Tuesday, 22 September 2015

با مقصد نظام تعلیم اور کیا ہمارا موجودہ نظام تعلیم با مقصد ہے ؟

با مقصد نظام تعلیم اور کیا ہمارا موجودہ نظام تعلیم با مقصد ہے ؟
 
محترم قارئینِ کرام : تصور علم اور نظام تعلیم میں مقصدیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ ہمارا موجودہ نظام تعلیم مقصدیت سے خالی ہے ۔ طلبہ سال اول سے لے کر 16 سال تک صرف پڑھتے ہی چلے جارہے ہیں ، مقصد سے ہرگز آگاہ نہیں ۔ جب Professional Education حاصل کرتے ہیں تو ڈاکٹر یا انجینئر بننے کی دھن سوار ہو جاتی ہے ۔ مقام غور یہ ہے کہ کیا محض پروفیشنل بن جانا زندگی کا مقصد تھا ۔۔۔ ؟ نہیں ، بلکہ یہ تو روزگار کمانے کا ایک ذریعہ تھا ۔ مقصدیت تو کچھ اور تقاضا کرتی ہے ۔ انسان کی تخلیق کے مقصد کو اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں یوں بیان فرمایا : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ ۔ (سورہ الذاريات آیت نمبر 56)
ترجمہ : اور میں نے جِنّ اور آدمی اتنے ہی لیے بنائے کہ میری بندگی کریں  ۔

اللہ رب العزت نے انسان کی تخلیق اپنی معرفت اور بندگی کے رشتے کو مضبوط کرنے کےلیے کی۔ کسی خاص ہنر ، فن میں پروفیشنل بننا یہ تو وہ چھوٹے چھوٹے ذرائع ہیں جس سے انسان روزگار حاصل کرتا اور معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار اداکرتا ہے ۔ ارشاد فرمایا کہ میں  نے جنوں  اور انسانوں  کو صرف دنیا طلب کرنے اور اس طلب میں  مُنہَمِک ہونے کےلیے پیدا نہیں کیا بلکہ انہیں  اس لیے بنایا ہے تاکہ وہ میری عبادت کریں اور انہیں  میری معرفت حاصل ہو ۔ (تفسیر صاوی جلد ۵ صفحہ ۲۰۲۶)(تفسیر خازن جلد ۴ صفحہ ۱۸۵)

مقصدِ علم کی جہات : ⏬

تعلیم کا مقصد دو جہات پر مبنی ہونا چاہیے : 1 انفرادی ۔ 2 اجتماعی و معاشرتی ۔ 3 انفرادی مقصد ۔

انفرادی مقصد تو یہ ہے کہ علم کے ذریعے انسانی شخصیت کے ہر ہر پہلو کی تکمیل و نشوونما ہو ۔ یہ اسلام کے دیئے ہوئے تصورِ علم اور نظام تعلیم کی بنیادی خوبی ہے کہ اس سے انسان کی شخصیت کے ہمہ جہتی پہلوٶں کی Development ہو یعنی انسانی شخصیت کے حیاتیاتی پہلو (Biological Aspects) ، عمرانی اور سماجی پہلو (Sociological Aspects) ، ثقافتی پہلو Cultural Aspects ، نفسیاتی پہلو Psychological Aspects ، انفسی پہلو ، ماورائی پہلو Transcendental Aspects، Intellectual Aspects اور Moral & Spiritual Aspect کی بھی تعلیم کے ذریعے نشوونما، ارتقاء و تکمیل ہو ۔

انسان کی شخصیت بذاتِ خود ایک کائنات ہے ۔ وجود انسان میں آسمان سے لے کر زمین تک اور فرش سے لے کر عرش تک خدا کی ساری کائنات ایک Single Whole unit کے طور پر بند ہے ۔ ملائکہ کی حقیقت بھی انسان میں ہے ۔۔۔ شیطان کی حقیقت بھی انسان میں ہے ۔۔۔ عرش معلی کی حقیقت بھی انسان میں ہے ۔۔۔ اس فرش اور تحت السریٰ کی حقیقت بھی انسان میں ہے ۔ اس لیے کہ انسان ناصوتی بھی ہے ۔۔۔ ملکوتی بھی ہے ۔۔۔ لاہوتی بھی ہے ۔۔۔ جبروتی بھی ہے ۔۔۔ ہاہوتی بھی ہے ۔ انسان کی شخصیت کا گوشہ کہیں مادہ سے ملتا ہے ۔۔۔ کہیں روح سے ملتا ہے ۔۔۔ کہیں عالم ملکوت سے ملتا ہے ۔۔۔ کہیں ورائے عرش سے ملتا ہے ۔ یہ وہی انسان ہے جو کبھی مکہ اور مدینہ کی گلیوں میں چلتا ہے ۔۔۔ اور کبھی معراج کی رات بیت المقدس پر ملائکہ و انبیاء علیہم السلام کی امامت کرواتا ہے ۔۔۔ یہ وہی انسان ہے جو کبھی سدرۃ المنتہیٰ سے گزر جاتا ہے ۔۔۔ یہ وہی انسان ہے کہ جبرائیل تکتے رہ جاتے ہیں اور وہ اس سے آگے لامکان میں چلا جاتا ہے ۔ الغرض انسان رشکِ ملائک ہے ۔ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہر شے کا انعکاس (Reflection) انسان کی حقیقت میں ہے۔ اسلام کا مقصود انسانی شخصیت کے ہر ہر گوشے کی علم اور نظام تعلیم کے ذریعے متناسب نشوونما و ارتقاء ہے ۔ اسی لئے آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا : لارهبانية فی الاسلام ، اسلام میں رہبانیت نہیں ہے ۔ (عجلونی کشف الخفاء جلد 2 صفحہ 510 رقم 3154،چشتی)

اگر کوئی چاہے کہ میں نے خدا کو منانا ہے اور دنیاوی فرائض چھوڑ کر غاروں میں چلا جائے تو یہ اسلام نہیں بلکہ مسیحیت ہے۔کسی صحابیہ نے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا : یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرا شوہر بڑا نیک ہے ، ساری رات اللہ کی عبادت کرتا ہے ، دن کو روزے رکھتا ہے ، آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے شوہر کو طلب کرلیا اور فرمایا : ساری رات کھڑے ہوکر نفل پڑھنا ، دن کو روزے رکھنا ، یہ کمالِ انسانیت نہیں ۔ تیری زوجہ کا ، تیرے جسم کا اور رب کا تجھ پر حق ہے ، لہذا ان حقوق کی ادائیگی کے لئے اپنی شخصیت اور اپنے نظام الاوقات کو تقسیم کرو ۔

پس اللہ تعالیٰ نے انسان کی شخصیت کے اندر جو مختلف گوشے رکھے ہیں ، ان کی متناسب نشوونما (Proportionate developement) ہو تو یہ اسلامی تربیت ہے ۔ انسانی شخصیت میں مادی گوشہ بڑھ جائے تب بھی غیر اسلامی اور اگر روحانی گوشہ بڑھ جائے ، جس سے مادی ضرورتوں کی تکمیل دب جائے تو یہ بھی غیر اسلامی ہے ۔ گویا اگر شخصیت کے سارے گوشے متناسب طریقے سے ترقی پائیں تو یہ ترتیب اسلامی نشوونما ہوگی ، اسی کو نظام تعلیم کہتے ہیں۔ آقا علیہ السلام نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی، جو جماعت تیار کی وہ دن کو گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہوتے اور باطل کو للکارتے تھے جبکہ رات کو مصلے پر قیام کرتے اور نفس کو پامال کرتے تھے ۔ رات کو ان کا جہاد نفس کے خلاف شروع ہوجاتا جبکہ دن کو فروغ اسلام کے لئے جدوجہد کرتے نظر آتے ۔

اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر حاصل کی گئی مملکت خداداد پاکستان میں وہ نظام تعلیم چاہیے جو ان کو سائنسدان ، ٹیکنالوجی کا ماہر ، ڈاکٹر ، بیالوجسٹ ، ایمبریالوجسٹ ، اسٹانومسٹ بھی بنائے اور ان تمام سائنسی علوم کے ساتھ ساتھ ان کو اخلاقی و روحانی اعتبار سے حقیقی مرد مومن بھی بنائے ۔ پاکستان کے نظام تعلیم میں موجود خامیاں و خرابیاں درحقیقت عالمی سامراجی طاقتوں کی سازش ہے جس کے ذریعے وہ مسلمان قوم کو ان کی راہ اور منزل سے ہٹانے اور بہکانے میں مصروف عمل ہے ۔ افسوس ہمارے نوجوان کو خبر نہ رہی ۔

کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارہ

ہمارے نوجوان طالب علم کی منزل بلنداور رفیع تھی ۔ اس کا مقام یہ تھا کہ اس نے اپنے سیرت و کردار کی بدولت دنیا کی امامت کا فریضہ سرانجام دینا تھا مگر افسوس کہ آج نہ صرف نوجوان طالب علم بلکہ پوری قوم کی گردن میں غلامی کا طوق ڈال کر پوری قوم کا مستقبل تاریک کیا جارہا ہے ۔ اس غلامی اور ذلت کے دور کے خاتمہ کےلیے قومی و اجتماعی سطح پر ہر شعبہ میں عظیم مقاصد کا تعین کرنا ہوگا، نظام تعلیم کو حقیقی مقصدیت کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا اور اس میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی ۔

اجتماعی و معاشرتی مقصد : ⏬

تعلیم کے مقاصد کی دوسری جہت کا تعلق اجتماعی معاشرتی زندگی سے ہے ۔ علم جس طرح فرد میں انقلاب لاتا ہے اسی طرح اسلام کا نظام تعلیم معاشرے کو بھی ایک کردار عطا کرتا ہے ۔ ہمارا موجودہ نظام تعلیم اجتماعی معاشرتی زندگی میں مثبت کردار پیدا کرنے کی صلاحیت سے بھی عاری و خالی Character Less ہے ، نتیجتاً اس کی پیداوار (Products) بھی Character less ہیں ، کوئی منزل و مقصد نہیں ۔ ڈگریاں لینا ، نوکری اور روزگار کی تلاش کرنا یہ تو تعلیم کے ذریعے انسان کے صرف اور صرف مادی پہلو کی تکمیل ہے ۔ باقی معاملات کہاں گئے ؟ نیز موجودہ نظام تعلیم تو روزگار فراہم کرنے سے بھی قاصر نظر آتا ہے اور روزگار فراہمی کے تقاضے بھی پورے نہیں کر رہا ۔ 15 / 16 سال کی تعلیم کے بعد یہ نظام تعلیم تو بے روزگار افراد پیدا کر کے انہیں سڑکوں پر دھکے کھلارہا ہے ۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی ان پڑھ ، جاہل ، غنڈے ، بدمعاش اور MPA ، MNA کی سفارش کےلیے ان کے دروازے پر بھکاری بناکر کھڑا کر رہا ہے ۔ جن کو انگوٹھا لگانا نہیں آتا ان جاہلوں کے سامنے انجینئرنگ اور ڈاکٹر کی ڈگری لے کر آج پاکستان کا گریجوایٹ نوجوان نوکری کی بھیک مانگنے کےلیے سوالی بن کر جاتا ہے ۔ ایسے نظامِ سیاست پر لعنت ہے ، اس سے بڑھ کر اس معاشرے میں علم کی تضحیک و تذلیل کیا ہوگی ۔

پاکستان کے آئین میں ممبران اسمبلی کی اہلیت و نااہلیت (Qualification & Disqualification) کےلیے آرٹیکل 62 ، 63 موجود ہے ۔ یہ الگ بات کہ ان پر بھی عمل نہیں ہو رہا ، مفادات کی وجہ سے آپس میں مل جاتے ہیں مگر اس آرٹیکل اور آئین میں کہیں پر بھی ممبران پارلیمان کی اہلیت کےلیے تعلیم کی پابندی کا ذکر نہیں ۔ ممبر پارلیمنٹ ، MPA ، MNA سینیٹر ، وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ بننے کےلیے ہمارا آئین تعلیمی معیار کو بیان ہی نہیں کرتا ۔ اگر کسی دفتر کا چپڑاسی بھی مقرر ہونا ہو تو چپڑاسی کی تقرری کےلیے بھی کچھ نہ کچھ تعلیم کی شرط ہے مگر قانون ساز ، سینیٹر اور ممبر پارلیمنٹ بننے کےلیے پرائمری پاس ہونے کی بھی شرط نہیں ہے بلکہ ان کےلیے شرط غنڈہ، بدمعاش ، جاگیردار ، سرمایہ دار اور اسمگلر ہونا ہے ۔ جس کے پاس یہ خوبیاں ہیں اگرچہ اسے علم کی الف ب بھی نہ آتی ہو ، جاہل ہو مگر وہ ممبر پارلیمنٹ بن کر اسمبلی میں بیٹھنے کا اہل ہوتا ہے اور قوم کے مقدر سے کھیلنے کی اسے آزادی میسر ہوتی ہے ۔

جس طرح نظامِ تعلیم اور علم کے ذریعے انسان کو انسان بنانا اور ایک مضبوط کردار دینا مقصود ہے اسی طرح معاشرے کو بھی ایک باوقار کردار رکھنے والا معاشرہ بنانا ہے ۔ جو نظام انسان کو اور معاشرے کو سیرت و کردار سے آشنا نہیں کرتا وہ نظام تعلیم اسلام میں مسترد ہے ۔ جو نظام تعلیم وحدت نسل انسانی کا تصور نہ دے ، اسلام ایسے نظام تعلیم کو رد کرتا ہے ۔ یہ نظامِ تعلیم کا فقدان ہے کہ آج سندھی ، پنجابی ، بلوچ ، پختون ، پٹھان اور سرائیکی کی آوازیں بلند ہوتی ہیں اس لیے کہ ہم نے اپنی وحدت کو اسلام کے حوالے سے منسلک کرنے کی بجائے اپنی زبان سے منسلک کر دیا یا جغرافیائی یونٹ کے ساتھ منسلک کر دیا یا نسل کی وفاداری سے منسلک کر دیا یا معاشی وفاداریوں کی گروہ بندیوں سے منسلک کر دیا حالانکہ ان گروہ بندیوں کا قلع قمع نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آج سے 14 سو سال قبل خطبہ حجۃ الوداع میں یہ فرماکر کر دیا تھا کہ : ⏬

فليس لعربی علی عجمي فضل ولا لعجمي علی عربي ولا لاسود علی ابيض ولا لابيض علی اسود فضل الا بالتقوی ۔
ترجمہ : کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی برتری نہیں اور نہ ہی کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر برتری حاصل ہے ۔ ساری برتریاں ، تقویٰ ، کردار و عمل پر مبنی ہیں ۔ (معجم الکبير طبرانی جلد 18 صفحہ 12 رقم : 16،چشتی)

ہم نے اسلام کی عطا کردہ شناخت ، امتیاز اور وحدت کی بنیادوں کے تصورات کو بھلایا اور اس کے بعد ہم چھوٹی چھوٹی محدود وفاداریوں میں تقسیم اور منتشر ہو گئے ۔ یہ نظام تعلیم کا فقدان ہے کہ اس سے وہ سوچ پیدا نہیں ہورہی جو قوم کو ایک قوم بنا سکے اور ایک وحدت میں منسلک کر سکے ۔ نظام تعلیم معاشرے کو اس کی شناخت و پہچان عطا کرتا ہے ۔ بطور مسلمان ہمارا نظام تعلیم وہی ہوگا جو ہماری شناخت و پہچان رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی اور ان کی اتباع کو قرار دے گا ۔

ہماری بقاء نظام مصطفیٰ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہے : ⏬

اتباع و اطاعت مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ہے کہ آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت و سنت اور ان کے عطا کردہ نظام کے سوا کسی اور نظام کو بطور نظام قبول کرنے کی گنجائش نہ رہے ۔ آج مختلف ازم کی بات ہوتی ہے ، اسلام کے ہوتے ہوئے ہم مختلف نظام اور فلاسفی کو اپنانے کی بات کرتے ہیں ، کیا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ معاذ اللہ اسلام اور رسول پاک صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عطا کردہ نظام اور قرآن کا دیا ہوا فلسفہ زندگی Outdated ہوگیا یا قابل عمل Workable نہیں رہا یا ہماری جدید نئی نسل اور دور حاضر میں ہونے والی ترقی کا ساتھ دینے کے قابل نہ رہا ۔۔۔ ؟

افسوس اگر اس تصور کے پیش نظر ہم نے اسلام کو ایک طرف رکھ دیا اور دیگر نظاموں کو قبول کرلیا تو گویا ہم نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی کا پٹا گلے سے اتار کر بالواسطہ نبوت و رسالت محمدی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف بغاوت کر دی ۔ اگر ہم اتباعِ رسالت محمدی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنی وفاداری کو ایک جگہ مرکوز رکھتے تو پھر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم جو دین ہمیں دے گئے اس کے بعد کسی اور نظام کو آزمانے اور جانچنے کی ضرورت نہ تھی ۔ اس لیے کہ اسلام کا دیا ہوا نظام ہی جدید نظام ہے ، جو ہر دور کے تقاضوں کے مطابق ہے ۔ یہ اتنا عظیم نظام ہے کہ دنیا کے سارے فلسفے اور علم کی دنیا کے جملہ ارتقاء آج تک عظمتِ فکرِ محمدی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام تک نہیں پہنچ پائے بلکہ راستے میں بھٹکتے پھرتے ہیں ۔ جب ہر انسانی علم اور فلسفہ اپنے کمال پر پہنچے گا تو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کردہ نظام کی دہلیز پر سجدہ ریز ہوجائے گا ۔ افسوس! آج کی نوجوان نسل کو بتایا نہیں گیا کہ آپ کا نظام کیا ہے ۔۔۔ ؟ مرکزِ وفاداری کیا ہے ۔۔۔ ؟ اگر بتایا گیا تو اس کی حقیقت اور حسن سے آشنا نہیں کرایا گیا کہ آیا یہ آج کی ضرورت کو پورا کرتا ہے کہ نہیں ۔

دنیا میں سب سے پہلے باقاعدہ تحریری آئین نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میثاقِ مدینہ کی صورت میں عطا فرمایا ۔ دنیا کی کوئی ریاست باقاعدہ کسی آئین پر قائم نہ ہوئی تھی۔ سب سے پہلی ریاست جو باقاعدہ ایک آئین پر قائم ہوئی وہ ریاست مدینہ ہے ۔

آج انسانی حقوق کی بات کی جاتی ہے اور مغرب اس کا بانی بن کر سامنے آتا ہے لیکن اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو مغربی دنیا میں انسانی حقوق کی تاریخ دو اور تین صدیوں سے آگے نہیں جاتی ۔ انسانی حقوق کی بحالی کی جس تاریخ اور کاوش پر اقوام متحدہ اور مغرب فخر کررہا ہے، یہ تمام حجۃ الوداع کے خطبہ میں نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت عطا فرما دیئے تھے ، جب کسی کو اس کی خبر ہی نہ تھی ۔

ہماری بدبختی ہے کہ ہمیں اپنی منزل اور اپنے سرچشمے سے بھی کاٹ دیا گیا ۔ اگر آج ہمارا نظام تعلیم اسلام کے تصور علم کے فیض سے سیراب ہوا ہوتا تو ہمیں یہ خبر ہوتی کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو خطبہ حجۃ الوداع کی شکل میں ایک ایسا New World order عطا فرمایا تھا کہ جس کے بعد کسی ورلڈ آرڈر کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی ۔ اس کے ذریعے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سارے استحصالی اور ظالمانہ اصول اور قوانین کے خاتمے کا اعلان کیا اور ہر ایک طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اُن کے حقوق بہم پہنچانے کو لازمی قرار دیا ۔

آج امن عالم کے نام پر غریب اقوام کا امن اور جینے کا حق ان سے چھینا جارہا ہے ۔ عالمی دہشت گردی کے ذریعے غریب اقوام کی ثقافت چھینی جارہی ہے ، نظریہ چھینا جارہا ہے ، دین و مذہب ، سیاسی و اقتصادی آزادی چھینی جارہی ہے ، کیا اس کا نام امن عالم کا قیام ہے ۔۔۔ ؟ امن عالم کے قیام کے حقیقی اقدامات تو وہ تھے جس کا اعلان نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کہہ کر فرمایا : يا ايها الناس ان دماوکم واموالکم واعراضکم عليکم حرام کحرمة يومکم هذا في بلدکم هذا في شهرکم هذا ۔ (صحيح مسلم کتاب القسامة جلد 3 صفحہ 1306 رقم 1678،چشتی) ، یعنی انسانوں کا خون ، ان کی جان ، ان کا مال ، عزت و آبرو اس طرح مقدس کر رہا ہوں جیسے خدا کا گھر کعبہ مقدس ہے ۔ جس طرح ذوالحجہ کا مہینہ اور ایام حج مقدس ہیں ۔

گویا آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عالمی انسانی مساوات کا نظام دیا ۔۔۔ استحصالی نظام کو ختم کیا ۔۔۔ زیر دست اور افلاس زدہ انسانیت کے حقوق متعین کیے ۔۔۔ غلامی کے خاتمے کی بنیاد رکھی ۔۔۔ معاشرتی انصاف کو فروغ دیا ۔۔۔ قیدیوں کے قتل کے قانون کو ختم کر کے قیدیوں کے حقوق مقرر فرمائے ۔۔۔ معاشی ناہمواریوں اور ناانصافیوں کا قلع قمع کیا ۔ الغرض ہر جہت سے جدید نظام کی بنیاد رکھی ۔

علم ، نظام مصطفیٰ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بنیاد : ⏬

آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عظیم انقلاب کی بنیاد علم پر قائم کی ۔ جب غزوہ بدر کے موقع پر 70 کافر قیدی ہوئے تو 4 ہزار درہم ان کی رہائی کےلیے رقم مختص کی گئی کہ جو شخص 4 ہزار درہم دے ، اس کو آزاد کر دیا جائے گا ۔ خواہ مکہ کی ریاست ادا کر دے یا وہ خود اپنے پاس سے ادا کر دے ۔ ریاستِ مدینہ اس وقت مالی لحاظ سے کمزور تھی ، وسائل کی ضرورت تھی ، 70 قیدی تھے ، 4 ہزار درہم فی کس سے ایک معقول رقم آتی تھی مگر اتنی معقول رقم کے مقابلے میں آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم اور تعلیم کی اہمیت واضح کرنے کےلیے اعلان فرمایا کہ 4 ہزار درہم ہر جنگی قیدی کی رہائی کا زر فدیہ ہے مگر جو جنگی قیدی میری ریاست مدینہ کے دس دس بچوں کو تعلیم دے دے ، اُسے بغیر زر فدیہ آزاد کر دیا جائے گا ۔ (ابن سعد الطبقات الکبریٰ جلد 2 صفحہ 22 رقم 3154،چشتی)

یہ تعلیمی انقلاب کی تحریک تھی جس کا حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آغاز فرمایا ۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت تو اُمّی قوم میں ہوئی مگر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہالت کے اندھیرے دور فرماتے ہوئے علم کے نور سے معاشرے کو منور فرما دیا ۔

هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِی الْاُمِّيّنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰـتِهِ وَيُزَکِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَق وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰـلٍ مُّبِيْنٍ ۔ (سورہ الجمعة آیت نمبر 2)
ترجمہ : وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور انھیں پاک کرتے ہیں اور انھیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں اور بے شک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے ۔

ارشاد فرمایاکہ وہی اللّٰہ ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جس کے نسب و شرافت کو وہ اچھی طرح جانتے پہچانتے ہیں ،ان کا نامِ پاک محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے،وہ ان کے سامنے قرآنِ مجید کی آیتیں تلاوت فرماتے ہیں جن میں رسالت، حلال و حرام اور حق و باطل کا بیان ہے ،انہیں باطل عقیدوں ،مذموم اَخلاق، دورِ جاہلیّت کی خباثتوں اور قبیح اَعمال سے پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب اور حکمت(یعنی قرآن ،سنت اور فقہ یا شریعت کے اَحکام اور طریقت کے اَسرار) کا علم عطا فرماتے ہیں اور بیشک لوگ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے کہ شرک ،باطل عقائد، اور خبیث اَعمال میں گرفتار تھے اور انہیں کامل مرشد کی شدید حاجت تھی ۔ (تفسیر خازن جلد ۴ صفحہ ۲۶۴،چشتی)(تفسیر مدارک صفحہ ۱۲۳۹)

عرب اپنے ان پڑھ اور پڑھے لکھے نہ ہونے پر فخر کرتے تھے اور لکھنا پڑھنا جرم سمجھتے تھے ۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اُمّی قوم میں ایسا تعلیمی انقلاب بپا کردیا کہ ابھی ایک صدی بھی ختم نہ ہوئی تھی کہ عالم اسلام شرق سے غرب تک ساری کائنات انسانی میں علم کا امام بن گیا ۔ 1000 سال تک یہ کیفیت رہی کہ سپین، قرطبہ ، غرناطہ ، بغداد ، مصر ، دمشق ، نیشاپور الغرض تمام عالم اسلام کے مختلف علاقوں میں ہمہ جہتی تعلیم کے حصول کےلیے شرق سے غرب تک کے لوگ آتے ۔ اتنی ترقی ہوئی کہ بالآخر آج کے مغربی رائٹرز ، سکالرز ، مٶرخین بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ اس امر میں قطعی کوئی شبہ نہیں کہ یورپ کی سائنسی فکر پر اسلامی سائنسی فکر کا گہرا اثر ہوا ۔ مغرب کی اس علمی نشاۃ ثانیہ پر دیگر کئی اثرات بھی مرتب ہوئے ۔ مگر بنیادی طور پر سب سے گہرا اثر سپین سے آیا ۔ پھر اٹلی اور فلسطین کی جانب سے اثرات مرتب ہوئے ۔ مغربی ممالک کے لوگ مسلم ثقافت اور سائنسی اسلوب سے روشناس ہوئے ۔ بعد ازاں سارا وسطی اور مغربی یورپ سائنسی ثقافتی تہذیبی اور فنی ترقی کی منزلوں پر گامزن ہوا اور یہ سب اسلام ، اسلام کے تصور علم اور نظام تعلیم کا فیض تھا ۔ بدقسمتی کہ ہم نے وہ راہ ، کردار ، بنیاد اور منزل چھوڑ دی ۔ نتیجتاً وہ علم جو اسلام کی سرزمین سے مغربی دنیا میں منتقل ہوا وہاں فروغ پانے لگ گیا اور ہم رفتہ رفتہ زوال پذیر ہو کر آج اس مقام کو جا پہنچے کہ جدید علوم کے حصول کےلیے انہی ممالک کا سفر کرتے نظر آتے ہیں ۔ آج ہمارے اندر نہ وہ جذبہ رہا ، نہ وہ خواہش رہی اور نہ مستقبل کو اپنے قبضے میں لینے کی لگن رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج حکمران اور لیڈر نوجوان نسل کو بے مقصد و بے شعور زندگی اور تاریک مستقبل کی طرف دھکیل رہے ہیں ۔ انہیں ایک پُرعزم اور ایک عظیم مستقبل کےلیے وہ نظام نہیں دیا جارہا جو عظیم مستقبل کا ضامن ہو ۔ اسلامی نظامِ تعلیم معاشرے میں جہاں سائنسی ترقی ، ماحول کی تسخیر اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی طرف دعوت دیتا ہے وہاں انسانوں کے دلوں کی تسخیر ، اخلاقیات اور روحانیات کی ترقی بھی چاہتا ہے ۔ اسلام میں علم اور نظامِ تعلیم افراد کو روحانی الذھن بنانا چاہتا ہے کہ ان کے اندر اخلاقیات و روحانیت موجود ہو ۔ افسوس ہمارے موجودہ نظامِ تعلیم سے اخلاقیات ، روحانیت کی جڑیں کٹ گئیں اور ہمارے علم اور نظام تعلیم میں اخلاق اور روحانیت کی کوئی بنیاد باقی نہ رہی ۔

اسلام کا نظام علم اور اسلام کا نظام تعلیم ایتائے حقوق کا جذبہ پیدا کرتا ہے جبکہ ہمارا موجودہ نظام تعلیم حقوق کے مطالبہ پر مبنی ہے اور فرائض کی ادائیگی کا تصور اس میں سے ختم ہوکر رہ گیا ہے ۔ نتیجتاً علم وہ شعور زندگی نہیں دے رہا جس شعور کے ساتھ معاشرے تشکیل پاتے ہیں ۔ علم جدوجہد کی بنیاد مہیا کرتا ہے کہ اس معاشرہ میں موجود طبقات کس کےلیے زندہ رہیں گے اور کس کےلیے مریں گے ؟ صرف کمائی کےلیے پڑھنا ، مقصود علم نہیں ہے ۔ علم اور نظام تعلیم کا یہ مقصد ہے کہ ساری معاشرتی برائیوں کا خاتمہ کیا جائے گا ۔۔۔ ناانصافی کا خاتمہ کیا جائے گا ۔۔۔ ظلم کو مٹایا جائے گا ۔۔۔ استحصال کو مٹایا جائے گا ۔۔۔ جبر و بربریت کو مٹایا جائے گا ۔۔۔ حقوق کی بحالی ہوگی ۔۔۔ اسلام کی سربلندی ہوگی ۔۔۔ معاشرے کے وہ سارے ناپاک عزائم جو ہم سے اسلام اور اسلامی کردار کو چھین رہے ہیں ، ان کے خلاف صف آراء ہوکر علمی و فکری جنگ کرنا ہوگی ۔ یہ غیر مسلح انقلابی جنگ اس وقت تک جب تک ظالم سامراجی طاقتیں خس و خاشاک کی طرح بہہ نہیں جاتیں ۔

ان مقاصد کو ذہن میں رکھ کر طلبہ و طالبات کو علم کے بنیادی اہداف مقرر کرنا ہوں گے ۔ اس صورتِ حال میں نظام تعلیم کو از سر نو استوار کرنا ناگزیر ہے ، اس لیے کہ یہ غلام پیدا کرنے والا نظام ہے ۔۔۔ یہ نظام تعلیم نہیں بلکہ نظام جہالت ہے۔۔۔ یہ نظام ہدایت نہیں بلکہ نظام ضلالت ہے۔ ہمیں وہ نظام چاہیے جو ہمیں اس ملک کی تخلیقی بنیاد سے آگاہ کر سکے ۔ ایسے نظام تعلیم کی ضرورت ہے جو جری ، جرات مند اور آزاد قوم کو تشکیل دے سکے ۔ وہ آزاد قوم کہ جس کی تقدیر عالمی طاقتوں کے مرہون منت نہ ہو بلکہ گنبد خضریٰ کے سائے میں لکھی جائے ۔ جس کا قبلہ کعبۃ اللہ ہو ۔۔۔ جس کا نظام آئینِ قرآن ہو ۔۔۔ جس کا نظام سنتِ مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہو ۔ جو اللہ عزوج اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کسی اور کی بندگی اور غلامی و وفاداری اختیار نہ کرے ۔ ایسے مردان حر جس نظام سے پیدا ہوں گے ، وہی نظام تعلیم اسلام کا ہوگا ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنی منزل اور شعورِ مقصد سے آشنا کردے تاکہ ہمارا جینا مرنا اللہ کےلیے ہو جائے ۔ اسی کی تلقین ہمیں صحیفہ انقلاب میں ان الفاظ کے ذریعے کی گئی ہے : قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ ۔
ترجمہ : تم فرماؤ بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کےلیے ہے جو رب سارے جہان کا ۔

یہاں جو فرمایا گیا وہ حقیقتاً ایک مومن زندگی کی عکاسی ہے کہ مسلمان کا جینا ، مرنا ، اور عبادت و ریاضت سب کچھ اللہ عزوجل کےلیے ہونا چاہیے ۔ زندگی اللہ عزوجل کی رضا کے کاموں میں اور جینے کا مقصد اللہ عزوجل کے دین کی سربلندی ہو ۔ یونہی مرنا حالتِ ایمان میں ہو اور ہو سکے تو کلمۂ حق بلند کرنے کےلیے ہو ۔ یونہی عبادت کا شرکِ جلی سے پاک ہونا تو بہرحال ایمانیات میں داخل ہے ، عبادت شرکِ خفی یعنی ریاکاری سے بھی پاک ہو اور خالصتاً اللہ عزوجل کی رضا و خوشنودی کےلیے ہو ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا دنداں شکن جواب

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا  دنداں شکن جواب محترم قارئینِ کرام : آج کل دیوبندیوں نے طوفانِ بدتمیزی مچ...