Wednesday, 25 February 2026

روزہ کے وقتِ افطار پر اہلِ تشیع اور اُن کے فضلہ خوروں کے دجل و فریب کا جواب

روزہ کے وقتِ افطار پر اہلِ تشیع اور اُن کے فضلہ خوروں کے دجل و فریب کا جواب

محترم قارئینِ کرام قرآنِ مجید میں اللہ عزوجل کا ارشادِ مبارک ہے : ثمَّثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيۡلِ‌ۚ ۔ (سورہ بقرہ آیت نمبر 187)

ترجمہ : پھر رات آنے تک روزے پورے کرو ۔


اہلِ تشیع اور اُن کے فضلہ خور اس آیت کو لے کر کہتے کہ اہلِ سنت وقت سے پہلے روزہ افطار کرتے ہیں حالانکہ اللہ عزوجل نے رات تک روزہ رکھنے کا ارشاد فرمایا ہے ناکہ غروبِ آفتاب تک سب سے پہلی بات کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ثم اتموا الصیام الی اللیل فی اللیل نہیں فرمایا یعنی روزے کو رات میں بالکل داخل نہ کرو رات آتے ہی روزہ ختم کر دو مطلب رات تک جہاں سے رات شروع ہوتی ہے ناکہ فی الیل رات میں خود شیعہ تفاسیر اور معتبر کتب میں اس آیت کی تفسیر غروبِ آفتاب ہے یہاں ہم لغت گرائمر حدیث اور تفاسیر سے اس آیت کا صحیح مفہوم سمجھیں گے سب سے آخر پر اس روایت کا جائزہ لیں گے جو اہلِ سنت کی کتاب میں ہے اور شیعہ اسے بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں اور شیعہ کتب کے حوالے سکین کی صورت میں لگا دئیے جائیں گے ۔ قرآن و حدیث  کے دلائل کی روشنی میں یہ بات ثابت ہے کہ افطار کا وقت غروبِ آفتاب ہے اور اس پر اکابر علمائے کرام نے اہل علم کا اجماع نقل فرمایا ہے ، لہٰذا جب غروبِ آفتاب کا ظن غالب ہو جائے ، تو اُس کے فوراً بعد افطار ی کرنا بالکل جائز و درست ہے ، بلکہ غروب کا ظن غالب ہو جائے ، تو  بلاوجہ افطار میں تاخیر کرنا خلافِ مسنون ہے ، لہٰذا جو اسے غلط کہتا ہے ، وہ قرآن و حدیث کے دلائل سے بے علم یا غلط فہمی کا شکار ہے ، اُس پر لازم ہے کہ عوام میں ایسی غلط فہمیاں پھیلانے سے احتراز کرے ۔


معتبر تفاسیرِ قرآن پاک میں اِلَى الَّیْلِ کی تفسیر کرتے ہوئے اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ یہاں لیل ، رات سے مراد غروبِ آفتاب ہے ۔


 تفسیر ماوردی میں ہے : يعني به غروب الشمس ۔

ترجمہ : لیل سے مراد غروبِ شمس ہے ۔ (تفسیر ماوردی جلد 1 صفحہ 247 دار الکتب العلمیۃ بیروت)


تفسیر ابن کثیر میں ہے : یقتضی الافطار عند غروب الشمس حکما شرعیا ۔

ترجمہ : لیل، رات کے الفاظ کا تقاضا یہ ہے کہ غروبِ شمس کے وقت افطار کرنا حکمِ شرعی ہے ۔ (تفسیر ابن کثیر جلد 1 صفحہ 317 دار طیبہ بیروت،چشتی)


تفسیر روح البیان میں ہے : ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ ، اى اديموا الإمساك عن المباشرة والاكل والشرب في جميع اجزاء النهار إِلى غاية اللیل وهو دخول الليل وذاك بغروب الشمس ۔

ترجمہ : روزہ مکمل کرو یعنی رات تک دن کے تمام اجزاء میں مباشرت ، کھانے اور پینے سے بچے رہو اور رات کا داخل ہونا غروبِ شمس کے ساتھ ہوتا ہے ۔ (تفسیر روح البیان جلد 1 صفحہ 300 دار الفکر بیروت)


جلالین مع حاشیہ الصاوی میں ہے : ثم اتمواالصیام من الفجر "الی اللیل" ای الی دخولہ بغروب الشمس ۔

ترجمہ : پھر تم روزوں کو رات کے داخلہ تک غروبِ آفتاب کے وقت تک پورا کرو ۔ (تفسیر جلالین صفحہ 86)


الی غایہ اللیل وھو دخول اللیل و ذاک بغروب الشمس ۔

ترجمہ : الیل کی حد رات تک ہے اور وہ رات کا داخلہ ہے جو غروبِ آفتاب کے ساتھ ہے ۔ (تفسیر روح البیان جلد 2 صفحہ 300)


واللیل الذی یتم بہ الصیام مغیب قرص الشمس ۔

ترجمہ : اور رات جس کے ساتھ روزے پورے ہوتے ہیں سورج کی ٹکیہ کا غائب ہونا ہے ۔ (تفسیر الثعالبی جلد 1 صفحہ 149،چشتی)


پس اس آیت سے روزہ کی حقیقت واضح ہوئی کہ وہ ارادہ صبح صادق سے لے کر سورج غروب ہونے تک مفطرات ثلٰثہ (کھانے پینے اور جماع) سے رکے رہنا ہے ۔ (تفسیر المظہری جلد 1 صفحہ 206)


لیل عرف عرب میں غروب آفتاب سے گنی جاتی ہے اور نیزاحادیث صحیحہ میں بھی غروب کے متصلا آنحضرت علیہ السلام کا افطار کرنا ثابت ہو گیا ہے تو پھر دیر کرنا تکلیف بے فائدہ ہے ۔ (تفسیر حقانی جلد 3 صفحہ 33)


باتفاق مفسرین رات کی ابتداء غروبِ آفتاب سے ہو جاتی ہے سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کر لیا جائے ۔


الیل (رات) کی وضاحت ازروئے لغت : ⏬


امام محمد بن مکرم ابنِ منظور علیہ الرحمہ اپنی عربی لغت کی مشہور اور متداول کتاب میں لکھتے ہیں : اللیل : عقیب النہار و مبدوہ من غروب الشمس ۔

ترجمہ : رات دن کے بعد آتی ہے اور اس کی ابتداء غروب آفتاب سے ہوتی ہے ۔ (لسان العرب جلد 11 صفحہ 611)


اللیل عقیب النھار و مبدؤہ من غروب الشمس ۔

ترجمہ : رات دن کے فوراً بعد شروع ہوجاتی ہے اور اس کی ابتداء غروبِ شمس سے ہوتی ہے ۔ (لسان العرب جلد 11 صفحہ 607 دار صادر بیروت)


تاج العروس میں ہے : الليل : ضد النهار معروف ۔۔۔۔ وحده من مغرب الشمس إلى طلوع الفجر الصادق ۔

ترجمہ : رات دن کی ضد مشہور ہے ۔۔۔۔ اور اس کی حد سورج غروب ہونے کے وقت دے لے کر طلوعِ صبح صادق تک ہے ۔ (تاج العروس جلد 30 صفحہ 374 مطبوعہ دار الھدایۃ)


المحیط فی اللغۃ  میں ہے : وا لنھار ضیاءمابین طلوع الفجر الی وقت غروب الشمس ۔

ترجمہ : طلوعِ فجر سے لے کر غروبِ شمس تک کی روشنی / اجالے کو دن کہتے ہیں ۔ (المحیط فی اللغۃ جلد 3 صفحہ 476 عالم الکتب بیروت)


صاحب المنجد الابجدی بیان کرتے ہیں : اللیل : من مغرب الشمس الی طلوع الفجر او الی طلوع الشمس ۔

ترجمہ : رات سورج غروب ہونے سے لے کر طلوعِ فجر یا طلوعِ آفتاب تک ہے ۔ (المنجد الابجدی صفحہ 885)


صاحب المعجم العربی الحدیث لکھتے ہیں : اللیل : وھو من مغرب الشمس الی طلوعھا وفی الشرع من مغرب الشمس الی بزوع الفجر ۔

ترجمہ : رات سورج کے غروب ہونے سے اس کے طلوع ہونے تک اور شریعت میں سورج غروب ہونے سے فجر کے پھیلنے تک ہے۔ (المعجم العربی الحدیث لاروس صفحہ 1049)


حسن عمید لکھتے ہیں : شب از غروب تا طلوع آفتاب ۔

ترجمہ : رات غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک ہے۔ (فرہنگ عمید طبع شدہ ایران تہران جلد دوم صفحہ 1529)


مندرجہ بالا لغات کے حوالوں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بالاتفاق اہلِ لغت سورج غروب ہوتے ہی رات کی ابتداء ہو جاتی ہے ۔


عربی گرائمر سے الی اللیل (رات تک) کی وضاحت : ⏬


شرح مأۃ عامل میں "اِلٰی" کی بحث کے تحت شیخ عبد القاہر جرجانی لکھتے ہیں : وقد لا یکون ما بعدھا داخلا فی حکم ما قبلھا ان لم یکن بعدھا جنس ما قبلھا نحو قولہ تعالیٰ ثم اتموا الصیام الی اللیل ۔

ترجمہ : کبھی "الی" کے بعد والا "الی" کے پہلے والے حکم میں داخل نہیں ہوتا اگر "الی" کا بعد والا "الی" سے پہلے والے کی جنس سے نہ ہو تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے پھر روزوں کو رات تک پورا کرو شیخ موصوف یہ قاعدہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ یہاں "الی" ابتدائی حد کےلیے ہے چونکہ رات کی ابتداء سورج غروب ہونے سے ہو جاتی ہے اس لیے سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کر لیا جائے روزہ کے پورا کرنے کا تعلق دن سے ہے نہ کہ رات سے چونکہ دن اور رات دونوں کی جنس مختلف ہے اس لیے یہاں الی کے بعد لیل ’"الی" سے پہلے فجر کے حکم میں داخل نہیں ہے ۔


احادیثِ مبارکہ سے افطار کے وقت کی وضاحت : ⏬


متعدد احادیثِ مبارکہ سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ افطار کا وقت غروبِ آفتاب ہے : حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : إذا اقبل الليل من هاهنا وادبر النهار من هاهنا و غربت الشمس فقد افطر الصائم ۔

ترجمہ : جب یہاں سے رات آئے اور یہاں سے دن جائے اور سورج غروب ہو جائے ، تو روزہ دار روزہ افطار کرے ۔ (صحیح بخاری جلد 3 صفحہ 36 رقم الحدیث : 1954 دارطوق النجاۃ بیروت)


علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : أي أقبل ظلمة الليل من جانب المشرق و أدبر ضوء النهار من جانب المغرب ۔

ترجمہ : یعنی جب مشرق کی جانب سے رات کی تاریکی آ جائے اور مغرب کی جانب سے دن کی روشنی چلی جائے ، تو افطار کر لو ۔ (شرح المشکوٰۃ للطیبی جلد 5 صفحہ 1585 مكتبة نزار مصطفى الباز الریاض)


عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ۔ (صحيح البخاری جلد 3 صفحہ 46)

ترجم : سیدنا عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب ادھر سے رات نمودار ہونے لگے اور ادھر سے دن جانے لگے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار نے روزہ افطار کر لیا ۔


یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ دار کےلیے سورج غروب ہونے کو ہی افطاری کا وقت قرار دیا ہے ۔


عَنْ سَہلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ : لَاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ ۔ (صحيح البخاری جلد 3 صفحہ 47)

ترجم : سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگ ہمیشہ بھلائی کے ساتھ رہیں گے جب تک روزہ جلدی افطار کرتے رہیں گے ۔


عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِىِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ : لاَ يَزَالُ الدِّيْنُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَلأَنَّ الْيَهُوْدَ وَ النَّصَارٰى يُؤَخِّرُوْنَ ۔ (سنن أبی داؤد محقق و بتعليق الألبانی جلد 2 صفحہ 277)

ترجمہ : سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دین ہمیشہ غالب رہے گا جب تک لوگ روزہ جلدی افطار کرتے رہیں گے کیونکہ یہودی اور عیسائی دیر کرتے ہیں ۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عجلوا بالافطار واخروالسحور ۔ (رواہ الطبرانی فی الکبیر)

ترجمہ : افطاری میں جلدی کرو اور سحری میں دیر کرو ۔


سیدنا ابو عطیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور سیدنا مسروق رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے پھر ہم نے کہا کہ اے مومنوں کی ماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں دو شخص ہیں ایک ان میں جلدی افطاری کرتا ہے اور جلدی نماز پڑھتا ہے اور دوسرا دیر سے افطاری کرتا ہے اور دیر سے نماز پڑھتا ہے انہوں (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ) نے پوچھا کہ ان دونوں میں کون جلدی افطار کرتا ہے اور جلدی نماز پڑھتا ہے ہم نے کہا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح کرتے تھے اور دوسرے ابو موسیٰ ہیں یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے عمل کو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار دیا ۔ (سنن الترمذي جلد 3 صفحہ 83)


نماز مغرب کے بعد افطار کرنا : ⏬


یہ روایت موطا مالک اس سند سے مروی ہے : مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَانَا يُصَلِّيَانِ الْمَغْرِبَ حِينَيَنْظُرَانِ إِلَى اللَّيْلِ الْأَسْوَدِ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَا ثُمَّ يُفْطِرَانِبَعْدَ الصَّلاَةِ وَذلِكَ فِي رَمَضَانَ ۔ (موطا مالک صفحہ 1013)


اس کی سند منطقع ہونے کی بناء پر یہ ضعیف ہے حمید بن عبد الرحمن اور سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ کے مابین انقطاع ہے لہٰذا یہ روایت پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لا تزال امتی بخیر ما عجلوا الافطار ۔

ترجمہ : میری امت ہمیشہ خیر پہ رہے گی ، جب تک افطار میں جلدی کرے گی ۔ (مسند احمد جلد 35 صفحہ 241 رقم الحدیث 21312 مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)


یہ حدیث مبارک بھی دلیل ہے کہ جب غروبِ آفتاب کا تحقق ہو جائے ، تو بلاوجہ تاخیر نہ کی جائے اور جو گروہ اس کے خلاف رائے رکھتا ہے ، اس حدیث میں ان کا رد ہے ۔ چنانچہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : واتفق العلماء ان محل ذلک اذا تحقق غروب الشمس بالرؤیۃ او باخبار عدلین و کذا عدل واحد فی الارجح قال ابن دقیق العید فی ھذا الحدیث رد علی الشیعۃ فی تاخیرھم الفطر الی ظھور النجوم ۔

ترجمہ : علماء کا اتفاق ہے کہ اس کا محل یہ ہے کہ جب آنکھوں سے دیکھنے یا دو عادل افراد کی خبر دینے اور اسی طرح ارجح قول کے مطابق ایک عادل کی خبر دینے کے ساتھ غروبِ آفتاب ثابت ہو جائے (اب بلاوجہ تاخیر نہ کی جائے) ، علامہ ابن دقیق العید نے فرمایا : شیعہ ستارے ظاہر ہونے تک افطار میں تاخیر کرتے ہیں ، اس حدیث میں ان کا رد ہے ۔ (فتح الباری جلد 4 صفحہ 199 دار المعرفۃ بیروت،چشتی)


حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : كان النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يفطر قبل أن يصلي على رطبات فإن لم تكن رطبات فتميرات فإن لم تكن تميرات حسا حسوات من ماء ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ مغرب سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے اور اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں ، تو خشک چھواروں سے روزہ افطار فرماتے اور اگر چھوارے بھی نہ ہوتے ، تو پانی کے چند گھونٹ نوش فرمالیتے ۔ (جامع ترمذی جلد 2 صفحہ 71 رقم الحدیث : 696 دار الغرب الاسلامی بیروت)


حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں : ما رأيت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قط صلى صلاة المغرب حتى يفطر ولو على شربة من ماء ۔

ترجمہ : میں نے کبھی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز ِ مغرب ادا فرماتے ہوئے نہ دیکھا، مگر یہ کہ آپ اس سے پہلے ہی افطار فرما چکے ہوتے ، اگرچہ پانی کے ایک گھونٹ کے ساتھ افطار فرماتے ۔ (صحیح ابن حبان جلد 8 صفحہ 274 مؤسسۃ الرسالہ بیروت،چشتی)


ان دونوں روایات کا مستفاد بھی یہی ہے کہ غروبِ آفتاب افطاری کا وقت ہے ، اگرچہ ابھی اندھیرا نہیں چھایا ہو ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ نمازِ مغرب میں تعجیل فرماتے حتیٰ کہ نمازِ مغرب ادا کرنے کے بعد بھی کچھ اجالا باقی ہوتا تھا ، تو بدیہی سی بات ہے کہ افطار بدرجہ اولیٰ اجالے میں ہوتا تھا ۔


حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : كنا نصلي مع رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم المغرب ثم ننصرف إلى السوق ولو رمي بنبل أبصرت مواقعها ۔

ترجمہ : ہم رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے ، پھر ہم بازار جاتے اور کوئی تیر پھینکتا ، تو اس کے تیر گرنے کی جگہ دکھائی دیتی ۔ (سنن ابن ماجہ جلد 1 صفحہ 224 رقم الحدیث : 687 دار احیاء الکتب العربیۃ بیروت)


حضرت جبریل امین علیہ السلام کے ذریعےامتِ مسلمہ کو تمام نمازوں کے اوقات بیان کیے گئے ، احادیث کی کتب میں اس حوالے سے تفصیلی روایات موجود ہیں ، ان میں یہ صراحت موجود ہے کہ نمازِ مغرب کا وقت وہ ہے کہ جب روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے یعنی افطار اور نمازِ مغرب کا ایک ہی وقت ہے اور اس پہ اتفاق ہے کہ غروبِ آفتاب ہوتے ہی مغرب کا وقت شروع ہو جاتا ہے، جس کا نتیجہ نکلتا ہے کہ غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی افطار کا وقت بھی شروع ہو جائے گا ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : و صلی بی یعنی المغرب حین افطر الصائم ۔

ترجمہ : حضرت جبریل علیہ السلام نے مجھے نمازِ مغرب اس وقت پڑھائی کہ جب روزہ دار اپنا روزہ افطار کرتا ہے ۔ (سنن ابی داؤد جلد 1 صفحہ 107 رقم الحدیث : 393 المکتبۃ العصریۃ بیروت)


علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یعنی حین غابت الشمس والاجماع علی ان وقت المغرب غروب الشمس ۔

ترجمہ : یعنی جب سورج غائب (غروب) ہو جائے ، (تو مغرب کا وقت ہو جاتا ہے) اور اس پر اجماع ہے کہ مغرب کا وقت غروبِ شمس ہے ۔ (شرح سنن ابی داؤد للعینی جلد 2 صفحہ 240 مطبوعہ الریاض،چشتی)


محدث کبیر حضرت امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ای دخل وقت افطارہ بان غابت الشمس و دخل اللیل ۔

ترجمہ : یعنی جب روزہ دار کے افطار کا وقت داخل ہو جاتا ہے ، اس طور پر کہ سورج غائب  (غروب) ہو جائے اور رات آجائے (تو مغرب کا وقت بھی شروع ہوجاتا ہے) ۔ (مرقاۃ المفاتیح جلد 2 صفحہ 520 دار الفکر بیروت)


صحابہ کرم رضی اللہ عنہ اور وقتِ افطار : ⏬


متعدد صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت ہے کہ وہ مغرب سے پہلے افطار کیا کرتے تھے ، جو واضح ثبوت ہے کہ غروب کے بعد نمازِ مغرب سے پہلے افطار کرنا بالکل درست ہے اور در اصل غروبِ آفتاب ہی وقتِ افطار ہے ۔ مشہور تابعی حضرت ابورجاء حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے متعلق فرماتے ہیں : كان ابن عباس يبعث مرتقبا يرقب الشمس، فإذا غابت أفطر، وكان يفطر قبل الصلاة ۔

ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک شخص کو اس بات پر مقرر فرماتے کہ وہ سورج کے غروب ہونے کا انتظار کرے ، پس جیسے ہی سورج غروب ہوتا (اور وہ شخص خبر دیتا) ، تو حضرت ابن عباس رضی عنہما فوراً افطار فرمالیتے ، آپ رضی اللہ عنہ نمازِ مغرب سے پہلے افطار فرمالیتے تھے ۔ (الصیام للفریابی صفحہ 57 مطبوعہ ھند)


حضرت حمید حضرت انس رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت کرتے ہیں : لم يكن ينتظر المؤذن في الإفطار وكان يعجل الفطر ۔

ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ روزہ افطار کرنے کےلیے مؤذن کا انتظار نہیں فرماتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ (سورج غروب ہونے کے بعداذان سے پہلے) جلدی روزہ افطار فرما لیتے تھے۔(الصیام للفریابی صفحہ 57 مطبوعہ ھند)


اجماعِ علمائے امت اور وقتِ افطار : ⏬


علماء کااس پر اجماع و اتفاق ہے کہ غروبِ آفتاب ہی افطار کا وقت ہے۔ جیسا کہ شارح بخاری امام ابن بطال رحمۃ اللہ علیہ صحیح بخاری کی متذکرہ بالا روایت کے تحت ارشاد فرماتے ہیں : أجمع العلماء أنه إذا غربت الشمس فقد حل فطر الصائم وذلك آخر النهار وأول أوقات الليل ۔

ترجمہ : علماء کا اس پر اجماع ہے کہ جب سورج غروب ہو جائے ، تو روزہ دار کو افطار کرنا حلال ہو جاتا ہے اور یہ دن کا آخری حصہ اور رات کا ابتدائی حصہ ہوتا ہے ۔ (شرح صحیح البخاری لابن البطال جلد 4 صفحہ 102 مکتبۃا لرشد الریاض،چشتی)


محدث کبیر امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ان الصوم ینقضی و یتم بتمام الغروب ھومما اجمعوا علیہ ۔

ترجمہ : روزہ غروبِ آفتاب کے ساتھ ختم اور مکمل ہو جاتا ہے ، اسی پر علمائے امت کا اجماع ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 4 صفحہ 1382 دار الفکر بیروت)


اہلِ تشیع اور اُن کے فضلہ خوروں کا یہ دعویٰ کرنا کہ غروب کے ساتھ رات شروع نہیں ہوتی ، بنیادی طور پر یہ دعوی ہی درست نہیں ، نہ اس پر کوئی شرعی دلیل قائم ہے ، اگر اِن کے پاس اس بات پر کوئی واضح صریح غیر مؤول دلیل موجود ہو ، تو پیش کریں ، بچہ بچہ جانتا ہے اور لغت کی کتابوں میں بھی واضح لکھا ہے کہ سورج ڈوبنے پر رات ہوتی ہے اور یہی تعریف و حکم تفسیر ، شرحِ حدیث ، فقہ اور لغت کی کتابوں میں موجود ہے کہ فقہی و شرعی طور پر غروب کے ساتھ ہی رات شروع ہو جاتی ہے نیز لغت کی کتب بھی اسی بات کی تائید کرتی ہیں ۔


حاشیہ طحطاوی علی المراقی میں ہے : النهار عبارة عن زمان ممتد من طلوع الفجر الصادق إلى غروب الشمس وهو قول أصحاب الفقه واللغة قوله: ”إلى الغروب“ هو أول زمان بعد غيبوبة تمام جرم الشمس بحيث تظهر الظلمة في جهة المشرق وفي البخاري عنه ﷺ : إذا أقبل الليل من ههنا فقد أفطر الصائم “ أي إذا وجدت الظلمة حسا في جهة المشرق فقد دخل وقت الفطر أو صار مفطرا في الحكم لأن الليل ليس ظرفا للصوم ۔

ترجمہ : طلوعِ صبحِ صادق سے غروب شمس تک پھیلے زمانے کودن کہتے ہیں اور یہ اصحابِ فقہ و لغت کا قول ہے ۔ ماتن کا قول ”الی الغروب یعنی غروب تک“ یہ سورج کا مکمل جِرم غائب ہونے کا ابتدائی وقت ہوتا ہے، اس حیثیت سے کہ مشرق کی جانب اندھیرا ظاہر ہو جاتا ہے (اگرچہ ابھی پورے آسمان پہ اندھیرا نہیں ہوتا) اور بخاری شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے ” جب یہاں سے رات آجائے ، تو روزہ دار روزہ افطار کرلے ۔ “ یعنی جب تم مشرق کی سمت حسی طور پر اندھیرا پا لو ، تو افطار کا وقت داخل ہو گیا یا تم حکمی طور پر مُفطر / روزہ افطار کرنے والے ہو جاؤ گے ، کیونکہ رات روزے کےلیے ظرف نہیں ہے ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی صفحہ 731 دار الکتب العلمیۃ بیروت،چشتی)


قرآن کریم کے احکام کی تشریح و تعیین کےلیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے اقوال و افعال سے رہنمائی لینا ضروری ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حکم ثابت ہو جائے ، تو اُس کے برخلاف کسی فرد کی کوئی تشریح و توضیح قبول نہیں کی جا سکتی ، جبکہ وقتِ افطار کے متعلق احادیثِ مبارکہ سے واضح طور پر بیان کیا جا چکا کہ غروبِ آفتاب کے ساتھ روزہ مکمل ہو جاتا ہے اور اب روزے دار کو افطار کا حکم ہے ، لہٰذا اس کے برخلاف کسی فرد کافرد یا گروہ کا قول تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔


شرعی طور پر رات ہونے کےلیے اندھیرا ہونے کو ضروری قرار دینا ، اسی طرح روزہ افطار کرنے کےلیے اندھیرے کو شرط قرار دینا ، یہ بھی غلط و باطل ہے ، اس لیے کہ شرعی طور پر غروبِ شمس سے رات کی ابتداء ہو جاتی ہے ، اگرچہ ابھی مکمل طور پر اندھیرا نہ چھایا ہو ۔ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ ایک مقام پہ فرماتے ہیں : ثم لما بحثنا عن حقيقة الليل في قوله: ﴿ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ ﴾وجدناها عبارة عن زمان غيبة الشمس بدليل أن الله تعالى سمى ما بعد المغرب ليلاً مع بقاء الضوء فيه فثبت أن يكون الأمر في الطرف الأول من النهار كذلك۔۔۔۔ اختلفوا فی ان اللیل ماھو ؟ فمن الناس من قال آخر النھار علی اولہ فاعتبروا فی حصول اللیل زوال آثار الشمس کما حصل اعتبار زوال اللیل عند ظھور آثار الشمس ثم ھؤلاء منھم من اکتفیٰ بزوال الحمرۃ و منھم من اعتبر ظھور الظلام التام وظھور الکواکب الا ان الحدیث الذی رواہ عمر یبطل ذلک و علیہ عمل الفقھاء ۔

ترجمہ : پھر جب ہم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ”ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ“ میں موجود لفظ لیل / رات کی حقیقت کے متعلق بحث کی ، تو ہم نے اسے سورج غائب ہونے سے عبارت پایا ، اس دلیل کی وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے روشنی باقی ہونے کے باوجود مغرب کے بعد کو رات قرار دیا ، تو ثابت ہوا کہ معاملہ دن کے پہلے حصے میں بھی ایسا ہی ہے ۔۔۔۔ پھر اس میں اختلاف ہے کہ رات کیا ہے ؟ بعض نے کہا کہ دن کے اول کے بعد اس کا آخر رات ہے ، تو انہوں نے رات آنے میں سورج کے آثار کے ختم ہونے کا اعتبار کیا ہے جیسا کہ سورج کے آثار ظاہر ہونے کے وقت رات کے ختم ہونے کا اعتبار کیا ہے ، پھر ان میں سے بعض نے سرخی کے زائل ہونے کا کافی سمجھا اور بعض نے مکمل طور پر اندھیرا چھا جانے اور ستارے ظاہر ہونے کا اعتبار کیا ہے ، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جس حدیث کو روایت کیا ، وہ اس رائے کو باطل قرار دیتی ہے (کیونکہ اس میں وقتِ افطار سورج غروب ہونے کو بیان کیا گیا ہے) اور فقہائے کرام کا عمل اسی کے مطابق ہے ۔ (تفسیر کبیر جلد 5 صفحہ 273 / 275 دار احیاء التراث العربی بیروت )


پھر ایک حدیثِ مبارک سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ اگرغروب آفتاب ہو گیا ، تو افطار کر سکتے ہیں ، اگرچہ ابھی آسمان پہ مکمل طور پر اندھیرا نہ چھایا ہو ۔ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر وهو صائم فلما غربت الشمس قال لبعض القوم يا فلان قم فاجدح لنا فقال يا رسول الله لو امسيت قال انزل فاجدح لنا قال يا رسول الله فلو امسيت قال انزل فاجدح لنا قال إن عليك نهارا قال انزل فاجدح لنا فنزل فجدح لهم فشرب النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال إذا رايتم الليل قد اقبل من ها هنا فقد افطر الصائم ۔

ترجمہ : ہم رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا روزہ تھا، جب سورج غروب ہو گیا ، تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ایک صحابی سے فرمایا کہ اے فلاں ! میرے لیے اٹھ کے ستو گھولو ۔ انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! تھوڑی دیر ٹھہر جاتے / ابھی دن باقی ہے ۔ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا : اتر کر ہمارے لیے ستو گھولو ۔ اس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! تھوڑی دیر ٹھہر جاتے / ابھی دن باقی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر وہی حکم دیا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھولو ۔ انہوں نے عرض کی کہ ابھی دن باقی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مرتبہ پھر فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھولو ۔ چنانچہ وہ اترے اور ستو گھولا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ستو نوش فرمایا ۔ پھرارشاد فرمایا : جب تم دیکھ لو کہ رات اس (مشرق) کی طرف سے آ گئی ، تو روزہ دار کو چاہیے کہ افطار کر لے ۔ (صحیح بخاری جلد 3 صفحہ 36 رقم الحدیث : 1955 دارطوق النجاۃ بیروت،چشتی)


صحابی کے الفاظ ”إن عليك نهارا “ یعنی ابھی دن باقی ہے ۔ اس کے تحت امام شرف الدین نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : لتوھمہ ان ذلک الضوء من النھار الذی یجب صومہ ۔

ترجمہ : صحابی کو یہ وہم ہوا کہ اس وقت جو روشنی دکھائی دے رہی ہے ، یہ دن کی روشنی ہے ، جس میں روزہ رکھنا / مفسداتِ صوم سے بچے رہنا واجب ہوتا ہے (جبکہ وہ غروب کے بعد دکھائی دینے والی روشنی تھی) ۔ (شرح صحیح المسلم للنووی جلد 1 صفحہ 211 دار احیاء التراث العربی بیروت)


حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم اور حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہما غروب آفتاب کے بعد نمازِ مغرب ادا کر کے افطار فرمایا کرتے تھے ۔ اس روایت سے اہلِ تشیع اور اُن کے فضلہ خوروں کا مدعا ہرگز ثابت نہیں ہو تا ، کیونکہ ان کے نزدیک غروب آفتاب کے وقت افطار کرنا درست نہیں ، جبکہ اس روایت میں ایسے کوئی الفاظ نہیں ، جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ غروب آفتاب کے وقت افطار کرنا درست نہیں ، اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہو سکتا ہے کہ غروب کے فوراً بعد افطار کرنا لازم و واجب نہیں ہے ، اگر کوئی مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد افطار کرے ، تو بھی جائز ہے ہمارے دعوے کی دلیل یہ ہے کہ ان حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عام معمول یہی تھا کہ مغرب سے پہلے افطار کر لیتے تھے ، لیکن کبھی کبھار مغرب کے بعد بھی افطار فرما لیتے تاکہ لوگ مغرب سے پہلے افطار کو لازم و واجب نہ سمجھ لیں ۔


مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے : أن عمر وعثمان كانا يصليان المغرب إذا رأيا الليل كانا يفطران قبل أن يصليا ۔

ترجمہ : حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما جب رات کی تاریکی دیکھتے ، تو نما ز مغرب ادا فرماتے اور نماز سے قبل ہی روزہ افطار کرتے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد 2 صفحہ 348 مکتبۃ الرشد الریاض)


محدث کبیر امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یفطران بعد الصلاۃ فھو لبیان جواز التاخیر لئلا یظن وجوب التعجیل ۔

ترجمہ : حضرت سیدنا عمر اور حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نمازِ مغرب کے بعد افطار فرماتے ، تو یہ عمل تاخیر سے افطار کرنے کے جواز کو بیان کرنے کےلیے تھا تاکہ جلدی افطار کو واجب گمان نہ کیا جانے لگے ۔ (مرقاۃ المفاتیح جلد 4 صفحہ 1385 دار الفکر بیروت) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Tuesday, 24 February 2026

پالتو گدھے کے گوشت کی حرمت پر اجماع ہے

پالتو گدھے کے گوشت کی حرمت پر اجماع ہے

محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر پالتو گدھے کے گوشت کو حرام قرار دیا تھا ۔ آئمہ سلف و خلف اور جملہ علماء کا پالتو گدھے کے گوشت کی حرمت پر اجماع ہے ۔ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے : أنَّ أبَا ثَعْلَبَةَ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللہ صلی الله عليه وآله وسلم لُحُومَ الْحُمُرِ الْأهْلِيَّةِ ۔

ترجمہ : حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت حرام فرمایا ہے ۔ (صحيح بخاری جلد 5 صفحہ 2102 رقم : 5206 دار ابن کثير اليمامة بيروت)(صحيح مسلم جلد 3 صفحہ 1538 رقم 1936 دار احياء التراث العربی)


عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہ رضي اللہ عنهما قَالَ نَهَی رَسُولُ اللہ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأهْلِيَةِ ۔

ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے روز پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۔ (صحيح بخاری جلد 4 صفحہ 1544 رقم : 3982،چشتی)(صحيح مسلم جلد 3 صفحہ 1541 رقم : 1941)


عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ أنَّ رَسُولَ اللہ صلی الله عليه وآله وسلم نَهَی عَنْ أکْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ وَالْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ ۔

ترجمہ : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑے ، خچر اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ (سنن ابو داؤد جلد 3 صفحہ 352 رقم : 3790 دار الفکر)(سنن نسائی السنن الکبری جلد 3 صفحہ 159 رقم : 4844)


پالتو گدھے کے گوشت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا اور غزوہ خیبر کے موقع پر باقاعدہ اعلان کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گدھے کے گوشت سے منع فرمایا ہے ، بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ہنڈیا میں یہ گوشت پکایا جارہا تھا ، اس اعلان کے بعد انہوں نے ہنڈیا میں چڑھے ہوئے گوشت کو پھینک دیا ، جس طرح شراب کی حرمت سے قبل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس شراب موجود تھی ، لیکن اعلان ہونے کے بعد شراب بہا دی گئی تھی ، اسی طرح گدھے کے گوشت کو بھی گرادیا گیا تھا ۔


ممانعت کی روایت کئی کتابوں میں موجود ہے ، مسند احمد میں ہے : حدثنا سفيان عن الزهري عن الحسن وعبد الله ابني محمد بن علي عن أبيهما، وكان حسنٌ أرضاهما في أنفسنا، أن علياً قال لابن عباس: إن رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نهى عن نكاح المتعة وعن لحوم الحمر الأهلية زمن خيبر ۔ (مسند أحمد، مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه جلد ۱ صفحہ ۵۲۰ مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ) ۔ اس کے علاوہ  ’’سنن ابی داود‘‘ ، ’’سنن ابن ماجہ‘‘، ’’المعجم الاوسط‘‘ اور دیگر کئی کتب میں بھی یہ ممانعت منقول ہے ۔


امام طبرانی علیہ الرحمہ نے اس کے ساتھ علت بھی ذکر کی ہے کہ یہ ’’رجس‘‘  ہے ،  فرماتے ہیں : حدثنا أحمد بن يحيى بن خالد بن حيان قال: نا محمد بن يحيى بن إسماعيل الصدفي قال: نا عبد الله بن وهب قال: نا جرير بن حازم قال: نا أيوب السختياني، وعبد الله بن عون، وهشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن أنس بن مالك قال: أتى رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خيبر، فقيل: يا رسول الله، أفنيت الحمر، فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أبا طلحة، فنادى: «إن الله ورسوله ينهيانكم عن لحوم الحمر الأهلية، فإنها رجس»". (المعجم الأوسط للطبراني، من اسمه أحمد جلد ۱ صفحہ ۴۳ رقم الحدیث : ۱۱۷ مطبوعہ دارالحرمین قاہرہ،چشتی) 


امام طبرانی علیہ الرحمہ نے ایک روایت میں یہ بھی نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہانڈی میں بنے ہوئے گوشت کو گرانے کا حکم دیا ۔ ملاحظہ فرمائیں : حدثنا أحمد بن رشدين قال: نا سعيد بن أبي مريم قال: نا إبراهيم بن سويد المدني قال: حدثني يزيد بن أبي عبيد، مولى سلمة قال: أخبرني سلمة بن الأكوع، أنهم يوم افتتحوا خيبر، رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم نيراناً تتوقد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما هذه النيران؟» قالوا: على لحوم الحمر الأنسية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أهريقوا ما فيها»، وكسروها، يعني: القدور، فقال رجل من القوم: أو نغسلها يا رسول الله. فقال: «أو ذاك» ۔ (المعجم الأوسط من اسمه أحمد جلد ۱ صفحہ ۷۸ رقم الحدیث : ۲۲۳ مطبوعہ دارالحرمین قاہرہ) ۔ ہانڈی کے گوشت پھینکنے سے متعلق روایت ’’مسند ابی عوانہ‘‘  میں بھی مذکور ہے ۔


غرض یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے پالتو گدھے کے گوشت کی صراحتاً ممانعت آئی ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ناپاک قرار دیا ، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس سے حرمت ہی مراد لی ہے ، اسی لیے انہوں نے وہ گوشت بھی پھینک دیا جو پکنے کے لیے ہانڈی میں موجود تھا ۔ لہٰذا گھریلو یا پالتو گدھے کی حرمت نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سے ثابت ہے ۔


گدھا حرام جانوروں میں داخل ہے ، گدھے کا گوشت کھانا حرام ہے : وأما الحمار الأهلي فلحمه حرام، وكذلك لبنه وشحمه، واختلف المشايخ في شحمه من غير وجه الأكل فحرمه بعضهم قياسا على الأكل وأباحه بعضهم وهو الصحيح ، كذا في الذخيرة ۔ (فتاوی ہندیہ کتاب الذبائح الباب الثانی فی بیان ما یؤکل من الحیوان جلد 5 صفحہ 290 دارالفکر بیروت)


حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : وحشی گدھا یعنی نیل گائے بالاتفاق حلال ہے ، پالتو گدھے کی حرمت میں گفتگو ہے ۔ جمہور علماء کے نزدیک گدھا حرام ہے ۔ (مرأة المناجیح جلد 5 صفحہ 991) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Sunday, 22 February 2026

اسلام میں غریبوں کے متعلق تعلیمات اور حقوق اللہ و حقوق العباد

اسلام میں غریبوں کے متعلق تعلیمات اور حقوق اللہ و حقوق العباد

محترم قارئینِ کرام : غربت اور غریبوں کو ہمارے مُعاشرےمیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، مگر حقیقت میں ایسی غُربت و مسکینی میں بے شمار برکتیں ہیں ، ایسی غربت و مسکینی میں مبتلا لوگ اسلام میں حقیر نہیں بلکہ لائقِ محبّت ہیں اور ایسے ہی غریب و مسکین لوگوں کےگروہ میں شامل ہونے کےلیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دُعا کرتے اور اسی گروہ کو اپنی رَفاقت کی برکتوں سے نَوازنےکی خواہش رکھتے تھے ۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مَساکین سے محبّت کرو ، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دُعا میں یہ اَلفاظ شامل فرماتے سنا : اَللَّہُمَّ اَحْیِنِیْ مِسْکِیْنًا وَ اَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًا وَاحْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَۃِ الْمَسَاکِیْنَ ۔

ترجمہ : اےاللہ ! مجھے مسکینی کی حالت میں حیات اور مسکینی کی حالت میں ہی وِصال عطاء فرما اور گروہِ مساکین میں میرا حشر فرما ۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب مجالسۃ الفقراء جلد ۴ صفحہ ۴۳۳ حدیث نمبر ۴۱۲۶)


ایک اور مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےحضرتِ عائشہ صِدِّیقہ رضی اللہ عنہا کو مُخاطَب کر کے اِرشاد فرمایا : یَاعَائِشَۃُ اَحِبِّی الْمَسَاکِیْنَ وَقَرِّبِیْہِمْ فَاِنَّ اللہَ یُقَرِّبُکِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔

ترجمہ : اے عائشہ ! مسکینوں سے مَحَبَّت کرو ، اُنہیں اپنے قریب رکھو تاکہ بروزِ قِیامت اللہ کریم تمہیں اپنے قُرْب سے نَوازے ۔ (مشکاۃ کتاب الرقاق باب فضل الفقراءالخ الفصل الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۵۵ حدیث نمبر ۵۲۴۴)


حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : معلوم ہوا کہ دنیا میں جوشخص مساکین اولیاء اللہ سے قریب ہوگا وہ کل قیامت میں خداسے قریب ہوگا ۔ (مراۃ المناجیح جلد ۷ صفحہ ۸۸،چشتی)


دِینِ اسلام ایک کامل و اکمل اور اللہ پاک کا پسندیدہ دِین ہے ، جس کے بارے میں خود اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا : اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ ۔

ترجمہ : آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دِین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اِسلام کو دین پسند کیا ۔ (سورہ المآئدۃ آیت نمبر 3)


اِس کامل و اکمل دِین نے اپنی روشن تعلیمات کے ذَریعے جہاں ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنے کا حکم دیا وہاں بطورِ خاص غریب مسکین لوگوں کا خیال رکھنے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کا بھی حکم دیا۔ بہت سے ایسے اُمور ہیں جن میں ہم غریب مسکین لوگوں کے ساتھ خیرخواہی کرتے ہوئے ان کی ضروریات کو پورا کر کے ان کا خیال رکھ سکتے ہیں،اس سے ان کا دل خوش ہو گا اور مسلمان کا دِل خوش کرنے کے بھی کیا کہنے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا: اللہ پاک کے نزدیک فرائض کی اَدائیگی کے بعد سب سے افضل عمل مسلمان کے دِل میں خوشی داخل کرنا ہے ۔ (معجم کبیر جلد 11 صفحہ 59 حدیث نمبر 11079)


اسلام میں غریب مسکین لوگوں کو کھلانے، پلانے اور لباس پہنانے کی ترغیب دی گئی ہے جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے : جس مسلمان نے کسی بےلباس مسلمان کو کپڑا پہنایا ، اللہ پاک اسے جنتی لباس پہنائے گا اور جس نے کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلایا اللہ پاک اُسے جنتی پھل کھلائے گااور جس نے کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلایا ، اللہ پاک اُسے مُہر لگی ہوئی پاکیِزہ شَراب پلائے گا ۔ (سنن ابوداؤد جلد 2 صفحہ 180 حدیث نمبر 1682،چشتی)


اسلام میں غُرباء کے دکھوں کا مداوا کرنے اور ان کو قرضوں کے بوجھ سے آزاد کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے: اللہ پاک کو سب سے پیارا عمل کسی بھوکے مسکین کو کھانا کھلانا ، اس کو قرض سے نجات دِلانا یا اس کا غم دور کرنا ہے ۔ (معجم کبیر جلد 3 صفحہ 218 حدیث نمبر 3187)


غریبوں کی حاجت روائی کرنا ، ان سے تکالیف دور کرنا اسلام کی خوبصورت اقدار ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا : ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ظالم کے حوالے کرے ۔ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں رہتا ہے تو اللہ پاک اس کی حاجت روائی میں رہتا ہے ۔ جو شخص مسلمان سے کسی ایک تکلیف کو دور کر دے تو اللہ پاک قیامت کی تکالیف میں سے اس کی ایک تکلیف دور کر دے گا ۔ جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ پاک قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔ (بخاری جلد 2 صفحہ 126 حدیث نمبر 2442،چشتی)


شادی بیاہ یا عید وغیرہ خوشی کے مواقع پر غریبوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کیجیے کہ اِس سے جہاں ان کے دلوں میں خوشی پیدا ہو گی وہاں اللہ پاک کی رَحمت سے آپ کی خوشیوں کو بھی چار چاند لگ جائیں گے اور آپ کو حقیقی خوشی نصیب ہو گی ۔ عموماً دعوت وغیرہ خوشی کے موقع پر امیروں کو بلایا جاتا ہے اور غریبوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اس لیے حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا گیا: بُرا کھانااس ولیمہ کا کھانا ہے، جس میں مال دار لوگ بلائے جاتے ہیں اور فقرا چھوڑ دیے جاتے ہیں ۔ (بخاری جلد 3 صفحہ 455 حديث نمبر 5177)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد  پہلے خود ادا فرمائے پھر اپنے غلاموں کو بھی ان کے ادا کرنے کی تلقین فرمائی ۔ یہی وجہ ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غارِ حرا میں کئی کئی روز اللہ عزوجل کی یاد میں بسر فرما رہے تھے تو پہلی وحی کے نزول کے وقت اُم المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی صفات عالیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے بیان فرماتی ہیں : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الكَلَّ ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الحَقِّ ۔ (صحیح بخاری بَابُ بَدْءِ الوَحی،چشتی)

ترجمہ : بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  صلہ رحمی کرتے ہیں ، لوگوں (کمزوروں ، یتیموں اور غریبوں) کا بوجھ اٹھاتے ہیں، ناداروں کےلیے کماتے ہیں،مہمان نوازی کرتے ہیں اور راہِ حق میں پیش آنے والی مشکلات میں مددکرتے ہیں ۔


شومئی قسمت کچھ لوگ ظاہری عبادت پہ اکتفا کرتے ہیں وہ نہ تو اس عباد ت کے باطنی پہلو کا خیال رکھتے ہیں اور نہ حقوق العباد کو خاطر میں لاتے ہیں اور اپنے آپ کو اس بات سے تسلی و دلاسہ دیتے ہیں کہ چونکہ ہم ظاہری ارکانِ اسلام (نماز ، روزہ ، زکوٰۃ وحج) کو ادا کر رہے اور یہی ہماری نجات کےلیے کافی ہے ۔ بلاشبہ ظاہری ارکانِ اسلام پہ عمل پیرا ہونا بہت بڑی سعادت ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ہر ظاہری عبادت کا ایک باطنی پہلو بھی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صر ف اللہ عزوجل کی ظاہری و باطنی عبادت (حقوق اللہ) پہ اخلاص سے عمل پیرا ہونا سکھایا بلکہ حقوق العباد کی مکمل آگاہی و اہمیت سے بھی آشنا فرمایا ہے ۔ اِسی مناسبت سے صرف تین پہلوؤں غریب کی مدد ، بھوکوں کو کھانا کھلانا ، ہمسائیوں کا خیال کے متعلق سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رہنمائی لینے کی سعی سعید کرتے ہیں : ⏬


