اسلام کا معنی و مفہوم قرآن و حدیث کی روشنی میں
محترم قارئینِ کرام : اسلام دین امن و سلامتی ہے ۔ اسلام خود بھی امن و سلامتی کا دین ہے اور دوسروں کو بھی امن و عافیت کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتا ہے ۔ اسلام کے دینِ امن و سلامتی ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بھیجے ہوئے دین کےلیے نام ہی ’’اسلام‘‘ پسند کیا ہے ۔ لفظ اسلام سَلَمَ یا سَلِمَ سے ماخوذ ہے ، جس کے معنی امن و سلامتی اور خیر و عافیت کے ہیں ۔ اسلام اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے سراسر امن ہے ۔ گویا امن و سلامتی کا معنی لفظ اسلام کے اندر ہی موجود ہے ۔ لہٰذا اپنے معنی کے اعتبار سے ہی اسلام ایک ایسا دین ہے جو خود بھی سراپا سلامتی ہے اور دوسروں کو بھی امن و سلامتی، محبت و رواداری ، اعتدال و توازن اور صبر و تحمل کی تعلیم دیتا ہے ۔ قرآن و حدیث میں اگر مسلم اور مومن کی تعریف تلاش کی جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک مسلمان صرف وہ شخص ہے جو تمام انسانیت کےلیے پیکر امن و سلامتی ہو اور مومن بھی وہی شخص ہے جو امن و آشتی ، تحمل و برداشت ، بقاء باہمی اور احترام آدمیت جیسے اوصاف سے متصف ہو ۔ یعنی اجتماعی سطح سے لے کر انفرادی سطح تک ہر کوئی اس سے محفوظ و مامون ہو ۔
اسلام کا لفظ ، س ، ل ، م ، سَلَمَ سے نکلا ہے ۔ اس کے لغوی معانی بچنے ، محفوظ رہنے ، مصالحت اور امن و سلامتی پانے اور فراہم کرنے کے ہیں ۔ حدیث نبوی میں اس لغوی معنی کے لحاظ سے ارشاد ہے : الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ منْ لِّسَانِه وَيَدِه ۔
ترجمہ : بہتر مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ (صحیح بخاری کتاب الايمان باب المسلم من سلم المسلمون من لسانه و يده جلد 1 صفحہ 13 رقم : 10)(صحیح مسلم کتاب الايمان باب تفاضل الاسلام و ای اموره أفصل جلد 1 صفحہ 65 رقم : 40)
اسی مادہ کے باب اِفعال سے لفظ اسلام بنا ہے ۔ لغت کی رو سے لفظ اسلام چار معانی پر دلالت کرتا ہے ۔
اسلام کا لغوی معنی خود امن و سکون پانا ، دوسرے افراد کو امن و سلامتی دینا اور کسی چیز کی حفاظت کرنا ہے ۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (سورہ المائدة آیت نمبر 16)
ترجمہ : اللہ اس سے ہدایت دیتا ہے اسے جو اللہ کی مرضی پر چلا سلامتی کے راستے اور انہیں اندھیریوں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے اپنے حکم سے اور انہیں سیدھی راہ دکھاتا ہے ۔
یہاں قرآن کی شان کا بیان ہے کہ اللہ عزوجل قرآن کے ذریعے اسے ہدایت عطا فرماتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع ہوجاتا ہے اور جو اپنے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی میں لگا دیتا ہے تواللہ تعالیٰ اسے کفر و شرک اور مَعاصی کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور اعمالِ صالحہ کے نور میں داخل فرما دیتا ہے ۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ ’’بِهٖ‘‘ کی ضمیر سے سرکارِ کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی مراد ہیں ۔ اس اعتبار سے معنیٰ بنے گا کہ اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ہدایت عطا فرماتا ہے ۔ مَعنَوِی اعتبار سے یہ بات قطعاً درست ہے ۔
اسلام کا دوسرا مفہوم ماننا ، تسلیم کرنا ، جھکنا اور خود سپردگی و اطاعت اختیار کرنا ہے ۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْۙ ۔ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (سورہ البقرة آیت نمبر 131)
ترجمہ : جب کہ اس سے اس کے رب نے فرمایا گردن رکھ عرض کی میں نے گردن رکھی اس کےلیے جو رب ہے سارے جہان کا ۔
اس سے معلوم ہوا کہ والدین کوصرف مال کے متعلق ہی وصیت نہیں کرنی چاہیے بلکہ اولاد کو عقائدِ صحیحہ ، اعمالِ صالحہ ، دین کی عظمت ، دین پر استقامت ، نیکیوں پر مداومت اور گناہوں سے دور رہنے کی وصیت بھی کرنی چاہیے ۔ اولاد کو دین سکھانا اور ان کی صحیح تربیت کرتے رہنا والدین کی ذمہ داری ہے ۔ جیساکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرو اور انہیں اچھے ادب سکھانے کی کوشش کرو ۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الادب باب بر الوالد والاحسان الی البنات جلد ۴ صفحہ ۱۸۹ - ۱۹۰ الحدیث : ۳۶۷۱)
اسلام میں تیسرا مفہوم صلح و آشتی کا پایا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایا : يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّةً ۔ (سورہ البقرة آیت نمبر 208)
ترجمہ : اے ایمان والو اسلام میں پورے داخل ہو ۔
اہل کتاب میں سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد شریعت مُوسَوی کے بعض احکام پر قائم رہے ، ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتے ، اس روز شکار سے لازماً اِجتناب جانتے اور اونٹ کے دودھ اور گوشت سے بھی پرہیز کرتے اور یہ خیال کرتے کہ یہ چیزیں اسلام میں صرف مُباح یعنی جائز ہیں ، ان کا کرنا ضروری تو نہیں جبکہ توریت میں ان سے اجتناب لازم کیا گیا ہے تو ان کے ترک کرنے میں اسلام کی مخالفت بھی نہیں ہے اور شریعت مُوسَوی پر عمل بھی ہو جاتا ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیاکہ اسلام کے احکام کا پورا اتباع کرو یعنی توریت کے احکام منسوخ ہو گئے اب ان کی طرف توجہ نہ دو ۔ (تفسیر خازن جلد ۱ صفحہ ۱۴۷)
اسی طرح ایک بلند و بالا درخت کو بھی عربی لغت میں السّلم کہا جاتا ہے ۔
مندرجہ بالا معانی کے لحاظ سے لغوی طور پر اسلام سے مراد امن پانا ، سر تسلیم خم کرنا ، صلح و آشتی اور بلندی کے ہیں ۔
دینِ اسلام سے مراد اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات پر مبنی وہ نظام حیات ہے جو ہر اعتبار سے کامل اور مکمل ہو اور وہ انسانی زندگی کے ہر شعبے کی ضروریات کو پوری کرتا ہو ۔ اس میں انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی اور بین الاقوامی سطح تک کی زندگی کے ہر گوشے کے بارے میں رہنمائی کا سامان موجود ہے ۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے : إِنَّ الدِّينَ عِندَاللهِ الْإِسْلاَمُ ۔ (سورہ آل عمران آیت نمبر 19)
ترجمہ : بیشک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے ۔
ہر نبی کا دین اسلام ہی تھا لہٰذا اسلام کے سوا کوئی اور دین بارگاہِ الٰہی عزوجل میں مقبول نہیں لیکن اب اسلام سے مراد وہ دین ہے جو حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لائے ، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کےلیے رسول بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی بنایا ، تو اب اگر کوئی کسی دوسرے آسمانی دین کی پیروی کرتا بھی ہو لیکن چونکہ وہ اللہ عزوجل کے اِس قطعی اور حَتمی دین اور نبی کو مکمل طور پر نہیں مان رہا لہٰذا اس کا آسمانی دین پر عمل بھی مردود ہے ۔ یہود و نصاریٰ وغیرہ کفار جو اپنے دین کو افضل و مقبول کہتے ہیں اس آیت میں ان کے دعویٰ کو باطل فرمایا گیا ہے ۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلاَمَ دِينًا ۔ (سورہ المائدة آیت نمبر 3)
ترجمہ : آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا ۔
اس آیت کے متعلق بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی آیا اور اس نے کہا ، اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ ، آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے ، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نازل ہونے کے دن عید مناتے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : کون سی آیت ؟ اس یہودی نے یہی آیت ’’اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ‘‘ پڑھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس دن کو جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی تھی اور اس کے نازل ہونے کے مقام کو بھی پہچانتا ہوں ، وہ مقامِ عرفات کا تھا اور دن جمعہ کا ۔ (صحیح بخاری کتاب الایمان باب زیادۃ الایمان ونقصانہ جلد ۱ صفحہ ۲۸ الحدیث : ۴۵،چشتی)(صحیح مسلم کتاب التفسیر صفحہ ۱۶۰۹ الحدیث : ۵ (۳۰۱۷))
آپ رضی اللہ عنہ کی مراد اس سے یہ تھی کہ ہمارے لیے وہ دن عید ہے ۔ نیز ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے آپ رضی اللہ عنہ سے بھی ایک یہودی نے ایسا ہی کہا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس روز یہ نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں ، جمعہ اور عرفہ ۔ (سنن ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ المائدۃ جلد ۵ صفحہ ۳۳ الحدیث : ۳۰۵۵)
اس سے معلوم ہوا کہ کسی دینی کامیابی کے دن کو خوشی کا دن منانا جائز اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے ورنہ حضرت عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم صاف فرما دیتے کہ جس دن کوئی خوشی کا واقعہ ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور اس روز کو عید منانا ہم بدعت جانتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ عید میلاد منانا جائز ہے کیونکہ وہ اللہ عزوجل کی سب سے عظیم نعمت کی یادگار و شکر گزاری ہے ۔
مذکورہ آیت سے سے معلوم ہوا : ⏬
پہلا یہ کہ صرف اسلام اللہ عوجل کو پسند ہے یعنی جو اَب دین محمدی کی صورت میں ہے ، باقی سب دین اب ناقابلِ قبول ہیں ۔
دوسرا یہ کہ اس آیت کے نزول کے بعد قیامت تک اسلام کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہو سکتا ۔
تیسرا یہ کہ اصولِ دین میں زیادتی کمی نہیں ہو سکتی ۔ اجتہادی فروعی مسئلے ہمیشہ نکلتے رہیں گے ۔
چوتھا یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا کیونکہ دین کامل ہو چکا ، سورج نکل آنے پر چراغ کی ضرورت نہیں ، لہٰذا قادیانی جھوٹے ، بے دین اور خدا عزوجل کے کلام اور دین کو ناقص سمجھنے والے ہیں ۔
پانچواں یہ کہ اسلام کو چھوڑ کر کوئی لاکھوں نیکیاں کرے اللہ عزوجل کو پیارا نہیں کیونکہ اسلام جڑ ہے اور اعمال شاخیں اور پتے اور جڑ کٹ جانے کے بعد شاخوں اور پتوں کو پانی دینا بے کار ہے ۔
ان آیات سے اسلام کے ایک کامل اور مکمل دین ہونے کا تصور ابھرتا ہے ۔
ایمان اسے کہتے ہیں کہ سچے دل سے اُن سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریاتِ دین ہیں اور کسی ایک ضرورتِ دینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں ، اگرچہ باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتا ہو ۔ ضروریاتِ دین وہ مسائلِ دین ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں ، جیسے اللہ عزوجل کی وحدانیت ، انبیا کی نبوت ، جنت و نار ، حشر و نشر وغیرہا ، مثلاً یہ اعتقاد کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں ، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا ۔
عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو طبقہ علما میں نہ شمار کیے جاتے ہوں ، مگر علما کی صحبت سے شرفیاب ہوں اور مسائلِ علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں ، نہ وہ کہ کوردہ (کم آباد اور چھوٹا گاؤں ، جسے کوئی نہ جانتا ہو اور نہ ہی وہاں تعلیم کا کوئی سلسلہ ہو) اور جنگل اور پہاڑوں کے رہنے والے ہوں جو کلمہ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے ، کہ ایسے لوگوں کا ضروریاتِ دین سے ناواقف ہونا اُس ضروری کو غیر ضروری نہ کر دے گا ، البتہ ان کے مسلمان ہونے کےلیے یہ بات ضروری ہے کہ ضروریاتِ دین کے منکر نہ ہوں اور یہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ اسلام میں جو کچھ ہے حق ہے ، ان سب پر اِجمالاً ایما ن لائے ہوں ۔ (بہار شریعت جلد 1 حصہ 1 صفحہ 172 ، 173 مکتبۃ المدینہ) ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:
Post a Comment