حضرت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ پر ساجد نقلبندی کے الزام کا جواب
محترم قارئینِ کرام : کاذب خائن کی مغلظات کے جواب میں عرض ہے کہ اولاً امام اہلسنت علیہ الرحمہ کی تکفیر تم کرو گے تو ہم ان کا ایمان علمائے دیوبند کی کتب سے ثابت کریں گے اور یہ مسلمہ اصول ہے کہ جو کافر کو کافر نا کہے وہ بھی کافر لہٰذا تمہیں اپنے ان تمام اکابرین پر کفر کا فتاوی لگانا ہوگا جنہوں نے امام اہلسنت علیہ الرحمہ کی تکفیر نہیں کی اور ساتھ ساتھ ان پر بھی جنہوں نے ان اکابرین کو مسلمان مانا ان دیوبندیوں کو بھی ۔ دوم علمائے دیوبند کی تکفیر حسام الحرمین سے قبل بھی ہو چکی تھی لہٰذا تمہارا حسام الحرمین یا امام اہلسنت علیہ الرحمہ کے خلاف واویلا کرنا بلکل بے وجہ ہے ۔ سوم
تم نے اپنے جن اکابرین کا نام لیا ان سے اپنا یہ دعوی من و عن ثابت کر اور بعد میں علمائے دیوبند کا خصیہ خاص ہونے کا دعوی کر ۔ چہارم اس دیوث نے اپنی ویڈیو میں ایک مقام پر امام اہلسنت علیہ الرحمہ کے ایمان پر بات کرتے ہوئے ان کے ختنے چیک کرنے کی بات کی (اور ویڈیو میں وہ مقام میوٹ کروا دیا) تو ہم کہتے ہیں کہ عطاء اللہ شاہ بُخاری نے جیل میں اپنا نام پنڈت کرپا رام برہمچاری رکھا تھا تو اس کے ختنے چیک کرنے منظور نعمانی کی ہمشیرہ گئی تھی یا چاند پوری کی بیٹی ؟ ۔ ہے گنبد کی صدا جیسی کہے ویسی سنے ۔ محترم وقار صاحب کی وال سے ۔
سرقہ باز ، محرف ، کذاب اور خائن ساجد خان نقلبندی دیوبندی کےلیے دیوبندی عالم کی جانب سے استعمال کیے گئے القابات : ذباب القاذورات ، گند پہ بیٹھنے والی مکھی ۔ لفظ غبی کا فرد کامل ، شیطان کا خصوصی نوکر ، ابو المعتزلہ ، ساجد نجدی تیمی معتزلی ۔ ذباب القاذورات ، شیطان کا خصوصی نوکر ۔ (دیوبندی کتاب التحقیقات الجوھریہ فی اثبات بعض الکرامات الاختیاریہ صفحہ نمبر 25) ۔ بل سے باہر نکلو اور اپنے ہی اکابر پر فتویٰ لگاؤ ۔ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ تمہاری انتہا پسندی پوری دیوبندیت کو مشکل میں ڈال دے گی ، کیونکہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کا ایمان تمہارے ہی اکابرین کے اقوال سے ثابت ہے ۔ اگر تم واقعی اپنے دعوے میں سچے ہو تو پھر فتویٰ لگاؤ : اشرف علی تھانوی پر ، انور شاہ کشمیری پر ، خلیل احمد سہارنپوری پر اور تمام اُن علماء پر جنہوں نے اعلیٰ حضرت کو مسلمان ، عالم اور صاحبِ علم و شریعت تسلیم کیا ۔
مولوی احمد رضا خان بریلوی کے متعلقین کو کافر کہنا صحیح نہیں ، ان کے کلام میں تاویل ممکن ہے ۔ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد 2 صفحہ 138)
سوال ہوا : بریلی والوں کے پیچھے نماز ہو جائے گی ؟
جواب : ہاں ، ہم انہیں کافر نہیں کہتے ۔ اہلِ قبلہ کافر نہیں ہوتے ۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد 29 صفحہ 225 ، 226)
تمام دیوبندی جماعت اور ان کے محدث انور کاشمیری دیوبندی بریلویوں کو مسلمان سمجھتے ہیں اس لیے ان کی تکفیر نہیں کرتے : ⏬
سابق ریاست بہاولپور (پاکستان) میں ایک مسلمان عورت کا شوہر مرزائی ہوگیا تھا ۔ اس پر عورت نے عدالت میں شوہر کے اتداد کی وجہ سے فسخ نکاح کی درخواست دی ۔ مقدمہ دائر ہوا اور اس میں حضرت مولانا انور شاہ صاحب سابق صدر مدرس و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند کی شہادت کے دوران مرزائی وکیل نے فتویٰ تکفیر کو بے اصل ثابت کرنے کےلیے کہا دیوبندی بریلویوں کو اور بریلوی دیوبندیوں کو کافر کہتے ہیں ۔ اس پر حضرت انور شاہ صاحب نے فورا عدالت کو مخاطب کرکے فرمایا ۔ میں بطور وکیل تمام جماعت دیوبند کی جانب سے گزارش کرتا ہوں کہ حضرات (علماء) دیوبند بریلوی حضرات کی تکفیر نہیں کرتے ۔ (کتاب حیات انور صفحہ 333 ،چشتی، روزنامہ نوائے وقت لاہور 8 جنوری 1976ء مضمون وقت کی پکار قسط نمبر 2 از مولوی بہاء الحق قاسمی دیوبندی امرتسری)
میں بطور وکیل تمام جماعت دیوبند یہ کہتا ہوں علمائے دیوبند بریلویوں کی تکفیر نہیں کرتے یعنی کافر نہیں کہتے ۔ (ملفوظات محدث کشمیری صفحہ نمبر 61 ، 62،چشتی)
معلوم ہوا کہ تمام دیوبندی جماعت اور ان کے محدث انور کاشمیری بریلویوں کو مسلمان سمجھتے ہیں اس لیے ان کی تکفیر نہیں کرتے ۔ جب عام سنی بریلوی ان کے نزدیک مسلمان ہیں تو ان کے امام بدرجہ اتم مسلمان ہوئے ۔
محدث دیوبند انور شاہ کشمیری کہتے ہیں : میں بطور وکیل جماعتِ دیوبند عرض کرتا ہوں کہ حضرات دیوبند ان کی تکفیر نہیں کرتے ۔ (ملفوظات کشمیری صفحہ 61)
خلیل احمد انبیٹھوی دیوبندی کہتے ہیں : اہلِ قبلہ کو جب تک ضروریاتِ دین کا انکار نہ ہو کافر نہیں کہا جاتا ۔ (المہند علی المفند صفحہ 60)
دیوبندی مولوی عبدالرؤف جگن پوری کہتے ہیں : علمائے دیوبند بریلوی مبتدعین کی بھی تکفیر نہیں کرتے ۔ (براۃ الابرار صفحہ 301)
اشرف علی تھانوی دیوبندی کہتے ہیں : اگر مجھے احمد رضا خان کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقع ملتا تو پڑھ لیتا ۔ (انوار قاسمی صفحہ 550)
علمائے دیوبند اہلِ حدیث اور بریلوی عقائد والوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے ۔ (حیات الامداد صفحہ 38)
سوال : اگر حضرت امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ مسلمان نہیں تھے تو پھر تمہارے اپنے اکابر کیوں ان کی تکفیر سے رکے رہے ؟ ۔ کیوں ان کے پیچھے نماز کو جائز کہا ؟ ۔ کیوں انہیں اہلِ قبلہ مانا ؟ ۔ کیوں ان کو رحمة اللہ علیہ کہا ؟
محترم قارئین کرام : آپ نے دیکھا ہوگا کہ آج کل کچھ دیوبندی حضرات اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ پر تبرا بازی کرتے نظر آتے ہیں اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو معاذاللہ کافر و گستاخ کہتے ہیں حالانکہ یہ نظریہ ان کے اکابر علماء کا نہیں ، جن میں مولوی اشرف علی تھانوی ، مولوی طیب قاسمی دیوبندی مہتمم دارالعلوم دیوبند ، مولوی انور شاہ کشمیری ، ضیاء الرحمن فاروقی سرپرست اعلیٰ سپاہ صحابہ ، مولوی ادریس ہوشیار پوری ، مولوی اسحق دیوبندی ، مولوی یوسف لدھیانوی علامہ بنوری ٹاٶن کراچی ، مفتی عبدالستار دیوبندی جامعہ خیرالمدارس ، مولوی محمد شفیع وغیرہم ہیں ، ان سب حضراتِ دیوبندکے نزدیک اعلیٰ حضرت علیہ رحمہ اور ان کے ماننے والے سنی ہیں ۔
محترم قارئین کرا م : آپ حیرت میں ہونگے کہ اتنے بڑے بڑے دیوبندی علماء اگر اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں اچھا نظریہ رکھتے ہیں تو پھر موجودہ شر پسند دیوبندی علماء اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ کو کافر و گستاخ کیوں کہتے ہیں ؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ انگریز کے پیسوں پر پلنے والے کچھ مولویوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کیں۔جن پر علماء اہل سنت و جماعت نے ان کا خوب رد کیا جن میں سر فہرست اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ کی شخصیت ہے ۔ اپنے اکابر سے اندھی عقیدت رکھنے والے ان دیوبندی حضرات سے اپنے علماء کی گستاخیوں کی صحیح تاویل تو نہ ہو سکی البتہ انہوں نے ’’ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘ کی مثل ہم اہل سنت و جماعت کو الٹا گستاخ کہنا شروع کر دیا ۔اس کارنامہ کو سرانجام دینے کےلیے ان حضرات نے علماء اہل سنت و جماعت اور بالخصوص اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتب میں درج عبارات کو کتروبرید کے ساتھ غلط رنگ دیتے ہوئے گستاخانہ و کفریہ قرار دیا ۔ان کی اس حرکت سے الحمد للہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر علماء اہل سنت و جماعت کی شان میں تو کچھ فرق نہ آیا البتہ لوگوں پر ان حضرات دیوبند کے مزید دجل و فریب آشکار ہو گئے ۔ علماء اہل سنت و جماعت نے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر علماء پر ہونے والے اعتراضات کے مدلل جوابات ارقام فرمائے جو کسی بھی حقیقت پسند شخص کےلیے اطمینان کا باعث ہوں گے ۔ لیکن میں نے دفاعِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کےلیے دوسرے طریقہ پر لکھنے کا سوچا کہ کیوںنہ دیوبندی مذہب کے جید اکابر علماء سے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی توثیق بیان کی جائے اور دیوبندی مذہب کے اکابرین (بڑوں) ہی کے قلم سے ان دیوبندی اصاغرین (چھوٹوں) کا رد کیا جائے جو معاذ اللہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو کافر و گستاخ کہتے وقت ذرا بھی خوف خدا محسوس نہیں کرتے ۔
میری ان تمام دیوبندی حضرات سے گزارش ہے کہ وہ دیوبندیت کی عینک اتاڑ کر اگر میرے اس مضمون کو پڑھیں گے تو ان شاء اللہ ان کےلیے یہ مضمون ہدایت کا سامان ہوگا اور انہیں اپنے غلط نظریہ سے رجوع پر ہمت فراہم کرے گا اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی بے ادبی و گستاخی سے بچنے کی توفیق بھی ملے گی ۔
ملاحظہ ہو کتاب خطبات حکیم الاسلام جلد ۷ از مولوی ادریس ہوشیارپوری صدر مدرس مدرسہ تحفیظ القرآن الکریم اس کتاب میں دیوبندی بیمار امت کے حکیم مولوی طیب قاسمی کے خطبات ہیں ۔ اس کتاب کو کتب خانہ مجیدیہ ملتان نے شائع کیا ہے اور یہ دیوبندیوں کی مستند کتاب ہے اس پر کئی دیوبندی مولویوں کا تبصرہ (تائید) موجود ہے ۔
جس میں پہلی تقریظ مفتی عبدالستا ر دیوبندی رئیس دارالافتا جامعہ خیرالمدارس کی ہے ۔ ان صاحب نے اپنی تقریظ میں اس کتاب کی اور مولوی طیب قاسمی کی تعریف بھی کی ہے ، اور اس کتاب کو مرتب کرنے والے مولوی ادریس کو خوب سراہا ہے ، اسی طرح دوسری تقریظ مولوی یوسف لدھیانوی کی ہے اس نے بھی اس کتاب کو سراہا ہے ، اور دیگر دیوبندی مولویوں کی تائید بھی موجود ہے جن میں مولوی فتح محمد ،مولوی اسحق ، اور مولوی شفیع دیوبندی کا تصدیق نامہ صفحہ ۴۳) بھی ہے جس میں لکھا ہے کہ : الحمدللہ بندہ نے شروع سے آخر تک تمام مسودہ بنظر عمیق دیکھا اور متعدد مقامات پر برائے اصلاح نشاندہی کی ۔
اس عبارت سے پتہ چلا کے ان خطبات کو شائع کرنے میں بہت احتیاط برتی گئی اور اس کی اشاعت کےلیے بڑے بڑے دیوبندی مولویوں سے رابطہ کیا گیا ۔ اور خوب گہری نظر سے پڑھنے کے بعد جو کچھ غلط نظر آیا اس کی اصلاح کردی جو کچھ صحیح تھا اسے شائع کر دیا ۔ اب یہ تو تھا اس کتاب کا تعارف کے یہ ایک مستند کتاب ہے ۔ اس میں لکھا کیا ہے ؟ وہ آپ اب ملاحظہ فرمائیں : ⏬
اس کتاب میں تین جگہوں پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمہ کو رحمۃ اللہ علیہ کہا گیا ہے ۔ صفحہ ۲۵ فہرست میں عنوان نمبر ۱۱۹ میں لکھا ہے : مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ دیوبند کے فیض یافتہ ہیں ۔
نوٹ : اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو دیوبند کا فیض یافتہ کہنے کا دعوی بے بنیاد و بلا دلیل ہے جس کا تفصیلی جواب ہم لکھ کے ہیں الحَمْدُ ِلله ۔
یہی عبارت صفحہ ۴۴۸ پر بھی لکھی ہے اور اسی صفحہ پرعنوان ’’اپنے کام سے کام‘‘ کے تحت لکھا ہے : ہم تو یہ کہتے ہیں کہ (ہم جمع کےلیے آتا ہے مولوی طیب قاسمی صاحب بتانا چاہتے ہیں کہ یہ موقف میرا ہی نہیں بلکہ ہمارا اہل دیوبند کا یہ موقف ہے ۔ از ناقل) نہ ہم مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو کوئی برا بھلا کہنا جائز سمجھتے ہیں نہ کبھی کہا ۔
اب کیا فرماتے ہیں شر پسند دیوبندی اپنے اکابر علما ء کے بارے میں جو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو ناصرف مسلمان بلکہ رحمۃ اللہ علیہ جیسے دعائیہ کلمات سے یاد کر رہے ہیں اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی توہین کو نا جائز کہتے ہیں (تعجب ہے ان دیوبندیوں پر جو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی توہین کر کے بقول ان کے مفتی کے ناجائز کام کر رہے ہیں) ۔ دیوبندیو ! ابھی یہی نہیں مزید حوالہ دیکھو اور اپنے اس غلط موقف سے توبہ کرو ۔
اسی کتاب کے صفحہ ۴۴۷ پر عنوان ’’بریلوی عالم کی توہین بھی درست نہیں‘‘ کے تحت لکھا ہے : اب مولانا احمد رضا خان صاحب ہیں ۔۔۔۔۔۔ ایک دن حضرت تھانوی کی مجلس میں ۔۔۔۔۔ غالباََ خواجہ عزیزالحسن مجذوب صاحب نے یا کسی اور نے یہ لفظ کہا کہ : احمد رضا یوں کہتا ہے ۔
بس حضرت (یعنی اشرفعلی تھانوی) بگڑ گئے ، فرمایا : عالم تو ہیں ہمیں توہین کرنے کا کیا حق ہے ؟ کیوں نہیں تم نے مولانا کا لفظ کہا ؟
غر ض بہت ڈانٹا ڈپٹا ۔۔۔۔ بہرحال (اب مولوی طیب قاسمی صاحب اس واقعہ سے نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور کہتے ہیں) ہم تو اس طریق پر ہیں کہ قطعاََ ان (یعنی امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ) کی بے حرمتی جائز نہیں سمجھتے ، کافر و فاسق کہنا تو بڑی چیز ہے ۔
موجودہ دیوبندیوں کو خاص کر ان عام سادہ لوح دیوبندیوں کو جو موجودہ شر پسند دیوبندی مولویوں کی باتوں میں آکر امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو برا بھلا کہتے ہیں ۔ سمجھ جانا چاہئے کہ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ کو برا بھلا کہنا ان کو کافر کہنا صحیح نہیں۔ اور ان کو توبہ کرنی چاہیے اور اس مسئلہ میں اپنے اکابرین کا موقف اختیار کرنا چاہیے کہ مولوی اشرف علی تھانوی نے صرف امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے نام کے ساتھ مولانا نہ کہنے کی وجہ سے اپنے خلیفہ کو خوب ڈانٹا اگر کوئی اس کے سامنے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو کافر کہہ دیتا تو ؟
اور اب ایک اور حوالہ اسی کتاب سے ملاحظہ ہو صفحہ ۴۶۷ پر عنوان ’’ افراط و تفریط فرقہ واریت کی بنیاد ہے “ کہ تحت لکھا ہے کہ : مولانا احمد رضا خان اور بریلویت کے بارے میں جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو آج تک کہیں ان کی تکفیر نہیں کی گئی بہر حال وہ مسلمان ہیں ۔
اللہ اللہ ! دیوبندیوں کے حکیم الاسلام نے تو ڈگری جاری کردی کے بریلوی یعنی سنی بھی مسلمان اور امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ بھی مسلمان ، اسے کہتے ہیں ’’جادو وہ جو سر چڑھ کے بولے ‘‘ دیوبندیو ! توبہ کرو ان کے خلاف بھونکتے ہو جن کی توہین کرنا تمہارے اکابرین کے نزدیک جائز نہیں ۔ میں کہتا ہوں اے دیوبندی میری نہ مان اپنے بڑے کی تو مان ۔
مولوی طیب قاسمی کے بارے میں دیوبندی امیر شریعت مولوی عطاء اللہ شاہ بخاری کہتا تھا
’’ مولانا طیب نہیں ان میں مولانا قاسم نانوتوئی کی روح بولتی ہے ‘‘ گویا یہ بات بھی دیوبندیوں کے نزدیک مولوی طیب قاسمی کی اپنی نہیں بلکہ مولوی قاسم کی روح نے کہی ہے اب تو دیوبندیوں کو اپنے بانی دیوبندیت مولوی قاسم کی بات مان لینی چاہیے اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو کافر و گستاخ کہنے سے توبہ کرنی چاہیے ۔
اسی طرح دیوبندیوں کے ماہنامہ الرشید جلد ۱۱ شمارہ نمبر ۶ اپریل ۱۹۸۳ صفحہ ۱۱ ملاحظہ ہو : کسی نے مولانا احمدرضاخاں مرحوم کے انتقال کی خبر مولانا تھانوی ۔ کو سنائی آپ نے انتقال کی خبر سن کر فرمایا ، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ مولانانے میرے اورمیرے بعض بزرگوں کے بارے میں کفر کا فتوی دیا لیکن میں الحمدللہ ان کے متعلق سوئے ظن نہیں رکھتا ان کو جن عبارات پر اعتراض تھا ان کو ان عبارات کا مطلب نیک نیتی سے قابل اعتراض نظر آیا اور ہم نیک نیتی کے ساتھ اس مفہوم کا انکار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ مولانا کی مغفرت فرمائیں ۔
محترم قارئین کرام : آپ نے یہ حوالہ بھی ملاحظہ فرمایا اس میں بھی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کےلیے مغفرت کی دعا کرنا خود دیوبندیوں کے حکیم الامت ومجدد مولوی اشرفعلی تھانوی سے ثابت ہے ۔ اب اگر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ معاذ اللہ کافر یا گستاخ تھے تو کیا کافر و گستاخ کےلیے مغفرت کی دعا کی جاتی ہے ؟ کافر و گستاخ کےلیے مغفرت کی دعا کرنے والا کیا کافر نہیں ؟ کیا دیوبندی اب اپنے مجدد مولوی اشرفعلی تھانوی کو بھی کافر کہیں گے کہ اس نے بقول شر پسند دیوبندیوں کے ایک (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ) گستاخ کےلیے دعائے مغفرت کی ؟
مزید اس میں مولوی اشرفعلی تھانوی نے اپنے کفر کو چھپانے کی کوشش کی ہے ۔ حالانکہ اس کا کفر صریح ہے جس میں کسی قسم کی تاویل کی گنجائش نہیں علماءِ اہل سنت نے ان کا خوب تعاقب کیا اور کم و بیش ۲۵۰ علماء عرب شریف و برصغیر نے ان کے کفر کا فتوی دیا ۔لیکن مولوی صاحب کو توبہ کی توفیق نہ ہوئی ۔
اسی تھانوی سے کسی نے پوچھا کہ بریلی والوں کے پیچھے نماز ہو جائے گی تو تھانوی صاحب نے کہا کہ ہاں ہو جائے گی ہم انہیں کافر نہیں کہتے اصل عبارت ملاحظہ ہو : ایک شخص نے پوچھاکہ ہم بریلی والوں کے پیچھے نماز پڑھیں تو نماز ہو جائے گی یا نہیں ۔ فرمایا : ہاں ہم ان کو کافر نہیں کہتے اگرچہ وہ ہمیں کہتے ہیں ۔ (قصص الاکابر صفحہ۲۵۲ المکتبہ اشرفیہ جامعہ اشرفیہ فیروزپور روڈ لاہور)
اسی طرح مولوی سید احمد رضا بجنوری دیوبندی نے دیوبندیوں کے بہت بڑے علامہ مولوی انور شاہ کشمیری کے ملفوظات جمع کیے ہیں اس میں احمد رضا بجنوری صاحب مولوی انور شاہ کشمیری کا ایک جواب نقل کرتے ہیں جو اس نے ایک قادیانی کو دیا لکھتے ہیں کہ : مختار قادیانی نے اعتراض کیا کہ علماء بریلوی ، علماء دیوبندپر کفر کافتوی دیتے ہیں اور علماء دیوبند علماء بریلوی پر۔اس پر شاہ صاحب نے فرمایا : میں بطور وکیل تمام جماعت دیوبند کی جانب سے گذارش کرتا ہوںکہ حضرات دیوبندان کی تکفیر نہیں کرتے ۔ (ملفوظات محدث کشمیری صفحہ ۶۹ ادارہ تالیفات اشرفیہ بیرون بوہڑ گیٹ ملتان)
اب تو مزید دو اکابرِ دیوبند کی گواہی آگئی کہ علمائے دیوبند علماء بریلوی کو کافر نہیں کہتے ۔
مولوی ضیاء الرحمن فاروقی سابق سرپرست اعلیٰ سپاہ صحابہ اپنی کتاب تاریخی دستاویز‘‘ صفحہ ۶۰ پر یوں عنوان دیتے ہیں : شیعہ کے بارے میں پہلے اکابرین اسلام کے فتاویٰ جات ‘‘ اور پھر ان اکابرین اسلام کا تذکرہ کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان صاحب سے متعلق صفحہ ۶۵ یوں عنوان دیتے ہیں : فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خاںرحمۃ اللہ علیہ ‘‘ تو پتہ چلا کہ دیوبندیوں کے اس مستند عالم کے نزدیک بھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اکابر علماء اسلام میں سے ہیں ۔ لیکن کیا کریں چند شر پسند عناصر کے بہکانے کی وجہ سے آج کل کے بعض دیوبندی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو کافر و گستاخ سمجھتے ہیں معاذ اللہ ۔
محترم قارئینِ کرام یہ سب لکھنے کا مقصدان دیوبندی حضرات کے سامنے حقائق بیان کرنا ہے اور انہیں دعوت غور و فکر دینا ہے کہ ان کا نظریہ اعلیٰ حضرت مجددِ اعظم مولانا الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے متعلق صحیح نہیں ہے ۔ اور ان کو کافر کہنا تو اللہ رب العزت کے ایک بہت بڑے ولی کی گستاخی اور توہین ہے ۔ جیسا کہ مضمون میں دیوبندی حضرات ہی کی آٹھ مستند شہادتوں سے یہ بات ثابت کی گئی کے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی توہین بالکل بھی درست نہیں اور انہیں معاذ اللہ کافر کہنا تو خود پر کفرکو لازم کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ میری اس تحریر کو مسلمانوں کےلیے نفع بخش بنائے اور دیوبندی حضرات کو اپنے غلط موقف سے رجوع کی توفیق عطا فرمائیں آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔












No comments:
Post a Comment