Sunday, 26 April 2026

حفظ الایمان کی گستاخانہ عبارت کی تاویلاتِ دیابنہ کا تحقیقی جواب

حفظ الایمان کی گستاخانہ عبارت کی تاویلاتِ دیابنہ کا تحقیقی جواب






محترم قارٸینِ کرام : دیابنہ کا حکیم اشر فعلی تھانوی دیوبندی اپنے رسالہ حفظ الایمان میں لکھتا ہے : پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ۔ اگر بعض علومِ غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی ہی کیا تخصیص ہے ۔ ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کےلیے بھی حاصل ہے ۔ (حفظ الایمان صفحہ نمبر 15 دارالکتاب دیوبند  اور مطبوعہ قدیمی کتبخانہ کا صفحہ نمبر 13)

ہم نے اصل عبارت میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی مگر ہو سکتا ہے بوجوہ چند مشکل الفاظ کے عوام الناس کو اس عبارت کے معانی و مفہوم کے سمجھنے میں کچھ مشکل پیش آئے ۔ اس لیے ہم ایسے الفاظ کی وضاحت معتبر کتب لغات سے ذیل میں پیش کرتے ہیں : ⏬

صبی : چھوکرا ، دووھ چھٹا بچہ ۔ (فرہنگ عامرہ صفحہ 305)

مجنون : پاگل دیوانہ ۔ (فرہنگ عامرہ صفحہ 424)

حیوانات : حیوان کی جمع ، جانور ۔ (فرہنگ عامرہ صفحہ 193)

بہائم : بہیمہ کی جمع بہیمہ بے عقل و تمیز جانور ۔ (فرہنگ عامرہ صفحہ 104 ، 105)

لغات کی روشنی میں پتہ چلا کہ صبی بچہ کو کہتے ہیں مجنوں پاگل دیوانہ اور حیوانات عام ہے انسان اور جانوروں کےلیے اور بہائم خاص چوپایوں جانوروں کےلیے ۔

نقل کفر کفر نباشد کے تحت ایک دفعہ معانی کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ عبارت پھر پڑھیں : پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب۔ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی ہی کیا تخصیص ہے۔ ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لیے بھی حاصل ہے۔ (حفظ الایمان صفحہ نمبر 15 دارالکتاب دیوبند  اور مطبوعہ قدیمی کتبخانہ کا صفحہ نمبر 13،چشتی)

اے اہلِ ایمان : خالی الذہن ہو کر بار بار تھانوی کی عبارت پڑھیں اور اندازہ کریں کہ بعض اور کل علوم کی بحث کی آڑ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کیسی صریح توہین کی گئی ہے ؟

سوال نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب کے تعلق سے تھا جانوروں پاگلوں بچوں عام انسانوں کے علم سے متعلق نہیں اور پھر اگر ان کے علم کے تعلق سے بھی سوال ہوتا تو اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم سے مخلوقات میں کسی کے علم کا کیا تعلق ؟

کہاں ہمارے پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علمِ پاک اور کہاں عام انسانوں بچوں پاگلوں جانوروں کا علم ۔ معاذاللہ ۔

چہ نسبت خاک را با علم پاک

اگر کوئی ایسی ہی عبارت تھانوی دیوبندی کے علم کے متعلق تحریر کر دے کہ : اشرف علی تھانوی کے متعلق علم شریعت کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس سے بعض مسائل شریعت مراد ہیں یا کل اگر بعض علم مراد ہے تو اس میں اشرف علی تھانوی کی کیا تخصیص ایسا علم تو زید و عمر و بلکہ ہر صبی  و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کو حاصل ہے ۔

تو کیا اشرف علی تھانوی کی اذناب و ذریات اور ان کے پیروکار حضرات اسے تھانوی کی توہین پر محمول نہ کریں گے ؟

ضرور کریں گے لیکن آج تقریبا سوا سو سال ہونے کو آئے دیوبندی حضرات اس عبارت کی متضاد تاویلات بے جا تشریحات و توضیحات کرتے جا رہے ہیں۔ یہ کیسی علمی دیانت ہے ۔

بلکہ اس سے بڑھ کر دیوبندی حضرات کےلیے لمحہ فکریہ ہے کہ ان کی وفاداریاں کس کے ساتھ ہیں ؟

کیا ان کے نزدیک ان کے پیشوا کی عزت نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ناموس سے بڑھ کر ہے ؟

یہ کیسا انصاف ہے کہ جو عبارت ان کے اشرف علی تھانوی سیدُالانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے کہیں تو گستاخی نہ ہو بلکہ تاویلات تلاش کی جائیں اور ہٹ دھرمی برتی جائے اور جب اسی عبارت کو تھانوی کےلیے کہا جائے تو گستاخی قرار دی جائے ۔

اس کفریہ عبارت پر ہم آپ کے سامنے تھانوی کے اپنے وکلاء کی تضاد بیانی بیان کر کے اور ان ہی سے فتوی کفر کی تائید کروا دیتے ہیں  ملاحظہ ہو : دیوبندی علماء نے تھانوی کی کفریہ عبارت کو خالص ایمانی بنانے کےلیے جو کوششیں کی ہیں اور جس انداز میں غلط و فاسد تاویلات کا سہارا لیا اس کی تفصیل بخوف طوالت ہم چھوڑ رہے ہیں ۔ صرف دو علماء کی تاویلات کو نقل کریں گے لیکن اس سے پہلے ہم تھانوی کی عبارت میں لفظ ایسا جو عبارت میں اصل کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی لفظ کو لے کر بحث و مباحثہ ہوتے رہے ہیں اور علماء دیوبند نے تھانوی کی عبارت میں تاویل کرتے ہوئے خاص کر لفظ ایسا کو ہی اپنی تحریر کا محور بنایا ہے ۔ لہٰذا یہاں اسی لفظ کی وضاحت ہم مشہور اردو لغات کی روشنی میں پیش کر رہے ہیں ۔

ایسا کا لغوی مفہوم : ⏬

فرہنگ آصفیہ میں ایسا کی تشریح : ایسا : صفت مانند ہم شکل ، مماثل ، مساوی ، متوازی ، اس قسم کا ، اس طرح کا ، اس بھانت کا ، بحالت تابع فعل اس قدر ، اتنا فقرہ ایسا کھانا کھایا کہ بد ہضمی ہو گئی ۔ (فرہنگ آصفیہ جلد 1 صفحہ 240)

فیروز اللغات اردومیں ہے : ایسا : اس قسم کا ، اس شکل کا ، مماثل ، مانند ، اس نمونے کا ، اس طرح، یوں ۔ (فیروز اللغات جلد 1 صفحہ 153)

امیر اللغات میں ہے : ایسا : اس قسم کا، اس شکل کا ، اس قدر ، اتنا ، مماثل ، مانند ، اس طرح ، یوں ۔ (حصہ دوم صفحہ 302 مؤلفہ منشی امیر احمد امیر مینائی لکھنوی)

نوراللغات میں ہے : ایسا : اس قسم کا، اس شکل کا، اس قدر، اتنا، مانند مثل ۔ (جلد 1 صفحہ 409)

الحاصل : لغوی حیثیت سے لفظ ایسا تشبیہ یا مقدار کے معنی میں مستعمل ہے ۔

اب رہا تھانوی کی عبارت میں لفظ ایسا کسی معنی میں ہے تو آئیے ہم صرف دو دیوبندی مشہور علماء کی کتب کے حوالے سے ثابت کرتے ہیں کہ انہوں نے لفظ ایسا کس معنی میں لیا ہے ۔

لفظ ایسا بمعنی اتنا : ⏬

مولوی مرتضیٰ حسن دربھنگی چاند پوری دیوبندی اشرف علی تھانوی کی عبارت متنازعہ فیھا میں لفظ ایسا کی تاویل کرتے ہوئے لکھتا ہے : واضح ہو کہ (ایسا) کا لفظ فقط مانند ، اور مثل ہی کے معنی میں مستعمل نہیں ہوتا بلکہ اس کے معنی ، اس قدر ، اور ، اتنے ، کے بھی آتے ہیں جو اس جگہ متعین ہیں ۔ (توضیح البیان فی حفظ الایمان مطبوعہ قاسمی دیوبند صفحہ 17)

دوسرے مقام پر لکھتا ہے : عبارت متنازعہ فیھا میں لفظ (ایسا) بمعنی اس قدر اور اتنا ہے پھر تشبیہ کیسی ۔ (توضیح البیان فی حفظ الایمان مطبوعہ قاسمی دیوبند صفحہ 8)

مولوی مرتضیٰ حسن دیوبندی کی مندرجہ بالا عبارت سے تھانوی کی عبارت کفریہ میں لفظ ایسا اس قدر اور اتنا کے معنی میں ہے ۔

مولوی حسین احمد ٹانڈوی صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند لفظ ایسا کو اتنا کے معنی میں مان لینے سے متعلق لکھتا ہے : حضرت مولانا عبارت میں (ایسا) فرما رہے ہیں لفظ اتنا تو نہیں فرما رہے ہیں اگر لفظ اتنا ہوتا تو اس وقت البتہ یہ احتمال ہوتا کہ معاذاللہ حضور علیہ السلام کے علم کو اور چیزوں کے علم کے برابر کردیا ۔ (الشہاب الثاقب مطبع قاسمی دیوبند صفحہ 111)

الحاصل مرتضیٰ حسن دیوبندی نے تھانوی کی عبارت میں لفظ ایسا بمعنی اتنا مانا ہے اور مولوی حسین احمد کے نزدیک اگر عبارت میں لفظ ایسا اتنا کے معنی میں مان لیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ معاذاللہ تھانوی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم اور چیزوں (زید بکر صبی مجنون جمیع حیوانات و بہائم) کے علم کے برابر کردیا ہے اور نبی پاک کے علم کو عام انسانوں کےبرابر کردینا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین نہیں ؟
کیا اس عبارت میں صاف صاف کفر نظر نہیں آرہا ہے ؟ ۔ قارئینِ کرام فیصلہ کریں ۔

لفظ ایسا تشبیہ کےلیے : ⏬

الشہاب الثاقب میں لفظ ایسا بمعنی تشبیہ ۔ مولوی حسین احمد لکھتے ہیں : لفظ  ایسا  تو تشبیہ کا ہے اور ظاہر ہے کہ اگر کسی کو کسی سے تشبیہ دیا کرتے ہیں تو سب چیزوں میں مراد نہیں ہوا کرتی ۔ (الشہاب الثاقب)
اور لکھتے ہیں : ادھر لفظ اتنا تو نہیں کہا بلکہ تشبیہ فقط بعضیت میں دے رہے ہیں ۔
(الشہاب الثاقب مطبع قاسمی دیوبند صفحہ 112)

مولوی حسین احمد کے نزدیک تھانوی کی عبارت میں لفظ ایسا (تشبیہ) کےلیے ہے تشبیہ کے معنی میں لینے سے کوئی حکم عائد نہیں ہوگا لیکن انہیں کے ایک مولوی مرتضیٰ حسن تشبیہ کا معنی مراد لینے کو کفر قرار دے رہے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں : ⏬

اگر وجہ تکفیر کی تشبیہ علم نبوی بعلم زید و عمرو ہے تو یہ اس پر موقوف ہے کہ لفظ ایسا تشبیہ کےلیے ہو ۔ (توضیح البیان صفحہ 13،چشتی)

مذکورہ بالا بحث کا خلاصہ یہ نکلا کہ بعض دیوبندی علماء کے نزدیک تھانوی کی عبارت میں لفظ ایسا اتنا کے معنی میں آتا ہے اور بعض کے نزدیک تشبیہ کےلیے ۔ جنہوں نے تشبیہ کےلیے مانا ان کے نزدیک اتنا ماننے کی صورت میں کفر ہے اور جنہوں نے اتنا مانا تو انہوں نے تشبیہ کے معنی ماننے کو سبب کفر قرار دیا ۔ لہٰذا عبارت بالا کی روشنی میں خود دیوبندی علماء کے نزدیک اشرف علی تھانوی کی عبارت کا کفریہ ہونا ثابت ہوگیا ۔ یہ بحث تو تھانوی کے اذناب و ذریات کی جانب سے تھی خود تھانوی نے لفظ ایسا کس معنی میں لیا ہے وہ بھی ملاحظہ فرمائیں : ⏬

اشرف علی تھانوی دیوبندی کے نزدیک لفظ ایسا ، بیان کےلیے ہے ۔ اشرف علی نے یہ جان لیا تھا کہ اگر لفظ (ایسا) تشبیہ کے معنی میں لیا جائے تو بھی کفر ہے اور (اتنا) کے معنی میں تب بھی کفر ہے ۔ لہٰذا تھانوی نے ایک اور مفہوم ایجاد کیا اور لفظ ایسا کو (بیان) کےلیے مان کر الزامِ کفر سے خود کو بچانے کی ناکام کوشش کی تغییرالعنوان میں لکھتا ہے : لفظ ایسا بقرینہ مقام مطلق بیان کےلیے آتا ہے ۔ (حفظ الایمان مع تغییرالعنوان صفحہ 121 ناشر انجمن ارشاد المسلین لاہور)

تھانوی کی تاویل بے جا کے جواب میں مظہرِ اعلی حضرت شیر بیشہ اہل سنت فاتح عالم دیوبند علامہ حشمت علی علیہ الرحمہ کی طرف سے تحریر فرمودہ جواب نقل کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے : ⏬

آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : تھانوی جی بھلا حکیم الامت کہلا کر اردو ادب کے مسائل سے بھی آپ کیا جاہل ہوں گے ضرور ہے کہ دانستہ سب کچھ دیکھ بھال کر مسلمانوں پر اندھیری ڈالنا چاہتے ہیں ۔ ہاں تھانوی جی ہم سے سنیے ایسا کا لفظ مطلق (بیان) کےلیے وہاں آتا ہے جہاں مشبہ بہ مذکور نہ ہو نہ صراحتاً نہ حکماً اور جہاں مشبہ اور مشبہ بہ دونوں موجود ہوں وہاں قطعاً یقیناً ایسا کا لفظ تشبیہ ہی  کےلیے آتا ہے ۔ آپ کی عبارت میں مشبہ اور مشبہ بہ دونوں موجود ہیں اور یہاں لفظ ایسا یقیناً تشبیہ کےلیے ہے مطلق بیان کےلیے ہرگز نہیں ہو سکتا ۔ (قہر واجدان بر ہمشیر بسط البنان صفحہ 13،چشتی)

محترم قارئینِ کرام دیکھا آپ نے کہ کفریہ عبارت کا دفاع کرتے کرتے اشرف علی تھانوی دیوبندی کو خود دیوبندی علماء نے کفر کی دلدل میں دھنسا دیا ۔

اشرف علی تھانوی دیوبندی کی کتاب حفظ الایمان کی عبارت "ایسا علم غیب تو زید و عمر بلکہ ہر صبی (بچہ) و مجنوں (پاگل) بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کو حاصل ہے “ پر علمائے حق نے اشرف علی کی تکفیر کلامی کی کہ اس نے اپنی مذکورہ بالا عبارت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کو جانوروں اور پاگلوں کے علم سے تشبیہ دے کر توہین نبوی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ثابت شدہ صفت علم غیب عطائی کی تکذیب کی اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں جس کی صراحت فقہ و کلام کی کتابوں میں موجود ہے ۔ اس تکفیر کی تردید میں اذناب و حاملین اشرف على تهانوی کہتے ہیں کہ اس تشبیہ کی بنیاد پر اگر توہین نبوی ہو گئی جس کی بنا پر اشرف علی کو کافر کلامی قرار دیا گیا ۔ تو ایسی تشبیہ تو امام جلال الدین سیوطی اور قاضی بیضاوی علیہما الرحمہ کی عبارت میں بھی ہے جو انہوں نے قول باری ” كان ياكلان الطعام “ کے تحت اپنے کلام میں حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت مریم علیہاالسلام کے کھانے کو جانوروں کے کھانے سے تشبیہ دی ہے امام جلال الدین کی عبارت ہے” كغيرھا من الحیوانات“ اور قاضی بیضاوی کی عبارت ہے” یفتقران اليه افتقارالحيوانات“ پس اگر افضل کو مفضول کے ساتھ تشبیہ دینا افضل کی توہین کرنا ہے کہ جیسا کہ علمائے اہل سنت نے اشرف علی کی عبارت کے حوالے سے کہا کہ اس نے تشبیہ دے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی ہے تو یہی چیز تو امام جلال الدین اور قاضی بیضاوی کی عبارت میں ہے کہ انھوں نے افضل حضرت عیسٰی علیہ السلام کو مفضول حیوانات سے تشبیہ دی ہے لہذا جو حکم اشرف علی پر صادر ہوا وہی حکم (العیاذ بالله) ان دونوں بزرگوں پر لگنا چاہیے اور اگر ان پر نہیں لگاتے تو اشرف علی پر بھی نہ لگاؤ اس لیے کہ دونوں مقام میں افضل کو مفضول سے تشبیہ دی گئی ہے لہٰذا کفر ہے تو دونوں جگہ ہو اور نہیں ہے تو دونوں جگہ نہیں ہونا چاہیے اور یہ بات آپ اہل سنت کے یہاں مسلم ہے کہ وہ دونوں حضرات بزرگ ہیں اہل حق ہیں تو اب آپ کے نزدیک اشرف علی بھی حق پر ہونا چاہیے ۔

مذکورہ اعتراض کے جواب سے پہلے آپ اتنا جان لیں کہ بعض تشبیہ تنقیص ہوتی ہیں اور بعض تنقیص نہیں ہوتی : ⏬

1 : افضل کو مفضول کے ساتھ ایسے وصف میں تشبیہ دینا جو وصف افضل کے مفضول سے افضل ہونے کا سبب ہے جیسے کہ انسان کو وصف عقل رکھنے میں گدھے کے ساتھ تشبیہ دے کر کہا جائے کہ انسان عقل رکھنے میں گدھے کی طرح ہے ۔ یہ تشبیہ تنقیص ہے ۔

2 : افضل کو مفضول کے ساتھ وصف عامہ مشترکہ میں اس جہت سے تشبیہ دینا جس جہت سے وہ وصف دونوں کے درمیان مشترک ہے جیسا کہ احتیاج طعام کی جہت سے انسان کو حیوان کے ساتھ وصف اکل طعام میں تشبیہ دے کر کہنا کہ جیسے انسان کھاتا ہے ایسے ہی حیوان کھاتا ہے یعنی جس طرح سے انسان کو کھانے کی ضرورت ہے ایسے ہی حیوان کو بھی کھانے کی ضرورت ہے __یہ تشبیہ تنقیص نہیں ہے ۔

3 : افضل کو مفضول کے ساتھ تشبیہ دینا وصف عامہ مشترکہ میں جہت اشتراک کے علاوہ جہت سے جیسے کہ کہا جائے کہ انسان بیل کی طرح کھاتا ہے یعنی کھانے میں جو طریقہ بیل کا ہے وہی طریقہ انسان کا ہے ۔ اس میں تنقیص کا پہلو ہے ۔

اس تفصیل کے بعد اب آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اشرف علی تھانوی کی عبارت توہینِ رسالت میں مفسر ہے کہ اس میں تشبیہ کی قسم اول ہے جو کہ تنقیص ہے اس کے برخلاف امام جلال الدین اور قاضی بیضاوی علیہما الرحمہ کی عبارات میں تشبیہ کی دوسری قسم ہے جو توہین نہیں ہے نیز آیت کریمہ ”انما أنا بشر مثلكم“ بھی بنظر ظاهر اسی قبیل سے ہے ۔ پس اشرف علی تھانوی دیوبندی کی عبارت مشتمل توہینِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کی بنا پر کفریہ ہے اور اہل حق کا اس عبارت کی بنیاد پر اس کو کافر کلامی کہہ کر حکمِ شرع ظاہر کرنا مطابقِ شریعت ہے ۔


