Saturday, 13 June 2026

اہلسنت کو ناصبی کہنے والے رافضیوں کو پہچانیے

اہلسنت کو ناصبی کہنے والے رافضیوں کو پہچانیے







محترم قارئینِ کرام : آج کل کے روافض نے ایک پُر فریب طریقہ نکالا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ جو ان کے مکر و دجل کو بےنقاب کرتا ہے اسے یہ ناصبی کہہ دیتے ہیں روافض نے یہ ، ناصبی ناصبی ، کی گردان اتنے زور شور سے کی کہ اب یہ حال ہے کہ اگر کوئی سنی روافض کے مکر کا رد کرے تو اہل سنت عوام بھی اسے ناصبی کہنے لگ جاتے ہیں ۔ موجودہ پُرفتن دور میں ہر اس شخص کولوگ سنّی سمجھ بیٹھتے ہیں جو دوسروں پر ناصبیت کا فتویٰ جڑ دے ، یاد رہے کہ دوسروں پر ناصبیت کا فتویٰ لگانے والے اکثر یا تو کھلے رافضی ہوتے ہیں یا پھر سنیوں کے لبدے میں چھپے رافضی ہوتے ہیں ، اور ناصبیت کی اصطلاح رافضیوں ہی کی ایجاد کردہ ہے ، تیسری صدی ہجری تک کسی بھی سنی عالم نے کسی دوسرے سنی عالم کوناصبی نہیں کہا ہے ، بلکہ اس دور میں اگر کوئی شخص کسی کو ناصبی کہتا تھا تو یہ اس کے رافضی ہونے کی دلیل سمجھی جاتی تھی ۔ بھولے بھالے مسلمانانِ سنت یہ بھی نہیں جانتے کہ اسلافِ اُمّت علیہم الرّحمہ کے نزدیک جو ناصبی تھے ان کا اب کوئی وجود نہیں ، نہ ہی ان جیسا عقیدہ و عمل اس شخص کے جیسا ہے کہ جسے وہ ناصبی کہہ رہے ہیں ۔ اسلافِ اُمّت علیہم الرّحمہ نے ایک خاص دور کے خاص رجحان رکھنے والوں کو ناصبی کہا ہے ۔ یہ چوتھی صدی ہجری میں شام کی ایک اقلیت تھی جو بنو امیہ سے محبت اور روافض سے بغض رکھتی تھی ۔ جب روافض نے اس صدی میں پر پرزے نکالے اور دس محرم کو سرعام سوگ و ماتم منانا شروع کیا تو ان شامی نواصب نے اگلے سال سے دس محرم کو عید (خوشی) منانا شروع کر دی ، نئے کپڑے پہتے ، خوشبو لگاتے ، رقص محفل و میلوں کا اہتمام کرتے ۔ یہ سب وہ اپنی دانست میں روافض کے رد میں کرتے تھے ، بہرحال ۔ الحمد للہ اب اس باطل فرقے کا نام و نشاں بھی باقی نہیں ۔ لیکن روافض اور کےفضلہ خور تقیہ کی آڑ میں چھپے رافضی پھر کیوں ہر دوسرے بندے کو ناصبی کہتے رہتے ہیں ؟


امام علی بن مدینی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ۲۳۴ ھجری سے منقول ہے : ومن قال : فلان ناصبي علمنا أنه رافضي ۔

ترجمہ : جو کہتا تھا کہ فلاں ناصبی ہے تو ہم جان لیتے تھے کہ وہ رافضی ہے ۔ (شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ جلد ۱ صفحہ ۱۶۶)


امام ابو حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ شرح اصول اعتقاد أہل السنۃ متوفی ۲۷۷ اور امام أبو زرعہ الرازی رحمۃ اللہ علیہ متوفی ۲۶۴ ھجری نے کہا : وعلامة الرافضة تسميتهم أهل السنة ناصبة ۔

ترجمہ : رافضیوں کی علامت یہ ہے کہ وہ اہل سنت کو ناصبی کہتے ہیں .  (شرح اعتقاد اہل السنۃ للالکائی جلد ۱ صفحہ ۲۰۱ ، اسنادہ صحیح،چشتی)(اصل السنۃ و اعتقاد الدین للرازیین : (صفحہ 6 اسنادہ صحیح)(عقیدة الرازیین صفحہ 2)


امام ابو محمد الحسن بن علی بن خلف البربہاری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ۳۲۹ ھجری نے کہا : واذا سمعت الرجل يقول : فلان ناصبي فاعلم أنه رافضي ۔

ترجمہ : جب تم کسی شخص کو کہتے ہوئے سنو کہ : فلاں ناصبی ہے ، تو جان لو کہ وہ رافضی ہے ۔ (شرح السنہ للبربھاری صفحہ ۳۲)

لہٰذا کہیں بھی کسی کی زبان سے ناصبی کا لفظ سنائی دے تو اس کے بارے میں اچھی طرح تفتیش کرلینا چاہیے ۔


حضرت مجدد الف ثانی شیح احمد سر ہندی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : رافضی اس وقت اہل سنت سے خوش ہوں گے ، جبکہ اہل سنت بھی ان کی طرح دوسرے اصحاب کرام سے بیزاری دکھائیں ، اور ان دین کے بزرگواروں کے حق میں بد ظن ہو جائیں ، جس طرح خارجیوں کی خوشنودی اہل بیت کی عداوت اور آل نبی علیہم السّلام کے بغض پر وابستہ ہے ۔ (مکتوبات امام ربانی جلد دوم مکتوب نمبر 36 دفتر دوم صفحہ نمبر 1024 مطبوعہ مدینہ پبلیشنگ کمپنی کراچی،چشتی)(مکتوبات امام ربانی جلد دوم مکتوب نمبر 36 دفتر دوم صفحہ نمبر 97 مطبوعہ شبیر برادرز اردو بازار لاہور)


امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جب ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب بیان کرتے ہیں تو جاہلوں کے نزدیک ہمارا شمار روافض میں ہوتا ہے اور جب میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب بیان کرتا ہوں تو مجھے ناصبی ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے ،پس میں رافضی اور ناصبی رہونگا ان کی محبت کی وجہ سے یہاں تک کہ قبر میں دفن کیا جاؤں ۔ (دیوان الامام شافعی مترجم اردو صفحہ نمبر 203 مطبوعہ انڈیا)


در اصل بات یہ ہے کہ یہی ان کا مذھب کہ ہر غیر رافضی ناصبی ہے ، جی ہاں ، دراصل ناصبی فی زمانہ روافض کا بناوٹی اصطلاحی لفظ ہے کہ جو ان کے مذھب پر نہ ہو یا حضرت علی رضی اللہ عنہ پر خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم اور انبیاء کرام علیہم السّلام کو فضیلت دیتا ہو تو وہ ناصبی ہے ۔ یقیناً یہ بات بہت سوں کےلیے انجان ہوگی ، آپ سب کےلیے روافض شیعوں کے گھر کی گواہیاں پیش خدمت ہے : ⏬


(1) فضیل کہتا ہے میں نے امام جعفر سے پوچھا کہ کیا سنی مرد شیعہ عورت سے نکاح کر سکتا ھے ؟ فرمایا : نہیں ! خدا کی قسم شیعہ عورت ناصبی (سنی) کےلیے حلال نہیں ۔ (فروع جلد ۵ صفحہ ۳۵۰)


(2) عبد اللہ بن کے والد نے جعفر سے سے روایت کی ، کہتا ہے کہ میں سن رہا تھا کہ کسی نے پوچھا کہ یہودی اور نصرانی عورت سے نکاح کیسا ہے ؟

فرمایا : مجھے ناصبی (سنی) عورت کے مقابلہ میں یہود یاعیسائی عورت سے نکاح زیادہ محبوب ہے ۔ (فروع جلد ۵ صفحہ ۳۵۱)


(3) کسی مسلمان (شیعہ) مرد کےلیے جائز نہیں کہ وہ ناصبی (سنی) سے نکاح کرے اور شیعہ مرد اپنی اپنی بیٹی کسی سنی مرد کو دے ۔ (من لایحضرہ الفقیہ باب النکاح جلد ۳ صفحہ ۳۸۵)


(4) شیخ نے فرمایا کسی شیعہ مرد کا نکاح ناصبی (سنی) عورت سے جائزنہیں ۔ (تہذیب الاحکام جلد ۷ صفحہ ۳۰۲)


(5) فضیل کہتا ہے کہ میں نے امام باقر سے پوچھا کیا میں سنی سے شیعہ عورت کا نکاح پڑھا سکتا ہوں ؟ فرمایا : بالکل نہیں کیونکہ ناصبی کافر ہے ۔ (تہذیب جلد ۷ صفحہ ۳۰۳)


(7) امام باقر کے سامنےناصبی (سنی) کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا : ان سے نکاح نہ کرو، نہ انکا ذبیحہ کھاؤ ، نہ ان کے ساتھ رہائش اختیار کرو ۔ (تہذیب جلد ۷ صفحہ ۳۰۳)


(8) ابن ادریس نے کتاب سرائر میں کتاب مسائل محمد عیسیٰ سے روایت کی ہے کہ لوگوں نے حضرت علی نقی کی خدمت میں عریضہ لکھا کہ ہم ناصبی کے جاننے اور پہچاننے کے اس سے زیادہ محتاج ہیں کہ حضرت امیرالمومنین پر ابوبکر و عمر اور عثمان کو مقدم جانے اور ان تینوں کی امامت کا اعتقاد رکھے ۔ حضرت نے جواب میں فرمایا : سو جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے وہ ناصبی ہے ۔ (حق الیقین ازملا باقر مجلسی صفحہ ۶۸۸،چشتی)


(9) ناصبی وہ ہے جو غیر امیرالمومنین کو اس جناب پرفضیلت دے اور وہ ہے جو جبت و طاغوت صنمی قریش (حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم) کو امام و پیشوا جانے ۔ (اصلاح الرسوم صفحہ ۹۸)


(10) اصل نام فرقہ متخلفین کا ناصبی ہے دواعتبار پر ، اول یہ کہ ناصب عداوت اہل بیت ہیں ، وسرے ناصب خلیفہ بہ ناحق اور فرقہ نواصب جن کالقب اہل سنت و جماعت ہے ۔ (شمس الضحیٰ بجواب اظہار الہدیٰ صفحہ ۱۸۱)


محترم قارئینِ کرام : رافضی شیعوں کے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں مزید حوالے موجود ہیں مگر میرے خیال میں یہ دس حوالے ہی کافی ہیں ، یہ ثابت کرنے کے لئے کہ رافضیوں کی نظر میں تمام اہل سنت و جماعت ہی نواصب ہیں ۔ کیونکہ اہل سنت و جماعت کا اجماعی و متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان جنابِ على رضی اللہ عنہم سے افضل ہیں : علمائے اہلسنت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سب سے افضل و برتر ہیں ، ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ اور اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ، ان کے بعد عشرہ مبشرہ کے دیگر حضرات رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ، پھر اصحابِ بدر رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ، پھر باقی اصحابِ اُحد رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ان کے بعد بیعتِ رضوان والے اصحاب رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین اور ان کے بعد دیگر اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام لوگوں سے افضل ہیں ۔ (تاریخ الخلفاء مترجم اردو صفحہ نمبر 45 مطبوعہ نفیس اکیڈمی لاہور امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ)(تاریخ الخلفاء مترجم اردو صفحہ نمبر 45 مطبوعہ ممتاز اکیڈمی لاہور)


کسی کو ناصبی و رافضی کہنے سے پہلے ضرور سوچیں ۔ صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم سے محبت کرنے والے ، ان کا ادب و احترام کرنے والے ، ان کی شان میں قصیدے پڑھنے والے اہل سنت ، نہ تو رافضیوں کو قبول ہیں اور نہ ہی خارجیوں و ناصبیوں کو ، اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی یک طرفہ محبت سے دور رکھے جو کسی دوسرے پر تبرے کے باعث بنے آمین ۔ (دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

حضرت سیدنا امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کا لقب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ۔ تو کیا اب یہ کہنا شروع کر دیں : اے عمِ مصطفی سید الشہداء کون ہے ؟

حضرت سیدنا امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ کو سید الشہداء کا لقب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا ۔ تو کیا اب یہ کہنا شروع کر دیں ...