پیر جامی گولڑوی صاحب اور صدیق اکبر و فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہما کے القاب
محترم قارئینِ کرام : ہمارا یہ مضمون لکھنے کا مقصد صرف نظریاتِ اہلسنت و جماعت کا تحفظ ہے امید ہے احباب اسی نظر سے پڑھیںٰ گے ۔ پیر جامی گولڑوی صاحب نے اپنے اشعار میں صدیق اکبر کا لقب سیدنا مولی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کیا ہے ۔ اس پر اعتراض ہونے کے بعد وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اس کی حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ علیہ نے بھی اپنے اشعار میں حضرت غوث اعظم رحمہ اللہ علیہ کواپنے وقت کا صدیق اکبر فرمایا ہے ۔ لہٰذا اب غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کےلیے یہ لفظ استعمال کرنا جائز ہے ، تو حضرت سیدنا مولی علی رضی اللہ عنہ کےلیے یہ لقب استعمال کرنے میں کیا قباحت ہے ؟
جواباً عرض ہے کہ : صدیق اکبر کا لقب حضرت سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ (1) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جس بے مثال تصدیق کا شرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا ، وہ کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہوا ۔ (2) جب یہ لقب مطلقاً بولا جائے تو ذہن بلا تردد حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی کی طرف منتقل ہوتا ہے ۔ (3) ائمہ واکابر اہل سنت شروع سے اس لقب کو آپ رضی اللہ عنہ کےلیے ہی استعمال کرتے آئے ہیں ۔ پیر جامی صاحب نے اپنے ان اشعار میں واضح طور پر رافضی طرز بیان اختیار کیا ہے ، کیونکہ جس طرح روافض حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مخصوص القابات کی نفی کر کے ان کو حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ کےلیے ثابت کرتے ہیں اسی طرح کا انداز ان اشعار میں بھی پایا جاتا ہے ۔ رہا اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار سے استدلال ، تو وہ درست نہیں ، کیونکہ اعلی حضرت نے حضرت غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کو وصفی معنی کے اعتبار سے ، اپنے وقت کا صدیق اکبر ، کہا ہے ، یعنی آپ اپنے زمانے میں وصف صدق کے اعتبار سے اولیاء کے صدیق اکبر ہیں ۔ اس میں ، اپنے وقت ، کی قید موجود ہے ۔ اس کے بر خلاف پیر جامی صاحب نے ، صدیق اکبر ، کو مطلقاً حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بطور لقب خاص کیا ، بلکہ ، صدیق اکبر کون ہے ؟ ۔ جیسا اسلوب اختیار کر کے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس لقب کی نفی کا تاثر دیا ہے ، جو کہ اہل سنت کے مسلمہ منبج کے خلاف اور حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے افضل ثابت کرنے کی کوشش ہے ۔ مزید یہ کہ اب تک گولڑہ شریف والوں کی جانب سے یہ واضح وضاحت سامنے نہ آنا کہ ، صدیق اکبر ، حضرت سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی کا مخصوص لقب ہے ، ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ یہ طرز عمل اس شبے کو تقویت دیتا ہے کہ وہ اس معاملے میں رافضی اسلوب سے براءت ظاہر کرنے کے بجائے اسی طرز پر قائم ہیں ۔
صدیق اکبر کون ؟ ۔ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : اہلِ محشر جنت کے آٹھوں دروازوں سے یہ آواز سنیں گے : أَدْخُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ۔ (نور الابصار للشبلنجی صفحہ نمبر 23)
ترجمہ : صدیق اکبر ! جنت کے جس دروازے سے جی چاہے تشریف لائیں ۔
امام بدر الدین زرکشی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 794 ھجری لکھتے ہیں : بے شک حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ صدیق اکبر ہیں ۔ (البرھان فی علوم القرآن صفحہ ۱۵٦ مطبوعہ مکتبہ دارالتراث قاہرہ)(البرھان فی علوم القرآن جز اول صفحہ ۲۴۵ مطبوعہ مکتبہ دارالمعرفہ بیروت لبنان)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ صدیقِ اکبر ہیں اور سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ صدیقِ اصغر ، صدیق اکبر کا مقام اعلی صدیقیت سے بلند و بالا ہے ۔ نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض میں ہے : سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تخصیص اس لیے کہ وہ صدیق اکبر ہیں جو تمام لوگوں میں آگے ہیں کیونکہ انہوں نے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی وہ کسی کو حاصل نہیں اور یونہی سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا نام صدیق اصغر ہے جو ہرگز کفر سے ملتبس نہ ہوئے اور نہ ہی انہوں نے غیر اللہ کو سجدہ کیا باوجود یکہ وہ نابالغ تھے ۔ (نسیم الریاض فی شرح الشفا القسم الاول فی ثناء اللہ ۔ الخ ، الفصل الاول جلد ۱ صفحہ ۲۳۴،چشتی)(فتاوی رضویہ، جلد ۱۵ صفحہ ۶۸۰)
شیخ اکبرحضرت سیدنا محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موطن میں تشریف نہ رکھتے ہوں اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ حاضر ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام پر صدیق قیام کریں گے کہ وہاں صدیق سے اعلی کوئی نہیں جو انہیں اس سے روکے ۔ وہ اس وقت کے صادق و حکیم ہیں ، اور جو ان کے سوا ہیں سب ان کے زیر حکم ۔ (الفتوحات المکیۃ الباب الثالث والسبعون جلد ۳ صفحہ ۴۴،چشتی)(فتاوی رضویہ جلد ۱۵ صفحہ ۶۸۰)
فتاوی رضویہ میں ہے : علماء فرماتے ہیں ، ابو بکر صدیق صدیق اکبر ہیں اور علی مرتضی صدیق اصغر ، صدیق اکبر کا مقام اعلی صدیقیت سے بلند و بالا ہے ۔ (آگے نسیم الریاض کے حوالہ سے ہے لیکن ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تخصیص اس لیے کہ وہ صدیق اکبر ہیں جو تمام لوگوں میں آگے ہیں کیونکہ انہوں نے جو حضور علیہ الصلواۃ والسلام کی تصدیق کی وہ کسی کو حاصل نہیں ۔ (فتاوی رضویہ رسالہ جزاء الله عد وہ بابائہ ختم النبوة جلد 15 صفحہ 681 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)
سخن رضا مطلب ھائے حدائق بخشش میں ہے : یا غوث اعظم آپ اپنے زمانہ میں با اعتبار اوصاف کے صدق میں صدیق اکبر ہیں اور سخاوت میں عثمان غنی اور عدل میں عدل فاروقی کے حامل اور علم و شجاعت میں شان حیدری کے درخشندہ نشان ہیں ۔ سخن رضا مطلب ھائے حدائق بخشش صفحہ 417 مطبوعہ مکتبہ دانیال)
صدیق اکبر و فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہما کون ؟ : ⏬
محترم قارئینِ کرام : صدیقِ اکبر حضرت سدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا بہت مشہور لقب ہے : صدیقِ اکبر ۔ یہ لقب آپ کو کہاں سے مِلا ؟ کس نے دیا ؟ حضرت ابوبکر صِدِّیق رضی اللہ عنہ کو یہ لقب اللہ پاک نے دیا ، حضرت جبریلِ امین علیہ السلام نے آپ کو صِدِّیقِ اکبر کہہ کر پُکارا ، سرکارِ عالی وقار ، مکی مدنی تاجدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی آپ کو صِدِّیقِ اکبر کے مبارک لقب سے نوازا ۔ اب غور یہ کرنا ہے کہ صِدِّیْقِ اَکْبَر کا معنیٰ کیا ہے ؟ ویسے صِدِّیق کا معنیٰ ہوتا ہے : بہت سچا ۔ یقیناً حضرت صِدِّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ بہت سچّے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ صِدِّیق کا ایک معنیٰ ہے : تَصْدِیْق کرنے والا ۔ تَصْدِیق کسے کہتے ہیں ؟ پختہ تَرِیْن یقین اور اعتقاد کو تَصْدِیق کہتے ہیں اور یہ تَصْدِیق کیا ہے ؟ تَصْدِیق ایمان ہے ۔ اِیْمَان کی تعریف ہے : ہُوَ التَّصْدِیْقُ بِمَا جَاءَ بِہٖ مُحَمَّد یعنی مُحَمَّدِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلیہ وَآلہٖ و َسَلّم ۔
ترجمہ : جو دِین لائے ، اس دِین کی تَصْدِیق کرنے کو ایمان کہتے ہیں ۔ (شرح العقائد النسفیہ صفحہ نمبر 273)
ایمان تَصْدِیق کا نام ہے اور صِدِّیق کا معنیٰ ہے : تَصْدِیق کرنے والا ۔ یعنی صِدِّیقِ اکبر کا معنی ہو گا : اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ، آپ کے لائے ہوئے دِین پر سب سے بڑھ کر ایسا ایمان لانے والا ، جیسا ایمان کوئی نہ لایا ۔
وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ ۔ ( سورہ زُمر آیت نمبر 33)
ترجمہ : اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی یہی ڈر والے ہیں ۔
حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ اور مفسرین کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ سچ لے کر تشریف لانے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور ا س کی تصدیق کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ سچ لے کر تشریف لانے والے سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور تصدیق کرنے والے سے تمام مومنین مراد ہیں ۔ سچ لے کر تشریف لانے والے اور تصدیق کرنے والے سے ایک پوری جماعت مراد ہے ، تشریف لانے والے انبیاءِ کرام علیہم السلام ہیں اور تصدیق کرنے والے سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی ۔ (تفسیر خازن جلد ۴ صفحہ ۵۵ - ۵۶،چشتی)(تفسیر کبیر جلد ۲٦ صفحہ ۲۷۹)(تفسیر مدارک جلد ۳ صفحہ ۱۸۰)
امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : أن المراد شخص واحد فالذی جاء بالصدق محمد ، والذی صدق بہ ہو أبو بکر ، وہذا القول مروی عن علی بن أبی طالب علیہ السلام وجماعۃ من المفسرین رضی اللہ عنہم ۔
ترجمہ : اس سے مراد ایک ہی ہستی ہیں ، تو جو سچی بات لے کر آئے وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور جس نے آپ کی تصدیق کی وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اور یہ روایت حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ اور مفسرین کرام رحمہم اللہ کی ایک بڑی جماعت سے منقول ہے ۔ (تفسیرِ کبیر سورہ زُمر آیت نمبر 33 جلد ۲٦ صفحہ ۲۷۹)(الدر المنثور ، روح البیان ، سورۃالزمر۔ 33)
شارح مسلم امام نووی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 676 ھ نے فرماتے ہیں : وأجمعت الأئمة على تسميته صديقًا. قال على بن أبى طالب ، رضى الله عنه : إن الله تعالى هو الذى سمى أبا بكر على لسان رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صديقًا، وسبب تسميته أنه بادر إلى تصديق رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ولازم الصدق ، فلم يقع منهم هناة ولا وقفة فى حال من الأحوال ۔ (تهذيب الأسماء و اللغات للنووی جز ثانی قسم اول صفحہ ۱۸۱ مطبوعہ دار الکتب العلمیة)
ترجمہ : امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لقب صدیق تھا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ابوبکر ہی وہ شخصیت ہیں ، جنہیں اللہ تعالی نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی صدیق کا لقب عطاء فرمایا ۔
حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ اس کی ایک وجہ یوں بیان کرتے ہیں : وسمی الصدہلیق لبداره إلي تصديق رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم في كل ماجاء به صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ آپ نے ہر معاملے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کر نے میں پہل کی اس لیے آ پ کا لقب صدیق رکھا گیا ۔ (الاستیعاب جلد 4 صفحہ 206،چشتی)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ برسرِ منبر فرماتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام صدیق رکھا ۔ آپ حلفاً فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ آسمان سے ابوبکر کا نام صدیق نازل فرمایا ۔ (تاریخ الخلفا مترجم اردو صفحہ 145 مطبوعہ پروگریسو بکس اردو بازار لاہور)
ایک دوسری وجہ یہ ذکر کی گئی ہے ۔ ام المومین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ شب معراج کے اگلے دن مشرکین مکہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور کہا : اپنے صاحب کی اب بھی تصدیق کرو گے ؟ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ راتوں رات بیت المقدس کی سیر کر آ ۓ ہیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق نے کہا : بے شک آ پ نے سچ فرمایا ہے ۔ میں تو صبح و شام اس سے بھی اہم اور مشکل امور کی تصدیق کرتا ہوں ۔ اس واقعہ سے آ پ کا لقب صدیق مشہور ہو گیا ۔ (تاریخ الخلفا مترجم اردو صفحہ 144 مطبوعہ پروگریسو بکس اردو بازار لاہور)
ابن سعد حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ کے غلام ابو وہب کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر معراج سے واپسی پر وادی طوی پہنچے ، تو آپ نے جبرئیل امین سے فرمایا : میری قوم اس واقعہ کی تصدیق نہیں کر ے گی ۔ جبرئیل امین نے کہا : يصدقك ابوبکر وھو الصدیق ۔ ابو بکر آپ کی تصدیق کریں گے ، اور وہ صدیق ہیں ۔ (الطبقات الکبریٰ جلد ۱ صفحہ ۱۸۳،چشتی)
عن عائشة رضي اللہ عنها قالت : لمّا اسري بالنّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم إلي المسجد الأ قصٰي أصبح يتحدّث النّاس بذالک فارتدّ ناس ممّن کان اٰمنوا به وصدّقوه وسعوا بذالک إلٰي أبي بکر رضي الله عنه فقالوا : هل لک إلٰي صاحبک يزعم أنّه أسري به اللّيلة إلٰي بيت المقدس؟ قال : أو قال ذٰلک؟ قالوا : نعم، قال : ’’لئن کان قال ذٰلک لقد صدق.‘‘ قالوا : أو تصدّق أنّه ذهب اللّيلة إلٰي بيت المقدس وجاء قبل أن يّصبح؟ قال : نعم، ’’إنّي لأصدّقه فيما هو أبعد من ذٰلک أصدّقه بخبر السّمآء في غدوة أو روحة‘‘ فلذٰلک سمّي أبو بکر’’الصّدّيق ۔
ترجمہ : امّ المؤمنین عائشہ صدِّیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ رضی اللہ عنہانے فرمایا : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد اقصیٰ کی طرف سیر کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح لوگوں کو اس کے بارے بیان فرمایا توکچھ ایسے لوگ بھی اس کے منکر ہو گئے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کر چکے تھے۔ وہ دوڑتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے : کیا آپ اپنے صاحب کی تصدیق کرتے ہیں جو یہ گمان کرتے ہیں کہ انہیں آج رات بیت المقدس تک سیر کرائی گئی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے ؟ انہوں نے کہا، ہاں ! تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، کیا آپ اُن کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ آج رات بیت المقدس تک گئے بھی ہیں اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہاں ! میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق اُس خبر کے بارے میں بھی کرتا ہوں جو اس سے بہت زیادہ بعید از قیاس ہے، میں تو صبح و شام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آسمانی خبروں کی بھی تصدیق کرتا ہوں ۔ پس اس تصدیق کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ الصدیق کے نام سے موسوم ہوئے ۔ (المستدرک جلد 3 صفحہ 65 رقم : 4407 يہ حديث صحيح الاسناد ہے)(عبدالرزاق، المصنف، 5 : 328،چشتی)(الجامع لاحکام القرآن، 1 : 283)(جامع البيان، 15 : 6)(تفسير القرآن العظيم، 3 : 12)(فضائل بيت المقدس، 1 : 83، رقم : 53)
عن أبي هريرة قال قال رسول اللہ صلي الله عليه وآله وسلم لجبريل ليلة أسري به إنّ قومي لا يصدّقونني فقال له جبريل يصدّقک أبوبکر وهو الصّدّيق ۔
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرئیل امین سے ارشاد فرمایا : اے جبرئیل! میری قوم (واقعہ معراج میں) میری تصدیق نہیں کرے گی ۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کی تصدیق کریں گے اور وہ صدیق ہیں ۔ (المعجم الاوسط، 7 : 166، رقم : 7173)(مجمع الزوائد، 9 : 41)(فضائل الصحابه، 1 : 140، رقم : 116،چشتی)(فضائل الصحابه، 1 : 367، رقم : 540)(الطبقات الکبريٰ، 1 : 215)(الطبقات الکبريٰ، 3 : 170)(الرياض النضرة، 1 : 405)
عن أمّ هاني قالت دخل عليّ رسول اللہ صلي الله عليه وآله وسلم بغلس و أنا علٰي فراشي فقال شعرت إنّي نمت اللّيلة في المسجد الحرام... و أبوبکر رضي الله عنه عنده يقول صدقت صدقت قالت نبعة، فسمعت رسول اللہ صلي الله عليه وآله وسلم يقول يومئذ : يا أبا بکر! إنّ اللہ قد سمّاک الصّدّيق ۔
ترجمہ : حضرت اُم ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح سویرے میرے گھر تشریف لائے جب کہ ابھی اندھیرا چھایا ہوا تھا اور میں اپنے بستر پر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات میں مسجد حرام میں سو رہا تھا (پھر آگے پورا واقعہ معراج بیان فرمایا) اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہنے لگے آپ نے سچ فرمایا! آپ نے سچ فرمایا! حضرت نبعہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دن ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’اے ابوبکر! بے شک اللہ رب العزت نے تیرا نام صدیق رکھا ہے ۔ (المعجم ابویعلیٰ ، 10 : 45، رقم : 9)(الفردوس بمأثور الخطاب، 5 : 307، رقم : 8271)(الاصابه، 8 : 137، رقم : 11800)(فضائل بيت المقدس مقدسی : 82، رقم : 52)
صدیق اکبر کون ؟ ۔ حضرت سیدنا مولا علی رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : اہلِ محشر جنت کے آٹھوں دروازوں سے یہ آواز سنیں گے : أَدْخُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ۔ (نور الابصار للشبلنجی صفحہ نمبر 23)
ترجمہ : صدیق اکبر ! جنت کے جس دروازے سے جی چاہے تشریف لائیں ۔
شیخ اکبرحضرت سیدنا محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موطن میں تشریف نہ رکھتے ہوں اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ حاضر ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام پر صدیق قیام کریں گے کہ وہاں صدیق سے اعلی کوئی نہیں جو انہیں اس سے روکے ۔ وہ اس وقت کے صادق و حکیم ہیں ، اور جو ان کے سوا ہیں سب ان کے زیر حکم ۔ (الفتوحات المکیۃ الباب الثالث والسبعون جلد ۳ صفحہ ۴۴،چشتی)(فتاوی رضویہ جلد ۱۵ صفحہ ۶۸۰)
امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ پرارشاد فرماتے ہیں : سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ صدیقِ اکبر ہیں اور سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ صدیقِ اصغر ، صدیق اکبر کا مقام اعلی صدیقیت سے بلند و بالا ہے ۔ نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض میں ہے : سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تخصیص اس لیے کہ وہ صدیق اکبر ہیں جو تمام لوگوں میں آگے ہیں کیونکہ انہوں نے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی وہ کسی کو حاصل نہیں اور یونہی سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا نام صدیق اصغر ہے جو ہرگز کفر سے ملتبس نہ ہوئے اور نہ ہی انہوں نے غیر اللہ کو سجدہ کیا باوجود یکہ وہ نابالغ تھے ۔ (نسیم الریاض فی شرح الشفا القسم الاول فی ثناء اللہ ۔ الخ ، الفصل الاول جلد ۱ صفحہ ۲۳۴،چشتی)(فتاوی رضویہ، جلد ۱۵ صفحہ ۶۸۰)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : صدیقیت ایک مرتبہ تلو نبوت ہے کہ اس کے اور نبوت کے بیچ میں کوئی مرتبہ نہیں مگر ایک مقام ادق واخفی کہ نصیبہ حضرت صدیق اکبر اکرم و اتقی رضی اللہ عنہ ہے تو اجناس و انواع واصناف فضائل وکمالات وبلندی درجات میں خصائص و ملزومات نبوت کے سوا صدیقین ہر عطیہ بہیہ کے لائق و اہل ہیں اگرچہ باہم ان میں تفاوت و تفاضل کثیرو وافر ہو ۔ (فتاوی رضویہ جلد ۱۵ صفحہ ۶۷۸،چشتی)
حضرت سیدنا امام باقر رضی اللہ عنہ جو حضرت ابوبکر کو صدیق نہ مانے وہ دنیا اور آخرت میں مردود القول ہے : ⏬
محترم قارئینِ کرام : شیعہ کے مجتہد عالم ابو الحسن علی بن عیسیٰ بن ابو الفتح الاربلی نے روایت کیا ہے کہ : عن عروة بن عبد الله قال : سألت ابا جعفر محمد بن علی علیهما السلام عن حلیة السیوف فقال : لا بأس به ، قد حلی ابوبکر الصدیق سیفه، قلت : فنقول: الصدیق؟ قال: فوثب و ثبة و استقبل القبلة و قال : نعم الصدیق ، نعم الصدیق ، نعم الصدیق فمن لم یقل له الصدیق فلا صدق الله له قولا فی الدنیا و لا فی الآخرة ۔
ترجمہ : عروہ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں حضرت سیدنا امام باقر ابوجعفر محمد بن علی بن حسین رضی اللہ عنہم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے استفسار کیا : مَا قَوْلُكَ فِيْ حُلْيَةِ السُّيُوْف ؟ یعنی تلوار کو آراستہ کرنے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ فرمایا : لَا بَأْسَ قَدْ حُلِىَ أَبُوْ بَكْر الصِّدِّيْقْ سَيْفَه ، یعنی اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ خود حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی تلوار کو آراستہ کیا ۔ میں نے کہا : آپ نے انہیں صدیق کہا ؟ یہ سننا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ جلال فرماتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور قبلے کی طرف منہ کر کے ارشاد فرمایا : ہاں ! وہ صدیق ہیں ، ہاں ! وہ صدیق ہیں ، ہاں ! وہ صدیق ہیں ۔ اور جو انہیں صدیق نہ کہے تو اللہ عزوجل اس کے قول کی تصدیق نہیں فرماتا نہ دنیا میں اور نہ ہی آخرت میں ۔ (فضائل الصحابۃ ومن فضائل عمر بن الخطاب من حديث أبي بكر بن مالك الرقم : ۶۵۵ جلد ۱ صفحہ ۴۱۹ ، ۴۲۰)(کشف الغمہ فی معرفۃ الائمہ جلد 2 صفحہ 360 شیعہ مذہب کی کتاب)(شیعہ کتاب احقاق الحق جلد ۱ صفحہ ۲۹ )
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے حضرت عبدالرحمان بن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کی ایک بیٹی تھی جس کا نام اسماء بنت عبدالرحمٰن بن حضرت ابوبکر صدیق تھا ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دوسرے بیٹے حضرت محمد بن ابوبکر صدیق تھے ان کا ایک بیٹا تھا قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق تھا ۔ یہ دونوں اسماء بنت عبدالرحمٰن اور قاسم بن محمد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پوتے اور پوتی کہلائے ۔ پھر ان دونوں پوتی اسماء بنت عبدالرحمٰن اور پوتے قاسم بن محمد کا آپس میں نکاح ہوا پھر اسماء بنت عبدالرحمٰن کے بطن سے قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق کی ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام ام فروہ رضی اللہ عنہا ہے ۔ اس ام فروہ کا نکاح سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے سیدنا حضرت امام محمد باقر بن امام زین العابدین رضی اللہ عنہما سے ہوا ۔ پھر اسی ام فروہ کے بطن سے سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام سیدنا حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ ہے ۔ یعنی سیدنا امام جعفر صادق کے نانا قاسم بن محمد بن ابوبکر اور نانی حضرت اسماء بنت عبدالرحمٰن دونوں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہم کے پوتے اور پوتی ہیں سیدنا امام جعفر صادق اسماء بنت عبدالحمٰن کی طرف سے حضرت ابوبکر صدیق کے پڑنواسے اور قاسم بن محمد بن ابوبکر کے طرف سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم کے پڑپوتے کہلاتے ہیں ۔ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے نانا اور نانی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پوتے اور پوتی ہیں ۔ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسبت دونوں کی طرف سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے ۔ یہی وجہ ہے جب کسی نے سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سنا ہے کہ آپ سیدنا صدیق اکبر کو برا بھلا کہتے ہیں ؟ آپ ارشاد فرمایا : ابوبکرن الصدیق جدی ھل یسب احد اباہ ۔ (احقاق الحق جلد 1 صفحہ 30،چشتی)
ترجمہ : حضرت ابوبکر میرے نانا ہیں کیا کوئی اپنے آباٶ اجداد کو گالی دینا پسند کرے گا ۔ اللہ مجھے کوئی مرتبہ اور عزت نہ بخشے اگر میں ابوبکر صدیق کو (عزت اور عظمت میں) مقدم نہ رکھوں ۔
قال ابو جعفر محمد الباقر لست بمنكر فضل ابي بكر ولست بمنكر فضل عمر ولكن ابابكر افضل من عمر ۔ (احتجاج طبرسي صفحہ 204)
ترجمہ : امام ابو جعفر صادق محمد باقر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ : میں ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت کا منکر نہیں اور نہ ہی عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت کا منکر ہوں ۔ ہاں لیکن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل ہیں ۔
سال رجل من المخالفين عن الامام الصادق عليه السلام وقال يا من رسول الله ما تقول في ابي بكر ومر فقال عليه السلام هما امامان عادلاان قاسطان كانا علي الحق وماتا عليه رحمهما الله يوم القيامة ) ( احقاق الحق صفحہ 1 مطبوعه 1203)
ترجمہ : مخالف گروہ کے ایک شخص نے امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے خلافت صدیق وعمر رضی اللہ عنھما کے متعلق سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ وہ دونوں امام عادل تھے ، مصنف تھے ، حق پر تھے اور حق پر انہوں نے وفات پائی ان دونوں پر قیامت تک اللہ کی رحمت نازل ہو ۔ (رضوان اللہ عنھم اجمعین)
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ابوبكر ن الصديق جدي هل يسب احد اباه لاقد مني الله ان لا اقدمه ۔
ترجمہ : حضرت ابو صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے پڑ نانا ہیں ۔ کیا کوئی شخص اپنے آباؤ اجداد کو سب وشتم کرنا پسند کرتا ہے ؟ اگر میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں گستاخی کروں توخدا مجھے کوئی شان اور عزت نہ دے ۔ (احقاق الحق صفحہ 7)
شیعہ کتب میں ہے کہ : امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ : ولدني الصديق مرتين ، میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اولاد میں دو طرح داخل ہوں ۔ (احقاق الحق صفحہ 7)(جلاء العیون صفحہ 248)(کشف الغمہ صفحہ 215 ، 222)(احتجاج طبرسی صفحہ 205)(کشف الغمہ جلد 2 صفحہ 374 شیعہ عالم)
صافی شرح اصول کافی صفحہ 214 پر امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا گیا ہےکہ : ومادرش ام فروہ اسماء دخت قاسم بن محمد بن ابی بکر بود ومادرام فروہ اسماء دختر عبدالرحمٰن بن ابی بکر بود ۔
ترجمہ : حضرت امام جعفر رضی اللہ عنہ کی والدہ ام فروہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پڑ پوتی (پوتے کی بیٹی) تھیں اور امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی نانی حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں جو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پوتی تھیں ۔
آپ کے القاب مبارکہ میں صدیق بہت مشہور ہے ، کیونکہ یہ مبارک لقب آپ کو کسی مخلوق نے نہیں دیا ، بلکہ خالق کائنات نے عطا فرمایا ، جیسا کہ سنن دیلمی میں حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یَا أَبَابَکْرٍ اِنَّ اللّٰہَ سَمَّاکَ الصَّدِّیقَ ۔
ترجمہ : اے ابوبکر! اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام صدیق رکھا ہے ۔ (کنز العمال حرف الفاء فضل ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ حدیث نمبر : 32615)
ابھی آپ نے امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان حق ترجمان سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صداقت کا تذکرہ سنا ، اب آئیے امام الاولیاء کی زبان فیض ترجمان سے سماعت فرمائیے ! حضرت مولائے کائنات سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے ارشاد فرمایا : لَاَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اسْمَ اَبِی بَکْرٍ مِنَ السَّمَاءِ الصِّدِّیقَ ۔
ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام صدیق آسمان سے نازل فرمایا ہے ۔ (مختصر تاریخ دمشق جلد 13 صفحہ 52)
آپ کو صدیق کے مبارک لقب سے اس لیے بھی یاد کیا جاتا ہے کیونکہ آپ نے بلا کسی تامل سب سے پہلے معجزۂ معراج کی برملا تصدیق کی ، جیسا کہ مستدرک علی الصحیحین اور تاریخ الخلفاء میں روایت ہے : عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت جاء المشرکون إلی أبی بکر فقالوا ہل لک إلی صاحبک یزعم أنہ أسری بہ اللیلۃ إلی بیت المقدس قال أو قال ذلک ؟ قالوا نعم فقال لقد صدق إنی لأصدقہ بأبعد من ذلک بخبر السماء غدوۃ وروحۃ فلذلک سمی الصدیق ۔
ترجمہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ شب معراج کے اگلے دن مشرکین مکہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور کہا ، اپنے صاحب کی اب بھی تصدیق کروگے ؟ ، انہوں نے دعوٰی کیا ہے "راتوں رات بیت المقدس کی سیر کرآئے ہیں ابوبکر صدیق نے کہا : بیشک آپ نے سچ فرمایا ہے ، میں تو صبح وشام اس سے بھی اہم امور کی تصدیق کرتا ہوں ۔ اس واقعہ سے آپ کا لقب صدیق مشہور ہوگیا ۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ 11،چشتی)
اسی طرح مختلف مواقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی فضیلت کا اظہار فرمایا ، اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اتھاہ وارفتگی اور اٹوٹ وابستگی کی بنیاد پر حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اپنے درمیان حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ہر اعتبار سے افضل و مقدم اور اولی و بہتر جانتے اور مانتے تھے ۔
فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کون ؟ : ⏬
محترم قارئینِ کرام : فاروق اسے کہتے ہیں جو حق و باطل کے درمیان فرق کر دے ۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الرؤف مناوی رحمة اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : قِیْلَ لِعُمَرَ فَارُوْقُ لِفُرْقَانِہٖ بَیْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ بِاِحْكَامٍ وَاِتْقَانٍ ، یعنی کہا گیا ہے کہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو فاروق اس لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے حق و باطل کے درمیان پختگی اور یقین کے ذریعے فرق فرمایا ۔ (فیض القدیر ، جلد ۵ صفحہ ۵۸۸ شرح حدیث نمبر ۷۹۶۰)
حضرت نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز ہم نے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : اےامیر المومنین ہمیں حضر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے متعلق کچھ ارشاد فرمائیے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جنہیں اللہ نے فاروق لقب عطا فرمایا کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ نے حق کو باطل سے جدا کر دکھایا ۔ (تاریخ ابن عساکر جلد نمبر ۴۴ صفحہ نمبر ۵۰،چشتی)
ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی گئی : حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو فاروق کا لقب کس نے دیا ؟ انہوں نے ارشاد فرمایا : نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیا ۔ (اسد الغابۃ جلد ۴ صفحہ ۱۶۲،چشتی)
حضرت جبریل امین علیہ السلام نے فرمایا : زمین میں ان کا نام عمر اور آسمانوں میں فاروق ہے (رضی اللہ عنہ) ۔ (ریاض النضرۃ جلد ۱ صفحہ ۲۷۳)
ایک روایت کے مطابق آپ جب اسلام لائے تو بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں عرض کی : اب ہم چھپ کرعبادت نہیں کریں گے اور پھر تمام مسلمانوں نے کعبۃ اللہ شریف میں جا کر نماز ادا کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو فاروق کا لقب عطا فرمایا ۔ (تاریخ الخلفا صفحہ ۹۰،چشتی)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو فاروق کیوں کہا جاتا ہے ؟ اِرشاد فرمایا : حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ مجھ سے تین روز قبل اِسلام لائے ۔ اللہ نے میرا سینہ اِسلام کےلیے کھول دیا اور میں بے ساختہ پکار اُٹھا : اَللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ لَہُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کے ہیں سب اچھے نام ۔ اس وقت ساری روئے زمین پر نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بڑھ کر کوئی شخصیت میرے لیے محبوب نہ تھی ۔ میں نے پوچھا : اللہ تعالیٰ کے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کہاں تشریف فرماہیں ؟ میری ہمشیرہ نے کہا : دارِ اَرقم بن ابی اَرقم میں جو صفا پہاڑ ی کے نزدیک ہے ۔ حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گھر کے اندر صحن میں اور نبی کریم سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آگے کمرے میں تشریف فرما تھے ۔میں نے دروازہ پر دستک دی تو میری آمد پر سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوگئے ۔حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ بولے : کیا بات ہے ؟ وہ کہنے لگے : عمر آگیا ہے ۔ یہ سن کر خود نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم باہر تشریف لے آئےاور جیسے ہی میں اندر داخل ہوا میرا گریبان پکڑا اور زور سے جھنجھوڑ کر فرمایا : عمر ! تم باز نہیں آٶ گے تو میں بے ساختہ پکار اُٹھا : اَشْھَدُاَن لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہ ، یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ یہ سن کر دارِ اَرقم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ اس کی آواز کعبۃ اللہ شریف میں سنی گئی ۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا حیات اور موت دونوں صورتوں میں ہم حق پر نہیں ؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : کیوں نہیں ، اللہ کی قسم ! تم لوگ حق پر ہو ، زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی ۔ میں نے عرض کی : یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! پھر ہم چھپ چھپ کر کیوں رہ رہے ہیں ؟ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہم ضرور باہر نکلیں گے ۔ چنانچہ ہم نبی کرہم سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس طرح باہر لے آئے کہ ہماری دو صفیں تھیں ، اگلی صف میں حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ اور پچھلی صف مِیں مَیں تھا اور میری حالت یہ تھی کہ میرے اوپر آٹے جیسا غبار تھا ۔ ہم مسجدِ حرام میں داخل ہوئے تو کفار قریش نے ایک نظر مجھے اور دوسری نظر حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان پر ایسا خوف طاری ہوا جو اس سے قبل کبھی نہ ہوا تھا ۔ اس دن نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرا نام فاروق رکھ دیا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے سبب سے حق و باطل میں امتیاز فرمادیا ۔ (حلیۃ الاولیاء ، عمر بن الخطاب ، ج۱ ، ص۷۵ ، الرقم: ۹۳،چشتی)
حضرت ابو عمرو و ذکوان علیہما الرحمہ نے اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : مَنْ سَمَّی عُمَرَ الْفَارُوْقَ ؟ ، یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فاروق کا لقب کس نے دیا ؟ فرمایا : ،،اَلنَّبِیُّ،، یعنی غیب کی خبریں دینے والے (نبی ) نے ۔ (اسد الغابۃ ، عمر بن الخطاب ، ج۴ ، ص۱۶۲)
حضرت امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک منافق اور ایک یہودی کے مابین جھگڑا ہوگیا ۔ یہودی نے کہا : فیصلے کےلیے تمہارے نبی محمد بن عبداللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس چلتے ہیں ۔ منافق بولا : نہیں بلکہ یہودیوں کے سردار کعب بن اشرف کے پاس جانا چاہیے ۔ یہود ی نے یہ بات نہ مانی اور نبی کریم ، صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس چلا آیا اور بارگاہِ رسالت میں پہنچ کر سارا ماجرا بیان کردیا ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہودی کے حق میں فیصلہ کردیا ۔ جب دونوں باہر آئے تو منافق کہنے لگا : عمر بن خطاب کے پاس چلتے ہیں ۔ دونوں حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچ گئے اور سارا ماجرا بیان کردیا اور یہودی نے یہ بھی وضاحت کردی کہ ہمارے اس جھگڑے کا فیصلہ آپ کے نبی محمد بن عبد اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے حق میں کر دیا ہے اور اس فیصلے کے بعد یہ شخص آپ کے پاس آنے پر اصرار کرنے لگا تو ہم یہاں آگئے ۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے جب یہ سارا معاملہ سنا تو ارشاد فرمایا : تم دونوں ذرا یہیں ٹھہرو ، میں ابھی آتا ہوں ۔ آپ اندرتشریف لے گئے اور تلوار نیام سے باہر نکالتے ہوئے واپس آئے اور فوراً اس منافق کا سر تن سے جدا کر دیا اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا : ھٰکَذَا اَقْضِیْ بَیْنَ مَنْ لَمْ یَرْضَ بِقَضَاءِ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ ، یعنی جو اللہ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فیصلے سے راضی نہیں میں اس کا فیصلہ یوں کروں گا ۔ (انوار الحرمین علی تفسیر الجلالین ، پ ۵ النساء : ۵۹ ، ج۱ ص۱۴،چشتی)(تفسیر مدارک پ ۵ النساء : ۵۹ ص۲۳۴)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : میں مسجد میں بیٹھا جبریل امین سے باتیں کرر ہا تھا کہ اچانک عمر بن خطاب آگئے ۔ جبریل امین نے کہا : یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا یہ آپ کے بھائی عمر تو نہیں ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ اور اے جبریل کیا زمین کی طرح آسمانوں میں بھی ان کا کوئی خاص نام ہے ؟ جبریل بولے : اِنَّ اِسْمَہُ فِی السَّمَاءِ اَشْھَرُ مِنْ اِسْمِہٖ فِی الْاَرْضِ اِسْمُہُ فِی السَّمَاءِ فَارُوْقٌ وَ فِی الْاَرْضِ عُمَرُ ، یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آسمانوں میں جو ان کا نام ہے وہ زمین کی نسبت زیادہ مشہور ہے ، زمین میں ان کا نام عمر ہے اور آسمانوں میں ان کا نام فاروق ہے ۔ (ریاض النضرۃ جلد ۱ صفحہ ۲۷۳)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : فِی الْجَنَّۃِ شَجَرَۃٌ مَا عَلَیْھَا وَرَقَۃٌ اِلَّا مَكْتُوْبٌ عَلَيْھَا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ اَبُوْ بَكْرِ نِ الصِّدِّیْقُ عُمَرُ الْفَارُوْقُ عُثْمَانُ ذُوْ النُّورَیْنِ ، یعنی جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر پتے پر یہ لکھا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ کے رسول ہیں ، ابوبکر صدیق ہیں ، عمر فاروق ہیں ، عثمان ذوالنورین ہیں ۔ (معجم کبیر مجاھد عن ابن عباس رضی اللہ عنہما جلد ۱۱ صفحہ ۶۳ حدیث : ۱۱۰۹۳)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قیامت کے دن اپنا اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مقام بیان فرمایا ۔ پھر ارشاد فرمایا : قیامت میں یوں ندا آئے گی عمر فاروق کہاں ہیں ؟ چنانچہ انہیں حاضر کیا جائے گا تو اللہ ارشاد فرمائے گا : اے ابو حفص ! تمہیں مبارک ہو ، یہ ہے تمہارا اعمال نامہ ، چاہو تو اسے پڑھ لو یا نہ پڑھو کیونکہ میں نے تمہاری مغفرت فرمادی ہے ۔ (ریاض النضرۃ جلد ۱ صفحہ ۲۷۳،چشتی)
فارق کا معنی ہے فرق کرنے والا قطع نظر اس کے کہ وہ حق و باطل دونوں میں فرق کرے یا کوئی سی بھی دو اشیاء میں فرق کرے ۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو بھی اس لیے فارق کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے جس طرح حق و باطل کے درمیان فرق فرمایا اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافتِ راشدہ میں ہر ہر شے کو اس کی متبادل اشیاء سے جدا کر کے بالکل واضح کردیا ۔
امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : ⏬
فارق حق وباطل امام الھدی
تیغ مسلول شدت پہ لاکھوں سلام
شرح : حق کوباطل وگمراہی سے جدا کرنے اور ہدایت دینے والے امام برحق حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اس تلوار کی مثل ہیں جو اسلام کی حمایت میں سختی سے بلند کی جاتی ہے آپ رضی اللہ عنہ پر لاکھوں سلام ہوں ۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ جب اسلام لے آئے تو رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی کہ : یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اب ہم چھپ کر نماز وغیرہ ادا نہیں کریں گے ۔ لہٰذا تمام مسلمانوں نے کعبۃ اللہ شریف میں جا کر نماز ادا کی تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حق کو باطل سے جدا کرنے کے سبب آپ کو فاروق لقب عطا فرمایا ۔ (تاریخ الخلفاء صفحہ ۹۰،چشتی)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ہدایت کا راستہ دکھایا اور کفر و شرک کی گمراہیوں کے خلاف اور دین اسلام کی روشنیوں و رعنائیوں کی حمایت میں سختی سے تلوار بلند فرمائی جس سے چہار سو اسلام کا بول بالا ہوگیا ۔ اعلی حضرت رحمة اللہ علیہ نے ان ہی تمام واقعات کی طرف اشارہ فرمایا ہے :
ترجمانِ نبی ہم زبانِ نبی
جانِ شانِ عدالت پہ لاکھوں سلام
شرح : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہم زبان ہیں کہ کئی بار آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنے بغیر کوئی بات کہی اور وہ بعینہ ویسی ہی نکلی جیسا نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا تھا ۔ اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ترجمان ہیں کہ کوئی مسئلہ بیان فرمایا اور بعد میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جب اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ کو نب کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بعینہ وہی حدیث مبارکہ ملی جیسا آپ رضی اللہ عنہ نے مسئلہ بیان فرمایا تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہ سے عدل و انصاف کی روح کو شان و شوکت حاصل ہوئی بلکہ اپنے خلافت میں ایسا عدل و انصاف قائم فرمایا جو قیامت تک آنے والے حکمرانوں کےلیے مشعل راہ ہے ، آپ رضی اللہ عنہ پر لاکھوں سلام ہوں ۔
فاروقی کا مطلب ہے فاروق والا ۔ جس شخص کا سلسلۂ نسب امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہو اسے فاروقی کہتے ہیں جس طرح کسی کا سلسلۂ نسب امیر المؤمنین خلیفہ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہو تو اسے صدیقی کہتے ہیں ۔
فاروقِ اعظم : ⏬
نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہر صحابی رضی اللہ عنہ کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ حق و باطل کے درمیان فارق یعنی فرق کرنے والا ہے ، لیکن امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو فاروقِ اعظم اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ اس فریضے کو سرانجام دیا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ رضی اللہ عنہ کی حق و باطل کے درمیان یہ فرق کرنے کی صلاحیت بارگاہِ رسالت سے خاص طور پر عطا ہوئی تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ جس دن اسلام لائے اسی دن آپ نے مسلمانوں کے ساتھ اعلانیہ کعبۃ اللہ شریف میں نماز ادا کی اور طواف بیت اللہ بھی کیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ خود ارشاد فرماتے ہیں کہ : اس دن نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود میرا نام فاروق رکھ دیا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے سبب سے حق و باطل میں امتیاز فرمادیا ۔ (حلیۃ الاولیاء عمر بن الخطاب جلد نمبر ۱ صفحہ نمبر ۷۵ الرقم : ۹۳) ۔ اللہ عزوجل ہمیں جملہ فتنوں اور فتنہ پروروں کے شر و فتنہ سے بچاۓ آمین ۔ دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی ۔














































No comments:
Post a Comment