Tuesday, 31 March 2015

محدّث حافظ ابن عساکر رح (571 هجری ) اور ان کے استاد محدّث شیخ عبد الغفار بن إسماعيل رح ( ثقہ ، حجّت ) کا عقیده اور زیارت قبور

محدّث حافظ ابن عساکر رح (571 هجری ) اور ان کے استاد محدّث شیخ عبد الغفار بن إسماعيل رح ( ثقہ ، حجّت ) کا عقیده اور زیارت قبور

ترجمہ

امام عبد الغفار بن إسماعيل نے فرمایا محمد بن الحسن بن فورك رح ( 405 هجری ) کی اصول فقہ ، اصول دین، اورمعانی قرآن میں ۱۰۰ سو تصانیف ہیں اور آپ رح ابو عبداللہ الکرام ( بدعتی فرقہ کرامیہ کابانی ) کے ماننے والوں کاخوب ردّ فرماتے تهے ، جب غزنی سے لوٹے تو راستے میں آپ کو زہر دے دیا گیا جس سے آپ شہید ہو گئے، پهر ان کو نیشاپور منتقل کیا گیا اور حیرہ میں دفن کیا گیا.

" آجکل ان کا مزار مشہور ہے، وہاں سے شفا حاصل ہوتی ہے ، اور اس کے ( مزارکے ) قریب دعاء قبول ہوتی ہے...

تبيين كذب المفتري فيما نسب إلى الإمام أبي الحسن الأشعري ( 1/233 )

المؤلف: ثقة الدين، أبو القاسم علي بن الحسن بن هبة الله المعروف بابن عساكر (المتوفى: 571هـ)

No comments:

Post a Comment

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب

ایمانِ ابوطالب کے بارے میں مسلمانانِ اہلسنت کے اکابرین کے خلاف بکواس کرنے والوں کو انہی کے گھر سے جواب محترم قارئینِ کرام : شیعہ مفسر قمی لک...