Wednesday, 15 April 2026

نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر اور دعا کرنا مستند دلاٸل کی روشنی میں

نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر اور دعا کرنا مستند دلاٸل کی روشنی میں


محترم قارٸینِ کرام : نماز کے بعد ذکر بالجہر کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ افضل بھی ہے ۔ قرآن پاک اور احادیث  طیبہ صحیحہ سے ثابت ہے ۔ لیکن  ضروری ہے کہ  اتنی بلند آواز نہ ہو کہ  بقیہ نماز پڑھنے والوں کو  آزمائش کا سامنا ہو یا وہ قراءت ہی بھول جائیں ۔ اس انداز میں بلند ذکر کرنے کی ہرگز اجازت نہیں جس سے کسی نمازی وغیرہ کو تکلیف ہو  ۔ ارشادخداوندی ہے : فَاِذَا قَضَیۡتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِکُمْ ۔

ترجمہ :پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو اللہ کی یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے ۔ (سورۃ النساء آیت نمبر 103)


صدرالافاضل حضرت علامہ مولانا مفتی سید محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمۃ خزائن العرفان میں  تحریر فرماتے ہیں : مسئلہ : اس سے نمازوں کے بعد بغیر فصل کے کلمہ توحید پڑھنے پر استدلال کیا جا سکتا ہے جیسا کہ مشائخ کی عادت ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے ۔ مسئلہ : ذکر میں تسبیح ، تحمید ، تہلیل ، تکبیر ، ثناء ، دعا سب داخل ہیں ۔ (تفسیر خزائن العرفان سورۃ النساء آیت نمبر 103)


ذکر آہستہ کیا جائے یا درمیانے درجے کی بلند آواز سے، یہ جائز بلکہ افضل ہے ۔ اسلام کا ہر حکم معتدل ہوتا ہے۔ کھانا پینا جائز، بلکہ ضروری ہے لیکن اعتدال کے ساتھ ۔ حد سے زیادہ جائز نہیں ۔ نماز ، روزہ ، انفاق سی سبیل ﷲ ، حج جہاد ، خوشی و غمی کا اظہار، تمام احکام میں اعتدال و توسط کی راہ اختیار کرنے کا حکم ہے ۔ افراط و تفریط نہ عبادات میں جائز ہے اور نہ معاملات میں ۔ اگر نماز باجماعت ہو رہی ہو یا پاس مریض لیٹا ہو یا کوئی آرام کر رہا ہو یا کوئی مصروف مطالعہ ہو تو اس کے پاس چیخ چیخ کر ذکر کرنے کو کون جائز قرار دے گا ؟


اگر نماز باجماعت ہو چکی ہے اور مذکورہ عوارض بھی موجود نہیں اور لوگ اجتماعی طور پر درمیانی آواز سے ذکر بالجہر کریں تو یہ عین منشاء قرآن و حدیث ہے ۔ اسی پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل رہا اور اسی کا ان کو حکم تھا ۔ اس کی صراحت فقہائے کرام نے فرمائی اور یہی آج تک اہل سنت کا معمول رہا ہے ۔ ذکر بالجہر کا ثبوت قرآن کی روشنی میں : فَاذْكُرُواْ اللّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا ۔ (سورہ البقره آیت نمبر 200)

ترجمہ :  اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے بلکہ اس سے زیادہ ۔


دراصل کفار مکہ حج سے فراغت کے بعد مجالس میں اپنی قومی خوبیاں اور نسبی عظمتیں بیان کرتے تھے اس کو اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا اور اس کی جگہ اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیا ۔ وہ اپنے آباؤ اجداد کا بلند آواز سے تذکرہ کرتے تھے ، اس کو چھوڑ کر ان اجتماعات میں ذکر الٰہی کرنے کا حکم دیا گیا ۔ پس یہ ذکر بالجہر کا حکم ہے ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا ۔ (سورہ البقره آیت نمبر 114)

ترجمہ : اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لیے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ۔


اس آیت مبارکہ میں اس شخص کو سب سے بڑا ظالم گردانا گیا ہے جو مسجد میں اللہ کا ذکر کرنے والوں کو ذکر سے روکتا ہے اور مساجد کو ویران کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس میں بھی پوشیدہ طور پر ذکر بالجہر ہی مراد ہے کیونکہ اگر لوگ دل میں ذکر کریں تو ان کو کون روک سکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ بلند آواز سے ہی ذکر کیا جاتا ہے جسے سن کر ظالم لوگ منع کرتے ہیں اور مساجد کو ویران کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کےلیے اللہ تعالیٰ نے درد ناک عذاب کی وعید سنائی ہے ۔


إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ ۔ (سورہ الانفال آیت نمبر 2)

ترجمہ : ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈر جائیں ۔


اہل علم و عقل جانتے ہیں کہ اس آیت کریمہ سے بھی ذکر بالجہر کا ثبوت ملتا ہے کہ جب کسی کے سامنے ذکر کیا جائے اور اس ذکر کا اثر اسی صورت قبول کر سکتا ہے جب ذکر بالجہر ہو ، کیونکہ خفی ذکر تو وہ سن نہیں سکتا اور جو ذکر سنا جاتا ہے وہ ذکر بالجہر ہی ہے ۔


صحیح بخاری اورصحیح مسلم میں روایت ہے (واللفظ للاول) أن ابن عباس رضی اللہ عنہما ، أخبرہ : أن رفع الصوت بالذکر حین ینصرف الناس من المکتوبۃ کان علی عہد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وقال ابن عباس : کنت أعلم إذا انصرفوا بذلک إذا سمعتہ ۔

ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کوبتایا کہ لوگوں کے  فرض نماز سے فارغ ہونے کے وقت بلند آواز سے ذکر کرنانبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تھا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا میں جب ذکر سنتا تھا  تو جان لیتا تھا کہ لوگ نماز سے فارغ ہو چکے ہیں ۔ (صحیح بخاری کتاب الاذان باب الذکر بعدالصلاۃ جلد 1 صفحہ 168 دارطوق النجاۃ،چشتی)


بخاری شریف کی عربی شرح فتح الباری لابن رجب میں نمازکے بعدخاص تعداد یعنی تین مرتبہ کلمہ طیبہ پڑھنے کی فضیلت بھی مذکور ہے چنانچہ شارح بخاری امام ابن رجب حنبلی علیہ الرحمۃ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : من قال في دبر الصلوات، وإذا أخذ مضجعه: اللہ أكبر كبيراً، عدد الشفع والوتر، وكلمات الله الطيبات المباركات - ثلاثاً -، ولا إله إلا اللہ - مثل ذلك - كن له في القبر نوراً، وعلى الحشر نوراً، وعلى الصراط نوراً، حتى يدخل الجنة) 

ترجمہ : جو نماز کے بعد اور سونے سے پہلے "اللہ اکبرکبیراَ"جفت اورطاق عددمیں اور "كلمات اللہ الطيبات المباركات" تین بار اور "لا إله إلا اللہ" تین بار پڑھے گا تو یہ اذکار اُس کےلیے قبر میں نور ، حشر میں نور اور پُل صراط پر نور ہوں گے یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ۔ (فتح الباری لابن رجب کتاب الصلوٰۃ باب الذکر بعدالصلوٰۃ جلد 7 صفحہ 397 مکتبۃالغرباء الاثریۃ المدینۃ النبویۃ)


اور یہی روایت مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوفاً مروی ہے ۔ حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا مسعر، عن محمد بن عبد الرحمن، عن طيسلة، عن ابن عمر، قال: " من قال دبر كل صلاة، وإذا أخذ مضجعه: اللہ أكبر كبيرا عدد الشفع، والوتر، وكلمات اللہ التامات الطيبات المباركات، ثلاثا، ولا إله إلا اللہ مثل ذلك، كن له في قبره نورا، وعلى الجسر نورا، وعلى الصراط نورا حتى يدخلنه الجنة أو يدخل الجنة ۔ ترجمہ پہلی روایت میں گزر چکا ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد 6 صفحہ 32 مکتبۃ الرشد الریاض)


عن ابی سعيد الخدری رضی الله عنه رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم قال : أکثروا ذکر ﷲ تعالی حتی يقولوا مجنون ۔

ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں دیوانہ کہیں ۔ (ابن حبان، الصحیح، 3 : 99، رقم : 817)


اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے پر لوگ تبھی دیوانہ کہیں گے جب لوگ سنیں گے اور سن اسی وقت سکتے ہیں جب ذکر بالجہر ہو گا ۔


عن ابن عباس رضی الله عنهما قال : قال رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم أذکروا ﷲ ذکرا يقول المنافقون إنکم تراؤون.

ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کا ذکر اس قدر کرو کہ منافق تمہیں ریا کار کہیں ۔ (طبرانی، المعجم الکبیر، 12 : 169، رقم : 12786)


اس حدیث پاک میں بھی واضح طور پر ذکر بالجہر ہی کی بات کی گئی ہے کہ جس پر منافق ریا کار کہیں ۔


عن جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ عنهما أن رجلا کان يرفع صوته بالذکر فقال رجل لو أن هذا إخفض من صوته فقال رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فإنه آواه قال فمات فرأی رجل نارا فی قبره فاتاه فاذا رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فيه وهو يقول هلموا الی صاحبکم فاذا هو الرجل الذی کان يرفع صوته بالذکر ۔

ترجمہ : حضرت جابر بن عبدا للہ رٰ اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی بلند آواز سے ذکر کیا کرتا تھا، ایک آدمی نے کہا : اگر یہ آدمی اپنی آواز پست رکھتا (تو بہتر ہوتا) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ مست ہے راوی کہتا ہے کہ وہ شخص انتقال کر گیا پس ایک شخص اس کی قبر میں روشنی دیکھ کر اس کے قریب آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں (پہلے سے) موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے اس ساتھی کی طرف آؤ جو بلند آواز سے ذکر کیا کرتا تھا ۔ (الحاکم، المستدرک، 1 : 522، رقم : 1361،چشتی)


یعنی بلند آواز سے ذکر کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مروج تھا ۔

 

نماز کے بعد ذکر کرنے کا حکم قرآن و حدیث اور اقوالِ فقہائے کرام سے ثابت ہے اس کی بڑی فضیلت ہے اور اس میں بڑی برکت ہے حیلے بہانوں سے اسے منع کرناقبیح بدعت اور گناہ ہے قرآنِ کریم میں ہے : فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۔

ترجمہ : پھر جب نماز ادا ہوچکے تو زمین میں منتشر ہوجاؤ اور (پھر) اللہ کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرنے لگو اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا کرو تاکہ تم فلاح پاؤ ۔(سورہ الجمعۃ، 62 : 10)


پھر ایک مقام پر یوں ارشاد فرمایا : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا ۔

ترجمہ : اے ایمان والو! تم اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کرو ۔ (سورہ الاحزاب، 33 : 41)


مانعینِ ذکر اور قرآن : ⏬


مسجدوں میں ﷲ کے ذکر سے منع کرنے والے کو قرآن نے ظالم کہا ہے : وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُوْلَـئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلاَّ خَآئِفِينَ لهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۔

ترجمہ : اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو گا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کیے جانے سے روک دے اور انہیں ویران کرنے کی کوشش کرے، انہیں ایسا کرنا مناسب نہ تھا کہ مسجدوں میں داخل ہوتے مگر ڈرتے ہوئے ، ان کے لیے دنیا میں (بھی) ذلّت ہے اور ان کے لیے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے ۔ (سورہ البقرہ، 2 : 114)


معلوم ہوا کہ اللہ کی نظر میں سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کے ذکر سے منع کرے ۔ منع اسی وقت کرے گا جب آواز سنے گا اور آواز اسی وقت سنے گا جب بلند آواز سے ذکر کیا جائے گا جو دل میں ذکر کرے اس کی آواز تو اللہ ہی سنتا ہے کسی دوسرے کو کیا معلوم کہ یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے اور جب دوسرے کو پتا ہی نہیں تو منع کیسے کرے گا ؟ یہ قرآن کی آیت ہے اس پر بار بار غور کریں اور منع کرنے والے سے بھی سوال کریں ۔


ذکرِ الٰہی اطمنانِ قلب کا ذریعہ : أَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ۔

ترجمہ : جان لو کہ ﷲ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے ۔ (الرعد، 13 : 28)


إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللّهِ وَعَنِ الصَّلاَةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ ۔

ترجمہ : شیطان یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور کینہ ڈلوا دے اور تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے ۔ کیا تم (ان شرانگیز باتوں سے) باز آو گے ؟ ۔ (سورہ المائدۃ، 5 : 91)


مانعین ذکر تنگدل ہیں : ⏬


وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ۔

ترجمہ : اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، دل تنگ ہو جاتے ہیں ان کے جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ۔ (سورہ الزمر، 39 : 45)


مانعین ذکر پر رزق کی تنگی : وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى ۔

ترجمہ : اور جس نے میرے ذکر (یعنی میری یاد اور نصیحت) سے روگردانی کی تو اس کے لئے دنیاوی معاش (بھی) تنگ کردیا جائے گا اور ہم اسے قیامت کے دن (بھی) اندھا اٹھائیں گے۔ (سورہ طہ، 20 : 124)


عن ابن عباس رضی الله عنه قال کنت أعرف إنقضاء صلٰاة رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم بالتکبير ۔

ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز سے فراغت اللہ اکبر کی آواز سن کر معلوم کرتا تھا ۔ (بخاری، الصحیح، 1 : 288، الرقم : 806)


حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ان رفع الصوت بالذکر حين ينصرف الناس من المکتوبة کان علی عهد نبی صلی الله عليه وآله وسلم وقال ابن عباس کنت أعلم إذا بذلک إذا سمعته ۔

ترجمہ : بلند آواز سے ذکر کرنا، جب لوگ فرض نماز سے فارغ ہو جائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مروج تھا اور ابن عباس رضی ﷲ عنہ نے فرمایا میں اس کی آواز سن کر معلوم کر لیتا تھا کہ نماز ہو گئی ہے ۔ (مسلم، الصحیح، 1 : 410، الرقم : 583)


امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے اپنی صحیحین میں باب الذکر بعد الصلاۃ (نماز کے بعد ذکر کرنے کا بیان) پر ابواب قائم کیے ہیں، اوریہ ثابت کیا ہے کہ نماز کے بعد ذکر کرنا نہ صرف جائز، مستحب اور مسنون ہے ۔ انہوں نے حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنھما سے مروی حدیث مبارکہ نقل کی جا میں وہ فرماتے ہیں: ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں فرض نماز کے بعد بآواز بلند ذکر معروف تھا ۔ حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنھما بیان کرتے ہیں کہ (بچپن میں اپنے گھر میں) جب میں اِس ذکر کی آواز سنتا تو جان لیتا کہ لوگ نماز سے فارغ ہوچکے ہیں ۔ (بخاری، الصحيح، کتاب صفة الصلاة، باب الذکر بعد الصلاة، 1 : 288، رقم : 805،چشتی)(مسلم الصحيح کتاب المساجد باب الذکر بعد الصلاة، 1 : 410، رقم : 583)


