تو یہ جائز ہے ، اسی طرح اگر سب شریکوں کا حصہ ساتویں سے زیادہ ہے ، تو بدرجہ اولیٰ جائز ہوگا ، ہاں البتہ اگر ساتویں سے کم حصہ کسی کا ہو ، افراد سات ہوں یا کم تو اس صورت میں کسی کی قربانی نہیں ہوگی ۔


اونٹ کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات حصے ہو سکتے ہیں ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی کا حکم ارشاد فرمایا اور خود بھی اسی پر عمل فرمایا ۔


حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : البقرۃ عن سبعۃ والجزور عن سبعۃ ۔

ترجمہ : گائے اور اونٹ سات کی طرف سے قربان ہو سکتا ہے ۔ (سنن ابی داؤد جلد 2 صفحہ 40 کتاب الضحایا باب فی البقر والجزور عن کم تجزی مطبوعہ لاھور)(معجم اوسط جلد 9 صفحہ 35،چشتی)(معجم کبیر جلد 9 صفحہ 35)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کو بھی سات افراد کی طرف سے اونٹ قربان کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی وہ فرماتے ہیں : امرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان نشترک فی الابل والبقرکل سبعۃ منا  فی بدنۃ ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے میں شریک ہو کر قربانی کریں اس طرح کہ ایک اونٹ میں سات افراد شریک ہوں ۔ (صحیح المسلم کتاب الحج باب بیان وجوہ الاحرام جلد 1 صفحہ 392 مطبوعہ کراچی)(مسند احمد بن حنبل جلد 22 صفحہ 15،چشتی)(معجم کبیر للطبرانی جلد 7 صفحہ 120)


عن جابر بن عبد الله ، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : البقرة عن سبعة ، والجزور عن سبعة ۔

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ : گائے  سات  افراد کی جانب سے اور اونٹ  سات  کی جانب سے کرنا کافی ہے ۔ (سنن ابی داؤد جلد 3 صفحہ 98 مطبوعہ بیروت)


عن جابر بن عبد الله ، قال : نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الحديبية البدنة عن سبعة ، والبقرة عن سبعة ۔

ترجمہ : حضرت  جابر رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک اونٹ سات افراد  کی طرف سے نحر کیا تھا ، اور گائے کو سات افراد کی طرف سے ذبح کیا تھا ۔ (صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 955 دار احیاء التراث العربی)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی سات افراد کی طرف سے ہی اونٹ قربان کیا ۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی وہ فرماتے ہیں : نحرنا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام الحدیبیۃ البدنۃ عن سبعۃ ، والبقرۃ عن سبعۃ ۔

ترجمہ : ہم نے حدیبیہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اونٹ اور گائے دونوں کو سات سات افراد کی طرف سے قربان کیا ۔ (صحیح المسلم کتاب الحج باب الاشتراک جلد 1 صفحہ 424 مطبوعہ کراچی)(سنن کبریٰ للبیہقی جلد 5 صفحہ 383)(صحیح ابن خزیمہ جلد 2 صفحہ 1364)


مذکورہ حدیثِ مبارکہ کو نقل کرنے کےبعد امام محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : حدیث جابر ، حدیث حسن صحیح ، والعمل علی ھذاعنداھل العلم من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وغیرھم یرون الجزور عن سبعۃوالبقرۃ عن سبعۃ ، وھو قول سفیان الثوری والشافعی واحمد ۔

ترجمہ : حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ،حسن صحیح ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب اور ان کے علاوہ دیگر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ وہ اونٹ اور گائے کو سات افراد کی طرف سے کافی سمجھتے تھے ، یہی قول سفیان ثوری ، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ تعالی کا بھی ہے ۔ (سنن ترمذی ابواب الحج باب ما جاء فی الاشتراک فی البدنہ والبقرۃ جلد 1 صفحہ 180 مطبوعہ کراچی)


ان احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں فقہائے کرام رحمہم اللہ علیہم نے بھی اپنے اپنے دور میں یہی فتوی دیا کہ اونٹ کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات حصے ہی ہو سکتے ہیں ۔ چنانچہ در الحکام شرح غرر الاحکام جلد 1 صفحہ 266 ، تبیین الحقائق جلد 6 صفحہ 3 ، بحر الرائق جلد 8 صفحہ 198 ، مجمع الانہر جلد 2 صفحہ 517 اور بدائع الصنائع میں بالفاظِ مختلفہ یہ مسئلہ موجود ہے : ولا یجوز بعیر واحد ولا بقرۃ واحدۃ عن اکثر من سبعۃ،ویجوز ذلک عن سبعۃاواقل من ذلک،وھذا قول عامۃ العلماء ۔

ترجمہ : سات سے زیادہ شرکاء کی طرف سے ایک اونٹ یا ایک گائے کی قربانی جائز نہیں ، بلکہ ان میں فقط سات یا اس سے کم افراد ہی شریک ہو سکتے ، یہی اکثر علماء کا قول ہے ۔ (بدائع الصنائع کتاب التضحیہ فصل فی محل اقامۃ الواجب فی الاضحیۃ جلد 4 صفحہ 206 تا 207 مطبوعہ کوئٹہ)


رہی یہ بات کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : ہم نے اونٹ دس افراد کی طرف سے قربان کیا ، تو یہ حدیث جامع ترمذی میں ان الفاظ کے ساتھ موجودہے : عن ابن عباس قال : کنا مع النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فی سفر،فحضر الاضحی ، فاشترکنا فی البقرۃ سبعۃ ، وفی الجزور عشرۃ ۔ ترجمہ : مفہوم مذکور ہوا ۔ (سنن ترمذ ی ابواب الحج باب ما جاء فی الاشتراک فی البدنہ والبقرۃ جلد 1 صفحہ 180 مطبوعہ کراچی)


لیکن یاد رہے یہ حدیث چند وجوہ سے قابل ِعمل نہیں : ⏬


اولاً : یہ حدیث دیگر کتب میں بھی موجود ہے ، مگر ان میں شک کے الفاظ ہیں ، یعنی دس افراد شریک ہوئے تھے یا سات ، جبکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یقین کے الفاظ ہیں کہ اونٹ کی قربانی میں سات افراد ہی شریک ہو سکتے ہیں ، لہٰذا یہ حدیث قابل عمل نہیں ۔


چنانچہ صحیح  ابن حبان میں یہ حدیث شک کے الفاظ کے ساتھ یوں مروی ہے : کنا مع النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فی سفر فحضر النحر ، فاشترکنا فی البقرۃ سبعۃ ، وفی البعیر سبعۃ او عشرۃ ۔

ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے اسی حالت میں عید الاضحی آ گئی ، تو ہم نے گائے سات افراد کی طرف سے جبکہ اونٹ سات یا دس افراد کی طرف سے قربان کیا ۔ (صحیح ابن حبان جلد 9 صفحہ 318 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ بیروت)


مرقاۃ المفاتیح میں ہے : واما ما ورد:فی البدنۃ سبعۃ او عشرۃ فھو شاک ، وغیرہ جازم بالسبعۃ ۔

ترجمہ : بہرحال جس حدیث میں دس یا سات افراد کی شرکت کا تذکرہ ہے تو یہ شک کے ساتھ مروی ہے ، اور اس کے علاوہ دیگر احادیث یقین کے ساتھ مروی ہیں کہ اونٹ کی قربانی میں سات افراد ہی شریک ہو سکتے ہیں ۔ (مرقاۃ المفاتیح جلد 3 صفحہ 1086 مطبوعہ دار الفکر بیروت،چشتی)


ثانیاً : یہ حدیث حسن غریب ہے ، جبکہ سات افراد کی شرکت والی حدیث حسن صحیح ہے ، لہذا اُس کے مقابلے میں یہ حدیث متروک ہے ۔


چنانچہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد خود ارشاد فرمایا : ھذا حدیث حسن غریب ۔

ترجمہ : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ (سنن ترمذ ی ابواب الحج باب ما جاء فی الاشتراک فی البدنہ والبقرۃ جلد 1 صفحہ 180 مطبوعہ کراچی)


حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث مبارکہ کے تحت ارشاد فرماتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ، اور سات کی روایات نہایت صحیح ، لہٰذا اُس کے مقابل یہ حدیث متروک ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد 2 صفحہ 374 مطبوعہ نعیمی کتب خانہ کراچی)


ثالثاً : دس افراد کی شرکت والی حدیث سات افراد کی شرکت والی حدیث سے منسوخ ہے ۔


مرقاۃ المفاتیح میں ہے : انہ منسوخ مما مر من قولہ:البقرۃ عن سبعۃ ، والجزور عن سبعۃ ۔

