حضرت امیر معاویہ اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے باہمی تعلقات و بیعت
حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی تو سبائیوں نے جو صلح کے مخالف تھے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو آمادہ کرنا چاہا کہ وہ بیعت ختم کر کے مقابلہ کریں ۔ لیکن آپ نے صاف انکار کر دیا اور فرمایا : ہم نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی ، عہد کر لیا ہے ، اب ہمارا بیعت توڑنا ممکن نہیں ۔ (شیعہ کتب : اخبار الطوال صفحہ 220)(رجال کشی صفحہ 102)
شیعہ کے اسمآء الرجال کی معتبر کتاب "رجال کشی" میں شیخ طوسی ، محمد بن راشد سے روایت کرتا ہے کہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی طرف خط لکھا کہ آپ اور حسین اور اصحابِ علی میرے پاس آئیں (بیعت کریں) پس یہ حضرات نکلے ، ان کے ساتھ سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ بھی تھے ۔ یہ سب شام کی طرف آئے ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو اندر داخل ہونے کی اجازت دی ۔ اور ان کےلیے خطباء کو اکٹھا کیا ۔
فقال يا حسن قم فبايع فقام فبايع ، ثم قال للحسين عليه السلام قم فبايع فقام فبايع ، ثم قال قم ياقيس فبايع فالتفت إلى الحسين عليه السلام ينظر ما يأمره ، فقال يا قيس انه امامي يعني الحسن عليه السلام ۔
ترجمہ : پس معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا : اے حسن ! اٹھیں بیعت کریں ۔ پس حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اٹھے اور بیعت کی ۔ پھر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے کہا : اے حسین رضی اللہ عنہ اٹھیں اور بیعت کریں ، پس حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اٹھے اور بیعت کی ۔ پھر قیس سے کہا : اے قیس ! اٹھ کر بیعت کریں ۔ تو اس نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا کہ وہ کیا حکم کرتے ہیں ۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ امام حسن رضی اللہ عنہ میرا امام ہے (جب وہ بیعت کرچکے تو تجھے بھی بیعت کرنی چاہیے) ۔ (رجال کشی صفحہ 86 ذکر قیس بن سعد بن عبادہ) ۔ (شیعہ کتاب : رجال کشی صفحہ 86 ذکر قیس بن سعد بن عبادہ مطبوعہ نجف عکس صفحہ273،چشتی)(شیعہ کتاب : بحارالانوار جلد 44 صفحہ 61 کیفیۃ مصالحۃ الحسن علیہ السلام)(شیعہ کتاب : منتہی الآمال جلد 1 صفحہ 322 ، 323 ذکر صلح امام حسن مطبوعہ ایران)(شیعہ کتاب : جلاءُ العیون جلد 1 صفحہ 437 مصالحہ آں حضرت با معاویہ ایران)(شیعہ کتاب : مقاتل الطالبین صفحہ 79 ذکر حسن بن علی مطبوعہ نجف عراق)
جب حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ بیعت کرچکے اور خلافت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کی تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کے سامنے خطبہ دیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ تسلیم کر لیا ہے ۔ اور ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے تو حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے ایک بڑا خطبہ دیا ، جس میں مسائل ذکر کیے اور یہ بھی فرمایا کہ میں حکومت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر چکا ہوں ۔ اس میں میری اور تمہاری بھلائی ہے : قَدْ بَا یَعْتُہٗ ، تحقیق میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر چکا ہوں ۔ (شیعہ کتاب : ناسخ التواریخ جلد 1 صفحہ 571 فی کلامہ و مواضعہ علیہ السلام ایران)(شیعہ کتاب : کشف الغمہ جلد 1 صفحہ 230 زندگانی امام حسن مجتبیٰ مطبوعہ ایران)(شیعہ کتاب : نزل الابرار فی مناقب اہل البیت الاطہار صفحہ 82 مطبوعہ ایران)(شیعہ کتاب : كشف الغمة جلد 2 صفحہ 66)
شیعوں کا رئیس المحدثین شیخ صدوق قمی متوفی 381 ھجری لکھتا ہے : عن عامر قال : بايع الحسن بن علي معاوية ، عامر سے روایت ہے کہ حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی ۔ (علل الشرائع جلد 1 ۔ 2 صفحہ 214 مطبوعہ بیروت،چشتی)(علل الشرائع جلد 2 صفحہ 28 مطبوعہ الاحیاء التراث بیروت)(علل الشرائع مترجم اردو صفحہ 255)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ آئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر گلے لگایا اور فرمایا کہ یہ میرا بیٹا ہے ۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا ۔ (کشف الغمہ جلد 1 صفحہ 546 مطبوعہ نجف عِراق)(عمدۃ الطالب صفحہ 65 مطبوعہ نجف عراق)
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے پیارے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کو یاد رکھا اور جب خلافت ان کے ہاتھ میں آئی تو اپنے نانا کے اس فرمان کو سچا کرکے دکھایا۔ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرکے اس امت کو بڑے نقصان سے محفوظ رکھا ۔ فساد اور فتنہ کو ختم کردیا ۔ انہوں نے اِسی میں اپنی اور امت کی بہتری سمجھی ، لیکن شیعوں کو یہ کام پسند نہ آیا ۔ لہٰذا انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو تکلیفیں دینا شروع کر دیں ۔ اور ان پر غلیظ طعن و تشنیع کرنے لگے ۔
امیر معاویہ اور امام حسین رضی اللہ عنہما کے تعلقات داتا صاحب کی نظر میں : ⏬
حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ متوفی 465 ہجری لکھتے ہیں کہ : امام حسین رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں ایک مفلس و غریب آدمی مدد کیلئے حاضر ہوا آپ نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا اور فرمایا بیٹھ جاؤ ، ہمارا وظیفہ راستے میں ہے ، کچھ دیر بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک آدمی آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور پانچ تھیلیاں دیناروں کی پیش کیں جس میں ایک ایک ہزار دینار تھے اور ساتھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے معذرت بھی کی ، آپ رضی اللہ عنہ نے وہ تھیلیاں اسی طرح پاس بیٹھے سائل کو دے دیں ۔ (کشف المحجوب مترجم صفحہ نمبر 185 مکتبہ شمس و قمر بھاٹی چوک لاہور،چشتی)
حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ نے یہ واقعہ لکھ کر بہت ساری گتھیاں سلجھادی ہیں ، جیسا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں نذرانہ پیش کرنا ، امام عالی مقام کا اسے نہ صرف قبول کرنا بلکہ اسے راہِ خدا میں خرچ بھی کرنا ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا پیغام میں معافی چاہنا ؛ اس واقعہ کو ذکر کرتے ہوئے حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کوئی ایسی ویسی بات یا جملہ ذکر نہ کرنا جیسا کہ آج کل کے تفضیلی رافضی ذکر کرتے رہتے ہیں ۔ اگر حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ویسے ہوتے جیسا کہ معاذ اللہ آج باغی طاغی ، ظالم ، فاسق ، منافق ، شرابی ، سودی ، اور دشمن اہل بیت کی گردانیں پڑھی جارہی ہیں تو حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ ایسے واقعہ کو جس سے ان ہستیوں میں محبت واضح و ثابت ہورہی ہے ذکر ہی نہ کرتے ، اسی واقعہ کے بعد اگلے صفحہ پر حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ نے یزید کے اہل بیت رضی اللہ عنہم پر مظالم کو بھی ذکر کیا مگر کہیں بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام یا ذکر اشارةً بھی نہ کیا ، نہ مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے صفین و جمل کو چھیڑا ، پتہ چلا حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھی یہ ایک حساس اور الگ قسم کا مسئلہ تھا جس پر کسی قسم کی طعن وتشنیع نہیں کی جاسکتی وہ سب اصحاب رسول رضی اللہ عنہم ہیں اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت کا ادب و احترام ہم سب پر واجب ہے ۔
کتب تاریخ و سیر اس پر گواہ ہیں کہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ دونوں بھائی اکثر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں جایا کرتے تھے ۔ وہ دونوں کی بہت عزت و تکریم کرتے ، محبت و شفقت سے پیش آتے ۔ اور اپنے برابر تخت پر بٹھاتے ۔ اور ایک ایک دن میں ان کو دو ، دو لاکھ درہم عطا کرتے ۔ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بدستور ان کی مجلس میں تشریف لے جایا کرتے اور وظائف اور عطایا حاصل کرتے ۔ (البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 150)
مشہور شیعہ مجتہد ملا باقر مجلسی لکھتا ہے : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ہدایا بیجا کرتے تھے اور ہر سال دس لاکھ درھم بھیجتے تھے اور سلسلہ موقوف نہ کیا ۔ (بحار الانوار مترجم اردو جلد 10 حصہ اول صفحہ نمبر 57 مکتبہ مطبوعہ محفوظ بک ایجنسی امام بارگاہ مارٹن روڈ کراچی)
جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہو گئی تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ، اپنے بھائی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت معاویہ کے پاس جایا کرتے تھے ۔ وہ ان دونوں کی بہت زیادہ تکریم کرتے ، انہیں خوش آمدید کہتے اور عطیات دیتے ۔ ایک ہی دن میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ نے انہیں بیس لاکھ درہم دیے ۔ ( تاریخ دمشق جلد 59 صفحہ 193،چشتی)
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : میں آپ کو ایسا عطیہ دوں گا جو مجھ سے پہلے کسی نے نہ دیا ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو چالیس لاکھ درہم دیے ۔ ایک مرتبہ امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما دونوں ان کے پاس آئے تو انہیں بیس بیس لاکھ درہم دیے ۔ ( ابن عساکر۔ 59/193)
اہل تشیع کے بڑے عالم اور نہج البلاغہ کے شارح ابن ابی الحدید لکھتے ہیں : معاویہ دنیا میں پہلے شخص تھے جنہوں نے دس دس لاکھ درہم بطور عطیہ دیئے ۔ ان کا بیٹا یزید پہلا آدمی تھا جس نے ان عطیات کو دوگنا کیا ۔ حضرت علی کے دونوں بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو ہر سال دس دس لاکھ درہم دیئے جاتے ۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کو بھی دیے جاتے ۔ (ابن ابی الحدید۔ شرح نہج البلاغۃ)
جب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ برابر ہر سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس جاتے رہے ۔ وہ انہیں عطیہ دیتے اور ان کی بھرپور عزت کرتے ۔ ( ابن کثیر۔ 11/477،چشتی)
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرات امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما کو تحفے بھیجنا اتنی معروف بات ہے کہ ابو مخنف کو بھی اس سے انکار نہیں ہے ۔ موصوف لکھتے ہیں : معاویہ ہر سال امام حسین رضی اللہ عنہما کو ہر قسم کے تحفوں کےعلاوہ دس لاکھ دینار بھیجا کرتے تھے۔( ابو مخنف۔ مقتل الحسین علیہ السلام ۔ قم : مطبعہ امیر)
آپ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حقیقی بھانجی آمنہ بنت میمونہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی زوجہ اولیٰ تھیں ۔ اس لحاظ سے حضرت امام سیدنا حسین رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے داماد تھے ۔ (طبری، جلد: 13ص: 19، چشتی)
اسی طرح حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ (sister) ام المومنین سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ___ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات مومنوں کی مائیں ____ اس لحاظ سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تمام مومنوں کے ماموں (uncle) ہوئے ۔
شیعہ مولوی ملا باقر مجلسی کتاب جلاء العیون میں لکھتا ہے : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ وصال کے وقت یزید کو یہ وصیت فرماگئے کہ امام حسین رضی ﷲ عنہ پس ان کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے ۔ تجھے معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بدن کے ٹکڑے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گوشت و خون سے انہوں نے پرورش پائی ہے ۔ مجھے معلوم ہے کہ عراق والے ان کو اپنی طرف بلائیں گے اور ان کی مدد نہ کریں گے ۔ تنہا چھوڑ دیں گے اگر ان پر قابو پالے تو ان کے حقوق کو پہچاننا ‘ ان کا مرتبہ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے اس کو یاد رکھنا ‘ خبردار ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ دینا ۔ (جلاء العیون جلد دوم صفحہ نمبر 421,422)
ایک اور شیعہ عالم ناسخ التواریخ میں لکھتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ نے مزید کو یہ وصیت فرمائی : کہ اے بیٹا ! ہوس نہ کرنا اور خبردار جب ﷲ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو تو تیری گردن میں حسین بن علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہما کا خون نہ ہو ۔ ورنہ کبھی آسائش نہ دیکھے گا اور ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہے گا ۔
محترم قارئینِ کرام : غور کیجیے حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ ‘ یزید کو یہ وصیت کر رہے ہیں کہ ان کی تعظیم کرنا بوقت مصیبت ان کی مدد کرنا ۔ اب اگر یزید پلید اپنے والد کی وصیت پر عمل نہ کرے تو اس میں حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ کا کیا قصور ؟
حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے یزید پلید کو کافر لکھا ہے اور اہل سنت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ یزید پلید ‘ شرابی ‘ ظالم اور امام حسین رضی ﷲ عنہ کے خون کا ذمہ دار ہے ‘ لیکن اس کے بدلے میں حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو بدنام کرنا یہ کون سی دیانت ہے ؟
یااللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں اور فتنہ پروروں کے شر و فتنہ سے محفوظ فرما آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔
































































