امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور اصلاح مساجد
محترم قارئینِ کرام : امام عشق و محبت مجدد دین و ملت ، اعلیٰ حضرت الحاج الشاہ امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی آج دنیائے اسلام کےلیے محتاج تعارف نہیں ۔ آپ ایسے عالم ربانی تھے جو بہ یک وقت محدث و مفسر ، فقیہ اور محتاط عالم ہونے کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کے عظیم مصلح اور داعی بھی تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کی پوری زندگی سنت و شریعت کی آئینہ دار اور عشق رسول کی جیتی جاگتی تصویر تھی ۔ آپ نے خلق خدا کی رشد و ہدایت کےلیے سو سے زائد علوم و فنون پر گیارہ سو سے زائد کتابیں تحریر فرمائیں اور دو سو سے زائد کتابوں کے شروح و حواشی تحریر کیے ۔ جن سے آج ایک جہاں فیض یاب ہورہا ہے ۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء بہ ایں وجہ اکابر و معاصرین نے آپ کی خدمات جلیلیہ کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ آیۃ من آیات اللہ اور چودھویں صدی ہجری کا مجدد تسلیم کیا ۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
آپ نے جہاں اپنے زمانے میں پنپنے والی تمام عملی و نظریاتی خرابیوں کے سدباب کی کوشش فرمائی وہیں مساجد کی اصلاح پر بھی خاصا زور دیا جس پر آپ کی تحریریں اور فتاویٰ شاہد عدل ہیں ۔ مگر افسوس آج مسلمان ان سے یکسر غافل ہیں ۔ اس لیے ذیل میں ہم مختلف عنوانات کے تحت اصلاح مساجد کے تعلق سے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریریں درج کر رہے ہیں تاکہ منتظمین ، ائمہ نیز دیگر وابستگان مساجد اکتساب فیض کے ساتھ ساتھ اپنے احوال کی اصلاح کر سکیں ۔
مسجد بہ ہر صورت بانی کے نام رہے گی : ⏬
ہمارے علم میں شہر کلکتہ میں بہت سی ایسی مسجدیں ہیں جن کے نام تعمیر جدید کے بعد لوگوں نے بانیان مساجد کا نام بدل کر دوسرا کردیا ہے۔ حالانکہ یہ جائز نہیں ۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مسجد قیامت تک اصل بانی کے نام سے رہے گی اگرچہ اس کی شکست و ریخت یا شہید ہوجانے کے بعد دوبارہ تعمیر اور لوگ کریں ثواب ان کے لئے بھی ہے مگر بنا بانی وقف کے واسطے خاص ہے ۔ فان اصل المسجد الارض والعمارۃ وصف ولایکون من اعاد الوصف کمن احدث الاصل ، کیونکہ اصل مسجد تو زمین ہے اور عمارت وصف ہے ۔ چنانچہ جس نے وصف کا اعادہ کیا وہ موجد اصل کی مانند نہیں ہوسکتا ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 257،چشتی)
مسجد میں کارخیر کیلئے چندہ کرنا اور عالم کا وعظ کہنا جائز ہے : ⏬
کچھ لوگوں کے ذہن میں یہ غلط نظریہ راسخ ہوچکا ہے کہ چونکہ مسجد میں کسی غریب کا سوال کرنا جائز نہیں ، اس لیے مدرسہ کےلیے چندہ کرنا یا اس کےلیے اعلان کرنا بھی درست نہیں ۔ اسی طرح امام کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے عالم کا وعظ کہنا درست نہیں ۔ اگرچہ امام تقریر کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو ۔ جبکہ یہ صحیح نہیں ہے ۔ دیکھیے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کیا فرماتے ہیں : مسجد میں کارخیر کےلیے چندہ کرنا جائز ہے جبکہ شور و چپقلش نہ ہو خود احادیثِ صحیحہ سے اس کا جواز ثابت ہے ۔ مسجد میں وعظ کی بھی اجازت ہے جبکہ واعظ عالم دین سنی صحیح العقیدہ ہو اور نماز کا وقت نہ ہو ، اور ان دونوں باتوں کو کہ منکرات سے خالی ہوں متولی یا کوئی منع نہیں کرسکتا ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 361،چشتی)
متولی مسجد کا دیانت دار ہونا ضروری ہے : ⏬
قرآن پاک ہمیں یہ نظریہ دیتا ہے کہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں مکرم و افضل وہ ہے جو متقی و پرہیز گار ہو لیکن ہم مسلمانوں کی حرماں نصیبی کہیے کہ ہم نے تقویٰ و پرہیزگاری کو چھوڑ کر محض مال و دولت کو وجہ شرف سمجھ لیا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیاوی معاملات کی طرح فی زمانہ مساجد و مدارس میں بھی ایسے ہی لوگ متولی و منتظم مقرر کیے جاتے ہیں جو خوب مال دار و دولت مند ہوں ۔ اگرچہ نماز نہ پڑھتے ہوں اور نجی معاملات میں دغا و دھوکہ کے مرتکب ہوں ۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں : اس (متولی) کےلیے دیانت دار کار گزار ہونا شرط ہے ۔ مال دار ہونا ضروری نہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 258)
خائن کا متولی ہونا درست نہیں : ⏬
خائن جس کی خیانت ظاہر ہو، اسے متولی و منتظم بنے رہنے کا کوئی حق نہیں ۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : درمختار میں ہے ۔ وینزع وجوبا ولو الواقف فغیرہ اولیٰ لو غیر مامومن ، خائن متولی کو ولایت وقف سے وجوباً نکال دیا جائے گا (بزازیہ) اگرچہ وہ خود وقف کرنے والا ہو، تو غیر واقف کو بہ صورت خیانت بدرجہ اولیٰ نکال دینا واجب ہوگا ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 598)
بلا ضرورت مسجد کی نئی تعمیر جائز نہیں : ⏬
شہروں میں بڑی تیزی کے ساتھ لوگوں کا یہ مزاج بن رہا ہے کہ پڑوسی محلے کی مسجد نئی بن رہی ہے تو ہماری مسجد بھی نئی بننی چاہیے ۔ اگر وہ تین منزلہ ہے تو ہماری چار منزلہ ہونی چاہیے ۔ اگرچہ پرانی عمارت مضبوط و مستحکم ہی کیوں نہ ہو اور نمازیوں کےلیے کافی کچھ اس میں گنجائش ہی کیوں نہ ہو ۔ جبکہ یہ سراسر غلط اور ناجائز ہے ۔ دیکھیے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کیا فرماتے ہیں : اور اگر (مسجد) اس لیے شہید کی یہیں از سرِ نو اس کی تعمیر کرائے تو اگر یہ امر بے ۔ حاجت و بِلا وجہ صحیح شرعی ہے تو لغو عبث و بے حرمتی مسجد و تضیع مال ہے اور یہ سب ناجائز ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 354،چشتی)
مسجد میں معتکف کے علاوہ کسی کا سونا جائز نہیں : ⏬
روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ بہت سے لوگ روزانہ دوپہر کے وقت یا ویسے ہی مسجد میں سو جایا کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے تعلق سے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : صحیح راجح یہ ہے کہ معتکف کے سوا کسی کو مسجد میں سونے کی اجازت نہیں ۔ در مختار وغیرہ میں ہے : کرہ النوم فیہ الاالمعتکف ۔ مسجد میں غیر معتکف کے لئے سونا جائز نہیں (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 434)
مسجد میں ناسمجھ بچوں کا جانا اور معلم کا اجرت لے کر پڑھانا جائز نہیں : ⏬
کسی نے سوال کیا ناسمجھ بچوں کا مسجد میں جانا اور اجرت لے کر معلم کا انہیں پڑھانا جائز ہے یا نہیں ؟ اس مسئلہ کا جواب آپ رحمۃ اللہ علیہ یوں دیتے ہیں : مسجد میں نا سمجھ بچوں کےلیے جانے کی ممانعت ہے ۔ حدیث میں ہے۔جنبوا مساجد کم صبیانکم و مجانیئکم ۔ (سنن ابن ماجہ) ، اپنی مساجد کو ناسمجھ بچوں اور پاگلوں سے محفوظ رکھو ۔ خصوصاً اگر پڑھانے والا اجرت لے کر پڑھاتا ہو تو اور بھی زیادہ ناجائز ہے کہ اب کار دنیا ہوگیا اور دنیا کی بات کےلیے مسجد میں جانا حرام ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 434چشتی)
مسجد میں سوال کرنا جائز نہیں : ⏬
عموماً غربا و مساکین فرض نمازوں کے بعد اپنی بے بسی و بے چارگی کا ذکر کرکے لوگوں سے امداد طلب کرتے ہیں جبکہ مسجد کے اندر کسی سے سوال کرنا جائز نہیں ہے ۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مسجد میں اپنے لیے مانگنا جائز نہیں اور اسے دینے سے بھی علماء نے منع فرمایا ہے ۔ یہاں تک کہ امام اسمٰعیل زاہد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : جو مسجد کے سائل کو ایک پیسہ دے اسے چاہئے کہ ستر پیسے اللہ تعالیٰ کے نام پر اور دے کہ اس پیسہ کا کفارہ ہوں اور کسی دوسرے کےلیے مانگا یا مسجد خواہ کسی اور ضرورت دینی کےلیے چندہ کرنا جائز اور سنت سے ثابت ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 418)
امام مسجد کے ضروری اوصاف : ⏬
امام صرف پنج گانہ نمازوں کا امین ہی نہیں بلکہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں قوم کا ترجمان ہوتا ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ عالم ، فاضل ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے عادات و خصائل کا پیکر ہو ۔ اس مسئلہ میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : امام مسجد صحیح العقیدہ صحیح الطہارۃ ، صحیح القرأت ، غیر فاسق معلن ، عالم احکام نماز و طہارت ہونا چاہیے جس میں ایسی کوئی بات نہ ہو جس سے جماعت کی قلت و نفرت پیدا ہو ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 418)
فاسق کی امامت درست نہیں : ⏬
فی زمانہ بہت سے ایسے لوگ امامت سے وابستہ ہیں جن کی داڑھی ایک مشت سے کم یا وہ کسی ایسے کام کے مرتکب ہیں جن کو شریعت نے فسق قرار دیا ہے لہٰذا وہ ضرور فاسق ہیں اور ان کی امامت کسی طرح درست نہیں ۔ مگر وہ جوڑ توڑ کے ذریعہ زبردستی منصب امامت سے جڑے رہنا چاہتے ہیں ۔ ایسوں کے تعلق سے اعلیٰ حضرت کا نظریہ ملاحظہ فرمائیں ۔ فرماتے ہیںِ : فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنا منع اور پڑھ لی تو پھیرنا واجب ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 431،چشتی)
تمامیت مسجد کے بعد اس میں دکان یا امام کےلیے حجرہ بنانا جائز نہیں : ⏬
اخراجات مسجد پورا کرنے کےلیے بعض مساجد کے ذمہ دار حضرات مسجد کی نئی عمارت کی تعمیر کے وقت اس کے نیچے تہہ خانہ بنا کر اسے کرایہ پہ لگا رہے ہیں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ مسجد سے کچھ جگہ نکال کر دکانیں بنائی جارہی ہیں ۔ جبکہ یہ کسی بھی طرح صحیح نہیں ۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : متولی کو مسجد کی حد یا مسجد کے فنا میں دکانیں بنانے کا اختیار نہیں کیونکہ مسجد کو جب دکان یا رہائش گاہ بنا لیا جائے تو اس کا احترام ساقط ہو جاتا ہے جو کہ ناجائز ہے اور فنائے مسجد چوں کہ مسجد کے تابع ہے لہٰذا اس کا حکم بھی وہی ہوگا جو مسجد کا ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 352،چشتی)
اسی مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں : ہاں وقت بنائے مسجد قبل تمام مسجدیت نیچے مسجد کےلیے دکانیں اور اوپر امام کےلیے بالاخانہ بنائے اور اس کے بعد اسے مسجد کرے تو جائز ہے اور اگر مسجد بناکر بنانا چاہے اگرچہ مسجد کی دیوار کا صرف اسارہ اس میں لے اور کہے میری پہلے سے یہ نیت تھی ہرگز قبول نہ کریں گے اور اس عمارت کو ڈھادیں گے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 432)
بلا ضرورت نچلے منزلے کو چھوڑ کر مسجد کے اوپری منزلے پر نماز پڑھنا درست نہیں گرمی کے زمانے میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بجلی نہ رہنے کی صورت میں نماز مسجد کی چھت پر ادا کی جاتی ہے جوکہ صحیح نہیں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مسجد کی چھت پر بلا ضرورت جانا منع ہے اگر تنگی کے سبب نیچے کا درجہ بھر گیا اوپر نماز پڑھیں جائز ہے اور بلا ضرورت مثلا گرمی کی وجہ سے پڑھنے کی اجازت نہیں ۔ کما نص علیہ فی الفتاویٰ عالمگیریہ ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 439،چشتی)
امامت میں وراثت نہیں، جو نماز کا پابند نہیں امام نہیں ہو سکتا : ⏬
ناخواندگی اور علم دین سے دوری کے سبب کچھ لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ امامت میں بھی میراث جاری ہوتی ہے لہٰذا امام کے انتقال کے بعد ان کے بیٹوں میں سے کسی کو امام بنانا چاہیے ، اس کی داڑھی مکمل ہو یا نہ ہو ، چاہے قرآن صحیح نہ پڑھتا ہو اور احکام شرع سے مطلق واقفیت نہ رکھتا ہو بہ ہر صورت وہی امام بنے گا جبکہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : امامت میں میراث جاری نہیں ۔ پھر ایک سطر کے بعد لکھتے ہیں : جو نماز کا پابند نہ ہو لائق امامت نہیں اسے معزول کرنا واجب ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 477)
تعلیم یافتہ کی موجودگی میں غیر پڑھے لکھے کو امام مقرر کرنا : ⏬
علاقائی عصبیت یا ہم مشربیت کے سبب یا قرابت یا رشتہ داری یا کسی کی سفارش کی بنیاد پر تعلیم یافتہ کی موجودگی میں غیر تعلیم یافتہ کو امام مقرر کرنا کسی طرح درست نہیں ، لیکن بدقسمتی سے آج کل اس کا رواج بڑھتا جارہا ہے ۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر متولی دیدہ دانستہ افضل کے ہوتے ہوئے مفضول کو امام مقرر کرے تو وہ اس حدیث کا مورد ہے کہ من استعمل علی عشرۃ من فیہم ارضی منہ ﷲ تعالیٰ فقد خان اللہ رسولہ والمومنین ۔ (کنزالعمال) ، جس نے دس شخصوں پر کسی ایسے کو افسر کیا کہ نظر شرع میں اس سے بہتر ان میں موجود تھا تو اس نے اللہ و رسول اور مسلمان سبکی خیانت کی ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 567،چشتی)
مسجد میں کافر کا جانا جائز نہیں : ⏬
الیکشن کے زمانے میں ووٹ مانگنے کےلیے یاعام دنوں میں اظہار یکجہتی کےلیے سیاسی لیڈران سیاست سے جڑے مسلمانوں کی دعوت پر مسجد آیا کرتے ہیں ۔ حالانکہ انہیں مسجد بلانا اور مسجد میں ان کا بیان کرانا جائز نہیں ہے ۔ دیکھئے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اس مسئلہ میں کیا فرما رہے ہیں : کافر کا اس (مسجد) میں جانا بھی بے ادبی ہے : کما حققناہ فی فتاونا بتوفیقہ تعالیٰ ، (جیسا کہ الل تعالیٰ کی توفیق سے اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاویٰ میں کردی ہے) وہو تعالیٰ اعلم ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 347)
مسجد کو گندگی سے بچانا ضروری ہے : ⏬
مسجد کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر طرح کی گندگی اور خراب مہک سے صاف رکھنے کا حکم فرمایا ہے مگر منتظمین و مصلی حضرات فی زمانہ اس امر سے مجرمانہ حد تک غفلت کا شکار ہیں ۔ دیکھیے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اس سلسلے میں کیا تحریر فرما رہے ہیں : مسجد کو بو سے بچانا واجب ہے لہذا مسجد میں مٹی کا تیل جلانا حرام ، مسجد میں دیا سلائی سلگانا حرام ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 232،چشتی)
پھر چند سطور کے بعد یہ حدیث نقل فرماتے ہیں : من اکل من ہذہ الشجرۃ الخبیثۃ فلا بقربن مصلانا۔جو اس گندے پیڑ میں سے کھالے یعنی کچا پیاز یا کچا لہسن وہ ہماری مسجد کے پاس نہ آئے ۔ پھر یہ حدیث نقل فرمائی ۔ فان الملائکۃ تتاذی ممایتا ذی منہ بنو آدم ۔ یعنی یہ خیال نہ کرو کہ اگر مسجد خالی ہے تو اس میں کسی بو کا داخل کرنا اس وقت جائز ہو کہ کوئی آدمی نہیں جو اس سے ایذا پائے گا ۔ ایسا نہیں بلکہ ملائکہ بھی ایذا پاتے ہیں اس سے جس سے ایذا پاتا ہے انسان ۔ مسجد کو نجاست سے بچانا فرض ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 233)
مسجد کی فضا کو خوش گوار اور پاکیزہ رکھنے کے تعلق سے ایک اور مقام پر تحریر کرتے ہیں : بعض لوگوں کی ریح میں خلقی بوئے شدید ہوتی ہے بعض کو بہ وجہ سوئے ہضم وغیرہا عارضی طور پر یہ بات ہوجاتی ہے ۔ ایسے کو ایسے وقت میں مسجد میں بیٹھنا ہی جائز نہیں کہ بوئے بد سے مسجد کا بچانا واجب ہے ۔ وان الملائکۃ بتاذی منک بنو آدم ۔ (صحیح مسلم کتاب المساجد) ، یعنی جس بات سے آدمیوں کو اذیت پہنچتی ہے اس سے فرشتے بھی اذیت پاتے ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 288،چشتی)
مسجد میں دنیاوی باتوں کا حکم : ⏬
جہاں بہت ساری خرابیاں مسلم معاشرہ میں در آئی ہیں وہیں ایک بڑی آفت یہ ہے کہ مسجدوں میں لوگ باہم جمع ہوکر دنیاوی باتیں کرتے ہیں بلکہ چغلی ، غیبت اور گالی گلوچ سے بھی پرہیز نہیں کرتے ۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مسجد میں دنیا کی مباح باتیں کرنے کو بیٹھنا نیکیوں کو کھاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو ۔ فتح القدیر میں ہے : الکلام المباح فیہ مکروہ یاکل الحسنات ، مسجد میں کلام مباح بھی مکروہ ہے اور وہ نیکیوں کو کھا جاتا ہے ۔ پھر اشباہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : انہ یاکل الحسنات کماتا کل النار الحطب ، بے شک وہ نیکیوں کو کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کوکھا جاتی ہے ۔ غمزالعیون میں خزانۃ الفقہ سے ہے من تکلم فی المساجد بکلام الدنیا احبط اللہ تعالیٰ عنہ اربعین سنۃ جو مسجد میں دنیا کی بات کرے اللہ تعالیٰ اس کے چالیس برس کے عمل اکارت فرما دے ۔ پھر چند سطروں کے بعد تحریر فرماتے ہیں : سبحان اللہ ! جب مباح و جائز بات بلا ضرورت شریعہ کرنے کو مسجد میں بیٹھنے پر یہ آفتیں ہیں تو حرام و ناجائز کام کرنے کا کیا حال ہوگا ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 312)
ان مسائل کے علاوہ بھی آپ نے متعلقاتِ مساجد کی اصلاح کے تعلق سے بہت کچھ تحریر فرمایا ہے ۔ جنہیں تفصیل درکار ہو وہ فتاویٰ رضویہ مترجم جلد 24 کا مطالعہ ضرور کریں ۔(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)














































































