Friday, 18 September 2015

حجرہ مریم علیہا السلام سے حضرت زکریا علیہ السلام کا تبرک

حضرت زکریا علیہ السلام نے جب حضرت مریم علیہا السلام کے حجرے میں بے موسم پھلوں کو دیکھا تو اسی جگہ کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور اﷲ تعالیٰ سے دعا کی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِO

’’اسی جگہ زکریا ( علیہ السلام ) نے اپنے رب سے دعا کی، عرض کیا : میرے مولا! مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بیشک تو ہی دعا کا سننے والا ہے‘‘

آل عمران، 3 : 38

اس سے یہ ثابت ہوا کہ حضرت زکریا علیہ السلام کا واسطۂ تبرک و تیمن اور واسطۂ توسل اختیار کرنا شرک نہ تھا اگر ایسا ہوتا تو اللہ رب العزت خصوصیت کے ساتھ قرآن میں اس کا ذکر نہ فرماتا کیونکہ الفاظ ربانی یوں ہیں هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ یعنی اسی جگہ زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی۔

No comments:

Post a Comment

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا دنداں شکن جواب

رشید احمد گنگوہی کا فتوی امکابنِ کذب ، ساجد خان نقلبندی کے جھوٹ کا  دنداں شکن جواب محترم قارئینِ کرام : آج کل دیوبندیوں نے طوفانِ بدتمیزی مچ...