Wednesday, 14 October 2026

حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا جس سے ناراض ہو جائیں وہ صحابی نہیں غلام نبی نجفی کو مدلل جواب

حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا جس سے ناراض ہو جائیں وہ صحابی نہیں غلام نبی نجفی کو مدلل جواب






محترم قارئینِ کرام : حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا جس سے ناراض ہو جائیں وہ صحابی نہیں ۔ اگر اس میں میں اشارہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طرف ہے ⁦ تو ایسے جہلا کو یہ بھی بتا دو کہ حضرت سیدہ خاتون جنت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا تو حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ناراض ہو کے گھر تشریف لے گئی تھیں ؟ ۔ ان جہلا کی جہالت سے نہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ بچتے ہیں نہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ۔ شیعوں اور ان کے فضلہ خوروں کا کہنا ہے کہ حضرت سیدہ خاتون جنت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا جس سے ناراض ہو جائیں وہ صحابی نہیں ہے ۔ اگر واقعی ان جہلا کا یہی قانون اور قاعدہ ہے تو پھر ہم ان جہلا سے ہی کہتے ہیں کہ حضرت سیدہ خاتون جنت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا حضرت سیدنا مولا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے بھی کئی بار ناراض ہوئیں ہیں ان دونوں کی آپس کی ناراضگی کے بارے میں یہ جہلا کیا کہیں گے ؟ ۔ ان کے بقول سوال تو بنتا ہے کہ پھر حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ صحابی و سر کا تاج رہے کہ نہ رہے ؟ ۔ أَسْتَغْفِرُ اللّٰه ۔

شیعہ محقق نعمة اللہ جزائری لکھتا ہے : حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کو شاہ حبشہ نے ایک لونڈی ہبہ کی انہوں نے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہبہ کر دی ۔ ایک دن حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا سر مبارک اس لونڈی کی گود میں تھا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اے ابو الحسن آپ نے اس سے جماع کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا خدا کی قسم اے بنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے اس سے کچھ نہیں کیا ۔ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراضگی کے عالم میں کہا کہ آپ مجھے رخصت دے دیں کہ میں اپنے والد گرامی کے گھر چلی جاوں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اس کی اجازت دے دی ۔ (شیعہ کتاب : انوار نعمانیہ جلد 1 صفحہ 62 ، 63،چشتی)(انوار نعمانیہ جلد 1 صفحہ 85 مطبوعہ بیروت لبنان)

شیعہ محقق نعمة اللہ جزائری لکھتا ہے : حدیث میں وارد ہوا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا کہ وہ باغ جس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لگایا تھا ۔ بازار جا کر تجار حضرات کے پاس فروخت کردو ۔ چنانچہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بارہ ہزار درہم پر اسے فروخت کر دیا ۔ اور یہ رقم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیش کر دی ۔ وہاں ایک اعرابی تھا اس نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے اس رقم میں سے چار ہزار چالیس درہم اس کو عطا کیے ۔ تو یہ خبر مدینہ شریف میں پھیل گئی ۔ لہٰذا تمام لوگ جمع ہو گئے ۔ اور ایک آدمی انصار میں سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور اس نے آپ کو مذکورہ واقعہ کی خبر دی ۔ تو آپ نے اسے دعا دی ۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وہاں بیٹھے ہوئے بقایا تمام رقم لوگوں میں تقسیم کر دی ۔ یہاں تک کہ ایک درہم بھی باقی نہ رکھا ۔ اس کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے میرے باپ کے باغ کو فروخت کر دیا ہے ؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہاں میں نے فروخت کر دیا ہے ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا کہ رقم کہاں ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ک میں نے اللہ کے راستہ میں تقسیم کر دی ہے ۔ اس کے جواب میں پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں بھوکی ہوں ہمارے بیٹے بھوکے ہیں اور آپ بھی ہماری طرح بھوکے ہیں اور ہمارے پاس ایک درہم بھی نہی ہے ۔ اور یہ کہہ کر حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دامن پکڑا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے فاطمہ مجھے چھوڑ دے ۔ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ہرگز نہی چھوڑوں گی ۔ یہاں تک کہ میرے اور آپ کے درمیان میر ے ابا جان فیصلہ فرمائیں ۔ پس حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو اور علی کو اللہ تعالی سلام فرماتا ہے ۔ اور آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فرما دیجیے کہ تیرے لیے یہ جائز نہی کہ تو علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر مارے اور اس کے دامن کو نہ چھوڑے ۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے گھر آئے ۔ تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کادامن پکڑا ہوا تھا ۔ تو آپ نے فرمایا کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دامن کو کیوں پکڑ ا ہوا ہے ۔ پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مذکورہ واقعہ سنایا تو اس پر آپ نے فرمایا کہ اے بیٹی میرے پاس جبرائیل تشریف لائے تھے اور مجھے اور علی رضی اللہ عنہ کو اللہ کا سلام پہنچایا اور فرمایا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فرما دیجیے کہ تیرے لیے جائز نہیں ہے کہ تو حضرت علی کے ہاتھوں پر مارے لہٰذا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا اور معافی مانگی ۔ (شیعہ کتاب : انوارنعمانیہ جلد 1 صفحہ 48 مطبوعہ دارالکوفہ،چشتی)(انوار نعمانیہ جلد 1 صفحہ 66 مطبوعہ بیروت لبنان)

حضرت سیدہ فاطمہ حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہما) سے ناراض تھیں کا جواب : ⏬

محترم قارئینِ کرام : شیعہ رافضی اور نیم رافضی تفضیلی حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنه پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو باغ فدک نہیں دیا جس کی وجہ سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اپنی وفات تک حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اپنی وفات تک ناراض رہیں ان سے بات نہیں کی ۔ یہ شیعہ رافضی اور نیم رافضی تفضیلی کے جھوٹ میں سے ایک بہت بڑا جھوٹ ہے جبکہ ان کی خود کی کتب میں اس بات کی تردید موجود ہے ۔ رافضیوں کے رد میں لکھی گئی لاجواب کتاب تحفہ اثنا عشریہ میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : اہل سنت کی روایات تو وہ بھی مدارج النبوت کتاب الوفاق ۔ بیہقی اور مشکوۃ شریف میں موجود ہیں بلکہ شرح مشکوۃ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه اس قضیہ کے بعد حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنه کے گھر تشریف لے گئے اور دھوپ میں دروازہ پر کھڑے ہوئے اور عذر چاہا اور حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنه ان سے راضی ہوئیں ۔
ریاض النضرہ میں بھی یہ قصہ تفصیل سے مذکور ہے اور فصل الخطاب میں بروایت بیہقی شعبی سے یہ قصہ منقول ہے اور ابن الدمام کتاب الموافقہ میں اوزاعی سے روایت ہے کہ گرمی کے دن حضرت سیدنا صدیق اکبر حضرت فاطمہ رضی الله عنه کے دروازہ پر تشریف لائے اور فرمایا اے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی میں اس جگہ سے نہیں ہٹوں گا جب تک آپ راضی نہ ہوجائیں تو حضرت علی رضی اللہ عنه حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنه کے پاس گئے اور ان کو قسم دی کہ وہ راضی ہوجائیں پس حضرت فاطمہ راضی ہوئیں ۔
اور شیعہ میں زیدیہ تو نعیمیہ اہل سنت کی روایت کے موافق روایت کرتے ہیں اور امامیہ میں سے صاحب محجاج السالکین اور دوسرے یو روایت کرتے ہیں : ⬇

ان ابابكر لماراى ان فاطمة انقبضهت عنه وحجرته ولم تتكلم بعد ذلك فى امر فدك كبر ذلك عنده فاراد استرمناء ها فقال لها صدقت يا ابنة رسول الله فيما ادعيت ولكنى رايت رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم يقسمهما فيعطى الفقراء والمساكين وابن السبيل بعد ان يوتى منها قوتكم والصانعين بها فقالت افعل فيها كما كان ابى رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم یفعل فیھا فقال ذلك الله على ان افعل فيها ماكان يفعل ابوك فقالت والله لتفعلن فقال والله لا فعلن فقالت اللهم اشهد فرضيت بذلك واخذت العهد عليه وكان ابوبكر يعطيهم منها قوتهم ويقسم الباقى فيعطىالفقراء والمساكين وابن السبيل ۔
ترجمہ : (حضرت) ابوبکر نے دیکھا کہ حضرت فاطمہ مجھ سے کبیدہ خاطر ہوئیں اور مجھ سے تعلقات توڑ لئے اور اس کے بعد گسل کے معاملہ مین کوئی بات نہیں اٹھائی تو یہ بات ان پر بہت شاق گذری چاہا کہ ان کو اپنے سے راضی کریں پس آئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس اور کہا ان سے اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی تم اپنے دعوے میں سچی تھیں لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دیکھا کہ اس کو تقسیم کیا کرتے تھے فقیروں مسکینوں اور مسافروں کودیا کرتے جب تم کو تمہارے گذارے کے موافق اور اس میں کام کرنے والوں کو دے چکتے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو کرو اس میں جیسا میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کیا کرتے تھے پھر کہا حضرت ابوبکر نے قسم ہے خدا کی تمہارے واسطے کرونگا وہ کام جو کچھ تمہارے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کیا کرتے تھے تو آپ بولیں قسم خدا کی آپ ایسا ہی کرو گے حضرت ابوبکر نے فرمایا قسم بخدا میں ضرور کرونگا تو اسپر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنه نے ارشاد فرمایا اے اللہ تو گواہ رہنا پس راضی ہوئی حضرت فاطمہ حضرت ابوبکر سے اور اسپر عہد لیا پھر حضرت ابوبکر (باغ فدخل سے) دیا کرتے تھے انکا گذار اس سے اور باقی فقیروں مسکینوں اور مسافروں پر تقسیم کرتے ۔ (یہ عبارت شعیہ کتاب محجاج السالکین اور دوسری معتبر کتابوں کی عبارت ہے)

اس عبارت سے صاف پتہ چلا کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ نے حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ کے دعوے کی تصدیق فرمائی لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا اس میں تاحین حیات تصرف کرنا اور اس پر قبضہ نہ کرنا اس کو انہوں نے ملک کے مخالف جانا جیسا کہ تمام امت کے نزدیک یہ طے شدہ بات ہے اب حضرت ابوبکرصدیق نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے دعوے کی تصدیق فرمائی تو پھر ام ایمن اور حضرت علی رضی للہ عنہ کے گواہ بنانے کی ضرورت کیا رہ گئی ۔

خدا کا شکر ہے خود روایات شیعہ (امامیہ) کی رو سے حق منکشف ہوگیا اور تہمت جو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ پر لگائ تھی کہ آپ نے شہادت کو رد کیا اور دعوے کو کیا سراسر جھوٹ ثابت ہوئی ۔
والله يحق الحق ويبطل الباطل ۔
ترجمہ : اور اللہ حق کوثابت کرتا ہے اور باطل کو باطل ۔
حافظ ابن کثیر ( متوفی 774ھ) تصریح فرماتے ہیں : فلما مرضت جاءها الصدیق فدخل علیها فجعل یترضاها فرضِیت ۔
ترجمہ : جب فاطمہ رضی اللہ عنہس بیمار پڑگئیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کےپاس تشریف لائے اور ان کو راضی کرنے لگے حتیٰ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ان سے راضی ہوگئیں۔ (البدایۃ والنھایۃ: 6؍33… نیز دیکھئے العواصم من القواصم: ص38،چشتی)

امام محمد بن سعد (متوفی 230، 235ھ) کی تصریح : أخبرنا عبد الله بن عمر حدثنا إسماعیل عن عامر الشعبی قال جاء أبوبکر إلىٰ فاطمة حین مرضت فاستأذن. فقال علي: هٰذا أبوبکر على الباب فإن شئتِ أن تأذن له. قالت وذلك أحب إلیك، قال نعم فدخل علیها واعتذر إلیها وکلّمها فرضیتْ عنه ۔
ترجمہ : حضرت عامر شعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا بیمار پڑگئیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہوکر اندر داخل ہونے کی اجازت طلب فرمائیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اے فاطمہ ! ابوبکر اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں (اگر اجازت ہو) تو حضرت فاطمہ نے فرمایا : اگر آپ کو ان کے اندر آنے پراعتراض نہ ہو تو تشریف لے آئیں ۔ حضرت علی نے فرمایا : مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔ تب ابوبکر صدیق اندر آگئے اور معذرت کرتے ہوئے ان کو راضی کرنے لگے ۔ حضرت فاطمہ نے ان کی معذرت کو پذیرائی بخشتے ہوئے صلح کرلی اور ان سے راضی ہوگئیں ۔ (طبقات ابن سعد: 8؍17، تذکرہ فاطمہ؛ورحمآء بینهم : 1؍147،چشی)(ریاض النضرہ فی مناقب العشرة:1 ؍115)

امام بیہقی کی تصریح : عن الشعبی قال لما مرضت فاطمة أتاها أبوبکر الصدیق فاستأذن علیها فقال علي: یا فاطمة! هٰذا أبوبکر یستأذن علیك فقالت أتحب أن أذن له قال نعم فأذنت له فدخل علیها یترضاها وقال والله ماترکت الدار والمال والأهل والعشیرة إلا ابتغاء مرضاة الله ومرضاة رسوله ومرضاتکم أهل البیت ثم ترضاها حتی رضیت ۔ هٰذا مرسل حسن بإسناد صحیح ۔
ترجمہ : جب حضرت فاطمۃ الزہراء بیمار ہوئیں تو حضرت ابوبکر صدیق ان کی تیمار داری کے لیے تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت طلب فرمائی۔ حضرت علی نے حضر ت فاطمہ سےکہا کہ ابوبکر صدیق اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں ۔ حضرت فاطمہ نے کہا کہ اگر ان کا آنا آپ کو پسند ہے تو ٹھیک، حضرت علیؓ نے فرمایا: ان کا اندر آنا مجھے گوارا ہے۔اجازت ہوئی، ابوبکر صدیق اندر تشریف لائے اور حضرت فاطمہ کی رضا مندی حاصل کرنے کی خاطر گفتگو شروع کرتے ہوئے حضرت ابوبکر نے فرمایا : اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی رضا مندی کی خاطر اور آپ (اہل بیت) کی خوشنودی کے لیے ہم نے گھر بار مال و دولت، خویش و اقربا کو چھوڑا۔ اس طرح کی گفتگو کاسلسلہ شروع رکھا حتیٰ کہ سیدہ فاطمہؓ ابوبکر صدیقؓ سے راضی ہوگئیں ۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی مع الجوہر النقی : 6؍301)(فتح الباری : 6 ؍151)

امام اوزاعی کی تصریح:عن الأوزاعی قال: فخرج أبوبکر حتی قام علىٰ بابها في یوم حار ثم قال لا أبرح مکاني حتی ترضی عني بنت رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فدخل علیها علي فأقسم علیها لترضی فرضیت۔
’’امام اوزاعی سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ایک گرم دن میں حضر ت فاطمہ کے دروازہ پر پہنچے او رفرمایا : جب تک رسول زادی مجھ سے راضی نہ ہوگی یہاں سے ہٹنے کا نہیں۔ حتیٰ کہ حضرت علی حضر ت فاطمہ کے پاس آئے اور ان کو قسم دی کہ آپ ابوبکر سے راضی ہوجائیں تو اس پر حضرت فاطمہ راضی ہوگئیں ۔ (أخرجه ابن السمان في الموافقه، ریاض النضرۃ فی مناقب العشر المبشرۃ : 1؍156 ،157 و تحفۃ اثنا عشریۃ جواب طعن سیزدہم)

حضرت سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے سخت ناراض ہوگئیں تھی شیعہ اعتراض : ⬇

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وصال کے بعد سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ سے باغ فدک کا مطالبہ کیا تو انہوں نے سیدہ کو باغ فدک دینے سے صاف انکار کردیا جس پر سیدہ ناراض ہوگئیں اور مرتے دم تک حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ سے نہ بولیں ۔ حتی کہ یہ وصیت کرگئیں کہ میرے جنازہ میں ابوبکر شریک نہ ہوں۔ چنانچہ بوقت وفات حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے ابوبکر کو اطلاع بھی نہ دی اور راتوں رات سیدہ کو دفن کردیا ۔ دیکھو ابوبکر نے جگرپارۂ رسول کو ناراض کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ہے فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی اذیت سے مجھے بھی اذیت ہوتی ہے تو ابوبکر نے فقط فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو غضب ناک نہیں کیا بلکہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو غضبناک کیا اور اغضاب النبی علی حد الشرک ۔ (خلاصہ از کتاب سواء السبیل ص159، مصنف محمد مہدی شیعہ عالم)

جواب : یہ تھی شیعہ مولوی کی تحریر جس میں شیعہ بدخت نے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ کو مشرک تک کہہ دیا (معاذ ﷲ) اس پوری تحریر میں صرف اتنی بات صحیح ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے اپنے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وصال کے بعد سیدنا صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ سے باغ فدک کا مطالبہ کیا تو سیدنا صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ نے جواب میں اپنے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حدیث شریف سیدہ کو سنائی ۔
حدیث شریف : حضرت عروہ بن زبیر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ کےلیے پیغام بھیجا ۔ ان سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی میراث کا مطالبہ کرتے ہوئے جو ﷲ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو مدینہ منورہ اور فدک میں عطا فرمایا تھا اور جو خیبر کے خمس سے باقی تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ارشاد ہے ۔ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ہم جو کچھ چھوڑیں ، وہ صدقہ ہے مال سے آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کھاتے ہیں اور خدا کی قسم میں رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صدقہ میں ذرا سی تبدیلی بھی نہیں کروں گا اور اسی حال میں رکھوں گا جس حال میں وہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے عہد مبارک میں تھا اور میں اس میں عمل نہیں کروں گا مگر اسی طرح جیسے رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کیا کرتے تھے۔ پس حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ نے اس میں سے حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کو کچھ دینے سے انکار کردیا ۔ (سنن ابو داٶد جلد دوم، کتاب الخراج، حدیث 1194، ص 455، مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہور،چشتی)

یہ ناراضگی اور جنازہ میں عدمِ شرکت کا قصہ صرف اس لیے بنایا گیا ہے کہ شیعوں کے زعم باطل کے مطابق حضرت فاطمہ فدک کی وجہ سے آپ سے ناراض تھیں ، کیونکہ اگر یہ ثابت ہوجائے۔ سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر سے راضی تھیں تو شیعوں کےلیے طعن کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی ۔ اس لیے ہم فریقین کی کتب سے سیدہ فاطمہ کا حضرت ابوبکر سے راضی ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہیں : ⏬

شیعوں کی معتبر اور مشہور ترین کتاب شرح نہج البلاغہ ابن میسم بحرانی جز 35 ص 543 میں یہ روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے جب سیدہ کا کلام سنا تو حمد کی درود پڑھا اور پھر حضرت فاطمہ کو مخاطب کرکے کہا کہ اے افضل عورتوں میں اور بیٹی اس ذات مقدس کی جو سب سے افضل ہے۔ میں نے رسول کی رائے سے تجاوز نہیں کیا۔ اور نہیں عمل کیا میں نے ،مگر رسول کے حکم پر۔ بے شک تم نے گفتگو کی اور بات بڑھا دی اور سختی اور ناراضگی کی۔ اب ﷲ معاف کرے ہمارے لیے اور تمہارے لیے۔ اور میں نے رسول کے ہتھیار اور سواری کے جانور علی کو دے دیئے لیکن جو کچھ اس کے سوا ہے اس میں، میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : انا معاشر الانبیاء لا نورث ذہباً ولا فضۃ ولا ارضاً ولا عقاراً ولا داراً ولکنا نورث الایمان والحکمۃ والعلم والسنۃ وعملت بما امرنی ونصحت ۔
ترجمہ : ہم جماعت انبیاء نہ سونے کی میراث دیتے ہیں نہ چاندنی کی، نہ زمین کی، نہ کھیتی کی اور نہ مکان کی میراث دیتے ہیں لیکن ہم میراث دیتے ہیں ایمان اور حکمت اور علم اور سنت کی اور عمل کیا میں نے اس پر جو مجھے حکم کیا تھا (رسول نے) اور میں نے نیک نیتی کی ۔
اس کے بعد یہ ہے کہ حضرت فاطمہ نے یہ فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فدک کو ہبہ کردیا تھا جس پر انہوں نے علی اور ام ایمن کو گواہ پیش کیا۔ جنہوں نے گواہی دی پھر عمر آئے۔ انہوں نے اور عبدالرحمن بن عوف نے یہ گواہی دی کہ حضور فدک کی آمدنی تقسیم فرما دیتے تھے۔ اس پر حضرت صدیق اکبر نے فرمایا۔کان رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم یاخذ من فدک قوتکم ویقسم الباقی ویحمل فیہ فی سبیل ﷲ ولک علی اﷲ ان اصنع بہاکما کان یصنع فرضیت بذلک واخذت العہد علیہ بہ وکان یاخذ غلتھا فیدفع الیہم منھاما یکفیہمم ثم فعلت الخلفاء بعدہ ذلک ۔ (شرح میثم، مطبوعہ ایران، ج 35)

تم سب سچے ہو ۔ مگر اس کا تصفیہ یہ ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فدک کی آمدنی سے تمہارے گزارے کےلیے رکھ لیتے تھے، اور باقی جو بچتا تھا اس کو تقسیم فرما دیتے تھے اور ﷲ کی راہ میں اس میں سے اٹھا لیتے تھے اور میں تمہارے لیے ﷲ کی قسم کھاتا ہوں کہ فدک میں وہی کروں گا جو رسول کرتے تھے تو اس پر فاطمہ راضی ہوگئیں اور فدک میں اسی پر عمل کرنے کو ابوبکر سے عہد لے لیا اور ابوبکر فدک کی پیداوار کرلیتے تھے اور جتنا اہل بیت کا خرچ ہوتا تھا ان کے پاس بھیج دیتے تھے اور پھر ابوبکر کے بعد اور خلفاء نے بھی اسی طرح کیا ۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت سیدہ کی رضا مندی والی یہ روایت صرف ابن میثم ہی نے نہیں بلکہ متعدد علمائے شیعہ نے اپنی کتابوں میں ذکر کی ہے جن کے نام یہ ہیں ۔ (درنجیفہ شرح نہج البلاغہ مطبوعہ طہران ص 332)(حدیدی شرح نہج البلاغۃ جلد دوم، جز 16،ص 296،چشتی)(سید علی نقی فیض الاسلام کی تصنیف فارسی شرح نہج البلاغہ، جز 5،ص 960)

رضامندی کی اس روایت سے مندرجہ ذیل امور معلوم ہوئے : ⏬

اول : فدک کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے طرز عمل اور صدیق اکبر کے طرز عمل میں کوئی تفاوت نہیں تھا ۔
دوم : حضرت فاطمہ صدیق اکبر سے راضی تھیں اور صدیقی طرز عمل آپ کو پسند تھا ۔
قارئین کرام : للہ انصاف کیجئے ! اس روایت سے جو شیعوں کی معتبر مذہبی کتاب کی ہے بالکل واضح طور پر یہ ثابت ہوگیا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا قضیہ فدک میں حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے اور ان کے اس فیصلہ سے جو انہوں نے حدیث رسول کے ماتحت کیا راضی ہوگئیں اور سیدہ نے اس امر کا حضرت ابوبکر سے عہد بھی لے لیا کہ ابوبکر فدک کی آمدنی سے اہل بیت کے اخراجات پورے کریں گے ۔ ایسی صاف و صریح رضامندی کے بعد بھی شیعہ حضرات جناب صدیق اکبر پر زبانِ طعن دراز کریں تو اس کا علاج واقعی کچھ نہیں ہے ۔ مگر یہ ظاہر ہے کہ سیدہ کے راضی ہوجانے کے بعد کسی محب اہل بیت کےلیے تو یہ گنجائش باقی نہیں رہتی کہ وہ صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ پر طعن کر سکے ۔ البتہ نا انصافی سے کام لینا دوسری بات ہے ۔
سوم : اہل بیت کے اخراجات تمام عمر حضرت صدیق اکبر فدک کی آمدنی سے پورے کرتے رہے اور سیدہ اپنے اخراجات حضرت صدیق اکبر سے وصول کرتی رہیں اور صدیق اکبر کے طرز عمل کو سراہتی رہیں ۔
چہارم : نہ صرف صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ بلکہ تینوں خلفاء بھی ایسا ہی کرتے رہے اور انہوں نے فدک میں وہ طرز عمل اختیار کیا جو حضور علیہ السلام اور ان کے بعد صدیق کبر نے اختیار کیا ۔

حضرت عمر رضی ﷲ عنہ سے بھی سیدہ راضی تھیں : ⏬

شیعوں کی مشہور مذہبی کتاب حق الیقین مطبوعہ ایران کے صفحہ 71 پر ہے : کہ چوں علی وزبیر بیعت کرد ونداویںفتنہ فرد نشست، ابوبکر آمدہ شفاعت از برائے عمر ف فاطمہ از وراضی شد ۔
پھر جب حضرت علی و زبیر نے بیعت کرلی تو حضرت ابوبکر آئے اور حضرت عمر کے متعلق سفارش کی تو حضرت فاطمہ عمر سے بھی راضی ہوگئیں ۔
اسی طرح طبقات ابن سعد جلد 8 مطبوعہ ایران کے ص 17 پر ہے : جاء ابوبکر الی فاطمۃ حین مرضت فاستا دن فقال علی ہذا ابوبکر علی الباب فان شئت ان تاذنی لہ قالت وذلک احب الیک قال نعم فدخل علیہا واعتذر الیہا وکلمہا ورضیت عنہ ۔
حضرت ابوبکر فاطمہ کے پاس آئے جبکہ وہ بیمار تھیں ۔ انہوں نے اجازت چاہی تو حضرت علی نے کہا ابوبکر دروازہ پر ہیں اگر تم چاہو تو ان کی اجازت دے دو ۔ حضرت فاطمہ نے کہا کہ تم (علی) اس کو محبوب رکھتے ہو ۔ علی نے فرمایا۔ ہاں پس حضرت ابوبکر داخل ہوئے عذر کیا اور فاطمہ حضرت ابوبکر سے راضی ہوگئیں ۔
ایک منصف مزاج انسان کی یہ شان نہیں ہے کہ صرف ایک حدیث یا ایک روایت سے کوئی نتیجہ نکال کر خود فیصلہ کرلے ۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی واقعے کو جانچنے کےلیے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا  جائے ، تا کہ ہر راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی ہو سکے ۔
حدیثِ بخاری : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ،‏‏‏‏ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ “”لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ””، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الْأَشْهُرَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَكَ كَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ لَا وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ وَمَا عَسَيْتَهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا فَضْلَكَ وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَكُنَّا نَرَى لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبًا حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَبِي بَكْرٍ:‏‏‏‏ مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةَ لِلْبَيْعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الظُّهْرَ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ وَحَدَّثَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَىأَبِي بَكْرٍ وَلَا إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَكِنَّا نَرَى لَنَا فِي هَذَا الْأَمْرِ نَصِيبًا، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا:‏‏‏‏ أَصَبْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ ۔ (صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4240کتاب غزوات کے بیان میں ۔ باب : غزوہ خیبر کا بیان،چشتی)
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا اور ان سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اس مال سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ اور فدک میں عنایت فرمایا تھا اور خیبر کا جو پانچواں حصہ رہ گیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خود ہی ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ‘ البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اسی مال سے کھاتی رہے گی اور میں، اللہ کی قسم! جو صدقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم چھوڑ گئے ہیں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا۔ جس حال میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں  ( اس کی تقسیم وغیرہ )  میں میں بھی وہی طرز عمل اختیار کروں گا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا اپنی زندگی میں تھا۔ غرض ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ بھی دینا منظور نہ کیا۔ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خفا ہو گئیں اور ان سے ترک ملاقات کر لیا اور اس کے بعد وفات تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد چھ مہینے تک زندہ رہیں۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات میں دفن کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر نہیں دی اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھ لی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب تک زندہ رہیں علی رضی اللہ عنہ پر لوگ بہت توجہ رکھتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اب لوگوں کے منہ ان کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں۔ اس وقت انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کر لینا اور ان سے بیعت کر لینا چاہا۔ اس سے پہلے چھ ماہ تک انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت نہیں کی تھی پھر انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہلا بھیجا کہ آپ صرف تنہا آئیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لائیں ان کو یہ منظور نہ تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ آئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! آپ تنہا ان کے پاس نہ جائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں وہ میرے ساتھ کیا کریں گے میں تو اللہ کی قسم! ضرور ان کی پاس جاؤں گا۔ آخر آپ علی رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کو گواہ کیا ‘ اس کے بعد فرمایا ہمیں آپ کے فضل و کمال اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخشا ہے ‘ سب کا ہمیں اقرار ہے جو خیر و امتیاز آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ہم نے اس میں کوئی ریس بھی نہیں کی لیکن آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی  (کہ خلافت کے معاملہ میں ہم سے کوئی مشورہ نہیں لیا)  ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ اپنی قرابت کی وجہ سے اپنا حق سمجھتے تھے  ( کہ آپ ہم سے مشورہ کرتے )  ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ان باتوں سے گریہ طاری ہو گئی اور جب بات کرنے کے قابل ہوئے تو فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی قرابت کے ساتھ صلہ رحمی مجھے اپنی قرابت سے صلہ رحمی سے زیادہ عزیز ہے۔ لیکن میرے اور لوگوں کے درمیان ان اموال کے سلسلے میں جو اختلاف ہوا ہے تو میں اس میں حق اور خیر سے نہیں ہٹا ہوں اور اس سلسلہ میں جو راستہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا دیکھا خود میں نے بھی اسی کو اختیار کیا۔ علی رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ دوپہر کے بعد میں آپ سے بیعت کروں گا۔ چنانچہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر آئے اور خطبہ کے بعد علی رضی اللہ عنہ کے معاملے کا اور ان کے اب تک بیعت نہ کرنے کا ذکر کیا اور وہ عذر بھی بیان کیا جو علی رضی اللہ عنہ نے پیش کیا تھا پھر علی رضی اللہ عنہ نے استغفار اور شہادت کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حق اور ان کی بزرگی بیان کی اور فرمایا کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کا باعث ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حسد نہیں تھا اور نہ ان کے فضل و کمال کا انکار مقصود تھا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عنایت فرمایا یہ بات ضرور تھی کہ ہم اس معاملہ خلافت میں اپنا حق سمجھتے تھے  (کہ ہم سے مشورہ لیا جاتا)  ہمارے ساتھ یہی زیادتی ہوئی تھی جس سے ہمیں رنج پہنچا۔ مسلمان اس واقعہ پر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ آپ نے درست فرمایا۔ جب علی رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ میں یہ مناسب راستہ اختیار کر لیا تو مسلمان ان سے خوش ہو گئے اور علی رضی اللہ عنہ سے اور زیادہ محبت کرنے لگے جب دیکھا کہ انہوں نے اچھی بات اختیار کرلی ہے ۔

کسی بھی واقعے کو پرکھنے کےلیے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا جاتا ہے، تا کہ ہر راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی ہوسکے ۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مطالبہ فدک کی احادیث اور تاریخی روایات با سند کتب سے تقریباً 36 مقامات پر موجود ہے ۔ ان مقامات میں مذکورہ واقعہ بعض جگہ مفصل ہے اور بعض جگہ مختصر بیان ہوا ہے ۔ غور و فکر سے واضح ہوا ہے کہ تمام 36 مقامات میں سے گیارہ عدد روایات وہ روایات ہیں جن کی سند میں ابن شہاب زہری نہیں ہے ۔ صحابہ کرام مثلآ حضرت ابوھریرہ ، ابوالطفیل عامر بن واثلہ ام بانی رضی اللہ عنہم سے یہ روایات مروی ہیں ۔ یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے منقول نہیں ہیں ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں کسی ایک مقام پر رنجیدگی و کشیدگی کا نام و نشان نہیں ۔
پچیس مقامات جن کی سند میں ابن شہاب الزہری موجود ہے ، دو طرح کی روایات ہیں ۔
ایک صورت یہ ہے کہ سند میں زہری موجود ہونے کے باوجود مناقشہ نما الفاظ بالکل مفقود ہیں اور کشیدگی سیدہ فاطمہ کا کوئی تذکرہ نہیں ، ایسے مقامات تقریبآ نو عدد ہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ روایات میں وجدد و عدم تکلم وغیرہم منقول ہیں، ان مقامات کی ہر سند میں زہری موجود ہے۔ تقریبآ سولہ مقامات ہیں ۔ تحقیق کے مطابق تقریبآ16 مختلف مقامات پر اس اہم واقعے کو رنجیدگی سے بیان کیا گیا ہے ۔
جن روایات میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جواب سن لینے کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا غضبناک ہوجانا، ناراض ہوجانا، حضرت ابوبکر کو چھوڑ دینا، کلام نہ کرنا وغیرہ مذکور ہے ، ان تمام روایات میں “ابن شہاب الزہری” ہی اس واقعے کو آگے بیان کر رہا ہے ۔
کافی تحقیق کے بعد بھی کوئی ایک روایت ایسی نہیں مل سکی جہاں سیدہ فاطمہ کی ناراضگی و ہجران کا ذکر موجود ہو اور وہ روایت “ابن شہاب الزہری” کے بغیر کسی دوسرے راوی سے مروی ہو ۔ اس ایک راوی (زہری) نے جو عروہ سے اور وہ سیدہ عائشہ سے ناقل ہے ، اپنے زعم میں سیدہ فاطمہ کی خاموشی اختیار کرنے کو ناراضگی اور غضبناکی پر محمول کر کے یہ الفاظ ذکر کردیئے۔ حالانکہ کسی چیز کے متعلق سکوت و خاموشی اختیار کرلینا ہمیشہ رنجیدگی کی وجہ سے ہی نہیں ہوتا۔ خاموشی نیم رضامندی بھی ہوا کرتی ہے۔ (یہ ایک مشہور مقولہ بھی ہے) کسی بات کے متعلق اطمینان ہوجانے کی صورت میں انسان سکوت اختیار کرلیتا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر کے پاس پردہ میں گئیں تھیں یا بے پردہ ؟
ظاہر ہے سیدہ کے لئے بے پردہ جانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔
پھر  راوی نے سیدہ فاطمہ کی خاموشی سے یہ اندازہ کیسے لگا لیا کہ سیدہ فاطمہ ناراض ہوگئیں ہیں ؟؟
ظاہر ہے غصہ چہرے سے یا دوسری حرکات سے معلوم کیا جاتا ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اہل علم کی اصطلاح میں اس کو “ظن راوی” یعنی راوی کا گمان کہا جاتا ہے۔ اس روایت میں راوی کا اپنا ظن و گمان ہے، اور وہ راوی ابن شہاب زہری ہے ۔ اگر اس حدیث سے سیدہ فاطمہ کا ناراض ہوجانا ہی ثابت کرنا ہے تو مخالفین کو ان سوالوں کے جوابات دین نے ہوں گے ۔ ⬇

راوی کو آخر کس طرح سیدہ فاطمہ کے دل کی بات معلوم ہوگئی ؟
ظاہر ہے ، سیدہ فاطمہ تو پردے میں تھیں اور ناراضگی کے الفاظ ادا بھی نہیں فرمائے ۔
سیدہ فاطمہ کس پر ناراض ہوئیں ؟ حضرت ابوبکر صدیق پر یا اپنی ذات پر ۔ اگر حضرت ابوبکر صدیق پر ناراض ہوئیں تو نص حدیث سے سیدہ فاطمہ کی زبان مبارک سے ناراضگی کے الفاظ دکھانے پڑیں گے ۔
ہمارہ ایمان ہے کہ سیدہ فاطمہ کبھی بھی اپنے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا فرمان سن کر غصہ نہیں ہو سکتیں ، اور وہ بھی دنیا کی ایک ملکیت کے لئے۔۔۔ یہ ایک ناممکن بات ہے ۔
غور فرمائیں ۔۔اس حدیث میں “غضبت علی ابی بکر صدیق” یا اسی قسم کے الفاظ کہیں بھی مذکور نہیں ہیں۔
ناراضگی کے الفاظ راوی کے اپنے ہیں۔ سیدہ کی اپنی زبان سے ایسا کوئی لفظ ادا نہیں ہوا۔
اور یہ بھی غور طلب بات ہے  کہ ناراضگی کے الفاظ صرف ایک راوی “ابن شہاب الزہری” سے ہی مروی ہیں۔ جبکہ یہی واقعہ کئی کتب میں مختلف راویوں سے بھی مروی ہے، کسی دوسرے نے ناراضگی کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔
یہ روایت حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے ، ان سے حضرت عروہ نے لی ہے، حضرت عروہ 22/23 ھجری میں پیدا ہوئے تھے، یہ فدک کا واقعہ 11 ھجری کا ہے، یعنی حضرت عروہ بھی موقعے پر موجود نہ تھے۔۔ ابن شہاب الزہری نے یہ روایت کرتے وقت اپنا گمان بیان کیا ہے۔
سیدہ فاطمہ کی ناراضگی کا یقین صرف اس ایک راوی “ابن شہاب الزہری” کو کیسے ہوا؟؟ جبکہ وہ موقعے پر موجود بھی نہ تھا ۔

حدیث میں ترک کلام کا اصل مطلب : ⏬

ترک کلام فدک کے معاملے میں تھا ، سیدہ فاطمہ نے اس مطالبہ اور اس فیصلے کو قول نبوی کے بعد تسلیم کیا اور بعد میں راضی بھی ہوگئیں اس لیے فدک کے معاملے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کوئی بات نہیں کی ، جبکہ اہل سنت و شیعہ کتب کی کچھ روایات سے سیدہ فاطمہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کی فدک کے معاملے کے بعد بھی ملاقات ثابت ہے ۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ۔
روایات فریقین سے ظاہر ہے کہ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا بوقتِ وفات حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے راضی تھیں اور کسی قسم کی کبیدگی ان کے درمیان نہ تھی ۔ اگر بالفرض حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا واقعی مطالبہ میراث پورا نہ ہونے پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوگئی تھیں تو ان مذکورہ روایات کے مطابق ان کا راضی ہوجانا بھی ثابت ہو رہا ہے ۔ اللہ عزوجل ہمیں ہر قسم کی جہالت ، تعصب اور بے ادبی سے بچاۓ آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Sunday, 11 October 2026

مالک بن نویرہ مرتد ہو گیا تھا سنیوں کے لبادے میں چھپے روافض کی ہفوات کا مدلل جواب

مالک بن نویرہ مرتد ہو گیا تھا سنیوں کے لبادے میں چھپے روافض کی ہفوات کا مدلل جواب

محترم قارئینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ يَّرۡتَدَّ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِهٖ فَسَوۡفَ يَاۡتِى اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ يُجَاهِدُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوۡنَ لَوۡمَةَ لَاۤئِمٍ‌ ؕ ذٰ لِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ۔ (سورہ المائدہ آیت نمبر 54)

ترجمہ : اے ایمان والو ! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے مرتد ہوجائے گا ‘ تو عنقریب اللہ ایسی قوم کو لے آئے گا جس سے اللہ محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کرے گی ‘ وہ مومنوں پر نرم ہوں گے اور کافروں پر سخت ہوں گے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا بہت حلم والا ہے ۔


اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا جو کافروں کے ساتھ دوستی رکھے گا ، اس کا ان ہی میں شمار ہوگا اور اس آیت میں صراحتا فرما دیا ، جو شخص دین اسلام سے مرتد ہوجائے گا ، اس سے اللہ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں بھی کچھ لوگ مرتد ہوئے اور کچھ آپ کے بعد مرتد ہوئے ۔


علامہ جار اللہ محمود بن عمر زمحشری متوفی ٥٢٨ ھ لکھتے ہیں : مرتدین کے گیارہ فرقے تھے ، تین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں تھے ۔ ایک فرقہ بنو مدلج تھا ‘ ان کا رئیس ذوالحمار تھا اور یہی اسود عنسی تھا۔ یہ شخص کاہن تھا ‘ اس نے یمن میں نبوت کا دعوی کیا اور ان شہروں پر غلبہ پالیا ‘ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض عاملوں کو نکال دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور یمن کے سرداروں کے نام خط لکھا ۔ اللہ تعالیٰ نے فیروز دیلمی کے ہاتھوں میں اس کو ہلاک کرا دیا ‘ انہوں نے اس کو قتل کر دیا ۔ جس رات وہ قتل ہوا ‘ اسی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے قتل کی خبر مسلمانوں کو دے دی تھی ‘ جس سے مسلمان خوش ہوئے ‘ پھر اس کے دوسرے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رفیق اعلی سے واصل ہوگئے ‘ اور وہاں سے اس کی خبر ربیع الاول کے آخر میں پہنچی تھی ۔ 


دوسرا فرقہ بنوحنیفہ ہے ۔ یہ مسیلمہ کی قوم تھی ‘ اس نے نبوت کا دعوی کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف مکتوب لکھا ‘ ” از مسیلمہ رسول اللہ برائے محمد رسول اللہ ‘ بعد ازیں یہ کہنا ہے کہ یہ زمین آدھی آپ کی ہے اور آدھی میری ہے “۔ رسول اللہ نے اس کا جواب دیا ‘ از محمد رسول اللہ برائے مسیلمہ کذاب ‘ بعد ازیں یہ کہنا ہے کہ تمام زمین اللہ کی ملکیت ہے ‘ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ‘ اس کا وارث بناتا ہے ‘ اور نیک انجام متقین کے لیے ہے “۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ اس سے جنگ کی اور یہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں قتل ہوا ۔ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کہتے تھے میں نے اپنی جاہلیت کے زمانہ میں سب سے نیک شخص کو قتل کیا اور اپنے اسلام کے زمانہ میں سب سے بدتر شخص کو قتل کیا ۔ 


تیسرا فرقہ بنو اسد تھا ‘ یہ علیحہ بن خویلد کی قوم تھی ‘ اس شخص نے بھی نبوت کا دعوی کیا تھا ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے جنگ کے لیے حضرت خالد بن ولید کو بھیجا ‘ یہ شکست کھانے کے بعد شام بھاگ گیا ‘ پھر مسلمان ہوگیا اور اس نے نیک عمل کیے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں مرتدین کے سات فرقے تھے ۔ (1) عینہ بن حصن کی قوم فزارہ ۔ (2) قرہ بن قشیری کی قوم غطفان ۔ (3) فجاء ۃ بن عہد یالیل کی قوم بنو سلیم ۔ (4) مالک بن نویرہ کی قوم بنویربوع ۔ (5) سجاح بنت المنذر۔ یہ وہ عورت تھی جس نے نبوت کا دعوی کیا اور مسیلمہ کذاب سے نکاح کیا اور اس کی قوم تمیم کے بعض لوگ ۔ (6) اشعث بن قیس کی قوم کندہ ۔ (7) حطیم بن زید کی قوم بنوبکربن وائل ‘ یہ بحرین میں تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ان ساتوں مرتد فرقوں کا مکمل استیصال کرا دیا ۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ایک شخص مرتد ہوا تھا ‘ یہ غسان کی قوم کا جبلہ بن ایہم تھا ‘ اس کو ایک تھپڑنے نصرانی بنادیا اور یہ اسلام سے مرتد ہو کو روم کے شہروں کی طرف نکل گیا ‘ جبلہ کی چادر پر ایک شخص کا پیر پڑگیا ‘ اس نے اس کے تھپڑ مارا ‘ اس شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے شکایت کی ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اب یہ تمہارے تھپڑ مارے گا ‘ اس نے تھپڑ کے بدلہ میں دس ہزار درہم کی پیشکش کی ‘ مگر وہ شخص نہ مانا ۔ جبلہ نے مہلت طلب کی اور روم جا کر مرتد ہو گیا ۔ (تفسیر الکشاف جلد ١ صفحہ ٦٤٦۔ ٦٤٤ مطبوعہ نشر البلاغہ ایران ١٤١٣ ھ،چشتی)


مالک بن نویرہ بنو تمیم کی شاخ بنو یربوع  کا سردار تھا ۔ کنیت ابوحنظلہ تھی ۔ عرب کے مشہور شعرا اور شہسواروں میں اس کا شمار ہوتا تھا ۔ یہ مسلمان کب ہوا اس کی صحیح تاریخ دستیاب نہیں ۔ غالباً 8 یا 9 ھجری میں ہوا ہوگا ۔ حیرت کی بات ہے روافض کے ساتھ ساتھ اُن کے فضلہ خور تفضیلی رافضی ہر اُس شخص کو اپنا ہیرو بنا لیتے ہیں جو منکر ارکانِ اسلام اور منکرِ ختمِ نبوت ہو جیسے مختار ثقفی مدعی نبوت بالکل اسی طرح مالک بن نویرہ جو کہ منکرِ زکواة اور منکرِ ختمِ نبوت تھا کو اپنا ہیرو بنا لیا ۔ پھر یہ لوگ ایسے مرتدین کو صحابی ثابت کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف زہریلا گھٹیا پرپیگنڈا کرتے ہیں کہ صحابی کو قتل کر دیا ۔ نعوذ بااللہ ۔ اس فقیر کو حضرت علامہ پیرزادہ محمد اویس قادری صاحب نے حکم فرمایا کہ اس کا جواب دیں ۔ وقت کی قلت کے پیشِ نظر مختصر جواب لکھا ہے ۔ اہلِ علم توجہ بھی فرماٸیں اور اگر کہیں غلطی پاٸیں تو اس فقیر کی اصلاح فرماٸیں ۔


أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِی مَنِیعٍ حَدَّثَنَا جَدِّی عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : لَمَّا اسْتَخْلَفَ اللَّہُ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ عَنِ الإِسْلاَمِ خَرَجَ أَبُو بَکْرٍ غَازِیًا حَتَّی إِذَا بَلَغَ نَقْعًا مِنْ نَحْوِ النَّقِیعِ خَافَ عَلَی الْمَدِینَۃِ فَرَجَعَ وَأَمَّرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ سَیْفَ اللَّہِ وَنَدَبَ مَعَہُ النَّاسَ وَأَمَرَہُ أَنْ یَسِیرَ فِی ضَاحِیَۃِ مُضَرَ فَیُقَاتِلَ مَنِ ارْتَدَّ مِنْہُمْ عَنِ الإِسْلاَمِ ثُمَّ یَسِیرَ إِلَی الْیَمَامَۃِ فَیُقَاتِلَ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابَ فَسَارَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَقَاتَلَ طُلَیْحَۃَ الْکَذَّابَ الأَسَدِیَّ فَہَزَمَہُ اللَّہُ وَکَانَ قَدِ اتَّبَعَہُ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَیْفَۃَ یَعْنِی الْفَزَارِیَّ فَلَمَّا رَأَی طُلَیْحَۃُ کَثْرَۃَ انْہِزَامِ أَصْحَابِہِ قَالَ وَیْلَکُمْ مَا یَہْزِمُکُمْ قَالَ رَجُلٌ مِنْہُمْ أَنَا أُحَدِّثُکَ مَا یَہْزِمُنَا إِنَّہُ لَیْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلاَّ وَہُوَ یُحِبُّ أَنْ یَمُوتَ صَاحِبُہُ قَبْلَہُ وَإِنَّا لَنَلْقَی قَوْمًا کُلُّہُمْ یُحِبُّ أَنْ یَمُوتَ قَبْلَ صَاحِبِہِ وَکَانَ طُلَیْحَۃُ شَدِیدَ الْبَأْسِ فِی الْقِتَالِ فَقَتَلَ طُلَیْحَۃُ یَوْمَئِذٍ عُکَّاشَۃَ بْنَ مِحْصَنٍ وَابْنَ أَقْرَمَ فَلَمَّا غَلَبَ الْحَقُّ طُلَیْحَۃَ تَرَجَّلَ ثُمَّ أَسْلَمَ وَأَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ فَرَکِبَ یَسِیرُ فِی النَّاسِ آمِنًا حَتَّی مَرَّ بِأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْمَدِینَۃِ ثُمَّ نَفَذَ إِلَی مَکَّۃَ فَقَضَی عُمْرَتَہُ وَمَضَی خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ قِبَلَ الْیَمَامَۃِ حَتَّی دَنَا مِنْ حِیٍّ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ فِیہِمْ مَالِکُ بْنُ نُوَیْرَۃَ وَکَانَ قَدْ صَدَّقَ قَوْمَہُ فَلَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَمْسَکَ الصَّدَقَۃَ فَبَعَثَ إِلَیْہِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَرِیَّۃً فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی قَتْلِ مَالِکِ بْنِ نُوَیْرَۃَ قَالَ وَمَضَی خَالِدٌ قِبَلَ الْیَمَامَۃِ حَتَّی قَاتَلَ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابَ وَمَنْ مَعَہُ مِنْ بَنِی حَنِیفَۃَ فَاسْتَشْہَدَ اللَّہُ مِنْ أَصْحَابِ خَالِدٍ أُنَاسًا کَثِیرًا مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ وَہَزَمَ اللَّہُ مُسَیْلِمَۃَ وَمَنْ مَعَہُ وَقَتَلَ مُسَیْلِمَۃَ یَوْمَئِذٍ مَوْلًی مِنْ مَوَالِی قُرَیْشٍ یُقَالَ لَہُ وَحْشِیٌّ ۔ (حدیث حسن)


ترجمہ : زہری کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر خلیفہ بنے اور عرب مرتد ہونے لگے تو حضرت ابوبکر نے ان کے خلاف جہاد شروع کیا ۔ جب ان کی گردن تک پہنچے تو مدینہ کی طرف سے خوف ہوا واپس آئے اور خالد بن ولید کو امیر بنایا اور انھیں لوگوں کی ایک فوج دی اور حکم دیا کہ مضر کی طرف جاؤ اور وہاں جو مرتدین ہیں ان سے قتال کرو۔ پھر یمامہ کی طرف مسیلمہ کذاب سے قتال کریں اور پھر خالد بن ولید طلیحہ اسدی کذاب سے لڑے اور اسے اللہ کے حکم سے شکست دی۔ جب طلیحہ نے دیکھا کہ اس کے ساتھ کثرت سے قتل ہو رہے ہیں تو کہنے لگا : تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ کیوں شکست کھا رہے ہو ؟ تو ان میں سے ایک شخص کہنے لگا : میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ میں بچ جاؤں، دوسرا مارا جائے اور ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ پہلے میں شہید ہو جاؤں۔ طلیحہ کو اس جنگ میں بہت مصیبت اٹھانی پڑی اور اس نے اس دن عکاشہ بن محصن اور ابن اقرم کو شہید کیا۔ جب حق غالب آگیا تو طلیحہ پیدل بھاگ گیا ، پھر مسلمان ہوگیا اور عمرہ کے لیے مدینہ میں تلبیہ کہا حضرت ابوبکر کے پاس سے گزرا اور مکہ پہنچ کر اپنا عمرہ ادا کیا اور خالد بن ولید یمامہ سے لوٹے اور قبیلہ بنو تمیم کے پاس پہنچے۔ ان میں مالک بن نویرہ بھی تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد اس نے صدقہ دینا بند کر دیا تھا تو حضرت خالد نے ان کی طرف ایک سریہ بھیجا ۔ الحدیث ۔ مالک بن نویرہ اس میں قتل ہوگیا اور خالد نے یمامہ میں مسیلمہ سے لڑائی کی اور اسے شکست دی اور مسیلمہ ایک قریشی شخص کے ایک غلام کے ہاتھوں مارا گیا جس کا نام وحشی تھا ۔ (سنن الکبریٰ بیہقی حدیث نمبر ١٦٧٢٨،چشتی)


روافض کے ساتھ ساتھ اُن کے فضلہ خور تفضیلی رافضیوں کا یہ دعویٰ کہ مالک بن نویرہ جلیل القدر صحابی تھے جبکہ واقعات اور تاریخ اس بات کو ثابت نہیں کرتے ۔ مورخین نے یہ ثابت کیا ہے کہ مالک بن نویرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد مرتد ہو گیا تھا اور وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تھا اس نے اموال صدقات اپنی قوم میں تقسیم کر دیے تھے ۔ جب اسے لایا گیا تو وہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں جھگڑا کرنے لگا ۔ اس نے کہا : تمہارے ساتھی کا یہ خیال تھا ۔ اس جملہ میں دو باتیں اہم ہیں : ⏬


اوّل : وہ زکوٰۃ کی فرضیت کا منکر تھا ۔


دوم : اس نے صاحبکم کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ کیا اور ایسا کرنا مشرکین کا وطیرہ تھا جو کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا اقرار نہیں کرتے تھے ۔ اس کا صرف زکوٰۃ کا انکار کرنا ہی اس کے قتل کےلیے کافی تھا ۔ یہ روایت تمام مورخین نے ذکر کی ہے ، جیسا کہ اصفہانی نے الامانی میں ، اور ابن خلکان نے تاریخ میں بخلاف یعقوبی کے وہ جھوٹ بولنے میں مشہور تھا ۔ تو اس کے بعد یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ مالک بن نویرہ ایک جلیل القدر صحابی تھا ۔ بلکہ مورخین نے مالک کے مرتد مرنے پر ایک اور دلیل بھی ذکر کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ملاقات متمم بن نویرہ برادر حقیقی مالک بن نویرہ سے ہوئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے وہ شعر پڑھنے کو کہا جو اس نے اپنے بھائی کے مرثیہ میں لکھے تھے ۔ متمم نے وہ اشعار پڑھے جو اس نے اپنے بھائی کے مرثیہ میں لکھے تھے ۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار سنے تو فرمایا : میری بھی چاہت تھی کہ اگر مجھے سلیقہ سے شعر کہنے آتے تو میں اپنے بھائی زید پر بھی ایسا ہی مرثیہ کہتا جیسے تم نے اپنے بھائی پر کہا ہے ۔ تو متمم بولا : اگر میرا بھائی اس چیز پر مرتا جس پر آپ کا بھائی مرا ہے تو میں کبھی اس کا مرثیہ نہ کہتا ۔ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس بات پر بہت خوش ہوئے اور فرمایا : جیسے میرے بھائی پر تعزیت متمم نے کی ہے ایسے کسی اور نے مجھ سے تعزیت نہیں کی ۔ (الکامل لابن الاثیر جلد ۲ صفحہ ۲۱۸،چشتی)


ایک دوسری روایت میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ متمم نے کہا : آپ کا بھائی مومن مرا ہے اور میرا بھائی مرتد مرا ہے ۔ تو اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھ سے میرے بھائی پر کسی نے ایسی تعزیت نہیں کی جیسی تعزیت تم نے اس بارے میں کی ہے ۔ (الامانی لابی عبداللّٰہ صفحہ ۲۵)


زہری کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور عرب مرتد ہونے لگے تو حضرت ابوبکر نے ان کے خلاف لڑائی شروع کیا۔ جب ان کی گردن تک پہنچے تو مدینہ کی طرف سے خوف ہوا واپس آئے اور خالد بن ولید کو امیر بنایا اور انھیں لوگوں کی ایک فوج دی اور حکم دیا کہ مضر کی طرف جاؤ اور وہاں جو مرتدین ہیں ان سے قتال کرو۔ پھر یمامہ کی طرف مسیلمہ کذاب سے قتال کریں اور پھر خالد بن ولید طلیحہ اسدی کذاب سے لڑے اور اسے اللہ کے حکم سے شکست دی ۔ (سنن الکبری للبیھقی حدیث نمبر 1672)


جب طلیحہ نے دیکھا کہ اس کے ساتھ کثرت سے قتل ہو رہے ہیں تو کہنے لگا : تمہیں کیا ہو گیا ہے ؟ کیوں شکست کھا رہے ہو؟ تو ان میں سے ایک شخص کہنے لگا: میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ میں بچ جاؤں، دوسرا مارا جائے اور ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ پہلے میں شہید ہو جاؤں۔ طلیحہ کو اس جنگ میں بہت مصیبت اٹھانی پڑی اور اس نے اس دن عکاشہ بن محصن اور ابن اقرم کو شہید کیا۔ جب حق غالب آگیا تو طلیحہ پیدل بھاگ گیا، پھر مسلمان ہوگیا اور عمرہ کے لیے مدینہ میں تلبیہ کہا حضرت ابوبکر کے پاس سے گزرا اور مکہ پہنچ کر اپنا عمرہ ادا کیا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ یمامہ سے لوٹے اور قبیلہ بنو تمیم کے پاس پہنچے ۔ ان میں مالک بن نویرہ بھی تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد اس نے صدقہ دینا بند کردیا تھا تو حضرت خالد نے ان کی طرف ایک سریہ بھیجا ۔ الحدیث ۔ مالک بن نویرہ اس میں قتل ہوگیا اور خالد نے یمامہ میں مسیلمہ سے لڑائی کی اور اسے شکست دی اور مسیلمہ ایک قریشی شخص کے ایک غلام کے ہاتھوں مارا گیا جس کا نام وحشی تھا ۔


شیعوں چوٹی کا عالم شیخ مفید لکھتا ہے : ولو كانت الصحبة أيضا مانعة من الخطأ في الدين والآثام لكانت مانعة لمالك بن نويرة وهوصاحب رسول الله صلى الله عليه وآله على الصدقات ومن تبعه من وجوه الدسلمين من الردةعن الاسلام ، اگر صحبت دین  خطا اور گناہ سے روک سکتی ، تو یہ مالک بن نویرہ کو اسلام سے پھر  جانے سے روک لیتی جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے صدقات اکٹھا کرنے پر مامور تھے ، اور اس کی پیروی کرنے والے لوگوں کو بھی جو مسلمانوں میں سے تھے ۔ (الافصاح للمفید صفحہ 41)


صحاح ستہ کی کسی کتاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مالک بن نویرہ کے متعلق کوئی حدیث ہے تو وہ دکھا دیں ؟


تاریخ میں لکھی باتیں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بیوہ سے نکاح کیا ، عدت پوری ہوئی یا نہیں ، نبوت کی دعویدار سجاح بنت حارث اور مالک بن نویرہ کی ملاقات ، ابوقتادہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا اختلاف کے اذان ہوئی یا نماز پڑھی پر اختلاف کی روایات پر بحث ہی نہیں بنتی بلکہ وقت ضائع کرنا ہے کیونکہ روایات اکٹھی کر کے لکھ دی گئی ہیں مگر جب فیصلہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے حق میں ہے کہ خلیفہ وقت نے اسے کچھ نہیں کہا تو پھر ہمارا کہنا بنتا نہیں جیسے : عبداللہ ابن ابی سرح جو حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا رضاعی بھائی ، مسلمان ہوا ، کاتب وحی ہوا، دین سے پھر گیا اور فتح مکہ کے وقت سیدنا عثمان کے پاس آ کر چھپ گیا ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے باربار اس کی بخشش کی سفارش کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاف کر دیا ۔ (سنن ابو داود حدیث نمبر 4359،چشتی) ۔ اس لیے اگر کوئی اس کو صحابی نہ مانے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بخشس پر ایمان نہیں لایا۔


حضرت جسٹس پیر کرم شاہ الازھری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مالک بن نویرہ کو مرتد لکھ رہے ہیں کہ وہ مرتد ہو گیا تھا جسے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں منکرین زکواة مرتدین سے جنگ کے دوران قتل کر دیا اس پر روافض کے اور سنیوں میں چھپے روافض کے اعتراض کا رد فرما رہے ہیں روافض کے کے دلالوں کے مذکورہ اعتراضات کا جواب ان صفحات میں پڑھیں ۔ (مقالات ضیاء الامت جلد 2 صفحہ 240 تا 250 مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشز لاہور)


تو کیا مالک کے مرتد ہونے پر اس سے بڑی دلیل کوئی اور ہو سکتی ہے ؟


جہاں تک مالک کی بیوی سے شادی اور اسی رات اس کے ساتھ شب باشی کا تعلق ہے تو یہ حق کے خلاف ہے ۔ علامہ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مالک کی بیوی کو اپنے لیے چن لیا تھا اور جب اس کی عدت پوری ہو گئی تو تب اس کے پاس چلے گئے ۔ (البدایۃ و النہایۃ جلد ۶ صفحہ ۳۲۲)


طبری نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی اس شادی کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ام تمیم بنت منہال سے شادی کی اور اسے پاک ہونے کےلیے چھوڑ دیا ۔ (الطبری جلد ۲ صفحہ ۲۷۳)


الکامل میں ہے : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ام تمیم سے شادی کی جو کہ مالک کی بیوی تھی ۔ (الکامل جلد ۲ صفحہ ۳۵۸)


ابن خلکان جس کا کلام تنقید نگار نے بطور دلیل کے پیش کیا ہے وہ کہتا ہے : اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس کی بیوی کو اپنے قبضہ میں لے لیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ : اسے مال غنیمت میں سے خرید لیا تھا تاکہ اس کے ساتھ شادی کر سکیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب اس کی عدت تین ماہ پوری ہو گئی تو آپ نے اسے شادی کا پیغام بھیجا جو اس نے قبول کر لیا ۔ (وفیات الاعیان جلد ۶ صفحہ ۱۴،چشتی)


حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کی بیوی سے عدت گزرنے کے بعد نکاح و شادی کی تھی جس کی صراحت تمام کتبِ تاریخ نے کی ہے ، عدت کے اندر شادی کرنے کا قول محض من گھڑت اور رافضیوں اور اُن کے فضلہ خور نیم رافضیوں کا افتراء اور بغضِ صحابہ رضی اللہ عنہم پر مبنی ہے ۔ واصطفی خالد امرأة مالك بن نویرة ، وهی أم تمیم أبنة المنهال ، وکانت جمیلة ، فلما حلت بنی بها ۔ ((البدایة والنهایة جلد ۵ صفحہ ۲۷)


تاریخ کی اس متنازعہ شخصیت کے متعلق اہلِ تشیع پر یقین ہیں کہ : مالک بن نویرہ مرتد نہیں ہوا تھا ۔ مالک بن نویرہ نے زکوات ادا کرنے سے منع نہیں کیا تھا ۔ مالک بن نویرہ نے دعوی نبوت کرنے والی عورت سجاح بنت حارث کی حمایت بھی نہیں کی تھی ۔


تاریخ اسلام کی کتب میں مالک بن نویرہ کی شخصیت کو بعد از وصالِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اچھے الفاظ میں  بیان نہیں کیا گیا ۔ 


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے قبیلے بنو تمیم کی زکوات وصولی کےلیے مقرر کیا تھا ۔ جیسے ہی اسے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے تو اس نے اپنے قبیلے سے زکوات وصول کرنا بند کر دی ۔ اس کے علاوہ پہلے سے جمع شدہ رقم کو بھی واپس ان کے مالکان کو لوٹا دیا ۔ تاریخ کی کئی کتب میں نبوت کی دعویدار ”سجاح بنت حارث“ اور ”مالک بن نویرہ“ کی ملاقات اور اس کی تائید و حمایت کے قصے بیان کیے گئے ہیں ۔ 


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منکرین زکوات سے جنگ و جہاد کا اعلان کیا اور پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی گرفت میں مالک بن نویرہ بھی آگیا ، زکوات کا منکر اور مرتد ثابت ہونے ہر اسے قتل کر دیا گیا تاکہ عرب قبائل میں منکرین زکوات تک سخت پیغام پہنچ سکے ۔ (تاریخ ابن کثیر جلد ششم صفحہ425،چشتی)


مزید روایات میں مالک بن نویرہ اور اس کے قبیلے کے قتل کی تفصیلات مختلف بیان کی گئی ہیں ۔ تاریخ طبری مترجم اردو میں بھی کم و بیش یہی تفصیل موجود ہے ۔ (تاریخ طبری جلد دوم صفحہ 79 - 80)


مالک بن نویرہ کا ذکر اوپر آچکا ہے کہ اُس نے وفات نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خبر سن کر اظہار مسرت کیا تھا ، پھر سجاح کے ساتھ بھی اُس نے مصالحت کی تھی،مگر بعد میں اُس کے لشکر سے جدا ہوکر چلاگیا تھا، اب جب کہ مالک بن نویرہ گرفتار ہوکر آیا اور حضرت خالد بن ولیدؓ کے سامنے پیش کیا گیا تو بعض مسلمانوں نے کہا کہ مالک بن نویرہ کی بستی سے اذان کی آواز جوابا ً آئی تھی،اس لئے اس کو قتل نہیں کرنا چاہئے بعض نے کہا کہ انہوں نے جواباً اذان نہیں کہی، یہ خلیفہ رسول اللہ کے حکم کے موافق واجب القتل ہے، حضرت خالد بن ولیدؓ نے جہاں تک تحقیق و تفتیش کیا یقینی اور قطعی شہادت اس معاملہ میں دستیاب نہ ہوئی، اس پر طُرہ یہ ہوا کہ مالک بن نویرہ نے جب حضرت خالد بن ولیدؓ سے گفتگو کی تو اس کی زبان سے اثناء گفتگو میں کئی بار یہ نکلا کہ تمہارے صاحب نے ایسا فرمایا، تمہارے صاحب کا ایسا حکم ہے وغیرہ اس تمہارے صاحب سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے،حضرت خالد بن ولیدؓ نے یہ لفظ سن کر غصہ سے فرمایا : کہ کیا وہ تیرے صاحب نہ تھے،اس پر اُ س نے کوئی جواب مناسب نہیں دیا،طبری کی روایت کے موافق حضرت ضرار بن الازورؓ اُس وقت شمشیر بدست کھڑے تھے،انہوں نے حضرت خالدؓ کا اشارہ پاتے ہی اُس کا سر اُڑادیا،یہ میدان جنگ کا ایک نہایت معمولی سا واقعہ تھا؛ لیکن مؤرخین کو اس کا خاص طورپر اس لئے ذکر کرنا پڑا کہ ابو قتادہ بھی حضرت خالد بن ولیدؓ کی فوج میں شامل تھے اور وہ انہیں لوگوں میں تھے جو یہ کہتے تھے کہ مالک بن نویرہ کی بستی سے اذان کی آواز آ ئی تھی، لہذا مالک بن نویرہ کو قتل نہیں کرنا چاہئے، بعض مؤرخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ مالک بن نویرہ کو حضرت خالد بن ولیدؓ نے قتل نہیں کرایا؛بلکہ انہوں نے مزید تحقیق حال کے لئے مالک بن نویرہ کو ضراراؓ بن ازورؓ کی حراست میں دےدیا تھا اور اتفاقاً رات کے وقت دھوکے سےمالک بن نویرہ ضرار بن ازور کے ہاتھ سے قتل ہوا ،بہرحال حضرت ابو قتادہؓ بہت ناراض ہوئے اور انہوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار اس طرح کیا کہ وہ خالد بن ولیدؓ سے بلا اجازت لئے خفا ہوکر مدینے میں چلے آئے اوریہاں آکر شکایت کی کہ خالد بن ولیدؓ مسلمانوں کو قتل کرتا ہے،حضرت عمرفاروقؓ اوردوسرے مسلمانوں نے مدینے میں جب یہ بات سُنی تو خالد بن ولیدؓ کے متعلق حضرت ابوبکر صدیقؓ سے شکایت کی اورکہا کہ خالد کو معزل کرکے اس سے قصاص لینا چاہئے،مدینہ منورہ میں خالد بن ولیدؓ کے متعلق عام ناراضی اس لئے بھی پھیل گئی اور قتل مسلم کا الزام اس لئے اور بھی اُن پر تُھپ گیا کہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے بعد میں مالک بن نویرہ کی بیوی سے نکاح کرلیا تھا،حضرت ابوبکر صدیقؓ نے یہ سب کچھ سن کر حضرت ابوقتادہؓ کو مجرم قرار دیا کہ خالدؓ کی بلا اجازت کیوں لشکر سے جُدا ہوکر چلے آئے،اُن کو حکم دیا گیا واپس جائیں اور خالد کے لشکر میں شامل ہوکر اُن کے ہر ایک حکم کو بجالائیں؛چنانچہ اُن کو واپس جانا پڑا،حضرت عمر فاروقؓ اور دوسرے صحابہ کو سمجھایا کہ خالد پر زیادہ سے زیادہ ایک اجتہادی غلطی کا الزام عائد ہوسکتا ہے ،فوجی نظام اور آئین جنگ کو مد نظر رکھتے ہوئے خالد کو سیفٌ من سیوف اللہ میں نہ زیر قصاص لایا جاسکتا ہے نہ معزول کیا جاسکتا ہے،صدیق اکبرؓ نے مالک بن نویرہ کا خوں بہا بیت المال سے ادا کردیا، ایک اسی واقعہ سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ صحابہ کرام کو اپنے دشمنوں کے قتل کرنے میں کس قدر احتیاط مد نظر رہتی تھی اور وہ کسی معمولی شخص کے لئے ایک قیمتی سپہ سالار کو بھی حق وانصاف کی عزت قائم رکھنے کے واسطے قتل کرنا اور زیر قصاص لانا ضروری سمجھتے تھے ۔


اس میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ تھا۔ اس میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو قتل نہ کیا جائے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ آپ کو قتل کیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بڑے عالم نہیں تھے۔ اہل سنت اور شیعہ دونوں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں ۔اس وجہ سے ابو بکر رضی اللہ عنہ پر واجب نہیں تھا کہ وہ اپنی رائے چھوڑ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی اتباع کریں ۔ اور کسی شرعی دلیل کی روشنی میں یہ ظاہر نہیں ہورہا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے راجح ہے۔تو اب کسی کے لیے کیسے جائز ہوسکتاہے کہ وہ اس معاملہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شان میں عیب شمار کر ے؟ ایسا وہی شخص کرسکتا ہے جو لوگوں میں سے سب سے کم علم و دین رکھتا ہو ۔


ہمارے ہاں کسی طرح بھی یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ معاملہ کی صورتحال ایسی تھی جس کی وجہ سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو قتل کرنا واجب ہورہا ہوتا ۔


رافضی مصنف کا یہ کہنا کہ : انہوں نے مالک بن نویرہ کے قتل کی رات ہی اس کی بیوی سے شادی کرلی ۔


اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔بالفرض اگر اسے ثابت مان بھی لیا جائے تو تاویل اس بنا پر رجم کرنے میں مانع ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ : فقہاء کرام رحمہم اللہ کا اختلاف ہے کہ فوتگی[بیوگی] کی عدت کیا ہے؟ اورکیا یہ عدت کافر کے لیے بھی ہے ؟ اس میں دو قول ہیں ۔ ایسے ہی ذمی عورت کی عدت وفات کے بارے میں اختلاف ہے۔اس میں بھی مسلمانوں کے ہاں دو قول مشہور ہیں ۔ بخلاف طلاق کی عدت کے ۔ اگر طلاق میں وطی کا سبب موجود ہو تو برأت رحم تک انتظار واجب ہے۔ جبکہ وفات کی عدت صرف عقد نکاح کرلینے سے واجب ہوجاتی ہے۔لیکن پھر اگر دخول سے پہلے شوہر مر جائے تو کیا کافر کی عدت بھی ہوگی یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے۔ اور ایسے ہی اگر کافر نے دخول بھی کیا اور دخول کے بعد ایک حیض آگیا ہو (تو کیا اس پر عدت ہوگی یا نہیں ؟) ۔


یہ مسائل اس وقت ہیں جب کافر اصلی کافر ہو (یعنی مرتدنہ ہو) ۔ جب کہ مرتد اگر قتل کردیا جائے؛ یا اپنے ارتداد پر ہی مر جائے ؛ تواس صورت میں امام شافعی؛ امام احمد ؛ ابو یوسف؛ اورمحمد رحمہم اللہ کے ہاں اس پر کوئی عدت وفات نہیں ۔ بلکہ وہ اسے فُرقہء بائنہ شمار کرتے ہیں ۔ اس لیے کہ شوہر کے مرتد ہونے سے نکاح باطل ہوگیا تھا۔ یہ جدائی امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کے ہاں طلاق نہیں ہے ۔ جب کہ امام ابو حنیفہ اورامام مالک رحمہم اللہ کے ہاں طلاق ہے۔اسی وجہ سے اس پر عدت وفات کو واجب نہیں سمجھتے ۔ بلکہ اس پر دائمی جدائی کی عدت شمار کرتے ہیں ۔اور اگر اس مرتد نے عورت کے ساتھ دخول نہیں کیا تھا تو پھر اس پر کوئی عدت نہیں ہے۔ جیسا کہ اگر وہ دخول سے پہلے طلاق دے دیتا تواس پر کوئی عدت نہ ہوتی۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کو مرتد سمجھ کر قتل کیا تھا۔ اگر مالک بن نویرہ نے اپنی بیوی سے اس سے پہلے دخول نہیں کیا تھا تو پھر تمام علماء کے نزدیک اس پر کوئی عدت نہیں تھی۔اوراگر اس کے ساتھ دخول کیا تھا تو پھر بھی بعض علماء کرام کے نزدیک اس پر ایک حیض کی عدت تھی؛ اس لیے کہ استبراء رحم واجب ہے۔ تو ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اسے اس سے پہلے حیض آچکا ہو۔ اور بعض فقہاء کہتے ہیں کہ کچھ دن کا حیض آجانا بھی کافی ہے ۔ اس لحاظ سے اگر وہ حیض کے آخری ایام میں بھی تھی تو تب بھی برأت رحم ہوچکی تھی ۔ خلاصہ کلام ! ہم اس معاملہ کی گہرائیوں سے واقف نہیں ۔ کیا یہ ایسا معاملہ تھا کہ اس میں اجتہاد جائز ہے یا نہیں ؟ ایسی باتوں میں طعن کرنا بغیر علم کے بات کہنا ہے ۔ اور بغیر علم کے بات کہنے کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قراردیا ہے ۔ (منہاج السنہ النبویہ جلد 5 ، 6 صفحہ 382)


خلاہ کلام : اول حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے حکم پر مالک بن نویرہ کو قتل نہیں کیا گیا ۔ آپ کے سپاہی نے اسے قتل کیا اور وہ بھی اپنی ایماء پر اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر بدیر ملی ۔ مالک بن نویرہ پر سجاع بن حارث کی حمایت کا الزام تھا ۔ مالک بن نویر پر زکوۃ کا مال واپس کرنے کا بھی الزام تھا ۔ یہ تاریخی واقعات ہیں جو مختلف کتب میں آپس میں متصادم ہو سکتے ہیں مگر ان کی وجہ سے جید اور قابل احترام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باکردار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کیچڑ اچھالنا ایک بدترین عمل اور پرلے درجے کی جہالت ہے ۔ اللہ عزوجل ایسے فتنہ باز بغضیوں اور شر پھیانے والوں کو ہدایت عطاء فرماۓ آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

افضلیت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور منکرین کی سزا حضرت مولیٰ علی و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی زبانی

افضلیت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور منکرین کی سزا حضرت مولیٰ علی و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی زبانی

محترم قارئینِ کرام : صحیح بخاری شریف میں امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ امیر المؤمنین مولٰی علی رضی اللہ عنہما سے ہے : قال قلت لابی ای الناس خیر بعد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ابوبکر قال قلت ثم من، قال ثم عمرثم خشیت ان اقول ثم من فیقول عثمان فقلت ثم انت یا ابت، فقال ما انا الاّرجل من المسلمین ، رواہ ایضا ابن ابی عاصم و خشیش وابو نعیم فی الحلیۃ الاولیاء ۔

ترجمہ : میں نے اپنے والد ماجد مولٰی علی رضی اللہ عنہ سے عرض کی نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہے ؟ فرمایا : ابوبکر رضی اللہ عنہ ۔ میں نے کہا پھر کون؟ فرمایا : پھر عمر ۔ پھر مجھے خوف ہوا کہ کہیں میں کہوں پھر کون تو فرمادیں عثمان رضی اللہ عنہ ، اس لیے میں نے سبقت کر کے کہا اے باپ میرے ! پھر آپ ؟ فرمایا : میں تو نہیں مگر ایک مرد مسلمانوں میں سے ۔ اسے ابن ابی عاصم اور خشیش اور ابو نعیم نے بھی حلیۃ الاولیاء میں بیان کیا ہے ۔ (صحیح بخاری، کتاب المناقب،فضائل ابی بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ، قدیمی کتب خانہ کراچی،۱/ ۵۱۸)(جامع الاحادیث بحوالہ خ و د وابن ابی عاصم و خشیش وغیرہ، حدیث ۷۷۱۴ دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۱۷)(کنزالعمال ، بحوالہ خ و د وابن ابی عاصم و خشیش وغیرہ، ۳۶۰۹۴ موسسۃ الرسالہ،بیروت،۱۳/ ۷)


حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کا فرمان : جو مجھے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دیتا ہے میں اسے مفتری کی سزا دونگا : ⏬


افضلیتِ شیخین اور حدِ مفتری : ​حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ عنہ کا ایک انتہائی مشہور اور متواتر فرمان کتبِ احادیث میں موجود ہے ، جس میں آپ نے خود کو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما پر فضیلت دینے والوں کےلیے سخت سزا کا اعلان فرمایا ۔ ​حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کا فرمانِ عالی شان ہے : ​لَا اَجِدُ اَحَدًا فَضَّلَنِيْ عَلٰی اَبِيْ بَكْرٍ وَ عُمَرَ اِلَّا جَلَّدْتُهٗ حَدَّ الْمُفْتَرِيْ ۔

ترجمہ : میں جسے بھی پاؤں گا کہ وہ مجھے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دیتا ہے ، میں اسے الزام تراشی (بہتان) کی سزا کے طور پر 80 کوڑے ماروں گا ۔ (​فضائل الصحابة للامام احمد بن حنبل حدیث نمبر 49 ، 387 عن حکم بن حجل)(​السنة لعبد اللہ ابن احمد حدیث نمبر 49 ، 387 عن علقمہ)(​السنة لابن ابی عاصم حدیث نمبر 1027 ، 1254)(​شرح اصول اعتقاد اهل السنة للالكائي جلد 2 صفحہ 107،چشتی)(​الاعتقاد للبیہقی صفحہ 504 عن حکم بن حجل آپ نے فرمایا : حضرت علی نے ہمیں بصرہ میں خطبہ دیا)(​تاریخ الخلفاء للسیوطی عربی صفحہ 122 ، مترجم اردو صفحہ 167)(الصواعق المحرقة لابن حجر الہیتمی عربی صفحہ 187)(​کنز العمال حدیث نمبر 36157)


​راویوں کا مقام اور سند کی تحقیق : ⏬


​اس حدیث کے راویوں میں حضرت محمد بن حنفیہ ، حضرت علقمہ ، حضرت عبد خیر ، حضرت جابر بن حمید ، اور حضرت حکم بن حجل عن ابیہ (رضی اللہ عنہم و علیہم الرحمہ) شامل ہیں ، جو براہِ راست مولا علی سے روایت کر رہے ہیں ۔


​ملاقات کا ثبوت : حضرت حکم بن حجل صراحت سے فرماتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا اور حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ عنہ نے ہمیں بصرہ میں خطاب فرمایا ۔ کتبِ رجال میں حکم بن حجل کو ثقہ لکھا گیا ہے ، اس لیے ان کی حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات میں کوئی شک نہیں ۔


​علماء کا فیصلہ : محدثین اور جلیل القدر علماء علیہم الرحمہ نے اس حدیث کو بالکل صحیح قرار دیا ہے ۔

​شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے اسے صحیح لکھا ۔ (فتاویٰ عزیزی صفحہ 383)

​امام ابنِ حجر عسقلانی اور امام ذہبی علیہما الرحمہ کے حوالے سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قدری علیہ الرحمہ نے لکھا : قَالَ سُلْطَانُ الشَّانِ اَبُوْ عَبْدِ اللہِ الذَّھَبِیُّ حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ ۔ (یہ حدیث صحیح ہے) ۔ (الزلال الانقیٰ صفحہ 95)

​

منبرِ کوفہ پر حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی : ⏬


​حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ (تابعی الکبیر) نے منبر پر ہاتھ مار کر حضرت سیدنا مولی علی رضی اللہ عنہ کا یہ تفصیلی خطبہ بیان فرمایا : ہمیں حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ نے اس منبر پر بیٹھ کر خطاب فرمایا اور فرمایا : خبردار! مجھے اطلاع ملی ہے کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر اور عمر پر فضیلت دیتے ہیں ، اگر میں نے اس کے بارے میں پہلے سزا کا اعلان کر دیا ہوتا تو میں ان لوگوں کو سزا دیتا ۔ آئندہ جس نے ایسا کہا وہ بہتان باندھنے والا ہوگا اور اسے مفتری کی سزا (80 کوڑے) ملے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمام لوگوں میں سب سے افضل ابوبکر ہیں، پھر عمر ۔ (السنۃ لعبد اللہ بن احمد : 1322)(السنۃ لابن ابی عاصم : 702 ، اسنادہ صحیح)


​یہی حدیث سیدنا سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔ یہ تمام احادیث اس متواتر عقیدے کا حصہ ہیں جسے تقریباً 80 راویوں نے نقل کیا ہے کہ : خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ۔


​حضرت امام اعظم ابو حنیفہ تابعی رضی اللہ عنہ کی روایت اور سزا کا فلسفہ : ​⏬


حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ سے کہا : میں نے آپ سے بہتر کوئی نہیں دیکھا ۔ آپ نے پوچھا : کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا ابوبکر و عمر کو دیکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں ۔ آپ نے فرمایا : اگر تم کہتے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے تو میں تمہیں (توہینِ رسالت پر) قتل کر دیتا ، اور اگر تم کہتے کہ میں نے ابوبکر اور عمر کو دیکھا ہے تو میں تمہیں (توہینِ صحابہ اور جھوٹ پر) سخت سزا دیتا ۔ (کتاب الآثار لابی یوسف : 922،چشتی)


​یہ فیصلہ حضرت سیدنا امام حسین بن حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے عین مطابق ہے کہ : نبی کے گستاخ کی سزا قتل ہے اور صحابی کے گستاخ کی سزا کوڑے ہے ۔ (کتاب الشفاء جلد 2 صفحہ 194)

​

اہم نکتہ : یہی وجہ تھی کہ جب عبداللہ بن سبا اور اس کے مفسد گروہ نے غلو کی تمام حدیں پار کیں اور حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کی شان میں حدِ مفتری سے بھی بڑا جرم کیا ، تو آپ نے انہیں سخت ترین عبرتناک سزا دی اور زندہ جلا دیا تھا ۔ (صحیح بخاری حدیث : 37)(مستدرک حاکم حدیث : 6405)


​حاصلِ کلام : حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کا اپنا عقیدہ اور فیصلہ بالکل واضح ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما ہی امت میں سب سے افضل ہیں، اور اس عقیدے کے خلاف غلو کرنے والا حضرت سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک مجرم ہے ۔ اللہ عزوجل ہمیں جملہ گستاخوں اور فتنہ پروروں کے شر سے بچاۓ آمین ۔

 

طبرا نی معجم اوسط میں صلہ بن زفر سے راوی ، جب امیر المؤمنین مولٰی علی رضی اللہ عنہ کے سامنے لوگ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ، امیر المؤمنین فرماتے : السباق یذکرون السابق یذکرون والذی نفسی بیدہ ما استبقنا الٰی خیر قط الاسبقنا الیہ ابوبکر ۔

ترجمہ : ابوبکر کا بڑی سبقت والے ذکر کر رہے ہیں کمال پیشی لے جانے والے کا تذکرہ کرتے ہیں قسم اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب ہم نے کسی خیر میں پیشی چاہی ہے ابوبکر ہم سب پر سبقت لے گئے ہیں ۔ (المعجم الاوسط، حدیث ۷۱۶۴،مکتبۃ المعارف الریاض، ۸/ ۸۲،چشتی)(جامع الاحادیث بحوالہ طس،حدیث ۷۶۸۸، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۰۹)


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی رائے : ابو القاسم طلحی وابن ابی عاصم وابن شاہین واللالکائی سب اپنی اپنی کتاب السنہ میں اور عشاری فضائل صدیق اور اصبہانی کتاب الحجہ اور ابن عساکر تاریخ دمشق میں راوی ، امیر المؤمنین کو خبر پہنچی کچھ لوگ انہیں ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے افضل بتاتے ہیں منبر شریف پر تشریف لے گئے حمد و ثنائے الٰہی کے بعد فرمایا : ایھا الناس بلغنی ان اقواما یفضلو نی علی ابی بکر و عمر ولو کنت تقدمت فیہ لعاقبت فیہ، فمن سمعتہ بعد ھذا الیوم یقول ھذا فھو مفتر، علیہ حد المفتری خیرالناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابو بکر ثم عمر (زاد غیر الطلحی) ثم احدثنا بعضھم احدا ثا یقضی اﷲ فیھا ما یشاء ۔

ترجمہ : اے لوگو ! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابو بکر و عمر پر فضیلت دیتے ہیں اگر میں پہلے متنبہ کر چکا ہوتا تو اب سزا دیتا ، آج کے بعد جسے ایسا کہتا سنوں گا وہ مفتری ہے ، اس پر مفتری کی حد آئے گی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر ابوبکر ہیں،پھر عمر، پھر ان کے بعد ہم سے کچھ نئے امور واقع ہوئے کہ خدا ان میں جو چاہے گا حکم فرمائے گا ۔ (کنزالعمال بحوالہ ابن ابی عاصم و ابن شاہین واللالکائی والعشاری، حدیث ۳۶۱۴۳،موسسۃ الرسالۃ،بیروت، ۱۳/ ۲۱)(جامع الاحادیث ابن ابی عاصم و ابن شاہین واللالکائی والعشاری، حدیث ۷۷۳۵ ، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۲)


امام ابو عمران عبدالبر علیہ الرحمہ استیعاب میں حکم بن حجل سے اور امام ابو الحسن دارقطنی علیہ الرحمہ سنن میں روایت کرتے ہیں امیر المؤمنین مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لا اجد احدا فضلنی علی ابی بکر و عمر الاجلد تہ حد المفتری ۔

ترجمہ : میں جسے پاؤں گا کہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر مجھے تفضیل دیتا ہے اسے مفتری کی حد اسّی کوڑے لگاؤں گا ۔ (جامع الاحادیث عن الحکم بن حجل عن علی، حدیث ۷۷۴۷، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۵)(مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر، ترجمہ ۲۲، عبداللہ ابن ابی قحافہ ، دارالفکر بیروت، ۱۳/ ۱۱۰)


ابن عساکر بطریق الزہری عن عبداللہ بن کثیر راوی ، امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لا یفضلنی احد علی ابی بکر و عمر الاجلد تہ جلداوجیعا ۔

ترجمہ : جو مجھے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہ سے افضل کہے گا اسے درد ناک کوڑے لگاؤں گا ۔ (جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن علی، حدیث ۷۷۲۳، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۱۹،چشتی)(کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن علی، حدیث ۳۶۱۰۳، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، ۱۳/ ۹)


امام احمد مسند اور عدنی مائتین اور ابو عبید کتاب الغریب اور نعیم بن حماد فتن اور خثیمہ بن سلیمان طرابلسی فضائل الصحابہ اور حاکم مستدرک اور خطیب تلخیص المتشابہ میں راوی ، امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سبق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وصلی ابوبکر وثلث عمر ثم خطبتنا فتنۃ و یعفواللہ عمن یشاء ۔ وللخطیب وغیرہ فھو ما شاء اﷲ زاد ھو فمن فضلنی علی ابی بکر و عمر رضی اللہ عنہما فعلیہ حد المفتری من الجلد و اسقاط الشہادۃ ۔

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سبقت لے گئے اور ان کے دوسرے ابوبکر اور تیسرے عمر ہوئے ، پھر ہمیں فتنے نے مضطرب کیا اور خدا جسے چاہے معاف فرمائے گا یا فرمایا جو خدا نے چاہا وہ ہوا تو جو مجھے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دے اس پر مفتری کی حد واجب ہے اسّی کوڑے لگائے جائیں اور گواہی کبھی نہ سنی جائے ۔ (المستدرک علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم، مناقب ابی بکر، دارالفکر بیروت، ۳/ ۶۸۔۶۷)(کنزالعمال بحوالہ خط فی تلخیص المتشابہ، حدیث ۳۶۱۰۲، موسسۃ الرسالہ،بیروت، ۱۳/ ۹)(جامع الاحادیث خط فی تلخیص المتشابہ، حدیث ۷۷۲۲، دارالفکر بیروت،۱۶/ ۲۱۹)


ابو طالب عشاری بطریق الحسن بن کثیر عن ابیہ راوی ، ایک شخص نے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی : آپ خیر الناس ہیں ۔ فرمایا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے ؟ کہا نہ ۔ فرمایا : ابو بکر کو دیکھا ؟ کہا : نہ فرمایا : عمر کو دیکھا ؟ کہا : نہ ، فرمایا : اما انک لو قلت انک رأیت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لقتلتک ولو قلت رأیت ابا بکر و عمر لجلد تک ۔

ترجمہ : سن لے اگر تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیکھنے کے بعد خیرالناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اقرار کرتا اور پھر مجھے خیرالناس کہتا تو میں تجھے قتل کرتا اور اگر تو ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم کو دیکھے ہوتا اور مجھے افضل بتاتا تو تجھے حد لگاتا ۔ (جامع الاحادیث بحوالہ العشاری، حدیث ۷۷۴۳، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۵)(کنزالعمال بحوالہ العشاری، حدیث ۳۶۱۵۳،موسسۃ الرسالہ بیروت، ۱۳/ ۲۶)


ابن عسا کر سیدنا عمار بن یا سر رضی اللہ عنہما سے راوی ، امیر المؤمنین مولٰی علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لایفضلنی احد علی ابی بکر و عمر الاوقد انکر حقی وحق اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

ترجمہ : جو مجھے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم پر تفضیل دے گا وہ میر ے اور تمام اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق کا منکر ہو گا ۔ (جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر، حدیث ۷۷۳۳، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۔۲۲۱)

حضرات شیخین اوّلین جنتی ہیں:


ابو طالب عشاری اور اصبہانی کتاب الحجہ میں عبد خیر سے راوی ، میں نے امیر المؤمنین مولٰی علی رضی اللہ عنہ سے عرض کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے پہلے جنت میں کون جائے گا ؟ فرمایا : ابوبکر و عمر ۔ میں نے عرض کی : یا امیر المؤمنین ! کیا وہ دونوں آپ سے پہلے جنت میں جائیں گے ؟ فرمایا : ای والذی فلق الحبۃ وبرأالنسمۃ انھما لیاکلان من ثمارھا و یرویان من مائھا ویتکئان علٰی فرشہا وانا موقوف بالحساب ۔

ترجمہ : ہاں قسم اس کی جس نے بیج کو چیر کر پیڑا گایا اور آدمی کو اپنی قدرت سے تصویر فرمایا بیشک وہ دونوں جنت کے پھل کھائیں گے ، اس کے پانی سے سیراب ہوں گے ، اس کی مسندوں پر آرام کریں گے اور میں ابھی حساب میں کھڑا ہوں گا ۔ (جامع الاحادیث بحوالہ ابو طالب العشاری والا صفہانی الخ حدیث ۷۷۲۰، دارالفکر بیروت،۱۶/ ۲۱۹)


ابو ذر ہروی و دارقطنی وغیرہما حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے راوی میں نے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کی : یا خیرالناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقال مھلا یا ابا جحیفۃ الا اخبرک بخیر الناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابو بکر و عمر ۔ یا خیر الناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا ٹھہرو اے ابو جحیفہ ! کیا میں تمہیں نہ بتادوں کہ کون ہے ؟ فرمایا اے ابوجحیفہ ! خیر الناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں ۔ (جامع الاحادیث بحوالہ الصابونی فی المائتین، حدیث ۷۷۳۴، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۲،چشتی)(کنزالعمال بحوالہ الصابونی فی المائتین، وطس وکر حدیث ۳۶۱۴۱،موسسۃ الرسالہ، بیروت، ۱۳/ ۲۱)


ابو نعیم حلیہ اور ابن شاہین کتاب السنہ اور ابن عساکر تاریخ میں عمرو بن حریث سے راوی میں نے امیر المؤمنین مولٰی علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر فرماتے سنا : ان افضل الناس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم وفی لفظ ثم عمر ثم عثمان ۔

ترجمہ : بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے افضل ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم ہیں ، اور بالفاظ دیگر پھر عمر پھر عثمان ۔ (کنز العمال، بحوالہ ابن عسا کر وحل ابن شاہین فی السنہ، حدیث ۸۰۰۶،دارالفکربیروت، ۱۶/ ۲۹۰،چشتی)


حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے والد حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنی انہوں نے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ سے انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو فرماتے سنا ابوبکر سے بہتر کسی شخص پر نہ سورج طلوع ہوا ہے نہ غروب ۔ اس کے بعد حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے روایت میں غلط بیانی کی ہو تو مجھے شفاعت نصیب نہ ہو اور میں تو قیامت کے دین صدیق کی شفاعت کا طلب گار رہونگا ۔ اسی کے ساتھ دوسری روایت ہے کہ ساری امت سے افضل ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (الرّیاض النضرہ مترجم اردو جلد اوّل صفحہ نمبر 267 ، 268 مطبوعہ مکتبہ نورِ حسینیہ لاہور،چشتی)


حضرت ابو الدرداء رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : انبیاء کرام علیہم السّلام کے بعد ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) سے افضل کسی شخص پر نہ سورج طلوع ہوا ہے نہ غروب ۔ ایک روایت میں ہے کہ انبیاء و رسل علیہم السّلام کے بعد ابوبکر اور عمر سے زیادہ افضل کسی شخص پر سورج طلوع نہیں ہوا ہے ۔ حضرت جابر رضی ﷲ عنہ کی حدیث میں بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے انہیں فرمایا ﷲ کی قسم آپ سے افضل کسی شخص پر سورج طلوع نہیں ہوا ہے ۔ (مسند عبد بن حمید حدیث 212، ص 101 ابو نعیم طبرانی)


حضرت عمرو رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو منبر پر فرماتے سنا کہ رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے وصال باکمال کے بعد افضل ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اﷲ عنہم اجمعین ہیں ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث 178 جلد اول، ص107،چشتی)


ابوالبختری طائی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا ، میرے ساتھ ہجرت کون کرے گا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر اور وہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے وصال کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اُمّت کے والی یعنی خلیفہ ہوں گے اور وہی اُمّت میں سب سے افضل اور سب سے بڑھ کر نرم دل ہیں ۔ (ابن عساکر، تاریخ دمشق، جلد 30، ص 73)


حضرت محمد بن حنفیہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے (فرماتے ہیں) کہ میں نے اپنے باپ حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے عرض کی کہ رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ حضرت ابوبکر ، میں نے عرض کی ، پھر کون ؟ فرمایا حضرت عمر رضی ﷲ عنہم ۔ (بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی،حدیث 3671، جلد 2، ص 522)


حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ۔ میری امت میں میرے بعد سب سے بہتر شخص ابوبکر ہیں ، پھر عمر ۔ (ابن عساکر)


حضرت ابو حجیفہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے گھر میں داخل ہوا ۔ میں نے عرض کی اے رسول ﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد لوگوں میں سب سے افضل شخص ! تو آپ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا اے ابو حجیفہ ! کیا تجھے بتاؤں کہ رسول ﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد سب سے افضل کون ہے ؟ وہ حضرت ابوبکر ہیں ، پھر حضرت عمر ، اے ابو حجیفہ ! تجھ پر افسوس ہے ، میری محبت اور ابوبکر کی دشمنی کسی مومن کے دل میں جمع نہیں ہوسکتی اور نہ میری دشمنی اور ابوبکر و عمر کی محبت کسی مومن کے دل میں جمع ہوسکتی ہے ۔ (المعجم الاوسط للطبرانی من اسمہ علی، حدیث 3920، جلد 3، ص 79)


حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول ﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ پھر عرض کی کہ اے ﷲ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ! ہم پر کسی کو خلیفہ مقرر فرمایئے ۔ ارشاد فرمایا کہ نہیں ! ﷲ تعالیٰ اسے تم پر خلیفہ مقرر فرمادے گا جو تم میں سب سے بہتر ہوگا پھر ﷲ تعالیٰ نے ہم میں سے سب سے بہتر ابوبکر رضی ﷲ عنہ کو جانا ، جنہیں ہم پر خلیفہ مقرر فرمایا ۔ (دارقطنی، تاریخ دمشق، جلد 30، ص 290-289)


ہمدانی سے باکمال روایت ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنے وصال کے وقت مجھے سرگوشی کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے بعد ابوبکر ، ان کے بعد عمر ، ان کے بعد عثمان خلیفہ ہے۔ بعض روایات میں یہ لفظ ہے کہ پھر انہیں خلافت ملے گی ۔ (ابن شاہین، فضائل الصدیق لملا علی قاری، ابن عساکر، تاریخ دمشق، جلد 5، ص189،چشتی)


حکم بن حجل سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ۔ جو بھی مجھے حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما پر فضیلت دے اس پر جھوٹ بولنے کی حد جاری کروں گا ۔ (الصارم المسلول، ص 405)


اصبغ بن نباتہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ۔ جو مجھے حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ پر فضیلت دے گا، اسے بہتان کی سزا میں درے لگاؤں گا اور اس کی گواہی ساکت ہوجائے گی یعنی قبول نہیں ہوگی ۔ (کنزالعمال، کتاب الفضائل، حدیث 36097، جلد 13،ص 6/7)


حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے معلوم ہوا کہ کچھ لوگ مجھے حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما سے افضل بتاتے ہیں۔ آئندہ جو مجھے ان سے افضل بتائے گا وہ بہتان باز ہے ۔ اسے وہی سزا ملے گی جو بہتان لگانے والوں کی ہے ۔ (تاریخ دمشق، جلد 30، ص 382)


حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کو گالیاں دینے والا مولا علی رضی ﷲ عنہ کی نظر میں : ⬇


سالم بن ابی الجعد سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ۔ جو شخص حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کو گالیاں دے گا تو میرے نزدیک اس کی توبہ کبھی بھی قبول نہیں ہوگی ۔ (ابن عساکر، فضائل الصحابۃ للدار قطنی)


ابن شہاب عبد ﷲ بن کثیر سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو ہم سے محبت اور ہماری جماعت سے ہونے کا دعویٰ کریں گے ، مگر وہ ﷲ تعالیٰ کے بندوں میں سب سے شریر ہوں گے جوکہ حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کو گالیاں دیں گے ۔ (ابن عساکر، کنزالعمال، کتاب الفضائل، حدیث 36098)


حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت بر سر ممبر بیان فرمائی : ⬇


حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس امت میں نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد سب سے افضل ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہیں ۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ بات حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تواتر کے سات ثابت ہے ۔ تاریخ الاسلام باب عہد الخلفاء جلد نمبر صفحہ نمبر 115 امام ذھبی رحمۃ اللہ علیہ،چشتی)


حضرت عمرو رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو منبر پر فرماتے سنا کہ رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے وصال باکمال کے بعد افضل ابوبکر، عمر اور عثمان رضی ﷲ عنہم اجمعین ہیں ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث 178 جلد اول، ص107)


حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس امت میں سب سے بہتر ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں پھر عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (فضائل صحابہ صفحہ 33 امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اسناد صحیح ہیں)


جو مجھے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فوقیت دے گا میں اسے مفتری کی حد کوڑے لگاؤں گا اور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد افضل ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں۔فرمان حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (فضائل صحابہ رضی اللہ عنہم صفحہ 34 امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ)


حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس امت میں سب سے افضل ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں ۔ (فضائل صحابہ صفحہ 37 اس روایت کےرجال ثقہ ہیں)


حضرت ابراہیم نخعی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ مولیٰ علی رضی ﷲ عنہ کو خبر پہنچی کہ عبد ﷲ بن اسود حضرت ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کی توہین کرتا ہے تو آپ نے اسے بلوایا ، تلوار منگوائی اور اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا پھر اس کے بارے میں سفارش کی گئی تو آپ نے اسے تنبیہ کی کہ جس شہر میں رہوں ، آئندہ تو وہاں نہیں رہے گا ، پھر اسے ملک شام کی طرف جلا وطن کردیا ۔ (کنزالعمال، کتاب الفضائل، حدیث 36151)


افضلیت ابوبکر صدیق پر مولا علی رضی ﷲ عنہما کے اقوال کتب شیعہ سے : ⬇


حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ۔ ابوبکر کو سب لوگوں سے زیادہ حقدار سمجھتے ہیں کہ وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے نماز کے ساتھی اور ثانی اثنین ہیں اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنی حیات ظاہری میں ان کو نماز پڑھانے کا حکم فرمایا ۔ (شرح نہج البلاغہ ابن ابی حدید شیعی، جلد اول، ص 332)


حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا : ان خیر ہذہ الامۃ بعد نبیہا ابوبکر و عمر ۔

ترجمہ : اس امت میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد سب سے بہتر حضرت ابوبکر و عمر ہیں ۔ (کتاب الشافی، جلد دوم، ص 428،چشتی)


حضرت علی علیہ السلام نے ابوبکر و عمر کے بارے میں فرمایا : انہما اماما الہدی و شیخا الاسلام والمقتدی بہما بعد رسول اللہ ومن اقتدی بہما عصم ۔

ترجمہ : یہ حضرت ابوبکر و عمر دونوں ہدایت کے امام اور شیخ الاسلام اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعد مقتدیٰ ہیں اور جس نے ان کی پیروی کی، وہ برائی سے بچ گیا ۔ (تلخیص الشافی للطوسی، جلد 2،ص 428)


حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول ﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ان ابابکر منی بمنزلۃ السمع وان عمر منی بمنزلۃ البصر ۔

ترجمہ : بے شک ابوبکر مجھ سے ایسے ہیں جیسے میرے کان اور عمر مجھ سے ایسے ہیں جیسے میری آنکھ ۔ (عیون اخبار الرضا لابن بابویہ قمی، جلد اول، ص 313، معانی الاخبار قمی، ص 110، تفسیر حسن عسکری،چشتی)


حضرت علی علیہ السلام نے کوفہ کے منبر پر ارشاد فرمایا : لئن اوتیت برجل یفضلنی علی ابی بکر و عمر الا جلدتہ حد المفتری ۔

ترجمہ : اگر ایسا شخص میرے پاس لایا گیاتو جو مجھے حضرت ابوبکر و عمر پر فضیلت دیتا ہوگا تو میں اس پر مفتری کی حد جاری کروں گا ۔ (رجال کشی ترجمہ رقم (257) معجم الخونی (جلد ص 153)


مولا علی رضی ﷲ عنہ کو صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ پر فضیلت دینے والوں کو تنبیہ شیعہ حضرات کی کتب سے شیعہ حضرات کی اسماء الرجال کی کتاب رجال کشی میں مولا علی رضی ﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ سے ان کو افضل کہنے والوں کےلیے درّوں کی سزا اور حد کا حکم فرمایا ہے ۔ فرمان مولا علی رضی ﷲ عنہ : جو مجھے ابوبکر اور عمر پر فضیلت دیتا ہو تو میں اس کو ضرور درّے لگاؤں گا جوکہ مفتری کی حد ہے ۔ حضرت ابو بکر عمر رضی اللہ عنہما کی محبت ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ۔ شیعہ حضرات کی اسماء الرجال کی کتاب رجال کشی میں مولا علی رضی ﷲ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہما سے ان کو افضل کہنے والوں کے لئے درّوں کی سزا اور حد کا حکم فرمایا ہے اور حضرت ابو بکر عمر رضی اللہ عنہما کی محبت ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ۔ شیعوں کا محققِ اعظم لکھتا ہے : انہ رای علیا (علیہ السلام) علی منبر بالکوفۃ وہو یقول لئن اوتیت برجل یفضلنی علی ابی بکر و عمر لا جلدنہ حد المفتری ،،،، وحب ابی بکر و عمر ایمان و بغضہما کفر ۔

ترجمہ : انہوں نے حضرت علی کو کوفہ کے منبر پر بیٹھے ہوئے دیکھا اور وہ فرما رہے تھے اگر میرے پاس کوئی ایسا آدمی آئے جو مجھے ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) پر فضیلت دیتا ہو تو میں اس کو ضرور درّے لگاؤں گا جوکہ مفتری کی حد ہے ،،،،،،، حضرت ابو بکر عمر (رضی اللہ عنہما) کی محبت ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ۔ (رجال کشی صفحہ نمبر 283 مطبوعہ بیروت لبنان)،(رجال کشی صفحہ 338 ، سطر 4 تا 6، مطبوعہ کربلا)


اے محبتِ حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ کا دعویٰ کرنے والو اب جواب دو تم لوگ حضرت مولا علی رضی ﷲ عنہ کی بات مانو گے یا سڑک چھاپ جاہل ذاکروں ، جاہل پیروں اور جاہل خطیبوں کی ؟ ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)































حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا جس سے ناراض ہو جائیں وہ صحابی نہیں غلام نبی نجفی کو مدلل جواب

حضرت فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا جس سے ناراض ہو جائیں وہ صحابی نہیں غلام نبی نجفی کو مدلل جواب محترم قارئینِ کرام : حضرت فاطمة الزہرا رضی الل...