Wednesday, 19 August 2026

عیدِ میلادالنبی ﷺ کی ضد میں عیدیں صرف دو ہیں کہنے والے جہلائے زمانہ کو مدلل جواب

عیدِ میلادالنبی ﷺ کی ضد میں عیدیں صرف دو ہیں کہنے والے جہلائے زمانہ کو مدلل جواب

محترم قارئینِ کرام اللہ عزوجل کا ارشاد مبارک ہے : اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ ۔ (سورہ المائدہ آیت نمبر 3)

تفسیر عثمانی میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت مولوی شبیر احمد عثمانی دیوبندی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے یہودیوں نے مذکورہ آیت کے بارے میں حضرت عمر سے کہا اگر یہ آیت ہم پر اترتی تو ہم اسے عید کا دن کہتے جواب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے لیے تو دو عید ہیں یعنی یہ آیت جس دن نازل ہوئی  وہ عرفہ اور جمعہ کا دن تھا ۔ (تفسیر عثمانی جلد اوّل صفحہ 498 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی) ۔ معترضین کو لفظ عید سے تکلیف تھی اس لیے عید کا لفظ انہیں کے گھر سے دیکھا دیا ۔ موصوف بھی مانے کہ اسلام میں صرف عیدُالفطر اور عیدُالاضحی کا دن عید نہیں اس کے علاوہ بھی عید ہو سکتی ہے ۔ اب ان کا کہنا کہ اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں تیسری عید کہاں سے آٸی تو جس طرح دین کے مکمل ہونے پر  اس دن کو لفظ عید سے تعبیر کیا گیا تو جس دن صاحب دین آئے تو اس دن کو عید کا دن شمار کرنا کیسے ناجائز ہو گیا ۔


تکمیلِ دین سے متعلق یہ آیتِ مبارکہ حجۃ الوداع میں عرفہ کے روز ، جمعہ کے دن ، عصر کے بعد نازل ہوئی اور بتادیا گیا کہ حرام و حلال کے جو احکام ہیں وہ اور قِیاس کے قانون سب مکمل کردیے ، اسی لیے اس آیت کے نزول کے بعد بیانِ حلال و حرام کی کوئی آیت نازل نہ ہوئی اگرچہ ’’وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ‘‘ نازل ہوئی جووعظ و نصیحت پر مشتمل ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ دین کامل کرنے کے معنی اسلام کو غالب کرنا ہے جس کا یہ اثر ہے کہ حجۃ الوداع میں جب یہ آیت نازل ہوئی تو کوئی مشرک مسلمانوں کے ساتھ حج میں شریک نہ ہو سکا ۔ ایک قول یہ ہے کہ آیت کا معنیٰ یہ ہے کہ میں نے تمہیں دشمن سے امن دی ، ایک قول یہ ہے کہ دین کا اِکمال یعنی مکمل کرنا یہ ہے کہ وہ پچھلی شریعتوں کی طرح منسوخ نہ ہوگا اور قیامت تک باقی رہے گا ۔ (تفسیر خازن جلد ۱ صفحہ ۴۶۴)


اس آیت کے متعلق بخاری و مسلم کی حدیث مبارکہ یہ ہے : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے ، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نازل ہونے کے دن عید مناتے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کون سی آیت ؟ اس یہودی نے یہی آیت ، اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ ، پڑھی ۔ آپ  رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اس دن کو جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی تھی اور اس کے نازل ہونے کے مقام کو بھی پہچانتا ہوں ، وہ مقام عرفات کا تھا اور دن جمعہ کا ۔ (صحیح بخاری کتاب الایمان باب زیادۃ الایمان و نقصانہ صفحہ 28 حدیث نمبر 45،چشتی)(صحیح مسلم کتاب التفسیر صفحہ 1474 ، 1475 نمبر حدیث 3017 مطبوعہ دارالفکر بیروت)(تیسیر الباری شرح بخاری جلد 1 صفحہ 106 مطبوعہ نعمانی کتبخانہ اردو بازار لاہور) ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی مراد اس سے یہ تھی کہ ہمارے لیے وہ دن عید ہے ۔ 


حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت ، اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ ، پڑھی تو ایک یہودی نے کہا اے ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ آیت اگر ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نازل ہونے کے دن عید مناتے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں ، جمعہ اور عرفہ ۔ (سنن ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ المائدۃ صفحہ 866 حدیث 3055 مطبوعہ دارالفکر بیروت)


اس سے معلوم ہوا کہ کسی دینی کامیابی کے دن کو خوشی کا دن منانا جائز اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے ورنہ حضرت عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم صاف فرما دیتے کہ جس دن کوئی خوشی کا واقعہ ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور اس روز کو عید منانا ہم بدعت جانتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ عید میلاد کہنا اور منانا جائز ہے کیونکہ وہ اللہ عزوجل کی سب سے عظیم نعمت کی یادگار و شکر گزاری ہے ۔


محترم قارئینِ کرام : اسلام میں شرعا دو عیدیں ہی ہیں جنہیں عیدالفطر اور عیدالاضحی کہتے ہیں ۔ کسی اور دن کے ساتھ لفظ عید لگانے میں شرعا کوئی ممانعت نہیں ۔ اگر ممانعت ہے تو آپ وہ ممانعت قرآن و حدیث سے ثابت کر دیں ۔ اب رہا یہ سوال کہ کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کسی اور دن کو عید کا دن کہتے تھے ؟ ۔ تو اس کا جواب غیرمقلدین وہابی حضرات کے علامہ وحیدالزمان بخاری کی شرح بنام تیسیرالبخاری کی جلد 6 صفحہ 104 پر ایک حدیث لکھی ہےجو اصل کتاب بخاری شریف کی جلد 2 صفحہ 662 پر موجود ہے ۔


حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں یہودی لوگ (مثلاً کعب احبار) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے ۔ تم (اپنے قرآن مجید میں) ایک ایسی آیت پڑھتے ہو اگر وہ آیت ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید (خوشی کا دن) مقرر کرلیتے ۔ حضرت عمر نے پوچھا وہ کون سے آیت ہے ، انہوں نے کہا ۔ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیۡکُمْ نِعْمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسْلٰمَ دِیۡنًا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں خوب جانتا ہوں یہ آیت مبارکہ کب اتری اور کہاں اتری ؟ اور جس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہاں تھے ؟ یہ آیت مبارکہ عرفہ کے دن نازل ہوئي اس وقت اللہ تبارک و تعالی کی قسم ۔ ہم میدان عرفات میں تھے ۔ حضرت سفیان ثوری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں مجھ کو شک ہوا اس دن جمعہ تھا یا کوئی اور دن ۔ اس حدیث کو لکھنے کے بعد وحید الزماں نے لکھا ہے قیس بن سلمہ کی روایت میں بالیقین مذکور ہےکہ وہ جمعہ کا دن تھا تو اس دن دوہری عید ہوئی ۔ (تیسیر الباری شرح بخاری جلد 6 صفحہ 104 مطبوعہ تاج کمپنی،چشتی)


دوہری سے مراد "یوم عرفہ" اور" یوم جمعہ" ہے یعنی جمعۃ المبارک بھی "عید" کا دن ہے ۔


مشکوۃ صفحہ 121 میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت موجود ہے ۔جس میں آپ نے یہودی کو جواباً ارشاد فرمایا کہ اس دن ہماری دو عیدیں تھیں ۔ مراد "یوم عرفہ" اور" یوم جمعہ" ۔ حضرت عبداللہ کے جواب کا مقصد یہودی کو یہ بات سمجھانا اور باور کروانا تھا کہ تم ایک"عید" کی بات کرتے ہو جب یہ آیت نازل ہوئی ان دن ہماری دو عیدیں تھیں ۔ یعنی یوم عرفہ اور جمعہ ۔


حضرت عبید بن سباق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جمعوں میں ایک جمعہ میں فرمایا : اے مسلمانوں کے گروہ یہ وہ دن ہے جسے اللہ تعالی نے عید بنایا ہے ۔ تو غسل کرو اور جس کے پاس خوشبو ہو تو اسے لگانے میں کوئی نقصان نہیں ۔ مسواک لازم پکڑو ۔ (مشکوۃ صفحہ 123)(سنن ابن ماجہ صفحہ 7)


ہمارے نزدیک تو تمام عیدیں ، عیدِ میلادُ النّبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا صدقہ ہیں ۔ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیدا نہ ہوتے تو نہ عیدُالفطر ہوتی اور نہ عیدُالاضحیٰ ہوتی ۔ یہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت با سعادت کی "عید" کے صدقہ میں ہمیں عطا ہوئيں ۔


معترضین حضرات ’’عید‘‘ کی تعریف سے ہی واقف نہیں اگر کچھ علم پڑھ لیا ہوتا تو ایسی باتیں نہ کرتے ۔ عید کی تعریف اور جشنِ میلاد کو عید کہنے کی وجہ : ابوالقاسم امام راغب اصفہانی علیہ الرحمہ (المتوفی 502ھ) عید کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’عید اسے کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے ، شریعت میں یہ لفظ یوم الفطر اور یوم النحر کےلیے خاص نہیں ہے ۔ عید کا دن خوشی کےلیے مقرر کیا گیا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا ’’عید کے ایام کھانے پینے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ وقت گزارنے کےلیے ہیں‘‘ اس لیے ہر وہ دن جس میں خوشی حاصل ہو ، اس دن کےلیے عید کا لفظ مستعمل ہو گیا ہے جیسا کہ اللہ عزوجل کا حضرت عیسٰی علیہ السلام کی دعا سے متعلق ارشاد ہے کہ ’’ہم پر آسمان سے خوان (کھانا) اتار کہ وہ ہمارے (اگلوں پچھلوں کےلیے) عید ہو‘‘ اور عید انسان کی اس حالت خوشی کو کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے اور ’’العائدۃ‘‘ ہر اس منفعت کو کہتے ہیں جو انسان کو کسی چیز سے حاصل ہو ۔ علامہ راغب اصفہانی علیہ الرحمہ کے مذکورہ بالا کلام سے معلوم ہوا کہ عید ہر اس دن کو کہتے ہیں : جس میں انسان کو کوئی خوشی حاصل ہو ۔ جس میں اللہ عزوجل کی طرف سے کوئی خصوصی رحمت و نعمت عطا ہوئی ہو ۔ جسے کسی خوشی کے موقع سے کوئی خاص مناسبت ہو ۔ الحمدﷲ عزوجل جل علی احسانہ ! بارہ ربیع الاول کے موقع پر یہ تینوں صورتیں ہی جمع ہوتی ہیں ۔ آپ خود ہی فیصلہ کیجیے کہ ایک مسلمان کےلیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ولادت پاک کے دن سے بڑھ کر کیا خوشی ہو سکتی ہے ؟ اس خوشی کے سبب بھی بارہ ربیع الاول کو عید کا دن قرار دیا جاتا ہے ۔


آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جن کے صدقے ہمیں خدا کی پہچان ملی  ، ایمان کی لازوال دولت ملی  ، قرآن جیسا بابرکت تحفہ ملا جن کے صدقے زندگی گزارنے کا ڈھنگ آیا اور جن کی ذات اقدس ہمارے لئے سراپا رحمت ہے ان سے بڑھ کر کون سی رحمت اور کون سی نعمت ہے ؟ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حواری خوان رحمت عطا ہونے والے دن کو عید کہہ سکتے ہیں اور وہ دن ان کے اگلوں پچھلوں کےلیے یوم عید ہوسکتا ہے تو ہم بدرجہ اولیٰ اس بات کے مستحق ہیں کہ امام الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روز ولادت کو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا نام دیں اور عید منائیں ۔


