Thursday, 9 November 2017

بدعت کی تعریف ، شرعی حیثیت ، اقسامِ بدعت اور کل بدعۃ ضلالہ کا صحیح مفہوم سلف صالحین ، اکابرین امت اور بدعت کی فیکٹریوں کے بڑوں کی زبانی

بدعت کی تعریف ، شرعی حیثیت ، اقسامِ بدعت اور کل بدعۃ ضلالہ کا صحیح مفہوم سلف صالحین ، اکابرین امت اور بدعت کی فیکٹریوں کے بڑوں کی زبانی

محترم قارئینِ کرام : بدعت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جو ’’بَدَعَ‘‘ سے مشتق ہے ۔ اس کا معنی ہے : کسی سابقہ مادہ ، اَصل ، مثال ، نمونہ یا وجود کے بغیر کوئی نئی چیز ایجاد کرنا ، یعنی کسی شے کو عدمِ محض سے وجود میں لانے کو عربی زبان میں ’’اِبداع‘‘ کہتے ہیں ۔

بدعت کا لغوی معنی : بدعت عر بی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہو تا ہے ۔ کسی سابقہ نمونہ کے بغیر کو ئی نئی چیز ایجاد کر نا ۔ چنانچہ عر بی لغت کی مشہور کتاب’المنجد‘میں بدعت کا معنی یوں بیان کیا گیا ہے’اختر عہ وصنعہ لا علی مثال‘یعنی کسی سابقہ مثال کے بغیر کو ئی نئی چیز بنا نا اور ایجاد کر نا ۔

بدعت کا شرعی معنیٰ : شر یعت میں بد عت ہر اس کام کو کہتے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارک میں نہ ہوا ، چنا نچہ اما م یحییٰ بن شر ف نووی علیہ الرحمہ بد عت کی تعریف کرتے ہو ئے لکھتے ہیں : البدعۃ ھی احداث ما لم یکن فی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، بدعت ایسے نئے کام کا ایجاد کر نا ہے جو عہدِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نہ ہو ۔ (تہذیب الاسماء واللغت جلد ۳ صفحہ ۲۲)

کچھ لوگ بدعت کی تعریف اس طر ح سے کرتے ہیں کہ : وہ کام جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانے میں نہ ہوا وہ بدعت ہے ۔ حالانکہ یہ تعریف خود ساختہ ہے جسے کسی عالم یا محدث نے نہیں بیان کیا ۔ اور صحیح حدیث کی روشنی میں بالکل غلط ہے ۔ کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں تراویح کے نمازکی با ضابطہ جماعت قائم کرنے کے بعد ارشاد فر مایاکہ : یہ کتنی اچھی بدعت ہے ۔ اب آپ خود ہی غور کریں کہ جو کام خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانے کے بعد ہو وہ بدعت ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو کیسے بدعت کہا جو خود ان کے زمانے میں ہوا ؟ کیا نعوذباللہ وہ بدعت کی تعریف نہیں جانتے تھے ؟ یقیناً ایسا نہیں تو معلوم ہوگیا کہ یہ تعریف بالکل صحیح نہیں ۔ صحیح وہی ہے جو اوپر امام نووی علیہ الرحمہ کے حوالے سے بیان کیا گیا ۔

ہر بدعت بری نہیں ہوتی : ہر بدعت بری اور گمراہی نہیں ہو تی،کیو نکہ اگر ہر بدعت بری اور گمراہی ہو تی تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو ئی ایسا کام نہیں کرتے جو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں نہ ہوا تھا ، مگر بدلتے حالات کے تقاضے کے مطابق بہت سارے ایسے کام جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری زمانہ مبارک میں نہ ہوا تھا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی علیہم اجمعین نے کیا اور اسے اچھا بھی سمجھا ، یہاں پر مختصراََ چند مثالیں حاضر خدمت ہیں : ⬇

مثال نمبر 1 : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں تراویح کی نماز با قاعدہ رمضان المبارک میں ہر رات کو نہیں ہوتی تھی ۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے با قاعدہ تراویح کی جماعت قائم کی ۔اور جب یہ جماعت قائم ہو گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا ’’نعم البدعتہ ھٰذہ‘‘ یہ کتنی اچھی بدعت ہے ۔ (صحیح بخاری کتاب صلاۃالتراویح باب فضل من قام رمضان حدیث۱۹۰۶،چشتی)

غور کریں ! اگرہر بدعت بری اور گمراہی ہوتی تو حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ’’بدعت‘‘ کے ساتھ ’’اچھی‘‘ کا لفظ کبھی استعمال نہ فرماتے مگر آپ نے ’’بدعت‘‘ کے ساتھ ’’اچھی‘‘ کا لفظ استعمال کیا ۔ معلوم ہوا کہ ہر بدعت بری اور گمراہی نہیں ہوتی ۔

مثال نمبر 2 : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیر المومنین سیدنا ابو بکر صدیق و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانہ مبارک میں جمعہ کے د ن صرف دو اذان ہوتی تھی ۔ پہلی اذان اس وقت ہوتی جب امام منبر پر بیٹھ جاتے تھے او ر دوسری اذان (یعنی اقامت) نماز کے شروع ہونے سے پہلے ہوتی تھی ۔ مگر جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دور آیا توآپ نے بدلتے حالات کے تقاضے کے مطابق ایک ’’اذان‘‘ کا اضافہ کیا اور مقام ’’زورا‘‘ پر دینے کا حکم دیا ۔ اس طرح سے جمعہ کے دن بشمول ’’اقامت‘‘ کے تین اذانیں ہو گئیں ۔ (صحیح بخاری کتاب الجمعۃ باب الاذان یوم الجمعۃ حدیث نمبر ۹۱۲،چشتی)

سو چنے کی بات ہے ۔ اگر ہر بد عت بری اور گمراہی ہو تی تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ وہ کا م کیسے کرتے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں نہ ہوا تھا ۔ مزید یہ کہ اس وقت کثیر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین باحیات تھے کسی نے بھی اعتراض نہ کیا کہ آپ ایک ایسا کام جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما کے زمانے میں نہ ہوا ۔ اسے آپ نے کیوں کیا ؟ بلکہ تمام صحابہ و تا بعین رضی اللہ عنہم اجمعین نے اسے قبول کیا اور آج تک تمام مسلمانون کا اسی پر عمل ہے ۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں ! کیا وہ تمام صحابہ کرام اور تابعین عظام رضی اللہ عنہم اجمعین اور آج تک کے تمام مسلمان ، اس پر عمل کرنے کی وجہ سے گمراہ اور جہنمی ہیں ؟ ۔ (أَسْتَغْفِرُ اللّٰه) ۔ یا وہ جہنمی ہیں جو صحابہ رضی اللہ عنہم اور عام مسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر اپنا الگ راستہ بناتے ہیں ؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور جو مسلمانوں کے راستے کے علاوہ کسی اور راستے کو جائے تو اُس کو ہم پھیر دیں گے ، جدھر وہ پھرا ۔ اور اُسے ہم جہنم میں ڈال دیں گے اور وہ کیا ہی بُری جگہ ہے پھر نے کی ۔ (سورہ نسا آیت نبر ۱۱۵)

مثال نمبر 3 : یہ اس وقت کی بات ہے جب قرآن مجید کتابی صورت میں جمع نہیں ہوا  تھا ، جنگِ یمامہ میں کئی صحابہ کرام علیہم الرضوان شہید ہوچکے تھے ۔ خلیفۂ وقت حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ایک میٹینگ کےلیے بلواتے ہیں اور اسی محفل میں حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں ۔ اس میٹینگ کی تفصیل حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی زبانی پڑھیے : قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ: إِنَّ القَتْلَ قَدْ اسْتَحَرَّ يَوْمَ اليَمَامَةِ بِقُرَّاءِ القُرْآنِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ القَتْلُ بِالقُرَّاءِ بِالْمَوَاطِنِ، فَيَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنَ القُرْآنِ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ القُرْآنِ ۔
ترجمہ : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : عمر میرے پاس آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ جنگِ یمامہ میں کتنے ہی قاری قرآن شہید ہو چکے ہیں اور مجھے خدشہ ہے کہ قاریوں کے مختلف مقامات پر شہید ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کا اکثر حصہ محفوظ نہیں رہ سکے گا ۔ لہٰذا میری رائے ہے کہ آپ قرآن مجید کو جمع کرنے کا حکم دے دیجیے ۔
قُلْتُ لِعُمَرَ:كَيْفَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟
ترجمہ : حضرت ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے عمر سے کہا : آپ وہ کام کیسے کرسکتے ہیں  جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا ؟
قَالَ عُمَرُ: هَذَا وَاللهِ خَيْرٌ ۔
ترجمہ : عمر فاروق نے جواب دیا : (اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا) مگر خدا کی قسم یہ کام پھر بھی اچھا ہے ۔
فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي ۔
ترجمہ : (حضرت ابوبکر کہتے ہیں) عمر مجھ سے اس بارے میں مسلسل بحث کرتے رہے ۔
حَتَّى شَرَحَ اللهُ صَدْرِي لِذَلِكَ ۔
ترجمہ : یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اس بارے میں میرا سینہ کھول دیا ۔
وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى عُمَرُ ۔
ترجمہ : اور میں بھی عمرکی رائے سے متفق ہو گیا ۔
قَالَ زَيْدٌ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لاَ نَتَّهِمُكَ ، وَقَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الوَحْيَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَتَبَّعِ القُرْآنَ فَاجْمَعْهُ ۔
ترجمہ : زید بن ثابت کہتے ہیں ، ابوبکر نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا :  تم نوجوان  اور سمجھدار شخص ہو اور تمہاری قرآن فہمی پر کسی کو بھی کلام نہیں ہے ۔ اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وحی بھی لکھ کر دیا کرتے تھے ۔ پس بھرپور کوشش کرو اور قرآن مجید کو جمع کر دو ۔
فَوَاللهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ القُرْآنِ ۔
ترجمہ : (زید بن ثابت اپنی کیفیت یوں بیان کرتے ہیں) خدا کی قسم ! اگر مجھے پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیا جاتا تو وہ مجھے اتنا بھاری نہیں لگتا  جتنا یہ حکم بھاری لگا کہ قرآن کو جمع کروں ۔
قُلْتُ: كَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟
ترجمہ : زید بن ثابت ، ابوبکر سے عرض کرتے ہیں : آپ لوگ وہ کام کیوں کررہے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا ۔
قَالَ: هُوَ وَاللهِ خَيْرٌ ۔
ترجمہ : ابوبکر نے کہا : (اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا) مگر خدا کی قسم یہ کام پھر بھی اچھا ہے ۔
فَلَمْ يَزَلْ أَبُو بَكْرٍ يُرَاجِعُنِي ۔
ترجمہ : (زید بن ثابت کہتے ہیں) ابوبکر مجھ سے مسلسل بحث کرتے رہے ۔
حَتَّى شَرَحَ اللهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ۔
ترجمہ : یہاں تک کہ اللہ تعالی نے میرا  سینہ بھی اس رائے کی جانب کھول دیا جس طرف ابوبکر و عمر کا کھول دیا تھا ۔ (صحيح البخاري، كتاب فضائل القرآن، باب جمع القرآن، ٦/١٨٣)۔ (صحیح بخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن حدیث نمبر ۴۹۸۶)

مذکورہ بالا حدیث شریف کو دوبارہ پڑھیں اور سوچیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک ایسے کام کے بارے میں جسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ کیا ، قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یہ غلط نہیں بلکہ اچھا کام ہے اور صرف اچھا ہی نہیں بلکہ بہت اچھا کام ہے ۔ مگر کچھ لوگ اپنی جہالت  کی بنیاد پر ہر بدعت کو گمراہی سمجھتے ہیں ۔ اللہ تعالی ہی ہدایت نصیب کر نے والاہے ۔ اس حدیثِ مبارکہ کا ایک ایک لفظ اس دور میں ہونے ہونے والے کثیر بحث و مباحثہ کا یقینی حل پیش کرتا ہے ۔ فقیر چشت کا دل چاہتا ہے اس حدیث سے حاصل ہونے والی مہکتے موتی ، چمکدار اصول ، روشن ضابطے اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کےلیے بیان کروں مگر کہیں "اپنے مطلب کی بات" کا عنوان نہ دے دیا جائے اس لیے قلم روک کر آپ ہی کو دعوتِ فکر دیتا ہوں ۔ پڑھیے ، غور کیجیے اور سمجھیے ۔ اگر ہم چاہیں تو اکثر جھگڑے اس ایک حدیثِ مبارکہ سے ختم ہو سکتے ہیں ۔

بدعت کے دورے میں مبتلا لوگ کہتے ہیں : حدیث شریف میں ہے ’کل بدعۃ ضلالۃو کل ضلالۃ فی النار‘کہ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہرگمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔اس سے تو ثابت ہواکہ ہر بدعت گمر اہی ہے ۔
اس کا جواب : اس حدیث شریف میں بدعت سے مراد ’بد عت سئیہ ‘ہے یعنی ’بری بدعت‘اور اس حدیث شریف کا صحیح مطلب یہ ہے کہ ہر وہ نیا کام جو دین کے خلاف ہوشر یعت کے مزاج کے مخالف ہو وہ سب کے سب غلط اور گمراہی ہے ۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر نیا کام چاہے وہ اچھا ہو یا برا سب کے سب غلط اورگمراہی ہے۔کیو نکہ اگر ایسا ہی ہو تا تو مدرسے بنانا ،مساجدکو مزین کرنا ،قرآن حکیم پر اعراب لگانا،پورے رمضان المبارک میں تراویح جماعت کے ساتھ پڑھنا،جمعہ کے دن اذان اول دینا اور اس کے علاوہ بے شمار باتیں گمراہی ہو تیں۔ حالانکہ ایسا کوئی نہیں مانتا ،لہذا معلوم ہوا کہ ہر بدعت گمراہی نہیں بلکہ صرف وہ بدعتیں گمراہی ہیں جو دین و شریعت کے مخالف ہیں ۔

مسلمانوں کو بدعتی کہنے والے کہتے ہیں : کیا بدعت کا حسنہ (یعنی اچھی) اور سئیہ (یعنی بری) ہوناحدیث شریف سے ثابت ہے ؟
اس کا جواب : بدعت کا اچھی اور بری ہونا حدیث شریف سے ثابت ہے ۔حضرت جریر رضی اللہ تعالی عنہ سے مر وی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’من سنَّ فی الاسلام سنۃ حسنۃ فلہ اجر ھا و اجر من عمل بھا بعدہ من غیر ان ینقص من اجورھم شئی و من سن سنۃ سئیۃ کان علیہ وزرھا و وزر من عمل بھا من بعدہ من غیر ان ینقص من اوزارھم شئی ‘‘ جس نے اسلام میںکسی اچھے طر یقے کو رائج کیا تو اس کو اپنے رائج کر نے کا ثواب ملے گا اور ان لوگوں کے عمل کرنے کا بھی ثواب ملے گا جو اس کے بعد اس طریقے پر عمل کر تے رہیں گے اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں بھی کو ئی کمی نہ ہو گی ، اور جس شخص نے اسلام میں کو ئی برا طریقہ رائج کیا تو اس شخص کو اس کے رائج کر نے کا گناہ ہو گا اور ان لوگوں کے عمل کرنے کا بھی گناہ ہو گا جو اس کے بعد اس طریقے پر عمل کرتے رہیں گے اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی بھی نہ ہو گی ۔ (صحیح مسلم،کتاب الزکوۃ ،باب الحث علی الصدقہ حدیث نمبر ۱۰۱۷)

