Tuesday, 7 July 2026

حضرت امیر معاویہ اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے باہمی تعلقات و بیعت

حضرت امیر معاویہ اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے باہمی تعلقات و بیعت

حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی تو سبائیوں نے جو صلح کے مخالف تھے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو آمادہ  کرنا چاہا کہ وہ بیعت ختم کر کے مقابلہ کریں ۔ لیکن آپ نے صاف انکار کر دیا اور فرمایا : ہم نے  معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی ، عہد کر لیا ہے ، اب ہمارا  بیعت  توڑنا  ممکن نہیں ۔ (شیعہ کتب : اخبار الطوال صفحہ 220)(رجال کشی صفحہ 102)

 

شیعہ کے اسمآء الرجال کی معتبر کتاب "رجال کشی" میں شیخ طوسی ، محمد بن راشد سے روایت کرتا ہے کہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی طرف خط لکھا کہ آپ اور حسین اور اصحابِ علی میرے پاس آئیں (بیعت کریں) پس یہ حضرات نکلے ، ان کے ساتھ سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ بھی تھے ۔ یہ سب شام کی طرف آئے ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو اندر داخل ہونے کی اجازت دی ۔ اور ان کےلیے خطباء کو اکٹھا کیا ۔


فقال يا حسن قم فبايع فقام فبايع ، ثم قال للحسين عليه السلام قم فبايع فقام فبايع ، ثم قال قم ياقيس فبايع فالتفت إلى الحسين عليه السلام ينظر ما يأمره ، فقال يا قيس انه امامي يعني الحسن عليه السلام ۔

ترجمہ : پس معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا : اے حسن ! اٹھیں بیعت کریں ۔ پس حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اٹھے اور بیعت کی ۔ پھر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے کہا : اے حسین رضی اللہ عنہ اٹھیں اور بیعت کریں ، پس حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اٹھے اور بیعت کی ۔ پھر قیس سے کہا : اے قیس ! اٹھ کر بیعت کریں ۔ تو اس نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا کہ وہ کیا حکم کرتے ہیں ۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ امام حسن رضی اللہ عنہ میرا امام ہے (جب وہ بیعت کرچکے تو تجھے بھی بیعت کرنی چاہیے) ۔ (رجال کشی صفحہ 86 ذکر قیس بن سعد بن عبادہ) ۔ (شیعہ کتاب : رجال کشی صفحہ 86 ذکر قیس بن سعد بن عبادہ مطبوعہ نجف عکس صفحہ273،چشتی)(شیعہ کتاب : بحارالانوار جلد 44 صفحہ 61 کیفیۃ مصالحۃ الحسن علیہ السلام)(شیعہ کتاب : منتہی الآمال جلد 1 صفحہ 322 ، 323 ذکر صلح امام حسن مطبوعہ ایران)(شیعہ کتاب : جلاءُ العیون جلد 1 صفحہ 437 مصالحہ آں حضرت با معاویہ ایران)(شیعہ کتاب : مقاتل الطالبین صفحہ 79 ذکر حسن بن علی مطبوعہ نجف عراق)


جب حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ بیعت کرچکے اور خلافت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کی تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کے سامنے خطبہ دیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ تسلیم کر لیا ہے ۔ اور ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے تو حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے ایک بڑا خطبہ دیا ، جس میں مسائل ذکر کیے اور یہ بھی فرمایا کہ میں حکومت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر چکا ہوں ۔ اس میں میری اور تمہاری بھلائی ہے : قَدْ بَا یَعْتُہٗ ، تحقیق میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر چکا ہوں ۔ (شیعہ کتاب : ناسخ التواریخ جلد 1 صفحہ 571 فی کلامہ و مواضعہ علیہ السلام ایران)(شیعہ کتاب : کشف الغمہ جلد 1 صفحہ 230 زندگانی امام حسن مجتبیٰ مطبوعہ ایران)(شیعہ کتاب : نزل الابرار فی مناقب اہل البیت الاطہار صفحہ 82 مطبوعہ ایران)(شیعہ کتاب : كشف الغمة جلد 2 صفحہ 66)


 شیعوں کا رئیس المحدثین شیخ صدوق قمی متوفی 381 ھجری لکھتا ہے : عن عامر قال : بايع الحسن بن علي معاوية ، عامر سے روایت ہے کہ حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی ۔ (علل الشرائع جلد 1 ۔ 2 صفحہ 214 مطبوعہ بیروت،چشتی)(علل الشرائع جلد 2 صفحہ 28 مطبوعہ الاحیاء التراث بیروت)(علل الشرائع مترجم اردو صفحہ 255)


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ آئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر گلے لگایا اور فرمایا کہ یہ میرا بیٹا ہے ۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا ۔ (کشف الغمہ جلد 1 صفحہ 546 مطبوعہ نجف عِراق)(عمدۃ الطالب صفحہ 65 مطبوعہ نجف عراق)


 حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے پیارے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کو یاد رکھا اور جب خلافت ان کے ہاتھ میں آئی تو اپنے نانا کے اس فرمان کو سچا کرکے دکھایا۔ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرکے اس امت کو بڑے نقصان سے محفوظ رکھا ۔ فساد اور فتنہ کو ختم کردیا ۔ انہوں نے اِسی میں اپنی اور امت کی بہتری سمجھی ، لیکن شیعوں کو یہ کام پسند نہ آیا ۔ لہٰذا انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو تکلیفیں دینا شروع کر دیں ۔ اور ان پر غلیظ طعن و تشنیع کرنے لگے ۔


امیر معاویہ اور امام حسین رضی اللہ عنہما کے تعلقات داتا صاحب کی نظر میں : ⏬


حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ متوفی 465 ہجری لکھتے ہیں کہ : امام حسین رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں ایک مفلس و غریب آدمی مدد کیلئے حاضر ہوا آپ نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا اور فرمایا بیٹھ جاؤ ، ہمارا وظیفہ راستے میں ہے ، کچھ دیر بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک آدمی آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور پانچ تھیلیاں دیناروں کی پیش کیں جس میں ایک ایک ہزار دینار تھے اور ساتھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے معذرت بھی کی ، آپ رضی اللہ عنہ نے وہ تھیلیاں اسی طرح پاس بیٹھے سائل کو دے دیں ۔ (کشف المحجوب مترجم صفحہ نمبر 185 مکتبہ شمس و قمر بھاٹی چوک لاہور،چشتی)


حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ نے یہ واقعہ لکھ کر بہت ساری گتھیاں سلجھادی ہیں ، جیسا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں نذرانہ پیش کرنا ، امام عالی مقام کا اسے نہ صرف قبول کرنا بلکہ اسے راہِ خدا میں خرچ بھی کرنا ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا پیغام میں معافی چاہنا ؛ اس واقعہ کو ذکر کرتے ہوئے حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کوئی ایسی ویسی بات یا جملہ ذکر نہ کرنا جیسا کہ آج کل کے تفضیلی رافضی ذکر کرتے رہتے ہیں ۔ اگر حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ویسے ہوتے جیسا کہ معاذ اللہ آج باغی طاغی ، ظالم ، فاسق ، منافق ، شرابی ، سودی ، اور دشمن اہل بیت کی گردانیں پڑھی جارہی ہیں تو حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ ایسے واقعہ کو جس سے ان ہستیوں میں محبت واضح و ثابت ہورہی ہے ذکر ہی نہ کرتے ، اسی واقعہ کے بعد اگلے صفحہ پر حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ نے یزید کے اہل بیت رضی اللہ عنہم پر مظالم کو بھی ذکر کیا مگر کہیں بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام یا ذکر اشارةً بھی نہ کیا ، نہ مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے صفین و جمل کو چھیڑا ، پتہ چلا حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھی یہ ایک حساس اور الگ قسم کا مسئلہ تھا جس پر کسی قسم کی طعن وتشنیع نہیں کی جاسکتی وہ سب اصحاب رسول رضی اللہ عنہم ہیں اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت کا ادب و احترام ہم سب پر واجب ہے ۔


کتب تاریخ و سیر اس پر گواہ ہیں کہ حضرت سیدنا  امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ دونوں بھائی اکثر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں جایا کرتے تھے ۔ وہ دونوں کی بہت عزت و تکریم کرتے ، محبت و شفقت سے پیش آتے ۔ اور  اپنے  برابر  تخت پر بٹھاتے ۔ اور ایک ایک دن میں ان کو دو ، دو لاکھ درہم عطا  کرتے ۔ حضرت سیدنا  حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بدستور ان کی مجلس میں تشریف لے جایا کرتے اور وظائف اور عطایا حاصل کرتے ۔ (البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 150)


مشہور شیعہ مجتہد ملا باقر مجلسی لکھتا ہے : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ہدایا بیجا کرتے تھے اور ہر  سال دس لاکھ درھم بھیجتے تھے اور سلسلہ موقوف نہ کیا ۔ (بحار الانوار مترجم اردو جلد 10 حصہ اول صفحہ نمبر 57 مکتبہ مطبوعہ محفوظ بک ایجنسی امام بارگاہ مارٹن روڈ کراچی)


جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہو گئی تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ، اپنے بھائی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت معاویہ کے پاس جایا کرتے تھے ۔ وہ ان دونوں کی بہت زیادہ تکریم کرتے ، انہیں خوش آمدید کہتے اور عطیات دیتے ۔ ایک ہی دن میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ نے انہیں بیس لاکھ درہم دیے ۔ ( تاریخ دمشق جلد 59 صفحہ 193،چشتی)


حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : میں آپ کو ایسا عطیہ دوں گا جو مجھ سے پہلے کسی نے نہ دیا ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو چالیس لاکھ درہم دیے ۔ ایک مرتبہ امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما دونوں ان کے پاس آئے تو انہیں بیس بیس لاکھ درہم دیے ۔ ( ابن عساکر۔ 59/193)


اہل تشیع کے بڑے عالم اور نہج البلاغہ کے شارح ابن ابی الحدید لکھتے ہیں : معاویہ دنیا میں پہلے شخص تھے جنہوں نے دس دس لاکھ درہم بطور عطیہ دیئے ۔ ان کا بیٹا یزید پہلا آدمی تھا جس نے ان عطیات کو دوگنا کیا ۔ حضرت علی کے دونوں بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو ہر سال دس دس لاکھ درہم دیئے جاتے ۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کو بھی دیے جاتے ۔ (ابن ابی الحدید۔ شرح نہج البلاغۃ)


جب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ برابر ہر سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس جاتے رہے ۔ وہ انہیں عطیہ دیتے اور ان کی بھرپور عزت کرتے ۔ ( ابن کثیر۔ 11/477،چشتی)


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرات امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما کو تحفے بھیجنا اتنی معروف بات ہے کہ ابو مخنف کو بھی اس سے انکار نہیں ہے ۔ موصوف لکھتے ہیں : معاویہ ہر سال امام حسین رضی اللہ عنہما کو ہر قسم کے تحفوں کےعلاوہ دس لاکھ دینار بھیجا کرتے تھے۔( ابو مخنف۔ مقتل الحسین علیہ السلام ۔ قم : مطبعہ امیر)


آپ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حقیقی بھانجی      آمنہ بنت میمونہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی زوجہ اولیٰ تھیں ۔ اس لحاظ سے حضرت امام سیدنا حسین رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے داماد تھے ۔ (طبری، جلد: 13ص: 19، چشتی)


اسی طرح حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی    ہمشیرہ (sister) ام المومنین سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ___ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات مومنوں کی  مائیں ____ اس لحاظ سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تمام مومنوں کے ماموں (uncle) ہوئے ۔


شیعہ مولوی ملا باقر مجلسی کتاب جلاء العیون میں لکھتا ہے : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ وصال کے وقت یزید کو یہ وصیت فرماگئے کہ امام حسین رضی ﷲ عنہ پس ان کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے ۔ تجھے معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بدن کے ٹکڑے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گوشت و خون سے انہوں نے پرورش پائی ہے ۔ مجھے معلوم ہے کہ عراق والے ان کو اپنی طرف بلائیں گے اور ان کی مدد نہ کریں گے ۔ تنہا چھوڑ دیں گے اگر ان پر قابو پالے تو ان کے حقوق کو پہچاننا ‘ ان کا مرتبہ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے اس کو یاد رکھنا ‘ خبردار ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ دینا ۔ (جلاء العیون جلد دوم صفحہ نمبر 421,422)


ایک اور شیعہ عالم ناسخ التواریخ میں لکھتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ نے مزید کو یہ وصیت فرمائی : کہ اے بیٹا ! ہوس نہ کرنا اور خبردار جب ﷲ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو تو تیری گردن میں حسین بن علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہما کا خون نہ ہو ۔ ورنہ کبھی آسائش نہ دیکھے گا اور ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہے گا ۔


محترم قارئینِ کرام : غور کیجیے حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ ‘ یزید کو یہ وصیت کر رہے ہیں کہ ان کی تعظیم کرنا بوقت مصیبت ان کی مدد کرنا ۔ اب اگر یزید پلید اپنے والد کی وصیت پر عمل نہ کرے تو اس میں حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ کا کیا قصور ؟ 


حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے یزید پلید کو کافر لکھا ہے اور اہل سنت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ یزید پلید ‘ شرابی ‘ ظالم اور امام حسین رضی ﷲ عنہ کے خون کا ذمہ دار ہے ‘ لیکن اس کے بدلے میں حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو بدنام کرنا یہ کون سی دیانت ہے ؟


یااللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں اور فتنہ پروروں کے شر و فتنہ سے محفوظ فرما آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

















Sunday, 5 July 2026

مالک بن اشتر نخعی کون تھا ؟ اے سنی مسلمانو آنکھیں کھولو سنیوں میں چھپے روافض کے نظریات کی دلالی کرنے والوں کو پہچانو چاہے وہ کوٸی بھی ہوں

مالک بن اشتر نخعی کون تھا ؟ اے سنی مسلمانو آنکھیں کھولو سنیوں میں چھپے روافض کے نظریات کی دلالی کرنے والوں کو پہچانو چاہے وہ کوٸی بھی ہوں

محترم قارئینِ کرام : مالک اشتر اپنے حواریوں کو کہتا ہے : اشتر نخعی نے کہا واللہ حضرت زبیر اور طلحہ کے ارادے سے ہم خوب واقف ہیں لیکن آج تک علی کے ارادے سے واقف نہ ہو سکے ، اگر ان میں صلح ہو گئی تو یہ ہمارے خون پر ہو گا اس لیے کیوں نہ علی پر حملہ کر کے اسے بھی عثمان کے پاس پہنچا دیں اور اس سے جو فتنہ پیدا ہوگا وہ بالکل ہماری مرضی کے عین مطابق ہوگا اور ہم سکون سے زندگی گزار سکیں گے ۔ (تاریخ طبری جلد 3 صفحہ 511 ، 512 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)


ناظرین : اس حوالے کو بغور پڑھیں اور اشتر کے حواریوں کے بیانات بھی اس اسکین میں موجود ہیں ان کو بھی بغور پڑھیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مابین فتنہ ڈالنے میں اس گروہ کا کتنا ہاتھ تھا اس سے اندازہ لگائیں ان لوگوں نے مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے قتل تک منصوبہ بنایا اس سے ان کا مقصد کیا تھا اپنی عیش و عشرت اور امت میں فتنہ و فساد اللہ جل شانہ ہمیں حقائق کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین اگر اشتر اپنے اس مذموم منصوبے میں کامیاب ہو جاتا تو آج ابن ملجم کی جگہ وہ شخص لعن طعن کھا رہا ہوتا ۔ لیکن یہ بھیس بدل کر اپنا مفاد اٹھاتے رہے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے تو ان کو عداوت تھی ہی حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے ان کی محبت کا اندازہ اس ایک حوالے سے لگایا جا سکتا ہے ۔ محبین حیدر کرار کرم اللہ وجہہ الکریم کی محبت کا اندازہ اب ہو گا ۔


نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عَنْ زِرٍّ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : وَالَّذِيْ فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَأَ النَّسْمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صلي الله عليه وآله وسلم إِلَيَّ أَنْ لَا يُحِبَّنِيْ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَّ لَا يُبْغِضَنِيْ إِلَّا مُنَافِقٌ ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ ۔

ترجمہ : حضرت زر بن حبیش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا (اور اس سے اناج اور نباتات اگائے) اور جس نے جانداروں کو پیدا کیا ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مجھ سے عہد ہے کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور صرف منافق ہی مجھ سے بغض رکھے گا ۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح کتاب الإيمان باب الدليل علي أن حب الأنصار و علي من الإيمان ، 1 / 86، الحديث رقم : 78،ابن حبان في الصحيح، 15 / 367، الحديث رقم : 6924،چشتی،والنسائي في السنن الکبري، 5 / 47، الحديث رقم : 8153، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 365، الحديث رقم : 32064،چشتی،وأبويعلي في المسند، 1 / 250، الحديث رقم : 291، و البزار في المسند، 2 / 182، الحديث رقم : 560، و ابن ابي عاصم في السنة، 2 / 598، الحديث رقم : 1325)


عَنْ عَلِيٍّ : قَالَ لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صلي الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ لَا يُحِبُّکَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُکَ إِلاَّ مُنَافِقٌ ۔ قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَنَا مِنَ الْقَرْنِ الَّذِيْنَ دَعَالَهُمُ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم ۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ۔ وَقَالَ هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ ۔

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے عہد فرمایا کہ مومن ہی تجھ سے محبت کرے گا اور کوئی منافق ہی تجھ سے بغض رکھے گا ۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح ابواب المناقب باب مناقب علي بن أبي طالب جلد 5 صفحہ 643 الحديث رقم : 3736،چشتی)


مالک اشتر کی حقیقت حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فراست کی روشنی میں : ⏬


تاریخِ اسلام کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ روافض نے ہمیشہ ان شخصیات کو غیر معمولی تقدس عطا کرنے کی کوشش کی جن کا کردار امتِ مسلمہ کے اندر فتنہ و انتشار سے وابستہ رہا ، جبکہ اس کے برعکس اکابر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت و فضیلت کو مشتبہ بنانے کی ہر ممکن سعی کی گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی عبداللہ بن سبا جیسے یہودی منافق کو اسلام کی تاریخ کا مؤثر کردار بنا کر پیش کیا جاتا ہے کبھی مختار ثقفی جیسے کذاب کی مدح سرائی کی جاتی ہے کبھی ابو لؤلؤ فیروز جیسے قاتلِ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ہیرو بنا دیا جاتا ہے ، اور اسی سلسلے کی ایک کڑی مالک اشتر بھی ہے ، جسے غیر معمولی بہادری اور تقدس کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ تاریخی حقائق اس امر پر شاہد ہیں کہ مالک اشتر ان فتنہ پرداز عناصر میں شامل تھا جن کے اقدامات نے امتِ مسلمہ کو شدید آزمائشوں میں مبتلا کیا اس کا نام حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خلاف برپا ہونے والے فتنے اور بعد کے خونریز واقعات کے پس منظر میں بھی مذکور ملتا ہے ، جن کے نتیجے میں ہزاروں مسلمان جان سے گئے اور امت کا شیرازہ منتشر ہوا ۔


قابلِ غور بات یہ ہے کہ حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی فراست اور حق شناسی کی وجہ سے خصوصی مقام عطا فرمایا ، مالک اشتر کے بارے میں اس وقت اپنی تشویش کا اظہار فرمایا جب ابھی اس کے فتنے پوری طرح ظاہر بھی نہیں ہوئے تھے ۔ امام ابو بکر ابن خلال رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ قَالَ أَبِي فِي حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ نَبَّأَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عُمَرَ مَعَاشِرَ مَذْحِجٍ فَقَالَ أَمِنْكُمْ هَذَا؟ قُلْتُ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: مَا لَهُ؟ قَاتَلَهُ اللَّهُ، كَفَى اللَّهُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ شَرَّهُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ أَنَّ لِلنَّاسِ مِنْهُ يَوْمًا عَصِيبًا ۔

ترجمہ : عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم قبیلہ مذحج کے چند افراد کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ میں ان کے قریب بیٹھا تھا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بار بار اشتر کی طرف دیکھتے اور پھر نظر پھیر لیتے ۔ پھر فرمایا : کیا یہ شخص تم ہی میں سے ہے ؟ ۔ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، اے امیر المؤمنین ! آپ نے فرمایا : اسے کیا ہوا ! اللہ اسے ہلاک کرے ۔ اللہ امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے شر سے محفوظ رکھے ۔ اللہ کی قسم! میرا گمان ہے کہ ایک دن لوگوں کو اس کی وجہ سے نہایت سخت اور کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ (السنۃ ابن خلال جلد 3 صفحہ 516 ، 517 رقم : 836،چشتی)


عبداللہ بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : دخلنا على عمر معاشر وفد مذحج وكنت من أقربهم منه مجلسا فجعل عمر نظر إلى الأشتر ويصرف بصره فقال لي أمنكم هذا قلت نعم يا أمير المؤمنين قال ما له قاتله الله كفى الله أمة محمد شره والله أني لأحسب أن للمسلمين منه يوما عصيبا ۔

ترجمہ : ہم قبیلیہ مذحج کے کچھ لوگ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور میں عمر رضی اللہ عنہ کے سب سے قریب بیٹھ گیا تو عمر رضی اللہ عنہ مالک اشتر کو دیکھنے لگے اور پھر اس سے نظر ہٹانے لگے اور فرمایا : کیا یہ شخص تمہارے ساتھ آیا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں اے امیر المؤمین ! تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے کیا پرابلم ہے اللہ اسے ہلاک کرے ، اللہ امت محمدیہ کےلیے اس کے شر کے بالمقابل کافی ہو جائے ، اللہ کی قسم مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں کو اس کی وجہ سے کسی دن بہت بڑا سانحہ دیکھنا پڑے گا ۔ (العلل ومعرفة الرجال لأحمد جلد 1 صفحہ 315 وإسناده حسن)


یہ روایت حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی غیر معمولی بصیرت اور فراست کی روشن دلیل ہے ۔ آپ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں ، جس کا فتنہ اس وقت پوری طرح ظاہر نہیں ہوا تھا ، امت کو پہلے ہی متنبہ فرما دیا کہ اس کا انجام امت کےلیے نہایت سنگین ہوگا بعد کے تاریخی واقعات نے ثابت کر دیا کہ مالک اشتر واقعی ان فتنہ انگیز عناصر میں شامل رہا جن کے سبب امت شدید داخلی انتشار کا شکار ہوئی ۔


الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں ہے : وذكره ابن سعد في الطّبقة الأولى من التّابعين بالكوفة، فقال: وكان ممن ألّب على عثمان، وشهد حصره ۔

ترجمہ : اور ابن سعد نے اس کا ذکر کوفہ کے پہلے طبقۂ تابعین میں کیا ہے ، اور کہا : وہ ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف لوگوں کو ابھارا ، اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے محاصرے میں بھی شریک رہا ۔ (الإصابة في تمييز الصحابة مالك بن الحارث جلد 6 صفحہ 212 مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت،چشتی)(تارخ مدینہ دمشق جلد 56 صفحہ 312 مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت)


سیر اعلام النبلاء میں ہے : وكان شهما ، مطاعا ، زعرا ألب على عثمان ، وقاتله ۔

ترجمہ : وہ بہادر ، اثر و رسوخ رکھنے والا ، اور برے اخلاق والا شخص تھا اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا اور آپ رضی اللہ عنہ سے جنگ بھی کی ۔ (سیر اعلام النبلاء الاشتر مالک بن حارث نخعی جلد 4 صفحہ 34 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ)


ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کا گستاخ مالک بن اشتر نخعی : ⏬


ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا نے ”مالک اشتر کوفی“ کو ”کلب“ (کتا) کہا ہے : عن كنانة قال : كنت أقود بصفية بنت حيي لترد عن عثمان رضي الله عنه ، فلقيها الأشتر فضرب وجه بغلتها حتى مالت، فقالت : ردوني لَا يَفْضَحُنِي هذا الكلب قال : فوضعت خشبا بين منزلها وبين منزل عثمان ، ينقل عليه الطعام والشراب ۔

ترجمہ : ام المؤمنیبن حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کے غلام کنانہ کہتے ہیں کہ : میں ام المؤمنیبن حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کی سواری لے کر نکلا تاکہ ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کھانا پہنچا سکیں تو مالک بن الاشتر سامنے آگیا اور اس نے ام المؤمنیبن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی سواری کے منہ پر ایسی ضرب لگائی کہ آپ گرتے گرتے بچیں پھر ام المؤمنیبن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مجھے واپس لے چلو کہیں یہ کتا (مالک اشتر) مجھے رسوا نہ کر دے ، کنانہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے ام المؤمنیبن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے بیچ لکڑی رکھی اور اس کے ذریعہ کھانا پانی بھیجا جانے لگا ۔ (مسند ابن الجعد صفحہ 390 وإسناده حسن)(تاريخ المدينة لابن شبة جلد 4 صفحہ 1311،چشتی)(تاريخ دمشق جلد 39 صفحہ 415)(التاريخ الكبير للبخاري مطبوعہ العثمانية جلد 7 صفحہ 237)


ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بدعا اشتر پر سلامتی نہ ہو وہ میرا بیٹا نہیں ہے : ⏬


اذْهَبْ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ وَقُلْ : يُقْرِئُكَ ابْنُكَ مَالِكٌ السَّلَامَ ، وَيَقُولُ : خُذِي هَذَا الْجَمَلَ فَتَبَلَّغِي عَلَيْهِ مَكَانَ جَمَلِكِ ، فَقَالَتْ: لَا سَلَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، إِنَّهُ لَيْسَ بِابْنِي ،قَالَ: وَأَبَتْ أَنْ تَقْبَلَهُ ۔

اشتر نے کہا : اسے (اونٹ کو) عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے جاؤ اور کہو : تمہارا بیٹا مالک تمہیں سلام کہتا ہے اور کہتا ہے کہ : یہ اونٹ لے لو اور اس پر سوار ہو کر اپنے اونٹ کی جگہ سفر کرو ۔ راوی کہتے ہیں : ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ اس پر سلامتی نازل نہ کرے ، وہ میرا بیٹا نہیں ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ : ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اسے لینے سے انکار کر دیا ۔ (مصنف ابن أبي شيبة جلد 21 صفحہ 474 رقم : 40559 ت الشثري وإسناده حسن)


قتل عثمان رضی اللہ عنہ کی بنا پر اشتر کےلیے اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صدیقہ کی بد دعا : ⏬


طَلِيقَ بْنَ خَشَّافٍ کہتے ہیں : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، فِيمَ قُتِلَ عُثْمَانُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ؟ قَالَتْ : قُتِلَ وَاللَّهِ مَظْلُومًا ، لَعَنَ اللَّهُ قَتَلَتَهُ ، أَقَادَ اللَّهُ ابْنَ أَبِي بَكْرٍ بِهِ ، وَسَاقَ اللَّهُ إِلَى أَعْيُنِ بَنِي تَمِيمٍ هَوَانًا فِي بَيْتِهِ ، وَأَهْرَاقَ اللَّهُ دِمَاءَ بَنِي بُدَيْلٍ عَلَى ضَلاَلَةٍ ، وَسَاقَ اللَّهُ إِلَى الأَشْتَرِ سَهْمًا مِنْ سِهَامِهِ ، فَوَاللَّهِ مَا مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ إِلاَّ أَصَابَتْهُ دَعْوَتُهَا ۔

ترجمہ : اے اُم المؤمنین ! امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کو کس وجہ سے قتل کیا گیا ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : واللہ ! وہ مظلوم قتل کیے گئے ۔ اللہ ان کے قاتلوں پر لعنت کرے ۔ اللہ ابن ابی بکر (محمد بن ابی بکر) سے ان کا بدلہ لے ۔ اللہ بنو تمیم کے لوگوں کی آنکھوں میں ان کے گھر میں ذلت ڈال دے ۔ اللہ بنو بدیل کے خون کو گمراہی پر بہائے ۔ اور اللہ اشتر کی طرف اپنے تیروں میں سے ایک تیر بھیج دے ۔ پھر فرمایا : واللہ ! ان لوگوں میں کوئی ایک شخص بھی نہیں جسے ان کی (عائشہ کی) بددعا نہ پہنچی ہو ۔ (المعجم الكبير للطبراني جلد 1 صفحہ 88 رقم : 133 وإسناده صحيح،چشتی)


حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کا ارادہ کہ مالک اشتر کو قتل کردیا جائے : ⏬


ثُمَّ قَالَ : الْمِذْحَجِيَّةُ تَوَقَّوْا فَارْكَبُوا ، فَرَكِبَ ، قَالَ : وَمَا أَرَاهُ يُرِيدُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : فَهَمَّ عَلِيٌّ أَنْ يَبْعَثَ خَيْلًا تُقَاتِلُهُ ۔

ترجمہ : پھر اشتر نے کہا : اے مدحجیو ! تیار ہو جاؤ ، سوار ہو جاؤ ۔ وہ سوار ہو گئے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نہیں سمجھتا کہ وہ اس دن معاویہ کے سوا کسی کا ارادہ رکھتا تھا ، پھر علی رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ ان کے پیچھے سوار بھیجیں جو اس سے قتال کریں ۔ (مصنف ابن أبي شيبة جلد 21 صفحہ 476 ، 477 رقم : 40559 ت الشثري وإسناده حسن)


حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ مالک اشتر سے بغض کرتے تھے اور اسے ٹھکانے لگانے کی ترکیب : ⏬


اباوعمر محمد بن یوسف کندی (المتوفی 353) نے کہا : حدثني علي بن الحسن بن قديد ، قال : حدثنا هارون بن سعيد بن الهيثم ، قال : حدثني خالد بن نزار ، عن سفيان بن عيينة ، عن مجالد ، عن الشعبي ، عن عبد الله بن جعفر ، قال : فقلت له : أسألك بحق جعفر ألا بعثت الأشتر إلى مصر ، فإن ظفرت فهو الذي تحب وإلا استرحت منه ۔ قال سفيان : وكان قد ثقل عليه وأبغضه وقلاه ۔ قال : فولاه وبعثه وبعث معه طيرين لي من العرب ، فلما قدم قلزم مصر لقي بها بما يلقى به العمال هنالك، فشرب شربة عسل ، فمات ، فلما قدم طيراي أخبرني ۔ فدخلت على علي ، فأخبرته ، فقال : لليدين وللفم ۔

عبد الله بن جعفر بن أبى طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میں چاہتا تھا کہ علی رضی اللہ عنہ میری کوئی بات نہ ٹالیں ، تو میں کہتا تھا : آپ (میرے والد) جعفر کی خاطر یہ بات مان لیں ! چنانچہ میں نے ان سے کہا : جعفر کی خاطر آپ سے مطالبہ ہے کہ آپ اشتر کو مصر کیوں نہیں بھیج دیتے ؟ اگر وہ کامیاب ہو گیا تو وہی ہوگا جو آپ پسند کرتے ہیں ، اور اگر کامیاب نہ ہوا تو آپ اس سے راحت پا جائیں گے ۔ سفیان کہتے ہیں : علی رضی اللہ عنہ اشتر سے تنگ آ چکے تھے ، اس سے بغض کرتے تھے اور اس سے بے رغبتی رکھتے تھے ۔ (عبداللہ بن جعفر) کہتے ہیں : پھر علی رضی اللہ عنہ نے اسے مصر کا گورنر مقرر کر کے روانہ کر دیا ، اور اس کے ساتھ عرب کے دو جاسوسوں کو بھی بھیجا جو میرے لیے خبر لانے والے تھے ۔ جب اشتر مصر کے علاقے قلزم پہنچا تو وہاں اس کا وہی استقبال کیا گیا جو اس زمانے میں حکام کے ساتھ کیا جاتا تھا ۔ اس نے شہد کا ایک گھونٹ پیا اور اسی سے اس کی موت واقع ہو گئی ۔ پھر جب میرے وہ دونوں جاسوس واپس آئے تو انہوں نے مجھے یہ خبر دی ۔ تب میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں یہ اطلاع دی ۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ چاروں شانے چت ہوا اور منہ کی کھائی ۔ (كتاب الولاة صفحہ 21 ، و رجاله ثقات)


حضرت امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد مهنى بن يحيى کہتے ہیں : سألت أحمد عن مالك ‌الأشتر ، يروى عنه الحديث ؟ قال : لا ۔

ترجمہ : میں نے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے مالک الاشتر کے بارے میں پوچھا کہ اس سے حدیث روایت کی جا سکتی ہے توفرمایا : نہیں ۔ (السنة لأبي بكر بن الخلال جلد 3 صفحہ 517 قال المحقق : إسناده صحيح و هوكذلك) ۔


اللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں اور فتنہ پروروں کے شر و فتنہ سے بچاۓ آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔






















Saturday, 27 June 2026

جواد نقوی رافضی کی ہفوات کا جواب : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی اور عظیم المرتبت صحابی ہیں

جواد نقوی رافضی کی ہفوات کا جواب : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی اور عظیم المرتبت صحابی ہیں


محترم قارئینِ کرام : چشتیوں کے بادشاہ حضور محبوبِ الہٰی خواجہ سید محمد نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ ہمیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کیسا اعتقاد رکھنا چاہیے ؟ ۔ آپ نے جواب عطاء فرمایا : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مسلمان تھے اور صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تھے ۔ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سالے تھے ۔ ان کی بہن حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا حرمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تھیں ۔ (فوائد الفواد صفحہ نمبر 357 مطبوعہ الفیصل ناشران و تاجران کتب اردو بازار لاہور)


پیر سیال لجپال حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ سوال ہوا بعض سادات حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق اچھا عقیدہ نہیں رکھتے تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا جب تک تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کے متعلق اعتقاد درست نہ ہو اس وقت تک ایمان کامل نہیں ہو سکتا ۔ (مراة العاشقین صفحہ نمبر 183)


تاجدار گولڑہ حضرت سیّدنا و مرشدنا پیر مہر علی شاہ صاحب رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت امیر معاویہ رضی عنہ کاتب وحی تھے ۔ (تحقیقُ الحَق فی کَلمۃ الحق صفحہ 159)


اور مترجم نے حاشیہ نمبر 2 میں لکھا ہے کہ : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کےلیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دعائیں فرمائیں آپ کاتب وحی تھے اور مسلمانوں کے ماموں ہیں شیخ عبد الحق محدث دہلوی اور شیخ محی الدین ابن عربی علیہما لرّحمہ کے حوالے سے لکھا ہے ۔


گولڑہ شرہف کا نام لے کر گولڑہ شریف سے نسبت ظاہر کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے والو تاجدار گولڑہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا احترام فرماتے ہیں اور انہیں کاتب وحی قرار دیتے ہیں اور مترجم نے لکھا جن کا تعلق تاجدار گولڑہ رحمۃ اللہ علیہ سے ہے : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کےلیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دعائیں فرمائیں آپ کاتب وحی تھے اور مسلمانوں کے ماموں ہیں شیخ عبد الحق محدث دہلوی اور شیخ محی الدین ابن عربی علیہما الرّحمہ کے حوالے سے لکھا ہے ۔ کہیں شرم و حیاء باقی ہو تو صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی توہین کرنا چھوڑ دو تاجدار گولڑہ رحمۃ اللہ علیہ کے واقعی اگر مرید ہو تو تمہیں اور شرم کرنی چاہیے رافضیوں کو ساتھ ملا کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ وعنہ کی توہین کرتے ہو اس حوالے سے ثابت ہوا تمہارا گولڑہ شریف سے کوئی تعلق نہیں ہے تم جیسے لوگ گولڑہ شریف کو بد نام کر رہے ہیں اللہ تمہیں ہدایت عطاء فرمائے اور تم جیسے لوگوں کے شر سے بچائے آمین ۔


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی ، عظیم المرتب صحابی اور تمام اہل اسلام کے ماموں ہیں مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی مفتی منہاج القرآن کا فتویٰ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم المرتبت صحابی ہیں ، کاتب وحی ہیں ۔ ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں ۔ اس لحاظ سے تمام اہلِ اسلام کے قابل صد تکریم روحانی ماموں ہیں ۔ لہذا کوئی مسلمان ان کی شان میں گستاخی کا تصور بھی نہیں کرسکتا اور جو گستاخی کرے وہ مسلمان نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ مسلمانوں کی پہچان قرآن میں یہ بتلائی گئی ہے کہ وہ اہل ایمان کے لئے ہمیشہ دعائے مغفرت کرتے ہیں ۔ يَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۔ (سورہ مومن:7) ۔ (ماہنامہ منہاج القرآن صفحہ 20 جنوری 2013ء الفقہ آپ کے دینی مسائل ۔ فتاویٰ منہاج القرآن)


جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ اجتہاد پر تھا اور ان کی کی خطاء اجتہادی تھی اور صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہونے کے ناطے ان پر ملامت ، طعن یا تنقید  کرناحرام ہے اور ان کے معاملے میں خاموشی سکوت واجب ہے ۔ (اسلامن دین امن و رحمت صفحہ نمبر 430 ، 432)


جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف کفر منسوب کرنے والا ان کو گالی دینے والا اشارہ یا کنایہ سے تو ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ (فلسفہ شہادت صفحہ نمبر 270،چشتی)


جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ہوشیار میرے حق میں دو گروہ ہلاک ہونگے ایک محبت میں میرا مرتبہ بڑھانے والے دوسرے بغض رکھنے والے ۔ (فلسفہ شہادت صفحہ نمبر 262 ، شیخ الاسلام منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب)


جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب لکھتے ہیں : ہمارا مطالبہ ہے گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور گستاخِ صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کو پھانسی دی جائے ایسے شیطان کو جینے کا حق نہیں ہے ۔ (فلسفہ شہادت صفحہ نمبر 271 ، شیخ الاسلام منہاج القرآن )


جناب من جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کے بیان کی روشنی میں ہمارا بھی یہی مطالبہ ہے کہ صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخیاں کرنے والوں کو پھانسیاں دی جائیں کیا فرماتے ہیں بانی منہاج القرآن اور شیخ الاسلام منہاج القرآن جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب اور اُن کے فلاورز اس سلسلہ میں ؟ یاد رہے آپ خود اور آپ کے ادارہ کے مفتی صاحب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جلیل القدر صحابی مانتے ہیں ؟


مقامِ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سچے سُنی سادات کی نظر میں : ⏬


الاستاذ المکرّم غزالی زماں شیخ الحدیث والتفسیر حضر علاّمہ سیّد احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : تمام جہانوں کے اغواث ‘ ابدال ‘ اقطاب ‘ صلحاء ‘ نقباء ‘ عرفا اور تمام عابدین ‘ عارفین ‘ متقین ‘ مومنین ‘ صالحین اور اولیاء کاملین جمع ہو جائیں اور ان میں سے کسی نے سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جمال پاک اپنی ظاہری آنکھوں سے اپنی حیاتِ ظاہری میں نہ دیکھا ہو مگر سینکڑوں برس انہوں نے اتقاء اختیار کیا ہو ‘ سینکڑوں برس انہوں نے شب بیداری سے کام لیا ہو ‘ راتوں کو جاگ کر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ہو اور ان میں روزے رکھے ہوں ‘ حج کیئے ہوں ‘ زکواۃ دی ہو اور کوئی نیکی بھی نہ چھوڑی ہو مگر خدا کی قسم ! اس کے باوجود یہ سب مل کر بھی ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے مقام کو نہیں پہنچ سکتے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے اپنے لیے سجدے کرنے کا وہ ثواب نہیں رکھا جو ایمان اور محبت کیساتھ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیکھنے کا ثواب رکھا ہے ۔ (مقالاتِ کاظمی جلد چہارم سے ماخوذ)


علامہ سید احمد حبیب شاہ کاظمی شاہ صاحب علیہ الرحمہ جو غزالی زماں حضرت سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے بھتیجے ہیں ، ان سے ایک مرتبہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ سرزد ہو گئے ، تو آپ نے توجہ دلاے جانے پر تحریری طور پر نہ صرف توبہ و رجوع کیا میرا مقصد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین و تنقیص اور اُن پر طعن و تشنیع ہرگز نہیں ۔ مسلمان کسی صحابی کے حق میں ایسی جرات مسلمان نہیں کر سکتا ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہوئے کچھ یوں عرض گزار ہوۓے کہ : اے اللہ عزوجل حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی روح مبارک کو مجھ سے راضی کر دے تاکہ آخرت میں تیرا یہ بندہ عاصی تیری رحمتوں سے محروم نہ ہو ۔ (مقالات کاظمی جلد 4 صفحہ 367 ، 368،چشتی)


فقیر دونوں صفحات کے اسکینز پیش کر رہا ہے جنہیں آپ خود پڑھ سکتے ہیں ، اس توبہ نامے کی تائید و تعریف غزالی زماں حضرت سید احمد سعید کاظمی شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے بھی فرمائی ، اور اپنے بھتیجے سے یہ نہ فرمایا ، کہ ہم تو سادات ہیں آلِ رسول ہیں مولائی ہیں ،،نو ڈیمانڈ معاویہ کا نعرہ لگاؤ ، اور لوگوں کا منہ بند کرنے کےلیے بس ظاہری توبہ و رجوع کرلو ، یہ روح کو راضی کرنا کون سا ضروری ہے ۔ مگر یہ سادات کرام جانتے تھے ، کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ، اور ان کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی بھی رب تعالیٰ کی رحمتوں سے محرومی کا سبب بن سکتی ہے ، اس لیے انہوں نے نہ صرف توبہ کی بلکہ حضرت معاویہ کی روح مبارک کو بھی راضی کرنے کی سعی فرمائی ۔ علامہ سید احمد حبیب شاہ کاظمی شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے اس مبارک عمل سے آج کے اُن سادات کرام کو سبق حاصل کرنا چاہیے ، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں زبانِ طعن دراز کرتے ہوٸے ذرا برابر بھی شرم و حیا محسوس نہیں کرتے ، کہ جنہیں ہم لعن و طعن کا نشانہ بنا رہے ہیں ، وہ کوئی عام شخص نہیں ، بلکہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس امت کا سب افضل و اعلیٰ لوگوں کا طبقہ ہے ۔ اللہ عزوجل ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہما کے بھائی ہیں لہٰذا مومنو کی ماں کے بھائی مومنو کے ماموں ہوئے اور کئی معتبر علمائے کرام نے یہ بات صرف لکھی ہی نہیں ہے بلکہ اس پر اعتراض کرنے والوں کو منہ توڑ جواب بھی دیا ہے ۔ پڑھیے حوالہ جات حاضر ہیں : (السنۃ، ذکر ابی عبدالرحمن معاویہ، جلد2، صفحہ نمبر434، رقم659-ایضاً، رقم658- ایضاً، صفحہ نمبر 433، رقم657- اسنادہ صحیح)(اسکات الکلاب العاویۃ بفضائک خال المؤمنین معاویہ، الفصل الرابع فی اقوال الصحابۃ رضی اللہ عنہم والتابعین ومن بعدھم فی فصل معاویۃ رضی اللہ عنہ، صفحہ نمبر75 و معاویہ بن ابی سفیان شخصیتہ وعصرہ الدولۃ السفیانۃ، ثالثا، ثناء العلماء علی معاویہ، صفحہ نمبر214،چشتی)(الشریعہ، باب ذکر مصاھرۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم...... جلد5، صفحہ نمبر2448، رقم1930)(تفسیر ابن عباس، تحت تفسیر سورہ ممتحنہ، آیت نمبر7)(الثقات للعجلی، باب الحاء، صفحہ نمبر127، 128، رقم218)(البدء والتاریخ، ام حبیبۃ بنت ابی سفیان بن حرب، جلد5، صفحہ نمبر13-ایضاً، صفحہ نمبر149،چشی)(الشریعہ، باب ذکر مصاھرۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم..... جلد5، صفحہ نمبر2431، 2448، رقم1930)(الاعتقاد، اعتقاد فی الصحابۃ، صفحہ نمبر43)(الحجۃ فی بیان المحجۃ وشرح عقیدۃ اہل السنۃ، امھات المؤمنین الطاہرات وان معاویۃ بن ابی سفیان کاتب وحی اللہ....... ،جلد1، صفحہ نمبر248،چشتی)(الاباطیل والمناکیر والصحاح والمشاھیر، باب فی فضائل طلحۃ والزبیر ومعاویۃ، صفحہ نمبر116، رقم191)(کتاب الاربعین فی ارشاد السائرین الی منازل المتقین او الاربعین الطائیۃ، الحدیث التاسع والعشرون...... ، صفحہ نمبر174)(تاریخ دمشق، ذکر من اسمہ معاویۃ، جلد59، صفحہ نمبر55، رقم7510)(مثنوی مولوی معنوی، دفتر دوم، بیدار کردن ابلیس معاویہ راکہ بر خیز کہ وقت نماز بیگاہ شد، صفحہ نمبر63)(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، باب ذکر اللہ عزوجل والتقرب الیہ، الفصل الثالث، جلد4، صفحہ نمبر1557)(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، باب ذکر اللہ، جلد3، صفحہ نمبر320)(امیر معاویہ کے حالات، پہلا باب، صفحہ نمبر40)(لعمۃ الاعتقاد، صفحہ نمبر40)(مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر، جلد2، صفحہ نمبر284)(البدایہ والنھایہ، جلد4، صفحہ نمبر163-ایضاً، جلد8، صفحہ نمبر125)(اتعاظ الحنفاء باخبار الائمۃ الخ، جلد1، صفحہ نمبر131)(الصواعق المحرقہ، صفحہ نمبر355)(مرقاۃ للقاری، جلد8، صفحہ نمبر3258، رقم5203-غذاء الالباب، جلد2، صفحہ نمبر457)(تحقیق الحق از پیر مہر علی، صفحہ نمبر159)


صدرُ الشریعہ علامہ امجد علی قادری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کسی صحابی کے ساتھ سوءِ عقیدت بدمذہبی وگمراہی اور استحقاقِ جہنم ہے کہ وہ حضور اکے ساتھ بغض ہے۔ ایسا شخص رافضی ہے اگرچہ چاروں خلفاء کو مانے اور اپنے آپ کو سنی کہے۔ مثلاً حضرت امیر معاویہ اور ان کے والد ماجد حضرت ابوسفیان اور والدہ ماجدہ حضرت ہند۔ اسی طرح حضرت سیدنا عمرو بن عاص و حضرت مغیرہ بن شعبہ و حضرت ابوموسیٰ اشعری ث حتیٰ کہ حضرت وحشی صجنہوںنے قبل اسلام حضرت سید الشہداء حمزہص کو شہید کیا اور بعد اسلام اخبثُ الناس خبیث مسیلمہ کذاب ملعون کو واصلِ جہنم کیا۔ ان میں سے کسی کی شان میں گستاخی تبرا ہے اور اس کا قائل رافضی۔یہ اگرچہ حضرات شیخین کی توہین کی مثل نہیں ہو سکتی کہ ان کی توہین بلکہ ان کی خلافت سے انکار ہی فقہائے کرام علیہم الرّحمہ کے نزدیک کفر ہے ۔ (بہارِ شریعت حصہ اوّل صفحہ نمبر 77)


امام ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جو شخص اصحاب رسول پر غضبناک ہوا وہ کافر ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ان پر کافر غضبناک ہوتے ہیں ۔ (شرح شفاء للعلی قاری جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 98)


صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آسمان ہدایت کے ستارے ہیں ، ان حضرات کا ایک ایک عمل احد پہاڑ کے برابر ثواب رکھتا ہے ، انبیاء کرام علیھم الصلوٰۃ والسلام کے بعد سب سے اعلی وارفع مقام انہی حضرات قدسی صفات کا ہے ، چنانچہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم وتکریم امت پر فرض اور ان کی شان میں بدگوئی کرنا حرام ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے جاں نثار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق نامناسب کلمات کہنے سے منع فرمایاہے اور بدکلامی کرنے والوں کو تنبیہ فرمائی کہ وہ اللہ سے ڈریں ، اللہ تعالی ان کی سخت گرفت فرمائے گا چنانچہ جامع ترمذی میں حدیث پاک ہے : عن عبداللہ بن مغفل قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی لاتتخذوہم غرضا بعدی فمن احبہم فبحبی احبہم ومن ابغضہم فببغضی ابغضہم ومن اٰذاہم فقد اٰذانی ومن اٰذنی فقداٰذی اللہ ومن اٰذی اللہ یوشک ان یأخذہ ۔

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّمم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو ، اللہ سے ڈرتے رہو ، میرے بعد انہیں بدگوئی کا نشانہ مت بناؤ ،پس جس کسی نے ان سے محبت کی توبالیقین اس نے میری محبت کی خاطر ان سے محبت کی ہے اور جس کسی نے ان سے بغض رکھا تواس نے مجھ سے بغض کے باعث ان سے بغض رکھاہے اور جس کسی نے ان کو اذیت پہنچائی یقینااس نے مجھ کو اذیت دی ہے اور جس نے مجھ کو اذیت دی یقیناً اس نے اللہ کو اذیت دی ہے اور جس نے اللہ کو اذیت دی قریب ہے کہ اللہ اس کی گرفت فرمائے ۔ (جامع ترمذی ابواب المناقب حدیث نمبر:3797،چشتی)


صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں بے ادبی اور ان کے حق میں بدکلامی موجب لعنت ہے جیسا کہ امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ کی معجم کبیر میں حدیث پاک ہے : عن ابن عباس: قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: من سب أصحابی فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس أجمعین ۔

ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : جو میرے صحابہ کے بارے میں بدگوئی کرے اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی باب العین حدیث نمبر:12709،چشتی)


صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں بے ادبی کرنے والا‘بد گوئی کرنے والا بروز محشر بھی ملعون ہوگا ، کنز العمال میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : کل الناس یرجو النجاۃ یوم القیامۃ إلا من سب أصحابی فإن أہل الموقف یلعنونہم .

ترجمہ : سارے لوگ قیامت کے دن نجات کی امید رکھینگے لیکن وہ بدگو شخص نہیں ، جس نے میرے صحابہ کو برا کہا ، اہل محشر اس پر لعنت بھیجیں گے ۔ (کنز العمال ، الفصل الاول فی فضائل الصحابۃ حدیث نمبر:32539)


اور مصنف ابن ابی شیبہ میں حدیث پاک ہے : عن ابن عمر یقول:لا تسبوا أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلمقام أحدہم ساعۃ خیر من عمل أحدہم عمرہ ۔

ترجمہ : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ، حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو برا نہ کہو ، ان میں سے کسی کے ایک گھڑی کا قیام لوگوں میں سے کسی کے زندگی بھر عمل سے بہتر ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ،کتاب الفضائل ، حدیث نمبر:32415)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق امت کو خیر خواہی ، دعائے خیر اور ان کا اچھا ذکر کرنے کی نصیحت فرمائی ۔ فرمایا : الله الله فی اصحابی ، الله الله فی اصحابی ، لا تتخذوهم غرضا من بعدی فمن احبهم فبحبی احبهم ومن ابغضهم فببغضی ابغضهم ومن اذا هم فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی الله ومن اذی الله فيوشک ان ياخذه ۔ (ترمذی، بحواله مشکوٰة، 554،چشتی)

ترجمہ : میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ سے ڈرو ۔ میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ بعد انہیں (طعن و تشنیع کا) نشانہ نہ بنانا۔ سو جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا ، اس نے میرے ساتھ بغض رکھنے کی بنا پر ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو تکلیف دی اس نے یقینا مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے یقینا اللہ کو تکلیف دی اور جس نے اللہ کو تکلیف دی تو عنقریب اسے اللہ پکڑے گا ۔


اسی طرح ارشاد فرمایا : اصحابی کالنجوم فبايهم اقتديتم اهتديتم . (مشکوٰة، 554)

ترجمہ : میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں جس کی پیروی کرو گے راہ پاؤ گے ۔


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اللہ راضی ہوچکا اور وہ حضرات اپنے رب سے راضی ہوچکے ۔ قرآن کریم میں ہے : رَّضِیَ اﷲُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ.(التوبة:100)

ترجمہ : اللہ ان (سب) سے راضی ہوگیا اور وہ (سب) اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لیے جنتیں تیار فرما رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی زبردست کامیابی ہے ۔


پس ہر شخص کو آگاہ ہونا چاہئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھنا ، ان کے راستے پر چلنا ، ان کے باہمی تنازعات میں پڑے بغیر ان کے لئے دعائے خیر کرنا ، امت پر فرض ہے۔ ان سے بغض رکھنا ، ان کی بے ادبی کرنا ، ان کی شان و شوکت سے جلنا طریقِ کفار و منافقین ہے ۔


اما م اہلسنت ابو الحسن الاشعری رحمۃ اللہ علیہ (324ھجری) فرماتے ہیں : جو جنگ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت زبیرو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما کے مابین ہوئی یہ تاویل اور اجتہاد کی بنیاد پر تھی ، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ہی امام تھے اور یہ تمام کے تمام مجتہدین تھے اور ان کے لیئے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلّم نے جنت کی گواہی دی ہے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلّم کی گواہی اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ تمام اپنے اجتہاد میں حق پر تھے ، اسی طرح جو جنگ حضرت سیدنا علی اور حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہما کے مابین ہوئی اس کا بھی یہی حال ہے ، یہ بھی تاویل واجتہاد کی بنیاد پر ہوئی ، اور تمام صحابہ پیشوا ہیں ، مامون ہیں ، دین میں ان پر کوئی تہمت نہیں ہے ، اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام کی تعریف کی ہے ، ہم پر لازم ہے کہ ہم ان تمام کی تعظیم و توقیر کریں ، ان سے محبت کریں اور جو ان کی شان میں کمی لائے اس سے براءت اختیار کریں ۔ (الابانہ عن اصول الدیانہ صفحہ 624۔625۔626،چشتی)


قاضی ابو بکر الباقلانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 304ھجری) فرماتے ہیں : واجب ہے کہ ہم جان لیں : جو امور حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے مابین واقع ہوئے اس سے ہم کف لسان کرے ، اور ان تمام کے لیئے رحمت کی دعا کریں ، تمام کی تعریف کریں ، اور اللہ تعالی سے ان کے لیئے رضا ، امان، کامیابی اور جنتوں کی دعا کرتے ہیں ، اور اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ان امور میں اصابت پر تھے ، اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے لیئے ان معاملات میں دو اجر ہیں ، اور صحابہ کرام علیہم الرضوان سے جو صادر ہوا وہ ان کے اجتہاد کی بنیاد پر تھا ان کے لیئے ایک اجر ہے ، نہ ان کو فاسق قرار دیا جائے گا اور نہ ہی بدعتی ۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ ان کے لیئے اللہ تعالی نے فرمایا : اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ۔ اور یہ ارشاد فرمایا : بے شک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے تو اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں ہے تو ان پر اطمینان اتارا اور انھیں جلد آنیوالی فتح کا انعام دیا ‘ اور حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہے جب حاکم اجتہاد کرے اور اس میں اصابت پر ہو تو اس کےلیے دو اجر ہیں ، اور جو اجتہاد کرے اور اس میں خطا کرے ، تو اس کےلیے اجر ہے ۔ جب ہمارے وقت میں حاکم کےلیے اس کے اجتہاد پر دو اجر ہیں تو پھر ان کے اجتہاد پر تمہارا کیا گمان ہے جن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا : رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ ۔ (الانصاف فی ما یجب اعتقاده صفحہ 64،چشتی)


غنیۃ الطالبین میں ہے : اہل سنت صحابہ علیہم الرضوان کے آپس کے معاملات میں کف لسان ، ان کی خطاؤں کے بیان سے رکنے اور ان کے فضائل ومحاسن کا اظہار کرنے پر اور جو معاملہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرات طلحہ وعائشہ ومعاویہ رضی اللہ تعالی عنہم کے مابین اختلاف ہوا اس کو اللہ تعالی کے سپرد کرنے پر متفق ہیں جیسا کہ ہم ماقبل میں بیان کرچکے ہیں اور ان میں ہر فضل والے کو اس کا فضل دینے پر متفق ہیں ۔ (الغنية لطالبي طريق الحق عز وجل صفحہ 163،چشتی)


امام شہاب الدین خفاجی رحمۃُ اللہ علیہ رحمہ ﷲ تعالٰی علیہ نے نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ میں فرمایا : ومن یکون یطعن فی معٰویۃ فذالک کلب میں کلاب الہاویۃ ۔

ترجمہ جو امیر معاویہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں سے ایک کتا ہے ۔ (نسیم الریاض جز رابع صفحہ 525 مطبوعہ دارالکتب علمیہ بیروت لبنان)


امام اہلسنت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے وہ جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد29 صفحہ 264 ۔ امام اہلسنت اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ علیہ)


امام اہلسنت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرنے والا جہنّمی کتوں میں سے ایک کتا ہے اور بد تر خبیث تبرائی رافضی ہے ایسے شخص کو امام بنانا جائز نہیں ہے ۔ (احکام شریعت صفحہ نمبر 120 ، 121 )


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گستاخ جہنمی کتا ہے ، اگر کوئی چورہ شریف سے تعلق رکھ کر حضرت امیر معاویہ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہم گدی نشین ہونے کی حیثیت سے اسے تنبیہ کرتے ہیں انسان بن جاؤ ۔ (الدرّۃ الحیدریہ علیٰ کلب الھاویہ عدوّ معاویہ صفحہ نمبر 8 مطبوعہ کرمانوالہ بک شاپ لاہور،چشتی)


پاکستان کے نقشبندی مجددی آستانوں کے مرکزی آستانہ عالیہ چورہ شریف کا واضح حکم آ جانے کے بعد بھی اگر چورہ شریف کا کوئی مرید حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی گستاخی کے گھناؤنے فعل میں ملوث ہے تو وہ باز آ جائے اور آئندہ کے لیے توبہ کرے ۔ اور یہ بات کبھی نہ بھولے کہ ایک صحیح العقیدہ آستانے کے مرید نہ تو خارجیوں کے عقیدہ کے داعی ہیں اور نہ ہی رافضیوں کے عقیدہ کے داعی ۔


حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان صرف دو مرتبہ جنگ ہوئی ۔ (1) جنگ صفین ۔ (2) جنگ جمل


ان جنگوں کا سبب جیسا کہ معلوم ہے بنیادی طور پر خلیفہ راشد، امیرالمومنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت تھی جس کے پس پردہ وہی یہودی و مجوسی سازش کارفرما تھی جو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کی ذمہ دار تھی۔ صحیح صورتحال اور معلومات کا ایک جگہ سے دوسری جگہ تک بروقت پہنچ جانا اس زمانہ میں ممکن نہ تھا جبکہ اسلام دشمن عناصر گمراہ کن افواہیں تسلسل سے پھیلانے میں مصروف تھے۔ ان حالات میں مسلم عوام و خواص میں غلط فہمیوں کا پیدا ہوجانا باعث تعجب نہیں۔ غلط فہمیاں پھیلیں اور اس کے نتیجہ میں :


(1) باہمی جنگیں ہوئیں جس میں مسلمانوں کا ناقابل بیان جانی و مالی نقصان ہوا ۔


(2) ملی وحدت ٹکڑے ٹکڑے ہوئی ۔


(3) وہ فاتحانہ قدم جو بڑی تیزی کے ساتھ یورپ، افریقہ اور ایشیاء کی طرف بڑھتے چلے جارہے تھے ، یکدم رک گئے ۔


تاہم یہ قضا و قدر کے وہ قطعی فیصلے تھے جن کی نبئِ غیب داں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ان واقعات کے رونما ہونے سے بہت پہلے دے دی تھی ۔ دونوں طرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہ تھے ۔ کسی ایک کو مورد الزام ٹھہرانا نہ صحیح ہے نہ انصاف ۔ اس مسئلہ میں ناصبی ، خارجی بھی غلط ہیں جو حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شانِ اقدس میں زبان طعن دراز کرتے ہیں اور رافضی شیعہ اور اُن کے ہمنوا بھی غلط ہیں جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یا دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان عظمت میں گستاخی کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ گستاخی کی لعنت سے ہر مسلمان کو محفوظ فرمائے ۔ صحیح صورت حال وہی ہے جس کی نشاندہی فقیر نے کر دی ہے اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ، صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم ائمہ و اولیاء علیہم الرّحمہ و علماء کا ادب و احترام و احترام کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)






















حضرت امیر معاویہ اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے باہمی تعلقات و بیعت

حضرت امیر معاویہ اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے باہمی تعلقات و بیعت حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت سیدنا امام حسین ر...