Sunday, 26 April 2026

حفظ الایمان کی گستاخانہ عبارت کی تاویلاتِ دیابنہ کا تحقیقی جواب

حفظ الایمان کی گستاخانہ عبارت کی تاویلاتِ دیابنہ کا تحقیقی جواب






محترم قارٸینِ کرام : دیابنہ کا حکیم اشر فعلی تھانوی دیوبندی اپنے رسالہ حفظ الایمان میں لکھتا ہے : پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ۔ اگر بعض علومِ غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی ہی کیا تخصیص ہے ۔ ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کےلیے بھی حاصل ہے ۔ (حفظ الایمان صفحہ نمبر 15 دارالکتاب دیوبند  اور مطبوعہ قدیمی کتبخانہ کا صفحہ نمبر 13)

ہم نے اصل عبارت میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی مگر ہو سکتا ہے بوجوہ چند مشکل الفاظ کے عوام الناس کو اس عبارت کے معانی و مفہوم کے سمجھنے میں کچھ مشکل پیش آئے ۔ اس لیے ہم ایسے الفاظ کی وضاحت معتبر کتب لغات سے ذیل میں پیش کرتے ہیں : ⏬

صبی : چھوکرا ، دووھ چھٹا بچہ ۔ (فرہنگ عامرہ صفحہ 305)

مجنون : پاگل دیوانہ ۔ (فرہنگ عامرہ صفحہ 424)

حیوانات : حیوان کی جمع ، جانور ۔ (فرہنگ عامرہ صفحہ 193)

بہائم : بہیمہ کی جمع بہیمہ بے عقل و تمیز جانور ۔ (فرہنگ عامرہ صفحہ 104 ، 105)

لغات کی روشنی میں پتہ چلا کہ صبی بچہ کو کہتے ہیں مجنوں پاگل دیوانہ اور حیوانات عام ہے انسان اور جانوروں کےلیے اور بہائم خاص چوپایوں جانوروں کےلیے ۔

نقل کفر کفر نباشد کے تحت ایک دفعہ معانی کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ عبارت پھر پڑھیں : پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب۔ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی ہی کیا تخصیص ہے۔ ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لیے بھی حاصل ہے۔ (حفظ الایمان صفحہ نمبر 15 دارالکتاب دیوبند  اور مطبوعہ قدیمی کتبخانہ کا صفحہ نمبر 13،چشتی)

اے اہلِ ایمان : خالی الذہن ہو کر بار بار تھانوی کی عبارت پڑھیں اور اندازہ کریں کہ بعض اور کل علوم کی بحث کی آڑ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کیسی صریح توہین کی گئی ہے ؟

سوال نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب کے تعلق سے تھا جانوروں پاگلوں بچوں عام انسانوں کے علم سے متعلق نہیں اور پھر اگر ان کے علم کے تعلق سے بھی سوال ہوتا تو اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم سے مخلوقات میں کسی کے علم کا کیا تعلق ؟

کہاں ہمارے پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علمِ پاک اور کہاں عام انسانوں بچوں پاگلوں جانوروں کا علم ۔ معاذاللہ ۔

چہ نسبت خاک را با علم پاک

اگر کوئی ایسی ہی عبارت تھانوی دیوبندی کے علم کے متعلق تحریر کر دے کہ : اشرف علی تھانوی کے متعلق علم شریعت کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس سے بعض مسائل شریعت مراد ہیں یا کل اگر بعض علم مراد ہے تو اس میں اشرف علی تھانوی کی کیا تخصیص ایسا علم تو زید و عمر و بلکہ ہر صبی  و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کو حاصل ہے ۔

تو کیا اشرف علی تھانوی کی اذناب و ذریات اور ان کے پیروکار حضرات اسے تھانوی کی توہین پر محمول نہ کریں گے ؟

ضرور کریں گے لیکن آج تقریبا سوا سو سال ہونے کو آئے دیوبندی حضرات اس عبارت کی متضاد تاویلات بے جا تشریحات و توضیحات کرتے جا رہے ہیں۔ یہ کیسی علمی دیانت ہے ۔

بلکہ اس سے بڑھ کر دیوبندی حضرات کےلیے لمحہ فکریہ ہے کہ ان کی وفاداریاں کس کے ساتھ ہیں ؟

کیا ان کے نزدیک ان کے پیشوا کی عزت نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ناموس سے بڑھ کر ہے ؟

یہ کیسا انصاف ہے کہ جو عبارت ان کے اشرف علی تھانوی سیدُالانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے کہیں تو گستاخی نہ ہو بلکہ تاویلات تلاش کی جائیں اور ہٹ دھرمی برتی جائے اور جب اسی عبارت کو تھانوی کےلیے کہا جائے تو گستاخی قرار دی جائے ۔

اس کفریہ عبارت پر ہم آپ کے سامنے تھانوی کے اپنے وکلاء کی تضاد بیانی بیان کر کے اور ان ہی سے فتوی کفر کی تائید کروا دیتے ہیں  ملاحظہ ہو : دیوبندی علماء نے تھانوی کی کفریہ عبارت کو خالص ایمانی بنانے کےلیے جو کوششیں کی ہیں اور جس انداز میں غلط و فاسد تاویلات کا سہارا لیا اس کی تفصیل بخوف طوالت ہم چھوڑ رہے ہیں ۔ صرف دو علماء کی تاویلات کو نقل کریں گے لیکن اس سے پہلے ہم تھانوی کی عبارت میں لفظ ایسا جو عبارت میں اصل کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی لفظ کو لے کر بحث و مباحثہ ہوتے رہے ہیں اور علماء دیوبند نے تھانوی کی عبارت میں تاویل کرتے ہوئے خاص کر لفظ ایسا کو ہی اپنی تحریر کا محور بنایا ہے ۔ لہٰذا یہاں اسی لفظ کی وضاحت ہم مشہور اردو لغات کی روشنی میں پیش کر رہے ہیں ۔

ایسا کا لغوی مفہوم : ⏬

فرہنگ آصفیہ میں ایسا کی تشریح : ایسا : صفت مانند ہم شکل ، مماثل ، مساوی ، متوازی ، اس قسم کا ، اس طرح کا ، اس بھانت کا ، بحالت تابع فعل اس قدر ، اتنا فقرہ ایسا کھانا کھایا کہ بد ہضمی ہو گئی ۔ (فرہنگ آصفیہ جلد 1 صفحہ 240)

فیروز اللغات اردومیں ہے : ایسا : اس قسم کا ، اس شکل کا ، مماثل ، مانند ، اس نمونے کا ، اس طرح، یوں ۔ (فیروز اللغات جلد 1 صفحہ 153)

امیر اللغات میں ہے : ایسا : اس قسم کا، اس شکل کا ، اس قدر ، اتنا ، مماثل ، مانند ، اس طرح ، یوں ۔ (حصہ دوم صفحہ 302 مؤلفہ منشی امیر احمد امیر مینائی لکھنوی)

نوراللغات میں ہے : ایسا : اس قسم کا، اس شکل کا، اس قدر، اتنا، مانند مثل ۔ (جلد 1 صفحہ 409)

الحاصل : لغوی حیثیت سے لفظ ایسا تشبیہ یا مقدار کے معنی میں مستعمل ہے ۔

اب رہا تھانوی کی عبارت میں لفظ ایسا کسی معنی میں ہے تو آئیے ہم صرف دو دیوبندی مشہور علماء کی کتب کے حوالے سے ثابت کرتے ہیں کہ انہوں نے لفظ ایسا کس معنی میں لیا ہے ۔

لفظ ایسا بمعنی اتنا : ⏬

مولوی مرتضیٰ حسن دربھنگی چاند پوری دیوبندی اشرف علی تھانوی کی عبارت متنازعہ فیھا میں لفظ ایسا کی تاویل کرتے ہوئے لکھتا ہے : واضح ہو کہ (ایسا) کا لفظ فقط مانند ، اور مثل ہی کے معنی میں مستعمل نہیں ہوتا بلکہ اس کے معنی ، اس قدر ، اور ، اتنے ، کے بھی آتے ہیں جو اس جگہ متعین ہیں ۔ (توضیح البیان فی حفظ الایمان مطبوعہ قاسمی دیوبند صفحہ 17)

دوسرے مقام پر لکھتا ہے : عبارت متنازعہ فیھا میں لفظ (ایسا) بمعنی اس قدر اور اتنا ہے پھر تشبیہ کیسی ۔ (توضیح البیان فی حفظ الایمان مطبوعہ قاسمی دیوبند صفحہ 8)

مولوی مرتضیٰ حسن دیوبندی کی مندرجہ بالا عبارت سے تھانوی کی عبارت کفریہ میں لفظ ایسا اس قدر اور اتنا کے معنی میں ہے ۔

مولوی حسین احمد ٹانڈوی صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند لفظ ایسا کو اتنا کے معنی میں مان لینے سے متعلق لکھتا ہے : حضرت مولانا عبارت میں (ایسا) فرما رہے ہیں لفظ اتنا تو نہیں فرما رہے ہیں اگر لفظ اتنا ہوتا تو اس وقت البتہ یہ احتمال ہوتا کہ معاذاللہ حضور علیہ السلام کے علم کو اور چیزوں کے علم کے برابر کردیا ۔ (الشہاب الثاقب مطبع قاسمی دیوبند صفحہ 111)

الحاصل مرتضیٰ حسن دیوبندی نے تھانوی کی عبارت میں لفظ ایسا بمعنی اتنا مانا ہے اور مولوی حسین احمد کے نزدیک اگر عبارت میں لفظ ایسا اتنا کے معنی میں مان لیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ معاذاللہ تھانوی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم اور چیزوں (زید بکر صبی مجنون جمیع حیوانات و بہائم) کے علم کے برابر کردیا ہے اور نبی پاک کے علم کو عام انسانوں کےبرابر کردینا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین نہیں ؟
کیا اس عبارت میں صاف صاف کفر نظر نہیں آرہا ہے ؟ ۔ قارئینِ کرام فیصلہ کریں ۔

لفظ ایسا تشبیہ کےلیے : ⏬

الشہاب الثاقب میں لفظ ایسا بمعنی تشبیہ ۔ مولوی حسین احمد لکھتے ہیں : لفظ  ایسا  تو تشبیہ کا ہے اور ظاہر ہے کہ اگر کسی کو کسی سے تشبیہ دیا کرتے ہیں تو سب چیزوں میں مراد نہیں ہوا کرتی ۔ (الشہاب الثاقب)
اور لکھتے ہیں : ادھر لفظ اتنا تو نہیں کہا بلکہ تشبیہ فقط بعضیت میں دے رہے ہیں ۔
(الشہاب الثاقب مطبع قاسمی دیوبند صفحہ 112)

مولوی حسین احمد کے نزدیک تھانوی کی عبارت میں لفظ ایسا (تشبیہ) کےلیے ہے تشبیہ کے معنی میں لینے سے کوئی حکم عائد نہیں ہوگا لیکن انہیں کے ایک مولوی مرتضیٰ حسن تشبیہ کا معنی مراد لینے کو کفر قرار دے رہے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں : ⏬

اگر وجہ تکفیر کی تشبیہ علم نبوی بعلم زید و عمرو ہے تو یہ اس پر موقوف ہے کہ لفظ ایسا تشبیہ کےلیے ہو ۔ (توضیح البیان صفحہ 13،چشتی)

مذکورہ بالا بحث کا خلاصہ یہ نکلا کہ بعض دیوبندی علماء کے نزدیک تھانوی کی عبارت میں لفظ ایسا اتنا کے معنی میں آتا ہے اور بعض کے نزدیک تشبیہ کےلیے ۔ جنہوں نے تشبیہ کےلیے مانا ان کے نزدیک اتنا ماننے کی صورت میں کفر ہے اور جنہوں نے اتنا مانا تو انہوں نے تشبیہ کے معنی ماننے کو سبب کفر قرار دیا ۔ لہٰذا عبارت بالا کی روشنی میں خود دیوبندی علماء کے نزدیک اشرف علی تھانوی کی عبارت کا کفریہ ہونا ثابت ہوگیا ۔ یہ بحث تو تھانوی کے اذناب و ذریات کی جانب سے تھی خود تھانوی نے لفظ ایسا کس معنی میں لیا ہے وہ بھی ملاحظہ فرمائیں : ⏬

اشرف علی تھانوی دیوبندی کے نزدیک لفظ ایسا ، بیان کےلیے ہے ۔ اشرف علی نے یہ جان لیا تھا کہ اگر لفظ (ایسا) تشبیہ کے معنی میں لیا جائے تو بھی کفر ہے اور (اتنا) کے معنی میں تب بھی کفر ہے ۔ لہٰذا تھانوی نے ایک اور مفہوم ایجاد کیا اور لفظ ایسا کو (بیان) کےلیے مان کر الزامِ کفر سے خود کو بچانے کی ناکام کوشش کی تغییرالعنوان میں لکھتا ہے : لفظ ایسا بقرینہ مقام مطلق بیان کےلیے آتا ہے ۔ (حفظ الایمان مع تغییرالعنوان صفحہ 121 ناشر انجمن ارشاد المسلین لاہور)

تھانوی کی تاویل بے جا کے جواب میں مظہرِ اعلی حضرت شیر بیشہ اہل سنت فاتح عالم دیوبند علامہ حشمت علی علیہ الرحمہ کی طرف سے تحریر فرمودہ جواب نقل کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے : ⏬

آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : تھانوی جی بھلا حکیم الامت کہلا کر اردو ادب کے مسائل سے بھی آپ کیا جاہل ہوں گے ضرور ہے کہ دانستہ سب کچھ دیکھ بھال کر مسلمانوں پر اندھیری ڈالنا چاہتے ہیں ۔ ہاں تھانوی جی ہم سے سنیے ایسا کا لفظ مطلق (بیان) کےلیے وہاں آتا ہے جہاں مشبہ بہ مذکور نہ ہو نہ صراحتاً نہ حکماً اور جہاں مشبہ اور مشبہ بہ دونوں موجود ہوں وہاں قطعاً یقیناً ایسا کا لفظ تشبیہ ہی  کےلیے آتا ہے ۔ آپ کی عبارت میں مشبہ اور مشبہ بہ دونوں موجود ہیں اور یہاں لفظ ایسا یقیناً تشبیہ کےلیے ہے مطلق بیان کےلیے ہرگز نہیں ہو سکتا ۔ (قہر واجدان بر ہمشیر بسط البنان صفحہ 13،چشتی)

محترم قارئینِ کرام دیکھا آپ نے کہ کفریہ عبارت کا دفاع کرتے کرتے اشرف علی تھانوی دیوبندی کو خود دیوبندی علماء نے کفر کی دلدل میں دھنسا دیا ۔

اشرف علی تھانوی دیوبندی کی کتاب حفظ الایمان کی عبارت "ایسا علم غیب تو زید و عمر بلکہ ہر صبی (بچہ) و مجنوں (پاگل) بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کو حاصل ہے “ پر علمائے حق نے اشرف علی کی تکفیر کلامی کی کہ اس نے اپنی مذکورہ بالا عبارت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کو جانوروں اور پاگلوں کے علم سے تشبیہ دے کر توہین نبوی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ثابت شدہ صفت علم غیب عطائی کی تکذیب کی اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں جس کی صراحت فقہ و کلام کی کتابوں میں موجود ہے ۔ اس تکفیر کی تردید میں اذناب و حاملین اشرف على تهانوی کہتے ہیں کہ اس تشبیہ کی بنیاد پر اگر توہین نبوی ہو گئی جس کی بنا پر اشرف علی کو کافر کلامی قرار دیا گیا ۔ تو ایسی تشبیہ تو امام جلال الدین سیوطی اور قاضی بیضاوی علیہما الرحمہ کی عبارت میں بھی ہے جو انہوں نے قول باری ” كان ياكلان الطعام “ کے تحت اپنے کلام میں حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت مریم علیہاالسلام کے کھانے کو جانوروں کے کھانے سے تشبیہ دی ہے امام جلال الدین کی عبارت ہے” كغيرھا من الحیوانات“ اور قاضی بیضاوی کی عبارت ہے” یفتقران اليه افتقارالحيوانات“ پس اگر افضل کو مفضول کے ساتھ تشبیہ دینا افضل کی توہین کرنا ہے کہ جیسا کہ علمائے اہل سنت نے اشرف علی کی عبارت کے حوالے سے کہا کہ اس نے تشبیہ دے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی ہے تو یہی چیز تو امام جلال الدین اور قاضی بیضاوی کی عبارت میں ہے کہ انھوں نے افضل حضرت عیسٰی علیہ السلام کو مفضول حیوانات سے تشبیہ دی ہے لہذا جو حکم اشرف علی پر صادر ہوا وہی حکم (العیاذ بالله) ان دونوں بزرگوں پر لگنا چاہیے اور اگر ان پر نہیں لگاتے تو اشرف علی پر بھی نہ لگاؤ اس لیے کہ دونوں مقام میں افضل کو مفضول سے تشبیہ دی گئی ہے لہٰذا کفر ہے تو دونوں جگہ ہو اور نہیں ہے تو دونوں جگہ نہیں ہونا چاہیے اور یہ بات آپ اہل سنت کے یہاں مسلم ہے کہ وہ دونوں حضرات بزرگ ہیں اہل حق ہیں تو اب آپ کے نزدیک اشرف علی بھی حق پر ہونا چاہیے ۔

مذکورہ اعتراض کے جواب سے پہلے آپ اتنا جان لیں کہ بعض تشبیہ تنقیص ہوتی ہیں اور بعض تنقیص نہیں ہوتی : ⏬

1 : افضل کو مفضول کے ساتھ ایسے وصف میں تشبیہ دینا جو وصف افضل کے مفضول سے افضل ہونے کا سبب ہے جیسے کہ انسان کو وصف عقل رکھنے میں گدھے کے ساتھ تشبیہ دے کر کہا جائے کہ انسان عقل رکھنے میں گدھے کی طرح ہے ۔ یہ تشبیہ تنقیص ہے ۔

2 : افضل کو مفضول کے ساتھ وصف عامہ مشترکہ میں اس جہت سے تشبیہ دینا جس جہت سے وہ وصف دونوں کے درمیان مشترک ہے جیسا کہ احتیاج طعام کی جہت سے انسان کو حیوان کے ساتھ وصف اکل طعام میں تشبیہ دے کر کہنا کہ جیسے انسان کھاتا ہے ایسے ہی حیوان کھاتا ہے یعنی جس طرح سے انسان کو کھانے کی ضرورت ہے ایسے ہی حیوان کو بھی کھانے کی ضرورت ہے __یہ تشبیہ تنقیص نہیں ہے ۔

3 : افضل کو مفضول کے ساتھ تشبیہ دینا وصف عامہ مشترکہ میں جہت اشتراک کے علاوہ جہت سے جیسے کہ کہا جائے کہ انسان بیل کی طرح کھاتا ہے یعنی کھانے میں جو طریقہ بیل کا ہے وہی طریقہ انسان کا ہے ۔ اس میں تنقیص کا پہلو ہے ۔

اس تفصیل کے بعد اب آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اشرف علی تھانوی کی عبارت توہینِ رسالت میں مفسر ہے کہ اس میں تشبیہ کی قسم اول ہے جو کہ تنقیص ہے اس کے برخلاف امام جلال الدین اور قاضی بیضاوی علیہما الرحمہ کی عبارات میں تشبیہ کی دوسری قسم ہے جو توہین نہیں ہے نیز آیت کریمہ ”انما أنا بشر مثلكم“ بھی بنظر ظاهر اسی قبیل سے ہے ۔ پس اشرف علی تھانوی دیوبندی کی عبارت مشتمل توہینِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کی بنا پر کفریہ ہے اور اہل حق کا اس عبارت کی بنیاد پر اس کو کافر کلامی کہہ کر حکمِ شرع ظاہر کرنا مطابقِ شریعت ہے ۔


اس سے قبل کہ علماء دیوبند کی تاویلات باطلہ کے متعلق مزید کچھ عرض کریں ، حفظ الایمان کی گستاخانہ عبارت کا مختصر پس منظر پیش خدمت ہے ۔ علماۓ دیوبند کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غیب کا کچھ علم نہیں ۔ دیابنہ اور وہابیہ کا امام و مقتدا اسماعیل دہلوی لکھتا ہے : غیب کی بات اللہ ہی جانتا ہے رسول کو کیا خبر ۔ (تقویۃ الایمان صفحہ 84 مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی)

علماۓ دیوبند کے قطب الاقطاب مولوی رشید احمد گنگوہی صاحب نے اپنا عقیدہ یوں بیان کیا ہے : اس میں ہر چہار ائمہ مذاہب و جملہ علماء متفق ہیں کہ انبیاء علیہم السلام غیب پر مطلع نہیں ہیں اور اس مدعی کے اثبات پر ہزاروں احادیث و آیات شاہد ہیں ۔ (مسئلہ در علم غیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم از گنگوہی ملحقہ بجواهر التوحید از غلام اللہ خان صفحہ 357 کتب خانہ رشیدیہ راولپنڈی)(ملحقہ علم غیب صفحہ 154 قاری طیب مطبوعہ ادارہ اسلامیات لاہور)

جبکہ مطلقاً علم غیب یا اطلاع غیب کا انکار غیر اسلامی عقیدہ ہے مفتی شفیع لکھتے ہیں : جاہل عوام جو ان باتوں میں فرق نہیں کرتے جب ان کے سامنے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم الغیب نہیں وہ اس کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی غیب کی چیز کی خبر نہیں جس کا دنیا میں کوئی قاٸل نہیں اور نہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایسا ہونے سے تو خود نبوت و رسالت کی نفی ہو جاتی ہے جس کا کسی مؤمن سے امکان نہیں ۔ (تفسیر معارف القرآن جلد 8 صفحہ 583)

اس اثناء میں جب ان کے باطل عقیدہ کی تردید کی گئی تو ان حضرات کی جانب سے ایک فرضی زید کے نام سے عالم الغیب کے متعلق سوال کو گھڑ کے اس اطلاق کی نفی پر گفتگو کی ، مگر اطلاق کے ساتھ ساتھ حکم کی بھی نفی کر دی ۔ قارئین کی آسانی کےلیے عرض ہے کہ اطلاق سے مراد کسی چیز کےلیے کسی لفظ کا بولنا ہے جبکہ کسی چیز کےلیے کسی بات کے ثابت ہونے کو حکم سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔

مولوی منظور نعمانی دیوبندی لکھتے ہیں : کسی صفت کا واقع میں کسی ذات کےلیے ثابت ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ اس کا اطلاق بھی اس پر جائز ہو ۔ قرآن کریم میں حق تعالی کو ہر چیز کا خالق بتلایا گیا ہے اور تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ عالم کی ہر چیز صغیر ہو یا کبیر ، عظیم ہو یا حقیر سب اس کی مخلوق ہے لیکن با این ہمہ فقہاء کرام تصریح فرماتے ہیں کہ اس کو خالق القردة والخنازیر کہنا ناجائز ہے ۔ علی ھذا قرآن مجید میں حق تعالی نے زرع (کھیتی) کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے ۔ لیکن اس کی ذات پاک پر زارع کا اطلاق درست نہیں ۔ اسی طرح بادشاہ کی طرف سے لشکر کو جو عطایا اور وظائف دیے جاتے ہیں ، اہل عرب ان پر رزق کا اطلاق کرتے ہیں ۔ چنانچہ لغت کی عام کتابوں میں یہ محاورہ لکھا ہوا ہے کہ رزق الامیر الجند ، لیکن با ایں ہمہ بادشاہ کو رازق یا رزاق کہنا درست نہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل مبارکہ کے باب میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ خود ہی اپنی نعل مبارک کو ٹانک لیا کرتے تھے اور خود ہی اپنی بکری دوہ لیا کرتے ۔۔۔۔۔ الخ لیکن اس کے باوجود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاصف النعل (جفت دوز)  اور حالب الشاة (بکری دوہنے والا) نہیں کہا جا سکتا ۔ بہرحال  یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ بعض اوقات ایک صفت کسی ذات میں پائی جاتی ہے اور اس کا اطلاق درست نہیں ہوتا ۔ (فیصلہ کن مناظرہ صفحہ 152 ، 153،چشتی)

ساجد نقلبدی دیوبندی لکھتا ہے : کسی صفت کا واقع میں کسی ذات کے لئے ثابت ہونا اس کو مستلزم نہیں کہ اس کا اطلاق بھی اس پر جائز ہو ۔ قرآن کریم میں حق تعالی کو ہر چیز کا خالق بتلایا گیا ہے اور تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ عالم کی ہر چیز صغیر ہو یا کبیر ، عظیم ہو یا حقیر سب اس کی مخلوق ہے ۔ لیکن اس کے باوجود فقہاء کرام تصریح فرماتے ہیں کہ اس کو خالق القردة والخنازیر کہنا ناجائز ہے ۔ اس طرح بادشاہ کی طرف سے لشکر کو جو عطایا اور وظائف دیے جاتے ہیں ، اہل عرب ان پر رزق کا اطلاق کرتے ہیں ۔ چنانچہ لغت کی عام کتابوں میں یہ محاورہ لکھا ہوا ہے کہ رزق الامیرالجند ، لیکن با ایں ہمہ بادشاہ کو رازق یا رزاق کہنا درست نہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل مبارکہ کے باب میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ خود ہی اپنی نعل مبارک کو ٹانک لیا کرتے تھے اور خود ہی اپنی بکری دوہ لیا کرتے ۔۔الخ لیکن اس کے باوجود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاصف النعل (جفت دوز) اور حالب الشاۃ (بکری دوہنے والا) نہیں کہا جا سکتا ۔ بہر حال یہ حقیقت ناقابل انکار ہے کہ بعض اوقات ایک صفت کسی ذات میں پائی جاتی ہے اور اس کا اطلاق درست نہیں ہوتا ۔ (دفاع اہل السنت جلد 1 صفحہ 611 ، 612 )

عبارات کی مماثلث کس بات کی چغلی کھا رہی ہے اس کا اندازہ ہمارے قارئین بخوبی کر سکتے ہیں ، خیر ان دونوں عبارات کا حاصل یہ ہے کہ علم اور اطلاق میں فرق ہوتا ہے بعض دفعہ صفت کے موجود ہونے کے باوجود موصوف پر اطلاق درست نہیں ہوتا ۔ اب تھانوی صاحب سے سائل نے کچھ یوں سوال کیا : اور کہتا ہے کہ علم غیب کی دو قسمیں ہیں ۔ بالذات ۔ اس معنی کو علم الغیب خدا تعالی کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اور بواسطہ ۔ اس معنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم الغیب تھے ۔ زید کا یہ استدلال اور عقیدہ و علم کیسا ہے ۔ (حفظ الایمان صفحہ 81 ستمبر 1980 انجمن ارشاد المسلمین ، لاہور پاکستان)

اس سوال میں سائل نے علم غیب کی دو قسمیں ذکر کی ہیں ، ایک ذاتی اور دوسرا عطائی ، اس میں کہیں بھی اطلاق کا لفظ موجود نہیں ۔ لہٰذا سائل کا سوال علم غیب کے متعلق تھا ، اب اس کا جواب دیتے ہوۓ اشرف علی تھانوی دیوبندی لکھتا ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ؟ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید ، و عمر بلکہ ہر صبی  و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ۔ (حفظ الایمان)

اس عبارت کے آغاز میں اشرفعلی تھانوی دیوبندی نے دو ٹوک لکھا ہے کہ : علم غیب کا حکم کیا جانا ، یعنی وہ ( تھانوی) ، عالم الغیب کے اطلاق پر نہیں بلکہ علم غیب کے حکم پر گفتگو کرتے ہوۓ اس کی ہی نفی کے در پے ہیں ، اور یہاں علم غیب کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی ہے ۔ اب تھانوی نے اس علم غیب کی دو قسمیں بیان کی ہیں ، ایک کل علم غیب ، جس کو عقلاً و نقلاً باطل قرار دیا ، اور دوسری بعض علم غیب جس کو تسلیم کرتے ہوئے یہ خبیث استدلال کیا کہ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید ، و عمر بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ، یعنی جو علم سرکارِ کل عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے ثابت مانا ، وہی علم جانوروں و پاگلوں کےلیے بھی تسلیم کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ہولناک گستاخی کا مرتکب ہوا ۔

اس عبارت کے متعلق ایک دیوبندی لکھتا ہے : حفظ الایمان حضرت تھانوی کی تصنیف ہے جس میں تین سولات کے جوابات ہیں ۔۔۔ اور سوال سوم عالم الغیب کے بارے میں تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب کہہ سکتے ہیں کہ نہیں ۔ تیسرے سوال کے جواب میں حضرت تھانوی بحث کرتے ہوۓ لکھتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ؟ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے ایسا علم غیب تو زید ، و عمر بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ، کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے شخص سے مخفی ہے تو چاہئے کہ سب کو عالم الغیب کہا جاوے ۔ (حفظ الایمان صفحہ 8) ۔ یاد رہے یہ ہاٸیڈ کی ہوٸی عبارت کو آج تک کسی بریلوی نے نقل نہیں کیا ، اس لیے کہ یہ ٹکڑا خود عبارت کا جواب ہے ، اور جب جواب نقل کیا تو اعتراض معترض کے لئے باعث شرمندگی ہے ۔ معترضین کہتے ہیں کہ مذکورہ عبارت میں حضرت تھانوی نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کو بچوں ، پاگلوں ، حیوانات اور بہائم وغیرہ سے تشبیہ دی ہے ۔ حالانکہ یہ ان کی کج فہمی ہے ۔ (حق المبین پر ایک نظر صفحہ 102،چشتی)

محترم قارئین کرام : اس جگہ دیوبندی حضرت اس بات پہ برہم ہیں کہ علماء اہلسنت ہاٸیڈ کیا ہوا جملہ  نقل نہیں کرتے ، اور آگے چل کر بھی موصوف نے یہ راگ کچھ یوں الاپا ہے : بریلوی اپنی تین معتبر کتب سے حفظ الایمان کی عبارت کا یہ ٹکڑا ، کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے شخص سے مخفی ہے تو چاہیے کہ سب کو عالم الغیب کہا جاوے ، ثابت کرے کہ کسی بریلوی عالم نے حفظ الایمان کی عبارت کے ساتھ یہ عبارت نقل کیا ہے ۔ (الحق المبین پر ایک نظر صفحہ 108)

جواباً عرض ہے کہ مذکورہ بالا جملہ نقل نہ کرنا اس صورت میں قابلِ اعتراض ہے جب عبارت کا مطلب تبدیل ہو ، محض یہ فقرہ ہی نہیں پوری حفظ الایمان بھی نقل کر دی جائے تو یہ عبارت گستاخانہ ہی رہے گی ، پھر اس فقرہ کے متعلق تین کتب سے دکھانے کا مطالبہ جو دیوبندی حضرت نے کیا ہے ، ہم اسے پورا کیے دیتے ہیں ، ملاحظہ ہو ۔ (انوار احناف صفحہ 227 )(تحقیقات صفحہ 332،چشتی)(صاعقة الرضا صفحہ 325)(قہر و اجددیان صفحہ 10)

اس کے بعد ہمارا معاند حفظ الایمان کی عبارت کی تشریح کرتے ہوۓ لکھتا ہے : پھر یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا) یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عالم الغیب کا اطلاق کرنا ۔ (الحق المبین پر ایک نظر صفحہ 103)

مولوی منظور نعمانی دیوبندی لکھتا ہے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب کہنا اور آپ کی ذات قدسی پر لفظ عالم الغیب کا اطلاق کرنا ۔ (فیصلہ کن مناظرہ صفحہ 156)

ایک اصلی سارق و جعلی محقق ساجد نقلبندی دیوبندی لکھتا ہے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا ، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر عالم الغیب کا اطلاق کرنا ۔ (دفاع اہل السنۃ جلد 1 صفحہ 612)

محترم قارئینِ کرام : یہاں ان حضرات کے قلم سے امانت و دیانت کا خون ملاحظہ ہوں ، کہ کس قدر خدا خوفی سے بے نیاز ہو کر یہ حضرات عوام کی آنکھ میں دھول جھونکنے پہ آمادہ ہیں ۔ ایک طرف ان حضرات کو یہ اقرار ہے کہ حکم اور اطلاق میں فرق ہے ، مگر دوسری طرف اس فرق کو ختم کرتے ہوئے اشرفعلی تھانوی دیوبندی کی عبارت میں موجود لفظ حکم کو اطلاق سے تبدیل کر دیا ۔ یعنی اشرفعلی تھانوی دیوبندی نے لکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا ۔ الخ  ۔ اس جگہ واضح طور پر حکم کے الفاظ موجود ہیں ، اور کوئی بھی شخص ملاحظہ کر سکتا ہے کہ اشرفعلی تھانوی دیوبندی کا کلام علم غیب کے متعلق ہے اور آگے چل کر اسی کی نفی پہ آمادہ ہیں جبکہ دیوبندی حضرات تشریح کرتے ہوۓ اس حکم کو اطلاق سے تبدیل کیے دیتے ہیں جبکہ ان دونوں میں فرق فریق مخالف کو مسلم ہے ، لہٰذا دیوبندی حضرات کا یہاں اطلاق کو حکم سے تبدیل کرنا انتہاٸی مذموم عمل ہے ۔ ان حضرات نے اس جگہ یہ پاپڑ اس لیے بیلا ہے کہ حسام الحرمین پہ اعتراض کیا جا سکے اور اشرفعلی تھانوی دیوبندی کے گلے سے گستاخی کے اس بوجھ کو کم کیا جا سکے ، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کے متعلق کلام اسی جگہ کر دیا جاۓ ۔

مولوی منظور نعمانی دیوبندی  حسام الحرمین پہ اعتراض کرتے ہوۓ لکھتا ہے : حفظ الایمان میں مذکورہ بالا عبارت کے بعد الزامی نتیجہ طور پر یہ فقرہ تھا ۔ تو چاہیے کہ سب کو عالم الغیب کہا جاوے ، خان صاحب نے اس کو بھی صاف اڑا دیا ، کیونکہ اس فقرے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مصنف حفظ الایمان حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کی مقدار میں کلام نہیں فرما رہے ، بلکہ ان کی بحث صرف عالم الغیب کے اطلاق میں ہے ۔ (فیصلہ کن مناظرہ صفحہ 158،چشتی)

سارق و جعلی محقق ساجد نقلبندی دیوبندی لکھتا ہے : حفظ الایمان میں مذکورہ بالا عبارت کے بعد الزامی نتیجہ طور پر یہ فقرہ تھا ۔ تو چاہے کہ سب کو عالم الغیب کہا جاوے ۔ خان صاحب نے اس کو بھی بالکل اڑا دیا ، کیونکہ اس فقرے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مصنف حفظ الایمان حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم مبارک کی مقدار میں کلام نہیں فرما رہے ، بلکہ ان کی بحث صرف عالم الغیب کے اطلاق میں ہے ۔ (دفاع اہل السنۃ جلد 1 صفحہ 615)

عبارت کی مماثلث کس طرح اس سارق و جعلی محقق ساجد نقلبندی دیوبندی کی تحقیق کا بھرم توڑتے ہوۓ ان کے سرقہ کو آشکار کر رہی ہے ، اس سے قارئین بخوبی واقف ہو جائیں گے ، ہم ان کی توجہ ان حضرات کی اس تاویل کی کمزوری کی طرف منعطف کیے دیتے ہیں ، اس لیے کہ یہ عبارت اس وقت اشرفعلی تھانوی دیوبندی کو فائدہ دیتی جب بحث عالم الغیب کے اطلاق کے متعلق ہوتی جبکہ ہم ثابت کر چکے کہ بحث علم غیب کے متعلق ہے اور اشرفعلی تھانوی دیوبندی کی عبارت میں ، علم غیب کا حکم کیا جانا ۔ الخ منقول ہے ۔ پھر سائل کا سوال بھی ہم نقل کر چکے ، اس میں بھی عالم الغیب کے اطلاق کی نہیں بلکہ علم غیب کے ہی متعلق گفتگو ہے ، اس لیے ان حضرات کا یہ اعتراض درست نہیں ۔ یہ سارے پاپڑ محض اس لیے بیلے جارے ہیں کہ جب یہ بات ثابت ہو جاۓ کہ اس عبارت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کی بابت گفتگو نہیں تو اسے تشبیہ دینے کا سوال خود بخود تم ہو جائے گا ، جبکہ اشرفعلی تھانوی دیوبندی کی عبارت چیخ چیخ کر یہ اعلان کر رہی ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پہ علم غیب کے حکم کے متعلق گفتگو ہے اور اس کی دو قسمیں بیان کر کے ایک کو باطل کہا اور دوسری کو تسلیم تو کیا مگر تخصیص کی نفی کرتے ہوئے اسے بہائم وغیرہ میں تسلیم کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شدید گستاخی ہے ۔ خیر اس کے بعد یہ حضرات عبارت کی تشریح کرتے ہوۓ لکھتے ہیں : ⏬

قولہ : اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ ، یعنی اگر بقول زید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب کہنا درست ہے تو پھر زید بتا دے کہ ، قولہ : اس غیب سے مراد بعض ہے یا کل ، یعنی زید جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب کہہ رہا ہے حضرت تھانوی فرماتے ہیں کہ اس غیب سے تمہارا مراد بعض علم غیب ہے یا کل علم غیب ۔
قولہ : اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں ، یعنی زید کل علم غیب نہیں مانتا بلکہ انہوں نے کہا کہ میں بعض علم غیب کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب مانتا ہوں ۔ تو اس پر حضرت تھانوی فرماتے ہیں : قولہ : اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا تخصیص ایسا علم غیب تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کےلیے حاصل ہے کیونکہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے سے مخفی ہے ، یعنی پھر اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا خاصیت ہے ایسی بعض باتیں تو ہر ایک کو معلوم ہوتا ہے جو دوسرے سے مخفی ہے ۔ پھر اس میں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کیا فرق اور اس کی اور ان کے درمیان کیا خاصیت باقی رہتی ہیں ۔ (الحق المبین پر ایک نظر صفحہ 103)

اس ساری تشریح کا خلاصہ یہ ہے کہ اس جگہ ایسا علم غیب سے مراد بعض مطلق علم غیب ہے اور یہی تاویل اشرفعلی تھانوی دیوبندی سے لے کر آج تک تمام کذاب دیوبندیوں نے کی ہے ۔

مولوی منظور نعمانی دیوبندی لکھتا ہے : اور حفظ الایمان کی عبارت میں ایسا کا لفظ آیا تھا اور اس سے مطلق بعض غیوب کا علم مراد تھا نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم اقدس ، مگر خاں صاحب نے اس سے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم شریف مراد لے لیا ۔ (فیصلہ کن مناظرہ صفحہ 157)

سارق ساج نقلبندی دیوبندی لکھتا ہے : حفظ الایمان کی عبارت میں ایسا کا لفظ آیا تھا اس سے مطلق بعض غیوب کا علم تھا نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم اقدس ، مگر خان صاحب نے اس سے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم شریف مراد لیا ۔ (دفاع اہلسنت جلد 1 صفحہ 614)

مولوی سرفراز خان صفدر دیوبندی  لکھتا ہ : مولانا مرحوم کی مراد یہ ہے کہ اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی کی کیا تخصیص ہے ایسا یعنی اس قدر اور اتنا علم غیب کہ جس کے اعتبار سے تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عالم الغیب کہتے ہو اور اطلاق لفظ عالم الغیب کےلیے جتنے اور جس قدر کی ضرورت سمجھتے ہو یعنی مطلق بعض مغیبات کا علم تو یہ زید و عمر بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات اور بہائم کو بھی حاصل ہے ۔ (عبارات اکابر صفحہ 187 فروری 2010 مکتبہ صفدریہ نزد مدرسه نصرۃ العلوم گھنٹہ گھر گوجرانوالہ،چشتی)

اشرفعلی تھانوی دیوبندی لکھتا ہے : بلکہ مراد اس لفظ ایسا سے وہی ہے جو اوپر مذکور ہے یعنی مطلق بعض علم ۔ (بسط البنان بحوالہ عبارات اکابر صفحہ 190)

یہی تھانوی دیوبندی لکھتا ہے : معترضین کے شبہہ کا منشاء دو امر کا مجموعہ ہے ایک یہ کہ عبارت ایسا علم میں ایسا کو تشبیہ کےلیے سمجھ گئے اور علم سے مراد علم نبوی سمجھ گئے حالانکہ یہ منشاء ہی غلط ہے لفظ بقرینہ مقام مطلق بیان کےلیے بھی آتا ہے ۔ اسی طرح علم سے مراد علم نبوی نہیں بلکہ مطلق بعض علوم غیبیہ مراد ہیں ۔ (امداد الفتاوی جلد 6 صفحہ 101،چشتی)(حضرات مشائخ دیوبند پر اتہامات کی حقیقت صفحہ 5)

مزید اشرفعلی تھانوی دیوبندی لکھتا ہے : لفظ ایسا میں مطلق بعض غیوب کا علم مراد ہے نہ کہ علم نبوی ۔ (افاضات الیومیہ جلد 8 صفحہ 176)

مقامع الحدید میں ہے : اور واقعہ یہ ہے اس سے حضور  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم مراد نہیں ۔ بلکہ مطلق بعض علم غیب مراد ہے ۔ (مقامع الحدید صفحہ 69)

مولوی خالد محمود دیوبندی لکھتا ہے : اس عبارت میں ایسا علم غیب سے مراد مطلق بعض علم غیب تھا ۔ (مطالعه بریلویت جلد 1 صفحہ 361)

اسی طرح اوصاف رومی دیوبندی لکھتا ہے : حفظ الایمان میں جو بات بعض علم غیب کے لئے کہی گئی تھی ۔ (دیوبند سے بریلی صفحہ 83)

دیوبند شیخ الحدیث حضرات کی ٹیم لکھتی ہے : مولانا تھانوی اس بات پر بحث فرما رہے تھے کہ عالم الغیب کا اطلاق اللہ تعالی کے ماسوا پر جائز نہیں ۔ اس سے مراد کل غیب ہیں ۔ یا بعض ۔ اگر کل غیب مراد ہوں تو کل غیب غیر اللہ کے لئے ہرگز ثابت نہیں ۔ اور اگر بعض غیب مراد ہوں تو ایسا بعض (مراد مطلق بعض) ہر صبی ، مجنون وغیرہ کو بھی حاصل ہو سکتا ہے ۔ لفظ ایسا مولانا تھانوی نے تشبیہ کےلیے نہیں بولا تھا ۔ بریلوی اعلی حضرت نے اسے جبراً تشبیہ کےلیے بنا کر یہ مفہوم نکالا ۔ (انصاف صفحہ 68 ، 69،چشتی)

مولوی حسین احمد ٹانڈوی دیوبندی لکھتا ہے : ایسا سے اشارہ بعض مذکور کی طرف ہوا ہے وہ بعض ہرگز مراد نہیں جو رسول مقبول علیہ السلام کو حاصل ہے کہ اس کا تو ذکر بھی نہیں ۔ (الشہاب الثاقب صفحہ 251)

محترم قارٸین کرام : آپ ملاحظہ کر چکے کہ اشرفعلی تھانوی دیوندی سے لے کر آج تک تمام دیوبندی حضرات یہی تاویل کرتے ہیں کہ ایسا علم غیب سے مراد مطلق بعض علم غیب ہے ، جبکہ یہ تاویل نہیں بلکہ تحریف ہے ۔

مولانا محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : پوری عبارت یہ شہادت دے رہی ہے کہ ایسا علم غیب سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کا علم غیب ہے اس لئے کہ شروع میں ہے پھر یہ کہ آپ کی ذات مقدسہ پہ علم غیب کا حکم کیا جانا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر علم غیب کا حکم کرنے میں کلام ہے تو علم غیب بھی حضور ہی کا مراد ہوا تھانوی صاحب نے زید سے دریافت کیا تو کس کے علم غیب کو ، حضور ہی کے اور کہا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب اس عبارت میں تھانوی صاحب نے کس کا علم پوچھا ہے ؟ ظاہر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم غیب دریافت کیا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے علم غیب میں دو قسمیں کیں بعض غیب یا کل غیب  تو بعد میں خود ہی نقلاً و عقلاً باطل کر دیا تو کل غیب کس کےلیے باطل کیا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کےلیے ۔ اب رہ گیا ۔ بعض علم غیب تو بعض کس کا علم رہا حضور ہی کا رہا اس کے متعلق تھانوی صاحب نے کہا اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور کی ہی کیا تخصیص ہے اس عبارت میں کس کی تخصیص کی نفی کی حضور ہی کی ۔ جب تخصیص نہ رہی تو مشارکت و مشابہت لازم آگئی ۔ اس لئے کہا کہ ایسا علم غیب جیسا کہ حضور کو ہے تو زید و عمرو بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ۔ لہذا اب ایسا علم غیب سے مراد کسی اور کا علم غیب ہرگز نہیں ہو سکتا ۔ حضور ہی کا علم غیب مراد ہوا اور اسی کو بچوں ، پاگلوں اور جانوروں سے تشبیہ دیا تو یہ توجہ بھی غلط ثابت ہوئی کہ ایسا علم غیب سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم غیب نہیں بلکہ بعض مطلق علم غیب ہے ۔ (تعارف علماء دیوبند صفحہ 54،چشتی)

مولانا محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ کے بیان سے یہ بات واضح ہو گئی کہ حفظ الایمان میں گفتگو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب کی ہے ، اس میں مطلق علم غیب کا تذکرہ نہیں ۔ کیونکہ اس عبارت میں اس غیب سے مراد ۔۔ الخ کے الفاظ میں لفظ اس کا اشارہ اس علم غیب کی طرف ہے جو اس سے قبل مذکور ہے اور وہ علم غیب حضور ہی کا ہے جیسا کہ تھانوی نے لکھا کہ آپ کی ذات مقدسہ پہ علم غیب کا حکم کیا جانا ۔الخ کیونکہ اس عبارت میں زیر بحث حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہی علم ہے لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم ہی کو جانوروں و پاگلوں کے علم سے تشبیہ دی گئی ہے ۔

اکثر تمام دیوبندی اپنے حکیم الامت اشرفعلی تھانوی کی حفظ الایمان والی گستاخانہ عبارت کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوۓ نظر آتے ہیں اور اس گستاخانہ عبارت کو صحیح ثابت کرنے کے لیے عوام اہلسنت کے آنکھوں میں اکثر دھول جھونکنے کی ناکام کوشش بھی بے چارے کرتے نظر آتے ہیں ۔ آج ہم عوام اہلسنت کے سامنے حفظ الایمان والی گستاخانہ عبارت کو خود دیوبندیوں کے گھر سے گستاخانہ ثابت کر کے دیں گے ۔ محمد عبدالمجید صدیقی دیوبندی نے تھانوی کی اس گستاخانہ عبارت کے بارے میں لکھا ہے کہ : قیام پاکستان سے پہلے حکیم الامت ، مجدد و ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنے ایک رسالے حفظ الایمان کے اندر علم غیب کی بابت ، ایک ایسا جملہ لکھ دیا تھا جس پر ہر صحیح الفکر مسلمان نے اعتراض کیا تھا ، پس مجروح قلوب پر مرہم کی خاطر مولانا تھانوی نے 1329 ھ میں رسالہ بسط البنان تحریر فرمایا مگر اس کا خاطر خواہ اثر نہ ہوا ۔ کچھ عرصے بعد حضرت تھانوی حیدرآباد دکن تشریف لے گئے ، جہاں اس زمانے میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کے خلف الرشید حضرت مولانا حافظ محمد احمد چیف جسٹس تھے ۔ حافظ صاحب کے مکان پر علماء کا اجتماع تھا اور حضرت تھانوی بھی موجود تھے اور پیر صاحب حضرت سید محمد بغدادی حیدرآبادی بھی مدعو تھے ۔ ان کی خدمت میں رسالہ حفظ الایمان پیش کیا گیا جس میں اس جملے کو پڑھ کر آپ نے فرمایا کہ اس عبارت سے تو بوۓ کفر آتی ہے اور (اس عبارت کے) خلاف فتوی دیا ۔ چند روز بعد حضرت بغدادی نے حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ کے حفظ الایمان کی وہ عبارت رد کرنے اور اس کو قبیح کہنے پر اظہار خوشی فرما رہے ہیں اور فرمایا : ہم تم سے خوش ہوۓ ، تم کیا چاہتے ہو ؟ آپ نے عرض کیا کہ میری تمنا ہے کہ اپنی باقی عمر مدینہ منورہ میں بسر کروں اور وہاں کی مٹی میں دفن ہوں ۔ آپ کی درخواست منظور ہو گئی ۔ اس کے بعد آپ مدینہ منورہ ہجرت کر گئے اور دس سال وہاں مقیم رہ کر 1354ھ میں وہیں وصال فرمایا ۔ (سیرت النبی بعد از وصال النبی ﷺ حصہ ششم صفحہ  169 ، 170،چشتی)

عبدالمجید صدیقی دیوبندی نے اسی صفحہ پر لکھا کہ : یہ مضمون کتاب مقامات خیر از  مولانا حضرت شاہ زید ابوالحسن فاروقی مجددی ۔ حضرت شاہ ابوالخیر اکاڈمی دہلی نمبر 6 بھارت طبع اول 1392 ھجری کے صفحات 252 ، 253  اور صفحہ 616 پر تحریر شدہ عبارت سے تیار کیا گیا ہے ۔

اشرف علی تھانوی  نے اپنے ایک رسالے حفظ الایمان کے اندر علم غیب کی بابت ایک ایسا جملہ لکھ دیا تھا جس پر ہر صحیح الفکر مسلمان نے اعتراض کیا تھا ۔ (سیرت النبی بعد از وصال النبی ﷺ جلد 1 صفحہ 169)

میرٹھ میں پیر سید گلاب شاہ نے شاہ ابوالخیر اور مولوی احمد بن قاسم نانوتوی کی موجودگی میں دیوبندی امام اشرفعلی تھانوی کا رد کیا اور اس کی بسط البنان کی وضاحت کو ٹھکرا دیا اور حفظ الایمان پر فتوی لگایا ۔ چنانچہ مولانا شاہ زید ابوالحسن فاروقی صاحب لکھتے ہیں کہ : پیر سید گلاب شاہ نے پھر سب کو اپنی طرف متوجہ کر لیا اور مختصر رسالہ میں سے مولوی اشرف علی صاحب کی کتاب حفظ الایمان کے صفحہ سات کا حوالہ دیتے ہوئے سنایا ، دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ہے اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ، ایسا علم تو زید و عمر بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کےلیے بھی حاصل ہے ، یہ سن کر آپ نے مولوی اشرف علی صاحب سے کہا : کیا یہی دین کی خدمت ہے ۔ تمہارے بڑے تو ہمارے طریقہ پر تھے ۔ تم نے اس کے خلاف کیوں کہا ۔ مولوی اشرفعلی تھانوی صاحب نے کہا میں نے اس عبارت کی توضیح اپنے دوسرے رسالہ میں کر دی ہے آپ نے بجواب ارشاد کیا تمہارے اس رسالہ حفظ الایمان کو پڑھ کر کتنے لوگ گمراہ ہوۓ ہم دوسرے رسالہ کو لے کر کیا کریں ۔ (بزم خیر از زید در جواب بزم جمشید صفحہ 20)

محترم قارٸین کرام : آپ نے دیکھ لیا کہ خود عبدالمجید صدیقی  دیوبندی نے حفظ الایمان کی عبارت کو گستاخانہ قرار دیا ، اب دیوبندیوں کو چاہیے کہ اشرفعلی تھانوی کو لات مار کر دیوبندیت سے خارج کر کے ان سے برأت کا اعلان کریں ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

حفظ الایمان کی گستاخانہ عبارت کی تاویلاتِ دیابنہ کا تحقیقی جواب

حفظ الایمان کی گستاخانہ عبارت کی تاویلاتِ دیابنہ کا تحقیقی جواب محترم قارٸینِ کرام : دیابنہ کا حکیم اشر فعلی تھانوی دیوبندی اپنے رسالہ حفظ ...