نبی اکرم نورِ مجسم رحمتِ کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنا میلاد منایا
محترم قارٸینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا میلاد خود منایا ہے ۔ کوئی سلیم الفطرت شخص سنتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثابت ہو جانے کے بعد میلاد منانے کا انکار نہیں کر سکتا ۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانا سنتِ نبوی سے ثابت ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنے میلاد کی خوشی کا اظہار فرمایا ۔ پیر کے دن روزہ رکھنے کی وجہ بتا کر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلانِ نبوت کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کر کے بکرے ذبح فرمائے اور سب کو کھانا کھلایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عمل کو "عقیقہ" فرمایا ، مگر حقیقت میں وہ میلادُالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی کا لنگر تھا ۔ جیسے نکاح کی خوشی کا کھانا "ولیمہ" کہلاتا ہے ، اسی طرح ولادت کی خوشی کا کھانا "عقیقہ" کہلاتا ہے ۔ یہ دراصل میلاد ہی کی خوشی کا اظہار تھا ۔ لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل اس بات کی روشن دلیل ہے کہ میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانا اور اس کی خوشی میں لنگر تقسیم کرنا براہِ راست سنتِ نبوی سے ثابت ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا میلاد خود منایا ہے ۔ کوئی سلیم الفطرت شخص سنتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثابت ہو جانے کے بعد میلاد منانے کا انکار نہیں کر سکتا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلانِ نبوت کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اکٹھا کر کے اپنی ولادت کی خوشی میں بکرے ذبح کیے اور اپنے میلاد کا لنگر اُن کو کھلایا ۔
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : أن رسول اللہ صلي الله عليه وآله وسلم سُئل عن صوم يوم الإثنين ؟ قال : ذاک يوم ولدت فيه ويوم بعثت أو أنزل عليّ فيه ۔
ترجمہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیر کے دن کے روزے کے بارے میں پو چھا گیا تو آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا : میں اسی دن پیدا ہوا تھا اور اسی دن قرآن کا نزول ہوا ۔ (مسلم حدیث نمبر ۱۱۶۲ صفحہ ۳۹۲ مکتبہ دار الغد الجدیدقاہرہ مصر)(صحیح مسلم مترجم اردو جلد سوم صفحہ نمبر 167 حدیث نمبر 2750 مترجم غیر مقلد وہابی نواب وحید الزمان)(صحیح مسلم مترجم اردو جلد 2 صفحہ نمبر 517 حدیث نمبر 2750 مترجم غیر مقلد وہابی پروفیسر محمد یحیٰ سلطان محمود جلالپوری)
اس حدیث شریف سے چند باتیں معلوم ہوئیں : ⏬
(1) پیر کے دن کا روزہ اس لیے سنت ہے کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کا دن ہے ۔
(2) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیر کے دن کے روزہ کا اہتمام فر ما کر خود اپنی ولادت کی یاد منائی اور اللہ کا شکر بجا لایا ۔
(3) امت کےلیے یوم ولادت کی اہمیت و فضیلت ظاہر فر مائی ۔
(4) دن مقرر کر کے یاد منا نا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ۔
(5) ولادت کی خوشی اور شکرانے میں عبادت کرنا سنت ہے ۔ مگر افسوس اس صاف اور صریح حدیث کے باوجود کچھ لوگ اس کے منکر ہیں ۔ اور طر ح طرح کی بے جا حیلے اور بہانے بنا کر اس سے خود بھی باز رہتے ہیں اور لوگوں کو بھی منع کرتے ہیں اور اتنا ہی پر بس نہیں بلکہ اس کو ناجائز وحرام اور بدعت سئیہ کہتے ہیں ۔ (نعوذباللہ من ذالک)
منکرین میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غیر مقلد وھابی حضرات کے موجودہ صدی کے امام اور بڑے محدث شیخ ناصر البانی اپنی کتاب صحیح سیرۃ النبویہ کے صفحہ نمبر 12 پر لکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر پیر کو روزہ رکھتے آپ سے پیر کے روزہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن نزول قرآن شروع ہوا ۔