اِسی طرح حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ رضی الله عنه يَقُوْلُ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ حِيْنَ يُسَلِّمُ : لَا إِلَهَ إِلَّا ﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيئٍ قَدِيْرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاﷲِ لَا إِلَهَ إِلَّا ﷲُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لَا إِلَهَ إِلَّا ﷲُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ وَلَوْ کَرِهَ الْکَافِرُوْنَ ۔ وَقَالَ : کَانَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ کُلِّ صَلَاةٍ ۔

ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہر نماز میں سلام پھیرنے کے بعد کہا کرتے تھے : اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہی ہے ، اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غالب آنے والا اور قوت رکھنے والا نہیں اور ہم سوائے اس کے کسی کی عبادت نہیں کرتے اس کے لئے تمام نعمتیں ہیں اور اسی کے لیے فضل اور تمام اچھی تعریفیں ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کا دین خالص ہے اگرچہ کافروں کو یہ ناگوار گزرے ۔ (مسلم، الصحيح، کتاب المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلاة وبيان صفته، 1 : 415، رقم : 594)(أبو داود، السنن، کتاب الوتر، باب ما يقول الرجل إذا سلم، 2 : 82، رقم : 1506، 1507)(نسائي، السنن، کتاب السهو، باب عدد التهليل والذکر بعد التسليم، 3 : 70، رقم : 1340) 


امامِ شافعی رحمة اللہ علیہ مسند شافعی میں اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد ﷲ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کَانَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم اِذَا سَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ يَقُوْلُ بِصَوْتِهِ الْاَعْلٰی : لَا اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ وَحْدَه لَا شَرِيکَ لَه لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ لَا اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ وَلَا نَعْبُدُ اِلَّا اِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا ﷲُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ کَرِهَ الْکَافِرُونَ ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہوتے تو بلند آواز سے پڑھتے : اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لئے بادشاہی ہے ، اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غالب آنے والا اور قوت رکھنے والا نہیں اور ہم سوائے اس کے کسی کی عبادت نہیں کرتے اس کے لئے تمام نعمتیں ہیں اور اسی کے لیے فضل اور تمام اچھی تعریفیں ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کا دین خالص ہے اگرچہ کافروں کو یہ ناگوار گزرے ۔ (مسند شافعی 44، 45)


اس حدیث مبارکہ کے تحت ذکر بالجہر کے جواز میں امام طحطاوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : فرض نمازوں کے بعد ذکر بالجہر کرنا جائز ہے ۔ (طحطاوی، مراقی الفلاح : 174)


علاوہ ازیں اِجتماعی طور پر ذکر بالجہر کرنا بھی حدیث مبارکہ سے ثابت ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ میرے متعلق جیسا خیال رکھتا ہے میں اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں ۔ جب وہ میرا ذکر کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ اپنے دل میں میرا ذکر (ذکر خفی) کرے تو میں بھی تنہا اس کا ذکر (ذکر خفی) کرتا ہوں، اور اگر وہ جماعت میں میرا ذکر (ذکر جلی) کرے تو میں اس کی جماعت سے بہتر جماعت میں اس کا ذکر (ذکر جلی) کرتا ہوں ۔ اگر وہ ایک بالشت میرے نزدیک آئے تو میں ایک بازو کے برابر اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں ۔ اگر وہ ایک بازو کے برابر میرے نزدیک آئے تو میں دو بازؤوں کے برابر اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آئے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں ۔ (بخاری، الصحيح، کتاب التوحيد، باب قول ﷲ تعالی : کل شیء هالک إلا وجهه، 6 : 2694، رقم : 6970)


مندرجہ بالا احادیث مبارکہ سے ذکر بالجہر کرنا ثابت ہے۔ لیکن یہ اَمر ذہن نشین رہے کہ ذکر بالجہر کی دو اقسام ہیں : ⏬


ذکرِ مُتَوَسَّط


ذکرِ مُفْرَط


ذکر متوسط سے مراد ایسی درمیانی درجہ کی آواز سے کیا گیا ذکر ہے جو دوسروں کے لیے باعثِ خلل نہ ہو۔جبکہ ذکر مفرط سے مراد بہت ہی بلند آواز سے ذکر کرنا جو کہ دوسروں کے لیے باعثِ تکلیف ہو ۔


بہتر یہی ہے کہ نماز کے بعد ذکر بالجہر متوسط کرنا چاہیے اور اسی پر تمام علماء کرام کا اتفاق ہے۔ اِس لیے ذکر بالجہر متوسط جائز اور مستحب ہے تاکہ حدیث شریف پر بھی عمل ہو اور دوسروں کے لیے باعثِ زحمت بھی نہ ہو ۔


حافظ زبیر علی زئی غیر مقلد لکھتا ہے : (1)عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی علیہ و آلہ کی نماز کا اختتام تکبیر (اللہ اکبر) سے پہچان لیتا تھا ۔ (البخاری ٨٤٢ , مسلم ١٢٠ / ٥٨٣ ولفظہ ” كنا نعرف انقضاء صلوة رسول الله صلى الله عليه و سلم بالتكبير ” امام ابو داود نے اس حدیث پر ” باب التکبیر بعد الصلوة ” کا باب بھاندا ہے ( قبل حدیث ١٠٠٢،چشتی)

حاشیہ : لہٰذا یہ ثابت ہوا کہ (فرض ) نماز کے بعد امام اور مقتدیوں کو اونچی آواز سے اللہ اکبر کہنا چاہئے , یہی حکم منفرد کے لے بھی ہے ” ان رفع الصوت بالذکر ” میں الذکر سے مراد ” التکبیر ” ہی ہے جیسا کہ بخاری وغیرہ سے ثابت ہے , اصول میں یہ مسلم ہے کہ ” الحدیث یفسر بعضه بعضاًَ ” یعنی ایک حدیث دوسرے حدیث کی تفسیر کرتی ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی علیہ وآلہ کی نماز کا ختم ہونا معلوم نہیں ہوتا تھا مگر تکبیر (اللہ اکبر سننے) کے ساتھ۔(مسلم ١٢١ / ٥٨٣)(مختصر صحیح نماز نبوی – شیخ زبیر علی زائی / باب نماز کے بعد اذکار / صفحہ نمبر 255)

بعد نماز بلند آواز سے ذکر کو بدعت اور ذکر کرنے والوں کو بدعتی کہنے والو تمہارے فتوے کی زد میں کون کون آیا ؟


حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مراۃ شرح مشکواۃ میں لکھتے ہیں : باب الذکر بعد الصلوۃ ، نماز کے بعد ذکر کا باب ۔


الفصل الاول ، پہلی فصل : ⏬


(1) اس ذکر سے مراد حمد  الٰہی ، درود شریف اور تمام دعائیں ہیں۔تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ بعد نماز خوب اونچی آواز سے ذکر اﷲ کرنا سنت ہے جیسا کہ آئندہ احادیث میں آرہا ہے۔اس میں اختلاف ہے کہ جن فرائض کے بعد سنتیں ہیں ان کے بعد ذکر وغیرہ کرے یا نہ کرے،صحیح یہ ہے کہ کرے مگر مختصر ۔


959 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)


عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم بِالتَّكْبِيرِ ۔

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونا تکبیر سے پہچانتا تھا (1) ۔ (مسلم،بخاری)


(1) یعنی میں زمانہ نبوی میں بہت کم عمر تھا اس لیے کبھی کبھی جماعت میں حاضر نہ ہوتا مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ نمازکے بعد اتنی بلند آواز سے تکبیریں کہتے تھے کہ گھروں میں آواز پہنچ جاتی تھی اور ہم پہچان لیا کرتے تھے کہ نماز ختم ہوگئی ۔ بعض مشائخ ہر نماز کے بعد بلند آواز سے تین بار کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں ، پنجاب میں فجر اور عشاء کے بعد اونچی آواز سے درود شریف پڑھا جاتا ہے ان سب کا ماخذ یہی حدیث ہے بلکہ مسلم شریف میں ہے کہ نمازوں کے بعد ذکر بالجہر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے عہد میں عام مروج تھا۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں دیکھو،یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں"وَاذْکُرۡ رَّبَّکَ فِیۡ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیۡفَۃً" اس لیے کہ آیت میں اخفاء کی نمازوں کی تلاوت مراد ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس ذکر بالجہر سے ان نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے جو اپنی فوت شدہ رکعتیں پوری کررہے ہیں مگر ان کا یہ قیاس حدیث کے مقابل ہے،نیز وہ لوگ تشریق کی تکبیروں اور حاجی کے تلبیوں اور حرم شریف کی نمازوں میں کیا کریں گے کہ ان سب میں بڑا شور ہوتا ہے ۔ (مراۃ المناجیح شرح مشکواۃ المصابیح جلد دوم)


نماز کے سلام کے بعد ذکر اور دعا کرنا : ⏬


حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے : حدثنامحمدبن کثیراخبرناسفیان ح وحدثنااحمدبن یونس حدثنازائدۃح وحدثنامسدد حدثنا ابوالاحوص ح وحدثنامحمدبن عبیدالمحاربی وزیادبن ایوب قالاحدثناعمربن عبیدالطنافسی ح وحدثناتمیم بن المنتصراخبرنااسحاق یعنی ابن یوسف عن شریک ح وحدثنااحمدبن منیع حدثنا حسین بن محمدحدثناحدثنااسرائیل کلھم عن ابی اسحاق عن ابی الاحوص والاسود عن عبداللہ ان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کان یسلم عن یمینہ وعن شمالہ حتی یری بیاض خدہ السلام علیکم ورحمۃاللہ السلام علیکم ورحمۃاللہ ۔

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی دائیں طرف اوراپنی بائیں طرف سلام کرتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے رخسارہ کی سفیدی نظرآتی ۔ (اوران کلمات سے سلام فرماتے) السلام علیکم ورحمۃاللہ، السلام علیکم ورحمۃاللہ ۔ اس حدیث کوامام ابوداؤد نے اپنی سنن میں (حدیث نمبر۵۴۸) امام ترمذی نے اپنی جامع میں (حدیث نمبر۲۷۲) امام نسائی نے اپنی سنن میں (حدیث نمبر۵۰۳۱) امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں (حدیث نمبر۴۰۹) امام احمدبن حنبل نے اپنی مسند میں (حدیث نمبر۶۱۵۳) روایت فرمایا)


 حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ، عَنْ أَبِی عَمَّارٍ، اسْمُہُ شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللہِ، عَنْ أَبِی أَسْمَاء ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِہِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا وَقَالَ:اللّٰہُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ قَالَ الْوَلِیدُ: فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِیِّ: کَیْفَ الْاسْتِغْفَارُ؟ قَالَ:تَقُولُ:أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ، أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ " ۔

ترجمہ : حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ استغفار پڑھا کرتے اور یوں دعا فرماتے : اللّٰہُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ حضرت ولید فرماتے ہیں کہ میں نے امام اوزاعی سے دریافت کیا کہ استغفار کیسے پڑھا کرتے تھے ؟ فرمایا: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ، أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ ۔ (صحیح مسلم، ج1کِتَابُ الْمَسَاجِدبَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّکْر بَعْدَ الصَّلوٰۃ، ص463حدیث1235)،(ابن ماجہ، ج1، اَبْوَاب اِقَامَتِ الصَّلوٰۃ، باب مَایَقُوْلُ بَعْدَ السَّلَام، ص276، حدیث976،چشتی)


وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ، أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَکَمَ بْنَ عُتَیْبَۃَ، یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی، عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ، عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مُعَقِّبَاتٌ لَا یَخِیبُ قَائِلُہُنَّ – أَوْ فَاعِلُہُنَّ – دُبُرَ کُلِّ صَلَاۃٍ مَکْتُوبَۃٍ، ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِیحَۃً، وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِیدَۃً، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَکْبِیرَۃً ۔

ترجمہ : حضرت کعب بن عُجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا: ان کلمات کو ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے والا کبھی محروم نہیں رہتا ۔ 33 مرتبہ سُبْحٰنَ اللّٰہ 33مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ 34 مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَر ۔ (صحیح مسلم جلد 1 کِتَابُ الْمَسَاجِدبَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّکْر بَعْدَ الصَّلوٰۃ صفحہ 468 حدیث نمبر 1250)


نماز کے بعد دعاء کرنا : ⏬


أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِی حَفْصُ بْنُ مَیْسَرَۃَ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ، عَنْ عَطَاء بْنِ أَبِی مَرْوَانَ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ کَعْبًا حَلَفَ لَہُ بِاللَّہِ الَّذِی فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوسَی إِنَّا لَنَجِدُ فِی التَّوْرَاۃِ: أَنَّ دَاوُدَ نَبِیَّ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِہِ قَالَ: اللَّہُمَّ أَصْلِحْ لِی دِینِی الَّذِی جَعَلْتَہُ لِی عِصْمَۃً، وَأَصْلِحْ لِی دُنْیَایَ الَّتِی جَعَلْتَ فِیہَا مَعَاشِی، اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَأَعُوذُ بِعَفْوِکَ مِنْ نِقْمَتِکَ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْکَ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ، وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ، قَالَ: وَحَدَّثَنِی کَعْبٌ، أَنَّ صُہَیْبًا حَدَّثَہُ، أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُہُنَّ عِنْدَ انْصِرَافِہِ مِنْ صَلَاتِہٖ ۔

ترجمہ : ابی مروان نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت کعبؓ نے اللہ کی قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ اس اللہ کی قسم جس نے حضرت موسیٰ کے لئے دریا کو چیر دیا۔ ہم نے توریت میں دیکھا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام جب نماز سے فارغ ہوتے تو یوں دعاء فرماتے : اے اللہ! میرے لئے میرا دین سنوار دے جس کو تو نے میری حفاظت کا سبب بنایا ہے اور میری دنیا سنوار دے جس میں تو نے میری روزی پیدا کی ہے ۔ اے اللہ! میں تیری خوشنودی کے ساتھ تیرے غصے سے اور تیری معافی کے ساتھ تیرے عذاب سے پناہ مانگتا ہوں۔ جو چیز تو عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو روکے اسے کوئی عطا کرنے والا نہیں ۔ اور تیرے فیصلے کو کوئی ٹالنے والا نہیں اور کسی کی دولت اسے تیرے عذاب سے نہیں بچا سکتی ، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ (راوی حدیث) نے بیان فرمایا کہ حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نماز کے بعد یہ دعا فرمایا کرتے ۔ (سنن نسائی جلد 1 کِتَابُ السَّہْو باب الدُّعَاء عِنْدَ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاۃِ صفحہ 414-15،چشتی)


أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ، قَالَ:حَدَّثَنَا یَحْیَی، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ، قَالَ:کَانَ أَبِی یَقُولُ فِی دُبُرِ الصَّلَاۃِ:اللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، فَکُنْتُ أَقُولُہُنَّ، فَقَالَ أَبِی: أَیْ بُنَیَّ، عَمَّنْ أَخَذْتَ ہَذَا؟ قُلْتُ عَنْکَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُہُنَّ فِی دُبُرِ الصَّلَاۃِ ۔

ترجمہ : حضرت مسلم بن ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد نماز کے بعد یہ دعا فرماتے اللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ۔

ترجمہ : اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں کفر اور محتاجی اور عذاب قبر سے ) میں نے بھی نماز کے بعد ایسا کرنا شروع کر دیا۔ میرے والد نے مجھ سے دریافت فرمایا اے بیٹے ! تم نے یہ کہاں سے سیکھا ؟  میں نے کہا آپ سے ۔ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نماز کے بعد یوں ہی دعا فرماتے تھے ۔ (سنن نسائی جلد 1 کِتَابُ السَّہْو باب التَّعَوُّذِ فِی دُبُرِ الصَّلَاۃِِ صفحہ 415)


حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عَائِشَۃَ، عَنْ مَوْلًی لِأُمِّ سَلَمَۃَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُ: إِذَا صَلَّی الصُّبْحَ حِینَ یُسَلِّمُ اللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَیِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا ۔

ترجمہ : حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم صبح کی نماز کے بعد یوں دعا فرماتے : ’’اللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَیِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا ۔

ترجمہ : اے اللہ! میں تجھ سے علم نافع اور پاک رزق اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں ) ۔ (سنن ابن ماجہ جلد 1 اَبْوَاب اِقَامَتِ الصَّلوٰۃ، باب مَایَقُوْلُ بَعْدَ السَّلَام صفحہ 275 حدیث نمبر 973) ، فی الزوائد رجال إسنادہ ثقات یعنی زوائد میں ہے کہ اس کے اسناد کے رجال ثقہ ہیں۔ اور شیخ ناصر البانی نے بھی اسے صحیح کہا ہے ۔


بلند آواز سے ذکر کرنے میں کسی  نمازی وغیرہ کو تکلیف نہ ہو ، اس حوالے سے جزئیات : ⏬


مسند احمد کی حدیث پاک ہے : عن علي ، قال : نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه وآلہ وسلم أن يرفع الرجل صوته بالقرآن قبل العشاء وبعدها، يغلط أصحابه  وھم یصلون ۔

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  منع فرمایا کہ کوئی شخص عشاء سے پہلے اور بعد  بلند آوازسے تلاوت کرے کہ وہ اپنے ساتھی نمازیوں کو مغالطہ میں ڈال دے ۔ (مسند احمد جلد 2 صفحہ 90 رقم الحدیث 663 مؤسسۃ الرسالۃ بیروت،چشتی)


اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ : ایک یا زیادہ شخص نماز پڑھ رہے ہیں یا بعدِ جماعت نماز پڑھنے آئے ہیں اور ایک یا کئی لوگ بآوازِ بلند قرآن یا وظیفہ یعنی کوئی قرآن کوئی وظیفہ پڑھ رہے ہیں یہاں تک کہ مسجد بھی گونج رہی ہے تو اس حالت میں کیا حکم ہونا چاہیے کیونکہ بعض دفعہ آدمی کا خیال بدل جاتا ہے اور نماز بھول جاتاہے ؟


آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب ارشاد فرمایا : جہاں کوئی نماز پڑھتا ہو یا سوتا ہو کہ بآواز پڑھنے سے اُس کی نماز یا نیند میں خلل آئے گا وہاں قرآن مجید و وظیفہ ایسی آواز سے پڑھنا منع ہے ، مسجد میں جب اکیلا تھا اور بآواز پڑھ رہاتھا جس وقت کوئی شخص نماز کےلیے آئے فوراً آہستہ ہو جائے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 100 رضا فاؤنڈیشن لاہور)


ان الجهر أفضل لأنه اکثر عملاً ولتعدی فائدته، الی السامعين ويوقط قلب الذاکر فيجمع همه الی الفکر و يصرف سمعه و بطرد النوم ويزيد انشاط ۔

ترجمہ : بلند آواز سے ذکر افضل ہے کہ اس میں محنت زیادہ ہے اور اس کا فائدہ تمام سننے والوں تک پہنچتا ہے اور یہ ذکر کرنے والے کے دل کو بیدار کرتا ہے اور اس کے خیال کو جمع کرتا ہے اور کانوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہے اور نیند بھگاتا ہے اور چستی بڑھاتا ہے ۔ (شامی ، ردالمختار جلد 1 صفحہ 660)


جب قرآن کریم ، احادیث مبارکہ اور کلام فقہاء سے نماز کے بعد ذکر بالجہر کا حکم ثابت ہو گیا تو تاویل اور بہانے بنانے سے باز رہنا چاہیے اللہ تعالیٰ ہمیں زیادہ سے زیادہ ذکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ بہتر یہی ہے کہ نماز کے بعد ذکر بالجہر متوسط کرنا چاہیے اور اسی پر تمام علماء کرام کا اتفاق ہے۔ اِس لیے ذکر بالجہر متوسط جائز اور مستحب ہے تاکہ حدیث شریف پر بھی عمل ہو اور دوسروں کے لیے باعثِ زحمت بھی نہ ہو ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Monday, 13 April 2026

قادیانی کے پیچھے نماز پڑھنا جاوید غامدی کی گمراہی کا جواب

قادیانی کے پیچھے نماز پڑھنا جاوید غامدی کی گمراہی کا جواب

محترم قارئینِ کرام : قادیانی باِجماع امت کافر اور زندیق ہیں ۔ قادیانی مرزا غلام احمد کذاب کو نبی ماننے اور اس طرح کے کئی کفریہ عقائد کی وجہ سے کافر و مرتد ہیں ، ان میں سے کسی شخص کے پیچھے نماز پڑھنا تو دور کی بات ہے میل جول رکھنا اس کے ساتھ کھانا پینا ، تعلق رکھنا ، اس کی غمی خوشی میں شریک ہونا یا اس کو اپنی غمی خوشی میں شریک کرنا ناجائز و حرام ہے ۔ اسی طرح ان میں سے کسی کو استاذ بنانایا بچوں کو ان سے پڑھوانا بھی نا جائز و حرام ہے ۔


علماے حرمین شریفین نے ان کے کفر کے تعلق سے فرمایا : من شك في كفره و عذابه فقد كفر ۔

ترجمہ : جس نے ان کے کفر و عذاب میں شک کیا وہ بھی کافر ہے ۔ (حسام الحرمین باب المعتمد و المستند مطبوعہ نیویہ لاہور صفحہ ١٢)


قادیانی کافر مرتد تھا ایسا کہ تمام علماے حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا : من شك في كفره و عذابه فقد كفر ، یعنی جس نے ان کے کفر اور عذاب میں شک کیا وہ بھی کافر ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد ۱۴ صفحہ ۳۹۳ مطبوعہ رضا فاونڈیشن)


ان سے تعلقات اور میل جول رکھنا جائز نہیں ، اسی طرح ان سے خندہ پیشانی سے پیش آنا ، مصافحہ کرنا ، ملنا جلنا ، اور ان کے ساتھ کھانا پینا اور ان کی خوشی اور غمی کی محافل میں شریک ہونا ناجائز اور ممنوع ہے ۔


قال الله تعالىٰ وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ الآیة، وفي الجلالين : [وَ لَا تَرْكَنُوْۤا] تميلوا [اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا] بموادة أو مداهنة أو رضى بأعمالهم [فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ] ۔


اگر کوئی ان کے عقائد باطلہ ، شنیعہ ، ردیہ ، دنیہ سے واقفیت کے باوجود ان کے کفر میں شک کرتا ہےاور خوشی خوشی ان کی محافل میں شریک ہوتا ہے تو وہ بھی کافر کہ من شك في كفره و عذابه فقد كفر کہ جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر جیسا کہ گزرا ۔ اور اگر ان کے عقائد باطلہ ، عاطلہ ، رذیلہ سے بیزاری و براءت ظاہر کرتا ہو اور انہیں کافر و مرتد سمجھتا ہو پھر بھی بلا عذر شرعی ان کی کسی محفل میں شرکت کی تو فاسق و فاجر اور مستحق عذاب نار ہے اور ایسے شخص کو امام بنانا بھی حرام ، اس کے پیچھے نماز پڑھنا گناہ ، جب تک کہ وہ اپنے اس فعل شنیع سے توبہ نہ کر لے اور اس فعل کے ارتکاب کے بعد جتنی بھی نمازیں اس کے پیچھے پڑھی گئیں سب کا اعادہ واجب و ضروری ہے ۔


يكره تقديم الفاسق كراهة تحریم ۔ (الصغيري شرح منية المصلي مباحث الإمامة صفحہ ٢٦٢)

ترجمہ : فاسق کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے ۔


كره إمامة الفاسق العالم لعدم اهتمامه بالدين فتجب إهانته شرعا فلا يعظم بتقديمه للإمامة، وإذا تعذر منعه ينتقل منه إلى غير مسجد للجمعة وغيرها ۔ (مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوی صفحہ ١٦٥)


مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کو قادیانی کہا جاتا ہے اور مرزا قادیانی کھلا کافر و مرتد تھا ، اس نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا اور انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں نہایت بے باکی کے ساتھ گستاخیاں کیں ، خصوصاً حضرت عیسیٰ روح اللہ و کلمۃ اللہ علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کی والدہ ماجدہ طیِّبہ طاہرہ صدیقہ مریم علیہاالسلام کی شانِ جلیل میں تو وہ بیہودہ کلمات استعمال کیے ، جن کے ذکر سے مسلمانوں کے دل ہِل جاتے ہیں ، اس کو اپنا امام یا نبی ماننا تو بڑی دور کی بات ہے ، جو شخص اس کے کفریات پر مطلع ہو کر اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے ۔ قادیانی کے کفریات تو بہت زیادہ ہیں ، یہاں چند ایک کا ذکر کیا جاتا ہے : ⏬


مرزا قادیانی نے نبی ہونے کا دعوی کیا اور جو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوی کرے ، وہ کافر ہے کہ یہ قرآن مجید کی آیت کریمہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا انکار ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ۔

ترجمہ : محمد تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں  ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں  تشریف لانے والے ہیں ۔ (سورۃ الاحزاب آیت نمبر 40)


سنن ترمذی ، سنن ابوداؤد ، مسند احمد ، شرح مشکل الاثار ، صحیح ابن حبان اور المعجم الاوسط وغیرہ کثیر کتب حدیث میں یہ حدیث پاک مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : أنا خاتم النبیین لا نبی بعدی ۔

ترجمہ : میں خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ (سنن ترمذی ابواب الفتن جلد 4 صفحہ 499 مطبوعہ  مصر،چشتی)


 امام محمد بن یوسف صالحی شامی (متوفی942ھ) رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور کتاب سبل الھدی والرشاد میں اور مشہور محدث امام علی بن محمد المعروف ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ شفاء شریف کی شرح میں خاتم کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : (و جعلنی فاتحا وخاتما)أی وجعلنی خاتم النبیین والأظھر أن یقال معناھما أولا وآخرا لما روی أنہ علیہ الصلاۃ والسلام قال کنت أول الأنبیاء فی الخلق وآخرھم فی البعث ۔

ترجمہ : سرکار کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اور مجھے اللہ نے فاتح یعنی ابتداء کرنے والابنایا اور خاتم بنایا یعنی نبیوں کو ختم کرنے والا ۔ اور اظہر یہ ہے کہ ان دونوں کے معنی یوں بیان کیے جائیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اول و آخری بنایا ، کیونکہ سرکار کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : میں پیدا ہونے میں تمام انبیاء میں پہلا ہوں اور مبعوث ہونے کے اعتبار سے سب سے آخری ہوں ۔ (شرح الشفاء لملاعلی جلد 1 صفحہ 398 دار الکتب العلمیۃ بیروت)


کتنے واضح انداز سے امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے خاتم کا معنی بیان کیا کہ اس کا معنی آخری نبی ہی ہے اور حدیث میں بھی یہی بیان کیا گیا ہے ۔


خاتم النبیین کا مطلب آخری نبی ہے ، اس پر پوری امت کا اجماع ہے اور علماء فرماتے ہیں کہ جس نے اس آیت کا مطلب آخری نبی کے علاوہ تاویل وغیرہ کے ذریعے کچھ اوربیان کیا وہ دائرہ اسلام سے خارج اور کافر کہلائے گا ، امام حجۃ الاسلام محمد بن محمدغزالی کتاب الاقتصاد میں عارف باللہ علامہ عبد الغنی نابلسی رحمۃ اللہ علیہ اپنی شرح الفرائد میں اورعلامہ ابو الفضل قاضی عیاض بن موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفی میں فرماتے ہیں : ان الامۃ فھمت من ھذا اللفظ انہ افھم عدم نبی بعدہ ابدا وعدم رسول بعدہ ابدا وانہ لیس فیہ تاویل ولا تخصیص ومن اولہ بتخصیص فکلامہ من انواع الھذیان لا یمنع الحکم بتکفیرہ لانہ مکذب لھذا النص الذی اجمعت الامۃ علی انہ غیر مؤول ولا مخصوص ۔

ترجمہ : تمام امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوٰۃ والتحیۃ نے لفظ خاتم النبیین سے یہی سمجھا کہ وہ بتاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کبھی کوئی نبی نہ ہو گا ، حضور کے بعد کبھی کوئی رسول نہ ہوگا اور تمام امت نے یہی مانا کہ اس لفظ میں نہ کوئی تاویل ہے (کہ آخر النبیین کے سوا خاتم النبیین کے کچھ اور معنی گھڑئیے) نہ اس عموم میں کچھ تخصیص ہے (کہ حضور کے ختم نبوت کو کسی زمانے یا زمین کے کسی طبقے سے خاص کیجیے) اور جو اس میں تاویل و تخصیص کو راہ دے اس کی بات جنون یا نشے یا سرسام میں بہکنے ، بے ہودہ  بکنے کے قبیل سے ہے ،اسے کافر کہنے سے کوئی چیز مانع نہیں کہ وہ اس آیت قرآن کی تکذیب کر رہا ہے جس میں اصلاً تاویل و تخصیص نہ ہونے پر امتِ مرحومہ کا اجماع ہو چکا ہے ۔ (الاقتصاد فی الاعتقاد جلد 1 صفحہ137 دار الکتب العلمیہ بیروت،چشتی)