اس حدیثِ مبارکہ سے روز روشن کی طرح ظاہر ہو گیا کہ نئے کام کچھ اچھے ہوتے ہیں اور کچھ برے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں کا حکم صاف صاف لفظوں میں بتا دیا ، اور اسی حدیث شریف کو مد نظر رکھتے ہوئے امام غزالی ، امام نووی ، امام بدرالدین عینی ، علامہ ابن حجر عسقلانی ، میر سید شریف جر جانی ، علامہ ابن اثیر جزری ، علامہ ابو اسحاق شاطبی ، شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہم الرحمہ نے بدعت کی تقسیم کی ۔ اور سب نے یہ تسلیم کیا کہ بعض بدعتیں اچھی ہو تیں ہیں اور بعض بری (یہاں پر سب کے اقوال الگ الگ پیش کرنے کی گنجائش نہیں تفصیل کےلیے مطالعہ کیجیے ’شرح صحیح مسلم مصنفہ میرے استاد بھائی علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ جلد نمبر ۲،صفحہ ۵۳۹تا ۵۶۴،چشتی)

ان تمام تر حقیقتوں سے آنکھیں بند کر کے اگر کو ئی صرف یہیں رٹتا رہے کہ کوئی بھی بدعت اچھی نہیں ہوتی(یعنی کوئی بھی نیا کام اچھا نہیں ہوتا) بلکہ سب غلط اور گمراہی ہے ۔ تو یقیناً ایسے شخص کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے افکار و نظریات اور علمائے کرام کے اقوال سے کو ئی مطلب نہیں وہ فقط اپنے نفس کی پیر وی کر نے والا ہے ایسے شخص سے مسلمانوں کو دور رہنے ہی میں بھلائی ہے ۔

علامہ ابنِ حجر عسقلان رحمۃ اللہ علیہ ، بدعت کی لُغوی تعریف یوں کرتے ہیں : البدعة أصلها : ما أحدث علی غير مثال سابق ۔
ترجمہ : بدعت کی اصل یہ ہے کہ اسے بغیر کسی سابقہ نمونہ کے ایجاد کیا گیا ہو ۔ (فتح الباری ، 4 : 253)

قرآن مجید میں آنے والے بدعت کے مختلف مشتقات سے ان معانی کی توثیق ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جب اس کائنات کو کسی مثال کے بغیر وجود عطا کیا تو لُغوی اعتبار سے یہ بھی ’’بدعت‘‘ کہلائی اور اس بدعت کا خالق خود اللہ تعالی ہے جو اپنی شانِ تخلیق بیان کرتے ہوئے اِرشاد فرماتا ہے : بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ ۔
ترجمہ : وہی آسمانوں اور زمین کو (عدم سے) وجود میں لانے والا ہے اور جب وہ کسی چیز (کی اِیجاد) کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو پھر اس کو صرف یہی فرماتا ہے : تو ہو جا، پس وہ ہوجاتی ہے ۔ (سورۃ البقره، 2 : 117)

اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہو گیا کہ ہر وہ نئی چیز بدعت کہلاتی ہے جس کی مثل اور نظیر پہلے سے موجود نہ ہو ۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کوئی بھی کام (خواہ وہ نیک اور احسن ہی کیوں نہ ہو ) مثلاً اِیصال ثواب ، میلاد اور دیگر سماجی ، روحانی اور اخلاقی اُمور ، اگر اُن پر قرآن و حدیث سے کوئی نص موجود نہ ہو تو بدعت اور مردود ہیں ۔ یہ مفہوم سراسر غلط اور مبنی بر جہالت ہے کیونکہ اگر یہ معنیٰ لیا جائے کہ جس کام کے کرنے کا حکم قرآن و سنت میں نہ ہو وہ حرام ہے تو پھر شریعت کے جملہ جائز امور کا حکم کیا ہوگا کیونکہ مباح تو کہتے ہی اسے ہیں جس کے کرنے کا شریعت میں حکم نہ ہو ۔ مطلب یہ ہے کہ مردود فقط وہی عمل ہوگا جو نیا بھی ہو اور جس کی کوئی اصل ، مثال یا دلیل بھی دین میں نہ ہو اور کسی جہت سے بھی تعلیماتِ دین سے ثابت نہ ہو ۔ پس اس وضاحت کی روشنی میں کسی بھی بدعت کے گمراہی قرار پانے کےلیے دو شرائط کا ہونا لازمی ہے : ⬇

(1) دین میں اس کی سرے سے کوئی اصل، مثال یا دلیل موجود نہ ہو ۔

(2) نہ صرف دین کے مخالف اور متضاد ہو بلکہ دین کی نفی کرے اور احکام سنت کو توڑے ۔

بدعت کا اِصطلاحی مفہوم واضح کرتے ہوئے فقہاءِ اُمت اور ائمۂ حدیث نے اس کی مختلف تعریفات پیش کی ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں : ⬇

امام ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ ﷲ علیہ بدعت کا اِصطلاحی مفہوم ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں : المحدثه والمراد بها ما أحدث، وليس له أصلٌ في الشرع ويسمي في عرف الشرع ’’بدعة‘‘، وما کان له أصل يدل عليه الشرع فليس ببدعة، فالبدعة في عرف الشرع مذمومة بخلاف اللّغة : فإن کل شيء أحدث علي غير مثال يسمي بدعة، سواء کان محمودًا أو مذمومًا ۔
ترجمہ : محدثہ امور سے مراد ایسے نئے کام کا ایجاد کرنا ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل موجود نہ ہو۔ اسی محدثہ کو اِصطلاحِ شرع میں ’’بدعت‘‘ کہتے ہیں ۔ لہٰذا ایسے کسی کام کو بدعت نہیں کہا جائے گا جس کی اصل شریعت میں موجود ہو یا وہ اس پر دلالت کرے۔ شرعی اعتبار سے بدعت فقط بدعتِ مذمومہ کو کہتے ہیں لغوی بدعت کو نہیں ۔ پس ہر وہ کام جو مثالِ سابق کے بغیر ایجاد کیا جائے اسے بدعت کہتے ہیں چاہے وہ بدعتِ حسنہ ہو یا بدعتِ سیئہ ۔ (فتح الباری جلد 13 صفحہ 253۔چشتی)

امام ملا علی قاری رحمة اللہ علیہ متوفی 1014 ھ مرقات شرح مشکوۃ باب الاعتصام بالکتاب و السنہ میں امام نووی سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں  : قال النووی البدعۃ کل شئے عمل علی غیر مثال سبق ۔
ترجمہ : یعنی بدعت وہ کام ہے جو بغیر گذری مثال کے کیا جائے ـ

نتیجہ یہ نکلا کہ بدعت شرعی دو طرح کی ہوئی ـ بدعت اعتقادی ، اور بدعت عملی ، بدعت اعتقادی ان برے عقائد کو کہتے ہیں جو کہ حضور علیہ السلام کے زمانہ پاک کے بعد اسلام میں ایجاد ہوئے اور بدعت عملی ہر وہ کام ہے جو کہ حضور علیہ السلام کے زمانہ پاک کے بعد ایجاد ہوا ـ

مرقات شرح مشکوۃ میں امام ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : وفی الشرع احداث مالم یکن فی عھد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم ۔
ترجمہ : یعنی بدعت شریعت میں اس کام کا ایجاد کرنا ہے جو کہ حضور علیہ السلام کے زمانہ میں نہ ہو ـ

بدعت دو طرح کی ہے ـ بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ ـ پھر بدعت حسنہ تین طرح کی ہے ، بدعت جائز ، بدعت مستحب ، بدعت واجب ، اور بدعت سیئہ دو طرح کی ہے ـ بدعت مکروہ ، اور بدعت حرام ، اس تقسیم کے لئے حوالہ ملاخطہ ہو ـ

مرقات شرح مشکوۃ میں امام ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کل بدعۃ ضلالۃ عام مخصوص منہ البعض ہے ـ شیخ عز الدین بن عبد السلام " کتاب القوائد " کے آخر میں لکھتے ہیں کہ :  بدعت یا تو واجب ہے جیسے علم نحو کا پڑھنا (تاکہ قرآن و حدیث کو سمجھا جا سکے) اور اصول فقہ کا جمع کرنا ، اور حدیث کے راوی میں جرح و تعدیل کرنا ، اور یا حرام ہے ـ جیسے جبریہ و قدریہ وغیرہ کا مذہب ، اور ایسے نو ایجاد گمراہ فرقوں کا رد کرنا بھی بدعت واجبہ ہے کیونکہ شریعت کو ان بدعات اور نئے مذہبوں سے بچانا فرض کفایہ ہے ، اور یا مستحب ہے ، جیسے مسافر خانے ، اور مدرسے بنانا، اور ہر وہ اچھی بات جو پہلے زمانہ میں نہ تھی ، اور جیسے عام جماعت سے نماز تراویح پڑھنا ، اور صوفیاء کرام کی باریک باتوں میں کلام کرنا ، اور یا مکروہ ہے ـ جیسے مسجدوں کو فخریہ زینت دینا اور یا مباح ہے ، جیسے فجر اور عصر کی نماز کے بعد مصافحہ کرنا ، اور عمدہ عمدہ کھانوں اور شربتوں اور مکانوں کو وسعت دینا ـ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ : جو نیا کام کتاب و سنت یا اثر و اجماع کے مخالف ہو تو وہ گمراہی ہے ، اور جو ایسا اچھا کام نیا ایجاد کیا جائے کہ کتاب و سنت ، اثر و اجماع کے خلاف نہ ہو ، تو وہ مذموم و برا نہیں ـ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے باجماعت تراویح ادا کرنے کے بارے میں بارے میں فرمایا تھا ـ کہ یہ کام ہے تو نیا مگر اچھا ہے ـ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ : مسلمان جس کام کو اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے ـ اور حدیث مرفوع میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی ـ

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : من سنّ فی الاسلام سنـۃ حسنۃ فعل بھا بعدہ کتب لہ مثل اجر من عمل بھا و لا ینقص من اجورھم شئی و من سنّ فی الاسلام سنۃ سیۃ فعمل بھا بعدہ کتب علیہ مثل وزر من عمل بھا و لا ینقص من اوزارھم شیئی ـ
ترجمہ : جو آدمی اسلام میں کوئی اچھا کام ایجاد کرے پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے تو جو لوگ بھی اس پر عمل کریں گے ان کے اجر کی مثل اس کے لئے لکھا جائے گا ـ اور خود ان عمل کرنے والوں کے اجر میں سے کچھ کم نہ ہوگا اور جو کوئی اسلام میں کسی برے کام کی طرح ڈالے پھر اس کے بعد لوگ اس کو اپنے عمل میں لائیں تو ان سب کو جو گناہ ہوگا وہ اس کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا ، جبکہ عمل کرنے والوں کے گناہ میں کچھ کمی نہ ہوگی ـ (صحیح مسلم جلد 2 ، صفحہ نمبر 341،چشتی)

اس حدیث شریف کی شرح میں امام نووی شافعی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : یہ دونوں حدیثوں اس بات پر رغبت دلانے میں صریح ہیں کہ اچھے کاموں کا ایجاد کرنا مستحب ہے ـ اور برے کاموں کا ایجاد کرنا حرام ہے ـ اور یہ کہ جو کوئی کسی اچھے کام کو ایجاد کرے تو قیامت تک جو لوگ بھی اس پر عمل کریں گے ان سب کے اجر کی مثل اس ایجاد کنندہ کو ملے گا ، اور جو کوئی برا کام ایجاد کرے تو قیامت تک جو لوگ بھی اس پر عمل کریں گے ان سب کے گناہ کی مثل اسکے نامہ اعمال میں درج ہوگا ـ

علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ کے استاد محترم عارف باللہ علامہ عبد الغنی نابلسی متوفی 1143 ھ مطابق 1730 ء رحمۃ اللہ علیہ " الحدیقۃ الندیّہ شرح الطریقۃ المحمدیّہ " میں فرماتے ہیں : بعض علماء سے ان عمارتوں کے متعاق سوال کیا گیا جو کہ کعبہ کے اردگرد تعمیر کی گئی ہیں جن میں چاروں مذاہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب کے مطابق نماز پڑھا کرتے ہیں کہ یہ طریقہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں نہ تھا یو نہی تابعین ، تبع تابعین ، اور ائمہ اربعہ کے عہد میں بھی نہ تھا اور ان حضرات نے نہ تو اس کا حکم دیا اور نہ ہی اس کو طلب کیا تھا ـ تو انہوں نے جواب دیا کہ : یہ بدعت ہے لیکن بدعت حسنہ ہے سیئہ نہیں ، کیونکہ سنت (طریقہ) حسنہ میں داخل ہے ـ کہ اس سے مسجد اور نمازیوں اور عام اہل سنت و جماعت کو کوئی ضرر اور حرج نہیں ـ بلکہ بارش اور گرمی و سردی میں اس سے فائدہ پہنچتا ہے ـ اور جمعہ وغیرہ میں یہ امام سے قریب ہونے کا ذریعہ بھی ہے ـ تو یہ بدعت حسنہ ہے اور لوگوں کے اس فعل کو " سنّۃ حسنہ " کہا جائے گا ـ اگرچہ یہ اہلسنت کی بدعت ہے ، مگر اہل بدعت کی بدعت نہیں ـ کیونکہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : من سنّ سنّۃ حسنۃ الخ ـ تو حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نےاس کی ایجاد کردہ حسنہ کو سنت میں داخل اور شمار فرمایا ـ مگر اس کے ساتھ " بدعت " کو بھی ملایا اور اگرچہ وہ نو پیدا اچھا کام حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کے فعل میں تو وارد نہیں ہوا مگر اس حدیث کی وجہ سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کے قول میں تو وارد ہو چکا ہے ـ لہذا کسی ایسے اچھے کام کا ایجاد کرنیوالا سنّی ہے بدعتی نہیں ـ کیونکہ وہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے ایسے کام کو " سنّۃ " قرار دیا ہے ـ

کل بدعۃ ضلالہ کا صحیح مفہوم سلف صالحین اور اکابرین امت کی نظر میں : ⏬

شارح صحيح مسلم امام النوؤي رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان کہ ’’ہر بدعت ضلالت ہے‘‘ عام مخصوص ہے عام طور پر اس سے مراد بدعتِ سيّئہ لیا جاتا ہے اہل لغت نے کہا ہے کہ ہر وہ چیز جس پر مثال سابق کے بغیر عمل کیا جائے وہ بدعت ہے۔ علماء نے بدعت کی پانچ اقسام بدعت واجبہ، مندوبہ، محرمہ، مکروہۃ اور مباحہ بیان کی ہیں بدعت واجبہ کی مثال متکلمین کے دلائل کو ملحدین، مبتدعین اور اس جیسے دیگر امور کے رد کےلیے استعمال کرنا ہے اور بدعت مستحبہ کی مثال جیسے کتب تصنیف کرنا، مدارس، سرائے اور اس جیسی دیگر چیزیں تعمیر کرنا۔ بدعت مباح کی مثال یہ ہے کہ مختلف انواع کے کھانے اور اس جیسی چیزوں کو اپنانا ہے جبکہ بدعت حرام اور مکروہ واضح ہیں اور اس مسئلہ کو تفصیلی دلائل کے ساتھ میں نے ’’تہذیب الاسماء واللغات‘‘ میں واضح کردیا ہے۔ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے اگر اس کی پہچان ہوجائے گی تو پھر یہ سمجھنا آسان ہے کہ یہ حدیث اور دیگر ایسی احادیث جو ان سے مشابہت رکھتی ہیں عام مخصوص میں سے تھیں اور جو ہم نے کہا اس کی تائید حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ’’نعمت البدعۃ‘‘ کرتا ہے اور یہ بات حدیث کو عام مخصوص کے قاعدے سے خارج نہیں کرتی۔ قول ’’کل بدعۃ‘‘ لفظ ’’کل ‘‘ کے ساتھ مؤکد ہے لیکن اس کے باوجود اس میں تخصیص شامل ہے جیسا کہ اللہ تعاليٰ کے ارشاد تدمر کل شئ (الاحقاف، 42 : 52) کہ (وہ ہر چیز کو اُکھاڑ پھینکے گی) میں تخصیص شامل ہے۔(نووي، شرح صحيح مسلم، 6 : 154)

ابن تيمية قہابی غیر مقلد اہلحدیث حضرات كے شيخ الاسلام لکھتے ہیں : اور اس کلام سے لفظ ’’ضلال‘‘ کا مفہوم سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر کسی شخص نے یہ جانتے ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بیان نہیں کیا کسی طریقے یا عقیدے کی ابتداء اس گمان سے کی کہ بے شک ایمان اس کے بغیر مکمل نہیں ہوتا تو یہ ’’ضلالۃ‘‘ ہے اور جو چیز نصوص کے مخالف ہو وہ مسلمانوں کے اتفاق رائے کے ساتھ بدعت ہے۔ اور جس چیز کے بارے یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کتاب و سنت کی مخالفت کی ہے ایسی چیز کو بدعت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ اور امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ نے بدعت کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ ایک وہ بدعت جو قرآن و سنت، اجماع اور بعض اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال کے خلاف ہو تو وہ بدعت ضلالہ ہے۔ اور جو بدعت ان تمام چیزوں (یعنی قرآن و سنت، اجماع اور اثر صحابہ) میں سے کسی کے مخالف نہ ہو تو وہی بدعت حسنہ ہے(کتب ورسائل و فتاوي ابن تيمية في الفقه، 20 : 16)

شارح بخاری امام الکرمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ہر وہ چیز جس پر مثال سابق کے بغیر عمل کیا جائے وہ ’’بدعت‘‘ کہلاتی ہے۔ اور اس کی پانچ اقسام بدعت واجبہ، بدعت مندوبۃ، بدعت محرمہ، بدعت مکروھہ اور بدعت مباحہ ہیں۔ اور ’’کل بدعۃ ضلالۃ‘‘ والی حدیث عام مخصوص کے قاعدے کے تحت ہے ۔ (الکرماني، الکواکب الدراري في شرح صحيح البخاري، 9 : 5 - 154)

شارح بخاري امام القسطلاني رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بدعت کی درج ذیل پانچ اقسام واجبہ، مندوبہ، محرمہ، مکروھہ، اور مُبَاحہ ہیں اور جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ’’کل بدعۃ ضلالہ‘‘ یعنی ہر بدعت گمراہی ہے یہ حکم عام ہے مگر اس سے مراد مخصوص قسم کی بدعات ہیں ۔ (ارشاد الساري لشرح صحيح البخاري، 3 : 426)

اِمام ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی، 1014ھ) حدیث مبارکہ ’’کل بدعۃ ضلالۃ‘‘ کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : أي کل بدعة سيئة ضلالة، لقوله عليه الصلوة والسلام ’’من سنّ في الاسلام سنّة حسنة فله اجرها و أجر من عمل بها‘‘ و جمع أبوبکر و عمر القرآن و کتبه زيد في المصحف و جدد في عهد عثمان رضی الله عنهم.
ترجمہ : یعنی ہر بری بدعت گمراہی ہے۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے ’’ جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اس عمل کا اور اس پر عمل کرنے والے کا اجر ملے گا۔‘‘ اور یہ کہ حضرت شیخین ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کو جمع کیا اور حصرت زید رضی اللہ عنہ نے اس کو صحیفہ میں لکھا اور عہد عثمانی میں اس کی تجدید کی گئی۔
( مرقاة، شرح مشکاة، 1 : 216)

اِمام ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی، 976ھ) اِسی حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : و في الحديث کل بدعة ضلالة و کل ضلالة في النار(1) و هو محمول علي المحرمة لا غير.
ترجمہ : اور جو حدیث میں ہے کہ ’’ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جائے گی‘‘ اس حدیث کو بدعت محرمہ پر محمول کیا گیا ہے، اس کے علاوہ اور کسی پر نہیں۔( الفتاوي الحديثيه : 130)

مفسر قران امام ابو عبدالله محمد بن احمد القرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : قلت : وهو معني قوله صلي الله عليه وآله وسلم في خطبته : ’’وشَرُّ الأمور محدثاتها وکل بدعة ضلالة‘‘(1) يريد مالم يوافق کتابا أو سنة، أو عمل الصحابة رضي اﷲ عنهم، وقد بين هذا بقوله : ’’مَنْ سَنّ فِي الإسلام سُنَّة حسنة کان له أجرها و أجر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أجورهم شيء ومَن سنّ في الإسلام سُنَّة سيئة کان عليه وزرُها ووزر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أوزارهم شيئ‘‘. (2) وهذا إشارة إلي ما ابتدع من قبيح و حسن ۔
ترجمہ : امام قرطبی فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ وہی معنی آقا علیہ السلام کے خطبہ سے بھی ثابت ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’وشرالامور محدثاتہا و کل بدعۃ ضلالۃ‘‘ اور اس سے مراد وہ کام ہے جو کتاب و سنت اور عمل صحابہ کے موافق نہ ہو اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول سے بھی واضح ہوتی ہے کہ ’’جس نے اسلام میں کسی اچھی چیز کی ابتداء کی اس کو اپنا اجر بھی ملے گا اور اس کے بعد جو لوگ اس کام کو کریں گے ان کے عمل کا اجر بھی اسے ملے گا اور ان کے اجر میں ذرّہ برابر بھی کمی نہیں ہوگی اور جس کسی نے اسلام میں کسی بری چیز کی ابتداء کی تو اس پر اپنی برائی کا وبال بھی ہوگا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کی برائی کا وبال بھی اس پر ہوگا اور ان کے وبال میں سے کوئی کمی نہ کی جائے گی‘‘ اور یہ اشارہ اس کی طرف ہے جس نے کسی اچھے یا برے کام کی ابتداء کی۔(الجامع الاحکام القران / 2/87)

اِمام محمد عبدالباقی زرقانی رحمۃ اللہ علیہ حدیث ’’نعمت البدعۃ ہذہ‘‘ کے ذیل میں بدعت کا مفہوم اور اقسام بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : سماها بدعة لانه صلي الله عليه وآله وسلم لم يسن الإجتماع لها، و هو لغة ما أحدث علي غير مثال سبق، و تطلق شرعاً علي مقابل السنة و هي مالم يکن في عهده صلي الله عليه وآله وسلم ثم تنقسم إلي الأحکام الخمسة و حديث کل بدعة ضلالة(1) عام مخصوص وقد رغب فيها عمر.
ترجمہ : باجماعت نماز تراویح کو بدعت سے اس لیے موسوم کیا جاتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لئے اجتماع سنت قرار نہیں دیا اور لغوی اعتبار سے بدعت اس عمل کو کہتے ہیں جو مثالِ سابق کے بغیر ایجاد کیا گیا ہو اور شرعی طور پر بدعتِ سيّئۃ کو سنت کے مقابلے میں بولا جاتا ہے اور اس سے مراد وہ عمل ہوتا ہے جسے عہدِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نہ کیا گیا ہو پھر بدعت کی پانچ قسمیں بیان کی جاتی ہیں اور حدیث ’’کل بدعۃ ضلالۃ‘‘عام مخصوص ہے اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس (نماز تراویح) کی ترغیب دی ہے۔(زرقاني، شرح المؤطا، 1 : 238)

مشہور مفسر قرآن سید محمود آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر ’’روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی‘‘ میں علامہ نووی کے حوالے سے بدعت کی اقسام بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :و تفصيل الکلام في البدعة ما ذکره الإمام محي الدين النووي في شرح صحيح مسلم. قال العلماء : البدعة خمسة أقسام واجبة، و مندوبة، و محرمة، و مکروهة، ومباحة فمن الواجبة تعلم أدلة المتکلمين للرد علي الملاحدة والمبتدعين و شبه ذلک، ومن المندوبة تصنيف کتب العلم وبناء المدارس والربط و غير ذلک، ومن المباحة التبسط في ألوان الأطعمة و غير ذلک، والحرام والمکروه ظاهران، فعلم أن قوله صلي الله عليه وآله وسلم (کل بدعة ضلالة) من العام المخصوص.و قال صاحب جامع الاصول : الابتداع من المخلوقين إن کان في خلاف من أمر اﷲ تعالي به و رسوله صلي الله عليه وآله وسلم فهو في حيز الذم والانکار وإن کان واقعاً تحت عموم ما ندب اﷲ تعالي إليه و حض عليه أو رسوله صلي الله عليه وآله وسلم فهو في حيز المدح وإن لم يکن مثاله موجوداً کنوع من الجود والسخاء و فعل المعروف، و يعضد ذلک قول عمر بن الخطاب رضي الله عنه في صلاة التراويح : نعمت البدعة هذه. (آلوسي، روح المعاني في تفسير القرآن )
ترجمہ : بدعت کي تفصیلی بحث امام محی الدین النووی نے اپنی کتاب شرح صحیح مسلم میں کی ہے اور دیگر علماء نے کہا ہے بدعت کی پانچ اقسام بدعتِ واجبہ، بدعتِ مستحسبۃ، بدعتِ محرمۃ، بدعتِ مکروھۃ اور بدعتِ مباحۃ ہیں۔ بدعتِ واجب میں سے یہ ہے کہ ملحدین، مبتدعین اور اس جیسے دیگر شبہات کو رد کرنے کے لیے علم الکلام کا حاصل کرنا۔ اور بدعت مستحب کی دلیل یہ ہے کہ کوئی علمی کتاب تصنیف کرنا، مدرسے بنانا، سرائے یا اس جیسی دیگر چیزیں بنانا اس میں شامل ہے اور بدعتِ مباحۃ جیسے رنگ برنگے کھانے اور اس طرح کی چیزوں میں اضافہ وغیرہ جبکہ حرام اور مکروہ دونوں واضح ہیں۔ پس یہ جان لینا چاہئے کہ حضور علیہ السلام کے قول ’’کل بدعۃ ضلالۃ‘‘ میں عام سے خاص مراد ہے۔ اور صاحب جامع الاصول فرماتے ہیں کہ بدعات کی چند اقسام ہیں جو کام اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کے خلاف ہو وہ مذموم اور ممنوع ہے اور جو کام کسی ایسے عام حکم کا فرد ہو جس کو اللہ تعاليٰ نے مستحب قرار دیا ہو یا اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حکم پر برانگیختہ کیا ہو اس کام کا کرنا محمود ہے اور اگر کسی (کام) کی مثال پہلے موجود نہ ہو جیسے جود و سخا کی اقسام اور دوسرے نیک کام اور جس طرح صلاۃ التراویح میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول سے تقویت ملتی ہے کہ یہ کتنی اچھی بدعت ہے ۔

مذکورہ بالا تعریفات سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ہر وہ نیا کام جس کی کوئی شرعی دلیل ، شرعی اصل ، مثال یا نظیر پہلے سے کتاب و سنت اور آثارِ صحابہ میں موجود نہ ہو وہ ’’بدعت‘‘ ہے، لیکن ہر بدعت غیر پسندیدہ یا ناجائز و حرام نہیں ہوتی بلکہ صرف وہی بدعت ناجائز ہوگی جو کتاب و سنت کے واضح احکامات سے متصادم ہو ۔

کل بدعۃ ضلالہ کا صحیح مفہوم بدعت کے دوروں میں مبتلا لوگوں کے بڑوں کی زبانی : ⏬

محترم قارٸینِ کرام : علامہ تقی الدین احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیہ (المتوفی 728 ھ) ۔ اپنی کتاب ’’منہاج السنۃ‘‘ میں لغوی بدعت اور شرعی بدعت کو واضح کرتے ہوئے ’’نعمت البدعۃ ہذہ‘‘ کے ذیل میں بیان کرتے ہیں۔إنما سماها بدعة لأن ما فعل ابتداء، بدعة لغة، وليس ذلک بدعة شرعية، فإن البدعة الشرعية التي هي ضلالة ما فعل بغير دليل شرعي ۔
ترجمہ : اِسے بدعت اِس لیے کہا گیا کہ یہ عمل اس سے پہلے اِس انداز میں نہیں ہوا تھا لہٰذا یہ بدعتِ لغوی ہے بدعتِ شرعی نہیں ہے کیونکہ بدعتِ شرعی وہ گمراہی ہوتی ہے جو دلیل شرعی کے بغیر سر انجام دی جائے ۔ (منهاج السنة، 4 : 224۔چشتی)

علامہ ابن تیمیہ ’’بدعت حسنہ‘‘ اور ’’بدعت ضلالۃ‘‘ کے مفہوم کو مزید واضح کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں :ومن هنا يعرف ضلال من ابتدع طريقاً أو اعتقاداً زعم أن الإيمان لا يتم إلا به مع العلم بأن الرسول صلي الله عليه وآله وسلم لم يذکره وما خالف النصوص فهو بدعة باتفاق المسلمين وما لم يعلم أنه خالفها فقد لا يسمي بدعة قال الشافعي رحمه ﷲ البدعة بدعتان بدعة خالفت کتابا و سنة و إجماعا و أثرا عن بعض أصحاب رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فهذه بدعه ضلاله و بدعه لم تخالف شيئا من ذلک فهذه قد تکون حسنة لقول عمر نعمت البدعة هذه هذا الکلام أو نحوه رواه البيهقي بإسناده الصحيح في المدخل ۔
ترجمہ : اور اس کلام سے لفظ ’’ضلال‘‘ کا مفہوم سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر کسی شخص نے یہ جانتے ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بیان نہیں کیا کسی طریقے یا عقیدے کی ابتداء اس گمان سے کی کہ بے شک ایمان اس کے بغیر مکمل نہیں ہوتا تو یہ ’’ضلالۃ‘‘ ہے اور جو چیز نصوص کے مخالف ہو وہ مسلمانوں کے اتفاق رائے کے ساتھ بدعت ہے۔ اور جس چیز کے بارے یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کتاب و سنت کی مخالفت کی ہے ایسی چیز کو بدعت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ اور امام شافعی رحمۃ ﷲ علیہ نے بدعت کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ ایک وہ بدعت جو قرآن و سنت، اجماع اور بعض اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال کے خلاف ہو تو وہ بدعت ضلالہ ہے ۔ اور جو بدعت ان تمام چیزوں (یعنی قرآن و سنت، اجماع اور اثر صحابہ) میں سے کسی کے مخالف نہ ہو تو وہی بدعت حسنہ ہے ۔ جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے ’’نعمت البدعۃ ہذہ‘‘ یہ یا اس جیسا دوسرا بیان اسے امام بیہقی نے اپنی صحیح اسناد کے ساتھ ’’المدخل‘‘ میں روایت کیا ہے۔ ( کتب ورسائل و فتاوي ابن تيمية في الفقه، 20 : 16 )

حافظ عماد الدین ابو الفدا اسماعیل ابن کثیر (المتوفی 774ھ) ۔ اپنی تفسیر ’’تفسیر القرآن العظیم‘‘ میں بدعت کی تقسیم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : والبدعة علي قسمين تارة تکون بدعة شرعية کقوله (فإن کل محدثة بدعة و کل بدعة ضلالة) و تارة تکون بدعة لغوية کقول أمير المؤمنين عمر بن الخطاب عن جمعه إيّاهم علي صلاة التراويح واستمرارهم : نعمت البدعة هذه ۔
ترجمہ : بدعت کی دو قسمیں ہیں بعض اوقات یہ بدعت شرعیۃ ہوتی ہے جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’فان کل محدثۃ بدعۃ و کل بدعۃ ضلالۃ‘‘ اور بعض اوقات یہ بدعت لغویہ ہوتی ہے جیسا کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق کا لوگوں کو نماز تراویح پر جمع کرتے اور دوام کی ترغیب دیتے وقت فرمان ’’نعمت البدعۃ ہذہ‘‘ ہے۔(تفسیر ابن کثیر 1 : 161۔چشتی)

شیخ محمد بن علی بن محمد الشوکانی غیر مقلد (المتوفی 1255ھ) ۔ حدیث عمر ’’نعمت البدعۃ ھذہ‘‘ کے ذیل میں فتح الباری کے حوالے سے اقسام بدعت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : البدعة أصلها ما أحدث علي غير مثال سابق و تطلق في الشرع علي مقابلة السنة فتکون مذمومة والتحقيق إنها إن کانت مما يندرج تحت مستحسن في الشرع فهي حسنة وإن کانت مما يندرج تحت مستقبح في الشرع فهي مستقبحة و إلَّا فهي من قسم المباح و قد تنقسم إلي الأحکام الخمسة.
ترجمہ : لغت میں بدعت اس کام کو کہتے ہیں جس کی پہلے کوئی مثال نہ ہو اور اصطلاح شرع میں سنت کے مقابلہ میں بدعت کا اطلاق ہوتا ہے اس لیے یہ مذموم ہے اور تحقیق یہ ہے کہ بدعت اگر کسی ایسے اصول کے تحت داخل ہے جو شریعت میں مستحسن ہے تو یہ بدعت حسنہ ہے اور اگر ایسے اصول کے تحت داخل ہے جو شریعت میں قبیح ہے تو یہ بدعت سیئہ ہے ورنہ بدعت مباحہ ہے اور بلا شبہ بدعت کی پانچ قسمیں ہیں ۔ (نيل الاوطار شرح منتقي الأخبار، 3 : 63)

نواب صدیق حسن خان بھوپالی غیر مقلد اھلحدیث (المتوفی 1307ھ) ۔ نے واضح طور پر لکھا ہے کہ ہر نئے کام کو بدعت کہہ کرمطعون نہیں کیا جائے گا بلکہ بدعت صرف اس کام کو کہا جائے گا جس سے کوئی سنت متروک ہو اور جو نیا کام کسی امرِ شریعت سے متناقص نہ ہو وہ بدعت نہیں بلکہ مباح اور جائز ہے شیخ وحید الزماں اپنی کتاب ہدیۃ المہدی کے صفحہ 117 پر بدعت کے حوالے سے علامہ بھوپالی کا یہ قول نقل کرتے ہیں : البدعة الضلالة المحرمة هي التي ترفع السنة مثلها والتي لا ترفع شيئا منها فليست هي من البدعة بل هي مباح الاصل.
ترجمہ : بدعت وہ ہے جس سے اس کے بدلہ میں کوئی سنت متروک ہو جائے اور جس بدعت سے کسی سنت کا ترک نہ ہو وہ بدعت نہیں ہے بلکہ وہ اپنی اصل میں مباح ہے ۔ (هدية المهدي : 117۔چشتی)

نواب وحید الزمان غیر مقلد اھلحدیث(المتوفی 1327ھ) ۔ بدعت کی اقسام بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : اما البدعة اللغوية فهي تنقسم إلي مباحة ومکروهة و حسنة و سيئة قال الشيخ ولي ﷲ من أصحابنا من البدعة بدعة حسنة کالأخذ بالنواجذ لما حث عليه النبي صلي الله عليه وآله وسلم من غير عزم کالتراويح ومنها مباحة کعادات الناس في الأکل والشرب واللباس وهي هنيئة قلت تدخل في البدعات المباحة استعمال الورد والرياحين والأزهار للعروس ومن الناس من منع عنها لاجل التشبه بالهنود الکفار قلنا إذا لم ينو التشبه أوجري الأمر المرسوم بين الکفار في جماعة المسلمين من غير نکير فلا يضر التشبه ککثير من الاقبية والالبسة التي جاء ت من قبل الکفار ثم شاعت بين المسلمين وقد لبس النبي صلي الله عليه وآله وسلم جبة رومية ضيقة الکمين و قسم الا قبية التي جاءت من بلاد الکفار علي أصحابه و منها ما هي ترک المسنون و تحريف المشروع وهي الضلالة وقال السيد البدعة الضلالة المحرمة هي التي ترفع السنة مثلها والتي لا ترفع شيئا منها فليست هي من البدعة بل هي مباح الأصل ۔
ترجمہ : باعتبار لغت کے بدعت کے حسب ذیل اقسام ہیں : بدعت مباحہ، بدعت مکروھہ، بدعت حسنۂ اور بدعت سیئہ. ہمارے اصحاب میں سے شیخ ولی اللہ نے کہا کہ بدعات میں سے بدعت حسنہ کو دانتوں سے پکڑ لینا چاہیے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واجب کیے بغیر اس پر برانگیختہ کیا ہے جیسے تراویح۔ بدعات میں سے ایک بدعت مباحہ ہے جیسے لوگوں کے کھانے پینے اور پہننے کے معمولات ہیں اور یہ آسان ہے۔ میں کہتا ہوں کہ دولہا، دلہن کے لئے کلیوں اور پھولوں کا استعمال (جیسے ہار اور سہرا) بھی بدعات مباحہ میں داخل ہے بعض لوگوں نے ہندوؤں سے مشابہت کے سبب اس سے منع کیا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص تشبّہ کی نیت نہ کرے یا کفار کی کوئی رسم مسلمانوں میں بغیر انکار کے جاری ہو تو اس میں مشابہت سے کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ قباء اور دوسرے لباس کفار کی طرف سے آئے اور مسلمانوں میں رائج ہو گئے اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تنگ آستینوں والا رومی جبہّ پہنا ہے اور کفار کی طرف سے جو قبائیں آئی تھیں ان کو صحابہ میں تقسیم فرمایا ہے اور بدعات میں سے ایک وہ بدعت ہے جس سے کوئی سنت متروک ہو اور حکم شرعی میں تبدیلی آئے اور یہی بدعت ضلالہ (سیئہ) ہے ۔ نواب صاحب (نواب صدیق حسن بھوپالی) نے کہا ہے کہ بدعت وہ ہے جس سے اس کے بدلہ میں کوئی سنت متروک ہو جائے اور جس بدعت سے کسی سنت کا ترک نہ ہو وہ بدعت نہیں ہے بلکہ وہ اپنی اصل میں مباح ہے ۔(هدية المهدی : 117۔چشتی)

علامہ عبدالرحمن مبارکپوری غیر مقلد اھلحدیث (1353ھ) ۔ بدعت لغوی اور بدعت شرعی کی تقسیم بیان کرتے ہوئے تحفۃ الاحوذی میں لکھتے ہیں : بقوله کل بدعة ضلالة(1) والمراد بالبدعة ما أحدث مما لا أصل له في الشريعة يدل عليه واما ما کان له أصل من الشرع يدل عليه فليس ببدعة شرعا و إن کان بدعة لغة فقوله صلي الله عليه وآله وسلم کل بدعة ضلالة من جوامع الکلم لا يخرج عنه شئ وهو أصل عظيم من أصول الدين واما ما وقع في کلام السلف من استحسان بعض البدع فإنّما ذلک في البدع اللغوية لا الشرعية فمن ذلک قول عمر رضی الله عنه في التراويح (نعمت البدعة هذه) (2) و روي عنه أنه قال إن کانت هذه بدعة فنعمت البدعة ومن ذٰلک أذان الجمعة الأول زاده عثمان رضي الله عنه لحاجة الناس إليه و اقره عليٌّ واستمر عمل المسلمين عليه و روي عن ابن عمر أنه قال هو بدعة و لعله اَراد ما أراد ابوه في التراويح ۔
ترجمہ : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول ’’کل بدعۃ ضلالۃ‘‘ (ہر بدعت گمراہی ہے) میں بدعت سے مراد ایسی نئی چیز ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل موجود نہ ہو جو اس پر دلالت کرے اور وہ چیز جس کی اصل شریعت میں موجود ہو جو اس پر دلالت کرے اسے شرعاً بدعت نہیں کہا جا سکتا اگرچہ وہ لغتاً بدعت ہو گی کیونکہ حضور علیہ السلام کا قول ’’کل بدعۃ ضلالۃ‘‘ جو امع الکلم میں سے ہے اس سے کوئی چیز خارج نہیں ہے۔ یہ دین کے بنیادی اصولوں میں سے ہے اور اسلاف کے کلام میں جو بعض بدعات کو مستحسنہ قرار دیا گیا ہے تو یہ بدعت لغویہ ہے، شرعیۃ نہیں ہے۔ اور اسی میں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نماز تراویح کے بارے میں فرمان ’’نعمت البدعۃ ھذہ‘‘ ہے اور آپ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت کیا گیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’ان کانت ھذہ بدعۃ فنعمت البدعۃ‘‘ (اگر یہ بدعت ہے تو یہ اچھی بدعت ہے) اور جمعہ کی پہلی اذان بھی اسی میں سے ہے جسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی ضرورت کے پیش نظر شروع کیا تھا اور اسے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے قائم رکھا اور اسی پر مسلمانوں نے مداومت اختیار کی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ بدعت ہے کا شاید ان کا ارادہ بھی اس سے وہی تھا جو ان کے والد (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) کا نماز تراویح میں تھا (کہ با جماعت نما زتراویح ’’نعمت البدعۃ‘‘ ہے)۔( جامع الترمذي مع شرح تحفة الاحوذي، 3 : 378۔چشتی)

شیخ عبد العزیز بن عبد ﷲ بن باز نجدی وھابیوں کا مفتی اعظم (1421ھ) ۔ عصر قریب میں مملکت سعودی عرب کے معروف مفتی شیخ عبد العزیز بن عبد ﷲ بن باز نے سعودی حکومت کے شعبہ ’’الافتاء والدعوہ والارشاد‘‘ کے زیر اہتمام چھپنے والے اپنے فتاويٰ جات کے مجموعہ ’’فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحُوث العلمیۃ والافتاء‘‘ میں بدعت حسنہ اور بدعت سیہ کی تقسیم بیان کرتے ہوئے لکھا ہے : أولاً : قسم العلماء البدعة إلي بدعة دينية و بدعة دنيوية، فالبدعة في الدين هي : إحداث عبادة لم يشرعها ﷲ سبحانه و تعالي وهي التيي تراد في الحديث الذي ذکر وما في معناه من الأحاديث. و أما الدنيوية : فما غلب فيها جانب المصلحة علي جانب المفسدة فهي جائزة وإلا فهي ممنوعة ومن أمثلة ذلک ما أحدث من أنواع السلاح والمراکب و نحو ذلک.
ثالثاً : طبع القرآن و کتابته من وسائل حفظه و تعلمه و تعليمه و الوسائل لها حکم الغايات فيکون ذلک مشروعاً و ليس من البدع المنهي عنها؛ لأن ﷲ سبحانه ضمن حفظ القرآن الکريم و هذا من وسائل حفظه ۔
ترجمہ : علماء کرام نے بدعت کو بدعت دینیہ اور بدعت دنیویہ میں تقسیم کیا ہے، بدعت دینیہ یہ ہے کہ ایسی عبادت کو شروع کرنا جسے اللہ تبارک و تعالی نے مشروع نہ کیا ہو اور یہی اس حدیث سے مراد ہے جو ذکر کی جا چکی ہے اور اس طرح کی دیگر احادیث سے بھی یہی مراد ہے اور دوسری بدعت دنیوی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس میں مصلحت والا پہلو فساد والے پہلو پر غالب ہو اور وہ جائز ہے اور اگر ایسا نہ ہو (یعنی مصلحت والا پہلو فساد والے پہلو پر غالب نہ ہو) تو وہ ممنوع ہے۔ اس کی مثالوں میں مختلف اقسام کا اسلحہ سواریاں اور اس جیسی دیگر چیزیں بنانا اسی طرح قرآن پاک کی طباعت و کتابت اس کو حفظ کرنے ، اسے سیکھنے اور سکھانے کے وسائل اور وہ وسائل جن کے لیے غایات (اھداف) کا حکم ہے پس یہ ساری چیزیں مشروع ہیں اور ممنوعہ بدعات میں سے نہیں ہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالی نے قرآن پاک کے حفظ کی ضمانت دی ہے اور یہ (سب اس کے) وسائل حفظ میں سے ہے۔ ( فتاويٰ اللجنة، 2 : 325۔چشتی)
ایک اور سوال کے جواب میں ابن باز بدعت دینیۃ اور بدعت عادیۃ کی تقسیم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : البدعة تنقسم إلي بدعة دينية و بدعة عادية، فالعادية مثل کل ما جد من الصناعات والاختراعات والأصل فيها الجواز إلا ما دل دليل شرعي علي منعه ۔
أما البدعة الدينية فهي کل ما أحدث في الدين مضاهاة لتشريع ﷲ ۔
ترجمہ : بدعت کو بدعت دینیہ اور بدعت عادیہ میں تقسیم کیا جاتا ہے پس بدعت عادیہ سے مراد ہر وہ نئی چیز جو کہ مصنوعات یا ایجادات میں سے ہو اور دراصل میں اس پر جواز کا حکم ہے سوائے اس چیز کے کہ جس کے منع پر کوئی شرعی دلیل آ چکی ہو اور پھر بدعت دینی یہ ہے کہ ہر نئی چیز جو دین میں ایجاد کی جائے جو اللہ تعاليٰ کی شرع کے متشابہ ہو (یہ ناجائز ہے) ۔ ( فتاويٰ اللجنة، 2 : 329۔چشتی)

بدعت کی لغوی تعریف کے بعد بدعت خیر اور بدعت شر کی تفصیل بیان کرتے ہوئے علامہ ابن باز لکھتے ہیں : البدعة هي کل ما أحدث علي غير مثال سابق، ثم منها ما يتعلق باالمعاملات و شؤون الدنيا کإختراع آلات النقل من طائرات و سيارات و قاطرات وأجهزة الکهرباء وأدوات الطهي والمکيفات التي تستعمل للتدفئة والتبريد وآلات الحرب من قنابل وغواصات و دبابات إلي غير ذلک مما يرجع إلي مصالح العباد في دنياهم فهذه في نفسها لا حرج فيها ولا إثم في إختراعها، أما بالنسبة للمقصد من اختراعها وما تستعمل فيه فإن قصد بها خير واستعين بها فيه فهي خير، وإن قصد بها شر من تخريب و تدمير وإفساد في الأرض واستعين بها في ذلک فهي شر و بلاء ۔
ترجمہ : ہر وہ چیز جو مثال سابق کے بغیر ایجاد کی جائے بدعت کہلاتی ہے ۔ پھر ان میں سے جو چیزیں معاملات اور دنیاوی کاموں میں سے ہوں جیسے نقل و حمل کے آلات میں سے جہاز، گاڑیاں، ریلوے انجن، بجلی کا سامان، صنعتی آلات اور ایئرکنڈیشنرز جو کہ ٹھنڈک اور حرارت کے لئے استعمال ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ، اور اسی طرح جنگی آلات میں سے ایٹم بم، آبدوزیں اور ٹینک یا اس جیسی دیگر چیزیں جن کو لوگ اپنی دنیاوی مصلحت کے پیش نظر ترجیح دیتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں ایسی ہیں کہ فی نفسہ ان کی ایجادات میں نہ تو کوئی گناہ ہے اور نہ ہی کسی قسم کا حرج ہے مگر ان چیزوں کے مقصد ایجاد کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ اگر تو ان چیزوں کے استعمال کا مقصد خیر و سلامتی ہے تو ان چیزوں سے خیر کے معاملے میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے تو یہ ایک بھلائی ہے اور اگر ان چیزوں کا مقصد ایجاد زمین میں شر، فساد، تخریب کاری اور تباہی ہے تو پھر ان چیزوں سے مدد حاصل کرنا تباہی و بربادی ہے اور یہ ایک شر اور بلاء ہے ۔ (فتاويٰ اللجنة، 2 : 321)

اِسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے ، مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان بھوپالی کا قول اہلحدیث عالم نواب وحید الزّمان لکھتے ہیں : البدعة الضلالة المحرمة هی التی ترفع السنة مثلها، والتی لا ترفع شيئا منها فليست هی من البدعة، بل هی مباح الأصل ۔
ترجمہ : بدعت ضلالہ جو کہ حرام ہے وہ ہے جس سے کوئی سنت چھوٹ جائے اور جس بدعت سے کوئی سنت نہ چھوٹے وہ بدعت نہیں ہے بلکہ اپنی اصل میں مباح ہے ۔ (ھدية المهدی صفحہ 117) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ

حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ ...