Saturday, 15 August 2026

نبی اکرم نورِ مجسم رحمتِ کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنا میلاد منایا

نبی اکرم نورِ مجسم رحمتِ کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنا میلاد منایا



محترم قارٸینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا میلاد خود منایا ہے ۔ کوئی سلیم الفطرت شخص سنتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثابت ہو جانے کے بعد میلاد منانے کا انکار نہیں کر سکتا ۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانا سنتِ نبوی سے ثابت ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنے میلاد کی خوشی کا اظہار فرمایا ۔ پیر کے دن روزہ رکھنے کی وجہ بتا کر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلانِ نبوت کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کر کے بکرے ذبح فرمائے اور سب کو کھانا کھلایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عمل کو "عقیقہ" فرمایا ، مگر حقیقت میں وہ میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی کا لنگر تھا ۔ جیسے نکاح کی خوشی کا کھانا "ولیمہ" کہلاتا ہے ، اسی طرح ولادت کی خوشی کا کھانا "عقیقہ" کہلاتا ہے ۔ یہ دراصل میلاد ہی کی خوشی کا اظہار تھا ۔ لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل اس بات کی روشن دلیل ہے کہ میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانا اور اس کی خوشی میں لنگر تقسیم کرنا براہِ راست سنتِ نبوی سے ثابت ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا میلاد خود منایا ہے ۔ کوئی سلیم الفطرت شخص سنتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثابت ہو جانے کے بعد میلاد منانے کا انکار نہیں کر سکتا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلانِ نبوت کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اکٹھا کر کے اپنی ولادت کی خوشی میں بکرے ذبح کیے اور اپنے میلاد کا لنگر اُن کو کھلایا ۔


حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : أن رسول اللہ صلي الله عليه وآله وسلم سُئل عن صوم يوم الإثنين ؟ قال : ذاک يوم ولدت فيه ويوم بعثت أو أنزل عليّ فيه ۔

ترجمہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیر کے دن کے روزے کے بارے میں پو چھا گیا تو آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا : میں اسی دن پیدا ہوا تھا اور اسی دن قرآن کا نزول ہوا ۔ (مسلم حدیث نمبر ۱۱۶۲ صفحہ ۳۹۲ مکتبہ دار الغد الجدیدقاہرہ مصر)(صحیح مسلم مترجم اردو جلد سوم صفحہ نمبر 167 حدیث نمبر 2750 مترجم غیر مقلد وہابی نواب وحید الزمان)(صحیح مسلم مترجم اردو جلد 2 صفحہ نمبر 517 حدیث نمبر 2750 مترجم غیر مقلد وہابی پروفیسر محمد یحیٰ سلطان محمود جلالپوری)


اس حدیث شریف سے چند باتیں معلوم ہوئیں : ⏬


(1) پیر کے دن کا روزہ اس لیے سنت ہے کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کا دن ہے ۔


(2) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیر کے دن کے روزہ کا اہتمام فر ما کر خود اپنی ولادت کی یاد منائی اور اللہ کا شکر بجا لایا ۔


(3) امت کےلیے یوم ولادت کی اہمیت و فضیلت ظاہر فر مائی ۔


(4) دن مقرر کر کے یاد منا نا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ۔


(5) ولادت کی خوشی اور شکرانے میں عبادت کرنا سنت ہے ۔ مگر افسوس اس صاف اور صریح حدیث کے باوجود کچھ لوگ اس کے منکر ہیں ۔ اور طر ح طرح کی بے جا حیلے اور بہانے بنا کر اس سے خود بھی باز رہتے ہیں اور لوگوں کو بھی منع کرتے ہیں اور اتنا ہی پر بس نہیں بلکہ اس کو ناجائز وحرام اور بدعت سئیہ کہتے ہیں ۔ (نعوذباللہ من ذالک)


منکرین میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غیر مقلد وھابی حضرات کے موجودہ صدی کے امام اور بڑے محدث شیخ ناصر البانی اپنی کتاب صحیح سیرۃ النبویہ کے صفحہ نمبر 12 پر لکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر پیر کو روزہ رکھتے آپ سے پیر کے روزہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن نزول قرآن شروع ہوا ۔


امام الوہابیہ ناصر البانی کی گواہی اور فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت پوا کہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانا نہ صرف جائز ہے بلکہ سنت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منکرین سے گذارش ہے ہم روزہ بھی رکھتے میلاد بھی مناتے ہیں چلو آپ لوگ ھر پیر کو ھی منا لیا کرو روزہ بھی رکھا کرو ہم منع نہیں کرتے مگر خدا را میلاد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کر کے سنت مصطفیٰ اور فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منکر نہ خود بنو اور نہ لوگوں کو بناؤ ۔


عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الاِثْنَیْنِ فَقَالَ: فِیْهِ وُلِدْتُ وَفِیْهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ ۔ وفي روایة : أُنْزِلَتْ عَلَيَّ فِیْهِ النُّبُوَّةُ۔ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ ۔

ترجمہ : حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اِسی روز میری ولادت ہوئی اور اِسی روز میرے اُوپر قرآن نازل کیا گیا ۔ اِسے امام مسلم نے روایت کیا ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اِسی روز مجھے نبوت (یعنی بعثت) سے سرفراز کیا گیا ۔ اِسے امام احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے ۔ (صحیح، کتاب الصیام، باب استحبابِ صیام ثلاثة أیام من کل شهر، 2/819، الرقم: 1162،چشتی)(مسند، 5/296، 297، الرقم: 22590، 22594)(سنن الکبری نساٸی 2/146، الرقم: 2777)


عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: وُلِدَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم یَوْمَ الاِثْنَیْنِ، وَاسْتُنْبِئَ یَوْمَ الاِثْنَیْنِ ، وَخَرَجَ مُهَاجِرًا مِنْ مَکَّةَ إِلَی الْمَدِیْنَةِ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ، وَقَدِمَ الْمَدِیْنَةَ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ، وَرَفَعَ الْحَجَرَ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ ۔ رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَقَالَ الْهَیْثَمِيُّ : رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِیْهِ ابْنُ لَهِیْعَةَ وَهُوَ ضَعِیْفٌ ، وَبَقِیَّهُ رِجَالِهٖ ثِقَاتٌ مِنْ أَهْلِ الصَّحِیْحِ ۔

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیر کے روز ولادت ہوئی ، اور پیر کے روز ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شرفِ نبوت سے سرفراز کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیر کے روز ہی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی ۔ پیر کے روز ہی مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری ہوئی اور حجر اسود اٹھانے کا واقعہ بھی پیر کے روز ہی ہوا ۔ اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ امام ہیثمی نے فرمایا : اس حدیث کو امام احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ابن لھیعہ نامی راوی کے علاوہ دیگر رجال ثقہ اور صحیح حدیث کے رجال میں سے ہیں ۔ (مسند، 1/277، الرقم: 2506، وأیضًا في المسائل، 1/59، وابن عساکر في تاریخ مدینة دمشق، 3/67)(مجمع الزوائد، 1/196)(جامع البیان، 6/84)(ابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 2/14،چشتی)(تاریخ الأمم والملوک، 2/5، 241)(البدایة والنهایة، 2/260، 3/177)(الاکتفاء ، 2/453)(أخبار مکة، 4/6، الرقم: 2298)(الاستیعاب، 1/47)(الخصائص الکبری، 2/473)


عَنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَا : وُلِدَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم یَوْمَ الْفِیْلِ یَوْمَ الاِثْنَیْنِ الثَّانِي عَشَرَ مِنْ شَهْرِ رَبِیْعِ الأَوَّلِ، وَفِیْهِ بُعِثَ، وَفِیْهِ عُرِجَ إِلَی السَّمَاءِ، وَفِیْهِ هَاجَرَ، وَفِیْهِ مَاتَ صلی الله علیه وآله وسلم ۔

ترجمہ : حضرت جابر بن عبد الله انصاری اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما دونوں نے بیان فرمایا: رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ عام الفیل، پیر کے روز بارہ ربیع الاول کو ہوئی، اور اسی روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شرفِ نبوت سے سرفراز کیا گیا اور اسی روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسمان کی طرف بلند کیا گیا (یعنی معراج کرائی گئی)، اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت فرمائی ، اور اسی روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال مبارک ہوا ۔ (الأباطیل والمناکیر والصحاح والمشاهیر، کتاب الفضائل، باب فضل النبي صلی الله علیه وآله وسلم /27، الرقم : 122)


وفي روایة : عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ رضی اللہ عنہ قَالَ : وُلِدَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم عَامَ الْفِیْلِ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ لِاثْنَتَي عَشَرَ لَیْلَةً مَضَتْ مِنْ شَهْرِ رَبِیْعِ الْأَوَّلِ ۔ رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ إِسْحَاقَ وَالْبَیْهَقِيُّ وَاللَّفْظُ لَهٗ ۔

ترجمہ : حضرت محمد بن اسحاق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام الفیل میں پیر کے روز بارہ ربیع الاول کو اس دنیا میں تشریف لائے ۔ (المستدرک ، 2/659، الرقم: 4182)8ابن حبان في الثقات، 1/15)(شعب الإیمان، 2/135، الرقم: 1387)(دلائل النبوة بیہقی ، 1/74)(تاریخ مدینة دمشق، 3/73)(تاریخ الأمم والملوک ، 1/453)(الاکتفاء، 1/131)(السیرة النبویة ابن اسحق / 591۔594)(السیرة النبویة ابن هشام ، 1/293)


عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم عَقَّ عَنْ نَفْسِهٖ بَعْدَ النُّبُوَّةِ ۔

ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِعلانِ نبوت کے بعد اپنا عقیقہ کیا ۔ (السنن الکبری، 9/300، الرقم: 19056)(الأحادیث المختارة، 5/205، الرقم: 1833،چشتی)(تہذیب الأسماء واللغات، 2/557، الرقم: 962)(فتح الباري، 9/595)(تهذیب التهذیب، 5/340، الرقم: 661)(تهذیب الکمال، 16/32، الرقم: 3523)


وفي روایة: عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم عَقَّ عَنْ نَفْسِهٖ بَعْدَ مَا بُعِثَ نَبِیًّا ۔

ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعد اَز بعثت اپنا عقیقہ کیا ۔ (المعجم الأوسط، 1/298، الرقم: 994)(الأحادیث المختارة، 5/205، الرقم: 1832)(المسند رویاني ، 2/386، الرقم: 1371)


وفي روایة: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: لَمَّا وُلِدَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم عَقَّ عَنْهُ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ رضی الله عنه بِکَبْشٍ ۔

ترجمہ : حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی تو حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے آپ کی طرف سے ایک مینڈھا ذبح کرکے عقیقہ کیا ۔ (تاریخ مدینة دمشق، 3/32،چشتی)(إنسان العیون في سیرة الأمین المامون، 1/128)(کفایة الطالب اللبیب في خصائص الحبیب، 1/134)


قَالَ السُّیُوْطِيُّ : وَظَهَرَ لِي تَخْرِیْجُهٗ عَلٰی أَصْلٍ آخَرَ، وَهُوَ مَا أَخْرَجَهُ الْبَیْهَقِيُّ، عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم عَقَّ عَنْ نَفْسِهٖ بَعْدَ النُّبُوَّةِ۔ مَعَ أَنَّهٗ قَدْ وَرَدَ أَنَّ جَدَّهٗ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ عَقَّ عَنْهُ فِي سَابِعِ وِلَادَتِهٖ، وَالْعَقِیْقَةُ لَا تُعَادُ مَرَّةً ثَانِیَةً، فَیُحْمَلُ ذَالِکَ عَلٰی أَنَّ الَّذِي فَعَلَهُ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم إِظْهَارًا لِلشُّکْرِ عَلٰی إِیْجَادِ اللهِ تَعَالٰی إِیَّاهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِیْنَ وَتَشْرِیْفًا لِأُمَّتِهٖ، کَمَا کَانَ یُصَلِّي عَلٰی نَفْسِهٖ، لِذَالِکَ فَیَسْتَحِبُّ لَنَا أَیْضًا إِظْهَارُ الشُّکْرِ بِمَوْلِدِهٖ بِاجْتِمَاعِ الإِخْوَانِ، وَإِطْعَامِ الطَّعَامِ، وَنَحْوَ ذَالِکَ مِنْ وُجُوْهِ الْقُرُبِاتِ، وَإِظْهَارِ الْمَسَرَّاتِ ۔ (حسن المقصد في عمل المولد/64، 65، وأیضًا في الحاوي للفتاوی/206، والصالحي في سبل الهدی والرشاد، 1/367)(زرقاني في شرح المواهب اللدنیة، 1/263264،چشتی)(حجة الله علی العالمین/237)

ترجمہ : امام سیوطی علیہ الرحمہ نے فرمایا : یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کے حوالہ سے ایک اور دلیل مجھ پر ظاہر ہوئی ہے، جسے امام بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِعلانِ نبوت کے بعدخود اپنا عقیقہ کیا باوُجود اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا عبد المطلب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے ساتویں روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقیقہ کر چکے تھے اورعقیقہ دو (2) بار نہیں کیا جاتا۔ پس یہ واقعہ اِسی پر محمول کیا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آپ کو الله کی طرف سے رحمۃ للعالمین بنائے جانے اور اپنی اُمت کے مشرف ہونے کی وجہ سے اپنی ولادت کی خوشی کے اظہار کے لیے خود عقیقہ کیا۔ اسی طرح ہمارے لیے مستحب ہے کہ ہم بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یومِ ولادت پر خوشی کا اِظہار کریں اور کھانا کھلائیں اور دیگر عبادات بجا لائیں اور خوشیوں کا اظہار کریں ۔


حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ : أن النبي ﷺ عق عن نفسه بعد النبوة ۔

ترجمہ : بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلانِ نبوت کے بعد اپنی طرف سے عقیقہ کیا ۔ (المعجم الأوسط، ج1، ص 298، رقم: 994)(السنن الکبری، ج۹، ص 300، رقم: 19056،چشتی)(تهذيب الكمال، ج16، ص 132)(تہذیب التہذیب، ج5، ص 340)


اس حدیث کو امام بزار نے اپنی المسند میں اور امام ہیثمی علیہما الرحمہ نے مجمع الزوائد میں بھی روایت کیا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کیا اور بکرے ذبح کیا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لنگرِ میلاد کھیلایا ۔


بعض علماء کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو بکرے ذبح کیے تھے وہ میلاد کے نہیں بلکہ عقیقہ کے تھے ۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بکرے میلاد کے موقع پر نہیں بلکہ عقیقہ کے طور پر ذبح کیے گئے تھے ۔ اب سوال یہ ہے کہ عقیقہ کس موقع پر کیا جاتا ہے ؟ کیا عقیقہ وفات پر ہوتا ہے یا ولادت پر ؟ ظاہر ہے عقیقہ ولادت کی خوشی میں کیا جاتا ہے ۔ لہٰذا کوئی چاہے اسے میلاد مانے یا عقیقہ ، حقیقت یہ ہے کہ عقیقہ بھی میلاد (ولادت) کی خوشی کا کھانا ہے ۔ جیسے ولیمہ شادی کی خوشی کا کھانا ہوتا ہے، اسی طرح عقیقہ ولادت کی خوشی کا کھانا ہے ۔


حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ: لما ولد النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عق عنه عبد المطلب بكبش وسماه محمدا ۔

ترجمہ : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ با سعادت ہوئی تو آپ کی طرف سے آپ کے دادا عبد المطلب نے ایک مینڈھے کا عقیقہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکھا ۔ (تاريخ مدينة دمشق، ج3، ص 32،چشتی)(الحاوي للفتاوي، ج1، ص 188)


امام سیوطی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ : أن جده عبد المطلب عق عنه في سابع ولادته والعقيقة ۔

ترجمہ : بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے دادا عبد المطلب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے ساتویں روز آپ کی طرف سے عقیقہ کر دیا تھا ۔ (الحاوي للفتاوي، ج1، ص 188)


امام ابو داود اپنی السنن میں اور امام ترمذی علیہما الرحمہ اپنی السنن میں روایات نقل کرتے ہیں ۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا : كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُدَمَّى ۔

ترجمہ : ہر بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے، اس کی طرف سے ساتویں روز ذبح کیا جائے، اس کا سر مونڈا جائے، اور اس کا نام رکھا جائے۔ (أبو داود، السنن، ج3، ص 106، رقم: 2837)


امام ترمذی علیہ الرحمہ یہی روایت اپنی السنن میں نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا : الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ ۔

ترجمہ : ہر بچہ عقیقہ کے بدلے گروی رکھا ہوا ہے، پیدائش کے ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور اس کے سر کے بال منڈائے جائیں ۔ (سنن ترمذی ج4، ص 101، رقم: 1522)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث میں عقیقہ کے بارے میں یہ ہدایت ہے کہ اگر ساتویں دن عقیقہ نہ ہو سکے تو چودھویں دن کیا جائے ، اور اگر چودھویں دن بھی نہ ہو سکے تو اکیسویں دن کیا جائے ۔ یہ دن عقیقے کے لیے مقرر ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقیقہ آپ کی ولادت کے ساتویں دن ہو گیا تھا ۔


اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ساتواں دن ، چودھواں دن اور اکیسواں دن سب گزر گئے تو پھر چالیس سال بعد اعلانِ نبوت کے بعد دوبارہ عقیقہ کرنے کا کیا مطلب ؟ اگر کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سوچا ہو کہ میرا پہلا عقیقہ بعثت سے پہلے جاہلیت کے دور میں ہوا تھا ، اس لیے اب نبوت کے بعد اپنی شریعت کے مطابق دوبارہ عقیقہ کروں ۔ تو اس خیال کا بھی میں جواب دینا چاہتا ہوں ۔ یہ محض ایک گمان ہے کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاہا ہو کہ بعثت کے بعد اپنی شریعت میں اس عمل کو دوبارہ ادا کریں ۔ اگر بعثت سے پہلے دورِ جاہلیت کا کوئی عمل ناجائز ہو جاتا (معاذ اللہ) اور اسے دہرانا ضروری ہوتا ، تو سب سے پہلے نکاح دہرانا لازمی تھا ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے نکاح بعثت سے پندرہ سال پہلے ہوا تھا ۔ اسی نکاح سے سیدہ فاطمہ ، حضرت رقیہ ، حضرت زینب ، حضرت ام کلثوم ، حضرت ابراہیم ، حضرت قاسم اور طیب و طاہر رضی اللہ عنہم پیدا ہوئے ۔ جب اعلانِ نبوت ہوا تو وہ نکاح تو دوبارہ نہیں کیا گیا ، تو پھر عقیقہ دہرانے کی ضرورت کیسے پیش آ سکتی ہے ؟


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا اعادہ نہیں کیا ، تو پھر عقیقے کا اعادہ اس سے زیادہ ضروری کیسے ہو سکتا تھا ؟ حقیقت یہ ہے کہ جسے "عقیقہ" کہا گیا ہے وہ دراصل کھانا ہے ، یعنی بکرے ذبح کر کے صدقہ و خیرات اور خوشی کے اظہار کےلیے کھانا کھلانا ۔ شادی کی خوشی کا کھانا "ولیمہ" کہلاتا ہے اور ولادت (میلاد) کی خوشی کا کھانا "عقیقہ" کہلاتا ہے ۔ چنانچہ اعلانِ نبوت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع فرمایا اور اپنی شریعت اور سنت میں اپنے میلاد کی خوشی کا لنگر کھلا کر قیامت تک کےلیے میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانا سنت بنا دیا ۔


میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواز اور اس کے سنت ہونے پر خود سیرتِ نبوی روشن دلیل ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلانِ نبوت کے بعد اپنی ولادتِ باسعادت کی خوشی میں بکرے ذبح کیے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لنگر عطا فرمایا ۔ اسے اگر کوئی عقیقہ کہے تو بھی حقیقت یہی ہے کہ عقیقہ دراصل میلاد (یعنی ولادت) ہی کی خوشی کا کھانا ہے ، جیسے نکاح کی خوشی کا کھانا ولیمہ کہلاتا ہے ۔ اس عمل سے یہ اَمر قطعی طور پر ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سنت اور اپنی شریعت میں میلاد کی مسرت کو عملی صورت بخشی ۔ جس سے یہ واضح ہوا کہ عقیقے کے نام پر جو لنگر دیا گیا وہ دراصل میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جشن تھا ۔ یوں میلاد منانا فقط مباح نہیں بلکہ عین سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ، اور اس کی اصل خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے میلاد کی خوشی کا اظہار ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 13 August 2026

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ثبوت وہابیوں کے گھر سے

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ثبوت وہابیوں کے گھر سے

محترم قارئینِ کرام : محترم قارئینِ کرام : اہلِ اسلام کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادت کی خوشی منانا ، سال کے تمام ایام میں بالخصوص ماہ ربیع الاول میں اجر و ثواب کی نیت سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے شمائل و خصائل کو بیان کرنا اور ایصال ثواب کے نذرانے پیش کرنا اہل اسلام کا طریقہ رہا ہے ۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کے میلاد منانا ایک کار خیر اور باعث اجر و ثواب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جمہور محدثین ، مفسرین ، مورخین علیہم الرّحمہ سب میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو ایک امر خیر جانتے ہیں اور اس کے منانے والوں کےلیے الله عزّ وجل کی جانب سے اجرِعظیم کی امید رکھتے ہیں ۔


آگے بڑھنے سے پہلے یہ حدیث پڑھ لیجیے دین میں اچھے کام کے رائج کرنے والوں پر اجر : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ ۔ (رواہ مسلم كتاب الزكاة ١٠١٧،چشتی)

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا جو شخص اسلام میں اچھے طریقے کو رائج کرے گا ، تو اس کو اس کا ثواب ملے گا ، اور ان لوگوں کے عمل کا بھی ثواب ملے گا جو اس کے ایجاد کردہ فعل پر عمل کرتے رہیں اور عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں واقع نہیں ہوگی ، اور جو شخص اسلام میں کسی برے عمل کو رائج کرے گا تو اس پر اس عمل کو رائج کرنے کا بھی گناہ ملے گا اور ان لوگوں کے عمل کا بھی جو اس کے بعد اس طریقے پر چلتے رہے اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہیں کی جائے گی ۔


اہلِ بدعت یعنی غیر مقلدین جنہوں نے عقائد میں طرح طرح کی بدعات نکال لی ہیں ۔ اور دین کے ہر مسئلے میں ان کا اسی طرح پوری امت سے علیحدہ ہی رہنے کا ان کا عزم ہے ۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو بدعت بدعت کہ کر رٹ لگائے رکھتے ہیں پر ان غیر کے مقلدوں کے پاس اس کی حرمت کی دلیل نہیں فقط یہ کہنے کہ " كل بدعة ضلالة " یا پھر "من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه فھو رد " سے استدلال باطلہ کرنے کے . من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه فھو رد ، اس حدیث کی شرح میں محدثین علیہم الرّحمہ کے اقوال میں نقطہ یہ ہے کہ اس میں ما لیس منه کی قید ہے . مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح » كتاب الإيمان » باب الاعتصام بالكتاب والسنة."ما ليس منه فيه إشارة إلى أن إحداث ما لا ينازع الكتاب والسنة ۔

ترجمہ : اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسی نئی بات کا نکالنا جو کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو مذموم (نا پسندیدہ) نہ ہو گی ۔


امام شافعی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں : مَا أَحْدَثَ وَخَالَفَ كِتَابًا أَوْ سُنَّةً أَوْ إِجْمَاعًا أَوْ أَثَرًا فَهُوَ الْبِدْعَةُ الضَّالَّةُ. وَمَا أُحْدِثَ مِنَ الْخَيْرِ وَلَمْ يُخَالِفْ مِنْ ذٰلِكَ فَهُوَ الْبِدْعَةُ الْمَحْمُوْدَةُ ۔ (إعانة الطالبين جلد 1 صفحہ 594،چشتی)

ترجمہ : جو چیز نئی پیدا ہوئی اور مخالف ہوئی کتاب و سنت اور اجماع اور اثر کے ، وہ بدعت ضلالہ ہے اور جو نئی چیز پیدا ہوئی خیر سے اور نہیں مخالف ہے ان سے (کتاب و سنت ، اجماع اثر) ، پس وہ بدعت محمودہ ہے ۔


دوسری حدیث : كل بدعة ضلالة اس حدیث میں لفظ کل استغراقی نہیں ہے ۔ بلکہ یہ "کل" عام اور مخصوص البعض ہے کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم احداث کو ما لیس منہ کے ساتھ مقید فرما چکے ہیں تو اب جس قدر حدیثیں بدعت کی منع ہوں گی وہ سب احداث، مخالف شریعت کی طرف راجع ہونگی ، نہ کہ موافق شریعت کی طرف، کیونکہ اصول کا مسلہ ہے کہ جب کوئی حکم کسی امر مقید پر ہوتا ہے تو وہ حکم قید کی طرف راجع ہوگا . (حديث مرفوع) : مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ ۔ (أحمد في كتاب السنة رقم الحديث: 914)

ترجمہ : جسے مسلمان اچھا جانیں ، وہ الله کے نزدیک بھی اچھا ہے ۔


منکرینِ میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم وہابیوں کی گردنوں پر تلوار : ⏬