معترضین کہتے ہیں کہ کسی معتبر کتاب میں یومِ میلاد کو عید نہیں لکھا گیا ۔ حوالہ پیشِ خدمت ہے اور اس حوالے کے اعتبار کےلیے صرف اتنا ہی کہوں گا کہ اشرف علی تھانوی دیوبندی نے اور تمام علمائے دیوبند نے اس کتاب کو اپنی تحریروں کی وقعت ظاہر کرنے کےلیے حوالہ دے کر جگہ جگہ اس کا ذکر کیا ہے اور نشرالطیب تو اس کتاب کے حوالوں سے بھری ہوئی ہے اور معترضین کی مزید تسلی کےلیے عرض ہے کہ اس کتاب کے عربی متن کے اردو ترجمہ پر تعریفی تقاریظ علمائے دیوبند نے لکھی ہیں ۔ اس کتاب کا نام مواہب لدنیہ ہے ترجمہ کو سیرۃ محمدیہ بھی کہا جاتا ہے ۔ امام احمد بن محمد بن ابی بکر الخطیب قسطلانی علیہ الرحمہ کی یہ کتاب پانچ سو برس پرانی ہے ۔ اس کی شرح زرقانی آٹھ ضخیم جلدوں میں علامہ ابو عبداللہ امام محمد زرقانی علیہ الرحمہ نے لکھی جو اہل علم میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے ۔ 1338 ہجری میں جن علمائے دیوبند نے اس کتاب پر تعریفی تقاریظ لکھیں ان کے نام بھی ملاحظہ فرمالیں : جناب محمد احمد مہتمم دارالعلوم دیوبند و مفتی عالیہ عدالت ممالک سرکار آصفیہ نظامیہ ۔ جناب محمد حبیب الرحمن مددگار مہتمم دارالعلوم دیوبند ۔ جناب اعزاز علی مدرس ، مدرسہ دیوبند ۔ جناب سراج احمد رشیدی مدرس ، مدرسہ دیوبند ، جناب محمد انور معلم دارالعلوم دیوبند ۔ اس کتاب میں امام قسطلانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : مسلمان ہمیشہ سے میلاد مصطفیٰ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اہتمام کرتے رے ہیں اور صدقہ و خیرات اور خوشی کا اہتمام کرتے آ رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس مرد پر رحم کرے جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے مبارک مہینہ کی راتوں کو عیدین اختیار کیا ہے تاکہ اس کا یہ (عید) اختیار کرنا ان لوگوں پر سخت تر بیماری ہو جن کے دلوں میں سخت مرض ہے اور عاجز کرنے والی لادوا بیماری ۔ (الموہب الدنیہ جلد 1 صفحہ 78 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)(الموہب الدنیہ مترجم اردو جلد 1 صفحہ 92 ، 93 مطبوعہ فریدبکسٹال اردو بازار لاہور) ۔ آپ کے مولد شریف کے سبب ہے ۔ معتبر کتاب سے مطلوبہ لفظ عید ملاحظہ فرما لیا ۔ اگر امام قسطلانی کی تحریر سے اتفاق نہیں تو مذکورہ علمائے دیوبند کو ملامت کیجیے جنہوں نے اس کتاب کو بہترین اور اس کے ترجمہ کو بہت بڑی نیکی لکھا ہے ۔


لغت میں عید ایسی چیز کو کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے ، اور کیونکہ یہ دونوں مذہبی تہوار ہر سال آتے ہیں اس لیے ان کو عید کہتے ہیں ، پھر مجازاً اسے خوشی کے موقع کے لیے بھی استعمال کرنے لگے ۔ آئیے اب یہ دیکھتے ہیں کہ کیا خوشی کے ان دو اَیام کے علاوہ کسی دوسرے دن کو عید کہنا جائز ہے یا نہیں ؟ ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا کہ اے امیرالمومنین آپ رضی اللہ عنہ کی کتاب میں ایک آیت ہے اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نزول کے دن کو ضرور عید مناتے ، فرمایا کون سی آیت ؟ اس نے آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ ۔ (سورہ المائدۃ آیت نمبر 03) ۔ پڑھی آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اس دن کو جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی تھی اور اس کے مقامِ نُزول کو بھی پہچانتا ہوں وہ مقام عرفات کا تھا اور دن جمعہ کا ۔ (صحيح بخاری کتاب الإيمان باب زيادة الإيمان و نقصانه)


آپ رضی اللہ عنہ کی مراد اس سے یہ تھی کہ ہمارے لیے وہ دن عید ہے ۔


سنن ترمذی میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے آپ سے بھی ایک یہودی نے ایسا ہی کہا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں جمعہ و عرفہ ۔ (سنن الترمذی کتاب تفسيرآن باب و من سورة المائدة)


یوں عیدُ الفطر اور عیدُ الاضحی کے علاوہ سال میں 53 عیدیں ہوئیں ، 52 جمعہ اور ایک یوم عرفہ ، تو ان 53 عیدوں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟


جس دن نعمت حاصل ہو اس دن عید منانا انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے ، قرآن حکیم میں ہے : حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اللَّهُمَّ رَبَّنَا أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا ۔

ترجمہ :  اے اللہ اے رب ہمارے ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی ۔ (سورۃ المائدة آیت نمبر 114)


معلوم ہوا کہ نزولِ نعمت کے دن کو عید کہنا اور جشن منانے کی اصل قرآن مجید میں موجود ہے ، اسی قرآنی اُصول کے تحت اللہ کریم کی سب سے بڑی نعمت اور رحمتِ کُل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی دنیا میں تشریف آوری کے دن عید منانا شرعاً جائز و مستحسن ہے ۔ جس روز اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہو اُس دن کو عید بنانا، خوشیاں منانا، عبادتیں کرنا اور شکرِ الٰہی بجالانا صالحین کا طریقہ ہے اور بیشک تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم  کی تشریف آوری یقینا قطعاً حتماً اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے ۔ اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادتِ مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکرِ الٰہی بجالانا اور فرحت و سُرور کا اظہار کرنا مستحسَن و محمود اور اللہ عزوجل کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جب سرکارِ کل عالم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ ارشاد فرمایا یہ کیا ہے ؟ یہودیوں نے عرض کی : یہ اچھا دن ہے ۔ اس روز اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تھی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کا روزہ رکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا تمہاری نسبت میرا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تعلق زیادہ ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ۔ (صحیح بخاری کتاب الصوم باب صیام یوم عاشوراء جلد ۱ صفحہ ۶۵۶ حدیث نمبر ۲۰۰۴)


نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت کا دن امت مسلمہ کےلیے یوم عید ہے ۔ عید کی دو قسمیں ہوتی ہیں ۔ ایک ہے عید شرعی اور عید واجب اور دوسری عید فرحت ، عید مسرت اور عید تشکر ہے ۔ یہ مستحب اور مستحسن ہوتی ہے ۔ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ میلادُالنَّبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے دن کو عید کہنا یا سمجھنا اس لیے درست نہیں کہ اسلام میں عیدیں صرف دو ہیں اور وہ ہے عیدالفطر اور عیدالاضحی ۔ ان دو عیدوں کے ہوتے ہوئے بعض احباب کسی تیسری عید کو عید کہنا بھی جائز نہیں سمجھتے ۔ اس کی وضاحت صحاح ستہ کی کتب احادیث سنن ابی داٶد سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ میں حدیث ہے ۔ 


جمعۃ المبارک یوم عید ہے تو سال میں کتنی عیدیں ہوئیں اور عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلّم سے ہی ضد آخر کیوں ؟


 فضیلتِ جمعۃ المبارک کا سبب یومِ تخلیقِ آدم علیہ السلام ہے ۔ جمعۃ المبارک کے دن کی خاص اَہمیت اور فضیلت کی بناء پر اسے سیّدُالایام کہا گیا ہے ۔ اس دن غسل کرنا ، صاف ستھرے یا نئے کپڑے پہننا ، خوشبو لگانا اور کاروبارِ زندگی چھوڑتے ہوئے مسجد میں اِجتماع عام میں شریک ہونا اُمورِ مسنونہ ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھنے کا بھی حکم دیا ہے ۔


حضرت شداد بن اَوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إن من أفضل أيامکم يوم الجمعة ، فيه خلق آدم ، وفيه قبض ، وفيه النفخة ، وفيه الصعقة ، فأکثروا عليّ من الصلاة فيه ، فإن صلاتکم معروضة علي ۔

ترجمہ : تمہارے دنوں ميں سب سے افضل دن جمعہ کا ہے ، اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی ولادت ہوئی (یعنی اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت ہوئی اور آپ کو لباسِ بشریت سے سرفراز کیا گیا) ، اس روز اُن کی روح قبض کی گئی ، اور اِسی روز صور پھونکا جائے گا ۔ پس اس روز کثرت سے مجھ پر درود شریف بھیجا کرو ، بے شک تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ۔ (سنن ابو داؤد کتاب الصلاة باب تفريع أبواب الجمعة وفضل يوم الجمعة وليلة الجمعة جلد 1 صفحہ 319 ، 320 حدیث نمبر 1047 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)(سنن ابو داؤد ابواب الوتر باب في الاستغفار جلد 2 صفحہ 88 حدیث نمبر 1531،چشتی)(سنن ابن ماجه إقامة الصلاة والسنة فيها باب في فضل الجمعة جلد 2 صفحہ 291 حدیث نمبر 1085 دارالجیل بیروت)


امام اِبن ماجہ 209۔ 273ھ علیہ الرحمہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إن هذا يوم عيد ، جعله اللہ للمسلمين ، فمن جاء إلي الجمعة فليغتسل ، وإن کان طيب فليمس منه، وعليکم بالسواک ۔

ترجمہ : بے شک یہ (جمعة المبارک) عید کا دن ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کےلیے بنایا ہے ۔ پس جو کوئی جمعہ کی نماز کےلیے آئے تو غسل کر کے آئے ، اور اگر ہو سکے تو خوشبو لگا کر آئے ۔ اور تم پر مسواک کرنا لازمی ہے (سنن ابن ماجه کتاب إقامة الصلٰوة باب في الزينة يوم الجمعة جلد 2 صفحہ 303 حدیث نمبر 1098 دارالجیل بیروت)(المعجم الأوسط طبرانی جلد 7 صفحہ 230 حدیث نمبر 7355،چشتی)(الترغيب والترهيب من الحديث الشريف منذری جلد 1 صفحہ 286 حدیث نمبر 1058)


امام احمد بن حنبل 164۔ 241ھ علیہ الرحمہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إن يوم الجمعة يوم عيد، فلا تجعلوا يوم عيدکم يوم صيامکم إلا أن تصوموا قبله أو بعده ۔

ترجمہ : بے شک یومِ جمعہ عید کا دن ہے ، پس تم اپنے عید کے دن کو یومِ صیام (روزوں کا دن) مت بناؤ مگر یہ کہ تم اس سے قبل (جمعرات) یا اس کے بعد (ہفتہ) کے دن کا روزہ رکھو (پھر جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی اجازت ہے ورنہ نہیں) ۔ (أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 303، 532، رقم : 8012، 10903)(ابن خزيمه، الصحيح، 3 : 315، 318، رقم : 2161، 2166،چشتی)(ابن راهويه، المسند، 1 : 451، رقم : 524)(حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 1 : 603، رقم : 1595)


امام اِبن حبان 270۔ 354ھ علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں کہ ابو اوبر بیان کرتے ہیں : کنت قاعدًا عند أبي هريرة إذ جاء ه رجل فقال : إنک نهيت الناس عن صيام يوم الجمعة ؟ قال : ما نهيت الناس أن يصوموا يوم الجمعة، ولکني سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : لاتصوموا يوم الجمعة، فإنه يوم عيد إلا أن تصلوه بأيام ۔

ترجمہ : میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے اُن کے پاس آ کر کہا : آپ نے لوگوں کو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں نے لوگوں کو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے نہیں روکا بلکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : تم جمعہ کے دن روزہ نہ رکھو کیوں کہ یہ عید کا دن ہے، سوائے اس کے کہ تم اس کو اور دنوں کے ساتھ ملا کر (روزہ) رکھو ۔ (ابن حبان، الصحيح، 8 : 375، رقم : 3610)


یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ فضیلتِ جمعۃ المبارک کا سبب کیا ہے اور اسے کس لیے سب دنوں کا سردار اور یومِ عید قرار دیا گیا ؟ اس سوال کا جواب اوپر بیان کی گئی حدیثِ مبارکہ میں موجود ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کی فضیلت کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا : فيه خلق آدم ’’ (یومِ جمعہ) آدم علیہ السلام کے میلاد کا دن ہے (یعنی اس دن آدم علیہ السلام کی خلقت ہوئی اور آپ کو لباسِ بشریت سے سرفراز کیا گیا) ۔ جمعہ کے دن ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی جس کی بناء پر اِسے یوم عید کہا گیا ہے اور اس دن کی تکریم کی جاتی ہے ۔ اگر یومِ جمعۃ المبارک حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے باعث عزت و اِحترام کے ساتھ منائے جانے کا حق دار ہو سکتا ہے تو یومِ میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کی بناء پر عیدُ الاعیاد (تمام عیدوں کی عید) کے طور پر اسلامی کیلنڈر کی زینت کیوں نہیں بن سکتا ۔ اب کوئی کہے کے میلادِ آدم علیہ السلام کی تقریب کا اہتمام اس لیے کیا گیا کہ ان کی تخلیق معروف طریقے سے عمل میں نہیں آئی۔ لیکن اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیوں کہ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق جمعہ کے دن ہوئی۔ لہذا یوم الجمعہ کو یوم العید بنا دیا گیا کہ یہ بنی نوع انسان کے جد اَمجد اور پہلے نبی کا یومِ تخلیق ہے۔ اِسی بناء پر وجہ تخلیقِ کائنات اور تمام انبیاء کے سردار سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یومِ ولادت تمام عیدوں کی عید ہے ۔


جمعۃ المبارک کے سلسلہ میں کیے جانے والے تمام تر اِنتظامات وہ ہیں جو میلاد کے حوالہ سے بھی کیے جاتے ہیں ، مثلاً غسل کرنا ، خوشبو لگانا ، ایک جگہ جمع ہونا ، کاروبار ترک کرنا اور مسجد میں حاضری دینا ۔ ان کے علاوہ بھی بعض امور کا تذکرہ کتب حدیث میں موجود ہے ۔ جمعۃ المبارک کے دن یہ سارا اہتمام درحقیقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر زیادہ سے زیادہ درود و سلام بھیجنے کے حوالہ سے ہے اور اس دن کو کثرتِ درود و سلام کےلیے اس لیے چنا گیا کہ یہ حضرت آدم علیہ السلام کا یومِ میلاد ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادگرامی ہے : فأکثروا عليّ من الصلاة فيه ’’ پس اس روز کثرت سے مجھ پر درود شریف بھیجا کرو ۔ اِس دن عاشقانِ رسول درود شریف کا اِجتماعی ورد کرتے ہیں اور اس دن محفل میلاد اور محفلِ صلوٰۃ و سلام کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے ۔ سو یہ دن جہاں ایک طرف میلادِ سیدنا آدم علیہ السلام کےلیے خاص ہے تو دوسری طرف درود و سلام کے ذکر کی نسبت سے میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے بھی ہے ۔ اس طرح بہ یک وقت یہ دن جدماجد اور فرزند اَمجد دونوں کے لیے اِظہارِ مسرت کا مژدہ بردار بن گیا ہے ۔


حدیث مبارکہ میں یہ بھی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : يا رسول اللہ وَکيف تعرض صلاتنا عليک وقد أرمت ؟ ’’ یا رسول اللہ ! ہمارا درود آپ کے وصال کے بعد کیسے آپ پر پیش کیا جائے گا ؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إن اللہ عزوجل حرّم علي الأرض أن تأکل أجساد الأنبياء ۔ بے شک اللہ عزوجل نے زمین پر حرام قرار دیا ہے کہ وہ انبیاء کرام کے جسموں کو کھائے ۔ (أبو داؤد، السنن، کتاب الصلاة، باب تفريع أبواب الجمعة وفضل يوم الجمعة وليلة الجمعة، 1 : 275، رقم : 1047)(أبو داؤد، السنن، أبواب الوتر، باب في الاستغفار، 2 : 88، رقم : 1531)(ابن ماجه، السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب في فضل الجمعة، 1 : 345، رقم : 1085،چشتی)(نسائي، السنن، کتاب الجمعة، باب إکثار الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يوم الجمعة، 3 : 91، رقم : 1375)(نسائي، السنن الکبري، باب الأمر بإکثار الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يوم الجمعة، 1 : 519، رقم : 1666)(دارمي، السنن، 1 : 445، رقم : 1572)(ابن ابي شيبة، المصنف، 2 : 253، رقم : 8697)(طبراني، المعجم الکبير، 1 : 216، رقم : 589،چشتی)(بيهقي، السنن الکبري، 3 : 248، رقم : 5789)(بيهقي، السنن الصغري، 1 : 372، رقم : 634)(هيثمي، موارد الظمآن إلي زوائد ابن حبان، 1 : 146، رقم : 550)


اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ میں اِس دنیا سے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد بھی اپنے جسم کے ساتھ زندہ رہوں گا ، اور تمہیں چاہیے کہ مجھ پر جمعہ کے دن کثرت کے ساتھ درود و سلام پڑھنا اپنا معمول بنا لو ۔


اب سوال پیدا ہوتا ہے صرف دو عیدیں کہنے کا تصور کہاں گیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنی زبان مبارک سے فرمایا : جمعہ کا دن بھی ہماری عید ہے اس سے معلوم ہوا دو عیدوں کے علاوہ بھی اسلام میں عید کا تصور ہے ۔ وہ دو عیدیں واجب ہیں ۔ وہ عیدیں احکام اور مناسک کی ہیں اور یہ عید تعلق اور محبت کی ہے ۔ یہ فرحت اور مسرت کی عید ہے ۔ اس لیے فقیر نے اس کو عید فرحت ، عید مسرت اور عید تشکر کا نام دیا اور وہ دو عیدیں عید شرعی ہیں اور واجب ہیں ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جمعہ کو ہماری عید کا دن کیوں فرمایا ؟ اس کا جواب بھی حدیث پاک میں ہے ۔ یہ بھی سنن ابی داٶد کی حدیث ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : ان يوم الجمعة من افضل الايام ۔ (صحيح ابن خزيمه جلد 3 صفحہ 115 حديث1728)

ترجمہ : بے شک جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل دن ہے ۔


عرض کیا گیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم یہ سب دنوں سے افضل کیسے ہوگیا ؟ فرمایا : فی خلق آدم ، اس لیے کہ اس دن آدم علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی ۔ آپ کے ماں باپ نہیں تھے ۔ آپ کی پہلی تخلیق عمل میں آئی ۔ (ولادت بمعنیٰ پیدائش) ۔ فرمایا : جمعہ سب دنوں سے افضل اس لیے ہے کہ یہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کا دن ہے ۔ یہ بات حدیث پاک سے طے ہے تو دوستو ! جو دن سیدنا آدم علیہ السلام کی پیدائش کا ہو وہ تو ہو جائے یومِ عید اور افضل الایام اور جو دن ولادتِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ہو اس پر کتنے جمعے قربان ہو جائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پیدائش جمعہ کو عید بنادے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور آدم علیہ السلام کی بھی ایک نسبت اور تعلق ہے وہ یہ ہے : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کیا ہے کہ آدم علیہ السلام جب جنت سے زمین پر اتار دیے گئے تو طویل مدت تک آپ گریہ و بکا میں رہے پھر آپ نے ایک روز اللہ کے حضور دعا کی اور جب توبہ کےلیے ہاتھ اٹھائے تو عرض کیا : اللهم مغفرلی وتقبل توبة بحق محمد نبی آخرالزمان ۔ (المستدرک، علی الصحيحين جلد 2 صفحہ 272 حديث 4228،چشتی)

ترجمہ : اے اللہ مجھے معاف کردے اور میری توبہ قبول کر (حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) جو سب سے آخری نبی تشریف لانے والے ہیں ان کے صدقے اور وسیلے سے معاف کردے ۔


جب آپ نے یہ دعا کی تو اللہ رب العزت نے فرمایا : اے آدم ! توبہ تو قبول کرلوں گا ، معاف بھی کردوں گا مگر یہ بتا تمہیں میرے اس محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خبر کیسے ہوئی ؟ تو آدم علیہ السلام نے عرض کیا باری تعالیٰ ! جب تو نے مجھے پیدا کیا اور جنت میں رکھا تو میں نے اپنا سر اٹھا کر جنت کو دیکھا تو میں نے عرش کے ہر پائے پر اور جنت کے ہر درخت ہر ہر پتے اور محلات پر اور جنت کے ہر دروازے پر یہ لکھا دیکھا تھا ۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ میں اس دن سمجھ گیا تھا یہ کوئی خدا کا بڑا ہی محبوب ہے کہ جنت کے ایک ایک پتے پر جس کا نام ہے اور اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کے ساتھ جوڑ کر لکھ رکھا ہے ۔ سو میں نے اس دن جان لیا تھا اور آج وہ جاننا میرے کام آگیا ۔ اس کا واسطہ دے کر تجھ سے معافی مانگی ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے وسیلے سے معافی عطا فرمادی ۔ یہ آدم علیہ السلام کا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے تعلق ہے ایک نسبت ہے اور پھر حضرت حوا علیہا السلام جب پیدا ہوئیں تو اللہ نے چاہا کہ آدم و حوا کے درمیان نسبت زوجیت قائم کر دی جائے ۔ حضرت حوا کو آدم علیہ السلام کی بیوی بنادیا جائے تو فرمایا تمہارا آپس میں نکاح کرتے ہیں ۔ نکاح ہوا تو آدم علیہ السلام نے عرض کیا باری تعالیٰ نکاح کے وقت حوا کو میں مہر کیا ادا کروں ؟ اللہ پاک نے فرمایا : تم دونوں مل کر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر بیس مرتبہ درود پڑھ لو ۔ حضرت آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام نے مل کر بیس مرتبہ درود پڑھا ۔ اس مہر سے عقد اور نکاح ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر درود و سلام کے نتیجے میں اس عقد سے ہم سارے پیدا ہوئے ۔ یہ ساری کائنات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کے مہر کی اولاد ہے ۔ سب نبی ولی سب انسان اولاد ہیں اس نکاح کی جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام سے منعقد ہوا ۔ اگر ہم اولاد ہی درود و سلام والے نکاح کی ہوں تو اس درود و سلام سے دوری ہمیں زیب نہیں دیتی ۔ یہ آدم علیہ السلام کا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے تعلق ہے ۔ سمجھانا مقصود یہ ہے جن کے توسل سے آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہو ۔ ان کی پیدائش کا دن افضل الایام اور یوم العید ہو جائے اور جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت ہو ۔ اس دن کی عظمت اور افضلیت کا عالم کیا ہو گا ۔ اس لیے کل جمعوں اور کل افضل دنوں کی فضیلتیں یومِ میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی فضیلت پر قربان ہو جاتی ہیں ۔ آپ اس میلاد پاک کی خوشیاں منارہے ہیں ۔ اس میلاد کے جشن منارہے ہیں ۔ جمعہ چونکہ پیدائش آدم علیہ السلام کا دن ہے ۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : فاکثروا عليه من الصلوة فی ۔ (القول البديع جلد 1 صفحہ 158، 159،چشتی)

ترجمہ : جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود و سلام پڑھا کرو ۔


پیدائش حضرت آدم علیہ السلام کی ہے اور درود و سلام مجھ پر کثرت سے پڑھا کرو ۔ اس لیے جب مجھ پر کثرت سے درود و سلام پڑھو گے ۔ اس سے میرا سینہ ٹھنڈا ہوگا بلکہ یہ ٹھنڈک آدم علیہ السلام تک جائے گی ۔ جن کا نکاح درود و سلام سے منعقد ہوا ۔ گویا کل نبیوں کے سینے ٹھنڈے ہو جائیں گے ۔ اب جمعہ کی الگ سے کوئی فضیلت نہ تھی ۔ اس کی فضیلت حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کی نسبت سے بنی باقی فضیلتیں اس نسبت سے بعد میں ایڈ ہوئیں ۔ حضرت آدم علیہ السلام کے اس دن کو اللہ پاک جشن منوا رہا ہے ۔ اس دن منبر سجادیے جاتے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا جمعہ کا دن ہو تو نہایا کرو ۔ یہ آدم علیہ السلام کے میلاد کا دن ہے ۔ جس کے پاس خوشبو ہے وہ خوشبو لگایا کرے اور سج دھج کے مسجدوں میں اس طرح آیا کرو ۔ پھر مسجد میں اجتماع ہو، منبر پر کھڑے ہو کر خطبے ہوں ۔ سب کاروبار ، معاش اور روزگار بند کردیے جائیں ساری کائنات میں اللہ رب العزت نے اپنے پیغمبر کی ولادت کا اہتمام کروایا ہے ۔ اس دن کے بارے میں فرمایا کہ اس دن بطور خاص جو مجھ پر درود و سلام پڑھتا ہے ۔ اس کا درود و سلام براہِ راست مجھ تک پہنچتا ہے ۔


یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ پھر درود و سلام پہنچانے کےلیے فرشتہ کیوں مقرر کر رکھا ہے ؟ وہ فرشتہ اس لیے مقرر نہیں کر رکھا کہ حضور تک پہنچتا نہیں ہے اور صرف اسی کے ذریعے پہنچ سکتا ہے نہیں بلکہ پہنچتا تو یہ براہِ راست ہے مگر بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ادب ہے کہ کوئی ادب کے ساتھ پیش کرے ۔ یہ اسی طرح مقرر کر رکھا ہے ۔ جس طرح رب تعالیٰ نے اپنے لیے دو فرشتے مقرر کر رکھے ہیں ۔ جیسے آپ کا ہر عمل اللہ تعالیٰ براہِ راست دیکھتا ہے مگر براہِ راست دیکھنے کے باوجود دو فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو نامہ اعمال اللہ تعالیٰ کو پہنچاتے ہیں اور پیش کرتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بارگاہ جب بڑی ہوتی ہے تو اس کے آداب دربار یہ ہوتے ہیں کہ ہرکارے پیش کرتے ہیں ۔


اسی طرح ساری کائنات کے درود و سلام آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم خود سنتے ہیں ۔ مگر ادبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ہے خدام پیش کریں ۔ اللہ نے جو قانون اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کےلیے بنا رکھا ہے ۔ وہی قانون اپنے لیے بنا رکھا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کو بھی نامہ اعمال فرشتے پیش کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کو پیش کرنے کےلیے دو فرشتے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو پیش کرنے کےلیے ایک ہے ۔ اب کیا کہیں گے اگر وہ دو فرشتوں کے پہنچانے کے باوجود وہ دیکھتا ہے تو اسی طرح ایک کے فرشتے کے پہنچانے کے باوجود مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سنتے ہیں ۔ ان فرشتوں کے مقرر کرنے کا مطلب سننے نہ سننے سے نہیں بلکہ اس کا تعلق آدابِ بارگاہ سے ہے کہ کوئی ادب سے پیش کرے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : وما من احد يسلم علی الا رد الله علی روحي حتی ارد عليه السلام ۔ (سنن ابو داؤد جلد 2 صفحہ 175 حدیث 2041،چشتی)


مشرق سے مغرب تک اس کائنات میں کوئی شخص ایسا نہیں جو مجھ پر سلام پڑھے اور میں اس کا جواب نہ دوں ۔ فرمایا : جو شخص مجھ پر سلام پڑھتا ہے ۔ (الا رد اللہ علی روحی) اللہ نے میری روح مجھ میں واپس لوٹادی ہوئی ہے (حتی ارد علیہ السلام) حتی کہ میں اس کے سلام کا خود جواب دیتا ہوں ۔ حدیث صحیح سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہر ایک کے سلام کا جواب دیتے ہیں ۔ اب کوئی سن لیتے ہیں کوئی نہیں سنتے ہیں ۔


حضرت عبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ میں 17 مرتبہ حاضر ہوئے اور آخری بار جب سلام عرض کرکے پلٹے تو اندر سے آواز آتی تھی خوش روی جامی باز آید خوش رہنا اور اگلی بار پھر آنا ۔ جب سترھویں بار حاضری دی سلام عرض کیا : جواب آیا جامی خوش رہنا حضرت جامی رو پڑے ۔ خدام نے عرض کیا : حضرت رو کیوں رہے ہیں ، کہنے لگے : یہ میری آخری حاضری تھی کیونکہ جب میں نے اگلی بار آنا ہوتا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فرماتے تھے کہ پھر آنا اب صرف خوش رہنا کی دعا کی ہے ۔ پلٹ کے آنا نہیں فرمایا پھر حضرت جامی گئے اور بعد میں وفات پا گئے ۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو آج بھی ہیں اور قیامت تک ہوں گے کہ وہ نماز میں تشہد کے وقت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ میں سلام عرض کرتے اور کہتے ’’السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘ تو اللہ تعالیٰ کی عزت کی قسم ! سلام عرض کر کے اس وقت تک اگلا کلمہ نہیں پڑھتے تھے جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ سے جواب نہیں آتا تھا ۔ یہ تو تعلق کی بات ہے ۔ اگر ہم نہ سن سکیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جواب نہیں دیا ۔


اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انبیاء کرام علیہم السلام کے میلاد کا ذکر کیا ۔ میلاد کہتے ہیں ولادت کو اور جس دن نبی کی ولادت ہوئی وہ یوم میلاد ہے ۔ سورہ مریم کو پڑھیں حضرت یحییٰ علیہ السلام کےلیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَسَلٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوْتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا ۔ (سورہ مريم ، 19: 15)

ترجمہ : اور یحییٰ پر سلام ہو ان کے میلاد کے دن اور ان کی وفات کے دن اور جس دن وہ زندہ اٹھائے جائیں گے ۔


مذکورہ آیت کریمہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے پیغمبر علیہالسلام کی ساری زندگی میں سے تین خاص دنوں کو سلامتی کےلیے چن لیا ۔ کیا ان تین دنوں کے علاوہ اللہ رب العزت اپنے نبی کی زندگی میں سلامتی نہیں بھیجتا ۔ وہ تو ہر روز بھیجتا ہے پھر جب پیغمبر کی زندگی کے ہر دن وہ سلامتی ، رحمت اور اپنی برکت بھیجتا ہے ۔ تو پھر ان تین دنوں کے انتخاب کا کیا مطلب ہوا ۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ رب العزت نے اعلان کر دیا ہے ۔ یوں تو پیغمبر کی زندگی کا ہر دن میری سلامتی کا دن ہے ۔ مگر ان سب دنوں میں خصوصیت کا دن ہے جس دن میرے پیغمبر کا میلاد ہوا ۔


اگر بعض لوگوں کے ذہن میں خیال آئے ۔ ولادت کا دن آپ کیوں مناتے ہیں ؟ کیونکہ Birthday تو انگریزوں نے بنا رکھا ہے ۔ لہٰذا اس کی کوئی اہمیت اسلام میں نہیں ہے ۔ اگر کسی کے ذہن میں نادانی اور کم علمی کے باعث یہ خیال آئے تو اسے دور کرلینا چاہیے کیونکہ پیدائش کے دن کی اہمیت تو اللہ عزوجل نے مقرر کی ہے ۔ جیسے مذکورہ آیت میں فرمایا گیا : سلام علیہ یوم ولد ‘‘ سلام ہوا میرا اس دن جس دن (یحییٰ علیہ السلام) کا میلاد ہوا ۔


پھر کوئی یہ کہے کہ چلو میلاد تو ثابت ہوا پھر آپ وفات کا دن بھی مناتے ہو ؟ اس کا بھی جواب یہ ہے کہ ہم کیا کریں اللہ تعالیٰ نے اس کی اہمیت بھی قرآن میں مقرر کردی ہے ۔ جیسے فرمایا : ’’یوم یموت‘‘ (اور اس دن بھی سلام ہو جس دن ان کی وفات ہوئی) ۔ گویا اللہ والوں کےلیے دو دن خاص ہو گئے ۔ ایک میلاد کا دن ایک وفات کا دن ۔ اب اسی سورہ مریم میں آگے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے کلام ہیں ۔ آپ خود باری تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں : وَالسَّلٰمُ عَلَيَ يَوْمَ وُلِدْتُّ وَيَوْمَ اَمُوْتُ وَيَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا ۔ (سورہ مريم ، 19: 33)

ترجمہ : اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن ، اور میری وفات کے دن، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا ۔


فرمایا : سلام ہو مجھ پر جس دن میرا میلاد ہوا ۔ اللہ نے فرمایا سلام ہو یحییٰ پر جس دن اس کا میلاد ہوا ۔ گویا پیغمبر کے میلاد کے دن سلام پڑھنا ، اللہ عزوجل کی سنت ہو گئی کیونکہ اللہ تعالیٰ خود سلام بھیج رہا ہے ۔ (سلام علیہ یوم ولد) اور پھر اگلی آیت میں پیغمبر کے یوم میلاد پر سلام پڑھنا پیغمبر کی اپنی سنت بھی ہوئی کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بارے میں فرمایا : السلام علی یوم ولدت سلام ہو مجھ پر جس دن میرا میلاد ہوا ۔ گویا میلاد کے دن نبیوں پر سلام پڑھنا خدا کی بھی سنت ہے ۔ انبیاء کی بھی سنت ہے ۔ جب دوسرے نبیوں کی بات تھی تو ان کے میلاد اور ولادت کا ذکر اللہ رب العزت نے صرف سلام سے کیا اور جب میلاد کے دن کی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بات آئی تو فرمایا : ان کی ولادت کے دن الصلوۃ والسلام پڑھتا ہوں۔ اپنے محبوب کی زندگی کا ہر دن یوم ولادت بنادیا ۔ یہ فرما کر کہ : اِنَّ ﷲَ وَمَلٰٓئِکَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ۔ (سورہ الاحزاب ، 33: 56)

ترجمہ : بے شک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں ۔


کیونکہ محبوب کا ہر دن یومِ میلاد ہے ۔ باری تعالیٰ نے دیگر انبیاء پر ان کی ولادت کے دن سلام پڑھا تھا جبکہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ولادت کے دن کی قسم اٹھاتا ہے ۔ فرمایا : لَآ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ ۔ وَ اَنْتَ حِلٌّم بِهٰذَا الْبَلَدِ ۔ وَوَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ ۔ (سورہ البلد ، 90: 1-3)

ترجمہ : میں اس شہر (مکہ) کی قَسم اٹھاتا ہوں ۔ اس لیے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیں ۔ (اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ کے) والد (آدم یا ابراہیم) کی قَسم اور (ان کی) قَسم جن کی ولادت ہوئی ۔


میلاد کے سلسلے میں یہ تیسری آیت جس میں فرمایا : میں اس شہر مکہ کی قسم کھاتا ہوں ۔ باری تعالیٰ کیوں ؟ اس لیے کہ وَ اَنْتَ حِلٌّم بِہٰذَا الْبَلَدِ ۔ اے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اس شہر مکہ کی قسم اس لیے اٹھاتا ہوں کہ آپ کی جائے سکونت ہے ۔ اس لیے تو قسم اٹھاتا ہوں ۔ دوسرا فرمایا : ما ولد ، کہ تیرا شہر سکونت ہی نہیں یہ تیرا شہر ولادت بھی ہے ۔ لہٰذا اس مکہ شہر کی قسم اٹھاتا ہوں ۔ دو نسبتوں سے تیرا شہر سکونت ہے اور تیرا شہر ولادت ہے ۔ شہر سکونت کی قسم اٹھا کر اگلی آیت میں اپنے حبیب کے نسب کی بھی قسم اٹھائی گئی اور فرمایا کہ دیگر انبیاء کی قسم اٹھائی جو اپنی کی ذات تک محدود تھی مگر اے حبیب قسم ہے ہر اس ولد کی جو آدم علیہ السلام سے اسماعیل تک تیرے آباٶ اجداد کی نسل میں آیا ۔ جس جس کی پشت میں تیرا نور منتقل ہوتا چلا گیا اور تیرے آباٶ اجداد میں جس جس کو بھی تیرے ساتھ نسبت اور ولدیت عطا ہوئی ۔ محبوب تیرے ساتھ اس نسبت رکھنے پر تیرے ہر والد کی قسم ۔ کسی نے کہا ولد سے مراد حضرت ابراہیم ہیں ۔ فقیر نے کہا کوئی اعتراض نہیں کسی نے کہا اس سے مراد حضرت آدم ہیں فقیر نے کہا اس میں کوئی اعتراض نہیں ۔ کوئی کہتا ہے اس سے مراد حضرت اسماعیل ہیں ۔ فقیر چشتی کہتا ہے اس میں بھی کوئی اعتراض نہیں ۔ کوئی کہتا ہے حضرت عبداللہ ہیں فقیر کہتا ہے اس میں بھی کوئی اعتراض نہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو تنوین کے ساتھ فرمایا وولد یہ تنوین دو فائدے دے رہی ہے ۔ تکریم کا بھی اور عموم بھی کہ محبوب تیرے آباٶ اجداد کا ہر فرد لائق تعظیم ہے ۔ یہ تنوین دوسرا فائدہ عموم کا دے رہی ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حضرت آدم علیہ السلام تک سب کی قسم ! یعنی میرے محبوب کے والد کی قسم ۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ وہ والد کسی اور کا نہیں وہ والد تو میرے محبوب کا ہی ہے ۔ خواہ حقیقی والد کرلیں خواہ دادا کرلیں خواہ پردادا کرلیں خواہ شکر دادا کرلیں 40 پشت اوپر کرلیں یا 70 پشت اوپر کرلیں پھر بھی کسی اور کے والد کی قسم نہیں ، قسم ہے تو والدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے ۔ کوئی اگر یہ کہے کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد کا کہاں ذکر ہے ؟ تو فقیر کہتا ہے کہ اچھا چلو آپ بتادیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد کی نہیں تو کس کے والد کی قسم اٹھائی جارہی ہے ۔ کیا اللہ تعالیٰ عام لوگوں کے والدوں کی قسم اٹھاتا پھرتا ہے ۔ وہ تو اپنے مکہ شہر کی بھی اپنے کعبہ کی وجہ سے قسم نہیں اٹھاتا ۔ اس نے کہا کہ میں شہر مکہ کی قسم اس لیے نہیں اٹھائی کہ میرا گھر ہے بلکہ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کی وجہ سے اٹھائی ہے ۔ فرمایا : حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مکہ شہر میں دو گھر ہیں ۔ حرم آٶ تو میرا گھر ہے اور سارا جہاں میرے گھر کے طواف کےلیے آتا ہے ۔ جبکہ صحنِ کعبہ سے نکل کر سوقُ الیل میں آمنہ رضی اللہ عنہا کی گلی میں چلے جاٶ وہاں تیرا گھر ہے ۔ میرے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں نے مکہ کی قسم اٹھائی ہے ۔ گھر میرا بھی یہیں تھا مگر اپنے گھر کی وجہ سے نہیں بلکہ ’’وانت حل بھذا البلد‘‘ بلکہ اس لیے کہ تیرا گھر اس شہر میں ہے ۔ اب وہ شہر کی قسم تو اٹھا رہا ہے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کی وجہ سے تو یہاں کس کے والد کی قسم اٹھا رہا ہے ۔ اب (نعوذ باللہ) اللہ کا اپنا والد تو ہے نہیں کیونکہ لم یلد ولم یولد ۔ (الاخلاص، 112: 3) ’’نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ پیدا کیا گیا ہے‘‘۔ نہ اس کا والد ہے نہ اس کی اولاد ہے ۔ نہ باپ نہ بیٹا لہٰذا اگر کوئی انکار کرے کہ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مراد نہیں ہیں تو پھر اس سے پوچھ لو کہ کس کے والد کی قسم ہے کیونکہ اگر قسم ہوتی سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی تو سیدھا نام لے لیا جاتا کہ قسم ہے اسماعیل کی یا قسم ہے ابراہیم کی یا قسم ہے موسیٰ کی یا قسم ہے آدم کی ۔ اگر ان کی قسم ان کی وجہ سے ہوتی تو ان کا نام لیتے ان کا والد کیوں کہا جاتا اور والد کوئی ہوتا کیونکر ہے جس کا کوئی بیٹا ہی نہ ہو ۔ کوئی اس کو والد کہتا ہے ؟ والد کون بناتا ہے ۔ جیسے ماں باپ کی طرف سے بیٹا بنا۔ بیوی کی نسبت سے شوہر بنا ۔ بہنوں کی نسبت سے بھائی بنا ۔ پھوپھی کی وجہ سے بھتیجا کہلایا ۔ خالہ کی نسبت سے بھانجا کہلایا۔ اسی طرح باپ بیٹے کی وجہ سے کہلایا ۔ بیٹا ہوا تو والد ہوا ۔ ولد ہو تو والد ہوتا ہے لہذا کسی نبی کا نام لے کر نہیں فرمایا بلکہ فرمایا : ’’ووالد‘‘ اور قسم ہے کسی والد کی ۔


اب ہمیں تو عمر بھر والدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کوئی اور نظر نہ آیا خواہ اس سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ وہ والد تو مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہیں اور اس میں ایک اشارہ بھی ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ تعمیر کر لیا ۔ جوں جوں دیواریں اونچی ہونے لگیں تو ایک پتھر اٹھا کر لے آئے اور اس پتھر پر کھڑے ہو گئے تو ساتھ ساتھ پتھر بھی اونچا ہوتا چلا گیا ۔ سیدنا اسماعیل علیہ السلام ساتھ ساتھ تعمیر کا سامان مہیا کرتے رہے جب کعبہ تعمیر ہو گیا تو جس پتھر پر کھڑے تھے وہاں آپ کے دونوں قدم اس کے سینے پر ثبت ہوگئے اور نقش ہو گئے ۔ اب اسی پتھر پر کھڑے تھے کعبہ کی تعمیر مکمل کرلی تھی تو بارگاہ الہٰی سے عرض کیا : رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ط اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ۔ (سورہ البقرة، 2: 127)

ترجمہ : کہ اے ہمارے رب ! تو ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے، بے شک تو خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے ۔


وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰهيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ ۔ (سورہ البقرة، 2: 127)

ترجمہ : اور (یاد کرو) جب ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (تو دونوں دعا کر رہے تھے) ۔


ہم نے دیواریں کھڑی کرلی ہیں لہٰذا ہماری محنت اور مزدوری قبول فرما ۔ اور تجھ سے اور کچھ نہیں مانگتے بس ایک ہی اجرت مانگتے ہیں اور اس مزدوری میں وہ عطا کر دے ۔ پتھر پر کھڑے دعا کر رہے ہیں ۔ فرمایا : ابراہیم کیا مانگتے ہو ۔ عرض کی : رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّيَتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَکَ ۔ (البقرة، 2: 128)

ترجمہ : اے ہمارے رب ! ہم دونوں کو اپنے حکم کے سامنے جھکنے والا بنا اور ہماری اولاد سے بھی ایک امت کو خاص اپنا تابع فرمان بنا ۔


باری تعالیٰ جو امت مسلمہ آنی ہے وہ ہماری نسل سے پیدا کر ۔ باری تعالیٰ نے فرمایا ٹھیک ہے ۔ اصل چاہتے کیا ہو ؟ پھر عرض کی : رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِکَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَيُزَکِّيْهِمْ ط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُ ۔ (البقرة، 2: 129)

ترجمہ : اے ہمارے رب ! ان میں انہی میں سے (وہ آخری اور برگزیدہ) رسول (صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم) مبعوث فرما جو ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے (کر دانائے راز بنا دے) اور ان (کے نفوس و قلوب) کو خوب پاک صاف کر دے، بے شک تو ہی غالب حکمت والا ہے ۔


حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کی باری تعالیٰ تو اس کعبہ کی تعمیر پر کوئی اجرت یا مزدوری اگر دینا چاہتا ہے تو یہ مزدوری دے دے کہ مجھے اس محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا باپ بنادے اور میری نسل اور ذریت سے اس نبی آخرالزماں کو پیدا کر دے ۔ لہٰذا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا والد ہونا اجرت میں مانگا کہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا والد کر دے ۔ (فقیر کو تو یہ لگتا ہے اور یہ بات کسی کی سمجھ میں آئی ہو یا نہ آئی ہو ۔ کسی نے ان دو نکتوں کو جوڑ کر لکھا ہو یا نہ لکھا ہو ۔ مگر فقیر چشتی کے فہم و ادراک اور معرفت میں یہی نقش ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ باری تعالیٰ تیرے کعبے کی مزدوری کی اگر کوئی اجرت بنتی ہے تو یہ دے دے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا والد کر دے اور میری نسل میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدا کر دے ۔ اللہ تعالیٰ نے قبول کر لیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگئے ۔ جب پیدا ہو گئے تو یہ اس دعا کا جواب ہے کہ ’’ووالد و ما ولد‘‘ قسم ہے اس والد کی جو دعا مانگ کر مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا والد بنا جو میرا کعبہ تعمیر کرکے اس تعمیر کعبہ پر اجرت مانگ کر مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا والد بنا تھا ۔ لہذا والد کی قسم ولد کی وجہ سے ہی ہے ولد کہتے ہیں جس کا میلاد ہوا ۔ فرمایا اس والد کی قسم جس نے مزدوری میں والد ہونا مانگا اور اس محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قسم جس کا میلاد ہوا اور اس نے ابراہیم علیہ السلام کو والد بنا دیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے والد کی قسم اٹھائی گئی ۔ آپ نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلادِ پاک کا تذکرہ اللہ رب العزت نے کتنے حُسِین پیرائے میں کیا ۔


خالصتاً دینی چیز ہے ۔ یہ کیا ڈھکوسلا ہے ؟ دینی اور غیر دینی ؟ جب قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنی ہوتی ہیں تو پمفلٹ پر لکھتے ہو ۔ میرا سب کچھ اللہ کےلیے ہے ۔ میرا جینا ، میرا مرنا ، سونا جاگنا سب کچھ اللہ کےلیے ہے ۔ اور جب مسلمانوں کو دھوکہ دینا ہوتا ہے تو دینی اور غیر دینی الگ الگ کر دیتے ہو ۔قُلْ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَنُسُکِیۡ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ۔

ترجمہ : تم فرماؤ بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللّٰہ کےلیے ہے جو رب سارے جہان کا ۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوۡا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِؕ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ۔

ترجمہ : اے ایمان والو اسلام میں پورے داخل ہو ۔ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو  بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔


مسلمان کا ہر عمل دین میں داخل ہے  : ⏬


غالباً حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ آپ نے کسی کافر کو فرمایا کہ مسلمان کو اس کے ہر عمل پر ثواب ملتا ہے ۔ چاہے استنجاء کرے ، چاہے بیوی سے صحبت کرے ۔ اچھی نیت کے ساتھ اور سنّت پر عمل کرنے کےلیے کرے گا تو اس پر ثواب دیا جائے گا ۔ اور بروز قیامت مسلمان اپنے ہر عمل کا جواب دہ ہے ۔ پاکستان کاجشن آزادی منانا کیا کوئی عمل نہيں ؟ اگر کوئی عمل نہیں تو لہوولعب میں شمار ہوگا ۔ اگر عمل ہے پھر یا اچھا ہوگا یا برا ۔اگر برا ہے تو سزا دیا جائے گا اور اگر اچھا ہے تو جزا دیا جائے گا ۔ یہ اچھا عمل دین میں داخل نہیں ؟ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے کا عمل دین میں داخل نہیں ؟ تو اگر کوئی فوجی ملک پاکستان کےلیے سرحد پر اپنی جان قربان کرتا ہے تو اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا ؟ تمہارے نزدیک ثواب اسی خود کُش بمبار کو ملے گا جو جشنِ میلاد کے جلوس میں بمب باندھ کر خود کو اڑا لے ؟ اور پچاس ساٹھ مسلمانوں کو شہید کر دے ۔ اور اسے ملے گا جو محرم کے جلوس میں بمب باندھ کر اپنے آپ کو اڑا لیتا ہے ؟ اور وہ تمہارے عقیدے کا ہے اس لیے اس کےلیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔ حوریں خدمت کےلیے آجاتی ہیں ۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کےلیے ہر وہ کام سر انجام دینا شرعی طور پر جائز ہے جو خوشی ومسرت کے اظہار کےلیے درست اور رائج الوقت ہو ۔ میلاد کی روح پرور تقریبات کے سلسلے میں انتظام و انصرام کرنا ، درود وسلام سے مہکی فضاؤں میں جلوس نکالنا ، محافلِ میلاد کا انعقاد کرنا ، نعت یا خطاب و بیان کی صورت میں آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اقدس بیان کرنا اور عظمت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چرچے کرنا سب قابل تحسین ، قابل قبول اور پسندیدہ اعمال ہیں ۔ ایسی مستحسن اور مبارک محافل کو حرام قرار دینا حقائق سے لاعلمی ، ضد اور ہٹ دھرمی کے سواء کچھ نہیں ہے ۔


دیوبندیوں کے وکیل اعظم مولوی امین صفدر اوکاڑوی لکھتے ہیں : مدعی سے خاص دلیل کا مطالبہ کرنا کہ یہ خاص قرآن سے دکھاؤ یا خاص ابو بکر ، عمر فاروق کی حدیث دکھاو یا خاص فلاں فلاں کتاب سے دکھاؤ یہ محض دھوکا اور فریب ہے کتاب وسنت نے دلیل خاص کی ہرگز پابندی عائد نہیں کی ۔ ان پڑھ لوگوں سے اس قسم کی شرائط پر دستخط لیے جاتے ہیں جو شرعاً باطل ہوتی ہیں یہ خالص مرزا قادیانی کی سنت ہے ۔ (مجموعہ رسائل صفحہ 165 مطبوعہ ادارہ خدام احناف لاہور) 


مذکورہ دیوبندی اصول سے واضح ہو گیا کہ دیوبندیوں کا اہلسنت و جماعت سے جلوس و محفلِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، جھنڈے لگانے ، لائٹنگ کرنے ، صدقہ و خیرات کرنے وغیرہم کا ثبوت خاص قرآن و سنت اور قرونِ اولی سے طلب کرنا ان کا دھوکہ و فریب ہے ، یہ شرائط شرعاً باطل  اور یہ طرز مرزا قادیانی کی سنت ہے ۔ لو جو دیوبندیو تمہیں مرزا قادیانی کی سنت ادا کرنا تمہارے ہی گھر سے مبارک ہو ۔


میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنے جلسوں کو دین و دنیا میں تقسیم کرنے والے دیوبندیوں کے امام اہلسنت سرفراز گکھڑوی لکھتے ہیں : غرضیکہ دین و دنیا مذہب و سیاست میں فرق نکالنا یہ اہل یورپ کی پیداوار ہے شریعت محمدیہ علی صاحبا الف الف تحیۃ و سلام کا دامن اس تفریق سے بالکل پاک و منزہ ہے ۔ مسلمان کی دنیا بھی دنیا دین ہے ۔ بلکہ مسلمان کا سونا جاگنا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا وغیرہ بلکہ زندگی کا ہر شعبہ اور ہر پہلو دین ہے ۔ (الکلام المفید فی اثبات التقلید صفحہ 83 مطبوعہ مکتبہ صفدریہ،چشتی)


یہی سرفراز گکھڑوی مزید لکھتے ہیں : حضرات مسلمانوں کا دین اور دنیا ۔ مذہب اور سیاست دو الگ الگ راستے نہیں ۔ بلکہ مسلمان کی سیاست اور دنیا بھی دین ہی ہے ۔ یہاں دین اور دنیا کا مذہب و سیاست کا فرق نکالنا زندقہ اور الحاد ہے ۔ (الکلام المفید فی اثبات التقلید صفحہ 58 مطبوعہ مکتبہ صفدریہ،چشتی)


سوشل میڈیا کے ڈیجیٹل دیوبندی مختیان دین اور دنیا کی تقسیم الگ الگ کرکے اپنے ہی نام نہاد امام اہلسنت کے فتوے سے ملحد زندیق اور اہل یورپ کی پیداوار ٹھہرے ۔ لہٰذا اہلسنت و جماعت پر دانت نہ پیسیں اور نہ اہلسنت و جماعت پر غصہ نکالیں یہ سب کچھ  بقول ابو ایوب جعلی قادری و ساجد خان جعلی نقشبندی کے یہ آپ کے گھر کا گند ہے پہلے اسے صاف کریں بعد یہاں بات کریں ۔


