Wednesday, 8 July 2026

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخ کی سزا و شرعی حکم

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخ کی سزا و شرعی حکم

محترم قارئینِ کرام : صحابیت کا عظیم  اعزاز کسی بھی عبادت و ریاضت سے حاصل نہیں ہو سکتا لہٰذا اگر ہمیں کسی مخصوص صحابی رضی اللہ عنہ  کی فضیلت کے بارے میں کوئی روایت نہ بھی ملے تب بھی بلاشک و شبہ  وہ صحابی محترم و مکرم اورعظمت و فضیلت کے بلند مرتبے پر فائز ہیں  کیونکہ  کائنات میں مرتبۂ نبوت کے بعد سب سے افضل و اعلیٰ مقام و مرتبہ صحابی ہونا ہے ۔ صاحبِِ نبراس علّامہ عبدالعزیز پرہاروی چشتی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں : یاد رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابَۂ  کرام رضی اللہ عنہم کى تعداد سابقہ انبىائے کرام علیہم السّلام کى تعداد کے موافق (کم و بىش) ایک لاکھ چوبىس ہزار ہے مگر جن کے فضائل مىں احادىث موجود ہىں وہ چند حضرات ہىں اور باقى صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کى فضىلت مىں نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابی ہونا ہی کافی ہےکیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبتِ مبارکہ کی فضیلت عظیمہ کے بارے میں قراٰنِ مجید کی آیات اوراحادیثِ مبارکہ ناطِق ہیں ، پس اگر کسى صحابى کے فضائل مىں احادىث نہ بھی ہوں یا کم ہوں تو یہ ان کى فضىلت و عظمت مىں کمى کى دلىل نہىں ہے ۔ (الناھیۃ صفحہ نمبر 38)


سارے صحابہ عادل ہیں صحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت  کےلیے یہ ایک ہی آیت کافی ہے : وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۔

ترجمہ : اور سب میں اگلے پہلے مہاجر  اور انصار  جو بھلائی کے ساتھ ان کے پَیرو ہوئے اللہ ان سے راضی  اور وہ اللہسے راضی اور ان کےلیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے ۔ (سورہ التوبۃ آیت ننبر 100)


علّامہ ابوحَیّان محمد بن یوسف اندلسی رحمۃ اللہ علیہ (وفات : 745ہجری) فرماتےہیں :  وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ سے  مراد تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ہیں ۔ (تفسیرالبحر المحیط جلد 5 صفحہ 96 تحت الآیۃ المذکورۃ)


یاد رہے سارے صحابَۂ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم عادل ہیں ، جنتی ہیں ان میں کوئی گناہ گار اور فاسق نہیں ۔ جو بدبخت کسی تاریخی واقعہ یا روایت کی وجہ سے صحابَۂ  کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم میں سے کسی کو فاسق ثابت کرے ، وہ مَردُود ہے کہ اس آیت کے خلاف ہے ۔


ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ درج ذیل حدیثِ پاک کو دل کی نظر سے پڑھ کر عبرت حاصل کرنے کی کوشش کرے ، چنانچہ حضرت عبدُاللہ بن مُغَفَّل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ (رضی اللہ عنہم) کے بارے میں اللہ  سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ۔ میرے بعد انہیں نشانہ نہ بنانا کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو ا س نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بُغض رکھا تو اس نے میرے بُغض کی وجہ سے ان سے بُغض رکھا اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللہ پاک کو ایذا دی اور جس نے اللہ پاک کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ پاک اس کی پکڑ فرما لے ۔ (ترمذی جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 463 حدیث نمبر 3888)


حضرت سیّدنا مولا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا : مَنْ سَبَّ الاَنَبِیًا قُتِلَ وَمَنْ سَبَّ أَصْحَابِی جُلِدَ ۔

ترجمہ : جس نے کسی نبی کو گالی دی اسے قتل کیا جائے گا اور جس نے کسی صحابی کو گالی دی ، اسے کوڑے مارے جائیں گے ۔ (المعجم الصغیر طبرانی جلد 1 صفحہ 393حدیث نمبر 659 بیروت)(المعجم الصغیر طبرانی مترجم اردو حدیث نمبر 928)(کتاب الشفاء عربی صفحہ نمبر 880 مطبوعہ حکومت دوبئی)


حضرت سدنا مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اس اُمّت میں سب سے افضل ہیں ۔ ان کے گستاخ کو توبہ نصیب نہیں ہوگی ، میں اُن کے گستاخ سے بری الذمہ ہوں ۔ (کنزُ العُمّال عربی الجزء الثالث عشر صفحہ نمبر 8 حدیث نمبر  36097 ، 36098 مطبوعہ مؤسسۃ الرّسالہ)(کنز العمال مترجم اردو جلد نمبر 7 صفحہ نمبر 17 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)


امام عاصم الاحوال رحمۃ اللہ علیہ متوفی ١٤٢ ھجری جو مدائن شہر کے قاضی بھی رہے ہیں وہ فرماتے ہیں : میرے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو گالی دی تھی ، میں نے اسے دس کوڑے لگائے ، اس نے دوبارہ گالی دی میں نے دس کوڑے مزید لگائے ، پھر وہ دوبارہ ایسا کرتا رہا حتی کہ میں نے اسے ستر کوڑے مارے ۔ (العلل و معرفة الرجال لاحمد جلد 1 صفحہ 428 ، 429 حدیث نمبر 948 وسندہ صحيح)


إبراهيم بن میسرہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں : میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے کسی انسان کو مارا ہو سوائے ایک شخص کے جس نے حضرے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالی دی تو انہوں نے اسے کوڑے لگائے ۔ (شرح إعتقاد أهل السنة للالكائی صفحہ 1265 ، 1266 روایت نمبر 2385 وسنده حسن،چشتی)


حضرت ابو الفتوح سید عز الدين رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٦٥٣ ھجری جو کہ حضرت سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہم کی اولاد میں سے تھے انہوں نے ایک رافضی النجيب يحيى بن احمد الحلی ابن العود کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالیاں دینے کی وجہ سے گدھے پر بٹھا کر حلب شہر کا چکر لگوایا تھا ۔ (تاریخ الاسلام للذهبی جلد  14 صفحہ 749)


حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت سیدنا ابراہیم بن الحسن بن الحسن بن علی رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں : میرے ایامِ شباب میں میرے پاس مغیرہ بن سعید آیا ، میں چونکہ جوانی میں شکل و صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت مشابہت رکھتا تھا ، تو اس نے میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رشتہ داری ، آپ سے مشابہت اور میرے متعلق اپنی خواہشات کا اظہار کیا ، پھر اس نے سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کا تذکرہ کیا تو ان پر لعنت کی اور اعلان براءت کیا ، میں نے کہا : اے اللہ کے دشمن ! میرے سامنے تو ایسا کرتا ہے ؟ فرماتے ہیں : میں نے بڑی مضبوطی سے اس کا گلہ دبا دیا ۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے پوچھا : گلہ دبانے کا مطلب کہ آپ نے اسے باتوں سے چپ کرا دیا ؟ فرمایا : نہیں بلکہ میں نے اس کا گلہ اتنی مضبوطی سے دبایا کہ اس کی زبان باہر نکل آئی تھی ۔ (كتاب الضعفاء للعقیلی جلد 4 صفحہ 179 وسندہ صحیح)(ميزان الاعتدال للذهبی و نسبه البعض الی الحسن بن الحسن بن علی رحمة اللہ علیہ انظر تاريخ الإسلام و سير أعلام النبلاء للذهبي)


