جمعہ اور عید دن جمع ہوجائیں تو شرعی حکم
محترم قارئینِ کرام : اگر عید جمعہ کے دن آ جائے تو دونوں نمازیں اپنے اپنے مقررہ اوقات پر حسبِ معمول ادا کی جائیں گی ۔ رحمتیں اور برکتیں دوگنا ہو جائیں گی ۔ جمعہ اور عید کا جمع ہونا بھاری یا منحوس نہیں ، بلکہ باعثِ خیر و برکت ہے کہ ایک دن میں دو عیدیں اور دو عبادتیں نصیب ہوئیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم اور صحابۂ کِرام رضی اللہ عنہم کے ادوارِ مبارک میں بھی کئی بار ایسا ہوا کہ جمعہ و عید ایک دن میں اکٹھے ہوئے ، مگر اسے بھاری یا منحوس سمجھنا کسی سے منقول نہیں ، بلکہ حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ دونوں کا جمع ہونا خیر و برکت ہی کا ذریعہ ہے اور دونوں کے جمع ہونے کو بھاری یا منحوس سمجھنا بدشگونی لیناہے ، جو جائز نہیں ۔ حدیثِ مبارکہ میں جمعہ کے دن عید ہونے کو مسلمانوں کے واسطے خیر قرار دیا گیا ، مُصَنَّف عبدُالرّزاق میں ہے : ذَکوان سے مروی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانۂ مبارَک میں عیدُالفطر یا عیدُالاضحیٰ جمعہ کے دن ہوئی ، کہتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : بے شک تم نے ذِکر اور بھلائی کو پایا ہے ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 3 صفحہ 176 حدیث نمبر 5745)
ابو صالح الزیات سے مروی ہے : إِنَّ النَّبِی صلی الله عليه وآله وسلم اجْتَمَعَ فِی زَمَانَه يَوْمٍ جُمْعَةِ وَ يَوْمَ فطر، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا الْيَوْمَ يُوْم، قد اجْتَمَعَ فِيْه عَيْدَانِ، فَمَنْ أَحَبَّ فَلْيَنْقَلِبْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْتَظِرَ فَلْيَنْتَظِرْ ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 3 صفحہ 304 رقم : 5729)
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں جمعہ اور عید الفطر ایک دن میں جمع ہوگئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا : آج ایک دن میں دو عیدیں جمع ہوگئیں، جو گھر واپس جانا چاہے چلا جائے اور جو نماز جمعہ کا انتظار کرنا چاہے، وہ انتظار کرے ۔
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا عید الفطر اور جمعہ کا دن جمع ہوگئے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے نماز عید کے بعد لوگوں کو خطبہ دیا اور پھر فرمایا : یہ دو عیدیں ایک دن میں جمع ہو گئی ہیں ۔ فمن کان من أهل العوالی فأحب أن يمکث حتی يشهد الجمعة فليفعل، ومن أحب أن ينصرف فقد أذنا له ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد 3 صفحہ 305 رقم : 5732،چشتی)
ترجمہ : پس جو مضافات کا باشندہ ہے اور نماز جمعہ میں شامل ہونا چاہتا ہے تو شامل ہو جائے اور جو گھر کو لوٹنا چاہے تو اسے بھی اجازت دے دی گئی ہے ۔
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : کان رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم يقرأ فی الجمعة والعيد بِه : ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی﴾ وَ ﴿هَلْ أَتَاکَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ﴾ فَإِذَا اجْتَمَع الجمعة وَ العيدان فی يوم قرأ بهما ۔ (سنن الکبری نسائی جلد 1 صفحہ 547 رقم : 1775)
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جمعہ و نماز عید میں سَبِّح اسْمَ رَبِّکَ الاعْلٰی (سورۃ الاعلی) اور هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ۔ (سورۃ الغاشیہ) پڑھا کرتے تھے ۔ جب ایک دن میں جمعہ و عیدین جمع ہو جائے تو (بھی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہی دو سورتیں پڑھتے تھے ۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا : أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عِيْدَيْنِ؟ قَالَ : نَعَمْ، صَلَّی الْعِيْدَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ثُمَّ رَخَّصَ فِی الْجُمعَة ۔ (سنن نسائی کتاب صلاة العيدين باب الرخصة في التخلف عن الجمعة لمن شهد العيد جلد 3 صفحہ 194 رقم : 1591،چشتی)
ترجمہ : کیا آپ نے دو عیدیں (یعنی جمعہ اور عید اکٹھی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھی ہیں؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دن چڑھے نمازِ عید پڑھائی پھر نماز جمعہ میں رخصت عطا فرما دی ۔
امام محمد نے الجامع الصغیر میں ایک ہی دن میں دو عیدوں کے جمع ہونے کے متعلق فرمایا : يشهدهما جميعًا ولا يترک واحدا منهما ، والأولي منهما سنة والأخری فريضة ۔ (ابن نجيم، البحرالرائق جلد 2 صفحہ 70)
ترجمہ : دونوں میں حاضری ہوگی اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا ، کیونکہ پہلی سنت (واجب) ہے دوسری فرض ۔
امام ابن عابدین شامی فرماتے ہیں : عيدان اجتمعا فی يوم واحد، فالاول سنة والثاني فريضة، ولا يترک واحد منهما ۔ (ابن عابدين، رد المحتار جلد 2 صفحہ 166،چشتی)
ترجمہ : جب ایک دن میں دو عیدیں (عید اور جمعہ) جمع ہو جائیں تو پہلی سنت (واجب) اور دوسری فرض ہے ۔ کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا ۔
امام ابو بکر بن مسعود کاسانی فرماتے ہیں : تجب صلاة العيدين علی أهل الاحصار کما تجب الجمعة ، دونوں عیدوں کی نماز شہریوں پر ایسی ہی واجب ہے جیسے نماز جمعہ واجب ہے ۔ امام کاسانی البدائع الصنائع میں امام محمد کی رائے سے متعلق لکھتے ہیں : فإنه قال فی العيدين اجتمعا فی يوم واحد، فا لأول سنة . . . فی الجامع الصغير أنها واجبة بالسنة . . . والصحيح أنها واجبة ۔ (کاسانی بدائع الصنائع جلد 1 صفحہ 275)
ترجمہ : امام محمد نے کہا جمعہ اور عید ایک دن میں جمعہ ہو جائیں تو پہلی (نماز عید) سنت ہے ۔ ۔ ۔ جامع صغیر میں ہے کہ نماز عید سنت کی رو سے واجب ہے ۔ ۔ ۔ صحیح یہ ہے کہ نماز عید واجب ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن نماز عید و جمعہ دونوں پڑھائیں ۔ ہمارے لیے یہ دلیل کافی ہے ۔ ہم جو کچھ سمجھے ہیں وہ یہ ہے کہ نماز عید پڑھا کر مضافات مدینہ سے آنے والے لوگوں کو آپ نے رخصت دے دی کہ جو چاہے مدینہ منورہ میں رہے اور نماز جمعہ بھی ادا کرے اور جن کے گھر شہر سے اتنے دور ہیں کہ وہاں نماز جمعہ و عیدین ادا نہیں کر سکتے وہ چاہیں تو نماز جمعہ ادا کرنے سے پہلے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں ۔ پس جو شہر میں رہ جائیں گے ان پر نماز جمعہ فرض ہوگی اور جو جمعہ کے وقت سے پہلے ہی گاؤں چلے گئے ان پر نماز جمعہ فرض ہی نہ ہوئی کہ اس کےلیے شہر ہونا شرط ہے ۔ اگر عید جمعہ کے دن آجائے ، تو حسبِ شرائط جمعہ کی نماز پڑھنا فرض ہے ، عید کی وجہ سے جمعہ کے بجائے گھر میں ظہر کی نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے ، اگر کوئی شخص اس دن گھر میں ظہر پڑھنے کو مسنون کہتا ہے ، تو اس سے دلیل کا مطالبہ کیا جائے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:
Post a Comment