Saturday, 14 February 2026

ویلنٹائن ڈے منانا اور غیرشرعی محبت اور اس کا اظہار ناجائز و گناہ کبیرہ ہے

ویلنٹائن ڈے منانا اور غیرشرعی محبت اور اس کا اظہار ناجائز و گناہ کبیرہ ہے

محترم قارئینِ کرام : موجودہ دور میں ترقی اور روشن خیالی کے نام پر بے حیائی اور اخلاقی برائیوں کو خوب فروغ دیا جارہا ہے ۔ محبت کے عالمی دن کے نام پر ہر سال 14 فروری کو منایا جانے والا ویلنٹائن ڈے (Valentine Day) بھی اسی سلسلے کی ایک کَڑی ہے ، جو دَرحقیقت مَحبت کے نام پر بربادی کا دن ہے ۔ ویلنٹائن نامی غیر مسلم کی یاد میں منائے جانے والے اس دن کو غیر اَخلاقی حرکات اور اَحکامِ شریعت کی کھلم کھلاخلاف ورزی کا مجموعہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چند نافرمانیاں اور ان پر ملنے والے عذاب مُلاحظہ کیجیے اور اس دن کی نحوست سے خود کو دور رکھیے ۔ بے حیائی کا سیلاب اس دن بالخصوص مخلوط تعلیمی اداروں  میں بے پردگی و بے حیائی کے ساتھ اَجنبی مَردوں اور عورتوں کا میل مِلاپ ہوتا ہے ، ویلنٹائن ڈے کا تاریخی پس منظر ایک پادری جس کا نام ویلنٹائن تھا تیسری صدی عیسوی میں رومی بادشاہ کلاڈیس ثانی کے زیرِ حکومت رہتا تھا ، کسی نافرمانی کی بناء پر بادشاہ نے پادری کو جیل میں ڈال دیا، پادری اور جیلر کی لڑکی کے مابین عشق ہوگیا حتّٰی کہ لڑکی نے اس عشق میں اپنا مذہب چھوڑ کر پادری کا مذہب نصرانیت قبول کرلیا ، اب لڑکی روزانہ ایک سرخ گلاب لے کر پادری سے ملنے آتی تھی ، بادشاہ کو جب ان باتوں کا علم ہوا تو اس نے پادری کو پھانسی دینے کا حکم صادر کر دیا ، جب پادری کو اس بات کا علم ہوا کہ بادشاہ نے اس کی پھانسی کا حکم دیدیا ہے تو اس نے اپنے آخری لمحات اپنی معشوقہ کے ساتھ گزرنے کا ارادہ کیا اور اس کےلیے ایک کارڈ اس نے اپنی معشوقہ کے نام بھیجا جس پر یہ تحریر تھا ، مخلص ویلنٹائن کی طرف سے ، بالآخر 14 فروری کو اس پادری کو پھانسی دیدی گئی اس کے بعد سے ہر 14 فروری کو یہ محبت کا دن اس پادری کے نام ویلنٹائن ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے ۔


جبکہ اس تہوار کو منانے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے بے پردگی و بے حیائی کیساتھ میل ملاپ ، تحفے تحائف کے لین دین سے لیکر فحاشی و عریانی کی ہر قسم کا مظاہرہ کھلے عام یا چوری چھپے جس کا جتنا بس چلتا ہے عام دیکھا سنا جاتا ہے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فیملی پلاننگ کی ادویات عام دنوں کے مقابلے ویلنٹائن ڈے میں کئی گنا زیادہ بکتی ہیں اور خریدنے والوں میں اکثریت نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی ہوتی ہے ، گفٹ شاپس اور پھولوں کی دکان پر رش میں  اضافہ ہوجاتا ہے اور ان اشیاء کو خریدنے والے بھی نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں ۔


مشرقی اقدار کے حامل ممالک میں  کھلی چھوٹ نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان جوڑوں کو محفوظ مقام کی تلاش ہوتی ہے ۔ اسی مقصد کےلیے اس دن ہوٹلز کی بکنگ عام دنوں کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے اور بکنگ کرانے والے رنگ رلیاں منانے والے نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں ۔ شراب کا بے تحاشہ کاروبار ہوتا ہے ساحلِ سمندر پر بے پردگی اور بے حیائی کا ایک نیا سمندر دکھائی دیتا ہے ۔ مغربی ممالک میں جہاں غیر مسلم مادر پدر آزادی کے ساتھ رہتے ہیں  اور فحاشی و عریانی اور جنسی بے راہ روی کو وہاں ہر طرح کی قانونی چھوٹ حاصل ہے اس دن کی دَھما چوکڑی سے بعض اوقات وہ بھی پریشان ہوجاتے ہیں اور اس کے خلاف بعض اوقات کہیں کہیں سے دبی دبی صدائے احتجاج بلند ہوتی رہتی ہے جیسا کہ انگلینڈ میں اس کی مخالفت میں احتجاج کیا گیا اور احتجاج کی بنیا دی وجہ یہ بتائی گئی کہ اس دن کی بدولت انگلینڈ کے ایک پرائمری اسکول میں 10 سال کی 39 بچیاں حاملہ ہوئیں ۔ غور کیجیے یہ تو پرائمری اسکول کی دس سالہ بچیوں کے ساتھ سفاکیت کی خبر ہے وہاں کے نوجوانوں لڑکے لڑکیوں کے ناجائز تعلقات اور اس کے نتیجے میں  حمل ٹھہرنے اور اسقاطِ حمل کے واقعات کی تعداد پھر کتنی ہوگی اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔


انتہائی دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دن کو کافروں کی طرح بے حیائی کے ساتھ منانے والے بہت سے مسلمان بھی اللّٰہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطاء کیے ہوئے پاکیزہ احکامات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے کھلم کھلا گناہوں کا ارتکاب کرکے نہ صرف یہ کہ اپنے نامۂ اعمال کی سیاہی میں  اضافہ کرتے ہیں  بلکہ مسلم معاشرے کی پاکیزگی کو بھی ان بے ہودگیوں سے ناپاک  وآلودہ کرتے ہیں ۔


بد نگاہی ، بے پردگی ، فحاشی عریانی ، اجنبی لڑکے لڑکیوں کا میل ملاپ ، ہنسی مذاق ، اس ناجائز تعلق کو مضبوط رکھنے کےلیے تحائف کا تبادلہ اور آگے زنا اور دواعی زنا تک کی نوبتیں  یہ سب وہ باتیں ہیں جو اس روز ِعصیاں زور و شور سے جاری رہتی ہیں اور ان سب شیطانی کاموں کے ناجائز و حرام ہونے میں کسی مسلمان کو ذرہ بھر بھی شبہ نہیں ہو سکتا قرآن کریم کی آیاتِ بَیِّنات اور نبی ِکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واضح ارشادات سے ان اُمور کی حرمت و مذمت ثابت ہے ۔


ویلنٹائن والے دن اجنبی مرد و عورت کے مابین جو ناجائز محبت کا تعلق قائم ہوتا ہے اور آپس میں جو تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے فقہاءِکرام فرماتے ہیں کہ یہ رشوت کے حکم میں داخل ہے اس لیے ناجائز وحرام ہے ایسے گفٹ لینا اور دینا دونوں ہی ناجائز وحرام ہیں  اگر کسی نے یہ تحائف لیے ہیں تو اس پر توبہ کے ساتھ ساتھ یہ تحائف واپس کرنا بھی لازم ہے ۔


بحر الرائق میں ہے : ما یدفعہ المتعاشقان رشوۃ یجب ردّھا ولا تملک ۔

ترجمہ : عاشق ومعشوق (ناجائز محبت میں  گرفتار)  آپس میں  ایک دوسرے کو جو  (تحائف)  دیتے ہیں  وہ رشوت ہے ان کا واپس کرنا واجب ہے اور وہ ملکیت میں داخل نہیں ہوتے ۔ (بحر الرائق کتاب القضاء جلد ۶ صفحہ ۴۴۱)


قرآنِ پاک میں  اللّٰہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (سورہ المائدۃ آیت نمبر ۹۰)

ترجمہ : اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں  شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ ۔


صحیح مسلم میں  جابر رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :  ہر نشہ والی چیز حرام ہے بیشک اللّٰہ تعالٰی نے عہد کیا ہے کہ جو شخص نشہ پئے گا اُسے ’’طِیْنَۃُ الْخَبَال‘‘ سے پلائے گا لوگوں نے عرض کی ’’طِیْنَۃُ الْخَبَال‘‘ کیا چیز ہے فرمایا کہ جہنمیوں کا پسینہ یا اُن کا عصارہ  (نچوڑ) ۔ (صحیح مسلم کتاب الاشربۃ باب بیان انّ کلّ مسکر خمراً ۔۔۔ الخ ،  صفحہ ۱۱۰۹  حدیث نمبر ۷۲،چشتی)


عبداللّٰہ بن عمر اور نسائی و ابن ماجہ و دارمی نے عبداللّٰہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص شراب پئے گا اُس کی چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی پھر اگر توبہ کرے تو اللّٰہ عزوجل اُس کی توبہ قبول فرمائے گا پھر اگر پئے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اس کے بعد توبہ کرے تو قبول ہے پھر اگر پئے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اس کے بعد توبہ کرے تو اللّٰہ عزوجل قبول فرمائے گا پھر اگر چوتھی مرتبہ پئے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اب اگر توبہ کرے تو اللّٰہ عزوجل اُس کی توبہ قبول نہیں فرمائے گا اور نہر خبال سے اُسے پلائے گا ۔ (جامع ترمذی کتاب الاشربۃ باب ماجاء فی شارب الخمر جلد ۳ صفحہ ۳۴۲ حدیث نمبر ۱۸۶۹)


حدیثِ مبارکہ میں اس کی مَذمّت یوں بیان کی گئی ہے کہ کسی کے سَر میں  لوہے کی سُوئی گھونپ دی جائے یہ اجنبی عورت کو چھونے سے بہتر ہے ۔ (معجم کبیر جلد 20 صفحہ 211 حدیث نمبر 486)


ہاتھ اور پاؤں کا بَد کاری کرنا لڑکے لڑکیاں تحائف اور پھول خرید کر نامحرموں کو پیش کرتے ہیں اور اپنی ناجائز محبت کا اظہار کرتے ہیں ، حدیثِ مبارکہ میں ہے : ہاتھ اور پاؤں  بھی بَدکاری کرتے ہیں  اور ان کا بَدکاری (حَرام) پکڑنا اور (حَرام کی طرف) چل کرجانا ہے ۔ (صحیح مسلم صفحہ 1095 حدیث نمبر 6754)


شَراب نوشی کو فَروغ ملنا اس دن رَنگ رَلیاں مَنانے کےلیے شراب اور نَشہ آور چیزوں کا بے تَحاشہ (بہت زیادہ) اِستعمال کیا جاتا ہے ، جبکہ حدیث پاک میں ہے کہ جو شخص شَراب کا ایک گُھونٹ بھی پئے  گا ، اُسے اس کی مِثل جہنَّم کا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا ۔ (معجم ِکبیر جلد 8 صفحہ 197 حدیث نمبر 7803،چشتی)


گانے باجے کا اِہتمام اس دن کو مَنانے کےلیے جہاں چھوٹے پیمانے پر گانے باجے ، مُوسیقی بجائی جاتی ہے ، وہیں بڑے پیمانے پر میوزیکل پروگرامز اور فنکشنز (Functions)  کا بھی اِہتمام کیا جاتا ہے ، جبکہ روایت میں ہے کہ جو شخص کسی گانے والی کے پاس بیٹھ کر گانا سُنتا ہے قیامت کے دن اس کے کانوں میں پِگھلا ہوا سِیسہ اُنڈیلا جائے گا ۔ (جمع الجوامع جلد 7 صفحہ 254 حدیث نمبر 22843)


مُہلِک بیماری کا سبب : اس دن  بَدکاری کو فَروغ مِلتا ہے ، جس کی وجہ سے ایڈز (AIDS) نامی مُہلک مرض پھیلتا جارہا ہے ، ڈاکٹرز کے مُطابق ایڈز جیسی خطرناک بیماری اِسی بَدکاری کا نَتیجہ ہے ۔ قرآنِ پاک میں بَد کاری تو دُور ، اس فعلِ بَد کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا گیا ہے ۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے : وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ ۔ وَ سَآءَ سَبِیْلًا ۔

ترجمہ : اور بَد کاری کے پاس نہ جاؤ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ ۔ (سورہ بنی  اسرائیل آیت نمبر 32)


ویلنٹائن ڈے کا تہوار منانے میں بت پرست رومیوں اور پھر اہل کتاب عیسائیوں کے ساتھ مشابہت ہے کیونکہ انہوں نے اس میں رومیوں کی تقلید اور پیروی کی ہے اور یہ دن عیسائیوں کے دین میں نہیں ہے ، اور جب دین اسلام میں عیسائیوں سے کسی ایسی چیز میں مشابہت سے ممانعت ہے جو ہمارے دین میں نہیں ہے ، بلکہ ان عیسائیوں کے حقیقی دین میں نہیں ہے ، تو پھر ایسی چیز جو انہوں نے تقلیداً ایجاد کر لی تو بطریق اولیٰ ممنوع ہے ۔ ہمیں ایسے تمام تہواروں سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے جس کا تعلق کسی مشرکانہ یا کافرانہ رسم سے ہو ، ہر قوم کا ایک الگ خوشی کا تہوار ہوتا ہے ، اور اسلام میں مسلم قوم کے لئے واضح طور پر خوشی پر مبنی تہوار عیدین ہیں ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عیدالفطر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ : یَا أبابَکر ان لکل قوم عیدا و ھذا عیدنا ۔ (صحیح بخاری رقم : ۹۰۴)

ترجمہ : اے ابوبکر ہر قوم کی اپنی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے ۔


ویلنٹائن ڈے منانے کا مطلب مشرک رومی اور عیسائیوں کی مشابہت اختیار کرنا ہے ۔ اور کسی قوم کی مشابہت اختیار کرنا اسی قوم میں سے ہونے کے مترادف اور برابر ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : من تشبه بقوم فھو منھم ۔ (سنن ابی داؤد رقم : ۳۵۱۲)

ترجمہ : جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہے ۔


ایک روایت ہے جس کے اندر بتایا گیا ہے کہ مسلم قوم یہود و نصاریٰ کی مکمل پیروی کریں گے ، اور ہر کام میں ان کی نقل کریں گے، اور آج مسلم قوم غیروں کی نقل کر رہی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو چھوڑ رہی ہے ۔ اس لیے اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں سے بچنے کا حکم دیا : عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا شِبْرًا ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْيَهُودُ ، وَالنَّصَارَى ، قَالَ : فَمَنْ ۔ (صحیح بخاری رقم : ۶۸۰۲،چشتی)

ترجمہ : حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی بالشت بر بالشت اور ہاتھ بر ہاتھ پیروی کرو گے ، حتی کہ اگر وہ گوہ کے بل میں داخل ہوئے تو تم بھی ان کی پیروی میں اس میں داخل ہو گے ، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا یہودیوں اور عیسائیوں کی ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور کون ؟

دور حاضر میں ایمان اور کفر کی تمیز کیے بغیر تمام لوگ ویلنٹائن ڈے جو مناتے ہیں اس کا مقصد بھی بغیر تفریق کے تمام لوگوں کے درمیان محبت قائم کرنا ہے اور اس میں شک نہیں کہ کفار سے دلی محبت قائم کرنا ممنوع اور غلط ہے ۔ جیسا کہ سورۃ المجادلۃ کی آیت نمبر ۲۲ میں ہے کہ : لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ ۔ اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ ۔ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ ۔ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ ۔ اُولٰٓىٕكَ حِزْبُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ ۔

ترجمہ : تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ اُن کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے اُن کی مدد کی اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں اُن میں ہمیشہ رہیں اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی یہ اللہ کی جماعت ہے سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے ۔


اس موقع پر نکاح کے بندھن سے ہٹ کر ایک آزاد اور رومانوی قسم کی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے جس میں لڑکے لڑکیوں کا آزادانہ ملاپ ، تحفوں اور تمام چیزوں کا لین دین اور غیراخلاقی حرکات کا نتیجہ زنا اور بداخلاقی کی صورت میں نکلتا ہے جو اس بات کا اظہار ہے کہ: ہمیں مرد اور عورت کے درمیان آزادانہ تعلق پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ اگر اہل مغرب کی طرح ہمیں اپنی بیٹیوں سے عفت مطلوب نہیں ۔ اور اپنے نوجوانوں سے پاک دامنی درکار نہیں ۔ تو قرآن کریم کی سورۃ النور کی آیت نمبر ۱۹ میں ایسے لوگوں کے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب کی وعید وارد ہوئی ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ ۔

ترجمہ : وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُرا چرچا پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ تم پر نہایت مہربان مہروالا ہے توتم اس کامزہ چکھتے ۔


اس آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو یہ ارادہ کرتے اور چاہتے ہیں کہ مسلمانوں  میں بے حیائی کی بات پھیلے ان کےلیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ دنیا کے عذاب سے مراد حد قائم کرنا ہے، چنانچہ عبد اللہ بن اُبی، حضرت حَسّان اور حضرت مِسْطَحْ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا کو حدلگائی گئی اور آخرت کے عذاب سے مراد یہ ہے کہ اگر توبہ کئے بغیر مر گئے تو آخرت میں  دوزخ ہے۔ مزید فرمایا کہ  اللہ تعالیٰ دلوں  کے راز اور باطن کے احوال جانتا ہے اور تم نہیں  جانتے ۔(تفسیر مدارک صفحہ ۷۷۴)


 اشاعت سے مراد تشہیر کرنا اور ظاہر کرنا ہے جبکہ فاحشہ سے وہ تمام اَقوال اور اَفعال مراد ہیں  جن کی قباحت بہت زیادہ ہے اور یہاں  آیت میں  اصل مراد زِنا ہے ۔ (تفسیر روح البیان النور جلد ۶ صفحہ ۱۳۰،چشتی) ۔ البتہ یہ یاد رہے کہ اشاعتِ فاحشہ کے اصل معنیٰ میں بہت وسعت ہے چنانچہ اشاعتِ فاحشہ میں  جو چیزیں  داخل ہیں  ان میں  سے بعض یہ ہیں : ⏬


(1) کسی پر لگائے گئے بہتان کی اشاعت کرنا ۔


(2) کسی کے خفیہ عیب پر مطلع ہونے کے بعد اسے پھیلانا ۔


(3) علمائے اہلسنّت سے بتقدیر ِالٰہی کوئی لغزش فاحش واقع ہو تو ا س کی اشاعت کرنا ۔


(4) حرام کاموں  کی ترغیب دینا ۔


(5) ایسی کتابیں  لکھنا، شائع کرنا اور تقسیم کرنا جن میں  موجود کلام سے لوگ کفر اور گمراہی میں  مبتلا ہوں ۔


(6) ایسی کتابیں ، اخبارات ، ناول ، رسائل اور ڈائجسٹ وغیرہ لکھنا اور شائع کرنا جن سے شہوانی جذبات متحرک ہوں ۔


(7) فحش تصاویر اور وڈیوز بنانا ، بیچنا اور انہیں  دیکھنے کے ذرائع مہیا کرنا ۔


(8) ایسے اشتہارات اور سائن بورڈ وغیرہ بنانا اور بنوا کر لگانا ، لگوانا جن میں  جاذِبیت اور کشش پیدا کرنے کےلیے جنسی عُریانِیَّت کا سہارا لیا گیا ہو ۔


(9) حیا سوز مناظر پر مشتمل فلمیں اور ڈرامے بنانا،ان کی تشہیر کرنا اور انہیں  دیکھنے کی ترغیب دینا ۔


(10) فیشن شو کے نام پر عورت اور حیا سے عاری لباسوں  کی نمائش کرکے بے حیائی پھیلانا ۔


(11) زنا کاری کے اڈّے چلانا وغیرہ ۔


مذکورہ تمام کاموں  میں  مبتلا حضرات کو چاہیے کہ خدارا ! اپنے طرزِ عمل پر غور فرمائیں  بلکہ بطورِ خاص ان حضرات اور حکمرنوں کو زیادہ غورکرنا چاہیے جو فحاشی وعریانی اور اسلامی روایات سے جدا کلچر کو عام کر کے مسلمانوں کے اخلاق اور کردار میں بگاڑ پیدا کر رہے ہیں  اور بے حیائی ، فحاشی و عریانی کے خلاف اسلام نے نفرت کی جو دیوار قائم کی ہے اسے گرانے کی کوششوں  میں  مصروف ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں  ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے اور درج ذیل تین احادیث پر بھی غورو فکر کرنے اور ان سے عبرت حاصل کر نے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔


حضرت جریر رَضِیَ اللہ عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے اسلام میں  اچھا طریقہ رائج کیا ، اس کےلیے اسے رائج کرنے اور اپنے بعد اس پر عمل کرنے والوں  کا ثواب ہے ، اور ان عمل کرنے والوں  کے ثواب میں  سے بھی کچھ کم نہ ہوگا اور جس نے اسلام میں  بُرا طریقہ رائج کیا ، اس پر اس طریقے کو رائج کرنے اور اس پر عمل کرنے والوں  کا گناہ ہے اور ان عمل کرنے والوں  کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی ۔ (صحیح مسلم کتاب الزکاۃ باب الحث علی الصدقۃ ولو بشقّ تمرۃ۔۔۔ الخ، ص۵۰۸، الحدیث: ۶۹،چشتی)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روم کے شہنشاہ ہرقل کو جو مکتوب بھجوایا ا س میں  تحریر تھا کہ (اے ہرقل!) میں  تمہیں  اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں ،تم اسلام قبول کر لو تو سلامت رہو گے اور  اللہ تعالیٰ تمہیں  دُگنا اجر عطا فرمائے گا اور اگر تم (اسلام قبول کرنے سے) پیٹھ پھیرو گے تو رِعایا کا گناہ بھی تم پر ہوگا ۔ (صحیح بخاری کتاب بدء الوحی، ۶باب، ۱ / ۱۰، الحدیث: ۷)


حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ  اللہ عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ظلماً قتل کیا جاتا ہے تو اس کے ناحق خون میں  حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پہلے بیٹے (قابیل) کا حصہ ضرور ہوتا ہے کیونکہ اسی نے پہلے ظلماً قتل کرناایجاد کیا ۔ (صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب خلق آدم صلوات  اللہ علیہ وذرّیتہ ۲ / ۴۱۳ الحدیث : ۳۳۳۵)


نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو معاشرہ قائم فرمایا تھا اس کی بنیاد حیا پر رکھی جس میں زنا کرنا یہ نہیں بلکہ اس کے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم ہے مگر اب لگتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی حیا کے اس بھاری بوجھ کو زیادہ دیرتک اٹھانے کے لئے تیار نہیں بلکہ اب وہ حیا کے بجائے وہی کریں گے جو ان کا دل چاہے گا جو یقیناً مذموم ہے ۔ ایسے حالات میں ہمیں عفت و پاکدامنی کو ہاتھ سے چھوٹنے نہ دینا چاہیے اور اپنی تہذیب و تمدن ، ثقافت و روایات کو اپنانا چاہیے ۔ غیروں کی اندھی تقلید سے باز رہنا چاہیے تا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں اور جان لینا چاہیے کہ یوم تجدید محبت منانے کے نام پر کھلم کھلا بے راہ روی کی ترغیب دی جا رہی ہے اور اسلامی معاشرے میں ان غیرمسلموں کے تہواروں کو جان بوجھ کر ہوا دی جا رہی ہے تا کہ مسلمان اپنے مبارک اور پاک تہوار چھوڑ کر غیراسلامی تہوار منا کر اسلام سے دور ہو جائیں ۔ ویلنٹائن ڈے منانا اور غیرشرعی محبت اور اس کا اظہار ناجائز و گناہ کبیرہ ہے ۔ افسوس ویلنٹائن ڈے کے موقع پر لوگ اللہ عزوجل اور اس کے رَسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کے کاموں پر خوشی کا اِظہار کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں غیر مُسلموں کے ہر انداز و طریقۂ کار کو چھوڑ کر ، اِسلامی شِعار (طریقہ) و عادات کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

آنکھ کے بدلے آنکھ ، قصاص میں قوموں اور لوگوں کی زندگی ہے

آنکھ کے بدلے آنکھ ، قصاص میں قوموں اور لوگوں کی زندگی ہے محترم قارئینِ کرام اللہ عزوجل کا فرمان ہے : وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ ...