حضرت مولا علی اور ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم بیس رکعت نمازِ تراویح ادا فرماتے تھے
محترم قارئینِ کرام : دین اسلام میں نمازِ تراویح کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، اس کا آغاز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارک سے ہوا ۔ اور عہد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم نے بھی اسی سنت کوہمیشہ جاری رکھا ۔ خیر القرون سے لے کر آج تک پوری امت اس پر بڑے تزک واحتشام سے عمل کرتی چلی آرہی ہے ۔ تمام ادوار میں مسلمانوں کا نمازِ تراویح پر اجماع واتفاق اس کے حجت شرعیہ ہونے کی دلیل ہے ، بدعت و گمراہی کا نشان ہرگز نہیں ۔ حضرات خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے بعد خلیفہ راشد رابع امیرالمؤمنین سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی رمضان المبارک میں نماز تراویح پڑھنے اور پڑھانے کا بڑے شاندارطریقے سے انتظام فرمایا کرتے تھے ، جس کی تفصیل کتبِ حدیث و سیرت میں بڑی صراحت کے ساتھ منقول ہے ۔ اس حوالے سے چندروایات پیشِ خدمت ہیں ۔
عَنِ ابْنِ أَبِي الْحَسْنَاءِ أَنَّ عَلِیًّا رضی اللہ عنہ أَمَرَ رَجُلًا یُصَلِّي بِهِمْ فِي رَمَضَانَ عِشْرِیْنَ رَکْعَةً ۔
ترجمہ : ابنِ ابو الحسناء بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو رمضان المبارک میں لوگوں کو بیس 20 رکعت نمازِ (تراویح) پڑھانے کا حکم دیا ۔ (ابن أبي شیبۃ في المصنف جلد 2 صفحہ 163 الرقم 7681)(بیہقي في السنن الکبری جلد 2 صفحہ 497 الرقم 4397)(ابن عبد البر في التمہید جلد 8 صفحہ 115،چشتی)(مبارکپوری تحفۃ الأحوذی جلد 3 صفحہ 444)(ابن قدامۃ المغنی جلد 1 صفحہ 456)
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ قَالَ : دَعَا الْقُرَّاءَ فِي رَمَضَانَ فَأَمَرَ مِنْھُمْ رَجُلًا یُصَلِّي بِالنَّاسِ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً. قَالَ : وَکَانَ عَلِيٌّ رضی اللہ عنہ یُوْتِرُ بِھِمْ. وَرُوِيَ ذٰلِکَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَلِيٍّ ۔
ترجمہ : ابو عبد الرحمن سلمی سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رمضان المبارک میں قراء حضرات کو بلایا اور ان میں سے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعات نمازِ (تراویح) پڑھائے اور خود حضرت علی رضی اللہ عنہ انہیں وتر (کی نماز) پڑھاتے تھے ۔ یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے ۔ (بیہقي في السنن الکبری جلد 2 صفحہ 496 الرقم 4396،چشتی)(مبارکپوری تحفۃ الأحوذی جلد 3 صفحہ 444)
وَفِي رِوَایَۃٍ أَنَّ عَلِیًّا رضی اللہ عنہ کَانَ یَؤُمُّھُمْ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَیُوْتِرُ بِثَـلَاثٍ ۔
ترجمہ : ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ انہیں بیس رکعات (تراویح) اور تین وتر پڑھایا کرتے تھے ۔ (صنعاني في سبل السلام جلد 2 صفحہ 10)
ابوعبدالرحمان السلمی حضرت علی المرتضیٰ ؓ سے نقل فرماتے ہیں کہ
’’أَن علیاً دَعَاالْقُرَّاء فِی رَمَضَان فَأمر مِنْہُم رجلاً یُصَلِّی بِالنَّاسِ عشْرین رَکْعَۃقَالَ وَکَانَ عَلیّ یُوتر بہم‘‘(السنن الکبریٰ للبیہقیؒ:رقم الحدیث۴۲۹۱باب ماروی فی عدد رکعات القیام فی شہر رمضان۔ المنتقی من منہاج الاعتدال للذہبیؒ: ۵۴۲)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رمضان شریف میں قرآن مجید کے قاریوں کو بلایا اور ان میں سے ایک شخص کوحکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھایا کریں اور جناب علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ وتر کی نماز خود پڑھایا کرتے تھے ۔ بیہقی اپنی سندسے حضرت ابی الحسناء سے روایت کرتے ہیں کہ : أن علی بن أبی طالب ’’ أمر رجلا أن یصلی ، بالناس خمس ترویحات عشرین رکعۃ ۔ (السنن الکبریٰ بیہقی رقم الحدیث ۴۲۹۱ باب ماروی فی عدد رکعات القیام فی شہر رمضان)
ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کوحکم دیاکہ وہ لوگوں کوپانچ ترویحے یعنی بیس رکعت نمازِ تراویح پڑھایا کرے ۔
امام ابن ابی شیبہ اپنی سند سے ابن ابی الحسناء سے نقل کرتے ہیں کہ : أَنَّ عَلِیًّا أَمَرَ رَجُلًاان یُصَلِّی بِہِمْ فِی رَمَضَانَ عِشْرِینَ رَکْعَۃً ۔ (المصنف لابن ابی شیبہ حدیث نمبر ۷۶۲۱،چشتی)
ترجمہ : حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کوحکم فرمایاکہ وہ لوگوں کو رمضان شریف میں پانچ ترویحے یعنی بیس رکعت نمازِ تراویح پڑھایا کرے ۔
امام آجری ابی الحسناء سے نقل کرتے ہیں کہ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ أَمَرَ رَجُلًا أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ فِی رَمَضَانَ خَمْسَ تَرْوِیحَاتٍ عِشْرِینَ رَکْعَۃً ۔ (الشریعۃ للآجری رقم الحدیث ۱۲۴۰ باب ذکراتباع علی رضی اللہ عنہ)
ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیاکہ وہ لوگوں کو پانچ ترویحے یعنی بیس رکعت تراویح پڑھایا کرے ۔
متعدد روایات حدیث میں’’خمسہ ترویحات‘‘ کے الفاظ اور ان کے ساتھ ’’عشرین رکعۃ‘‘ کی صراحت موجود ہے ۔ یعنی خمسہ ترویحا ت سے بیس رکعت مراد ہیں ۔ در اصل تراویح ، ترویحۃ کی جمع ہے اور ترویحۃ چار رکعت کے بعد ایک دفعہ وقفہ کرنے کو کہتے ہیں اور ترویحتان دو وقفوں کو کہا جائے گا اور تراویح دو سے زیادہ وقفوں کو کہا جائے گا ۔ عہد فاروقی میں تراویح کی ہر چار رکعت کے بعد وقفہ ہوا کرتا تھا اور بیس رکعت کے بعد یہ کل پانچ وقفے بنا کرتے تھے ، ان وقفوں کی مناسبت سے اس نماز کا نام ’’تراویح‘‘ پڑ گیا ۔ تراویح کے نام سے ہی ’’بیس رکعت‘‘ ثابت ہوئیں ۔ آٹھ رکعات کےلیے ’’تراویح‘‘ نہیں بلکہ ترویحتان نام ہونا چاہیے جو کسی کے ہاں مستعمل نہیں ۔
مذکورہ روایات میں سے اگر کسی روایت میں اسنادی ضعف ہوتو ان روایات کا تعدد ، اس کی تقویت اورنفس مسئلہ کی توثیق کےلیے کافی وافی ہے ۔ لہذا ثابت ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیس تراویح کا حکم ، اس کے مسنون عمل ہونے کی کھلی دلیل ہے ۔
متعدد روایات سے معلوم ہوتاہے کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کےلیے بھی تراویح پڑھنا مسنون ہے اسی لیے عہدِ مرتضوی میں خواتین کو نماز تراویح پڑھانے کا علیحدہ باپردہ انتظام ہوتا تھا ۔ چنانچہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے عہد کے ایک شخص حضرت عرفجہ ثقفی ذکرکرتے ہیں کہ : عن عرفجۃالثقفی ان علیاً کان یامر الناس بالقیام فی شہر رمضان ویجعل للرجال اماماًوللنساء اماماً قال فامرنی فاممت النساء ۔ (مصنف عبدالرزاق باب شہود النساء الجماعۃ رقم الحدیث ۱۵۲۵ و باب قیام رمضان رقم الحدیث ۷۷۲۲،چشتی)
ترجمہ : رمضان شر یف کی راتوں میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مردوزن سبھی کو ارشاد فرماتے تھے کہ وہ نمازِ تراویح کےلیے جمع ہوں ، آپ رضی اللہ عنہ مردوں کےلیے الگ اور عورتوں کےلیے الگ امام مقرر فرماتے تھے جوان کو تراویح پڑھائے ۔ عرفجہ کہتے ہیں کہ عورتوں کی امامت کےلیے آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم فرمایا ! پس میں عورتوں کو نمازِ تراویح پڑھایا کرتا تھا ۔
اس سے ثابت ہوا کہ مرد و خواتین ، سبھی حضرات نمازِ تراویح کے یکساں مکلف ہیں ۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے تلامذہ میں سے ایک مشہور شاگرد حضرت سوید بن غفلہ تابعی اور دوسرے نامور شاگرد حضرت شتیر بن شکل تابعی دونوں کے متعلق محدثین نے نقل کیاہے کہ : کان یؤمنا سوید بن غفلۃ فی رمضان فیصلی خمس ترویحات عشرین رکعۃوروینا عن شتیر بن شکل، وکان من أصحاب علی رضی اﷲ عنہ ‘‘ أنہ کان یؤمہم فی شہر رمضان بعشرین رکعۃ، ویوتر بثلاث ۔ (السنن الکبریٰ بیہقی رقم الحدیث ۴۲۹۰ باب ماروی فی عدد رکعات القیام فی شہر رمضان،چشتی)
ترجمہ : حضرت سوید رضی اللہ عنہ بن غفلہ رمضان شریف میں تراویح پڑھایا کرتے تھے جو پانچ ترویحۃ یعنی بیس رکعت پر مشتمل ہوتی تھی ۔ اور حضرت شتیر رضی اللہ عنہ بن شکل ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے تھے ، وہ رمضان شریف میں لوگوں کو بیس رکعات تراویح اور تین رکعت وتر پڑھایا کرتے تھے ۔
اس روایت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تلامذہ کا بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر باجماعت پرتعامل واتفاق ثابت ہوا ۔ قیاس کن ز گلستان من بہار مرا ۔
محدثین علیہم الرحمہ کی صراحت کے مطابق ایک امام کی اقتدامیں باجماعت تراویح کا باقاعدہ اہتمام فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہوا ۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں جہاں دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم تراویح ادا فرماتے تھے وہاں پچھلی صف میں خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی موجود ہوا کرتے تھے ، چونکہ سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی اس وقت یقیناً حیات تھے ، اس لیے وہ بھی انہیں کے ساتھ بیس تراویح ہی باجماعت ادا فرمایا کرتے تھے ۔ نمازِ تراویح اگر مسنون نہ ہوتی یا اس کی تعداد بیس سے کم و بیش ہوتی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ جو جرأت و شجاعت کے پیکر تھے ، وہ اس خلاف سنت کام کو کیسے گوارا کر سکتے تھے ؟ ۔ مگر ان کا اختلاف نہ کرنا اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں ان کا کوئی اختلاف کہیں مذکور نہ ہونا ، بذات خوداس بات کی واضح دلیل ہے کہ پورے رمضان المبارک میں تراویح ایک مسنو ن نماز ہے جس کی تعداد بیس رکعت ہے ۔
یاد رہے کہ تراویح کے عمل سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اختلاف کیونکر ہوتا جبکہ انہوں نے خود باجماعت تراویح کاحکم صادر فرمایا ۔ اور پھر اس پر مستزاد یہ کہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو جو کہ تراویح کا باقاعدہ اہتمام کرانے والے تھے ، اپنی والہانہ دعا سے نوازا ہے ۔ چنانچہ رمضان المبارک کی پہلی شب حضرت علی رضی اللہ عنہ جب مسجد تشریف لائے تو دیکھا کہ تمام لوگ تراویح کے فرطِ شوق میں جمع ہیں اور قاری صاحب امامت کےلیے تیار ہیں ، اس روح پرور منظر کو دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ کی زبان مبارک سے بیساختہ یہ الفاظ نکلے”نور اللہ علی عمر قَبرہ کَمَا نور علینا مَسَاجِدنَا ۔ (المنتقیٰ من منھاج الاعتدال ذہبی صفحہ ۵۴۲چشتی)
ترجمہ : اے اللہ عمر رضی اللہ عنہ کی قبر کو نور سے بھر دے جیسا کہ انہوں نے تراویح کےلیے ہماری مساجد کو لوگوں سے بھر دیا ہے ۔
اس سے صاف معلوم ہوا کہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سنت خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی نماز تراویح کے قائل وعامل رہے ۔ اور عہد علوی میں بھی باقاعدہ نمازِ تراویح باجماعت ادا کی جاتی رہی اور بیس رکعت پر ان کی مواظبت رہی ۔ ملحوظ رہے کہ عہد علوی میں نہ تو تراویح کو ترک کیا گیا اور نہ ہی اس کی تعداد بیس رکعات میں کمی کی گئی ، یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد ان کی اولاد امجاد کا بھی تعامل اسی پر جاری رہا : ⏬
ہم حقیقت ہیں تو تسلیم نہ کرنے کا سبب
ہاں اگر حرف غلط ہیں تو مٹادو ہم کو
مناسب معلوم ہوتاہے کہ کتبِ شیعہ سے بھی ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کے چند فرمودات نقل کردیے جائیں تاکہ تراویح کی غیر معمولی اہمیت خوب اجاگر ہو سکے ۔
ائمہ اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے فرمودات : ⏬
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ : عن أبی عبد اللہ (علیہ السلام) قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ یزید فی صلاتہ فی شہررمضان إذاصلی العتمۃ صلی بعدہا فیقوم الناس خلفہ فیدخل ویدعہم ثم یخرج أیضا فیجیؤن ویقومون خلفہ فیدعہم ویدخل مرارا، قال: وقال : لا تصل بعد العتمۃ فی غیر شہر رمضان ۔ (الفروع من الکافی: ۹۵۳/۳کتاب الصیام باب مایزادمن الصلاۃ فی شہر رمضان،چشتی)
ترجمہ : جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان شریف میں جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے توعشاء کی نماز کے بعد نوافل میں اضافہ فرماتے ۔ جب آپ نمازمیں کھڑے ہوتے تو لوگ آپ کی اقتدا میں نماز ادا کرتے پھر کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان لوگوں کو چھوڑ کر گھر تشریف لے جاتے ، پھر گھر سے باہر تشریف لاتے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں کھڑے ہو جاتے ۔ اسی طرح کئی بار جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان لوگوں کو چھوڑ کر گھر تشریف لے جاتے اور پھر باہر تشریف لا کر نماز پڑھاتے ۔ امام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عشاء کی نماز کے بعد رمضان شریف کے سوا نوافل نہ پڑھا کرو ۔
حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : إن أبا عبد اللہ قال : لہ ان اصحابنا ہؤلاء أبوا أن یزیدوا فی صلاتہم فی شہررمضان وقد زاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ فی صلاتہ فی شہر رمضان ۔ (الاستبصارء:باب الزیادات فی شہر رمضان،۱/ ۱۹۰تا۱۹۲طبع ایران)
ترجمہ : ہمارے بعض لوگوں نے رمضان شریف میں نوافل میں اضافہ کا انکار کیا ہے حالانکہ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہ رمضان میں اپنی نفلی نماز میں اضافہ کیا ہے ۔
عن أبی بصیر أنہ سأل أبا عبد اللہ (ع) أیزید الرجل فی الصلاۃ فی شہر رمضان قال : نعم ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد زاد فی رمضان فی الصلوٰۃ ۔ (الاستبصارء:باب الزیادات فی شہر رمضان،۱/ ۱۹۰تا۱۹۲طبع ایران)
ترجمہ : ابوبصیر نے امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیارمضان شریف میں آدمی کو نفلی نماز میں اضافہ کرنا چاہیے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں بیشک رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے اندر نماز میں اضافہ فرماتے تھے ۔
حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : عن أبی عبد اللہ قال : کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ إذا دخل شہررمضان زاد فی الصلوٰۃ فأنا ازید فزیدوا ۔ (الاستبصارء:باب الزیادات فی شہر رمضان،۱/ ۱۹۰تا۱۹۲طبع ایران،چشتی)
ترجمہ : جب رمضان کا مہینہ داخل ہوتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم اپنی نماز میں اضافہ فرماتے تھے ۔ سو میں بھی اضافہ کرتا ہوں اور تم بھی اپنی نفلی نماز میں اضافہ کیا کرو ۔
حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : عن أبی عبد اللہ قال مما کان یصنع فی شہررمضان کان یتنفل فی کل لیلۃ ویزید علی صلاتہ التی کان یصلیہا قبل ذلک منذ اول لیلۃ إلی تمام عشرین لیلۃ فی کل لیلۃ عشرین رکعۃ ۔ (الاستبصارء : باب الزیادات فی شہر رمضان،۱/ ۱۹۰تا۱۹۲طبع ایران)
ترجمہ : ماہ رمضان کے اعمال میں ایک یہ بھی تھاکہ وہ ہر رات میں نوافل ادا کرتے تھے اور روزانہ ادا کی جانے والی اپنی نماز پر ، نوافل کا اضافہ کرتے تھے ۔ پہلی رات سے لے کر بیسویں رات تک اور ہر رات میں بیس رکعت ادا کرتے تھے ۔
علی بن حاتم عن الحسن بن علی عن أبیہ قال : کتب رجل إلی أبی جعفر (ع) یسئلہ عن صلوٰۃ نوافل شہر رمضان وعن الزیادۃ فیہا؟ فکتب الیہ کتابا قرأتہ بخطہ صل فی أول شہر رمضان فی عشرین لیلۃ عشرین رکعۃ ۔ (الاستبصارء:باب الزیادات فی شہر رمضان،۱/ ۱۹۰تا۱۹۲طبع ایران)
ترجمہ : ایک آدمی نے امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کورمضان شریف کے نوافل اور زائد نماز کے بارے میں لکھ کر دریافت کیا ؟ پس امام باقر رضی اللہ عنہ نے جواباً تحریر فرمایا کہ اول رمضان سے بیس تک نفل نماز ادا کی جائے اور ہر رات میں بیس رکعت پڑھی جائے ۔
عن محمد ابن سنان قال قال الرضا (ع) کان ابو یزید فی العشرالاواخر فی شہر رمضان فی کل لیلۃ عشرین رکعۃ ۔ (الاستبصارء:باب الزیادات فی شہر رمضان،۱/ ۱۹۰تا۱۹۲طبع ایران)
ترجمہ : محمد بن سنان نقل کرتے ہیں کہ امام علی رضا رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابو یزید ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہر رات بیس رکعت ادا کیا کرتے تھے ۔
فیصلہ کن بات : امام ترمذی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : وَأَکْثَرُ أَہْلِ العِلْمِ عَلَی مَا رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ وَعُمَرَ، وَغَیْرِہِمَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِشْرِینَ رَکْعَۃً، وَہُوَ قَوْلُ الثَّوْرِیِّ، وَابْنِ الْمُبَارَکِ، وَالشَّافِعِیِّ.وقَالَ الشَّافِعِیُّ: وَہَکَذَا أَدْرَکْتُ بِبَلَدِنَا بِمَکَّۃَ یُصَلُّونَ عِشْرِینَ رَکْعَۃً ۔ (جامع ترمذی ابواب الصوم ۱/ ۱۶۶،باب ماجاء فی قیام شہررمضان طبع قدیمی کراچی،چشتی)
ترجمہ : اور اکثر اہل علم اس بات پر متفق ہیں جو حضرت علی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما اور ان کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ ترایح بیس رکعت ہے اور حضرت سفیان ثوری علیہ الرحمہ متوفی ۱۶۱ھ اور حضرت عبد اللہ بن مبارک علیہ الرحمہ متوفی ۱۸۱ھ اورحضرت امام شافعی علیہ الرحمہ متوفی ۴۰۲ھ کابھی یہی قول ہے ۔ اور امام شافعی کابیان ہے کہ میں اپنے شہر مکہ کے لوگوں کو تراویح کی بیس رکعت پڑھتے دیکھا ہے ۔
امام ابن عبدالبر علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ : وقال الثوری وأبو حنیفۃ والشافعی وأحمد بن داود قیام رمضان عشرون رکعۃ سوی الوتر لا یقام بأکثر منہا استحباباوذکر عن وکیع عن حسن بن صالح عن عمرو بن قیس عن أبی الحسین عن علی أنہ أمر رجلا یصلی بہم فی رمضان عشرین رکعۃوہذا ہو الاختیار عندنا وباﷲ توفیقنا ۔ (الاستذکارالجامع لمذاہب فقہاء الامصار جلد ۲ صفحہ ۷۰ کتاب الصلوۃ فی رمضان دارالکتب العلمیہ بیروت)
ترجمہ : حضرت سفیان ثوری اور امام ابوحنیفہ اور امام شافعی اور امام احمد بن داؤد علیہم الرحمہ ، وتر کے علاوہ تراویح کی بیس رکعات کے قائل ہیں ، ان سے زیادہ رکعتیں پڑھنا بہتر نہیں ہے ، اور حضرت وکیع نے حسن بن صالح سے اور انہوں نے عمروبن قیس سے اور انہوں نے ابوالحسین سے اور انہوں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو رمضان میں بیس رکعتیں پڑھانے کا حکم دیا اور ہمارے نزدیک یہی پسندیدہ ہے اور توفیق تو اللہ تعالیٰ کے ذریعہ سے ہوتی ہے ۔
مذکورہ روایات اور محدثین علیہم الرحمہ کے بیان سے یہ بات خوب واضح ہوگئی کہ صحابہ کرام اورحضرات ائمہ اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم بھی ماہِ رمضان میں نمازِ عشاء کے بعد بیس تراویح کے قائل بلکہ عامل تھے ، صرف نام کا فرق ہے کہ بعض حضرات انہیں نوافل اور بعض حضرات اسی نماز کو ’’صلوٰۃ التراویح‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ جمہور اہلِ علم اور ائمہ اربعہ علیہم الرحمہ کاقول و عمل اسی کے مطابق ہے ۔ حضرت سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کے مذکورہ فرامین اور ان کے تعامل کے باوجود ، بعض لوگوں کا تراویح سے انکار کرنا تعجب خیز ہی نہیں ائمہ رضی اللہ عنہم کی مخالفت کا شاخسانہ بھی ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:
Post a Comment