امام الوہابیہ ناصر البانی کی گواہی اور فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت پوا کہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانا نہ صرف جائز ہے بلکہ سنت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منکرین سے گذارش ہے ہم روزہ بھی رکھتے میلاد بھی مناتے ہیں چلو آپ لوگ ھر پیر کو ھی منا لیا کرو روزہ بھی رکھا کرو ہم منع نہیں کرتے مگر خدا را میلاد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کر کے سنت مصطفیٰ اور فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منکر نہ خود بنو اور نہ لوگوں کو بناؤ ۔
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الاِثْنَیْنِ فَقَالَ: فِیْهِ وُلِدْتُ وَفِیْهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ ۔ وفي روایة : أُنْزِلَتْ عَلَيَّ فِیْهِ النُّبُوَّةُ۔ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ ۔
ترجمہ : حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اِسی روز میری ولادت ہوئی اور اِسی روز میرے اُوپر قرآن نازل کیا گیا ۔ اِسے امام مسلم نے روایت کیا ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اِسی روز مجھے نبوت (یعنی بعثت) سے سرفراز کیا گیا ۔ اِسے امام احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے ۔ (صحیح، کتاب الصیام، باب استحبابِ صیام ثلاثة أیام من کل شهر، 2/819، الرقم: 1162،چشتی)(مسند، 5/296، 297، الرقم: 22590، 22594)(سنن الکبری نساٸی 2/146، الرقم: 2777)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: وُلِدَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم یَوْمَ الاِثْنَیْنِ، وَاسْتُنْبِئَ یَوْمَ الاِثْنَیْنِ ، وَخَرَجَ مُهَاجِرًا مِنْ مَکَّةَ إِلَی الْمَدِیْنَةِ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ، وَقَدِمَ الْمَدِیْنَةَ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ، وَرَفَعَ الْحَجَرَ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ ۔ رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَقَالَ الْهَیْثَمِيُّ : رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِیْهِ ابْنُ لَهِیْعَةَ وَهُوَ ضَعِیْفٌ ، وَبَقِیَّهُ رِجَالِهٖ ثِقَاتٌ مِنْ أَهْلِ الصَّحِیْحِ ۔
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیر کے روز ولادت ہوئی ، اور پیر کے روز ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شرفِ نبوت سے سرفراز کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیر کے روز ہی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی ۔ پیر کے روز ہی مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری ہوئی اور حجر اسود اٹھانے کا واقعہ بھی پیر کے روز ہی ہوا ۔ اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ امام ہیثمی نے فرمایا : اس حدیث کو امام احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ابن لھیعہ نامی راوی کے علاوہ دیگر رجال ثقہ اور صحیح حدیث کے رجال میں سے ہیں ۔ (مسند، 1/277، الرقم: 2506، وأیضًا في المسائل، 1/59، وابن عساکر في تاریخ مدینة دمشق، 3/67)(مجمع الزوائد، 1/196)(جامع البیان، 6/84)(ابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 2/14،چشتی)(تاریخ الأمم والملوک، 2/5، 241)(البدایة والنهایة، 2/260، 3/177)(الاکتفاء ، 2/453)(أخبار مکة، 4/6، الرقم: 2298)(الاستیعاب، 1/47)(الخصائص الکبری، 2/473)
عَنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَا : وُلِدَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم یَوْمَ الْفِیْلِ یَوْمَ الاِثْنَیْنِ الثَّانِي عَشَرَ مِنْ شَهْرِ رَبِیْعِ الأَوَّلِ، وَفِیْهِ بُعِثَ، وَفِیْهِ عُرِجَ إِلَی السَّمَاءِ، وَفِیْهِ هَاجَرَ، وَفِیْهِ مَاتَ صلی الله علیه وآله وسلم ۔
ترجمہ : حضرت جابر بن عبد الله انصاری اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما دونوں نے بیان فرمایا: رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ عام الفیل، پیر کے روز بارہ ربیع الاول کو ہوئی، اور اسی روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شرفِ نبوت سے سرفراز کیا گیا اور اسی روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسمان کی طرف بلند کیا گیا (یعنی معراج کرائی گئی)، اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت فرمائی ، اور اسی روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال مبارک ہوا ۔ (الأباطیل والمناکیر والصحاح والمشاهیر، کتاب الفضائل، باب فضل النبي صلی الله علیه وآله وسلم /27، الرقم : 122)
وفي روایة : عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ رضی اللہ عنہ قَالَ : وُلِدَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم عَامَ الْفِیْلِ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ لِاثْنَتَي عَشَرَ لَیْلَةً مَضَتْ مِنْ شَهْرِ رَبِیْعِ الْأَوَّلِ ۔ رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ إِسْحَاقَ وَالْبَیْهَقِيُّ وَاللَّفْظُ لَهٗ ۔
ترجمہ : حضرت محمد بن اسحاق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام الفیل میں پیر کے روز بارہ ربیع الاول کو اس دنیا میں تشریف لائے ۔ (المستدرک ، 2/659، الرقم: 4182)8ابن حبان في الثقات، 1/15)(شعب الإیمان، 2/135، الرقم: 1387)(دلائل النبوة بیہقی ، 1/74)(تاریخ مدینة دمشق، 3/73)(تاریخ الأمم والملوک ، 1/453)(الاکتفاء، 1/131)(السیرة النبویة ابن اسحق / 591۔594)(السیرة النبویة ابن هشام ، 1/293)
عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم عَقَّ عَنْ نَفْسِهٖ بَعْدَ النُّبُوَّةِ ۔
ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِعلانِ نبوت کے بعد اپنا عقیقہ کیا ۔ (السنن الکبری، 9/300، الرقم: 19056)(الأحادیث المختارة، 5/205، الرقم: 1833،چشتی)(تہذیب الأسماء واللغات، 2/557، الرقم: 962)(فتح الباري، 9/595)(تهذیب التهذیب، 5/340، الرقم: 661)(تهذیب الکمال، 16/32، الرقم: 3523)
وفي روایة: عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم عَقَّ عَنْ نَفْسِهٖ بَعْدَ مَا بُعِثَ نَبِیًّا ۔
ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعد اَز بعثت اپنا عقیقہ کیا ۔ (المعجم الأوسط، 1/298، الرقم: 994)(الأحادیث المختارة، 5/205، الرقم: 1832)(المسند رویاني ، 2/386، الرقم: 1371)
وفي روایة: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: لَمَّا وُلِدَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم عَقَّ عَنْهُ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ رضی الله عنه بِکَبْشٍ ۔
ترجمہ : حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی تو حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے آپ کی طرف سے ایک مینڈھا ذبح کرکے عقیقہ کیا ۔ (تاریخ مدینة دمشق، 3/32،چشتی)(إنسان العیون في سیرة الأمین المامون، 1/128)(کفایة الطالب اللبیب في خصائص الحبیب، 1/134)
قَالَ السُّیُوْطِيُّ : وَظَهَرَ لِي تَخْرِیْجُهٗ عَلٰی أَصْلٍ آخَرَ، وَهُوَ مَا أَخْرَجَهُ الْبَیْهَقِيُّ، عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم عَقَّ عَنْ نَفْسِهٖ بَعْدَ النُّبُوَّةِ۔ مَعَ أَنَّهٗ قَدْ وَرَدَ أَنَّ جَدَّهٗ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ عَقَّ عَنْهُ فِي سَابِعِ وِلَادَتِهٖ، وَالْعَقِیْقَةُ لَا تُعَادُ مَرَّةً ثَانِیَةً، فَیُحْمَلُ ذَالِکَ عَلٰی أَنَّ الَّذِي فَعَلَهُ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم إِظْهَارًا لِلشُّکْرِ عَلٰی إِیْجَادِ اللهِ تَعَالٰی إِیَّاهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِیْنَ وَتَشْرِیْفًا لِأُمَّتِهٖ، کَمَا کَانَ یُصَلِّي عَلٰی نَفْسِهٖ، لِذَالِکَ فَیَسْتَحِبُّ لَنَا أَیْضًا إِظْهَارُ الشُّکْرِ بِمَوْلِدِهٖ بِاجْتِمَاعِ الإِخْوَانِ، وَإِطْعَامِ الطَّعَامِ، وَنَحْوَ ذَالِکَ مِنْ وُجُوْهِ الْقُرُبِاتِ، وَإِظْهَارِ الْمَسَرَّاتِ ۔ (حسن المقصد في عمل المولد/64، 65، وأیضًا في الحاوي للفتاوی/206، والصالحي في سبل الهدی والرشاد، 1/367)(زرقاني في شرح المواهب اللدنیة، 1/263264،چشتی)(حجة الله علی العالمین/237)
ترجمہ : امام سیوطی علیہ الرحمہ نے فرمایا : یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کے حوالہ سے ایک اور دلیل مجھ پر ظاہر ہوئی ہے، جسے امام بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِعلانِ نبوت کے بعدخود اپنا عقیقہ کیا باوُجود اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا عبد المطلب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے ساتویں روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقیقہ کر چکے تھے اورعقیقہ دو (2) بار نہیں کیا جاتا۔ پس یہ واقعہ اِسی پر محمول کیا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آپ کو الله کی طرف سے رحمۃ للعالمین بنائے جانے اور اپنی اُمت کے مشرف ہونے کی وجہ سے اپنی ولادت کی خوشی کے اظہار کے لیے خود عقیقہ کیا۔ اسی طرح ہمارے لیے مستحب ہے کہ ہم بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یومِ ولادت پر خوشی کا اِظہار کریں اور کھانا کھلائیں اور دیگر عبادات بجا لائیں اور خوشیوں کا اظہار کریں ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ : أن النبي ﷺ عق عن نفسه بعد النبوة ۔
ترجمہ : بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلانِ نبوت کے بعد اپنی طرف سے عقیقہ کیا ۔ (المعجم الأوسط، ج1، ص 298، رقم: 994)(السنن الکبری، ج۹، ص 300، رقم: 19056،چشتی)(تهذيب الكمال، ج16، ص 132)(تہذیب التہذیب، ج5، ص 340)
اس حدیث کو امام بزار نے اپنی المسند میں اور امام ہیثمی علیہما الرحمہ نے مجمع الزوائد میں بھی روایت کیا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کیا اور بکرے ذبح کیا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لنگرِ میلاد کھیلایا ۔
بعض علماء کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو بکرے ذبح کیے تھے وہ میلاد کے نہیں بلکہ عقیقہ کے تھے ۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بکرے میلاد کے موقع پر نہیں بلکہ عقیقہ کے طور پر ذبح کیے گئے تھے ۔ اب سوال یہ ہے کہ عقیقہ کس موقع پر کیا جاتا ہے ؟ کیا عقیقہ وفات پر ہوتا ہے یا ولادت پر ؟ ظاہر ہے عقیقہ ولادت کی خوشی میں کیا جاتا ہے ۔ لہٰذا کوئی چاہے اسے میلاد مانے یا عقیقہ ، حقیقت یہ ہے کہ عقیقہ بھی میلاد (ولادت) کی خوشی کا کھانا ہے ۔ جیسے ولیمہ شادی کی خوشی کا کھانا ہوتا ہے، اسی طرح عقیقہ ولادت کی خوشی کا کھانا ہے ۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ: لما ولد النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عق عنه عبد المطلب بكبش وسماه محمدا ۔
ترجمہ : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ با سعادت ہوئی تو آپ کی طرف سے آپ کے دادا عبد المطلب نے ایک مینڈھے کا عقیقہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکھا ۔ (تاريخ مدينة دمشق، ج3، ص 32،چشتی)(الحاوي للفتاوي، ج1، ص 188)
امام سیوطی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ : أن جده عبد المطلب عق عنه في سابع ولادته والعقيقة ۔
ترجمہ : بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے دادا عبد المطلب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے ساتویں روز آپ کی طرف سے عقیقہ کر دیا تھا ۔ (الحاوي للفتاوي، ج1، ص 188)
امام ابو داود اپنی السنن میں اور امام ترمذی علیہما الرحمہ اپنی السنن میں روایات نقل کرتے ہیں ۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا : كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُدَمَّى ۔
ترجمہ : ہر بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے، اس کی طرف سے ساتویں روز ذبح کیا جائے، اس کا سر مونڈا جائے، اور اس کا نام رکھا جائے۔ (أبو داود، السنن، ج3، ص 106، رقم: 2837)
امام ترمذی علیہ الرحمہ یہی روایت اپنی السنن میں نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا : الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ ۔
ترجمہ : ہر بچہ عقیقہ کے بدلے گروی رکھا ہوا ہے، پیدائش کے ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور اس کے سر کے بال منڈائے جائیں ۔ (سنن ترمذی ج4، ص 101، رقم: 1522)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث میں عقیقہ کے بارے میں یہ ہدایت ہے کہ اگر ساتویں دن عقیقہ نہ ہو سکے تو چودھویں دن کیا جائے ، اور اگر چودھویں دن بھی نہ ہو سکے تو اکیسویں دن کیا جائے ۔ یہ دن عقیقے کے لیے مقرر ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقیقہ آپ کی ولادت کے ساتویں دن ہو گیا تھا ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ساتواں دن ، چودھواں دن اور اکیسواں دن سب گزر گئے تو پھر چالیس سال بعد اعلانِ نبوت کے بعد دوبارہ عقیقہ کرنے کا کیا مطلب ؟ اگر کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سوچا ہو کہ میرا پہلا عقیقہ بعثت سے پہلے جاہلیت کے دور میں ہوا تھا ، اس لیے اب نبوت کے بعد اپنی شریعت کے مطابق دوبارہ عقیقہ کروں ۔ تو اس خیال کا بھی میں جواب دینا چاہتا ہوں ۔ یہ محض ایک گمان ہے کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاہا ہو کہ بعثت کے بعد اپنی شریعت میں اس عمل کو دوبارہ ادا کریں ۔ اگر بعثت سے پہلے دورِ جاہلیت کا کوئی عمل ناجائز ہو جاتا (معاذ اللہ) اور اسے دہرانا ضروری ہوتا ، تو سب سے پہلے نکاح دہرانا لازمی تھا ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے نکاح بعثت سے پندرہ سال پہلے ہوا تھا ۔ اسی نکاح سے سیدہ فاطمہ ، حضرت رقیہ ، حضرت زینب ، حضرت ام کلثوم ، حضرت ابراہیم ، حضرت قاسم اور طیب و طاہر رضی اللہ عنہم پیدا ہوئے ۔ جب اعلانِ نبوت ہوا تو وہ نکاح تو دوبارہ نہیں کیا گیا ، تو پھر عقیقہ دہرانے کی ضرورت کیسے پیش آ سکتی ہے ؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا اعادہ نہیں کیا ، تو پھر عقیقے کا اعادہ اس سے زیادہ ضروری کیسے ہو سکتا تھا ؟ حقیقت یہ ہے کہ جسے "عقیقہ" کہا گیا ہے وہ دراصل کھانا ہے ، یعنی بکرے ذبح کر کے صدقہ و خیرات اور خوشی کے اظہار کےلیے کھانا کھلانا ۔ شادی کی خوشی کا کھانا "ولیمہ" کہلاتا ہے اور ولادت (میلاد) کی خوشی کا کھانا "عقیقہ" کہلاتا ہے ۔ چنانچہ اعلانِ نبوت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع فرمایا اور اپنی شریعت اور سنت میں اپنے میلاد کی خوشی کا لنگر کھلا کر قیامت تک کےلیے میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانا سنت بنا دیا ۔
میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواز اور اس کے سنت ہونے پر خود سیرتِ نبوی روشن دلیل ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلانِ نبوت کے بعد اپنی ولادتِ باسعادت کی خوشی میں بکرے ذبح کیے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لنگر عطا فرمایا ۔ اسے اگر کوئی عقیقہ کہے تو بھی حقیقت یہی ہے کہ عقیقہ دراصل میلاد (یعنی ولادت) ہی کی خوشی کا کھانا ہے ، جیسے نکاح کی خوشی کا کھانا ولیمہ کہلاتا ہے ۔ اس عمل سے یہ اَمر قطعی طور پر ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سنت اور اپنی شریعت میں میلاد کی مسرت کو عملی صورت بخشی ۔ جس سے یہ واضح ہوا کہ عقیقے کے نام پر جو لنگر دیا گیا وہ دراصل میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جشن تھا ۔ یوں میلاد منانا فقط مباح نہیں بلکہ عین سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ، اور اس کی اصل خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے میلاد کی خوشی کا اظہار ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)





















































