Tuesday, 1 September 2026

مروجہ قوالی مع مزامیر ، طبلے باجے گانے بجانے والے آلات کا شرعی حکم

مروجہ قوالی مع مزامیر ، طبلے باجے گانے بجانے والے آلات کا شرعی حکم

محترم قارئینِ کرام : الحمد للہ فقیر چشتی ہے اور محفلِ سماع جو شرعی حدود کے اندر مکمل شرائطِ سماع کے ساتھ ہو اسے جائز سمجھتا ہے ۔ یعنی کہ محفل میں مزامیر ، طبلے باجے گانے بجانے والے آلات نہ ہوں ، افراد با وضو ہوں ، توحید و رسالت اور دین کے بارے میں اشعار ہوں ، خواتین اور مرد آپس میں خلط ملط نہ ہوں یعنی کہ ملے ہوئے نہ ہوں ، توجہ الفاظ اور اشعار پر ہو ۔ اگر خلاف شرع کوئی کام نہ ہو تو جائز ہے ۔ مگر آج کل بزگانِ دین کے مزار ات پر ان کے عرس کا نام لے کر خوب موج مستیاں ہو رہی ہیں ۔ بد معاش ، بد کردار لوگ اپنی رنگیلیوں ، باجوں تماشوں ، عورتوں کی چھیڑ چھاڑ کے مزے اٹھانے کےلیے اللہ والوں کے مزاروں کو استعمال کر رہے ہیں ۔ کاش !یہ لوگ موج مستیاں ، ڈھول باجے ، مزامیر کے ساتھ قوالیاں مزارات سے الگ کرتے اور عرس کا نام نہ لیتے تو کم از کم اسلام اور اسلام کے بزرگانِ دین بدنام نہ ہوتے ۔ آج کفار مشرکین یہ کہنے لگے ہیں کہ اسلام بھی دوسرے مذاہب کی طرح ناچ گانوں ، تماشوں ، باجوں اور بے پردہ عورتوں کو اسٹیجوں پر لا کر بے حیائی کا مظاہرہ کرنے والا مذہب ہے ۔ افسوس انہوں نے غلط سمجھا ۔ اسلام ہرگز ہرگز ایسا دین نہیں ہے اسلام کا حکم تو یہ ہے  کہ ڈھول ، باجے ، سارنگی ، مزامیر وغیرہ آلاتِ موسیقی ، تالیاں ، رقص ، سب حرام ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں : قوالی مع مزامیر چشتیہ سلسلے میں رائج اور جائز ہے ۔ یہ بزرگانِ چشتیہ علیہم الرّحمہ پر ان کا صریح بہتان ہے بلکہ ان لوگوں نے بھی مزامیر کے ساتھ قوالی سننے کو حرام فرمایا ہے ۔ حضرت خواجہ محبوب الٰہی نظام  الدین اولیاء دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے خاص خلیفہ حضرتِ فخر الدین زرّادی رحمۃ اللہ علیہ سے مسئلہ سماع کے متعلق ایک رسالہ لکھوایا جس کا نام ہے : کشف  القناع عن اصول السماع ۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ ہمار بزرگوں کا سماع مزامیر کے بہتان سے بری ہیں ۔ (ان کا سماع تو یہ ہے کہ) صرف قوال کی آواز ان اشعار کے ساتھ ہو جو کمال صنعت الہٰی کی خبر دیتے ہیں قطب الاقتاب حضرت بابا فرید الدین شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور حضرتِ خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ حضرتِ محمد بن مبارک علوی کرمانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب سیر الاولیاء میں تحریر فرماتے ہیں حضرت خواجہ محبوب الٰہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  نےچند شرائط کے ساتھ سماع جائز فرمایا : (1) سنانے والا مرد کامل ہو چھوٹا لڑکا یا عورت نہ ہو ۔ (2) سننے والا یاد خدا سے غافل نہ ہو ۔ (3) جو کلام پڑھا  جائے ، فحش ، بے حیا اور مزاحیہ نہ ہو ۔ (4) آلہ سماع یعنی سارنگی ، مزامیر و رباب سے پاک ہو ، ان باتوں کے ہوتے ہوئے کوئی کہہ سکتا ہے کہ خاندانِ چشتیہ میں مزامیر کے ساتھ قوالی جائز ہے ۔ ہاں یہ بات وہی لوگ کہیں گے جو نہ چشتی ہیں ، نہ قادری انہیں تو مزے داریا ں اور لطف اندوزیاں چاہئیں ۔ اور اب جب  کہ سارے کے سارے قوال بے نمازی اور فاسق و فاجر ہوتے ہیں ، یہاں تک کہ بعض شرابی تک سننے میں آئے ہیں نیز  عورتیں اور امرد لڑکے بھی چل پڑے ہیں ایسے ماحول میں ان قوالیوں کو صرف وہی جائز کہے گا جس کو اسلام و قرآن ، دین و ایمان سے کوئی محبت نہیں ۔ بے حیائی اس کے رگ و پے میں سرایت کر گئ ہے اور قرآن و حدیث کے فرامین کی اسے کوئی پرواہ نہیں ہے کیا اسی کا نام اسلام پسندی ہےکہ مسلمان عورتوں کو لاکھوں کے مجمع میں لا کر ان سے ڈانس کروائے جائیں ، پھر ان تماشوں کا نام عرس رکھا جائے یہ صرف اور صرف کافروں کے سامنے مسلمانوں اور مذہب کو ذلیل  و بدنام کرنے کی سازش ہے  کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قوالی اہل کےلیے جائز  ہے اور نا اہل کےلیے نا جائز ہے ۔ ایسا کہنے والوں سے فقیر چشتی پوچھتا ہے کہ آج کل قوالیوں کے سینکڑوں ، ہزاروں کے مجمع میں کیا سب کے سب اہل اللہ اور اصحابِ استغراق ہیں ، جنہیں دنیا اور متاعِ دنیا کا قطعا ہوش نہیں ؟ جنہیں یادِ الہٰی اور ذکر الہٰی سے ایک لمحے کی بھی فرصت نہیں ؟ خزانے کی نیندوں اور گپوں میں نمازوں کو گنوا دینے والے ، رات دن ننگی فلموں ، گندے گانوں میں مست رہنے والے ، ماں باپ کی نافرمانی کرنے اور ان کو ستانے والے  ، چور چکور ، جھوٹے ، فریبی ، گرہ کاٹ وغیرہ ؛ کیا یہ سب کے سب تھوڑی دیر کےلیے قوالیوں کی مجلس میں شریک ہو کر اللہ والے ہو جاتے ہیں یا پیر صاحب نے اہل کا بہانہ تلاش کر کے اپنی موج مستیوں کا سامان کر رکھا ہے ؟ کہ پیری بھی ہاتھ سے نہ جائے اور دنیا کی موج مستیوں میں بھی کوئی کمی نہ آئے ۔


صحیح بخاری شریف میں ہے : سمع النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول : لیکونن من أمتی أقوام یستحلون الحر والحریر والخمر والمعازف ۔ ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا : ضرور میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے ، جو آزاد شخص (کی خرید و فروخت) کو ، ریشم کو ، شراب کو اور گانے بجانے کے آلات کوحلال سمجھیں گے ۔ (صحیح البخاری جلد 7 صفحہ 106دارطوق النجاۃ)


و عن نافع  قال : سمع ابن عمر مزمارا قال : فوضع أصبعيه في أذنيه وناء عن الطريق وقال لي : يا نافع هل تسمع شيئا؟ فقلت : لا ، قال:فرفع أصبعيه عن أذنيه و قال : كنت مع النبی صلى الله عليه وسلم فسمع مثل ھذا فصنع مثل ھذا ۔

 ترجمہ : حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ راستے سے گزرے تو  آلات  موسیقی کی آواز آپ کے کانوں میں پڑی ، آپ رضی اللہ عنہ نے کانوں میں انگلیاں ڈال دیں  اور اس راستے سے ہٹ گئے پھر مجھ سےکہا : اے نافع! کیا تمہیں آواز آرہی ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ، تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں سے ہٹائیں اور کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  اسی طرح کی آواز سنی تو اسی  طرح کا عمل کیا ۔ (سنن ابی داؤد جلد 4 صفحہ 281 مطبوعہ بیروت)


قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ان فی امتی خسفاً و مسخاً و قذفاً۔ قالوا: یا رسول اللہ وھم یشھدون أن لا الہ الا اللہ ؟ فقال : نعم ، اذا ظھرت المعازف والخمور ولبس الحریر ۔

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت میں خسف (زمین میں دھنسا دینا) مسخ (شکلیں بگڑجانا) اور قذف (پتھروں کی بارش) (بھی) ہوگا ۔ صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کی یا رسول اللہ درآنحالیکہ وہ اس کی گواہی دیتے ہوں گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ؟ تو فرمایا : ہاں ، جب ان میں آلاتِ موسیقی ، شراب نوشی اور ریشم کا استعمال عام ہو جائے گا ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ جلد 7 صفحہ 501 مطبوعہ ریاض)


مروجہ قوالی جو مزامیر (آلاتِ موسیقی) کے ساتھ ہوتی ہے ، اس کا پڑھنا سننا ، ناجائز و حرام ہے ۔ لہٰذا ایسی قوالی کو گھروں اور مزارات وغیرہ سے مکمل طور پر ختم کرنا واجب ہے ۔ توایسی قوالی کا گھر یا باہر کہیں بھی اہتمام کرنا، جائز نہیں ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے : وعن ابی عامر أو ابی مالک الأشعری قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : لیکونن من أمتی أقوام یستحلون الخزوالحریر والخمر والمعازف ، حضرت ابو عامر سے یا ابو مالک اشعری سے روایت ہے  فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے  سنا کہ میری امت میں وہ قومیں ہوں گی جو موٹے پتلے ریشم اور شراب ، باجوں کو حلال سمجھ لیں گی ۔ (صحیح بخاری کتاب الأشربۃ حدیث نمبر 5590 صفحہ  1024 مکتبہ العصریہ بیروت،چشتی)


اس حدیث پاک  کے تحت مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں : یعنی میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو ان محرمات کو حلال ہی جان لیں گے ، یا حلال کی طرح بے دھڑک استعمال کریں گے ، یا ان چیزوں کی حلت کےلیے تاویلیں کریں گے مثلًا کہیں گے کہ ریشم اگر جسم سے متصل ہو تو حرام ہے ورنہ نہیں ، ہم نے کرتا سوتی پہنا ہے اوپر سے اچکن ریشمی ہے ، یا کہیں گے کہ باجے وغیرہ قوالی میں حلال ہیں مجازی عشق کےلیے باجے حرام ہیں ہم تو اللہ رسول کے عشق کےلیے سنتے ہیں وغیرہ ۔ (مرآۃ المناجیح جلد 7 صفحہ  123 مطبوعہ قادری پبلشرز لاہور)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا : ظهرت القينات والمعازف ، یعنی قیامت کے قریب ناچنے گانے والیوں اور باجے تاشوں کی کثرت ہو جائےگی ۔ (جامع ترمذی ، مشکوٰۃ باب اشراط الساعۃ صفحہ 470)


فتاویٰ عالمگیری میں ہے : السماع والقول والرقص الذى يفعله التصوفة فى زماننا حرام لا يجوز القصد اليه والجلوس عليه ۔

ترجمہ : سماع ، قوّالی ، رقص ( ناچ)  جو آجکل کے نام نہاد صوفیوں میں رائج ہے یہ حرام ہے ـ اس میں شرکت جائز نہیں ـ (فتاویٰ عالمگیری جلد 5 کتاب الکراہیۃ صفحہ 325)


آلات موسیقی کے ساتھ سماع میں فقہاء احناف کا نظریہ : ⏬


صحیح البخاری حدیث نمبر ٥٥٩٠ کی شرح میں علامہ بدرالدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : امام سعید بن منصور رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آخر زمانہ میں میری امت کو مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنادیا جائے گا ‘ مسلمانوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ گواہی دیتے ہوں گے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اور وہ نماز پڑھتے ہوں گے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اور وہ نماز پڑھتے ہوں گے ‘ روزے رکھتے ہوں گے اور حج کرتے ہوں گے۔ مسمانوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس کا کیا سبب ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : وہ آلات موسیقی اور گانے بجانے والیوں میں مشغول ہوں گے ‘ اور وہ ان شرابوں کو پئیں گے وہ اس لھو میں اور شراب نوشی میں رات گزاریں گے اور جب وہ صبح اٹھیں گے تو مسخ ہو کر بندر اور خنزیر ہوچکے ہوں گے۔ امام ترمذی نے اس مضمون کی حدیث روایت کی ہے ( سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢١٢) اور حکیم ترمذی نے نو اور الاصول میں روایت کیا ہے حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں گھبراہٹ ہوگی لوگ اپنے علماء کی طرف جائیں گے تو وہ بندر اور خنزیر ہوچکے ہوں گے۔ (عمدۃ القاری ج ٢١ ص ٢٦٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)


امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ صحیح البخاری : ٩٤٩ کی شرح میں لکھتے ہیں : الغنا ( گانے بجانے) کی تحریم میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ یہ اس لہو و لعب سے ہے جو بالاتفاق مذموم ہے ‘ اور رہا وہ غنا جو محرمات سے الی ہو تو اس کی قلیل مقدار ‘ عید ‘ شادی اور خوشی تقاریب میں جائز ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ حرام ہے ‘ اور اہل عراق کا بھی یہی قول ہے ‘ امام شافعی کے مذہب میں یہ مکروہ ہے ‘ امام مالک کا مشہور مذہب بھی یہی ہے ‘ صوفیاء کی ایک جماعت نے عید کے دن لڑکیوں کے دف بجانے کی حدیث سے غنا کے مباح ہونے پر استدلال کیا ہے خواہ وہ آلات موسیقی کے ساتھ ہو یا اس کے بغیر ہو ‘ اور ان یہ استدلال مردود ہے کیونکہ ان لڑکیوں کا یہ غنا صرف جنگ اور بہادری کی نظم سے متعلق تھا ‘ اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی اجازت دی ‘ لیکن جو غنا معروف اور مشہور ہے وہ بےریش لڑکوں اور عورتوں کے محاسن پر مشتمل ہوتا ہے اور دیگر حرام چیزوں کا بیان ہوتا ہے ‘ جو پر سکون آدمی کے دل میں شہوت کا جوش اور ہیجان پیدا کردیتا ہے اس کے حرام ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے ‘ اور صوفیاء نے اس کی جو بدعت نکالی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور جب تم ان کے اقوال اور افعال کو دیکھو گے تو اس میں زندیقی کے آثار پائو گے اور اللہ تعالیٰ سے ہی مدد طلب کی گئی ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٦ ص ٣٩٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ،چشتی)


آلات موسیقی کے ساتھ سماع میں فقہاء شافعیہ کا نظریہ : ⏬


امام یحییٰ بن شرف نواوی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٧٦ ھ صحیح مسلم : ٨٩٢ کی شرح میں لکھتے ہیں : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ لڑکیاں پیشہ ور گانے والیاں نہیں تھیں ‘ یعنی گانا بجانا ان کی عادت نہیں تھی اور نہ وہ اس میں مشہور تھیں ‘ اور غنا میں علماء کا اختلاف ہے ‘ اہل حجاز کی ایک جماعت نے اس کو مباح کہا ہے اور یہ امام مالک سے ایک روایت ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ اور اہل عراق نے اس کو حرام کہا ہے ‘ امام شافعی کا مذہب اس کی کراہت ہے ‘ امام مالک کا مشہور مذہب بھی یہی ہے ۔ پیشہ ور گانے والیاں وہ ہوتی ہیں جو اپنے گانے سے عورتوں کا شوق اور ان کی محبت پیدا کرتی ہیں اور بےحیائی کی طرف اپنے کلام میں تعریض اور اشارے کرتی ہیں اور پرسکون دلوں میں حسین عورتوں کی طلب کے جذبات کی آگ بھڑکاتی ہیں اسی لیے کہا گیا ہے کہ غنا میں زنا ہے ۔ (صحیح مسلم بشرح النواوی ج ٤ ص ٥٠٦‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ)


حافظ شہاب الدین علی بن حجر عسقلانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں : آلات موسیقی کے متعلق ایک قوم نے لکھا ہے کہ ان کی تحریم پر اجماع ہے اور بعض علماء نے اس کے برعکس لکھا ہے ‘ ہم کتاب الاشربہ میں حدیث معازف کی تشریح میں اس پر مفصل لکھیں گے ‘ اور فریقین کے شبہات کا ذکر کریں گے۔ (فتح الباری ج ٣ ص ١١٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ) ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الاشربہ میں حدیث معازف کی شرح میں آلات موسیقی کی تحریم کی جس بحث کا وعدہ کیا ہے اس کا ذکر کرنا وہ بھول گئے ۔


