Thursday, 5 March 2026

سامری حرامی ، بچھڑا اور موجودہ اسرائیلی یہودی اسی کی نسل ہیں

سامری حرامی ، بچھڑا اور موجودہ اسرائیلی یہودی اسی کی نسل ہیں

محترم قارئینِ کرام : موجودہ دور میں جب کوئی ریاکاری ، منافقت اور ہر قسم کے ہتکھنڈے استعمال کر کے جیسا کہ امریکی اسرائیلی یہودی مل کر کرتے ہیں ، کچھ نامعلوم مقاصد و اہداف کے حصول کےلیے ان سب کا استعمال کرتے ہیں تو لوگ انہیں سامری کا خطاب دیتے ہیں ۔ یاد رہے سامری حرامی تھا اور موجودہ امریکی و اسرائیلی یہودی اسی کی نسل سے ہیں اور بچھڑے کے پوجاری ہیں ۔ سامری کا اصل نام موسیٰ بن ظفر تھا یہ سامرہ قبیلے سے تھا ، جس کی وجہ سے اسے سامری کہا جاتا تھا ، اور یہ انسان ہی تھا ، جب بنی اسرائیل کے ساتھ اس نے دریا عبور کیا تو اس کے بعد یہ منافق ہو گیا اور اس نے حضرت موسی علیہ السلام کے کوہ طور پر جانے کے بعد زیورات سے بچھڑا بنایا اور اسے لوگوں کا معبود قرار دے کر لوگوں کو اس کی پوجا پر لگا دیا ، اس وجہ سے حضرت  موسیٰ علیہ السلام نے اس سے فرمایا : جا ! اب پوری زندگی تو یہ کہتا رہے گا کہ مجھ سے نہ چھو جانا ۔ اس کے بعد وہ لوگوں سے  چیخ چیخ کر کہتا پھرتا تھا کہ : مجھ سے کوئی نہ چھو جائے ۔ اور اگر وہ کسی کو چھو جاتا تھا یا کوئی اس سے چھو جاتا تھا تو دونوں کو سخت بخار ہو جاتا تھا ، اس وجہ سے وہ لوگوں سے بچ کر رہتا تھا اور لوگ اس سے بچ کر رہتے تھے ، اس کے ساتھ بات چیت ، ملاقات ، لین دین وغیرہ سارے معاملات دشوار ہو گئے تھے ، لہٰذا اس کےلیے آبادی میں رہنا دو بھر ہو گیا تھا ، پس وہ جنگل کی طرف نکل گیا ، اور جنگل میں تن تنہا وحشی جانوروں اور درندوں کے ساتھ سرگرداں رہنے لگا اور اسی حالت میں مر گیا ۔


تفسیر طبری میں ہے : كان اسم السامري موسى بن ظفر ۔

ترجمہ : سامری کا نام موسی بن ظفر تھا ۔ (تفسیر الطبری جلد 2 صفحہ 67 مؤسسة الرسالة)


تفسیر القرآن العزیز لابن ابی زمنین رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 399 ھ) میں ہے : قال قتادة و كان السامري من عظماء بني إسرائيل ، من قبيلة يقال لها : سامرة ، و لكن نافق بعدما قطع البحر مع بني إسرائيل ۔

ترجمہ : حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : سامری بنی اسرائیل کے معظم لوگوں میں سے تھا، "سامرہ" نامی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا، لیکن جب اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ دریا عبور کیا تو اس کے بعد یہ منافق ہو گیا ۔ (تفسیر القرآن العزیز جلد 3 صفحہ 125 مطبوعہ مصر)


اللہ عزوجل کا فرمان ہے : قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ (95) قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ (96) ۔ (سورہ طہ آیت نمبر 95 ، 96)

ترجمہ : موسیٰ نے کہا اب تیرا کیا حال ہے اے سامری ۔ بولا میں نے وہ دیکھا جو لوگوں نے نہ دیکھا تو ایک مٹھی بھر لی فرشتے کے نشان سے پھر اسے ڈال دیا اور میرے جی کو یہی بھلا لگا ۔


مذکورہ آیتِ مبارکہ اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کا جواب سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے سامری ! تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس کی وجہ بتا ۔ سامری نے کہا : میں نے وہ دیکھا جو بنی اسرائیل کے لوگوں نے نہ دیکھا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تو نے کیا دیکھا ؟ اس نے کہا : میں  نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا اور انہیں پہچان لیا ، وہ زندگی کے گھوڑے پر سوار تھے ، اس وقت میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں ان کے گھوڑے کے نشانِ قدم کی خاک لے لوں  تو میں نے وہاں سے ایک مٹھی بھر لی پھر اِسے اُس بچھڑے میں ڈال دیا جو میں نے بنایا تھا اور میرے نفس نے مجھے یہی اچھا کر کے دکھایا اور یہ فعل میں نے اپنی ہی نفسانی خواہش کی وجہ سے کیا کوئی دوسرا اس کا باعث و مُحرِّک نہ تھا ۔ (تفسیر مدارک صفحہ ۷۰۱،چشتی)(تفسیر خازن جلد ۳ صفحہ ۲۶۲)

 

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ کاملہ سے فارغ ہو گئے اور بنو اسرئایل کو سرزنش نہ کرنے کے متعلق ان کا عذر قبول کر لیا تو اب سامری کی طرف متوجہ ہوئے ۔ یہ ہوسکتا ہے کہ سامری اس وقت وہیں موجود ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کہیں اور ہوا اور اس کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بلایا ہو ، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے پاس حضرت موسیٰ خود گئے ہوں تاکہ اس سے خطاب کریں۔ بہرحال حضرت موسیٰ نے اس سے پوچھا تیرا کیا معاملہ ہے یعنی تو نے اس بچھڑے کو معبود کیوں بنایا تھا ؟ سامری نے کہا میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسروں نے نہیں دیکھی تو میں نے اللہ کے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لی پھر اس مٹھی بھر خاک کو بچھڑنے کے مجسمہ میں ڈال دیا ، میرے دل نے یہی بات بنائی تھی ۔ جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں رسول سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام ہیں اور اثر سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام کی سواری کے پاٶں کے نیچے کی مٹی ہے ۔ پھر اس میں اختلا ہے کہ سامری نے حضرت جبریل کو کب دیکھا تھا اکثر نے یہ کہا ہے کہ جس دن سمندر کو چیرا گیا تھا اس دن سامری نے حضرت جبریل کو دیکھا تھا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت جبریل علیہ السلام نازل ہوئے تاکہ حضرت موسیٰ کو طور پر لے جائیں تو سامری نے حضرت جبریل علیہ السلام کو لوگوں کے درمیان دیکھ لیا تھا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ اس نے حضرت جبریل کو اس لیے پہچان لیا تھا کہ سامری نے حضرت جبریل کو بچپن میں دیکھا تھا کیونکہ جب فرعون نے بنی اسرائیل کی اولاد کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا اس سال سامری پیدا ہوا اس کی ماں سامری کو ایک غار میں ڈال آئی تھی وہاں حضرت جبریل علیہ السلام آتے اور اپنا ہاتھ سامری کے منہ میں ڈالتے وہ اس کو چوستا تو اس کو غذا حاصل ہو جاتی ۔ اس وقت سے سامری کے ذہن میں حضرت جبریل علیہ السلام کی صورت نقش تھی اب اس نے ان کو دیکھا تو پہچان لیا ۔ اس نے ان کی سواری کے پاٶں کے نیچے سے مٹھی اٹھا لی اور اپنے پاس محفوظ رکھ لی اور اس نے جب بچھڑے کو بنایا تو اس کے اندر وہ مٹی ڈال دی جس کے اثر سے اس میں حیات آگئی اور وہ بیل کی سی آواز نکالنے لگا ۔


بنی اسرائیل میں ایک حرامی شخص تھا جس کا نام سامری تھا جو طبعی طور پر نہایت گمراہ اور گمراہ کن آدمی تھا ۔ اس کی ماں نے برادری میں رسوائی و بدنامی کے ڈر سے اس کو پیدا ہوتے ہی پہاڑ کے ایک غار میں چھوڑ دیا تھا اور حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اس کو اپنی انگلی سے دودھ پلا پلا کر پالا تھا ۔ اس لیے یہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو پہچانتا تھا ۔ اس کا پورا نام موسیٰ سامری ہے ۔ جن دنوں حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر معتکف تھے ۔ سامری نے آپ کی غیر موجودگی کو غنیمت جانا اور یہ فتنہ برپا کر دیا کہ اس نے بنی اسرائیل کے سونے چاندی کے زیورات کو مانگ کر پگھلایا اور اس سے ایک بچھڑا بنایا ۔ اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کے قدموں کی خاک جو اس کے پاس محفوظ تھی اس نے وہ خاک بچھڑے کے منہ میں ڈال دی تو وہ بچھڑا بولنے لگا ۔ پھر سامری نے بنی اسرائیل سے یہ کہا کہ اے میری قوم ! حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر خدا عزوجل کے دیدار کےلیے تشریف لے گئے ہیں ۔ حالانکہ تمہارا خدا تو یہی بچھڑا ہے ۔ لہٰذا تم لوگ اسی کی عبادت کرو ۔ سامری کی اس تقریر سے بنی اسرائیل گمراہ ہو گئے اور بارہ ہزار آدمیوں کے سوا ساری قوم نے چاندی سونے کے بچھڑے کو بولتا دیکھ کر اس کو خدا مان لیا ۔ اس وجہ سے حضرت موسی علیہ السلام نے اس پر ناراضی کا اظہار فرمایا ۔ (عجائب القرآن صفحہ 113،چشتی)


امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 606 ھ نے لکھا ہے کہ ابو مسلم اصفہانی رحمة اللہ علیہ نے یہ کہا ہے کہ قرآن مجید میں یہ تصریح نہیں ہے کہ طہ : 96 میں رسول سے مراد جبریل ہیں یہ صرف مفسرین کا قول ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں رسول سے مراد حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوں اور ان کے اثر سیمراد ان کی سنت اور ان کا وہ طریقہ ہو جس کا انہوں نے حکم دیا تھا اور مفہوم یہ ہو کہ جب حضرت موسیٰ نے سامری کو بچھڑے کی عبادت پر ملامت کی تو اس نے یوں کہا مجھے اس چیز کی بصیرت حاصل ہوئی جس کی اور لوگوں کو بصیرت حاصل نہیں ہوئی ۔ یعنی میں نے جان لیا آپ لوگ حق پر نہیں ہیں اور اے رسول میں نے آپ کی سنت اور آپ کے دین کا کچھ حصہ حاصل کیا تھا پھر میں نے اس کو پھینک دیا اور ترک کردیا، اور اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو خبر دی کہ اس کو دنیا اور آخرت کا عذاب ہوگا ۔


ابو مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی یہ تقریر ہرچند کہ عام مفسرین کی تفسیر کے خلاف ہے لیکن یہ تقریر حسب ذیل وجوہ سے راجح ہے اور تحقیق کے قریب ہے : ⏬


(١) حضرت جبریل کےلیے رسول کا لفظ مشہور نہیں ہے اور نہ طہ : 96 سے پہلی آیتوں میں حضرت جبریل کا ذکر ہے حتیٰ کہ یہ کہا جائے کہ الرسول میں لام عہد ہے اور اس سے مراد حضرت جبریل ہیں ۔


(٢) مفسرین کی تفسیر میں قبضۃ من اثر الرسول میں دو لفظ محذوف ماننے ہوں گے اور عبارت یوں بنے گی قبضۃ من الرحافر فرس الرسول میں نے رسول یعنی جبریل کی گھوڑی کے پیر کی خاک سے ایک مٹھی بھر لی اور حذف خلاف اصل ہے ۔


(٣) اس کی وجہ بتانی پڑے گی کہ تمام لوگوں میں سے صرف سامری نے کیسے جبریل کو دیکھا اور پہچان لیا اور یہ کیسے جان لیا کہ ان کی گھوڑی کے پائوں کی خاک میں یہ اثر ہے کہ اس سے بےجان چیز زندہ ہوجائے گی ۔ اور مفسرین نے جو یہ بیان کیا ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلم نے سامری کی اس کے بچپن میں تربیت اور پرورش کی تھی اول تو یہ بہت بعید ہے ، ثانیاً سامری نے جوان ہونے اور عقل و شعور کے کامل ہونے کے بعد جبریل کو دیکھ کر یہ کیسے پہچان لیا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے میری پیدائش کے بعد میری پرورش کی تھی ۔


(٤) اگر اس تفسیر کو مان لیا جائے تو پھر کوئی شخص یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ سامری کافر تھا اور جب اس کو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ ایک خاک کی چٹکی بےجان چیز کو زندہ کر سکتی ہے اور سامری کے ایک عمل سے بےجان مجسمہ بیل کی سی آواز نکال سکتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی اس طرح کی کسی چیز کا علم ہو گیا ہو جس کی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ معجزات دکھائے ہوں اور پھر معجزات کے ثبوت کا دروازہ بند ہوجائے گا ۔ (تفسیر کبیر جلد ٨ صفحہ 92 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت 1415 ھ)


سامری کی سزا و انجام : ⏬


اس کے حشر کے متعلق قرآن پاک میں ہے : قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ ۪۔ (سورہ طہ آیت نمبر 97)

ترجمہ : کہا تو چلتا بن کہ دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہ ہے کہ تو کہے چھو نہ جا ۔


سامری کی بات سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سے فرمایا : تو یہاں  سے چلتا بن اور دور ہو جا ، پس بیشک زندگی میں  تیرے لئے یہ سزا ہے کہ جب تجھ سے کوئی ایسا شخص ملنا چاہے جو تیرے حال سے واقف نہ ہو ، تو تُو اس سے کہے گا ، کوئی مجھے نہ چھوئے اور نہ میں  کسی سے چھوؤں ۔ چنانچہ لوگوں  کو مکمل طور پر سے ملنا منع کر دیا گیا اور ہر ایک پر اس کے ساتھ ملاقات ، بات چیت ، خرید و فروخت حرام کر دی گئی اور اگر اتفاقاً کوئی اس سے چھو جاتا تو وہ اور چھونے والا دونوں شدید بخار میں مبتلا ہوتے ، وہ جنگل میں یہی شور مچاتا پھرتا تھا کہ کوئی مجھے نہ چھوئے اور وہ وحشیوں  اور درندوں میں زندگی کے دن انتہائی تلخی اور وحشت میں گزارتا تھا ۔ (تفسیر مدارک صفحہ ۷۰۱،چشتی)(تفسیر خازن جلد ۳ صفحہ ۲۶۲)


حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مزید فرمایا کہ اے سامری ! تیرے شرک اور فساد انگیزی پر دنیا کے اس عذاب کے بعد تیرے لیے آخرت میں  بھی عذاب کا وعدہ ہے جس کی تجھ سے خلاف ورزی نہ کی جائے گی اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو سارا دن ڈٹ کر بیٹھا رہا اور اس کی عبادت پر قائم رہا ،قسم ہے : ہم ضرور اسے آگ سے جلائیں  گے پھر ریزہ ریزہ کرکے دریا میں  بہا دیں  گے ، چنانچہ حضرت موسیٰ صفحہ نے اس بچھڑے کے ساتھ ایسا ہی کیا ۔(تفسیر مدارک صفحہ ۷۰۱)(تفسیر خازن جلد ۳ صفحہ ۲۶۲ - ۲۶۳)


تفسیر خزائن العرفان میں ہے : یعنی سب سے علیٰحدہ رہنا نہ تجھ سے کوئی چھوئے نہ تو کسی سے چھوئے ، لوگوں سے ملنا اس کےلیے کلّی طورپر ممنوع قرار دیا گیا اور ملاقات ، مکالمت ، خرید و فروخت ہر ایک کے ساتھ حرام کر دی گئی اور اگر اتفاقاً کوئی اس سے چھو جاتا تو وہ اور چھونے والا دونوں شدید بخار میں مبتلا ہوتے ، وہ جنگل میں یہی شور مچاتا پھرتا تھا کہ کوئی چھو نہ جانا اور وحشیوں اور درندوں میں زندگی کے دن نہایت تلخی و وحشت میں گزارتا تھا ۔


سورہ طہ : 97 میں ہے موسیٰ نے کہا اب تو یہاں سے چلا جا اب تو زندگی بھر یہی کہے گا ” مجھے مت چھونا “ اور تجھ سے آخرت میں سزا کا وعدہ ہے جس سے تو ہرگز نہیں بچ سکے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو فرمایا تھا کہ اب تو زندگی بھر یہی کہے گا ” مجھے مت چھونا “ ان کی حسب ذیل تفسیریں ہیں : ⏬


(١) جب کوئی شخص اس کو چھوتا تو اس کو اور چھونے والے کو دونوں کو بخار چڑھ جاتا اس لیے جب کوئی شخص اس کو چھونے کا ارادہ کرتا تو وہ خوف سے چلاتا مجھے مت چھونا ۔


(٢) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو محلہ سے نکال دیا تھا اور اس کو کسی آبادی میں رہنے سے منع کردیا تھا اور تمام لوگوں کو اس سے ملنے جلنے سے منع کردیا تھا وہ جنگلوں اور پہاڑوں میں پڑا رہتا تھا اور افسوس سے یہ کہتا رہتا تھا مجھ سے کوئی ملتا جلتا نہیں ہے اور یہی لامساس کا معنی ہے یعنی مجھے کوئی مس نہیں کرتا کوئی چھوتا نہیں ہے ۔


(٣) لامساس کا معنی یہ ہے کہ اس کو عورتوں کے مس سے محروم کردیا گیا تھا اور اس کی نسل منقطع کردی گئی اور جسمانیفطرت کے تقاضوں کی لذت اس سے سلب کرلی گئی تھی ۔


جس بچھڑے کو اس نے معبود بنایا تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کا انجام بیان کرتے ہوئے فرمایا : اور تو اپنے اس (خود ساختہ) معبود کو دیکھ جس کی عبادت پر تو جما بیٹھا تھا ہم اس کو ضرور جلا دیں گے پھر اس کی راکھ کو اڑا کر سمندر میں پھینک دیں گے ۔ (طہ :97) 

سامری کے اس بچھڑے کے متعلق فقیر نے دو قول ذکر کیے تھے ایک یہ کہ وہ سونے کا مجسمہ تھا اور جب اس میں حضرت جبریل کی سواری کے پاٶں کے نیچے کی خاک ڈالی تو وہ اس خاک کی برکت سے بیل کی سی آواز نکالنے لگا، اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ گوشت پوست اور خون کے ساتھ زندہ ہو یا تھا ، اس آیت میں ان مفسرین کی تائید ہے جو یہ کہتے ہیں کہ وہ سونے کا مجسمہ اس خاک کی برکت سے گوشت پوست کے ساتھ زندہ ہوگیا تھا، کیونکہ اس آیت میں فرمایا ہے حضرت موسیٰ نے اس کو جلا کر راکھ دیا اور سونا جل کر راکھ نہیں ہوتا ، اس کا معنی یہ ہے کہ وہ مجسمہ گوشت ، پوست اور خون کے ساتھ زندہ ہو گیا تھا ، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو ذبح کیا اور جلا کر رکھ دیا اور جو مفسرین یہ کہتے ہیں کہ وہ سونے کا مجسمہ ہی تھا اور خاک ڈالنے کی برکت کی وجہ سے صرف بیل کی سی آواز نکالنے لگا تھا وہ اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ بیشک سونا جل کر راکھ نہیں ہوتا ، لیکن یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ تھا کہ وہ جل کر راکھ ہو گیا ۔


سامری کو ملامت کرنے اور اس کو سزا دینے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دین حق کا بیان فرمایا : تمہارا معبود تو صرف اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ، اس کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کرلیا ہے ۔ (سورہ طہ :98) ، یعنی وہ جانتا ہے کہ کون اس کی عبادت کرے گا اور کون اس کی عبادت نہیں کرے گا ۔


اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ ۔

ترجمہ : کہا تو چلتا بن کہ دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہ ہے کہ  تو کہے چھو نہ جا ۔ (سورہ طہ آیت نمبر 97)


تفسیر جلالین میں ہے : و إذا مس أحدا أو مسه أحد حما جميعا ۔

ترجمہ : سامری جب کسی کو چھوتا یا کوئی اسے چھوتا تو دونوں بخار میں مبتلا ہو جاتے ۔ (تفسیر جلالین صفحہ 415 دار الحديث القاهرة)


تفسیر روح البیان میں ہے : روى انه كان إذا ماس أحدا ذكرا او أنثى حم الماس و الممسوس جميعا حمى شديدة فتحامى الناس و تحاموه و كان يصيح بأقصى صوته لا مساس و حرم عليهم ملاقاته و مواجهته و مكالمته و مبايعته و غيرها مما يعتاد جريانه فيما بين الناس من المعاملات فصار وحيدا طريدا يهيم فى البرية مع الوحش و السباع ۔

ترجمہ : مروی ہے کہ سامری جب کسی بھی مرد یا عورت کو چھوتا تو چھونے والے اور جسے چھوا گیا ، دونوں کو شدید بخار ہو جاتا ، پس وہ لوگوں سے بچ کر رہتا اور لوگ اس سے بچ کر رہتے اور وہ اونچی آواز میں چیخ چیخ کر کہتا تھا کہ مجھ سے چھو نہ جانا ، اور لوگ اس سے ملاقات  کرنے ، اس کا سامنا کرنے ، بات چیت  کرنے ، خرید و فروخت کرنے اور دیگر وہ تمام  معاملات کرنے سے محروم ہو گئے جو عام طور پر لوگوں میں ہوتے ہیں ، پس وہ  دھتکارا ہوا ، تنہا رہ گیا اور جنگل میں وحشی جانوروں اور درندوں کے ساتھ  سرگرداں رہنے لگا ۔ (تفسیر روح البیان جلد 5 صفحہ 421 ، 422 دار الفكر بيروت،چشتی)


تفسیر مظہری میں ہے : قال له موسى فاذهب  فإن لك في الحياة الدنيا مادمت حيا عقوبة من الله على ما فعلت أن تقول لكل من رايته لا مساس  يعنى لا تمسنى و لا تقربنى ۔ قلت لعل ذلك لاجل وحشة القى الله تعالى في قلبه فكان لا يستانس من أحد و قيل كان إذا مس أحدا او مسه أحد حما جميعا و لذلك كان يقول ذلك ۔ فكان في البرية طريدا وحيدا كالوحشى النافر حتى مات ۔

ترجمہ : حضرت موسی علیہ السلام نے سامری سے فرمایا : جو تو نے کیا اس پر اللہ تعالی کی طرف سے سزا یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں جب تک تو زندہ ہے ، جسے بھی تو دیکھے گا ، اس سے کہے گا چھو نہ جا ، یعنی مجھ سے نہ چھونا نہ میرے قریب آنا ۔ میں کہتا ہوں کہ اس کی وجہ  شاید وہ وحشت ہے جو اللہ عزوجل نے اس کے دل میں ڈال دی تھی تو وہ کسی سے مانوس نہیں ہوتا تھا ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب وہ کسی کو چھوتا یا کوئی اسے چھوتا تو دونوں کو بخار ہو جاتا ، اسی لیے وہ یوں کہا کرتا تھا ، پس وہ جنگل میں بھاگنے والے وحشی جانور کی طرح  دھتکارا ہوا اکیلا رہ گیا حتی کہ مر گیا ۔ (تفسیر مظہری جلد 6 صفحہ 160 مطبوعہ لاہور) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment