Sunday, 20 September 2015

تبرکاً اولیاء کرام اور صالحین علیہم الرّحمہ کی دست بوسی سے متعلق اَئمہ اَربعہ کے فرامین مبارکہ پوسٹ نمبر 2

آئمہ مالکیہ علیہم الرّحمہ کا مؤقف

3۔ علامہ ابنِ بطال بکری قرطبی نے تقبیلِ ید پر امام مالک کا فتویٰ بیان کیا ہے :

إنما کرهها مالک إذا کانت علي وجه التکبر والتعظم، وأما إذا کانت علي وجه القربة إلي اﷲ لدينه أو لعلمه أو لشرفه فإن ذلک جائز.

’’اگر تکبر اور بڑائی کے پیشِ نظر کسی کا ہاتھ چوما جائے تو امام مالک نے اسے ناپسندیدہ قرار دیا ہے لیکن اگر یہ عمل کسی شخص کے دین، علم اور شرف کے باعث اللہ رب العزت کے ہاں قربت چاہنے کی وجہ سے ہو تو جائز ہے۔‘‘

عسقلاني، فتح الباري شرح صحيح البخاري، 11 : 57

No comments:

Post a Comment

پندرہ شعبان المعظم کا روزہ رکھنے اور ممانعت کی تحقیق

پندرہ شعبان المعظم کا روزہ رکھنے اور ممانعت کی تحقیق محترم قارئینِ کرام : فرائض و واجبات کی ادائیگی کے ساتھ نفلی عبادت کی کثرت بلاشبہ باعثِ ...