یاد رہے کہ یہ وہی مغیرہ بن سعید ہے ، جو نہایت برے عقائد و نظریات کا مالک تھا ، امام ذہبی رحمة اللہ علیہ اس کا نام ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں : لعنہ اللہ ۔ (تاریخ الإسلام للذهبي : ٣١٧/٣)


امام ابن عدی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس مغیرہ بن سعید سے بڑا لعنتی پورے کوفے میں نہیں تھا ۔ (الكامل في ضعفاء الرجال : ٧٣/٨)


حافظ ابن حزم نے بھی اس کے متعلق کہا : لَعنه الله ۔ (الفصل فی الملل والأهواء و النحل : ١٤١/٤)


محترم قارئینِ کرام : صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث ِقدسی میں ارشاد ِ الہٰی ہے : مَنْ عَادَى لِى وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ الخ ۔۔۔

ترجمہ :  جو شخص میرے کسی ولی سے دشمنی کرے تومیں اس کے خلاف جنگ کا اعلان کرتاہوں ۔ (صحیح بخاری شریف ،کتاب الرقاق باب التواضع حدیث نمبر 6502)


اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بڑا ولی کون ہوسکتا ہے ؟ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ حب علی رضی اللہ عنہ والے دل میں بغض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہو ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت تو صحابہ و ال رسول رضی اللہ عنہم کا غلام بننے کا درس دیتی ہے ۔ اور ان لوگوں کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے جوکہ اپنے آپ کو سنی کہتے ہیں لیکن اپنے دلوں میں منکرین صحابہ کیلئے محبت بھی رکھتے ہیں ۔ کہیں منکرین صحابہ کی نحوست تمہیں بھی برباد نا کر دے اور جسطرح بغض صحابہ رضی اللہ عنہم کے سبب اللہ نے ن سے توبہ کی توفیق سلب کرلی تمھارے ساتھ بھی یہی معاملہ نا ہو ۔


صحیح بخاری ومسلم شریف میں ایک ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم یوں ہے ’’میرے صحابہ کو گالیاں مت دو ، مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ،تم میں سے اگر کوئی شخص اُحد پہاڑ جتنا سونا بھی راہ ِ للہ خرچ کردے تو میرے صحابہ کے ایک مٹھی دانے صدقہ کرنے بلکہ اس سے آدھے ثواب کو بھی نہیں پہنچ سکتا ‘‘ طبرانی میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّمہے’’ جس نے میرے صحابہ کو گالیاں دیں ، اس پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو‘‘ ایک اور حدیث میں ہے ’’ جس نے میرے صحابہ کو گالیاں دیں ، اس نے مجھے گالیاں دیں اور جس نے مجھے گالیاں دیں ، اس نے اللہ تعالیٰ کو گالیاں دیں ۔


نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : لَا تَسُبُّوْا أَصْحَابِي. فَلَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيْفَهُ ۔

ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ کو برا مت کہو، پس اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کردے تب بھی وہ ان میں سے کسی ایک کے سیر بھر یا اس سے آدھے کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ (بخاري في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم : لو کنت متخذا خليلا، 3 / 1343، الرقم : 3470،شتی)(والترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب : (59)، 5 / 695، الرقم : 3861، وأبو داود في السنن، کتاب السنة، باب في النهي عن سب أصحاب رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ، 4 / 214، الرقم : 4658)


عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لاَ تَسُبُّوْا أَصْحَابِي، لَا تَسُبُّوْا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بَيَدِهِ، لَو أَنَّ أَحَدَکُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَکَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيْفَهُ ۔

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ کو گالی مت دو، میرے صحابہ گالی مت دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کردے تو بھی وہ ان میں سے کسی ایک کے سیر بھر یا اس سے آدھے کے برابر نہیں پہنچ سکتا ۔ (مسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب تحريم سبّ الصحابة، 4 / 1967، الرقم : 2540، والنسائي في السنن الکبری، 5 / 84، الرقم : 8309، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب فضل أهل بدر، 1 / 57، الرقم : 161،چشتی)


 نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَسُبُّونَ أَصْحَابِي فَقُولُوا: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى شَرِّكُمْ ۔

ترجمہ : جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا بھلا کہتے ہیں تو ان سے کہو تم میں سےجو بُرا ( یعنی صحابہ کو بُرا کہتا ) ہے اس پر اللہ کی لعنت ہے ۔ (ترمذی، باب فيمن سب أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، حدیث نمبر ۳۸۶۶)


غرض آیات ِ قرآنیہ اور اِن احادیـث ِ نبویہ کے پیش ِ نظر اہل ِ علم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالی دینا اور لعن طعن کرنا کفر قرار دیا ہے ۔


فتاویٰ بزازیہ میں ہے : ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کا منکر کافر ہے ۔ حضرت علی ، طلحہ، زبیر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم کو کافر کہنے والے کو کافر کہنا واجب ہے ۔ (فتاویٰ بزازیہ:۳/۳۱۸،چشتی)


ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ : شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں: ’’جو شخص ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کا انکار کرے تو وہ کافر ہے، کیونکہ ان دونوں کی خلافت پر تو صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے ۔ (شرح فقہ اکبر:۱۹۸)


حضرت مجدِّد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ : مختلف مکتوبات میں روافض کو کافر فرماتے ہیں، ایک رسالہ مستقل ان پر لکھا ہے جس کا نام رد روافض ہے، اس میں تحریر فرماتے ہیں : اس میں شک نہیں کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما صحابہ میں سب سے افضل ہیں، پس یہ بات ظاہر ہے کہ ان کو کافر کہنا ان کی کمی بیان کرنا کفر و زندیقیت اور گمراہی کا باعث ہے ۔ (ردّ روافض:۳۱)


فتاویٰ عالمگیری میں ہے : روافض اگر حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی شان میں گستاخی کریں اور ان پر لعنت کریں تو کافر کافر ہیں، روافض دائرۂ اسلام سے خارج ہیں اور کافر ہیں اور ان کے احکام وہ ہیں جو شریعت میں مرتدین کے ہیں ۔ (فتاویٰ عالمگیری:۲/۲۶۸،چشتی)


حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ اپنی کتاب مسویٰ شرح مؤطا امام محمد رحمۃ اللہ علیہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ : اگر کوئی خود کو مسلمان کہتا ہے لیکن بعض ایسی دینی حقیقتوں کی جن کا ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے قطعی ہے ایسی تشریح و تاویل کرتا ہے جو صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین رضی اللہ عنہم اور اجماعِ امت کے خلاف ہے تو اس زندیق کہا جائے گا اور وہ لوگ زندیق ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اہل جنت میں سے نہیں ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد کسی کو نبی نہ کہا جائے گا ، لیکن نبوت کی جو حقیقت کسی انسان کا اللہ کی طرف سے مبعوث ہونا ، اس کی اطاعت کا فرض ہونا اور اس کا معصوم ہونا ، یہ سب ہمارے اماموں کو حاصل ہے ، تو یہ عقیدہ رکھنے والے زندیق ہیں اور جمہور متأخرین حنفیہ، شافعیہ کا اتفاق ہے کہ یہ واجب القتل ہیں ۔ (مسویٰ شرح مؤطا محمد)


درّ مختار میں ہے : ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما میں سے کسی ایک کو برا بھلا کہنے والا یا ان میں سے کسی ایک پر طعن کرنے والا کافر ہے اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی ۔(درمختار)


علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائے یا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرے تو اس کے کفر میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ۔ (شامی:۲/۲۹۴،چشتی)


جس نے تمام صحابہ یا اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم کو کافر ، مرتد اور فاسق کہہ کر گالی دی ایسے شخص کے کافر ہونے میں کوئی شبہہ نہیں ، اس لئے کہ قرآن وسنت کے ناقلین کو کافر یا فاسق کہنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اُسے قرآن اور حدیث میں شک ہے ، ناقلین پر افتراء پردازی کا مطلب ہے کہ منقول (قرآن وسنت) بھی جھوٹا ہے ، جب کہ قرآن نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی شان میں قصیدے پڑھے ہیں اور اللہ اُن سے راضی ہوچکا ہے ۔ قرآن اور احادیث کے نصوص سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی فضیلت پر قطعی دلالت کرتا ہے ۔ (الرد علی الرافضۃ: ۱۹) ، تو جس نے قطعیت کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا ۔


صحابہ رضی اللہ عنہم کو گالی دینے کا مطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو ایذاء پہنچانا ہے ، اس لئے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے خواص ، محبوب اور ساتھی تھے ، اور کسی کے محبوب و خواص کو گالی دینے پر اُسے تکلیف پہنچے گی ہی ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو تکلیف دینا کفر ہے ۔


علامہ ابن تیمیہ نے اس قسم کا حکم بیان کیا ہے : جو اپنے گمان میں اس قدر تجاوز کرجائے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے انتقال کے بعد چند صحابۂ کرام کو چھوڑ کر سب مرتد ہوگئے تھے ، یا ان کی اکثریت فاسق ہوگئی تھی ، تو ایسے شخص کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں ، اس لئے کہ اس نے قرآن کے نصوص کو جھٹلایا ، جو ان کی فضیلت میں کئی جگہ واردہیں ، جیسے اللہ کا اُن سے راضی ہوجانا ، اُن کی مدح و ثناء بیان کرنا ، تو ایسے لوگوں کے کافر ہونے میں جو شک کرے وہ خود کافر ہے ۔ ابن تیمیہ نے آگے لکھا : کہ ایسے لوگوں کا یہ کفر دین اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں لازما جانا جائے ۔ (الصارم المسلول: ۵۸۶)


امام ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : کہ علماء کا اختلاف بعض صحابہ کو گالی دینے کے سلسلے میں ہے کہ وہ کافر ہے یا نہیں ؟ لیکن تمام صحابہ کو گالی دینے والا یقیناً کافر ہے ۔(الصواعق المحرقۃ : ۳۷۹)


مذکورہ دلائل کی توضیح کے ساتھ یہاں بعض علماء کے دوسرے تفصیلی دلائل بیان کیے جا رہے ہیں : ⏬


سورۂ فتح کی آخری آیت (محمد رسول اللہ والذین معہ ۔۔الی ۔۔لیغیظ بہم الکفار) امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ جو صحابہ سے بغض رکھے وہ کافر ہے ، ایسے لوگوں سے صحابہ خود بغض رکھتے تھے ، اور صحابہ جس سے نفرت کریں ، وہ کافر ہے ، امام شافعی اور دوسرے علماء کا بھی یہی موقف ہے ۔ (الصواعق المحرقۃ،ص: ۳۱۷،چشتی)


امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے ایک مرتبے ایک شخص کو دُرّے لگائے جس نے اُن کو ابو بکر رضی اللہ عنہ پر فوقیت دی تھی،اور پھر عمر نے فرمایا تھا : ’’ابو بکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد لوگوں میں سب سے زیادہ افضل ہیں ، فلاں فلاں چیزوں میں ۔۔۔‘‘ پھر کہا : جو اس کے خلاف کہے گا ، اُس پر ہم حد نافذ کریں گے جیسا کہ اُس جھوٹے کو دُرّے لگائے گئے ۔ (فضائل الصحابۃ للامام أحمد: ۱؍۳۰۰)


اسی طرح امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھ کو کوئی بھی ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت نہ دے ، ورنہ میں اُس پر افتراء پردازی کی حد نافذ کروں گا ۔ (فضائل الصحابۃ للامام أحمد: ۱؍۸۳)


جب دو خلیفۂ راشد عمر و علی رضی اللہ عنہما اُن لوگوں پر افتراء پردازی کی حد نافذ کرنے کا عزم کرتے ہیں جوعلی کو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم پر ترجیح دیتے ہیں یا جو عمر کو ابو بکر پر فوقیت دیتے ہیں ۔ حا لانکہ محض افضلیت کو اوپر نیچے کرنے میں نہ کوئی عیب ہے اور نہ ہی گالی ۔ تو اندازہ لگائیں کہ گالی کی سزا ان دونوں کے نزدیک کتنی بھاری رہی ہوگی ۔ (الصارم المسلول،ص:۵۸۶)


حضرت سحنون رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : جس نے ابوبکر ، عمر ، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کے بارے یہ کہا : کہ وہ لوگ گمراہی اور کفر کی راہ پر تھے ، وہ واجب القتل ہے ، ان کے علاوہ اگر دوسرے صحابہ کو بھی گالی دی گئی تو اُسے سخت سزا دی جائے گی ۔ (الشفاء للقاضی عیاض ۲؍۱۱۰۹)


ہشام بن عمار کہتے ہیں : میں نے امام مالک  کو یہ کہتے ہوئے سناجو ابو بکر و عمر کو گالی دے اُسے قتل کردیا جائے گا ، جو ام المؤمنین عائشہ کو گالی دے ، وہ بھی واجب القتل ہے ، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتا ہے ( یعظکم اللہ أن تعودوا لمثلہ ، أبدا ان کنتم مؤمنین) ، (النور:۱۷) اللہ تعالیٰ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ پھرکبھی بھی ایسا کام نہ کرنا ، اگر تم سچے مؤمن ہو ۔ تو جس نے عائشہ کو متہم کیا ، اُس نے قرآن کی خلاف ورزی کی ، اور قرآن کی خلاف ورزی کرنے والا قتل کردیا جائے گا ۔ (الصواعق المحرقۃ، صفحہ نمبر ۳۸۴،چشتی)


امام ہیثمی لکھتے ہیں : جو لوگ ابو بکر اور ان کے ہمراہی کو کافر قرار دیتے ہیں ، جن کےلیے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جنت کی بشارت دی ہے ۔ (الصواعق المحرقہ صفحہ نمبر ۳۸۵)


 علامہ خرشی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : جس نے حضرت عائشہ پر ایسی تہمت لگائی ، جس سے اللہ نے ان کی برأت فرمائی ہے ، یا جو لوگ ابوبکر کی صحابیت ، یا عشرۂ مبشرہ کے اسلام ، یا تمام صحابہ کے اسلام کا انکار کرے یا خلفائے اربعہ میں سے کسی تکفیرکرے تو وہ کافر ہے ۔ (الخرشی علیٰ مختصر خلیل:۸؍۷۴)


خطیب بغدادی کہتے ہیں کہ علماء لکھتے ہیں : وہ شخص کافر ہے جو عشرۂ مبشرہ میں سے کسی کی تکفیر کرے ، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات کا احترام اور ان سے محبت واجب ہے ، جو شخص ان میں سے کسی کی بھی تکفیر کرے ، اُسے کافر قرار دیا جائیگا ۔ (الفرق بین الفرق،ص: ۳۶۰)


قاضی عیاض کہتے ہیں : صحابہ میں کسی کو بھی گالی دینا گناہ کبیرہ ہے ، گالی دینے والے کو قتل کے علاوہ دوسری سزائیں دی جائیں گی ، یہی میرا اور جمہور علماء کا مسلک ہے ۔ (مسلم بشرح النووی۱۶؍۹۳،چشتی)



عبد الملک بن حبیب کہتے ہیں : ’’کوئی غالی شیعہ عثمان سے بغض اور برأت کا اظہار کرے ، اُسے سخت سزادی جائے گی ، اور وہ اگر ابوبکر و 


عمر سے نفرت و عداوت کا اظہار کرے تو اُس پر سزا بڑھادی جائے گی ، اُس کی پٹائی ڈبل کی جائے گی ، اور اُسے تا حیات جیل میں رکھا جائے گا ۔ (الشفاء:۲؍۱۱۰۸)


فضیلت کے حاملین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالی دینے والا کافر ہے ، اور جن کے بارے میں متواتر نص وارد نہیں ہیں ، جمہور علماء ان کو کافر قرار نہیں دیتے ، ہاں اگر کوئی صحابیت کو طعن و تشنیع کرے تو وہ کافر ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)















Tuesday, 7 July 2026

حضرت امیر معاویہ اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے باہمی تعلقات و بیعت

حضرت امیر معاویہ اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے باہمی تعلقات و بیعت

حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی تو سبائیوں نے جو صلح کے مخالف تھے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو آمادہ  کرنا چاہا کہ وہ بیعت ختم کر کے مقابلہ کریں ۔ لیکن آپ نے صاف انکار کر دیا اور فرمایا : ہم نے  معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی ، عہد کر لیا ہے ، اب ہمارا  بیعت  توڑنا  ممکن نہیں ۔ (شیعہ کتب : اخبار الطوال صفحہ 220)(رجال کشی صفحہ 102)

 

شیعہ کے اسمآء الرجال کی معتبر کتاب "رجال کشی" میں شیخ طوسی ، محمد بن راشد سے روایت کرتا ہے کہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی طرف خط لکھا کہ آپ اور حسین اور اصحابِ علی میرے پاس آئیں (بیعت کریں) پس یہ حضرات نکلے ، ان کے ساتھ سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ بھی تھے ۔ یہ سب شام کی طرف آئے ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو اندر داخل ہونے کی اجازت دی ۔ اور ان کےلیے خطباء کو اکٹھا کیا ۔


فقال يا حسن قم فبايع فقام فبايع ، ثم قال للحسين عليه السلام قم فبايع فقام فبايع ، ثم قال قم ياقيس فبايع فالتفت إلى الحسين عليه السلام ينظر ما يأمره ، فقال يا قيس انه امامي يعني الحسن عليه السلام ۔

ترجمہ : پس معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا : اے حسن ! اٹھیں بیعت کریں ۔ پس حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اٹھے اور بیعت کی ۔ پھر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے کہا : اے حسین رضی اللہ عنہ اٹھیں اور بیعت کریں ، پس حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اٹھے اور بیعت کی ۔ پھر قیس سے کہا : اے قیس ! اٹھ کر بیعت کریں ۔ تو اس نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا کہ وہ کیا حکم کرتے ہیں ۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ امام حسن رضی اللہ عنہ میرا امام ہے (جب وہ بیعت کرچکے تو تجھے بھی بیعت کرنی چاہیے) ۔ (رجال کشی صفحہ 86 ذکر قیس بن سعد بن عبادہ) ۔ (شیعہ کتاب : رجال کشی صفحہ 86 ذکر قیس بن سعد بن عبادہ مطبوعہ نجف عکس صفحہ273،چشتی)(شیعہ کتاب : بحارالانوار جلد 44 صفحہ 61 کیفیۃ مصالحۃ الحسن علیہ السلام)(شیعہ کتاب : منتہی الآمال جلد 1 صفحہ 322 ، 323 ذکر صلح امام حسن مطبوعہ ایران)(شیعہ کتاب : جلاءُ العیون جلد 1 صفحہ 437 مصالحہ آں حضرت با معاویہ ایران)(شیعہ کتاب : مقاتل الطالبین صفحہ 79 ذکر حسن بن علی مطبوعہ نجف عراق)


جب حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ بیعت کرچکے اور خلافت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کی تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کے سامنے خطبہ دیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ تسلیم کر لیا ہے ۔ اور ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے تو حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے ایک بڑا خطبہ دیا ، جس میں مسائل ذکر کیے اور یہ بھی فرمایا کہ میں حکومت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر چکا ہوں ۔ اس میں میری اور تمہاری بھلائی ہے : قَدْ بَا یَعْتُہٗ ، تحقیق میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر چکا ہوں ۔ (شیعہ کتاب : ناسخ التواریخ جلد 1 صفحہ 571 فی کلامہ و مواضعہ علیہ السلام ایران)(شیعہ کتاب : کشف الغمہ جلد 1 صفحہ 230 زندگانی امام حسن مجتبیٰ مطبوعہ ایران)(شیعہ کتاب : نزل الابرار فی مناقب اہل البیت الاطہار صفحہ 82 مطبوعہ ایران)(شیعہ کتاب : كشف الغمة جلد 2 صفحہ 66)


 شیعوں کا رئیس المحدثین شیخ صدوق قمی متوفی 381 ھجری لکھتا ہے : عن عامر قال : بايع الحسن بن علي معاوية ، عامر سے روایت ہے کہ حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی ۔ (علل الشرائع جلد 1 ۔ 2 صفحہ 214 مطبوعہ بیروت،چشتی)(علل الشرائع جلد 2 صفحہ 28 مطبوعہ الاحیاء التراث بیروت)(علل الشرائع مترجم اردو صفحہ 255)


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ آئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر گلے لگایا اور فرمایا کہ یہ میرا بیٹا ہے ۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا ۔ (کشف الغمہ جلد 1 صفحہ 546 مطبوعہ نجف عِراق)(عمدۃ الطالب صفحہ 65 مطبوعہ نجف عراق)


 حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے پیارے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کو یاد رکھا اور جب خلافت ان کے ہاتھ میں آئی تو اپنے نانا کے اس فرمان کو سچا کرکے دکھایا۔ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرکے اس امت کو بڑے نقصان سے محفوظ رکھا ۔ فساد اور فتنہ کو ختم کردیا ۔ انہوں نے اِسی میں اپنی اور امت کی بہتری سمجھی ، لیکن شیعوں کو یہ کام پسند نہ آیا ۔ لہٰذا انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو تکلیفیں دینا شروع کر دیں ۔ اور ان پر غلیظ طعن و تشنیع کرنے لگے ۔


امیر معاویہ اور امام حسین رضی اللہ عنہما کے تعلقات داتا صاحب کی نظر میں : ⏬


حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ متوفی 465 ہجری لکھتے ہیں کہ : امام حسین رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں ایک مفلس و غریب آدمی مدد کیلئے حاضر ہوا آپ نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا اور فرمایا بیٹھ جاؤ ، ہمارا وظیفہ راستے میں ہے ، کچھ دیر بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک آدمی آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور پانچ تھیلیاں دیناروں کی پیش کیں جس میں ایک ایک ہزار دینار تھے اور ساتھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے معذرت بھی کی ، آپ رضی اللہ عنہ نے وہ تھیلیاں اسی طرح پاس بیٹھے سائل کو دے دیں ۔ (کشف المحجوب مترجم صفحہ نمبر 185 مکتبہ شمس و قمر بھاٹی چوک لاہور،چشتی)


حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ نے یہ واقعہ لکھ کر بہت ساری گتھیاں سلجھادی ہیں ، جیسا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں نذرانہ پیش کرنا ، امام عالی مقام کا اسے نہ صرف قبول کرنا بلکہ اسے راہِ خدا میں خرچ بھی کرنا ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا پیغام میں معافی چاہنا ؛ اس واقعہ کو ذکر کرتے ہوئے حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کوئی ایسی ویسی بات یا جملہ ذکر نہ کرنا جیسا کہ آج کل کے تفضیلی رافضی ذکر کرتے رہتے ہیں ۔ اگر حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ویسے ہوتے جیسا کہ معاذ اللہ آج باغی طاغی ، ظالم ، فاسق ، منافق ، شرابی ، سودی ، اور دشمن اہل بیت کی گردانیں پڑھی جارہی ہیں تو حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ ایسے واقعہ کو جس سے ان ہستیوں میں محبت واضح و ثابت ہورہی ہے ذکر ہی نہ کرتے ، اسی واقعہ کے بعد اگلے صفحہ پر حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ نے یزید کے اہل بیت رضی اللہ عنہم پر مظالم کو بھی ذکر کیا مگر کہیں بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام یا ذکر اشارةً بھی نہ کیا ، نہ مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے صفین و جمل کو چھیڑا ، پتہ چلا حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھی یہ ایک حساس اور الگ قسم کا مسئلہ تھا جس پر کسی قسم کی طعن وتشنیع نہیں کی جاسکتی وہ سب اصحاب رسول رضی اللہ عنہم ہیں اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت کا ادب و احترام ہم سب پر واجب ہے ۔


کتب تاریخ و سیر اس پر گواہ ہیں کہ حضرت سیدنا  امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ دونوں بھائی اکثر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں جایا کرتے تھے ۔ وہ دونوں کی بہت عزت و تکریم کرتے ، محبت و شفقت سے پیش آتے ۔ اور  اپنے  برابر  تخت پر بٹھاتے ۔ اور ایک ایک دن میں ان کو دو ، دو لاکھ درہم عطا  کرتے ۔ حضرت سیدنا  حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بدستور ان کی مجلس میں تشریف لے جایا کرتے اور وظائف اور عطایا حاصل کرتے ۔ (البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 150)


مشہور شیعہ مجتہد ملا باقر مجلسی لکھتا ہے : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ہدایا بیجا کرتے تھے اور ہر  سال دس لاکھ درھم بھیجتے تھے اور سلسلہ موقوف نہ کیا ۔ (بحار الانوار مترجم اردو جلد 10 حصہ اول صفحہ نمبر 57 مکتبہ مطبوعہ محفوظ بک ایجنسی امام بارگاہ مارٹن روڈ کراچی)


جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہو گئی تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ، اپنے بھائی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت معاویہ کے پاس جایا کرتے تھے ۔ وہ ان دونوں کی بہت زیادہ تکریم کرتے ، انہیں خوش آمدید کہتے اور عطیات دیتے ۔ ایک ہی دن میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ نے انہیں بیس لاکھ درہم دیے ۔ ( تاریخ دمشق جلد 59 صفحہ 193،چشتی)


حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : میں آپ کو ایسا عطیہ دوں گا جو مجھ سے پہلے کسی نے نہ دیا ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو چالیس لاکھ درہم دیے ۔ ایک مرتبہ امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما دونوں ان کے پاس آئے تو انہیں بیس بیس لاکھ درہم دیے ۔ ( ابن عساکر۔ 59/193)


اہل تشیع کے بڑے عالم اور نہج البلاغہ کے شارح ابن ابی الحدید لکھتے ہیں : معاویہ دنیا میں پہلے شخص تھے جنہوں نے دس دس لاکھ درہم بطور عطیہ دیئے ۔ ان کا بیٹا یزید پہلا آدمی تھا جس نے ان عطیات کو دوگنا کیا ۔ حضرت علی کے دونوں بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو ہر سال دس دس لاکھ درہم دیئے جاتے ۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کو بھی دیے جاتے ۔ (ابن ابی الحدید۔ شرح نہج البلاغۃ)


جب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ برابر ہر سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس جاتے رہے ۔ وہ انہیں عطیہ دیتے اور ان کی بھرپور عزت کرتے ۔ ( ابن کثیر۔ 11/477،چشتی)


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرات امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما کو تحفے بھیجنا اتنی معروف بات ہے کہ ابو مخنف کو بھی اس سے انکار نہیں ہے ۔ موصوف لکھتے ہیں : معاویہ ہر سال امام حسین رضی اللہ عنہما کو ہر قسم کے تحفوں کےعلاوہ دس لاکھ دینار بھیجا کرتے تھے۔( ابو مخنف۔ مقتل الحسین علیہ السلام ۔ قم : مطبعہ امیر)


آپ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حقیقی بھانجی      آمنہ بنت میمونہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی زوجہ اولیٰ تھیں ۔ اس لحاظ سے حضرت امام سیدنا حسین رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے داماد تھے ۔ (طبری، جلد: 13ص: 19، چشتی)


اسی طرح حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی    ہمشیرہ (sister) ام المومنین سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ___ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات مومنوں کی  مائیں ____ اس لحاظ سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تمام مومنوں کے ماموں (uncle) ہوئے ۔


شیعہ مولوی ملا باقر مجلسی کتاب جلاء العیون میں لکھتا ہے : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ وصال کے وقت یزید کو یہ وصیت فرماگئے کہ امام حسین رضی ﷲ عنہ پس ان کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے ۔ تجھے معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بدن کے ٹکڑے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گوشت و خون سے انہوں نے پرورش پائی ہے ۔ مجھے معلوم ہے کہ عراق والے ان کو اپنی طرف بلائیں گے اور ان کی مدد نہ کریں گے ۔ تنہا چھوڑ دیں گے اگر ان پر قابو پالے تو ان کے حقوق کو پہچاننا ‘ ان کا مرتبہ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے اس کو یاد رکھنا ‘ خبردار ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ دینا ۔ (جلاء العیون جلد دوم صفحہ نمبر 421,422)


ایک اور شیعہ عالم ناسخ التواریخ میں لکھتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ نے مزید کو یہ وصیت فرمائی : کہ اے بیٹا ! ہوس نہ کرنا اور خبردار جب ﷲ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو تو تیری گردن میں حسین بن علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہما کا خون نہ ہو ۔ ورنہ کبھی آسائش نہ دیکھے گا اور ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہے گا ۔


محترم قارئینِ کرام : غور کیجیے حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ ‘ یزید کو یہ وصیت کر رہے ہیں کہ ان کی تعظیم کرنا بوقت مصیبت ان کی مدد کرنا ۔ اب اگر یزید پلید اپنے والد کی وصیت پر عمل نہ کرے تو اس میں حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ کا کیا قصور ؟ 


حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے یزید پلید کو کافر لکھا ہے اور اہل سنت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ یزید پلید ‘ شرابی ‘ ظالم اور امام حسین رضی ﷲ عنہ کے خون کا ذمہ دار ہے ‘ لیکن اس کے بدلے میں حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو بدنام کرنا یہ کون سی دیانت ہے ؟


یااللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں اور فتنہ پروروں کے شر و فتنہ سے محفوظ فرما آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

















Sunday, 5 July 2026

مالک بن اشتر نخعی کون تھا ؟ اے سنی مسلمانو آنکھیں کھولو سنیوں میں چھپے روافض کے نظریات کی دلالی کرنے والوں کو پہچانو چاہے وہ کوٸی بھی ہوں

مالک بن اشتر نخعی کون تھا ؟ اے سنی مسلمانو آنکھیں کھولو سنیوں میں چھپے روافض کے نظریات کی دلالی کرنے والوں کو پہچانو چاہے وہ کوٸی بھی ہوں

محترم قارئینِ کرام : مالک اشتر اپنے حواریوں کو کہتا ہے : اشتر نخعی نے کہا واللہ حضرت زبیر اور طلحہ کے ارادے سے ہم خوب واقف ہیں لیکن آج تک علی کے ارادے سے واقف نہ ہو سکے ، اگر ان میں صلح ہو گئی تو یہ ہمارے خون پر ہو گا اس لیے کیوں نہ علی پر حملہ کر کے اسے بھی عثمان کے پاس پہنچا دیں اور اس سے جو فتنہ پیدا ہوگا وہ بالکل ہماری مرضی کے عین مطابق ہوگا اور ہم سکون سے زندگی گزار سکیں گے ۔ (تاریخ طبری جلد 3 صفحہ 511 ، 512 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)


ناظرین : اس حوالے کو بغور پڑھیں اور اشتر کے حواریوں کے بیانات بھی اس اسکین میں موجود ہیں ان کو بھی بغور پڑھیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مابین فتنہ ڈالنے میں اس گروہ کا کتنا ہاتھ تھا اس سے اندازہ لگائیں ان لوگوں نے مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے قتل تک منصوبہ بنایا اس سے ان کا مقصد کیا تھا اپنی عیش و عشرت اور امت میں فتنہ و فساد اللہ جل شانہ ہمیں حقائق کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین اگر اشتر اپنے اس مذموم منصوبے میں کامیاب ہو جاتا تو آج ابن ملجم کی جگہ وہ شخص لعن طعن کھا رہا ہوتا ۔ لیکن یہ بھیس بدل کر اپنا مفاد اٹھاتے رہے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے تو ان کو عداوت تھی ہی حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے ان کی محبت کا اندازہ اس ایک حوالے سے لگایا جا سکتا ہے ۔ محبین حیدر کرار کرم اللہ وجہہ الکریم کی محبت کا اندازہ اب ہو گا ۔


نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عَنْ زِرٍّ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : وَالَّذِيْ فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَأَ النَّسْمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صلي الله عليه وآله وسلم إِلَيَّ أَنْ لَا يُحِبَّنِيْ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَّ لَا يُبْغِضَنِيْ إِلَّا مُنَافِقٌ ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ ۔

ترجمہ : حضرت زر بن حبیش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا (اور اس سے اناج اور نباتات اگائے) اور جس نے جانداروں کو پیدا کیا ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مجھ سے عہد ہے کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور صرف منافق ہی مجھ سے بغض رکھے گا ۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح کتاب الإيمان باب الدليل علي أن حب الأنصار و علي من الإيمان ، 1 / 86، الحديث رقم : 78،ابن حبان في الصحيح، 15 / 367، الحديث رقم : 6924،چشتی،والنسائي في السنن الکبري، 5 / 47، الحديث رقم : 8153، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 365، الحديث رقم : 32064،چشتی،وأبويعلي في المسند، 1 / 250، الحديث رقم : 291، و البزار في المسند، 2 / 182، الحديث رقم : 560، و ابن ابي عاصم في السنة، 2 / 598، الحديث رقم : 1325)


عَنْ عَلِيٍّ : قَالَ لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صلي الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ لَا يُحِبُّکَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُکَ إِلاَّ مُنَافِقٌ ۔ قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَنَا مِنَ الْقَرْنِ الَّذِيْنَ دَعَالَهُمُ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم ۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ۔ وَقَالَ هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ ۔

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے عہد فرمایا کہ مومن ہی تجھ سے محبت کرے گا اور کوئی منافق ہی تجھ سے بغض رکھے گا ۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح ابواب المناقب باب مناقب علي بن أبي طالب جلد 5 صفحہ 643 الحديث رقم : 3736،چشتی)


مالک اشتر کی حقیقت حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فراست کی روشنی میں : ⏬


تاریخِ اسلام کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ روافض نے ہمیشہ ان شخصیات کو غیر معمولی تقدس عطا کرنے کی کوشش کی جن کا کردار امتِ مسلمہ کے اندر فتنہ و انتشار سے وابستہ رہا ، جبکہ اس کے برعکس اکابر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت و فضیلت کو مشتبہ بنانے کی ہر ممکن سعی کی گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی عبداللہ بن سبا جیسے یہودی منافق کو اسلام کی تاریخ کا مؤثر کردار بنا کر پیش کیا جاتا ہے کبھی مختار ثقفی جیسے کذاب کی مدح سرائی کی جاتی ہے کبھی ابو لؤلؤ فیروز جیسے قاتلِ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ہیرو بنا دیا جاتا ہے ، اور اسی سلسلے کی ایک کڑی مالک اشتر بھی ہے ، جسے غیر معمولی بہادری اور تقدس کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ تاریخی حقائق اس امر پر شاہد ہیں کہ مالک اشتر ان فتنہ پرداز عناصر میں شامل تھا جن کے اقدامات نے امتِ مسلمہ کو شدید آزمائشوں میں مبتلا کیا اس کا نام حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خلاف برپا ہونے والے فتنے اور بعد کے خونریز واقعات کے پس منظر میں بھی مذکور ملتا ہے ، جن کے نتیجے میں ہزاروں مسلمان جان سے گئے اور امت کا شیرازہ منتشر ہوا ۔


قابلِ غور بات یہ ہے کہ حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی فراست اور حق شناسی کی وجہ سے خصوصی مقام عطا فرمایا ، مالک اشتر کے بارے میں اس وقت اپنی تشویش کا اظہار فرمایا جب ابھی اس کے فتنے پوری طرح ظاہر بھی نہیں ہوئے تھے ۔ امام ابو بکر ابن خلال رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ قَالَ أَبِي فِي حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ نَبَّأَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عُمَرَ مَعَاشِرَ مَذْحِجٍ فَقَالَ أَمِنْكُمْ هَذَا؟ قُلْتُ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: مَا لَهُ؟ قَاتَلَهُ اللَّهُ، كَفَى اللَّهُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ شَرَّهُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ أَنَّ لِلنَّاسِ مِنْهُ يَوْمًا عَصِيبًا ۔

ترجمہ : عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم قبیلہ مذحج کے چند افراد کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ میں ان کے قریب بیٹھا تھا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بار بار اشتر کی طرف دیکھتے اور پھر نظر پھیر لیتے ۔ پھر فرمایا : کیا یہ شخص تم ہی میں سے ہے ؟ ۔ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، اے امیر المؤمنین ! آپ نے فرمایا : اسے کیا ہوا ! اللہ اسے ہلاک کرے ۔ اللہ امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے شر سے محفوظ رکھے ۔ اللہ کی قسم! میرا گمان ہے کہ ایک دن لوگوں کو اس کی وجہ سے نہایت سخت اور کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ (السنۃ ابن خلال جلد 3 صفحہ 516 ، 517 رقم : 836،چشتی)


عبداللہ بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : دخلنا على عمر معاشر وفد مذحج وكنت من أقربهم منه مجلسا فجعل عمر نظر إلى الأشتر ويصرف بصره فقال لي أمنكم هذا قلت نعم يا أمير المؤمنين قال ما له قاتله الله كفى الله أمة محمد شره والله أني لأحسب أن للمسلمين منه يوما عصيبا ۔

ترجمہ : ہم قبیلیہ مذحج کے کچھ لوگ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور میں عمر رضی اللہ عنہ کے سب سے قریب بیٹھ گیا تو عمر رضی اللہ عنہ مالک اشتر کو دیکھنے لگے اور پھر اس سے نظر ہٹانے لگے اور فرمایا : کیا یہ شخص تمہارے ساتھ آیا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں اے امیر المؤمین ! تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے کیا پرابلم ہے اللہ اسے ہلاک کرے ، اللہ امت محمدیہ کےلیے اس کے شر کے بالمقابل کافی ہو جائے ، اللہ کی قسم مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کو اس کی وجہ سے کسی دن بہت بڑا سانحہ دیکھنا پڑے گا ۔ (العلل ومعرفة الرجال لأحمد جلد 1 صفحہ 315 وإسناده حسن)


یہ روایت حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی غیر معمولی بصیرت اور فراست کی روشن دلیل ہے ۔ آپ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں ، جس کا فتنہ اس وقت پوری طرح ظاہر نہیں ہوا تھا ، امت کو پہلے ہی متنبہ فرما دیا کہ اس کا انجام امت کےلیے نہایت سنگین ہوگا بعد کے تاریخی واقعات نے ثابت کر دیا کہ مالک اشتر واقعی ان فتنہ انگیز عناصر میں شامل رہا جن کے سبب امت شدید داخلی انتشار کا شکار ہوئی ۔


الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں ہے : وذكره ابن سعد في الطّبقة الأولى من التّابعين بالكوفة، فقال: وكان ممن ألّب على عثمان، وشهد حصره ۔

ترجمہ : اور ابن سعد نے اس کا ذکر کوفہ کے پہلے طبقۂ تابعین میں کیا ہے ، اور کہا : وہ ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف لوگوں کو ابھارا ، اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے محاصرے میں بھی شریک رہا ۔ (الإصابة في تمييز الصحابة مالك بن الحارث جلد 6 صفحہ 212 مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت،چشتی)(تارخ مدینہ دمشق جلد 56 صفحہ 312 مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت)


سیر اعلام النبلاء میں ہے : وكان شهما ، مطاعا ، زعرا ألب على عثمان ، وقاتله ۔

ترجمہ : وہ بہادر ، اثر و رسوخ رکھنے والا ، اور برے اخلاق والا شخص تھا اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا اور آپ رضی اللہ عنہ سے جنگ بھی کی ۔ (سیر اعلام النبلاء الاشتر مالک بن حارث نخعی جلد 4 صفحہ 34 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ)


ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کا گستاخ مالک بن اشتر نخعی : ⏬


ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا نے ”مالک اشتر کوفی“ کو ”کلب“ (کتا) کہا ہے : عن كنانة قال : كنت أقود بصفية بنت حيي لترد عن عثمان رضي الله عنه ، فلقيها الأشتر فضرب وجه بغلتها حتى مالت، فقالت : ردوني لَا يَفْضَحُنِي هذا الكلب قال : فوضعت خشبا بين منزلها وبين منزل عثمان ، ينقل عليه الطعام والشراب ۔

ترجمہ : ام المؤمنیبن حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کے غلام کنانہ کہتے ہیں کہ : میں ام المؤمنیبن حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کی سواری لے کر نکلا تاکہ ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کھانا پہنچا سکیں تو مالک بن الاشتر سامنے آگیا اور اس نے ام المؤمنیبن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی سواری کے منہ پر ایسی ضرب لگائی کہ آپ گرتے گرتے بچیں پھر ام المؤمنیبن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مجھے واپس لے چلو کہیں یہ کتا (مالک اشتر) مجھے رسوا نہ کر دے ، کنانہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے ام المؤمنیبن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے بیچ لکڑی رکھی اور اس کے ذریعہ کھانا پانی بھیجا جانے لگا ۔ (مسند ابن الجعد صفحہ 390 وإسناده حسن)(تاريخ المدينة لابن شبة جلد 4 صفحہ 1311،چشتی)(تاريخ دمشق جلد 39 صفحہ 415)(التاريخ الكبير للبخاري مطبوعہ العثمانية جلد 7 صفحہ 237)


ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بدعا اشتر پر سلامتی نہ ہو وہ میرا بیٹا نہیں ہے : ⏬


اذْهَبْ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ وَقُلْ : يُقْرِئُكَ ابْنُكَ مَالِكٌ السَّلَامَ ، وَيَقُولُ : خُذِي هَذَا الْجَمَلَ فَتَبَلَّغِي عَلَيْهِ مَكَانَ جَمَلِكِ ، فَقَالَتْ: لَا سَلَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، إِنَّهُ لَيْسَ بِابْنِي ،قَالَ: وَأَبَتْ أَنْ تَقْبَلَهُ ۔

اشتر نے کہا : اسے (اونٹ کو) عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے جاؤ اور کہو : تمہارا بیٹا مالک تمہیں سلام کہتا ہے اور کہتا ہے کہ : یہ اونٹ لے لو اور اس پر سوار ہو کر اپنے اونٹ کی جگہ سفر کرو ۔ راوی کہتے ہیں : ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ اس پر سلامتی نازل نہ کرے ، وہ میرا بیٹا نہیں ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ : ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اسے لینے سے انکار کر دیا ۔ (مصنف ابن أبي شيبة جلد 21 صفحہ 474 رقم : 40559 ت الشثري وإسناده حسن)


قتل عثمان رضی اللہ عنہ کی بنا پر اشتر کےلیے اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صدیقہ کی بد دعا : ⏬


طَلِيقَ بْنَ خَشَّافٍ کہتے ہیں : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، فِيمَ قُتِلَ عُثْمَانُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ؟ قَالَتْ : قُتِلَ وَاللَّهِ مَظْلُومًا ، لَعَنَ اللَّهُ قَتَلَتَهُ ، أَقَادَ اللَّهُ ابْنَ أَبِي بَكْرٍ بِهِ ، وَسَاقَ اللَّهُ إِلَى أَعْيُنِ بَنِي تَمِيمٍ هَوَانًا فِي بَيْتِهِ ، وَأَهْرَاقَ اللَّهُ دِمَاءَ بَنِي بُدَيْلٍ عَلَى ضَلاَلَةٍ ، وَسَاقَ اللَّهُ إِلَى الأَشْتَرِ سَهْمًا مِنْ سِهَامِهِ ، فَوَاللَّهِ مَا مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ إِلاَّ أَصَابَتْهُ دَعْوَتُهَا ۔

ترجمہ : اے اُم المؤمنین ! امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کو کس وجہ سے قتل کیا گیا ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : واللہ ! وہ مظلوم قتل کیے گئے ۔ اللہ ان کے قاتلوں پر لعنت کرے ۔ اللہ ابن ابی بکر (محمد بن ابی بکر) سے ان کا بدلہ لے ۔ اللہ بنو تمیم کے لوگوں کی آنکھوں میں ان کے گھر میں ذلت ڈال دے ۔ اللہ بنو بدیل کے خون کو گمراہی پر بہائے ۔ اور اللہ اشتر کی طرف اپنے تیروں میں سے ایک تیر بھیج دے ۔ پھر فرمایا : واللہ ! ان لوگوں میں کوئی ایک شخص بھی نہیں جسے ان کی (عائشہ کی) بددعا نہ پہنچی ہو ۔ (المعجم الكبير للطبراني جلد 1 صفحہ 88 رقم : 133 وإسناده صحيح،چشتی)


حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کا ارادہ کہ مالک اشتر کو قتل کردیا جائے : ⏬


ثُمَّ قَالَ : الْمِذْحَجِيَّةُ تَوَقَّوْا فَارْكَبُوا ، فَرَكِبَ ، قَالَ : وَمَا أَرَاهُ يُرِيدُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : فَهَمَّ عَلِيٌّ أَنْ يَبْعَثَ خَيْلًا تُقَاتِلُهُ ۔

ترجمہ : پھر اشتر نے کہا : اے مدحجیو ! تیار ہو جاؤ ، سوار ہو جاؤ ۔ وہ سوار ہو گئے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نہیں سمجھتا کہ وہ اس دن معاویہ کے سوا کسی کا ارادہ رکھتا تھا ، پھر علی رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ ان کے پیچھے سوار بھیجیں جو اس سے قتال کریں ۔ (مصنف ابن أبي شيبة جلد 21 صفحہ 476 ، 477 رقم : 40559 ت الشثري وإسناده حسن)


حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ مالک اشتر سے بغض کرتے تھے اور اسے ٹھکانے لگانے کی ترکیب : ⏬


اباوعمر محمد بن یوسف کندی (المتوفی 353) نے کہا : حدثني علي بن الحسن بن قديد ، قال : حدثنا هارون بن سعيد بن الهيثم ، قال : حدثني خالد بن نزار ، عن سفيان بن عيينة ، عن مجالد ، عن الشعبي ، عن عبد الله بن جعفر ، قال : فقلت له : أسألك بحق جعفر ألا بعثت الأشتر إلى مصر ، فإن ظفرت فهو الذي تحب وإلا استرحت منه ۔ قال سفيان : وكان قد ثقل عليه وأبغضه وقلاه ۔ قال : فولاه وبعثه وبعث معه طيرين لي من العرب ، فلما قدم قلزم مصر لقي بها بما يلقى به العمال هنالك، فشرب شربة عسل ، فمات ، فلما قدم طيراي أخبرني ۔ فدخلت على علي ، فأخبرته ، فقال : لليدين وللفم ۔

عبد الله بن جعفر بن أبى طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میں چاہتا تھا کہ علی رضی اللہ عنہ میری کوئی بات نہ ٹالیں ، تو میں کہتا تھا : آپ (میرے والد) جعفر کی خاطر یہ بات مان لیں ! چنانچہ میں نے ان سے کہا : جعفر کی خاطر آپ سے مطالبہ ہے کہ آپ اشتر کو مصر کیوں نہیں بھیج دیتے ؟ اگر وہ کامیاب ہو گیا تو وہی ہوگا جو آپ پسند کرتے ہیں ، اور اگر کامیاب نہ ہوا تو آپ اس سے راحت پا جائیں گے ۔ سفیان کہتے ہیں : علی رضی اللہ عنہ اشتر سے تنگ آ چکے تھے ، اس سے بغض کرتے تھے اور اس سے بے رغبتی رکھتے تھے ۔ (عبداللہ بن جعفر) کہتے ہیں : پھر علی رضی اللہ عنہ نے اسے مصر کا گورنر مقرر کر کے روانہ کر دیا ، اور اس کے ساتھ عرب کے دو جاسوسوں کو بھی بھیجا جو میرے لیے خبر لانے والے تھے ۔ جب اشتر مصر کے علاقے قلزم پہنچا تو وہاں اس کا وہی استقبال کیا گیا جو اس زمانے میں حکام کے ساتھ کیا جاتا تھا ۔ اس نے شہد کا ایک گھونٹ پیا اور اسی سے اس کی موت واقع ہو گئی ۔ پھر جب میرے وہ دونوں جاسوس واپس آئے تو انہوں نے مجھے یہ خبر دی ۔ تب میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں یہ اطلاع دی ۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ چاروں شانے چت ہوا اور منہ کی کھائی ۔ (كتاب الولاة صفحہ 21 ، و رجاله ثقات)


حضرت امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد مهنى بن يحيى کہتے ہیں : سألت أحمد عن مالك ‌الأشتر ، يروى عنه الحديث ؟ قال : لا ۔

ترجمہ : میں نے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے مالک الاشتر کے بارے میں پوچھا کہ اس سے حدیث روایت کی جا سکتی ہے توفرمایا : نہیں ۔ (السنة لأبي بكر بن الخلال جلد 3 صفحہ 517 قال المحقق : إسناده صحيح و هوكذلك) ۔


اللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں اور فتنہ پروروں کے شر و فتنہ سے بچاۓ آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔






















صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخ کی سزا و شرعی حکم

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخ کی سزا و شرعی حکم محترم قارئینِ کرام : صحابیت کا عظیم  اعزاز کسی بھی عبادت و ریاضت سے حاصل نہیں ہو سکتا لہ...