Sunday, 31 May 2026

امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے اسماعیل دہلوی پر کفر کا فتویٰ کیوں نہیں دیا ؟

امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے اسماعیل دہلوی پر کفر کا فتویٰ کیوں نہیں دیا ؟








































محترم قارٸینِ کرام : امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ نے ابو الوہابیہ مولوی اسماعیل دہلوی کی مختلف عبارات پر لزومِ کفر کا فتویٰ دیا مگر مولوی اسماعیل دہلوی کو کافر نہ کہا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ .... ”لزوم والتزام میں فرق ہے ، اقوال کا کلمہ کفر ہونا اور بات اور قائل کو کافر مان لینا اور بات ، ہم احتیاط برتیں گے، سکوت کریں گے جب تک ضعیف سا ضعیف احتمال ملے گا ،حکم کفر جاری کرتے ڈریں گے“.... (تمہید ایمان صفحہ 50)

یہ بات دیوبندی اور غیر مقلدین کو سمجھ نہ آئی اور وہ تحریر و تقریر میں امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف اس احتیاط کو الزام سمجھ کر پیش کرتے رہے ، بار ہا جواب پاکر بھی پروپیگنڈا سے باز نہ آئے ، اُن کے پروپیگنڈا سے متاثر ہو کر بعض بھولے بھالے اہل سنت بھی متاثر نظر آنے لگے ، ان حالات کی وجہ سے فقیر نے یہ مناسب سمجھا کہ اس موضوع کو کھول کر بیان کردیا جائے تاکہ اپنوں کو اطمینان مزید ملے اور مخالفین پر ایک بار پھر حجت تمام کردی جائے ۔ وما توفیقی الا با ﷲ ۔

لزوم و التزام کی تعریف : ⏬

لزومِ کفر کے معنی ہیں کسی بات پر کفر کا لازم آنا، اور التزامِ کفر کے معنی ہیں کسی شخص کا کفر کو اپنے اوپر لازم کرلینا ، اس کی وضاحت یوں سمجھئے کہ کسی مسلمان کی زبان سے کوئی ایسی بات نکل جاتی ہے جو ازروئے شرع کفر ہے ، تو یہ لزومِ کفر ہے، اب اس مسلمان کو بتایا جائے کہ تیری اس بات پر لزومِ کفر آتا ہے اور وہ شخص توبہ کرنے کی بجائے اپنی بات پر اَڑ جائے تو یہ التزامِ کفر ہوگا اور اب اُس شخص کو کافر ماننا پڑے گا۔ ہاں اگر وہ اَڑ جانے اور ضد کرنے کی بجائے توبہ کرلے تو وہ مسلمان ہوگا کیونکہ التزامِ کفر ثابت نہ ہوا ، حالتِ اکراہ، حالتِ سُکر، غلبہ حال ، نیند اور جنون بھی التزامِ کفر کے منافی ہیں ، یعنی ان حالتوں میں بھی لزومِ کفر والی بات منہ سے نکل جائے تو التزامِ کفر ثابت نہیں ہوتا ، اس لئے صاحبِ کلام کافر نہیں ہوتا ۔

اس بات کی مثالوں سے وضاحت : ⏬

(1) ۔ مشکوٰۃ شریف میں باب الاستغفار والتوبہ میں بحوالہ مسلم شریف حضرت انس رضی ﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ بندہ جب توبہ کرتا ہے تو ﷲ تعالیٰ اس توبہ سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے ، اُس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا جس کا اونٹ جنگل میں اس سے بھاگ گیا اور اُس پر اُس کا کھانے پینے کا سامان بھی تھا، وہ شخص اپنے اونٹ سے مایوس ہوگیا، ایک درخت کے سائے میں آکر سستانے کے لئے لیٹا اور بے شک وہ اونٹ سے مایوس تھا کہ اچانک اُس کا اونٹ سازوسامان سمیت اُس کے سامنے تھا ، پھر اُس شخص نے اُونٹ کی مہار پکڑلی اور قال من شدۃ الفرح اللھم انت عبدی وانا ربک یعنی کہا اُس نے خوشی کے غلبہ سے مغلوب الحال ہوکر کہ ”اے ﷲ تو بندہ ہے میرا اور میں خدا ہوں تیرا“، اخطاءمن شدۃ الفرح یعنی اُس نے خطا کی بہ سبب غلبہ حال خوشی کے ۔

ملاحظہ کیجئے اس حدیث شریف میں یہ الفاظ (اے ﷲ تو بندہ ہے میرا اور میں خدا ہوں تیرا) کفر ہیں اور اس کلام پر کفر لازم آتا ہے ، مگر صاحبِ کلام اپنے غلبہ حال کے سبب اس لزومِ کفر سے بے خبر اور لاعلم ہے، اس لئے اُس کا التزامِ کفر ثابت نہ ہوا، لہذا وہ صرف خطاکار ٹھہرا ۔

(2) بعض مشرکین نے حضرت عمار بن یاسر رضی ﷲ عنہ کو پکڑا اور جناب نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم کو سبّ اور اپنے بتوں کی تعریف کے الفاظ جبراً کہلوائے ، حضرت عمار نے سارا واقعہ نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت اقدس میں عرض کیا ، نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم نے پوچھا تمہارا دل کس حال میں تھا ؟ عرض کی ایمان کے ساتھ کامل طور پر مطمئن ، تو نبی کریم صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم نے انہیں تسلّی دی ، سورۃ النحل کی آیت نمبر 106 کی ایک شان نزول یہ بھی ہے ، آیت ملاحظہ ہو من کفر با ﷲ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان .... الخ ، یعنی جو ایمان لا کر ﷲ کے ساتھ کفر کرے سوا اُس کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو ، ہاں وہ جو دل کھول کر کافر ہو ان پر ﷲ کا غضب ہے اور ان کو بڑا عذاب ہے ۔ (چشتی)

ملاحظہ کیا آپ نے ! مشرکوں نے جو کلمات کہلوائے ہوں گے وہ یقیناً لزومِ کفر کے کلمات تھے ، مگر حالتِ اکراہ کے سبب صحابی کا التزامِ کفر ثابت نہیں ہوتا ، اور اس بات کی تصدیق ﷲ جل جلالہ اور اس کے حبیب صلی ﷲ علیہ و آلہ وسلّم نے فرما کر صحابی کو مطمئن کردیا ۔

(3) مثنوی مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ میں درج ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک چرواہے کو دیکھا جو محبت الٰہی کے غلبہ حال میں کہہ رہا تھا کہ خدا تو کہاں ہے میں تیرا خادم بننا چاہتا ہوں ، میں تیری جوتیاں سینا چاہتا ہوں ، تیرے سر میں کنگھا کرنا چاہتا ہوں ، میں چاہتا ہوں کہ تیرے کپڑے سی دوں ، تیری جوئیں ماروں ، تیرے لئے دودھ لاﺅں ، تو بیمار ہو تو تیمارداری کروں ، تیرے ہاتھ چوموں اور پاﺅں دباﺅں ، تیری خواب گاہ صاف کروں ، گھی اور شربت ، پنیر اور پراٹھے تجھے دوں ، میرا کام یہ چیزیں لانا ہو اور تیرا کام یہ چیزیں کھانا ہو ، الغرض وہ ایسی باتیں کررہا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اُسے ٹوکا اور پوچھا کس کو کہہ رہے ہو ؟ بولا اپنے خدا کو : ⏬

گفت موسیٰ ہائے خیرہ سرشدی
خود مسلماں ناشدہ کافر شدی
ترجمہ : موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہائے تو دیوانہ ہوگیا ، تو مسلمان نہ رہا کافر ہوگیا ۔

وہ شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرمان سننے کے بعد سخت پریشان ہوا ، اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور روتا ہوا جنگل کو نکل گیا، موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی آئی اور آپ کو اس مغلوب الحال پر حکم لگانے سے روکا گیا ، واضح ہوچکا ہے کہ اُس شخص کے کلمات پر لزومِ کفر آتا تھا مگر صاحبِ کلام کو اُس کے غلبہ حال اور لا علمی نے التزام کفر سے بچالیا ۔

ایک د یوبندی عالم کی گواہی : ⏬

علاّمہ حمد ﷲ الداجوی پشاوری دیوبندی فاضل سہارنپور لکھتے ہیں : فنقول انہ فرق بین لزوم الکفر والتزامہ فان التزام الکفر واما لزوم الکفر فلیس بکفر.... قال فی المواقف من یلزمہ الکفر فلا یعلم بہ فلیس بکافر ۔
ترجمہ : اور ہم کہتے ہیں کہ بے شک فرق ہے لزومِ کفر اور التزامِ کفر میں ، پس بے شک التزامِ کفر تو کفر ہے ، مگر لزومِ کفر کفر نہیں ہے ، مواقف میں ہے کہ جس پر کفر لازم آئے اور وہ بے خبر ہو تو کافر نہیں ہے ۔
وذکر المفسر الالوسی .... فلو قال شخصاومن برسالۃ ولا ادری البشرام جنی ولا ادری امن العرب او من العجم فلا شک فی کفرہ لتکذیبہ القرآن.... فلو کان غیبا لا یعرف ذلک وجب تعلیمہ ایاہ فان جحد بعد ذلک حکمناہ بکفرہ۔ انتھیٰ ، فانظر الی العلماء المحققین المحتاطین فی امرالتکفیر وکذا یعلم من الحدیث المعروف الذی فیہ( اللھم انت عبدی وانا ربک) فھذہ کلمۃ کفر لا التزام فیہ ۔ (البصائر لمنکر التوسل باھل المقابر، صفحہ 18،19، مطبوعہ استنبول، ترکی،چشتی)
ترجمہ : اور مفسر آلوسی رحمۃ ﷲ علیہ نے ذکر کیا کہ اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ میں آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کو رسول مانتا ہوں مگر نہیں جانتا کہ کہ آپ بشر ہیں یاجن ؟ عربی ہیں یا عجمی؟ تو اُس کے کفر میں شک نہیں ، قرآن جھٹلانے کے باعث اور اگر وہ غبی یہ بات نہیں جانتا تو اُس کو بتانا لازم ہے ، پھر بھی اگر وہ ضد کرے اور اڑا رہے تو ہم اس کے کفر کا حکم جاری کریں گے، بات ختم، پس امر تکفیر میں تو محقق ومحتاط علماءکا رویّہ دیکھ، اور یہی پتہ چلتا ہے اُس مشہور حدیث سے جس میں ”اے ﷲ تو بندہ ہے میرا اور میں خدا ہوں تیرا“ ، تو یہ کلام کفر ہے مگر التزامِ کفر یہاں ثابت نہیں ۔

احتمال کی قسمیں اور لزوم والتزامِ کفر : ⏬

احتمال کی تین قسمیں ممکن ہیں جو کہ درج ذیل ہیں : ⏬

(1) احتمال فی الکلام

یعنی کلام میں کوئی جائز توجیہ وتاویل ہوسکتی ہو، یہ احتمال لزومِ کفر کی نفی کرتا ہے ، یاد رہے کہ صریح بات میں تاویل نہیں سنی جاتی ورنہ کوئی بات بھی کفر نہ رہے ۔

)2) احتمال فی التکلّم

یعنی اس بات میں شُبہ آجائے کہ قائل نے وہ کفری کلمہ بولا یا نہیں ، یہ احتمال جب آئے گا تو قائل کا التزامِ کفر ثابت نہ ہوسکے گا ۔

(3) احتمال فی المتکلم

یعنی خود قائل کے متعلق شُبہ ہو کہ اُس نے بے خیالی وبے خبری میں یا حالتِ سُکر یا غلبہ حال میں یہ کلام کہا اور اس کی قباحت پر آگاہ نہ کیا گیا یا کوئی ضعیف قول اُس کی توبہ کا مل جائے تو بھی قائل کا التزامِ کفر ثابت نہ ہوگا ۔

