Tuesday, 24 February 2026

پالتو گدھے کے گوشت کی حرمت پر اجماع ہے

پالتو گدھے کے گوشت کی حرمت پر اجماع ہے

محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر پالتو گدھے کے گوشت کو حرام قرار دیا تھا ۔ آئمہ سلف و خلف اور جملہ علماء کا پالتو گدھے کے گوشت کی حرمت پر اجماع ہے ۔ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے : أنَّ أبَا ثَعْلَبَةَ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللہ صلی الله عليه وآله وسلم لُحُومَ الْحُمُرِ الْأهْلِيَّةِ ۔

ترجمہ : حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت حرام فرمایا ہے ۔ (صحيح بخاری جلد 5 صفحہ 2102 رقم : 5206 دار ابن کثير اليمامة بيروت)(صحيح مسلم جلد 3 صفحہ 1538 رقم 1936 دار احياء التراث العربی)


عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہ رضي اللہ عنهما قَالَ نَهَی رَسُولُ اللہ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأهْلِيَةِ ۔

ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے روز پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۔ (صحيح بخاری جلد 4 صفحہ 1544 رقم : 3982،چشتی)(صحيح مسلم جلد 3 صفحہ 1541 رقم : 1941)


عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ أنَّ رَسُولَ اللہ صلی الله عليه وآله وسلم نَهَی عَنْ أکْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ وَالْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ ۔

ترجمہ : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑے ، خچر اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ (سنن ابو داؤد جلد 3 صفحہ 352 رقم : 3790 دار الفکر)(سنن نسائی السنن الکبری جلد 3 صفحہ 159 رقم : 4844)


پالتو گدھے کے گوشت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا اور غزوہ خیبر کے موقع پر باقاعدہ اعلان کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گدھے کے گوشت سے منع فرمایا ہے ، بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ہنڈیا میں یہ گوشت پکایا جارہا تھا ، اس اعلان کے بعد انہوں نے ہنڈیا میں چڑھے ہوئے گوشت کو پھینک دیا ، جس طرح شراب کی حرمت سے قبل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس شراب موجود تھی ، لیکن اعلان ہونے کے بعد شراب بہا دی گئی تھی ، اسی طرح گدھے کے گوشت کو بھی گرادیا گیا تھا ۔


ممانعت کی روایت کئی کتابوں میں موجود ہے ، مسند احمد میں ہے : حدثنا سفيان عن الزهري عن الحسن وعبد الله ابني محمد بن علي عن أبيهما، وكان حسنٌ أرضاهما في أنفسنا، أن علياً قال لابن عباس: إن رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نهى عن نكاح المتعة وعن لحوم الحمر الأهلية زمن خيبر ۔ (مسند أحمد، مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه جلد ۱ صفحہ ۵۲۰ مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ) ۔ اس کے علاوہ  ’’سنن ابی داود‘‘ ، ’’سنن ابن ماجہ‘‘، ’’المعجم الاوسط‘‘ اور دیگر کئی کتب میں بھی یہ ممانعت منقول ہے ۔


امام طبرانی علیہ الرحمہ نے اس کے ساتھ علت بھی ذکر کی ہے کہ یہ ’’رجس‘‘  ہے ،  فرماتے ہیں : حدثنا أحمد بن يحيى بن خالد بن حيان قال: نا محمد بن يحيى بن إسماعيل الصدفي قال: نا عبد الله بن وهب قال: نا جرير بن حازم قال: نا أيوب السختياني، وعبد الله بن عون، وهشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن أنس بن مالك قال: أتى رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خيبر، فقيل: يا رسول الله، أفنيت الحمر، فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أبا طلحة، فنادى: «إن الله ورسوله ينهيانكم عن لحوم الحمر الأهلية، فإنها رجس»". (المعجم الأوسط للطبراني، من اسمه أحمد جلد ۱ صفحہ ۴۳ رقم الحدیث : ۱۱۷ مطبوعہ دارالحرمین قاہرہ،چشتی) 


امام طبرانی علیہ الرحمہ نے ایک روایت میں یہ بھی نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہانڈی میں بنے ہوئے گوشت کو گرانے کا حکم دیا ۔ ملاحظہ فرمائیں : حدثنا أحمد بن رشدين قال: نا سعيد بن أبي مريم قال: نا إبراهيم بن سويد المدني قال: حدثني يزيد بن أبي عبيد، مولى سلمة قال: أخبرني سلمة بن الأكوع، أنهم يوم افتتحوا خيبر، رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم نيراناً تتوقد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما هذه النيران؟» قالوا: على لحوم الحمر الأنسية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أهريقوا ما فيها»، وكسروها، يعني: القدور، فقال رجل من القوم: أو نغسلها يا رسول الله. فقال: «أو ذاك» ۔ (المعجم الأوسط من اسمه أحمد جلد ۱ صفحہ ۷۸ رقم الحدیث : ۲۲۳ مطبوعہ دارالحرمین قاہرہ) ۔ ہانڈی کے گوشت پھینکنے سے متعلق روایت ’’مسند ابی عوانہ‘‘  میں بھی مذکور ہے ۔


غرض یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے پالتو گدھے کے گوشت کی صراحتاً ممانعت آئی ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ناپاک قرار دیا ، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس سے حرمت ہی مراد لی ہے ، اسی لیے انہوں نے وہ گوشت بھی پھینک دیا جو پکنے کے لیے ہانڈی میں موجود تھا ۔ لہٰذا گھریلو یا پالتو گدھے کی حرمت نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سے ثابت ہے ۔


گدھا حرام جانوروں میں داخل ہے ، گدھے کا گوشت کھانا حرام ہے : وأما الحمار الأهلي فلحمه حرام، وكذلك لبنه وشحمه، واختلف المشايخ في شحمه من غير وجه الأكل فحرمه بعضهم قياسا على الأكل وأباحه بعضهم وهو الصحيح ، كذا في الذخيرة ۔ (فتاوی ہندیہ کتاب الذبائح الباب الثانی فی بیان ما یؤکل من الحیوان جلد 5 صفحہ 290 دارالفکر بیروت)


حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : وحشی گدھا یعنی نیل گائے بالاتفاق حلال ہے ، پالتو گدھے کی حرمت میں گفتگو ہے ۔ جمہور علماء کے نزدیک گدھا حرام ہے ۔ (مرأة المناجیح جلد 5 صفحہ 991) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

پالتو گدھے کے گوشت کی حرمت پر اجماع ہے

پالتو گدھے کے گوشت کی حرمت پر اجماع ہے محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر پالتو گدھے کے گوشت کو حر...