میوزک مطلقاً ناجائز و حرام ہے ، کوئی میوزک حلال نہیں جہلائے زمانہ نام نہاد محککین کو مدلل جواب
محترم قارئینِ کرام : گانے سننا حرام اور برا فعل ہے ، اور یہ دلوں کے مرض اور ان کی سختی اور اللہ کے ذکر اور نماز سے دور کرنے والے اسباب میں سے ایک سبب ہے، اور اکثر اہل علم نے اللہ تعالی کے اس فرمان: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ (سورۃ لقمان:6) ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻟﻐﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻛﻮ ﻣﻮﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔} کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد گانے باجے ہیں۔ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس بات پر قسم کھاتے تھے کہ لغو باتوں سے مراد گانا ہے۔ اور اگر گانے کے ساتھـ آلات لہو و لعب ہوں، جیسے: رباب، سارنگی، دو تارہ اور ڈھول تو اس کی حرمت اور زیادہ سخت ہوجائے گی۔ اور بعض علماء نے ذکر کیا ہے کہ گانا آلاتِ لہو و لعب (موسیقی) کے ساتھـ ہو تو وہ بالاتفاقِ علماء حرام ہے؛ لہذا اس سے بچنا چاہیے ۔
مسند بزار میں ہے : صوتان ملعونان في الدنيا والآخرة ، مزمار عند نعمة ، ورنة عند مصيبة ۔
ترجمہ : دو آوازیں دنیا و آخرت میں ملعون ہیں : نعمت کے وقت باجے کی آواز اور مصیبت کے وقت رونے کی آواز ۔(مسند بزار، مسند ابی حمزہ انس بن مالک جلد 14 صفحہ 62 مطبوعہ مدینۃ المنورہ)
عن ابي امامة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله بعثني رحمة للعالمين وهدى للعالمين، وامرني ربي بمحق المعازف والمزامير والاوثان والصلب ۔
ترجمہ : حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک میرے رب نے مجھے دو نوں جہانوں کےلیے رحمت اور ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور میرے رب نے مجھے بانسری اور گانے باجے کے آلات ،بت اور صلیب توڑنے کا حکم دیا ہے ۔ (مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابو امامہ باھلی جلد 36 صفحہ 640 مؤسسۃ الرسالہ،چشتی)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان اللہ حرم علیکم الخمر والمیسر والکوبۃ وقال کل مسکر حرام ۔
ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوا اور کوبہ (ڈھول)حرام کیا اور فرمایا : ہر نشہ والی چیز حرام ہے ۔ (سنن الکبری للبیھقی،کتاب الشھادات جلد 10 صفحہ 360 دار الکتب العلمیہ بیروت)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لیکونن فی امتی اقوام یستحلون الحر و الحریر و الخمر و المعازف ۔
ترجمہ : ضرور میری امت میں وہ لوگ ہونے والے ہیں جو عورتوں کی شرمگاہ (زنا )اور ریشمی کپڑوں اور شراب اور باجوں کو حلال ٹھہرائیں گے ۔ (صحیح بخاری کتاب الاشربۃ رقم الحدیث 5590 جلد 7 صفحہ 106 دار طوق النجاۃ،چشتی)
الہدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی میں ہے : و دلت المسئلۃعلی أن الملاھی کلھا حرام حتی التغنی لضرب القضیب ۔
ترجمہ : یہ مسئلہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ گانے باجے کے آلات سب حرام ہیں ، یہاں تک کہ کسی چیز پر لکڑی کی ضرب لگاکر موسیقی پیدا کرنا بھی ۔ (الهدایۃ جلد 4 صفحہ 365 دار احیاء التراث العربی بیروت)
امام محمد امین ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ درمختار کی اس عبارت ، وکرہ کل لھو ، کے تحت فرماتے ہیں : والإطلاق شامل لنفس الفعل و استماعہ کالرقص و السخریۃ والتصفیق و ضرب الأوتار من الطنبور و البربط و الرباب والقانون والمزمار و الصنج و البوق فإنھا کلھا مکروھۃ لأنھا زی الکفار واستماع ضرب الدف والمزمار و غیر ذلک حرام ۔
ترجمہ : لہو و لعب کا کرنااور اس کا سننا سب اس مکروہ ہونے میں داخل ہے ۔ جیسے رقص ، مذاق مستی ، تالی اور سارنگی اور بغیر تاروں اور تاروں والا باجہ بجانا اور بانسری ، جھانجھ اور بگل بجانا ۔ پس یہ تمام میوزیکل آلات بجانا مکر ہے کہ یہ کفار کی ہیئت ہے اور دف اور بانسری اور اس کے علاوہ اسی قبیل کی چیزوں کا سننا بھی حرام ہے ۔ (رد المحتار جلد 9 صفحہ 566 مطبوعہ کوئٹہ،چشتی)
سنن ابی داؤد میں ہے:”و عن نافع قال:سمع ابن عمر مزمارا قال: فوضع أصبعيه في أذنيه وناء عن الطريق وقال لي: يا نافع هل تسمع شيئا؟ فقلت: لا، قال:فرفع أصبعيه عن أذنيه و قال: كنت مع النبی صلى الله عليه وسلم فسمع مثل ھذا فصنع مثل ھذا “ترجمہ:حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ راستے سے گزرے تو آلات موسیقی کی آواز آپ کے کانوں میں پڑی ، آپ رضی اللہ عنہ نے کانوں میں انگلیاں ڈال دیں اور اس راستے سے ہٹ گئے پھر مجھ سےکہا:اے نافع! کیا تمہیں آواز آرہی ہے؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں سے ہٹائیں اور کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کی آواز سنی تو اسی طرح کا عمل کیا۔(سنن ابی داؤد،ج4،ص281، مطبوعہ بیروت)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :ان فی امتی خسفاً و مسخاً و قذفاً۔ قالوا: یا رسول اللہ وھم یشھدون أن لا الہ الا اللہ؟ فقال: نعم، اذا ظھرت المعازف والخمور ولبس الحریر“ ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں خسف (زمین میں دھنسا دینا) مسخ (شکلیں بگڑجانا) اور قذف (پتھروں کی بارش) (بھی) ہوگا۔ صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کی یا رسول اللہ درآنحالیکہ وہ اس کی گواہی دیتے ہوں گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟ تو فرمایا: ہاں، جب ان میں آلاتِ موسیقی‘ شراب نوشی اور ریشم کا استعمال عام ہوجائے گا۔(مصنف ابن ابی شیبۃ،جلد7،صفحہ501، طبع ریاض)
امام اہلسنت امام احمدر ضا خان قادری رحمۃ اللہ ارشاد فرماتے ہیں : مزامیر(یعنی گانے بجانے کے آلات) حرام ہیں ۔ صیح بخاری شریف کی حدیث صحیح میں حضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قوم کاذکرفرمایا:یستحلون الحر والحریر والمعازف" زنا اور ریشمی کپڑوں اور باجوں کو حلال سمجھیں گےاور فرمایا: وہ بندراور سورہوجائیں گے۔ ہدایہ وغیرہ کتب معتمدہ میں تصریح ہے کہ مزامیر حرام ہیں۔ حضرت سلطان الاولیاء محبوب الٰہی نظام الحق والدّین رضی اﷲ تعالی عنہ فوائد الفوادشریف میں فرماتے ہیں: مزامیر حرام است۔(یعنی گانے بجانے کے آلات حرام ہیں ۔ )"(فتاوی رضویہ ،جلد24، صفحہ138،رضافاؤنڈیشن،لاهور)
حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو، اور نہ انہیں (گانا) سکھاؤ، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں» (سورۃ لقمان:٦)۔[سنن سعيد بن منصور:1721، سنن الترمذي:1282، تفسير ابن أبي حاتم:17523، سلسلة الأحاديث الصحيحة:2922]
اور رسول الله صلى الله عليه وسلم سے صحيح سند سے یہ ثابت ہے كہ آپ نے فرمایا: میری امت کے کچھـ اقوام زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال سمجھیں گے۔[ابوداؤد:4039]
حضرت ابو امامہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا رحمت اور ہدایت سارے جہاں والوں کےلیے ، مجھے بھیجا تاکہ میں بانسریاں باجے اور تمام آلات موسیقی اور جاہلیت کی باتوں کو اور بتوں کو مٹا ڈالوں،[أخرجه الطيالسى:1230 ، أحمد:22307 ، الطبرانى:7803، شعب الإيمان للبيهقي:6108 ، ذم الملاهي لابن أبي الدنيا:69، المنهيات، الحكيم الترمذي:ص91، الكبائر للذهبي:ص85]
بہت سے دلائل سے معلوم ہوتاا ہے کہ گانا سننا اور اس میں مشغول ہونا خاص طور پر جب تفریحی آلات کے ساتھـ ہو جیسے سارنگی اور موسیقی وغیرہ کے ساتھـ تو یہ شیطان کے بڑے فریبوں میں سے ہے، اور اس کے ان جالوں میں سے ہے جس سے وہ جاہلوں کے دلوں کو شکار کرتا ہے، اور اس کے ذریعے سے قرآن سننے سے روکتا ہے، اور ان کے لئے فسق اور نافرمانی میں مشغول رہنا محبوب کرتا ہے، نیز گانا شیطان کا قرآن، اور اس کی بانسری، اور زنا کی منتر، اور لواطت کی اور شر اور فساد کے مختلف قسموں کو دعوت دینے والا ہے، اور یقیناً ابو بکر طرطوشى اور دیگر اہل علم نے ائمہ اسلام سے حکایت کی ہے کہ انہوں نے گانے کی مذمت کی اور تفریحی آلات کی، اور اس سے پرہیز کیا، اور حافظ علامہ ابو عمرو بن صلاح رحمہ الله نے سارے علماء سے اس گانے کی حرمت نقل کی ہے، جو سارنگی وغیرہ جیسے تفریحی آلات میں سے کسی چیز پر مشتمل ہو، یہ اس لئے کیونکہ گانے اور ساز میں دل کی بیماریاں، اور اخلاق کا فساد، اور اللہ کی ذکر اور نماز سے رکاوٹ ہوتی ہے، اور یقینا گانا اس لغو میں شامل ہے جس کی اللہ نے مذمت اور عیب جوئی کی ہے، اور اس سے دل میں نفاق پیدا ہوتا ہے، جس طرح پانی سے دانہ اگتا ہے، خصوصی طور پر جب یہ ان گلوکار مرودوں اور عورتوں سے جو اس کےلیے مشہور ہوں، تو اس کا ضرر اور خطرناک اور دلوں کو فاسد کرنے میں زیادہ شدید ہوگا، اللہ تعالی فرماتا ہے: ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻟﻐﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻛﻮ ﻣﻮﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ ﺑﮯﻋﻠﻤﯽ ﻛﮯ ﺳﺎتھـ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﺍللہ ﻛﯽ ﺭﺍﮦ ﺳﮯ ﺑﮩﲀﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭﺍﺳﮯ ﮨﻨﺴﯽ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ، ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﺳﻮﺍ ﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻋﺬﺍﺏ ﮨﮯ۔(سورۃ لقمان:6) ﺟﺐ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﯾﺘﯿﮟ ﺗﻼﻭﺕ ﻛﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﻜﺒﺮ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﻮﯾﺎ ﻛﮧ ﺍﺱ ﻛﮯﺩﻭﻧﻮﮞ کاﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﭦ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺁﭖ ﺍﺳﮯ ﺩﺭﺩ ﻧﺎﻙ ﻋﺬﺍﺏ ﻛﯽ ﺧﺒﺮ ﺳﻨﺎ ﺩﯾﺠﺌﮯ ۔ ، واحدی اور دیگر اکثر مفسریں نے کہا ہے، ابن مسعود رضی الله عنہ جو بڑے صحابہ اور ان کے علماء میں سے تھے، وہ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس کی قسم کھا کر کہتے تھے کہ لغو بات سے مراد گانا ہے، اور آپ رضی اللہ عنہ فرماتے کہ: گانا دل میں ایسے ہی نفاق اگاتا ہے۔[سنن أبي داود: 4927][شعب الإيمان للبيهقي: 4746]۔[شعب الإيمان للبيهقي: 4746](صحيح عن ابن مسعود من قوله ، وقد روي عن ابن مسعود مرفوعا)[تحريم آلات الطرب، لالبانی:10، المغنی لابن قدامہ:14/ 161، غاثة اللهفان:1/ 372]
اور صحابہ اور تابعین میں اسلاف سے گانے اور تفریحی آلات کی مذمت، اور اس سے پرہیز کرنے کے بارے میں بہت سارے آثار وارد ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:میری امت سےاقوام ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال سمجھیں ۔ امام بخاری نے اسے روايت كيا ہے۔ اور الحر حرام شرمگاہ کو کہتے ہیں، اور اس سے مراد زنا ہے، اور ساز سے مراد ہر تفریحی آلہ ہے جیسے موسیقی، طبلہ، سارنگی، رباب، اور تانت وغیرہ، علامہ ابن قیم "كتاب الإغاثة" میں لکھا ہے کہ: المعازف کی تفیسر ہر تفریحی آلات سے کرنے میں اہلِ لغت کے درمیان اختلاف نہیں ہے۔ اور ترمذیؒ نے عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت کی ہے کہتے ہیں کہ: رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمايا: میری امت میں سنگ باری اور خسف ومسخ (زمین میں دھنسنے اور اشکال کی تبدیلی) کے واقعات ہوں گے، تو ایک مسلمان شخص نے کہا کہ : اے اللہ کے رسول ! یہ سب کب ہوگا ؟ تو آپ نے فرمایا: جب لونڈی بازی اور موسیقی عام ہو جائے، اور شراب نوشی کھلے عام ہونے لگے۔[ترمذی:2212]
اور احمد نے اپنی مسند میں جيد اسناد کے ساتھـ تخريج كی ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقیناً اللہ تعالی نے شراب، جوّا، طبلہ، اور ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے۔[ابوداود:3696] اور اس حدیث کے ایک راوی سفیان نے کہا کہ: الکوبہ سے مراد طبلہ ہے، اور گانے اور لغو باتوں کی مذمت میں بہت سارے آثار وارد ہیں جو اس مقالے میں بیان کرنا ممکن نہیں ہیں، اور جو ہم نے ذکر کیا ہے حق کے طلبگار کےلیے اس میں کفایت اور قناعت ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ریڈیو اسٹیشن کو گانے اور تفریحی آلات بہم پہنچانے کے دعویدارں کی عقل میں خلل پیدا ہوا ہے یہاں تک کہ قبیح کو اچھا اور اچھے کو قبیح محسوس کرنے لگے، اور اس کی طرف بلانے لگے جو ان کے لئے اور دوسروں کے لئے نقصاندہ ہے، اور وہ اس سے پیدا ہونے والے نقصانات اور شر اور فساد کی پرواہ نہیں کرتے، اور اللہ تعالی نے کیا ہی خوب فرمایا ہے: ﻛﯿﺎ ﭘﺲ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﺲ کےلیے ﺍﺱ ﻛﮯ ﺑﺮﮮ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻣﺰﯾﻦ ﻛﺮﺩﯾﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ، ﭘﺲ ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ (ﻛﯿﺎ ﻭﮦ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺷﺨﺺ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ ؟ ) ، ( ﯾﻘﯿﻦ ﻣﺎﻧﻮ ) ﻛﮧ ﺍللہ ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺩﻛﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﭘﺲ ﺁﭖ ﻛﻮ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻏﻢ ﻛﮭﺎ ﻛﮭﺎ ﻛﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﮨﻼﻛﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﻨﯽ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ، ﯾﮧ ﺟﻮ ﻛﭽھ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﯾﻘﯿناً اللہ تعالیٰ ﺑﺨﻮﺑﯽ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﮯ۔[سورۃ الفاطر:8]
اور شاعر نے کیا ہی سچ کہا ہے : ⏬
آزمائش کے دنوں میں انسان پر گذرتی ہے
یہاں تک کی اس کو اچھا سمجھتا ہے جو اچھا نہیں ہوتا۔
بینڈ باجے اور موسیقی کی آواز : ⏬
حَدَّثَنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثنا أَبُو عَاصِم، حَدَّثنا شَبِيب بن بشر البجلي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُول اللهِ صَلَّى الله عَلَيه وَسَلَّم: صوتان ملعونان في الدنيا والآخرة: مزمار عند نعمة ورنة عند مصيبة.
[مسند البزار:14/62، مُسْنَدُ أَبِي حَمْزَةَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رقم الحدیث 7513]
حکم الحدیث: حسن۔[الأحاديث المختارة:2200+2201، صَحِيح الْجَامِع: 3801 , الصَّحِيحَة: 427]
المحدث : المنذري | المصدر : الترغيب والترهيب: 4/268 | خلاصة حكم المحدث : رواته ثقات
المحدث : ابن القيم | المصدر : مسألة السماع: 318 | خلاصة حكم المحدث : صحيح
المحدث : الهيثمي | المصدر : مجمع الزوائد: 16/3 | خلاصة حكم المحدث : رجاله ثقات
المحدث : الهيتمي المكي | المصدر : الزواجر: 1/159 | خلاصة حكم المحدث : رواته ثقات
وَيَأْذَنُ اللَّهُ تَعَالَى لِوَرَقِ الجنة فيقول انظروا عبادي الذين كانون يُنَزِّهُونَ أَنْفُسَهُمْ فِي الدُّنْيَا عَنِ الْبَرَابِطِ وَالْمَعَازِفِ فَنَغَمَتُهُنَّ بِأَحْسَنِ أَصْوَاتٍ مِنْ نَغَائِمِ الطَّيْرِ ۔ [تاريخ واسط ، بحشل (م٢٩٢ھ) : ص211]
موسیقی کے ساتھ نعت پڑھنا کیسا ہے ؟ : ⏬
شریعتِ مطہرہ نے موسیقی سے منع فرمایاہے۔ چنانچہ اس کی ممانعت کس قدر سختی سے کی گئی اس کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی ہوسکتا ہے ،ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں طبل کی آواز آنا شروع ہوگئی آپ نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں تاکہ یہ آوا ز غیر اختیاری طور پربھی آپ کے کانوں میں نہ پڑے، پھر آپ وہاں سے ہٹ گئے اور تین دفعہ ایسا ہی کیا پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسی طرح کیاتھا۔ کیا یہ واقعہ اس بات پر دلالت کرنے کیلئے کافی نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے صحابہ کو موسیقی سے کس قدر نفرت تھی ۔
اس کے علاوہ ایک روایت میںفرمایاکہ جب میری امت پندرہ چیزوں میں مبتلا ہو جائے گی تو ان میں مصائب کا نزول شروع ہوجائے گا ان چیزوں میں سے ایک چیز آپ نے یہ بھی ذکر فرمائی کہ جب ان میں گانے والیاں اور آلات موسیقی عام ہوجائیں گے ۔
اب اس کے بعد ہر صاحب بصیرت شخص یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ جس چیز سے آپ کو اس قدر نفرت تھی کہ آپ اس کی آواز سننا پسند نہیں فرماتے تھے تو اب اگر اسی کے ساتھ آپ کا ذکرمبارک کیا جائے اور اسے ثواب بھی گردانا جائے تو اس سے بڑھ کر اور حماقت کیا ہوگی ۔ یہی وجہ ہے کہ ملا علی قاری نے اپنی کتاب شرح فقہ اکبر میں احناف کی کتب کے حوالے سے یہ جزئیہ نقل کیا ہے : من قرأ القرآن علی ضرب الدف والقضیب یکفر (شرح فقہ اکبر صفحہ ۱۶۷)
ترجمہ : جو شخص کلام مقدس کو دف یا بانسری پر پڑھے وہ کافر ہے ۔
اس کے بعد اپنا فتویٰ نقل کرتے ہوئے ملا علی قاری حنفی فرماتے ہیں : قلت !ویقرب منہ ضرب الدف والقضیب مع ذکر اللہ تعالی ونعت المصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، وکذا التصفیق علی الذکر ۔
ترجمہ : اسی ( کفر) کے قریب ہے دف اور بانسری بجانا اللہ کے ذکر اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت کے ساتھ ، اور یہی حکم ذکر کے ساتھ تالی بجانے کا ہے ۔
یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں دف وغیرہ کا ذکر ہے جس کا بعض مواقع پر جواز بھی ثابت ہے،اور رہی آجکل کی موسیقی اس کے ناجائز ہونے میں تو کسی کا اختلاف بھی نہیں،اس کے بعد بھی اتنی جرأت ؟وہ ذات رؤف وکریم ہے ورنہ ہمارے اس فعل پر نہ معلوم ہمارے اوپر کیا کچھ نازل ہوجاتااور ہم اسی کے مستحق تھے ،کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جب ہم نے سرعام مذاق اڑانا شروع کردیا آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ یہ مذاق ہے یا نہیں؟ کہ جس چیز سے آپ منع کریں ہم نہ صرف وہی کام کریں بلکہ اسے علی الاعلان کرتے ہوئے اس پر یہ بھی سمجھیں کہ ہمیں اس پر ثواب بھی مل رہا ہے،تعجب ہے مسلمانوں کی سوچ پر کہ نہ معلوم انہیں کیا ہوگیا ہے کہ العیاذ بااللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کو انہوں نے فرمانبرداری سمجھ کر اس پر فخر کرنا شروع کر دیا ۔اللہ تعالی ہمیں دین کی حقیقی سمجھ عطاء فرمائے آمین ۔
لما فی قولہ تعالی :وَمِنَ النَّاسِ مَن یَّشْتَرِیْ لَھْوَالْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّخِذَھَا ھُزُوًا اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ o(لقمان:۶)
وفی جامع الترمذی (۴۴/۲): عن علی بن ابی طالب قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : اذا فعلت امتی خمس عشرۃ خصلۃ حل بھاالبلاء… واتخذت القیان والمعازف۔
وفی ابن ماجۃ (صـ۱۳۷):حدثنا محمد بن یحی …عن مجاھد قال کنت مع ابن عمر فسمع صوت طبل فادخل اصبعیہ فی اذنیہ ثم تنحی حتی فعل ذلک ثلاث مرات ثم قال ھکذا فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
وفی بدائع الصنائع (۵۱۳/۶):…دلت المسئلۃ علی ان مجرد الغناء معصیۃ وکذا الاستماع الیہ وکذا ضرب القصب والاستماع الیہ الا تری ان اباحنیفۃ رضی اللہ عنہ سماہ ابتلاء۔
وفی الدرالمختار (۳۴۸/۶): وفی السراج ودلت المسئلۃ ان الملاھی کلھا حرام ویدخل علیھم بلااذنھم لانکار المنکر قال ابن مسعود صوت اللھو والغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء النبات۔
واضح رہے کہ احادیث اور عبارات فقہ سے مزامیر اور ملاہی کی حرمت روز روشن کی طرح معلوم ہے۔ البتہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے کچھ شرائط سے جواز کی طرف میلان کیا ہے۔ اور وہ شرائط ان قوالوں میں معدوم اور مفقود ہیں۔ لہٰذا ان کو جائز سمجھنے والوں پر کفر کا شدید خطرہ موجود ہے۔ یہ لوگ اپنی بدمعاشیوں اور عیاشیوں پر ان بزرگوں کے کلام سے پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن فقہ حنفی نے ان (مستحلی الرقص والغناء) کو کافر کہا ہے ۔ قال ابن عابدین (قولہ ومن یستحل الرقص قالوا بکفرہ)المرادبہ التمائل والخفض والرفع بحرکات موزونۃ کما یفعلہ بعض من ینتسب الی التصوف وقد نقل فی البزازیہ عن القرطبی اجماع الائمۃ علی حرمۃ ھذاالغناء وضرب القضیب والرقص قال ورأیت فتویٰ شیخ الاسلام جلال الملۃ والدین الکر مانی ان مستحل ھذا الرقص کافر وتما مہ فی شرح الوھبانیۃ ونقل فی نور العین عن التمھید انہ فاسق لا کافر ثم قال التحقیق القاطع للنزاع فی امرالرقص والسماع یستدعی تفصیلا ذکرہ فی عوارف المعارف واحیاء العلوم وخلاصتہ ما اجاب بہ العلامۃ النحریر ابن کمال باشا الخ۔(ردالمحتار ہامش الدر المختار ص۳۳۷ جلد ۳ قبیل باب البغاۃ مطلب فی مستحل الرقص)
سماع اور غنیٰ میں فرق : ⏬
سماع کے معنیٰ سننے کے ہیں، عرف میں اس سے مراد گانا سننا ہوتا ہے، اور غناء کے معنیٰ گانے کے ہیں، پس سماع گانا "سننے" اور غناء گانا "گانے" کو کہتے ہیں ۔ قرآن، حدیث یا نعت سننے کو عرف میں سماع نہیں کہتے ۔
علاوہ ازیں موسیقی کی حرمت کے دلائل پر اگر غور کیا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جن وجوہ کی بنأ پر موسیقی سننا حرام ہے‘ وہ تمام کی تمام موسیقی کی کیسٹ میں بھی پائی جاتی ہیں‘ مثلاً: شہوت کا بیدار ہونا اور تلذذکا حاصل ہونا‘ یہ دونوں صورتوں میں پیدا ہوتے ہیں‘ یہ الگ بات ہے کہ اگرموسیقی گانے والوں سے براہ راست سنی جائے تو اس کا منفی اثر زیادہ ہوتا ہے۔ الغرض موسیقی خواہ براہ راست سنی جائے یا اس کی کیسٹ سنی جائے اس سے دل میں نفاق پیدا ہوتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے : الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء الزرع ۔ (شعب الإیمان للبیھقی ،الباب الرابع والثلاثون فی حفظ اللسان، فصل فی حفظ اللسان عن الغناء: ۴؍۲۷۹،رقم الحدیث(۵۱۰۰) ط:دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)
امام احمدرضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ ارشادفرماتے ہیں : مزامیرحرام ہیں ۔ صحیح بخاری شریف کی حدیث صحیح میں حضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قوم کاذکرفرمایا : یستحلون الحر والحریر والمعازف ، زنا اور ریشمی کپڑوں اور باجوں کو حلال سمجھیں گے اور فرمایا : وہ بندر اور سور ہو جائیں گے ۔ ہدایہ وغیرہ کتب معتمدہ میں تصریح ہے کہ مزامیر حرام ہیں ۔ حضرت سلطان الاولیاء محبوب الٰہی نظام الحق والدّین رضی اللہ عنہ فوائد الفواد شریف میں فرماتے ہیں : مزامیر حرام است ، یعنی گانے بجانے کے آلات حرام ہیں ۔ (فتاوی رضویہ جلد 24 ، صفحہ 138 رضافاؤنڈیشن لاهور)
بہار شریعت میں ہے : ناچنا ، تالی بجانا ، ستار ، ایک تارہ ، دو تارہ ، ہارمونیم ، چنگ ، طنبورہ بجانا ، اسی طرح دوسرے قسم کے باجے سب ناجائز ہیں ۔ (بہار شریعت حصہ 16 صفحہ 511 مکتبۃ المدینہ کراچی) ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔



















No comments:
Post a Comment