رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا دنداں شکن جواب
محترم قارئینِ کرام : میں آج کل دیوبندیوں نے طوفانِ بدتمیزی مچایا ہوا ہے ۔ ان کی طرف سے مسلسل سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ کھڑا کیا جا رہا ہے کہ حسام الحرمین میں جو رشید احمد گنگوہی کی طرف وقوعِ کذب والا فتوی منسوب ہے ، اس کا آخر کیا ثبوت ہے ؟ یہ فتویٰ کہاں ہے ؟ ۔ اس سلسلے میں دیوبندیوں کے چند نمایاں اعتراضات درج ذیل ہیں : ⏬
یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کی کس کتاب میں ہے ؟
اگر واقعی یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کا ہوتا تو وہ فتاویٰ رشیدیہ میں ضرور ہوتا ۔ اس میں نہ ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ نے محض جھوٹ باندھا ہے ۔
فتاوی رشیدیہ میں اس کے برخلاف فتوی موجود ہے ۔ لہٰذا وہ ثبوت پیش کیا جائے جو یہ ثابت کرے کہ یہ فتوی واقعی رشید احمد گنگوہی ہی کا ہے ۔
اور اگر بالفرض تسلیم کر بھی لیا جائے کہ یہ فتوی کسی کاغذ پر لکھا ہوا ہے تو محض کسی تحریر یا خط کی مشابہت کو بنیاد بنا کر اسے قطعی فتوی کہنا سخت ناعاقبت اندیشی ہے ۔ چاند کی رویت جیسے مسئلہ میں بھی خط و کتابت کا اعتبار نہیں ہوتا ، کیونکہ الخط یشبه الخط تو کیا کفر و اسلام جیسے نازک اور حسّاس معاملے میں ایسی مشتبہ تحریر کو بنیاد بنا کر کسی کے کفر کا حکم لگا دینا انصاف کے دائرے میں آتا ہے ؟
اب ان اعتراضات کا مفصل بالترتیب جواب پیشِ خدمت ہے جس سے حق کے متلاشی راہیاب ہونگے اور دیابنہ ذلیل ہونگے ان شاء اللہ : ⏬
اعتراض نمبر 1 : یہ فتوی رشید احمد گنگوہی کی کس کتاب میں ہے ؟
جواب : یہ اعتراض ہی کج فہمی اور عناد پر مبنی اور غلط ہے ، کیونکہ امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ نے حسام الحرمین میں رشید احمد گنگوہی کے فتویٰ کا حوالہ کسی مطبوعہ کتاب سے نہیں دیا بلکہ اس فتویٰ کی قلمی تحریر کی فوٹو کاپی کا مشاہدہ فرما کر اس کا ذکر فرمایا ۔ چنانچہ خود اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں : پھر تو ظلم گمراہی میں اس کا یہاں تک بڑھا کہ اپنے ایک فتوے میں جو اس کا مہری دستخط میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا ۔ جو ممبی وغیرہ میں بارہا مع رد کے چھپا صاف لکھ گیا کہ جو اللہ سبحانہ و تعالی کو بالفعل چھوٹا مانے اور تصریح کرے کہ (معاذ اللہ تعالی اللہ تعالی جھوٹ بولا اور یہ بڑا عیب اُس سے صادر ہو چکا تو اسے کفر بالائے طاق گمراہی در کنار فاسق بھی نہ کہو اس لیے کہ بہت سے امام ایسا ہی کہہ چکے ہیں جیسا اُس نے کہا اور بس نہایت کار یہ ہے کہ اُس نے تاویل میں خطا کی ۔ (حسام الحرمین مع تمہید ایمان صفحہ 15،چشتی)
