Tuesday, 31 January 2023

امن ، انسانی حرمت و حقوق ، دھشت گردی اور اسلام حصّہ دوم

امن ، انسانی حرمت و حقوق ، دھشت گردی اور اسلام حصّہ دوم
اللہ تعالٰی نے انسان کو ”بہترین مخلوق“ کےاعزاز سے نوازا ،  فضیلت و بزرگی اور علم  و شرف کےقابلِ فخر  تمغے عطا فرماکر  اسے مسجودِ ملائکہ  بنایا ۔ حُسنِ صوری و معنوی  عطا فرما کر ”احسنِ تقویم“ کا تاج پہنایا اور  اپنی عظیم  کتاب میں اس کی جان کی حُرمت کا اعلان فرمایا ۔ (سورہ بنی اسرائیل:33)

اسلام نے کئی جہتوں سے اللہ تعالٰی کی بہترین تخلیق ”انسان“ کی حفاظت کا ذہن دیا ہے ۔ ”انسانی جان“ کے  تحفظ میں اسلام کی  روشن  تعلیمات کے چند گوشے ملاحظہ کیجیے : ⬇

تمام انسانیت کا قتل : ”انسانی جان“ کو جو رِفعت و بلندی اسلام نے عطا کی ہے اس کا اندازہ یہاں سے لگائیے کہ اسلام نے بغیر کسی وجہ کے ایک فرد کے قتل کو تمام انسانیت کے قتل کے مُتَرادِف قرار دیا ہے اور جس نے ایک جان کو جِلا بخشی : (فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-)  ترجمۂ کنزُ الایمان : اس نے گویا سب لوگوں کو جِلا لیا ۔ (سورہ المائدۃ :32)

اس طرح کہ قتل ہونے یا ڈوبنے یا جلنے وغیرہ  اسباب ہلاکت سے بچایا ۔(خزائن العرفان)

یہ آیتِ مُبارَکہ اسلام کی تعلیمات کو واضح کرتی ہے کہ اسلام کس قدر امن و سلامتی کا مذہب ہے اور اسلام کی نظر میں انسانی جان کی کس قدر اَہمیت ہے ۔ بارگاہِ الٰہی میں انسانی جان کی اَہمیت نبی کریم صلَّی  اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالٰی کے نزدیک پوری کائنات کا ختم ہو جانا کسی شخص کے ناحق قتل ہو جانے سے زیادہ ہلکا ہے ۔ (موسوعہ ابن ابی الدنیا جلد 6 صفحہ 234 حدیث نمبر231)

جان اپنی ہو یا پرائی اسلام کو دونوں کی حفاظت مطلوب ہے ، یہاں تک کہ ہر وہ چیز جو اپنے لئے خطرے اور ہلاکت کا باعث ہو اس سے باز رہنے کا حکم ہے ۔ (خزائن العرفان صفحہ 65)

اسی لیے اسلام میں خودکشی (Suicide) حرام ہے ۔ دوسروں کی ناحق جان لینے کوبھی اسلام نے نہ صرف کبیرہ گناہ قرار دیاہے بلکہ ایسا کرنے والے کےلیے سخت ترین سزا بھی مُتَعَیَّن فرمائی ہے ۔ نبی کریم صلَّی  اللہ  تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے تو اپنے مسلمان بھائی کی طرف اسلحے سے محض اشارہ کرنے سے بھی منع فرمایاہے ۔ (صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 434 حدیث نمبر 7072،چشتی)

نبی کریم صلَّی  اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کئی احادیث میں قتلِ انسانی کی مذمت بیان فرمائی ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: سب سے بڑے گناہ اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک کرنا ، کسی جان کو قتل کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا ہیں ۔ (بخاری جلد 4 صفحہ 357 حدیث نمبر6871)

اس حدیثِ مُبارَکہ سے معلوم ہوا کہ کبیرہ گناہوں میں شرک کے بعد سرِ فہرست کسی کی جان لینا ہے ۔ بروزِ محشر حقوقُ العباد کے باب میں سب سے پہلے قتلِ ناحق کے بارے میں پُرسِش ہوگی ۔ چنانچہ نبی کریم صلَّی  اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون بہانے کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا ۔ (صحیح مسلم صفحہ 711 حدیث نمبر4381،چشتی)

نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مسلمان کی جان کی حُرمت کو کعبے کی حرمت سے زیادہ محترم قرار دیا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ جلد 4 صفحہ 319 حدیث نمبر 3932)

انسانی جان کے تحفظ کی یہ بہترین ، مؤثّر اور روشن تعلیمات اس بات کا تقاضا کرتی  ہیں کہ ان کو صدقِ دل سے اپنی زندگیوں میں بسائیں اور ان حُقوق کی پاسداری کریں ۔ اپنے گھناٶنے اور ناپاک مقاصد کے حصول کےلیے عام شہریوں اور پُر اَمن انسانوں کو بے دریغ قتل کرنے والوں کا دین اِسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ دین جو حیوانات و نباتات تک کے حقوق کا خیال رکھتا ہے وہ اَولادِ آدم کے قتل عام کی اِجازت کیسے دے سکتا ہے! اِسلام میں ایک مومن کی جان کی حرمت کا اندازہ یہاں سے لگالیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مومن کے قتل کو پوری دنیا کے تباہ ہونے سے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ اِس حوالے سے چند احادیث ملاحظہ فرمائیں : عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رضی اللہ عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَی اللهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ۔
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مسلمان شخص کے قتل سے پوری دنیا کا ناپید (اور تباہ) ہو جانا ہلکا (واقعہ) ہے ۔ (ترمذي، السنن، کتاب الديات، باب ما جاء في تشديد قتل المؤمن، 4: 16، رقم: 1395)(نسائي، السنن، کتاب تحريم الدم، باب تعظيم الدم، 7: 82، رقم: 3987،چشتی)(ابن ماجه، السنن، کتاب الديات، باب التغليظ في قتل مسلم ظلما، 2: 874، رقم: 2619)

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم : قَتْلُ الْمُوْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْيَا ۔
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کو قتل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنیا کے برباد ہونے سے بڑا ہے ۔ (نسائي، السنن، کتاب تحريم الدم، باب تعظيم الدم، 7: 82، 83، رقم: 3988-3990)(طبراني، المعجم الصغير، 1: 355، رقم: 594)(بيهقي، السنن الکبری، 8: 22، رقم: 15647) ۔امام طبرانی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔

ایک روایت میں کسی بھی شخص کے قتلِ نا حق کو دنیا کے مٹ جانے سے بڑا حادثہ قرار دیا گیا ہے : عَنِ الْبَرَاء بْنِ عَازِبٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَزَوَالُ الدُّنْيَا جَمِيْعًا أَهْوَنُ عِنْدَ اللهِ مِنْ سَفْکِ دَمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ ۔
ترجمہ : حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک پوری کائنات کا ختم ہو جانا بھی کسی شخص کے قتلِ ناحق سے ہلکا ہے ۔ (ابن أبي الدنيا، الأهوال: 190، رقم: 183)(ابن أبي عاصم، الديات: 2، رقم: 2)(بيهقي، شعب الإيمان، 4: 345، رقم: 5344)

اِن روایات سے متحقق ہوتا ہے کہ ایک جان کو ناحق تلف کرنے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اُنہوں نے ایک نفس کو نہیں بلکہ پوری کائنات کی حُرمت پر حملہ کیا ہے ، اور اس کا گناہ اس طرح ہے جیسے کسی نے پوری کائنات کو تباہ کردیا ہے ۔

عقائد میں اہل سنت کے اِمام ابو منصور ماتریدی علیہ الرّحمہ آیت مبارکہ - مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ - کے ذیل میں انسانی قتل کو کفر قرار دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں : من استحل قتل نفس حَرَّمَ اللہ قتلها بغير حق، فکأنّما استحل قتل الناس جميعًا، لأنه يکفر باستحلاله قتل نفس محرم قتلها، فکان کاستحلال قتل الناس جميعًا، لأن من کفر بآية من کتاب اللہ يصير کافرًا بالکل. ... وتحتمل الآية وجها آخر، وهو ما قيل : إنه يجب عليه من القتل مثل ما أنه لو قتل الناس جميعًا. ووجه آخر: أنه يلزم الناس جميعا دفع ذلک عن نفسه ومعونته له، فإذا قتلها أو سعی عليها بالفساد، فکأنما سعی بذلک علی الناس کافة ... وهذا يدل أن الآية نزلت بالحکم في أهل الکفر وأهل الإسلام جميعاً، إذا سعوا في الأرض بالفساد ۔
ترجمہ : جس نے کسی ایسی جان کا قتل حلال جانا جس کا ناحق قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کر رکھا ہے ، تو گویا اس نے تمام لوگوں کے قتل کو حلال جانا، کیونکہ ایسی جان جس کا قتل حرام ہے، وہ شخص اس کے قتل کو حلال سمجھ کر کفر کا مرتکب ہوا ہے، وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے تمام لوگوں کے قتل کو حلال جانا، کیونکہ جو شخص کتاب اللہ کی ایک آیت کا انکار کرتا ہے وہ پوری کتاب کا انکار کرنے والا ہے ... یہ آیت ایک اور توجیہ کی بھی حامل ہے اور وہ یہ کہ کہا گیا ہے کہ کسی جان کے قتل کو حلال جاننے والے پر تمام لوگوں کے قتل کا گناہ لازم آئے گا (کیونکہ عالم انسانیت کے ایک فرد کو قتل کرکے گویا اس نے پوری انسانیت پر حملہ کیا ہے)۔ ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ تمام لوگوں پر لازم ہے کہ اجتماعی کوشش کے ساتھ اس جان کو قتل سے بچائیں اور اس کی مدد کریں۔ پس جب وہ اس کو قتل کر کے فساد بپا کرنے کی کوشش کرے گا تو گویا وہ پوری انسانیت پر فساد بپا کرنے کی کوشش کرتا ہے ... اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ آیت اس حکم کے ساتھ تمام اہل کفر اور اہل اسلام کے لئے نازل ہوئی ہے جبکہ وہ فساد فی الارض کے لئے سرگرداں ہو ۔ (تأويلات أهل السنة ، 3: 501)

علامہ ابوحفص الحنبلی علیہ الرّحمہ اپنی تفسیر اللباب في علوم الکتاب میں اللہ تعالیٰ کے فرمان فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا کی تفسیر میں ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتے ہوئے مختلف ائمہ کے اقوال نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : قال مُجَاهِد: من قتل نَفْساً محرَّمة يَصْلَي النَّار بقتلها، کما يصلاها لو قتل النَّاس جميعاً ، وقال قتادة : أعْظَم اللہ أجرَها وعظَّم وزرَها ، معناه : من استَحَلَّ قتل مُسْلِمٍ بغير حَقّه، فکأنّما قتل النَّاس جميعاً ، وقال الحسن: {فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا}، يعني: أنّه يَجِبُ عليه من القِصَاص بِقَتْلِهِا، مثل الذي يجب عليه لو قتل النَّاسَ جَمِيعًا ۔ قوله تعالی : إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُواْ أَوْ يُصَلَّبُواْ أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلاَفٍ أَوْ يُنفَوْاْ مِنَ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۔ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُواْ عَلَيْهِمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۔ (سورہ المائدة، 5: 33، 34) ۔ وقوله : {يُحَارِبُونَ اللهَ}، أي: يُحَارِبُون أولِيَاء هکذا قدَّرَه الجمهور.وقال الزَّمَخْشَريُّ: ’’يُحَارِبُون رسول اللہ، ومحاربة المُسْلِمِين في حکم مُحَارَبَتِه.‘‘نزلت هذه الآية في قطَّاع الطَّريق من المُسْلِمين (وهذا قول) أکثر الفقهاء (بغوی، معالم التنزيل، 2: 33)(رازي، التفسير الکبير، 11: 169)

أنَّ قوله تعالی: {الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللهَ وَرَسُوْلَهُ وَيَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا} يتناول کل من يُوصَف بهذه سوائً کان مُسْلِمًا أو کافراً، ولا يُقالَ: الآية نزلت في الکُفَّار، لأن العبرة بعُمُوم اللفْظ لا خُصوص السَّبَب، فإن قيل: المُحَارِبُون هم الذين يَجْتَمِعُون ولهم مَنَعَةٌ، ويَقصدون المُسْلِمِين في أرواحهم ودِمَائهم، واتَّفَقُوا علی أنّ هذه الصِّفَة إذا حصلت في الصَّحراء کانوا قُطَّاع الطَّريق، وأما إن حصلت في الأمصار، فقال الأوزَاعِيُّ ومالِکٌ والليْثُ بن سَعْد والشَّافِعِيُّ: هم أيضاً قُطُّاع الطَّريق، هذا الحدُّ عليهم، قالوا: وإنّهم في المُدُن يکونون أعظَم ذَنْباً فلا أقَلّ من المساواة، واحتجوا بالآية وعمومها، ولأنّ هذا حدّ فلا يختلف کسائر الحدود ۔
ترجمہ : حضرت مجاہد نے فرمایا : جس شخص نے ایک جان کو بھی نا حق قتل کیا تو وہ اس قتل کے سبب دوزخ میں جائے گا، جیسا کہ وہ تب دوزخ میں جاتا اگر وہ ساری انسانیت کو قتل کر دیتا (یعنی اس کا عذابِ دوزخ ایسا ہو گا جیسے اس نے پوری انسانیت کو قتل کردیا ہو)۔(أبو حفص الحنبلي، اللباب في علوم الکتاب، 7: 301)
حضرت قتادہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا بڑھا دی ہے اور اس کا بوجھ عظیم کردیا ہے یعنی جو شخص ناحق کسی مسلمان کے قتل کو حلال سمجھتا ہے گویا وہ تمام لوگوں کو قتل کرتا ہے ۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے {فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا} کی تفسیر میں فرمایا کہ (جس نے ناحق ایک جان کو قتل کیا) اس پر اس کے قتل کا قصاص واجب ہوگا، اس شخص کی مثل جس پر تمام انسانیت کو قتل کرنے کا قصاص واجب ہو۔ ارشاد باری تعالی ہے: {بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں (یعنی مسلمانوں میں خونریز رہزنی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں) ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کیے جائیں یا پھانسی دیے جائیں یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں یا (وطن کی) زمین (میں چلنے پھرنے) سے دور (یعنی ملک بدر یاقید) کر دیے جائیں۔ یہ (تو) ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کےلیے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے ۔ مگر جن لوگوں نے، قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پا جاؤ، توبہ کرلی سو جان لو کہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے ۔ ’’اللہ تعالیٰ کے فرمان {يُحَارِبُونَ اللهَ} سے مراد ہے: یحاربون اولیاء ہ (وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء سے جنگ کرتے ہیں)۔ یہی معنی جمہور نے بیان کیا ہے۔ اور علامہ زمخشری نے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کرتے ہیں؛ اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنا دراصل حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے ساتھ جنگ کے حکم میں ہے ۔ ’’یہ آیت - {اِنَّمَا جَزٰؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللهَ} مسلمان راہزنوں کے بارے میں اتری ہے، اور یہ اکثر فقہاء کا قول ہے ۔ ’’اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہر وہ شخص شامل ہے جو ان صفات سے متصف ہو خواہ وہ مسلم ہو یا کافر۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ آیت کفار کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ اعتبار لفظ کے عموم کا ہوگا نہ سبب کے خاص ہونے کا۔ اور اگر کہا جائے کہ محاربون وہ ہیں جو مجتمع ہوتے ہیں اور ان کے پاس طاقت و قوت بھی ہوتی ہے اور وہ مسلمانوں کی جانوں کا قصد کرتے ہیں تو فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر یہ وصف صحراء میں پایا جائے تو ایسے لوگ راہزن کہلائیں گے، اور اگر دہشت گردی و قتل و غارت گری کا یہ عمل شہروں میں پایا جائے تو امام اوزاعی، مالک، لیث بن سعد اور شافعی کا قول ہے کہ وہ (قاتل ہونے کے علاوہ) راہزن اور ڈاکو بھی ہیں، ان پر بھی یہی حد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ شہروں میں ہوں تو ان کا گناہ بہت ہی زیادہ ہو جائے گا۔‘‘کسی ایک مومن کو قصداً قتل کرنے والے کی ذلت آمیز سزا کا اندازہ یہاں سے لگا لیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ایک ہی آیت میں نہ صرف ایسے قاتل کے لیے دوزخ کی سزا کا ذکر کیا ہے بلکہ خَالِدًا، غَضِبَ، لَعَنَہ اورعَذَابًا عَظِیْمًا فرما کر اس کی شدّت و حدّت میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا ۔
ترجمہ : اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضب ناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کےلیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ (سورہ النساء، 4: 93)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کا خون بہانے، اُنہیں قتل کرنے اور فتنہ و فساد برپا کرنے کو نہ صرف کفر قرار دیا ہے بلکہ اِسلام سے واپس کفر کی طرف پلٹ جانا قرار دیا ہے۔ اسے اصطلاحِ شرع میں ارتداد کہتے ہیں ۔ امام بخاری علیہ الرّحمہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لَا تَرْتَدُّوْا بَعْدِي کُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ۔
ترجمہ : تم میرے بعد ایک دوسرے کو قتل کرنے کے سبب کفر کی طرف نہ لوٹ جانا ۔ (بخاري، الصحيح، کتاب الفتن، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم : لا ترجعوا بعدي کفارا يضرب بعضکم رقاب بعض، 6: 2594، رقم: 6668)(طبراني، المعجم الأوسط، 4: 269، رقم: 4166)

گویا کلمہ گو مسلمانوں کا آپس میں قتل عام صریح کفریہ عمل ہے جسے ارتداد سے لفظی مماثلت دی گئی ہے ۔

حافظ ابن کثیر (م774ھ) آیت وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا النساء، 4: 93 کی تفسیر میں قتلِ عمد کو گناہِ عظیم اور معصیتِ کبریٰ قرار دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ناحق کسی مسلمان کو قتل کرنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ اللہ عزوجل نے اسے شرک جیسے ظلمِ عظیم کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں : وہذا تہدید شدید ووعید اکید لمن تعاطی ہذا الذنب العظیم، الذی ہو مقرون بالشرک باللہ فی غیر ما آیۃ فی کتاب اللہ، حیث یقول سبحانہ فی سورۃ الفرقان : وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۔ (سورہ الفرقان، 25: 68)
وقال تعالی : {قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلاَّ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا} إلی أن قال: {وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَكُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۔ (سور الأنعام، 6: 151)
ترجمہ : اس (قتل عمد جیسے) گناہ عظیم کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے یہ شدید دھمکی اور موکد وعید ہے کہ قتل عمد کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ شرک جیسے گناہ کے ساتھ ملا کر بیان کیا گیا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سورہ فرقان میں ارشاد فرمایا ہے: {اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی پوجا نہیں کرتے اور نہ ہی کسی ایسی جان کو قتل کرتے ہیں جسے بغیر حق مارنا اللہ نے حرام فرمایا ہے اور نہ ہی بدکاری کرتے ہیں۔} اور ارشاد فرمایا: {فرما دیجئے! آؤ میں وہ چیزیں پڑھ کر سنا دوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں (وہ) یہ کہ تم اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ ... اور اس جان کو قتل نہ کرو جسے (قتل کرنا) اللہ نے حرام کیا ہے بجز حق (شرعی) کے۔ یہی وہ امور ہیں جن کا اس نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو ۔ (ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 1: 535)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر انسانی جان ومال کے تلف کرنے اور قتل و غارت گری کی خرابی و ممانعت سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : إِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وأعْرَاضَکُمْ عَلَيْکُمْ حَرَامٌ، کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هَذَا، فِی شَهْرِکُمْ هَذَا، فِی بَلَدِکُمْ هَذَا، إِلَی يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ. أَلَا، هَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوْا: نَعَمْ. قَالَ: اللهُمَّ اشْهَدْ، فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعٰی مِنْ سَامِعٍ، فَلاَ تَرْجِعُوْا بَعْدِي کُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ۔
ترجمہ : بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اِسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اِس دن کی حرمت تمہارے اِس مہینے میں اور تمہارے اِس شہر میں (مقرر کی گئی)ہے اُس دن تک جب تم اپنے رب سے ملو گے۔ سنو! کیا میں نے تم تک (اپنے رب کا) پیغام پہنچا دیا؟ لوگ عرض گزار ہوئے: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ رہنا۔ اب چاہیے کہ (تم میں سے ہر) موجود شخص اِسے غائب تک پہنچا دے کیونکہ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں کہ جن تک بات پہنچائی جائے تو وہ سننے والے سے زیادہ یاد رکھتے ہیں (اور سنو!) میرے بعد ایک دوسرے کو قتل کر کے کافر نہ ہو جانا ۔ (بخاري، الصحيح، کتاب الحج، باب الخطبة أيام مني، 2: 620، رقم: 1654،چشتی)(بخاري، کتاب العلم، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم : رب مبلغ أوعی من سامع، 1: 37، رقم: 67)مسلم، الصحيح، کتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات، باب تغليظ تحريم الدماء والأعراض والأموال، 3: 1305، 1306، رقم: 1679)

اس متفق علیہ حدیث مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صراحتاً یہ فیصلہ صادر فرما دیا کہ جو لوگ آپس میں خون خرابہ کریں گے، فتنہ و فساد اور دہشت گردی کی وجہ سے ایک دوسرے پر اسلحہ اٹھا ئیں گے اور مسلمانوں کا خون بہائیں گے وہ مسلمان نہیں بلکہ کفر کے مرتکب ہیں۔ لہٰذا انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے جبر و تشدد کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فَـلَا تَرْجِعُوْا بَعْدِي کُفَّارًا فرما کر کفر قرار دے دیا ۔

حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مومن کے قاتل کی سزا جہنم بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ وَأَهْلَ الْأَرْضِ اشْتَرَکُوْا فِي دَمِ مُؤْمِنٍ لَأَکَبَّهُمُ اللهُ فِي النَّارِ ۔
ترجمہ : اگر تمام آسمانوں و زمین والے کسی ایک مومن کے قتل میں شریک ہو جائیں تب بھی یقینا اللہ تعالیٰ ان سب کو جہنم میں جھونک دے گا ۔ (ترمذي، السنن، کتاب الديات، باب الحکم في الدماء، 4: 17، رقم: 1398)(ربيع، المسند، 1: 292، رقم: 757،چشتی)(ديلمي، مسند الفردوس، 3: 361، رقم: 5089)

قتل و غارت گری، خون خرابہ، فتنہ و فساد اور نا حق خون بہانا اِتنا بڑا جرم ہے کہ قیامت کے دن اللہ سبحانہ و تعالیٰ ایسے مجرموں کو سب سے پہلے بے نقاب کرکے کیفرِ کردار تک پہنچائے گا ۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خونریزی کی شدت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : أَوَّلُ مَا يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاء ۔
ترجمہ : قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون ریزی کا فیصلہ سنایا جائے گا ۔ (بخاري، الصحيح، کتاب الديات، باب ومن يقتل مؤمنا متعمدا، 6: 2517، رقم: 6471)(مسلم، الصحيح، کتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات، باب المجازاة بالدماء في الآخرة وأنها أول ما يقضي فيه بين الناس يوم القيامة، 3: 1304، رقم: 1678)(نسائي، السنن، کتاب تحريم الدم، باب تعظيم الدم، 7: 83، رقم: 3994)(أحمد بن حنبل، المسند، 1: 442)

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باہمی خون خرابہ اور لڑائی جھگڑے کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ قتل وغارت گری اتنا بڑا جرم ہے کہ اگر کوئی فرد یا طبقہ اس میں ایک مرتبہ ملوث ہو جائے تو پھر اسے اس سے نکلنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ امام بخاری کی روایت کردہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں : إِنَّ مِنْ وَرَطَاتِ الْأُمُوْرِ الَّتِي لَا مَخْرَجَ لِمَنْ أَوْقَعَ نَفْسَهُ، فِيْهَا سَفْکَ الدَّمِ الْحَرَامِ بِغَيْرِ حِلِّهِ ۔
ترجمہ : ہلاک کرنے والے وہ اُمور ہیں جن میں پھنسنے کے بعد نکلنے کی کوئی سبیل نہ ہو، اِن میں سے ایک بغیر کسی جواز کے حرمت والا خون بہانا بھی ہے ۔ (بخاري، الصحيح، کتاب الديات، باب ومن قتل مؤمنا متعمدًا فجزاؤه جهنم، 6: 2517، رقم: 6470،چشتی)(بيهقي، السنن الکبری، 8: 21، رقم: 15637)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنہ و فساد کے ظہور، خون خرابہ اور کثرت سے قتل و غارت گری سے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ العِلْمُ وَيُلْقَی الشُّحُّ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَکْثُرُ الْهَرْجُ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُمَا هُوَ؟ قَالَ: الْقَتْلُ، الْقَتْلُ ۔
ترجمہ : زمانہ قریب ہوتا جائے گا، علم گھٹتا جائے گا، بخل پیدا ہو جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج کی کثرت ہو جائے گی۔ لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ! ہرج کیا ہے؟ فرمایا کہ قتل، قتل (یعنی ہرج سے مراد ہے: کثرت سے قتلِ عام) ۔ (بخاری، الصحيح، کتاب الفتن، باب ظهور الفتن، 6: 2590، الرقم: 6652،چشتی)(مسلم، الصحيح، کتاب الفتن وأشراط الساعة، باب إذا تواجه المسلمان بسيفيهما،4: 2215، الرقم: 157)

جب ایک مرتبہ پُرامن شہریوں اور سول آبادیوں کو ظلم و ستم، جبرو تشدد اور وحشت و بربریت کا نشانا بنایا جائے اور معاشرے کی دیگر مذہبی و سیاسی شخصیات کی محض فکری و نظریاتی اختلاف کی بنا پر target killing کی جائے تو اس دہشت گردی کا منظقی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سماج افراتفری، نفسا نفسی ، بد امنی اور لڑائی جھگڑے کی آماج گاہ بن جاتا ہے۔ انہی گھمبیر اور خطرناک حالات کی طرف امام ابو داؤد علیہ الرّحمہ سے مروی درج ذیل حدیث مبارکہ اشارہ کرتی ہے : عَنْ عَبْد اللهِ بْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنهما قَالَ: کُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم فَذَکَرَ الْفِتَنَ، فَأَکْثَرَ فِي ذِکْرِهَا حَتَّی ذَکَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ. فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ! وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ؟ قَالَ : هِيَ هَرَبٌ وَحَرْبٌ ۔
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنوں کا ذکر فرمایا۔ پس کثرت سے ان کا ذکر کرتے ہوئے فتنہ احلاس کا ذکر فرمایا۔کسی نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ افراتفری، فساد انگیزی اور قتل و غارت گری ہے ۔ (أبوداود، السنن،کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن، 4: 94، رقم: 4242)

مسلمانوں کو (بم دھماکوں یا دیگر طریقوں سے) جلانےوالے جہنمی ہیں
سورۃ البروج کی آیت نمبر دس (10) - اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِo (بے شک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت دی پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لیے عذابِ جہنم ہے اور ان کےلیے (بالخصوص) آگ میں جلنے کا عذاب ہے) - کی تفسیر میں بعض مفسرین نے فتنے میں مبتلا کرنے سے آگ میں جلانا بھی مراد لیا ہے۔ اس معنی کی رُو سے خود کش حملوں، بم دھماکوں اور بارود سے عامۃ الناس کو خاکستر کر دینے والے فتنہ پرور لوگ عذابِ جہنم کے مستحق ہیں۔ مفسرین کے اقوال ملاحظہ فرمائیں : ⬇

وقال ابن عباس ومقاتل: {فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ} حرقوهم بالنار ۔
ترجمہ : حضرت ابن عباس اور مقاتل نے فرمایا: فَتَنُوا الْمُوْمِنِیْنَ کا مطلب ہے: (ان فتنہ پروروں نے) انہیں (یعنی مومنین کو) آگ سے جلا ڈالا ۔ (رازی، التفسير الکبير، 31: 111)

وأخرج عبد بن حميد وابن المنذر عن قتادة {اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ} قال: حرقوا ۔
ترجمہ : عبد بن حمید اور ابن منذر حضرت قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ {اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ} کا معنی آگ سے جلا کر ہلاک کر دینا ہے ۔ (سيوطي، الدر المنثور، 8: 466)

اسی معنی کو امام قرطبی اور ابو حفص الحنبلي نے بھی روایت کیا ہے ۔ (قرطبي، الجامع لأحکام القرآن، 19: 295))(أبو حفص الحنبلی، اللباب فی علوم الکتاب، 20: 253)

مسلمان کے قتل کو جائز سمجھنے اور انہیں جلانے والے نص قرآنی کے تحت نہ صرف دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں بلکہ عذابِ حریق کے مستحق بھی ٹھہرتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن بسر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مومنوں کو اذیت دینے والوں کو اپنی اُمت سے خارج کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : لَيْسَ مِنِّی ذُوْ حَسَدٍ وَلَا نَمِيْمَة وَلَا کَهَانَة وَلَا أَنَا مِنْهُ. ثُمَّ تَلا رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم هَذِهِ الآيَة : وَالَّذِيْن يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَيْرِ مَااکْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا ۔ (سورہ الأحزاب، 33: 58)
ترجمہ : حسد کرنے والا، چغلی کھانے والا اور کہانت والا مجھ سے نہیں (یعنی میری امت سے نہیں) اور نہ ہی میں اس سے ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت دیتے ہیں بغیر اس کے کہ انہوں نے کچھ (خطا) کی ہو تو بے شک انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ (اپنے سر) لے لیا ۔ (منذری، الترغيب والترهيب، 3: 324، رقم: 4275)(ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 21: 334)

امام فخر الدین رازی علیہ الرّحمہ رقم طراز ہیں : أن کلا العذابين يحصلان فی الآخرة إلا أن عذاب جهنم وهو العذاب الحاصل بسبب کفرهم، وعذاب الحريق هو العذاب الزائد علی عذاب الکفر بسبب أنهم أحرقوا المؤمنين ۔
ترجمہ : بے شک دونوں عذاب (عذابِ جہنم اور عذاب حریق) آخرت میں واقع ہوں گے، مگر فرق یہ ہے کہ عذابِ جہنم ان کے کفر کے سبب ہوگا، اور عذابِ حریق عذابِ کفر پر وہ زائد عذاب ہے جو انہیں مسلمانوں کو جلانے کے سبب ملے گا ۔ (رازی، التفسير الکبير، 31: 111)

اسی مفہوم کو صاحبِ جلالین نے بھی رقم کیا ہے ۔ وہ تحریر کرتے ہیں : اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ۔ بالإحراق ۔ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ ۔ بکفرهم ۔وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْق۔ أی عذاب إحراقهم المؤمنين فی الآخرة ۔
ترجمہ : وہ لوگ جنہوں نے مومن مرد و زن کو آگ میں جلا کر اذیت میں مبتلا کیا، پھر توبہ بھی نہ کی تو ان کے لئے ان کے کفر کی وجہ سے مومنین کو جلانے کی پاداش میں عذابِ حریق (جلائے جانے کا عذاب) ہوگا ۔ (تفسير الجلالين، 1: 801)

مسلمانوں کو قتل کرنے والے کی نفلی اور فرض عبادت بھی قبول نہیں ہوگی ۔ حضرت عبد اللہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا فَاعْتَبَطَ بِقَتْلِهِ لَمْ يَقْبَلِ اللهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا ۔
ترجمہ : جس شخص نے کسی مومن کو ظلم سے (ناحق) قتل کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی کوئی نفلی اور فرض عبادت قبول نہیں فرمائے گا ۔ (أبو داود، السنن، کتاب الفتن والملاحم، باب تعظيم قتل المؤمن، 4: 103، رقم: 4270)(طبراني، مسند الشاميين، 2: 266، رقم: 1311)(منذري، الترغيب والترهيب، 3: 203، رقم: 3691،چشتی)(عسقلاني، الدراية، 2: 259)(شوکاني، نيل الأوطار، 7: 197)

عبادت و ریاضت اور قتل و غارت گری کو ساتھ ساتھ چلانے والے اور انسانی حرمت و تقدس کو پامال کرکے اپنے اعمال و عبادات کو ذریعہ نجات سمجھنے والے ایسے انتہا پسندوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ نہ صرف ان کی عبادت ردّ کر دی جائے گی بلکہ ان کےلیے ،،فَلَھُمْ عَذَابُ جَھَنَّمَ وَلَھُمْ عَذَابُ الْحَرِیْق،، ۔ (سورہ البروج، 85: 10)
ترجمہ : (تو ان کے لیے عذابِ جہنم ہے اور ان کے لیے (بالخصوص) آگ میں جلنے کا عذاب ہے) کی دردناک وعید بھی ہے ۔

مسلمانوں کو اذیت میں مبتلا کرنا اور انہیں جبر و تشدد اور وحشت و بربریت کا شکار کرنا سخت منع ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو جہنم اور آگ کی درد ناک سزا دینے کا اعلان فرمایا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ِانَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ ۔
ترجمہ : بے شک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت دی پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لیے عذابِ جہنم ہے اور ان کےلیے (بالخصوص) آگ میں جلنے کا عذاب ہے ۔ (سورہ البروج، 85: 10)

حضرت ہشام بن حکیم بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ایسے لوگوں کو دردناک عذاب دے گا جو اس کی مخلوق کو اذیت دیتے ہیں۔ ارشاد نبوی ہے : إِنَّ اللهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا ۔
ترجمہ : اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو اذیت و تکلیف دیتے ہیں ۔ (مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب الوعيد الشديد لمن عذب الناس بغير حق ،4: 2018 ، رقم: 2613)

جملہ اَئمہ تفسیر نے اس آیت کے تحت یہی موقف اختیار کیا ہے کہ : مسلمانوں کو ظلم وجبر اور فتنہ و فساد کا نشانہ بنانے والوں کی سزا جہنم اور آگ ہے ۔ امام فخر الدین رازی علیہ الرّحمہ مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : کل من فعل ذلک وهذا أولی لأن اللفظ عام والحکم عام، فالتخصيص ترک للظاهر من غير دليل ۔
ترجمہ : جو بھی مسلمانوں کو اذیت ناک تکلیف میں مبتلا کرے (خواہ ایسا کرنے والا خود اصلاً مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس کے لیے عذاب جہنم ہے) یہ معنی زیادہ مناسب ہے کیونکہ لفظ عام ہے اور اس کا حکم بھی عام ہے اور اگر خاص کیا جائے تو یہ بغیر دلیل کے عام حکم کو خاص کرنا ہو گا ۔ (رازی، التفسير الکبير، 31: 111) ۔ اس لحاظ سے حکم الآیت کا اِطلاق زمانہ قدیم کے اَصْحَابُ الْاُخْدُوْد (1) وغیرہ کی طرح کلمہ گو دہشت گردوں پر بھی یکساں ہوگا ۔ (مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی محبت و بغض مومن و منافق کی پہچان

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت و بغض مومن و منافق کی پہچان


 محترم قارئینِ کرام : حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت و تکریم سے عاری دل ، سوائے منافقت خانے کے اور کچھ نہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ وعنھم تو منافقین کی پہچان ہی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا نام لے کر کرتے تھے ۔ جس کے چہرے پر مولا علی رضی اللہ عنہ کا نام سن کر خوشی آجاتی ، سمجھ جاتے وہ مومن ہے ۔ اور جس کے چہرے پر تنگی ، کڑواہٹ ، بغض و عداوت ، تکلیف و پریشانی کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں (جیسے آج بھی بعض حضرات کے چہروں پر ذکرِ و فضائلِ مولا علی رضی اللہ عنہ سے تکلیف کے آثار نمایاں ہوتے ہیں اور ان کی توانائیاں اس موضوع سے توجہ ہٹانے کےلیے فوراً حرکت میں آ جاتی ہیں) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سمجھ جاتے تھے کہ یہ منافق ہے ۔

علی ہیں‌ اہل بیتِ مصطفی میں‌ یہ روایت ہے
وہی ہے مومن کامل جسے اُن سے محبت ہے

عَنْ زِرٍّ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : وَالَّذِيْ فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَأَ النَّسْمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صلي الله عليه وآله وسلم إِلَيَّ أَنْ لَا يُحِبَّنِيْ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَّ لَا يُبْغِضَنِيْ إِلَّا مُنَافِقٌ ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ ۔
ترجمہ : حضرت زر بن حبیش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا (اور اس سے اناج اور نباتات اگائے) اور جس نے جانداروں کو پیدا کیا ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مجھ سے عہد ہے کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور صرف منافق ہی مجھ سے بغض رکھے گا ۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه مسلم في الصحيح کتاب الإيمان باب الدليل علي أن حب الأنصار و علي من الإيمان ، 1 / 86، الحديث رقم : 78،ابن حبان في الصحيح، 15 / 367، الحديث رقم : 6924، والنسائي في السنن الکبري، 5 / 47، الحديث رقم : 8153، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 365، الحديث رقم : 32064،چشتی،وأبويعلي في المسند، 1 / 250، الحديث رقم : 291، و البزار في المسند، 2 / 182، الحديث رقم : 560، و ابن ابي عاصم في السنة، 2 / 598، الحديث رقم : 1325)

عَنْ عَلِيٍّ : قَالَ لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صلي الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ لَا يُحِبُّکَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُکَ إِلاَّ مُنَافِقٌ ۔ قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَنَا مِنَ الْقَرْنِ الَّذِيْنَ دَعَالَهُمُ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم ۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ۔ وَقَالَ هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ ۔
ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے عہد فرمایا کہ مومن ہی تجھ سے محبت کرے گا اور کوئی منافق ہی تجھ سے بغض رکھے گا ۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، ابواب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب 5 / 643 ، الحديث رقم : 3736، چشتی)

عَنْ بُرَيْدَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إنَّ ﷲ أَمَرَنِيْ بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ، وَأخْبَرَنِيْ أنَّهُ يُحِبُّهُمْ. قِيْلَ : يَا رَسُوْلَ ﷲِ سَمِّهُمْ لَنَا، قَالَ : عَلِيٌّ مِنْهُمْ، يَقُوْلُ ذَلِکَ ثَلَاثاً وَ أَبُوْذَرٍّ، وَالْمِقْدَادُ، وَ سَلْمَانُ وَ أَمًرَنِيْ بِحُبِّهِمْ، وَ أَخْبَرَنِيْ أَنَّّهُ يُحِبُّهُمْ ۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ ابْنُ مَاجَةَ ۔ وَ قَالَ التِّرْمِذِيُّ. هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ ۔
ترجمہ : حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ﷲ تعالیٰ نے مجھے چار آدمیوں سے محبت کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ﷲ بھی ان سے محبت کرتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا یا رسول ﷲ ! ہمیں ان کے نام بتا دیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کہ علی بھی انہی میں سے ہے ، اور باقی تین ابو ذر ، مقداد اور سلمان ہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ان سے محبت کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں بھی ان سے محبت کرتا ہوں ۔ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، 5 / 636، ابواب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب، الحديث رقم : 3718، وابن ماجة في السنن، مقدمه، فضل سلمان وأبي ذرومقداد، الحديث رقم : 149، وأبونعيم في حلية الاولياء، 1 / 172)

عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ إِنَّا کُنَّا لَنَعْرِفُ الْمُنَافِقِيْنَ نَحْنُ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ بِبُغْضِهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِيْ طَالِبٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ۔
ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم انصار لوگ ، منافقین کو ان کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بغض کی وجہ سے پہچانتے تھے ۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح ابواب المناقب باب مناقب علي بن أبي طالب ، 5 / 635، الحديث رقم : 3717، و أبو نعيم في حلية الاولياء، 6 / 295، چشتی)

عَنِ أُمِّ سَلَمَةَ تَقُوْلُ : کَانَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : لَا يُحِبُّ عَلِيًّا مُنَافِقٌ وَلَا يُبْغِضُهُ مُؤْمِنٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.وَقَالَ. هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ ۔
ترجمہ : حضرت ام سلمہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ کوئی منافق حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت نہیں کر سکتا اور کوئی مومن اس سے بغض نہیں رکھ سکتا ۔ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث حسن ہے ۔ (أخرجه الترمذي في الجامع الصحيح، ابواب المناقب، باب مناقب علي، 5 / 635، الحديث رقم : 3717، و أبويعلي في المسند، 12 / 362، الحديث رقم : 6931 و الطبراني في المعجم الکبير، 23 / 375، الحديث رقم : 886، چشتی)

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ ﷲِ قَالَ : وَاللّٰهِ مَاکُنَّا نَعْرِفُ مُنَافِقِيْنَا عَلٰي عَهْدِ رَسُوْلِ ﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إِلَّا بِبُغْضِهِمْ عَلِيًّا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ ۔
ترجمہ : حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اپنے اندر منافقین کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض کی وجہ سے ہی پہچانتے تھے ۔ اس حدیث کو طبرانی نے ’’المعجم الاوسط‘‘ میں بیان کیا ہے ۔ (أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 264، الحديث رقم : 4151، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 132، چشتی)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنَّمَا دَفَعَ ﷲُ الْقُطْرَ عَنْ بَنِيْ إِسْرَئِيْلَ بِسُوْءِ رَأْيِهِمْ فِي أَنْبِيَائِهِمْ وَ إِنَّ ﷲَ يَدْفَعُ الْقُطْرَ عَنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ بِبُغْضِهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِيْ طَالِبٍ. رَوَاهُ الدَّيْلِمِيُّ ۔
ترجمہ : حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ﷲ تعالی نے بنی اسرائیل سے ان کی بادشاہت انبیاء کرام علیھم السلام کے ساتھ ان کے برے سلوک کی وجہ سے چھین لی اور بے شک ﷲ تبارک و تعالیٰ اس امت سے اس کی بادشاہت کو علی کے ساتھ بغض کی وجہ سے چھین لے گا ۔ اس حدیث کو دیلمی نے روایت کیا ہے ۔ (أخرجه الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 1 / 344، الحديث رقم : 1384، والذهبي في ميزان الاعتدال في نقد الرجال، 2 / 251)

حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما میں ہونے والے اختلاف اور معافی ، کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے دے دی تھی ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مولا علی رضی عنہ سے محبت کرتے تھے ۔ (تفسیر در منثور جلد 1 صفحہ 831 مترجم اردو)

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی بر حق ہے ۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ امت کے دو گروہوں میں صلح کروائیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی حق ہے ۔ اسی طرح دیگر صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کے متعلق خبریں بر حق ہیں ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والی رنجش و اختلاف اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی کی خبر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی اس فرمان کے بعد اس پر کیچڑ اچھالنے والے ، توہین کرنے والے اور اعتراضات کرنے والے کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان اقدس کی توہین نہیں کر رہے ؟ اے اہل ایمان سوچیے اور فیصلہ کیجیے اللہ ہمیں اہلبیت اطہار اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ادب کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور بے ادبی سے بچائے آمین ۔ 

صَحابَۂ کرام جو خود بھی بڑی عظمت و شان کے مالِک تھے ، وہ عظیمُ الشّان اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم اجمعین سے کیسی محبت رکھتے تھے اوراپنے قول و عمل سے اس کا کس طرح اِظْہار کیا کرتے تھے ! آئیے اس کی چند جھلکیاں دیکھتے ہیں : ⬇

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی تعظیم و توقیر بجا لاتے ، آپ کے لئے کھڑے ہوجاتے، آپ کے ہاتھ پاؤں کا بوسہ لیتے، مُشاوَرت کرتے اور آپ کی رائے کو ترجیح دیتے تھے ۔ (تہذیب الاسماء،ج 1 ص 244،چشتی)(تاریخ ابنِ عساکر ج 26،ص372)

حضرت عباس رضی اللہ عنہ بارگاہِ رسالت میں تشریف لاتے تو حضرت سیّدُنا ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ بطورِ اِحترام آپ کے لئے اپنی جگہ چھوڑ کر کھڑے ہوجاتے تھے ۔(معجمِ کبیر،ج 10،ص285، حدیث:10675)

حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہیں پیدل جارہے ہوتے اور حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان ذُوالنُّورَین رضی اللہ عنہما حالتِ سواری میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرتے تو بطورِ تعظیم سواری سے نیچے اُتر جاتے یہاں تک کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے گزر جاتے ۔ (الاستیعاب،ج 2،ص360)

ایک موقع پر حضرت ابوبکر صِدّیق رضی اللہ عنہ کے سامنے اہلِ بیت کا ذِکر ہوا تو آپ نے فرمایا:اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قُدْرت میں میری جان ہے ! رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قَرابَت داروں کے ساتھ حُسنِ سُلوک کرنا مجھے اپنے  قَرابَت  داروں سے صِلۂ رحمی کرنے سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے ۔ (بخاری،ج2،ص438،حدیث:3712،چشتی)

ایک بار حضرت صِدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے احترام کے پیشِ نظر اہلِ بیت کا احترام کرو۔(بخاری،ج2 حدیث: 3713)

حضرت عُقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صِدّیق  رضی اللہ عنہ نے ہمیں عَصْر کی نَماز پڑھائی ، پھر آپ اور حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم کھڑے ہوکر چل دئیے ، راستے میں حضرت حَسن کو بچّوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو حضرت صِدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے کندھے پر اُٹھا لیا اور فرمایا : میرے ماں باپ قربان! حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہم شکل ہو ، حضرت علی کے نہیں ۔ اس وقت حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم مُسکرا رہے تھے ۔ (سنن الکبریٰ للنسائی،ج 5،ص48، حدیث:8161)

ایک بار حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت سیّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہراء رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو فرمایا : اے فاطمہ! اللہ کی قسم! آپ سے بڑھ کر میں نے کسی کو حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا محبوب نہیں دیکھا اور خدا کی قسم ! آپ کے والدِ گرامی کے بعد لوگوں میں سے کوئی بھی مجھے آپ سے بڑھ کر عزیز و پیارا نہیں ۔ (مستدرک،ج 4،ص139، حدیث:4789،چشتی)

ایک موقع پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضراتِ صَحابَۂ کرام کے بیٹوں کو کپڑے عطا فرمائے مگر ان میں کوئی ایسا لباس نہیں تھا جو حضرت امام حسن اور امام حُسین رضی اللہ عنہم کی شان  کے لائق ہو تو آپ نے ان کے لئے یمن سے خُصوصی لباس منگوا کر پہنائے ، پھر فرمایا : اب میرا دل خوش ہوا ہے ۔(ریاض النضرۃ،ج1،ص341)

یوں ہی جب حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے وظائف مقرر فرمائے تو حضراتِ حَسَنَینِ کَرِیْمَین رضی اللہ عنہما کےلیے رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی قَرابَت داری کی وجہ سے اُن کے والد حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم کے برابر حصّہ مقرر کیا ، دونوں کےلیے پانچ پانچ ہزار دِرہم وظیفہ رکھا ۔ (سیراعلام النبلاء جلد 3 صفحہ 259)

حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم کے چند نُقُوش بھی آلِ ابوسفیان (یعنی ہم لوگوں) سے بہتر ہیں ۔ (الناھیۃ صفحہ 59)

حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم اور اہلِ بیت کے زبردست فضائل بیان فرمائے ۔ (تاریخ ابن عساکر،ج 42،ص415)

حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم کے فیصلے کو نافِذ بھی کیا اور علمی مسئلے میں آپ سے رُجوع بھی کیا ۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی ج 10 ص 205)(مؤطا امام مالک،ج2،ص259)

ایک موقع پر حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ضَرّار صَدائی سے تقاضا کرکے حضرت علیُّ الْمُرتضیٰ کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم کے فضائل سنے اور روتے ہوئے دُعا کی:اللہ پاک ابوالحسن پر رحم فرمائے ۔ (الاستیعاب،ج 3،ص209،چشتی)

یوں ہی ایک بار حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : یہ آبا و اَجْداد ، چچا و پھوپھی اور ماموں و خالہ کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ معزز ہیں ۔ (العقد الفرید،ج 5،ص344)

حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ ہم شکلِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ وسلَّم ہونے کی وجہ سے حضرت امام حَسَن کا احترام کرتے  تھے ۔ (مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص461)

ایک بار حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے امام عالی مقام حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ کی علمی مجلس کی تعریف کی اور اُس میں شرکت کی ترغیب دلائی ۔ (تاریخ ابن عساکر،ج14،ص179)

حضرت امیر مُعاویہ رضی اللہ عنہ نے سالانہ وظائف کے علاوہ مختلف مواقع پر حضراتِ حَسَنَینِ کَرِیْمَین کی خدمت میں بیش بہا نذرانے پیش کئے ، یہ بھی محبت کا ایک انداز ہے، آپ نے کبھی پانچ ہزار دینار، کبھی تین لاکھ دِرہم تو کبھی چار لاکھ درہم حتی کہ ایک بار 40 کروڑ روپے تک کا نذرانہ پیش کیا ۔ (سیراعلام النبلاء،ج 4،ص309)(طبقات ابن سعد،ج 6 ص 409)(معجم الصحابہ،ج 4،ص370)(کشف المحجوب ص 77)(مراٰۃ المناجیح،ج 8،ص460)

حضرت سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آلِ رسول کی ایک دن کی محبت ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے ۔ (الشرف المؤبد لآل محمد، ص92،چشتی)

نیز آپ فرمایا کرتے تھے : اہلِ مدینہ میں فیصلوں اور وِراثت کا سب سے زیادہ علم رکھنے والی شخصیت حضرت علی کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم کی ہے ۔ (تاریخ الخلفاء،ص135)

حضرت سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں جب بھی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں تو فَرطِ مَحبّت میں میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں ۔(مسند امام احمد،ج 3،ص632،چشتی)

ابومہزم رحمۃ اللہ  علیہ بیان کرتے ہیں : ہم ایک جنازے میں تھے تو کیا دیکھا کہ حضرت سیّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے کپڑوں سے حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ کے پاؤں سے مٹی صاف کررہے تھے ۔ (سیراعلام النبلاء،ج 4 ص 407)

عیزار بن حریث رحمۃ اللہ  علیہ کا بیان ہے کہ حضرت عَمْرو بن عاص رضی اللہ عنہ خانۂ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے ، اتنے میں آپ کی نظر حضرت امام حُسین رضی اللہ عنہ پر پڑی تو فرمایا:اس وقت آسمان والوں کے نزدیک زمین والوں میں سب سے زیادہ محبوب شخص یہی ہیں ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد 14 صفحہ 179،چشتی)

محترم قارٸینِ کرام : آپ نے بیان کردہ روایات میں پڑھا کہ حضراتِ صَحابَۂ کرام رضی  اللہ عنہم کس کس انداز سے اہلِ بیتِ اَطہار سے اپنی محبت کا اظہار کرتے، انہیں اپنی آل سے زیادہ محبوب رکھتے، ان کی ضَروریات کا خیال رکھتے، ان کی بارگاہوں میں عمدہ و اعلیٰ لباس پیش کرتے، بیش بہا نذرانے اُن کی خدمت میں حاضر کرتے، اُن کو دیکھ کر یا اُن کا ذِکر پاک سُن کر بے اختیار رو پڑتے ، ان کی تعریف و توصیف کرتے اور جاننے والوں سے اُن کی شان و عظمت کا بیان سنتے ۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ ساداتِ کرام اور آلِ رسول رضی اللہ عنہم کا بے حَدادب و احترام کریں ، ان کی ضَروریات کا خیال رکھیں ، ان کا ذِکرِخیر کرتے رہا کریں اور اپنی اولاد کو اہلِ بیت و صَحابَۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت و احترام سکھائیں ۔

اہلِ بیت رضی اللہ عنہم  کے محترم نفوسِ قدسیہ اور حضرات صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کے درمیان باہمی رشتہ داریاں ، تعلق ، محبت ، احترام واکرام اور اس کا اظہار ایک تاریخی حقیقت ہے۔ بعض ناعاقبت اندیش اس کے برعکس تاریخ سے ڈھونڈ کر من گھڑت اور بے بنیاد روایات کو بنیاد بنا کر اُن نفوسِ قدسیہ کی طرف ایسی باتوں کی نسبت کرتے ہیں جن سے اُن کا دامن صاف تھا۔ آج کی تحریر میں تصویر کے اصل اور حقیقی رخ کی ایک جھلک دکھانی ہے اور مستور حقائق کو واضح کرنا ہے، تاکہ اہل بیت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ماننے والے بھی باہمی محبت ومودت اور احترام کے ساتھ معاشرت کا مظہر بن سکیں ۔ خاص طور پر اہلِ بیت کرام اور خلیفۂ اول، خلیفۂ بلا فصل سیدنا ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہم کے درمیان محبت ومودت کا جو تعلق تھا، اس کا ذکر نہ صرف اہلِ سنت علماء کرام نے کیا، بلکہ اہلِ تشیع کے علماء نے بھی اسے بیان کیا ۔مضمون کے اس حصّے میں صرف شیعہ حضرات کی کتب سے اس حقیقت کو واضح کرنا ہے ، تاکہ اہلِ بیت عظام رضی اللہ عنہم سے محبت کا دعویٰ کرنے والے حضرات اُن کے نقشِ قدم پر چلیں اور معاشرہ میں اسی محبت ومودت کو فروغ مل سکے ۔

اہلِ بیت رضی اللہ عنہم  کا حضرت ابوبکر  رضی اللہ عنہ  کے نام پر اپنے بچوں کا نام رکھنا : ⏬

یہ عام فہم اور معقول بات ہے کہ آدمی اپنی اولاد اور بچوں کے نام ہمیشہ باکردار ، پسندیدہ ، نیک سیرت اور صالح لوگوں کے نام پر رکھتا ہے اور جس نام کا انتخاب کیا جاتا ہے ، وہ عقیدت ، محبت ومودت اور احترام کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔ ایک عام انسان بھی کسی ناپسندیدہ شخصیت اور اپنے دشمنوں کا نام اپنے بچوں کو نہیں دیتا ، یہی وجہ ہے کہ اہلِ بیت کرام  رضی اللہ عنہم کے مقدس نفوس نے بھی خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے عقیدت و محبت اور مودت کا اظہار مختلف طرح سے کیا ، ان میں سے ایک طریقہ یہ اختیار کیا کہ ان کے نام پر اپنے بچوں کا نام رکھا ۔

ابو الائمہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کا طرزِ عمل : ⏬

 اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم میں سے ابو الائمہ سیدنا مولا حضرت علی بن ابی طالب  رضی اللہ عنہ نے اسی محبت و مودت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک بیٹے کا نام سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نام پر ’’ابوبکر‘‘ رکھا ، مشہور شیعہ عالم ’’شیخ مفید‘‘ نے امیر المومنین رضی اللہ عنہ کی اولاد ، ان کے نام اور تعداد کے عنوان سے لکھا ہے : ’’۱۲-محمد الأصغر المکنی بأبي بکر ، ۱۳-عبید اللہ، الشہیدان مع أخیہما الحسین (ع) بألطف أمہما لیلی بنت مسعود الدارمیۃ ۔‘‘(الارشاد، ص:۱۸۶،چشتی)

یعنی ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صاحب زادوں میں سے محمد اصغر جن کی کنیت ابو بکر تھی اور عبید اللہ جو کہ لیلیٰ بنت مسعود دارمیہ کے بطن سے تھے، دونوں اپنے بھائی حضرت حسین رضی اللہ عنہ  کی معیت میں شہید کیے گئے ۔‘‘

مشہور شیعہ مؤرخ ’’یعقوبی‘‘ نے لکھا ہے : وکان لہ من الولد الذکور أربعۃ عشر ، ذکر الحسن والحسین ۔۔۔ وعبید اللہ وأبو بکر لا عقب لہما أمہما لیلی بنت مسعود الحنظلیۃ من بني تیم ۔ (تاریخ الیعقوبی، ج: ۲، ص:۲۱۳)
یعنی ’’حضرت علی  رضی اللہ عنہ  کی ۱۴ نرینہ اولاد تھی ، ان میں حضرات حسنین کریمین  رضی اللہ عنہما  کا تذکرہ کیا اور ان میں سے عبید اللہ اور ابوبکر کا نام بھی ذکر کیا، جن کی کوئی اولاد نہ تھی اور ان کی والدہ بنو تیم کی لیلیٰ بنت مسعود حنظلیہ تھیں ۔‘‘

شیعہ عالم ابو الفرج اصفہانی نے ’’مقاتل الطالبیین‘‘ میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ  اور اُن کے ساتھ کربلا میں شہید ہونے والے اہلِ خانہ کے عنوان سے لکھا ہے : ’’وکان منہم: أبو بکر بن علي بن أبي طالب وأمہ لیلٰی بنت مسعود ۔‘‘ (مقاتل الطالبیین ، ص:۱۴۲، ط: دار المعرفۃ، بیروت)

یہی بات ’’کشف الغمۃ‘‘ میں ہے اور مجلسی نے ’’جلاء العیون‘‘ (کشف الغمۃ، ج: ۲، ص: ۲۶۔ جلاء العیون، ص:۵۸۲) میں اسی طرح لکھا ہے ۔

کیا یہ اس بات پر دلیل نہیں کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ سے عقیدت تھی اور اُن کے درمیان محبت ومودت اور بھائی چارے کا رشتہ تھا ، تبھی انہوں نے اپنے بیٹے کا نام ابو بکر رکھا ؟

یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ حضرت مولا علی  رضی اللہ عنہ  کے یہ صاحب زادے حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کو خلیفۂ اول مقرر کیے جانے کے بعد پیدا ہوئے تھے ، بلکہ حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ کے اس دنیا سے جانے کے بعد اُن کی ولادت ہوئی تھی، کیا آج حضرت علی رضی اللہ عنہ  کے نام لیوا اور اُن کی محبت کا دم بھرنے والے شیعہ حضرات میں کوئی ایک بھی ایسا شخص ہے جو حضرت علی  رضی اللہ عنہ کی اتباع میں اپنے کسی بیٹے کا نام ’’ابوبکر‘‘ رکھ سکے ؟ کیا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے موالات رکھتے ہیں یا عملی طور پر اُن کی مخالفت کرتے ہیں ؟

حضرت مولا علی  رضی اللہ عنہ  کی اولاد کا طرزِ عمل : ⏬

خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  سے محبت ومودت کا یہ سلسلہ صرف حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ تک محدود نہیں تھا ، بلکہ اُن کے بعد ان کی آل واولاد نے اپنے والد بزرگوار کی پیروی کی اور انہی کا طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے اپنے بچوں کا نام حضرت ابو بکر  رضی اللہ عنہ  کے نام پر رکھا ۔

حضرت امامِ حسن رضی اللہ عنہ  کے صاحبزادے کا اسم گرامی : ⏬

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا  کے بڑے صاحب زادے ، نواسۂ رسول حضرت امامِ حسن رضی اللہ عنہ  جن کو شیعہ‘ امامِ ثانی اور امامِ معصوم کا درجہ دیتے ہیں ، انہوں نے اپنے ایک بیٹے کا نام ’’ابوبکر‘‘ رکھا ، تاریخِ یعقوبی اور منتہی الآمال میں ہے : ’’وکان للحسن من الولد ثمانیۃ ذکور وہم الحسن بن الحسن وأمہ خولۃ  وأبوبکر وعبد الرحمٰن لأمہات أولاد شتی وطلحۃ وعبید اللہ ۔ (شیعہ کتب تاریخ الیعقوبی، ج: ۲، ص: ۲۲۸،چشتی)(منتہی الآمال، ج: ۱، ص: ۲۴)
یعنی ’’حضرت حسن رضی اللہ عنہ  کی آٹھ نرینہ اولاد تھی، جن میں سے حسن بن حسنؓ کی والدہ کا نام خولہ تھا، عبد الرحمٰن اور ابو بکر اُمِ ولد سے تھے، طلحہ اور عبید اللہ بھی آپ کے صاحبزادے تھے ۔‘‘

اصفہانی نے مقاتل الطالبیین، ص:۸۷) میں لکھا ہے کہ ابو بکر بن حسن بن علی بن ابی طالب بھی اپنے چچا حضرت حسین  رضی اللہ عنہ  کے ساتھ کربلا میں شہید ہونے والوں میں سے تھے، انہیں عقبہ غنوی نے شہید کیا تھا ۔

حضرت امامِ حسین بن علی رضی اللہ عنہما  کے صاحبزادے کا اسمِ گرامی : ⏬

حضرت امامِ حسین بن علی  رضی اللہ عنہما  نے بھی اپنے ایک صاحب زادے کا نام ’’ابوبکر‘‘ رکھا تھا ، معروف شیعہ مؤرخ نے ’’التنبیہ والإشراف‘‘ میں شہداء کربلا کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے : ’’وممن قتلوا في کربلاء من ولد الحسین ثلاثۃ، علي الأکبر وعبد اللہ الصبي وأبوبکر بنوا الحسین بن عليؓ۔‘‘ (شیعہ کتاب التنبیہ والاشراف، ص: ۲۶۳،چشتی)

یعنی ’’حضرت حسین  رضی اللہ عنہ  کی اولاد میں سے آپ کے تین صاحب زادے علی الاکبر، عبد اللہ اور ابوبکر کربلا میں شہید ہوئے ۔‘‘

امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کی کنیت : ⏬

’’کشف الغمۃ‘‘ میں لکھا ہے کہ : ’’امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ  کی کنیت ’’ابوبکر‘‘ تھی ۔‘‘ (شیعہ کتاب کشف الغمۃ، ج: ۲، ص: ۷۴)

حضرت امامِ حسن بن حسن بن علی رضی اللہ عنہم کے صاحبزادے کا نام : ⏬

حضرت اماِ حسن بن امامِ حسن بن علی رضی اللہ عنہم نے اپنے ایک صاحب زادے کا نام ’’ابوبکر‘‘ رکھا تھا ، چنانچہ مقاتل الطالبیین، ص:۱۸۸، ط: دار المعرفۃ ، بیروت) میں اصفہانی کی محمد بن علی حمزہ علوی سے روایت ہے کہ : ’’ابراہیم بن حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب کے ساتھ شہید ہونے والوں میں ابو بکر بن حسن بن حسن بھی تھے ۔‘‘

حضرت امام موسیٰ بن جعفر رضی اللہ عنہما جن کا لقب کاظم ہے ، انہوں نے بھی اپنے پیش رو بزرگوں کی طرح اپنے ایک بیٹے کا نام ’’ابوبکر‘‘ رکھا ۔ (کشف الغمۃ، ج: ۲، ص:۲۱۷)

اصفہانی نے ذکر کیا ہے کہ : حضرت امام علی رضا رضی اللہ عنہ کی کنیت ’’ابوبکر‘‘ تھی ، اسی کتاب میں عیسیٰ بن مہران کی ابو الصلت ہروی سے روایت ہے کہ ایک دن مامون نے مجھ سے ایک مسئلہ پوچھا ، میں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ : ’’ ہمارے ’’ابوبکر‘‘ نے کہا ۔‘‘ عیسیٰ بن مہران کہتے ہیں کہ میں نے ابو الصلت سے پوچھا کہ آپ کے ابو بکر سے کون مراد ہے ؟ انہوں نے کہا کہ علی بن موسی الرضا ، ان کی کنیت ’’ابوبکر‘‘ تھی ۔ (مقاتل الطالبین، ص:۵۶۱-۵۶۲)

حضرت امام موسیٰ کاظم  رضی اللہ عنہ کی بیٹی کا نام : ⏬

یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک بیٹی کا نام حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  کی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے نام پر عائشہ رکھا تھا ، مشہور شیعہ عالم شیخ مفید نے موسیٰ بن جعفر کے احوال واولاد کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ : ’’ابو الحسن موسیٰ کے سینتیس(۳۷) بیٹے اور بیٹیاں تھیں، بیٹیوں میں فاطمہ ، عائشہ اور اُمِ سلمہ تھیں ۔‘‘ (شیعہ کتاب الارشاد، ص:۳۰۲-۳۰۳، الفصول المہمۃ، ص:۲۴۲،چشتی)

حضرت امام علی بن حسین رضی اللہ عنہما کی صاحبزادی کا نام : ⏬

حضرت امام علی بن حسین رضی اللہ عنہما نے بھی اپنی ایک صاحب زادی کا نام ’’عائشہ‘‘ رکھا تھا ۔ (کشف الغمۃ، ج: ۲، ص: ۹۰)

حضرت امام علی بن محمد الہادی رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی ایک بیٹی کا نام ’’عائشہ‘‘ رکھا تھا، چنانچہ شیخ مفید نے لکھا ہے : ’’وتوفي أبو الحسن علیہما السلام في رجب سنۃ أربع وخمسین ومائتین، ودفن في دارہ بسرّ من رأی، وخلف من الولد أبا محمد الحسن ابنہ وابنتہ عائشۃ ۔ ‘‘ (کشف الغمۃ، ص:۳۳۴۔ الفصول المہمۃ، ص:۲۸۳)

یعنی ’’ابو الحسن رجب ۲۵۴ ہجری میں فوت ہوئے اور ’’سُرَّ مَنْ رَاٰی‘‘ میں اپنے گھر میں دفن کیے گئے ، انہوں نے اولاد میں بیٹا ابو محمد حسن اور بیٹی عائشہ چھوڑی ۔‘‘

اس کے علاوہ بنو ہاشم کے کئی بزرگوں نے اپنے بچوں کا نام ’’ابوبکر‘‘ رکھا تھا ۔‘‘ (شیعہ کتاب مقاتل الطالبیین، ص:۱۲۳،چشتی)

آلِ بیت رضی اللہ عنہم کے ان مقدس نفوس کا اپنی اولاد کا نام ’’ابوبکر‘‘ اور ’’عائشہ‘‘ رکھنا اِن ناموں سے عقیدت ومحبت اور احترام و مودت کی دلیل ہے اور یہی حقیقت ہے ۔ اللہ تعالیٰ اہلِ بیت ( رضی اللہ عنہم ) کے نام لیوا اور محبت کا دم بھرنے والوں کو اپنے اکابر وائمہ کی زندگی کے اُن روشن پہلوؤں سے رہنمائی لینے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

قرونِ ثلاثہ کی تاریخ فرقہ باطلہ کی وجہ سے بے پناہ تحریف کا شکار رہی ، لوگوں کو اصل سے گمراہ کرنے کےلیے بے شمار روایات گھڑی گئیں ، صحیح روایات میں تحریف کی گئی ۔ تاریخِ صحابہ (رضی اللہ عنہم) کو مسخ کرنے کے اس عمل کی ابتدا تیسری صدی کا نصف گزرنے کے بعد ہوئی اور اس طرز عمل سے عظیم ترین ہستیوں کی تاریخ میں بھی شگاف پیدا ہو ئے ۔ اصحاب و اہل بیت رسول رضی اللہ عنہم کے بارے میں قرآن و حدیث کی گواہی کے برعکس ایک غلط تاثر سامنے آیا ۔

قرآن و حدیث تو ان کی عدالت ، امانت ، دیانت ، آپس کی محبت پر شاہد ہیں ، اگر تاریخ پر بھی تحقیقی نگاہ ڈالی جائے تو ہمیں تاریخ سے بھی کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے احوال اور اُن کی صحیح روایات میں ایسی کوئی چیز نہیں ملتی جس سے یہ معلوم ہو کہ : حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ناخوش تھے یا وہ ان سے ناراض تھے جیسا کہ رافضی و ان کے ہمنوا نیم تفضیلی بغضیے رافضی حضرات ان کی طرف یہ باتیں منسوب کرتے ہیں ۔ بلکہ اس کے برعکس ۔ تمام مورخین اس خوشگوار حققیت پر متفق ہیں کہ : حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی لخت جگر سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا ، امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے بیاہ دی تھی ۔ {بحوالہ شیعہ کتاب : الکافی ، ج:5 ، ص:346}

حضرت مولا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیوہ اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے شادی کی تھی یوں محمد بن ابوبکر صدیق ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ربیب تھے ۔

امیرالمومنین حضرت مولا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹوں کے نام ابوبکر ، عمر اور عثمان (رضی اللہ عنہم) کے ناموں پر رکھے ۔ (معرفة الصحابة ، ج:1 ، صفحہ 309،چشتی)

حضرت امامِ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے اپنے بیٹے کا نام ابوبکر رکھا اور حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہما نے اپنے بیٹے کا نام عمر رکھا ۔ حضرت موسیٰ بن جعفر الصادق ہاشمی نے اپنے بیٹے کا نام عمر اور بیٹی کا نام عائشہ رکھا ۔ (سیر اعلام النبلاء ، ج:3 ، ص:279)

حضرت امامِ جعفر صادق بن محمد رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ مجھے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دو مرتبہ جنا ہے ۔ (کیونکہ ان کی ماں ام فروہ ، قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق کی بیٹی تھیں اور ان کی نانی حضرت اسماء ، عبدالرحمٰن بن ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہم کی دختر تھیں) ۔ (سیر اعلام النبلاء ، ج:6 ، ص:255،چشتی)

اس طرح تاریخ سے کئی ایسی روایات پیش کی جا سکتی ہیں جو اصحاب رسول رضی اللہ عنہم کے بارے میں قرآن کی آیت ‘رحماء بینھم ‘ کی مصداق ہیں ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کے یہ اعمال ظاہر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے پیشرو صحابہ کرام سے یگانگت اور محبت کا ثبوت دیا۔ اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ امارت و خلافت میں منصب قضا کو قبول فرمایا تھا اور شیخین کریمین اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مدح فرمائی تھی ، ان کے خلاف بغاوت نہیں کی ، اپنے دور میں ان کے کسی قانون کو منسوخ نہیں کیا ، ان کے خاندان کے ساتھ رشتہ داریاں بڑھائیں ۔

تاریخ کا مطالعہ کریں تو شروع سے اصحابِ رسول رضی اللہ عنہم کی مخالفت اور دشمنی ایک گروہ کا خاصہ بنی ۔ اس کے ساتھ ایک اور گروہ بھی وجودمیں آیا جو اس کے الٹ تھا یہ آلِ بیت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عداوت رکھتا تھا اور ہے ۔ اس گروہ کے لوگ حضرت علی اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہم سے بغض و دشمنی روا رکھتے ہیں ۔ پہلا گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب کرام کے فضائل و مناقب انہیں نہیں دینا چاہتا ، یہ گروہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب کا منکر ہے ۔ ان دونوں انتہاؤں کی درمیانی راہ ہی حق و صواب کی راہ ہے ۔ یعنی وہ راہ جو ہمیں سکھائے کہ : تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے یکساں محبت رکھی جائے ، ان کی نیکیوں اور عظمتوں کا دل سے احترام کیا جائے اور فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مطابق ان کی خطاؤں پر سب و شتم سے باز رہا جائے ۔ اور اہل بیتِ اطہات رضی اللہ عنہم سے محبت رکھی جائے اور بغیر کسی غلو کے ، انہیں ان کے اسی مقام و مرتبے پر رکھا جائے جو اللہ نے ان کو عطا کیا ہے ۔

اہل بیتِ اطہار خود بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمومی گروہ میں شامل ہیں اور صحابہ کرام کا یہ گروہ ایسا مقدس گروہ ہے جس کا ہم مسلمانوں پر تاقیامت احسان ہے ۔ اس گروہ کا معاملہ دوسرے گروہوں جیسا نہیں کیونکہ ان کا علم اور عمل اس قدر وسیع اور خالص تھا کہ اولین و آخرین میں سے کوئی امتی ان سے آگے نہ بڑھ سکا اور نہ ہی ان کے برابر ہو سکے گا ۔ کیونکہ یہی تو وہ ہستیاں تھیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے پسندیدہ دین کو عزت بخشی اور اسے تمام ادیان و مذاہب پر غلبہ عطا فرمایا ۔ آخر میں اہلِ تشیع اور ان کے ہمنوا نیم رافضی حضرات کو خاص طور پر تعلیم یافتہ اور نوجوانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ تصویر کے اس رُخ پر بھی غور کریں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ ائمہ کرام  رضی اللہ عنہم کی زندگی کے ان حقائق کو ان سے کیوں چھپایا جا رہا ہے ؟ ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

Monday, 30 January 2023

امن ، انسانی حرمت و حقوق ، دھشت گردی اور اسلام حصّہ اوّل

امن ، انسانی حرمت و حقوق ، دھشت گردی اور اسلام حصّہ اوّل
محترم قارٸینِ کرام : اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا ۔ (الاحزاب، 33 : 21)
ترجمہ : فی الحقیقت تمہارے لیے رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونۂِ (حیات) ہے ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ (سے ملنے) کی اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتا ہے ۔

ہم انسانی معاشرے کے ان پہلوؤں اور مسائل پر روشنی ڈالیں گے جن کے بارے میں اسلام کی نہایت غلط تعبیر و تشریح کی جا رہی ہے اور فی زمانہ یہ موضوعات پوری دنیا میں زیر بحث ہیں ۔ اسلام چودہ صدیاں قبل بنی نوع انسان کو رشد و ہدایت دینے کے لیے آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا لیکن آج بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُسوہ حسنہ تمام دنیا کےلیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ انفرادی و اجتماعی سطح پر انسانی زندگی کے ہر پہلو میں کئی گنا تبدیلی آنے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کسی اور شخصیت کی زندگی نمونہ حیات ہے نہ اسلام کے سوا کوئی مذہب کامل رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ اور یہ سوال اس لیے نہیں کہ ہم بحیثیت مسلمان خود کو مطمئن کر سکیں بلکہ اس لیے بھی کہ اغیار کو اسلام کی عظمت کا قائل کیا جا سکے ۔ آج ہماری زندگی کا سیاسی و عمرانی پہلو ہو یا معاشرتی و معاشی پہلو، علمی پہلو ہو یا نفسیاتی پہلو ، مذہبی پہلو ہو یا اقتصادی ۔ باوجود ان تمام تبدیلی تبدیلیوں کے انسانیت آج بھی اُسی درِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سجدہ ریز ہو رہی ہے اور اسلام سے ہی ہدایت اور رہنمائی پاتی ہے ۔ اس کےلیے ہمیں اُس دور اور معاشرے کا مطالعہ کرنا ہوگا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہوئی ۔ اسلام سے قبل خطہ عرب میں ہر سُو ظلم و بربریت کا رواج تھا، قبائلی عداوتیں اپنے عروج پر تھیں ، اخلاق و مروت کا نام و نشان تک نہ تھا، انسانی حقوق اور تکریم کا تصور بھی نہ تھا یہاں تک کہ خواتین کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا اور بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، معاشرے میں سچائی و رحم دلی اور علم کا نام و نشان بھی نہیں تھا، قوتِ حافظہ پر فخر کیا جاتا تھا، صرف خاندانی تفاخر اور نسلی تعصب کو ترجیح دی جاتی تھی۔ بے حیائی اس قدر عام تھی کہ خانہ کعبہ کا طواف بھی عریاں حالت میں کیا جاتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب دیگر تمام ترقی یافتہ تہذیبیں دم توڑ چکی تھیں، جیسے مصری تہذیب اپنی تمام تر ترقی کے باوجود رُوبہ زوال تھی، اسی طرح یونانی، ایرانی اور ہندی تہذیبیں تھیں جو معاشرے میں مؤثر کردار نہیں رکھتی تھیں ۔ اندریں حالات ربِ کائنات نے بنی نوع انسان پر احسان فرمایا اور اپنے حبیب مکرم نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنا کر بھیجا ۔

اسلامی تعلیمات کا مجموعی خاکہ

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو برابری، آزادی، سخاوت اور تحمل و رواداری کا درس دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعلیمی انقلاب کی داغ بیل ڈالی اور معاشرتی مساوات بھائی چارے اور انسانی تکریم کا پرچار کیا۔ وہ معاشرہ جس میں تین سو ساٹھ بتوں کی پوجا کی جاتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو پہلی وحی سے ہی ایک رب کی پرستش کی تعلیم دی اور انہیں علم کی طرف راغب کیا، لوگوں کو لکھنے کی تعلیم دی اور انہیں embryology سے متعلقہ مضامین سکھائے۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہلا پیغام ہی پیغامِ علم تھا جس کے ذریعے انسان کو شعور عطا فرمایا گیا اور اُسے تکریم انسانیت کی تعلیم دی۔ ارشاد فرمایا :
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ ۔ (سورہ بنی اسرائيل، 17 : 70)
ترجمہ : اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی ۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مساوات اور اخوت و بھائی چارے کی فضا قائم کی ، جسے قرآن یوں بیان کرتا ہے : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى ۔ (سورہ الحجرات، 49 : 13)
ترجمہ : اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا ۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ۔ (سورہ النساء، 4 : 1)
ترجمہ : اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتدائ) ایک جان سے کی ۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاشرتی و سماجی انصاف کا درس دیا :
قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ ۔ (سورہ الاعراف، 7 : 29)
ترجمہ : فرما دیجیے : میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آزادی کا تصور دیا :
لَآ اِکْرَاهَ فِی الدِّيْنِ ۔ (سورہ البقرة، 2 : 256)
ترجمہ : دین میں کوئی زبردستی نہیں ۔
یہ تو تھا اسلامی تعلیمات کا عمومی خاکہ ۔ اب ہم اس کے چند مخصوص گوشوں پر روشنی ڈالیں گے ۔

اسلام کا تصورِ امن

سب سے پہلے تصورِ امن پر گفتگو کریں گے ۔ عرب معاشرہ تشدد ، ظلم و وحشت اور سفاکی سے بھرپور معاشرہ تھا، لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو امن و سلامتی عام کرنے پر زور دیا : عن البراء بن عازب رضی الله عنه قال : قال رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم : أفشوا السلام تسلموا ۔ (مسند احمد بن حنبل، 4 : 286،چشتی)
اِس حدیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امن و سلامتی عام کرنے پر زور دیا اور انہیں یہ نوید دی کہ اس طرح تم بھی دائرۂ امن میں آجاؤ گے ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّی تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّی تَحَابُّوا، أَفَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی أَمْرٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَکُمْ ۔
ترجمہ : قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم جنت میں داخل نہیں ہوگے جب تک ایمان نہ لاؤ اور تمہارا ایمان کامل نہیں ہوگا جب تک تم ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتاؤں کہ اسے کرو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے ؟ آپس میں سلام کو پھیلاؤ ۔ (سنن ابی داو، کتاب الادب، رقم : 5193)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی ایک دوسرے مقام پر مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لا تدخلوا الجنة حتی تسلموا، ولا تسلموا حتی تحابوا وأفشوا السلام تحابوا، وإياکم والبغضة فإنها هی الحالقة. لا أقول لکم تحلق الشعر ولکن تحلق الدين ۔ (الادب المفرد)
ترجمہ : تم اس وقت جنت میںداخل نہیں ہوگے جب تک اسلام نہ لاؤ اور تم اس وقت اسلام نہ لاؤ گے جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ (لوگو!) سلام عام کرو تم باہم محبت کرنے لگو گے ۔ اور بغض سے بچو کیونکہ یہ کاٹنے والا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ تمہاری گردنیں کاٹے گا بلکہ یہ تمہارا دین کاٹے گا ۔

ان احادیث میں اور دیگر کئی مواقع پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس معاشرے کو امن و سلامتی عام کرنے کا حکم فرمایا جہاں جنگ و جدل انسانی گھٹی میں رچی بسی تھی۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کلی طور پر ایک پُراَمن اور محفوظ معاشرے کا قیام چاہتے تھے جہاں کسی کی جان، مال، آبرو غیر محفوظ نہ ہو۔ ان احادیث مبارکہ سے مسلمانوں کو باہمی تعلق کا ایک واضح اور صاف راستہ بتایا گیا ۔ جب کہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان یہود کے ساتھ بھی نرمی اختیار کرنے کا حکم فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بددعا دے رہے تھے ۔ عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها أَنَّ يَهُودَ أَتَوْا النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْکُمْ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ : عَلَيْکُمْ، وَلَعَنَکُمْ اﷲُ وَغَضِبَ اﷲُ عَلَيْکُمْ. قَالَ : مَهْلًا يَا عَائِشَةُ! عَلَيْکِ بِالرِّفْقِ وَإِيَّاکِ وَالْعُنْفَ وَالْفُحْشَ ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ کچھ یہودی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا : تمہارے اوپر موت ہو۔ حضرت عائشہ نے جواباً کہا : تمہارے اوپر بھی ہو اور اللہ تم پر لعنت کرے اور تم پر اللہ کا غضب ہو۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ! جانے دو ، نرمی اختیار کرو ۔ نیز کج خلقی اور بدگوئی سے بچو ۔ (صحیح بخاری، کتاب الادب، رقم : 5683)

بیعت عقبہ اُولی کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یثرب سے آئے ہوئے بارہ رکنی وفد سے درج ذیل نکات پر حلف لیا : اللہ تعالیٰ اور اس کی وحدانیت پر ایمان لاؤ گے ۔ کبھی چوری نہیں کرو گے ۔ کبھی بدکاری نہیں کرو گے ۔ کبھی اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور نہیں کرو گے ۔ کسی پر بہتان نہیں باندھو گے ۔ جو کچھ میں تم سے کہ رہا ہوں اگر وہ اچھا ہے تو اس کی پیروی کرو گے ۔
اہلِ یثرب سے لیے جانے والے پہلے حلف کے نکات پر غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مکہ کی دشمنی کا کوئی ذکر نہیں کیا اور نہ اپنے اوپر ہونے والی زیادتیوں کا بدلہ لینے کا کوئی عندیہ دیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اخلاقی، معاشرتی و سماجی اصلاح پر زور دیا اور انہیں تکریم انسانیت کی تعلیم دی۔ یہ تعلیمات کا پہلا پیکج تھا جو یثرب سے آئے ہوئے پہلے وفد کو دیا گیا۔ بعد ازاں اُس وفد نے یہ تعلیمات پھیلانا شروع کیں ۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت فرما کر گئے تو اہل مدینہ کے دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے محبت کا سمندر موجزن تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ان برائیوں سے نجات دلائی جو صدیوں سے ان کے اندر موجود تھیں۔ یہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درج ذیل نکات پر مشتمل پہلا خطبہ دیا : اے لوگو ! اﷲ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ تمہارے اعمال کی اصلاح ہوسکے ۔
ہمیشہ ذہن نشین رکھو کہ تمہیں روزِ محشر اُس خداے وحدہ لاشریک کے حضور اپنے اعمال پر جواب دہ ہونا ہے ۔
صدقہ و خیرات کی کثرت کرو ۔
اپنے رویہ اور باتوں میں ہمیشہ نرمی اور رحم دلی اختیار کرو اور اپنے دل کو سخت اور ظالم نہ ہونے دیں ۔
نفرت کی بجائے ایک دوسرے سے محبت کریں ۔
اپنے نفس، دل اور ذہن کے شرانگیز پہلو سے پناہ مانگیں ۔
قرآن حکیم سے رہنمائی حاصل کریں ۔
ہمیشہ اپنے وعدوں کی پاس داری کریں ۔
مذکورہ بالا شقیں واضح کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک فلاحی معاشرے کا قیام چاہتے تھے جس کی بنیاد غریب پروری اور احسان پر ہو۔ جہاں لوگ امن و آشتی اور صلح پسندی کے ساتھ رہیں، جہاں ہر ایک کے حقوق محفوظ ہوں، کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ یہ نکات آج کے ان رہنماؤں سے سوال کر رہے ہیں جو جہاد کے نام پر امت کے نوجوانوں اور پوری دنیا کو گم راہ کر رہے ہیں۔ نیز یہ نکات مغربی دنیا کے حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہیں جو اسلام کو تشدد، دہشت گردی اور انتہا پسندی سے تعبیر کرتے ہیں ۔

مدینہ آمد کے بعد اقداماتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ آمد کے بعد درج ذیل اقدامات کو تمام امور پر ترجیح دی : ⬇
1 ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ سے خطاب فرماتے ہوئے باہمی محبت و یگانگت کے فروغ اور لوگوں کو اپنے قول و فعل اور رویے میں نرمی اور رحم دلی اختیار کرنے کا حکم دیا ۔
2 ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو پہلا کام کیا وہ مواخات کا تھا ، جس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محبت ، اخوت اور امن کی بنیاد پر سماجی استحکام چاہتے تھے ۔
3 ۔ مواخات کے بعد جو کام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا وہ مدینہ کے یہود اور دوسرے غیر مسلم قبائل کے ساتھ سیاسی معاہدۂ امن تھا، جس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریاست مدینہ کو آئین دیا جو کہ دنیا کا پہلا تحریری آئین تھا ۔

آئینی تاریخ عالم

اگر ہم دنیا کی آئینی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس سے بھی آئینِ ریاستِ مدینہ کی اہمیت و فوقیت دوچند ہو جاتی ہے۔
٭ برطانیہ میں آئینی تاریخ کا آغاز 1215ء میں میگنا کارٹا کی صورت میں ہوا جس میں محدود سطح پر حقوق دیئے گئے۔۔۔ بعد ازاں Bill of Rights آیا جس کے بعد 1700ء میں Act of Settlement پاس ہوا۔
٭ اسی طرح امریکہ کی آئینی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 1776ء میں Declaration of Independence بنا۔۔۔ پھر ستمبر 1787ء میں Philadelphia Convention میں امریکہ کا پہلا آئین وجود میں آیا، اس دوران آئینی طور پر غلامی برقرار رہی۔۔۔ 1868ء میں تیرھویں اور چودھویں ترمیم کے ذریعے بنیادی انسانی حقوق کو آئین کا حصہ بنایا گیا۔۔۔ 1920ء میں انیسویں ترمیم کے ذریعے عورت کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔ یہی حالات آسٹریلوی، فرانسیسی اور جرمن سیاسی نظاموں اور آئین کے ہیں ۔

تاریخ اسلامی آئین سازی

اس مختصر تجزیے کے بعد ہم اسلامی آئین سازی کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ مغربی دنیا میں تمام حقوق کو آئینی تحفظ پچھلے ڈیڑھ دو سو سال کے عرصے کے دوران حاصل ہوا جب کہ اسلامی تاریخ میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چودہ صدیاں قبل 63 شقوں پر مشتمل دنیا کا پہلا تحریری آئین دیا۔ اس آئین کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام قوموں اور قبائل، چاہے وہ مسلمان ہوں، یہود ہوں یا عیسائی وغیرہ۔ ان تمام کو ایک قوم قرار دیا۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریاست مدینہ کا بنیادی ڈھانچہ تشکیل دیا۔۔۔ devolution کے ذریعے حکومت کو وفاقی، صوبائی اور لوکل سطحوں پر قائم کیا۔۔۔ اُس دور میں پہلی آئینی اسمبلی قائم ہوئی اور قوم کا تصور اس زمانے میں دیا جب بادشاہ کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون کا درجہ رکھتا تھا اور پوری دنیا تہذیب اور انسانی حقوق کے تصور سے ناآشنا تھی۔۔۔ مقامی رسوم و روایات کو آئینی تحفظ دیا گیا۔۔۔ تمام مذاہب کے پیروکاروں کو مذہبی آزادی دی گئی اور دہشت گردی کو قانونی طور پر ban کر دیا گیا۔۔۔ آئین مدینہ کے آرٹیکل نمبر 16 کے ذریعے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اجتماعی رد عمل کا اظہار فرمایا گیا۔۔۔ مدینہ کو جائے امن قرار دیا گیا اور مدینہ کی حدود کے اندر قتال، دہشت گردی اور ظلم کو جرم قرار دیا گیا ۔

ان تمام تصریحات کے بعد جب ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑاتے ہیں تو نہایت کرب ناک منظر دکھائی دیتا ہے جہاں چند لوگوں اور گروہوں نے اسلامی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور نوجوان نسل کو جہاد کے نام پر گمراہ کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے مغربی لوگوں نے بھی ان چند انتہا پسندوں کے version کو اسلام کی تعلیمات سمجھ لیا ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔
مغرب اور انسانی حقوق

حقوق کا جائزہ لیا جائے گا ۔ حقوق و فرائض کے تعین میں قانونی شخص کا وجود بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ Roger Cotterrell کے الفاظ میں :
The concept of the legal person or legal subject defines who or what the law will recognize as a being capable of having rights and duties. (Roger Cotterrell, The Sociology of Law, 2nd ed. Butterworths, London, 1992, pp. 123,124.)
’’قانونی شخص کا تصور اس بات کی توضیح کرتا ہے کہ بطور ایک شخص کے فرد حقوق اور فرائض کی اہلیت سے بہرہ ور ہے ۔

مغرب اور عورتوں کے حقوق

برطانیہ میں عورت کے حق رائے دہی کے لیے جدو جہد کاآغاز ہی 1897ء میں Millicent Fawcett نے National Union of Women's Sufferage کے قیام سے کیا۔ یہ تحریک اس وقت زیادہ زور پکڑ گئی جب 1903میں Emmeline Pankhurst نے Women's Social and Political Union بنائی اور یہ یونین بعد میں Suffragettes کے نام سے مشہور ہوئی ۔
٭ برطانیہ کے House of Commons نے 1918ء میں 55 کے مقابلہ میں 385 ووٹوں کی اکثریت سے Representation of People Act پاس کیا جس کے مطابق 30 سال سے زائد عمر کی خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔ اگرچہ یہ خواتین کے حق رائے دہی کے اعتراف کانقطۂ آغاز تھا مگر ابھی عورتوں کو مردوں کے برابر مقام نہیں دیا گیا تھا کیونکہ عام مردوں کے لیے حق رائے دہی کی اہلیت 21 سال اور مسلح افواج کے لئے 19 سال تھی ۔
٭ امریکہ میں 4 جولائی 1776ء کا اعلان آزادی (The Declaration of Indepedence) جدید جمہوری معاشرے کے قیام کی خشتِ اول سمجھا جاتا ہے مگر اس میں بھی عورت کوبنیادی انسانی حقوق کے قابل نہیں سمجھا گیا۔ Richard N. Current کے مطابق نو آبادیاتی معاشرے کی عورت ہر طرح کے حق سے محروم تھی۔
٭ اسی طرح جب جیفرسن (Jefferson) نے اعلان آزادی میں The people کا لفظ استعمال کیا تو اس سے مراد صرف سفید فام آزاد مرد تھے۔ اور آج دو صدیوں بعد بھی امریکہ میں عورت مساوی آزادی و مساوات کے لئے مصروف جد و جہد ہے۔ کیونکہ اس ڈیکلیریشن میں men یا him کے الفاظ وارد ہوئے ہیں، women کے نہیں۔
٭ جان بلم کے الفاظ میں ’’پرانے امریکی مرد، خواتین کو اپنے مساوی نہیں تسلیم کریں گے۔‘‘
٭ یہی وجہ ہے کہ 1848ء میں Seneca Falls میں ہونے والے تاریخی New York Women's Right Convention کے لیے Declaration of Sentiments لکھتے ہوئے Elizabeth Cady Stanton نے اس بات پر زور دیاکہ اعلان آزادی میں عورت کے نجی اور عمومی مطالبے بھی شامل کیے جائیں۔
٭ انیسویں صدی کی امریکہ کی عورتوں کے حقوق کی علم بردار Susan B. Anthonyکو 1872ء میں صدارتی الیکشن میں ووٹ ڈالنے پر گرفتار کر لیا گیا اور ایک سو ڈالر کا جرمانہ کیا گیا کیونکہ اسے قانونی طور پر حق رائے دہی حاصل نہیں تھا۔
٭ Susan B. Anthony نے امریکی آئین کے دیباچہ کے درج ذیل مندرجات کی روشنی میں یہ موقف اختیار کیا کہ آئین کی رو سے عورت بھی ایک فرد ہے جسے تمام آئینی حقوق حاصل ہونے چاہئیں : ’’ہم متحدہ ریاستوں کے عوام ریاست ہاے متحدہ امریکہ کے آئین کی تشکیل اور نفاذ کرتے ہیں تاکہ زیادہ مکمل یونین تشکیل دی جا سکے، انصاف قائم ہو، داخلی امن و استحکام یقینی بنایا جائے، مشترکہ دفاع مہیا ہو، فلاح عامہ کافروغ ہو اوراپنے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے آزادی کی نعمت کا تحفظ کیا جائے۔‘‘
4 جون 1919ء کو امریکی کانگرس اور سینٹ نے امریکی آئین کا 19واں ترمیمی بل منظور کیا جس میں یہ قرار پایا :
Article IXX : "The right of citizens of the United States to vote shall not be denied or abridged by the United States or by any State on account of sex."
’’آرٹیکل19 : کوئی ریاست یا متحدہ ریاستیں ریاست ہاے متحدہ امریکہ کے شہریوں کا حق رائے دہی جنس کی بنیاد پر ختم نہیں کریں گی۔‘‘
گویا امریکہ میں خواتین کو 1920ء تک رائے دہی کا حق حاصل نہ تھا، جب انیسویں آئینی ترمیم منظور ہوئی جس کے تحت یہ حق دیا گیا۔
٭ اسی طرح فرانس میں 1944ء میں عورتوں کو حق رائے دہی دیا گیا۔
٭ آسٹریلیا میں ملک گیر سطح پر خواتین کو رائے دہی کاحق 1926ء میں دیا گیا جبکہ آسٹریلوی پارلیمنٹ کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی پہلی خاتون Edith Cowan تھی جو مغربی آسٹریلیا کی قانون ساز اسمبلی کی 1921ء میں رکن منتخب ہوئی۔
٭ یہی حال دیگر مغربی ممالک کا ہے جہاں پچھلی ایک ڈیڑھ صدی میں عورت کو قانونی شخص تسلیم کیا گیا اور پچاس سو سال قبل اسے حق رائے دہی دیا گیا ۔

اسلام اور انسانی حقوق

اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ اسلام نے آج سے 14 سو سال قبل ہی ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے حقوق نہ صرف واضح فرما دیئے بلکہ ان حقوق کی ادائیگی کی تاکید بھی کی۔ انہی انسانی حقوق میں سے اسلام نے عورتوں کے حقوق کی بھی حفاظت کی اور اپنی تعلیمات میں انہیں واضح انداز میں بیان کیا ۔

اسلام اور عورتوں کے حقوق

اسلامی دنیا میں آج سے چودہ صدیاں قبل عورت کو مساوی حقوق دیے گئے۔ نسلی امتیاز ختم کرتے ہوئے اُسے حق رائے دہی دیا گیا۔۔۔ اسلام نے عورت کو انفرادی و اجتماعی حقوق دیے۔۔۔ ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سے اسے عائلی حقوق دیے۔۔۔ اسے ازدواجی حقوق دیے۔۔۔ اسے معاشی و سیاسی اور قانونی حقوق دیے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے انتخاب کے وقت مرد و عورت نے یکساں طور پر حق رائے دہی استعمال کیا۔۔۔ نیز خواتین کی سیاسی مشیر کے طور پر تقرری کی گئی۔۔۔ اور مختلف انتظامی ذمہ داریوں پر اس کی تعیناتی کی گئی۔۔۔ عورت کو دفاعی ذمہ داریوں میں نمائندگی دی گئی، ملٹری آفیسرز کے طور پر ذمہ داریاں دی گئیں۔
٭ عورت کی دی ہوئی امان کو مرد کی امان کے برابر قرار دیا گیا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إن المرأة تأخذ للقوم، يعنی تجير علی المسلمين ۔ (جامع ترمذی، کتاب السير، 4 : 141، رقم : 1579)
ترجمہ : عورت پوری قوم کے لئے امان دے سکتی ہے یعنی مسلمانوں کی طرف سے امان دے سکتی ہے ۔
عورت کی امان کا صحیح ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کے زمانہ میں ایک عام بات تھی۔ یہاں تک کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : إن کانت المرأة لتجير علی المؤمنين فيجوز ۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الجهاد، 3 : 84، رقم : 2764،چشتی)
ترجمہ : اگر کوئی عورت (مسلمانوں کی مصلحت کے خلاف بھی) کسی کو امان دے دے تو جائز ہے ۔
٭ اسی طرح اسلامی معاشرے میں عورت کو پارلیمنٹ میں بھی نمائندگی دی گئی۔ ایک موقع پر جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجلس شوریٰ سے عورتوں کے مہر کی مقدار متعین کرنے پر رائے لی تو مجلس شوریٰ میں موجود ایک عورت نے کہا : آپ کو اس کا حق اور اختیار نہیں، کیونکہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے : وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا فَلاَ تَأْخُذُواْ مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَاناً وَإِثْماً مُّبِيناً ۔ (سورہ النساء، 4 : 20)
ترجمہ : اور اگر تم ایک بیوی کے بدلے دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو تب بھی اس میں سے کچھ واپس مت لو، کیا تم ناحق الزام اور صریح گناہ کے ذریعے وہ مال (واپس) لینا چاہتے ہو ۔
اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی تجویز واپس لے لی اور فرمایا :
امراة أصابت ورجل أخطاء ۔ (شوکانی، نیل الاوطار، 6 : 170)
ترجمہ : عورت نے صحیح بات کی اور مرد نے غلطی ۔
یہ عورت کو اسلام کی عطا کردہ عزت اور تکریم ہی تھی جس سے وہ معاشرے کا ایک موثر اور باوقار حصہ بن گئی اور اس نے زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ سیاسی و انتظامی اور سفارتی کردار کے علاوہ تعلیم و فن کے میدان میں بھی عورتیں نمایاں مقام کی حامل تھیں۔ روایتِ حدیث، قرات و کتابت، شعر و ادب اور دیگر علوم و فنون میں بھی بے شمار خواتین مہارت اور سند کا درجہ رکھتی تھیں ۔

اسلام اور غیر مسلموں کے حقوق

اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے حقوق ۔ یہ اَمر قابل غور ہے کہ اَقلتیوں کامعاملہ صرف اِسلام کے حوالے سے تنقید کی زد میں رہا ہے ۔ حالانکہ تاریخ اسلام اس اَمر کی گواہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں اسلامی مملکت میں اَقلیتوں کو وہ بلند مقام حاصل رہا کہ بغداد و اسپین اور برصغیر میں اقلیتیں ہر سطح کے ریاستی امور میں بھی شریک رہیں اور مملکت کی اعلٰی ترین ذمہ داریوں پر فائز رہی ہیں۔ یہ سب کچھ ان تعلیمات کااثر تھا جو غیر مسلموں کے حقوق کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمائیں ۔
٭ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مومنوں کے حقوق آپس میں برابر ہیں اور ان کی ادائیگی کے لیے ان میں سے جو اَدنیٰ ہیں وہ بھی کوشش کریں۔ کسی غیر مسلم کے بدلے کسی مسلمان کو قتل نہ کیا جائے اور کسی معاہد کو اس کی مدتِ معاہدہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
٭ غیر مسلموں کے حقوق کی اَہمیت بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جن نے کسی معاہد کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا حالاں کہ اس کی خوشبو چالیس برس کی مسافت تک محسوس ہوتی ہے۔
٭ سنن ابی داؤد میں مروی حدیث مبارکہ میں ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر مسلموں کو مارنے یا اس کی حق تلفی کرنے والے مسلمان کو زجر و توبیخ کی اور اسے ریاست کی طرف سے سزا دینے کا حکم دیا بلکہ یہاں تک فرمایا کہ روزِ قیامت میں خود اُس غیر مسلم کی طرف سے جھگڑا کروں گا۔ فرمایا : أَلاَ! مَنْ ظَلَمَ مُعَاهِدًا أَوِ انْتَقَصَهُ أَوْ کَلَّفَهُ فَوْقَ طَاقَتِهِ أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ، فَأَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۔
ترجمہ : خبردار ! جس نے کسی معاہد (ذِمی) پر ظلم کیا یا اس کے حق میں کمی کی یا اسے کسی ایسے کام کی تکلیف دی جو اس کی طاقت سے باہر ہو یا اس کے ولی کی رضامندی کے بغیر کوئی چیز اس سے لی تو قیامت کے روز میں اس کی طرف سے جھگڑوں گا ۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الخراج و الامارۃ، رقم : 3052،چشتی)
٭ وہ لوگ جو یہ کہتے نہیں تھکتے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے، انہیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیرہ سالہ مکی زندگی میں ہمیشہ غیر مسلموں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھائے۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد بھی کفار ہی ہر سال اہلِ مدینہ پر حملہ کرتے جب کہ مسلمانوں نے ہمیشہ دفاعی پالیسی اپنائی۔ غزوۂ بدر ہو یا غزوۂ احد یا غزوۂ خندق، تینوں بڑی جنگیں مدینہ منورہ کی سرحدوں پر لڑی گئیں۔ یعنی مسلمان ہمیشہ پُر اَمن رہے ۔
٭ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غیر مسلموں کے ساتھ جو برتاؤ رہا اس کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ مشرکین مکہ و طائف نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بے شمار مظالم ڈھائے، لیکن جب مکہ مکرمہ فتح ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا لشکر لے کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک انصاری کمانڈر سعد بن عبادۃ نے ابوسفیان سے کہا : الیوم یوم الملحمۃ (آج لڑائی کا دن ہے) یعنی آج کفار سے جی بھر کر انتقام لیا جائے گا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہو گئے اور ان سے جھنڈا لے کر ان کے بیٹے قیس کے سپرد کر دیا اور ابوسفیان سے فرمایا : اليوم يوم المرحمة ۔ (فتح الباری، 8 : 9. الاستيعاب، 2 : 597،چشتی)
ترجمہ : (آج لڑائی کا نہیں بلکہ) آج رحمت کے عام کرنے (اور معاف کر دینے) کا دن ہے ۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مخالفین سے پوچھا کہ بتاؤ میں آج تمہارے ساتھ کیا برتاؤ کروں گا؟ تو اُنہوں نے کہا کہ جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے خطاکار بھائیوں کے ساتھ برتاؤ کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی وہی توقع ہے۔ اس جواب پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہی جملہ ارشاد فرمایا جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے لیے فرمایا تھا : لا تثريب عليکم اليوم ، اذهبوا فانتم الطلقاء ۔
 ترجمہ : تم سے آج کوئی پوچھ گچھ نہیں تم سب آزاد ہو ۔ (الجامع الصغیر : 220، رقم : 368)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایمان لانے سے پہلے بڑا دُشمن ابوسفیان تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : من دخل دار أبی سفيان فهو آمن (جو ابوسفیان کے گھر میں آج داخل ہوا وہ امن میں ہے) ۔ اللہ تعالٰی نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کو اس طرح پورا کیا کہ جو بھی اس دن ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوا اسے امان مل گئی ۔ (صحیح مسلم، کتاب الجہاد، 3 : 1406، رقم : 1780)
٭ مکہ مکرمہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کرنے میں سب سے زیادہ دو اشخاص کا دخل تھا، وہ ابولہب کے بیٹے تھے جنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذائیں دیں۔ فتح مکہ کے روز یہ دونوں گستاخ کعبۃ اللہ کے پردوں کے پیچھے جا چھپے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو خود کعبۃ اللہ کے پردوں کے پیچھے سے نکالا اور معاف فرما دیا ۔ (نصب الرایہ، 3 : 336)
اِس طرح کے بے شمار واقعات و اَحادیث ہیں جن سے اِسلام کی عظمت آشکار ہوتی ہے کہ کس طرح مسلمانوں نے دشمنوں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا اور تمام عمر اپنے اوپر ظلم ڈھانے والوں کو چشم زدن میں معاف کر دیا۔
٭ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : إذا قتل المسلم النصرانی قتل به ۔ (شيبانی، الحجه، 4 : 349. شافعی، الام، 7 : 320)
ترجمہ : اگر کسی مسلمان نے عیسائی کو قتل کیا تو مسلمان (عوضاً) قتل کیا جائے گا ۔
٭ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ نے فرمایا : دية اليهودی والنصرانی والمجوسی مثل دية الحر المسلم ۔ (شيبانی، الحجه، 4 : 322. مصنف ابن ابی شيبه، 5 : 407)
ترجمہ : یہودی، عیسائی اور مجوسی کی دِیت آزاد مسلمان کی دِیت کے برابر ہے ۔
اسی قول کی بنا پر فقہانے یہ اصول تشکیل دیا کہ اگر مسلمان کسی ذمی کو بلا ارادہ قتل کر دے تو اس کی دیت بھی وہی ہوگی جو مسلمان کو بلا ارادہ قتل کرنے سے لازم آتی ہے ۔ (در المختار، 2 : 223،چشتی)
٭ عظیم محدث ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ فرماتے ہیں : أن دية المعاهد فی عهد أبی بکر وعمر وعثمان رضی الله عنهم مثل دية الحر المسلم ۔ (شيبانی، الحجة، 4 : 351)
ترجمہ : بے شک ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنھم کے دور میں ذِمی کی دیت آزاد مسلمان کی دیت کے برابر تھی ۔
٭ ایک مرتبہ حضرت عمرو بن عاص والی مصر کے بیٹے نے ایک غیر مسلم کو ناحق سزا دی۔ خلیفۂ وقت امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب اس کی شکایت ہوئی تو اُنہوں نے سرعام گورنر مصر کے بیٹے کو اس غیر مسلم مصری سے سزا دلوائی اور ساتھ ہی فرمایا : متی استعبدتم الناس وقد ولدتهم امهاتهم احرارا ۔ (کنز العمال، 2 : 455)
ترجمہ : تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام سمجھ لیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا ۔

مذہبی آزادی

اسلام خدائے واحد کی بندگی کی دعوت دیتا ہے لیکن دوسرے مذاہب کے لوگوں پر اپنے عقائد بدلنے اور اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالتا، نہ کسی جبر و اکراہ سے کام لیتا ہے۔ دعوتِ حق اور جبر و اکراہ بالکل الگ حقیقتیں ہیں۔ اسلام کے پیغام حق کے ابلاغ کا قرآنِ حکیم نے یوں بیان کیا :
ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ۔ (النحل، 16 : 125)
ترجمہ : (اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بحث (بھی) ایسے انداز سے کیجئے جو نہایت حسین ہو، بیشک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو (بھی) خوب جانتا ہے ۔
اسلام نے ایسے طریق دعوت سے منع کیا جس سے کسی فریق کی مذہبی آزادی متاثر ہوتی ہو، دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا : لَآ اِکْرَاهَ فِی الدِّيْنِ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ۔ (البقرة، 2 : 256)
ترجمہ : دین میں کوئی زبردستی نہیں بے شک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے ۔
شریعت کی یہ حکمت عملی ہے کہ غیر مسلموں کو ان کے مذہب و مسلک پر برقرار رہنے کی پوری آزادی ہوگی۔ اسلامی مملکت ان کے عقیدہ و عبادت سے تعرض نہ کرے گی۔ اہلِ نجران کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو خط لکھا تھا اس میں یہ جملہ بھی درج تھا : ولنجران وحاشيتهم جوار اللہ و ذمة محمد النبی رسول اللہ علی أنفسهم وملتهم وأرضهم وأموالهم وغائبهم وشاهدهم وبيعهم وصلواتهم، لا يغيروا اسقفا عن اسقفيته ولا راهبا عن رهبانية ولا واقفا عن وقفانيته وکل ما تحت أيديهم من قليل أو کثير ۔ (طبقات ابن سعد، 1 : 228، 358،چشتی)
ترجمہ : نجران اور ان کے حلیفوں کو اللہ اور اُس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پناہ حاصل ہے۔ ان کی جانیں، ان کی شریعت، زمین، اموال، حاضر و غائب اشخاص، ان کی عبادت گاہوں اور ان کے گرجا گھروں کی حفاظت کی جائے گی۔ کسی پادری کو اس کے مذہبی مرتبے، کسی راہب کو اس کی رہبانیت اور کسی صاحب منصب کو اس کے منصب سے ہٹایا نہیں جائے گا اور ان کی زیر ملکیت ہر چیز کی حفاظت کی جائے گی۔‘‘
مختلف ادوارمیں گرجا گھر اور کلیسے اسلامی حکومت میں موجود رہے ہیں۔ کبھی بھی انہیں ادنیٰ گزندتک نہیں پہنچائی گئی بلکہ حکومت نے ان کی حفاظت کی ہے اور غیر مسلموں کو ان میں عبادات کی انجام دہی کےلیے سہولیات فراہم کی ہیں ۔

غیر مسلموں کی کفالت

جس طرح اسلامی بیت المال کسی مسلمان کے معذور ہو جانے یا بوجہ عمر رسیدگی اور غربت کے محتاج ہو جانے پر کفالت کی ذمہ داری لیتا ہے اسی طرح اسلامی بیت المال پر ایک غیر مسلم کے معذور ہونے یا عاجز ہونے کی صورت میں اس کی کفالت لازم ہے۔ کتاب الاموال میں ابوعبید نے حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے : أن رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم تصدق صدقه علی اهل بيت من اليهود فهی تجری عليهم ۔
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کے ایک گھرانہ کو صدقہ دیا اور (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد بھی) وہ انہیں دیا جارہا ہے ۔
٭ حضرت زید بن ہاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : بے شک ام المومنین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرۃ حضرت صفیہ رضی اﷲ عنہا نے اپنے رشتہ داروں کو صدقہ دیا حالانکہ وہ دونوں یہودی تھے جو تیس ہزار (درہم) کے عوض فروخت کیا گیا ۔
٭ عمرو بن میمون، عمرو بن شرجیل اور مرۃ ہمذانی سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ راہبوں کو صدقہ فطر میں سے دیتے تھے۔
٭ اسی طرح امام ابو یوسف کی کتاب الخراج میں ہے :
وجعلت لهم ايما شيخ ضعف عن العمل او اصابته افة من الافات او کان غنيا فافتقر وصار اهل دينه يتصدقون عليه طرحت جزيته و عيل من بيت مال المسلمين و عياله ما اقام بدار الهجرة و دارالاسلام ’’ اگر ان کے ضعیف العمر اور ناکارہ لوگوں یا آفت رسیدہ یا بعد ازغنی فقیر ہو جانے والوں کو ان کے مذہب کے لوگ ان کو خیرات دینے لگیں تو ان سے جزیہ ہٹا لیا جائے گا اور مسلمانوں کے بیت المال سے ان کے نان و نفقہ کا بندوبست کیا جائے گا جب تک وہ اسلامی ملک میں رہیں ۔‘‘
اِسی طرح جو ذِمی محتاج اور فقیر ہو جائیں انہیں صرف جزیہ ہی معاف نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کے لیے اسلامی خزانہ سے وظائف بھی مقرر کیے جائیں گے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اہل حیرہ کوجو امان نامہ لکھ کر دیا تھا اس میں لکھتے ہیں : ’’میں نے ان کےلیے یہ حق بھی رکھا ہے کہ جو کوئی شخص بڑھاپے کے سبب ازکار رفتہ ہو جائے یا اس پر کوئی آفت نازل ہو جائے، یا وہ پہلے مال دار تھا پھر فقیر ہو گیا یہاں تک کہ اس کے ہم مذہب لوگ اس کو صدقہ و خیرات دینے لگے، تو اس کاجزیہ معاف کر دیا جائیگا اور اسے اور اس کے بال بچوں کو ریاست کے بیت المال سے خرچ دیا جائے گا ۔‘‘
اگرکوئی ذمی مر جائے اور اس کے حساب میں مکمل جزیہ یا جزیہ کا بقایا واجب الادا ہو تو وہ اس کے ترکہ سے وصول نہیں کیا جائے گا اور نہ اس کے ورثا پر اس کا بار ڈالا جائے گا۔کیونکہ یہ اس پر قرض نہیں ہے۔ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ لکھتے ہیں : ’’اگر اس پر جذیہ واجب ہو تو اس کی کل یا کچھ ادائیگی سے قبل وہ مرجائے تو اس پر بقیہ واجب الادا جزیہ وارثوں سے وصول نہیں کیا جائیگا کیونکہ یہ اس پر قرض نہیں ہے ۔‘‘ (کتاب الخراج : 132)
عملی طور پر اس کی تاریخ اسلامی میں بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ غیر مسلم اقلیتوں کے معذور افراد کو اسلامی بیت المال سے باقاعدہ الاؤنس ملتا رہا ہے۔
٭ حضرت عمر رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ ایک یہودی کو دیکھا جو اندھا ہو چکا تھا تو آپ نے اس کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر فرما دیا۔ اجتماعی کفالت کے حق اور حقوق عامہ میں اسلامی حکومت کی نگاہ میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہیں ہے بلکہ وہ بالکل برابر کے شہری ہیں۔ اسی طرح غیر مسلموں کو وظائف دینے کی کئی مثالیں تاریخِ اسلام میں موجود ہیں ۔

اسلامی قوانین اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ

ہر دور میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اسلام کے قوانین پر عمل کیا جاتا رہا اور جب کبھی سرکش امراء نے اس کے خلاف عمل کیا ہے تو علماء و فقہا نے انہیں اس سے باز رکھنے یا کم از کم ان سے اس کی تلافی کرانے کی کوشش کی ہے ۔ تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ ولید بن عبدالملک اُموی نے دمشق کے کلیسہ یوحنا کو زبردستی عیسائیوں سے چھین کر مسجد میں شامل کر لیا۔ بلاذری کے مطابق : ’’جب حضرت عمر بن عبدالعزیز تختِ خلافت پر متمکن ہوئے اورعیسائیوں نے ان سے ولید کے کلیسہ پر کیے گئے ظلم کی شکایت کی تو انہوں نے اپنے عامل کو حکم دیا کہ مسجد کا جتنا حصہ گرجا کی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے اسے منہدم کرکے عیسائیوں کے حوالہ کر دو ۔‘‘ (فتوح البلدان : 150،چشتی)
یہ اِسلامی تاریخ کے درخشاں باب سے چند ایک مثالیں تھیں جن میں غیر مسلموں کے حقوق کی پاسداری اور تلقین کا عملی مظاہرہ سامنے آتا ہے۔ اسلام ہمیشہ امن و سلامتی کا داعی رہا ہے اور اس کے پیروکاروں نے اخوت و بھائی چارے کا پرچار کیا ہے۔ حتی کہ غیر مسلموں سے جنگ کے وقت بھی انہیں یہ ہدایت کی جاتی تھی کہ ان کے بوڑھوں، بچوں، عورتوں اور مذہبی پیشواؤں کو گزند نہ پہنچائیں، ان کے درختوں، عبادت گاہوں اور گھروں کو مسمار نہ کریں ۔

افسوسناک امر

افسوس! آج اسلام کا چہرہ مسخ کیا جا رہا ہے اور اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ اس پر انتہا پسند اور دہشت گرد ہونے کا لیبل لگایا جا رہا ہے۔ اس سازش میں اَغیار کے ساتھ ساتھ اپنے سے حصے دار ہیں جو کم علمی کے باعث اسلام کا آفاقی پیغام صحیح طور پر سمجھ نہیں پاتے اور اَغیار کا آلہ کار بنتے ہوئے ان کی سازش کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج مٹھی بھر انتہاء پسند نام نہاد مسلمانوں نے اسلام کی حقیقی روح کو داغ دار کر دیا ہے۔ جہاد اور خلافت کے نام پر فتوے جاری کرنے کی کسی شخص یا گروہ کو انفرادی سطح پر اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اس طرح کے انتہاء پسند و دہشت گرد لوگ دنیا میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ امریکہ ہو یا برطانیہ، آسٹریلیا ہو کہ یورپ، اسرائیل ہو یا بھارت، چین ہو یا جاپان، دہشت گرد ہر جگہ پائے جاتے ہیں، دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں، دہشت گرد کا کوئی ملک و علاقہ نہیں۔ دہشت گردی ایک سماجی و معاشرتی رویے کا نام ہے، اس کی وجوہات کچھ بھی ہو سکتی ہیں، لہذا مسلمانوں پر دہشت گردی کا لیبل لگانا سراسر نا انصافی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض مفاد پرست عناصر اپنے vested interests کی تکمیل کے لیے سادہ لوح انسانوں کو اپنا آلۂ کار بنا رہے ہوں، یا بعض ایجنسیاں ان لوگوں کو استعمال کر رہی ہوں۔ بہر حال اصل حقیقت اﷲ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہمیں اصل چہروں کی شناخت کرنا ہوگی اور اسلام پر لگائے جانے والے انتہاء پسندی و دہشت گردی کے الزامات دور کرنا ہوں گے۔ ہمیں ان چہروں کو ننگا کرنا ہوگا جو ان دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں اور انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اور اگر ہم واقعی دہشت گردی ختم کرنے میں سنجیدہ ہیں تو اس کی اصل وجوہات کو address کرنا ہوگا۔ چاہے وہ سیاسی ہوں یا مذہبی، معاشی ہوں یا معاشرتی۔ اسلام پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے کی بجائے نفس مسئلہ کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ تمام مذاہب اَصلاً اپنے پیروکاروں کو صلح جوئی اور امن کا درس دیتے ہیں۔ اس لیے ہم کسی مذہب کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔ ہمیں دیگر معاشرتی قبائل و مذہبی گروہوں کو شناخت دینا ہوگی اور ان کی feelings of isolation کا ازالہ کرنا ہوگا۔ تمام لوگوں کو بلاامتیاز رنگ و نسل اور مذہبی تفریق کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہوں گے ۔ تمام افراد اور نوجوانوں کو بالخصوص یورپ کے اندر اپنا مقام پیدا کرنے ، اس ملک اور معاشرے کےلیے مل جل کر کام کرنے اور تمام کمیونٹیز کے ساتھ گھل مل کر رہنا ہوگا کیونکہ یہی اسلام کی تعلیمات ہیں۔ اسلام نے کبھی بھی دوسرے معاشروں سے الگ تھلگ (Isolation) رہنے کی تعلیم نہیں دی ۔ یہ وہ بنیادی اُصول ہیں جن کا درس ہمیں تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ حجہ الوداع کے موقع پر دیا ۔ انسانی مساوات و برابری کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا :
يا أيها الناس ! ألا إن ربکم واحد ، وإن أباکم واحد ، ألا لا فضل لعربی علی أعجمی ، ولا لعجمی علی عربی ، ولا لأحمر علی أسود ، ولا أسود علی أحمر إلا بالتقوی ۔ (مسند احمد بن حنبل، 5 : 411)
ترجمہ : اے لوگو! آگاہ ہوجاؤ ! تمہارا رب ایک ہی ہے اور تمہارا باپ ایک ہی ہے ۔ آگاہ ہو جاؤ ! کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت حاصل ہے نہ کسی عجمی کو عربی پر فضیلت حاصل ہے ۔ کسی سرخ کو کالے پر برتری حاصل ہے نہ کسی کالے کو سرخ پر برتری حاصل ہے ؛ سوائے پرہیزگاری کے ۔ (مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

قیامِ نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا حصّہ سوم

قیامِ نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا حصّہ سوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا بخاری شریف سے بھی ثابت ہوتا ہے ، جیسا کہ بخاری شریف میں حدیث موجود ہے : عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ رضی اللہ عنہ قَالَ کَانَ النَّاسُ یُؤْمَرُوْنَ اَنْ یَّضَعَ الرَّجُلُ الْیَدَ الْیُمْنٰی عَلٰی ذِرَاعِہِ الْیُسْریٰ فِی الصَّلٰوۃِ ۔ (صحیح البخاری جلد 1 صفحہ 102 كتاب ألأذان باب وضع الیمنی علی الیسریٰ في الصلاة)
ترجمہ : حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو اس بات کا حکم دیا جاتا تھا کہ آدمی نماز میں اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں بازو پر رکھے ۔ 
اس حدیث میں ، یضع ، کا لفظ ہے یعنی آدمی اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھے ، اور بعض احادیث مبارکہ میں ، فأخذ ، کا لفظ ہے یعنی دائیں ہاتھ سے بائیں کو پکڑا ۔ ان دونوں پرایک وقت میں عمل صرف اور صرف احناف کے طریقے سے ہی ممکن ہے ۔ جیسا کہ علامہ بدرالدين عینی رحمة الله علیہ نے فرمایا : و استحسن كثير من مشائخنا الجمع بينهما بأن يضع باطن كفه علي كفه اليسري و يحلق بالخنصر و الإبهام علي الرسغ ۔ (عمدةالقاري شرح صحیح البخاري جلد 5 كتاب ألأذان باب وضع اليمني علي اليسري في الصلاة،صفحہ 407)،بيروت،چشتی)
ترجمہ : ہمارے کثیر مشائخ علیہم الرّحمہ نے اس کو اچھا سمجھا کہ دونوں حدیثوں کو جمع کیا جائے وہ اس طرح کہ دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھے تاکہ رکھنے والی پر عمل ہوجائے اور چھوٹی انگلی اور انگوٹھے سے گھیرا بنا کر بائیں ہاتھ کے جوڑ کو پکڑے تاکہ پکڑنے والی پر بھی عمل ہوجائے ۔ اور اس عمل سے آسانی کے ساتھ ہاتھ ناف کے نیچے باندھا جائے گا، سینے پر نہیں ۔

اور یہ کوئی قاعدہ نہیں کہ بخاری میں نہ ہو تو صحیح نہیں ، باوجود کہ دیگر صحیح احادیث مبارکہ میں صراحتاً ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ثابت ہے ۔ جیسا کہ "کتاب الآثار امام محمد" میں ہے : محمدقال اخبرنا ابو حنیفۃ عن حماد عن ابراھیم ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کان یعتمذ باحدی یدیہ علی الاخری فی الصلاۃ یتواضع اللہ تعالی قال محمد ویضع بطن کفہ الایمن علی رسغہ الایسر تحت السرۃ فیکون الرسغ فی وسط الکف ۔
ترجمہ :حضرت امام ابرھیم نخعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز میں اپنیے ایک (یعنی دائیں) ہاتھ کو دوسرے (یعنی بائیں) ہاتھ پر اللہ تعالی کےلیے تواضع (اور عاجزی) اختیار کرتے ہوٸے رکھ لیا کرتے تھے ۔ حضرت امام محمد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کے اندرونی حصے کو بائیں ہاتھ پر گٹ پر ناف کے نیچے رکھ لے جس سے اس کےبائیں ہاتھ کے گٹ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کے درمیان آجاےگا ۔ (کتاب الآثار امام محمد جلداول صفحہ ۱۴۰)

حضرت امام محمد رحمہ اللہ اپنا مسلک بیان کرتے ہوے فرماتے ہیں : قال محمد ینبغی للمصلی اذاقام فی صلاتہ ان یضع باطن کفہ الیمنی علی رسغہ الیسری تحت السرۃ ویؤمن ببصرہ الی موضع سجودہ وہو قول ابو حنیفۃ رحمہ اللہ ۔
ترجمہ : نماز پڑھنے والے کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ جب نماز میں کھڑا ہو تو اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کا اندرونی حصہ اپنے بائیں ہاتھ کے گٹ پر ناف کے نیچے رکھ لے اور (کھڑے ہونے کی حالت میں) اپنی نظر کو اپنے سجدے کی جگہ رکھے ۔ یہی امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کاقول ہے ۔ (موطاامام محمد جلداول صفحہ ۳۱۸،چشتی)

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے : حدثنا وکیع عن موسی بن عمیر عن علقمۃ بن عامر بن حجر عن ابیہ قال رایت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وضع یمینہ علی شمالہ فی الصلاۃ تحت السرۃ ۔
ترجمہ : وائل بن حجر اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں دائیاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر زیر ناف باندھتے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلداول صفحہ ۳۹۰)

عون المعبود شرح سنن ابی داؤد میں ہے : فان قلتم اخرج ابن ابی شیبۃ عن وکیع عن موسی بن عمیر عن علقمۃ بن وائل بن حجر عن ابیہ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وضع یمینہ علی شمالہ فی الصلاۃ تحت السرۃ وسندہ جید ورواتہ کلھم ثقات فھذا حدیث صحیح فی الوضع تحت السرۃ  (عون المعبود شرح سنن ابی داؤد جلداول'صفحہ نمبر ۳۷۶)

مسندامام احمد میں ہے : عن ابی جحیفۃ عن علی رضی اللہ عنہ قال ان من السنۃ فی الصلاۃ وضع الکف علی الکف تحت السرۃ ۔ (مسندامام احمد جلد اول صفحہ نمبر۱۱۰،چشتی)

جوہر النقی میں ہے : عن انس رضی اللہ عنہ قال ثلاث من اخلاق النبوۃ تعجیل الافطار وتاخیر السحور ووضع یدالیمنی علی الیسری فی الصلوۃ تحت السرۃ ۔ (جوہر النقی جلددوم'صفحہ نمبر ۳۲)

حضرت شمس الائمہ سرخسی علیہ الرحمہ "المبسوط"میں تحریر فرماتے ہیں : فاما موضع الوضع فالافضل عندنا تحت السرۃ ۔
ترجمہ : ہمارے نزدیک دونوں ہاتھ کو ناف کے نیچے رکھنا افضل ہے ۔ (المبسوط جلداول باب کیفیۃ الدخول فی الصلوۃ صفحہ ۲۴)

فقہ کی مشہورومعروف کتاب "بدائع الصنائع" میں ہے : واما محل الوضع فماتحت السرۃ فی حق الرجل والصدر فی حق المرءۃ ۔
ترجمہ : نماز میں ہاتھ رکھنے کی جگہ مرد کے لئے ناف کے نیچے اور عورت کے لئے سینہ پر ہاتھ رکھنا ہے ۔ (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع جلداولصفحہ نمبر ۲۰۱)

جملہ احادیث مبارکہ واقوال فقہاء علیہم الرّحمہ سے معلوم ہوا کہ نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا سنتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم و سنتِ صحابہ رضی اللہ عنہم ہے ۔

نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے والی روایت کی تحقیق

بارہوی صدی میں پیدا ہونے والی فرقہ پرست قوم جس کے وجود کا مقصد ہی امت مسلمہ کی تکفیر و تضلیل کرنا ہے، یہ ایک زمانہ سے بلکہ جب سے معرض وجود میں آئی اسی وقت سے اس بات کا دعوی کرتی آرہی ہے کہ وہ اور اس کے قدم سے قدم ملاکر چلنے والے لوگ ہی قرآن و حدیث پر عمل کرنے والے ہیں، ان کے سوا جتنے لوگ ہیں، خواہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کی اتباع کرنے والے ہوں، یا امام دارالہجرہ امام مالک علیہ الرحمہ اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں، یا امام شافعی علیہ الرحمہ اور ان کے ماننے والے ہوں، یا امام احمد ابن حنبل علیہ الرحمہ اور ان کے پیروکار ہوں، اگرچہ یہ حضرات قرون فاضلہ کے جید علما ، فقہا، محدثین اور مجتہدین عظام میں سے ہیں، جن کے آرا کی اتباع ساری دنیا کے لوگ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں، مگر پھر بھی یہ فرقہ پرست قوم عام لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ان حضرات کے نقش قدم پر چلنے والے لوگوں کو شیوخ پرست بلکہ نفس اور خواہش پرست جیسے القاب سے متصف کرتی ہے، اورانہیں احادیث ضعیفہ پر عمل کرنے کا الزام دیتی ہے،حالانکہ یہ قوم اگر اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے کی کوشش کرے تو ضرور اسے نظر آجائے گا کہ وہ خود تعصب اور نفس پرستی کے دلدل میں پھنسی ہوئی ہے، عام امت مسلہ کی مخالفت کرتی ہوئی نظر آرہی ہے،اور اس کے ماننے والے بعض لوگ تعصب کا ایسا عینک پہنے ہوئے ہیں کہ اگر اہل سنت و جماعت کے موقف کی حدیث ہے تو وہ موضوع یا ضعیف ہے، اگرچہ محدثین و ناقدین کے نزدیک صحیح و حسن ہو، اور اگر ان کے موقف کی حدیث ہے تو وہ صحیح و حسن ہی ہے ، خواہ وہ نقاد اور ماہرین کے نزدیک ضعیف ہی کیوں نہ ہو، جب سے اس فرقہ کا وجود ہوا ہے ، اس نے امت مسلہ پر ظلم و بربریت کا پہاڑ ہی توڑا ہے ، البتہ اس فرقہ کو امت مسلمہ کے دشمنوںکفار سے بڑی محبت ہے، انہیں اپنے دیار میں بیٹھاکر پالتی پوستی اور جوان کرتی ہے، مگر اسے ذرہ برابر اپنی پشیمانی کا احساس نہیں ہوتا،اللہ تعالی انہیں ہدایت عطا فرمائے آمین ۔

اس فرقہ پرست کے بعض متبعین میں سے ایک ذاکر ناٸیک ہے ۔ جسے نہ تو قرآن صحیح سے پڑھنا آتا ہے، اور نہ ہی حدیث اور اصول حدیث سے اسے کوئی آگہی- وہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ نماز کی حالت میں سینے پر رکھنے کے متعلق ابن خزیمہ والی روایت کردہ حدیث صحیح ہے!! اس سے زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ بعض احباب کے ذریعہ پتہ چلا کہ اس فرقہ پرست کے بعض نیپالی متبعین کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جب سے مجھے پتہ چلا کہ سینہ پر ہاتھ رکھنے سے متعلق چالیس حدیثیں وارد ہیں، میں سینے پر ہاتھ رکھنے لگا!!! نیز ان کے بعض متبعین سینے پر ہاتھ رکھنے میں اتنا غلو اور تشدد کرتے ہیں کہ ہاتھ کو گلے تک پہونچا دیتے ہیں، دیکھنے میں ایسا لگتا ہے کہ اپنا گلا اپنے ہاتھوں خود ہی گھوٹ رہے ہیں! اس فرقہ پرست کا یہ غلواور تشدد اس حد تک پروان چڑھ چکا کہ وہ اپنے سوا کسی کو حق پر ہی نہیں سمجھتی !!! خیر یہ مضمون نماز کی حالت میں سینہ پر ہاتھ باندھنے والی روایات کی تحقیق و تحلیل پر مشتمل ہے ، اس فرقہ پرست کے نزدیک ان روایتوں میں سے قوی ترین روایت ابن خزیمہ کی اپنی صحیح میں روایت کردہ حدیث ہے جس کی تحقیق آپ عنقریب ملاحظہ فرمائیں گے ،قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ تعصب کا عینک اتار کر اس مقالہ کو بغور پڑھیں، پھر فیصلہ کریں کہ یہ روایتیں اصول حدیث کی روشنی میں صحیح ہیں یا حسن یا ضعیف،اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صدقہ و طفیل میں مسلمانوں کو گمراہ گر علما سے محفوظ، اور انہیں سنیت پر قائم و دائم رکھے ، اور اسی پر خاتمہ نصیب فرمائے آمین ۔

حدیث وائل بن حجر رضی اللہ عنہ : ابن خزیمہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: نا موسی، نا مؤمل، نا سفیان، عن عاصم بن کلیب، عن أبیہ عن وائل بن حجررضی اللّٰہ عنہ قال:(صلیت مع رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وضع یدہ الیمنی علی یدہ الیسری علی صدرہ)
ترجمہ : وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ، آپ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھک ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر سینے پر رکھا ۔

سند پر کلام : اس حدیث کی سند میں ایک راوی مؤمل بن اسماعیل ہیں، میرے علم کے اعتبار سے یہی وہ ایک روای ہیں جو سفیان ثوری سے لفظ (علی صدرہ) کے ذکر کرنے میں منفرد ہیں، باقی دوسرے راویوں نے سفیان ثوری سے روایت کرنے میں اس لفظ یعنی (علی صدرہ) کو ذکر نہیں کیا ہے ، قارئین ان حضرات کے اسما ملاحظہ فرمائیں : عبد اللہ بن الولید (مسند احمد، رقم:۱۸۸۷۱) (۲)عبد الرزاق صنعانی (مصنف عبد الرزاق، رقم: ۲۵۲۲) اور عبد الرزاق سے امام احمد بن حنبل نے روایت کی ہے (مسند احمد، رقم:۱۸۸۵۸) (۳)ابو نعیم فضل بن دکین (مسند احمد، رقم:۱۸۸۶۷) (۴)محمد بن یزید مخزومی (صحیح ابن خزیمہ، رقم: ۶۹۱) (۵)محمد بن یوسف (سنن النسائی، رقم:۱۲۶۴) (۶)وکیع بن الجراح (مسند احمد، رقم:۱۸۸۴۵) (۷)یحی بن آدم (مسند احمد، رقم: ۱۸۸۶۷) (۸)محمد بن عبد اللہ بن یزید مقریء (سنن النسائی، رقم: ۱۱۵۹) ۔ یہ آٹھ حضرات علیہم الرّحمہ جنہوں نے اس حدیث کو سفیان ثوری سے روایت کی ہے مگر ان میں سے کسی نے بھی اس لفظ یعنی (علی صدرہ) کو ذکر نہیں کیا جس کو روایت کرنے میں مؤمل بن اسماعیل منفرد ہیں ۔ نیز اس حدیث کی روایت کرنے میں ایک جماعت نے سفیان ثوری کی متابعت بھی کی ہے مگر ان میں سے کسی نے بھی (علی صدرہ) کا ذکر نہیں کیا ہے، ان کے اسما یہ ہیں : ⬇
سفیان بن عیینہ (مسند الحمیدی، رقم: ۹۰۹، سنن النسائی، رقم: ۱۲۶۳) (۲)محمد بن الفضیل (صحیح ابن خزیمہ، رقم: ۴۷۸، ۷۱۳) (۳)عبد الواحد بن زیاد (مسند احمد، رقم:۱۸۸۵۰) (۴)زہیر بن معاویہ (مسند احمد، رقم: ۱۸۸۷۶) (۵)شعبہ بن الحجاج (مسند احمد، رقم:۱۸۸۵۵ ، قرۃ العینین برفع الدین فی الصلاۃ للبخاری، رقم:۲۶، صحیح ابن خزیمہ، رقم:۶۹۷، ۶۹۸) (۶)عبد العزیز بن مسلم (مسند احمد، رقم:۱۸۸۶۵) (۷)زائدہ بن قدامہ (سنن الدارمی، رقم: ۱۳۹۷، مسند احمد، رقم: ۱۸۸۷۰، قرۃ العینین برفع الدین فی الصلاۃ للبخاری،رقم:۳۰، سنن ابی داؤد، رقم: ۷۲۷،صحیح ابن خزیمہ، رقم: ۴۸۰، ۷۱۴، المنتقی لابن الجارود،رقم: ۲۰۸) (۸)عبد اللہ بن ادریس(قرۃ العینین برفع الدین فی الصلاۃ للبخاری،رقم:۳۱، سنن ابن ماجہ، رقم: ۸۱۰، ۹۱۲، سنن الترمذی، رقم: ۲۹۲، سنن النسائی، رقم:۱۱۰۲، صحیح ابن خزیمہ، رقم: ۴۷۷، ۶۴۱، ۶۹۰، ۷۱۳) (۹) بشر بن المفضل (سنن ابی داؤد، رقم: ۷۲۶، ۹۵۷، سنن ابن ماجہ، رقم: ۸۱۰، ۸۶۷، سنن النسائی، رقم: ۱۲۶۵) (۱۰)سلام بن سلیم (مسند الطیالسی، رقم: ۱۰۲۰) (۱۱)خالد بن عبد اللہ (السنن الکبری للبیھقی، رقم: ۲۷۸۴،چشتی) ۔ ان سب نے اس حدیث کو ’’عن عاصم بن کلیب، عن کلیب، عن وائل‘‘ روایت کیا مگر کسی نے بھی اس زیادتی یعنی (علی صدرہ) کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

نیز اس حدیث کو وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے کلیب کے علاوہ (۱)علقمہ بن وائل و مولی لھم نے روایت کیا ہے (مسند احمد، رقم:۱۸۸۶۶ ، صحیح مسلم، رقم:۴۰۱، مستخرج ابی عوانہ، رقم:۱۵۹۶، صحیح ابن خزیمہ، رقم: ۹۰۵، السنن الکبری للبیھقی، رقم:۲۵۱۵)اور (۳) عبد الجبار بن وائل نے بھی وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے (مسند احمد، رقم:۱۸۸۷۳، سنن الدارمی، رقم:۱۲۷۷)اور ان لوگوں نے بھی لفظ (علی صدرہ) کا ذکر نہیں کیا۔
اس زیادتی یعنی (علی صدرہ)کا سفیان ثوری ، عاصم بن کلیب، اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کے تلامذہ کی روایت میں وارد نہ ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اسماعیل بن مؤمل کو اس زیادتی کی روایت کرنے میں وہم ہوا ہے، لہذا یہ زیادتی صحیح اور قابل قبول نہیں۔
مناسبت کے پیش نظر ضروری سمجھتا ہوں کہ راوی مؤمل بن اسماعیل کے بارے میں محدثین و ناقدین کے اقوال ذکر کردئے جائیں تاکہ ان کی زیادتی والی روایت کا حکم صحیح طور پر بیان کیا جاسکے، قارئین کرام آپ ان کے بارے میں محدثین و ناقدین کے اقوال ملاحظہ فرمائیں : ⬇

امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (مؤل بن اسماعیل صدوق، سنت کے معاملہ میں شدید کثرت سے سے خطا کرنے والے ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ آپ نے اپنی کتابیں دفن کردیں، اور حافظہ پر اعتماد کرکے حدیث بیان کئے جس کی وجہ سے آپ سے غلطی واقع ہوئی) (الکاشف، رقم: ۵۷۴۷) حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: (ابن معین سے مروی ہے کہ وہ ثقہ ہیں، امام بخاری فرماتے ہیں: (منکر الحدیث ہیں) اور امام بخاری جس کے بارے میں ’منکر الحدیث‘ فرمادیں ان سے روایت کرنا حلال نہیں، یعقوب بن سفیان فرماتے ہیں: (سلیمان بن حرب ان کی تعریف کرتے تھے اور ہمارے شیوخ ان سے قریب رہنے کی وصیت کرتے تھے، مگر ان کی حدیث ان کے اصحاب کے مشابہ نہیں، اہل علم پر واجب ہے کہ ان کی حدیث سے احتراز کریں کیونکہ وہ اپنے ثقات شیوخ سے مناکیر روایت کرتے ہیں، اگر وہ یہ مناکیر ضعفا سے روایت کرتے تو اسے ان کے عذر کے منزل میں رکھ دیا جاتا) اور ابن سعد فرماتے ہیں: (ثقۃ، کثیر الغلط) یعنی ثقہ ہونے کے ساتھ غلطی بہت کرتے ہیں، اور ابن قانع فرماتے ہیں: (صالح یخطی) یعنی صالح ہیں مگر خطا کرتے ہیں، اور امام دارقطنی فرماتے ہیں:( ثقۃ، کثیر الخطا) یعنی ثقہ ہونے کے ساتھ خطا بہت کرتے ہیں، اور اسحاق بن راہویہ نے فرمایا: (ہم سے ثقہ مؤمل بن اسماعیل نے حدیث بیان کی) اور محمد بن نصر مروزی نے فرمایا: (مؤمل بن اسماعلی اگر کسی حدیث کی روایت کرنے میں منفرد ہوں تو توقف ضروری ہے، کیونکہ ان کا حافظہ خراب ہے، اور غلطی بھی بہت کرتے ہیں)(تھذیب التھذیب، رقم: ۶۸۲) اور اما ذہبی رلکھتے ہیں:( ابو زرعہ فرماتے ہیں: فی حدیثہ خطأ کثیر) (میزان الاعتدال، رقم: ۸۹۴۹) یعنی ان کی حدیث میں کثرت سے خطا پائی جاتی ہے، ابن حجر عسقلانی ان کے بارے میں خلاصہ کلام کے طور پر فرماتے ہیں: (صدوق سیء الحفظ)(تقریب التھذیب، رقم: ۷۰۲۹) یعنی فی نفسہ سچے ہیں مگر ان کا حافظہ خراب ہے۔

حکم : ان کے بارے میں ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے خلاصہ کلام کے طور پر فرمایا: صدوق سیء الحفظ، اور ایسے وصف سے متصف راوی کی حدیث ضعیف ہوتی ہے، اور جب ضعیف راوی ثقہ یا ثقات کی مخالفت کرے تو وہ روایت منکر کہلاتی ہے، اور اس کے بالمقابل جو حدیث ہوتی ہے اسے معروف کہا جاتا ہے، لہذا یہاں پر مؤمل بن اسماعیل کی روایت جس میں (علی صدرہ) کا ذکر ہے ضعیف و منکر ہوگی، اور جنہوں نے (علی صدرہ) کا ذکر نہیں کیا ہے وہ معروف ہوگی، اور محدثین کے نزدیک عمل معروف حدیث پر ہوتا ہے منکر پر نہیں، اور اگر ہم متشددین اور غیر مقلدین کا طریقہ اختیار کریں اور صرف امام بخاری کے قول ’منکر الحدیث‘ کولے لیںتو ہمیں یہ کہنے میں جھجھک محسوس نہیں ہوگی کہ مؤمل بن اسماعلی سے حدیث ہی روایت کرنا جائز نہیں، چہ جائے کہ ان کی حدیث پر عمل کیا جائے! کیونکہ جن کے بارے میں امام بخاری ’منکر الحدیث‘ فرمادیں ان سے روایت کرنا جائز ہی نہیں! نیز اس حدیث کی سند میں سفیان ثوری ہیں جن کا مذہب و عمل خود اس روایت کے خلاف ہے، اور جب راوی کا عمل روایت کے خلاف ہو تو راوی کے عمل کو لیا جاتا ہے، اور یہی اکثر حفاظ کرام، محققین و ناقدین امام یحی بن معین، یحی بن سعید اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ وغیرہ کا ہے(الاشفاق علی احکام الطلاق للکوثری،ص۴۴)امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:(اس قائدہ کے پیش نظر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور اکثر حفاظ نے بہت ساری احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے) (شرح علل الترمذی، ص ۴۰۹) ان تمام احوال کے باجود صاحب عون المعبود اور صاحب تحفۃ الاحوذی کا اس حدیث کو صحیح قرار دینا عجیب و غریب بلکہ حد درجہ تعجب خیز ہے!! بہر حال یہ حدیث ضعیف اور قابل عمل نہیں، و اللہ اعلم۔
بہت سارے لوگ ابن خزیمہ کا اس روایت کو اپنی صحیح میں ذکر کرنے کی وجہ عام طلبہ و علما اور عوام کو دھوکا دینے اور مغالطہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، اور طرح طرح کا حیلے تلاش کرتے ہیں، ذیل میں حیلے اور ان کے جواب ملاحظہ فرمائیں : ⬇

ابن خیزیمہ علیہ الرحمہ اور اس حدیث کی تصحیح ۔
مخالفین کبھی یہ کہتے ہیں، اس حدیث کی تصحیح ابن خزیمہ علیہ الرحمہ نے خود کی ہے، چنانچہ صاحب العون عظم آبادی لکھتے ہیں: (ابن سید الناس رحمہ اللہ نے ترمذی کی شرح میں وائل رضی اللہ عنہ کی حدیث کو ذکر کیا، اور فرمایا: ابن خزیمہ علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے) اور صاحب تحفۃ الاحوذی مبارکپوری نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ: (علامہ محمد قاسم سندھی رحمہ اللہ نے ابن خزیمہ علیہ الرحمہ کی جانب سے اس حدیث کی تصحیح کئے جانے کا اعتراف کیا ہے)

حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہے، اس کے بعض الفاظ کے صحیح ہونے میں کلام نہیں، البتہ جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو سینہ پر رکھا، اس پر ضرور کلام ہے، اور جس کی تصحیح ابن خزیمہ علیہ الرحمہ نے کی ہے، اور جس کو ابن سید الناس رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے، اسی کو ابن حجر علیہ الرحمہ نے بھی ’فتح الباری‘ میں ذکر کیا ہے، آپ فرماتے ہیں:سنن ابی داؤد اور سنن نسائی میںحضرت وائل رضی اللہ عنہ کی روات کردہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((ثم وضع یدہ الیمنی علی ظھر کفہ الیسری، و الرسغ من الساعد))(ج۲ ص۲۲۴) اسی کو ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے،اور حضرت وائل رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث جس میں ((علی صدرہ)) کا اضافہ ہے، ابن حجر علیہ الرحمہ ’فتح الباری‘ میں اس کے حوالہ سے فرماتے ہیں:( ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے حضرت وائل رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے، اس میں ((انہ وضعھما علی صدرہ)) اور بزار نے اپنی مسند میں روایت کی ہے، اس میں ہے: ((عند صدرہ)) مگر ابن حجر رحمہ اللہ نے اس زیادتی کے ساتھ روایت کردہ حدیث کو صحیح نہیں قرار دیا، نہ تو فتح الباری ، اور نہ ہی التلخیص الحبیراور نہ ہی الدرایہ میں، کہیں بھی آپ نے اس حدیث کی تصحیح نہیں فرمائی، اسی طرح امام نووی علیہ الرحمہ نے شرح المھذب، الخلاصہ اور شرح مسلم میں ان کی تصحیح کا ذکر نہیں کیا، اگر ابن خزیمہ علیہ الرحمہ نے اس زیادتی والی روایت کردہ حدیث کی تصحیح فرمائی ہوتی تو یہ دونوں حضرات ضرور نقل کرتے ، کیونکہ انہیں اپنے مذہب کو ثابت کرنے کے لئے اس کی زیادہ ضرورت تھی، لہذا ان کا ذکر نہ کرنا اس بات پر دال ہے کہ ابن خزیمہ علیہ الرحمہ نے اس ((وضعہما علی صدرہ)) والی روایت کی تصحیح نہیں فرمائی ہے ، واللہ اعلم ۔

یہ حدیث ابن خزیمہ علیہ الرحمہ کی شرط پر ہے !! بعض لوگ مغالطہ میں ڈالنے کےلیے کہتے ہیں : اس حدیث کو ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں ذکر کیاہے، لہذا یہ حدیث ان کی شرط پر صحیح یا حسن ہوگی ۔ یہ قول درست نہیں، کیونکہ ابن خزیمہ علیہ الرحمہ کا اپنی صحیح میں احادیث ذکر کرنے کا منہج وہی ہے جو امام ترمذی کا اپنی سنن اور امام حاکم علیہ الرحمہ کا اپنی کتاب مستدرک میںہے، ہر ایک اپنی کوشش اور جہد کے مطابق ہر حدیث پر منفرد حکم لگاتا ہے، پس جس طرح امام ترمذی اور حاکم علیہ الرحمہ کا سکوت صحت یا ضعف پر دلالت نہیں کرتا، اسی طرح ابن خزیمہ علیہ الرحمہ کا اپنی صحیح میں حدیث ذکر کرنا اور سکوت اختیار کرنا بھی حدیث کی صحت یا ضعف پر دلالت نہیں کرتا، لہذا جس نے حدیث کوصرف اس وجہ سے صحیح قرار دیا کہ ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کواپنی صحیح میں ذکر کیا ہے، وہ متساہل ہے، خطاکار ہے، خاص کر اس صورت میں جبکہ آپ نے اس حدیث پرکوئی حکم ہی نہ لگایا ہو۔ یہاں پر صحیح ابن خزیمہ کی احادیث کے بارے علمائے کرام کی آراء کا ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، ملاحظہ فرمائیں : ⬇
صحیح ابن خزیمہ محدثین کی نظر میں:ابو بکر محمدبن اسحاق بن خزیمہ نیشاپوری(ت ۳۱۱ھ)جلیل القدر عالم اور محدث تھے ، جس کے نتیجہ میں یہ کتاب عالم وجود میں آئی، محدثین اور فقہا ئے کرام کے نزیک بہت اہمیت کی حامل ہے، مگر چونکہ ابن خزیمہ علیہ الرحمہ کی حدیث کی صحت کے لئے شرطیں اعلی نہ تھیں، اور آپ نے صحیح اور حسن کو ایک درجہ میں رکھا، جس کی وجہ سے محدثین کرام نے ان کی کتاب کو صحیحین، سنن ابی داؤد اور سنن نسائی کا درجہ نہ دیا،بلکہ اس کو سنن ترمذی اور حاکم کی مستدرک کے ساتھ ضم کردیا، لیکن اس کا مطلب قطعا یہ نہیں کی ان کی تصحیح کا کوئی اعتبار نہیں، بلکہ ضرور اعتبار ہے مگر یہ تصحیح صحیح اور حسن کے درمیان دائر ہوتی ہے،اور یہی غالب ہے۔
امام سخاوی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں: (وکم فی کتاب ابن خزیمۃ أیضا من حدیث محکوم منہ بصحۃ، وہو لا یرتقی عن رتبۃ الحسن۔ اھ)(فتح المغیث للسخاوی، ج۱ ص۳۱) ترجمہ:(صحیح ابن خزیمہ میں بھی بہت ساری ایسی حدیثیں ہیں جس پر آپ نے صحت کا حکم لگایا ہے، مگر وہ صرف حسن ہیں)
اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ امام ترمذی اور حاکم کی طرح حدیث کے باریں میں سکوت اختیار کرتے ہیں، اور یہ سکوت کبھی ایسی حدیث پر بھی ہوتا ہے جو ضعیف ہوتی ہے ، اس لئے آپ کے سکوت اختیار کرنے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ حدیث صحیح یا حسن ہی ہے، جیسا کہ دور حاضر کے مطلب پرست لوگ گمان کرتے ہیں، کیونکہ یہ حقیقت کے خلاف ہے، امام زیلعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:( ابن خزیمہ علیہ الرحمہ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ایک حدیث کی تخریج کی ہے، اس میں ہے : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں سورئہ فاتحہ کے ساتھ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا اور اسے ایک آیت شمار کی) (نصب الرایۃ، ج ۱ص ۳۲۵) اس حدیث کو حاکم علیہ الرحمہ نے مستدرک میں ابن خزیمہ علیہ الرحمہ کے طریق سے روایت کی ہے، اس میں ایک راوی ’عمربن ہارون‘ ہیں، ان کے بارے میں ذہبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: محدثین و ناقدین کا ان کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے، اور امام نسائی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: وہ متروک ہیں، اس بیان سے واضح ہوگیا کہ صحیح ابن خزیمہ خالص صحیح احادیث پر مشتمل نہیں، بلکہ اس میں صحیح، حسن اور بعض حدیثیں ضعیف بھی ہیں، البتہ غالب وصف اس کی احادیث کا صحاح اور حسان ہونا ہے۔
زیر بحث حدیث کی سندسے اقوی دوسری سند موجود ہے!!
بعض حضرات یہ دعوی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں: زیر بحث حدیث مؤمل بن اسماعیل کے علاوہ ایک دوسرے طریق سے مروی ہے جو اس سے اقوی ہے!
یہ صرف دعوی ہے جس کی دلیل اور برہان کا دور دور تک پتہ نہیں، اگر ایسا ہوتا تو اس مذہب کے مؤیدین اسے ـضرور ذکر کرتے، مگروہ اس اقوی طریق کے ذکر کرنے عاجز ہیں، کیونکہ اس اقوی روایت کا وجود نہیں، چنانچہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صرف مؤمل بن اسماعیل کے طریق سے ہی روایت کی ہے، اگر اس کے علاوہ کوئی قوی طریق ہوتا تو یقینا امام بیہقی رحمہ اللہ اسے ـضرور ذکر کرتے، کیونکہ آپ کی وہ شخصیت ہے جس نے امام شافعی علیہ الرحمہ کے مذہب کی دلائل بطون کتب سے جمع کرنے کی انتھک کوشش کی ہے، اگر اقوی طریق ہوتا تو اسے چھوڑکر ضعیف حدیث ہرگز اپنے مذہب کے استدلال میں ذکر نہیں کرتے۔ ابن قیم جوزیہ فرماتے ہیں: مؤمل بن اسماعیل کے علاوہ کسی نے بھی (علی صدرہ) کا ذکر نہیں کیا ہے، اگر اس سے اوقوی طریق موجود ہوتا تو ابن قیم اس طرح انکار نہیں کرتے، بلکہ اس اقوی دلیل کو ذکر کرنے کا التزام کرتے، بہر حال علما اور محدثین کرام کے اقوال اور طرز استدلال سے پتہ چلتا ہے کہ اس حدیث کا اس سے اقوی طریق موجود نہیں، اور اگر مدعیان کے پاس اس سے کوئی اقوی روایت ہو تو ضروری ہے کہ اسے سامنے لائیں تاکہ ناقدین قواعد حدیث کی روشنی میں پرکھ کر اس کا حکم بیان کرسکیں، اور یہ پتہ کرسکیں آیا وہ قابل عمل ہے یا نہیں، اور رہا صرف دعوی تو یہ بغیر دلیل کے قبول نہیں کیا جاسکتا۔
بعض مخالفین کا مغالطہ اور اس کا جواب:ابن حجر عسقلانی اللہ فرماتے ہیں : (وائل بن حجر کی حدیث کو ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے، یہی حدیث صحیح مسلم میں بغیر لفظ علی صدرہ کے موجود ہے) (الدریۃلابن حجر، رقم: ۱۴۶)اور اسی قول سے صاحب تحفۃ الاحوذی مبارکپوری نے استدلال کیا کہ: (جو سند و متن ابن خزیمہ کی روایت میں ہے وہی سندو متن بغیر (علی صدرہ) کے صحیح مسلم میں بھی موجود ہے، اور صحیح مسلم کی اسناد صحیح ہے، اس لئے صحیح ابن خزیمہ کی اسناد بھی صحیح ہونی چاہیے)
یہ ایک طرح سے مغالطہ ہے، کیونکہ اگر متن کو سند کے ساتھ ذکر کیا جائے پھر یہ کہا جائے کہ یہی حدیث صحیح مسلم میںہے، تو اس طرح یعنی اتحاد سند کا قول کیا جاسکتا تھا، اگرچہ اس صورت میں بھی اشتباہ باقی رہ جاتا ہے، کیونکہ محدثین کرام کا طریقہ کار رہا ہے کہ جب باقی اسناد کے ساتھ مخرج متحد ہوتا ہے تو اس صورت میں وہ اس طرح کا جملہ استعمال کرتے ہیں، لیکن اگر متن کا ذکر کریں، اور سند کا بالکل ذکر ہی نہ ہو تو ایسی صورت میں اتحاد سند کا قول نہیں کیا جاسکتا، یہاں پرفتح الباری سے ابن حجر رحمہ اللہ کا قول نقل کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے، آپ فرماتے ہیں: (و حدیث وائل عند أبی داؤد، و النسائی ثم وضع یدہ الیمنی علی ظہر کفہ الیسری، و الرسغ مع الساعد، و صححہ ابن خزیمۃ و غیرہ، و أصلہ فی مسلم بدون الزیادۃ)(نصب الرایہ ج۲ ص۲۲۴)
ابن حجر رحمہ اللہ اپنے اس قول سے صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وائل رضی اللہ عنہ کی حدیث ابو داؤد اور نسائی رحمہما اللہ نے روایت کی ہے، اور ابن خزیمہ وغیرہ نے اس کی تصحیح بھی کی ہے، اور اس کی اصل یعنی مفہوم حدیث بغیر زیادتی ((علی صدرہ)) کے صحیح مسلم میں موجود ہے، انکی مراد قطعا یہ نہیں کہ جو سند و متن ابو داؤد اور نسائی رحمہما اللہ کی ہے وہی صحیح مسلم کی بھی ہے، اوریہی مفہوم و مفاد اس قول کا بھی ہے جس سے صاحب تحفت الاحوذی مبارکپوری نے استدلال کیاہے، اس لئے یہ کہنا کہ: صحیح مسلم کی سند صحیح ہے اس لئے صحیح ابن خزیمہ کی سند بھی صحیح ہونی چاہئے درست نہیں۔
اور برسبیل تنزل اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ حضرت وائل رضی اللہ عنہ کی زیادتی متن والی جو سند ہے وہی سند صحیح مسلم کے اصل حدیث کی ہے، پھر تو یہ سب سے بڑی دلیل ہوگی کہ متن کی زیادتی غلط ہے، اگرچہ راوی ثقہ ہو، اسے اس زیادتی کے ذکر کرنے میں وہم ہوا ہے، کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ صحیح مسلم اور ابن خزیمہ کی سند کے شیخ ایک ہی ہوں اس کے باوجود صحیح ابن خزحمہ میں زائد متن کا ذکر ہو، اور صحیح مسلم میں نہ ہو، بہر کیف امام مسلم رحمہ اللہ کا اسناد کے اتحاد کے باوجود -جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں- اس زائد متن کا ذکر نہ کرنا، اسے چھوڑ دینا ، اور حدیث کو بغیر اس زائد متن کے روایت کرنا، اس بات پر واضح طور پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کے نزیک زیادتی وہم ہے، راوی نے اس کے ذکر کرنے میں خطا کی ہے۔
ابن قیم جوزیہ ’الھدی‘ میں امام مسلم پر متکلم فیہ راویوں سے روایت کرنے کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:امام مسلم رحمہ اللہ کا متکلم فیہ سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ وہ اس قسم کے راویوں سے وہی حدیث لیتے ہیں جس کے بارے میں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث راوی کے پاس محفوظ ہے، جیسا کہ کبھی ثقہ کی بعض حدیث کو نہیں لیتے، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس ثقہ راوی کو اس حدیث کے روایت کرنے میں غلطی واقع ہوئی ہے، بلکہ امام مسلم علیہ الرحمہ کبھی کبھی اس کی طرف اشارہ بھی کرتے ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں: حماد کی حدیث میں بعض حرف زائد ہے، ہم نے اس کا ذکر قصدا چھوڑدیا)

اعتراض : اگر یہ کہا جائے کہ شوکانی ’النیل‘ میں لکھتے ہیں : شافعی حضرات اپنے موقف پر اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جس کی تخریج ابن خزیمہ نے اپنی تصحیح کے ساتھ کی ہے، وہ وائل رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث ہے، آپ فرماتے ہیں: صلیت مع رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فوضع یدہ الیمنی علی الیسری علی صدرہ) ۔ (نیل الأوطار للشوکانی، باب ماجاء فی وضع الیمین علی الشمال، ج۲ ص۲۲۰)
اگر شوکانی ابن خزیمہ کی تصحیح ذکر کرنے سے سکوت اختیار کرتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا، جیسا کہ حافظ ابن حجر اور امام نووی رحمہما اللہ اور دیگر حضرات جنہوں نے اس حدیث کو ذکر کیا مگر سکوت اختیار کیا اور ابن خزیمہ کی تصحیح کو ذکر نہیں کیا، کیونکہ اگر انہوں نے تصحیح فرمائی ہوتی تو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ جن کے پاس صحیح ابن خزیمہ کا اصل نسخہ تھا، جس کی وجہ سے انہوں اپنی کتابوں میں ان کی تصحیحات خوب ذکر کی ہیں، ضرور اس حدیث پر ان کی تصحیح نقل کرتے، اور رہی شوکانی صاحب کی بات تو ان کے پاس صحیح ابن خزیمہ تھی ہی نہیں، اس کے باوجود تصحیح ذکر کرنا عجیب ہے، شاید انہیں ابن سید الناس کے قول سے اشتباہ ہوگیا، یا یہ سمجھ بیٹھے کہ جو بھی حدیث ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں ذکر کی ہے اس کی انہوں نے تصحیح فرمائی ہے، بہرحال ان کا یہ قول ’رکانہ‘ کی حدیث کے بارے میںذکر کردہ قول کی طرح ہے، آپ کہتے ہیں: (ابو داؤد نے فرمایا:یہ حدیث حسن صحیح ہے) حالانکہ ابوداؤد کے تمام نسخوں میں مجھے یہ تصحیح نہیں ملی، و اللہ اعلم ۔ حاشیۃ نصب الرایۃملخصا، ج۱ ص ۳۱۵،چشتی)

حدیث ہلب رضی اللہ عنہ : حدثنا یحی بن سعید عن سفیان حدثنی سماک عن قبیصۃ بن ہلب عن أبیہ قال: رأیت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ینصرف عن یمینہ وعن یسارہ ورأیتہ قال : یضع ہذہ علی صدرہ)
ترجمہ : حضرت ہلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ وہ نماز سے فارغ ہوکر کبھی داہنی طرف تو کبھی بائیں طرف مڑ جاتے تھے، راوی فرماتے ہیں: میں نے انہیں کہتے ہوئے دیکھا:حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ہاتھوں کو سینے پر رکھتے تھے ۔ (مسند احمد، رقم: ۲۱۹۶۷)

سند پر کلام : اس حدیث کی سند میں ایک راوی قبیصہ متکلم فیہ ہیں، ان کے بارے میں امام مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : مجہول ہیں، سماک کے سوا کسی نے ان سے روایت نہیں کی ، امام نسائی فرماتے ہیں: مجہول ہیں، اورسماک کے تفرد کو امام مسلم نے بھی الوحدان میں ذکر کیا ہے، اور امام عجلی نے فرمایا: ثقہ ہیں، اور ابن حبان نے انہیں اپنی کتاب ’الثقات‘ میں ذکر کیا ہے)(تہذیب الکمال للمزی،رقم:۸۴۶، تہذیب التہذیب للعسقلانی، رقم:۶۳۵،چشتی) ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی ان کے بارے خلاصہ کلام کے طور پرفرماتے ہیں: مقبول ہیں (التقریب، رقم:۵۵۱۶) اور یہ قبولیت مطلقا نہیں بلکہ اس صورت میں ہے جبکہ راوی کے حدیث کی کوئی متابع موجود ہو، ورنہ مقبول نہیں بلکہ لین الحدیث قرار دئے جائیں گے (التقریب ص ۱۴) اور موجودہ راویت میں قبیصہ روای کی (علی صدرہ) ذکر کرنے میں کوئی متابع موجود نہیں، لہذا ان کے لین الحدیث ہونے کے ساتھ ان کی روایت کردہ یہ حدیث ضعیف ہوگی۔ و اللہ اعلم۔
صاحب عون المعبود لکھتے ہیں : اور راوی مجہول العین کی حدیث مقبول ہے جبکہ راوی کی توثیق روایت کرنے والے علاوہ کسی اور نے کی ہو، ابن حجر رحمہ اللہ ’شرح النخبۃ‘ میں فرماتے ہیں : اگر راوی کا نام ذکر کیا گیا اور اس سے صرف ایک ہی راوی نے روایت کی ہے تو وہ مجہول العین ہے، ہاں اگر اس سے روایت کرنے والے اس منفرد کے علاوہ کسی نے اس کی توثیق کی ہے تو اصح یہ ہے کہ وہ مجہول العین نہیں) اور یہاں پر قبیصہ کی توثیق امام عجلی اور ابن حبان نے کی ہے، لہذا یہ حدیث مقبول ہوگی)
صاحب العون کا یہ استدلال محل نظر ہے، کیونکہ ابن حجر رحمہ اللہ نے توثیق کے بعد صرف مجہول العین ہونے کی نفی فرمائی ہے، رہی بات اس کے مقبول ہونے کہ تو اس کے بارے میں کوئی صراحت نہیں فرمائی، البتہ آپ تقریب التہذیب میں فرماتے ہیں : راوی مقبول ہے جبکہ اس کے حدیث کی متابع موجود ہوورنہ وہ لین الحدیث ہے ۔ آپ کے اس قول سے پتہ چلتا ہے کہ امام عجلی متساہل کا انہیں ثقہ قرار دینا، اور ابن حبان متساہل کا انہیں اپنی کتاب الثقات میں ذکر کرنا اس روای کی حدیث قبول کرنے کے لئے کافی نہیں، بلکہ اس راوی کی روایت قبول کرنے کے لئے اس کی روایت کا متابع بھی ہونا ضروری ہے ۔
نیز اس حدیث کا مدار سماک پر ہے، ان سے روایت کرنے میں راویوں کا اختلاف ہے، سماک سے چار لوگوں نے روایت کی، اور ان میں سے کسی نے بھی (علی صدرہ) کا ذکر نہیں کیا، ان کے نام یہ ہیں : ⬇
شعبہ بن الحجاج (مسند الطیالسی، رقم: ۱۰۸۶، مصنف ابن ابی شیبہ، رقم:۳۱۰۹، مسند احمد، رقم: ۲۱۹۷۳، سنن ابی داؤد، رقم: ۱۰۴۱) (۲) زائدہ بن قدامہ (مسند احمد، رقم: ۲۱۹۸۲) (۳) شریک بن عبد اللہ نخعی (مسند احمد، رقم: ۲۱۹۱۷) (۴) ابو الاحوص سلام بن سلیم (سنن ابن ماجہ، رقم: ۸۰۹، ۹۲۹، سنن الترمذی، رقم: ۲۵۲، ۳۰۱) ان میں سے بعض نے حدیث کو مختصرا روایت کیا ہے۔
اور سفیان ثوری نے اس حدیث کو سماک سے روایت کی ہے، سفیان ثوری سے بھی اس حدیث کی روایت کرنے میں اختلاف ہے، یحی بن سعید قطان نے صرف ان سے اس زیادتی کا ذکر کیا ہے، وایت کرنے والوں کے نام یہ ہیں:
(۱) یحی بن سعید قطان( مسند احمد، رقم: ۲۱۹۶۷) (۲)عبدالرزاق (المصنف، رقم: ۳۲۰۷) (۳) عبد الرحمن بن مہدی (سنن الدارقطنی، رقم:۱۱۰۰)(۴) وکیع ابن الجراح (مسند احمد، رقم:۲۱۹۶۸، مصنف ابن ابی شیبہ، رقم: ۳۹۳۴) ان تین حضرات نے زیادتی کا ذکر نہیں کیا!
اگر برسبیل تنزل مان لیا جائے کہ راوی قبیصہ مقبول ہیں -اگرچہ صحیح یہی ہے کہ ان کی روایت کے متابع نہ ہونے کی وجہ سے وہ لین الحدیث اور ان کی حدیث ضعیف ہے-تو کیا ثقہ کی زیادتی مقبول ہوگی ؟ آنے والی سطور میں ملاحظہ فرمائیں :
کیا ثقہ کی زیادتی مطلقا مقبول ہے ؟
اس روایت میں سفیان ثوری کے شاگردوں میں سے یحی بن سعید ثقہ (علی صدرہ) کی زیادتی کے ساتھ روایت کرنے میں منفرد ہیں، اور ثقہ کی زیادتی مقول ہوگی یا نہیں، اس باب میں مختلف قیود و شروط کے ساتھ مختلف مذاہب ہیں، میں یہاں دو مشہور مذہب ذکر کرنے پر اکتفا کرتا ہوں، ملاحظہ فرمائیں : ⬇
پہلا مذہب:(معظم فقہا و محدثین کی رائے یہ ہے کہ ثقہ کی زیادی مطلقا مقبول ہے) مگر ابن حجر رحمہ اللہ نے اس مطلق قول کو مقید کیا، اور فرمایا: (ثقہ کی زیادتی اس صورت میں مقبول ہے جبکہ اس کی اس زیادتی کی وجہ سے مد مقابل کی روایت کا انکار لازم نہ آئے)(فتح المغیث للسخاوی، ج۱؍ص۱۷۵، ۱۷۷)
اس مذہب کے اعتبار سے اس روایت میں مذکور (علی صدرہ) کی زیادتی مقبول ہونی چاہئے، کیونکہ زیادتی کی روایت کرنے والے یحی بن سعید ثقہ ہیں، نیز ان کی اس روایت سے مدمقابل راویوں کی روایت کا رد بھی لازم نہیں آتا، اس لئے یہاں پر یہ زادتی مقبول ہونی چاہئے۔ واللہ اعلم۔

دوسرا مذہب:اور بہت سے دیگر فقہا و محدثین مثلا ابن خزیمہ اور ابن عبد البر وغیرہ کا مذہب یہ ہے کہ زیادتی کا ذکر کرنے والے کے لئے لازم ہے کہ وہ ثقاہت میں، نہ ذکرکرنے والے راوی کے مساوی، یا اس سے اوثق، یا ذکر کرنے والے متعددثقات ہوں، اور نہ ذکرکرنے والا ایک ہی ثقہ ہو، تو ایسی صورت میں زیادتی مقبول ہوگی، اوراگر اس کا برعکس یعنی زیادتی کا ذکر کرنے والا، نہ ذکر کرنے والے سے ثقاہت میں مساوی نہیں بلکہ کم ہو، یا ذکر کرنے والے ثقات کی تعداد کم ہو، تو ایسی صورت میں یہ زادتی مقبول نہیں ہوگی (فتح المغیث للسخاوی، ج۱؍ص ۱۷۶،چشتی)
اس مذہب کے اعتبار سے لازم آئے گا کہ یہاں پر زیادتی والی روایت مقبول نہ ہو، کیونکہ یحی بن سعید اگرچہ سفیان ثوری سے روایت کرنے والوں میں اثبت ہیں، مگر وہ زیادتی کی روایت کرنے میں تنہا ہیں، اور روایت نہ کرنے والے وکیع بن الجراح اور عبد الرحمن بن مہدی سفیان ثوری کے شاگردوں میں اثبت ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ بھی ہیں،امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:یحی بن معین رحمہ اللہ سے اصحاب ثوری کے بارے میں پوچھا گیا کہ ان میں کون اثبت ہیں؟ آپ نے فرمایا: وہ پانچ ہیں: یحی بن سعید، وکیع بن الجراح، عبد اللہ بن المبارک، عبد الرحمن بن مہدی، اور ابو نعیم فضل بن دکین) ۔ (شرح علل الترمذی لابن رجب، ص۲۹۸)
اس مذہب کے اعتبار سے یہ زیادتی والی روایت قابل احتجاج نہیں ہوگی۔ واللہ اعلم۔
حکم:مذکورہ بالا بیان سے واضح ہوگیا کہ اس حدیث کی سند میں ایک روای قبیصہ متکلم فیہ ہونے کے ساتھ لین الحدیث ہیں، اور اس حدیث کی روایت کرنے میں ان کی کسی نے متابعت نہیں کی ہے ، اس لئے ان کہ یہ روایت مقبول نہیں بلکہ ضعیف ہوگی،اور اگر برسبیل تنزل مان بھی لیا جائے کہ یہ حدیث سند کے اعتبار سے قابل قبول ہے،تو بھی یہ حدیث قابل احتجاج نہیں،کیونکہ سفیان ثوری جو اس حدیث کے راوی ہیں ان کا مذہب خود اس حدیث کے خلاف ہے، امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:(اس قائدہ کے پیش نظر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور اکثر حفاظ نے بہت ساری احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے) ۔ (شرح علل الترمذی، ص ۴۰۹) نیز یہ کہ سفیان ثوری کے تلامذہ میں سے یحی بن سعید کے علاوہ دیگر تلامذہ اور سماک کے تلامذہ کی روایت میں یہ لفظ یعنی (علی صدرہ) ثابت و محفوظ نہیں، نیز اس حدیث کو اپنی کتاب ’مسند‘ میں ذکر کرنے والے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا عمل خود اس حدیث کے برخلاف ہے، آپ کا اس حدیث کے خلاف عمل کرنا اگرچہ حدیث کے ضعف پر دلالت نہیں کرتا ہے مگر اس بات پر ضرور دال ہے کہ یہ حدیث قابل عمل و احتجاج نہیں، کیونکہ اگر قابل احتجاج ہوتی تو امام احمد بن حنبل -جو اگر کسی باب میں صحیح حدیث کے بجائے ضعیف ہو تو وہ اس ضعیف پر بھی عمل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں- ضرور اس حدیث پر عمل کرتے، نیز اس باب میں ابھی ابھی محدثین و محققین کے موقف کا بیان گزراکہ اگر راوی کا عمل روایت کے خلاف ہو تو راوی کے عمل کو لیا جائے گا ،بہر حال یہ روایت بھی ضعیف اور زیر بحث مسئلہ میں قابل احتجاج نہیں۔ واللہ اعلم۔
فائدہ : صاحب عون المعبود اور صاحب تحفۃ الاحوذی کا (علی صدرہ) والی اس روایت کو دوسرے جرح کے اقوال سے صرف نظر کرتے ہوئے صحیح قرار دینا محل نظر ہے، خاص طور سے اس صورت میں جبکہ جرح کے مقبابلہ میں راوی قبیصہ کو ثقہ قرار دینے والے امام عجلی اور ابن حبان متساہلین میں سے ہوں!! واللہ اعلم۔

روایت طاؤس رحمہ اللہ:حدثنا أبو توبۃ، حدثنا الہیثم یعنی ابن حمید، عن ثور، عن سلیمان بن موسی، عن طاؤس قال: کان رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم :(( یضع یدہ الیمنی علی یدہ الیسری، ثم یشد بینہما علی صدرہ و ہو فی الصلاۃ)) (سنن أبی داود، رقم: ۷۵۹)
ترجمہ : حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کی حالت میں اپنے داہنے ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کرسینے پر مضبوطی سے باندھ لیتے تھے ۔

سند پر کلام:اولا: ہیثم بن حمید، متکلم فیہ ہیں، ابوداؤو نے ان کی توثیق کی ہے، اور علی بن مسہر نے فرمایا: ضعیف، قدری ہیں(میزان الاعتدال للذہبی، رقم: ۹۲۹۸) ثانیا: سلیمان بن موسی، امام بخاری نے فرمایا: ان کے پاس مناکیر ہیں، اور ابوحاتم نے فرمایا: محلہ الصدق، اور ان کی حدیث میں بعض اضطراب ہے، اور امام نسائی نے فرمایا: قوی نہیں ہیں، اور ابن عدی نے فرمایا: وہ میرے نزدیک ثبت صدوق ہیں(میزان الاعتدال، رقم: ۳۵۱۸) ثالثا: یہ حدیث مرسل ہے، کیونکہ طاؤس تابعی ہیں، آپ نے جن سے یہ حدیث سنی ہے ان کا ذکر نہیں کیا۔
حکم: ضعیف ۔اس مسئلہ میں ابن قیم جوزیہ کی رائے ملاحظہ فرمائیں، آپ لکھتے ہیں:امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے نماز کی حالت میں ناف کے اوپر اور ناف کے نیچے رکھنے کی روایت ملتی ہے، ابوطالب فرماتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا ، نماز کی حالت میں نمازی ہاتھ کہاں رکھے گا؟ آپ نے فرمایا: ناف پر یا ناف سے نیچے رکھے گا، بہر حال آپ کے نزدیک اس مسئلہ میں وسعت ہے، چاہے ناف سے اوپر یا ناف پر یا ناف سے نیچے رکھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نماز کی حالت میں ہاتھ کو ہاتھ پر رکھ کر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے، اس طرح کی وضاحت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، مگر یہ روایت صحیح نہیں،ہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت ضرورصحیح ہے، اور مزنی کی روایت میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہاتھ ناف کے تھوڑا نیچے رکھا جائے، اسے سینہ کے اورپر رکھنا مکروہ ہے، کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تکفیر یعنی سینے پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے، اور مؤمل بن اسماعیل نے اگرچہ علی صدرہ کا ذکر کیا ہے، مگر عبد اللہ بن الولید نے اس حدیث کو سفیان ثوری سے روایت کیا اور علی صدرہ کا ذکر نہیں کیا، اسی طرح سے شعبہ اور عبد الواحد نے سفیان ثوری کی مخالفت کی اور علی صدرہ کا ذکر نہیں کیا۔
خلاصہ بحث : (الف) وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ پہلی حدیث ضعیف ہے (ب) اور ہلب رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ دوسری حدیث بھی ضعیف ہے(ت) اور طاؤس رحمہ اللہ کی روایت مرسل ہے، اور مرسل غیر مقلدین کے نزدیک قابل احتجاج نہیں (ث) غیر مقلدین کے طریقہ کار کے پیش نظر سینے پر ہاتھ رکھنے والی ساری احادیث ضعیف ہونے کی وجہ سے قابل احتجاج نہیں، لہذا ان کے لئے ان روایات ضعیفہ پر عمل روا نہیں، مگر وہ عمل کرتے ہیں!! (ج) اگر غیر مقلدین پر رحم کھایا جائے -جو امام ترمذی رحمہ اللہ کو متساہل کہتے نہیں تھکتے- تو امام ترمذی رحمہ اللہ کے طریقہ کار کی پیروی کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ان غیر مقلدین کی قوی تر دلیل وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے لئے ہلب رضی اللہ عنہ اور طاؤس کی روایت شاہد بن سکتی ہے، اس لئے وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن لغیرہ تک پہونچ جائے گی، مگر میرے نزدیک پھر بھی اس باب کی حدیث پر عمل کرنا روا نہیں ، اس کے چند وجوہات ہیں:پہلی اور دوسری حدیث کی سند میں سفیان ثوری ہیں، ان کا عمل خود اس روایت کے خلاف ہے ، اور ایسی صورت میں عمل رویت پر مقدم ہوگا، امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:(اس قائدہ کے پیش نظر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور اکثر حفاظ نے بہت ساری احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے)(۲) دوسری حدیث کی تخریج امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں کی ہے مگر ان کا عمل خود اس حدیث کے برخلاف ہے جیسا کہ ماقبل میں ابن قیم جوزیہ کے بیان سے واضح ہے(۳) بلکہ ائمہ ثلاثہ اور ان کے تمام متبعین کا عمل اس حدیث کے برخلاف ہے، اور شوافع اگر چہ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کرتے ہیں، مگر وہ اس حدیث کے ظاہری معنی پر عمل نہیں کرتے ، بلکہ تاویل یا دوسری روایت کے پیش نظر سینے کے نیچے ہی ہاتھ باندھنا مستحب قرار دیتے ہیں، بہر کیف بارہویں صدی میں پیدا ہونے والی غیر مقلدیت سے پہلے پوری دنیا انہیں ائمہ کرام کی اتباع کرتی تھی، اور آج بھی اکثریت انہیں قرون فاضلہ اور سلف صالح علما کی اتباع کرتی ہے، لہذا پوری امت محمدیہ کے خلاف جانا جائزودرست نہیں، امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:(اگر امت مسلمہ کا کسی حدیث کے ترک عمل پر اجماع ہوجائے تو اس کا چھوڑ دینا اور اس پر عمل نہ کرنا واجب ہے) ۔ (الاشفاق علی احکام الطلاق للکوثری صفحہ ۴۶)

یہاں زیر بحث مسئلہ کی روایات سے استدلال نہ کرنے پر اجماع تو نہیں ، لیکن اگر شوافع کا ان روایات کے ظاہری معنی پر عمل نہ کرنے کو لے لیا جائے تو یہاں پر ان روایات کے موافق عمل نہ کرنے پر صورت اجماع ضرورہے، کیونکہ شوافع خود وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت کے ظاہری معنی پر عمل نہیںکرتے ، بلکہ دوسری حدیث -جس میں وارد ہے کہ سینے کے نیچے ہاتھ رکھا جائے- اسے اس روایت کے لئے مفسر مانتے ہیں ، اور سینے کے نیچے ہاتھ رکھنے کو مستحب جانتے مانتے ہیں ۔ (اسنی المطالب فی شرح روض الطالب لزکریا انصاری شافعی جلد ۱ صفحہ ۱۴۵)

بہر حال بارہویں صدی ہجری میں پیدا ہونے والی غیر مقلدیت سے پہلے پوری امتِ مسلمہ کم از کم ان روایات کے ظاہری معنی کے موافق عمل نہ کرنے پر متفق تھی ، اس لیے آج بھی ان روایات کے ظاہری معنی پر عمل کرنا جائز و درست نہیں ہوگا ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)








حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والوں کےلیے لمحہ فکریہ

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والوں کےلیے لمحہ فکریہ محترم قارئینِ کرام : حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے ...