Monday, 14 January 2019

ابن تیمیہ کو اللہ تعالیٰ نے رسوا ، اندھا ، بہرا اور ذلیل بنا دیا

ابن تیمیہ کو اللہ تعالیٰ نے رسوا ، اندھا ، بہرا اور ذلیل بنا دیا

علامہ امام حافظ ابن حجر مکی ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ابن تیمیہ ایسا بندہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے رسوا ، اندھا ، بہرا اور ذلیل بنا دیا ہے . اور اسی بات کی تصریح ان اماموں علیہم الرّحمہ نے بھی کی ہے جنہوں نے اس کے فاسد اور اس کے جھوٹے ہونے کو بیان کیا ہے ۔ جو شخص اسے جاننا چاہتا ہے وہ امام ابوالحسن سبکی مجتہد رحمۃ اللہ علیہ جن کی امامت ، جلالت ، شان اور مرتبہ کے اجتہادتک پہنچنے پر اتفاق ہے ، ان کے اور ان کے فرزند تاج اور شیخ امام عزالدین بن جماعہ اور شافعیہ ، مالکیہ اور حنفیہ علیہم الرّحمہ میں سے ان کے ہم عصر علماء کے کلام کو ملاحظہ کریں ، ابن تیمیہ نے صرف متاخرین صوفیہ علیہم الرّحمہ کے اوپر اعتراض کرنے پر اکتفا نہیں کیا ، بلکہ حضرت عمر بن خطاب اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما جیسے حضرات پر بھی اعتراض کیا ہے . خلاصہ یہ کہ اس کے کلام کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے بلکہ اسے کھڈے میں پھینک دیا جائے اور اس کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ بدعتی ، گمراہ کن ، جاہل اور غلو کرنے والا شخص ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اپنے عدل سے معاملہ کرے اور ہمیں اس کے عقیدے اور عمل سے محفوظ رکھے . آمین ۔ (الفتاوی ٰٰ الحدیثیہ عربی صفحہ نمبر 156 , 157 مطبوعہ قدیمی کتبخانہ کراچی،چشتی)۔(فتاویٰ حدیثیہ مترجم اردو صفحہ نمبر 335 مطبوعہ مکتبہ اعلیٰ حضرت دربار مارکیٹ لاہور)

No comments:

Post a Comment

نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر اور دعا کرنا مستند دلاٸل کی روشنی میں

نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر اور دعا کرنا مستند دلاٸل کی روشنی میں محترم قارٸینِ کرام : نماز کے بعد ذکر بالجہر کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ افضل...