Sunday, 22 February 2026

اسلام میں غریبوں کے متعلق تعلیمات اور حقوق اللہ و حقوق العباد

اسلام میں غریبوں کے متعلق تعلیمات اور حقوق اللہ و حقوق العباد

محترم قارئینِ کرام : غربت اور غریبوں کو ہمارے مُعاشرےمیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، مگر حقیقت میں ایسی غُربت و مسکینی میں بے شمار برکتیں ہیں ، ایسی غربت و مسکینی میں مبتلا لوگ اسلام میں حقیر نہیں بلکہ لائقِ محبّت ہیں اور ایسے ہی غریب و مسکین لوگوں کےگروہ میں شامل ہونے کےلیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دُعا کرتے اور اسی گروہ کو اپنی رَفاقت کی برکتوں سے نَوازنےکی خواہش رکھتے تھے ۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مَساکین سے محبّت کرو ، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دُعا میں یہ اَلفاظ شامل فرماتے سنا : اَللَّہُمَّ اَحْیِنِیْ مِسْکِیْنًا وَ اَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًا وَاحْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَۃِ الْمَسَاکِیْنَ ۔

ترجمہ : اےاللہ ! مجھے مسکینی کی حالت میں حیات اور مسکینی کی حالت میں ہی وِصال عطاء فرما اور گروہِ مساکین میں میرا حشر فرما ۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب مجالسۃ الفقراء جلد ۴ صفحہ ۴۳۳ حدیث نمبر ۴۱۲۶)


ایک اور مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےحضرتِ عائشہ صِدِّیقہ رضی اللہ عنہا کو مُخاطَب کر کے اِرشاد فرمایا : یَاعَائِشَۃُ اَحِبِّی الْمَسَاکِیْنَ وَقَرِّبِیْہِمْ فَاِنَّ اللہَ یُقَرِّبُکِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔

ترجمہ : اے عائشہ ! مسکینوں سے مَحَبَّت کرو ، اُنہیں اپنے قریب رکھو تاکہ بروزِ قِیامت اللہ کریم تمہیں اپنے قُرْب سے نَوازے ۔ (مشکاۃ کتاب الرقاق باب فضل الفقراءالخ الفصل الثانی جلد ۱ صفحہ ۲۵۵ حدیث نمبر ۵۲۴۴)


حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : معلوم ہوا کہ دنیا میں جوشخص مساکین اولیاء اللہ سے قریب ہوگا وہ کل قیامت میں خداسے قریب ہوگا ۔ (مراۃ المناجیح جلد ۷ صفحہ ۸۸،چشتی)


دِینِ اسلام ایک کامل و اکمل اور اللہ پاک کا پسندیدہ دِین ہے ، جس کے بارے میں خود اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا : اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ ۔

ترجمہ : آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دِین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اِسلام کو دین پسند کیا ۔ (سورہ المآئدۃ آیت نمبر 3)


اِس کامل و اکمل دِین نے اپنی روشن تعلیمات کے ذَریعے جہاں ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنے کا حکم دیا وہاں بطورِ خاص غریب مسکین لوگوں کا خیال رکھنے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کا بھی حکم دیا۔ بہت سے ایسے اُمور ہیں جن میں ہم غریب مسکین لوگوں کے ساتھ خیرخواہی کرتے ہوئے ان کی ضروریات کو پورا کر کے ان کا خیال رکھ سکتے ہیں،اس سے ان کا دل خوش ہو گا اور مسلمان کا دِل خوش کرنے کے بھی کیا کہنے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا: اللہ پاک کے نزدیک فرائض کی اَدائیگی کے بعد سب سے افضل عمل مسلمان کے دِل میں خوشی داخل کرنا ہے ۔ (معجم کبیر جلد 11 صفحہ 59 حدیث نمبر 11079)


اسلام میں غریب مسکین لوگوں کو کھلانے، پلانے اور لباس پہنانے کی ترغیب دی گئی ہے جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے : جس مسلمان نے کسی بےلباس مسلمان کو کپڑا پہنایا ، اللہ پاک اسے جنتی لباس پہنائے گا اور جس نے کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلایا اللہ پاک اُسے جنتی پھل کھلائے گااور جس نے کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلایا ، اللہ پاک اُسے مُہر لگی ہوئی پاکیِزہ شَراب پلائے گا ۔ (سنن ابوداؤد جلد 2 صفحہ 180 حدیث نمبر 1682،چشتی)


اسلام میں غُرباء کے دکھوں کا مداوا کرنے اور ان کو قرضوں کے بوجھ سے آزاد کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے: اللہ پاک کو سب سے پیارا عمل کسی بھوکے مسکین کو کھانا کھلانا ، اس کو قرض سے نجات دِلانا یا اس کا غم دور کرنا ہے ۔ (معجم کبیر جلد 3 صفحہ 218 حدیث نمبر 3187)


غریبوں کی حاجت روائی کرنا ، ان سے تکالیف دور کرنا اسلام کی خوبصورت اقدار ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا : ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ظالم کے حوالے کرے ۔ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں رہتا ہے تو اللہ پاک اس کی حاجت روائی میں رہتا ہے ۔ جو شخص مسلمان سے کسی ایک تکلیف کو دور کر دے تو اللہ پاک قیامت کی تکالیف میں سے اس کی ایک تکلیف دور کر دے گا ۔ جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ پاک قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔ (بخاری جلد 2 صفحہ 126 حدیث نمبر 2442،چشتی)


شادی بیاہ یا عید وغیرہ خوشی کے مواقع پر غریبوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کیجیے کہ اِس سے جہاں ان کے دلوں میں خوشی پیدا ہو گی وہاں اللہ پاک کی رَحمت سے آپ کی خوشیوں کو بھی چار چاند لگ جائیں گے اور آپ کو حقیقی خوشی نصیب ہو گی ۔ عموماً دعوت وغیرہ خوشی کے موقع پر امیروں کو بلایا جاتا ہے اور غریبوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اس لیے حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا گیا: بُرا کھانااس ولیمہ کا کھانا ہے، جس میں مال دار لوگ بلائے جاتے ہیں اور فقرا چھوڑ دیے جاتے ہیں ۔ (بخاری جلد 3 صفحہ 455 حديث نمبر 5177)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد  پہلے خود ادا فرمائے پھر اپنے غلاموں کو بھی ان کے ادا کرنے کی تلقین فرمائی ۔ یہی وجہ ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غارِ حرا میں کئی کئی روز اللہ عزوجل کی یاد میں بسر فرما رہے تھے تو پہلی وحی کے نزول کے وقت اُم المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی صفات عالیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے بیان فرماتی ہیں : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الكَلَّ ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الحَقِّ ۔ (صحیح بخاری بَابُ بَدْءِ الوَحی،چشتی)

ترجمہ : بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  صلہ رحمی کرتے ہیں ، لوگوں (کمزوروں ، یتیموں اور غریبوں) کا بوجھ اٹھاتے ہیں، ناداروں کےلیے کماتے ہیں،مہمان نوازی کرتے ہیں اور راہِ حق میں پیش آنے والی مشکلات میں مددکرتے ہیں ۔


شومئی قسمت کچھ لوگ ظاہری عبادت پہ اکتفا کرتے ہیں وہ نہ تو اس عباد ت کے باطنی پہلو کا خیال رکھتے ہیں اور نہ حقوق العباد کو خاطر میں لاتے ہیں اور اپنے آپ کو اس بات سے تسلی و دلاسہ دیتے ہیں کہ چونکہ ہم ظاہری ارکانِ اسلام (نماز ، روزہ ، زکوٰۃ وحج) کو ادا کر رہے اور یہی ہماری نجات کےلیے کافی ہے ۔ بلاشبہ ظاہری ارکانِ اسلام پہ عمل پیرا ہونا بہت بڑی سعادت ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ہر ظاہری عبادت کا ایک باطنی پہلو بھی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صر ف اللہ عزوجل کی ظاہری و باطنی عبادت (حقوق اللہ) پہ اخلاص سے عمل پیرا ہونا سکھایا بلکہ حقوق العباد کی مکمل آگاہی و اہمیت سے بھی آشنا فرمایا ہے ۔ اِسی مناسبت سے صرف تین پہلوؤں غریب کی مدد ، بھوکوں کو کھانا کھلانا ، ہمسائیوں کا خیال کے متعلق سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رہنمائی لینے کی سعی سعید کرتے ہیں : ⏬


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فر مایا : بیوہ اور مسکین (کی مصلحتوں) کےلیے کوشش کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثل ہے یا اس شخص کی طرح ہےجو رات کوقیام کرتا ہو اور دن کو روزہ رکھتا ہو ۔ (صحیح بخاری کتاب النفقات)


حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فر مایا : مَیں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ ارشاد فرماتے ہوئے) اپنی شہادت اور بیچ والی انگلی کو ملا کر ارشادفرمایا (یعنی بالکل قریب ہوں گے) ۔ (صحیح بخاری کتاب الادب)


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ ی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فر مایا : جو شخص کسی مسلمان کی کوئی دنیاوی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کی مصیبتوں میں سے کو ئی مصیبت دور فر مائے گا ، جو شخص کسی تنگ دست کےلیے آسانی پیدا کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کےلیے آسانی پیدا فر مائے گا اور جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے  اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فر مائے گا ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے ۔ (صحیح مسلم كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ،چشتی)


حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی کوئی ضرورت پوری کرنے کے سلسلے میں چلتا ہے یہاں تک کہ اسے پورا کر دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر پانچ ہزار فرشتوں کا سایہ کر دیتا ہے وہ فرشتے اس کے لئے اگر دن ہوتو رات ہونے تک اور رات ہو تو دن ہونے تک دعائیں کرتے رہتے ہیں اور اس پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں اور اس کے اٹھنے والے ہر قدم کے بدلے اس کےلیے نیکی لکھی جاتی ہے اور اس کے رکھنے والے ہر قدم کے بدلے اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے ۔ (شعب الایمان باب التعاون علی البر والتقوٰی)


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے تمام لوگوں کی ذمہ داری اپنے اوپر لے رکھی تھی جو قرض کی حالت میں انتقال کر جاتے اور اپنے پیچھے اپنی بیوہ اور یتیم بچے چھوڑ جاتے-حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد  فرمایا : میں مؤمنوں کی جانوں سے زیادہ ان پہ متصرف ہوں پس مؤمنین میں سے جو فوت ہو گیا اور اس نے قرض کا بوجھ چھوڑا تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جس نے مال چھوڑا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ۔ (صحیح بخاری كِتَابُ النَّفَقَاتِ)


ان احادیث مبارکہ میں غور کرنے سے غریب کی خدمت کرنے کی فضیلت و اہمیت سے آگاہی نصیب ہوتی ہے ۔ غریب کی خدمت میں عظمت کے پیشِ نظر اکثر علماء کرام نے نوافل پہ خدمت خلق کو ترجیح دی ہے ۔ آخری حدیث مبارک کے مطالعہ سے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ ہم سب مسلمانوں میں سے کتنے خوش نصیب افراد کی قسمت میں اس سنتِ مبارک کی ادائیگی ہے کہ وہ کسی غریب کے فوت ہو جانے کے بعد اس کی قرض کی ادائیگی کا بندوبست کرتا ہو ؟ یہ حدیثِ مبارک تمام مسلمانوں کو دعوت فکر دیتی ہے ۔


حضرت ابوہريرهرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں عرض کی (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاں عورت کی نماز ، روزے اورصدقہ کی کثرت کا خوب چرچا ہے مگروہ اپنے پڑوسی کو اپنی زبان سے تکلیف دیتی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ دوزخی ہے ۔ اس شخص نے (دوبارہ) عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاں عورت کی نماز ، روزے اورصدقہ میں کمی ہے (یعنی یہ ان اعمال میں اس کی شہرت نہیں ہے) اور وہ پنیر کے چھوٹے ٹکڑے صدقہ کرتی ہے لیکن اپنے پڑوسی کو زبان سے تکلیف نہیں دیتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : وہ جنتی ہے ۔ (مسند امام احمد بن حنبل باب مسند ابی ہریرہ)


اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت بیان کرتی ہیں کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے جبریل مسلسل پڑوسی کے متعلق وصیت کرتے رہے حتی کہ میں نے گمان کیا کہ وہ عنقریب اس کو وارث (وراثت میں شریک) قرار دے دیں گے (یعنی ان کے بہت زیادہ حقوق کے بارے میں بتایاگیا) ۔ (مسند امام احمد بن حنبل باب مسند ابی ہریرہ)


حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ (مجھے)  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر! جب تم شوربا پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ رکھو اور اپنے پڑوسیوں کو یاد رکھو ۔ (صحیح بخاری بَابُ الوَصَاةِ بِالْجَارِ،چشتی)


اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روايت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےارشاد فرمایا : وہ بندہ مؤمن نہیں جو خود پیٹ بھر کر رات گزارے اور  اس کا پڑوسی اس کے پڑوس میں بھوکا رہے ۔ (المستدرك على الصحيحين كِتَابُ الْبُيُوعِ)


اکثر ہمارے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہے کہ پڑوسی صرف گھر کے ساتھ والا ہوتا ہے ۔ امام طبرانی کی روایت ہم سے ہماری اس سوچ پہ نظر ِ ثانی کاتقاضاکرتی ہے کہ : حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ روایت بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق،  حضرت عمر فاروق اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما کو مسجد کے دروازے پہ بھیجا اور وہ اس کے دروازے پہ کھڑے ہو کر بلند آواز سے فرماتے : خبردار ! پڑوسی (دائیں ، بائیں ، آگے ، پیچھے) چالیس گھر تک ہے اور وہ جنت میں نہیں جائے گا جس شخص کی ایذا رسانی (تکلیف پہنچانے) سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ رہے ۔ (المعجم الكبيرللطبرانی باب الكاف)


اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ : مَیں نےعرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے دو پڑوسی ہیں ان میں سے کس کو ہدیہ دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : ان میں سے جس کے گھر کا دروازہ تمہارے گھر کے زیادہ قریب ہو ۔ (صحیح بخاری كِتَابُ الشفعه)


امام بیہقی نے شعب الایمان میں پڑوسیوں کے حقوق اور اقسام کے بارے میں ایک طویل روایت رقم فرمائی ہے یہاں اس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہوکہ پڑوسی کے کیا حقوق ہیں ؟ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حقوق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اس کے حقوق میں سے ہے کہ) جب وہ تجھ سے مدد طلب کرے تو اس کی مدد کرے ، جب تجھ سے قرض طلب کرے تو اسے قرض دے،جب وہ بیمارہو اس کی عیادت کرے اور اس کو بھلائی پہنچے تو اس کو مبارک باد دے اور جب اس کو مصیبت پہنچے تو اس کی تعزیت کرے، جب اس کی وفات ہو تو اس کے جنازے میں شریک ہو اور اگر پھل خریدو تو اس کو ہدیہ کرو-اگر نہ دے سکو تو اپنے گھر میں چپکے سے لے جاؤ (تاکہ اس کے بچوں کو پتا نہ چلے اور ان کی دل آزاری نہ ہو ) ۔ مزید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : پڑوسی کی تین اقسام ہیں ایک وہ جس کے تین حقوق ہیں ۔ رشتہ دارمسلمان پڑوسی اس کاپڑوس کا حق ، حقِ قرابت اور حقِ اسلام ہے اوروہ پڑوسی جس کے دوحقوق ہیں وہ مسلمان پڑوسی ہے اس کاپڑوس کا حق اور حقِ اسلام ہے اور وہ پڑوسی جس کا صرف ایک حق ہے وہ کافر پڑوسی ہے اس کا صرف پڑوس کا حق ہے (لیکن اس کا بھی حق ہے) ۔


یہ بات ذہن نشین رہے کہ پڑوسی کا اطلاق صرف گھر کے ساتھ والے پر نہیں ہوتا بلکہ مفسرین کرام نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نشین یا پہلو کا ساتھی بھی پڑوسی ہے ۔ یعنی جس کے ساتھ دن رات کا اٹھنا بیٹھنا ہو ۔ اس اصطلاح سے مراد ایک گھر یا عمارت میں رہنے والے مختلف لوگ ، دفتر ، فیکٹری یا کسی اور ادارے میں ساتھ کام کرنے والے افراد ، تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے ساتھی ، دوست اور دیگر ملنے جلنے والے احباب شامل ہیں ۔


حضرت ابوہريره رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ : ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  مجھے سخت بھوک لگی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج (مطہرات) کی طرف کسی کو بھیجا (تاکہ وہ کھانے کی کوئی چیز لائے) پس اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنھُنَّ کے پاس کوئی چیز نہ پائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی شخص ہے جو اس رات اس کی مہمان نوازی کرے تو اللہ عزوجل اس پر رحم فرمائے گا  انصار میں سے ایک شخص نے عرض کی : میں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اس کی مہمان نوازی کروں گا) پھر اس نے اپنی بیوی کے پاس جا کر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مہمان کی خاطر مدارت کرو کوئی چیز چھپا کر نہ رکھو اس نے کہا : (واللہ) میرے پاس تو صرف اس بچی کا کھانا ہے ۔ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب یہ رات کے کھانے کا ارادہ کرے تو اس بچی کو سلا دینا ، اس چراغ کو بجھا دینا اور ہم یہ رات بھوکے گزاریں گے اس کی بیوی نے ایسا کیا پھر وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ عزوجل خوش ہوا یا ارشادفرمایا اللہ عزوجل فلاں مرد اور فلاں عورت کی کارگزاری سے ہنسا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت مبارک نازل فرمائی : وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَ لَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ط وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (سورہ حشر آیت نمبر 9)

ترجمہ : اور یہ لوگ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ یہ خود سخت ضرورت مند ہوں اور جو لوگ اپنے نفس کی بخیلی سے بچا لئے گئے تو یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔ (صحیح بخاری کتاب التفسیر)


حضرت ابو موسٰی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : العانی یعنی قیدی کو چھڑاؤ ، بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو ۔ (صحیح بخاری بَابُ فَكَاكِ الأَسِيرِ)


سيدنا ابوہريره رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں عرض کی گئی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعمال میں سے سب سے افضل عمل کون سا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےا رشادفرمایا : (سب سے افضل عمل یہ ہے) کہ تم اپنے مؤمن بھائی کو خوشی پہنچاؤ یا اس کا قرض ادا کرو یا اسے کھانا کھلاؤ ۔ (شعب الایمان باب التعاون علی البر والتقوٰی،چشتی)


حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کری صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا (یہ سن کر) ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اے اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کس کےلیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : جو اچھی طرح بات کرے ، کھانا کھلائے ، خوب روزہ رکھے اور اللہ کی رضا کےلیے رات میں نماز پڑھے جب کہ لوگ سوئے ہوں ۔ (سنن ترمذی أَبْوَابُ البِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)


اسی طرح حضرت ہانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ایسا عمل بتائیں جو جنت واجب کر دے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تُو اچھی بات کرنے اور کھانا کھلانے کو اپنے اوپر لازم کرلے (یعنی یہ کام کیاکر) ۔ (مصنف ابن شیبہ کتاب الادب)


جو لوگ اپنے رب کی دی ہوئی وسعت و تر قی کے باوجود ایسے ضرورت مند وں کےلیے خرچ نہیں کرتے وہ غر یبوں کی امداد نہ کر نے کے وبال کو سمجھیں ۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے : خُذُوْہُ فَغُلُّوْہُ ۔ ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْہُ ۔ ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَۃٍ ذَرْعُہَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُکُوْہُ ۔ اِنَّہٗ کَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللہِ الْعَظِیْمِ ۔ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ ۔ (سورہ الحاقہ آیت نمبر 30 ۔ 34)

ترجمہ : (حکم ہوگا:) اسے پکڑ لو اور اسے طوق پہنا دو ۔ پھر اسے دوزخ میں جھونک دو ۔ پھر ایک زنجیر میں جس کی لمبائی ستر گز ہے اسے جکڑ دو ۔ بے شک یہ بڑی عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور نہ محتاج کو کھانا کھلانے پر رغبت دلاتا تھا ۔


اسی طرح اللہ عزوجل نے ابرار لوگوں کی صفات کا تذکر ہ فرماتے ہوئے سورۃ الدھر میں ارشادفرمایا : وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا ۔ اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا ۔ (سورہ دھر آیت نمبر 8 ۔ 9)

ترجمہ : اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اَسِیر (قیدی) کو (اور) ان سے کہتے ہیں ہم تمہیں خاص اللہ کے لیے کھانا دیتے ہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے غرباء و فقراء اور دیگر ضرورت مندوں کے لئے زکوٰۃ و صدقات کی صورت میں ایسا مضبوط و مستحکم نظام قائم فرمایا کہ اگر ہر مسلمان اپنے حصہ کا فریضہ ادا کرے تو دنیائے اسلام کے طول و عرض میں کہیں بھی محتاج اور گدا گر نظر نہ آئیں ۔ اپنے حصے کے فریضے ادا نہ کرنے کے سبب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ تنگ دستی سے پریشان لوگ عیسائی مشینریوں اور بد مذہبوں کی امداد کے بدلے اپنے ایمان کو فروخت کرنے پر مجبور نظر آرہے ہیں جس کا بھرپور فا ئدہ اٹھایا جارہا ہے ۔ کاش کہ مسلمان اپنے فرائض کی ادائیگی پہ سوچتے ، اس کی طرف توجہ دیتے اور اللہ عزوجل کے اس فرمان مبارک پر عمل کرتے : کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھڑانے میں (اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت، یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں ۔ (سورہ البقرہ آیت نمبر 177)


دوسرے مقام پہ ارشادفرمایا : تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لیے ہے اور جو بھلائی کرو بےشک اللہ اسے جانتا ہے  ۔ (سورہ البقرہ آیت نمبر 215)


مذکورہ تمام دلاٸل سے معلوم ہوا کہ اسلام انسان کو حقوق اللہ ، حقوق العباد اور غربا و فقرا کی مدد کا کامل تکمیل کا درس دیتا ہے ۔ اللہ عزوجل ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطاء فرماۓ آمین ۔ تمام دردِ دل رکھنے والے مسلمانوں سے گذارش ہے کہ ادارہ پیغامُ القرآن پاکستان کے زیرِ انتظام دین کی نشر و اشاعت کرنے ، دینی تعلیم عام کرنے خصوصاً مختلف علاقوں کے دور دراز دیہاتوں کے غریب بچوں کو مفت دینی و عصری تعلیم دینے کے سلسلہ میں اور دینی کتب تفاسیر قرآن ، کتبِ احادیث عربی اردو کی شروحات ، دیگر اسلامی کتب ، دین کا درد رکھنے والے صاحبِ حیثیت مسلمانوں سے گذارش ہے کہ دینی کتب کی خریداری کےلیے تعاون فرمائیں جزاکم اللہ خیراً کثیرا آمین ۔ ہمارے اکاؤنٹ نمبرز یہ ہیں : بڑے بیٹے صاحبزادہ پروفیسر حافظ محمد جواد چشتی کا اکاؤنٹ نمبر : 02520107640866 میزان بینک چوھنگ لاہور پاکستان ۔

موبی کیش اکاؤنٹ نمبر : 03009576666 ۔ ایزی  پیسہ اکاؤنٹ نمبر : 03469576666 ۔

موبی کیش و ایزی  پیسہ اکاؤنٹ نمبر : 03215555970 ۔ (دعا گو ڈاکٹر مفتی فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

اسلام میں غریبوں کے متعلق تعلیمات اور حقوق اللہ و حقوق العباد

اسلام میں غریبوں کے متعلق تعلیمات اور حقوق اللہ و حقوق العباد محترم قارئینِ کرام : غربت اور غریبوں کو ہمارے مُعاشرےمیں حقارت کی نگاہ سے دیکھ...