Thursday, 15 January 2026

حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ

حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ

محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ  کے فرزند اور ساتویں امام تھے ۔ حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ بتاریخ 07 صفرالمظفر 128ھ مطابق 745ء بمقام ابوا جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان واقع ہے پیدا ہوئے ۔ گلشنِ اہل بیت نبوّت کے مہکتے پھول حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ 7 صَفَرُ الْمُظَفّر 128ھ بروز منگل طلوعِ فجر کے وقت مکۂ پاک اور مدینۂ مُنَّورہ کے درمیان واقع علاقہ اَبْوا شریف جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیاری پیاری امی جان حضرتِ بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کا مزار شریف ہے میں پیدا ہوئے ۔ آپ کا مبارک نام موسیٰ ، کنیت ابو الحسن اور اَبو ابراہیم اور القابات صابِر ، صالِح ، اَمین جبکہ سب سے مشہور لقب کاظم ہے ۔ بہت زیادہ معافی و دَرْگُزر کرنے کے سبب آپ کا لقب کاظم  (یعنی غصے کو پی جانے والا ) ہوا ۔ (وفیات الاعیان جلد 4 صفحہ 505)(مسالک السالکین جلد 1 صفحہ 224)


امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ عرض کرتے ہیں : ⏬


 شانِ حلماً کانِ علمًا جانِ سلماً اَلسَّلام

موسیِ کاظمِ جہاں ناظمِ مرا اِمداد کُن 

(حدائق بخشش صفحہ 328)

یعنی اے میرے آقا امام موسیٰ کاظم  رضی اللہ عنہ آپ پر سلام ہوکہ آپ حلم و بُردباری کی شان ، مَخزنِ علم  (یعنی علم کے خزانے) اور سلامتی کی جان ہیں ۔ اے امام موسیٰ کاظم ! آپ دنیا کے نظام کو چلانے والے ہیں ، میری مدد فرمائیے ۔


حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ اہل بیتِ اَطہار رضی اللہ عنہم کے چشم و چراغ ہیں اور عظیم تابعی بُزرگ حضرتِ امام جعفر صادِق  رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں ۔ آپ کی والدۂ محترمہ کا نام حمیدہ بَرْبَرِیّہ رضی اللہ عنہا  تھا ۔ حضرتِ امام جعفرِ صادق رضی اللہ عنہ آپ کے بارے میں فرماتے تھے کہ میرے تمام بیٹوں میں موسیٰ کاظِم بہترین بیٹے ہیں اور یہ اللہ پاک کے موتیوں میں سے ایک موتی ہیں ۔ ( مسالک السالکین جلد 1 صفحہ 225)


حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کا خاندانی سلسلہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ شہید کربلا کے واسطہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتا ہے ۔ حضرت امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) ۔


اسم گرامی موسیٰ ، لقب کاظم (غصہ پینے والا) اور باب الحوائج (حاجات پوری ہونے کا دروازہ) ، کنیت ابو الحسن ، ابو ابراہیم ، والد محترم حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ ۔

والدہ ماجدہ حضرت حمیدہ خاتون رضی اللہ عنہا (جو اپنی عبادت گزاری کی وجہ سے مشہور تھیں) ۔


حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی مبارک راتیں عبادت میں اور دِن روزے کی حالت میں گزرتے،بہت زیادہ عبادت کرنے کی وجہ سےآپ کو عبدِ صالح ، یعنی نیک بندہ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا ۔ حلم و بُردباری (یعنی قوتِ برداشت) کا یہ عالَم تھا کہ آپ کا لقب کاظم ، (یعنی غصہ پینے والا) آپ کی پہچان بن گیا ہے ۔ عاجزی و انکساری کی یہ کیفیت تھی کہ جب کوئی آپ کے سامنے آتا تو اُس کے سلام عرض کرنے سے پہلے آپ خود سلام میں پہل فرما دیتے ۔اگر معلوم ہوتا کہ کوئی آپ کو تکلیف پہنچانے میں لگا ہوا ہے توآپ اس کی بھی ضرورت پوری فرماتے ۔ (تاریخ مشائخ قادریہ رضویہ صفحہ 156)


حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے ہمیں بھی چاہیے کہ گھر ، آفس آتے جاتے ، راہ چلتے اپنے مسلمان بھائیوں کو سلام میں پہل کریں ، سلام میں پہل کرنا حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کے ناناجان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے ۔ سلام میں پہل کرنے والا اللہ کریم کا مُقَرَّب (یعنی نزدیکی پانے والا بندہ) ہے ۔ (سنن ابو داود جلد 4 صفحہ 449 حدیث نمبر 5197) ۔ سلام میں پہل کرنے والا تکبُّر سے بھی بَری  (یعنی آزاد) ہے ، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے : پہلے سلام کہنے والا تکبُّر سے بری ہے ۔ (شعب الایمان جلد 6 صفحہ 433 حدیث نمبر 8786) ۔ کیمیائے سعادت میں ہے : سلام  (میں پہل) کرنے والے پر 90 رحمتیں اور جواب دینے والے پر 10 رحمتیں نازِل ہوتی ہیں ۔ (کیمیائے سعادت صفحہ 550)


حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کے جُود و سخا کا یہ عالَم تھا کہ مدینہ منورہ میں غریبوں کو تلاش کرتے اور ہر ایک کو رات کے وقت اس کی ضرورت کے مطابق رقم اِس طرح پہنچاتے کہ اُسے خبر تک نہ ہوتی کہ یہ رقم کون دے کر گیا ہے ۔ (تاریخ مشائخ قادریہ رضویہ صفحہ 156)


حضرت شقیق بَلخی  رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:میں حج کے لئے روانہ ہوا تو ہمارا قافلہ ”مقامِ قادْسِیّہ “پرٹھہرا ۔ وہاں او ربھی بہت سے عازمینِ حج تھے، بڑا خوبصورت منظر تھا ،

 میں انہیں دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہا تھا کہ یہ خوش قسمت لوگ سفر وغیرہ کی تکلیفیں برداشت کر کے اپنے پاک پروردَگارکی رضا کی خاطر حج کرنے جا رہے ہیں ۔ میں نے اللہ پاک کی بارگا ہ میں عرض کی :اے میرے پیارے پیارے اللہ پاک! یہ تیرے بندوں کا وفد ہے،تُو انہیں ناکام نہ لوٹانا ۔پھر میری نظر ایک نوجوان پر پڑی جس کے گندمی رنگ میں ایسی چمک دَمک تھی کہ نظریں اس کے چہرے سے ہٹتی ہی نہ تھیں۔اس نے اُون کا لباس اور سر پر عمامہ شریف سجایا ہوا تھا۔ وہ لوگوں سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا تھا۔ میرے دل میں وسوسہ آیا کہ یہ اپنے آپ کو صوفی ظاہر کرنا چاہتا ہے تاکہ لوگ اس کی تعظیم کریں، میں نے دل میں کہا: اللہ کی قسم!میں ضرور اس کی نگرانی کروں گا پھر جیسے ہی میں اُس کے قریب پہنچا، اس نے میری طرف دیکھا اور میرا نام لے کر پارہ 26 سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 12 کی تلاوت کی : اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ (پ 26، الحجرات: 12)”ترجَمۂ کنز الایمان: بہت گمانوں سے بچو بےشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے ۔ اتنا کہنے کے بعد وہ مجھے وہیں چھوڑ کر رخصت ہو گیا، میں نے دل میں کہا:یہ تو بڑا عجیب معاملہ ہے کہ اس نوجوان نے میرے دل کی بات جان لی اور مجھے میرا نام لے کر پکارا حالانکہ میری کبھی اس سے ملاقات نہیں ہوئی۔ یہ ضرور اللہ پاک کا مقبول بندہ ہے میں نے خُواہ مُخواہ اس کے بارے میں بَدگمانی کی ،میں ضرور اس نوجوان سے ملاقات کرکے معذرت کروں گا۔ میں جلدی سے اس نوجوان کے پیچھے گیا لیکن کافی کوشش کے بعد بھی اسے نہ ڈھونڈ سکا ۔پھر ہمارے قافلے نے مقامِ ” وَاقِصہ‘‘میں قیام کیا،وہاں میں نے اس نوجوان کو حالتِ نماز میں پایا۔اس کا سارا وجود کانپ رہا تھا اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ میں اُسے پہچان کر اس کے قریب جا کربیٹھ گیا تا کہ اس سے معذرت کروں،نماز سے فارغ ہونے کے بعد وہ میری جانب مُتَوَجِّہ ہوا اور کہنے لگا: اے شقیق! پارہ 16 سورۂ طٰہٰ کی آیت نمبر 82 پڑھو: وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى (پ 16، طٰہٰ: 82) ترجَمۂ کنز الایمان:”اور بے شک میں بہت بخشنے والا ہوں اسے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا۔“

اِتنا کہنے کے بعد وہ نوجوان پھر وہاں سے رُخصت ہوگیا۔ میں نے کہا:یہ نوجوان ضرور اَبدالوں میں سے ہے۔ دومرتبہ اس نے میرے دل کی باتوں کو جان لیا اور مجھے میرے نام کے ساتھ بُلایاہے۔میں اس سے بہت زیادہ متأثر ہو چکا تھا۔پھر جب ہمارا قافلہ مقامِ ’’رَبال‘‘ میں رُکا تو وہی نوجوان مجھے ایک کنوئیں کے پاس نظر آیا۔ اس کے ہاتھ میں چمڑے کا ایک تھیلا تھا اور وہ کنوئیں سے پانی نکالنا چاہتا تھا۔اچانک اس کے ہاتھ سے وہ تھیلا چُھوٹ کر کنوئیں میں گِرگیا،اس نوجوان نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا: اے میرے پیارے پیارے اللہ پاک!جب مجھے پیاس ستاتی ہے تو تُو ہی میری پیاس بجھاتا ہے ، جب مجھے بھوک لگتی ہے تو تُو ہی مجھے کھانا عطا فرماتا ہے، میری اُمید گاہ بس تُو ہی تُو ہے، اے میرے پیارے پیارے اللہ پاک! میرے پاس اس تھیلے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ، مجھے میرا تھیلا واپس لوٹا دے ۔

 حضرت شقیق بَلخی  رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :خدا کی قسم! ابھی اس نوجوان کی دعا ختم نہ ہوئی تھی کہ کنوئیں کا پانی اُوپر آنا شروع ہوگیا۔ اس نوجوان نے اپنا ہاتھ بڑھاکر تھیلا نکالا اور اس میں پانی بھرلیا پھر کنوئیں کا پانی واپس نیچے چلا گیا ۔نوجوان نے وضو کیا اور نماز پڑھنے لگا ۔ نماز سے فارغ ہوکر وہ ایک ریت کے ٹیلے کی طر ف گیا۔ میں بھی چپکے سے اس کے پیچھے ہولیا۔ اس نے ریت اُٹھائی اور تھیلے میں ڈالنے لگا پھر تھیلے کو ہلاکر اس میں موجود ریت ملے پانی کو پینے لگا ۔ میں نے اس کے قریب جاکر سلام عرض کیا ، اس نے جواب دیا ۔میں نے عرض کیا: اے نیک نوجوان! اللہ پاک نے جو رزق تجھےعطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی عطا کر ۔ یہ سن کر اس نے جواب دیا:اللہ پاک اپنے بندوں پر ہر وقت فضل و کرم فرماتا رہتا ہے، کوئی گھڑی ایسی نہیں گزرتی جس میں وہ پاک پر وردگار اپنے بندوں پر نعمتیں نازل نہ فرماتا ہو، اے شقیق!اپنے رب سے ہمیشہ اچھا گمان رکھنا چاہئے۔ اِتنا کہنے کے بعد اس نوجوان نے وہ چمڑے کا تھیلا میری طرف بڑھایا جیسے ہی میں نے اس میں سے پیا تو وہ شَکّر اور خالص سَتّو ملا ہوا بہترین پانی تھا۔ ایسا خوش ذائقہ پانی میں نے آج تک نہ پیا تھا، میں نے خوب پیٹ بھر کر پانی پیا ۔میں حیران تھا کہ ابھی میرے سامنے اس تھیلے میں ریت ڈالی گئی ہے لیکن اس نوجوان کی کرامت سے وہ ریت ستّو اور شکر میں بدل گئی ہے ،اُس بابرکت شربت کو پینے کے کئی دن بعد تک مجھے پانی اور کھانے کی طلب نہ ہوئی۔

