Sunday, 26 July 2026

مسئلہ باغ فدک اور حضرت ابوبکر صدیق و حضرت فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہما

مسئلہ باغ فدک اور حضرت ابوبکر صدیق و حضرت فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہما

محترم قارئینِ کرام : شیعہ حضرات کا مشہور محقق ملاّ باقر مجلسی انتہائی تعصب کے باوجود لکھتا ہے کہ : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بہت سے فضائل و مناقب جنابِ حضرت سیّدہ فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہا کے بیان کیے اور فرمایا : اموال و احوال خودرا از تو مضائقہ ندارم آنچہ خواہی بگیر ۔ تو سیدہ امت پدرخودی و شجرہ طیبہ از برائے فرزندان خود انکار فضل تو کسے نمے تو اندکرد و حکم تو نافذ است درمال من ۔ امادر گفتہ پدر تو نمے تو انم کرد ۔

ترجمہ : میں اپنا مال جائیداد دینے میں آپ رضی اللہ عنہا سے دریغ نہیں رکھتا ۔ جو کچھ مرضی چاہے لے لجیے ۔ آپ رضی اللہ عنہا اپنے باپ کی امت کی سیدہ ہیں اور اپنے فرزندوں کےلیے پاکیزہ اصل اور شجرہ طیبہ ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کے فضائل کا کوئی انکار نہیں کرتا آپ رضی اللہ عنہا کا حکم میرے ذات مرے مال میں چوں و چرا جاری و منظور ہے ۔ لیکن عام مسلمانوں کے مال میں آپ رضی اللہ عنہا کے والد بزرگوار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی مخالفت ہرگز نہیں کر سکتا ۔ (شیعہ مذہب کی مشہور کتاب حق الیقین مترجم جلد اوّل صفحہ نمبر 227 ، 228 مطبوعہ مجلسِ اسلامی پاکستان)


جناب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : باغِ فدک پر حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو معمولی سی غلط فہمی ہوئی (فہم میں غلطی ؟) اور فدک پر جو موقف ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں اختیار کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے قول و فعل سے اس کی تائید کی ۔ (سیرت الرسول جلد 6 صفحہ 603 مطبوعہ منہاج القرآن)


استاذی المکرم آلِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اولادِ علی رضی اللہ عنہ غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : باغ فدک کے معاملے میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اجتہاد سے بہتر تھا ۔ (مشکلات الحدیث مسلہ فَدَک صفحہ نمبر 207 مطبوعہ ورلڈ ویو پبلیشرز اردو بازار لاہور،چشتی)


اس سے واضح طور پر یہ سمجھ میں آیا کہ مسلہ فَدَک اجتہادی معاملہ تھا ۔ لہٰذا جو اس معاملے میں اجتہاد نہیں مانتے ان کی تردید غزالی زماں حضرت علامہ سیّد احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی زبانِ مبارک سے ہو گئی ۔ یاد رہے جب دو شخصیات کے درمیان اجتہاد ہوتا ہے تو اہل سنت کا نظریہ ہے کہ ایک شخص صواب پر ہوتا ہے اور ایک خطا (اجتہادی) پر ۔ دونوں کو صواب پر ماننا یہ معتزلہ کا نظریہ ہے ۔ لہٰذا مذکورہ حوالے سے اجتہاد ثابت ہوا اور جب اجتہاد ثابت ہو گیا تو ایک کا اجتہادی خطا پر ہونا لازم آئے گا ۔ اور اس اجتہادی خطا پر اجر ہے نہ کہ گناہ فافہم ۔ اور اس معاملے میں کون اجتہادی خطا پر ہے یہ مذکورہ عبارت کے اس جملے سے واضح ہے ، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد ، سیدہ طیّبہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے اجتہاد سے بہتر تھا ۔


تاجدار گولڑہ حضرت سیدنا پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : الحاصل آیتِ تطہیر کا مورد خواہ امہات المومنین ہوں فقط یا آل کساء ہوں یا صرف آلِ کساء ہوں ، ایسا ہی تطہیر در رنگ انزالِ شرعیہ ہو یا در صورت عفو و مغفرت ، بہر کیف خطاء کا صدور مطہرین سے ممکن ہے ۔ علاوہ خلفائے ثلاثہ کے اہلبیت پاک علیہم السلام نے باغِ فدک کے غیر مورث ہونے کو اپنی طرز سے ثابت کر دکھایا ۔ (فتاویٰ مہریہ صفحہ نمبر 217 مطبوعہ گولڑہ شریف)


تاجدار گولڑہ حضرت سیّدنا پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : خطا کا صدور بہر کیف مطہرین سے ممکن ہے ۔ البتہ حشر اُن کا آخرت میں مغفرت کاملہ کی صورت میں ہوگا ۔ (تصفیہ مابین سنی و شیعہ صفحہ نمبر 58 مطبوعہ گولڑہ شریف)


تاجدار گولڑہ حضرت حضرت سیّدنا پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت سیّدہ فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہا باغِ فدک کا مطالبہ کرتے ہوئے کسی ناجائز امر کی مرتکب نہیں ہو سکتیں ۔ اور آیت تطہیر کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ پاک گروہ معصوم ہیں اور اِن سے کسی قسم کی خطا سرزد ہونا نا ممکن ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بمقتضائے بشریت اُن سے کوئی خطا سرزد بھی ہو تو وہ عفو و تطہیر اِلہٰی میں داخل ہوگی ۔ (تصفیہ مابین سنی و شیعہ صفحہ نمبر 46 مطبوعہ گولڑہ شریف،چشتی)


باغ فدک کیا ہے ؟ فدک خیبر کا ایک قصبہ ہے (وہاں ایک باغ ہے جسے باغ فدک کہا جاتا ہے) اور یہ بھی کہا گیا کہ حجاز کا ایک کنارہ ہے جس میں چشمےاور کھجوروں کے درخت ہیں یہ اللہ سبحانہ وتعالی نےاپنے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو عطا کیا تھا ۔ (لسان العرب جلد 2 صفحہ 473)


حضرت سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جب حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کی حدیث سنائی کہ انبیاء علیہم السّلام کی وراثت مال نہیں علم ہے اور یہ بتایا کہ اس جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم اہلبیت کو دیا کرتے تھے وہ میں بھی جاری رکونگا تو حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا نے اپنے مطالبے سے رجوع کر لیا اور پھر ساری عمراس مسئلے پر کوئی بات نہیں کی بلکہ شیعوں کی اپنی کتاب میں ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ اس پر راضی ہو گئیں۔اس مسلے کو ہم کتب شیعہ سے لکھ رہے شاید کسی کو ہدایت نصیب ہوجائے اور وہ گستاخیاں چھوڑ دے یاد رہے اس مسلے کو بعض متعصب شیعہ علماء نے من گھڑت کہانیوں کے ذریعے اچھالا آیئے حقائق پڑھتے ہیں ۔


یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تمام کتب تواریخ اس پر شاہد ہیں کہ فدک زمانہ علوی میں بھی اسی طرح رہا جیسے صدیق و فاروق و عثمان رضی اللہ عنہما کے دور خلافت میں تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی فدک میں وہی طریقہ جاری رکھا جو صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے جاری رکھا تھا ۔ آئیے پہلے اس کے متعلق پڑھتے ہیں کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ بھی خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی طرح فدک کو استعمال میں لائے : شیعہ عالم الدکتور سعید السامرائی لکھتا ہے : جب امر خلافت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے سپرد ہوا تو علی علیہ السّلام سے فدک کو اہلبیت کی طرف لوٹانے کے بارے میں کہا گیا تو علی علیہ السّلام نے جواب میں فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے اس کام کو کرنے میں اللہ سے حیا آتی ہے جس کام کو ابوبکر عمر (رضی اللہ عنہما) نے نہی کیا ۔ (شیعہ کتاب : حجج النھج صفحہ نمبر 279 مطبوعہ موسسة الفجر بیروت ، لندن)


شیعہ عالم الدکتور سعید السامرائی لکھتا ہے : یہ سن کر حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ فدک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ھبہ کردیا تھا ۔ ابو بکر رضہ نے پوچھا کہ اس بات کا کوئی گواہ تو حضرت علی اور ام ایمن رضی اللہ عنہما بطور گواہ پیش ہوئے ۔ اور اس امر کی گواہی دی ۔ اتنے میں حضرت عمر اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما بھی آگئے ۔ ان دونوں نے یہ گواہی دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فدک کو تقسیم فرماتے تھے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے بنت پیغمبر تو نے بھی سچ کہا اے علی رضی اللہ عنہ تم بھی سچے ہو ۔ اس لیے کہ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا تیرے لیے وہی کچھ ہے ۔ جو آپ کے والد کا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فدک کی آمدنی سے تمہاری خوراک کا اہتمام فرماتے تھے ۔ اور باقی ماندہ کو تقسیم فرما دیتے اور اس میں سے فی سبیل اللہ سواری بھی لے دیتے ۔ تمہارے بارے میں اللہ سے معاہدہ کرتا ہوں کہ میں اسی طرح تم سے سلوک کروں گا جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلوک فرمایا کرتے تھے ۔ تو یہ سن کر سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے راضی ہو گئیں ۔ اور اسی بات پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے عہد لیا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ فدک کا غلہ وصول کرتے اور اھل بیت کو ان کی ضرورت کے مطابق دے دیتے ۔ ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی فدک کو اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ، اس کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ بھی فدک اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ، اس کے بعد علی رضی اللہ عنہ بھی فدک کو اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ۔ (شیعہ کتاب : حجج النھج صفحہ 265 ، 266 مطبوعہ موسسة الفجر بیروت ، لندن)


شیعہ محقق مرتضی علی موسوی لکھتا ہے : جب امر خلافت علی علیہ السّلام کے سپرد ہوا تو علی علیہ السّلام شیرخدا سے فدک کو اہلبیت کی طرف لوٹانے کے بارے میں کہا گیا تو علی علیہ السّلام نے جواب میں فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے اس کام کو کرنے میں اللہ سے حیا آتی ہے جس کام کو ابوبکر عمر (رضی اللہ عنہما) نے نہیں کیا ۔ (شیعہ کتاب : الشافی فی الامامت صفحہ نمبر 76،چشتی)


شیعہ عالم الدکتور سعید السَّامرّائی لکھتا ہے : یہ سن کر سیدہ فاطمہ علیہا السّلام نے کہا کہ فدک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ھبہ کردیا تھا ۔ ابو بکر (رضی اللہ عنہ) نے پوچھا کہ اس بات کا کوئی گواہ تو حضرت علی علیہ السّلام اور ام ایمن بطور گواہ پیش ہوئے ۔ اور اس امر کی گواہی دی ۔ اتنے میں حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) اور عبدالرحمن بن عوف (رضی اللہ عنہ) بھی آگئے ۔ ان دونوں نے یہ گواہی دی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فدک کو تقسیم فرماتے تھے ۔ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ اے بنت پیغمبر توں نے بھی سچ کہا اے علی علیہ السّلام تم بھی سچے ہو ۔ اس لیے کہ اے فاطمہ علیہا السّلام تیرے لیے وہی کچھ ہے ۔ جو آپ کے والد کا تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فدک کی آمدنی سے تمہاری خوراک کا اہتمام فرماتے تھے ۔ اور باقی ماندہ کو تقسیم فرمادیتے اور اس میں سے فی سبیل اللہ سواری بھی لے دیتے ۔ تمہارے بارے میں اللہ سے معاہدہ کرتا ہوں کہ میں اسی طرح تم سے سلوک کروں گا جس طرح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سلوک فرمایا کرتے تھے ۔ تو یہ سن کر سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے راضی ہوگئیں ۔ اور اسی بات پر ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) سے عہد لیا ۔ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) فدک کا غلہ وصول کرتے اور اہلبیت کو ان کی ضرورت کے مطابق دے دیتے ۔ ان کے بعد حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) بھی فدک کواسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ، اس کے بعد عثمان (رضی اللہ عنہ) بھی فدک اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ، اس کے بعد علی علیہ السّلام بھی فدک کو اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے ۔ (شیعہ کتاب : حجج النھج صفحہ نمبر 266،چشتی)


شیعہ محقق لکھتا ہے : جب امر خلافت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوا تو علی شیرخدا رضی اللہ عنہ سے فدک کو اہلبیت رضی اللہ عنہم کی طرف لوٹانے کے بارے میں کہا گیا تو علی شیرخدا رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے اس کام کو کرنے میں اللہ سے حیا آتی ہے جس کام کو ابوبکر عمر رضی اللہ عنہما نے نہیں کیا ۔ (شیعہ کتاب : شرح نھج البلاغہ ابن حدید جلد ۱۶ صفحہ ۲۵۲)


اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے اپنے دور حکومت میں فدک غصب کرلیا تھا تو جناب حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کا فرض تھا کہ وہ فدک کو تقسیم کرتے اور اس وقت جو اس کے وارث موجود تھے ، ان کو دے دیتے اور جو ناجائز بات چلی آرہی تھی اور جو ظلم روا رکھا گیا تھا ، اس کو اپنے دور خلافت میں ختم کردیتے کیونکہ خود حضرت علی رضی ﷲ عنہ فرماتے میں کہ امام کے لئے پانچ امر ضروری ہیں : ⏬


(1) خوب وعظ کہنا ۔

(2) لوگوں کی خیر خواہی میں خوب قوت صرف کرنا ۔

(3) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سنت کو زندہ کرنا ۔

(4) سزاؤں کے حق داروں کو سزا دینا ۔

(5) حق داروں کو ان کے حقوق واپس لوٹا دینا ۔ (نہج البلاغہ مصری جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 202)

اسی طرح شیعہ مذھب کی مشہور کتاب رجال کشی میں حضرت علی رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد مذکور ہے : انی اذا بصرت شیئا منکراً او قدت نارا و دعوت قنبراً ۔ (رجال کشی صفحہ نمبر 199،چشتی)

ترجمہ : جب میں خلافِ شریعت کام دیکھتا ہوں تو آگ جلاتا ہوں اور قنبر کو بلاتا ہوں ۔


اسی بناء پر آپ نے ان لوگوں کو آگ میں جلا دیا تھا ۔ جو آپ کو خدا کہنے لگ گئے تھے پھر فرماتے ہیں : ولا المعطل للسنۃ فیہلک الامۃ ۔ (نہج البلاغہ صفحہ 398)

ترجمہ : امام ایسا نہیں ہونا چاہئے جو پیغمبرکے طریقے کو چھوڑ دے، ورنہ امت ہلاک ہوجائے گی ۔


لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جناب حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ نے فدک میں وہی طریقہ جاری رکھا جو حضرت سیدنا صدیق اکبر اور حضرت عمر رضی ﷲ عنہما کا تھا یہ اس امر کی بہت بڑی دلیل ہے کہ حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کے نزدیک باغِ فَدک میں صدیقی طرز عمل حق و صواب تھا اور حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ صدیقی طرز عمل کو بالکل شریعت اسلامیہ کے مطابق جانتے تھے ۔

حقیقت یہ ہے کہ شیعہ حضرات کا صدیقی خلافت میں غصبِ فَدک کا قول کرنا حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ کی امامت و خلافت پر شرمناک حملہ ہے ۔ کیونکہ اگر یہ مان لیا جائے کہ صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے باغِ فَدک غصب کرلیا تھا تو حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ پر بھی یہ الزام قائم ہوگا ۔ کہ انہوں نے فدک کو صدیقی خلافت کے دستو رپر جاری رکھ کر امت و خلافت کا حق ادا نہیں کیا ۔ حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ اگر غاصب فدک ثابت ہونگے تو حضرت مولا علی مرتضیٰ رضی ﷲ عنہ غصب کے برقرار رکھنے والے ثابت ہونگے ۔ سوچئے کہ غصب کرنے والا زیادہ مجرم ہے یا غصب کو برقرار رکھنے والا ۔ اور غاصبوں کے طرز عمل کی حکومت و سلطنت کے با وجود حمایت کرنے والا ۔ (معاذ ﷲ) ۔ غرضیکہ قضیہ فدک میں جناب حضرت مولا علی الممرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کا طرز عمل دنیائے شیعیت پر بہت بھاری حجت ہے ۔ اگر حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ کی خلافت پر اعتراض ہوگا تو حضرت سیدنا مولا علی رضی ﷲ عنہ کی خلافت پر بھی حرف آئے گا ۔ پس جناب حضرت مولا علی المرتضیٰ کا اراضی فدک کو اسی دستور پر رکھنا جس پر کہ جناب صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے رکھا تھا ، حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی حقانیت اور ان کے طرز عمل کی صحت پر دلیل قاہر ہے ۔


مشہور شیعہ مصنف اس کا نام کمال الدین میثم بن علی میثم البحرانی ہے۔ ساتویں صدی ہجری میں پیدا ہوا۔ ’’عالمِ ربانی، فلسفی، محقق، صاحبِ حکمت اور نہج البلاغۃ کی شرح کا مصنف ہے۔ محقق طوسی سے روایت کرتا ہے… کہا گیا ہے کہ خواجہ نصیر الدین طوسی نے فقہ کمال الدین میثم سے اور میثم نے حکمت خواجہ سے پڑھی تھی۔ ۶۷۹ھ میں وفات پائی اور ماحوذ کے قریب ایک بستی ہلتا میں دفن ہوا۔(الکنی والالقاب جلد ۱ ، صفحہ ۴۱۹)اسی نے کہا تھا ۔میں نے علوم و فنون اس لیے چاہے تھے کہ اس سے برتری حاصل کروں‘‘’’مجھے بس اسی قدر ملا کہ اسی تھوڑے سے میں بلند ہوگیا‘‘ ’’مجھے معلوم ہوگیا کہ سب کے سب محاسنفرع ہیں اور حقیقت میں مال ہی اصل ہے‘‘ ’’اس کی ایسی ایسی عجیب تصنیفات ہیں جن کے بارے میں زمانے میں سے کسی نے بھی نہیں سنا اور نہ ہی بڑے بڑوں میں سے کوئی اُسے پاسکا ہے ۔ (روضات الجنات ج ۲ ص ۲۱۸ اور مابعد)


شیعہ ابن میثم نہج البلاغہ کی شرح میں یہ روایت لکھتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا جو آپ کے والد محترم کا تھا وہ آپ کا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فدک میں سے آپ کیلئے کچھ رکھ لیا کرتے تھے باقی اللہ سبحانہ وتعالی کے راستے میں تقسیم کر دیا کرتے تھے اللہ کی قسم !میں آپ کے ساتھ ویسا ہی کروں گا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیا کرتے تھے یہ سُن کر فاطمہ رضی اللہ عنہا خوش ہو گئیں اور اس بات کا آپ سے عہدلے لیا۔(شرح نہج البلاغ،جلد 5،صفحہ 7،از ابن میثم البحرانی مطبوعہ تہران)


اسی جیسی ایک روایت شیعہ دنبلی نے اپنی شرح ’’الدرۃ النجفیہ صفحہ 331،332 مطبوعہ ایران‘‘ میں بیان کی ہے ۔ (شرح نہج البلاغۃ جلد5 ،صفحہ 331،332ایران)


شیعہ ابن میثم،دنبلی،ابنِ ابی الحدید، اور معاصر شیعہ مصنف فیض الاسلام علی نقی نے یہ روایت نقل کی ہے:’’ابوبکر رضی اللہ عنہ باغِ فدک کے غلہ میں سے اتنا حصہ اہلِ بیت کو دے دیا کرتے تھے جو ان کی ضروریات کے لیئے کافی ہوتا۔ باقی سب تقسیم کردیا کرتے، آپ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کرتے، عثمان رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے اور ان کے بعد علی رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔‘‘(شرح نہج البلاغۃ، لابنِ ابی الحدید جلد 4، صفحہ44، شرح نہج البلاغۃ،لابنِ میثم البحرانی جلد 5، صفحہ 107،الدرۃ النجفیۃ‘‘ صفحہ 332،شرح النہج البلاغہ،جلد 5،صفحہ 960، فارسی لعلی نقی ،مطبوعہ تہران،چشتی)


شیعہ کتب گواہ ہں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی ویسا ہی کیا جیسا خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنھم نے کیا تو یہ شیعہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پر کیا فتوی لگائیں گے ؟


نبی کریم اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم انبیاء علیہم السّلام کی وراثت مال نہیں ہے اس روایت کو متعصب شیعہ جھٹلاتے ہیں جبکہ یہ روایت خود شیعوں کی اپنی کتب میں موجود ہے، ان کی اپنی کتاب (کافی) میں جسےشیعہ سب سے صحیح کتاب کہتے ہیں اسی کتاب (کافی) میں شیعہ کلینی نےحماد بن عیسی سےاور حماد بن عیسی نےقداح سےجعفر ابو عبداللہ کی روایت نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ’’جو علم کو تلاش کرتے ہوئے علم کے راستے پر چلے، اللہ اسے جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے ، اور عالم کی فضیلت عبادت گزار پر ایسی ہے، جیسے چودھویں کا چاند سارے ستاروں سے افضل ہے۔ علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں جو دینار و درہم وراثت میں نہیں چھوڑتے لیکن علم کی میراث چھوڑتے ہیں، جو اس میں سے کچھ حاصل کرلے اس نے بہت کچھ حاصل کرلیا ۔ (الاصول من الکافی کتاب فضل العلم، باب ثواب العالم والمتعلم جلد 1،صفحہ 34)


جعفر ابوعبداللہ نےایسی ہی ایک اور روایت میں کہا ہے: علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں اور ان کا مالِ میراث درہم و دینار نہیں ہوتا، انہیں انبیاء علیہم السلام کی احادیث میراث میں ملتی ہیں ۔(الاصول من الکافی باب صفۃ العلم وفضلہ وفضل العلماء جلد 1، صفحہ 32،چشتی)


مزید دو روایتیں پیش خدمت ہیں جن سے اس روایت کی تائید ہوتی ہے، ان روایات کو بھی اس نے روایت کیا ہے جسے شیعہ قوم ’’صدوق‘‘ کے نام سے پکارتی ہے ۔


(1) براہیم بن علی رافعی نے اپنے باپ سے، اس نے اپنی دادی بنت ابی رافع سے روایت کیا ہے وہ کہتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ وفات میں فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں بیٹوں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دونوں آپ کے بیٹے ہیں، ان کو اپنی کچھ میراث دے دیجیے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ حسن رضی اللہ عنہ کے لیے میری ہیبت اور بزرگی ہے اور حسین رضی اللہ عنہ کے لیے میری جرأت اور میری سخاوت ۔(کتاب الخصال‘‘ از قمی صدوق، صفحہ 77)


(2) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کے دو بیٹے ہیں، انہیں کچھ عطا کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حسن رضی اللہ عنہ کو میں نے اپنا رعب اور بزرگی دی اور حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی سخاوت اور شجاعت۔(کتاب الخصال“ از قمی صفحہ 77)


بعض متعصب شیعہ حضرات یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں نے باغِ فدک آپ کو اس لیئے نہیں دیا تھا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کو مفلس و قلاش کردینا چاہتے تھے تاکہ لوگ مال و دولت کے لالچ میں ان کی طرف راغب نہ ہو جائیں ۔ ہمیں ان پر اور ان کی عقلوں پر افسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ علی رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کو اس آخری زمانے کے حکمرانوں جیسا سمجھتے ہیں جو دولت کے بل بوتے پر مال اور رشوت دے کر بڑے بڑے عہدے حاصل کرتے ہیں۔ اگر بالفرض یہ بات بھی تھی تو مال کی وافر مقدار ان کے پاس موجود تھی، دیکھئے شیعہ عالم کلینی اس کا ذکر کرتا ہے۔ دسویں امام ابو الحسن سے روایت ہے کہ سات باغات فاطمہ علیہا السلام کے لیے وقف تھے۔ وہ باغات یہ ہیں:(۱)دلال (۲) عوف(۳) حسنی (۴) صافیہ (۵) مالامِ ابراہیم (۶) مثیب (۷) برقہ ۔ (الفروع من الکافی کتاب الوصایا جلد ۷ صفحہ ۴۷ ، ۴۸،چشتی)


اب یہ بتا ئیں جو سات باغات کا مالک ہو اس کے پاس دولت کی کمی ہوگی ؟


محترم قارئینِ کرام قابلِ غوریہ بات ہے کہ : اگر باغ فدک اور اس کی زمین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تھی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اکیلی ہی اس کی وارث تو نہ تھیں، ابوبکر صدیق اور فاروق رضی اللہ عنہما کی بیٹیاں بھی اس کی وراثت میں شریک تھیں، اگر ابوبکر صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس وراثت سے محروم رکھا تو اپنی بیٹیوں کو بھی تو محروم رکھا۔ آخر اُن کی بات کوئی کیوں نہیں کرتا،ان کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ بھی زندہ تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ورثاء میں وہ بھی شامل تھے ۔


یاد رہے یہ اعتراض کرنے والے شیعہ حضرات اتنا بھی نہیں جانتے کہ ان کے مذہب میں عورت کو غیر منقولہ جائداد اور زمین کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں ملتا۔ ان کے محدثین نے اس مسئلہ کو مستقل ابواب و عنوانات کے تحت بیان کیا ہے۔ دیکھیے کلینی نے ایک مستقل باب اس عنوان سے لکھا ہے: ’’عورتوں کو غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملتا‘‘ اس عنوان کے تحت اس نے متعدد روایات بیان کی ہیں۔چوتھے امام ابو جعفر سے روایت ہے کہ : انہوں نے کہا: ’’عورتوں کو زمین اور غیر منقولہ مالِ وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا ۔ (الفروع من الکافی کتاب المواریث جلد 7 صفحہ 137،چشتی)


ابنِ بابویہ قمی صدوق نے اپنی صحیح ’’من لا یحضرہ الفقیہ‘‘ میں یہ روایت بیان کی ہے:ابو عبداللہ جعفر کی روایت ان کے پانچویں امام کی روایت میسر نے بیان کی ہے کہ


میں نے آپ سے (یعنی جعفر سے) عورتوں کی میراث کے بارے میں پوچھا؟ آپ نے کہا: جہاں تک زمین اور غیر منقولہ جائداد کا تعلق ہے، اس میں عورتوں کی میراث نہیں ۔ (من لا یحضرہ الفقیہ کتاب الفرائض والمیراث جلد ۴ صفحہ ۳۴۷)


اسی طرح اور بہت سی روایات بھی بیان کی گئی ہیں جن کی بناء پر اُن کے علماء نے اتفاق کیا ہے کہ زمین اور غیر منقولہ جائداد میں عورتوں کو میراث نہیں دی جاتی ۔


اگر عورتوں کو زمین اور باغات وغیرہ کی جائیداد نہیں دی جاتی تو فاطمہ رضی اللہ عنہ نے بقول ان کے کس طرح فدک کا مطالبہ کیا تھا۔ کوئی کوڑھ مغز بھی اس سے اختلاف نہیں کرسکتا کہ یقینا فدک غیر منقولہ جائداد تھی ۔


کیا حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس مسلہ پر ناراض تھیں کا جواب شیعوں کے سب سے بڑے متعصب عالم مجلسی کے قلم سے پڑھیئے ، باوجود شدید نفرت و کراہت کے یہ بات کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ:سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خفا ہوگئیں تو ان سے کہنے لگے: میں آپ کے فضل اور رسول اللہ علیہ السلام سے آپ کی قرابت کا منکر نہیں۔ میں نے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں فدک آپ کو نہیں دیا۔ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ علیہ السلام کو یہ کہتے سنا ہے: ہم انبیاء کا گروہ، مالِ وراثت نہیں چھوڑتے۔ ہمارا ترکہ کتاب و حکمت اور علم ہے۔ اس مسئلے میں میں تنہا نہیں، میں نے یہ کام مسلمانوں کے اتفاق سے کیا ہے۔ اگر آپ مال و دولت ہی چاہتی ہیں تو میرے مال سے جتنا چاہیں لے لیں، آپ اپنے والد کی طرف سے عورتوں کی سردار ہیں، اپنی اولاد کےلیے شجرۂ طیبہ ہیں، کوئی آدمی بھی آپ کے فضل کا انکار نہیں کرسکتا ۔ (حق الیقین صفحہ ۲۰۱ ، ۲۰۲ ،ترجمہ فارسی،چشتی)


مولائے کائنات حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اقتدار پر فائز ہوتے ہی ابن سباء کی نسل کی اس سازش پر ضربِ کاری لگائی ۔ امامِ شیعہ، سید مرتضیٰ علم الہدیٰ لکھتا ہے:جب فدک کے انکار کا معاملہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تک پہنچا تو آپ نے کہا: مجھے شرم آتی ہے کہ میں اس چیز کو دے ڈالوں جس کو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روک لیا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی حال میں برقرار رکھا ۔ (الشافی‘‘ للمرتضیٰ صفحہ ۲۳۱)( شرح نہج البلاغۃ لابنِ ابی الحدید“، جلد ۴)


حضرت امام ابوجعفر محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے بارے میں کثیر النوال نے پوچھا: ’’میں آپ پر قربان جاؤں۔ کیا آپ کا خیال ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا حق روک کر آپ پر ظلم کیا ہے؟‘‘ یا ان الفاظ میں کہا کہ: ’’آپ کا کچھ حق تلف کیا ہے؟‘‘ آپ نے کہا: ’’ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس نے اپنے اس بندے پر قرآن نازل کیا جو سارے جہانوں کے لیے نذیر (ڈرانے والے) ہیں ، ہم پر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا گیا۔‘‘ میں نے کہا: ’’قربان جاؤں کیا میں بھی ان دونوں سے محبت رکھوں؟‘‘کہنے لگے: ’’ہاں تیرا ستیاناس! تو ان دونوں سے محبت رکھ، پھر اگر کوئی تکلیف تجھے پہنچے تو وہ میرے ذمے۔(شرح نہج البلاغۃ‘‘ لابنِ ابی الحدید، جلد ۴ ،صفحہ ۸۲،چشتی)


ہم نے شیعہ مذھب کی معتبر کتابوں شیعہ جنہیں اپنا امام مانتے ہیں (آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم) اور دیگر شیعہ نے صاف صاف یہ کہا کہ : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نےاُن پر کوئی ظلم نہیں کیا پھر یہ اجہل متعصب شیعہ کیوں ان مقدس ہستیوں پرتہمتیں لگاتے ہیں ۔؟ یا تو صآف لکھیں شیعہ مذھب کے تمام امام جھوٹے ہیں یا یہ شیعہ خود جھوٹے ہیں فیصلہ خود کیجیے ۔


امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت امام زید بن علی بن حسین رضی اللہ عنہم نے بھی فدک کے مسئلے میں وہی کچھ فرمایا جو آپ کے دادا مولا علی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا پڑھیئے شیعہ مذھب کی معتبر کتاب کے حوالے سے : بحتری بن حسان کے پوچھنے پر حضرت امام زید بن علی بن حسین رضی اللہ عنہم نے کہا: ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تحقیر و توہین کے طور پر میں نے زید بن علی علیہ السلام سے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فدک فاطمہ رضی اللہ عنہا سے چھین لیا، یہ سن کر آپ کہنے لگے: ابوبکر رضی اللہ عنہ مہربان آدمی تھے، وہ ناپسند کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کیے ہوئے کسی کام میں تغیر و تبدل کریں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فدک دیا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت ہے؟ آپ علی رضی اللہ عنہ کو لے آئیں ، انہوں نے اس بات کی گواہی دی۔ ان کے بعد ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں: کیا تم دونوں گواہی نہیں دیتے کہ میں اہلِ جنت میں سے ہوں، دونوں کہنے لگے کیوں نہیں، ابو زید نے کہا: یعنی انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، کہنے لگیں: میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدک ان (فاطمہ رضی اللہ عنہا) کو دیا تھا، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی اور آدمی یا عورت کو بھی اس جھگڑے میں فیصلہ کرنے کا حق دار سمجھتی ہیں، اس پر ابو زید کہنے لگے: اللہ کی قسم اگر فیصلہ میرے پاس آتا تو میں بھی وہی فیصلہ کرتا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا ہے ۔ (شرح نہج البلاغۃ‘‘ لابنِ ابی الحدید، جلد ۴ ،صفحہ ۸۲)


الحمد للہ فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی نے مسلہ باغ فدک کے متعلق شیعہ مذھب کی معتبر کتابوں سے اس مسلہ کو علمی اور مہذب انداز میں پیش کر دیا ہے جو کچھ آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم نے فرمایا اور جو کچھ شیعہ مذھب کے معتبر علماء نے لکھا یہی اہلسنت و جماعت کا مؤقف ہے مجھے حیرت ہوتی اجہل قسم کے شیعہ ذاکرین اور سننے پڑھنے والے شیعہ حضرات آئمہ اہلبیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات و ارشادات کو کیوں فراموش کر دیتے ہیں اس کی وجہ صاف ہے کہ یہ جھوٹی محبت کے دعویدار ہیں صرف امت مسلمہ میں فتنہ و فساد پھیلانا ان کا کام ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کہ اہل اسلام کو ابن سباء یہودی کے پھیلائے ہوئے اس فتنہ و شر سے محفوظ فرمائے اور حق کو قبول کرنے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)















Thursday, 23 July 2026

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تورات اور انجیل کی زبان نہیں جانتے تھے کا مدلل جواب

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تورات اور انجیل کی زبان نہیں جانتے تھے کا مدلل جواب

محترم قارئینِ کرام : جناب ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب لکھتے ہیں : یہ امر مسلمہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تورات اور انجیل کی زبان نہیں جانتے تھے ۔ (خصائص مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفحہ 84 مطبوعہ منہاج القرآن پبلیکیشنز لاہور)


جبکہ قرآن مجید میں ہے کہ : وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْؕ ۔ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُؕ ۔ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۔ (سورہ ابراھیم آیت نمبر 4)

ترجمہ : اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا کہ وہ انہیں صاف بتائے پھراللہ گمراہ کرتا ہےجسے چاہے اور وہ راہ دکھاتا ہے جسے چاہے اور وہی عزت حکمت والا ہے ۔


جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت عالمگیر ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مخلوقات کی طرف رسول ہیں حتی کہ جمادات و نباتات تک کی بولیاں جانتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پچھلی کتابوں کی زبان نہ جانتے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کا ہر قوم پر یہ احسان ہے کہ اس نے ان میں وہ رسول بھیجے جو ان کی زبان بولتا تھا تاکہ افادہ اور استفادہ میں اور افہام اور تفہیم میں آسانی ہو اور قوم آسانی کے ساتھ رسول کی بات سمجھ سکے اور اس کے لیے شریعت کے اسرار اور حقائق کو سمجھنا آسان اور سہل ہو جائے ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عربی زبان تھی اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کا پیغام صرف ان ہی لوگوں کےلیے حجت ہو جن کی زبان عربی ہو اور دوسری زبانیں بولتے ہیں ان کےلیے آپ کا پیغام حجت نہ ہو اس کا جواب یہ ہے کہ جب ان کی زبانوں میں قرآن مجید اور احادیث اور آثار کا ترجمہ کر کے ان تک پہنچادیا گیا تو آپ کا پیغام ان پر بھی حجت ہو گیا ۔ رہا یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت تک تمام انسانوں کےلیے رسول ہیں اس پر کیا دلیل ہے اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے : قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (سورہ اعراف آیت نمبر ١٥٨) ، آپ کہیے اے لوگو ! بیشک میں تم تمام کی طرف اللہ کا رسول ہوں ۔


بلکہ آپ صرف انسانوں کے نہیں بلکہ تمام جنات اور انسانوں کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الإنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا ۔ (سورہ اسراء  آیت نمبر 88) ، آپ کہیے اگر (تمام جن اور انس اس قرآن کی مثل لانے پر جمتمع ہوجائیں تو وہ اس قرآن کی مثل نہیں لاسکتے خو اس وہ ایک دوسرے کے مددگار ہو جائیں ۔


اس قرآن کی مثال لانے کا جنات کو بھی چلینج کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کے مکاف ہیں بلکہ آپ جن اور انسان کے علاوہ تمام جمعادات، نباتات، اور تمام حیوانات کے غرض پوری کائنات کےلیے رسول ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا ۔ (سورہ الفرقان آیت نمبر ١) ، وہ بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے (مقدس) بندے پر فیصلہ کرنے والی کتاب نازل کی تاکہ وہ تمام جہانوں والوں کے لیے ڈرانے والے ہوں ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے عموم پر احادیث بھی دلالت کرتی ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بنان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں ، ایک ماہ کی مسافت سے میرا رعب طاری کر کے میری مدد کی گئی ہے ، تمام روئے زمین کو میرے لیے مسجد اور آلہ طہارت بنادیا گیا پس میری امت میں سے جو شخص بھی (جہاں) نماز کا وقت پائے وہ نماز پڑھ لے ، اور میرے لیے مال غنیمت حلال کر دیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کےلیے حلال نہیں کیا گیا تھا اور (پہلے) ہر نبی صرف اپنی قوم کو طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 335،چشتی)(صحیح مسلم رقم الحدیث :521)(سنن النسائی رقم الحدیث : 736 ، 432)


علامہ ابو لحسن علی بن خلف بابن بطال اندلسی متوفی 449 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے ۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ جس طرح آپ کو دیکھنا اور آپ کا کلام سننا لوگوں پر حجت تھا ، اسی طرح بعد کے لوگوں پر آپ کی احادیث حجت ہیں ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ قرآن مجید ہے اور وہ ان احادیث کی تائید اور موافقت کرتا ہے اور آپ کا معجزہ یعنی قرآن مجید قیامت تک باقی رہے گا اور وہ تغیر و تبدل محفوظ رہے گا اور چونکہ آپ کی عوت قیامت کے لوگوں کےلیے باقی رہے گی اور قیامت تک آپ کی دعوت کا ماننا ان پر واجب رہے گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ خصوصیت عطاء فرمائی کہ آپ کا معجزہ یعنی قرآان کریم قیامت کے باقی رہے گا ۔ (شرح صحیح البخاری جلد 1 صفحہ 470 مطبوعہ مکتبہ الرشید الریاض،چشتی)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ عزوجل نے بے شمُار کمالات سے نوازا ہے ۔ ان کمالات میں سے ایک دیگر مخلوقات اور خطوں کی زَبانوں کا جاننا بھی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب جانتے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کریم نے تمام زَبانوں کا علم عطا فرمایا تھا جیسا کہ امام احمد بن محمد صاوی مالکی علیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اَنَّ اللّٰهَ عَلَّمَهٗ جَمِيْعَ اللُّغَاتِ ، فَكَانَ يُخَاطِبُ كُلَّ قَوْمٍ بِلُغَتِهِم ، یعنی اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام زبانیں سکھا دی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر قوم سے اُسی کی زبان میں کلام فرمایا کرتے تھے ۔ (حاشیۃ الصاوی سورہ ابراہیم تحت الایۃ 4 جلد 3 صفحہ 260) ۔ شارح بخاری امام احمد بن محمد قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس بات کو کچھ لفظی اختلاف کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔ (مواہب الدنیہ جلد 2 صفحہ 19 ، 20 دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)(مواہب الدنیہ مترجم اردو جلد 2 صفحہ 35 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)


جب کبھی کوئی ایسا اجنبی آتا جس کی زبان کوئی نہ سمجھ سکتا  تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ صرف اس کی بات سمجھتے بلکہ اسی زبان میں جواب بھی ارشاد فرماتے ۔ رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عجمی زبان میں جواب : ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مسجدِ حرام میں ایک عجمی وفد  پہنچا ۔ ان میں سے کوئی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں جانتا تھا ۔ ان میں سے ایک شخص نے اپنی زَبان میں کہا : من ابون اسیران  یعنی تم میں اللہ کے رسول کون ہیں ؟ حاضرین میں سے کوئی بھی ان کی بات نہ سمجھ سکا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اَشْکَدّ اور “ یعنی یہاں میرے پاس آگے آجاؤ ، وہ قریب آگئے اور گفتگو کرنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں ان کی زَبان میں جواب دیتے رہے ، آخِرکار انہوں نے اسلام قبول کیا ، آپ سے بیعت کی اور پھر اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے ۔ (نسیم الریاض جلد 2 صفحہ 134 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان،چشتی)


حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قدرتی طور پر تمام زبانیں جانتے ہیں جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانوروں ، پتّھروں ، کنکروں کی بولیاں سمجھتے ہیں تو انسانوں کی بولی کیوں نہ سمجھیں گے ۔ (مراۃ المناجیح جلد 6 صفحہ 242 مطبوعہ قادری پبلیشرز اردو بازار لاہور)


حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ اللہ علیہ اس واقعے کے تحت فرماتے ہیں : ہر نبی علیہ السلام اپنی قوم کی زبان سے واقف بھیجیے گۓ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری مخلوق اور فرشتے علیہم السلام آپ کی امت ہیں ۔ اونٹ ، ہرنی ، جانور اور چرند پرند سب بولی میں فریاد کرتے ۔ یہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب کی زبانیں سمجھنے کا ثبوت ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد 8 صفحہ 45 مطبوعہ قادری پبلیشرز اردو بازار لاہور)


وہ سمجھتے ہیں بولیاں سب کی ، وہی بھرتے ہیں جھولیاں سب کی

آؤ بازارِ مصطفےٰ کو چلیں ، کھوٹے سکے وہیں پہ چلتے ہیں


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ صِرْف عَرَب و عَجم کی بولیاں جانتے تھے بلکہ بےزبانوں کی  زبان بھی سمجھتے تھے جیسا کہ حضرت یَعْلیٰ بن مُرَّہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بار سفر میں کسی  جگہ سو رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ ایک درخت زمین چیرتا ہوا آیا اور  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کرلیا ، پھر واپس اپنی جگہ چلا گیا ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور میں نے اس بات کا ذِکْر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد  فرمایا: اس درخت نے اپنے رب سے اِجازت طَلَب کی تھی کہ وہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (یعنی مجھے) سلام کرے ۔ اللہ کریم نے اسے اجازت  عطا فرمائی ۔ (مشکاۃ المصابیح جلد 2 صفحہ 393 حدیث نمبر 5922)


حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ اللہ علیہ اس واقعے کے تحت فرماتے ہیں : درخت کی یہ حاضِری صرف سایہ کرنے کےلیے نہ تھی بلکہ مجھے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) سلام کرنے کےلیے تھی اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جانور درخت بھی سلام کرتے ہیں دوسرے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوتے میں بھی سلام کرنے والوں کے سلام سُنتے انہیں جواب دیتے ہیں آج بھی بعدِ وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا سلام کرتی ہے ۔ تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ خود اپنی مخلوق کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں سلام کرنے بھیجتا ہے ۔ دیکھو درخت اللہ تعالیٰ سے اجازت لے کر سلام کرنے آیا تھا ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد 8 صفحہ 207 مطبوعہ قادری پبلیشرز اردو بازار لاہور،چشتی)


اپنے مولیٰ کی ہے بس شان عظیم ، جانور بھی کریں جن کی تعظیم

سنگ کرتے ہیں ادب سے تسلیم، پیڑ سجدے میں گرا کرتے ہیں

(حدائق بخشش صفحہ 112)


حضرت  یَعْلیٰ بن مُرَّہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کہیں جا رہے تھے کہ ہمارا گُزر ایک  ایسے اونٹ کے پاس سے ہوا جس پر پانی دیا جا رہا تھا۔ (یعنی اس وقت کھیت والے اس پر کھیت کو پانی دے رہے تھے) اُونٹ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو دیکھا تو وہ بلبلانے لگا اور اپنی گردن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جھکادی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس کھڑے ہو گئے اور فرمایا : اس اُونٹ کا مالِک کہاں ہے ؟  مالِک حاضِر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ اُونٹ بیچتے ہو ؟ اس نے عرض کی : نہیں ، بلکہ یہ آپ کےلیے تحفہ ہے ۔ مزید عرض کی کہ یہ ایسے گھرانے کا ہے کہ جن کے پاس اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس اونٹ نے شکایت کی ہے کہ تم اس سے کام زیادہ لیتے ہو اور چاراکم ڈالتے ہو ۔ اس کے ساتھ اچّھا سُلُوک کرو ۔ (مشکاۃ المصابیح جلد 2 صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 393 حدیث نمبر 5922)


حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے : ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانوروں کی بولی بھی سمجھتے ہیں ۔ حضرتِ سلیمان علیہ السلام صِرْف چڑیوں چیونٹیوں (یعنی مخصوص جانوروں) کی بولی سمجھتے تھے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شجر و حجر خشک و تر ساری مخلوق کی بولی جانتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ حضور حاجت روا مشکل کشا  ہیں ۔ یہ وہ مسئلہ ہے جسے جانور بھی مانتے ہیں جو انسان مسلمان ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاجت روا ، مشکل کشا نہ مانے وہ جانوروں سے بدتر ہے۔ تیسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کچہری میں جانور بھی فریادی ہوتے تھے ۔


ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ، ہاں یہیں چاہتی ہے ہرنی داد

اسی در پر شترانِ ناشاد ، گلۂ رنج و عَنا کرتے ہیں

(حدائق بخشش صفحہ 113)


لہٰذا اپنا ہر دکھ درد حضور سے کہو فریاد کرو ۔ (مراۃ المناجیح جلد 8 صفحہ 207 مطبوعہ قادری پبلیشرز اردو بازار لاہور)


حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ آپ قضائے حاجت کےلیے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے دو بچے تھے ، ہم نے انہیں پکڑ لیا ، چڑیا آئی اور پھڑپھڑانے لگی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تودریافت فرمایا : کس نے اس کے بچّوں کے معاملے میں اسے تکلیف پہنچائی ہے ؟ اس کے بچّے اسے لوٹا دو ۔ (سنن ابوداؤد جلد 3 صفحہ 75 حدیث نمبر 2675،چشتی)


حضرت زید بن اَرْقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک اَعْرابی کے خیمے کے پاس سے گزرا تو وہاں ایک ہرنی بندھی ہوئی تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نَظَر پڑتے ہی ہرنی نے عرض کی : یَارَسُوْلَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ خیمے والا اَعرابی (دیہاتی) مجھے جنگل سے پکڑ کر لایا ہے ، جبکہ میرے دو بچّے جنگل میں ہیں ، میرے تھنوں میں دودھ گاڑھا ہورہا ہے یہ نہ تو مجھے ذَبَحْ کرتا ہے کہ میں اِس تکلیف سے راحت پاجاؤں اور نہ مجھے چھوڑتا ہے کہ اپنے بچّوں کو دودھ پلا آؤں ۔ ہرنی کی فریاد سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا  : اگر میں تجھے چھوڑدوں تو کیا تُو اپنے بچّوں کو دودھ پلا کر واپس آجائے گی ؟ عرض کی : جی ہاں ! یَا رَسُوْلَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ضَرور واپس آؤں گی ، اگر میں نہ آؤں تو اللہ پاک مجھے ناجائز ٹیکس وصول کرنے والے کا سا عذاب دے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے چھوڑا تو وہ بڑی تیزی وبے قراری سے جنگل کی طرف چلی گئی اور تھوڑی دیر بعد واپس آگئی ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے خیمے کے ساتھ باندھ دیا ۔ اتنے میں وہ اَعرابی بھی پانی کا مشکیزہ اٹھائے بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ ہرنی ہمیں بیچ دو ! عرض کی : یَارَسُوْلَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بطورِ ہدیہ پیشِ خدمت ہے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے آزاد فرما دیا ۔ حضرت زید بن اَرْقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ پاک کی قسم! میں نے اس ہرنی کو دیکھا کہ وہ جنگل میں کلمہ پڑھتی ہوئی جارہی تھی ۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی جلد 6 صفحہ 35)


شان رحمت جوش پر آئی چھڑایا قید سے

بے کلی کے ساتھ جب ہرنی پُکاری یارسول

(قبالہ بخشش صفحہ 90)


حضرت  عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلۂ بنی سُلَیْم کا ایک اعرابی نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضِر ہوا اور کہنے لگا : میں اس وَقْت تک آپ پر ایمان نہیں لاؤں گا جب تک میری یہ گوہ آپ پر ایمان نہ لائے ۔ یہ کہہ کر اس نے گوہ کو آپ کے سامنے ڈال دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گوہ کو پکارا تو اس نے ”لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ“ اتنی بُلند آواز سے کہا کہ تمام حاضِرین نے سُن لیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پو چھا : تیرا معبود کون ہے ؟ گوہ نے جواب دیا : میرا معبود وہ ہے کہ جس کا عرش آسمان میں ہے اور اسی کی بادشاہی زمین میں ہے ، اس کی رَحْمت جنّت میں ہے اور اس کا عذاب جہنّم میں ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : اے گوہ ! یہ بتا کہ میں کون ہوں ؟ گوہ نے بُلند آواز سے کہا : اَنْتَ رَسُوْلُ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ، وَخَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ ، آپ رب العالمین کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں قَدْ أَفْلَحَ مَنْ صَدَّقَکَ ، جس نے آپ کی تصدیق کی وہ کامیاب ہو گیا وَقَدْ خَابَ مَنْ کَذَّبَکَ اور جس نے آپ کو جُھٹلایا وہ نامراد ہو گیا ۔ یہ مَنْظر دیکھ کر اعرابی (دیہاتی) اس قدر متأثر ہو ا کہ فوراً ہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جس وقت آپ کے پاس آیا تھا تو میری نظر میں روئے زمین پر آپ سے زیادہ ناپسند کوئی آدمی نہیں تھا لیکن اس وقت میرا یہ حال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے نزدیک میری جان اور میرے والدین سے بھی زیادہ پیارے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خُدا کےلیے حمد ہے جس نے تجھ کو ایسے دین کی ہدایت دی جو ہمیشہ غالب رہے گا اور کبھی مغلوب نہیں ہو گا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو سورۂ فاتحہ اور سورۂ اخلاص کی تعلیم دی ۔ اعرابی قراٰن کی ان دو سورتوں کو سن کر کہنے لگا کہ میں نے بڑے بڑے فصیح و بلیغ ، طویل و مختصر ہر قسم کے کلاموں کو سنا ہے مگر خُدا کی قسم ! میں نے آج تک اس سے بڑھ کر اور اس سے بہتر کلام کبھی نہیں سنا ۔ (معجم اوسط جلد 4 صفحہ 283 حدیث نمبر 5996،چشتی)


امام مسلم متوفی ٢٦١ ھ کی روایت میں اس سے زیادہ عموم ہے : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے انبیاء (سابقین) چھ وجوہ سے فضیلت عطا کی گئی ہے مجھے جو امعالکلم عطا کیے گئے، میری رعب سے مدد کی گئی، میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئیں، اور میرے لیے تمام روئے زمین کو مسجد اور آلہ طہارت بنادیا گیا اور مجھے تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا اور تمام نبیوں کو مجھ پر ختم کیا گیا ۔ (صحیح مسلم المسا جد : 5، (523) 1147، سنن للبیہق الترمذی رقم الحدیث :1553، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 567، مسند ابوعوانہ ج 1 ص 395 ۔ ، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :2313، سنن کبری للبیہق ج 2 ص 433، ج 9 ص 5 دلائل النبوت ج 5 ص 472، شرح السنہ رقم الحدیث : 3617)


حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ میں تھا، ہم مکہ کی طرف بعض اطراف میں گئے، آپ کے سامنے جو پہاڑ یا درخت آتا وہ کہتا تھا : السلام علیک یارسول اللہ ۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :3626، سنن الدارمی الحدیث :21،چشتی،دلائل النبوت للبیہق ج 2 ص 154، 153، شرح السنہ رقم الحدیث :3510) 


امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار کے بعض گھروں والوں کے پاس ایک اونٹ تھا جس پر وہ پانی (کی مشکیں لاد کر) لاتے تھے، ان کا وہ اونٹ سرکش ہوگیا اور اس نے اپنے اوپر پانی لاد نے نہیں دیا وہ انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک اونٹ تھا جس پر پانی لاد کر لاتے تھے اب وہ سرکش ہوگیا ہے اور اب وہ ہم کو اپنی پشت پر پانی لادنے نہیں دیتا اور ہمارے کھیت اور ہمارے باغ سوکھے پڑے ہیں، وسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا چلو، آپ کے اصحاب اٹھے اور آپ باغ میں داخل ہوئے جس کے ایک گوشے میں وہ اونٹ کھڑا ہو اتھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف جانے لگے، انصار نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ اونٹ اب کاٹنے والے پاگل کتے کی طرح ہوگیا ہے اور ہمیں خطرہ ہے کہ وہ آپ پر حملہ کردے گا ؟ آپ نے فرمایا مجھے کوئی خطرہ نہیں ہے جب وہ اونٹ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا تو وہ آپ کی طرف آیا اور آپ کے سامنے آکر سجدہ میں گرگیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پیشانی سے پکڑا تو وہ پہلے سے بہت زیادہ متواضع اور مطیع تھا، حتی کہ آپ نے اس کو کام میں لگا دیا، آپ کے اصحاب نے آپ سے کہا یہ بےعقل جانور آپ کو سجدہ کرتا ہے تو ہم عقل والے اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں، آپ نے فرمایا کسی بشر کےلیے دوسرے بشر کو سجدہ کرنا جا ئز نہیں ہے اور اگر کسی بشر کےلیے دوسرے بشر کو سجدہ کرنا جا ئز ہوتا تو عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، کیونکہ خاوند کا اپنی پر عظیم حق ہے ۔ (مسند احمد ج 3 ص 158، 159 مقدیم، مسند احمد رقم الحدیث :12641، عالم الکتب بیروت، مسند احمد رقم الحدیث :12551 دارالحدیث قہر ہ، حمزہ احمد زین نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے، حافظ الہیثمی نے بھی کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ مجمع الزوائد ج 9 ص 4، دلائل النبوت لابی نعیم رقم الحدیث :287، مسند البزار رقم الحدیث :2454،چشتی،حافظ منذری نے اس حدیث کے متعلق لکھا ہے : اس حدیث کو امام نسائی نے اس کو مختصر روایت کیا ہے اور امام ابن حبان نے اس حدیث کو حضرت ابوہریرہ سے مختصر روایت کر کیا ہے۔ الترغیب والتر ج 3 ص 55 مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ، الترغیب والتر ہیب ج 2 ص 675 ۔ 674، رقم الحدیث 2893، مطبوعہ دارابن کثیر بیروت، صحیح ابن حبان رقمالحدیث :4162، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث :9147)


حافظ سلیمان بن احمد طبرانی متوفی 360 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ لوگو آئے اور انہوں نے کہا ہمارہ اونٹ غضب ہوگیا ہے اور وہ باغ میں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس اونٹ کے پاس گئے اور فرمایا آؤ، وہ آپ کے پاس سر جکھائے ہوئے آیا حتی کہ آپ نے اس کے نکیل ڈال دی اور وہ اونت اس کے مالکوں کے حوالے کر دیا ۔ حضرت ابوبکر نے کہا یا رسول اللہ ! گویا کہ اس کو علم تھا کہ آپ نبی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : مابین لابتیھا احد الا یعلم انی الا کفرت الجن والانس۔ مدینہ کی دو سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیان جو کوئی بھی ہے وہ یہ جانتا ہے کہ میں نبی ہوں سوا کافر جنوں اور انسانوں کے ۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث :12744 حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں اور بعض میں کچھ ضعف ہے۔ مجمع الزوائد ج 9 ص 4، دلائل النبوت لابی نعیم رقم الحدیث : 279، دلا ئل النبوت للبیہقج 6 ص 30، مسند احمد ج 3 ص 310، قدیم،چشتی،مسند احمد رقم الحدیث :14385، عالم الکتب، مسند احمد رقم الحدیث :14269، دارالحدیث قاہرہ، حمزہ احمد نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے، مصنف ابن شیبہ ج 11 ص 473، ، سنن دارمی رقم الحدیث :1 مسند عبدبن حمید : رقم الحدیث : 11323، الخصائص الکبری ج 2 ص 94)


نیز امام طبرانی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : عبداللہ بن یعلی بن مرہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تین چیزیں دیکھیں جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھیں، میں آپ کے ساتھ مکہ کے راستے میں جارہا تھا، آپ ایک عورت کے پاس سے گزرے جس کا بیٹا بہت سخت جنون میں مبتلا تھا، اس عورت نے کہا یا رسول اللہ آپ دیکھ رہے ہیں میرے بیٹے کا کیا حال ہے آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں اس کے لیے دعا کر دوں، آپ اس کے لیے دعا کی بھر آپ چلے گئے پھر آپ ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جو اپنی گردن بڑبڑا رہا تھا آپ نے فرمایا اس اونٹ کے مالک کو بلاو جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا یہ اونٹ کہہ رہا ہے میں ان کے ہاں پیدا ہوا، انہوں نے مجھ سے کام لینا شروع کردیا حتی کہ اب میں بو ڑھا ہوگیا تو یہ لوگ مجھ ذبح کرنا چاہتے ہیں، پھر آپ آگئے تو آپ نے دو الگ الگ درختوں کو دیکھا، آپ نے فرمایا جاو ان دونوں درختوں سے کہو وہ مل کر متصل ہوجائیں، جب وہ درخت مل گئے تو آپ نے ان کی اوٹ میں حاجت قضا کی اور فرمایا جاؤ ان سے کہو اب یہ الگ الگ ہوجائیں پھر آپ آگئے، جب واپس آئے تو اس بچہ کے پاس سے گزرے وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اس کی ماں کے پاس چھ مینڈھے تھے اس نے دو مینڈھے آپ کو ہدیہ کیے، اور کہنے لگی اس پر دوبارہ بالکل جنون طاری نہیں ہوا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مامن شئی یعلم انی رسول اللہ کفر اوفسقہ الجن والا نسی ہر چیز جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں کافر یا فاسق جنوں و انسان کے ۔ (المعجم الکبیر ج 22 ص 262 ۔ 261، رقم الحدیث : 672، دلائل النبوت للبیہقی ج 6 ص 23 مصنف ابن شیبہ ج 11 ص 493، امام حاکم اور ذہبی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے، المستدرک ج 2 ص 618 ۔ 617 دلائل النبوت لابی نعیم رقم الحدیث مسند رقم الحدیث : 17489، دارالحدیث قاہرہ، حمزہ زین نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے، البدایہ والنہایہ ج 4 ص 172)


نوٹ : المعجم الکبیر ، دلائل النبوت میں اور البدایہ والنہایہ میں یہ حدیث مکمل ہے اور باقی کتابوں میں اس کے مختلف اجزاء ہیں ۔


حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی 774 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار کے ساتھ ایک باغ میں داخل ہوئے ، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور ایک انصاری تھا، اس باغ میں بکریاں تھیں انہوں نے آپ کو سجدہ کیا، حضرت ابوبکر نے کہا یا رسو اللہ ! ان بکریوں کی بہ نسبت آپ کو سجدہ کرنے کے ہم زیادہ حقدار ہیں، آپ نے فرمایا کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دوسرے کو سجدہ کرے اور اگر کسی کے لیے یہ جا ئز ہوتا کہ وہ دوسرے کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے ۔ (البدایہ ولنہایہ ج 4 ص 537، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1418 ھ)


حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جگہ سے گزرے تو وہاں ایک خیمہ میں ہرنی بندھی ہوئی تھی، اس کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے کھول دیجئے تاکہ میں اپنے بچوں کو دودھ پلاؤں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھول دیا وہ تھوڑی دیر بعد واپس آگئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پھر باندھ دیا، جب وہ خیمہ والے آئے تو آپ نے ان سے اس ہرنی کو مانگ لیا اور اس کو کھول کر آزاد کردیا ۔ (دلائل النبوت للبیہقی ج 6 ص 34، مطبوعہ دارالکتب العلمی بیروت)


حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے کہ بنو سلیم سے ایک اعرابی آیا وہ ایک گوہ کو شکار کر کے لایا تھا جو اس کی آستین میں تھی تاکہ اس کو اپنے گھر لے جائے اور پکاکر کھائے۔ اب اس نے ایک جماعت کو دیکھا تو پو چھا یہ کون لوگ ہیں ؟ اس کو بتایا کہ یہ نبی ہیں وہ لوگوں کو چیرتا ہوا آیا اور کہنے لگا لات اور عزی کی قسم ! میرے نزدیک آپ سے زیادہ مبغوض اور کوئی نہیں ہے، اور اگر میری قوم مجھے جلدی باز نہ کہتی تو میں اب تک آپ کو قتل کرچکا ہوتا اور ہر کالے گورے کو آپ کے قتل سے خوش کرچکا ہوتا، حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں میں اٹھ کر اس کو قتل کر دوں ! آپ نے فرمایا : اے عمر ! کیا تم نہیں جانتے کہ بردبار شخص کو نبی بنایا جاتا ہے، پھر آپ اس اعرابی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تمہارے اس قول کا کیا مطلب ہے اور تم نے یہ ناحق بات کیوں کہی ہے ؟ تم نے میری مجلس میں میری تعظیم کی اور تم اللہ کے رسول سے تو ہیں آمیز کلام کرتے ہو ! اس نے کہا لات اور عزی کی قسم ! می‏ اس وقت تک ایمان نہیں لاؤں گا حتی کہ یہ لوگ آپ پر ایمان لے آئے یہ کہہ کر اس نے اپنی آستین سے گوہ نکال کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پھینک دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے گوہ ! گوہ نے فصیح عربی میں کہا جس کو تمام حاضرین سن رہے تھے : لبیک وسعد یک ! آپ نے اے گوہ ! تم کس کی عبادت کرتی ہو ! اس نے کہا جس کا آسمان میں عرش ہے اور زمین میں اس کی سلطنت ہے، سمندر میں اس کا راستہ ہے جنت میں اس کی رحمت ہے، دوزخ میں اس کا عذاب ہے، آپ نے فرمایا اور میں کون ہوں اے گوہ ! اس نے کہا آپ رب العالمین کے رسول ہیں، خاتم النبین ہیں، جس نے آپ کی تصد یق کی وہ کامیاب ہوگیا اور جس نے آپ تکذیب کی وہ ناکام ہوگیا، اس اعرابی نے کہا اب آنکھوں سے دیکھنے کے بعد میں کسی سنی سنائی بات پر یقین نہیں کروں گا، جس وقت میں آپ کے پاس آیا تھا اس وقت میرے نزدیک روئے زمین پر آپ سے زیادہ کوئی مبغوض کوئی نہیں تھا۔ اور اب میرے نزدیک روئے پر آپ میرے والد، میری آنکھوں اور میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں اور میں آپ سے اپنے اندر اور باہر اور اپنے ظاہر اور باطن سے محبت کرتا ہوں اور اور میں گوہی دیتا ہوں کہ اللہ سے زیادہ کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے لیے حمد ہے جس نے میری وجہ سے تم کو ہدایت دی، یہ دین غالب ہے۔ یہ دین مغلوب نہیں ہوگا۔ اور بےنماز کے بغیر یہ دین مقبول نہیں ہے اور نماز قرآن کے بغیر مقبول نہیں ہے، اس نے کہا آپ مجھے تعلیم دیں پھر آپ نے اس کو تعلیم دی ، الحدیث ۔ (دلائل النبوت للبیہقی ج 6 ص 38 ۔ 36، دلائل النبوت لابی نعیم رقم الحدیث :275 المعجم الصغیر رقم الحدیث : 948 المعجم الاوسط رقم الحدیث : 5993 ، حافظ الہثیمی نے کہا ہے کہ امام طبرانی نے اس حدیث کو معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے شیخ محمد بن علی بن الولید البصری سے روایت کیا ہے، امام بہیقی نے کہا اس حدیث کا بو جھ اسی پر ہے اور اس کے باقی راوی صحیح ہیں۔ مجمع الزوائد ج 8 ص 294، حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ یہ حدیث حضرت عائشہ اور حضرت ابوہریرہ سے مر ویہ ہے اور ہم نے جس سند کا ذکر کیا وہ زیادہ بہتر ہے اور وہ بھی ضعیف ہے اور اس کا بو جھ اسلی پر ہے۔ البدایہ ج 4 ص 546، حافظ جلالدین سیوطی نے لکھا ہے : یہ حدیث میں بھی اسانید سے مروی ہے ، حضرت عائشہ اور حضرت ابوہریرہ سے، اور ابن وحیہ اور حافظ ذیبی کا یہ زعم ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے میں کہتا ہوں کہ حضرت عمر کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے جن میں محمد بن علی بن الولید نہیں ہے جس کو امام ابو نعیم نے روایت کیا ہے اور امام ابن عساکر نے اس حدیث کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ الخصائص ج 2 ص 108)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف زبانوں کے بولنے والے کلام کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی زبانوں کو جانتے تھے ، فرشتے اور جنات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کلام کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی زبانوں کو سمجھتے تھے ، جانوروں کی بولیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان گفتگو فرماتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری کا ئنات کے رسول ہیں اور پوری کا ئنات بشمول تورت و زبور کی زبانوں کو جانتے ہیں ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔










Saturday, 18 July 2026

شیعوں کی طرف سے بیت اللہ شریف کی توہین مع مدلل جواب

شیعوں کی طرف سے  بیت اللہ شریف کی توہین مع مدلل جواب


محترم قارئینِ کرام : شیعہ ملاباقر مجلسی کی کتاب لکھتا ہے : حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : اے مفصل ! ایک مرتبہ زمین کے مختلف خطوں نے آپس میں تفاخر کیا ، چنانچہ کعبہ بیت الحرام نے سرزمین کربلا کی مقابلہ پر فخر کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی جانب وحی ہوتی کہ اے کعبہ بیت الحرام! چپ ہو جا ، کربلا کے مقابلے میں فخر نہ کر ۔ (بحارالانوار باب 28 صفحہ نمبر 489)


ملا باقر مجلسی شیعہ لکھتا ہے : ابوعبداللہ (امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی طرف یہ وحی کی : اے کعبہ ، اگر کربلا کی مٹی نہ ہوتی تو میں تمہیں فضیلت نہ بخشتا اور اگر کربلا کی زمین کے لوگ نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا اور نہ وہ گھر پیدا کرتا جس کی وجہ سے تو فخر کرتا ہے ۔ لہٰذا اسی فضیلت پر راضی ہوجا اور سکون کر اور رواضع اختیار کر ، ذلیل و رسوا ہوکر اور کربلا کی زمین کے سامنے فخر و غرور نہ کر ، وگرنہ میں تم پر ناراض ہوجاؤں گا اور تمہیں جہنم کی آگ میں جھونک دونگا ۔ (کامل الزیارات روایت نمبر 675 صفحہ نمبر 449 ، 450)


کیوں جناب پیرانِ عظام ، سجادہ نسینان ، ذیشان خطیب حضرات ، مفتیانِ کرام و نقیب حضرات یہ گستاخی نہیں ہے ؟


یہاں آپ کے قلم ، لب ، فتوے ، تقوے ، گھن گرج غریتِ ایمانی سب خاموش کیوں ؟


اس طرح کے عقائد رکھنے والوں کے خلاف آج تک کتنے مفتیوں نے ویڈیو بنا کر اپلوڈ کی ہیں اور کتنے مفتیوں کے فتوے جاری ہوئے ہیں ؟


اور کتنے پیروں کو اس پر درد ہوا ، تکلیف ہوئی اور انہوں نے ان گستاخیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور احتجاجی جلسے جلوس کیے ؟


آخر ان مفتیوں اور پیروں کو اس طرح کے شیعوں کے غلیظ عقائد پر سانپ کیوں سونگھ جاتا ہے کہاں ہیں مفتیانِ کرام ؟


کہاں ہیں پیرانِ عظام ؟


کہاں ہیں نقیبانِ محافل ؟


کہاں ہیں ذیشان خطیب حضرات ؟


یہاں آپ کی غیرتِ ایمانی کہاں دفن ہو گئی ؟


کعبة اللہ کے فضائل : ⏬


اِنَّ اَوَّلَ بَيۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَـلَّذِىۡ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّهُدًى لِّلۡعٰلَمِيۡنَ‌‌ۚ ۔ (سورہ آل عمران آیت نمبر 96)

ترجمہ : بے شک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما ۔


 یہودیوں نے کہا تھا کہ : ہمارا قبلہ یعنی بیتُ المقدس کعبہ سے افضل ہے کیونکہ یہ گزشتہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قبلہ رہا ہے، نیزیہ خانہ کعبہ سے پرانا ہے ۔ ان کے رد میں یہ آیتِ کریمہ اتری ۔(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۹۶، ۱ / ۲۷۴)


 اور بتا دیا گیا کہ روئے زمین پر عبادت کیلئے سب سے پہلے جو گھر تیار ہوا وہ خانہ کعبہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ’’کعبہ معظمہ بیتُ المقدس سے چالیس سال قبل بنایا گیا۔(بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، ۱۱- باب، ۲ / ۴۲۷، الحدیث: ۳۳۶۶)


اور فرشتوں کا قبلہ بیتُ المعمور ہے جو آسمان میں ہے اورخانہ کعبہ کے بالکل اوپر ہے۔ (کنز العمال، کتاب الفضائل، باب فی فضائل الامکنۃ، ۷ / ۴۹، الجزء الرابع عشر، الحدیث: ۳۸۰۸۱)


امام محمد بن اسماعیل بخاری علیہ الرحمہ متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن فرمایا : اس شہر کو اللہ نے حرم قرار دیا ہے ‘ اس کے کانٹوں کو (بھی) نہیں کاٹا جائے گا ‘ نہ اس کے جانوروں کو بھگایا جائے گا اور نہ اعلان کرنے والے کے علاوہ کوئی شخص اس کی گری ہوئی چیز اٹھائے گا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢١٦‘ مطبوعہ کراچی،چشتی)


حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک اور روایت میں ہے نہ اس کی گھاس کاٹی جائے گی نہ اس کے درخت کاٹے جائیں گے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٨٠‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)


ہر چند کہ اس حدیث میں مکہ مکرمہ کی فضیلت ہے لیکن مکہ مکرمہ کی یہ فضیلت کعبہ کی وجہ سے ہے اور کعبہ ہی کی وجہ سے مکہ کو حرم بنایا گیا ہے ۔


امام عبدالرزاق بن ہمام علیہ الرحمہ متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے بیت اللہ کا طواف کیا اور دو رکعت نماز پڑھی اور سوائے نیکی کے اور کوئی بات نہ کی تو اس کو ایک غلام آزاد کرنے کا اجر ملے گا۔ 

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اگر لوگ ایک سال تک اس بیت کی زیارت نہ کریں تو وہ بارش سے محروم ہوجائیں گے ۔ سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ کعب سے بیت المقدس کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کی فضیلت کے متعلق احادیث بیان کیں ‘ شام کے ایک آدمی نے ان سے کہا : اے ابو عباس ! آپ بیت المقدس کا بہت ذکر کرتے ہیں اور بیت اللہ کا اتنا ذکر نہیں کرتے ؟ کعب نے ان سے کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں کعب کی جان ہے ! اللہ تعالیٰ نے تمام روئے زمین پر اس بیت سے افضل کوئی بیت پیدا نہیں کیا ‘ اس بیت کی ایک زبان ہے اور دو ہونٹ ہیں ‘ اور وہ ان سے کلام کرتا ہے ‘ اور اس کا ایک دل ہے جس سے وہ تعقل کرتا ہے یہ سن کر ابو حفص نام کے ایک شخص نے کہا کیا پتھر کلام کرتا ہے ‘ کعب نے کہا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! کعبہ نے اپنے رب سے یہ شکایت کی کہ میری زیارت کرنے والے اور میری طرف آنے والے کم ہوگئے ‘ اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی طرف یہ وحی کی کہ میں تمہاری طرف ایک نئی تورات نازل کروں گا ‘ اور ایسے بندے بھیجوں گا جو رات کو جاگ کر سجدے کریں گے ‘ اور تمہارے فراق میں روئیں گے اور تمہاری طرف دوڑتے ہوئے آئیں گے ‘ اور جس نے تمہارے گرد سات طواف کیے اس کو ایک غلام آزاد کرنے کا اجر ملے گا اور جو اس بیت کے گرد سر منڈائے گا قیامت کے دن اس کو ہر بال کے بدلہ میں ایک نور حاصل ہوگا۔ (المصنف ج ٥ ص ١٤۔ ١٣ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ،چشتی)


امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی علیہ الرحمہ متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہر روز کعبہ کے گرد ایک سو بیس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ ساٹھ رحمتیں کعبہ کا طواف کرنے والوں کے لیے ‘ چالیس اعتکاف کرنے والوں کے لیے اور بیس رحمتیں کعبہ کو دیکھنے والوں کے لیے۔ (المعجم الکبیر ج ١١ ص ‘ ١٠٣‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)


امام محمد بن اسماعیل بخاری علیہ الرحمہ متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنا ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے ماسوا مسجد حرام (کعبہ) کے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٥٩ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)


امام ابن ماجہ علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی شخص کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا ایک نماز ہے اور محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا پچیس نمازوں کے برابر ہے ‘ اور جامع مسجد میں نماز پڑھنا پانچ سو نمازوں کے برابر ہے اور میری مسجد میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور مسجد حرام میں نماز پڑھنا ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔ (سنن ابن ماجہ ص ١٠٢‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی ج ١ ص ٤٥٣‘ مطبوعہ بیروت)


حافظ ابو عمرو ابن عبدالبر مالکی علیہ الرحمہ متوفی ٤٦٣ ھ لکھتے ہیں : عام محدثین یہ کہتے ہیں کہ مسجد حرام میں نماز پڑھنارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد سے سو گنا افضل ہے اور باقی مساجد سے ایک لاکھ گنا افضل ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں نماز پڑھنا باقی مساجد سے ایک ہزار گنا افضل ہے ۔ (الاستذکار ج ٧ ص ٢٢٦‘ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالتہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ)


امام محمد بن اسماعیل بخاری علیہ الرحمہ متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جائے گا ‘ مسجد حرام ‘ مسجد رسول اور مسجد اقصی۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٥٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)


امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : شہربن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے سامنے طور پر جا کر نماز پڑھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی سفر کرنے والے کے لیے کسی مسجد میں نماز پڑھنے کےلیے سفر کرنا جائز نہیں ہے ماسوا مسجد حرام ‘ مسجد اقصی اور میری مسجد کے ‘ الحدیث (مسند احمد ج ٣ ص ٦٤‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی اور حافظ بدرالدین عینی علیہما الرحمہ نے لکھا کہ اس حدیث کی سند حسن ہے ۔


حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی اور حافظ بدرالدین عینی علیہما الرحمہ نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تین مسجدوں کے علاوہ مطلقا سفر کرنے سے منع نہیں فرمایا بلکہ کسی اور مسجد کی خصوصیت کی وجہ سے اس میں نماز پڑھنے کے قصد سے سفر کرنے سے منع فرمایا ہے ‘ اس لیے روز گار ‘ علم دین کے حصول اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کرنا جائز ہے ۔


حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : لہٰذا ان لوگوں کا قول باطل ہے جنہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر شریف اور دیگر صالحین کی قبروں کی زیارت کے لیے سفر کرنے سے منع کیا ہے ‘ نیز لکھا ہے کہ ابن تیمیہ سے جو مسائل منقول ہیں یہ ان میں سب سے قبیح مسئلہ ہے۔ (فتح الباری ج ٣ ص ٦٦‘ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)


علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی علیہ الرحمہ متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : طلب علم ‘ تجارت ‘ نیک لوگوں اور متبرک مقامات کی زیارت کے لیے سفر کرنا ممنوع نہیں ہے ‘ نیز لکھا ہے کہ قاضی ابن کج نے کہا ہے کہ اگر کسی شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کی زیارت کے لیے نذر مانی تو اس نذر کو پورا کرنا واجب ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ٧ ص ٢٥٤‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ،چشتی)


امام ملا علی قاری حنفی علیہ الرحمہ نے لکھا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کی زیارت کےلیے سفر کو حرام کہنے کی وجہ سے شیخ ابن تیمیہ کی تکفیر کی گئی ہے اور یہ تکفیر صحت اور صواب کے زیادہ قریب ہے کیونکہ جس چیز کی اباحت پر اتفاق ہو اس کو حرام کہنا بھی کفر ہے تو جس چیز کے مستحب ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے اس کو حرام کہنا بہ طریق اولی کفر ہوگا : (شرح الشفاء ج ٣ ص ١٦١۔ ١٦٠‘ مطبوعہ دار الفکر بیروت)


امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی علیہ الرحمہ متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص نیکی کرتا ہوا بیت اللہ میں داخل ہو وہ اپنے گناہوں سے بخشا ہوا بیت اللہ سے نکلے گا۔ (المعجم الکبیر ج ١١ ص ١٤٢ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)


حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص بیت اللہ میں داخل ہوا وہ بخشا ہوا نکلے گا ۔


علامہ عز الدین بن جماعہ الکنانی علیہ الرحمہ متوفی ٧٦٧ ھ لکھتے ہیں : امام ابو سعید جندی فضائل مکہ میں اور امام واحدی اپنی تفسیر میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے بیت اللہ کے گرد سات طواف کئے اور مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی ‘ اور زمزم کا پانی پیا اس کے گناہ جتنے بھی ہوں معاف کردیئے جائیں گے ۔


امام ازرقی علیہ الرحمہ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب کوئی شخص بیت اللہ میں طواف کے ارادہ سے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کا استقبال کرتی ہے ‘ اور جب وہ بیت اللہ میں داخل ہوتا ہے تو اللہ کی رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے ‘ اور اس کے ہر قدم کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ پانچ سو نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اس کے پانچ سو گناہ مٹا دیتا ہے ‘ اور اس کے لیے پانچ سودرجات بلند کردیتا ہے اور جب وہ طواف سے فارغ ہو کر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھتا ہے ‘ تو وہ گناہوں سے اسی طرح پاک ہوجاتا جیسے اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا اور اس کے لیے اولاد اسماعیل سے دس غلاموں کے آزاد کرنے کا اجر لکھ دیا جاتا ہے اور حجر اسود کے قریب ایک فرشتہ اس کا استقبال کرکے کہتا ہے تم اپنے پچھلے عملوں سے فارغ ہوگئے ‘ اب از سر نو عمل شروع کرو ‘ اور اس کو اس کے خاندان کے ستر نفوس کے حق میں شفاعت ۔


امام ابن ماجہ نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے بیت اللہ کے سات طواف کئے ‘ اور اس نے ان کلمات کے سوا اور کوئی کلام نہیں کیا : سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ “ اس کے دس گناہ مٹا دیئے جائیں گے اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور جس نے یہ کلمات پڑھتے ہوئے طواف کیا وہ اللہ کی رحمت میں ڈوبا ہوا طواف کرے گا ۔


امام فاکہی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ستر ہزار فرشتوں نے کعبہ کا احاطہ کیا ہوا ہے وہ طواف کرنے والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ 

قاضی عیاض علیہ الرحمہ نے شفاء میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور قیامت کے دن اس کا امن والوں میں حشر کیا جائے گا ۔


امام ترمذی علیہ الرحمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے بیت اللہ کے گرد پچاس طواف کیے وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے گا جیسے وہ اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا ۔


اس حدیث سے مراد پچاس مرتب سات طواف کرنا ہے ‘ کیونکہ صرف ایک طواف کے ساتھ عبادت نہیں کی جاتی ‘ امام عبدالرزاق علیہ الرحمہ اور امام فاکہی نے یہ روایت کیا ہے کہ جس نے پچاس مرتبہ سات طواف کیے تو وہ اس دن کی طرح ہوجائے گا جس دن وہ اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا ہو ‘ اور یہ مراد نہیں ہے کہ وہ پچاس مرتبہ سات طواف ایک ہی وقت میں کرے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے صحیفہ اعمال میں پچاس بار سات طواف کرنے کا عمل ہونا چاہیے ۔


امام سعید بن منصور علیہ الرحمہ نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے بیت اللہ کا حج کیا اور پچاس مرتبہ سات طواف کیے وہ اس طرح پاک ہو کر لوٹے گا جس طرح اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا ۔


امام سعید بن منصور علیہ الرحمہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جو شخص بیت اللہ میں آیا اور وہ اسی بیت کا ارادہ کر کے آیا تھا پھر اس نے طواف کیا تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے گا جس طرح اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا ۔


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک آسمان پر اس کے سب سے معزز فرشتے وہ ہیں جو اس کے عرش کے گرد طواف کرتے ہیں اور زمین پر اس کے نزدیک سب سے معزز وہ انسان ہیں جو اس کے بیت کے گرد طواف کرتے ہیں۔ (ہدایہ السالک الی المذاہب الاربعہ ج ١ ص ٥٥‘ مطبویہ دارا الشائر الاسلامیہ بیروت)


نیز علامہ عزالدین بن جماعہ الکنانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : بیت اللہ کی آیات میں سے یہ ہیں کہ دلوں میں اس کی ہیبت واقع ہوتی ہے اس کے پاس دل جھک جاتے ہیں ‘ اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں ‘ پرندے اس کے اوپر نہیں اڑتے اور اس پر بیٹھتے نہیں ہیں ‘ البتہ اگر کوئی پرندہ بیمار ہو تو طلب شفاء کےلیے اس کے اوپر بیٹھ جاتا ہے ۔


حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں منی پر تعجب ہوتا ہے یہ بہت تنگ جگہ ہے لیکن جب لوگ یہاں آتے ہیں تو یہ وسیع ہوجاتی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا منی رحم کی طرح ہے ‘ جب عورت کو حمل ہوتا ہے تو اللہ سبحانہ اس کو وسیع کردیتا ہے۔ (ہدایہ السالک الی المذاہب الاربعہ ج ١ ص ٣٩۔ ٣٧ مطبویہ دارا الشائر الاسلامیہ بیروت)


مکہ مکرمہ کو بکہ اور مکہ کہنے کی مناسبت : اس آیت میں فرمایا ہے ” لوگوں کے لیے سب سے پہلا گھر جو بنایا گیا وہ بکہ میں ہے “ بکہ اور مکہ ایک شہر کے دو نام ہیں ‘ اور چونکہ باء اور میم دنوں قریب المخرج ہیں اس لیے بکہ اور مکہ دونوں کہنا صحیح ہیں ‘ مکہ مکرمہ کو بکہ کہنے کی حسب ذیل وجوہ بیان کی گئی ہیں : ⏬


(١) بک کا معنی ہے ایک دوسرے کو دھکا دینا ‘ اور مکہ میں بہت رش اور ازدحام ہوتا ہے اس لیے لوگ ایک دوسرے کو دھکا دیتے ہیں۔ 

(٢) چونکہ مکہ مکرمہ بڑے جابر حکمرانوں کی گردنیں جھکا دیتا ہے اس لیے اس کو بکہ کہتے ہیں۔ 

(٣) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ لفظ بکاء سے بنا ہو اور چونکہ یہاں آکر لوگ یاد خدا میں اور خوف خدا سے بہت روتے ہیں، اس لیے اس کو بکہ کہتے ہیں اور مکہ کہنے کی یہ وجوہ ہیں۔ 

(١) تمک الذنوب کا معنی ہے گناہوں کو زائل کرنا ‘ چونکہ اس شہر میں عبادت کرنے اور حج اور عمرہ کرنے سے گناہ زائل ہوجاتے ہیں اس لیے اس کو مکہ کہتے ہیں۔ 

(٢) تمک العظم کا معنی ہے ہڈی کے اندر جو کچھ ہو اس کو کھینچ لینا ‘ اور یہ شہر دوسرے شہروں کے لوگوں کو اپنے اندر کھینچ لیتا ہے اس لیے اس کو مکہ کہتے ہیں۔ 

(٣) اس شہر میں پانی کم ہے گویا اس کا پانی کھینچ لیا گیا اس لیے اس کو مکہ کہتے ہیں : 

بعض علماء نے کہا کہ مکہ پورے شہر کا نام ہے اور بکہ خاص مسجد حرام کا نام ہے کیونکہ بک کا معنی ازدحام ہے اور ازدحام اور ایک دوسرے کو دھکا دینا مسجد حرام میں طواف کے وقت ہوتا ہے ‘ اور بعض علماء نے اس کے برعکس کہا کیونکہ قرآن مجید میں ہے سب سے پہلا گھر جو بنایا گیا وہ بکہ میں ہے اس سے متبادر یہی ہوتا ہے کہ یہاں بکہ شہر کو فرمایا ہے ۔


بیت اللہ کے اسماء : ⏬


(١) بیت اللہ کا مشہور نام کعبہ ہے قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیاما للناس “۔ (المائدہ : ٩٧) 

ترجمہ اللہ نے معزز بیت کعبہ کو لوگوں کے قیام کا سبب بنایا : 

کعبہ کا معنی شرف اور بلندی ہے ‘ اور بیت اللہ بھی مشرف اور بلند ہے اس لیے اس کو کعبہ کہتے ہیں : 

(٢) بیت اللہ البیت العتیق بھی کہتے ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” ولیطوفوا بالبیت العتیق “۔ (الحج : ٢٩) 

ترجمہ : اور وہ البیت العتیق کا طواف کریں۔ 

اس بیت کو عتیق اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے قدیم بیت ہے ‘ اور عتیق کا معنی قدیم ہے بلکہ بعض علماء کے نزدیک آسمان اور زمین سے پہلے اس بیت کو بنایا گیا ‘ عتیق کا دوسرا معنی ہے آزاد ‘ اور بعض روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس بیت کو طوفان نوح میں غرق ہونے سے آزاد رکھا ‘ اور طوفان کے وقت اس کو اوپر اٹھا لیا گیا ‘ عتیق کا معنی قوی بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس بیت کو اتنا قوی بنایا ہے کہ جو شخص اس کو تباہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے اس کو خود تباہ کردیا جاتا ہے اور جو شخص اس بیت کی زیارت کے قصد سے آئے اللہ اس کو جہنم سے آزاد کردیتا ہے۔ 

(٣) بیت اللہ کو مسجد الحرام بھی کہتے ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام “۔ (بنی اسرائیل : ١) 

ترجمہ : سبحان ہے وہ جو اپنے (مکرم) بندے کو رات کے قلیل حصہ میں مسجد حرام سے لے گیا۔ 

بیت اللہ کو مسجد حرام اس لیے کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کی حرمت کی وجہ سے اس شہر میں قتال کو حرام کردیا ہے اور یہ دائمی حرمت ہے ‘ نیز اس شہر میں شکار کو حرام کردیا ہے ‘ اس شہر کے درختوں کو اور اس کی گھاس کاٹنے کو حرام کردیا ہے ‘ اس شہر کے جانوروں کو ستانا اور پریشان کرنا حرام ہے۔ اس میں حدود کو جاری کرنا حرام ہے اور اس شہر کے یہ تمام احکام اس مسجد کی حرمت کی وجہ سے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : برکت والا اور تمام جہان والوں کی ہدایت کا سبب ہے (آل عمران : ٩٦)


کعبہ کی برکت اور ہدایت کا معنی : ⏬


برکت کا ایک معنی ہے کسی چیز کا بڑھنا اور زائد ہونا ‘ اس لحاظ سے کعبہ اس لیے برکت والا ہے کہ کعبہ میں ایک نماز کا اجر دوسری مساجد کی نسبت ایک لاکھ درجہ زیادہ ہے ‘ جیسا کہ پہلے سنن ابن ماجہ اور الاستذکار کے حوالوں سے بیان کرچکے ہیں ‘ اور کعبہ میں حج کرنے کا اجر وثواب بہت زیادہ ہے ۔


امام محمد بن اسماعیل بخاری علیہ الرحمہ متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں جماع کیا نہ جماع کے متعلق کوئی بات کی اور نہ کوئی کبیرہ گناہ کیا وہ اس دن کی طرح (گناہوں سے پاک) لوٹے گا جس دن وہ اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔ ( صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٠٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)


امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے اور حج مبرور کی جزاء صرف جنت ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٤٣٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)


حج مبرور کی صحیح اور زیادہ مشہور تعریف یہ ہے کہ اس حج کے دروان کوئی گناہ نہ کیا ہو ‘ ایک قول یہ ہے کہ حج کرنے کے بعد انسان پہلے سے زیادہ نیک ہوجائے اور دوبارہ گناہوں کو نہ کرے ‘ دوسرا قول یہ ہے کہ جو حج ریاکاری کے لیے نہ کیا جائے ‘ تیسرا قول یہ ہے کہ جس حج کے بعد انسان گناہ نہ کرے ۔


علامہ سید امین ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ متوفی ١٢٥٢ ھ نے لکھا ہے کہ حدیث میں ہے جس نے حج کیا اور جماع یا اس سے متعلق باتیں نہیں کیں اور نہ کوئی کبیرہ گناہ کیا وہ اس طرح ہوجائے گا جس طرح اس دن تھا جس دن اپنی ماں کے بطن پیدا ہوا تھا ‘ اس سے مراد ہے کہ حج کے احرام سے لے کر حج مکمل ہونے تک۔ (رد المختار ج ٢ ص ‘ ١٦١ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)


برکت کا دوسرا معنی دوام اور بقاء ہے ‘ اور چونکہ روائے زمین پر ہر وقت کسی نہ کسی جگہ نما زکا وقت ہوتا ہے اس لیے ہر وقت کعبہ کی طرف توجہ کرکے عبادت کی جاتی ہے اور خود کعبہ میں بھی ہر وقت نماز پڑھی جاتی ہے اس لیے کعبہ کی طرف منہ کرکے اور خود کعبہ میں دائما عبادت کی جاتی ہے ۔


کعبہ تمام ” العلمین “ کےلیے ہدایت ہے اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں : ⏬


(١) کعبہ تمام روئے زمین کے نماز پڑھنے والوں کے لیے قبلہ ہے اور وہ اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں اس لیے کعبہ تمام جہان والوں کے لیے سمت قبلہ کی ہدایت ہے ۔ 

(٢) کعبہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتا ہے اور کعبہ میں جو عجائب اور غرائب ہیں وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدق اور آپ کی نبوت پر دلالت کرتے ہیں اس اعتبار سے کعبہ تمام جہان والوں کے لیے ہدایت ہے ۔ 

(٣) کعبہ تمام جہان والوں کو جنت کی ہدایت دیتا ہے جو خلوص نیت سے کعبہ کی زیارت کرے ‘ کعبہ کا طواف کرے اور اس میں نمازیں پڑھے کعبہ ان کو جنت کی ہدایت دیتا ہے ۔ (مخوذ تفسیر تبیان القرآن) ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

Sunday, 12 July 2026

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والوں کےلیے لمحہ فکریہ

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والوں کےلیے لمحہ فکریہ



محترم قارئینِ کرام : حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو ، اللہ سے ڈرتے رہو ، میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بناؤ ، پس جس کسی نے ان سے محبت کی توبالیقین اس نے میری محبت کی خاطر ان سے محبت کی ہے اور جس کسی نے ان سے بغض رکھا تواس نے مجھ سے بغض کی بناء پر ان سے بغض رکھاہے اور جس کسی نے ان کو اذیت پہونچائی یقیناً اس نے مجھ کو اذیت دی ہے اور جس نے مجھ کو اذیت دی یقینا اس نے اللہ کو اذیت دی ہے اور جس نے اللہ کو اذیت دی قریب ہے کہ اللہ اس کی گرفت فرمائے ۔ (جامع ترمذی ابواب المناقب جلد 4 صفحہ 557 حدیث نمبر 4219 مطبوعہ دارالتراصیل،چشتی)


جو معاویہ رضی اللہ عنہ کے درپے ہوتا ہے تو وہ جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم کے درپے ہوتا ہے : ⏬


محترم قارئینِ کرام : رافضی اور اُن کے دلاّل نیم رافضی بغضِ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ انہیں دن میں سورج نظر نہیں آرہا ایک پوسٹ رافضی اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کی دیکھنے میں آئی حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب میں یہ رافضی اور اُن کے دلاّل نیم رافضی حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ دے رہا ہے جبکہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا زمانہ اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں کم و بیش ایک ہزار سال کا فرق ہے حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 215 ہجری میں اور وفات 303 ہجری میں ہوئی اور حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1159 ہجری اور وفات 1239 ہجری میں ہوئی نہ جانے رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کو امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب سے شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ کیسے مل گیا کہنا پڑے گا یہ بھی رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کی مکاریاں ہیں جو عوامِ اہل سنت کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں جب حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی بات آ ہی گئی ہے تو حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے تعلق سے عقیدہ بھی ملاحظہ کر لیجیے حضرت امام المزی رحمۃ اللہ علیہ حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل فرماتے ہیں : سئل أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ النَّسَائي عَنْ معاوية بْن أَبي سفيان صاحب رَسُول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَالَ : إنما الإسلام كدار لها باب ، فباب الإسلام الصحابة ، فمن آذى الصحابة إنما أراد الإسلام، كمن نقر الباب إنما يريد دخول الدار ، قال : فمن أراد معاوية فإنما أراد الصحابة ۔

ترجمہ : حضرت ابوعبدالرحمن المعروف امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ سے سیدنا معاویہ بن سفیان صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم (رضی اللہ عنہما) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اسلام گویا ایک گھر ہے جس کے دروازے ہیں اسلام کے دروازے صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں پس جس نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اذیت دی گویا اس نے اسلام کو اذیت دینے کا ارادہ کیا کیونکہ جو دروازہ توڑنا چاہتا ہے وہ گھر میں داخل ہونا چاہتا ہے پس جو معاویہ رضی اللہ عنہ کے درپے ہوتا ہے تو وہ جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم کے درپے ہوتا ہے ۔ (تہذیب الکمال جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 339 ، 340 مؤسسۃ الرسالہ،چشتی)


حضرت امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کے منہ پر جوتا لگایا ہے لہٰذا رافضیوں اور اُن کے دلاّل نیم رافضیوں کو اب امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے غلط بیانی کرنے سے باز آجانا چاہیے اور کسی گندی نالی میں ڈوب کر مرجانا چاہیے ۔ معلوم ہوا صحابی رسول حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے سوء اعتقاد رکھنے والا صرف حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کی تنقیص پر نہیں رکتا ہے بلکہ وہ جمیع اصحاب نبوی رضی اللہ عنہم پر تبراء سے بھی پھر باز نہیں آتا ہے جس کا بالکل آج کل مشاہدہ ہو رہا ہے ۔ یہ بھی معلوم ہوا امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے عقیدت رکھتے تھے امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے واقعہ سے غلط مفھوم گھڑ کر جو حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرتے ہیں وہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کو آنکھیں کھول کر پڑھیں شائد اگر ضمیر زندہ ہو تو توبہ رجوع کی توفیق مل جائے اللہ تعالی ہم سب کو آل و اصحاب کا ادب نصیب فرمائے آمین ۔


حضرت ربیع ابن نافع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت امر معاویہ رضی اللہ عنہ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان پردہ ہیں ، جو یہ پردہ چاک کرے گا ، وہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہ ، پر لعن طعن کی جرات کر سکے گا ۔ (مختصرتاریخ دمشق جلد 25 صفحہ 74 مطبوعہ دارالفکر)


سیّدُ السادات حضرت سیّد ابوالحُسین احمد نوری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : اہلسنت و جماعت لوگ رافضیوں کے پاس آنے جانے بیٹھنے کی وجہ سے حضرت امیر معاویہ و دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کرنے لگے ہیں اور حضرت امیر معاویہ و دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کُھلا ہوا رِفض ہے ۔ (سراج العوارف فی الوصایا والمعار پچیسواں نور صفحہ 61)


گمراہی کی سیڑھی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اہلِ سنت سے نکل کر تفضیلی ہو جاتا ہے تو اس کےلیے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالیاں دینا کوئی بڑی بات نہیں رہتا ۔ علماء نے فرمایا ہے کہ امیر معاویہ شرم و حیاء کا پہلا پردہ ہیں ۔ جس نے اس پردے کو پھاڑ ڈالا اس کےلیے باقی صحابہ پر زبان درازی کرنا آسان ہو گیا اور واضح رافضی ہو گیا ۔ (البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 139 مطبوعہ مکتبة المعارف بیروت،چشتی)(البدایہ والنہایہ مترجم اردو جلد 8 صفحہ 182 مطبوعہ نفیس اکیڈمی کراچی)


اول تو تفضیلیوں کے دلائل سے رافضیت لازم آتی ہے ، پھر آج جو لوگ خود تفضیلی ہیں یا ان میں تفضیل کے جراثیم پائے جاتے ہیں کل اگر وہ خود نہیں تو ان کی اولادیں ضرور رافضی ہو جائیں گی ۔


ایسے لوگ رافضیوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں ۔ ان کی محافل میں جاتے ہیں وہاں جا کر تقریریں کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے ورنہ ان شاء اللہ ان کا جنازہ رافضی ہی پڑھائیں گے اور ان کی موت کے بعد رافضیوںں کی طرف سے بیانات شائع ہوں گے کہ الحمد للہ فلاں صاحب اثنا عشری ہو کر مرے اور ان کا خاتمہ ایمان پر ہوا ۔ اس جملے میں ہم نے اپنے وسیع تاریخی تجربے کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ خرد باید ۔ کوفہ میں حضرت سیدنا امام ِحسین رضی اللہ عنہ  کو دعوت دینے والے یہی غالی قسم کے عاشق تھے جو آپ رضی اللہ عنہ  کو حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ  کے خلاف بھی دعوت دے چکے تھے ۔ یہی لوگ بعد میں ترقی فرما کر ماتمی بنے اور تبرا کا تحفہ پہلے سے ہی ابنِ سبا نے تیار کر رکھا تھا جسے انہوں نے آسانی سے قبول کر لیا ۔


حضرت سید میر حامد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت عامر شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اَلرِّفْضُ سُلَّمُ الزَّنْدَقَۃِ  فَمَا رَأَیْتُ رَافِضِیًّا اِلَّا وَرَأَیْتُہٗ زِنْدِیْقاً ۔

ترجمہ : رفض زندقہ کی سیڑھی ہے ۔ میں نے جس رافضی کو بھی دیکھا ہے وہ زندیق نکلا  (سبع سنابل مترجم اردو صفحہ 87 ، 88 مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)


یہی وجہ ہے کہ عصرِ حاضر میں ہر حکیم و دانا عالم پر اس فتنے کا سنجیدگی سے نوٹس لینا لازم ہے ورنہ محافلِ نعت میں دھمال مار مار کر ، قلندری اور حب ِعلی (رضی اللہ عنہ) کا نام استعمال کر کر کے اور ہاضمے کے نام پر زہر کی گولیاں کھلا کھلا کر عوام کو زندقہ کی راہ پر ڈال دیا جائے گا ۔ حضرت سیدنا قطب الاقطاب غوث الاعظم حسنی حسینی سید شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : یہ لوگ شعروں کو طریقت کا قرآن قرار دیتے ہیں ۔ خود کو قلندری اور حیدری کہتے ہیں اور اہلِ سنت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ یہ اہلِ سنت نہیں ہیں ۔ وَیَقُوْلُوْنَ : اَلْقُرْآنَ حِجَابٌ ، وَالْاَشْعَارُ قُرْآنُ الطَّرِیْقَۃِ ۔۔۔ ثُمَّ انْتَسَبَ بَعْضُہُمْ اِلیٰ قَلَنْدَرَ وَ بَعْضُہُمْ اِلیٰ حَیْدَر الخ ۔ (سرالاسرار عربی صفحہ 141 ، 142 مطبوعہ دارالسنابل،چشتی)


اَبدال ، اولیاء اللہ کی وہ قسم ہے جس کی برکت سے بارش برستی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے ۔ ثقہ محدث امام محمد بن عبد الملک رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے زمانے کے ابدال تھے ، آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زیارت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خلفائے اربعہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنھم بھی تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس راشد کندی نامی ایک شخص آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ہماری تنقیص کرتا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے جھڑکا تو وہ کہنے لگا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اِن کی نہیں ، صرف معاویہ کی تنقیص کرتا ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس کے منہ سے یہ الفاظ سن کر) تین مرتبہ فرمایا : ویلک اولیس من اصحابی ۔ تیرا ناس ہوجائے ، کیا معاویہ میرے صحابی نہیں ؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاویہ کو نیزہ دے کر فرمایا : یہ اس کے سینے میں مارو ! آپ رضی اللہ عنہ نے اسے نیزہ دے مارا ۔ حضرت محمد بن عبدالملک رحمۃ اللہ علیہ صبح راشد کندی کے گھر پہنچے تو معلوم ہوا وہ مرگیا ہے ، اسے رات کو کسی نے ذبح کر دیا تھا ۔ (تاریخ دمشق معاویۃ بن صخر ابی سفیان جلد نمبر 59 صفحہ نمبر 212 دارالفکر بیروت)(البدایۃ والنھایۃ ترجمۃ معاویۃ وذکر شئ من ایامہ ۔ جلد 8 صفحہ 140 مکتبة المعارف بیروت 1408ھ،چشتی)(مختصر تاریخ دمشق معاویۃ بن صخر ابی سفیان جلد 25 صفحہ 76 ، 77 دارالفکر)


حضرت قطب ربانی امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جس نے اللہ عزوجل کے ولی کی توہین کی اس کے دل میں زہر آلود تیر پیوست کر دیا جاتا ہے ، اور وہ نہیں مرتا ، حتی کہ اس کا عقیدہ فساد کی نذر ہو جاتا ہے ، اور اس پر برے خاتمے کا خوف ہوتا ہے ۔ (الیواقیت الجواہر مترجم صفحہ نمبر 67)


جب اولیاء اللہ کی توہین کا یہ عالم ہے تو تمام ولیوں سے افضل ہستیوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخوں اور بے ادبوں کا کیا انجام ہوگا یہ خود ہی اندازہ کرلیں ۔ جنابِ من حاجی ہو محدث ہو حافظ ہو مقرب ہو عالم ہو قاری ہو شیخ ہو مفکر ہو مصنف ہو یا ولی اللہ ہو ایک بھی صحابی کا ہلکا سا بغض دل میں لیے مر گئے تو جہنم تمہاری منزل ہوگی ۔


شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : معلوم ہونا چاہیے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں اور فضیلت جلیلہ کے حامل اصحاب میں شامل ہیں ، خبردار ! معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں بدگمانی نہ کرنا اور سب و طعن میں پڑ کر حرام فعل کا ارتکاب نہ کرنا ۔ (ازالۃ الخفا عربی جز اول صفحہ 562 مطبوعہ دارالقلم دمشق،چشتی)(ازالۃ الخفا مترجم جلد اول صفحہ 571 مطبوعہ قدیمی کتبخانہ کراچی)


جو حضرت امیر معاویہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتّوں سے ایک کُتا ہے : ⏬


امام شہاب الدین خفاجی رحمۃ اللہ علیہ نے نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ میں فرمایا : ومن یکون یطعن فی معاویۃ ۔ فذالک کلب میں کلاب الہاویۃ ۔

ترجمہ : جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں سے ایک کتا ہے ۔ (نسیم الریاض جز رابع صفحہ 525 مطبوعہ دارالکتب علمیہ بیروت لبنان)


امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے وہ جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 264 مطبوعہ لاہور)


امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرنے والا جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے اور بد تر خبیث تبرائی رافضی ہے ایسے شخص کو امام بنانا جائز نہیں ہے ۔ (احکام شریعت صفحہ نمبر 120 ، 121 )


امام المفسرین علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ جائز نہیں کہ کسی بھی صحابی کی طرف قطعی اور یقینی طور پر غلطی منسوب کی جائے اس لیے کہ ان سب حضرات نے اپنے اپنے طرز عمل میں اجتہاد سے کام لیا تھا اور ان سب کا مقصد اللہ کی خوشنودی تھی یہ سب حضرات ہمارے پیشوا ہیں اور ہمیں حکم ہے ان کے باہمی اختلافات میں کف لسان کریں اورہمیشہ ان کا ذکر بہتر طریقہ پر کریں ، کیونکہ صحابیت بڑی حرمت (وعظمت) کی چیز ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ نے انہیں معاف کر رکھا ہے اور ان سے راضی ہے ۔ (تفسیر قرطبی جلد نمبر ۱۶، ص:۳۲۲)


مقامِ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سچے سُنی سادات کی نظر میں : ⏬


علامہ سید احمد حبیب شاہ کاظمی شاہ صاحب علیہ الرحمہ جو غزالی زماں حضرت سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے بھتیجے ہیں ، ان سے ایک مرتبہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ سرزد ہو گئے ، تو آپ نے توجہ دلاے جانے پر تحریری طور پر نہ صرف توبہ و رجوع کیا میرا مقصد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین و تنقیص اور اُن پر طعن و تشنیع ہرگز نہیں ۔ مسلمان کسی صحابی کے حق میں ایسی جرات مسلمان نہیں کر سکتا ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہوئے کچھ یوں عرض گزار ہوۓے کہ : اے اللہ عزوجل حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی روح مبارک کو مجھ سے راضی کر دے تاکہ آخرت میں تیرا یہ بندہ عاصی تیری رحمتوں سے محروم نہ ہو ۔ (مقالات کاظمی جلد 4 صفحہ 367 ، 368،چشتی)


فقیر دونوں صفحات کے اسکینز پیش کر رہا ہے جنہیں آپ خود پڑھ سکتے ہیں ، اس توبہ نامے کی تائید و تعریف غزالی زماں حضرت سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے بھی فرمائی ، اور اپنے بھتیجے سے یہ نہ فرمایا ، کہ ہم تو سادات ہیں آلِ رسول ہیں مولائی ہیں ،،نو ڈیمانڈ معاویہ کا نعرہ لگاؤ،، اور لوگوں کا منہ بند کرنے کےلیے بس ظاہری توبہ و رجوع کرلو ، یہ روح کو راضی کرنا کون سا ضروری ہے ۔ مگر یہ سادات کرام جانتے تھے ، کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ، اور ان کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی بھی رب تعالیٰ کی رحمتوں سے محرومی کا سبب بن سکتی ہے ، اس لیے انہوں نے نہ صرف توبہ کی بلکہ حضرت معاویہ کی روح مبارک کو بھی راضی کرنے کی سعی فرمائی ۔ علامہ سید احمد حبیب شاہ کاظمی شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے اس مبارک عمل سے آج کے اُن سادات کرام کو سبق حاصل کرنا چاہیے ، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں زبانِ طعن دراز کرتے ہوٸے ذرا برابر بھی شرم و حیا محسوس نہیں کرتے ، کہ جنہیں ہم لعن و طعن کا نشانہ بنا رہے ہیں ، وہ کوئی عام شخص نہیں ، بلکہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس امت کا سب افضل و اعلیٰ لوگوں کا طبقہ ہے ۔ اللہ عزوجل ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گستاخ جہنمی کتا ہے ، اگر کوئی چورہ شریف سے تعلق رکھ کر حضرت امیر معاویہ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہم گدی نشین ہونے کی حیثیت سے اسے تنبیہ کرتے ہیں انسان بن جاؤ ۔ (الدرّۃ الحیدریہ علیٰ کلب الھاویہ عدوّ معاویہ صفحہ نمبر 8 مطبوعہ کرمانوالہ بک شاپ لاہور،چشتی)


پاکستان کے نقشبندی مجددی آستانوں کے مرکزی آستانہ عالیہ چورہ شریف کا واضح حکم آ جانے کے بعد بھی اگر چورہ شریف کا کوئی مرید حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی گستاخی کے گھناؤنے فعل میں ملوث ہے تو وہ باز آ جائے اور آئندہ کے لیے توبہ کرے ۔ اور یہ بات کبھی نہ بھولے کہ ایک صحیح العقیدہ آستانے کے مرید نہ تو خارجیوں کے عقیدہ کے داعی ہیں اور نہ ہی رافضیوں کے عقیدہ کے داعی ۔


اللہ تعالٰی ہم سب کو امت کے بہترین طبقہ صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم اجمعین کا کما حقہ احترام اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)


























































مسئلہ باغ فدک اور حضرت ابوبکر صدیق و حضرت فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہما

مسئلہ باغ فدک اور حضرت ابوبکر صدیق و حضرت فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہما محترم قارئینِ کرام : شیعہ حضرات کا مشہور محقق ملاّ باقر مجلسی انتہائی...