صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ایمان روۓ زمین پر رہنے والے سب اہلِ ایمان کے ایمان سے زیادہ ہے
کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ پیر پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی صاحب نے حضرت سیدنا ابوکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لکھا ۔ پتہ نہیں کیسے جہلاء سے ہمارا واسطہ پڑ گیا ہے خیر ایسے جہلا اور فریبیوں کے تسلی بخش علاج کےلیے ہم نے دونوںُ صفحے لگا دیے ہیں اب یہ جہلا برنول لے کر اپنا علاج کریں ۔ دونوں صفحات کے اسکینز ساتھ لگا دیے گۓ ہیں ۔ پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی صاحب واضح طور پر لکھتے ہیں یارِ غار حضرت سیدنا ابوکر صدیق رضی اللہ عنہ ۔ ایک پلڑے میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ایمان اور دوسرے پلڑے میں قیامت تک کے صحابہ ، اہلبیت ، تابعین رضی اللہ عنہم ، غوث ، قطب ، علماء ، فقہا ، شہدا سب کے ایمان کو رکھ دیا جاۓ تو بخدا میرے صدیق کا پلڑا بھاری ہے (راہ رسم منزل ہا صفحہ ۱٦٦ ، ۱٦۷،چشتی)
جب ایمان میں بلند و برتر ہیں تو ہر لحاظ سے بلند برتر ہیں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کاش پیر صاحب کی اولاد اور چاہنے والے اس بات کو سمجھیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ ولہ وسلم نے جو فرمایا : لَوْ وُزِنَ اِیْمَان اَبِیْ بَکْرٍ مَعَ اِیْمَانِ اَہْلِ الْاَرْضِ لَرَجَحَ ۔
ترجمہ : اگر ابو بکرکا ایمان تمام اَہْلِ زمین کے ایمان کے ساتھ تولا جائے تو ابوبکر کا ایمان وزنی ہو گا ۔ (الكامل فی الضعفاءالرجال جلد 5 صفحہ 335 رقم : 1012،چشتی)
یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ ولہ وسلم نے محض اپنے علم سے نہیں کہی ، باقاعدہ اس کا تجربہ بھی کیا ہے ، جی ہاں ! حدیثِ پاک پڑھیے : نبی کریم صلی اللہ علیہ ولہ وسلم نے فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں جنت میں داخِل ہوا ہوں ، پھر ایک ترازُو لایا گیا ، اس کے ایک پلڑے میں مجھے بٹھا دیا گیا ، دوسرے پلڑے میں میری ساری امت کو بٹھایا گیا تو میرا وزن میری پوری امت سے زیادہ تھا ، پھر ایک پلڑے میں پوری امت کو رکھا گیا ، دوسرے پلڑے میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بٹھا دیا گیا تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پوری امت سے زیادہ وزنی تھے ۔ (الابانۃ الکبریٰ لابن بطۃ جلد 2 صفحہ 682 حدیث نمبر 3133 ، 3134 ، 3135)
شعب الایمان کی حدیث مبارک میں ہے : قَالَ عُمَرُ بنُ الخطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عنهُ : لَوْ وُزِنَ إِيمَانُ أَبِي بَكْرٍ بِإِيمَانِ أَهْلِ الأَرْضِ لَرَجَحَ بِهِمِ ۔
ترجمہ : حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر ابو بکر کےایمان کا زمین پررہنےوالے سارے لوگوں کے ایمان سے موازنہ کیا جائے ، تو ابو بکر کا ایمان بڑھ جائے گا ۔ (شعب الایمان للبیھقی جلد 1 صفحہ 69 حدیث نمبر 36 دار الکتب العلمیۃ بیروت)(كتاب السُنة للعبدالله بن أحمد بن حنبل علیہماالرحمہ رقم الأثر : ۸۲۱ ، سندہ : حسن،چشتی)(الابانۃ الکبریٰ لابن بطۃ جلد 1 صفحہ 545 حدیث نمبر 1243)(الابانۃ الکبریٰ لابن بطۃ جلد 2 صفحہ 681 حدیث نمبر 3132) ۔ یہ روایت حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے موقوفا بھی مروی ہے اور اس کی سند صحیح ہے ۔ اس حدیث کو بیہقی نے شعب الایمان میں ، ترمذی نے نوادرالاصول میں ، اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں اور امام احمد بن حبنل علیہم الرحمہ نے فضائل الصحابہ میں ذکر کیا ہے ۔
جب ایمان میں حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سب سے بلند و برتر ہیں تو ظاہری و باطنی ہر لحاظ سے سب سے بلند برتر ہوۓ ۔ کاش سنی کہلا کر رافضیت کی راہ پر چاہنے والوں کو اس بات کی سمجھ آجاۓ ۔ اللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں اور فتنہ پروروں کے شر و فتنہ سے محفوظ رکھے آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔







No comments:
Post a Comment