بہارشریعت میں مرزاقادیانی کے بارے میں  فرمایا : خود مدّعی نبوت بننا کافر ہونے اور ابد الآباد جہنم میں رہنے کےلیے کافی تھا کہ قرآنِ مجید کا انکار اور حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبیین نہ ماننا ہے ، مگر اُس نے اتنی ہی بات پر اکتفا نہ کیا ، بلکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تکذیب و توہین کا وبال بھی اپنے سَر لیا اور یہ صدہا کفر کا مجموعہ ہےکہ ہر نبی کی تکذیب مستقلاً کفر ہے ، اگرچہ باقی انبیا و دیگر ضروریات کا قائل بنتا ہو ، بلکہ کسی ایک نبی کی تکذیب سب کی تکذیب ہے ۔ (بھار شریعت جلد 1 حصہ 1 صفحہ 190 مکتبۃ المدینہ کراچی )


مرزا قادیانی کے باطل نظریات و عقائد اسی کی کتابوں سے : ⏬


اِزالہ اَوہام صفحہ 533 خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام امّتی بھی رکھا اور نبی بھی ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اقدس میں جو آیتیں تھیں ، انہیں اپنے اوپر جَما لیا ۔ انجام صفحہ 78 میں کہتا ہے : وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ، تجھ کو تمام جہان کی رحمت کے واسطے روانہ کیا ۔


نیز یہ آیہ کریمہ ، وَ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٓ اَحْمَدُ ، سے اپنی ذات مراد لیتا ہے ۔ دافع البلاء صفحہ 6 میں ہے : مجھ کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : أَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ أَوْلاَدِیْ أَنْتَ مِنِّی وَأنَا مِنْکَ ، یعنی اے غلام احمد ! تو میری اولاد کی جگہ ہے ، تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں ۔


اِزالہ اَوہام صفحہ 688 میں ہے : حضرت رسُولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِلہام و وحی غلط نکلی تھیں ۔

صفحہ 8 میں ہے : حضرت مُوسیٰ کی پیش گوئیاں بھی اُس صورت پر ظہور پذیر نہیں ہوئیں ، جس صورت پر حضرت مُوسیٰ نے اپنے دل میں اُمید باندھی تھی ، غایت ما فی الباب یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیش گوئیاں زیادہ غلط نکلیں ۔


صفحہ 629 میں ہے : ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اُس کی فتح کے بارے میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے ، اور بادشاہ کو شکست ہوئی ، بلکہ وہ اسی میدان میں مر گیا ۔


اُسی کے صفحہ 26 اور 28 میں لکھتا ہے : قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں اور قرآنِ عظیم سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے ۔


اب خاص حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی شان میں جو گستاخیاں کیں ، اُن میں سے چند یہ ہیں : ⏬


معیار صفحہ 13 : (اے عیسائی مِشنریو ! اب ربّنا المسیح مت کہو اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے ، جو اُس مسیح سے بڑھ کر ہے ۔


صفحہ 13 اور 14 میں ہے : خدا نے اِس امت میں سے مسیح موعود بھیجا ، جو اُس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا ، تایہ اِشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خدا ہے ، جو احمد کے ادنیٰ غلام سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا یعنی وہ کیسا مسیح ہے ، جو اپنے قرب اور شفاعت کے مرتبہ میں احمد کے غلام سے بھی کمتر ہے ۔


کشتی صفحہ 56 میں ہے : مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، کہ اگر مسیح ابنِ مریم میرے زمانہ میں ہوتا ، تو وہ کلام جو میں کر سکتا ہوں ، وہ ہر گز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں ، وہ ہر گز دِکھلا نہ سکتا ۔


غرض اِس دجّال قادیانی کے مُزَخرفات کہاں تک گنائے جائیں ، اِس کے لیے دفتر چاہیے ، مسلمان اِن چند خرافات سے اُس کے حالات بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ اُس نبی اُولو العزم کے فضائل جو قرآن میں مذکور ہیں ، اُن پر یہ کیسے گندے حملے کر رہا ہے ۔ تعجب ہے اُن سادہ لوحوں پر کہ ایسے دجّال کے متبع ہو رہے ہیں ، یا کم از کم مسلمان جانتے ہیں اور سب سے زیادہ تعجب اُن پڑھے لکھے کٹ بگڑوں سے کہ جان بوجھ کر اس کے ساتھ جہنم کے گڑھوں میں گر رہے ہیں ۔ کیا ایسے شخص کے کافر ، مرتد ، بے دین ہونے میں کسی مسلمان کو شک ہو سکتا ہے ۔ حَاشَ للہ ۔ مَنْ شَکَّ فیْ عَذَابِہ وَکُفْرِہ فَقَدْ کَفَرَ ، جو اِن خباثتوں پر مطلع ہو کر اُس کے عذاب و کفر میں شک کرے ، خود کافر ہے ۔ (بھار شریعت جلد 1 حصہ 1 صفحہ190 ، 204 مکتبۃ المدینہ کراچی)


مذکورہ دلاٸل سے واضح ہوا کہ جو شخص قادیانیوں کے کفر میں شک کرے وہ کافر ہے ۔ اب فیصلہ قارٸین کریں کہ جاوید غامدی جیسا گمراہ شخص کہتا ہے قادیانی کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے گویا غامدی قادیانیوں کافر نہیں مانتا تو پھر غامدی کیا ہوا ؟ ۔ اللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں سے بچاۓ آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

آبنائے ہرمز عالمی گزرگاہ پر ایک تحقیقی نظر

آبنائے ہرمز عالمی گزرگاہ پر ایک تحقیقی نظر

محترم قارئینِ کرام : بہت سے دوستوں نے اس عاجز کو حکم فرمایا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے کچھ لکھوں یاد رہے کسی بھی بات یا موضوع کو توڑ مروڑ کر لکھنے یا تعصب کی عینک لگا کر بیان کرنے سے حق بیانی نہیں کہلاتا ۔ اس لیے جب بھی کچھ لکھیں یا بیان کریں تو جو سچ ہے وہی لکھیں اور بیان کریں جیسا کہ آبنائے ہرمز کے متعلق آج کل غلط فہیمیاں پیدا کی جا رہی ہیں اس عاجز نے دیکھا اکثر باتیں مسلکی تعصب پر مبنی ہیں ۔ اس اہم عالمی گزرگاہ کا نام اس فارسی کمانڈر ہرمز کے نام پر رکھا گیا ہے جسے یقیناً حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عبرت ناک شکست دی تھی ، لیکن حقیقت میں یہ ایک تاریخی مغالطہ ہے جو بغیر تحقیق کے پھیلایا جا رہا ہے ۔ اصل میں جس ہرمز کو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جس جنگ میں زیر کیا تھا ، وہ جنگ موجودہ کویت کے علاقے کاظمہ میں لڑی گئی تھی ، جبکہ آبنائے ہرمز وہاں سے سینکڑوں میل دور خلیج کے دوسرے دہانے پر واقع ہے ۔ اس آبی راستے کا نام دراصل وہاں موجود قدیم جزیرہ ہرمز اور اس پر قائم ہونے والی تاریخی تجارتی ریاست کی نسبت سے ہے ، جس کا تعلق اس مخصوص جنگی واقعے یا اس کمانڈر کی ذات سے نہیں ہے ۔


​لفظ ہرمز کی اپنی ایک الگ تاریخ اور ایٹمالوجی ہے جو اسے اس سپہ سالار سے ممتاز کرتی ہے ۔ یہ لفظ قدیم فارسی کے ہرمزد سے ماخوذ ہے ، جو دراصل زرتشتی مذہب کے خدا اہورامزدا کی بدلی ہوئی شکل ہے ۔ ساسانی عہد میں یہ نام اس قدر مقدس اور معتبر سمجھا جاتا تھا کہ یہ نہ صرف کئی بادشاہوں کا لقب رہا بلکہ ایران کے طول و عرض میں کئی شہروں اور علاقوں کو بھی اسی نام سے منسوب کیا گیا ۔ اس خطے میں ہرمز نامی ایک قدیم تجارتی شہر اور جزیرہ صدیوں سے آباد تھا ، جس کی شہرت کی بنا پر نقشہ نویسوں نے اس سمندری راستے کو آبنائے ہرمز کا نام دیا ۔ لہٰذا یہ سمجھنا درست نہیں کہ اسے کسی شکست خوردہ جرنیل کی یاد میں موسوم کیا گیا ہے ، بلکہ یہ نام اس مقام کی اپنی قدیم لسانی جڑوں اور جغرافیائی اہمیت کا عکاس ہے ۔


آبنائے ہرمز کے بارے میں یہ جو غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے کہ اسے اس فارسی کمانڈرکے نام پر رکھا گیا جسے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے معرکۂ ذات السلاسل میں شکست دی تھی ۔ بظاہر یہ بات دلچسپ لگتی ہے ، لیکن تاریخی اور جغرافیائی حقائق اس کی تائید نہیں کرتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کا نام ایک قدیم تجارتی مرکز جزیرہ ہرمز اور اس پر قائم ریاست کی نسبت سے پڑا ، جو صدیوں تک خلیج کے اہم ترین تجارتی مراکز میں شمار ہوتی رہی ۔ لفظ ہرمز خود قدیم فارسی ہرمزد سے نکلا ہے ، جو زرتشتی مذہب کے خدا اہورامزدا سے منسوب ہے ۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ نام مقامی لفظ ہرمغ سے بھی مشتق ہو سکتا ہے جس کا مطلب کھجور ہے ۔ اس طرح یہ نام ایک طویل لسانی اور تہذیبی پس منظر رکھتا ہے اور اس کا تعلق کسی ایک جنگی واقعے سے نہیں ۔


دوسری طرف ، جس ہرمز کا ذکر اسلامی تاریخ میں ملتا ہے ، وہ ساسانی(قدیم ایرانی) فوج کا ایک کمانڈر تھا جس کا مقابلہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے 12 ہجری میں ہوا ۔ یہ جنگ خلافتِ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں عراق کی فتوحات کے آغاز پر لڑی گئی اور کمانڈرہرمز ایرانی سلطنت کی طرف سے عراق میں گورنر تھا ۔ اس معرکے کو معرکۂ کاظمہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ موجودہ کویت کے علاقے کاظمہ میں پیش آیا ، جو آبنائے ہرمز سے سینکڑوں میل دور واقع ہے ۔ (تاریخ طبری ، الکامل فی التاریخ،چشتی)


جنگ سے پہلے فارسی کمانڈر ہرمز نے مبارزت کی دعوت دی ۔ اس مقابلے میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ہرمز کو قتل کر دیا ۔ اپنے سپہ سالار کی موت کے بعد فارسی فوج کا نظم وضبط ٹوٹ گیا ۔ اس کے سپاہیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ زنجیروں میں باندھا گیا تھا تاکہ وہ میدان سے فرار نہ ہوں ، لیکن یہی تدبیر ان کےلیے نقصان دہ ثابت ہوئی ۔ جب مسلمان حملہ آور ہوئے تو فارسی فوج مؤثر طریقے سے حرکت نہ کر سکی اور انہیں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا ۔ اسی وجہ سے اس جنگ کو ذات السلاسل یعنی زنجیروں والی جنگ کہا جاتا ہے ۔ یہ معرکہ اسلامی فتوحاتِ عراق کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا اور اس کے بعد مذار اور ولجہ جیسے معرکوں میں بھی مسلمانوں کو کامیابیاں حاصل ہوئیں ، جس سے ساسانی سلطنت کے زوال کی بنیاد پڑی ۔


اہم بات یہ بھی ہے کہ ذات السلاسل کے نام سے اسلامی تاریخ میں دو الگ واقعات ملتے ہیں ۔ ایک مہم 8 ہجری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں شمالی عرب قبائل کے خلاف بھیجی گئی تھی ، اوروہ جس مقام پر لڑی گئی اس کانام سلسل یا سلاسل تھا ۔ آبنائے ہرمز کا نام ایک قدیم جغرافیائی ، لسانی اور تہذیبی پس منظر رکھتا ہے ، معرکۂ ذات السلاسل ایک الگ تاریخی واقعہ ہے ۔ ان دونوں کو آپس میں جوڑنا ایک عام لیکن غلط مفروضہ ہے ۔


حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مقام ابلہ میں تمام اسلامی لشکر کی موجودات لی توکل اٹھارہ ہزار آدمی تھے ، آپ کے سامنے عراق کا وہ ایرانی صوبہ تھا ، جس کا نام حفیر تھا ، اور دربان ایران سے اس صوبہ کا گورنر ہرمز نامی ایک نہایت دلیر و جنگ جو سردار مقرر تھا ، اس ہرمز کی دھاک تمام عرب و عراق اور ہندوستان تک بیٹھی ہوئی تھی ، کیونکہ وہ جنگی بیڑہ لے کر ساحل ہندوستان پر بھی حملہ آور ہوا کرتا تھا ، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ہرمز کے نام ایک خط اتمام حجت کےلیے لکھا اور اسلام کی طرف دعوت دی ، ہرمز نے اس خط کو پہنچتے ہی فوراً دربار ایران کو اطلاع دی اور خود فوجیں جمع کر کے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کو بڑھا ۔ ادھر سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر تین حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ کی سرداری حضرت عدی رضی اللہ عنہ بن حاتم کو دی دوسرا حصہ حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ بن عمرو کے سپرد کیا اور تیسرے حصے کو اپنے ماتحت رکھ کر تینوں سرداروں نے داہنے بائیں ایک دن کی مسافت کا فاصلہ دے کر حفیر کی طرف بڑھنا شروع کیا ، لشکر ایران کے قریب پہنچ کر تینوں اسلامی سردار مل گئے ۔ (چشتی)


ایرانیوں کے مقابل اسلامی لشکر خیمہ زن ہوا اوّل حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ میدان میں نکلے اور ہرمز کو مقابلہ کےلیے طلب کیا ، ہرمز حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی آواز سن کر میدان میں نکلا ، دونوں سردار گھوڑوں سے اتر کر پیادہ ہو گئے ، اوّل حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے وار کیا ، ہرمز نے فوراً پیچھے ہٹ کر پینترا بدل کر وار خالی دیا اور پھر نہایت پھرتی سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ پر تلوار کا وار کیا ، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فوراً بیٹھک کے ساتھ آگے سمٹ کر اس کی کلائی تھام کر تلوار چھین لی ، ہرمز تلوار چھنواتے ہی حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو لپٹ گیا ، اور کشتی کی نوبت پہنچی ، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس کی کمر پکڑ کر اٹھایا اور زمین پر اس زور سے پٹکا کہ پھر وہ حرکت نہ کر سکا ، اس کے سینے پر چڑھ بیٹھے اور سرکاٹ کر پھینک دیا ، ایرانیوں کے ایک دستہ نے اپنے سردار کو مغلوب دیکھ کر اس کی مدد کےلیے حملہ کیا ، ادھر سے قعقاع بن عمرو نے آگے بڑھ کر ان کو روکا، پھر دونوں فوجیں آگے بڑھیں اور جنگ مغلوبہ شروع ہوئی ، تھوڑی ہی دیر میں ایرانی میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے ، بہت مقتول و مقید ہوئے ۔


ہرمز کے لباس و اسلحہ پر حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے قبضہ کیا ، ہرمز دربار ایران کا ایسا سردار تھا جو تاج سر پر رکھتا تھا ، اس کے تاج کی قیمت جو حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے قبضہ میں آیا ایک لاکھ دینار تھی ، اس لڑائی میں جیسا کہ اوپر ہم نے عرض کیا کہ ایرانیوں کے ایک حصہ فوج نے اپنے پاؤں میں زنجیریں باندھ لی تھیں کہ عربوں کے مقابلہ میں میدان سے بھاگ نہ سکیں ، مگر پھر بھی ان کو زنجیریں توڑ کر بھاگنا ہی پڑا ، ان زنجیروں کی وجہ سے اس لڑائی کا نام جنگ ذات السلاسل مشہور ہوا ۔ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایرانیوں کے تعاقب میں روانہ کیا ، انہوں نے آگے بڑھ کر حصن المراۃ کا محاصرہ کیا اور اس قلعہ کو فتح کیا ، وہاں کا حاکم مقتول ہوا ، اس کی بیوی مسلمان ہو گئی ، اور اس نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں آنا پسند کیا ۔ (یہ مضمون ہم تاریخ ابن خلدون ، تاریخ طبری ، الکامل فی التاریخ ، تاریخ اسلام و دیگر کتب سے اخذ کر کے لکھا ہے) ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Sunday, 29 March 2026

شوہر کا اپنی بیوی کو ماں ، بہن ، بیٹی کہنے کا شرعی حکم

شوہر کا اپنی بیوی کو ماں ، بہن ، بیٹی کہنے کا شرعی حکم

محترم قارئینِ کرام : شوہر کا اپنی بیوی کو قرآن پر ہاتھ رکھ کر بہن کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ، البتہ یہ سخت گناہ اور قسم کے حکم میں ہے ۔ اگر یہ جملہ طلاق کی نیت سے نہیں کہا تو نکاح برقرار رہے گا ، لیکن اگر قسم کے طور پر کہا ہے تو اسے توڑنے پر کفارہ 10 مسکینوں کو کھانا کھلانا یا 3 دن کے روزے) واجب ہوگا ۔ شوہر کا اپنی بیوی کو فقط ماں ، بہن ، بیٹی وغیرہ کہہ کر پکارنا یا یوں کہنا کہ تم میری ماں ، بہن ، باجی وغیرہ ہو ، ناجائز و گناہ ہے جس سے توبہ کرنا  اس پر لازم ہے البتہ اس سے نکاح پر کچھ اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی ظہار وغیرہ لازم ہوتا ہے ہاں اگر اس طرح کے الفاظ کہے تو میر ی بہن کی طرح ہے ، تو میری بیٹی کی مانند ہے ، تو میر ی ماں کی مثل ہے وغیرہ تو اس صورت میں ان کلمات سے جو نیت کرے گا اسی کا اعتبار ہوگا اگر اُس کے اِعزاز کےليے کہا تو کچھ لازم نہیں ، طلاق کی نیت ہے تو بائن طلاق واقع ہوگی ، ظہار کی نیت ہے تو ظہار ہے اور تحریم (حرام کرنے) کی نیت ہے تو ایلا ہے اور اگر کچھ بھی نیت نہیں تھی ایسے ہی کہہ دیا تو اگرچہ ایسا کہنا جائز نہیں البتہ اس سے کچھ لازم نہیں ہوگا ۔


اللہ تبارک وتعالی قرآن کریم  میں ارشاد فرماتاہے : مَا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ ؕاِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اﻼ وَلَدْنَهُمْ ؕوَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًاؕ ۔

ترجمہ : جورئیں (یعنی بیویاں) ان کی مائیں نہیں ، ان کی مائیں تو وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہیں اور وہ بےشک بُری اور نِری جھوٹ بات کہتے ہیں ۔ (سورہ المجادلہ آیت نمبر 2)


اللہ عوجل کا ارشاد ہے : مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖۚ ۔ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓـِٔیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْۚ ۔ (سورہ الاحزاب آیت نمبر 4)

 ترجمہ : الله  نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ بنائے اور اس نے تمہاری ان بیویوں  کو تمہاری حقیقی مائیں  نہیں  بنادیا جنہیں  تم ماں  جیسی کہہ دو ۔


زمانۂ جاہلیت میں  جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ظِہار کرتا تھا تو وہ لوگ اس ظہار کو طلاق کہتے اور اس عورت کو اس کی ماں  قرار دیتے تھے اور جب کوئی شخص کسی کو بیٹا کہہ دیتا تھاتو اس کو حقیقی بیٹا قرار دے کر میراث میں  شریک ٹھہراتے اور اس کی بیوی کو بیٹا کہنے والے کے لئے حقیقی بیٹے کی بیوی کی طرح حرام جانتے تھے۔ ان کے رد میں  یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ جن بیویوں  کو تم نے ”ماں  جیسی“ کہہ دیا ہے تو ا س سے وہ تمہاری حقیقی مائیں  نہیں  بن گئیں  اور جنہیں  تم نے اپنا بیٹا کہہ دیا ہے تو وہ تمہارے حقیقی بیٹے نہیں  بن گئے اگرچہ لوگ انہیں  تمہارا بیٹا کہتے ہوں ۔ بیو ی کو ماں  کے مثل کہنا اور لے پالک بچے کو بیٹا کہنا ایسی بات ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ، نہ بیو ی شوہر کی ماں  ہو سکتی ہے نہ دوسرے کافر زند اپنا بیٹا اور یاد رکھو کہ  الله  تعالیٰ حق بیان فرماتا ہے اور وہی حق کی سیدھی راہ دکھاتا ہے، لہٰذا نہ بیوی کو شوہر کی ماں  قرار دو اور نہ لے پالکوں  کو ان کے پالنے والوں  کا بیٹا ٹھہراؤ ۔ (تفسیر خازن جلد ۳ صفحہ ۴۸۲)(تفسیر مدارک التنزیل صفحہ ۹۳۱ - ۹۳۲)


ظہار کا معنی یہ ہے کہ شوہر کا اپنی بیوی یا اُس کے کسی جُزوِ شائع (جیسے نصف ، چوتھائی یا تیسرے حصے کو) یا ایسے جز کو جو کُل سے تعبیر کیا جاتا ہو ، ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو اس پر ہمیشہ کےلیے حرام ہو یا اس کے کسی ایسے عُضْوْ سے تشبیہ دینا جس کی طرف دیکھنا حرام ہو ، مثلاً یوں کہا : تو مجھ پر میری ماں  کی مثل ہے ، یا تیرا سر یا تیری گردن یا تیرا نصف میری ماں  کی پشت کی مثل ہے ۔ (درمختار و ردالمحتار کتاب الظہا جلد ۵ صفحہ ۱۲۵ - ۱۲۹،چشتی)(فتاویٰ عالمگیری کتاب الطلاق الباب التاسع فی الظہار جلد ۱ صفحہ ۵۰۵)


ظہار کا حکم یہ ہے کہ (اس سے نکاح باطل نہیں  ہوتا بلکہ عورت بدستور اس کی بیوی ہی ہوتی ہے البتہ) جب تک شوہر کفارہ نہ دیدے اُس وقت تک اُس عورت سے میاں بیوی والے تعلقات قائم کرنا حرام ہوجاتا ہے البتہ شہوت کے بغیر چھونے یا بوسہ لینے میں  حرج نہیں  مگر لب کا بوسہ شہوت کے بغیر بھی جائز نہیں ۔ اگر کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کر لیا تو توبہ کرے اور اُس کےلیے کوئی دوسرا کفارہ واجب نہ ہوا مگر خبر دار پھر ایسا نہ کرے اور عورت کو بھی یہ جائز نہیں کہ شوہر کو قُربت کرنے دے ۔ ( جوہرۃ النیرہ کتاب الظہار صفحہ ۸۲ الجزء الثانی)(درمختار وردالمحتار، کتاب الظہار جلد ۵ صفحہ ۱۳۰)


بیوی کو ماں ، بہن کہنے سے متعلق ایک اہم شرعی مسئلہ : ⏬


امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : زوجہ کو ماں  بہن کہنا (یعنی تشبیہ نہیں  دی ، بغیر تشبیہ کے ماں ، بہن کہا) ، خواہ یوں  کہ اسے ماں  بہن کہہ کر پکارے ، یا یوں  کہے : تومیری ماں  بہن ہے ، سخت گناہ و ناجائز ہے ۔ قَالَ  الله  تَعَالٰی : اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اﻼ وَلَدْنَهُمْؕ ۔ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًاؕ ۔ (سورہ المجادلہ آیت نمبر 2)

 ترجمہ : جورئیں (یعنی بیویاں) ان کی مائیں  نہیں ، ان کی مائیں  تو وہی ہیں  جنہوں  نے اُنہیں  جنا ہے اور وہ بے شک بری اور جھوٹی بات کہتے ہیں ۔

مگر اس سے نہ نکاح میں  خلل آئے ، نہ توبہ کے سوا کچھ اور لازم ہو ۔ (1)


 اس شرعی مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے ان لوگوں کواپنے طرزِ عمل پر غور کرنے کی ضرورت ہے جو تنگ آ کر یا مذاق مَسخری میں اپنی بیوی سے یوں کہہ دیتے ہیں : او میری ماں بس کر ۔جا بہن چلی جا وغیرہ ۔ انہیں  چاہئے کہ پہلے جتنی بار ایسا کہہ چکے اس سے توبہ کریں اور آئندہ خاص طور پر احتیاط سے کام لیں ۔


سنن ابوداؤد شریف میں ہے : ان رجلا   قال لامرتہ ، یا اخیۃ ، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : اختک ھی ، فکرہ ذلک و نھی عنہ ۔

ترجمہ : ایک شخص نے اپنی بیوی کو اے میری بہن ! کہہ کر  پکارا  تو رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وآل وسلم نےفرمایا کیا یہ تیر ی بہن ہے ؟ اسے ناپسند فرمایا اور اس سے منع کیا ۔ (سنن ابوداؤد کتاب الطلاق جلد 1 صفحہ 319 حدیث نمبر 2210 مطبوعہ لاہور،چشتی)


امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں : زوجہ کو ماں بہن کہنا خواہ یوں کہ اسے ماں بہن کہہ کر پکارے ، یا یوں کہے تو میری ماں میری بہن ہے سخت گناہ و ناجائز ہے ، مگر اس سے نہ نکاح میں کوئی خلل آئے نہ توبہ کے سوا کچھ اور لازم ہو ۔۔۔۔۔۔ ہاں اگر یوں کہا ہو کہ تو مثل یا مانند یا بجائے ماں بہن کے ہے تو اگر بہ نیت طلاق کہا تو ایک طلاق بائن ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی اور بہ نیت ظہار یا تحریم کہا یعنی یہ مراد ہے کہ مثل ماں بہن کے مجھ پر حرام ہے تو ظہار ہوگیا اب جب تک کفارہ نہ دے لے عورت سے جماع کرنا یا شہوت کے ساتھ اس کا بوسہ لینا یا بنظر شہوت اس کے کسی بدن کو چھونا یا بنگاہِ شہوت اس کی شرمگاہ دیکھنا سب حرام ہو گیا ، اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ جماع سے پہلے ایک غلام آزاد کرے ، اس کی طاقت نہ ہو تو لگاتار دو مہینہ کے روزے رکھے ، اس کی بھی قوت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کی طرح اناج یا کھانا دے ۔ ( فتاویٰ رضویہ جدید جلد 13 صفحہ 280 مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہو ر)


بہارِ شریعت میں ہے : عورت سے کہا تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے تو نیت دریافت کی جائے اگر اُس کے اِعزاز کےليے کہا تو کچھ نہیں اور طلاق کی نیت ہے تو بائن طلاق واقع ہوگی اور ظہار کی نیت ہے تو ظہار ہے اور تحریم کی نیت ہے تو ایلا ہے اور کچھ نیت نہ ہو تو کچھ نہیں ۔ (بہارشریعت حصہ 8 صفحہ 207 مکتبہ المدینہ)


علامہ نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اگر کسی شخص نے (اپنی بیوی کو) کہا : تو میری ماں ہے ، تو اس سے وہ مظاہر (یعنی ظِہار کرنے والا) نہیں ہو گا ، البتہ ایسا کہنا مکروہ ہے اور اسی کی مثل جب کوئی شخص (اپنی بیوی کو) یہ کہے : اے میری بیٹی یا اے میری بہن ،(فتاویٰ عالمگیری جلد 1 صفحہ 507)


البتہ اگر بیوی کے جسم کے کسی حصے کو ماں یا بہن کے جسم سے تشبیہ دی تو ظِہار ہوگا اور کفّارہ لازم ہوگا ، صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : عورت کو ماں یا بیٹی یا بہن کہا تو ظہار نہیں ، مگر ایسا کہنا مکروہ ہے ، عورت سے کہا : تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے ، تو نیت دریافت کی جائے اگر اُس کے اِعزاز کےلیے کہا تو کچھ نہیں اور طلاق کی نیت ہے ، تو بائن طلاق واقع ہوگی اور ظہار کی نیت ہے ، تو ظہار ہے اور تحریم (یعنی اسے اپنے اوپر حرام کرنے) کی نیت ہے تو ایلا ہے اور کچھ نیت نہ ہو تو کچھ نہیں ۔ (بہارِ شریعت جلد 2 صفحہ 207،چشتی)


اپنی منکوحہ سے چار مہینے تک مباشرت نہ کرنے کی قسم کھانا ایلا ہے ، علامہ برہان الدین علی بن ابو بکر فرغانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : جب کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے : اللہ کی قسم ! میں تم سے مقاربت نہیں کروں گا ، یا کہے : اللہ کی قسم ! میں تم سے چار مہینے تک مقاربت نہیں کروں گا ، تو وہ ایلا کرنے والا ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : جو لوگ اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرنے کی قسم کھالیتے ہیں ، اُن کےلیے چار مہینے کی مہلت ہے ، اگر اس نے چار مہینے کے اندر اپنی بیوی سے مباشرت کرلی ، تو اس کی قسم ٹوٹ جائے گی اور اس پر کفّارہ لازم ہوگا اور ایلا ساقط ہو جائے گا اور اگر اس نے چار مہینے اپنی بیوی سے مقاربت نہیں کی تو اس کی بیوی پر ازخود (ایک) طلاق بائن واقع ہوجائے گی ۔ (ہدایہ جلد 3 صفحہ 231)


خلاصۂ کلام یہ کہ صورتِ مسئولہ میں آپ کا نکاح بدستور قائم ہے ، آئندہ اس طرح کے جملوں سے اجتناب برتیں اور یہ حساس معاملات ہوتے ہیں ، ان کے بارے میں ہمیشہ محتاط رہنا چاہیے ، ازدواجی رشتے کے بارے میں بننے والی فلموں اور ڈراموں نے نوجوانوں کے ذہنوں سے اس حساسیت کو مٹا دیا ہے اور اسی سبب ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح بھی ماضی کے ادوار کی بہ نسبت بڑھ گئی ہے ، دعا ہے : اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے خاندانوں کو اس شکست و ریخت سے بچائے  آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 26 March 2026

اسلام کا معنی و مفہوم قرآن و حدیث کی روشنی میں

اسلام کا معنی و مفہوم قرآن و حدیث کی روشنی میں

محترم قارئینِ کرام : اسلام دین امن و سلامتی ہے ۔ اسلام خود بھی امن و سلامتی کا دین ہے اور دوسروں کو بھی امن و عافیت کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتا ہے ۔ اسلام کے دینِ امن و سلامتی ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بھیجے ہوئے دین کےلیے نام ہی ’’اسلام‘‘ پسند کیا ہے ۔ لفظ اسلام سَلَمَ یا سَلِمَ سے ماخوذ ہے ، جس کے معنی امن و سلامتی اور خیر و عافیت کے ہیں ۔ اسلام اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے سراسر امن ہے ۔ گویا امن و سلامتی کا معنی لفظ اسلام کے اندر ہی موجود ہے ۔ لہٰذا اپنے معنی کے اعتبار سے ہی اسلام ایک ایسا دین ہے جو خود بھی سراپا سلامتی ہے اور دوسروں کو بھی امن و سلامتی، محبت و رواداری ، اعتدال و توازن اور صبر و تحمل کی تعلیم دیتا ہے ۔ قرآن و حدیث میں اگر مسلم اور مومن کی تعریف تلاش کی جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک مسلمان صرف وہ شخص ہے جو تمام انسانیت کےلیے پیکر امن و سلامتی ہو اور مومن بھی وہی شخص ہے جو امن و آشتی ، تحمل و برداشت ، بقاء باہمی اور احترام آدمیت جیسے اوصاف سے متصف ہو ۔ یعنی اجتماعی سطح سے لے کر انفرادی سطح تک ہر کوئی اس سے محفوظ و مامون ہو ۔


اسلام کا لفظ ، س ، ل ، م ، سَلَمَ سے نکلا ہے ۔ اس کے لغوی معانی بچنے ، محفوظ رہنے ، مصالحت اور امن و سلامتی پانے اور فراہم کرنے کے ہیں ۔ حدیث نبوی میں اس لغوی معنی کے لحاظ سے ارشاد ہے : الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ منْ لِّسَانِه وَيَدِه ۔

ترجمہ : بہتر مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ (صحیح بخاری کتاب الايمان باب المسلم من سلم المسلمون من لسانه و يده جلد 1 صفحہ 13 رقم : 10)(صحیح مسلم کتاب الايمان باب تفاضل الاسلام و ای اموره أفصل جلد 1 صفحہ 65 رقم : 40)


اسی مادہ کے باب اِفعال سے لفظ اسلام بنا ہے ۔ لغت کی رو سے لفظ اسلام چار معانی پر دلالت کرتا ہے ۔


اسلام کا لغوی معنی خود امن و سکون پانا ، دوسرے افراد کو امن و سلامتی دینا اور کسی چیز کی حفاظت کرنا ہے ۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (سورہ المائدة آیت نمبر 16)

ترجمہ : اللہ اس سے ہدایت دیتا ہے اسے جو اللہ کی مرضی پر چلا سلامتی کے راستے اور انہیں اندھیریوں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے اپنے حکم سے اور انہیں سیدھی راہ دکھاتا ہے ۔


یہاں قرآن کی شان کا بیان ہے کہ اللہ عزوجل قرآن کے ذریعے اسے ہدایت عطا فرماتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع ہوجاتا ہے اور جو اپنے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی میں  لگا دیتا ہے تواللہ تعالیٰ اسے کفر و شرک اور مَعاصی کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور اعمالِ صالحہ کے نور میں داخل فرما دیتا ہے ۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ ’’بِهٖ‘‘ کی ضمیر سے سرکارِ کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی مراد ہیں ۔ اس اعتبار سے معنیٰ بنے گا کہ اللہ  تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ہدایت عطا فرماتا ہے ۔ مَعنَوِی اعتبار سے یہ بات قطعاً درست ہے ۔


اسلام کا دوسرا مفہوم ماننا ، تسلیم کرنا ، جھکنا اور خود سپردگی و اطاعت اختیار کرنا ہے ۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْۙ ۔ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (سورہ البقرة آیت نمبر 131)

ترجمہ : جب کہ اس سے اس کے رب نے فرمایا گردن رکھ عرض کی میں نے گردن رکھی اس کےلیے جو رب ہے سارے جہان کا ۔


اس سے معلوم ہوا کہ والدین کوصرف مال کے متعلق ہی وصیت نہیں کرنی چاہیے بلکہ اولاد کو عقائدِ صحیحہ ، اعمالِ صالحہ ، دین کی عظمت ، دین پر استقامت ، نیکیوں پر مداومت اور گناہوں سے دور رہنے کی وصیت بھی کرنی چاہیے ۔ اولاد کو دین سکھانا اور ان کی صحیح تربیت کرتے رہنا والدین کی ذمہ داری ہے ۔ جیساکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرو اور انہیں اچھے ادب سکھانے کی کوشش کرو ۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الادب باب بر الوالد والاحسان الی البنات جلد ۴ صفحہ ۱۸۹ - ۱۹۰ الحدیث : ۳۶۷۱)


اسلام میں تیسرا مفہوم صلح و آشتی کا پایا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایا : يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّةً ۔ (سورہ البقرة آیت نمبر 208)

ترجمہ : اے ایمان والو اسلام میں پورے داخل ہو ۔


اہل کتاب میں سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد شریعت مُوسَوی کے بعض احکام پر قائم رہے ، ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتے ، اس روز شکار سے لازماً اِجتناب جانتے اور اونٹ کے دودھ اور گوشت سے بھی پرہیز کرتے اور یہ خیال کرتے کہ یہ چیزیں اسلام میں صرف مُباح یعنی جائز ہیں ، ان کا کرنا ضروری تو نہیں جبکہ توریت میں ان سے اجتناب لازم کیا گیا ہے تو ان کے ترک کرنے میں اسلام کی مخالفت بھی نہیں ہے اور شریعت مُوسَوی پر عمل بھی ہو جاتا ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیاکہ اسلام کے احکام کا پورا اتباع کرو یعنی توریت کے احکام منسوخ ہو گئے اب ان کی طرف توجہ نہ دو ۔ (تفسیر خازن جلد ۱ صفحہ ۱۴۷)


اسی طرح ایک بلند و بالا درخت کو بھی عربی لغت میں السّلم کہا جاتا ہے ۔


مندرجہ بالا معانی کے لحاظ سے لغوی طور پر اسلام سے مراد امن پانا ، سر تسلیم خم کرنا ، صلح و آشتی اور بلندی کے ہیں ۔


دینِ اسلام سے مراد اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات پر مبنی وہ نظام حیات ہے جو ہر اعتبار سے کامل اور مکمل ہو اور وہ انسانی زندگی کے ہر شعبے کی ضروریات کو پوری کرتا ہو ۔ اس میں انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی اور بین الاقوامی سطح تک کی زندگی کے ہر گوشے کے بارے میں رہنمائی کا سامان موجود ہے ۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے : إِنَّ الدِّينَ عِندَاللهِ الْإِسْلاَمُ ۔ (سورہ آل عمران آیت نمبر 19)

ترجمہ : بیشک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے ۔


ہر نبی کا دین اسلام ہی تھا لہٰذا اسلام کے سوا کوئی اور دین بارگاہِ الٰہی عزوجل میں مقبول نہیں لیکن اب اسلام سے مراد وہ دین ہے جو حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لائے ، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ  تعالیٰ نے تمام لوگوں کےلیے رسول بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی بنایا ، تو اب اگر کوئی کسی دوسرے آسمانی دین کی پیروی کرتا بھی ہو لیکن چونکہ وہ اللہ عزوجل کے اِس قطعی اور حَتمی دین اور نبی کو مکمل طور پر نہیں مان رہا لہٰذا اس کا آسمانی دین پر عمل بھی مردود ہے ۔ یہود و نصاریٰ وغیرہ کفار جو اپنے دین کو افضل و مقبول کہتے ہیں اس آیت میں ان کے دعویٰ کو باطل فرمایا گیا ہے ۔


ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلاَمَ دِينًا ۔ (سورہ المائدة آیت نمبر 3)

ترجمہ : آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا ۔


اس آیت کے متعلق بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا ، اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ ، آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے ، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نازل ہونے کے دن عید مناتے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : کون سی آیت ؟ اس یہودی نے یہی آیت ’’اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ‘‘ پڑھی ۔ آپ  رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس دن کو جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی تھی اور اس کے نازل ہونے کے مقام کو بھی پہچانتا ہوں ، وہ مقامِ عرفات کا تھا اور دن جمعہ کا ۔ (صحیح بخاری کتاب الایمان باب زیادۃ الایمان ونقصانہ جلد ۱ صفحہ ۲۸ الحدیث : ۴۵،چشتی)(صحیح مسلم کتاب التفسیر صفحہ ۱۶۰۹ الحدیث : ۵ (۳۰۱۷))


آپ رضی اللہ عنہ کی مراد اس سے یہ تھی کہ ہمارے لیے وہ دن عید ہے ۔ نیز ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے آپ رضی اللہ عنہ سے بھی ایک یہودی نے ایسا ہی کہا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں ، جمعہ اور عرفہ ۔ (سنن ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ المائدۃ جلد ۵ صفحہ ۳۳ الحدیث : ۳۰۵۵)


اس سے معلوم ہوا کہ کسی دینی کامیابی کے دن کو خوشی کا دن منانا جائز اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے ورنہ حضرت عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم صاف فرما دیتے کہ جس دن کوئی خوشی کا واقعہ ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور اس روز کو عید منانا ہم بدعت جانتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ عید میلاد منانا جائز ہے کیونکہ وہ اللہ عزوجل کی سب سے عظیم نعمت کی یادگار و شکر گزاری ہے ۔


مذکورہ آیت سے سے معلوم ہوا : ⏬


پہلا یہ کہ صرف اسلام اللہ عوجل کو پسند ہے یعنی جو اَب دین محمدی کی صورت میں ہے ، باقی سب دین اب ناقابلِ قبول ہیں ۔


دوسرا یہ کہ اس آیت کے نزول کے بعد قیامت تک اسلام کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہو سکتا ۔


تیسرا یہ کہ اصولِ دین میں زیادتی کمی نہیں ہو سکتی ۔ اجتہادی فروعی مسئلے ہمیشہ نکلتے رہیں گے ۔


چوتھا یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا کیونکہ دین کامل ہو چکا ، سورج نکل آنے پر چراغ کی ضرورت نہیں ، لہٰذا قادیانی جھوٹے ، بے دین اور خدا عزوجل کے کلام اور دین کو ناقص سمجھنے والے ہیں ۔


پانچواں یہ کہ اسلام کو چھوڑ کر کوئی لاکھوں نیکیاں کرے اللہ عزوجل کو پیارا نہیں کیونکہ اسلام جڑ ہے اور اعمال شاخیں اور پتے اور جڑ کٹ جانے کے بعد شاخوں اور پتوں کو پانی دینا بے کار ہے ۔


ان آیات سے اسلام کے ایک کامل اور مکمل دین ہونے کا تصور ابھرتا ہے ۔


ایمان اسے کہتے ہیں کہ سچے دل سے اُن سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریاتِ دین ہیں اور کسی ایک ضرورتِ دینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں ، اگرچہ باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتا ہو ۔ ضروریاتِ دین وہ مسائلِ دین ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں ، جیسے اللہ عزوجل کی وحدانیت ، انبیا کی نبوت ، جنت و نار ، حشر و نشر وغیرہا ، مثلاً یہ اعتقاد کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں ، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا ۔

عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو طبقہ علما میں نہ شمار کیے جاتے ہوں ، مگر علما کی صحبت سے شرفیاب ہوں اور مسائلِ علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں ، نہ وہ کہ کوردہ (کم آباد اور چھوٹا گاؤں ، جسے کوئی نہ جانتا ہو اور نہ ہی وہاں تعلیم کا کوئی سلسلہ ہو) اور جنگل اور پہاڑوں کے رہنے والے ہوں جو کلمہ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے ، کہ ایسے لوگوں کا ضروریاتِ دین سے ناواقف ہونا اُس ضروری کو غیر ضروری نہ کر دے گا ، البتہ ان کے مسلمان ہونے کےلیے یہ بات ضروری ہے کہ ضروریاتِ دین کے منکر نہ ہوں اور یہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ اسلام میں جو کچھ ہے حق ہے ، ان سب پر اِجمالاً ایما ن لائے ہوں ۔ (بہار شریعت جلد 1 حصہ 1 صفحہ 172 ، 173 مکتبۃ المدینہ) ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Tuesday, 24 March 2026

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ سارے مسلمان ایک اُمت و ملت ہیں

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ سارے مسلمان ایک اُمت  و ملت ہیں

محترم قارئینِ کرام اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً ۔ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ ۔ (سورہ انبیاء آیت نمبر 92)

ترجمہ : بیشک یہ تمہاری ملت ہے جو درحقیقت ایک ہی ملت ہے اور میں (ہی) تمہارا رب ہوں سو تم میری (ہی) عبادت کرو ۔


اس آیتِ مبارکہ میں روئے زمین کے تمام لوگوں سے خطاب ہے ۔ امت اس قوم یا لوگوں کی اس جماعت کو کہتے ہیں جو دین واحد پر مجتمع ہو پھر اس کے مفہوم میں وسعت دے کر نفسِ دین پر بھی امت کا اطلاق کیا جاتا ہے اور یہاں مراد یہ ہے کہ روئے زمین کے تمام لوگوں کےلیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ملت اور ایک دین کی دعوت دی گئی ہے اور تمام انبیاء علیہم السلام نے اسی دین کی دعوت دی ہے اور سب کا دین اسلام ہے ۔ قرآن میں ہے : شرع لکم من الدین ماوصی بہ نوحاً والذی اوحینآ الیک وما وصینا بہ ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ ان اقیموا الدین ولاتنفرقوا فیہ ۔ (سورہ شوری آیت نمبر 13)

ترجمہ : اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی نوح کو وصیت کی تھی اور جس کی ہم نے آپ کی طرف وحی کی اور جس کی ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو وصیت کی تھی کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ کرو ۔


ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! بیشک یہ اسلام تمہارا دین ہے اور یہی تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام کا دین ہے ، اس کے سوا جتنے اَدیان ہیں  وہ سب باطل ہیں  اور سب کو اسی دینِ اسلام پر قائم رہنا لازم ہے اور میں  تمہارا رب ہوں ، نہ میرے سوا کوئی دوسرا ربّ ہے نہ میرے دین کے سوا اور کوئی دین ہے تو تم صرف میری عبادت کرو ۔ (تفسیر مدارک التنزیل صفحہ ۷۲۶)(تفسیر خازن جلد ۳ صفحہ ۲۹۴)


جو اصول اور عقائد تمام انئیاء علیہم السلام میں مشترک ہیں ان کو دین کہتے ہیں اور تمام انبیاء علیہم نے یہ دعوت دی تھی کہ اللہ کو ایک مانو وہی سب کا خالق اور رازق ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ اللہ کے رسول اللہ کا پغیام پہنچانے والے اور اس کے سچے اور برگزیدہ بندے ہیں ، تمام فرشتے ، تمام آسمانی صحائف اور کتابیں برحق ہیں ۔ ہر اچھی چیز اور بری چیز اللہ کی تقدیر سے وابستہ ہے ۔ قتل ، زنا اور جھوٹ بولنا حرام ہے اور اللہ کے احکام کو ماننا اور اس کی عبادت کرنا اور اس کا شکر ادا کرنا فرض ہے ۔ قیامت قائم ہوگی اور مرنے کے بعد بندوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور حساب لیا جائے گا ، نیک لوگوں کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا اور بدکاروں اور کافروں کو دوزخ میں داخل کر دیا جائے گا جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ تمام انبیاء علیہم السلام نے ان ہی چیزوں کی دعوت دی ہے اور یہی سب کا واحد دین ہے ، اس میں اختلاف کرنا جائز نہیں ہے ۔ البتہ ہر نبی کی شریعت میں ہی چیزوں کی دعوت دی ہے اور یہی سب کا واحد دین ہے ، اس میں اختلاف کرنا جائز نہیں ہے ۔ البتہ ہر نبی کی شریعت میں عبادت کے طریقے الگ الگ ہیں جو انہوں نے اپنے اپنے زمانے کے حالات اور رسم و رواج کے اعتبار سے مقرر فرمائے ۔ قرآن مجید میں ہے : لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جاً (سورہ المائدہ آیت نمبر 48)

ترجمہ : تم میں سے ہر ایک کےلیے ہم نے ایک صخاص) شریعت اور (مخصوص) راستہ معین کردیا ہے ۔


مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں مال غنیمت حرام تھا ، قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ اس کو آگ لے جاتی تھی۔ ہماری شریعت میں یہ چیزیں حلال ہیں ۔ پچھلی شریعتوں میں تیمیم کی سہولت نہ تھی ، مسجد کے سوا نماز پڑھنا جائز نہ تھا ، ہماری شریعت میں تیمیم کی سہولت اور ہر پاک زمین پر نماز پڑھنا جائز ہے ۔ پہلی شریعتوں میں غیر اللہ کےلیے سجدہ تعظیم جائز تھا ہماری شریعت میں اس کو حرام کر دیا گیا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : الانبیاء اخوۃ لعلات امھاتھم شتی ودینھم واحد ۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : 3443،چشتی)

ترجمہ : تمام نبی باپ شریک بھائی ہیں ، ان کی مائیں مختل ہیں اور ان کا دین واحد ہے ۔

یعنی تمام انبیاء علیہم السلام کا دین واحد ہے اور ان کی شریعت مختلف ہیں ۔ سو امتوں کا دین میں اختلاف کرنا جائز نہیں ہے ۔

 

اور فرمایا اور انہوں نے یعنی بےدینوں نے اپنے اپنے دین میں اختلاف کیا اور مختلف فرقے بنا لیے ۔ اس آیت میں دین میں فرقے بنانے کی مذمت کی گئی ہے اور احادیث میں بھی دین میں فرقہ بنانے کی ممانعت کی گئی ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہود کے اکہتر یا بہتر فرقے تھے اور نصاریٰ کے بھی اتنے ہی فرقے تھے اور میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (سنن الترمذی رقم الحدیب : 2640)(سنن ابودائود رقم الحدیث : 4596)(سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3991،چشتی)(مسند احمد ج 5 صفحہ 332)(مسند ابویعلی رقم الحدیث : 5910)(صحیح ابن حبان رقم الحدیث : 6247)(المستدرک حاکم جلد ١ صفحہ 128)


حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت پر بھی برابر ، برابر وہی امور وارد ہوں گے جو بنی اسرائیل پر وارد ہوتے رہے تھے حتیٰ کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں کے ساتھ علانیہ بدکاری کی تھی تو میری امت کے لوگ بھی ایسا کریں گے ، اور بنی اسرائیل کے بہتر فرقے تھے اور میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے اور ایک ملت کے سوا باقی تمام فرقے دوزخ میں ہوں گے ۔ مسلمانوں نے پوچھایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کون سی ملت ہوگی ؟ فرمایا جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں ۔ (سنن ابن ماجہ میں ہے جس ملت پر جماعت (صحابہ) ہو)(سنن الترمذی رقم الحدیث : 2641،چشتی)(المستدرک جلد ١ صفحہ 129)(سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3992)


قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ المعروف بابن العربی المالکی المتوفی 543 ھ علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : ہمارے علماء نے ان فرقوں کی یہ تفصیل ذکر کی ہے روافض کے بیس فرقے ہیں ، خوارج کے بیس فرقے ہیں ، القدریہ المعتزلہ کے بیس فرقے ہیں ، سات فرقے الارجاء کے ہیں ۔ ان کے علاوہ الفراریہ ، الجھمیہ ، الکرامیہ ، النجاریہ ہیں اور ایک فرقہ جھمیہ اور مرحبہ کا جامع ہے یہ بہتر فرقے ہو گئے ۔ (یہ فرقے علامہ ابن العربی علیہ الرحمہ کے دور کے اعتبار سی ہیں ، ان میں سے کچھ فرقے اپنی موت مر گئے اور کچھ نئے فرقے وجود میں آگئے) ایک اور فرقہ ہے جو صرف ظاہر قرآن اور حدیث کو مانتا ہے اور قیاس اور استدلال کا انکار کرتا ہے ۔ یہ بھی قدریہ کی ایک قسم ہے ، ان کو ہمارے ملک اندلیس میں ایک شخص نے گمراہ کیا اس کا نام ابن حزم ہے ۔ اس نے اپنے آپ کو ظاہر کی طرف منسوب کیا اور داٶد کی پیروی کی ۔ (ہمارے دور میں غیر مقلدرین اس کے پیرو کار ہیں) (عارضتہ الاحوذی جلد 10 صفحہ 78 - 80 ملحضاً مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1418 ھ)


آئے دن ہمارے دانشور یہ نظریہ اور فکر و فلسفہ پیش کرتے رہتے ہیں کہ اُمتِ مسلمہ کا تصور ایک خواب ہے ، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ امت کا اتحاد مفروضہ ہے ، اور مسلم راہنما اپنے سادہ لوح عوام کو مفروضے پر جمع کرنے کی باتیں کرتے چلے آرہے ہیں ۔ یہاں چند اصولی باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ پہلی اصولی بات یہ ہے کہ اُمت کا تصور کسی فلسفی ، مفکر اور سیاستدان نے نہیں دیا ، بلکہ اس کا تصور خود ربِ کائنات نے قرآن میں اورآپ ﷺ نے احادیث میں دیا ہے ، چنانچہ قرآن کی سورت الانبیاء کی آیت نمبر 92 ہے : اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً ۔ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ ۔ (سورہ انبیاء آیت نمبر 92)

ترجمہ : بیشک یہ تمہاری ملت ہے جو درحقیقت ایک ہی ملت ہے اور میں (ہی) تمہارا رب ہوں سو تم میری (ہی) عبادت کرو ۔


مسلمان خواہ کسی ملک اور خطے کا ہو کسی بھی رنگ اور قبیلے کا ہو کوئی زبان بولتا ہو ان سب کو قرآن مجید نے ایک برادری قرار دیا ۔ ارشاد باری تعالیٰ  ہے : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ ۔ (سورہ الحجرات آیت نمبر 10)

ترجمہ : مسلمان مسلمان بھائی ہیں ۔


مسلمان توآپس میں بھائی بھائی ہی ہیں  کیونکہ یہ آپس میں  دینی تعلق اورا سلامی محبت کے ساتھ مَربوط ہیں  اوریہ رشتہ تمام دُنْیَوی رشتوں  سے مضبوط تر ہے ، لہٰذاجب کبھی دو بھائیوں  میں  جھگڑا واقع ہو تو ان میں  صلح کرا دو اور اللہ تعالیٰ سے ڈروتا کہ تم پر رحمت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور پرہیزگاری اختیار کرنا ایمان والوں  کی باہمی محبت اور اُلفت کا سبب ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے ۔ (تفسیر خازن جلد ۴ صفحہ ۱۶۸)(تفسیر مدارک صفحہ ۱۱۵۳)


حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پرظلم کرے نہ اس کورُسوا کرے ، جوشخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں  مشغول رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرتا ہے اورجوشخص کسی مسلمان سے مصیبت کو دورکرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مَصائب میں  سے کوئی مصیبت دُور فرما دے گا اور جو شخص کسی مسلمان کا پردہ رکھتا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کا پردہ رکھے گا ۔ (صحیح بخاری کتاب المظالم والغصب، باب لا یظلم المسلم  الخ جلد ۲ صفحہ ۱۲۶ الحدیث: ۲۴۴۲)


حضر ت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ سارے مسلمان ایک شخص کی طرح ہیں ، جب اس کی آنکھ میں  تکلیف ہوگی تو سارے جسم میں تکلیف ہوگی اور اگر اس کے سرمیں درد ہو تو سارے جسم میں دردہوگا ۔ (صحیح مسلم کتاب البرّ والصّلۃ والآداب باب تراحم المؤمنین ۔ الخ صفحہ ۱۳۹۶ الحدیث : ۶۷ ، ۲۵۸۶)


حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کےلیے عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے ۔ (صحیح مسلم کتاب البرّ والصّلۃ والآداب باب تراحم المؤمنین ۔ الخ صفحہ ۱۳۹۶ الحدیث : ۶۵ ، ۲۵۸۵،چشتی)


صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6011 ہے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسلمان آپس میں پیار و محبت ، رحم وشفقت اور مہربانی برتنے میں ایک جسم کی مثال رکھتے ہیں کہ جسم کا ایک عضو بیمار پڑ جائے تو سارا جسم اضطراب اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔


لہٰذا یہ کہہ دینا کہ مسلم اُمہ کا اتحاد اور اس کی تشکیل ایک خواب ہی رہی ہے ، اس کا وجود کہیں نظر نہیں آیا ۔ خلافِ حقیقت اور زمینی حقائق جھٹلانے والی بات ہے ۔ سلطنت عثمانیہ نے ایشیا ، افریقہ اور یورپ بیک وقت تین برِاعظموں پر 700سال تک حکومت کی ۔ کیا یہ اُمہ کے تصور کے بغیر ممکن ہو سکتا تھا ؟ اور یہ سوال کہ دنیا میں مذہب کے نام پر سب سے زیادہ جنگیں ہوئی ہیں ، تاریخ کو مسخ کرنے والی بات ہے ۔ پوری انسانی تاریخ میں جتنے لوگ جنگوں میں مرے ہیں اس کا 78 فیصد گزشتہ ساڑھے پانچ سو سالوں میں ہلاک ہوئے ہیں ، اور اکیسویں صدی میں انسانی تاریخ کی سب سے بڑی اور خوفناک جنگیں ہوئیں ۔ دنیا میں سب سے زیادہ خونریزی سیکولرازم ، کیپٹل ازم اور لبرل ازم نے کی ہے ۔ آج امریکا جس بنیاد پر کھڑا ہے اس میں 10 کروڑ لوگوں کا خون ہے ، جبکہ اسلامی تاریخ کے 15 سو سال کے اندر 10 لاکھ افراد بھی قتل نہیں ہوئے ۔ انقلابِ فرانس ، انقلابِ روس اور انقلابِ چین میں بھی 8 کروڑ سے زیادہ لوگ قتل کیے گئے ، یہ تینوں سیکولر انقلاب تھے ۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم میں مجموعی طور پر 11 کروڑ سے زائد لوگ قتل کیے گئے ۔ آج بھی جتنی قتل و غارت مذہب کے نام پر ہورہی ہے اسے کہیں زیادہ ہوسِ ملک گیری اور دنیا کے وسائل پر قبضے کی جنگوں میں مارے جارہے ہیں ۔ کیا یہ مذہب سکھاتا ہے کہ ایسا کرو ؟


اسلامی بلاک کا نظریہ کسی سیاستدان نے نہیں بلکہ خالقِ کائنات نے قرآن میں دیا ہے ۔ سورۃ التغابن کی دوسری آیت ہے : وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن ۔ اُمت کےلیے جغرافیائی حدبندیاں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں ۔ رنگ اور زبان ، نسب و خاندان ، وطن اور ملک میں سے کوئی چیز ایسی نہیں جو انسانی برادری کو مختلف گروہوں میں بانٹ دے ۔ ایک باپ کی اولاد اگر مختلف شہروں میں بسنے لگے یا مختلف زبانیں بولنے لگے یا ان کے رنگ میں تفاوت ہو تو وہ الگ الگ گروہ نہیں ہو جاتے ۔ اختلافِ رنگ و زبان اور وطن و ملک کے باوجود یہ سب آپس میں بھائی ہی ہوتے ہیں ۔ فقہائے اسلام اور علماء کا متفقہ فیصلہ ہے دنیا بھر کے مسلمان ایک ملت اور ایک قوم ہیں اور دنیا بھر کے کافر الگ ملت اور قوم ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عملاً یہی تعلیم دی تھی ۔ قریش کے ابوجہل سے جنگ کی اور حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو سینے سے لگالیا ، جو افریقہ سے آئے تھے ۔ صہیبِ رومی روم اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہما ایران سے آئے تھے ان کو اپنے دامن محبت میں جگہ دی ۔


جب ہم وحدتِ امت کی بات کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ موجودہ تمام اسلامی ممالک اپنی اپنی جغرافیائی حدود ختم کر کے ایک نئی جغرافیائی وحدت میں تبدیل ہو جائیں ، بلکہ جس طرح آج دنیا کے مختلف خطوں میں علاقائی ، نسلی ، لسانی بنیاد پر ممالک کی تنظیمیں موجود ہیں ، اس طرح مسلمان ممالک کا بھی اپنا کوئی ایسا مشترکہ ادارہ موجود ہو جو دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی ترجمانی کر سکے ۔ اسلامی تاریخ میں الگ الگ خطوں میں الگ سلطنتوں کی مثالیں موجود رہی ہیں ۔ تصورِ ممالک اور تصورِ مسلم امہ دو الگ الگ چیزیں ہیں ۔


پاکستان اسلامی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا ۔ قائد اعظم محمد علی جناح علیہ الرحمہ نے کہا تھا پاکستان اس لیے بنا رہا ہوں تاکہ مراکش سے لے کر چین تک عظیم مسلم اتحاد قائم ہو ۔ یہ ایک نظریاتی ، مذہبی ، دینی ریاست ہوتی ہے جہاں برتر قانون قرآن و حدیث ہوتے ہیں ۔ اگر مشرقی پاکستان جدا ہوا ہے تو اس کا سبب وہ نہیں جو آج کے دانشور بیان کرتے ہیں ۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی اصل وجہ مذہب نہیں بلکہ مذہب سے انحراف ہی ہے ۔ یہ نسلی تعصب تھا جس نے ہمارے بنگالیوں بھاٸیوں کو جدا ہونے پر مجبور کیا ۔


مذہب کی بنیاد پر اتحاد صرف اسلام میں ہی نہیں ، بلکہ عیسائیت اور دیگر مذاہب میں بھی ملتا ہے ۔ دیکھیں ! ایک امریکہ پر حملہ ہوتا ہے تو 42 عیسائی ممالک جمع ہو جاتے ہیں ۔ توہینِ رسالت کے مرتکب چارلی ایبڈو پرحملہ ہو جاتا ہے تو اگلے ہی روز سارے پورپی ممالک ’’ہم چارلی ہیں‘‘ کا نعرہ بلند کر دیتے ہیں ۔ اب آپ ہی بتائیں کہ ان ممالک کے درمیان آخر کیا قدر مشترک کیا ہے ؟


دور نہ جائیں ! ابھی کچھ عرصہ قبل امریکہ میں جو الیکشن ہوئے ہیں ، اس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جو جیت ہوئی ہے ، اس میں اسلام اور مسلم دشمنی کا بھی شاید ایک فیکٹر تھا حالانکہ پوری دنیا یہ کہہ رہی تھی کہ ٹرمپ جیسا متعصب شخص سپرپاور امریکہ کا صدر نہیں بن سکتا ۔ علامہ ابن خلدون علیہ الرحمہ کا قول ہے کہ تعصبات ، نسلی امتیازات اور مذہب کا سیاست میں گہرا اثر ہوتا ہے ۔ بھارت میں مودی کا حکمران بننا اور امریکہ میں ٹرمپ کی جیت اس کی یہ تازہ مثالیں ہیں ۔ اس کی کچھ تفصیل ’’سیموئیل پی ہنٹنگٹن‘‘ کے مقالات میں بھی دیکھی جا سکتی ہے ۔


آج مسلم ممالک میں جو کچھ ہو رہا ہے ، فرقہ واریت ، ماردھاڑ اور خانہ جنگی ہے ، اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو اس قتل و غارت میں بھی یہی ’’کافر صنم‘‘ نظر آتا ہے ۔ یاد رکھیں اسلامی تعلیمات میں سب سے زیادہ زور اتفاق و اتحاد پر دیا گیا ہے ۔ آپس میں محبت ، بھائی چارہ ، ایمان ، اتحاد اور یقین مسلمانوں کا موٹو ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع میں حکم فرمایا تھا: ’’دیکھو! باہمی اختلافات میں نہ پڑ نا ۔ قرآن میں ہے : وَلَا تَفَرَّقُوْا ’’ اختلاف ہرگز نہ کرو ۔ آج اگر امتِ مسلمہ زوال وغیرہ کا شکار ہے تو اس اصل وجہ یہی اتفاق و اتحاد کا فقدان ہے ۔


اِسلام ایک عالمی دِین ہے اور اُس کے ماننے وَالے عرب ہوں یا عجم ، گورے ہوں یا کالے ، کسی قوم یا قبیلے سے تعلق رَکھتے ہوں ، مختلف زبانیں بولنے وَالے ہوں ، سب بھائی بھائی ہیں اور اُن کی اس اخوت کی بنیاد ہی اِیمانی رِشتہ ہے اور اس کے بالمقابل دُوسری جتنی اخوت کی بنیادیں ہیں ، سب کم زور ہیں اور اُن کا دَائرہ نہایت محدود ہے ۔ یہی وَجہ ہے کہ اِسلام کے اِبتدائی اور سنہری دور میں جب بھی ان بنیادوں کا آپس میں تقابل و تصادم ہوا تو اخوتِ اِسلامیہ کی بنیاد ہمیشہ غالب رہی ۔


کافر کوئی بھی عقیدہ رکھے ایک ہی ملت ہیں حدیث میں ارشاد ہے کہ اَلْکُفْر مِلَّۃ’‘ وَاحِدَہ ، کفر ایک ملت ہیں ۔ اس طرح قرآن و سنت نے دنیا کے تمام انسانوں کو دو الگ الگ ملتوں میں تقسیم کرکے فیصلہ کردیا کہ مسلمان ایک ملت اور کافر دوسری ملت ہیں اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کافروں کے ساتھ حسن سلوک ، انصاف ، خیرخواہی ، مدارات تو کرو لیکن محبت و دوستی کسی صورت میں تمہارے لیئے جائزہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو اپنا راز دار بناؤ اور نہ ہی ان کے طور طریقے اختیار کرو بلکہ جو کفار تم سے لڑے تمہارے دین کے درپے ہوں ان کے ساتھ جنگ کرو ۔


دنیا میں مدینۃُ المنوّرہ پہلی اسلامی ریاست تھی جو کہ اسی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی اس کے بعد مملکت خداداد پاکستان وہ ریاست ہے جو کہ اسی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوئی ۔ اس وقت دنیا میں جو ممالک موجود ہیں ان سب کی بنیاد جغرافیائی سرحدیں ہیں جو کہ دراصل مغرب کا نظریہ ہے اہل مغرب نے خاندانی ، نسلی اور قبائلی بنیادوں میں ذرا وسعت پیدا کرکے قومیت کی بنیادیں جغرافیائی حدود پر استوار کیں ۔ جبکہ پاکستان کی بنیاد نہ تو رنگ زبان و نسل ہے اور نہ ہی جغرافیائی حدود بلکہ اس کی بنیاد لاالہ الا اللہ ہے ۔ کہ ایک عقیدہ اور ایک کلمہ کی بنیاد پر جو قوم بنی ہے یعنی امت مسلمہ اور ملت اسلامیہ وہ سب اس مملکت کے باشندے ہیں ۔


قرآنِ کریم نے مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دِیا ہے اور اس اخوت اور محبت کو اللہ کی نعمت قرار دِیا ہے اور اس محبت اور اِتحاد پر اُن کی قوت اور طاقت کا مدار ہے ۔ اس اخوت کو قائم رَکھنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور اُن تمام صفات کو اَپنانا جن سے یہ اخوت کا رِشتہ مضبوط ہوتا ہے ، جیسے خیر خواہی ، محبت ، اِخلاص ، اِیثار ، ملنا ملانا ، صلح جوئی اور ایک دُوسرے کو سلام اور دُعا پیش کرنا وَغیرہ ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کو اپنے باہمی تعلقات سمجھنے اور اس کے تقاضوں  کے مطابق عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Wednesday, 18 March 2026

جمعہ اور عید دن جمع ہوجائیں تو شرعی حکم

جمعہ اور عید دن جمع ہوجائیں تو شرعی حکم

محترم قارئینِ کرام : اگر عید جمعہ کے دن آ جائے تو دونوں نمازیں اپنے اپنے مقررہ اوقات پر حسبِ معمول ادا کی جائیں گی ۔ رحمتیں اور برکتیں دوگنا ہو جائیں گی ۔ جمعہ اور عید کا جمع ہونا بھاری یا منحوس نہیں ، بلکہ باعثِ خیر و برکت ہے کہ ایک دن میں دو عیدیں اور دو عبادتیں نصیب ہوئیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم اور صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہم کے ادوارِ مبارک میں بھی کئی بار ایسا ہوا کہ جمعہ و عید ایک دن میں اکٹھے ہوئے ، مگر اسے بھاری یا منحوس سمجھنا کسی سے منقول نہیں ، بلکہ حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ دونوں کا جمع ہونا خیر و برکت ہی کا ذریعہ ہے اور دونوں کے جمع ہونے کو بھاری یا منحوس سمجھنا بدشگونی لیناہے ، جو  جائز نہیں ۔ حدیثِ مبارکہ میں جمعہ کے دن عید ہونے کو مسلمانوں کے واسطے خیر قرار دیا گیا ، مُصَنَّف عبدُالرّزاق میں ہے : ذَکوان سے مروی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانۂ مبارَک میں عیدُالفطر یا عیدُالاضحیٰ جمعہ کے دن ہوئی ، کہتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : بے شک تم نے ذِکر اور بھلائی کو پایا ہے ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 3 صفحہ 176 حدیث نمبر 5745)


ابو صالح الزیات سے مروی ہے : إِنَّ النَّبِی صلی الله عليه وآله وسلم اجْتَمَعَ فِی زَمَانَه يَوْمٍ جُمْعَةِ وَ يَوْمَ فطر، فَقَالَ :  إِنَّ هَذَا الْيَوْمَ يُوْم، قد اجْتَمَعَ فِيْه عَيْدَانِ، فَمَنْ أَحَبَّ فَلْيَنْقَلِبْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْتَظِرَ فَلْيَنْتَظِرْ ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 3 صفحہ 304 رقم :  5729)

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں جمعہ اور عید الفطر ایک دن میں جمع ہوگئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا :  آج ایک دن میں دو عیدیں جمع ہوگئیں، جو گھر واپس جانا چاہے چلا جائے اور جو نماز جمعہ کا انتظار کرنا چاہے، وہ انتظار کرے ۔


حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا عید الفطر اور جمعہ کا دن جمع ہوگئے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے نماز عید کے بعد لوگوں کو خطبہ دیا اور پھر فرمایا :  یہ دو عیدیں ایک دن میں جمع ہو گئی ہیں ۔ فمن کان من أهل العوالی فأحب أن يمکث حتی يشهد الجمعة فليفعل، ومن أحب أن ينصرف فقد أذنا له ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 3 صفحہ 305 رقم :  5732،چشتی)

ترجمہ : پس جو مضافات کا باشندہ ہے اور نماز جمعہ میں شامل ہونا چاہتا ہے تو شامل ہو جائے اور جو گھر کو لوٹنا چاہے تو اسے بھی اجازت دے دی گئی ہے ۔


حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : کان رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم يقرأ فی الجمعة والعيد بِه :  ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی﴾ وَ ﴿هَلْ أَتَاکَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ﴾ فَإِذَا اجْتَمَع الجمعة وَ العيدان فی يوم قرأ بهما ۔ (سنن الکبری نسائی جلد 1 صفحہ 547 رقم :  1775)

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جمعہ و نماز عید میں سَبِّح اسْمَ رَبِّکَ الاعْلٰی  (سورۃ الاعلی) اور هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ۔ (سورۃ الغاشیہ) پڑھا کرتے تھے ۔ جب ایک دن میں جمعہ و عیدین جمع ہو جائے تو (بھی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہی دو سورتیں پڑھتے تھے ۔


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا : أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عِيْدَيْنِ؟ قَالَ :  نَعَمْ، صَلَّی الْعِيْدَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ثُمَّ رَخَّصَ فِی الْجُمعَة ۔ (سنن نسائی کتاب صلاة العيدين باب الرخصة في التخلف عن الجمعة لمن شهد العيد جلد 3 صفحہ  194 رقم :  1591،چشتی)

ترجمہ : کیا آپ نے دو عیدیں (یعنی جمعہ اور عید اکٹھی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھی ہیں؟ انہوں نے کہا :  جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دن چڑھے نمازِ عید پڑھائی پھر نماز جمعہ میں رخصت عطا فرما دی ۔


امام محمد نے الجامع الصغیر میں ایک ہی دن میں دو عیدوں کے جمع ہونے کے متعلق فرمایا : يشهدهما جميعًا ولا يترک واحدا منهما ، والأولي منهما سنة والأخری فريضة ۔ (ابن نجيم، البحرالرائق جلد 2 صفحہ 70)

ترجمہ : دونوں میں حاضری ہوگی اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا ، کیونکہ پہلی سنت (واجب) ہے دوسری فرض ۔


امام ابن عابدین شامی فرماتے ہیں : عيدان اجتمعا فی يوم واحد، فالاول سنة والثاني فريضة، ولا يترک واحد منهما ۔ (ابن عابدين، رد المحتار جلد 2 صفحہ 166،چشتی)

ترجمہ : جب ایک دن میں دو عیدیں (عید اور جمعہ) جمع ہو جائیں تو پہلی سنت (واجب) اور دوسری فرض ہے ۔ کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا ۔


امام ابو بکر بن مسعود کاسانی فرماتے ہیں : تجب صلاة العيدين علی أهل الاحصار کما تجب الجمعة ، دونوں عیدوں کی نماز شہریوں پر ایسی ہی واجب ہے جیسے نماز جمعہ واجب ہے ۔ امام کاسانی البدائع الصنائع میں امام محمد کی رائے سے متعلق لکھتے ہیں : فإنه قال فی العيدين اجتمعا فی يوم واحد، فا لأول سنة . . . فی الجامع الصغير أنها واجبة بالسنة . . . والصحيح أنها واجبة ۔ (کاسانی بدائع الصنائع جلد 1 صفحہ 275)

ترجمہ : امام محمد نے کہا جمعہ اور عید ایک دن میں جمعہ ہو جائیں تو پہلی (نماز عید) سنت ہے ۔ ۔ ۔ جامع صغیر میں ہے کہ نماز عید سنت کی رو سے واجب ہے ۔ ۔ ۔ صحیح یہ ہے کہ نماز عید واجب ہے ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن نماز عید و جمعہ دونوں پڑھائیں ۔ ہمارے لیے یہ دلیل کافی ہے ۔ ہم جو کچھ سمجھے ہیں وہ یہ ہے کہ نماز عید پڑھا کر مضافات مدینہ سے آنے والے لوگوں کو آپ نے رخصت دے دی کہ جو چاہے مدینہ منورہ میں رہے اور نماز جمعہ بھی ادا کرے اور جن کے گھر شہر سے اتنے دور ہیں کہ وہاں نماز جمعہ و عیدین ادا نہیں کر سکتے وہ چاہیں تو نماز جمعہ ادا کرنے سے پہلے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں ۔ پس جو شہر میں رہ جائیں گے ان پر نماز جمعہ فرض ہوگی اور جو جمعہ کے وقت سے پہلے ہی گاؤں چلے گئے ان پر نماز جمعہ فرض ہی نہ ہوئی کہ اس کےلیے شہر ہونا شرط ہے ۔ اگر عید جمعہ کے دن آجائے ، تو حسبِ شرائط جمعہ کی نماز پڑھنا فرض ہے ، عید کی وجہ سے جمعہ کے بجائے گھر میں ظہر کی نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے ، اگر کوئی شخص اس دن گھر میں ظہر پڑھنے کو مسنون کہتا ہے ، تو اس سے دلیل کا مطالبہ کیا جائے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر اور دعا کرنا مستند دلاٸل کی روشنی میں

نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر اور دعا کرنا مستند دلاٸل کی روشنی میں محترم قارٸینِ کرام : نماز کے بعد ذکر بالجہر کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ افضل...