قادیانی کے پیچھے نماز پڑھنا جاوید غامدی کی گمراہی کا جواب
محترم قارئینِ کرام : قادیانی باِجماع امت کافر اور زندیق ہیں ۔ قادیانی مرزا غلام احمد کذاب کو نبی ماننے اور اس طرح کے کئی کفریہ عقائد کی وجہ سے کافر و مرتد ہیں ، ان میں سے کسی شخص کے پیچھے نماز پڑھنا تو دور کی بات ہے میل جول رکھنا اس کے ساتھ کھانا پینا ، تعلق رکھنا ، اس کی غمی خوشی میں شریک ہونا یا اس کو اپنی غمی خوشی میں شریک کرنا ناجائز و حرام ہے ۔ اسی طرح ان میں سے کسی کو استاذ بنانایا بچوں کو ان سے پڑھوانا بھی نا جائز و حرام ہے ۔
علماے حرمین شریفین نے ان کے کفر کے تعلق سے فرمایا : من شك في كفره و عذابه فقد كفر ۔
ترجمہ : جس نے ان کے کفر و عذاب میں شک کیا وہ بھی کافر ہے ۔ (حسام الحرمین باب المعتمد و المستند مطبوعہ نیویہ لاہور صفحہ ١٢)
قادیانی کافر مرتد تھا ایسا کہ تمام علماے حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا : من شك في كفره و عذابه فقد كفر ، یعنی جس نے ان کے کفر اور عذاب میں شک کیا وہ بھی کافر ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد ۱۴ صفحہ ۳۹۳ مطبوعہ رضا فاونڈیشن)
ان سے تعلقات اور میل جول رکھنا جائز نہیں ، اسی طرح ان سے خندہ پیشانی سے پیش آنا ، مصافحہ کرنا ، ملنا جلنا ، اور ان کے ساتھ کھانا پینا اور ان کی خوشی اور غمی کی محافل میں شریک ہونا ناجائز اور ممنوع ہے ۔
قال الله تعالىٰ وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ الآیة، وفي الجلالين : [وَ لَا تَرْكَنُوْۤا] تميلوا [اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا] بموادة أو مداهنة أو رضى بأعمالهم [فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ] ۔
اگر کوئی ان کے عقائد باطلہ ، شنیعہ ، ردیہ ، دنیہ سے واقفیت کے باوجود ان کے کفر میں شک کرتا ہےاور خوشی خوشی ان کی محافل میں شریک ہوتا ہے تو وہ بھی کافر کہ من شك في كفره و عذابه فقد كفر کہ جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر جیسا کہ گزرا ۔ اور اگر ان کے عقائد باطلہ ، عاطلہ ، رذیلہ سے بیزاری و براءت ظاہر کرتا ہو اور انہیں کافر و مرتد سمجھتا ہو پھر بھی بلا عذر شرعی ان کی کسی محفل میں شرکت کی تو فاسق و فاجر اور مستحق عذاب نار ہے اور ایسے شخص کو امام بنانا بھی حرام ، اس کے پیچھے نماز پڑھنا گناہ ، جب تک کہ وہ اپنے اس فعل شنیع سے توبہ نہ کر لے اور اس فعل کے ارتکاب کے بعد جتنی بھی نمازیں اس کے پیچھے پڑھی گئیں سب کا اعادہ واجب و ضروری ہے ۔
يكره تقديم الفاسق كراهة تحریم ۔ (الصغيري شرح منية المصلي مباحث الإمامة صفحہ ٢٦٢)
ترجمہ : فاسق کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے ۔
كره إمامة الفاسق العالم لعدم اهتمامه بالدين فتجب إهانته شرعا فلا يعظم بتقديمه للإمامة، وإذا تعذر منعه ينتقل منه إلى غير مسجد للجمعة وغيرها ۔ (مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوی صفحہ ١٦٥)
مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کو قادیانی کہا جاتا ہے اور مرزا قادیانی کھلا کافر و مرتد تھا ، اس نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا اور انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں نہایت بے باکی کے ساتھ گستاخیاں کیں ، خصوصاً حضرت عیسیٰ روح اللہ و کلمۃ اللہ علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کی والدہ ماجدہ طیِّبہ طاہرہ صدیقہ مریم علیہاالسلام کی شانِ جلیل میں تو وہ بیہودہ کلمات استعمال کیے ، جن کے ذکر سے مسلمانوں کے دل ہِل جاتے ہیں ، اس کو اپنا امام یا نبی ماننا تو بڑی دور کی بات ہے ، جو شخص اس کے کفریات پر مطلع ہو کر اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے ۔ قادیانی کے کفریات تو بہت زیادہ ہیں ، یہاں چند ایک کا ذکر کیا جاتا ہے : ⏬
مرزا قادیانی نے نبی ہونے کا دعوی کیا اور جو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوی کرے ، وہ کافر ہے کہ یہ قرآن مجید کی آیت کریمہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا انکار ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ۔
ترجمہ : محمد تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں ۔ (سورۃ الاحزاب آیت نمبر 40)