پس یہ واضح ہوا کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے فتویٰ کی فوٹو کاپی کو بنیاد بنایا ، اور دیوبندی آج تک اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں ، صرف صَغریٰ کبریٰ کی شعبدہ بازیاں کر کے اصل بات سے فرار چاہتے ہیں ۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ تو فرماتے ہیں : میں نے اپنی آنکھ سے مہری دستخط والا فتویٰ دیکھا ۔ اب سوال یہ ہے کہ جب امام علیہ الرحمہ نے مشاہدہ کی بنیاد پر بات کی تو اعتراض کی گنجائش کہاں رہتی ہےکہ دکھاؤں کس کتاب میں ہے ؟ ۔ اور اس فتوی کا فوٹو ہندوستان میں پیلی بھیت شریف اور پاکستان میں دارالعلوم حزب الاحناف لاہور اور دیگر جگہ موجود ہے اور ہمارے اکابر تو صد سال سے للکار رہے ہیں کہ : آؤ ہم تمہیں وہی فتویٰ دکھاتے ہیں ۔ لیکن دیوبندی ہمیشہ کی طرح جان بچاؤ کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے فرار اختیار کر لیتے ہیں ۔
اب فقیر وہی قلمی فتویٰ (جس کا امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے حوالہ دیا ہے) مکمل نقل کر رہا ہے اور ساتھ اس کا عکس بھی پیش کر رہا ہوں ، تاکہ قارئین کےلیے حجت تمام ہو جائے ۔ دستخط و مہری فتویٰ یہ ہے : ⏬
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ما قولكم رحمكم الله ، دو شخص كذب باری میں گفتگو کرتے تھے ایک کی طرف داری کے واسطے تیسرے شخص نے کہا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان الله لا يغفران يشرك به ويغفر ما دون ذالك الخ لفظ ما عام ہے ، شامل ہے معصیت قتل مومن کو ، پس آیت مذکورہ سے معلوم ہوا کہ پروردگار مغفرت مومن قاتل بالعمد بھی فرما دے گا ۔ اور دوسری آیت میں ہے من قتل مومنا متعمدا فجزاءه جهنم خالدا ۔ الخ ، لفظ من عام ہے شامل ہے مومن قاتل بالعمد کو ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومن قاتل مومن بالعمد کی مغفرت نہ ہوگی ۔ اس قائل کے خصم نے کہا کہ ۔ آپ کے استدلال سے وقوع کذبِ باری ثابت ہوتا ہے کیونکر آیت میں ویغفر ہے نہ ویمکن ان یغفر یہ سنکر اس قائل نے جواب دیا میں نے کب کہا ہے کہ میں وقوع کا قائل نہیں ہوں ۔ اور دوسرا قول اسی قائل کا یہ ہے کہ کذب علی العموم قبیح معنی منافر لطبع نہیں ہے ۔ اللہ تعالی نے بعض مواضع میں جائز رکھا ہے اور توریہ و عین کذب معنی بعض مواضع میں دونوں اولیٰ ہیں ۔ نہ فقط تو ریہ ۔ آیا یہ قائل مسلمان ہے یا کافر ؟ اور مسلمان ہے تو بدعتی ضال یا اہلسنت و جماعت با وجود قبول کرنے کذبِ باری تعالیٰ کے ۔ بینوا وتوجروا ۔
الجواب : (رشید احمد گنگوھی صاحب لکھتے ہیں) اگر چہ شخص ثالث نے تاویل آیات میں خطا کی ، مگر تا ہم اس کو کافر کہنا یا بدعتی ضال کہنا نہیں چاہیے کیونکہ وقوع خلف و عید کو جماعت کثیرہ علماء سلف کی قبول کرتی ہے چنانچہ مولوی احمد حسن صاحب ، رسالہ تنزیہ الرحمن اپنے رسالہ میں تصریح کرتے ہیں ، بقولہ علاوہ اس کے مجوزین خلف وعید وقوع خلف کے بھی قائل ہیں چنانچہ ان کے دلائل سے ظاہر ہے حيث قالوا لانه ليس بنقص بل هو كمال الخ ۔ اس سے ظاہر ہوا کہ بعض علماء وقوع خلف وعید کے قائل ہیں ۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ خلف وعید خاص ہے اور کذب عام ہے کیونکہ کذب بولتے ہیں قول خلاف واقع کو ، سو وہ گاہ وعید ہوتا ہے گاہ وعدہ گاہ خبر ، اور سب کذب کے انواع ہیں اور وجود نوع کا وجو د جنس کو مستلزم ہے انسان اگر ہو گا تو حیوان بالضرور موجود ہوے گا لہٰذا وقوع کذب کے معنیٰ درست ہو گئے اگر چہ بضمن کسی فرد کے ہو ۔ پس بناء علیہ اس ثالث کو کوئی سخت کلمہ نہ کہنا چاہیے کہ اس میں تکفیر علماء سلف کی لازم آ تی ہے ۔ ہر چندیہ قول ضعیف ہے ، مگر تا ہم متقدمین کے مذاہب پر صاحب دلیل قوی کو تقلیل صاحب دلیل ضعیف کی درست نہیں ۔ دیکھو کہ حنفی، شافعی پر اور بعکس بوجہ قوت دلیل اپنی کے طعن و تضلیل نہیں کر سکتا ۔ انا مومن ان شاءاللہ کا مسئلہ کتب عقائد میں خود لکھتے ۔ لہٰذا اس ثالث کو تضلیل تفسیق سے مامون کرنا چاہیے البتہ بنرمی اگر فہمائش ہو بہتر ہے ۔ البتہ قدرة على الكذب مع امتناع الوقوع مسئلہ اتفاقیہ ہے کہ اس میں کسی کا خلاف نہیں ۔ اگر چہ اس زمانے میں لوگوں کو ابعاد بیجا ہو گیا ہے ۔ قال الله ولو شئنا لاتينا كل نفس هداها ولكن حق القول منى لا ملئن جهنم من الجنة والناس اجمعين الاية ۔ فقط والله تعالى اعلم كتبه الاحقر رشید احمد گنگوهی عفی عنه ۔ نشان مہر : رشید احمد ۔ (عکس فتوی گنگوھی)
اعتراض نمبر 2 : اگر واقعی یہ فتویٰ رشید احمد گنگوہی کا ہوتا تو وہ فتاویٰ رشیدیہ میں ضرور ہوتا ۔ اس میں نہ ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ نے محض جھوٹ باندھا ہے ۔
فتاوی رشیدیہ میں گنگوھی کا سب فتوی موجود نہیں کا جواب : ⏬
اس سوال کے جواب میں صرف اتنی گذارش ہے کہ کیا آج کے مطبوعہ فتاوی رشیدیہ میں وہ سب فتاوی موجود ہیں جو انہوں نے اپنی حیات میں لکھے تھے ۔ اگر اس کا جواب نفی میں ہے اور یقیناً نفی ہی ہے تو پھر مطبوعہ فتاوی رشیدیہ میں نہ ہونے سے کہاں لازم آتا ہے کہ یہ فتویٰ ان کا لکھا ہوا نہ ہو ۔ فتاوی رشیدیہ گنگوہی صاحب کی وفات کے برسوں بعد جمع کیا گیا ہے ۔ اس وقت تک اس فتوے کے زہر یلے اثرات ظاہر ہو چکے تھے ۔ تو کیا فتاوی رشیدیہ کے جامع اور شائع کنندہ اپنے مذہب اور اپنے مذہب کے بانی کے دشمن تھے کہ اسے چھاپ دیتے ۔
اور اگر آپ کہیں کہ نہیں ، گنگوہی صاحب نے اپنی حیات میں جتنے فتوے لکھے تھے سب اس میں چھپ چکے ہیں تو ہم آپ سے پوچھتے ہیں قادیانی پر کفر والا فتوی فتاویٰ رشیدیہ کے کس صفحہ پر ہے جس کا تذکرہ کرتے ہوئے خلیل احمد انبیٹھوی نے المہند علی المفند صفحہ 82 میں لکھا ہے : ہمارے مشائخ نے اس (مرزا غلام احمد قادیانی) کے کافر ہونے کا فتوی دیا قادیانی کے کافر ہونے کے بابت ہمارے حضرت مولانا رشید احمد گنگوھی کا فتوی طبع ہوکر شائع بھی ہو چکا ہے بکثرت لوگوں کے پاس موجود ہے ۔
اگر دیابنہ قادیانی پر کفر کا فتوٰی رشید احمد گنگوھی کے فتاوی رشیدیہ میں دیکھا دیتے ہیں تو ہم بھی فتاوی رشیدیہ میں اس فتوی کو دیکھا دینگے لیکن ہمیں معلوم ہے : ⏬
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار تم سے
یہ بازوں میرے آزمائے ہوۓ ہے
اعتراض نمبر 3 : فتاوی رشیدیہ میں یہ فتوی نہیں ہے بلکہ اس میں اس کے برخلاف فتوی موجود ہے ۔ لہٰذا وہ ثبوت پیش کیا جائے جو یہ ثابت کرے کہ یہ فتوی واقعی رشید احمد گنگوہی ہی کا ہے ۔
جواب : فتاوی رشیدیہ میں تحریف کی گئی ۔ یہ سوال اس وقت درست ہوتا جبکہ فتاوی رشیدیہ میں ردوبدل نہ کیا گیا ہوتا مگر بکثرت اس کے نظائر موجود ہے کہ اس میں ردوبدل اور تحریف کی گئی تو اس فتوی کے خلاف مطبوعہ فتاوی رشیدیہ میں ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ یہ فتوی ان کا ہو ، ہو سکتا ہے کسی دیوبندی نے ان کے نام سے فتوی گڑھ کر اس میں شامل کر دیا ہو جیسا کہ دیابنہ کی عادت ہے کہ وہ مکمل کتاب گڑھ کر کسی سنی عالم کی طرف منسوب کر دیتے ہے اس کے شواہد ردِ شہاب الثاقب میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اور یہ خود کفر کا اقرار ہے کیونکہ اگر کوئی کسی کو گالی دے پھر بعد میں اس کی تعریف کر دیں تو تو گالی دینے کی نحوست سے وہ پاک نہیں ہوگا ۔ مزید برآں فتاوی رشیدیہ میں چھپنے کے بعد بھی ردوبدل کیا گیا ہے بطور شہادت دو مثال حاضر ہے : ⏬
شہادت نمبر 1 : فتاوی رشیدیہ کے پرانے چھاپے مطبوعہ رحیمیہ ، دہلی میں یہ عبارت تھی : امکانِ کذب (جھوٹ) بایں معنیٰ کہ جو کچھ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے ، اس کے خلاف پر قادر ہے ، مگر خود اس کو نہ کرے گا یہ عقیدہ بندہ کا ہے ۔ (فتاوی رشیدیہ حصہ 1 صفحہ 46 سطر 19 مطبوعہ مکتبہ رحیمیہ دہلی،چشتی)
اسی فتاوی رشیدیہ کو دیوبندیوں کی مجلس عالمی مجلس تحفظ اسلام ، کراچی نے چھاپا تو اس میں سے یہ عبارت ہی غائب کر دی ۔ یہ ہے دیوبندیوں کی جدید تحریف ۔ جب یہ اس طرح ہیرا پھیری کر سکتے ہیں تو کچھ بعید نہیں کہ انہوں نے گنگوہی کے نام سے کفر والا فتویٰ فتاوی رشیدیہ میں ڈال دیا ہو۔ واللہ اعلم ۔
