روزہ کے وقتِ افطار پر اہلِ تشیع اور اُن کے فضلہ خوروں کے دجل و فریب کا جواب
محترم قارئینِ کرام قرآنِ مجید میں اللہ عزوجل کا ارشادِ مبارک ہے : ثمَّثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيۡلِۚ ۔ (سورہ بقرہ آیت نمبر 187)
ترجمہ : پھر رات آنے تک روزے پورے کرو ۔
اہلِ تشیع اور اُن کے فضلہ خور اس آیت کو لے کر کہتے کہ اہلِ سنت وقت سے پہلے روزہ افطار کرتے ہیں حالانکہ اللہ عزوجل نے رات تک روزہ رکھنے کا ارشاد فرمایا ہے ناکہ غروبِ آفتاب تک سب سے پہلی بات کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ثم اتموا الصیام الی اللیل فی اللیل نہیں فرمایا یعنی روزے کو رات میں بالکل داخل نہ کرو رات آتے ہی روزہ ختم کر دو مطلب رات تک جہاں سے رات شروع ہوتی ہے ناکہ فی الیل رات میں خود شیعہ تفاسیر اور معتبر کتب میں اس آیت کی تفسیر غروبِ آفتاب ہے یہاں ہم لغت گرائمر حدیث اور تفاسیر سے اس آیت کا صحیح مفہوم سمجھیں گے سب سے آخر پر اس روایت کا جائزہ لیں گے جو اہلِ سنت کی کتاب میں ہے اور شیعہ اسے بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں اور شیعہ کتب کے حوالے سکین کی صورت میں لگا دئیے جائیں گے ۔ قرآن و حدیث کے دلائل کی روشنی میں یہ بات ثابت ہے کہ افطار کا وقت غروبِ آفتاب ہے اور اس پر اکابر علمائے کرام نے اہل علم کا اجماع نقل فرمایا ہے ، لہٰذا جب غروبِ آفتاب کا ظن غالب ہو جائے ، تو اُس کے فوراً بعد افطار ی کرنا بالکل جائز و درست ہے ، بلکہ غروب کا ظن غالب ہو جائے ، تو بلاوجہ افطار میں تاخیر کرنا خلافِ مسنون ہے ، لہٰذا جو اسے غلط کہتا ہے ، وہ قرآن و حدیث کے دلائل سے بے علم یا غلط فہمی کا شکار ہے ، اُس پر لازم ہے کہ عوام میں ایسی غلط فہمیاں پھیلانے سے احتراز کرے ۔
معتبر تفاسیرِ قرآن پاک میں اِلَى الَّیْلِ کی تفسیر کرتے ہوئے اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ یہاں لیل ، رات سے مراد غروبِ آفتاب ہے ۔
تفسیر ماوردی میں ہے : يعني به غروب الشمس ۔
ترجمہ : لیل سے مراد غروبِ شمس ہے ۔ (تفسیر ماوردی جلد 1 صفحہ 247 دار الکتب العلمیۃ بیروت)
تفسیر ابن کثیر میں ہے : یقتضی الافطار عند غروب الشمس حکما شرعیا ۔
ترجمہ : لیل، رات کے الفاظ کا تقاضا یہ ہے کہ غروبِ شمس کے وقت افطار کرنا حکمِ شرعی ہے ۔ (تفسیر ابن کثیر جلد 1 صفحہ 317 دار طیبہ بیروت،چشتی)
تفسیر روح البیان میں ہے : ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ ، اى اديموا الإمساك عن المباشرة والاكل والشرب في جميع اجزاء النهار إِلى غاية اللیل وهو دخول الليل وذاك بغروب الشمس ۔
ترجمہ : روزہ مکمل کرو یعنی رات تک دن کے تمام اجزاء میں مباشرت ، کھانے اور پینے سے بچے رہو اور رات کا داخل ہونا غروبِ شمس کے ساتھ ہوتا ہے ۔ (تفسیر روح البیان جلد 1 صفحہ 300 دار الفکر بیروت)
جلالین مع حاشیہ الصاوی میں ہے : ثم اتمواالصیام من الفجر "الی اللیل" ای الی دخولہ بغروب الشمس ۔
ترجمہ : پھر تم روزوں کو رات کے داخلہ تک غروبِ آفتاب کے وقت تک پورا کرو ۔ (تفسیر جلالین صفحہ 86)
الی غایہ اللیل وھو دخول اللیل و ذاک بغروب الشمس ۔
ترجمہ : الیل کی حد رات تک ہے اور وہ رات کا داخلہ ہے جو غروبِ آفتاب کے ساتھ ہے ۔ (تفسیر روح البیان جلد 2 صفحہ 300)
واللیل الذی یتم بہ الصیام مغیب قرص الشمس ۔
ترجمہ : اور رات جس کے ساتھ روزے پورے ہوتے ہیں سورج کی ٹکیہ کا غائب ہونا ہے ۔ (تفسیر الثعالبی جلد 1 صفحہ 149،چشتی)
پس اس آیت سے روزہ کی حقیقت واضح ہوئی کہ وہ ارادہ صبح صادق سے لے کر سورج غروب ہونے تک مفطرات ثلٰثہ (کھانے پینے اور جماع) سے رکے رہنا ہے ۔ (تفسیر المظہری جلد 1 صفحہ 206)
لیل عرف عرب میں غروب آفتاب سے گنی جاتی ہے اور نیزاحادیث صحیحہ میں بھی غروب کے متصلا آنحضرت علیہ السلام کا افطار کرنا ثابت ہو گیا ہے تو پھر دیر کرنا تکلیف بے فائدہ ہے ۔ (تفسیر حقانی جلد 3 صفحہ 33)
باتفاق مفسرین رات کی ابتداء غروبِ آفتاب سے ہو جاتی ہے سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کر لیا جائے ۔
الیل (رات) کی وضاحت ازروئے لغت : ⏬
امام محمد بن مکرم ابنِ منظور علیہ الرحمہ اپنی عربی لغت کی مشہور اور متداول کتاب میں لکھتے ہیں : اللیل : عقیب النہار و مبدوہ من غروب الشمس ۔
ترجمہ : رات دن کے بعد آتی ہے اور اس کی ابتداء غروب آفتاب سے ہوتی ہے ۔ (لسان العرب جلد 11 صفحہ 611)
اللیل عقیب النھار و مبدؤہ من غروب الشمس ۔
ترجمہ : رات دن کے فوراً بعد شروع ہوجاتی ہے اور اس کی ابتداء غروبِ شمس سے ہوتی ہے ۔ (لسان العرب جلد 11 صفحہ 607 دار صادر بیروت)
تاج العروس میں ہے : الليل : ضد النهار معروف ۔۔۔۔ وحده من مغرب الشمس إلى طلوع الفجر الصادق ۔
ترجمہ : رات دن کی ضد مشہور ہے ۔۔۔۔ اور اس کی حد سورج غروب ہونے کے وقت دے لے کر طلوعِ صبح صادق تک ہے ۔ (تاج العروس جلد 30 صفحہ 374 مطبوعہ دار الھدایۃ)
المحیط فی اللغۃ میں ہے : وا لنھار ضیاءمابین طلوع الفجر الی وقت غروب الشمس ۔
ترجمہ : طلوعِ فجر سے لے کر غروبِ شمس تک کی روشنی / اجالے کو دن کہتے ہیں ۔ (المحیط فی اللغۃ جلد 3 صفحہ 476 عالم الکتب بیروت)
صاحب المنجد الابجدی بیان کرتے ہیں : اللیل : من مغرب الشمس الی طلوع الفجر او الی طلوع الشمس ۔
ترجمہ : رات سورج غروب ہونے سے لے کر طلوعِ فجر یا طلوعِ آفتاب تک ہے ۔ (المنجد الابجدی صفحہ 885)
صاحب المعجم العربی الحدیث لکھتے ہیں : اللیل : وھو من مغرب الشمس الی طلوعھا وفی الشرع من مغرب الشمس الی بزوع الفجر ۔
ترجمہ : رات سورج کے غروب ہونے سے اس کے طلوع ہونے تک اور شریعت میں سورج غروب ہونے سے فجر کے پھیلنے تک ہے۔ (المعجم العربی الحدیث لاروس صفحہ 1049)
حسن عمید لکھتے ہیں : شب از غروب تا طلوع آفتاب ۔
ترجمہ : رات غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک ہے۔ (فرہنگ عمید طبع شدہ ایران تہران جلد دوم صفحہ 1529)
مندرجہ بالا لغات کے حوالوں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بالاتفاق اہلِ لغت سورج غروب ہوتے ہی رات کی ابتداء ہو جاتی ہے ۔
عربی گرائمر سے الی اللیل (رات تک) کی وضاحت : ⏬
شرح مأۃ عامل میں "اِلٰی" کی بحث کے تحت شیخ عبد القاہر جرجانی لکھتے ہیں : وقد لا یکون ما بعدھا داخلا فی حکم ما قبلھا ان لم یکن بعدھا جنس ما قبلھا نحو قولہ تعالیٰ ثم اتموا الصیام الی اللیل ۔
ترجمہ : کبھی "الی" کے بعد والا "الی" کے پہلے والے حکم میں داخل نہیں ہوتا اگر "الی" کا بعد والا "الی" سے پہلے والے کی جنس سے نہ ہو تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے پھر روزوں کو رات تک پورا کرو شیخ موصوف یہ قاعدہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ یہاں "الی" ابتدائی حد کےلیے ہے چونکہ رات کی ابتداء سورج غروب ہونے سے ہو جاتی ہے اس لیے سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کر لیا جائے روزہ کے پورا کرنے کا تعلق دن سے ہے نہ کہ رات سے چونکہ دن اور رات دونوں کی جنس مختلف ہے اس لیے یہاں الی کے بعد لیل ’"الی" سے پہلے فجر کے حکم میں داخل نہیں ہے ۔
احادیثِ مبارکہ سے افطار کے وقت کی وضاحت : ⏬
متعدد احادیثِ مبارکہ سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ افطار کا وقت غروبِ آفتاب ہے : حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : إذا اقبل الليل من هاهنا وادبر النهار من هاهنا و غربت الشمس فقد افطر الصائم ۔
ترجمہ : جب یہاں سے رات آئے اور یہاں سے دن جائے اور سورج غروب ہو جائے ، تو روزہ دار روزہ افطار کرے ۔ (صحیح بخاری جلد 3 صفحہ 36 رقم الحدیث : 1954 دارطوق النجاۃ بیروت)
علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : أي أقبل ظلمة الليل من جانب المشرق و أدبر ضوء النهار من جانب المغرب ۔
ترجمہ : یعنی جب مشرق کی جانب سے رات کی تاریکی آ جائے اور مغرب کی جانب سے دن کی روشنی چلی جائے ، تو افطار کر لو ۔ (شرح المشکوٰۃ للطیبی جلد 5 صفحہ 1585 مكتبة نزار مصطفى الباز الریاض)
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ۔ (صحيح البخاری جلد 3 صفحہ 46)
ترجم : سیدنا عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب ادھر سے رات نمودار ہونے لگے اور ادھر سے دن جانے لگے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار نے روزہ افطار کر لیا ۔
یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ دار کےلیے سورج غروب ہونے کو ہی افطاری کا وقت قرار دیا ہے ۔
عَنْ سَہلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ : لَاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ ۔ (صحيح البخاری جلد 3 صفحہ 47)
ترجم : سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگ ہمیشہ بھلائی کے ساتھ رہیں گے جب تک روزہ جلدی افطار کرتے رہیں گے ۔
عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِىِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ : لاَ يَزَالُ الدِّيْنُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَلأَنَّ الْيَهُوْدَ وَ النَّصَارٰى يُؤَخِّرُوْنَ ۔ (سنن أبی داؤد محقق و بتعليق الألبانی جلد 2 صفحہ 277)
ترجمہ : سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دین ہمیشہ غالب رہے گا جب تک لوگ روزہ جلدی افطار کرتے رہیں گے کیونکہ یہودی اور عیسائی دیر کرتے ہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عجلوا بالافطار واخروالسحور ۔ (رواہ الطبرانی فی الکبیر)
ترجمہ : افطاری میں جلدی کرو اور سحری میں دیر کرو ۔
سیدنا ابو عطیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور سیدنا مسروق رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے پھر ہم نے کہا کہ اے مومنوں کی ماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں دو شخص ہیں ایک ان میں جلدی افطاری کرتا ہے اور جلدی نماز پڑھتا ہے اور دوسرا دیر سے افطاری کرتا ہے اور دیر سے نماز پڑھتا ہے انہوں (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ) نے پوچھا کہ ان دونوں میں کون جلدی افطار کرتا ہے اور جلدی نماز پڑھتا ہے ہم نے کہا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح کرتے تھے اور دوسرے ابو موسیٰ ہیں یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے عمل کو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار دیا ۔ (سنن الترمذي جلد 3 صفحہ 83)
نماز مغرب کے بعد افطار کرنا : ⏬
یہ روایت موطا مالک اس سند سے مروی ہے : مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَانَا يُصَلِّيَانِ الْمَغْرِبَ حِينَيَنْظُرَانِ إِلَى اللَّيْلِ الْأَسْوَدِ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَا ثُمَّ يُفْطِرَانِبَعْدَ الصَّلاَةِ وَذلِكَ فِي رَمَضَانَ ۔ (موطا مالک صفحہ 1013)
اس کی سند منطقع ہونے کی بناء پر یہ ضعیف ہے حمید بن عبد الرحمن اور سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ کے مابین انقطاع ہے لہٰذا یہ روایت پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لا تزال امتی بخیر ما عجلوا الافطار ۔
ترجمہ : میری امت ہمیشہ خیر پہ رہے گی ، جب تک افطار میں جلدی کرے گی ۔ (مسند احمد جلد 35 صفحہ 241 رقم الحدیث 21312 مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)
یہ حدیث مبارک بھی دلیل ہے کہ جب غروبِ آفتاب کا تحقق ہو جائے ، تو بلاوجہ تاخیر نہ کی جائے اور جو گروہ اس کے خلاف رائے رکھتا ہے ، اس حدیث میں ان کا رد ہے ۔ چنانچہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : واتفق العلماء ان محل ذلک اذا تحقق غروب الشمس بالرؤیۃ او باخبار عدلین و کذا عدل واحد فی الارجح قال ابن دقیق العید فی ھذا الحدیث رد علی الشیعۃ فی تاخیرھم الفطر الی ظھور النجوم ۔
ترجمہ : علماء کا اتفاق ہے کہ اس کا محل یہ ہے کہ جب آنکھوں سے دیکھنے یا دو عادل افراد کی خبر دینے اور اسی طرح ارجح قول کے مطابق ایک عادل کی خبر دینے کے ساتھ غروبِ آفتاب ثابت ہو جائے (اب بلاوجہ تاخیر نہ کی جائے) ، علامہ ابن دقیق العید نے فرمایا : شیعہ ستارے ظاہر ہونے تک افطار میں تاخیر کرتے ہیں ، اس حدیث میں ان کا رد ہے ۔ (فتح الباری جلد 4 صفحہ 199 دار المعرفۃ بیروت،چشتی)
حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : كان النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يفطر قبل أن يصلي على رطبات فإن لم تكن رطبات فتميرات فإن لم تكن تميرات حسا حسوات من ماء ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ مغرب سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے اور اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں ، تو خشک چھواروں سے روزہ افطار فرماتے اور اگر چھوارے بھی نہ ہوتے ، تو پانی کے چند گھونٹ نوش فرمالیتے ۔ (جامع ترمذی جلد 2 صفحہ 71 رقم الحدیث : 696 دار الغرب الاسلامی بیروت)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں : ما رأيت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قط صلى صلاة المغرب حتى يفطر ولو على شربة من ماء ۔
ترجمہ : میں نے کبھی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز ِ مغرب ادا فرماتے ہوئے نہ دیکھا، مگر یہ کہ آپ اس سے پہلے ہی افطار فرما چکے ہوتے ، اگرچہ پانی کے ایک گھونٹ کے ساتھ افطار فرماتے ۔ (صحیح ابن حبان جلد 8 صفحہ 274 مؤسسۃ الرسالہ بیروت،چشتی)
ان دونوں روایات کا مستفاد بھی یہی ہے کہ غروبِ آفتاب افطاری کا وقت ہے ، اگرچہ ابھی اندھیرا نہیں چھایا ہو ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ نمازِ مغرب میں تعجیل فرماتے حتیٰ کہ نمازِ مغرب ادا کرنے کے بعد بھی کچھ اجالا باقی ہوتا تھا ، تو بدیہی سی بات ہے کہ افطار بدرجہ اولیٰ اجالے میں ہوتا تھا ۔
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : كنا نصلي مع رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم المغرب ثم ننصرف إلى السوق ولو رمي بنبل أبصرت مواقعها ۔
ترجمہ : ہم رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے ، پھر ہم بازار جاتے اور کوئی تیر پھینکتا ، تو اس کے تیر گرنے کی جگہ دکھائی دیتی ۔ (سنن ابن ماجہ جلد 1 صفحہ 224 رقم الحدیث : 687 دار احیاء الکتب العربیۃ بیروت)
حضرت جبریل امین علیہ السلام کے ذریعےامتِ مسلمہ کو تمام نمازوں کے اوقات بیان کیے گئے ، احادیث کی کتب میں اس حوالے سے تفصیلی روایات موجود ہیں ، ان میں یہ صراحت موجود ہے کہ نمازِ مغرب کا وقت وہ ہے کہ جب روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے یعنی افطار اور نمازِ مغرب کا ایک ہی وقت ہے اور اس پہ اتفاق ہے کہ غروبِ آفتاب ہوتے ہی مغرب کا وقت شروع ہو جاتا ہے، جس کا نتیجہ نکلتا ہے کہ غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی افطار کا وقت بھی شروع ہو جائے گا ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : و صلی بی یعنی المغرب حین افطر الصائم ۔
ترجمہ : حضرت جبریل علیہ السلام نے مجھے نمازِ مغرب اس وقت پڑھائی کہ جب روزہ دار اپنا روزہ افطار کرتا ہے ۔ (سنن ابی داؤد جلد 1 صفحہ 107 رقم الحدیث : 393 المکتبۃ العصریۃ بیروت)
علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یعنی حین غابت الشمس والاجماع علی ان وقت المغرب غروب الشمس ۔
ترجمہ : یعنی جب سورج غائب (غروب) ہو جائے ، (تو مغرب کا وقت ہو جاتا ہے) اور اس پر اجماع ہے کہ مغرب کا وقت غروبِ شمس ہے ۔ (شرح سنن ابی داؤد للعینی جلد 2 صفحہ 240 مطبوعہ الریاض،چشتی)
محدث کبیر حضرت امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ای دخل وقت افطارہ بان غابت الشمس و دخل اللیل ۔
ترجمہ : یعنی جب روزہ دار کے افطار کا وقت داخل ہو جاتا ہے ، اس طور پر کہ سورج غائب (غروب) ہو جائے اور رات آجائے (تو مغرب کا وقت بھی شروع ہوجاتا ہے) ۔ (مرقاۃ المفاتیح جلد 2 صفحہ 520 دار الفکر بیروت)
صحابہ کرم رضی اللہ عنہ اور وقتِ افطار : ⏬
متعدد صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت ہے کہ وہ مغرب سے پہلے افطار کیا کرتے تھے ، جو واضح ثبوت ہے کہ غروب کے بعد نمازِ مغرب سے پہلے افطار کرنا بالکل درست ہے اور در اصل غروبِ آفتاب ہی وقتِ افطار ہے ۔ مشہور تابعی حضرت ابورجاء حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے متعلق فرماتے ہیں : كان ابن عباس يبعث مرتقبا يرقب الشمس، فإذا غابت أفطر، وكان يفطر قبل الصلاة ۔
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک شخص کو اس بات پر مقرر فرماتے کہ وہ سورج کے غروب ہونے کا انتظار کرے ، پس جیسے ہی سورج غروب ہوتا (اور وہ شخص خبر دیتا) ، تو حضرت ابن عباس رضی عنہما فوراً افطار فرمالیتے ، آپ رضی اللہ عنہ نمازِ مغرب سے پہلے افطار فرمالیتے تھے ۔ (الصیام للفریابی صفحہ 57 مطبوعہ ھند)
حضرت حمید حضرت انس رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت کرتے ہیں : لم يكن ينتظر المؤذن في الإفطار وكان يعجل الفطر ۔
ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ روزہ افطار کرنے کےلیے مؤذن کا انتظار نہیں فرماتے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ (سورج غروب ہونے کے بعداذان سے پہلے) جلدی روزہ افطار فرما لیتے تھے۔(الصیام للفریابی صفحہ 57 مطبوعہ ھند)
اجماعِ علمائے امت اور وقتِ افطار : ⏬
علماء کااس پر اجماع و اتفاق ہے کہ غروبِ آفتاب ہی افطار کا وقت ہے۔ جیسا کہ شارح بخاری امام ابن بطال رحمۃ اللہ علیہ صحیح بخاری کی متذکرہ بالا روایت کے تحت ارشاد فرماتے ہیں : أجمع العلماء أنه إذا غربت الشمس فقد حل فطر الصائم وذلك آخر النهار وأول أوقات الليل ۔
ترجمہ : علماء کا اس پر اجماع ہے کہ جب سورج غروب ہو جائے ، تو روزہ دار کو افطار کرنا حلال ہو جاتا ہے اور یہ دن کا آخری حصہ اور رات کا ابتدائی حصہ ہوتا ہے ۔ (شرح صحیح البخاری لابن البطال جلد 4 صفحہ 102 مکتبۃا لرشد الریاض،چشتی)
محدث کبیر امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ان الصوم ینقضی و یتم بتمام الغروب ھومما اجمعوا علیہ ۔
ترجمہ : روزہ غروبِ آفتاب کے ساتھ ختم اور مکمل ہو جاتا ہے ، اسی پر علمائے امت کا اجماع ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 4 صفحہ 1382 دار الفکر بیروت)
اہلِ تشیع اور اُن کے فضلہ خوروں کا یہ دعویٰ کرنا کہ غروب کے ساتھ رات شروع نہیں ہوتی ، بنیادی طور پر یہ دعوی ہی درست نہیں ، نہ اس پر کوئی شرعی دلیل قائم ہے ، اگر اِن کے پاس اس بات پر کوئی واضح صریح غیر مؤول دلیل موجود ہو ، تو پیش کریں ، بچہ بچہ جانتا ہے اور لغت کی کتابوں میں بھی واضح لکھا ہے کہ سورج ڈوبنے پر رات ہوتی ہے اور یہی تعریف و حکم تفسیر ، شرحِ حدیث ، فقہ اور لغت کی کتابوں میں موجود ہے کہ فقہی و شرعی طور پر غروب کے ساتھ ہی رات شروع ہو جاتی ہے نیز لغت کی کتب بھی اسی بات کی تائید کرتی ہیں ۔
حاشیہ طحطاوی علی المراقی میں ہے : النهار عبارة عن زمان ممتد من طلوع الفجر الصادق إلى غروب الشمس وهو قول أصحاب الفقه واللغة قوله: ”إلى الغروب“ هو أول زمان بعد غيبوبة تمام جرم الشمس بحيث تظهر الظلمة في جهة المشرق وفي البخاري عنه ﷺ : إذا أقبل الليل من ههنا فقد أفطر الصائم “ أي إذا وجدت الظلمة حسا في جهة المشرق فقد دخل وقت الفطر أو صار مفطرا في الحكم لأن الليل ليس ظرفا للصوم ۔
ترجمہ : طلوعِ صبحِ صادق سے غروب شمس تک پھیلے زمانے کودن کہتے ہیں اور یہ اصحابِ فقہ و لغت کا قول ہے ۔ ماتن کا قول ”الی الغروب یعنی غروب تک“ یہ سورج کا مکمل جِرم غائب ہونے کا ابتدائی وقت ہوتا ہے، اس حیثیت سے کہ مشرق کی جانب اندھیرا ظاہر ہو جاتا ہے (اگرچہ ابھی پورے آسمان پہ اندھیرا نہیں ہوتا) اور بخاری شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے ” جب یہاں سے رات آجائے ، تو روزہ دار روزہ افطار کرلے ۔ “ یعنی جب تم مشرق کی سمت حسی طور پر اندھیرا پا لو ، تو افطار کا وقت داخل ہو گیا یا تم حکمی طور پر مُفطر / روزہ افطار کرنے والے ہو جاؤ گے ، کیونکہ رات روزے کےلیے ظرف نہیں ہے ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی صفحہ 731 دار الکتب العلمیۃ بیروت،چشتی)
قرآن کریم کے احکام کی تشریح و تعیین کےلیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال و افعال سے رہنمائی لینا ضروری ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حکم ثابت ہو جائے ، تو اُس کے برخلاف کسی فرد کی کوئی تشریح و توضیح قبول نہیں کی جا سکتی ، جبکہ وقتِ افطار کے متعلق احادیثِ مبارکہ سے واضح طور پر بیان کیا جا چکا کہ غروبِ آفتاب کے ساتھ روزہ مکمل ہو جاتا ہے اور اب روزے دار کو افطار کا حکم ہے ، لہٰذا اس کے برخلاف کسی فرد کافرد یا گروہ کا قول تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔
شرعی طور پر رات ہونے کےلیے اندھیرا ہونے کو ضروری قرار دینا ، اسی طرح روزہ افطار کرنے کےلیے اندھیرے کو شرط قرار دینا ، یہ بھی غلط و باطل ہے ، اس لیے کہ شرعی طور پر غروبِ شمس سے رات کی ابتداء ہو جاتی ہے ، اگرچہ ابھی مکمل طور پر اندھیرا نہ چھایا ہو ۔ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ ایک مقام پہ فرماتے ہیں : ثم لما بحثنا عن حقيقة الليل في قوله: ﴿ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ ﴾وجدناها عبارة عن زمان غيبة الشمس بدليل أن الله تعالى سمى ما بعد المغرب ليلاً مع بقاء الضوء فيه فثبت أن يكون الأمر في الطرف الأول من النهار كذلك۔۔۔۔ اختلفوا فی ان اللیل ماھو ؟ فمن الناس من قال آخر النھار علی اولہ فاعتبروا فی حصول اللیل زوال آثار الشمس کما حصل اعتبار زوال اللیل عند ظھور آثار الشمس ثم ھؤلاء منھم من اکتفیٰ بزوال الحمرۃ و منھم من اعتبر ظھور الظلام التام وظھور الکواکب الا ان الحدیث الذی رواہ عمر یبطل ذلک و علیہ عمل الفقھاء ۔
ترجمہ : پھر جب ہم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ”ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ“ میں موجود لفظ لیل / رات کی حقیقت کے متعلق بحث کی ، تو ہم نے اسے سورج غائب ہونے سے عبارت پایا ، اس دلیل کی وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے روشنی باقی ہونے کے باوجود مغرب کے بعد کو رات قرار دیا ، تو ثابت ہوا کہ معاملہ دن کے پہلے حصے میں بھی ایسا ہی ہے ۔۔۔۔ پھر اس میں اختلاف ہے کہ رات کیا ہے ؟ بعض نے کہا کہ دن کے اول کے بعد اس کا آخر رات ہے ، تو انہوں نے رات آنے میں سورج کے آثار کے ختم ہونے کا اعتبار کیا ہے جیسا کہ سورج کے آثار ظاہر ہونے کے وقت رات کے ختم ہونے کا اعتبار کیا ہے ، پھر ان میں سے بعض نے سرخی کے زائل ہونے کا کافی سمجھا اور بعض نے مکمل طور پر اندھیرا چھا جانے اور ستارے ظاہر ہونے کا اعتبار کیا ہے ، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جس حدیث کو روایت کیا ، وہ اس رائے کو باطل قرار دیتی ہے (کیونکہ اس میں وقتِ افطار سورج غروب ہونے کو بیان کیا گیا ہے) اور فقہائے کرام کا عمل اسی کے مطابق ہے ۔ (تفسیر کبیر جلد 5 صفحہ 273 / 275 دار احیاء التراث العربی بیروت )
پھر ایک حدیثِ مبارک سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ اگرغروب آفتاب ہو گیا ، تو افطار کر سکتے ہیں ، اگرچہ ابھی آسمان پہ مکمل طور پر اندھیرا نہ چھایا ہو ۔ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر وهو صائم فلما غربت الشمس قال لبعض القوم يا فلان قم فاجدح لنا فقال يا رسول الله لو امسيت قال انزل فاجدح لنا قال يا رسول الله فلو امسيت قال انزل فاجدح لنا قال إن عليك نهارا قال انزل فاجدح لنا فنزل فجدح لهم فشرب النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال إذا رايتم الليل قد اقبل من ها هنا فقد افطر الصائم ۔
ترجمہ : ہم رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا روزہ تھا، جب سورج غروب ہو گیا ، تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ایک صحابی سے فرمایا کہ اے فلاں ! میرے لیے اٹھ کے ستو گھولو ۔ انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! تھوڑی دیر ٹھہر جاتے / ابھی دن باقی ہے ۔ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا : اتر کر ہمارے لیے ستو گھولو ۔ اس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! تھوڑی دیر ٹھہر جاتے / ابھی دن باقی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر وہی حکم دیا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھولو ۔ انہوں نے عرض کی کہ ابھی دن باقی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مرتبہ پھر فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھولو ۔ چنانچہ وہ اترے اور ستو گھولا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ستو نوش فرمایا ۔ پھرارشاد فرمایا : جب تم دیکھ لو کہ رات اس (مشرق) کی طرف سے آ گئی ، تو روزہ دار کو چاہیے کہ افطار کر لے ۔ (صحیح بخاری جلد 3 صفحہ 36 رقم الحدیث : 1955 دارطوق النجاۃ بیروت،چشتی)
صحابی کے الفاظ ”إن عليك نهارا “ یعنی ابھی دن باقی ہے ۔ اس کے تحت امام شرف الدین نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : لتوھمہ ان ذلک الضوء من النھار الذی یجب صومہ ۔
ترجمہ : صحابی کو یہ وہم ہوا کہ اس وقت جو روشنی دکھائی دے رہی ہے ، یہ دن کی روشنی ہے ، جس میں روزہ رکھنا / مفسداتِ صوم سے بچے رہنا واجب ہوتا ہے (جبکہ وہ غروب کے بعد دکھائی دینے والی روشنی تھی) ۔ (شرح صحیح المسلم للنووی جلد 1 صفحہ 211 دار احیاء التراث العربی بیروت)
حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم اور حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہما غروب آفتاب کے بعد نمازِ مغرب ادا کر کے افطار فرمایا کرتے تھے ۔ اس روایت سے اہلِ تشیع اور اُن کے فضلہ خوروں کا مدعا ہرگز ثابت نہیں ہو تا ، کیونکہ ان کے نزدیک غروب آفتاب کے وقت افطار کرنا درست نہیں ، جبکہ اس روایت میں ایسے کوئی الفاظ نہیں ، جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ غروب آفتاب کے وقت افطار کرنا درست نہیں ، اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہو سکتا ہے کہ غروب کے فوراً بعد افطار کرنا لازم و واجب نہیں ہے ، اگر کوئی مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد افطار کرے ، تو بھی جائز ہے ہمارے دعوے کی دلیل یہ ہے کہ ان حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عام معمول یہی تھا کہ مغرب سے پہلے افطار کر لیتے تھے ، لیکن کبھی کبھار مغرب کے بعد بھی افطار فرما لیتے تاکہ لوگ مغرب سے پہلے افطار کو لازم و واجب نہ سمجھ لیں ۔
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے : أن عمر وعثمان كانا يصليان المغرب إذا رأيا الليل كانا يفطران قبل أن يصليا ۔
ترجمہ : حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما جب رات کی تاریکی دیکھتے ، تو نما ز مغرب ادا فرماتے اور نماز سے قبل ہی روزہ افطار کرتے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد 2 صفحہ 348 مکتبۃ الرشد الریاض)
محدث کبیر امام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یفطران بعد الصلاۃ فھو لبیان جواز التاخیر لئلا یظن وجوب التعجیل ۔
ترجمہ : حضرت سیدنا عمر اور حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نمازِ مغرب کے بعد افطار فرماتے ، تو یہ عمل تاخیر سے افطار کرنے کے جواز کو بیان کرنے کےلیے تھا تاکہ جلدی افطار کو واجب گمان نہ کیا جانے لگے ۔ (مرقاۃ المفاتیح جلد 4 صفحہ 1385 دار الفکر بیروت) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:
Post a Comment