Saturday, 20 June 2026

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ماتم کیا کا جواب مع اسلام اور جاہلیت والے کام

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ماتم کیا کا جواب مع اسلام اور جاہلیت والے کام

محترم قارئینِ کرام : شیعہ حضرات جب بھی دلیل دیتے ہیں تو صرف اپنے مطلب کی بات کرتے ہیں اور پوری بات نہیں کرتے ۔ جس طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ماتم ثابت کرنا چاہ رہے ہیں لیکن مکمل روایت نقل نہیں کی ہم مکمل روایت پیش کر رہے ہیں اور فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں : حدثنا يعقوب قال حدثنا أبي عن ابن إسحاق قال حدثنی يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أبيه عباد قال سمعت عاشة تقول مات رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بين سحری و نحری وفی دولتی لم أظلم فيه أحدا فمن سفهی وحداثة سنی أن رسول الله قبض وهو في حجري ثم وضعت رأسه على وسادة وقمت ألتدم مع النسا وأضرب وجهی ۔

ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال میری گردن اور سینہ کے درمیان اور میری باری کے دن میں ہوا تھا ، اس میں میں نے کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا ، لیکن یہ میری بیوقوفی اور نوعمری تھی کہ میری گود میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا اور پھر میں نے ان کا سر اٹھا کر تکیہ پر رکھ دیا اور خود عورتوں کے ساتھ مل کر رونے اور اپنے چہرے پر ہاتھ مارنے لگی ۔ (مسند احمد جلد نہم حدیث نمبر 6258،چشتی)


اس میں ماتم کا جواز نہیں ملتا بلکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرما رہی ہیں کہ : یہ میری بیوقوفی اور نوعمری تھی ۔ یہ کسی عام بندے کی وفات کی بات نہیں تھی بلکہ افضل البشر ، رحمۃ اللعالمین حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کی تھی اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے یہ عمل ہو بھی گیا ہے تو اس کو ماتم کرنے کی دلیل نہیں لی جا سکتی ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو معصوم عن الخطاء نہیں سمجھتے اور شیعہ جنہیں امام معصوم سمجھتے ہیں ان سے بھی کافی غلطیاں ہوئیں تھی ۔ جیسا کہ شیعہ کتاب ملاذ الاخیار میں لکھا ہے علی علیہ السلام نے غلطی سے ایک شخص کے چوری کے الزام میں ہاتھ کٹوا دیے لیکن اصل چور کوئی اور تھا ۔ (ملاذ الاخیار جلد 10 صفحہ 126،چشتی)


اگر حضرت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک بار ماتم ثابت ہے اور جس میں وہ خود اپنی غلطی کا ازھار بھی کر رہی ہے تو کیا اسے جس طرح شیعہ ماتم کرتے ہیں اس کی دلیل لی جا سکتی ہے ؟ کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہر سال ماتم کیا ؟


اگر شیعہ سمجھتے ہیں کی ماتم کرنا محبت کی نشانی ہے تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک پر حضرت علی ، فاطمہ ، حسن و حسین رضی اللہ عنہم اجمعین نے ماتم کیوں نہ کیا ؟ کیوں سینہ نہیں پیٹا ؟ کیوں تلوار سے ماتم نہیں کیا ؟ کیوں قمی زنی نہیں کی؟ کیا ان حضرات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں تھی ؟


کیا شیعہ حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر ہر سال ماتم کرتے ہیں ؟ کیونکہ ماتم تو شیعہ کے نزدیک عبادت ہے ، اور بعض کے نزدیک تو اصل نماز ہی ماتم ہے ۔


شیعہ حضرات اہل سنت پر ماتم کے جواز کو ثابت کرنے کےلیے اس کو بڑے فخر و غرور سے یہ مزکورہ روایت پیش کرتے ہیں اس لیے اس کی اہمیت کے پیش نظر  پہلے اس وایت کے راویوں پر فن اسماء الرجال کے تحت کچھ گفتگو ہو جائے تاکہ راویت کا درجہ معلوم ہو سکے اور یہ معلوم ہو سکے کہ کیا یہ حدیث قابل استدلال اور قابل قبول ہے بھی یا نہیں ۔


تاریخ طبری کے مصنف نے یہ روایت جس راوی سے نقل کی ہے اس کا نام محمد بن حمید ہے اس راوی کے متعلق علامہ ابن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب نامی کتاب میں یوں لکھا ہے ۔


نوٹ : یہ اسماءالرجال میں بہت اہم اور سب سے بڑی کتاب ہے ۔


  راوی ابن حمید


یعقوب بن شبہ کہتے ہیں کہ محمد بن حمید منکر حدیثیں زیادہ روایت کرتا ہے امام بخاری کہتے ہیں اس کی روایت کردہ حدیث میں نظر ہے یعنی بے سوچے سمجھے قبول نہ ہوگی امام نسائی فرماتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے اور جوز جانی کہتے ہیں یہ ردی المذہب اور غیر ثقہ ہے اور فضلک رازی نے کہا میرے پاس ابن حمید کی روایت کردہ پچاس ہزار احادیث ہیں لیکن میں ان میں سے ایک حرف بھی روایت نہیں کرتا ۔


صالح بن محمد اسدی کہتے ہیں کہ ابن حمید جو حدیث ہمیں سناتا ہم اس کو متہم کرتے ایک اور جگہ فرمایا یہ کثیر الاحادیث ہے اور اللہ تعالی کے معاملہ اس سے بڑا بے باک میں نے کوئی دوسرا نہ دیکھا لوگوں سے حدیث لیتا اور ایک دوسری میں غلط ملط کر دیتا اور ابوالعباس بن سعید نے کہا ابن خراش سے میں نے سنا کہ ابن حمید ہمیں حدیثیں سناتا اور اللہ کی قسم وہ جھوٹ بولتا ۔


جس سند میں ایک راوی ایسا ہو جو فن اسماءالرجال میں کذاب ، غیر ثقہ ، ردی المذہب اور خاص کر اللہ تعالی پر غلط باتوں کی نسبت کرنے کی جرات میں لاثانی ہو اس روایت کا کیا مقام ہو گا ایسی حدیث سے شیعہ کا استدلال کرنا کہ ماتم جائز ہے لوگوں کو کھلا دھوکا دینا ہے یا پھر اپنی کم علمی بے بسی کا رونا ہے ورنہ ایسی حدیث جس کے راوی پر اس قدر جرح ہو وہ قابل نہیں رہتی اس بات سے فن اسماءالرجال کا ادنی طالب علم بھی آگاہ ہے ۔


 سلمہ بن فضل راوی محمد حمید کے استاد ہیں ان سے ابن حمید نے روایت کی ہے ان کا پورا نام سلمہ بن فضل الابرش الانصاری ہے ۔


سلمہ بن فضل


امام بخاری نے فرمایا سلمہ بن فضل کے پاس زیادہ احادیث منکر تھیں جن کو علی نے کمزور کہا علی نے کہا ہم نے رے نامی شہر سے باہر نکلتے وقت اس کی حدثیں وہیں چھوڑ دی تھی برزعی کہتا ہے کہ ابوذرعہ نے کہا کہ اہل رائے سلمہ بن فضل کی طرف رغبت نہ کرتے تھے کیونکہ یہ شخص بری رائے اور ظلم سے موصوف تھا ابراہیم بن موسی نے کہا کہ میں نے اس سلمہ بن فضل کے بارے میں ابوذرعہ کو بار ہار اپنی زبان پکڑتے دیکھا جس سے وہ اس کا جھوٹا ہونا اشارةً بیان کرتے تھے امام نسائی نے اسے ضعیف کہا اور یہ بھی کہا کہ اس میں شیعت تھی ۔


محترم قارئینِ کرام : فن اسماء الرجال سے ہم نے سلمہ بن فضل کے بارے میں ناقدین کی تنقید بمع وجوہات ذکر کی امام بخاری کے نزیک یہ منکراحادیث کا جامع ہے اور ابوذرعہ اس کے بارے میں یہاں تک کہتے ہیں کہ خود اس کے ہم شہر لوگ اس کی بات کی کوئی اہمیت نہ دیتے کیونکہ ظم اور بری رائے اس میں مشہور تھی بلکہ ابوذرعہ نے تو کذاب بھی کہا امام نسائی نے کذاب مائل شیعیت کہا اور کوئی جرع کی وجہ نہ ہوتی صرف شیعت ہی اس مقام پر کافی تھی کیونکہ شیعوں نے اس حدیث کو سنیوں کی حدیث کے طور پر بیان کیا اور بطور حجت اہلسنت کی حدیث پیش کر کے مروجہ ماتم کو اہلسنت عبارات سے ثابت کرنے کی ذمہ داری اٹھائی تھی آپ غور فرمائیں جس حدیث کا راوی ایک شیعہ ہو وہ سنیوں کی روایت کیسے ہوئی گویا شیعوں نے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی کہ دیکھو اہلسنت کی کتابوں میں ثابت ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انتقال پر مروجہ ماتم کیا ۔


محمد بن اسحاق راوی سملہ بن فضل کے استاد ہیں ان کا پورا نام محمد بن اسحاق ہے ان کا حال بھی ملاخط کر لیں تاکہ راویان حدیث میں ان کے مقام کو سمجھا جا سکے ۔


محمد بن اسحاق


امام مالک نے فرمایا محمد بن اسحاق دجالوں میں سے ایک دجال ہے جوزجانی نے کہا ہے اس پر مختلف بدعات ایجاد کرنے کا الزام لگایا گیا موسی بن ہارون نے کہا میں نے محمد بن عبد اللہ نمیر سے سنا کہ محمد بن اسحاق قدریہ تھا میمونی نے ابن معین سے نقل کیا یہ ضعیف تھا اور امام نسائی نے اسے لیس بقوی کہا ۔


ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہوا کہ حدیث میں جب ایسے راوی ہوں جن کو ائمہ حدیث قابل حجت شمار نہ فرمائیں تو وہ حدیث اہلسنّت کے ہاں کیسے قابل قبول ہو سکتی ہے اس قسم کے غیر معتبر راویوں کی حدیث بیان کر کے خود شیعوں نے مروجہ ماتم جائز ثابت کرنے کی کوشش کی تو اس سے معلوم ہوا کہ ان کے پاس لے دے کے کچھ ایسی ہی ناقابل حجت احادیث ہیں جب خود حدیث غیر مقبول ہوئی تو اس سے استدلال اور حجت کو کون قوی اور قابلِ عمل کہے ۔


دوسری بات ائمہ محدثین کے ہاں ایک قانوں یہ بھی ہے کہ جب حدیث کا کوئی راوی خود اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف عمل کرے یا اس میں تنقید یا عذر پیش کرے تو وہ حدیث بھی قابل عمل نہیں رہتی شیعوں نے اس حدیث سے استدلال کیا لیکن ام المومنین سیدہ عائشہ صدیق رضی اللہ عنہا کا عذر اور تنقید نظر نہ آئی وہ یہ کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرا ایسا کرنا یعنی چہرہ پر ہاتھ مارنا اور پیٹنا بوجہ بے عقلی اور کم سنی کے تھا یعنی اگر میر عمر حد بلوغ تک پہنچ چکی ہوتی اور اس کے ساتھ میری عقل بھی کامل ہو چکی ہوتی تو پھر یہ کام مجھ سے متوقع نہ تھا ۔


اب آپ حضرات خود سوچیں کہ اہل تشیع جن کو اپنے مسلک کے ثبوت پر بطور دلیل و حجت پیش کرتے ہیں یہ وہی شخصیت ہیں جس کے بارے میں شیعوں کی کتاب فروع الکافی موجود ہے کہ ہر فرضی نماز کے بعد ان پر شیعوں کو لعنت کرنی چاہیے ادھر اس قدر نفرت اور ادھر ان کے فعل کو اپنے مسلک کی دلیل بنانا کس قدر منافقت ہے پھر جب قاعدہ مذکورہ کے تحت راوی حدیث خود اپنی روایت کردہ بات کو ناپسند کرے اور اس میں عذر پیش کرے ایسے میں دوسرے کے لیے اس سے ثبوت مہیا کرنا کس طرح روا ہے ۔


ہم شیعہ حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ اللہ عزوجل سے ڈریں اور جب بھی بات کریں تو مکمل کیا کریں صرف اپنے مطلب کی بات کاٹ کر لوگوں کو گمراہ نہ کریں ۔


ارشادِ باری تعالیٰ ہے :  وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ (۱۵۵)  الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ (۱۵۶) ۔


 ترجمہ : اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو ۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں ۔ ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ (سورۃ البقرۃ ۔ آیت 155-156)


قرآنِ کریم میں مصیبتوں پر صبر کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی گئی اور یہ بتایا گیا کہ صبر کرنے والے وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ تعالیٰ ہی کے مملوک اور اسی کے بندے ہیں وہ ہمارے ساتھ جو چاہے کرے اور آخرت میں ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ (تفسیر جلالین سورہ البقرۃ : ۱۵۶، صفحہ ۲۲،چشتی)


آزمائش سے فرمانبردار اور نافرمان کے حال کا ظاہر کرنا مراد ہے ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول خوف سے اللہ تعالیٰ کا ڈر ، بھوک سے رمضان کے روزے، مالوں کی کمی سے زکوٰۃ و صدقات دینا ، جانوں کی کمی سے امراض کے ذریعہ اموات ہونا، پھلوں کی کمی سے اولاد کی موت مراد ہے کیونکہ اولاد دل کا پھل ہوتی ہے ، جیساکہ حدیث شریف میں ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : جب کسی بندے کا بچہ مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے : تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کی ۔وہ عرض کرتے ہیں کہ ’’ہاں ، یارب پھر فرماتا ہے :’ تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا ۔ وہ عرض کرتے ہیں : ہاں ، یارب ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اس پر میرے بندے نے کیا کہا ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : اس نے تیری حمد کی اور ’’اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ پڑھا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اس کےلیے جنت میں مکان بناؤ اور اس کا نام بیتُ الحمد رکھو ۔(ترمذی، کتاب الجنائز، باب فضل المصیبۃ اذا احتسب، ۲ / ۳۱۳،  الحدیث: ۱۰۲۳،چشتی)


یاد رہے کہ زندگی میں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی مرض سے، کبھی جان و مال کی کمی سے، کبھی دشمن کے ڈر خوف سے، کبھی کسی نقصان سے، کبھی آفات و بَلِیّات سے اور کبھی نت نئے فتنوں سے آزماتا ہے اور راہِ دین اور تبلیغِ دین تو خصوصاً وہ راستہ ہے جس میں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں ، اسی سے فرمانبردار و نافرمان، محبت میں سچے اور محبت کے صرف دعوے کرنے والوں کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر اکثرقوم کا ایمان نہ لانا، حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کا آگ میں ڈالا جانا، فرزند کو قربان کرنا، حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بیماری میں مبتلا کیا جانا ،ان کی اولاد اور اموال کو ختم کر دیا جانا، حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کا مصرسے مدین جانا، مصر سے ہجرت کرنا، حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کا ستایا جانا اور انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کا شہید کیا جانا یہ سب آزمائشوں اور صبر ہی کی مثالیں ہیں اور ان مقدس ہستیوں کی آزمائشیں اور صبر ہر مسلمان کے لئے ایک نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں لہٰذا ہر مسلمان کوچاہئے کہ اسے جب بھی کوئی مصیبت آئے اوروہ کسی تکلیف یا اَذِیَّت میں مبتلا ہو تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے اور بے صبری کا مظاہرہ نہ کرے ۔


صدر الشریعہ حضرت  مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بہت موٹی سی بات ہے جو ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی کتنا ہی غافل ہو مگر جب ( اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا وہ کسی مصیبت اور) مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو کس قدر خداکو یاد کرتا اور توبہ و استغفار کرتا ہے اور یہ تو بڑے رتبہ والوں کی شان ہے کہ (وہ) تکلیف کا بھی اسی طرح استقبال کرتے ہیں جیسے راحت کا (استقبال کرتے ہیں) مگر ہم جیسے کم سے کم اتنا تو کریں کہ (جب کوئی مصیبت یا تکلیف آئے تو) صبر و استقلال سے کام لیں اور جَزع و فَزع (یعنی رونا پیٹنا) کرکے آتے ہوئے ثواب کو ہاتھ سے نہ (جانے) دیں اور اتنا تو ہر شخص جانتا ہے کہ بے صبری سے آئی ہو ئی مصیبت جاتی نہ رہے گی پھر اس بڑے ثواب (جو احادیث میں بیان کیاگیا ہے) سے محرومی دوہری مصیبت ہے ۔ (بہار شریعت، کتاب الجنائز، بیماری کا بیان، ۱ / ۷۹۹)


اللہ عزوجل نے ہمیں اشرف المخلوقات میں سے پیدا کیا اگر وہ چاہتا تو ہمیں جانوروں میں سے بھی پیدا کر سکتا تھا اس وجہ سے اللہ کا شکر ادا کریں اللہ سبحان وتعالی نے ہمیں صحت جیسی نعمت دی ، ہمیں دماغ دیا سوچنے کےلیے اس وجہ سے اللہ کی دی ہوئی نعمت کا کفر نہ کریں اپنا خون بہا کر ۔ اللہ ہم سب کو حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان صبر کرنے والوں میں سے کردے جنہیں اللہ نے قرآن میں بشارت دی ہے ۔ آمین ۔ 


اسلام میں جاہلیت والے کام پیٹنا کپڑے پھاڑنا ، زخمی کرنا اور نوحہ و ماتم کا حکم : ⏬


عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ ، وَلَا مَنْ سَلَقَ ، وَلَا مَنْ خَرَقَ ، وَلَا مَنْ دَعَا بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ ” . قَالَ زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ : السَّلْقُ الصِّيَاحُ وَالْخَرْقُ ، خَرْقُ الْجَيْبِ ، وَالْحَلْقُ حَلْقُ الشَّعْرِ ۔


ترجمہ : حضرت علی رضی الله عنہ نے فرمایا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : وہ ہم میں سے نہیں جس نے (سوگ میں) بال منڈاۓ ، چیخ و پکار کی ، گریبان پھاڑا اور ہلاکت و موت کو پکارا. امام (اہل بیت) زید بن علی رحمة الله عليه نے فرمایا : “سلق” کا معنی چیخ و پکار، “خرق” کا معنی گریبان پھاڑنا ، اور “حلق” کا معنی بال مونڈنا ہے ۔ (مسند زيد (سنة الوفاة:122) » كِتَابُ الْجَنَائِزِ » بَابُ الصِّيَاحِ وَالنَّوْحِ … رقم الحديث: 187)


عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسَلّمَ : ” نَهَى عَنِ النَّوْحِ ۔


ترجمہ : حضرت علی رضی الله عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ہمیں روکا ہے نوحہ کرنے سے ۔ (مسند زيد سنة الوفاة:122 كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ الصِّيَاحِ وَالنَّوْحِ رقم الحديث: 188۔چشتی)


ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ : نبی کریم ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ‏( ﻏﻤﯽ ﻭ ﻣﺎﺗﻢ ﻣﯿﮟ ‏) ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺧﺴﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﯿﭩﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﯾﺒﺎﻥ ﭘﮭﺎﮌﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ (ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ : ﺟﻠﺪ ﺩﻭﻡ : ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 738)

ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻋَﺒْﺪُ ﺑْﻦُ ﺣُﻤَﻴْﺪٍ ﻭَﺇِﺳْﺤَﻖُ ﺑْﻦُ ﻣَﻨْﺼُﻮﺭٍ ﻗَﺎﻟَﺎ ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﺟَﻌْﻔَﺮُ ﺑْﻦُ ﻋَﻮْﻥٍ ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﺃَﺑُﻮ ﻋُﻤَﻴْﺲٍ ﻗَﺎﻝَ ﺳَﻤِﻌْﺖُ ﺃَﺑَﺎ ﺻَﺨْﺮَﺓَ ﻳَﺬْﮐُﺮُ ﻋَﻦْ ﻋَﺒْﺪِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِ ﺑْﻦِ ﻳَﺰِﻳﺪَ ﻭَﺃَﺑِﻲ ﺑُﺮْﺩَﺓَ ﺑْﻦِ ﺃَﺑِﻲ ﻣُﻮﺳَﯽ ﻗَﺎﻟَﺎ ﺃُﻏْﻤِﻲَ ﻋَﻠَﯽ ﺃَﺑِﻲ ﻣُﻮﺳَﯽ ﻭَﺃَﻗْﺒَﻠَﺖْ ﺍﻣْﺮَﺃَﺗُﻪُ ﺃُﻡُّ ﻋَﺒْﺪِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺗَﺼِﻴﺢُ ﺑِﺮَﻧَّﺔٍ ﻗَﺎﻟَﺎ ﺛُﻢَّ ﺃَﻓَﺎﻕَ ﻗَﺎﻝَ ﺃَﻟَﻢْ ﺗَﻌْﻠَﻤِﻲ ﻭَﮐَﺎﻥَ ﻳُﺤَﺪِّﺛُﻬَﺎ ﺃَﻥَّ ﺭَﺳُﻮﻝَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻗَﺎﻝَ ﺃَﻧَﺎ ﺑَﺮِﻳﺊٌ ﻣِﻤَّﻦْ ﺣَﻠَﻖَ ﻭَﺳَﻠَﻖَ ﻭَﺧَﺮَﻕَ ۔


ترجمہ : ﺍﺑﻮﻣﻮﺳﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻣﻮﺳﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﭘﺮ ﻣﺮﺽ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻏﺸﯽ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﮨﻠﯿﮧ ﺍﻡ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﭼﻼّ ﺍﭨﮭﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻣﻮﺳﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺍﻓﺎﻗﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺮﯼ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺑﻄﻮﺭ ﻣﺎﺗﻢ ﺑﺎﻝ ﻣﻨﮉﻭﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻼّ ﮐﺮ ﺭﻭﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮭﺎﮌﮮ ۔ (ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ : ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ : ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 288،چشتی)


ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺃَﺑُﻮ ﺑَﮑْﺮِ ﺑْﻦُ ﺃَﺑِﻲ ﺷَﻴْﺒَﺔَ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺃَﺑُﻮ ﻣُﻌَﺎﻭِﻳَﺔَ ﺡ ﻭ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺍﺑْﻦُ ﻧُﻤَﻴْﺮٍ ﻭَﺍﻟﻠَّﻔْﻆُ ﻟَﻪُ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺃَﺑِﻲ ﻭَﻣُﺤَﻤَّﺪُ ﺑْﻦُ ﻋُﺒَﻴْﺪٍ ﮐُﻠُّﻬُﻢْ ﻋَﻦْ ﺍﻟْﺄَﻋْﻤَﺶِ ﻋَﻦْ ﺃَﺑِﻲ ﺻَﺎﻟِﺢٍ ﻋَﻦْ ﺃَﺑِﻲ ﻫُﺮَﻳْﺮَﺓَ ﻗَﺎﻝَ ﻗَﺎﻝَ ﺭَﺳُﻮﻝُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﺍﺛْﻨَﺘَﺎﻥِ ﻓِﻲ ﺍﻟﻨَّﺎﺱِ ﻫُﻤَﺎ ﺑِﻬِﻢْ ﮐُﻔْﺮٌ ﺍﻟﻄَّﻌْﻦُ ﻓِﻲ ﺍﻟﻨَّﺴَﺐِ ﻭَﺍﻟﻨِّﻴَﺎﺣَﺔُ ﻋَﻠَﯽ ﺍﻟْﻤَﻴِّﺖِ


ترجمہ : ﺍﺑﻮﮨﺮﯾﺮﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﮐﻔﺮ ﮨﯿﮟ ﻧﺴﺐ ﻣﯿﮟ ﻃﻌﻦ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺖ ﭘﺮ ﻧﻮﺣﮧ ﮐﺮﻧﺎ ۔ (ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ : ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ : ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 229)


ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺃَﺑُﻮ ﺑَﮑْﺮِ ﺑْﻦُ ﺃَﺑِﻲ ﺷَﻴْﺒَﺔَ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻋَﻔَّﺎﻥُ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺃَﺑَﺎﻥُ ﺑْﻦُ ﻳَﺰِﻳﺪَ ﺡ ﻭ ﺣَﺪَّﺛَﻨِﻲ ﺇِﺳْﺤَﻖُ ﺑْﻦُ ﻣَﻨْﺼُﻮﺭٍ ﻭَﺍﻟﻠَّﻔْﻆُ ﻟَﻪُ ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﺣَﺒَّﺎﻥُ ﺑْﻦُ ﻫِﻠَﺎﻝٍ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺃَﺑَﺎﻥُ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻳَﺤْﻴَﯽ ﺃَﻥَّ ﺯَﻳْﺪًﺍ ﺣَﺪَّﺛَﻪُ ﺃَﻥَّ ﺃَﺑَﺎ ﺳَﻠَّﺎﻡٍ ﺣَﺪَّﺛَﻪُ ﺃَﻥَّ ﺃَﺑَﺎ ﻣَﺎﻟِﮏٍ ﺍﻟْﺄَﺷْﻌَﺮِﻱَّ ﺣَﺪَّﺛَﻪُ ﺃَﻥَّ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲَّ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻗَﺎﻝَ ﺃَﺭْﺑَﻊٌ ﻓِﻲ ﺃُﻣَّﺘِﻲ ﻣِﻦْ ﺃَﻣْﺮِ ﺍﻟْﺠَﺎﻫِﻠِﻴَّﺔِ ﻟَﺎ ﻳَﺘْﺮُﮐُﻮﻧَﻬُﻦَّ ﺍﻟْﻔَﺨْﺮُ ﻓِﻲ ﺍﻟْﺄَﺣْﺴَﺎﺏِ ﻭَﺍﻟﻄَّﻌْﻦُ ﻓِﻲ ﺍﻟْﺄَﻧْﺴَﺎﺏِ ﻭَﺍﻟْﺎﺳْﺘِﺴْﻘَﺎﺉُ ﺑِﺎﻟﻨُّﺠُﻮﻡِ ﻭَﺍﻟﻨِّﻴَﺎﺣَﺔُ ﻭَﻗَﺎﻝَ ﺍﻟﻨَّﺎﺋِﺤَﺔُ ﺇِﺫَﺍ ﻟَﻢْ ﺗَﺘُﺐْ ﻗَﺒْﻞَ ﻣَﻮْﺗِﻬَﺎ ﺗُﻘَﺎﻡُ ﻳَﻮْﻡَ ﺍﻟْﻘِﻴَﺎﻣَﺔِ ﻭَﻋَﻠَﻴْﻬَﺎ ﺳِﺮْﺑَﺎﻝٌ ﻣِﻦْ ﻗَﻄِﺮَﺍﻥٍ ﻭَﺩِﺭْﻉٌ ﻣِﻦْ ﺟَﺮَﺏٍ ۔


ترجمہ : ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﻣﺎﻟﮏ ﺍﺷﻌﺮﯼ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﭼﺎﺭ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﮐﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺴﺐ ﭘﺮ ﻓﺨﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﺴﺐ ﭘﺮ ﻃﻌﻦ ﮐﺮﻧﺎ، ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﻧﺎ، ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺣﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻧﻮﺣﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮭﮯ ﮔﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮔﻨﺪﮬﮏ ﮐﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﮓ ﮐﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﮨﻮ ﮔﯽ ۔ (ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ : ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ : ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 2154)


ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﺇِﺳْﺤَﻖُ ﻗَﺎﻝَ ﺃَﻧْﺒَﺄَﻧَﺎ ﻋَﺒْﺪُ ﺍﻟﺮَّﺯَّﺍﻕِ ﻗَﺎﻝَ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻣَﻌْﻤَﺮٌ ﻋَﻦْ ﺛَﺎﺑِﺖٍ ﻋَﻦْ ﺃَﻧَﺲٍ ﺃَﻥَّ ﺭَﺳُﻮﻝَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﺃَﺧَﺬَ ﻋَﻠَﯽ ﺍﻟﻨِّﺴَﺎﺉِ ﺣِﻴﻦَ ﺑَﺎﻳَﻌَﻬُﻦَّ ﺃَﻥْ ﻟَﺎ ﻳَﻨُﺤْﻦَ ﻓَﻘُﻠْﻦَ ﻳَﺎ ﺭَﺳُﻮﻝَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺇِﻥَّ ﻧِﺴَﺎﺉً ﺃَﺳْﻌَﺪْﻧَﻨَﺎ ﻓِﻲ ﺍﻟْﺠَﺎﻫِﻠِﻴَّﺔِ ﺃَﻓَﻨُﺴْﻌِﺪُﻫُﻦَّ ﻓَﻘَﺎﻝَ ﺭَﺳُﻮﻝُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻟَﺎ ﺇِﺳْﻌَﺎﺩَ ﻓِﻲ ﺍﻟْﺈِﺳْﻠَﺎﻡِ


ترجمہ : ﺍﻧﺲ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺳﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﻟﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺳﮯ ﻧﻮﺣﮧ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ! ﺑﻌﺾ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻧﮯ ﺩﻭﺭ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﻣﺪﺍﺩ ‏( ﻧﻮﺣﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ‏) ﮐﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﻣﺪﺍﺩ ﮐﺮﯾﮟ؟ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔(ﺳﻨﻦ ﻧﺴﺎﺋﯽ : ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ : ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 1855،چشتی)


ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﻋَﻠِﻲُّ ﺑْﻦُ ﺧَﺸْﺮَﻡٍ ﻗَﺎﻝَ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻋِﻴﺴَﯽ ﻋَﻦْ ﺍﻟْﺄَﻋْﻤَﺶِ ﺡ ﺃَﻧْﺒَﺄَﻧَﺎ ﺍﻟْﺤَﺴَﻦُ ﺑْﻦُ ﺇِﺳْﻤَﻌِﻴﻞَ ﻗَﺎﻝَ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺍﺑْﻦُ ﺇِﺩْﺭِﻳﺲَ ﻋَﻦْ ﺍﻟْﺄَﻋْﻤَﺶِ ﻋَﻦْ ﻋَﺒْﺪِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺑْﻦِ ﻣُﺮَّﺓَ ﻋَﻦْ ﻣَﺴْﺮُﻭﻕٍ ﻋَﻦْ ﻋَﺒْﺪِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻗَﺎﻝَ ﻗَﺎﻝَ ﺭَﺳُﻮﻝُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻟَﻴْﺲَ ﻣِﻨَّﺎ ﻣَﻦْ ﺿَﺮَﺏَ ﺍﻟْﺨُﺪُﻭﺩَ ﻭَﺷَﻖَّ ﺍﻟْﺠُﻴُﻮﺏَ ﻭَﺩَﻋَﺎ ﺑِﺪُﻋَﺎﺉِ ﺍﻟْﺠَﺎﻫِﻠِﻴَّﺔِ ﻭَﺍﻟﻠَّﻔْﻆُ ﻟِﻌَﻠِﻲٍّ ﻭَﻗَﺎﻝَ ﺍﻟْﺤَﺴَﻦُ ﺑِﺪَﻋْﻮَﯼ ۔


ترجمہ : ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺭﺧﺴﺎﺭ ﭘﯿﭩﮯ ‏( ﯾﻌﻨﯽ ﮔﺎﻝ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺎﺭ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﻭﺋﮯ ‏) ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﮔﺎﻝ ﭘﯿﭩﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﯾﺒﺎﻥ ﭼﺎﮎ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﮨﻠﯿﺖ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮑﺎﺭﮮ ‏( ﯾﻌﻨﯽ ﻣﺎﺗﻢ ﮐﺮﮮ ‏) ۔ (ﺳﻨﻦ ﻧﺴﺎﺋﯽ : ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ : ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 1863۔چشتی)


ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪُ ﺑْﻦُ ﺑَﺸَّﺎﺭٍ ﻗَﺎﻝَ ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻋَﺒْﺪُ ﺍﻟْﻮَﻫَّﺎﺏِ ﻗَﺎﻝَ ﺳَﻤِﻌْﺖُ ﻳَﺤْﻴَﯽ ﺑْﻦَ ﺳَﻌِﻴﺪٍ ﻳَﻘُﻮﻝُ ﺳَﻤِﻌْﺖُ ﻧَﺎﻓِﻌًﺎ ﻳَﻘُﻮﻝُ ﻋَﻦْ ﺻَﻔِﻴَّﺔَ ﺑِﻨْﺖِ ﺃَﺑِﻲ ﻋُﺒَﻴْﺪٍ ﺃَﻧَّﻬَﺎ ﺳَﻤِﻌَﺖْ ﺣَﻔْﺼَﺔَ ﺑِﻨْﺖَ ﻋُﻤَﺮَ ﺯَﻭْﺝَ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲِّ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻋَﻦْ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲِّ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻗَﺎﻝَ ﻟَﺎ ﻳَﺤِﻞُّ ﻟِﺎﻣْﺮَﺃَﺓٍ ﺗُﺆْﻣِﻦُ ﺑِﺎﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺍﻟْﻴَﻮْﻡِ ﺍﻟْﺂﺧِﺮِ ﺗَﺤِﺪُّ ﻋَﻠَﯽ ﻣَﻴِّﺖٍ ﻓَﻮْﻕَ ﺛَﻠَﺎﺙٍ ﺇِﻟَّﺎ ﻋَﻠَﯽ ﺯَﻭْﺝٍ ﻓَﺈِﻧَّﻬَﺎ ﺗَﺤِﺪُّ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﺃَﺭْﺑَﻌَﺔَ ﺃَﺷْﻬُﺮٍ ﻭَﻋَﺸْﺮًﺍ ۔


ترجمہ : ﺣﻀﺮﺕ ﺣﻔﺼﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻓﺮﻣﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﻗﺪﻭﺱ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﺮﺩﮦ ﭘﺮ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺎﺗﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ﻟﯿﮑﻦ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭼﺎﺭ ﻣﺎﮦ ﺩﺱ ﺭﻭﺯ ﺗﮏ ﻋﺪﺕ ﮔﺰﺍﺭﻧﺎ ﻻﺯﻡ ﮨﮯ ۔ (ﺳﻨﻦ ﻧﺴﺎﺋﯽ : ﺟﻠﺪ ﺩﻭﻡ : ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 1443)


ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﺇِﺑْﺮَﺍﻫِﻴﻢُ ﺑْﻦُ ﻣُﻮﺳَﯽ ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪُ ﺑْﻦُ ﺭَﺑِﻴﻌَﺔَ ﻋَﻦْ ﻣُﺤَﻤَّﺪِ ﺑْﻦِ ﺍﻟْﺤَﺴَﻦِ ﺑْﻦِ ﻋَﻄِﻴَّﺔَ ﻋَﻦْ ﺃَﺑِﻴﻪِ ﻋَﻦْ ﺟَﺪِّﻩِ ﻋَﻦْ ﺃَﺑِﻲ ﺳَﻌِﻴﺪٍ ﺍﻟْﺨُﺪْﺭِﻱِّ ﻗَﺎﻝَ ﻟَﻌَﻦَ ﺭَﺳُﻮﻝُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﺍﻟﻨَّﺎﺋِﺤَﺔَ ﻭَﺍﻟْﻤُﺴْﺘَﻤِﻌَﺔَ ۔ (ﺳﻨﻦ ﺍﺑﻮﺩﺍﺅﺩ : ﺟﻠﺪ ﺩﻭﻡ : ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 1351)


ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺳﻌﯿﺪ ﺧﺪﺭﯼ رضی اللہ عنہ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻧﻮﺣﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺣﮧ ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﭘﺮ ﻟﻌﻨﺖ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﮯ ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 18 June 2026

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس کس صحابی کو مولا اور بھائی کہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس کس صحابی کو مولا اور بھائی کہا

محترم قارئینِ کرام : الحمد لله اہلسنت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ تمام صحابہ عشرہ مبشرہ ، شہدا بدر احد و تمام مومنین کے مولا ہیں ۔ مولا کا معنی دوست پیارا اور محبوب کے ہیں ۔ اس میں شک کرنے والا ناصبی اور خارجی ہی ہو سکتا ہے ۔ لیکن اس حدیث سے شیعوں اور نیم شیعوں تفضلیوں کا یہ کہنا کہ اس کا معنی آقا ہے اور اس سے پتہ چلا کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور انبیاءِ  کرام علیہم السلام کے بھی آقا ہیں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے افضل ہیں اسی طرح شیعوں کا یہ کہنا کہ آپ سارے نبیوں کے آقا و اُن سے افضل ہیں باطل اور غلط ہے ۔ قرآن نے حضرت ابو بکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو بھی مولا کہا ہے ۔ اکثر رافضی اور کے ہمنوا تفضیلی حضرات اس بات پر بڑا زور دیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولا کہا اور پھر اس فرمان سے یہ باطل نتیجہ اخذ کرتے ہوۓ مولا علی رضی اللہ عنہ کو شیخین کریمین پر مقدم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر اسی اصول کو لیا جائے تو پھر شیخین (حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) کو تو خود قرآن مولا کہہ رہا ہے آئیں ملاحظہ فرمائیں : حدثنا أحمد قثنا علي بن الجعد قال سمعت مقاتلا يقول في قول الله عز وجل :  اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ ۔ وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ ۔ (سورہ التحريم آیت نمبر 4) قال أبو بكر وعمر وعلي ۔

ترجمہ : امام علی بن جعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام مقاتل رحمہ اللہ نے فرمایا الله عز وجل کے (فإن الله هو مولاه وجبريل وصالح المؤمنين) اس فرماں کا مقصود یہ ہے کے حضرت ابو بکر و عمر و علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی حضور علیہ السلام کے مولا ہیں ۔ (فضائل صحابہ الامام احمد بن حنبل الجز الاول صفحہ ۴۱٦ حدیث ٦۴۸ مطبوعہ احیاء التراث مکة المکرمہ ، اسنادہ صحیح)


قرآن کريم ميں بھی مولیٰ کا لفظ مختلف معانی ميں استعمال ہوا ہے ۔ صرف مولیٰ کا لفظ تنہا بھی استعمال ہوا اور متعدد ضميروں کے ساتھ بھی يہ لفظ استعمال ہوا ہے ۔ سورة الحج ، آيت 78  ميں 2 جگہ مولیٰ کا لفظ استعمال ہوا ہے ، ايک جگہ ”کُم“ ضمير کے ساتھ جبکہ دوسری مرتبہ بغير ضمير کے اور دونوں جگہوں پر اللہ کی ذات مراد ہے ۔ قرآن کريم ميں مولیٰ کا لفظ دوسرے معانی ميں بھی استعمال ہوا ہے۔ سورة الدخان آيت 41 میں ہے : جس دن کوئی حمايتی کسی حمايتی کے ذرا بھی کام نہيں آئے گا اور ان ميں سے کسی کی کوئی مدد نہيں کی جائے گی ۔ اس ميں مولیٰ ، اللہ ، کےلیے نہيں بلکہ دوست کے معنیٰ ميں يعنی انسان کےلیے استعمال ہوا ہے ۔ اسی طرح سورة الحديد آيت نمبر 15 میں ہے : چنانچہ آج نہ تم سے کوئی فديہ قبول کيا جائے گا اور نہ اُن لوگوں سے جنہوں نے کفر اختيار کيا تھا ، تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے ، وہی تمہاری رکھوالی ہے اور يہ بہت برا انجام ہے ۔ اس ميں لفظ مولیٰ ، کُم ، ضمير کے ساتھ جگہ يا ٹھکانے کےلیے استعمال ہوا ہے ۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کريم ميں يہ واضح کرديا کہ مولیٰ کے متعدد معانی ہيں ۔ قرآن کريم ميں لفظ مولیٰ ، نا ، ضمير کے ساتھ 2 جگہ سورة البقرة آيت نمبر 286 اور سورہ التوبہ آيت نمبر 51 میں استعمال ہوا ہے اور دونوں جگہ پر اللہ کی ذات مراد ہے يعنی ليکن اس کا مطلب ہرگز يہ نہيں کہ مولانا ايک لفظ ہے اور وہ صرف اللہ کے ساتھ خاص ہے ۔ مولیٰ ايک مستقل لفظ ہے اور اس کے ساتھ مختلف ضميريں استعمال کی جاسکتی ہيں : مولائی ، مولانا ، مولاکم ، مولاہ وغيرہ ۔


لفظ  مولا یا لفظ مولانا کا اطلاق جس طرح باری تعالی پر ہوا ہے ، اسی طرح اس لفظ کا استعمال قرآن واحادیث میں دیگر مختلف معانی کےلیے بھی ہوا ہے ۔ چنانچہ درج ذیل سطور میں اس لفظ کی صحیح تحقیق اوراس کا استعمال کس انداز اور کس کس معنی میں ہوا ہے پیش کیا جا رہا ہے ۔


مولا کا اطلاق اللہ تعالی پرقرآن کریم میں : ⏬


(1) فانصرناأنت مولانا ۔ (البقرہ:۲۸۶)

(2) بل اللہ مولاکم ۔ (آل عمران ۱۵۰)

(3) فاعلموا أن اللہ مولاکم ۔ (انفال:۴۰)

(4) واعتصموا باللہ ھومولاکم فنعم المولی ونعم النصیر ۔ (الحج:۷۸)

(5) ذلک نأن اللہ مولی الذین اٰمنوا   (محمد:۱۱)

(6) واللہ مولاکم ۔ (تحریم:۲)

(7) الاماکتب اللہ لنا ھومولانا ۔ (توبہ:۵)

(8) فان اللہ ھومولاہ وجبرئیل وصالح المؤمنین ۔ (تحریم:۴)

(9) ثم ردواالی اللہ مولھم الحق ۔ (انعام:۶۲)

(10) وردواالی اللہ مولھم الحق ۔ (یونس:۳۰)


مولا کا اطلاق اللہ تعالی پر احادیث میں : ⏬


نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : قولوا اللہ مولانا ولا مولالکم ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر ۴۰۴۳)

ترجمہ : لوگو تم کہوکہ اللہ ہمارا مولی اور کارساز ہے نہ کہ تمہارا ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ولیقل .... سیدی ومولای ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر ۲۵۵۲)(صحیح مسلم حدیث نمبر ۲۲۴۹)

ترجمہ : اسے چاہیے کہ وہ اللہ کے بارے میں میرا آقا اور میرا مولی کہے ۔


مولا کا اطلاق اللہ تعالی کے علاوہ پر قرآن کریم میں : ⏬


لبئس المولی ۔ (حج:۱۳) ۔ امام مجاھد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : اس آیت میں مولی بت کے معنی میں ہے ۔ (تفسیرابن کثیر جلد ۳ صفحہ ۷۸۰،چشتی)


یوم یغنی مولی عن مولی شیئا ۔ (دخان:۴۱) ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : أی لا ینفع قریب قریبا ۔ (تفسیرابن کثیر جلد ۴ صفحہ ۱۸۳) ، کہ کوئی رشتہ دار کسی بھی رشتہ دار کونفع نہیں پہنچائے گا اس جگہ رشتہ دار پرمولی کا اطلاق ہواہے ۔


مأوٰکم النارھی مولاکم ۔ (تحدید : ۱۵) ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : ھی مولاکم : ھی أولی بکم من کل منزل علی کفرکم وارتیابکم ۔ (تفسیرابن کثیر جلد ۴ صفحہ ۳۹۵) ، کہ مولاکم سے مراد تمہارے لیے ہرمنزل پر تمہارے کفر اور شک کی بناء پر جہنم بہتر ہے ۔ اس جگہ مولی کا استعمال جہنم کےلیے ہوا ہے ۔


وکل علی مولاہ ۔ (نحل :ب۷۶) امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ای غلیظ وثقیل علی مولاہ‘ ۔ (التفسیر الکبیرجلد ۲۰ صفحہ ۸۸) ، وہ اپنے آقا پر بھاری اور بوجھ ہے ۔ اس جگہ مولی کا اطلاق مالک اور آقا پر ہوا ہے ۔


ولکل جعلنا موالی مماترک ۔ (نساء) ۔ اس آیت میں لفظ موالی کا اطلاق وارث پر ہوا ہے ۔ (تفسیرابن کثیر جلد ۱ صفحہ ۶۳۸)


انی خفت الموالی ۔ (مریم : ۵) ۔ امام مجاھد رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : اراد بالمولی العصبۃ ۔ (تفسیرابن کثیر جلد ۳ صفحہ ۱۵۰) ، یہاں پرمولی کااطلاق ان رشتہ داروں پر ہوا ہے جن کو اصطلاح شرح میں عصبہ کہا جاتا ہے جنہیں میت کے ترکہ میں سے ذوی الفروض کو ان کا حصہ دینے کے بعد بچا ہوا مال دیا جاتا ہے ۔


فاخوانکم فی الدین وموالیکم ۔ (احزاب : ۵) ای ’’أنا من اخوانکم فی الدین ‘‘ کہ میں تمہارا دینی بھائی ہوں ۔ اس آیت میں موالی بھائی کے میں استعمال ہوا ہے ۔


احادیث میں مولانا  کا اطلاق اللہ تعالی کے علاوہ پر : ⏬


وَقَالَ الْبَرَاءُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا ۔

ترجمہ : اور حضرت براء رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا ، تم ہمارے بھائی اور ہمارے مولا ہو ۔ (صحيح بخاری كتاب فضائل الصحابة باب مناقب زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ حدیث نمبر 3730)


حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، وَهُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ ابْنَةَ حَمْزَةَ تَبِعَتْهُمْ تُنَادِي: يَا عَمُّ، يَا عَمُّ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَقَالَ لِفَاطِمَةَ: دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ فَحَوِّلِيهَا، فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ، وَزَيْدٌ، وَجَعْفَرٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي، وَقَالَ جَعْفَرٌ: ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي، وَقَالَ زَيْدٌ: ابْنَةُ أَخِي، فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا، وَقَالَ:" الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ"، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ :" أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ"، وَقَالَ لِجَعْفَرٍ:" أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي"، وَقَالَ لِزَيْدٍ:" أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا"، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَزَوَّجُ ابْنَةَ حَمْزَةَ؟ فَقَالَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ۔

رجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مکہ مکرمہ سے نکلنے لگے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا جان! چچا جان! پکارتی ہوئی ہمارے پیچھے لگ گئی، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا، اور ان سے کہا کہ اپنی چچا زاد بہن کو سنبھالو، (جب ہم مدینہ منورہ پہنچے) تو اس بچی کی پرورش کے سلسلے میں میرا، سیدنا جعفر اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کا جھگڑا ہو گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا تھا کہ اسے میں لے کر آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ یعنی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا میرے نکاح میں ہیں، لہٰذا اس کی پرورش میرا حق ہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ میری بھتیجی ہے ۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا : جعفر ! آپ تو صورت اور سیرت میں میرے مشابہہ ہیں ، علی! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں ، اور زید ! آپ ہمارے بھائی اور ہمارے مولیٰ ہیں ، بچی اپنی خالہ کے پاس رہے گی کیونکہ خالہ بھی ماں کے مرتبہ میں ہوتی ہے ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ اس سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے ؟ فرمایا : اس لیے کہ یہ میری رضاعی بھتیجی ہے ۔ (مسند احمد مسند الخلفاء الراشدين الجزء الثانی حدیث نمبر 931 مطبوعہ موسسة الرسالہ بیروت ، حکم إسناده حسن)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنا بھائی اور صاحب فرمایا : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ وَلَكِنْ أَخِي وَصَاحِبِي ۔

ترجمہ : ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر میں اپنی امت کے کسی فرد کو اپنا جانی دوست بنا سکتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن وہ میرے دینی بھائی اور میرے ساتھی ہیں ۔ (صحيح بخاری كتاب فضائل الصحابة حدیث نمبر 3656)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا بھائی فرمایا : قال : استاذنت النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم في العمرة ، فاذن لي ، وقال : لا تنسنا يا اخي من دعائك ، فقال كلمة ما يسرني ان لي بها الدنيا، قال شعبة : ثم لقيت عاصما بعد بالمدينة فحدثنيه ، وقال : اشركنا يا اخي في دعائك ۔

ترجمہ : عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا : میرے بھائی ! مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا ، آپ نے ( یہ) ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی ۔ (راوی حدیث) شعبہ کہتے ہیں : پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا ۔ انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقت ، لا تنسنا يا أخى من دعائك ۔ کے بجائے ، أشركنا يا أخى في دعائك ، کے الفاظ کہے اے میرے(دینی) بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا ۔ (سنن ابوداود حدیث نمبر 1498،چشتی)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا دینی بھائی فرمایا : ابن عمر ، قال : آخى رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بين اصحابه فجاء علي تدمع عيناه، فقال : يا رسول الله آخيت بين اصحابك ولم تؤاخ بيني وبين احد ، فقال له رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : انت اخي في الدنيا والآخرة ۔ قال ابو عيسى : هذا حسن غريب ، وفي الباب عن زيد بن ابي اوفى ۔

ترجمہ : عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان باہمی بھائی چارا کرایا تو علی رضی الله عنہ روتے ہوئے آئے اور کہا : اللہ کے رسول ! آپ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارا کرایا ہے اور میری بھائی چارگی کسی سے نہیں کرائی ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم میرے بھائی ہو دنیا اور آخرت دونوں میں ۔ (سنن ترمذی حدیث نمبر 3720)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھائی فرمایا : وَقَالَ لِزَيْدٍ : أَنْتَ أَخُونَا ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا زید کےلیے فرمایا تم ہمارے بھائی ہو ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 4251)


اگر بقول روافض وتفضلیہ مولا کا معنیٰ خلیفہ بِلا فصل ہے تو پھر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بھی خلیفہ بِلا فصل ہونا چاہیے تھا نا ؟

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا انت اخونا یعنی تم ہمارے بھائی ہو کیا اب حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھائی کہہ کر پکارا جانا چاہیے ؟


عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ حَلَالًا وَبَنَى بِهَا حَلَالًا وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا

ترجمہ : مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور جب ان کی رخصتی ہوئی تو آپ ان دونوں مواقع پر احرام کی حالت میں نہیں تھے ، میں ان دونوں ہستیوں کے درمیان قاصد تھا ۔ (الفتح الربانی حدیث نمبر 11455)(سنن ترمذی حدیث نمبر 841،چشتی)(مسند أحمد ترقيم الرسالة حدیث نمبر 27197 ترقیم بيت الأفكار الدولية حدیث نمبر 27739)


حافظ ابن حجرعسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : واما المولی فکثیرالتصرف فی الوجوہ المختلفۃ من ولی وناصر وغیرذلک ،ولکن لایقال السید ولا الموتی علی الاطلاق من غیراضافۃ الا فی صفۃ اللہ تعالی ۔۔۔ فکان اطلاق المولی أسھل وأقرب الی عدم الکراھۃ ۔ (فتح الباری جلد ۶ صفحہ ۹۸۶)

ترجمہ : لفظ مولی کا اطلاق بہت سے معانی پر ہوتا ہے ، مثلا ولی ، ناصر ، وغیرہ ، لیکن لفظ مولی اور سید مطلقا بغیرکسی اضافت کے اللہ تعالی کےلیے ہی استعمال ہوتا ہے ، اور لفظ مولی کا اطلاق اللہ کے علاوہ پر کرنے میں کوئی کراہت نہیں ہے ۔ (اس لیے کہ جب سید کا اطلاق اللہ کے علاوہ پر ہو سکتا ہے جب کہ اس میں ایک ہی معنی ، سردار ، پائے جاتے ہیں تو مولی میں چونکہ بہت سارے معنی پائے جاتے ہیں اس اعتبار سے اللہ کے علاوہ پراستعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے) ۔


ماکنت مولاہ فعلی مولاہ ۔ (سنن ترمذی : ۳۷۲۲) ، اس حدیث کامطلب یہ ہے کہ جس کا میں ذمہ دارہوں اس کا علی رضی اللہ عنہ بھی ذمہ دارہے یا جس سے میں محبت کرتا ہوں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اس سے محبت کرتے ہیں ۔


امام جزری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کہ حدیث پاک میں لفظ مولی کا تزکرہ بکثرت آیا ہے ، اور لفظ مولی ایک ایسا نام ہے جوبہت سے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جیسا کہ رب ، مالک ، آقا ، احسان کرنے والا ، آزاد کرنے والا ، مدد کرنے والا ، محبت کرنے والا ، الغرض ہر وہ شخص جوکسی معاملہ کا ذمہ دار ہو اس پر مولی اور ولی کا اطلاق ہوتا ہے ۔


حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ثلاثۃ علی کثبان المسک یوم القیامۃ ، عبدادی حق اللہ وحق مولاہ ۔ (سنن ترمذی:۱۹۸۶) کہ قیامت کے دن تین لوگ مشک کے ٹیلوں پرہوگے ، وہ غلام جس نے اللہ تعالی کا حق ادا کیا اور اپنے آقا کا حق ادا کیا ۔ اس حدیث میں بھی مولی آقا اور سردار کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔


امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ولابأس بقول العبد لسیدہ : مولای ، فان المولی وقع علی ستۃ عشر معنی ۔۔۔ منھاالناصروالمالک ۔ (شرح مسلم جلد ۵ صفحہ ۹۰۴،چشتی)

ترجمہ : غلام کےلیے اپنے آقا کو مولا کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے اس لیے کہ لفظ مولی سولہ معنی میں استعمال ہوتا اس میں سے مالک اور ناصر بھی ہے ۔


مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ لفظ مولی کا اطلاق اللہ عزوجل کے علاوہ دیگر معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔


قرآن نے حضرت ابو بکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو بھی مولا کہا ہے : ⏬


اکثر رافضی اور کے ہمنوا تفضیلی حضرات اس بات پر بڑا زور دیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولا کہا اور پھر اس فرمان سے یہ باطل نتیجہ اخذ کرتے ہوۓ مولا علی رضی اللہ عنہ کو شیخین کریمین پر مقدم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر اسی اصول کو لیا جائے تو پھر شیخین (حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) کو تو خود قرآن مولا کہہ رہا ہے آئیں ملاحظہ فرمائیں : حدثنا أحمد قثنا علي بن الجعد قال سمعت مقاتلا يقول في قول الله عز وجل :  اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ ۔ وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ ۔ (سورہ التحريم آیت نمبر 4) قال أبو بكر وعمر وعلي ۔

ترجمہ : امام علی بن جعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام مقاتل رحمہ اللہ نے فرمایا الله عز وجل کے (فإن الله هو مولاه وجبريل وصالح المؤمنين) اس فرماں کا مقصود یہ ہے کے حضرت ابو بکر و عمر و علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی حضور علیہ السلام کے مولا ہیں ۔ (فضائل صحابہ الامام احمد بن حنبل الجز الاول صفحہ ۴۱٦ حدیث ٦۴۸ مطبوعہ احیاء التراث مکة المکرمہ ، اسنادہ صحیح)


یہ دعویٰ کرنا کہ مولا کے الفاظ کسی دوسرے صحابی کےلیے استعمال نہیں ہوئے یہ درست نہیں ہے ۔ اس لیے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد شدہ غلام صحابی رسول حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : قال لزید انت اخونا و مولانا ۔

ترجمہ : آپ ہمارے بھائی ہیں اور ہمارے مولٰی ہیں ۔ (مشکوۃ شریف صفحہ نمبر ۲۹۳ بحوالہ بخاری ومسلم باب بلوغ صغیرالفصل الاول)


مذکورہ روایت میں لفظ مولا وارد ہے ۔


مفسّرِین کے نزدیک مولیٰ کے معنیٰ : ⏬


وہ تفاسیر جن میں مولا کے معنیٰ مددگار لکھے ہیں :  اِس آیتِ مبارکہ میں وارِد لفظ مولیٰ کے معنیٰ وَلی اور ناصِر ( یعنی مدد گار) لکھے ہیں ۔ (تفسیرطَبَری جلد 12 صفحہ 154)(تفسیر قُرطُبی جلد  18 صفحہ 143،چشتی)(تفسیرِ کبیر جلد 10 صفحہ 570)(تفسیرِ بَغْوی جلد 4 صفحہ 337)(تفسیرِ خازِن جلد 4 صفحہ 286)(تفسیرِ نَسفی صفحہ1257)


اُن چار کتابوں کے نام بھی حاضِر ہیں جن میں آیتِ مبارَکہ کے لفظ مولیٰ کے معنیٰ ناصر (یعنی مددگار) کیے گئے ہیں ۔ (تفسیرِ جلالین صفحہ 465)(تفسیرِ رُوحُ الْمَعانی جلد 28 صفحہ 481)(تفسیرِ بیضاوی جلد 5 صفحہ 356،چشتی)(تفسیر ابی سُعُود جلد 5 صفحہ 738)


 النہایہ میں لفظ مولا کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں : ⏬


(1) رب ۔ پرورش کرنیوالا ۔

(2) مالک ۔ سردار ۔

(3) انعام کرنے والا ۔

(4) آزاد کرنے والا ۔

(5) مدد گار ۔

(6) محبت کرنے والا ۔

(7) تابع ۔ پیروی کرنے والا ۔

(8) پڑوسی ۔

(9) ابن العم ۔ چچا زاد ۔

(10) حلیف ۔ دوستی کا معاہدہ کرنے والا ۔

(11) عقید ۔ معاہدہ کرنے والا ۔

(12) صھر ۔ داماد ، سسر ۔

(13) غلام ۔

(14) آزاد شدہ غلام ۔

(15) جس پر انعام ہوا ۔

(16) جو کسی چیز کا مختار ہو ۔ کسی کام کا ذمہ دار ہو ۔ اسے مولا اور ولی کہا جاتا ہے ۔

(17) جس کے ہاتھ پر کوئی اسلام قبول کرے وہ اس کا مولا ہے یعنی اس کا وارث ہوگا وغیرہ ۔ (ابن اثير النہايه جلد 5 صفحہ 228،چشتی)


حکیمُ الْاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے الفاظ جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اُس کے مولیٰ ہیں کے تحت فرماتے ہیں : مولیٰ کے بَہُت (سے) معنٰی ہیں : دوست ،  مددگار ،  آزاد شُدہ غلام ،  (غلام کو)  آزاد کرنے والا مولیٰ ۔ اِس  (حدیثِ پاک میں  مولیٰ)  کے معنٰی خلیفہ یا بادشاہ نہیں یہاں (مولیٰ) بمعنی دوست (اور) محبوب ہے یا بمعنی مددگار اور واقِعی حضرت علی رضی اللہ عنہ مسلمانوں  کے دوست بھی ہیں ،  مددگار بھی ،  اِس لیے آپ رضی اللہ عنہ کو مولیٰ علی کہتے ہیں ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد نمبر ۸ صفحہ نمبر ۴۲۵)


قرآنِ کریم میں اللہ عزوجل ، جبریلِ امین اور نیک مؤمنین کو مولیٰ کہا گیا ہے ۔ پارہ 28 سُوْرَۃُ التَّحْرِیْم آیت نمبر 4 میں اللہعزول فرماتا ہے : فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ ۔ ترجمہ : توبے شک اللہ اُن کا مدد گار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے ۔


مولا کے معنی کتاب وسنت اورلغت عرب میں متعدد پائے جاتے ہیں : ⏬


النہایہ لابن اثیرالجزری ۔ (جو لغت حدیث میں مشہور تصنیف ہے) میں مولا کہ سولہ عدد معانی ذکر کئے ہیں لیکن ان میں خلیفہ بلا فصل اور حاکم والا معنی کہیں نہیں ملتا یکسر مفقود ہے ۔ یعنی لغت حدیث والوں نے مولا کا یہ معنی کہیں نہیں بیان کیا۔ باقی معانی انہوں نے لکھے ہیں ۔ (النہایہ فی غریب الحدیث جلد ۴ صفحہ ۲۳۱،چشتی)


اسی طرح ؛ المنجد ؛ میں مولا کے اکیس معنی ذکر کئے گے ہیں وہاں بھی مولا کا معنی خلیفہ یا حاکم نہیں پایا گیا ۔ یہ تو کسی مسلمان کی تالیف نہیں ایک عسائی کی علمی کاوش ہے۔ سو یہ بات پختہ ہے کہ اس روایت میں مولا کا لفظ خلیفہ اور حاکم کے معنی میں ہر گز وارد نہیں۔ اس طرح کتاب اللہ اور دیگر احادیث صحیحہ میں مولا کا لفظ خلیفہ یا حاکم کے معنی میں کہیں مستعمل نہیں دیگر معانی میں وارد ہے ۔


اہل علم کےلیے یہ لمحہ فکریہ ہے خلافت بلا فصل ثابت کرنے کےلیے نص صریح درکار ہے ۔ لفظ ؛ مولا ؛ جیسے مجمل الفاظ جو متعدد معانی کے حامل ہوں اور مشترک طور پر مستعمل ہوتے ہیں سے یہ مدٰعی ہر گز ثابت نہیں ہو سکتا ۔


مختصر یہ کہ خلافت بلا فصل کا دعوٰی خاص ہے اور اس کے اثبات کے لئے جو دلیل پیش کی گئی ہے۔ اس میں لفظ مولا اگر بمعنی حاکم ہو تو بھی یہ لفظ عام ہے دلیل عام مدعٰی خاص کو ثابت نہیں کرتی ۔ اگر بالفرض تسلیم کر بھی لیا جائے کہ خلافت بلا فصل کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم کے موقعہ پر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں ارشاد فرمایا تھا اور جناب علی رضی اللہ تعالی عنہ بلا فصل خلیفہ نامزد تھے تو درج ذیل چیزوں پر غور فرمائیں اصل مسئلہ کی حقیقت واضح ہو جائے گی ۔ (طالبِ و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)






Tuesday, 16 June 2026

صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم کون ہے ؟ کہنے والوں کو یہ ارشاداتِ مبارکہ ٹھنڈے دل سے ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے

صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم کون ہے ؟ کہنے والوں کو یہ ارشاداتِ مبارکہ ٹھنڈے دل سے ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے اور پھر سوچنا چاہیے کہ مرشدِ گرامی علیہ الرحمہ روافض کے جن نظریات و عقاٸد کا ساری زندگی اور فورم پر رد فرماتے ریے آج انہیں کے مریدین روافض کے ان نظریات و عقاٸد کو کیوں پھیلا رہے ہیں ؟ ۔ گولڑہ شریف والوں کے پیر و مرشد حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی علیہ الرحمہ نے بار بار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اول ، صدیق اکبر سب سے افضل اور مرتبہ صدیقیتِ کبریٰ کے مالک فرمایا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فاروق و فاروقِ اعظم فرمایا ہے ۔ ⏬









Monday, 15 June 2026

داڑھی منڈے یا کُترے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا شرعی حکم

داڑھی منڈے یا کُترے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا شرعی حکم

محترم قارئین کرام : ایک مٹھی داڑھی رکھنا واجب ہے اور ایک مٹھی سے کم کرنا حرام ہے ، لہٰذا داڑھی منڈے یا خشخشی داڑھی رکھنے والے امام کے پیچھے کوئی بھی نماز ، چاہے فرض ہو یا تراویح ، پڑھنا جائز نہیں اور اسے امام بنانا بھی ناجائز و گناہ ہے اور اس کے پیچھے اگر نماز پڑھ لی ، تو وہ مکروہ تحریمی ، واجب الاعادہ یعنی دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔ لہٰذا وہ حافظ جس کے بارے میں  مشاہدہ یہی ہے کہ رمضان میں تروایح کےلیے کچھ ماہ تک داڑھی کٹوانا چھوڑ دیتا ہے اور تراویح سنانے کے بعد دوبارہ اسی حالت پر پھر جاتا ہے ، تو اس کو ہرگز امام نہ بنایا جائے ، جب تک رمضان کے بعد بھی ایک ،دو سال تک بہتری والی حالت واضح نہ ہوجائے ۔ حافظ کا یہ کہنا کہ میں نے توبہ کر لی ہے ۔ ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرمانے والا ہے ، لیکن ہم اس کو اس وقت تک امام نہیں بنائیں گے ، جب تک اس کی ظاہری حالت قابلِ اطمینان نہ ہو جائے ۔ داڑھی منڈے امام یا حافظ قرآن کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے ، یا واجب الاعادہ ہے ، یا ہوتی ہی نہیں اس مسئلہ کے بارے میں احادیثِ مبارکہ ، محدثین کرام ، فقہاءِ عظام اور علماءِ امت رحمہم اللہ علیہم اجمعین کے ارشادات قارئین کے پیش خدمت ہیں ۔ اللہ عزوجل اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل شریعتِ محمدیہ کی مکمل طور پر پیروی کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔


داڑھی سے متعلق  بخاری شریف میں ہے : عن ابن عمر رضی اللہ عنہما عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال خالفوا المشرکین وفروا اللحی وأحفوا الشوارب وکان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل أخذہ ۔

ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرکین کی مخالفت کرو ، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی مٹھی میں لیتے اور جومٹھی سے زائد ہوتی ، اسے کاٹ دیتے تھے ۔ (صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 398 مطبوعہ لاهور)


امام کمال الدین ابن ہمام علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : واما الاخذ منھا وھی دون ذلک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد ۔

ترجمہ : داڑھی ایک مٹھی سے کم کروانا جیسا کہ بعض مغربی لوگ اور زنانہ وضع کے مرد کرتے ہیں ، اسے کسی نے بھی مباح نہیں قرار دیا ۔ (فتح القدیر جلد 2 صفحہ 352 مطبوعہ کوئٹہ،چشتی)


داڑھی کترے پیروں ، خطیبوں اور ایسے سب لوگوں کےلیے لمحہ فکریہ کہ یہ لوگ کس کے راستے پر چل رہے ہیں پڑھیے اور فیصلہ کیجیے کہ کیا ایسے لوگ پیر و مرشد ہو سکتے ہیں ؟ : فتح القدیر ، غنیۃ ، بحرالرائق ، حاشیہ طحطاوی علی المراقی ، درمختار اور درر شرح غرر وغیرہ کتبِ فقہ میں ہے : والنظم للآخر ، وأما الأخذ من اللحیۃ وھی دون القبضۃ کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد وأخذ کلھا فعل مجوس الأعاجم والیھود والھنود وبعض أجناس الإفرنج ۔

ترجمہ : بعض مغربی اور ہیجڑے لوگوں کی طرح داڑھی کاٹ کر ایک مٹھی سے کم کر دینے کو کسی فقیہ نے بھی جائز نہیں کہا اور داڑھی مکمل کاٹ دینا عجمی مجوسیوں ، یہودیوں ، ہندؤوں اور بعض قسم کے  انگریزوں کا طریقہ ہے ۔ (درر شرح غرر کتاب الصیام فصل حامل او مرضع خافت جلد 1 صفحہ 208 مطبوعہ میر محمد کتب خانہ آرام باغ کراچی)


امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں : داڑھی کتروا کر ایک مشت سے کم رکھنا حرام ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 98 رضا فاؤنڈیشن لاهور)


ایک مٹھی سے کم داڑھی والے کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ، واجب الاعادہ ہے ۔ امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں : داڑھی ترشوانے والے کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ۔ (فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 603 رضا فاؤنڈیشن لاهور)


داڑھی ترشوا کر ایک مٹھی سے کم کرنے والے کو امام بنانابھی گناہ ہے ۔ جیسا کہ امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں : وہ فاسق معلن ہے اور اسے امام کرنا گناہ اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی مکروہ تحریمی ۔ غنیہ میں ہے : لوقدموا فاسقا یاثمون “ اگر لوگوں نے فاسق کو مقدم کیا تو وہ لوگ گنہگار ہوں گے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 544 رضا فاؤنڈیشن لاھور)


 فاسق کی توبہ کے قبول کرنے اور اسے امام بنانے کے بارے میں سوال کے جواب میں امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : اللہ عزوجل اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہ بخشتا ہے ۔ (و ھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ ویعفو عن السیئات) ۔ (اور وہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہ معاف کرتا ہے)جو لوگ توبہ نہیں مانتے ، گنہگار ہیں ، ہاں اگر اس کی حالت تجربہ سے قابل اطمینان نہ ہو اور یہ کہیں کہ تونے توبہ کی اللہ توبہ قبول کرے ۔ ہم تجھے امام اس وقت بنائیں گے ، جب تیری صلاح حال ظاہر ہو ، تو یہ بجا ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ605 رضا فاؤنڈیشن لاھور )


فسق علانیہ کا مرتکب شخص اگر اپنے گناہ سے توبہ کرلے اور توبہ کے بعد اس کی ظاہری حالت قابل اطمینان ہوجائے ، تواس کو امام بنانے میں حرج نہیں ۔ جیسا کہ امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ سے فاسقِ معلن جس نے اپنے گناہوں سے توبہ کر لی تھی ، اس کی امامت کے بارے میں سوال ہوا ، تو امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ نے جواب میں فرمایا : جب بعد توبہ صلاح حال ظاہر ہو ، اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں ، اگر کوئی مانع شرعی نہ ہو ۔ (فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 605 رضا فاؤنڈیشن لاھور )


داڑھی مندا معلن فاسق ہوتا ہے اور معلن فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوتی ہے ۔ امام احمد رضا خان قادری علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں : پنجگانہ میں ہر شخص صحیح الایمان صحیح القرأۃ ، صحیح الطہارۃ ، مرد عاقل بالغ غیر معذور امامت کر سکتا ہے یعنی اس کے پیچھے نماز ہو جائے گی اگرچہ بوجہ فسق وغیرہ مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہو ۔ (فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 515 رضا فاؤنڈیشن لاهور)


یعنی داڑھی منڈے یا خشخشی داڑھی رکھنے والے امام کے پیچھے کوئی بھی نماز چاہے فرض ہو یا تراویح  پڑھنا جائز نہیں اور اسے امام بنانا بھی ناجائز وگناہ ہے اور اس کے پیچھے اگر نماز پڑھ لی تو وہ مکروہ تحریمی  واجب الاعادہ یعنی دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔


مفتی اعظم پاکستان مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ سے جب پوچھا گیا کہ بعض حفاظ کرام رمضان المبارک میں تراویح پڑھانے کےلیے داڑھی منڈوانا چھوڑ دیتے ہیں تا کہ تراویح پڑھا سکیں ، کیا ان کا یہ عمل درست ہے ؟


تو مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ نے جواباً ارشاد فرمایا : مذہب صحیح پر ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے ۔ منڈوانے والا یا کاٹ کر حد شرعی سے کم کرنے والا فاسق ہے ۔ فاسق کی امامت مکروہ اور اس کو امام بنانا گناہ ہے ۔ اس کے پیچھے جو نمازیں پڑھی جائیں گی ، ان کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔ فرض اور تراویح سب کا حکم ایک ہی ہے ۔ جو حفاظ ایسا کرتے ہیں کہ رمضان میں داڑھی رکھتے ہیں اور رمضان کے بعد کٹوا دیتے ہیں ، وہ عوام اور شریعت کو دھوکہ دیتے ہیں اور شریعت کو دنیا کمانے کےلیے استعمال کرتے ہیں ، ان لوگوں کے قول وفعل کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ۔ (وقار الفتاوی جلد 2 صفحہ 223 مطبوعہ بزم وقارالدین کراچی)


محمد قال اخبرنا ابو حنیفۃ عن الہیثم عن ابن عمرانہ کان یقبض علی اللحیۃ ثم یقص ما تحت القبضۃ قال محمد وبہ ناخذ و ھو قول ابی حنیفۃ ۔

ترجمہ : امام محمد ، امام اعظم علیہ الرحمہ سے ، وہ جناب ہیثم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما داڑھی کو مٹھی میں پکڑ کر مٹھی سے زائد حصہ کاٹ دیا کرتے تھے ۔ امام محمد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ہمارا عمل اسی حکم پر ہے اور حضرت امام ابو حنیفہص کا بھی یہی ارشاد ہے ۔ (کتاب الآثار باب صفتہ الشعر من الوجہ صفحہ۱۵۱ مطبوعہ انوارِ محمدی پریس لکھنؤ (بھارت) از امام محمد علیہ الرحمہ)


اس عبارت سے واضح ہو گیا کہ احناف کے نزدیک قبضہ (مُٹھی) برابر داڑھی رکھنے پر فتویٰ ہے لہٰذا یہ حکم لازمی ہے ۔


و اما الاخذ منھا وہمی دون ذالک کما یفعلہ بعض المغاربۃ و مخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد و اخذ کلھا فعل الیھود الھنود و مجوس الاعاجم ۔

ترجمہ : اور قبضہ سے کم داڑھی کے کترنے کو کسی ایک نے بھی جائز نہیں لکھا جیسے بعض مغربی اور ہیجڑے کرتے ہیں اور ساری داڑھی کا مونڈنا تو یہودیوں، ہندوؤں اور عجمی مجوسیوں کا کام ہے ۔ (درمختار کتاب الصوم باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ صفحہ۱۰۱مطبوعہ کلکتہ،چشتی)


طحطاوی میں ہے : ’’ والتشبہ بھم حرام‘‘ یعنی ا ور ان یہودیوں ، ہندوؤں اور عجمی مجوسیوں وغیرہ کے ساتھ مشابہت اختیار کرنی مسلمانوں کیلئے حرام ہے ۔

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ’’اشعہ اللمعات شرح مشکوٰۃ شریف‘‘ میں فرماتے ہیں : حلق کردن لحیہ حرام است و گذاشتن آں بقدر قبضہ واجب است ۔

ترجمہ: داڑھی کا مونڈنا حرام ہے اور داڑھی کا بقدر قبضہ (مُٹھی بھر) رکھنا واجب ہے ۔


حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ارشادات کے مطابق ’’ایک قبضہ کے برابر داڑھی رکھنا‘‘ واجب ہے بلکہ بعض علماءِ کرام کے نزدیک تو فرض ہے جیسا کہ مولانا مولوی شمس الدین ساکن درویش ہری پور ہزارہ ’’داڑھی کی اسلامی حیثیت ‘‘ صفحہ ٤٦ پر تحریر فرماتے ہیں : کہ کم از کم ایک قبضہ داڑھی رکھنی فرض ہے ۔ انبیاء علیہم السلام کا اسلام دین ، ملت اور سنتِ قدیمہ اور فطرتِ صحیحہ ہے جس کا حکم خود اللہ عزوجل نے دیا ہے اور از آدم تا ایں دم تمام رسولوں ، نبیوں علیہم السلام ، صحابیوں ، تابعیوں رضی اللہ عنہم ، ولیوں ، بزرگوں ، عالموں اور نیک لوگوں نے از اعلیٰ تا ادنیٰ ایک قبضہ داڑھی رکھی اور اسی کو فرض واجب جانا اور اس کے منڈانے کترانے کو باجماع و اتفاق حرام و معصیت و گناہ سمجھا ۔


لہٰذا اس قسم کے واجب ضروری کو ترک کرنا فاسق معلن بننا ہے ۔ فقہاءِ کرام رحمہم اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں کہ : گناہِ صغیرہ پر ہمیشگی کرنا فاسق ہونے کا ثبوت ہے ۔ صاحب ’’بحرالرائق‘‘ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’ان الادمان علی الصغیرۃ مفسق‘‘ یعنی یقیناً گناہِ صغیرہ پر مداومت کرنا آدمی کو فاسق بنا دیتا ہے ۔ طحطاوی فی بیان الاحق بالامۃ صفحہ ۱۸۱ مطبوعہ مصر میں فاسق کی تعریف لکھتے ہیں : وشرعا خروج عن طاعۃ اللہ بارتکاب کبیرة ۔

ترجمہ : شریعت میں فاسق وہ ہے جو گناہِ کبیرہ کے ارتکاب کے ساتھ اللہ عزوجل کی نافرمانی کرتا ہے ۔


اور قہستانی سے صاحب طحطاوی نقل کرتے ہیں : ای او اصرار علٰی صغیرۃ ۔

ترجمہ : فسق یاگناہِ صغیرہ پر اصرار کرنا ہے ۔


چونکہ داڑھی منڈانا گناہِ کبیرہ ہے اس لیے ایسا شخص جو ارتکابِ کبیرہ کرتا ہے اور اس پرطرہ یہ کہ اصرار بھی کرتا ہے تو یہ فاسقِ معلن ہے اور فاسقِ معلن کو امام کیسے بنایا جا سکتا ہے ۔ نیز بقول قہستانی تو صغیرہ پر اصرار ہی اس کے فاسق ہونے کےلیے کافی ہے چہ جائے کہ ترکِ واجب کرنا اور پھر حرام پر اصرار کرنا ۔


علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ ’’تنقیح الحامدیہ‘‘ صفحہ ۳۵۱ جلد اول مطبوعہ مصر میں ایک سوال کے جواب میں کہ : داڑھی منڈے شخص کی شہادت قبول کی جائے یا نہ ‘‘ فرماتے ہیں جب کوئی عورت سر کے بال منڈائے یا کتروائے تو وہ گناہ گار اور لعنتی ہو گئی اگر چہ یہ سر منڈانا یا کٹوانا خاوند کی اجازت یا حکم سے ہی کیوں نہ ہو کیونکہ مخلوق کی اطاعت خدا کی نافرمانی کرنے میں جائز نہیں ۔ ولذ ایحرم للرجل قطع لحیۃ ‘‘ اور اسی لئے مرد کو بھی داڑھی کٹانا حرام ہے ۔


تنقیح الحامدیہ میں ہے : فحیث ادمن علٰی فعل ہذا المحرم یفسق ۔

ترجمہ : پس جبکہ ایسے صریح حرام پر جو آدمی ہمیشگی کرے وہ فاسق ہو جاتا ہے ۔


لہٰذا فقہائے کرام رحمہم اللہ علیہم اجمعین کے ارشاد کے مطابق داڑھی منڈانے والا اور پھر اس پر مداومت کرنے والا فاسقِ معلن ہے یعنی اعلانیہ فاسق ہے اور ایسے امام یا حافظِ قرآن کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیے ، ایسا شخص امام نہیں بن سکتا بلکہ ایسا شخص قابل توہین ہے چہ جائے کہ اس کی تعظیم کی جائے اور اس کو عبادتِ الٰہی میں یہ عزت کا مقام دیا جائے ۔


فتاویٰ شامی جلد اول بحث امامتہ میں ہے : اما الفاسق فقد عللوا کراہۃ تقدیمہ بانہ لایھتم لامردینہ و بان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ و قد وجب علیہم اہانتہ شرعا ولا یخفی انہ اذا کان اعلم من غیرہ لا تزول العلۃ ۔

ترجمہ : فاسق کی امامت مکروہ ہونے کی علت ایک تو یہ ہے کہ وہ اپنے دینی امور میں لاپرواہی کرتا ہے اہتمام نہیں کرتا ہے ۔ دوسرے اسے امام بنانے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ وہ فاسق ہونے کی وجہ سے مستحقِ توہین ہے اگر چہ وہ فاسق دوسرے مقتدیوں سے زیادہ صاحبِ علم ہی کیوں نہ ہو اس لیے کہ علت کراہت تو ذائل نہیں ہوئی ۔ صرف یہی نہیں کہ فاسق عالم کی امامت ناجائز ہے بلکہ اس کو امام بنانے والے گنہگار ہوں گے ۔


کبیری شرح منیہ بحث امامت میں ہے : لو قدموا فاسقا یا ثمون بناء علٰی ان کراہۃ تقدیمہ کراہۃ تحریمہ ۔

ترجمہ : اگر مقتدیوں نے فاسق عالم کو امام بنایا تو وہ گناہ گار ہوں گے ۔ اس لیے کہ فاسق کو امام بنانا مکروہِ تحریمہ ہے ۔


ایک بات یہاں پر بہت ہی ضروری یاد رکھنی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ اگر فاسق عالم امام کے پیچھے کسی مجبوری سے نماز پڑھنی ہی پڑ جائے تو اس نماز کو اپنے وقت میں ہی دوبارہ پڑھے اس لیے کہ وہ مکروہ تحریمہ تھی ۔ صاحبِ در مختار بحث قضاء فوائت میں فرماتے ہیں : کل صلٰوۃ ادیت مح کراہۃ التحریم تعاد ۔

ترجمہ : جو نماز کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے اس کا دوبارہ پڑھنا لازمی ہے ۔


غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار جلد اول صفحہ ۳۳۳ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ (بھارت) از مولوی خرم علی میں کافی بحث کے بعد تحریر ہے : جو نماز کراہتِ تحریمی کے ساتھ ادا کی جائے اس کا اعادہ لازم ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعادہ خواہ وقت کے اندر ہو یا بعد دونوں صورتوں میں واجب ہے اور یہی قول راحج ہے ۔


مستخلص الحقائق شرح کنزالدقائق جلداول صفحہ ۲۰۱ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ (بھارت) حاشیہ ۴ کراہت امامت کے ضمن میں تحریر ہے : وکرہ آہ الکراہۃ فی الفاسق تحریمۃ ۔

ترجمہ : فاسق کو امام کرنا کراہتِ تحریم ہے ۔


یعنی اگر فاسق امام کے پیچھے نماز ادا کی گئی تو وہ نماز مکروہِ تحریمہ ہے اور مکروہِ تحریمہ نماز واجب الاعادہ ہے ۔


فتاویٰ درِ مختار صفحہ ۷۴ مطبوعہ کلکتہ میں ہے : وفاسق الاعمٰی و نحوہ الاعمش نھر الا ان یکون ای غیر الفاسق اعلم القوم فھواولٰی ۔

ترجمہ : فاسق ، اندھا اور اس شخص کی جو دن اور رات میں کم سوجھتا ہے امامت مکروہ ہے مگر مندرجہ افراد میں سے جو بھی قوم میں زیادہ صاحبِ علم ہو امامت کےلیے بہتر ہے سوائے فاسق کے اگر وہ قوم میں صاحب علم ہی کیوں نہ ہو ۔


غایۃ الاوطار ترجمہ درالمختار صفحہ ۲۶۱ مطبوعہ نو لکشور لکھنو (بھارت) میں ہے : فاسق کا استثناء اس لیے کیا کہ باوجود عالم ہونے کے بھی اس کی امامت خالی کراہت سے نہیں کیونکہ امامت میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعاً مقتدیوں پر اس کی اہانت واجب ہے ۔ مفتی ابوالسعود نے کہا کہ اس تعلیل کا مفاد یہ ہے کہ امامت فاسق کی مکروہِ تحریمی ہے ۔


محدثّین اور فقہاء رحمہم اللہ علیہم اجمعین کی عبارتوں سے یہ مسئلہ واضح ہو گیا کہ جو شخص مقدار شرع سے کم داڑھی رکھتا ہے یا ہمیشہ ترشواتا ہے ، وہ فاسقِ معلن ہے ، ایسے شخص کو امام بنانا مقتدیوں کے گنہگار ہونے کا سبب ہے اور نماز کے مکروہِ تحریمہ ہونے کا باعث جو کہ واجب الاعادہ ہے ۔


فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ ۲۱۹ ، ۲۲۰ پر امام احمد رِضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ ایک استفتاء کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں : مسئلہ : جو شخص داڑھی اپنی مقدار شرع سے کم رکھتا ہے اور ہمیشہ تر شواتا ہے اس کا امام کرنا نماز میں شرعاً کیا حکم رکھتا ہے ؟

الجواب :بوہ فاسق معلن ہے اور اسے امام کرنا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی مکروہِ تحریمی ۔ غنیہ میں ہے لو قدموا فاسقا یا ثمون الخ ۔


اور اسی فتاویٰ رضویہ جلد سوم کے صفحہ ۲۵۵ ، ۲۵۴ پر تحریر فرماتے ہیں جبکہ آپ سے پوچھا گیا : قاری مکہ معظمہ کا قرأت سیکھا ہو اور وہاں چند سال رہ کر معلمی کیا ہو لیکن داڑھی تر شواتا ہے ، آیا اس کے پیچھے نماز پنج گانہ اور جمعہ جائز ہے یا نہ ۔ بینوا توجروا ۔

الجواب : داڑھی تر شوانے والے کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیر نی واجب ۔ مکہ معظمہ میں رہ کر قرأت سیکھنا فاسق کو غیر فاسق نہ کردے گا ، واللہ تعالٰی اعلم ۔


نیز اسی فتاویٰ رضویہ جلد سوم کے صفحہ ۲۷۰ پر ایک استفتاء کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں : داڑھی منڈانا فسق ہے اور فسق سے متلبس ہو کر بلا توبہ نماز پڑھنا باعث کراہت نماز ہے جیسے ریشمی کپڑے پہن کر یا صرف پائجامہ پہن کر ۔ اور داڑھی منڈانے والا فاسق معلن ہے ۔ نماز ہو جانا بایں معنی ہے کہ فرض ساقط ہو جائے گا ورنہ گنہگار ہوگا، اسے امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ۔ باقی اگر وہ صف اول میں آئے تو اسے ہٹانے کا حکم نہیں ۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔


مفتی اعظم اہل سنت جناب ابوالبرکات سید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ صدر مدرس دارالعلوم حزب الاحناف لاہور سے مندرجہ ذیل استفتاء کیا گیا جس کا جواب آپ رحمۃ اللہ علیہ نے یوں تحریر فرمایا : ⏬


استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایک مسجد کا متقی غیر حافظ امام موجود ہے ۔ رمضان شریف میں تراویح میں قرآن پاک سننے کےلیے ایک حافظ مہیا کیا گیا جس کی داڑھی کتری ہوئی ہے ، ایسے حافظ کے پیچھے تراویح پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ ۔

الجواب : بلاشبہ داڑھی کترے حافظ فاسق فاجر ہیں ۔ ان کے پیچھے نماز خواہ فرض ہو یا سنت تراویح مکروہِ تحریمی ہے ۔ اگربامرمجبوری ان کے پیچھے پڑھ لی یا پڑھنے کے بعد حال کھلا تو نماز پھیر لے ، اگر چہ وقت جاتا رہا ہو اور مدت گذر چکی ہو ۔ کذافی الشامی داڑھی کترے آدمی ، سید ، قاری ، حافظ ، عالم فاضل ہونے سے مستحقِ امامت نہیں ہو سکتے ۔ اگر کسی مسجد میں داڑھی کترا ہے تو وہ مسجد چھوڑ کر دوسری مسجد میں چلا جائے ۔ انتہی مختصراً ۔


اسی استفتاء کا جواب مفتی اعظم مولانا مولوی مظہر اللہ رحمۃ اللہ علیہ خطیب و امام جامع مسجدفتح پوری دہلی (بھارت) تحریر فرماتے ہیں : بیشک یہ شخص اس فعل کی وجہ سے فاسق ہو گیا ہے اور حسب فتویٰ کبیری و شامی ایسے شخص کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اگر توبہ نہ کرے ۔


اسی استفتاء پر علماء دیوبند کے اکابرین میں سے مفتی ہند مولانا مولوی کفایت اللہ صاحب دہلوی صدر مدرس مدرسہ امینیہ دہلی (بھارت) جواب تحریر کرتے ہیں : نماز تراویح میں کل قرآن شریف سنانا سنت ہے اور ایک قبضہ سے کتر کرداڑھی کا کم کرنا حرام ہے جس کی وجہ سے وہ داڑھی کترا حافظ فاسق ہو گیا ۔ پس اس کی امامت مکروہِ تحریمی ہے ۔ ایسی صورت میں تراویح متقی امام مسجد کے پیچھے الم ترکیف سے پڑھ لے ، فاسق کے پیچھے نہ پڑھے ۔ اسی استفتاء پر مولوی محمد عبدالحفیظ صاحب مدرس مدرسہ نعمانیہ دہلی (بھارت) جواب تحریر کرتے ہیں : بیشک یہ شخص جب تک توبہ نہ کرے فاسق ہے اور اس کے پیچھے تراویح مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے ۔


اسی استفتاء پرعلماء دیوبند کے اکابر علماء میں سے مشہور مفسر قرآن مولانا مولوی احمد علی صاحب لاہوری تحریر کرتے ہیں : اہلِ محلہ کے ذمہ لازم ہے کہ داڑھی کترے حافظ کو فوراً الگ کر دیں اور متشرع حافظ قرآن امام کے پیچھے تراویح پڑھیں ۔ (یہ سب فتاویٰ داڑھی کی اسلامی حیثیت صفحہ ۸۰ ، ۸۱ سے لیے گئے ہیں ۔ یہ مولوی شمس الدین صاحب ہزاروی کی تالیف ہے) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر مفتی فیض احمد چشتی)

حضرت سیدنا امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کا لقب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ۔ تو کیا اب یہ کہنا شروع کر دیں : اے عمِ مصطفی سید الشہداء کون ہے ؟

حضرت سیدنا امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کا لقب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ۔ تو کیا اب یہ کہنا شروع کر دیں : اے عمِ مصطفی سید الشہداء کون ہے ؟ : ⏬







ایک سوال گردش کر رہا ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر کا لقب امت نے دیا ، جبکہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کو یہ لقب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ۔ (ثابت ہے یا نہیں ، یہ الگ بحث ہے) ۔ اس لیے صدیق اکبر حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں ، حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نہیں ۔ (ویسے اتنے ادب سے یہ سوال کر تے نہیں ، بس ہم سے ان کی طرح روکھا سوکھا لکھا نہیں جاتا)
اس سوال کے جواب میں حدیث شریف سے ایک مثال ملاحظہ فرمائیں اور ان کے استدلال کی کمزوری دیکھیں : حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، شہداء کے سردار حمزہ بن عبدالمطلب ہیں ۔ (المستدرک علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابۃ جلد 3 صفحہ 215 رقم الحدیث 4884 دار الکتب العلمیۃ بیروتی)(سیر السلف الصالحین جلد 2 صفحہ 360 دار الرایۃ للنشر والتوزیع الریاض،چشتی)(سیر السلف الصالحین صفحہ 360 دار الکتب العلمیۃ بیروت)(الترغیب والترہیب کتاب الحدود جلد 3 صفحہ 158 دار الکتب العلمیۃ بیروت)

یہ روایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے ۔ (الامالی المطلقة صفحہ 197 المکتب الاسلامی بیروت) ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ علیہ  المتوفی : 852 ھ لکھتے ہیں : ثَبَتَ فِي حَدِيثٍ مَرْفُوْعٍ اَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيْقِ الْاَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، ایک مرفوع حدیث میں ثابت ہے جسے طبرانی نے اصبغ بن نباتہ کی سند سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : شہداء کے سردار حمزہ بن عبدالمطلب ہیں ۔ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری جلد 7 صفحہ 425 طبع امیر سلطان) ۔ امام حاکم رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اس حدیث کو  صحیح کہا ہے ۔

اب سوال یہ ہے : حضرت سیدنا امامِ عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کا لقب امت نے دیا اور اس لقب کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوٸٸی فرمان آپ کے متعلق نہیں ہے ۔ پھر بھی پوری امت آپ رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کے لقب سے یاد کرتی ہے ۔ کسی کو بھی اعتراض نہ تھا ، نہ ہے اور نہ ہی ان شاء اللہ ہوگا ۔ اور حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کا لقب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ۔ تو کیا اب یہ کہنا شروع کر دیں : اے عمِ مصطفی سید الشہداء کون ہے ؟ ۔ بالکل بھی نہیں ۔ جس طرح یہ کہنا درست نہیں ، اسی طرح صدیق اکبر والا استدلال بھی درست نہیں ۔ اہل سنت و جماعت کے جو نظریات متفقہ طور پر صدیوں سے علامت و شعار چلے آ رہے ہیں انہیں چھیڑ کر خواہ مخواہ امت میں فتنہ و فساد کی فضا نہیں بنانی چاہیے اور اسلاف کے طریقہ پر ہی چلنے میں عافیت ہے ۔ بشکریہ علامہ ابو ذہیب محمد ظفر علی سیالوی صاحب ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

Sunday, 14 June 2026

بارہ امام رضی اللہ عنہم اور شیعہ عقیدہ چودہ معصومین پر تحقیقی نظر

بارہ امام رضی اللہ عنہم اور شیعہ عقیدہ چودہ معصومین پر تحقیقی نظر

محترم قارئینِ کرام : اللہ تعالیٰ کے انبیاء کرام علیہم السلام اور ملائکہ کے علاوہ کوئی بھی معصوم نہیں اور نہ ہی معصوم عن الخطاء ۔ اس لیے چودہ معصومین والا معاملہ یہاں ختم ہو گیا ۔ اگر ہم مسلمان اپنے موجودہ عقائد کے تناظر میں بات کریں تو رسول اللہ صلی ﷲ تعالی علیہ و آلہ وسلّم کے بعد کوئی بھی معصوم نہیں ۔ اس لیے یہ عقیدہ رکھنا کہ فلاں امام یا شخصیت معصوم ہے ، یہ غلط ہے ۔ انبیاء اور ملائکہ علیہم السّلام کے علاوہ کوئی بھی معصوم نہیں ۔ اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کےبارہ امام ، جن کے نام لوگوں میں مشہور ہیں ، ان سے متعلق اہلسنت و جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ ائمہ اہل بیت  رضی اللہ عنہم ہیں ، یہ نہایت متقی پارسا اور اعلی درجہ کی بزرگی ، ولایت اور مقام  و مرتبہ کے حامل ہوئے اور  مقام غوثیت  پربھی فائز ہوئے ۔ ان میں سے ایک امام مہدی رضی اللہ عنہ ہیں ، جو ابھی آئیں گے ، جن کے پاس خلافت عامہ ہوگی ۔ ان بارہ اماموں میں سے خلافت عامہ صرف  حضرت مولا علی اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہما کوملی اور ایک حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ  کو ابھی ملے گی ۔ وبس ۔ اس کے ساتھ ساتھ درج ذیل گذارشات ذہن نشین رہیں : ⏬


(1) تمام انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام ان بارہ اماموں سے افضل ہیں ، ان بارہ اماموں رضی اللہ عنہم میں سے کوئی بھی کسی نبی کے برابر یا اس سے افضل نہیں ہے کیونکہ ان میں سے کوئی امام رضی اللہ عنہ بھی نبی نہیں ہے اور جو نبی نہ ہو ، وہ کسی نبی علیہ السلام کے برابر یا اس سے افضل نہیں ہو سکتا ۔ جو ان میں سےکسی کو کسی نبی علیہ السلام کے برابر یا افضل جانے وہ کافر ہے ۔


ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری میں ہے : النبي أفضل من الولي وهو أمر مقطوع به ، والقائل بخلافه كافر لأنه معلوم من الشرع بالضرورة ۔

ترجمہ : نبی ، ولی سے افضل ہے اور یہ قطعی امر ہے ، اور جو اس کے خلاف کا قائل ہو وہ کافر ہے کیونکہ نبی کا ولی سے افضل ہونا شریعت سے بدیہی طور پر معلوم ہے ۔ (ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری کتاب العلم جلد 1 صفحہ 321 دارالکتب العلمیہ بیروت،چشتی)(ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری کتاب العلم جلد 2 صفحہ 191 مطبوعہ دار ابن حزم)


المعقتد المنتقد میں ہے : ان نبیا واحداً أفضل عند اللہ من جمیع الأولیاء ، ومن فضل ولیاً علی نبي یخشی علیہ الکفر بل ھو کافر ۔

ترجمہ : بیشک ایک نبی اللہ تعالی کے نزدیک تمام اولیاء سے افضل ہے اور کو کسی ولی کو کسی نبی پر فضیلت دے تو اس پر کفر کا خوف ہے بلکہ وہ کافر ہے ۔ (المعقتد المنتقد باب النبوات صفحہ 125)


(2) ان بارہ اماموں میں سےکوئی بھی امام معصوم نہیں ہےکہ معصوم صرف اورصرف انبیاء و ملائکہ علیہم الصلاۃ والسلام ہیں ۔ جو انبیا اور ملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام کے علاوہ کسی اور کے معصوم ہونے کا عقیدہ رکھے وہ اہلسنت سے خارج ہے ۔ بہار شریعت میں ہے : عصمت نبی اور مَلَک کا خاصہ ہے ، کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں ۔ (بہار شریعت جلد 1 حصہ 1 صفحہ 38 مکتبۃ المدینۃ)


فتاوی رضویہ میں ہے : اجماعِ اہلسنت ہے کہ بشر میں انبیا ء علیہم الصلاۃ والسلام کے سوا کوئی معصوم نہیں ، جو دوسرےکو معصوم مانے اہلسنت سے خارج ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 14 صفحہ 186 رضا فاؤنڈیشن لاہور)


علامہ سعدالدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : ان الانبیاء علیھم السلام معصومون ۔ یعنی تمام انبیاء معصوم ہیں ۔ (شرح العقائد النسفیہ صفحہ نمبر 306)


جامع المعقول والمنقول علامہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : الملائکة عباد اللہ تعالی العاملون بامرہ ۔ یرید انھم معصومون ۔

ترجمہ : ملائکہ بھی اللہ کے بندے ہیں اور اس کے حکم کے مطابق تمام امور سرانجام دیتے ہیں اور اس سے مراد یہ ہے کہ وہ معصوم ہیں ۔ (شرح العقائد کی شرح النبراس صفحہ نمبر 287)


امام ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : الانبیاء علیہم السلام کلھم منزھون ۔ ای معصومون ۔ یعنی تمام انبیاء علیہم السلام معصوم ہیں ۔ (منح الروض الازھر صفحہ نمبر 56،چشتی)


امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری ماتریدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بشر میں انبیاء علیہم السلام کے سوا کوئی معصوم نہیں ۔ (فتاوی رضویہ جلد نمبر 14 صفحہ نمبر 187)


صدرالافاضل استاذ العلماء حضرت مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : انبیاء اور فرشتوں علیہم السّلام کے سوا معصوم کوئی بھی نہیں ہوتا ، اولیاء (کو اللہ تَعَالٰی اپنے کرم سے گناہوں سے بچاتا ہے مگر معصوم صرف انبیاء اور فرشتے علیہم السّلام ہی ہیں ۔ (کتاب العقائد صفحہ نمبر 21،چشتی)


عصمت انبیاء و ملائکہ علیہم السّلام کا معنی یہ ہے کہ ان کے لیے حفظ الہی کا وعدہ ہو چکا ہے جس کے سبب ان سے صدور گناہ محال ہے ۔ انبیاء و ملائکہ علیہم السّلام کی طرح کسی دوسرے کو معصوم سمجھنا گمراہی و بد دینی ہے ۔ اور رہی بات بچوں کو معصوم کہنے والی تو اس کا جواب یہ ہے کہ بچوں کو معصوم کہنا اس معنی میں نہیں ہوتا جس معنی میں شرعی اصطلاح ہے اس لیئے بچوں کو معصوم کہنے والے پر کوئی حکم نہیں ۔ عرفِ حادِث میں بچوں کو بھی ”معصوم“ کہہ دیا جاتا ہے لیکن شرعی اصطلاحی معنیٰ جو اوپر بیان کئے گئے اس سے وہ مراد نہیں ہوتے بلکہ لغوی معنیٰ یعنی بھولا ، سادہ دل ، سیدھا سادھا ، چھوٹا بچہ ، نا سمجھ بچہ ، کم سن ، والے معنیٰ میں کہا جاتا ہے ۔ اس لئے اس معنیٰ میں بچوں کو معصوم کہنے پر کوئی گرفت نہیں اسے ناجائز بھی نہیں کہہ سکتے ۔


جہاں تک ائمہ کی بات ہے تو فقہ میں چار ائمہ ہیں، ان کے اسمائے گرامی ذیل میں ہیں : ⏬


امام اعظم سیدنا امام   ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ


سیدنا امام مالک رضی اللہ عنہ


سیدنا امام شافعی رضی اللہ عنہ


سیدنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ


ان کے علاوہ کچھ لوگ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو بھی فقہ میں امام مانتے ہیں۔ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ آلِ رسول اور امت کے عظیم امام ہیں ۔ ہمارے لئیے لائقِ احترام اور حصول فیض و برکت کا ذریعہ ہیں ۔


بارہ امام


ان کا ذکر احادیث میں ہے ؟


یہ مجتہد تھے یا مقلد ؟


کتب صحاح میں ان کے روایات ہیں ؟

ان کی امامت کون سی ہے ؟


ان کی طرف منسوب اقوال کہاں تک درست ہے ؟


کتب صحاح میں ان سے کم روایات لینے کی وجہ ؟


بارہ امام والے معاملے پر ہم امام اہل سنت مجدد دین و دملت سیدنا الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ کا قول نقل کر دیتے ہیں کیونکہ آپ کی تحقیق حق ہے ۔ چنانچہ امام اہل سنت مجدد دین و دملت سیدنا الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ اس سے متعلقہ ایک سوال کے جواب میں رقم طراز ہیں : امامت اگر بمعنی مقتدٰی فی الدین ہونے کے ہے توبلاشبہہ ان کے غلام اور غلاموں کے غلام مقتدٰی فی الدین ہیں ، اوراگر اصطلاح مقامات ولایت مقصود ہے کہ ہر غو ث کے دو وزیر ہوتے ہیں عبدالملک و عبدالرب ، انہیں امامین کہتے ہیں ، تو بلاشبہہ یہ سب حضرات خود غوث ہوئے ۔ اوراگرامامت بمعنی خلافت عامہ مراد ہے تووہ ان میں صرف امیرالمومنین مولٰی علٰی و سیدنا امام حسن مجتبٰی کو ملی اور اب سیدنا امام مہدی کوملے گی وبس رضی ﷲ تعالٰی عنہم اجمعین ، باقی جو منصب امامت ولایت سے بڑھ کرہے وہ خاصہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہے جس کوفرمایا انّی جاعلک للناس اماما (میں تمہیں لوگوں کاپیشوا بنانے والاہوں ۔ت) وہ امامت کسی غیرنبی کے لئے نہیں مانی جاسکتی ، اطیعوﷲ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم (حکم مانو ﷲ کا اور حکم مانو رسول ﷲ کا اور ان کا جوتم میں حکومت والے ہیں۔ت) ہر غیر نبی کی امامت اولی الامرمنکم تک ہے جسے فرمایا : وجعلنٰھم ائمۃ یھدون بامرنا (اور ہم نے انہیں امام کیاکہ ہمارے حکم سے بلاتے ہیں۔ت) مگر اطیعوا الرسول کے مرتبے تک نہیں ہو سکتی اس حد پر ماننا جیسے روافض مانتے ہیں صریح ضلالت وبے دینی ہے ۔ امام جعفر صادق رضی ﷲ تعالٰی عنہ تک تو بلاشبہہ یہ حضرات مجتہدین وائمہ مجتہدین تھے ، اور باقی حضرات بھی غالباً مجتہد ہوں گے ۔ وﷲ تعالٰی اعلم ۔ (فتاوٰی رضویہ جلد 26 کتاب الفرائض صفحہ 428،چشتی)


امام اہل سنت مجدد دین و دملت سیدنا الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ : بارہ امام جن کے نام عوام میں مشہور ہیں ان میں باستثنائے جناب امام علی مرتضی کرم ﷲ وجہہ حضرت امام حسن و حضرت امام حسین و حضرت امام مہدی کے کسی اور امام کی نسبت صحیح حدیثوں میں اشارۃ یاصراحۃ کوئی خبر آئی ہے ؟ امامت ان کی ولایت کے درجے پر ماننا چاہئے ان کے عقائد و احکام و اعمال وغیرہ ائمہ مجتہدین میں سے کسی ایک کے مشابہ تھے یاسب سے الگ ؟ یہ خود مجتہد تھے یا مقلد؟ بعض اعمال و جفر وغیرہ کی کتابوں میں ان کے اقوال ملتے ہیں یہ کہاں تک صحیح ہیں ؟ بعض کا یہ اعتراض ہے کہ صحاح کی کتابوں میں ان کی روایتیں بہت کم لی گئی ہیں حالانکہ ان کا خاندانی علم تھا ان سے زیادہ دوسرے کو کہاں تک واقفیت ہوسکتی ہے اہلسنت کی کتابوں میں ان کے حالات کم لکھنے کی کیا وجہ ہے ؟

الجواب : کتب احادیث میں ان کا ذکر امام باقر رضی ﷲ تعالی عنہ کی بشارت بتصریح نام گرامی صحیح حدیث میں ہے جابر بن عبدﷲ انصاری رضی ﷲ تعالی عنہما سے ہے حضور اقدس صلی ﷲ تعالی علیہ و آلہ وسلّم نے ان کا ذکر فرمایا : کہ ان سے ہمارا سلام کہنا ۔ سیدنا امام محمد باقر رضی ﷲ تعالی عنہ طلب علم کےلیے سیدناجابر رضی ﷲ تعالی عنہ کے پاس آئے انہوں نے ان کی غایت تکریم کی اور کہا : رسول ﷲ صلی ﷲ تعالی علیہ و آلہ وسلّم یسلم علیك ۔ (تاریخ دمشق الکبیر ترجہ ۶۹۰۱ محمدبن علی بن حسین داراحیاء التراث العربی بیروت ۵۷/ ۲۱۵،۲۱۶،چشتی) ۔ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالی علیہ و آلہ وسلّم آپ کوسلام فرماتے ہیں ، اور ۔ اخرج منکما الکثیر الطیب ۔ (تنزیہ الشریعۃ باب فی مناقب السبطین وامہما وآل البیت دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۴۱۱)) (ﷲ تعالی تم دونوں کو کثیر پاکیزہ اولاد عطافرمائے) میں ان سب حضرات کی بشارت ہے ۔


ان کی امامت کون سی ہے ؟


امامت اگر بمعنی "مقتدی فی الدین" ہونے کے ہے تو بلاشبہہ ان کے غلام اور غلاموں کے غلام مقتدی فی الدین ہیں ، اور اگر اصطلاح مقامات ولایت مقصود ہے کہ ہر غو ث کے دو وزیر ہوتے ہیں عبدالملک و عبدالرب ، انہیں امامین کہتے ہیں ، تو بلاشبہہ یہ سب حضرات خود غوث ہوئے ۔ اور اگر امامت بمعنی خلافت عامہ مراد ہے تو وہ ان میں صرف امیرالمومنین مولی علی و سیدنا امام حسن مجتبی کو ملی اور اب سیدنا امام مہدی کو ملے گی و بس رضی ﷲ تعالی عنہم اجمعین ، باقی جو منصب امامت ولایت سے بڑھ کر ہے وہ خاصہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ہے جس کو فرمایا : انی جاعلك للناس اماما (القرآن الکریم ۲/ ۱۲۴) (میں تمہیں لوگوں کاپیشوا بنانے والاہوں۔ت) وہ امامت کسی غیر نبی کے لئے نہیں مانی جاسکتی ، اطیعوا ﷲ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم (القرآن الکریم ۴/ ۵۹) (حکم مانو ﷲ کا اورحکم مانو رسول ﷲ کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں۔ت) ہر غیر نبی کی امامت اولی الامر منکم تک ہے جسے فرمایا: و جعلنھم ائمة یھدون بامرنا ۔ (القرآن الکریم ۲۱/ ۷۳)

(اور ہم نے انہیں امام کیا کہ ہمارے حکم سے بلاتے ہیں۔ت) مگر "اطیعوا الرسول" کے مرتبے تک نہیں ہوسکتی اس حد پر ماننا جیسے روافض مانتے ہیں صریح ضلالت وبے دینی ہے ۔ امام جعفر صادق رضی ﷲ تعالی عنہ تک تو بلاشبہہ یہ حضرات مجتہدین و ائمہ مجتہدین تھے ، اور باقی حضرات بھی غالبا مجتہد ہوں گے ۔ وﷲ تعالی اعلم ۔


باطنی طور پر ان کا مقام


یہ نظر بظاہر ہے ورنہ باطنی طور پر کوئی شک کا مقام نہیں کہ یہ سب حضرات عین الشریعۃ الکبری تک واصل تھے ۔


ان کی طرف منسوب اقوال کہاں تک درست ہے ؟


جو بسند صحیح ثابت یا کسی فقہ معتمد کی نقل ہے اس کاثبوت مانا جائے گا ورنہ مجاہیل یا عوام یا ایسی کتاب کی نقل جو رطب و یابس سب کی جامع ہوتی ہے کوئی ثبوت نہیں ۔ 


صحاح میں روایت کم ہونے کی وجہ


صحاح میں صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی ﷲ تعالی عنہما کی روایات بھی بہت کم ہیں ، رحمت الہی نے حصے تقسیم فرمادیے ہیں کسی کوخدمت الفاظ ، کسی کو خدمت معانی ، کسی کو تحصیل مقاصد ، کسی کوایصال الی المطلوب ، نہ ظاہری روایت کی کثرت وجہ افضلیت ہے نہ اس کی قلت وجہ مفضولیت ۔ صحیحین میں امام احمد سے صدہا احادیث ہیں اور امام اعظم و امام شافعی سے ایک بھی نہیں ، اور باقی صحاح میں اگر ان سے ہیں بھی تو بہت شاذ و نادر ، حالانکہ امام احمد امام شافعی کے شاگرد ہیں ، اور امام شافعی امام اعظم کے شاگردوں کے شاگرد رضی ﷲ تعالی عنہم اجمعین ، بلکہ امام احمد کا منصب بھی بہت ارفع و اعلی ہے مصطفی صلی ﷲ تعالی علیہ و آلہ وسلّم نے انہیں ربع اسلام کہا ہے۔ *ہزاروں محدثین جو فقیہ تک نہ تھے ان سے جتنی روایات صحاح میں ملیں گے صدیق و فاروق بلکہ خلفائے اربعہ سے اس کا دسواں حصہ بھی نہ ملے گا رضی ﷲ تعالی عنہم اجمعین ۔


کیا ان کے احوال اہلسنت کی کتابوں میں کم ہیں ؟


یہ محض غلط و افتراء ہے کہ ان کے احوال اہلسنت کی کتابوں میں کم ہیں ، اہلسنت کی جتنی کتابیں بیان حالات اکابر میں ہیں سب ان پاک مبارک محبوبان خدا کے ذکر سے گونج رہی ہیں اور خود ان کے ذکر میں مستقل کتابیں ہیں ۔ وﷲ تعالی اعلم ۔ (فتاوٰی رضویہ جلد 26 کتاب الفرائض صفحہ 428 تا 432،چشتی)


بارہ اماموں پر یقین یا ایمان رکھنے والوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ امام مہدی رضی اللہ عنہ کی ولادت ہو چکی ہے اور وہ قرآن لے کر چھپ گئے تھے اب قربِ قیامت میں ان کا ظہور ہو گا، یہی وجہ ہے کہ   اہل ِ تشیع حضرات اپنی دعاؤں میں ایک دعا یہ بھی کرتے ہیں کہ اے اللہ امامِ زمانہ امام مہدی کا جلدی ظہور فرما۔ ایسے عقائد رکھنے والوں کو “شیعہ اثنا عشری” کہا جاتا ہے۔   یہ عقائد اہل سنت کے نزدیک باطل و گمراہ کن ہیں اور امام مہدی رضی اللہ عنہ کی ولادت ابھی نہیں ہوئی ۔


اہلِ تشیع حضرات اپنا یہ مؤقف درست ثابت کرنے کے لئیے   بخاری و مسلم کی یہ روایت پیش کرتے ہیں :حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کو فرماتے سنا کہ اسلام بارہ خلیفوں تک غالب رہے گا جو سارے کے سارے قریش کے ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ لوگوں کا دین جاری رہے گا جب تک ان میں بارہ شخص والی ہوں جو سب قریش سے ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ دین قائم رہے گا حتی کہ قیامت قائم ہو جاوے یا ان پر بارہ خلیفہ ہوں جو سارے قریش سے ہوں ۔


اس حدیث کی شرح میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : یہاں خلافت سے مراد خلافت نبوت نہیں یعنی خلافت راشدہ کیونکہ اس کی مدت صرف تیس سال ہے جو امام حسن پر ختم ہوتی ہے بلکہ خلافت امارت مراد ہے ، خلیفہ بمعنی امیر ہے ۔ اہل سنت کے نزدیک اس فرمان عالی کے چند معنی کیے گئے ہیں : ایک یہ کہ یہ واقعہ امام مہدی کے بعد سے قیامت تک ہوگا ڈیڑھ سو سال میں یہ بارہ خلفاء ہوں گے ، پہلے پانچ خلیفہ سبط اکبر یعنی امام حسن کی اولاد ہیں ، پھر پانچ خلیفہ سبط اصغر یعنی امام حسین کی اولاد میں ، پھر ایک خلیفہ امام حسین کی اولاد میں جیسا کہ بعض احادیث میں ہے ۔ دوسرے یہ کہ حضور انور صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کے بعد سے لے کر قیامت تک یہ خلفاء مختلف وقتوں میں ہوں گے۔تیسرے یہ کہ حضور انور صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کے بعد سے مسلسل بارہ امیروں کے زمانہ تک دین غالب رہے گا کفار کا غلبہ نہ ہوسکے گا اگرچہ ان میں سے بعض فاسق ظالم ہوں گے جیسے یزید ابن معاویہ وغیرہ ۔ چوتھے یہ کہ آخری زمانہ میں بیک وقت بارہ بادشاہ مختلف ممالک میں ایسے ہوں گے جن کے سبب اسلام غالب ہوگا ۔ والله اعلم ! (اشعۃ اللمعات) ۔ اس حدیث سے شیعہ اپنے بارہ امام ثابت کرتے ہیں جو حسب ذیل ہیں : علی ، حسن ، حسین ، امام زین العابدین ، محمد باقر ، جعفر صادق ، موسیٰ کاظم ، علی رضا ، محمد تقی ، علی تقی ، حسن عسکری ، آخری میں امام مہدی (رضی اللہ عنہم) کہ یہ حضرات خلفاء برحق ہیں یعنی مستحق خلافت اگرچہ ان میں سے اکثر بظاہر خلیفہ نہ ہوئے ۔(مرقات) مگر یہ قول صراحۃً باطل ہے کہ شیعہ کے نزدیک ان کا زمانہ تاقیامت ہے ان کے زمانوں میں دین کہاں غالب رہا دین مغلوب ہوگیا حتی کہ امام مہدی کو غار میں چھپ جانا پڑا اب وہ قریب قیامت ہی آئیں گے ۔ اہل سنت کی مذکورہ چار شرحوں میں تیسری شرح قوی معلوم ہوتی ہے ، ان میں بارہ بادشاہوں میں آخری بادشاہ ولید ابن یزید ابن عبدالملک ابن مروان ہے ، اس بادشاہ کے قتل ہونے پر مسلمانوں میں بڑا اختلاف پیدا ہوگیا ، دیکھو اشعۃ اللمعات یہ ہی مقام ۔ خلافت راشدہ اور غیر راشدہ اور امارت و سلطنت کا فرق ملحوظ رہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد نمبر 8 صفحہ نمبر 228،چشتی)


خلاصہ کلام یہ کہ بارہ امام نہ ہی ہمارے عقائد کا حصّہ ہیں اور نہ ہی ان پر ایمان لانا ضروری ، نبی کریم صلی ﷲ تعالی علیہ و آلہ وسلّم کے تمام صحابہ کرام ، آلِ نبی و ائمہ اہل بیت اور تمام بزرگان دین رضوان اللہ علیہم اجمعین ہمارے لیے لائقِ احترام ، قابلِ تعظیم اور ذریعہ بخشش و نجات ہیں لیکن انبیاء کرام اور ملائکہ مقربین علیہم السّلام کے بعد امت میں کوئی بھی معصوم نہیں ۔


بارہ خلفا یا بارہ امام رضی اللہ عنہم


محترم قارئینِ کرام : کسی حدیث شریف میں بارہ اماموں کی صراحت نہیں ہے ، البتہ بارہ خلفاء کا تذکرہ ضرور موجود ہے : وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ۔ وَفِي رِوَايَةٍ : لَا يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا مَا وَلِيَهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ۔ وَفِي رِوَايَةٍ:«لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَة أَويَكُونُ عَلَيْهِمُ اثْنَاعَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْش ۔

ترجمہ : روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کو فرماتے سنا کہ اسلام بارہ خلیفوں تک غالب رہے گا (1) جو سارے کے سارے قریش کے ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ لوگوں کا دین جاری رہے گا جب تک ان میں بارہ شخص والی ہوں جو سب قریش سے ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ دین قائم رہے گا حتی کہ قیامت قائم ہو جاوے یا ان پر بارہ خلیفہ ہوں جو سارے قریش سے ہوں (2) (مشکواة المصابیح حدیث نمبر 5983 مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)۔(صحیح بخاری رقم/7222))(صحیح مسلم واللفظ له (رقم/1821)


حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمة اللہ علیہ اس حدیثِ مبارکہ کی شرح فرماتے ہوۓ لکھتے ہیں : ⏬


(1) : یہاں خلافت سے مراد خلافت نبوت نہیں یعنی خلافت راشدہ کیونکہ اس کی مدت صرف تیس سال ہے جو امام حسن پر ختم ہوتی ہے بلکہ خلافت امارت مراد ہے،خلیفہ بمعنی امیر ہے ۔ اہل سنت کے نزدیک اس فرمان عالی کے چند معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ یہ واقعہ امام مہدی کے بعد سے قیامت تک ہوگا ڈیڑھ سو سال میں یہ بارہ خلفاء ہوں گے ، پہلے پانچ خلیفہ سبط اکبر یعنی امام حسن کی اولاد ہیں،پھر پانچ خلیفہ سبط اصغر یعنی امام حسین کی اولاد میں ، پھر ایک خلیفہ امام حسین کی اولاد میں جیساکہ بعض احادیث میں ہے ۔ دوسرے یہ کہ حضور انور صلی الله علیہ و آلہ وسلّم کے بعد سے لے کر قیامت تک یہ خلفاء مختلف وقتوں میں ہوں گے۔تیسرے یہ کہ حضور انور کے بعد سے مسلسل بارہ امیروں کے زمانہ تک دین غالب رہے گا کفار کا غلبہ نہ ہوسکے گا اگرچہ ان میں سے بعض فاسق ظالم ہوں گے جیسے یزید ابن معاویہ وغیرہ۔چوتھے یہ کہ آخری زمانہ میں بیک وقت بارہ بادشاہ مختلف ممالک میں ایسے ہوں گے جن کے سبب اسلام غالب ہوگا۔والله اعلم! (اشعۃ اللمعات) اس حدیث سے شیعہ اپنے بارہ امام ثابت کرتے ہیں جو حسب ذیل ہیں: علی،حسن،حسین،امام زین العابدین،محمد باقر،جعفر صادق،موسیٰ کاظم،علی رضا،محمدتقی،علی تقی،حسن عسکری ، آخری میں امام مہدی (رضی اللہ عنہم) کہ یہ حضرات خلفاء برحق ہیں یعنی مستحق خلافت اگرچہ ان میں سے اکثر بظاہر خلیفہ نہ ہوئے ۔ (مرقات) مگر یہ قول صراحۃً باطل ہے کہ شیعہ کے نزدیک ان کا زمانہ تاقیامت ہے ان کے زمانوں میں دین کہاں غالب رہا دین مغلوب ہوگیا حتی کہ امام مہدی کو غار میں چھپ جانا پڑا اب وہ قریب قیامت ہی آئیں گے۔ اہل سنت کی مذکورہ چار شرحوں میں تیسری شرح قوی معلوم ہوتی ہے،ان میں بارہ بادشاہوں میں آخری بادشاہ ولید ابن یزید ابن عبدالملک ابن مروان ہے، اس بادشاہ کے قتل ہونے پر مسلمانوں میں بڑا اختلاف پیدا ہوگیا ،دیکھو اشعۃ اللمعات یہ ہی مقام۔خلافت راشدہ اور غیر راشدہ اور امارت و سلطنت کا فرق ملحوظ رہے ۔


(2) : ان دونوں روایتوں کے الفاظ مختلف ہیں مطلب دونوں کا ایک ہی ہے ۔ (مراة شرح مشکواة جلد نمبر 8)


امام نووی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : ويحتمل أن يكون المراد مستحقي الخلافة العادلين ، وقد مضى منهم من عُلم ، ولا بد مِن تمام هذا العدد قبل قيام الساعة " انتهى ۔

ترجمہ : ممکن ہے اس حدیث سے مراد خلافت کے ایسے حقدار ہوں ، جو عادل و انصاف پسند ہونگے ، جن میں سے کچھ معلوم ہیں اور باقی قیامت تک مکمل ہونگے ۔ (صحیح شرح مسلم 12/202)


امام قرطبی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : هم خلفاء العَدْلِ ؛ كالخلفاء الأربعة ، وعمر بن عبد العزيز ، ولا بُدَّ من ظهور من يَتَنَزَّلُ مَنْزِلَتهم في إظهار الحق والعدل ، حتى يَكْمُل ذلك العدد ، وهو أولى الأقوال عندي " انتهى ۔ (المفهم شرح صحیح مسلم (4/8)

ترجمہ : اس سے عادل خلفاء مراد ہیں ، جیسے خلفاء اربعہ ، اور عمر بن عبد العزیز ، اور ہر وہ خلیفہ جو اظہار حق اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے والا ہو گا وہ اس حدیث کا مصداق بنے گا ، حتی کہ یہ تعداد پوری ہو جائے ۔


اس حدیث سے شیعہ اپنے عقیدے کے مطابق جو یہ استدلال کرتے ہیں کہ اس سے مراد بارہ امام ہیں ، باطل و فاسد ہے ۔ جو تعصب و جہالت اور خواہشات نفس پر مبنی ہے ۔ کیونکہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے (اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً) فرمایا ہے (اثْنَا عَشَرَ اماما ) نہیں فرمایا ، نیز شیعہ کے بارہ اماموں میں سے متعدد کا خلافت کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہ تھا ۔


اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس سے مراد وہ خُلفاء ہیں کہ والیانِ اُمّت ہوں اور عدل و شریعت کےمطابق حکم کریں، ان کا متصل مسلسل ہونا ضرور نہیں۔ نہ حدیث میں کوئی لفظ اس پر دال ہے ، اُن میں سے خلفائے اربعہ وامام حسن مجتبٰے و امیر معاویہ و حضرت عبداللہ بن زبیر و حضرت عمر بن عبدالعزیز معلوم ہیں اور آخر زمانہ میں حضرت سیدنا امام مہدی ہوں گے ۔ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ۔ یہ نو ہوئے باقی تین کی تعین پر کوئی یقین نہیں ۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔ (فتاوی رضویہ جلد نمبر 27،چشتی)


محترم قارٸینِ کرام : مذکورہ حدیث مبارکہ مختلف الفاظ کے ساتھ کتب احادیث میں موجود ہے :


بخاری شریف میں ہے کہ "بارہ امیر ہوں گے اور وہ سب قریش سے ہونگے (صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 1073 کتاب الاحکام باستخلاف،چشتی)


مسلم شریف میں ہے : یہ معاملہ قیامت تک اسی طرح جاری رہے گا یہاں تک کہ اس امت میں بارہ خلفا آجائیں وہ سب قریش سے ہون گے ۔ (صحیح مسلم شریف جلد 2 صفحہ 119 کتاب الامارۃ مطبع نور محمد کراچی)


سنن ابی داؤد میں ہے : تم پر بارہ خلیفہ ہوں گے ان تمام پر امت کا اجماع ہوگا وہ تمام قریش سے ہوں گے ۔ (سنن ابی داؤد جلد 2 صفحہ 232 کتاب المہدی ایچ ایم سعید)


کتب شیعہ مین حدیث مذکورہ کے الفاظ


خصال شیخ صدوق میں ہے : یہ امت اس وقت تک بہتر رہے گی اور اس کا اپنے دشمنوں پر قبضہ رہے گا جب تک بارہ بادشاہ نہیں آتے ۔ (خصال شیخ صدوق جلد 2 صفحہ 239،ایران)


الخصال شیخ صدوق میں ہے : بارہ امیر ہوں گے سب کے سب قریشی ہوں گے ۔ (الخصال جلد 2 صفحہ 242،چشتی)


مندرجہ بالا کتب کے حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ ان بارہ اشخاص کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے تین ناموں سے ذکر فرمایا :


(1) خلیفہ (2) امیر (3) ملک


لہٰذا اس حدیث مبارکہ کا مصداق وہ اشخاص ہوں گے جو خلیفہ بادشاہ یا امیر گذرے ہوں گے اس کے علاوہ کوئی اور اس کا مصداق نہیں ہوسکتا ۔


کتب شیعہ سے خلیفہ اور امیر کی شرائط


(1) ۔ اسلامی ملک کی سرحدوں کی ذمہ داری خلیفہ و امام پر عائد ہوتی ہے ۔ (اصول کافی جلد1 صفحہ 200)


(2) ۔ حدود کا قیام (یعنی زانی شرابی قازف ڈاکو پر حدود جاری کرنا جو اللہ تعالی نے مقرر فرمائی ہیں زکوۃ و عشر جزیہ کی وصولی اور نظام اسلام کا قیام امام کی ذمہ داری ہے ۔ (کشف الغمہ فی معرفۃ الائمہ جلد 1 صفحہ 56 فی عدد الائمہ،چشتی)


(3) ۔ دنیا سے شر فساد اور ظلم و ستم مٹانا بھی خلیفہ اور امیر کی ذمہ داری ہے ۔ (حدیقۃ اشیعۃ صفحہ 473 مقدس اردبیلی مطبوعہ تہران)


(4) ۔ خمس وصول کرنا خلیفہ وقت کی ذمہ داری ہے ۔ (اصل الشیعۃ صفحہ 185)


(5) ۔ امام و خلیفہ کا بہادر ہونا ضروری ہے تاکہ فریضہ جہاد بھی ادا کرسکے ۔ (عیون الحیوۃ ملا باقر مجلسی صفحہ 84،تنویر ششم تہران)


ان شرائط امامت و خلافت کو پڑھ لینے کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح واض ہو ہوجاتی ہے کہ مذکورہ بالا حدیث مبارکہ کے مصداق وہ اشخاص نہیں جن کو شیعہ منصوص بارہ امام سمجھتے ہیں کیونکہ ایک تو حدیث میں الفاظ خلیفہ امیر اور ملک کے آئے اور دوسرے یہ خلافت کی شرائط آئمہ میں نہیں پائی جاتی لہٰذا اس حدیثِ مبارکہ کے مصداق خلفا میں سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ سرِ فہرست ہیں ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ان بارہ خلفا میں سے شروع والوں کی تعین نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خود فرمادی ہے ۔ جس کے بعد کسی کو اپنے عقلی گھوڑے دوڑانے کی اجازت نہیں ۔


امام ابو القاسم سلیمان ابن احمد طبرانی علیہ الرحمۃ سند صحیح کے ساتھ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : یکون بعدی اثنا عشر خلیفۃ ابو بکر صدیق لا یلبث بعدی الا قلیلا ۔

ترجمہ : میرے بعد بارہ خلفا ہوں گے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھوڑے دن ہی رہں گے پھر عمر فاروق اور عثمان غنی رضی اللہ عنہما کا ذکر فرمایا ۔ (المعجم الکبیر لطبرانی جلد 1 صفحہ 21 دار الکتب العلمیہ بیروت)(طبرانی اوسط جلد 8 صفحہ 319 مجمع الزوائد جلد 5 صفحہ 178)


مذکورہ بالا دلائل سے معلوم ہوا کہ بارہ خلفا سے مراد وہ خلفا ہیں جو والیانِ امت ہوں اور عدل و شریعت کے مطابق حکم کریں ۔ ان کا متصل ہونا ضروری نہیں اور نہ حدیث میں کوئی لفظ اس میں دلالت کرتا ہے کہ وہ متصل ہوں گے ۔ باقی اہل سنت و جماعت کو ان بارہ اماموں رضی اللہ عنہم کی ولایت میں ذرہ برابربھی شک نہیں وہ مرتبہ غوثیت کے حامل افراد ہیں اور حقیقت میں اہل سنت و جماعت کے امام ہیں لیکن اس حدیث مبارکہ کا مصداق نہیں ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)














حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ماتم کیا کا جواب مع اسلام اور جاہلیت والے کام

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ماتم کیا کا جواب مع اسلام اور جاہلیت والے کام محترم قارئینِ کرام : شیعہ حضرات جب بھی دلیل دیتے ہیں تو صرف ...