Friday, 18 September 2015

انبیاء کرام علیہم السلام کے بابرکت ہونےکابیان قرآن کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بعض انبیاء کرام علیہم السلام اور اُن کے اہل و عیال کا مبارک اور بابرکت ہونا بیان کیا ہے۔

1۔ حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے متبعین کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلاَمٍ مِّنَّا وَبَركَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ.

’’فرمایا گیا : اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (کشتی سے) اتر جاؤ جو تم پر ہیں اور ان طبقات پر ہیں جو تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘

هود، 11 : 48

2۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کے بارے میں ارشادِ الٰہی ہے :

وَبَارَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَى إِسْحَقَ.

’’اور ہم نے اُن پر اور اسحاق (علیہ السلام) پر برکتیں نازل فرمائیں۔‘‘

الصافات، 37 : 113

3۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اہلِ بیت کے لئے فرمایا :

رَحْمَتُ اللّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌO

’’اے گھر والو! تم پر اﷲ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، بیشک وہ قابلِ ستائش (ہے) بزرگی والا ہےo‘‘

هود، 11 : 73

4۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بابرکت فرمایا ہے :

وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّاO

’’اور میں جہاں کہیں بھی رہوں اس نے مجھے سراپا برکت بنایا ہے اور میں جب تک (بھی) زندہ ہوں اس نے مجھے نماز اور زکوۃ کا حکم فرمایا ہے۔‘‘

مريم، 19 : 31

No comments:

Post a Comment

جو انسان زندہ ہیں ان کا سہارا بنیں

اپنے کندھوں کا استعمال صرف جنازے اٹھانے کےلیے مخصوص نہ کریں بلکہ جو انسان زندہ ہیں ان کا سہارا بنیں ۔ ⏬