روایت وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ، لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ پر ایک تحقیقی نظر
محترم قارئینِ کرام : یہ عاجز موضوع پر لکھنا نہیں چاہ رہا تھا مگر روافضی اور اُن کے آلہ کار تقیہ (یعنی جھوٹ) کی آڑ میں چھپے رافضی بار بار اس روایت کو کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں صدیق اکبر ہوں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان بنا کر پیش کر رہے ہیں اور یہ جھوٹ دھڑلے سے بولا جا رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر کہا ہے ۔ تو گذارش ہے کہ یہ ان کا اپنا قول ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان نہیں ہے ۔ اس جھوٹ کی سزا کیا ہے وہ احادیثِ مبارکہ میں موجود ہے ۔ انہوں نے اپنے بعد کا کہا ہے ، پہلے کی بات نہیں کی ۔ انہیں بھی پتہ تھا کہ مجھ سے پہلے بھی صدیق ہے ۔ اس لیے آپ کا یہ قول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد کا تھا ، نہ کہ ان کی صدیقیت کی نفی تھی ۔ اس سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صداقت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ کیونکہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود صدیق کا لقب عطا فرمایا ہے ۔ یاد رہے سارے صحابہ بشمول حضرت مولا علی رضی اللہ عنہم صدیق یعنی سچے ہیں اور صدیق اکبر امتِ مسلمہ کے نزدیک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ روافضی اور اُن کے آلہ کار ایک منکر اور باطل روایت پیش کرتے ہیں روایت یہ ہے : روایت سند و متن کے ساتھ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الرَّازِيُّ قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى قَالَ: أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ، لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ ، صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ لِسَبْعِ سِنِينَ ۔ (سنن ابن ماجہ فضل علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ جلد ۱ صفحہ ۸۷ رقم : ۱۲۰ مطبوعہ موسسة الرسالہ)
مندرجہ بالا روایت اور اس کے بعض راویوں پر ناقدین نے کلام کیا ہے ، پہلے ناقدین کے اقوال کی تفصیل درج کی جاتی ہے ، اس کے بعد ، ان ناقدین کے اقوال کی روشنی میں ، فیصلہ کیا جائے گا کہ حدیث کس نوعیت کی ہے ، ملاحظہ کریں : ⏬
حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ۔ انا الصدیق الاکبر والی روایت امام جوزقانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں باطل ہے ۔ سند و متن کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں : امام جوزقانی نے معاذہ عدویہ کی اس روایت کو اپنی کتاب ’الأباطیل و المناکیر‘ میں باطل قرار دیا ہے، ساتھ ہی اس کی سند میں ایک راوی ابو الخطاب ہیں، انہیں مجہول و مضطرب الحدیث گردانا ہے ۔ الأباطیل و المناکیر میں ہے : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمُ بْنُ عِصَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمُ بْنُ عِصَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو فَاطِمَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، وَهُوَ يَقُولُ : أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ ۔ هَذَا حَدِيثٌ بَاطِلٌ ، وَأَبُو الْخَطَّابِ هَذَا مَجْهُولٌ مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ ۔ (الأباطيل و المناكير و الصحاح و المشاهير امام جوزقانی صفحہ ۲۹۳ ، ۲۹۴ مطبوعہ دار الصمیعی السعودیہ العربیہ)
حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ کی روایت : یہ روایت ، امیر المؤمین حضرت مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ سے موقوفا مروی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبد اللہ اسدی کوفی ہیں ۔ ان کے بارے میں امام ابن جوزی لکھتے ہیں : انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کچھ احادیث روایت کی ہیں ، جن پر ان کی متابعت نہیں کی جاتی ، امام ابن مدینی نے فرمایا : ضعیف الحدیث ہیں ۔ عباد بن عبد الله الْأَسدي روى عَن عَليّ أَحَادِيث لَا يُتَابع عَلَيْهَا قَالَ ابْن الْمَدِينِيّ ضَعِيف الحَدِيث ۔ (الضعفاء و المتروکین امام ابن جوزی جلد ۲ صفحہ ۷۵ ، رقم : ۱۷۸۰ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
مزید امام ابن جوزی نے فرمایا : امام احمد بن حنبل نے ان کی حدیث عن علی أنا الصدیق الأکبرکو رد کردیا اور فرمایا کہ وہ منکر ہیں اور ابن حزم نے کہا : مجہول ہیں ۔ قال ابن الجوزي ضرب ابن حنبل على حديثه عن علي أنا الصديق الأكبر وقال هو منكر وقال ابن حزم وهو مجهول ۔ (تہٍذیب التہذیب اما ابن حجر عسقلانی جلد ۵ صفحہ ۹۸ ، رقم : ۱۶۵ مطبوعہ دائرۃ المعارف النظامیۃ الھند،چشتی)
ان کے بارے میں امام بخاری نے سخت جرح کرتے ہوئے فرمایا : فیه نظر ۔ قال الْبُخَارِی : فِيهِ نظر ۔ (تہذیب الکمال فی أسماء الرجال امام مزی جلد ۱۴ صفحہ ۱۳۸ ، رقم : ۳۰۸۷ مطبوعی مؤسسۃ الرسالۃ)
امام ابن عدی نے انہیں الضعفاء میں ذکر کے ، امام بخاری کا قول فیه نظر درج کیا ہے ۔ يعد في الكوفيين سمع عليا سمع منه المنهال بن عَمْرو، فيه نظر ۔ سمعتُ ابنَ حماد يذكره عن البخاري ۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال امام ابن عدی جلد ۵ صفحہ ۵۵۳ ، رقم : ۱۱۷۴ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
البتہ امام ابن حبان نے ان کو اپنی کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے ۔ و ذكره ابنُ حِبَّان في كتاب : الثقات ۔ (تہذیب الکمال فی أسماء الرجال امام مزی جلد ۱۴ صفحہ ۱۳۸ ، رقم : ۳۰۸۷ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ)
اور امام ابن حجر عسقلانی نے ان کے بارے قول فیصل یہ بیان فرمایا کہ یہ ضعیف ہیں ۔ عباد بن عبد الله الأسدي الكوفي ضعيف ۔ (التقریب امام ابن حجر عسقلانی صفحہ ۲۹۰ رقم : ۳۱۳۶ مطبوعہ دار الرشید، سوریا)
امام عقیلی نے اس روایت کو الضعفاء الکبیر میں ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اس روایت میں لین ہے ۔ الرِّوَايَةُ فِي هَذَا فِيهَا لِينٌ ۔ (الضعفاء الکبیر امام عقیلی جلد ۳ صفحہ ۱۳۷ مطبوعی رقم : ۱۱۲۰ مطبوہ دار المکتبۃ العلمیۃ بیروت)
امام ابن جوزی نے ان کی اس روایت کو موضوع قرار دینے کے بعد ، اس حدیث کو روایت کرنے میں عباد بن عبد اللہ کو ہی متہم قرار دیا ہے ، نیز امام ازدی علیہ الرحمۃ کا قول نقل کیا ہے کہ اسدی نے کچھ احادیث روایت کی ہیں ، جن پر ان کی متابعت موجود نہیں ۔ وَهَذَا مَوْضُوع وَالْمُتَّهَم بِهِ عباد بن عبد اللہ …… وَقَالَ الْأَزْدِيّ : روى أَحَادِيث لَا يُتَابع عَلَيْهَا ۔ (الموضوعات امام ابن جوزی جلد ۱ صفحہ ۳۴۱ مطبوعہ المکتبۃ السلفیۃ المدینۃ المنورۃ)
ان کی یہ روایت الکشف الحثیث عمن رمی بوضع الحدیث میں بھی مذکور ہے ۔ (الکشف الحثیث سبط ابن العجمی صفحہ ۱۴۴ رقم : ۳۶۳ مطبوع عالم الکتب بیروت)
اس سند کا حکم : اگرچہ امام ابن حبان نے عباد بن عبد اللہ کو اپنی کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے ، مگر عام طور سے ناقدین و محققین نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے بلکہ بعض محدثین نے ان کی سخت جرح کی ہے ، اس لیے ان کے بارے میں امام ابن حبان کی رائے مرجوح ، اور دیگر ناقدین کی رائے ، راجح قرار پائےگی ، اس لحاظ ان کی یہ سند شدید ضعیف نہ سہی ، ضعیف ضرور ہے ۔
اس روایت کے متعلق امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا یہ منکر ہے ، قال عليُّ بنُ أبي طالبٍ : أنا عبدُ اللهِ وأخو رسولِه ، وأنا الصِّدِّيقُ الأكبرُ ، لا يقولُها بعدي إلَّا كاذبٌ ، صلَّيت قبل النَّاسِ سبعَ سنين ۔ الراوي : عباد بن عبدالله الأسدي | المحدث : ابن الجوزي | المصدر : موضوعات ابن الجوزي ۔ (الصفحة أو الرقم: 2/98 | خلاصة حكم المحدث : موضوع)
عن عَلِيٍّ يقولُ أنا عَبدُ اللَّهِ وأَخو رَسولِهِ وأَنا الصِّدِّيقُ الأكْبَرُ لا يقولُها بعْدِي إلا كاذِبٌ مُفتِرٍ صَلَّيتُ قبلَ النَّاسِ بسبعِ سنينَ ۔ الراوي : عباد بن عبدالله الأسدي | المحدث : ابن كثير | المصدر : البداية والنهاية الصفحة أو الرقم: 3/25 | خلاصة حكم المحدث : منكر)
اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ : ⏬
(1) یہ باطل قول ہے اس میں عباد بن عبد اللہ کذاب راوی ہے ۔
(2) یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے حدیث رسول نہیں ہے اور ان کا اپنا قول بھ باطل اور منکر ہے ۔
افسوس کہ رافضی شیعہ اور تقیہ (یعنی جھوٹ) کی آڑ میں چھپے رافضیوں نے حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر ثابت کرنے کی کوشش ہے لیکن وہ بھی ان کے ایک باطل اور منکر غیر ثابت قول کے ساتھ ۔ اندازہ لگایا آپ نے کہ کس طرح غلط کو صحیح کہ رہے ہیں یہ رافضی شیعہ اور تقیہ (یعنی جھوٹ) کی آڑ میں چھپے رافضی حضرات ۔
بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ مولائے کائنات سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم صدیق اکبر ہیں ، اور بزعم خویش یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ آقائے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو ، صدیق اکبر ، اور فاروق اعظم ، کا لقب اپنی زبان رسالت سے عطا کیا ہے ۔ اور علمائے اہل سنت پہ یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے مولائے کائنات کی شان میں وارد اس فرمان کو ۔ کہ صدیق اکبر مولا علی ہیں ۔ چھپایا اور اپنی کتابوں میں جگہ نہ دی ۔
ان کا مذکورہ دعویٰ ہی کئی جہتوں سے قابل گرفت ہے لیکن ہم اس سے صرف نظر کرتے ہیں اور جس حدیث کے ذریعے یہ ثابت کیا گیا ہے اس کی اسنادی حیثیت کا جائزہ لیتے ہیں ۔
چوں کہ اس بات کی ضرورت اس لیے پڑی کہ اس کے ذریعے افضلیت عمرین کو ختم کرکے مولائے کائنات کو سب سے افضل قرار دینا ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم افضلیت پر ہونے والے حملے کا دفاع کریں ۔
وہ حدیث یہ ہے : عن أبي ذر الغفاري : سمعتُ النَّبيَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم يقولُ لعليِّ بنِ أبي طالبٍ: أنت أوَّلُ من آمن بي، وأنت أوَّلُ من يصافحُني يومَ القيامةِ، وأنت الصِّدِّيقُ الأكبرُ، وأنت الفاروقُ، وتُفرِّقُ بين الحقِّ والباطلِ ، وأنت يعسوبُ المؤمنين، والمالُ يعسوبُ الكافرين ۔
مذکورہ بالا حدیث پر گفتگو کرتے ہوئے ایک تفضیلیت زدہ شخص نے اس کی کل ٦/ اسناد ذکر کی ہیں ۔ ١۔ حضرت ابوذر غفاری ٢۔ حضرت سلمان فارسی ٣۔ابو لیلیٰ غفاری ٤۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ٥۔ مولائے کائنات حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ ۔ ان کے الفاظ یہ ہیں : بعض سندیں خاص اہل بیت علیہم السلام کی سندیں ہیں اور وہ مولائے کائنات سے خود اس فرمان کو روایت کرتے ہیں اور مولا علی ان روایات کو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں ۔ ٦۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہم ۔
مذکورہ حدیث ان چھ راویوں سے مروی ہے ، ہر ایک کی روایت پر محدثین و ائمۂ جرح و تعدیل نے کہا فرمایا ہے ، ملاحظہ فرمائیں : ⏬
*١۔ عن ابی ذر الغفاری رضی اللہ عنہ*
ابن جوزی : "موضوع" (موضوعات ابن جوزی ١٠٢/٢)
امام ذہبی : "فیہ محمد بن عبید واہ، و علی بن ھاشم شیعی و عباد رافضی" (ترتیب الموضوعات ص١٠٠)
*١/٢۔ عن ابی ذر الغفاری و سلیمان الفارسی*
علامہ ابن کثیر : " منکرا جدا" ( جامع المسانید و السنن ٤٣٨٦)
امام ہیثمی : " فیہ عمرو بن سعید المصری و ھو ضعیف" (مجمع الزوائد ١٠٥/٩)
امام ابن حجر عسقلانی :" اسنادہ واھی ، و محمد متھم، و عباد من کبار الروافض، و ان کان صدوقا فی الحدیث" ( مختصر البزار ٣٠١/٣)
یہ استنادی حیثیت تھی پہلے اور دوسرے طریق کی ۔ اب تیسرے طریق کو ملاحظہ کیجیے ۔
*٣۔ أبو لیلیٰ الغفاری رضی اللہ عنہ*
ابن عبد البر :" فیہ اسحاق بن بشر ممن لایحتج بنقلہ اذا انفرد لضعفہ و نکارۃ حدیثہ" ( الستیعاب ٣٠٧/٤)
*٤۔ عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما*
عقیلی : " فیہ داھر بن یحییٰ الرازی کان ممن یغلو فی الروافض لایتابع علیہ حدیثہ" ( الضعفاء الکبیر ٢/ ٤٧)
ابن عدی : " فیہ عبد اللہ بن یحییٰ بن داھر عامۃ ما یرویہ فی فضائل علی و ھو متھم" ( ٥/ ٣٧٩)
ابن جوزی : " موضوع" (موضوعات ابن جوزی ٢/ ١٠٣)
امام ذہبی : " فیہ عبد اللہ بن داھر من غلاۃ القوم و ضعفائھم "( ترتیب الموضوعات ١٠٠)
ایضا قال : قد اغنی اللہ علیاََ أن تقرر مناقبہ بالأکاذیب و الاباطیل" ( میزان الإعتدال ٢/ ٤١٦)
" باطل" ( میزان الإعتدال ٢/ ٣،چشتی)
*٥۔ عن علی کرم اللہ وجہہ الکریم*
الجورقانی :" حبۃ لایساوی حبۃ کان غالباََ فی التشیع واھیا فی الحدیث" (الأباطیل و المناکیر ١/٢٩٤)
قال ایضاََ : " باطل " ( الأباطیل و المناکیر ٢٩٣)
ابن عساکر :" لا یتابع علیہ و لا یعرف سماع سلیمان بن معاذۃ" ( تاریخ دمشق ٤٢/ ٣٣)
ابن جوزی : " لا یصح" (العلل المتناھیۃ ٢/٩٤٤)
قال ایضاََ :" موضوع " (موضوعات ابن جوزی ٩٩/٢)
امام ذہبی : " کذب علیٰ علیٍ"( میزان الإعتدال ٢/ ٣٦٨)
*٦۔ عن ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ*
مذکورہ حدیث آپ سے مروی تلاش بسیار کے بعد بھی نہ ملی ۔
حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے میں، راوی عباد بن عبد اللہ کی ایک متابع موجود ہے اور وہ معاذہ عدویہ کی روایت ہے، مگر ان سے روایت کرنے والے راوی سلیمان بن عبد اللہ کا سماع، معاذہ عدویہ سے ثابت نہیں اور نہ ہی کسی نے یہ حدیث، معاذہ عدویہ سے روایت کرنے میں ان کی متابعت کی ہے۔
امام بخاری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: معاذہ عدویہ سے اس حدیث کو رویت کرنے میں سلیمان بن عبد اللہ کی متابعت نہیں کی جاتی اور معاذہ عدویہ سے سلیمان بن عبد اللہ کا سماع بھی نہیں جانا جاتا۔
التاريخ الكبير میں ہے : سُلَيْمَان بْن عَبْد اللَّه عَنْ معَاذة العدوية سَمِعت عليا أخا الصديق الأكبر، قَالَه بشر بْن يوسف عَنْ نوح بْن قيس سَمِعَ سُلَيْمَان، وَقَالَ لنا مُوسَى نا نوح نا سُلَيْمَان أَبُو فاطمة عَنْ معَاذة – بمثله، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّه: لا يتابع عليه ولا يعرف سماغ سُلَيْمَان من معَاذة‘‘۔ (التاریخ الکبیر، امام بخاری، ج۴ص۲۳، رقم: ۱۸۳۵، ط: دائرۃ المعارف العثمانیۃ، حیدر آباد)
امام عقیلی نے امام بخاری علیہ الرحمۃ کے اس قول کو اپنی کتاب ’الضعفاء الکبیر‘ میں نقل کیا ہے۔
الضعفاء الکبیر میں ہے : سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ. حَدَّثَنِي آدَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ الْبُخَارِيَّ قَالَ: سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ: ((أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ)) قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ، وَلَا يُعْرَفُ سَمَاعُ سُلَيْمَانَ مِنْ مُعَاذَةَ۔ وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي فَاطِمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ: ((أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ))‘‘۔ (الضعفاء الکبیر، امام عقیلی، ج۳ص۱۳۰، ط: رقم: ۶۱۶، ط: دار المکتبۃ العلمیۃ، بیروت)
امام ابن عدی نے بھی امام بخاری کے مندرجہ بالا قول کو اپنی ’الکامل فی ضعفاء الرجال‘ میں جگہ دی ہے، مزید فرمایا کہ راوی سلیمان، اسی حدیث سے مشہور ہیں، مجھے اس کے علاوہ ان کی کوئی حدیث معلوم نہیں اور ان کی اس روایت پر متابعت موجود نہیں جیسا کہ اما بخاری علیہ الرحمۃ نے فرمایا۔
الکامل فی ضعفاء الرجال میں ہے:سمعتُ ابْن حَمَّاد يَقُولُ: قال البُخارِيّ سليمان بْن عَبد الله عن معاذة العدوية سمعت علي قال أنا الصديق الأكبر، لاَ يُتَابَعُ عَليه، ولاَ يعرف سماع سليمان من معاذة۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ منصور القراطيسي، حَدَّثَنا عُبَيد اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الجسري، وَمُحمد بْن يَحْيى القطعي وزياد بْن يَحْيى الحساني قالوا، حَدَّثَنا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ عَن سليمان أبي فاطمة عن معاذة بنت عَبد اللَّه العدوية قالت سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يخطب على منبر البصرة، وَهو يقول أنا الصديق الأكبر آمنت قبل أن يؤمن أبو بكر وأسلمت قبل أن يسلم. قال ابنُ عَدِي وسليمان يعرف بهذا الحديث، ولاَ أعرف له غيره ولم يتابع على هذه الرواية كما قاله البخاري‘‘۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال، امام ابن عدی، ج۴ص۲۶۸، رقم: ۷۴۶، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
امام ابن عساکر نے بھی اپنی کتاب ’تاریخ دمشق‘ میں امام بخاری علیہ الرحمۃ کی رائے کو نقل کیا ہے کہ معاذہ سے اس حدیث کو روایت کرنے میں سلمان کی متابعت موجود نہیں اور معاذہ سے سلیمان کا سماع بھی معلوم نہیں۔
تاریخ دمشق میں ہے:أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل وأبو محمد السيدي وأبو القاسم زاهر بن طاهر قالوا أنا أبو سعد محمد بن عبد الرحمن الجنزرودي أنا عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب نا يوسف بن عاصم الرازي نا سويد بن سعيد نا نوح بن قيس عن سليمان بن عبد الله عن معاذة العدوية قالت سمعت عليا على منبر البصرة يخطب يقول أنا الصديق الاكبر آمنت قبل أن يؤمن أبو بكر وأسلمت قبل أن يسلم۔ أخبرنا أبو القاسم بن السمرقندي أنا أبو القاسم بن مسعدة أنا حمزة بن يوسف أنا أبو أحمد قال سمعت ابن حماد يقول: قال البخاري: سليمان بن عبد الله عن معاذة العدوية سمعت عليا قال أنا الصديق الأكبر، لا يتابع عليه ولا يعرف سماع سليمان من معاذة‘‘۔ (تاریخ دمشق، امام ابن عساکر، ج۴۲ص۳۲، ط: دار الفکر، بیروت)
امام ابن قیسرانی نے بھی امام بخاری اور امام ابن عدی کے کلام کو اپنی کتاب ’ذخیرۃ الحفاظ‘ میں ذکر کیا ہے۔
ذخیرۃ الحفاظ میں ہے:حَدِيث:أَنا الصّديق الْأَكْبَر، آمَنت قبل أَن يومن أَبُو بكر، وَأسْلمت قبل أَن يسلم. رَوَاهُ سُلَيْمَان بن عبد الله أَبُو فَاطِمَة: عَن معَاذَة بنت عبد الله العدوية قَالَت: سَمِعت عليا يخْطب على منبرالبصرة. وَسليمَان هَذَا لايعرف إِلَّا بِهَذَا الحَدِيث، وَلَا أعرف لَهُ غَيره، لم يُتَابع عَلَيْهِ، قَالَه البُخَارِيّ‘‘۔ (امام ابن القیسرانی، ج۱ص۴۹۹، رقم: ۷۵۱، ط: دار السلف، الریاض)
امام مزی علیہ الرحمۃ نے بھی اپنی کتاب ’تہذیب الکمال‘ میں راوی سلیمان بن عبد اللہ کے بارے میں امام بخاری علیہ الرحمۃ کی تنقید کو نقل کیا ہے۔
تہذیب الکمال میں ہے:سُلَيْمان بن عَبد اللَّهِ، أَبُو فاطمة. رَوَى عَن: معاذة العدوية (عس) قالت: سمعت علي بْن أَبي طالب يقول على منبر البصرة: أنا الصديق الأكبر، آمنت قبل أن يؤمن أَبُو بَكْر، وأسلمت قبل أن يسلم! رَوَى عَنه: نوح بْن قيس الحداني (عس) قال البخاري: لا يتابع عليه ولا يعرف إلا به، ولا يعرف سماع سُلَيْمان من معاذة۔ روى له النَّسَائي فِي ’مسند علي‘ هَذَا الْحَدِيث الواحد‘‘۔ (تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، امام مزی، ج۱۲ص۱۸، رقم: ۲۵۳۷، ط: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
بعض الفاظ میں تھوڑا اختلاف کے ساتھ، مندرجہ بالا تنقید، مندرجہ ذیل کتابوں میں بھی مذکور ہے : ⏬
المغنی فی الضعفاء میں ہے:عس سُلَيْمَان بن عبد الله عَن معَاذَة عَن عَليّ أَنا الصّديق الْأَكْبَر فِي الضُّعَفَاء للعقيلي وَقَالَ خَ لَا يُتَابع عَلَيْه‘‘ِ۔ (المغنی فی الضعفاء، امام ذہبی، ص۲۸۱، رقم: ۲۶۰۱، ط: ندارد)
میزان الاعتدال میں ہے:سليمان بن عبد الله. روى عن معاذة عن علي: أنا الصديق الاكبر. مذكور في كتاب العقيلي من رواية نوح بن قيس عن أبي فاطمة: سليمان بن عبد الله. قال البخاري: لا يتابع عليه. وذكره ابن عدي في الضعفاء‘‘۔ (میزان الاعتدال، امام ذہبی، ج۲ص۲۱۲، رقم: ۳۴۸۴، ط: دار المعرفۃ، بیروت)
تہذیب التہذیب میں ہے:سليمان بن عبد الله أبو فاطمة روى عن معاذ العدوية عن علي قال على منبر البصرة أنا الصديق الأكبر وعنه نوح بن قيس الحداني۔ قال البخاري: لا يتابع عليه ولا يعرف إلا به ولا يعرف له سماع من معاذة۔ قلت: وقال ابن عدي: لا أعرف له غيره ولا يتابع عليه كما قال البخاري‘‘۔(تہذیب التہذیب، امام ابن حجر عسقلانی، ج۴ص۲۰۴، رقم: ۳۴۸، ط: دائرۃ المعارف النظامیۃ، الھند)
العلل المتناھیۃ میں ہے:أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْحَافِظُ قَالَ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ قَالَ أَنَا الْعُتَيْقِيُّ قَالَ نا يُوسُفُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ نا الْعَقِيلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ قَالَ نا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ أَبِي فَاطِمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ قَالَتْ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ أَنَا الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ۔
قال الْمُؤَلِّفُ: “وَهَذَا لا يَصِحُّ قَالَ الْبُخَارِيّ لا يتابع سُلَيْمَان عليه ولا يعرف سماعه من معاذة‘‘۔ (العلل المتناھیۃ، امام ابن الجوزی، کتاب المتشبع من الروایات الوھیۃ عن الصحابۃ، ج۲ص۴۶۱، رقم: ۱۵۶۹، ط: إدارۃ الأثریۃ، فیصل آباد، پاکستان)
علامہ ابن کثیر، اس روایت کے متعلق، عدم صحت کے قول کی نسبت، امام بخاری کی طرف کرنے کےبعد، اس روایت کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تواترا ثابت ہے کہ آپ نے کوفہ کے منبر پر فرمایا: اے لوگو! بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد، اس امت میں سب سے بہتر، حضرت ابو بکر، پھر حضرت عمر ہیں اور اگر تیسرے فرد کا نام ذکر کرنا چاہتا؛ تو میں ان کا نام ذکر کردیتا۔
البدایۃ و النھایۃ میں ہے:وَقَالَ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ بن سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ قَالَتْ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ يَقُولُ: أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ ۔ وَهَذَا لَا يَصِحُّ قَالَهُ الْبُخَارِيُّ، وَقَدْ ثَبَتَ عَنْهُ بِالتَّوَاتُرِ أَنَّهُ قَالَ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ : أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ، ولو شئت أن أسمي الثالث لسميت ۔ (البدایۃ و النہایۃ، امام ابن کثیر، ج۷ص۳۷۰، ط: إحیاء التراث العربی)
اور امام جوزقانی نے معاذہ عدویہ کی اس روایت کو اپنی کتاب ’الأباطیل و المناکیر‘ میں باطل قرار دیا ہے، ساتھ ہی اس کی سند میں ایک راوی ابو الخطاب ہیں، انھیں مجہول و مضطرب الحدیث گردانا ہے۔الأباطیل و المناکیر میں ہے:أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمُ بْنُ عِصَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمُ بْنُ عِصَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو فَاطِمَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، وَهُوَ يَقُولُ: ((أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ)) هَذَا حَدِيثٌ بَاطِلٌ، وَأَبُو الْخَطَّابِ هَذَا مَجْهُولٌ مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ‘‘۔ (الأباطيل و المناكير و الصحاح و المشاهير، امام جوزقانی، ج۱ص۲۹۳، رقم: ۱۴۴، ط: دار الصمیعی،چشتی)
البتہ امام ابن حبان نے معاذہ عدویہ سے روایت کرنے والے راوی، سلیمان بن عبد اللہ کو اپنی کتاب ’الثقات‘ میں جگہ دی ہے۔
’’وذكره ابن حبان في الثقات‘‘۔(تہذیب التہذیب، امام ابن حجر عسقلانی، ج۴ص۲۰۴، رقم: ۳۴۸، ط: دائرۃ المعارف النظامیۃ، الھند)
اس سند کا حکم: یہ سند باطل و موضوع نہ سہی مگر ضعیف ضرور ہے۔
حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت کرنے میں عباد بن عبد اللہ کی ایک متابع، مزید موجود ہے اور وہ حبہ عرنی ہیں، مگر وہ غالی متشیع ہونے کے ساتھ، ضعیف بھی ہیں۔
امام جوزقانی، حبہ عرنی راوی کے بارے میں لکھتے ہیں: حبہ راوی، ایک حبہ کے بھی برابر نہیں، یہ تشیع میں غالی اور حدیث میں واہی ہیں۔
الأباطیل و المناکیر میں ہے:قَدْ رَوَى عَنْ: نُوحِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حِبَّةَ الْعَرَنِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: ((أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، آمَنْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤْمِنَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمْتُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ أَبُو بَكْرٍ)) وَحِبَّةُ لَا يُسَاوِي حَبَّهً، كَانَ غَالِيًا فِي التَّشَيُّعِ، وَاهِيًا فِي الْحَدِيثِ‘‘۔(الأباطيل و المناكير و الصحاح و المشاهير، امام جوزقانی، ج۱ص۲۹۳، رقم: ۱۴۴، ط: دار الصمیعی)
نیز اسی روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن سلمہ ہیں، ان کے بارے میں امام ابن عدی فرماتے ہیں: محمد بن سلمہ، واھی الحدیث اور کوفہ کے متشیع میں شمار ہوتے ہیں۔ امام یحی نے فرمایا: حبہ کچھ نہیں اور امام ابن حبان نے فرمایا: یہ تشیع میں غالی تھے۔
العلل المتناھیۃ میں ہے:قال المؤلف:وقد رواه نوح عن مُحَمَّد بْن سلمة بْن كهيل عن أبيه عن حبة العرني۔ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: ’’مُحَمَّدُ بْنُ سلمة واهي الحديث ويعد من متشيعي الكوفة قال يَحْيَى: حبة ليس بشيء۔ قال ابن حبان: كان غاليًا فِي التشيع‘‘۔ (العلل المتناھیۃ، امام ابن الجوزی، کتاب المتشبع من الروایات الوھیۃ عن الصحابۃ، ج۲ص۴۶۱، رقم: ۱۵۶۹، ط: إدارۃ الأثریۃ، فیصل آباد، پاکستان،چشتی) ۔ اس سند کا حکم: یہ سند بھی ضعیف ہے۔
حضرت سلمان اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہما کی مرفوعا بھی روایت موجود ہے، مگر دونوں حضرات سے روایت کرنے والے راوی ابو سخیلہ ہیں اور یہ ضعیف ہیں۔
تاریخ دمشق میں ہے:أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسين أنا أبو الحسين بن المهتدي أنا علي بن عمر بن محمد الحربي نا أبو حبيب العباس بن محمد بن أحمد بن محمد البري نا ابن بنت السدي يعني إسماعيل بن موسى أنا عمرو بن سعيد البصري عن فضيل بن مروزق عن أبي سخيلة عن سلمان و أبي ذر، قالا: أخذ رسول الله (صلى الله عليه وسلم) بيد علي فقال ألا إن هذا أول من ٰامن بي وهذا أول من يصافحني يوم القيامة وهذا الصديق الأكبر وهذا فاروق هذه الأمة يفرق بين الحق والباطل وهذا يعسوب المؤمنين والمال يعسوب الظالمين۔ (تاریخ دمشق، امام ابن عساکر، ج۴۱ص۴۱، ط: دار الفکر، بیروت،چشتی)
مندرجہ بالا دونوں حضرات کی روایت میں ایک راوی ابو سخیلہ ہیں، یہ مجہول ہیں ۔ (تقریب التہذیب، امام ابن حجر عسقلانی، ص۶۴۳، رقم: ۸۱۱۵، ط: دار الرشید، سوریا)
اس سند کا حکم: یہ سند بھی راوی ابو سخیلہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ کی راویت کی مزید چار سندیں ہیں، مگر ہر ایک سند میں محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع ہیں، جو لیس بشیء ہونے کے ساتھ متہم بھی ہیں۔ (اللآلی المصنوعۃ فی الأحادیث الموضوعۃ، امام سیوطی، کتاب المناقب، ج۱ص۹۷، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت) اور امام ذہبی نے محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع کی سند کو واہی بھی قرار دیا ہے۔
تاریخ دمشق میں ہے:أخبرنا أبو القاسم بن المسرقندي أنا أبو الحسين عاصم بن الحسن أنا أبو عمر بن مهدي أنا أبو العباس بن عقدة نا محمد بن أحمد بن الحسن القطواني نا مخلد بن شداد نا محمد بن عبيد الله عن أبي سخيلة قال حججت أنا وسلمان فنزلنا بأبي ذر فكنا عنده ما شاء الله فلما حان منا حفوف قلت: يا أبا ذر إني أرى أمورا قد حدثت وإني خائف أن يكون في الناس اختلاف فإن كان ذلك فما تأمرني قال الزم كتاب الله عز وجل وعلي بن أبي طالب فأشهد أني سمعت رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يقول علي أول من امن بي وأول من يصافحني يوم القيامة وهو الصديق الأكبر وهو الفاروق يفرق بين الحق والباطل۔ اخر الجزء الثامن والثمانين بعد الأربعمائة من الفرع۔
نیز تاریخ دمشق ہی میں ہے:أخبرنا خالي القاضي أبو المعالي محمد بن يحيى القرشي أنا أبو الحسن علي بن الحسن بن الحسين أنا أبو العباس أحمد بن الحسين بن جعفر العطار قراءة عليه وأنا أسمع في سنة إحدى عشرة وأربعمائة نا أبو محمد الحسن بن رشيق العسكري نا أبو عبد الله محمد بن رزين بن جامع المديني سنة تسع وتسعين ومائتين نا أبو الحسين سفيان بن بشر الأسدي الكوفي نا علي بن هاشم بن البريد عن محمد بن عبيد الله بن أبي رافع عن أبيه عن علي بن أبي رافع عن أبي ذر أنه سمع رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يقول لعلي بن أبي طالب أنت أول من ٰامن بي وأنت أول من يصافحني يوم القيامة وأنت الصديق الأكبر وأنت الفاروق الذي يفرق بين الحق والباطل وأنت يعسوب المؤمنين والمال يعسوب الكفار۔ (تاریخ دمشق، امام ابن عساکر، ج۴۱ص۴۱، ط: دار الفکر، بیروت،چشتی)
تاریخ ابن ابی خیثمہ میں ہے:حَدَّثَنا عَبْد السَّلامِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ مُحَمَّد بْنِ عَبْد الله بن عُبَيْد الله بن أَبِي رَافِعٍ – مَوْلَى النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ: “أَنْتَ أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي وَأَنْتَ الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ‘‘۔ (تاریخ ابن ابی خیثمہ، ج۱ص۱۶۵، رقم: ۳۸۴، ط: الفاروق الحدیثۃ، قاہرہ)
سیر أعلام النبلاء میں ہے:أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بنُ أَحْمَدَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بنُ يَعْقُوْبَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بنُ أَحْمَدَ البُنْدَارُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بنُ أَبِي مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الصُّوْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بنُ عَمْرٍو البَزَّارُ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بنُ يَعْقُوْبَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ هَاشِمِ بنِ البَرِيْدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ عُبَيْدِ اللهِ بنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُوْلُ لِعَلِيٍّ: “أَنْتَ أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِي، وَأَنْتَ أَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُنِي يَوْمَ القِيَامَةِ، وَأَنْتَ الصِّدِّيْقُ الأَكْبَرُ، وَأَنْتَ الفَارُوْقُ يَفْرُقُ بَيْنَ الحَقِّ وَالبَاطِلِ، وَأَنْتَ يَعسُوبُ المُؤْمِنِيْنَ، وَالمَالُ يَعْسُوبُ الكَافِرِيْنَ” … إِسْنَادُهُ واهٍ‘‘۔ (سیر أعلام النبلاء، امام ذہبی، ج۱۶ص۳۲۶، ط: دار الحدیث، قاہرہ)
ان اسانید کا حکم: ضعیف بلکہ شدید ضعیف ہیں ۔
حضرت سلمان و ابوذر رضی اللہ تعالی عنہما کی روایت کے لیے، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی شاہد بھی موجود ہے، مگر اس کی سند میں ایک راوی عبد اللہ بن داہر رازی ہیں، وہ سخت مجروح ہیں، یہاں تک کہ ناقدین نےحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل میں حدیث گڑھ کر پیش کرنے میں انھیں کو متہم قرار دیا ہے، یہ بھی فرمایا کہ اس حدیث کو اس سند کے ساتھ، روایت کرنے میں ان کی متابعت نہیں کی جاتی بلکہ اس کو باطل بھی قرار دیا ہے اور امام ابن عدی نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اس بات سے بے نیاز کردیا ہے کہ ان کے مناقب کو اکاذیب و اباطیل سے ثابت کیا جائے۔
تاریخ دمشق میں ہے : أخبرنا أبو القاسم بن السمرقندي أنا أبو القاسم بن مسعدة أنا عبد الرحمن بن عمرو الفارسي أنا أبو أحمد بن عدي ناعلي بن سعيد بن بشير نا عبد الله بن داهر الرازي نا أبي عن الأعمش عن عباية عن ابن عباس قال ستكون فتنة فمن أدركها منكم فعليه بخصلتين كتاب الله وعلي بن أبي طالب فإني سمعت رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يقول وهو اخذ بيد علي هذا أول من امن بي وأول من يصافحني وهو فاروق هذه الأمة يفرق بين الحق والباطل وهو يعسوب المؤمنين والمال يعسوب الظلمة وهو الصديق الأكبر وهو بابي الذي أوتى منه وهو خليفتي من بعدي۔ قال ابن عدي عامة ما يرويه ابن داهر في فضائل علي هو فيه متهم۔
أخبرنا أبو البركات عبد الوهاب بن المبارك الأنماطي أنا أبو بكر محمد بن المظفر بن بكران الشامي نا أبو الحسن أحمد بن محمد العتيقي أنا أبو يعقوب محمد بن يوسف بن أحمد بن الدجيل نا أبو جعفر محمد بن عمرو العقيلي حدثني علي بن سعيد نا عبد الله بن داهر بن يحيى الرازي حدثني أبي عن الأعمش عن عبابة الأسدي عن ابن عباس عن النبي (صلى الله عليه وسلم) قال لأم سلمة يا أم سلمة إن عليا لحمه من لحمي ودمه من دمي وهو مني بمنزلة هارون من موسى غير أنه لا نبي بعدي وبإسناده عن ابن عباس قال ستكون فتنة فإن أدركها أحد منكم فعليه بخصلتين كتاب الله وعلي بن أبي طالب فإني سمعت رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يقول وهو اخذ بيد علي هذا أول من امن بي وأول من يصافحني يوم القيامة وهو فاروق هذه الأمة يفرق بين الحق والباطل وهو يعسوب المؤمنين والمال يعسوب الظالمين وهو الصديق الأكبر وهو بابي الذي أوتى منه وهو خليفتي من بعدي۔ قال أبو جعفر داهر بن يحيى الرازي كان يغلو في الرفض ولا يتابع على حديثه ۔ (تاریخ دمشق، امام ابن عساکر، ج۴۱ص۴۱‒۴۳، ط: دار الفکر، بیروت،چشتی)
میزان الاعتدال میں ہے:ذكر العقيلي من حديث عبد الله بن داهر، عن أبيه، عن الأعمش، عن عباية الأسدي، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: يا أم سلمة، إن عليا لحمه من لحمى، وهو بمنزلة هارون من موسى منى، غير أنه لا نبي بعدى ۔
قال ابن عباس : ستكون فتنة، فمن أدركها فعليه بخصلتين: كتاب الله، وعلي بن أبي طالب، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول – وهو آخذ بيد علي: هذا أول من آمن بى، وأول من يصافحني يوم القيامة، وهو فاروق هذه الأمة، يفرق بين الحق والباطل، وهو يعسوب المؤمنين، والمال يعسوب الظلمة، وهو الصديق الاكبر، وهو خليفتي من بعدى. فهذا باطل، ولم أر أحدا ذكر داهرا حتى ولا ابن أبي حاتم بلديه‘‘۔ (میزان الاعتدال، امام ذہبی، ج۲ص۳، رقم: ۲۵۸۷، ط: دار المعرفۃ، بیروت)
میزان الاعتدال میں ہے:عبد الله بن داهر بن يحيى بن داهر الرازي، أبو سليمان المعروف بالاحمرى. عن أبيه. وعنه أحمد بن أبي خيثمة. قال أحمد ويحيى: ليس بشئ. قال: وما يكتب حديثه إنسان فيه خير. وقال العقيلي: رافضي خبيث. وقيل: اسمه عبد الله بن محمد.
وقال ابن عدي: حدثنا على ابن سعيد [بن بشير]، حدثنا ابن داهر، حدثنا أبي، عن ابن أبي ليلى، عن الحكم، عن إبراهيم، عن علقمة والأسود، عن ابن مسعود، قال: بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم أقبل نفر من بنى هاشم أو فتية، فلما رآهم تغير، فقلت: ما نزال نرى في وجهك ما نكره! فقال: إنا أهل بيت اختار الله لنا الآخرة على الدنيا، وأهل بيتى هؤلاء سيلقون بعدى بلاء، حتى يجئ قوم من ها هنا من قبل المشرق أصحاب رايات سود، يسألون الحق فلا يعطونه.قال: فيقاتلون فينصرون فيعطون ما سألوا فلا يقبلون، ثم يعطون ما سألوا فلا يقبلونه، حتى يدفعونها إلى رجل من أهل بيتى يملؤها قسطا كما ملئت [جوراو] ظلما، فمن أدرك منكم ذلك الزمان فليجئهم ولو حبوا على الثلج.
وبه: حدثنا أبي، عن الأعمش، عن عباية الأسدي، عن ابن عباس – مرفوعاً: يا أم سلمة، إن عليا لحمه من لحمى، ودمه من دمى..الحديث. وبه: عن ابن عباس: ستكون فتنة، فمن أدركها فعليه بالقرآن وعلي بن أبي طالب، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو آخذ بيد علي يقول: هذا أول من آمن بى وأول من يصافحني، وهو فاروق الأمة، وهو يعسوب المؤمنين، والمال يعسوب الظلمة، وهو الصديق الاكبر، وهو خليفتي من بعدى. قال ابن عدي: عامة ما يرويه في فضائل علي، وهو متهم في ذلك. قلت: قد أغنى الله عليا عن أن تقرر مناقبه بالاكاذيب والاباطيل۔ (میزان الاعتدال، امام ذہبی، ج۲ص۴۱۷، رقم: ۴۲۹۶، ط: دار المعرفۃ، بیروت)
اس سند کا حکم: شدید ضعیف بلکہ باطل ہے ۔
ایک شاہد مزید موجود ہے، جو حضرت ابو لیلی غفاری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، مگر ان کی روایت میں بھی ایک راوی اسحاق بن بشر ہیں، جو ضعیف ہونے کی وجہ سے قابل احتجاج نہیں۔
الاستیعاب میں ہے:أَبُو ليلى الغفاري، لا يوقف له عَلَى اسم. من حديثه مَا رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْغِفَارِيِّ، قَالَ:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: سَتَكُونُ بَعْدِي فِتْنَةٌ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَالْزَمُوا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَنْ يَرَانِي، وَأَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، هُوَ الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ، وَهُوَ فَارُوقُ هَذِهِ الأُمَّةِ، يُفَرِّقُ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، وَهُوَ يَعْسُوبُ الْمُؤْمِنِينَ، وَالْمَالُ يَعْسُوبُ الْمُنَافِقِينَ. وَإِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ مِمَّنْ لا يُحْتَجُّ بِنَقْلِهِ إِذَا انْفَرَدَ لِضَعْفِهِ وَنَكَارَةِ حديثه‘‘۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، امام ابن عبد البر، ج۴ص۱۷۴۴، رقم: ۳۱۵۷، ط: دار الجیل، بیروت)
اسد الغابۃ میں ہے:أبو ليلى الغفاري، لا يوقف له على اسم. وحديثه: ما رواه إسحاق بن بشر، عن خالد بن الحارث، عن عوف، عن الحسن، عن أبي ليلى الغفاري قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ستكون بعدي فتنة، فإذا كان ذلك فالزموا علي بن أبي طالب، فإنه أول من يراني، وأول من يصافحني يوم القيامة، وهو الصديق الأكبر، وهو فاروق هذه الأمة، يفرق بين الحق والباطل، وهو يعسوب المؤمنين. أخرجه الثلاثة، وقال أبو عمر: إسحاق بن بشر ممن لا يحتج بحديثه إذا انفرد، لضعفه ونكارة حديثه ۔ (اسد الغابۃ، امام ابن اثیر، ج۵ص۲۷۰، رقم: ۶۲۰۷، ط: دار الفکر، بیروت)
مندرجہ بالا تفصیلی بیان سے واضح ہو گیا ، سنن ابن ماجہ کی مذکورہ بالا حدیث ضعیف ہے اور اس حدیث کے جتنی متابعات و شواہد ہیں، سب ضعیف یا شدید ضعیف یا پھر باطل ہیں ۔ باطل سے احتجاج ممکن نہیں ، ہاں جمہور محدثین علیہم الرحمہ کے نزدیک ، ضعیف سے احتجاج ممکن ہے ، کیوں کہ اس مسئلہ کا تعلق ، فضائل سے ہے۔ نیز وہ متابعات، جو ضعیف کی حد تک ہیں ، ان کی بنیاد پر زیر بحث حدیث کو حسن لغیرہ بھی کہا جا سکتا ہے ، اور اس صورت میں اس حدیث سے بالاتفاق، احتجاج جائز و درست ہوگا۔ شاید انہیں دونوں وجوہات کی بنیاد پر ، بعض محدثین نے زیر بحث روایت کی توجیہ کی ہے تاکہ کسی طرح کا کوئی تعارض و تدافع نہ رہ جائے ۔ وہ توجیہات ذیل میں ملاحظہ کریں : ⏬
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے اس جملے کی ایک توجیہ، امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے یہ فرمائی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مندرجہ بالا قول سے مستثنی ہیں ۔
شرح سنن ابن ماجہ میں ہے : قَوْله: لَا يَقُولهَا أَي جملَة انا الصّديق الْأَكْبَر بعدي إلا كَذَّاب۔ الظَّاهِر وَالله أعْلَم أَنه اسْتثْنى بقوله: بعدي، أَبَا بكر الصّديق رَضِي الله عنه، لَا إلى صديقيه الْكُبْرَى حصلت لَهما؛ لِأَنَّهُمَا رَضِي اللہ عنهما آمنا برَسُول اله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمُجَرَّد نزُول الْوَحْي لَكِن الصّديق كَانَ عَاقِلا بالغا وَعلي كَانَ صبيان ۔ (شرح سنن ابن ماجہ، امام سیوطی، باب اتباع السنۃ، ص۱۲، ط: قدیمی کتب خانہ، کراچی،چشتی) ، یعنی حضرت مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے قول: ’’بعدی‘‘ یعنی میرے بعد سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا استثنا کیا ہے؛ لہذا آپ کے اس جملہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ شامل نہیں؛ کیوں کہ آپ کو پہلے ہی سے صدیق اکبر کا رتبہ حاصل ہوچکا تھا اور حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ نے جس صدیق اکبر کے مدعی کی تکذیب فرمائی ہے، وہ اپنے بعد والوں کے لیے فرمائی ہے؛ تو آپ سے پہلے جو حاصل کرچکے، آپ کا یہ جملہ، انھیں شامل نہیں، ہاں بعد والوں کو شامل ہے؛ لہذا آپ کے بعد والوں میں سے اب کوئی نہیں بول سکتا، اگر بولےگا؛ تو وہ مجرم ہوگا اور اس کی تکذیب ہوگی، نہ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی جو پہلے ہی صدیق اکبر کا تمغا حاصل کرچکے ہیں؛ کیوں کہ اگر حضرت علی مشکل کشا رضی اللہ تعالی عنہ کا مطلقا استثنا کرنا مقصود ہوتا؛ تو آپ ’’بعدی‘‘ نہ بولتے بلکہ ’’دونی‘‘ یا ’’سوای‘‘ یا ’’غیری‘‘ وغیرہ کوئی ایسا لفظ بولتے، جو آپ سے قبل اور بعد، سب لوگوں کو شامل ہوتا؛ لہذا ’’بعدی‘‘ بولنا، اس بات پر واضح طور پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کے اس جملے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ شامل نہیں بلکہ وہ مستثنی ہیں ۔
البتہ اس جملے میں اس صدیقیت کبری کا استثنا نہیں ہے ، جو دونوں کو حاصل ہے؛ کیوں کہ دونوں حضرات، نزول وحی کے فورا بعد، ایمان لے آئے اور تصدیق کرنے میں ذرا دیر، توقف نہیں کیا اور صدیق یہ مبالغہ کا صیغہ ہے؛ تو مطلب یہ ہوا کہ زیادہ تصدیق کرنے والا، اور زیادہ تصدیق جب ہی ہوگی کہ توقف نہ کیا جائے بلکہ فورا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کرے اور یہ دونوں حضرات کو حاصل ہے، بس فرق اتنا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اس وقت بڑے اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بچے تھے۔
دوسری توجیہ، شیخ علامہ نور الدین سندی علیہ الرحمۃ نے کی ہے، وہ یہ ہے کہ اگرچہ صدیق اکبر کا استعمال، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کےلیے غالب ہے ، مگر اس کا مفہوم ، آپ ہی کی ذات میں منحصر نہیں بلکہ دوسرے کے لیے بھی حاصل ہے، جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں فرمایا کہ : یہ صدیق اکبر ہیں ۔ حاشیۃ السندی علی سنن ابن ماجہ میں ہے : وَاسْمُ الصِّدِّيقِ وَإِنْ غَلَبَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ ۔ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ۔ لَكِنَّ مَفْهُومَهُ غَيْرُ مُنْحَصِرٍ فِيهِ وَقَدْ سَبَقَ مَا جَاءَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ مَرْفُوعًا أَيْضًا فِيمَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ كَمَا رَوَاهُ الْعُقَيْلِيُّ فِي الضُّعَفَاءِ وَابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ فِي مَنَاقِبِ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ـ قَالَ : هَذَا أَوَّلُ مَنْ آمَنَ وَأَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهَذَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ۔ (حاشیۃ السندی، نور الدین سندی، باب فضائل العشرۃ رضی اللہ عنہم، ج۱ص۶۲، ط: دار الجیل، بیروت)
یعنی صدیق کا نام ، اگرچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے بولا جانا غالب ہے، لیکن اس کا مفہوم ، آپ ہی کی ذات میں منحصر نہیں ، کیوں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: میں صدیق اکبر ہوں، نیز مرفوعا بھی یہ حدیث مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ صدیق اکبر ہیں ۔
تلاش و جستجو کے باوجود بھی ، حاشیۃ السندی میں موجود ، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ، اس عاجز کو امام طبرانی کی کتاب المعجم الصغیر ، المعجم الأوسط اور المعجم الکبیر میں نہیں مل سکی ۔
اس پوری تفصیل کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ مذکورہ حدیث اس قابل نہیں کہ اس کو بیان کیا جائے اور یہی وجہ بنی کہ علمائے اہل سنت نے اس کو اپنی کتابوں میں جگہ نہیں دی بلکہ مولائے کائنات کی شان میں وارد صحیح اور قابل بیان احادیث خوب نقل کیں جن کو پڑھ کر مولائے کائنات کی فضیلت و عظمت اور رفعت شان کا اعتراف ہر صاحب فہم کرے گا ۔ اور کئی علما نے لکھا کہ اس حدیث کا ایک راوی غالی رافضی ہے اور یہ بات بھی علما نے لکھی ہے کہ رافضیوں نے مولائے کائنات اور اہل بیت نبوت کی شان میں تین لاکھ حدیثیں گڑھی ہیں (معاذ اللہ) ۔ کیا بعید کہ ان تین لاکھ میں سے یہ بھی ایک ہو ۔ اور اس کو ایسے ہی لوگ بیان کرتے ہیں جن کی نگاہ میں سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کی افضلیت کھٹکتی ہے ۔ اور اس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں کہ ہمارے علما نے مولائے کائنات کی شان بیان کرنے میں کوتاہی کی ہے (معاذ اللہ رب العالمین) اور پھر لوگ علمائے اہل سنت سے دور ہوں گے اور رافضیت کے قریب ہوں گے ۔ اللہ کی پناہ اللہ ایسے لوگوں سے سنی مسلمانوں کی حفاظت فرما ۔ آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔

















No comments:
Post a Comment