Sunday, 29 March 2026

شوہر کا اپنی بیوی کو ماں ، بہن ، بیٹی کہنے کا شرعی حکم

شوہر کا اپنی بیوی کو ماں ، بہن ، بیٹی کہنے کا شرعی حکم

محترم قارئینِ کرام : شوہر کا اپنی بیوی کو قرآن پر ہاتھ رکھ کر بہن کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ، البتہ یہ سخت گناہ اور قسم کے حکم میں ہے ۔ اگر یہ جملہ طلاق کی نیت سے نہیں کہا تو نکاح برقرار رہے گا ، لیکن اگر قسم کے طور پر کہا ہے تو اسے توڑنے پر کفارہ 10 مسکینوں کو کھانا کھلانا یا 3 دن کے روزے) واجب ہوگا ۔ شوہر کا اپنی بیوی کو فقط ماں ، بہن ، بیٹی وغیرہ کہہ کر پکارنا یا یوں کہنا کہ تم میری ماں ، بہن ، باجی وغیرہ ہو ، ناجائز و گناہ ہے جس سے توبہ کرنا  اس پر لازم ہے البتہ اس سے نکاح پر کچھ اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی ظہار وغیرہ لازم ہوتا ہے ہاں اگر اس طرح کے الفاظ کہے تو میر ی بہن کی طرح ہے ، تو میری بیٹی کی مانند ہے ، تو میر ی ماں کی مثل ہے وغیرہ تو اس صورت میں ان کلمات سے جو نیت کرے گا اسی کا اعتبار ہوگا اگر اُس کے اِعزاز کےليے کہا تو کچھ لازم نہیں ، طلاق کی نیت ہے تو بائن طلاق واقع ہوگی ، ظہار کی نیت ہے تو ظہار ہے اور تحریم (حرام کرنے) کی نیت ہے تو ایلا ہے اور اگر کچھ بھی نیت نہیں تھی ایسے ہی کہہ دیا تو اگرچہ ایسا کہنا جائز نہیں البتہ اس سے کچھ لازم نہیں ہوگا ۔


اللہ تبارک وتعالی قرآن کریم  میں ارشاد فرماتاہے : مَا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ ؕاِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اﻼ وَلَدْنَهُمْ ؕوَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًاؕ ۔

ترجمہ : جورئیں (یعنی بیویاں) ان کی مائیں نہیں ، ان کی مائیں تو وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہیں اور وہ بےشک بُری اور نِری جھوٹ بات کہتے ہیں ۔ (سورہ المجادلہ آیت نمبر 2)


اللہ عوجل کا ارشاد ہے : مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖۚ ۔ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓـِٔیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْۚ ۔ (سورہ الاحزاب آیت نمبر 4)

 ترجمہ : الله  نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ بنائے اور اس نے تمہاری ان بیویوں  کو تمہاری حقیقی مائیں  نہیں  بنادیا جنہیں  تم ماں  جیسی کہہ دو ۔


زمانۂ جاہلیت میں  جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ظِہار کرتا تھا تو وہ لوگ اس ظہار کو طلاق کہتے اور اس عورت کو اس کی ماں  قرار دیتے تھے اور جب کوئی شخص کسی کو بیٹا کہہ دیتا تھاتو اس کو حقیقی بیٹا قرار دے کر میراث میں  شریک ٹھہراتے اور اس کی بیوی کو بیٹا کہنے والے کے لئے حقیقی بیٹے کی بیوی کی طرح حرام جانتے تھے۔ ان کے رد میں  یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ جن بیویوں  کو تم نے ”ماں  جیسی“ کہہ دیا ہے تو ا س سے وہ تمہاری حقیقی مائیں  نہیں  بن گئیں  اور جنہیں  تم نے اپنا بیٹا کہہ دیا ہے تو وہ تمہارے حقیقی بیٹے نہیں  بن گئے اگرچہ لوگ انہیں  تمہارا بیٹا کہتے ہوں ۔ بیو ی کو ماں  کے مثل کہنا اور لے پالک بچے کو بیٹا کہنا ایسی بات ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ، نہ بیو ی شوہر کی ماں  ہو سکتی ہے نہ دوسرے کافر زند اپنا بیٹا اور یاد رکھو کہ  الله  تعالیٰ حق بیان فرماتا ہے اور وہی حق کی سیدھی راہ دکھاتا ہے، لہٰذا نہ بیوی کو شوہر کی ماں  قرار دو اور نہ لے پالکوں  کو ان کے پالنے والوں  کا بیٹا ٹھہراؤ ۔ (تفسیر خازن جلد ۳ صفحہ ۴۸۲)(تفسیر مدارک التنزیل صفحہ ۹۳۱ - ۹۳۲)