ترجمہ : دس افراد کی شرکت والی حدیث اس حدیث سے منسوخ ہے جس میں یہ بیان ہوا کہ گائے اور اونٹ سات افراد کی طرف سے ہی قربان ہو سکتے ہیں ۔ (مرقاۃ المفاتیح جلد 3 صفحہ 1086 مطبوعہ دار الفکر بیروت،چشتی)


اگر اس حدیث کو قابل عمل مان بھی لیا جائے ، تو اس سے مراد قیمت میں شرکت ہے ، نہ کہ قربانی میں ، یعنی حقیقتاً اونٹ کی قربانی میں سات افراد ہی شریک تھے ، مگر اس کی قیمت دس افراد نے مل کر ادا کی جو ہمارے نزدیک بھی درست ہے ۔


التعلیق الممجد علی مؤطا محمدمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے تحت ہے : محمول علی الاشتراک فی القیمۃ ، لا فی التضحیۃ ۔

ترجمہ : یہ حدیث قیمت کی شرکت پر محمول ہے ، نہ کہ قربانی کی شرکت پر ۔ (التعلیق الممجد علی مؤطا محمد باب الذبائح جلد 2 صفحہ 626 مطبوعہ دار القلم دمشق)


اسی طرح وہ روایات جن میں اونٹ کی قربانی میں دس افراد کی شرکت کا تذکرہ ہے ، تو وہ بھی مذکورہ یا ان کے علاوہ دیگر وجوہات کی بناء پر قابل ِعمل نہیں ۔


در مختار میں ہے : تجب شاۃ أو سبع بدنۃ ھی الإبل و البقر ، و لو لأحدھم أقل من سبع لم یجز عن أحد ، و تجزی عما دون سبعۃ بالأولی ۔

ترجمہ : ایک بکری یا بڑے جانور جیسے اونٹ اور گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے اور اگر ان میں سے کسی ایک کا ساتویں حصے سے کم ہو ، تو کسی ایک کی طرف سے بھی جائز نہیں ہوگی اور اگر شریک سات سے کم ہیں، تو قربانی بدرجہ اولیٰ جائز ہے ۔ (در مختار مع رد المحتار جلد 9 صفحہ 524 ، 525 مطبوعہ کوئٹہ،چشتی)


صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی امجدی علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: جب قربانی کی شرائط مذکورہ پائی جائیں تو بکری کا ذبح کرنا یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے ، ساتویں حصہ سے کم نہیں ہو سکتا ، بلکہ اونٹ یا گائے کے شرکاء میں اگر کسی شریک کا ساتویں حصہ سے کم ہے ، تو کسی کی قربانی نہیں ہوئی ، یعنی جس کا ساتواں حصہ یا اس سے زیادہ ہے اس کی بھی قربانی نہیں ہوئی ، گائے یا اونٹ میں ساتویں حصہ سے زیادہ کی قربانی ہوسکتی ہے ، مثلاً : گائے کو چھ یا پانچ یا چار شخصوں کی طرف سے قربانی کریں ، ہوسکتا ہے اور یہ ضرور نہیں کہ سب شرکاء کے حصے برابر ہوں، بلکہ کم و بیش بھی ہو سکتے ہیں ، ہاں یہ ضرور ہے کہ جس کا حصہ کم ہے ، تو ساتویں حصہ سے کم نہ ہو ۔ (بھار شریعت جلد 3 حصہ 15 صفحہ 335 مکتبۃ المدینہ کراچی)


مفتی اعظم پاکستان، مفتی وقارالدین رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ تین اشخاص یعنی زید ، خالد اور عمر نے مل کر گائے کی قربانی کا فیصلہ کیا ۔ تو عرض خدمت ہے کہ گائے کی قربانی میں کیا سات حصہ داروں کو ہونا ضروری ہے یا کہ قربانی میں تین یا پانچ اشخاص مل کر بھی کرسکتے ہیں ؟

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ : قربانی کی شرط یہ ہے کہ بکری ، بھیڑ وغیرہ صرف ایک آدمی کر سکتا ہے جبکہ گائے اور اونٹ وغیرہ میں زیادہ سے زیادہ سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں اور سات سے کم بھی شریک ہوسکتے ہیں ، مگر شرط یہ ہے کہ کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو ۔ (وقار الفتاوی جلد 2 صفحہ 473 بزم وقار الدین) ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

یارسول اللہ انظر حالنا پڑھنا کیسا ؟ اور یارسول اللہ پکارنا شرک نہیں ہے

یارسول اللہ انظر حالنا پڑھنا کیسا ؟ اور یارسول اللہ پکارنا شرک نہیں ہے محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زم...