واقعہ معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حقائق و دلائل
محترم قارئینِ کرام ارشادِ باری تعالیٰ ہے : سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ۔
ترجمہ : پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا مسجد ِحرام سے مسجد ِاقصا تک جس کے گردا گرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے ۔
سبحان کا معنی : ⏬
سُبْحٰنَ کا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب و نقص سے پاک ہے ۔ حضرت طلحہ بن عبیداللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ’’سُبْحَانَ اللّٰہ ‘‘ کی تفسیر کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ہر بری چیز سے اللّٰہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا ۔ (مستدرک، کتاب الدعاء والتکبیر والتہلیل والتسبیح والذکر، تفسیر سبحان اللّٰہ، ۲/۱۷۷، الحدیث: ۱۸۹۱)
سبح کا معنی ہے پانی میں سرعت سے تیرنا، مجازا سیاروں کے اپنے مدار میں گردش کرنے کو بھی کہتے ہیں، قرآن مجید میں ہے : وکل فی فلک یسبحون : (سورہ یسین : 40) اور ہر ایک اپنے مدار میں تیر رہا ہے ۔ (یعنی گردش کر رہا ہے)
اور تسبیح کا معنی ہے ان اوصاف سے اللہ تعالیٰ کے پاک ہونے کو بیان کرنا جو اس کی شان کے لائق نہیں ہیں، اور اس کا اصل معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کو بہت تیزی اور سرعت کے ساتھ انجام دینا اور تسبیح کا لفظ تمام عبادات کے لیے عام ہے خواہ اس عبادت کا تعلق ول سے ہو فعل سے ہو یا نیت سے ہو ۔ (المفردات ج 1، ص 292، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1418 ھ،چشتی)
سبحان کا لفظ ہر عیب اور نقص سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ اور تقدیس کے لیے ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے غیر کو اس صفت سے موصوف کرنا ممتنع ہے، اس آیت میں بھی یہ لفظ تنزیہ کے لیے ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس نقص سے پاک ہے کہ وہ رات کے ایک لمحہ میں اتنی عظیم سیر نہ کراسکے، تسبیح کا لفظ قرآن مجید میں تسبیح پڑھنے یعنی اللہ تعالیٰ کی تنزیہ اور تقدیس کرنے اور نماز پڑھنے کے معنی میں بھی ہے : فسبح و اطراف النھار لعلک ترضٰ ۔ (سورہ طہ : 130)
اور دن کے کناروں میں آپ نماز پڑھیے اور تسبیح کیجیے تاکہ آپ راضی ہو جائیں ۔
حدیث میں یہ لفظ نور کے معنی میں بھی آیا ہے : لا حرقت سبحات وجھہ ما ادرک بصرہ ۔ اللہ تعالیٰ کے چہرے کے انوار منتہاء بصر تک کو جلا ڈالتے ۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : 179، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 195، 196، مسند احمد ج 4، ص 401، 405)
نیز احادیث میں سبحان کا معنی اللہ تعالیٰ کی تنزیہ ہے ۔ حضرت طلحۃ بن عبیداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سبحان اللہ کی تفسیر پوچھی آپ نے فرمایا، ہر بری چیز سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ بیان کرنا۔ (المستدرک ج 1، ص 502، قدیم المستدرک، رقم الحدیث 189، کتاب الدعا للطبرانی رقم الحدیث : 1751، 1752، مجمع الزوائد ج 10، ص ،94،چشتی)
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے ایک دن میں سو مرتبہ ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ پڑھا ،تو اس کے گناہ مٹا دئیے جائیں گے اگرچہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کی مثل ہوں ۔ (بخاری، کتاب الدعوات، باب فضل التسبیح، ۴/۲۱۹، الحدیث: ۶۴۰۵)
حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جس نے ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ کہا تو اس کے لئے جنت میں ایک درخت اُگا دیا جاتا ہے ۔ (ترمذی، کتاب الدعوات، ۵۹-باب، ۵/۲۸۶، الحدیث: ۳۴۷۵)
حضرت ابوذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے عرض کی یا رسولَ اللّٰہ !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کون سا کلام اللّٰہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ ارشاد فرمایا ’’وہ کلام جسے اللّٰہ تعالیٰ نے فرشتوں کے لئے پسند فرما ہے (اور وہ یہ ہے) ’’سُبْحَانَ رَبِّیْ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ رَبِّیْ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ ۔ (مستدرک، کتاب الدعاء والتکبیر والتہلیل ۔۔۔ الخ، احبّ الکلام الی اللّٰہ سبحان ربّی وبحمدہ،۲/۱۷۶، الحدیث:۱۸۸۹)
حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے ایک دن میں سو مرتبہ پڑھا سبحان اللہ وبحمدہ تو اس کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں خواہ اس کے گناہ سمندر کے جھاگ سے بھی زیادہ ہوں۔ ( صحیح البخاری، رقم الحدیث : 1405، صحیح مسلم، رقم الحدیث، 2691، سنن الترمذی، رقم الحدیث : 3468، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : 5091، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3798)
حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں ، اللہ تعالیٰ کو کونسا کلام سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ فرمایا وہ کلام جس کو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے لیے پسند فرما لیا ہے ۔ سبحان ربی وبحمدہ سبحان ربی وبحمدہ ۔ (المستدرک ج 1، ص 501، قدیم المستدرک رقم الحدیث : 1889، جدید صحیح مسلم رقم الحدیث : 2731، سنن الترمذی، رقم الحدیث : 3587، مسند احمد ج 5 ص 148، شرح السنہ، ج 5، ص 41)
حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا جس شخص نے سبحان اللہ العظیم کہا اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت اگا دیا جاتا ہے ۔ (المستدرک ج 1 ص 501، قدیم المستدرک رقم الحدیث : 1890)
حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : دو کلمے زبان پر ہلکے ہیں میزان میں بھاری ہیں اللہ کے نزدیک محبوب ہیں ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 7563، صحیح مسلم رقم الحدیث : 1694، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3806، سنن الترمذی، رقم الحدیث : 3467، مسند احمد رقم الحدیث : 7167 م عالم الکتب)
حضرت سمرہ بن جندب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے محبوب کلام چار ہیں : سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ۔ تم ان میں سے جس کلام سے ابتدا کرو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا ۔ (الحدیث) (صحیح مسلم، رقم الحدیث : 2137،چشتی)
علاّمہ حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : سبحان اللہ کہنے کا معنی ہے اللہ تعالیٰ ہر نقص سے اور ہر ایسی چیز سے پاک ہے جو اس کی شان کے لائق ہیں ہے اور اس کو یہ لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ شریک سے، بیوی سے، بچوں سے، اور تمام رذائل سے پاک ہے، تسبیح کا لفظ بولا ا جاتا ہے اور اس سے ذکر کے تمام الفاظ مراد ہوتے ہیں وار کھی اس سے نفلی نماز مراد ہوتی ہے، صلوۃ التسبیح اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں بکثرت تسبیحات ہیں، سبحان کا لفظ بالعموم اضافت کے ساتھ استعمال ہوتا ہے ۔ (فتح الباری ج 11، ص 207، مطبوعہ لاہور، 1401 ھ)
یاد رہے کہ ہر اسمِ الٰہی کی تجلی عامل پر پڑتی ہے یعنی جو جس اسمِ الٰہی کا وظیفہ کرتا ہے اُس میں اُسی کا اثر پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے چنانچہ جو ’’یَا سُبْحَانُ‘‘کا وظیفہ کرے تواللّٰہ تعالیٰ اسے گناہوں سے پاک فرمائے گا ۔ جو’’یَا غَنِیُّ ‘‘ کا وظیفہ پڑھے تو وہ خود غنی اور مالدار ہوجائے گا، اسی طرح جو یَاعَفُوُّ ، یَا حَلِیْمُ کا وظیفہ کرے تو اس میں یہی صفات پیدا ہونا شروع ہوجائیں گی۔ اسی مناسبت سے یہاں ایک حکایت ملاحظہ ہو،چنانچہ حضرت ابو بکر بن زیَّات رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے منقول ہے کہ ایک شخص حضرت معروف کرخی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی :حضور! آج صبح ہمارے ہاں بچے کی ولادت ہوئی ہے اور میں سب سے پہلے آپ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے پاس یہ خبر لے کر آیا ہوں تاکہ آپ کی برکت سے ہمارے گھرمیں خیر نازل ہو ۔ حضرت معروف کرخی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا ’’اللّٰہ تعالیٰ تمہیں اپنے حفظ واَمان میں رکھے ۔یہاں بیٹھ جاؤ اورسو مرتبہ یہ الفاظ کہو ’’مَا شَاءَ اللّٰہُ کَانَ‘‘یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے جو چاہا وہی ہوا۔ اس نے سو مرتبہ یہ الفاظ دہرا لئے توآپ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا’’ دوبارہ یہی الفاظ کہو ۔ اس نے سو مرتبہ پھر وہی الفاظ دہرائے۔ آپ نے فرمایا ’’پھر وہی الفاظ دہراؤ۔ اس طرح پانچ مرتبہ اسے (وہ الفاظ دہرانے کا ) حکم دیا ۔ اتنے میں ایک وزیر کی والدہ کا خادم ایک خط اور تھیلی لے کر حاضر ہوا اور کہا :’ ’اے معروف کرخی ! رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ،اُمِّ جعفر آپ کو سلام کہتی ہے ، اس نے یہ تھیلی آپ کی خدمت میں بھجوائی ہے اورکہا ہے کہ آپ غُرباء و مساکین میں یہ رقم تقسیم فرما دیں ۔ یہ سن کر آپ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے قاصد سے فرمایا ’’ رقم کی تھیلی اس شخص کو دے دو، اس کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی ہے۔ قاصد نے کہا: یہ 500 درہم ہیں، کیا سب اسے دے دوں ؟ آپ نے فرمایا ’’ہاں !ساری رقم اسے دے دو، اس نے پانچ سو مرتبہ ’’مَا شَاءَ اللّٰہُ کَانَ‘‘ کہا تھا۔ پھر اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’ یہ پانچ سو درہم تمہیں مبارک ہوں، اگر اس سے زیادہ مرتبہ کہتے تو ہم بھی اتنی ہی مقدار مزید بڑھا دیتے ۔ ( جاؤ !یہ رقم اپنے اہل وعیال پر خرچ کرو) ۔ (عیون الحکایات، الحکایۃ التاسعۃ بعد الثلاث مائۃ، ص۲۷۷،چشتی)
سُبْحٰنَ الَّذِیۡۤ : پاک ہے وہ ذات ۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہر کمزوری، عیب اور نقص سے خداوند ِ قدوس کی عظیم ذات پاک ہے جس نے اپنے خاص بندے یعنی مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو شبِ معراج رات کے کچھ حصے میں مسجد ِحرام سے مسجد ِاقصیٰ تک سیر کرائی حالانکہ مسجد ِ اقصیٰ مکۂ مکرمہ سے تیس دن سے زیادہ کی مسافت پر ہے ، وہ مسجد ِاقصیٰ جس کے اردگرد ہم نے دینی و دُنْیَوی برکتیں رکھی ہیں اور سیر کرانے کی حکمت یہ تھی کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اپنی عظمت اور قدرت کی عظیم نشانیاں دکھانا چاہتا تھا ۔ روایت ہے کہ جب سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ شب ِمعراج درجاتِ عالیہ اور مَراتبِ رفیعہ پر فائز ہوئے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے خطاب فرمایا ، اے محمد! (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) یہ فضیلت و شرف میں نے تمہیں کیوں عطا فرمایا ؟ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عرض کی :اس لئے کہ تو نے مجھے عَبْدِیَّت کے ساتھ اپنی طرف منسوب فرمایا۔ اس پر یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی ۔ (تفسیر خازن، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۱، ۳/۱۵۳-۱۵۴)
اسریٰ کا معنی : ⏬
اسری کا لفظی سری سے بنا ہے، اس کا معنی ہے رات کو جانا، اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط سے فرمایا : فاسر باھلک ۔ (سورہ ھود : 81)
آپ رات میں اپنے اہل کو لے جائیں ۔
نیز فرمایا : سبحن الذی اسری بعبدہ لیلا ۔ (سورہ بنی اسرائیل : 1)
سبحان ہے وہ جو اپنے بندے کو رات کے ایک لمحۃ میں لے گیا ۔ (المفردات : ج 2، ص 305، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1418 ھ)
اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ : اپنے بندے کو سیر کرائی ۔ آیت کے اس حصے میں نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے معراج شریف کا تذکرہ ہے ۔ معراج شریف نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ایک جلیل معجزہ اور اللّٰہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور اس سے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا وہ کمالِ قرب ظاہر ہوتا ہے جو مخلوقِ الٰہی میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سوا کسی کو مُیَسَّر نہیں ۔
معراج شریف سے متعلق چند باتیں قابلِ ذکر ہیں : ⏬
(1) ۔ نبوت کے بارہویں سال نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ معراج سے نوازے گئے ، البتہ مہینے کے بارے میں اختلاف ہے مگر زیادہ مشہور یہ ہے کہ ستائیسویں رجب کو معراج ہوئی ۔
(2) ۔ مکۂ مکرمہ سے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بیتُ المقدس تک رات کے چھوٹے سے حصہ میں تشریف لے جانا نصِ قرآنی سے ثابت ہے، اس کا منکر کافر ہے اور آسمانوں کی سیر اور مَنازلِ قرب میں پہنچنا اَحادیث ِصحیحہ مُعتمدہ مشہورہ سے ثابت ہے جو حدِ تَواتُر کے قریب پہنچ گئی ہیں، اس کا منکر گمراہ ہے ۔
(3) ۔ معراج شریف بحالت ِبیداری جسم و روح دونوں کے ساتھ واقع ہوئی ، یہی جمہور اہلِ اسلام کا عقیدہ ہے اور اصحابِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی کثیر جماعتیں اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جلیل القدر صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اسی کے معتقد ہیں، آیات و اَحادیث سے بھی یہی سمجھ آتا ہے اور جہاں تک بیچارے فلسفیوں کا تعلق ہے جو علّت و مَعلول کے چکر میں پھنس کر عجیب و غریب شکوک و شُبہات کا شکار ہیں تو ان کے فاسد اَوہام مَحض باطل ہیں، قدرتِ الٰہی کے معتقد کے سامنے وہ تمام شبہات محض بے حقیقت ہیں ۔ (تفسیرات احمدیہ جلد ۱ صفحہ۵۰۵)(تفسیر روح البیان جلد ۱ صفحہ ۵/۱۰۴،چشتی)(تفسیر خزائن العرفان صفحہ ۵۲۵)
معراج شریف کے بارے میں سینکڑوں اَحادیث ہیں جن کا ایک مختصر خلاصہ یہاں پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ معراج کی رات حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضر ہوئے ، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو معراج کی خوشخبری سنائی اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مقدس سینہ کھول کر اسے آبِ زمزم سے دھویا، پھر اسے حکمت و ایمان سے بھر دیا۔ اس کے بعدنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں براق پیش کی اور انتہائی اِکرام اور احترام کے ساتھ اس پر سوار کرکے مسجد ِاقصیٰ کی طرف لے گئے ۔ بیتُ المقدس میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تمام اَنبیاء و مُرسَلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی امامت فرمائی ۔پھر وہاں سے آسمانوں کی سیر کی طرف
متوجہ ہوئے ۔ حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے باری باری تمام آسمانوں کے دروازے کھلوائے، پہلے آسمان پر حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، دوسرے آسمان پر حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، تیسرے آسمان پر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، چوتھے آسمان پر حضرت ادریس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، پانچویں آسمان پر حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضور ِاقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت و ملاقات سے مشرف ہوئے ، انہوں نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عزت و تکریم کی اور تشریف آوری کی مبارک بادیں دیں ،حتّٰی کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف سیر فرماتے اور وہاں کے عجائبات دیکھتے ہوئے تمام مُقَرَّبین کی آخری منزل سِدرۃُ المنتہیٰ تک پہنچے ۔ اس جگہ سے آگے بڑھنے کی چونکہ کسی مقرب فرشتے کو بھی مجال نہیں ہے ا س لئے حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام آگے ساتھ جانے سے معذرت کرکے وہیں رہ گئے ، پھر مقامِ قربِ خاص میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ترقیاں فرمائیں اور اس قربِ اعلیٰ میں پہنچے کہ جس کے تَصَوُّر تک مخلوق کے اَفکار و خیالات بھی پرواز سے عاجز ہیں۔ وہاں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر خاص رحمت و کرم ہوا اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ انعاماتِ الٰہیہ اور مخصوص نعمتوں سے سرفراز فرمائے گئے، زمین و آسمان کی بادشاہت اور ان سے افضل و برتر علوم پائے ۔ اُمت کے لئے نمازیں فرض ہوئیں ، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بعض گناہگاروں کی شفاعت فرمائی، جنت و دوزخ کی سیر کی اور پھر دنیا میں اپنی جگہ واپس تشریف لے آئے۔ جب نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس واقعے کی خبریں دیں تو کفار نے اس پر بہت واویلا کیا اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بیتُ المقدس کی عمارت کا حال اور ملک ِشام جانے والے قافلوں کی کَیفِیَّتیں دریافت کرنے لگ گئے ۔نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں سب کچھ بتا دیا اور قافلوں کے جو اَحوال نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بتائے تھے ، قافلوں کے آنے پر اُن سب کی تصدیق ہوئی۔
اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جو معراج عطا فرمائی اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جو معراج عطا فرمائی ، یہاںاِن میںفرق ملاحظہ ہو، چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : کلیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی معراج درخت ِدنیا پر ہوئی (چنانچہ ارشاد فرمایا)
’’نُوۡدِیَ مِنۡ شَاطِیَٔ الْوَادِ الْاَیۡمَنِ فِی الْبُقْعَۃِ الْمُبٰرَکَۃِ مِنَ الشَّجَرَۃِ‘‘ ۔ (قصص:۳۰)
برکت والی جگہ میں میدان کے دائیں کنارے سے ایک درخت سے انہیں ندا کی گئی۔(ت)
حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی معراج سِدرۃُ المنتہیٰ وفردوسِ اعلیٰ تک بیان فرمائی(چنانچہ ارشاد فرمایا)
’’عِنۡدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی ﴿۱۴﴾ عِنۡدَہَا جَنَّۃُ الْمَاۡوٰی‘‘ ۔ (النجم:۱۴،۱۵)
سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔اس کے پاس جنت الماویٰ ہے ۔ (ت)۔(فتاوی رضویہ، ۳۰/۱۸۲)
مزید فرماتے ہیں:کلیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالتَّسْلِیْم پر حجاب ِنار سے تجلی ہوئی (چنانچہ ارشاد فرمایا)
’’فَلَمَّا جَآءَہَا نُوۡدِیَ اَنۡۢ بُوۡرِکَ مَنۡ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا‘‘ ۔ (نمل:۸)
پھر موسیٰ آگ کے پاس آئے تو (انہیں) ندا کی گئی کہ اُس (موسیٰ) کو جو اس آگ کی جلوہ گاہ میں ہے اور جو اس (آگ) کے آس پاس(فرشتے)ہیں انہیں برکت دی گئی۔(ت)
حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ پر جلوۂ نور سے تجلی ہوئی اوروہ بھی غایت تفخیم وتعظیم کیلئے بَالفاظِ اِبہام بیان فرمائی گئی (کہ)
’’اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی‘‘ ۔ (نجم:۱۶) ۔جب چھا گیا سدرہ پر جو کچھ چھایا۔(فتاوی رضویہ، ۳۰/۱۸۲-۱۸۳)
(اللّٰہ تعالیٰ نے) کلیمُ اللّٰہ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالتَّسْلِیْم سے طور پر کلام کیا اور اسے سب پر ظاہر فرما دیا (چنانچہ ارشاد فرمایا)
’’وَ اَنَا اخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوۡحٰی ﴿۱۳﴾ اِنَّنِیۡۤ اَنَا اللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّااَنَا فَاعْبُدْنِیۡ ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیۡ‘‘ ۔(طٰہٰ:۱۳،۱۴) الٰی اٰخر الاٰیات۔(آیات کے آخر تک)
اور میں نے تجھے پسند کیا تواب اسے غور سے سن جو وحی کی جاتی ہے۔بیشک میں ہی اللّٰہ ہوں ،میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔(ت)
حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سے فوق السَّمٰوٰت مُکالَمہ فرمایا اور سب سے چھپایا (چنانچہ ارشاد فرمایا)
’’فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِہٖ مَااَوْحٰی‘‘ ۔ (النجم:۱۰)
پھر اس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اس نے وحی فرمائی۔(ت)۔(فتاوی رضویہ، ۳۰/۱۷۹-۱۸۰)
اِلَی الْمَسْجِدِ الۡاَقْصَا:مسجد ِاقصیٰ تک ۔ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کومسجد ِاقصیٰ تک سیر کرانے میں ایک حکمت یہ ہے کہ تمام اَنبیاء و مُرسَلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا شرف اور فضیلت ظاہر ہو جائے کیونکہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کی جگہ میں انہیں امام بن کر نماز پڑھائی اور جسے گھر والوں پر مُقَدّم کیا جائے اس کی شان یہ ہوتی ہے کہ و ہ سلطان ہوتا ہے کیونکہ سلطان کو اپنے علاوہ لوگوں پر مُطْلَقاً تَقَدُّم حاصل ہے۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ حشر کے دن مخلوق اسی سرزمین میں جمع ہو گی اس لئے یہ جگہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قدموں کی برکات سے نہال ہو جائے تاکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت پر محشر میں وُقوف آسان ہو۔(تفسیر صاوی، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۱، ۳/۱۱۰۶)
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ پہلی حکمت کے حوالے سے کیا خوب فرماتے ہیں : ⏬
نمازِ اقصیٰ میں تھا یہی سرعیاں ہوں معنی ٔاول آخر
کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت آگے کر گئے تھے
اَلَّذِیۡ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ : جس کے ارد گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں ۔ آیت کے اس حصے میں اللّٰہ تعالیٰ نے مسجد ِاقصیٰ کی شان بیان فرمائی کہ اس کے ارد گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں دینی بھی اور دنیوی بھی ۔ دینی برکتیں یہ کہ وہ سرزمینِ پاک وحی کے اترنے کی جگہ اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عبادت گاہ اور ان کی قیام گاہ بنی اور ان کی عبادت کا قبلہ تھی۔ دنیوی برکتیں یہ کہ وہاں قرب و جوار میں نہروں اور درختوں کی کثرت تھی جس سے وہ زمین سرسبز و شاداب ہے اور میووں اور پھلوں کی کثرت سے بہترین عیش و راحت کا مقام ہے ۔(تفسیر مدارک، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۱، ص۶۱۵،چشتی)(تفسیر خازن، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۱، ۳/۱۵۴)(تفسیر خزائن العرفان، بنی اسرائیل، تحت الآیۃ: ۱، ص۵۲۵)
لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا: تاکہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ۔آیت کے اس حصے میں معراج شریف کی ایک حکمت بیان کی گئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو رات کے کچھ حصے میں مسجد ِ حرام سے مسجد ِاقصیٰ تک سیر کرائی تاکہ ہم انہیں اپنی قدرت کے عجائبات دکھائیں۔علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : بے شک اس رات نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھا، انہیں نماز پڑھائی اور بڑی عظیم نشانیاں دیکھیں ۔ مزید فرماتے ہیں: اس آیت میں ’’مِنْ اٰیٰتِنَا‘‘ کے الفاظ ہیں ،جن کا مطلب یہ ہے کہ کچھ نشانیاں دکھائیں جبکہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’ وَکَذٰلِکَ نُرِیۡۤ اِبْرٰہِیۡمَ مَلَکُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ‘‘اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی عظیم سلطنت دکھاتے ہیں ۔(انعام:۷۵) اس آیت کے ظاہر سے ایسا لگتا ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر فضیلت حاصل ہے ، حالانکہ ایسا نہیں اور نہ ہی کوئی ان کی نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پراِس اعتبار سے فضیلت کا قائل ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت بھی اللّٰہ تعالیٰ کی (تمام نہیں بلکہ)بعض ہی نشانیاں ہیں جبکہ اللّٰہ تعالیٰ کی (دوسری) نشانیاں اِس(آسمان و زمین کی بادشاہت) سے کہیں زیادہ اور بڑھ کرہیں اور (اسی اعتبار سے ہم کہتے ہیں کہ) اللّٰہ تعالیٰ نے معراج کی رات اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جو نشانیاں و عجائبات دکھائے وہ زمین و آسمان کی بادشاہت سے بڑھ کر ہیں ، اس بیان سے ظاہر ہو گیا کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر فضیلت حاصل ہے ۔ (تفسیر خازن، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۱، ۳/۱۵۴،چشتی)
بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ معراج خواب کا واقعہ ہے اور بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف آپ کی روح کو معراج ہوئی تھی آپ کے جسم کو معراج نہیں ہوئی تھی ، ہم ان روایات کو ذکر کر کے پھر ان کے جوابات عرض کریں گے ان شاء اللہ ۔
امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوجی 310 ھ رحمۃ اللہ علیہ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : عتبہ بن مغیرہ بن الاخنس بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان سے رسول اللہ کی معراج کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا یہ اللہ کی طرف سے سچا خواب تھا۔ (جامع البیان، رقم الحدیث : 16628، الدر المنثور : ج 5، ص 227، مطبوعہ دار الفکر بیروت)
محمد بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے بعض آل ابی بکر نے کہا کہ حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ کا جسم گم نہیں ہوا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح کو سیر کرائی تھی۔ (جامع البیان، رقم الحدیث : 16630، الدر المنثور ج 5، ص 227، مطبوعہ دار الفکر بیروت)
سلمہ بیان کرتے ہیں کہ امام ابن اسحاق نے کہا حضرت عائشہ کے اس قول کا انکار نہیں کیا گیا اور اس کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے : وما جعلنا الرویا التی ارینک الا فتنۃ للناس۔ (بنی اسرائیل : 60) اور وہ جلوہ جو ہم نے آپ کو (شب معراج) دکھایا تھا ہم نے اس کو لوگوں کے لیے محض آزمائش بنادیا۔
ان کا استدلال اس سے ہے کہ رویا کا معنی خواب ہے یعنی شب معراج آپ کو جو خواب دکھایا تھا اس کی وجہ سے لوگ فتنہ میں پڑگئے بعض اس کی تصدیق کرکے اپنے ایمان پر قائم رہے اور بعض اس کا انکار کر کے مرتد ہوگئے۔ (ہمیں مرتد ہونے والوں کے ناموں کی تصریح نہیں ملی) اور حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے سے کہا :یبنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ما ذا تری۔ (الصفات : 102) اے میرے بیٹے ! بیشک میں نے خواب میں یہ دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں تو اب غور کرو تمہاری کیا رائے ہے۔
پھر حضرت ابراہیم نے اپنے خواب پر عمل کیا، اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) کے پاس خواب اور بیداری دونوں حالتوں میں وحی نازل ہوتی تھی اور خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل جاگتا رہتا ہے اور اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ واقعہ معراج آپ کو نیند میں دکھایا گیا تھا یا بیداری میں، اور یہ واقعہ جس حالت میں بھی پیش آیا تھا وہ حق اور صادق ہے۔ (جامع البیان، رقم الحدیث : 16630، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)
خواب میں معراج کی روایات کے جوابات : ⏬
امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ہمارے نزدیک صحیح اور برحق قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ سیدنا محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو رات میں مسجد حرام سے مسجد اقسی تک کی سیر کرائی جیسا کہ احادیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو براق پر سوار کرایا اور آپ نے مسجدا قصی میں انبیاء اور رسول کو نماز پڑھائی، اور آپ کو بہت سی نشانیاں دکھائیں، اور جس شخص نے یہ کہا کہ صرف آپ کی روح کو معراج کرائی گئی تھی اور یہ جسمانی معراج نہیں تھی یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ واقعہ آپ کی نبوت پر دلیل نہ ہوتا، اور نہ اس کی حقیقت کا منکرین انکار کرتے، اور اگر یہ صرف خواب کا واقعہ ہوتا تو مشرکین اس کا رد نہ کرتے، کیونکہ خواب میں کسی عجیب و غریب چیز کو دیکھنے پر کسی کو حیرت نہیں ہوتی اور نہ کوئی اس کا انکار کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اسری بعبدہ یہ نہیں فرمایا کہ اسری بروح عبدہ، اور نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا براق پر سوار ہونا بھی اس کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ جسمانی معراج تھی کیونکہ کسی سواری پر سوار ہونا جسم کا تقاضا ہے نہ کہ روح کا۔ (جامع البیان، ج 15، ص 23، 24، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ،چشتی)
علامہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : اگر یہ خواب کا واقعہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ فرماتا بروح عبدہ اور بعبدہ نہ فرماتا، نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : مازاغ البصر وما طغی۔ (النجم : 17) نہ نظر ایک طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی)
سورة النجم کی یہ آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ بیداری کا واقعہ تھا، نیز اگر یہ خواب کا واقعہ ہوتا تو اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی نشانی اور معجزہ نہ ہوتا، اور آپ سے حضرت ام ہانی یہ نہ کہتیں کہ آپ لوگوں سے یہ واقعہ بیان نہ کریں وہ آپ کی تکذیب کریں گے، اور نہ حضرت ابوبکر کی تصدیق کرنے میں کوئی فضیلت ہوتی، اور نہ قریش کے طعن وتشنیع اور تکذیب کی کوئی وجہ ہوتی، حالانکہ جب آپ نے معراج کی خبر دی تو قریش نے آپ کی تکذیب کی اور کئ مسلمان مرتد ہوگئے اور اگر یہ خواب ہوتا تو اس کا انکار نہ کیا جاتا، اور نیند میں جو واقعہ ہو اس کے لیے اسری نہیں کہا جاتا۔ (الجامع الاحکام القرآن، جز 10، ص 189، مطبوعہ دار الفکر، 1415 ھ)
علامہ سید محمد آلوسی متوفی 1270 ھ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت عائشہ نے جو فرمایا ہے کہ آپ کا جسم شب معراج گم نہیں ہوا تھا اور آپ کی روح کو سیر کرائی گئی تھی، حضرت عائشہ سے یہ روایت صحیح نقل نہیں کی گئی کیونکہ جب یہ واقعہ ہوا اس وقت آپ بہت چھوٹی تھیں، (تقریربا ساڑھے چار سال کی) اس وقت تک آپ رسول اللہ کی زوجہ بھی نہیں تھیں، اور معاویہ بن ابی سفیا اس وقت کافر تھے، اور اس آیت سے جو استدلال کیا گیا ہے۔ وما جعلنا الرویا التی ارینک الا فتنۃ للناس۔ (بنی اسرائیل : 60) اور ہم نے آپ کو جو رویا دکھایا وہ صرف اس لیے تھا کہ لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کریں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ رویا نیند اور بیداری دونوں میں دیکھنے کے لیے آتا ہے اور جمہور کے نزدیک یہ رویا بیداری میں بدن اور روح کے ساتھ واقع ہوا۔ (روح المعانی ج 15، ص 10، 11، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1417 ھ)
شریک کی ایک روایت جس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ معراج کا واقعہ خواب کا تھا : شریک بن عبداللہ بن ابی نمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک سے معراج کا واقعہ سنا انہوں نے کہا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسجد کعبہ میں سوئے ہوئے تھے، نزول وحی سے پہلے آپ کے پاس تین شخص آئے، پھر معراج کا پورا واقعہ بیان کیا۔ امام مسلم فرماتے ہیں شریک نے بعض چیزوں کو مقدم کردیا اور بعض کو موخر کردیا اور روایت میں بعض چیزوں کی زیادتی کی اور بعض کی کمی کی۔ ( صحیح مسلم، باب الاسراء : 262، رقم الحدیث : 261، رقم الحدیث المسلسل، 407، صحیح البخاری رقم الحدیث : 7517، 3570)
علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی 676 ھ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی معراج کے متعلق علماء کا اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے کہ پوری معراج خواب میں ہوئی تھی، لیکن اکثر متقدمین اور متاخرین علماء، فقہاء، محدثین اور متکلمین کا اس پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جسمانی معراج ہوئی ہے، اور تمام احادیث صحیحہ اس پر دلالت کرتی ہیں اور بغیر کسی دلیل کے ان کے ظاہر معنی سے عدول کرنا جائز نہیں ہے، شریک کی جس روایت کا ابھی ذکر کیا گیا ہے وہ بظاہر اس کے خلاف ہے، لیکن شریک کے بہت اوہام ہیں جن کا علماء نے انکار کیا ہے اور خود امام مسلم نے اس پر تنبیہ کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے اپنی روایت میں تقدیم، تاخیر اور زیادتی اور کمی کی ہے اور یہ کہا کہ معراج کا واقعہ نزول وحی سے پہلے کا ہے، اس کا یہ قول غلط ہے کسی نے اس کی موافقت نہیں کی، معراج کی تاریخ میں کافی اختلاف ہے زیادہ قوی یہ ہے کہ معراج ہجرت سے تین سال پہلے ہوئی ہے، کیونکہ اس میں اختلاف نہیں ہے کہ حضرت خدیجہ نے نماز کی فضیت کے بعد رسول اللہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور اس میں بھی اختلاف نہیں ہے کہ حضرت خدیجہ کی وفات ہجرت سے پہلے ہوئی ہے، ایک قول یہ ہے کہ ہجرت سے تین سال پہلے اور ایک قول ہے ہجرت سے پانچ سال پہلے ۔ (صحیح مسلم بشرح النووی ج 1، ص 935، 939، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، 1417 ھ) ، علامہ نووی نے یہ تحقیق قاضی عیاض مالکی اندلسی متوفی 544 ھ سے اخذ کی ہے ۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج 1، ص 491 م 497، مطبوعہ دار الوفاء، 1419 ھ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے آسمانی معجزات میں سے معراج کا واقعہ بھی بہت زیادہ اہمیت کاحامل اور ہماری مادی دنیا سے بالکل ہی ماوراء اور عقل انسانی کے قیاس و گمان کی سرحدوں سے بہت زیادہ بالاتر ہے ۔ معراج کا دوسرا نام اسراء بھی ہے ۔ اسراء کے معنی رات کو چلانا یا رات کو لے جانا چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے واقعہ معراج کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا کے الفاظ سے بیان فرمایا ہے اس لیے معراج کا نام اسراء پڑ گیا اور چونکہ حدیثوں میں معراج کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے عُرِجَ بِیْ (مجھ کو اوپر چڑھایا گیا) کا لفظ ارشاد فرمایا اس لیے اس واقعہ ک انام معراج ہو گیا ۔
احادیث و سیرت کی کتابوں میں اس واقعہ کو بہت کثیر التعداد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بیان کیا ہے ۔ چنانچہ علامہ زرقانی رحمۃ اللہ علیہ نے 45 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نام بنام گنایا ہے جنہوں نے حدیث معراج کو روایت کیا ہے ۔ (المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی ، المقصد الخامس فی تخصیصہ...الخ ،جلد نمبر 8، صفحہ 25 تا 27،چشتی)
معراج شریف ایسا عظیم معجزہ اور مرتبہ ہے ، جو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو عطا کیا گیا اور کائنات میں آپ کے سواء کسی بھی نبی علیہ السّلام کو ایسا معجزہ نہیں عطا ہوا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بعثت کے بعد سے انسان کی خلائی پرواز اور کائینات کی وسعتوں میں جولانی اور ہر نئے دن اس میں ترقی کی مناسبت سے معراج کا معجزہ ، جس کے سامنے ساری طاقتیں عاجز ہیں ، سرفراز کیا گیا اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سیدالاولین والآخرین اور خاتم النبیین ہونے کی صداقت اور دلیل و شہادت ہے ۔
وہ سرورِ کِشورِ رِسالت ، جو عرش پر جلوہ گَر ہو ئے تھے
نئے نِرالے طَرَب کے ساماں عَرَب کے مہمان کےلیے تھے
لفظ ’’ معراج ‘‘ عروج کا اسم آلہ ہے ، اس کے معنی سیڑھی ہے ، مگر شریعت میں معراج سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا آسمانوں سے اوپر ، قاب قوسین اور دنیٰ فتدلیٰ میں تعریف لے جانا ہے ، معراج کا مقصد آپ کی شان عظمت کا اظہار ، دیدارِ الہٰی اور آیات خداوندی کا مشاہدہ (لنریہ من آیاتنا) اور آپ کی شان عظمت پر ایمان کا سارے انسانوں سے امتحان ۔ معراج شریف جسم کے ساتھ بیداری میں ایک بار ہوئی اور روحانی معراج 34 مرتبہ ہوئی ۔
معراج کی تاریخ کے بارے میں قول راجح 27 رجب المرجب شب دوشنبہ بعثت کے گیارہویں سال ہے ۔ مزید اس بارے میں علماء کرام کے 10 اقوال موجود ہیں ۔
1 : ہجرت سے 6 ماہ قبل
2 : ہجرت سے 8 ماہ قبل
3 : ہجرت سے11 ماہ قبل
4 : ہجرت سے 1 سال قبل
5 : ہجرت سے ایک سال اور 2 ماہ قبل
6 : ہجرت سے ایک سال اور 3 ماہ قبل
7 : ہجرت سے ایک سال 5 ماہ قبل
8 : ہجرت سے ایک سال 6 ماہ قبل
9 : ہجرت سے 3 سال قبل
10 : ہجرت سے 5 سال قبل
یہ دس اقوال علماء سیرت کے موجود ہیں لیکن علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری شرح صحیح بخاری شریف میں جو ترجیح دی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد اور بیعت عقبہ سے پہلے معراج ہوئی اگر اس بات کو ترجیح دی جائے تو معراج نبوت کے دسویں سال کے بعد اور گیارہ نبوی میں سفر طائف سے واپسی کے بعد ہوئی ۔
معراج کی تاریخ ، دن اور مہینہ میں بہت زیادہ اختلافات ہیں ۔ لیکن اتنی بات پر بلا اختلاف سب کا اتفاق ہے کہ معراج نزول وحی کے بعد اور ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے جو مکہ معظمہ میں پیش آیا اور ابن قتیبہ دینوری (المتوفی ۲۶۷ ھ) اور ابن عبدالبر (المتوفی ۴۶۳ ھ) اور امام رافعی و امام نووی علیہم الرّحمہ نے تحریر فرمایا کہ واقعہ معراج رجب کے مہینے میں ہوا ۔ اور محدث عبدالغنی مقدسی رحمۃ اللہ علیہ نے رجب کی ستائیسویں بھی متعین کر دی ہے اور علامہ زرقانی نے تحریر فرمایا ہے کہ لوگوں کا اسی پر عمل ہے اور بعض مؤرخین کی رائے ہے کہ یہی سب سے زیادہ قوی روایت ہے ۔ (زرقانی جلد 1 صفحہ 355 تا 358،چشتی)
واقعہ معراج حق ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے جو کچھ بیان کیا حق ہے ۔ جمہور علماء کے نزدیک 27 رجب کو ہوا تھا ۔ معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا مقصد تاریخ بتانا نہیں بلکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی قدر و منزلت اور شان بیان کرنا ہے ۔ اس لیے ضروری نہیں کہ تاریخ کا ذکر حدیث مبارکہ میں ہو ۔ بلکہ جتنے بھی بڑے بڑے واقعات ہوئے ہیں کسی کا ذکر بھی حدیث میں تاریخ کے حوالے سے نہیں ہوا ۔ بلکہ مورخین اور تاریخ دان لوگ بیان کرتے ہیں ۔ اسی طرح قرآن مجید میں بڑے بڑے واقعات ذکر کیئے گئے ہیں لیکن تاریخ نہیں بیان کی گئی ، یہاں تک کہ نزول قرآن یا ابتدائے وحی کی تاریخ بھی قرآن میں نہیں ہے ۔ لہٰذا ایسے سوالات کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔ اصل مقصد کو جانا چاہیئے ۔
معراج کتنی بار اور کیسے ہوئی
جمہور علماء ملت کا صحیح مذہب یہی ہے کہ معراج بحالت بیداری جسم و روح کے ساتھ صرف ایک بار ہوئی جمہور صحابہ و تابعین اور فقہاء و محدثین نیز صوفیہ کرام کا یہی مذہب ہے ۔ چنانچہ علامہ حضرت ملا احمد جیون رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ (استاد اورنگ زیب عالمگیر بادشاہ) نے تحریر فرمایا کہ : وَ الْاَصَحُّ اَنَّهٗ کَانَ فِی الْيَقْظَةِ بِجَسَدِهٖ مَعَ رُوْحِهٖ وَعَلَيِْه اَهْلُ السُّنَّةِ وَ الْجَمَاعَةِ فَمَنْ قَالَ اِنَّهٗ بِالرُّوْحِ فَقَطْ اَوْ فِي النَّوْمِ فَقَطْ فَمُبْتَدِعٌ ضَالٌّ مُضِلٌّ فَاسِقٌ ۔ (تفسيرات احمديه بنی اسرائيل صفحہ 408 ، چشتی)
ترجمہ : اور سب سے زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ معراج بحا لت بیداری جسم و روح کے ساتھ ہوئی یہی اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے ۔ لہٰذا جو شخص یہ کہے کہ معراج فقط روحانی ہوئی یا معراج فقط خواب میں ہوئی وہ شخص بدعتی و گمراہ اور گمراہ کن و فاسق ہے ۔
خبر یہ تحویلِ مہر کی تھی ، کہ رُت سہانی گھڑی پھرے گی
وہاں کی پوشاک زیب تن کی ، یہاں کا جوڑا بڑھا چکے تھے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سراپا معجزہ بن کر اس دنیا میں تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے جمالات و کمالات اور روشن ترین معجزات تو بے شمار ہیں ، لیکن معراج وہ فضیلت ہے جو ربِّ کائنات نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے سوا کسی نبی یا رسول علیہ السّلام کو عطا نہیں کی ، یہی وہ موقع تھا جب رب العزت نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو نمازوں کا تحفہ عطا کیا ۔
واقعہ معراج کو اسلامی تاریخ میں انتہائی اہمیت حاصل ہے ، ستائیس رجب المرجب کو انوار وتجلیات کے جلوے سمیٹے حضرت جبرائیل علیہ السلام پچاس ہزار فرشتوں کے ہمراہ جنتی براق لئے آسمان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی چچا زاد ہمشیرہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر حاضر خدمت ہوئےاور عرض کی کہ رب العزت آپ سے ملاقات کا مشتاق ہے ، یہی وہ مقدس شب ہے جب انسانیت معراج سے سرفراز ہوئی اور آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم زمین سے عرش بریں تک جا پہنچے ۔ فضا درود و سلام سے گونج اٹھی اور آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے سفر معراج کا آغاز فرمایا ، چاروں طرف نور پھیل گیا ، کائنات کے پورے نظام کو روک دیا گیا ، پہلے آسمان سے ساتویں آسمان تک اوالعزم انبیاء اور ملائکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا استقبال کیا ۔ جنت کی سیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سدرۃ المنتہیٰ پہنچے تو عرش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا دامن تھام لیا اور تمام حجابات ہٹا دیئے گئے ۔ یہی وہ وقت تھا جب پروردگارعالم نے اپنی محبوب ترین ہستی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے ملاقات کی اور نماز کا تحفہ عطا کیا ۔ جب تاجدارحرم عرش معلیٰ سے تشریف لائے تو گھر کے دروازے کی کنڈی ہل رہی تھی ، بستر گرم تھا اور وضو کا پانی بہہ رہا تھا ۔ معراج مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے لئے ہی وقت کوروکا گیا اور پھر اسی محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے لئے وقت کو جاری کیا گیا ۔ (معارج النبوۃ،چشتی)۔(مدارج النبوۃ)،(مواہب الدنیہ)
معراج شریف ایسا عظیم معجزہ اور مرتبہ ہے ، جو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو عطا کیا گیا اور کائنات میں آپ کے سواء کسی بھی نبی کو ایسا معجزہ نہیں عطا ہوا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بعثت کے بعد سے انسان کی خلائی پرواز اور کائینات کی وسعتوں میں جولانی اور ہر نئے دن اس میں ترقی کی مناسبت سے معراج کا معجزہ ، جس کے سامنے ساری طاقتیں عاجز ہیں ، سرفراز کیا گیا اور یہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سیدالاولین والآخرین اور خاتم النبیین ہونے کی صداقت اور دلیل و شہادت ہے ۔
لفظ ’’ معراج ‘‘ عروج کا اسم آلہ ہے ، اس کے معنی سیڑھی ہے ، مگر شریعت میں معراج سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا آسمانوں سے اوپر ، قاب قوسین اور دنیٰ فتدلیٰ میں تعریف لے جانا ہے ، معراج کا مقصد آپ کی شان عظمت کا اظہار ، دیدارِ الہٰی اور آیات خداوندی کا مشاہدہ (لنریہ من آیاتنا) اور آپ کی شان عظمت پر ایمان کا سارے انسانوں سے امتحان ۔ معراج شریف جسم کے ساتھ بیداری میں ایک بار ہوئی اور روحانی معراج ۳۴ مرتبہ ہوئی ۔
معراج کی تاریخ کے بارے میں قول راجح ۲۷؍ رجب المرجب شب دوشنبہ بعثت کے گیارہویں سال ہے جیسا کہ تصیل سے اوپر ہم نے عرض کر دیا ہے ۔ معراج شریف کے مدت سفر کی مقدار بیان نہیں کی گئی ہے اور یہ طی ارض کی صورت میں نہیں تھی ، بلکہ حقیقت میں ساری مسافت طے کی گئی اور نہایت مختصر وقت میں کہ بستر گرم تھا ، زنجیر ہل رہی تھی اور وضو کا پانی بہہ رہا تھا ، جب کہ حضرت جبرئیل امین اور دیگر فرشتے جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے خادم ہیں ، وہ ساتوں آسمانوں سے آن کے آن میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ، تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم تو باعث تخلیق کون و مکاں ہیں اور آپ کے زیرحکم اور خادم مسخر ہیں ، آپ کےلیے کیا استحالہ ہو سکتا ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو حظیرہ قدسیہ میں پہنچ کر بھی امت کی فکر تھی ۔ رب العزت کی طرف سے مراحم خسروانہ سے سرفرازی کی گئی کہ نماز کا تحفہ ، سورۂ بقرہ کی آخری آیتوں کے ذریعہ کبائر کی مغفرت کا وعدہ اور بشرت عظمیٰ اور ہمیشہ انابت الی اللہ کی فکر کرنے سے ترقی مدارج اور امت کو معراج کی راہ بتائی گئی ’’ الصلوٰۃ معراج المؤمنین ‘‘ ۔
معراج مبارک کا ثبوت قرآن مجید کے سورہ بنی اسرائیل میں زمینی سیر بیت المقدس تک اور سورہ نجم میں معراج سماوات اور سیر ملکوتی اور مقام دنیٰ و تدلی میں لقاء کا ذکر موجود ہے ، اور احادیث شریفہ میں کئی صحابہ کرام سے معراج شریف کی روایت موجود ہے ۔ بیت المقدس تک سیر کا اگر کوئی انکار کرتا ہے ، تو کافر ہوجائے گا اور آسمانی سفر کا انکار کرنا گمراہی ، بدعت اور بے دینی ہے ۔
معراج شریف کا آغاز حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان سے ہوا اور اس کی انتہاء مقام دنی و تدلی پر ہوئی اور اس پورے سفر میں تین سواریوں کے ذریعہ دس بلندیاں طے کی گئیں ۔ براق پر بیت المقدس تک ، برق کے ساتھ نورانی سیڑھی پر سدرہ تک اور رف رف پر مقام قاب قوسین تک ۔ بعض نے پانچ سواریوں کا ذکر کیا ہے یعنی براق پر بیت المقدس تک ، نورانی سیڑھی سے آسمان دنیا تک ، فرشتوں کے بازوؤں کے ذریعہ ساتویں آسمان تک ، جبرئیل علیہ السلام کے بازو کے ذریعہ سدرہ تک اور رف رف سے مقام قوسین تک ۔ اس سفر میں مراقی عشر یعنی دس بلندیاں طے فرمائیں اور اس سے آگے تشریف لے گئے ۔ ایک تا سات حطیم کعبہ سے ساتویں آسمان تک (۸) سدرۃ المنتہی (۹) مستوی (صریف الاقلام) (۱۰) عرش اعظم ۔ (روح المعانی) سفر کا آغاز حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان سے ہوا ۔ رات میں جب کہ ساری دنیا محو خواب تھی ، حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان کی چھت کھلی اور حضرات جبرئیل امین ، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام آئے ۔ چھت کے ذریعہ آنے میں یہ اشارہ تھا کہ آپ کو اوپر تشریف لے جانا ہے اور شق صدر ہوگا اور یہ سفر خارق عادات ہے ، مناجات ہے اور فوری روانگی ہے ۔ آپ کو حطیم کعبہ میں لایا گیا اور چاہ زم زم کے پاس آپ کا سینہ انور کو چاک کرکے ، قلب مبارک کو سونے کے طشت میں رکھ کر آب زم زم سے دھو کر ایمان و حکمت اور نور سے بھر دیا گیا اور پھر سینہ مبارک کو برابر کردیا گیا ۔ آپ کا سینہ مبارک طفولیت سے معراج مبارک تک چار مرتبہ چاک کیا گیا اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ پانچ مرتبہ چاک کیا گیا ۔ براق لایا گیا تھا ، اس پر آپ سوار ہوئے ۔ برقا نے شوخی کی اور اس کا شوخی کرنا حضور سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سواری کے شرف پانے پر ناز اور فخر کی وجہ سے تھا ، قیامت کے دن آپ کے شرف رکوب کا وعدہ حاصل کرنے کی غرض سے اس کی اور بھی وجوہ بیان کی گئی ہیں ۔ براہ مدینہ طیبہ و طور سینا آپ بیت المقدس پہنچے اور براق کو ایک پتھر کے قلابہ سے باندھ دیا گیا ۔ تمام انبیاء علیہم السلام اور فرشتے جمع تھے ، آپ نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سب نے آپ کی اقتداء کی ۔ بعض کہتے ہیں کہ آپ نے بوقت واپسی امامت فرمائی ، اس میں تطبیق دی جاسکتی ہے کہ بوقت واپسی بھی امامت فرمائی اور یہ فجر کی نماز تھی ۔پھر دودھ اور شراب کے پیالے پیش کیے گئے ، آپ نے دودھ کو اختیار فرمایا ۔ اب بیت المقدس سے آسمانوں کا سفر شروع ہوا ، بیت المقدس تک کے سفر کو ’’ اسراء ‘‘ کہتے ہیں ، جس کی منجملہ حکمتوں کے یہ ہے کہ وہ محشر ہے سرزمین محشر کو آپ کا قدومِ میمنت لزوم سے شرف بخشنا ۔ بتدریج حظیرہ قدس میں پہنچنا ۔ آپ کے آسمانوں پر عروج کےلیے خصوصی دروازہ بیت المقدس کے محاذی بنایا گیا ، اس لئے بھی بیت المقدس تک تشریف لے گئے ۔ کثرت سے انبیاء علیہم السلام کا مسکن رہا ہے ، آپ کی تشریف آوری سے نزول برکات کی تکمیل کرنا۔ عرب کا بیت المقدس آنا جانا تھا ، اس کی تمام تفصیلات سے وہ واقف تھے ۔ بیت المقدس کی راہ سے اوپر جانا لوگوں کو ایمان لانے کےلیے بطور تمہید و ایقان کےلیے تھا ۔
بیت المقدس سے آسمانوں کا سفر شروع ہوا ، آپ کےلیے نور کی خصوصی سیڑھی رکھی گئی ، انبیاء علیہم السلام استقبال کے لئے اپنے اپنے مراتب کے اعتبار سے آسمانوں پر پہنچ گئے اور انبیاء علیہم السلام کی روانگی محققین کے پاس اپنے اجساد بدنیہ کے ساتھ ہوئی ۔ تمام آسمانوں اور ملاء اعلیٰ پر ہر طر فآپ کی آمد کا اعلان ہو چکا تھا اور سب آپ کے انتظار میں تھے ۔ انبیاء علیہم السلام اور تمام فرشتے اپنے اپنے مراتب کے اعتبار سے استقبال کےلیے مختلف آسمانوں پر کھڑے تھے ۔ ہر آسمان پر آپ کے استقبال کےلیے دروازہ کھولے جانے سے پہلے آداب استقبال کے مطابق دربانوں نے آپ کی تشریف آوری کے بارے میں سوالات کئے اور یہ اس لئے بھی کہ یہ دروازے صرف حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے لئے تھے ، لیکن آپ کے ہمرکاب حضرت جبرئیل امین تھے اور وہ دروازہ کھلوا رہے تھے ۔
آسمان اول پر حضرت آدم علیہ السلام ، آسمان دوم پر حضرت یحیی و عیسی علیہما السلام ، سوم پر حضرت یوسف علیہ السلام ، چہارم پر حضرت ادریس علیہ السلام ، پنجم پر حضرت ہارون علیہ السلام ، ششم پر حضرت موسمی علیہ السلام اور ہفتم پر حضرت ابراہیم علیہ السلام استقبال کے لئے منتظر تھے ۔ ہر پیغمبر علیہ السلام نے سلام اور تحیت کے بعد مرحبا فرماکر استقبال کیا ۔ حضرت آدم اور ابراہیم علیہا السلام نے مرحبان بابن الصالح اور دیگر تمام پیغمبروں نے مرحبا بالاخ الصالح فرمایا ۔ صالح سے مراد رب کے مظہر اتم اور رویت باری تعالیٰ و نیز شفاعت کبریٰ کی صلاحیت والی عظیم ہستی مراد ہے ۔ بعض پیغمبروں کا ایک زائد آسمانوں پر ہونا معلوم ہوتا ہے ، وہ اس لئے کہ وہ بعد استقبال دوسرے آسمان پر بھی پہنچ گئے تھے اور آپ بیت المعمور تشریف لے گئے ، جس کا ہر روز نئے ستر (۷۰) ہزار فرشتے طواف کرتے ہیں ، آپ نے وہاں بھی امامت فرمائی ۔ پھر سدرۃ المنتہی تشریف لے گئے ، یہ مقام اس کے اوپر والوں کے لئے اور اس کے نیچے والوں کےلیے حد فاصل ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ کی تجلیات اس قدر چھائی ہوئی تھی کہ اس کے انوار و کیفیات بیان سے باہر ہیں ۔ حضرت جبرئیل امین فرمائے کہ یہاں سے ایک پور بھی میں آگے بڑھوں گا ، تو میرے پر چل جائیں گے ۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بہ نفس نفیس اوپر تشریف لے جاتے ہیں، پھر مقام مستوری پہنچے اور تمام عوام کا مشاہدہ فرمایا اور تدبیرات عوالم سارے دکھائے گئے اور عوالم کے تقدیرات لکھنے والے قلموں کی آواز سنی ۔ تمام مراتب اعلیٰ پر عروج پر ترقی کے بعد ، قرب خداوندی کی طرف سفر شروع ہوا ، اس سے اوپر عرش معلیٰ ، مقام قاب و قوسین اور دنی و تدلی تک پہنچے ، جہاں کوئی مقرب فرشتہ بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی اور رویت باری تعالیٰ کا شرف عطا ہوا ، آپ کے سواء کسی کو اس دنیا کی زندگی میں رویت کا شرف حاصل نہیں ہوا ۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ روایت باری تعالیٰ کا ثبوت نہیں ہے ، ان کا مطلب احاطہ کا انکار ہوسکتا ہے ، کیونکہ ذات خداوندی کا احاطہ نہیں ہو سکتا ، اس سے روایتوں میں کوئی اشکال باقی نہیں رہتا ۔
بارگاہ احدیت میں پہنچ کر آپ کی نگاہ ہٹی نہیں اور آداب کے زینہ سے تجاوز بھی نہیں کی ۔ آپ نے آداب کا تحیہ پیش کیا اور ’’ التحیات ﷲ والصلوات والطیبات ‘‘ کے ذریعہ حمد و ثناء فرمائی ۔ جواب میں رب العزت کا ارشاد ہوا ’’ السلام علیک ایھا النبی و رحمة ﷲ و برکاتہ ‘‘ ۔ پھر اس پر حضور علیہ السلام نے ’’ السلام علینا وعلی عبادﷲ الصالحین ‘‘ کے ذریعہ ساری امت اور فرشتوں کو اس سلامتی میں شامل فرمایا ، تو فرشتوں نے ’’ اشہدان لا الہ الاﷲ واشہدان محمدا عبدہ و رسولہ ‘‘ کے ذریعہ آپ کی جناب اقدس میں ہدیہ تشکر پیش کیا اور اسی ’’ التحیات ‘‘ کو نماز میں شامل کر دیا گیا ۔ اس میں اب یہ بحث ہے کہ نماز میں تحیہ و سلام بطور حکایت ہے ، یا انشاء درحقیقت یہ انشاء ہے ، اس میں کوئی استحالہ نہیں ہے ۔
رب تعالیٰ اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں مناجات ہوتی رہی (فاوحی الی عبدہ ما اوحی) اور امت کےلیے ۵۰ نمازوں کا اعلان کیا گیا ۔ اس موقع پر نماز کی فرضیت سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نماز مسلمانوں کےلیے معراج ہے ۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تخفیف کےلیے خواہش کی ، تو آپ نو مرتبہ بہ نفس نفیس تشریف لے گئے ۔ ہر بار پانچ پانچ نمازیں تخفیف ہوتی گئیں اور صرف پانچ نمازیں قائم رہیں ، جن کو پچاس کے برابر قرار دیا گیا۔ اس میں حضرت موسی علیہ السلام دیدار الہٰی کے انوار کا بار بار مشاہدہ کرتے رہے ۔ دنیا میں انہوں نے درخواست کی تھی کہ ’’ رب ارنی انظر الیک ‘‘ اور یہ ان کی بڑی تمنا تھی ، لیکن ’’ لن ترانی ‘‘ آپ کو جواب ملا ، وہی موسی علیہ السلام آپ میں دیدار الہٰی کے انوار کا بار بار مشاہدہ کرتے رہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس سفر عروج اور سیر ملکوتی میں آیات کبریٰ اور جنت و دوزخ ، حوض کوثر اور سدرہ سے نکلنے والی چار نہریں جو دنیا میں آرہی ہیں ’’ نیل ، فرات ، سیحان ، جیجان ‘‘ اور تمام عوالم کا مشاہدہ فرمایا ۔ معراج سے واپسی اسی راستے سے ہوئی اور بیت المقدس سے مکہ معظمہ کےلیے روانہ ہوئے ۔ راستہ میں قریش کے قافلے ملے ، جو مکہ معظمہ کو آرہے تھے ، سواری براق جب وہاں سے گذری ، تو اس کی تیز رفتاری سے قافلہ کے اونٹ منتشر ہوگئے اور ایک قافلہ کا اونٹ بدک کر گر پڑا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی ۔ ایک قافلہ کا اونٹ گم ہوگیا تھا ، تلاش کرکے اس کو لایا گیا ۔ آپ صبح سے پہلے مکہ معظمہ پہنچ گئے اور صبح میں آپ نے اہل مکہ کو اپنے سفر معراج کی خبر دی اور مقام روحاء میں قافلوں کے پاس سے گذرنے اور ان کے واقعات کی خبر دی اور فرمایا کہ یہ قافلے چہارشنبہ کی شام تک پہنچ جائیں گے ۔ اہل مکہ نے اس بات کا مذاق اڑایا ، مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فوراً تصدیق کی اور تمام مسلمانوں نے بھی تصدیق کی ۔ کفار اس واقعہ کی صداقت جاننے کی غرض سے بیت المقدس کے حالات اور اس کے ستون دریافت کرتے گئے اور آپ نے تمام سوالوں کے جوابات پوری تفصیل سے بیان کردیئے ۔ چہارشنبہ کا دن گذر رہا تھا ، مگر قافلے ابھی تک نہیں پہنچے تھے ، آپ نے سورج کو رک جانے کا حکم دیا ، جس کو ’’ حبس شمس ‘‘ کہتے ہیں اور مغرب سے پہلے پہلے قافلے پہنچ گئے اور ہر بات آپ کی صحیح ثابت ہوئی ۔
واقعہ معراج اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ چشم زدن میں عالم بالا کا نقشہ بدل گیا ۔ حکم ربی ہوا : اے جبرائیل ! اپنے ساتھ ستر ہزار فرشتے لے جاؤ ۔ حکم الہٰی سن کر جبریل امین علیہ السلام سواری لینے جنت میں جاتے ہیں اور آپ نے ایسی سواری کا انتخاب کیا جو آج تک کسی شہنشاہ کو بھی میسر نہ ہوئی ہوگی ۔ میسر ہونا تو دور کی بات ہے دیکھی تک نہ ہوگی ۔ اس سواری کا نام براق ہے ۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے براق پر کوئی سوار نہیں ہوا ۔ ماہ رجب کی ستائیسویں شب کس قدر پرکیف رات ہے مطلع بالکل صاف ہے فضاؤں میں عجیب سی کیفیت طاری ہے ۔ رات آہستہ آہستہ کیف و نشاط کی مستی میں مست ہوتی جارہی ہے ۔ ستارے پوری آب و تاب کے ساتھ جھلملا رہے ہیں ۔ پوری دنیا پر سکوت و خاموشی کا عالم طاری ہے ۔ نصف شب گزرنے کو ہے کہ یکا یک آسمانی دنیا کا دروازہ کھلتا ہے ۔ انوار و تجلیات کے جلوے سمیٹے حضرت جبرائیل علیہ السلام نورانی مخلوق کے جھرمٹ میں جنتی براق لیے آسمان کی بلندیوں سے اتر کر حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لاتے ہیں ۔ جہاں ماہ نبوت حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم محو خواب ہیں ۔ آنکھیں بند کیے ، دل بیدار لیے آرام فرمارہے ہیں ۔ حضرت جبرائیل امین ہاتھ باندھ کر کھڑے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ اگر آواز دے کر جگایا گیا تو بے ادبی ہو جائے گی ۔ فکر مند ہیں کہ معراج کے دولہا کو کیسے بیدار کیا جائے ؟ اسی وقت حکم ربی ہوتا ہے یاجبریل قبل قدمیہ اے جبریل ! میرے محبوب کے قدموں کو چوم لے تاکہ تیرے لبوں کی ٹھنڈک سے میرے محبوب کی آنکھ کھل جائے ۔ اسی دن کے واسطے میں نے تجھے کافور سے پیدا کیا تھا ۔ حکم سنتے ہی جبرائیل امین علیہ السلام آگے بڑھے اور اپنے کافوری ہونٹ محبوب دو عالم حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پائے ناز سے مس کر دیے ۔ یہ منظر بھی کس قدر حسین ہو گا جب جبریل امین علیہ السلام نے فخر کائنات حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کو بوسہ دیا ۔ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کے ہونٹوں کی ٹھنڈک پاکر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوتے ہیں اور دریافت کرتے ہیں اے جبرائیل ! کیسے آنا ہوا ؟ عرض کرتے ہیں : یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے بلاوے کا پروانہ لے کر حاضر ہوا ہوں ۔ ان الله اشتاق الی لقائک يارسول الله.یارسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ تعالیٰ آپ کی ملاقات کا مشتاق ہے ۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے چلیے زمین سے لے کر آسمانوں تک ساری گزر گاہوں پر مشتاق دید کا ہجوم ہاتھ باندھے کھڑا ہے ۔ (معارج النبوۃ)
چنانچہ آپ نے سفر کی تیاری شروع کی۔ اس موقع پر حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے آپ کا سینہ مبارک چاک کیا اور دل کو دھویا۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ میرے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے میرا سینہ چاک کیا۔ سینہ چاک کرنے کے بعد میرا دل نکالا پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان و حکمت سے لبریز تھا۔ اس کے بعد میرے دل کو دھویا گیا پھر وہ ایمان و حکمت سے لبریز ہوگیا۔ اس قلب کو سینہ اقدس میں اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا۔(بخاری شريف جلد اول صفحہ نمبر 568،چشتتی)
مسلم شریف میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سینہ چاک کرنے کے بعد قلب مبارک کو زم زم کے پانی سے دھویا اور سینہ مبارک میں رکھ کر سینہ بند کردیا۔(مسلم شربف جلد اول صفحة: 92)
حضرت جبرائیل علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قلب ہر قسم کی کجی سے پاک اور بے عیب ہے اور اس میں دو آنکھیں ہیں جو دیکھتی ہیں اور دو کان ہیں جو سنتے ہیں۔(فتح الباری جلد: 13: صفحة: 610)
سینہ اقدس کے شق کئے جانے میں کئی حکمتیں ہیں۔ جن میں ایک حکمت یہ ہے کہ قلب اطہر میں ایسی قوت قدسیہ شامل ہوجائے جس سے آسمانوں پر تشریف لے جانے اور عالم سماوات کا مشاہدہ کرنے بالخصوص دیدار الہٰی کرنے میں کوئی دقت اور دشواری پیش نہ آئے۔ پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر انور پر عمامہ باندھا گیا۔ علامہ کاشفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: شب معراج حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو عمامہ شریف پہنایا گیا وہ عمامہ مبارک حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے سات ہزار سال پہلے کا تیار کیا ہوا تھا۔ چالیس ہزار ملائکہ اس کی تعظیم و تکریم کے لئے اس کے اردگرد کھڑے تھے۔
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سرور کونین حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نور کی ایک چادر پہنائی۔ زمرد کی نعلین مبارک پاؤں میں زیب تن فرمائی، یاقوت کا کمر بند باندھا۔(معارج النبوة، صفحة: 601،چشتی)
حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے براق کا حلیہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: سینہ سرخ یاقوت کی مانند چمک رہا تھا، اس کی پشت پر بجلی کوندتی تھی، ٹانگیں سبز زمرد، دُم مرجان، سر اور اس کی گردن یاقوت سے بنائی گئی تھی۔ بہشتی زین اس پر کسی ہوئی تھی جس کے ساتھ سرخ یاقوت کے دور کاب آویزاں تھے۔ اس کی پیشانی پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا۔
چند لمحوں کے بعد وہ وقت بھی آگیا کہ سرور کونین حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم براق پر تشریف فرما ہوگئے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رکاب تھام لی۔ حضرت میکائیل علیہ السلام نے لگام پکڑی۔ حضرت اسرافیل علیہ السلام نے زین کو سنبھالا۔ حضرت امام کاشفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ معراج کی رات اسی ہزار فرشتے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں طرف اور اسی ہزار بائیں طرف تھے۔(معارج النبوة صفحہ 606)
فضا فرشتوں کی درود و سلام کی صداؤں سے گونج اٹھی اور آقائے نامدار حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم درود و سلام کی گونج میں سفر معراج کا آغاز فرماتے ہیں۔ اس واقعہ کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے:
سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰـرَکْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ اٰيٰـتِنَا.
ترجمہ : وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندہِ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں ۔ (بنی اسرائيل،17: 1)
آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نہایت شان و شوکت سے ملائکہ کے جلوس میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ یہ گھڑی کس قدر دلنواز تھی کہ جب مکاں سے لامکاں تک نور ہی نور پھیلا ہوا تھا، سواری بھی نور تو سوار بھی نور، باراتی بھی نور تو دولہا بھی نور، میزبان بھی نور تو مہمان بھی نور، نوریوں کی یہ نوری بارات فلک بوس پہاڑیوں، بے آب و گیاہ ریگستانوں، گھنے جنگلوں، چٹیل میدانوں، سرسبز و شاداب وادیوں، پرخطر ویرانوں پر سے سفر کرتی ہوئی وادی بطحا میں پہنچی جہاں کھجور کے بیشمار درخت ہیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام عرض کرتے ہیں کہ حضور یہاں اتر کر دو رکعت نفل ادا کیجئے یہ آپ کی ہجرت گاہ مدینہ طیبہ ہے۔ نفل کی ادائیگی کے بعد پھر سفر شروع ہوتا ہے۔ راستے میں ایک سرخ ٹیلا آتا ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ معراج کی رات میں سرخ ٹیلے سے گزرا تو میں نے دیکھا کہ وہاں موسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے اور وہ اپنی قبر میں کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے ہیں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے بیت المقدس بھی آگیا جہاں قدسیوں کا جم غفیر سلامی کے لئے موجود ہے۔ حوروغلماں خوش آمدید کہنے کے لئے اور تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و مرسلین استقبال کے لئے بے چین و بے قرار کھڑے تھے۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مقام پر تشریف فرماہوئے جسے باب محمد (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہا جاتا ہے ۔ حضرت جبریل علیہ السلام ایک پتھر کے پاس آئے جو اس جگہ موجود تھا ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس پتھر میں اپنی انگلی مار کر اس میں سوراخ کردیا اور براق کو اس میں باندھ دیا۔(تفسير ابن کثير جلد3، ص7،چشتی)
آفتاب نبوت حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد اقصیٰ میں داخل ہوتے ہیں۔ صحن حرم سے فلک تک نور ہی نور چھایا ہوا ہے۔ ستارے ماند پڑچکے ہیں، قدسی سلامی دے رہے ہیں، حضرت جبرائیل علیہ السلام اذان دے رہے ہیں، تمام انبیاء و رسل صف در صف کھڑے ہورہے ہیں۔ جب صفیں بن چکیں تو امام الانبیاء فخر دوجہاں حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم امامت فرمانے تشریف لاتے ہیں۔ تمام انبیاء و رسل امام الانبیاء کی اقتداء میں دو رکعت نماز ادا کرکے اپنی نیاز مندی کا اعلان کرتے ہیں۔ ملائکہ اور انبیاء کرام سب کے سب سرتسلیم خم کیے ہوئے کھڑے ہیں۔ بیت المقدس نے آج تک ایسا دلنواز منظر اور روح پرور سماں نہیں دیکھا ہوگا۔ وہاں سے فارغ ہی عظمت و رفعت کے پرچم پھر بلند ہونے شروع ہوتے ہیں۔ درود و سلام سے فضا ایک مرتبہ پھر گونج اٹھتی ہے۔ سرور کونین حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نوری مخلوق کے جھرمٹ میں آسمان کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۔
حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : ثم عرج بی پھر مجھے اوپر لے جایا گیا۔ براق کی رفتار کا عالم یہ تھا کہ جہاں نگاہ کی انتہاء ہوتی وہاں براق پہلا قدم رکھتا۔ فوراً ہی پہلا آسمان آگیا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ دربان نے پوچھا کون ہے؟ جواب دیا جبرائیل ! دربان نے پوچھا، من معک تمہارے ساتھ کون ہے ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا حضرت محمد (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! دربان نے کہا: مرحبا دروازے انہی کے لیے کھولے جائیں گے۔ چنانچہ دروازہ کھول دیا گیا۔ آسمان اول پر حضرت آدم علیہ السلام نے حضور سرور کونین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوش آمدید کہا۔ دوسرے آسمان پر پہنچے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوش آمدید کہا۔ تیسرے آسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام نے، چوتھے آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے، پانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام نے، چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سرور کونین حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال کیا اور خوش آمدید کہا۔ پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنت کی سیر کرائی گئی۔ پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مقام پر پہنچے جہاں قلم قدرت کے چلنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ اس کے بعد پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سدرۃ المنتہٰی تک پہنچے۔ سدرہ وہ مقام ہے جہاں مخلوق کے علوم کی انتہاء ہے۔ فرشتوں نے اذن طلب کیا کہ اے اللہ تیرے محبوب تشریف لارہے ہیں، ان کے دیدار کی ہمیں اجازت عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تمام فرشتے سدرۃ المنتہٰی پر جمع ہوجائیں اور جب میرے محبوب کی سواری آئے تو سب زیارت کرلیں۔ چنانچہ ملائکہ سدرہ پر جمع ہوگئے اور جمال محمد ( صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھنے کے لئے سدرہ کو ڈھانک لیا۔(درمنشور، جلد6، ص126)
اس مقام پر حضرت جبرائیل علیہ السلام رک گئے اور عرض کرنے لگے: یارسول اللہ ( صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم)! ہم سب کے لئے ایک جگہ مقرر ہے۔ اب اگر میں ایک بال بھی آگے بڑھوں گا تو اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات میرے پروں کو جلاکر رکھ دیں گے۔ یہ میرے مقام کی انتہاء ہے۔ سبحان اللہ! حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفعت و عظمت کا اندازہ لگایئے کہ جہاں شہباز سدرہ کے بازو تھک جائیں اور روح الامین کی حد ختم ہوجائے وہاں حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرواز شروع ہوتی ہے۔ اس موقع پر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں، اے جبرائیل کوئی حاجت ہو تو بتاؤ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی حضور( صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ مانگتا ہوں کہ قیامت کے دن پل صراط پر آپ کی امت کے لئے بازو پھیلاسکوں تاکہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ایک غلام آسانی کے ساتھ پل صراط سے گزر جائے۔(تفسیر روح البيان جلد پنجم صفحہ نمبر 221،چشتی)
حضور تاجدار انبیاء صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم جبرائیل امین کو چھوڑ کر تنہا انوار و تجلیات کی منازل طے کرتے گئے۔ مواہب الدنیہ میں ہے کہ جب حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم عرش کے قریب پہنچے تو آگے حجابات ہی حجابات تھے تمام پردے اٹھادیئے گئے۔ اس واقعہ کو قرآن مجید اس طرح بیان فرماتا ہے : فَاسْتَوٰیo وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعَلٰیo ۔ (النجم: 6، 7)
ترجمہ : پھر اُس (جلوہِ حُسن) نے (اپنے) ظہور کا ارادہ فرمایا۔ اور وہ (محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم شبِ معراج عالمِ مکاں کے) سب سے اونچے کنارے پر تھے (یعنی عالَمِ خلق کی انتہاء پر تھے) ۔
اس آیت کی تفسیر میں مفسر قرآن حضرت امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سرور دو عالم حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم شب معراج آسمان بریں کے بلند کناروں پر پہنچے تو تجلی الہٰی متوجہ نمائش ہوئی۔ صاحب تفسیر روح البیان نے فرمایا کہ فاستوی کے معنی یہ ہیں کہ حضور سید عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے افق اعلیٰ یعنی آسمانوں کے اوپر جلوہ فرمایا۔
پھر وہ مبارک گھڑی بھی آگئی کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم حریم الہٰی میں پہنچے اور اپنے سر کی آنکھوں سے عین عالم بیداری میں اللہ تعالیٰ کی زیارت کی۔ قرآن مجید محبوب و محب کی اس ملاقات کا منظر ان دلکش الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے:ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰیo فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰیo ۔ (النجم:8، 9)
ترجمہ : پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔ پھر (جلوۂِ حق اور حبیبِ مکرّم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میںصِرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہوگیا)‘‘۔
صاحب روح البیان فرماتے ہیں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے قرب سے مشرف ہوئے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو اپنے قرب سے نوازا۔ (تفسیر روح البیان)
جب حضور سرور کونین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بارگاہ الہٰی میں پہنچے تو ارشاد فرمایا:فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِهِ مَآ اَوْحٰی.(النجم: 10)
ترجمہ : پس (اُس خاص مقامِ قُرب و وصال پر) اُس (ﷲ) نے اپنے عبدِ (محبوب) کی طرف وحی فرمائی جو (بھی) وحی فرمائی‘‘۔
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ وحی اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنے محبوب کو ارشاد فرمائی درمیان میں کوئی وسیلہ نہ تھا۔ پھر رازو نیاز کی گفتگو ہوئی۔ اسرار و رموز سے آگاہی فرمائی جسے اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے پوشیدہ رکھا۔ اس گفتگو کا علم اللہ تعالیٰ اور حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی . (النجم: 11)
ترجمہ : (اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں حضور سرور کونین حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب انور کی عظمت کا بیان ہے کہ شب معراج آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقدس آنکھوں نے انوار و تجلیات اور برکات الہٰی دیکھے حتی کہ اللہ تعالیٰ کے دیدار پر انوار سے مشرف ہوئے تو آنکھ نے جو دیکھا دل نے اس کی تصدیق کی یعنی آنکھ سے دیکھا اور دل نے گواہی دی اور اس دیکھنے میں شک و تردد اور وہم نے راہ نہ پائی۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اپنے محبوب کی آنکھوں کا ذکر فرماتا ہے:مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی.(النجم:17)
ترجمہ : اُن کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی (جس کو تکنا تھا اسی پر جمی رہی) ۔
اس آیت کریمہ میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقدس آنکھوں کا ذکر ہے کہ جب آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم شب معراج کی رات اس مقام پر پہنچے جہاں سب کی عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں وہاں آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم دیدار الہٰی سے مشرف ہوئے تو اس موقع پر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دائیں بائیں کہیں بھی نہیں دیکھا۔ نہ آپ کی آنکھیں بہکیں بلکہ خالق کائنات کے جلوؤں میں گم تھی۔ واقعہ معراج کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مزید ارشاد فرماتا ہے : لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰ يٰتِ رَبِّهِ الْکُبْرٰی ۔ (سورہ النجم: 18)
ترجمہ : بے شک انہوں نے (معراج کی شب) اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں ۔
اس آیت مقدسہ میں بتایا گیا ہے کہ معراج کی رات حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقدس آنکھوں نے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیاں ملک و ملکوت کے عجائب کو ملاحظہ فرمایا اور تمام معلومات غیبیہ کا آپ کو علم حاصل ہوگیا۔(روح البيان)
رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رايت ربی فی احسن صورة فوضع کفه بين کتفی فوجدت بردها ۔
ترجمہ : میں نے اپنے رب کو حسین صورت میں دیکھا پھر اس نے میرے دونوں کندھوں کے درمیان اپنا ید قدرت رکھا اس سے میں نے اپنے سینہ میں ٹھنڈک پائی اور زمین و آسمان کی ہر چیز کو جان لیا ۔ (مشکوٰة شريف صفحہ نمبر 28،چشتی)
ایک موقع پر مزید ارشاد نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتا ہے : رايت ربی بعينی وقلبی ۔
ترجمہ : میں نے اپنے رب کو اپنی آنکھ اور اپنے دل سے دیکھا ۔ (مسلم شريف)
دیدار الہٰی کا ذکر ایک اور حدیث میں اس طرح فرمایا : فخاطبنی ربی ورايتة بعينی بصری فاوحی.
ترجمہ : میرے رب نے مجھ سے کلام فرمایا اور میں نے اپنے پروردگار کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا اور اس نے میری طرف وحی فرمائی۔(تفسیر صاوی صفحہ نمبر 328،چشتی)
حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شب معراج حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سر کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی ذات کا مشاہدہ فرمایا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل، موسیٰ علیہ السلام کو کلام اور حضرت سیدالمرسلین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دیدار کا اعزاز بخشا۔ حضرت امام احمد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قائل ہوں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہ قسم کھاتے ہیں کہ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔
فخر دو عالم حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شب معراج اللہ تعالیٰ نے تین تحفے عطا فرمائے۔ پہلا سورہ بقرہ کی آخری تین آیتیں۔ جن میں اسلامی عقائد ایمان کی تکمیل اور مصیبتوں کے ختم ہونے کی خوشخبری دی گئی ہے۔ دوسر اتحفہ یہ دیا گیا کہ امت محمدیہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں جو شرک نہ کرے گا وہ ضرور بخشا جائے گا۔ تیسرا تحفہ یہ کہ امت پر پچاس نمازیں فرض ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان تینوں انعامات و تحائف کو لے کر اور جلوہ الہیٰ سے سرفراز ہوکر عرش و کرسی، لوح و قلم، جنت و دوزخ، عجائب و غرائب، اسرار و رموز کی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ فرمانے کے بعد جب پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم واپسی کے لئے روانہ ہوئے تو چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا، کیا عطا ہوا؟ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت پر پچاس نمازوں کی فرضیت کا ذکر فرمایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے اپنی قوم (بنی اسرائیل) پر خوب تجربہ کیا ہے۔ آپ کی امت یہ بار نہ اٹھاسکے گی۔ آپ واپس جایئے اور نماز میں کمی کرایئے۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر تشریف لے گئے اور دس نمازیں کم کرالیں۔ پھر ملاقات ہوئی اور موسیٰ علیہ السلام نے پھر کم کرانے کے لئے کہا۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر بارگاہ الہٰی میں پہنچے دس نمازیں کم کرالیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشوروں سے بار بار مہمان عرش نے بارگاہ رب العرش میں نماز میں کمی کی التجا کی کم ہوتے ہوتے پانچ وقت کی نماز رہ گئی اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اے محبوب! ہم اپنی بات بدلتے نہیں اگرچہ نمازیں تعداد میں پانچ وقت کی ہیں مگر ان کا ثواب دس گنا دیا جائے گا۔ میں آپ کی امت کو پانچ وقت کی نماز پر پچاس وقت کی نمازوں کا ثواب دوں گا ۔
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم براق پر سوار ہوئے اور رات کی تاریکی میں مکہ معظمہ واپس تشریف لائے۔(تفسير ابن کثير، جلد سوئم صفحه: 32،چشتی)
اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ یہ ساری کائنات جو کہ کارخانہ قدرت ہے اور اس کارخانہ عالم کا مالک حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر کو اپنی قدرت کی نشانیاں دکھانے کے لئے بلوایا تو اس میں کتنا وقت لگا، اس کا اندازہ ہم نہیں لگاسکتے۔ اللہ تعالیٰ جو ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے اس رب کائنات نے اس کارخانہ عالم کو یکدم بند کردیا سوائے اپنے محبوب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان چیزوں کے جنہیں حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متحرک پایا۔ باقی تمام کائنات کو ٹھہرادیا، چاند اپنی جگہ ٹھہر گیا، سورج اپنی جگہ رک گیا، حرارت اور ٹھنڈک اپنی جگہ ٹھہر گئی، حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر مبارک کی حرارت اپنی جگہ قائم رہی، حجرہ مبارک کی زنجیر ہلتے ہوئے جس جگہ پہنچی تھی وہیں رک گئی، جو سویا تھا سوتا رہ گیا جو بیٹھا تھا بیٹھا رہ گیا غرض یہ کہ زمانے کی حرکت بند ہوگئی۔
جب سرکار دو عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم راتوں رات ایک طویل سفر کرکے زمین پر تشریف لائے تو کارخانہ عالم بحکم الہٰی پھر چلنے لگا۔ ہر شے از سر نو مراحل کو طے کرنے لگی، چاند سورج اپنی منازل طے کرنے لگے، حرارت و ٹھنڈک اپنے درجات طے کرنے لگی۔ غرض یہ کہ جو جو چیزیں سکون میں آگئی تھیں مائل بہ حرکت ہونے لگیں۔ بستر مبارک کی حرارت اپنے درجات طے کرنے لگی۔ حجرہ مبارک کی زنجیر ہلنے لگی۔ کائنات میں نہ کوئی تغیر آیا اور نہ ہی کسی کو احساس تک ہوا۔(روح البيان، جلد5، صفحه، 125)
حضور سرور کونین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح ہوتے ہی اس واقعہ کا ذکر اپنی چچا زاد بہن ام ہانی سے فرمایا۔ انہوں نے عرض کی قریش سے اس کا تذکرہ نہ کیا جائے لوگ انکار کریں گے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں حق بات ضرور کروں گا میرا رب سچا ہے اور جو کچھ میں نے دیکھا وہی سچ ہے۔ صبح ہوئی تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم خانہ کعبہ میں تشریف لائے۔ خانہ کعبہ کے آس پاس قریش کے بڑے بڑے رؤساء جمع تھے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام حجر میں بیٹھ گئے اور لوگوں کو مخاطب کرکے واقعہ معراج بیان فرمایا۔ مخبر صادق حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تذکرہ کو سن کر کفارو مشرکین ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے۔ ابوجہل بولا، کیا یہ بات آپ پوری قوم کے سامنے کہنے کے لئے تیار ہیں؟ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک۔ ابوجہل نے کفار مکہ کو بلایا اور جب تمام قبائل جمع ہوگئے تو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سارا واقعہ بیان فرمایا۔ کفار واقعہ سن کر تالیاں بجانے لگے اور اللہ تعالیٰ کے محبوب کا مذاق اڑانے لگے۔ ان قبائل میں شام کے تاجر بھی تھے انہوں نے بیت المقدس کو کئی بار دیکھا تھا۔ انہوں نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا، ہمیں معلوم ہے کہ آپ آج تک بیت المقدس نہیں گئے۔ بتایئے! اس کے ستون اور دروازے کتنے ہیں؟ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ یکا یک بیت المقدس کی پوری عمارت میرے سامنے آگئی وہ جو سوال کرتے میں جواب دیتا جاتا تھا مگر پھر بھی انہوں نے اس واقعہ کو سچا نہ مانا۔
جب حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد اقصیٰ کے بارے میں جواب دے چکے تو کفار مکہ حیران ہوکر کہنے لگے مسجد اقصیٰ کا نقشہ تو آپ نے ٹھیک ٹھیک بتادیا لیکن ذرا یہ بتایئے کہ مسجد اقصیٰ جاتے یا آتے ہوئے ہمارا قافلہ آپ کو راستے میں ملا ہے یا نہیں؟ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک قافلہ مقام روحاء پر گزرا، ان کا ایک اونٹ گم ہوگیا تھا۔ وہ لوگ اسے تلاش کررہے تھے اور ان کے پالان میں پانی کا بھرا ہوا ایک پیالہ رکھا ہوا تھا۔ مجھے پیاس لگی تو میں نے پیالہ اٹھا کر اس کا پانی پی لیا۔ پھر اس کی جگہ اس کو ویسے ہی رکھ دیا جیسے وہ رکھا ہوا تھا۔ جب وہ لوگ آئیں تو ان سے دریافت کرنا کہ جب وہ اپنا گم شدہ اونٹ تلاش کرکے پالان کی طرف واپس آئے تو کیا انہوں نے اس پیالہ میں پانی پایا تھا یا نہیں؟ انہوں نے کہا ہاں ٹھیک ہے یہ بہت بڑی نشانی ہے۔ پھر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں فلاں قافلے پر بھی گزرا۔ دو آدمی مقام ذی طویٰ میں ایک اونٹ پر سوار تھے ان کا اونٹ میری وجہ سے بدک کر بھاگا اور وہ دونوں سوار گر پڑے۔ ان میں فلاں شخص کا ہاتھ ٹوٹ گیا۔ جب وہ آئیں تو ان دونوں سے یہ بات پوچھ لینا۔ انہوں نے کہا اچھا یہ دوسری نشانی ہوئی۔(تفسير مظهری)
اہل ایمان نے اس واقعے کی سچائی کو دل سے مانا اور اس کی تصدیق کی مگر ابوجہل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس دوڑا دوڑا گیا اور کہنے لگا: اے ابوبکر! تو نے سنا کہ محمد (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کہتے ہیں۔ کیا یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ رات کو وہ بیت المقدس گئے اور آسمانوں کا سفر طے کرکے آبھی گئے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے اگر میرے آقا(صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو ضرور سچ فرمایا ہے کیونکہ ان کی زبان پر جھوٹ نہیں آسکتا۔ میں اپنے نبی کی سچائی پر ایمان لاتا ہوں۔ کفار بولے۔ ابوبکر تم کھلم کھلا ایسی خلاف عقل بات کیوں صحیح سمجھتے ہو ؟ اس عاشق صادق نے جواب دیا: میں تو اس سے بھی زیادہ خلاف عقل بات پر یقین رکھتا ہوں ۔ (یعنی باری تعالیٰ پر) اسی دن سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دربار نبوت سے صدیق کا لقب ملا ۔
اسراء اور معراج
حضور نبی اکرم نورِ مجسم سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اخصِ خصائص اور اشرفِ فضائل و کمالات اور روشن ترین معجزات و کرامات سے یہ امر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو فضیلت اسراء اور معراج سے وہ خصوصیت و شرافت عطا فرمائی جس کے ساتھ کسی نبی اور رسول کو مشرف و مکرم نہیں فرمایا اور جہاں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو پہنچایا۔ کسی کو وہاں تک پہنچنے کا شرف نہیں بخشا۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۔
ترجمہ : ’’پاک ہے جو لے گیا اپنے (خاص) بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے طرف مسجد اقصیٰ کے جس کے آس پاس ہم نے (بہت) برکت نازل فرمائی۔ تاکہ ہم (اپنے) اس (بندئہ خاص) کو اپنی قدرت کی (خاص) نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہی سننے والا دیکھنے والا ہے ۔‘‘ (بنی اسرائیل: ۱)
اسراء اور معراج میں فرق
اگرچہ عام استعمالات میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس تمام مبارک سیر عروج یعنی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ اور وہاں سے آسمانوں اور لامکان تک تشریف لے جانے کو معراج کہا جاتا ہے۔ لیکن محدثین و مفسرین کی اصطلاح میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک تشریف لے جانا اسراء کہلاتا ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس کو لفظ اسراء سے تعبیر فرمایا ہے اور مسجد اقصیٰ سے آسمانوں کی طرف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عروج فرمانا معراج کہلاتا ہے۔ اس لئے کہ اس کےلیے معراج اور عروج کے الفاظ احادیث صحیحہ میں وارد ہوئے ہیں ۔
اسراء ، معراج اور اعراج
حضرت خواجہ نظام الدین دہلوی رضی اللہ عنہ فارسی میں فرماتے ہیں ۔ جس کا اردو خلاصہ یہ ہے کہ مسجد حرام سے بیت المقدس تک اسراء ہے اور وہاں سے آسمانوں تک معراج ہے اور آسمانوں سے مقامِ قاب قوسین تک اعراج ہے ۔ (فوائد الفواد صفحہ ۳۰۸)
آیت اسراء
اللہ تعالیٰ نے اس عظیم و جلیل واقعہ کے بیان کو لفظ سبحان سے شروع فرمایا جس کا مفاد اللہ تعالیٰ کی تنزیہ اور ذات باری کا ہر عیب و نقص سے پاک ہونا ہے۔ اس میں یہ حکمت ہے کہ واقعاتِ معراج جسمانی کی بناء پر منکرین کی طرف سے جس قدر اعتراضات ہو سکتے تھے ان سب کا جواب ہو جائے۔ مثلاً حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا جسم اقدس کے ساتھ بیت المقدس یا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور وہاں سے ثُمَّ دَنٰی فَتَدَلّٰی کی منزل تک پہنچ کر تھوڑی دیر میں واپس تشریف لے آنا منکرین کے نزدیک ناممکن اور محال تھا۔ اللہ تعالیٰ نے لفظ سبحان فرما کر یہ ظاہر فرمایا کہ یہ تمام کام میرے لئے بھی ناممکن اور محال ہوں تو یہ میری عاجزی اور کمزوری ہو گی اور عجز و ضعف عیب ہے اور میں ہر عیب سے پاک ہوں۔ اسی حکمت کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے اَسْرٰی فرمایا جس کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو جانے والا نہیں فرمایا بلکہ اپنی ذات مقدسہ کو لے جانے والا فرمایا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ سبحان اور اَسْرٰی فرما کر معراج جسمانی پر ہونے والے ہر اعتراض کا جواب دیا ہے اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ذاتِ مقدسہ کو اعتراضات سے بچایا ہے۔ گویا یوں فرمایا کہ اے منکرو! خبردار، واقعہ معراج میں میرے حبیب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) پر اعتراض کرنے کا تمہیں کوئی حق نہیں۔ اس لیے کہ اس نے معراج کرنے اور مسجد اقصیٰ یا آسمانوں پر خود جانے کا دعویٰ نہیں کیا۔ ایسی صورت میں تمہیں اس پر اعتراض کرنے کا کیا حق ہے؟ یہ دعویٰ تو میرا ہے کہ میں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو لے گیا ۔ اب اگر میرے لے جانے پر اعتراض ہے کہ اللہ تعالیٰ کیسے لے گیا ؟ یہ لے جانا اور ذرا سی دیر میں آسمانوں کی سیر کرا کے واپس لے آنا تو ممکن نہیں۔ تو یاد رکھو کہ میں سبحان ہوں۔ جو چیز مخلوق کےلیے عادتاً ناممکن اور محال ہے، اگر میرے لئے بھی اسی طرح محال اور ناممکن ہو تو میں عاجز اور ناتواں ٹھہروں گا اور عاجزی و ناتوانی عیب ہے اور میں ہر عیب سے پاک ہوں۔ معلوم ہوا کہ آیت اَسْرٰی کا پہلا لفظ ہی معراج جسمانی کی روشن دلیل ہے ۔ وللّٰہ الحمد!(چشتی)
