Thursday, 21 May 2026

گائے ، بیل اور اونٹ کی قربانی میں کتنے حصے ہو سکتے ہیں ؟

گائے ، بیل اور اونٹ کی قربانی میں کتنے حصے ہو سکتے ہیں ؟




محترم قارئین کرام : بڑے جانور یعنی گائے ، بیل یا اونٹ کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات حصے ہو سکتے ہیں اوراس سے کم میں کوئی تعداد مقرر نہیں ، لہذا سات شرکاء سے کم جتنے بھی ہوں ، وہ اس میں شریک ہو سکتے ہیں ، کیونکہ ایسا جانور جس میں سات شرکاء کی شرعا اجازت ہے اس کا حکم یہ ہے کہ اس میں کسی بھی شریک کا حصہ ساتویں سے کم نہ ہو ۔ اگر بعض شریکوں کا حصہ ساتواں اور دوسرے بعض کا ساتویں سے زیادہ ہے ، تو یہ جائز ہے ، اسی طرح اگر سب شریکوں کا حصہ ساتویں سے زیادہ ہے ، تو بدرجہ اولیٰ جائز ہوگا ، ہاں البتہ اگر ساتویں سے کم حصہ کسی کا ہو ، افراد سات ہوں یا کم تو اس صورت میں کسی کی قربانی نہیں ہوگی ۔


اونٹ کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات حصے ہو سکتے ہیں ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی کا حکم ارشاد فرمایا اور خود بھی اسی پر عمل فرمایا ۔


حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : البقرۃ عن سبعۃ والجزور عن سبعۃ ۔

ترجمہ : گائے اور اونٹ سات کی طرف سے قربان ہو سکتا ہے ۔ (سنن ابی داؤد جلد 2 صفحہ 40 کتاب الضحایا باب فی البقر والجزور عن کم تجزی مطبوعہ لاھور)(معجم اوسط جلد 9 صفحہ 35،چشتی)(معجم کبیر جلد 9 صفحہ 35)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کو بھی سات افراد کی طرف سے اونٹ قربان کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی وہ فرماتے ہیں : امرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان نشترک فی الابل والبقرکل سبعۃ منا  فی بدنۃ ۔

ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے میں شریک ہو کر قربانی کریں اس طرح کہ ایک اونٹ میں سات افراد شریک ہوں ۔ (صحیح المسلم کتاب الحج باب بیان وجوہ الاحرام جلد 1 صفحہ 392 مطبوعہ کراچی)(مسند احمد بن حنبل جلد 22 صفحہ 15،چشتی)(معجم کبیر للطبرانی جلد 7 صفحہ 120)


عن جابر بن عبد الله ، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : البقرة عن سبعة ، والجزور عن سبعة ۔

ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ : گائے  سات  افراد کی جانب سے اور اونٹ  سات  کی جانب سے کرنا کافی ہے ۔ (سنن ابی داؤد جلد 3 صفحہ 98 مطبوعہ بیروت)


عن جابر بن عبد الله ، قال : نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الحديبية البدنة عن سبعة ، والبقرة عن سبعة ۔

ترجمہ : حضرت  جابر رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک اونٹ سات افراد  کی طرف سے نحر کیا تھا ، اور گائے کو سات افراد کی طرف سے ذبح کیا تھا ۔ (صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 955 دار احیاء التراث العربی)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی سات افراد کی طرف سے ہی اونٹ قربان کیا ۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی وہ فرماتے ہیں : نحرنا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام الحدیبیۃ البدنۃ عن سبعۃ ، والبقرۃ عن سبعۃ ۔

ترجمہ : ہم نے حدیبیہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اونٹ اور گائے دونوں کو سات سات افراد کی طرف سے قربان کیا ۔ (صحیح المسلم کتاب الحج باب الاشتراک جلد 1 صفحہ 424 مطبوعہ کراچی)(سنن کبریٰ للبیہقی جلد 5 صفحہ 383)(صحیح ابن خزیمہ جلد 2 صفحہ 1364)


مذکورہ حدیثِ مبارکہ کو نقل کرنے کےبعد امام محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : حدیث جابر ، حدیث حسن صحیح ، والعمل علی ھذاعنداھل العلم من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وغیرھم یرون الجزور عن سبعۃوالبقرۃ عن سبعۃ ، وھو قول سفیان الثوری والشافعی واحمد ۔

ترجمہ : حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ،حسن صحیح ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب اور ان کے علاوہ دیگر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ وہ اونٹ اور گائے کو سات افراد کی طرف سے کافی سمجھتے تھے ، یہی قول سفیان ثوری ، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ تعالی کا بھی ہے ۔ (سنن ترمذی ابواب الحج باب ما جاء فی الاشتراک فی البدنہ والبقرۃ جلد 1 صفحہ 180 مطبوعہ کراچی)


ان احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں فقہائے کرام رحمہم اللہ علیہم نے بھی اپنے اپنے دور میں یہی فتوی دیا کہ اونٹ کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات حصے ہی ہو سکتے ہیں ۔ چنانچہ در الحکام شرح غرر الاحکام جلد 1 صفحہ 266 ، تبیین الحقائق جلد 6 صفحہ 3 ، بحر الرائق جلد 8 صفحہ 198 ، مجمع الانہر جلد 2 صفحہ 517 اور بدائع الصنائع میں بالفاظِ مختلفہ یہ مسئلہ موجود ہے : ولا یجوز بعیر واحد ولا بقرۃ واحدۃ عن اکثر من سبعۃ،ویجوز ذلک عن سبعۃاواقل من ذلک،وھذا قول عامۃ العلماء ۔

ترجمہ : سات سے زیادہ شرکاء کی طرف سے ایک اونٹ یا ایک گائے کی قربانی جائز نہیں ، بلکہ ان میں فقط سات یا اس سے کم افراد ہی شریک ہو سکتے ، یہی اکثر علماء کا قول ہے ۔ (بدائع الصنائع کتاب التضحیہ فصل فی محل اقامۃ الواجب فی الاضحیۃ جلد 4 صفحہ 206 تا 207 مطبوعہ کوئٹہ)


رہی یہ بات کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : ہم نے اونٹ دس افراد کی طرف سے قربان کیا ، تو یہ حدیث جامع ترمذی میں ان الفاظ کے ساتھ موجودہے : عن ابن عباس قال : کنا مع النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فی سفر،فحضر الاضحی ، فاشترکنا فی البقرۃ سبعۃ ، وفی الجزور عشرۃ ۔ ترجمہ : مفہوم مذکور ہوا ۔ (سنن ترمذ ی ابواب الحج باب ما جاء فی الاشتراک فی البدنہ والبقرۃ جلد 1 صفحہ 180 مطبوعہ کراچی)


لیکن یاد رہے یہ حدیث چند وجوہ سے قابل ِعمل نہیں : ⏬


اولاً : یہ حدیث دیگر کتب میں بھی موجود ہے ، مگر ان میں شک کے الفاظ ہیں ، یعنی دس افراد شریک ہوئے تھے یا سات ، جبکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں یقین کے الفاظ ہیں کہ اونٹ کی قربانی میں سات افراد ہی شریک ہو سکتے ہیں ، لہٰذا یہ حدیث قابل عمل نہیں ۔


چنانچہ صحیح  ابن حبان میں یہ حدیث شک کے الفاظ کے ساتھ یوں مروی ہے : کنا مع النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فی سفر فحضر النحر ، فاشترکنا فی البقرۃ سبعۃ ، وفی البعیر سبعۃ او عشرۃ ۔

ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے اسی حالت میں عید الاضحی آ گئی ، تو ہم نے گائے سات افراد کی طرف سے جبکہ اونٹ سات یا دس افراد کی طرف سے قربان کیا ۔ (صحیح ابن حبان جلد 9 صفحہ 318 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ بیروت)


مرقاۃ المفاتیح میں ہے : واما ما ورد:فی البدنۃ سبعۃ او عشرۃ فھو شاک ، وغیرہ جازم بالسبعۃ ۔

ترجمہ : بہرحال جس حدیث میں دس یا سات افراد کی شرکت کا تذکرہ ہے تو یہ شک کے ساتھ مروی ہے ، اور اس کے علاوہ دیگر احادیث یقین کے ساتھ مروی ہیں کہ اونٹ کی قربانی میں سات افراد ہی شریک ہو سکتے ہیں ۔ (مرقاۃ المفاتیح جلد 3 صفحہ 1086 مطبوعہ دار الفکر بیروت،چشتی)


ثانیاً : یہ حدیث حسن غریب ہے ، جبکہ سات افراد کی شرکت والی حدیث حسن صحیح ہے ، لہذا اُس کے مقابلے میں یہ حدیث متروک ہے ۔


چنانچہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد خود ارشاد فرمایا : ھذا حدیث حسن غریب ۔

ترجمہ : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ (سنن ترمذ ی ابواب الحج باب ما جاء فی الاشتراک فی البدنہ والبقرۃ جلد 1 صفحہ 180 مطبوعہ کراچی)


حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث مبارکہ کے تحت ارشاد فرماتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ، اور سات کی روایات نہایت صحیح ، لہٰذا اُس کے مقابل یہ حدیث متروک ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح جلد 2 صفحہ 374 مطبوعہ نعیمی کتب خانہ کراچی)


ثالثاً : دس افراد کی شرکت والی حدیث سات افراد کی شرکت والی حدیث سے منسوخ ہے ۔


مرقاۃ المفاتیح میں ہے : انہ منسوخ مما مر من قولہ:البقرۃ عن سبعۃ ، والجزور عن سبعۃ ۔

ترجمہ : دس افراد کی شرکت والی حدیث اس حدیث سے منسوخ ہے جس میں یہ بیان ہوا کہ گائے اور اونٹ سات افراد کی طرف سے ہی قربان ہو سکتے ہیں ۔ (مرقاۃ المفاتیح جلد 3 صفحہ 1086 مطبوعہ دار الفکر بیروت،چشتی)


اگر اس حدیث کو قابل عمل مان بھی لیا جائے ، تو اس سے مراد قیمت میں شرکت ہے ، نہ کہ قربانی میں ، یعنی حقیقتاً اونٹ کی قربانی میں سات افراد ہی شریک تھے ، مگر اس کی قیمت دس افراد نے مل کر ادا کی جو ہمارے نزدیک بھی درست ہے ۔


التعلیق الممجد علی مؤطا محمدمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے تحت ہے : محمول علی الاشتراک فی القیمۃ ، لا فی التضحیۃ ۔

ترجمہ : یہ حدیث قیمت کی شرکت پر محمول ہے ، نہ کہ قربانی کی شرکت پر ۔ (التعلیق الممجد علی مؤطا محمد باب الذبائح جلد 2 صفحہ 626 مطبوعہ دار القلم دمشق)


اسی طرح وہ روایات جن میں اونٹ کی قربانی میں دس افراد کی شرکت کا تذکرہ ہے ، تو وہ بھی مذکورہ یا ان کے علاوہ دیگر وجوہات کی بناء پر قابل ِعمل نہیں ۔


در مختار میں ہے : تجب شاۃ أو سبع بدنۃ ھی الإبل و البقر ، و لو لأحدھم أقل من سبع لم یجز عن أحد ، و تجزی عما دون سبعۃ بالأولی ۔

ترجمہ : ایک بکری یا بڑے جانور جیسے اونٹ اور گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے اور اگر ان میں سے کسی ایک کا ساتویں حصے سے کم ہو ، تو کسی ایک کی طرف سے بھی جائز نہیں ہوگی اور اگر شریک سات سے کم ہیں، تو قربانی بدرجہ اولیٰ جائز ہے ۔ (در مختار مع رد المحتار جلد 9 صفحہ 524 ، 525 مطبوعہ کوئٹہ،چشتی)


صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی امجدی علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: جب قربانی کی شرائط مذکورہ پائی جائیں تو بکری کا ذبح کرنا یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے ، ساتویں حصہ سے کم نہیں ہو سکتا ، بلکہ اونٹ یا گائے کے شرکاء میں اگر کسی شریک کا ساتویں حصہ سے کم ہے ، تو کسی کی قربانی نہیں ہوئی ، یعنی جس کا ساتواں حصہ یا اس سے زیادہ ہے اس کی بھی قربانی نہیں ہوئی ، گائے یا اونٹ میں ساتویں حصہ سے زیادہ کی قربانی ہوسکتی ہے ، مثلاً : گائے کو چھ یا پانچ یا چار شخصوں کی طرف سے قربانی کریں ، ہوسکتا ہے اور یہ ضرور نہیں کہ سب شرکاء کے حصے برابر ہوں، بلکہ کم و بیش بھی ہو سکتے ہیں ، ہاں یہ ضرور ہے کہ جس کا حصہ کم ہے ، تو ساتویں حصہ سے کم نہ ہو ۔ (بھار شریعت جلد 3 حصہ 15 صفحہ 335 مکتبۃ المدینہ کراچی)


مفتی اعظم پاکستان، مفتی وقارالدین رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ تین اشخاص یعنی زید ، خالد اور عمر نے مل کر گائے کی قربانی کا فیصلہ کیا ۔ تو عرض خدمت ہے کہ گائے کی قربانی میں کیا سات حصہ داروں کو ہونا ضروری ہے یا کہ قربانی میں تین یا پانچ اشخاص مل کر بھی کرسکتے ہیں ؟

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ : قربانی کی شرط یہ ہے کہ بکری ، بھیڑ وغیرہ صرف ایک آدمی کر سکتا ہے جبکہ گائے اور اونٹ وغیرہ میں زیادہ سے زیادہ سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں اور سات سے کم بھی شریک ہوسکتے ہیں ، مگر شرط یہ ہے کہ کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو ۔ (وقار الفتاوی جلد 2 صفحہ 473 بزم وقار الدین) ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

گائے ، بیل اور اونٹ کی قربانی میں کتنے حصے ہو سکتے ہیں ؟

گائے ، بیل اور اونٹ کی قربانی میں کتنے حصے ہو سکتے ہیں ؟ محترم قارئین کرام : بڑے جانور یعنی گائے ، بیل یا اونٹ کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ ...