آبنائے ہرمز عالمی گزرگاہ پر ایک تحقیقی نظر
محترم قارئینِ کرام : بہت سے دوستوں نے اس عاجز کو حکم فرمایا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے کچھ لکھوں یاد رہے کسی بھی بات یا موضوع کو توڑ مروڑ کر لکھنے یا تعصب کی عینک لگا کر بیان کرنے سے حق بیانی نہیں کہلاتا ۔ اس لیے جب بھی کچھ لکھیں یا بیان کریں تو جو سچ ہے وہی لکھیں اور بیان کریں جیسا کہ آبنائے ہرمز کے متعلق آج کل غلط فہیمیاں پیدا کی جا رہی ہیں اس عاجز نے دیکھا اکثر باتیں مسلکی تعصب پر مبنی ہیں ۔ اس اہم عالمی گزرگاہ کا نام اس فارسی کمانڈر ہرمز کے نام پر رکھا گیا ہے جسے یقیناً حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عبرت ناک شکست دی تھی ، لیکن حقیقت میں یہ ایک تاریخی مغالطہ ہے جو بغیر تحقیق کے پھیلایا جا رہا ہے ۔ اصل میں جس ہرمز کو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جس جنگ میں زیر کیا تھا ، وہ جنگ موجودہ کویت کے علاقے کاظمہ میں لڑی گئی تھی ، جبکہ آبنائے ہرمز وہاں سے سینکڑوں میل دور خلیج کے دوسرے دہانے پر واقع ہے ۔ اس آبی راستے کا نام دراصل وہاں موجود قدیم جزیرہ ہرمز اور اس پر قائم ہونے والی تاریخی تجارتی ریاست کی نسبت سے ہے ، جس کا تعلق اس مخصوص جنگی واقعے یا اس کمانڈر کی ذات سے نہیں ہے ۔
لفظ ہرمز کی اپنی ایک الگ تاریخ اور ایٹمالوجی ہے جو اسے اس سپہ سالار سے ممتاز کرتی ہے ۔ یہ لفظ قدیم فارسی کے ہرمزد سے ماخوذ ہے ، جو دراصل زرتشتی مذہب کے خدا اہورامزدا کی بدلی ہوئی شکل ہے ۔ ساسانی عہد میں یہ نام اس قدر مقدس اور معتبر سمجھا جاتا تھا کہ یہ نہ صرف کئی بادشاہوں کا لقب رہا بلکہ ایران کے طول و عرض میں کئی شہروں اور علاقوں کو بھی اسی نام سے منسوب کیا گیا ۔ اس خطے میں ہرمز نامی ایک قدیم تجارتی شہر اور جزیرہ صدیوں سے آباد تھا ، جس کی شہرت کی بنا پر نقشہ نویسوں نے اس سمندری راستے کو آبنائے ہرمز کا نام دیا ۔ لہٰذا یہ سمجھنا درست نہیں کہ اسے کسی شکست خوردہ جرنیل کی یاد میں موسوم کیا گیا ہے ، بلکہ یہ نام اس مقام کی اپنی قدیم لسانی جڑوں اور جغرافیائی اہمیت کا عکاس ہے ۔
آبنائے ہرمز کے بارے میں یہ جو غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے کہ اسے اس فارسی کمانڈرکے نام پر رکھا گیا جسے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے معرکۂ ذات السلاسل میں شکست دی تھی ۔ بظاہر یہ بات دلچسپ لگتی ہے ، لیکن تاریخی اور جغرافیائی حقائق اس کی تائید نہیں کرتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کا نام ایک قدیم تجارتی مرکز جزیرہ ہرمز اور اس پر قائم ریاست کی نسبت سے پڑا ، جو صدیوں تک خلیج کے اہم ترین تجارتی مراکز میں شمار ہوتی رہی ۔ لفظ ہرمز خود قدیم فارسی ہرمزد سے نکلا ہے ، جو زرتشتی مذہب کے خدا اہورامزدا سے منسوب ہے ۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ نام مقامی لفظ ہرمغ سے بھی مشتق ہو سکتا ہے جس کا مطلب کھجور ہے ۔ اس طرح یہ نام ایک طویل لسانی اور تہذیبی پس منظر رکھتا ہے اور اس کا تعلق کسی ایک جنگی واقعے سے نہیں ۔
دوسری طرف ، جس ہرمز کا ذکر اسلامی تاریخ میں ملتا ہے ، وہ ساسانی(قدیم ایرانی) فوج کا ایک کمانڈر تھا جس کا مقابلہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے 12 ہجری میں ہوا ۔ یہ جنگ خلافتِ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں عراق کی فتوحات کے آغاز پر لڑی گئی اور کمانڈرہرمز ایرانی سلطنت کی طرف سے عراق میں گورنر تھا ۔ اس معرکے کو معرکۂ کاظمہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ موجودہ کویت کے علاقے کاظمہ میں پیش آیا ، جو آبنائے ہرمز سے سینکڑوں میل دور واقع ہے ۔ (تاریخ طبری ، الکامل فی التاریخ،چشتی)
جنگ سے پہلے فارسی کمانڈر ہرمز نے مبارزت کی دعوت دی ۔ اس مقابلے میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ہرمز کو قتل کر دیا ۔ اپنے سپہ سالار کی موت کے بعد فارسی فوج کا نظم وضبط ٹوٹ گیا ۔ اس کے سپاہیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ زنجیروں میں باندھا گیا تھا تاکہ وہ میدان سے فرار نہ ہوں ، لیکن یہی تدبیر ان کےلیے نقصان دہ ثابت ہوئی ۔ جب مسلمان حملہ آور ہوئے تو فارسی فوج مؤثر طریقے سے حرکت نہ کر سکی اور انہیں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا ۔ اسی وجہ سے اس جنگ کو ذات السلاسل یعنی زنجیروں والی جنگ کہا جاتا ہے ۔ یہ معرکہ اسلامی فتوحاتِ عراق کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا اور اس کے بعد مذار اور ولجہ جیسے معرکوں میں بھی مسلمانوں کو کامیابیاں حاصل ہوئیں ، جس سے ساسانی سلطنت کے زوال کی بنیاد پڑی ۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ ذات السلاسل کے نام سے اسلامی تاریخ میں دو الگ واقعات ملتے ہیں ۔ ایک مہم 8 ہجری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں شمالی عرب قبائل کے خلاف بھیجی گئی تھی ، اوروہ جس مقام پر لڑی گئی اس کانام سلسل یا سلاسل تھا ۔ آبنائے ہرمز کا نام ایک قدیم جغرافیائی ، لسانی اور تہذیبی پس منظر رکھتا ہے ، معرکۂ ذات السلاسل ایک الگ تاریخی واقعہ ہے ۔ ان دونوں کو آپس میں جوڑنا ایک عام لیکن غلط مفروضہ ہے ۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مقام ابلہ میں تمام اسلامی لشکر کی موجودات لی توکل اٹھارہ ہزار آدمی تھے ، آپ کے سامنے عراق کا وہ ایرانی صوبہ تھا ، جس کا نام حفیر تھا ، اور دربان ایران سے اس صوبہ کا گورنر ہرمز نامی ایک نہایت دلیر و جنگ جو سردار مقرر تھا ، اس ہرمز کی دھاک تمام عرب و عراق اور ہندوستان تک بیٹھی ہوئی تھی ، کیونکہ وہ جنگی بیڑہ لے کر ساحل ہندوستان پر بھی حملہ آور ہوا کرتا تھا ، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ہرمز کے نام ایک خط اتمام حجت کےلیے لکھا اور اسلام کی طرف دعوت دی ، ہرمز نے اس خط کو پہنچتے ہی فوراً دربار ایران کو اطلاع دی اور خود فوجیں جمع کر کے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کو بڑھا ۔ ادھر سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر تین حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ کی سرداری حضرت عدی رضی اللہ عنہ بن حاتم کو دی دوسرا حصہ حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ بن عمرو کے سپرد کیا اور تیسرے حصے کو اپنے ماتحت رکھ کر تینوں سرداروں نے داہنے بائیں ایک دن کی مسافت کا فاصلہ دے کر حفیر کی طرف بڑھنا شروع کیا ، لشکر ایران کے قریب پہنچ کر تینوں اسلامی سردار مل گئے ۔ (چشتی)
ایرانیوں کے مقابل اسلامی لشکر خیمہ زن ہوا اوّل حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ میدان میں نکلے اور ہرمز کو مقابلہ کےلیے طلب کیا ، ہرمز حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی آواز سن کر میدان میں نکلا ، دونوں سردار گھوڑوں سے اتر کر پیادہ ہو گئے ، اوّل حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے وار کیا ، ہرمز نے فوراً پیچھے ہٹ کر پینترا بدل کر وار خالی دیا اور پھر نہایت پھرتی سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ پر تلوار کا وار کیا ، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فوراً بیٹھک کے ساتھ آگے سمٹ کر اس کی کلائی تھام کر تلوار چھین لی ، ہرمز تلوار چھنواتے ہی حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو لپٹ گیا ، اور کشتی کی نوبت پہنچی ، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس کی کمر پکڑ کر اٹھایا اور زمین پر اس زور سے پٹکا کہ پھر وہ حرکت نہ کر سکا ، اس کے سینے پر چڑھ بیٹھے اور سرکاٹ کر پھینک دیا ، ایرانیوں کے ایک دستہ نے اپنے سردار کو مغلوب دیکھ کر اس کی مدد کےلیے حملہ کیا ، ادھر سے قعقاع بن عمرو نے آگے بڑھ کر ان کو روکا، پھر دونوں فوجیں آگے بڑھیں اور جنگ مغلوبہ شروع ہوئی ، تھوڑی ہی دیر میں ایرانی میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے ، بہت مقتول و مقید ہوئے ۔
ہرمز کے لباس و اسلحہ پر حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے قبضہ کیا ، ہرمز دربار ایران کا ایسا سردار تھا جو تاج سر پر رکھتا تھا ، اس کے تاج کی قیمت جو حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے قبضہ میں آیا ایک لاکھ دینار تھی ، اس لڑائی میں جیسا کہ اوپر ہم نے عرض کیا کہ ایرانیوں کے ایک حصہ فوج نے اپنے پاؤں میں زنجیریں باندھ لی تھیں کہ عربوں کے مقابلہ میں میدان سے بھاگ نہ سکیں ، مگر پھر بھی ان کو زنجیریں توڑ کر بھاگنا ہی پڑا ، ان زنجیروں کی وجہ سے اس لڑائی کا نام جنگ ذات السلاسل مشہور ہوا ۔ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایرانیوں کے تعاقب میں روانہ کیا ، انہوں نے آگے بڑھ کر حصن المراۃ کا محاصرہ کیا اور اس قلعہ کو فتح کیا ، وہاں کا حاکم مقتول ہوا ، اس کی بیوی مسلمان ہو گئی ، اور اس نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں آنا پسند کیا ۔ (یہ مضمون ہم تاریخ ابن خلدون ، تاریخ طبری ، الکامل فی التاریخ ، تاریخ اسلام و دیگر کتب سے اخذ کر کے لکھا ہے) ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:
Post a Comment