نکتہ : اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ میں نہ اپنا نام لیا اور نہ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا اپنی ذات پاک کو اَلَّذِیْ اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو عَبْدِہٖ سے تعبیر فرمایا۔ اَلَّذِیْ اسم موصول ہے، جس کے معنی ہیں ’’وہ ذات‘‘ یہ ایسا لفظ ہے کہ ہر چیز پر اس کا اطلاق کر سکتے ہیں اور ہر چیز کو اَلَّذِیْ کہہ سکتے ہیں اور لفظ عبد بھی ایسا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر شے عبد ہے۔ خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنے حبیب، دونوں کے لئے ایسا لفظ ارشاد فرمایا جو تمام ممکنات کو حاوی ہے۔ ہر شے اَلَّذِیْ ہے اور ہر چیز عبد ہے۔ گویا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اَلَّذِیْ تو ہر چیز ہے لیکن جس کو کامل اَلَّذِیْ کہا جا سکے وہ وہی ہے جو اَسْرٰی کا فاعل ہے۔ کیونکہ اَلَّذِیْ کے معنی ہیں ’’وہ ذات‘‘ اور ظاہر ہے کہ کمال ذات، وجوب ذاتی، الوہیت اور قدرتِ کاملہ کے بغیر متصور نہیں۔ واجب ممکن کو اور اِلٰہ و معبود ہر عبد و مملوک کو اور قادرِ مطلق ہر مقدور کو محیط ہے اور اس میں شک نہیں کہ واجب بالذات، معبود برحق اور قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں۔ لہٰذا کامل اَلَّذِیْ صرف اللہ تعالیٰ ہے اور کمال کی دلیل اَسْرٰی ہے کیونکہ معراج کو لے جانا قدرتِ کاملہ کے بغیر محال ہے اور قدرتِ کاملہ جس کے لئے ہو گی معبودِ برحق وہی ہو گا اور معبودِ برحق کےلیے وجوب ذاتی لازم ہے اور وجوبِ ذاتی ہی اَلَّذِیْ کا کمال ہے۔ لفظ اَلَّذِیْ دال ہے اور ذاتِ کاملہ اس کا مدلول۔ دال کا تمام کائنات کو حاوی ہونا اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ مدلول ہر ذرہ کائنات کو بالذات محیط ہے ۔ وَہُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ مُّحِیْطٌ ۔ علیٰ ہٰذا القیاس ’’عبد‘‘ بھی ہر چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کی عبد ہے لیکن جس کو تمام عباد کاملین میں سے سب سے زیادہ کامل اور عبد اکمل کہا جا سکے وہ وہی ہے جو اَسْرٰی کا مفعول بِہٖ ہے اور جسے آیت اسراء میں عبدہٖ سے تعبیر فرمایا ہے اور اس کی دلیل بھی یہی لفظ اَسْرٰی ہے جس کا مفعول بِہٖ یہی عبدِ مقدس ہے کیونکہ عبدہ کے معنی ہیں ’’اللہ کا بندہ‘‘ اور اللہ کی بندگی کا سب سے بڑا کمال اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی نزدیکی ہے۔ اسراء اور معراج میں اس عبدِ مقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اللہ تعالیٰ کا جو قرب نصیب ہوا اور مرتبہ قاب قوسین کی جو نزدیکی حاصل ہوئی وہ اولین و اٰخرین میں سے آج تک نہ تو کسی کو حاصل ہوئی ہے نہ ہو گی اور نہ ہو سکتی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے جملہ عباد میں عبد کامل صرف ’’عبدہ‘‘ہے اور بس ! حاصل کلام یہ کہ جس طرح اَلَّذِیْ سب ہیں مگر کامل اَلَّذِیْ (واجب الوجود) صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی طرح ’’عبد‘‘ سب ہیں مگر کامل عبد صرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہیں۔ لفظ عبد دال ہے اور کامل فی العبودیت (حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) مدلول۔ دال کا تمام عالم کو حاوی ہونا اشارہ ہے۔ اس امر کی طرف کہ مدلول تمام موجوداتِ عالم کو (بالعطاء) محیط ہے (وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ) ۔ اَلَّذِیْ اور عبد کا تمام ممکنات اور موجودات کو محیط ہونا اس امر کی طرف بھی مشیر ہے کہ تمام عالم اَلَّذِیْ اور ’’عبدہ‘‘ کے حسن و جمال کا آئینہ دار ہے۔ جس طرح ہر تعین میں وجود حقیقی کامل اَلَّذِیْ (رب العالمین) کا جلوہ ہے، ایسے ہی ہر مخلوق میں حقیقت نور عبد کامل رحمۃ للعالمین کا ظہور ہے جَلَّ جَلَالُـہٗ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ اَلَّذِیْ اور عبدہ دونوں میں ابہام ہے اور اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا حسن ذات تمام کائنات سے ابہام میں ہے اسی طرح ذاتِ محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا حسن بھی نگاہِ عالم سے مبہم اور پوشیدہ ہے۔ پھر اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ میں چونکہ ضمیر ہُوَ کا مرجع اَلَّذِیْ اور عبد دونوں ہو سکتے ہیں ۔ (تفسیر روح المعانی پارہ ۱۵ صفحہ ۱۳،چشتی)(تفسیر روح البیان پ ۵ ص ۱۰۶)
اس لیے یہ احتمال اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ شب معراج اَلَّذِیْ عبدہ کا سمیع و بصیر ہوا اور عبدہ اَلَّذِیْ کا ۔
مقام عبدیت : قربِ الٰہی کا وہ بلند ترین مقام ہے جہاں بندہ اپنے تعینات کو معدوم پا کر جلوہ معبود میں محو ہو جاتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر رَسُوْلِہٖ وَ نَبِیِّہٖ نہیں فرمایا بلکہ بعبدہٖ فرمایا۔
عبدہٖ : معراج کے بیان میں عبدہٖ فرما کر اس حقیقت کی طرف اشارہ فرما دیا کہ باوجود اس قربِ عظیم کے جو شب معراج میں میرے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو حاصل ہوا وہ میرے عبد ہی ہیں معبود نہیں۔
عبد کی اقسام
عبد کی کئی قسمیں ہیں لیکن ایک اعتبار خاص سے اس کی تین قسمیں ہیں۔ عبد رقیق، عبد اٰبق، عبد ماذون۔
عبد رقیق سے مراد وہ مملوک غلام ہے جو پوری طرح اپنے مالک کے قبضہ اور اس کی ملک میں ہو۔
عبد اٰبق اپنے مالک سے بھاگے ہوئے غلام کو کہتے ہیں (جو مالک مجازی کے قبضہ سے باہر ہوتا ہے) اور عبد ماذون وہ غلام ہے جو مالک کی ملک اور اس کے قبضہ میں ہے اور اس کی قابلیت صلاحیت استعداد اور خوبی کی وجہ سے اس کے مالک نے اپنے کاروبار کا اسے مختار و ماذون بنا دیا ہو اور اسے اس بات کا اذن دے دیا ہو کہ وہ مالک کے کاروبار میں جائز اور ممکن تصرف کرے۔ اس غلام کا بیچنا، خریدنا، لینا، دینا سب کچھ اس کے مالک کا بیچنا، خریدنا، لینا، دینا متصور ہو گا۔ عام مومنین خواہ عاصی ہوں یا مطیع سب اللہ تعالیٰ کے بمنزلہ عبد رقیق کے ہیں اور کفار مشرکین منافقین بمنزلہ عبد اٰبق (بھاگے ہوئے غلام) کے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے محبوبین بمنزلہ عبد ماذون کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے قرب کے مطابق ماذونیت کا شرف عطا فرماتا ہے۔ ساری کائنات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے برابر کوئی اللہ تعالیٰ کا مقرب نہیں ۔ اس لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے عبدِ ماذون ہیں ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰیo اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰیo‘‘ (النجم: ۳، ۴) ’’وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ رَمٰیo‘‘ (الانفال: ۱۷) ’’مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ۔‘‘ (النساء: ۸۰) پھر فرمایا ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ‘‘ (الفتح: ۱۰) اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا ’’اَللّٰہُ یُعْطِیْ وَاَنَا قَاسِمٌ‘‘
مختصر یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے عبدِ ماذون ہونے کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بولنا اللہ تعالیٰ کا فرمانا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فعل مبارک اللہ تعالیٰ کا فعل مبارک ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا بیچنا اللہ تعالیٰ کا بیچنا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا خریدنا اللہ تعالیٰ کا خریدنا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا دینا اللہ تعالیٰ کا دینا اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا لینا اللہ تعالیٰ کا لینا ہے۔
عبدہ معراج جسمانی کی دلیل ہے
اللہ تعالیٰ نے عبدہ فرما کر اس حقیقت کو روشن سے روشن تر فرما دیا کہ معراج صرف روح کو نہیں ہوئی بلکہ روح مع الجسد کو ہوئی ہے کیونکہ قرآن و حدیث یا کلام عرب میں ایسا کوئی استعمال موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ کسی کی دنیاوی زندگی میں اسے عبد کہا گیا ہو اور لفظ عبد سے صرف روح مراد ہو بلکہ اس کے برعکس آپ قرآن و حدیث اور محاورات عرب میں یہی پائیں گے کہ جب بھی کسی کو اس کی حیاتِ ظاہری میں لفظ عبد سے تعبیر کیا گیا ہے تو اس لفظ سے روح مع الجسد مراد لیا گیا ہے۔ دیکھئے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا ’’فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلاً ‘‘ ۔ (پ ۲۵ سورہ دخان) اے موسیٰ! میرے بندوں کو رات میں لے جا۔ یہاں بھی لفظ عبد سے روح مع الجسد اور اسراء سے اسرایٔ جسمانی مراد ہے۔
نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اَرَأَیْتَ الَّذِیْ یَنْہٰی۔ عَبْدًا اِذَا صَلّٰی۔‘‘ (العلق: ۹، ۱۰) کیا تو نے اسے دیکھا جو روکتا ہے عبد (مقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) کو جب وہ نماز پڑھے۔ دیکھیے یہاں بھی عبد سے جسم و روح کا مجموعہ مراد ہے۔ ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوْہُ‘‘ (الجن: ۱۹) جب کھڑا ہو اللہ کا عبد (مقدس حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ کو پکارتا یعنی اس کی عبادت کرتا تھا۔ اس آیت میں بھی لفظ عبد سے جسم و روح دونوں مراد ہیں ۔ وللّٰہ الحمد ۔(چشتی)
عبدہ کی اضافت
اللہ تعالیٰ نے ’’اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ‘‘ فرمایا اور عبد کو ضمیر مجرور کی طرف مضاف کیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے۔ اس میں یہ حکمت ہے کہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم عام عباد کی طرح عبد نہیں بلکہ وہ عبد خاص ہیں بلکہ عبد نہیں عبدہ ہیں۔ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اسی مضمون کو اس شعر میں ادا کیا ہے : ⬇
عبد دیگر عبدہٗ چیزے دگر
او سراپا انتظار ایں منتظر
لَیْلاً اسراء کے معنی رات کو لے جانے کے ہیں۔ اس کے باوجود لفظ اسریٰ کے بعد لَیْلاً فرمایا تاکہ ظاہر ہو جائے کہ معراج تمام رات نہیں ہوئی بلکہ رات کے بہت تھوڑے حصہ میں ہوئی ہے۔
مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ
مسجد حرام مکہ مکرمہ کی وہ مبارک مسجد ہے جس کے وسط میں بیت اللہ شریف واقع ہے۔
مسجد اقصیٰ:مسجد اقصیٰ بیت المقدس کی وہ مشہور مسجد ہے جو انبیاء سابقین علیہم السلام کا مرکز رہی ہے۔ ان انبیاء کرام علیہم السلام و محبوبین باری تعالیٰ کی ذواتِ قدسیہ سے جو برکتیں اس خطۂ پاک کو حاصل ہوئیں اللہ تعالیٰ نے بَارَکْنَا حَوْلَہٗ فرما کر ان ہی کا اظہار فرمایا ہے۔
نکتہ: اللہ تعالیٰ نے بَارَکْنَا حَوْلَہٗ فرمایا اس لئے کہ ارد گرد برکتیں ہیں۔ اس کے اندر تو یقینا عظیم و جلیل برکتیں ہوں گی۔
خلاصہ یہ کہ فیہ فرمانے سے اندر کی برکتیں ثابت ہو جاتیں لیکن ارد گرد ان کا ثبوت نہ ہوتا اور حَوْلَہٗ فرمانے سے اس کے اندر اور باہر سب جگہ برکتیں ثابت ہو گئیں۔(چشتی)
لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا : ان آیات سے آسمانی آیات مراد ہیں اور معنی یہ ہیں تاکہ ہم انہیں آسمانوں پر لے جا کر وہاں کی عجیب و غریب نشانیاں دکھائیں۔ روح المعانی میں اسی آیت کے تحت ارقام فرماتے ہیں ’’ای لنرفعہ الی السماء حتّٰی یرٰی ما یرٰی من العجائب العظیمۃ‘‘ یعنی تاکہ ہم انہیں آسمانوں کی طرف اٹھائیں یہاں تک کہ وہ دیکھنے کے قابل عجیب و غریب نشانیاں دیکھیں۔ اس بیان سے معلوم ہوا کہ اس آیت کریمہ میں اسراء اور معراج دونوں کا بیان ہے۔
لفظ مِنْ کی تشریح
لفظ مِنْ سے یہ سمجھنا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو بعض آیتیں دکھائی گئیں اور بعض نہیں دکھائی گئیں تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تمام آیات کا علم نہ ہوا کسی طرح صحیح نہیں۔ اس لیے کہ آیات مختلف قسم کی تھیں۔ بعض کا تعلق دیکھنے سے تھا اور بعض ایسی تھیں جن کا تعلق سننے، سمجھنے اور چکھنے سے تھا۔ جیسے صریف اقلام کا سننا اور دودھ کا چکھنا وغیرہ۔ اگر من تبعیضیہ ہو تو اس کی وجہ سے کل آیات کا بعض مراد ہوں گی اور ظاہر ہے کہ جو آیتیں دیکھنے کے قابل ہیں وہ کل آیات کا بعض ہی ہیں۔ اس لئے آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ کل آیات میں سے جو آیتیں دیکھنے کے قابل تھیں وہ سب ہم نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دکھانے کے لئے آسمانوں پر بلند فرمایا۔ اس صورت میں بعض آیات سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی لاعلمی ثابت نہ ہوئی۔
اِنَّـہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ : بے شک وہی سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ بعض مفسرین نے اِنَّہٗ کی ضمیر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف راجع کی اور بعض نے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی طرف اس کو راجع کیا۔ جیسا کہ علامہ زرقانی رحمۃ اللہ علیہ نے امام سبکی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل فرمایا۔ (زرقانی شریف جلد ۳ صفحہ ۱۲۴،چشتی) ۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ ضمیر اگر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہو تب بھی جائز ہے اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی طرف اس کو راجع کیا جائے تب بھی درست ہے۔ (تفسیر روح المعانی پ ۱۵ صفحہ ۱۳،چشتی)
معراج جسمانی کے متعلق اختلافِ اقوال
بعض کا قول ہے کہ معراج روحانی طور پر خواب میں ہوئی۔ بعض کہتے ہیں کہ معراج کئی دفعہ ہوئی۔ ایک دفعہ بیداری میں ہوئی اور دیگر اوقات میں بحالت خواب۔ بعض کہتے ہیں کہ معراج مکہ مکرمہ میں ہوئی اور بعض کے نزدیک مدینہ میں بعض کہتے ہیں کہ اسراء جسمانی ہے اور معراج روحانی۔ لیکن جمہور علماء، صحابہ، تابعین و تبع تابعین اور ان کے بعد محدثین و فقہا اور متکلمین سب کا مذہب یہ ہے کہ اسراء اور معراج دونوں بحالت بیداری اور جسمانی ہیں اور یہی حق ہے اور عارفین کا قول ہے کہ اسراء اور معراج بہت مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو کرائی گئیں۔ بعض نے چونتیس کا عدد بھی لکھا ہے مگر وہ سب خواب میں روحانی طور پر واقع ہوئیں۔ بجز ایک مرتبہ کے جیسا کہ جمہور امت کا مذہب ہے۔
ایک سوال کا جواب
اگر سوال کیا جائے کہ جب اسراء اور معراج دونوں جسمانی ہیں اور بحالت بیداری ان کا تحقق ہوا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے مکہ شریف سے مسجد اقصیٰ تک لے جانے کے ذکر پر کیوں اکتفا فرمایا۔ اسراء کے ساتھ آسمانی معراج کا بیان نہ کرنے میں کیا حکمت ہے؟ تو جواباً عرض کیا جائے گا کہ آیت کریمہ میں مسجد اقصیٰ کے ذکر کی تخصیص اس لئے ہے کہ کفار قریش نے مسجد اقصیٰ دیکھی ہوئی تھی اور انہیں اس کے متعلق معلومات حاصل تھیں۔ اس لئے انہوں نے واقعہ معراج کا انکار کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے اس کی علامات وغیرہ دریافت کیں اور بڑی شدت کے ساتھ جھگڑا اور اختلاف کیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ان کو مسکت جوابات دئیے اور مسجد اقصیٰ کی تمام علامتیں اور نشانیاں بتائیں جو کفار قریش نے دریافت کی تھیں بلا کم و کاست بیان فرما دیں اور نہایت خوبی کے ساتھ ان پر حجت قائم فرما دی۔ جس کے بعد ان کے لئے مجال انکار باقی نہ رہی اور اس طرح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اسراء اور معراج کی صداقت پر ایک عظیم الشان دلیل قائم کی گئی۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ مسجد اقصیٰ کا ذکر فرمایا۔ اگر ادنیٰ تامل سے کام لیا جائے تو قرآن کریم میں واقعہ معراج کی صداقت پر لا جواب دلیل قائم کی گئی ہے۔ وہ مسجد اقصیٰ کا ذکر ہے۔ کیونکہ ایک طرف تو مشرکین مکہ کے ذہن میں مسجد اقصیٰ کی تمام علامتیں محفوظ تھیں اور دوسری طرف انہیں اس بات کا یقین تھا کہ حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مسجداقصیٰ کبھی نہیں دیکھی۔ جب انہوں نے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مسجد اقصیٰ جانے اور معراج فرمانے کا حال بیان فرما رہے ہیں تو انہوں نے سوچا کہ اس سے بہتر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تکذیب کا موقع ہاتھ نہیں آ سکتا ۔ آسمان وغیرہ تو ہمارے دیکھے ہوئے نہیں جن کی علامتیں اور نشانیاں ہم ان سے دریافت کریں۔ لیکن مسجد اقصیٰ کا نقشہ تو ہمارے ذہن میں محفوظ ہے۔
چلو اسی کی بابت ان سے سوالات کریں۔ جب ہماری دریافت کی ہوئی نشانیاں وہ نہ بتا سکیں گے تو (معاذ اللہ) ان کا دعویٰ خود بخود جھوٹا ہو جائے گا لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ کفارِ قریش نے مسجد اقصیٰ کی جو نشانیاں پوچھیں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ٹھیک ٹھیک بیان فرما دیں۔ جس کو سن کر اپنے دل میں انہیں قائل ہونا پڑا کہ واقعی یہ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں۔ مسجد اقصیٰ تک جانے میں جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا سچا ہونا ثابت ہو گیا تو آسمانوں کی معراج بھی سچی ثابت ہو گئی۔ اس لیے کہ جس طرح آسمانوں پر جانا محال ہے بالکل اسی طرح رات کے تھوڑے سے حصہ میں مکہ سے مسجد اقصیٰ جا کر واپس آ جانا بھی محال ہے۔ جب یہ جانا اور آنا محال نہ رہا تو آسمان پر جا کر واپس آنا ان کے لئے کیونکر محال رہ سکتا تھا ؟
اس مختصر بیان سے واضح ہو گیا کہ مسجد اقصیٰ کا ذکر صداقت معراج کی دلیل اس لئے بن گیا کہ منکرین نے مسجد اقصیٰ دیکھی ہوئی تھی۔ اب اگر مسجد اقصیٰ کی طرح آسمانوں کا ذکر بھی تفصیل سے کر دیا جاتا تو وہ اس عظیم الشان خارق عادت واقعہ معراج کی سچائی کے لئے دلیل نہیں بن سکتا تھا۔ کیونکہ منکرین نے کبھی آسمان نہیں دیکھے تھے نہ ان کے ذہن میں وہاں کی کسی چیز کا کوئی تصور تھا۔ اس لئے وہ اگر آسمانوں کی بابت کوئی نشانی دریافت کرتے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم انہیں بتا دیتے تو ان کے خالی الذہن ہونے کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا بتانا ان کے حق میں بے فائدہ رہتا اور واقعہ معراج کی تصدیق کے لیے کوئی دلیل قائم نہ ہوتی۔
اس حکمت کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے آسمانی معراج کا ذکر تفصیل کے ساتھ نہیں فرمایا بلکہ ’’لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا‘‘ میں اجمال کے ساتھ اسے بیان فرما دیا تاکہ مسجد اقصیٰ کی طرف حضور کا لے جانا ان کو آسمانوں پر لے جا کر وہاں کی آیات دکھانے پر دلیل قائم ہو جائے۔ خلاصۃ الکلام یہ کہ آیۂ کریمہ میں اسراء کا بیان مفصل ہے اور معراج کا ذکر مجمل۔ اور مفصل مجمل کی دلیل ہے۔ آیۂ کریمہ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اس تمام سفر مبارک کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ اس کے تین مرحلے الگ الگ نظر آتے ہیں۔
پہلا مرحلہ مسجد حرام سے شروع ہو کر مسجد اقصیٰ پر ختم ہوتا ہے۔ دوسرے مرحلے کا بیان ’’لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا‘‘ میںوارد ہے اور تیسرے مرحلہ کا بیان ’’اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ‘‘ میں موجود ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مسجد حرام سے چل کر مسجد اقصیٰ پہنچے اور مسجد اقصیٰ سے آسمانوں پر جلوہ گر ہوتے ہوئے عرشِ الٰہی تک تشریف لے گئے۔ پھر عرشِ الٰہی سے ’’اِلٰی حَیْثُ شَائَ اللّٰہُ‘‘ (جہاں تک اللہ نے چاہا) جلوہ فگن ہوئے اور زمان و مکان بلکہ عالم امکان کی قیود سے بالا تر ہو کر اللہ تعالیٰ کے قرب خاص سے مشرف ہوئے اور اپنے رب کا جمال اپنے سر اقدس کی آنکھوں سے بے حجاب دیکھا۔
سُبْحٰنَ الَّذِیْ سے لے کر اَلَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہٗ تک اسریٰ کا تفصیلی بیان ہے اور لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا میں تمام آسمانی سفر کا اجمالی ذکر ہے اور اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ میں اللہ تعالیٰ کے قرب خاص میں اس کا کلام سننے اور جمال دیکھنے کا بیان ہے۔
مراحل ثلاثہ میں باریک اور لطیف فرق
مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک دنیائے جسمانیات اور عالم شہادت ہے اور مسجد اقصیٰ سے اوپر آسمانوں اور عرش کا عالم روحانی، نورانی اور مجرد لطیف کائنات ہے۔ اس کے بعد فوق العرش اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ قدس ہے۔ جس میں کسی کائن و مخلوق کا شائبہ تک متصور نہیں بلکہ زمان و مکان سے بالا تر، اللہ تعالیٰ کے جلوہ ہائے عظمت و جلال کے ظہور کا وہ عالم ہے جسے عالم کہنا بھی صرف مجاز ہے۔ حقیقت میں وہ عالم و عالمیات سے کہیں اعلیٰ اور برتر ہے کیونکہ زمان و مکان کی حدود میں جمال الوہیت کا ظہور اتم مقید نہیں ہو سکتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ذاتِ گرامی کا تینوں مرحلوں سے تعلق ۔ ان تینوں مرحلوں سے حضور نبی کریم کی ذات گرامی کا ربط اور تعلق یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تین شانیں ہیں
(۱) بشریت : جس کو عالم جسمانیت سے ربط ہے ۔
(۲) ملکیت اور روحانیت : جسے عالم انوار اور حقائق مجردات قدسیہ سے تعلق ہے۔
(۳) محمدیت : یعنی حق تعالیٰ کی ذات و صفات اور حسن و جمال کا مظہر اتم ہونا، جسے بارگاہِ قدس اور حضرت جمال الوہیت سے گہرا تعلق ہے۔
سفر معراج کے تینوں مرحلوں اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تینوں شانوں کا تعلق اور باہمی مناسبت کو ذہن نشین کر لینے کے بعد آیت کریمہ کی روشنی میں فلسفۂ معراج نہایت آسانی کے ساتھ سمجھ میں آسکتا ہے ۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ معراج کا مقصد حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا اپنی شایانِ شان بلند اور اونچے مراتب تک پہنچنا ہے۔ چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی یہ مذکورہ شانیں ایسی ہیں کہ تمام کمالاتِ محمدی ان ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ہر کمالِ نبوی کا سرچشمہ یہی تین شانیں ہیں ۔ لہٰذا ان میں سے ہر ایک کا اپنے عروج پر پہنچنا تکمیل معراج کے لیے ضروری ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بشریت، نورانیت و مظہریت سب کا عروج ضروری ہوا۔ یہ امر واضح رہے کہ ہر چیز کا عروج اسی عالم میں متصور ہے جس سے اس چیز کا تعلق پایا جاتا ہے۔ اس لئے بشریت کا معراج عالم بشریت میں ہو گااور نورانیت اور روحانیت کا معراج عالم ارواح و عالم انوار میں اور اسی طرح حقیقت محمدیہ یعنی مظہریت حق کا معراج بارگاہِ حق تعالیٰ میں ہو گا۔
آیت کریمہ کے مضمون میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی معراج مبارک بالکل اسی شان سے واقع ہوئی ۔ دیکھیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مسجد حرام سے چل کر مسجد اقصیٰ پہنچے جہاں تمام انبیاء علیہم السلام نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اقتداء کی اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سب کے امام بنے ۔ مسجد اقصیٰ عالم اجسام میں ہے اور اس میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بشریت مطہرہ کو یہ عروج حاصل ہوا کہ تمام انبیاء علیہم السلام نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بشریت مقدسہ کے پیچھے اقتدا کی ۔ بشریت محمدی کا مسجد اقصیٰ میں انبیاء علیہم السلام کا مقتدا ہونا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بشریت کا معراج ہے ۔ اس حیثیت سے کہ عالم بشریت میں انسانیت اور بشریت کا کمال رکھنے والے یعنی حضرات انبیاء علیہم السلام پیچھے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بشریت آگے ہے۔ اس کے بعد جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مسجد اقصیٰ سے آسمانوں پر تشریف لے گئے اور ساتوں آسمانوں سے گزر کر سدرۃ المنتہیٰ پہنچے ۔ یہ تو وہ مقام ہے کہ جہاں سے اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے فرشتے بھی آگے نہیں جا سکتے۔ آسمان اول سے لے کر سدرہ تک تمام روحانی اور نورانی افراد یعنی ملائکہ کرام پیچھے رہ گئے۔ حتیٰ کہ جبریل علیہ السلام بھی وہاں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سب کو پیچھے چھوڑ کر سدرۃ المنتہیٰ سے آگے تشریف لے گئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا سدرہ سے آگے تشریف لے جانا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حقیقت ملکیہ اور آپ کی نورانیت و روحانیت کا چمکتا ہوا معراج تھا۔ اس حیثیت سے کہ عالم ملائکہ میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نورانیت و روحانیت درحقیقت ملکیت کی معراج ہے۔
پھر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا بلند زمان و مکان کی قیود سے بالا ہو کر فوق العرش پہنچ کر بارگاہِ حق تعالیٰ جل مجدہٗ میں حاضر ہونا اور ثُمَّ دَنٰی فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی کے مراتب عالیہ پر فائز ہونا اور سر اقدس کی آنکھوں سے بے حجاب اللہ تعالیٰ کو دیکھنا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حقیقت محمدیہ اور صورت حقیہ کی معراج ہے۔ اس حیثیت سے کہ وہ عرشِ عظیم جو تجلیات حسن حقیقی کی بلند ترین جلوہ گاہ ہے اسی طرح پیچھے رہ گیا جس طرح مسجد اقصیٰ میں کمال انسانیت رکھنے والے انبیاء علیہم السلام پیچھے رہ گئے اور سدرۃ المنتہیٰ پر کمال ملکیت و نورانیت رکھنے والے ملائکہ مقربین پیچھے رہ گئے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ان سے آگے تشریف لے گئے تھے۔ بالکل اسی طرح حسن الوہیت کی بلند ترین جلوہ گاہ عرشِ عظیم بھی پیچھے رہ گیا اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم زمان و مکان اور تحت و فوق کو پیچھے چھوڑ کر ایسے عالم میں جسے عالم کہنا در حقیقت مجاز ہے اپنی حقیقت محمدیہ اور صورت حقیہ کے ساتھ اس عرشِ عظیم کی بلندی سے بلند ہو کر اس ذات والاصفات کے ساتھ واصل ہوئے جس کے حسن ذات و صفات کا مظہر اتم تھے۔ اس کا کلام سنا اور اس کا جمال دیکھا نہ ان کی بات سننے اور انہیں دیکھنے والا رب کے سوا کوئی اور تھا نہ رب کا کلام سننے اور اسے دیکھنے والا ان کے سوا کوئی دوسرا تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام رب کے سمیع و بصیر تھے اور رب کریم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا سمیع و بصیر تھا۔(چشتی)
فوائد الفواد ملفوظات حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی دہلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک حوالہ تو اس سے قبل عرض کر چکا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں کہ مسجد حرام سے بیت المقدس تک اسراء ہے اور وہاں سے آسمانوں تک معراج اور آسمانوں سے قاب قوسین تک اعراج ہے۔ یہ ملفوظ مبارک بھی فقیرکے بیان سابق پر بلا تاویل واضح اور روشن دلالت کر رہا ہے۔ دوسرے حوالہ کی فارسی عبارت کا اردو خلاصہ حسب ذیل ہے ۔ کسی خادم نے عرض کیا، حضور! لوگ کہتے ہیں کہ قلب کو بھی معراج ہوئی ہو گی اور قالب کو بھی اور روح کو بھی۔ ہر ایک کو کس طرح معراج ہوئی ہو گی؟ حضور خواجہ غریب نواز نے جواب میں یہ مصرع پڑھا ’’تظن خیرا ولا تسئل عن الخیر‘‘یعنی ’’گمان خیر رکھ اور خیر کی بابت تحقیق نہ کر ۔ (فوائد الفواد جلد نمبر ۴ صفحہ نمبر ۲۰۸،چشتی)
مطلب یہ ہے کہ یہ معاملہ اللہ اور رسول کے مابین راز ہے جس کو مان لو اور اس کی ماہیت و کیفیت کے پیچھے نہ پڑو۔ اس مضمون سے بھی فقیر کے بیان پر اس طرح روشنی پڑتی ہے کہ قالب بشریت ہے روح ملکیت اور قلب مظہریت حق۔ تینوں کو معراج ہوئی۔ یہ اجمال ہے۔ اس کی تفصیل وہ تھی جو فقیر وضاحت کے ساتھ بیان کر چکا ہے۔
مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بشریت ملکیت اور مظہریت تینوں کو معراج کرائی۔
بشریت اس عالم کی چیز ہے اس کی معراج یہاں یعنی مسجد اقصیٰ میں ہوئی۔ ملکیت و نورانیت عالم سمٰوٰت سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کی معراج آسمانوں پر ہوئی۔ مظہریت حقیہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات سے متعلق ہے۔ اس لئے اس کی معراج فوق العرش لامکان میں ہوئی۔ جہاں اللہ تعالیٰ کا دیدار حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہوا۔ بشریت کی معراج اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی میں تفصیلاً مذکور ہے اور آسمانی معراج لِنُرِیَہٗ میں اجمالا مذکور ہے اور معراج فوق العرش قرب ایزدی و دیدار الٰہی کا ذکر اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ میں ہے۔
معلوم ہوا کہ سفر معراج کے تین حصے صرف اس لیے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تین صفتیں ہیں۔ ہر صفت کی معراج کا مستقل ذکر ہے۔ ہمارے اس بیان سے کوئی شخص اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جائے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بشریت کو جب معراج ہوئی تھی تو اس وقت روح مبارک نہ تھی یا جس وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حقیقت ملکیہ کی معراج آسمانوں پر ہوئی تو اس وقت جسمانیت مطہرہ ساتھ نہ تھی۔ اسی طرح جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مظہریت مطہرہ کو معراج ہوئی تھی تو روح اقدس یا جسم مبارک اس وقت موجود نہ تھا۔ اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ان تمام مراحل میں جسم اقدس اور روح مبارک کے ساتھ جلوہ گر تھے۔ جب مسجد اقصیٰ تشریف لے گئے تو جسم اقدس کے ساتھ روح مبارک بھی تھی اور جب مسجد اقصیٰ سے آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ پر تشریف لے گئے تو اس وقت بھی روح مبارک بدن اقدس میں جلوہ گر تھی۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ اس عالم ناسوت میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بشریت مطہرہ بالفعل تھی اور ملکیت مقدسہ بالقوۃ۔ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جسم و روح اقدس کے ساتھ عالم ملائکہ میں پہنچے تو اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بشریت بالقوۃ اور ملکیت بالفعل ہو گئی تھی اور جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مقام ’’دَنٰی فَتَدَلّٰی‘‘ پر جلوہ گر ہوئے تو بشریت و ملکیت دونوں بالقوۃ ہو گئیں اور کمال مظہریت قوت سے فعل کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ آدمی جب کسی پر غضب ناک ہوتا ہے تو اس میں رحم کی صفت موجود ہوتی ہے۔ بولنے کے وقت خاموش ہونے کی اور خاموشی کے وقت بولنے کی طاقت انسان میں موجود ہوتی ہے۔ حرکت کے وقت سکون کی اور سکون کے وقت حرکت کی قوت انسان میں پائی جاتی ہے۔
اسی طرح بشریت کے معراج کے وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ملکیت و مظہریت موجود تھی اور حقیقت ملکیہ کے وقت بشریت اور مظہریت دونوں صفتیں بحال تھیں۔ پھر حقیقت مظہریت کی معراج ہوئی تو بشریت اور ملکیت دونوں بدستور تھیں۔ ان تینوں میں سے ہر ایک کی معراج کے وقت اسی حقیقت کا غلبہ تھا۔ مسجد اقصیٰ میں بشریت اور آسمانوں میں ملکیت و روحانیت اور عرش پر حقیقت مظہریت کو اللہ تعالیٰ نے غالب فرما دیا تھا ۔ (مقالات کاظمی جلد اوّل)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بیداری کی حالت میں جسمانی معراج نصیب ہوئی ، اس پہ قرآنی آیت و صحیح احادیث دال ہیں ، نیز جمہور صحابۂ کرام ، تابعین ، تبعِ تابعین ، فقہاء ، محدثین اور متکلمین رضی اللہ عنہم وعلیہم الرحمہ کا مذہب اور اہلِ سنّت و جماعت کا یہی عقیدہ ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے : سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَاؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ۔ (سورہ الاسرا)
ترجمہ : پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک سیر کروائی جس کے اِرد گِرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں ، بیشک وہی سننے والا، دیکھنے والا ہے ۔ (پ15، بنی اسرآءیل :1)
اس آیتِ کریمہ کے تحت تفسیرِ خازن ، جلالین اور حاشیہ صاوی میں ہے : والحق الذی علیہ اکثر الناس ومعظم السلف و عامۃ الخلف من المتأخرین من الفقھاء والمحدثین والمتکلمین انہ اسری بروحہ وجسدہ صلی اللہ علیہ وسلم، ویدل علیہ قولہ سبحانہ و تعالیٰ : سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا ۔ و لفظ العبد عبارۃ عن مجموع الروح والجسد، والحدیث الصحیحۃ التی تقدمت تدل علی صحۃ ھذا القول ۔
ترجمہ : حق وہی ہے جس پر کثیر لوگ، اکابر علماء اور متأخرین میں سے عام فقہاء ، محدثین اور متکلمین ہیں کہ حضور علیہ السَّلام نے جسم اور روح مبارک کے ساتھ سیر فرمائی ، اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا ، کیونکہ لفظ عبد روح اور جسم دونوں کے مجموعے کا نام ہے ، یونہی (ماقبل) ذکر کردہ حدیث صحیح بھی اس قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے ۔(تفسیر خازن پارہ نمبر 15 الآیۃ:1 ، جلد 3 صفحہ 158)
نسیم الریاض میں ہے : انہ اسراء بالجسد والروح فی القصۃ کلھا ۔ ای فی قصۃ الاسراء الی المسجد الاقصی والسموات ، (وعلیہ تدل الآیۃ) الدالۃ علی شطرھا صریحاً (وصحیح الاخبار) المشھورۃ المستفیضۃ الدالۃ علی عروجہ صلی اللہ علیہ وسلم الی السماء، والاحادیث الاحاد الدالۃ علی دخولہ الجنۃ ووصولہ الی العرش او طرف العالم کما سیاتی وکل ذلک بجسدہ یقظۃ ۔
ترجمہ : نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پورے واقعۂ معراج میں یعنی مسجدِ اقصی سے آسمانوں تک جسم و روح مبارک کے ساتھ سیر فرمائی ، جس کے ایک حصے پہ آیتِ کریمہ واضح طور پہ دلالت کرتی ہے اور آسمانوں تک کی سیر پر حدیثِ مشہور مستفیض دلالت کرتی ہے، نیز جنّت میں داخل ہونے ، عرش پہ جانے یا عالَم کے اس کنارے جانے پہ خبرِ واحد دلالت کرتی ہے ، جیسے کہ آگے آئے گا ، اور یہ سب بیداری میں جسمِ مبارک کے ساتھ تھا ۔ (نسیم الریاض جلد 3 صفحہ 103،چشتی)
مکتوباتِ امام ربّانی و فتاویٰ رضویہ میں ہے : معراج شریف یقیناً قطعاً اسی جسمِ مبارک کے ساتھ ہوئی نہ کہ فقط روحانی ، جو ان کی عطا سے ان کے غلاموں کو بھی ہوتی ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے : سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا ۔ (یعنی ) پاکی ہے اسے جو رات میں لے گیا اپنے بندہ کو، یہ نہ فرمایا کہ لے گیا اپنے بندہ کی روح کو ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 15 صفحہ 74 )
مقالاتِ کاظمی میں ہے : جمہور علماء، صحابہ ، تابعین و تبعِ تابعین اور ان کے بعدمحدثین و فقہاء اور متکلمین سب کا مذہب یہ ہے کہ اسراء اور معراج دونوں بحالتِ بیداری اور جسمانی ہیں اور یہی حق ہے ۔ (مقالاتِ کاظمی جلد 1 صفحہ 114)
معراج شریف کا مطلقاً انکار کفر ہے ، کیونکہ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کی معراج قطعی اور کتابُ اللہ سے ثابت ہے، البتہ جو معراج کو تسلیم کرے لیکن فقط روحانی کا قائل ہو تو وہ خطا پر ہے ، اور فی زمانہ اس کا انکار نہیں کرتے مگر بد مذہب و گمراہ لوگ ۔
معراج کا مطلقاً انکار کفر ہے، چنانچہ شرح عقائدِ نسفیہ پھر نِبْراس میں ہے : فالاسراء ھو من المسجد الحرام الی البیت المقدس قطعی ای یقینی ثبت بالکتاب ای القرآن و یکفر منکرہ۔۔ الخ ۔
ترجمہ : مسجدِ حرام سے بیت المقدس تک کی سیر قطعی یقینی اور کتاب اللہ سے ثابت ہے اور اس کا منکر کافر ہے ۔ (النبراس صفحہ نمبر 295)
نسیم الریاض میں ہے : ذھب معظم السلف و المسلمین ۔ عطف للعام علی الخاص، وفیہ اشارۃ الی ان خلافہ لا ینبغی لمسلم اعتقادہ (الی انہ اسراء بالجسد) مع الروح (وفی الیقظۃ) ۔
ترجمہ : (اکابر علماء و مسلمین اس طرف گئے ہیں) یہ عام کا خاص پر عطف ہے اور اکابر علماء و مسلمین کہنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس کے خلاف کا اعتقاد رکھنا کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا، (کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالتِ بیداری میں جسم اور روح مبارک کے ساتھ سیر فرمائی ۔ (نسیم الریاض جلد 3 صفحہ 99)
فتاویٰ رضویہ میں ہے : ان عظیم وقائع نے معراج مبارک کا جسمانی ہونا بھی آفتاب سے زیادہ واضح کردیا ، اگر وہ کوئی روحانی سیر یا خواب تھا تو اس پر تعجب کیا ؟ زید و عمرو خواب میں حرمین شریفین تک ہو آتے ہیں ، اور پھر صبح اپنے بستر پر ہیں ۔ رؤیا کے لفظ سے استدلال کرنا اور (اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ) نہ دیکھنا صریح خطا ہے ۔ رؤیا بمعنی رویت آتا ہے ۔ اور فتنہ و آزمائش بیداری ہی میں ہے نہ کہ خواب میں ، ولہٰذا ارشاد ہوا : سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا ۔ پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو لے گیا ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 635)
حدیث معراج : (بنظر اختصار صرف ترجمہ پر اکتفا کیا گیا ہے)
حضرت انس بن مالک حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے صحابہ کرام سے اس رات کی کیفیت بیان فرمائی جس میں آپ کو معراج ہوئی تھی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ میں حطیم کعبہ میں تھا۔ یکایک میرے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے میرا سینہ یہاں سے لے کر یہاں تک چاک کیا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے جارود سے پوچھا وہ میرے قریب بیٹھے ہوئے تھے کہ یہاں سے یہاں تک کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے بتایا کہ حلقوم شریف سے لے کر ناف مبارک تک۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ پھر اس آنے والے نے میرا سینہ چاک کرنے کے بعد میرا دل نکالا۔ پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان و حکمت سے لبریز تھا اس کے بعد میرا دل دھویا گیا پھر وہ ایمان و حکمت سے لبریز ہو گیا۔ اس قلب کو سینۂ اقدس میں اس کی جگہ پر رکھا گیا۔ اس کے بعد میرے پاس ایک جانور سوار ہونے کے لئے لایا گیا جو خچر سے نیچا اور گدھے سے اونچا تھا۔ (جارود نے حضرت انس سے پوچھا کہ اے ابو حمزہ کیا وہ براق تھا؟ حضرت انس نے فرمایا، ہاں!) وہ اپنا قدم منتہائے نظرپر رکھتا تھا۔ میں اس پر سوار ہوا پھر جبریل مجھے لے کر چلے۔ یہاں تک کہ ہم آسمان دنیا پر پہنچے (۱) تو جبریل علیہ السلام نے اس کا دروازہ کھلوایا، پوچھا گیا، کون ہے؟ انہوںنے کہا، جبریل۔ پھر آسمان کے فرشتوں نے پوچھا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ۔ پوچھا گیا وہ بلائے گئے ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہاں۔ کہا گیا انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت اچھا اور مبارک ہے۔ دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں وہاں پہنچا تو آدم علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ یہ آپ کے باپ آدم علیہ السلام ہیں۔ آپ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا خوش آمدید ہو۔ صالح بیٹے اور صالح نبی کو۔ پھر (جبریل علیہ السلام میرے ہمراہ) اوپر چڑھے۔ یہاں تک کہ دوسرے آسمان پر پہنچے اور انہوں نے اس کا دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون؟ انہوں نے کہا جبریل۔ دریافت کیا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم۔ پھر پوچھا گیا کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا، ہاں۔ اس (دوسرے آسمان کے دربان) نے کہا، خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت اچھا اور مبارک ہے۔ یہ کہہ کر دروازہ کھول دیا۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو وہاں یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام ملے۔ وہ دونوں آپس میں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبریل علیہ السلام نے کہا یہ یحییٰ اور عیسیٰ ہیں آپ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ ان دونوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا خوش آمدید ہو اخ صالح اور نبی صالح کو۔ پھر جبریل مجھے تیسرے آسمان پر لے گئے اور اس کا دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون؟ انہوں نے کہا جبریل۔ دریافت کیا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پھر دریافت کیا گیا، کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا، ہاں۔ اس کے جواب میںکہا گیا، انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت ہی اچھا اور نہایت مبارک ہے اور دروازہ کھول دیا گیا۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو یوسف علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا، یہ یوسف ہیں، انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ پھر انہوں نے کہا کہ خوش آمدید ہو اخ صالح نبی صالح کو۔ اس کے بعد جبریل علیہ السلام چوتھے آسمان پر مجھے لے گئے اور اس کا دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون؟ انہوں نے کہا، جبریل۔ پھر دریافت کیا گیا تمہارے ہمراہ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم۔ پھر پوچھا گیا کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ چوتھے آسمان کے دربان نے کہا کہ انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت ہی اچھا اور نہایت مبارک ہے اور دروازہ کھول دیا گیا۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو ادریس علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا یہ ادریس ہیں۔ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ اس کے بعد کہا خوش آمدید ہو اخ صالح اور نبی صالح کو۔ پھر جبریل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر اوپر چڑھے یہاں تک کہ پانچویں آسمان پر پہنچے اور انہوں نے اس کا دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون؟ انہوں نے کہا جبریل۔ دریافت کیا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم۔ پوچھا گیا کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ پانچویں آسمان کے دربان نے کہا، انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت ہی اچھا اور مبارک ہے۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو ہارون علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا، یہ ہارون ہیں۔ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے ان کو سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ پھر کہا، خوش آمدید ہو اخ صالح اور نبی صالح کو۔ پھر جبریل علیہ السلام مجھے اوپر چڑھا لے گئے۔ یہاں تک کہ ہم چھٹے آسمان پر پہنچے۔ جبریل علیہ السلام نے اس کا دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون؟ انہوں نے کہا جبریل۔ دریافت کیا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم۔ پوچھا گیا کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ اس فرشتے نے کہا انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت ہی اچھا اور مبارک ہے۔ میں وہاں پہنچا تو موسیٰ علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا، یہ موسیٰ ہیں۔ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا خوش آمدید ہو اخ صالح اور نبی صالح کو۔ پھر جب میں آگے بڑھا تو وہ روئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیوں روتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا میں اس لئے روتا ہوں کہ میرے بعد ایک مقدس لڑکا مبعوث کیا گیا جس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر جبریل علیہ السلام مجھے ساتویں آسمان پر چڑھا لے گئے اور اس کا دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون ہے؟ انہوں نے کہا جبریل۔ پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم۔ پوچھا گیا کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ تو اس فرشتے نے کہا، انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت اچھا اور مبارک ہے۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو ابراہیم علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا، یہ آپ کے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ انہیں سلام کیجئے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا کہ خوش آمدید ہو ابن صالح اور نبی صالح کو۔ پھر میں (۱) سدرۃ المنتہیٰ تک چڑھایا گیا تو اس درخت سدرہ کے پھل مقام ہجر کے مٹکوں کی طرح تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں جیسے تھے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا، یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے اور وہاں چار نہریں تھیں۔ دو پوشیدہ اور دو ظاہر۔ میں نے پوچھا، اے جبریل! یہ نہریں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا، ان میں جو پوشیدہ ہیں، وہ تو جنت کی نہریں ہیں اور جو ظاہر ہیں وہ نیل و فرات ہیں۔ پھر بیت المعمور میرے سامنے ظاہر کیا گیا۔ اس کے بعد مجھے ایک برتن شراب کا اور ایک دودھ کا اور ایک برتن شہد کا دیا گیا۔ میں نے دودھ کو لے لیا۔ جبریل علیہ السلام نے کہا یہی فطرت (دین اسلام) ہے۔ آپ اور آپ کی امت اس پر قائم رہیں گے۔ اس کے بعد مجھ پر ہر روز پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ جب میں واپس لوٹا تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا آپ کی امت پچاس نمازیں روزانہ نہ پڑھ سکے گی۔ خدا کی قسم! میں آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں اور بنی اسرائیل کے ساتھ میں نے سخت برتاؤ کیا ہے۔ لہٰذا آپ اپنے رب کے پاس لوٹ جائیے اور اپنی امت کے لئے تخفیف کی درخواست کیجئے۔ چنانچہ میں لوٹا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے دس نمازیں معاف کر دیں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پھر اسی طرح کہا۔ میں پھر خدا کے پاس واپس گیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے دس نمازیں پھر معاف کر دیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا انہوں نے پھر اسی طرح کہا۔ میں پھر خدا کے پاس واپس گیا تو مجھے ہر روز پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس لوٹ کر آیا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کو کیا حکم ملا؟ میں نے کہا روزانہ پانچ نمازوں کا حکم ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی امت پانچ نمازیں بھی نہ پڑھ سکے گی۔ میں نے آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کیا ہے اور بنی اسرائیل سے سخت برتاؤ کر چکا ہوں۔ لہٰذا آپ پھر اپنے رب کی بارگاہ میں جائیے اور اپنی امت کے لئے تخفیف کی درخواست کیجئے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب تعالیٰ سے کئی مرتبہ درخواست کی، مجھے شرم آتی ہے۔ لہٰذا اب میں راضی ہوں اور اپنے رب کے حکم کو تسلیم کرتا ہوں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ میں آگے بڑھا۔ ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ میں نے اپنا حکم جاری کر دیا اور اپنے بندوں سے تخفیف فرما دی ۔ (صحیح بخاری جلد اول صفحہ نمبر ۵۴۸)
بخاری شریف کی ایک دوسری روایت میں سدرۃ المنتہیٰ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ایسا قرب مذکور ہے جسے قاب قوسین او ادنٰی سے تعبیر فرمایا گیا۔ حدیث شریف کے الفاظ حسب ذیل ہیں : ⬇
حتی جاء سدرۃ المنتہٰی ودنا الجبار رب العزۃ فتدلّٰی حتّٰی کان منہ قاب قوسین او ادنٰی ۔ (بخاری شریف جلد ثانی ص ۱۱۲۰)
یعنی اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے قریب ہوا پھر اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے یا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اللہ تعالیٰ سے اس سے بھی زیادہ قرب طلب فرمایا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے دو کمانوں کی مقدار یا اس سے بھی زیادہ قریب ہو گیا ۔ (عینی جلد ۲۵ ص ۱۷۰) اور اللہ تعالیٰ کا جمال مبارک سر اقدس کی آنکھوں سے دیکھا ۔ (فتح الباری جلد ۱۳ ص ۴۱۷، عینی نبراس، شرح عقائد)
آسمانی معراج کہاں تک ہوئی؟ اس میں علماء اہل سنت کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ اور جنت الماویٰ تک حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لے گئے۔ بعض نے کہا، عرش تک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو معراج ہوئی اور ایک قول ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فوق العرش تشریف لے گئے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم طرف عالم تک تشریف لے گئے یعنی عالم اجسام کی وہ انتہا جس کے پیچھے کچھ نہیں۔ نہ ہوا نہ زمان و مکان، بلکہ عدم محض ہے۔ (شرح عقائد نسفی، نبراس)
اسراء یعنی مسجد حرام سے بیت المقدس تک تشریف لے جانا قطعی اور یقینی ہے جس کا منکر مسلمان نہیں اور زمین سے آسمان کی طرف معراج ہونا احادیث مشہورہ سے ثابت ہے۔ اس کا منکر فاسق اور ضال و مضل ہے۔ پھر آسمانوں سے جنت کی طرف اور عرش یا عرش کے علاوہ فوق العرش تک یا لا مکاں تک اخبار احاد سے ثابت ہے۔ جس کا منکر سخت آثم اور گنہگار ہے۔ (شرح عقائد، نبراس صفحہ ۴۷۴،چشتی)
ولذا اختلف فی الانتہاء فقیل الی الجنۃ وقیل الی العرش وقیل الٰی مافوقہ وہو مقام دنٰی فتدلّٰی فکان قاب قوسین او ادنٰی (شرح فقہ اکبر ص ۱۳۶)
ترجمہ: اسی وجہ سے اختلاف ہوا کہ معراج کہاں تک ہوئی۔ ایک قول ہے جنت تک اور ایک قول ہے عرش تک اور ایک قول میں وارد ہے کہ فوق العرش حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم تشریف لے گئے اور وہ مقام ہے۔
دنا فتدلّٰی فکان قاب قوسین او ادنٰی (وجاوز السبع الطباق) وہی السمٰوٰت (او جاوز سدرۃ المنتہٰی ووصل الٰی محل من القرب سبق بہ الاولین والاٰخرین) اذ لم یصل الیہ نبی مرسل ولا ملک مقرب ۔ (زرقانی جلد ۶، ص ۱۰۱،چشتی)
ترجمہ : حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم شب معراج ساتوں آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ سے گزر گئے اور ایسے مقام قرب تک پہنچے کہ اولین و آخرین سب پر سبقت لے گئے کیونکہ جہاں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پہنچے وہاں نہ کوئی نبی پہنچا نہ رسول نہ کوئی مقرب فرشتہ۔
(ودنو الرب تبارک وتعالٰی وتدلیہ علٰی مافی حدیث شریک) عن انس (کان فوق العرش لا الی الارض) ۔(زرقانی جلد ۶ ص ۹۹)
اور اللہ تعالیٰ کا (اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے) قریب ہونا اور زیادتی قرب کا طلب فرمانا عرش کے اوپر تھا زمین پر نہیں تھا۔
قائلین معراج منامی کے شبہات اور ان کا جواب
جو لوگ معراج جسمانی کے منکر اور منامی کے قائل ہیں، ان کے شبہات مع جوابات حسب ذیل ہیں
پہلا شبہ : اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے ’’وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِیْ اَرَیْنَاکَ اِلاَّ فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ‘‘ (بنی اسرائیل: ۶۰) اور نہیں کیا ہم نے اس رؤیا کو جو آپ کو دکھائی (اے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) لیکن آزمائش لوگوں کے لئے۔ بعض مفسرین نے اس آیہ کریمہ کو معراج پر محمول کیا ہے لہٰذا معراج منامی ہو ئی کیونکہ ’’رؤیا‘‘ عربی زبان میں خواب کو کہتے ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ مفسرین کی ایک جماعت نے حدیبیہ یا بدر کی رؤیا پر حمل فرمایا ہے۔ اس لئے کہ اس کو واقعہ معراج پر محمول کرنا حتمی اور یقینی امر نہ رہا۔ علاوہ ازیں لفظ رؤیا رویت بصری کے معنی میں بھی آتا ہے۔ خصوصاً رات میں جسمانی آنکھ سے دیکھنے کے معنی میں یہ لفظ اکثر استعمال ہوا ہے۔ دیکھئے دیوان متنبی میں ہے
مضی اللیل والفضل الذی لک لایمضی
ورؤیاک احلٰی فی العیون من الغمض
(دیوان متنبی ص ۱۸۸ قافیۃ الضاد)
ترجمہ : رات ختم ہو گئی اور تیرا فضل ختم ہونے والا نہیں۔ اور تیرا دیدار جمال آنکھوں میں نیند سے زیادہ میٹھا ہے۔
اس شعر میں لفظ ’’رؤیا‘‘ رویت بصری کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ علاوہ ازیں اسی آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے
ہی رؤیا عین اریہا رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم لیلۃ اسری بہ الٰی بیت المقدس ۔ (بخاری شریف جلد اول صفحہ ۵۵۰،چشتی)
کرمانی نے اس حدیث پر کہا ’’رؤیا عین‘‘ قید بہ للاشعار بان رؤیا بمعنی الرؤیۃ فی الیقظۃ لارؤیا النائم ۔ (کرمانی حاشیہ صفحہ ۵)
ترجمہ : رؤیا کو عین کے ساتھ یہ ظاہر کرنے کے لئے مقید فرمایا کہ لفظ ’’رؤیا‘‘ یہاں بحالت بیداری دیکھنے کے معنی میں ہے۔ سونے والے کی خواب کے معنی میں نہیں۔
دوسرا شبہ: بخاری شریف میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث وارد ہے۔ جس میں حضرت انس نے تمام واقعہ معراج بیان کرنے کے بعد فرمایا فاستیقظ وہو فی المسجد الحرام یعنی حضور بیدار ہوئے تو آپ مسجد حرام میں تھے۔ بعض روایات میں بینا انا نائم وارد ہے۔ بعض احادیث میں وہو نائم فی المسجد الحرام آیا ہے۔ ایک دوسری روایت میں بینا انا عند البیت بین النائم والیقظان ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو بحالت خواب معراج ہوئی۔
اس کا جواب امام ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں اور امام بدر الدین عینی نے عمدۃ القاری میں دیا ہے۔ ہم اسے نقل کئے دیتے ہیں۔ امام ابن حجر عسقلانی فاستیقظ وہو بالمسجد الحرام کے تحت فرماتے ہیں
واقلہ قولہ فاستیقظ وہو عند المسجد الحرام فان حمل علٰی ظاہرہٖ جاز ان یکون نام بعد ان ہبط من السماء فاستیقظ وہو عند المسجد الحرام وجاز ان یؤول قولہ استیقظ ای افاق مما کان فیہ فانہ کان اذا اوحی الیہ یستغرق فیہ فاذا انتہٰی رجع الٰی حالتہ الاولٰی فکنٰی عنہ بالاستیقاظ انتہٰی ۔ (فتح الباری جلد نمبر ۱۳ صفحہ نمبر ۴۱۰،چشتی)
ترجمہ : اس کا اقل، راوی کا یہ قول ہے کہ پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بیدار ہوئے تو آپ مسجد حرام میں تھے۔ اس قول کو ظاہر پر بھی حمل کرنا جائز ہے اور اس کی تاویل بھی کی جا سکتی ہے۔ ظاہر پر عمل کریں تو یہ کہیں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آسمان سے واپس تشریف لا کر مسجد حرام میں سو گئے۔ پھر جب آپ بیدار ہوئے تو مسجد حرام ہی میں تھے اور اگر تاویل کریں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو جب معراج کے حال سے افاقہ ہوا تو آپ مسجد حرام میں تھے کیونکہ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو وحی ہوتی تھی تو آپ اس میں مستغرق ہو جاتے تھے۔ جب وحی ختم ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو حالت استغراق سے افاقہ ہو جاتا تھا۔ بالکل یہی کیفیت معراج کے وقت ہوئی کہ جب تک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم معراج میں رہے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر وہ استغراق کا حال طاری رہا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مسجد حرام میں واپس تشریف لائے تو وہ حالت زائل ہو گئی اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پہلی حالت کی طرف لوٹ آئے ۔ راوی نے ’’استیقظ‘‘ کہہ کر اسی سے کنایہ کیا ہے ۔ (فتح الباری جلد ۱۳ صفحہ ۴۱۰،چشتہ)
امام ابن حجر نے آگے چل کر اسی بارے میں امام قرطبی کا قول نقل کیا ہے جس کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ بیدار ہونا اس نیند سے ہے جو معراج سے واپس تشریف لا کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمائی تھی۔ کیونکہ معراج تمام رات نہیں ہوئی وہ تو بہت ہی قلیل ترین وقت میں واقع ہوئی تھی اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام معراج سے واپس تشریف لا کر مسجد حرام میں سو گئے۔ صبح اٹھے تو مسجد حرام ہی میں جلوہ گر تھے۔
نیز احتمال ہے کہ استیقاظ بمعنی افاقہ ہو۔ کیونکہ ملاء اعلیٰ اور آیات کبریٰ کے مشاہدہ کا حال حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایسا غالب تھا کہ بشریت اور عالم اجسام کی طرف سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بالکل غیر متوجہ ہو گئے تھے۔ حتیٰ کہ مسجد حرام میں پہنچنے تک یہی حال رہا۔ جب مسجد حرام میں جلوہ گر ہوئے تو حال بشریت کی طرف رجوع فرمایا اور حالت سابقہ سے افاقہ ہوا۔ اس افاقہ کو راوی نے استیقظ سے تعبیر کیا اور کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو ملاء اعلیٰ اور آیات کبریٰ کے حال سے افاقہ ہوا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد حرام میں تھے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا قول مبارک کہ میں سویا ہوا تھا تو اس سے شب معراج میں جبریل علیہ السلام کے آنے سے پہلے خواب استراحت فرمانا ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جبریل علیہ السلام کے آنے سے پہلے سو رہے تھے۔ جبریل علیہ السلام نے آ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جگایا۔ ایک اور روایت میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا قول مبارک آیا ہے کہ انا بین النائم والیقظان اتانی الملک میں سونے جاگنے کے درمیان تھا کہ میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو معراج کرانے کے لئے جس وقت جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے تو اس وقت حضور علیہ السلام کی نیند مبارک ایسی ہلکی اور خفیف تھی کہ جسے سونے اور جاگنے کی درمیانی حالت سے تعبیر کیا جا سکتا تھا۔ جب جبریل علیہ السلام آئے تو انہوں نے اس خفیف نیند سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بیدار کیا اور اس کے بعد بیداری میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم معراج پر تشریف لے گئے۔ (فتح الباری جلد ۱۳ ص ۴۱۷ مطبوعہ مصر،چشتی)(عمدۃ القاری جلد ۲۵ صفحہ ۱۷۳ مطبوعہ مصر طبع جدید)
لہٰذا ثابت ہوا کہ تینوں میں سے ایک روایت بھی معراج منامی کی دلیل نہیں اور منکرین کا شبہ بالکل بے بنیاد ہے ۔ وللّٰہ الحمد
تیسرا شبہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں
ما فقدت جسد رسول اللّٰہ ا لیلۃ المعراج ۔ معراج کی رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا جسم مبارک گم نہیں پایا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو معراج بعثت کے ایک یا ڈیڑھ سال یا پانچ سال بعد اسلام کے ابتدائی زمانہ میں ہوئی ہے۔ ان اقوال کے بموجب معراج مبارک ہجرت سے آٹھ سال یا ساڑھے گیارہ سال یا بارہ سال پہلے ہوئی اور حضرت عائشہ صدیقہ کی شادی مبارک ہجرت کے بعد ہوئی۔ جب کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر شریف 9 برس تھی۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں بربنائے بعض اقوال معراج کے وقت حضرت عائشہ صدیقہ پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں اور اگر ان کی پیدائش مان بھی لی جائے تو بہر نوع حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے پاس ان کا پایا جانا ہجرت کے بعد ہی ہے۔ پھر ان کا یہ فرمانا کہ میں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جسم مبارک معراج کی رات گم نہیں پایا کیونکر متصور ہو سکتا ہے؟ رہا یہ شبہ کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہ حدیث ان الفاظ سے بھی مروی ہے : ما فقد جسد رسول اللّٰہ الیلۃ المعراج ۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ محدثین کے نزدیک یہ روایت بلا شبہ غیر ثابت اور مبنی بر خطا ہے۔ خلاصہ یہ کہ مافقدت اور فقد دونوں روایتیں ازروئے درایت و روایت صحیح نہیں اس لئے اس سے معارضہ کرنا باطل ہے۔
اور اگر بر تقدیر تسلیم اس حدیث کے یہ معنی مراد لئے جائیں کہ ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا معراج مبارک کی سرعت اور اس کے قلیل ترین وقت میں ہونے کو بیان فرما رہی ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا آنا جانا اس قدر تیزی اور سرعت کے ساتھ واقع ہوا کہ گویا جسم مبارک گم ہونے ہی نہیں پایا تو یہ معنی دیگر روایات کے مطابق صحیح قرار پائیں گے۔
چوتھا شبہ: یہ ہے کہ آیت قرآنیہ ’’مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاٰی‘‘ سے بھی سمجھا جاتا ہے کہ معراج خواب میں ہوئی۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں کوئی لفظ ایسا نہیں کہ جس کا ترجمہ نیند اور خواب کیا جائے۔ آیت کے معنی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے قلب مبارک نے اس چیز کی تکذیب نہیں کی جسے چشم مبارک نے دیکھا۔ یعنی معراج کی رات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی چشم اقدس سے جو کچھ دیکھا اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کسی قسم کا وہم یا اشتباہ واقع نہیں ہوا اور اس کی دلیل یہ آیت ہے ’’مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی‘‘ (نہ کج ہوئی نگاہ نہ بہکی) لفظ بصر جسمانی نگاہ کے لئے آتا ہے۔ خواب میں دیکھنے کو بصر نہیں کہتے۔ الحمد للّٰہ! قائلین معراج منامی کے تمام شبہات کا ازالہ ہو گیا۔
نیچری اور مسئلہ معراج
معراج کا واقعہ درحقیقت ایمان کے لئے کسوٹی کا حکم رکھتا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات، علم و قدرت، عظمت و حکمت پر کامل ایمان رکھتا ہے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی نبوت و رسالت، صداقت و کمالات کی دل سے تصدیق کرتا ہے وہ واقعہ معراج یا اسی قسم کے خرق عادات امور کا کبھی انکار نہیں کر سکتا۔ جب کہ قرآن و حدیث میں اس کا صاف اور واضح بیان بھی موجود ہے اور عہد رسالت سے لے کر ہر دور کے جمہور مسلمان اس کو بلا تاویل تسلیم کرتے چلے آئے ہیں۔
رہے وہ شکوک و شبہات جنہیں فلاسفہ کی اتباع میں نیچری پیش کیا کرتے ہیں کہ جسم طبعی مادی مرکب من العناصر کا عناصر کی حدود سے تجاوز کرنا اور آسمانوں پر صعود کرنا محال ہے۔ نیز آسمانوں میں خرق والتیام بھی ناممکن ہے۔ پھر زمان و مکان کے بغیر کسی جسم کا پایا جانا بھی از قبیل محالات ہے۔ نیز رات کے قلیل ترین حصہ میں آسمانوں کی سیر کر کے واپس آنا کسی طرح ممکن نہیں۔اس قسم کے تمام شکوک و شبہات کا جواب یہ ہے کہ ان تمام امور کے محال ہونے سے ان کی مراد محال عقلی ہے یا عادی۔ برتقدیر اول آج تک استحالہ عقلیہ پر کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکی۔ جس قدر دلائل فلاسفہ کی طرف سے پیش ہوئے ہیں ان سب کا مفاد استحالہ عادیہ ہے اور بس۔ معلوم ہوا کہ یہ جملہ امور متنازعہ فیہا از قبیل محالات عادیہ ہیں اور محال عادی ممکن بالذات ہوتا ہے اور ممکن بالذات حادث تحت قدرت ہے۔ لہٰذا یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے تحت ثابت ہوئیں اور معراج کرانا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اس لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عالم عناصر سے آسمانوں پر لے جانا اور رات کے بہت تھوڑے حصے میں واپس لے آنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قدرت و تصرف کا کرشمہ قرار پایا جس پر فلاسفہ کا کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ’’سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی‘‘ فرمایا اور لے جانے کی نسبت اپنی ذات کی طرف فرمائی تاکہ اعتراض کی کوئی گنجائش نہ رہے ۔ (مقالات کاظمی جلد اوّل)
شب معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی کے دیدارِ پُرانوار کی نعمت لازوال سے مشرف ہوئے‘ اس کا ذکر قرآن کریم کی آیاتِ مبارکہ میں موجود ہے چنانچہ واقعہ معراج کے ضمن میں ارشاد خداوندی ہے : مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی ۔
ترجمہ : آپ نے جو مشاہدہ کیا دل نے اُسے نہیں جھٹلایا ۔ (سورۃ النجم۔11)
نیز ارشاد الہی ہے : أَفَتُمَارُونَہُ عَلَی مَا یَرَی ۔
ترجمہ :کیا تم ان سے بحث کرتے ہواُس پرجووہ مشاہدہ فرماتے ہیں ۔ (سورۃ النجم۔12)
وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً أُخْرَی ۔
ترجمہ : اور یقیناً آپ نے اُس جلوہ کا دومرتبہ دیدار کیا ۔ (سورۃ النجم۔13)
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَی ۔
ترجمہ : نہ نگاہ ادھر اُدھر متوجہ ہوئی اور نہ جلوۂ حق سے متجاوز ہوئی ۔ (سورۃ النجم۔17)
یعنی آپ کی نظر سوائے جمال محبوب کے کسی پرنہ پڑی ۔
لَقَدْ رَاٰی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرَی ۔
ترجمہ : بیشک آپ نے اپنے رب کی نشانیوں میں سب سے بڑی نشانی (جلوۂ حق) کا مشاہدہ کیا ۔ (سورۃ النجم۔18)
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسمانوں کی ، جنت و دوزخ کی ، سدرۃ المنتہیٰ کی ، عرش الٰہی کی سیر کروائی اور اللہ تعالیٰ نے جہاں تک چاہا آپ نے سیر فرمائی، اس کی قدرت کی نشانیوں کا مشاہدہ فرمایا اور دیدار پرانوار کی نعمت لازوال سے مشرف ہوئے ۔
جیسا کہ صحیح بخاری شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے تفصیلی روایت منقول ہے روایت کا ایک حصہ ملاحظہ ہو : حتی جاء سدرۃ المنتھیٰ ودنا للجبار رب العزۃ فتدلی حتی کان منہ قاب قوسین او ادنی ۔ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ پر آئے اور جبار رب العزت آپ کے قریب ہوا پھر اور قریب ہو ا یہاں تک کہ دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی زیادہ نزدیک ۔ (صحیح بخاری شریف جلد 2 کتاب التوحید صفحہ 1120 ، حدیث نمبر 6963)
صحیح مسلم شریف میں روایت ہے : عن عبداللہ بن شقیق قال قلت لابی ذر لو رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لسألتہ فقال عن ای شیء کنت تسألہ قال کنت اسالہ ھل رایت ربک قال ابو ذر قد سالت فقال رایت نورا ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا اگر مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار کی سعادت حاصل ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتا ، انہوں نے کہا تم کس چیز کے متعلق سوال کرتے ؟
حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کرتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے آپ سے اس متعلق دریافت کیا تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے دیکھا ، وہ نور ہی نور تھا ۔ (صحیح مسلم جلد 2 کتاب الایمان صفحہ 99 حدیث نمبر 262،چشتی)
جامع ترمذی شریف میں حدیث پاک ہے : عن عکرمۃ عن ابن عباس قال رای محمد ربہ قلت الیس اللہ یقول لا تدرکہ الابصار و ھو یدرک الابصار قال و یحک اذا تجلی بنورہ الذی ھو نورہ و قد راٰی محمد ربہ مرتین ھٰذا حدیث حسن غریب ۔
ترجمہ : عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے ، میں نے عرض کیا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرتا ہے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم پر افسوس ہے ، یہ اس وقت ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے اس نور کے ساتھ تجلی فرمائے جو اس کا نور ہے ، یعنی غیر متناہی نور اور بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا ہے ۔ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ (جامع ترمذی شریف جلد 2 ابواب التفسیر صفحہ 164 حدیث نمبر 3201،چشتی)
عن ابن عباس فی قول اللہ تعالیٰ و لقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتہیٰ فاوحی الی عندہ ما اوحیٰ فکان قاب قوسین او ادنی قال ابن عباس قد راہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ھٰذا حدیث حسن ۔
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان آیات کی تفسیر میں فرمایا : بے شک انہوں نے اس کو دوسری بار ضرور سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا تو اللہ نے اپنے خاص بندہ کی طرف وہ وحی نازل کی جو اس نے کی ، پھر وہ دو کمانوںکی مقدار نزدیک ہوا یا اس سے زیادہ ، حضرت ابن عباس نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف جلد 2 ابواب التفسیر صفحہ 164 حدیث نمبر 3202)
مسند امام احمد میں یہ الفاظ مذکور ہیں : عن عکرمۃ عن ابن عباس قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رایت ربی تبارک و تعالیٰ ۔ سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو دیکھا ۔ یہ حدیث پاک مسند امام احمد میں دو جگہ مذکور ہے ۔ (مسند امام احمد حدیث نمبر 2449 - 2502)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے دادا استاذ حضرت امام عبدالرزاق صنعانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 211ھ) نے اپنی تفسیر میں رقم فرمایاہے : کان الحسن یحلف باللہ ثلاثۃ لقد رای محمد ربہ ۔
ترجمہ : حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ تین باراللہ تعالی کی قسم ذکر کر کے فرمایا کر تے تھے کہ یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کا دیدار کیا ۔ (تفسیرالقران لعبد الرزاق، حدیث نمبر2940،چشتی) ، نیز اسی طرح کی تفسیر‘ ائمۂ تفسیر امام ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 327 ھ) ابومحمد الحسین بن مسعو د بغوی (متوفی 510ھ) علامہ جمال الدین ابن الجوزی (متوفی 597ھ) امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ (وصال 606 ھ) علامہ عبدالعزیز بن عبدالسلام دمشقی(متوفی660ھ) امام ابوعبداللہ محمدبن احمد قرطبی(متوفی 671ھ) امام علاء الدین خازن رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 741 ھ) ابوزید عبدالرحمن ثعلبی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 876ھ) حضرت سلیمان الجمل رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1204ھ) علامہ شیخ احمد بن محمد صاوی مالکی رحمۃ اللہ علیہ (وصال 1241ھ) امام سیوطی (وصال 911ھ) اپنی کتبِ تفاسیر میں لکھی ہیں ۔ سورۃ النجم کی آیت نمبر 13 کی تفسیر کے تحت روایتوں میں یہ بھی مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سدرۃ المنتھی کے پاس جبرئیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ۔ لیکن آپ کا سفر وہیں منتہی نہیں ہوا ، آپ سدرہ سے آگے تشریف لے گئے ، ماورائے عرش پہنچے ، اللہ تعالی کے قرب سے مالامال ہوئے اور اپنے ماتھے کی آنکھوں سے اللہ تعالی کا دیدارفرمایا ۔
کتب صحاح و سنن ، معاجم ومسانید میں اس سے متعلق متعدد روایتیں موجود ہیں ، چنانچہ صحیح بخاری ، مستخرج أبی عوانۃ اور جامع الأصول من أحادیث الرسول لابن الاثیر حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت منقول ہے : وَدَنَا الْجَبَّارُ رَبُّ الْعِزَّۃِ فَتَدَلَّی حَتَّی کَانَ مِنْہُ قَابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنَی ۔
ترجمہ : اور اللہ رب العزت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرب عطا کیا ، مزیداور قرب عطا کیا ، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور اُس جلوہ کے درمیان دو کمانوں کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہوئے ۔ (صحیح بخاری شریف کتاب التوحید باب قَوْلِ اللہِ وَکَلَّمَ اللَّہُ مُوسَی تَکْلِیمًا حدیث نمبر 7517،چشتی)(مستخرج أبی عوانۃ کتاب الإیمان مبتدأ أبواب فی الرد علی الجہمیۃ وبیان أن الجنۃ مخلوقۃ حدیث نمبر 270)(جامع الأصول من أحادیث الرسول لابن الاثیر،کتاب النبوۃ أحکام تخص ذاتہ صلی اللہ علیہ وسلم، اسمہ و نسبہ حدیث نمبر 8867)
صحیح مسلم ، صحیح ابن حبان ، مسندابویعلی ، جامع الاحادیث ، الجامع الکبیر ، مجمع الزوائد ، کنزل العمال ، مستخرج ابوعوانہ میں حدیث پاک ہے : عن عبد اللہ بن شقیق قال قلت لابی ذر لو رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لسالتہ فقال عن ای شیء کنت تسالہ قال کنت اسالہ ھل رایت ربک قال ابو ذر قد سالت فقال رایت نورا ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا ! اگر مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار کی سعادت حاصل ہوتی تو ضرور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کرتا ، انہوں نے فرمایا تم کس چیز سے متعلق دریافت کرتے ؟ حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ دریافت کرتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کا دیدارکیا ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس سلسلہ میں دریافت کیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے نورِ حق کو دیکھا ہے ۔ (صحیح مسلم،کتاب الإیمان،باب فِی قَوْلِہِ عَلَیْہِ السَّلاَمُ نُورٌ أَنَّی أَرَاہ.وَفِی قَوْلِہِ رَأَیْتُ نُورًا.حدیث نمبر:462،چشتی)(مستخرج أبی عوانۃ،کتاب الإیمان، حدیث نمبر:287)(صحیح ابن حبان،کتاب الإسراء ،ذکر الخبر الدال علی صحۃ ما ذکرناہ ،حدیث نمبر:58)(جامع الأحادیث،حرف الراء ،حدیث نمبر:12640)(جمع الجوامع أو الجامع الکبیر للسیوطی، حرف الراء ، حدیث نمبر:12788)(مجمع الزوائد،حدیث نمبر:13840)(مسند أبی یعلی، حدیث نمبر:7163)(کنز العمال،حرف الفاء ،الفصل الثانی فی المعراج، حدیث نمبر:31864)
صحیح مسلم‘مسنداحمد‘صحیح ابن حبان ‘مسندابویعلی ‘معجم اوسط طبرانی ‘جامع الاحادیث ‘الجامع الکبیر ‘کنزل العمال‘مستخرج ابوعوانہ میں حدیث پاک ہے : عن ابی ذر سألت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہل رأیت ربک ؟ قال نور اِنِّی اَرَاہ ۔
ترجمہ : حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ میں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا ! کیا آپ نے اپنے رب کا دیدار کیا ؟ فرمایا : وہ نور ہے ‘ بیشک میں اس کا جلوہ دیکھتا ہوں ۔ (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ،باب نورانی اراہ ،حدیث نمبر:461،مسند احمد، مسند ابی بکر حدیث نمبر:21351!21429)
اس حدیث شریف میں بھی صراحت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حق تعالی کا دیدار کیا ۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : کیا آپ نے رب کا دیدار کیا ؟ جواباً ارشاد فرمایا : نُورَانِیُُّ اَرَاہُ ۔
ترجمہ : وہ ذات نور ہے ‘ میں اس کا جلوہ دیکھتا ہوں ۔
فقال نورا اَنّٰی اَرَاہ ۔
ترجمہ : میں نے جس شان سے دیکھاوہ نورہی نورہے ۔ (مسنداحمد ،حدیث نمبر:22148،چشتی)(طبرانی معجم اوسط،حدیث نمبر:8300)(مسنداحمد ، حدیث نمبر:21537)(جامع الأحادیث للسیوطی،حرف الراء ،حدیث نمبر : 12640)(صحیح ابن حبان،کتاب الإسراء ، حدیث نمبر:255) ۔ أما قولہ صلی اللہ علیہ و سلم نور أنی أراہ فہو بتنوین نور وبفتح الہمزۃ فی أنی وتشدید النون وفتحہا وأراہ بفتح الہمزۃ ہکذا رواہ جمیع الرواۃ فی جمیع الاصول والروایات ۔ ۔ ۔ (رأیت نورا ) معناہ رأیت النور فحسب ولم أر غیرہ قال وروی نورانی أراہ بفتح الراء وکسر النون وتشدید الیاء ویحتمل أن یکون معناہ راجعا إلی ما قلناہ أی خالق النور المانع من رؤیتہ فیکون من صفات الافعال ۔ (شرح صحیح مسلم‘ کتاب الایمان)
روایت کا جواب : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ جو شخص یہ بیان کرے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رب کو دیکھا ہے وہ جھوٹاہے ۔
جواب : صحیح بخاری شریف میں روایت ہے : عن مسروق عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت من حدثک أن محمدا صلی اللہ علیہ و سلم رأی ربہ فقد کذب وہو یقول (لا تدرکہ الأبصار) ۔
ترجمہ : مسروق بیان کرتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جو شخص تم کو یہ بتائے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کو احاطہ کے ساتھ دیکھا ہے تواس نے جھوٹ کہا اللہ تعالی کا ارشاد ہے لا تدرکہ الابصار ۔ آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں ۔ (سورہ انعام آیت نمبر 103) ۔ (صحیح بخاری شریف کتاب التوحید باب قول اللہ تعالی عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ أحدا،حدیث نمبر:7380،چشتی)
اس حدیث پاک میں مطلق دیدار الہی کی نفی نہیں ہے بلکہ احاطہ کے ساتھ دیدار کرنے کی نفی ہے اللہ تعالی کا دیدار احاطہ کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا ۔ کیونکہ اللہ تعالی کی ذات اور اُس کی صفات لامحدود ہیں ‘ اس لیے احاطہ کے ساتھ دیدارِخداوندی محال ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بغیراحاطہ کے اپنے رب کا دیدار کیا ہے ۔ جامع ترمذی‘مسند احمد‘مستدرک علی الصحیحین‘عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری‘ ،تفسیر ابن کثیر‘‘سبل الہدی والرشاد میں حدیث پاک ہے : عن عکرمۃ عن ابن عباس قال رای محمد ربہ قلت الیس اللہ یقول لا تدرکہ الابصار و ھو یدرک الابصار قال و یحک اذا تجلی بنورہ الذی ھو نورہ و قد راٰی محمد ربہ مرتین ۔ترجمہ : حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کا دیدار کیا ہے ۔ میں نے عرض کیا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک و احاطہ کرتا ہے ؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم پر تعجب ہے ! جب اللہ تعالیٰ اپنے اُس نور کے ساتھ تجلی فرمائے جو اُس کا غیر متناہی نور ہے اور بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کا دو مرتبہ دیدار کیا ہے ۔ (جامع ترمذی ،ابواب التفسیر ‘باب ومن سورۃ النجم ‘حدیث نمبر:3590،چشتی)(عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، کتاب تفسیر القرآن، سورۃ والنجم)(تفسیر ابن کثیر، سورۃ النجم5،ج7،ص442)(سبل الہدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد، جماع أبواب معراجہ صلی اللہ علیہ وسلم ج3،ص61)(مستدرک علی الصحیحین ، کتاب التفسیر ، تفسیرسورۃ الانعام ، حدیث نمبر:3191)(مسند احمد،معجم کبیر،تفسیرابن ابی حاتم ، سورۃ الانعام ، قولہ لاتدرکہ الابصار،حدیث نمبر:7767)
قال ابن عباس قد راہ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا : یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کا دیدار کیا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف ، ج 2، ابواب التفسیر ص 164 ، حدیث نمبر:3202)
مسند امام احمد میں یہ الفاظ مذکور ہیں : عن عکرمۃ عن ابن عباس قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رایت ربی تبارک و تعالیٰ ۔
ترجمہ : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میں نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کا دیدار کیا ۔ یہ حدیث پاک مسند امام احمد میں دو جگہ مذکور ہے ۔ (مسند امام احمد، حدیث نمبر:2449-2502،چشتی)
دنیا میں ظاہری آنکھوں سے رب تعالی کا دیدار کرنا ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیت ہے ۔ حضرت موسی علیہ السلام نے ظاہری طور پر اللہ تعالی کا دیدار نہیں کیا بلکہ اللہ تعالی کی تجلی خاص کا مشاہدہ کیا ، جیسا کہ سورۃ الاعراف میں ارشاد باری تعالی ہے : وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰی لِمِيقَاتِنَا وَکَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرْ اِلَيکَ قَالَ لَنۡ تَرٰينِیۡ وَلٰکِنِ انۡظُرْ اِلَی الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰينِیۡ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَيکَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ ۔ ترجمہ : اور جب موسی علیہ السلام ہمارے مقرر کردہ وقت پر حاضر ہوئے اور ان کے رب نے ان سے کلام فرمایا ، انہوں نے عرض کیا : اے میرے رب ! مجھے اپنا جلوہ دکھا کہ میں تیرا دیدار کرلوں ، ارشاد فرمایا : تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے ، مگر پہاڑ کی طرف دیکھو اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو تم عنقریب مجھے دیکھ لو گے ۔ پھر جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی ، اسے ریزہ ریزہ کردیا اور موسی علیہ السلام بے ہوش ہو کر گرپڑے ، پھر جب افاقہ ہوا تو عرض کیا تیری ذات پاک ہے میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ۔ (سورۃ الاعراف آیت نمبر 143)
حضرت عبد ﷲ ابن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے رب کریم کو دیکھا ۔ (مسند احمد از کتاب‘ دیدار الٰہی) ۔ اس حدیث کے بارے میں امام اجل امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ خصائص کبریٰ اور علامہ عبدالرئوف شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں‘ کہ یہ حدیث صحیح ہے ۔
حضرت جابر رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فرماتے ہیں کہ بے شک ﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دولت کلام بخشی اور مجھے اپنا دیدار عطا فرمایا۔ مجھ کو شفاعت کبریٰ و حوض کوثر سے فضیلت بخشی ۔ (ابن عساکر از کتاب: دیدار الٰہی)
طبرانی معجم اوسط میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہ فرمایا کرتے بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ اپنے رب جل جلالہ کو دیکھا ۔ ایک بار اس آنکھ سے اور ایک مرتبہ دل کی آنکھ سے ۔ (طبرانی‘ معجم اوسط)
حضرت عکرمہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب جل جلالہ کو دیکھا ۔ عکرمہ رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کیا ﷲ تعالیٰ نے نہیں فرمایا ’’لاتدرکہ الابصار وہو یدرک الابصار‘‘ حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما نے فرمایا ۔ تم پر افسوس ہے کہ یہ تو اس وقت ہے جب وہ اپنے ذاتی نور سے جلوہ گر ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے رب جل جلالہ کو دو مرتبہ دیکھا ۔ (ترمذی شریف جلد دوم‘ ابواب تفسیر القرآن‘ رقم الحدیث 1205 صفحہ 518‘ مطبوعہ فرید بک لاہور)
حضرت عکرمہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ آیت کریمہ ’’ماکذب الفوا دمارایٰ‘‘ کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ﷲ تعالیٰ کو دل (کی آنکھوں) سے دیکھا ۔ (ترمذی شریف‘ جلد دوم‘ابواب تفسیر القرآن‘ رقم الحدیث 1207‘ صفحہ 519‘ مطبوعہ فرید بک لاہور)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب مبارک نے اس کی تصدیق کی جو چشمِ مبارک نے دیکھا ۔ مراد یہ ہے کہ آنکھ سے دیکھا ، دِل سے پہچانا اور اس دیکھنے اور پہچاننے میں شک اور تَرَدُّد نے راہ نہ پائی ۔ اب رہی یہ بات کہ کیا دیکھا ، اس بارے میں بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا ، لیکن صحیح مذہب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب تعالیٰ کو دیکھا ۔ اور یہ دیکھنا کیا سر کی آنکھوں سے تھا یا دل کی آنکھوں سے ، اس بارے میں مفسرین کے دونوں قول پائے جاتے ہیں ایک یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رب عزوجل کو اپنے قلب مبارک سے دیکھا ۔ اور مفسرین کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رب عزوجل کو حقیقتاً چشمِ مبارک سے دیکھا ۔ یہ قول حضرت انس بن مالک ، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہم کا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خُلَّت اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دیدار سے اِمتیاز بخشا ۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دوبار کلام فرمایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دو مرتبہ دیکھا ۔ (سنن ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ والنجم جلد ۵ صفحہ ۱۸۴ الحدیث : ۳۲۸۹)
لیکن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدارِ الہٰی کا انکار کیا اور اس آیت کو حضرت جبریل علیہ السلام کے دیدار پر محمول کیا اور فرمایا کہ جو کوئی کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا اس نے جھوٹ کہا اور اس بات کی دلیل کے طور پر یہ آیت ’’ لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ‘‘ تلاوت فرمائی ۔
اس مسئلے کو سمجھنے کےلیے یہاں چند باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا قول نفی میں ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا اِثبات میں اور جب نفی اور اثبات میں ٹکراؤ ہو تو مُثْبَت ہی مُقَدّم ہوتا ہے کیونکہ نفی کرنے والا کسی چیز کی نفی اس لئے کرتا ہے کہ اُس نے نہیں سنا اور کسی چیز کو ثابت کرنے والا اِثبات اس لئے کرتا ہے کہ اس نے سنا اور جانا تو علم ثابت کرنے والے کے پاس ہے ۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ کلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل نہیں کیا بلکہ آیت سے جو آپ نے مسئلہ اَخذ کیا اس پر اعتماد فرمایا اور یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اپنی رائے ہے جبکہ درحقیقت آیت میں اِدراک یعنی اِحاطہ کی نفی ہے دیکھ سکنے کی نفی نہیں ہے ۔
صحیح مسئلہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیدارِ الہٰی سے مُشَرَّف فرمائے گئے ، مسلم شریف کی حدیثِ مرفوع سے بھی یہی ثابت ہے ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جو کہ حِبْرُ الْاُمَّت ہیں وہ بھی اسی پر ہیں ۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ قسم کھاتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شبِ معراج اپنے رب عزوجل کو دیکھا ۔ امام احمد رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا اُس کو دیکھا اُس کو دیکھا ۔ امام صاحب یہ فرماتے ہی رہے یہاں تک کہ سانس ختم ہوگیا (پھر آپ نے دوسرا سانس لیا) ۔ (تفسیر خازن جلد ۴ صفحہ ۱۹۲ ، ۱۹۴،چشتی)(تفسیر روح البیان جلد ۹ صفحہ ۲۲۲ ، ۲۲۳) ۔ (روایت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا تفصیلی جواب ہم حصّہ اوّل میں دے چُکے ہیں تفصیل اس میں پڑھیں)
امام احمد علیہ الرحمہ اپنی مسند میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے راوی : قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رأیت ربی عزوجل ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ۔ (مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۸۵) ۔ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ خصائص کبرٰی اور علامہ عبدالرؤف مناوی علیہ الرحمہ تیسیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں : یہ حدیث بسند صحیح ہے ۔ (التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث رأیت ربی مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ /۲۵،چشتی)(الخصائص الکبرٰی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱ /۱۶۱)
ابن عساکر حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے راوی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : لان اللہ اعطی موسی الکلام واعطانی الرؤیۃ لوجہہ وفضلنی بالمقام المحمود والحوض المورود ۔
ترجمہ : بیشک اللہ تعالٰی نے موسٰی کو دولت کلام بخشی اورمجھے اپنا دیدار عطافرمایا مجھ کو شفاعت کبرٰی وحوض کوثر سے فضیلت بخشی ۔ (کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن جابر حدیث ۳۹۲۰۶مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۴ /۴۴۷ )
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے راوی : قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال لی ربی نخلت ابرٰھیم خلتی وکلمت موسٰی تکلیما واعطیتک یا محمد کفاحا ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں مجھے میرے رب عزوجل نے فرمایا میں نے ابراہیم کو اپنی دوستی دی اورموسٰی سے کلام فرمایا اورتمہیں اے محمد!مواجہ بخشا کہ بے پردہ وحجاب تم نے میرا جمال پاک دیکھا ۔ (تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر عروجہ الی السماء واجتماعہ بجماعۃ من الانبیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۹۶ )
فی مجمع البحار کفاحا ای مواجھۃً لیس بینھما حجاب ولارسول ۔
ترجمہ : مجمع البحار میں ہے کہ کفاح کا معنٰی بالمشافہ دیدار ہے جبکہ درمیان میں کوئی پردہ اور قاصد نہ ہو ۔ (مجمع بحار الانوار باب کف ع تحت اللفظ کفح مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۴ /۴۲۴،چشتی)
ابن مردویہ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما سے راوی : سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وھو یصف سدرۃ المنتہٰی (وذکر الحدیث الی ان قالت ) قلت یارسول اللہ مارأیت عندھا ؟قال رأیتہ عندھا یعنی ربہ ۔
ترجمہ : میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سدرُالمنتہٰی کا وصف بیان فرماتے تھے میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پاس کیا دیکھا ؟ فرمایا : مجھے اس کے پاس دیدار ہوا یعنی رب کا ۔ (الدرالمنثور فی التفسیر بالماثور بحوالہ ابن مردویہ تحت آیۃ ۱۷/۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۹۴)
ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی : اما نحن بنوھا شام فنقول ان محمدا رای ربہ مرتین ۔
ترجمہ : ہم بنی ہاشم اہلبیت رضی اللہ عنہم تو فرماتے ہیں کہ بیشک محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے رب کو دوبار دیکھا ۔ (جامع الترمذی ابو اب التفسیر سورئہ نجم امین کمپنی اردو بازا ر دہلی ۲ /۱۶۱،چشتی)(الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل وامارؤیۃ لربہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۱/ ۱۵۹)
ابن اسحٰق عبداللہ بن ابی سلمہ سے راوی : ان ابن عمر ارسل الٰی ابن عباس یسألہ ھل راٰی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ربہ ، فقال نعم ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کرابھیجا : کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ؟ا نہوں نے جواب دیا : ہاں ۔ (الدرالمنثور بحوالہ ابن اسحٰق تحت آیۃ ۵۳ /۱۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۷ /۵۷۰،چشتی)
جامع ترمذی ومعجم طبرانی میں عکرمہ سے مروی : واللفظ للطبرانی عن ابن عباس قال نظر محمد الی ربہ قال عکرمۃ فقلت لابن عباس نظر محمد الی ربہ قال نعم جعل الکلام لموسٰی والخلۃ لابرٰھیم والنظر لمحمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم (زاد الترمذی) فقد رای ربہ مرتین ۔
ترجمہ : طبرانی کے الفاظ ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ۔ عکرمہ ان کے شاگرد کہتے ہیں : میں نے عرض کی : کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ؟ فرمایا : ہاں اللہ تعالٰی نے موسٰی کےلیے کلام رکھا اور ابراہیم علیہما السلام کےلیے دوستی اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے دیدار ۔ (اورامام ترمذی نے یہ زیادہ کیا کہ) بیشک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالٰی کو دوبار دیکھا ۔ (المعجم الاوسط حدیث ۹۳۹۲مکتبۃ المعارف ریاض ۱۰ /۱۸۱،چشتی)(جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ نجم امین کمپنی اردوبازار دہلی ۲/ ۱۶۰) ۔ امام ترمذی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ۔
امام نسائی اور امام خزینہ و حاکم و بیہقی علیہم الرحمہ کی روایت میں ہے : واللفظ للبیہقی أتعجبون ان تکون الخلۃ لابراھیم والکلام لموسٰی والرؤیۃ لمحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
ترجمہ : کیا ابراہیم کےلیے دوستی اور موسٰی علیہما السلام کےلیے کلام اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے دیدار ہونے میں تمہیں کچھ اچنبا ہے ۔ یہ الفاظ بیہقی کے ہیں ۔ حاکم نے کہا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ امام قسطلانی و زرقانی نے فرمایا : اس کی سند جید ہے ۔ (المواہب اللدنیۃ بحوالہ النسائی والحاکم المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۴)(الدرالمنثور بحوالہ النسائی والحاکم تحت الآیۃ ۵۳ /۱۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۷ /۵۶۹)(المستدرک علی الصحیحین کتاب الایمان راٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ربہ دارالفکر بیروت ۱ /۶۵)(السنن الکبری للنسائی حدیث ۱۱۵۳۹دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۴۷۲،چشتی)(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الخامس دارالمعرفۃ بیروت ۶ /۱۱۷)
طبرانی معجم اوسط میں راوی : عن عبداللہ بن عباس انہ کان یقول ان محمدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم راٰی ربہ مرتین مرۃ ببصرہ ومرۃ بفوادہ ۔
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے بیشک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبار اپنے رب کو دیکھا ایک بار اس آنکھ سے اورایک بار دل کی آنکھ سے ۔(المواہب اللدنیۃ بحوالہ الطبرانی فی الاوسط المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۵)(المعجم الاوسط حدیث ۵۷۵۷ مکتبۃ المعارف ریاض ۶ /۳۵۶،چشتی)۔امام سیوطی و امام قسطلانی وعلامہ شامی علامہ زرقانی علیہم الرحمہ فرماتے ہیں : اس حدیث کی سند صحیح ہے ۔ (المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۵)(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الخامس دارالمعرفہ بیروت ۶ /۱۱۷)
امام الائمہ ابن خزیمہ و امام بزار حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راوی : ان محمد ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راٰی ربہ عزوجل ۔
ترجمہ : بیشک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ۔ (المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن خزیمہ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۵) ۔ امام احمد قسطلانی و عبدالباقی زرقانی علیہما الرحمہ فرماتے ہیں : اس کی سند قوی ہے ۔ (المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن خزیمہ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۵)(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الخامس دارالمعرفہ بیروت ۶ /۱۱۸)
محمد بن اسحٰق علیہ الرحمہ کی حدیث میں ہے : ان مروان سأل ابا ھریرۃ رضی اللہ عنہ ھل راٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ربہ فقال نعم ۔
ترجمہ : مروان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پوچھا : کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ر ب کو دیکھا ؟ فرمایا : ہاں ۔ (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن اسحٰق دارالمعرفہ بیروت ۶ /۱۱۶)(الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی بحوالہ ابن اسحٰق فصل وما رؤیۃ لربہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۱ /۱۵۹)
مصنف عبدالرزاق میں ہے : عن معمر عن الحسن البصری انہ کان یحلف باللہ لقد راٰ ی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
ترجمہ : امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ قسم کھاکر فرمایا کرتے بیشک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ۔ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی بحوالہ عبدالرزاق عن معمر عن الحسن البصری فصل واما رویۃ لربہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۱ /۱۵۹)
اسی طرح امام ابن خزیمہ علیہ الرحمہ حضرت عروہ بن زیبر رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی کے بیٹے اورصدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نواسے ہیں راوی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شب معراج دیدار الہٰی ہونا مانتے :وانہ یشتد علیہ انکارھا ۔ اور ان پر اس کا انکار سخت گراں گزرتا ۔ (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن خزیمہ المقصد الخامس دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۱۶)
حضرات کعب احبار عالم کتب سابقہ و امام ابن شہاب زہری قرشی و امام مجاہد مخزومی مکی و امام عکرمہ بن عبداللہ مدنہ ہاشمی و امام عطا بن رباح قرشی مکی ۔ استاد امام ابو حنیفہ و امام مسلم بن صبیح ابوالضحی کو فی وغیرہم جمیع تلامذہ عالم قرآن حبر الامہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کا بھی یہی مذہب ہے ۔
امام قسطلانی علیہ الرحمہ مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں : اخرج ابن خزیمۃ عن عروہ بن الزبیر اثباتھا وبہ قال سائر اصحاب ابن عباس وجزم بہ کعب الاحبار والزھری ۔
ترجمہ : ابن خزیمہ علیہ الرحمہ نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہا سے اس کا اثبات روایت کیاہے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے تمام شاگردوں کا یہی قول ہے ۔ کعب احبار اورزہری نے اس پر جزم فرمایا ہے ۔ (المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۴)
امام خلّال علیہ الرحمہ کتاب السن میں اسحٰق بن مروزی سے راوی ، حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ رؤیت کو ثابت مانتے اوراس کی دلیل فرماتے : قول النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رأیت ربی ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے میں نے اپنے رب کو دیکھا ۔ (المواہب اللدنیۃ بحوالہ الخلال فی کتاب السن المقصد الخامس المتکب الاسلامی بیرو ت۳ /۱۰۷)
نقاش اپنی تفسیر میں اس امام سند الانام علیہ الرحمہ سے راوی : انہ قال اقول بحدیث ابن عباس بعینہ راٰی ربہ راٰہ راٰہ راٰہ حتی انقطع نفسہ ۔
ترجمہ : انہوں نے فرمایا میں حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کا معتقد ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو اسی آنکھ سے دیکھا دیکھا دکھا ، یہاں تک فرماتے رہے کہ سانس ٹوٹ گئی ۔ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی بحوالہ النقاش عن احمد وامام رؤیۃ لربہ المکتبۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۵۹،چشتی)
امام ابن الخطیب مصری مواہب شریف میں فرماتے ہیں : جزم بہ معمر واٰخرون وھوقول الاشعری وغالب اتباعہ ۔
ترجمہ : امام معمر بن راشد بصری اوران کے سوا اورعلماء نے اس پر جزم کیا ، اوریہی مذہب ہے امام اہلسنت امام ابوالحسن اشعری اوران کے غالب پَیروؤں کا ۔ (المواہب اللدنیہ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۴)
علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں :الاصح الراجح انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رای ربہ بعین راسہ حین اسری بہ کما ذھب الیہ اکثر الصحابۃ ۔
ترجمہ : مذہب اصح و راجح یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب اسرا اپنے رب کو بچشم سردیکھا جیسا کہ جمہور صحابہئ کرام کا یہی مذہب ہے ۔ (نسیم الریاض شرح شفاء القاضی عیاض فصل واما رؤیۃ لربہ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۲ /۳۰۳،چشتی)
امام نووی شرح صحیح مسلم میں پھر علامہ محمدبن عبدالباقی شرح مواہب میں فرماتے ہیں :الراجح عند اکثر العلماء انہ طرای ربہ بعین راسہ لیلۃ المعراج ۔
ترجمہ : جمہور علماء کے نزدیک راجح یہی ہے کہ نبی کریم صلی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج اپنے رب کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا ۔ (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس دارالمعرفۃ بیروت ۶ /۱۱۶)
قرآن کریم کی جس آیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدارِ الہٰی کا انکار کیا جاتا ہے وہ بعض لوگوں کی زبردستی ہے ۔ یہی حال حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا ہے ۔ دونوں پر مختصر غور کیا جاتا ہے۔ قرآن و سنت سے جو چیز ثابت ہے، وہ ہے دیدار خداوندی اور نفی میں پیش کی جانے والی آیت میں ہے ۔ ’’آنکھوں کے ادراک کی نفی‘‘ حالانکہ دیکھنے اور ادراک میں فرق ہے ۔ ارشادِ خداوندی ہے : لاَّ تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ۔
ترجمہ : نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ سب نگاہوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے ، اور وہ بڑا باریک بین بڑا باخبرہے ۔ (سورہ الانعام آیت نمبر 103)
امام رازی علیہ الرحمہ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں : معناه أنه لا تدرکه جميع الأبصار فوجب أن يفيد أنه تدرکه بعض الابصار ۔
ترجمہ : آیت کا مطلب ہے کہ تمام آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرتیں ۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ بعض آنکھیں دیکھ سکتی ہیں ۔ (التفسير الکبير، 13: 103 ، دار الکتب العلمية بيروت)
امام رازی علیہ الرحمہ مزید لکھتے ہیں : المرئي اِذا کان له حد ونهاية و أدرکه البصر بجميع حدوده و جوانبه ونهاياته صار کأن ذلک الابصار أحاط به فتسمی هذه الرؤية اِدراکاً أما اِذا لم يحط البصر بجوانب المرئي لم تسم تلک الرؤية اِدراکاً فالحاصل أن الرؤية جنس تحتها نوعان رؤية مع الاحاطة و رؤية لا مع الاحاطة و الرؤية مع الاحاطه هي المسماة بالادراک فنفي الادراک يفيد نوع واحد من نوعي الرؤية و نفی النوع لا يوجب نفی الجنس فلم يلزم من نفی الادراک عن اللہ تعالی نفی الرؤية عن اللہ تعالی ۔
ترجمہ : دیکھے جانے والی چیز کی جب حد اور انتہاء ہو اور دیکھنے والی نظر تمام حدود ، اطراف اور انتہاؤں کو گھیر لے تو گویا اس نظر نے اس چیز کو گھیر لیا ۔ اس دیکھنے کو ادراک کہا جاتا ہے ، لیکن جب نظر دیکھی جانے والی چیز کے اطراف کا احاطہ نہ کرے تو اس دیکھنے کا نام ادراک نہیں ہوتا ۔ خلاصہ یہ ہے کہ دیکھنا، ایک جنس، جس کے نیچے دو انواع ہیں ، ایک دیکھنا احاطے کے ساتھ اور دوسرا دیکھنا بلا احاطہ کیے صرف احاطے والے دیکھنے کو ادراک کہا جاتا ہے ۔ پس ادراک کی نفی سے دیکھنے کی ایک قسم کی نفی ثابت ہوئی اور ایک نوع کی نفی سے جنس کی نفی نہیں ہوتی ۔ پس اللہ عزوجل کے ادراک کی نفی سے اللہ عزوجل کے دیکھنے کی نفی لازم نہیں آتی ۔ (التفسير الکبير جلد 13 صفحہ 103)
امام قرطبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : الادراک بمعنی الاحاطة والتحديد کما تدرک سائر المخلوقات والرؤية ثابتة ۔
ترجمہ : ادراک کا مطلب ہے گھیر لینا اور حد کھینچنا جیسے مخلوق دیکھی جا سکتی ہے ۔ اللہ کا دیکھنا ثابت ہے ۔ (الجامع لأحکام القران، 7: 54 ، دار الشعيب القاهره،چشتی)
خلاصہ یہ کہ قرآن کی آیت سے اور اسے اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے قول سے ، دیدار الٰہی کی نفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہوتی ۔ آیت کا مطلب ہے کہ تمام آنکھیں اس کو نہیں دیکھ سکتیں یا یہ کہ آنکھیں اللہ عزوجل کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور ظاہر ہے کہ دیکھنا اور ہے ، احاطہ کرنا اور ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ بعض آنکھیں دنیا میں بھی اللہ عزوجل کو دیکھ سکتی ہیں اور یقینا وہ بعض آنکھیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی ہیں ۔
امام قرطبی علیہ الرحمہ مزید لکھتے ہیں : عبداللہ بن الحارث اجتمع ابن عباس و أبی ابن کعب فقال ابن عباس أما نحن بنو هاشم فنقول اِن محمدا رأی ربه مرتين ثم قال ابن عباس أتعجبون أن الخُلّة تکون لابراهيم والکلام لموسی والرؤية لمحمد صلی الله عليه وآله وسلم وعليهم أجمعين قال فکبر کعب حتی جاوبته الجبال ۔
ترجمہ : عبداللہ بن حارث کی حضرت ابن عباس اور ابن کعب رضی اللہ عنہم سے ملاقات ہوئی تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ہم بنی ہاشم تو کہتے ہیں کہ بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دوبار دیکھا ہے ، پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا تمہیں اس پر تعجب ہے کہ دوستی (خلت) ابراہیم علیہ السلام کےلیے کلام موسیٰ علیہ السلام کےلیے اور دیدارِ الٰہی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے ثابت ہے ۔ اس پر حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا یہاں تک کہ پہاڑ گونج اٹھے ۔ (الجامع لأحکام القرآن جلد 7 صفحہ 56)
امام عبدالرزاق علیہ الرحمہ نے بیان کیا : أن الحسن کان يحلف باﷲ لقد رأی محمد ربه ۔
ترجمہ : حسن بصری علیہ الرحمہ اللہ عزوجل کی قسم اٹھا کر کہتے بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے ۔
مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : هل رأی محمد ربه؟ فقال نعم ۔
ترجمہ : کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ۔
حضرت امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ نے فرمایا : بعينه رآه رآه حتی انقطع نفسه ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آنکھوں سے اللہ عزوجل کو دیکھا ۔ دیکھا ، یہاں تک کہ ان کا سانس بند ہو گیا ۔
یہی امام ابو الحسن اشعری علیہ الرحمہ اور ان کے اصحاب کا مسلک ہے ۔ یہی حضرت انس رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ، عکرمہ، ربیع اور حسن کا مذہب ہے ۔ (الجامع لأحکام القرآن جلد 7 صفحہ 56)
نیز ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر ہجرت کے بعد آئیں جبکہ واقعہ معراج ، ہجرت سے پہلے کا ہے ۔ اس لیے انہوں نے صرف قرآن کی آیت سے استدلال فرمایا جس کی تفسیر فقیر نے باحوالہ بیان کر دی ۔
قرآن نے اللہ عزوجل کے دیدار کی نفی نہیں فرمائی ، یہ فرمایا ہے کہ آنکھیں اللہ عزوجل کا احاطہ نہیں کرتیں ۔ ظاہر ہے کہ مخلوق محدود ، اس کی نظر محدود ، اللہ عزوجل غیر محدود پھر اس کا احاطہ مخلوق کیونکر کر سکتی ہے ۔ رہا دیکھنا سو اس کی نفی قرآن میں نہیں ۔
صحیح بخاری شب معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئے : دنی الجبار رب العزة فتدلی حتی کان منه قاب قوسين او ادنی ۔ اللہ رب العزت اتنا قریب ہوا کہ دو کمانوں کے درمیان جتنا یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا ۔ (صحيح البخاری، 2 : 1120، کتاب التوحيد، رقم : 7079)
حدیث مبارکہ سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ آیہ کریمہ میں وہ ذات جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئی اس سے مراد رب العزت ہے جو جبار ہے۔
اہل ایمان بھی اللہ کا دیدار کریں گے تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے انکار کیوں ؟
رسول عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے بے حجاب دیدار سے بڑھ کر اور کوئی نعمت اہل ایمان کے لئے نہ ہو گی ۔
دیدارِ الٰہی پر متفق علیہ حدیث
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انکم سترون ربکم عيانا ۔
ترجمہ : بے شک تم اپنے رب کو اعلانیہ دیکھو گے ۔ (صحيح البخاری، 2 : 1105، کتاب التوحيد، رقم : 6998)(مسند احمد بن حنبل، 3 : 16، چشتی)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چودہویں کے چاند کی رات ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : انکم سترون ربکم يوم القيامة کما ترون القمر هذا ۔
ترجمہ : تم اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھتے ہو ۔
(صحيح البخاری، 2 : 1106، کتاب التوحيد)( سنن ابی داؤد، 2 : 302، کتاب السنة، رقم : 4729،چشتی)(سنن ابن ماجه، 1 : 63، رقم : 177)(مسند احمد بن حنبل، 4 : 360)
اس سے یہ بات ظاہر و باہر ہے کہ مندرجہ بالا ارشادات مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رو سے ذات باری تعالیٰ کے مطلقاً دیدار کی نفی نہیں ہوئی۔ اب اگر بالفرض اس کے عدم امکان کو تسلیم کر لیا جائے تو منطق کے اصول کے مطابق جو چیز اس جہان میں ناممکن ہے وہ عالم اخروی میں بھی ناممکن ہے لیکن بفحوائے ارشاد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مومن کےلیے آخرت میں سب سے بڑی نعمت دیدار خداوندی ہو گا ۔
میرے نبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے اللہ کا دیدار کیا ہے
یہ بات کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام اپنے ہر ایمان دار امتی سے بدرجۂ اَتم کہیں بڑھ کر ہے بلکہ حق تو یہ ہے کہ ہر مومن کو ایمان کی دولت ان کے صدقے سے عطا ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے یہ منفرد امتیاز صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو حاصل ہے کہ انہیں معراج کی شب مشاہدہ و دیدار حق نصیب ہوا جبکہ دوسرے اہل ایمان کو یہ سعادت آخرت میں نصیب ہو گی۔ احادیث میں ہے کہ معراج کے دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احوال آخرت، جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کرایا گیا جبکہ باقی سب کو ان کا چشم دید مشاہدہ موت کے بعد کرایا جائے گا۔ بلاشبہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالات میں شامل ہے کہ انہیں قیامت تک پیش آنے والے واقعات کی پیشگی مشاہدے کے ذریعے خبر دے دی گئی اور آخرت کے سب احوال ان پر بے نقاب کر دیئے گئے۔ اس بنا پر تسلیم کر لینے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے کہ منجملہ کمالات میں سے یہ کمال صرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہوا کہ دیدار الٰہی کی وہ عظمت عظمیٰ جو مومنوں کو آخرت میں عطا ہو گی وہ آپ کو شب معراج ارزانی فرما دی گئی۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا تھا کہ چھوٹی نعمتوں کے باوصف سب سے بڑی نعمت جو دیدار الٰہی ہے اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محروم کر دیا جاتا ۔
امکان کی بات سے قطع نظر سورہ نجم کی آیات معراج میں چار مقامات ایسے ہیں جن میں ذات باری تعالیٰ کے حسن مطلق کے دیدار کا ذکر کیا گیا ہے : ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى ۔ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى ۔ (سورہ النجم آیت : 8 - 9)
ترجمہ : پھر وہ (ربّ العزّت اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہو گیا ۔ پھر (جلوۂ حق اور محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہو گیا) ۔
ارشادِ ربانی میں اس انتہائی درجے کے قرب کی نشاندہی کی گئی ہے جس کا حتمی نتیجہ اور نقطہ منتہی سوائے دیدار الٰہی کے اور کچھ قرین فہم نہیں ۔ اس کے بعد فرمایا : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى ۔ (سورہ النجم آیت 11)
ترجمہ : (اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا ۔
قرآن حکیم نے یہ واضح فرما دیا کہ شب معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمال ذات باری تعالیٰ کا مشاہدہ دل کی آنکھ سے بھی کیا اور سر کی آنکھ سے بھی ۔
حدیث طبرانی میں ہے کہ : ان محمدا رای ربه مرتين مرة بعينه و مرة بفواده ۔
ترجمہ : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا۔ ایک مرتبہ آنکھ سے اور ایک مرتبہ دل سے ۔ ( المعجم الکبير، 12 : 71، رقم : 12564)( المعجم الاوسط، 6 : 356، رقم : 5757،چشتی)(المواهب اللدنيه، 2 : 37)( نشر الطيب تھانوی صاحب: 55)
اس حدیث پاک سے رؤیت باری تعالیٰ کے بارے میں اوپر درج کی گئی قرآنی آیات کے مضمون کی بخوبی تائید ہوتی ہے ۔
حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسان رضی اللہ عنہ جیسے برگزیدہ اصحاب رسول کی صحبت سے فیض یافتہ نامور تابعی ہیں، ان سے ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سوال کیا گیا کہ آیا انہوں نے معراج کی شب ذات باری تعالیٰ کا دیدار کیا؟ تو انہوں نے تین بار قسم کھا کر اس بات کا اقر ار کیا کہ ہاں انہوں نے اپنے رب کو دیکھا ہے ۔
اسی طرح جب امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رؤیت باری تعالیٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے تین بار یہ الفاظ دہرائے، قد رای ربہ یعنی انہوں نے اپنے رب کودیکھا، یہاں تک کہ ان کی سانس پھول گئی ۔
یہ خیالات و معتقدات سب ممتاز اور قابل ذکر صحابہ، صحابیات، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ کرام کے ہیں۔ قرآن حکیم نے رؤیت باری کی تائید فرماتے ہوئے شک کرنے والوں سے پوچھا ۔ أَفَتُمَارُونَهُ عَلَى مَا يَرَى ۔ (النجم، 53 : 12)
ترجمہ : کیا تم ان سے اس پر جھگڑتے ہو جو انہوں نے دیکھا ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ظاہری آنکھ کے علاوہ ایک آنکھ باطنی دل کی بھی عطا فرمائی تھی ۔ جب ساعت دیدار آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ظاہری جلوہ اور باطنی جلوہ دونوں نصیب ہوئے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى ۔ (النجم، 53 : 13)
ترجمہ : اور بیشک انہوں نے تو اُس (جلوۂ حق) کو دوسری مرتبہ (پھر) دیکھا (اور تم ایک بار دیکھنے پر ہی جھگڑ رہے ہو) ۔
کیا معراج میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا ؟
بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین دیدار الٰہی کے قائل نہیں ہیں ۔ مثلاً حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ دیدار الہی کے قائل ہیں اور فرماتے ہیں : انه راه بعينه ۔ (مسلم شريف، 1 : 118)
ترجمہ : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو آنکھوں سے دیکھا ہے ۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے : ان الله اختص موسیٰ بالکلام و ابراهيم بالخلة و محمدا بالرؤية و حجته قوله تعالیٰ : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى ۔ اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى ۔ وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ ۔ (سورہ النجم : 11 تا 13)
ترجمہ : دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا ، تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑتے ہو ، اور انہوں نے تو وہ جلوہ دو بار دیکھا ۔
یہ معنی ابن عباس ، ابوذر غفاری ، عکرمہ التابعی ، حسن البصری التابعی ، محمد بن کعب القرظی التابعی ، ابوالعالیہ الریاحی التابعی ، عطا بن ابی رباح التابعی ، کعب الاحبار التابعی ، امام احمد بن حنبل اور امام ابوالحسن اشعری رضی اللہ عنہم اور دیگر ائمہ کے اَقوال پر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کلام کے ساتھ خاص کیا، ابراہیم علیہ السلام کو خلت کے ساتھ خاص کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآ وسلم کو رؤیت یعنی دیدار کے ساتھ خاص کیا۔ اور دلیل قرآن مجید سے پیش کرتے ہیں ۔
امام عبدالرزاق بیان کرتے ہیں کہ حسن بصری رضی اللہ عنھما قسم کھا کر فرماتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے، اسی طرح دیدار الہی کے قائلین میں ابن مسعود اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کو بھی شمار کیا جاتا ہے ، حالانکہ غیر قائلین میں بھی ان دونوں کو شمار کیا گیا ہے ۔ امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حق میں یہ کہتا ہوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے، دیکھا ہے، اور سانسیں اتنی لمبی کرتے کہ سانس ختم ہو جاتی ۔
لیکن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے دیدار کا انکار کیا اور آیت کو حضرت جبریل کے دیدار پر محمول کیا اور فرمایا کہ جو کوئی کہے کہ محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا اس نے جھوٹ کہا اور سند میں لَاتُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُتلاوت فرمائی ۔ یہاں چند باتیں قابلِ لحاظ ہیں ایک یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا قول نفی میں ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کا اثبات میں اور مثبت ہی مقدم ہوتا ہے کیونکہ نافی کسی چیز کی نفی اس لئے کرتا ہے کہ اس نے سنا نہیں اور مثبت اثبات اس لئے کرتا ہے کہ اس نے سنا اور جانا تو علم مثبت کے پاس ہے علاوہ بریں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے یہ کلام حضور سے نقل نہیں کیا بلکہ آیت سے اپنے استنباط پر اعتماد فرمایا یہ حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکی رائے ہے اور آیت میں ادراک یعنی احاطہ کی نفی ہے نہ رویت کی ۔
قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ چونکہ معراج کا واقعہ ہجرت سے پہلے ہوا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہجرت کے بعد ہوئی ہے، لہذا اس معاملے میں ان کی خبر معتبر نہیں ہے، اور باقی حضرات مثلاً ام ہانی وغیرہ تو ان کا قبول معتبر ہے، یہ قوی دلیل ہے، اس بات پر کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو فرماتی ہیں یہ کسی اور واقعہ کے بارے میں ہے جو ہجرت کے بعد ہوا ہے ۔ (الشفاء بتعر يف حقوق المصطفی، 1 : 195، چشتی)
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے اللہ کو دیکھا ہے فرمایا ہاں میں نے نور دیکھا ۔ ( کتاب الایمان صفحہ 768 امام محمد بن اسحاق علیہ الرحمہ 400 ہجری) ۔ سنہ 400 ہجری میں لکھی والی یہ کتاب امام محمد بن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ کی جس سے الحمد للہ عقیدہ اہلسنت صاف طور پر ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کا دیدار کیا ہے ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کو دیکھا ہے ۔ (کتاب السنہ صفحہ 179 487 ہجری اور ناصر البانی وہابی لکھتے ہیں اس کی اسناد صحیح ہیں، چشتی)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب اچھی صورت میں دیکھا ہے ۔( کتاب التوحید صفحہ 538 امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ، چشتی)
حضور اکرم نور مجسّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب عزّ وجل کو دیکھا ہے ۔۔۔۔۔ ( امام اہلسنت امام شیبانی رحمۃُاللہ علیہ متوفی 412 ہجری کتاب السنہ صفحہ نمبر 184 )(اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں ناصر البانی محقق وھابی مذھب نے اسے صحیح کہا ہے ، چشتی)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرا اللہ اچھی صورت میں جلوہ فرما ہوا اور اپنا دست قدرت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا میں نے اس کی ٹھنڈک محسوس کی اور میں جان گیا جو زمین و آسمان کے درمیان ہے ۔مفہوم حدیث ۔ ( کتاب الرّویہ حدیث نمبر 245 عربی صٖحہ 331 از الحافظ الامام ابی الحسن علی بن عمر الدّار قطنی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 385 ہجری ، اس حدیث کی تمام اسناد صحیح ہیں اور تمام رجال ثقہ ہیں)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کا دیدار کیا اور رویۃ باری تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے تھی خلت ابراہیم علیہ السّلام کےلیے اور کلام موسیٰ علیہ السّلام کےلیے تھا ۔ ( کتاب السنہ صفحہ نمبر 192 امام شیبانی متوفی 487 ہجری ان احادیث کی اسناد صحیح ہیں محدث الوہابیہ البانی)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ۔ (مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۸۵)(امام جلال الدین سیوطی خصائص کبرٰی اور علامہ عبدالرؤف مناوی علیہماالرحمہ تیسیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں : یہ حدیث بسند صحیح ہے ۔ (التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث رأیت ربی مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ /۲۵)(الخصائص الکبرٰی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱ /۱۶۱)
ابن عساکر حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے راوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : بیشک اللہ تعالٰی نے موسٰی کو دولت کلام بخشی اورمجھے اپنا دیدار عطافرمایا مجھ کو شفاعت کبرٰی وحوض کوثر سے فضیلت بخشی ۔ (کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن جابر حدیث ۳۹۲۰۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۴ /۴۴۷)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : مجھے میرے رب عزوجل نے فرمایا میں نے ابراہیم کو اپنی دوستی دی اور موسٰی علیہماالسلام سے کلام فرمایا اور تمہیں اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مواجہ بخشا کہ بے پردہ و حجاب تم نے میرا جمال پاک دیکھا ۔ (تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر عروجہ الی السماء و اجتماعہ بجماعۃ من الانبیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۹۶)
مجمع البحار میں ہے کہ کفاح کا معنٰی بالمشافہ دیدار ہے جبکہ درمیان میں کوئی پردہ اورقاصد نہ ہو ۔ (مجمع بحار الانوار باب کف ع تحت اللفظ کفح مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۴ /۴۲۴)
ابن مردویہ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما سے راوی : میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سدرالمنتہٰی کا وصف بیان فرماتے تھے میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضور نے اس کے پاس کیا دیکھا ؟ فرمایا : مجھے اس کے پاس دیدار ہوا یعنی رب کا ۔ (درالمنثور فی التفسیر بالماثور بحوالہ ابن مردویہ تحت آیۃ ۱۷/۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۹۴،چشتی)
ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی : ہم بنی ہاشم اہلبیتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ بیشک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دوبار دیکھا ۔ (جامع الترمذی ابواب التفسیر سورہ نجم امین کمپنی اردو بازا ر دہلی ۲ /۱۶۱) )(الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل وامارؤیۃ لربہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۱/ ۱۵۹)
ابن اسحٰق عبداللہ بن ابی سلمہ سے راوی : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے دریافت کیا : کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کودیکھا ؟ ا نہوں نے جواب دیا: ہاں ۔ (درالمنثور بحوالہ ابن اسحٰق تحت آیۃ ۵۳ /۱ ۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۷ /۵۷۰)
طبرانی کے الفاظ ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ۔ عکرمہ ان کے شاگرد کہتے ہیں : میں نے عرض کی : کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ؟ فرمایا : ہاں اللہ تعالٰی نے موسٰی کےلیے کلام رکھا اور ابراہیم کےلیے دوستی اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے دیدار ۔ (اورامام ترمذی نے یہ زیادہ کیا کہ ) بیشک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالٰی کو دوبار دیکھا ۔ (معجم الاوسط حدیث ۹۳۹۲ مکتبۃ المعارف ریاض ۱۰ /۱۸۱) (جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ نجم امین کمپنی اردو بازار دہلی ۲/ ۱۶۰) ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ۔ امام نسائی اور امام خزینہ و حاکم و بیہقی علیہم الرحمہ کی روایت میں ہے : کیا ابراہیم کےلیے دوستی اورموسٰی کےلیے کلام اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے دیدار ہونے میں تمہیں کچھ اچنبا ہے۔ یہ الفاظ بیہقی کے ہیں ۔ حاکم نےکہا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ امام قسطلانی و زرقانی نے فرمایا : اس کی سند جید ہے ۔ (مواہب اللدنیۃ بحوالہ النسائی والحاکم المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۴)(الدرالمنثور بحوالہ النسائی والحاکم تحت الآیۃ ۵۳ /۱۸ دار احیاء التراث العربی بیروت ۷ /۵۶۹) (المستدرک علی الصحیحین کتاب الایمان راٰی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ربہ دارالفکر بیروت ۱ /۶۵،چشتی)(السنن الکبری للنسائی حدیث ۱۱۵۳۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۴۷۲) (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الخامس دارالمعرفۃ بیروت ۶ /۱۱۷)
طبرانی معجم اوسط میں راوی : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا : بیشک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو بار اپنے رب کو دیکھا ایک بار اس آنکھ سے اور ایک بار دل کی آنکھ سے ۔ (مواہب اللدنیۃ بحوالہ الطبرانی فی الاوسط المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۵)(المعجم الاوسط حدیث ۵۷۵۷ مکتبۃ المعارف ریاض ۶ /۳۵۶) ۔ امام سیوطی و امام قسطلانی و علامہ شامی علامہ زرقانی علیہم الرحمہ فرماتے ہیں : اس حدیث کی سند صحیح ہے ۔ (المواہب اللدنیۃ المقصد الخامسالمکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۵) (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الخامسدارالمعرفہ بیروت ۶ /۱۱۷)
امام الائمہ ابن خزیمہ و امام بزار علیہما الرحمہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راوی : بیشک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ۔ (المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن خزیمہ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۵) ۔ امام احمد قسطلانی و امام عبدالباقی زرقانی علیہما الرحمہ فرماتے ہیں : اس کی سند قوی ہے (مواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن خزیمہ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۵)(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الخامسدارالمعرفہ بیروت ۶ /۱۱۸)
محمد بن اسحٰق علیہ الرحمہ کی حدیث میں ہے : مروان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پوچھا : کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ر ب کو دیکھا ؟ فرمایا : ہاں ۔ (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن اسحٰق دارالمعرفہ بیروت ۶ /۱۱۶،چشتی)(الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی بحوالہ ابن اسحٰق فصل وما رؤیۃ لربہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۱ /۱۵۹)
مصنف عبدالرزاق میں ہے : امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ قسم کھا کر فرمایا کرتے بیشک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ۔ (شفاء بتعریف حقوق المصطفٰی بحوالہ عبدالرزاق عن معمر عن الحسن البصری فصل واما رویۃ لربہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۱ /۱۵۹)
امام ابن خزیمہ علیہ الرحمہ حضرت عروہ بن زیبر رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی کے بیٹے اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے نواسے ہیں راوی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شب معراج دیدارِ الہٰی ہونا مانتے اور ان پر اس کا انکار سخت گراں گزرتا ۔ (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن خزیمہ المقصد الخامس دارالمعرفۃ بیروت ۱/۱۱۶،چشتی) ۔ حضرات کعب احبار عالم کتب سابقہ و امام ابن شہاب زہری قرشی وامام مجاہد مخزومی مکی و امام عکرمہ بن عبداللہ مدنہ ہاشمی وامام عطا بن رباح قرشی مکی۔ استاد امام ابو حنیفہ و امام مسلم بن صبیح ابوالضحی کو فی وغیرہم جمیع تلامذہ عالم قرآن حبر الامہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کا بھی یہی مذہب ہے ۔
امام قسطلانی علیہ الرحمہ مواہب الدنیہ میں فرماتے ہیں : ابن خزیمہ نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہا سے اس کا اثبات روایت کیا ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے تمام شاگردوں کا یہی قول ہے ۔ کعب احبار اورزہری نے اس پر جزم فرمایا ہے ۔ الخ۔ (المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۴)
امام خلّال کتاب السن میں اسحٰق بن مروزی سے راوی ، حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ علیہم رؤیت کو ثابت مانتے اوراس کی دلیل فرماتے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے میں نے اپنے رب کو دیکھا ۔ (مواہب اللدنیۃ بحوالہ الخلال فی کتاب السن المقصد الخامس المتکب الاسلامی بیرو ت۳ /۱۰۷)
نقاش اپنی تفسیر میں اس امام سند الانام رحمة اللہ علیہ سے راوی : انہوں نے فرمایا : میں حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کا معتقد ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو اسی آنکھ سے دیکھا دیکھا دیکھا ، یہاں تک فرماتے رہے کہ سانس ٹوٹ گئی ۔ (لشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی بحوالہ النقاش عن احمد وامام رؤیۃ لربہ المکتبۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۵۹)
امام ابن الخطیب مصری مواہب شریف میں فرماتے ہیں : امام معمر بن راشد بصری اور ان کے سوا اور علماء نے اس پر جزم کیا ، اور یہی مذہب ہے امام اہلسنت امام ابوالحسن اشعری اور ان کے غالب پَیروؤں کا ۔ (مواہب اللدنیہ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۴)
علامہ شہاب الدین خفاجی نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض علیہما الرحمہ میں فرماتے ہیں : مذہب اصح وراجح یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب اسرا اپنے رب کو بچشم سردیکھا جیسا کہ جمہور صحابہ کرام کا یہی مذہب ہے ۔ (نسیم الریاض شرح شفاء القاضی عیاض فصل واما رؤیۃ لربہ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۲ /۳۰۳)
امام نووی شرح صحیح مسلم میں اور علامہ محمدبن عبدالباقی علیہما الرحمہ شرح مواہب میں فرماتے ہیں : جمہور علماء کے نزدیک راجح یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج اپنے رب کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا ۔ (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس دارالمعرفۃ بیروت ۶ /۱۱۶)
علمائے کرام ائمہ دین عدول ثقات معتمدین نے اپنی تصنیف جلیلہ میں اس کی اور اس سے زائد کی تصریحات جلیلہ فرمائی ہیں ، اور یہ سب احادیث ہیں ، اگرچہ احادیث مرسل یا ایک اصطلاح پر معضل ہیں ، اورحدیث مرسل ومعضل باب فضائل میں بالاجماع مقبول ہے خصوصاً جبکہ ناقلین ثقات عدول ہیں اوریہ امر ایسا نہیں جس میں رائے کو دخل ہوتو ضرور ثبوت سند پر محمول ، اورمثبت نافی پر مقدم ، اورعدم اطلاع اطلاع عدم نہیں تو جھوٹ کہنے والا محض جھوٹا مجازف فی الدین ہے ۔
امام محمد بوصیری قدس سرہ، قصیدہ بردہ شریف میں فرماتے ہیں : ⏬
عسریت من حرم لیلا الی حرم
کما سری البدر فی داج من الظلم
وبت ترقی الی ان نلت منزلۃ
من قاب قوسین لم تدرک ولم ترم
خفضت کل مقام بالاضافۃ اذ
نودیت بالرفع مثل المفرد العلم
فخرت کل فخار غیر مشترک
وجزت کل مقام غیر مزدحم
ترجمہ : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے ایک تھوڑے سے حصے میں حرم مکہ معظمہ سے بیت الاقصٰی کی طرف تشریف فرما ہوئے جیسے اندھیری رات میں چودھویں کا چاند چلے ، اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شب میں ترقی فرماتے رہے یہاں تک کہ قاب قوسین کی منزل پہنچے جو نہ کسی نے پائی نہ کسی کو اس کی ہمت ہوئی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نسبت سے تمام مقامات کو پست فرما دیا ، جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رفع کےلیے مفرد علم کی طرح ندافرمائے گئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر ایسا فخر جمع فرمالیا جو قابل شرکت نہ تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر اس مقام سے گزر گئے جس میں اوروں کا ہجوم نہ تھا یا یہ کہ حضور نے سب فخر بلا شرکت جمع فرمالیے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مقامات سے بے مزاحم گزرگئے ۔ (الکواکب الدریۃ فی مدح خیر البریۃ قصیدہ بردہ الفصل السابع مرکز اہلسنت گجرات ہند ص۴۴تا۴۶)
یعنی عالم امکان میں جتنے مقام ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے تنہا گزر گئے کہ دوسرے کو یہ امر نصیب نہ ہوا ۔
امام علی قاری علیہ الرحمہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں : ای انت دخلت الباب وقطعت الحجاب الی ان لم تترک غایۃ للساع الی السبق من کمال القرب المطلق الی جناب الحق ولا ترکت موضع رقی وصعود وقیام وقعود لطالب رفعۃ فی عالم الوجود بل تجاوزت ذٰلک الٰی مقام قاب قوسین اوادنٰی فاوحٰی الیک ربک ما اوحٰی ۔
ترجمہ : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازہ میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں تک حجاب طے فرمائے کہ حضرت عزت کی جناب میں قربِ مطلق کامل کے سبب کسی ایسے کےلیے جو سبقت کی طرف دوڑے کوئی نہایت نہ چھوڑی اور تمام عالمِ وجود میں کسی طالب بندلی کےلیے کوئی جگہ عروج و ترقی یا اٹھنے بیٹھنے کی باقی نہ رکھی بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم مکان سے تجاوز فرما کر مقام قاب وقوسین اوادنٰی تک پہنچے تو حضور کے رب نے حضور کو وحی فرمائی جو وحی فرمائی ۔ (الزبدۃ العمدۃ فی شرح القصیدۃ البردۃ الفصل السابع جمعیت علماء سکندریہ خیر پور سندھ صفحہ ۹۶،چشتی)
امام ہمام ابو عبداللہ شرف الدین محمد علیہ الرحمہ ام القرٰی میں فرماتے ہیں : ⏬
وترقی بہ الٰی قاب قوسین
وتلک السیادۃ القعسا
رتب تسقط الاما فی حسرٰی
دونھا ماوراھن وراء
ترجمہ : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قاب قوسین تک ترقی ہوئی اور یہ سرداری لازوال ہے یہ وہ مقامات ہیں کہ آرزوئیں ان سے تھک کرگرجاتی ہیں ان کے اس طرف کوئی مقام ہی نہیں ۔ (ام القرٰی فی مدح خیر الورٰی الفصل الرابع حز ب القادریۃ لاہور صفحہ ۱۳)
امام ابن حجر مکی علیہ الرحمہ اس کی شرح افضل القرٰی میں فرماتے ہیں : قال بعض الائمۃ والماریج لیلۃ الاسراء عشرۃ ، سبعۃ فی السمٰوٰت والثامن الی سدرۃ المنتھٰی والتاسع الی المستوی والعاشر الی العرش ۔ الخ ۔
ترجمہ : بعض ائمہ نے فرمایا شب اسراء دس معراجیں تھیں ، سات ساتوں آسمانوں میں ، اورآٹھویں سدرۃ المنتہٰی ، نویں مستوٰی ، دسویں عرش تک ۔ (افضل القرٰی لقراء ام القری تھت شعر ۷۳ المجعم الثقافی ابو ظبی ۱/ ۴۰۴)
امام عارف باللہ عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ نے حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں اسے نقل فرما کر مقرر رکھا : قال الشھاب المکی فی شرح ھمزیۃ لامام بوصیری عن بعض الائمۃ ان المعاریج عشرۃ الٰی قولہ والعاشر الی العرش والرؤیۃ ۔
ترجمہ : فرمایا ، امام شہاب مکی علیہ الرحمہ نے شرح ہمزیہ امام بوصیرہ میں کہا بعض آئمہ سے منقول ہے کہ معراجین دس ہیں ۔ (الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقۃ المحمدیہ بحوالہ شرح قصیدہ ہمزیہ المکتبۃ النوریۃ الرضویہ لائلپور ۱ /۲۷۲)
نیز شرح ہمزیہ امام مکی میں ہے : لما اعطی سلیمٰن علیہ الصلٰوۃ والسلام الریح التی غدوھا شھر ورواحھا شھر اعطی نبینا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم البراق فحملہ من الفرش الی العرش فی لحظۃ واحدۃ واقل مسافۃ فی ذٰلک سبعۃ اٰلاف سنۃ ۔ وما فوق العرش الی المستوی والرفرف لایعلمہ الا اللہ تعالٰی ۔
ترجمہ :جب سلیمان علیہ الصلٰوۃ والسلام کو ہوادی گئی کہ صبح شام ایک ایک مہینے کی راہ پر لے جاتی ۔ ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو براق عطا ہوا کہ حضور کو فرش سے عرش تک ایک لمحہ میں لے گیا اوراس مین ادنٰی مسافت (یعنی آسمان ہفتم سے زمین تک ) سات ہزار برس کی راہ ہے ۔ اوروہ جو فوق العرش سے مستوٰی اورفرف تک رہی اسے توخدا ہی جانے ۔ (افضل القرٰی لقرء ام القرٰی)
اسی میں ہے : لما اعطی موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام الکلام اعطی نبینا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مثلہ لیلۃ الاسراء وزیادۃ الدنو والرویۃ بعین البصر وشتان مابین جبل الطور الذی نوجی بہ موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام موما فوق العرش الذی نوجی بہ نبینا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
ترجمہ : جب موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دولت کلام عطا ہوئی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ویسی ہی شب اسراملی اور زیادت قرب اور چشم سر سے دیدارِ الٰہی اس کے علاوہ ۔ اور بھلاکہاں کو ہ طور جس پر موسٰی علیہ الصلوۃ والسلام سے مناجات ہوئی اورکہاں مافوق العرش جہاںہ مارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کلام ہوا ۔ (افضل القرٰی لقرء ام القرٰی)
اسی میں ہے : رقیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ببدنہ یقظۃ بمکۃ لیلۃ ولاسراء الی السماء ثم الی سدرۃ المنتھٰی ثم الی المستوی الی العرش والرفرف والرویۃ ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے جسم پاک کے ساتھ بیداری میں شب اسراآسمانوں تک ترقی فرمائی ، پھر سدرۃ المنتہٰی ، پھر مقام مستوٰی ، پھر عرش ورفرف ودیدار تک ۔ (افضل القرٰی لقراء ام القرٰی تحت شعرا ۱المجمع الثقافی ابوظبی ۱/ ۱۱۶و۱۱۷،چشتی)
امام احمد بن محمد صاوی مالکی خلوتی رحمۃ اللہ علیہ تعلیقاتِ افضل القرٰی میں فرماتے ہیں :الاسراء بہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علی یقظۃ بالجسد والروح من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی ثم عرج بہ الی السمٰوٰت العلی ثم الی سدرۃ المنتہٰی ثم الی المستوی ثم الی العرش والرفرف ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج بیداری میں بدن و رُوح کے ساتھ مسجد حرامِ سے مسجدِ اقصٰی تک ہوئی ، پھر آسمانوں ، پھر سدرہ ، پھر مستوٰی ، پھرعرش ورفرف تک ۔ (تعلیقات علی ام القرٰی للعلامۃ احمد بن محمد الصاوی علی ھامش الفتوحات الاحمدیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبری مصر صفحہ ۳)
فتوحات احمدیہ شرح الہمزیہ للشیخ سلیمان الجمل میں ہے : رقیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لیلۃ الاسراء من بیت المقدس الی السمٰوٰت السبع الی حیث شاء اللہ تعالٰی لکنہ لم یجاوز العرش علی الراجح ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ترقی شب اسراء بیت المقدس سے ساتوں آسمانوں اوروہاں سے اس مقام تک ہے جہاں تک اللہ عزوجل نے چاہا مگر راجح یہ ہے کہ عرش سے آگے تجاوز نہ فرمایا ۔ (الفتوحات الاحمدیۃ بالمنح المحمدیۃ شرح الھمزیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی قاہرہ مصر صفحہ ۳،چشتی)
اسی میں ہے : المعاریج لیلۃ الاسراء عشرۃ سبعۃ فی السمٰوٰت والثامن الی سدرۃ المنتھٰی والتاسع الی المستوٰی والعاشر الی العرش لکن لم یجاوز العرش کما ھو التحقیق عند اھل المعاریج ۔
ترجمہ : معراجیں شب اسراء دس ہوئیں ، سات آسمانوں میں ، اور آٹھویں سدرہ ، نویں مستوٰی ، دسویں عرش تک ۔ مگر راویان معراج کے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ عرش سے اوپر تجاوز نہ فرمایا ۔ (الفتوحات الاحمدیۃ بالمنح المحدیۃ شرح الھمزیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی قاہرہ مصر صفحہ ۳۰)
اسی میں ہے : بعد ان جاوز السماء السابعۃ رفعت لہ سدرۃ المنتھٰی ثم جاو زھا الی مستوٰی ثم زج بہ فی النور فخرق سبعین الف حجاب من نور مسیرۃ کل حجاب خمسائۃ عام ثم دلی لہ رفرف اخضر فارتقی بہ حتی وصل الی العرش ولم یجاوزہ فکان من ربہ قاب قوسین او ادنٰی ۔
ترجمہ : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان ہفتم سے گزرے سدرہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بلند کی گئی اس سے گزر کر مقام مستوٰی پر پہنچے ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم نور میں ڈالے گئے وہاں ستر ہزار پردے نور کے طے فرمائے ، ہر پردے کی مسافت پانسو برس کی راہ ۔ پھر ایک سبز بچھونا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے لٹکایا گیا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر ترقی فرما کر عرش تک پہنچے ، اورعرش سے ادھر گزر نہ فرمایا وہاں اپنے رب سے قاب قوسین اوادنٰی پایا ۔ (الفتوحات الاحمدیۃ بالمنح المحدیۃ شرح الھمزیۃ المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی قاہرہ مصر صفحہ ۳۱)
حضرت شیخ سلیمٰن نے عرش سے اوپر تجاوز نہ فرمانے کو ترجیح دی ، اور امام ابن حجر مکی علیہما الرحمہ کی عبارت ماضیہ وآتیہ وغیرہا میں فوق العرش و لامکان کی تصریح ہے ، لامکان یقینا فوق العرش ہے اور حقیقۃً دونوں قولوں میں کچھ اختلاف نہیں ، عرش تک منتہائے مکان ہے ، اس سے آگے لامکان ہے ، اور جسم نہ ہوگا مگر مکان میں ، تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جسم مبارک سے منتہائے عرش تک تشریف لے گئے اورروح اقدس نے وراء الوراء تک ترقی فرمائی جسے ان کا رب جانے جو لے گیا ، پھر وہ جانیں جو تشریف لے گئے ، اسی طرف کلام امام شیخ اکبر رضی اللہ عنہ میں اشارہ عنقریب آتاہے کہ ان پاؤں سے سیر کا منتہٰی عرش ہے ، تو سیر قدم عرش پر ختم ہوئی ، نہ اس لیے کہ سیر اقدس میں معاذاللہ کوئی کمی رہی ، بلکہ اس لیے کہ تمام اماکن کا احاطہ فرما لیا ، اوپر کوئی مکان ہی نہیں جسے کہیے کہ قدم پاک وہاں نہ پہنچا اور سیر قلب انور کی انتہاء قاب قوسین ، اگر وسوسہ گزرے کہ عرش سے وراء کیا ہوگا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے تجاوز فرمایا تو امام سید علی وفا علیہ الرحمہ کا ارشاد سنیے جسے امام عبدالوہاب شعرانی علیہ الرحمہ نے کتاب الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر میں نقل فرمایا کہ فرماتے ہیں : لیس الرجل من یقیدہ العرش وما حواہ من الافلاک والجنۃ والنار وانما الرجل من نفذ بصرہ الی خارج ھٰذا الوجود کلہ وھناک یعرف قدرعظمۃ موجدہ سبحٰنہ و تعالٰی ۔
ترجمہ : مَرد وہ نہیں جسے عرش اورجو کچھ اس کے احاطہ میں ہے افلاک و جنت و نار یہی چیزیں محدود و مقید کرلیں ، مرد وہ ہے جس کی نگاہ اس تمام عالم کے پار گزر جائے وہاں اسے موجد عالم جل جلالہ کی عظمت کی قدر کھلے گی ۔ (الیواقیت والجواہر المبحث الرابع والثلاثوں داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۷۰،چشتی)
امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ و منح محمدیہ میں اور امام محمد زرقانی علیہما الرحمہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں : (ومنہا انہ راٰی اللہ تعالٰی بعینیہ) یقظۃ علی الراجح (وکلمہ اللہ تعالٰی فی الرفیع الا علی) علی سائر الامکنۃ وقدروی ابن عساکر عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ مرفوعا لما اسری لی قربنی ربی حتی کان بینی وبینہ قاب قوسین اوادنی ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائص سے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ عزوجل کو اپنی آنکھوں سے بیداری میں دیکھا ، یہی مذہب راجح ہے ، اور اللہ عزوجل نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بلند و بالا تر مقام میں کلام فرمایا جو تمام امکنہ سے اعلٰی تھا اور بیشک ابن عساکر نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : شب اسراء مجھے میرے رب نے اتنا نزدیک کیا کہ مجھ میں اوراس میں دوکمانوں بلکہ اس سے کم کا فاصلہ رہ گیا ۔ (المواہب اللدنیۃ المقصد الرابع الفصل الثانی المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۶۳۴،چشتی)(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الرابع الفصل الثانی دارالمعرفۃ بیروت ۵ /۲۵۱و۲۵۲)
اسی میں ہے : قد اختلف العلماء فی الاسراء ھل ھوا اسراء واحد او اثنین مرۃ بروحہ وبدنہ یقظۃ ومرۃ مناما او یقظۃ بروحہ وجسدہ من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی ثم منا ما من المسجدالاقصٰی الی العرش ۔
ترجمہ : علماء کو اختلاف ہوا کہ معراج ایک ہے یا دو ، ایک بار روح و بدن اقدس کے ساتھ بیداری میں اور ایک بار خواب میں یا بیداری میں روح و بدن مبارک کے ساتھ مسجد الحرام سے مسجد اقصٰی تک ، پھر خواب میں وہاں سے عرش تک ۔ (المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۷)
فالحق انہ اسراء واحد بروحہ وجسدہ یقظۃ فی القصۃ کلھا والی ھذا ذھب الجمہور من علماء المحدثین والفقہاء والمتکلمین ۔
ترجمہ : اور حق یہ ہے کہ وہ ایک اسراء ہے اور سارے قصے میں یعنی مسجد الحرام سے عرش اعلٰی تک بیداری میں روح و بدن اطہر ہی کے ساتھ ہے ۔ جمہور علماء ومحدثین وفقہاء ومتکلمین سب کا یہی مذہب ہے ۔ (المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۷)(المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۲)
اسی میں ہے : المعاریج عشرۃ (الٰی قولہ )العاشر الی العرش ۔
ترجمہ : معراجیں دس ہوئیں ، دسویں عرش تک ۔ (المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس مراحل المعراج المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۷)
اسی میں ہے : قد ورد فی الصحیح عن انس رضی اللہ عنہ قال لما عرج بی جبریل الی سدرۃ المنتہٰی ودنا الجبار رب العزۃ فتدلی فکان قاب قوسین او ادنٰی ۔ وتدلیہ علی ما فی حدیث شریک کان فوق العرش ۔
ترجمہ :صحیح بخاری شریف میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : میرے ساتھ جبریل نے سدرۃ المنتہٰی تک عروج کیا اور جبار رب العزۃ جل وعلانے دنو وتدلیّ فرمائی تو فاصلہ دو کمانوں بلکہ ان سے کم کا رہا، یہ تدلی بالائے عرش تھی ، جیسا کہ حدیث شریک ہے ۔ (المواہب اللدنیۃ المقصد الخاس ثم دنٰی فتدلٰی المتکب الاسلامی بیروت ۳ /۸۸،چشتی)(المواہب اللدنیۃ المقصد الخاس ثم دنٰی فتدلٰی المتکب الاسلامی بیروت ۳ /۹۰)
علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض علیہما الرحمہ میں فرماتے ہیں : وردفی المعراج انہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لما بلغ سدرۃ المنتہٰی جاء ہ بالرفرف جبریل علیہ الصلٰوۃ والسلام فتناولہ فطاربہ الی العرش ۔
ترجمہ : حدیث معراج میں وارد ہوا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سدرۃ المنتہٰی پہنچے جبریل امین علیہ الصلٰوۃ والتسلیم رفرف حاضر لائے وہ حضو کر لے کر عرش تک اڑگیا ۔ (نسیم الریاض شرح شفاء القاضی عیاض فصل واماما ورد فی حدیث الاسراء مرکز اہلسنت گجرات ہند ۲ /۳۱۰)
اسی میں ہے :علیہ یدل صحیح الاحادیث الاحاد الدالۃ علی دخولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الجنۃ ووصولہ الی العرش اوطرف العالم کما سیأتی کل ذٰلک بجسدہ یقظہ ۔
ترجمہ : صحیح احادیثیں دلالت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شب اسراء جنت میں تشریف لے گئے اورعرش تک پہنچے یا علم کے اس کنارے تک کہ آگے لامکان ہے اوریہ سب بیداری میں مع جسم مبارک تھا ۔ (نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل ثم اختلف السلف والعلماء مرکز اہلسنت گجرات ہند ۲ /۲۶۹،۲۷۰)
حضرت امام شیخ اکبر محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ فتوحاتِ مکیہ شریف باب ۳۱۶ میں فرماتے ہیں : اعلم ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لما کان خلقہ القراٰن وتخلق بالاسماء وکان اللہ سبحٰنہ وتعالٰی ذکر فی کتاب العزیز انہ تعلاٰی استوی علی العرش علی طریق التمدح والثناء علی نفسہ اذ کان العرش اعظم الاجسام فجعل لنبیہ علیہ الصلٰوۃ والسلام من ھذا الاستواء نسبۃ علی طریق التمدح والثناء علیہ بہ حیث کان اعلی مقام ینتہی الیہ من اسری بہ من الرسل علیھم الصلٰوۃ والسلام وذٰلک یدل علی انہ اسری بہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بجسمہ ولو کان الاسراء بہ رؤیا لما کان الاسراء ولا الوصلو الی ھذا المقام تمدحا ولا وقع من الاعرافی حقہ انکار علی ذٰلک ۔
ترجمہ : تو جان لے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلق عظیم قرآن تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسماء الٰہیہ کی خو و خصلت رکھتے تھے اور اللہ سبحانہ و تعالٰی قرآن کریم میں اپنی صفات مدح سے عرش پر استواء بیان فرمایا تو اس نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اس سفت استواعلی العرش کے پر تو سے مدح و منقبت بخشی کہ عرش وہ اعلٰی مقام ہے جس تک رسولوں کا اسراء منتہی ہو ، اوراس سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسراء مع جسم مبارک تھا کہ اگر خواب ہوتا تو اسرا اور اس مقام استواء علی العرش تک پہنچنا مدح نہ ہوتا نہ گنواراس پر انکار کرتے ۔ (الفتوحات المکیۃ الباب السادس داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۶۱)
امام عبدالوہاب شعرانی علیہ الرحمہ کتاب الیواقیت والجواہر میں حضرت موصوف سے ناقل : انما قال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علی سبیل التمدح حتی ظھرت لمستوی اشارۃ لما قلنا من ان متھی السیر بالقدم المحسوس للعرش ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بطور مدح ارشاد فرمانا کہ یہاں تکہ کہ میں مستوی پر بلند ہوا اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ قدم جسم سے سیر کا منتہٰی عرش ہے ۔ (الیواقیت والجواہر المبحث الرابع والثلاثون داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۷۰)
مدارج النبوۃ شریف میں ہے : فرمود صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پس گسترانیدہ شد برائے من رفرف سبز کہ غالب بود نور او پر نور نورآفتاب پس درخشید بآن نور بصر من ونہادہ شدم من برآں رفرف وبرداشتہ شدم تابرسید بعرش ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر میرے لیے سبز بچھونا بچھایا گیا جس کا نور آفتاب کے نور پر غالب تھا چنانچہ اس نور کے سبب میری آنکھوں کا نور چمک اٹھا ، پھر مجھے رفرف پر سوار کر کے بلندی کی طرف اٹھایا گیا یہاں تک کہ میں عرش پر پہنچا ۔ (مدارج النبوۃ باب پنجم وصل دررؤیت الٰہی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱/۱۶۹)
اسی میں ہے : آوردہ اند کہ چوں رسید آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعرش دست زد بدامان اجلال وے ۔
ترجمہ : منقول ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرش پر پہنچے تو عرش آپ کا دامن اجلال تھام لیا ۔ (مدارج النبوۃ باب پنجم وصل دررؤیت الٰہی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۱۷۰)
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ شریف میں ہے : جز حضرت پیغمبرما صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالاترازاں ہیچ کس نہ رفتہ و آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بجائے رفت کہ آنجاجانیست ۔
ترجمہ : ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ عرش سے اوپر کوئی نہیں گیا ، آپ اس جگہ پہنچے جہاں جگہ نہیں ۔
برداشت از طبیعت امکاں قدم کہ آں
اسرٰی بعبدہٖ است من المسجد الحرام
تاعرصہ وجوب کہ اقتضائے عالم ست
کابخانہ جاست ونے جہت ونے نشاں نہ نام
ترجمہ : طبیعت امکان سے قدم مبارک اٹھالئے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے خاص بندے کو سیر کرائی مسجد حرام سے صحرائے وجوب تک جو عالم کا آخری کنارہ ہے کہ وہاں نہ مکان ہے نہ جہت، نہ نشان اورنہ نام ۔ (اشعۃ اللمعات باب المعراج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۴ /۵۳۸)
نیز اسی کے باب رؤیۃ اللہ تعالٰی فصل سوم زیر حدیث قد راٰی ربہ مرتین (تحقیق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دوبارہ یکھا)
ارشاد فرمایا : بتحقیق دید آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پروردگارخود را جل وعلا دوبار، یکے چوں نزدیک سدرۃ المنتہٰی بود،دوم چوں بالائے عرش برآمد ۔
ترجمہ : تحقیق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پروردگارجل وعلاکو دوباردیکھا ، ایک بار جب آپ سدرہ کے قریب تھے ، اوردوسری بار جب آپ عرش پرجلوہ گرہوئے ۔ (اشعۃ اللمعات کتاب الفتن باب رؤیۃ اللہ تعالٰی الفصل الثالث مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۴ /۴۴۲تا۴۲۹،چشتی)
مکتوبات حضرت شیخ مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ جلد اول ، مکتوب ۲۸۳ میں ہے : آں سرور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دراں شب چوں از دائرہ مکان وزمان بریون جست وازتنگی امکان برآمد ازل وابدراں آں واحد یافت وبدایت ونہایت رادریک نطقہ متحد دید ۔
ترجمہ : اس رات سرکار دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مکان وزمان کے دائرہ سے باہر ہوگئے ،اور تنگی امکان سے نکل کر آپ نے ازل وابد کو ایک پایا اورابتداء کو انتہا کو ایک نقطہ میں متحد دیکھا ۔ (مکتوبات امام ربانی مکتوب ۲۸۳نولکشورلکھنؤ ۱/ ۳۶۶)
نیز مکتوب ۲۷۲ میں ہے : محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ محبوب رب العالمین ست وبہترین موجودات اولین وآخرین باوجودآنکہ بدولت معراج بدنی مشرف شد واز عرش وکرسی درگزشت وازامکان وزمان بالارفت ۔
ترجمہ : محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کہ رب العالمین کے محبوب ہیں اور تمام موجودات اولین و آخرین سے افضل ہیں ، جسمانی معراج سے مشرف ہوئے اورعرش وکرسی سے آگے گزر گئے اور مکان و زمان سے اوپر چلے گئے ۔ (مکتوبات امام ربانی مکتوب ۲۷۲نولکشورلکھنؤ ۱ /۳۴۸)
امام ابن الصلاح علیہ الرحمہ کتاب معرفۃ انواع علم الحدیث میں فرماتے ہیں : قول المصنفین من الفقہاء وغیرہم ''قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کذا وکذا''ونحو ذٰلک کلہ من قبیل المعضل وسماہ الخطیب ابوبکر الحافظ فی بعض وکلامہ مرسلا وذٰلک علی مذھب من یسمی کل مالایتصل مرسلاً ۔
ترجمہ : فقہاء وغیرہ ومصنفین کا قول کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ایسا فرمایا ہے یا اس کی مثل کوئی کلمہ یہ سب معضل کے قبیل سے ہے ۔ خطیب ابو بکر حافظ نے اس کا نام مرسل رکھا ہے اوریہ اس کے مذہب کے مطابق ہے جو ہر غیر متصل کا نام مرسل رکھتاہے ۔ (معرفۃ انواع علم الحدیث النوع الحادی عشر دارالکتب العلمیۃ بیروت صفحہ ۱۳۸)
تلویح وغیرہ میں ہے : ان لم یذکر الواسطۃ اصلا فمرسل ۔
ترجمہ : اگر واسطہ بالکل مذکور نہ ہوتو وہ مرسل ہے ۔ (التوضیح والتلویح الرکن الثانی فی السنۃ فصل فی الانقطاع نورانی کتب خانہ پشاور ص۴۷۴)
مسلم الثبوت میں ہے : المرسل قول العدل قال علیہ الصلٰوۃ والسلام کذا ۔
ترجمہ : مرسل یہ ہے عادل کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا ۔ (مسلم الثبوت مسئلہ تعریف المرسل مطبع انصاری دہلی ص۲۰۱)
فواتح الرحموت میں ہے : الکل داخل فی المرسل عند اھل الاصول ۔
ترجمہ : اصولیوں کے نزدیک سب مرسل میں داخل ہیں ۔ (فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ فی الکلام علی المرسل منشورات الشریف الرضی قم ۲ /۱۷۴)
انہیں میں ہے : المرسل ان کان من صحابی یقبل مطلقا اتفاقا وان کان من غیرہ فالاکثر ومنھم الامام ابوحنیفۃ والامام مالک والامام احمد رضی اللہ تعالٰی عنہم قالو یقبل مطلقا اذا کان الراوی ثقۃ ۔۔۔۔ الخ ۔
ترجمہ : مرسل اگر صحابی سے ہو مطلقاً مقبول ہے اور اگر غیر صحابی سے ہو تو اکثرائمہ بشمول امام اعظم ، امام مالک اورامام احمد رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ مطلقامقبول ہے بشرطیکہ راوی ثقہ ہو الخ ۔ (فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلہ فی الکلام علی المرسل منشورات الشریف الرضی قم ۲ /۱۷۴)
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے : لایضرذٰلک فی الاستدلال بہ ھٰھنا لان المقطع یعمل بہ فی الفضائل اجماعا ۔
ترجمہ : اس سے استدلال کرنا یہاں مضر نہیں کیونکہ فضائل میں منقطع بالاجماع قابل عمل ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح باب الرکوع الفصل الثانی تحت الحدیث ۸۸۰المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ /۶۰۲)
شفائے امام قاضی عیاض علیہ الرحمہ میں ہے : اخبر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لقتل علی وانہ قسیم النار ۔
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ بیشک وہ قسیم النار ہیں ۔ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن ذلک مااطلع علیہ من الغیوب المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۲۸۴)
نسیم الریاض میں فرمایا : ظاھر ھذان ھذا مما اخبربہ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الا انھم قالوا لم یروہ احدمن المحدثین الا ان ابن الاثیر قال فی النہایۃ الا ان علیا رضی اللہ تعالٰی عنہ قال انا قسیم النار قلت ابن الاثیر ثقۃ وما ذکرہ علی لایقال من قبل الرائ فھو فی حکم المرفوع ۔ اھ ملخصاً ۔
ترجمہ : ظاہر اس کا یہ ہےکہ بیشک یہ ان امور میں سے ہے جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی مگر انہوں نےکہا کہ اس کو محدثین میں سے کسی نے روایت نہیں کیا مگر ابن اثیر نے نہایہ میں کہا : بیشک حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں قسیم نار ہوں ۔ میں کہتاہوں کہ ابن اثیر ثقہ ہے اورجو کچھ سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے ذکر فرمایا وہ قیاس سے نہیں کہا جاسکتا لہذ ا وہ مرفوع کے حکم میں ہے اھ تلخیص ۔ (نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض ومن ذلک ما اطلع علیہ من الغیوب مرکز اہلسنت گجرات الہند ۳ /۱۶۳،چشتی)
امام ابن الہمام علیہ الرحمہ فتح القدیر میں فرماتے ہیں : عدم النقل لاینفی الوجود ۔
ترجمہ : عدم نقل وجود کی نفی نہیں کرتا ۔ (فتح القدیر کتاب الطہارت مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۲۰)
مسلمہ امور سے انحراف کر کے اپنی ذات کو نمایاں کرنے کی روش نے جہاں فکری مغالطوں کو جنم دیا ہے وہاں بعض خود ساختہ دانشوروں نے اپنے قاری کے ذہن کو غبار تشکیک میں لپیٹ کر اعتقادی بے راہروی کی بنیاد بھی رکھی ہے ۔ برصغیر میں برطانوی استعمار نے ہماری اسی مجلسی کمزوری کو دیکھتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کو بھی مباحثوں اور مناظروں کا موضوع بنا کر جس گھناؤنی سازش کا ارتکاب کیا تھا ہم اس کے منحوس اثرات سے آج تک چھٹکارا حاصل نہیں کر سکے بلکہ یہ غلط روش حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناآسودہ امت کو مختلف خانوں میں بانٹ کر ان کی اجتماعی قوت کو مفلوج کرنے کا باعث بنی ہے ۔ اَفراط و تفریط کے اِسی موسم ناروا میں فرقہ واریت کا تھوہڑ خوب پنپا ہے ۔
آیہ معراج کی تشریح کرتے ہوئے کچھ علماء تفسیر رؤیت کے بارے میں سخت مغالطے کا شکار ہوئے ہیں ۔ وہ آیہ کریمہ میں دو کمانوں یا اس سے بھی کم باہمی قرب کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جبرئیل علیہ السلام کے درمیان قرب سے تعبیر کرتے ہیں ۔ رؤیت باری تعالیٰ کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے اس گمان میں مبتلا ہیں کہ مقام دنی فتدلی اور قاب قوسین او ادنی پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبرئیل علیہ السلام کا قرب اور اصل صورت میں دیدار نصیب ہوا ۔
قابل غور امر یہ ہے کہ بفرض محال اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو کیا قرب حضرت جبرئیل علیہ السلام کی عظمت کا آئینہ دار ہے یا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کا عکاس ، جنہیں خالق موجودات نے بطور مہمان خصوصی معراج کےلیے بلوایا تھا ، جبرئیل علیہ السلام ان گنت بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور وہ بارگاہ حریمِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بغیر اجازت داخل نہ ہوتے تھے ۔ اگر معراج میں جبرئیل علیہ السلام کی عظمت کا اظہار مقصود ہوتا تو فی الواقع یہ معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بجائے جبرئیل علیہ السلام کی ہوتی ۔ صحیح بخاری میں آیہ کریمہ مذکورہ کی تفسیر ان الفاظ میں کی گئی ہے ۔
دنی الجبار رب العزة فتدلی حتی کان منه قاب قوسين او ادنی ۔ (صحيح البخاری، 2 : 1120، کتاب التوحيد رقم : 7079چشتی)
اللہ رب العزت اتنا قریب ہوا کہ دو کمانوں کے درمیان جتنا یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا ۔
حدیث مبارکہ سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ آیہ کریمہ میں وہ ذات جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئی اس سے مراد رب العزت ہے جو جبار ہے ۔
علماء میں ایک ایسا گروہ ہے جن کا عقیدہ ہے کہ معراج میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باری تعالیٰ کا دیدار نہیں ہوا۔
انکارِ رؤیت کی دو ممکنہ صورتیں : ⏬
پہلی صورت : پہلی صورت یہ کہ اللہ کا دیدار سرے سے ممکن ہی نہیں اور انسانی آنکھ کو اتنی تاب کہاں کہ وہ اللہ کا دیدار کر سکے ۔
دوسری صورت : یہ کہ امکان تو موجود ہے لیکن شب معراج ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا ۔
ان دونوں امکانی صورتوں کو جن کی بنا پر رؤیت باری تعالیٰ سے انکار کیا جاتا ہے ہم علماء کی طرف سے پیش کردہ ہر صورت کا قرآن و حدیث کی روشنی میں جائزہ لیں گے ۔
لَاتُدْرِکُہُ الْاَبْصَار کی تشریح : ⏬
پہلی صورت میں قرآن حکیم کی جس آیہ مقدسہ کو رؤیت باری تعالیٰ کے عدم امکان کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے وہ درج ذیل ہے ۔
لاَّ تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۔ (سورہ الانعام، 6 : 103)
ترجمہ : نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ سب نگاہوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے ۔
مذکورہ آیہ مقدسہ کا بالعموم یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ کسی آنکھ کو اتنی قدرت حاصل نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کر سکے ۔ اس آیت سے یہ معنی مراد لینا اسے نہ سمجھنے کے مترادف ہے اس لیے کہ اس میں رؤیت کا نہیں بلکہ ادراک، کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ آیت کا معنی یہ ہوا کہ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ سب آنکھوں کا ادراک کر سکتا ہے اور ادراک دیکھنے کے معنی میں نہیں بلکہ کسی شئے کے احاطہ کرنے کے معنی میں آتا ہے ۔ دیکھنا اور بات ہے اور کسی چیز کا احاطہ کرنا دوسری بات ہے ۔ مذکورہ آیہ کریمہ میں رب ذوالجلال نے اپنے دیکھے جانے کی نفی نہیں کی بلکہ ارشاد یہ ہوا ہے کہ عالم امکان میں ساری آنکھیں بھی مل کر اس کی ذات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں اور صرف اسی کی ذات ہر چیز کا احاطہ کرنے پر قادر ہے لہٰذا ادراک سے دیکھنا مراد لے کر آیت کا یہ معنی نکالنا کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کسی آنکھ کےلیے ممکن ہی نہیں ، چنداں درست نہیں ۔ (مدارج النبوة جلد 1 صفحہ 207،چشتی)(شرح مسلم جلد 1 صفحہ 97)
مثال : اس نکتہ کو سمجھنے کےلیے ایک مثال یوں دی جا سکتی ہے ۔ ایک مقرر جم غفیر سے خطاب کر رہا ہے ۔ مجمع دور تک پھیلا ہوا ہے جسے وہ دیکھ تو سکتا ہے لیکن سب حاضرین جلسہ کا وہ احاطہ نہیں کر سکتا ۔ جو لوگ سامنے اس کے قریب ہیں انہیں وہ دیکھتا ہے لیکن جو لوگ پس دیوار ہیں وہ اس کی نگاہوں سے اوجھل ہیں ۔ اس سے یہ نکتہ کھلتا ہے کہ کوئی محدود وجود غیر محدود وجود کو دیکھ تو سکتا ہے مگر اس کا احاطہ نہیں کر سکتا ۔ کسی جزو کو یہ طاقت حاصل نہیں کہ وہ کل کا احاطہ کر سکے ۔ پس ذات خداوندی جو غیر محدود اور کل ہے اس کا احاطہ سب انسانی آنکھیں جو محدود اور جزو ہیں مل کر بھی نہیں کر سکتیں جبکہ وہ ذات ہر شئے کا احاطہ کرنے پر قادر ہے ۔ اس ساری گفتگو سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا دیدار اور مشاہدہ عین ممکن ہے مگر اس کا ادراک ممکن نہیں ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا موقف : اس سلسلہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے برگزیدہ صحابی حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما جن کی قرآن فہمی مشہور خاص و عام تھی اور جنہیں صاحب قرآن نے ترجمان القرآن کے خطاب سے نوازا تھا ، انہوں نے ان صحابہ رضی اللہ عنہم سے جو مذکورہ آیت سے نفی رؤیت کی دلیل لاتے تھے اختلاف کیا اور فرمایا کہ اس آیت میں رؤیت کی نہیں بلکہ ذات باری تعالیٰ کے ادراک کی نفی کی گئی ہے ۔
دوسری آیت کی تشریح : ⏬
دوسری آیہ کریمہ نفی رؤیت کےلیے جس کا سہارا لیا جاتا ہے وہ یہ ہے ۔
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا ۔ (سورہ الشوریٰ، 42 : 51)
ترجمہ : اور کسی آدمی کی طاقت نہیں کہ اللہ اس سے (براہ راست) بات کرے مگر ہاں (اس کی تین صورتیں ہیں یا تو) وحی (کے ذریعے) یا پردے کے پیچھے سے یا (اللہ) کسی فرشتے کو بھیج دے ۔
علماء نے اس آیت کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ کسی بشر کی مجال نہیں کہ وہ بے حجاب اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہو سکے اس لیے اس کا دیدار بے حجاب ممکن ہی نہیں ۔ اس دلیل کی بنا پر وہ تسلیم نہیں کرتے کہ شب معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذات باری تعالیٰ کا بے حجاب دیدار کیا ۔ اس آیت کو سمجھنے میں ان سے وہی مغالطہ سرزد ہوا جو سابقہ آیت کو سمجھنے میں ہوا تھا۔ صحیح بات یہ ہے کہ آیت کریمہ میں بے حجاب کلام کی نفی کی گئی ہے نہ کہ بے حجاب مشاہدے کی ، جبکہ اس میں دیدار اور مشاہدے کا نہیں بلکہ بے حجاب کلام کا ذکر ہے اور یہ تو نہیں کہا گیا کہ اللہ کو طاقت نہیں کہ وہ اپنا دیدار کسی کو بے حجاب کرا سکے ۔ چونکہ اس آیت میں خدا کی نہیں بلکہ بشر کی طاقت کی نفی کی جا رہی ہے اس لیے اسے شب معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار الٰہی کی نفی کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا ۔
سفر معراج رب کائنات کی قدرت کاملہ کا مظہر : ⏬
ہم نے گذشتہ مضامین میں عرض کیا ہے کہ معجزہ معراج کا انکار اللہ رب العزت کی قدرت کاملہ کا انکار ہے کیونکہ خدائے رحیم و کریم ، کائنات کا ہر ذرہ جس کے حکم کا پابند ہے نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبرئیل امین کے ذریعہ براق بھیج کر بلوایا اور انہیں آسمانوں کی سیر کرائی کہ محبوب تیری چادرِ رحمت کائنات کی ہر شئے پر محیط ہے ۔ قادرِ مطلق کی قدرتِ کاملہ پر اِستعجاب کیسا ؟
واقعہ معراج کو قرآن نے اول تا آخر خدائے لم یزل کی قدرت کاملہ قرار دیا ہے اسی لیے اس قصے کو سبحان الذی سے شروع کیا تاکہ ذہن میں کسی قسم کا خلجان باقی نہ رہے کہ اس واقعہ کی ذمہ داری اس عظیم و برتر ذات پر ہے جو ہر قسم کی کمزوری، نقص اور عیب سے پاک ہے اور بلاشرکتِ غیرے اس بات پر قادر ہے کہ وہ معراج جیسا عظیم و بے مثال سفر کرا سکے۔ اگر دعویٰ کسی فرد بشر کی طرف سے ہوتا کہ میں نے اپنی طاقت اور صلاحیت کے بل بوتے پر معراج کیا تو معاملے کی صورت مختلف ہوتی لیکن یہاں تو بات ہی اور ہے۔ خدا تعالیٰ اپنی ذات کو ہر کمزوری، عیب اور سقم سے پاک قرار دے کر معراج کو اپنی طاقت اور قدرت کاملہ سے منسوب کر رہا ہے لہٰذا یہ بحث کہ رؤیت باری تعالیٰ کس طرح ممکن ہے خود خالقِ مطلق کی قدرت و اختیار کے دائرے کو زیر بحث لانے کے مترادف ہو گا لیکن خدا کی قدرت و طاقت کا اندازہ انسان کے حیطہ ادراک سے باہر ہے۔ اگر واقعہ معراج کی صحت کی کسوٹی انسان کی طاقت و قدرت ہو تو پھر یہ سارا معاملہ انسان کی دسترس اور دائرہ اختیار سے باہر ہے لیکن جہاں خدا کی قدرت اور اختیار کی بات آ جائے تو پھر اس واقعہ کی مختلف جہتوں سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔
قرآن و حدیث کی روایات کی من مانی تاویل سے واقعہ معراج کی عظمت سے روگردانی کا پہلو نکلتا ہے ۔ معجزہ معراج کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے سے ممکن و ناممکن کی لایعنی بحث کا دروازہ کھل جاتا ہے ۔ پھر بیت المقدس کے سفر ، آسمانوں اور عالمِ اُخروی کے مشاہدات کی عقلی توجیہہ ذہن میں ان گنت سوال چھوڑ جاتی ہے ۔ معجزہ تو ہے ہی وہ خرقِ عادت واقعہ جو عقل میں نہ آ سکے ۔ اسے دلیل نبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ بنابریں نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک معجزے کا انکار سارے معجزات کا انکار اور خود رسالت کا انکار سمجھا جائے گا ۔
انکارِ رؤیت کی تیسری دلیل : ⏬
منکرین رؤیت باری تعالیٰ اِس حدیث کے حوالے سے دیتے ہیں جس میں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان سے معراج میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار الٰہی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا : نورٌاَنّٰی أَرَاَه ۔
ترجمہ : وہ تو نور تھا میں بھلا اسے کیسے دیکھ سکتا تھا ۔ (الصحيح لمسلم، 1 : 99، کتاب الايمان، رقم : 291)
اس حدیث مبارکہ کا ترجمہ بالعموم یہی کیا جاتا ہے اور اسی سے وہ نفی رؤیت کا استدال کرتے ہیں ۔ اگر ہم گہرائی میں جا کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد گرامی پر غور کریں تو اس کا یہ معنی نہیں جو بادی النظر میں سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے اگلی حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی وضاحت یوں فرمائی ہے کہ : رايت نورا ۔ میں نے نور کو دیکھا ۔ (الصحيح لمسلم، 1 : 99، کتاب الايمان، رقم : 292،چشتی)
اس کی روشنی میں متذکرہ بالا حدیث کا معنی یہ ہوا کہ میں نے جس طرف سے بھی دیکھا اسے نور پایا ۔ یہ معنی نہیں کہ وہ نور تھا میں اسے کیسے دیکھ سکتا تھا ۔ رایت نورا کے الفاظ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیدار الٰہی کا اثبات کرتے ہوئے اس کی کیفیت بیان کر رہے ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کو جس طرف سے بھی دیکھا نورٌ علٰی نور پایا ۔
اللہ تعالیٰ خالقِ نور ہے : ⏬
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نور اپنی ماہیت کے اعتبار سے وہ چیز ہے جس کو دیکھا نہیں جا سکتا بلکہ اس کی مدد سے اشیاء نظر آتی ہیں لہٰذا اللہ کے نور کا دیدار چہ معنی دارد ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ باری تعالیٰ کی ماہیت کو نور قرار دینا اصلاً غلط ہو گا کیونکہ بشر کی طرح نور بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے جسے اپنی ذات کے اعتبار سے کسی جہت اور ہیئت میں مقید نہیں کیا جا سکتا اس لیے بعض علماء کے نزدیک اللہ کو نور کہنا کفر کے مترادف ہے ۔ بے شک وہ اللہ تعالیٰ خالق نور ہے کہ وہ بشر اور دیگر مخلوقات کا خالق ہے مگر جب باری تعالیٰ نے اپنا تعارف قرآن پاک میں اس طرح کرایا ہے کہ : اللهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۔ (النور، 24 : 35) ۔ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے ۔
تو مفسرین قرآن اور ائمہ کرام نے اس کا معنی مراد یہ لیا ہے کہ وہ ذات جو آسمانوں اور زمین کو روشن کرنے والی ہے لہٰذا آیت کریمہ میں مجازاً سمجھانے کےلیے اللہ تعالیٰ کو نور سے تعبیر کیا ہے جس سے مراد اس کی تجلی ذات ہے نہ کہ اس کی ماہیت ۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کا دیدار کیا تو اس کے جلوہ ذات کی کیفیت کو نور کی مانند پایا جس نے ہر چیز کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا ۔ یہی ’’نورانی اراہ‘‘ کا مفہوم ہے اور اس کی کیفیت کو جس کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج مشاہدہ کیا دیدار الٰہی سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
اِمکانِ رؤیت باری تعالیٰ : ⏬
رؤیت باری تعالیٰ کے ضمن میں یہ خیال عام ہے کہ اس دنیا میں اللہ کو دیکھنا ممکن نہیں ہے اور بطور انعام دیدار الٰہی محض آخرت کا حصہ ہے۔ اس سلسلے میں قرآن حکیم کی دو آیات کو ذہن نشین کر لینا ضروری ہو گا جس سے اس دنیا میں دیدار الٰہی کی اِمکانی صورت واضح ہو جائے گی ۔
قرآن کریم کی پہلی آیت کا محل موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کا بارگاہ رب العزت میں دیدار کےلیے خواستگار ہونا ہے ۔ وہ سراپا سوال بن کر باری تعالیٰ کے حضور اِستدعا کرتے نظر آتے ہیں ۔ رَبِّ أَرِنِي أَنظُرْ إِلَيْكَ ۔ (الاعراف، 7 : 143) ۔ اے رب! مجھے (اپنا جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار کر لوں ۔
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی جنہیں بارہا اپنے رب سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا ہے، اس بات سے آگاہ نہیں تھے کہ وہ دیدارِ الٰہی کا مطالبہ کر کے ایسی چیز کا تقاضا کر رہے ہیں جو سرے سے ممکن ہی نہیں ؟ جناب کلیم اللہ کا رؤیت باری تعالیٰ کے عدم امکان کے بارے میں بے خبر ہونا بعید از فہم ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا بارہا خدا کے حضور دیدار کا تقاضا کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ علی وجہ البصیرت ان کا اعتقاد تھا کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار اس دنیا میں عین ممکن ہے ۔ یہی سبب ہے کہ سر طور رب ارنی کی صدا بلند کرتے رہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس التجا کے جواب میں باری تعالیٰ نے جو ارشاد فرمایا وہ بھی غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ خدا کی طرف سے اپنے کلیم کو خطاب فرمایا گیا ۔ لَن تَرَانِي ۔ (الاعراف، 7 : 143) ۔ تم مجھے (براہِ راست) ہرگز دیکھ نہ سکو گے ۔
جواب کی نوعیت پر غور کریں تو اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ مجھے دیکھا نہیں جا سکتا بلکہ ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ ! تیری آنکھ مجھے دیکھنے کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔ یہ نہیں کہا کہ کوئی آنکھ مجھے دیکھنے کی قدرت نہیں رکھتی ۔ اس سے امکانِ رؤیت کی نفی نہیں ہوتی بلکہ اس فرمودہ خداوندی میں اس بات کا اثبات مضمر ہے کہ میرے دیدار کا شرف معراج کی شب صرف میرا حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حاصل کرے گا۔ قضا و قدر نے یہ شرف و امتیاز حضور سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصے میں رکھا ہے ۔ یہی سبب تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی التجا کو شرف پذیرائی نہ بخشا گیا کیونکہ اس سعادت کےلیے ازل سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ستودہ صفات کو منتخب کیا جا چکا تھا ۔
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
دوسری آیت میں اہل جنت کےلیے مژدہ ہے کہ انہیں اللہ رب العزت اپنے دیدار سے نوازیں گے ۔ ارشاد ربانی ہے : وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ ۔ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ۔ (سورہ القيامة آیت نمبر 22 - 23)
بہت سے چہرے اُس دن شگفتہ و تروتازہ ہوں گے ۔ اور (بلا حجاب) اپنے رب (کے حسن و جمال) کو تک رہے ہوں گے ۔
بموجب ارشادِ خداوندی اہل خلد کے تروتازہ چہروں پر بشاشت کی لہر دوڑ جائے گی جب انہیں خدا کا دیدارِعام بے حجاب کرایا جائے گا ۔ رسول عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے بے حجاب دیدار سے بڑھ کر اور کوئی نعمت اہل ایمان کے لئے نہ ہو گی ۔
رؤیت باری پر متفق علیہ حدیث : ⏬
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انکم سترون ربکم عيانا ۔ بے شک تم اپنے رب کو اعلانیہ دیکھو گے ۔ (صحيح البخاری، 2 : 1105، کتاب التوحيد، رقم : 6998)(مسند احمد بن حنبل، 3 : 16)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چودہویں کے چاند کی رات ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : انکم سترون ربکم يوم القيامة کما ترون القمر هذا ۔ تم اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھتے ہو ۔ (صحيح البخاری، 2 : 1106، کتاب التوحيد،چشتی)(سنن ابی داؤد، 2 : 302، کتاب السنة، رقم : 4729)(سنن ابن ماجه، 1 : 63، رقم : 177)(مسند احمد بن حنبل، 4 : 360)
اس سے یہ بات ظاہر و باہر ہے کہ مندرجہ بالا ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رو سے ذات باری تعالیٰ کے مطلقاً دیدار کی نفی نہیں ہوئی ۔ اب اگر بالفرض اس کے عدم امکان کو تسلیم کر لیا جائے تو منطق کے اصول کے مطابق جو چیز اس جہان میں ناممکن ہے وہ عالم اخروی میں بھی ناممکن ہے لیکن بفحوائے ارشاد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مومن کےلیے آخرت میں سب سے بڑی نعمت دیدار خداوندی ہو گا ۔
دولتِ دیدارِ الٰہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے مختص تھی : ⏬
یہ بات کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام اپنے ہر ایمان دار امتی سے بدرجۂ اَتم کہیں بڑھ کر ہے بلکہ حق تو یہ ہے کہ ہر مومن کو ایمان کی دولت ان کے صدقے سے عطا ہوئی ہے ۔ اس لحاظ سے یہ منفرد امتیاز صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو حاصل ہے کہ انہیں معراج کی شب مشاہدہ و دیدار حق نصیب ہوا جبکہ دوسرے اہل ایمان کو یہ سعادت آخرت میں نصیب ہو گی۔ احادیث میں ہے کہ معراج کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احوال آخرت ، جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کرایا گیا جبکہ باقی سب کو ان کا چشم دید مشاہدہ موت کے بعد کرایا جائے گا ۔ بلاشبہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالات میں شامل ہے کہ انہیں قیامت تک پیش آنے والے واقعات کی پیشگی مشاہدے کے ذریعے خبر دے دی گئی اور آخرت کے سب احوال ان پر بے نقاب کر دیئے گئے۔ اس بنا پر تسلیم کر لینے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے کہ منجملہ کمالات میں سے یہ کمال صرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہوا کہ دیدار الٰہی کی وہ عظمت عظمیٰ جو مومنوں کو آخرت میں عطا ہو گی وہ آپ کو شب معراج ارزانی فرما دی گئی ۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا تھا کہ چھوٹی نعمتوں کے باوصف سب سے بڑی نعمت جو دیدار الٰہی ہے اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محروم کر دیا جاتا ۔
امکان کی بات سے قطع نظر سورہ نجم کی آیات معراج میں چار مقامات ایسے ہیں جن میں ذات باری تعالیٰ کے حسن مطلق کے دیدار کا ذکر کیا گیا ہے : ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى ۔ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى ۔ (النجم، 53 : 8 - 9)
ترجمہ : پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا o پھر (جلوۂ حق اور حبیبِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہو گیا) ۔
ارشاد ربانی میں اس انتہائی درجے کے قرب کی نشاندہی کی گئی ہے جس کا حتمی نتیجہ اور نقطہ منتہی سوائے دیدار الٰہی کے اور کچھ قرین فہم نہیں ۔ اس کے بعد فرمایا : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى ۔ (النجم، 53 : 11)
ترجمہ : (اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا ۔
قرآن حکیم نے یہ واضح فرما دیا کہ شب معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمال ذات باری تعالیٰ کا مشاہدہ دل کی آنکھ سے بھی کیا اور سر کی آنکھ سے بھی ۔
دیدارِ الٰہی کے بارے میں علماءِ امت کی تصریحات : ⏬
حدیث طبرانی میں ہے کہ : ان محمدا رای ربه مرتين مرة بعينه و مرة بفواده ۔
ترجمہ : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا ۔ ایک مرتبہ آنکھ سے اور ایک مرتبہ دل سے ۔ (المعجم الکبير، 12 : 71، رقم : 12564،چشتی)(المعجم الاوسط، 6 : 356، رقم : 5757)(المواهب اللدنيه، 2 : 37)(نشر الطيب تھانوی صفحہ 55)
اس حدیث پاک سے رؤیت باری تعالیٰ کے بارے میں اوپر درج کی گئی قرآنی آیات کے مضمون کی بخوبی تائید ہوتی ہے ۔
حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسان رضی اللہ عنہ جیسے برگزیدہ اصحاب رسول کی صحبت سے فیض یافتہ نامور تابعی ہیں، ان سے ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سوال کیا گیا کہ آیا انہوں نے معراج کی شب ذات باری تعالیٰ کا دیدار کیا ؟ تو انہوں نے تین بار قسم کھا کر اس بات کا اقر ار کیا کہ ہاں انہوں نے اپنے رب کو دیکھا ہے ۔
اسی طرح جب امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رؤیت باری تعالیٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے تین بار یہ الفاظ دہرائے، قد رای ربہ یعنی انہوں نے اپنے رب کودیکھا، یہاں تک کہ ان کی سانس پھول گئی ۔
یہ خیالات و معتقدات سب ممتاز اور قابل ذکر صحابہ ، صحابیات ، تابعین ، تبع تابعین اور ائمہ کرام رضی اللہ عنہم و علیہم الرحم کے ہیں ۔ قرآن حکیم نے رؤیت باری کی تائید فرماتے ہوئے شک کرنے والوں سے پوچھا : أَفَتُمَارُونَهُ عَلَى مَا يَرَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 12)
ترجمہ : کیا تم ان سے اس پر جھگڑتے ہو جو انہوں نے دیکھا ۔
سرور دوجہاں ، ہادی انس و جاں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ظاہری آنکھ کے علاوہ ایک آنکھ باطنی دل کی بھی عطا فرمائی تھی ۔ جب ساعت دیدار آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ظاہری جلوہ اور باطنی جلوہ دونوں نصیب ہوئے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 13)
ترجمہ : اور بیشک انہوں نے تو اُس (جلوۂ حق) کو دوسری مرتبہ (پھر) دیکھا (اور تم ایک بار دیکھنے پر ہی جھگڑ رہے ہو)
بارگاہِ خداوندی میں مسلسل حاضری : ⏬
اس سے پہلے یہ ذکر آ چکا ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خالق و مالک سے وصال و دیدار کی نعمتوں سے مالامال ہونے کے بعد سفلی دنیا کی طرف لوٹے تو اللہ جل مجدہ کی طرف سے امت کے لئے پچاس نمازوں اور چھ ماہ کے روزوں کا تحفہ لائے ۔ راستے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو ان کے استفسار پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں صورتحال سے مطلع فرمایا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اصرار کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بار بار رب تعالیٰ کے ہاں بھیجتے رہے یہاں تک کہ آپ نے 9 مرتبہ ذات باری تعالیٰ سے ملاقات کی جس کے نتیجے میں اللہ رب العزت نے تخفیف فرما کر پانچ نمازیں اور ایک ماہ کے روزے امت مسلمہ پر فرض کئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مزید تخفیف کے بارے میں اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اب دسویں مرتبہ رب کے ہاں جاتے ہوئے شرم آتی ہے ۔ اس سے مترشح ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نو مرتبہ دیدار اور ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا ۔
چشمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیدارِ الٰہی میں محو تھیں : ⏬
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمانِ مبارک جو دیدارِ الٰہی کے شرف سے مشرف ہوئیں ، کائنات سماوی کا ایک ایک نقش جن میں ثبت ہے ، کتاب زندگی کے سرورق کا وہ جلی عنوان ہے جو ان گنت کائناتی سچائیوں کے انکشاف کا نقیب ہے ، انہیں چشمان مبارک کے تصدق میں کائنات رنگ و بو میں رعنائیوں کے جھرمٹ اترتے ہیں، انہی چشمان مقدس میں موسیٰ علیہ السلام کی آرزو، انوار و تجلیات الہٰیہ کی صورت میں جاگزیں ہے اور یہی چشمان مقدس سدرۃ المنتہیٰ کے جمال کی عینی شاہد ہیں ۔
کلام ربانی میں آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان مبارک آنکھوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو اپنے حوصلے، اعتماد، ہمت اور عزم و یقین کے باعث اس ارشاد ربانی کا مصداق ٹھہریں : مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 17)
ترجمہ : اور اُن کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی (جس کو تکنا تھا اسی پر جمی رہی) ۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بصارت اس درجہ طاقت و وسعت کی حامل تھی کہ شب معراج مشاہدہ حق کے وقت اس میں نہ صرف اضمحلال واقع نہ ہوا بلکہ وہ کمال ہوش کے ساتھ مشاہدہ جمال میں محو رہی۔
حضرت سہل بن عبداللہ التستری رحمۃ اللہ علیہ اسی مشاہدہ کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں : شاهد نفسه والی مشاهدتها و انما کان مشاهدا ربه تعالی بشاهد ما يظهر عليه من الصفات التی اوجبت الثبوت فی ذلک المحل ۔ (تفسیر روح المعانی جلد 27 صفحہ 54،چشتی)
اس طرح مستغرق ہوئے کہ سوائے ذات باری اور صفات الہٰیہ کے کسی طرف متوجہ نہ ہوئے ۔
اس کے برعکس حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر تجلی الہٰی کی ایک جھلک بھی برداشت نہ کر سکے اور صفاتی تجلی کی انعکاسی شعاع کے اثر سے آپ علیہ السلام کا خرمن ہوش جل گیا۔
کسی صاحب نظر نے بصارتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بصارت موسیٰ علیہ السلام سے کیا خوبصورت موازنہ کیا ہے : ⏬
موسیٰ ز ہوش رفت بہ یک پر تو صفات
تو عین ذات می نگری در تبسمی
قرآن آگے چل کر رؤیت آیات الہٰیہ کے باب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال بصارت کا ذکر بایں الفاظ کرتا ہے : لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 18)
ترجمہ : بیشک انہوں نے (معراج کی شب) اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمان مقدس کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان چشمان مقدس نے اللہ رب العزت کا بے حجاب نظارہ کیا۔ اب اس کے بعد وہ کونسی چیز ہو گی جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشم بینا سے پوشیدہ رہی ہو گی ۔ یہی چشم بینا کائنات کی ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ ماضی، حال کے علاوہ مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات اور تغیرات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمان مبارک پر روز روشن کی طرح واضح اور نمایاں تھے ۔
دل نے تجلیاتِ الہٰیہ کی تصدیق کی : ⏬
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال بصارت کے ذکر کے بعد قرآن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب انور کا ذکر بھی کرتا ہے، ارشاد ہوتا ہے : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 11)
ترجمہ : (اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا ۔
سفرِ مراجعت : ⏬
معراج سے واپسی کا سفر براق پر طے ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس کی راہ سے حرم کعبہ میں تشریف لائے۔ رات کی وہی تاریکی تھی جب آپ بستر پر محو استراحت ہوئے۔ وہ ایک لمحہ جو کائنات ارضی و سماوی کی زمانی و مکانی وسعتوں کو محیط تھا اپنے دامن میں معراج کی عظمتوں اور رفعتوں کو سمیٹے ہوئے تھا ۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خواب اور بیداری کے بارے میں حدیث پاک کے الفاظ ملاحظہ ہوں : واستيقظ وهو فی مسجد الحرام ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد حرام میں تھے ۔ (صحيح البخاری جلد 2 صفحہ 1120 کتاب التوحيد رقم : 7079)
اس حدیث مبارکہ سے کچھ لوگ مغالطے کا شکار ہو گئے اور انہیں واقعہ معراج میں تضاد دکھائی دینے لگا۔ لوگوں پر وارد ہونے والے اشکال کا جواب ائمہ کرام (جن میں امام ترمذی، امام عسقلانی اور امام قسطلانی رحمھم اللہ تعالیٰ کے نام قابل ذکر ہیں) نے اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ دیا ہے لیکن وہ جن کی سوچ میں کجی اور عدم مطالعہ کی بنا پر جن کا مبلغ علم محدود ہے انہیں واقعہ معراج میں سوائے تضادات کے اور کچھ نظر نہیں آتا ۔
سفرِ معراج پر روانہ ہونا بھی عظمت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلیل ہے اور سفر معراج سے مراجعت یعنی اس کرہ ارضی کی طرف واپسی بھی شوکت حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مظہر ہے۔ جن عجائبات کا آپ نے اس سفر میں مشاہدہ کیا وہ بھی رسول کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کو دوبالا کرنے کے لئے تھے۔ سفر معراج سے عروج آدم خاکی کا نظارہ کیا جا سکتا ہے ۔ علوم جدیدہ نے جن کائناتی سچائیوں کو بے نقاب کیا ہے ان میں سفر معراج بھی شامل ہے۔ اگر تمام تعصبات سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے کہ کائنات کی بے کراں وسعتوں میں تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدوم مقدسہ کی تلاش ہی جدید سائنسی انکشافات کی بنیاد ہے ۔ دنیا اس حقیقت کا بلاواسطہ اعتراف نہیں کرے گی کہ آج کا انسان اپنی تمام آزاد خیالی کے سفلی اور علاقائی تعصبات سے دامن نہیں چھڑا سکا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآنی اور انسانی بنیادوں پر جس وسیع معاشرے کی بنیاد رکھی تھی دنیا شعوری اور لاشعوری دونوں سطحوں پر ان اہداف کے حصول کےلیے مصروف عمل ہے ۔ اگر سفر معراج کو جدید سائنسی انکشافات کی بنیاد قرار دیا جائے تو یہ اس عظیم معجزہ کے محض ایک پہلو کا اعتراف ہو گا لیکن جوں جوں سائنس ترقی کرے گی ذہن انسانی میں تحقیق و جستجو کے نئے نئے دروازے کھلیں گے توں توں سفر معراج کے حوالے سے ان گنت کائناتی پیچیدگیاں خودبخود حل ہوتی جائیں گی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ زندہ معجزہ اللہ رب العزت کی قدرت مطلقہ کا مظہر بن کر شاہراہ حیات کا وہ سنگ میل ثابت ہو گا کہ جسے بوسہ دیئے بغیر ارتقاء کے سفر پر روانہ ہونے والا انسان ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکے گا ۔ سفر معراج عروج آدم خاکی وہ دروازہ ہے جس میں داخل ہوئے بغیر انسان پتھر اور دھات کے زمانے کی طرف تو لوٹ سکتا ہے ارتقاء کی سیڑھی کے پہلے زینے پر بھی قدم نہیں رکھ سکتا ۔
معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حکمتیں : ⏬
اربابِ فکر نے سفر معراج کی کچھ حکمتیں بیان فرمائی ہیں مگر حقیقت حال اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں ۔ ان حکمتوں سے دلجوئی محبوب سے لے کر عظمتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک منشائے ایزدی کے کئی پہلو انسانی زندگی پر واہ ہوتے ہیں ۔ مشہور مُحاوَرہ ہے کہ “ فِعْلُ الْحَکِیْمِ لَایَخْلُو عَنِ الْحِکْمَۃِ “ یعنی حکیم کا کوئی بھی کام حِکمت سے خالی نہیں ہوتا ، اللہ پاک کا ایک صِفاتی نام حکیم بھی ہے ، اس کے ہر کام میں بے شُمار حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں جنہیں سمجھنے سے ہماری عقلیں قاصِر (بے بس) ہوتی ہیں ۔ علمائے کرام نے جو حکمتیں بیان فرمائی اُن میں سے چند درج ذیل ہیں : ⏬
معراج کی پہلی حکمت یہ ہے کہ اعلان نبوت کے بعد کفار مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے ۔ معاشرتی سطح پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کا بائیکاٹ کردیا جس کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انتہائی کرب سے گزرنا پڑا۔ بائیکاٹ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوب بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا خالق حقیقی سے جا ملیں چنانچہ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے پاس بلاکر سارے غم ، دکھ اور پریشانیاں دور کردی جائیں اور اپنا دیدار کروایا جائے ۔ جب محبوب حقیقی کا چہرہ سامنے ہوگا تو سارے غم و تکالیف اور مصیبتیں کافور ہوجائیں گی ۔ گویا اللہ رب العزت معراج پر بلاکر اپنے پیارے محبوب علیہ الصلوۃ والسلام کی دلجوئی کرنا چاہتے تھے کہ اگرچہ دنیا میں یہ کافر تمہیں تنگ کرتے ہیں اور مصائب و آلام اور آزمائشیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آتی ہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبرایا نہ کریں کیونکہ ہماری پیار بھری آنکھیں آپ کو تکتی رہتی ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْيُنِنَا ۔ (الطور، 52: 48)
’’ اور (اے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) اِن کی باتوں سے غمزدہ نہ ہوں) آپ اپنے رب کے حکم کی خاطر صبر جاری رکھیے ۔ بے شک آپ (ہر وقت) ہماری آنکھوں کے سامنے (رہتے) ہیں ۔
عرش پر بلاکر اللہ رب العزت نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا دیدار کرایا اور امت کی بخشش کی نوید سنائی اور 50 نمازوں کا تحفہ بھی شب معراج کو عطا کیا اور فرمایا: ’’محبوب تیری امت دن میںپانچ نمازیں ادا کرے گی مگر اس کو ثواب پچاس نمازوں کا عطا کروں گا‘‘۔
معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روز بہت سے واقعات پیش آئے جس کی بشارت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ عیسائی پیشواؤں نے بھی دی جن کا تذکرہ درج ذیل ہے : ⬇
بیت المقدس میں امامت انبیاء علیہم السلام : ⏬
عیسائی پیشوا جو مسجد اقصیٰ کا بہت بڑا پادری تھا اس نے کہا میری عادت تھی کہ میں ہر روز رات کو سونے سے پہلے مسجد کے تمام دروازے بند کردیا کرتا تھا۔ اس رات میں نے تمام دروازے بند کردیے لیکن انتہائی کوشش کے باوجود ایک دروازہ بند نہ ہوسکا۔ میں نے اپنے کارندوں اور تمام حاضرین سے مدد لی۔ سب نے پورا زور لگایا مگر دروازہ نہ ہلا۔ بالآخر میں نے ترکھانوں کو بلایا تو انہوں نے اسے دیکھ کر کہا کہ اوپر کی عمارت نیچے آگئی ہے۔ اب رات میں کچھ نہیں ہوسکتا۔ صبح دیکھیں گے۔ لہذا ہم دروازے کے دونوں کواڑ کھلے چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ صبح ہوتے ہی میں وہاں آیا تو دیکھا کہ دروازہ بالکل ٹھیک ہے۔ مسجد کے پتھر پر سوراخ ہے اور سواری کے جانور باندھنے کا نشان اس میں نظر آرہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر میں سمجھا کہ آج رات انتہائی کوشش کے باوجود دروازہ کا بند نہ ہونا اور پتھر میں سوراخ کا پایا جانا اس سوراخ میں جانور باندھنے کا نشان موجود ہونا حکمت سے خالی نہیں۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آج رات اس دروازے کا کھلا رہنا صرف نبی معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے تھا یقینا اس نبی معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری اس مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھی ۔ (تفسیر ابن کثیر جلد 3 صفحہ 64،چشتی)
سارے مراتب طے کروائےحکیمُ الْاُمَّت مُفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : وہ تمام مُعْجِزَات اور دَرَجات جو انبیائے کرام عَلیہمُ الصّلٰوۃ والسَّلام کو علیحدہ علیحدہ عطا فرمائے گئے ، وہ تمام بلکہ اُن سے بڑھ کر (کئی مُعْجِزَات) حُضُورِ پُرنور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عطا ہوئے۔ اس کی بہت سی مِثالیں ہیں : حضرتِ مُوسیٰ علیہ السَّلام کو یہ دَرجہ مِلا کہ وہ کوہِ طُور پر جا کر رَبّ (کریم) سے کَلام کرتے تھے ، حضرتِ عیسیٰ علیہ السَّلام چوتھے آسمان پر بُلائے گئے اور حضرتِ اِدْرِیس علیہ السَّلام جنَّت میں بُلائے گئے تو حُضُورِ انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مِعْراج کرائی گئی ، جس میں اللہ پاک سےکلام بھی ہوا ، آسمان کی سیر بھی ہوئی ، جنَّت و دوزخ کا مُعَاینہ بھی ہوا ، غرضیکہ وہ سارے مَرَاتِب ایک ہی مِعْرَاج میں طے کرا دیے گئے ۔ (شانِ حبیب الرّحمٰن ، صفحہ 107،چشتی)
ایمان بِالغیب کا مُشاہدہ کیا معراجِ مصطفےٰ کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ تمام پیغمبروں نے اللہ (کریم) کی اور جنّت و دوزخ کی گواہی دی اور اپنی اپنی اُمَّتوں سے اَشْہَدُ اَنْ لَّا ۤاِلٰہَ اِلَّا اللہ پڑھوایا ، مگر اُن حضرات (انبیائے کرام علیہم السلام) میں سے کسی کی گواہی نہ تو دیکھی ہوئی تھی اور نہ ہی سُنی ہوئی اور گواہی کی انتہا دیکھنے پر ہوتی ہے ، تو ضرورت تھی کہ ان انبیائے کرام (عَلیہمُ الصّلٰوۃ والسَّلام) کی جماعَتِ پاک میں سے کوئی ایسی ہستی بھی ہو کہ جو ان تمام چیزوں کو دیکھ کر گواہی دے ، اُس کی گواہی پر شہادت کی تکمیل ہوجائے۔ یہ شہادت کی تکمیل حُضُور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات پر ہوئی ۔ (کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمام چیزوں کو اپنی مُبارک آنکھوں سے مُلاحظہ فرمایا) ۔ (شانِ حبیب الرّحمٰن صفحہ 107)
مالکِ کونین نے اپنی سلطنت دیکھی اللہ پاک نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تمام خزانوں کا مالک بنایا ہے ، اللہ پاک پارہ نمبر 30 سُوْرَۃُ الْکَوثَر کی آیت نمبر 1 میں اِرشاد فرماتا ہے : (اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ ۔ تَرْجَمَہ : اے محبوب بے شک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں ۔ حضور مالکِ کونین ، شبِ اسریٰ کے دولہا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں : میں سورہا تھا کہ زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں اور میرے دونوں ہاتھوں میں رکھ دی گئیں ۔ (بخاری ، 2 / 303 ، حدیث : 2977) رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا : میں (اللہ پاک کے خزانوں کا) خازِن ہوں ۔ (مسلم ، ص512 ، حدیث : 1037) حضور نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ پاک کی عطا سے اس کی تمام سلطنت کے مالِک ہیں ، اسی لیے جنَّت کے پتّے پتّے پر ، حُوروں کی آنکھوں میں غرضیکہ ہر جگہ لَاۤاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللہ لکھا ہوا ہے : یعنی یہ چیزیں اللہ (کریم) کی بنائی ہوئی ہیں اور مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کو دی ہوئی ہیں ۔ (تو معراج کروانے میں) اللہپاک کی مرضی یہ تھی کہ (دوجہانوں کے خزانوں کے) مالِک کو اس کی ملکیت دِکھا دی جائے ۔ (شانِ حبیب الرّحمٰن صفحہ 107)
چنانچہ اس لیے معراج کی رات یہ سیر کروائی گئی ۔
سلسلۂ شفاعت میں آسانی کل بروزِ قِیامت نبیِّ رحمت ، شفیعِ اُمّت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شفاعت فرمانی ہے ، بلکہ شفاعت کا دروازہ آپ سے کھلنا ہے ، اللہ پاک نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کائنات کے عجائبات ، جنّت کے درجات اور جہنّم کا مُشاہدہ کرادیا ، اس کے علاوہ اور بھی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں تاکہ قِیامت کے ہولناک دن کی ہیبت آپ پر طاری نہ ہوسکے ، پورے عزم و اِستقلال کے ساتھ شفاعت کر سکیں۔ (معارج النبوۃ صفحہ 80،چشتی)
وحی کی تمام اقسام کا شرف وحی کی ایک قسم یہ ہے کہ اللہ پاک بِلا واسطہ کلام فرمائے اور یہ وحی کی سب سے اعلیٰ قسم ہے ، معراج کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام اقسامِ وحی سے شرف پائیں ، کُتبِ تفاسیر میں لکھا ہے کہ “ اٰمَنَ الرَّسُوْلُ “ والی آیات جو کہ سُوْرَۃُ الْبَقَرہ کی آخری 2 آیات ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معراج کی رات اللہ پاک سے بِلاواسطہ سُنی ، اسی طرح کچھ سُورَۃُ الضُّحیٰ اور کچھ سُورَۂ اَلَم نَشْرَح معراج کی رات سُنی ۔ (روح البیان ، پ25 ، الشوریٰ الآیۃ : 51 ، 8 / 345)
معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہمارے ہاں بالعموم ایک مذہبی نوعیت کا واقعہ سمجھا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ عروج آدم خاکی کا شاندار مظہر ہے،تسخیر کائنات کے سفر کا ایک اہم سنگ میل ہے ،جدید سائنسی انکشافات اور اکتشافات کا نقطہ اوّل ہے،اور حضرت انسان کے ذہنی و فکری ارتقاء کی روشن دلیل ہے۔تاریخ اسلام میں واقعہ معراج کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے ،جن دنوں میں یہ واقعہ پیش آیا وہ ایام اہل اسلام کےلیے سخت ابتلاء اور آزمائش کے تھے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے تیرہ برس سرزمین مکہ پر پیغام توحید پہنچانے میں صر ف کئے، طائف سے بھی ہو آئے اگرچہ آپ کا حلقہ اثر پہلے کے مقابلے میں بہت بڑھ چکا تھامگر اسی حساب سے کفار کے رد عمل میں بھی سختی آتی جا رہی تھی،نظر انداز کر دینے والی پالیسی سے کفار کا رد عمل شروع ہوا تھااب وہ باقاعدہ جسمانی تعذیب تک پہنچ چکا تھا، اس دوران میں طنزو استہزا، کٹ حجتی،الزام تراشی ،غلام اور نادار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تشدد، سماجی مقاطعہ ایسی مشکلات سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور آپ کے رفقاء دوچار رہے اب کھلم کھلا پیغمبر کے قتل کے منصوبے بن اور چرچے ہو رہے تھے ، اس ماحول میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا سفر معراج اپنے اندر بہت سی حکمتوں کا حاصل معلوم ہوتا ہے ۔
ایک طرف اپنے رفقاء کےلیے حوصلہ افزائی تھی کہ اہل دنیا چا ہے لاکھ مخالفت کریں لیکن اللہ تعالی کی مدد او ر قرب بہرحال ہمیں حاصل ہے دنیا خواہ ہمیں نظر انداز اور فراموش کر دے خداوند عالم کبھی ہمیں نظر انداز اور فراموش نہیں کرے گا،دوسری طرف کفار کے لئے یہ تنبیہہ موجود تھی کہ تم جس قدر چاہو ہم پر اپنی سر زمین تنگ کر دواللہ تعالی نے اس کے مقابلے میں ہمارے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے ہیں اور یہ ایک طرح کا استعارہ تھاکہ جو خدا اپنے نبی کےلیے خلاف عادت آسمانوں پر جانے کے لئے راستہ کھول سکتا ہے وہ دنیا کی توقع کے برعکس فروغ اسلام کےلیے بھی نئی راہیں ہموار کر سکتا ہے ،چنانچہ یہی ہواکہ سفر معراج سے واپس آتے ہی متصل زمانے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اذن ہجرت ملا،اور سفر ہجرت اسلامی انقلاب کے قیام اور اسلام کی وسعت کا ذریعہ ثابت ہوا ، قیام مکہ کے تیرہ برس میں جو چھوٹی سی جماعت تیار ہوئی تھی وہ مدینہ منورہ پہنچتے ہی ایک ملت اور امت کی تشکیل کا باعث بن گئی،ہجرت کے بعد یہ پیغام دس برس کے اندر اندر دس لاکھ مربع میل تک پھیل گیااور فتح مکہ جیسا عظیم واقعہ بھی ہوا ۔سفر معراج اپنے اندر یہ معجزانہ شان بھی رکھتا ہے کہ اللہ تعالی جب چاہے دنیا کے اندازے اور قاعدے ضابطے پلٹ کر رکھ دے ، معراج کے حوالے سے کفار کو یہ حیرت تھی کہ رات کے ایک حصے میں اتنا بڑا سفر کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ وہ لوگ اللہ کی قدرت کو بھلا بیٹھے تھے اس طرح دنیا بھر کو یہ حیرت لاحق رہی کہ مدینے میں قدم رکھتے ہی چند برسوں کے اندر اتنا عظیم الشان انقلاب کیسے برپا ہو گیا ؟واقعہ معراج میںایک حکمت یہ بھی پو شیدہ تھی کہ اس سے منصب نبوت اور اس کا مزاج واضح ہوا ہے، منصب نبوت یہ ہے کہ وہ بندوں اور خدا کے درمیان رابطے کا کام دیتا ہے ، اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بندے جان جاتے ہیں کہ اخلاق الہی کیا ہے ؟
واقعہ معراج سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سائنس دان ہو یا فلسفی ،اس کے سارے دعوے اور فلسفے کی بنیاد ظن اور گمان پر ہوتی ہے وہ عمر کے آخری حصے میں بھی اپنی بات کو حرف آخر قرار دینے کی پو زیشن میں نہیں ہوتا لیکن پیغمبرجو بات بھی کہتا ہے سرا سر مشاہدے کی بنیاد پر کہتا ہے اس لیے سائنس دان کی آخری بات بھی تشنہ ہوتی ہے اور فلسفی کی ہر کلی اور جزئی محتاج صداقت ہوتی ہے جبکہ پیغمبر کی پہلی بات ہی حتمی اور قطعی ہوتی ہے اس لئے کہ اس کا ذریعہ علم قیاسی اور سماعی نہیں ہوتا بلکہ ایقانی اور مشاہداتی ہوتا ہے ۔
سفر معراج کا ایک مقصد یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سر زمین مکہ پرجو کشمکش برپا تھی اس کی بنیاد یہ تھی کہ ڈھیر سارے خدائوں کے مقابلے میں ایک خدا کو کیسے مان لیا جائے؟ اور فی الواقع ایک خدا ہے تو وہ کس نے دیکھا ہے؟پہلے نبی سے لے کر عیسی ؑ تک ہر ایک نے توحید کی بات کی مگر کسی نے خدا کو دیکھنے کا دعوی نہیں کیا ،حضرت موسی ؑ نے کلام خدا وندی براہ راست سنا لیکن دیکھنے کی خواہش پرانہیں لن ترانی کا جواب ملا،اب چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آخری نبی تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد اللہ تعالی نے براہ راست کسی سے مخاطب نہیں ہونا تھا اس لیے ضروری تھاکہ لوگوں کو اس سوال کا حتمی جواب آنا چاہیے کہ کسی نے خدا کو بھی دیکھا ہے یا نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سر کی آنکھوں سے مشاہدہ کر کے (جیسا کہ سابقہ حصّوں میں ہم دلاٸل کے ساتھ عرض کر چکے ہیں ،چشتی) دنیا کو بتایا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے ذمے سوال کا جواب میں مہیا کرتا ہوں کہ ہاں اس خدائے واحد کو میں نے دیکھا ہے، اور سر کی آنکھوں سے دیکھا ہے اس طرح عقیدہ توحید قیاسی نہیں مشاہداتی بن گیا ، سفر معراج نے وہ آخری دلیل بھی مہیا کردی اور اس عقدے کی گرہ کشائی کر دی جو مشہود خدا کا تصور رکھنے والے ذہنوں میں صدیوں سے موجود چلا آرہا تھا ۔
آج تسخیر آفاق ایک سائنسی مشاہدہ بن گیا ہے مگر اس مشاہدے کو بنیاد سفر معراج نے فراہم کی ، یہ امر ہر ایک جانتا ہے کہ معلوم انسانی تاریخ میں صدیوں تک ستارے ،چاند ، سورج اور آسمان کی پوجا ہوتی رہی اس لئے کہ یہ چیزیں انسانی دسترس سے باہر تھیں ، ان تک انسان پہنچ نہیں پاتا تھا ، ستاروں کا جھرمٹ بہت دلفریب لگتا تھا ، چاند بہت نظر معلوم ہوتا تھا ، سورج کی تمازت میں ایک طرح کی ہیبت تھی ، آسمان کی بلندی کے سامنے انسان خود کو بہت پست تصور کرتا تھا سفر معراج نے انسان کو اس کے حقیقی مقام سے روشناس کرایا ، انسان کو یہ ادراک پہلی بار حاصل ہوا کہ کارخانہ قدرت میں جو کچھ بھی ہے خواہ وہ نظر فریب ہو یا دلنواز ، وسیع ہو یا بسیط ، جلال آمیزہو یا دہشت انگیز ، کچھ بھی ہو مقام و مرتبے میں بندہ خاکی سے فروتر ہے اور اپنی تمام تر گہرائیوں ، رعنائیوں ، پہنائیوں اور وسعتوں کے باوجود اس کی گرفت میں ہے ۔
اسراء اور معراج کے واقعہ نے فکرِ انسانی کو ایک نیا موڑ عطا کیا ہے ، تاریخ پر ایسے دوررس اثرات ڈالے ہیں جس کے نتیجے میں فکر و نظر کی رسائی کو بڑی وسعت حاصل ہوئی ہے ۔ چودہ سو سال بعد ذہنِِ انسانی کے ارتقاءنے سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے سہارے معراج اور اس سے متعلقہ واقعات کو ایسی حقیقت میں تبدیل کردیا ہے جو ناقابلِ تردید ہے ۔ عقل کی پرواز بہت محدود ہے ، وحی کی وسعت کا اندازا عقل نہیں لگا سکتی ، اسی لیے وحی کے مقابل عقل کو قبلہ بنانا دانش مندی نہیں ۔ قرآن مقدس نے اسی لیے عقلائے زمانہ کو چیلنج کیا تھا : وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۪-وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (سورہ البقرۃ آیت نمبر ۲۳)
ترجمہ : اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے ان خاص بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے سب حمائتیوں کو بلالو اگر تم سچے ہو ۔
یہ اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن کے آگے سب عاجز و ساکت ہیں اور اس کتابِ مقدس کے احکام شک و شبہے سے پاک ہیں ، امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ (متوفی ۱۹۲۱ء) نے خوب فرمایا : ⏬
تیرے آگے یوں ہیں دبے لچے فصحا عرب کے بڑے بڑے
کوئی جانے منھ میں زباں نہیں ، نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں
سترہویں صدی کے مشینی انقلاب نے مغربی قوتوں کو خود فریبی میں مبتلا کر دیا ، وہ گمان میں پڑ گئے کہ اب قرآن مقدس سے دلوں کو دور کرنا آسان ہو گا ، لیکن یہ گمان ڈھے گیا ، قرآن کی حقانیت ایجادات و اختراعات کے ساتھ ساتھ اور اجاگر ہوتی گئی، سائنس نے جہاں جہاں قرآن سے استفادہ کیا ٹھوس نتائج بر آمد ہوئے ، جانسن کے بہ قول : یہی (قرآن مقدس کا) پیغام ایک تعمیری قوت کے طور پر وجود میں آیا اور عیسائی دنیا میں بہ طور نور پھیل گیا اور جہالت کی ظلمت کو دور کر گیا ۔ (تبرکاتِ مبلغ اسلام صفحہ ۴۹۳)
ایمان نام ہے اطاعت و تسلیم کا ، ہم ایمان لائے ، اللہ و رسول کی اطاعت کا عہد باندھا ، قرآن کے احکام کو تسلیم کیا ، اب اسے چھوڑ کر عقلِ خام کو قبلہ بنانا منفی طرزِ عمل ہے ؛ جو مغرب کا وطیرہ ہے ، مغربی قوتوں نے ایمان کم زور کرنے کی غرض سے عقلی تحریک کو آگے بڑھایا ، قرآن کریم نے عقل کی نہیں بلکہ اللہ و رسول کی اطاعت کی تعلیم دی : اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا ۔ (سورۃ المآئدۃ آیت نمبر ۹۲)
یوں ہی واقعۂ معراج ہے یعنی رسول کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اللہ نے عالمِ سموات کی سیر کروائی ؛ اور سب سے بڑھ کر اپنا قربِ خاص عطا فرمایا ۔ واقعۂ معراج کو بعض مغربی تعلیم سے مرعوب مسلمان عقل نا پائیدار کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں ۔ اعتراض کرتے ہیں کہ کس طرح کم وقت میں فرش سے عرش گئے، رب کا دیدار کیا ؟ اور مشاہدات کیے ؟ قرآن نے صاف فرما دیا : پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے گرد اگرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ۔ (سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر ۱)
سوچنے والی بات ہے کہ نبی ؛ رب قدیر کے پیغامات پہنچاتے ہیں ، انہیں نیابتِ الٰہی حاصل ہوتی ہے ، ’’رب کی عظیم نشانیاں‘‘ ملاحظہ فرما کر انہوں نے انسانیت کو سنوارا ، رب نے انہیں اپنی ربوبیت کی پہچان کا ذریعہ بنایا ، تو انہیں اپنی عظیم نشانیاں دکھا دے تو جائے تعجب کیا ہے ؟ اعتراض کیسا ؟ رب نے بتایا اور وہ قدرت والا ہے ، اس میں کلام ؛ رب کی قدرت پر جسارت ہے ۔ قرآن و حدیث دونوں پر ہمارا ایمان ہے اور دونوں ہی معراجِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر دلیلیں رکھتے ہیں، قرآن مقدس میں مسجد اقصیٰ تک کا بیان تو بالکل واضح ہے اور احادیث میں آگے کی منازل اور رویتِ باری (دیدار الٰہی) کا بیان ہے ۔ قادرِ مطلق نے اپنی قدرت سے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اپنا دیدار عطا فرمایا ، ہم اس رُخ سے یہاں چند دلائل ذکر کیے دیتے ہیں تا کہ ایمان کو تازگی ملے اور اسلام مخالف قوتوں کو ضرب کاری ۔
سورۃ والنجم میں بہت واضح طور پر معراج کا ذکرفرمایا گیا، جس میں یہ بھی ارشاد ہوا کہ حضور اقدس اپنی خواہش سے نہیں کہتے جو رب کی مرضی ہوتی ہے وہی فرماتے ہیں، ملاحظہ کریں : اس چمکتے تارے (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) کی قسم جب یہ معراج سے اترے ، تمھارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے ، اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو بس وحی ہوتی ہے جو انھیں کی جاتی ہے؛ انھیں سکھایا سخت قوتوں والے طاقت ور نے ، پھر اس جلوہ نے قصد فرمایا اور وہ آسمان بریں کے سب سے بلند کنارے پر تھا ، پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا ، پھر خوب اتر آیاتو اس جلوہ اور محبوب میں دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا، پھر وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا ، تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑتے ہو ، اور انھوں نے وہ جلوہ دو بار دیکھا سدرۃالمنتہیٰ کے پاس ۔ (سورۃالنجم)
دیدارِ الٰہی کی بابت کفارِ مکہ اور یہودو نصاریٰ کو بہت شاق گزرا اور وہ حسد میں پڑ گئے ، اس حقیقت کو جھٹلانے کےلیے بہانے تلاش کرنے لگے ، وحی نے ان کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ، ابتدا سے ہی معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا انکار یہود و نصاریٰ کرتے چلے آئے ہیں ۔ اسی سبب راقم نے معراج نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے انکار کو مغربی اندازِ فکر سے تعبیر کیا ہے ۔
امام محمد زرقانی کے حوالے سے امام احمد رضا علیہما الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے خصائص سے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اللہ عزوجل کو اپنی آنکھوں سے بیداری میں دیکھا، یہی مذہب راجح ہے اور اللہ عزوجل نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے اس بلند و بالا تر مقام میں کلام فرمایا، جو تمام امکنہ سے اعلیٰ تھا، اور بے شک ابن عساکر نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا شبِ اسریٰ مجھے میرے رب نے نزدیک کیا کہ مجھ میں اور اس میں دو کمانوں بلکہ اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا ۔ (دیدار الٰہی صفحہ ۱۱۔۱۲)
امام نسائی اور امام ابن خزیمہ و حاکم و بیہقی علیہم الرحمہ کی روایت میں ہے : کیا ابراہیم کے لیے دوستی اور موسیٰ کےلیے کلام اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کےلیے دیدار ہونے میں تمہیں اچنبا ہے، حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے، امام قسطلانی نے فرمایا اس کی سند جید ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرمایا کرتے بے شک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دو بار اپنے رب کو دیکھا، ایک بار اس آنکھ سے اور ایک بار دل کی آنکھ سے۔ امام سیوطی و امام قسطلانی و علامہ شامی و علامہ زرقانی فرماتے ہیں اس حدیث کی سند صحیح ہے ۔ (دیدار الہی ص۳۔۴)
خطیب بغدادی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فرماتے ہیں : شب اسریٰ مجھے میرے رب عزوجل نے نزدیک کیا یہاں تک کہ مجھ میں اس میں دو کمان بلکہ کم کا فاصلہ رہا ۔ (ختم نبوت، ص۱۲، امام احمد رضا)
مجھے یہاں امام شرف الدین بوصیری کا وہ شعر یاد آ رہا ہے جو معراج کی طرف اشارہ کرتا ہے :
وَبِتَّ تَرْقیٰ اِلٰی اَنْ نِلْتَ مَنْزِلَۃً
مِنْ قَابَ قَوْسَیْنِ لَمْ تُدْرَکْ وَلَمْ تُرَمٖ
ترجمہ : آپ بلندیوں کی جانب بڑھتے رہے، یہاں تک کہ ’’قاب قوسین‘‘ کی وہ منزل پالی جس تک نہ کسی کی رسائی ہوئی نہ ہمت (وہ یہ کہ صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا) ۔
ہمیں ایمان، رب کی معرفت، توحید کی تعلیم، حق کی پہچان سب بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ہی عطا ہوئے، ان کی رسائی بارگاہِ رب تک اور ہماری رسائی بارگاہِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم تک، اسی لیے امتِ محمدیہ کو جو مقام ملا وہ دوسری امتوں کو نہ ملا۔ ان سب انعامات و امتیازات کے باوجود واقعۂ معراج سے متعلق صہیونی اندازِ فکر کو اہمیت دینا مناسب نہیں، اور یہی مغربی سازش بھی تھی کہ مسلمان اپنے نبی کی عظمت میں شک کرے، مغرب کے ایسے حربوں کو ناکام بنانا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ ایک مسلمان کو لازم ہے کہ وہ اپنے نبی کی عظمتوں کے ترانے گنگنائے، امام شرف الدین بوصیری فرماتے ہیں: ’’ہم مسلمانوں کے لیے خوش خبری ہے کہ عنایت ربانی سے ہمیں ایک ایسا ستون میسر آگیا ہے جو کبھی زمیں بوس نہ ہوگا ۔
عہدِ حاضر کا انسان ان کے ماننے میں جھجک اور پس و پیش کا شکار نہیں۔ یہی باتیں جب مخبرِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی دور میں قریش کے سامنے ارشاد فرمائیں تو ناقابلِ یقین اور بعید از ممکنات تھیں۔ آج ہم گھر بیٹھے ٹیلی فون کے ذریعے یورپ و امریکہ میں مقیم اُن عزیز واقارب سے باتیں کرتے ہیں جو ہزاروں میل دور بستے ہیں ۔ مواصلاتی سیاروں کے ذریعے دوسرے براعظموں میں ہونے والے کرکٹ اور ہاکی کے میچ ٹیلی وژن پر دیکھتے ہیں۔ نیویارک میں ایک سو دو منزلہ امپائر اسٹیٹ کی فلک بوس عمارت میں لفٹ کے ذریعے منٹوں میں اپنی مطلوبہ منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔نیل آرمسٹرانگ کے چاند کی سطح پر پہنچ کر بلندیوں سے کرہ ارض کی خوبصورتیوں کے بیان پر کسی شک و شبہ کا شکار نہیں ہوتے اور نہ ہی ہمارا یقین متزلزل ہوتا ہے۔
ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم کی قیامت خیز ہولناک تباہیوں کو ثابت کرنے کے لیے کسی عینی شاہد کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ آج کا انسانی ذہن ان تمام باتوں سے مانوس ہے۔ بہ اندازِ دیگر یہی باتیں چودہ سو سال پہلے اُمّی لقب، معلم کتاب و حکمت اور مخبر ِ صادق نے سنائیں تو دنیا ماننے کو تیار نہ تھی۔ وحی، براق، اسراء، معراج، قیامت، حساب و کتاب، جزا و سزا، جنت دوزخ وغیرہ وغیرہ تو یہ سب باتیں ناقابلِِ فہم اور ناقابلِِ یقین تھیں۔ اللہ کا وہ آخری نبی جو نذیر و بشیر بن کر اِس دنیا میں آیا اُس کی باتوں کی صداقت، کلام کی بلاغت، ارشاد کی حکمت کی تصدیق کرنے کےلیے کسی بالغ نظر ابوبکرؓ کی ضرورت تھی، یا پھر سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی، کہ زمانہ قرآن اور ارشادات ِ نبوی کی تصدیق کرتا جارہا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی معراج انسانی تاریخ کا اچھوتا اور محیرالعقول واقعہ ہے۔ یہ واقعہ کس مہینے میں ہوا، قطعیت سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ سیرت نگاروں کا عام رجحان یہ ہے کہ ہجرت سے ایک سال یا ڈیڑھ سال پیشتر یہ واقعہ پیش آیا، وہ پیر کا دن اور رجب کی ستائیسویں تاریخ تھی۔ قرآنِ پاک میں تین مقامات پر اس واقعہ کا ذکر ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت ہے : سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚإِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ۔
”پاک ہے وہ ذات جس نے راتوں رات اپنے بندے کوسیر کرائی، مسجد ِ حرام (مکہ) سے مسجد ِ اقصیٰ (بیت المقدس) تک ، اس کے اطراف کو ہم نے بڑی برکت دی ہے، تاکہ اپنی نشانیاں اسے دکھائیں۔ بلاشبہ وہی ذات ہے سننے والی اور دیکھنے والی ۔
دوسرا اشارہ اسی سورت کی ساٹھویں آیت اور تیسرا سورہ نجم کی آیات میں ہے۔ مفسرین اور محدثین کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا رات کے وقت مسجد ِ حرام سے مسجد ِ اقصیٰ تک براق کا سفر ”اسراء“ کہلاتا ہے۔ مسجد ِ اقصیٰ سے آسمانوں کی طرف سدرة المنتہیٰ تک کا عروج فرمانا معراج کہلاتا ہے۔ اس موقع پر عام طور سے ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یہ معراج بحالت ِ جسم تھی یا بحالت ِ خواب؟ سورہ بنی اسرائیل میں لفظ ”سبحان الذی“ سے ابتداءخود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غیر معمولی واقعہ تھا جو فطرت کے عام قوانین سے ہٹ کر واقع ہوا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنی قدرت کا کرشمہ دکھانا مقصود تھا۔ لہٰذا رات کے ایک قلیل حصے میں یہ عظیم الشان سفر پیش آیا۔ اور یہ وقت زمان و مکان کی فطری قیود سے آزاد تھا۔ اس بات کا سمجھنا آج کے انسان کےلیے نسبتاً آسان ہے۔
بیت الحرام (مکہ) سے مسجدِ اقصیٰ (فلسطین) کا زمین کا سفر جسے اسراءکہا جاتا ہے ، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے براق پر کیا ۔ براق، برق (بجلی) سے مشتق ہے جس کی سُرعت ِ رفتار سائنس دانوں نے ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ بتائی ہے۔ جب برق کی یہ سرعت ہوسکتی ہے تو بُراق جو اللہ تعالیٰ کا راکٹ تھا اس کی تیز رفتاری اور سبک سری پر کیوں شک کیا جائے؟ غرض سفرِ معراج اللہ جل جلالہ اور خالقِ کائنات کی غیر محدود قوت اور قدرت ِ کاملہ کا مظاہرہ تھا جس نے انسان کو ایک نیا نظریہ دیا اور تاریخ پر اپنا مستقل اثر چھوڑا۔ آج کی خلائی تسخیر، چاند پر اترنے کی کامیاب کوشش سب واقعہ معراج سے تعلق رکھتی ہیں ۔ اس جانب حکیم الامّت علامہ اقبال نے اشارہ کیا ہے :
سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفی سے مجھے
کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں
واقعہ معراج اگر خواب ہوتا تو اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ خواب میں اکثر انسان مافوق الفطرت اور محیرالعقول باتیں دیکھتا ہی ہے۔ خواب کو نہ آج تک کسی نے اس درجہ اہمیت دی اور نہ وہ اس کا مستحق ہے۔ عام روایت کے مطابق حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی چچازاد بہن اُمِّ ہانی کے گھر تھےاور بعض روایات میں حطیم کا ذکر ہے کہ آپ وہاں لیٹے ہوئے تھے۔ صبح آپ نے اپنی چچا زاد بہن سے اس بات کا تذکرہ فرمایا۔ اس نے حیرت انگیز اور ناقابلِ یقین واقعے کو سن کر آپ کی چادر پکڑ کر روکا اور عرض کیا کہ خدارا اسے لوگوں کے سامنے بیان نہ فرمائیے، وہ اس کا مذاق اڑائیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے پُرعزم لہجے میں فرمایا: میں ضرور بیان کروں گا۔ یہ عزم خود اس بات کی دلیل ہے کہ واقعہ معراج بحالت ِ جسم و جاں ہے۔ پیغمبرِ آخر الزماں کے مشاہدات ِ معراج میں وہ واقعات بھی شامل ہیں جن کا فیصلہ روزِ جزا پر منحصر ہے، یعنی دنیوی اعمال کی جزا و سزا۔ قیامت سے پہلے انہیں آپ کو ممثّل کرکے دکھلایا گیا۔ اس سے باری تعالیٰ کا مقصود یہ ہے کہ جن چیزوں کے لیے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بشیر اور نذیر بناکر بھیجے گئے ہیں ان کے عینی گواہ بن جائیں۔
مختصراً تفصیلات ِ معراج میں ایک اہم واقعہ جملہ انبیاءکی جماعت کی امامت کا ہے۔ مسجد ِ اقصیٰ میں یہ نماز پڑھائی گئی۔ بعض روایتیں ہیں کہ یہ معراج (آسمانی سفر) سے پہلے کا واقعہ ہے۔ مسجدیں اللہ کا گھر ہیں، اس گھر کے متولی رسول ہوتے ہیں۔ لہٰذا تمام انبیاء علیہم السلام نے (حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک) مسجد ِ اقصیٰ میں جمع ہوکر رسولِ آخریں کا استقبال کیا۔ تمام پیغمبروں نے مل کر اس لیے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پذیرائی فرمائی کہ اب آپ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کےلیے تشریف لے جارہے تھے۔ جنہوں نے لکھا ہے کہ انبیاءکی امامت کا شرف آپ کو معراج سے واپسی کے بعد پیش آیا، ان کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات نے آپ کا شرف اتنا بلند کردیا کہ امام الانبیاءبنادیا ۔ معراج کے سفر میں سید الملائکہ حضرت جبریل علیہ السلام رفیق سفر تھے۔ ہر آسمان میں وہاں کے فرشتوں نے آپ کا استقبال کیا اور ہر آسمان میں ان انبیاء علیہم السلام سے ملاقات ہوئی جن کا مقام کسی معین آسمان میں ہے ۔چھٹے آسمان کی سیر کرواتے ہوئے جب ساتویں آسمان پر پہنچے تو اس آسمان کے عجائبات ہی کچھ اور تھے۔ یہاں فرشتوں کا کعبہ بیت المعمور ہے جو کعبة اللہ کے عین اوپر واقع ہے۔ ایک وقت میں ستّر ستّر ہزار فرشتے اس کا طواف کرتے ہیں اور ان کی دوبارہ طواف کی باری نہیں آتی ۔ یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ سیدالملائکہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ان سے تعارف آپ کے جدامجد کہہ کر کروایا۔ یہاں سے آپ بلند ہوئے تو سدرة المنتہیٰ پر آئے جو ایک بیری کا درخت ہے، اس کی جڑ ساتویں آسمان پر ہے اور یہ بہت بلند ہے۔ سدرة المنتہیٰ عالمِ خلق اور رب السموٰت والارض کے درمیان حدِّفاصل ہے۔ اس مقام پر تمام خلائق کا علم ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے آگے جو کچھ ہے وہ عالم الغیب ہے جس کی خبر نہ مقرب فرشتے کو ہے اور نہ کسی پیغمبر کو۔ نیچے سے جو کچھ آتا ہے یہاں وصول کیا جاتا ہے۔ اور اوپر سے جو کچھ صادر ہوتا ہے وہ بھی یہاں وصول کرلیا جاتا ہے۔ اسی مقام پر جنت الماویٰ ہے جس کا سورہ نجم میں ذکر ہے۔ صاحب المعراج کو جنت الماویٰ کا مشاہدہ کروایا گیا۔ اس میں وہ تمام نعمتیں تھیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سُنا۔اسی طرح دوزخ کا بھی مشاہدہ کرایا گیا۔اسی جگہ آپ نے حضرت جبرئل کو ان کی اپنی اصلی شکل میں دیکھا اور 50 نمازیں بھی فرض ہوئیں ۔ یہ خوشخبری بھی ملی کہ شرک کے سوا تمام گناہوں کی بخشش کا امکان ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
اس کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم براق پر سوار مکۃ المکرمہ تشریف لائے، اس وقت ابھی صبح نہیں ہوئی تھی، سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس کا ذکر ام ہانی رضی اللہ عنہ سے کیا، احتیاطاً کہنے لگیں کہ یہ اس قدر عجیب واقعہ ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اس کا ذکر کسی سے نہ کریں۔ ورنہ کفار تمسخر اڑائیں گے، لیکن خانہ کعبہ میں نماز کے بعد وہی ہادی برحق، صادق و امین سردار انبیاء اٹھا اور رات کو پیش آنے والے اس واقعہ کا اعلان کر دیا۔ کفار یہ سن کر ہنسنے لگے، تمسخر اڑانے اور تنگ کرنے کا ایک اور بہانہ مل گیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے پیچھے پیچھے آوازیں کستے اور کہتے وہ دیکھو (نعوذ باللہ) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بہک گئے ہیں، نعوذ باللہ کافروں کی ان باتوں کا کچھ اثر بعض کم عقل مسلمانوں پر بھی ہوا اور کسی نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بہکایا اور بولا دیکھو تمہارا دوست کیا کہہ رہا ہے کیا کوئی بھی عقل سلیم رکھنے والا یہ مان سکتا ہے کہ وہ ایک رات میں اتنے لمبے سفر پر گئے اور واپس بھی آگئے۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جو جواب دیا وہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کیلئے مشعل راہ ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس میں تو کوئی عجیب بات نہیں میں تو اس سے بھی عجیب بات مانتا ہوں کیونکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے پاس آسمانوں سے ہر روز ایک فرشتہ آتا ہے جو خدا تعالیٰ کا پیغام اور وحی بھی لاتا ہے۔ معراج پاک کی تصدیق کرنے پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے آپ رضی اللہ عنہ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا۔
یہ واقعہ معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ایک اجمالی تعارف تھا، لیکن یہ بحث صدیوں سے اب تک چل رہی ہے کہ معراج جسمانی تھا یا کہ ایک خواب تھا کیا یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا روحانی سفر تھا، پختہ ایمان والوں کےلیے اس میں کوئی الجھن نہیں رہی اور وہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی پیروی کرتے ہوئے واقعہ معراج کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا شعور کی حالت میں جسمانی سفر مانتے ہیں اور واقعہ معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں ۔ مشکل ان حضرات کی ہے جو اس واقعہ کو اپنی ناقص عقل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اپنی حیثیت کا اندازہ نہیں لگاتے کہ وہ کس قدر عالم، سائنس دان یا عقلمند ہیں ۔
موجودہ صدی میں یوں تو بہت سے سائنسی نظریات پیش ہوئے مگر ان میں سب سے زیادہ معروف نظریہ آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) کہلاتا ہے ۔اس نظریے کی آمد نے کائنات اور قوانین کائنات کے بارے میں ہمارے اندازِ نظر کو ایک نیا زاویہ بہم پہنچایا اور ہمارے ذہن کو وسعت دی۔
جب کبھی وقعہ معراج کا تذکرہ ہوتاہے تو ہمارے یہاں سائنسی حلقوں سے لے کر علمائے کرام تک اسی نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا معراج پر جانا اور ایک طویل مدت گزار کر واپس آنا،مگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی غیر موجودگی میں زمین پر وقت کا نہ گزرنا نظریہ اضافیت سے ثابت ہوتا ہے۔مگر میں اس سے اتفاق نہیں کرتا ۔ اس کی ٹھوس دلیل چند سطور کے بعد پیش کروں گا۔تاہم پہلے نظریہ اضافیت سے کما حقہ تعارف حاصل کرلیا جائے تاکہ طبیعات سے تعلق رکھنے والوں کے ذہن میں نظریہ اضافیت کے نکات تازہ ہوجائیں اور ایک عام قاری کے لیے نظریہ اضافیت کو سمجھنا آسان ہوجائے۔
کہا جاتا ہے کہ موجودہ سائنس انسانی شعور کے ارتقاء کا عروج ہے لیکن سائنس دان اور دانشور یہ حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں کہ انسان قدرت کی ودیعت کردہ صلاحیتوں کا ابھی تک صرف پانچ فیصد حصہ استعمال کرسکا ہے ۔قدرت کی عطا کردہ بقیہ پچانوے فیصد صلاحیتیں انسان سے پوشیدہ ہیں ۔ وہ علم جو سو فیصد صلاحیتوں کا احاطہ کرتا ہو،اُسے پانچ فیصد ی محدود ذہن سے سمجھنا ناممکن امر ہے۔واقعہ معراج ایک ایسی ہی مسلمہ حقیقت ہے اور علم ہے جو سائنسی توجیہ کا محتاج نہیں ہے۔
یہ نظریہ دو حصوں پر مبنی ہے ۔ ایک حصہ " نظریہ اضافیت خصوصی"(Special Theory of Relativity) کہلاتا ہے جبکہ دوسرا حصہ " نظریہ اضافیت عمومی " (General Theory of Relativity) کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔ خصوصی نظریہ اضافیت کو سمجھنے کے لیے ہم ایک مثال کا سہارا لیں گے۔
فرض کیجئے کہ ایک ایسا راکٹ بنا لیا گیا ہے جو روشنی کی رفتار (یعنی تین لاکھ کلومیٹر فی سکینڈ) سے ذرا کم رفتار پر سفر کرسکتا ہے ۔ا س راکٹ پر خلاء بازوں کی ایک ٹیم روانہ کی جاتی ہے ۔راکٹ کی رفتار اتنی زیادہ ہے کہ زمین پر موجود تمام لوگ اس کے مقابلے میں بے حس وحرکت نظر آتے ہیں ۔ راکٹ کا عملہ مسلسل ایک سال تک اسی رفتار سے خلاء میں سفر کرنےکے بعد زمین کی طرف پلٹتا ہے اوراسی تیزی سے واپسی کا سفر بھی کرتا ہے مگر جب وہ زمین پر پہنچتے ہیں تو انہیں علم ہوتا ہے کہ یہاں تو ان کی غیر موجودگی میں ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے ۔اپنے جن دوستوں کو وہ لانچنگ پیڈ پر خدا حافظ کہہ کر گئے تھے ،انہیں مرے ہوئے بھی پچاس برس سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے اور جن بچوں کو وہ غاؤں غاؤں کرتا ہوا چھوڑ گئے تھے وہ سن رسیدہ بوڑھوں کی حیثیت سے ان کا استقبال کررہے ہیں ۔وہ شدید طور پر حیران ہوتے ہیں کہ انہوں نے تو سفر میں دو سال گزارے لیکن زمین پر اتنے برس کس طرح گزر گئے ۔اضافیت میں اسے " جڑواں تقاقضہ" (Twins Paradox) کہا جاتا ہے اور اس تقاقضے کا جواب خصوصی نظریہ اضافیت "وقت میں تاخیر" (Time Dilation) کے ذریعے فراہم کرتا ہے۔ جب کسی چیز کی رفتار بے انتہاء بڑھ جائے اور روشنی کی رفتار کے قریب پہنچنےلگے تو وقت ساکن لوگوں کے مقابلے میں سست پڑنا شروع ہوجاتا ہے ،یعنی یہ ممکن ہے کہ جب ہماری مثال کے خلائی مسافروں کے لئے ایک سکینڈ گزرا ہو تو زمینی باشندوں پر اسی دوران میں کئی گھنٹے گزر گئے ہوں۔
اسی مثال کا ایک اور اہم پہلو یہ ہےکہ وقت صرف متحرک شے کے لئے آہستہ ہوتا ہے ۔لہٰذا اگر کوئی ساکن فرد مذکورہ راکٹ میں سوار اپنے کسی دوست کا منتظر ہے تو ا س کے لیے انتظار کے لمحے طویل ہوتے چلے جائیں گے ۔یہی وہ مقام ہے جہاں آکر ہم نظریہ اضافیت کے ذریعے واقعہ معراج کی توجیہ میں غلطی کرجاتے ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم معراج کے سفر سے واپس آئے تو حجرہ مبارک کے دروازے پرلٹکی ہوئی کنڈی اسی طرح ہل رہی تھی جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم چھوڑ کر گئے تھے۔گویا اتنے طویل عرصے میں زمین پر ایک لمحہ بھی نہیں گزرا ۔ اگر خصوصی نظریہ اضافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس واقعے کی حقانیت جاننے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہو گا کہ اصلاً زمین پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی غیر موجودگی میں کئی برس گزر جانے چاہئیں تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
نظریہ اضافیت ہی کا دوسرا حصہ یعنی "عمومی نظریہ اضافیت " ہمارے سوا ل کا تسلی بخش جواب دیتا ہے ۔عمومی نظریہ اضافیت میں آئن سٹائن نے وقت (زمان)اور خلاء (مکان)کو ایک دوسرے سے مربوط کرکے زمان ومکان (Time and Space)کی مخلوط شکل میں پیش کیا ہے اور کائنات کی اسی انداز سے منظر کشی کی ہے ۔کائنات میں تین جہتیں مکانی (Spatial Dimensions) ہیں جنہیں ہم لمبائی ،چوڑائی اور اونچائی (یاموٹائی ) سے تعبیر کرتے ہیں ، جب کہ ایک جہت زمانی ہے جسے ہم وقت کہتے ہیں ۔ اس طرح عمومی اضافیت نے کائنات کو زمان ومکان کی ایک چادر (Sheet) کے طور پر پیش کیا ہے ۔
تمام کہکشائیں ، جھرمٹ ، ستارے ، سیارے ، سیارچے اور شہابئے وغیرہ کائنات کی اسی زمانی چادر پر منحصر ہیں اور قدرت کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے تابع ہیں ۔ انسان چونکہ اسی کائنات مظاہر کا باشندہ ہے لہٰذا اس کی کیفیت بھی کچھ مختلف نہیں ۔آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے تحت کائنات کےکسی بھی حصے کو زمان ومکان کی اس چادر میں ایک نقطے کی حیثیت سے بیان کیا جاسکتا ہے ۔اس نظریے نے انسان کو احساس دلایا ہےکہ وہ کتنا بے وقعت اور کس قدر محدود ہے ۔
یہاں آکر ہم ایک نقطہ اٹھائیں گے اوروہ یہ کہ کیا کائنات صرف وہی ہے جو طبعی طو ر پر قابلِ مشاہدہ ہے ؟ایسی دیگر کائناتیں ممکن نہیں جو ایک دوسرے سے قریب ،متوازی اور جداگانہ انداز میں پہلو بہ پہلو وجود رکھتی ہوں ؟
اس کاجواب ہے " ہاں"
لیکن اگر ایسا ممکن ہے تو پھر ہم ایسی دیگر کائناتوں کا مشاہدہ کیوں نہیں کر پاتے ؟اس بات کی وضاحت ذرا سی پیچیدہ اور توجہ طلب ہے ۔اس لیے یہاں ہم ایک اور مثال کا سہارا لیں گے جس سے ہمیں اپنی محدود یت کا صحیح اندازہ ہو گا۔
کارل ساگان (Carl Sagan) جو ایک مشہورامریکی ماہر فلکیات ہے ، اپنی کتاب کائنات (Cosmos) میں ایک فرضی مخلوق کا تصور پیش کرتا ہے جو صرف دو جہتی (Two Dimensional) ہے۔ وہ میز کی سطح پر پڑنے والے سائے کی مانندہیں ۔ انہیں صرف دو مکانی جہتیں ہی معلوم ہیں ۔ جن میں وہ خود وجود رکھتے ہیں یعنی لمبائی اور چوڑائی ۔چونکہ وہ ان ہی دو جہتوں میں محدود ہیں لہٰذا وہ نہ تو موٹائی یا اونچائی کا ادراک کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کے یہاں موٹائی یا اونچائی کا کوئی تصور ہے ۔وہ صرف ایک سطح (Surface) پرہی رہتے ہیں ۔ایسی ہی کسی مخلوق سے انسان جیسی سہ جہتی (Three Dimensional) مخلوق کی ملاقات ہو جاتی ہے ۔راہ ورسم بڑھانے کے لئے سہ جہتی مخلوق ،اس دو جہتی مخلوق کو آواز دے کر پکارتی ہے ۔اس پر دوجہتی مخلوق ڈر جاتی اور سمجھتی ہے کہ یہ آواز اس کے اپنے اندر سے آئی ہے۔
سہ جہتی مخلوق ،دوجہتی سطح میں داخل ہوجاتی ہے تاکہ اپنا دیدار کرا سکے مگر دو جہتی مخلوق کی تمام تر حسیات صرف دو جہتوں تک ہی محدود ہیں ۔اس لیے وہ سہ جہتی مخلوق کے جسم کا وہی حصہ دیکھ پاتی ہے جواس سطح پر ہے ۔وہ مزید خوف زدہ ہو جاتی ہے ۔اس کا خوف دور کرنے کے لیے سہ جہتی مخلوق ،دو جہتی مخلوق کو اونچائی کی سمت اٹھا لیتی ہے اور وہ اپنی دینا والوں کی نظر میں "غائب " ہوجاتا ہے جبکہ وہ اپنے اصل مقام سے ذرا سا اوپر جاتا ہے ۔سہ جہتی مخلوق اسے اونچائی اور موٹائی والی چیزیں دکھاتی ہے اور بتاتی ہےکہ یہ ایک اور جہت ہے جس کا مشاہدہ وہ اپنی دو جہتی دنیا میں رہتے ہوئے نہیں کرسکتا تھا۔آخرکار دو جہتی مخلوق کو اس کی دنیا میں چھوڑ کر سہ جہتی مخلوق رخصت ہو جاتی ہے ۔اس انوکھے تجربے کے بارے میں جب یہ دوجہتی مخلوق اپنے دوستوں کو بتاتی ہے اور کہتی ہے کہ اس نے ایک نئی جہت کا سفر کیا ہے جسے اونچائی کہتے ہیں ،مگر اپنی دنیا کی محدودیت کے باعث وہ اپنے دوستوں کو یہ سمجھانے سے قاصر ہے کہ اونچائی والی جہت کس طرف ہے ۔اس کے دوست اس سے کہتے ہیں کہ آرام کرو اور ذہن پر دباؤ نہ ڈالو کیونکہ ان کے خیال میں اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔
ہم انسانوں کی کیفیت بھی دوجہتی سطح پر محدود اس مخلوق کی مانند ہے ۔فرق صرف اتنا ہے کہ ہماری طبعی قفس (Physical Prison) چہار جہتی ہے اور اسے ہم وسیع و عریض کائنات کے طو پر جانتے ہیں ۔ہماری طرح کائنات میں روبہ عمل طبعی قوانین بھی ان ہی چہار جہتوں پر چلنے کے پابند ہیں اور ان سے باہر نہیں جا سکتے ۔یہی وجہ ہے کہ عالم بالا کی کائنات کی تفہیم ہمارے لیے ناممکن ہے او ر اس جہاں دیگر کے مظاہر ہمارے مشاہدات سےبالاتر ہیں ۔
اب ہم واپس آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف ۔عالم دنیا یعنی قابل مشاہدہ کائنات اور عالم بالا یعنی ہمارے مشاہدے و ادراک سے ماوراء کائنات دو الگ زمانی و مکانی چادریں ہیں ۔یہ ایک دوسرے کے قریب توہو سکتی ہیں لیکن بے انتہاء قربت کے باوجود ایک کائنات میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا دوسری کائنات میں ہونے والے عمل پر نہ اثر پڑے گا اور نہ اسے وہاں محسوس کیا جائے گا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم زمان ومکان کی کائناتی چادر کے ایک نقطے پر سے دوسری زمانی ومکانی چادر پر پہنچے اور معراج کے مشاہدات کے بعد (خواہ اس کی مدت کتنی ہی طویل کیوں نہ رہی ہو) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم زمان ومکان کی کائناتی چادر کے بالکل اسی نقطے پر واپس پہنچ گئے جہاں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم معراج سے قبل تھے۔ او ریہ وہی نقطہ تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دروازے کی کنڈی اسی طرح ہلتی ہوئی ملی جیسی کہ وہ چھوڑ کر گئے تھے۔گویا معراج کے واقعے میں وقت کی تاخیر کی بجائے زمان ومکان میں سفر والا نظریہ زیادہ صحیح محسوس ہوتا ہے۔
فقیر کی ناقص رائے میں واقعہ معراج کی دلیل کے طور پر " روشنی کی رفتار سے سفر"کے بجائے مختلف زمان ومکان کے مابین سفر والا تصور زیادہ صحیح ،اور سائنسی ابہام سے پاک ہے جس کی مدد سے خصوصی نظریہ اضافیت کے تحت پیدا ہونے والے سوالات کا تسلی بخش جواب دیا جاسکتا ہے ۔
واقعہ معراج بعض لوگوں کی سمجھ میں اس لیےنہیں آتا کہ وہ کہتے ہیں کہ : ایک انسان کس طرح کھربوں میلوں کا فاصلہ یعنی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک او رپھر زمین سے آسمانوں تک ، اور پھرسدرۃ المنتہیٰ تک چشم میں زدن میں طے کرکے واپس آجائے اور بستر بھی گرم ہو اور دروازے کی کنڈی بھی ہل رہی ہو اور وضو کا پانی بھی چل رہا ہو ۔ ایسے فضائی سفر میں پہلی رکاوٹ کشش ثقل ہے کہ جس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی وسائل و ذرائع کی ضرورت ہے کیونکہ زمین کے مدار اور مرکز ثقل سے نکلنے کے لیے کم از کم چالیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی ضرورت ہے ۔
دوسری رکاوٹ یہ ہے کہ زمین کے باہر خلا میں ہوا نہیں ہے جبکہ ہوا کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا ۔
تیسری رکاوٹ ایسے سفر میں اس حصے میں سورج کی جلادینے والی تپش ہے کہ جس حصے پر سورج کی مستقیماً روشنی پڑ رہی ہے اور اس حصے میں مار ڈالنے والی سردی ہے کہ جس میں سورج کی روشنی نہیں پڑرہی ۔
اس سفر میں چوتھی رکاوٹ وہ خطر ناک شعاعیں ہیں کہ فضائے زمین سے اوپر موجود ہیں مثلاً کاسمک ریز Cosmic Rays الٹراوائلٹ ریز Ultra Violet Rays اور ایکس ریز X-Rays ۔ یہ شعاعیں اگر تھوڑی مقدار میں انسانی بدن پر پڑیں تو بدن کے آرگانزم Organism کےلیے نقصان وہ نہیں ہیں لیکن فضائے زمین کے باہر یہ شعاعیں بہت تباہ کن ہوتی ہیں ۔ (زمین پر رہنے والوں کے لیے زمین کے اوپر موجود فضا کی وجہ سے ان کی تابش ختم ہوجاتی ہے) ۔
ایک اور مشکل اس سلسلے میں یہ ہے کہ خلامیں انسان بے وزنی کی کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے اگر چہ تدریجاً بے وزنی کی عادت پیدا کی جاسکتی ہے لیکن اگر زمین کے باسی بغیر کسی تیاری اور تمہید کے خلامیں جا پہنچیں تو بے وزنی سے نمٹنا بہت ہی مشکل یا ناممکن ہے ۔
آخری مشکل اس سلسلے میں زمانے کی مشکل ہے اور یہ نہایت اہم رکاوٹ ہے کیونکہ دور حاضر کے سائنسی علوم کے مطابق روشنی کی رفتار ہر چیز سے زیادہ ہے اور اگر کوئی شخص آسمانوں کی سیر کرنا چاہے تو ضروری ہے کہ اس کی رفتار روشنی کی رفتار سے زیادہ ہو۔
ہمارا مشاہد ہ ہے کہ روشنی کی رفتار سے بہت کم رفتار پر زمین پر آنے والے شہابئے ہوا کی رگڑ سے جل جاتے ہیں اور فضاء ہی میں بھسم ہو جاتے ہیں تو پھر یہ کیوں کرممکن ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اتنا طویل سفر پلک جھپکنے میں طے کر سکے ۔
مندرجہ بالا اعتراضات کی وجہ سے ہی ان کے دماغوں میں یہ شک پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ معراج خوب میں ہوئی اور یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم غنودگی کی حالت میں تھے اور پھر آنکھ لگ گئی اور یہ تما م واقعات عالم رؤیا میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دیکھے یا روحانی سفر درپیش تھا۔جسم کے ساتھ اتنے زیادہ فاصلوں کو لمحوں میں طے کرنا ان کی سمجھ سے باہر ہے ۔اسراء کے معنی خواب کے نہیں جسمانی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ لےجانے کےلیے ہیں ۔
ہم جانتے ہیں کہ فضائی سفر کی تمام ترمشکلات کے باوجود آخر کار انسان علم کی قوت سے اس پر دسترس حاصل کرچکا ہے اور سوائے زمانے کی مشکل کے باقی تمام مشکلات حل ہوچکی ہیں اور زمانے والی مشکل بھی بہت دور کے سفر سے مربوط ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ مسئلہ معراج عمومی اور معمولی پہلو نہیں رکھتا بلکہ یہ اللہ کی لامتناہی قدرت و طاقت کے ذریعے ممکن ہوا اور انبیاء کے تمام معجزات اسی قسم کے تھے جب انسان یہ طاقت رکھتا ہے کہ سائنسی ترقی کی بنیاد پر ایسی چیزیں بنالے کہ جو زمینی مرکز ثقل سے باہر نکل سکتی ہیں، ایسی چیزیں تیار کرلے کہ فضائے زمین سے باہر کی ہولناک شعاعیں ان پر اثر نہ کرسکیں اور مشق کے ذریعے بے وزنی کی کیفیت میں رہنے کی عادت پیدا کرلے ۔ یعنی جب انسان اپنی محدود قوت کے ذریعے یہ کام کرسکتا ہے تو پھر کیا اللہ اپنی لامحدود طاقت کے ذریعے یہ کام نہیں کرسکتا ؟
مزید بحث میں پڑنے سے پہلے چند ضروری باتیں واضح کردی جائیں تو مسئلے کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔ آئن سٹائن کے مطابق مادی شے کے سفر کرنے کی آخری حد روشنی کی رفتار ہےجو 186000 (ایک لاکھ چھیاسی ہزار) میل فی سیکنڈ ہے دوسری رفتار قرآن حکیم نے امر کی بتائی ہے جو پلک جھپکنے میں پوری کائنات سےگزر جاتی ہے ۔
چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ ۔ (سورہ القمر: 50)
" اور ہمارا حکم ایسا ہے جیسے ایک پلک جھپک جانا"
سائنسدان جانتے ہیں کہ ایٹم کے بھی 100 چھوٹے چھوٹے ذرات ہیں (Sub Atomic Particles) ،ان میں سے ایک نیوٹرینو (Neutrino) ہے جو تما م کائنات کے مادے میں سے بغیر ٹکرائے گزر جاتا ہے ،مادہ اس کے لیے مزاحمت پیدا نہیں کرتا اور نہ ہی وہ کسی مادی شے سے رگڑ کھاتا ہے ،وہ بہت چھوٹا ذرہ ہے اور نہ ہی وہ رگڑ سے جلتا ہے کیونکہ رگڑ تو مادے کی اس صورت میں پیدا ہوگی جب کہ وہ کم ازکم ایٹم کی کمیت کا ہوگا۔۔(یادر ہے کہ ابھی حال ہی میں سرن لیبارٹری میں تحقیق کرنے والے سائنس دانوں نے 23 ستمبر 2011 کو یہ اعلان کیا ہےکہ تجربات سے یہ ثابت ہوگیاہے کہ نیوٹرینو کی رفتار روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ ہے)
ایک اور بات یہ ہے کہ ایٹم (Atom) کے مرکز کے گرد الیکٹرون چکر لگارہے ہوتے ہیں ،ان دونوں کے درمیان مادہ نہیں ہوتا بلکہ وہاں بھی خلا موجود ہوتا ہے۔ایک اور ذرےکے بارے میں تحقیق ہورہی ہے جس کانام (Tachyon) ہے اسکا کوئی وجود ابھی تک ثابت نہیں ہوسکا لیکن تھیوری (Theory)میں اس کا ہوناثابت ہے۔یہ ہیں مادے کی مختلف اشکال اور ان کی رفتاریں۔
جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو براق پر سوار کیا ۔براق ،برق سے نکلا ہے ،جس کے معنی بجلی ہیں ،جس کی رفتار 186000 میل فی سیکنڈ ہے ۔اگر کوئی آدمی وقت کے گھوڑے پر سوار ہو جائے تو وقت اس کے لیے ٹھہر جاتا ہے یعنی اگر آپ 186000 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلیں تو وقت رک جاتا ہے کیونکہ وقت کی رفتار بھی یہی ہے ۔وقت گر جائےگا۔کیونکہ وقت اور فاصلہ مادے کی چوتھی جہت ہےاس لیے جو شخص اس چوتھی جہت پر قابو پالیتا ہے کائنات اس کے لیے ایک نقطہ بن جاتی ہے ۔وقت رک جاتا ہے کیونکہ جس رفتار سے وقت چل رہا ہے وہ آدمی بھی اسی رفتار سے چل رہا ہے ۔حالانکہ وہ آدمی اپنے آپ کو چلتا ہوا محسوس کرے گا لیکن کائنات اس کے لیے وہیں تھم جاتی ہے جب اس نے وقت اور فاصلے کو اپنے قابو میں کر لیا ہو ۔اس کے لیے چاہے سینکڑوں برس اس حالت میں گزر جائیں لیکن وقت رکا رہے گااور جوں ہی وہ وقت کے گھوڑے سے اترے گا وقت کی گھڑی پھر سے ٹک ٹک شروع کردے گی،وہ آدمی چاہے پوری کائنات کی سیر کرکے آجائے ،بستر گرم ہوگا،کنڈی ہل رہی ہوگی اور پانی چل رہا ہوگا۔
بجلی کا ایک بلب ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کے فاصلے پر رکھ دیں ۔سوئچ دبائیں تو ایک سیکنڈ میں وہ بلب جلنے لگے گا۔یہ برقی رو کی تیز رفتاری ہے اور پھر ہوا کی تیز رفتاری بھی اس کی ایک مثال ہوسکتی ہے ۔ اب معراج شریف میں چاہے ہزار برس صرف ہو گئے ہوں یا ایک لاکھ برس،وقت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ورنہ یہ شبہ اور اشکا ل پیش آسکتا ہے کہ اتنی طویل و عظیم مسافت ایک رات میں کیسے طے ہوگئی ۔اللہ جلّ جلالہ کی قدرتیں لاانتہاء ہیں ،وہ ہر بات پر قادر ہے کہ رات کو جب تک چاہے روکے رکھے ،اگر وہ روکے تو کوئی اس کی ذات پاک کے سوا نہیں جو دن نکال سکے ۔ قرآن پاک میں فرمایا : قُلْ أَرَأ َيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّـهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِضِيَاءٍ ۖ أَفَلَا تَسْمَعُونَ﴿ 71﴾ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّـهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ ۖأَفَلَا تُبْصِرُونَ ۔ (القصص: 72 تا 71)
"آپ کہیے کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ اگر قیامت تک تم پر رات کو مسلط کردے تو اس کے سوا کون روشنی لاسکتا ہے ؟ آپ کہیے کہ بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر اللہ چاہے تو قیامت تک تم پر دن ہی دن رہنے دے تو کون رات لا سکتا ہے اس کے سوا،جس میں تم آرام پاؤ ۔
تو حق تعالیٰ کو پوری قدرت ہے وہ اگر چاہے تو وقت کو روک سکتا ہے پھر جب انسانی صنعت سے خلائی جہاز چاند ،زہرہ اور مریخ تک پہنچ سکتے ہیں تو خدائی طاقت اور لا انتہاء قدرت رکھنے والے کے حکم سے کیا اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم شب معراج میں آسمانوں کو طے کرکے سدرۃ المنتہیٰ تک نہیں پہنچ سکتے ؟ہے کوئی سوچنے والا؟پھرایک اور طریقے سے غورکریں کہ جوسواری ،بُراق آپ کے لیے بھیجی گئی تھی ،اس کی تیزرفتاری کا کیا عالم تھا۔روایت میں تصریح کے ساتھ درج ہے کہ اس کا ایک قدم حد نظر تک پڑتا تھاجو روشنی کی رفتار سے ہزارہا درجہ زیادہ ہے ۔ہماری نظروں کی حد نیلگوں خیمہ ہے جو آسمان کے نام سے موسوم ہے تو یہ کہنا پڑے گا کہ بُراق کا پہلاقدم پہلےآسمان پر پڑا اور چونکہ آسمان ازروئے قرآن پاک سات ہیں ،اس لیے سات قدم میں ساتوں آسمان طے ہوگئے ،پھر اس سےآگے کی مسافت بھی چند قدم کی تھی ۔
حاصل کلام یہ کل سفررات کے بارہ گھنٹوں میں سے صرف چندمنٹ میں طے ہوگیا اوراسی طرح واپسی بھی ،تو اب بتائیے کہ اس سرعت سیر کےساتھ ایک ہی رات میں آمد ورفت ممکن ٹھہری یا غیر ممکن ؟اب فرمایا جائےکہ کیا اشکال باقی رہا ؟
علاوہ ازیں ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ ایک گھر میں بیک وقت بلب جل رہے ہیں، پنکھے (سیلنگ فین) سے ہوا صاف ہورہی ہے ، ریڈیو سُنا جارہا ہے ، ٹیلی وژن دیکھا جارہا ہے ، ٹیلی فون پر گفتگو ہورہی ہے ، فریج میں کھانے کی چیزیں محفوظ کی جارہی ہیں، ائیرکنڈیشنڈ سے کمرہ ٹھنڈا ہورہا ہے ، ٹیپ ریکارڈر پر گانے ٹیپ ہورہے ہیں، گرائنڈر میں مسالے پس رہے ہیں، استری سے کپڑوں کی شکنیں دور ہورہی ہیں، سی ڈی پلیئرز پر فلمیں دیکھی جارہی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ کسی نے بڑھ کر مین سوئچ آف کردیا، پھر کیا تھا لمحوں میں ہر چیز نے کام کرنا بند کردیا۔ معلوم ہوا یہ تمام کرنٹ کی کارفرمائی تھی۔ یہی حال کارخانوں کا ہے۔ کپڑا بُنا جارہا ہے ، جیسے ہی بجلی غائب ہوئی تانے بانے بُننے والی کلیں رُک گئیں، جونہی کرنٹ آیا ہر چیز پھر سے کام کرنے لگی۔ آج کا انسان ان روزمرہ کے مشاہدات کے پیشِ نظر واقعہ معراج کی روایات کی صداقت کا ادراک کرسکتا ہے۔ روایتیں ملتی ہیں کہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جب سفرِ معراج سے واپس تشریف لائے تو بستر کی گرمی اسی طرح باقی تھی، وضو کا پانی ہنوز بہہ رہا تھاکنڈی ابھی ہل رہی تھی۔چودہ سو سال پہلے اس پر یقین لانا ناممکنات میں سے تھا لیکن آج یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے۔ کرنٹ کے کرشمے نے ثابت کردیا کہ لمحوں میں کیا کچھ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح معراج کی شب نظامِ زمان و مکان معطل ہوگیا تھا، وقت رُک گیا تھا۔ کیا یہ خالقِ کائنات، نظامِ زمان و مکان کے بنانے والے کے لیے کچھ مشکل تھا؟ جب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سفرِ معراج سے واپس ہوئے تو معطل نظام پھر سے روبہ عمل ہوگیا۔ بستر کی گرمی جہاں بند ہوئی تھی پھر سے محسوس ہونے لگی، پانی بہنا جس مقام پر رُک گیا تھا وہاں سے جاری ہوگیاکنڈی جس زاویے پر ہلنے سے تھم گئی تھی اس سے حرکت میں آگئی، جیسے کرنٹ کے آف ہوتے ہی تمام کام رُک گئے تھے اور آن ہوتے ہی حرکت میں آگئے۔
جسم وروح کے ساتھ معراج کا حاصل ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا خصوصی شرف ہے،یہ مرتبہ کسی اور نبی اور رسول کو حاصل نہیں ہوا،اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اپنے نبی و رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عظمت و برگزیدگی کا ظاہر کرنےکےلیے یہ خارقِ عادت قدرت ظاہر فرمائی ۔یہ مسئلہ خالص یقین واعتقاد کا ہے ،بس اس پر ایمان لانا اور اس کی حقیقت وکیفیت کو علم ِ الہٰی کے سپر د کردینا ہی عین عبادت ہےاور ویسے بھی نبوت ،وحی اور معجزوں کے تمام معاملات احاطہ عقل وقیاس سے باہر کی چیزیں ہیں جو شخص ان چیزوں کو قیاس کے تابع اور اپنی عقل وفہم پر موقوف رکھے اورکہے کہ یہ چیز جب تک عقل میں نہ آئے میں ا س کو نہیں مانوں گا ،توسمجھنا چاہیے کہ وہ شخص ایمان کے اپنے حصہ سے محروم رہا۔ اللہ رب العزت ہمیں قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین ۔
کچھ دوست یہ سوچ رہے ہونگے کہ ان معاملات کو سائنس کے ساتھ بیان کرنے اور جوڑنے کی آخر کیا ضرورت ہے ۔ کیا اسلام کی سچائی کےلیے سائنس کی تصدیق ضروری ہے ۔ تو گزارش ہے کہ
یقیناً دین اسلام ، سائنس کی تصدیق کا محتاج نہیں ہے بلکہ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف اللہ او ر اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بات پر ہی ایمان و یقین رکھے ، چاہے سائنسی نظریات اس کے الٹ ہی کیوں نہ ہوں ۔ جیسے ڈارون کانظریہ ارتقاء وغیرہ ۔
سائنسی نظریات کو سچے مسلمانوں کےلیے اس لیے بیان کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید ، کثیر مقامات پر کائنات کی نشانیوں پر غور وفکر کی دعوت دیتا ہے ۔یا در ہے کہ " غوروفکر" نہ کہ سرسری نظر سے دیکھنا ۔ اور بدقسمتی سے یہ کام مسلمانوں کی بجائے غیر مسلم سرانجام دے رہے ہیں حالانکہ ان کا مقصد صرف مادی تحقیق ہے ۔ تو جب ہم ان کی تحقیقات کو جو کہ اللہ کی عظیم والشان طاقت و ٹیکنالوجی کے سامنے کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتیں ،پڑھتے ہیں تو ہمارے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ مثلاً اسی واقعہ معراج کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری زمین سے باہر سماوٰت میں کچھ اور ہی طرح کےقوانین قدرت روبعمل ہیں جن کو آج کا انسان کسی قدر سمجھنے کی کوشش کررہا ہے مگر قربان جائیے اس قدرتِ خداوندی پر کہ جس نے تقریباً 1500 سال پہلے اس شان سے اپنے محبوب بندے کو زمین و آسمان کی سیر کرائی کہ آج بھی عقل وعلم اس کو کما حقہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔
علاوہ ازیں ان سائنسی معلومات کو بیان کرنے کی غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ نام نہاد مسلمان او ر غیر مسلم جو کہ سائنس کو ہی حرف آخر مانتے ہیں ، سمجھایا جائے کہ آج جن باتوں یا معلومات تک سائنسدان پہنچے ہیں اگروہی قرآن و حدیث سے بھی ملتی ہوں او ر جو تقریباً (1500) پندرہ سو سال پرانی باتیں ہیں ، تو پھر سچا کون ہے اور ایڈوانس کون ؟ علاوہ ازیں یہ قرآن مجید کے الہامی ہونے کی بھی تصدیق کرتی ہیں کہ اگرچہ یہ معلومات صدیوں سے قرآن میں موجود تھیں مگر سائنس کی ترقی سے پہلے کبھی کسی مفسر نے ببانگ دہل ان کا ذکر نہیں کیا تھا ، چناچہ اگر یہ کسی انسان کا لکھا ہوتا تو ہمیں ان معلومات کا علم بھی ہوتا ؟
اس متبرک رات امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کو نماز کا تحفہ دیا گیا ، لہٰذا یہ عمل نہایت موزوں ہے کہ اہل اسلام اس رات قضاء عمری ، صلوٰۃ التسبیح اور دیگر نوافل کا اہتمام کریں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں اور کثرت سے درود شریف پڑھیں ۔ اللہ رب العزت نے سال کے بارہ مہینوں میں مختلف دنوں اور راتوں کی خاص اہمیت و فضیلت بیان کر کے ان کی خاص برکات و خصوصیات بیان فرمائی ہیں جیسا کہ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ : إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۔ (سورہ التوبہ آیت نمبر ۳۶)
ترجمہ : بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کےنزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں ۔
ان چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک مہینہ رجب ہے جس کے بارے میں امام محمد غزالی رحمة اللہ علیہ مکاشفۃ القلوب میں فرماتے ہیں کہ ’’رجب‘‘ دراصل ترجیب سے نکلا ہے جس کے معنیٰ ہے تعظیم کرنا ۔ اسے ’’الاحسب‘‘ بھی کہا جاتا ہے جس کے معنی ہیں تیز بہاؤ ، اس لیے کہ اس ماہ مبارک میں توبہ کرنے والوں پر رحمت کا بہاؤ تیز ہو جاتا ہے اور عبادت گزاروں پُرانوار قبولیت کا فیضان ہوتا ہے ۔ اس بنا پر اسے ’’اصم ‘‘ بھی کہتے ہیں چونکہ اس مہینہ میں جنگ و قتال کی آواز نہیں سنی جاتی ۔ اس لیے اس مہینہ کو ’’اصب‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و مغفرت اُنڈیلتا ہے اس میں عبادتیں مقبول اور دعائیں مستجاب ہوتیں ہیں اسے رجب کہتے ہیں ۔ رجب جنت میں ایک نہر کا نام ہے جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ، اس کا پانی اُس کا مقدر ہوگا جو رجب میں روزے رکھے گا ۔ اسی مہینہ کی یکم تاریخ کو سیدنا حضرت نوح علیہ السلام کشتی پر سوار ہوئے ، اسی ماہ کی چار (۴) تاریخ کو جنگِ صفین کا واقعہ پیش آیا ، اسی ماہ کی ستائیسویں (۲۷) کی رات کو محبوب کبریا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معراج شریف کی ہے جس میں آسمانی سیر اور جنت و دوزخ کا ملاحظہ کرنا اور دیدار الٰہی سے مشرف ہونا تھا ۔ صوفیائے کرام علیہم الرحمہ کا فرمان ہے کہ رجب میں تین (۳) حروف ہیں : ’’ر‘‘،’’ج‘‘ اور ’’ب‘‘ ۔
’’ر‘‘ سے مراد اللہ کی رحمت ہے ۔
’’ج‘‘ سے مراد بندے کا جرم ہے ۔
’’ب‘‘ سے مراد اللہ کی بَر یعنی بھلائی مراد ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے کے جرم کو میری رحمت اور بھلائی یعنی بخشش کے درمیان کردو ۔ (مکاشفۃ القلوب صفحہ ۶۰۲)
اس لیے کہ اس ماہ کی نسبت بھی اللہ پاک کی طرف ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رجب شھر اللہ وشعبان شھری و رمضان شھر امتی ۔
ترجمہ : رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے ۔ (جامع الاحادیث جلد ۴ صفحہ ۴۰۹،چشتی)
ایک اور حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فضل شهر رجب على الشهور كفضل القرآن على سائر الكلام ۔
ترجمہ : رجب کی فضیلت باقی مہینوں پر ایسی ہے جیسی قرآن پاک کی فضیلت باقی تمام کلاموں(صحیفوں) پر ہے ۔ (مقاصد الحسنہ صفحہ ۳۰۶،چشتی)
عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه و آلہ وسلم قال من صام يوم السابع و العشرين من رجب کتب له ثواب صيام ستين شهرا ۔
ترجمہ : سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے ستائیسویں رجب کا روزہ رکھا اس کےلیے ساٹھ (60) مہینے روزہ رکھنے کا ثواب ہے ۔ (الغنیۃ لطالبی طریق الحق جلد 1 صفحہ 182)
عن ابي هريرة و سلمان رضي الله عنهما قالا قال رسول الله صلي الله عليه و آلہ وسلم إن في رجب يوما و ليلة من صام ذلک اليوم و قام تلک الليلة کان له من الأجر کمن صام مائة سنة و قام لياليها ۔
ترجمہ : سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ و سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رجب میں ایک ایسا دن اور ایسی رات ہے جو شخص اس دن روزہ رکھتا ہے اور اس رات قیام (نماز کا اہتمام) کرتا ہے اس کےلیے اس شخص کے برابر ثواب ہے جس نے سو سال روزہ رکھا اور سو سال کی راتیں عبادت میں گزاری ۔ پھر آپ نے اس حدیث پاک کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا : وهي لثلاثة يبقين من رجب ۔ ترجمہ : وہ رجب کی ستائیسویں تاریخ ہے ۔ (الغنیۃ لطالبی طریق الحق جلد 1 صفحہ 182,183،چشتی)
رجب المرجب کے مہینے میں روزے رکھنا بہت بڑا ثواب ہے ، جیسا کہ اس بارے میں فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے کہ : رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے جس نے رجب کا ایک روزہ رکھا اس نے اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا کو واجب کر لیا ۔ (مکاشفۃ القلوب صفحہ ۶۰۳)
اِسی طرح ایک اور مقام پہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : رجب شهرعظيم يضاعف الله فيه الحسنات فمن صام يوما من رجب فكانما صام سنة ومن صام منه سبعة أيام غلقت عنه سبعة أبواب جهنم ومن صام منه ثمانية أيام فتحت له ثمانية أبواب الجنة ومن صام منه عشرة أيام لم يسال الله شيئا إلا أعطاه إياه ومن صام منه خمسة عشريوما نادى مناد في السماء قد غفر لك ما مضى فاستانف العمل ومن زاد زاده الله عزوجل ۔
ترجمہ : رجب ایک عظیم الشان مہینہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ نیکیوں کو دگنا کرتا ہے جو آدمی رجب کے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے گویا اس نے سال بھر کے روزے رکھے اور جو شخص رجب کے سات (۷) دن کے روزے رکھے تو اس پر دوزخ کے سات دروازے بند کیے جائیں گے جو اس کے آٹھ (۸) دن کے روزے رکھے تو اس کےلیے جنت کےآٹھ (۸) دروازے کھل جائیں گے اور جو آدمی رجب کے دس دن کے روزے رکھے تواللہ تبارک و تعالیٰ سے جس چیز کا سوال کرے گا وہ اسے دے گا اور جو رجب کے پندرہ دن روزے رکھےتو آسمان سے ایک منادی پکارے گا کہ تیرے گزشتہ گناہ معاف ہو گئے پس نئے سرے سے عمل کر اور جو آدمی زیادہ روزے رکھے گا اسے اللہ تبارک و تعالیٰ زیادہ دے گا ۔ (جامع الاحادیث جلد ۴ صفحہ ۴۰۹)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : من صام يوم سبع وعشرين من رجب كتب الله له صيام ستين شهرا ۔
ترجمہ : جو شخص رجب کی ستائیسویں (۲۷) تاریخ کو روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے ساٹھ (۶۰)مہینوں کے روزوں کا ثواب عطا فرمائےگا ۔ (احیاء علوم الدین جلد ۱ صفحہ ۵۰۹،چشتی)
رجب المرجب شریف کی ستائیسویں (۲۷) شب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم علِم بیداری میں اور جسم انور کے ساتھ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اور پھر وہاں سے آسمانوں پرآسمانوں سے بھی اوپر سدرۃ المنتہی تک اور پھر سدرۃ المنتہی سے بھی آگے وہاں تشریف لے گئے جہاں کسی کا وہم و گمان بھی نہیں جا سکتا توایسی رات جس کو یہ شرف حاصل ہو کہ اس میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج ہوئی ہو اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوبِ پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خصائص نعم (نعمتوں) سے نوازا ہو اوراپنے دیدار کی نعمت کبرٰی سے سرفراز کیا ہو وہ رات کتنی افضل و بزرگ ہوگی ! تو اسی شب کے بارے میں حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : للعامل في هذه الليلة حسنات مائة سنة ‘‘فمن صلى في هذه الليلة اثنتي عشرة ركعة يقرأ في كل ركعة فاتحة الكتاب وسورة من القرآن ويتشهد في كل ركعتين ويسلم في آخرهن ثم يقول ’’سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر مائة مرة ثم يستغفر الله مائة مرة ويصلي على النبي صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مائة مرة ويدعو لنفسه بما شاء من أمر دنياه وآخرته ويصبح صائماً فإن الله يستجيب دعاءه كله إلا أن يدعو في معصية ۔
ترجمہ : رجب کی ستائیسویں (۲۷) رات میں عبادت کرنے والوں کو سو (۱۰۰) سال کی عبادت کا ثواب ملتا ہے جواس رات میں بارہ (۱۲) رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتح پڑھ کر قرآن کریم کی کوئی سورۃ پڑھے اور دو رکعت پر تشہد (التحیات للہ آخر تک) پڑھ کر (بعد درود) سلام پھیرے اوربارہ (۱۲) رکعتیں پڑھنے کے بعد سو (۱۰۰) مرتبہ یہ تسبیح پڑھے ’’سبحان اللہ والحمد اللہ ولاالہ الااللہ واللہ اکبر‘‘ ۔ پھر سو (۱۰۰) مرتبہ استغفراللہ اور سو (۱۰۰) مرتبہ درود شریف پڑھے تو دنیا و آخرت کے امور کے متعلق جو چاہے دعا کرے اور صبح میں روزہ رکھے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی تمام دعاؤں کو قبول فرمائے گا مگر یہ کہ وہ کوئی ایسی دعا نہ کرے جو گناہ میں شمار ہوتی ہو کیونکہ ایسی دعا قبول نہ ہوگی ۔ (احیاءعلوم الدین جلد ۱ صفحہ ۵۰۸،چشتی)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ : وَمَا تَقَرَّبَ إِلَىَّ عَبْدِى بِشَىْءٍ أَحَبَّ إِلَىَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِى يَتَقَرَّبُ إِلَىَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِى يَسْمَعُ بِهِ ، وَبَصَرَهُ الَّذِى يُبْصِرُ بِهِ ، وَيَدَهُ الَّتِى يَبْطُشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِى يَمْشِى بِهَا ، وَإِنْ سَأَلَنِى لأُعْطِيَنَّهُ ۔
ترجمہ : اور میرا بندہ کسی ایسی عبادت سے میرا قر ب حاصل نہیں کرتا جو مجھے ان عبادات سے زیادہ پسندیدہ ہو جو مَیں نے اس پر فرض کی اور میرا بندہ نوافل کے ساتھ مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے ۔ حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں ، پس جب میں اس سے محبت کرتا ہوں ، تو میں اس کے وہ کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سُنتاہے ، میں اس کی وہ آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ، مَیں اس کے وہ ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے ، مَیں اس کے وہ پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ، اور جب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو مَیں ضرور اسے عطا کرتا ہوں ۔ (صحیح بخاری صفحہ ۱۵۹۷)
حضرت حمید بن عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ : قال صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم افضل الصلاۃ بعد الفریضۃ قیام اللیل ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ فرائض کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے ۔ (سنن النسائی جلد ۳ صفحہ ۱۴۵،چشتی)
مزید نوافل کی اہمیت کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان اول ما یحاسب بہ العبد یوم القیامۃ صلاتہ فان و جدت تامۃ کتبت تامۃو ان کان انتقص منھا شیئی قال انظر و اھل تجدون لہ من تطوع یکمل لہ ما ضیع من فریضۃ من تطوعۃ ثم سائر الاعمال تجری علی حسب ذلک ۔
ترجمہ : قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے اس کی نمازوں کا حساب لیا جائے گا اگر وہ پوری پائی گئیں تو پوری لکھ لی جائیں گی اور اگر ان میں کچھ کمی پائی گئی تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا دیکھو کیا اس کے پاس کچھ نوافل بھی ہیں؟چنانچہ فرض نمازوں کی کمی نوافل سے پوری کی جائیگی، اسی طرح سارے اعمال کے بارے میں ہوگا ۔ (سنن نسائی صفحہ ۳۴۶،چشتی)
شیخ محقّق شیخ عبدُالحق محدّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حدیث نقل فرماتے ہیں : رجب میں ایک ایسی رات ہے جس میں عبادت کرنے والے کیلئے سوسال کی نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہےاور یہ رجب کی ستائیسویں رات ہے،جو اس رات بارہ رکعت نوافل اس طرح اد اکرے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھے اورسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ ولَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرسو دفعہ پڑھے اور اللّٰہ تعالیٰ سے سو دفعہ استغفار کرے اور نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم پر سو بار درود پڑھے اور اپنے لیے دنیا وآخرت میں سے جو چاہے مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو بے شک اللّٰہ تَعَالٰی اس کی سب دعاؤں کو قبول فرمائے گا،سوائے اس دعا کے جو گناہ کی ہو،اس روایت کو امام بیہقی علیہ الرحمہ نے ’’شعبُ الایمان‘‘ میں ابان سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ۔ (ما ثبت بالسنۃ صفحہ ۱۵۰،چشتی)(شعب الإیمان باب فى الصيام تخصيص شهر رجب بالذكر جلد ۳ صفحہ ۳۷۴ حدیث نمبر ۳۸۱۲)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ جب شعبان کی پندرھویں رات ہو تو رات کو جاگا کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو جب سورج غروب ہوتا ہے تو اس وقت سے اللّٰہ تَعَالٰی آسمانِ دنیا کی طرف نُزولِ رحمت فرماتاہے اور اعلان کرتاہے کہ ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا تاکہ میں اس کوبخش دوں ، ہے کوئی رِزق طلب کرنے والا تاکہ میں اس کورِزق دوں ،ہے کوئی مصیبت زَدہ تاکہ میں اس کواس سے نجات دوں ۔ یہ اعلان طلوعِ فجر تک ہوتا رہتا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ کتاب اقامة الصلاة باب ماجاء فی لیلة النصف من شعبان جلد ۲ صفحہ ۱۶۰ حدیث نمبر ۱۳۸۸)
اسی طرح امُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے حضور کو اپنے بستر پر نہ پایا تو میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلاش میں نکلی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جنّتُ البقیع میں پایا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اللّٰہ تَعَالٰی نصف شعبان کی رات کو آسمانِ دنیا کی طرف نُزولِ رحمت فرماتاہے اور قبیلۂ بنی کَلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے ۔ (سنن ترمذی کتاب الصوم باب ماجاء فی ليلة النصف من شعبان جلد ۲ صفحہ ۱۸۳ حدیث نمبر ۷۳۹)
اہلِ شام میں آئمہ تابعین مثل خالد بن مَعدان و امام مکحول و لقمان بن عامر علیہم الرحمہ شبِ براءت کی تعظیم اور اس رات عبادت میں کوششِ عظیم کرتے اور انہیں سے لوگوں نے اس کا فضل ماننا اور اس کی تعظیم کرنا اَخذ کیا ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد ۷ صفحہ ۴۳۳)
ابن المنکدر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دنیاکی صرف تین (۳) لذتیں باقی رہنے والی ہیں : 1 ۔ رات کو جاگنے والے کی لذت ۔ 2 ۔ بھائیوں سے ملاقات کی لذت ۔ 3 باجماعت نماز ادا کرنے کی لذت ۔
بعض عارف باللہ فرماتے ہیں کہ : سحر کے وقت اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے قلوب کی طرف توجہ فرماتا ہے جنہوں نے تمام رات عبادت کی اور انہیں نور سے بھر دیتا ہے ۔ پھر ان پاک باز بندوں کا نور غافلوں کے دلوں پر منتقل ہوجاتا ہے ۔ بعض پہلے علماء میں کسی عالم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادنقل کیا ہے کہ میرے کچھ بندے ایسے ہیں جنہیں مَیں محبوب رکھتا ہوں اور وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں وہ میرے مشتاق ہیں مَیں ان کا مشتاق ہوں، وہ میرا ذکر کرتے ہیں اور مَیں ان کا ذکر کرتا ہوں ، وہ میری طرف دیکھتے ہیں اور مَیں ان کی طرف دیکھتا ہوں ، اگر تو ان کے طریقے کے مطابق عمل کرے گا تو مَیں تجھ کو دوست رکھوں گا اور اگر تو ان سے انحراف کرے گا تو مَیں تجھ سے ناراض رہوں گا ، ان بندوں کی علامت یہ ہے کہ وہ دن کو اس طرح سایہ پر نظر رکھتے ہیں جس طرح چرواہا اپنی بکریوں پر نظر رکھتا ہے اور غروبِ آفتاب کے بعداس طرح رات کے دامن میں پناہ لیتے ہیں جس طرح پرندے اپنے گھونسلوں میں چھپ جاتے ہیں ۔ پھر جب رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے تو حبیب اپنے محبوب کے ساتھ خلوت میں چلے جاتے ہیں تو وہ میرے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں اور میری خاطر اپنے چہرے زمین پر رکھتے ہیں مجھ سے مناجات کرتے ہیں ، میرے انعامات کا تذکرہ کرتے ہیں ، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں ، کوئی روتا ہے ، کوئی چیختا ہے ، کوئی آہ بھرتا ہے وہ لوگ جس قدر مشقت برداشت کرتے ہیں وہ میری نگاہوں کے سامنے ہیں ۔ میری محبت میں وہ جو کچھ شکوے شکایت کرتے ہیں مَیں ان سے واقف ہوں ، میرا ان لوگوں پر سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ مَیں اپنا کچھ نور ان کے دلوں میں ڈال دیتا ہوں ۔
دوسرا انعام یہ کہ اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں، ان نیک بندوں کے مقابلے میں لائی جائیں تو مَیں انہیں (یعنی اپنے بندوں کو ) ترجیح دوں ۔
تیسرا انعام یہ ہے کہ مَیں اپنے چہرے سے ان کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ جن لوگوں کی طرف مَیں اس طرح متوجہ ہوتا ہوں انہیں کیا دینا چاہتا ہوں؟ مالک ابن دینار رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب بندہ رات کو اُٹھ کر تہجد پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے قریب آجاتے ہیں ۔ ان قدسی صفت انسانوں کے دلوں میں سوز و گداز اور رقت کی یہ کیفیت اس لیے پیدا ہوتی تھی کہ انہیں باری تعالیٰ کا قرب میسر تھا ۔ (احیاء علوم الدین جلد ۱ صفحہ ۵۰۵)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : إن من الليل ساعة لا يوافقها عبد مسلم يسأل الله خيرا إلا أعطاه إياه ۔
ترجمہ : رات میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ اسے پاتا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ سے خیر کی درخواست کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے عطا فرماتا ہے ۔ (مسلم شریف صفحہ ۳۵۰)
یعنی تمام رات کی عبادت کا مقصد صرف اور صرف اس گھڑی کا پانا ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ تمام دعاؤں کو قبول فرماتا ہے ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی پاک بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رات کی اُس گھڑی میں عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احد چشتی)

No comments:
Post a Comment