محترم قارئینِ کرام : ہم نے ابن تیمیہ کا حوالہ پیش کیا تو منکرینِ میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو آگ اور مرچی لگ گئی کہ خیانت کی گئی ہے ان بچاروں کے پاس جواب تو ہوتا نہیں جب جواب نہیں ہوتا تو سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کرنے کےلیے جھوٹ بولنے سے دریغ نہیں کرتے کبھی کہتے ہیں حدیث ضعیف ہے ، کبھی کہتے ہیں عبارت مکمل نہیں اور جب پھنس جائیں تو پھر کہتے یہ مولوی ہمارے لیے حجت نہیں ہے مگر انہیں ملاّؤں کا نام استعمال کر کے لوگوں کو گمراہ بھی کرتے ہیں آیئے ہم اقتضاء الصراط مستقیم کے عربی ایڈیشن اور ایک اردو ترجمہ جو وہابیوں نے کیا ہے کے اسکینز ساتھ پیش کر رہے ہیں ۔ جس میں علامہ ابن تیمیہ نے صاف لکھا ہے کہ میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم منانے والوں کےلیے اجر عظیم اور ثواب ہے پڑھیے اور وہابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے بغض و عداوت ملاحطہ کیجیے ۔


وہابیوں کی گردنوں پر تلوار ، شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : وکذلک ما يحدثه بعض الناس، إما مضاهاة للنصاري في ميلاد عيسي عليه السلام، وإما محبة للنبي صلي الله عليه وآله وسلم وتعظيمًا. وﷲ قد يثيبهم علي هذه المحبة والاجتهاد، لا علي البدع ، من اتخاذ مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم عيدًا ۔

ترجمہ : اور اِسی طرح اُن اُمور پر (ثواب دیا جاتا ہے) جو بعض لوگ ایجاد کر لیتے ہیں ، میلادِ عیسیٰ علیہ السلام میں نصاریٰ سے مشابہت کے لیے یا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّمکی محبت اور تعظیم کےلیے ۔ اور اللہ تعالیٰ اُنہیں اِس محبت اور اِجتہاد پر ثواب عطا فرماتا ہے نہ کہ بدعت پر ، اُن لوگوں کو جنہوں نے یومِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو بہ طور عید اپنایا ۔ (اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم صفحہ 619،چشتی)


وہابیوں کی گردنوں پر تلوار ، شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : فتعظيم المولد واتخاذه موسماً، قد يفعله بعض الناس، ويکون له فيه أجر عظيم؛ لحسن قصده ، وتعظيمه لرسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، کما قدمته لک أنه يحسن من بعض الناس ما يستقبح من المؤمن المسدد ۔

ترجمہ : میلاد شریف کی تعظیم اور اسے شعار بنا لینا بعض لوگوں کا عمل ہے اور اِس میں اُس کےلیے اَجر عظیم بھی ہے کیوں کہ اُس کی نیت نیک ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی تعظیم بھی ہے ، جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک ایک اَمر اچھا ہوتا ہے اور بعض مومن اسے قبیح کہتے ہیں ۔ (اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم صفحہ 621 ، 622،چشتی)


وہابیوں کی گردنوں پر تلوار ، شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : جو مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی محبت میں میلاد مناتے ہیں اللہ انہیں اس پر اجر و ثواب عطاء فرمائے گا ۔ (فکر و عقیدہ کی گمراہیاں ترجمہ اقتضاء الصراط مستقیم صفحہ 73 ابن تیمیہ، مترجم وہابی عالم مطبوعہ دارالسلام)


وہابیوں کی گردنوں پر تلوار ، شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : میلاد شریف کی تعظیم اور اسے شعار بنا لینا بعض لوگوں کا عمل ہے اور اِس میں اُس کےلیے اَجر عظیم بھی ہے کیوں کہ اُس کی نیت نیک ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی تعظیم بھی ہے ، جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک ایک اَمر اچھا ہوتا ہے اور بعض مومن اسے قبیح کہتے ہیں ۔ (فکر و عقیدہ کی گمراہیاں ترجمہ اقتضاء الصراط مستقیم صفحہ 77 ابن تیمیہ ، مترجم وہابی عالم مطبوعہ دارالسلام) ۔ لو جی وہابیو اب تو ترجمہ اور چھاپہ تمہارا ہے ۔


وہابی نجدی مذھب کے بانی محمد ابن عبد الوہاب نجدی کے بیٹے شیخ عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب نے اپنی کتاب “مختصر سيرة الرسول صلى الله عليه وسلم” میں رقم کیا ہے : وأرضعته صلى الله عليه وسلم ثويبة عتيقة أبي لهب، أعتقها حين بشرته بولادته صلى الله عليه وسلم. وقد رؤي أبو لهب بعد موته في النوم فقيل له: ما حالك ؟ فقال: في النار، إلا أنه خفف عني كل اثنين، وأمص من بين إصبعي هاتين ماء ۔ وأشار برأس إصبعه ۔ وإن ذلك بإعتاقي ثويبة عندما بشرتني بولادة النبي صلى الله عليه وسلم وبإرضاعها له ۔

ترجمہ : ابو لہب کی آزاد کردہ باندی “ثویبہ” کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت رضاعت کا شرف ملا ، ابو لہب نے انہيں اس وقت آزاد کیا تھا جس وقت انہوں نے اسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت باسعادت کی بشارت سنائی تھی ۔ اور ابو لہب کے مرنے کے بعد اسے خواب میں دیکھا گيا ، اس سےپوچھا گیا کہ تیرا کیا حال ہے ؟ تو اس نے کہا : میں عذاب میں ہوں البتہ ہر پیر کے دن مجھ سے عذاب ہلکا کیا جاتا ہے ، اور میں اپنی ان دونوں انگلیوں کے درمیان پانی چوستا ہوں (اس نے اپنی انگلی کی پور کی جانب اشارہ کیا) اور یہ ثویبہ کو اس موقع پر آزاد کرنے کی برکت ہے جس وقت اس نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت کی بشارت دی تھی ، اور خدمت رضاعت کا شرف حاصل کیا تھا ۔ شیخ عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب نجدی نے اس روایت سے جواز میلاد پر استدلال کرتے ہوئے علامہ ابن جوزی کا قول نقل کیا ہے : قال ابن الجوزي : فإذا كان هذا أبو لهب الكافر الذي نزل القرآن بذمه جوزي بفرحه ليلة مولد النبي صلى الله عليه وسلم به فما حال المسلم الموحد من أمته صلى الله عليه وسلم يسر بمولده ؟ ۔

ترجمہ : ابن جوزی نے کہا : جب کافر ابو لہب کہ جس کی مذمت میں قرآن کریم کی سورت نازل ہوئی اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت کی شب خوش ہونے پر ثواب دیا جارہا ہے تو آپ کی امت کا مؤمنِ موحد جب آپ کی ولادت پر اظہار مسرت کرتا ہے تو وہ کس قدر نوازا جائے گا ۔ (مختصر سيرة الرسول ﷺ لعبد الله بن محمد بن عبد الوهاب باب رضاعه من ثويبة عتيقة أبي لهب صفحہ نمبر 27 مطبوعہ دارالحضارہ للنشر والتوزیع)(مختصر سيرة الرسول صلى الله عليه وسلم لعبد الله بن محمد بن عبد الوهاب باب رضاعه من ثويبة عتيقة أبي لهب جلد 1 صفحہ نمبر 16 ، 17 مطبوعہ دار السلام الرياض،چشتی)(مختصر سیرۃ الرسول مترجم اردو صفحہ نمبر 32 عبد اللہ بن محمد بن عبد الوہاب نجدی مطبوعہ جامعة العلوم الاثریہ جہلم)(الوفا باحوال مصطفیٰ ﷺ مترجم اردو صفحہ نمبر 138 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)


ابو لہب جیسے کافر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت کی خوشی میں ثوبیہ کو آزاد کیا تو ہر پیر کو عذاب میں کمی ہو جاتی ، (توفیق الباری شرح بخاری جلد 8 صفحہ 194 مترجم وہابی عالم)


امامُ الوہابیہ و دیابنہ علامہ حافظ ابن قیم جوزی لکھتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم جب پیدا ہوئے ثوبیہ نے ابو لہب کو خوشخبری دی اس نے اسے اس خوشی میں آزاد کردیا جب مرگیا تو اسے مرنے کے بعد عذاب میں کمی ہوتی تھی اس کی انگلی سے مشروب جاری ہوتا جسے وہ پیتا ۔ (تحفۃ الودود صفحہ نمبر 33)


