فاسق ، مسلمان اور کفار کا ساتھ دینے والوں کے جنازے سے متعلق چند شرعی مسائل
محترم قارئینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : وَلَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنْہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَاتَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ ؕ اِنَّہُمْ کَفَرُوۡا بِاللہِ وَرَسُوۡلِہ وَمَاتُوۡا وَہُمْ فٰسِقُوۡنَ ۔ (سورہ توبۃ آیت نمبر 84)
ترجمہ : اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا بیشک وہ اللہ و رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مر گئے ۔
وَلَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنْہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا : اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز جنازہ نہ پڑھنا ۔ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو منافقین کے جنازے کی نماز اور ان کے دفن میں شرکت کرنے سے منع فرمایا گیا اور اس کا شانِ نزول یہ ہے کہ عبداللہ بن اُبی بن سلول منافقوں کا سردار تھا ، جب وہ مرگیا تو اس کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو مسلمان صالح مخلص صحابی اور کثیرُ العبادت تھے انہوں نے یہ خواہش کی کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ان کے باپ عبداللہ بن اُبی بن سلول کو کفن کےلیے اپنا قمیص مبارک عنایت فرمادیں اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے اس کے خلاف تھی لیکن چونکہ اس وقت تک ممانعت نہیں ہوئی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا یہ عمل بہت سے منافقین کے ایمان لانے کا باعث ہوگا اس لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنی قمیص بھی عنایت فرمائی اور جنازہ میں شرکت بھی کی ۔ قمیص دینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بدر میں اسیر ہو کر آئے تھے تو عبداللہ بن اُبی نے اپنا کرتہ انہیں پہنایا تھا ۔
حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اس کا بدلہ دینا بھی منظور تھا لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے قمیص بھی دیا اور جنازہ بھی پڑھایا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس کے بعد پھر کبھی سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے کسی منافق کے جنازہ میں شرکت نہ فرمائی اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی وہ مصلحت بھی پوری ہوئی ۔ چنانچہ جب منافقین نے دیکھا کہ ایسا شدید عداوت والا شخص جب حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے کرتے سے برکت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے عقیدے میں بھی آپ اللہ تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور اس کے سچّے رسول ہیں یہ دیکھ کرایک بڑی تعدادمسلمان ہوگئی ۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۴، ۲/۲۶۸ -۲۶۹۔چشتی)
یہ بات احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کا نمازِ جنازہ پڑھا اور اسے اپنا کرتہ مبارک پہنایا ۔ سرکار کے اس عمل میں چند حکمتیں تھیں ۔
ایک یہ کہ عبداللہ بن ابی کا بیٹا مومن مخلص تھا اس کی خواہش پر سرکار نے ایسا کیا تاکہ اس کی دلجوئی ہو جائے ۔
دوسری حکمت یہ تھی کہ حضرت عباس ر ضی اللہ تعالی عنہ جب روزِ بدر برہنہ قید ہو کر آئے تھے تو طویل القامت ہونے کے سبب کسی کا کرتہ انہیں پورا نہیں آتا تھا چونکہ ابن ابی بھی طویل القامت تھا اس کا کرتہ انہیں پورا آیا جو اس نے انہیں پہنا دیا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنا کرتہ پہنا کر وہ بدلہ اُتار دیا تاکہ عدو اللہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر احسان نہ رہے ۔
تیسری یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جانتے تھے کہ ان کے عمل سے ابن ابی کا قوم کے ایک ہزار افراد مسلمان ہو جائیں گے اس لیے یہ عمل فرمایا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس کی قوم کے ایک ہزار آدمی داخل اسلام ہو گئے۔ الحاصل آپ کا یہ عمل اسے نفع پہنچانے کے لیے نہیں تھا بلکہ مذکورہ بالا وجوہ کی بنا پر تھاچنانچہ سرکار نے صاف صاف فرما دیا تھا کہ میرا جنازہ پڑھنا اور کرتہ اسے نفع نہیں پہنچائے گا اور یہ عمل آیت کریمہ و لا تصل علی احد منھم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ۔(سورۃ التوبۃ آیت۴۸)کے نزول سے قبل کا ہے ۔
اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے کسی منافق کا جنازہ نہیں پڑھا ۔ (لہٰذا یہ خیال قطعاً درست نہیں کہ منافق کا جنازہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے کیوں پڑھا جبکہ قرآن عظیم اس سے منع فرما رہا ہے تو جواب آ گیا کہ یہ عمل اس آیت سے پہلے کا تھا اور تحریم سے قبل فعل کو حرام کہنا جہالت ہے۔ شراب حرام ہونے سے قبل صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین نے اسے پیا مگر گناہ نہیں تھا کہ اس وقت وہ حرام نہ تھا جب آیت تحریم آئی تو سب نے چھوڑ دیا ۔
امام ملا علی قاری حنفی رحمۃُ اللہ علیہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں ۔ و روی ان النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کلم فیما فعل بعبد اللّٰہ بن ابی فقال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم و ما یغنی عنہ قمیصی و صلاتی من اللّٰہ واللّٰہ انی کنت ارجو ان یسلم بہ الف من قومہ روی انہ اسلم الف من قومہ لما رأوہ یتبرک بقمیص النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اھ۔ قال الخطابی ھو منافق ظاھر النفاق و انزل فی کفرہ ونفاقہ آیات من القرآن تتلی فاحتمل انہ علیہ الصلوٰۃ والسلام فعل ذالک قبل نزول قولہ تعالیٰ و لا تصل علی احد منھم مات ابدا ولا تقم علی قبرہ و ان یکون تالیفا لابنہ و اکراما لہ و کان مسلما برئیا من النفاق و ان یکون مجازاۃ لہ لانہ کان کسا العباس عم النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم قمیصا فاراد ان یکافۂ لئلا یکون لمنافق عندہ ید لم یجازہ علیھا۔ الخ(مرقاۃ ص۰۵۳ ج۲) ترجمہ : مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے عبد اللہ بن ابی کیساتھ جو معاملہ کیا اس کے بارے میں کلام فرمایا کہ میری قمیص اور نماز ادا کرنا اسے نفع نہ دے گی ۔ خدا کی قسم میں امید کرتا ہوں کہ اس کام سے اس کی قوم کے ہزار آدمی ایمان لے آئیں گے جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی قمیص سے اسے برکت حاصل کرتے دیکھا ۔ امام خطابی نے کہا ہے کہ وہ منافق تھا جس کا نفاق ظاہرتھا اور اس کے نفاق وکفرمیں قرآن مجید کی آیات نازل ہوئیں جو تلاوت کی جاتی ہیں اور اس بات کا احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے یہ کام اللہ تعالی کے فرمان ”ولاتصل علی احد منھم مات ابدا“ کے نزول سے پہلے کیا اور اس کے بیٹے کی دلجوئی اور اس کے اکرام کےلئے کیا اس لیے کہ وہ مسلمان تھا نفاق سے پاک تھا ۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ اسکا بدلہ ہو کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کو قمیض پہنائی تھی توآپ نے اسکا بدلہ دینے کاارادہ کیا تاکہ ”منافق کا آپ پرکوئی حق جسکا آپ نے اسے بدلہ نہ دیا ہو“ باقی رہے ۔
دین اور امت کا غدّار بے شک نماز روزہ کرتا ہو ، کافر ہو جاتا ہے : ⏬
ارشادِ باری تعالیٰ ہے : لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْکٰفِرِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیۡنَۚ وَمَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللہِ فِیۡ شَیۡءٍ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنْہُمْ تُقٰىۃًؕ وَ یُحَذِّرُکُمُ اللہُ نَفْسَہٗؕ وَ اِلَی اللہِ الْمَصِیۡرُ ۔ (سورہ آلِ عمران نمبر 28)
ترجمہ : مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنالیں مسلمانوں کے سوا اور جو ایسا کرے گا اسے اللہ سے کچھ علاقہ نہ رہا مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو اور اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے ۔
لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْکٰفِرِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ : مسلمان مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں ۔ حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جنگِ اَحزاب کے موقع پر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے عرض کیا کہ میرے ساتھ پانچ سو یہودی ہیں جو میرے حلیف ہیں ، میری رائے ہے کہ میں دشمن کے مقابلے میں ان سے مدد حاصل کروں ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور کافروں کو دوست اور مدد گار بنانے کی ممانعت فرمائی گئی ۔ (تفسیر جمل، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۲۸، ۱/۳۹۳،چشتی)
وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ ، اور جو کوئی بھی ایسا کرے ۔
فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ ، تو اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ۔
اس آیتِ مبارکہ کی تشریح میں امام طبری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : یعني بذلک ۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے مراد ہے ۔ فقد بريئ مِنَ اللَّهِ ۔ کہ جس شخص نے مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کا ساتھ دیا ، وہ اللہ سے بری ہو گیا ، وبرئ اللہ منہ ، اور اللہ اس سے بری ہوگیا ، بارتدادہ عن دینہ ، کیونکہ یہ اس فعل کی وجہ سے دین سے مرتد ہو گیا ، ودخولہ في الکفر ۔ اور کفر میں داخل ہو گیا ۔ (تفسیر طبری)
دیگر مفسرین کے اقوال بھی دیکھیں تواسی طرح بالکل واضح تصریح کی گئی ہے ۔ شاید کم ہی مقامات ہیں کہ جہاں کسی قول یا کسی فعل پرمفسرین نے اتنی صراحت سے کفر کی بات یا تصریح کی ہے ۔
ﷲ عزوجل اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور اہل ایمان کا وفادار بن کر رہنا اور ﷲ و رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور اس اُمت کے دشمن سے دشمنی رکھنا ایمان کا بنیادی فرض ہے ۔ یہ نہیں تو قرآنِ مجید کا وہ ایک خاصا بڑا حصہ کچھ معنیٰ ہی نہیں رکھتا جو کہ آج تک برابر تلاوت ہوتا ہے اور جو کہ ان منافقین کا بار بار کفر بیان کرتا ہے جو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے دشمنوں کے ساتھ دوستیاں گانٹھتے تھے ۔
اسلام محض عقائد یا نماز روزہ ایسی عبادات کا مجموعہ نہیں ۔ حتی کہ یہ محض کوئی سیاسی اور معاشی ہدایات پر مشتمل سماجی نظام بھی نہیں ، جیسا کہ ہمارے بہت سے نکتہ داں طویل لیکچر دیا کرتے ہیں ۔ اسلام دراصل انسان کی وفاداریوں کا تعین بھی ہے اور اس کے تعلقات کی حدود کا دائرہ بھی اور اللہ عزوجل و رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ و امت کیلئے غیرت کا امتحان بھی ۔
تعلق اور وفاداری اور مدد ونصرت کے معاملہ میں بھی دراصل آدمی کے ایمان کو امتحان سے گزارا جاتا ہے ۔ کفار جو اسلام اور اہل اسلام سے برسر جنگ ہوں یا دین اسلام کے خلاف یا اس کی کامیابی کے خلاف بغض رکھتے ہوں ایک مسلمان کےلیے دشمن ہی کا درجہ رکھتے ہیں ۔ اگر ایسا نہیں تو آدمی کو اپنے ایمان کی فکر ہو جانی چاہیے ۔
اسلام کے دشمنوں سے دلی ہمدردی رکھنا ، یا مسلمانوں کے خلاف ان کی فتح مندی چاہنا ، یا مسلمانوں کے خلاف ان کی نصرت اور اعانت کرنا ، یا حتی کہ مسلمانوں کے خلاف محض ان کا حلیف بن کر رہنا صریحاً کفر ہے ۔ ایسا کرنے کے بعد آدمی دائرۂ اسلام میں نہیں رہتا ۔
بنا بریں ہر وہ اتحاد alliance (تحالف) جو کسی مسلم ملک یا مسلم قوت یا مسلم جماعت کے خلاف آمادۂ جنگ ہو اس کا حصہ بننا ، اس کی معاونت کرنا ، اس کا پرچم اٹھانا ، اس کےلیے جاسوسی کرنا یا مسلمانوں کے خلاف کسی بھی طرح اس کی مہم آسان کرنا محض کوئی گناہ نہیں ، یہ آدمی کو دائرۂ اسلام سے ہی خارج کر دیتا ہے ۔ ایسے آدمی کو متنبہ ہو جانا چاہیے وہ اگر اپنے اس عمل سے تائب ہوئے بغیر مر جاتا ہے تو وہ کفر کی حالت پر مرتا ہے ، جس پر ہمیشہ ہمیشہ کی جہنم یقینی ہے ۔
کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کے خلاف برسرپیکار ہو جائے یہ عمل کفریہ نہیں ہے اسی وجہ سے اللہ تعالى نے آپس میں قتال کرنے والے مسلمانوں کے دونوں گروہوں کو مؤمن قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے "وإن طائفتان من المؤمنین اقتتلوا" ۔ اور یہ غلط فہمی , یا کسی بھی دیگر وجوہات کی بناء پر ہونے والی لڑائیوں میں ہے ۔
ہاں جب کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے خلاف برسرپیکار ہو کفار کی معاونت میں تو یہ عمل کفریہ عمل ہے ۔
لیکن اس کفریہ عمل کے مرتکب پر ہم فتوى کفر اس وقت تک نہیں لگا سکتے جب تک تکفیر کی شروط اس میں پوری نہ ہو جائیں اور موانع ختم نہ ہو جائیں ۔
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کلمہ گو لوگ جب کفار کی صفوں میں شامل ہو کر مسلمانوں کے خلاف لڑتے ہیں تو ان کا قتل پھر کیونکر جائز ہوگا ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے لوگ جو میدانوں میں اہل اسلام کے خلاف لڑنے کےلیے کفار کے ساتھ مل کر آتے ہیں ہم ان کا قتل اس لیے درست قرار دیتے ہیں کیونکہ انکا یہ عمل کفر والا ہے اور تکفیر معین کی چھان بین کا موقع میدانوں میں نہیں ہوتا کہ جس کے ذریعہ حقیت حال کو معلوم کیا جائے لہٰذا مسلمان ان کے ظاہر پر حکم لگاتے ہوئے ان کے ساتھ کفار والا سلوک روا رکھتے ہیں ۔
کفار سے دوستی و محبت ممنوع و حرام ہے ، انہیں راز دار بنانا ، ان سے قلبی تعلق رکھنا ناجائز ہے ۔ البتہ اگر جان یا مال کا خوف ہو تو ایسے وقت صرف ظاہری برتاؤ جائز ہے ۔ یہاں صرف ظاہری میل برتاؤ کی اجازت دی گئی ہے ، یہ نہیں کہ ایمان چھپانے اور جھوٹ بولنے کو اپنا ایمان اور عقیدہ بنا لیا جائے بلکہ باطل کے مقابلے میں ڈٹ جانا اور اپنی جان تک کی پرواہ نہ کرنا افضل و بہتر ہوتا ہے جیسے سیدنا امامِ حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جان دے دی لیکن حق کو نہ چھپایا ۔ آیت میں کفار کو دوست بنانے سے منع کیا گیا ہے اسی سے اس بات کا حکم بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں سے اتحاد کرنا کس قدر برا ہے ۔
کافر ، فاسق اور مسلمان کے جنازے سے متعلق چند شرعی مسائل : ⏬
اس آیت سے معلوم ہو اکہ اگر کوئی کافر مر جائے تو مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس کے مرنے پر نہ اس کے لئے دعا کرے اور نہ ہی ا س کی قبر پر کھڑا ہو ۔ افسوس! فی زمانہ حال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے ملک میں کوئی بڑا کافر مر جاتا ہے تو مسلمانوں کی سربراہی کے دعوے دار اس کے مرنے پر اس طرح اظہارِ افسوس کرتے ہیں جیسے اِن کا کوئی اپنا بڑا فوت ہوگیا ہو اور اگر اس کی قبر بنی ہو تو اس پر کھڑے ہو کر دعا ئیں مانگتے ہیں۔ یہ دعا بالکل حرام ہے ۔
کافر، فاسق اور مسلمان کے جنازے سے متعلق چند شرعی مسائل : ⏬
(1) اس آیت سے ثابت ہوا کہ کافر کے جنازے کی نماز کسی حال میں جائز نہیں اور کافر کی قبر پر دفن و زیارت کےلیے کھڑے ہونا بھی ممنوع ہے اور یہ جو فرمایا ’’ اور فسق ہی میں مرگئے ‘‘ یہاں فسق سے کفر مراد ہے قرآنِ کریم میں اور جگہ بھی فسق بمعنیٰ کفر وارد ہوا ہے جیسے کہ آیت ’’ اَفَمَنۡ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنۡ کَانَ فَاسِقًا‘‘ (1) (توکیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو نافرمان ہے) میں ۔
(2) فاسق کے جنازے کی نماز جائز بلکہ فرضِ کِفایہ ہے ، اس پر صحابہ اور تابعین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا اجماع ہے اور اس پر علماء و صالحین کا عمل اور یہی اہلِ سنت و جما عت کا مذہب ہے ۔
(3) جب کوئی کافر مر جائے اور اس کا ولی مسلمان ہو تو اس کو چاہیے کہ بطریق مَسنون غسل نہ دے بلکہ اس پر پانی بہا دے اور نہ کفن مسنون دے بلکہ اتنے کپڑے میں لپیٹ دے جس سے اس کا ستر چھپ جائے اور نہ سنت طریقہ پر دفن کرے اور نہ بطریقِ سنت قبر بنائے ،صرف گڑھا کھود کر اندر رکھ دے ۔ (ماخوذ : تفسیر قرطبی ، تفسیر خازن ، تفسیر صاوی ، تفسیر کبیر ، تفسیر المینار ، تفسیرطبری ،تفسیر تبیان القرآن)
کس مسلمان کی نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتے : ⏬
ہر مسلمان کی نماز پڑھی جائے اگرچہ وہ کیسا ہی گنہگار و مرتکب کبائر ہو مگر چند قسم کے لوگ ہیں کہ اُن کی نماز نہیں ۔
(1) باغی جو امام برحق پر ناحق خروج کرے اور اُسی بغاوت میں مارا جائے ۔
(2) ڈاکو کہ ڈاکہ میں مارا گیا نہ اُن کو غسل دیا جائے نہ اُن کی نماز پڑھی جائے ، مگر جبکہ بادشاہِ اسلام نے اُن پر قابو پایا اورقتل کیا تو نماز و غسل ہے یا وہ نہ پکڑے گئے نہ مارے گئے بلکہ ویسے ہی مرے تو بھی غسل و نماز ہے ۔
(3) جو لوگ ناحق پاسداری سے لڑیں بلکہ جو اُن کا تماشہ دیکھ رہے تھے اور پتھر آکر لگا اور مر گئے تو ان کی بھی نماز نہیں ، ہاں اُن کے متفرق ہونے کے بعد مرے تو نماز ہے ۔
(4) جس نے کئی شخص گلا گھونٹ کر مار ڈالے ۔
(5) شہر میں رات کو ہتھیار لے کر لوٹ مار کریں وہ بھی ڈاکو ہیں، اس حالت میں مارے جائیں تو اُن کی بھی نماز نہ پڑھی جائے ۔
(6) جس نے اپنی ماں یا باپ کو مار ڈالا ، اُس کی بھی نماز نہیں ۔
(7) جو کسی کا مال چھین رہا تھا اور اس حالت میں مارا گیا، اُس کی بھی نماز نہیں۔
جس نے خودکشی کی حالانکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے ، مگر اُس کے جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی اگرچہ قصداً خودکشی کی ہو ۔ (بہار شریعت جلد 1 حصہ 4 صفحہ 827 مکتبۃ المدینہ کراچی) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:
Post a Comment