احتمال کی قسمیں اور مولوی اسماعیل دہلوی

(1) احتمال فی الکلام

مولوی اسماعیل دہلوی کے کلمات پر لزومِ کفر آتا ہے ، اُن میں تاویل کی گنجائش نہیں ملتی ، وہ صریح کفر ہیں ۔

(2) احتمال فی التکلّم

بعض دیوبندی حضرات کا موقف یہ ہے کہ مولوی اسماعیل دہلوی نے تقویۃ الایمان نامی کتاب نہیں لکھی ، چنانچہ مولوی حسین احمد مدنی نے مکتوبات میں اور صاحب تفسیر الاقوام نے اپنی تفسیر میں یہی موقف اختیار کیا ہے ، اُن سے مولوی حق نواز جھنگوی نے مناظرہ جھنگ میں یہی موقف نقل کیا اور اسی موقف کو اختیار کیا ، مولوی احمد رضا بجنوری اپنی کتاب ”انوار الباری“ جلد11، صفحہ نمبر 107 پر مولوی حسین احمد مدنی کا موقف بیان کرتے ہیں اور اسی کی تائید کرتے ہیں ۔
مولانا حکیم عبدالشکور مرزا پوری کے حوالے سے حضرت محقق زید ابوالحسن فاروقی مجددی دہلوی علیہ الرحمہ، متوفی 1414ھ/ 1993ء (خانقاہ حضرت مرزا مظہر جان جاناں،دہلی) اپنی کتاب”مولانا اسماعیل اور تقویۃ الایمان“ میں لکھا ہے کہ صراط مستقیم، تنویر العین اور ایضاح الحق الصریح ، آپ کی تالیفات میں سے نہیں ہیں اور تقویۃ الایمان بھی محرف اور غیر معتبر ہے ۔ (مولانا اسماعیل اور تقویۃ الایمان ،مطبوعہ شاہ ابوالخیر اکاڈمی دھلی1984ئ، صفحہ نمبر47،چشتی)
مولوی سرفراز صفدر دیوبندی نے اپنی کتاب ”عباراتِ اکابر“ میں صراط مستقیم کی متنازعہ فیہ مشہور عبارت کو مولوی اسماعیل دہلوی کی ذاتی عبارت ماننے میں شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور اسی طرح بعض غیر مقلد بھی کررہے ہیں ، اگرچہ دلائل و شواہد کی روشنی میں یہ ایک ضعیف ترین قول ہے جو اکثر کے خلاف ہے اور بالکل شاذ قول ہے ، تاہم اس سے التزامِ کفر میں تو احتمال آگیا ، لہٰذا یہاں امام احمد رضا کے موقف کی تائید ان حضرات کی زبان سے ہی ہوگئی ہے ۔

(3) احتمال فی المتکلم

مولوی اسماعیل دہلوی کے بارے میں یہ احتمال دو طرح سے ممکن ہے ، اولاً احتمال ہے کہ اُسے اپنے کلمات کے کفریہ ہونے کا علم ہی نہ ہوا ہو ، اور اپنے خلاف لگائے گئے فتوائے کفر کا اُسے علم ہی نہ ہوا ہو ، ”تحقیق الفتویٰ“ اس کے سامنے پیش ہونا مجھے معلوم نہ ہوسکا ، مناظرہ دھلی میں مسائل زیرِ بحث لائے گئے تھے ، اُس کی کفریہ عبارات پر بحث نہیں ہوئی تھی ، لہٰذا یہ احتمال عقلاً ممکن ہے ، اور التزامِ کفر میں احتمال ہے ۔

ثانیاً ” افکار و سیاسیات علماء دیوبند“ صفحہ نمبر 38 پر مولانا محمد شریف نوری نے کتاب ”ہدایت الصالحین بر حاشیہ توقیر الحق“ مصنفہ نواب قطب الدین دہلوی ، صفحہ نمبر 87 کے حوالہ سے لکھا ہے کہ مناظرہ پشاور میں مولوی اسماعیل دہلوی کو ایسی عبرت ناک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا کہ توبہ کے سوا کوئی چارہ کار نظر نہ آیا تو مجبوراً اپنے عقائد سے توبہ کا اعلان کردیا ، چنانچہ مولوی رشید احمد گنگوہی کے زمانے میں اُن سے ایک سوال ہوا جس میں ذکر ہے کہ” ایک بات مشہور ہے کہ مولوی اسماعیل صاحب شہید نے اپنے انتقال کے وقت بہت سے آدمیوں کے روبرو بعض مسائل تقویۃ الایمان سے توبہ کی ہے “، مولوی گنگوہی صاحب نے جواب دیا کہ ” توبہ کرنا اُن کا بعض مسائل سے محض افتراء اہل بدعت کا ہے“۔ (فتاویٰ رشیدیہ، صفحہ 84، 85،چشتی)

ظاہر بات ہے کہ اہل بدعت کا لفظ یہ حضرات اہل سنت کے لئے استعمال کرتے ہیں ، تو اہل سنت میں یہ قول کہیں نہ کہیں مل جاتا تھا کہ اسماعیل دہلوی نے اپنے غلط مسائل سے توبہ کی تھی (یعنی توبہ کرنے کی بات مشہور تھی) ، یہاں اگرچہ کفریہ عبارات سے توبہ کی صراحت تو نہیں ہے مگر احتمال تو ہے اور وہی اُس کے التزامِ کفر میں احتمال ہے ۔

بعض شبہات کا ازالہ : ⏬

(1) مولانا فضل حق خیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ اور سترہ دیگر علماء علیہم الرّحمہ نے 1240ھ/ 1825ء میں تقویۃ الایمان کی ایک عبارت پر فتویٰ لگاتے ہوئے لکھا کہ : اس بیہودہ کلام کا قائل ازروئے شریعت کافر اور بے دین ہے اور ہرگز مسلمان نہیں ہے .... جو اس کے کفرمیں شک وتردد لائے .... کافر بے دین اور نا مسلمان ولعین ہے ۔ یہ فتویٰ مولانا احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف ہے کیونکہ اس میں لزوم والتزام کی تاویلات کا دروازہ بند کردیا گیا ہے ۔
جواباً عرض ہے کہ یہ فتویٰ مولانا احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ کے بالکل خلاف نہیں ہے ، بلکہ امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی فتویٰ ہے ، معترض کو یہ علم نہیں ہے کہ جس کا التزام کفر ثابت نہ ہو وہ حقیقتاً قائل قرار نہیں دیا جاتا اگرچہ بظاہر قائل وہی ہو ، اس کی مثالیں ہم پیش کرچکے ہیں ، اور التزامِ کفر سے بچنے کا دروازہ توبہ ہے جسے موت بند کرتی ہے، مفتی کا فتویٰ بند نہیں کرتا ۔

(2) 1240ھ میں مناظرہ دہلی میں اسماعیل دہلوی نے کفریہ عبارات سے توبہ نہیں کی ۔ جناب اس مناظرہ میں کفریہ عبارات کو زیر بحث ہی کب لایا گیا تھا ، وہاں تو چند دیگر اختلافی مسائل کو زیر بحث لایا گیا تھا ۔

(3) 1246ھ/ 1831ء میں مرتے وقت تک اسماعیل دہلوی نے گستاخانہ عبارات سے توبہ نہیں کی ، ورنہ بعد کے علماءاہل سنت مثلاً مولانا قاضی فضل احمد لدھیانوی وغیرہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر نہ کرتے ۔

جواباً عرض ہے کہ تحقیق الفتویٰ کے چھ سال بعد تک مولوی اسماعیل دہلوی زندہ رہا ، کیا ہمارے مہربانوں کو مولوی اسماعیل دہلوی کی اس عرصے کی وہ ڈائری مل گئی ہے جو کراماً کاتبین نے لکھی تھی اور اُس میں توبہ مذکور نہیں ہے ، کیونکہ نفی کے مدعی کو علم محیط درکار ہے ، اور واقعاتِ نادرہ میں اثباتِ واقعہ کا قول نفی پر مقدم ہوتا ہے ، ممکن ہے کہ مذکورہ علماءتک یہ قول نہ پہنچا ہو ، یہاں یہ احتمال بھی ہے کہ توبہ کا قول تو ان تک بھی پہنچا ہو مگر شرعی فقہی پیمانے پر پورا نہ اُترنے کی وجہ سے انہوں نے اس قول کو تسلیم نہ کیا ہو ، اور توبہ کا شبہ صرف احتیاط کی ترغیب دیتا ہے اور امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کسی کو احتیاط پر مجبور نہیں کرسکتے ۔

(4) اسماعیل دہلوی کے کفر کو یزید کے کفر سے تشبیہ دینا غلط ہے کیونکہ یزید کے ساتھ مناظرے نہیں ہوئے ۔
جواباً عرض ہے کہ تشبیہ کا من کل الوجوہ ہونا لازمی نہیں ، جس طرح یزید کو بعض مسلمان، بعض کافر کہتے ہیں، بعض توقف کرتے ہیں ، یہی حال اسماعیل دہلوی کا ہے ، من بعض الوجوہ تشبیہ یہاں ثابت ہے، اس سے انکار کرنا تاریخ سے آنکھیں چرانا ہے ۔ جبکہ فتاویٰ رشیدیہ میں گنگوہی صاحب نے اسماعیل کو یزید کے کفر سے تشبیہ دی ہے ۔

(5) لزوم والتزامِ کفر اور اسماعیل دہلوی کے سوال پر اہل سنت کا مناظر نہایت بے چارگی اور بے بسی محسوس کرتا ہے ۔
جواباً عرض ہے کہ اہل سنت کا مناظر یہاں قطعاً بے چارگی اور بے بسی محسوس نہیں کرتا ، وہ تو اس سوال کا منتظر بیٹھا ہوتا ہے ، جونہی سوال آتا ہے وہ پوری وضاحت کے ساتھ معترض کا منہ بند کر دیتا ہے ، راقم نے مناظرہ بریلی ، مناظرہ ادری ، مناظرہ جھنگ اور مناظرہ بنگال وغیرہ کی روئیداد پڑھی ہیں ، کئی مناظروں کی کیسٹس بھی سنی ہیں ، ہمیں تو اس مسئلے میں دیوبندی مناظر ہر جگہ دبکا ہوا نظر آیا ہے ، ان بے چاروں کو تو اس مسئلہ میں بات بھی کرنی نہیں آتی ، اور انہیں لزوم والتزامِ کفر کا فرق بھی معلوم نہیں ہوتا ، چنانچہ مناظرہ جھنگ میں دیوبندی مناظر حق نواز جھنگوی نے مولانا محمد اشرف سیالوی سے پوچھا تھا کہ ”باقی رہی ایک بات یہ کہ آپ نے فرمایا ہے کہ مولانا احمد رضا خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے لزوم والتزام کی وجہ سے کافر نہیں کہا ، آپ بتائیں کہ لزوم کے لفظ کون سے ہوتے ہیں اور التزام کے کون سے ہوتے ہیں ؟ “ ۔ (مناظرہ جھنگ، مطبوعہ مکتبہ فریدیہ، ساہیوال، صفحہ نمبر 107)
جو بے چارے اتنا بھی نہیں جانتے کہ لزوم والتزام میں لفظ ایک ہی ہوتے ہیں یا لفظوں میں فرق ہوتا ہے ، اُن مناظرین کا میدانِ مناظرہ میں ہونے والا حشر کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ، یہی وجہ ہے کہ دیوبندی مناظرین اپنے اکابر کی گستاخانہ عبارات پر مناظرہ سے ہر جگہ کنی کتراتے ہیں ، یقین نہ آئے تو چیلنج دے کر دیکھ لیجیے ۔

(6) مفتی خلیل خاں بجنوری (دیوبندی) نے اپنی کتاب”انکشافِ حق“ میں لزوم والتزام اور احتمال کے انہی لفظوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دیگر اکابرِ دیوبند کی کفریہ عبارات کی بنا پر انہیں کافر کہنے سے احتیاط اور کفِ لسان کا قول کیا ہے ۔
جواباً عرض ہے کہ مفتی مذکور کی کتاب ”انکشافِ حق“ میں نے پڑھی ہے ، جن اکابر ِ دیوبند کو وہ بچانا چاہتا ہے ، نہ اُن کی عبارات میں اسلامی احتمال دکھا کر انہیں لزوم کفر سے بچا سکا ہے اور نہ ہی اُن افراد کے التزامِ کفر کی نفی پر کوئی دلیل یا احتمال دکھا سکا ہے ، کتاب کو قواعد یا نظائر سے ضخیم بنانے کی کوشش کی گئی ہے ، مگر ہر جگہ قیاس مع الفارق سے کام لیا گیا ہے ، فی الحال اتنا اجمال کافی ہے ۔

(7) جب اسماعیل دہلوی کو مولانا احمد رضا خاں نے مسلمان کہا ہے تو اُس کی عبارات دیوبندیوں اور اہل حدیثوں کے خلاف کیوں پیش کرتے ہو ؟
جواباً عرض ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ کا موقف ، توقف کرنا ہے وہ نہ اُسے مسلمان کہتے ہیں اور نہ ہی احتیاطاً اسے کافر کہتے ہیں ، البتہ اس کی گستاخانہ عبارات کو دیوبندی وہابی اور غیر مقلد وہابی درست اور حق مانتے ہیں ، اس لئے اُس کی کفریہ عبارات کو درست اور اسلامی مان کر یہ التزامِ کفر کے مرتکب قرار پاتے ہیں ، چنانچہ دیوبندیوں کے قطب العالم جناب رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں : کتاب تقویۃ الایمان نہایت عمدہ کتاب ہے اور ردّ شرک وبدعت میں لاجواب ہے ، استدلال اس کے بالکل کتاب اور احادیث سے ہیں ، اُس کا رکھنا اور پڑھنا اور عمل کرنا عین اسلام ہے ۔ (فتاویٰ رشیدیہ، صفحہ 78) ، بندہ کے نزدیک سب مسائل اس کے صحیح ہیں ، (فتاویٰ رشیدیہ صفحہ 85)

لہٰذا مولوی رشید احمد گنگوہی اور ان کے پیرو کار تو تقویۃ الایمان کے کفریات کا التزام کر چکے ہیں ، رہ گئے غیر مقلد وہابی تو وہ تو تقویۃ الایمان اور اس کے مصنف پر فدا ہیں ، یقین نہ آئے تو مولوی ثناء ﷲ امرتسری کے یہ الفاظ ملاحظہ فرمالیجیے : تقویۃ الایمان اور اس کا مصنف عالی شان اسماعیل و ما ادرک ما اسماعیل ، آج کل بعض اخباروں میں مجاہد فی ﷲ شہید فی سبیل ﷲ مولانا اسماعیل رضی ﷲ عنہ کی تقویۃ الایمان پر ذکر اذکار ہورہا ہے .... مختصر یہ کہ شہید مرحوم نے جو کچھ لکھا ہے قرآن حدیث اور اقوال صوفیاء کے بالکل مطابق ہے ۔ (فتاویٰ ثنائیہ جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 101)

اندریں حالات مولوی اسماعیل دہلوی کا التزام کفر محتمل وظنی بھی ہوجائے تو بھی مذکورہ دیوبندی اور غیر مقلد حضرات کو تقویۃ الایمانی کفریات کا التزامِ کفر قطعی غیر محتمل اور صریح قرار پاتاہے ۔

شہرتِ کاذِبہ کے سبب سکوت کرناآج کا خود ساختہ موقف نہیں بلکہ اکابرین علمائے اہل سنت سے ثابت ہے۔ اسماعیل دہلوی کے متعلق ہمارے اکابرین نے سکوت کی ایک وجہ یہ بھی لکھی ہے۔ چند حوالہ جات پیش خدمت ہیں:

حضور قبلہ حافظ ِملت عبدالعزیز محدث مراد آبادی علیہ الرحمہ اپنی کتاب ”العذاب الشدید“ میں لکھتے ہیں:

”مولوی اسماعیل دہلوی کی تکفیر سے سکوت کی ایک وجہ تو اوپر گزری، دوسری وجہ یہ ہے کہ مولوی اسماعیل صاحب کے اقوالِ کفریہ خبیثہ سے ان کی توبہ مشہور ہے۔چنانچہ فتاویٰ رشیدیہ ُمبوَّب حصہ اول ص 121پر مولوی رشید احمد گنگوہی کا مستفتی لکھتا ہے:” ایک بات یہ مشہور ہے کہ مولوی اسماعیل صاحب شہید نے اپنے انتقال کے وقت بہت سے آدمیوں کے روبرو بعض مسائلِ تقویۃ الایمان سے توبہ کی ہے۔”

گنگوہی صاحب نے اس شہرتِ توبہ کا انکار نہیں کیا ،بلکہ شہرتِ توبہ کو شہرتِ کا ذِبہ ٹھہرایا،چنانچہ صفحہ123 پر لکھتے ہیں:”توبہ کرنا انکا بعض مسائل سے محض افتراء اہلِ بدعت کا ہے۔”

جب گنگوہی صاحب خود مانتے ہیں کہ بدعتیوں نے مولوی اسماعیل پر افتراء کرکے یہ شہرت دے دی ہے کہ انہوں نے اپنے کفریات سے توبہ کرلی تھی، توشہرت حاصل ہو گئی، اب اس شہرت توبہ کی موجودگی میں احتیاط یہی ہے کہ مولوی اسماعیل دہلوی کی تکفیر سے احتیاطاً کفِ لسان کیا جائے مگر ان کے اقوالِ کفریہ خبیثہ ملعونہ کو کفر و ضلال ہی کہا جائے گا، اعلیٰ حضرت و علمائے اہل سنت نے یہی کیا کہ ان اقوالِ کفریہ کو کفر و ضلال کہا اور شہرتِ توبہ کے شبہ کی بنا پر مولوی اسماعیل دہلوی کی تکفیر سے کفِ لسان فرمایا، یہ دوسری وجہ بھی تکفیر سے سکوت کے لیے کافی اور نہایت معقول ہے۔اس کو جاہلانہ تاویل بتانا دیوبندی رہبر کی سخت جہالت اور نری عداوت ہے۔“(العذاب الشدید المعروف الدیوبندیت ،ص240،مکتبہ فکر رضا،کھیوڑہ)

خلیفہ اعلیٰ حضرت صدر الافاضل نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمۃ اللہ الہادی اپنی کتاب ” اَطیبُ البیان “ میں تحریر فرماتے ہیں:

”تقویۃ الایمان کے کثیر کفریات مذکور ہوچکے ، حضراتِ انبیاء اور سید المرسلین علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام کی توہین و تنقیض کے کلمات اور بے ادبانہ بدگوئیوں اور گستاخیوں سے کتاب بھری ہوئی ہے، ایسے کلمات بے شک کفر ہیں۔ شفاء شریف جلد2 صفحہ 237 میں ہے:”اَن جمیع من سبّ النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم او عابہ او الحق بہ نقصافی نفسہ او دینہ او خصلۃ من خصالہ او عرض بہ اوشبہہ بشئی علی طریق السب لہ اوالاذراء علیہ اوالتصغیر لشانہ اوالنقص والعیب لہ فہو ساب لہ والحکم فیہ حکم السابّ”

لیکن چونکہ اسماعیل دہلوی کی نسبت یہ مشہور تھا کہ اس نے اپنے ان تمام اقوال سے توبہ کرلی تھی اس لیے علمائے محتاطین نے اس کوکافرکہنے سے احتیاطاًزبان روکی اوراقوال کوکفروضلال بتایا۔اس کا تو اللہ کو علم ہے کہ اس نے واقع میں توبہ کی تھی یا نہیں اگرچہ آجکل کے وہابیہ جو اس کے کفریات کی حمایت و ترویج کرتے ہیں وہ توبہ کے منکر ہیں۔۔۔لیکن جن علماء نے سنا کہ اس کی نسبت توبہ کی شہرت ہے انہوں نے احتیاط کی اور مفتی کو ایسا ہی چاہیے ۔“(اطیب البیان فی رد تقویۃ الایمان، صفحہ 339،340، جماعت رضائے مصطفے،نارووال)

شیر بیشۂ اہلسنت خلیفہ اعلیٰ حضرت مفتی حشمت علی خان لکھنوی علیہ الرحمۃ پردورانِ مناظرہ منظور سنبھلی نے یہ اعتراض کیا کہ:”مولوی صاحب نے تقویۃ الایمان کی عبارت پڑھ کر حضرت مولانا اسماعیل شہید کا کفر ثابت کیا ہے مگر آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے اعلیٰ حضرت تو ان کو مسلمان کہتے ہیں اب وہی منطق چلائیے اگر آپ سچے ہیں تو اعلیٰ حضرت کافر کو مسلمان کہہ کر کافر ہو گئے اور اگر اعلیٰ حضرت سچے ہیں تو آپ مسلمان کو کافر کہہ کر کافر ہوگئے۔”

اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے مفتی حشمت علی خان لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

”یہ بھی بالکل جھوٹ ہے کہ حضور اعلیٰ حضرت قبلہ رضی اللہ عنہ نے اسماعیل کو مسلمان کہا ہے ہر گز نہیں بلکہ اس کو کافر کہنے سے زبان روکی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اسماعیل دہلوی کی توبہ مشہور ہے ، اگرچہ وہ شہرت فی نفسہا غلط ہو مگر اُس شہرت کاذِبہ سے بھی شبہ پیدا ہوگیا۔ اور تکفیر کے لیے ” قطع و یقین” درکار ہے۔ احتیاط کی وجہ سے بھی تکفیر سےکف لسان کرنے والا اگر آپ کے نزدیک کافر ہے تو یہ دیکھیے آپ کے پیشوا رشید احمد گنگوہی اپنے فتاوے رشیدیہ حصہ اول مطبوعہ ہندوستان پرنٹنگ ورکس وہلی کے صفحہ نمبر 38 پر لکھتے ہیں: بعض آئمہ نے جو یزید کی نسبت کفر سے کف لسان کیا ہے وہ احتیاط ہے۔ اب گنگوہی صاحب پر لگائیے کفر کا فتوی کے یزید کی تکفیر سے بوجہ احتیاط کف لسان کرتے ہیں۔“ (روئیداد مناظرہ ادری ص 198)

یہی احتمال حضور قبلہ سیدی محدث اعظم پاکستان مفتی سردار احمد صاحب علیہ الرحمہ نے بھی مناظرہ بریلی کے اندر بیان فرمایا ہے چنانچہ لکھتے ہیں:

”اعلی حضرت نے آپ کے اسماعیل دہلوی کے ستر کفریات ”الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات ابی الوہابیہ“ میں بیان کیے ،مگر مولوی اسماعیل دہلوی کی توبہ مشہور ہونے کی بنا پر کافر کہنے سے احتیاط برتی۔بے شک اعلی حضرت قبلہ نہایت احتیاط برتنے والے تھے اور متبع شریعت و عالم دین کی یہی شان ہونی چاہیے۔۔۔۔جس شخص سے کفریات صادر ہوں اور اس کی توبہ کی شہرت ہو اس کو کافر کہنے سے زبان روکنا احتیاط ہے۔“ (روئیدادمناظرہ بریلی ص،صفحہ287،288، مکتبہ سعیدیہ جامعہ قادریہ رضویہ)

باقی جو سوال میں مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت” اور اگر نری افواہ بے سروپا یا کن فیکون کے بعد ا سکے بعض ہوا خواہوں کا مکابرانا اِدِّعاہوتواس پر التفات نہ ہوگا۔فاحفظ)”پیش کی گئی ہے ۔ اس سے شہرت کاذبہ کے سبب کافر کہنے میں سکوت کی نفی نہیں ہورہی ہے بلکہ یہ صورت وہ ہے کہ جب اس کفربولنے والی کی توبہ کی شہرت نہ ہو بلکہ ایک دو افراد اس کی افواہ پھیلارہے ہوں۔جیساکہ آپکی عبارت ”ا سکے بعض ہوا خواہوں کا مکابرانا اِدِّعاہو“سے واضح ہے ۔

فتاوی مفتی اعظم میں مولانا مفتی حافظ عبدالحق رضوی مصباحی رحمۃ اللہ علیہ مفتی اعطم ہند کے فرمان کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”شبہ فی المتکلم: یہ ہے کہ کفری کلام بولنے والے نے توبہ کرلی ہے،مگر توبہ کا ثبوت شرعی نہ ہو۔ اگر یہ ثبوت قطعی ثابت ہو جائے تب ا س کی تکفیر ہرگز نہ ہوگی اور اگر ایسا ثبوت ہو جو متردد کردے جب بھی قائل کے بارے میں کف لسان واجب ہوگا۔اگرچہ قول کفر صریح ناقابل تاویل ہو۔ اور اگر محض افواہ ہوکہ اس کے بعض ہوا خواہوں نے اڑادی ہے تو اس پر التفات نہ ہوگا۔۔۔۔اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ والرضوان نے اسماعیل دہلوی کی صرف تکفیر لزومی فقہی فرمائی اور تکفیر التزامی کلامی سے کیوں احتراز اور کف لسان فرمایا۔ اس کی رقم الحروف کے نزدیک علمائے اہل سنت کی کتابوں سے مطالعہ سے صرف دو وجہ سمجھ آتی ہے،جس کو ہدیہ ناظرین کررہاہوں۔

پہلی وجہ: اسماعیل دہلوی کی عبارتیں معانی کفریہ میں تحذیر الناس ،براہین قاطعہ اور حفظ الایمان کی طرح متعین نہیں ہیں۔ اگرچہ معانی کفریہ میں متبین اور لزوم کفر میں ظاہر ہیں۔ اور تاویل بعید میں ممکن ہے۔

دوسری وجہ: اسماعیل دہلوی کی توبہ کی شہرت ہے۔ اگرچہ یہ شہرت ثبوت شرعی کو نہیں پہنچی لیکن پھر بھی شبہ فی المتکلم کی وجہ سے اجتناب کیا اور کف لسان ہی کو اپنا مسلک و مختار ٹھہرایا۔ لیکن اسکا یہ بھی مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس کو مسلمان بتایا،بلکہ مثل یزید اس کے کفر و اسلام سے سکوت ہی کو احوط قرار دیا۔“(فتاوی مفتی اعطم،جلد7،صفحہ23۔۔۔،شبیر برادرز،لاہور)

مفتی عبدالحق رضوی صاحب کی تشریح سے مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کا کلام بالکل واضح ہوگیا کہ آپ توبہ کی شہرت جو صادقہ نہیں بلکہ کاذبہ ہے یعنی ثابت نہیں ہے اس کو تیسرے درجے میں لارہے ہیں اور اس پر سکوت فرمارہے ہیں۔

اشکال: توبہ کی شہرت کاذبہ سے سکوت ثابت نہیں ہوتا بلکہ یہ کالعدم ہے۔ پرانے وہابیوں کے اعتقاد کے مطابق دہلوی کی توبہ کی شہرتِ شہرت صادقہ ہے۔اور وہابیوں دیوبندیوں کا اعتراض تھا کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز تنقیص نبوی کے باوجود دہلوی کو کافر نہیں مانتے ہیں۔پس پرانے وہابیہ کے اعتقاد کے مطابق دہلوی کی شہرت توبہ کو شہرت صادقہ فرض کر کے علمائے اہل سنت نے الزامی جواب دیا گیا کہ جب تمہارے بقول دہلوی نے توبہ کر لی تھی تو اس شہرت توبہ کے سبب اس کی تکفیر نہیں کی گئی۔لیکن الزامی جواب پرانے وہابیہ کے قول کے مطابق دیا گیا ہے۔ الزامی جواب خصم کے مسلمات کے مطابق دیا جاتا ہے۔دہلوی کی شہرت توبہ کے ذریعہ سب سے پہلے الزامی جواب حضور صدر الافاضل قدس سرہ العزیز نے اطیب البیان میں دیا ہے۔انہوں نے رقم فرمایا ہے کہ پرانے وہابی کہتے تھے کہ دہلوی نے تمام کفریات سے توبہ کر لیا تھا اور بعد کے وہابیہ اس توبہ کا انکار کرتے ہیں ۔

جواب:پہلی بات تو یہ ہے کہ وہابیوں کے پرانے علماء سے بھی توبہ کی شہرت صادقہ ثابت نہیں۔تفصیل اس میں یہ ہے کہ صدرالافاضل کے ارشاد سے یہ ثابت ہی نہیں ہورہا کہ انہوں نے پرانے وہابی مولویوں سے توبہ کی شہرت صادقہ کا لکھا ہے ہو۔ ان کا فرمان ملاحظہ ہو:

”اس کا تو اللہ کو علم ہے کہ اس نے واقع میں توبہ کی تھی یا نہیں اگرچہ آجکل کے وہابیہ جو اس کے کفریات کی حمایت و ترویج کرتے ہیں وہ توبہ کے منکر ہیں۔“

اس میں صدرالافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ واضح فرمارہے کہ یہ پتہ نہیں اس نے توبہ کی ہے یا نہیں اگرچہ موجودہ وہابی اسکے منکر ہیں۔ یعنی یہ تو آپ نے فرمایا ہی نہیں کہ پرانے وہابیوں سے شہرت صادقہ ثابت ہے بلکہ آپ نے لاعلمی ہی کا اظہار کیا ہے کہ توبہ مشہور ہے اللہ بہتر جانتا ہے کی ہے یا نہیں کی۔

نیز حضور قبلہ حافظ ِملت عبدالعزیز محدث مراد آبادی علیہ الرحمہ اپنی کتاب ”العذاب الشدید“ میں فرمارہے ہیں:

”جب گنگوہی صاحب خود مانتے ہیں کہ بدعتیوں نے مولوی اسماعیل پر افتراء کرکے یہ شہرت دے دی ہے کہ انہوں نے اپنے کفریات سے توبہ کرلی تھی، توشہرت حاصل ہو گئی، اب اس شہرت توبہ کی موجودگی میں احتیاط یہی ہے کہ مولوی اسماعیل دہلوی کی تکفیر سے احتیاطاً کفِ لسان کیا جائے ۔“(العذاب الشدید المعروف الدیوبندیت ،ص240،مکتبہ فکر رضا،کھیوڑہ)

یہاں بالکل واضح طور پر قبلہ حافظ ملت رحمۃ اللہ علیہ وہابیوں کی توبہ صادقہ کا نہیں بلکہ شہرت کاذبہ کا ہی ذکرکرکے اس پر سکوت فرمارہے ہیں۔

نیز شہرت صادقہ یہ نہیں ہوتی کہ وہابی کہہ رہے ہیں تو اس کو شہرت صادقہ کہہ دیا جائے ۔شہرت صادقہ یہ ہے کہ یقینی طور پر کئی عادل لوگوں کی نسبت مشہورہوکہ ان کے سامنے توبہ کی ہے اوران حضرات سے اس کی تائید ثابت ہو۔ ورنہ جن کی نسبت یہ مشہور ہے وہ فاسق ، بدمذہب یا کافرہوں اگرچہ کثیر ہوں اس کا اعتبار نہیں ہوتا۔فتاوی تتارخانیہ میں ہے

”ذمی مات فشہد عشرۃ من النصاریٰ انہ اسلم لایصلی علیہ بشھادتہم وکذا لو شہد فساق من المسلمین “

ترجمہ:ذمی مر ا اور دس عیسائیوں نے گواہی دی کے یہ مسلمان ہوگیا تھا تو ان عیسائیوں کی گواہی پر اس مرنے والے کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی ،اسی طرح مسلمانوں میں سے فساق کی گواہی پر بھی نہیں پڑھی جائے گی۔ (الفتاوٰی التتارخانیۃ،کتاب الشہادۃ،الفصل شہادۃ اہل الکفر،جلد12،صفحہ40،مکتبہ فاروقیہ،کوئٹہ)

المحیط البرہانی میں ہے

”رجل من أہل الذمۃ مات فشہد مسلم عدل أو مسلمۃ أنہ أسلم قبل موتہ وأنکر أولیاؤہ من أہل الذمۃ ذلک، فمیراثہ لأولیائہ من أہل الذمۃ بحالہ وإنہ ظاہر، قال: وینبغی للمسلمین أن یغسلوہ ویکفنوہ ویصلون علیہ۔۔۔وشہادۃ الفساق من المسلمین علی إسلامہ لا تقبل ولا یصلی علیہ بشہادتہم“

یعنی ذمی میں سے کوئی شخص مرگیا اور مسلمان عادل مردیا عادلہ مسلمان عورت نے گواہی دی کہ اس نے موت سے قبل اسلام قبول کرلیا تھا اور مرنے والے کے ذمی اولیاء نے اسلام قبول کرنے کا انکار کیا تووراثت اولیاء کے لئے ہوگااورمسلمانوں کے لئے واجب ہے کہ اسے غسل دیں اور کفن پہنا کر اس پر نماز پڑھیں۔ مسلمانوں میں فساق کی شہادت کافر کے اسلام پر قبول نہیں ہوگی اور اس شہادت کی وجہ سے کافر پر نماز نہیں پڑھی جائے گی۔(المحیط البرہانی ،کتاب الشہادات،الفصل الحادی عشر فی شہادۃ أہل الکفر والشہادۃ علیہم،جلد8،صفحہ412،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

نیز وہابیوں کوچپ کروانے کے لیے توبہ کی شہرت کا تو تب کہا جاتا کہ وہ مناظروں میں اس کا اقرار کررہے ہوتے کہ اسماعیل دہلوی نے توبہ کی ہے ۔وہ تو اس کا انکارکرتے ہیں اور اعتراض یہ کرتے ہیں کہ جب فضل حق خیر آبادی نے تکفیر کی ہے تو اعلی حضرت امام احمد رضانے کیوں سکوت کیا ہے؟اس کا جواب علماء نے یہ دیا ہے کہ کسی وجہ سے سکوت کرنے پر مفتی پر ہی کفر کا حکم نہیں آتا تمہارے مولویوں نے بھی سکوت کیا ہے جیسا کہ مفتی حشمت علی خان لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

” احتیاط کی وجہ سے بھی تکفیر سےکف لسان کرنے والا اگر آپ کے نزدیک کافر ہے تو یہ دیکھیے آپ کے پیشوا رشید احمد گنگوہی اپنے فتاوے رشیدیہ حصہ اول مطبوعہ ہندوستان پرنٹنگ ورکس وہلی کے صفحہ نمبر 38 پر لکھتے ہیں: بعض آئمہ نے جو یزید کی نسبت کفر سے کف لسان کیا ہے وہ احتیاط ہے۔ اب گنگوہی صاحب پر لگائیے کفر کا فتوی کے یزید کی تکفیر سے بوجہ احتیاط کف لسان کرتے ہیں۔“ (روئیداد مناظرہ ادری ص 198)

دوسری بات یہ ہے کہ علمائے اہل سنت نے فقط مناظروں میں ہی مخالف کو چپ کروانے کے لیے یہ الزامی جواب نہیں دیا بلکہ اس کے علاوہ بھی اپنی کتب و فتاوی میں یہ علت بیان کی ہے کہ اس کی توبہ مشہور ہوچکی تھی چنانچہ فقیہ ملت میں ہے:

”چونکہ علامہ فضل حق خیر آباد ی علیہ الرحمۃ والرضوان کا وصال 1278ھ میں ہوا اور اس وقت تک اسماعیل دہلوی کی توبہ مشہور نہیں ہوئی تھی،جس کی بنا پر آپ نے اس کی تکفیر فرمائی برخلاف اس کے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ربہ القوی کی ولاد ت 1272ھ میں ہوئی اور آپ کا وصال 1340ھ میں ہو ا اس وقت تک اسماعیل دہلوی کی توبہ مشہور ہوچکی تھی اس لیے آپ نے احتیاطا اس کی تکفیر سے کف لسان فرمایا۔“ (فتاوی فقیہ ملت،جلد1،صفحہ40،شبیر برادرز،لاہور )

فتاوی بریلی میں ہے:

” اسماعیل دہلوی کی گمراہی و بددینی تقویۃ الایمان سے واضح ہے بہت سے کفریات اس میں مذکور ہیں توہین انبیاء کرام و اولیاء عظام کا وہ مرتکب ہے مگر ان کی توبہ کی بھی خبر ہے لہذا ان کو کافر کہنے سے توقف کیا گیا ہے۔“ (فتاوی بریلی ،صفحہ 307،شبیر برادرز،لاہور)

فتاوی شارح بخاری میں مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”مجدد اعظم اعلی حضرت قدس سرہ کا اسماعیل دہلوی کے بارے میں جو ارشاد ہے اس میں اس کا بھی احتمال ہے کہ دہلوی کی توبہ مشہور ہونے کی وجہ سے کف لسان فرمایا اور یہ صحیح ہے کہ اعلی حضرت قدس سرہ کے عہد مبارک میں اسماعیل دہلوی کی توبہ مشہور ہوئی تھی جس کا ثبوت فتاوی رشیدیہ ص: 84/85 کا سوال و جواب ہے۔ اگرچہ گنگوہی صاحب نے اسے یہ کہہ کر اڑا دیا بدعتیوں کا ہے مگر سوال سے ظاہر ہے کہ اسماعیل کی توبہ مشہور تھی مقام احتیاط میں کافر کہنے سے کف میں عوامی شہرت کافی ہے۔واللہ تعالی اعلم۔“ (فتاوری شارح بخاری،جلد3،صفحہ319،برکات المدینہ ،کراچی) ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Saturday, 30 May 2026

حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 12 ذی الحجہ ہے یا 18 ذی الحجہ

حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 12 ذی الحجہ ہے یا 18 ذی الحجہ











محترم قارئینِ کرام : اٹھارہ (18) ذوالحج کو شیعہ لوگ عید غدیر مناتے ہیں کہتے ہیں کہ اس روز حجۃ الوداع سے واپسی پر غدیر خم مقام پے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : میں جس کا مولا علی اس کا مولی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے شیعہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس فرمان کے ذریعے اپنا خلیفہ بلافصل بنایا ۔ اٹھارہ 18 ذی الحج جو کہ خلیفہ راشد دُہرے دامادِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا یومِ شہادت ہے عین اُس دن رافضی شیعہ اور اب اُن کے نقشِ قدم پر چلنے والے سنیوں کے لبادے میں چھپے نیم رافضی جشنِ غدیر منا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ؟


حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 35 ہجری 18 ذی الحجہ بروز جمعہ کو ہوئی ۔ صحیح ترین کتابی و عقلی دلاٸل سے ان کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ ہی ثابت ہے ۔ سب سے پہلے میں کچھ چیزیں بیان کر دیتا ہوں جن پر سب کا اتفاق ہے ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ 35 ہجری کو شہید ہوئے ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن شہید ہوئے ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہادت کے وقت روزے سے تھے ۔ لوگوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنا 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع کر دیا ۔ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت تمام لوگوں نے 25 ذی الحجہ بروز جمعہ تک مکمل کر لی تھی ۔ ان تمام چیزوں کو ذہن نشین کر لیں کیونکہ اس سے پوسٹ کو سمجھنے میں آسانی ہو گی ۔ کچھ لوگ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 12 ذی الحجہ بروز جمعہ بتاتے ہیں ۔ ان کی دلیل ابو عثمان النہدی علیہ الرحمہ کا قول ہے کہ ایام تشریق (11 ، 12 ، 13 ذی الحجہ) کے درمیان میں (یعنی 12 کو) شہید ہوئے ۔ یہ قول مردود ہے ۔ ابو عثمان نہدی علیہ الرحمہ کا صحیح و صریح قول 18 ذی الحجہ کا ہی ہے ۔ جو کہ ہم آگے بیان کریں گے ۔


اب ہم مفصل دلائل سے حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ ثابت کریں گے ۔


حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا شہادت کے وقت روزے سے ہونا : ⏬


حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا شہادت کے وقت روزے سے ہونا ہی ایامِ تشریق میں شہادت نا ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سال میں پانچ دنوں کے بارے میں فرمایا یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔ عید الفطر کا دن ، عید الاضحٰی کا دن ، اور ایام تشریق کے تین دن (11 ، 12 ، 13) ۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 2677،چشتی)


اور اعلیٰ حضرت علیہ الحمہ سے بھی پوچھا گیا کہ ان پانچ دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیوں کیا گیا ؟

تو آپ نے فرمایا : یہ دن اللہ کی طرف سے بندوں کی دعوت کے دن ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 10 صفحہ 355)


اب ہم آتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہادت کے دن روزے سے تھے : ⏬


طبری نے اپنی صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اس دن انہوں نے خواب دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو فرما رہے ہیں کہ آج آپ افطار ہمارے ساتھ کریں گے ۔ (تاریخ طبری صحیح باب ذکر الخیر عن قتل عثمان رضی اللہ عنہ صفحہ 343)


اس کے علاوہ بھی کئی دلائل ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہادت کے وقت روزے سے تھے ۔


اب ہم آتے ہیں کہ شہادت حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کب شروع ہوئی اور کب ختم ہوئی ۔


حافظ ابنِ کثیر اور طبری نے نقل کیا ہے کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع ہوئی ۔ (تاریخ ابنِ کثیر جلد 7 صفحہ 299)


اب یہاں پر یہ چیز ذہن نشین کر لیں کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت لوگوں نے 19 ذی الحجہ کو شروع کی اور وہ ہفتے کا دن تھا ۔


اب ہم آتے ہیں کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کس دن مکمل ہوئی ۔


امام طبری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت جمعہ کے دن کی گئی اس وقت ماہِ ذی الحجہ ختم ہونے میں پانچ روز باقی تھے ۔ (یعنی 25 تاریخ کو کی گئی) ۔ (تاریخ طبری جلد 3 حصہ دوم صفحہ 28،چشتی)


اور ابنِ کثیر نے بھی نقل کیا ہے کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ مکمل ہوئی ۔ (تاریخ ابنِ کثیر جلد 7 صفحہ 300)


اس سے ثابت ہوا کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ مکمل ہوئی ۔


اب ہم آتے ہیں حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کس تاریخ کو ہوئی ۔


امام ابنِ خلدون رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہوئی ۔ (تاریخ ابنِ خلدون جلد 2 صفحہ 364)


اور حافظ ابنِ کثیر نے بھی یہی لکھا ہے کہ مشہور قول کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ 18 ذی الحجہ بروز جمعہ کو شہید ہوئے اور آپ کی تدفین سے پہلے لوگوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع کر دی تھی ۔ (تاریخ ابنِ کثیر: جلد 7 صفحہ 299)


یہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تدفین سے پہلے ہی حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع ہو گئی تھی اور صحیح ترین اقوال سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو تین دن تک دفن نہیں کیا گیا تھا ۔ اور حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 19 تاریخ کو شروع ہوئی ۔ تو واضح معلوم ہو رہا ہے کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 18 تاریخ ہی ہے ۔


امام طبری صحیح سند کے ساتھ قول نقل کیا ہے کہ ابو عثمان النہدی اور دوسرے راویوں علیہم الرحمہ کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو 18 ذی الحجہ بروز جمعہ شہید کیا گیا ۔ (تاریخ طبری الجزالرابع باب 35 ہجری کے واقعات صفحہ ۴۱۷ ، ۴۱۸ )(تاریخ طبری مترجم اردو جلد 3 حصہ اول صفحہ 476،چشتی)


نوٹ : جیسا کہ آپ کو معلوم ہے طبری کے اردو ترجمے میں اسناد بیان نہیں کی گئیں اس لیے اردو ترجمے میں یہ لکھا گیا ہے کہ سیف کی مشہور سلسلہ روایت کے مطابق حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ ہے ۔ تو جب آپ عربی نسخہ دیکھیں گے تب آپ کو معلوم ہو گا کہ یہاں ابو عثمان نہدی علیہ الرحمہ کا قول نقل کیا گیا ہے ۔


صحیح ترین اقوال سے ثابت ہوا کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 18 ذی الحجہ ہے اور ابو عثمان نہدی علیہ الرحمہ کا بھی یہی قول ہے جو کہ حادثے کے معاصر ہیں ۔


تو اب ہم زرا عقلی دلائل کی طرف آتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ہی ہے ۔


1 : اب آپ کو وہ تمام چیزیں دوبارہ ذہن میں لانی ہوں گیں جن کے بارے میں نے کہا تھا کہ ان کو یاد کر لیں ۔


2 : حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن شہید ہوئے ۔


4: لوگوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنا 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع کر دیا ۔


5 : حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت تمام لوگوں نے 25 ذی الحجہ بروز جمعہ تک مکمل کر لی تھی ۔


اب ہم تاریخ اور دن کے حساب سے یہ فیصلہ کریں گے کہ صحیح قول کون سا ہے ۔


اب وقتی طور پر ہم یہ مان لیتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 12 ذی الحجہ بروز جمعہ کو ہوئی اور اس دن سے لے کر 25 ذی الحجہ تک چلتے ہیں کہ کیا روایات کے مطابق اس لحاظ سے 25 تاریخ کو جمعہ کا دن بنتا ہے یا نہیں ؟


12 : جمعہ


13 : ہفتہ


14 : اتوار


15 : سوموار


16 : منگل


17 : بدھ


18 : جمعرات


19 : جمعہ (یہاں ہی تاریخ غلط ہو گئی ہے کیونکہ روایات کے مطابق 19 کو حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع ہوئی اور تب ہفتے کا دن تھا ۔ خیر ہم آگے چلتے ہیں ۔


20 : ہفتہ


21 : اتوار


22 : سوموار


23 : منگل


24 : بدھ


25 : جمعرات (یہاں پھر سے غلطی آگئی ہے کیونکہ روایات کے مطابق حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ کو مکمل ہو گئی اور اس حساب سے یہاں جمعرات بنتا ہے جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ 12 ذی الحجہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن نہیں ۔


اب ہم راجح قول کے مطابق حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ مانتے ہیں اور یہی حساب دوبارہ کرتے ہیں ۔


18 : جمعہ 


19 : ہفتہ (یہ حساب یہاں ہی درست ثابت ہو گیا کیونکہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بیعت 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ شروع ہوئی ، آگے چلتے ہیں ۔


20 : اتوار


21 : سوموار


22 : منگل


23 : بدھ


24 : جمعرات (یہاں بھی درست ہو گیا کیونکہ 24 ذی الحجہ بروز جمعرات کو کوفیوں میں سب سے پہلے اشتر نخعی نے آپ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی)


25 : جمعہ (بیعت مکمل ہونے کا دن جمعہ)


تو تمام روایات کے مطابق 18 ذی الحجہ ہی حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن ہے کیونکہ باقی تمام روایات و شواہد پر یہی تاریخ پوری اترتی ہے ۔


اہلِ تشیع ویب سائیٹ ویکی شیعہ پر بھی حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہی لکھی ہوئی ہے ۔ (ویکی شیعہ ، حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا بیان : باب معاصرہ اور قتل)


ہم نے الحمد للہ کتابی و عقلی دلائل سے یہ ثابت کیا کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 35 ہجری 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہے ۔ اور تمام عقلی دلائل سے بھی یہی تاریخ ثابت ہے ۔ اور اس کے علاوہ کے اقوال کوئی حقیقت نہیں رکھتے ۔


شہیدِ مظلوم حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ : ⏬


محترم قارئینِ کرام : سلطنت کسریٰ کی دورِ فاروقی میں دھجیاں اڑ گئیں‘ اس کا تو وجود ہی باقی نہیں رہا لہٰذا جہاں تک انتقامی جذبات کا معاملہ ہے تو وہ سب سے زیادہ شدید ایرانیوں کے اندر موجزن تھے ۔ اسی سے آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایرانیوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اتنا بغض کیوں ہے ؟ اسی کا مظہر ہے کہ ایران میں جیسے دوسرے اکابر اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے مقبروں کی شبیہیں اور تصویریں بطور تقدس چھپتی اور گھروں میں لگائی جاتی ہیں‘ اسی طرح اس بدبخت ابولولو فیروز مجوسی کی قبر کی شبیہیں اور تصویریں فروخت ہوتی ہیں جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی جلیل القدر شخصیت‘ خلیفہ ٔراشد اور امیر المؤمنین کا قاتل تھا‘ اور ستم بالائے ستم یہ کہ ان کے نیچے یہ عبارت لکھی ہوتی ہے : قبر مبارک حضرت ابولولوفیروز ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَـیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔ اس ناہنجار مجوسی کی قبر کی تقدیس اور اس کے نام کی توقیر صرف اس لیے کہ اس نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حیاتِ مبارکہ کا چراغ بجھایا تھا‘ جو ایران کے حقیقی فاتح تھے ۔ اب آپ غورکیجیے کہ اسلام کے خلاف دو طرفہ سازشیں شروع ہوئیں ۔ ایک جانب یہودیوں کی طرف سے جو مذہبی سیادت کے لحاظ سے زخم خوردہ تھے اور دوسری جانب ان مجوسیوں کی طرف سے جو چاہے بظاہر مسلمان ہو گئے ہوں ‘لیکن جو سلطنت کسریٰ کے پرخچے اڑ جانے کی وجہ سے شکست خوردہ تھے اور آتش انتقام میں جل رہے تھے ۔ نتیجتاً مذہبی اعتبار سے انتقام کے سب سے زیادہ شدید جذبات یہودیوں میں تھے اورسیاسی اعتبار سے سب سے زیادہ انتقام کے جذبات ایرانیوں میں تھے. یہ دونوں ہی چاہتے تھے کہ اللہ کے دین کے چراغ کو اپنی ریشہ دوانیوں‘ سازشوں اور افواہوں سے بجھا دیں ۔


اس انتقام کی پہلی کڑی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت تھی‘ اور اس کے ذریعے خلافت اسلامی کو سبوتاژ کرنا مقصود تھا‘ لیکن اسلام کے دشمنوں کو اپنے اس مقصد میں کامیابی حاصل نہ ہوئی ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تخت خلافت پر متمکن ہونے کے بعد حالات پر پوری طرح قابو پا لیا‘ بلکہ داخلی امن وامان اور استحکام کے ساتھ تمام شورشیں اور بغاوتیں نہ صرف فرو کر ڈالیں بلکہ فتوحات کا دائرہ وسیع تر ہونے لگا تو اب یہودی سازشی ذہن اور آگے بڑھا اور اُس نے اپنی وہ خفیہ کارروائیاں تیز کر دیں جن کی داغ بیل عبداللہ بن سبا یہودی ، دورِ صدیقی رضی اللہ عنہ میں ڈال چکا تھا ۔ اس سازشی کام کےلیے اس کو ایران کی زمین سب سے زیادہ سازگار نظرآئی ۔ یہاں وہ عنصر بھی اچھی خاصی تعدا د میں موجود تھا جو بظاہر مسلمان لیکن ذہناً مجوسی اور شاہ پرست تھا اور انتقام کی آگ میں جل رہا تھا‘ اور وہ سیدھے سادے عوام بھی موجود تھے جن کی گھٹی میں شخصیت پرستی اور ہیرو ورشپ (Heroworship) پڑی ہوئی تھی اور جو ہر بڑے اور ہر مقدس شخص کے گھر والوں کو بھی بڑا اور مقدس سمجھنے کے صدیوں سے خوگر تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ عبداللہ بن سبا کی سازش پال کی سازش سے کم نہیں تھی ۔

 

شہادت حضرت عثمان غنی رضی عنہ کی خبر


عَنْ قَتَادَةَ : أَنَّ أَنَسًا رضي الله عنه حَدَّثَهُمْ قَالَ : صَعِدَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم أُحُدًا، وَ مَعَهُ أَبُوْبَکْرٍ وَ عُمَرُ وَ عُثْمَانُ، فَرَجَفَ، وَ قَالَ اسْکُنْ أُحُدُ، أَظُنُّهُ ضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ. فَلَيْسَ عَلَيْکَ أَحَدٌ إِلَّا نَبِيٌّ وَ صِدِّيْقٌ وَ شَهِيْدَانِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ ۔

ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوہِ اُحد پر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنھم تھے، تو اسے وجد آگیا (وہ خوشی سے جھومنے لگا) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اُحد! ٹھہر جا۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قدم مبارک سے ٹھوکر بھی لگائی اور فرمایا کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب مناقب عثمان بن عفان، 3 / 1353، الحديث رقم : 3496،چشتی)(والترمذي في الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في مناقب عثمان بن عفانص، 5 / 624، الحديث رقم : 3697)(و أبوداؤد في السنن، کتاب السنة، باب في الخلفاء، 4 / 212، الحديث رقم : 4651)(و النسائي في السنن الکبري، 5 / 43، الحديث رقم : 8135)


عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ أنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم کَانَ عَلٰي حِرَاءَ هُوَ وَ أَبُوْبَکْرِ وَ عُمَرُ وَ عُثْمَانُ وَ عَلِيٌّ وَ طَلْحَةُ وَ الزُّبَيْرُ فَتَحَرَّکَتِ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم إِهْدَأْ، فَمَا عَلَيْکَ إلاَّ نَبِيٌّ أَوْصِدِّيْقٌ أَوْشَهِيْدٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَ التِّرْمِذِيُّ ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ ۔ وَ فِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ، وَسَعِيْدِ بْنِ زَيْدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالکٍ، وَبُرَيْدَةَ ۔

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرا پہاڑ پر تشریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنھم تھے اتنے میں پہاڑ لرزاں ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ٹھہر جا، کیونکہ تیرے اوپر نبی، صدیق اور شہید کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ اِس حدیث کو امام مسلم اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس باب میں اسی مضمون کی احادیث عثمان، سعید بن زید، ابن عباس، سہل بن سعد، انس بن مالک اور بریدہ اسلمیٰ سے مذکور ہیں ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل طلحة والزبير رضي الله عنه، 4 / 1880، الحديث رقم : 2417)(والترمذي فيالجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في مناقب عثمان بن عفان، 5 / 624، الحديث رقم : 3696،چشتی)(و ابن حبان في الصحيح، 15 / 441، الحديث رقم : 6983)(و النسائي في السنن الکبريٰ، 5 / 59، الحديث رقم : 8207)


عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : ذَکَرَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فِتْنَةً فَقَالَ : يُقْتَلُ هَذَا فِيْهَا مَظْلُومًا لِعُثْمَانَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.وَ قَالَ هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ ۔

ترجمہ : حضرت عبدﷲ ابن عمر رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنہ کا ذکر کیا اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا کہ اس میں یہ مظلوماً شہید ہو گا۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا : یہ حدیث حسن ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في مناقب عثمان، 5 / 630، الحديث رقم : 3708)


عَنْ أَبِيْ سَهْلَةَ قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ يَوْمَ الدَّارِ : إِنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ ابْنُ مَاجَةَ.وَ قاَلَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ۔

ترجمہ : حضرت ابو سہلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھ سے محاصرہ کے دن فرمایا: کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک وصیت فرمائی تھی اور میں اسی پر صابر ہوں۔ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اورامام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في مناقب عثمان، 5 / 631، الحديث رقم : 3711)(و ابن ماجه في السنن، 1 / 42، الحديث رقم : 113،چشتی)(و ابن حبان في الصحيح، 15 / 356، الحديث رقم : 6918)(و ابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 515، الحديث رقم : 37657)


عَنْ مُسْلِمٍ أَبِيْ سَعِيْدٍ مَوْلٰي عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : أَنَّ عُثْمَانَ أَعْتَقَ عِشْرِيْنَ مَمْلُوْکاً، وَدَعَا بِسَرَاوِيْلَ فَشَدَّهَا عَلَيْهِ، وَلَمْ يَلْبَسْهَا فِي جَاهِلِيَةٍ وَلاَ إِسْلاَمٍ، وَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم الْبَارِحَةَ فِي الْمَنَامِ وَرَأَيْتُ أَبَا بَکْرٍ وَ عُمَرَ، وَأَنَّهُمْ قَالَوْا لِي : اصْبِرْ، فَإِنَّکَ تُفْطِرُ عِنْدَنَا الْقَابِلَةَ فَدَعَا بِمُصْحَفٍ فَنَشَرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقُتِلَ وَهُوَ بَيْنَ يَدِيْهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ ۔

ترجمہ : حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خادم حضرت مسلم (ابو سعید) سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بیس غلاموں کو آزاد کیا اور ایک پاجامہ منگوایا اور اسے زیب تن کر لیا، اسے آپ نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں کبھی پہنا تھا اور نہ ہی زمانۂ اسلام میں، پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے گذشتہ رات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ابو بکر و عمر رضی ﷲ عنہما بھی ہیں، ان سب نے مجھے کہا ہے (اے عثمان) صبر کرو پس بے شک تم کل افطاری ہمارے پاس کرو گے پھرآپ رضی اللہ عنہ نے مصحف منگوایا اور اس کو اپنے سامنے کھول کر تلاوت فرمانے لگے اوراسی اثنا میں آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا اور وہ مصحف آپ کے سامنے ہی تھا۔ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 72، الحديث رقم : 526)(و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 96)(و المناوي في فيض القدير، 1 / 110)


عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَرْسَلَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إلَي عُثْمَانَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَکَانَ آخِرُ کَلَامٍ کَلَّمَهُ أَنْ ضَرَبَ مَنْکِبَهُ وَ قَالَ : يَا عُثْمَانُ إِنَّ ﷲَ عَسَي أَنْ يُلْبِسَکَ قَمِيْصًا فَإِنَ أَرَادَکَ الْمُنَافِقُوْنَ عَلَي خَلْعِهِ فَ. لَا تَخْلَعْهُ حَتَّي تَلْقَانِيْ فَذَکَرَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ ۔

ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنھا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی طرف بلا بھیجا جب وہ آئے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف بڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ جو آخری کلام فرمایا : وہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے کندھے پر (ہاتھ) مارا اور فرمایا : اے عثمان بے شک ﷲ تعالیٰ تمہیں (خلافت کی) قمیص پہنائے گا اگر منافقین اس کو اتارنے کا ارادہ کریں تو اس کو ہرگز نہ اتارنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو پس آپ نے تین مرتبہ ایسا فرمایا اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 86، الحديث رقم : 24610)(والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 90)(و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 500، الحديث رقم : 816)