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فر مایا : بیوہ اور مسکین (کی مصلحتوں) کےلیے کوشش کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثل ہے یا اس شخص کی طرح ہےجو رات کوقیام کرتا ہو اور دن کو روزہ رکھتا ہو ۔ (صحیح بخاری کتاب النفقات)


حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فر مایا : مَیں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ ارشاد فرماتے ہوئے) اپنی شہادت اور بیچ والی انگلی کو ملا کر ارشادفرمایا (یعنی بالکل قریب ہوں گے) ۔ (صحیح بخاری کتاب الادب)


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ ی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فر مایا : جو شخص کسی مسلمان کی کوئی دنیاوی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کی مصیبتوں میں سے کو ئی مصیبت دور فر مائے گا ، جو شخص کسی تنگ دست کےلیے آسانی پیدا کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کےلیے آسانی پیدا فر مائے گا اور جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے  اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فر مائے گا ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے ۔ (صحیح مسلم كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ،چشتی)


حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی کوئی ضرورت پوری کرنے کے سلسلے میں چلتا ہے یہاں تک کہ اسے پورا کر دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر پانچ ہزار فرشتوں کا سایہ کر دیتا ہے وہ فرشتے اس کے لئے اگر دن ہوتو رات ہونے تک اور رات ہو تو دن ہونے تک دعائیں کرتے رہتے ہیں اور اس پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں اور اس کے اٹھنے والے ہر قدم کے بدلے اس کےلیے نیکی لکھی جاتی ہے اور اس کے رکھنے والے ہر قدم کے بدلے اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے ۔ (شعب الایمان باب التعاون علی البر والتقوٰی)


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے تمام لوگوں کی ذمہ داری اپنے اوپر لے رکھی تھی جو قرض کی حالت میں انتقال کر جاتے اور اپنے پیچھے اپنی بیوہ اور یتیم بچے چھوڑ جاتے-حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد  فرمایا : میں مؤمنوں کی جانوں سے زیادہ ان پہ متصرف ہوں پس مؤمنین میں سے جو فوت ہو گیا اور اس نے قرض کا بوجھ چھوڑا تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جس نے مال چھوڑا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ۔ (صحیح بخاری كِتَابُ النَّفَقَاتِ)


ان احادیث مبارکہ میں غور کرنے سے غریب کی خدمت کرنے کی فضیلت و اہمیت سے آگاہی نصیب ہوتی ہے ۔ غریب کی خدمت میں عظمت کے پیشِ نظر اکثر علماء کرام نے نوافل پہ خدمت خلق کو ترجیح دی ہے ۔ آخری حدیث مبارک کے مطالعہ سے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ ہم سب مسلمانوں میں سے کتنے خوش نصیب افراد کی قسمت میں اس سنتِ مبارک کی ادائیگی ہے کہ وہ کسی غریب کے فوت ہو جانے کے بعد اس کی قرض کی ادائیگی کا بندوبست کرتا ہو ؟ یہ حدیثِ مبارک تمام مسلمانوں کو دعوت فکر دیتی ہے ۔


حضرت ابوہريرهرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں عرض کی (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاں عورت کی نماز ، روزے اورصدقہ کی کثرت کا خوب چرچا ہے مگروہ اپنے پڑوسی کو اپنی زبان سے تکلیف دیتی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ دوزخی ہے ۔ اس شخص نے (دوبارہ) عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاں عورت کی نماز ، روزے اورصدقہ میں کمی ہے (یعنی یہ ان اعمال میں اس کی شہرت نہیں ہے) اور وہ پنیر کے چھوٹے ٹکڑے صدقہ کرتی ہے لیکن اپنے پڑوسی کو زبان سے تکلیف نہیں دیتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : وہ جنتی ہے ۔ (مسند امام احمد بن حنبل باب مسند ابی ہریرہ)


اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت بیان کرتی ہیں کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے جبریل مسلسل پڑوسی کے متعلق وصیت کرتے رہے حتی کہ میں نے گمان کیا کہ وہ عنقریب اس کو وارث (وراثت میں شریک) قرار دے دیں گے (یعنی ان کے بہت زیادہ حقوق کے بارے میں بتایاگیا) ۔ (مسند امام احمد بن حنبل باب مسند ابی ہریرہ)


حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ (مجھے)  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر! جب تم شوربا پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ رکھو اور اپنے پڑوسیوں کو یاد رکھو ۔ (صحیح بخاری بَابُ الوَصَاةِ بِالْجَارِ،چشتی)


اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روايت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےارشاد فرمایا : وہ بندہ مؤمن نہیں جو خود پیٹ بھر کر رات گزارے اور  اس کا پڑوسی اس کے پڑوس میں بھوکا رہے ۔ (المستدرك على الصحيحين كِتَابُ الْبُيُوعِ)


اکثر ہمارے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہے کہ پڑوسی صرف گھر کے ساتھ والا ہوتا ہے ۔ امام طبرانی کی روایت ہم سے ہماری اس سوچ پہ نظر ِ ثانی کاتقاضاکرتی ہے کہ : حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ روایت بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق،  حضرت عمر فاروق اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما کو مسجد کے دروازے پہ بھیجا اور وہ اس کے دروازے پہ کھڑے ہو کر بلند آواز سے فرماتے : خبردار ! پڑوسی (دائیں ، بائیں ، آگے ، پیچھے) چالیس گھر تک ہے اور وہ جنت میں نہیں جائے گا جس شخص کی ایذا رسانی (تکلیف پہنچانے) سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ رہے ۔ (المعجم الكبيرللطبرانی باب الكاف)


اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ : مَیں نےعرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے دو پڑوسی ہیں ان میں سے کس کو ہدیہ دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : ان میں سے جس کے گھر کا دروازہ تمہارے گھر کے زیادہ قریب ہو ۔ (صحیح بخاری كِتَابُ الشفعه)


امام بیہقی نے شعب الایمان میں پڑوسیوں کے حقوق اور اقسام کے بارے میں ایک طویل روایت رقم فرمائی ہے یہاں اس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہوکہ پڑوسی کے کیا حقوق ہیں ؟ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حقوق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اس کے حقوق میں سے ہے کہ) جب وہ تجھ سے مدد طلب کرے تو اس کی مدد کرے ، جب تجھ سے قرض طلب کرے تو اسے قرض دے،جب وہ بیمارہو اس کی عیادت کرے اور اس کو بھلائی پہنچے تو اس کو مبارک باد دے اور جب اس کو مصیبت پہنچے تو اس کی تعزیت کرے، جب اس کی وفات ہو تو اس کے جنازے میں شریک ہو اور اگر پھل خریدو تو اس کو ہدیہ کرو-اگر نہ دے سکو تو اپنے گھر میں چپکے سے لے جاؤ (تاکہ اس کے بچوں کو پتا نہ چلے اور ان کی دل آزاری نہ ہو ) ۔ مزید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : پڑوسی کی تین اقسام ہیں ایک وہ جس کے تین حقوق ہیں ۔ رشتہ دارمسلمان پڑوسی اس کاپڑوس کا حق ، حقِ قرابت اور حقِ اسلام ہے اوروہ پڑوسی جس کے دوحقوق ہیں وہ مسلمان پڑوسی ہے اس کاپڑوس کا حق اور حقِ اسلام ہے اور وہ پڑوسی جس کا صرف ایک حق ہے وہ کافر پڑوسی ہے اس کا صرف پڑوس کا حق ہے (لیکن اس کا بھی حق ہے) ۔


یہ بات ذہن نشین رہے کہ پڑوسی کا اطلاق صرف گھر کے ساتھ والے پر نہیں ہوتا بلکہ مفسرین کرام نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نشین یا پہلو کا ساتھی بھی پڑوسی ہے ۔ یعنی جس کے ساتھ دن رات کا اٹھنا بیٹھنا ہو ۔ اس اصطلاح سے مراد ایک گھر یا عمارت میں رہنے والے مختلف لوگ ، دفتر ، فیکٹری یا کسی اور ادارے میں ساتھ کام کرنے والے افراد ، تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے ساتھی ، دوست اور دیگر ملنے جلنے والے احباب شامل ہیں ۔


حضرت ابوہريره رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ : ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  مجھے سخت بھوک لگی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج (مطہرات) کی طرف کسی کو بھیجا (تاکہ وہ کھانے کی کوئی چیز لائے) پس اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنھُنَّ کے پاس کوئی چیز نہ پائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی شخص ہے جو اس رات اس کی مہمان نوازی کرے تو اللہ عزوجل اس پر رحم فرمائے گا  انصار میں سے ایک شخص نے عرض کی : میں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اس کی مہمان نوازی کروں گا) پھر اس نے اپنی بیوی کے پاس جا کر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مہمان کی خاطر مدارت کرو کوئی چیز چھپا کر نہ رکھو اس نے کہا : (واللہ) میرے پاس تو صرف اس بچی کا کھانا ہے ۔ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب یہ رات کے کھانے کا ارادہ کرے تو اس بچی کو سلا دینا ، اس چراغ کو بجھا دینا اور ہم یہ رات بھوکے گزاریں گے اس کی بیوی نے ایسا کیا پھر وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ عزوجل خوش ہوا یا ارشادفرمایا اللہ عزوجل فلاں مرد اور فلاں عورت کی کارگزاری سے ہنسا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت مبارک نازل فرمائی : وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَ لَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ط وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (سورہ حشر آیت نمبر 9)

ترجمہ : اور یہ لوگ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ یہ خود سخت ضرورت مند ہوں اور جو لوگ اپنے نفس کی بخیلی سے بچا لئے گئے تو یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔ (صحیح بخاری کتاب التفسیر)


حضرت ابو موسٰی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : العانی یعنی قیدی کو چھڑاؤ ، بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو ۔ (صحیح بخاری بَابُ فَكَاكِ الأَسِيرِ)


سيدنا ابوہريره رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں عرض کی گئی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعمال میں سے سب سے افضل عمل کون سا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےا رشادفرمایا : (سب سے افضل عمل یہ ہے) کہ تم اپنے مؤمن بھائی کو خوشی پہنچاؤ یا اس کا قرض ادا کرو یا اسے کھانا کھلاؤ ۔ (شعب الایمان باب التعاون علی البر والتقوٰی،چشتی)


حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کری صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا (یہ سن کر) ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اے اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کس کےلیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : جو اچھی طرح بات کرے ، کھانا کھلائے ، خوب روزہ رکھے اور اللہ کی رضا کےلیے رات میں نماز پڑھے جب کہ لوگ سوئے ہوں ۔ (سنن ترمذی أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)


اسی طرح حضرت ہانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ایسا عمل بتائیں جو جنت واجب کر دے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تُو اچھی بات کرنے اور کھانا کھلانے کو اپنے اوپر لازم کرلے (یعنی یہ کام کیاکر) ۔ (مصنف ابن شیبہ کتاب الادب)


جو لوگ اپنے رب کی دی ہوئی وسعت و تر قی کے باوجود ایسے ضرورت مند وں کےلیے خرچ نہیں کرتے وہ غر یبوں کی امداد نہ کر نے کے وبال کو سمجھیں ۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے : خُذُوْہُ فَغُلُّوْہُ ۔ ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْہُ ۔ ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُہَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُکُوْہُ ۔ اِنَّہٗ کَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللہِ الْعَظِیْمِ ۔ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ ۔ (سورہ الحاقہ آیت نمبر 30 ۔ 34)

ترجمہ : (حکم ہوگا:) اسے پکڑ لو اور اسے طوق پہنا دو ۔ پھر اسے دوزخ میں جھونک دو ۔ پھر ایک زنجیر میں جس کی لمبائی ستر گز ہے اسے جکڑ دو ۔ بے شک یہ بڑی عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور نہ محتاج کو کھانا کھلانے پر رغبت دلاتا تھا ۔


اسی طرح اللہ عزوجل نے ابرار لوگوں کی صفات کا تذکر ہ فرماتے ہوئے سورۃ الدھر میں ارشادفرمایا : وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا ۔ اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا ۔ (سورہ دھر آیت نمبر 8 ۔ 9)

ترجمہ : اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اَسِیر (قیدی) کو (اور) ان سے کہتے ہیں ہم تمہیں خاص اللہ کے لیے کھانا دیتے ہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے غرباء و فقراء اور دیگر ضرورت مندوں کے لئے زکوٰۃ و صدقات کی صورت میں ایسا مضبوط و مستحکم نظام قائم فرمایا کہ اگر ہر مسلمان اپنے حصہ کا فریضہ ادا کرے تو دنیائے اسلام کے طول و عرض میں کہیں بھی محتاج اور گدا گر نظر نہ آئیں ۔ اپنے حصے کے فریضے ادا نہ کرنے کے سبب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ تنگ دستی سے پریشان لوگ عیسائی مشینریوں اور بد مذہبوں کی امداد کے بدلے اپنے ایمان کو فروخت کرنے پر مجبور نظر آرہے ہیں جس کا بھرپور فا ئدہ اٹھایا جارہا ہے ۔ کاش کہ مسلمان اپنے فرائض کی ادائیگی پہ سوچتے ، اس کی طرف توجہ دیتے اور اللہ عزوجل کے اس فرمان مبارک پر عمل کرتے : کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھڑانے میں (اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت، یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں ۔ (سورہ البقرہ آیت نمبر 177)


دوسرے مقام پہ ارشادفرمایا : تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لیے ہے اور جو بھلائی کرو بےشک اللہ اسے جانتا ہے  ۔ (سورہ البقرہ آیت نمبر 215)


مذکورہ تمام دلاٸل سے معلوم ہوا کہ اسلام انسان کو حقوق اللہ ، حقوق العباد اور غربا و فقرا کی مدد کا کامل تکمیل کا درس دیتا ہے ۔ اللہ عزوجل ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطاء فرماۓ آمین ۔ تمام دردِ دل رکھنے والے مسلمانوں سے گذارش ہے کہ ادارہ پیغامُ القرآن پاکستان کے زیرِ انتظام دین کی نشر و اشاعت کرنے ، دینی تعلیم عام کرنے خصوصاً مختلف علاقوں کے دور دراز دیہاتوں کے غریب بچوں کو مفت دینی و عصری تعلیم دینے کے سلسلہ میں اور دینی کتب تفاسیر قرآن ، کتبِ احادیث عربی اردو کی شروحات ، دیگر اسلامی کتب ، دین کا درد رکھنے والے صاحبِ حیثیت مسلمانوں سے گذارش ہے کہ دینی کتب کی خریداری کےلیے تعاون فرمائیں جزاکم اللہ خیراً کثیرا آمین ۔ ہمارے اکاؤنٹ نمبرز یہ ہیں : بڑے بیٹے صاحبزادہ پروفیسر حافظ محمد جواد چشتی کا اکاؤنٹ نمبر : 02520107640866 میزان بینک چوھنگ لاہور پاکستان ۔

موبی کیش اکاؤنٹ نمبر : 03009576666 ۔ ایزی  پیسہ اکاؤنٹ نمبر : 03469576666 ۔

موبی کیش و ایزی  پیسہ اکاؤنٹ نمبر : 03215555970 ۔ (دعا گو ڈاکٹر مفتی فیض احمد چشتی)

ہے کوٸی دردِ دل رکھنے والا مسلمان




Saturday, 21 February 2026

حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا وصال مبارک اور جنازہ

حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا وصال مبارک اور جنازہ

محترم قارئینِ کرام : حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کے وصال مبارک کے متعلق شیعہ رافضی انتہائی گھٹیا و بیہودہ باتیں کرتے ہیں اور جھوٹ پھیلاتے ہیں کہ حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کو شہید کیا گیا اور سوائے سات لوگوں کے کوئی بھی جنازہ میں شریک نہ ہوا استغفر اللہ العظیم رافضی ایسی گھٹیا قوم ہے کہ جھوٹی من گھڑت کہانیاں بناتے وقت انہیں اتنی بھی شرم و حیاء نہیں آتی کہ اُن کے اِس گھناؤنے کردار و عمل سے کِن کِن مقدس ہستیوں کی توہین ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ اِن بے شرم و بے حیاء لوگوں کے شر سے اُمتِ مسلمہ کو بچائے آمین : ⏬


نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم کے وصال کے چھ ماہ بعد حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا بیمار ہوئیں اور چند روز بیمار رہیں ۔ پھر تین رمضان المبارک 11ھجری میں منگل کی شب ان کا انتقال ہوا ۔ اس وقت ان کی عمر مبارک علماء نے اٹھائیس یا انتیس 28 یا 29 برس ذکر کی ہے ۔ حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کے سن وفات اور ان کی عمر کی تعیین میں سیرت نگاہوں نے متعدد اقوال لکھے ہيں ہم نے یہاں مشہور قول کے مطابق تاریخ انتقال اور مدت عمر درج کی ہے ۔ (البدایہ والنھایہ جلد 6 صفحہ 334۔ تحت حالات 11 ھ،چشتی)(وفاءالوفاءللسمھودی جلد 3 صفحہ 905 ۔ تحت عنوان قبر فاطمہ بن رسول اللہ)


عن عبد اللہ بن محمد بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان فاطمۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا لما حضرتہا  الوفاۃ  امرت علیا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم  فوضع لہا  غسلا  فاغتسلت  و تطہرت ودعت ثیاب اکفانہا فلبستہا  ومست من الحنوط  ثم امرت علیا ان لا تکشف اذا قضت وان تدرج کما  ہی  فی ثیا بہا ،  قال : فقلت لہ: ہل علمت احدا فعل  ذلک ؟ قال: نعم، کثیر بن عباس ، وکتب فی اطراف اکفانہ ، شہد کثیر بن عباس ، ان لا الہ الا اللہ ۔

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن محمد بن عقیل  بن طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا نے انتقال کے قریب امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے اپنے غسل کے لئے پانی رکھوایا پھر نہائیں اور کفن منگا کر پہنا اور حنوط کی خوشبو لگائی ، پھر حضرت مولی علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم  کو وصیت فرمائی  کہ میرے انتقال کے بعد کوئی مجھے نہ کھولے اور اسی کفن میں دفنا  دی جائیں ۔ میں نے پوچھا  کسی اور نے بھی ایسا کیا ہے ؟ کہا : ہاں ، حضرت کثیر بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ۔ اور انہوں نے اپنے کفن کے  کناروں پر لکھا تھا  کثیر بن عباس گواہی دیتا ہے ، لا الہ الا اللہ ۔ (المصنف لعبد الرزاق کتاب الجنائز جلد ۳ صفحہ ۴۱۱)


 نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کو بلایا اور ارشاد فرمایا کہ میں اس مرض میں وفات پاجاوٴں گا حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا رونے لگیں، پھر آپ نے ان سے فرمایا کہ میرے اہل میں سب سے پہلے (عالم برزخ میں) آکر تم مجھ سے ملوگی تو وہ ہنسنے لگیں بعض ازواجِ مطہرات (اور غالباً حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا) نے رونے اور ہنسنے کا سبب معلوم فرمایا تو حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا نے دونوں باتیں بتائیں ۔ (مشکاة صفحہ ۵۴۹ باب وفاة النبی صلی اللہ علیہ وسلم)

اس حدیث شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم نے جلد وفات ہونے کی پیشین گوئی فرمائی تھی اور اس سے خوش ہوکر حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا ہنسنے لگی تھیں اگر کسی درجہ میں شیعہ صاحبان کو ذمہ داری کسی کے سر تھونپنی ہی تھی تو نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم کو ذمہ دار ٹھیراتے بلکہ حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا اس پیشین گوئی سے خوش ہوئیں تو وہ خود ہی اپنی وفات کی ذمہ دار ٹھہریں ورنہ بجائے خوش ہونے کے ان کو چأہیے تھا کہ اس پیشین گوئی سے ناخوش ہوکر اس کو رد فرمادیتیں ، اسی طرح حضراتِ شیخین (حضرت ابوبکر صدیق وحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما) سے متعلق یہ وصیت فرمانا کہ ان کو جنازہ میں شریک نہ کیا جائے ، حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا پر تہمت ہے ، حقیقت یہ ہے کہ حضرت سیدہ کے مرض الوفات میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہٴ مطہرہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے تیمار داری کے خصوصی فرائض انجام دیئے ، حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا نے یہ وصیت فرمائی تھی کہ میری وفات کے بعد مجھ کو غسل حضرت اسماء دیں گی ، چنانچہ وصیت کے مطابق انھوں نے غسل دیا ، ان جیسے امور سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بلکہ ان کا گھرانہ آلِ رسول رضی اللہ عنہم کے گھرانہ کے ساتھ دکھ درد میں شریک ایک دوسرے سے بہت قریب اور باہم شیر وشکر تھے اور یہی اوصافِ حمیدہ اور اخلاقِ فاضلہ تمام صحابہ وصحابیات رضی اللہ عنہم اجمعین کے تھے جو قرآنِ کریم احادیث مبارکہ اور صحیح تاریخ سے ثابت ہیں ، اس کے برخلاف چیزیں جھوٹے راویوں کی روایتیں اور اہل باطل کے گھڑے ہوئے قصے کہانیاں ، نرے افسانہ کے قبیل سے اور بالکل غیر معتبر ہیں یا پھر مأوّل ہیں ۔


الغرض جب حضرت سیّدہ طیّبہ طاہرہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا انتقال ہوگیا اور وصیت کے مطابق غسل و کفن دلاکر جنازہ تیار ہوگیا تو حضراتِ صحابہٴ کرام بشمول حضرت صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اللہ عنہما بھی جنازہ میں شریک ہوئے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہ سے نماز پڑھانے کی درخواست کی اور کہا کہ چلئے آگے بڑھ کر نماز جنازہ پڑھائیے حضرت شیر خدا مولا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا میں آگے نہیں بڑھ سکتا ، آپ ہی آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں ما کنت لأتقدم وأنت خلیفة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتقدم أبوبکر و صلّی علیہا ۔ (کنز العمال جلد ۶ صفحہ ۳۶۶،چشتی) 


حضرت سیّدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا جنازہ حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھایا : ⏬


محترم قارئینِ کرام : شیعہ روافض کے مذھب کی بنیاد تقیہ یعنی جھوٹ پر ہے اگر یہ جھوٹ بولنا چھوڑ دیں تو ان کا خود ساختہ مذھب خود بخود دفن ہو جائے گا انہیں جھوٹوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حضرت سیّدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراض تھیں اور حضرت سیّدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کا جنازہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نہیں پڑھایا لعنۃ اللہ علی الکاذبین آیئے اس جھوٹ کا جواب مستند دلائل کی روشنی میں پڑھتے ہیں : ⏬


عن حماد عن ابراھیم النخعی قال صلی ابوبکر الصدیق علی فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فکبر اربعا ۔

ترجمہ : حضرت ابرھیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت سیّدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیریں کہیں ۔ (طبقات ابن سعد جلد ثامن صفحہ ١٩ تذکرہ فاطمہ مطبوعہ لیدن یورپ،چشتی)


عن مجاھد عن الشعبی قال صلی علیھا ابوبکر رضی اللہ عنہ وعنہا ۔

ترجمہ : حضرت امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھایا ۔ (طبقات ابن سعد جلد ٨ صفحہ ١٩ تذکر ہ فاطمہ طبع لیدن یورپ)


تیسری روایت امام بہیقی رحمۃ اللہ علیہ سے اپنی سند کے ساتھ منقول ہے لکھتے ہیں کہ : حدثنا محمد بن عثمان ابن ابی شیبۃ حدثنا عون بن سلام حدثنا سوار بن مصعب عن مجالدعن الشعبی ان فاطمۃ اماماتت دفنھا علی لیلا واخذ بضبعی ابی بکر الصدیق فقدمہ یعنی فی الصلوۃ علیھا ۔ (رضوان اللہ علیہم اجمعین)

ترجمہ : یعنی جب حضرت سیّدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا فوت ہوئیں تو حضرت علی رضی اللہ عنھما نے ان کو رات میں ہی دفن کردیا اور جنازے کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دونوں بازو پکڑ کر جنازہ پڑھانے کیلئے مقدم کردیا ۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی مو الجواھر النقی جلد ٤ صفحہ ٢٩ کتاب الجنائز،چشتی)


حضرت امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت صاحب کنز العمال نے علی المتقی الہندی نے بحوالہ خطیب ذکر کی ہے : عن جعفر ابن محمد عن ابیہ قال ماتت فاطمہ بنت رسول اللہ فجاء ابوبکر و عمر لیصلوافقال ابوبکر لعلی ابن ابی طالب تقدم قال ما کنت لاتقدم وانت خلیفۃ رسول اللہ فتقدم ابوبکر و صلی علیھا

ترجمہ : امام جعفر صادق امام محمد باقر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ دختر رسول اللہ رضی اللہ عنہا فوت ہوئیں تو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما دونوں جنازہ پڑھنے کیلئے آئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے جنازہ پڑھانے کے لئے فرمایا کہ آگے تشریف لائیے تو علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ خیفۃ رسول ہیں آپ کی موجودگی میں ٫٫میں ،، آگے بڑھ کر جنازہ نہیں پڑھا سکتا پس ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر جنازہ پڑھایا ۔ (کنزالعمال خط فی رواۃ مالک جلد ٦ صفحہ ٣١٨ طبع قدیم روایت ٥٢٩٩ باب فضائل الصحابہ فصل الصدیق مسندات علی)


حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی روایت حاضر ہے اس مسئلہ کو اس روایت نے خاصی حد تک حل کر دیا ہے : عن مالک عن جعفر ابن محمد عن ابیہ عن جدہ علی ابن حسین قال ماتت فاطمہ بین المغرب والعشاء فحضرھا ابوبکر و عمر وعثمان والزبیر وعبدالرحمان ابن عوف فلما وضعت لیصلیٰ علیھا قال علی تقدم یا ابابکر قال وانت شاھد یا اباالحسن؟قال نعم !فواللہ لا یصلی علیھا غیرک فصلٰی علیھا ابوبکر (رضوان اللہ علیہم اجمعین) ودفنت لیلا ۔

ترجمہ : جعفر صادق اپنے والد محمد باقر سے اور وہ اپنے والد امام زین العابدین سے روایت کرتے ہیںکہ مغرب و عشاء کے درمیان حضرت فاطمۃالزہراء کی وفات ہوئی ان کی وفات پر ابوبکر و عمر وعثمان وزبیر وعبدالرحمان بن عوف حضرات رضی اللہ عنہم حاضر ہوئے جب نماز جنازہ پڑھنے کیلئے جنازہ سامنے رکھا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جنازہ پڑھانے کیلئے آگے تشریف لائیے اللہ کی قسم آپ کے بغیر کوئی دوسرا شخص فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جنازہ نہیں پڑھائے گا پس ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا پر نمازجنازہ پڑھائی اور رات کو دفن کی گئیں ۔ (ریاض النضرۃ فی مناقب العشرہ مبشرہلمحب الطبری جلد١صفحہ ١٥٦ باب وفات فاطمہ،چشتی)


حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے تحفہ اثنا عشریہ کے باب مطاعن میں طعن نمبر 14 آخر میں فصل الخطاب سے نقل کرتے ہو ئے ریاض النضرۃ کی روایت کے قریب قریب روایت ذکر کی ہے : در فصل الخطاب آوردہ کہ ابوبکر صدیق و عثمان وعبدالرحمانابن عوف و زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم وقت نماز عشاء حاضر شدندو رحلت حضرت فاطمہ درمیان مغرب و عشاء شب سہ شنبہ سوم ماہ رمضان ١١ھ؁بعد ازششماہ از واقعہ سرور جہاں بوقوع آمدہ بود و ستین عمرش بست و ہشت بود وابوبکر بموجب گفتہ علی المرتضٰی پیش امام شدونماز بروئے گزاشتو چہار تکبیر بر آورد ۔

ترجمہ : فصل الخطاب کے مصنف نے ذکر کیا ہے کہ ابو بکرصدیق و عثمان و عبدالرحمان بن عوف وزبیر بن عوام تمام حضرات رضی اللہ عنہم عشاء کی نماز کے وقت حاضر ہوئے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رحلت مغرب و عشاء کے درمیان ہوئی منگل کی رات تیسری رمضان شریف حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چھ ماہ بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال مبارک ہوا اسوقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی عمر 28 سال تھی علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق ابوبکرالصدیق رضی اللہ عنہ نماز جنازہ کے لیئے امام بنے اور چار تکبیروں کے ساتھ نماز جنازہ پڑھائی ۔ (تحفہ اثنا عشریہ مطاعن صدیقی طعن نمبر ١٤ صفحہ نمبر ٤٤٥( طبع نول کشور لکھنوی)


امام حافظ ابو نعیم اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے حلیۃ الاولیاء میں اپنی مکمل سند کیساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جنازہ کی روایت کی ہے : عن میمون بن مھران عن ابن عباس النبی اتی بجنازۃ فصلٰی علیھا اربعا وقال کیرت الملائکۃ علیٰ ادم اربع تکبیرات و کبرابوبکر علیٰ فاطمہ اربعا وکبر عمر علیٰ ابی بکر اربعا وکبر صہیب علیٰ عمر اربعا ۔

ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ذکر کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی اور چار تکبیریں کہیں اور فرمایا کہ ملائکہ نے آدم علیہ السلام پر چار تکبیریں کہیں تھیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما مزید فرماتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے جنازہ کے موقع پر چار تکبیریں کہیں اور عمر نے ابوبکر اور صہیب نے عمر رضی اللہ عنہم پر چار تکبیریں کہیں تھیں ۔ (حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصفہانہ جلد نمبر ٤ صفحہ ٩٦ تذکرہ میمون بن مھران)


کتاب بزل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ (عربی) مؤلفہ علامہ مخدوم ہاشم سندھی رحمۃ اللہ علیہ کے اردو ترجمہ موسومہ سیدہ سید الانبیاء مترجم (مفتی علیم الدین) کے صفحہ نمبر 606 پر حضرت فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا کے وصال کے ضمن میں حاشیہ میں موجود ہے کہ آپ کا جنازہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پڑھایا ۔ (سیرت سید الانبیاء اردو ترجمہ بذل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ عربی صفحہ نمبر 606 کا حاشیہ نمبر 1،چشتی)


تاریخ ابن کثیر البدایہ و النھایہ از حضرت علامہ عماد الدین ابن کثیردمشقی اردوترجمہ حصہ ششم صفحہ نمبر 443 پر ایک روایت مذکور ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑھائی

حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے متعلق بھی روایات موجود ہیں ۔ (تاریخ ابن کثیر اردو ترجمہ البدیہ والنھایہ از امام ابن کثیر حصہ ششم صفحہ ٤٤٣)


مدارج النبوت اردو ترجمہ از حضرت شیخ عبد الحق محدث دھلوی ( مترجم الحاج مفتی غلام معین الدین علیہما الرحمہ) کے صفحہ نمبر 544 پر موجود ہے کہ روایتوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی جنازہ پڑھائی اور حضرت عثمان بن عفان و عبدالرحمان ابن عوف اور زبیر بن العوام (رضی اللہ عنہم) بھی آئے ۔ (مدارج النبوت از شیخ عبدالحق محدث دہلوی جلد دوم صفحہ ٥٤٤ مطبوعہ ضیاء القرآن لاہور،چشتی)


محترم قارئین : ان دس کتابوں کی ان روایات کے بعد یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ گئی ہے کہ حضرت فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنھا کا جنازہ خلیفہ وقت خلیفۃ المسلمین خلیفۃالرسول جانشین سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم امام المسلمین والمومنین حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خود پڑھائی اور خود جناب حیدر کرار شیر خدا حضرت مولا علی مشکل کشاء رضی اللہ عنہ نے آپ کو مصلٰی امامت پر کھڑا کیا اور خود ان کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی ۔ اس نماز جنازہ سے فقہ کے اس مسئلہ کی طرف بھی راہنمائی ملتی ہے کہ امامت کا سب سے زیادہ حقدار حاکم وقت ہے اگر وہ حاضر نہ ہو تو قاضی اور وہ بھی حاضر نہ ہو تو محلے کا امام امامت کرانے کا زیادہ حقدار ہے یہاں جن روایات میں حضرت علی و عباس رضی اللہ عنہما کی روایات میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو بھی شامل کیا گیا ہے اس کی تطبیق یہ ہے کہ کہ حاکم وقت کی موجودگی میں باقی افراد امامت کے اہل نہیں اور اسوقت کیونکہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ موجود تھے اس لئیے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ والی روایات کو ترجیح دی جائے گی ۔ (رضوان اللہ علیہم اجمعین)


اور رہا یہ مسئلہ کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراض تھیں یا حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کی خلافت کے حق میں نہیں تھے یا آپ رضی اللہ عنہ مجبور تھے یہ ساری باتیں ان روایات سے باطل ہو جاتی ہیں کہ نماز جنازہ کے سلسلے میں تو آپ رضی اللہ عنہ مجبور نہیں تھے بلکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے اوپر ترجیح دی اسوقت ان کو اختیار تھا کہ آپ چاہتے تو خود امامت کرا سکتے تھے لیکن انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اپنے اوپر ترجیح دی اور یہ کہ ان کی اقتداء میں نماز جنازہ پڑھ کر ان تمام خدشات اور نظریات اور اقوال کو باطل کردیا کہ آپ رضی اللہ عنہ ان کو خلیفہ برحق نہیں مانتے تھے آپ مجبورا ان کی خلافت کو مانتے تھے یا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے معاذ اللہ ناراض تھیں اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اطلاع نہ کرنے کا کہا تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہا کو رات کو دفن کر دیا یہ ساری باتیں لوگوں کی خرافات ہیں اور یہ باتیں ان لوگوں کے درمیان اختلافات کو ظاہر کر کے اپنے گھٹیا مقاصد حاصل کرنے اور لوگوں کے جذبات بھڑکا کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان روایات کی روشنی میں خلفائے راشدین اور اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم سے محبت کرنے اور اپنا عقیدہ اہلسنت و جماعت کے مروجہ قواعد و ضوابط اور نظریات کے مطابق رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Wednesday, 18 February 2026

فاسق ، مسلمان اور کفار کا ساتھ دینے والوں کے جنازے سے متعلق چند شرعی مسائل

فاسق ، مسلمان اور کفار کا ساتھ دینے والوں کے جنازے سے متعلق چند شرعی مسائل

محترم قارئینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : وَلَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنْہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَاتَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ ؕ اِنَّہُمْ کَفَرُوۡا بِاللہِ وَرَسُوۡلِہ وَمَاتُوۡا وَہُمْ فٰسِقُوۡنَ ۔ (سورہ توبۃ آیت نمبر 84)

ترجمہ : اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا  اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا بیشک وہ اللہ و رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مر گئے ۔


وَلَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنْہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا : اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز جنازہ نہ پڑھنا ۔ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو منافقین کے جنازے کی نماز اور ان کے دفن میں شرکت کرنے سے منع فرمایا گیا اور اس کا شانِ نزول یہ ہے کہ عبداللہ بن اُبی بن سلول منافقوں کا سردار تھا ، جب وہ مرگیا تو اس کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو مسلمان صالح مخلص صحابی اور کثیرُ العبادت تھے انہوں نے یہ خواہش کی کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ان کے باپ عبداللہ بن اُبی بن سلول کو کفن کےلیے اپنا قمیص مبارک عنایت فرمادیں اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے اس کے خلاف تھی لیکن چونکہ اس وقت تک ممانعت نہیں ہوئی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا یہ عمل بہت سے منافقین کے ایمان لانے کا باعث ہوگا اس لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنی قمیص بھی عنایت فرمائی اور جنازہ میں شرکت بھی کی ۔ قمیص دینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بدر میں اسیر ہو کر آئے تھے تو عبداللہ بن اُبی نے اپنا کرتہ انہیں پہنایا تھا ۔


حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم  کو اس کا بدلہ دینا بھی منظور تھا لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم  نے قمیص بھی دیا اور جنازہ بھی پڑھایا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس کے بعد پھر کبھی سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے کسی منافق کے جنازہ میں شرکت نہ فرمائی اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی وہ مصلحت بھی پوری ہوئی ۔ چنانچہ جب منافقین نے دیکھا کہ ایسا شدید عداوت والا شخص جب حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے کرتے سے برکت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے عقیدے میں بھی آپ اللہ تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور اس کے سچّے رسول ہیں یہ دیکھ کرایک بڑی تعدادمسلمان ہوگئی ۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۴، ۲/۲۶۸ -۲۶۹۔چشتی)


 یہ بات احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کا نمازِ جنازہ پڑھا اور اسے اپنا کرتہ مبارک پہنایا ۔ سرکار کے اس عمل میں چند حکمتیں تھیں ۔


ایک یہ کہ عبداللہ بن ابی کا بیٹا مومن مخلص تھا اس کی خواہش پر سرکار نے ایسا کیا تاکہ اس کی دلجوئی ہو جائے ۔


دوسری حکمت یہ تھی کہ حضرت عباس ر ضی اللہ تعالی عنہ جب روزِ بدر برہنہ قید ہو کر آئے تھے تو طویل القامت ہونے کے سبب کسی کا کرتہ انہیں پورا نہیں آتا تھا چونکہ ابن ابی بھی طویل القامت تھا اس کا کرتہ انہیں پورا آیا جو اس نے انہیں پہنا دیا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم  نے اپنا کرتہ پہنا کر وہ بدلہ اُتار دیا تاکہ عدو اللہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم  پر احسان نہ رہے ۔


تیسری یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم  جانتے تھے کہ ان کے عمل سے ابن ابی کا قوم کے ایک ہزار افراد مسلمان ہو جائیں گے اس لیے یہ عمل فرمایا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس کی قوم کے ایک ہزار آدمی داخل اسلام ہو گئے۔ الحاصل آپ کا یہ عمل اسے نفع پہنچانے کے لیے نہیں تھا بلکہ مذکورہ بالا وجوہ کی بنا پر تھاچنانچہ سرکار نے صاف صاف فرما دیا تھا کہ میرا جنازہ پڑھنا اور کرتہ اسے نفع نہیں پہنچائے گا اور یہ عمل آیت کریمہ و لا تصل علی احد منھم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ۔(سورۃ التوبۃ آیت۴۸)کے نزول سے قبل کا ہے ۔


اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم  نے کسی منافق کا جنازہ نہیں پڑھا ۔ (لہٰذا یہ خیال قطعاً درست نہیں کہ منافق کا جنازہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم  نے کیوں پڑھا جبکہ قرآن عظیم اس سے منع فرما رہا ہے تو جواب آ گیا کہ یہ عمل اس آیت سے پہلے کا تھا اور تحریم سے قبل فعل کو حرام کہنا جہالت ہے۔ شراب حرام ہونے سے قبل صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین نے اسے پیا مگر گناہ نہیں تھا کہ اس وقت وہ حرام نہ تھا جب آیت تحریم آئی تو سب نے چھوڑ دیا ۔


امام ملا علی قاری حنفی رحمۃُ اللہ علیہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں ۔ و روی ان النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم  کلم فیما فعل بعبد اللّٰہ بن ابی فقال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم  و ما یغنی عنہ قمیصی و صلاتی من اللّٰہ واللّٰہ انی کنت ارجو ان یسلم بہ الف من قومہ روی انہ اسلم الف من قومہ لما رأوہ یتبرک بقمیص النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم  اھ۔ قال الخطابی ھو منافق ظاھر النفاق و انزل فی کفرہ ونفاقہ آیات من القرآن تتلی فاحتمل انہ علیہ الصلوٰۃ والسلام فعل ذالک قبل نزول قولہ تعالیٰ و لا تصل علی احد منھم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ و ان یکون تالیفا لابنہ و اکراما لہ و کان مسلما برئیا من النفاق و ان یکون مجازاۃ لہ لانہ کان کسا العباس عم النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم  قمیصا فاراد ان یکافۂ لئلا یکون لمنافق عندہ ید لم یجازہ علیھا۔ الخ(مرقاۃ ص۰۵۳ ج۲) ترجمہ : مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے عبد اللہ بن ابی کیساتھ جو معاملہ کیا اس کے بارے میں کلام فرمایا کہ میری قمیص اور نماز ادا کرنا اسے نفع نہ دے گی ۔ خدا کی قسم میں امید کرتا ہوں کہ اس کام سے اس کی قوم کے ہزار آدمی ایمان لے آئیں گے جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی قمیص سے اسے برکت حاصل کرتے دیکھا ۔ امام خطابی نے کہا ہے کہ وہ منافق تھا جس کا نفاق ظاہرتھا اور اس کے نفاق وکفرمیں قرآن مجید کی آیات نازل ہوئیں جو تلاوت کی جاتی ہیں اور اس بات کا احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے یہ کام اللہ تعالی کے فرمان ”ولاتصل علی احد منھم مات ابدا“ کے نزول سے پہلے کیا اور اس کے بیٹے کی دلجوئی اور اس کے اکرام کےلئے کیا اس لیے کہ وہ مسلمان تھا نفاق سے پاک تھا ۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ اسکا بدلہ ہو کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کو قمیض پہنائی تھی توآپ نے اسکا بدلہ دینے کاارادہ کیا تاکہ ”منافق کا آپ پرکوئی حق جسکا آپ نے اسے بدلہ نہ دیا ہو“ باقی رہے ۔


دین اور امت کا غدّار بے شک نماز روزہ کرتا ہو ، کافر ہو جاتا ہے : ⏬


ارشادِ باری تعالیٰ ہے : لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْکٰفِرِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیۡنَۚ وَمَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللہِ فِیۡ شَیۡءٍ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنْہُمْ تُقٰىۃًؕ وَ یُحَذِّرُکُمُ اللہُ نَفْسَہٗؕ وَ اِلَی اللہِ الْمَصِیۡرُ ۔ (سورہ آلِ عمران نمبر 28)

ترجمہ : مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنالیں مسلمانوں کے سوا اور جو ایسا کرے گا اسے اللہ سے کچھ علاقہ نہ رہا مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو اور اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے ۔


لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْکٰفِرِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ : مسلمان مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں ۔ حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جنگِ اَحزاب کے موقع پر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے عرض کیا کہ میرے ساتھ پانچ سو یہودی ہیں جو میرے حلیف ہیں ، میری رائے ہے کہ میں دشمن کے مقابلے میں ان سے مدد حاصل کروں ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور کافروں کو دوست اور مدد گار بنانے کی ممانعت فرمائی گئی ۔ (تفسیر جمل، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۲۸، ۱/۳۹۳،چشتی)


وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ ، اور جو کوئی بھی ایسا کرے ۔


فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ ، تو اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ۔


اس آیتِ مبارکہ کی تشریح میں امام طبری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : یعني بذلک ۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے مراد ہے ۔ فقد بريئ مِنَ اللَّهِ ۔ کہ جس شخص نے مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کا ساتھ دیا ، وہ اللہ سے بری ہو گیا ، وبرئ اللہ منہ ، اور اللہ اس سے بری ہوگیا ، بارتدادہ عن دینہ ،  کیونکہ یہ اس فعل کی وجہ سے دین سے مرتد ہو گیا ، ودخولہ في الکفر ۔ اور کفر میں داخل ہو گیا ۔ (تفسیر طبری)


دیگر مفسرین کے اقوال بھی دیکھیں تواسی طرح بالکل واضح تصریح کی گئی ہے ۔ شاید کم ہی مقامات ہیں کہ جہاں کسی قول یا کسی فعل پرمفسرین نے اتنی صراحت سے کفر کی بات یا تصریح کی ہے ۔


ﷲ عزوجل اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور اہل ایمان کا وفادار بن کر رہنا اور ﷲ و رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور اس اُمت کے دشمن سے دشمنی رکھنا ایمان کا بنیادی فرض ہے ۔ یہ نہیں تو قرآنِ مجید کا وہ ایک خاصا بڑا حصہ کچھ معنیٰ ہی نہیں رکھتا جو کہ آج تک برابر تلاوت ہوتا ہے اور جو کہ ان منافقین کا بار بار کفر بیان کرتا ہے جو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے دشمنوں کے ساتھ دوستیاں گانٹھتے تھے ۔


اسلام محض عقائد یا نماز روزہ ایسی عبادات کا مجموعہ نہیں ۔ حتی کہ یہ محض کوئی سیاسی اور معاشی ہدایات پر مشتمل سماجی نظام بھی نہیں ، جیسا کہ ہمارے بہت سے نکتہ داں طویل لیکچر دیا کرتے ہیں ۔ اسلام دراصل انسان کی وفاداریوں کا تعین بھی ہے اور اس کے تعلقات کی حدود کا دائرہ بھی اور اللہ عزوجل و رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ و امت کیلئے غیرت کا امتحان بھی ۔


تعلق اور وفاداری اور مدد ونصرت کے معاملہ میں بھی دراصل آدمی کے ایمان کو امتحان سے گزارا جاتا ہے ۔ کفار جو اسلام اور اہل اسلام سے برسر جنگ ہوں یا دین اسلام کے خلاف یا اس کی کامیابی کے خلاف بغض رکھتے ہوں ایک مسلمان کےلیے دشمن ہی کا درجہ رکھتے ہیں ۔ اگر ایسا نہیں تو آدمی کو اپنے ایمان کی فکر ہو جانی چاہیے ۔


اسلام کے دشمنوں سے دلی ہمدردی رکھنا ، یا مسلمانوں کے خلاف ان کی فتح مندی چاہنا ، یا مسلمانوں کے خلاف ان کی نصرت اور اعانت کرنا ، یا حتی کہ مسلمانوں کے خلاف محض ان کا حلیف بن کر رہنا صریحاً کفر ہے ۔ ایسا کرنے کے بعد آدمی دائرۂ اسلام میں نہیں رہتا ۔


بنا بریں ہر وہ اتحاد alliance (تحالف) جو کسی مسلم ملک یا مسلم قوت یا مسلم جماعت کے خلاف آمادۂ جنگ ہو اس کا حصہ بننا ، اس کی معاونت کرنا ، اس کا پرچم اٹھانا ، اس کےلیے جاسوسی کرنا یا مسلمانوں کے خلاف کسی بھی طرح اس کی مہم آسان کرنا محض کوئی گناہ نہیں ، یہ آدمی کو دائرۂ اسلام سے ہی خارج کر دیتا ہے ۔ ایسے آدمی کو متنبہ ہو جانا چاہیے وہ اگر اپنے اس عمل سے تائب ہوئے بغیر مر جاتا ہے تو وہ کفر کی حالت پر مرتا ہے ، جس پر ہمیشہ ہمیشہ کی جہنم یقینی ہے ۔


کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کے خلاف برسرپیکار ہو جائے یہ عمل کفریہ نہیں ہے اسی وجہ سے اللہ تعالى نے آپس میں قتال کرنے والے مسلمانوں کے دونوں گروہوں کو مؤمن قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے "وإن طائفتان من المؤمنین اقتتلوا" ۔ اور یہ غلط فہمی , یا کسی بھی دیگر وجوہات کی بناء پر ہونے والی لڑائیوں میں ہے ۔

ہاں جب کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے خلاف برسرپیکار ہو کفار کی معاونت میں تو یہ عمل کفریہ عمل ہے ۔

لیکن اس کفریہ عمل کے مرتکب پر ہم فتوى کفر اس وقت تک نہیں لگا سکتے جب تک تکفیر کی شروط اس میں پوری نہ ہو جائیں اور موانع ختم نہ ہو جائیں ۔

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کلمہ گو لوگ جب کفار کی صفوں میں شامل ہو کر مسلمانوں کے خلاف لڑتے ہیں تو ان کا قتل پھر کیونکر جائز ہوگا ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے لوگ جو میدانوں میں اہل اسلام کے خلاف لڑنے کےلیے کفار کے ساتھ مل کر آتے ہیں ہم ان کا قتل اس لیے درست قرار دیتے ہیں کیونکہ انکا یہ عمل کفر والا ہے اور تکفیر معین کی چھان بین کا موقع میدانوں میں نہیں ہوتا کہ جس کے ذریعہ حقیت حال کو معلوم کیا جائے لہٰذا مسلمان ان کے ظاہر پر حکم لگاتے ہوئے ان کے ساتھ کفار والا سلوک روا رکھتے ہیں ۔


کفار سے دوستی و محبت ممنوع و حرام ہے ، انہیں راز دار بنانا ، ان سے قلبی تعلق رکھنا ناجائز ہے ۔ البتہ اگر جان یا مال کا خوف ہو تو ایسے وقت صرف ظاہری برتاؤ جائز ہے ۔ یہاں صرف ظاہری میل برتاؤ کی اجازت دی گئی ہے ، یہ نہیں کہ ایمان چھپانے اور جھوٹ بولنے کو اپنا ایمان اور عقیدہ بنا لیا جائے بلکہ باطل کے مقابلے میں ڈٹ جانا اور اپنی جان تک کی پرواہ نہ کرنا افضل و بہتر ہوتا ہے جیسے سیدنا امامِ حسین  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جان دے دی لیکن حق کو نہ چھپایا ۔ آیت میں کفار کو دوست بنانے سے منع کیا گیا ہے اسی سے اس بات کا حکم بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں سے اتحاد کرنا کس قدر برا ہے ۔


کافر ، فاسق اور مسلمان کے جنازے سے متعلق چند شرعی مسائل : ⏬


اس آیت سے معلوم ہو اکہ اگر کوئی کافر مر جائے تو مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس کے مرنے پر نہ اس کے لئے دعا کرے اور نہ ہی ا س کی قبر پر کھڑا ہو ۔ افسوس! فی زمانہ حال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے ملک میں کوئی بڑا کافر مر جاتا ہے تو مسلمانوں کی سربراہی کے دعوے دار اس کے مرنے پر اس طرح اظہارِ افسوس کرتے ہیں جیسے اِن کا کوئی اپنا بڑا فوت ہوگیا ہو اور اگر اس کی قبر بنی ہو تو اس پر کھڑے ہو کر دعا ئیں مانگتے ہیں۔ یہ دعا بالکل حرام ہے ۔


کافر، فاسق اور مسلمان کے جنازے سے متعلق چند شرعی مسائل : ⏬


(1) اس آیت سے ثابت ہوا کہ کافر کے جنازے کی نماز کسی حال میں جائز نہیں اور کافر کی قبر پر دفن و زیارت کےلیے کھڑے ہونا بھی ممنوع ہے اور یہ جو فرمایا ’’ اور فسق ہی میں مرگئے ‘‘ یہاں فسق سے کفر مراد ہے قرآنِ کریم میں اور جگہ بھی فسق بمعنیٰ کفر وارد ہوا ہے جیسے کہ آیت ’’ اَفَمَنۡ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنۡ کَانَ فَاسِقًا‘‘ (1) (توکیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو نافرمان ہے) میں ۔


(2) فاسق کے جنازے کی نماز جائز بلکہ فرضِ کِفایہ ہے ، اس پر صحابہ اور تابعین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا اجماع ہے اور اس پر علماء و صالحین کا عمل اور یہی اہلِ سنت و جما عت کا مذہب ہے ۔


(3) جب کوئی کافر مر جائے اور اس کا ولی مسلمان ہو تو اس کو چاہیے کہ بطریق مَسنون غسل نہ دے بلکہ اس پر پانی بہا دے اور نہ کفن مسنون دے بلکہ اتنے کپڑے میں لپیٹ دے جس سے اس کا ستر چھپ جائے اور نہ سنت طریقہ پر دفن کرے اور نہ بطریقِ سنت قبر بنائے ،صرف گڑھا کھود کر اندر رکھ دے ۔ (ماخوذ : تفسیر قرطبی ، تفسیر خازن ، تفسیر صاوی ، تفسیر کبیر ، تفسیر المینار ، تفسیرطبری ،تفسیر تبیان القرآن)


 کس مسلمان کی نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتے : ⏬


ہر مسلمان کی نماز پڑھی جائے اگرچہ وہ کیسا ہی گنہگار و مرتکب کبائر ہو مگر چند قسم کے لوگ ہیں کہ اُن کی نماز نہیں ۔


(1) باغی جو امام برحق پر ناحق خروج کرے اور اُسی بغاوت میں مارا جائے ۔


(2) ڈاکو کہ ڈاکہ میں مارا گیا نہ اُن کو غسل دیا جائے نہ اُن کی نماز پڑھی جائے ، مگر جبکہ بادشاہِ اسلام نے اُن پر قابو پایا اورقتل کیا تو نماز و غسل ہے یا وہ نہ پکڑے گئے نہ مارے گئے بلکہ ویسے ہی مرے تو بھی غسل و نماز ہے ۔


(3) جو لوگ ناحق پاسداری سے لڑیں بلکہ جو اُن کا تماشہ دیکھ رہے تھے اور پتھر آکر لگا اور مر گئے تو ان کی بھی نماز نہیں ، ہاں اُن کے متفرق ہونے کے بعد مرے تو نماز ہے ۔


(4) جس نے کئی شخص گلا گھونٹ کر مار ڈالے ۔


(5) شہر میں رات کو ہتھیار لے کر لوٹ مار کریں وہ بھی ڈاکو ہیں، اس حالت میں مارے جائیں تو اُن کی بھی نماز نہ پڑھی جائے ۔


(6) جس نے اپنی ماں یا باپ کو مار ڈالا ، اُس کی بھی نماز نہیں ۔


(7) جو کسی کا مال چھین رہا تھا اور اس حالت میں مارا گیا، اُس کی بھی نماز نہیں۔


جس نے خودکشی کی حالانکہ یہ بہت بڑا  گناہ ہے ، مگر اُس کے جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی اگرچہ قصداً خودکشی کی ہو ۔ (بہار شریعت جلد 1 حصہ 4 صفحہ 827 مکتبۃ المدینہ کراچی) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Tuesday, 17 February 2026

حضرت مولا علی اور ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم بیس رکعت نمازِ تراویح ادا فرماتے تھے

حضرت مولا علی اور ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم بیس رکعت نمازِ تراویح ادا فرماتے تھے

محترم قارئینِ کرام : دین اسلام میں نمازِ تراویح کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، اس کا آغاز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارک سے ہوا ۔ اور عہد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم نے بھی اسی سنت کوہمیشہ جاری رکھا ۔ خیر القرون سے لے کر آج تک پوری امت اس پر بڑے تزک واحتشام سے عمل کرتی چلی آرہی ہے ۔ تمام ادوار میں مسلمانوں کا نمازِ تراویح پر اجماع واتفاق اس کے حجت شرعیہ ہونے کی دلیل ہے ، بدعت و گمراہی کا نشان ہرگز نہیں ۔ حضرات خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے بعد خلیفہ راشد رابع امیرالمؤمنین سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی رمضان المبارک میں نماز تراویح پڑھنے اور پڑھانے کا بڑے شاندارطریقے سے انتظام فرمایا کرتے تھے ، جس کی تفصیل کتبِ حدیث و سیرت میں بڑی صراحت کے ساتھ منقول ہے ۔ اس حوالے سے چندروایات پیشِ خدمت ہیں ۔


عَنِ ابْنِ أَبِي الْحَسْنَاءِ أَنَّ عَلِیًّا رضی اللہ عنہ أَمَرَ رَجُلًا یُصَلِّي بِهِمْ فِي رَمَضَانَ عِشْرِیْنَ رَکْعَةً ۔

ترجمہ : ابنِ ابو الحسناء بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو رمضان المبارک میں لوگوں کو بیس 20 رکعت نمازِ (تراویح) پڑھانے کا حکم دیا ۔ (ابن أبي شیبۃ في المصنف جلد 2 صفحہ 163 الرقم 7681)(بیہقي في السنن الکبری جلد 2 صفحہ 497 الرقم 4397)(ابن عبد البر في التمہید جلد 8 صفحہ 115،چشتی)(مبارکپوری تحفۃ الأحوذی جلد 3 صفحہ 444)(ابن قدامۃ المغنی جلد 1 صفحہ 456)


عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ قَالَ : دَعَا الْقُرَّاءَ فِي رَمَضَانَ فَأَمَرَ مِنْھُمْ رَجُلًا یُصَلِّي بِالنَّاسِ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً. قَالَ : وَکَانَ عَلِيٌّ رضی اللہ عنہ یُوْتِرُ بِھِمْ. وَرُوِيَ ذٰلِکَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَلِيٍّ ۔

ترجمہ : ابو عبد الرحمن سلمی سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رمضان المبارک میں قراء حضرات کو بلایا اور ان میں سے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعات نمازِ (تراویح) پڑھائے اور خود حضرت علی رضی اللہ عنہ انہیں وتر (کی نماز) پڑھاتے تھے ۔ یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے ۔ (بیہقي في السنن الکبری جلد 2 صفحہ 496 الرقم 4396،چشتی)(مبارکپوری تحفۃ الأحوذی جلد 3 صفحہ 444)


وَفِي رِوَایَۃٍ أَنَّ عَلِیًّا رضی اللہ عنہ کَانَ یَؤُمُّھُمْ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَیُوْتِرُ بِثَـلَاثٍ ۔

ترجمہ : ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ انہیں بیس رکعات (تراویح) اور تین وتر پڑھایا کرتے تھے ۔ (صنعاني في سبل السلام جلد 2 صفحہ 10)


ابوعبدالرحمان السلمی حضرت علی المرتضیٰ ؓ سے نقل فرماتے ہیں کہ

’’أَن علیاً دَعَاالْقُرَّاء فِی رَمَضَان فَأمر مِنْہُم رجلاً یُصَلِّی بِالنَّاسِ عشْرین رَکْعَۃقَالَ وَکَانَ عَلیّ یُوتر بہم‘‘(السنن الکبریٰ للبیہقیؒ:رقم الحدیث۴۲۹۱باب ماروی فی عدد رکعات القیام فی شہر رمضان۔ المنتقی من منہاج الاعتدال للذہبیؒ: ۵۴۲)


حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رمضان شریف میں قرآن مجید کے قاریوں کو بلایا اور ان میں سے ایک شخص کوحکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھایا کریں اور جناب علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ وتر کی نماز خود پڑھایا کرتے تھے ۔ بیہقی اپنی سندسے حضرت ابی الحسناء سے روایت کرتے ہیں کہ : أن علی بن أبی طالب ’’ أمر رجلا أن یصلی ، بالناس خمس ترویحات عشرین رکعۃ ۔ (السنن الکبریٰ بیہقی رقم الحدیث ۴۲۹۱ باب ماروی فی عدد رکعات القیام فی شہر رمضان)

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کوحکم دیاکہ وہ لوگوں کوپانچ ترویحے یعنی بیس رکعت نمازِ تراویح پڑھایا کرے ۔


امام ابن ابی شیبہ اپنی سند سے ابن ابی الحسناء سے نقل کرتے ہیں کہ : أَنَّ عَلِیًّا أَمَرَ رَجُلًاان یُصَلِّی بِہِمْ فِی رَمَضَانَ عِشْرِینَ رَکْعَۃً ۔ (المصنف لابن ابی شیبہ حدیث نمبر ۷۶۲۱،چشتی)

ترجمہ : حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کوحکم فرمایاکہ وہ لوگوں کو رمضان شریف میں پانچ ترویحے یعنی بیس رکعت نمازِ تراویح پڑھایا کرے ۔


امام آجری ابی الحسناء سے نقل کرتے ہیں کہ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ أَمَرَ رَجُلًا أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ فِی رَمَضَانَ خَمْسَ تَرْوِیحَاتٍ عِشْرِینَ رَکْعَۃً ۔ (الشریعۃ للآجری رقم الحدیث ۱۲۴۰ باب ذکراتباع علی رضی اللہ عنہ)

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیاکہ وہ لوگوں کو پانچ ترویحے یعنی بیس رکعت تراویح پڑھایا کرے ۔


متعدد روایات حدیث میں’’خمسہ ترویحات‘‘ کے الفاظ اور ان کے ساتھ ’’عشرین رکعۃ‘‘ کی صراحت موجود ہے ۔ یعنی خمسہ ترویحا ت سے بیس رکعت مراد ہیں ۔ در اصل تراویح ، ترویحۃ کی جمع ہے اور ترویحۃ چار رکعت کے بعد ایک دفعہ وقفہ کرنے کو کہتے ہیں اور ترویحتان دو وقفوں کو کہا جائے گا اور تراویح دو سے زیادہ وقفوں کو کہا جائے گا ۔ عہد فاروقی میں تراویح کی ہر چار رکعت کے بعد وقفہ ہوا کرتا تھا اور بیس رکعت کے بعد یہ کل پانچ وقفے بنا کرتے تھے ، ان وقفوں کی مناسبت سے اس نماز کا نام ’’تراویح‘‘ پڑ گیا ۔ تراویح کے نام سے ہی ’’بیس رکعت‘‘ ثابت ہوئیں ۔ آٹھ رکعات کےلیے ’’تراویح‘‘ نہیں بلکہ ترویحتان نام ہونا چاہیے جو کسی کے ہاں مستعمل نہیں ۔


مذکورہ روایات میں سے اگر کسی روایت میں اسنادی ضعف ہوتو ان روایات کا تعدد ، اس کی تقویت اورنفس مسئلہ کی توثیق کےلیے کافی وافی ہے ۔ لہذا ثابت ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیس تراویح کا حکم ، اس کے مسنون عمل ہونے کی کھلی دلیل ہے ۔


متعدد روایات سے معلوم ہوتاہے کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کےلیے بھی تراویح پڑھنا مسنون ہے اسی لیے عہدِ مرتضوی میں خواتین کو نماز تراویح پڑھانے کا علیحدہ باپردہ انتظام ہوتا تھا ۔ چنانچہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے عہد کے ایک شخص حضرت عرفجہ ثقفی ذکرکرتے ہیں کہ : عن عرفجۃالثقفی ان علیاً کان یامر الناس بالقیام فی شہر رمضان ویجعل للرجال اماماًوللنساء اماماً قال فامرنی فاممت النساء ۔ (مصنف عبدالرزاق باب شہود النساء الجماعۃ رقم الحدیث ۱۵۲۵ و باب قیام رمضان رقم الحدیث ۷۷۲۲،چشتی)

ترجمہ : رمضان شر یف کی راتوں میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مردوزن سبھی کو ارشاد فرماتے تھے کہ وہ نمازِ تراویح کےلیے جمع ہوں ، آپ رضی اللہ عنہ مردوں کےلیے الگ اور عورتوں کےلیے الگ امام مقرر فرماتے تھے جوان کو تراویح پڑھائے ۔ عرفجہ کہتے ہیں کہ عورتوں کی امامت کےلیے آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم فرمایا ! پس میں عورتوں کو نمازِ تراویح پڑھایا کرتا تھا ۔


اس سے ثابت ہوا کہ مرد و خواتین ، سبھی حضرات نمازِ تراویح کے یکساں مکلف ہیں ۔


حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے تلامذہ میں سے ایک مشہور شاگرد حضرت سوید بن غفلہ تابعی اور دوسرے نامور شاگرد حضرت شتیر بن شکل تابعی دونوں کے متعلق محدثین نے نقل کیاہے کہ : کان یؤمنا سوید بن غفلۃ فی رمضان فیصلی خمس ترویحات عشرین رکعۃوروینا عن شتیر بن شکل، وکان من أصحاب علی رضی اﷲ عنہ ‘‘ أنہ کان یؤمہم فی شہر رمضان بعشرین رکعۃ، ویوتر بثلاث ۔ (السنن الکبریٰ بیہقی رقم الحدیث ۴۲۹۰ باب ماروی فی عدد رکعات القیام فی شہر رمضان،چشتی)

ترجمہ : حضرت سوید رضی اللہ عنہ بن غفلہ رمضان شریف میں تراویح پڑھایا کرتے تھے جو پانچ ترویحۃ یعنی بیس رکعت پر مشتمل ہوتی تھی ۔ اور حضرت شتیر رضی اللہ عنہ بن شکل ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے تھے ، وہ رمضان شریف میں لوگوں کو بیس رکعات تراویح اور تین رکعت وتر پڑھایا کرتے تھے ۔


اس روایت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تلامذہ کا بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر باجماعت پرتعامل واتفاق ثابت ہوا ۔ قیاس کن ز گلستان من بہار مرا ۔


محدثین علیہم الرحمہ کی صراحت کے مطابق ایک امام کی اقتدامیں باجماعت تراویح کا باقاعدہ اہتمام فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہوا ۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں جہاں دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم تراویح ادا فرماتے تھے وہاں پچھلی صف میں خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی موجود ہوا کرتے تھے ، چونکہ سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی اس وقت یقیناً حیات تھے ، اس لیے وہ بھی انہیں کے ساتھ بیس تراویح ہی باجماعت ادا فرمایا کرتے تھے ۔ نمازِ تراویح اگر مسنون نہ ہوتی یا اس کی تعداد بیس سے کم و بیش ہوتی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ جو جرأت و شجاعت کے پیکر تھے ، وہ اس خلاف سنت کام کو کیسے گوارا کر سکتے تھے ؟ ۔ مگر ان کا اختلاف نہ کرنا اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں ان کا کوئی اختلاف کہیں مذکور نہ ہونا ، بذات خوداس بات کی واضح دلیل ہے کہ پورے رمضان المبارک میں تراویح ایک مسنو ن نماز ہے جس کی تعداد بیس رکعت ہے ۔


یاد رہے کہ تراویح کے عمل سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اختلاف کیونکر ہوتا جبکہ انہوں نے خود باجماعت تراویح کاحکم صادر فرمایا ۔ اور پھر اس پر مستزاد یہ کہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو جو کہ تراویح کا باقاعدہ اہتمام کرانے والے تھے ، اپنی والہانہ دعا سے نوازا ہے ۔ چنانچہ رمضان المبارک کی پہلی شب حضرت علی رضی اللہ عنہ جب مسجد تشریف لائے تو دیکھا کہ تمام لوگ تراویح کے فرطِ شوق میں جمع ہیں اور قاری صاحب امامت کےلیے تیار ہیں ، اس روح پرور منظر کو دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ کی زبان مبارک سے بیساختہ یہ الفاظ نکلے”نور اللہ علی عمر قَبرہ کَمَا نور علینا مَسَاجِدنَا ۔ (المنتقیٰ من منھاج الاعتدال ذہبی صفحہ ۵۴۲چشتی)

ترجمہ : اے اللہ عمر رضی اللہ عنہ کی قبر کو نور سے بھر دے جیسا کہ انہوں نے تراویح کےلیے ہماری مساجد کو لوگوں سے بھر دیا ہے ۔


اس سے صاف معلوم ہوا کہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سنت خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی نماز تراویح کے قائل وعامل رہے ۔ اور عہد علوی میں بھی باقاعدہ نمازِ تراویح باجماعت ادا کی جاتی رہی اور بیس رکعت پر ان کی مواظبت رہی ۔ ملحوظ رہے کہ عہد علوی میں نہ تو تراویح کو ترک کیا گیا اور نہ ہی اس کی تعداد بیس رکعات میں کمی کی گئی ، یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد ان کی اولاد امجاد کا بھی تعامل اسی پر جاری رہا : ⏬


ہم حقیقت ہیں تو تسلیم نہ کرنے کا سبب

ہاں اگر حرف غلط ہیں تو مٹادو ہم کو


مناسب معلوم ہوتاہے کہ کتبِ شیعہ سے بھی ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کے چند فرمودات نقل کردیے جائیں تاکہ تراویح کی غیر معمولی اہمیت خوب اجاگر ہو سکے ۔


ائمہ اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے فرمودات : ⏬

 

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ : عن أبی عبد اللہ (علیہ السلام) قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ یزید فی صلاتہ فی شہررمضان إذاصلی العتمۃ صلی بعدہا فیقوم الناس خلفہ فیدخل ویدعہم ثم یخرج أیضا فیجیؤن ویقومون خلفہ فیدعہم ویدخل مرارا، قال: وقال : لا تصل بعد العتمۃ فی غیر شہر رمضان ۔ (الفروع من الکافی: ۹۵۳/۳کتاب الصیام باب مایزادمن الصلاۃ فی شہر رمضان،چشتی)

ترجمہ : جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان شریف میں جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے توعشاء کی نماز کے بعد نوافل میں اضافہ فرماتے ۔ جب آپ نمازمیں کھڑے ہوتے تو لوگ آپ کی اقتدا میں نماز ادا کرتے پھر کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان لوگوں کو چھوڑ کر گھر تشریف لے جاتے ، پھر گھر سے باہر تشریف لاتے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں کھڑے ہو جاتے ۔ اسی طرح کئی بار جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان لوگوں کو چھوڑ کر گھر تشریف لے جاتے اور پھر باہر تشریف لا کر نماز پڑھاتے ۔ امام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عشاء کی نماز کے بعد رمضان شریف کے سوا نوافل نہ پڑھا کرو ۔


حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : إن أبا عبد اللہ  قال : لہ ان اصحابنا ہؤلاء أبوا أن یزیدوا فی صلاتہم فی شہررمضان وقد زاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ فی صلاتہ فی شہر رمضان ۔ (الاستبصارء:باب الزیادات فی شہر رمضان،۱/ ۱۹۰تا۱۹۲طبع ایران)

ترجمہ : ہمارے بعض لوگوں نے رمضان شریف میں نوافل میں اضافہ کا انکار کیا ہے حالانکہ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہ رمضان میں اپنی نفلی نماز میں اضافہ کیا ہے ۔


عن أبی بصیر أنہ سأل أبا عبد اللہ (ع) أیزید الرجل فی الصلاۃ فی شہر رمضان قال : نعم ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد زاد فی رمضان فی الصلوٰۃ ۔ (الاستبصارء:باب الزیادات فی شہر رمضان،۱/ ۱۹۰تا۱۹۲طبع ایران)

ترجمہ : ابوبصیر نے امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیارمضان شریف میں آدمی کو نفلی نماز میں اضافہ کرنا چاہیے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں بیشک رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے اندر نماز میں اضافہ فرماتے تھے ۔


حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : عن أبی عبد اللہ  قال : کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ إذا دخل شہررمضان زاد فی الصلوٰۃ فأنا ازید فزیدوا ۔ (الاستبصارء:باب الزیادات فی شہر رمضان،۱/ ۱۹۰تا۱۹۲طبع ایران،چشتی)

ترجمہ : جب رمضان کا مہینہ داخل ہوتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم اپنی نماز میں اضافہ فرماتے تھے ۔ سو میں بھی اضافہ کرتا ہوں اور تم بھی اپنی نفلی نماز میں اضافہ کیا کرو ۔


حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : عن أبی عبد اللہ  قال مما کان یصنع فی شہررمضان کان یتنفل فی کل لیلۃ ویزید علی صلاتہ التی کان یصلیہا قبل ذلک منذ اول لیلۃ إلی تمام عشرین لیلۃ فی کل لیلۃ عشرین رکعۃ ۔ (الاستبصارء : باب الزیادات فی شہر رمضان،۱/ ۱۹۰تا۱۹۲طبع ایران)

ترجمہ : ماہ رمضان کے اعمال میں ایک یہ بھی تھاکہ وہ ہر رات میں نوافل ادا کرتے تھے اور روزانہ ادا کی جانے والی اپنی نماز پر ، نوافل کا اضافہ کرتے تھے ۔ پہلی رات سے لے کر بیسویں رات تک اور ہر رات میں بیس رکعت ادا کرتے تھے ۔


علی بن حاتم عن الحسن بن علی عن أبیہ قال : کتب رجل إلی أبی جعفر (ع) یسئلہ عن صلوٰۃ نوافل شہر رمضان وعن الزیادۃ فیہا؟ فکتب  الیہ کتابا قرأتہ بخطہ صل فی أول شہر رمضان فی عشرین لیلۃ عشرین رکعۃ ۔ (الاستبصارء:باب الزیادات فی شہر رمضان،۱/ ۱۹۰تا۱۹۲طبع ایران)

ترجمہ : ایک آدمی نے امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کورمضان شریف کے نوافل اور زائد نماز کے بارے میں لکھ کر دریافت کیا ؟ پس امام باقر رضی اللہ عنہ نے جواباً تحریر فرمایا کہ اول رمضان سے بیس تک نفل نماز ادا کی جائے اور ہر رات میں بیس رکعت پڑھی جائے ۔


عن محمد ابن سنان قال قال الرضا (ع) کان ابو یزید فی العشرالاواخر فی شہر رمضان فی کل لیلۃ عشرین رکعۃ ۔ (الاستبصارء:باب الزیادات فی شہر رمضان،۱/ ۱۹۰تا۱۹۲طبع ایران)

ترجمہ : محمد بن سنان نقل کرتے ہیں کہ امام علی رضا رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابو یزید ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہر رات بیس رکعت ادا کیا کرتے تھے ۔


فیصلہ کن بات : امام ترمذی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : وَأَکْثَرُ أَہْلِ العِلْمِ عَلَی مَا رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ وَعُمَرَ، وَغَیْرِہِمَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِشْرِینَ رَکْعَۃً، وَہُوَ قَوْلُ الثَّوْرِیِّ، وَابْنِ الْمُبَارَکِ، وَالشَّافِعِیِّ.وقَالَ الشَّافِعِیُّ: وَہَکَذَا أَدْرَکْتُ بِبَلَدِنَا بِمَکَّۃَ یُصَلُّونَ عِشْرِینَ رَکْعَۃً ۔ (جامع ترمذی ابواب الصوم ۱/ ۱۶۶،باب ماجاء فی قیام شہررمضان طبع قدیمی کراچی،چشتی)

ترجمہ : اور اکثر اہل علم اس بات پر متفق ہیں جو حضرت علی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما اور ان کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ ترایح بیس رکعت ہے اور حضرت سفیان ثوری علیہ الرحمہ متوفی ۱۶۱ھ اور حضرت عبد اللہ بن مبارک علیہ الرحمہ متوفی ۱۸۱ھ اورحضرت امام شافعی علیہ الرحمہ متوفی ۴۰۲ھ کابھی یہی قول ہے ۔ اور امام شافعی کابیان ہے کہ میں اپنے شہر مکہ کے لوگوں کو تراویح کی بیس رکعت پڑھتے دیکھا ہے ۔


امام ابن عبدالبر علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ : وقال الثوری وأبو حنیفۃ والشافعی وأحمد بن داود قیام رمضان عشرون رکعۃ سوی الوتر لا یقام بأکثر منہا استحباباوذکر عن وکیع عن حسن بن صالح عن عمرو بن قیس عن أبی الحسین عن علی أنہ أمر رجلا یصلی بہم فی رمضان عشرین رکعۃوہذا ہو الاختیار عندنا وباﷲ توفیقنا ۔ (الاستذکارالجامع لمذاہب فقہاء الامصار جلد ۲ صفحہ ۷۰ کتاب الصلوۃ فی رمضان دارالکتب العلمیہ بیروت)

ترجمہ : حضرت سفیان ثوری اور امام ابوحنیفہ اور امام شافعی اور امام احمد بن داؤد علیہم الرحمہ ، وتر کے علاوہ تراویح کی بیس رکعات کے قائل ہیں ، ان سے زیادہ رکعتیں پڑھنا بہتر نہیں ہے ، اور حضرت وکیع نے حسن بن صالح سے اور انہوں نے عمروبن قیس سے اور انہوں نے ابوالحسین سے اور انہوں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو رمضان میں بیس رکعتیں پڑھانے کا حکم دیا اور ہمارے نزدیک یہی پسندیدہ ہے اور توفیق تو اللہ تعالیٰ کے ذریعہ سے ہوتی ہے ۔


مذکورہ روایات اور محدثین علیہم الرحمہ کے بیان سے یہ بات خوب واضح ہوگئی کہ صحابہ کرام اورحضرات ائمہ اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم بھی ماہِ رمضان میں نمازِ عشاء کے بعد بیس تراویح کے قائل بلکہ عامل تھے ، صرف نام کا فرق ہے کہ بعض حضرات انہیں نوافل اور بعض حضرات اسی نماز کو ’’صلوٰۃ التراویح‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ جمہور اہلِ علم اور ائمہ اربعہ علیہم الرحمہ کاقول و عمل اسی کے مطابق ہے ۔ حضرت سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کے مذکورہ فرامین اور ان کے تعامل کے باوجود ، بعض لوگوں کا تراویح سے انکار کرنا تعجب خیز ہی نہیں ائمہ رضی اللہ عنہم کی مخالفت کا شاخسانہ بھی ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

روزہ کے وقتِ افطار پر اہلِ تشیع اور اُن کے فضلہ خوروں کے دجل و فریب کا جواب

روزہ کے وقتِ افطار پر اہلِ تشیع اور اُن کے فضلہ خوروں کے دجل و فریب کا جواب محترم قارئینِ کرام قرآنِ مجید میں اللہ عزوجل کا ارشادِ مبارک ہے...