Friday, 19 June 2015

فضائل مناقب سیّدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ تعالیٰ عنھا ( 20 )

عَنْ عَائِشَة أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : کَانَتْ فَاطِمَة إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ صلي الله عليه وآله وسلم قَامَ إِلَيْهَا فَقَبَّلَهَا وَ رَحَّبَ بِهَا وَ أَخَذَ بِيَدِهَا، فَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلَسِهِ، وَ کَانَتْ هِي إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَامَتْ إِلَيْهِ مُسْتَقْبِلَة وَ قَبَّلَتْ يَدَهُ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.
’’ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں : سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر ان کا استقبال فرماتے، انہیں بوسہ دیتے خوش آمدید کہتے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنی نشست پر بٹھالیتے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا کے ہاں رونق افروز ہوتے تو سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کے لئے کھڑی ہو جاتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس کو بوسہ دیتیں۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔
الحديث رقم 20 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 174، الرقم : 4753، والمحب الطبري في ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربي : 85، و الهيثمي في موارد الظمآن : 549، الرقم : 2223، و العسقلاني في فتح الباري، 11 / 50، و الشوکاني في درالسحابة، 1 / 279.

No comments:

Post a Comment

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے نام بدل دیتے تھے اور پنجاب کے حکمران اچھے ناموں کو بُرے ناموں میں بدل رہے ہیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے نام بدل دیتے تھے اور پنجاب کے حکمران اچھے ناموں کو بُرے ناموں میں بدل رہے ہیں محترم قارئینِ کرام : ایسا...