اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے دینِ اسلام کو اعتدال پسندی سے نوازا ہے جس کی بدولت اس کے ہر امر میں افراط و تفریط کو نظراندَاز کیا جائے گا اور ان کی ہر طرح سے حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ عقیدۂ تبرک میں بھی شریعت کے اِس اصول کو مدّنظر رکھا گیا ہے، لہٰذا اس میں درج ذیل پہلوؤں کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہئیے۔
1۔ تبرک کے ہر اس عمل کو ناپسندیدہ، مکروہ اور بدعتِ ضلالۃ قرار دیا جائے گا جو اصلاً قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔
2۔ جن اعمال پر شریعت میں ممانعت وارد ہوئی ہے یا کراہت کا اظہار کیا گیا ہے، ان کو ہرگز بھی متبرک نہ سمجھا جائے مثلاً اولیاء و صالحین کے مزارات کا عبادت کی نیت سے طواف وغیرہ۔
3۔ آج کل معاشرے میں عموماً دیکھا گیا ہے کہ شریعت سے نابلد بے عمل جاہل اور جعلی پیروں کو برکت کا ذریعہ بنایا جاتا ہے ان سے بھی حتی الامکان دامن بچانا چاہئیے۔
4۔ عقیدۂ تبرک میں جہاں بعض لوگ جہالت کے باعث افراط کا شکار ہیں، وہیں بعض لوگ تعصب اور عناد کے باعث اولیاء و صالحین اور مقبولانِ بارگاہِ الٰہی سے حصولِ برکت کو شرک اور بدعت قرار دیتے ہیں۔ اس نامناسب رویے پر بھی غور کرنا چاہیے۔
گذشتہ صفحات میں ہم نے تبرک کا لغوی و شرعی مفہوم اوراس کی انواع پر سیر حاصل بحث کی ہے جس سے تبرک کا حقیقی مفہوم نکھر کر سامنے آ جاتاہے۔ اب ہم قرآن کی روشنی میں تبرک کی شرعی حیثیت بیان کریں گے جس سے اس کی اہمیت و فضیلت اجاگر ہو گی۔
قرآن حکیم کا مطالعہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ برکت اور تبرک متعدد آیاتِ بیّنات سے ثابت شدہ امرِ شرعی ہے۔ تبرک سے متعلق قرآنی تعلیمات کو ہم آنے والی پوسٹوں میں بیان کریں گے ان شاء اللہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
جو انسان زندہ ہیں ان کا سہارا بنیں
اپنے کندھوں کا استعمال صرف جنازے اٹھانے کےلیے مخصوص نہ کریں بلکہ جو انسان زندہ ہیں ان کا سہارا بنیں ۔ ⏬

-
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لینا اور مرد کو اپنا آلۂ مردمی اپنی بیوی کے منہ میں ڈالنا اور ہمبستری سے قبل شوہر اور...
-
درس قرآن موضوع آیت : قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَ...
-
حق بدست حیدر کرار مگر معاویہ بھی ہمارے سردار محترم قارئین : اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرما...
No comments:
Post a Comment