سنن ترمذی ، سنن ابوداؤد ، مسند احمد ، شرح مشکل الاثار ، صحیح ابن حبان اور المعجم الاوسط وغیرہ کثیر کتب حدیث میں یہ حدیث پاک مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : أنا خاتم النبیین لا نبی بعدی ۔
ترجمہ : میں خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ (سنن ترمذی ابواب الفتن جلد 4 صفحہ 499 مطبوعہ مصر،چشتی)
امام محمد بن یوسف صالحی شامی (متوفی942ھ) رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور کتاب سبل الھدی والرشاد میں اور مشہور محدث امام علی بن محمد المعروف ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ شفاء شریف کی شرح میں خاتم کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : (و جعلنی فاتحا وخاتما)أی وجعلنی خاتم النبیین والأظھر أن یقال معناھما أولا وآخرا لما روی أنہ علیہ الصلاۃ والسلام قال کنت أول الأنبیاء فی الخلق وآخرھم فی البعث ۔
ترجمہ : سرکار کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اور مجھے اللہ نے فاتح یعنی ابتداء کرنے والابنایا اور خاتم بنایا یعنی نبیوں کو ختم کرنے والا ۔ اور اظہر یہ ہے کہ ان دونوں کے معنی یوں بیان کیے جائیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اول و آخری بنایا ، کیونکہ سرکار کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : میں پیدا ہونے میں تمام انبیاء میں پہلا ہوں اور مبعوث ہونے کے اعتبار سے سب سے آخری ہوں ۔ (شرح الشفاء لملاعلی جلد 1 صفحہ 398 دار الکتب العلمیۃ بیروت)
کتنے واضح انداز سے امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے خاتم کا معنی بیان کیا کہ اس کا معنی آخری نبی ہی ہے اور حدیث میں بھی یہی بیان کیا گیا ہے ۔
خاتم النبیین کا مطلب آخری نبی ہے ، اس پر پوری امت کا اجماع ہے اور علماء فرماتے ہیں کہ جس نے اس آیت کا مطلب آخری نبی کے علاوہ تاویل وغیرہ کے ذریعے کچھ اوربیان کیا وہ دائرہ اسلام سے خارج اور کافر کہلائے گا ، امام حجۃ الاسلام محمد بن محمدغزالی کتاب الاقتصاد میں عارف باللہ علامہ عبد الغنی نابلسی رحمۃ اللہ علیہ اپنی شرح الفرائد میں اورعلامہ ابو الفضل قاضی عیاض بن موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفی میں فرماتے ہیں : ان الامۃ فھمت من ھذا اللفظ انہ افھم عدم نبی بعدہ ابدا وعدم رسول بعدہ ابدا وانہ لیس فیہ تاویل ولا تخصیص ومن اولہ بتخصیص فکلامہ من انواع الھذیان لا یمنع الحکم بتکفیرہ لانہ مکذب لھذا النص الذی اجمعت الامۃ علی انہ غیر مؤول ولا مخصوص ۔
ترجمہ : تمام امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوٰۃ والتحیۃ نے لفظ خاتم النبیین سے یہی سمجھا کہ وہ بتاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کبھی کوئی نبی نہ ہو گا ، حضور کے بعد کبھی کوئی رسول نہ ہوگا اور تمام امت نے یہی مانا کہ اس لفظ میں نہ کوئی تاویل ہے (کہ آخر النبیین کے سوا خاتم النبیین کے کچھ اور معنی گھڑئیے) نہ اس عموم میں کچھ تخصیص ہے (کہ حضور کے ختم نبوت کو کسی زمانے یا زمین کے کسی طبقے سے خاص کیجیے) اور جو اس میں تاویل و تخصیص کو راہ دے اس کی بات جنون یا نشے یا سرسام میں بہکنے ، بے ہودہ بکنے کے قبیل سے ہے ،اسے کافر کہنے سے کوئی چیز مانع نہیں کہ وہ اس آیت قرآن کی تکذیب کر رہا ہے جس میں اصلاً تاویل و تخصیص نہ ہونے پر امتِ مرحومہ کا اجماع ہو چکا ہے ۔ (الاقتصاد فی الاعتقاد جلد 1 صفحہ137 دار الکتب العلمیہ بیروت،چشتی)
بہارشریعت میں مرزاقادیانی کے بارے میں فرمایا : خود مدّعی نبوت بننا کافر ہونے اور ابد الآباد جہنم میں رہنے کےلیے کافی تھا کہ قرآنِ مجید کا انکار اور حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبیین نہ ماننا ہے ، مگر اُس نے اتنی ہی بات پر اکتفا نہ کیا ، بلکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تکذیب و توہین کا وبال بھی اپنے سَر لیا اور یہ صدہا کفر کا مجموعہ ہےکہ ہر نبی کی تکذیب مستقلاً کفر ہے ، اگرچہ باقی انبیا و دیگر ضروریات کا قائل بنتا ہو ، بلکہ کسی ایک نبی کی تکذیب سب کی تکذیب ہے ۔ (بھار شریعت جلد 1 حصہ 1 صفحہ 190 مکتبۃ المدینہ کراچی )
مرزا قادیانی کے باطل نظریات و عقائد اسی کی کتابوں سے : ⏬
اِزالہ اَوہام صفحہ 533 خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام امّتی بھی رکھا اور نبی بھی ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اقدس میں جو آیتیں تھیں ، انہیں اپنے اوپر جَما لیا ۔ انجام صفحہ 78 میں کہتا ہے : وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ، تجھ کو تمام جہان کی رحمت کے واسطے روانہ کیا ۔
نیز یہ آیہ کریمہ ، وَ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٓ اَحْمَدُ ، سے اپنی ذات مراد لیتا ہے ۔ دافع البلاء صفحہ 6 میں ہے : مجھ کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : أَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ أَوْلاَدِیْ أَنْتَ مِنِّی وَأنَا مِنْکَ ، یعنی اے غلام احمد ! تو میری اولاد کی جگہ ہے ، تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں ۔
اِزالہ اَوہام صفحہ 688 میں ہے : حضرت رسُولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِلہام و وحی غلط نکلی تھیں ۔
صفحہ 8 میں ہے : حضرت مُوسیٰ کی پیش گوئیاں بھی اُس صورت پر ظہور پذیر نہیں ہوئیں ، جس صورت پر حضرت مُوسیٰ نے اپنے دل میں اُمید باندھی تھی ، غایت ما فی الباب یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیش گوئیاں زیادہ غلط نکلیں ۔
صفحہ 629 میں ہے : ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اُس کی فتح کے بارے میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے ، اور بادشاہ کو شکست ہوئی ، بلکہ وہ اسی میدان میں مر گیا ۔
اُسی کے صفحہ 26 اور 28 میں لکھتا ہے : قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں اور قرآنِ عظیم سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے ۔
اب خاص حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی شان میں جو گستاخیاں کیں ، اُن میں سے چند یہ ہیں : ⏬
معیار صفحہ 13 : (اے عیسائی مِشنریو ! اب ربّنا المسیح مت کہو اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے ، جو اُس مسیح سے بڑھ کر ہے ۔
صفحہ 13 اور 14 میں ہے : خدا نے اِس امت میں سے مسیح موعود بھیجا ، جو اُس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا ، تایہ اِشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خدا ہے ، جو احمد کے ادنیٰ غلام سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا یعنی وہ کیسا مسیح ہے ، جو اپنے قرب اور شفاعت کے مرتبہ میں احمد کے غلام سے بھی کمتر ہے ۔
کشتی صفحہ 56 میں ہے : مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، کہ اگر مسیح ابنِ مریم میرے زمانہ میں ہوتا ، تو وہ کلام جو میں کر سکتا ہوں ، وہ ہر گز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں ، وہ ہر گز دِکھلا نہ سکتا ۔
غرض اِس دجّال قادیانی کے مُزَخرفات کہاں تک گنائے جائیں ، اِس کے لیے دفتر چاہیے ، مسلمان اِن چند خرافات سے اُس کے حالات بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ اُس نبی اُولو العزم کے فضائل جو قرآن میں مذکور ہیں ، اُن پر یہ کیسے گندے حملے کر رہا ہے ۔ تعجب ہے اُن سادہ لوحوں پر کہ ایسے دجّال کے متبع ہو رہے ہیں ، یا کم از کم مسلمان جانتے ہیں اور سب سے زیادہ تعجب اُن پڑھے لکھے کٹ بگڑوں سے کہ جان بوجھ کر اس کے ساتھ جہنم کے گڑھوں میں گر رہے ہیں ۔ کیا ایسے شخص کے کافر ، مرتد ، بے دین ہونے میں کسی مسلمان کو شک ہو سکتا ہے ۔ حَاشَ للہ ۔ مَنْ شَکَّ فیْ عَذَابِہ وَکُفْرِہ فَقَدْ کَفَرَ ، جو اِن خباثتوں پر مطلع ہو کر اُس کے عذاب و کفر میں شک کرے ، خود کافر ہے ۔ (بھار شریعت جلد 1 حصہ 1 صفحہ190 ، 204 مکتبۃ المدینہ کراچی)
مذکورہ دلاٸل سے واضح ہوا کہ جو شخص قادیانیوں کے کفر میں شک کرے وہ کافر ہے ۔ اب فیصلہ قارٸین کریں کہ جاوید غامدی جیسا گمراہ شخص کہتا ہے قادیانی کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے گویا غامدی قادیانیوں کافر نہیں مانتا تو پھر غامدی کیا ہوا ؟ ۔ اللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں سے بچاۓ آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:
Post a Comment