عَنِ بْنِ حَوَالَةَ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ هُوَ جَالِسٌ فِي ظِلّ دَوْمَةَ وَ عِنْدَهُ کَاتِبٌ لَهُ يُمْلِيْ عَلَيْهِ فَقَالَ : أَلَا أَکْتُبُکَ يَا بْنَ حَوَالَةَ قُلْتُ : لَا أَدْرِي مَا خَارَ ﷲُ لِي وَ رَسُوْلُهُ فًأَعْرَضَ عَنِّي وَ قَالَ إِسْمَاعِيْلُ مَرَّةً فِي الأُوْلٰي نَکْتُبُکَ يَا بْنَ حَوَالَةَ قُلْتُ : لَا أَدْرِيْ فِيْمَ يَارَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَأَعْرَضَ عَنِّيْ فَأَکَبَّ عَلَي کَاتِبِهِ يُمْلِيْ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : أَنَکْتُبُکَ يَا بْنَ حَوَالَةَ قُلْتُ : لَا أَدْرِي مَا خَارَ ﷲُ وَ رَسُوْلُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّيْ فَأَکَبَّ عَلَي کَاتِبِهِ يُمْلِيْ عَلَيْهِ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِي الْکِتَابِ عُمَرُ فَقُلْتُ : إِنَّ عُمَرَ لَا يُکْتَبُ إِلَّا فِي خَيْرٍ ثُمَّ قَالَ : أَنَکْتُبُکَ يَا بْنَ حَوَالَةَ قُلْتُ : نَعَمْ فَقَالَ : يَا بْنَ حَوَالَةَ کَيْفَ تَفْعَلُ فِي فِتْنَةٍ تَخْرُجُ فِي أَطْرَافِ الأَرْضِ کَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ قُلْتُ لَا أَدْرِي مَا خَارَ ﷲُ لِي وََرسُوْلُهُ قَالَ : وَ کَيْفَ تَفْعَلُ فِي أُخْرٰي تَخْرُجُ بَعْدَهَا کَأَنَّ الأُوْلٰي فِيْهَا انْتَفَاحَةُ أَرْنَبٍ قُلْتُ : لَا أَدْرِي مَا خَارَ ﷲُ لِيْ وَ رَسُوْلُهُ قَالَ : اتَّبِعُوْا هَذَا قَالَ : وَ رَجُلٌ مُقَفٍّ حِيْنَئِذٍ قَالَ : فَانَطَلَقْتُ فَسَعَيْتُ وَ أَخَذْتُ بِمَنْکِبَيْهِ فَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَي رَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَقُلْتُ : هَذَا قَالَ نَعَمْ وَ إِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ص. رَوَاهُ أَحْمَدُ ۔

ترجمہ : حضرت ابن حوالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دومہ درخت کے سائے تلے بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کاتب بھی بیٹھا ہوا تھا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم املاء کروا رہے تھے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ کیا میں تمہیں لکھ نہ دوں؟ میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ ! معلوم نہیں کہ ﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لئے کیا اختیار کر رکھا ہے؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف سے چہرہ اقدس پھیر لیا اور اسماعیل کہتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی مرتبہ فرمایا اے ابن حوالہ کیا ہم تمہیں لکھ نہ دیں؟ راوی بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ ! مجھے نہیں معلوم کس معاملے میں؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے چہرہ اقدس پھیر لیا اور اپنے کاتب کو املاء کروانے میں مشغول ہوگئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ ہم تمہیں لکھ نہ دیں تو میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! میں نہیں جانتا کہ ﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لئے کیا اختیار کر رکھا ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے چہرہ اقدس پھیر لیا اور اپنے کاتب کو املا لکھوانے میں مشغول ہوگئے پھر میں نے اچانک دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نام لکھا ہوا ہے اس پر میں نے کہا عمر کا نام ہمیشہ بھلائی میں لکھا ہوگا پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ ہم تمہیں لکھ نہ دیں تو میں نے عرض کیا ہاں یا رسول ﷲ! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ تو اس فتنہ میں کیا کرے گا جو زمین کے چاروں اطراف سے نکلے گا گویا وہ گائے کے سینگ ہیں ۔ میں نے عرض کیا میں نہیں جانتا کہ ﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لئے کیا اختیار کر رکھا ہے۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اس دوسرے فتنے میں کیا کرو گے جو پہلے فتنے کے بعد ہوگا گویا پہلا فتنہ خرگوش کے نتھنے کے برابر ہوگا میں نے عرض کیا کہ میں نہیں جانتا کہ میرے لئے ﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا اختیار کر رکھا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اشارہ کر کے) فرمایا : اس شخص کی پیروی کرنا اور وہ شخص اس وقت پیٹھ پھیر کر جا چکا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں میں چلا اور تیزی سے دوڑا اور اس شخص کو کندھے سے پکڑ لیا اور اس کا چہرہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف موڑا اور میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا یہی وہ شخص ہے (جس کی پیروی کرنے کا آپ نے حکم فرمایا ہے) ؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں، جب میں نے دیکھا تو وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے ۔ اس حدیث کو احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 109)(و الهيثمي في مجمع الزوائد، 7 / 225،چشتی)(و المقدسي في الأحاديث المختارة، 9 / 284)


عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : ذَکَرَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا وَ عَظَّمَهَا قَالَ : ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ فِيْ مِلْحَفَةٍ فَقَالَ : هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَي الْحَقِّ فَانْطَلَقْتُ مُسْرِعًا اَوْ قَالَ مُحْضِرًا فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْهِ فَقُلْتُ : هَذَا يَا رَسُوْلَ ﷲِ، قَالَ : هَذَا فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ ۔

ترجمہ : حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنہ کا ذکر فرمایا اور اس کے قریب اور شدید ہونے کا بیان کیا۔ راوی کہتے ہیں پھر وہاں سے ایک آدمی گزرا جس نے چادر میں اپنے سر اور چہرے کو ڈھانپا ہوا تھا (اس کو دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس دن یہ شخص حق پر ہوگا پس میں تیزی سے (اس کی طرف) گیا اور میں نے اس کو اس کی کلائی کے درمیان سے پکڑ لیا پس میں نے عرض کیا یہ ہے وہ شخص یا رسول ﷲ ! (جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ زمانۂ فتنہ میں یہ حق پر ہو گا) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں. پس وہ عثمان بن عفان تھے ۔ اس حدیث کو احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 242)(و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابه، 1 / 450، الحديث رقم : 721)


عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ : کُنَّا نَحْنُ مُعَسْکِرِيْنَ مَعَ مُعَاوِيَةَ، بَعْدَ قَتْلِ عُثْمَانَ، فَقَامَ کَعْبُ بْنُ مُرَّةَ الْبَهْزِيُّ فَقَالَ : لَوْلَا شَيْئٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم مَا قُمْتُ هَذَا الْمَقَامَ. فَلَمَّا سَمِعَ بِذِکْرِ رَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم أَجْلَسَ النَّاسَ. فَقَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إِذْ مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ مُرَجِّلًا. قَالَ : فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : ’’لَتخْرُجَنَّ فِتْنَةٌ مِنْ تَحْتِ قَدَمَيَّ، أَوْ مِنْ بَيْنَ رِجْلَيَّ هَذَا، هَذَا يَوْمَئِذٍ وَمَنِ اتَّبَعَهُ عَلَي الْهُدٰي. فَقَامَ بْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ مِنْ عِنْدِ الْمِنْبَرِ فَقَالَ : إِنَّکَ لَصَاحِبُ هَذَا؟ فَقَالَ نَعَمْ!، قَالَ : وَﷲِ إِنِّي لَحَاضِرٌ ذَلِکَ الْمَجْلِسَ، وَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي فِي الْجَيْشِ مُصَدِّقًا لَکُنْتُ أَوَّلَ مَنْ تَکَلَّمَ بِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَ الْطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ ۔

ترجمہ : حضرت جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد امیر معاویہ کے لشکر میں تھے پس کعب بن مرہ بہزی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فلاں چیز نہ سنی ہوتی تو آج میں اس مقام پر کھڑا نہ ہوتا پس جب انہوں (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ) نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر سنا تو لوگوں کو بٹھا دیا اور کہا : ایک دن ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ وہاں سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پیدل گزرے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ضرور بالضرور اس جگہ سے جہاں میں کھڑا ہوں ایک فتنہ نکلے گا، یہ شخص اس دن (مسند خلافت پر) ہو گا جو اس کی اتباع کرے گا وہ ہدایت پر ہوگا پس عبدﷲ بن حوالہ ازدی منبر کے پاس سے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تو اس آدمی کا دوست ہے؟ انہوں نے کہا ہاں! ابن حوالہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم جس مجلس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا میں اس مجلس میں موجود تھا اور اگر میں جانتا ہوتا کہ اس لشکر میں میری تصدیق کرنے والا کوئی موجود ہے تو سب سے پہلے یہ بات میں ہی کر دیتا۔ اس حدیث کو امام احمد نے مسند میں اور امام طبرانی نے ’’المعجم الکبير‘‘ میں بیان کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 236)(و الطبراني في المعجم الکبير، 20 / 316، الحديث رقم : 753،چشتی)(و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 89)(و الشيباني في الأحاد و المثاني، 3 / 66، الحديث رقم : 1381)


عَنِ بْنِ عُمَرَ رضي ﷲ عنهما أَنَّ عُثْمَانَ أَصْبَحَ فَحَدَّثَ فَقَالَ : إِنِّيْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم فِي الْمَنَامِ اللَّيْلَةَ فَقَالَ : يَا عُثْمَانُ! أَفْطِرْ عِنْدَنَا فَأَصْبَحَ عُثْمَانُ صَائِمًا فَقُتِلَ مِنْ يَوْمَهِ ص. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَ قَالَ هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ ۔

ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ صبح کے وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے (ہمیں) فرمایا : بے شک میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گذشتہ رات خواب میں دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے : اے عثمان! آج ہمارے پاس روزہ افطار کرو۔ پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے روزہ کی حالت میں صبح کی اور اسی روز آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ۔ اس حدیث کو حاکم نے روایت کیا ہے اور انہوں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 110، الحديث رقم : 4554)


عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ رضي ﷲ عنهما قَالَ : کُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم إِذْ أَقْبَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ قَالَ : يَا عُثْمَانُ! تُقْتَلُ وَ أَنْتَ تَقْرَأُ سُوْرَةَ الْبَقْرَةِ فَتَقَعُ مِنْ دَمِکَ عَلَي (فَسَيَکْفِيْکَهُمُ ﷲُ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ) وَ تُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمِيْرًا عَلَي کُلِّ مَخْذُوْلٍ يَغْبِطُکَ أَهْلُ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرَبِ وَ تَشْفَعُ فِي عَدَدِ رَبِيْعَةَ وَ مُضَرٍ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ ۔

ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے۔ جب وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عثمان! تمہیں شہید کیا جائے گا درانحالیکہ تو سورۂ بقرہ کی تلاوت کر رہے ہو گے اور تمہارا خون اس آیت (فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيم) پر گرے گا اور قیامت کے روز تم ہر ستائے ہوئے پر حاکم بنا کر اٹھائے جاؤ گے اور تمہارے اس مقام و مرتبہ پر مشرق و مغرب والے رشک کریں گے اور تم ربیعہ اور مضر کے لوگوں کے برابر لوگوں کی شفاعت کرو گے ۔ اس حدیث کو حاکم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 110، الحديث رقم : 4555)


عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَادٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا يَوْمَ الْجَمَلِ يَقُوْلُ : أَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَبْرَأُ إِلَيْکَ مِنْ دَمِ عُثْمَانَ، وَ لَقَدْ طَاشَ عَقْلِي يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ، وَأَنْکَرْتُ نَفْسِي وَجَاؤُوْنِيْ لِلْبَيْعَةِ فَقُلْتُ : وَﷲِ إِنِّي لَأَسْتَحِي مِنَ ﷲِ أَنْ أُبَايِعَ قَوْمًا قَتَلُوْا رَجُلًا قَالَ لَهُ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَلاَ أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلاَئِکَةُ، وَ إِنِّيْ لَأَسْتَحْيِي مِنَ ﷲِ أَنْ أُبَايِعَ وَعُثْمَانُ قَتِيْلٌ عَلَي الْأَرْضِ لَمْ يُدْفَنْ بَعْدُ. فَانْصَرَفُوْا، فَلَمَّا دُفِنَ رَجَعَ النَّاسُ فَسَأَلُوْنِي الْبَيْعَةَ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ إِنِّي مُشْفِقٌ مِمَّا أَقْدِمُ عَلَيْهِ. ثُمَّ جَاءَ تْ عَزِيْمَةٌ فَبَايَعْتُ، فَلَقَدْ قَالُوْا : يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! فَکَأَنَّمَا صُدِعَ قَلْبِيْ رِجَاءَ وَ قُلْتُ اللَّهُمَّ خُذْ مِنِّيْ لِعُثْمَانَ حَتَّي تَرْضٰي. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.وَ قَالَ هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَي شَرْطِ الْشَّيْخَيْنِ ۔

ترجمہ : حضرت قیس بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جنگ جمل کے دن یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے ﷲ میں تیری بارگاہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل سے براءت کا اظہار کرتا ہوں اور تحقیق میری عقل اس دن طیش میں تھی جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا۔ میں نے خود بیعت لینے سے انکار کر دیا جب وہ لوگ میرے پاس بیعت کے لئے آئے، پس میں نے کہا خدا کی قسم مجھے ﷲ سے حیاء آتا ہے کہ میں ان لوگوں سے بیعت لوں جنہوں نے اس شخص کو قتل کیا ہے جس کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خبردار میں اس شخص سے حیاء کرتا ہوں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں سو میں بھی اللہ تعالیٰ سے حیاء کرتا ہوں کہ میں اس حال میں بیعت لوں کہ عثمان زمین پر مقتول پڑے ہوئے ہوں اور ابھی تک انہیں دفن بھی نہ کیا گیا ہو پس لوگ چلے گئے، پس جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دفن کر دیا گیا تو لوگ پھر مجھ سے بیعت کا سوال کرنے لگے پس میں نے کہا اے ﷲ جس چیز کا اقدام میں کرنے جارہا ہوں میں اس سے ڈرنے والا ہوں پھر عزیمت کے تحت مجھے ایسا کرنا پڑا، سو جب انہوں نے مجھے کہا اے امیر المومنین تو گویا میرا کلیجہ پھٹ گیا۔ میں نے کہا اے ﷲ تو مجھ سے عثمان کا بدلہ لینے کی ذمہ داری قبول فرما اور اس کی توفیق دے یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے۔ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک علي الصحيحين، 3 / 101، الحديث رقم : 4527، و أيضا في، 3 / 111، الحديث رقم : 4556)


عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عُمَرَ في رِوَايَةٍ طَوِيْلَةٍ وَ مِنْهَا عَنْهُ قَالَ : لَمَّا طُعِنً عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَ أَمَرَ بِالشُّوْرٰي دَخَلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ ابْنَتُهُ فَقَالَتْ : يَا أَبَةِ إِنَّ النَّاسَ يَقُوْلُوْنَ : إِنَّ هَؤُلاَءِ الْقَوْمَ الَّذِيْنَ جَعَلْتَهُمْ فِي الشُّوْرٰي لَيْسَ هُمْ بِرَضً فَقَالَ : أَسْنِدُوْنِي فَأَسْنَدُوْهُ وَ هُوَ لِمَا بِهِ فَقَالَ مَا عَسَي أَنْ يَقُوْلُوْا فِيْ عُثْمَانَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : يَوْمَ يَمُوْتُ عُثْمَانُ تُصَلِّي عَلِيْهِ مَلاَئِکَةُ السَّمَاءِ قُلْتُ : لِعُثْمَانَ خَاصَةً أَمْ لِلْنَّاسِ عَامَةً قَالَ بَلْ لِعُثْمَانَ خَاصَةً . رَوَاهُ الْطَّبْرَانِيُّ فِيْ الْمُعجَمِ الْأَوْسَطِ ۔

ترجمہ : حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما ایک طویل حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے شوریٰ کا حکم دیا تو آپ رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت حفصہ آپ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی آئیں اور کہا بے شک لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جن لوگوں کو آپ نے شوریٰ کے لیے منتخب کیا ہے یہ اس کے اہل نہیں ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے سہارا دو پس آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو سہارا دیا اور اس وقت آپ سخت تکلیف کی حالت میں تھے پس آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ممکن ہے یہ لوگ عثمان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کریں حالانکہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس دن عثمان کی شہادت واقع ہو گی آسمان کے فرشتے اس پر درود بھیجیں گے ۔ میں نے عرض کیا فقط یہ عثمان کے لیے ہے یا سب لوگوں کے لیے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ چیز صرف عثمان کے لیے خاص ہے۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے ۔ المعجم الاوسط ‘‘ میں روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الاوسط، 3 / 287، الحديث رقم : 3172،چشتی)(و عسقلاني في لسان الميزان، 5 / 226، الحديث رقم : 798)


عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ : قَالَ صلي الله عليه وآله وسلم يَوْمَ يَمُوْتُ عُثْمَانُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَلَائِکَةُ السَّمَاءِ. رَوَاهُ الْدَّيْلِمِيُّ ۔

ترجمہ : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ جس دن عثمان کی شہادت واقع ہو گی اس دن آسمان کے فرشتے اس پر درود بھیجیں گے ۔ اس حدیث کو دیلمی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 5 / 533، الحديث رقم : 8999)


جس وقت شورش پسندوں اور باغیوں نے حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھا، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آکر عرض کیا : امیر المؤمنین! انصار دروازے پر کھڑے اجازت کے منتظر ہیں‘‘۔ آپ نے فرمایا : اگر وہ جنگ کی اجازت چاہتے ہیں تو انھیں بالکل اجازت نہیں ہے ۔ (طبقات ابن سعد)


اسی دوران حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جنگ کی اجازت مانگی تو فرمایا : ’’کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ مجھ سمیت تمام دنیا کو قتل کردو؟‘‘۔ عرض کیا : ’’نہیں‘‘۔ امیر المؤمنین کے اس فرمان میں اس آیت کی طرف اشارہ تھا کہ ’’جس شخص نے بغیر قصاص کے یا فساد کے لئے کسی شخص کو قتل کیا، گویا اس نے تمام دنیا کے انسانوں کو قتل کردیا‘‘ ۔ (سورۃ المائدہ۔۳۲) اس آیت سے استدلال اس وجہ سے تھا کہ باغیوں نے ابھی تک نہ کسی شخص کو قتل کیا تھا اور نہ زمین میں کسی قسم کا فساد کیا تھا، صرف حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھا ۔ (طبقات ابن سعد)


حضرت مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مستقبل میں پیش آنے والے فتنوں کے متعلق بیان کر رہے تھے، اتنے میں ایک شخص کا گزر ہوا، جو کپڑا اوڑھے جا رہا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’فتنوں کے وقت یہ شخص ہدایت پر ہوگا‘‘۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو ’’وہ حضرت عثمان تھے‘‘ ۔ (طبقات ابن سعد)


حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتنوں کا بیان کرتے ہوئے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہ شخص ان فتنوں میں مظلوم شہید کیا جائے گا‘‘۔ (مشکوۃ صفحہ نمبر ۸۶۲)


حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق یہ یقین تھا کہ ان کی شہادت مقدر ہوچکی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ان فتنوں سے مطلع کیا تھا اور صبر و استقامت کی تاکید فرمائی تھی ۔ (ترمذی، صفحہ۵۳۳)


ان حالات میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ لمحہ بہ لمحہ اس وقت کے منتظر تھے، جو ان کے لئے مقدر ہوچکا تھا ۔


۱۷؍ ذی الحجہ سنہ ۳۵ھ بروز جمعہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما تشریف فرما ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں : ’’عثمان جلدی کرو، ہم تمہارے افطار کے منتظر ہیں‘‘۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عثمان! آج جمعہ میرے ساتھ پڑھنا‘‘۔ (طبقات ابن سعد)


اٹھارہ (18) ذوالحج بروز جمعہ تقریباً نماز عصر کے وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ۔ آپ نے کل 82 سال کی عمر پائی ۔


ریاض النضرہ میں حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے اور آپ کی زبان پر اللہ کے حضور یہ دعا جاری تھی ۔ اللھم اجمع امۃ محمد ۔ اے اللہ امت محمدیہ کو باہمی اتفاق نصیب فرما ۔ (رياض النضرة جلدنمبر 3 صفحہ نمبر 73)


شہادت کے بعد حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلَّی اللہُ علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کو خواب میں فرماتے ہوئے سنا : بیشک! عثمان (رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ)کو جنّت میں عالیشان دولہا بنایا گیا ہے ۔ (الریاض النضرۃ ،ج2،ص67)


حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور اپنی اہلیہ محترمہ سے فرمایا : ’’اب وقت قریب آپہنچا ہے‘‘۔ پھر آپ نے لباس تبدیل کیا اور تلاوتِ قرآن پاک میں مشغول ہو گئے۔ اس کے تھوڑی ہی دیر بعد باغیوں نے حملہ کردیا، جس کی مزاحمت کرتے ہوئے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ زخمی ہو گئے۔ باغیوں نے حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر کئی وار کئے، لیکن اسی دوران ایک ازلی شقی نے تلوار کا ایسا وار کیا کہ حضرت ذوالنورین کی شمع حیات بجھ گئی ۔ (اسد الغابہ)


اس جانکاہ حادثہ میں آپ کی اہلیہ محترمہ کی اُنگلیاں بھی کٹ گئی تھیں اور تین دن تک آپ کا جسد مبارک تدفین سے محروم رہا۔ قتل کرنے کے بعد ظالموں نے آپ کا گھر بھی لوٹ لیا۔ تاریخ عالم میں کہیں ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی حکمراں کے خلاف کچھ لوگ باغی ہو جائیں اور اس حکمراں کو اپنی ذات اور اپنی حکومت کے تحفظ کے متعدد وسائل حاصل ہوں، نہ صرف یہ بلکہ جاں نثار رفقاء، ارکانِ دولت اور تمام افواج سب اس کے حامی ہوں، باغیوں کا قلع قمع کرنے کے لئے بے تاب ہوں اور بار بار اس حکمراں سے باغیوں کی سرکوبی کا مطالبہ کر رہے ہوں، لیکن وہ حکمراں محض اس سبب سے ان لوگوں کو باغیوں سے جنگ کی اجازت نہیں دیتا کہ ’’کہیں ایک جان کی بقاء کے لئے سیکڑوں جانیں تلف نہ ہو جائیں‘‘۔ آخری وقت تک آپ کے رفقاء باغیوں سے مقابلہ اور ان کا محاصرہ توڑنے کی اجازت طلب کرتے رہے ، لیکن آپ کا صرف ایک ہی جواب تھا کہ ’’میں اپنی ذات یا اپنی خلافت کی خاطر مسلمانوں کی تلواریں باہم ٹکراتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

تیرے سوا کون ہے صدیق اکبر و فاروق اعظم ؟

تیرے سوا کون ہے صدیق اکبر و فاروق اعظم ؟ ۔ جواباً عرض ہے حضرت سیدنا پیر مہر علی شاہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر کو صدیق اکبر اور حضرت...