قرآن کریم اور نعت مصطفیٰ ﷺ پوسٹ نمبر 22
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
55. وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍoالتکوير، 81: 24
’’اور وہ (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) غیب (کے بتانے) پر بالکل بخیل نہیں ہیں (مالکِ عرش نے ان کے لیے کوئی کمی نہیں چھوڑی)o‘‘
البلد
56. لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِo وَأَنتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِo وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَo
البلد، 90: 1-3
’’میں اس شہر (مکہ) کی قَسم کھاتا ہوںo (اے حبیبِ مکرّم!) اس لیے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیںo (اے حبیبِ مکرّم! آپ کے) والد (آدم یا ابراہیم علیہما السلام) کی قَسم اور (ان کی) قَسم جن کی ولادت ہوئیo‘‘
57. وَالضُّحٰیo وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىo مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰیo وَ لَـلْاٰخِرَة خَيْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰیo وَلَسَوْفَ يُعْطِيْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰیo اَلَمْ يَجِدْکَ يَتِيْمًا فَاٰوٰیo وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَهَدٰیo وَوَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰیo فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَـلَا تَقْهَرْo وَاَمَّا السَّآئِلَ فَـلَا تَنْهَرْo وَاَمَّا بِنِعْمَة رَبِّکَ فَحَدِّثْoالضحی، 93: 1-11
’’ قَسم ہے چاشت کے وقت کی (جب آفتاب بلند ہو کر اپنا نور پھیلاتا ہے)o اور قَسم ہے رات کی جب وہ چھا جائےo آپ کے رب نے (جب سے آپ کو منتخب فرمایا ہے) آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ ہی (جب سے آپ کو محبوب بنایا ہے) ناراض ہوا ہےo اور بے شک (ہر) بعد کی گھڑی آپ کے لیے پہلی سے بہتر (یعنی باعثِ عظمت و رفعت) ہےo اور آپ کا رب عنقریب آپ کو (اتنا کچھ) عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گےo (اے حبیب!) کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر اس نے (آپ کو معزّز و مکرّم) ٹھکانا دیاo اور اس نے آپ کو اپنی محبت میں خود رفتہ و گم پایا تو اس نے مقصود تک پہنچا دیاo اور اس نے آپ کو (وصالِ حق کا) حاجت مند پایا تو اس نے (اپنی لذتِ دید سے نواز کر ہمیشہ کے لیے ہر طلب سے) بے نیاز کر دیاo سو آپ بھی کسی یتیم پر سختی نہ فرمائیںo اور (اپنے در کے) کسی منگتے کو نہ جھڑکیںo اور اپنے رب کی نعمتوں کا (خوب) تذکرہ کریںo‘‘
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
داڑھی کی مقدار و شرعی حیثیت اور جدت پسند مغرب کے پیروکار اسکالرز کے پیروکاروں کو دعوتِ فکر
داڑھی کی مقدار و شرعی حیثیت اور جدت پسند مغرب کے پیروکار اسکالرز کے پیروکاروں کو دعوتِ فکر محترم قارئینِ کرام : شرعاً ایک مشت تک داڑھی بڑھان...
-
درس قرآن موضوع آیت : قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَ...
-
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لینا اور مرد کو اپنا آلۂ مردمی اپنی بیوی کے منہ میں ڈالنا اور ہمبستری سے قبل شوہر اور...
-
شاہ است حسین بادشاہ است حسین شعر پر تحقیقی نظر محترم قارئینِ کرام : اس رباعی کو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمة اللہ علیہ کی طرف منسوب کیا...
No comments:
Post a Comment