حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 12 ذی الحجہ ہے یا 18 ذی الحجہ
محترم قارئینِ کرام : اٹھارہ (18) ذوالحج کو شیعہ لوگ عید غدیر مناتے ہیں کہتے ہیں کہ اس روز حجۃ الوداع سے واپسی پر غدیر خم مقام پے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : میں جس کا مولا علی اس کا مولی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے شیعہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس فرمان کے ذریعے اپنا خلیفہ بلافصل بنایا ۔ اٹھارہ 18 ذی الحج جو کہ خلیفہ راشد دُہرے دامادِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا یومِ شہادت ہے عین اُس دن رافضی شیعہ اور اب اُن کے نقشِ قدم پر چلنے والے سنیوں کے لبادے میں چھپے نیم رافضی جشنِ غدیر منا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ؟
حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 35 ہجری 18 ذی الحجہ بروز جمعہ کو ہوئی ۔ صحیح ترین کتابی و عقلی دلاٸل سے ان کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ ہی ثابت ہے ۔ سب سے پہلے میں کچھ چیزیں بیان کر دیتا ہوں جن پر سب کا اتفاق ہے ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ 35 ہجری کو شہید ہوئے ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن شہید ہوئے ۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہادت کے وقت روزے سے تھے ۔ لوگوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنا 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع کر دیا ۔ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت تمام لوگوں نے 25 ذی الحجہ بروز جمعہ تک مکمل کر لی تھی ۔ ان تمام چیزوں کو ذہن نشین کر لیں کیونکہ اس سے پوسٹ کو سمجھنے میں آسانی ہو گی ۔ کچھ لوگ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 12 ذی الحجہ بروز جمعہ بتاتے ہیں ۔ ان کی دلیل ابو عثمان النہدی علیہ الرحمہ کا قول ہے کہ ایام تشریق (11 ، 12 ، 13 ذی الحجہ) کے درمیان میں (یعنی 12 کو) شہید ہوئے ۔ یہ قول مردود ہے ۔ ابو عثمان نہدی علیہ الرحمہ کا صحیح و صریح قول 18 ذی الحجہ کا ہی ہے ۔ جو کہ ہم آگے بیان کریں گے ۔
اب ہم مفصل دلائل سے حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ ثابت کریں گے ۔
حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا شہادت کے وقت روزے سے ہونا : ⏬
حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا شہادت کے وقت روزے سے ہونا ہی ایامِ تشریق میں شہادت نا ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سال میں پانچ دنوں کے بارے میں فرمایا یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔ عید الفطر کا دن ، عید الاضحٰی کا دن ، اور ایام تشریق کے تین دن (11 ، 12 ، 13) ۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 2677،چشتی)
اور اعلیٰ حضرت علیہ الحمہ سے بھی پوچھا گیا کہ ان پانچ دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیوں کیا گیا ؟
تو آپ نے فرمایا : یہ دن اللہ کی طرف سے بندوں کی دعوت کے دن ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 10 صفحہ 355)
اب ہم آتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہادت کے دن روزے سے تھے : ⏬
طبری نے اپنی صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اس دن انہوں نے خواب دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو فرما رہے ہیں کہ آج آپ افطار ہمارے ساتھ کریں گے ۔ (تاریخ طبری صحیح باب ذکر الخیر عن قتل عثمان رضی اللہ عنہ صفحہ 343)
اس کے علاوہ بھی کئی دلائل ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہادت کے وقت روزے سے تھے ۔
اب ہم آتے ہیں کہ شہادت حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کب شروع ہوئی اور کب ختم ہوئی ۔
حافظ ابنِ کثیر اور طبری نے نقل کیا ہے کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع ہوئی ۔ (تاریخ ابنِ کثیر جلد 7 صفحہ 299)
اب یہاں پر یہ چیز ذہن نشین کر لیں کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت لوگوں نے 19 ذی الحجہ کو شروع کی اور وہ ہفتے کا دن تھا ۔
اب ہم آتے ہیں کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کس دن مکمل ہوئی ۔
امام طبری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت جمعہ کے دن کی گئی اس وقت ماہِ ذی الحجہ ختم ہونے میں پانچ روز باقی تھے ۔ (یعنی 25 تاریخ کو کی گئی) ۔ (تاریخ طبری جلد 3 حصہ دوم صفحہ 28،چشتی)
اور ابنِ کثیر نے بھی نقل کیا ہے کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ مکمل ہوئی ۔ (تاریخ ابنِ کثیر جلد 7 صفحہ 300)
اس سے ثابت ہوا کہ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ مکمل ہوئی ۔
اب ہم آتے ہیں حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کس تاریخ کو ہوئی ۔
امام ابنِ خلدون رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہوئی ۔ (تاریخ ابنِ خلدون جلد 2 صفحہ 364)
اور حافظ ابنِ کثیر نے بھی یہی لکھا ہے کہ مشہور قول کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ 18 ذی الحجہ بروز جمعہ کو شہید ہوئے اور آپ کی تدفین سے پہلے لوگوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع کر دی تھی ۔ (تاریخ ابنِ کثیر: جلد 7 صفحہ 299)
یہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تدفین سے پہلے ہی حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع ہو گئی تھی اور صحیح ترین اقوال سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو تین دن تک دفن نہیں کیا گیا تھا ۔ اور حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 19 تاریخ کو شروع ہوئی ۔ تو واضح معلوم ہو رہا ہے کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 18 تاریخ ہی ہے ۔
امام طبری صحیح سند کے ساتھ قول نقل کیا ہے کہ ابو عثمان النہدی اور دوسرے راویوں علیہم الرحمہ کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو 18 ذی الحجہ بروز جمعہ شہید کیا گیا ۔ (تاریخ طبری الجزالرابع باب 35 ہجری کے واقعات صفحہ ۴۱۷ ، ۴۱۸ )(تاریخ طبری مترجم اردو جلد 3 حصہ اول صفحہ 476،چشتی)
نوٹ : جیسا کہ آپ کو معلوم ہے طبری کے اردو ترجمے میں اسناد بیان نہیں کی گئیں اس لیے اردو ترجمے میں یہ لکھا گیا ہے کہ سیف کی مشہور سلسلہ روایت کے مطابق حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ ہے ۔ تو جب آپ عربی نسخہ دیکھیں گے تب آپ کو معلوم ہو گا کہ یہاں ابو عثمان نہدی علیہ الرحمہ کا قول نقل کیا گیا ہے ۔
صحیح ترین اقوال سے ثابت ہوا کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 18 ذی الحجہ ہے اور ابو عثمان نہدی علیہ الرحمہ کا بھی یہی قول ہے جو کہ حادثے کے معاصر ہیں ۔
تو اب ہم زرا عقلی دلائل کی طرف آتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ہی ہے ۔
1 : اب آپ کو وہ تمام چیزیں دوبارہ ذہن میں لانی ہوں گیں جن کے بارے میں نے کہا تھا کہ ان کو یاد کر لیں ۔
2 : حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن شہید ہوئے ۔
4: لوگوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنا 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع کر دیا ۔
5 : حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت تمام لوگوں نے 25 ذی الحجہ بروز جمعہ تک مکمل کر لی تھی ۔
اب ہم تاریخ اور دن کے حساب سے یہ فیصلہ کریں گے کہ صحیح قول کون سا ہے ۔
اب وقتی طور پر ہم یہ مان لیتے ہیں کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت 12 ذی الحجہ بروز جمعہ کو ہوئی اور اس دن سے لے کر 25 ذی الحجہ تک چلتے ہیں کہ کیا روایات کے مطابق اس لحاظ سے 25 تاریخ کو جمعہ کا دن بنتا ہے یا نہیں ؟
12 : جمعہ
13 : ہفتہ
14 : اتوار
15 : سوموار
16 : منگل
17 : بدھ
18 : جمعرات
19 : جمعہ (یہاں ہی تاریخ غلط ہو گئی ہے کیونکہ روایات کے مطابق 19 کو حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت شروع ہوئی اور تب ہفتے کا دن تھا ۔ خیر ہم آگے چلتے ہیں ۔
20 : ہفتہ
21 : اتوار
22 : سوموار
23 : منگل
24 : بدھ
25 : جمعرات (یہاں پھر سے غلطی آگئی ہے کیونکہ روایات کے مطابق حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ کو مکمل ہو گئی اور اس حساب سے یہاں جمعرات بنتا ہے جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ 12 ذی الحجہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن نہیں ۔
اب ہم راجح قول کے مطابق حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ مانتے ہیں اور یہی حساب دوبارہ کرتے ہیں ۔
18 : جمعہ
19 : ہفتہ (یہ حساب یہاں ہی درست ثابت ہو گیا کیونکہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بیعت 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ شروع ہوئی ، آگے چلتے ہیں ۔
20 : اتوار
21 : سوموار
22 : منگل
23 : بدھ
24 : جمعرات (یہاں بھی درست ہو گیا کیونکہ 24 ذی الحجہ بروز جمعرات کو کوفیوں میں سب سے پہلے اشتر نخعی نے آپ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی)
25 : جمعہ (بیعت مکمل ہونے کا دن جمعہ)
تو تمام روایات کے مطابق 18 ذی الحجہ ہی حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن ہے کیونکہ باقی تمام روایات و شواہد پر یہی تاریخ پوری اترتی ہے ۔
اہلِ تشیع ویب سائیٹ ویکی شیعہ پر بھی حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہی لکھی ہوئی ہے ۔ (ویکی شیعہ ، حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا بیان : باب معاصرہ اور قتل)
ہم نے الحمد للہ کتابی و عقلی دلائل سے یہ ثابت کیا کہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت 35 ہجری 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہے ۔ اور تمام عقلی دلائل سے بھی یہی تاریخ ثابت ہے ۔ اور اس کے علاوہ کے اقوال کوئی حقیقت نہیں رکھتے ۔
شہیدِ مظلوم حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ : ⏬
محترم قارئینِ کرام : سلطنت کسریٰ کی دورِ فاروقی میں دھجیاں اڑ گئیں‘ اس کا تو وجود ہی باقی نہیں رہا لہٰذا جہاں تک انتقامی جذبات کا معاملہ ہے تو وہ سب سے زیادہ شدید ایرانیوں کے اندر موجزن تھے ۔ اسی سے آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایرانیوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اتنا بغض کیوں ہے ؟ اسی کا مظہر ہے کہ ایران میں جیسے دوسرے اکابر اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے مقبروں کی شبیہیں اور تصویریں بطور تقدس چھپتی اور گھروں میں لگائی جاتی ہیں‘ اسی طرح اس بدبخت ابولولو فیروز مجوسی کی قبر کی شبیہیں اور تصویریں فروخت ہوتی ہیں جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی جلیل القدر شخصیت‘ خلیفہ ٔراشد اور امیر المؤمنین کا قاتل تھا‘ اور ستم بالائے ستم یہ کہ ان کے نیچے یہ عبارت لکھی ہوتی ہے : قبر مبارک حضرت ابولولوفیروز ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَـیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔ اس ناہنجار مجوسی کی قبر کی تقدیس اور اس کے نام کی توقیر صرف اس لیے کہ اس نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حیاتِ مبارکہ کا چراغ بجھایا تھا‘ جو ایران کے حقیقی فاتح تھے ۔ اب آپ غورکیجیے کہ اسلام کے خلاف دو طرفہ سازشیں شروع ہوئیں ۔ ایک جانب یہودیوں کی طرف سے جو مذہبی سیادت کے لحاظ سے زخم خوردہ تھے اور دوسری جانب ان مجوسیوں کی طرف سے جو چاہے بظاہر مسلمان ہو گئے ہوں ‘لیکن جو سلطنت کسریٰ کے پرخچے اڑ جانے کی وجہ سے شکست خوردہ تھے اور آتش انتقام میں جل رہے تھے ۔ نتیجتاً مذہبی اعتبار سے انتقام کے سب سے زیادہ شدید جذبات یہودیوں میں تھے اورسیاسی اعتبار سے سب سے زیادہ انتقام کے جذبات ایرانیوں میں تھے. یہ دونوں ہی چاہتے تھے کہ اللہ کے دین کے چراغ کو اپنی ریشہ دوانیوں‘ سازشوں اور افواہوں سے بجھا دیں ۔
اس انتقام کی پہلی کڑی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت تھی‘ اور اس کے ذریعے خلافت اسلامی کو سبوتاژ کرنا مقصود تھا‘ لیکن اسلام کے دشمنوں کو اپنے اس مقصد میں کامیابی حاصل نہ ہوئی ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تخت خلافت پر متمکن ہونے کے بعد حالات پر پوری طرح قابو پا لیا‘ بلکہ داخلی امن وامان اور استحکام کے ساتھ تمام شورشیں اور بغاوتیں نہ صرف فرو کر ڈالیں بلکہ فتوحات کا دائرہ وسیع تر ہونے لگا تو اب یہودی سازشی ذہن اور آگے بڑھا اور اُس نے اپنی وہ خفیہ کارروائیاں تیز کر دیں جن کی داغ بیل عبداللہ بن سبا یہودی ، دورِ صدیقی رضی اللہ عنہ میں ڈال چکا تھا ۔ اس سازشی کام کےلیے اس کو ایران کی زمین سب سے زیادہ سازگار نظرآئی ۔ یہاں وہ عنصر بھی اچھی خاصی تعدا د میں موجود تھا جو بظاہر مسلمان لیکن ذہناً مجوسی اور شاہ پرست تھا اور انتقام کی آگ میں جل رہا تھا‘ اور وہ سیدھے سادے عوام بھی موجود تھے جن کی گھٹی میں شخصیت پرستی اور ہیرو ورشپ (Heroworship) پڑی ہوئی تھی اور جو ہر بڑے اور ہر مقدس شخص کے گھر والوں کو بھی بڑا اور مقدس سمجھنے کے صدیوں سے خوگر تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ عبداللہ بن سبا کی سازش پال کی سازش سے کم نہیں تھی ۔
شہادت حضرت عثمان غنی رضی عنہ کی خبر
عَنْ قَتَادَةَ : أَنَّ أَنَسًا رضي الله عنه حَدَّثَهُمْ قَالَ : صَعِدَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم أُحُدًا، وَ مَعَهُ أَبُوْبَکْرٍ وَ عُمَرُ وَ عُثْمَانُ، فَرَجَفَ، وَ قَالَ اسْکُنْ أُحُدُ، أَظُنُّهُ ضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ. فَلَيْسَ عَلَيْکَ أَحَدٌ إِلَّا نَبِيٌّ وَ صِدِّيْقٌ وَ شَهِيْدَانِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ ۔
ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوہِ اُحد پر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنھم تھے، تو اسے وجد آگیا (وہ خوشی سے جھومنے لگا) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اُحد! ٹھہر جا۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قدم مبارک سے ٹھوکر بھی لگائی اور فرمایا کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب مناقب عثمان بن عفان، 3 / 1353، الحديث رقم : 3496،چشتی)(والترمذي في الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في مناقب عثمان بن عفانص، 5 / 624، الحديث رقم : 3697)(و أبوداؤد في السنن، کتاب السنة، باب في الخلفاء، 4 / 212، الحديث رقم : 4651)(و النسائي في السنن الکبري، 5 / 43، الحديث رقم : 8135)
عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ أنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم کَانَ عَلٰي حِرَاءَ هُوَ وَ أَبُوْبَکْرِ وَ عُمَرُ وَ عُثْمَانُ وَ عَلِيٌّ وَ طَلْحَةُ وَ الزُّبَيْرُ فَتَحَرَّکَتِ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم إِهْدَأْ، فَمَا عَلَيْکَ إلاَّ نَبِيٌّ أَوْصِدِّيْقٌ أَوْشَهِيْدٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَ التِّرْمِذِيُّ ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ ۔ وَ فِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ، وَسَعِيْدِ بْنِ زَيْدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالکٍ، وَبُرَيْدَةَ ۔
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرا پہاڑ پر تشریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنھم تھے اتنے میں پہاڑ لرزاں ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ٹھہر جا، کیونکہ تیرے اوپر نبی، صدیق اور شہید کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ اِس حدیث کو امام مسلم اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس باب میں اسی مضمون کی احادیث عثمان، سعید بن زید، ابن عباس، سہل بن سعد، انس بن مالک اور بریدہ اسلمیٰ سے مذکور ہیں ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل طلحة والزبير رضي الله عنه، 4 / 1880، الحديث رقم : 2417)(والترمذي فيالجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في مناقب عثمان بن عفان، 5 / 624، الحديث رقم : 3696،چشتی)(و ابن حبان في الصحيح، 15 / 441، الحديث رقم : 6983)(و النسائي في السنن الکبريٰ، 5 / 59، الحديث رقم : 8207)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : ذَکَرَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فِتْنَةً فَقَالَ : يُقْتَلُ هَذَا فِيْهَا مَظْلُومًا لِعُثْمَانَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.وَ قَالَ هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ ۔
ترجمہ : حضرت عبدﷲ ابن عمر رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنہ کا ذکر کیا اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا کہ اس میں یہ مظلوماً شہید ہو گا۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا : یہ حدیث حسن ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في مناقب عثمان، 5 / 630، الحديث رقم : 3708)
عَنْ أَبِيْ سَهْلَةَ قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ يَوْمَ الدَّارِ : إِنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ ابْنُ مَاجَةَ.وَ قاَلَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ۔
ترجمہ : حضرت ابو سہلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھ سے محاصرہ کے دن فرمایا: کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک وصیت فرمائی تھی اور میں اسی پر صابر ہوں۔ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اورامام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في مناقب عثمان، 5 / 631، الحديث رقم : 3711)(و ابن ماجه في السنن، 1 / 42، الحديث رقم : 113،چشتی)(و ابن حبان في الصحيح، 15 / 356، الحديث رقم : 6918)(و ابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 515، الحديث رقم : 37657)
عَنْ مُسْلِمٍ أَبِيْ سَعِيْدٍ مَوْلٰي عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : أَنَّ عُثْمَانَ أَعْتَقَ عِشْرِيْنَ مَمْلُوْکاً، وَدَعَا بِسَرَاوِيْلَ فَشَدَّهَا عَلَيْهِ، وَلَمْ يَلْبَسْهَا فِي جَاهِلِيَةٍ وَلاَ إِسْلاَمٍ، وَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم الْبَارِحَةَ فِي الْمَنَامِ وَرَأَيْتُ أَبَا بَکْرٍ وَ عُمَرَ، وَأَنَّهُمْ قَالَوْا لِي : اصْبِرْ، فَإِنَّکَ تُفْطِرُ عِنْدَنَا الْقَابِلَةَ فَدَعَا بِمُصْحَفٍ فَنَشَرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقُتِلَ وَهُوَ بَيْنَ يَدِيْهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ ۔
ترجمہ : حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خادم حضرت مسلم (ابو سعید) سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بیس غلاموں کو آزاد کیا اور ایک پاجامہ منگوایا اور اسے زیب تن کر لیا، اسے آپ نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں کبھی پہنا تھا اور نہ ہی زمانۂ اسلام میں، پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے گذشتہ رات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ابو بکر و عمر رضی ﷲ عنہما بھی ہیں، ان سب نے مجھے کہا ہے (اے عثمان) صبر کرو پس بے شک تم کل افطاری ہمارے پاس کرو گے پھرآپ رضی اللہ عنہ نے مصحف منگوایا اور اس کو اپنے سامنے کھول کر تلاوت فرمانے لگے اوراسی اثنا میں آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا اور وہ مصحف آپ کے سامنے ہی تھا۔ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 72، الحديث رقم : 526)(و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 96)(و المناوي في فيض القدير، 1 / 110)
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَرْسَلَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إلَي عُثْمَانَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَکَانَ آخِرُ کَلَامٍ کَلَّمَهُ أَنْ ضَرَبَ مَنْکِبَهُ وَ قَالَ : يَا عُثْمَانُ إِنَّ ﷲَ عَسَي أَنْ يُلْبِسَکَ قَمِيْصًا فَإِنَ أَرَادَکَ الْمُنَافِقُوْنَ عَلَي خَلْعِهِ فَ. لَا تَخْلَعْهُ حَتَّي تَلْقَانِيْ فَذَکَرَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنھا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی طرف بلا بھیجا جب وہ آئے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف بڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ جو آخری کلام فرمایا : وہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے کندھے پر (ہاتھ) مارا اور فرمایا : اے عثمان بے شک ﷲ تعالیٰ تمہیں (خلافت کی) قمیص پہنائے گا اگر منافقین اس کو اتارنے کا ارادہ کریں تو اس کو ہرگز نہ اتارنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو پس آپ نے تین مرتبہ ایسا فرمایا اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 86، الحديث رقم : 24610)(والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 90)(و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 500، الحديث رقم : 816)
عَنِ بْنِ حَوَالَةَ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ هُوَ جَالِسٌ فِي ظِلّ دَوْمَةَ وَ عِنْدَهُ کَاتِبٌ لَهُ يُمْلِيْ عَلَيْهِ فَقَالَ : أَلَا أَکْتُبُکَ يَا بْنَ حَوَالَةَ قُلْتُ : لَا أَدْرِي مَا خَارَ ﷲُ لِي وَ رَسُوْلُهُ فًأَعْرَضَ عَنِّي وَ قَالَ إِسْمَاعِيْلُ مَرَّةً فِي الأُوْلٰي نَکْتُبُکَ يَا بْنَ حَوَالَةَ قُلْتُ : لَا أَدْرِيْ فِيْمَ يَارَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَأَعْرَضَ عَنِّيْ فَأَکَبَّ عَلَي کَاتِبِهِ يُمْلِيْ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : أَنَکْتُبُکَ يَا بْنَ حَوَالَةَ قُلْتُ : لَا أَدْرِي مَا خَارَ ﷲُ وَ رَسُوْلُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّيْ فَأَکَبَّ عَلَي کَاتِبِهِ يُمْلِيْ عَلَيْهِ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِي الْکِتَابِ عُمَرُ فَقُلْتُ : إِنَّ عُمَرَ لَا يُکْتَبُ إِلَّا فِي خَيْرٍ ثُمَّ قَالَ : أَنَکْتُبُکَ يَا بْنَ حَوَالَةَ قُلْتُ : نَعَمْ فَقَالَ : يَا بْنَ حَوَالَةَ کَيْفَ تَفْعَلُ فِي فِتْنَةٍ تَخْرُجُ فِي أَطْرَافِ الأَرْضِ کَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ قُلْتُ لَا أَدْرِي مَا خَارَ ﷲُ لِي وََرسُوْلُهُ قَالَ : وَ کَيْفَ تَفْعَلُ فِي أُخْرٰي تَخْرُجُ بَعْدَهَا کَأَنَّ الأُوْلٰي فِيْهَا انْتَفَاحَةُ أَرْنَبٍ قُلْتُ : لَا أَدْرِي مَا خَارَ ﷲُ لِيْ وَ رَسُوْلُهُ قَالَ : اتَّبِعُوْا هَذَا قَالَ : وَ رَجُلٌ مُقَفٍّ حِيْنَئِذٍ قَالَ : فَانَطَلَقْتُ فَسَعَيْتُ وَ أَخَذْتُ بِمَنْکِبَيْهِ فَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَي رَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَقُلْتُ : هَذَا قَالَ نَعَمْ وَ إِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ص. رَوَاهُ أَحْمَدُ ۔
ترجمہ : حضرت ابن حوالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دومہ درخت کے سائے تلے بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کاتب بھی بیٹھا ہوا تھا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم املاء کروا رہے تھے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ کیا میں تمہیں لکھ نہ دوں؟ میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ ! معلوم نہیں کہ ﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لئے کیا اختیار کر رکھا ہے؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف سے چہرہ اقدس پھیر لیا اور اسماعیل کہتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی مرتبہ فرمایا اے ابن حوالہ کیا ہم تمہیں لکھ نہ دیں؟ راوی بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ ! مجھے نہیں معلوم کس معاملے میں؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے چہرہ اقدس پھیر لیا اور اپنے کاتب کو املاء کروانے میں مشغول ہوگئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ ہم تمہیں لکھ نہ دیں تو میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! میں نہیں جانتا کہ ﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لئے کیا اختیار کر رکھا ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے چہرہ اقدس پھیر لیا اور اپنے کاتب کو املا لکھوانے میں مشغول ہوگئے پھر میں نے اچانک دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نام لکھا ہوا ہے اس پر میں نے کہا عمر کا نام ہمیشہ بھلائی میں لکھا ہوگا پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ ہم تمہیں لکھ نہ دیں تو میں نے عرض کیا ہاں یا رسول ﷲ! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ تو اس فتنہ میں کیا کرے گا جو زمین کے چاروں اطراف سے نکلے گا گویا وہ گائے کے سینگ ہیں ۔ میں نے عرض کیا میں نہیں جانتا کہ ﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لئے کیا اختیار کر رکھا ہے۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اس دوسرے فتنے میں کیا کرو گے جو پہلے فتنے کے بعد ہوگا گویا پہلا فتنہ خرگوش کے نتھنے کے برابر ہوگا میں نے عرض کیا کہ میں نہیں جانتا کہ میرے لئے ﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا اختیار کر رکھا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اشارہ کر کے) فرمایا : اس شخص کی پیروی کرنا اور وہ شخص اس وقت پیٹھ پھیر کر جا چکا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں میں چلا اور تیزی سے دوڑا اور اس شخص کو کندھے سے پکڑ لیا اور اس کا چہرہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف موڑا اور میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا یہی وہ شخص ہے (جس کی پیروی کرنے کا آپ نے حکم فرمایا ہے) ؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں، جب میں نے دیکھا تو وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے ۔ اس حدیث کو احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 109)(و الهيثمي في مجمع الزوائد، 7 / 225،چشتی)(و المقدسي في الأحاديث المختارة، 9 / 284)
عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : ذَکَرَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا وَ عَظَّمَهَا قَالَ : ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ فِيْ مِلْحَفَةٍ فَقَالَ : هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَي الْحَقِّ فَانْطَلَقْتُ مُسْرِعًا اَوْ قَالَ مُحْضِرًا فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْهِ فَقُلْتُ : هَذَا يَا رَسُوْلَ ﷲِ، قَالَ : هَذَا فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ ۔
ترجمہ : حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنہ کا ذکر فرمایا اور اس کے قریب اور شدید ہونے کا بیان کیا۔ راوی کہتے ہیں پھر وہاں سے ایک آدمی گزرا جس نے چادر میں اپنے سر اور چہرے کو ڈھانپا ہوا تھا (اس کو دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس دن یہ شخص حق پر ہوگا پس میں تیزی سے (اس کی طرف) گیا اور میں نے اس کو اس کی کلائی کے درمیان سے پکڑ لیا پس میں نے عرض کیا یہ ہے وہ شخص یا رسول ﷲ ! (جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ زمانۂ فتنہ میں یہ حق پر ہو گا) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں. پس وہ عثمان بن عفان تھے ۔ اس حدیث کو احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 242)(و أحمد بن حنبل في فضائل الصحابه، 1 / 450، الحديث رقم : 721)
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ : کُنَّا نَحْنُ مُعَسْکِرِيْنَ مَعَ مُعَاوِيَةَ، بَعْدَ قَتْلِ عُثْمَانَ، فَقَامَ کَعْبُ بْنُ مُرَّةَ الْبَهْزِيُّ فَقَالَ : لَوْلَا شَيْئٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم مَا قُمْتُ هَذَا الْمَقَامَ. فَلَمَّا سَمِعَ بِذِکْرِ رَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم أَجْلَسَ النَّاسَ. فَقَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إِذْ مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ مُرَجِّلًا. قَالَ : فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : ’’لَتخْرُجَنَّ فِتْنَةٌ مِنْ تَحْتِ قَدَمَيَّ، أَوْ مِنْ بَيْنَ رِجْلَيَّ هَذَا، هَذَا يَوْمَئِذٍ وَمَنِ اتَّبَعَهُ عَلَي الْهُدٰي. فَقَامَ بْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ مِنْ عِنْدِ الْمِنْبَرِ فَقَالَ : إِنَّکَ لَصَاحِبُ هَذَا؟ فَقَالَ نَعَمْ!، قَالَ : وَﷲِ إِنِّي لَحَاضِرٌ ذَلِکَ الْمَجْلِسَ، وَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي فِي الْجَيْشِ مُصَدِّقًا لَکُنْتُ أَوَّلَ مَنْ تَکَلَّمَ بِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَ الْطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ ۔
ترجمہ : حضرت جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد امیر معاویہ کے لشکر میں تھے پس کعب بن مرہ بہزی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فلاں چیز نہ سنی ہوتی تو آج میں اس مقام پر کھڑا نہ ہوتا پس جب انہوں (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ) نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر سنا تو لوگوں کو بٹھا دیا اور کہا : ایک دن ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ وہاں سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پیدل گزرے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ضرور بالضرور اس جگہ سے جہاں میں کھڑا ہوں ایک فتنہ نکلے گا، یہ شخص اس دن (مسند خلافت پر) ہو گا جو اس کی اتباع کرے گا وہ ہدایت پر ہوگا پس عبدﷲ بن حوالہ ازدی منبر کے پاس سے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تو اس آدمی کا دوست ہے؟ انہوں نے کہا ہاں! ابن حوالہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم جس مجلس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا میں اس مجلس میں موجود تھا اور اگر میں جانتا ہوتا کہ اس لشکر میں میری تصدیق کرنے والا کوئی موجود ہے تو سب سے پہلے یہ بات میں ہی کر دیتا۔ اس حدیث کو امام احمد نے مسند میں اور امام طبرانی نے ’’المعجم الکبير‘‘ میں بیان کیا ہے ۔ (أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 236)(و الطبراني في المعجم الکبير، 20 / 316، الحديث رقم : 753،چشتی)(و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 89)(و الشيباني في الأحاد و المثاني، 3 / 66، الحديث رقم : 1381)
عَنِ بْنِ عُمَرَ رضي ﷲ عنهما أَنَّ عُثْمَانَ أَصْبَحَ فَحَدَّثَ فَقَالَ : إِنِّيْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم فِي الْمَنَامِ اللَّيْلَةَ فَقَالَ : يَا عُثْمَانُ! أَفْطِرْ عِنْدَنَا فَأَصْبَحَ عُثْمَانُ صَائِمًا فَقُتِلَ مِنْ يَوْمَهِ ص. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَ قَالَ هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ ۔
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ صبح کے وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے (ہمیں) فرمایا : بے شک میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گذشتہ رات خواب میں دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے : اے عثمان! آج ہمارے پاس روزہ افطار کرو۔ پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے روزہ کی حالت میں صبح کی اور اسی روز آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ۔ اس حدیث کو حاکم نے روایت کیا ہے اور انہوں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 110، الحديث رقم : 4554)
عَنِ بْنِ عَبَّاسٍ رضي ﷲ عنهما قَالَ : کُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم إِذْ أَقْبَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ قَالَ : يَا عُثْمَانُ! تُقْتَلُ وَ أَنْتَ تَقْرَأُ سُوْرَةَ الْبَقْرَةِ فَتَقَعُ مِنْ دَمِکَ عَلَي (فَسَيَکْفِيْکَهُمُ ﷲُ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ) وَ تُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمِيْرًا عَلَي کُلِّ مَخْذُوْلٍ يَغْبِطُکَ أَهْلُ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرَبِ وَ تَشْفَعُ فِي عَدَدِ رَبِيْعَةَ وَ مُضَرٍ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ ۔
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے۔ جب وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عثمان! تمہیں شہید کیا جائے گا درانحالیکہ تو سورۂ بقرہ کی تلاوت کر رہے ہو گے اور تمہارا خون اس آیت (فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيم) پر گرے گا اور قیامت کے روز تم ہر ستائے ہوئے پر حاکم بنا کر اٹھائے جاؤ گے اور تمہارے اس مقام و مرتبہ پر مشرق و مغرب والے رشک کریں گے اور تم ربیعہ اور مضر کے لوگوں کے برابر لوگوں کی شفاعت کرو گے ۔ اس حدیث کو حاکم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 110، الحديث رقم : 4555)
عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَادٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا يَوْمَ الْجَمَلِ يَقُوْلُ : أَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَبْرَأُ إِلَيْکَ مِنْ دَمِ عُثْمَانَ، وَ لَقَدْ طَاشَ عَقْلِي يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ، وَأَنْکَرْتُ نَفْسِي وَجَاؤُوْنِيْ لِلْبَيْعَةِ فَقُلْتُ : وَﷲِ إِنِّي لَأَسْتَحِي مِنَ ﷲِ أَنْ أُبَايِعَ قَوْمًا قَتَلُوْا رَجُلًا قَالَ لَهُ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَلاَ أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلاَئِکَةُ، وَ إِنِّيْ لَأَسْتَحْيِي مِنَ ﷲِ أَنْ أُبَايِعَ وَعُثْمَانُ قَتِيْلٌ عَلَي الْأَرْضِ لَمْ يُدْفَنْ بَعْدُ. فَانْصَرَفُوْا، فَلَمَّا دُفِنَ رَجَعَ النَّاسُ فَسَأَلُوْنِي الْبَيْعَةَ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ إِنِّي مُشْفِقٌ مِمَّا أَقْدِمُ عَلَيْهِ. ثُمَّ جَاءَ تْ عَزِيْمَةٌ فَبَايَعْتُ، فَلَقَدْ قَالُوْا : يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! فَکَأَنَّمَا صُدِعَ قَلْبِيْ رِجَاءَ وَ قُلْتُ اللَّهُمَّ خُذْ مِنِّيْ لِعُثْمَانَ حَتَّي تَرْضٰي. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.وَ قَالَ هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَي شَرْطِ الْشَّيْخَيْنِ ۔
ترجمہ : حضرت قیس بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جنگ جمل کے دن یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے ﷲ میں تیری بارگاہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل سے براءت کا اظہار کرتا ہوں اور تحقیق میری عقل اس دن طیش میں تھی جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا۔ میں نے خود بیعت لینے سے انکار کر دیا جب وہ لوگ میرے پاس بیعت کے لئے آئے، پس میں نے کہا خدا کی قسم مجھے ﷲ سے حیاء آتا ہے کہ میں ان لوگوں سے بیعت لوں جنہوں نے اس شخص کو قتل کیا ہے جس کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خبردار میں اس شخص سے حیاء کرتا ہوں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں سو میں بھی اللہ تعالیٰ سے حیاء کرتا ہوں کہ میں اس حال میں بیعت لوں کہ عثمان زمین پر مقتول پڑے ہوئے ہوں اور ابھی تک انہیں دفن بھی نہ کیا گیا ہو پس لوگ چلے گئے، پس جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دفن کر دیا گیا تو لوگ پھر مجھ سے بیعت کا سوال کرنے لگے پس میں نے کہا اے ﷲ جس چیز کا اقدام میں کرنے جارہا ہوں میں اس سے ڈرنے والا ہوں پھر عزیمت کے تحت مجھے ایسا کرنا پڑا، سو جب انہوں نے مجھے کہا اے امیر المومنین تو گویا میرا کلیجہ پھٹ گیا۔ میں نے کہا اے ﷲ تو مجھ سے عثمان کا بدلہ لینے کی ذمہ داری قبول فرما اور اس کی توفیق دے یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے۔ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے ۔ (أخرجه الحاکم في المستدرک علي الصحيحين، 3 / 101، الحديث رقم : 4527، و أيضا في، 3 / 111، الحديث رقم : 4556)
عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عُمَرَ في رِوَايَةٍ طَوِيْلَةٍ وَ مِنْهَا عَنْهُ قَالَ : لَمَّا طُعِنً عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَ أَمَرَ بِالشُّوْرٰي دَخَلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ ابْنَتُهُ فَقَالَتْ : يَا أَبَةِ إِنَّ النَّاسَ يَقُوْلُوْنَ : إِنَّ هَؤُلاَءِ الْقَوْمَ الَّذِيْنَ جَعَلْتَهُمْ فِي الشُّوْرٰي لَيْسَ هُمْ بِرَضً فَقَالَ : أَسْنِدُوْنِي فَأَسْنَدُوْهُ وَ هُوَ لِمَا بِهِ فَقَالَ مَا عَسَي أَنْ يَقُوْلُوْا فِيْ عُثْمَانَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : يَوْمَ يَمُوْتُ عُثْمَانُ تُصَلِّي عَلِيْهِ مَلاَئِکَةُ السَّمَاءِ قُلْتُ : لِعُثْمَانَ خَاصَةً أَمْ لِلْنَّاسِ عَامَةً قَالَ بَلْ لِعُثْمَانَ خَاصَةً . رَوَاهُ الْطَّبْرَانِيُّ فِيْ الْمُعجَمِ الْأَوْسَطِ ۔
ترجمہ : حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما ایک طویل حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے شوریٰ کا حکم دیا تو آپ رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت حفصہ آپ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی آئیں اور کہا بے شک لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جن لوگوں کو آپ نے شوریٰ کے لیے منتخب کیا ہے یہ اس کے اہل نہیں ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے سہارا دو پس آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو سہارا دیا اور اس وقت آپ سخت تکلیف کی حالت میں تھے پس آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ممکن ہے یہ لوگ عثمان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کریں حالانکہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس دن عثمان کی شہادت واقع ہو گی آسمان کے فرشتے اس پر درود بھیجیں گے ۔ میں نے عرض کیا فقط یہ عثمان کے لیے ہے یا سب لوگوں کے لیے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ چیز صرف عثمان کے لیے خاص ہے۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے ۔ المعجم الاوسط ‘‘ میں روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الاوسط، 3 / 287، الحديث رقم : 3172،چشتی)(و عسقلاني في لسان الميزان، 5 / 226، الحديث رقم : 798)
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ : قَالَ صلي الله عليه وآله وسلم يَوْمَ يَمُوْتُ عُثْمَانُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَلَائِکَةُ السَّمَاءِ. رَوَاهُ الْدَّيْلِمِيُّ ۔
ترجمہ : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ جس دن عثمان کی شہادت واقع ہو گی اس دن آسمان کے فرشتے اس پر درود بھیجیں گے ۔ اس حدیث کو دیلمی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 5 / 533، الحديث رقم : 8999)
جس وقت شورش پسندوں اور باغیوں نے حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھا، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آکر عرض کیا : امیر المؤمنین! انصار دروازے پر کھڑے اجازت کے منتظر ہیں‘‘۔ آپ نے فرمایا : اگر وہ جنگ کی اجازت چاہتے ہیں تو انھیں بالکل اجازت نہیں ہے ۔ (طبقات ابن سعد)
اسی دوران حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جنگ کی اجازت مانگی تو فرمایا : ’’کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ مجھ سمیت تمام دنیا کو قتل کردو؟‘‘۔ عرض کیا : ’’نہیں‘‘۔ امیر المؤمنین کے اس فرمان میں اس آیت کی طرف اشارہ تھا کہ ’’جس شخص نے بغیر قصاص کے یا فساد کے لئے کسی شخص کو قتل کیا، گویا اس نے تمام دنیا کے انسانوں کو قتل کردیا‘‘ ۔ (سورۃ المائدہ۔۳۲) اس آیت سے استدلال اس وجہ سے تھا کہ باغیوں نے ابھی تک نہ کسی شخص کو قتل کیا تھا اور نہ زمین میں کسی قسم کا فساد کیا تھا، صرف حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھا ۔ (طبقات ابن سعد)
حضرت مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مستقبل میں پیش آنے والے فتنوں کے متعلق بیان کر رہے تھے، اتنے میں ایک شخص کا گزر ہوا، جو کپڑا اوڑھے جا رہا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’فتنوں کے وقت یہ شخص ہدایت پر ہوگا‘‘۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو ’’وہ حضرت عثمان تھے‘‘ ۔ (طبقات ابن سعد)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتنوں کا بیان کرتے ہوئے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہ شخص ان فتنوں میں مظلوم شہید کیا جائے گا‘‘۔ (مشکوۃ صفحہ نمبر ۸۶۲)
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق یہ یقین تھا کہ ان کی شہادت مقدر ہوچکی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ان فتنوں سے مطلع کیا تھا اور صبر و استقامت کی تاکید فرمائی تھی ۔ (ترمذی، صفحہ۵۳۳)
ان حالات میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ لمحہ بہ لمحہ اس وقت کے منتظر تھے، جو ان کے لئے مقدر ہوچکا تھا ۔
۱۷؍ ذی الحجہ سنہ ۳۵ھ بروز جمعہ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما تشریف فرما ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں : ’’عثمان جلدی کرو، ہم تمہارے افطار کے منتظر ہیں‘‘۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عثمان! آج جمعہ میرے ساتھ پڑھنا‘‘۔ (طبقات ابن سعد)
اٹھارہ (18) ذوالحج بروز جمعہ تقریباً نماز عصر کے وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ۔ آپ نے کل 82 سال کی عمر پائی ۔
ریاض النضرہ میں حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے اور آپ کی زبان پر اللہ کے حضور یہ دعا جاری تھی ۔ اللھم اجمع امۃ محمد ۔ اے اللہ امت محمدیہ کو باہمی اتفاق نصیب فرما ۔ (رياض النضرة جلدنمبر 3 صفحہ نمبر 73)
شہادت کے بعد حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلَّی اللہُ علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کو خواب میں فرماتے ہوئے سنا : بیشک! عثمان (رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ)کو جنّت میں عالیشان دولہا بنایا گیا ہے ۔ (الریاض النضرۃ ،ج2،ص67)
حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور اپنی اہلیہ محترمہ سے فرمایا : ’’اب وقت قریب آپہنچا ہے‘‘۔ پھر آپ نے لباس تبدیل کیا اور تلاوتِ قرآن پاک میں مشغول ہو گئے۔ اس کے تھوڑی ہی دیر بعد باغیوں نے حملہ کردیا، جس کی مزاحمت کرتے ہوئے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ زخمی ہو گئے۔ باغیوں نے حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر کئی وار کئے، لیکن اسی دوران ایک ازلی شقی نے تلوار کا ایسا وار کیا کہ حضرت ذوالنورین کی شمع حیات بجھ گئی ۔ (اسد الغابہ)
اس جانکاہ حادثہ میں آپ کی اہلیہ محترمہ کی اُنگلیاں بھی کٹ گئی تھیں اور تین دن تک آپ کا جسد مبارک تدفین سے محروم رہا۔ قتل کرنے کے بعد ظالموں نے آپ کا گھر بھی لوٹ لیا۔ تاریخ عالم میں کہیں ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی حکمراں کے خلاف کچھ لوگ باغی ہو جائیں اور اس حکمراں کو اپنی ذات اور اپنی حکومت کے تحفظ کے متعدد وسائل حاصل ہوں، نہ صرف یہ بلکہ جاں نثار رفقاء، ارکانِ دولت اور تمام افواج سب اس کے حامی ہوں، باغیوں کا قلع قمع کرنے کے لئے بے تاب ہوں اور بار بار اس حکمراں سے باغیوں کی سرکوبی کا مطالبہ کر رہے ہوں، لیکن وہ حکمراں محض اس سبب سے ان لوگوں کو باغیوں سے جنگ کی اجازت نہیں دیتا کہ ’’کہیں ایک جان کی بقاء کے لئے سیکڑوں جانیں تلف نہ ہو جائیں‘‘۔ آخری وقت تک آپ کے رفقاء باغیوں سے مقابلہ اور ان کا محاصرہ توڑنے کی اجازت طلب کرتے رہے ، لیکن آپ کا صرف ایک ہی جواب تھا کہ ’’میں اپنی ذات یا اپنی خلافت کی خاطر مسلمانوں کی تلواریں باہم ٹکراتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)











No comments:
Post a Comment