اس سے قبل کہ علماء دیوبند کی تاویلات باطلہ کے متعلق مزید کچھ عرض کریں ، حفظ الایمان کی گستاخانہ عبارت کا مختصر پس منظر پیش خدمت ہے ۔ علماۓ دیوبند کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غیب کا کچھ علم نہیں ۔ دیابنہ اور وہابیہ کا امام و مقتدا اسماعیل دہلوی لکھتا ہے : غیب کی بات اللہ ہی جانتا ہے رسول کو کیا خبر ۔ (تقویۃ الایمان صفحہ 84 مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی)

علماۓ دیوبند کے قطب الاقطاب مولوی رشید احمد گنگوہی صاحب نے اپنا عقیدہ یوں بیان کیا ہے : اس میں ہر چہار ائمہ مذاہب و جملہ علماء متفق ہیں کہ انبیاء علیہم السلام غیب پر مطلع نہیں ہیں اور اس مدعی کے اثبات پر ہزاروں احادیث و آیات شاہد ہیں ۔ (مسئلہ در علم غیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم از گنگوہی ملحقہ بجواهر التوحید از غلام اللہ خان صفحہ 357 کتب خانہ رشیدیہ راولپنڈی)(ملحقہ علم غیب صفحہ 154 قاری طیب مطبوعہ ادارہ اسلامیات لاہور)

جبکہ مطلقاً علم غیب یا اطلاع غیب کا انکار غیر اسلامی عقیدہ ہے مفتی شفیع لکھتے ہیں : جاہل عوام جو ان باتوں میں فرق نہیں کرتے جب ان کے سامنے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم الغیب نہیں وہ اس کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی غیب کی چیز کی خبر نہیں جس کا دنیا میں کوئی قاٸل نہیں اور نہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایسا ہونے سے تو خود نبوت و رسالت کی نفی ہو جاتی ہے جس کا کسی مؤمن سے امکان نہیں ۔ (تفسیر معارف القرآن جلد 8 صفحہ 583)

اس اثناء میں جب ان کے باطل عقیدہ کی تردید کی گئی تو ان حضرات کی جانب سے ایک فرضی زید کے نام سے عالم الغیب کے متعلق سوال کو گھڑ کے اس اطلاق کی نفی پر گفتگو کی ، مگر اطلاق کے ساتھ ساتھ حکم کی بھی نفی کر دی ۔ قارئین کی آسانی کےلیے عرض ہے کہ اطلاق سے مراد کسی چیز کےلیے کسی لفظ کا بولنا ہے جبکہ کسی چیز کےلیے کسی بات کے ثابت ہونے کو حکم سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔

مولوی منظور نعمانی دیوبندی لکھتے ہیں : کسی صفت کا واقع میں کسی ذات کےلیے ثابت ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ اس کا اطلاق بھی اس پر جائز ہو ۔ قرآن کریم میں حق تعالی کو ہر چیز کا خالق بتلایا گیا ہے اور تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ عالم کی ہر چیز صغیر ہو یا کبیر ، عظیم ہو یا حقیر سب اس کی مخلوق ہے لیکن با این ہمہ فقہاء کرام تصریح فرماتے ہیں کہ اس کو خالق القردة والخنازیر کہنا ناجائز ہے ۔ علی ھذا قرآن مجید میں حق تعالی نے زرع (کھیتی) کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے ۔ لیکن اس کی ذات پاک پر زارع کا اطلاق درست نہیں ۔ اسی طرح بادشاہ کی طرف سے لشکر کو جو عطایا اور وظائف دیے جاتے ہیں ، اہل عرب ان پر رزق کا اطلاق کرتے ہیں ۔ چنانچہ لغت کی عام کتابوں میں یہ محاورہ لکھا ہوا ہے کہ رزق الامیر الجند ، لیکن با ایں ہمہ بادشاہ کو رازق یا رزاق کہنا درست نہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل مبارکہ کے باب میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ خود ہی اپنی نعل مبارک کو ٹانک لیا کرتے تھے اور خود ہی اپنی بکری دوہ لیا کرتے ۔۔۔۔۔ الخ لیکن اس کے باوجود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاصف النعل (جفت دوز)  اور حالب الشاة (بکری دوہنے والا) نہیں کہا جا سکتا ۔ بہرحال  یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ بعض اوقات ایک صفت کسی ذات میں پائی جاتی ہے اور اس کا اطلاق درست نہیں ہوتا ۔ (فیصلہ کن مناظرہ صفحہ 152 ، 153،چشتی)

ساجد نقلبدی دیوبندی لکھتا ہے : کسی صفت کا واقع میں کسی ذات کے لئے ثابت ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ اس کا اطلاق بھی اس پر جائز ہو ۔ قرآن کریم میں حق تعالی کو ہر چیز کا خالق بتلایا گیا ہے اور تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ عالم کی ہر چیز صغیر ہو یا کبیر ، عظیم ہو یا حقیر سب اس کی مخلوق ہے ۔ لیکن اس کے باوجود فقہاء کرام تصریح فرماتے ہیں کہ اس کو خالق القردة والخنازیر کہنا ناجائز ہے ۔ اس طرح بادشاہ کی طرف سے لشکر کو جو عطایا اور وظائف دیے جاتے ہیں ، اہل عرب ان پر رزق کا اطلاق کرتے ہیں ۔ چنانچہ لغت کی عام کتابوں میں یہ محاورہ لکھا ہوا ہے کہ رزق الامیرالجند ، لیکن با ایں ہمہ بادشاہ کو رازق یا رزاق کہنا درست نہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل مبارکہ کے باب میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ خود ہی اپنی نعل مبارک کو ٹانک لیا کرتے تھے اور خود ہی اپنی بکری دوہ لیا کرتے ۔۔الخ لیکن اس کے باوجود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاصف النعل (جفت دوز) اور حالب الشاۃ (بکری دوہنے والا) نہیں کہا جا سکتا ۔ بہر حال یہ حقیقت ناقابل انکار ہے کہ بعض اوقات ایک صفت کسی ذات میں پائی جاتی ہے اور اس کا اطلاق درست نہیں ہوتا ۔ (دفاع اہل السنت جلد 1 صفحہ 611 ، 612 )

عبارات کی مماثلث کس بات کی چغلی کھا رہی ہے اس کا اندازہ ہمارے قارئین بخوبی کر سکتے ہیں ، خیر ان دونوں عبارات کا حاصل یہ ہے کہ علم اور اطلاق میں فرق ہوتا ہے بعض دفعہ صفت کے موجود ہونے کے باوجود موصوف پر اطلاق درست نہیں ہوتا ۔ اب تھانوی صاحب سے سائل نے کچھ یوں سوال کیا : اور کہتا ہے کہ علم غیب کی دو قسمیں ہیں ۔ بالذات ۔ اس معنی کو علم الغیب خدا تعالی کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اور بواسطہ ۔ اس معنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم الغیب تھے ۔ زید کا یہ استدلال اور عقیدہ و علم کیسا ہے ۔ (حفظ الایمان صفحہ 81 ستمبر 1980 انجمن ارشاد المسلمین ، لاہور پاکستان)

اس سوال میں سائل نے علم غیب کی دو قسمیں ذکر کی ہیں ، ایک ذاتی اور دوسرا عطائی ، اس میں کہیں بھی اطلاق کا لفظ موجود نہیں ۔ لہٰذا سائل کا سوال علم غیب کے متعلق تھا ، اب اس کا جواب دیتے ہوۓ اشرف علی تھانوی دیوبندی لکھتا ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ؟ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید ، و عمر بلکہ ہر صبی  و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ۔ (حفظ الایمان)

اس عبارت کے آغاز میں اشرفعلی تھانوی دیوبندی نے دو ٹوک لکھا ہے کہ : علم غیب کا حکم کیا جانا ، یعنی وہ ( تھانوی) ، عالم الغیب کے اطلاق پر نہیں بلکہ علم غیب کے حکم پر گفتگو کرتے ہوۓ اس کی ہی نفی کے در پے ہیں ، اور یہاں علم غیب کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی ہے ۔ اب تھانوی نے اس علم غیب کی دو قسمیں بیان کی ہیں ، ایک کل علم غیب ، جس کو عقلاً و نقلاً باطل قرار دیا ، اور دوسری بعض علم غیب جس کو تسلیم کرتے ہوئے یہ خبیث استدلال کیا کہ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید ، و عمر بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ، یعنی جو علم سرکارِ کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے ثابت مانا ، وہی علم جانوروں و پاگلوں کےلیے بھی تسلیم کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ہولناک گستاخی کا مرتکب ہوا ۔

اس عبارت کے متعلق ایک دیوبندی لکھتا ہے : حفظ الایمان حضرت تھانوی کی تصنیف ہے جس میں تین سولات کے جوابات ہیں ۔۔۔ اور سوال سوم عالم الغیب کے بارے میں تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب کہہ سکتے ہیں کہ نہیں ۔ تیسرے سوال کے جواب میں حضرت تھانوی بحث کرتے ہوۓ لکھتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ؟ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید ، و عمر بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ، کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے شخص سے مخفی ہے تو چاہئے کہ سب کو عالم الغیب کہا جاوے ۔ (حفظ الایمان صفحہ 8) ۔ یاد رہے یہ ہاٸیڈ کی ہوٸی عبارت کو آج تک کسی بریلوی نے نقل نہیں کیا ، اس لیے کہ یہ ٹکڑا خود عبارت کا جواب ہے ، اور جب جواب نقل کیا تو اعتراض معترض کے لئے باعث شرمندگی ہے ۔ معترضین کہتے ہیں کہ مذکورہ عبارت میں حضرت تھانوی نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کو بچوں ، پاگلوں ، حیوانات اور بہائم وغیرہ سے تشبیہ دی ہے ۔ حالانکہ یہ ان کی کج فہمی ہے ۔ (حق المبین پر ایک نظر صفحہ 102،چشتی)

محترم قارئین کرام : اس جگہ دیوبندی حضرت اس بات پہ برہم ہیں کہ علماء اہلسنت ہاٸیڈ کیا ہوا جملہ  نقل نہیں کرتے ، اور آگے چل کر بھی موصوف نے یہ راگ کچھ یوں الاپا ہے : بریلوی اپنی تین معتبر کتب سے حفظ الایمان کی عبارت کا یہ ٹکڑا ، کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے شخص سے مخفی ہے تو چاہیے کہ سب کو عالم الغیب کہا جاوے ، ثابت کرے کہ کسی بریلوی عالم نے حفظ الایمان کی عبارت کے ساتھ یہ عبارت نقل کیا ہے ۔ (الحق المبین پر ایک نظر صفحہ 108)

جواباً عرض ہے کہ مذکورہ بالا جملہ نقل نہ کرنا اس صورت میں قابلِ اعتراض ہے جب عبارت کا مطلب تبدیل ہو ، محض یہ فقرہ ہی نہیں پوری حفظ الایمان بھی نقل کر دی جائے تو یہ عبارت گستاخانہ ہی رہے گی ، پھر اس فقرہ کے متعلق تین کتب سے دکھانے کا مطالبہ جو دیوبندی حضرت نے کیا ہے ، ہم اسے پورا کیے دیتے ہیں ، ملاحظہ ہو ۔ (انوار احناف صفحہ 227 )(تحقیقات صفحہ 332،چشتی)(صاعقة الرضا صفحہ 325)(قہر و اجددیان صفحہ 10)

اس کے بعد ہمارا معاند حفظ الایمان کی عبارت کی تشریح کرتے ہوۓ لکھتا ہے : پھر یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا) یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عالم الغیب کا اطلاق کرنا ۔ (الحق المبین پر ایک نظر صفحہ 103)

مولوی منظور نعمانی دیوبندی لکھتا ہے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب کہنا اور آپ کی ذات قدسی پر لفظ عالم الغیب کا اطلاق کرنا ۔ (فیصلہ کن مناظرہ صفحہ 156)

ایک اصلی سارق و جعلی محقق ساجد نقلبندی دیوبندی لکھتا ہے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا ، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر عالم الغیب کا اطلاق کرنا ۔ (دفاع اہل السنۃ جلد 1 صفحہ 612)

محترم قارئینِ کرام : یہاں ان حضرات کے قلم سے امانت و دیانت کا خون ملاحظہ ہوں ، کہ کس قدر خدا خوفی سے بے نیاز ہو کر یہ حضرات عوام کی آنکھ میں دھول جھونکنے پہ آمادہ ہیں ۔ ایک طرف ان حضرات کو یہ اقرار ہے کہ حکم اور اطلاق میں فرق ہے ، مگر دوسری طرف اس فرق کو ختم کرتے ہوئے اشرفعلی تھانوی دیوبندی کی عبارت میں موجود لفظ حکم کو اطلاق سے تبدیل کر دیا ۔ یعنی اشرفعلی تھانوی دیوبندی نے لکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا ۔ الخ  ۔ اس جگہ واضح طور پر حکم کے الفاظ موجود ہیں ، اور کوئی بھی شخص ملاحظہ کر سکتا ہے کہ اشرفعلی تھانوی دیوبندی کا کلام علم غیب کے متعلق ہے اور آگے چل کر اسی کی نفی پہ آمادہ ہیں جبکہ دیوبندی حضرات تشریح کرتے ہوۓ اس حکم کو اطلاق سے تبدیل کیے دیتے ہیں جبکہ ان دونوں میں فرق فریق مخالف کو مسلم ہے ، لہٰذا دیوبندی حضرات کا یہاں اطلاق کو حکم سے تبدیل کرنا انتہاٸی مذموم عمل ہے ۔ ان حضرات نے اس جگہ یہ پاپڑ اس لیے بیلا ہے کہ حسام الحرمین پہ اعتراض کیا جا سکے اور اشرفعلی تھانوی دیوبندی کے گلے سے گستاخی کے اس بوجھ کو کم کیا جا سکے ، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کے متعلق کلام اسی جگہ کر دیا جاۓ ۔

مولوی منظور نعمانی دیوبندی  حسام الحرمین پہ اعتراض کرتے ہوۓ لکھتا ہے : حفظ الایمان میں مذکورہ بالا عبارت کے بعد الزامی نتیجہ طور پر یہ فقرہ تھا ۔ تو چاہیے کہ سب کو عالم الغیب کہا جاوے ، خان صاحب نے اس کو بھی صاف اڑا دیا ، کیونکہ اس فقرے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مصنف حفظ الایمان حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کی مقدار میں کلام نہیں فرما رہے ، بلکہ ان کی بحث صرف عالم الغیب کے اطلاق میں ہے ۔ (فیصلہ کن مناظرہ صفحہ 158،چشتی)

سارق و جعلی محقق ساجد نقلبندی دیوبندی لکھتا ہے : حفظ الایمان میں مذکورہ بالا عبارت کے بعد الزامی نتیجہ طور پر یہ فقرہ تھا ۔ تو چاہے کہ سب کو عالم الغیب کہا جاوے ۔ خان صاحب نے اس کو بھی بالکل اڑا دیا ، کیونکہ اس فقرے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مصنف حفظ الایمان حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم مبارک کی مقدار میں کلام نہیں فرما رہے ، بلکہ ان کی بحث صرف عالم الغیب کے اطلاق میں ہے ۔ (دفاع اہل السنۃ جلد 1 صفحہ 615)

عبارت کی مماثلث کس طرح اس سارق و جعلی محقق ساجد نقلبندی دیوبندی کی تحقیق کا بھرم توڑتے ہوۓ ان کے سرقہ کو آشکار کر رہی ہے ، اس سے قارئین بخوبی واقف ہو جائیں گے ، ہم ان کی توجہ ان حضرات کی اس تاویل کی کمزوری کی طرف منعطف کیے دیتے ہیں ، اس لیے کہ یہ عبارت اس وقت اشرفعلی تھانوی دیوبندی کو فائدہ دیتی جب بحث عالم الغیب کے اطلاق کے متعلق ہوتی جبکہ ہم ثابت کر چکے کہ بحث علم غیب کے متعلق ہے اور اشرفعلی تھانوی دیوبندی کی عبارت میں ، علم غیب کا حکم کیا جانا ۔ الخ منقول ہے ۔ پھر سائل کا سوال بھی ہم نقل کر چکے ، اس میں بھی عالم الغیب کے اطلاق کی نہیں بلکہ علم غیب کے ہی متعلق گفتگو ہے ، اس لیے ان حضرات کا یہ اعتراض درست نہیں ۔ یہ سارے پاپڑ محض اس لیے بیلے جارے ہیں کہ جب یہ بات ثابت ہو جاۓ کہ اس عبارت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کی بابت گفتگو نہیں تو اسے تشبیہ دینے کا سوال خود بخود تم ہو جائے گا ، جبکہ اشرفعلی تھانوی دیوبندی کی عبارت چیخ چیخ کر یہ اعلان کر رہی ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پہ علم غیب کے حکم کے متعلق گفتگو ہے اور اس کی دو قسمیں بیان کر کے ایک کو باطل کہا اور دوسری کو تسلیم تو کیا مگر تخصیص کی نفی کرتے ہوئے اسے بہائم وغیرہ میں تسلیم کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شدید گستاخی ہے ۔ خیر اس کے بعد یہ حضرات عبارت کی تشریح کرتے ہوۓ لکھتے ہیں : ⏬

قولہ : اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ ، یعنی اگر بقول زید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب کہنا درست ہے تو پھر زید بتا دے کہ ، قولہ : اس غیب سے مراد بعض ہے یا کل ، یعنی زید جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب کہہ رہا ہے حضرت تھانوی فرماتے ہیں کہ اس غیب سے تمہارا مراد بعض علم غیب ہے یا کل علم غیب ۔
قولہ : اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں ، یعنی زید کل علم غیب نہیں مانتا بلکہ انہوں نے کہا کہ میں بعض علم غیب کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب مانتا ہوں ۔ تو اس پر حضرت تھانوی فرماتے ہیں : قولہ : اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا تخصیص ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کےلیے حاصل ہے کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے سے مخفی ہے ، یعنی پھر اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا خاصیت ہے ایسی بعض باتیں تو ہر ایک کو معلوم ہوتا ہے جو دوسرے سے مخفی ہے ۔ پھر اس میں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کیا فرق اور اس کی اور ان کے درمیان کیا خاصیت باقی رہتی ہیں ۔ (الحق المبین پر ایک نظر صفحہ 103)

اس ساری تشریح کا خلاصہ یہ ہے کہ اس جگہ ایسا علم غیب سے مراد بعض مطلق علم غیب ہے اور یہی تاویل اشرفعلی تھانوی دیوبندی سے لے کر آج تک تمام کذاب دیوبندیوں نے کی ہے ۔

مولوی منظور نعمانی دیوبندی لکھتا ہے : اور حفظ الایمان کی عبارت میں ایسا کا لفظ آیا تھا اور اس سے مطلق بعض غیوب کا علم مراد تھا نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم اقدس ، مگر خاں صاحب نے اس سے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم شریف مراد لے لیا ۔ (فیصلہ کن مناظرہ صفحہ 157)

سارق ساج نقلبندی دیوبندی لکھتا ہے : حفظ الایمان کی عبارت میں ایسا کا لفظ آیا تھا اس سے مطلق بعض غیوب کا علم تھا نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم اقدس ، مگر خان صاحب نے اس سے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم شریف مراد لیا ۔ (دفاع اہلسنت جلد 1 صفحہ 614)

مولوی سرفراز خان صفدر دیوبندی  لکھتا ہ : مولانا مرحوم کی مراد یہ ہے کہ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی کی کیا تخصیص ہے ایسا یعنی اس قدر اور اتنا علم غیب کہ جس کے اعتبار سے تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب کہتے ہو اور اطلاق لفظ عالم الغیب کےلیے جتنے اور جس قدر کی ضرورت سمجھتے ہو یعنی مطلق بعض مغیبات کا علم تو یہ زید و عمر بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات اور بہائم کو بھی حاصل ہے ۔ (عبارات اکابر صفحہ 187 فروری 2010 مکتبہ صفدریہ نزد مدرسه نصرۃ العلوم گھنٹہ گھر گوجرانوالہ،چشتی)

اشرفعلی تھانوی دیوبندی لکھتا ہے : بلکہ مراد اس لفظ ایسا سے وہی ہے جو اوپر مذکور ہے یعنی مطلق بعض علم ۔ (بسط البنان بحوالہ عبارات اکابر صفحہ 190)

یہی تھانوی دیوبندی لکھتا ہے : معترضین کے شبہہ کا منشاء دو امر کا مجموعہ ہے ایک یہ کہ عبارت ایسا علم میں ایسا کو تشبیہ کےلیے سمجھ گئے اور علم سے مراد علم نبوی سمجھ گئے حالانکہ یہ منشاء ہی غلط ہے لفظ بقرینہ مقام مطلق بیان کےلیے بھی آتا ہے ۔ اسی طرح علم سے مراد علم نبوی نہیں بلکہ مطلق بعض علوم غیبیہ مراد ہیں ۔ (امداد الفتاوی جلد 6 صفحہ 101،چشتی)(حضرات مشائخ دیوبند پر اتہامات کی حقیقت صفحہ 5)

مزید اشرفعلی تھانوی دیوبندی لکھتا ہے : لفظ ایسا میں مطلق بعض غیوب کا علم مراد ہے نہ کہ علم نبوی ۔ (افاضات الیومیہ جلد 8 صفحہ 176)

مقامع الحدید میں ہے : اور واقعہ یہ ہے اس سے حضور  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم مراد نہیں ۔ بلکہ مطلق بعض علم غیب مراد ہے ۔ (مقامع الحدید صفحہ 69)

مولوی خالد محمود دیوبندی لکھتا ہے : اس عبارت میں ایسا علم غیب سے مراد مطلق بعض علم غیب تھا ۔ (مطالعه بریلویت جلد 1 صفحہ 361)

اسی طرح اوصاف رومی دیوبندی لکھتا ہے : حفظ الایمان میں جو بات بعض علم غیب کے لئے کہی گئی تھی ۔ (دیوبند سے بریلی صفحہ 83)

دیوبند شیخ الحدیث حضرات کی ٹیم لکھتی ہے : مولانا تھانوی اس بات پر بحث فرما رہے تھے کہ عالم الغیب کا اطلاق اللہ تعالی کے ماسوا پر جائز نہیں ۔ اس سے مراد کل غیب ہیں ۔ یا بعض ۔ اگر کل غیب مراد ہوں تو کل غیب غیر اللہ کے لئے ہرگز ثابت نہیں ۔ اور اگر بعض غیب مراد ہوں تو ایسا بعض (مراد مطلق بعض) ہر صبی ، مجنون وغیرہ کو بھی حاصل ہو سکتا ہے ۔ لفظ ایسا مولانا تھانوی نے تشبیہ کےلیے نہیں بولا تھا ۔ بریلوی اعلی حضرت نے اسے جبراً تشبیہ کےلیے بنا کر یہ مفہوم نکالا ۔ (انصاف صفحہ 68 ، 69،چشتی)

مولوی حسین احمد ٹانڈوی دیوبندی لکھتا ہے : ایسا سے اشارہ بعض مذکور کی طرف ہوا ہے وہ بعض ہرگز مراد نہیں جو رسول مقبول علیہ السلام کو حاصل ہے کہ اس کا تو ذکر بھی نہیں ۔ (الشہاب الثاقب صفحہ 251)

محترم قارٸین کرام : آپ ملاحظہ کر چکے کہ اشرفعلی تھانوی دیوندی سے لے کر آج تک تمام دیوبندی حضرات یہی تاویل کرتے ہیں کہ ایسا علم غیب سے مراد مطلق بعض علم غیب ہے ، جبکہ یہ تاویل نہیں بلکہ تحریف ہے ۔

مولانا محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : پوری عبارت یہ شہادت دے رہی ہے کہ ایسا علم غیب سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کا علم غیب ہے اس لئے کہ شروع میں ہے پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پہ علم غیب کا حکم کیا جانا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر علم غیب کا حکم کرنے میں کلام ہے تو علم غیب بھی حضور ہی کا مراد ہوا تھانوی صاحب نے زید سے دریافت کیا تو کس کے علم غیب کو ، حضور ہی کے اور کہا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب اس عبارت میں تھانوی صاحب نے کس کا علم پوچھا ہے ؟ ظاہر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم غیب دریافت کیا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے علم غیب میں دو قسمیں کیں بعض غیب یا کل غیب  تو بعد میں خود ہی نقلاً و عقلاً باطل کر دیا تو کل غیب کس کےلیے باطل کیا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کےلیے ۔ اب رہ گیا ۔ بعض علم غیب تو بعض کس کا علم رہا حضور ہی کا رہا اس کے متعلق تھانوی صاحب نے کہا اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی ہی کیا تخصیص ہے اس عبارت میں کس کی تخصیص کی نفی کی حضور ہی کی ۔ جب تخصیص نہ رہی تو مشارکت و مشابہت لازم آگئی ۔ اس لئے کہا کہ ایسا علم غیب جیسا کہ حضور کو ہے تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ۔ لہذا اب ایسا علم غیب سے مراد کسی اور کا علم غیب ہرگز نہیں ہو سکتا ۔ حضور ہی کا علم غیب مراد ہوا اور اسی کو بچوں ، پاگلوں اور جانوروں سے تشبیہ دیا تو یہ توجہ بھی غلط ثابت ہوئی کہ ایسا علم غیب سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم غیب نہیں بلکہ بعض مطلق علم غیب ہے ۔ (تعارف علماء دیوبند صفحہ 54،چشتی)

مولانا محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ کے بیان سے یہ بات واضح ہو گئی کہ حفظ الایمان میں گفتگو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب کی ہے ، اس میں مطلق علم غیب کا تذکرہ نہیں ۔ کیونکہ اس عبارت میں اس غیب سے مراد ۔۔ الخ کے الفاظ میں لفظ اس کا اشارہ اس علم غیب کی طرف ہے جو اس سے قبل مذکور ہے اور وہ علم غیب حضور ہی کا ہے جیسا کہ تھانوی نے لکھا کہ آپ کی ذات مقدسہ پہ علم غیب کا حکم کیا جانا ۔الخ کیونکہ اس عبارت میں زیر بحث حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہی علم ہے لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم ہی کو جانوروں و پاگلوں کے علم سے تشبیہ دی گئی ہے ۔

اکثر تمام دیوبندی اپنے حکیم الامت اشرفعلی تھانوی کی حفظ الایمان والی گستاخانہ عبارت کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوۓ نظر آتے ہیں اور اس گستاخانہ عبارت کو صحیح ثابت کرنے کے لیے عوام اہلسنت کے آنکھوں میں اکثر دھول جھونکنے کی ناکام کوشش بھی بے چارے کرتے نظر آتے ہیں ۔ آج ہم عوام اہلسنت کے سامنے حفظ الایمان والی گستاخانہ عبارت کو خود دیوبندیوں کے گھر سے گستاخانہ ثابت کر کے دیں گے ۔ محمد عبدالمجید صدیقی دیوبندی نے تھانوی کی اس گستاخانہ عبارت کے بارے میں لکھا ہے کہ : قیام پاکستان سے پہلے حکیم الامت ، مجدد و ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنے ایک رسالے حفظ الایمان کے اندر علم غیب کی بابت ، ایک ایسا جملہ لکھ دیا تھا جس پر ہر صحیح الفکر مسلمان نے اعتراض کیا تھا ، پس مجروح قلوب پر مرہم کی خاطر مولانا تھانوی نے 1329 ھ میں رسالہ بسط البنان تحریر فرمایا مگر اس کا خاطر خواہ اثر نہ ہوا ۔ کچھ عرصے بعد حضرت تھانوی حیدرآباد دکن تشریف لے گئے ، جہاں اس زمانے میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کے خلف الرشید حضرت مولانا حافظ محمد احمد چیف جسٹس تھے ۔ حافظ صاحب کے مکان پر علماء کا اجتماع تھا اور حضرت تھانوی بھی موجود تھے اور پیر صاحب حضرت سید محمد بغدادی حیدرآبادی بھی مدعو تھے ۔ ان کی خدمت میں رسالہ حفظ الایمان پیش کیا گیا جس میں اس جملے کو پڑھ کر آپ نے فرمایا کہ اس عبارت سے تو بوۓ کفر آتی ہے اور (اس عبارت کے) خلاف فتوی دیا ۔ چند روز بعد حضرت بغدادی نے حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ کے حفظ الایمان کی وہ عبارت رد کرنے اور اس کو قبیح کہنے پر اظہار خوشی فرما رہے ہیں اور فرمایا : ہم تم سے خوش ہوۓ ، تم کیا چاہتے ہو ؟ آپ نے عرض کیا کہ میری تمنا ہے کہ اپنی باقی عمر مدینہ منورہ میں بسر کروں اور وہاں کی مٹی میں دفن ہوں ۔ آپ کی درخواست منظور ہو گئی ۔ اس کے بعد آپ مدینہ منورہ ہجرت کر گئے اور دس سال وہاں مقیم رہ کر 1354ھ میں وہیں وصال فرمایا ۔ (سیرت النبی بعد از وصال النبی ﷺ حصہ ششم صفحہ  169 ، 170،چشتی)

عبدالمجید صدیقی دیوبندی نے اسی صفحہ پر لکھا کہ : یہ مضمون کتاب مقامات خیر از  مولانا حضرت شاہ زید ابوالحسن فاروقی مجددی ۔ حضرت شاہ ابوالخیر اکاڈمی دہلی نمبر 6 بھارت طبع اول 1392 ھجری کے صفحات 252 ، 253  اور صفحہ 616 پر تحریر شدہ عبارت سے تیار کیا گیا ہے ۔

اشرف علی تھانوی  نے اپنے ایک رسالے حفظ الایمان کے اندر علم غیب کی بابت ایک ایسا جملہ لکھ دیا تھا جس پر ہر صحیح الفکر مسلمان نے اعتراض کیا تھا ۔ (سیرت النبی بعد از وصال النبی ﷺ جلد 1 صفحہ 169)

میرٹھ میں پیر سید گلاب شاہ نے شاہ ابوالخیر اور مولوی احمد بن قاسم نانوتوی کی موجودگی میں دیوبندی امام اشرفعلی تھانوی کا رد کیا اور اس کی بسط البنان کی وضاحت کو ٹھکرا دیا اور حفظ الایمان پر فتوی لگایا ۔ چنانچہ مولانا شاہ زید ابوالحسن فاروقی صاحب لکھتے ہیں کہ : پیر سید گلاب شاہ نے پھر سب کو اپنی طرف متوجہ کر لیا اور مختصر رسالہ میں سے مولوی اشرف علی صاحب کی کتاب حفظ الایمان کے صفحہ سات کا حوالہ دیتے ہوئے سنایا ، دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ہے اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ، ایسا علم تو زید و عمر بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کےلیے بھی حاصل ہے ، یہ سن کر آپ نے مولوی اشرف علی صاحب سے کہا : کیا یہی دین کی خدمت ہے ۔ تمہارے بڑے تو ہمارے طریقہ پر تھے ۔ تم نے اس کے خلاف کیوں کہا ۔ مولوی اشرفعلی تھانوی صاحب نے کہا میں نے اس عبارت کی توضیح اپنے دوسرے رسالہ میں کر دی ہے آپ نے بجواب ارشاد کیا تمہارے اس رسالہ حفظ الایمان کو پڑھ کر کتنے لوگ گمراہ ہوۓ ہم دوسرے رسالہ کو لے کر کیا کریں ۔ (بزم خیر از زید در جواب بزم جمشید صفحہ 20)

محترم قارٸین کرام : آپ نے دیکھ لیا کہ خود عبدالمجید صدیقی  دیوبندی نے حفظ الایمان کی عبارت کو گستاخانہ قرار دیا ، اب دیوبندیوں کو چاہیے کہ اشرفعلی تھانوی کو لات مار کر دیوبندیت سے خارج کر کے ان سے برأت کا اعلان کریں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Thursday, 23 April 2026

بریلوی بریلوی کا شور کرنے والے مکاروں کو جواب

بریلوی بریلوی کا شور کرنے والے مکاروں کو جواب



محترم قارئینِ کرام : جب فریقِ مخالف کے پاس جواب نہیں ہوتا تو کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی طرح اندھے مسلکی تعصب میں مبتلا ہو کر رضا خانی بریلوی بریلوی کا  شور کرتے ہیں اگر کبھی آپ کو  کوئی  رضا خانی یا بریلوی  کہہ کر طعنہ دے تو ان کو یہ مضمون بھیجیں اور کسی مناظرہ میں ان کا منہ بند کرنے کےلیے اپنے پاس محفوظ بھی رکھیں دیوبندی اور غیرمقلد وہابیوں اکابرین کے یہ اعترافات اِن کےلیے کافی ہیں ۔ ملاحظہ ہو اصاغرینِ دیوبند اور تمام جماعت دیوبند و وہابی وغیرھم کیا کہتے ہیں ۔


انہی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں زباں میری ہے بات ان کی


تمام جماعت دیوبند اور مولوی انور کاشمیری دیوبندی : ⏬


سابق ریاست بہاولپور (پاکستان) میں ایک مسلمان عورت کا شوہر مرزائی ہوگیا تھا ۔ اس پر عورت نے عدالت میں شوہر کے اتداد کی وجہ سے فسخ نکاح کی درخواست دی ۔ مقدمہ دائر ہوا اور اس میں حضرت مولانا انور شاہ صاحب سابق صدر مدرس و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند کی شہادت کے دوران مرزائی وکیل نے فتویٰ تکفیر کو بے اصل ثابت کرنے کےلیے کہا دیوبندی بریلویوں کو اور بریلوی دیوبندیوں کو کافر کہتے ہیں ۔ اس پر حضرت انور شاہ صاحب نے فورا عدالت کو مخاطب کرکے فرمایا ۔ میں بطور وکیل تمام جماعت دیوبند کی جانب سے گزارش کرتا ہوں کہ حضرات (علماء) دیوبند بریلوی حضرات کی تکفیر نہیں کرتے ۔ (کتاب حیات انور صفحہ 333 ،چشتی، روزنامہ نوائے وقت لاہور 8 جنوری 1976ء مضمون وقت کی پکار قسط نمبر 2 از مولوی بہاء الحق قاسمی دیوبندی امرتسری)

میں بطور  وکیل تمام جماعت دیوبند یہ کہتا ہوں علمائے دیوبند بریلویوں کی تکفیر نہیں کرتے یعنی کافر نہیں کہتے ۔ (ملفوظات محدث کشمیری صفحہ نمبر 61 ، 62)


معلوم ہوا کہ تمام دیوبندی جماعت اور ان کے محدث انور کاشمیری بریلویوں کو مسلمان سمجھتے ہیں اس لیے ان کی تکفیر نہیں کرتے ۔ جب عام سنی بریلوی ان کے نزدیک مسلمان ہیں تو انکے امام بدرجہ اتم مسلمان ہوئے ۔


مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی : ⏬


حضرت والا (اشرف علی تھانوی) کا مذاج باوجود احتیاط فی المسلک کے اس قدر وسیع اور حسن ظن لئے ہوئے ہے کہ مولوی احمد رضا خان بریلوی کے بھی برا بھلا کہنے والوں کے جواب میں دیر دیر تک حمایت فرمایا کرتے ہیں اور شدومد کے ساتھ رد فرمایا کرتے ہیں کہ ممکن ہے کہ ان کی مخالفت کا سبب واقعی حب رسول ہی ہو اور وہ غلط فہمی سے ہم لوگوں کونعوذ باﷲ گستاخ سمجھتے ہوں ۔ (اشرف السوانح جلد اول صفحہ 129)


مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی کی تمنائے اقتداء : ⏬


مولوی بہاء الحق قاسمی دیوبندی امرتسری لکھتے ہیں حضرت (مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی) فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھ کو مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقع ملتا تو میں پڑھ لیتا ۔ (اسوۂ اکابر صفحہ 15)(چٹان لاہور 11 جنوری1962۔چشتی)


عشق رسولِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے باعث احترام : ⏬


ان (مولوی اشرف علی) کے اخلاق کی عظمت و شرافت کی گہرائی کا یہ عالم تھا کہ مولانا احمد رضا بریلوی زندگی بھر انہیں کافر کہتے رہے۔ مولانا تھانوی نے فرمایا میرے دل میں احمد رضا کے لئے بے حد احترام ہے ، وہ ہمیں کافر کہتے ہے لیکن عشق رسول کی بناء پر کہتا ہے کسی اور غرض سے تو نہیں کہتا ۔ (دیوبندی ہفت روزہ چٹان لاہور 23 اپریل 1963)


جواز نماز : ⏬


ایک شخص نے (اشرف علی تھانوی) سے پوچھا ہم بریلی والوں کے پیچھے نماز پڑھیں تو نماز ہوجائے گی یا نہیں؟ فرمایا ہاں (ہوجائے گی) ہم ان کو کافر نہیں کہتے ۔ اگرچہ وہ ہمیں کافر کہتے ہیں ۔ (قصص الاکابر ملفوظات مولوی اشرف علی تھانوی صفحہ 99 مجالس الحکمۃ معروف بہ اربعین مصطفائی مجلس پنجاہ و دوم صفحہ 150،چشتی)


ایک سلسلہ گفتگو میں (اشرف علی تھانوی) نے فرمایا کہ دیوبند کا بڑا جلسہ ہوا تھا ۔ اس میں ایک رئیس صاحب نے کوشش کی تھی کہ دیوبندیوں میں اور بریلویوں میں صلح ہو جائے ، میں نے کہا وہ نماز پڑھاتے ہیں ہم پڑھ لیتے ہیں ۔ ہم پڑھاتے ہیں وہ نہیں پڑھتے تو ان کو آمادہ کرو (الاضافات الیومیہ جلد 5 صفحہ 220)


دعائے مغفرت : ⏬


حکیم الامت شاہ اشرف علی تھانوی صاحب کا قول ہے کہ کسی بریلوی کو کافر نہ کہو اور نہ آپ نے کسی بریلوی کو کافر کہا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ وہ حکیم الامت تھانوی ایک بڑے جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ ابھی آپ نے تقریر شروع کی تھی کہ خبر ملی کہ مولوی احمد رضا بریلوی انتقال کر گئے تو اسی وقت آپ نے تقریر کو ختم کر دیا اور غمزدہ ہو کر ارشاد فرمایا کہ مولوی احمد رضا خان صاحب سے ہمارا زندگی میں اختلاف رہا لیکن ہم ان کےلیے دعائے مغفرت کرتے ہیں ۔ اسی وقت حکیم الامت تھانوی صاحب نے خود اور اہل جلسہ نے آپ کے ساتھ مولوی احمد رضا کےلیے دعائے مغفرت فرمائی ۔ (دیوبندی ہفت روزہ چٹان لاہور صفحہ 15)


دیوبندیوں کے زبردست عالم و فقیہہ ترجمان ندوہ کا اعتراف : ⏬


ندوی مکتب فکر کے ترجمان ماہنامہ معارف اعظم گڑھ نے لکھا ہے : مولانا شاہ احمد رضا خان صاحب مرحوم اپنے وقت کے زبردست عالم ، مصنف اور فقیہہ تھے ۔ انہوں نے چھوٹے بڑے سینکڑوں فقہی مسائل سے متعلق رسالے لکھے ہیں ۔ قرآن کا سلیس ترجمہ بھی کیا ہے ۔ ان علمی کارناموں کے ساتھ ہزار فتوٶں کے جواب بھی انہوں نے دیے ہیں ۔ ان کے بعض فتوے تو کئی کئی صفحات کے ہیں ۔ فقہ اور حدیث پر ان کی نظر بڑی وسیع ہے ۔ فتاویٰ رضویہ کی دو جلدیں اس سے پہلے شائع ہو چکی ہیں ۔ اب تیسری جلد سنی دارالاشاعت مبارکپور اعظم گڑھ نے شائع کی ہے ۔ (ماہنامہ معارف اعظم فروری 1962)


فتاویٰ دارالعلوم دیوبندی :


مولوی احمد رضا خان بریلوی اور مولوی حشمت علی وغیرہ کو کافر نہ کہا جائے ۔ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند امداد المفتین جلد 2 صفحہ 138)


مولوی شبیر احمد دیوبندی : ⏬


ہم ان بریلویوں کو کافر نہیں کہتے جو کو ہم کافر بتلاتے ہیں ۔ (الشہاب از مولوی شبیر احمد عثمانی دیوبندی صدر جمعیت العلماء اسلام کلکتہ۔چشتی)


دیوبندی احراری امیر شریعت : ⏬


مولوی عطاء ﷲ بخاری امیر مجلس احرار اسلام فقیر کے مکتوب کے جواب میں لکھتے ہیں۔ مولانا ابوالفضل محمد سردار احمد خان لائل پوری بریلوی ، مولانا ابوالبرکات سید احمد قادری بریلوی لاہوری اور مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری سنی صحیح العقیدہ مسلمان ہیں اور مولانا غلام ﷲ خان دیوبندی بھی اہل سنت و جماعت ہیں وہ ابن تیمیہ کے پیروکار ہیں ۔ (مکتوب بنام فقیر محمد حسن علی رضوی، 11 جنوری 1958)


مولوی فردوس علی قصوری دیوبندی : ⏬


یہ صاحب مولوی منظور سنبھلی مدیر الفرقان اور مولوی مرتضیٰ حسن دربھنگی چاند پوری وغیرہ دیوبندی مناظرین و مصنفین کی کتابوں کے حافظ ہیں اور خود بھی اعلیٰ حضرت امام اہل سنت اور سنیت اور بریلویت کے خلاف لکھنے کا ذوق رکھتے ہیں مگر یہ اعتراف کرنا پڑا ہے کہ : مولوی احمد رضا بریلوی اور مولوی حشمت علی وغیرہ (بریلوی علماء) کو کافر نہ کہا جائے ۔ (کتاب الصلوٰۃ والسلام صفحہ نمبر 6۔چشتی)


دیوبندی ہفت روزہ خدام الدین لاہور : ⏬


مولوی حسین احمد ٹانڈوی شیخ الحدیث دیوبند کے پاکستانی نائب مولوی احمد علی لاہوری کے جاری کردہ رسالہ ہفت روزہ خدام الدین لاہور میں مختلف کتابوں کے اعلان کے ساتھ لکھا ہے ۔ اشرفی بہشتی زیور مولانا اشرفعلی تھانوی 15 روپے ، فتاویٰ رضویہ مولانا امام احمد رضا خان بریلوی 17 روپے ۔ (خدام الدین لاہور 17اگست، 7 ستمبر 1962،چشتی)


مولوی محمد احسن نانوتوی : ⏬


مولوی محمد احسن نانوتوی دیوبندی کا شمار مدرسہ دیوبند کے بانیوں و اکابرین میں ہوتا ہے ۔ وہ بریلی شریف نو محلہ کی جامع مسجد میں بھی رہے ہیں۔ ان کی سوانح حیات میں لکھا ہے ۔ مولانا محمد احسن نے (سیدنا امام اعلیٰ حضرت احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے والد ماجد) مولوی نقی علی خان کو عیدگاہ (بریلوی) سے پیغام بھجوایا کہ میں نماز پڑھنے کو آیا ہوں ، پڑھانے نہیں آیا ۔ آپ آیئے جسے چاہے امام کرلیجیے ، میں اس کی اقتداء کرلوں گا ۔ (کتاب مولانا محمد احسن نانوتوی صفحہ نمبر 87)


مولوی رشید احمد گنگوہی : ⏬


اگر بدعتی امام کے پیچھے جمعہ پڑھا تو اس کا اعادہ کرے یا نہیں ؟

جواب : اگر بدعتی امام کے پیچھے جمعہ پڑھا ہو تو اعادہ نہ کرے ۔ (فتاویٰ رشیدیہ کامل صفحہ نمبر 65)


مولوی بہاء الحق قاسمی : ⏬


حضرت (اشرفعلی) تھانوی فرمایا کرتے تھے۔ اگر مجھ کو مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقع ملتا تو میں پڑھ لیتا ۔ (اسوۂ براکابر صفحہ نمبر 15،چشتی)


مولوی خیر محمد جالندھری و مدرسہ خیر المدارس ملتان پاکستان : ⏬


مولوی خیر محمد جالندھری دیوبندی مولوی یسٰین سرائے خام بریلی کے شاگرد اور مولوی اشرف علی تھانوی کے خلیفہ اعظم اور پاکستانی دیوبندیوں کے استاذ العلماء ہیں ۔ ان کا مدرسہ دیوبندثانی وہ اپنے نام ایک استفتاء کا جواب اپنے مدرسہ کے دارالافتاء کے مفتی سے یوں دلواتے ہیں ۔ ملاحظہ ہوں سوال و جواب : ⏬


بخدمت حضرت مولانا مولوی خیر محمدصاحب مہتمم مدرسہ خیر المدارس، ملتان


استفتاء : کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نماز جنازہ کی امامت مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی کا پیروکار بریلوی مولوی کروا رہا ہو تو اس صورت میں اس بریلوی مولوی کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں ؟ فقط المنتظر جواب محمد بشیر میلسی ۔


الجواب : ایسی صورت پیش آجائے تو نماز پڑھ لینا چاہیے ۔ فقط وﷲ اعلم بندہ عبدالستار نائب مفتی مدرسہ خیر المدارس ملتان ۔ الجواب صحیح ، عبداﷲ غفرلہ مفتی مدرسہ خیر المدارس ۔


مولوی فضل الرّحمٰن کے باپ مفتی محمود دیوبندی , یہ صاحب مولوی حسین احمد ٹانڈوی کے تلامذہ میں ان کے سیاسی مقلد اور جمعیۃ العلماء ہند کانگریسی ذہن رکھتے تھے ۔ پاکستان سیاسی کاروبار کرنے کے لئے مولوی شبیر احمد عثمانی جمعیۃ العلماء اسلام کانام سرقہ کرکے جمعیۃ العلماء اسلام کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے ۔ مدرسہ قاسم العلوم کے شیخ الحدیث بھی تھے ان کے شاگرد عمر قریشی کی زبانی سنیے : ⏬


لائق صد احترام اساتذہ میں سے کسی نے بھی دوران اسباق میں بریلوی مکتب فکر سے نفرت کا اظہار نہیں کیا ۔ قیام ملتان کے زمانہ میں جب طلباء مدرسہ قاسم العلوم بعد نماز عصر قلعہ پر چلے جاتے تھے ۔ نماز مغرب کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا کہ قلعہ کی جملہ مساجد کے ائمہ بدعتی (بریلوی) ہیں ، نماز باجماعت ترک کردی جائے ۔ معاملہ استاذی مفتی محمود صاحب کے پاس پہنچا ۔ آپ نے فرمایا باجماعت نماز ادا کرو ۔ اگرچہ امام بدعتی بھی ہو ۔ (سیف حقانی برد ارشد القادری ہندوستانی صفحہ 178 از مولوی محمد عمر قریشی دیوبندی ملتانی)


دیوبندی ترجمان ہفت روزہ پاکستانی : ⏬


ہفتہ روزہ پاکستانی لائل پور (فیصل آباد) سے شائع ہوتا تھا اور اس کو قاری طیب قاسمی سابق مہتمم مدرسہ دیوبند کی تائید و حمایت حاصل تھی ۔ سیدنا اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ اور نائب اعلیٰ حضرت مظہر اعلیٰ حضرت صدر الشریعہ سیدی و سندی محدث اعظم پاکستان علامہ ابوالفضل محمد سردار احمد خان قدس سرہ العزیز کے خلاف معاندانہ مضامین شائع کرنا اس کا خاص نصب العین تھا مگر یہ اعتراف کیے بغیر چارہ نہیں تھا کہ’’پاکستان‘‘ نے بریلوی جماعت کو مسلمان سمجھا اور اس کے بانی اور بزرگوں کا ادب سے نام لیتے ہوئے اس طرح لکھا مولانا احمد رضا خان صاحب مرحوم جناب الٰہی سے رحم کیے گئے ۔ (ہفت روزہ پاکستانی لائلپور 22 - 6 - 57 ، 10 - 1 - 58،چشتی)


مولوی غلام غوث ہزاروی دیوبندی : ⏬


اہل سنت و جماعت مسلمانوں کی تمام شاخیں حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی ، دیوبندی ، بریلوی ، اہل حدیث سب مسلمان ہیں ۔ (خدام الدین لاہور)


دیوبندی پیر حماد اللہ ہالیجوی : ⏬


کہتے تھے ان (بریلویوں) کی برائی میری مجلس میں ہرگز نہ کرو وہ حُبّ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ہی کی وجہ سے ہماری طرف سے غلط فہمیوں کا شکار ہیں ۔ (خدام الدین لاہور)


اخبار الاعتصام اہل حدیث : ⏬


بریلویوں کا ذبیحہ حلال ہے کیونکہ وہ اہل قبلہ مسلمان ہیں ۔ (اہلحدیث لائلپور 20-11-1959)


پیشوائے اعظم اہل حدیث : ⏬


مولوی ثناء ﷲ امرتسری لکھتے ہیں 80 سال قبل پہلے قریبا سب مسلمان اسی خیال کے تھے جن کو آج کل بریلوی حنفی کہا جاتا ہے ۔ (شمع توحید صفحہ 40 مطبوعہ سرگودھا)


فرضیت تکفیر پر مرتضیٰ حسن دربھنگی کا فراخدلانہ اعتراف : ⏬


اگر مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کے نزدیک بعض علماء دیوبند مولانا قاسم نانوتوی ، رشید احمد گنگوہی ، خلیل احمد انبیٹھوی ، اشرف علی تھانوی ایسے ہی تھے جیسا کہ انہوں نے انہیں سمجھا تو خان صاحب پران (علماء دیوبند) کی تکفیر فرض تھی ، وہ اگر ان کو کافر نہ کہتے تو خود کافر ہو جاتے ۔ جیسا کہ علمائے اسلام نے جب مرزا (غلام احمد) صاحب کے عقائد کفریہ معلوم کر لیے اور وہ قطعاً ثابت ہو گئے تو اب علمائے اسلام پر مرزا صاحب اور مرزائیوں کو کافر و مرتد کہنا فرض ہو گیا ۔ اگر وہ مرزا اور مرزائیوں کو کافر نہ کہیں ، چاہے وہ صاحب لاہوری ہوں یا قادیانی وغیرہ تو وہ خود کافر ہو جائیں گے کیونکہ جو کافر کو کافر نہ کہے وہ خود کافر ہے ۔ (اشد العذاب صفحہ 13 مرتضیٰ حسن دربھنگی دیوبندی)


مفتی اعظم مدرسہ دیوبند مفتی : ⏬


سوال ۱۸۷,

احمد رضا خان بریلوی کے معتقد سے کسی اہل سنت حنفی کو اپنی لڑکی کا نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب : نکاح تو ہو جائے گا کہ آخر وہ (سنی بریلوی امام احمد رضا کے معتقد) بھی مسلمان ہے اگرچہ مبتدی ہے ۔ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند مصدقہ قاری محمد طیب مہتمم مدرسہ دیوبندی و مفتی ظفیر الدین دیوبندی جلد ہفتم صفحہ 158)

مفتی اعظم دیوبند

سوال 1050

جوشخص علم غیب کا قائل ہو اور امام احمد رضا خان سے عقیدت رکھتا ہو ، یا مرید ہو ، اس کے پیچھے نماز جائز ہے ، یا نہیں ؟

الجواب : وہ شخص مبتدی ہے … اگر اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے فتنہ کا اندیشہ ہو یا جماعت فوت ہوتی ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھے جیسا کہ در مختار میں ہے …الخ ۔ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد ثالث صفحہ 280 ، حسب ہدایت وزیر نگرانی قاری محمد طیب مہتمم دیوبند صفحہ نمبر 280)


مذکورہ بالا ناقابلِ تردید دلائل ، حقائق و شواہد سے ثابت ہوا کہ سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ اور تمام سنی بریلوی مسلمانوں کے عقائد ہرگز ہرگز کفر و شرک و ارتداد پر مبنی نہیں ہیں ۔ اگر آپ رحمۃ اللہ علیہ یا آپ رحمۃ اللہ علیہ کے عقیدت مند سنی بریلوی علماء کے عقائد خلاف اسلام معلوم ہوتے اور کفروشرک پر مبنی ہوتے تو مذکورہ بالا حضرات آپ کو ہرگز مسلمان نہ لکھتے اور نہ کہتے نیز آپ کی اقتداء میں نمازیں جائز قرار نہ دیتے ۔ ان حوالہ جات سےسیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کے ایمان و اسلام ، علم  و فضل ، ادب و عشق رسالت کی شہادت ملتی ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Wednesday, 22 April 2026

غیر سیّد کا خود کو سیّد کہنا نسب بدلنے والا لعنت کا مستحق ہے

غیر سیّد کا خود کو سیّد کہنا نسب بدلنے والا لعنت کا مستحق ہے

محترم قارئین کرام : سَیِّد کا لغوی معنیٰ سردار ہے مگر پاک و ہند میں اِصطلاحاً وہ لوگ سَیِّد کہلاتے ہیں جو حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی اَولاد ہیں جبکہ عرب شریف میں ہر معزز شخص کو سَیِّد اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی اَولاد کو شریف کہا جاتا ہے ۔ امام احمدرضاخان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : سَیِّد سبطین کریمین (یعنی حسنین کریمین رضی اللہ عنہما) کی اولاد کو کہتے ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد ١٣ صفحہ ٣٦١)


جو واقع میں سیِّد نہ ہو اور دِیدہ و دِانستہ (جان بوجھ کر) سید بنتا ہو وہ ملعون (لعنت کیا گیا) ہے ، نہ اس کا فرض قبول ہو نہ نفل ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : جو کوئی اپنے باپ کے سِوا کسی دوسرے یا کسی غیر والی کی طرف منسوب ہونےکا دعویٰ کرے تو اس پر اللّٰہ تعالیٰ ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی فرض قبول فرمائے گا اور نہ ہی کوئی نفل ۔ (صحیح مُسلِم کتاب الحج باب فضل المدینة ۔۔۔ الخ صفحہ ۷۱۲ حدیث نمبر ۱۳۷۰،چشتی)


جو شخص واقعتاً سید نہیں ہے ۔ اس کا اپنے آپ کو سید لکھنا بڑا گناہ ہے ۔ کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے : حدثنا مسدد ، حدثنا خالد هو ابن عبد الله ، حدثنا خالد، عن أبي عثمان ، عن سعد رضي الله عنه ، قال سمعت النبي صلى الله عليه وآلہ وسلم ، يقول : من ادعى إلى غير أبيه ، وهو يعلم أنه غير أبيه ، فالجنة عليه حرام "جو آدمی اپنا نسب بدل دیتا ہے اس پر جنت حرام ہے ۔ (صحيح بخاری رقم الحديث : 6766 مطبوعہ دار طوق النجاة)


اپنی شہرت و عزت کی خواہش کرنا کیسا خطرناک مرض ہے ۔ اسی مرض کا شکار بعض افراد ایسے بھی ہوتے ہیں کہ لوگوں سے عزت پانے کےلیے جھوٹ کا سہارا لیتےہوئے اپنی ذات بدلنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ برصغیر پاک و ہند میں سید کا لفظ ایسے لوگوں کےلیے  بولا جاتا ہے جن کا سلسلہ نسب اپنے والدکی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہو ۔ ہمارے ہاں عزت و شہرت اور مقام و منصب کو پانے  کےلیے بعْض غیر سید افراد بھی اپنے آپ کو سادات کہلواتے ہیں ، حالانکہ یہ بات حقیقت سے بہت دُور ہوتی ہے ۔ یاد رہے اپنے حَقِیقی باپ کو چھوڑ کرکسی دوسرے کو اپنا باپ بتانا یا اپنے خاندان ونَسَب کو چھوڑ کر کسی دوسرے خاندان سے اپنا نسب جوڑنا حرام اور جنت سے مَحروم ہوکردوزخ میں لے جانے والا کام ہے ۔ اس بارے میں بڑی سخت وعیدیں ہیں : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اپنے باپ کے غَیْرکو اپنا باپ بنانے کا دعویٰ کرے۔   وہ جَنَّت کی خُوشبوبھی نہیں سُونگھے گا ، حالانکہ جنت کی خوشبو پانچ سو  (500) برس کی راہ سے پائی جائے گی ۔ (الترغیب والترہیب کتاب النکاح الترہیب أن ینتسب جلد ۳ صفحہ ۵۲ حدیث نمبر ۵)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے : جو اپنے باپ کے غَیر کو اپنا باپ بنانے کا دعوی کر ے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حَرام ہے ۔ (صحیح بخارِی جلد ۴ صفحہ ۳۲۶ حدیث نمبر ۶۷۶۶)


شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمصطفیٰ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : آج کل بے شُمار لوگ اپنے آپ کو صدیقی و فاروقی و عثمانی و سید کہنے لگے ہیں ! اِنہیں سوچنا چاہیے کہ وہ لوگ ایسا کر کے کتنے بڑے گناہ کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ رب کریم ان لوگوں کو صراط مستقیم  (سیدھے راستے) پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اِس حرام و جہنمی کام سے ان لوگوں کو توبہ کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ (جہنم کے خطرات صفحہ ۱۸۲)


خلیلِ ملّت حضرت علاّمہ مفتی خلیل احمد خان قادری مارہروی رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں : غیر سیّد اگر خود کو سیّد کہے تو  وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لعنت کا مستحق ہے اور اس پر جنّت حرام ہے ۔ (فتاویٰ خلیلیہ جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 137 مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکینز لاہور)


اس پر آشوب دور میں جہاں اور بہت سی برائیوں کا راج ہے وہاں شجرے بدلنے کی بیماری بھی ایک ناسور کی طرح ہمارے معاشرے میں پھیل گئی ہے ۔ اس کی وجوہات بیشتر ہیں : عزت و مقام پانے کے لئے، اپنے نجس شجرے کو چھپانے کےلیے (نجس اس لیے کیونکہ شجرہ وہی بدلے گا جس کو اپنے باپ کے نام سے شرمندگی ہوگی) ، کسی شجرے کو بدنام کرنے کےلیے اور سادات کے احترام ختم کرنے کےلیے ۔ اس ناسور کی وجہ سے ساداتِ عظام کا بہت نقصان ہوا ہے ۔ جن کی محبت کو اجرِ رسالت بنا کر واجب کیا گیا تھا ان کی فضیلت شجرے بدلنے والوں کی برائیوں اور بد معاشی کی وجہ سے عوام میں سادات کا نام بدنام ہو گیا ہے ۔ اور غیر سادات بھی سادات سے دور ہو گئے ہیں ۔ ساداتِ کرام سے التماس ہے اگر وہ کسی ایسے فتنہ پرست کو جانتے ہیں جو سید بنا ہوا ہے تو اس کی سرکوبی کریں اور اپنے کردار کی مدد سے سید لفظ کی عملی وضاحت کریں ۔ اور غیر سادات سے التماس ہے اپنا شجرہ محض اس فانی دنیا میں بدل کر سادات کی حق تلفی کر کے محشر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کی شرمندگی سے ڈریں ۔ شجرہ بدلتا ہی وہ ہی ہے جو بد نسب ہو ۔ اور انسان کا اصل اس کا کردار ہوتا ہے ۔ خود کو نسب بدل کر نہیں بلکہ خود کو اپنے کردار سے ثابت کریں اور سادات عظام کی عزت کریں ۔


 سیّد کا معنی و مفہوم : ⏬


اسلام نے قوم و قبیلہ کی جاہلانہ حیثیت کو ختم کیا ہے۔ جس کی روح سے بعض قومیں اعلی اور بعض ادنیٰ سمجھی جاتی ہیں ۔ اور اب جاہلیت جدیدہ میں بھی سمجھی جاتی ہیں ۔ قرآن نے واضح کیا کہ قوم قبیلہ ، ذات برادری ، محض جان پہچان کا ذریعہ ہیں ۔ فرمان باری تعالی ہے : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ۔

ترجمہ : اے لوگو ! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو ۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو ، بیشک اللہ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے ۔

اسلام کی نظر میں عزت و ذلت ، بڑا اور چھوٹا ہونے کا مدار ایمان و کردار پر ہے ۔ حسب و نسب پر نہیں ۔ دین کی نظر میں گھٹیا و کمین وہ شخص نہیں جو ایمان و عمل میں پختہ ہے ، باکردار ہو ، صاحب علم و تقوی ہے ، بہت اعلی ہے ، بزرگ تر ہے ۔ اور اگر ہاشمی ، قریشی ، مکی ، مدنی ہے ، ایمان عمل و صالح سے محروم ہے ۔ جتنا چاہے بڑا بنتا پھرے اللہ کے نزدیک پرکاہ کے برابر عتبہ ، شیبہ ، ولید ، ہاشمی و قریشی ہو کر بھی ذلیل تر حقیر تر ، کمین تر ہیں ۔ فریق اول کے رنگ، نسل ، زبان ان کی عزت وعظمت کے آڑے آئے ۔ اور فریق ثانی کی خاندانی شرافت و نجابت ان کو عزت سے ہمکنار نہ کر سکی ۔ اور وہ نیکی سے محروم ہو کر "شر الدواب" ہی رہے ۔ (بد ترین چوپائے)


خوب سمجھ لیں کہ ذات ، قوم ، قبیلہ صرف تعارف یعنی باہمی جان پہچان کا ذریعہ ہے ۔ کسی ذات سے ہو جانا نہ تو عزت و عظمت کی سند ہے نہ کسی دوسرے قبیلہ میں جنم لینا ذلت و حقارت کی علامت ۔


قرآن و حدیث اور لغت عرب میں سید ، ایک اعزازی لفظ ہے ۔ جو مسلم ہو یا غیر مسلم ، سردار کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ہماری عام بول چال میں جناب ،Sir، ہندی میں شری وغیرہ ۔ چنانچہ قرآن کریم حدیث پاک اور لغت عرب ، قدیم و جدید میں ، یہ لفظ جس طرح اللہ عزوجل کے نیک بندوں کےلیے استعمال ہوتا ہے اور ہوا ہے ۔ اسی طرح غیر مسلم زعماء کےلیے بھی استعمال ہوا اور ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے لفظ سرداری جس طرح مال و دولت و عہدہ دنیا کی خبر دیتا ہے اسی طرح روحانی ، ایمانی و اخروی سرداری پر بھی دلالت کرتا ہے ۔ قرآن کریم میں ہے کہ قیامت کے دن مجرم و منکر عوام ، اللہ تعالیٰ کے حضور بطور شکوہ و معذرت کہیں گے : وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَارَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا ۔

ترجمہ : اور وہ کہیں گے : اے ہمارے رب! بیشک ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہا مانا تھا تو انہوں نے ہمیں (سیدھی) راہ سے بہکا دیا اے ہمارے رب ! انہیں دوگنا عذاب دے اور اُن پر بہت بڑی لعنت کر ۔


سید کا معنیٰ : ⏬


السيد الذی فاق غيره بالعقل و المال و لدفع و لنفع، المعطی له فی حقوقه، المعين بنفسه، السيادة الشرف، السيد الرئيس.الذی لا يغلبه غضبه.....العابد..... الورع الحليم... سمی سيد لانة يسود سواد الناس... السيد الکريم... السيد الملک.... السيد السخی ساده ۔

ترجمہ : سید وہ جو دوسروں پر عقل و مال کے حساب سے، تکلیف دور کرنے اور فائدہ پہنچانے کے لحاظ سے فائق ہو، دوسروں کو حقوق دینے والا ہو۔ اپنی ذات سے مدد کرے سیادت کا معنی ہے بزرگی، سید، رئیس۔۔۔ سید وہ جس پر غصہ غالب نہ ہو۔ عبادت گزار، پرہیزگار، برداشت کرنے والا۔ اس کو سید اس لیے کہا جاتا ہے کہ لوگوں کی جماعت میں فائق ہوتا ہے۔ سید کریم، سید بادشاہ، سید سخی، اس کی جمع سادۃ ہے ۔ (سيد مرتضی حسين زبيدی مصری، تاج العروس، شرح القاموس جلد 2 صفحہ 384،چشتی)

السيد الرب ، المالک ، الفاضل ، الکريم ، الحليم محتمل اذی قومه ، الزوج ، الرئيس ، المقدم ۔

ترجمہ : سید کا مطلب ہے پالنے والا ، مالک ، صاحب شرف ، صاحب فضیلت ، کریم ، بردبار قوم کی تکلیف برداشت کرنے والا ، خاوند ، رئیس سب سے آگے رہنے والا ۔ (علامه ابن منظور لسان العرب جلد 6 صفءہ 422 طبع بيروت)

السيد المتولی للسوادای الجامعة الکثيره ۔۔۔ قيل لکل من کان فاضلا فی نفسه سيد ۔۔۔ سمی الزوج سيد لسياسة زوجته وقوله ربنا نا اطعنا سادتنا ، ای ولاتنا و سائسينا ۔ (ابو القاسم حسين بن محمد المعروف بالراغب الاصفهانی ، مفردات صفحہ 247 طبع جديد)


قرآن سنت یا لغت عرب میں سید قوم کہیں بھی ثابت نہیں ۔ بلکہ محض تعظیم و تکریم کے طور پر لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ تفصیل بالا سے واضح ہے ۔


 سیّد کون ہیں کیا علوی ، ہاشمی ، عباسی ، جعفری بھی سادات میں شامل ہیں ؟


صدرِ اول میں "سید" کا لفظ تمام بنو ہاشم کےلیے استعمال ہوا کرتا تھا چاہے وہ علوی ہوں یا عباسی ، جعفری ہوں یا عقیلی ، اس میں اولادِ فاطمی کی تخصیص نہیں ہوتی تھی ، بعض شہروں میں اسے علوی اولاد اور بعض میں عباسی اولاد کےلیے بھی استعمال کیا گیا لیکن بعد میں یہ لفظ سیدنا امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما کی اولاد کےلیے مختص ہو گیا اور اب عرف میں اس کا اطلاق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انہی دو مبارک نواسوں اور ان سے جاری تمام اولاد پر کیا جاتا ہے ۔ انہیں فاطمی اولاد بھی کہتے ہیں ۔


سیّد عربی زبان کالفظ ہے جوکہ لغۃً متعدد معنوں میں استعمال ہوتا ہے  جیسا کہ لسان العرب میں ہے : والسید یطلق علی الرب والمالک والشریف والفاضل والکریم والحلیم ومحتمل أذی قومہ والزوج والرئیس والمقدم، وأصلہ من ساد یسود فہو سیود ۔

 ترجمہ : لفظ سید کا اطلاق رب ، مالک ، شرافت دار ، علم والے ، عزت والے ، بردبار ، اپنی قوم سے تکلیف کو دور کرنے والے ، شوہر ، قوم کے سردار اور پیشوا پر ہوتا ہے اور اس (لفظِ سید ) کی اصل (باعتبارِ صرف) ساد یسود فہو سیود سے ہے ۔ (لسان العرب ۔ جلد 3 صفحہ 228 دار صاد بیروت)

امام عبد الرحمن جلال الدین سیوطی شافعی (متوفی : 911 ھ) رحمۃ اللہ علیہ اپنے رسا لہ العجاجۃ الزرنبیۃ فی السلالۃ الزینبیۃ میں ارقام کرتے ہیں : إن اسم الشریف کان یطلق فی الصدر الأول علی کل من کان من أہل البیت سواء کان حسنیا أم حسینیا أم علویا، من ذریۃ محمد بن الحنفیۃ وغیرہ من أولاد علی بن أبی طالب، أم جعفریا أم عقیلیا أم عباسیا۔۔۔۔ فلما ولی الخلفاء الفاطمیون بمصر قصروا اسم الشریف علی ذریۃ الحسن والحسین فقط ، فاستمر ذلک بمصر إلی الآن ۔

ترجمہ : بے شک سیّد کا اطلاق قرونِ اولی میں ہر اُس شخص پر ہوتا تھا جو اہلِ بیت کرام رضی اللہ عنہم سے ہو ، چاہے وہ حسنی ہو ، حسینی ہو ، یا علوی ہومحمد بن حنفیہ کی اولاد اور دیگر اولادِ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ، یا جعفری ہو یا عقیلی ہو یاعباسی ۔ جب مصر میں خلفاءِ فاطمیین کو حکومت ملی تو انہوں نے سیّد کا لفظ فقط امام حسن و امان حسین رضی اللہ عنہما کی اولاد کےلیے مختص کر دیا تو یہ تخصیص اس دور سے اب تک قائم ہے ۔ (الحاوی للفتاوی للسیوطی جلد نمبر 2 ۔ صفحہ نمبر 39 دارالفکر بیروت،چشتی)


تقریباً یہی کلام امام عبدالروؤف مناوی (1031 ھ) رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمایا : وھم - يعني الأشراف . ولد علي وعقيل وجعفر والعباس كذا مصطلح السلف وإنما حدث تخصيص الشريف بولد الحسن والحسين في مصر خاصۃ من عهد الخلفاء الفاطميين ۔ (فيض القدير شرح الجامع الصغير جلد 1 صفحہ 522 المكتبة التجارية الكبرى مصر)


امام شمس الدین سخاوی (متوفی : 902 ھ) رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : عمر بن أَحْمد بن يُوسُف العباسي الْحلَبِي الْحَنَفِيّ وَيعرف بالشريف النشابي جَريا على مصطلح تِلْكَ النواحي فِي عدم تَخْصِيص الشّرف ببني فَاطِمَۃ بل يطلقونه لبني الْعَبَّاس بل وَفِي سَائِر بني هَاشم ۔

ترجمہ : یعنی عمر بن احمد بن یوسف العباسی الحلبی الحنفی (شریف) سید نشابی کے نام سے معروف ہیں ان علاقوں کی اصطلاح کے مطابق کہ (سید کے اطلاق میں) اولادِ فاطمی کی تخصیص نہیں کرتے بلکہ بنی عباس بلکہ تمام بنی ہاشم پر سید کا اطلاق کرتے ہیں ۔ (الضوء اللامع لأهل القرن التاسع جلد 6 صفحہ 73 منشورات دار مكتبة الحياة بيروت)


امام ابن حجر عسقلانی (متوفی : 852 ھ) رحمۃ اللہ علیہ رقم فرماتے ہیں : الشريف هُوَ سُلَيْمَان بن يزِيد الْأَزْدِيّ ولقب بِهِ كل عباسي بِبَغْدَاد وَكَذَلِكَ كل علوي بِمصْر ۔

ترجمہ : سید وہ سلیمان بن یزید الازدی ہیں اور بغداد میں ہر عباسی کا لقب سید ہے اور اسی طرح مصر میں ہر علوی کا ۔ (نزهة الألباب في الألقاب جلد 1 صفحہ 399 مكتبة الرشد الرياض)


الفقيہ النسابة أحمد بن محمد الحموي الحنفي (متوفی : 1098ھ) رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : الشريف في العرف الآن ہو من ينتسب إلي الحسنين ۔۔ الخ ۔

ترجمہ : اب عرف میں سید وہ ہے جس کا نسب حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے ملتا ہے ۔ (الدر النفيس في نسب الإمام محمد بن إدريس صفحہ 9 ۔ مخطوطہ مکتبہ ملک عبدالعزیز ۔ ریاض،چشتی)


مسائل کثرحولھاالنقاش والجدل میں ہے : والمراد بالشریف المنسوب الی الحسن والحسین رضی اللہ عنہما ۔

ترجمہ : یعنی سید سے مرادہے کہ جن کا نسب سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے منسوب ہو ۔ (مسائل کثر حولھا النقاش والجدل صفحہ 134 دارغار حرا دمشق)


فتاوی رضویہ میں ہے : سبطین کریمین (رضی اللہ عنہما) کی اولاد سید ہیں ۔ (فتاوی رضویہ جلد 13 صفحہ361 رضا فاؤنڈیشن لاہور)


علماءِ اسلام کی مذکورہ بالا تصریحات سے واضح ہوا کہ "سید" ابتداءً ہر ہاشمی کو کہا جاتا تھا ، اس اعتبار سے ہر ہاشمی "سید" تھا ، مگر بعد میں عرف الناس نے اس لقب کو سیدنا حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی اولاد کےلیے مختص کر دیا لہٰذا اب عرب و عجم میں سیّد کا لفظ اولادِ فاطمی کےلیے استعمال ہوتا ہے اور یہ لفظ سن کر ذہن اسی نسلِ پاک کی طرف منتقل ہوتا ہے لہٰذا ہمارے دور میں سیّد سے مراد فاطمی اولاد ہیں ۔

فتاوی اہلسنت میں ہے : حضرت علی کر م اللہ تعالی وجہہ الکریم کی جو اولاد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہیں ان کو اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی اولاد کو سید کہا جاتا ہے ، ہر سید ہاشمی ضرور ہے مگر ہر ہاشمی سید ہو یہ ضروری نہیں ۔ (فتاوی اہلسنت کتاب الزکوۃ صفحہ نمبر 425 مکتبۃ المدینۃ کراچی)


اس سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا ، اگر کسی نے وصیت کی کہ اتنے مال سے سید زادوں کو حصہ دیا جائے تو اس سے مراد تمام اہل بیت رضی الہ عنہم نہیں بلکہ اولادِ امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما ہی ہوں گے ۔ امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اسی مسئلہ کو یوں ذکر فرماتے ہیں : أن الوصایا والأوقاف تنزل علی عرف البلد، وعرف مصر من عہد الخلفاء الفاطمیین إلی الآن أن الشریف لقب لکل حسنی وحسینی خاصۃ فلا یدخلون علی مقتضی ہذا العرف ۔

ترجمہ : یعنی وصیت اور وقف شہر کے عرف پر مبنی ہوتے ہیں ، اور مصر کا عرف خلفاءِ فاطمیین کے زمانے سے اب تک یہ ہے کہ سیّد بطورِ خاص ہر حسنی و حسینی کا لقب ہے پس اس عرف کا تقاضا ہے کہ دیگر اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم اس میں داخل نہ ہوں ۔ (الحاوی للفتاوی للسیوطی جلد 2 صفحہ41 دارالفکر بیروت،چشتی)


سوال : بعض احباب سمجھتے ہیں کہ علوی ، عباسی وغیرہ اولادیں بھی سید ہوتی ہیں اور جب علماءِ دین سے سادات کرام کے فضائل سنتے ہیں تو مذکورہ اولادوں کو بھی ان فضائل میں شامل کر لیتے ہیں ، کیا یہ درست ہے ؟

جواب : جیسا کہ ہم نے دلائل سے عرض کیا کہ اب ساداتِ کرام سے مراد فاطمی اولاد ہی ہیں لہٰذا جب علماء دین اہلِ بیت کے عمومی فضائل بیان کریں تو اس سے فاطمی و غیر فاطمی ہر ہاشمی اولاد مراد ہوتی ہے ، لیکن جب سادات کرام کے خصوصی فضائل بیان ہوں جس میں عذاب سے محفوظ رہنا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسلِ پاک کہلانا وغیرہ تو اس سے اولادِ فاطمی ہی مراد ہوتی ہیں ، لہٰذا کوئی علوی ، جعفری ، عباسی خود کو سید گمان کر کے ان خصوصی فضائل کو خود پر منطبق کرے تو یہ طریقہ نادرست ہو گا ۔ مثال کے طور پر : امام ابو القاسم طبرانی (متوفی : 360 ھ) رحمۃ اللہ علیہ بسندِ صحیح روایت کرتے ہیں ، قال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم لفاطمۃ : إن اللہ عز وجل غير معذبك، ولا ولدك ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا ، بیشک اللہ تعالٰی نہ تجھے عذاب فرمائے گا نہ تیری اولاد کو ۔ (المعجم الكبير للطبرانی جلد 11 صفحہ 263 حدیث : 11685 مكتبۃ ابن تيميۃ القاهرۃ)


یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمی اولاد کی جو رفعتِ شان بیان فرمائی ، ظاہر ہے اس سے مراد وہی ہیں جنہیں اب ہم سادات کرام کہتے ہیں ، علوی ، عباسی ، جعفری اگرچہ ہاشمی ہیں اور بڑی شان کے مالک ہیں مگر وہ ان فضائل میں داخل نہیں ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ اگرچہ صدرِ اول میں ہر ہاشمی "سید" کہلاتا تھا مگر اب عرب و عجم میں لفظ "سید" فاطمی اولاد کےلیے مختص ہو گیا ہے اور یہی عوام و خواص میں معروف ہے ۔


 محترم قارئینِ کرام : جو واقع میں سیِّد نہ ہو اور دِیدہ ودِانستہ (جان بوجھ کر) سید بنتا ہو وہ ملعون (لعنت کیا گیا) ہے ، نہ اس کا فرض قبول ہو نہ نفل ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : جو کوئی اپنے باپ کے سِوا کسی دوسرے یا کسی غیر والی کی طرف منسوب ہونےکا دعویٰ کرے تو اس پر اللّٰہ تعالیٰ ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی فرض قبول فرمائے گا اور نہ ہی کوئی نفل ۔ (صحیح مُسلِم کتاب الحج باب  فضل المدینة صفحہ ۷۱۲ حدیث : ۱۳۷۰)

اگر کوئی بد مذہب سیِّد ہونے کا دعویٰ کرے اور اُس کی بدمذہبی حدِّ کفر تک پَہُنچ چکی ہو تو ہرگز اس کی تعظیم نہ کی جائے گی ۔ امامِ اہلسنّت ، مجدِّدِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ساداتِ کرام کی تعظیم ہمیشہ (کی جائے گی) جب تک ان کی بدمذہبی حدِّ کفر کو نہ پَہُنچے کہ اس کے بعد وہ سیِّد ہی نہیں ، نسب مُنْقَطَع ہے ۔ اللہ عزوجل قرآنِ پاک میں اِرشاد فرماتا ہے : ' قَالَ یٰنُوۡحُ اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنْ اَہۡلِکَ ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صَالِحٍ ۔ (پ۱۲، ھُود:۴۶)

ترجَمہ : فرمایا ! اے نوح ! وہ (یعنی تیرابیٹا کنعان) تیرے گھر والوں میں نہیں بے شک اس کے کام بڑے نالائق ہیں ۔ بدمذہب جن کی بد مذہبی حدِّ کفر کو پَہُنچ جائے اگرچہ سیِّد مشہور ہوں نہ سیِّد ہیں ، نہ اِن کی تعظیم حلال بلکہ توہین و تکفیر فرض ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد ٢٢ صفحہ ٤٢١)


مگر یہ اس کا مُعامَلہ اللہ عزوجل کے یہاں ہے ، ہم بِلا دلیل تکذیب نہیں کر سکتے ، اگر ہمارے علم (میں) تحقیقی طور پر معلوم ہے کہ یہ سیِّد نہ تھا اور اب سیِّد بن بیٹھا تو اُسے ہم بھی فاسِق و مُرتکبِ کبیرہ و مستحق لعنت جانیں گے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد ٢٣ صفحہ ١٩٨)


حضرت علامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدِّین مُراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : اس سے ثابت ہوا کہ نَسْبی قَرابت سے دِینی قَرابت زیادہ قوی ہے ۔ (خَزائنُ العِرفان ، پ ۱۲ ، ھود ، تحت الآیۃ : ۴۶) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Monday, 20 April 2026

حرمتِ مصاہرت کے اہم مسائل مستند دلائل کی روشنی میں

حرمتِ مصاہرت کے اہم مسائل مستند دلائل کی روشنی میں

محترم قارئینِ کرام اللہ عزوجل کا فرمان ہے : حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآىٕكُمْ وَ رَبَآىٕبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ٘ ۔ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ٘ ۔ وَ حَلَآىٕلُ اَبْنَآىٕكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْۙ ۔ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ ۔ (سورہ النساء آیت نمبر 23)

ترجمہ : حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں میں حرج نہیں اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں اور دو بہنیں اکٹھی کرنا مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔


حرمتِ مصاہرت ایک اصطلاحی لفظ ہے جس کا معنی ہے سسرالی رشتہ کا حرام ہونا ۔ اس کی متعدد ارو مختلف شکلیں ہوتی ہیں ، مثلاً اگر کسی شخص نے رات کے اندھیرے میں اپنی بیوی سمجھ کر اپنی مشتہاة لڑکی کو کھلے جسم شہوت سے ہاتھ لگایا ، تو اس کی وجہ سے اس کی بیوی اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجائے گی ، یا مثال کے طور پر باپ نے اپنے بیٹے کی بیوی کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگایا یا اس کے ساتھ زنا کیا اور بیٹا اس کی تصدیق کرے تو بیٹے کی بیوی ہمیشہ کےلیے بیٹے پر حرام ہو جائے گی ، اسی کو حرمت مصاہرت کہتے ہیں ۔ مذکورہ آیتِ مبارکہ میں محرمات (جن سے نکاح حرام ہے) کی تین اقسام بیان کی گئی ہیں : ⏬


 محرماتِ نسبیہ : وہ عورتیں جو جو نسب کی وجہ سے قابلِ احترام ہیں اور ان سے نکاح قائم کرنا حرام ہے ، جیسے : ماں ، بہن ، بیٹی ، خالہ ، پھوپھی وغیرہ ۔


محرماتِ رضاعیہ : وہ عورتیں جنہوں نے کسی بچے کو اس کے بچپن میں دودھ پلایا ہو وہ دودھ کے رشتے (رضاعت) کی وجہ سے حرام ہو جاتی ہیں ، جیسے : دودھ پلانے والی عورت ، دودھ پلانے والی عورت کی بیٹی وغیرہ ۔ حرمتِ رضاعت میں وہ تمام رشتے بھی شامل ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔


محرماتِ مصاہرت : وہ عورتیں جو سسرالی رشتوں کی وجہ سے حرام ہوجاتی ہیں ۔ یہ چار طرح کی عورتیں ہیں : بیوی کی ماں رشتہ ازدواج کے بعد بیوی کی ماں ہمیشہ کےلیے حرام ہو جاتی ہے ۔ اس حکم میں بیوی کے مؤنث اصول یعنی ماں ، دادی نانی وغیرہ شامل ہیں ۔

بیوی کی بیٹی : جس بیوی سے مباشرت ہو چکی ہو اس کی بیٹی ہمیشہ کےلیے حرام ہو جاتی ہے ۔ یہ حرمت مباشرت سے مشروط ہے ، صرف نکاح سے یہ حرمت ثابت نہیں ہو گی ۔ حقیقی بیٹے کی بیوی : حقیقی یعنی صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی باپ پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوتی ہیں ۔ بیوی کی بہن : ایک عورت کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بہن سے نکاح حرام ہے ، یعنی ایک وقت میں دو بہنوں کو جمع نہیں کیا جا سکتا ۔ اسی طرح اس کی خالہ ، بھانجی ، پھوپھی اور بھتیجی کو بھی ایک ہی وقت میں جمع نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ حرمت عارضی ہے ، یعنی بیوی کی وفات یا طلاق کی صورت میں اس کی بہن ، خالہ ، بھانجی ، پھوپھی یا بھتیجی سے نکاح جائز ہو جاتا ہے ۔


نکاح سے حرمتِ مصاہرت (سسرالی رشتوں کی حرمت) ثابت ہونے میں چاروں آئمہِ اہلِ سنت علیہم الرحمہ کا اتفاق ہے ، لیکن زناء کرنے ، شہوت سے عورت کو چھونے اور شہوت سے فرج (شرمگاہ) کو دیکھنے سے حرمتِ مصاہرت کے ثبوت میں آئمہ علیہم الرحمہ کا اختلاف ہے ۔ احناف کے نزدیک کسی عورت کو شہوت سے چھونے اور اس کی شرمگاہ کو دیکھنے سے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے ۔


ابن عربی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : وقد اختلف الناس فی ذلک هل يتعلق باللمس من التحريم ما يتعلق بالوط ء علی قولين فعندنا وعند أبی حنيفه هو مثله ۔

ترجمہ : لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ کیا چھونے سے بھی وہی حرمت ثابت ہو جاتی ہے جو قربت سے ہوتی ہے؟ اس میں دو قول ہیں۔ ہمارے (مالکیہ) اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک شہوت سے چھونا قربت کے برابر ہے ۔ (ابو بکر محمد بن عبد اللہ ابن العربی، احکام القرآن جلد 1 صفحہ 477 دار الفکر للطباعۃ والنشر لبنان،چشتی)


فقہائے کرام علیہم الرحمہ مزید لکھتے ہیں : ومن مسته امرأة بشهوة حرمت عليه أمها وبنتها.

ترجمہ : جس شخص کو کسی عورت نے شہوت کے ساتھ چھوا، اس شخص پر اس عورت کی ماں اور بیٹی حرام ہو گئی ۔ (المرغینانی، الہدایۃ شرح البدایۃ جلد 1 صفحہ 192 المکتبۃ الاسلامیۃ،چشتی)(کمال الدین شرح فتح القدیر جلد 3 صفحہ 221 دار الفکر بیروت)(حصفکی الدر المختار مع شرح رد المختار شامی جلد 3 صفحہ 32 کراچی)


هذه الحرمة بالوط ء تثبت بالمس والتقبيل والنظر الی الفرج ۔

ترجمہ : یہ حرمت جیسے وطی سے ثابت ہوتی ہے چھونے ، بوسہ دینے اور شہوت سے شرم گاہ کو دیکھنے سے بھی ثابت ہو جاتی ہے ۔ (شیخ نظام وجماعۃ من علماء الھند الفتاوی الھندیۃ جلد 1 صفحہ 274 دار الفکر)


لہٰذا احناف کے نزدیک آپ کا نکاح اس عورت کی بیٹی کے ساتھ جائز نہیں ہے جس کے جسم کے ساتھ آپ شہوت سے چھوئے ہیں ۔ شوافع اور مالکیہ کے نزدیک صرف نکاح سے اور حنابلہ کے نزدیک نکاح اور زنا دونوں سے حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے لیکن شہوت سے چھونے یا بوس وکنار سے نہیں ہوتی ۔


 نسب کی وجہ سے سات عورتیں حرام ہیں وہ یہ ہیں : (1) ماں ، اسی طرح وہ عورت جس کی طرف باپ یا ماں کے ذریعے سے نسب بنتا ہو یعنی دادیاں ونانیاں خواہ قریب کی ہوں یا دور کی سب مائیں ہیں اور اپنی والدہ کے حکم میں داخل ہیں ۔ سوتیلی ماؤں کی حرمت کا ذکر پہلے ہو چکا ۔ (2) بیٹی ، پوتیاں اور نواسیاں کسی درجہ کی ہوں بیٹیوں میں داخل ہیں ۔ (3) بہن (4) پھوپھی (5) خالہ (6) بھتیجی (7) بھانجی ، اس میں بھانجیاں ، بھتیجیاں اور ان کی اولاد بھی داخل ہے خلاصہ یہ ہے کہ اپنی اولاد اور اپنے اصول حرام ہیں۔ اس کی تصریح خود اسی آیت میں آگے آرہی ہے ۔


رضاعی رشتے دودھ کے رشتوں کو کہتے ہیں ۔ رضاعی ماؤں اور رضاعی بہن بھائیوں سے بھی نکاح حرام ہے بلکہ رضاعی بھتیجے، بھانجے، خالہ، ماموں وغیرہ سب سے نکاح حرام ہے ۔ حدیثِ مبارک میں فرمایا گیا کہ جو رشتہ نسب سے حرام ہوتا ہے وہ رضاعت سے بھی حرام ہوتا ہے۔ (صحیح بخاری کتاب الشہادات باب الشہادۃ علی الانساب ۔۔۔ الخ جلد ۲ صفحہ ۱۹۱ الحدیث : ۲۶۴۵،چشتی)


چار طرح کی عورتیں مُصاہَرت کی وجہ سے حرام ہیں اور وہ یہ ہیں : (1) وہ بیوی جس سے صحبت کی گئی ہو ا س کی لڑکیاں ۔ (2) بیوی کی ماں ، دادیاں ، نانیاں ۔ (3) باپ داد ا وغیرہ اصول کی بیویاں ۔ (4) بیٹے پوتے وغیرہ فروع کی بیویاں ۔ مصاہرت :  (۱)  زوجۂ موطؤہ ۔ (2) کی  لڑکیاں ۔ (۲)  زوجہ کی  ماں  ، دادیاں  ، نانیاں ۔ (۳)  باپ ، دادا وغیرہما اصول کی  بیبیاں ۔ (۴)  بیٹے پوتے وغیرہما فروع کی  بیبیاں  ۔


حُرمتِ مصاہرت کے لغوی معنیٰ داماد بننا ، سُسر بننا کے ہیں ۔ شرعی معنیٰ یہ ہیں کہ شریعتِ مطہرہ میں اُن عورتوں کو کہتے ہیں جن کے اُصو ل یافروغ سے صحبت کرنے ، بوسہ لینے وغیرہ کی وجہ سے وہ ہمیشہ کےلیے حرام ہو جاتی ہوں ۔ حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ نسب سے سات رشتے حرام ہوتے ہیں اور مصاہرت سے بھی ۔ جس عورت سے صحبت ہوئی یا شہوت کے ساتھ بوسہ وغیرہ لیا گیا تواس عورت کی ماں ، بیٹی ، خالہ ، پھوپھی ، بہن ، بھانجی ، بھتیجی سب حرام ہو گئیں مگر اُن میں سے دو ماں بیٹی ہمیشہ کےلیے حرام ہو گئیں ان میں سے دو مرد عورت ضرب دینے سے چار ہو جاتے ہیں ۔ گویا دورشتے مرد کےلیے اوردو عورت کےلیے حرام ہو گئے اس طرح کل چار رشتے مصاہرت سے حرام ہوتے ہیں : (1) عورت کی ماں اُوپر تک ۔ (2) عورت کی بیٹی نیچے تک ۔ (3) باپ دادا کی بیوی اُوپر تک ۔ (4) بیٹے ، پوتے کی بیو ی نیچے تک ۔


یہ مسئلہ ذہن نشین رہے کہ حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کےلیے اس لڑکے یا لڑکی کا حد شہوت کو پہنچنا ضروری ہے یعنی لڑکےکاکم ازکم بارہ سال اورلڑکی کاکم ازکم   نوسال  کا ہونا ضروری ہے، اس سے پہلے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی ۔ لہٰذا بالکل چھوٹے نومولود بچے یا بچی کو شہوت سے چھونے میں حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہو گی ، کیونکہ یہ حد شہوت کو پہنچے ہوئے نہیں ہیں ۔


حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے متعلق در مختار میں ہے : (هذا إذا كانت ‌حية ‌مشتهاة) ولو ماضيا (أما غيرها) يعني الميتة وصغيرة لم تشته (فلا)تثبت الحرمة بها أصلا...وكذا تشترط الشهوة في الذكر ، فلو جامع غير مراهق زوجة أبيه لم تحرم ۔

ترجمہ : حرمت مصاہرت اس وقت ثابت ہوگی جب عورت زندہ اور حد شہوت تک پہنچی ہو اگر چہ بوڑھی ہو اگر اس کے علاوہ ہو یعنی مُردہ عورت یا چھوٹی بچی جو حد شہوت تک نہ پہنچی ہو (نو برس سے کم عمر کی لڑکی ہو) تو اس سے بالکل حر مت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی ۔ اسی  طرح لڑکےکا بھی حد شہوت کو پہنچنا شرط ہے لہٰذا اگر غیر مراہق لڑکے نے اپنے والد کی زوجہ سے جماع کیا تو حرمت ثابت نہیں ہو گی ۔ (در مختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد 3 صفحہ 34 الناشر دار الفكر بيروت،چشتی)


رد المحتار میں ہے : بل لا بد أن يكون مراهقا۔۔۔ أنه لا بد في كل منهما من سن المراهقة وأقله للأنثى تسع وللذكر اثنا عشر؛لأن ذلك أقل مدة يمكن فيها البلوغ كما صرحوا به في باب بلوغ الغلام ۔

ترجمہ : حرمتِ مصاہرت کےلیے لڑکے کا مراہق ہونا ضروری ہے ، حرمتِ مصاہرت کےلیے لڑکے و لڑکی دونوں کا مراہق کی عمر کا ہونا ضروری ہے ، اور وہ لڑکی کےلیے کم از کم نو سال ہے اور لڑکے کےلیے کم از کم بارہ سال ہے ۔ (رد المحتار علی الدر المختار جلد 3 صفحہ 35 دار الفکر،بیروت)


بہارِ شریعت میں ہے : حرمت مصاہرت کے ليے شرط یہ ہے کہ عورت مشتہاۃ ہو یعنی نو برس سے کم عمر کی نہ ہو ، نیز یہ کہ زندہ ہو تو اگر نو برس سے کم عمر کی لڑکی یا مردہ عورت کو بشہوت چھوا یا بوسہ لیا تو حرمت ثابت نہ ہوئی ۔ مراہق یعنی وہ لڑکا کہ ہنوز بالغ نہ ہوا مگر اس کے ہم عمر بالغ ہو گئے ہوں ، اس کی مقدار بارہ برس کی عمر ہے ، اس نے اگر وطی کی یا شہوت کے ساتھ چھوا یا بوسہ لیا تو مصاہرت ہو گئی ۔ (بہار شریعت جلد 2 حصہ 7 صفحہ 24 ، 25 مکتبۃ المدینہ کراچی)


جس عورت سے نکاح کیا اور وطی نہ کی  تھی کہ جدائی ہوگئی اُس کی لڑکی اس پر حرام نہیں ، نیز حرمت اس صورت میں ہے کہ وہ عورت مشتہاۃ (قابل شہوت ہو یعنی نو برس سے کم عمر کی نہ ہو) ہو ، اس لڑکی کا اس کی  پرورش میں ہونا ضروری نہیں اور خلوتِ صحیحہ (خلوت صحیحہ : یعنی میاں  بیوی کا اس طرح تنہا ہونا کہ جماع سے کوئی مانع شرعی یاطبعی یا حسی نہ ہو ۔ مانع حسی سے مراد زوجین سے کوئی ایسی بیماری میں  ہو کہ صحبت نہیں کر سکتا ہو ۔ مانع طبعی شوہر اور عورت کے درمیان کسی تیسرے کا ہونا ۔ اورمانع شرعی کی مثال عورت کا حیض یا نفاس  کی حالت میں  ہونا یا نماز فرض میں  ہونا) بھی وطی ہی کے حکم میں  ہے یعنی اگر خلوتِ صحیحہ عورت کے ساتھ ہوگئی، اس کی  لڑکی  حرام ہوگئی اگرچہ وطی نہ کی  ہو ۔ (ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۰،چشتی)


نکاح فاسد سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں  ہوتی ، جب تک وطی نہ ہو لہٰذا اگر کسی عورت سے نکاح فاسد کیا تو عورت کی  ماں  اس پر حرام نہیں اور جب وطی ہوئی تو حرمت ثابت ہو گئی کہ وطی سے مطلقاً حرمت ثابت ہو جاتی ہے ۔ خواہ وطی حلال ہو یا شبہہ و زنا سے ، مثلاً بیع فاسد سے خریدی ہوئی کنیز سے یا کنیزِ مشترک (ایسی کنیز جس کے مالک دو یا زیادہ ہوں) ، یا مکاتبہ یا جس عورت سے ظہار  کیا یا مجوسیہ باندی یا اپنی زوجہ سے ، حیض و نفاس  میں یا احرام و روزہ میں غرض کسی طور پر وطی ہو ، حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی لہٰذا جس  عورت سے زنا کیا ، اس کی  ماں  اور لڑکیاں  اس پر حرام ہیں  ۔ یوہیں  وہ عورت زانیہ اس شخص کے باپ ، دادا اور بیٹوں  پر حرام ہو جاتی ہے ۔ (الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح الباب الثالث في المحرمات القسم الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۷۴،چشتی)(ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۳)


حرمت مصاہرت جس طرح وطی سے ہوتی ہے ، یوہیں شہوت کے ساتھ چھونے اور بوسہ لینے اور عورت کی شرمگاہ کااندرونی حصہ کی  طرف نظر کرنے اور گلے لگانے اور دانت سے کاٹنے اور مباشرت ، یہاں  تک کہ سر پر جو بال ہوں  اُنھیں  چھونے سے بھی حرمت ہو جاتی ہے اگرچہ کوئی کپڑا بھی حائل ہو (درمیان میں آڑ ہو) مگر جب اتنا موٹا کپڑا حائل ہو کہ گرمی محسوس نہ ہو ۔ یوہیں  بوسہ لینے میں بھی اگر باریک نقاب حائل ہو تو حرمت ثابت ہو جائے گی۔ خواہ یہ باتیں جائز طور پر ہوں ، مثلاً منکوحہ کنیز ہے یا ناجائز طور پر ۔ جو بال سر سے لٹک رہے ہوں انہیں بشہوت چھوا تو حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوئی ۔ (الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح الباب الثالث فی المحرمات القسم الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۷۴)(ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۴)


فرجِ داخل کی طرف نظر کرنے کی  صورت میں اگر شیشہ درمیان میں ہو یا عورت پانی میں  تھی اس کی نظر وہاں  تک پہنچی جب بھی حرمت ثابت ہو گئی ، البتہ آئینہ یا پانی میں  عکس دکھائی دیا تو حرمت مصاہرت نہیں ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۴،چشتی)(الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح الباب الثالث فی بیان المحرمات القسم الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۷۴)


چھونے اور نظر کے وقت شہوت نہ تھی بعد کو پیدا ہوئی یعنی جب ہاتھ لگایا اُس وقت نہ تھی، ہاتھ جدا کرنے کے بعد ہوئی تو اس سے حرمت نہیں ثابت ہوتی ۔ اس مقام پر شہوت کے معنی یہ ہیں  کہ اس کی  وجہ سے انتشار آلہ ہو جائے اور اگر پہلے سے انتشار موجود تھا تو اب زیادہ ہو جائے یہ جوان کےلیے ہے ۔ بوڑھے او رعورت کےلیے شہوت کی  حد یہ ہے کہ دل میں  حرکت پیدا ہو اور پہلے سے ہو تو زیادہ ہو جائے ، محض میلان نفس کا نام شہوت نہیں  ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح، فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۵)


نظر اور چھونے میں حرمت جب ثابت ہوگی کہ انزال ( یعنی منی کا نکلنا) نہ ہو اور انزال ہوگیا تو حرمت مصاہرت نہ ہو گی ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۵)


عورت نے شہوت کے ساتھ مرد  کو چھوا یا بوسہ لیا یا اس کے آلہ کی طرف نظر کی تو اس سے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہو گئی ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۴،چشتی)(الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح الباب الثالث فی بیان المحرمات القسم الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۷۴)


حرمت مصاہرت کے لیے شرط یہ ہے کہ عورت مشتہاۃ  ہو یعنی نو برس سے کم عمر کی  نہ  ہو، نیز یہ کہ زندہ  ہو  تو اگر نو برس سے کم عمر کی  لڑکی  یا مردہ عورت کو بشہوت چھوا یا  بوسہ لیا  تو حرمت ثابت  نہ ہوئی ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۷)


عورت سے جماع کیا مگر دخول نہ ہوا تو حرمت ثابت نہ ہوئی ، ہاں  اگر اس کو حمل رہ جائے تو حرمت مصاہرت ہو گئی ۔ (الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح الباب الثالث فی بیان المحرمات القسم الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۷۴)


بوڑھیا عورت کے ساتھ یہ افعال واقع ہوئے یا اس نے کیے تو مصاہرت ہوگئی، اس کی  لڑکی  اس شخص پر حرام ہوگئی نیز وہ اس کے باپ، دادا پر ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۷،چشتی)


وطی  سے مصاہرت میں  یہ شرط ہے کہ آگے کے مقام میں  ہو، اگر  پیچھے میں  ہوئی  مصاہرت  نہ ہوگی ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۷)


اغلام (پیچھے کے مقام میں  وطی کرنا) سے مصاہرت نہیں  ثابت ہوتی ۔ (ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۷)


مراہق یعنی وہ لڑکا کہ ابھی تک بالغ نہ ہوا مگر اس کے ہم عمر بالغ ہوگئے ہوں ، اس کی  مقدار بارہ برس کی  عمر ہے ، اس نے اگر وطی کی  یا شہوت کے ساتھ چھوا یا بوسہ لیا تو مصاہرت ہو گئی ۔ (ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۸)


یہ افعال جان بوجھ کر ہوں یا بھول کر یا غلطی سے یا مجبوراً بہرحال مصاہرت ثابت ہو جائے گی ، مثلاً اندھیری رات میں مرد نے اپنی عورت کو جماع کےلیے اٹھانا چاہا ، غلطی سے شہوت کے ساتھ قابلِ شہوت لڑکی  یعنی جس کی  عمر نو ۹ سال سے کم نہ ہو پر ہاتھ پڑ گیا ، اس کی  ماں ہمیشہ کےلیے اُس پر حرام ہو گئی ۔ یوہیں اگر عورت نے شوہر کو اٹھانا چاہا اور شہوت کے ساتھ ہاتھ لڑکے پر پڑ گیا ، جو مراہق تھا ہمیشہ کو اپنے اس شوہر پر حرام ہو گئی ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۸)


 منہ یعنی لب کا بوسہ لیا تو مطلقاً حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی اگرچہ کہتا ہو کہ شہوت سے نہ تھا ۔ یوہیں اگر انتشار آلہ تھا تو مطلقاً کسی جگہ کا بوسہ لیا حرمت ہو جائے گی اور اگر انتشار نہ تھا اور رخسار یا ٹھوڑی یا پیشانی یا منہ یعنی لب کے علاوہ کسی اور جگہ کا بوسہ لیا اور کہتا ہے کہ شہوت نہ تھی تو اس کا قول مان لیا جائے گا ۔ یونہیں  انتشار کی حالت میں  گلے لگانا بھی حرمت ثابت کرتا ہے اگرچہ شہوت کا انکار کرے ۔ (ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۸،چشتی)


چٹکی  لینے یعنی ہاتھ کے انگوٹھے اور اس کے برابرکی  انگلی سے دبانا یا نوچ لینے ، دانت کاٹنے کا بھی یہی حکم ہے کہ شہوت سے ہوں  تو حرمت ثابت ہو جائے گی ۔ عورت کی شرمگاہ کو چھوا یا پستان کو اور کہتا ہے کہ شہوت نہ تھی تو اس کا قول معتبر نہیں  ۔ (الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح الباب الثالث فی بیان المحرمات القسم الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۷۶)(الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۱۹ ۔ ۱۲۱)


نظر سے حرمت ثابت ہونے کے لیے نظر کرنے والے میں  شہوت پائی جانا ضرور ہے اور بوسہ لینے، گلے لگانے ، چھونے وغیرہ میں ان دونوں میں سے ایک کو شہوت ہو جانا کافی ہے اگرچہ دوسرے کو نہ ہو ۔ (الدرالمختار و ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۲۰)


مجنون اور نشہ والے سے یہ افعال ہوئے یا ان کے ساتھ کیے گئے ، جب بھی وہی حکم ہے کہ اور شرطیں  پائی جائیں  تو حرمت ہو جائے گی ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۲۰)


کسی سے پوچھا گیا تو نے اپنی ساس کے ساتھ کیا کیا ؟ اس نے کہا ، جماع کیا ۔ حرمت مصاہرت ثابت ہو گئی ، اب اگر کہے میں نے جھوٹ کہہ دیا تھا نہیں مانا جائے گا بلکہ اگرچہ مذاق میں کہہ دیا ہو جب بھی یہی حکم ہے ۔ (الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح الباب الثالث فی بیان المحرمات القسم الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۷۶)


حرمت مصاہرت مثلاً شہوت سے بوسہ لینے یا چھونے یا نظر کرنے کا اقرار کیا ، تو حرمت ثابت ہو گئی اور اگر یہ کہے کہ اس عورت کے ساتھ نکاح سے پہلے اس کی ماں سے جماع کیا تھا جب بھی یہی حکم رہے گا ۔ مگر عورت کا مہر اس سے باطل نہ ہوگا وہ بدستور واجب ۔ (ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۲۲)


کسی نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کے لڑکے نے عورت کی  لڑکی  سے کیا ، جو دوسرے شوہر سے ہے تو حرج نہیں ۔ یونہیں اگر لڑکے نے عورت کی ماں سے نکاح کیا جب بھی یہی حکم ہے ۔ (الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح الباب الثالث فی بیان المحرمات القسم الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۷۷)


عورت نے دعویٰ کیا کہ مرد نے اس کے اصول یا فروع کو بشہوت چھوا یا بوسہ لیا یا کوئی اور بات کی ہے ، جس سے حرمت ثابت ہوتی ہے اور مرد نے انکار کیا توقول مرد کا لیا جائے گا یعنی جبکہ عورت گواہ نہ پیش کر سکے ۔ (الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات جلد ۴ صفحہ ۱۲۱) ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Wednesday, 15 April 2026

نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر اور دعا کرنا مستند دلاٸل کی روشنی میں

نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر اور دعا کرنا مستند دلاٸل کی روشنی میں


محترم قارٸینِ کرام : نماز کے بعد ذکر بالجہر کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ افضل بھی ہے ۔ قرآن پاک اور احادیث  طیبہ صحیحہ سے ثابت ہے ۔ لیکن  ضروری ہے کہ  اتنی بلند آواز نہ ہو کہ  بقیہ نماز پڑھنے والوں کو  آزمائش کا سامنا ہو یا وہ قراءت ہی بھول جائیں ۔ اس انداز میں بلند ذکر کرنے کی ہرگز اجازت نہیں جس سے کسی نمازی وغیرہ کو تکلیف ہو  ۔ ارشادخداوندی ہے : فَاِذَا قَضَیۡتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِکُمْ ۔

ترجمہ :پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو اللہ کی یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے ۔ (سورۃ النساء آیت نمبر 103)


صدرالافاضل حضرت علامہ مولانا مفتی سید محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمۃ خزائن العرفان میں  تحریر فرماتے ہیں : مسئلہ : اس سے نمازوں کے بعد بغیر فصل کے کلمہ توحید پڑھنے پر استدلال کیا جا سکتا ہے جیسا کہ مشائخ کی عادت ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے ۔ مسئلہ : ذکر میں تسبیح ، تحمید ، تہلیل ، تکبیر ، ثناء ، دعا سب داخل ہیں ۔ (تفسیر خزائن العرفان سورۃ النساء آیت نمبر 103)


ذکر آہستہ کیا جائے یا درمیانے درجے کی بلند آواز سے، یہ جائز بلکہ افضل ہے ۔ اسلام کا ہر حکم معتدل ہوتا ہے۔ کھانا پینا جائز، بلکہ ضروری ہے لیکن اعتدال کے ساتھ ۔ حد سے زیادہ جائز نہیں ۔ نماز ، روزہ ، انفاق سی سبیل ﷲ ، حج جہاد ، خوشی و غمی کا اظہار، تمام احکام میں اعتدال و توسط کی راہ اختیار کرنے کا حکم ہے ۔ افراط و تفریط نہ عبادات میں جائز ہے اور نہ معاملات میں ۔ اگر نماز باجماعت ہو رہی ہو یا پاس مریض لیٹا ہو یا کوئی آرام کر رہا ہو یا کوئی مصروف مطالعہ ہو تو اس کے پاس چیخ چیخ کر ذکر کرنے کو کون جائز قرار دے گا ؟


اگر نماز باجماعت ہو چکی ہے اور مذکورہ عوارض بھی موجود نہیں اور لوگ اجتماعی طور پر درمیانی آواز سے ذکر بالجہر کریں تو یہ عین منشاء قرآن و حدیث ہے ۔ اسی پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل رہا اور اسی کا ان کو حکم تھا ۔ اس کی صراحت فقہائے کرام نے فرمائی اور یہی آج تک اہل سنت کا معمول رہا ہے ۔ ذکر بالجہر کا ثبوت قرآن کی روشنی میں : فَاذْكُرُواْ اللّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا ۔ (سورہ البقره آیت نمبر 200)

ترجمہ :  اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے بلکہ اس سے زیادہ ۔


دراصل کفار مکہ حج سے فراغت کے بعد مجالس میں اپنی قومی خوبیاں اور نسبی عظمتیں بیان کرتے تھے اس کو اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا اور اس کی جگہ اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیا ۔ وہ اپنے آباؤ اجداد کا بلند آواز سے تذکرہ کرتے تھے ، اس کو چھوڑ کر ان اجتماعات میں ذکر الٰہی کرنے کا حکم دیا گیا ۔ پس یہ ذکر بالجہر کا حکم ہے ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا ۔ (سورہ البقره آیت نمبر 114)

ترجمہ : اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لیے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ۔


اس آیت مبارکہ میں اس شخص کو سب سے بڑا ظالم گردانا گیا ہے جو مسجد میں اللہ کا ذکر کرنے والوں کو ذکر سے روکتا ہے اور مساجد کو ویران کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس میں بھی پوشیدہ طور پر ذکر بالجہر ہی مراد ہے کیونکہ اگر لوگ دل میں ذکر کریں تو ان کو کون روک سکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ بلند آواز سے ہی ذکر کیا جاتا ہے جسے سن کر ظالم لوگ منع کرتے ہیں اور مساجد کو ویران کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کےلیے اللہ تعالیٰ نے درد ناک عذاب کی وعید سنائی ہے ۔


إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ ۔ (سورہ الانفال آیت نمبر 2)

ترجمہ : ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈر جائیں ۔


اہل علم و عقل جانتے ہیں کہ اس آیت کریمہ سے بھی ذکر بالجہر کا ثبوت ملتا ہے کہ جب کسی کے سامنے ذکر کیا جائے اور اس ذکر کا اثر اسی صورت قبول کر سکتا ہے جب ذکر بالجہر ہو ، کیونکہ خفی ذکر تو وہ سن نہیں سکتا اور جو ذکر سنا جاتا ہے وہ ذکر بالجہر ہی ہے ۔


صحیح بخاری اورصحیح مسلم میں روایت ہے (واللفظ للاول) أن ابن عباس رضی اللہ عنہما ، أخبرہ : أن رفع الصوت بالذکر حین ینصرف الناس من المکتوبۃ کان علی عہد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وقال ابن عباس : کنت أعلم إذا انصرفوا بذلک إذا سمعتہ ۔

ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کوبتایا کہ لوگوں کے  فرض نماز سے فارغ ہونے کے وقت بلند آواز سے ذکر کرنانبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تھا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا میں جب ذکر سنتا تھا  تو جان لیتا تھا کہ لوگ نماز سے فارغ ہو چکے ہیں ۔ (صحیح بخاری کتاب الاذان باب الذکر بعدالصلاۃ جلد 1 صفحہ 168 دارطوق النجاۃ،چشتی)


بخاری شریف کی عربی شرح فتح الباری لابن رجب میں نمازکے بعدخاص تعداد یعنی تین مرتبہ کلمہ طیبہ پڑھنے کی فضیلت بھی مذکور ہے چنانچہ شارح بخاری امام ابن رجب حنبلی علیہ الرحمۃ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : من قال في دبر الصلوات، وإذا أخذ مضجعه: اللہ أكبر كبيراً، عدد الشفع والوتر، وكلمات الله الطيبات المباركات - ثلاثاً -، ولا إله إلا اللہ - مثل ذلك - كن له في القبر نوراً، وعلى الحشر نوراً، وعلى الصراط نوراً، حتى يدخل الجنة) 

ترجمہ : جو نماز کے بعد اور سونے سے پہلے "اللہ اکبرکبیراَ"جفت اورطاق عددمیں اور "كلمات اللہ الطيبات المباركات" تین بار اور "لا إله إلا اللہ" تین بار پڑھے گا تو یہ اذکار اُس کےلیے قبر میں نور ، حشر میں نور اور پُل صراط پر نور ہوں گے یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ۔ (فتح الباری لابن رجب کتاب الصلوٰۃ باب الذکر بعدالصلوٰۃ جلد 7 صفحہ 397 مکتبۃالغرباء الاثریۃ المدینۃ النبویۃ)


اور یہی روایت مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوفاً مروی ہے ۔ حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا مسعر، عن محمد بن عبد الرحمن، عن طيسلة، عن ابن عمر، قال: " من قال دبر كل صلاة، وإذا أخذ مضجعه: اللہ أكبر كبيرا عدد الشفع، والوتر، وكلمات اللہ التامات الطيبات المباركات، ثلاثا، ولا إله إلا اللہ مثل ذلك، كن له في قبره نورا، وعلى الجسر نورا، وعلى الصراط نورا حتى يدخلنه الجنة أو يدخل الجنة ۔ ترجمہ پہلی روایت میں گزر چکا ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد 6 صفحہ 32 مکتبۃ الرشد الریاض)


عن ابی سعيد الخدری رضی الله عنه رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم قال : أکثروا ذکر ﷲ تعالی حتی يقولوا مجنون ۔

ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں دیوانہ کہیں ۔ (ابن حبان، الصحیح، 3 : 99، رقم : 817)


اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے پر لوگ تبھی دیوانہ کہیں گے جب لوگ سنیں گے اور سن اسی وقت سکتے ہیں جب ذکر بالجہر ہو گا ۔


عن ابن عباس رضی الله عنهما قال : قال رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم أذکروا ﷲ ذکرا يقول المنافقون إنکم تراؤون.

ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کا ذکر اس قدر کرو کہ منافق تمہیں ریا کار کہیں ۔ (طبرانی، المعجم الکبیر، 12 : 169، رقم : 12786)


اس حدیث پاک میں بھی واضح طور پر ذکر بالجہر ہی کی بات کی گئی ہے کہ جس پر منافق ریا کار کہیں ۔


عن جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ عنهما أن رجلا کان يرفع صوته بالذکر فقال رجل لو أن هذا إخفض من صوته فقال رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فإنه آواه قال فمات فرأی رجل نارا فی قبره فاتاه فاذا رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فيه وهو يقول هلموا الی صاحبکم فاذا هو الرجل الذی کان يرفع صوته بالذکر ۔

ترجمہ : حضرت جابر بن عبدا للہ رٰ اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی بلند آواز سے ذکر کیا کرتا تھا، ایک آدمی نے کہا : اگر یہ آدمی اپنی آواز پست رکھتا (تو بہتر ہوتا) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ مست ہے راوی کہتا ہے کہ وہ شخص انتقال کر گیا پس ایک شخص اس کی قبر میں روشنی دیکھ کر اس کے قریب آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں (پہلے سے) موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے اس ساتھی کی طرف آؤ جو بلند آواز سے ذکر کیا کرتا تھا ۔ (الحاکم، المستدرک، 1 : 522، رقم : 1361،چشتی)


یعنی بلند آواز سے ذکر کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مروج تھا ۔

 

نماز کے بعد ذکر کرنے کا حکم قرآن و حدیث اور اقوالِ فقہائے کرام سے ثابت ہے اس کی بڑی فضیلت ہے اور اس میں بڑی برکت ہے حیلے بہانوں سے اسے منع کرناقبیح بدعت اور گناہ ہے قرآنِ کریم میں ہے : فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۔

ترجمہ : پھر جب نماز ادا ہوچکے تو زمین میں منتشر ہوجاؤ اور (پھر) اللہ کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرنے لگو اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا کرو تاکہ تم فلاح پاؤ ۔(سورہ الجمعۃ، 62 : 10)


پھر ایک مقام پر یوں ارشاد فرمایا : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا ۔

ترجمہ : اے ایمان والو! تم اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کرو ۔ (سورہ الاحزاب، 33 : 41)


مانعینِ ذکر اور قرآن : ⏬


مسجدوں میں ﷲ کے ذکر سے منع کرنے والے کو قرآن نے ظالم کہا ہے : وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُوْلَـئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلاَّ خَآئِفِينَ لهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۔

ترجمہ : اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو گا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کیے جانے سے روک دے اور انہیں ویران کرنے کی کوشش کرے، انہیں ایسا کرنا مناسب نہ تھا کہ مسجدوں میں داخل ہوتے مگر ڈرتے ہوئے ، ان کے لیے دنیا میں (بھی) ذلّت ہے اور ان کے لیے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے ۔ (سورہ البقرہ، 2 : 114)


معلوم ہوا کہ اللہ کی نظر میں سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کے ذکر سے منع کرے ۔ منع اسی وقت کرے گا جب آواز سنے گا اور آواز اسی وقت سنے گا جب بلند آواز سے ذکر کیا جائے گا جو دل میں ذکر کرے اس کی آواز تو اللہ ہی سنتا ہے کسی دوسرے کو کیا معلوم کہ یہ اللہ کا ذکر کرتا ہے اور جب دوسرے کو پتا ہی نہیں تو منع کیسے کرے گا ؟ یہ قرآن کی آیت ہے اس پر بار بار غور کریں اور منع کرنے والے سے بھی سوال کریں ۔


ذکرِ الٰہی اطمنانِ قلب کا ذریعہ : أَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ۔

ترجمہ : جان لو کہ ﷲ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے ۔ (الرعد، 13 : 28)


إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللّهِ وَعَنِ الصَّلاَةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ ۔

ترجمہ : شیطان یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور کینہ ڈلوا دے اور تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے ۔ کیا تم (ان شرانگیز باتوں سے) باز آو گے ؟ ۔ (سورہ المائدۃ، 5 : 91)


مانعین ذکر تنگدل ہیں : ⏬


وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ۔

ترجمہ : اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، دل تنگ ہو جاتے ہیں ان کے جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ۔ (سورہ الزمر، 39 : 45)


مانعین ذکر پر رزق کی تنگی : وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى ۔

ترجمہ : اور جس نے میرے ذکر (یعنی میری یاد اور نصیحت) سے روگردانی کی تو اس کے لئے دنیاوی معاش (بھی) تنگ کردیا جائے گا اور ہم اسے قیامت کے دن (بھی) اندھا اٹھائیں گے۔ (سورہ طہ، 20 : 124)


عن ابن عباس رضی الله عنه قال کنت أعرف إنقضاء صلٰاة رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم بالتکبير ۔

ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز سے فراغت اللہ اکبر کی آواز سن کر معلوم کرتا تھا ۔ (بخاری، الصحیح، 1 : 288، الرقم : 806)


حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ان رفع الصوت بالذکر حين ينصرف الناس من المکتوبة کان علی عهد نبی صلی الله عليه وآله وسلم وقال ابن عباس کنت أعلم إذا بذلک إذا سمعته ۔

ترجمہ : بلند آواز سے ذکر کرنا، جب لوگ فرض نماز سے فارغ ہو جائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مروج تھا اور ابن عباس رضی ﷲ عنہ نے فرمایا میں اس کی آواز سن کر معلوم کر لیتا تھا کہ نماز ہو گئی ہے ۔ (مسلم، الصحیح، 1 : 410، الرقم : 583)


امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے اپنی صحیحین میں باب الذکر بعد الصلاۃ (نماز کے بعد ذکر کرنے کا بیان) پر ابواب قائم کیے ہیں، اوریہ ثابت کیا ہے کہ نماز کے بعد ذکر کرنا نہ صرف جائز، مستحب اور مسنون ہے ۔ انہوں نے حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنھما سے مروی حدیث مبارکہ نقل کی جا میں وہ فرماتے ہیں: ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں فرض نماز کے بعد بآواز بلند ذکر معروف تھا ۔ حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنھما بیان کرتے ہیں کہ (بچپن میں اپنے گھر میں) جب میں اِس ذکر کی آواز سنتا تو جان لیتا کہ لوگ نماز سے فارغ ہوچکے ہیں ۔ (بخاری، الصحيح، کتاب صفة الصلاة، باب الذکر بعد الصلاة، 1 : 288، رقم : 805،چشتی)(مسلم الصحيح کتاب المساجد باب الذکر بعد الصلاة، 1 : 410، رقم : 583)


اِسی طرح حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ رضی الله عنه يَقُوْلُ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ حِيْنَ يُسَلِّمُ : لَا إِلَهَ إِلَّا ﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيئٍ قَدِيْرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاﷲِ لَا إِلَهَ إِلَّا ﷲُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لَا إِلَهَ إِلَّا ﷲُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ وَلَوْ کَرِهَ الْکَافِرُوْنَ ۔ وَقَالَ : کَانَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ کُلِّ صَلَاةٍ ۔

ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہر نماز میں سلام پھیرنے کے بعد کہا کرتے تھے : اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہی ہے ، اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غالب آنے والا اور قوت رکھنے والا نہیں اور ہم سوائے اس کے کسی کی عبادت نہیں کرتے اس کے لئے تمام نعمتیں ہیں اور اسی کے لیے فضل اور تمام اچھی تعریفیں ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کا دین خالص ہے اگرچہ کافروں کو یہ ناگوار گزرے ۔ (مسلم، الصحيح، کتاب المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلاة وبيان صفته، 1 : 415، رقم : 594)(أبو داود، السنن، کتاب الوتر، باب ما يقول الرجل إذا سلم، 2 : 82، رقم : 1506، 1507)(نسائي، السنن، کتاب السهو، باب عدد التهليل والذکر بعد التسليم، 3 : 70، رقم : 1340) 


امامِ شافعی رحمة اللہ علیہ مسند شافعی میں اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد ﷲ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کَانَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم اِذَا سَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ يَقُوْلُ بِصَوْتِهِ الْاَعْلٰی : لَا اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ وَحْدَه لَا شَرِيکَ لَه لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ لَا اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ وَلَا نَعْبُدُ اِلَّا اِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا ﷲُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ کَرِهَ الْکَافِرُونَ ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہوتے تو بلند آواز سے پڑھتے : اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لئے بادشاہی ہے ، اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غالب آنے والا اور قوت رکھنے والا نہیں اور ہم سوائے اس کے کسی کی عبادت نہیں کرتے اس کے لئے تمام نعمتیں ہیں اور اسی کے لیے فضل اور تمام اچھی تعریفیں ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کا دین خالص ہے اگرچہ کافروں کو یہ ناگوار گزرے ۔ (مسند شافعی 44، 45)


اس حدیث مبارکہ کے تحت ذکر بالجہر کے جواز میں امام طحطاوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : فرض نمازوں کے بعد ذکر بالجہر کرنا جائز ہے ۔ (طحطاوی، مراقی الفلاح : 174)


علاوہ ازیں اِجتماعی طور پر ذکر بالجہر کرنا بھی حدیث مبارکہ سے ثابت ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ میرے متعلق جیسا خیال رکھتا ہے میں اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں ۔ جب وہ میرا ذکر کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ اپنے دل میں میرا ذکر (ذکر خفی) کرے تو میں بھی تنہا اس کا ذکر (ذکر خفی) کرتا ہوں، اور اگر وہ جماعت میں میرا ذکر (ذکر جلی) کرے تو میں اس کی جماعت سے بہتر جماعت میں اس کا ذکر (ذکر جلی) کرتا ہوں ۔ اگر وہ ایک بالشت میرے نزدیک آئے تو میں ایک بازو کے برابر اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں ۔ اگر وہ ایک بازو کے برابر میرے نزدیک آئے تو میں دو بازؤوں کے برابر اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آئے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں ۔ (بخاری، الصحيح، کتاب التوحيد، باب قول ﷲ تعالی : کل شیء هالک إلا وجهه، 6 : 2694، رقم : 6970)


مندرجہ بالا احادیث مبارکہ سے ذکر بالجہر کرنا ثابت ہے۔ لیکن یہ اَمر ذہن نشین رہے کہ ذکر بالجہر کی دو اقسام ہیں : ⏬


ذکرِ مُتَوَسَّط


ذکرِ مُفْرَط


ذکر متوسط سے مراد ایسی درمیانی درجہ کی آواز سے کیا گیا ذکر ہے جو دوسروں کے لیے باعثِ خلل نہ ہو۔جبکہ ذکر مفرط سے مراد بہت ہی بلند آواز سے ذکر کرنا جو کہ دوسروں کے لیے باعثِ تکلیف ہو ۔


بہتر یہی ہے کہ نماز کے بعد ذکر بالجہر متوسط کرنا چاہیے اور اسی پر تمام علماء کرام کا اتفاق ہے۔ اِس لیے ذکر بالجہر متوسط جائز اور مستحب ہے تاکہ حدیث شریف پر بھی عمل ہو اور دوسروں کے لیے باعثِ زحمت بھی نہ ہو ۔


حافظ زبیر علی زئی غیر مقلد لکھتا ہے : (1)عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی علیہ و آلہ کی نماز کا اختتام تکبیر (اللہ اکبر) سے پہچان لیتا تھا ۔ (البخاری ٨٤٢ , مسلم ١٢٠ / ٥٨٣ ولفظہ ” كنا نعرف انقضاء صلوة رسول الله صلى الله عليه و سلم بالتكبير ” امام ابو داود نے اس حدیث پر ” باب التکبیر بعد الصلوة ” کا باب بھاندا ہے ( قبل حدیث ١٠٠٢،چشتی)

حاشیہ : لہٰذا یہ ثابت ہوا کہ (فرض ) نماز کے بعد امام اور مقتدیوں کو اونچی آواز سے اللہ اکبر کہنا چاہئے , یہی حکم منفرد کے لے بھی ہے ” ان رفع الصوت بالذکر ” میں الذکر سے مراد ” التکبیر ” ہی ہے جیسا کہ بخاری وغیرہ سے ثابت ہے , اصول میں یہ مسلم ہے کہ ” الحدیث یفسر بعضه بعضاًَ ” یعنی ایک حدیث دوسرے حدیث کی تفسیر کرتی ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی علیہ وآلہ کی نماز کا ختم ہونا معلوم نہیں ہوتا تھا مگر تکبیر (اللہ اکبر سننے) کے ساتھ۔(مسلم ١٢١ / ٥٨٣)(مختصر صحیح نماز نبوی – شیخ زبیر علی زائی / باب نماز کے بعد اذکار / صفحہ نمبر 255)

بعد نماز بلند آواز سے ذکر کو بدعت اور ذکر کرنے والوں کو بدعتی کہنے والو تمہارے فتوے کی زد میں کون کون آیا ؟


حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مراۃ شرح مشکواۃ میں لکھتے ہیں : باب الذکر بعد الصلوۃ ، نماز کے بعد ذکر کا باب ۔


الفصل الاول ، پہلی فصل : ⏬


(1) اس ذکر سے مراد حمد  الٰہی ، درود شریف اور تمام دعائیں ہیں۔تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ بعد نماز خوب اونچی آواز سے ذکر اﷲ کرنا سنت ہے جیسا کہ آئندہ احادیث میں آرہا ہے۔اس میں اختلاف ہے کہ جن فرائض کے بعد سنتیں ہیں ان کے بعد ذکر وغیرہ کرے یا نہ کرے،صحیح یہ ہے کہ کرے مگر مختصر ۔


959 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)


عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم بِالتَّكْبِيرِ ۔

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونا تکبیر سے پہچانتا تھا (1) ۔ (مسلم،بخاری)


(1) یعنی میں زمانہ نبوی میں بہت کم عمر تھا اس لیے کبھی کبھی جماعت میں حاضر نہ ہوتا مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ نمازکے بعد اتنی بلند آواز سے تکبیریں کہتے تھے کہ گھروں میں آواز پہنچ جاتی تھی اور ہم پہچان لیا کرتے تھے کہ نماز ختم ہوگئی ۔ بعض مشائخ ہر نماز کے بعد بلند آواز سے تین بار کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں ، پنجاب میں فجر اور عشاء کے بعد اونچی آواز سے درود شریف پڑھا جاتا ہے ان سب کا ماخذ یہی حدیث ہے بلکہ مسلم شریف میں ہے کہ نمازوں کے بعد ذکر بالجہر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے عہد میں عام مروج تھا۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں دیکھو،یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں"وَاذْکُرۡ رَّبَّکَ فِیۡ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیۡفَۃً" اس لیے کہ آیت میں اخفاء کی نمازوں کی تلاوت مراد ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس ذکر بالجہر سے ان نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے جو اپنی فوت شدہ رکعتیں پوری کررہے ہیں مگر ان کا یہ قیاس حدیث کے مقابل ہے،نیز وہ لوگ تشریق کی تکبیروں اور حاجی کے تلبیوں اور حرم شریف کی نمازوں میں کیا کریں گے کہ ان سب میں بڑا شور ہوتا ہے ۔ (مراۃ المناجیح شرح مشکواۃ المصابیح جلد دوم)


نماز کے سلام کے بعد ذکر اور دعا کرنا : ⏬


حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے : حدثنامحمدبن کثیراخبرناسفیان ح وحدثنااحمدبن یونس حدثنازائدۃح وحدثنامسدد حدثنا ابوالاحوص ح وحدثنامحمدبن عبیدالمحاربی وزیادبن ایوب قالاحدثناعمربن عبیدالطنافسی ح وحدثناتمیم بن المنتصراخبرنااسحاق یعنی ابن یوسف عن شریک ح وحدثنااحمدبن منیع حدثنا حسین بن محمدحدثناحدثنااسرائیل کلھم عن ابی اسحاق عن ابی الاحوص والاسود عن عبداللہ ان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کان یسلم عن یمینہ وعن شمالہ حتی یری بیاض خدہ السلام علیکم ورحمۃاللہ السلام علیکم ورحمۃاللہ ۔

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی دائیں طرف اوراپنی بائیں طرف سلام کرتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے رخسارہ کی سفیدی نظرآتی ۔ (اوران کلمات سے سلام فرماتے) السلام علیکم ورحمۃاللہ، السلام علیکم ورحمۃاللہ ۔ اس حدیث کوامام ابوداؤد نے اپنی سنن میں (حدیث نمبر۵۴۸) امام ترمذی نے اپنی جامع میں (حدیث نمبر۲۷۲) امام نسائی نے اپنی سنن میں (حدیث نمبر۵۰۳۱) امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں (حدیث نمبر۴۰۹) امام احمدبن حنبل نے اپنی مسند میں (حدیث نمبر۶۱۵۳) روایت فرمایا)


 حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ، عَنْ أَبِی عَمَّارٍ، اسْمُہُ شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللہِ، عَنْ أَبِی أَسْمَاء ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِہِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا وَقَالَ:اللّٰہُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ قَالَ الْوَلِیدُ: فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِیِّ: کَیْفَ الْاسْتِغْفَارُ؟ قَالَ:تَقُولُ:أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ، أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ " ۔

ترجمہ : حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ استغفار پڑھا کرتے اور یوں دعا فرماتے : اللّٰہُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ، تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ حضرت ولید فرماتے ہیں کہ میں نے امام اوزاعی سے دریافت کیا کہ استغفار کیسے پڑھا کرتے تھے ؟ فرمایا: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ، أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ ۔ (صحیح مسلم، ج1کِتَابُ الْمَسَاجِدبَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّکْر بَعْدَ الصَّلوٰۃ، ص463حدیث1235)،(ابن ماجہ، ج1، اَبْوَاب اِقَامَتِ الصَّلوٰۃ، باب مَایَقُوْلُ بَعْدَ السَّلَام، ص276، حدیث976،چشتی)


وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ، أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَکَمَ بْنَ عُتَیْبَۃَ، یُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی، عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ، عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مُعَقِّبَاتٌ لَا یَخِیبُ قَائِلُہُنَّ – أَوْ فَاعِلُہُنَّ – دُبُرَ کُلِّ صَلَاۃٍ مَکْتُوبَۃٍ، ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِیحَۃً، وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِیدَۃً، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَکْبِیرَۃً ۔

ترجمہ : حضرت کعب بن عُجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا: ان کلمات کو ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے والا کبھی محروم نہیں رہتا ۔ 33 مرتبہ سُبْحٰنَ اللّٰہ 33مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ 34 مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَر ۔ (صحیح مسلم جلد 1 کِتَابُ الْمَسَاجِدبَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّکْر بَعْدَ الصَّلوٰۃ صفحہ 468 حدیث نمبر 1250)


نماز کے بعد دعاء کرنا : ⏬


أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِی حَفْصُ بْنُ مَیْسَرَۃَ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ، عَنْ عَطَاء بْنِ أَبِی مَرْوَانَ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ کَعْبًا حَلَفَ لَہُ بِاللَّہِ الَّذِی فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوسَی إِنَّا لَنَجِدُ فِی التَّوْرَاۃِ: أَنَّ دَاوُدَ نَبِیَّ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِہِ قَالَ: اللَّہُمَّ أَصْلِحْ لِی دِینِی الَّذِی جَعَلْتَہُ لِی عِصْمَۃً، وَأَصْلِحْ لِی دُنْیَایَ الَّتِی جَعَلْتَ فِیہَا مَعَاشِی، اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَأَعُوذُ بِعَفْوِکَ مِنْ نِقْمَتِکَ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْکَ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ، وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ، قَالَ: وَحَدَّثَنِی کَعْبٌ، أَنَّ صُہَیْبًا حَدَّثَہُ، أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُہُنَّ عِنْدَ انْصِرَافِہِ مِنْ صَلَاتِہٖ ۔

ترجمہ : ابی مروان نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت کعبؓ نے اللہ کی قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ اس اللہ کی قسم جس نے حضرت موسیٰ کے لئے دریا کو چیر دیا۔ ہم نے توریت میں دیکھا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام جب نماز سے فارغ ہوتے تو یوں دعاء فرماتے : اے اللہ! میرے لئے میرا دین سنوار دے جس کو تو نے میری حفاظت کا سبب بنایا ہے اور میری دنیا سنوار دے جس میں تو نے میری روزی پیدا کی ہے ۔ اے اللہ! میں تیری خوشنودی کے ساتھ تیرے غصے سے اور تیری معافی کے ساتھ تیرے عذاب سے پناہ مانگتا ہوں۔ جو چیز تو عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو روکے اسے کوئی عطا کرنے والا نہیں ۔ اور تیرے فیصلے کو کوئی ٹالنے والا نہیں اور کسی کی دولت اسے تیرے عذاب سے نہیں بچا سکتی ، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ (راوی حدیث) نے بیان فرمایا کہ حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نماز کے بعد یہ دعا فرمایا کرتے ۔ (سنن نسائی جلد 1 کِتَابُ السَّہْو باب الدُّعَاء عِنْدَ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاۃِ صفحہ 414-15،چشتی)


أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ، قَالَ:حَدَّثَنَا یَحْیَی، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ، قَالَ:کَانَ أَبِی یَقُولُ فِی دُبُرِ الصَّلَاۃِ:اللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، فَکُنْتُ أَقُولُہُنَّ، فَقَالَ أَبِی: أَیْ بُنَیَّ، عَمَّنْ أَخَذْتَ ہَذَا؟ قُلْتُ عَنْکَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُہُنَّ فِی دُبُرِ الصَّلَاۃِ ۔

ترجمہ : حضرت مسلم بن ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد نماز کے بعد یہ دعا فرماتے اللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ۔

ترجمہ : اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں کفر اور محتاجی اور عذاب قبر سے ) میں نے بھی نماز کے بعد ایسا کرنا شروع کر دیا۔ میرے والد نے مجھ سے دریافت فرمایا اے بیٹے ! تم نے یہ کہاں سے سیکھا ؟  میں نے کہا آپ سے ۔ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نماز کے بعد یوں ہی دعا فرماتے تھے ۔ (سنن نسائی جلد 1 کِتَابُ السَّہْو باب التَّعَوُّذِ فِی دُبُرِ الصَّلَاۃِِ صفحہ 415)


حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عَائِشَۃَ، عَنْ مَوْلًی لِأُمِّ سَلَمَۃَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُ: إِذَا صَلَّی الصُّبْحَ حِینَ یُسَلِّمُ اللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَیِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا ۔

ترجمہ : حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم صبح کی نماز کے بعد یوں دعا فرماتے : ’’اللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَیِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا ۔

ترجمہ : اے اللہ! میں تجھ سے علم نافع اور پاک رزق اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں ) ۔ (سنن ابن ماجہ جلد 1 اَبْوَاب اِقَامَتِ الصَّلوٰۃ، باب مَایَقُوْلُ بَعْدَ السَّلَام صفحہ 275 حدیث نمبر 973) ، فی الزوائد رجال إسنادہ ثقات یعنی زوائد میں ہے کہ اس کے اسناد کے رجال ثقہ ہیں۔ اور شیخ ناصر البانی نے بھی اسے صحیح کہا ہے ۔


بلند آواز سے ذکر کرنے میں کسی  نمازی وغیرہ کو تکلیف نہ ہو ، اس حوالے سے جزئیات : ⏬


مسند احمد کی حدیث پاک ہے : عن علي ، قال : نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه وآلہ وسلم أن يرفع الرجل صوته بالقرآن قبل العشاء وبعدها، يغلط أصحابه  وھم یصلون ۔

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  منع فرمایا کہ کوئی شخص عشاء سے پہلے اور بعد  بلند آوازسے تلاوت کرے کہ وہ اپنے ساتھی نمازیوں کو مغالطہ میں ڈال دے ۔ (مسند احمد جلد 2 صفحہ 90 رقم الحدیث 663 مؤسسۃ الرسالۃ بیروت،چشتی)


اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ : ایک یا زیادہ شخص نماز پڑھ رہے ہیں یا بعدِ جماعت نماز پڑھنے آئے ہیں اور ایک یا کئی لوگ بآوازِ بلند قرآن یا وظیفہ یعنی کوئی قرآن کوئی وظیفہ پڑھ رہے ہیں یہاں تک کہ مسجد بھی گونج رہی ہے تو اس حالت میں کیا حکم ہونا چاہیے کیونکہ بعض دفعہ آدمی کا خیال بدل جاتا ہے اور نماز بھول جاتاہے ؟


آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب ارشاد فرمایا : جہاں کوئی نماز پڑھتا ہو یا سوتا ہو کہ بآواز پڑھنے سے اُس کی نماز یا نیند میں خلل آئے گا وہاں قرآن مجید و وظیفہ ایسی آواز سے پڑھنا منع ہے ، مسجد میں جب اکیلا تھا اور بآواز پڑھ رہاتھا جس وقت کوئی شخص نماز کےلیے آئے فوراً آہستہ ہو جائے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 100 رضا فاؤنڈیشن لاہور)


ان الجهر أفضل لأنه اکثر عملاً ولتعدی فائدته، الی السامعين ويوقط قلب الذاکر فيجمع همه الی الفکر و يصرف سمعه و بطرد النوم ويزيد انشاط ۔

ترجمہ : بلند آواز سے ذکر افضل ہے کہ اس میں محنت زیادہ ہے اور اس کا فائدہ تمام سننے والوں تک پہنچتا ہے اور یہ ذکر کرنے والے کے دل کو بیدار کرتا ہے اور اس کے خیال کو جمع کرتا ہے اور کانوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہے اور نیند بھگاتا ہے اور چستی بڑھاتا ہے ۔ (شامی ، ردالمختار جلد 1 صفحہ 660)


جب قرآن کریم ، احادیث مبارکہ اور کلام فقہاء سے نماز کے بعد ذکر بالجہر کا حکم ثابت ہو گیا تو تاویل اور بہانے بنانے سے باز رہنا چاہیے اللہ تعالیٰ ہمیں زیادہ سے زیادہ ذکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ بہتر یہی ہے کہ نماز کے بعد ذکر بالجہر متوسط کرنا چاہیے اور اسی پر تمام علماء کرام کا اتفاق ہے۔ اِس لیے ذکر بالجہر متوسط جائز اور مستحب ہے تاکہ حدیث شریف پر بھی عمل ہو اور دوسروں کے لیے باعثِ زحمت بھی نہ ہو ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

حفظ الایمان کی گستاخانہ عبارت کی تاویلاتِ دیابنہ کا تحقیقی جواب

حفظ الایمان کی گستاخانہ عبارت کی تاویلاتِ دیابنہ کا تحقیقی جواب محترم قارٸینِ کرام : دیابنہ کا حکیم اشر فعلی تھانوی دیوبندی اپنے رسالہ حفظ ...