Thursday, 30 July 2020

رافضیوں کا غلیظ ترین عقیدہ ابوبکر و عمر کو قبر سے نکال کر جلائیں گے

رافضیوں کا غلیظ ترین عقیدہ ابوبکر و عمر کو قبر سے نکال کر جلائیں گے

محترم قارئینِ کرام : خدا را ایک بار اس مختصر مضمون کو غور سے ضرور پڑھیے گا ۔ نقلِ کفر کفر نہ باشد ۔ فقیر کا مقصد صرف اُن مردہ ضمیروں کو جگانا ہے جو ایسے غیلظ عقائد و نظریات رکھنے والے رافضیوں کی چاپلوسی کرتے ہیں ۔ انہیں اپنے اسٹیجوں پر بلاتے ہیں اُن کے گیت گاتے ہیں اور اُن مجالس و محافل میں جاتے ہیں ۔ اور اِن غلیظ عقائد و نظریات کے پھیلانے کا سبب بنتے اور خاموش رہتے ہیں ۔ خدا را اے مسلمانو جاگو اِس نسلِ ابن سباء یہودی اور اِن کے غلیظ عقائد و نظریات سے خود بھی بچو اور اپنی نسلوں کو بھی بچاؤ آیئے دل پر ہاتھ کر پڑھیں : ⏬

امام مہدی (رضی اللہ عنہ) مدینے میں آتے ہی پہلا کام حضرت مہدی (رضی اللہ عنہ) کا یہ ہے کہ ان ہر دو (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کو قبر سے باہر نکالیں گے وہ اپنی اسی صورت پر تروتازہ بدن کے ساتھ باہر نکالے جائیں گے پھر فرمائیں گے کہ : ان کا کفن اتارو ، ان کا کفن حلق سے اتارا جائے گا ، ان کو اللہ کی قدرت سے زندہ کریں گے اور تمام مخلوق کو جمع ہونے کا حکم دیں گے پھر ابتداء عالم سے لے کر اخیر عالم تک جتنے ظلم اور کفر ہوئے ہیں ان سب کا گناہ ابوبکر و عمر پر لازم کر دیں گے ، اور وہ اس کا اعتراف کریں گے کہ اگر وہ پہلے دن خلیفہ برحق کا حق غصب نہ کرتے تو یہ گناہ نہ ہوتے ، پھر ان کو درخت پر چڑھانے کا حکم دیں گے اور آگ کو حکم دیں گے کہ زمین سے باہر آئے اور ان کو درخت کے ساتھ جلادے ، اور ہوا کو حکم دیں گے کہ ان کی راکھ کو اڑا کر دریاؤں میں گرادے ۔ امام ، خدا کے اذن سے انہیں زندہ کریں گے اور ان پر لعنت کریں گے اور وہ اپنے کئے ہوئے گناہوں کا اعتراف کریں گے ، اگر کوئی ایک دانہ کے برابر بھی ان سے محبت کرتا ہو گا وہ وہاں ظاہر ہو جائے گی ، پھر امام علیہ السلام اجازت فرمائیں گے اور جتنے لوگ وہاں موجود ہونگے وہ قصاص لیں گے . پھر امام حکم دیں گے اور زمین سے آگ نکلے گی یہ آگ وہی آگ ہو گی جو حضرت زہراء (سلام اللہ علیہا) کے گھر پر جلائی گئی تھی وہ لکڑیاں اور آگ ان کو جلائے گی یہاں تک کہ یہ راکھ میں بدل جائیں گے پھر ہوا کو حکم ہو گا کہ انہیں جدا جدا دریا میں ڈال دو ۔ (حق الیقین جلد دوم صفحہ 34 ، 35 مترجم اردو مطبوعہ مجلس اسلامی پاکستان)(حق الیقین ملّا باقر مجلسی صفحہ نمبر ۳۶۱ ۔ ۳۶۲ مطبوعہ کتاب فروشي اسلامیہ تہران ایران ۱۳۵۷ھ۔)(احتجاج 449 اِعلام الوری 436)(عیون جلد 1 صفحہ 58)(کمال الدین 253 ـ 377)(الهدایة الکبری صفحہ 163،چشتی)(مثالب النواصب صفحہ 113)،(ارشاد القلوب جلد 2 صفحہ 285)(الایقاظ صفحہ 287)(بحار صفحہ 252 ـ 386 ، بحار جلد 3 صفحہ 277 ـ 276 جلد 36 صفحہ 245 جلد 52 صفحہ 379 و 283، ج 53، ص 12ـ4)

کیوں جناب پیرانِ عظام ، سجادہ نسینان ، ذیشان خطیب حضرات ، مفتیانِ کرام و نقیب حضرات یہ کفر نہیں ہے ؟ یہ گستاخی نہیں ہے ؟

یہاں آپ کے قلم ، لب ، فتوے ، تقوے ، گھن گرج غریتِ ایمانی سب خاموش کیوں ؟

اس طرح کے عقائد رکھنے والوں کے خلاف آج تک کتنے مفتیوں نے ویڈیو بنا کر اپلوڈ کی ہیں اور کتنے مفتیوں کے فتوے جاری ہوئے ہیں ؟

اور کتنے پیروں کو اس پر درد ہوا تکلیف ہوئی اور انہوں نے ان گستاخیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور احتجاجی جلسے جلوس کیئے ؟

آخر ان مفتیوں اور پیروں اس طرح کے شیعوں کے غلیظ عقائد پر سانپ کیوں سونگھ جاتا ہے کہاں ہیں مفتیانِ کرام ؟

کہاں ہیں پیرانِ عظام ؟

کہاں ہیں نقیبانِ محافل ؟

کہاں ہیں ذیشان خطیب حضرات ؟

یہاں آپ کی غیرتِ ایمانی کہاں دفن ہو گئی ؟

امید ہے آپ سب کی غیرتِ ایمانی جاگے گی اور اپنے مریدوں کی بھی جناب غیرت جگاٸیں اور سب کا ایمان بچاٸیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں گستاخوں اور ان کے گستاخانہ فتنوں و مجالس سے بچاۓ آآمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

No comments:

Post a Comment

کیا خطاءِ اجتہادی گناہ و گستاخی ہے ؟ خطاءِ اجتہادی کو گناہ و گستاخی بنانے والوں کے نام

کیا خطاءِ اجتہادی گناہ و گستاخی ہے ؟ خطاءِ اجتہادی کو گناہ و گستاخی بنانے والوں کے نام محترم قارئینِ کرام : شرعی حکم کو پہچاننے کےلیے اپنی پ...