طریقِ نبوت اور طریقِ ولایت میں سے افضل طریق کونسا ہے ؟
محترم قارئینِ کرام : اہلسنت و جماعت کا سلفاً خلفاً عقیدہ رہا ہے کہ انبیاء اور رسل علیہم السلام کے بعد سب سے افضل شخص حضرت ابوبکر پھر عمر پھر عثمان اور پھر مولا علی رضی اللہ عنہم ہیں ۔ افضیلت چاہے ظاہری ہو یا باطنی کیونکہ شیخین رضی اللہ عنہما مقام نبوت سے فیض یافتہ ہیں جو کہ مقام ولایت سے اعلیٰ ہے ۔ اسی کو حضرت صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں بیان کرتے ہیں : بعد انبیا و مرسلین ، تمام مخلوقاتِ الٰہی انس و جن و مَلک سے افضل صدیق اکبر ہیں ، پھر عمر فاروقِ اعظم ، پھر عثمان غنی ، پھر مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۔ (بہار شریعت خلافت راشدہ کا بیان)
مزید فرماتے ہیں : تمام اولیائے محمدیّین میں سب سے زیادہ معرفت وقربِ الٰہی میں خلفائے اَربعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں اور اُن میں ترتیب وہی ترتیب افضلیت ہے ، سب سے زیادہ معرفت و قرب صدیقِ اکبر کو ہے ، پھر فاروقِ اعظم ، پھر ذو النورَین ، پھر مولیٰ مرتضیٰ کو رضی اللہ تعالیٰ عنم اجمعین ۔ ہاں مرتبہ تکمیل پر حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جانبِ کمالاتِ نبوت حضراتِ شیخین کو قائم فرمایا اور جانبِ کمالاتِ ولایت حضرت مولیٰ مشکل کشا کو ۔ تو جملہ اولیائے مابعد نے مولیٰ علی ہی کے گھر سے نعمت پائی اور انہیں کے دست نگر تھے ، اور ہیں ، اور رہیں گے ۔ (بہارِ شریعت ولایت کا بیان)
حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام اربابِ تسلیم کے امام اور اہلِ طریقت کے پیشوا ہیں : ⏬
حضرت سیّد علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سب کے سب تسلیم و رضا کے مسئلہ پر اپنا امام و پیشوا مانتے چلے آ رہے ہیں اور آپ تمام اربابِ تسلیم کے امام اور اہلِ طریقت کے پیشوا ہیں ۔(کشف المحجوب مترجم صفحہ 175 مطبوعہ مکتبہ شمس و قمر بھاٹی گیٹ لاہور)
نوٹ : یاد رہے ہم اہلسنّت و جماعت کے نزدیک حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ تاجدار ولایت ہیں ہم ادنیٰ غلام ہیں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے اہلسنّت و جماعت حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو بھی اپنا امام و پیشوا مانتے ہیں اور حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی رافضی حُبِّ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی آڑ میں مقامِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا انکار و توہین کرتے ہیں اور ناصبی و خارجی حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے مقام کا انکار و توہین کرتے ہیں ہم اہلسنّت و جماعت ناصبیوں ، خارجیوں اور رافضیوں کے ںظریات سے بری الذمہ ہیں اور ان فتنوں سے اللہ عزّ و جل کی پناہ مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں رافضی ، خارجی اور ناصبی فتنے کے شر سے بچائے اور جملہ اہلسنّت کو اِن کے شر سے محفوظ رکھے آمین ۔
