Sunday, 13 September 2026

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب





محترم قارئینِ کرام : شیعہ مفسر قمی لکھتا ہے : کہا کہ یہ آیت ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچا سے کہہ رہے تھے : اے چچا لا الہ الا اللہ پڑھ لو میں اس کے طفیل آپ کو قیامت کے دن نفع پہنچاوں گا ۔ تو انہوں نے کہا میں اپنے نفس کو جانتا ہوں ۔ جب ابو طالب فوت ہوئے تو حضرت عباس بن عبدالمطلب نے فرمایا ۔ کیا موت کے وقت انہوں نے کلمہ پڑھا تھا ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا : میں نے تو ان سے کچھ بھی نہیں سنا تھا ، اور نہ ہی میں قیامت کے دن اسے نفع پہنچاوں گا ۔ (شیعہ کتاب : تفسير القمی جلد 2 صفحہ 142،چشتی)


ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کا ابا شیعہ مفسر ھاشم بحرانی لکھتا ہے : کہا کہ یہ آیت ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچا سے کہہ رہے تھے : اے چچا لا الہ الا اللہ پڑھ لو میں اس کے طفیل آپ کو قیامت کے دن نفع پہنچاوں گا ۔ تو انہوں نے کہا میں اپنے نفس کو جانتا ہوں ۔ جب ابو طالب فوت ہوئے تو حضرت عباس بن عبدالمطلب نے فرمایا ۔ کیا موت کے وقت انہوں نے کلمہ پڑھا تھا ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا : میں نے تو ان سے کچھ بھی نہیں سنا تھا ، اور نہ ہی میں قیامت کے دن اسے نفع پہنچاوں گا ۔ (شیعہ کتاب : تفسیر البرهان جلد 3 صفحہ 230،چشتی)


شیعہ مفسر ملا باقر مجلسی لکھتا ہے : اور یہ بھی روایت کی کہ : إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ ، اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم جس کو دوست رکھتے ہو اُسے ہدایت نہیں کر سکتے ۔ (سورۃ القصص آیت نمبر 56) ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ بھی روایت کی کہ علی علیہ لسلام اپنے والد کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا : آپ کے چچا گمراہی کی حالت میں اس دنیا سے چلے گئے تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہو ؟ اور نہ ہی کسی نے اسے کبھی نماز پڑھتے دیکھا کیونکہ نماز مسلمان اور کافر کے درمیان فرق کرتی ہے ، اور جو وہ مرنے کے بعد چھوڑ گئے تھے اس میں سے علی اور جعفر نے کچھ بھی نہ لیا ۔ اور یہ بھی روایت کی ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ میرے چچا کو ہلکا عذاب دیا جائے گا جو انہوں نے میرے حق میں کیا تھا وہ ٹخنوں تک آگ میں ہو گا ۔ اور ایک روایت یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عبداللہ ، آمنہ اور ابو طالب جہنم کے حجروں میں سے ایک حجرے میں ہونگے ۔ (شیعہ کتاب : بحارالانوار جلد 35 ، 36 صفحہ 97 مطبوعہ موسسة الاعلمی بیروت لبنان،چشتی)


شیعیوں کے بہت بڑے محقق شیخ صدوق قمی کی کمال الدین و اتمام النعمہ سے جنابِ ابوطالب کے متعلق دو باتوں میں سے ایک بات ثابت ہے کہ یا تو وہ لوگوں کی بے عزتی کے خوف سے اسلام قبول نہیں کر رہے تھے ، یا پھر وہ شرک کا اظہار اور ایمان کا اخفاء کرتے تھے ۔ دونوں صورتوں میں انہوں نے ساری عمر ایمان کو چھپایا اور شرک کا اظہار کیا ، آج شیعوں اور ان کے فضلہ خوروں کو کہاں سے وحی نازل ہوگئی کہ وہ مومن تھے ؟ ۔ (شیعہ کتاب : کمال الدین و اتمام النعمہ جلد اول صفحہ 207 مطبوعہ الکساء پبلیشر کراچی)


تعجب کی بات ہے کہ ایمان ابو طالب پر شیعہ کتب میں ایک ضعیف ترین روایت بھی موجود نہیں ہے ۔ تاریخ اسلام ، اہلسنت کتب حتی کہ شیعہ کتب کی کسی بھی روایت میں وہ اہم واقعہ بیان ہی نہیں ہوا کہ 

حضرت ابوطالب نے فلاں موقعہ پر توحید و رسالت کی گواہی دی ۔ حضرت ابوطالب دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ۔ حضرت ابوطالب نے اسلامی شریعت پر عمل کیا ۔ حضرت ابوطالب نے اپنے ایمان کا اعلان کیا ۔ جن آیات قرآنی سے شیعہ استدلال کرتے ہیں ان سے حضرت ابو طالب کا ایمان ثابت ہی نہیں ہوتا اور کچھ احکامات تو حضرت ابوطالب کی وفات کے بعد نازل ہوئے ۔ شیعوں کے ہاں کھینچ کھانچ کے اقوال معصومین پر ایمان ابوطالب تسلیم کیا جاتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شیعہ کی اصول اربعہ کی اول نمبر کتاب اصول کافی میں ایک صحیح السند قول حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا موجود ہے جو ان تمام اقوال معصومین کی نفی بیان کرتا ہے ، جو شیعہ حضرت ابوطالب کے ایمان کی تائید میں پیش کرتے ہیں ۔ شیخ یعقوب الکینی نے اپنی کتاب الکافی میں ایک روایت نقل کی ہے جو اس طرح ہے : علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن ابن أبي عمير، عن هشام بن سالم، عن ابي عبدالله (عليه السلام) قال: إن مثل أبي طالب مثل أصحاب الكهف أسروا الايمان وأظهروا الشرك فآتاهم الله أجرهم مرتين ۔

ترجمہ : حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ ابو طالب علیہ السلام کی مثال اصحاب کہف کی سی ہے، انہوں نے ایمان کو چھپایا اور شرک کو ظاہر کیا پس خدا نے انکو دو اجر دیے ۔ (الاصول الكافي: شیخ یعقوب الکینی جلد 1 ، 2 کتاب الحجت : باب :  مولد النبي (صلى الله عليه وآله وسلم) و وفاته صفحہ 341 رقم 28 مطبوعہ دارالمرتضیٰ بیروت،چشتی)


تحقیق السند : 1 :  علي بن إبراهيم 

1 : علي بن إبراہيم 

یہ بالاتفاق ثقہ ہے

شیخ نجاشی نے فرمایا : علي بن إبراهيم بن هاشم أبو الحسن القمي، ثقة ۔


2 : ابراہيم بن ہاشم 


سيد الخوئی انکے بارے میں کہتے ہے : إبراهيم بن هاشم أبو إسحاق القمّى، أصله كوفي انتقل إلى قم، قال أبو عمرو الكشّى: تلميذ يونس بن عبدالرحمان، من أصحاب الرضا عليه السلام، وهذا قول الكشّى، وفيه نظر تنظّر النجاشي في محلّه، بل لايبعد دعوى الجزم بعدم صحّة ماذكره الكشّي والشيخ. والوجه في ذلك إن إبراهيم بن هاشم مع كثرة رواياته،أقول: لاينبغي الشكّ في وثاقة إبراهيم بن هاشم، ويدلّ على ذلك عدّة أمور: : أنّ السيّد ابن طاووس إدّعى الاتفاق على وثاقته، حيث قال عند ذكره رواية عن أمالي الصدوق في سندها إبراهيم بن هاشم: (ورواة الحديث ثقات بالاتفاق)


3 : ابن أبي عمیر 

یہ بھی ثقہ الامامی ہے،انکی توثیق اس لنک پر پڑھیں


4 :  ہشام بن سالم 

یہ بھی ثقہ الامامی ہی ہے ۔


لہٰذا یہ روایت بلکل صحیح ہے اس میں کسی باشعور اہل علم شخص کو شک نہیں ہونا چاہیے ۔


 اس روایت کو ان علماء نے بھی صحیح یا حسن قرار دیا ہے ۔


الشيخ هادي النجفي نے اپنی کتاب موسوعته جلد 5 صفحہ 321 میں اس کے بارے میں فرمایا : الرواية صحيحة الإسناد ۔ اس روایت کی سند صحیح ہے ۔


السيد محمد علي الابطحي نے تهذيب المقال جلد 5 صفحہ 452 میں کہا : صحيح ۔


العلامة المجلسي نے الکافی کی شرح مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول، جلد 5 صفحہ: 253 میں اس روایت کے بارے میں فرمایا : الحديث حسن ، یہ حسن حدیث ہے ۔


کم و بیش یہی روایت کئی اور شیعہ کتب میں بھی موجود ہے ۔ مثال کے طور پر : ⏬


1 : البرهان في تفسير القرآن الجزء الثاني (تأليف السيد هاشم بن سليمان البحراني)


2 : وسائل الشیعہ جلد 16 صفحہ نمبر 225 ۔


طرز استدلال : حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے منسوب یہ روایت اہل تشیع کے اصولوں کے مطابق ایک صحیح السند روایت ہے ۔ اس روایت میں دو نکات غور طلب ہیں : ⏬

1 : حضرت ابوطالب کی مثال اصحاب کہف جیسی ہے ۔

2 : حضرت ابوطالب نے ایمان کو چھپایا اور شرک کو ظاہر کیا ۔


قرآن کریم میں اصحاب کہف کا قصہ سورت الکھف میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے : نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّؕ-اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ (13)وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا(14)هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةًؕ-لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍؕ-فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ۔ (سورة الكهف آیت نمبر 13 ، 14 ، 15)

ترجمہ : ہم ان کا ٹھیک ٹھیک حال تمہیں سنائیں وہ کچھ جوان تھے کہ اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ہدایت بڑھائی۔اور ہم نے ان کے دلوں کی ڈھارس بندھائی جب کھڑے ہوکر بولے کہ ہمارا رب وہ ہے جو آسمان اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی معبود کو نہ پوجیں گے ایسا ہو تو ہم نے ضرور حد سے گزری ہوئی بات کہی۔یہ جو ہماری قوم ہے اس نے اللہ کے سوا خدا بنا رکھے ہیں کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی روشن سند تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے ۔


ان آیات کے مطابق اصحاب کہف رضی اللہ عنہم نے اپنے ایمان کو ہرگز نہیں چھپایا تھا بلکہ اللہ عزوجل پر ایمان کا برملا اظہار کرتے ہوئے بتوں سے بیزاری ظاہر کی تھی ۔ اسی لیے تو بادشاہ دقیانوس کے خوف سے غار میں چھپ گئے تھے ۔ اگر اصحاب کہف رضی اللہ عنہم اپنا ایمان ظاہر نہ کرتے تو پھر انہیں غار میں چھپنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ؟


حضرت ابوطالب نے بھی اگر اصحاب کہف رضی اللہ عنہم کی طرح ایمان کا اظہار کیا ہوتا اور بتوں سے بیزاری ظاہر کی ہوتی تو اس روایت میں ان کے ایمان کو ظاہر کرنا ضرور بیان کیا گیا ہوتا ، لیکن اس کے بجائے روایت میں واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابوطالب نے ایمان کو چھپایا اور شرک کو ظاہر کیا ۔ یعنی روایت کے دونوں حصے نہ صرف ایک دوسرے سے متعارض ہیں بلکہ شیعہ کے عقیدے ایمان ابو طالب کو بھی جڑ سے اکھاڑ دیتے ہیں ۔


اہلسنت و جماعت کے نزدیک یہ جھوٹی روایت ہے اور اس سے شان حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ بھی بری طرح مجروح ہوتی ہے ۔ کیا حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو اتنا علم بھی نہ تھا کہ اصحاب کہف نے اپنا ایمان ظاہر کیا تھا اور اسی وجہ سے غار میں چھپ گئے تھے، اور یہ مثال حضرت ابو طالب کی زندگی سے مطابقت نہیں رکھتی ۔


روایت کے دوسرے حصے کے مطابق اہل تشیع کے ہاں حضرت ابو طالب پوری زندگی شرک کرتے رہے یعنی بت پرستی کرتے رہے جبکہ اہلسنت و جماعت کے ہاں حضرت ابو طالب کو مشرک نہیں بیان کیا گیا بلکہ ان کا آخری گھڑی تک دین ابراہیمی پر قائم رہنا بیان ہوا ہے ۔


ایک طرف شیعہ اہلسنت پر حضرت ابو طالب کی توہین کا الزام لگاتے ہیں تو دوسری طرف خود ان کی اوّل درجہ کی کتاب میں امام کے نام سے ایسی روایت موجود ہے جو حضرت ابوطالب کو پوری زندگی شرک اور بت پرستی کرتے رہنا بیان کر رہی ہے ۔


حد تو یہ بھی ہے کہ شیعہ جید علماء حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب اس جھوٹی روایت کو صحیح تسلیم کرتے ہیں اور اس کی توثیق کر کے نہ صرف حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ بلکہ حضرت ابو طالب کی بھی توہین کرتے آ رہے ہیں ۔


آخری اہم بات : اہل تشیع کی صحیح السند روایت سے اہل سنت کا مؤقف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابو طالب کا اسلام قبول کرنا ، اعلان کرنا ، اسلامی شریعت پر عمل کرنا وغیرہ کسی صحیح السند روایت سے ثابت نہیں ہے ۔


مذکورہ روایت میں اصحاب کہف رضی اللہ عنہ کی مثال غلط دی گئی ہے، کیونکہ قرآن سے متعارض ہے ۔


اب اہل تشیع اور ان کے فضلہ خوروں کے پاس دو راستے ہیں : ⏬


1 : اصحاب کہف رضی اللہ عنہم کی طرح حضرت ابوطالب کا ایمان قبول کرنا اور بتوں سے بیزاری ظاہر کرنا ثابت کریں ۔


2 : یا روایت کے دوسرے حصہ کو تسلیم کریں کہ حضرت ابوطالب نے پوری زندگی اسلام قبول نہیں کیا تھا جوکہ اہلسنت کا مؤقف ہے ۔


ایمانِ ابو طالب کے متعلق ایک حدیث کی تحقیق : ⏬


جنابِ ابو طالب کے ایمان لانے کے متعلق اکثر ایک روایت پیش کی جاتی ہے آٸیے اس کا تحقیقی جاٸزہ لیتے ہیں : 


روایت یہ ہے : حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فلما رأی حرص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علیه قال :یا ابن أخي! والله، لو لا مخافة السبة علیك وعلی بني أبیک من بعدي ، وأن تظن قریش أني إنما قلتھا جزعا من الموت لقلتھا، لا أقولھا إلا لإسرک بھا ، قال: فلما تقارب من أبي طالب الموت قال: نظر العباس إلیه یحرک شفتیه ، قال : فأصغی إلیه بأذنه، قال : فقال : یا ابن أخي ! واللہ، لقد قال أخي الکلمة التي أمرته أن یقولھا، قال: فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : لم أسمع ۔

ترجمہ : جب ابو طالب نے اپنے (ایمان کے) بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حرص دیکھی تو کہا : اے بھتیجے ! اللہ کی قسم ، اگر مجھے اپنے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھائیوں پر طعن و تشنیع کا خطرہ نہ ہوتا ، نیز قریش یہ نہ سمجھتے کہ میں نے موت کے ڈر سے یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں کلمہ پڑھ لیتا ۔ میں صرف آپ کو خوش کرنے کیلئے ایسا کروں گا ۔ پھر جب ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو عباس نے ان کو ہونٹ ہلاتے ہوئے دیکھا ۔ انہوں نے اپنا کان لگایا اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ) کہا : اےبھتیجے ! یقیناً میرے بھائی نے وہ بات کہہ دی ہے جس کے کہنے کا آپ نے اُنہیں حکم دیا تھا ۔ (السیرۃ لابن ھشام: ۴۱۷/۱، ۴۱۸،چشتی)(المغازي لیونس بن بکیر: ص ۲۳۸)(دلائل النبوۃ للبیھقي: ۳۴۶/۲)


یہ روایت ضعیف ہے


امام ابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اس حدیث کی سند کا ایک راوی نا معلوم ہے ۔ اس کے برعکس صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو طالب کفر کی حالت میں فوت ہوئے ۔ (تاریخ ابن عساکر: ۳۳/۶۶)


امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ھٰذا إسنادمنقطع ۔۔۔۔"الخ ، یہ سند منقطع ہے ۔۔۔۔۔ (تاریخ الاسلام: ۱۵۱/۲)


علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : إن في السند مبھما لا یعرف حاله ، وھو قول عن بعض أھله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد........ و الخبر عندي ما صح لضعف في سندہ" ۔

ترجمہ : اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے ، جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے ، نیز یہ اُس کے بعض اہل کی بات ہے جو کہ نام اور حالات دونوں میں ابہام ہے ۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا ہے ۔۔۔ میرے نزدیک یہ روایت سند کے ضعیف ہونے کی بنا پر صحیح نہیں ۔ (البدایة و النھایة لابن کثیر: ۱۲۳/۳ ۔ ۱۲۵،چشتی)


امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : بسند فیه لم یسم ...... و ھذا الحدیث لو کان طریقه صحیحا لعارضه ھذا الحدیث الذی ھو أصح منه فضلا عن أنه لا یصح ۔

ترجمہ : یہ روایت ایسی سند کے ساتھ مروی ہے جس میں ایک راوی کا نام ہی بیان نہیں کیا گیا .... اس حدیث کی سند اگر صحیح بھی ہو تو یہ اپنے سے زیادہ صحیح حدیث کے معارض ہے ۔ اس کا صحیح نہ ہونا مستزاد ہے ۔ (فتح الباری لابن حجر: ۱۸۴/۷)


امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : في سند ھذا الحدیث مبھم لا یعرف حاله، وھذا إبھام في الاسم و الحال، و مثله یتوقف فیه لو انفرد ۔

ترجمہ : اس حدیث کی سند میں ایک مبہم راوی ہے جس کے حالات معلوم نہیں ہوسکے ۔ نام اور حالات دونوں مجہول ہیں ۔ اس جیسے راوی کی روایت اگر منفرد ہو تو اس میں توقف کیا جاتا ہے ۔ (شرح ابي داؤد للعیني الحنفي: ۱۷۲/۶)


ارشادِ باری تعالیٰ ہے : مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ ۔

ترجمہ : نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ انہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں ۔ (سورہ التوبہ : ١١٣)


جنابِ ابوطالب کا مرتے وقت کلمہ نہ پڑھنا اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے زندہ کافروں اور منافقوں سے ترک تعلق اور محبت نہ رکھنے کا حکم دیا تھا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مردہ کافروں سے بھی اظہار برأت کرنے کا حکم دیا ہے ، اس آیت کے شان نزول میں اختلاف ہے ، صحیح یہ ہے کہ یہ آیت ابوطالب کے متعلق نازل ہوئی ہے جیسا کہ اس صحیح حدیث سے واضح ہوتا ہے : سعید بن مسیب اپنے والد مسیب بن حزن سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابوطالب پر موت کا وقت آیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس تشریف لے گئے ۔ اس وقت اس کے پاس ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بھی تھے ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے چچا لا الہ الا اللہ کہیے ، میں اس کلمہ کی وجہ سے اللہ کے پاس آپ کی سفارش کروں گا ، تو ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ نے کہا اے ابو طالب ! کیا تم عبد المطلب کی ملت سے اعراض کرتے ہو ؟ پس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک مجھے منع نہ کیا جائے میں تمہارے لیے استغفار کرتا رہوں گا ، تب یہ آیت نازل ہوئی ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفر و اللمشرکین ۔ الایہ ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٦٠)(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٤،چشتی)(سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٠٣٥) (مسند احمد ج ٥ ص ٤٣٣)(اسباب النزول للواحدی رقم الحدیث : ٥٣٠)(سیرت ابن اسحاق ج ١ ص ٢٣٨۔ ٢٣٧)


اس حدیث پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ ابو طالب کی موت ہجرت سے تین سال پہلے ہوئی ہے اور سورة التوبہ ان سورتوں میں سے ہے جو مدینہ میں آخر میں نازل ہوئیں ، امام واحدی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت سے استغفار کرتے رہے ہوں حتیٰ کہ مدینہ میں اس سورت کے نازل ہونے تک استغفار کرتے رہے ہوں اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے استغفار ترک کردیا ۔ اس جواب کو اکثر اجلہ علماء نے پسند کیا ہے امام رازی اور علامہ آلوسی اور علامہ ابو حفص دمشقی علیہم الرّحمہ وغیرہم ان میں شامل ہیں ۔ علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اور جواب یہ ذکر کیا ہے کہ سورة توبہ کے مدنی ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس کی اکثر اور غالب آیات مدنی ہیں ، اس لیے اگر یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی ہو تو وہ سورة توبہ کے مدنی ہونے کے منافی نہیں ہے ۔ اس حدیث میں تصریح ہے کہ ابوطالب نے تادم مرگ کلمہ نہیں پڑھا اور اسلام کو قبول نہیں کیا ۔


ابوطالب کے ایمان کے متعلق ایک روایت (جس کے متعلق ہم نے اوپر عرض کر دیا ہے) کا جواب امام ابن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ حسب ذیل روایت بیان کی ہے ، اس سے شیعہ ابوطالب کا ایمان ثابت کرتے ہیں : از عباس بن عبد اللہ بن معبد از بعض اہل خود از ابن اسحق ، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوطالب کی بیماری کے ایام میں اس کے پاس گئے تو آپ نے فرمایا : اے چچا ! لا الہ الا اللہ پڑھئے ، میں اس کی وجہ سے قیامت کے دن آپ کی شفاعت کروں گا۔ ابوطالب نے کہا اے بھتیجے ! اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ میرے بعد تمہیں اور تمہارے اہل بیت کو یہ طعنہ دیا جائے گا کہ میں نے موت کی تکلیف سے گھبرا کر یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں یہ کلمہ پڑھا لیتا اور میں صرف تمہاری خوشنودی کے لیے یہ کلمہ پڑھتا ، جب ابوطالب کی طبیعت زیادہ بگڑی تو اس کے ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھے گئے ، عباس نے ان کا کلام سننے کے لیے اپنے کان ان کے ہونٹوں سے لگائے ، پھر عباس نے اپنا سر اوپر اٹھا کر کہا یا رسول اللہ ! بیشک اللہ کی قسم ! اس نے وہ کلمہ وہ پڑھ لیا ہے جس کا آپ نے ان سے سوال کیا تھا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے نہیں سنا ۔ (سیرت ابن اسحاق ج ١ ص ٢٣٨، مطبوعہ دارالفکر) یہ روایت صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور دیگر احادیث صحیحہ کے خلاف ہے ، نیز یہ اس لیے صحیح نہیں ہے کہ امام ابن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ایک مجہول شخص سے روایت کیا ہے ، ثانیاً جس وقت کی یہ روایت ہے اس وقت حضرت عباس اسلام نہیں لائے تھے ، پھر ان کا یا رسول کہنا کس طرح تسلیم کیا جاسکتا ہے ؟ ثالثاً یہ کہ اس روایت میں خود تصریح ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے نہیں سنا ، رابعاً یہ روایت حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی صحیح روایت کے خلاف ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : اس روایت کی سند منقطع ہے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ جو اس حدیث کے راوی ہیں اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے اور مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ابوطالب کی عاقبت کے متعلق سوال کیا کہ آپ نے ابوطالب کو کیا نفع پہنچایا ، وہ آپ کی موافقت کرتا تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! وہ ٹخنوں تک آگ میں ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے آخری طبقہ میں ہوتا ، اس حدیث کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٨٨٣، ٦٢٠٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٩،چشتی) اور یہ ضعیف روایت اس صحیح حدیث سے تصادم کی قوت نہیں رکھتی ۔ (دلائل النبوۃ ج ٢ ص ٣٤٦)


کچھ لوگ کہتےہیں کہ ابو طالب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح پڑھایا تھا لہذا وہ مسلمان تھا ۔ یہ بات کسی مستند روایت سے ثابت نہیں اور اگر ثابت بھی ہے تو یہ اسلام سے پہلے کا نکاح تھا ، اور اس وقت کے رائج طریقے سے پڑھا گیا اس سے جنابِ ابو طالب کے مسلمان ہونے یا نا ہونے کا کوئی تعلق ہی نہیں بنتا ، کیونکہ جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت پر کلمہ ہی نہیں پڑھا تو ان کے مسلمان ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اللہ عزوجل اہلِ اسلام کو کسی بھی لباس میں چھپے فتنوں اور فتنہ پروروں کے شر سے بچاۓ آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

Wednesday, 9 September 2026

میوزک مطلقاً ناجائز و حرام ہے ، کوئی میوزک حلال نہیں جہلائے زمانہ نام نہاد محککین کو مدلل جواب

میوزک مطلقاً ناجائز و حرام ہے ، کوئی میوزک حلال نہیں جہلائے زمانہ نام نہاد محککین کو مدلل جواب

محترم قارئینِ کرام : گانے سننا حرام اور برا فعل ہے ، اور یہ دلوں کے مرض اور ان کی سختی اور اللہ کے ذکر اور نماز سے دور کرنے والے اسباب میں سے ایک سبب ہے، اور اکثر اہل علم نے اللہ تعالی کے اس فرمان: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ  (سورۃ لقمان:6)  ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻟﻐﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻛﻮ ﻣﻮﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔} کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد گانے باجے ہیں۔ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس بات پر قسم کھاتے تھے کہ لغو باتوں سے مراد گانا ہے۔ اور اگر گانے کے ساتھـ آلات لہو و لعب ہوں، جیسے: رباب، سارنگی، دو تارہ اور ڈھول تو اس کی حرمت اور زیادہ سخت ہوجائے گی۔ اور بعض علماء نے ذکر کیا ہے کہ گانا آلاتِ لہو و لعب (موسیقی) کے ساتھـ ہو تو وہ بالاتفاقِ علماء حرام ہے؛ لہذا اس سے بچنا چاہیے ۔


مسند بزار میں ہے : صوتان ملعونان في الدنيا والآخرة ،  مزمار عند نعمة ، ورنة عند مصيبة ۔

ترجمہ : دو آوازیں دنیا و آخرت میں ملعون ہیں : نعمت کے وقت باجے کی آواز اور مصیبت کے وقت رونے کی آواز ۔(مسند بزار، مسند ابی حمزہ انس بن مالک جلد 14 صفحہ 62 مطبوعہ مدینۃ المنورہ)


عن ابي امامة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله بعثني رحمة للعالمين وهدى للعالمين، وامرني ربي بمحق المعازف والمزامير والاوثان والصلب ۔

ترجمہ : حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک میرے رب نے مجھے دو نوں جہانوں کےلیے رحمت اور ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور میرے رب نے  مجھے بانسری اور گانے باجے کے آلات ،بت اور صلیب توڑنے کا حکم دیا ہے ۔ (مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابو امامہ باھلی جلد 36 صفحہ 640 مؤسسۃ الرسالہ،چشتی)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان اللہ حرم علیکم الخمر والمیسر والکوبۃ وقال کل مسکر حرام ۔

ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوا اور کوبہ (ڈھول)حرام کیا اور فرمایا : ہر نشہ والی چیز حرام ہے ۔ (سنن الکبری للبیھقی،کتاب الشھادات جلد 10 صفحہ 360 دار الکتب العلمیہ بیروت)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لیکونن فی امتی اقوام یستحلون الحر و الحریر و الخمر و المعازف ۔

ترجمہ : ضرور میری امت میں وہ لوگ ہونے والے ہیں جو عورتوں کی شرمگاہ (زنا )اور ریشمی کپڑوں اور شراب اور باجوں کو حلال ٹھہرائیں گے ۔ (صحیح بخاری کتاب الاشربۃ رقم الحدیث 5590 جلد 7 صفحہ 106 دار طوق النجاۃ،چشتی)


الہدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی  میں ہے : و دلت المسئلۃعلی أن الملاھی کلھا حرام حتی التغنی لضرب القضیب ۔

ترجمہ : یہ مسئلہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ گانے باجے کے آلات سب حرام ہیں ، یہاں تک کہ کسی چیز پر لکڑی کی ضرب لگاکر موسیقی پیدا کرنا بھی ۔ (الهدایۃ جلد 4 صفحہ 365 دار احیاء التراث العربی بیروت)


امام محمد امین ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ درمختار کی اس عبارت ، وکرہ کل لھو ، کے تحت فرماتے ہیں : والإطلاق شامل لنفس الفعل و  استماعہ کالرقص و السخریۃ والتصفیق و ضرب الأوتار من الطنبور و البربط و الرباب والقانون والمزمار و الصنج و البوق  فإنھا کلھا مکروھۃ لأنھا زی الکفار واستماع ضرب الدف والمزمار و غیر ذلک حرام ۔

ترجمہ : لہو و لعب کا کرنااور اس کا سننا سب اس مکروہ ہونے میں داخل ہے ۔ جیسے رقص ،  مذاق مستی ، تالی اور سارنگی اور بغیر تاروں اور تاروں والا باجہ بجانا اور بانسری ، جھانجھ اور بگل بجانا ۔ پس یہ تمام میوزیکل آلات بجانا مکر ہے  کہ یہ کفار کی ہیئت ہے اور دف اور بانسری اور اس کے علاوہ اسی قبیل کی چیزوں کا سننا بھی حرام ہے ۔ (رد المحتار جلد 9 صفحہ 566 مطبوعہ کوئٹہ،چشتی)


سنن ابی داؤد میں ہے:”و عن نافع  قال:سمع ابن عمر مزمارا قال: فوضع أصبعيه في أذنيه وناء عن الطريق وقال لي: يا نافع هل تسمع شيئا؟ فقلت: لا، قال:فرفع أصبعيه عن أذنيه و قال: كنت مع النبی صلى الله عليه وسلم فسمع مثل ھذا فصنع مثل ھذا “ترجمہ:حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ راستے سے گزرے تو  آلات  موسیقی کی آواز آپ کے کانوں میں پڑی ، آپ رضی اللہ عنہ نے کانوں میں انگلیاں ڈال دیں  اور اس راستے سے ہٹ گئے پھر مجھ سےکہا:اے نافع! کیا تمہیں آواز آرہی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں سے ہٹائیں اور کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  اسی طرح کی آواز سنی تو اسی  طرح کا عمل کیا۔(سنن ابی داؤد،ج4،ص281، مطبوعہ بیروت)


مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :ان فی امتی خسفاً و مسخاً و قذفاً۔ قالوا: یا رسول اللہ وھم یشھدون أن لا الہ الا اللہ؟ فقال: نعم، اذا ظھرت المعازف والخمور ولبس الحریر“ ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں خسف (زمین میں دھنسا دینا) مسخ (شکلیں بگڑجانا) اور قذف (پتھروں کی بارش) (بھی) ہوگا۔ صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کی یا رسول اللہ درآنحالیکہ وہ اس کی گواہی دیتے ہوں گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟ تو فرمایا: ہاں، جب ان میں آلاتِ موسیقی‘ شراب نوشی اور ریشم کا استعمال عام ہوجائے گا۔(مصنف ابن ابی شیبۃ،جلد7،صفحہ501، طبع ریاض)


امام اہلسنت امام احمدر ضا خان قادری رحمۃ اللہ ارشاد فرماتے ہیں : مزامیر(یعنی گانے بجانے کے آلات) حرام ہیں ۔ صیح بخاری شریف کی حدیث صحیح میں حضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قوم کاذکرفرمایا:یستحلون الحر والحریر والمعازف" زنا اور ریشمی کپڑوں اور باجوں کو حلال سمجھیں گےاور فرمایا: وہ بندراور سورہوجائیں گے۔ ہدایہ وغیرہ کتب معتمدہ میں تصریح ہے کہ مزامیر حرام ہیں۔ حضرت سلطان الاولیاء محبوب الٰہی نظام الحق والدّین رضی اﷲ تعالی عنہ فوائد الفوادشریف میں فرماتے ہیں: مزامیر حرام است۔(یعنی گانے بجانے کے آلات حرام ہیں ۔ )"(فتاوی رضویہ ،جلد24، صفحہ138،رضافاؤنڈیشن،لاهور)


حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو، اور نہ انہیں (گانا) سکھاؤ، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں» (سورۃ لقمان:٦)۔[سنن سعيد بن منصور:1721،  سنن الترمذي:1282، تفسير ابن أبي حاتم:17523، سلسلة الأحاديث الصحيحة:‌‌2922]


اور رسول الله صلى الله عليه وسلم سے صحيح سند سے یہ ثابت ہے كہ آپ نے فرمایا: میری امت کے کچھـ اقوام زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال سمجھیں گے۔[ابوداؤد:4039]


حضرت ابو امامہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا رحمت اور ہدایت سارے جہاں والوں کےلیے ، مجھے بھیجا تاکہ میں بانسریاں باجے اور تمام آلات موسیقی اور جاہلیت کی باتوں کو اور بتوں کو مٹا ڈالوں،[أخرجه الطيالسى:1230 ، أحمد:22307 ، الطبرانى:7803، شعب الإيمان للبيهقي:6108 ، ذم الملاهي لابن أبي الدنيا:69، المنهيات، الحكيم الترمذي:ص91، الكبائر للذهبي:ص85]


بہت سے دلائل سے معلوم ہوتاا ہے کہ گانا سننا اور اس میں مشغول ہونا خاص طور پر جب تفریحی آلات کے ساتھـ ہو جیسے سارنگی اور موسیقی وغیرہ کے ساتھـ تو یہ شیطان کے بڑے فریبوں میں سے ہے، اور اس کے ان جالوں میں سے ہے جس سے وہ جاہلوں کے دلوں کو شکار کرتا ہے، اور اس کے ذریعے سے قرآن سننے سے روکتا ہے، اور ان کے لئے فسق اور نافرمانی میں مشغول رہنا محبوب کرتا ہے، نیز گانا شیطان کا قرآن، اور اس کی بانسری، اور زنا کی منتر، اور لواطت کی اور شر اور فساد کے مختلف قسموں کو دعوت دینے والا ہے، اور یقیناً ابو بکر طرطوشى اور دیگر اہل علم نے ائمہ اسلام سے حکایت کی ہے کہ انہوں نے گانے کی مذمت کی اور تفریحی آلات کی، اور اس سے پرہیز کیا، اور حافظ علامہ ابو عمرو بن صلاح رحمہ الله نے سارے علماء سے اس گانے کی حرمت نقل کی ہے، جو سارنگی وغیرہ جیسے تفریحی آلات میں سے کسی چیز پر مشتمل ہو، یہ اس لئے کیونکہ گانے اور ساز میں دل کی بیماریاں، اور اخلاق کا فساد، اور اللہ کی ذکر اور نماز سے رکاوٹ ہوتی ہے، اور یقینا گانا اس لغو میں شامل ہے جس کی اللہ نے مذمت اور عیب جوئی کی ہے، اور اس سے دل میں نفاق پیدا ہوتا ہے، جس طرح پانی سے دانہ اگتا ہے، خصوصی طور پر جب یہ ان گلوکار مرودوں اور عورتوں سے جو اس کےلیے مشہور ہوں، تو اس کا ضرر اور خطرناک اور دلوں کو فاسد کرنے میں زیادہ شدید ہوگا، اللہ تعالی فرماتا ہے: ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻟﻐﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻛﻮ ﻣﻮﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ ﺑﮯﻋﻠﻤﯽ ﻛﮯ ﺳﺎتھـ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﺍللہ ﻛﯽ ﺭﺍﮦ ﺳﮯ ﺑﮩﲀﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭﺍﺳﮯ ﮨﻨﺴﯽ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ، ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﺳﻮﺍ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻋﺬﺍﺏ ﮨﮯ۔(سورۃ لقمان:6) ﺟﺐ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﯾﺘﯿﮟ ﺗﻼﻭﺕ ﻛﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﻜﺒﺮ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﻮﯾﺎ ﻛﮧ ﺍﺱ ﻛﮯﺩﻭﻧﻮﮞ کاﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﭦ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺁﭖ ﺍﺳﮯ ﺩﺭﺩ ﻧﺎﻙ ﻋﺬﺍﺏ ﻛﯽ ﺧﺒﺮ ﺳﻨﺎ ﺩﯾﺠﺌﮯ ۔ ، واحدی اور دیگر اکثر مفسریں نے کہا ہے، ابن مسعود رضی الله عنہ جو بڑے صحابہ اور ان کے علماء میں سے تھے، وہ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس کی قسم کھا کر کہتے تھے کہ لغو بات سے مراد گانا ہے، اور آپ رضی اللہ عنہ فرماتے کہ: گانا دل میں ایسے ہی نفاق اگاتا ہے۔[سنن أبي داود: 4927][شعب الإيمان للبيهقي: 4746]۔[شعب الإيمان للبيهقي: 4746](صحيح عن ابن مسعود من قوله ، وقد روي عن ابن مسعود مرفوعا)[تحريم آلات الطرب، لالبانی:10، المغنی لابن قدامہ:14/ 161، غاثة اللهفان:1/ 372]


اور صحابہ اور تابعین میں اسلاف سے گانے اور تفریحی آلات کی مذمت، اور اس سے پرہیز کرنے کے بارے میں بہت سارے آثار وارد ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:میری امت سےاقوام ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال سمجھیں ۔ امام بخاری نے اسے روايت كيا ہے۔ اور الحر حرام شرمگاہ کو کہتے ہیں، اور اس سے مراد زنا ہے، اور ساز سے مراد ہر تفریحی آلہ ہے جیسے موسیقی، طبلہ، سارنگی، رباب، اور تانت وغیرہ، علامہ ابن قیم "كتاب الإغاثة" میں لکھا ہے کہ: المعازف کی تفیسر ہر تفریحی آلات سے کرنے میں اہلِ لغت کے درمیان اختلاف نہیں ہے۔ اور ترمذیؒ نے عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت کی ہے کہتے ہیں کہ: رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمايا: میری امت میں سنگ باری اور خسف ومسخ (زمین میں دھنسنے اور اشکال کی تبدیلی) کے واقعات ہوں گے، تو ایک مسلمان شخص نے کہا کہ : اے اللہ کے رسول ! یہ سب کب ہوگا ؟ تو آپ نے فرمایا: جب لونڈی بازی اور موسیقی عام ہو جائے، اور شراب نوشی کھلے عام ہونے لگے۔[ترمذی:2212]


اور احمد نے اپنی مسند میں جيد اسناد کے ساتھـ تخريج كی ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقیناً اللہ تعالی نے شراب، جوّا، طبلہ، اور ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے۔[ابوداود:3696] اور اس حدیث کے ایک راوی سفیان نے کہا کہ: الکوبہ سے مراد طبلہ ہے، اور گانے اور لغو باتوں کی مذمت میں بہت سارے آثار وارد ہیں جو اس مقالے میں بیان کرنا ممکن نہیں ہیں، اور جو ہم نے ذکر کیا ہے حق کے طلبگار کےلیے اس میں کفایت اور قناعت ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ریڈیو اسٹیشن کو گانے اور تفریحی آلات بہم پہنچانے کے دعویدارں کی عقل میں خلل پیدا ہوا ہے یہاں تک کہ قبیح کو اچھا اور اچھے کو قبیح محسوس کرنے لگے، اور اس کی طرف بلانے لگے جو ان کے لئے اور دوسروں کے لئے نقصاندہ ہے، اور وہ اس سے پیدا ہونے والے نقصانات اور شر اور فساد کی پرواہ نہیں کرتے، اور اللہ تعالی نے کیا ہی خوب فرمایا ہے:     ﻛﯿﺎ ﭘﺲ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﺲ کےلیے ﺍﺱ ﻛﮯ ﺑﺮﮮ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻣﺰﯾﻦ ﻛﺮﺩﯾﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ، ﭘﺲ ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ (ﻛﯿﺎ ﻭﮦ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺷﺨﺺ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ ؟ ) ، ( ﯾﻘﯿﻦ ﻣﺎﻧﻮ ) ﻛﮧ ﺍللہ ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺩﻛﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﭘﺲ ﺁﭖ ﻛﻮ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻏﻢ ﻛﮭﺎ ﻛﮭﺎ ﻛﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﮨﻼﻛﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﻨﯽ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ، ﯾﮧ ﺟﻮ ﻛﭽھ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﯾﻘﯿناً اللہ تعالیٰ ﺑﺨﻮﺑﯽ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﮯ۔[سورۃ الفاطر:8]


اور شاعر نے کیا ہی سچ کہا ہے : ⏬


آزمائش کے دنوں میں انسان پر گذرتی ہے

یہاں تک کی اس کو اچھا سمجھتا ہے جو اچھا نہیں ہوتا۔


بینڈ باجے اور موسیقی کی آواز : ⏬


حَدَّثَنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثنا أَبُو عَاصِم، حَدَّثنا شَبِيب بن بشر البجلي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُول اللهِ صَلَّى الله عَلَيه وَسَلَّم: صوتان ملعونان في الدنيا والآخرة: مزمار عند نعمة ورنة عند مصيبة.

[مسند البزار:14/62، مُسْنَدُ أَبِي حَمْزَةَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رقم الحدیث 7513]


حکم الحدیث: حسن۔[الأحاديث المختارة:2200+2201، صَحِيح الْجَامِع: 3801 , الصَّحِيحَة: 427]

المحدث : المنذري | المصدر : الترغيب والترهيب: 4/268 | خلاصة حكم المحدث : رواته ثقات

المحدث : ابن القيم | المصدر : مسألة السماع: 318 | خلاصة حكم المحدث : صحيح

المحدث : الهيثمي | المصدر : مجمع الزوائد: 16/3 | خلاصة حكم المحدث : رجاله ثقات

المحدث : الهيتمي المكي | المصدر : الزواجر: 1/159 | خلاصة حكم المحدث : رواته ثقات


وَيَأْذَنُ اللَّهُ تَعَالَى لِوَرَقِ الجنة فيقول انظروا عبادي الذين كانون يُنَزِّهُونَ أَنْفُسَهُمْ فِي الدُّنْيَا عَنِ الْبَرَابِطِ وَالْمَعَازِفِ فَنَغَمَتُهُنَّ ‌بِأَحْسَنِ ‌أَصْوَاتٍ مِنْ نَغَائِمِ الطَّيْرِ ۔ [تاريخ واسط ، بحشل (م٢٩٢ھ) : ص211]


موسیقی کے ساتھ نعت پڑھنا کیسا ہے ؟ : ⏬


  شریعتِ مطہرہ نے موسیقی سے منع فرمایاہے۔ چنانچہ اس کی ممانعت کس قدر سختی سے کی گئی اس کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی ہوسکتا ہے ،ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر   کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں طبل کی آواز آنا شروع ہوگئی آپ  نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں تاکہ یہ آوا ز غیر اختیاری طور پربھی آپ کے کانوں میں نہ پڑے، پھر آپ وہاں سے ہٹ گئے اور تین دفعہ ایسا ہی کیا پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسی طرح کیاتھا۔ کیا یہ واقعہ اس بات پر دلالت کرنے کیلئے کافی نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے صحابہ   کو موسیقی سے کس قدر نفرت تھی ۔


اس کے علاوہ ایک روایت میںفرمایاکہ جب میری امت پندرہ چیزوں میں مبتلا ہو جائے گی تو ان میں مصائب کا نزول شروع ہوجائے گا ان چیزوں میں سے ایک چیز آپ نے یہ بھی ذکر فرمائی کہ جب ان میں گانے والیاں اور آلات موسیقی عام ہوجائیں گے ۔

اب اس کے بعد ہر صاحب بصیرت شخص یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ جس چیز سے آپ کو اس قدر نفرت تھی کہ آپ اس کی آواز سننا پسند نہیں فرماتے تھے تو اب اگر اسی کے ساتھ آپ کا ذکرمبارک کیا جائے اور اسے ثواب بھی گردانا جائے تو اس سے بڑھ کر اور حماقت کیا ہوگی ۔ یہی وجہ ہے کہ ملا علی قاری  نے اپنی کتاب شرح فقہ اکبر میں احناف کی کتب کے حوالے سے یہ جزئیہ نقل کیا ہے : من قرأ القرآن علی ضرب الدف والقضیب یکفر  (شرح فقہ اکبر صفحہ ۱۶۷)

ترجمہ : جو شخص کلام مقدس کو دف یا بانسری پر پڑھے وہ کافر ہے ۔


اس کے بعد اپنا فتویٰ نقل کرتے ہوئے ملا علی قاری حنفی فرماتے ہیں : قلت !ویقرب منہ ضرب الدف والقضیب مع ذکر اللہ تعالی ونعت المصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، وکذا التصفیق علی الذکر ۔

ترجمہ : اسی ( کفر) کے قریب ہے دف اور بانسری بجانا اللہ کے ذکر اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت کے ساتھ ، اور یہی حکم ذکر کے ساتھ تالی بجانے کا ہے ۔ 


 یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں دف وغیرہ کا ذکر ہے جس کا بعض مواقع پر جواز بھی ثابت ہے،اور رہی آجکل کی موسیقی اس کے ناجائز ہونے میں تو کسی کا اختلاف بھی نہیں،اس کے بعد بھی اتنی جرأت ؟وہ  ذات رؤف وکریم ہے ورنہ ہمارے اس فعل پر نہ معلوم ہمارے اوپر کیا کچھ نازل ہوجاتااور ہم اسی کے مستحق تھے ،کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جب ہم نے سرعام مذاق اڑانا شروع کردیا آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ یہ مذاق ہے یا نہیں؟ کہ جس چیز سے آپ منع کریں ہم نہ صرف وہی کام کریں بلکہ اسے علی الاعلان کرتے ہوئے اس پر یہ بھی سمجھیں کہ ہمیں اس پر ثواب بھی مل رہا ہے،تعجب ہے مسلمانوں کی سوچ پر کہ نہ معلوم انہیں کیا ہوگیا ہے کہ العیاذ بااللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کو انہوں نے فرمانبرداری سمجھ کر اس پر فخر کرنا شروع کر دیا ۔اللہ تعالی ہمیں دین کی حقیقی سمجھ عطاء فرمائے آمین ۔


لما فی قولہ تعالی :وَمِنَ النَّاسِ مَن یَّشْتَرِیْ لَھْوَالْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ  عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّخِذَھَا ھُزُوًا اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ  o(لقمان:۶)

وفی جامع الترمذی (۴۴/۲): عن علی بن ابی طالب قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : اذا فعلت امتی خمس عشرۃ خصلۃ حل بھاالبلاء… واتخذت القیان والمعازف۔

وفی ابن ماجۃ (صـ۱۳۷):حدثنا محمد بن یحی …عن مجاھد قال کنت مع ابن عمر فسمع صوت طبل فادخل اصبعیہ فی اذنیہ ثم تنحی حتی فعل ذلک ثلاث مرات ثم قال ھکذا فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

وفی بدائع الصنائع (۵۱۳/۶):…دلت المسئلۃ علی ان مجرد الغناء معصیۃ وکذا الاستماع الیہ  وکذا ضرب القصب والاستماع الیہ  الا تری ان اباحنیفۃ رضی اللہ عنہ سماہ ابتلاء۔

وفی الدرالمختار (۳۴۸/۶): وفی السراج ودلت المسئلۃ ان الملاھی کلھا حرام ویدخل علیھم بلااذنھم لانکار المنکر قال ابن مسعود صوت اللھو والغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء النبات۔


واضح رہے کہ احادیث اور عبارات فقہ سے مزامیر اور ملاہی کی حرمت روز روشن کی طرح معلوم ہے۔ البتہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے کچھ شرائط سے جواز کی طرف میلان کیا ہے۔ اور وہ شرائط ان قوالوں میں معدوم اور مفقود ہیں۔ لہٰذا ان کو جائز سمجھنے والوں پر کفر کا شدید خطرہ موجود ہے۔ یہ لوگ اپنی بدمعاشیوں اور عیاشیوں پر ان بزرگوں کے کلام سے پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن فقہ حنفی نے ان (مستحلی الرقص والغناء) کو کافر کہا ہے ۔ قال ابن عابدین (قولہ ومن یستحل الرقص قالوا بکفرہ)المرادبہ التمائل والخفض والرفع بحرکات موزونۃ کما یفعلہ بعض من ینتسب الی التصوف وقد نقل فی البزازیہ عن القرطبی اجماع الائمۃ علی حرمۃ ھذاالغناء وضرب القضیب والرقص قال ورأیت فتویٰ شیخ الاسلام جلال الملۃ والدین الکر مانی ان مستحل ھذا الرقص کافر وتما مہ فی شرح الوھبانیۃ ونقل فی نور العین عن التمھید انہ فاسق لا کافر ثم قال التحقیق القاطع للنزاع فی امرالرقص والسماع یستدعی تفصیلا ذکرہ فی عوارف المعارف واحیاء العلوم وخلاصتہ ما اجاب بہ العلامۃ النحریر ابن کمال باشا الخ۔(ردالمحتار ہامش الدر المختار ص۳۳۷ جلد ۳ قبیل باب البغاۃ مطلب فی مستحل الرقص)


سماع اور غنیٰ میں فرق : ⏬


سماع کے معنیٰ سننے کے ہیں، عرف میں اس سے مراد گانا سننا ہوتا ہے، اور غناء کے معنیٰ گانے کے ہیں، پس سماع گانا "سننے" اور غناء گانا "گانے" کو کہتے ہیں ۔ قرآن، حدیث یا نعت سننے کو عرف میں سماع نہیں کہتے ۔


علاوہ ازیں موسیقی کی حرمت کے دلائل پر اگر غور کیا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جن وجوہ کی بنأ پر موسیقی سننا حرام ہے‘ وہ تمام کی تمام موسیقی کی کیسٹ میں بھی پائی جاتی ہیں‘ مثلاً: شہوت کا بیدار ہونا اور تلذذکا حاصل ہونا‘ یہ دونوں صورتوں میں پیدا ہوتے ہیں‘ یہ الگ بات ہے کہ اگرموسیقی گانے والوں سے براہ راست سنی جائے تو اس کا منفی اثر زیادہ ہوتا ہے۔ الغرض موسیقی خواہ براہ راست سنی جائے یا اس کی کیسٹ سنی جائے اس سے دل میں نفاق پیدا ہوتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے : الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء الزرع ۔ (شعب الإیمان للبیھقی ،الباب الرابع والثلاثون فی حفظ اللسان، فصل فی حفظ اللسان عن الغناء: ۴؍۲۷۹،رقم الحدیث(۵۱۰۰) ط:دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)


امام احمدرضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ ارشادفرماتے ہیں : مزامیرحرام ہیں ۔ صحیح بخاری شریف کی حدیث صحیح میں حضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قوم کاذکرفرمایا : یستحلون الحر والحریر والمعازف ، زنا اور ریشمی کپڑوں اور باجوں کو حلال سمجھیں گے اور فرمایا : وہ بندر اور سور ہو جائیں گے ۔ ہدایہ وغیرہ کتب معتمدہ میں تصریح ہے کہ مزامیر حرام ہیں ۔ حضرت سلطان الاولیاء محبوب الٰہی نظام الحق والدّین رضی اللہ عنہ فوائد الفواد شریف میں فرماتے ہیں : مزامیر حرام است ، یعنی گانے بجانے کے آلات حرام ہیں ۔ (فتاوی رضویہ جلد 24 ، صفحہ 138 رضافاؤنڈیشن لاهور)


بہار شریعت میں ہے : ناچنا ، تالی بجانا ، ستار ، ایک تارہ ، دو تارہ ، ہارمونیم ، چنگ ، طنبورہ بجانا ، اسی طرح دوسرے قسم کے باجے سب ناجائز ہیں ۔ (بہار شریعت حصہ 16 صفحہ 511 مکتبۃ المدینہ کراچی) ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔





















Tuesday, 1 September 2026

مروجہ قوالی مع مزامیر ، طبلے باجے گانے بجانے والے آلات کا شرعی حکم

مروجہ قوالی مع مزامیر ، طبلے باجے گانے بجانے والے آلات کا شرعی حکم

محترم قارئینِ کرام : الحمد للہ فقیر چشتی ہے اور محفلِ سماع جو شرعی حدود کے اندر مکمل شرائطِ سماع کے ساتھ ہو اسے جائز سمجھتا ہے ۔ یعنی کہ محفل میں مزامیر ، طبلے باجے گانے بجانے والے آلات نہ ہوں ، افراد با وضو ہوں ، توحید و رسالت اور دین کے بارے میں اشعار ہوں ، خواتین اور مرد آپس میں خلط ملط نہ ہوں یعنی کہ ملے ہوئے نہ ہوں ، توجہ الفاظ اور اشعار پر ہو ۔ اگر خلاف شرع کوئی کام نہ ہو تو جائز ہے ۔ مگر آج کل بزگانِ دین کے مزار ات پر ان کے عرس کا نام لے کر خوب موج مستیاں ہو رہی ہیں ۔ بد معاش ، بد کردار لوگ اپنی رنگیلیوں ، باجوں تماشوں ، عورتوں کی چھیڑ چھاڑ کے مزے اٹھانے کےلیے اللہ والوں کے مزاروں کو استعمال کر رہے ہیں ۔ کاش ! یہ لوگ موج مستیاں ، ڈھول باجے ، مزامیر کے ساتھ قوالیاں مزارات سے الگ کرتے اور عرس کا نام نہ لیتے تو کم از کم اسلام اور اسلام کے بزرگانِ دین بدنام نہ ہوتے ۔ آج کفار مشرکین یہ کہنے لگے ہیں کہ اسلام بھی دوسرے مذاہب کی طرح ناچ گانوں ، تماشوں ، باجوں اور بے پردہ عورتوں کو اسٹیجوں پر لا کر بے حیائی کا مظاہرہ کرنے والا مذہب ہے ۔ افسوس انہوں نے غلط سمجھا ۔ اسلام ہرگز ہرگز ایسا دین نہیں ہے اسلام کا حکم تو یہ ہے  کہ ڈھول ، باجے ، سارنگی ، مزامیر وغیرہ آلاتِ موسیقی ، تالیاں ، رقص ، سب حرام ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں : قوالی مع مزامیر چشتیہ سلسلے میں رائج اور جائز ہے ۔ یہ بزرگانِ چشتیہ علیہم الرّحمہ پر صریح بہتان ہے بلکہ ان لوگوں نے بھی مزامیر کے ساتھ قوالی سننے کو حرام فرمایا ہے ۔ حضرت خواجہ محبوب الٰہی نظام  الدین اولیاء دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے خاص خلیفہ حضرت فخر الدین زرادی رحمۃ اللہ علیہ سے مسئلہ سماع کے متعلق ایک رسالہ لکھوایا جس کا نام ہے : کشف  القناع عن اصول السماع ۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ ہمار بزرگوں کا سماع مزامیر کے بہتان سے بری ہیں ۔ (ان کا سماع تو یہ ہے کہ) صرف قوال کی آواز ان اشعار کے ساتھ ہو جو کمال صنعت الہٰی کی خبر دیتے ہیں ۔ (کشف  القناع عن اصول السماع مترجم فارسی صفحہ 19 مطبوعہ دہلی) ۔ قطب الاقتاب حضرت بابا فرید الدین شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور حضرتِ خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ حضرتِ محمد بن مبارک علوی کرمانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب سیر الاولیاء میں تحریر فرماتے ہیں حضرت خواجہ محبوب الٰہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  نےچند شرائط کے ساتھ سماع جائز فرمایا : (1) سنانے والا مرد کامل ہو چھوٹا لڑکا یا عورت نہ ہو ۔ (2) سننے والا یاد خدا سے غافل نہ ہو ۔ (3) جو کلام پڑھا  جائے ، فحش ، بے حیا اور مزاحیہ نہ ہو ۔ (4) آلہ سماع یعنی سارنگی ، مزامیر و رباب سے پاک ہو ، ان باتوں کے ہوتے ہوئے کوئی کہہ سکتا ہے کہ خاندانِ چشتیہ میں مزامیر کے ساتھ قوالی جائز ہے ۔ ہاں یہ بات وہی لوگ کہیں گے جو نہ چشتی ہیں ، نہ قادری انہیں تو مزے داریا ں اور لطف اندوزیاں چاہئیں ۔ اور اب جب  کہ سارے کے سارے قوال بے نمازی اور فاسق و فاجر ہوتے ہیں ، یہاں تک کہ بعض شرابی تک سننے میں آئے ہیں نیز  عورتیں اور امرد لڑکے بھی چل پڑے ہیں ایسے ماحول میں ان قوالیوں کو صرف وہی جائز کہے گا جس کو اسلام و قرآن ، دین و ایمان سے کوئی محبت نہیں ۔ بے حیائی اس کے رگ و پے میں سرایت کر گئ ہے اور قرآن و حدیث کے فرامین کی اسے کوئی پرواہ نہیں ہے کیا اسی کا نام اسلام پسندی ہےکہ مسلمان عورتوں کو لاکھوں کے مجمع میں لا کر ان سے ڈانس کروائے جائیں ، پھر ان تماشوں کا نام عرس رکھا جائے یہ صرف اور صرف کافروں کے سامنے مسلمانوں اور مذہب کو ذلیل  و بدنام کرنے کی سازش ہے  کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قوالی اہل کےلیے جائز  ہے اور نا اہل کےلیے نا جائز ہے ۔ ایسا کہنے والوں سے فقیر چشتی پوچھتا ہے کہ آج کل قوالیوں کے سینکڑوں ، ہزاروں کے مجمع میں کیا سب کے سب اہل اللہ اور اصحابِ استغراق ہیں ، جنہیں دنیا اور متاعِ دنیا کا قطعا ہوش نہیں ؟ جنہیں یادِ الہٰی اور ذکر الہٰی سے ایک لمحے کی بھی فرصت نہیں ؟ خزانے کی نیندوں اور گپوں میں نمازوں کو گنوا دینے والے ، رات دن ننگی فلموں ، گندے گانوں میں مست رہنے والے ، ماں باپ کی نافرمانی کرنے اور ان کو ستانے والے  ، چور چکور ، جھوٹے ، فریبی ، گرہ کاٹ وغیرہ ؛ کیا یہ سب کے سب تھوڑی دیر کےلیے قوالیوں کی مجلس میں شریک ہو کر اللہ والے ہو جاتے ہیں یا پیر صاحب نے اہل کا بہانہ تلاش کر کے اپنی موج مستیوں کا سامان کر رکھا ہے ؟ کہ پیری بھی ہاتھ سے نہ جائے اور دنیا کی موج مستیوں میں بھی کوئی کمی نہ آئے ۔


قطب الاقطاب سیدنا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور سیدنا محبوبِ الٰہی نظام الدین اولیاء دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ سیدنا محمد بن مبارک علوی کرمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت  سلطان المشائخ محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ چند شرائط کے ساتھ سماع حلال ہے : (1) سنانے والا مرد کامل ہو چھوٹا لڑکا نہ ہو اور عورت نہ ہو ۔ (2) سننے والا یاد خدا سے غافل نہ ہو ۔ (3) جو کلام پڑھا جائے فحش ، بے حیائی اور مسخر گی نہ ہو ۔ (4) آلۂ سماع یعنی سارنگی مزامیر و رباب سے پاک ہو ۔ (سیر الاولیاء مترجم باب 9 در سماع  ووجد و رقص صفحہ 656 مشتاق بک کارنر اردو بازار لاہور،چشتی)


ایک شخص نے حضرت محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ ان ایام میں بعض آستانہ دار دُرویشوں نے ایسے مجمع میں جہاں چنگ و رباب و مزامیر تھا رقص کیا تو حضرت نے فرمایا کہ انہوں نے اچھا کام نہیں کیا جو چیز شرع میں ناجائز ہے وہ ناپسندیدہ ہے ، اس کے بعد کسی نے بتایا کہ جب یہ جماعت باہر آئی تو لوگوں نے ان سے پوچھا کہ تم نے یہ کیا کیا وہاں تو مزامیر تھے تم نے سماع کس طرح سنا اور رقص کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح سماع میں مستغرق تھے کہ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوا کہ یہاں مزامیر ہیں یا نہیں ۔ حضرت سلطان المشائخ نے فرمایا یہ کوئی جواب نہیں اس طرح تو ہر گناہ گار ، حرام کار کہہ سکتا ہے ۔ (سیر الاولیاء مترجم باب 9 در سماع  ووجد و رقص صفحہ 690 مشتاق بک کارنر اردو بازار لاہور،چشتی)


حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں ایک شخص آیا اور بتایا کہ فلاں جگہ آپ کے مریدوں نے محفل کی ہے اور وہاں مزامیر بھی تھے حضرت محبوبِ الٰہی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کو پسند نہیں فرمایا ۔ اور فرمایا میں نے منع کیا ہے کہ مزامیر ( باجے)  حرام چیزیں وہاں نہیں ہونا چاہیے ان لوگوں نے جو کچھ کیا اچھا نہیں کیا اس بارے میں کافی ذکر فرماتے رہے ۔ اس کے بعد حضرت نے فرمایا کہ اگر کوئی کسی مقام سے گزرے تو شرع میں کرے گا اور اگر شرع سے گرا تو کہاں گرے گا ۔ (فواٸد الفواد صفحہ 257 ، 258 مطبوعہ الفیصل ناشران اردو بازار لاہور)


صحیح بخاری شریف میں ہے : سمع النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول : لیکونن من أمتی أقوام یستحلون الحر والحریر والخمر والمعازف ۔ ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا : ضرور میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے ، جو آزاد شخص (کی خرید و فروخت) کو ، ریشم کو ، شراب کو اور گانے بجانے کے آلات کو حلال سمجھیں گے ۔ (صحیح البخاری جلد 7 صفحہ 106دارطوق النجاۃ)


و عن نافع  قال : سمع ابن عمر مزمارا قال : فوضع أصبعيه في أذنيه وناء عن الطريق وقال لي : يا نافع هل تسمع شيئا؟ فقلت : لا ، قال:فرفع أصبعيه عن أذنيه و قال : كنت مع النبی صلى الله عليه وسلم فسمع مثل ھذا فصنع مثل ھذا ۔

 ترجمہ : حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ راستے سے گزرے تو  آلات  موسیقی کی آواز آپ کے کانوں میں پڑی ، آپ رضی اللہ عنہ نے کانوں میں انگلیاں ڈال دیں  اور اس راستے سے ہٹ گئے پھر مجھ سےکہا : اے نافع ! کیا تمہیں آواز آرہی ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ، تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں سے ہٹائیں اور کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  اسی طرح کی آواز سنی تو اسی  طرح کا عمل کیا ۔ (سنن ابی داؤد جلد 4 صفحہ 281 مطبوعہ بیروت)


قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ان فی امتی خسفاً و مسخاً و قذفاً۔ قالوا: یا رسول اللہ وھم یشھدون أن لا الہ الا اللہ ؟ فقال : نعم ، اذا ظھرت المعازف والخمور ولبس الحریر ۔

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت میں خسف (زمین میں دھنسا دینا) مسخ (شکلیں بگڑ جانا) اور قذف (پتھروں کی بارش) (بھی) ہوگا ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ درآنحالیکہ وہ اس کی گواہی دیتے ہوں گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ؟ تو فرمایا : ہاں ، جب ان میں آلاتِ موسیقی ، شراب نوشی اور ریشم کا استعمال عام ہو جائے گا ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ جلد 7 صفحہ 501 مطبوعہ ریاض)


مروجہ قوالی جو مزامیر (آلاتِ موسیقی) کے ساتھ ہوتی ہے ، اس کا پڑھنا سننا ، ناجائز و حرام ہے ۔ لہٰذا ایسی قوالی کو گھروں اور مزارات وغیرہ سے مکمل طور پر ختم کرنا واجب ہے ۔ توایسی قوالی کا گھر یا باہر کہیں بھی اہتمام کرنا ، جائز نہیں ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے : وعن ابی عامر أو ابی مالک الأشعری قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : لیکونن من أمتی أقوام یستحلون الخزوالحریر والخمر والمعازف ، حضرت ابو عامر سے یا ابو مالک اشعری سے روایت ہے  فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے  سنا کہ میری امت میں وہ قومیں ہوں گی جو موٹے پتلے ریشم اور شراب ، باجوں کو حلال سمجھ لیں گی ۔ (صحیح بخاری کتاب الأشربۃ حدیث نمبر 5590 صفحہ  1024 مکتبہ العصریہ بیروت،چشتی)


اس حدیث پاک  کے تحت مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں : یعنی میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو ان محرمات کو حلال ہی جان لیں گے ، یا حلال کی طرح بے دھڑک استعمال کریں گے ، یا ان چیزوں کی حلت کےلیے تاویلیں کریں گے مثلًا کہیں گے کہ ریشم اگر جسم سے متصل ہو تو حرام ہے ورنہ نہیں ، ہم نے کرتا سوتی پہنا ہے اوپر سے اچکن ریشمی ہے ، یا کہیں گے کہ باجے وغیرہ قوالی میں حلال ہیں مجازی عشق کےلیے باجے حرام ہیں ہم تو اللہ رسول کے عشق کےلیے سنتے ہیں وغیرہ ۔ (مرآۃ المناجیح جلد 7 صفحہ  123 مطبوعہ قادری پبلشرز لاہور)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا : ظهرت القينات والمعازف ، یعنی قیامت کے قریب ناچنے گانے والیوں اور باجے تاشوں کی کثرت ہو جائےگی ۔ (جامع ترمذی ، مشکوٰۃ باب اشراط الساعۃ صفحہ 470)


فتاویٰ عالمگیری میں ہے : السماع والقول والرقص الذى يفعله التصوفة فى زماننا حرام لا يجوز القصد اليه والجلوس عليه ۔

ترجمہ : سماع ، قوّالی ، رقص ( ناچ)  جو آجکل کے نام نہاد صوفیوں میں رائج ہے یہ حرام ہے ـ اس میں شرکت جائز نہیں ـ (فتاویٰ عالمگیری جلد 5 کتاب الکراہیۃ صفحہ 325)


فقیہ اعظم حضرت مفتی نوراللہ نعیمی قادری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : مزامیر ، گانے باجے بجانے والوں کا ظہور خطرنا اور عذاب الہی کا سبب ہے ۔ اب ترقی پر ہیں ، گانے والی عورتوں اور مزامیر کا ظہور بھی زوروں پر ہے ان چیزوں پر ہونے والے عذاب کا سخت ترین خطرہ ہے ۔ (فتاوی نوریہ جلد 5 ، 6 صفحہ 235 تا 237 مطبوعہ بصیر پور اوکاڑہ،چشتی)


مزامیر ، ساز ، ڈھول ، طبلہ آلاتِ لہو کا استعمال حرام ہے تو ان کے ساتھ قوالی بھی حرام ہوگی ، مروجہ قوالی جو مزامیر کے ساتھ ہوتی ہے  نہ شریعت میں جائز ہے ، نہ مشائخِ  چشت سے ثابت ہے ۔ (فتاوی بحر العلوم جلد 5 صفحہ 582 ، 583 شبیر برادرز لاہور،چشتی)


ناچا ٹاپا گروپ کو حضرت مجدد الف ثانی رحمۃُ اللہ علیہ کی طرف سے جواب : ⏬


امام ربانی حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندی مجدد الف ثانی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : نفس قرآں خواندن بصوتِ حسن و در قصائد نعت و منقبت خواندن چہ مضائقہ است؟ ممنوع تحریف و تغییر حروفِ قرآن است ، والتزام رعایۃ مقامات نغمہ و تردید صوت بآں، بہ طریق الحان با تصفیق مناسب آن کہ در شعر نیز غیر مباح است ۔ اگر بہ نہجے خوانند کہ تحریفِ کلمات قرآنی نشود ۔ چہ مانع است ؟

ترجمہ : مجلس میلاد شریف میں اگر اچھی آواز کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کی جائے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت شریف اور صحابہ کرام و اہل بیت عظام و اولیائے اعلام رضی اللہ عنہم اجمعین کی منقبت کے قصیدے پڑھے جائیں تو اس میں کیا حرج ہے ؟ ناجائز بات تو یہ ہے کہ قرآن عظیم کے حروف میں تغیر و تحریف کر دی جائے ۔ اور قصیدے پڑھنے میں راگنی اور موسیقی کے قواعد کی رعایت و پابندی کی جائے اور تالیاں بجائی جائیں ۔ جس مجلس میلاد مبارک میں یہ ناجائز باتیں نہ ہوں اس کے ناجائز ہونے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟ ہاں جب تک راگنی اور تال سُر کے ساتھ گانے اور تالیاں بجانے کا دروازہ بالکل بند نہ کیا جائے گا ابو الہوس لوگ باز نہ آئیں گے ۔ اگر ان نامشروع باتوں کی ذرا سی بھی اجازت دے دی جائے گی تو اس کا نتیجہ بہت ہی خراب نکلے گا ۔ (مکتوبات ربانی دفتر سوم صفحہ 116 مکتوب نمبر 72 مطبوعہ مطبع منشی نولکشور کانپور انڈیا،چشتی)(مکتوبات ربانی دفتر سوم صفحہ 425 ، 426 مکتوب نمبر 72 مطبوعہ ضیاء القرآن)(مکتوبات امام ربّانی جلد دوم سوم صفحہ 489 مطبوعہ اسلامی کتبخانہ اردو بازار لاہور)


غزالی زماں علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : میں نے جن حضرات کےلیے سماع کو جائز لکھا وہ وہی ہیں جو اس کے اہل ہیں ۔ اور وہ غناء لہو و لعب اور حقیقی معصیت سے پاک ہو ۔ پس عوام الناس کےلیے میں سماع کو ہرگز جائز نہیں کہتا ۔ (مزیلة النزاع الموسومہ اثبات السماع صفحہ 47 ناشر مرکزی انجمن غلامان نظام ملتان،چشتی)


آلات موسیقی کے ساتھ سماع میں فقہاء احناف کا نظریہ : ⏬


صحیح البخاری حدیث نمبر ٥٥٩٠ کی شرح میں علامہ بدرالدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : امام سعید بن منصور رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آخر زمانہ میں میری امت کو مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنادیا جائے گا ‘ مسلمانوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ گواہی دیتے ہوں گے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اور وہ نماز پڑھتے ہوں گے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اور وہ نماز پڑھتے ہوں گے ‘ روزے رکھتے ہوں گے اور حج کرتے ہوں گے۔ مسمانوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس کا کیا سبب ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : وہ آلات موسیقی اور گانے بجانے والیوں میں مشغول ہوں گے ‘ اور وہ ان شرابوں کو پئیں گے وہ اس لھو میں اور شراب نوشی میں رات گزاریں گے اور جب وہ صبح اٹھیں گے تو مسخ ہو کر بندر اور خنزیر ہوچکے ہوں گے ۔ امام ترمذی نے اس مضمون کی حدیث روایت کی ہے ( سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢١٢) اور حکیم ترمذی نے نو اور الاصول میں روایت کیا ہے حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں گھبراہٹ ہوگی لوگ اپنے علماء کی طرف جائیں گے تو وہ بندر اور خنزیر ہوچکے ہوں گے۔ (عمدۃ القاری ج ٢١ ص ٢٦٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)


امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ صحیح البخاری : ٩٤٩ کی شرح میں لکھتے ہیں : الغنا ( گانے بجانے) کی تحریم میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ یہ اس لہو و لعب سے ہے جو بالاتفاق مذموم ہے ‘ اور رہا وہ غنا جو محرمات سے الی ہو تو اس کی قلیل مقدار ‘ عید ‘ شادی اور خوشی تقاریب میں جائز ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ حرام ہے ‘ اور اہل عراق کا بھی یہی قول ہے ‘ امام شافعی کے مذہب میں یہ مکروہ ہے ‘ امام مالک کا مشہور مذہب بھی یہی ہے ‘ صوفیاء کی ایک جماعت نے عید کے دن لڑکیوں کے دف بجانے کی حدیث سے غنا کے مباح ہونے پر استدلال کیا ہے خواہ وہ آلات موسیقی کے ساتھ ہو یا اس کے بغیر ہو ‘ اور ان یہ استدلال مردود ہے کیونکہ ان لڑکیوں کا یہ غنا صرف جنگ اور بہادری کی نظم سے متعلق تھا ‘ اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی اجازت دی ‘ لیکن جو غنا معروف اور مشہور ہے وہ بےریش لڑکوں اور عورتوں کے محاسن پر مشتمل ہوتا ہے اور دیگر حرام چیزوں کا بیان ہوتا ہے ‘ جو پر سکون آدمی کے دل میں شہوت کا جوش اور ہیجان پیدا کر دیتا ہے اس کے حرام ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے ‘ اور صوفیاء نے اس کی جو بدعت نکالی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور جب تم ان کے اقوال اور افعال کو دیکھو گے تو اس میں زندیقی کے آثار پائو گے اور اللہ تعالیٰ سے ہی مدد طلب کی گئی ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٦ ص ٣٩٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ،چشتی)


آلات موسیقی کے ساتھ سماع میں فقہاء شافعیہ کا نظریہ : ⏬


امام یحییٰ بن شرف نواوی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٢٧٦ ھ صحیح مسلم : ٨٩٢ کی شرح میں لکھتے ہیں : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ لڑکیاں پیشہ ور گانے والیاں نہیں تھیں ‘ یعنی گانا بجانا ان کی عادت نہیں تھی اور نہ وہ اس میں مشہور تھیں ‘ اور غنا میں علماء کا اختلاف ہے ‘ اہل حجاز کی ایک جماعت نے اس کو مباح کہا ہے اور یہ امام مالک سے ایک روایت ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ اور اہل عراق نے اس کو حرام کہا ہے ‘ امام شافعی کا مذہب اس کی کراہت ہے ‘ امام مالک کا مشہور مذہب بھی یہی ہے ۔ پیشہ ور گانے والیاں وہ ہوتی ہیں جو اپنے گانے سے عورتوں کا شوق اور ان کی محبت پیدا کرتی ہیں اور بےحیائی کی طرف اپنے کلام میں تعریض اور اشارے کرتی ہیں اور پرسکون دلوں میں حسین عورتوں کی طلب کے جذبات کی آگ بھڑکاتی ہیں اسی لیے کہا گیا ہے کہ غنا میں زنا ہے ۔ (صحیح مسلم بشرح النواوی ج ٤ ص ٥٠٦‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ)


حافظ شہاب الدین علی بن حجر عسقلانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں : آلات موسیقی کے متعلق ایک قوم نے لکھا ہے کہ ان کی تحریم پر اجماع ہے اور بعض علماء نے اس کے برعکس لکھا ہے ‘ ہم کتاب الاشربہ میں حدیث معازف کی تشریح میں اس پر مفصل لکھیں گے ‘ اور فریقین کے شبہات کا ذکر کریں گے۔ (فتح الباری ج ٣ ص ١١٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ) ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الاشربہ میں حدیث معازف کی شرح میں آلات موسیقی کی تحریم کی جس بحث کا وعدہ کیا ہے اس کا ذکر کرنا وہ بھول گئے ۔


آلات موسیقی کے ساتھ سماع میں فقہاء مالکیہ کا نظریہ : ⏬


علامہ ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی المالکی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی ٦٥٦ ھ لکھتے ہیں : صوفیہ نے آلات موسیقی کے ساتھ سماع کی جو بدعت رائج کی ہوئی ہے ‘ اس کی تحریم میں اختلاف کی گنجائش نہیں ہے ‘ لیکن جو لوگ نیکی کی طرف منسوب ہیں ان میں سے اکثر کے اوپر نفوس شہوانیہ اور اغراض شیطانیہ غالب ہوچکی ہیں اور اس کا ذکر ان میں اس قدر مسہور ہوچکا ہے کہ وہ اس کی تحریم اور اس کے فحش سے اندھے ہوچکے ہیں اور ان میں سے بہت لوگوں سے بےحیائوں ‘ ہیجڑوں اور بچوں کی قبیح حرکات صادر ہوتی ہیں ‘ اور وہ موزون اور منضبط حرکات کے ساتھ رقص کرتے ہیں اور ناچتے ہیں جس طرح جاہل اور بےحیاء کرتے ہیں ‘ اور ان کی بےحیائی یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وہ کہتے ہیں یہ کام عبادات اور نیک اعمال سے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آلات موسیقی کے سماع سے دلوں کا زنگ دور ہوجاتا ہے ‘ اور تحقیق یہ ہے کہ یہ زندقی کے آثار ہیں اور اہل باطل کے اقوال ہیں ‘ ہم بدعتوں سے اور فتنوں سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں اور اللہ سے توبہ کا اور سنت پر عمل کرنے کا سوال کرتے ہیں۔ (المفھم جلد ٢ صفحہ ٥٣٤ مطبوعہ دارابن کثیر بیروت ١٤١٧ ھ)


آلات موسیقی کے ساتھ سماع میں فقہاء حنبلیہ کا نظریہ : ⏬


امام ابوالفرج عبدالرحمن بن الجوزی الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : ایک قوم کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ سماع اللہ عزوجل کی عبادت ہے ‘ جنید سے منقول ہے کہ ان صوفیاء پر تین وقتوں میں رحمت نازل ہوتی ہے کھانے کے وقت کیونکہ یہ فاقہ کے بعد کھاتے ہیں ‘ اور مذاکرہ کے وقت کیونکہ یہ صدیقین کے مقامات اور انبیاء کے احوال سے متجاوز ہوتے ہیں اور سماع کے وقت کیونکہ یہ وجد کے ساتھ سنتے ہیں اور حق کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔ امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر جنید سے یہ روایت صحیح ہے تو اس سماع سے ان اشعار کا سماع مراد ہے جو دلوں کو نرم کرتے ہیں اور آخرت کی یاد دلاتے ہیں ‘ ابن عقیل نے کہا ہم نے ان صوفیاء سے سنا ہے کہ جب کوئی سار بان اونٹ کو ہنکاتے وقت گانا گاتا ہے اس وقت دعا کی جائے تو مستجاب ہوتی ہے : کیونکہ ان کا اعتقاد ہے کہ گانے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوتا ہے ‘ ابن عقیل نے کہا یہ کفر ہے کیونکہ جو شخص حرام یا مکروہ کو عبادت اعتقاد کرے وہ اس اعتقاد سے کافر ہوجائے گا ۔ (تلسبیس ابلیس ص ٢٥٢ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)


امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : جب یہ صوفیا غناء کو سنتے ہیں تو وجد کرتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں اور چیختے ہیں اور کپڑے پھاڑ ڈالتے ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ کتنے ہی عابد جب قرآن مجید کو سنتے ہیں تو بعض مرجاتے ہیں ‘ بعض بےہوش ہوجاتے ہیں اور بعض چیختے اور چلاتے ہیں ‘ اور اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جھوٹ ہے ‘ حضرات صحابہ سے اس کی مثل نہیں سنی گئی ۔ سب سے صاف دل صحابہ کرام کے تھے اور جب ان کو وجد آتا تو وہ صرف روتے تھے اور خدا سے ڈرتے تھے ‘ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وعظ کیا تو ایک شخص بےہوش ہوگیا۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ہم پر دین میں کون تلبیس کررہا ہے اگر یہ سچا ہے تو یہ اپنی شہرت کررہا ہے اور اگر جھوٹا ہے تو اللہ اس کو مٹادے گا۔ (تلبیس ابلیس ص ٢٥٤۔ ٢٥٣ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ،چشتی)


نیز امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : جب صوفیاء پر رقص کے حال میں طرب طاری ہوتا ہے تو یہ ناچتے ناچتے کسی شخص کو مجلس سے اٹھا لیتے ہیں تاکہ وہ بھی کھڑا ہوجائے ، اور ان کے مذہب میں یہ جائز نہیں ہے کہ جو شخص جذب سے ناچ رہا ہو تو اہل مجلس بیٹھے رہیں جب وہ کھڑا ہو تو باقی لوگ بھی کھڑے ہوجاتے ہیں اور جب کوئی شخص سرننگا کرے تو باقی لوگ بھی سرننگا کرلیتے ہیں ، حالانکہ سرننگا کرنا قبیح ہے اور خلاف ادب ہے اور صرف حالت حرام میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اظہارِ ذلت کےلیے سر ننگا کرلیتے ہیں ، حالانکہ سرننگا کرنا قبیح ہے اور خلاف ادب ہے اور صرف حالت احرام میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اظہار ذلت کے لیے سرننگا کیا جاتا ہے۔ (تلبیس ابلیس صفحہ ٢٦١ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٨ ھ)


امام موفق الدین عبد اللہ بن احمد بن قدامہ جنبلی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : آلات موسیقی تین قسم کے ہیں : ستار ، بانسری اور منہ سے بجائے جانے والے تمام قسم کے باجے ، سارنگی ، طنبور اور ہاتھ سے بجائے جانے والے تمام قسم کے باجے ، ان کا بجانا حرام ہے اور جو شخص عادتاً ان باجوں کو سنے اس کی شہادت مردود ہے ، اور دوسری قسم دف ہے ، خوشی کے مواقع پر عورتوں کا دف بجانا جائز ہے ۔ اور مردوں کےلیے دف بجانا ہرحال میں مکروہ ہے ۔ کیونکہ عورتیں اور مخنث دف جاتے ہیں اور مردوں کے دف بجانے میں عورتوں کی مشابہت ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کی مثابہت کرتے ہیں ، تیسری قسم چھڑی بجانا ہے یہ اس وقت مکروہ ہے جب اس کے ساتھ کوئی حرام یا مکروہ چیز ہو جیسے تالی بجانا ، گانا یا ناچنا ۔ (المغنی جلد ١٠ صفحہ ١٧٤ ۔ ١٧٣ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤٠٦ ھ)


اس کے علاوہ لہو ولعب کے طور پر ایسے گانے بجانے جس میں بیہودہ باتیں ، خلاف شریعت الفاظ اورشہوت انگیز جملے ہوں اس کے ناجائز ہونے میں کوئی شک ہی نہیں ۔ مسلمانوں کو اپنے رب سے ڈرنا چاہیے اور ان تمام تر خرافات سے انتہائی دور رہنا چاہیے ۔ آج کل کچھ لوگ نہایت شوق سے موسیقی کے ساتھ قوالی سنتے ہیں اور اسے سلسلہ چشتیہ کے بزرگوں کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ یہ نفس کا دھوکا ہے ۔ دف کے علاوہ ہاتھ اور منہ سے بجائے جانے والے آلات کی حرمت پر سب کا اتفاق ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر شدید عذاب کی وعید سنائی جیسا کہ اوپر مکمل حوالہ کے ساتھ گزرا ۔ اور بزرگوں کی طرف اسے منسوب کرنا صاف جھوٹ اور ان پر غلط الزام ہے ۔ ان بزرگوں کی کتابوں میں صاف صاف اسے حرام و ناجائز بتایا گیا ہے ۔ تفصیل کےلیے حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے مرید خاص اور محبوب الہی سیدنا نظام الدین علیہ الرحمہ کے خلیفہ محمد بن مبارک بن محمد علوی کرمانی کی کتاب مستطاب سیر الاولیاء باب نہم در بیان وجد وسماع کا مطا لعہ کرے ۔ ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ ان سب خرافات سے الگ ہو کر اللہ عزوجل کی شان میں حمد کے کلمات اور نبی دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت مبارکہ اور بزرگان دین کی شان میں منقبت کے اشعار اس کے علاوہ درست اور موافقِ شریعت اشعار ترنم کے ساتھ پڑھنا اور سننا بلا شبہ جائز ہے ۔


ضروری نوٹ : آج کل نعت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گانوں کی طرز پر اور آلات موسیقی پر پڑھا جا رہا ہے جو کہ توہین نعت بھی ہے اور توہین فرامین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی جس بات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مٹانے آئے تھے اسی کو آج کل کے پیشہ ور لوگ نعت کے نام پر آگے بڑھا رھے ہیں اہل اسلام اس کا مکمل بائیکاٹ کریں اور علماء اسلام اس کے خلاف بھر پور آواز اٹھائیں اور حکم شرعی واضح طور پر لکھیں اللہ تعالیٰ ان ناچ گانے کی طرز پر نعتِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرنے والوں سے ہمیں بچائے آمین ۔

    

قطب الاقطاب سیدنا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور سیدنا محبوبِ الٰہی نظام الدین اولیاء دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ سیدنا محمد بن مبارک علوی کرمانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور زمانہ کتاب سیر الاولیاء میں  فرماتے ہیں : حضرت  سلطان المشائخ قدس سرّہ فرمود کہ چندیں چیز می باید کہ سماع مباح شود مسمع مستمع ، مسموع وآلہ سماع مسمع یعنی گویندہ مرد تمام باشد کودک نہ باشد وعورت نہ باشد و مستمع آنکہ می شنود واز  یاد حق خالی نہ باشد ۔ ومسموع آنکہ گویند فحش ومسخرگی نباشد ۔ وآلہ سماع مزامیر است چوں چنگ ورباب ومثلِ آں می باید کہ درمیان نہ باشد ایں چنیں سماع حلال است ، یعنی محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ چند شرائط کے ساتھ سماع حلال ہے : (1) سنانے والا مرد کامل ہو چھوٹا لڑکا نہ ہو اور عورت نہ ہو ۔ (2) سننے والا یاد خدا سے غافل نہ ہو ۔ (3) جو کلام پڑھا جائے فحش، بے حیائی اور مسخر گی نہ ہو ۔ (4) آلۂ سماع یعنی سارنگی مزامیر و رباب سے پاک ہو ۔ (سیر الاولیاء باب 9 در سماع  ووجد و رقص صفحہ 501،چشتی)


ایک شخص نے حضرت محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ ان ایام میں بعض آستانہ دار دُرویشوں نے ایسے مجمع میں جہاں چنگ و رباب و مزامیر تھا رقص کیا تو حضرت نے فرمایا کہ انہوں نے اچھا کام نہیں کیا جو چیز شرع میں ناجائز ہے وہ ناپسندیدہ ہے ، اس کے بعد کسی نے بتایا کہ جب یہ جماعت باہر آئی تو لوگوں نے ان سے پوچھا کہ تم نے یہ کیا کیا وہاں تو مزامیر تھے تم نے سماع کس طرح سنا اور رقص کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح سماع میں مستغرق تھے کہ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوا کہ یہاں مزامیر ہیں یا نہیں ۔ حضرت سلطان المشائخ نے فرمایا یہ کوئی جواب نہیں اس طرح تو ہر گناہ گار، حرام کار کہہ سکتا ہے ۔ (سیر الاولیاء باب 9 صفحہ 530)


حضرت سیدنا محبوبِ الٰہی نظام االدین علیہ الرحمۃ والرضوان کے ملفوظات پر مشتمل انہیں کے مرید وخلیفہ حضرت خواجہ امیر حسن علائی سنجری رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف فوائد الفوائد شریف میں ہے : دریں میاں شخصی بیامد وحکایت جماعتی تقریر کردہ کہ ہم اکنوں در فلاں موضع یارانِ شما جمعیتی کردند ومزامیر درمیاں بود خوجہ ذکراللہ بالخیر ایں معنیٰ ناپسندید فرمود کہ من منع کردہ ام کہ مزامیر ومحرمات درمیاں نہ باشد ہرچہ کردہ اند نیکو نہ کردہ اند دریں باب بسیار غلومی فرمود ۔

ترجمہ : حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں ایک شخص آیا اور بتایا کہ فلاں جگہ آپ کے مریدوں نے محفل کی ہے اور وہاں مزامیر بھی تھے حضرت محبوبِ الٰہی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات کو پسند نہیں فرمایا ــ اور فرمایا میں نے منع کیا ہے کہ مزامیر ( باجے)  حرام چیزیں وہاں نہیں ہونا چاہیے ان لوگوں نے جو کچھ کیا اچھا نہیں کیا اس بارے میں کافی ذکر فرماتے رہے ۔ اس کے بعد حضرت نے فرمایا کہ اگر کوئی کسی مقام سے گزرے تو شرع میں کرے گا اور اگر شرع سے گرا تو کہاں گرے گا ۔ (فوائد الفوائد جلد 3 مجلس پنجم مطبوعہ اردو اکاڈمی دہلی صفحہ 512 ترجمہ خواجہ حسن نظامی،چشتی)


مسلمانو ! ذرا دل میں ہاتھ رکھ کر سوچو کہ ایک طرف تو حضرت خواجہ نظام الدین دہلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتویٰ ہے جو اوپر درج ہے اِن اقوال کے ہوتے ہوئے کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ خاندانِ چشتیہ میں مزامیر کے ساتھ  قوالی جائز ہے ـ ہاں یہ بات وہی لوگ کہیں گے جو نہ چشتی ہیں نہ قادری انہیں تو مزےداریاں اور لطف اندوزیاں چاہیے ۔ اور اب جبکہ تقریبًا سارے قوال بے نمازی اور فاسق وفاجر ہیں ۔ یہاں تک کہ بعض شرابی تک سننے میں آئے ہیں ۔ یہاں تک کہ عورتیں اور اَمْرَدْ لڑکے بھی چل پڑے ہیں ایسے ماحول میں ان قوالیوں کو صرف وہی جائز کہے گا جس کو اسلام و قرآن ، دین وایمان سے کوئی محبت نہ ہو اور حرام کاری ، بے حیائی ، بدکاری اس کے رگ وپے میں سرایت کر گئی ہو ۔ اور قرآن وحدیث کے فرامین کی اسے کوئی پرواہ نہ ہو ۔ کیا اسی کا نام اسلام پسندی ہے کہ مسلمان عورتوں کو لاکھوں کے مجمع میں لاکر ان کے گانے بجانے کرائے جائیں پھر ان تماشوں کا نام عرسِ بزرگانِ دین رکھا جائے ۔ کافروں کے سامنے مسلمانوں اور مذہب اسلام کو بدنام کیا جائے ؟


کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قوالی اہل کےلیے جائز اور نا اہل کےلیے ناجائز ہے  ایسا کہنے والوں سے ہم پوچھتے ہیں کہ آج کل جو قوالیوں کی مجالس میں لاکھوں لاکھ کے مجمع ہوتے ہیں کیا یہ سب اہل اللہ اور اصحاب استغراق ہیں ؟ ۔ جنہیں متاعِ دنیا کا قطعًا ہوش نہیں ؟ ۔ جنہیں یادِ خدا ذکر الٰہی سے  ایک آن فرصت نہیں ؟


خرّاٹے کی نیندوں اور گپّوں شپّوں میں نمازوں کو گنوا دینے والے ، رات دن ننگی فلموں ، گندے گانوں میں مست رہنے والے ، ماں باپ کی نافرمانی کرنے اور ان کو ستانے والے، چور ،  ڈکیت ، جھوٹے فریبی ، گرہ کاٹ وغیرہ کیا  سب کے سب تھوڑی دیر کےلیے قوالیوں کی مجلس میں شریک ہوکر اللہ والے ہو جاتے ہیں ؟ اور خدا کی یاد میں محو ہو جاتے ہیں ؟ ۔ یا پیر صاحب نے اہل کا بہانہ تلاش کر کے اپنی موج و مستیوں کا سامان کر رکھا ہے ؟ ۔ کہ پیری بھی ہاتھ سے نہ جائے اور دنیا کی موج مستیوں میں بھی کوئی کمی نہ آئے ۔ یاد رکھو قبر کی اندھیری کوٹھری میں کوئی حیلہ وبہانہ نہ چلےگا ۔


بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ مزامیر کے ساتھ  قوالی ناجائز ہوتی تو درگاہوں اور خانقاہوں میں کیوں ہوتی ؟ ۔ کاش یہ لوگ جانتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث اور بزرگانِ دین کے مقابلے میں آجکل کے فُسّاق داڑھی منڈانے والے ، نمازوں کو قصدًا چھوڑنے والے ، بعض خانقاہیوں کا عمل پیش کرنا دین سے دوری اور سخت نادانی ہے جو احادیث ہم نے اوپر لکھیں اور بزرگانِ دین کے اقوال نقل کئے ان کے مقابل نہ کسی کا قول معتبر ہوگا نہ عمل ۔ آج کل خانقاہوں میں کسی کام کا ہونا اس کے جائز ہونے کی دلیل نہیں ۔


آخر میں ایک بات یہ بھی بتادینا ضروری ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ : جو کوئی خلافِ شرع کام کی بنیاد ڈالتا ہے تو اس پر اپنا اور سارے کرنے والوں کا گناہ ہوتا ہے ۔  لہٰذا جو مزامیر کے ساتھ قوالیاں کراتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کا موقع دیتے ہیں ان پر اپنا، قوالوں ، اور لاکھوں تماشئیوں کا گناہ ہے اور مرتے ہی انہیں اپنے انجام دیکھنے کو مل جائے گا ۔


سماع کی شرائط : ⏬


سیدی مولانا محمد بن مبارک بن محمد علوی کرمانی مرید حضور پرنورشیخ فرید الحق والدین گنج شکر و حضور سیدنا محبوب الٰہی رحمہم اللہ علیہم کتاب مستطاب سید الاولیاء میں فرماتے ہیں : حضرت سلطان المشائخ قدس اللہ تعالیٰ سرہ العزیز فرماتے تھے کہ چند شرائط ہوں تو سماع مباح ہو گا ، کچھ شرطیں سنانے والے میں کچھ سننے والے میں ، کچھ اس کلام میں جو سنائی جائے ، کچھ آلہ سماع میں یعنی : ⏬


(1) سنانے والا کامل مرد ہو

(2) چھوٹا لڑکا نہ ہو

(3) عورت نہ ہو

(4) سننے والا یاد خدا سے غافل نہ ہو

(5) جو کلام پڑھی جائے فحش نہ ہو

(6) تمسخرانہ انداز کی نہ ہو

(7) آلات سمع یعنی مز امیر جیسے سارنگی اور باب وغیرہ .... چاہیے کہ ان چیزوں سے کوئی موجود نہ اس طرح کا سماع حلال ہو گا ۔

مسلمانو ! یہ فتویٰ ہے مرور سردار سلسلہ عالیہ چشت حضرت سلطان اولیاء رحمة اللہ علیہ کا ، کیا اس کےبعد بھی مفتریوں کو منہ دکھانے کی گنجائش ہے ؟


اسی سید الاولیاء شریف میں ہے ۔ ترجمہ فارسی : ایک آدمی نے حضرت شیخ المشائخ کی خدمت میں عرض کی کہ ان ایام میں بعض آستانہ دار درویشوں نے ایسے مجمع میں جہاں چنگ و رباب اور دیگر مزامیر تھے ، رقص کیا ( دھمال ڈالا) فرمایا انہوں نےاچھا کام نہیں کیا جو چیز شرع میں ناجائز ہے ، ناپسندیدہ ہے ، اس کے بعد ایک نے کہا : جب یہ جماعت اس مقام سے باہر آئی ،لوگوں نے ان سے کہا کہ تم نے یہ کیا کیا وہاں تو مزامیر (آلات موسیقی) تھے ، تم نے سماع کس طرح سنا اوررقص کیا ( دھمال ڈالا) انہوں نے جواب دیا ہم اس طرح سماع میں مستغرق تھے کہ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوا کہ یہاں مزامیر ہیں یا نہیں ، سلطان المشائخ نےفرمایا : یہ جواب کچھ نہیں ، اس طرح تو تمام گناہوں کے متعلق کہہ سکتے ہیں ۔


مسلمانوں کیسا صاف ارشاد ہے کہ مزامیر (آلات موسیقی) ناجائز ہیں اور اس کاعذر کا کہ ہیمں استغراق کے باعث مزامیر کی خبر نہ ہوئی ، کیا مسکت جواب عطاء فرمایا کہ ایسا حیلہ ہرگناہ میں چل سکتا ہے شراب پینے اور کہ دے کہ شدت استغراق کے باعث ہمیں خبر نہ ہوئی کہ شراب ہے یاپانی ، زنا کرے اور کہ دے کہ غلبہ حال کے سبب ہمیں تمیز نہ ہوئی کہ جورو ہے یا بیگانہ ۔ اس میں ہے ۔


اسی سید الاولیاء شریف میں ہے ۔ ترجمہ فارسی : حضرت شیخ المشائخ نے فرمایا میں نے منع کر رکھا ہے کہ مزامیر اور دیگر محرمات درمیان میں نہ ہوں اور اس بات میں آپ نے بہت مبالغہ کیا ، یہاں تک فرمایا کہ اگر امام نماز میں بھول جائے مرد تو سبحان اللہ کہہ کر امام کو مطلع کرے اور عورت سبحان اللہ نہ کہے کیونکہ اس کو اپنی آواز سنانا نہ چاہیے پس ایک ہاتھ کی ہتھیلی دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر نہ مارے کہ اس طرح یہ کھیل ہو گا بلکہ ہاتھ کی پشت دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر مارے جب یہ یہاں تک لہو و لعب کی چیزوں اور ان جیسی چیزوں سے پرہیز آئی ہے تو سماع بطریق اولیٰ منع ہیں ۔ مسلمانو! جو ائمہ طریقت علیہم الرّحمہ اس درجہ احتیاط فرمائیں کہ تالی کی صورت کو ممنوع بتائیں وہ اور معاذاللہ مزامیر کی تہمت ، للہ انصاف ! کیسا ضبط بے ربط ہے ، اللہ تعالیٰ اتباع شیطان سے بچائے اور ان سچے محبوبان خدا کا سچا اتباع عطاء فرمائے آمین ۔ مروجہ قوالی مع مزامیر کے بارے میں  امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ فرما تے ہیں : مزامیر جائز نہیں حضور سیدناسلطان المشائخ نظام الحق والدین سردار سلسلہ عالیہ  چشتیہ نظامیہ فوائدالفوائد شریف میں ارشاد فرما تے ہیں ۔ مزامیر حرام است یعنی مزامیر حرام ہے ۔ ( فتاوی رضویہ  جلد نمبر ۲۱ صفحہ نمبر ۱۱۶ مترجم جدید،چشتی)


امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ احکام شریعت صفحہ 176 میں ایک مسئلہ لکھا ہے جس کا عنوان ہے مزامیر کیساتھ قوالی ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : خالی قوالی جائز ہے اور مزامیر حرام زیادہ غلو اب منتسبان سلسلہ چشتیہ کو ہےحضرت سلطان المشائخ محبوب الہی رضی اللہ تعالی عنہ (مراد حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ ہیں) فوائد الفواد شریف میں فر ماتے ہیں مزامیر حرام است ( باجے ساز گانے کے آلات) حضرت یحیی منیری رحمۃ اللہ علیہ نے مزامیر کو زنا کیساتھ شمار کیا ہے ۔ (احکام شریعت کےصفحہ نمبر 81 پر کافی تفصیلی گفتگو کی ہے)


فتاوی رضویہ میں امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا : زیدکہتا ہے کہ قوالی مع آلات مزامیر کے جائزہے ۔۔۔ اور کہتا ہے کہ مزامیر اُن باجوں کو کہتے ہیں ، جو منہ سے بجائے جاتے ہیں ۔  ڈھلک ، ستار ، طبلہ ، مجیرے ، ہارمونیم ، سارنگی مزامیر میں داخل نہیں بلکہ ان کا اوردف کاایک حکم ہے ۔ (اس کے جواب میں امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ نے فرمایا : زیدکاقول باطل و مردود ہے ، حدیث صحیح بخاری شریف میں مزامیر کا لفظ نہیں بلکہ معازف کہ سب باجوں کوشامل ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 140 رضافاؤنڈیشن لاهور،چشتی)


امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا : میلاد شریف میں قوالی کی طرح پڑھنا کیساہے ؟

اس کے جواب میں فرمایا : قوالی کی طرح پڑھنے سے اگر یہ مرا د کہ ڈھول ستار کے ساتھ ، جب تو حرام اور سخت حرام ہے اور اگر صرف خوش الحانی مراد ہے ، تو کوئی امر مورث فتنہ نہ ہو ، تو جائز بلکہ محمود ہے اور اگر بے مزامیر گانے کے طور پر راگنی کی رعایت سے ہو ، تو ناپسند ہے کہ یہ امر ذکر شریف کے مناسب نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ (فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 664 رضافاؤنڈیشن لاهور)


اپنی تقریبوں میں ڈھول جس طرح فساق میں رائج ہے بجوانا ، ناچ کرانا حرام ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 98 رضافاؤنڈیشن لاهور،چشتی)


متصوفہ زمانہ (بناوٹی صوفی) کہ مزامیر کے ساتھ قوالی سنتے ہیں اور کبھی اوچھلتے کودتے اور ناچنے لگتے ہیں اس قسم کا گانا بجانا ، ناجائز ہے ، ایسی محفل میں جانا اور وہاں بیٹھنا ناجائز ہے ، مشایخ سے اس قسم کے گانے کا کوئی ثبوت نہیں ۔ جو چیز مشایخ سے ثابت ہے وہ فقط یہ ہے کہ اگر کبھی کسی نے ان کے سامنے کوئی ایسا شعر پڑھ دیا جو ان کے حال و کیف کے موافق ہے تو ان پر کیفیت و رقت طاری ہوگئی اور بے خود ہو کر کھڑے ہوگئے اور اس حال وارفتگی میں ان سے حرکات غیر اختیاریہ صادر ہوئے ، اس میں کوئی حرج نہیں ۔ مشایخ و بزرگانِ دین کے احوال اور ان متصوفہ کے حال و قال میں زمین آسمان کا فرق ہے ، یہاں مزامیر کے ساتھ محفلیں منعقد کی جاتی ہیں ، جن میں فساق و فجار کا اجتماع ہوتا ہے ، نااہلوں کا مجمع ہوتا ہے ، گانے والوں میں اکثر بے شرع ہوتےہیں ، تالیاں بجاتے اور مزامیر کے ساتھ گاتے ہیں اور خوب اچھلتے کودتے ناچتے تھرکتے ہیں اور اس کا نام حال رکھتے ہیں ان حرکات کو صوفیہ کرام کے احوال سے کیا نسبت ، یہاں سب چیزیں اختیار ی ہیں وہاں بے اختیاری تھیں ۔ (بہار شریعت جلد 3 حصہ 16 صفحہ 511 مکتبۃالمدینہ کراچی)


مزامیر ، ساز ، ڈھول ، طبلہ آلاتِ لہو کا استعمال حرام ہے تو ان کے ساتھ قوالی بھی حرام ہوگی ، مروجہ قوالی جو مزامیر کے ساتھ ہوتی ہے  نہ شریعت میں جائز ہے ، نہ مشائخِ  چشت سے ثابت ہے ۔ (فتاوی بحر العلوم جلد 5 صفحہ 582 ، 583 شبیر برادرز لاہور)


مروجہ ڈھول کو جائز کہنے والے شریعت پرجھوٹ باندھنے والے ہیں ، ان سے کہا جائے کہ اگرتم سچے ہو ، تو دکھاؤ شریعت میں اسے کہاں جائز بتایا گیا ہے ؟ ان سب پراس افتراء سے توبہ کرنافرض ہے ۔

ناک کان ہاتھوں پیروں میں کسی قسم کا  زیور جائز نہیں ہے اگر چہ پلاسٹیک کا ہو کہ یہ عورتوں سے مشابہت ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا من تشبہ بقوم فھو منھم ۔

مرد کےلیے صرف چاندی کی ایک انگوٹھی ایک نگ والی وہ بھی ساڑھے چار ماشے کم ہو جائز ہے اس کے علاوہ کسی بھی دھات کی انگوٹھی یا زیور جائز نہیں ۔ (کتبِ فقہ)


 مذکورہ بالا افعال کا حامل خص فاسق معلن ہے اس سے اذان پڑھوانا ، قوالی یعنی محفلِ سماع میں کلام پڑھوانا یا نعت وغیرہ سننا ناجائز ہے کہ فاسق کی تعظیم نا جائز ہے اور منبر پر بٹھانے نعت پڑھوانے پر اس کی تعظیم ہے ۔ توبہ کرکے پھر گناہ کرنا بہت برا ہے اور یہ اللہ کے ساتھ استہزا کرنا ہے اس لیے جب تک وہ امور قبیحہ و شنیعہ سے سچے دل سے توبہ نہ کرلے اور قبیحہ افعال سے باز نہ آجائے اس کا بائیکاٹ کر دیں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ  فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّکۡرٰی مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ۔ (سورہ انعام آیت نمبر ۶۸)

 ترجمہ : اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ ۔


جب استغفار کرلے اور افعال قبیحہ سے باز آجائے تو اذان دینے اور میلاد وغیرہ میں بلانے میں کوئی حرج نہیں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)



















ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب محترم قارئینِ کرام : شیعہ مفسر قمی لک...