آئمہ مالکیہ علیہم الرّحمہ کا مؤقف
3۔ علامہ ابنِ بطال بکری قرطبی نے تقبیلِ ید پر امام مالک کا فتویٰ بیان کیا ہے :
إنما کرهها مالک إذا کانت علي وجه التکبر والتعظم، وأما إذا کانت علي وجه القربة إلي اﷲ لدينه أو لعلمه أو لشرفه فإن ذلک جائز.
’’اگر تکبر اور بڑائی کے پیشِ نظر کسی کا ہاتھ چوما جائے تو امام مالک نے اسے ناپسندیدہ قرار دیا ہے لیکن اگر یہ عمل کسی شخص کے دین، علم اور شرف کے باعث اللہ رب العزت کے ہاں قربت چاہنے کی وجہ سے ہو تو جائز ہے۔‘‘
عسقلاني، فتح الباري شرح صحيح البخاري، 11 : 57
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
جواد نقوی رافضی کی ہفوات کا جواب : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی اور عظیم المرتبت صحابی ہیں
جواد نقوی رافضی کی ہفوات کا جواب : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی اور عظیم المرتبت صحابی ہیں محترم قارئینِ کرام : چشتیوں کے بادشاہ ح...
-
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لینا اور مرد کو اپنا آلۂ مردمی اپنی بیوی کے منہ میں ڈالنا اور ہمبستری سے قبل شوہر اور...
-
درس قرآن موضوع آیت : قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَ...
-
حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اﷲ عنہ کے ایمان لانے کا واقعہ اور عقیدہ علم غیب احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ عدی بن حاتم کے اسلام قبول ک...
No comments:
Post a Comment