پھر ہمارا قافلہ مکۂ پاک پہنچا تو وہاں میں نے اسی نوجوان کو ایک کونے میں آدھی رات کو نماز کی حالت میں دیکھا ۔وہ بڑے خشوع و خضوع  (یعنی دل اور جسم کی عاجزی ) سے نماز پڑھ رہا تھا اور اُس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اس نے اسی طرح نماز کی حالت میں ساری رات گزاردی ، جب فجر کا وقت ہوا تو وہ تب بھی اپنے مصلے پر بیٹھا رہا اور اللہ پاک کی پاکی بیان کرتا رہا ، پھر نمازِ فجر پڑھنے کے بعد اس نے طواف کیا اور ایک طرف چل دیا میں بھی اس کے پیچھے چل پڑا۔ اس بار میری نظروں میں بڑا حیران کُن منظر تھا کیونکہ اُس کے سامنے کئی لوگ ہاتھ باندھے کھڑے تھے اور لوگ جوق در جوق سلام کے لئے حاضر ہو رہے تھے۔ میں نے ایک شخص سے پوچھا : یہ عظیم نوجوان کون ہے؟اس نے جواب دیا: یہ حضرتِ امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن محمد بن علی بن حسین بن علی  علیہمُ الرضوان  ہیں۔میں نےدِل میں کہا:اتنی کرامات کا ظاہر ہونا اس سید زادے کی ہی شان کے لائق ہے، یہی وہ ہستیاں ہیں جنہیں اللہ پاک اتنی کرامات سے نواز تا ہے ۔ (عیون الحکایات (مترجم) جلد 1 صفحہ 238)


حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ مُسْتَجابُ الدّعوات تو تھے ہی (یعنی آپ کی دعائیں قبول ہوتی تھیں بلکہ) جو لوگ آپ کے وسیلے سے دُعا کرتے یا آپ رضی اللہ عنہ سے دُعا کرواتے وہ بھی اپنی مُرادیں پالیتے ، اُن کی خالی جھولیاں گوہرِ مراد  (یعنی دلی مرادوں) سے بھر جاتیں ، اسی وجہ سے عراق کے رہنے والے آپ کو بابُ الحوائج  (یعنی ضروریات پوری ہونے کا دروازہ) کہتے تھے ۔ (صواعق المحرقہ مترجم اردو صفحہ 674،چشتی)


حضرت امام محمد بن ادیس شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرتِ امام موسیٰ کاظم  رضی اللہ عنہ کے مزار شریف پر حاضر ہو کر دعا کرنا قبولیت میں مُجَرَّب (یعنی آزمایا ہوا)  ہے ۔ (لمعات التنقیح جلد 4 صفحہ 215)


حضرتِ امام خلّال حنبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مجھے جب بھی کوئی اہم کام پیش آتا ہے ، میں حضرتِ امام موسیٰ کاظم بن جعفر صادق رضی اللہ عنہما کے مزارِ پُرانوار پر حاضر ہوکر آپ کا وسیلہ پیش کرتا ہوں ۔ اللہ عزوجل میری مشکل آسان کر کے میری مراد عطا فرما دیتا ہے ۔ (تاریخ بغداد جلد 1 صفحہ 133)


روایت میں ہے کہ حضرتِ امام موسیٰ کاظم  رضی اللہ عنہ ہمیشہ ساری رات نفل نماز پڑھتے یہاں تک کہ فجر کا وقت ہو جاتا ۔ آپ یہ دُعا بہت زیادہ مانگا کرتے تھے : اَللّٰهُمَّ اِِنِّیْ اَسْاَلُكَ الرَّاحَةَ عِنْدَ الْمَوْتِ وَ الْعَفْوَ عِنْدَ الْحِسَابْ ، یعنی اےاللہ عزوجل میں تجھ سے موت کے وقت آسانی اور حساب کے وقت معافی کا سوال کرتا ہوں ۔ ایک مرتبہ آپ مسجدِ نبوی شریف میں داخل ہوئے اور شروعِ رات میں سجدہ کیا تو سنا گیا کہ آپ سجدے کی حالت میں بارگاہِ الٰہی میں عرض کر رہے ہیں : عَظُمَ الذَّنْبُ عِنْدِیْ ، فَلْيَحْسُنِ العَفْوُ مِنْ عِنْدِكَ ، میرے گناہ بہت زیادہ ہو گئے لہٰذا اے اللہ عزوجل تیری طرف سے معافی بھی اتنی زیادہ ہونی چاہیے ۔ آپ یہ کہتے رہے یہاں تک صبح ہوگئی ۔ (تاریخ بغداد 13 / 29)(سیر اعلام النبلاء جلد 6 صفحہ 448)


حضرتِ امام موسیٰ کاظم  رضی اللہ عنہ کو جب قید میں رکھا گیا تو آپ کےدن رات کے معمولاتِ مبارَکہ دیکھنے والی کنیز کا بیان ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نمازِ عشا ادا فرما لینے کے بعد اللہ پاک کی حمد و ثنا (یعنی تعریف و توصیف بیان کرنے) میں مصروف رہتے اور پھر

 دُعا مانگتے ، رات کا کافی حصہ گزر جانے کے بعد پھر کھڑے ہوتے اورصبح تک نماز پڑھتے رہتے ، نمازِ فجر کے بعد ذکرُ اللہ کرتے رہتے یہاں تک کہ سورج طُلوع ہو جاتا پھر ضحوۂ کبریٰ تک مراقبہ فرماتے ، اس کے بعد مسواک وغیرہ کر کے کھانا کھاتے ، پھر کچھ دیر آرام فرما کر وضو کرتے اور نفل نماز پڑھتے رہتے حتّی کہ نمازِ عصر پڑھ لیتے پھر قبلے کی طرف منہ کرکے ذکرُ اللہ کرتے رہتے یہاں تک کہ مغرب کی نماز ادا فرماتے ۔ نیز مغرب اور عشا کے درمیانی وقت میں بھی نفل نماز ادا فرماتے رہتے ۔ کنیز کہتی ہیں : وہ لوگ بڑے بد نصیب ہیں جو ایسے نیک شخص کو پریشان کرتے ہیں ۔ (تاریخ بغداد جلد 13 صفحہ 33،چشتی)


حضرتِ امام موسیٰ کاظم  رضی اللہ عنہ تَوکُّل عَلَی اللہ ، یعنی اللہ پاک پر بھروسے ، کے بہت بلند درجے پر فائز تھے ، ظلماً قید میں رکھے جانے کے سبب اگرچہ کسی سے رہائی کا فرمانا توکل کے خلاف نہ تھا مگر آپ اپنے معمولاتِ مبارکہ میں خدائے پاک کے علاوہ کسی سے ذکر کرنا پسند نہ فرماتے ۔ لہٰذا آ پ نے خلیفہ وقت کے نام ایسا خط لکھا کہ جو آپ کی جراءت مندی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ آپ نے لکھا : اے خلیفہ جیسے جیسے میری آزمائش کے دن گزر رہے ہیں ویسے ویسے تمہارے عیش و راحت کے دن بھی کم ہو رہے ہیں یہاں تک کہ ہم دونوں ایک ایسے دن (یعنی قیامت میں) ملیں گے جب بُرے کام کرنے والے نقصان میں رہیں گے ۔

(سیر اعلام النبلاء جلد 6 صفحہ 450)


حضرتِ امام موسیٰ کاظم  رضی اللہ عنہ کےقید و بند کےدنوں میں ایک رات آپ کو

خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی ، آپ  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا : اے موسیٰ ! تم ظلماً قید میں ہو،میں چند کلمات سکھاتا ہوں ، اگر تم ان کو پڑھو تو تم آج ہی کی رات قید سے رہا ہو جاؤ گے،وہ کلمات یہ ہیں : يَاسَامِعَ كُلِّ صَوْتٍ، وَيَاسَابِقَ الْفَوْتِ، وَيَاكَاسِیَ الْعِظَامِ لَحْمًا وَّمُنْشِرَهَا بَعْدَ الْمَوْتِ، اَسْاَلُكَ بِاَسْمَائِكَ الْحُسْنٰى وَ بِاِِسْمِكَ الْاَعْظَمِ الْاَكْبَرِ الْمَخْزُوْنِ الْمَكْنُوْنِ الَّذِیْ لَمْ يَطَّلِعْ عَلَيْهِ اَحَدٌ مِّنَ الْمَخْلُوْقِيْنَ، يَاحَلِیْمًا ذَا اَ نَاةٍ لَايَقْوٰى عَلٰى اَ نَاتِه، يَاذَا الْمَعْرُوْفِ الَّذِیْ لَايَنْقَطِعَ اَ بَداً وَلَايُحْصٰى عَدَداً، فَرِّجْ عَنِّیْ ۔

ترجمہ : اے ہر آواز سننے والے ! اے ہر نقص ومحرومی سے پاک ! اے ہڈّیوں پر گوشت چڑھانے اور موت کے بعد اُن  (ہڈّیوں) کو جمع کرنے والے ! میں تجھ سے تیرے سب اچھے ناموں اور تیرے اُس بڑے اسمِ اعظم کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں ، جو چھپا ہوا خزانہ ہے جس کی مخلوق میں سے  (تیری عطا کے بغیر)  کسی کو خبر نہیں ، اے حلم والے ! حلیمی فرمانے والے کہ ایسی حلیمی کی کسی اور کو طاقت نہ ہو، اے نہ ختم ہونے والی بے شمار بھلائی والے! میری مصیبت دور فرمادے ۔ (وفیات الاعیان جلد 4 صفحہ 504)


حضرت ہیثم  رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ کے ایک شاگرد نے مجھے بتایا کہ ایک مرتبہ میں آپ کی خدمت سراپا عظمت میں حاضر ہوا تو آپ کے لختِ جگر حضرتِ امام موسیٰ کاظم  رضی اللہ عنہ ان کی خدمت میں حاضر تھے اور آپ انہیں نصیحتیں فرما رہے تھے کہ اے میرے بیٹے!میری نصیحت قبول کرلو اور میری باتوں کو یاد رکھنا اگر انہیں یاد رکھو گے تو زندگی بھی اچھی گزرے گی اور موت بھی قابلِ رشک ہو گی۔

اے میرے بیٹے!مال دار وہ ہے جو اللہ پاک کی تقسیم پر راضی رہے اور جو دوسرے کے مال پر نظر رکھے وہ غربت کی حالت میں ہی مرتاہے۔ اللہ پاک کی تقسیم پر راضی نہ رہنے والا گویا اللہ پاک کواس کےفیصلےمیں مُتَّہَم ٹھہراتاہے۔اپنی غلطی کو چھوٹا سمجھنے والا دوسرے کی غلطی کو بڑا اور دوسرے کی غلطی کو چھوٹا خیال کرنے والا اپنی غلطی کو بڑا سمجھتا ہے۔

اے میرے بیٹے!دوسرے کے عیبوں سے پردہ ہٹانے والے کے اپنے عیب ظاہر ہو جاتے ہیں۔ کسی کے لئے گڑھا کھودنے والا خود ہی اس میں جاگرتا ہے۔ بےوقوفوں کی صحبت میں بیٹھنے والا حقیر و ذلیل ہوتا جبکہ عُلَما کی صحبت اختیار کرنے والا عزت پاتاہے اور برائی کے مقام پر جانے والا متہم (یعنی برائی کرنے کے الزام میں مبتلا)  ہوتا ہے۔اے میرے بیٹے!لوگوں پر عیب لگانے سے بچنا ورنہ لوگ تم پر عیب لگائیں گے اور فضول باتوں سے بچنا ورنہ ان کی وجہ سے ذلیل و رُسوا ہوگے۔اے میرے بیٹے!حق بات ہی کہنا خواہ تمہارے حق میں ہو یا خلاف کیونکہ مذمَّت کا سامنا تمہیں اپنے دوستوں کی طرف سے ہی کرنا پڑے گا۔اے میرے بیٹے!قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے رہنا، سلام کو عام کرنا، نیکی کا حکم دینا اور بُرائی سے منع کرنا، رشتے داری توڑنے والے سے رشتہ جوڑنا، جو تم سے بات نہ کرے اس سے بات کرنے میں پہل کرنا، جو تم سے مانگے اسے عطا کرنا، چغلخوری سے بچنا کہ یہ دلوں میں بغض پیدا کرتی ہے۔ لوگوں کے عیبوں کے پیچھے نہ پڑنا کہ یہ چیز خود کو (مذمت وتہمت کا) ہدف بنانے کے قائم مقام ہے۔اے میرے بیٹے!اگر اچھائی کے طلب گار ہو تو اس کے مَعادِن کو لازم جانو،بے شک بھلائی کے مَعادِن ہیں اور مَعادِن کی کوئی اصل (جڑ)  ہوتی ہے اور اصل کی شاخیں ہوتی ہیں اورشاخوں کے ساتھ پھل ہوتے ہیں اور پھل اپنے اصول کے ساتھ ہی اچھے ہوتے ہیں اور جڑ اُسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب زمین اچھی ہو ۔ اے میرے بیٹے!اگر ملاقات کی خواہش ہو تو نیک لوگوں سے ملنا، فُسّاق و فُجَّار سے نہ ملنا کہ فُسّاق و فُجار پتھر کی اس چٹان کی طرح ہیں جس سے پانی نہیں بہتا،ایسے درخت کی طرح ہیں جو سر سبز و شاداب نہیں ہوتا، وہ بنجر زمین کی مثل ہیں جس پر گھاس نہیں اُگتی ۔ حضرت امام علی بن موسیٰ کاظم  رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : حضرت امام جعفرصادق رضی اللہ عنہ نے یہ وصیت فرمائی اور آپ کا انتقال شریف ہوگیا اور میرے والدِ محترم حضرت امام موسیٰ کا ظم رضی اللہ عنہ آخری وقت تک اس وصیت پر عمل کرتے رہے ۔ (حلیۃ الاولیا جلد 3 صفحہ 228)


خطیب بغدادی  رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : آپ رضی اللہ عنہ کا مزار شریف مشہور و معروف ہے ، زائرین حاضری کےلیے آتے ہیں ، وہاں سونے چاندی کی قندیلیں اور کئی قسم کے قالین و آرائش کی چیزیں ہیں ۔ (وفیات الاعیان جلد 4 صفحہ 505،چشتی)


حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کے جانشین و خلیفہ ، حضرت ا مام علی رضا رضی اللہ عنہ اپنے والدِ محترم کا مبارک فرمان بیان فرماتے ہیں کہ جب دنیا کسی انسان کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو اسے عارضی خوبیاں دیتی ہے اور جب کسی سے پیٹھ پھیرتی ہے تو اُس سے اس کی اپنی خوبیاں لے جاتی ہے ۔ (سیر اعلام النبلاء جلد 8 صفحہ 249)


حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم ، فقیہ اور عابد تھے ۔ آپ کی راتیں سجدوں میں گزرتی تھیں ، اسی لیے آپ کو عبدِ صالح بھی کہا جاتا ہے ۔ آپ کے علم کا یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے فقہاء آپ کے شاگردوں میں شامل تھے ۔


کاظم لقب کی وجہ : آپ نہایت حلیم اور بردبار تھے آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ جو آپ کے ساتھ برا سلوک کرتا ، آپ اسے معاف فرما دیتے اور بدلے میں اسے تحائف بھیجتے ۔ اسی کثرتِ تحمل اور غصہ پینے کی وجہ سے آپ کا لقب کاظم مشہور ہوا ۔


حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ایک بڑا حصہ عباسی خلفاء (خصوصاً ہارون الرشید) کے دور میں جیلوں میں گزرا ۔ آپ کو برسوں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ، لیکن آپ نے قید خانے کو بھی عبادت گاہ بنا لیا اور کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہ لائے ۔


حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی اولاد کی تعداد کافی زیادہ بتائی جاتی ہے ، جن میں سے حضرت امام علی رضا رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ قم رضی اللہ عنہا بہت مشہور ہیں ۔


حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کا یومِ شہادت 25 رجب المرجب ہے ۔ آپ نے 183ھ میں بغداد میں جامِ شہادت نوش فرمایا ۔ آپ کا روضہ مبارک عراق کے شہر بغداد (کاظمین) میں مرجع خلائق ہے ۔


حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکل ترین حالات اور ظلم کے سامنے بھی اپنے کردار کی پاکیزگی اور اللہ کی بندگی کو نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No comments:

Post a Comment

حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ

حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ محترم قارئینِ کرام : حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ ...