وتر کی نماز تین رکعات ہیں مستند دلا ئل کی روشنی میں
محترم قارئینِ کرام : غیرمقلد وہابی حضرات اپنی ذمے لگائی گئی ڈیوٹی کے مطابق ہر اسلامی مسلے پر امتِ مسلمہ سے الگ تھلگ راستہ اختیار کرتے ہیں انہیں میں سے ایک نمازِ وتر بھی ہے جس کے متعلق یہ لوگ ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں کہتے ہیں کہ نمازِ وتر ایک رکعت ہے آیئے دلائل کی روشنی میں پڑھتے ہیں کہ نمازِ وتر کی کتنی رکعات ہیں ایک یا تین جب آپ مکمل دلائل پڑھ لیں تو سوچیئے گا ضرور آخر غیر مقلد وہابی حضرات کا کیا بنے گا اور یہ کس کے مشن پر ہیں :
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم وترکی تین رکعت ادا فرماتے تھے اور سلام آخر ہی میں پھیرتے تھے ۔ (سنن نسائی مترجم جلد اوّل کتاب قیام اللیل وتطوع النھار باب کیف الوتر بثلاث صفحہ نمبر 613 مطبوعہ ضیاء القرآن)
جیسے اور نمازوں میں آخری رکعت میں سلام پھیرا جاتا ہے ویسے ہی وتر میں بھی آخری رکعت میں سلام پھیرا جائے دو رکعت پر نہیں ۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زائد نہیں پڑھتے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم چار رکعت (تہجد) ادا کرتے پھر آپ تین رکعت (وتر) ادا فرماتے ۔ (صحیح بخاری کتاب التہجد جلد اول حدیث 1077 صفحہ 472)(مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)(صحیح مسلم شریف جلد اول کتاب صلوٰۃ المسافرین و قصرہا حدیث 1620 صفحہ 573 مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)
حضرت عبد ﷲ ابن عباس رضی ﷲ عنہما ایک طویل حدیث نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم نے تین مرتبہ دو دو رکعت کرکے چھ رکعت (تہجد) پڑھی اور اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم نے تین رکعت وتر ادا کئے ۔ (مسلم شریف جلد اول، کتاب صلوٰۃ المسافرین وقصرہا حدیث 1696 صفحہ 597 مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)
حضرت ابی بن کعب رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نماز وتر کی پہلی رکعت میں سورۃ الاعلی ، دوسری رکعت میں سورۃ الکافرون اور تیسری رکعت میں سورۃ الاخلاص پڑھتے اور تینوں رکعتوں کے آخر میں سلام پھیرتے تھے ۔ (سنن نسائی جلد اول کتاب قیام اللیل وتطوع النہار حدیث 1702 صفحہ 540 مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہور)
حضرت علی رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم تین رکعت و تر پڑھتے تھے ۔ امام ترمذی علیہ الرحمہ نے کہا اہل علم صحابہ کرام و تابعین کرام رضی اللہ عنہم کا یہی مذہب ہے ۔ (جامع ترمذی جلد اول ابواب الوتر حدیث 448 صفحہ 283 مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہور،چشتی)(زجاجۃ المصابیح باب الوتر جلد 2 صفحہ 263)
حضرت انس رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر تین رکعت ہے ۔ (طحاوی شریف)
سیدنا عبد ﷲ ابن عباس رضی ﷲ عنہما و ترکی تین رکعتوں میں تین سورتیں تلاوت فرماتے ۔ سبح اسم ربک الاعلیٰ اور قل یاایھا الکفرون اور قل ہو اﷲ احد ۔ (سنن نسائی جلد اول حدیث نمبر 1706 صفحہ 541 مطبوعہ فرید بک لاہور پاکستان)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم وتروں میں کیا پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا ۔ پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلیٰ ، دوسری میں قل یاایھا الکفرون اور تیسری میں قل ہو ﷲ احد پڑھتے تھے ۔ (سنن ابن ماجہ جلد اول باب ماجاء فیما یقرا فی الوتر حدیث نمبر 1224 صفحہ 336 مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہور،)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم نے فرمایا : وِتْرُ اللَّيْلِ ثَلَاثٌ، کَوِتْرِ النَّهَارِ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ۔
ترجمہ : دن کے وتروں یعنی نمازِ مغرب کی طرح رات کے وتروں کی بھی تین رکعات ہیں ۔ (سنن دار قطنی جلد 2 صفحہ 27)
نام وَر تابعی اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت قاسم بن محمد حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم نے فرمایا : صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَی مَثْنَی، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِفَ فَارْکَعْ رَکْعَةً تُوتِرُ لَکَ مَا صَلَّيْتَ ۔
ترجمہ : رات کی نماز کی دو دو رکعتیں ہیں۔ جب تم فارغ ہونا چاہو تو ایک رکعت اور پڑھ لو۔ یہ تمہاری پڑھی ہوئی نماز کو وتر بنا دے گی ۔ اِس کے بعد حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ اپنا قول یوں بیان کرتے ہیں : وَرَأَيْنَا أُنَاسًا مُنْذُ أَدْرَکْنَا يُوتِرُونَ بِثَلَاثٍ ۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا تو ہم نے لوگوں کو تین وتر پڑھتے ہوئے ہی دیکھا ہے ۔ (صحيح بخاری کتاب الوتر، باب ما جاء فی الوتر جلد 1 صفحہ 337 رقم : 948،چشتی)
مذکورہ احادیث سے احناف کے مذہب کی واضح تائید ہو رہی ہے کہ وتر کی تین رکعتیں ہیں کیونکہ مذکورہ تمام احادیث میں تین تین سورتیں پڑھنا وارد ہوا ہے ۔
غیر مقلدین کے دلائل : ⏬
پہلی حدیث : حضرت عبد ﷲ ابن عمر رضی ﷲ عنہما ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا رات کی نماز دو دو رکعت ہے ۔ پس جب تم لوٹنے کا ارادہ کرو تو ایک رکوع کرو۔ وتر کرو، جو تم پڑھ چکے (نسائی شریف)
دوسری حدیث : حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم رات میں گیارہ رکعت نماز پڑھتے تھے ۔ ان میں سے ایک کے ساتھ وتر کرے ۔ پھر اپنے سیدھے کروٹ لیٹ جاتے ۔ (نسائی شریف)
تیسری حدیث : حضرت نافع رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد ﷲ ابن عمر رضی ﷲ عنہما وتر میں ایک اور دو رکعت کے درمیان سلام پھیرتے تھے ۔ یہاں تک کہ اپنی بعض ضروریات کا حکم دیتے ۔
غیر مقلدین کے دلائل کا جواب : ⏬
پہلی حدیث کا جواب : اس حدیث کا جواب خود اسی میں موجود ہے ۔ دو دو رکعت کرکے جب نماز پڑھیں گے اور ایک رکعت ملا کر وتر ادا کریں گے تو تعداد تین ہوگی ، کیونکہ یعنی جو تم پڑھ چکے ، اس کے ساتھ ایک ملالو ۔
اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ تُوْتِر کا مصدر الایتار ہے ۔ اور یہ بابِ افعال سے ہے ۔ بابِ افعال کی خاصیت تعدی ہونا ہے ۔ لہٰذا تعدی اسی وقت ہوگی جب دو کے ساتھ ایک رکعت ملالی جائے ۔
دوسری حدیث کا جواب : احناف کے دلائل میں تیسری حدیث ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا کی روایت گزر چکی ہے ۔ چار چار رکعت پڑھنے کے بعد تین رکعت ادا فرمائی ۔ اس لئے دوسری حدیث کی تفسیر خود راوی کی طرف سے موجود ہے کہ گیارہ رکعت میں سے آٹھ رکعت صلوٰۃ اللیل (تہجد) ہے اور تین رکعت وتر ہے ۔
تیسری حدیث کا جواب : حضرت عقبہ بن مسلم نے حضرت عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما سے وتر سے متعلق سوال کیا ۔ تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم دن کے وتر کو جانتے ہو ۔ آپ نے فرمایا جی ہاں ! نماز مغرب یہ سن کر حضرت عبد ﷲ ابن عمر رضی ﷲ عنہما نے فرمایا کہ رات کے وتر بھی ایسے ہیں ۔ حضرت نافع علیہ الرحمہ کی روایت سے آپ کا فعل ثابت ہورہا ہے اور حضرت عقبہ علیہ الرحمہ کی روایت سے آپ کا قول ثابت ہورہا ہے ۔ قاعدے کے مطابق حدیث قولی کو ترجیح ہوگی اور وتر کا طریقہ نماز مغرب کی طرح ایک سلام سے تین رکعت ہوگی ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم نے دم کٹی (یعنی صرف ایک رکعت نماز) پڑھنے سے منع فر مایا : ⏬
حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم نے دم بریدہ نماز پڑھنے سے منع فرمایا یعنی کوئی شخص ایک رکعت وتر پڑھے ۔ (اس حدیث کو علامہ ذیلعی نے نصب الرایہ ج،۲، ص،۱۲۰)(حافظ ابن حجر نے درایہ ج۱،ص۱۱۴،چشتی)(علامہ عینی نے عمدہ القاری ج۴،ص،۴، پر بیان کیا ہے)
حضرت محمد بن کعب قرظی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم نے دم کٹی (ایک رکعت) نماز پڑھنے سے منع فرمایا ۔ (نیل الاوطارمصنفہ قاضی محمد بن علی شوکانی)
بظاہر کچھ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم نے ایک رکعت کے ذریعے اپنی نمازوں کو طاق بنا یا ، ایسی تمام روایات اس معنی پر محمول ہے کہ وہ ایک رکعت دو رکعات سے ملی ہوئی تھی ۔ کیونکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم نے صرف ایک رکعت نماز پڑھنے سے منع فرماتے تھے ۔ اور اسی پر تمام امت کا اجماع ہے کہ وتر کی نماز تین رکعات ہیں ۔ چنانچہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’اجمع المسلمون علے ان الوتر ثلاث لا یسلم الا فی آخر ھن‘‘ تمام مسلمانو کا اس بات پر اجماع ہے کہ وتر تین رکعات ہیں اور اس کی صرف آخری رکعت کے بعد سلام پھیرا جاتا ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج،۲،ص،۲۹۴)
وتر کی نماز واجب ہے : ⏬
نماز وتر کا وجوب احادیث طیبہ سے ثابت ہے ۔ چنانچہ اس بارے میں متعدد روایتیں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔ ان میں سے چند صاف اور صریح روایتیں پیش خدمت ہیں ۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فر مایا : وتر واجب ہے ۔ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم،کتاب الوتر،حدیث:۱۱۳۲)
حضرت عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فر مایا : وتر واجب ہے ۔تو، جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ (سنن ابی داود،کتاب الصلوٰۃ،باب فیمن لم یوتر،رقم الحدیث :۱۴۱۹،)(المستدرک علی الصحیحین للحاکم،رقم الحدیث:۱۱۴۶)(مصنف ابن ابی شیبۃ، حدیث:۶۹۳۴)
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : بے شک اللہ نے تمہاری نمازوں میں ایک نماز کا اضافہ فرمایا ، اور وہ وتر ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ،حدیث:۹۲۹)
حضرت نافع سے روایت ہے کہ:حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا:جو شخص رات میں نماز پڑھے تو چاہئے کہ اس کی آخری نماز وتر ہو کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اس کا حکم دیا کرتے تھے ۔ (مسلم،کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا،باب صلاۃ اللیل مثنی مثنی الخ حدیث:۷۵۱، سنن النسائی، حدیث:۱۶۸۲)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:کہ جوشخص وترسے سو جائے یا وتر پڑھنا بھول جائے تو جس وقت یا دآئے پڑھ لے ۔ (ترمذی کتاب الصلاۃ عن رسول اللہ ﷺ باب ماجاء فی الرجل ینام عن الوتر او ینساہ، حدیث:۴۶۵،ابن ماجہ، حدیث:۱۱۸۸،چشتی)
دین کا ادنیٰ سوجھ بوجھ رکھنے والاشخص بھی جانتا ہے کہ سنت نمازوں کی قضا نہیں ہوتی اور اس حدیث مبارکہ میں وتر چھوڑنے پرقضا کا حکم دیا گیا ہے ۔ تو ثابت ہوا کہ وتر کی نماز سنت نہیں اور اس کے فرض ہونے کا کوئی قائل نہیں تو یقینی طور پر معلوم ہوا کہ یہ واجب ہی ہے ۔ رہی یہ بات کہ بعض احادیث میں آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے وتر کی نماز سواری پر ادا فرمائی ۔ جب کہ فرض و واجب نمازیں سواری پر ادا کرنا درست نہیں ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نماز وتر کے واجب ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے یا پھر وہ عذر کی بنا پر تھا جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے کیچڑ وغیرہ کی عذر کی بنیاد پربعض مرتبہ فرض نماز سواری پر پڑھی ۔ تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ فرض نہیں رہا ۔ بہر حال ان تمام روایتوں سے وتر کا واجب ہونا روز روشن کی طر ح ظاہر ہوگیا ۔ مسلمان کے لئے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ایک ہی روایت کافی ہے مگر جو ان سب روایتوں کے ہونے کے باوجود نہیں مانے تو اس کا کوئی علاج نہیں ۔
وتر کی نماز تین رکعات ہیں : ⏬
سیدنا ابن عبا س ر ضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم وتر کی تین رکعتیں ادا فرماتے ، پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلی،دوسری میں قل یٰایھاالکٰفرون اور تیسری میں قل ھو اللہ احد‘‘تلاوت فرماتے ۔ (سنن نسائی، کتاب قیام اللیل وتطوع النھار،باب کیف الوتر بثلاث ،حدیث:۱۷۰۲،)(ترمذی، حدیث:۴۶۲)
عبدالعزیز جر یح رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : ہم نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم وترمیں کیا پڑھتے تھے تو انہو نے فرما یا: پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلی دوسری میں قل یا یھا الکٰفرون او ر تیسری میںقل ھواللہ احدپڑھتے تھے ۔(ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا ،باب ماجاء فیما یقرأ فی الوتر ،حدیث:۱۱۷۳،چشتی)
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم رمضان میں کس طرح نماز پڑھتے تھے ؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ رمضان ہو یا غیر رمضان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ، چار رکعت نماز پڑھتے اور اس نماز کے حسن اور طول کی بات مت پوچھو!پھر چار رکعت نماز پڑھتے اور ان کے حسن اور طول کی بات مت پوچھو !اس کے بعد تین رکعت وتر پڑھتے ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیا ن کرتی ہیں کہ : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم وتر سے پہلے سو جاتے ہیں ؟ فرمایا : اے عائشہ میری آنکھیں سو جاتی ہیں مگر میرا دل نہیں سوتا ۔ (بخاری،کتاب التھجد،باب قیام النبی ﷺ باللیل فی رمضان وغیرہ ،حدیث:۱۱۴۷، مسلم ،حدیث:۷۳۸،ترمذی، حدیث:۴۳۹)
ان حدیثوں میں صاف صاف لفظوں میں گن گن کر واضح انداز میں بتایا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم وتر کی نماز تین رکعت ادا فرمایا کرتے تھے پہلی رکعت میں فلاں سورت دوسری میں فلاں اور تیسری میں فلاں۔ اب آپ خود سوچئے کہ اگر وتر میں صرف ایک ہی رکعت ہوتی تو دوسری اور تیسری رکعت کی بات کہاں سے آتی ؟ نیز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے بیان فر مایا کہ:رمضان ہو یا غیر رمضان ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عادت یہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم 8 رکعات تہجد اور تین رکعات وتر ادا فر مایا کرتے تھے ۔ لہذا وہ لوگ جو نماز پڑ ھنے میں بڑی دقت اور پریشانی سمجھتے ہیں اور ایک ہی رکعت وتر پڑھ کر بھا گنا چا ہتے ہیں ۔ انہیں اپنی نفسانی خواہشات سے نکل کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے دائمی عمل کی پیروی کرنی چاہئیے کیو نکہ ایک سچے مسلمان کی نشانی یہی ہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دم کٹی (یعنی صرف ایک رکعت نماز) پڑھنے سے منع فر مایا ۔ چنانچہ صحابی رسول سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دم بریدہ نماز پڑھنے سے منع فرمایا یعنی کوئی شخص ایک رکعت وتر پڑھے (اس حدیث کو علامہ ذیلعی نے نصب الرایہ ج،۲، ص،۱۲۰ ،حافظ ابن حجر نے درایہ ج۱،ص۱۱۴،اور علامہ عینی نے عمدہ القاری ج۴،ص،۴، پر بیان کیا ہے) یونہی محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیںکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دم کٹی (ایک رکعت) نماز پڑھنے سے منع فرمایا ۔ (نیل الاوطارمصنفہ شیخ محمد بن علی شوکانی)
جیسے اور نمازوں میں آخری رکعت میں سلام پھیرا جاتا ہے ویسے ہی وتر میں بھی آخری رکعت میں سلام پھیرا جائے ، دو رکعت پر نہیں ۔ جیساکہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم وترکی تین رکعت ادافرماتے تھے اور سلام آخر ہی میں پھیرتے تھے۔(سنن نسائی،کتاب قیام اللیل وتطوع النھار،باب کیف الوتر بثلاث ،حدیث :۱۷۰۱، ۱۶۹۸،چشتی)
بظاہر کچھ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ایک رکعت کے ذریعے اپنی نمازوں کو طاق بنا یا،ایسی تمام روایات اس معنی پر محمول ہے کہ وہ ایک رکعت دو رکعت سے ملی ہوئی تھی ۔ کیونکہ خود حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے صرف ایک رکعت نماز پڑھنے سے منع فرماتے تھے ۔ اور اسی پر تمام امت کا اجماع ہے کہ وتر کی نماز تین رکعت ہے ۔ چنانچہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’اجمع المسلمون علے ان الوتر ثلاث لا یسلم الا فی آخر ھن‘‘تمام مسلمانو کا اس بات پر اجماع ہے کہ وتر تین رکعت ہے اور اس کی صرف آخری رکعت کے بعد سلام پھیرا جاتا ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج،۲،ص،۲۹۴)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم رمضان اور غیر رمضان میں 11/ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پہلے 4/ رکعت پڑھتے تھے، ان کے حسن اور لمبائی کے بارے میں کچھ نہ پوچھو۔ پھر آپ 4/ رکعت پڑھتے تھے، ان کے حسن اور لمبائی کے بارے میں کچھ نہ پوچھو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔ یہ حدیث، حدیث کی ہر مشہور کتاب میں موجود ہے ،اس حدیث میں تین رکعت وتر کا ذکر ہے ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم وتر کی پہلی رکعت میں سورہٴ فاتحہ اور ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأعْلیٰ“، دوسری رکعت میں ”قُل یَا أیُّہَا الکَافِرُون“ اور تیسری رکعت میں ”قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أحَد“ پڑھتے تھے ۔ ( نسائی باب ذکر اختلاف الفاظ الناقلین لخبر أبی بن کعب فی الوتر ۱۷۰۱، أبوداوٴد باب ما یقرا فی الوتر ۱۴۲۳، ابن ماجہ باب ما جاء فی ما یقرا فی الوتر ۱۱۷۱)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم عشاء کی نماز کے بعد گھر میں تشریف لاتے تھے، پھر دو رکعت پڑھتے تھے، پھرمزید دو رکعت پہلی دو نوں رکعتوں سے لمبی پڑھتے تھے، پھر تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور درمیان میں (سلام کے ذریعہ) فصل نہیں کرتے تھے (یعنی یہ تینوں رکعت ایک ہی سلام سے پڑھتے تھے۔ ( مسند احمد ۶/۱۵۶ ، مسند النساء، حدیث السیدہ عائشہ ۲۵۷۳۸، نیزملاحظہ ہو زاد المعاد ۱/۳۳۰ فصل فی سیاق صلاتہ … باللیل ووترہ،چشتی)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : مغرب کی نماز، دن کی وتر ہے ، پس رات میں بھی وتر پڑھو۔
( مسند احمد ۲/۳۰، موٴطا مالک ، باب الامر بالوتر صحیح الجامع الصغیر للالبانی ۲ /۷۱۲ حدیث نمبر ۳۸۳۴ )
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رات کے وتر میں دن کے وتر یعنی نمازِ مغرب کی طرح تین رکعت ہیں ۔ ( المعجم الکبیر للطبرانی ۹/۲۸۲ حدیث نمبر ۹۴۱۹ ورجالہ رجال الصحیح، مجمع الزوائد ۲/۵۰۳ باب عدد الوتر حدیث نمبر ۳۴۵۵ )
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور مغرب کی نماز کی طرح تیسری رکعت میں سلام پھیرتے تھے ۔ ( مصنف عبد الرزاق ۳/۲۶ باب کیف التسلیم فی الوتر حدیث نمبر ۴۶۵۹ )
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا اجماع ہے کہ وتر کی تین رکعت ہیں اور آخر میں ہی سلام پھیرا جائے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ ۲ /۹۰ باب من کان یوتر بثلاث او اکثر حدیث نمبر ۶۸۳۴ )
صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تین رکعت وتر پڑھی اور صرف آخری رکعت میں سلام پھیرا۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ ۲ /۹۱ باب من کان یوتر بثلاث او اکثر حدیث نمبر ۶۸۴۰،چشتی)
ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ وتر کی تین رکعتیں ایک سلام سے ہیں، رہا دوسری رکعت کے بعد قاعدہ کرنے کا ثبوت تو ایک صحیح حدیث بھی ایسی نہیں ملتی ، جس میں یہ ذکر ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم تین رکعت وتر ایک سلام سے پڑھتے تھے اور دوسری رکعت کے بعد قاعدہ کرنے سے منع کرتے تھے ۔ اس کے برعکس متعدد ایسی احادیث ملتی ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دن رات کی ہر نماز میں ہر دوسری رکعت پر قاعدہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ وتر کا اس عموم سے مستثنیٰ ہونا کسی ایک حدیث میں نہیں ملتا ، اگر ایسا ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ضرور بیان فرماتے اور صحابہٴ کرام رضی اللہ عنھم اہتمام سے امت تک پہونچاتے ۔
بعض حضرات نے دار قطنی اور بیہقی میں وارد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے صرف ایک حصہ (وَلاَ تَشَبَّہُوا بِصَلاَةِ الْمَغْرِب) کو ذکر کرکے تحریر کردیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ایک سلام اور دو تشہد کے ذریعہ نماز ِ وتر پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔ حدیث کے صرف ایک حصہ کو ذکر کر کے کوئی فیصلہ کرنا ایسا ہی ہوگا ، جیسے کہ کوئی کہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور دلیل کے طور پر پیش کرے ۔ (وَلاَ تَقْرَبُوا الصَّلاة۔۔۔ ) ۔ دار قطنی اور بیہقی میں وارد اس حدیث کے مکمل الفاظ اس طرح ہیں (لَا تُوتِرُوْا بِثَلاثٍ، اَوْتِرُوا بِخَمْسٍ اَوْ سَبْع وَلا تَشَبَّہُوا بِصَلاةِ الْمَغْرِب) ۔ اگر اس حدیث کا تعلق صرف وتر سے ہے تو اس کے معنی ہوں گے کہ مغرب کی طرح تین وتر نہ پڑھو ؛ بلکہ پانچ یا سات پڑھو ، جس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے ۔ یقینا اس کا دوسرا مفہوم ہے ۔ ممکن ہے کہ اس حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہو ، یعنی جب تم نماز تہجد اور اس کے بعد وتر پڑھنا چاہو تو کم از کم ۵یا ۷رکعت پڑھو ۔
اور اگر یہ تسلیم کربھی لیا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے نمازِ وتر میں مغرب سے مشابہت سے منع فرمایا ہے ، تو کس بنیاد پر ہم یہ کہیں گے کہ اِس سے مراد یہ ہے کہ دوسری رکعت میں قاعدہ نہ کیا جائے ۔ کل قیامت تک بھی کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ارشادات سے دار قطنی اور بیہقی میں وارد اِس حدیث کا یہ مفہوم ثابت نہیں کرسکتا ہے ۔ اس کے یہ مطلب بھی تو ہوسکتے ہیں :
(1) نماز وتر کو مغرب کی طرح نہ پڑھو یعنی وتر کی تیسری رکعت میں بھی سورہٴ فاتحہ کے بعد کوئی سورت ملاوٴ ؛ تاکہ مغرب اور وتر میں فرق ہوجائے ۔
(2) نماز وتر کو مغرب کی طرح نہ پڑھو یعنی وتر میں دعائے قنوت بھی پڑھو ؛ تاکہ مغرب اور وتر میں فرق ہوجائے ۔
غرضیکہ اِس حدیث کی بنیاد پر یہ کہنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے وتر کی تین رکعت ایک سلام سے پڑھنے پر وتر کی دوسری رکعت میں قاعدہ کرنے سے منع فرمایا ہے ، صحیح نہیں ہے ؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تعلیمات میں حدیث کا یہ مفہوم مذکور نہیں ہے ۔ ہاں کسی عالم یا فقیہ کی اپنی رائے ہوسکتی ہے جو غلطی کا احتمال رکھتی ہے ، جس پر عمل کرنا ہمارے لیے ضروری نہیں ہے ۔ فقہاء وعلماء کی دوسری جماعت مثلاً امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی رائے یہ ہے کہ اِس حدیث سے یہ مفہوم لینا صحیح نہیں ہے ۔ لہٰذا ایسے مختلف فیہ مسائل میں وسعت سے کام لینا چاہیے ، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی رائے کو قرآن و سنت کے خلاف قرار دینے کی ناکام کوشش نہیں کرنی چاہیے ۔
اس موقع کو غنیمت سمجھ کر یہ بات واضح کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ بعض حضرات امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ( جنہیں تقریباً سات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے دیدار کا شرف حاصل ہے) کی قرآن وسنت کی روشنی میں بعض آراء (اگر وہ اُن کے علماء کی رائے سے مختلف ہوتی ہے) کو قرآن وسنت کے خلاف بتاتے ہیں اور ایسا تاثر پیش کرتے ہیں کہ جو انہوں نے 1400 سال کے بعد قرآن وسنت کو سمجھا ہے ، وہی صحیح ہے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور بڑے بڑے تابعین رضی اللہ عنہم کی صحبت سے مستفید ہونے والے حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن وسنت کے خلاف فیصلہ فرمایا ہے اور اُن کی رائے پر اس طرح لعن و طعن شروع کر دیتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہ رائے گیتا ، رامائن اور بائیبل سے اخذ کی ہے ، نعوذ باللہ ۔ اگر کسی مسئلہ میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی رائے کی دلیل جامع ترمذی شریف جیسی مستند کتاب میں وارد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے قول یا عمل پر مشتمل ہوتی ہے ، تو بخاری و مسلم کی حدیث کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ ایک سلام اور دو تشہد سے وتر کی تین رکعت کو غلط قرار دینے کےلیے صحیحین ہی نہیں ، بلکہ صحاح ستہ سے بھی باہر نکل کر دار قطنی اور بیہقی کی اُس روایت کو بنیاد بنایا جارہا ہے ، جس کے متعدد مفہوم ہوسکتے ہیں ۔
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
اللہ تعالیٰ تعصب سے بچائے آمین ۔ (طالب دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:
Post a Comment