شہادت نمبر 2 : پھر فتاوی رشیدیہ کا وہ فتوی جس میں وقوعِ کذب کے قائل کو کافر کہا گیا تھا ، اس کے نیچے تاریخ دی گئی تھی1307 ھجری اور یہ تاریخ اس فتوی سے پہلے کی تھی جس میں گنگوہی صاحب نے قائلِ وقوعِ کذب کو کافر و گمراہ کہنے سے منع کیا تھا ۔ کیونکہ اس فتوی کے نیچے تاریخ 1308 ھجری تھی جو میرٹھ سے چھپی تھی ۔ جب فتاوی رشیدیہ عالمی مجلس تحفظ اسلام کراچی نے چھاپا تو انہوں نے فتویٰ کے نیچے سے تاریخ ہی اڑادی تا کہ اہل سنت جو دلیل بناتے ہیں کہ وقوع کذب کی تائید والافتوی بعد کا ہے اور وقوع کذب کو کافر کہنے والا فتویٰ پہلے کا ہے اس کا ثبوت ہی ختم ہو جائے ۔ جب فتاوی رشیدیہ میں دیوبندی چھپنے کے بعد ردوبدل کر سکتے ہیں تو کیا چھپنے سے پہلے اپنے اکابر کو کفر سے بچانے کےلیے یہ کام نہیں کیا ہوگا ؟
رشید احمد گنگوھی پندرہ سال تک اپنے کفر سے راضی رہا : ⏬
اور یہ سوال کہ ہم نہیں مانتے کہ یہ فتوی رشید احمد گنگوھی کا ہے ۔ ثابت کریں کہ یہ فتوی رشید احمد گنگوھی کا ہی ہے تو اس کے جواب علامہ اجمل شاہ سنبھلی قادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : اگر ان امور سے بھی قطع نظر کیجیے تو مصنف کو یا کسی دیو بندی کو گنگوہی جی کے اس فتوے سے انکار کرنے کا کوئی حق ہی حاصل نہیں کہ جن کو اس فتوی سے انکار کرنے کا حق تھا وہ صرف ایک گنگوہی صاحب تھے ۔ تو گنگوہی صاحب کی حیات ہی میں پہلے یہ فتوی ان کی قلمروا اور ان کے معتقدین کے شہر خاص میرٹھ میں چھپا اور 1308 ھجری ہی میں اس کا رد میں رسالہ صيانة الناس مطبع حديقة العلوم میرٹھ طبع ہو کر شائع ہوا ۔ گنگوہی جی نے نہ اس فتوی کا انکار کیا نہ اس رد کا جواب دیا ۔ لوگ ان کو اس فتوی کی بنا پر کافر کہتے اور اعلان کرتے رہے اور گنگوہی پندرہ سال تک اپنے آپ کو کا فر کہلواتے رہے ، بالکل خاموش اور ساکت رہے ، دم سادھے پڑے رہے ، اپنی طرف اس فتوی کی نسبت کراتے رہے ، اس کا رد کرنے والے رد کرتے رہے ، شائع کرنے والے اس رد کو شائع کرتے رہے ، اس پر ہر طرف سے ان کے پاس اعتراضات پہنچتے رہے ، علماء دین اس فتوے پر حکم کفر دیتے رہے ، دنیا بھر میں ان کو اس گستاخی کے شور مچتے رہے لیکن گنگوہی جی نہ کہہ سکے کہ یہ میرا فتوی نہیں ، میری طرف اس فتوی کی نسبت غلط اور جھوٹ ہے ۔ (رد الشهاب الثاقب صفحہ 254 ، 255 رضا اکیدمی ممبئی،چشتی)
دیوبندیو جب خود رشید احمد گنگوھی نے اس فتوی کی نسبت اپنی جانب ہونے سے انکار نہیں کیا اور السکوت کالرضا کا ثبوت دیتا رہا تو تمہارا انکار کیا فائدہ دے گا ؟ تمہارا انکار کیا اس کو کفر کے گھاٹ سے نکالنے میں معاون ہوگا ؟
اعتراض نمبر 4 : اور اگر بالفرض تسلیم کر بھی لیا جائے کہ یہ فتوی کسی کاغذ پر لکھا ہوا ہے تو محض کسی تحریر یا خط کی مشابہت کو بنیاد بناکراسے قطعی فتوی کہنا سخت ناعاقبت اندیشی ہے۔ چاند کی رویت جیسے مسئلہ میں بھی خط و کتابت کا اعتبار نہیں ہوتا ، کیوں کہ الخط یشبه الخط تو کیا کفر و اسلام جیسے نازک اور حسّاس معاملے میں ایسی مشتبہ تحریر کو بنیاد بنا کر کسی کے کفر کا حکم لگا دینا انصاف کے دائرے میں آتا ہے ؟
جواب : مفتی کا خط مع مہر حجت ہے ۔ اگر دیوبندیو کی یہ بات صحیح مان لی جائیں تو پھر دیوبندیوں کے دارالافتاء سے جاری کیے ہوئے سارے فتاوی غیر معتبر اور لغو اور خود گنگوہی صاحب کا مجموعہ فتاوی ردی کی ٹوکری ہے ۔ دیوبندیو تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ فقہا نے جن جن لوگوں کے خط کو معتبر مانا ہے ان میں امراء اکابراور مفتی بھی ہیں ۔ رد المختار جلد رابع صفحہ ۳۵ پر ہے : يفيد عدم الاقتصار على الصراف والسمسار والبياع بل مثله كل ما جرت العادة فيه في داخل فيه ما يكتبه الامراء و الاكابر ممن يتعذر الاشهاد فاذا كتب وصولا او مكا بدين عليه وختمه بخاتمه المعروف فانه في العادة يكون حجة عليه بحيث لا يمكن الانكار ولوانكر یعد بین الناس مکابرا ۔
ترجمہ : اس سے یہ افادہ ہوا کہ صرف صراف دلال بیاع ہی کا خط معتبر نہیں بلکہ جن جن لوگوں کے خط کے حجت ہونے کی عادت جاری ہے سب حجت ہیں ۔ اسی میں وہ بھی داخل ہے جو امرا او اور اکابر لکھتے ہیں جنھیں گواہ بنانا متعذر ہوا، اگر وصولیابی کی رسید یا قرض کا دستاویز لکھا اور اس پر اپنی مشہور و معروف مہر کر دی تو اس پر حجت ہے یہی عادت ہے ۔ اس سے انکار ممکن نہیں اور اگر انکار کرے گا تو لوگوں میں مکابرہ شمار کیا جاۓ گا ۔
نیز اسی میں صفحہ 306 پر ہے : ان القاضي اذا اشكل عليه الامريكتب الى فقها مصر آخربان المشاورة بالکتاب سنة قديمة في الحوادث ۔
ترجمہ : قاضی پر جب کوئی معاملہ مشکل ہو جاۓ تو دوسرے شہر کے فقہا کو لکھے ۔ اس لیے کہ حوادث میں بذریعہ خط باہمی مشورہ سنت قدیمہ ہے ۔
الخط یشبه الخط کامحل : اور یہ کہنا کہ خط خط کے مشابہ ہوتا ہے تو یہ حجت کیسے ہوگا ، تو جواباً عرض ہے دیوبندیو آپ کو کچھ خبر بھی ہے کہ فقہاء نے الخط یشبه الخط کہاں غیر معتبر مانا ہے ۔ آپ اسے بخوبی جانتے ہیں مگر حیلہ جوئی کےلیے کلمہ حق بول کر باطل مراد نہ لیتے تو کیا کرتے ۔ جناب ! یہ اس وقت ہے جبکہ جس کی طرف خط منسوب ہے وہ انکار کرے ۔ مثلاً زید نے عمر پر کوئی دعوی کیا ۔ عمرو و نے دعویٰ سے انکار کیا ۔ زید نے ثبوت میں عمر کی تحریر پیش کی عمر اس تحریری سے بھی انکار کیا ، تو وہ تحریر معتبر ہوگی یا نہیں ۔ اس موقع پر فرمایاگیا کہ الخط يشبه الخط ۔ یہاں پہلے تو یہ بات ثابت کیجئے کہ گنگوہی صاحب نے انکار کیا ہے ۔ ہم فقہاء کے ارشاد سے ثابت کر آئے کہ خط مفتی حجت ہے ۔ جب اس فتوی پرگنگوہی صاحب کے دستخط بھی ہیں مہر بھی ہے تو بلا کسی دغدغہ کے ثابت ہے کہ یہ انھیں کا فتوی ہے ۔ اور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا اس کی طرف نسبت کرنا اور علماۓ حرمین شریفین علیہم الرحمہ کا فتوی کفر دینا بالکل حق اور صداقت پر مبنی ہے اور دیوبندیو کا انکار مکابرہ ہے ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)