آلات موسیقی کے ساتھ سماع میں فقہاء مالکیہ کا نظریہ : ⏬


علاوہ ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی المالکی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی ٦٥٦ ھ لکھتے ہیں : صوفیہ نے آلات موسیقی کے ساتھ سماع کی جو بدعت رائج کی ہوئی ہے ‘ اس کی تحریم میں اختلاف کی گنجائش نہیں ہے ‘ لیکن جو لوگ نیکی کی طرف منسوب ہیں ان میں سے اکثر کے اوپر نفوس شہوانیہ اور اغراض شیطانیہ غالب ہوچکی ہیں اور اس کا ذکر ان میں اس قدر مسہور ہوچکا ہے کہ وہ اس کی تحریم اور اس کے فحش سے اندھے ہوچکے ہیں اور ان میں سے بہت لوگوں سے بےحیائوں ‘ ہیجڑوں اور بچوں کی قبیح حرکات صادر ہوتی ہیں ‘ اور وہ موزون اور منضبط حرکات کے ساتھ رقص کرتے ہیں اور ناچتے ہیں جس طرح جاہل اور بےحیاء کرتے ہیں ‘ اور ان کی بےحیائی یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وہ کہتے ہیں یہ کام عبادات اور نیک اعمال سے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آلات موسیقی کے سماع سے دلوں کا زنگ دور ہوجاتا ہے ‘ اور تحقیق یہ ہے کہ یہ زندقی کے آثار ہیں اور اہل باطل کے اقوال ہیں ‘ ہم بدعتوں سے اور فتنوں سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں اور اللہ سے توبہ کا اور سنت پر عمل کرنے کا سوال کرتے ہیں۔ (المفھم ج ٢ ص ٥٣٤ مطبوعہ دارابن کثیر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)


آلات موسیقی کے ساتھ سماع میں فقہاء حنبلیہ کا نظریہ : ⏬


امام ابوالفرج عبدالرحمن بن الجوزی الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : ایک قوم کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ سماع اللہ عزوجل کی عبادت ہے ‘ جنید سے منقول ہے کہ ان صوفیاء پر تین وقتوں میں رحمت نازل ہوتی ہے کھانے کے وقت کیونکہ یہ فاقہ کے بعد کھاتے ہیں ‘ اور مذاکرہ کے وقت کیونکہ یہ صدیقین کے مقامات اور انبیاء کے احوال سے متجاوز ہوتے ہیں اور سماع کے وقت کیونکہ یہ وجد کے ساتھ سنتے ہیں اور حق کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔ امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر جنید سے یہ روایت صحیح ہے تو اس سماع سے ان اشعار کا سماع مراد ہے جو دلوں کو نرم کرتے ہیں اور آخرت کی یاد دلاتے ہیں ‘ ابن عقیل نے کہا ہم نے ان صوفیاء سے سنا ہے کہ جب کوئی سار بان اونٹ کو ہنکاتے وقت گانا گاتا ہے اس وقت دعا کی جائے تو مستجاب ہوتی ہے : کیونکہ ان کا اعتقاد ہے کہ گانے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوتا ہے ‘ ابن عقیل نے کہا یہ کفر ہے کیونکہ جو شخص حرام یا مکروہ کو عبادت اعتقاد کرے وہ اس اعتقاد سے کافر ہوجائے گا ۔ (تلسبیس ابلیس ص ٢٥٢ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)


امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : جب یہ صوفیا غناء کو سنتے ہیں تو وجد کرتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں اور چیختے ہیں اور کپڑے پھاڑ ڈالتے ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ کتنے ہی عابد جب قرآن مجید کو سنتے ہیں تو بعض مرجاتے ہیں ‘ بعض بےہوش ہوجاتے ہیں اور بعض چیختے اور چلاتے ہیں ‘ اور اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جھوٹ ہے ‘ حضرات صحابہ سے اس کی مثل نہیں سنی گئی ۔ سب سے صاف دل صحابہ کرام کے تھے اور جب ان کو وجد آتا تو وہ صرف روتے تھے اور خدا سے ڈرتے تھے ‘ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وعظ کیا تو ایک شخص بےہوش ہوگیا۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ہم پر دین میں کون تلبیس کررہا ہے اگر یہ سچا ہے تو یہ اپنی شہرت کررہا ہے اور اگر جھوٹا ہے تو اللہ اس کو مٹادے گا۔ (تلبیس ابلیس ص ٢٥٤۔ ٢٥٣ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ،چشتی)


نیز امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : جب صوفیاء پر رقص کے حال میں طرب طاری ہوتا ہے تو یہ ناچتے ناچتے کسی شخص کو مجلس سے اٹھا لیتے ہیں تاکہ وہ بھی کھڑا ہوجائے ‘ اور ان کے مذہب میں یہ جائز نہیں ہے کہ جو شخص جذب سے ناچ رہا ہو تو اہل مجلس بیٹھے رہیں جب وہ کھڑا ہو تو باقی لوگ بھی کھڑے ہوجاتے ہیں اور جب کوئی شخص سرننگا کرے تو باقی لوگ بھی سرننگا کرلیتے ہیں ‘ حالانکہ سرننگا کرنا قبیح ہے اور خلاف ادب ہے اور صرف حالت حرام میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اظہارِ ذلت کےلیے سر ننگا کرلیتے ہیں ‘ حالانکہ سرننگا کرنا قبیح ہے اور خلاف ادب ہے اور صرف حالت احرام میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اظہار ذلت کے لیے سرننگا کیا جاتا ہے۔ (تلبیس ابلیس ص ٢٦١‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)


امام موفق الدین عبد اللہ بن احمد بن قدامہ جنبلی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : آلات موسیقی تین قسم کے ہیں : ستار ‘ بانسری اور منہ سے بجائے جانے والے تمام قسم کے باجے ‘ سارنگی ‘ طنبور اور ہاتھ سے بجائے جانے والے تمام قسم کے باجے ‘ ان کا بجانا حرام ہے اور جو شخص عادتاً ان باجوں کو سنے اس کی شہادت مردود ہے ‘ اور دوسری قسم دف ہے ‘ خوشی کے مواقع پر عورتوں کا دف بجانا جائز ہے۔ اور مردوں کے لیے دف بجانا ہرحال میں مکروہ ہے۔ کیونکہ عورتیں اور مخنث دف جاتے ہیں اور مردوں کے دف بجانے میں عورتوں کی مشابہت ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کی مثابہت کرتے ہیں ‘ تیسری قسم چھڑی بجانا ہے یہ اس وقت مکروہ ہے جب اس کے ساتھ کوئی حرام یا مکروہ چیز ہو جیسے تالی بجانا ‘ گانا یا ناچنا۔ (المغنی ج ١٠ ص ١٧٤۔ ١٧٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٦ ھ)


اس کے علاوہ لہو ولعب کے طور پر ایسے گانے بجانے جس میں بیہودہ باتیں ، خلاف شریعت الفاظ اورشہوت انگیز جملے ہوں اس کے ناجائز ہونے میں کوئی شک ہی نہیں۔مسلمانوں کو اپنے رب سے ڈرنا چاہیے اور ان تمام تر خرافات سے انتہائی دور رہنا چاہیے۔آج کل کچھ لوگ نہایت شوق سے موسیقی کے ساتھ قوالی سنتے ہیں اور اسے سلسلہ چشتیہ کے بزرگوں کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ یہ نفس کا دھوکا ہے۔دف کے علاوہ ہاتھ اور منہ سے بجائے جانے والے آلات کی حرمت پر سب کا اتفاق ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر شدید عذاب کی وعید سنائی جیسا کہ اوپر مکمل حوالہ کے ساتھ گزرا۔اور بزرگوں کی طرف اسے منسوب کرنا صاف جھوٹ اور ان پر غلط الزام ہے۔ان بزرگوں کی کتابوں میں صاف صاف اسے حرام وناجائز بتایا گیاہے ۔تفصیل کےلیے بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے مرید خاص اور محبوب الہی سیدنا نظام الدین علیہ الرحمہ کے خلیفہ محمد بن مبارک بن محمد علوی کرمانی کی کتاب مستطاب’ سیر الاولیاء ‘ باب نہم در بیان وجد وسماع کا مطا لعہ کرے ۔ ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ ان سب خرافات سے الگ ہو کر اللہ عزوجل کی شان میں حمد کے کلمات اور نبی دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت مبارکہ اور بزرگان دین کی شان میں منقبت کے اشعار اس کے علاوہ درست اورموافق شریعت اشعار ترنم کے ساتھ پڑھنا اور سننا بلا شبہ جائز ہے ۔


ضروری نوٹ : آج کل نعت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گانوں کی طرز پر اور آلات موسیقی پر پڑھا جا رہا ہے جو کہ توہین نعت بھی ہے اور توہین فرامین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی جس بات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مٹانے آئے تھے اسی کو آج کل کے پیشہ ور لوگ نعت کے نام پر آگے بڑھا رھے ہیں اہل اسلام اس کا مکمل بائیکاٹ کریں اور علماء اسلام اس کے خلاف بھر پور آواز اٹھائیں اور حکم شرعی واضح طور پر لکھیں اللہ تعالیٰ ان ناچ گانے کی طرز پر نعتِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرنے والوں سے ہمیں بچائے آمین ۔

    

قطب الاقطاب سیدنا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور سیدنا محبوبِ الٰہی نظام الدین اولیاء دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ سیدنا محمد بن مبارک علوی کرمانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور زمانہ کتاب سیر الاولیاء میں  فرماتے ہیں : حضرت  سلطان المشائخ قدس سرّہ فرمود کہ چندیں چیز می باید کہ سماع مباح شود مسمع مستمع ، مسموع وآلہ سماع مسمع یعنی گویندہ مرد تمام باشد کودک نہ باشد وعورت نہ باشد و مستمع آنکہ می شنود واز  یاد حق خالی نہ باشد ۔ ومسموع آنکہ گویند فحش ومسخرگی نباشد ۔ وآلہ سماع مزامیر است چوں چنگ ورباب ومثلِ آں می باید کہ درمیان نہ باشد ایں چنیں سماع حلال است ، یعنی محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ چند شرائط کے ساتھ سماع حلال ہے : (1) سنانے والا مرد کامل ہو چھوٹا لڑکا نہ ہو اور عورت نہ ہو ۔ (2) سننے والا یاد خدا سے غافل نہ ہو ۔ (3) جو کلام پڑھا جائے فحش، بے حیائی اور مسخرگی نہ ہو ۔ (4) آلۂ سماع یعنی سارنگی مزامیر ورباب سے پاک ہو ۔ (سیر الاولیاء باب 9 در سماع  ووجد و رقص صفحہ 501،چشتی)


ایک شخص نے حضرت محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ ان ایام میں بعض آستانہ دار دُرویشوں نے ایسے مجمع میں جہاں چنگ و رباب و مزامیر تھا رقص کیا تو حضرت نے فرمایا کہ انہوں نے اچھا کام نہیں کیا جو چیز شرع میں ناجائز ہے وہ ناپسندیدہ ہے ، اس کے بعد کسی نے بتایا کہ جب یہ جماعت باہر آئی تو لوگوں نے ان سے پوچھا کہ تم نے یہ کیا کیا وہاں تو مزامیر تھے تم نے سماع کس طرح سنا اور رقص کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح سماع میں مستغرق تھے کہ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوا کہ یہاں مزامیر ہیں یا نہیں ۔ حضرت سلطان المشائخ نے فرمایا یہ کوئی جواب نہیں اس طرح تو ہر گناہ گار، حرام کار کہہ سکتا ہے ۔ (سیر الاولیاء بان 9 صفحہ 530)


حضرت سیدنا محبوبِ الٰہی نظام االدین علیہ الرحمۃ والرضوان کے ملفوظات پر مشتمل انہیں کے مرید وخلیفہ حضرت خواجہ امیر حسن علائی سنجری رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف فوائد الفوائد شریف میں ہے : دریں میاں شخصی بیامد وحکایت جماعتی تقریر کردہ کہ ہم اکنوں در فلاں موضع یارانِ شما جمعیتی کردند ومزامیر درمیاں بود خوجہ ذکراللہ بالخیر ایں معنیٰ ناپسندید فرمود کہ من منع کردہ ام کہ مزامیر ومحرمات درمیاں نہ باشد ہرچہ کردہ اند نیکو نہ کردہ اند دریں باب بسیار غلومی فرمود ۔

ترجمہ : حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں ایک شخص آیا اور بتایا کہ فلاں جگہ آپ کے مریدوں نے محفل کی ہے اور وہاں مزامیر بھی تھے حضرت محبوبِ الٰہی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کو پسند نہیں فرمایا ــ اور فرمایا میں نے منع کیا ہے کہ مزامیر ( باجے)  حرام چیزیں وہاں نہیں ہونا چاہیئے ان لوگوں نے جو کچھ کیا اچھا نہیں کیا اس بارے میں کافی ذکر فرماتے رہے ــ اس کے بعد حضرت نے فرمایا کہ اگر کوئی کسی مقام سے گزرے تو شرع میں کرےگا اور اگر شرع سے گرا تو کہاں گرےگا ۔ (فوائد الفوائد، جلد 3 مجلس پنجم مطبوعہ اردو اکاڈمی دہلی صفحہ 512 ترجمہ خواجہ حسن نظامی،چشتی)


مسلمانو ! ذرا دل میں ہاتھ رکھ کر سوچو کہ ایک طرف تو حضرت خواجہ نظام الدین دہلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتویٰ ہے جو اوپر درج ہے اِن اقوال کے ہوتے ہوئے کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ خاندانِ چشتیہ میں مزامیر کے ساتھ  قوالی جائز ہے ـ ہاں یہ بات وہی لوگ کہیں گے جو نہ چشتی ہیں نہ قادری انہیں تو مزےداریاں اور لطف اندوزیاں چاہیے ۔ اور اب جبکہ تقریبًا سارے قوال بے نمازی اور فاسق وفاجر ہیں ۔ یہاں تک کہ بعض شرابی تک سننے میں آئے ہیں ۔ یہاں تک کہ عورتیں اور اَمْرَدْ لڑکے بھی چل پڑے ہیں ایسے ماحول میں ان قوالیوں کو صرف وہی جائز کہے گا جس کو اسلام و قرآن ، دین وایمان سے کوئی محبت نہ ہو اور حرام کاری ، بے حیائی ، بدکاری اس کے رگ وپے میں سرایت کر گئی ہو ۔ اور قرآن وحدیث کے فرامین کی اسے کوئی پرواہ نہ ہو ۔ کیا اسی کا نام اسلام پسندی ہے کہ مسلمان عورتوں کو لاکھوں کے مجمع میں لاکر ان کے گانے بجانے کرائے جائیں پھر ان تماشوں کا نام عرسِ بزرگانِ دین رکھا جائے ۔ کافروں کے سامنے مسلمانوں اور مذہب اسلام کو بدنام کیا جائے ؟


کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قوالی اہل کےلیے جائز اور نا اہل کےلیے ناجائز ہے  ایسا کہنے والوں سے ہم پوچھتے ہیں کہ آج کل جو قوالیوں کی مجالس میں لاکھوں لاکھ کے مجمع ہوتے ہیں کیا یہ سب اہل اللہ اور اصحاب استغراق ہیں ؟ ۔ جنہیں متاعِ دنیا کا قطعًا ہوش نہیں ؟ ۔ جنہیں یادِ خدا ذکر الٰہی سے  ایک آن فرصت نہیں ؟


خرّاٹے کی نیندوں اور گپّوں شپّوں میں نمازوں کو گنوا دینے والے ، رات دن ننگی فلموں ، گندے گانوں میں مست رہنے والے ، ماں باپ کی نافرمانی کرنے اور ان کو ستانے والے، چور ،  ڈکیت ، جھوٹے فریبی ، گرہ کاٹ وغیرہ کیا  سب کے سب تھوڑی دیر کےلیے قوالیوں کی مجلس میں شریک ہوکر اللہ والے ہو جاتے ہیں ؟ اور خدا کی یاد میں محو ہو جاتے ہیں ؟ ۔ یا پیر صاحب نے اہل کا بہانہ تلاش کر کے اپنی موج و مستیوں کا سامان کر رکھا ہے ؟ ۔ کہ پیری بھی ہاتھ سے نہ جائے اور دنیا کی موج مستیوں میں بھی کوئی کمی نہ آئے ۔ یاد رکھو قبر کی اندھیری کوٹھری میں کوئی حیلہ وبہانہ نہ چلےگا ۔


بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ مزامیر کے ساتھ  قوالی ناجائز ہوتی تو درگاہوں اور خانقاہوں میں کیوں ہوتی ؟ ۔ کاش یہ لوگ جانتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث اور بزرگانِ دین کے مقابلے میں آجکل کے فُسّاق داڑھی منڈانے والے ، نمازوں کو قصدًا چھوڑنے والے ، بعض خانقاہیوں کا عمل پیش کرنا دین سے دوری اور سخت نادانی ہے جو احادیث ہم نے اوپر لکھیں اور بزرگانِ دین کے اقوال نقل کئے ان کے مقابل نہ کسی کا قول معتبر ہوگا نہ عمل ۔ آج کل خانقاہوں میں کسی کام کا ہونا اس کے جائز ہونے کی دلیل نہیں ۔


آخر میں ایک بات یہ بھی بتادینا ضروری ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ : جو کوئی خلافِ شرع کام کی بنیاد ڈالتا ہے تو اس پر اپنا اور سارے کرنے والوں کا گناہ ہوتا ہے ۔  لہٰذا جو مزامیر کے ساتھ قوالیاں کراتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کا موقع دیتے ہیں ان پر اپنا، قوالوں ، اور لاکھوں تماشئیوں کا گناہ ہے اور مرتے ہی انہیں اپنے انجام دیکھنے کو مل جائے گا ۔


سماع کی شرائط : ⏬


سیدی مولانا محمد بن مبارک بن محمد علوی کرمانی مرید حضور پرنورشیخ فرید الحق والدین گنج شکر و حضور سیدنا محبوب الٰہی رحمہم اللہ علیہم کتاب مستطاب سید الاولیاء میں فرماتے ہیں : حضرت سلطان المشائخ قدس اللہ تعالیٰ سرہ العزیز فرماتے تھے کہ چند شرائط ہوں تو سماع مباح ہو گا ، کچھ شرطیں سنانے والے میں کچھ سننے والے میں ، کچھ اس کلام میں جو سنائی جائے ، کچھ آلہ سماع میں یعنی : ⏬


(1) سنانے والا کامل مرد ہو

(2) چھوٹا لڑکا نہ ہو

(3) عورت نہ ہو

(4) سننے والا یاد خدا سے غافل نہ ہو

(5) جو کلام پڑھی جائے فحش نہ ہو

(6) تمسخرانہ انداز کی نہ ہو

(7) آلات سمع یعنی مز امیر جیسے سارنگی اور باب وغیرہ .... چاہیے کہ ان چیزوں سے کوئی موجود نہ اس طرح کا سماع حلال ہو گا ۔

مسلمانو ! یہ فتویٰ ہے مرور سردار سلسلہ عالیہ چشت حضرت سلطان اولیاء رحمة اللہ علیہ کا ، کیا اس کےبعد بھی مفتریوں کو منہ دکھانے کی گنجائش ہے ؟


اسی سید الاولیاء شریف میں ہے ۔ ترجمہ فارسی : ایک آدمی نے حضرت شیخ المشائخ کی خدمت میں عرض کی کہ ان ایام میں بعض آستانہ دار درویشوں نے ایسے مجمع میں جہاں چنگ و رباب اور دیگر مزامیر تھے ، رقص کیا ( دھمال ڈالا) فرمایا انہوں نےاچھا کام نہیں کیا جو چیز شرع میں ناجائز ہے ، ناپسندیدہ ہے ، اس کے بعد ایک نے کہا : جب یہ جماعت اس مقام سے باہر آئی ،لوگوں نے ان سے کہا کہ تم نے یہ کیا کیا وہاں تو مزامیر (آلات موسیقی) تھے ، تم نے سماع کس طرح سنا اوررقص کیا ( دھمال ڈالا) انہوں نے جواب دیا ہم اس طرح سماع میں مستغرق تھے کہ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوا کہ یہاں مزامیر ہیں یا نہیں ، سلطان المشائخ نےفرمایا : یہ جواب کچھ نہیں ، اس طرح تو تمام گناہوں کے متعلق کہہ سکتے ہیں ۔


مسلمانوں کیسا صاف ارشاد ہے کہ مزامیر (آلات موسیقی) ناجائز ہیں اور اس کاعذر کا کہ ہیمں استغراق کے باعث مزامیر کی خبر نہ ہوئی ، کیا مسکت جواب عطاء فرمایا کہ ایسا حیلہ ہرگناہ میں چل سکتا ہے شراب پینے اور کہ دے کہ شدت استغراق کے باعث ہمیں خبر نہ ہوئی کہ شراب ہے یاپانی ، زنا کرے اور کہ دے کہ غلبہ حال کے سبب ہمیں تمیز نہ ہوئی کہ جورو ہے یا بیگانہ ۔ اس میں ہے ۔


اسی سید الاولیاء شریف میں ہے ۔ ترجمہ فارسی : حضرت شیخ المشائخ نے فرمایا میں نے منع کر رکھا ہے کہ مزامیر اور دیگر محرمات درمیان میں نہ ہوں اور اس بات میں آپ نے بہت مبالغہ کیا ، یہاں تک فرمایا کہ اگر امام نماز میں بھول جائے مرد تو سبحان اللہ کہہ کر امام کو مطلع کرے اور عورت سبحان اللہ نہ کہے کیونکہ اس کو اپنی آواز سنانا نہ چاہیے پس ایک ہاتھ کی ہتھیلی دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر نہ مارے کہ اس طرح یہ کھیل ہو گا بلکہ ہاتھ کی پشت دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر مارے جب یہ یہاں تک لہو و لعب کی چیزوں اور ان جیسی چیزوں سے پرہیز آئی ہے تو سماع بطریق اولیٰ منع ہیں ۔ مسلمانو! جو ائمہ طریقت علیہم الرّحمہ اس درجہ احتیاط فرمائیں کہ تالی کی صورت کو ممنوع بتائیں وہ اور معاذاللہ مزامیر کی تہمت ، للہ انصاف ! کیسا ضبط بے ربط ہے ، اللہ تعالیٰ اتباع شیطان سے بچائے اور ان سچے محبوبان خدا کا سچا اتباع عطاء فرمائے آمین ۔ مروجہ قوالی مع مزامیر کے بارے میں  امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ فرما تے ہیں : مزامیر جائز نہیں حضور سیدناسلطان المشائخ نظام الحق والدین سردار سلسلہ عالیہ  چشتیہ نظامیہ فوائدالفوائد شریف میں ارشاد فرما تے ہیں ۔ مزامیر حرام است یعنی مزامیر حرام ہے ۔ ( فتاوی رضویہ  جلد نمبر ۲۱ صفحہ نمبر ۱۱۶ مترجم جدید،چشتی)


امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ احکام شریعت صفحہ 176 میں ایک مسئلہ لکھا ہے جس کا عنوان ہے مزامیر کیساتھ قوالی ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : خالی قوالی جائز ہے اور مزامیر حرام زیادہ غلو اب منتسبان سلسلہ چشتیہ کو ہےحضرت سلطان المشائخ محبوب الہی رضی اللہ تعالی عنہ (مراد حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ ہیں) فوائد الفواد شریف میں فر ماتے ہیں مزامیر حرام است ( باجے ساز گانے کے آلات) حضرت یحیی منیری رحمۃ اللہ علیہ نے مزامیر کو زنا کیساتھ شمار کیا ہے ۔ (احکام شریعت کےصفحہ نمبر 81 پر کافی تفصیلی گفتگو کی ہے)


فتاوی رضویہ میں امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا : زیدکہتا ہے کہ قوالی مع آلات مزامیر کے جائزہے ۔۔۔ اور کہتا ہے کہ مزامیر اُن باجوں کو کہتے ہیں ، جو منہ سے بجائے جاتے ہیں ۔  ڈھلک ، ستار ، طبلہ ، مجیرے ، ہارمونیم ، سارنگی مزامیر میں داخل نہیں بلکہ ان کا اوردف کاایک حکم ہے ۔ (اس کے جواب میں امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ نے فرمایا : زیدکاقول باطل و مردود ہے ، حدیث صحیح بخاری شریف میں مزامیر کا لفظ نہیں بلکہ معازف کہ سب باجوں کوشامل ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 140 رضافاؤنڈیشن لاهور،چشتی)


امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا : میلاد شریف میں قوالی کی طرح پڑھنا کیساہے ؟

اس کے جواب میں فرمایا : قوالی کی طرح پڑھنے سے اگر یہ مرا د کہ ڈھول ستار کے ساتھ ، جب تو حرام اور سخت حرام ہے اور اگر صرف خوش الحانی مراد ہے ، تو کوئی امر مورث فتنہ نہ ہو ، تو جائز بلکہ محمود ہے اور اگر بے مزامیر گانے کے طور پر راگنی کی رعایت سے ہو ، تو ناپسند ہے کہ یہ امر ذکر شریف کے مناسب نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ (فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 664 رضافاؤنڈیشن لاهور)


اپنی تقریبوں میں ڈھول جس طرح فساق میں رائج ہے بجوانا ، ناچ کرانا حرام ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 98 رضافاؤنڈیشن لاهور،چشتی)


متصوفہ زمانہ (بناوٹی صوفی ) کہ مزامیر کے ساتھ قوالی سنتے ہیں اور کبھی اوچھلتے کودتے اور ناچنے لگتے ہیں اس قسم کا گانا بجانا ، ناجائز ہے ، ایسی محفل میں جانا اور وہاں بیٹھنا ناجائز ہے ، مشایخ سے اس قسم کے گانے کا کوئی ثبوت نہیں ۔ جو چیز مشایخ سے ثابت ہے وہ فقط یہ ہے کہ اگر کبھی کسی نے ان کے سامنے کوئی ایسا شعر پڑھ دیا جو ان کے حال و کیف کے موافق ہے تو ان پر کیفیت و رقت طاری ہوگئی اور بے خود ہو کر کھڑے ہوگئے اور اس حال وارفتگی میں ان سے حرکات غیر اختیاریہ صادر ہوئے ، اس میں کوئی حرج نہیں ۔ مشایخ و بزرگانِ دین کے احوال اور ان متصوفہ کے حال و قال میں زمین آسمان کا فرق ہے ، یہاں مزامیر کے ساتھ محفلیں منعقد کی جاتی ہیں ، جن میں فساق و فجار کا اجتماع ہوتا ہے ، نااہلوں کا مجمع ہوتا ہے ، گانے والوں میں اکثر بے شرع ہوتےہیں ، تالیاں بجاتے اور مزامیر کے ساتھ گاتے ہیں اور خوب اچھلتے کودتے ناچتے تھرکتے ہیں اور اس کا نام حال رکھتے ہیں ان حرکات کو صوفیہ کرام کے احوال سے کیا نسبت ، یہاں سب چیزیں اختیار ی ہیں وہاں بے اختیاری تھیں ۔ (بہار شریعت جلد 3 حصہ 16 صفحہ 511 مکتبۃالمدینہ کراچی)


مروجہ قوالی جو مزامیر کے ساتھ ہوتی ہے  نہ شریعت میں جائز ہے ، نہ مشائخِ  چشت سے ثابت ہے ۔ (فتاوی بحر العلوم جلد 5 صفحہ 583 شبیر برادرز ،لاہور)


مروجہ ڈھول کو جائز کہنے والے شریعت پرجھوٹ باندھنے والے ہیں ، ان سے کہا جائے کہ اگرتم سچے ہو ، تو دکھاؤ شریعت میں اسے کہاں جائز بتایا گیاہے ؟ان سب پراس افتراء سے توبہ کرنافرض ہے ۔

ناک کان ہاتھوں پیروں میں کسی قسم کا  زیور جائز نہیں ہے اگر چہ پلاسٹیک کا ہو کہ یہ عورتوں سے مشابہت ہے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا من تشبہ بقوم فھو منھم ۔

مرد کےلیے صرف چاندی کی ایک انگوٹھی ایک نگ والی وہ بھی ساڑھے چار ماشے کم ہو جائز ہے اس کے علاوہ کسی بھی دھات کی انگوٹھی یا زیور جائز نہیں ۔ (کتبِ فقہ)


 مذکورہ بالا افعال کا حامل خص فاسق معلن ہے اس سے اذان پڑھوانا ، قوالی یعنی محفلِ سماع میں کلام پڑھوانا یا نعت وغیرہ سننا ناجائز ہے کہ فاسق کی تعظیم نا جائز ہے اور منبر پر بٹھانے نعت پڑھوانے پر اس کی تعظیم ہے ۔ توبہ کرکے پھر گناہ کرنا بہت برا ہے اور یہ اللہ کے ساتھ استہزا کرنا ہے اس لیے جب تک وہ امور قبیحہ و شنیعہ سے سچے دل سے توبہ نہ کرلے اور قبیحہ افعال سے باز نہ آجائے اس کا بائیکاٹ کر دیں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ  فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّکۡرٰی مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ۔ (سورہ انعام آیت نمبر ۶۸)

 ترجمہ : اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ ۔


جب استغفار کرلے اور افعال قبیحہ سے باز آجائے تو اذان دینے اور میلاد وغیرہ میں بلانے میں کوئی حرج نہیں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Monday, 24 August 2026

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور میلادُالنَّبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور میلادُالنَّبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

محترم قارٸینِ کرام : حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ وصال 1052 ھجری برِصغیر کی وہ عظیم ہستی گزری ہیں کہ جنہیں فن حدیث کے حوالے سے اہل سنت ، بلکہ ہر مکتبہ فکر ایک مستند اور قابل اعتماد محدث تسلیم کرتا ہے ۔ عیدِ میلادُالنَّبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے ہم آپ کے سامنے انہیں حضرت شیخ عبدالحق محدث رحمۃ اللہ علیہ کی ایک مشہور عربی کتاب ماثبت بالسنۃ کا اردو ترجمہ مومن کے ماہ و سال مطبوعہ دارالاشاعت کراچی و ایام اسلام مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور اور اخبار الاخیار و مدار النبوت سے چند اقتباسات پیش کر رہے ہیں ۔ یاد رہے کہ جو ترجمہ آپ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے اس کی تصدیق دیوبندی مکتبہ فکر کے مفتی محمد شفیع صاحب دارالعلوم کراچی نے کی ہے : ⬇


حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی دعا​ اور اہمیت میلاد : ⏬


حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں یوں عرض کرتے ہیں : اے اللہ میرا کوئی عمل ایسا نہیں جسے تیرے دربار میں پیش کرنے کے لائق سمجھوں ، میرے تمام اعمال فساد نیت کا شکار ہیں البتہ مجھ فقیر کا ایک عمل محض تیری ہی عنایت سے اس قابل (اور لائق التفات) ہے اور وہ یہ ہے کہ مجلس میلاد کے موقع پر کھڑے ہو کر سلام پڑھتا ہوں اور نہایت ہی عاجزی و انکساری، محبت و خلوص کے ساتھ تیرے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجتا ہوں ۔​ اے اللہ وہ کون سا مقام ہے جہاں میلاد پاک سے بڑھ کر تیری طرف سے خیر و برکت کا نزول ہوتا ہے؟ اس لیے اے ارحم الراحمین مجھے پکا یقین ہے کہ میرا یہ عمل کبھی رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ یقیناً تیری بارگاہ میں قبول ہو گا اور جو کوئی درود و سلام پڑھے اور اس کے ذریعے سے دعا کرے وہ کبھی مسترد نہیں ہوسکتی ۔ (اخبار الاخیار مترجم اردو صفحہ نمبر 605 مطبوعہ اکبر بک سیلر اردو بازار لاہور)(اخبار الاخیار مترجم اردو صفحہ نمبر 624 مطبوعہ مدینہ پبلیشنگ کمپنی جناح روڈ کراچی)


حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : شبِ ولادت شبِ قدر سے افضل ہے ۔ سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شب ولادت یقیناً شبِ قدر سے زیادہ افضل ہے کیونکہ شبِ ولادت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پیدائش و جلوہ گری کی شب ہے اور شبِ قدر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو عطا کی ہوئی شب ہے ۔ ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ نے تمام جہانوں کےلیے رحمت بنایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی ذات والا صفات کے سبب سے آسمانی و زمینی تمام مخلوقات کو اللہ عزوجل نے عام نعمتیں سرفراز کی ہیں ۔ (مومن کے ماہ و سال صفحہ نمبر 84 ،چشتی)(ماثبت من السنہ مترجم اردو صفحہ 73 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)


جہنم میں ابولہب کافر کا حال : ⏬


حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ابولہب کی باندیوں میں سے ثویبہ لونڈی نے ابولہب کو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشخبری دی جسے سن کر ابولہب نے اپنی باندی ثویبہ کو آزاد کردیا ۔ ابولہب کے مرنے کے بعد اس کے کسی ساتھی نے اسے خواب میں دیکھ کر اس کاحال پوچھا تو جواب دیا جہنم میں پڑا ہوں البتہ اتنا ضرور ہے کہ ہر پیر کی رات کو عذاب میں تخفیف ہو جاتی ہے اور اپنی ان دو انگلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ان انگلیوں سے میں نے اپنی لونڈی ثویبہ کو اس لیے آزاد کیا تھا کہ اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشخبری دی تھی ۔ اس صلہ میں ان دونوں انگلیوں سے کچھ پانی پی لیتاہوں ۔ (مومن کے ماہ و سال صفحہ 84 - 85،چشتی)(ماثبت من السنہ مترجم اردو صفحہ 74 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)


حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میلاد شریف کرنے والوں کےلیے اس میں سند ہے جو شب میلاد خوشیاں مناتے ہیں اور مال خرچ کرتے ہیں ۔ یعنی ابولہب کافر تھا اور قرآن پاک اس کی مذمت میں نازل ہوا ۔ جب اسے میلاد کی خوشی منانے اور اپنی لونڈی کے دودھ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے خرچ کرنے کی وجہ سے جزا دی گئی تو اس مسلمان کا کیا حال ہو گا جو محبت اور خوشی سے بھر پور ہے اور میلاد پاک میں مال خرچ کرتا ہے ۔ (مدارج النبوۃ مترجم اردو جلد دوم صفحہ نمبر 35 مطبوعہ شبیر برادرز اردو بازار لاہور)(ماثبت من السنہ مترجم اردو صفحہ 74 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)


عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانا مسلمانوں کا عمل ہے : ⏬


حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں ابولہب کافر جس کی مذمت قرآن کریم میں وارد ہے جبکہ اس کو ولادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی منانے میں اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کرنے کا یہ بدلا ملا کہ وہ دوزخ میں بھی ایک رات کےلیے فرحت و مسرت سے ہمکنار ہوجاتا ہے تو ان مسلمانوں کے حال پر غور کیا جائے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت پر مسرتوں کا اظہار کرتے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں بقدر استطاعت خرچ کرتے ہیں ۔ مری جان کی قسم ! شب ولادت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اظہار مسرت کے سبب اللہ تعالیٰ اپنے عام فضل و کرم سے اظہار مسرت کرنے والوں کو جنت کے باغوں میں داخل کرے گا ۔ مسلمان ہمیشہ سے محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منعقد کرتے آئے ہیں ۔ محفل میلاد کے ساتھ ہی دعوتیں دیتے کھانے وغیرہ پکواتے اور غریبوں کی طرح طرح کے تحفہ تحائف تقسیم کرتے۔ خوشی کا اظہار کرتے اور دل کھول کر خرچ کرتے ہیں ۔ نیز ولادت باسعادت پر قرآن خوانی کراتے اور اپنے مکانوں کو مزین کرتے ہیں ۔ ان تمام افعالِ حسنہ کی برکت سے ان لوگوں پر اللہ عزوجل کی برکتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے ۔ (مومن کے ماہ و سال صفحہ 85،چشتی)(ماثبت من السنہ مترجم اردو صفحہ 74 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)


محفل میلاد منعقد کرنے کے خصوصی فضائل : ⏬


حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منعقد کرنے کے خصوصی تجربے یہ ہیں کہ میلاد کرنے والے سال بھر تک اللہ عزوجل کی حفظ وامان میں رہتے اور حاجت روائی و مقصود برآری کی خوشیوں سے جلد ترہم آغوش ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل کرتا ہے جو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شب کو عید مناتے ہیں اور جس کے دل میں عناد اور دشمنی کی بیماری ہے وہ اپنی دشمنی میں اور زیادہ سخت ہو جاتا ہے ۔ (مومن کے ماہ و سال صفحہ 85 ، 86،چشتی)(ماثبت من السنہ مترجم اردو صفحہ 74 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)


میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھنڈے و پرچم لگانے کا ثبوت : ⏬


حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے تین پرچم اس طرح دیکھے کہ ان میں سے ایک مشرق میں دوسرا مغرب میں اور تیسرا خانہ کعبہ کی چھت پر نصب تھا ۔ (مومن کے ماہ و سال صفحہ 75 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)(ماثبت من السنہ مترجم اردو صفحہ 66 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)


تاریخ ولادت کے متعلق : ⏬


حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بارہ (12) ربیع الاول تاریخ ولادت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشہور ہے اور اہل مکہ کاعمل یہی ہے کہ وہ اس تاریخ کو مقام ولادت رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اب تک زیارت کرتے ہیں ۔ علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے : تمام مسلمانوں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 12 ربیع الاول کو اس دنیا میں رونق افروز ہوئے ۔ (ماثبت من السنہ مترجم اردو صفحہ 71 ، 72 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور،چشتی)


فوائد : حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ان اقتباسات کی روشنی میں درج ذیل فوائد حاصل ہوئے : ⬇


1 ۔ 12 ربیع الاول ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاریخ پر مسلمانوں کااتفاق ہے ۔


2 ۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کےلیے عید کا دن ہے ۔


3 ۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی کرنا مسلمانوں کا ہمیشہ سے معمول رہا ہے ۔


4 ۔ خاص کر اہل مکہ کا عمل رہا ہے کہ 12 ربیع الاول کو مقام ولادت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرتے رہے ۔


5 ۔ محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے سال بھر امن وامان رہتا ہے اور مصیبتیں وتکالیف دور ہوتی ہیں ۔


6 ۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنے گھروں کو سجانا اور قرآن خوانی وغیرہ جیسے نیک اعمال کرنا خوشی کی علامات ہیں ۔


7 ۔ ان تمام افعالِ حسنہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی برکتوں کا نزول ہوتا ہے ۔ الحَمْدُ ِلله ! غور فرمائیے ! گیارہویں صدی کے مجدد شیخ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ان تمام اعمال کو ’’افعالِ حسنہ‘‘ یعنی نیک و مستحب اعمال فرما رہے ہیں اور مسلمانوں کا برسوں سے معمول قرار دے رہے ہیں ۔ نیز یہ بھی کہ ان نیک اعمال کے سبب اللہ تعالیٰ کی رحمتوں برکتوں کا نزول ہوتا ہے ۔ اللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں سے بچاۓ آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

















Thursday, 20 August 2026

عید میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناجائز کہنے والو ناجائز ہونے کی دلیل دو ؟

عید میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناجائز کہنے والو ناجائز ہونے کی دلیل دو ؟

محترم قارئینِ کرام : دیوبندیوں کے وکیل اعظم مولوی امین صفدر اوکاڑوی لکھتے ہیں : مدعی سے خاص دلیل کا مطالبہ کرنا کہ یہ خاص قرآن سے دکھاؤ یا خاص ابو بکر ، عمر فاروق کی حدیث دکھاو یا خاص فلاں فلاں کتاب سے دکھاؤ یہ محض دھوکا اور فریب ہے کتاب وسنت نے دلیل خاص کی ہرگز پابندی عائد نہیں کی ۔ ان پڑھ لوگوں سے اس قسم کی شرائط پر دستخط لیے جاتے ہیں جو شرعاً باطل ہوتی ہیں یہ خالص مرزا قادیانی کی سنت ہے ۔ (مجموعہ رسائل صفحہ 165 مطبوعہ ادارہ خدام احناف لاہور) 


مذکورہ دیوبندی اصول سے واضح ہو گیا کہ دیوبندیوں کا اہلسنت و جماعت سے جلوس و محفلِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، جھنڈے لگانے ، لائٹنگ کرنے ، صدقہ و خیرات کرنے وغیرہم کا ثبوت خاص قرآن و سنت اور قرونِ اولی سے طلب کرنا ان کا دھوکہ و فریب ہے ، یہ شرائط شرعاً باطل  اور یہ طرز مرزا قادیانی کی سنت ہے ۔ لو جو دیوبندیو تمہیں مرزا قادیانی کی سنت ادا کرنا تمہارے ہی گھر سے مبارک ہو ۔


میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بات بات پر دلیل مانگنے والے دیوبندیوں کے شیخ الاسلام مولوی مفتی محمد تقی عثمانی دیوبندی لکھتے ہیں : البتہ جواز کےلیے کسی مستقل دلیل کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کےلیے ممانعت کی دلیل نہ ہونا کافی ہے ۔ (فتاوی عثمانی جلد 1 صفحہ 47 مطبوعہ مکتبة المعارف کراچی،چشتی) ۔ یہی تو ہم کہتے ہیں تمام دیوبندیوں سے کہ میلاد کے ناجائز ہونے پر ممانعت کی دلیل دو ؟


دیوبندیوں کے مفتی اعظم مفتی محمد فرید لکھتے ہیں : جس عمل کی پیغمبر علیہ السلام سے نہی وارد نہ ہو وہ بدعت اور مکروہ نہیں ہوتا ۔ (فتاوی ثنائیہ جلد 1 صفحہ 474 ، 475 مطبوعہ ادارہ ترجمان السنہ لاہور) ۔ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بدعت و حرام کہنے والے دیوبندیوں سے سوال ہے کہ میلاد کی ممانعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دیکھا دو ؟ ۔ یا پھر مان لو میلاد منانا بدعت نہیں ہے ۔


میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بات بات پر دلیل مانگنے والے وہابیوں کے شیخ الاسلام مولوی ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں : جس عمل کی ممانعت قرآن و حدیث سے ثابت نہیں اس کا کرنا ناجائز ہے ۔ (فتاوی ثنائیہ جلد 1 صفحہ 474 ، 475 مطبوعہ ادارہ ترجمان السنہ لاہور) ۔ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بات بات پر دلیل مانگنے والے وہابیوں سے سوال ہے کہ میلاد کے ناجائز ہونے پر قرآن و حدیث سے ممانعت کی دلیل دو ؟


میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بات بات پر دلیل مانگنے والے وہابیوں کے محدث العصر حافظ زبیر علی سے پوچھا گیا جس کمرے میں قرآن پاک ، اسلامی کتب ہوں یا دیوار پر آیات لکھی ہوں اس کمرے میں بیوی سے ہم بستر ہو سکتے ہیں ، جائز یا ناجائز ؟ جواب دیا جائز ہے اس کے ناجائز ہونے پر کوئی شرعی دلیل نہیں ہے ۔ (فتوی علمیہ جلد 2 صفحہ 191 مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ،چشتی) ۔ یہی سوال ہمارا ہے تمام وہابیوں سے میلاد کے ناجائز ہونے کی دلیل دو ؟


ہر چیز میں اصل اباحت ہے یعنی ہر چیز اصل میں جائز ہے ۔ بدعت بدعت کی رٹ لگانے والوں کو ان کے شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانی صاحب کا جواب ۔ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ ( سورۂ المائدہ آیت 101 پارہ 7)

ترجمہ مولوی محمود الحسن دیوبندی : اے ایمان والو مت پوچھو ایسی باتیں کہ اگر تم پر کھولی جاویں تو تم کو بری لگیں اور اگر پوچھو گے یہ باتیں ایسے وقت میں کہ قرآن نازل ہورہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جاویں گی اللہ نے ان سے در گزر کی ہے اور اللہ بخشنے والا تحمل والا ہے ۔


مولوی شبیر احمد عثمانی دیوبندی لکھتے ہیں : پچھلے دو رکوع کا حاصل احکام دینیہ میں غلو اور تساہل سے روکنا تھا یعنی جو طیبات خدا نے حلال کی ہیں ان کو اپنے اوپر حرام مت ٹھہراؤ اور جو چیزیں خبیث و حرام ہیں خواہ وہ دائمی طور پر یا خاص احوال و اوقات میں ان سے پوری طرح اجتناب کرو ۔ ان آیات میں تنبیہ فرما دی کہ جو چیزیں شارع نے تصریحاً بیان نہیں فرمائیں ان کے متعلق فصول اور دورازکار سوالات مت کیا کرو جس طرح تحلیل و تحریم کے سلسلہ میں شارع کا بیان موجب ہدایت و بصیرت ہے اس کا سکوت بھی ذریعہ رحمت و سہولت ہے ۔ خدا نے جس چیز کو کمال حکمت و عدل سے حلال یا حرام کردیا وہ حلال یا حرام ہوگئی اور جس سے سکوت کیا اس میں گنجائش اور توسیع رہی ۔ مجتہدین کو اجتہاد کا موقع ملا عمل کرنے والے اس کے فعل و ترک میں آزاد رہے اب اگر ایسی چیزوں کی نسبت خوامخواہ کھود کرید اور بحث و سوال کا دروازہ کھولا جائے گا بحالیکہ قرآن شریف نازل ہورہا ہے اور تشریح کا باب مفتوح ہے تو بہت ممکن ہے کہ سوالات کے جواب میں بعض ایسے احکام نازل ہو جائیں جن کے بعد تمہاری یہ آزادی اور گنجائشِ اجتہاد باقی نہ رہے ۔ پھر سخت شرم کی بات ہوگی کہ جو چیز خود مانگ کر لی ہے اس کو نباہ نہ سکیں ۔

پھر آگے لکھتے ہیں : یا تو مراد یہ ہے کہ ان اشیاء سے درگزر کی یعنی جب خدا نے ان کے متعلق کوئی حکم نہ دیا تو انسان ان کے بارے میں آزاد ہے خدا ایسی چیزوں پر گرفت نہ کرے گا ۔ چنانچہ اسی سے بعض علماء اصول نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے ۔ (یعنی ہر چیز اصل میں جائز ہے) ۔ (تفسیر عثمانی جلد اوّل صفحہ 577 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی،چشتی)


معلوم ہوا کہ جب تک وحی نازل نہ ہو تو نہ کوئی چیز لازم ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی چیز منع اور جن چیزوں کے متعلق شریعت مطہرہ نے حکم دیا ہے یا ترغیب دی ہے وہ فرض ، واجب ، سنت اور مستحب (علی حسب الحکم) قرار پاگئیں جن چیزوں کے متعلق شریعت مطہرہ نے ممانعت فرمائی یا ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے وہ حرام ، مکروہ تحریمی ، مکروہ تنزیہی اور اسائت (علی حسب الحکم) قرار پاگئیں اور جن چیزوں کے متعلق شریعت مطہرہ نے سکوت فرمایا یعنی نہ حکم و ترغیب نہ ہی ممانعت و ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا وہ سب چیزیں بلاشبہ جائز ہیں ۔ یعنی محافلِ میلاد شریف ، ایصالِ ثواب کے جلسے ، اذان سے قبل یا بعد درود و سلام ، دعا بعد نماز جنازہ وغیرہ ۔


میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنے جلسوں کو دین و دنیا میں تقسیم کرنے والے دیوبندیوں کے امام اہلسنت سرفراز گکھڑوی لکھتے ہیں : غرضیکہ دین و دنیا مذہب و سیاست میں فرق نکالنا یہ اہل یورپ کی پیداوار ہے شریعت محمدیہ علی صاحبا الف الف تحیۃ و سلام کا دامن اس تفریق سے بالکل پاک و منزہ ہے ۔ مسلمان کی دنیا بھی دنیا دین ہے ۔ بلکہ مسلمان کا سونا جاگنا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا وغیرہ بلکہ زندگی کا ہر شعبہ اور ہر پہلو دین ہے ۔ (الکلام المفید فی اثبات التقلید صفحہ 83 مطبوعہ مکتبہ صفدریہ،چشتی)


یہی سرفراز گکھڑوی مزید لکھتے ہیں : حضرات مسلمانوں کا دین اور دنیا ۔ مذہب اور سیاست دو الگ الگ راستے نہیں ۔ بلکہ مسلمان کی سیاست اور دنیا بھی دین ہی ہے ۔ یہاں دین اور دنیا کا مذہب و سیاست کا فرق نکالنا زندقہ اور الحاد ہے ۔ (الکلام المفید فی اثبات التقلید صفحہ 58 مطبوعہ مکتبہ صفدریہ،چشتی)


سوشل میڈیا کے ڈیجیٹل دیوبندی مختیان دین اور دنیا کی تقسیم الگ الگ کرکے اپنے ہی نام نہاد امام اہلسنت کے فتوے سے ملحد زندیق اور اہل یورپ کی پیداوار ٹھہرے ۔ لہٰذا اہلسنت و جماعت پر دانت نہ پیسیں اور نہ اہلسنت و جماعت پر غصہ نکالیں یہ سب کچھ  بقول ابو ایوب جعلی قادری و ساجد خان جعلی نقشبندی کے یہ آپ کے گھر کا گند ہے پہلے اسے صاف کریں بعد یہاں بات کریں ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔







اللہ تعالی نے غرور سے دیکھا کہنے کا شرعی حکم

اللہ تعالی نے غرور سے دیکھا کہنے کا شرعی حکم

محترم قارئینِ کرام : غرور اللہ کی صفت نہیں ۔ غرور لغت میں تکبر ، بڑائی کا باطل دعویٰ ہے ۔ یہ مخلوق کی مذموم صفت ہے ۔ اللہ تعالی کےلیے غرور سے دیکھتا ہے جیسے الفاظ استعمال کرنا سخت ناپسندیدہ ، نامناسب اور شرعاً غلط ہے ۔ غرور یا تکبر ایک عیب اور شیطانی صفت ہے ، جبکہ اللہ تعالی تمام عیبوں ، نقص اور کمزوریوں سے پاک (منزہ) ہے ۔ اس کی ذات کے لیے کبریا اور عظمت تو ثابت ہے ، لیکن غرور اور تکبر کا لفظ بولنا اس کی شانِ رحیمی اور پاکی کے خلاف ہے ۔ ۔ لفظ غرور اور تکبر میں فرق تکبر اور کبریاء : اللہ تعالیٰ کی ایک صفت المتکبر (عظمت اور بڑائی والا) ہے ۔ کبریاء اور بڑائی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو زیب دیتی ہے کیونکہ وہی کائنات کا خالق اور مالک ہے ۔ غرور کا مطلب : اردو اور عربی میں غرور کا مطلب دھوکہ ، فریب یا باطل پر فخر کرنا ہوتا ہے ۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب ، دھوکے اور نقص سے پاک ہے ، اس لیے اللہ کی طرف غرور کی نسبت کرنا شدید گناہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی شان اور دیکھنا اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں کو دیکھتا ہے تو وہ رحمت ، غضب ، یا پناہ کی نظر ہوتی ہے ۔ قرآن و حدیث کے مطابق ، اللہ تعالیٰ متکبر انسانوں سے ناراض ہوتا ہے اور ان کی طرف رحمت کی نظر سے نہیں دیکھتا ، لیکن اللہ کے اپنے دیکھنے میں کبھی غرور (نعوذ باللہ) نہیں ہوتا ۔ متبادل اور درست جملےاگر آپ اللہ تعالیٰ کی عظمت ، جلال یا کسی پر ناراضگی کا ذکر کرنا چاہتے ہیں ، تو ان الفاظ کا استعمال کریں : اللہ تعالیٰ نے جلال سے دیکھا ۔ اللہ تعالیٰ نے غضب کی نظر سے دیکھا ۔ اللہ تعالیٰ کی شانِ کبریاء یا عظمت ۔ اللہ کے لیے قرآن نے فرمایا : هُوَ اللّٰهُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡمَلِکُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ الۡمُؤۡمِنُ الۡمُهَیۡمِنُ الۡعَزِیۡزُ الۡجَبَّارُ الۡمُتَکَبِّرُ ۔ (سورة الحشر آیت نمبر 23) ۔ یہاں المتکبر آیا ہے جس کا معنی بڑائی والا ، ہر عیب سے پاک ہے ۔ جبکہ غرور میں کمی اور نقص کا پہلو ہے ۔


اللہ کےلیے ایسے الفاظ بولنا منع ہے : ⏬


اللہ عزوجل کےلیے وہی الفاظ بولے جائیں جو قرآن و حدیث میں آئے ہیں ۔ اپنی طرف سے صفت گھڑنا ادب کے خلاف ہے ۔ اللہ عزوجل نے اپنے لیے نظر رحمت ، نظر مغفرت فرمایا ہے ۔ نظر غرور قرآن و حدیث میں نہیں آیا ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 14 صفحہ 247)


حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں : ⏬


حدیثِ مبارکہ میں ہے : من جر ثوبه خیلاء لم ینظر اللہ الیہ یوم القیامۃ ۔

ترجمہ : جو تکبر سے کپڑا گھسیٹے اللہ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 5788)


یہاں نظر نہ فرمانا غضب کے معنی میں ہے ، نہ کہ "غرور سے دیکھنا ۔


اللہ عزوجل کےلیے غرور سے دیکھا کہنا ادب کے خلاف اور ناجائز ہے ۔


اللہ عزوجل کےلیے بولنا ہے : اللہ عزوجل نے نظر رحمت فرمائی ، اللہ نے غضب فرمایا ، اللہ عزوجل نے اعراض فرمایا ۔


اللہ عزوجل کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ اسے مخلوق جیسی مذموم صفات سے یاد کیا جائے ۔ لَیۡسَ کَمِثۡلِهٖ شَیۡءٌ ۔ (سورة الشوری آیت نمبر 11)

Wednesday, 19 August 2026

عیدِ میلادالنبی ﷺ کی ضد میں عیدیں صرف دو ہیں کہنے والے جہلائے زمانہ کو مدلل جواب

عیدِ میلادالنبی ﷺ کی ضد میں عیدیں صرف دو ہیں کہنے والے جہلائے زمانہ کو مدلل جواب

محترم قارئینِ کرام اللہ عزوجل کا ارشاد مبارک ہے : اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ ۔ (سورہ المائدہ آیت نمبر 3)

تفسیر عثمانی میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت مولوی شبیر احمد عثمانی دیوبندی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے یہودیوں نے مذکورہ آیت کے بارے میں حضرت عمر سے کہا اگر یہ آیت ہم پر اترتی تو ہم اسے عید کا دن کہتے جواب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے لیے تو دو عید ہیں یعنی یہ آیت جس دن نازل ہوئی  وہ عرفہ اور جمعہ کا دن تھا ۔ (تفسیر عثمانی جلد اوّل صفحہ 498 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی) ۔ معترضین کو لفظ عید سے تکلیف تھی اس لیے عید کا لفظ انہیں کے گھر سے دیکھا دیا ۔ موصوف بھی مانے کہ اسلام میں صرف عیدُالفطر اور عیدُالاضحی کا دن عید نہیں اس کے علاوہ بھی عید ہو سکتی ہے ۔ اب ان کا کہنا کہ اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں تیسری عید کہاں سے آٸی تو جس طرح دین کے مکمل ہونے پر  اس دن کو لفظ عید سے تعبیر کیا گیا تو جس دن صاحب دین آئے تو اس دن کو عید کا دن شمار کرنا کیسے ناجائز ہو گیا ۔


تکمیلِ دین سے متعلق یہ آیتِ مبارکہ حجۃ الوداع میں عرفہ کے روز ، جمعہ کے دن ، عصر کے بعد نازل ہوئی اور بتادیا گیا کہ حرام و حلال کے جو احکام ہیں وہ اور قِیاس کے قانون سب مکمل کردیے ، اسی لیے اس آیت کے نزول کے بعد بیانِ حلال و حرام کی کوئی آیت نازل نہ ہوئی اگرچہ ’’وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ‘‘ نازل ہوئی جووعظ و نصیحت پر مشتمل ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ دین کامل کرنے کے معنی اسلام کو غالب کرنا ہے جس کا یہ اثر ہے کہ حجۃ الوداع میں جب یہ آیت نازل ہوئی تو کوئی مشرک مسلمانوں کے ساتھ حج میں شریک نہ ہو سکا ۔ ایک قول یہ ہے کہ آیت کا معنیٰ یہ ہے کہ میں نے تمہیں دشمن سے امن دی ، ایک قول یہ ہے کہ دین کا اِکمال یعنی مکمل کرنا یہ ہے کہ وہ پچھلی شریعتوں کی طرح منسوخ نہ ہوگا اور قیامت تک باقی رہے گا ۔ (تفسیر خازن جلد ۱ صفحہ ۴۶۴)


اس آیت کے متعلق بخاری و مسلم کی حدیث مبارکہ یہ ہے : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے ، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نازل ہونے کے دن عید مناتے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کون سی آیت ؟ اس یہودی نے یہی آیت ، اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ ، پڑھی ۔ آپ  رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اس دن کو جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی تھی اور اس کے نازل ہونے کے مقام کو بھی پہچانتا ہوں ، وہ مقام عرفات کا تھا اور دن جمعہ کا ۔ (صحیح بخاری کتاب الایمان باب زیادۃ الایمان و نقصانہ صفحہ 28 حدیث نمبر 45،چشتی)(صحیح مسلم کتاب التفسیر صفحہ 1474 ، 1475 نمبر حدیث 3017 مطبوعہ دارالفکر بیروت)(تیسیر الباری شرح بخاری جلد 1 صفحہ 106 مطبوعہ نعمانی کتبخانہ اردو بازار لاہور) ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی مراد اس سے یہ تھی کہ ہمارے لیے وہ دن عید ہے ۔ 


حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت ، اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ ، پڑھی تو ایک یہودی نے کہا اے ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ آیت اگر ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نازل ہونے کے دن عید مناتے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں ، جمعہ اور عرفہ ۔ (سنن ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ المائدۃ صفحہ 866 حدیث 3055 مطبوعہ دارالفکر بیروت)


اس سے معلوم ہوا کہ کسی دینی کامیابی کے دن کو خوشی کا دن منانا جائز اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے ورنہ حضرت عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم صاف فرما دیتے کہ جس دن کوئی خوشی کا واقعہ ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور اس روز کو عید منانا ہم بدعت جانتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ عید میلاد کہنا اور منانا جائز ہے کیونکہ وہ اللہ عزوجل کی سب سے عظیم نعمت کی یادگار و شکر گزاری ہے ۔


محترم قارئینِ کرام : اسلام میں شرعا دو عیدیں ہی ہیں جنہیں عیدالفطر اور عیدالاضحی کہتے ہیں ۔ کسی اور دن کے ساتھ لفظ عید لگانے میں شرعا کوئی ممانعت نہیں ۔ اگر ممانعت ہے تو آپ وہ ممانعت قرآن و حدیث سے ثابت کر دیں ۔ اب رہا یہ سوال کہ کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کسی اور دن کو عید کا دن کہتے تھے ؟ ۔ تو اس کا جواب غیرمقلدین وہابی حضرات کے علامہ وحیدالزمان بخاری کی شرح بنام تیسیرالبخاری کی جلد 6 صفحہ 104 پر ایک حدیث لکھی ہےجو اصل کتاب بخاری شریف کی جلد 2 صفحہ 662 پر موجود ہے ۔


حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں یہودی لوگ (مثلاً کعب احبار) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے ۔ تم (اپنے قرآن مجید میں) ایک ایسی آیت پڑھتے ہو اگر وہ آیت ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید (خوشی کا دن) مقرر کرلیتے ۔ حضرت عمر نے پوچھا وہ کون سے آیت ہے ، انہوں نے کہا ۔ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیۡکُمْ نِعْمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسْلٰمَ دِیۡنًا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں خوب جانتا ہوں یہ آیت مبارکہ کب اتری اور کہاں اتری ؟ اور جس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہاں تھے ؟ یہ آیت مبارکہ عرفہ کے دن نازل ہوئي اس وقت اللہ تبارک و تعالی کی قسم ۔ ہم میدان عرفات میں تھے ۔ حضرت سفیان ثوری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں مجھ کو شک ہوا اس دن جمعہ تھا یا کوئی اور دن ۔ اس حدیث کو لکھنے کے بعد وحید الزماں نے لکھا ہے قیس بن سلمہ کی روایت میں بالیقین مذکور ہےکہ وہ جمعہ کا دن تھا تو اس دن دوہری عید ہوئی ۔ (تیسیر الباری شرح بخاری جلد 6 صفحہ 104 مطبوعہ تاج کمپنی،چشتی)


دوہری سے مراد "یوم عرفہ" اور" یوم جمعہ" ہے یعنی جمعۃ المبارک بھی "عید" کا دن ہے ۔


مشکوۃ صفحہ 121 میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت موجود ہے ۔جس میں آپ نے یہودی کو جواباً ارشاد فرمایا کہ اس دن ہماری دو عیدیں تھیں ۔ مراد "یوم عرفہ" اور" یوم جمعہ" ۔ حضرت عبداللہ کے جواب کا مقصد یہودی کو یہ بات سمجھانا اور باور کروانا تھا کہ تم ایک"عید" کی بات کرتے ہو جب یہ آیت نازل ہوئی ان دن ہماری دو عیدیں تھیں ۔ یعنی یوم عرفہ اور جمعہ ۔


حضرت عبید بن سباق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جمعوں میں ایک جمعہ میں فرمایا : اے مسلمانوں کے گروہ یہ وہ دن ہے جسے اللہ تعالی نے عید بنایا ہے ۔ تو غسل کرو اور جس کے پاس خوشبو ہو تو اسے لگانے میں کوئی نقصان نہیں ۔ مسواک لازم پکڑو ۔ (مشکوۃ صفحہ 123)(سنن ابن ماجہ صفحہ 7)


ہمارے نزدیک تو تمام عیدیں ، عیدِ میلادُ النّبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا صدقہ ہیں ۔ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیدا نہ ہوتے تو نہ عیدُالفطر ہوتی اور نہ عیدُالاضحیٰ ہوتی ۔ یہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت با سعادت کی "عید" کے صدقہ میں ہمیں عطا ہوئيں ۔


معترضین حضرات ’’عید‘‘ کی تعریف سے ہی واقف نہیں اگر کچھ علم پڑھ لیا ہوتا تو ایسی باتیں نہ کرتے ۔ عید کی تعریف اور جشنِ میلاد کو عید کہنے کی وجہ : ابوالقاسم امام راغب اصفہانی علیہ الرحمہ (المتوفی 502ھ) عید کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’عید اسے کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے ، شریعت میں یہ لفظ یوم الفطر اور یوم النحر کےلیے خاص نہیں ہے ۔ عید کا دن خوشی کےلیے مقرر کیا گیا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا ’’عید کے ایام کھانے پینے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ وقت گزارنے کےلیے ہیں‘‘ اس لیے ہر وہ دن جس میں خوشی حاصل ہو ، اس دن کےلیے عید کا لفظ مستعمل ہو گیا ہے جیسا کہ اللہ عزوجل کا حضرت عیسٰی علیہ السلام کی دعا سے متعلق ارشاد ہے کہ ’’ہم پر آسمان سے خوان (کھانا) اتار کہ وہ ہمارے (اگلوں پچھلوں کےلیے) عید ہو‘‘ اور عید انسان کی اس حالت خوشی کو کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے اور ’’العائدۃ‘‘ ہر اس منفعت کو کہتے ہیں جو انسان کو کسی چیز سے حاصل ہو ۔ علامہ راغب اصفہانی علیہ الرحمہ کے مذکورہ بالا کلام سے معلوم ہوا کہ عید ہر اس دن کو کہتے ہیں : جس میں انسان کو کوئی خوشی حاصل ہو ۔ جس میں اللہ عزوجل کی طرف سے کوئی خصوصی رحمت و نعمت عطا ہوئی ہو ۔ جسے کسی خوشی کے موقع سے کوئی خاص مناسبت ہو ۔ الحمدﷲ عزوجل جل علی احسانہ ! بارہ ربیع الاول کے موقع پر یہ تینوں صورتیں ہی جمع ہوتی ہیں ۔ آپ خود ہی فیصلہ کیجیے کہ ایک مسلمان کےلیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ولادت پاک کے دن سے بڑھ کر کیا خوشی ہو سکتی ہے ؟ اس خوشی کے سبب بھی بارہ ربیع الاول کو عید کا دن قرار دیا جاتا ہے ۔


آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جن کے صدقے ہمیں خدا کی پہچان ملی  ، ایمان کی لازوال دولت ملی  ، قرآن جیسا بابرکت تحفہ ملا جن کے صدقے زندگی گزارنے کا ڈھنگ آیا اور جن کی ذات اقدس ہمارے لئے سراپا رحمت ہے ان سے بڑھ کر کون سی رحمت اور کون سی نعمت ہے ؟ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حواری خوان رحمت عطا ہونے والے دن کو عید کہہ سکتے ہیں اور وہ دن ان کے اگلوں پچھلوں کےلیے یوم عید ہوسکتا ہے تو ہم بدرجہ اولیٰ اس بات کے مستحق ہیں کہ امام الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روز ولادت کو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا نام دیں اور عید منائیں ۔


معترضین کہتے ہیں کہ کسی معتبر کتاب میں یومِ میلاد کو عید نہیں لکھا گیا ۔ حوالہ پیشِ خدمت ہے اور اس حوالے کے اعتبار کےلیے صرف اتنا ہی کہوں گا کہ اشرف علی تھانوی دیوبندی نے اور تمام علمائے دیوبند نے اس کتاب کو اپنی تحریروں کی وقعت ظاہر کرنے کےلیے حوالہ دے کر جگہ جگہ اس کا ذکر کیا ہے اور نشرالطیب تو اس کتاب کے حوالوں سے بھری ہوئی ہے اور معترضین کی مزید تسلی کےلیے عرض ہے کہ اس کتاب کے عربی متن کے اردو ترجمہ پر تعریفی تقاریظ علمائے دیوبند نے لکھی ہیں ۔ اس کتاب کا نام مواہب لدنیہ ہے ترجمہ کو سیرۃ محمدیہ بھی کہا جاتا ہے ۔ امام احمد بن محمد بن ابی بکر الخطیب قسطلانی علیہ الرحمہ کی یہ کتاب پانچ سو برس پرانی ہے ۔ اس کی شرح زرقانی آٹھ ضخیم جلدوں میں علامہ ابو عبداللہ امام محمد زرقانی علیہ الرحمہ نے لکھی جو اہل علم میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے ۔ 1338 ہجری میں جن علمائے دیوبند نے اس کتاب پر تعریفی تقاریظ لکھیں ان کے نام بھی ملاحظہ فرمالیں : جناب محمد احمد مہتمم دارالعلوم دیوبند و مفتی عالیہ عدالت ممالک سرکار آصفیہ نظامیہ ۔ جناب محمد حبیب الرحمن مددگار مہتمم دارالعلوم دیوبند ۔ جناب اعزاز علی مدرس ، مدرسہ دیوبند ۔ جناب سراج احمد رشیدی مدرس ، مدرسہ دیوبند ، جناب محمد انور معلم دارالعلوم دیوبند ۔ اس کتاب میں امام قسطلانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : مسلمان ہمیشہ سے میلاد مصطفیٰ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اہتمام کرتے رے ہیں اور صدقہ و خیرات اور خوشی کا اہتمام کرتے آ رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس مرد پر رحم کرے جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے مبارک مہینہ کی راتوں کو عیدین اختیار کیا ہے تاکہ اس کا یہ (عید) اختیار کرنا ان لوگوں پر سخت تر بیماری ہو جن کے دلوں میں سخت مرض ہے اور عاجز کرنے والی لادوا بیماری ۔ (الموہب الدنیہ جلد 1 صفحہ 78 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)(الموہب الدنیہ مترجم اردو جلد 1 صفحہ 92 ، 93 مطبوعہ فریدبکسٹال اردو بازار لاہور) ۔ آپ کے مولد شریف کے سبب ہے ۔ معتبر کتاب سے مطلوبہ لفظ عید ملاحظہ فرما لیا ۔ اگر امام قسطلانی کی تحریر سے اتفاق نہیں تو مذکورہ علمائے دیوبند کو ملامت کیجیے جنہوں نے اس کتاب کو بہترین اور اس کے ترجمہ کو بہت بڑی نیکی لکھا ہے ۔


لغت میں عید ایسی چیز کو کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے ، اور کیونکہ یہ دونوں مذہبی تہوار ہر سال آتے ہیں اس لیے ان کو عید کہتے ہیں ، پھر مجازاً اسے خوشی کے موقع کے لیے بھی استعمال کرنے لگے ۔ آئیے اب یہ دیکھتے ہیں کہ کیا خوشی کے ان دو اَیام کے علاوہ کسی دوسرے دن کو عید کہنا جائز ہے یا نہیں ؟ ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا کہ اے امیرالمومنین آپ رضی اللہ عنہ کی کتاب میں ایک آیت ہے اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نزول کے دن کو ضرور عید مناتے ، فرمایا کون سی آیت ؟ اس نے آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ ۔ (سورہ المائدۃ آیت نمبر 03) ۔ پڑھی آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اس دن کو جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی تھی اور اس کے مقامِ نُزول کو بھی پہچانتا ہوں وہ مقام عرفات کا تھا اور دن جمعہ کا ۔ (صحيح بخاری کتاب الإيمان باب زيادة الإيمان و نقصانه)


آپ رضی اللہ عنہ کی مراد اس سے یہ تھی کہ ہمارے لیے وہ دن عید ہے ۔


سنن ترمذی میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے آپ سے بھی ایک یہودی نے ایسا ہی کہا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں جمعہ و عرفہ ۔ (سنن الترمذی کتاب تفسيرآن باب و من سورة المائدة)


یوں عیدُ الفطر اور عیدُ الاضحی کے علاوہ سال میں 53 عیدیں ہوئیں ، 52 جمعہ اور ایک یوم عرفہ ، تو ان 53 عیدوں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟


جس دن نعمت حاصل ہو اس دن عید منانا انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے ، قرآن حکیم میں ہے : حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اللَّهُمَّ رَبَّنَا أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا ۔

ترجمہ :  اے اللہ اے رب ہمارے ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی ۔ (سورۃ المائدة آیت نمبر 114)


معلوم ہوا کہ نزولِ نعمت کے دن کو عید کہنا اور جشن منانے کی اصل قرآن مجید میں موجود ہے ، اسی قرآنی اُصول کے تحت اللہ کریم کی سب سے بڑی نعمت اور رحمتِ کُل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی دنیا میں تشریف آوری کے دن عید منانا شرعاً جائز و مستحسن ہے ۔ جس روز اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہو اُس دن کو عید بنانا، خوشیاں منانا، عبادتیں کرنا اور شکرِ الٰہی بجالانا صالحین کا طریقہ ہے اور بیشک تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم  کی تشریف آوری یقینا قطعاً حتماً اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے ۔ اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادتِ مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکرِ الٰہی بجالانا اور فرحت و سُرور کا اظہار کرنا مستحسَن و محمود اور اللہ عزوجل کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جب سرکارِ کل عالم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ ارشاد فرمایا یہ کیا ہے ؟ یہودیوں نے عرض کی : یہ اچھا دن ہے ۔ اس روز اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تھی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کا روزہ رکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا تمہاری نسبت میرا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تعلق زیادہ ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ۔ (صحیح بخاری کتاب الصوم باب صیام یوم عاشوراء جلد ۱ صفحہ ۶۵۶ حدیث نمبر ۲۰۰۴)


نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت کا دن امت مسلمہ کےلیے یوم عید ہے ۔ عید کی دو قسمیں ہوتی ہیں ۔ ایک ہے عید شرعی اور عید واجب اور دوسری عید فرحت ، عید مسرت اور عید تشکر ہے ۔ یہ مستحب اور مستحسن ہوتی ہے ۔ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ میلادُالنَّبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے دن کو عید کہنا یا سمجھنا اس لیے درست نہیں کہ اسلام میں عیدیں صرف دو ہیں اور وہ ہے عیدالفطر اور عیدالاضحی ۔ ان دو عیدوں کے ہوتے ہوئے بعض احباب کسی تیسری عید کو عید کہنا بھی جائز نہیں سمجھتے ۔ اس کی وضاحت صحاح ستہ کی کتب احادیث سنن ابی داٶد سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ میں حدیث ہے ۔ 


جمعۃ المبارک یوم عید ہے تو سال میں کتنی عیدیں ہوئیں اور عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلّم سے ہی ضد آخر کیوں ؟


 فضیلتِ جمعۃ المبارک کا سبب یومِ تخلیقِ آدم علیہ السلام ہے ۔ جمعۃ المبارک کے دن کی خاص اَہمیت اور فضیلت کی بناء پر اسے سیّدُالایام کہا گیا ہے ۔ اس دن غسل کرنا ، صاف ستھرے یا نئے کپڑے پہننا ، خوشبو لگانا اور کاروبارِ زندگی چھوڑتے ہوئے مسجد میں اِجتماع عام میں شریک ہونا اُمورِ مسنونہ ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھنے کا بھی حکم دیا ہے ۔


حضرت شداد بن اَوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إن من أفضل أيامکم يوم الجمعة ، فيه خلق آدم ، وفيه قبض ، وفيه النفخة ، وفيه الصعقة ، فأکثروا عليّ من الصلاة فيه ، فإن صلاتکم معروضة علي ۔

ترجمہ : تمہارے دنوں ميں سب سے افضل دن جمعہ کا ہے ، اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی ولادت ہوئی (یعنی اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت ہوئی اور آپ کو لباسِ بشریت سے سرفراز کیا گیا) ، اس روز اُن کی روح قبض کی گئی ، اور اِسی روز صور پھونکا جائے گا ۔ پس اس روز کثرت سے مجھ پر درود شریف بھیجا کرو ، بے شک تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ۔ (سنن ابو داؤد کتاب الصلاة باب تفريع أبواب الجمعة وفضل يوم الجمعة وليلة الجمعة جلد 1 صفحہ 319 ، 320 حدیث نمبر 1047 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)(سنن ابو داؤد ابواب الوتر باب في الاستغفار جلد 2 صفحہ 88 حدیث نمبر 1531،چشتی)(سنن ابن ماجه إقامة الصلاة والسنة فيها باب في فضل الجمعة جلد 2 صفحہ 291 حدیث نمبر 1085 دارالجیل بیروت)


امام اِبن ماجہ 209۔ 273ھ علیہ الرحمہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إن هذا يوم عيد ، جعله اللہ للمسلمين ، فمن جاء إلي الجمعة فليغتسل ، وإن کان طيب فليمس منه، وعليکم بالسواک ۔

ترجمہ : بے شک یہ (جمعة المبارک) عید کا دن ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کےلیے بنایا ہے ۔ پس جو کوئی جمعہ کی نماز کےلیے آئے تو غسل کر کے آئے ، اور اگر ہو سکے تو خوشبو لگا کر آئے ۔ اور تم پر مسواک کرنا لازمی ہے (سنن ابن ماجه کتاب إقامة الصلٰوة باب في الزينة يوم الجمعة جلد 2 صفحہ 303 حدیث نمبر 1098 دارالجیل بیروت)(المعجم الأوسط طبرانی جلد 7 صفحہ 230 حدیث نمبر 7355،چشتی)(الترغيب والترهيب من الحديث الشريف منذری جلد 1 صفحہ 286 حدیث نمبر 1058)


امام احمد بن حنبل 164۔ 241ھ علیہ الرحمہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إن يوم الجمعة يوم عيد، فلا تجعلوا يوم عيدکم يوم صيامکم إلا أن تصوموا قبله أو بعده ۔

ترجمہ : بے شک یومِ جمعہ عید کا دن ہے ، پس تم اپنے عید کے دن کو یومِ صیام (روزوں کا دن) مت بناؤ مگر یہ کہ تم اس سے قبل (جمعرات) یا اس کے بعد (ہفتہ) کے دن کا روزہ رکھو (پھر جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی اجازت ہے ورنہ نہیں) ۔ (أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 303، 532، رقم : 8012، 10903)(ابن خزيمه، الصحيح، 3 : 315، 318، رقم : 2161، 2166،چشتی)(ابن راهويه، المسند، 1 : 451، رقم : 524)(حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 1 : 603، رقم : 1595)


امام اِبن حبان 270۔ 354ھ علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں کہ ابو اوبر بیان کرتے ہیں : کنت قاعدًا عند أبي هريرة إذ جاء ه رجل فقال : إنک نهيت الناس عن صيام يوم الجمعة ؟ قال : ما نهيت الناس أن يصوموا يوم الجمعة، ولکني سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : لاتصوموا يوم الجمعة، فإنه يوم عيد إلا أن تصلوه بأيام ۔

ترجمہ : میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے اُن کے پاس آ کر کہا : آپ نے لوگوں کو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں نے لوگوں کو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے نہیں روکا بلکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : تم جمعہ کے دن روزہ نہ رکھو کیوں کہ یہ عید کا دن ہے، سوائے اس کے کہ تم اس کو اور دنوں کے ساتھ ملا کر (روزہ) رکھو ۔ (ابن حبان، الصحيح، 8 : 375، رقم : 3610)


یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ فضیلتِ جمعۃ المبارک کا سبب کیا ہے اور اسے کس لیے سب دنوں کا سردار اور یومِ عید قرار دیا گیا ؟ اس سوال کا جواب اوپر بیان کی گئی حدیثِ مبارکہ میں موجود ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کی فضیلت کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا : فيه خلق آدم ’’ (یومِ جمعہ) آدم علیہ السلام کے میلاد کا دن ہے (یعنی اس دن آدم علیہ السلام کی خلقت ہوئی اور آپ کو لباسِ بشریت سے سرفراز کیا گیا) ۔ جمعہ کے دن ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی جس کی بناء پر اِسے یوم عید کہا گیا ہے اور اس دن کی تکریم کی جاتی ہے ۔ اگر یومِ جمعۃ المبارک حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے باعث عزت و اِحترام کے ساتھ منائے جانے کا حق دار ہو سکتا ہے تو یومِ میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کی بناء پر عیدُ الاعیاد (تمام عیدوں کی عید) کے طور پر اسلامی کیلنڈر کی زینت کیوں نہیں بن سکتا ۔ اب کوئی کہے کے میلادِ آدم علیہ السلام کی تقریب کا اہتمام اس لیے کیا گیا کہ ان کی تخلیق معروف طریقے سے عمل میں نہیں آئی۔ لیکن اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیوں کہ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق جمعہ کے دن ہوئی۔ لہذا یوم الجمعہ کو یوم العید بنا دیا گیا کہ یہ بنی نوع انسان کے جد اَمجد اور پہلے نبی کا یومِ تخلیق ہے۔ اِسی بناء پر وجہ تخلیقِ کائنات اور تمام انبیاء کے سردار سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یومِ ولادت تمام عیدوں کی عید ہے ۔


جمعۃ المبارک کے سلسلہ میں کیے جانے والے تمام تر اِنتظامات وہ ہیں جو میلاد کے حوالہ سے بھی کیے جاتے ہیں ، مثلاً غسل کرنا ، خوشبو لگانا ، ایک جگہ جمع ہونا ، کاروبار ترک کرنا اور مسجد میں حاضری دینا ۔ ان کے علاوہ بھی بعض امور کا تذکرہ کتب حدیث میں موجود ہے ۔ جمعۃ المبارک کے دن یہ سارا اہتمام درحقیقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر زیادہ سے زیادہ درود و سلام بھیجنے کے حوالہ سے ہے اور اس دن کو کثرتِ درود و سلام کےلیے اس لیے چنا گیا کہ یہ حضرت آدم علیہ السلام کا یومِ میلاد ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادگرامی ہے : فأکثروا عليّ من الصلاة فيه ’’ پس اس روز کثرت سے مجھ پر درود شریف بھیجا کرو ۔ اِس دن عاشقانِ رسول درود شریف کا اِجتماعی ورد کرتے ہیں اور اس دن محفل میلاد اور محفلِ صلوٰۃ و سلام کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے ۔ سو یہ دن جہاں ایک طرف میلادِ سیدنا آدم علیہ السلام کےلیے خاص ہے تو دوسری طرف درود و سلام کے ذکر کی نسبت سے میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے بھی ہے ۔ اس طرح بہ یک وقت یہ دن جدماجد اور فرزند اَمجد دونوں کے لیے اِظہارِ مسرت کا مژدہ بردار بن گیا ہے ۔


حدیث مبارکہ میں یہ بھی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : يا رسول اللہ وَکيف تعرض صلاتنا عليک وقد أرمت ؟ ’’ یا رسول اللہ ! ہمارا درود آپ کے وصال کے بعد کیسے آپ پر پیش کیا جائے گا ؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إن اللہ عزوجل حرّم علي الأرض أن تأکل أجساد الأنبياء ۔ بے شک اللہ عزوجل نے زمین پر حرام قرار دیا ہے کہ وہ انبیاء کرام کے جسموں کو کھائے ۔ (أبو داؤد، السنن، کتاب الصلاة، باب تفريع أبواب الجمعة وفضل يوم الجمعة وليلة الجمعة، 1 : 275، رقم : 1047)(أبو داؤد، السنن، أبواب الوتر، باب في الاستغفار، 2 : 88، رقم : 1531)(ابن ماجه، السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب في فضل الجمعة، 1 : 345، رقم : 1085،چشتی)(نسائي، السنن، کتاب الجمعة، باب إکثار الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يوم الجمعة، 3 : 91، رقم : 1375)(نسائي، السنن الکبري، باب الأمر بإکثار الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يوم الجمعة، 1 : 519، رقم : 1666)(دارمي، السنن، 1 : 445، رقم : 1572)(ابن ابي شيبة، المصنف، 2 : 253، رقم : 8697)(طبراني، المعجم الکبير، 1 : 216، رقم : 589،چشتی)(بيهقي، السنن الکبري، 3 : 248، رقم : 5789)(بيهقي، السنن الصغري، 1 : 372، رقم : 634)(هيثمي، موارد الظمآن إلي زوائد ابن حبان، 1 : 146، رقم : 550)


اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ میں اِس دنیا سے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد بھی اپنے جسم کے ساتھ زندہ رہوں گا ، اور تمہیں چاہیے کہ مجھ پر جمعہ کے دن کثرت کے ساتھ درود و سلام پڑھنا اپنا معمول بنا لو ۔


اب سوال پیدا ہوتا ہے صرف دو عیدیں کہنے کا تصور کہاں گیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنی زبان مبارک سے فرمایا : جمعہ کا دن بھی ہماری عید ہے اس سے معلوم ہوا دو عیدوں کے علاوہ بھی اسلام میں عید کا تصور ہے ۔ وہ دو عیدیں واجب ہیں ۔ وہ عیدیں احکام اور مناسک کی ہیں اور یہ عید تعلق اور محبت کی ہے ۔ یہ فرحت اور مسرت کی عید ہے ۔ اس لیے فقیر نے اس کو عید فرحت ، عید مسرت اور عید تشکر کا نام دیا اور وہ دو عیدیں عید شرعی ہیں اور واجب ہیں ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جمعہ کو ہماری عید کا دن کیوں فرمایا ؟ اس کا جواب بھی حدیث پاک میں ہے ۔ یہ بھی سنن ابی داٶد کی حدیث ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : ان يوم الجمعة من افضل الايام ۔ (صحيح ابن خزيمه جلد 3 صفحہ 115 حديث1728)

ترجمہ : بے شک جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل دن ہے ۔


عرض کیا گیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم یہ سب دنوں سے افضل کیسے ہوگیا ؟ فرمایا : فی خلق آدم ، اس لیے کہ اس دن آدم علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی ۔ آپ کے ماں باپ نہیں تھے ۔ آپ کی پہلی تخلیق عمل میں آئی ۔ (ولادت بمعنیٰ پیدائش) ۔ فرمایا : جمعہ سب دنوں سے افضل اس لیے ہے کہ یہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کا دن ہے ۔ یہ بات حدیث پاک سے طے ہے تو دوستو ! جو دن سیدنا آدم علیہ السلام کی پیدائش کا ہو وہ تو ہو جائے یومِ عید اور افضل الایام اور جو دن ولادتِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ہو اس پر کتنے جمعے قربان ہو جائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پیدائش جمعہ کو عید بنادے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور آدم علیہ السلام کی بھی ایک نسبت اور تعلق ہے وہ یہ ہے : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کیا ہے کہ آدم علیہ السلام جب جنت سے زمین پر اتار دیے گئے تو طویل مدت تک آپ گریہ و بکا میں رہے پھر آپ نے ایک روز اللہ کے حضور دعا کی اور جب توبہ کےلیے ہاتھ اٹھائے تو عرض کیا : اللهم مغفرلی وتقبل توبة بحق محمد نبی آخرالزمان ۔ (المستدرک، علی الصحيحين جلد 2 صفحہ 272 حديث 4228،چشتی)

ترجمہ : اے اللہ مجھے معاف کردے اور میری توبہ قبول کر (حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) جو سب سے آخری نبی تشریف لانے والے ہیں ان کے صدقے اور وسیلے سے معاف کردے ۔


جب آپ نے یہ دعا کی تو اللہ رب العزت نے فرمایا : اے آدم ! توبہ تو قبول کرلوں گا ، معاف بھی کردوں گا مگر یہ بتا تمہیں میرے اس محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خبر کیسے ہوئی ؟ تو آدم علیہ السلام نے عرض کیا باری تعالیٰ ! جب تو نے مجھے پیدا کیا اور جنت میں رکھا تو میں نے اپنا سر اٹھا کر جنت کو دیکھا تو میں نے عرش کے ہر پائے پر اور جنت کے ہر درخت ہر ہر پتے اور محلات پر اور جنت کے ہر دروازے پر یہ لکھا دیکھا تھا ۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ میں اس دن سمجھ گیا تھا یہ کوئی خدا کا بڑا ہی محبوب ہے کہ جنت کے ایک ایک پتے پر جس کا نام ہے اور اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کے ساتھ جوڑ کر لکھ رکھا ہے ۔ سو میں نے اس دن جان لیا تھا اور آج وہ جاننا میرے کام آگیا ۔ اس کا واسطہ دے کر تجھ سے معافی مانگی ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وسیلے سے معافی عطا فرمادی ۔ یہ آدم علیہ السلام کا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے تعلق ہے ایک نسبت ہے اور پھر حضرت حوا علیہا السلام جب پیدا ہوئیں تو اللہ نے چاہا کہ آدم و حوا کے درمیان نسبت زوجیت قائم کر دی جائے ۔ حضرت حوا کو آدم علیہ السلام کی بیوی بنادیا جائے تو فرمایا تمہارا آپس میں نکاح کرتے ہیں ۔ نکاح ہوا تو آدم علیہ السلام نے عرض کیا باری تعالیٰ نکاح کے وقت حوا کو میں مہر کیا ادا کروں ؟ اللہ پاک نے فرمایا : تم دونوں مل کر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر بیس مرتبہ درود پڑھ لو ۔ حضرت آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام نے مل کر بیس مرتبہ درود پڑھا ۔ اس مہر سے عقد اور نکاح ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر درود و سلام کے نتیجے میں اس عقد سے ہم سارے پیدا ہوئے ۔ یہ ساری کائنات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کے مہر کی اولاد ہے ۔ سب نبی ولی سب انسان اولاد ہیں اس نکاح کی جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام سے منعقد ہوا ۔ اگر ہم اولاد ہی درود و سلام والے نکاح کی ہوں تو اس درود و سلام سے دوری ہمیں زیب نہیں دیتی ۔ یہ آدم علیہ السلام کا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے تعلق ہے ۔ سمجھانا مقصود یہ ہے جن کے توسل سے آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہو ۔ ان کی پیدائش کا دن افضل الایام اور یوم العید ہو جائے اور جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت ہو ۔ اس دن کی عظمت اور افضلیت کا عالم کیا ہو گا ۔ اس لیے کل جمعوں اور کل افضل دنوں کی فضیلتیں یومِ میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی فضیلت پر قربان ہو جاتی ہیں ۔ آپ اس میلاد پاک کی خوشیاں منارہے ہیں ۔ اس میلاد کے جشن منارہے ہیں ۔ جمعہ چونکہ پیدائش آدم علیہ السلام کا دن ہے ۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : فاکثروا عليه من الصلوة فی ۔ (القول البديع جلد 1 صفحہ 158، 159،چشتی)

ترجمہ : جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود و سلام پڑھا کرو ۔


پیدائش حضرت آدم علیہ السلام کی ہے اور درود و سلام مجھ پر کثرت سے پڑھا کرو ۔ اس لیے جب مجھ پر کثرت سے درود و سلام پڑھو گے ۔ اس سے میرا سینہ ٹھنڈا ہوگا بلکہ یہ ٹھنڈک آدم علیہ السلام تک جائے گی ۔ جن کا نکاح درود و سلام سے منعقد ہوا ۔ گویا کل نبیوں کے سینے ٹھنڈے ہو جائیں گے ۔ اب جمعہ کی الگ سے کوئی فضیلت نہ تھی ۔ اس کی فضیلت حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کی نسبت سے بنی باقی فضیلتیں اس نسبت سے بعد میں ایڈ ہوئیں ۔ حضرت آدم علیہ السلام کے اس دن کو اللہ پاک جشن منوا رہا ہے ۔ اس دن منبر سجادیے جاتے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا جمعہ کا دن ہو تو نہایا کرو ۔ یہ آدم علیہ السلام کے میلاد کا دن ہے ۔ جس کے پاس خوشبو ہے وہ خوشبو لگایا کرے اور سج دھج کے مسجدوں میں اس طرح آیا کرو ۔ پھر مسجد میں اجتماع ہو، منبر پر کھڑے ہو کر خطبے ہوں ۔ سب کاروبار ، معاش اور روزگار بند کردیے جائیں ساری کائنات میں اللہ رب العزت نے اپنے پیغمبر کی ولادت کا اہتمام کروایا ہے ۔ اس دن کے بارے میں فرمایا کہ اس دن بطور خاص جو مجھ پر درود و سلام پڑھتا ہے ۔ اس کا درود و سلام براہِ راست مجھ تک پہنچتا ہے ۔


یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ پھر درود و سلام پہنچانے کےلیے فرشتہ کیوں مقرر کر رکھا ہے ؟ وہ فرشتہ اس لیے مقرر نہیں کر رکھا کہ حضور تک پہنچتا نہیں ہے اور صرف اسی کے ذریعے پہنچ سکتا ہے نہیں بلکہ پہنچتا تو یہ براہِ راست ہے مگر بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ادب ہے کہ کوئی ادب کے ساتھ پیش کرے ۔ یہ اسی طرح مقرر کر رکھا ہے ۔ جس طرح رب تعالیٰ نے اپنے لیے دو فرشتے مقرر کر رکھے ہیں ۔ جیسے آپ کا ہر عمل اللہ تعالیٰ براہِ راست دیکھتا ہے مگر براہِ راست دیکھنے کے باوجود دو فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو نامہ اعمال اللہ تعالیٰ کو پہنچاتے ہیں اور پیش کرتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بارگاہ جب بڑی ہوتی ہے تو اس کے آداب دربار یہ ہوتے ہیں کہ ہرکارے پیش کرتے ہیں ۔


اسی طرح ساری کائنات کے درود و سلام آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم خود سنتے ہیں ۔ مگر ادبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ہے خدام پیش کریں ۔ اللہ نے جو قانون اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کےلیے بنا رکھا ہے ۔ وہی قانون اپنے لیے بنا رکھا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کو بھی نامہ اعمال فرشتے پیش کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کو پیش کرنے کےلیے دو فرشتے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو پیش کرنے کےلیے ایک ہے ۔ اب کیا کہیں گے اگر وہ دو فرشتوں کے پہنچانے کے باوجود وہ دیکھتا ہے تو اسی طرح ایک کے فرشتے کے پہنچانے کے باوجود مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سنتے ہیں ۔ ان فرشتوں کے مقرر کرنے کا مطلب سننے نہ سننے سے نہیں بلکہ اس کا تعلق آدابِ بارگاہ سے ہے کہ کوئی ادب سے پیش کرے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : وما من احد يسلم علی الا رد الله علی روحي حتی ارد عليه السلام ۔ (سنن ابو داؤد جلد 2 صفحہ 175 حدیث 2041،چشتی)


مشرق سے مغرب تک اس کائنات میں کوئی شخص ایسا نہیں جو مجھ پر سلام پڑھے اور میں اس کا جواب نہ دوں ۔ فرمایا : جو شخص مجھ پر سلام پڑھتا ہے ۔ (الا رد اللہ علی روحی) اللہ نے میری روح مجھ میں واپس لوٹادی ہوئی ہے (حتی ارد علیہ السلام) حتی کہ میں اس کے سلام کا خود جواب دیتا ہوں ۔ حدیث صحیح سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہر ایک کے سلام کا جواب دیتے ہیں ۔ اب کوئی سن لیتے ہیں کوئی نہیں سنتے ہیں ۔


حضرت عبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ میں 17 مرتبہ حاضر ہوئے اور آخری بار جب سلام عرض کرکے پلٹے تو اندر سے آواز آتی تھی خوش روی جامی باز آید خوش رہنا اور اگلی بار پھر آنا ۔ جب سترھویں بار حاضری دی سلام عرض کیا : جواب آیا جامی خوش رہنا حضرت جامی رو پڑے ۔ خدام نے عرض کیا : حضرت رو کیوں رہے ہیں ، کہنے لگے : یہ میری آخری حاضری تھی کیونکہ جب میں نے اگلی بار آنا ہوتا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فرماتے تھے کہ پھر آنا اب صرف خوش رہنا کی دعا کی ہے ۔ پلٹ کے آنا نہیں فرمایا پھر حضرت جامی گئے اور بعد میں وفات پا گئے ۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو آج بھی ہیں اور قیامت تک ہوں گے کہ وہ نماز میں تشہد کے وقت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ میں سلام عرض کرتے اور کہتے ’’السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘ تو اللہ تعالیٰ کی عزت کی قسم ! سلام عرض کر کے اس وقت تک اگلا کلمہ نہیں پڑھتے تھے جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ سے جواب نہیں آتا تھا ۔ یہ تو تعلق کی بات ہے ۔ اگر ہم نہ سن سکیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جواب نہیں دیا ۔


اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انبیاء کرام علیہم السلام کے میلاد کا ذکر کیا ۔ میلاد کہتے ہیں ولادت کو اور جس دن نبی کی ولادت ہوئی وہ یوم میلاد ہے ۔ سورہ مریم کو پڑھیں حضرت یحییٰ علیہ السلام کےلیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَسَلٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوْتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا ۔ (سورہ مريم ، 19: 15)

ترجمہ : اور یحییٰ پر سلام ہو ان کے میلاد کے دن اور ان کی وفات کے دن اور جس دن وہ زندہ اٹھائے جائیں گے ۔


مذکورہ آیت کریمہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے پیغمبر علیہالسلام کی ساری زندگی میں سے تین خاص دنوں کو سلامتی کےلیے چن لیا ۔ کیا ان تین دنوں کے علاوہ اللہ رب العزت اپنے نبی کی زندگی میں سلامتی نہیں بھیجتا ۔ وہ تو ہر روز بھیجتا ہے پھر جب پیغمبر کی زندگی کے ہر دن وہ سلامتی ، رحمت اور اپنی برکت بھیجتا ہے ۔ تو پھر ان تین دنوں کے انتخاب کا کیا مطلب ہوا ۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ رب العزت نے اعلان کر دیا ہے ۔ یوں تو پیغمبر کی زندگی کا ہر دن میری سلامتی کا دن ہے ۔ مگر ان سب دنوں میں خصوصیت کا دن ہے جس دن میرے پیغمبر کا میلاد ہوا ۔


اگر بعض لوگوں کے ذہن میں خیال آئے ۔ ولادت کا دن آپ کیوں مناتے ہیں ؟ کیونکہ Birthday تو انگریزوں نے بنا رکھا ہے ۔ لہٰذا اس کی کوئی اہمیت اسلام میں نہیں ہے ۔ اگر کسی کے ذہن میں نادانی اور کم علمی کے باعث یہ خیال آئے تو اسے دور کرلینا چاہیے کیونکہ پیدائش کے دن کی اہمیت تو اللہ عزوجل نے مقرر کی ہے ۔ جیسے مذکورہ آیت میں فرمایا گیا : سلام علیہ یوم ولد ‘‘ سلام ہوا میرا اس دن جس دن (یحییٰ علیہ السلام) کا میلاد ہوا ۔


پھر کوئی یہ کہے کہ چلو میلاد تو ثابت ہوا پھر آپ وفات کا دن بھی مناتے ہو ؟ اس کا بھی جواب یہ ہے کہ ہم کیا کریں اللہ تعالیٰ نے اس کی اہمیت بھی قرآن میں مقرر کردی ہے ۔ جیسے فرمایا : ’’یوم یموت‘‘ (اور اس دن بھی سلام ہو جس دن ان کی وفات ہوئی) ۔ گویا اللہ والوں کےلیے دو دن خاص ہو گئے ۔ ایک میلاد کا دن ایک وفات کا دن ۔ اب اسی سورہ مریم میں آگے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے کلام ہیں ۔ آپ خود باری تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں : وَالسَّلٰمُ عَلَيَ يَوْمَ وُلِدْتُّ وَيَوْمَ اَمُوْتُ وَيَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا ۔ (سورہ مريم ، 19: 33)

ترجمہ : اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن ، اور میری وفات کے دن، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا ۔


فرمایا : سلام ہو مجھ پر جس دن میرا میلاد ہوا ۔ اللہ نے فرمایا سلام ہو یحییٰ پر جس دن اس کا میلاد ہوا ۔ گویا پیغمبر کے میلاد کے دن سلام پڑھنا ، اللہ عزوجل کی سنت ہو گئی کیونکہ اللہ تعالیٰ خود سلام بھیج رہا ہے ۔ (سلام علیہ یوم ولد) اور پھر اگلی آیت میں پیغمبر کے یوم میلاد پر سلام پڑھنا پیغمبر کی اپنی سنت بھی ہوئی کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بارے میں فرمایا : السلام علی یوم ولدت سلام ہو مجھ پر جس دن میرا میلاد ہوا ۔ گویا میلاد کے دن نبیوں پر سلام پڑھنا خدا کی بھی سنت ہے ۔ انبیاء کی بھی سنت ہے ۔ جب دوسرے نبیوں کی بات تھی تو ان کے میلاد اور ولادت کا ذکر اللہ رب العزت نے صرف سلام سے کیا اور جب میلاد کے دن کی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بات آئی تو فرمایا : ان کی ولادت کے دن الصلوۃ والسلام پڑھتا ہوں۔ اپنے محبوب کی زندگی کا ہر دن یوم ولادت بنادیا ۔ یہ فرما کر کہ : اِنَّ ﷲَ وَمَلٰٓئِکَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ۔ (سورہ الاحزاب ، 33: 56)

ترجمہ : بے شک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں ۔


کیونکہ محبوب کا ہر دن یومِ میلاد ہے ۔ باری تعالیٰ نے دیگر انبیاء پر ان کی ولادت کے دن سلام پڑھا تھا جبکہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ولادت کے دن کی قسم اٹھاتا ہے ۔ فرمایا : لَآ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ ۔ وَ اَنْتَ حِلٌّم بِهٰذَا الْبَلَدِ ۔ وَوَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ ۔ (سورہ البلد ، 90: 1-3)

ترجمہ : میں اس شہر (مکہ) کی قَسم اٹھاتا ہوں ۔ اس لیے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیں ۔ (اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ کے) والد (آدم یا ابراہیم) کی قَسم اور (ان کی) قَسم جن کی ولادت ہوئی ۔


میلاد کے سلسلے میں یہ تیسری آیت جس میں فرمایا : میں اس شہر مکہ کی قسم کھاتا ہوں ۔ باری تعالیٰ کیوں ؟ اس لیے کہ وَ اَنْتَ حِلٌّم بِہٰذَا الْبَلَدِ ۔ اے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اس شہر مکہ کی قسم اس لیے اٹھاتا ہوں کہ آپ کی جائے سکونت ہے ۔ اس لیے تو قسم اٹھاتا ہوں ۔ دوسرا فرمایا : ما ولد ، کہ تیرا شہر سکونت ہی نہیں یہ تیرا شہر ولادت بھی ہے ۔ لہٰذا اس مکہ شہر کی قسم اٹھاتا ہوں ۔ دو نسبتوں سے تیرا شہر سکونت ہے اور تیرا شہر ولادت ہے ۔ شہر سکونت کی قسم اٹھا کر اگلی آیت میں اپنے حبیب کے نسب کی بھی قسم اٹھائی گئی اور فرمایا کہ دیگر انبیاء کی قسم اٹھائی جو اپنی کی ذات تک محدود تھی مگر اے حبیب قسم ہے ہر اس ولد کی جو آدم علیہ السلام سے اسماعیل تک تیرے آباٶ اجداد کی نسل میں آیا ۔ جس جس کی پشت میں تیرا نور منتقل ہوتا چلا گیا اور تیرے آباٶ اجداد میں جس جس کو بھی تیرے ساتھ نسبت اور ولدیت عطا ہوئی ۔ محبوب تیرے ساتھ اس نسبت رکھنے پر تیرے ہر والد کی قسم ۔ کسی نے کہا ولد سے مراد حضرت ابراہیم ہیں ۔ فقیر نے کہا کوئی اعتراض نہیں کسی نے کہا اس سے مراد حضرت آدم ہیں فقیر نے کہا اس میں کوئی اعتراض نہیں ۔ کوئی کہتا ہے اس سے مراد حضرت اسماعیل ہیں ۔ فقیر چشتی کہتا ہے اس میں بھی کوئی اعتراض نہیں ۔ کوئی کہتا ہے حضرت عبداللہ ہیں فقیر کہتا ہے اس میں بھی کوئی اعتراض نہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو تنوین کے ساتھ فرمایا وولد یہ تنوین دو فائدے دے رہی ہے ۔ تکریم کا بھی اور عموم بھی کہ محبوب تیرے آباٶ اجداد کا ہر فرد لائق تعظیم ہے ۔ یہ تنوین دوسرا فائدہ عموم کا دے رہی ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حضرت آدم علیہ السلام تک سب کی قسم ! یعنی میرے محبوب کے والد کی قسم ۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ وہ والد کسی اور کا نہیں وہ والد تو میرے محبوب کا ہی ہے ۔ خواہ حقیقی والد کرلیں خواہ دادا کرلیں خواہ پردادا کرلیں خواہ شکر دادا کرلیں 40 پشت اوپر کرلیں یا 70 پشت اوپر کرلیں پھر بھی کسی اور کے والد کی قسم نہیں ، قسم ہے تو والدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے ۔ کوئی اگر یہ کہے کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد کا کہاں ذکر ہے ؟ تو فقیر کہتا ہے کہ اچھا چلو آپ بتادیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد کی نہیں تو کس کے والد کی قسم اٹھائی جارہی ہے ۔ کیا اللہ تعالیٰ عام لوگوں کے والدوں کی قسم اٹھاتا پھرتا ہے ۔ وہ تو اپنے مکہ شہر کی بھی اپنے کعبہ کی وجہ سے قسم نہیں اٹھاتا ۔ اس نے کہا کہ میں شہر مکہ کی قسم اس لیے نہیں اٹھائی کہ میرا گھر ہے بلکہ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کی وجہ سے اٹھائی ہے ۔ فرمایا : حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مکہ شہر میں دو گھر ہیں ۔ حرم آٶ تو میرا گھر ہے اور سارا جہاں میرے گھر کے طواف کےلیے آتا ہے ۔ جبکہ صحنِ کعبہ سے نکل کر سوقُ الیل میں آمنہ رضی اللہ عنہا کی گلی میں چلے جاٶ وہاں تیرا گھر ہے ۔ میرے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں نے مکہ کی قسم اٹھائی ہے ۔ گھر میرا بھی یہیں تھا مگر اپنے گھر کی وجہ سے نہیں بلکہ ’’وانت حل بھذا البلد‘‘ بلکہ اس لیے کہ تیرا گھر اس شہر میں ہے ۔ اب وہ شہر کی قسم تو اٹھا رہا ہے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کی وجہ سے تو یہاں کس کے والد کی قسم اٹھا رہا ہے ۔ اب (نعوذ باللہ) اللہ کا اپنا والد تو ہے نہیں کیونکہ لم یلد ولم یولد ۔ (الاخلاص، 112: 3) ’’نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ پیدا کیا گیا ہے‘‘۔ نہ اس کا والد ہے نہ اس کی اولاد ہے ۔ نہ باپ نہ بیٹا لہٰذا اگر کوئی انکار کرے کہ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مراد نہیں ہیں تو پھر اس سے پوچھ لو کہ کس کے والد کی قسم ہے کیونکہ اگر قسم ہوتی سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی تو سیدھا نام لے لیا جاتا کہ قسم ہے اسماعیل کی یا قسم ہے ابراہیم کی یا قسم ہے موسیٰ کی یا قسم ہے آدم کی ۔ اگر ان کی قسم ان کی وجہ سے ہوتی تو ان کا نام لیتے ان کا والد کیوں کہا جاتا اور والد کوئی ہوتا کیونکر ہے جس کا کوئی بیٹا ہی نہ ہو ۔ کوئی اس کو والد کہتا ہے ؟ والد کون بناتا ہے ۔ جیسے ماں باپ کی طرف سے بیٹا بنا۔ بیوی کی نسبت سے شوہر بنا ۔ بہنوں کی نسبت سے بھائی بنا ۔ پھوپھی کی وجہ سے بھتیجا کہلایا ۔ خالہ کی نسبت سے بھانجا کہلایا۔ اسی طرح باپ بیٹے کی وجہ سے کہلایا ۔ بیٹا ہوا تو والد ہوا ۔ ولد ہو تو والد ہوتا ہے لہذا کسی نبی کا نام لے کر نہیں فرمایا بلکہ فرمایا : ’’ووالد‘‘ اور قسم ہے کسی والد کی ۔


اب ہمیں تو عمر بھر والدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کوئی اور نظر نہ آیا خواہ اس سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ وہ والد تو مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہیں اور اس میں ایک اشارہ بھی ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ تعمیر کر لیا ۔ جوں جوں دیواریں اونچی ہونے لگیں تو ایک پتھر اٹھا کر لے آئے اور اس پتھر پر کھڑے ہو گئے تو ساتھ ساتھ پتھر بھی اونچا ہوتا چلا گیا ۔ سیدنا اسماعیل علیہ السلام ساتھ ساتھ تعمیر کا سامان مہیا کرتے رہے جب کعبہ تعمیر ہو گیا تو جس پتھر پر کھڑے تھے وہاں آپ کے دونوں قدم اس کے سینے پر ثبت ہوگئے اور نقش ہو گئے ۔ اب اسی پتھر پر کھڑے تھے کعبہ کی تعمیر مکمل کرلی تھی تو بارگاہ الہٰی سے عرض کیا : رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ط اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ۔ (سورہ البقرة، 2: 127)

ترجمہ : کہ اے ہمارے رب ! تو ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے، بے شک تو خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے ۔


وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰهيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ ۔ (سورہ البقرة، 2: 127)

ترجمہ : اور (یاد کرو) جب ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (تو دونوں دعا کر رہے تھے) ۔


ہم نے دیواریں کھڑی کرلی ہیں لہٰذا ہماری محنت اور مزدوری قبول فرما ۔ اور تجھ سے اور کچھ نہیں مانگتے بس ایک ہی اجرت مانگتے ہیں اور اس مزدوری میں وہ عطا کر دے ۔ پتھر پر کھڑے دعا کر رہے ہیں ۔ فرمایا : ابراہیم کیا مانگتے ہو ۔ عرض کی : رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّيَتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَکَ ۔ (البقرة، 2: 128)

ترجمہ : اے ہمارے رب ! ہم دونوں کو اپنے حکم کے سامنے جھکنے والا بنا اور ہماری اولاد سے بھی ایک امت کو خاص اپنا تابع فرمان بنا ۔


باری تعالیٰ جو امت مسلمہ آنی ہے وہ ہماری نسل سے پیدا کر ۔ باری تعالیٰ نے فرمایا ٹھیک ہے ۔ اصل چاہتے کیا ہو ؟ پھر عرض کی : رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِکَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَيُزَکِّيْهِمْ ط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُ ۔ (البقرة، 2: 129)

ترجمہ : اے ہمارے رب ! ان میں انہی میں سے (وہ آخری اور برگزیدہ) رسول (صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم) مبعوث فرما جو ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے (کر دانائے راز بنا دے) اور ان (کے نفوس و قلوب) کو خوب پاک صاف کر دے، بے شک تو ہی غالب حکمت والا ہے ۔


حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کی باری تعالیٰ تو اس کعبہ کی تعمیر پر کوئی اجرت یا مزدوری اگر دینا چاہتا ہے تو یہ مزدوری دے دے کہ مجھے اس محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا باپ بنادے اور میری نسل اور ذریت سے اس نبی آخرالزماں کو پیدا کر دے ۔ لہٰذا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا والد ہونا اجرت میں مانگا کہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا والد کر دے ۔ (فقیر کو تو یہ لگتا ہے اور یہ بات کسی کی سمجھ میں آئی ہو یا نہ آئی ہو ۔ کسی نے ان دو نکتوں کو جوڑ کر لکھا ہو یا نہ لکھا ہو ۔ مگر فقیر چشتی کے فہم و ادراک اور معرفت میں یہی نقش ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ باری تعالیٰ تیرے کعبے کی مزدوری کی اگر کوئی اجرت بنتی ہے تو یہ دے دے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا والد کر دے اور میری نسل میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدا کر دے ۔ اللہ تعالیٰ نے قبول کر لیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگئے ۔ جب پیدا ہو گئے تو یہ اس دعا کا جواب ہے کہ ’’ووالد و ما ولد‘‘ قسم ہے اس والد کی جو دعا مانگ کر مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا والد بنا جو میرا کعبہ تعمیر کرکے اس تعمیر کعبہ پر اجرت مانگ کر مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا والد بنا تھا ۔ لہذا والد کی قسم ولد کی وجہ سے ہی ہے ولد کہتے ہیں جس کا میلاد ہوا ۔ فرمایا اس والد کی قسم جس نے مزدوری میں والد ہونا مانگا اور اس محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قسم جس کا میلاد ہوا اور اس نے ابراہیم علیہ السلام کو والد بنا دیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے والد کی قسم اٹھائی گئی ۔ آپ نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلادِ پاک کا تذکرہ اللہ رب العزت نے کتنے حُسِین پیرائے میں کیا ۔


خالصتاً دینی چیز ہے ۔ یہ کیا ڈھکوسلا ہے ؟ دینی اور غیر دینی ؟ جب قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنی ہوتی ہیں تو پمفلٹ پر لکھتے ہو ۔ میرا سب کچھ اللہ کےلیے ہے ۔ میرا جینا ، میرا مرنا ، سونا جاگنا سب کچھ اللہ کےلیے ہے ۔ اور جب مسلمانوں کو دھوکہ دینا ہوتا ہے تو دینی اور غیر دینی الگ الگ کر دیتے ہو ۔قُلْ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُکِیۡ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ۔

ترجمہ : تم فرماؤ بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللّٰہ کےلیے ہے جو رب سارے جہان کا ۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوۡا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِؕ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ۔

ترجمہ : اے ایمان والو اسلام میں پورے داخل ہو ۔ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو  بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔


مسلمان کا ہر عمل دین میں داخل ہے  : ⏬


غالباً حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ آپ نے کسی کافر کو فرمایا کہ مسلمان کو اس کے ہر عمل پر ثواب ملتا ہے ۔ چاہے استنجاء کرے ، چاہے بیوی سے صحبت کرے ۔ اچھی نیت کے ساتھ اور سنّت پر عمل کرنے کےلیے کرے گا تو اس پر ثواب دیا جائے گا ۔ اور بروز قیامت مسلمان اپنے ہر عمل کا جواب دہ ہے ۔ پاکستان کاجشن آزادی منانا کیا کوئی عمل نہيں ؟ اگر کوئی عمل نہیں تو لہوولعب میں شمار ہوگا ۔ اگر عمل ہے پھر یا اچھا ہوگا یا برا ۔اگر برا ہے تو سزا دیا جائے گا اور اگر اچھا ہے تو جزا دیا جائے گا ۔ یہ اچھا عمل دین میں داخل نہیں ؟ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے کا عمل دین میں داخل نہیں ؟ تو اگر کوئی فوجی ملک پاکستان کےلیے سرحد پر اپنی جان قربان کرتا ہے تو اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا ؟ تمہارے نزدیک ثواب اسی خود کُش بمبار کو ملے گا جو جشنِ میلاد کے جلوس میں بمب باندھ کر خود کو اڑا لے ؟ اور پچاس ساٹھ مسلمانوں کو شہید کر دے ۔ اور اسے ملے گا جو محرم کے جلوس میں بمب باندھ کر اپنے آپ کو اڑا لیتا ہے ؟ اور وہ تمہارے عقیدے کا ہے اس لیے اس کےلیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔ حوریں خدمت کےلیے آجاتی ہیں ۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کےلیے ہر وہ کام سر انجام دینا شرعی طور پر جائز ہے جو خوشی ومسرت کے اظہار کےلیے درست اور رائج الوقت ہو ۔ میلاد کی روح پرور تقریبات کے سلسلے میں انتظام و انصرام کرنا ، درود وسلام سے مہکی فضاؤں میں جلوس نکالنا ، محافلِ میلاد کا انعقاد کرنا ، نعت یا خطاب و بیان کی صورت میں آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اقدس بیان کرنا اور عظمت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چرچے کرنا سب قابل تحسین ، قابل قبول اور پسندیدہ اعمال ہیں ۔ ایسی مستحسن اور مبارک محافل کو حرام قرار دینا حقائق سے لاعلمی ، ضد اور ہٹ دھرمی کے سواء کچھ نہیں ہے ۔


دیوبندیوں کے وکیل اعظم مولوی امین صفدر اوکاڑوی لکھتے ہیں : مدعی سے خاص دلیل کا مطالبہ کرنا کہ یہ خاص قرآن سے دکھاؤ یا خاص ابو بکر ، عمر فاروق کی حدیث دکھاو یا خاص فلاں فلاں کتاب سے دکھاؤ یہ محض دھوکا اور فریب ہے کتاب وسنت نے دلیل خاص کی ہرگز پابندی عائد نہیں کی ۔ ان پڑھ لوگوں سے اس قسم کی شرائط پر دستخط لیے جاتے ہیں جو شرعاً باطل ہوتی ہیں یہ خالص مرزا قادیانی کی سنت ہے ۔ (مجموعہ رسائل صفحہ 165 مطبوعہ ادارہ خدام احناف لاہور) 


مذکورہ دیوبندی اصول سے واضح ہو گیا کہ دیوبندیوں کا اہلسنت و جماعت سے جلوس و محفلِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، جھنڈے لگانے ، لائٹنگ کرنے ، صدقہ و خیرات کرنے وغیرہم کا ثبوت خاص قرآن و سنت اور قرونِ اولی سے طلب کرنا ان کا دھوکہ و فریب ہے ، یہ شرائط شرعاً باطل  اور یہ طرز مرزا قادیانی کی سنت ہے ۔ لو جو دیوبندیو تمہیں مرزا قادیانی کی سنت ادا کرنا تمہارے ہی گھر سے مبارک ہو ۔


میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنے جلسوں کو دین و دنیا میں تقسیم کرنے والے دیوبندیوں کے امام اہلسنت سرفراز گکھڑوی لکھتے ہیں : غرضیکہ دین و دنیا مذہب و سیاست میں فرق نکالنا یہ اہل یورپ کی پیداوار ہے شریعت محمدیہ علی صاحبا الف الف تحیۃ و سلام کا دامن اس تفریق سے بالکل پاک و منزہ ہے ۔ مسلمان کی دنیا بھی دنیا دین ہے ۔ بلکہ مسلمان کا سونا جاگنا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا وغیرہ بلکہ زندگی کا ہر شعبہ اور ہر پہلو دین ہے ۔ (الکلام المفید فی اثبات التقلید صفحہ 83 مطبوعہ مکتبہ صفدریہ،چشتی)


یہی سرفراز گکھڑوی مزید لکھتے ہیں : حضرات مسلمانوں کا دین اور دنیا ۔ مذہب اور سیاست دو الگ الگ راستے نہیں ۔ بلکہ مسلمان کی سیاست اور دنیا بھی دین ہی ہے ۔ یہاں دین اور دنیا کا مذہب و سیاست کا فرق نکالنا زندقہ اور الحاد ہے ۔ (الکلام المفید فی اثبات التقلید صفحہ 58 مطبوعہ مکتبہ صفدریہ،چشتی)


سوشل میڈیا کے ڈیجیٹل دیوبندی مختیان دین اور دنیا کی تقسیم الگ الگ کرکے اپنے ہی نام نہاد امام اہلسنت کے فتوے سے ملحد زندیق اور اہل یورپ کی پیداوار ٹھہرے ۔ لہٰذا اہلسنت و جماعت پر دانت نہ پیسیں اور نہ اہلسنت و جماعت پر غصہ نکالیں یہ سب کچھ  بقول ابو ایوب جعلی قادری و ساجد خان جعلی نقشبندی کے یہ آپ کے گھر کا گند ہے پہلے اسے صاف کریں بعد یہاں بات کریں ۔


دیابنہ اور وہابیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کے منکر ہیں اور دیوبندیوں کی اکثریت میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بدعت کہتی ہے اور ہم سنی مسلمانوں پر طرح طرح کے الزامات بھی عائد کرتے ہیں لیکن ان کو یہ پتہ نہیں کہ حق کو چھپایا نہیں جا سکتا ، سچائی کتابوں میں محفوظ ہے ۔ دیوبندی اکابرین کے ممدوح عالم علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : حرمین شریفین اور اکثر بلاد اسلام میں یہ عادت ہے کہ ماہ ربیع الاول میں محفل میلاد شریف کرتے ہیں اور مسلمانوں کو جمع کر کے ذکر مولود شریف کرتے ہیں اور کثرت درود کی کرتے ہیں اور بطور دعوت کے کھانا یا شیرینی تقسیم کرتے ہیں سو یہ امر موجب برکات عظیمہ ہے اور سبب ہے ازدیاد محبت کا ساتھ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ۔ بارھویں ربیع الاول کو مدینہ منورہ میں یہ محفل متبرک مسجد شریف میں ہوتی ہے ۔ (تواریخ حبیب الہ صفحہ 12 مطبوعہ مکتبہ تھانوی دیوبند،چشتی)


دیوبندی اکابرین کے ممدوح عالم تو میلاد کو جائز کہتے ہےیں ، میلاد منانے کا بھی فرما رہے ہیں اور برکات عظیمہ کی نوید بھی سنا رہے ہیں ۔ اب ان دیوبندی حضرات سے کہتا ہوں جو میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بدعت ، حرام اور ناجائز کہتے ہیں چلو ہماری نہ مانو لیکن دیوبندی اکابرین کے ممدوح عالم کی بات کو تو تسلیم کرو ۔ اللہ عزوجل تمہیں ھدایت اور عقلِ سلیم عطاء فرماۓ آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
























مروجہ قوالی مع مزامیر ، طبلے باجے گانے بجانے والے آلات کا شرعی حکم

مروجہ قوالی مع مزامیر ، طبلے باجے گانے بجانے والے آلات کا شرعی حکم محترم قارئینِ کرام : الحمد للہ فقیر چشتی ہے اور محفلِ سماع جو شرعی حدود ک...