طریق نبوت اور طریق ولایت تصوف اور اسلامی روحانیت کے دو بنیادی راستے ہیں ، جن میں فرق کا مدار دعوت ، توجہ اور مقامِ روحانی پر ہے ۔ نبوت براہِ راست اللہ کی طرف سے احکام کی تبلیغ اور مخلوق کی ہدایت کا نام ہے ، جبکہ ولایت میں بندہ خالق کی ذات میں فنا ہو کر روحانی کمال اور قربِ الہٰی حاصل کرتا ہے ۔ طریق نبوت (سلوکِ نبوی)طریق نبوت کا سب سے اعلیٰ کمال یہ ہے کہ نبی اللہ تعالیٰ کے ساتھ قرب (وصول) حاصل کرنے کے بعد مخلوق کی ہدایت کےلیے دوبارہ دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ اس راستے کا بنیادی مقصد شریعت کی تبلیغ ، بندوں کی اصلاح اور انہیں گناہوں سے نکال کر صراطِ مستقیم پر لانا ہے ۔ اس میں نبی کا باطن اللہ کی طرف اور ظاہر مخلوق کی طرف ہوتا ہے تاکہ لوگوں کی رہنمائی کی جا سکے ۔طریق ولایت (سلوکِ ولایتی) طریق ولایت روحانی ترقی اور قربِ الہیٰ کی وہ منزل ہے جو انبیاء کی پیروی (اتباعِ شریعت) سے عام مسلمانوں کو حاصل ہوتی ہے ۔ اس میں بندہ اپنی مرضی کو اللہ کی رضا میں فنا کر دیتا ہے اور دنیا و مافیہا سے کٹ کر صرف اور صرف اللہ کی محبت اور یاد میں مشغول رہتا ہے ۔ ولایت کا خاصہ استغراق (اللہ کی یاد میں ڈوبے رہنا) اور فنا فی اللہ ہے ۔ صوفیاء کرام علیہم الرحمہ کے نزدیک ولایت کے مدارج نبی کی کامل پیروی سے طے ہوتے ہیں ۔ بزرگانِ دین جیسے حضرت مجدد الف ثانی کے مطابق ، نبوت کا مقام ولایت سے بلند و بالا ہے کیونکہ ولایت ، نبوت کا ہی ایک باطنی حصہ (یا عکس) ہے ۔ ولی اپنے روحانی مقام میں استغراق اور فنا کی کیفیت میں رہتا ہے ، جبکہ انبیاء علیہم السلام مخلوق کی ہدایت کےلیے اپنی ظاہری اور باطنی ذمہ داریوں کو بیک وقت بطریق احسن ادا کرتے ہیں ۔
حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : معلوم ہو کہ نبوت سے مراد وہ قربِ الہیٰ ہے جس میں ظلیت کا کچھ بھی شائبہ نہیں ۔ اس قرب کا عروج حق جل و علا کی طرف رُخ رکھتا ہے ، اور اس کا نزول مخلوق کی طرف ۔ یہ قرب بالاصالت انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات کے نصیبب ہے اور یہ منصب انہی بزرگوں علیہم الصلوات و البرکات کے ساتھ مخصوص ہے ۔ نیز یہ منصب حضرت سید البشر علیہ وعلی آلہ الصلوٰۃ والسلام پر ختم ہو چکا ہے ۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والتحیۃ بھی نزول کے بعد حضرت خاتم الرسل علیہ الصلوٰۃ والسلام کی متابعت کریں گے ۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ (جس طرح) متبعین اور خادموں کو اپنے مالکوں کی دولت اور ان کے پس خوردہ سے حصہ حاصل ہوتا ہے (اسی طرح) انبیاء علیہم الصلوات و التحیات کی دولتِ قرب سے ان کے کامل متبعین کو بھی حصہ حاصل ہوتا ہے ۔ نیز اس مقام کے علوم و معارف اور کمالات سے وراثت کے طریق پر کامل متبیعین کو بھی حصہ نصیب ہوتا ہے : ⏬
خاص کند بندۂ مصلحت عام را ۔
ترجمہ : عام کے فائدے کو خاص آیا ۔
پس آنحضرت خاتم الرسل علیہ وعلی آلہ وعلیٰ جمیع الانبیاء والرسل الصلوات والتحیات کی بعثت کے بعد آپ کے متبعین کو تبعیت و وراثت کے طریق پر کمالاتِ نبوت کا حاصل ہونا آپ علیہ و علی آلہ الصلوۃ والسلام کی خاتمیت کے منافی نہیں ۔ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ ۔ (سورہ البقرہ آیت نمبر 147)
ترجمہ : پس آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ۔
اللّٰہ تعالیٰ آپ کو سعادت مند کرے ، آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کمالاتِ نبوت تک پہنچانے والے دو راستے ہیں : ایک وہ راستہ جو مقامِ ولایت کے مفصل کمالات طے کرنے پر موقوف ہے اور اُن تجلیاتِ ظلیہ اور معارفِ سکریہ کے حصول پر منحصر ہے جو مرتبۂ ولایت کے قرب کے مناسب ہیں۔ ان کمالات کے طے کرنے اور ان تجلیات کے حاصل ہونے کے بعد کمالاتِ نبوت میں قدم رکھا جاتا ہے ، اس مقام میں اصل تک وصول ہوتا ہے اور ظلیت کی طرف التفات کرنا گناہ ہے۔ دوسرا راستہ وہ ہے جس میں ولایت کے ان کمالات کے حصول کے بغیر ہی کمالاتِ نبوت تک وصول (پہنچنا) میسر ہو جاتا ہے ۔ یہ دوسرا راستہ شاہراہ ہے اور کمالاتِ نبوت تک پہنچنے کا قریب ترین راستہ ہے ۔ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور ان کے اصحابِ کرام میں سے جو بھی ان انبیائے کرام علیہم وعلیٰ اصحابہم الصلوۃ والسلام والتحیۃ کی تبعیت و وراثت کی طریق پر کمالاتِ نبوت تک پہنچے ہیں ، الا ما شاء اللّٰہ تعالیٰ ، وہ اسی راستے سے پہنچے ہیں ۔ اور پہلا راستہ بہت دور و دراز والا ہے اور اس کا حاصل ہونا دشوار اور اس کا وصول محال ہے ۔
اولیاء کی ایک جماعت جو ولایت کے مقام میں نزول کے شرف سے مشرف ہوئی ہے ، اس نے مقامِ نزول کے کمالات کو کمالاتِ نبوت خیال کر لیا ہے اور مخلوق کی طرف متوجہ ہونے کو جو مقامِ دعوت کے مناسب ہے ، مقامِ نبوت کی خصوصیت میں سے سمجھا ہے ، ایسا نہیں ہے ، بلکہ یہ نزول اس کے عروج کے رنگ میں دونوں ولایتوں سے متعلق ہے ۔ وہ عروج و نزول دوسری چیز ہے جو مقامِ ولایت سے اوپر ہے اور نبوت سے تعلق رکھتا ہے ، اور مخلوق کے ساتھ یہ توجہ مخلوق کی اس توجہ کے ما سوا ہے جو کہ نبوت کے مناسب ہے اور یہ دعوت اُس دعوت (خلق) کے بغیر ہے جس کو کمالاتِ نبوت سے شمار کیا گیا ہے ۔ یہ گمان کرنے والے کیا کریں کہ انہوں نے ولایت کے دائرہ سے باہر قدم ہی نہیں رکھا اور نبوت کے کمالات کی حقیقت کو بھی نہیں سمجھا بلکہ ولایت کے نصف حصہ کو جو اس کے عروج کی جانب ہے ، کامل ولایت گمان کر لیا ہے اور اس کے دوسرے نصف حصے کو جو نزول کی جانب ہے ، مقامِ نبوت تصور کر لیا ہے ۔
چو آں کرمے کہ در سنگے نہاں است
زمین و آسمانِ او ہماں است
ترجمہ : وہ کیڑا جو کہ پتھر میں نہاں ہے ۔ وہی اس کا زمین و آسماں ہے ۔
اور ممکن ہے کہ کوئی شخص پہلی راہ سے بھی وصول حاصل کر لے اور ولایت و نبوت کے مفصل کمالات کو جمع کر لے اور ان دونوں مقامات کے کمالات کے درمیان جیسا کہ ان کا حق ہے، تمیز حاصل کر لے اور ہر ایک کے عروج و نزول کو جدا کر لے اور اس بات کا حکم کرے کہ نبی کی نبوت اس کی ولایت سے بہتر ہے ۔
جاننا چاہیے کہ دوسری راہ سے وصول کے بعد اگرچہ مقامِ ولایت کے مفصل کمالات حاصل نہیں ہوتے لیکن ولایت کا خلاصہ اور نچوڑ بہت خوبی کے ساتھ میسر آجاتا ہے اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ اہلِ ولایت نے کمالاتِ ولایت کا پوست (چھلکا) حاصل کر لیا ہے اور اس واصل نے اس کے مغز کو حاصل کیا ہے ۔ ہاں ! بعض علومِ سُکریہ اور ظہوراتِ ظلّیہ کی وجہ سے جو اربابِ ولایت کو حاصل ہوتے ہیں، وہ واصل ان علوم و ظہورات سے کم بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ یہ معنی ان کےلیے برتری یا فضیلت کا باعث نہیں ، کیونکہ اس واصل کےلیے یہ علوم و ظہورات موجبِ ننگ و عار ہیں ، بلکہ مناسب ہے کہ وہ ان کو اپنے حق میں گناہ اور سوءِ ادب سمجھے ۔ ہاں! اصل کا واصل اس اصل کے ظلال سے بھاگتا اور پناہ مانگتا ہے ، ظل کے ساتھ گرفتاری اس ظل کے اصل تک نہ پہنچنے کے وقت تک ہے ۔ اصل کے ساتھ واصل ہونے کے بعد ظل بے حاصل ہوجاتا ہے اور ظل کی طرف توجہ کرنا بے ادبی ہے ۔
اے فرزند ! کمالاتِ نبوت کا حصول محض بخشش اور اس کے فضل و کرم پر موقوف ہے ، کسب و عمل کو اس دولتِ عظمیٰ کے حصول میں کچھ دخل نہیں۔ بھلا وہ کسب و عمل کون سا ہے جو اس دولتِ عظمیٰ کے حصول کا نتیجہ ہو اور وہ کون سی ریاضت و مجاہدہ ہے جو اس روشن ترین نعمت (کے حصول) کا ذریعہ ہو ۔ بخلاف کمالاتِ ولایت کے کہ جس کی ابتدا اور مقامات کسبی ہیں اور اس کا حصول ریاضت و مجاہدے پر منحصر ہے ۔ اگرچہ یہ بھی جائز ہے کہ بعض کو بغیر کسب و عمل کی محنت کے اس دولت سے نواز دیا جائے ، اور فنا و بقا کہ جس سے ولایت مراد ہے وہ بھی (حق تعالیٰ) کی بخشش ہے کہ مقدمات کے کسب کے بعد اپنے فضل و کرم سے جس کو چاہے عنایت کر دے اور فنا و بقا کی دولت سے مشرف کر دے ۔ اور آں سرور علیہ وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین وعلی الملائکۃ المقربین وعلی اہل طاعتہ اجمعین الصلوات والتسلیمات کی بعثت سے قبل اور بعثت کے بعد کے ریاضات و مجاہدات اس دولت کے حاصل کرنے کےلیے نہ تھے ، بلکہ ان سے دوسرے منافع اور فوائد منظور تھے ۔ مثلًا : حساب کی کمی ، بشری لغزشوں کی تلافی ، درجات کی بلندی اور مرسل فرشتوں کی صحبت کی رعایت جو کھانے پینے سے پاک ہیں ، اور خوارق کے ظہور کی کثرت ، جو مقامِ نبوت کے مناسب ہے اور اسی طرح کی اور مصلحتیں ۔
جاننا چاہیے کہ اس بخشش کا حصول انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کے حق میں بلا واسطہ ہے اور انبیاء علیہم الصلوات والتحیات کے اصحاب کے حق میں جو تبعیت و وراثت کے طور پر اس دولت سے مشرف ہوئے ہیں، وہ بھی ان انبیاء علیہم الصلوات والبرکات کے توسط سے ہیں ۔ انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات اور ان کے اصحاب کے بعد بہت کم حضرات اس دولت سے مشرف ہوئے ہیں ۔ اگرچہ جائز ہے کہ کسی دوسرے کو بھی تبعیت و وراثت کے طور پر اس دولت سے سر فراز کیا جائے ۔
فیض روح القدس ار باز مدد فرماید
دیگراں ہم بکنند آنچہ مسیحا می کرد
ترجمہ : وحی کا فیض اگر پھر سے میسر آجائے ۔ دوسرے بھی وہ کریں جو کہ مسیحا نے کیا ۔
میں خیال کرتا ہوں کہ اس دولت نے کبارِ تابعین پر بھی اپنا پَرتَو ڈالا ہے اور اکابر تبع تابعین پر بھی سایہ فگن ہوئی ہے ۔ بعد ازاں یہ دولت پوشیدہ ہوگئی حتی کہ آں سرور علیہ و علی آلہ الصلوات والتسلیمات کی بعثت سے الفِ ثانی (دوسرے ہزار سال) کی باری آگئی اور اس وقت پھر وہ دولت تبعیت و وراثت کے طور پر منصۂ شہود میں آگئی اور آخر (زمانے) کو اول (زمانے) کے مشابہ بنا دیا ہے ۔
اگر پادشہ بر درِ پیر زن
بیاید تو اے خواجہ سبلت مکن
ترجمہ : اگر بادشہ آئے بڑھیا کے گھر ۔ تو اے خواجہ ! ہر گز تعجب نہ کر ۔
وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی وَالْتَزَمَ مُتَابَعَۃَ الْمُصْطَفٰی عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہِ الصَّلَوَاتُ وَالتَّسْلِیْمَاتُ أَتَمُّھَا وَأَکْمَلُھَا ، اور سلام ہو اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی متابعت کو اپنے اوپر لازم کیا ۔ (مکتوبات امام ربانی دفتر 1 مکتوب نمبر 301)
حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بعض مشائخ نے سکر کی حالت میں کہا ہے کہ : ولایت نبوت سے افضل ہے ۔ اور بعض دوسرے مشائخ نے اس ولایت سے نبی کی ولایت مراد لی ہے تاکہ نبی پر ولی کے افضل ہونے کا وہم دُور ہو جائے ۔ لیکن حقیقت میں معاملہ اس کے بر عکس ہے کیونکہ نبی کی نبوت اس کی ولایت سے افضل ہوتی ہے ، (مقامِ) ولایت میں (ولی) سینے کی تنگی کی وجہ سے مخلوق کی طرف توجہ نہیں کر سکتا ، (لیکن مقامِ) نبوت میں کمال درجہ شرح صدر ہونے کی وجہ سے نہ تو حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا مخلوق کی طرف متوجہ ہونے کا مانع ہے اور نا ہی مخلوق کی طرف متوجہ ہونا حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کا مانع ہے ۔ نبوت میں صرف مخلوق ہی کی طرف توجہ نہیں ہوتی کہ جس کی وجہ سے ولایت کو، کہ جس کی توجہ صرف حق پر ہوتی ہے ، نبوت پر ترجیح دیں ، عِیَاذًا بِاللہِ سُبْحَانَہٗ (اللہ سبحانہٗ کی پناہ) ۔
صرف مخلوق کی طرف توجہ کا ہونا عوام کالانعام (نا سمجھ لوگوں) کا درجہ ہے ، نبوت کی شان اس سے بلند و برتر ہے ۔ اس حقیقت کا سمجھنا ارباب سُکر کےلیے دشوار ہے لیکن اکابر مستقیم الاحوال اس معرفت سے ممتاز ہیں ۔ ھَنِیْئًا لِّأَرْبَابِ النَّعِیْمِ نَعِیْمُھَا ۔
ترجمہ : مبارک نعمتیں جنت کی ہوں اربابِ نعمت کو ۔ (مکتوبات امام ربانی دفتر 1 مکتوب نمبر 108)
قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ ۔ (سورہ طہ آیت نمبر 85)
حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں : یہیں سے بعض اہل تصوف نے کہا ہے کہ ولایت نبوت سے افضل ہے اس قول کی تشریح بعض اہل باطن نے اس طرح کی ہے کہ انبیاء کی ولایت ان کی نبوت سے افضل ہے کیونکہ ولایت کا تقاضا ہے استغراق اور فنا فی اللہ اور ہر طرف سے توجہ کو ہٹا کر اللہ ہی کی طرف اپنا رخ کر کے ڈوب جانا اور نبوت کا تقاضا ہے (تبلیغ و ہدایت کے لئے) مخلوق کی طرف رخ کرنا (اور ظاہر ہے کہ خالق کی طرف کامل توجہ مخلوق کی طرف رخ کرنے سے افضل ہے) تحقیق وہ ہے جو حضرت مجدد الف ثانی نے فرمایا کہ نبوت بہرحال ولایت سے افضل ہے ۔ ولایت کسی نبی کی ہو یا غیر نبی کی بہرصورت اس کا مرتبہ نبوت سے نچلا ہے کیونکہ ولایت نام ہے تجلیات صفاتی کا اور نبوت عکس ہے تجلیات ذاتیہ کا ۔ حضرت مجدد نے فرمایا نبوت ہو یا ولایت ہر ایک کے دو رخ ہیں عروج و نزول بالائی رخ کی طرف اٹھنا اور زیریں رخ کی طرف اترنا۔ نبی ہو یا ولی مرتبۂ عروج میں اس کی توجہ خالص اللہ کی طرف ہوتی ہے تاکہ خود اس کو کمال ذاتی اور ترقی مرتبہ حاصل ہو اور مرتبۂ نزول میں دونوں کی توجہ مخلوق کی طرف ہوتی ہے تاکہ دوسروں کو کامل بنا سکیں اور دوسروں کو ان سے نورچینی کا موقع مل سکے نبی اور ولی کے درمیان مرتبۂ عروج میں یہ فرق ہوتا ہے کہ ولی کا عروج صفات کی جانب ہوتا ہے ذات کی جانب نہیں (یعنی سیر صفاتی اس کے پیش نظر ہوتی ہے سیر ذات تک اس کی رسائی نہیں ہوتی) اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نزول کی حالت میں بھی مبدء فیض کی طرف اس کی کسی قدر توجہ رہتی ہے کامل طور پر وہ مخلوق کی طرف متوجہ نہیں ہو جاتا لیکن نبی مرتبۂ نزول میں آکر پورے طور پر مخلوق کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور بظاہر نظر وہ اپنے آپ کو منقطع عن اللہ خیال کرتا ہے اور یہ کیفیت و حالت اس کے لئے بڑی شاق اور دشوار ہوتی ہے مگر حقیقت میں وہ اللہ سے اس حالت میں بھی منقطع نہیں ہوتا بلکہ اس کا رخ ذات کی طرف بھی ہوتا ہے اور اس کے سینے میں دونوں جانب متوجہ ہونے کی سمائی ہوتی ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے تب بھی غلط نہ ہوگا کہ حقیقت میں مخلوق کی طرف توجہ کرنے کی حالت میں بھی وہ اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوتا ہے کیونکہ اللہ کے حکم اذن اور مرضی سے ہی وہ خلق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اسی لیے اس سیر نزولی کو سیر مِنْ اللّٰہ باللّٰہِ (اللہ کی طرف سے اللہ کی مرضی اور حکم کے ساتھ سیر) کہتے ہیں ۔ ہم نے اس مسئلے کی تنقیح پورے طور پر سورة الم نشرح کی آیت فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا کی تفسیر کے ذیل میں کی ہے ۔ (تفسیر مظہری تحت سورہ طہ آیت نمبر 85)
عارف باللہ شیخ طریقت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ(المتوفی 638ھ) اپنی معروف کتاب فتوحات مکیہ میں مقام خلفاء راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ان اولیاء میں سے وہ لوگ بھی ہیں جن کےلیے ایک ظاہری حکم ہوتا ہے اور ان کےلیے جیسے خلافت ظاہرہ ہوتی ہے اسی طرح خلافت باطنہ بھی ہوتی ہے جیسے ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، حسن ، معاویہ بن یزید ، عمر بن عبدالعزیز اور متوکل اور ان میں سے وہ لوگ بھی ہیں جنکے لیے صرف خلافت باطنہ ہوتی ہے جیسے احمد بن ہارون الرشید السبتی اور ابو یزید بسطامی ۔ (الفتوحات المکیہ باب 73 صفحہ 297)
شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سمیت بقیہ تینوں خلفاء جیسے ظاہری خلافت سے متصف تھے اسی طرح باطنی خلافت سے بھی متصف تھے اور جو عروج و کمال خلافت ظاہرہ میں حاصل تھا ایسا ہی کمال خلافت باطنہ میں حاصل تھا اس سے ان لوگوں سبق حاصل کرنا چاہیے جو دن رات ظاہری باطنی کا راگ الاپتے ہیں وہ خود تو باطنی فیوض سے کورے ہیں ہی صحابہ جیسے جلیل القدر ہستیوں کو بھی اپنی کور باطنی کے سبب خلافت باطنہ سے محروم رکھنے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں ایسے لوگوں کو اللہ ہدایت عطا فرمائے آمین ۔
یہی عقیدہ جناب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے بڑی طویل وضاحت کے ساتھ اپنی کتاب سلوک و تصوف کا علمی دستور میں اور اس کے ساتھ ساتھ شاہ ولی اللہ اور فلسفہ خودی کے صفحہ نمبر 30 پر نقل کرتے ہوۓ لکھتے ہیں : ⬇
طریقِ نبوت
طریقِ ولایت
ہر دو طریق میں واضح فرق کرتے ہوئے شاہ صاحب فرماتے ہیں طریق نبوت کلی فضیلت کا حامل ہے اور طریق ولایت جزوی فضیلت کا ۔طریقِ نبوت کا منتہیٰ اور نقطہ عروج مفہمیت اورمجددیت کے مقامات ہیں مجددیت اور مفہمیت کا مقام ولایت کے ہر مقام سے اس لیے بلند ہےکہ مجدد نہ صرف ہمہ وقت خالق کی طرف متوجہ رہتا ہے بلکہ اس تعلق کو بکمال وبتمام قائم رکھتے ہوئے خالق کا فیضان سنت مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی پیروی میںخلق خدا تک پہنچاتا رہتا ہے۔اس لئے وہ مرد حق اپنے کمال کی منزل طریق نبوت سے پاتا ہے ۔ اس کامقام کہیں بلند ہےاس شخص سے جو کمال کو طریق ولایت سے حاصل کرتا ہے ۔ اس دوران شاہ صاحب نے فضیلتِ شیخین رضی اللہ عنہما کے عجیب علمی مسئلے کو بھی حل فرمادیا ۔ فرماتے ہیں تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر کیوں فضیلت حاصل ہے باوجودیکہ حضرت علی اس امت میں سب سے پہلے صوفی ، مجذوب اور عارف ہیں اور یہ کمالات دیگر صحابہ میں نہیں ہیں مگر صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے طفیل میں قلت اور کمی کے ساتھ موجود ہیں غرضیکہ یہ مسئلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے حضور میں عرض کیا تو یہ چیز مجھ پر ظاہر ہوئی کہ فضل کلی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے نزدیک وہ ہے جو تمام امرِ نبوت کی طرف راجع ہو ، جیسا کہ اشاعت علم اور دین کے لیے لوگوں کی تسخیر اور جو چیزیں اس کے مناسب ہوں اور رہا وہ فضل جو ولایت کی طرف راجع ہو جیسا کہ جذب اور فناء تو یہ ایک فضل جزئی ہے اور اس میں ایک وجہ سے ضعف ہے ۔ اور شیخین رضی اللہ عنہما اول قسم کے ساتھ مخصوص تھے حتیٰ کہ میں انہیں فوارہ کے طریق پر دیکھتا ہوں کہ اس میں سے پانی پھوٹ رہا ہے تو جو عنایات نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر ہوئیں وہی بعینہ حضرت شیخین رضی اللہ عنہما پر ظاہر ہوئیں تو آپ دونوں حضرات کمالات کے اعتبار سے ایسے عرض کے مرتبہ میں ہیں جو جوہر کے ساتھ قائم ہے اور اس کے تحقق کو پورا کرنے والا ہے لہٰذا حضرت علی کرم اللہ وجہہ اگرچہ آپ کے بہت قریب ہیں نسب و حیات اور فطرت محبوبہ میں حضرات شیخین سے اور جذب میں بہت قوی اور معرفت میں بہت زائد ہیں مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم باعتبار کمال نبوت حضرات شیخین سے کی طرف زیادہ مائل ہیں اور اسی بنا پر جو علماء معارف نبوت سے باخبر ہیں شیخین کو فضیلت دیتے ہیں اور جو علماء معارف ولایت سے آگاہ ہیں وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو فضیلت دیتے ہیں اور اسی بنا پر حضرت شیخین کا مدفن بعینہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مدفن تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے باوجود انوار ولایت کے بھی حامل ہونے کے دین کی اشاعت کا کام زیادہ لیا گیا ہے اور سیدنا علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ سے باوجود انوار نبوت کے بھی حامل ہونے کے امت میں ولایت و روحانیت کے فروغ کا کام زیادہ لیا گیا ہے چنانچہ بیشتر سلاسل طریقت آپ ہی سے شروع ہوتے ہیں ۔ (سلوک و تصوف کا علمی دستور کے صفحہ نمبر 137 ، 138،چشتی)
حاصل شدہ نکات : حضرت ابوبکر و عمر طریق نبوت سے فیض یافتہ ہے اور حضرت علی طریق ولایت سے ۔ طریق نبوت طریق ولایت سے افضل ، اعلیٰ اور اکمل ہے ۔ طریق نبوت کو ہر لحاظ سے فضیلت حاصل ہے اور طریق ولایت کو بعض لحاظ سے بلکہ اس میں ایک وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے ۔ پکڑ لیتے ہیں ۔ یہی عقیدہِ اہل سنت ہے ۔
مولا علی مشکل کشا کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولایت باطنی اور اس کی رفعتوں میں کوئی شک نہیں مگر خلفاۓ ثلاثہ میں ولایت باطنی مولا علی کی نسبت رفیع تر ہے اور اس میں ان کی یکتائی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے فرمایا لو کنت متخذا خلیلا الحدیث یعنی اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا ہے اس میں صدیق اکبر ہی یکتا ہیں اور صدیق کی یکتائی آپ کو نظر کیوں نہیں آئی ؟
صدیق اکبر کا لقب آسمانوں سے عطا کیے جانے میں صدیق ہی یکتا ہیں اور صدیقیت ولایت باطنی کا اعلی ترین رتبہ ہے صدیق کی یکتائی آپ کو نظر کیوں نہیں آئی ؟
قرآن فرماتا ہے : ثانی اثنین اذ ھما فی الغار اس میں صدیق اکبر ہی یکتا ہیں جب قرآن نے ہی صدیق کو نبی کا ثانی کہہ دیا تو صدیق کی یکتائی آپ کو نظر کیوں نہیں آئی ؟
اذ يقول لصاحبه میں بھی صدیق اکبر ہی یکتا ہیں اور یہ لقب قرآن نے کسی دوسرے صحابی کو نہیں دیا صدیق کی یہ یکتائی آپ کو نظر کیوں نہیں آئی ؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے فرمایا کے ابوبکر سے بہتر شخص سورج نے نہیں دیکھا اس میں صدیق اکبر ہی یکتا ہیں اور صدیق کی یہ یکتائی آپ کو نظر کیوں نہیں آئی ؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے انہیں خود مصلّی امامت پر کھڑا کیا اور اگر کسی دوسرے کی تجویز دی گئی تو آپ نے لا ، لا ، لا ، فرما کر انکار کر دیا ۔ (سنن ابی داود رقم الحدیث4661)
اور یابی اللہ والمومنون الا ابابكر کی تصریح فرما دی یعنی ابوبکر کے سوا کسی کو امام ماننے سے اللہ اور اس کے فرشتے انکار کر رہے ہیں ۔ (مسلم رقم الحدیث6181)
اس میں صدیق اکبر ہی یکتا ہیں صدیق کی یہ یکتائی آپ کو نظر کیوں نہیں آئی ؟
ارحم امتی بامتی ابوبکر یعنی میری امت میں میری امت پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا ابوبکر ہے اس میں محبوب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی رحمۃ اللعالمینی کا عکس اپنے مکمل آب و تاب کے ساتھ جلوہ فگن ہے اس میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہی یکتا ہیں صدیق کی یہ یکتائی آپ کو نظر کیوں نہیں آئی ؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے فرمایا کہ مجھ پر تمام لوگوں سے زیادہ احسانات ابوبکر کے ہیں وہی ہیں امن الناس بر مولائے ما اس میں وہی یکتا ہیں صدیق کی یہ یکتائی آپ کو نظر کیوں نہیں آئی ؟ ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)





No comments:
Post a Comment