Wednesday, 11 March 2026

گاؤں میں جمعہ اور عید کی نماز باجماعت کا حکم

گاؤں میں جمعہ اور عید کی نماز باجماعت کا حکم

محترم قارئینِ کرام : گاؤں کے وہ سب لوگ جن پر شرائط جمعہ (مسلمان مرد ، مقیم ، تندرست ، عاقل ، بالغ) پائے جانےکی صورت میں شرعاً جمعہ فرض ہو جاتا ہے ، گاؤں کی سب سے بڑی مسجد میں نماز پڑھیں اوراس میں پورے نہ آ سکیں ، بلکہ اس کی توسیع کرنا پڑے ، تو ایک روایت کے مطابق ایسے گاؤں میں جمعہ درست ہےاور فی زمانہ مفتیان کرام نے اسی روایت پرفتوی دیا ہے اور ایسے گاؤں میں نمازِ جمعہ ادا کرنے سے ظہر ساقط ہو جائے گی اور اگر گاؤں میں اتنے افراد نہ ہوں ، تواس میں نمازِ جمعہ شروع کرنا ، ناجائز و گناہ ہے اور وہاں کے بالغ افراد پر ظہر فرض ہو گی ۔ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کےلیے احناف کے نزدیک سات شرائط ہیں ، جن میں سے ایک شہر ہونا ضروری ہے ۔ جمعہ کے صحیح ہونے کےلیے شہر یا فناء شہر شرط ہے دیہات میں جمعہ جائز نہیں ہوتا ۔ لیکن اگر عوام پڑھے تو انہیں منع نہ کیا جائے کہ وہ جس طرح بھی اللہ و رسول کا نام لیں غنیمت ہے ۔ لیکن مسئلہ شرعیہ سے ضرور آگاہ کیا جائے کہ دیہات جہاں تھوڑے سے احباب ہوں وہاں جمعہ نہیں ہوتا ۔ بلکہ ظہر پڑھنا ضروری ہوگا ۔ البتہ ایک نادر روایت میں جمعہ جائز ہونے کا بیان ہے کہ اتنے افراد ہوں کہ گاؤں کی بڑی مسجد ان سے بڑھ جائے تو وہاں جمعہ جائز ہے ۔


فقہ حنفی کی مشہور کتاب الھدایہمیں یے : لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع ، أو في مصلى المصر، ولا تجوز في القرى  لقوله عليه الصلاة والسلام “ لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع ۔

ترجمہ : جمعہ شہر کی جامع مسجد یا شہر کی وہ جگہ جو نماز کےلیے خاص ہے اس میں ہی صحیح ہوتی ہے اور دیہات میں جائز نہیں ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے ” نہ ہی جمعہ اور نہ ہی (تکبیر) تشریق  اور نہ ہی (نماز عيد) الفطر اور نہ (نماز عيد)الاضحی جائز ہے مگر شہر کی جامع مسجد میں ۔ (الهدايه باب اصلاة الجمعة جلد 1 صفحہ 82 دار احياءالتراث العربى بيروت )


ابو عبدالرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : شہر اور بڑے قصبےکے سوا جمعہ ہے ، نہ تشریق نہ عیدالفطر نہ عید الاضحی ۔ (المصنف ابن ابی شیبہ جلد 2 صفحہ 101)


حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دیہات والوں پر جمعہ نہیں ، جمعہ صرف شہر والوں پر ہے ۔ (المصنف ابن ابی شیبہ جلد 2 صفحہ 168)


علامہ علاء الدین ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : تحفہ میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقول ہے : شہر اس بڑی جگہ کو کہتے ہیں، جہاں گلیاں اور بازار ہوں ،مضافاتی علاقہ ہو اور اس میں ایک ایسا حاکم ہو جو اپنے اقتدار کے دبدبے (اور طاقت سے) اور اپنے (ذاتی) علم یا دوسرے کے علم سے (یعنی گواہی کے ذریعے) مظلوم کو ظالم سے انصاف دلا سکے ، لوگ اپنے پیش آمدہ معاملات میں اس کی طرف رجوع کریں ، یہی صحیح تعریف ہے ۔ (بدائع الصنائع جلد 1 صفحہ 385،چشتی)


مذکورہ تعریف کے لحاظ سے شہر کے ثبوت کےلیے مندرجہ ذیل امور ضروری ہیں : اشیائے ضرورت کےلیے بازار اور دکانیں ۔ قوتِ حاکمہ اورعالمِ دین ۔


نمازِ جمعہ قائم کرنا ایسا نہیں ہے کہ جو چاہے ، جب چاہے قائم کر لے ، شرائط کا پایا جانا لازم ہے ۔ صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ایک بہت ضروری امر جس کی طرف عوام کو بالکل توجہ نہیں ، یہ ہے کہ جمعہ کو اور نمازوں کی طرح سمجھ رکھا ہے کہ جس نے چاہا نیا جمعہ قائم کر لیا اور جس نے چاہا پڑھا دیا ، یہ ناجائز ہے ، اس لیے کہ جمعہ قائم کرنا بادشاہِ اسلام یا اس کے نائب کا کام ہے اور جہاں سلطنتِ اسلامی نہ ہو ، وہاں جو سب سے بڑا فقیہ سُنّی صحیح العقیدہ ہو ، اَحکامِ شرعیہ جاری کرنے میں سلطان اسلام کے قائم مقام ہے ، لہٰذا وہی جمعہ قائم کرے ، ا س کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا اوریہ بھی نہ ہوتو عام لوگ جسے امام بنائیں ، عالم کے ہوتے ہوئے عوام بطور خود کسی کو امام نہیں بنا سکتے ، نہ یہ ہو سکتا ہے کہ دوچار شخص کسی کو امام مقرر کرلیں ، ایسا جمعہ کہیں سے ثابت نہیں ۔ (بہارِ شریعت جلداول صفحہ 764)


خلاصہ کلام یہ ہے کہ گاؤں ، دیہات میں جمعہ قائم کرنے کےلیے مذکورہ شرائط کا پایا جانا ضروری ہے ، دیہات ، گاؤں میں جمعہ قائم نہیں کیاجائے گا ، اِن شرائط کے مفقود ہونے کی صورت میں کسی بھی دیہات میں جمعہ قائم نہیں کیا جائے گا ، البتہ اگر کہیں پہلے سے جمعہ جاری ہو تو اُسے بند نہیں کیا جائے گا ۔ تاہم جمعہ پڑھنے کے بعد چار رکعات ظہر احتیاطی اداکی جائے گی ۔


    امام اکمل الدین بابرتی رحمۃ اللہ علیہ عنایہ میں لکھتے ہیں : وعنہ أی أبی یوسف (أنھم اذااجتمعوا)أی اجتمع من تجب علیہ الجمعة لاکل من یسکن فی ذلک الموضع من الصبیان والنساء والعبید لأن من تجب علیھم مجتمعون فیہ عادة۔قال ابن شجاع ، أحسن ماقیل فیہ اذاکان أھلھابحیث لواجتمعوافی أکبرمساجد ھم لم یسعھم ذلک حتی احتاجواالی بناء مسجد آخر للجمعة ۔

ترجمہ : یعنی امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ جن پر جمعہ لازم ہے نہ کہ وہ تمام لوگ جو وہاں سکونت پذیر ہیں مثلاً بچے ، خواتین اور غلام ۔ ابن شجاع نے کہا کہ اس بارے میں سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جب جمعہ کے اہل لوگ وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو سما نہ سکیں حتی کہ وہ جمعہ کےلیے ایک اور مسجد بنانے پر مجبور ہوں ۔ (عنایہ شرح ھدایہ کتاب الصلاۃ جلد 2 صفحہ 52 مطبوعہ بیروت،چشتی)


    علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : المصر وھو مالا یسع اکبر مساجدہ  اھلہ المکلفین بھا وعلیہ فتویٰ اکثرالفقھاء ۔

ترجمہ : شہر وہ ہے کہ اس کی مساجد میں سے بڑی مسجد میں وہاں کے وہ باشندے نہ سما سکیں جن پر جمعہ فرض ہے اور اسی پر اکثر فقہاء کرام کا فتویٰ ہے ۔ (ردالمحتار معہ در مختار کتاب الصلاۃ جلد 3 صفحہ 06 مطبو عہ کوئٹہ)


    علامہ ابن نجیم مصری حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : وعن ابی یوسف انہ مااذااجتمعوافی اکبرمساجدھم للصلوات الخمس لم یسعھم و علیہ  فتویٰ اکثرالفقھاء وقال ابو شجاع : ھذا احسن ماقیل  فیہ۔وفی الولوالجیة:وھو الصحیح ۔

ترجمہ : امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ شہر وہ ہے کہ جب وہاں کے باشندے اپنی مساجد میں سے بڑی مسجد میں نمازِ پنجگانہ کےلیے جمع ہوں تو وہ انہیں کم پڑ جائے اور اسی پر اکثر فقہاء کرام کا فتویٰ ہے ۔ ابو شجاع علیہ الرحمۃ نے فرمایا : یہ بہترین تعریف ہے جو شہر کی کی گئی ہے اور ولوالجیہ میں ہے کہ یہی تعریف صحیح ہے ۔ (البحرالرائق،کتاب الصلاۃ جلد 2 صفحہ 247 مطبوعہ کوئٹہ)


    اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ہاں ایک روایت نادرہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے یہ آئی ہے کہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد ، عاقل ، بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہو سکے آباد ہوں کہ اگر وہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سما سکیں یہاں تک کہ انہیں جمعہ کےلیے مسجد جامع بنانی پڑے ، وہ صحت جمعہ کےلیے شہر سمجھی جائے گی ۔۔۔ جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے اس میں اس روایت نوادر کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگرچہ اصل مذہب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایک جماعت متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہرگز جمعہ خواہ عید مذہب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 347 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور،چشتی)


اور ایسی جگہ جہاں جمعہ پڑھنا جائز نہیں ، وہاں ظہر کی نماز کے بارے میں خاتم المحققین علامہ محمد امین بن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں : لو صلوا فی القری لزمھم أداء الظھر ۔

ترجمہ : اگر لوگ (ایسے) گاؤں میں (جہاں جمعہ جائز نہیں) جمعہ ادا کریں تو ان پر ظہر کی نماز ادا کرنا ہی ضروری ہے ۔ (رد المحتار معہ درمختار جلد 3 صفحہ 8 مطبوعہ کوئٹہ)


فتاوی شامی میں ہے : لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر ۔

ترجمہ : اگر دیہات میں لوگوں نے جمعہ پڑھ لیا تو ظہر کی نماز ادا کرنا ان پر لازم ہے ۔ (فتاوی شامی باب الجمعۃ  جلد 2 صفحہ 138 دارالفکر بیروت)


فتاوی رضویہ میں ہے : جمعہ و عیدین دیہات میں ناجائز ہیں اور ان کا پڑھنا گناہ ، مگر جاہل عوام اگر پڑھتے ہوں تو ان کو منع کرنے کی ضرورت نہیں کہ عوام جس طرح اللہ و رسول کا نام لے لیں غنیمت ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد 8  صفحہ 387 رضافاؤنڈیشن لاہور)


البتہ ایک نادر روایت میں جمعہ جائز ہونے کا بیان ہے کہ اتنے افراد ہوں کہ گاؤں کی بڑی مسجد ان سے بھر جائے تو وہاں جمعہ جائز ہے ۔


فتاوی رضویہ : میں اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : ہاں ایک روایت نادرہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے یہ آئی ہےکہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد عاقل بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہوسکے آباد ہوں کہ اگر وہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سما سکیں یہاں تک کہ انہیں جمعہ کےلیے مسجد جامع بنانی پڑے وہ صحتِ جمعہ کےلیے شہر سمجھی جائے گی ، امام اکمل الدین بابرتی رحمۃ اللہ علیہ عنایہ شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں : (وعنہ) ای عن ابی یوسف ( انھم اذا اجتمعوا) ای اجتمع من تجب علیھم الجمعۃ لاکل من یسکن فی ذلك الموضع من الصبیان والنساء والعید لان من تجب علیھم مجتمعون فیہ عادۃ قال ابن شجاع احسن ماقیل فیہ اذاکان اھلھا، بحیث لو اجتمعوا (فی اکبر مساجد لم یسعھم ذلك) حتی احتاجوا الی بناء مسجد آخر للجمعۃ ۔

ترجمہ : امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے ہے (جب وہ جمع ہوں) یعنی وہ لوگ جن پر جمعہ لازم ہے نہ کہ تمام وہ لوگ جو وہاں سکونت پذیر ہیں مثلًا بچے ، خواتین اور غلام ، ابنِ شجاع نے کہا کہ اس بارے میں سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جب جمعہ کے اہل وہاں جمع ہوں (سب سے بڑی مسجد میں ، اور اس میں ان کی گنجائش نہ ہو) حتی کہ وہ جمعہ کےلیے ایک اور مسجد بنانے پر مجبور ہوں ۔ جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے اس میں اس روایت نوادر کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگر چہ اصل مذہب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایک جماعتِ متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہر گز جمعہ خواہ عید مذہب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے ۔ (فتاوی رضویہ باب الجمعہ جلد 8 صفحہ 347 مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور)


جب جمعہ دیہات میں ہوتا ہی نہیں بلکہ ظہر ذمہ پر باقی رہتی ہے تو ظہر بدستور اذان و اقامت سے جماعت کے ساتھ ہی ادا کی جائے گی ۔


فتاوی عالمگیری میں ہے : ومن لا تجب عليهم الجمعة من أهل القرى والبوادي لهم أن يصلوا الظهر بجماعة يوم الجمعة بأذان وإقامة ۔

ترجمہ : اور جس پر جمعہ فرض نہیں ہے یعنی گاؤں ٬ دیہات والے ان کےلیے ضروری ہے کہ وہ جمعہ کے دن اذان واقامت سےظہر کی نماز باجماعت ادا کریں ۔ ( الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاة الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ جلد 1 صفحہ 145 مطبوعہ دارالفکر)


 فتاوی فیض الرسول میں ہے : جس طرح اور دنوں میں ظہر کی نماز باجماعت پڑھنا واجب ہے ایسے ہی دیہاتوں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز باجماعت پڑھنا ضروری ہے ۔ (فتاوی فیض الرسول باب صلوۃ الجمعۃ جلد 1 صفحہ 421 ٬ 422 مطبوعہ شبیر برادر لاہو)


بہار شریعت میں ہے : گاؤں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز اذان و اقامت کے ساتھ باجماعت پڑھیں ۔ (بہارشریعت جمعہ کا بیان حصہ 4 صفحہ 779 مکتبۃ المدینہ)


جب دیہات میں جمعہ جائز نہیں تو قبل الجمۃ اور بعد الجمعۃ کی سنتیں پڑھنا بھی درست نہیں بلکہ سنت ظہر ہی ادا کی جائے گی ۔


فتاوی فیض الرسول میں ہے : تو جب دیہات میں جمعہ کی نماز جائز نہیں تو قبل الجمعہ اور بعد الجمعہ کی نیت سے سنتیں پڑھنا بھی صحیح نہیں کہ شریعت کی حانب سے قبل الجمعہ اور بعد الجمعہ کی سنتوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جب ظہر کی نماز ساقط نہیں ہوتی تو اس کی سنتوں کا پڑھنا لازمی ہے کہ جمعہ کے دن بھی ظہر کی سنتوں کا مطالبہ بدستور باقی ہے ۔ (فتاوی فیض الرسول باب صلوۃ الجمعۃ جلد 1 صفحہ 407 مطبوعہ شبیر برادر لاہور) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

گاؤں میں جمعہ اور عید کی نماز باجماعت کا حکم

گاؤں میں جمعہ اور عید کی نماز باجماعت کا حکم محترم قارئینِ کرام : گاؤں کے وہ سب لوگ جن پر شرائط جمعہ (مسلمان مرد ، مقیم ، تندرست ، عاقل ، با...