دیابنہ اور وہابیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کے منکر ہیں اور دیوبندیوں کی اکثریت میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بدعت کہتی ہے اور ہم سنی مسلمانوں پر طرح طرح کے الزامات بھی عائد کرتے ہیں لیکن ان کو یہ پتہ نہیں کہ حق کو چھپایا نہیں جا سکتا ، سچائی کتابوں میں محفوظ ہے ۔ دیوبندی اکابرین کے ممدوح عالم علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : حرمین شریفین اور اکثر بلاد اسلام میں یہ عادت ہے کہ ماہ ربیع الاول میں محفل میلاد شریف کرتے ہیں اور مسلمانوں کو جمع کر کے ذکر مولود شریف کرتے ہیں اور کثرت درود کی کرتے ہیں اور بطور دعوت کے کھانا یا شیرینی تقسیم کرتے ہیں سو یہ امر موجب برکات عظیمہ ہے اور سبب ہے ازدیاد محبت کا ساتھ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ۔ بارھویں ربیع الاول کو مدینہ منورہ میں یہ محفل متبرک مسجد شریف میں ہوتی ہے ۔ (تواریخ حبیب الہ صفحہ 12 مطبوعہ مکتبہ تھانوی دیوبند،چشتی)


دیوبندی اکابرین کے ممدوح عالم تو میلاد کو جائز کہتے ہےیں ، میلاد منانے کا بھی فرما رہے ہیں اور برکات عظیمہ کی نوید بھی سنا رہے ہیں ۔ اب ان دیوبندی حضرات سے کہتا ہوں جو میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بدعت ، حرام اور ناجائز کہتے ہیں چلو ہماری نہ مانو لیکن دیوبندی اکابرین کے ممدوح عالم کی بات کو تو تسلیم کرو ۔ اللہ عزوجل تمہیں ھدایت اور عقلِ سلیم عطاء فرماۓ آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
























Saturday, 15 August 2026

نبی اکرم نورِ مجسم رحمتِ کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنا میلاد منایا

نبی اکرم نورِ مجسم رحمتِ کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنا میلاد منایا



محترم قارٸینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا میلاد خود منایا ہے ۔ کوئی سلیم الفطرت شخص سنتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثابت ہو جانے کے بعد میلاد منانے کا انکار نہیں کر سکتا ۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانا سنتِ نبوی سے ثابت ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنے میلاد کی خوشی کا اظہار فرمایا ۔ پیر کے دن روزہ رکھنے کی وجہ بتا کر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلانِ نبوت کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کر کے بکرے ذبح فرمائے اور سب کو کھانا کھلایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عمل کو "عقیقہ" فرمایا ، مگر حقیقت میں وہ میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی کا لنگر تھا ۔ جیسے نکاح کی خوشی کا کھانا "ولیمہ" کہلاتا ہے ، اسی طرح ولادت کی خوشی کا کھانا "عقیقہ" کہلاتا ہے ۔ یہ دراصل میلاد ہی کی خوشی کا اظہار تھا ۔ لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل اس بات کی روشن دلیل ہے کہ میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانا اور اس کی خوشی میں لنگر تقسیم کرنا براہِ راست سنتِ نبوی سے ثابت ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا میلاد خود منایا ہے ۔ کوئی سلیم الفطرت شخص سنتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثابت ہو جانے کے بعد میلاد منانے کا انکار نہیں کر سکتا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلانِ نبوت کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اکٹھا کر کے اپنی ولادت کی خوشی میں بکرے ذبح کیے اور اپنے میلاد کا لنگر اُن کو کھلایا ۔


حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : أن رسول اللہ صلي الله عليه وآله وسلم سُئل عن صوم يوم الإثنين ؟ قال : ذاک يوم ولدت فيه ويوم بعثت أو أنزل عليّ فيه ۔

ترجمہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیر کے دن کے روزے کے بارے میں پو چھا گیا تو آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا : میں اسی دن پیدا ہوا تھا اور اسی دن قرآن کا نزول ہوا ۔ (مسلم حدیث نمبر ۱۱۶۲ صفحہ ۳۹۲ مکتبہ دار الغد الجدیدقاہرہ مصر)(صحیح مسلم مترجم اردو جلد سوم صفحہ نمبر 167 حدیث نمبر 2750 مترجم غیر مقلد وہابی نواب وحید الزمان)(صحیح مسلم مترجم اردو جلد 2 صفحہ نمبر 517 حدیث نمبر 2750 مترجم غیر مقلد وہابی پروفیسر محمد یحیٰ سلطان محمود جلالپوری)


اس حدیث شریف سے چند باتیں معلوم ہوئیں : ⏬


(1) پیر کے دن کا روزہ اس لیے سنت ہے کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کا دن ہے ۔


(2) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیر کے دن کے روزہ کا اہتمام فر ما کر خود اپنی ولادت کی یاد منائی اور اللہ کا شکر بجا لایا ۔


(3) امت کےلیے یوم ولادت کی اہمیت و فضیلت ظاہر فر مائی ۔


(4) دن مقرر کر کے یاد منا نا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ۔


(5) ولادت کی خوشی اور شکرانے میں عبادت کرنا سنت ہے ۔ مگر افسوس اس صاف اور صریح حدیث کے باوجود کچھ لوگ اس کے منکر ہیں ۔ اور طر ح طرح کی بے جا حیلے اور بہانے بنا کر اس سے خود بھی باز رہتے ہیں اور لوگوں کو بھی منع کرتے ہیں اور اتنا ہی پر بس نہیں بلکہ اس کو ناجائز وحرام اور بدعت سئیہ کہتے ہیں ۔ (نعوذباللہ من ذالک)


منکرین میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غیر مقلد وھابی حضرات کے موجودہ صدی کے امام اور بڑے محدث شیخ ناصر البانی اپنی کتاب صحیح سیرۃ النبویہ کے صفحہ نمبر 12 پر لکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر پیر کو روزہ رکھتے آپ سے پیر کے روزہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن نزول قرآن شروع ہوا ۔


امام الوہابیہ ناصر البانی کی گواہی اور فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت پوا کہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانا نہ صرف جائز ہے بلکہ سنت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منکرین سے گذارش ہے ہم روزہ بھی رکھتے میلاد بھی مناتے ہیں چلو آپ لوگ ھر پیر کو ھی منا لیا کرو روزہ بھی رکھا کرو ہم منع نہیں کرتے مگر خدا را میلاد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کر کے سنت مصطفیٰ اور فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منکر نہ خود بنو اور نہ لوگوں کو بناؤ ۔


عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الاِثْنَیْنِ فَقَالَ: فِیْهِ وُلِدْتُ وَفِیْهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ ۔ وفي روایة : أُنْزِلَتْ عَلَيَّ فِیْهِ النُّبُوَّةُ۔ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ ۔

ترجمہ : حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اِسی روز میری ولادت ہوئی اور اِسی روز میرے اُوپر قرآن نازل کیا گیا ۔ اِسے امام مسلم نے روایت کیا ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اِسی روز مجھے نبوت (یعنی بعثت) سے سرفراز کیا گیا ۔ اِسے امام احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے ۔ (صحیح، کتاب الصیام، باب استحبابِ صیام ثلاثة أیام من کل شهر، 2/819، الرقم: 1162،چشتی)(مسند، 5/296، 297، الرقم: 22590، 22594)(سنن الکبری نساٸی 2/146، الرقم: 2777)


عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: وُلِدَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم یَوْمَ الاِثْنَیْنِ، وَاسْتُنْبِئَ یَوْمَ الاِثْنَیْنِ ، وَخَرَجَ مُهَاجِرًا مِنْ مَکَّةَ إِلَی الْمَدِیْنَةِ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ، وَقَدِمَ الْمَدِیْنَةَ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ، وَرَفَعَ الْحَجَرَ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ ۔ رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَقَالَ الْهَیْثَمِيُّ : رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِیْهِ ابْنُ لَهِیْعَةَ وَهُوَ ضَعِیْفٌ ، وَبَقِیَّهُ رِجَالِهٖ ثِقَاتٌ مِنْ أَهْلِ الصَّحِیْحِ ۔

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیر کے روز ولادت ہوئی ، اور پیر کے روز ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شرفِ نبوت سے سرفراز کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیر کے روز ہی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی ۔ پیر کے روز ہی مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری ہوئی اور حجر اسود اٹھانے کا واقعہ بھی پیر کے روز ہی ہوا ۔ اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ امام ہیثمی نے فرمایا : اس حدیث کو امام احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ابن لھیعہ نامی راوی کے علاوہ دیگر رجال ثقہ اور صحیح حدیث کے رجال میں سے ہیں ۔ (مسند، 1/277، الرقم: 2506، وأیضًا في المسائل، 1/59، وابن عساکر في تاریخ مدینة دمشق، 3/67)(مجمع الزوائد، 1/196)(جامع البیان، 6/84)(ابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 2/14،چشتی)(تاریخ الأمم والملوک، 2/5، 241)(البدایة والنهایة، 2/260، 3/177)(الاکتفاء ، 2/453)(أخبار مکة، 4/6، الرقم: 2298)(الاستیعاب، 1/47)(الخصائص الکبری، 2/473)


عَنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَا : وُلِدَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم یَوْمَ الْفِیْلِ یَوْمَ الاِثْنَیْنِ الثَّانِي عَشَرَ مِنْ شَهْرِ رَبِیْعِ الأَوَّلِ، وَفِیْهِ بُعِثَ، وَفِیْهِ عُرِجَ إِلَی السَّمَاءِ، وَفِیْهِ هَاجَرَ، وَفِیْهِ مَاتَ صلی الله علیه وآله وسلم ۔

ترجمہ : حضرت جابر بن عبد الله انصاری اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما دونوں نے بیان فرمایا: رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ عام الفیل، پیر کے روز بارہ ربیع الاول کو ہوئی، اور اسی روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شرفِ نبوت سے سرفراز کیا گیا اور اسی روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسمان کی طرف بلند کیا گیا (یعنی معراج کرائی گئی)، اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت فرمائی ، اور اسی روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال مبارک ہوا ۔ (الأباطیل والمناکیر والصحاح والمشاهیر، کتاب الفضائل، باب فضل النبي صلی الله علیه وآله وسلم /27، الرقم : 122)


وفي روایة : عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ رضی اللہ عنہ قَالَ : وُلِدَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم عَامَ الْفِیْلِ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ لِاثْنَتَي عَشَرَ لَیْلَةً مَضَتْ مِنْ شَهْرِ رَبِیْعِ الْأَوَّلِ ۔ رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ إِسْحَاقَ وَالْبَیْهَقِيُّ وَاللَّفْظُ لَهٗ ۔

ترجمہ : حضرت محمد بن اسحاق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام الفیل میں پیر کے روز بارہ ربیع الاول کو اس دنیا میں تشریف لائے ۔ (المستدرک ، 2/659، الرقم: 4182)8ابن حبان في الثقات، 1/15)(شعب الإیمان، 2/135، الرقم: 1387)(دلائل النبوة بیہقی ، 1/74)(تاریخ مدینة دمشق، 3/73)(تاریخ الأمم والملوک ، 1/453)(الاکتفاء، 1/131)(السیرة النبویة ابن اسحق / 591۔594)(السیرة النبویة ابن هشام ، 1/293)


عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم عَقَّ عَنْ نَفْسِهٖ بَعْدَ النُّبُوَّةِ ۔

ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِعلانِ نبوت کے بعد اپنا عقیقہ کیا ۔ (السنن الکبری، 9/300، الرقم: 19056)(الأحادیث المختارة، 5/205، الرقم: 1833،چشتی)(تہذیب الأسماء واللغات، 2/557، الرقم: 962)(فتح الباري، 9/595)(تهذیب التهذیب، 5/340، الرقم: 661)(تهذیب الکمال، 16/32، الرقم: 3523)


وفي روایة: عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم عَقَّ عَنْ نَفْسِهٖ بَعْدَ مَا بُعِثَ نَبِیًّا ۔

ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعد اَز بعثت اپنا عقیقہ کیا ۔ (المعجم الأوسط، 1/298، الرقم: 994)(الأحادیث المختارة، 5/205، الرقم: 1832)(المسند رویاني ، 2/386، الرقم: 1371)


وفي روایة: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: لَمَّا وُلِدَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم عَقَّ عَنْهُ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ رضی الله عنه بِکَبْشٍ ۔

ترجمہ : حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی تو حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے آپ کی طرف سے ایک مینڈھا ذبح کرکے عقیقہ کیا ۔ (تاریخ مدینة دمشق، 3/32،چشتی)(إنسان العیون في سیرة الأمین المامون، 1/128)(کفایة الطالب اللبیب في خصائص الحبیب، 1/134)


قَالَ السُّیُوْطِيُّ : وَظَهَرَ لِي تَخْرِیْجُهٗ عَلٰی أَصْلٍ آخَرَ، وَهُوَ مَا أَخْرَجَهُ الْبَیْهَقِيُّ، عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم عَقَّ عَنْ نَفْسِهٖ بَعْدَ النُّبُوَّةِ۔ مَعَ أَنَّهٗ قَدْ وَرَدَ أَنَّ جَدَّهٗ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ عَقَّ عَنْهُ فِي سَابِعِ وِلَادَتِهٖ، وَالْعَقِیْقَةُ لَا تُعَادُ مَرَّةً ثَانِیَةً، فَیُحْمَلُ ذَالِکَ عَلٰی أَنَّ الَّذِي فَعَلَهُ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم إِظْهَارًا لِلشُّکْرِ عَلٰی إِیْجَادِ اللهِ تَعَالٰی إِیَّاهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِیْنَ وَتَشْرِیْفًا لِأُمَّتِهٖ، کَمَا کَانَ یُصَلِّي عَلٰی نَفْسِهٖ، لِذَالِکَ فَیَسْتَحِبُّ لَنَا أَیْضًا إِظْهَارُ الشُّکْرِ بِمَوْلِدِهٖ بِاجْتِمَاعِ الإِخْوَانِ، وَإِطْعَامِ الطَّعَامِ، وَنَحْوَ ذَالِکَ مِنْ وُجُوْهِ الْقُرُبِاتِ، وَإِظْهَارِ الْمَسَرَّاتِ ۔ (حسن المقصد في عمل المولد/64، 65، وأیضًا في الحاوي للفتاوی/206، والصالحي في سبل الهدی والرشاد، 1/367)(زرقاني في شرح المواهب اللدنیة، 1/263264،چشتی)(حجة الله علی العالمین/237)

ترجمہ : امام سیوطی علیہ الرحمہ نے فرمایا : یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کے حوالہ سے ایک اور دلیل مجھ پر ظاہر ہوئی ہے، جسے امام بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِعلانِ نبوت کے بعدخود اپنا عقیقہ کیا باوُجود اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا عبد المطلب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے ساتویں روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقیقہ کر چکے تھے اورعقیقہ دو (2) بار نہیں کیا جاتا۔ پس یہ واقعہ اِسی پر محمول کیا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آپ کو الله کی طرف سے رحمۃ للعالمین بنائے جانے اور اپنی اُمت کے مشرف ہونے کی وجہ سے اپنی ولادت کی خوشی کے اظہار کے لیے خود عقیقہ کیا۔ اسی طرح ہمارے لیے مستحب ہے کہ ہم بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یومِ ولادت پر خوشی کا اِظہار کریں اور کھانا کھلائیں اور دیگر عبادات بجا لائیں اور خوشیوں کا اظہار کریں ۔


حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ : أن النبي ﷺ عق عن نفسه بعد النبوة ۔

ترجمہ : بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلانِ نبوت کے بعد اپنی طرف سے عقیقہ کیا ۔ (المعجم الأوسط، ج1، ص 298، رقم: 994)(السنن الکبری، ج۹، ص 300، رقم: 19056،چشتی)(تهذيب الكمال، ج16، ص 132)(تہذیب التہذیب، ج5، ص 340)


اس حدیث کو امام بزار نے اپنی المسند میں اور امام ہیثمی علیہما الرحمہ نے مجمع الزوائد میں بھی روایت کیا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کیا اور بکرے ذبح کیا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لنگرِ میلاد کھیلایا ۔


بعض علماء کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو بکرے ذبح کیے تھے وہ میلاد کے نہیں بلکہ عقیقہ کے تھے ۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بکرے میلاد کے موقع پر نہیں بلکہ عقیقہ کے طور پر ذبح کیے گئے تھے ۔ اب سوال یہ ہے کہ عقیقہ کس موقع پر کیا جاتا ہے ؟ کیا عقیقہ وفات پر ہوتا ہے یا ولادت پر ؟ ظاہر ہے عقیقہ ولادت کی خوشی میں کیا جاتا ہے ۔ لہٰذا کوئی چاہے اسے میلاد مانے یا عقیقہ ، حقیقت یہ ہے کہ عقیقہ بھی میلاد (ولادت) کی خوشی کا کھانا ہے ۔ جیسے ولیمہ شادی کی خوشی کا کھانا ہوتا ہے، اسی طرح عقیقہ ولادت کی خوشی کا کھانا ہے ۔


حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ: لما ولد النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عق عنه عبد المطلب بكبش وسماه محمدا ۔

ترجمہ : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ با سعادت ہوئی تو آپ کی طرف سے آپ کے دادا عبد المطلب نے ایک مینڈھے کا عقیقہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکھا ۔ (تاريخ مدينة دمشق، ج3، ص 32،چشتی)(الحاوي للفتاوي، ج1، ص 188)


امام سیوطی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ : أن جده عبد المطلب عق عنه في سابع ولادته والعقيقة ۔

ترجمہ : بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے دادا عبد المطلب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے ساتویں روز آپ کی طرف سے عقیقہ کر دیا تھا ۔ (الحاوي للفتاوي، ج1، ص 188)


امام ابو داود اپنی السنن میں اور امام ترمذی علیہما الرحمہ اپنی السنن میں روایات نقل کرتے ہیں ۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا : كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُدَمَّى ۔

ترجمہ : ہر بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے، اس کی طرف سے ساتویں روز ذبح کیا جائے، اس کا سر مونڈا جائے، اور اس کا نام رکھا جائے۔ (أبو داود، السنن، ج3، ص 106، رقم: 2837)


امام ترمذی علیہ الرحمہ یہی روایت اپنی السنن میں نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا : الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ ۔

ترجمہ : ہر بچہ عقیقہ کے بدلے گروی رکھا ہوا ہے، پیدائش کے ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور اس کے سر کے بال منڈائے جائیں ۔ (سنن ترمذی ج4، ص 101، رقم: 1522)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث میں عقیقہ کے بارے میں یہ ہدایت ہے کہ اگر ساتویں دن عقیقہ نہ ہو سکے تو چودھویں دن کیا جائے ، اور اگر چودھویں دن بھی نہ ہو سکے تو اکیسویں دن کیا جائے ۔ یہ دن عقیقے کے لیے مقرر ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقیقہ آپ کی ولادت کے ساتویں دن ہو گیا تھا ۔


اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ساتواں دن ، چودھواں دن اور اکیسواں دن سب گزر گئے تو پھر چالیس سال بعد اعلانِ نبوت کے بعد دوبارہ عقیقہ کرنے کا کیا مطلب ؟ اگر کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سوچا ہو کہ میرا پہلا عقیقہ بعثت سے پہلے جاہلیت کے دور میں ہوا تھا ، اس لیے اب نبوت کے بعد اپنی شریعت کے مطابق دوبارہ عقیقہ کروں ۔ تو اس خیال کا بھی میں جواب دینا چاہتا ہوں ۔ یہ محض ایک گمان ہے کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاہا ہو کہ بعثت کے بعد اپنی شریعت میں اس عمل کو دوبارہ ادا کریں ۔ اگر بعثت سے پہلے دورِ جاہلیت کا کوئی عمل ناجائز ہو جاتا (معاذ اللہ) اور اسے دہرانا ضروری ہوتا ، تو سب سے پہلے نکاح دہرانا لازمی تھا ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے نکاح بعثت سے پندرہ سال پہلے ہوا تھا ۔ اسی نکاح سے سیدہ فاطمہ ، حضرت رقیہ ، حضرت زینب ، حضرت ام کلثوم ، حضرت ابراہیم ، حضرت قاسم اور طیب و طاہر رضی اللہ عنہم پیدا ہوئے ۔ جب اعلانِ نبوت ہوا تو وہ نکاح تو دوبارہ نہیں کیا گیا ، تو پھر عقیقہ دہرانے کی ضرورت کیسے پیش آ سکتی ہے ؟


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا اعادہ نہیں کیا ، تو پھر عقیقے کا اعادہ اس سے زیادہ ضروری کیسے ہو سکتا تھا ؟ حقیقت یہ ہے کہ جسے "عقیقہ" کہا گیا ہے وہ دراصل کھانا ہے ، یعنی بکرے ذبح کر کے صدقہ و خیرات اور خوشی کے اظہار کےلیے کھانا کھلانا ۔ شادی کی خوشی کا کھانا "ولیمہ" کہلاتا ہے اور ولادت (میلاد) کی خوشی کا کھانا "عقیقہ" کہلاتا ہے ۔ چنانچہ اعلانِ نبوت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع فرمایا اور اپنی شریعت اور سنت میں اپنے میلاد کی خوشی کا لنگر کھلا کر قیامت تک کےلیے میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانا سنت بنا دیا ۔


میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواز اور اس کے سنت ہونے پر خود سیرتِ نبوی روشن دلیل ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلانِ نبوت کے بعد اپنی ولادتِ باسعادت کی خوشی میں بکرے ذبح کیے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لنگر عطا فرمایا ۔ اسے اگر کوئی عقیقہ کہے تو بھی حقیقت یہی ہے کہ عقیقہ دراصل میلاد (یعنی ولادت) ہی کی خوشی کا کھانا ہے ، جیسے نکاح کی خوشی کا کھانا ولیمہ کہلاتا ہے ۔ اس عمل سے یہ اَمر قطعی طور پر ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سنت اور اپنی شریعت میں میلاد کی مسرت کو عملی صورت بخشی ۔ جس سے یہ واضح ہوا کہ عقیقے کے نام پر جو لنگر دیا گیا وہ دراصل میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جشن تھا ۔ یوں میلاد منانا فقط مباح نہیں بلکہ عین سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ، اور اس کی اصل خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے میلاد کی خوشی کا اظہار ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 13 August 2026

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ثبوت وہابیوں کے گھر سے

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ثبوت وہابیوں کے گھر سے

محترم قارئینِ کرام : محترم قارئینِ کرام : اہلِ اسلام کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادت کی خوشی منانا ، سال کے تمام ایام میں بالخصوص ماہ ربیع الاول میں اجر و ثواب کی نیت سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے شمائل و خصائل کو بیان کرنا اور ایصال ثواب کے نذرانے پیش کرنا اہل اسلام کا طریقہ رہا ہے ۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کے میلاد منانا ایک کار خیر اور باعث اجر و ثواب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جمہور محدثین ، مفسرین ، مورخین علیہم الرّحمہ سب میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو ایک امر خیر جانتے ہیں اور اس کے منانے والوں کےلیے الله عزّ وجل کی جانب سے اجرِعظیم کی امید رکھتے ہیں ۔


آگے بڑھنے سے پہلے یہ حدیث پڑھ لیجیے دین میں اچھے کام کے رائج کرنے والوں پر اجر : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ ۔ (رواہ مسلم كتاب الزكاة ١٠١٧،چشتی)

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا جو شخص اسلام میں اچھے طریقے کو رائج کرے گا ، تو اس کو اس کا ثواب ملے گا ، اور ان لوگوں کے عمل کا بھی ثواب ملے گا جو اس کے ایجاد کردہ فعل پر عمل کرتے رہیں اور عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں واقع نہیں ہوگی ، اور جو شخص اسلام میں کسی برے عمل کو رائج کرے گا تو اس پر اس عمل کو رائج کرنے کا بھی گناہ ملے گا اور ان لوگوں کے عمل کا بھی جو اس کے بعد اس طریقے پر چلتے رہے اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہیں کی جائے گی ۔


اہلِ بدعت یعنی غیر مقلدین جنہوں نے عقائد میں طرح طرح کی بدعات نکال لی ہیں ۔ اور دین کے ہر مسئلے میں ان کا اسی طرح پوری امت سے علیحدہ ہی رہنے کا ان کا عزم ہے ۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو بدعت بدعت کہ کر رٹ لگائے رکھتے ہیں پر ان غیر کے مقلدوں کے پاس اس کی حرمت کی دلیل نہیں فقط یہ کہنے کہ " كل بدعة ضلالة " یا پھر "من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه فھو رد " سے استدلال باطلہ کرنے کے . من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه فھو رد ، اس حدیث کی شرح میں محدثین علیہم الرّحمہ کے اقوال میں نقطہ یہ ہے کہ اس میں ما لیس منه کی قید ہے . مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح » كتاب الإيمان » باب الاعتصام بالكتاب والسنة."ما ليس منه فيه إشارة إلى أن إحداث ما لا ينازع الكتاب والسنة ۔

ترجمہ : اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسی نئی بات کا نکالنا جو کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو مذموم (نا پسندیدہ) نہ ہو گی ۔


امام شافعی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں : مَا أَحْدَثَ وَخَالَفَ كِتَابًا أَوْ سُنَّةً أَوْ إِجْمَاعًا أَوْ أَثَرًا فَهُوَ الْبِدْعَةُ الضَّالَّةُ. وَمَا أُحْدِثَ مِنَ الْخَيْرِ وَلَمْ يُخَالِفْ مِنْ ذٰلِكَ فَهُوَ الْبِدْعَةُ الْمَحْمُوْدَةُ ۔ (إعانة الطالبين جلد 1 صفحہ 594،چشتی)

ترجمہ : جو چیز نئی پیدا ہوئی اور مخالف ہوئی کتاب و سنت اور اجماع اور اثر کے ، وہ بدعت ضلالہ ہے اور جو نئی چیز پیدا ہوئی خیر سے اور نہیں مخالف ہے ان سے (کتاب و سنت ، اجماع اثر) ، پس وہ بدعت محمودہ ہے ۔


دوسری حدیث : كل بدعة ضلالة اس حدیث میں لفظ کل استغراقی نہیں ہے ۔ بلکہ یہ "کل" عام اور مخصوص البعض ہے کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم احداث کو ما لیس منہ کے ساتھ مقید فرما چکے ہیں تو اب جس قدر حدیثیں بدعت کی منع ہوں گی وہ سب احداث، مخالف شریعت کی طرف راجع ہونگی ، نہ کہ موافق شریعت کی طرف، کیونکہ اصول کا مسلہ ہے کہ جب کوئی حکم کسی امر مقید پر ہوتا ہے تو وہ حکم قید کی طرف راجع ہوگا . (حديث مرفوع) : مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ ۔ (أحمد في كتاب السنة رقم الحديث: 914)

ترجمہ : جسے مسلمان اچھا جانیں ، وہ الله کے نزدیک بھی اچھا ہے ۔


منکرینِ میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم وہابیوں کی گردنوں پر تلوار : ⏬


محترم قارئینِ کرام : ہم نے ابن تیمیہ کا حوالہ پیش کیا تو منکرینِ میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو آگ اور مرچی لگ گئی کہ خیانت کی گئی ہے ان بچاروں کے پاس جواب تو ہوتا نہیں جب جواب نہیں ہوتا تو سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کرنے کےلیے جھوٹ بولنے سے دریغ نہیں کرتے کبھی کہتے ہیں حدیث ضعیف ہے ، کبھی کہتے ہیں عبارت مکمل نہیں اور جب پھنس جائیں تو پھر کہتے یہ مولوی ہمارے لیے حجت نہیں ہے مگر انہیں ملاّؤں کا نام استعمال کر کے لوگوں کو گمراہ بھی کرتے ہیں آیئے ہم اقتضاء الصراط مستقیم کے عربی ایڈیشن اور ایک اردو ترجمہ جو وہابیوں نے کیا ہے کے اسکینز ساتھ پیش کر رہے ہیں ۔ جس میں علامہ ابن تیمیہ نے صاف لکھا ہے کہ میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم منانے والوں کےلیے اجر عظیم اور ثواب ہے پڑھیے اور وہابیوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے بغض و عداوت ملاحطہ کیجیے ۔


وہابیوں کی گردنوں پر تلوار ، شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : وکذلک ما يحدثه بعض الناس، إما مضاهاة للنصاري في ميلاد عيسي عليه السلام، وإما محبة للنبي صلي الله عليه وآله وسلم وتعظيمًا. وﷲ قد يثيبهم علي هذه المحبة والاجتهاد، لا علي البدع ، من اتخاذ مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم عيدًا ۔

ترجمہ : اور اِسی طرح اُن اُمور پر (ثواب دیا جاتا ہے) جو بعض لوگ ایجاد کر لیتے ہیں ، میلادِ عیسیٰ علیہ السلام میں نصاریٰ سے مشابہت کے لیے یا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّمکی محبت اور تعظیم کےلیے ۔ اور اللہ تعالیٰ اُنہیں اِس محبت اور اِجتہاد پر ثواب عطا فرماتا ہے نہ کہ بدعت پر ، اُن لوگوں کو جنہوں نے یومِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو بہ طور عید اپنایا ۔ (اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم صفحہ 619،چشتی)


وہابیوں کی گردنوں پر تلوار ، شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : فتعظيم المولد واتخاذه موسماً، قد يفعله بعض الناس، ويکون له فيه أجر عظيم؛ لحسن قصده ، وتعظيمه لرسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، کما قدمته لک أنه يحسن من بعض الناس ما يستقبح من المؤمن المسدد ۔

ترجمہ : میلاد شریف کی تعظیم اور اسے شعار بنا لینا بعض لوگوں کا عمل ہے اور اِس میں اُس کےلیے اَجر عظیم بھی ہے کیوں کہ اُس کی نیت نیک ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی تعظیم بھی ہے ، جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک ایک اَمر اچھا ہوتا ہے اور بعض مومن اسے قبیح کہتے ہیں ۔ (اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم صفحہ 621 ، 622،چشتی)


وہابیوں کی گردنوں پر تلوار ، شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : جو مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی محبت میں میلاد مناتے ہیں اللہ انہیں اس پر اجر و ثواب عطاء فرمائے گا ۔ (فکر و عقیدہ کی گمراہیاں ترجمہ اقتضاء الصراط مستقیم صفحہ 73 ابن تیمیہ، مترجم وہابی عالم مطبوعہ دارالسلام)


وہابیوں کی گردنوں پر تلوار ، شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : میلاد شریف کی تعظیم اور اسے شعار بنا لینا بعض لوگوں کا عمل ہے اور اِس میں اُس کےلیے اَجر عظیم بھی ہے کیوں کہ اُس کی نیت نیک ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی تعظیم بھی ہے ، جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک ایک اَمر اچھا ہوتا ہے اور بعض مومن اسے قبیح کہتے ہیں ۔ (فکر و عقیدہ کی گمراہیاں ترجمہ اقتضاء الصراط مستقیم صفحہ 77 ابن تیمیہ ، مترجم وہابی عالم مطبوعہ دارالسلام) ۔ لو جی وہابیو اب تو ترجمہ اور چھاپہ تمہارا ہے ۔


وہابی نجدی مذھب کے بانی محمد ابن عبد الوہاب نجدی کے بیٹے شیخ عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب نے اپنی کتاب “مختصر سيرة الرسول صلى الله عليه وسلم” میں رقم کیا ہے : وأرضعته صلى الله عليه وسلم ثويبة عتيقة أبي لهب، أعتقها حين بشرته بولادته صلى الله عليه وسلم. وقد رؤي أبو لهب بعد موته في النوم فقيل له: ما حالك ؟ فقال: في النار، إلا أنه خفف عني كل اثنين، وأمص من بين إصبعي هاتين ماء ۔ وأشار برأس إصبعه ۔ وإن ذلك بإعتاقي ثويبة عندما بشرتني بولادة النبي صلى الله عليه وسلم وبإرضاعها له ۔

ترجمہ : ابو لہب کی آزاد کردہ باندی “ثویبہ” کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت رضاعت کا شرف ملا ، ابو لہب نے انہيں اس وقت آزاد کیا تھا جس وقت انہوں نے اسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت باسعادت کی بشارت سنائی تھی ۔ اور ابو لہب کے مرنے کے بعد اسے خواب میں دیکھا گيا ، اس سےپوچھا گیا کہ تیرا کیا حال ہے ؟ تو اس نے کہا : میں عذاب میں ہوں البتہ ہر پیر کے دن مجھ سے عذاب ہلکا کیا جاتا ہے ، اور میں اپنی ان دونوں انگلیوں کے درمیان پانی چوستا ہوں (اس نے اپنی انگلی کی پور کی جانب اشارہ کیا) اور یہ ثویبہ کو اس موقع پر آزاد کرنے کی برکت ہے جس وقت اس نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت کی بشارت دی تھی ، اور خدمت رضاعت کا شرف حاصل کیا تھا ۔ شیخ عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب نجدی نے اس روایت سے جواز میلاد پر استدلال کرتے ہوئے علامہ ابن جوزی کا قول نقل کیا ہے : قال ابن الجوزي : فإذا كان هذا أبو لهب الكافر الذي نزل القرآن بذمه جوزي بفرحه ليلة مولد النبي صلى الله عليه وسلم به فما حال المسلم الموحد من أمته صلى الله عليه وسلم يسر بمولده ؟ ۔

ترجمہ : ابن جوزی نے کہا : جب کافر ابو لہب کہ جس کی مذمت میں قرآن کریم کی سورت نازل ہوئی اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت کی شب خوش ہونے پر ثواب دیا جارہا ہے تو آپ کی امت کا مؤمنِ موحد جب آپ کی ولادت پر اظہار مسرت کرتا ہے تو وہ کس قدر نوازا جائے گا ۔ (مختصر سيرة الرسول ﷺ لعبد الله بن محمد بن عبد الوهاب باب رضاعه من ثويبة عتيقة أبي لهب صفحہ نمبر 27 مطبوعہ دارالحضارہ للنشر والتوزیع)(مختصر سيرة الرسول صلى الله عليه وسلم لعبد الله بن محمد بن عبد الوهاب باب رضاعه من ثويبة عتيقة أبي لهب جلد 1 صفحہ نمبر 16 ، 17 مطبوعہ دار السلام الرياض،چشتی)(مختصر سیرۃ الرسول مترجم اردو صفحہ نمبر 32 عبد اللہ بن محمد بن عبد الوہاب نجدی مطبوعہ جامعة العلوم الاثریہ جہلم)(الوفا باحوال مصطفیٰ ﷺ مترجم اردو صفحہ نمبر 138 مطبوعہ فرید بکسٹال اردو بازار لاہور)


ابو لہب جیسے کافر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت کی خوشی میں ثوبیہ کو آزاد کیا تو ہر پیر کو عذاب میں کمی ہو جاتی ، (توفیق الباری شرح بخاری جلد 8 صفحہ 194 مترجم وہابی عالم)


امامُ الوہابیہ و دیابنہ علامہ حافظ ابن قیم جوزی لکھتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم جب پیدا ہوئے ثوبیہ نے ابو لہب کو خوشخبری دی اس نے اسے اس خوشی میں آزاد کردیا جب مرگیا تو اسے مرنے کے بعد عذاب میں کمی ہوتی تھی اس کی انگلی سے مشروب جاری ہوتا جسے وہ پیتا ۔ (تحفۃ الودود صفحہ نمبر 33)


امامُ الوہابیہ نواب صدیق حسن خان بھوپالی (م 1307ھ) غیر مقلدین کے نام وَر عالم دین ہیں وہ میلاد شریف منانے کی بابت لکھتے ہیں : اِس میں کیا برائی ہے کہ اگر ہر روز ذکرِ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں کر سکتے تو ہر اُسبوع (ہفتہ) یا ہر ماہ میں اِلتزام اِس کا کریں کہ کسی نہ کسی دن بیٹھ کر ذکر یا وعظِ سیرت و سمت و دل و ہدی و ولادت و وفات آنحضرت کا کریں۔ پھر ایامِ ماہِ ربیع الاول کو بھی خالی نہ چھوڑیں اور اُن روایات و اخبار و آثار کو پڑھیں پڑھائیں جو صحیح طور پر ثابت ہیں ۔ (الشمامة العنبرية من مولد خير البرية صفحہ نمبر 5،چشتی)


امامُ الوہابیہ نواب صدیق حسن خان بھوپالی (م 1307ھ) غیر مقلدین کے نام وَر عالم دین ہیں وہ میلاد شریف منانے کی بابت لکھتے ہیں : جس کو حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے میلاد کا حال سن کر فرحت حاصل نہ ہو اور شکر خدا کا حصول پر اِس نعمت کے نہ کرے وہ مسلمان نہیں ۔ (الشمامة العنبرية من مولد خير البرية صفحہ 12)


مشہور غیر مقلد وہابی عالم علامہ نواب وحید الزماں (متوفی 1338ھ ، 1920ء میلاد شریف کے بارے میں لکھتے ہیں : وکذلک من يزجر الناس بالعنف والتشدد علي سماع الغناء أو المزامير أو عقد مجلس للميلاد أو قراء ة الفاتحة المرسومة ويفسقهم أو يکفرهم علي هذا ۔

ترجمہ : ایسے ہی لوگوں کو سماع ، غناء یا مزامیر یا محفلِ میلاد منعقد کرنے یا مروّجہ فاتحہ پڑھنے پر ڈانٹ ڈپٹ کرنے سے یا اُن کے فسق یا اُن کے کفر پر ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور تشدد کرنا نیکی کی بجائے گناہ حاصل کرنا ہے ۔ (هدية المهدی من الفقه المحمدی صفحہ نمبر 118 ، 119)


جو لوگ محفلِ میلاد کو بدعتِ مذمومہ اور خلافِ شرع کہتے ہیں ، اُنہیں کم اَز کم اپنے بڑوں کا ہی لحاظ کرتے ہوئے اِس رویہ سے گریز کرنا چاہیے  ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)














عیدِ میلادالنبی ﷺ کی ضد میں عیدیں صرف دو ہیں کہنے والے جہلائے زمانہ کو مدلل جواب

عیدِ میلادالنبی ﷺ کی ضد میں عیدیں صرف دو ہیں کہنے والے جہلائے زمانہ کو مدلل جواب محترم قارئینِ کرام اللہ عزوجل کا ارشاد مبارک ہے : اَلْیَوْم...