ظہار کا معنی یہ ہے کہ شوہر کا اپنی بیوی یا اُس کے کسی جُزوِ شائع (جیسے نصف ، چوتھائی یا تیسرے حصے کو) یا ایسے جز کو جو کُل سے تعبیر کیا جاتا ہو ، ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو اس پر ہمیشہ کےلیے حرام ہو یا اس کے کسی ایسے عُضْوْ سے تشبیہ دینا جس کی طرف دیکھنا حرام ہو ، مثلاً یوں کہا : تو مجھ پر میری ماں  کی مثل ہے ، یا تیرا سر یا تیری گردن یا تیرا نصف میری ماں  کی پشت کی مثل ہے ۔ (درمختار و ردالمحتار کتاب الظہا جلد ۵ صفحہ ۱۲۵ - ۱۲۹،چشتی)(فتاویٰ عالمگیری کتاب الطلاق الباب التاسع فی الظہار جلد ۱ صفحہ ۵۰۵)


ظہار کا حکم یہ ہے کہ (اس سے نکاح باطل نہیں  ہوتا بلکہ عورت بدستور اس کی بیوی ہی ہوتی ہے البتہ) جب تک شوہر کفارہ نہ دیدے اُس وقت تک اُس عورت سے میاں بیوی والے تعلقات قائم کرنا حرام ہوجاتا ہے البتہ شہوت کے بغیر چھونے یا بوسہ لینے میں  حرج نہیں  مگر لب کا بوسہ شہوت کے بغیر بھی جائز نہیں ۔ اگر کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کر لیا تو توبہ کرے اور اُس کےلیے کوئی دوسرا کفارہ واجب نہ ہوا مگر خبر دار پھر ایسا نہ کرے اور عورت کو بھی یہ جائز نہیں کہ شوہر کو قُربت کرنے دے ۔ ( جوہرۃ النیرہ کتاب الظہار صفحہ ۸۲ الجزء الثانی)(درمختار وردالمحتار، کتاب الظہار جلد ۵ صفحہ ۱۳۰)


بیوی کو ماں ، بہن کہنے سے متعلق ایک اہم شرعی مسئلہ : ⏬


امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : زوجہ کو ماں  بہن کہنا (یعنی تشبیہ نہیں  دی ، بغیر تشبیہ کے ماں ، بہن کہا) ، خواہ یوں  کہ اسے ماں  بہن کہہ کر پکارے ، یا یوں  کہے : تومیری ماں  بہن ہے ، سخت گناہ و ناجائز ہے ۔ قَالَ  الله  تَعَالٰی : اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اﻼ وَلَدْنَهُمْؕ ۔ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًاؕ ۔ (سورہ المجادلہ آیت نمبر 2)

 ترجمہ : جورئیں (یعنی بیویاں) ان کی مائیں  نہیں ، ان کی مائیں  تو وہی ہیں  جنہوں  نے اُنہیں  جنا ہے اور وہ بے شک بری اور جھوٹی بات کہتے ہیں ۔

مگر اس سے نہ نکاح میں  خلل آئے ، نہ توبہ کے سوا کچھ اور لازم ہو ۔ (1)


 اس شرعی مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے ان لوگوں کواپنے طرزِ عمل پر غور کرنے کی ضرورت ہے جو تنگ آ کر یا مذاق مَسخری میں اپنی بیوی سے یوں کہہ دیتے ہیں : او میری ماں بس کر ۔جا بہن چلی جا وغیرہ ۔ انہیں  چاہئے کہ پہلے جتنی بار ایسا کہہ چکے اس سے توبہ کریں اور آئندہ خاص طور پر احتیاط سے کام لیں ۔


سنن ابوداؤد شریف میں ہے : ان رجلا   قال لامرتہ ، یا اخیۃ ، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : اختک ھی ، فکرہ ذلک و نھی عنہ ۔

ترجمہ : ایک شخص نے اپنی بیوی کو اے میری بہن ! کہہ کر  پکارا  تو رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وآل وسلم نےفرمایا کیا یہ تیر ی بہن ہے ؟ اسے ناپسند فرمایا اور اس سے منع کیا ۔ (سنن ابوداؤد کتاب الطلاق جلد 1 صفحہ 319 حدیث نمبر 2210 مطبوعہ لاہور،چشتی)


امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں : زوجہ کو ماں بہن کہنا خواہ یوں کہ اسے ماں بہن کہہ کر پکارے ، یا یوں کہے تو میری ماں میری بہن ہے سخت گناہ و ناجائز ہے ، مگر اس سے نہ نکاح میں کوئی خلل آئے نہ توبہ کے سوا کچھ اور لازم ہو ۔۔۔۔۔۔ ہاں اگر یوں کہا ہو کہ تو مثل یا مانند یا بجائے ماں بہن کے ہے تو اگر بہ نیت طلاق کہا تو ایک طلاق بائن ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی اور بہ نیت ظہار یا تحریم کہا یعنی یہ مراد ہے کہ مثل ماں بہن کے مجھ پر حرام ہے تو ظہار ہوگیا اب جب تک کفارہ نہ دے لے عورت سے جماع کرنا یا شہوت کے ساتھ اس کا بوسہ لینا یا بنظر شہوت اس کے کسی بدن کو چھونا یا بنگاہِ شہوت اس کی شرمگاہ دیکھنا سب حرام ہو گیا ، اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ جماع سے پہلے ایک غلام آزاد کرے ، اس کی طاقت نہ ہو تو لگاتار دو مہینہ کے روزے رکھے ، اس کی بھی قوت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کی طرح اناج یا کھانا دے ۔ ( فتاویٰ رضویہ جدید جلد 13 صفحہ 280 مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہو ر)


بہارِ شریعت میں ہے : عورت سے کہا تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے تو نیت دریافت کی جائے اگر اُس کے اِعزاز کےليے کہا تو کچھ نہیں اور طلاق کی نیت ہے تو بائن طلاق واقع ہوگی اور ظہار کی نیت ہے تو ظہار ہے اور تحریم کی نیت ہے تو ایلا ہے اور کچھ نیت نہ ہو تو کچھ نہیں ۔ (بہارشریعت حصہ 8 صفحہ 207 مکتبہ المدینہ)


علامہ نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اگر کسی شخص نے (اپنی بیوی کو) کہا : تو میری ماں ہے ، تو اس سے وہ مظاہر (یعنی ظِہار کرنے والا) نہیں ہو گا ، البتہ ایسا کہنا مکروہ ہے اور اسی کی مثل جب کوئی شخص (اپنی بیوی کو) یہ کہے : اے میری بیٹی یا اے میری بہن ،(فتاویٰ عالمگیری جلد 1 صفحہ 507)


البتہ اگر بیوی کے جسم کے کسی حصے کو ماں یا بہن کے جسم سے تشبیہ دی تو ظِہار ہوگا اور کفّارہ لازم ہوگا ، صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : عورت کو ماں یا بیٹی یا بہن کہا تو ظہار نہیں ، مگر ایسا کہنا مکروہ ہے ، عورت سے کہا : تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے ، تو نیت دریافت کی جائے اگر اُس کے اِعزاز کےلیے کہا تو کچھ نہیں اور طلاق کی نیت ہے ، تو بائن طلاق واقع ہوگی اور ظہار کی نیت ہے ، تو ظہار ہے اور تحریم (یعنی اسے اپنے اوپر حرام کرنے) کی نیت ہے تو ایلا ہے اور کچھ نیت نہ ہو تو کچھ نہیں ۔ (بہارِ شریعت جلد 2 صفحہ 207،چشتی)


اپنی منکوحہ سے چار مہینے تک مباشرت نہ کرنے کی قسم کھانا ایلا ہے ، علامہ برہان الدین علی بن ابو بکر فرغانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : جب کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے : اللہ کی قسم ! میں تم سے مقاربت نہیں کروں گا ، یا کہے : اللہ کی قسم ! میں تم سے چار مہینے تک مقاربت نہیں کروں گا ، تو وہ ایلا کرنے والا ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : جو لوگ اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرنے کی قسم کھالیتے ہیں ، اُن کےلیے چار مہینے کی مہلت ہے ، اگر اس نے چار مہینے کے اندر اپنی بیوی سے مباشرت کرلی ، تو اس کی قسم ٹوٹ جائے گی اور اس پر کفّارہ لازم ہوگا اور ایلا ساقط ہو جائے گا اور اگر اس نے چار مہینے اپنی بیوی سے مقاربت نہیں کی تو اس کی بیوی پر ازخود (ایک) طلاق بائن واقع ہوجائے گی ۔ (ہدایہ جلد 3 صفحہ 231)


خلاصۂ کلام یہ کہ صورتِ مسئولہ میں آپ کا نکاح بدستور قائم ہے ، آئندہ اس طرح کے جملوں سے اجتناب برتیں اور یہ حساس معاملات ہوتے ہیں ، ان کے بارے میں ہمیشہ محتاط رہنا چاہیے ، ازدواجی رشتے کے بارے میں بننے والی فلموں اور ڈراموں نے نوجوانوں کے ذہنوں سے اس حساسیت کو مٹا دیا ہے اور اسی سبب ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح بھی ماضی کے ادوار کی بہ نسبت بڑھ گئی ہے ، دعا ہے : اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے خاندانوں کو اس شکست و ریخت سے بچائے  آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

شوہر کا اپنی بیوی کو ماں ، بہن ، بیٹی کہنے کا شرعی حکم

شوہر کا اپنی بیوی کو ماں ، بہن ، بیٹی کہنے کا شرعی حکم محترم قارئینِ کرام : شوہر کا اپنی بیوی کو قرآن پر ہاتھ رکھ کر بہن کہنے سے طلاق واقع ن...