پندرہ شعبان المعظم کا روزہ رکھنے اور ممانعت کی تحقیق
محترم قارئینِ کرام : فرائض و واجبات کی ادائیگی کے ساتھ نفلی عبادت کی کثرت بلاشبہ باعثِ حصولِ برکات اور رب عزوجل کے قرب کا بہترین ذریعہ ہے بالخصوص روزہ ، تو اس کی جزا رب عزوجل خود عطا فرمائے گا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بکثرت نفلی روزوں کا اہتمام فرمانا ثابت ہے ، خاص طور پر ماہِ شعبان میں اس قدر روزے رکھتے ، گویا پورا ماہ ہی روزے میں گزرتا ، حتی کہ رمضان آجاتا ، نیز رمضان کے بعد شعبان کے روزوں کو افضل قرار دیا گیا ہے ، لیکن دوسری طرف ہمیں نفلی عبادات کے ساتھ دیگر حقوق کا خیال رکھنے کی بھی تلقین فرمائی گئی ہے اور وہ یوں کہ اگر نفلی روزے رکھنے کی وجہ سے حقوق واجبہ و مستحبہ (مثلاً : نماز ، فرض روزوں ، رزقِ حلال کا حصول ، والدین کی خدمت ، اولاد کی پرورش وغیرہ) میں کمی کی صورت نہ بنے ، تو نفلی روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں ، البتہ جو شخص کمزور ہو ، بکثرت روزے رکھنا اس کےلیے دیگر حقوق کی ادائیگی میں کمی کا باعث بنے ، تو اسے چاہیے کہ نفلی روزے رکھنے کی ایسی صورت اپنائے ، جس سے بقیہ حقوق میں کمی واقع نہ ہو ۔
حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب شعبان کی پندرھویں رات آجائے تو اس رات کو قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو کہ رب تعالیٰ غروبِ آفتاب سے آسمانِ دنیا پر خاص تجلی فرماتا ہے اور کہتا ہے ، ہے کوئی مغفرت کا طلب کرنے والا کہ اسے بخش دوں ! ہے کوئی روزی طلب کرنے والا کہ اسے روزی دوں ! ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اسے عافیت بخشوں ! ہے کوئی ایسا ! ہے کوئی ایسا ! اور یہ طلوعِ فجر تک فرماتا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ جلد 2 صفحہ 160 حدیث نمبر 1388)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ماہ رمضان کے علاوہ ماہ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا ۔ (بخاری مسلم ‘ مشکوۃ جلد 1 صفحہ 441،چشتی)
ایک اور روایت میں فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چند دن چھوڑ کر پورے ماہ شعبان کے روزے رکھتے تھے ۔ (بخاری مسلم ‘ مشکوۃ جلد 1 صفحہ 441)
آپ ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ188)
جس روایت میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا گیا ، یہ ممانعت مطلقاً ہرشخص کےلیے نہیں ، بلکہ اسی کےلیے ہے ، جو بکثرت روزے رکھنے سے کمزور ہو جائے اور یہ کمزوری رمضان کے فرض روزوں پر اثر انداز ہو ، ورنہ جو طاقت رکھتا ہے ، وہ نصف شعبان کے بعد بھی روزے رکھ سکتا ہے ، جیسا کہ ممانعت والی یہ حدیث بیان کرنے والے صحابی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ خود شعبان کے نصف ثانی میں روزے رکھا کرتے تھے ۔
نفلی عبادت کے متعلق بخاری شریف میں حدیث قدسی ہے ، اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : لا یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی احببتہ ۔
ترجمہ : میرا بندہ ہمیشہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے، حتی کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں ۔ (صحیح بخاری کتاب الرقاق باب التواضع جلد 2 صفحہ 963 مطبوعہ کراچی)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کل عمل ابن آدم بضاعف الحسنۃ عشر امثالھا الی سبعمائۃ ضعف، قال اللہ عزوجل : الا الصوم ، فانہ لی وانا اجزی بہ ، یدع شھوتہ وطعامہ من اجلی ، للصائم فرحتان: فرحۃ عند فطرۃ وفرحۃ عند لقاء ربہ ۔
ترجمہ : ابن آدم کے ہر عمل کا بدلہ دس سے سات سو گنا تک دیا جاتا ہے ، اللہ عزوجل نے فرمایا : سوائے روزے کے کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا میں دوں گا ، بندہ اپنی خواہش اور کھانا میرے لیے چھوڑ دیتا ہے ۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں : ایک افطار کے وقت اور ایک اپنے رب سے ملاقات کے وقت ۔ (صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل الصیام جلد 1 صفحہ 363 مطبوعہ کراچی)
جامع ترمذی میں ہے : سئل النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ای الصوم افضل بعد رمضان ؟ فقال : شعبان لتعظیم رمضان ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا رمضان کے بعد کون سے روزے افضل ہیں ؟ ارشاد فرمایا : شعبان ( کے روزے) رمضان کی تعظیم کےلیے ۔ (جامع ترمذی کتاب الزکوۃ باب ما جاء فی فضل الصدقہ جلد 2 صفحہ 45 مطبوعہ بیروت)
ماہِ شعبان میں حضور علیہ السلام سے بکثرت روزے رکھتے تھے ۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : لم يكن النبي صلى اللہ عليه وسلم يصوم شهرا اكثر من شعبان، فانه كان يصوم شعبان كله ۔
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان سے زیادہ اور کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے ، (گویا) پورے شعبان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے سے رہتے ۔ (صحیح بخاری کتاب الصوم باب صوم شعبان جلد 1، صفحہ 264 مطبوعہ کراچی)
سنن ابن ماجہ میں حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزوں کے متعلق سوال ہوا ، تو فرمایا : کان یصوم شعبان کلہ حتی یصلہ برمضان ۔
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (گویا) مکمل شعبان کے روزے رکھتے تھے حتی کہ رمضان سے ملا دیتے ۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الصیام باب ما جاء فی وصال شعبان برمضان صفحہ 119 مطبوعہ کراچی)
ممانعت والی حدیث کا عربی متن مع ترجمہ : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اذا انتصف شعبان، فلا تصوموا ۔
ترجمہ : جب شعبان آدھا ہو جائے ، تو روزے نہ رکھو ۔ (سنن ابی داؤد کتاب الصیام جلد 1 صفحہ 339 مطبوعہ لاھور)
مسند امام احمد بن حنبل میں حدیث کے الفاظ یہ ہیں : اذا کان النصف من شعبان، فامسکوا عن الصوم حتی یکون رمضان ۔
ترجمہ : جب شعبان کا درمیان آ جائے ، تو روزہ رکھنے سے رُک جاؤ ، حتی کہ رمضان آ جائے ۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 15 صفحہ 441 مؤسسۃ الرسالہ بیروت)
ان احادیثِ مبارکہ کا محمل : ⏬
یہ ممانعت ان افراد کےلیے ہے ، جنہیں بکثرت روزہ رکھنے سے اندیشۂ ضعف ہو ، جو رمضان کے فرض روزوں میں رکاوٹ کا باعث بنے ۔
امام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ ممانعت والی روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں : ان النهي الذي كان من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم في حديث ابي هريرة رضي اللہ عنه ۔۔ لم يكن الا على الاشفاق منه على صوام رمضان ، لا لمعنى غير ذلك وكذلك نامر من كان الصوم بقرب رمضان يدخله به ضعف يمنعه من صوم رمضان ؛ ان لا يصوم حتى يصوم رمضان، لان صوم رمضان اولى به من صوم ما ليس عليه صومه ۔
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جس نہی کا ذکر ہے ، اس کا مقصد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کا روزہ رکھنے والوں پر (کمزوری کا) خوف محسوس کیا ، (لہٰذا یہ ممانعت) کسی اور وجہ سے نہیں اور اسی طرح ہم بھی اس شخص کو جو رمضان کے قریب روزہ رکھنے کی وجہ سے کمزور ہو جاتاہے، حکم دیتے ہیں کہ رمضان تک روزہ نہ رکھے، کیونکہ رمضان کا روزہ اُس روزے سے افضل ہے ، جو اس پر فرض نہیں ۔ (شرح معانی الآثار کتاب الصیام باب الصوم بعد النصف من شعبان الی رمضان جلد 1 صفحہ 341 مطبوعہ لاھور)
امام ملا علی القاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : والنهي للتنزيه ، رحمة على الامة ان يضعفوا عن حق القيام بصيام رمضان ۔۔۔ قال القاضي : المقصود استجمام من لا يقوى على تتابع الصيام فاستحب الافطار كما استحب افطاره عرفة، ليتقوى على الدعاء، فاما من قدر فلا نهي له ولذلك جمع النبي صلى اللہ عليه وسلم بين الشهرين في الصوم ۔
ترجمہ : یہ ممانعت نا پسندیدہ عمل سے بچنے کےلیے ہے ، (اس حکم میں) امت پر شفقت ہے کہ ان روزوں کی وجہ سے رمضان کے روزے رکھنے میں کمزوری محسوس ہوگی ، قاضی نے کہا : اس سے مقصود ایسے شخص کو آرام دینا ہے ، جو لگاتار روزے رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا ، پس اس کےلیے روزہ نہ رکھنا مستحب ہے ، جیسا کہ یومِ عرفہ میں افطار مستحب ہے تاکہ ذکر و دعا میں تقویت ملے ، بہر حال جو قدرت رکھتا ہے ، تو اس کےلیے ممانعت نہیں ہے اور اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھنے میں دو مہینوں کو جمع فرمایا ۔ (مرقاۃ المفاتیح کتاب الصوم جلد 4 صفحہ 409 مطبوعہ کوئٹہ)
نزہۃ القاری شرح بخاری میں ہے : شعبان میں جسے قوت ہو وہ زیادہ سے زیادہ روزہ رکھے ۔ البتہ جو کمزور ہو وہ روزہ نہ رکھے ، کیونکہ اس سے رمضان کے روزوں پر اثر پڑے گا ، یہی محمل ہے ان احادیث کا جن میں فرمایا گیا کہ نصف شعبان کے بعد روزہ نہ رکھو ۔ (نزھۃ القاری جلد 3 صفحہ 380 فرید بک اسٹال لاھور)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا اپنا عمل بیان کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ان ابا هريرة كان يصوم في النصف الثاني من شعبان ۔
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ شعبان کے نصف ثانی میں روزے رکھا کرتے تھے ۔ (عمدۃ القاری کتاب الصوم جلد 11 صفحہ 85 مطبوعہ بیروت)
کوئی بات دوسروں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا ایک وسیع پلیٹ فارم ہے ، چونکہ اس ذریعہ سے بات عوام و خواص سبھی تک پہنچتی ہے ، تو اس پلیٹ فارم پر کام کرنے والوں کی ذمہ داری بھی اسی قدر بڑھ جاتی ہے ، بالخصوص دینی معاملات کی آگاہی فراہم کرنے کےلیے درست نیت کے ساتھ اس کے شرعی ، اخلاقی اور معاشرتی تقاضوں کو پورا کرنا نہایت ضروری ہے ، ورنہ کئی بار کما حقہ فوائد حاصل نہیں ہو سکتے ، الٹا غلط فہمی کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے ۔ اب سوال میں ذکر کردہ حدیث پاک میں روزوں کی ممانعت خاص شخص کےلیے تھی ، تو اگر اسی حدیث کے تحت کسی معتبر حوالہ سے کچھ تشریحی کلمات بھی نقل کر دئیے جاتے ، تو حدیث پاک بیان کرنے کے دنیاوی و اخروی فوائد کے ساتھ شریعت اسلامیہ کے سنہری اصول (میانہ روی) کا پرچار بھی ہو جاتا اور کسی کو غلط فہمی بھی نہ ہوتی ، لہٰذا دیگر شعبوں کی طرح سوشل میڈیا سے وابستہ افراد کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے امور ماہر و معتمد علماء و مفتیان کرام کی زیر نگرانی سر انجام دیں ، تاکہ اپنی ذمہ داری سے بخوبی سبکدوش ہو سکیں ۔
شب برات کی احادیث کو ضعیف کہنے والوں کو جواب : ⏬
محترم قارئینِ کرام : ایک غلط فہمی یہ بھی عام ہے کہ لوگ ضعیف حدیث کو من گھڑت کے معنی میں لیتے ہیں اور اسکو حقیر سمجھتے ہیں۔ یہ جملے بھی کانوں میں پڑتے رہتے ہیں کہ بھائی فلاں مسئلہ میں تمام احادیث ضعیف ہیں ا س لیے چھوڑو اس پر عمل کرنا، افسوس ہوتا ہے لوگ بغیر علم کے احادیث پر تبصرہ ایسے کرجاتے ہیں جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں کسی راہ چلتے کی بات ہے یا اخبار میں چھپی کسی کی بات ہے ۔
ضروری وضاحت ضعیف نا کہ من گھڑت : ⏬
پہلی بات یہ کہ ضعیف حدیث بھی حدیث رسول ہی ہوتی ہے یہ لازمی من گھڑت نہیں ہوتی بلکہ راوی میں کچھ کمیوں ، کمزوریوں کی وجہ سے اسکو ضعیف کہا جاتا ہے ، یہ بحرحال ممکن ہوتا ہے کہ اس کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف درست ہو اس لیے اسکو بالکل چھوڑا نہیں جاتا بلکہ فضائل کے باب میں اس کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ علماء نے اس لفظ 'ضعیف' کی مختلف تعریفیں بیان کی گئی ہیں مثلا یہ وہ حدیث کہلاتی ہے جومنکر اور باطل نہ ہو اور اس کےراوی متہم بالکذب نہ ہو، اس حدیث کے خلاف کوئی صحیح حدیث نہ ہو ۔ ایسی حدیث جس میں حدیث صحیح وحسن کی شرائط نہ پائی جائیں، اس میں ایسے اسباب ہوں جو کسی حدیث کوضعیف قرار دینے کے لیے کافی ہوتے ہیں، اس کے راوی غیرعادل یامتہم بالکذب، یامستورالحال ہوں ، یہ متعدد طرق سے مروی بھی نہ ہو ۔ (اعلاء السنن ، احکام القرآن للجصاص)
کیا اس حدیث کا ضعف ختم ہو سکتا ہے ؟
اگرحدیث ضعیف کئی سندوں سے مروی ہو اور ضعف کی بنیاد راوی کا فسق یا کذب نہ ہو تواس کی وجہ سے وہ ضعف سے نکل جاتی ہے اور اسے قوی ومعتبر اور لائق عمل قرار دیا جاتا ہے، محدثین کی اصطلاح میں اس کو "حسن لغیرہ" کہتے ہیں، حافظ بن حجر رحمہ اللہ کی تفصیل کے مطابق یہ حدیث مقبول ومعتبر کی چار اقسام میں سے ایک ہیں۔بعض حضرات کا کہنا ہے کہ حسن لغیرہ بھی اصل میں ضعیف ہی ہے؛ مگرکسی قوت پہنچانے والے امر کی وجہ سے اس میں حسن پیدا ہو جاتاہے ۔ (فتح المغیث:۳۵/۳۶)
اسی طرح اگر حدیث نص قرآنی ہویاقولِ صحابی ہو یاشریعت کےکسی قاعدہ وضابطہ کے مطابق ہو تو اسکا ضعف نکل جاتا ہے ۔ (نزھۃ النظر صفحہ نمبر ۲۹،چشتی)
ضعیف حدیث کی اقسام : ⏬
ضعیف روایات کی بہت سی اقسام ہیں اور ہر ایک کے ضعف میں راویوں کی کمزوری کی شدت یا کمی کے لحاظ سے فرق ہوتا ہے ۔ مشہور قسمیں ضعیف، متوسط ضعیف، شدید ضعیف اور موضوع ہیں۔ موضوع یعنی گھڑی ہوئی حدیث۔ یہ ضعیف حدیث کا کم ترین درجہ ہے ۔
ضعیف حدیث پر عمل : ⏬
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے حدیثِ ضعیف پر عمل کرنے کی تین شرطیں بیان کی ہیں ۔ ایک یہ کہ حدیث شدید ضعیف نہ ہو مطلب اسکا راوی جھوٹا اور دروغ گوئی میں مشہور نہ ہو اور نہ فحش غلطیوں کا مرتکب ہو۔ دوسری اس پر عمل کرنا اسلام کے ثابت اور مقرر ومعروف قواعد کے خلاف نہ ہو ۔ تیسری یہ کہ عمل کرتے ہوئے اسے صحیح حدیث کی طرح قبول نہ کیا جائے بلکہ اس بناء پر عمل کیا جائے کہ ممکن ہے کہ حقیقت میں اس کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف درست ہو ۔ (اعلاء السنن:۱/۵۸)
جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ عقائد کے ثبوت کے لیے مشہور یامتواتر حدیث ضروری ہے ، حدیث ضعیف اور خبرواحد اثبات عقائد کےلیے کافی نہیں ہے ، ضعیف حدیث اور فضائل کے متعلق لکھتے ہوئے علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے متعدد مذاہب کو نقل کیا ہے، جن میں سے ایک امام مسلم اور دیگرمحدثین علیہم الرّحمہ اور ابنِ حزم کا ہے کہ ضعیف حدیث کسی بھی باب میں حجت نہیں بن سکتی ، چاہے وہ فضائل کا باب ہی کیوں نہ ہو ۔ (نووی علی مسلم :۱/۶۰،چشتی)
دوسرا مذہب جس کو علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے جمہور کا مذہب کہہ کر بیان کیاہے اور حافظ ابنِ حجر مکی اور ملا علی قاری نے بھی جسے جمہور کا اجماعی مسلک قرار دیا ہے کہ فضائل کے باب میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا جائز ہے ۔ (الفتاویٰ الحدیثیہ :۱۱۰)
آئمہ حدیث میں عبداللہ بن مبارک ، عبدالرحمن بن مہدی ، امام احمد وغیرہ سے بھی یہی نقل کیا گیا ہے ۔ (اصول امام احمد بن حنبل:۲۷۴)
شیخ تقی الدین تحریر فرماتے ہیں کہ یہ گنجائش اس لیے ہے کہ اگرایسی حدیث نفس الامر اور واقع میں صحیح ہے تواس پر عمل کرنا اس کا حق تھا اور اگرواقع میں صحیح نہ تھی توبھی فضائل کے باب میں اس پر عمل کرنے کی وجہ سے دین میں کوئی فساد لازم نہیں آئےگا، اس لیے کہ یہ صورت تحلیل وتحریم اور کسی کے حق سے متعلق نہیں ہے اور پھریہ جواز مطلق نہیں ہے؛ بلکہ ماقبل میں ذکرکردہ شرائط کے ساتھ ہے ۔ (شرح الکوکب المنیر:۲/۵۷۱)
ضعیف احادیث اور اقوال صحابہ رضی اللہ عنہم : ⏬
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ و امام احمد رحمۃ اللہ علیہ ضعیف حدیث کے بالمقابل فتاویٰ اور اقوالِ صحابہ کو ترجیح دیتے تھے کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین درس رسالت کے چراغ ہیں ، ان کا ہرقول وعمل سنت کے مطابق ہوا کرتا تھا ، ان کے کلام سے کلام رسالت کی بومہکتی ہے اور انھوں نے دین کوپہلو رسالت میں رہ کر جتنا سمجھا اور سیکھا ہے دوسرا ان کی خاک تک بھی نہیں پہنچ سکتا، ان کے اقوال وافعال میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے اورحدیث ضعیف کی صحت وعدم صحت مشتبہ ہے ؛ لہٰذا صحابہ کرام کے فتاویٰ واقوال کو ضعیف حدیث پر ترجیح دی گئی ۔
شب برات کے متعلق ضعیف احادیث : ⏬
مشہور دیوبندی عالم جناب مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے شب برات کی احادیث کے متعلق لکھا کہ : " شب ِ برات کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی ، ان میں سے بعض احادیث سند کے اعتبار سے بیشک کچھ کمزور ہیں اور ان احادیث کے کمزور ہونے کی وجہ سے بعض علماء نے یہ کہہ دیا کہ اس رات کی فضیلت بے اصل ہے ، لیکن حضرات محدثین اور فقہاء کا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو لیکن اس کی تایید بہت سی احادیث سے ہو جائے تو اس کی کمزوری دور ہوجاتی ہے ، اور جیساکہ میں نے عرض کیا کہ دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کی فضیلت میں روایات موجود ہیں لہٰذا جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایات مروی ہوں اس کو بے بنیاد اور بے اصل کہنا بہت غلط ہے ۔ امت مسلمہ کے جو خیرالقرون ہیں یعنی صحابہ کرام کا دور ، تابعین کا دور ، تبع تابعین رضی اللہ عنہم کا دور ، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے ، لوگ اس رات میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے رہے ہیں ، لہٰذا اس کو بدعت کہنا، یا بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں ، صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے ، اس رات میں عبادت کرنا باعثِ اجر و ثواب ہے اور اس کی خصوصی اہمیت ہے ۔ اس پیرہ گراف سے تین باتیں واضح ہورہی ہیں ۔
1 : شب برات کے متعلق احادیث ضعیف لیکن کئی سندوں سے مروی ہیں ایسی حدیث کے متعلق اوپر بیان کیا جاچکا ۔
2 : یہ احادیث نا عقائد کے باب میں استعمال ہورہی ہیں اور نا شریعت کے کسی حکم کے خلاف ہیں ۔
3 : اس رات کی فضیلت کے متعلق نہ صرف اقوال صحابہ بلکہ اعمال صحابہ بھی موجود ہیں ۔ ایسی احادیث کا انکار کرنا یا ان سے ثابت فضیلت کا انکار کرنا دونوں باتیں زیادتی ہی ہے ۔ (رسالہ شبِ براء ت کی حقیقت از مفتی محمد تقی عثمانی دیوبندی) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:
Post a Comment