امامُ الوہابیہ نواب صدیق حسن خان بھوپالی (م 1307ھ) غیر مقلدین کے نام وَر عالم دین ہیں وہ میلاد شریف منانے کی بابت لکھتے ہیں : اِس میں کیا برائی ہے کہ اگر ہر روز ذکرِ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں کر سکتے تو ہر اُسبوع (ہفتہ) یا ہر ماہ میں اِلتزام اِس کا کریں کہ کسی نہ کسی دن بیٹھ کر ذکر یا وعظِ سیرت و سمت و دل و ہدی و ولادت و وفات آنحضرت کا کریں۔ پھر ایامِ ماہِ ربیع الاول کو بھی خالی نہ چھوڑیں اور اُن روایات و اخبار و آثار کو پڑھیں پڑھائیں جو صحیح طور پر ثابت ہیں ۔ (الشمامة العنبرية من مولد خير البرية صفحہ نمبر 5،چشتی)


امامُ الوہابیہ نواب صدیق حسن خان بھوپالی (م 1307ھ) غیر مقلدین کے نام وَر عالم دین ہیں وہ میلاد شریف منانے کی بابت لکھتے ہیں : جس کو حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے میلاد کا حال سن کر فرحت حاصل نہ ہو اور شکر خدا کا حصول پر اِس نعمت کے نہ کرے وہ مسلمان نہیں ۔ (الشمامة العنبرية من مولد خير البرية صفحہ 12)


مشہور غیر مقلد وہابی عالم علامہ نواب وحید الزماں (متوفی 1338ھ ، 1920ء میلاد شریف کے بارے میں لکھتے ہیں : وکذلک من يزجر الناس بالعنف والتشدد علي سماع الغناء أو المزامير أو عقد مجلس للميلاد أو قراء ة الفاتحة المرسومة ويفسقهم أو يکفرهم علي هذا ۔

ترجمہ : ایسے ہی لوگوں کو سماع ، غناء یا مزامیر یا محفلِ میلاد منعقد کرنے یا مروّجہ فاتحہ پڑھنے پر ڈانٹ ڈپٹ کرنے سے یا اُن کے فسق یا اُن کے کفر پر ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور تشدد کرنا نیکی کی بجائے گناہ حاصل کرنا ہے ۔ (هدية المهدی من الفقه المحمدی صفحہ نمبر 118 ، 119)


جو لوگ محفلِ میلاد کو بدعتِ مذمومہ اور خلافِ شرع کہتے ہیں ، اُنہیں کم اَز کم اپنے بڑوں کا ہی لحاظ کرتے ہوئے اِس رویہ سے گریز کرنا چاہیے  ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)














میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ثبوت دیوبندوں کے گھر سے

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ثبوت دیوبندوں کے گھر سے

محترم قارئینِ کرام : اہلِ اسلام کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادت کی خوشی منانا ، سال کے تمام ایام میں بالخصوص ماہ ربیع الاول میں اجر و ثواب کی نیت سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے شمائل و خصائل کو بیان کرنا اور ایصال ثواب کے نذرانے پیش کرنا اہل اسلام کا طریقہ رہا ہے ۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کے میلاد منانا ایک کار خیر اور باعث اجر و ثواب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جمہور محدثین ، مفسرین ، مورخین علیہم الرّحمہ سب میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو ایک امر خیر جانتے ہیں اور اس کے منانے والوں کےلیے الله عزّ وجل کی جانب سے اجرِعظیم کی امید رکھتے ہیں ۔


آگے بڑھنے سے پہلے یہ حدیث پڑھ لیجیے دین میں اچھے کام کے رائج کرنے والوں پر اجر : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ ۔ (رواہ مسلم كتاب الزكاة ١٠١٧،چشتی)

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا جو شخص اسلام میں اچھے طریقے کو رائج کرے گا ، تو اس کو اس کا ثواب ملے گا ، اور ان لوگوں کے عمل کا بھی ثواب ملے گا جو اس کے ایجاد کردہ فعل پر عمل کرتے رہیں اور عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں واقع نہیں ہوگی ، اور جو شخص اسلام میں کسی برے عمل کو رائج کرے گا تو اس پر اس عمل کو رائج کرنے کا بھی گناہ ملے گا اور ان لوگوں کے عمل کا بھی جو اس کے بعد اس طریقے پر چلتے رہے اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہیں کی جائے گی ۔


اہلِ بدعت یعنی غیر مقلدین جنہوں نے عقائد میں طرح طرح کی بدعات نکال لی ہیں ۔ اور دین کے ہر مسئلے میں ان کا اسی طرح پوری امت سے علیحدہ ہی رہنے کا ان کا عزم ہے ۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو بدعت بدعت کہ کر رٹ لگائے رکھتے ہیں پر ان غیر کے مقلدوں کے پاس اس کی حرمت کی دلیل نہیں فقط یہ کہنے کہ " كل بدعة ضلالة " یا پھر "من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه فھو رد " سے استدلال باطلہ کرنے کے . من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه فھو رد ، اس حدیث کی شرح میں محدثین علیہم الرّحمہ کے اقوال میں نقطہ یہ ہے کہ اس میں ما لیس منه کی قید ہے . مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح » كتاب الإيمان » باب الاعتصام بالكتاب والسنة."ما ليس منه فيه إشارة إلى أن إحداث ما لا ينازع الكتاب والسنة ۔

ترجمہ : اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسی نئی بات کا نکالنا جو کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو مذموم (نا پسندیدہ) نہ ہو گی ۔


امام شافعی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں : مَا أَحْدَثَ وَخَالَفَ كِتَابًا أَوْ سُنَّةً أَوْ إِجْمَاعًا أَوْ أَثَرًا فَهُوَ الْبِدْعَةُ الضَّالَّةُ. وَمَا أُحْدِثَ مِنَ الْخَيْرِ وَلَمْ يُخَالِفْ مِنْ ذٰلِكَ فَهُوَ الْبِدْعَةُ الْمَحْمُوْدَةُ ۔ (إعانة الطالبين جلد 1 صفحہ 594،چشتی)

ترجمہ : جو چیز نئی پیدا ہوئی اور مخالف ہوئی کتاب و سنت اور اجماع اور اثر کے ، وہ بدعت ضلالہ ہے اور جو نئی چیز پیدا ہوئی خیر سے اور نہیں مخالف ہے ان سے (کتاب و سنت ، اجماع اثر) ، پس وہ بدعت محمودہ ہے ۔


دوسری حدیث : كل بدعة ضلالة اس حدیث میں لفظ کل استغراقی نہیں ہے ۔ بلکہ یہ "کل" عام اور مخصوص البعض ہے کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم احداث کو ما لیس منہ کے ساتھ مقید فرما چکے ہیں تو اب جس قدر حدیثیں بدعت کی منع ہوں گی وہ سب احداث، مخالف شریعت کی طرف راجع ہونگی ، نہ کہ موافق شریعت کی طرف، کیونکہ اصول کا مسلہ ہے کہ جب کوئی حکم کسی امر مقید پر ہوتا ہے تو وہ حکم قید کی طرف راجع ہوگا . (حديث مرفوع) : مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ ۔ (أحمد في كتاب السنة رقم الحديث: 914)

ترجمہ : جسے مسلمان اچھا جانیں ، وہ الله کے نزدیک بھی اچھا ہے ۔


میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم حکیم الامت دیوبند کی نظر میں : ⏬


حکیم الامت دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید میلاد لکھتے ہیں اور لکھتے ہیں ہم اسے باعث برکت سمجھتے ہیں اور جس مکان میں عید میلاد منائی جائے اس میں برکت ہوتی ہے ۔ (ارشاد العباد فی عید میلاد صفحہ نمبر 4)


حکیم الامت دیوبند جناب اشرف علی تھانوی کہتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود سب سے بڑی نعمت ہے یومِ ولادت پیر اور تاریخ ولادت بارہ (12) ربیع الاوّل باعث برکت ہیں اس دن و یوم میلاد سے برکتیں حاصل ہوتی ہیں ۔ (ارشاد العباد فی عید میلاد صفحہ نمبر 5)


حکیم الامت دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب کہتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا وجود سب سے بڑی نعمت ہے اور تمام نعمتیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صدقے ملی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اصل ہیں تمام نعمتوں کی ۔ (اِرشادُالعِبَاد فِی عِیدِ المیلاد صفحہ نمبر 5 ، 6،چشتی)


حکیم الامت دیوبند لکھتے ہیں : ذکر ولادت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیگر اذکار خیر کی طرح ثواب اور افضل ہے ۔ (امدادُالفتاویٰ جلد نمبر 11 صفحہ نمبر 351 مطبوعہ انڈیا)


مکتبہ فکر دیوبند کے کوفوں سے گذارش ہے آؤ منکرات کے خلاف مل کر کام کریں آواز اٹھائیں مگر خدا را ہماری نہ مانو اپنے حکیم الامت صاحب کی مان لو اور وہابیت کے راستے پر چل کر میلاد جیسے ثواب کے کام کا مذاق مت اڑاؤ پڑھو تھانوی صاحب کیا لکھ رہے ہیں ۔ اب آپ کی مرضی ہے اس ثواب کے کام کا مذاق اڑاؤ یا منا کر ثواب کماؤ ۔


حکیم الامت دیوبند مولوی اشرفعلی تھانوی لکھتے ہیں : میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مستحب عمل ہے اس شامل منکرات کو ترک کرنا چاہیے نہ کہ مستحب عمل کو ۔ (مجالس حکیم الامت صفحہ نمبر 160 مطبوعہ دارالاشاعت اردو بازار کراچی،چشتی)


اے مکتبہ فکر دیوبند کے لوگو آپ کے حکیم الامت علامہ اشرف علی تھانوی صاحب میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مستحب عمل قرار دے رہے ہیں ذرا بتایئے مستحب عمل کرنے پر ثواب ملتا ہے یا گناہ ؟ جناب ہم بھی مستحب سمجھ کر میلاد مناتے ہیں فرض یا واجب نہیں ۔


رہی بات منکرات کی تو ہم سخت مخالف ہیں اور رد کرتے ہیں ان غیر شرعی افعال کا جو کچھ جہلا شامل کر لیتے ہیں آیئے منکرات کا رد کریں مستحب عمل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دھوم دھام سے منائیں ۔


حکیم الامت دیوبند جناب اشرف علی تھانوی صاحب فرماتے ہیں : میلاد ہر جگہ تو بدعت ہے مگر کالج میں منانا نہ صرف جائز ہے بلکہ واجب ہے ۔ (ملفوظات حکیم الامت انفاس عیسیٰ جلد نمبر 21 حصّہ اوّل صفحہ نمبر 326،چشتی)


اب دیوبندی حضرات سے سوال ہے کہ میلاد ہر جگہ بدعت کیوں ہے ؟ اور کالج میں جائز بلکہ واجب کیوں ہے ؟ برائے کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں اس تضاد بیانی کا جواب دیا جائے اوٹ پٹانگ باتوں سے پرھیز فرمائیں موضوع اور پوسٹ کے مطابق جواب عنایت فرمائیں جاہلانہ کمنٹ کرنے والوں سے ایڈوانس معذرت ایسے لوگ پوسٹ سے دور رہیں ۔


مولوی قاسم نانوتوی دیوبندی سے سوال کیا گیا مولانا عبد السمیع رامپوری میلاد مناتے ہیں آپ کیوں نہیں مناتے کہا انہیں حب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بڑا درجہ حاصل ہے دعا کرو مجھے بھی حاصل ہو جائے۔ ( مجالس حکیم الامت صفحہ 124)


معلوم ہوا میلاد محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والے ہی مناتے ہیں آؤ میلاد منائیں محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ڈوب کر ۔


حکیم الامت دیوبند مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی فرماتے ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر پاک طاعون سے چھٹکارے کا سبب ہے محفل میلاد ہر روز مناؤ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر پاک کرو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کی کتاب پڑھنے سے مصائب دور ہوتے ہیں ۔ (خطبات میلادالنبی ﷺ رسالہ النور صفحہ نمبر 112 ، 113،چشتی)(خطبات میلادالنبی ﷺ صفحہ نمبر 118)


یہی ہم کہتے ہیں مٹھائی بانٹنا یا لنگر کا اہتمام شرط میلاد نہیں ہے اور نہ اہلسنت یہ کہتے ہیں ہاں اگر کوئی اہتمام کرے تو ناجائز بھی نہیں ہے علمائے دیوبند و اہلسنت دونوں سے ایصال ثواب ثابت ہے ۔


مولوی اشرف علی تھانوی (1863۔ 1943ء) نام وَر عالم دیوبند تھا ۔ اور حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکی چشتی علیہ الرحمہ کے ہاتھ پر بیعت تھا ۔ سیرتِ طیبہ پر آپ کی کتاب نشر الطیب فی ذکرالنبی الحبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشق و محبتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ڈوبی ہوئی تحریر ہے ، جس کا آغاز ہی اس نے مشہور حدیثِ جابر بیان کرتے ہوئے نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تخلیق کے باب سے کیا ہے ۔ بعد ازاں اِس نوع کی دیگر روایات بیان کی ہیں ۔ اِسی طرح میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی کے خطبات کا مجموعہ بھی شائع ہوا ہے ۔ مجالسِ موالید پر خطاب کرتے ہوئے مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی کہتے ہیں : ⬇


میرا کئی سال تک یہ معمول رہا کہ یہ جو مبارک زمانہ ہے جس کا نام ربیع الاول کا مہینہ ہے ، جس کی فضیلت کو ایک عاشق ملا علی قاری نے اس عنوان سے ظاہر کیا ہے : ⬇


لهذا الشهر في الإسلام فضل

منقبته تفوق علي الشهور


ربيع في ربيع في ربيع

ونور فوق نور فوق نور


ترجمہ : اِسلام میں اس ماہ کی بڑی فضیلت ہے اور تمام مہینوں پر اس کی تعریف کو فضیلت ہے ۔ بہار اندر بہار اندر بہار ہے اور نور بالائے نور بالائے نور ہے ۔


تو جب یہ مبارک مہینہ آتا تھا تو میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ فضائل جن کا خاص تعلق ولادتِ شریفہ سے ہوتا تھا مختصر طور پر بیان کرتا تھا مگر اِلتزام کے طور پر نہیں کیوں کہ التزام میں تو علماء کو کلام ہے ۔ بلکہ بدوں اِلتزام کے دو وجہ سے :

ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر فی نفسہ طاعت و موجبِ برکت ہے ۔ دوسرے اس وجہ سے کہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ہم لوگ جو مجالسِ موالید کی ممانعت کرتے ہیں تو وہ ممانعت نفسِ ذکر کی وجہ سے نہیں ۔ نفسِ ذکر کو تو ہم لوگ طاعت سمجھتے ہیں بلکہ محض منکرات و مفاسد کے اِنضمام کی وجہ سے منع کیا جاتا ہے ورنہ نفسِ ذکر کا تو ہم خود قصد کرتے ہیں ۔ یہ تو ظاہری وجوہ تھیں ۔ بڑی بات یہ تھی کہ اس زمانہ میں اور دنوں سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کو جی چاہا کرتا ہے اور یہ ایک امر طبعی ہے کہ جس زمانہ میں کوئی امر واقع ہوا ہو اس کے آنے سے دل میں اس واقع کی طرف خود بخود خیال ہوا جاتا ہے ۔ اور خیال کو یہ حرکت ہونا جب امر طبعی ہے تو زبان سے ذکر ہوجانا کیا مضائقہ ہے ۔ یہ تو ایک طبعی بات ہے ۔ (خطباتِ ميلاد النبی ﷺ صفحہ 190،چشتی)


اِسی خطاب میں آگے ایک جگہ مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی کہتے ہیں : تو میرا جو معمول تھا کہ اِس ماہِ مبارک میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل بیان کیا کرتا تھا ، وہ دوام کے حد میں تھا ، التزام کے طور پر نہ تھا ۔ چنانچہ چند سال تک تو میں نے کئی وعظوں میں فضائلِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیا جن کے نام سب مقفی ہیں : النور ، الظھور ، السرور ، الشذور ، الحبور وہاں ایک ذکر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جوکہ اسی سلسلہ میں ہے مقفی نہیں ۔ پھر کئی سال سے اس کا اتفاق نہیں ہوا کچھ اسبابِ طبعیہ ایسے مانع ہوئے جن سے یہ معمول ناغہ ہو گیا ۔ نیز ایک وجہ یہ بھی تھی کہ لوگ اس معمول سے التزام کا خیال نہ کریں جوکہ خلافِ واقع ہے کیوں کہ میرے اس معمول کی بڑی وجہ صرف یہ تھی ان ایام میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل اور دنوں سے زیادہ یاد آتے تھے نہ کہ اس میں شرعی ضرورت کا اعتقاد یا عمل تھا ۔ (خطباتِ ميلاد النبی ﷺ صفحہ 198 ، 199)


فضل اور رحمت کی تشریح کرتے ہوئے مولوی اشرفعلی تھانوی دیوبندی کہتے ہیں : اس مقام پر ہر چند کہ آیت کے سباق پر نظر کرنے کے اعتبار سے قرآن مجید مراد ہے لیکن اگر ایسے معنی عام لیے جائیں کہ قرآن مجید بھی اس کا ایک فرد رہے تو یہ زیادہ بہتر ہے ۔ وہ یہ کہ فضل اور رحمت سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدوم مبارک لیے جائیں ۔ اس تفسیر کے موافق جتنی نعمتیں اور رحمتیں ہیں خواہ وہ دینی ہوں یا دنیوی اور ان میں قرآن بھی ہے سب اس میں داخل ہو جائے گی ۔ اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود باجود اصل ہے تمام نعمتوں کی اور مادہ ہے تمام رحمتوں اور فضل کا ۔ پس یہ تفسیر اَجمع التفاسیر ہو جائے گی ۔ پس اس تفسیر کی بنا پر اس آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ ہم کو حق تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود باجود پر خواہ وجودِ نوری ہو یا ولادتِ ظاہری ، اس پر خوش ہونا چاہیے ۔ اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے لیے تمام نعمتوں کے واسطہ ہیں ۔ (دوسری عام نعمتوں کے علاوہ) افضل نعمت اور سب سے بڑی دولتِ ایمان ہے جس کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہم کو پہنچنا بالکل ظاہر ہے ۔ غرض اصل الاصول تمام مواد فضل و رحمت کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات ہوئی۔ پس ایسی ذات بابرکات کے وجود پر جس قدر بھی خوشی اور فرح ہو کم ہے ۔ (خطباتِ ميلاد النبی ﷺ صفحہ 64 ، 65،چشتی)


حکیم الامت دیوبند مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی کے مندرجہ بالا اقتباسات سے واضح ہو جاتا ہے کہ اُن کا عقیدہ ہرگز مجالسِ میلاد کے قیام کے خلاف نہیں تھا ۔ وہ صرف اِس کےلیے وقت معین کرنے کے حامی نہیں تھے ۔ بہر حال میلاد شریف منانا اُن کے نزدیک جائز اور مستحب اَمر تھا ۔


میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق علمائے دیوبند کا متفقہ فیصلہ : ⏬


حرمین شریفین کے علمائے کرام نے علمائے دیوبند سے اِختلافی و اِعتقادی نوعیت کے چھبیس (26) مختلف سوالات پوچھے تو 1325ھ میں مولوی خلیل احمد سہارن پوری دیوبندی (1269۔ 1346ھ) نے اِن سوالات کا تحریری جواب دیا ، جو ’’المھند علی المفند‘‘ نامی کتاب کی شکل میں شائع ہوا ۔ اِن جوابات کی تصدیق چوبیس (24) نام وَر علمائے دیوبند نے اپنے قلم سے کی ، جن میں مولوی محمود الحسن دیوبندی (م 1339ھ) ، مولوی احمد حسن امروہوی (م 1330ھ) ، مفتی اعظم دار العلوم دیوبند مفتی عزیز الرحمٰن (م 1347ھ) ، مولوی اشرف علی تھانوی (م 1362ھ) اور مولوی عاشق اِلٰہی میرٹھی دیوبندی بھی شامل ہیں ۔ اِن چوبیس (24) علماۓ دیوبند نے صراحت کی ہے کہ جو کچھ ’’المھند علی المفند‘‘ میں تحریر کیا گیا ہے وہی ان کا اور ان کے مشائخ کا عقیدہ ہے ۔

مذکورہ کتاب میں اِکیسواں سوال میلاد شریف منانے کے متعلق ہے ۔ اس کی عبارت ہے : أتقولون أن ذکر ولادته صلي الله عليه وآله وسلم مستقبح شرعًا من البدعات السيئة المحرمة أم غير ذلک ؟

ترجمہ : کیا تم اس کے قائل ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا ذکر شرعاً قبیح سیئہ ، حرام (معاذ ﷲ) ہے یا اور کچھ ؟

علمائے دیوبند نے اِس کا متفقہ جواب یوں دیا : حاشا أن يقول أحد من المسلمين فضلاً أن نقول نحن أن ذکر ولادته الشريفة علية الصلاة والسلام، بل وذکر غبار نعاله وبول حماره صلي الله عليه وآله وسلم مستقبح من البدعات السئية المحرمة. فالأحوال التي لها أدني تعلق برسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ذکرها من أحب المندوبات وأعلي المستحبات عندنا سواء، کان ذکر ولادته الشريفة أو ذکر بوله وبزاره وقيامه وقعوده ونومه ونبهته، کما هو مصرح في رسالتنا المسماة بالبراهين القاطعة في مواضع شتي منها ۔

ترجمہ : حاشا کہ ہم تو کیا کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت شریفہ کا ذکر بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کے گدھے کے پیشاب کے تذکرہ کو بھی قبیح و بدعتِ سئیہ یا حرام کہے ۔ وہ جملہ حالات جنہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذرا سی بھی نسبت ہے ان کا ذکر ہمارے نزدیک نہایت پسندیدہ اور اعلی درجہ کا مستحب ہے ، خواہ ذکر ولادت شریف کا ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بول و براز ، نشست و برخاست اور بے داری و خواب کا تذکرہ ہو ۔ جیسا کہ ہمارے رسالہ ’’براہین قاطعہ‘‘ میں متعدد جگہ بالصراحت مذکور ہے ۔ (المهند علی المفند صفحہ 60 تا 63 مطبوعہ نفیس منزل کریم پارک لاہور،چشتی)


مفتی رشید احمد لدھیانوی دیوبندی (متوفی 1341ھ) ، (متوفی 1922ء) تحریر کرتے ہیں : جب ابولہب جیسے بدبخت کافر کےلیے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی کی وجہ سے عذاب میں تخفیف ہو گئی تو جو کوئی اُمتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی کرے اور حسبِ وسعت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں خرچ کرے تو کیوں کر اَعلیٰ مراتب حاصل نہ کرے گا ۔ (احسن الفتاوی جلد 1 صفحہ 347 ، 348 مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)


دیوبندیوں کے مفتی اعظم مفتی محمد فرید دیوبندی کا فتوی کہ  : جلوس میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جائز ہے بشرطیکہ منکرات سے خالی ہو ۔ (فتاوی فریدیہ جلد اول صفحہ 314 تا 315)

نوٹ : ہم اہلسنت و جماعت کا بھی یہی مؤقف ہے کہ جلوس میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عندالشرع جائز ہے جبکہ منکرات سے پاک ہو ۔ اس لیے جہلاء کی جانب سے ہونے والی خرافات کو بنیاد بنا کر اہلسنت پر طعن کرنا شرعاً جائز ہے نہ اخلاقاً حتی کہ دیوبندی اصولوں کی روشنی میں بھی درست نہیں ۔


مولوی احمد علی سہارن پوری (م 1297ھ) دیوبندی میلاد شریف کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتا ہے : إن ذکر الولادة الشريفة لسيدنا رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم بروايات صحيحة في أوقات خالية عن وظائف العبادات الواجبات وبکيفيات لم تکن مخالفة عن طريقة الصحابة وأهل القرون الثلاثة المشهود لها بالخير، وبالاعتقادات التي موهمة بالشرک والبدعة وبالآداب التي لم تکن مخالفة عن سيرة الصحابة التي هي مصداق قوله عليه السلام : ما أنا عليه وأصحابي وفي مجالس خالية عن المنکرات الشرعية موجب للخير والبرکة بشرط أن يکون مقرونًا بصدق النية والإخلاص واعتقاد کونه داخلاً في جملة الأذکار الحسنة المندوبة غير مقيد بوقت من الأوقات. فإذا کان کذلک لانعلم أحد من المسلمين أن يحکم عليه يکونه غير مشروع أو بدعة ۔

ترجمہ : سیدنا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت شریف کا ذکر صحیح روایت سے ان اوقات میں جو عباداتِ واجبہ سے خالی ہوں، ان کیفیات سے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور ان اہلِ قرونِ ثلاثہ کے طریقے کے خلاف نہ ہوں جن کے خیر ہونے کی شہادت حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دی ہے، ان عقیدوں سے جو شرک و بدعت کے موہم نہ ہوں، ان آداب کے ساتھ جو صحابہ کی اس سیرت کے مخالف نہ ہوں جو حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اِرشاد ما انا علیہ واصحابی۔ کی مصداق ہے ان مجالس میں جو منکراتِ شرعیہ سے خالی ہوں سببِ خیر و برکت ہے۔ بشرطیکہ صدقِ نیت اور اخلاص اور اس عقیدہ سے کیا جاوے کہ یہ بھی منجملہ دیگر اَذکارِ حسنہ کے ذکرِ حسن ہے، کسی وقت کے ساتھ مخصوص نہیں۔ پس جو ایسا ہوگا تو ہمارے علم میں کوئی مسلمان بھی اس کے ناجائز یا بدعت ہونے کا حکم نہ دے گا ۔ (المهند علي المفند صفحہ نمبر 61، 62،چشتی)


دیوبندیوں کے ممدوح مولانا عبد الحی لکھنوی محفلِ میلاد کے اِنعقاد کےلیے دن اور تاریخ متعین کرنے کے بارے آپ لکھتے ہیں : جس زمانے میں بہ طرزِ مندوب محفل میلاد کی جائے باعثِ ثواب ہے اور حرمین، بصرہ، شام، یمن اور دوسرے ممالک کے لوگ بھی ربیع الاول کا چاند دیکھ کر خوشی اور محفلِ میلاد اور کارِ خیر کرتے ہیں اور قرات اور سماعت میلاد میں اہتمام کرتے ہیں۔ اور ربیع الاول کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی ان ممالک میں میلاد کی محفلیں ہوتی ہیں اور یہ اعتقاد نہ کرنا چاہیے کہ ربیع الاول ہی میں میلاد شریف کیا جائے گا تو ثواب ملے گا ورنہ نہیں ۔ (مجموعه فتاوی عبد الحی کامل صفحہ 104 ، 105 مطبوعہ قرآن محل مقابل مولوی مسافر خانہ کراچی)


حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکی (1233۔ 1317ھ) ۔(1817۔ 1899ء)  علمائے دیوبند کے پیر و مرشد ہندوستان سے ہجرت کر کے مکہ مکرمہ میں مقیم ہو گئے اور مکہ میں درس دیتے رہے ، پھر وہیں ان کی وفات ہوئی اور جنت المعلیٰ میں مدفون ہیں ۔ حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکی چاروں سلاسلِ طریقت میں بیعت کرتے تھے، اور دار العلوم دیوبند کے بانی مولوی محمد قاسم نانوتوی (1248۔ 1297ھ / 1833۔ 1880ء) اور دار العلوم دیوبند کے سرپرست مولوی رشید احمد گنگوہی (1244۔ 1323ھ / 1829۔ 1905ء) آپ کے مرید و خلفاء تھے ۔ مولوی اشرف علی تھانوی (1280۔ 1362ھ / 1863۔ 1943ء) ، مولوی محمود الحسن دیوبندی (م 1339ھ / 1920ء) اور کئی دیگر علماء و مشائخ کا شمار حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکی کے خلفاء میں ہوتا تھا ۔ ’’شمائمِ اِمدادیہ‘‘ کے صفحہ نمبر 47 اور 50 پر درج ہے کہ حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکی نے ایک سوال میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِنعقاد کے بارے میں اُن کی کیا رائے ہے ؟ کے جواب میں فرمایا : مولد شریف تمام اہل حرمین کرتے ہیں ، اسی قدر ہمارے واسطے حجت کافی ہے ۔ اور حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیسے مذموم ہو سکتا ہے ! البتہ جو زیادتیاں لوگوں نے اِختراع کی ہیں نہ چاہئیں۔ اور قیام کے بارے میں کچھ نہیں کہتا۔ ہاں، مجھ کو ایک کیفیت قیام میں حاصل ہوتی ہے ۔ (شمائم اِمداديہ صفحہ 47،چشتی) ۔ مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی نے بھی یہ عبارت اِمداد المشتاق اِلیٰ اشرف الاخلاق صفحہ 51 میں نقل کی ہے ۔


مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی مزید لکھتے ہیں : ہمارے علماء مولد شریف میں بہت تنازعہ کرتے ہیں ۔ تاہم علماء جواز کی طرف بھی گئے ہیں ۔ جب صورت جواز کی موجود ہے پھر کیوں ایسا تشدد کرتے ہیں ؟ اور ہمارے واسطے اِتباعِ حرمین کافی ہے ۔ البتہ وقتِ قیام کے اِعتقاد تولد کا نہ کرنا چاہیے ۔ اگر اِہتمام تشریف آوری کا کیا جائے تو مضائقہ نہیں کیوں کہ عالم خلق مقید بہ زمان و مکان ہے لیکن عالم اَمر دونوں سے پاک ہے ۔ پس قدم رنجہ فرمانا ذاتِ بابرکات کا بعید نہیں ۔ (شمائم امداديہ صفحہ 50) ۔ مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی نے بھی یہ عبارت ۔ (اِمداد المشتاق اِلیٰ اشرف الاخلاق صفحہ 56) میں نقل کی ہے ۔


حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکی کے مذکورہ بالا بیان کے مطابق حرمین شریفین میں میلاد کی تقریبات کا ہونا اس بات کی حتمی و قطعی دلیل ہے کہ اس پر اہل مدینہ اور اہل مکہ میں دو آراء نہیں تھیں، وہ سب متفقہ طور پر میلاد کا اہتمام کرتے تھے ۔ اور میلاد کے جواز پر اِس قدر حجت ہمارے لیے کافی ہے جو کہ اِنکار کرنے والوں کےلیے برہانِ قاطع ہے ۔


حاجی اِمداد اللہ مہاجر مکی نے اِعتقادی نوعیت کے سات سوالات کے جواب میں اپنی کتاب ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ (دیوبندی مسلک کے بعض علماء ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ کے بارے کہتے ہیں کہ یہ حضرت اِمداد اللہ مہاجر مکی کی تحریر نہیں، حالاں کہ مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی نے ’’اشرف السوانح جلد3 صفحہ 355 ، 356 ‘‘ میں تصریح کی ہے کہ یہ حضرت اِمداد اللہ مہاجر مکی کی تحریر ہے ۔ مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی نے ’’فتاویٰ رشیدیہ صفحہ 130 ، 131 ‘‘ میں لکھا ہے کہ اُنہوں نے یہ رسالہ کسی سے لکھوایا اور سُن کر اس میں اِصلاحات کروائیں ۔ گویا اِس میں جو کچھ لکھا ہے وہ حضرت کا مسلک و مشرب ہے ۔ علاوہ ازیں دیوبند مسلک کے کتب خانوں سے شائع ہونے والے حضرت اِمداد ﷲ مہاجر مکی کے دس رسالوں کے مجموعہ ’’کلیاتِ اِمدادیہ‘‘  میں بھی ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ شامل ہے جیسا کہ کتب خانہ اشرفیہ ، راشد کمپنی دیوبند (بھارت) نے طبع کیا تھا ، اور ادارہ اِسلامیات لاہور نے بھی شائع کیا ہے) لکھی ۔ کسی نے اُن سے دریافت کیا کہ میلاد کے بارے میں ان کا کیا عقیدہ اور معمول ہے ؟ تو اِس پر اُنہوں نے جواب دیا : فقیر کا مشرب یہ ہے کہ محفل مولود میں شریک ہوتا ہوں ، بلکہ برکات کا ذریعہ سمجھ کر ہر سال منعقد کرتا ہوں اور قیام میں لطف اور لذت پاتا ہوں ۔ (فيصلہ ہفت مسئلہ صفحہ نمبر 27 مطبوعہ مسلم کتابوی لاہور،چشتی)(کلیاتِ امدادیہ فيصلہ ہفت مسئلہ صفحہ نمبر 80 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)


ایک جگہ لکھتے ہیں : رہا یہ عقیدہ کہ مجلسِ مولود میں حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رونق افروز ہوتے ہیں ، تو اس عقیدہ کو کفر و شرک کہنا حد سے بڑھنا ہے۔ یہ بات عقلاً و نقلاً ممکن ہے ، بلکہ بعض مقامات پر واقع ہو بھی جاتی ہے ۔ اگر کوئی یہ شبہ کرے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیسے علم ہوا ، آپ کئی جگہ کیسے تشریف فرما ہوئے ، تو یہ شبہ بہت کمزور شبہ ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم و روحانیت کی وسعت کے آگے ۔ جو صحیح روایات سے اور اہلِ کشف کے مشاہدے سے ثابت ہے ۔ یہ ادنیٰ سی بات ہے ۔ (فيصلہ ہفت مسئله صفحہ 26 مطبوعہ مسلم کتابوی لاہور)(کلیاتِ امدادیہ فيصلہ ہفت مسئلہ صفحہ نمبر 79 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)


جو لوگ محفلِ میلاد کو بدعتِ مذمومہ اور خلافِ شرع کہتے ہیں ، اُنہیں کم اَز کم اپنے بڑوں کا ہی لحاظ کرتے ہوئے اِس رویہ سے گریز کرنا چاہیے  ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)



































نبی اکرم نورِ مجسم رحمتِ کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنا میلاد منایا

نبی اکرم نورِ مجسم رحمتِ کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنا میلاد منایا محترم قارٸینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپ...